Fi Zilal al-Quran — النمل 27:1 – النمل 27:93
Contents
- النمل 27:1
- النمل 27:2
- النمل 27:3
- النمل 27:4
- النمل 27:5
- النمل 27:6
- النمل 27:7
- النمل 27:8
- النمل 27:9
- النمل 27:10
- النمل 27:11
- النمل 27:12
- النمل 27:13
- النمل 27:14
- النمل 27:15
- النمل 27:16
- النمل 27:17
- النمل 27:18
- النمل 27:19
- النمل 27:20
- النمل 27:21
- النمل 27:22
- النمل 27:23
- النمل 27:24
- النمل 27:25
- النمل 27:26
- النمل 27:27
- النمل 27:28
- النمل 27:29
- النمل 27:30
- النمل 27:31
- النمل 27:32
- النمل 27:33
- النمل 27:34
- النمل 27:35
- النمل 27:36
- النمل 27:37
- النمل 27:38
- النمل 27:39
- النمل 27:40
- النمل 27:41
- النمل 27:42
- النمل 27:43
- النمل 27:44
- النمل 27:45
- النمل 27:46
- النمل 27:47
- النمل 27:48
- النمل 27:49
- النمل 27:50
- النمل 27:51
- النمل 27:52
- النمل 27:53
- النمل 27:54
- النمل 27:55
- النمل 27:56
- النمل 27:57
- النمل 27:58
- النمل 27:59
- النمل 27:60
- النمل 27:61
- النمل 27:62
- النمل 27:63
- النمل 27:64
- النمل 27:65
- النمل 27:66
- النمل 27:67
- النمل 27:68
- النمل 27:69
- النمل 27:70
- النمل 27:71
- النمل 27:72
- النمل 27:73
- النمل 27:74
- النمل 27:75
- النمل 27:76
- النمل 27:77
- النمل 27:78
- النمل 27:79
- النمل 27:80
- النمل 27:81
- النمل 27:82
- النمل 27:83
- النمل 27:84
- النمل 27:85
- النمل 27:86
- النمل 27:87
- النمل 27:88
- النمل 27:89
- النمل 27:90
- النمل 27:91
- النمل 27:92
- النمل 27:93
النمل 27:1
درس نمبر 071 تشریح آیات
1………تا……6
طس تلک ایت القرآن و کتاب مبین (1)
حروف مقطعات دراصل اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ یہ سورت اسی مواد پر مشتمل ہے جو ان حروف سے بنا ہے۔ پورا قرآن بھی اسی سے بنا ہے۔ یہ مواد عام عربی دانوں کے دسترس میں ہے لیکن وہ اس مواد سے ایسی کتاب تصنیف کرنے سے عاجز ہیں۔ باوجود بار بار کی تحدی اور چیلنج کے۔
یہاں کتاب سے مراد قرآن مجید ہی ہے ۔ یہاں قرآن مجید پر کتاب (خط) کا اطلاق اس لئے کیا گیا ہے کہ اس کتاب اور قریش کی جانب سے اس کے حوالے سے ردعمل اور حضرت سلیمان کے خط اور ملکہ سبا کی جانب سے اس کے بارے میں ردعمل کے درمیان مقابلہ کیا جائے ، حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھے۔
اس تمہید اور چیلنج کے بعد قرآن کریم کا ذکر اور اس کی تعریف یوں ہوتی ہے۔
النمل 27:2
ھدی و بشریٰ للمئومنین (2)
یہ اسلوب اس سے زیادہ بلیغ ہے اگر کہا جاتا ” اس میں ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت و بشارت ہے۔ “ قرآن جو اسلوب اختیار کیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کتاب کا مواد ہی بذات خود ہدایت و بشارت ہے۔ اس طرح قرآن کریم اہل ایمان کو ان کی زندگی کے ہر نشیب و فراز میں ہدایت دیتا ہے۔ ہر پہلو سے ہدایت ہے اور انسان کی دنیاوی اور اخروی دونوں زندگیوں کے لئے یہ کتاب بشارت اور خوشخبری ہے۔
یہ کتاب صرف مومنین کے لئے ہدایت اور بشارت ہے ؟ اس فقرے میں اللہ نے ایک عظیم اور گہری حقیقت کو سمو دیا ہے۔ یہ قرآن کوئی نظریاتی اور فلسفیانہ کتاب نہیں ہے کہ جو بھی اسے پڑھے اور اس کے مضامین کا انطباق کرے اور ان کو نافذ کر دے تو بس قرآن کا مقصد پورا ہوگیا۔ یہ کتاب سب سے پہلے انسان کے قلب و نظر کو مخاطب کرتی ہے تاکہ وہ اسے ایمان ، احترام اور یقین کے ساتھ قبول کرے۔ کھلے دل سے قبول کرے۔ پھر یہ کتاب اپنا نور ، اپنا خطر اور اپنی حکمت اس کے دل میں ڈال دیتی ہے اور جس قدر قاری کا دل ایمان کی تراوٹ رکھتا ہوگا اسی قدر وہ اس کے مٹھاس کو پائے گا۔ اس کے معانی اس پر کھلتے جائیں گے اور اس کی توجہات اور تاویلات اس کی سمجھ میں آئیں گی۔ کسی سنگدل اور خشک دل و دماغ رکھنے والے انسان پر اس کتاب کے راز نہیں کھلتے۔ اسی طرح ایک مومن صادق کو اس سے وہ ہدایات ملتی ہیں جو منکر حق اور سخت دل کو نہیں ملتیں اور اس کے نور سے وہ شخص ہدایت پاتا ہے جو مومن ہو اور وہ نہیں پاتا جس کا دل و دماغ مسخ ہوچکے ہوں۔
بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک انسان کسی آیت اور کسی سورت کو بار بار پڑھتا ہے۔ وہ غفلت اور جلدی میں گزر جاتا ہے۔ اس کے پلے کچھ نہیں پڑتا۔ اچانک اس کے قلب میں روشنی کی ایک چمک اٹھتی ہے۔ اس کے ذہن میں معانی کے جہان روشن ہو کر آجاتے ہیں جن کے بارے میں کبھی اس نے سوچا بھی نہ تھا۔ یوں اشراق کے بن اوقات میں اس کی زندگی میں ایک انقلاب آجاتا ہے۔ وہ ایک منہاج سے دوسرا منہاج اور ایک راستہ اختیار کرلیتا ہے۔
غرض قرآن کے اندر جس نظام ، جس قانون اور جن اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے اس کا دار و مدار ایمان پر ہے۔ لہٰذا جس شخص کے دل میں ایمان نہیں ہے اور وہ اس قرآن کریم کو منجانب اللہ وحی نہیں سمجھتا ہے اور یہ یقین نہیں رکھتا کہ اس کے اندر جو کچھ آیا ہے وہ ایک نظام ہے جسے اللہ تعالیٰ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جو شخص قرآن کے بارے میں ایسا ایمان و یقین نہیں رکھتا وہ قرآن کریم سے کوئی ہدایت نہیں پا سکتا۔ نہ اس میں پھر اس کے لئے کوئی خوشخبری ہے اور نہ کوئی فائدہ۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کے اندر ہدایت و معرفت اور تحریک اور راہنمائی کے عظیم المقدار خزانے پڑے ہوئے ہیں لیکن ان خزانوں کے دروازے کھولنے کی چابی ایمان ہے۔ یہ خزانے اس چابی کے بغیر کھل نہیں سکتے۔ جو لوگ صحیح طرح ایمان لے ٓتے ہیں۔ ان ہاتھوں پر ، اس قرآن کے ذریعے ایسے عظیم کارنامے صادر ہوتے ہیں جس طرح پیغمبروں کے معجزات لیکن اگر قرآن کی حیثیت یہ ہوجائے کہ اسے گانے والے ترنم سے گائیں تو اس صورت میں قرآن صرف کانوں کے پردوں سے ٹکراتا ہے ، دلوں تک نہیں اترتا۔ اور اس صورت میں قرآن پھر کوئی تبدیلی نہیں لاتا اور اس سے کسی کو کوئی فائدہ نہ ہوگا اور اس کی حیثیت اس خزانے کی سی ہوئی ، جس کی چابی نہ ہو۔
اس سورت میں ان مومنین کی تعریف بھی کی گئی جن کے ہاتھ میں قرآن کے خزانوں تک پہنچنے کی چابی ہوتی ہے ، یہ لوگ ایسے ہوتے ہیں۔
النمل 27:3
وہ نماز قائم کرتے ہیں اور نماز کی ادائیگی اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس کا حق شبے یوں کہ جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں تو ان کے دل جاگ رہے ہوں اور اس وقت ان کو یہ شعور ہو کہ وہ ذوالجلال والا کرام کے دربار میں کھڑے ہیں ۔ اس وقت ان کی توجہ اس بلند افق پر ہو ، ان کے دل مناجات الٰہی میں مشغول ہوں ، اسے پکار رہے ہوں اور اسکے عظیم دربار میں حاضر ہوں۔
وہ زکوۃ دیتے ہیں ، اس طرح ان کے نفوس کنجوسی کی رذالت سے نجات پا جائیں۔ یوں ان کی روح مال کے فتنوں سے سربلند ہوجائے اور وہ بعض ان نادار بھائیوں کے ساتھ مربوط ہوجائیں اور ان تک رزق پہنچا دیں اور اس طرح اپنی اجتماعی ذمہ داریاں ادا کردیں۔
وہ آخرت پر پختہ یقین رکھتے ہوں۔ ہر وقت ان کو احساس ہو کہ آخرت میں اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔ ان کا دل امور آخرت میں مشغول ہو ، ان کا دل خدا کے خوف سے بھرا ہو اور انسانی خواہشات ان کے دل پر اثر نہ کرتی ہوں۔ اللہ کی خشیت اور قیامت کے حساب و کتاب کا غم ان کو کھائے جا رہا ہو۔
یہ مومن ، اللہ کو یاد کرنے والے ، اس کے فرائض ادا کرنے والے ، اس سے ڈرنے والے اصحاب خشیت اللہ کے جر اور ثواب کے امیدوار یہ ہیں وہ لوگ جن کے دل قرآن کے لئے کھل جاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے قرآن ہدایت و بشارت بن جاتا ہے۔ وہ ان کی روح کا نور بن جاتا ہے ، یہ ان کے خون کو گرم کردیتا ہے اور ان کی زندگی کو متحرک بنا دیتا ہے اور یہ قرآن پھر ان کا زاد راہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے وہمنزل مقصود کو پہنچتے ہیں اور اپنے رب سے مربوط ہوجاتے ہیں۔
ذکر آخرت کے حوالے سے مزید تاکید کرتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ جو آخرت پر پختہ یقین نہیں رکھتے وہ اپنی گمراہی میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اچانک وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔
النمل 27:4
ان الذین ……یعمھون (4)
حقیقت یہ ہے کہ آخرت پر ایمان وہ قوت ہے جو اس دنیا میں انسانی خواہشات ، اس کے جذبات کو دباتی ہے اور ان کو اعتدال اور توازن بخشتی ہے۔ جو شخص ایمان نہیں رکھتا وہ اپنی کسی خواہش اور کسی میلان کو دبانے کی طاقت اور اخلاقی قوت ہی نہیں رکھتا وہ تو یہ سمجھتا ہے کہ بابر بعیش کوش کو عالم دوبارہ نیست اور اس عالم میں زندگی بھی مختصر ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ اگر ہم نے اس دنیا میں کوئی عیش اور کوئی لذت ترک کردی یا ہم حاصل نہ کرسکے تو اس زندگی میں ایک منٹ کی توسیع ہوجائے۔ جب سوچ یہ ہوجائے تو کسی کو عیش و عشرت اور لذات و رغبات کے ہاتھوں کون چھڑا سکتا ہے۔ الا یہ کہ وہ اللہ کے سامنے کھڑ آجانے کا ایمان اپنے اندر پیدا کر دے۔ قیامت کے دن کے ثواب اور اجر کا امیدوار ہو اور آخرت کی سزائے خائف ہو جہاں تمام لوگ کھڑے ہوں گے۔
لہٰذا جن لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ہوتا ان کے لئے ہر قسم کی شہوات اور لذات کو خوبصورت بنا دیا جاتا ہے۔ وہ بغیر خوف خدا ، بغیر خوف آخرت اور پھر بلاشرم و حیا ان کے پیچھے کتوں کی طرح بھاگتے ہیں۔ نفس کی فطرت اور پیدائش اس پر ہے کہ یہ لذت کا دلدادہ ہے۔ یہ حسن پرست اور جمال پر مٹنے والا ہے۔ الایہ کہ اسے آیات الہیہ اور رسول ان کریم کی راہنمائی نصیب ہوجائے اور وہ اسے دائرہ ایمان کے اندر لے آئیں اور وہ سمجھ لے کہ یہ جہاں تو فانی ہے۔ جب کوء نفس یہاں تک پہنچ جائے تو اس کے اعمال کا رنگ بدل جاتا ہے۔ اس کا عالم اشواق بدل جاتا ہے۔ اسے پھر اچھے کاموں میں اسی طرح لذت آتی ہے جس طرح مادی لذت ہوتی ہے بلکہ پیٹ اور جسم کی لذت پھر اسے نہایت ہی حقیر و قلیل نظر آنے لگتی ہے۔
یہ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو ایسا پیدا کیا ہے۔ اسے اس قابل بتایا ہے کہ اگر اس کا دل ہدایت کے لئے کھل جائے تو وہراہ ہدایت پا سکے۔ اور اگر اس کا دل بجھ جائے اور شمع ایمان گل کردی جائے تو پھر وہ گمراہی کی راہ پر سرپٹ دوڑتا ہے۔ پھر اس انسانیت کی ہدایت پر ضلالت کے لئے اس نے ایک سنت بھی جاری کردی ہے اور اس کے مطابق وہ ہدایت پاتا ہے یا راہ ضلالت اختیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم یہ صراحت کردیتا ہے اور خدا اسے اپنا فعل بتاتا ہے کہ وہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔
ربنا لھم اعمالھم فھم یعمھون (82 : 3) ” ہم نے ان کے کرتوتوں کو ان کے لئے خوشنما بنا دیا ہے ، اس لئے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں۔ “ چونک وہ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ، اس لئے اس پر اللہ کی سنت کا نفاذ ہوجاتا ہے اور اس طرح ان کے اعمال اور ان کی لذات اور خواہشات ان کے لئے خوشنما بنا دی جاتی ہیں۔ یہاں تزئین اعمال یعنی اعمال کو مزید بنانے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اس طرح بھٹکتے ہیں کہ جس شہر میں یہ لوگ مبتلا ہوتے ہیں اس شہر نہیں سمجھتے۔ اس لئے یہ شر کے چکر میں رات دن بڑے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ان کو اس کا شعور ہرگز نہیں ہوتا۔
اور جس شخص کے لئے شر کو مزین کردیا گیا ہو اس کا انجام سب کو معلوم ہے۔
النمل 27:5
اولئک الذین لھم شوآء العذاب ……الاخسرون (5)
چاہے یہ برا عذاب ان کو دنیا میں ملے یا آخرت میں۔ لیکن مکمل خسارہ آخرت کا خسارہ ہے۔ وہ انسان کے اعمال کے عین مطابق ہوتا ہے۔ جتنا کوئی برائی کی طرف مائل ہوتا ہے اسی قدر وہاں اس کی سزا سخت ہوتی ہے۔
اب اس سورت کی اس تمہید کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اے نبی ، تم جس مصدر سے قرآن پا رہے ہو یہ تو حلیم و حکیم کا سرچشمہ ہے۔
النمل 27:6
وانک ……لتلقی القرآن من لدن حکیم علیم (6)
“ تلفی کے لفظ میں یہ اشارہ ہے آپ کو علیم و حکیم ذات کی طرف سے براہ راست ہدایات دی جا رہی ہیں اور یہ ذلت ہر چیز کو حکیمانہ انداز میں بنانے والی ہے اور ہر معاملے کی تدبیر علم سے کرنے والی ہے اور اس ذات کے علم و حکمت کا ایک نمونہ یہ قرآن ہے۔ اپنے منہاج کے اعتبار سے ، اپنے احکام و فرائض کے لحاظ سے ، اپنی ہدایات اور طریقہ کار کے لحاظ سے ، اپنی آیات و احکام کے نزول کے اعتبار سے ، اپنے اجزاء کے تسلسل اور اپنے مضامین و موضوعات کے توازن اور ہم آہنگی کے اعتبار سے۔
اب قرآن کریم قصص کو لیتا ہے اور ان قصص سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی حکمت اور الل ہ کی نہایت ہی خفیہ تدابیر اس کائنات میں اور اس قرآن میں کس قدر موثر ہیں۔
درس نمبر 171 تشریح آیات
7……تا……41
حضرت مسویٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حلقہ نہایت اختصار اور تیزی سے اسکرین پر آتا ہے اور گزر جاتا ہے اور سیاق کلام میں یہ آیت
وانک لتلقی ……علیم (82 : 6) ” اے نبی ، بلاشبہ آپ یہ قرآن ایک حکیم وعلیم کی طرف سیپا رہے ہیں “ کے بعد متصاد آتا ہے۔ اب گویا بتایا جاتا ہے کہ نزول قرآن کا یہ علم کوئی انوکھی بات نہیں ہے ، تمام انبیاء اللہ سے ہدایات اور کتب پاتے رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ کا حال بطور نمونہ پیش کریں کہ یہ فریضہ ان کو بھی سونپا گیا۔ وہ فرعون اور اس کے سرداروں اور قوم کے پاس گئے اور قوم نے تکذیب کی۔ جس طرح آج قریش تکذیب کر رہے ہیں۔ جس طرح قوم موسیٰ کو یقین تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو آیات و معجزات پیش کرتے ہیں وہ حق ہیں اور پھر بھی انکار کرتے تھے اور یہ انکار ظلم اور تکبر کی وجہ سے تھا ، یہی روش آج قریش کی ہے لیکن
فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین (82 : 31) ” دیکھ لیں کہ مفسدین کا انجام کیسا ہوا۔ “ یہی انجام قریش کا بھی ہوگا۔ جو محض غرور کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔
النمل 27:7
سورة طہ میں بھی اس قصے کی یہ کڑی لائی گی تھی ۔ جب آپ مدین سے مصر کی طرف لوٹ رہے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کی بیوی ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دختر بھی رفیق تھیں۔ ایک ادھیری سیاہ اور سردرات میں آپ سے راستہ گم ہوگیا تھا۔ حضرت کے الفاظ ” میں تو ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے آتا ہوں یا کوئی انکار اچن لاتا ہوں تاکہ تم گرم ہو سکو۔ “ اس وقت حضرت موسٰ کوہ طور کے ایک طرف تھے۔ اور اس زمانے میں یہ رواج تھا کہ بلند ٹیلوں پر ات کے وقت آ گ چلائی جاتی تھی۔ تاکہ اگر کوئی مسافر بھٹک جائے تو اس کی راہنمائی ہو۔ ایسی صورت میں جب کوئی مسافر آتا تو اسے مہمان نوازی بھی ملتی اور وہ سردی میں اپنے آپ کو گرم بھی کرتا اور صحراء میں راستے کی راہنمائی بھی ہوتی۔
انی انست نارا (82 : 8) ” مجھے ایک آگ سی نظر آنی ہے “ دور سے انہوں نے آگ کو دیکھا تو ان کو ایک گونہ اطمینان حاصل ہوگیا اور یہ امید پیدا ہوگئی کہ اس آگ کے پاس جا کر انہیں کچھ نہ کچھ راہنمائی مل جائے گی یا وہ کوئی انگارا لے آئیں گے جس سے وہ آگ جلا کر اس صحراء میں اپنے آپ کو گرم کرسکیں گے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کی طرف آگے بڑھے جسے انہوں نے دیکھا تھا تاکہ وہ وہاں سے کوئی خبر لائیں۔ اچانک یہاں انہیں ایک نہایت ہی معزز اور شاہانہ آواز آتی ہے۔
النمل 27:8
فلما جآء ھا نودی……الحکیم (9)
یہ وہ پکار ہے جس کے ساتھ پوری کائنات ہمقدم ہے اور جس کے ساتھ تمام جہان اور تمام آسمان ہم آہنگ ہیں۔ تمام کائنات اس کے سامنے سہمی ہوئی ہے اور انسان روح اور ضمیر اسے سن کر کانپ اٹھتا ہے۔ یہ وہ آواز ہے جس کے ساتھ زمین و آسمان کا اتصال ہے اور انسان جو ایک چھوٹا سا ذرا ہے وہ عظیم اور بلند ذات کی آواز کو پاتا ہے اور ایک فانی اور ضعیف انسان ایک لافانی اور قوی ذات باری کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے اور یہ مقام اسے محض فصل رب تعالیٰ سے ملتا ہے۔
فلما جاء ھا نودی (82 : 8) ” جب وہ وہاں پہنچا تو ندا آئی۔ “ پکارا گیا ، یہاں قرآن پکارنے والے کا نام نہیں لیتا ، لیکن وہ معلوم ہے۔ یہ نام نہ لینا اور ماضی مجہول کا صیغہ احترم ، تعلظیم اور جلالت شان کبریائی کے لئے استعمال ہوا ہے۔
نودی ان بورک من فی النار ومن حولھا (82 : 8) ” پکارا گیا کہ مبارک ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس کے ماحول میں ہے۔ “ آگ میں کون تھا اور آگ کے ماحول میں کون تھا ؟ راجح تفسیر یہی ہے کہ یہ آگ دیسی آگ نہ تھی جسے ہم جلات یہیں بلکہ یہ ایک ایسی آگ تھی جس کا مصدر عالم بالا تھا۔ یہ وہ آگ تھی جسے پاک فرشتوں نے عظیم ہدایت کے لئے روشن کیا تھا اور یہ آگ کی طرح نظر آرہی تھی اور یہ پاک روحیں اس میں تھیں لہٰذا یہ ندا کہ جو اس آگ میں ہے وہ مبارک ہے۔ یہ اعلان تھا کہ اس آگ اور اس کے اردگرد جو پاک روحیں ہیں وہ بابرکت ہیں۔ اور اس آگ کے ماحول میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی تھے اور پوری کائنات نے اس اعزاز کو ریکارڈ کردیا کہ یہ خطہ زمین اس پوری کائنات میں بابرکت جگہ ہے ، ایک مقدس مقام ہے اور اس میں اس پر اللہ ذو الجلال کی تجلیات اور برکات کا نزول ہوا ہے اور پھر اس جگہ کے تقدس اور برکت کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کو بھی ریکارڈ کردیا گیا ” کہ پاک ہے ، اللہ سب جہان والوں کا پروردگار ، اے موسیٰ ! میں اللہ زبردست اور دانا۔ “
وسبحن اللہ رب العلمین (82 : 8) یموسی انہ انا اللہ العزیز الحکیم (82 : 9) اس آیت میں اللہ نے اپنی ذات کی پاکیزگی اور پورے جہان کے لئے اس کی ربوبیت کا اعلان کردیا اور یہ بھی بتا دیا کہ جو آواز آرہی ہے وہ میں ہوں جو عزیز و حکیم ہوں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات کے ذریعے پوری انسانیت کو یہ بلندی بخشی گئی اور وہ کائنات کے آسمان پر ایک چمکتا ہوا تارا بن گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس آگ کے پاس سے بہت بڑی خبر مل گئی جو انہوں نے دور سے دیکھی تھی لیکن یہ عظیم خبر ایک عظیم ذمہ داری تھی۔ آپ کو گرمانے والا انگارا بھی مل گیا مگر وہ عوام کو راہ ہدایت کی طرف لانے کی آگ تھی۔
یہ آواز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چننے کے لئے تھی اور ان کے ذمہ فریضہ رسالت عائد کرنے کے لئے تھی اور پیغام بھی ان لوگوں تک پہنچانا تھا جو اس کرہ ارض کے عظیم ترین سرکش تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کو اس کام کے لئے تیار فرماتا ہے اور تربیت دیتا ہے اور دلائل و معجزات کے ساتھ مسلح کرتا ہے۔
النمل 27:9
فلما جآء ھا نودی……الحکیم (9)
یہ وہ پکار ہے جس کے ساتھ پوری کائنات ہمقدم ہے اور جس کے ساتھ تمام جہان اور تمام آسمان ہم آہنگ ہیں۔ تمام کائنات اس کے سامنے سہمی ہوئی ہے اور انسان روح اور ضمیر اسے سن کر کانپ اٹھتا ہے۔ یہ وہ آواز ہے جس کے ساتھ زمین و آسمان کا اتصال ہے اور انسان جو ایک چھوٹا سا ذرا ہے وہ عظیم اور بلند ذات کی آواز کو پاتا ہے اور ایک فانی اور ضعیف انسان ایک لافانی اور قوی ذات باری کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے اور یہ مقام اسے محض فصل رب تعالیٰ سے ملتا ہے۔
فلما جاء ھا نودی (82 : 8) ” جب وہ وہاں پہنچا تو ندا آئی۔ “ پکارا گیا ، یہاں قرآن پکارنے والے کا نام نہیں لیتا ، لیکن وہ معلوم ہے۔ یہ نام نہ لینا اور ماضی مجہول کا صیغہ احترم ، تعلظیم اور جلالت شان کبریائی کے لئے استعمال ہوا ہے۔
نودی ان بورک من فی النار ومن حولھا (82 : 8) ” پکارا گیا کہ مبارک ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس کے ماحول میں ہے۔ “ آگ میں کون تھا اور آگ کے ماحول میں کون تھا ؟ راجح تفسیر یہی ہے کہ یہ آگ دیسی آگ نہ تھی جسے ہم جلات یہیں بلکہ یہ ایک ایسی آگ تھی جس کا مصدر عالم بالا تھا۔ یہ وہ آگ تھی جسے پاک فرشتوں نے عظیم ہدایت کے لئے روشن کیا تھا اور یہ آگ کی طرح نظر آرہی تھی اور یہ پاک روحیں اس میں تھیں لہٰذا یہ ندا کہ جو اس آگ میں ہے وہ مبارک ہے۔ یہ اعلان تھا کہ اس آگ اور اس کے اردگرد جو پاک روحیں ہیں وہ بابرکت ہیں۔ اور اس آگ کے ماحول میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی تھے اور پوری کائنات نے اس اعزاز کو ریکارڈ کردیا کہ یہ خطہ زمین اس پوری کائنات میں بابرکت جگہ ہے ، ایک مقدس مقام ہے اور اس میں اس پر اللہ ذو الجلال کی تجلیات اور برکات کا نزول ہوا ہے اور پھر اس جگہ کے تقدس اور برکت کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کو بھی ریکارڈ کردیا گیا ” کہ پاک ہے ، اللہ سب جہان والوں کا پروردگار ، اے موسیٰ ! میں اللہ زبردست اور دانا۔ “
وسبحن اللہ رب العلمین (82 : 8) یموسی انہ انا اللہ العزیز الحکیم (82 : 9) اس آیت میں اللہ نے اپنی ذات کی پاکیزگی اور پورے جہان کے لئے اس کی ربوبیت کا اعلان کردیا اور یہ بھی بتا دیا کہ جو آواز آرہی ہے وہ میں ہوں جو عزیز و حکیم ہوں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات کے ذریعے پوری انسانیت کو یہ بلندی بخشی گئی اور وہ کائنات کے آسمان پر ایک چمکتا ہوا تارا بن گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس آگ کے پاس سے بہت بڑی خبر مل گئی جو انہوں نے دور سے دیکھی تھی لیکن یہ عظیم خبر ایک عظیم ذمہ داری تھی۔ آپ کو گرمانے والا انگارا بھی مل گیا مگر وہ عوام کو راہ ہدایت کی طرف لانے کی آگ تھی۔
یہ آواز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چننے کے لئے تھی اور ان کے ذمہ فریضہ رسالت عائد کرنے کے لئے تھی اور پیغام بھی ان لوگوں تک پہنچانا تھا جو اس کرہ ارض کے عظیم ترین سرکش تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کو اس کام کے لئے تیار فرماتا ہے اور تربیت دیتا ہے اور دلائل و معجزات کے ساتھ مسلح کرتا ہے۔
النمل 27:10
والق عصاک
یہ یہاں بات اختصار سے کی جاتی ہی اور سورة طہ کی طرح طویل مناجات نہیں ہے۔ یہاں مقصد آواز دینا اور فریضہ عائد کرنا ہے۔ “
فلما راھا تھتز کانھا جآن ولی مدبراً ولم یعقب ط
حضرت مسویٰ نے حکم کے مطابق عصا پھینکا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک سانپ ہے اور زمین پر رینگ رہا ہے ۔ جیسا کہ چھوٹے اور سریع الحرکت سانپ تیزی سے دوڑتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انفعالی طبیعت کے مالک تھے۔ یہ اچانک منظر ان کے لئے غیر متوقع تھا۔ حضرت اس سانپ سے دور بھاگ گئے اور واپس نہ دیکھا۔ یہ ایک ایسی حرکت تھی جو غیر متوقع اور اچانک پیش آجانے کی صورت میں ہر انسان سے صادر ہوتی ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مزاج بھی ایسا تھا کہ وہ جلد متاثر ہوتے تھے۔
اب پھر عالم بالا سے آواز دی جاتی ہے۔ اطمینان عطا کرنے والی آواز اعلان کیا جاتا ہے آپ کا منصب رسالت ہے اور کسی رسول کے لئے ڈرنا مناسب نہیں ہے۔
یموسیٰ لاتخف انی لایخاف لدی المرسلون
’ آپ گھبرائیں نہیں۔ آپ کے اس قدررسالت کا منصب اور فرائض ہیں اور رسول اللہ کے دربار میں ہوتے ہیں اور وہاں ، ان کے ڈرنے کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔
النمل 27:11
الا من ……رحیم (11)
ہمارے ہاں تو وہ لوگ ڈرتے ہیں جو ظالم ہیں الا یہ کہ ظلم کے بعد وہ نیک ہوجائیں تو بھی معاف ہوجاتے ہیں کیونکہ انہوں نے ظلم ترک کر کے عدل اپنا لای ہے۔ شرک کو چھوڑ کر توحید کا عقیدہ اپنا لیا ہوتا ہے۔ شر کو چھوڑ کر خیر کی راہ لے لی ہے۔ میری رحمت وسیع ہے اور میری مغفرت بہت بڑی ہے۔
اب حضرت مسویٰ کو اطمینان اور قرار نصیب ہوگیا۔ اب اللہ آپ کو دوسرا معجزہ عطا فرماتا ہے لیکن ابھی تک ان کو رسالت کی مہم نہیں بتائی گئی کہ جانا کہاں ہے۔
النمل 27:12
وادخل یدک ……سوآء
یہ عمل بھی ایسا ہی ہوا حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالا اور جب نکالا تو وہ بغیر بیماری کے چمک رہا تھا۔ یہ کوئی مرض نہ تھی بلکہ معجزہ تھا اور اللہ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ اس قسم کی نونشانیاں او معجزات تمہیں دیئے جائیں گے جن میں سے دو کا مشاہدہ اور مظاہرہ تم نے دیکھ لیا ۔ اب حضرت موسیٰ کے سامنے اس مہم کا انکشاف کیا جاتا ہے جو انہوں نے سر کرنی ہے اور جس کے لئے ان کو یوں تیار کیا گیا۔
فی تسع ……فسقین (41)
” یہ (دو نشانیاں) نو نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اس کی قوم کی طرف (لے جانے کے لئے) وہ بڑے بدکردار لوگ ہیں۔ “
یہاں باقی نشانیاں نہیں گنوائی گئیں جبکہ سورة اعراف میں تفصیلات دی گئی ہیں جو یہ ہیں ، خشک سالی ، پیداوار کی کمی طوفان ، ٹٹڈی دل کا حملہ ، جوئیں اور مینڈک اور خون کیوں کہ سورة اعراف میں موضوع سخن یہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ اسلام بڑی قوی نشانیاں دی گئی تھیں لیکن پھر بھی فرعون نے انکار کیا۔ بہرحال ان نشانیوں کی وضاحت کافی اور شافی ہونے کے باوجود قوم نے انکار کردیا۔
النمل 27:13
فلما جآء تھم ……المفسدین (41)
یہ بیشمار نشانیاں ، حق کو باطل سے واضح کرنے والی نشانیاں ، ایسی نشانیاں کہ جس کو اللہ نے دو آنکھیں دی ہیں وہ انہیں دیکھ سکتا ہے۔ جن کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نشانیاں مبصر ہیں یعنی وہ دیکھنے والی ہیں۔ دیکھ دیکھ کر لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف لانے والی ہیں۔ لیکن وہ لوگ ایسے ہٹ دھرم تھے کہ ان کو بھی انہوں نے کہا کہ سحر مبین ہے ، کھلا جادو ہے۔ یہ نہیں کہ وہ دل سے کہتے تھے یا وہ فی الواقعہ ایسا سمجھتے تھے یہ تو انہوں نے محض ظلم اور علوم کی وجہ سے کہا۔ ان کے دل و دماغ تو اس پر مطمئن تھے کہ یہ حق ہے۔ بالکل ان کو کوئی شبہ نہ تھا۔
واستبف تھا انفسھم (82 : 31) ” حالانکہ ان کے دل ان کے قائل ہوچکے تھے۔ “ محض ہٹ دھرمی اور مکا برہ کی وجہ سے کیونکہ یہ ایمان لانا نہیں چاہتے تھے اور نہ کوئی دلیل وہ طلب کرنا چاہتے تھے۔ یہ اپنے آپ کو سچائی سے برتر سجھتے تھے اور اپنے نفوس پر ظلم کر رہے تھے کیونکہ قبول حق میں خود ان کی بھلائی تھی۔
بعینہ یہی حال اکابرین قریش کا بھی تھا۔ یہ قرآن کریم کو سنتے تھے ، ان کو اچھی طرح یقین تھا کہ یہ حق ہے لیکن محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے تھے اور نبی ﷺ کی دعوت کا انکار کرتے تھے یہ دعوت صرف اللہ وحدہ کی طرف تھی۔ وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ ہر حال میں اپنے دین اور عقائد پر قائم رہنا چاہتے تھے کیونکہ اس دین میں ایسے اصول تھے جن کی وجہ سے ان کو مسند حاصل تھی۔ کچھ مفادات حاصل تھے اور یہ مسندیں اور مفادات ان عقائد باطلہ پر مبنی تھ۔ دعوت اسلامی سے ان کے لئے خطرہ ہی یہ تھا۔ اس کی کامیابی سے ان کے یہ مفادات ختم ہوجائیں گے اور ان کا مقام و مرتبہ جاتا رہے گا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے قدموں کے نیچے سے زمین نکلی جا رہی ہے اور ان کے عقائد اور شعور کے اندر ایک زلزلہ برپا ہے اور قرآن کو ” حق مبین “ تھا اور اس کی کارگر ضربات ہر وقت ان پر لگتی رہتی ہیں۔
سچائی کا انکار ہمیشہ اس لئے نہیں ہوتا کہ لوگ اسے جانتے نہیں ہیں ، بلکہ سچائی کا انکار اس لئے ہوتا ہے کہ لوگ جانتے ہیں کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ ان کے نفوس اچھی طرح جانتے ہیں۔ پھر ان منکرین کو اپنی جان کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا بلکہ اپنے حالات اپنے مفادات اور اپنی مصلحتوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لئے وہ حق کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں حالانکہ سچائی واضح اور بین ہوتی ہے۔
فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین (82 : 31) ” اب دیکھو کہ مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔ “ فرعون اور اس کی قوم کا انجام کیا ہوا۔ قرآن نے دوسری جگہ اس کی پوری تفصیلات دی ہیں۔ یہاں صرف اشارہ کردیا۔ شاید کہ انکار کرنے والوں میں سے کچھ عقلمند مان جائیں۔ قبل اس کے کہ ان کا وہ انجام ہو جو فرعون کا ہوا۔
النمل 27:14
فلما جآء تھم ……المفسدین (41)
یہ بیشمار نشانیاں ، حق کو باطل سے واضح کرنے والی نشانیاں ، ایسی نشانیاں کہ جس کو اللہ نے دو آنکھیں دی ہیں وہ انہیں دیکھ سکتا ہے۔ جن کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نشانیاں مبصر ہیں یعنی وہ دیکھنے والی ہیں۔ دیکھ دیکھ کر لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف لانے والی ہیں۔ لیکن وہ لوگ ایسے ہٹ دھرم تھے کہ ان کو بھی انہوں نے کہا کہ سحر مبین ہے ، کھلا جادو ہے۔ یہ نہیں کہ وہ دل سے کہتے تھے یا وہ فی الواقعہ ایسا سمجھتے تھے یہ تو انہوں نے محض ظلم اور علوم کی وجہ سے کہا۔ ان کے دل و دماغ تو اس پر مطمئن تھے کہ یہ حق ہے۔ بالکل ان کو کوئی شبہ نہ تھا۔
واستبف تھا انفسھم (82 : 31) ” حالانکہ ان کے دل ان کے قائل ہوچکے تھے۔ “ محض ہٹ دھرمی اور مکا برہ کی وجہ سے کیونکہ یہ ایمان لانا نہیں چاہتے تھے اور نہ کوئی دلیل وہ طلب کرنا چاہتے تھے۔ یہ اپنے آپ کو سچائی سے برتر سجھتے تھے اور اپنے نفوس پر ظلم کر رہے تھے کیونکہ قبول حق میں خود ان کی بھلائی تھی۔
بعینہ یہی حال اکابرین قریش کا بھی تھا۔ یہ قرآن کریم کو سنتے تھے ، ان کو اچھی طرح یقین تھا کہ یہ حق ہے لیکن محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے تھے اور نبی ﷺ کی دعوت کا انکار کرتے تھے یہ دعوت صرف اللہ وحدہ کی طرف تھی۔ وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ ہر حال میں اپنے دین اور عقائد پر قائم رہنا چاہتے تھے کیونکہ اس دین میں ایسے اصول تھے جن کی وجہ سے ان کو مسند حاصل تھی۔ کچھ مفادات حاصل تھے اور یہ مسندیں اور مفادات ان عقائد باطلہ پر مبنی تھ۔ دعوت اسلامی سے ان کے لئے خطرہ ہی یہ تھا۔ اس کی کامیابی سے ان کے یہ مفادات ختم ہوجائیں گے اور ان کا مقام و مرتبہ جاتا رہے گا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے قدموں کے نیچے سے زمین نکلی جا رہی ہے اور ان کے عقائد اور شعور کے اندر ایک زلزلہ برپا ہے اور قرآن کو ” حق مبین “ تھا اور اس کی کارگر ضربات ہر وقت ان پر لگتی رہتی ہیں۔
سچائی کا انکار ہمیشہ اس لئے نہیں ہوتا کہ لوگ اسے جانتے نہیں ہیں ، بلکہ سچائی کا انکار اس لئے ہوتا ہے کہ لوگ جانتے ہیں کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ ان کے نفوس اچھی طرح جانتے ہیں۔ پھر ان منکرین کو اپنی جان کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا بلکہ اپنے حالات اپنے مفادات اور اپنی مصلحتوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لئے وہ حق کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں حالانکہ سچائی واضح اور بین ہوتی ہے۔
فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین (82 : 31) ” اب دیکھو کہ مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔ “ فرعون اور اس کی قوم کا انجام کیا ہوا۔ قرآن نے دوسری جگہ اس کی پوری تفصیلات دی ہیں۔ یہاں صرف اشارہ کردیا۔ شاید کہ انکار کرنے والوں میں سے کچھ عقلمند مان جائیں۔ قبل اس کے کہ ان کا وہ انجام ہو جو فرعون کا ہوا۔
النمل 27:15
درس نمبر 271 ایک نظر میں
” یہاں حضرت دائود کی طرف صرف ایک اشارہ ہے لیکن پورا قصہ صرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ہے اور اس سے قبل حضرت مسویٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک مختصر کڑی دی گئی ہے۔ یہ سب حضرات انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے اور اس سورت کے آغاز ہی میں قرآن کریم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا۔
ان ھذا ……یختلفون (82 : 68) اس سورت میں حضرت سلیمان علیہالسلام کے قصے کی سب سورتوں کے مقابلے میں زیادہ تفصیلات دی گئی ہیں ، یعنی جہاں جہاں حضرت سلیمان کا تذکرہ ہوا ہے۔ اگرچہ یہاں ان کے حالات زندگی میں سے قصہ ہد ہد اور ملکہ سبا کی تفصیلات ہیں۔ اس کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علہی السلام یہ اعلان فرماتے ہیں کہ اللہ نے ان کو خصوصی طور پر پرندوں کی باتیں سکھانی ہیں اور ہر چیز عطا کی ہے اور اللہ نے ان پر جو فضل و کرم کیا ہے وہ اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایک منظر آتا ہے جس میں حضرت سلیمان اپنے لائو لشکر سمیت چلتے نظر آتے ہیں۔ اس عظیم لشکر میں جن ، انس اور پرندے سب شامل ہیں۔ جب یہ لشکر چلتا ہے تو ایک چھوٹی سی چیونٹی اپنی قوم کو خبردار کرتی ہے کہ ایک عظیم لشکر جرار اس علاقے کا رخ کر رہا ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو بچائو۔ حضرت سلیمان یہ الفاظ سنتے ہیں اور اس پر بھی رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس بات کو پاتے ہیں کہ نعمت تو باتلا ہے ۔ اس لئے وہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ تو اس ابتلا میں مجھے شکر اور کامیابی کی توفیق عطا فرما۔
یہ قصہ اس سورت میں کیوں لایا گیا ہے۔ سورت کے آغاز میں بیان کردیا گیا ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور پھر اسی سورت میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے سامنے ان بیشتر موضوعات پر کلام رتا ہے جن کے بارے میں ان کے اندر اختلاف رائے ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم کہہ آئے ہیں اور حضرت موسیٰ ، حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہم السلام) کے قصص تاریخ بنی اسرائیل کی اہم کڑیاں ہیں۔
یہاں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصے کی جو کڑی پیش کی گئی ہے اس کی اس سورت کے مضمون سے مناسبت کیا ہے۔ یہ کڑی کئی پہلوئوں کے اعتبار سے مناسبت رکھتی ہے۔
اس سورت کا مرکزی مضمون علم ہے جیسا کہ ہم نے اس سورت پر تبصرے میں کہا ہے۔ اور حضرت دائود و سلیمان کے قصے میں سب سے پہلا اشارہ ہی اسطرف ہے۔
” یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان بیشتر باتوں کی تفصیلات بیان کرتا ہے جس میں وہ مختلف الرائے ہیں۔ “
وقد اتینا دائود و سلیمان علماً (82 : 51) ” ہم نے دائود اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ “ اور پھر سلیمان (علیہ السلام) نے اس کڑی میں منطق الطیر کے علم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ کی نعمت کا اعتراف کیا ہے۔
وقال یایھا الناس علمنا منطق اطیر (82 : 61) ” لوگو ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں ۔ “ اور اس قصے کے درمیان ہد ہد اپنی غیر حاضری کا عذر بیان کرتے ہوئے یہ کہتا ہے۔
احطت بمالم تحظ ……یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو تیرے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں۔ “ اور پھر اس قصے میں ہے کہ جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا ، اس نے کہا کہ میں ملکہ سبا کا تخت پلک جھپکتے لاتا ہوں۔
سورت کے افتتاح میں تھا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے ایک کتاب مبین ہے اور اس کو مشرکین مکہ کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے۔ لیکن وہ اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ پھر اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ایک خط کا ذکر ہے جو ملکہ سبا کے نام لکھا گیا۔ لیکن وہ جبم علوم کرلیتی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سچائی کی دعوت دیتے ہیں تو وہ اور اس کی قوم اسے جلد ہی قبول کر کے مطیع فرمان ہوجاتے ہیں۔ خصوصاً جبکہ وہ دیکھتے ہیں کہ جان و انس اور پرندوں کی قوتیں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کر دیگئی ہیں اور یہ اللہ ہی ہے جس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو یہ قوتیں عطا کی ہیں۔ وہی ہے اقتدار اعلیٰ کا مالک ۔
پھر اس سورت میں انسانوں پر اللہ کے انعامات کا بھی ذکر ہے۔ اس کائنات میں اس کے جو نشانات ہیں ان کا بھی ذکر ہے۔ لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ پھر بھی اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور شکر نعمت بجا نہیں لاتے۔ اس قصے میں بھی ایک بندہ شکر گزار کا ذکر ہے ، جو اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں کہ اے اللہ مجھے یہ توفیق دے کہ میں تیری انعامات کا شکر بجا لائوں۔ جو اللہ کی آیات پر غور کرتے ہیں اور ان سے کسی وقت بھی غافل نہیں ہوتے اور نہ وہ اللہ کے انعامات کی وجہ سے سرکشی اختیار کرتے ہیں۔ نہ قوت کی وجہ سے وہ گھمنڈ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس قصے کی مضمون سورت کے ساتھ کئی ربط اور مناسبتیں ہیں اور سورت کے موضوع اور قصے کے اندر جا بجا واضح اشارات موجود ہیں۔
حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کی کہانی کو جس طرح قرآن مجید نے بیان کیا ہے وہ اس بات کا نمونہ ہے کہ قرآن مجید قصص کو کس طرح لاتا ہے اور اس کا قصص کا فنی انداز بیان کیسا ہوتا ہے۔ اس قصے میں تگ و دو ، جذبات و تاثرات ، مختلف مناظر اور مشاہد پائے جاتے ہیں۔ پھر مختلف مناظر کے درمیان گیپ جن میں غیر ضروری حصوں کو کاٹ دیا گیا ہے۔ اور اس کے دوسرے فنی کمالات ہیں۔
اب ذرا آیات کی تفصیلات
درس نمبر 271 تشریح آیات
51……تا……44
ولقد اتینا دائود ……المومنین (51)
”(یہ اشارہ ہے کہ اب قصے کا آغاز ہونے والا ہے اور یہ افتتاحی کلمات ہیں۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس قصے کے بڑے کرداروں کو ہم نے بڑے بڑے انعامات سے نوازا تھا اور سب سے بڑا اعزاز تو علم ہوتا ہے جو حضرت دائود اور سلیمان (علیہم السلام) کو دیا گیا ۔ حضرت دائود کو جو علوم دیئے گئے تھے قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔ یہ کہ زبور کی آیات کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا فن ان کو دیا گیا تھا ، وہ اس فن میں اس قدر ماہر تھے کہ جب وہ زبور کی آیات پڑھتے تھے تو یہ پوری کائنات انکے ساتھ گنگناتی تھی۔ پہاڑ کی گونج اور پرندوں کی چہچہاہٹ ان کے ساتھ زبور کو گاتے کیونکہ آپ کی آواز بےحد میٹھی تھی۔ وہ سوز دل سے پڑھتے تھے اور اپنے رب کے ساتھ مناجات میں وہ غرق ہوجاتے تھے۔ پھر ان کو اللہ نے جنگی ساز و سامان کی بنیادی ٹیکنالوجی دی تھی۔ وہ اچھی زر ہیں بناتے تھے ، دھاتوں کو پھگلانے میں مہارت رکھتے تھے اور ان سے ہر قسم کی چیزیں بناتے تھے اور وہ ایک بہترین جج تھے اور اس کام میں حضرت سلیمان ان کے مشیر خاص تھے۔
رہے سلیمان (علیہ السلام) تو اس سورت میں وہ پوری تفصیلات دی گئی ہیں جو اللہ نے انکو سکھائیں یعنی پرندوں کی بولیاں اور جس طرح دوسری سورتوں میں ذکر ہے کہ وہ ایک بہترین جج تھے اور ان کے لئے ہوائوں کو بھی مسخر کردیا گیا تھا اور اس قصے کا آغاز بھی اسی اشاریے سے ہوتا ہے۔
ولقد اتینا دائودو سلیمان علماً (82 : 51) ” یہ واقعہ ہے کہ ہم نے دائود اور سلیمان کو علم دیا تھا۔ “ لیکن آیت ختم ہونے سے پ ہے حضرت سلیمان اور حضرت دائود (علیہم السلام) کی جان سے یہ بات آجاتی ہے کہ وہ رب تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں اور علم کی نعمت کی ان کے ہاں بڑی قدر و قیمت ہے۔ وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ نے اس معاملے میں ان کو اپنے مومن بندوں کی ایک بڑی تعداد کے مقابلے میں ترجیح دی ہے۔ یوں وہ علم کی قدر و قیمت اور پھر اس عظیم احسان کا اعتراف کرتے ہیں۔
یہاں اس علم کی نوعیت اور تفصیلات نہیں دی گئیں کیونکہ اللہ کے ہاں مطلق علم ایک فضل الٰہی ہے۔ عام علم کو اللہ کی نعمت بتانا مقصود ہے۔ ہر قسم کا اور ہر نوع علم مطلوب مومن ہے۔ پھر ہر عالم کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کے اس فضل کا شکر ادا کرے۔ اور اللہ کا شکر اور اس کی حمد بیان کرتا رہے اور یہ دعا کرتا رہے کہ اے اللہ یہ علم میرے لئے نافع ہو۔ یہ نہ ہو کہ علم انسان کو اللہ سے دور کر دے ، اللہ کو بھلانے کا سبب بنے حالانکہ علم دینے الا اللہ ہے۔
وہ علم جو قلب انسانی کو اللہ سے دور کرے ، وہ فاسد علم ہے۔ وہ اپنے مقصد اور اپنے ہدف سے دور اور ایک طرف ہوگیا ہوتا ہے۔ ایسا علم صاحب علم کے لئے فلاح و نجات اور سعادت مندی کا باعث نہیں ہوتا اور نہ ایسا علم انسانوں کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ ایسا علم انسانوں کے لئے مصیبت ، بدبختی ، خوف ، قلق ، بےچینی اور بالاخر ہلاکت کا سبب بنتا ہے ۔ کیونکہ یہ علم اپنے مصدر و منبع سے کٹ گیا ہے ، اس کی سمت غلط ہے اور اس نے اللہ تک پہنچنے کی راہ گم کردی ہے۔
اس وقت انسانیت علم کے ایک اعلیٰ مرتبے تک پہنچ چکی ہے۔ خصوصاً ایٹم کے توڑنے کے بعد۔ اور پھر اسے مختلف مفید کاموں میں استعمال کرنے کے بعد۔ لیکن جن لوگوں کے ہاتھ یہ ایٹمی علم آیا اور جن کے دلوں میں خدا کا خوف نہ تھا۔ ان کے ہاتھوں انسانیت نے کس قدر کڑوا پھل چنا اور کھایا۔ یہ اس لئے کہ ان لوگوں کے دل میں خدا کا خوف خدا کی تعریف اور خدا کی طرف توجہ نہ تھی۔ چناچہ اس علم نے اور ایسے علماء نے ہیرو شیما کا رنامہ سر انجام دیا۔ ناگاسا کی کی تباہی مچائی اور ان واقعات کے بعد اب شرق و غرب کے تمام انسان رات دن اس کرہ ارض اور تمام انسانیت کی تباہی کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس تمہید کے بعد کہ حضرت دائود سلیمان دونوں کو ہم نے علم سے نوازا اور انہوں نے اللہ کو حمد اور تعریف کی کہ اللہ نے ان پر احسان کیا اور علم کی قدر و قیمت کو محسوس کیا۔ اب صرف حضرت سلیان (علیہ السلام) کی زندگی کے واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔
النمل 27:16
وورث ……المبین (61)
حضرت دائود کو نبوت اور علم کے ساتھ ساتھ حکومت بھی دی گئی تھی لیکن ان دونوں پر اللہ کے فضل و کرم کے بیان میں ان کے اقتدار کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صرف علم و حکمت کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ علم و حکمت کے مقابلے میں اقتدار ایک حقیر چیز ہے۔
وورث سلیمان دائود (82 : 61) ” او سلیمان نے دائود کی وراثت پانی۔ “ یہاں وراثت سے مراد بھی علم کی وراثت ہے کیونکہ علم و حکمت ہی اس قابل ہے کہ اس میں کوئی پیغمبر دوسرے کا وارث بنے اور اس بات کی تاکید اس سے بیھہوتی ہے کہ حضرت سلیمان لوگوں میں یہ اعلان کرتے ہیں۔
وقال یایھا الناس ……من کل شیء (82 : 61) ” اے لوگو ، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں۔ “ تو علم کا ذکر کردیا گیا اور باقی نعمتوں کا ذکر اس کے ضمن میں کردیا گیا۔ گویا دائود نے یہ چیزیں نہیں دی ہیں بلکہ دینے والا اللہ ہے جہاں سے علم آیا۔
وقال ……کل شیء (82 : 61) ” لوگو ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں۔ “ ان باتوں کا حضرت سلیمان (علیہ السلام) لوگوں میں اعلان کرتے ہیں۔ یہ اعلان وہ بطور تحدیث نعمت کرتے ہیں اور اللہ کے ہاں اپنے مقام فضیلت کے لئے کرتے ہیں ، بطور فخر و مباہات نہیں کرتے۔ یہ کہ آپ لوگوں پر رعب جماتے تھے اور ایسی باتوں کا ذکر کرتے تھے جو ان میں نہ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ذکرہوا۔
ان ھذا لھو الفضل المبین (82 : 61) ” بیشک یہ اللہ کا نمایاں فضل ہے۔ “ یعنی اللہ کا فضل ہے اپنے بندے پر کیونکہ پرندوں کی بولیوں کی تعلیم پر صرف اللہ ہی قادر ہے اور اس طرح حضرت دائود سلیمان کو علی العلوم تمام انعامات دیئے گئے تھے۔ یہ بھی اللہ ہی دے سکتا ہے۔
پرندوں ، حیوانات اور حشرارت الارض کو اللہ نے ایک دور سے کو سمجھانے کے لئے وسائل دیئے تھے اور یہ ان کی زبان اور منطق ہے ۔ اللہ ان تمام جہانوں کے خالق ہیں۔ فرماتے ہیں۔
وما من دآبۃ فی الارض ولا طئر یطریر بجناحیہ الا امم امثالکم (الانعام : 83) ” زمین پر چلنے الے جتنے جانور ہیں اور اڑنے والے پرندے جو اپنے دوپروں کے ساتھ اڑتے ہیں وہ تمہیں طرح امتیں ہیں۔ “ یہ چزیں امت تب ہو سکتی ہیں جب ان کے درمیان اجتماعی روابط ہوں۔ جن کے مطابق وہ رہتے ہوں اور ایسے وسائل اور ذرائع ہوں ، جن کے ذریعے وہ ایک دور سے کو سمجھتے ہیں۔ بیشمار حشرات حیوانات اور پرندوں کے اندر یہ چیزیں نظر آتی ہے۔ حشرارت الارض کی اقسام کے ماہرین نے اپنے اندازوں اور مشاہدوں کے ذریعے ان انواع کے ذرائع تفاہم کی بعض علامات دریافت بھی کی ہیں جو اگر چہ ظنی ہیں۔ رہا وہ علم جو حضرت سیمان (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا وہ ان کے ساتھ خاص تھا اور وہ معجزانہ انداز میں ان کو دیا گیا تھا وہ عام انسانوں کا عام مشاہدہ نہ تھا۔ نہ وہ ایسا علم تھا جس طرح ہمارے دور میں مشاہدہ اور تتبع سے بعض لوگوں نے بعض انواع کے بارے میں معلوم کی ہیں۔ یہ انسانی علوم ظن وتخمین ہیں۔ ان کی نوعیت اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علم کی نوعیت مختلف ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ بطور تاکید مزید اس بات کی وضاحت کر دوں کیونکہ بعض جدید مفسرین کو سائنس کی علمی کامیابیوں نے اس قدر متاثر کردیا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تفسیر جدید علمی انکشافات کی روشنی میں کرتے ہیں۔ ان مفسرین نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علم منطق الطیر کی ایسی ہی تشریح کی ہے کہ یہ ایسا ہی علم تھا جیسا کہ دور جدید کے بعض ماہرین نے حشرارت الارض اور حیوانات کی بعض انواع و اجناس کے بارے میں معلوم کیا ہے۔ ایسی کوششیں دراصل قرآنی معجزات کو اپنی حقیقی ماہیت سے نکال دیتی ہیں۔ یہ دراصل ایک شکست خوردہ انداز فکر ہے اور جدید سائنس کے سامنے غیر ضروری طور پر بچھ جاتا ہے۔ حالانکہ سائنس کی انکشافات بہت ہی حقیر و قلیل ہیں جبکہ اللہ کے لئے یہ بات کوئی مشکل امر نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کو حیوانات ، حشرارت اور طیور و حوش کے وہ تمام طریقہ اظہار اور مکالمہ سمجھا دے اور معجزانہ انداز میں سمجھا دے۔ بغیر سائنس ریسرچ اور جہد کے اللہ کے لئے یہ اس طرح آسان ہے کہ اس نے انسانوں اور حیوانوں کے درمیان جو پردہ حائل کردیا ہے بس صرف اسے ہٹانا ہے وہ تو تمام انواع کا خالق ہے۔
پھر یہ بات اس عظیم معجزے کا ایک پہلو تھا جو سلیمان (علیہ السلام) کا دیا گیا تھا۔ اس کے دوسرا مصدر یہ تھا کہ حضرت کے لئے جنوں اور پرندوں کی ایک بڑی تعداد کو مسخر کردیا گیا تھا تاکہ وہ آپ کی حکومت کے ماتحت ہوں اور آپ کے لئے پوری طرح مطیع فرمان ہوں ، جس طرح انسانوں کی جو افواج آپ نے بھرتی کر رکھی تھیں اور پرندوں میں سے جو گروہ آپ کے زیر نگیں کردیا گیا تھا اسے اللہ نے ایک خاص قوت مدد کہ دی تھی اور وہ قوت ان جیسے عام پرندوں میں نہ تھی۔
یہ بات ہد ہد کے قصے سے معلوم ہوتی ہے جس نے ملکہ سبا کی مملکت کے حالات معلوم کئے اور اس نے ان کے حالات کو اس طرح سمجھا جس طرح کہ اعلیٰ درجے کا عقلمند اور متقی شخص سمجھ سکتا ہے اور یہ بھی اس معجزے کا ایک حصہ تھا جو حضرت سلیمان کو دیا گیا تھا۔
اللہ کی یہ سنت ہے کہ اللہ کی مخلوق میں جو حیوانات پائے جاتے ہیں ان کے درمیان عقلمندی کی سطح اونچی اور نیچی تو ہو سکتی ہے لیکن کسی حیوان کو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا ہے کہ اس کی قوت مدر کہ انسان سے بڑھ جائے یا اس کے برابر ہوجائے۔ یہ حیوانات اور طیور کی خلقت میں سنت الہیہ نہیں ہے۔ اور نہ یہ سنت اس پوری کائنات کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور سنت الہیہ کے تابع ہے۔ یہ سنت اول روز سے ایسی ہی چل رہی ہے۔
آج ہمارے ہاں جو ہد ہد پایا جاتا ہے ، ہزار باملین سال پہلے بھی ہد ہد اسی نہج پر پیدا ہو رہا تھا۔ جب سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ کیونکہ اللہ نے ہر حیوان کی اندر ایسے جینز پیدا کئے ہیں کہ آج کا ہد ہد ہزار ہا ملین سال پہلے پیدا کئے جانے والے ہد ہد کی پوری کاپی ہے۔ اس کے اندر جو اور جس قدر تبدیلی بھی ہو وہ اپنی نوعیت کے دائرے سے نہیں نکل سکتا۔ یہ بھی سنت الہیہ کا ایک پہلو ہے اور اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
لیکن ان دونوں حقائق کے باوجود یہ نوامیس فطرت اور یہ سنت الہیہ اس بات سے مانع نہیں ہیں کہ اللہ اپنی قدرت کے اصولوں کے اندر استنائی صورت پیدا کر دے۔ بعض اوقات یہ استثنائی حالت بھی دراصل ناموس عام اور سنت جاریہ ہی کا ایک حصہ ہوتی ہے لیکن ہم اس مخصوص پہلو سے خبردار نہیں ہوتے۔ اس جزئی ناموس اور استثنائی حالت کا علم دراصل صرف اللہ کو ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بظاہر چلتے ہوئے اصول کو روک دیتا ہے۔ اس طرح سنت الہیہ میں بظاہر جو تبدیلی ہوتی ہے وہ بھی ایک برتر سنت ہوتی ہے۔ یہی تھی کہ کہانی ہد ہد اور سلیمان کی اور اللہ نے ان قوتوں کو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کردیا تھا۔
اب ہم اس نکتے سے سلیمان (علیہ السلام) کے قصے کی طرف آتے ہیں کہ حضرت دائود کی وراثت پا کر انہوں نے اللہ کی طرف سے کیا کیا انعامات پائے۔
النمل 27:17
وحشر ……یوزعون (71)
یہ تھا حضرت سلیمان کا لشکر۔ بہت بڑی تعداد میں ہر طرف سے اٹھایا ہوا۔ جن انس اور پرندوں پر مشتمل۔ انسان تو معلوم ہیں ، جن وہ مخلوق ہے جس کے بارے میں خود قرآن نے معلومات دی ہیں اور ان کی حقیقت کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ وہ آگ کے شعلے سے پیدا شدہ ہیں۔ یعنی ایسے شعلے جو موجوں کی شکل میں اٹھتے ہیں۔ بشر ان کو نہیں دیکھ سکتے مگر وہ بشر کو دیکھ سکتے ہیں۔
انہ یراکم و قبیلہ من حیث لاترونھم ” وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں دیکھتا ہے مگر تم اسے نہیں دیکھتے۔ “ یہ آیت اگرچہ ابلیس کے بارے میں ہے لیکن وہ جنوں میں سے تھا۔ پھر ان جنوں کے اندر یہ قوت ہے کہ یہ انسانوں کے دلوں میں برائی کے وسوسے ڈالتے ہیں اور پھر یہ انسانوں کو اللہ کی معصیت پر آمادہ کرتے ہیں ۔ لیکن اس کی تفصیلی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے اور جنوں کا ایک طائفہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان بھی لایا تھا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں نہیں دیکھا۔ نہ آپ نے ان کے ایمان کو سنایا دیکھا۔ البتہ اللہ نے اس بات کی اطلاع حضرت نبی ﷺ کو دی ۔
قل اوحی ……احداً (2) (28 : 1-2) ” اے پیغمبر کہہ دے ، میری طرف یہ وحی کی گئی ہے۔ ایک گروہ جس نے کان لگا کر سنا اور پھر کہا ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے ، جو راہنمائی کرتا ہے عقلمندی کی راہ کی طرف تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے والے نہیں ہیں۔ “ ہمیں اس کا علم ہے کہ جنوں کا ایک گروہ بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زیرنگیں تھا۔ جو آپ کے لئے محرابی عمارات ، تصویریں اور بڑے بڑے حوضوں جیسے کھانے کے لگن بناتا تھا اور یہ جن آپ کے لئے سمندر میں غوطے بھی لگاتے تھے اور آپ کے دوسرے احکام بجالاتے تھے اور یہ سب آپ کے لشکر میں انسانوں اور پرندوں کے ساتھ موجود تھے۔
اور یہ جو ہم کہتے ہیں کہ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے جنوں اور انسانوں کا ایک گروہ مسخر کردیا تھا تو اس لئے کہ تمام روئے زمین کے جن و انس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر میں شامل نہ تھے کیونکہ حضرت سیمان کی حکومت کی حدود فلسطین ، شام ، عراق تک محدود تھیں۔ اسی طرح تمام جن اور تمام پرندے بھی آپ کے لئے مسخر نہ تھے۔ ان میں سے ایک گروہ آپ کے لئے مسخر کردیا گیا تھا۔
جن سب کے سب مسخر نہ تھے۔ اس لئے کہ ابلیس جنوں میں سے تھا ، اس کی ذریت بھی جن تھی جس طرح قرآن مجید میں ہے۔
کان من الجن اور سورت الناس میں ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے اور حضرت سلیمان کے زمانے میں بھی شیطان جنات لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے ، لوگوں کو گمراہ کرتے تھے اور تمام شر کے کاموں پر آمادہ کرتے تھے۔ لہٰذا تمام جن حضرت سلیمان کے لئے مسخر نہ تھے ورنہ ان کی تسخیر میں ہوتے ہوئے وہ کس طرح فسادی کام کرتے۔ کیونکہ حضرت سلیمان ایک نبی تھے اور لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتے تھے لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ جنات کا ایک گروہ ان کے تابع تھا۔
پرندوں کے سلسلے میں بھی یہی استدلال ہے کہ جب پرندہ حاضر نہ پایا گیا ، تو معلوم ہوا کہ تمام پرندے مسخر نہ تھے ورنہ ہزار ہا پرندوں میں سے ایک کا ہونا نہ ہونا محسوس نہ ہونا۔ جب ہد ہد نہ پایا گیا تو آپ نے فرمایا۔
مالی لا اری الھدھد (82 : 2) ” یہ ہد ہد کہاں گیا میں اسے نہیں دیکھ رہا ہوں۔ “ معلوم ہوا کہ یہ ایک مخصوص ہد ہد تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ہی ہد ہد ہو۔ یا یہ کہ جو ہد ہد ڈیوٹی پر تھا وہ موجود نہ تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس ہد ہد یا مسخر ہدہدوں کو اللہ نے ادراک کی ذرا زیادہ قوت دے رکھی تھی جو اور ہدہدوں میں نہ تھی۔ اور یہ قوت مدر کہ صرف ان کے پرندوں کے لئے تھی جو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کئے گئے تھے۔ کیونکہ ان آیات سے ہد ہد کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ذہین اور نیک پرندہ تھا۔
غرض حضرت سلیمان کے لئے جن و انس اور وحوش و طیور کی ایک عظیم فوج اٹھائی گئی تھی۔ یہ ایک عظیم فوج تھی اور یہ سب کے سب بےحد منظم تھے۔ یہ غیر منظم بھیڑ کی شکل میں نہ تھی۔ اس لئے ان کو افواج کہا گیا ہے اور جنود کے لفظ سے دونوں مفہوم ظاہر ہوتے ہیں یعنی کثرت تعداد اور تنظیم ۔
النمل 27:18
حتی ……عبادک الصلحین (91)
یہ لشکر جب نکلا ، جس میں انسان ، جن او طیور شامل تھے۔ نہایت تنظیم اور ترتیب کے ساتھ اس کا اول اس کے آخری حصہ سے مربوط تھا۔ اس کی صفیں منظم تھیں اور اس کی حرکت بھی منظم تھی۔ یہ لشکر ایک ایسی وادی میں پہنچا جہاں چیونٹیاں بڑی تعداد میں تھیں۔ اس کثرت سے کہ اس ودی کا نام ہی وادی نمل تھا۔ تو ایک ایسی چیونٹی نے جو ان کی سربراہ تھی ، چیونٹیوں سے کہا۔
ادخلوا مسکنکم (82 : 81) ” اپنے گھروں میں داخل ہو جائو۔ “ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ چیونٹیوں بھی شہد کی مکھیوں کی طرح بہت منظم ہوتی ہیں۔ ان کے اندر ڈیوٹیاں تقسیم ہوتی ہیں اور یہ ایک عجیب نظام کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہیں۔ ایسے نظام کے ساتھ کہ خود انسانوں کے لئے اس قدر منظم زندگی بسر کرنا مشکل ہے۔ ان کو بڑی ترقی یافتہ عقل اور بلند قوت مدر کہ دی گئی ہے تو اس چیونٹی نے اپنی زبان میں کہا۔
لا یحطمنکم سلیمن و جنودہ وھم لایشعرون (82 : 81) ” کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو “ ۔ حضرت سلیمان نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا۔ ان کا دل بہت خوش ہوا کہ چیونٹی کیا احکام دے رہی ہے۔ انہوں نے اس پر تعجب کیا کہ ایک چیونٹی حضرت سلیمان کی شان کو جانتی ہے۔ خطرہ محسوس کرتی ہے ، جبکہ ان کے دل میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ ان کو اذیت دیں جس طرح ایک چھوٹا بڑے کی اذیت سے ڈرتا ہے۔ حضرت سلیمان کو خوشی اس پر ہوئی کہ اس قدر چھوٹی مخلوق بھی ان کے بارے میں ادراک رکھتی ہے اور پھر تعجب بھی ہوا کہ ایک چیونٹی کی اطاعت اس کے ماتحت سمجھتے ہیں اور کرتے ہیں۔ ان کو اللہ کی مخلوقات اور عجائبات پر بڑا ، تعجب ہوا۔
جب حضرت سلیمان کو یہ سب باتیں معلوم ہوئیں تو
فتبسم ضاحکا من قولھا (82 : 91) ” سلمان اس کی بات پر مسکراتے ہئوے ہنس پڑا۔ “ لیکن اس مشاہدے نے ان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ان کے دل کو رب تعالیٰ کی طرف متوجہ کردیا۔ جس نے اسے یہ خارق عادت علم سے نوازا۔ یوں انسانوں اور دوسری مخلوقات کے درمیان راز کے جو پردے حائل تھے وہ ہٹا دیئے گئے۔ چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نہایت عاجزی کے ساتھ رب کی طرف متوجہ ہوئے۔
وقال رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی و علی
والدی (82 : 91) اور کہا اے میرے رب ، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اسا حسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے۔ “
اے رب یہ براہ راست ایک خدا رسیدہ شخص کی دعا ہے۔ اوزعنی یعنی مجھے جمع رکھ میرے شعور اور میرے اعضا جمع رکھ ، میرے دل اور میری زبان کو قابو میں رکھ۔ میرے خیالات اور خلجانات کو منضبط کر دے اور میرے کلمات اور میری عبادات کو مجتمع کر دے۔ میرے اعمال اور میری سرگرمیوں کو منضبط کر دے۔ میری تمام طاقتوں کو مجتع منضبط کر دے۔ میرے وجوہ کو اول سے آخر تک ایک کر دے۔ یہ سب مفہومات ” اوزعنی “ میں شامل ہیں۔ تاکہ میں پورے کا پورا مجسمہ شکر بن جائوں۔ ان انعامات کے عوض جو مجھ پر اور میرے والدین پر کئے گئے ۔
اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قلب پر ان انعامات کا اثر تھا۔ ان پر جو اثر تھا اس کی نوعیت بھی اس سے ظاہر ہوتی ہے اور ان کا وجود اور ان کا وجدان اللہ کے فضل و کرم کی اس بارش سے سرشار تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان پر اور ان کے والدین پر اللہ کا دست شفقت ہر وقت نعمت ، رحمت اور فضل و کرم کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔
” اے میرے رب ، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا۔ “
وان اعمل صالحا ترضہ (82 : 91) ” اور میں ایسا عمل کرتا رہوں جو تجھے پسند آئے۔ “ عمل صالح بھی دراصل اللہ کا فضل وکرم ہوتا ہے اور یہ اس شخص پر ہوتا ہے۔ جو اللہ کا شکر گزار ہو اور سلیمان (علیہ السلام) ایسے شکر گزار ہیں کہ اس معاملے میں وہ اللہ کی استعانت طلب کرتے ہیں کہ شکر بھی اللہ کی امداد کے بغیر ممکن نہیں ہے اور توفیق عمل بھی اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اس نکتے کا اچھا شعور تھا۔
وادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین (82 : 91) ” اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر۔ “ حضرت جانتے ہیں کہ اللہ کے بندوں میں داخل ہوجانا اور ان کے ساتھ ہو لینا بھی اللہ کی رحمت ہے۔ اس سے بھی انسان کی مدد ہوتی ہے۔ اور انسان کو اچھے کام کی توفیق ہوجاتی ہے۔ پھر وہ صالحین کے ساتھ چلتا ہے ، اللہ سے دعا کرتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں میں ہو جن پر تیرا رحم ہوتا ہے ، جو تیری راہ کے سالک ہیں اور اس گروہ میں ہیں۔ حضرت سلیمان اللہ کے سامنے عاجزی کرتے ہیں حالانکہ وہ نبی ہیں انس ، جن اور طیور ان کے لئے مسخر ہیں لیکن وہ پھر بھی اپنے آپ کو اللہ کی رحمت کا محتاج تصور کرتے ہیں ، وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان سے عمل صالح کی شکر نعمت میں کتواہی نہ ہوجائے۔ غرض تیز احساس ، ایسا ہی شعور ، اللہ کا خوف و خشیت ، اللہ کی رضا اور رحمت کی طلبگاری کے پختہ شعور کے لمحات ہی ہوتے جن میں اللہ کی نعمتیں اپنے خاص بندوں پر کھلی نازل ہوتی ہیں ، جس طرح حضرت سلیمان پر نازل ہوئیں۔
اب یہاں ہمارے سامنے ایک نہیں ، دو معجزات ہیں۔ ایک معجزہ یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو علم ہوگیا ہے اور دوسرا یہ کہ چیونٹی کو یہ علم ہوگیا ہے کہ یہ لشکر سلیمان (علیہ السلام) کا ہے۔ پہلا معجزہ تو یوں ہے کہ حضرت سلیمان کو اللہ نے تعلیم دی۔ وہ نبی تھے ، انسان تھے اور انسان کے بارے میں ایک انسان سہولت سمجھ سکتا ہے کہ اسے چیونٹی کے احکامات کا علم ہوگیا۔ لیکن دوسرا معجزہ جو چیونٹی کے قول میں ہے تو اس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ چیونٹیوں کو معلوم ہوگیا کہ انسان ایک بڑی مخلوق ہے اور یہ ان کو روند ڈالیں گے۔ ہر زندہ مخلوق کے اندر زندہ بچانے کا داعیہ ہوتا ہے۔ اسی طرح چیونٹیوں میں بھی یہ شعور ہوگا۔ رہی یہ بات کہ ایک چیونٹی کو یہ علم کیسے ہوگیا کہ بڑی مخلوق کا یہ لائو و لشکر سلیمان (علیہ السلام) کا ہے۔ یہ بہرحال ایک معجزہ ہے اور اسے معجزہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ نے اسے معجزانہ طور پر یہ بات سکھا دی تھی۔
اب آیئے سلیمان (علیہ السلام) اور ہد ہد کے واقعہ اور ملکہ سبا کے ساتھ معاملات کی طرف۔ اس قصے میں چھ اہم مناظر ہیں۔ ان مناظر کے درمیان خلا ہے۔ غیر ضروری واقعات کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ درمیانی واقعات و مناظر دیکھنے کے بعد خود ذہن میں آجاتے ہیں۔ اس طرح قصے بیان کرنے میں ایک اعلیٰ فنی مظاہرہ ہوتا ہے اور ان مناظر کے درمیان بعض سبق آموز تبصرے بھی ہوتے ہیں جن میں انسانی شعور کو اس مقصد اور ہدف کی طرف متوجہ کردیا جاتا ہے۔ جس کے لئے یہ قصہ لایا گیا ہے۔ اس طرح قصہ لانے کا حقیقی مقصد پورا ہوجاتا ہے۔ یوں قصے کا فنی اسلوب اظہار کی خوبصورتی اور اخلاقی سبق اور دینی تعلیم دونوں مقاصد پورے ہوجاتے ہیں۔
سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں بات شروع کرتے وقت ہی انس ، جن اور طیور کا ذکر ہوگیا تھا۔ جس میں سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ کی نعمتوں میں سے نعمت علم کا اشارہ بھی تھا۔ لہٰذا اس قصے میں انسانوں ، جنوں اور طیور کا اہم رول ہر جگہ موجود ہے اور ان کے سب کردار کا تعلق پھر علم کے ساتھ ہے اور اس سورت کے مقدمہ میں بھی ان اہم کرداروں کی طرف اشارہ تھا اور یہ قرآنی قصوں کی اہم خصوصیت ہے۔
پھر اس قصے میں جو کردار ہیں ان کی شخصیت ان کی ممتاز صفات اور خصوصیات بھی قصے میں موجود ہیں۔ حضرت سلیمان کی شخصیت ، ملکہ سبا کی شخصیت ، ہد ہد کی شخصیت ، ملکہ سبا کی حاشیہ نشینوں کی شخصیات اور ان شخصیات اور کرداروں کی نفسیات ، سوچ اور میلانات سب کے سب قصے میں موجود ہیں۔
……
پہلا منظر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی لشکر کشی کا ہے یا یہ سامان حرب کی سالانہ پریڈ ہے۔ یہ لشکر نکلتا ہے جس میں جن ، انس اور طیور ہیں اور یہ وادی نملہ سے گزرتا ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) چیونٹی کی گفتگو سنتے ہیں اور اللہ کی طرف متوجہ ہو کر شکر بجا لاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللھم زدفزد
النمل 27:19
حتی ……عبادک الصلحین (91)
یہ لشکر جب نکلا ، جس میں انسان ، جن او طیور شامل تھے۔ نہایت تنظیم اور ترتیب کے ساتھ اس کا اول اس کے آخری حصہ سے مربوط تھا۔ اس کی صفیں منظم تھیں اور اس کی حرکت بھی منظم تھی۔ یہ لشکر ایک ایسی وادی میں پہنچا جہاں چیونٹیاں بڑی تعداد میں تھیں۔ اس کثرت سے کہ اس ودی کا نام ہی وادی نمل تھا۔ تو ایک ایسی چیونٹی نے جو ان کی سربراہ تھی ، چیونٹیوں سے کہا۔
ادخلوا مسکنکم (82 : 81) ” اپنے گھروں میں داخل ہو جائو۔ “ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ چیونٹیوں بھی شہد کی مکھیوں کی طرح بہت منظم ہوتی ہیں۔ ان کے اندر ڈیوٹیاں تقسیم ہوتی ہیں اور یہ ایک عجیب نظام کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہیں۔ ایسے نظام کے ساتھ کہ خود انسانوں کے لئے اس قدر منظم زندگی بسر کرنا مشکل ہے۔ ان کو بڑی ترقی یافتہ عقل اور بلند قوت مدر کہ دی گئی ہے تو اس چیونٹی نے اپنی زبان میں کہا۔
لا یحطمنکم سلیمن و جنودہ وھم لایشعرون (82 : 81) ” کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو “ ۔ حضرت سلیمان نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا۔ ان کا دل بہت خوش ہوا کہ چیونٹی کیا احکام دے رہی ہے۔ انہوں نے اس پر تعجب کیا کہ ایک چیونٹی حضرت سلیمان کی شان کو جانتی ہے۔ خطرہ محسوس کرتی ہے ، جبکہ ان کے دل میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ ان کو اذیت دیں جس طرح ایک چھوٹا بڑے کی اذیت سے ڈرتا ہے۔ حضرت سلیمان کو خوشی اس پر ہوئی کہ اس قدر چھوٹی مخلوق بھی ان کے بارے میں ادراک رکھتی ہے اور پھر تعجب بھی ہوا کہ ایک چیونٹی کی اطاعت اس کے ماتحت سمجھتے ہیں اور کرتے ہیں۔ ان کو اللہ کی مخلوقات اور عجائبات پر بڑا ، تعجب ہوا۔
جب حضرت سلیمان کو یہ سب باتیں معلوم ہوئیں تو
فتبسم ضاحکا من قولھا (82 : 91) ” سلمان اس کی بات پر مسکراتے ہئوے ہنس پڑا۔ “ لیکن اس مشاہدے نے ان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ان کے دل کو رب تعالیٰ کی طرف متوجہ کردیا۔ جس نے اسے یہ خارق عادت علم سے نوازا۔ یوں انسانوں اور دوسری مخلوقات کے درمیان راز کے جو پردے حائل تھے وہ ہٹا دیئے گئے۔ چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نہایت عاجزی کے ساتھ رب کی طرف متوجہ ہوئے۔
وقال رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی و علی
والدی (82 : 91) اور کہا اے میرے رب ، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اسا حسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے۔ “
اے رب یہ براہ راست ایک خدا رسیدہ شخص کی دعا ہے۔ اوزعنی یعنی مجھے جمع رکھ میرے شعور اور میرے اعضا جمع رکھ ، میرے دل اور میری زبان کو قابو میں رکھ۔ میرے خیالات اور خلجانات کو منضبط کر دے اور میرے کلمات اور میری عبادات کو مجتمع کر دے۔ میرے اعمال اور میری سرگرمیوں کو منضبط کر دے۔ میری تمام طاقتوں کو مجتع منضبط کر دے۔ میرے وجوہ کو اول سے آخر تک ایک کر دے۔ یہ سب مفہومات ” اوزعنی “ میں شامل ہیں۔ تاکہ میں پورے کا پورا مجسمہ شکر بن جائوں۔ ان انعامات کے عوض جو مجھ پر اور میرے والدین پر کئے گئے ۔
اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قلب پر ان انعامات کا اثر تھا۔ ان پر جو اثر تھا اس کی نوعیت بھی اس سے ظاہر ہوتی ہے اور ان کا وجود اور ان کا وجدان اللہ کے فضل و کرم کی اس بارش سے سرشار تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان پر اور ان کے والدین پر اللہ کا دست شفقت ہر وقت نعمت ، رحمت اور فضل و کرم کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔
” اے میرے رب ، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا۔ “
وان اعمل صالحا ترضہ (82 : 91) ” اور میں ایسا عمل کرتا رہوں جو تجھے پسند آئے۔ “ عمل صالح بھی دراصل اللہ کا فضل وکرم ہوتا ہے اور یہ اس شخص پر ہوتا ہے۔ جو اللہ کا شکر گزار ہو اور سلیمان (علیہ السلام) ایسے شکر گزار ہیں کہ اس معاملے میں وہ اللہ کی استعانت طلب کرتے ہیں کہ شکر بھی اللہ کی امداد کے بغیر ممکن نہیں ہے اور توفیق عمل بھی اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اس نکتے کا اچھا شعور تھا۔
وادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین (82 : 91) ” اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر۔ “ حضرت جانتے ہیں کہ اللہ کے بندوں میں داخل ہوجانا اور ان کے ساتھ ہو لینا بھی اللہ کی رحمت ہے۔ اس سے بھی انسان کی مدد ہوتی ہے۔ اور انسان کو اچھے کام کی توفیق ہوجاتی ہے۔ پھر وہ صالحین کے ساتھ چلتا ہے ، اللہ سے دعا کرتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں میں ہو جن پر تیرا رحم ہوتا ہے ، جو تیری راہ کے سالک ہیں اور اس گروہ میں ہیں۔ حضرت سلیمان اللہ کے سامنے عاجزی کرتے ہیں حالانکہ وہ نبی ہیں انس ، جن اور طیور ان کے لئے مسخر ہیں لیکن وہ پھر بھی اپنے آپ کو اللہ کی رحمت کا محتاج تصور کرتے ہیں ، وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان سے عمل صالح کی شکر نعمت میں کتواہی نہ ہوجائے۔ غرض تیز احساس ، ایسا ہی شعور ، اللہ کا خوف و خشیت ، اللہ کی رضا اور رحمت کی طلبگاری کے پختہ شعور کے لمحات ہی ہوتے جن میں اللہ کی نعمتیں اپنے خاص بندوں پر کھلی نازل ہوتی ہیں ، جس طرح حضرت سلیمان پر نازل ہوئیں۔
اب یہاں ہمارے سامنے ایک نہیں ، دو معجزات ہیں۔ ایک معجزہ یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو علم ہوگیا ہے اور دوسرا یہ کہ چیونٹی کو یہ علم ہوگیا ہے کہ یہ لشکر سلیمان (علیہ السلام) کا ہے۔ پہلا معجزہ تو یوں ہے کہ حضرت سلیمان کو اللہ نے تعلیم دی۔ وہ نبی تھے ، انسان تھے اور انسان کے بارے میں ایک انسان سہولت سمجھ سکتا ہے کہ اسے چیونٹی کے احکامات کا علم ہوگیا۔ لیکن دوسرا معجزہ جو چیونٹی کے قول میں ہے تو اس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ چیونٹیوں کو معلوم ہوگیا کہ انسان ایک بڑی مخلوق ہے اور یہ ان کو روند ڈالیں گے۔ ہر زندہ مخلوق کے اندر زندہ بچانے کا داعیہ ہوتا ہے۔ اسی طرح چیونٹیوں میں بھی یہ شعور ہوگا۔ رہی یہ بات کہ ایک چیونٹی کو یہ علم کیسے ہوگیا کہ بڑی مخلوق کا یہ لائو و لشکر سلیمان (علیہ السلام) کا ہے۔ یہ بہرحال ایک معجزہ ہے اور اسے معجزہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ نے اسے معجزانہ طور پر یہ بات سکھا دی تھی۔
اب آیئے سلیمان (علیہ السلام) اور ہد ہد کے واقعہ اور ملکہ سبا کے ساتھ معاملات کی طرف۔ اس قصے میں چھ اہم مناظر ہیں۔ ان مناظر کے درمیان خلا ہے۔ غیر ضروری واقعات کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ درمیانی واقعات و مناظر دیکھنے کے بعد خود ذہن میں آجاتے ہیں۔ اس طرح قصے بیان کرنے میں ایک اعلیٰ فنی مظاہرہ ہوتا ہے اور ان مناظر کے درمیان بعض سبق آموز تبصرے بھی ہوتے ہیں جن میں انسانی شعور کو اس مقصد اور ہدف کی طرف متوجہ کردیا جاتا ہے۔ جس کے لئے یہ قصہ لایا گیا ہے۔ اس طرح قصہ لانے کا حقیقی مقصد پورا ہوجاتا ہے۔ یوں قصے کا فنی اسلوب اظہار کی خوبصورتی اور اخلاقی سبق اور دینی تعلیم دونوں مقاصد پورے ہوجاتے ہیں۔
سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں بات شروع کرتے وقت ہی انس ، جن اور طیور کا ذکر ہوگیا تھا۔ جس میں سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ کی نعمتوں میں سے نعمت علم کا اشارہ بھی تھا۔ لہٰذا اس قصے میں انسانوں ، جنوں اور طیور کا اہم رول ہر جگہ موجود ہے اور ان کے سب کردار کا تعلق پھر علم کے ساتھ ہے اور اس سورت کے مقدمہ میں بھی ان اہم کرداروں کی طرف اشارہ تھا اور یہ قرآنی قصوں کی اہم خصوصیت ہے۔
پھر اس قصے میں جو کردار ہیں ان کی شخصیت ان کی ممتاز صفات اور خصوصیات بھی قصے میں موجود ہیں۔ حضرت سلیمان کی شخصیت ، ملکہ سبا کی شخصیت ، ہد ہد کی شخصیت ، ملکہ سبا کی حاشیہ نشینوں کی شخصیات اور ان شخصیات اور کرداروں کی نفسیات ، سوچ اور میلانات سب کے سب قصے میں موجود ہیں۔
……
پہلا منظر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی لشکر کشی کا ہے یا یہ سامان حرب کی سالانہ پریڈ ہے۔ یہ لشکر نکلتا ہے جس میں جن ، انس اور طیور ہیں اور یہ وادی نملہ سے گزرتا ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) چیونٹی کی گفتگو سنتے ہیں اور اللہ کی طرف متوجہ ہو کر شکر بجا لاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللھم زدفزد
النمل 27:20
وتفقد……مبین (13)
اس منظر میں حضرت سلیمان ایک نبی اپنے ایک عظیم و کثیر لشکر میں نظر آتے ہیں۔ جب وہ پرندوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہد ہد کو غائب پاتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص ہد ہد تھا جسے اس لشکر میں ہونا چاہئے تھا۔ یہ کوئی عام ہد ہد نہ تھا کہ جس طرح لاکھوں میں سے ایک غائب ہو ۔ یا کرہ ارض کے تمام ہد ہدوں میں سے صرف ایک کم تھا۔ نیز اس سے یہ بھی معلمو ہوتا ہے کہ یہ مخصوص ہد ہد ایک خاص کردار رکھتا تھا اور مخصوص خصوصیات رکھتا تھا۔ یہ نہایت ہی بیدار مغز ، باریک بیں اور عقلمند ہد ہد تھا۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کی شخصیت بھی معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنی اس عظیم الشان فوج پر بھی پوری نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ فوج کو اول و آخر تک جانتے ہیں۔
وہ اسکیبارے میں ایک اعلیٰ کمانڈر انچیف کے جچے تلے جامع الفاظ میں وپچھتے ہیں۔
مالی لا اری الھدھد ام کان من الغآئبین (82 : 02) ” کیا بات ہے میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا۔ کیا وہ غائب ہوگیا ہے۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ ہد ہد غائب ہے اور سب کو معلوم ہوتا ہے کہ جب بادشاہ اس کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ بغیر اجازت کے غائب ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو اب سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ تاکہ فوج کے اندر افراتفری نہ ہو اور دوسری لوگ بھی ادھر ادھر کھسکنا شروع نہ کردیں۔ کیونکہ بادشاہ کی جانب سے اس انکوائری کے بعد بات تو راز نہ رہی تھی۔ اگر اس پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو یہ دوسرے فوجیوں کے لئے ایک بری مثال ہوگی۔ چناچہ حضرت سلیمان اپنی فوج کے اس سپاہی کی غیر حاضری کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
لا عذبنہ عذاباً شدیداً اولا اذبحنہ (82 : 12) ” میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر دوں گا۔ “ لیکن بہرحال آپ نبی تھے ……جبار نہ تھے ۔ ابھی تو آپ نے ہد ہد کے عذرات نہیں سنے ، اسے نوٹس نہیں دیا گیا ، لہٰذا فیصلہ عذرات سننے کے بعد ہوگا۔ بغیر سنے فیصلہ اسلامی اصول عدل کے خلاف ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
ولیاتینی بسلطن مبین (82 : 12) ” یا اسے مرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی ہوگی۔ “ یعنی ایسی دلیل اور ایسا عذر جس کی وج ہ سے وہ مواخذے سے بچ جائے اور عذر معقول ہو۔
اب پردہ گرتا ہے اس قصے کا یہ پہلا منظر ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) دوسرے کاموں میں مشغول ہیں یا ہد ہدی ہی کی تلاش میں ہیں۔ بہرحال ہد ہد آجاتا ہے۔ اس کے پاس ایک چونکا دینے والی خبر ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے بھی حیران کن اور ہمارے لئے بھی حیرن کن جو ہم آج اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔
النمل 27:21
وتفقد……مبین (13)
اس منظر میں حضرت سلیمان ایک نبی اپنے ایک عظیم و کثیر لشکر میں نظر آتے ہیں۔ جب وہ پرندوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہد ہد کو غائب پاتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص ہد ہد تھا جسے اس لشکر میں ہونا چاہئے تھا۔ یہ کوئی عام ہد ہد نہ تھا کہ جس طرح لاکھوں میں سے ایک غائب ہو ۔ یا کرہ ارض کے تمام ہد ہدوں میں سے صرف ایک کم تھا۔ نیز اس سے یہ بھی معلمو ہوتا ہے کہ یہ مخصوص ہد ہد ایک خاص کردار رکھتا تھا اور مخصوص خصوصیات رکھتا تھا۔ یہ نہایت ہی بیدار مغز ، باریک بیں اور عقلمند ہد ہد تھا۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کی شخصیت بھی معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنی اس عظیم الشان فوج پر بھی پوری نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ فوج کو اول و آخر تک جانتے ہیں۔
وہ اسکیبارے میں ایک اعلیٰ کمانڈر انچیف کے جچے تلے جامع الفاظ میں وپچھتے ہیں۔
مالی لا اری الھدھد ام کان من الغآئبین (82 : 02) ” کیا بات ہے میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا۔ کیا وہ غائب ہوگیا ہے۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ ہد ہد غائب ہے اور سب کو معلوم ہوتا ہے کہ جب بادشاہ اس کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ بغیر اجازت کے غائب ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو اب سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ تاکہ فوج کے اندر افراتفری نہ ہو اور دوسری لوگ بھی ادھر ادھر کھسکنا شروع نہ کردیں۔ کیونکہ بادشاہ کی جانب سے اس انکوائری کے بعد بات تو راز نہ رہی تھی۔ اگر اس پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو یہ دوسرے فوجیوں کے لئے ایک بری مثال ہوگی۔ چناچہ حضرت سلیمان اپنی فوج کے اس سپاہی کی غیر حاضری کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
لا عذبنہ عذاباً شدیداً اولا اذبحنہ (82 : 12) ” میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر دوں گا۔ “ لیکن بہرحال آپ نبی تھے ……جبار نہ تھے ۔ ابھی تو آپ نے ہد ہد کے عذرات نہیں سنے ، اسے نوٹس نہیں دیا گیا ، لہٰذا فیصلہ عذرات سننے کے بعد ہوگا۔ بغیر سنے فیصلہ اسلامی اصول عدل کے خلاف ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
ولیاتینی بسلطن مبین (82 : 12) ” یا اسے مرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی ہوگی۔ “ یعنی ایسی دلیل اور ایسا عذر جس کی وج ہ سے وہ مواخذے سے بچ جائے اور عذر معقول ہو۔
اب پردہ گرتا ہے اس قصے کا یہ پہلا منظر ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) دوسرے کاموں میں مشغول ہیں یا ہد ہدی ہی کی تلاش میں ہیں۔ بہرحال ہد ہد آجاتا ہے۔ اس کے پاس ایک چونکا دینے والی خبر ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے بھی حیران کن اور ہمارے لئے بھی حیرن کن جو ہم آج اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔
النمل 27:22
فمکث ……العظیم (63)
یہ ہد ہد بادشاہ کی دانشمندی اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں سے باخبر تھا۔ اس لئے ہد ہد نے پہلے ہی فقرے میں چونکا دینے والی خبر سے اپنی بات کا آغاز کیا تاکہ اس خبر کے بعد اس سے جواب طلبی کا موقع ہنہ رہے اور بادشاہ اس کی بات کو غور سے سنیں۔
احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبابنیا یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے بارے میں یقینی معلومات لے کر آیا ہوں۔ “ کون بادشاہ ایسا ہوگا اپنے کسی ملازم سے وہ باتیں نہ سنے جن کے بارے میں اسے علم نہیں۔
جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سننا شروع کیا تو اس نے تفصیلات بتانا شروع کردیں۔ مملکت سبا جنوب یمن میں واقعہ تھی۔ ہد ہد کہتا ہے ہے کہ اس قوم پر عورت حکمرانی کرتی ہے۔
واوتبت من کل شی (82 : 32) ” اسے ہر طرح کا سروسامان بخشا گیا ہے۔ “ یعنی اس کی مملکت عظیم اور مالدار ہے اور اس کے اندر خوشحالی اور تہذیب کے تماماسباب موجود ہیں۔ قوت اور پیداوار
ولھا عرش عظیم (82 : 32) ” اس کا تحت بڑا عظیم الشان ہے۔ “ یعنی جہاں ملکہ جلوس فرماتی ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی مملکت بڑی ہے ، مالدار ہے ، خوشحال ہے اور اس کے اندر صنعت و حرفت کی ترقیات ہیں اور ان لوگوں کی نظریاتی حالت یہ ہے کہ
وجدتھا و قومھا یسجدون للشمس من دون اللہ (82 : 32) ” میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ “ یہاں ہد ہد یہ تفصیل بھی بتاتا ہے کہ شیطان نے ان کے لئے ان کے ان برے اعمال کو مزید کردیا ہے۔ لہٰذا ان کو گمراہ کردیا ہے اور یہ لوگ اللہ وحدہ کی عبادت اور راہ ہدایت نہیں پاتے۔
الذی یخرج الخبء فی السموت والارض (82 : 52) ” وہ اللہ جو آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے “ خب کا مفہوم وہ چیز ہے جو چھپی ہوئی ہو۔ یہ پوشیدہ چیز خواہ آسمانوں کی بارش ہو ، زمین کے اندر سے نباتات ہوں یا زمین و آسمان کے دوسرے اسرار و رموز ہوں۔ یعنی پردہ غیب کے پیچھے پائے جانے والے عجائب وغرائب جو اللہ نے پیدا کیا ، نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے عجائب غرض وہ سب چیزیں جو ظاہر ہیں یا باطن ہیں۔
یہاں تک تو ہد ہد ایک ملزم کی حیثیت میں کھڑا ہے۔ ابھی تک شاہ سلیمان (علیہ السلام) نے ان کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔ چناچہ انتظامی لحاظ سے سخت گیر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے وہ اپنی بات کے آخر میں ایک اشارہ کرتا ہے۔ کہ اللہ جو جبار وقہار ہے اور سب کا رب ہے ، صاحب عرش عظیم ہے۔ اس کیا قتدار اور انسانوں کے اقتدار کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے تاکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کی اس برتری کے سامنے انسان کی بادشاہت کی کم مائیگی کے بارے میں سوچ لیں۔
اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم (82 : 62) ” السجدۃ ” اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے اہل نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ “ یوں ہد ہد ملکہ سبا کی قوم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ اشارہ کرتا ہے کہ اسے معاف کردیا جائے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ہد ہد بھی بڑا عجیب پرندہ ہے۔ یہ نہایت ذہین سمجھدار اور مومن پرندہ ہے۔ اور اس نے نہایت ہی خوبصورت ، جامع اور مانع رپورٹ بھی پیش کردی ہے۔ یہ حالات کو خوب جانتا ہے اور حالات پر ماہرانہ رائے بھی دیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ ملکہ ہے ، یہ اس کی رعایا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ سورج پرست قوم ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے سجدہ ریزہ ناجائز نہیں ہے۔ وہ اللہ جس نے زمین و آسمان کی تمام ظاہری اور خفیہ چیزوں کو پیدا کیا ۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ ہر ہد ہد تو ایسا علم نہیں رکھتا لہٰذا یہ کوئی مخصوص معجزاتی ہد ہد ہے۔ عام ہد ہد سے علیحدہ۔
اب حضرت سلیمان یوں نہیں کرتے کہ ہد ہد کی رپورٹ کو آنکھیں بند کر کے قوبل کرلیں۔ وہ اس عظیم خبر پر اچھل نہیں پڑتے۔ چناچہ وہ ایک تجربہ کار حکمران کی طرح اس کو تصدیق کے لئے لیتے ہیں۔ بادشاہ کے ساتھ ساتھ ایک عادل نبی اور رسول بھی ہیں۔
النمل 27:23
فمکث ……العظیم (63)
یہ ہد ہد بادشاہ کی دانشمندی اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں سے باخبر تھا۔ اس لئے ہد ہد نے پہلے ہی فقرے میں چونکا دینے والی خبر سے اپنی بات کا آغاز کیا تاکہ اس خبر کے بعد اس سے جواب طلبی کا موقع ہنہ رہے اور بادشاہ اس کی بات کو غور سے سنیں۔
احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبابنیا یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے بارے میں یقینی معلومات لے کر آیا ہوں۔ “ کون بادشاہ ایسا ہوگا اپنے کسی ملازم سے وہ باتیں نہ سنے جن کے بارے میں اسے علم نہیں۔
جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سننا شروع کیا تو اس نے تفصیلات بتانا شروع کردیں۔ مملکت سبا جنوب یمن میں واقعہ تھی۔ ہد ہد کہتا ہے ہے کہ اس قوم پر عورت حکمرانی کرتی ہے۔
واوتبت من کل شی (82 : 32) ” اسے ہر طرح کا سروسامان بخشا گیا ہے۔ “ یعنی اس کی مملکت عظیم اور مالدار ہے اور اس کے اندر خوشحالی اور تہذیب کے تماماسباب موجود ہیں۔ قوت اور پیداوار
ولھا عرش عظیم (82 : 32) ” اس کا تحت بڑا عظیم الشان ہے۔ “ یعنی جہاں ملکہ جلوس فرماتی ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی مملکت بڑی ہے ، مالدار ہے ، خوشحال ہے اور اس کے اندر صنعت و حرفت کی ترقیات ہیں اور ان لوگوں کی نظریاتی حالت یہ ہے کہ
وجدتھا و قومھا یسجدون للشمس من دون اللہ (82 : 32) ” میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ “ یہاں ہد ہد یہ تفصیل بھی بتاتا ہے کہ شیطان نے ان کے لئے ان کے ان برے اعمال کو مزید کردیا ہے۔ لہٰذا ان کو گمراہ کردیا ہے اور یہ لوگ اللہ وحدہ کی عبادت اور راہ ہدایت نہیں پاتے۔
الذی یخرج الخبء فی السموت والارض (82 : 52) ” وہ اللہ جو آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے “ خب کا مفہوم وہ چیز ہے جو چھپی ہوئی ہو۔ یہ پوشیدہ چیز خواہ آسمانوں کی بارش ہو ، زمین کے اندر سے نباتات ہوں یا زمین و آسمان کے دوسرے اسرار و رموز ہوں۔ یعنی پردہ غیب کے پیچھے پائے جانے والے عجائب وغرائب جو اللہ نے پیدا کیا ، نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے عجائب غرض وہ سب چیزیں جو ظاہر ہیں یا باطن ہیں۔
یہاں تک تو ہد ہد ایک ملزم کی حیثیت میں کھڑا ہے۔ ابھی تک شاہ سلیمان (علیہ السلام) نے ان کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔ چناچہ انتظامی لحاظ سے سخت گیر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے وہ اپنی بات کے آخر میں ایک اشارہ کرتا ہے۔ کہ اللہ جو جبار وقہار ہے اور سب کا رب ہے ، صاحب عرش عظیم ہے۔ اس کیا قتدار اور انسانوں کے اقتدار کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے تاکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کی اس برتری کے سامنے انسان کی بادشاہت کی کم مائیگی کے بارے میں سوچ لیں۔
اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم (82 : 62) ” السجدۃ ” اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے اہل نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ “ یوں ہد ہد ملکہ سبا کی قوم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ اشارہ کرتا ہے کہ اسے معاف کردیا جائے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ہد ہد بھی بڑا عجیب پرندہ ہے۔ یہ نہایت ذہین سمجھدار اور مومن پرندہ ہے۔ اور اس نے نہایت ہی خوبصورت ، جامع اور مانع رپورٹ بھی پیش کردی ہے۔ یہ حالات کو خوب جانتا ہے اور حالات پر ماہرانہ رائے بھی دیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ ملکہ ہے ، یہ اس کی رعایا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ سورج پرست قوم ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے سجدہ ریزہ ناجائز نہیں ہے۔ وہ اللہ جس نے زمین و آسمان کی تمام ظاہری اور خفیہ چیزوں کو پیدا کیا ۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ ہر ہد ہد تو ایسا علم نہیں رکھتا لہٰذا یہ کوئی مخصوص معجزاتی ہد ہد ہے۔ عام ہد ہد سے علیحدہ۔
اب حضرت سلیمان یوں نہیں کرتے کہ ہد ہد کی رپورٹ کو آنکھیں بند کر کے قوبل کرلیں۔ وہ اس عظیم خبر پر اچھل نہیں پڑتے۔ چناچہ وہ ایک تجربہ کار حکمران کی طرح اس کو تصدیق کے لئے لیتے ہیں۔ بادشاہ کے ساتھ ساتھ ایک عادل نبی اور رسول بھی ہیں۔
النمل 27:24
فمکث ……العظیم (63)
یہ ہد ہد بادشاہ کی دانشمندی اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں سے باخبر تھا۔ اس لئے ہد ہد نے پہلے ہی فقرے میں چونکا دینے والی خبر سے اپنی بات کا آغاز کیا تاکہ اس خبر کے بعد اس سے جواب طلبی کا موقع ہنہ رہے اور بادشاہ اس کی بات کو غور سے سنیں۔
احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبابنیا یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے بارے میں یقینی معلومات لے کر آیا ہوں۔ “ کون بادشاہ ایسا ہوگا اپنے کسی ملازم سے وہ باتیں نہ سنے جن کے بارے میں اسے علم نہیں۔
جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سننا شروع کیا تو اس نے تفصیلات بتانا شروع کردیں۔ مملکت سبا جنوب یمن میں واقعہ تھی۔ ہد ہد کہتا ہے ہے کہ اس قوم پر عورت حکمرانی کرتی ہے۔
واوتبت من کل شی (82 : 32) ” اسے ہر طرح کا سروسامان بخشا گیا ہے۔ “ یعنی اس کی مملکت عظیم اور مالدار ہے اور اس کے اندر خوشحالی اور تہذیب کے تماماسباب موجود ہیں۔ قوت اور پیداوار
ولھا عرش عظیم (82 : 32) ” اس کا تحت بڑا عظیم الشان ہے۔ “ یعنی جہاں ملکہ جلوس فرماتی ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی مملکت بڑی ہے ، مالدار ہے ، خوشحال ہے اور اس کے اندر صنعت و حرفت کی ترقیات ہیں اور ان لوگوں کی نظریاتی حالت یہ ہے کہ
وجدتھا و قومھا یسجدون للشمس من دون اللہ (82 : 32) ” میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ “ یہاں ہد ہد یہ تفصیل بھی بتاتا ہے کہ شیطان نے ان کے لئے ان کے ان برے اعمال کو مزید کردیا ہے۔ لہٰذا ان کو گمراہ کردیا ہے اور یہ لوگ اللہ وحدہ کی عبادت اور راہ ہدایت نہیں پاتے۔
الذی یخرج الخبء فی السموت والارض (82 : 52) ” وہ اللہ جو آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے “ خب کا مفہوم وہ چیز ہے جو چھپی ہوئی ہو۔ یہ پوشیدہ چیز خواہ آسمانوں کی بارش ہو ، زمین کے اندر سے نباتات ہوں یا زمین و آسمان کے دوسرے اسرار و رموز ہوں۔ یعنی پردہ غیب کے پیچھے پائے جانے والے عجائب وغرائب جو اللہ نے پیدا کیا ، نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے عجائب غرض وہ سب چیزیں جو ظاہر ہیں یا باطن ہیں۔
یہاں تک تو ہد ہد ایک ملزم کی حیثیت میں کھڑا ہے۔ ابھی تک شاہ سلیمان (علیہ السلام) نے ان کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔ چناچہ انتظامی لحاظ سے سخت گیر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے وہ اپنی بات کے آخر میں ایک اشارہ کرتا ہے۔ کہ اللہ جو جبار وقہار ہے اور سب کا رب ہے ، صاحب عرش عظیم ہے۔ اس کیا قتدار اور انسانوں کے اقتدار کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے تاکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کی اس برتری کے سامنے انسان کی بادشاہت کی کم مائیگی کے بارے میں سوچ لیں۔
اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم (82 : 62) ” السجدۃ ” اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے اہل نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ “ یوں ہد ہد ملکہ سبا کی قوم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ اشارہ کرتا ہے کہ اسے معاف کردیا جائے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ہد ہد بھی بڑا عجیب پرندہ ہے۔ یہ نہایت ذہین سمجھدار اور مومن پرندہ ہے۔ اور اس نے نہایت ہی خوبصورت ، جامع اور مانع رپورٹ بھی پیش کردی ہے۔ یہ حالات کو خوب جانتا ہے اور حالات پر ماہرانہ رائے بھی دیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ ملکہ ہے ، یہ اس کی رعایا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ سورج پرست قوم ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے سجدہ ریزہ ناجائز نہیں ہے۔ وہ اللہ جس نے زمین و آسمان کی تمام ظاہری اور خفیہ چیزوں کو پیدا کیا ۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ ہر ہد ہد تو ایسا علم نہیں رکھتا لہٰذا یہ کوئی مخصوص معجزاتی ہد ہد ہے۔ عام ہد ہد سے علیحدہ۔
اب حضرت سلیمان یوں نہیں کرتے کہ ہد ہد کی رپورٹ کو آنکھیں بند کر کے قوبل کرلیں۔ وہ اس عظیم خبر پر اچھل نہیں پڑتے۔ چناچہ وہ ایک تجربہ کار حکمران کی طرح اس کو تصدیق کے لئے لیتے ہیں۔ بادشاہ کے ساتھ ساتھ ایک عادل نبی اور رسول بھی ہیں۔
النمل 27:25
فمکث ……العظیم (63)
یہ ہد ہد بادشاہ کی دانشمندی اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں سے باخبر تھا۔ اس لئے ہد ہد نے پہلے ہی فقرے میں چونکا دینے والی خبر سے اپنی بات کا آغاز کیا تاکہ اس خبر کے بعد اس سے جواب طلبی کا موقع ہنہ رہے اور بادشاہ اس کی بات کو غور سے سنیں۔
احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبابنیا یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے بارے میں یقینی معلومات لے کر آیا ہوں۔ “ کون بادشاہ ایسا ہوگا اپنے کسی ملازم سے وہ باتیں نہ سنے جن کے بارے میں اسے علم نہیں۔
جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سننا شروع کیا تو اس نے تفصیلات بتانا شروع کردیں۔ مملکت سبا جنوب یمن میں واقعہ تھی۔ ہد ہد کہتا ہے ہے کہ اس قوم پر عورت حکمرانی کرتی ہے۔
واوتبت من کل شی (82 : 32) ” اسے ہر طرح کا سروسامان بخشا گیا ہے۔ “ یعنی اس کی مملکت عظیم اور مالدار ہے اور اس کے اندر خوشحالی اور تہذیب کے تماماسباب موجود ہیں۔ قوت اور پیداوار
ولھا عرش عظیم (82 : 32) ” اس کا تحت بڑا عظیم الشان ہے۔ “ یعنی جہاں ملکہ جلوس فرماتی ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی مملکت بڑی ہے ، مالدار ہے ، خوشحال ہے اور اس کے اندر صنعت و حرفت کی ترقیات ہیں اور ان لوگوں کی نظریاتی حالت یہ ہے کہ
وجدتھا و قومھا یسجدون للشمس من دون اللہ (82 : 32) ” میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ “ یہاں ہد ہد یہ تفصیل بھی بتاتا ہے کہ شیطان نے ان کے لئے ان کے ان برے اعمال کو مزید کردیا ہے۔ لہٰذا ان کو گمراہ کردیا ہے اور یہ لوگ اللہ وحدہ کی عبادت اور راہ ہدایت نہیں پاتے۔
الذی یخرج الخبء فی السموت والارض (82 : 52) ” وہ اللہ جو آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے “ خب کا مفہوم وہ چیز ہے جو چھپی ہوئی ہو۔ یہ پوشیدہ چیز خواہ آسمانوں کی بارش ہو ، زمین کے اندر سے نباتات ہوں یا زمین و آسمان کے دوسرے اسرار و رموز ہوں۔ یعنی پردہ غیب کے پیچھے پائے جانے والے عجائب وغرائب جو اللہ نے پیدا کیا ، نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے عجائب غرض وہ سب چیزیں جو ظاہر ہیں یا باطن ہیں۔
یہاں تک تو ہد ہد ایک ملزم کی حیثیت میں کھڑا ہے۔ ابھی تک شاہ سلیمان (علیہ السلام) نے ان کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔ چناچہ انتظامی لحاظ سے سخت گیر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے وہ اپنی بات کے آخر میں ایک اشارہ کرتا ہے۔ کہ اللہ جو جبار وقہار ہے اور سب کا رب ہے ، صاحب عرش عظیم ہے۔ اس کیا قتدار اور انسانوں کے اقتدار کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے تاکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کی اس برتری کے سامنے انسان کی بادشاہت کی کم مائیگی کے بارے میں سوچ لیں۔
اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم (82 : 62) ” السجدۃ ” اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے اہل نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ “ یوں ہد ہد ملکہ سبا کی قوم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ اشارہ کرتا ہے کہ اسے معاف کردیا جائے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ہد ہد بھی بڑا عجیب پرندہ ہے۔ یہ نہایت ذہین سمجھدار اور مومن پرندہ ہے۔ اور اس نے نہایت ہی خوبصورت ، جامع اور مانع رپورٹ بھی پیش کردی ہے۔ یہ حالات کو خوب جانتا ہے اور حالات پر ماہرانہ رائے بھی دیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ ملکہ ہے ، یہ اس کی رعایا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ سورج پرست قوم ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے سجدہ ریزہ ناجائز نہیں ہے۔ وہ اللہ جس نے زمین و آسمان کی تمام ظاہری اور خفیہ چیزوں کو پیدا کیا ۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ ہر ہد ہد تو ایسا علم نہیں رکھتا لہٰذا یہ کوئی مخصوص معجزاتی ہد ہد ہے۔ عام ہد ہد سے علیحدہ۔
اب حضرت سلیمان یوں نہیں کرتے کہ ہد ہد کی رپورٹ کو آنکھیں بند کر کے قوبل کرلیں۔ وہ اس عظیم خبر پر اچھل نہیں پڑتے۔ چناچہ وہ ایک تجربہ کار حکمران کی طرح اس کو تصدیق کے لئے لیتے ہیں۔ بادشاہ کے ساتھ ساتھ ایک عادل نبی اور رسول بھی ہیں۔
النمل 27:26
فمکث ……العظیم (63)
یہ ہد ہد بادشاہ کی دانشمندی اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں سے باخبر تھا۔ اس لئے ہد ہد نے پہلے ہی فقرے میں چونکا دینے والی خبر سے اپنی بات کا آغاز کیا تاکہ اس خبر کے بعد اس سے جواب طلبی کا موقع ہنہ رہے اور بادشاہ اس کی بات کو غور سے سنیں۔
احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبابنیا یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے بارے میں یقینی معلومات لے کر آیا ہوں۔ “ کون بادشاہ ایسا ہوگا اپنے کسی ملازم سے وہ باتیں نہ سنے جن کے بارے میں اسے علم نہیں۔
جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سننا شروع کیا تو اس نے تفصیلات بتانا شروع کردیں۔ مملکت سبا جنوب یمن میں واقعہ تھی۔ ہد ہد کہتا ہے ہے کہ اس قوم پر عورت حکمرانی کرتی ہے۔
واوتبت من کل شی (82 : 32) ” اسے ہر طرح کا سروسامان بخشا گیا ہے۔ “ یعنی اس کی مملکت عظیم اور مالدار ہے اور اس کے اندر خوشحالی اور تہذیب کے تماماسباب موجود ہیں۔ قوت اور پیداوار
ولھا عرش عظیم (82 : 32) ” اس کا تحت بڑا عظیم الشان ہے۔ “ یعنی جہاں ملکہ جلوس فرماتی ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی مملکت بڑی ہے ، مالدار ہے ، خوشحال ہے اور اس کے اندر صنعت و حرفت کی ترقیات ہیں اور ان لوگوں کی نظریاتی حالت یہ ہے کہ
وجدتھا و قومھا یسجدون للشمس من دون اللہ (82 : 32) ” میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ “ یہاں ہد ہد یہ تفصیل بھی بتاتا ہے کہ شیطان نے ان کے لئے ان کے ان برے اعمال کو مزید کردیا ہے۔ لہٰذا ان کو گمراہ کردیا ہے اور یہ لوگ اللہ وحدہ کی عبادت اور راہ ہدایت نہیں پاتے۔
الذی یخرج الخبء فی السموت والارض (82 : 52) ” وہ اللہ جو آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے “ خب کا مفہوم وہ چیز ہے جو چھپی ہوئی ہو۔ یہ پوشیدہ چیز خواہ آسمانوں کی بارش ہو ، زمین کے اندر سے نباتات ہوں یا زمین و آسمان کے دوسرے اسرار و رموز ہوں۔ یعنی پردہ غیب کے پیچھے پائے جانے والے عجائب وغرائب جو اللہ نے پیدا کیا ، نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے عجائب غرض وہ سب چیزیں جو ظاہر ہیں یا باطن ہیں۔
یہاں تک تو ہد ہد ایک ملزم کی حیثیت میں کھڑا ہے۔ ابھی تک شاہ سلیمان (علیہ السلام) نے ان کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔ چناچہ انتظامی لحاظ سے سخت گیر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے وہ اپنی بات کے آخر میں ایک اشارہ کرتا ہے۔ کہ اللہ جو جبار وقہار ہے اور سب کا رب ہے ، صاحب عرش عظیم ہے۔ اس کیا قتدار اور انسانوں کے اقتدار کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے تاکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کی اس برتری کے سامنے انسان کی بادشاہت کی کم مائیگی کے بارے میں سوچ لیں۔
اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم (82 : 62) ” السجدۃ ” اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے اہل نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ “ یوں ہد ہد ملکہ سبا کی قوم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ اشارہ کرتا ہے کہ اسے معاف کردیا جائے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ہد ہد بھی بڑا عجیب پرندہ ہے۔ یہ نہایت ذہین سمجھدار اور مومن پرندہ ہے۔ اور اس نے نہایت ہی خوبصورت ، جامع اور مانع رپورٹ بھی پیش کردی ہے۔ یہ حالات کو خوب جانتا ہے اور حالات پر ماہرانہ رائے بھی دیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ ملکہ ہے ، یہ اس کی رعایا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ سورج پرست قوم ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے سجدہ ریزہ ناجائز نہیں ہے۔ وہ اللہ جس نے زمین و آسمان کی تمام ظاہری اور خفیہ چیزوں کو پیدا کیا ۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ ہر ہد ہد تو ایسا علم نہیں رکھتا لہٰذا یہ کوئی مخصوص معجزاتی ہد ہد ہے۔ عام ہد ہد سے علیحدہ۔
اب حضرت سلیمان یوں نہیں کرتے کہ ہد ہد کی رپورٹ کو آنکھیں بند کر کے قوبل کرلیں۔ وہ اس عظیم خبر پر اچھل نہیں پڑتے۔ چناچہ وہ ایک تجربہ کار حکمران کی طرح اس کو تصدیق کے لئے لیتے ہیں۔ بادشاہ کے ساتھ ساتھ ایک عادل نبی اور رسول بھی ہیں۔
النمل 27:27
قال سننظر……یرجعون (82)
اس منظر میں خط کا مضمون نہیں دکھایا جاتا۔ گویا یہ بند پیغام ہے تاکہ یہ مکتوب الیہ تک پہنچ جائے اور وہاں کھولا جائے تاکہ ہر نئی بات ناظرین کے سامنے اپنے صحیح وقت پر آئے۔
پردہ گرتا ہے۔ اب ہم ملکہ سبا کے دربار میں ہیں اور خط وہاں پہنچ گیا ہے اور کھولا جاتا ہے۔ ملکہ اب اپنی شوریٰ کے سامنے مضمون پیش کر کے مشورہ لیتی ہے۔
النمل 27:28
قال سننظر……یرجعون (82)
اس منظر میں خط کا مضمون نہیں دکھایا جاتا۔ گویا یہ بند پیغام ہے تاکہ یہ مکتوب الیہ تک پہنچ جائے اور وہاں کھولا جائے تاکہ ہر نئی بات ناظرین کے سامنے اپنے صحیح وقت پر آئے۔
پردہ گرتا ہے۔ اب ہم ملکہ سبا کے دربار میں ہیں اور خط وہاں پہنچ گیا ہے اور کھولا جاتا ہے۔ ملکہ اب اپنی شوریٰ کے سامنے مضمون پیش کر کے مشورہ لیتی ہے۔
النمل 27:29
قالت ……مسلمین (13)
وہ اپنی شوریٰ کو بتاتی ہے کہ اس کے دربار میں یہ خط پھینکا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ خط پھینکا کس نے ہے اور کس طرح پھینکا ہے۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ اسے ہد ہد نے پھینکا ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے تو وہ اس کا اعلان کردیتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک اور عجیب بات ہوتی اور یہ بات روزانہ کے معجزات تو تھے نہیں کہ ہد ہد خط پھینکتا تھا ، چونکہ اسنے صیغہ مجہول استعمال کیا ہے اور اللہ نے نقل کیا ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ اسے معلوم نہ تھا کہ خط پھینکنے والا کون ہے۔
ملکہ اسے ایک معزز خط ” کتاب کریم “ کہتی ہے۔ شاید اس خط کے انداز تحریر ، اس کی مہر اور اس کے طریقہ تلخیف کی وجہ سے اس نے معلوم کیا ہو کہ یہ کوئی غیر معملوی خط ہے۔ نیز جب اس کے مضون سے اپنے مشیروں کو آگاہ کیا تو اس سے بھی اس کے دل میں اس خط کی مزید اہمیت بیٹھ گئی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔
انہ من سلیمن ……اتونی مسلمین (82 : 13) ” یہ خط لیمان کی طرف سے ہے اور یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیا گیا ہے اور مضمون یہ ہے ” میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جائو۔ “ یہ مسلمان تو نہ تھی لیکن سلمیان (علیہ السلام) کی حکومت کا نشرو اس علاقے میں عام تھا۔ قرآن کریم نے اس خط کے الفاظ کو جس طرح نقل کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو ٹوک اور نہایت ہی رعب دار اور خوفناک مضمون کا خط تھا۔ اسی وجہ سے اس نے اسے کتاب کریم کہا۔
خط کا مضمون نہایت ہی سادہ ہے اور نہایت ہی پرتاثیر آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ہے اور مضمون صرف یہ ہے کہ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور میرے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے حاضر ہو جائو۔ میرے سامنے نہیں بلکہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اور مسلمان بن کر آ جائو۔
ملکہ نے یہ کتاب اور یہ خط اپنے اہل حل و عقد کے سامنے رکھا اور ان سے اس کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ وہ کہتی ہے کہ میں کسی معاملے میں بھی تمہارے مشورے سے قبل فیصلہ نہیں کرتی۔ تمہاری رضامندی سے اور تمہارے اتفاق رائے سے سب کچھ ہوتا ہے۔
النمل 27:30
قالت ……مسلمین (13)
وہ اپنی شوریٰ کو بتاتی ہے کہ اس کے دربار میں یہ خط پھینکا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ خط پھینکا کس نے ہے اور کس طرح پھینکا ہے۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ اسے ہد ہد نے پھینکا ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے تو وہ اس کا اعلان کردیتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک اور عجیب بات ہوتی اور یہ بات روزانہ کے معجزات تو تھے نہیں کہ ہد ہد خط پھینکتا تھا ، چونکہ اسنے صیغہ مجہول استعمال کیا ہے اور اللہ نے نقل کیا ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ اسے معلوم نہ تھا کہ خط پھینکنے والا کون ہے۔
ملکہ اسے ایک معزز خط ” کتاب کریم “ کہتی ہے۔ شاید اس خط کے انداز تحریر ، اس کی مہر اور اس کے طریقہ تلخیف کی وجہ سے اس نے معلوم کیا ہو کہ یہ کوئی غیر معملوی خط ہے۔ نیز جب اس کے مضون سے اپنے مشیروں کو آگاہ کیا تو اس سے بھی اس کے دل میں اس خط کی مزید اہمیت بیٹھ گئی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔
انہ من سلیمن ……اتونی مسلمین (82 : 13) ” یہ خط لیمان کی طرف سے ہے اور یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیا گیا ہے اور مضمون یہ ہے ” میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جائو۔ “ یہ مسلمان تو نہ تھی لیکن سلمیان (علیہ السلام) کی حکومت کا نشرو اس علاقے میں عام تھا۔ قرآن کریم نے اس خط کے الفاظ کو جس طرح نقل کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو ٹوک اور نہایت ہی رعب دار اور خوفناک مضمون کا خط تھا۔ اسی وجہ سے اس نے اسے کتاب کریم کہا۔
خط کا مضمون نہایت ہی سادہ ہے اور نہایت ہی پرتاثیر آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ہے اور مضمون صرف یہ ہے کہ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور میرے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے حاضر ہو جائو۔ میرے سامنے نہیں بلکہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اور مسلمان بن کر آ جائو۔
ملکہ نے یہ کتاب اور یہ خط اپنے اہل حل و عقد کے سامنے رکھا اور ان سے اس کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ وہ کہتی ہے کہ میں کسی معاملے میں بھی تمہارے مشورے سے قبل فیصلہ نہیں کرتی۔ تمہاری رضامندی سے اور تمہارے اتفاق رائے سے سب کچھ ہوتا ہے۔
النمل 27:31
قالت ……مسلمین (13)
وہ اپنی شوریٰ کو بتاتی ہے کہ اس کے دربار میں یہ خط پھینکا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ خط پھینکا کس نے ہے اور کس طرح پھینکا ہے۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ اسے ہد ہد نے پھینکا ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے تو وہ اس کا اعلان کردیتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک اور عجیب بات ہوتی اور یہ بات روزانہ کے معجزات تو تھے نہیں کہ ہد ہد خط پھینکتا تھا ، چونکہ اسنے صیغہ مجہول استعمال کیا ہے اور اللہ نے نقل کیا ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ اسے معلوم نہ تھا کہ خط پھینکنے والا کون ہے۔
ملکہ اسے ایک معزز خط ” کتاب کریم “ کہتی ہے۔ شاید اس خط کے انداز تحریر ، اس کی مہر اور اس کے طریقہ تلخیف کی وجہ سے اس نے معلوم کیا ہو کہ یہ کوئی غیر معملوی خط ہے۔ نیز جب اس کے مضون سے اپنے مشیروں کو آگاہ کیا تو اس سے بھی اس کے دل میں اس خط کی مزید اہمیت بیٹھ گئی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔
انہ من سلیمن ……اتونی مسلمین (82 : 13) ” یہ خط لیمان کی طرف سے ہے اور یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیا گیا ہے اور مضمون یہ ہے ” میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جائو۔ “ یہ مسلمان تو نہ تھی لیکن سلمیان (علیہ السلام) کی حکومت کا نشرو اس علاقے میں عام تھا۔ قرآن کریم نے اس خط کے الفاظ کو جس طرح نقل کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو ٹوک اور نہایت ہی رعب دار اور خوفناک مضمون کا خط تھا۔ اسی وجہ سے اس نے اسے کتاب کریم کہا۔
خط کا مضمون نہایت ہی سادہ ہے اور نہایت ہی پرتاثیر آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ہے اور مضمون صرف یہ ہے کہ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور میرے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے حاضر ہو جائو۔ میرے سامنے نہیں بلکہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اور مسلمان بن کر آ جائو۔
ملکہ نے یہ کتاب اور یہ خط اپنے اہل حل و عقد کے سامنے رکھا اور ان سے اس کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ وہ کہتی ہے کہ میں کسی معاملے میں بھی تمہارے مشورے سے قبل فیصلہ نہیں کرتی۔ تمہاری رضامندی سے اور تمہارے اتفاق رائے سے سب کچھ ہوتا ہے۔
النمل 27:32
قالت ……تشھدون (23)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ سبا کس قدر ہوشیار عورت ہے اس نے اس خط کو لیا جبکہ اس کے پھینکنے والے کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ خط سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو ٹوک ہے اور جس نے لکھا ہے وہ کوئی سپرطاقت ہے۔ یہ تاثر اس نے اپنے اہل حل و عقد کے ذہنوں میں یوں منتقل کیا کہ اس نے اسے ایک اہم کھلا اور کتاب کریم کہا۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مکلہ مقابلہ کرنا نہیں چاہتی لیکن وہ بصراحت اس کا اظہار بھی نہیں کرتی۔ بطور تمہید کہہ دیتی ہے۔ پھر رائے طلب کرتی ہے اور حاشیہ نشینوں کا جواب آتا ہے۔ وہ حسب عادت یہی کہتے ہیں کہ حکم کیجیے ہم تیار ہیں۔ طاقتور ہیں لیکن بہرحال فیصلہ بدست حضور ہے !
النمل 27:33
قالوا ……تامرین (23)
اب یہاں اس عورت کی اصل شخصیت سامنے آئی ہے۔ یہ ملکہ سبا کی صورت میں ہے۔ ہر عورت تباہی اور بربادی کو فطرتاً ناپسند کرتی ہے۔ چناچہ وہ سیاست اور تدبیر کے ہتھیار کو جنگی ساز و سامان سے پہلے آزمانا چاہتی ہے۔
النمل 27:34
قالت ……المرسلون (53)
وہ جانتی ہے کہ بادشاہ جب کسی بستی پر قابض ہوتے ہیں تو وہ اسے برباد کردیتے ہیں۔ (لفظ قریہ عربی میں بڑے شہر پر بھی بولا جاتا ہے۔ ) لوگوں کی عزت و آبرو کو خراب کردیتے ہیں ، خونریزی کرتے ہیں اور مقامی لوگوں کی قوت کو پاش پاش کر کے رکھ دیتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے موجود رئوساء اور بااثر طبقات کو ختم کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہی لوگ ہوتے ہیں جو مقابلہ اور مدافعت کرتے ہیں۔ یہ ان کا تاریخی طرز عمل ہے۔
ہدیہ انسان کے دل کو زم کردیتا ہے اور محبت پیدا کرتا ہے۔ بسا اوقات معمولی ہدیہ سے ایک بہت بڑی جنگ ٹل جاتی ہے۔ یہ ایک تجربہ ہے۔ اگر حضرت سلیمان ہدیہ قبول کرلیں تو یہ ایک دنیاوی معاملہ ہوگا اور دنیا میں ایسے ہی وسائل کارگر ہوتے ہیں اور فائدہ دیتے ہیں اور اگر وہ قبول نہیں کرتے تو یہ ایک نظریاتی معاملہ ہوگا اور نظریاتی تحریکوں کو پیسے کے ذریعے نہیں روکا جاسکتا نہ اس دنیا کے کوئی ہتھکنڈے انہیں روک سکتے ہیں۔
اب یہاں پھر پردہ گرتا ہے۔ اب اگلے منظر میں ملکہ سبا کے کارندے حضرت سلیمان کے دربار میں ہدایات پیش کرتے ہیں اور حضرت سلیمان ان کی اس حرکت کو ناپسند کرتے ہیں کہ وہ انہیں مال و دولت کے ذریعہ خریدنا چاہتے ہیں اور دعوت اسلامی کو چند ٹکوں کے عوض خریدنا چاہتے ہیں۔ چناچہ حضرت سلیمان ان کو سخت تنبیہ کرتے ہیں اور سخت دھمکی دیتے ہیں۔
النمل 27:35
قالت ……المرسلون (53)
وہ جانتی ہے کہ بادشاہ جب کسی بستی پر قابض ہوتے ہیں تو وہ اسے برباد کردیتے ہیں۔ (لفظ قریہ عربی میں بڑے شہر پر بھی بولا جاتا ہے۔ ) لوگوں کی عزت و آبرو کو خراب کردیتے ہیں ، خونریزی کرتے ہیں اور مقامی لوگوں کی قوت کو پاش پاش کر کے رکھ دیتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے موجود رئوساء اور بااثر طبقات کو ختم کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہی لوگ ہوتے ہیں جو مقابلہ اور مدافعت کرتے ہیں۔ یہ ان کا تاریخی طرز عمل ہے۔
ہدیہ انسان کے دل کو زم کردیتا ہے اور محبت پیدا کرتا ہے۔ بسا اوقات معمولی ہدیہ سے ایک بہت بڑی جنگ ٹل جاتی ہے۔ یہ ایک تجربہ ہے۔ اگر حضرت سلیمان ہدیہ قبول کرلیں تو یہ ایک دنیاوی معاملہ ہوگا اور دنیا میں ایسے ہی وسائل کارگر ہوتے ہیں اور فائدہ دیتے ہیں اور اگر وہ قبول نہیں کرتے تو یہ ایک نظریاتی معاملہ ہوگا اور نظریاتی تحریکوں کو پیسے کے ذریعے نہیں روکا جاسکتا نہ اس دنیا کے کوئی ہتھکنڈے انہیں روک سکتے ہیں۔
اب یہاں پھر پردہ گرتا ہے۔ اب اگلے منظر میں ملکہ سبا کے کارندے حضرت سلیمان کے دربار میں ہدایات پیش کرتے ہیں اور حضرت سلیمان ان کی اس حرکت کو ناپسند کرتے ہیں کہ وہ انہیں مال و دولت کے ذریعہ خریدنا چاہتے ہیں اور دعوت اسلامی کو چند ٹکوں کے عوض خریدنا چاہتے ہیں۔ چناچہ حضرت سلیمان ان کو سخت تنبیہ کرتے ہیں اور سخت دھمکی دیتے ہیں۔
النمل 27:36
فلما جآء ……صغرون (73)
ان لوگوں کے ہدایا کو رد کرتے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دولت کی حقارت کا اظہار بھی کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ دولت کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن نظریات اور ایمانیات کے مقابلہ میں دولت ایک حقیر چیز ہوتی ہے۔
اتمدونن بمال (82 : 63) ” کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ “ کیا تم یہ حقیر چیز میرے سامنے پیش کرتے ہوے اور میری اس قدر کم قیمت لگاتے ہو۔
فما اتن اللہ خیر مما اتکم (82 : 63) ” جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔ “ مجھے مال بھی تم سے زیادہ دیا ہے اوپر منصب نبوت بھی دیا ہے جو جنس مال سے خیر ہے۔ علم نبوت جو بڑی دولت ہے۔ انسانوں ، جنوں اور طیور کی تسخیر جو روپے کے ذریعے نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا اس زمین کی کوئی چیز مجھے خوش نہیں کرسکتی۔
بل انتم بھدیتکم تفرحون (82 : 63) ” تمہارا یہ ہدیہ تمہیں مبارک ہو۔ “ تم دنیا پرست لوگ ایسی چیزوں پر خوش ہوتے ہو ، لیکن ہمارے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ہم تو اللہ سے لو لگائے ہوئے ہیں اور اللہ کے ہدایا قبول کرتے ہیں۔
اس کے بعد انہیں سخت تہدید آمیز جواب دیا جاتا ہے۔
ارجع الیھم (82 : 83) ” واپس جا اپنے بھیجنے والے کی طرف۔ “ یہ ہدایا ان کو دو اور عبرت آمیز انجام کو انتظار کرو۔
فلنا تینھم بجنودلا قبل لھم بھا (62 : 83) ” ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کا مقابلہ وہ نہ کرسکیں گے۔ “ یہ ایسی افواج ہیں جو دنیا کے کسی انسان کے پاس نہیں ہیں اور ملکہ سبا اور اس کی قوم ہماری افواج کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
ولنخر جنھم منھا اذلۃ و ھم صغرون (82 : 83) ” اور ہم انہیں ایسی ذلت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ “ اب یہاں پر وہ گرتا ہے اور یہ چیلنج اور تہدید کا منظر ختم ہوجاتا ہے۔ سفارت واپس ہوجاتی ہے۔ اب سیاق کلام یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ اگلے اقدام کے بارے میں یہاں ایک لفظ بھی نہیں کہا جاتا ہے۔
حضرت سلیمان یہ جانتے ہیں کہ ملکہ کے ساتھ معاملہ ختم ہوگیا ، وہ نہ مقابلہ کرسکتی ہے۔ نہ دشمنی چاہتی ہے۔ کیونکہ ہدایا کے ساتھ سفارت بھیجنے کا مقصد ہی یہ تھا۔ حضرت سلیمان جان گئے کہ یہ ملکہ مطابق حکم سلیمان دعوت قبول کرے گی اور اطاعت کرلے گی جیسا کہ بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔
لیکن سیاقکلام میں یہ بات نہیں ہے کہ یہ سفارت واپس ہوئی ۔ اس نے ملکہ کے سامنے یہ یہ رپورٹ پیش کی۔ نہ سیاق کلام میں ملکہ کے اگلے ارادے کا ذکر ہے۔ یہ سب خود بخود معلوم ہوجائیں گے جب ملکہ کا دورہ دار الخلافہ معلوم ہوگا اب حضرت سیمان علیہ ال سلام یہ حکم دیتے ہیں کہ کون ہے جو ملکہ کے پہنچنے سے قبل ہی اس کے عرش کو لے کر آجائے اور پھر اس عرش اور تخت کو اس کے سامنے ذرا انجان ہو کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ عرش وہ اپنے علاقے میں چھوڑ کر آئی ہے اور یہ وہاں اس کے دارالخلافہ میں محفوظ و مامون ہے۔
النمل 27:37
فلما جآء ……صغرون (73)
ان لوگوں کے ہدایا کو رد کرتے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دولت کی حقارت کا اظہار بھی کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ دولت کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن نظریات اور ایمانیات کے مقابلہ میں دولت ایک حقیر چیز ہوتی ہے۔
اتمدونن بمال (82 : 63) ” کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ “ کیا تم یہ حقیر چیز میرے سامنے پیش کرتے ہوے اور میری اس قدر کم قیمت لگاتے ہو۔
فما اتن اللہ خیر مما اتکم (82 : 63) ” جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔ “ مجھے مال بھی تم سے زیادہ دیا ہے اوپر منصب نبوت بھی دیا ہے جو جنس مال سے خیر ہے۔ علم نبوت جو بڑی دولت ہے۔ انسانوں ، جنوں اور طیور کی تسخیر جو روپے کے ذریعے نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا اس زمین کی کوئی چیز مجھے خوش نہیں کرسکتی۔
بل انتم بھدیتکم تفرحون (82 : 63) ” تمہارا یہ ہدیہ تمہیں مبارک ہو۔ “ تم دنیا پرست لوگ ایسی چیزوں پر خوش ہوتے ہو ، لیکن ہمارے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ہم تو اللہ سے لو لگائے ہوئے ہیں اور اللہ کے ہدایا قبول کرتے ہیں۔
اس کے بعد انہیں سخت تہدید آمیز جواب دیا جاتا ہے۔
ارجع الیھم (82 : 83) ” واپس جا اپنے بھیجنے والے کی طرف۔ “ یہ ہدایا ان کو دو اور عبرت آمیز انجام کو انتظار کرو۔
فلنا تینھم بجنودلا قبل لھم بھا (62 : 83) ” ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کا مقابلہ وہ نہ کرسکیں گے۔ “ یہ ایسی افواج ہیں جو دنیا کے کسی انسان کے پاس نہیں ہیں اور ملکہ سبا اور اس کی قوم ہماری افواج کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
ولنخر جنھم منھا اذلۃ و ھم صغرون (82 : 83) ” اور ہم انہیں ایسی ذلت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ “ اب یہاں پر وہ گرتا ہے اور یہ چیلنج اور تہدید کا منظر ختم ہوجاتا ہے۔ سفارت واپس ہوجاتی ہے۔ اب سیاق کلام یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ اگلے اقدام کے بارے میں یہاں ایک لفظ بھی نہیں کہا جاتا ہے۔
حضرت سلیمان یہ جانتے ہیں کہ ملکہ کے ساتھ معاملہ ختم ہوگیا ، وہ نہ مقابلہ کرسکتی ہے۔ نہ دشمنی چاہتی ہے۔ کیونکہ ہدایا کے ساتھ سفارت بھیجنے کا مقصد ہی یہ تھا۔ حضرت سلیمان جان گئے کہ یہ ملکہ مطابق حکم سلیمان دعوت قبول کرے گی اور اطاعت کرلے گی جیسا کہ بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔
لیکن سیاقکلام میں یہ بات نہیں ہے کہ یہ سفارت واپس ہوئی ۔ اس نے ملکہ کے سامنے یہ یہ رپورٹ پیش کی۔ نہ سیاق کلام میں ملکہ کے اگلے ارادے کا ذکر ہے۔ یہ سب خود بخود معلوم ہوجائیں گے جب ملکہ کا دورہ دار الخلافہ معلوم ہوگا اب حضرت سیمان علیہ ال سلام یہ حکم دیتے ہیں کہ کون ہے جو ملکہ کے پہنچنے سے قبل ہی اس کے عرش کو لے کر آجائے اور پھر اس عرش اور تخت کو اس کے سامنے ذرا انجان ہو کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ عرش وہ اپنے علاقے میں چھوڑ کر آئی ہے اور یہ وہاں اس کے دارالخلافہ میں محفوظ و مامون ہے۔
النمل 27:38
فلما جآء ……صغرون (73)
ان لوگوں کے ہدایا کو رد کرتے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دولت کی حقارت کا اظہار بھی کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ دولت کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن نظریات اور ایمانیات کے مقابلہ میں دولت ایک حقیر چیز ہوتی ہے۔
اتمدونن بمال (82 : 63) ” کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ “ کیا تم یہ حقیر چیز میرے سامنے پیش کرتے ہوے اور میری اس قدر کم قیمت لگاتے ہو۔
فما اتن اللہ خیر مما اتکم (82 : 63) ” جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔ “ مجھے مال بھی تم سے زیادہ دیا ہے اوپر منصب نبوت بھی دیا ہے جو جنس مال سے خیر ہے۔ علم نبوت جو بڑی دولت ہے۔ انسانوں ، جنوں اور طیور کی تسخیر جو روپے کے ذریعے نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا اس زمین کی کوئی چیز مجھے خوش نہیں کرسکتی۔
بل انتم بھدیتکم تفرحون (82 : 63) ” تمہارا یہ ہدیہ تمہیں مبارک ہو۔ “ تم دنیا پرست لوگ ایسی چیزوں پر خوش ہوتے ہو ، لیکن ہمارے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ہم تو اللہ سے لو لگائے ہوئے ہیں اور اللہ کے ہدایا قبول کرتے ہیں۔
اس کے بعد انہیں سخت تہدید آمیز جواب دیا جاتا ہے۔
ارجع الیھم (82 : 83) ” واپس جا اپنے بھیجنے والے کی طرف۔ “ یہ ہدایا ان کو دو اور عبرت آمیز انجام کو انتظار کرو۔
فلنا تینھم بجنودلا قبل لھم بھا (62 : 83) ” ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کا مقابلہ وہ نہ کرسکیں گے۔ “ یہ ایسی افواج ہیں جو دنیا کے کسی انسان کے پاس نہیں ہیں اور ملکہ سبا اور اس کی قوم ہماری افواج کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
ولنخر جنھم منھا اذلۃ و ھم صغرون (82 : 83) ” اور ہم انہیں ایسی ذلت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ “ اب یہاں پر وہ گرتا ہے اور یہ چیلنج اور تہدید کا منظر ختم ہوجاتا ہے۔ سفارت واپس ہوجاتی ہے۔ اب سیاق کلام یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ اگلے اقدام کے بارے میں یہاں ایک لفظ بھی نہیں کہا جاتا ہے۔
حضرت سلیمان یہ جانتے ہیں کہ ملکہ کے ساتھ معاملہ ختم ہوگیا ، وہ نہ مقابلہ کرسکتی ہے۔ نہ دشمنی چاہتی ہے۔ کیونکہ ہدایا کے ساتھ سفارت بھیجنے کا مقصد ہی یہ تھا۔ حضرت سلیمان جان گئے کہ یہ ملکہ مطابق حکم سلیمان دعوت قبول کرے گی اور اطاعت کرلے گی جیسا کہ بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔
لیکن سیاقکلام میں یہ بات نہیں ہے کہ یہ سفارت واپس ہوئی ۔ اس نے ملکہ کے سامنے یہ یہ رپورٹ پیش کی۔ نہ سیاق کلام میں ملکہ کے اگلے ارادے کا ذکر ہے۔ یہ سب خود بخود معلوم ہوجائیں گے جب ملکہ کا دورہ دار الخلافہ معلوم ہوگا اب حضرت سیمان علیہ ال سلام یہ حکم دیتے ہیں کہ کون ہے جو ملکہ کے پہنچنے سے قبل ہی اس کے عرش کو لے کر آجائے اور پھر اس عرش اور تخت کو اس کے سامنے ذرا انجان ہو کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ عرش وہ اپنے علاقے میں چھوڑ کر آئی ہے اور یہ وہاں اس کے دارالخلافہ میں محفوظ و مامون ہے۔
النمل 27:39
فلما جآء ……صغرون (73)
ان لوگوں کے ہدایا کو رد کرتے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دولت کی حقارت کا اظہار بھی کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ دولت کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن نظریات اور ایمانیات کے مقابلہ میں دولت ایک حقیر چیز ہوتی ہے۔
اتمدونن بمال (82 : 63) ” کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ “ کیا تم یہ حقیر چیز میرے سامنے پیش کرتے ہوے اور میری اس قدر کم قیمت لگاتے ہو۔
فما اتن اللہ خیر مما اتکم (82 : 63) ” جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔ “ مجھے مال بھی تم سے زیادہ دیا ہے اوپر منصب نبوت بھی دیا ہے جو جنس مال سے خیر ہے۔ علم نبوت جو بڑی دولت ہے۔ انسانوں ، جنوں اور طیور کی تسخیر جو روپے کے ذریعے نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا اس زمین کی کوئی چیز مجھے خوش نہیں کرسکتی۔
بل انتم بھدیتکم تفرحون (82 : 63) ” تمہارا یہ ہدیہ تمہیں مبارک ہو۔ “ تم دنیا پرست لوگ ایسی چیزوں پر خوش ہوتے ہو ، لیکن ہمارے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ہم تو اللہ سے لو لگائے ہوئے ہیں اور اللہ کے ہدایا قبول کرتے ہیں۔
اس کے بعد انہیں سخت تہدید آمیز جواب دیا جاتا ہے۔
ارجع الیھم (82 : 83) ” واپس جا اپنے بھیجنے والے کی طرف۔ “ یہ ہدایا ان کو دو اور عبرت آمیز انجام کو انتظار کرو۔
فلنا تینھم بجنودلا قبل لھم بھا (62 : 83) ” ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کا مقابلہ وہ نہ کرسکیں گے۔ “ یہ ایسی افواج ہیں جو دنیا کے کسی انسان کے پاس نہیں ہیں اور ملکہ سبا اور اس کی قوم ہماری افواج کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
ولنخر جنھم منھا اذلۃ و ھم صغرون (82 : 83) ” اور ہم انہیں ایسی ذلت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ “ اب یہاں پر وہ گرتا ہے اور یہ چیلنج اور تہدید کا منظر ختم ہوجاتا ہے۔ سفارت واپس ہوجاتی ہے۔ اب سیاق کلام یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ اگلے اقدام کے بارے میں یہاں ایک لفظ بھی نہیں کہا جاتا ہے۔
حضرت سلیمان یہ جانتے ہیں کہ ملکہ کے ساتھ معاملہ ختم ہوگیا ، وہ نہ مقابلہ کرسکتی ہے۔ نہ دشمنی چاہتی ہے۔ کیونکہ ہدایا کے ساتھ سفارت بھیجنے کا مقصد ہی یہ تھا۔ حضرت سلیمان جان گئے کہ یہ ملکہ مطابق حکم سلیمان دعوت قبول کرے گی اور اطاعت کرلے گی جیسا کہ بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔
لیکن سیاقکلام میں یہ بات نہیں ہے کہ یہ سفارت واپس ہوئی ۔ اس نے ملکہ کے سامنے یہ یہ رپورٹ پیش کی۔ نہ سیاق کلام میں ملکہ کے اگلے ارادے کا ذکر ہے۔ یہ سب خود بخود معلوم ہوجائیں گے جب ملکہ کا دورہ دار الخلافہ معلوم ہوگا اب حضرت سیمان علیہ ال سلام یہ حکم دیتے ہیں کہ کون ہے جو ملکہ کے پہنچنے سے قبل ہی اس کے عرش کو لے کر آجائے اور پھر اس عرش اور تخت کو اس کے سامنے ذرا انجان ہو کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ عرش وہ اپنے علاقے میں چھوڑ کر آئی ہے اور یہ وہاں اس کے دارالخلافہ میں محفوظ و مامون ہے۔
النمل 27:40
قال ……الیک طرفک
آپ کو معلوم ہے کہ سلیمان علیہ اسللام نے اس کے تحت کو اس کی جانب سے اطاعت قبول کرنے سے قبل کس غرض کے لئے منگوایا ؟ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ کام اس لئے کیا کہ وہ ملکہ سبا کو دکھائیں کہ کائنات کی معجزانہ قوتیں ان کی تائید کر رہی ہیں تاکہ ملکہ سبا ان سے متاثر ہوجائے اور ظاہری اختیار کے ساتھ ساتھ اس کے ایمان لانے کی راہ بھی ہموار ہوجائے۔
جنوں میں سے ایک دیوہیکل جن نے یہ پیشکش کی کہ وہ یہ تخت اس وقت تک حاضر کر دے گا جب تک یہ اجلاس جاری ہے۔ جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) انتظامی اور عدالتی فصلہ کرنے کے لئے صبح سے ظہر تک بیٹھتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس عرصے کو طویل سمجھے۔ یہ کہا کہ اس وقت تک تو بہت دیر ہوجائے گی۔ چناچہ ایک شخص جس کے پاس علم کتاب تھا۔
الذی عندہ علم من الکتب (82 : 03) ” جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا۔ “ اس نے کہا کہ پلک جھپکنے سے پہلے میں اسے لائے دیتا ہوں۔ یہاں اس شخص کا نام نہیں لیا گیا کہ وہ کون تھا اور نہ اس کتاب کا ذکر ہے جس کا علم اس کے پاس تھا۔ ہم سمجھے ہیں کہ یہ ایک مومن شخص تھا ، اللہ کے ساتھ اس کا اتصال تھا ، خدا رسیدہ شخص تھا اور وہ اللہ کی جانب سے ایسی قوتوں کے مالک تھے جن کے لئے غیب کے پردے اور دوریاں ختم ہوجاتی ہیں اور یہ ایسے امور اور کرامات ہیں جن کا صدور بعض اوقات خدا رسیدہ لوگوں سے ہوتا ہے اور جس کے اسرار و رموز سے عام لوگ واقف نہیں ہوتے۔ کیونکہ عام انسان جس دنیا میں رتے ہیں اور جن اسباب کے تحت وہ زندگی بسر کرتے ہیں اس سے یہ مختلف زندگی ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ قصے کہانیوں اور داستانوں اور خرافات سے نکلنے کے لئے بس اس مقام پر یہی کہا جاسکتا ہے۔
بعض مفسرین اس شخص کے پیچھے پڑے ہیں کہ یہ شخص کون تھا ؟ اور کتاب کون سی تھی۔ کتاب کے بارے میں کہا کہ وہ تورات تھی اور بعض نے کہا کہ یہ شخص اسم اعظم کو جانتا تھا اور بعض مفسرین نے اور اقوال اختیار کئے ہیں۔ تمام اقوال کی پشت پر کوئی مستند دلیل نہیں ہے۔ اگر واقعیت پسندی سے کام لیا جائے تو یہ معاملہ بہت آسان ہے۔ اس کائنات کے ہزارہا ایسے راز ہیں جن کو ہم نہیں جانتے۔ بیشمار ایسی قوتیں ہیں جن کو ابھی تک ہم کام میں نہیں لا سکے۔ خود نفس انسانی کے اندر ایسے راز موجود ہیں جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ جب کسی ایک انسان کو ان اسرار سے واقف کردیتا ہے تو پھر دوسروں کے لئے ایک معجزہ صادر ہوجاتا ہے کیونکہ یہ معجزہ عام انسانوں کی طبیعی زندگی کے لخفا ہوتا ہے جبکہ یہ خارق عادت معجزہ بھی اللہ ہی کی قوتوں میں سے کسی قوت کے مطابق ہوتا ہے اور اللہ اس خارق عادت بات کو جس کے ہاتھ پر چاہتا ہے چلا دیتا ہے۔ (اس طرح وہ معجزہ اور کرامت ہوتی ہے۔ )
یہ شخص جس کے پاس علم کتاب تھا ، اس علم کی وجہ سے اس کا نفس اس کام کے لئے تیار تھا۔ اللہ نے بعض کائناتی راز اس شخص پر منکشف کردیئے تھے اور یوں یہ کرامت اس کے ہاتھ سے ظاہر ہوگئی کیونکہ علم کتاب کی وجہ سے یہ شخص خدا رسیدہ شخص تھا اور وہ روحانی طور پر اس کے لئے تیار تھا کہ اس پر بعض اسرار کھول دیئے جائیں۔
بعض مفسرین نے کہا یہ شخص خود سلیمان (علیہ السلام) تھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ شخص حضرت سلیمان نہ تھے۔ ورنہ پھر اپنے آپ کو چھپانے کی ضرورت کیا تھی۔ قصہ خود انکا چل رہا تھا اور قصہ بھی ایسا کوئی نہ تھا کہ حضرت کا نام مخفی رکھا جائے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس کا نام آصف بن برقیا تھا۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
فلما راہ ……کریم (04)
تخت کی اچانک اور برق رفتار حاضری کا سلیمان (علیہ السلام) پر بےحد اثر ہوا۔ وہ ڈر گئے کہ اللہ نے کس طرح معجزاتی انداز میں ان کا مقصد پورا کردیا۔ انہوں نے سوچ لیا کہ یہ ایک عظیم نعمت خداوندی ہے اور اس کا فضل و کرم ہے۔ اور اس قدر عظیم کرم دراصل ایک عظیم ابتلا ہے۔ ایک خوفناک ابتلا ہے۔ اس لئے اس ابتلا سے وہ کامیابی کے ساتھ تب ہی گزر سکتے ہیں جب وہ ہر وقت بیدار رہیں اور اس آزمائش میں بھی کامیابی کے لئے اللہ کی مدد درکار ہے۔ اسے خدا خوفی کی ضرورت ہے ، نعمت خواندی کا احساس کرنا ضروری ہے۔ اور اللہ کے اس فضل پر شکر بجالانا ضروری ہے۔ تاکہ اللہ پر ثابت ہوجائے کہ میں شکر گزار ہوں جبکہ الل ہکو کسی کی جانب سے کسی شکر کی ضرورت نہیں ہے جو کوئی شکر کرتا ہے۔ وہ خود اپنے لئے کرتا ہے اور شکر سے زیادہ نعمت حاصل ہوتی ہے اور ابتلائے نعمت میں کامیابی حاصل ہوتی ہے اور اگر کوئی شکر نہیں کرتا ، ناشکری کرتا ہے تو اللہ تو عالم اور عال والوں سے مستغنی ہے۔ وہ تو کریم ہے۔ بغیر کسی احتیاج کے شکر کرنے والوں کو بخشتا ہے۔
شکر نعمت اور شکر کو ایک آزمائش تصور کرنے کے بعد حضرت سلیمان ملکہ کو حیران کن صورت حال سے دوچار کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔
النمل 27:41
قال نکروالھا ……لایھتدون (14)
یعنی اس تخت کی امتیازی خصوصیات کو ختم کر دو تاکہ دیکھا جائے کہ وہ اس تحت کو اپنی فراست اور ذہانت سے پہنچانتی ہے یا نہیں۔ یا اس معمولی تبدیلی سے اس کے لئے اس کا پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔
شاید یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے اس کی ذہانت اور فراست کا امتحان تھا۔ تخت کے بارے میں اس اچانک اور ناقابل توقع صورتحال سے دوچار ہونے کے بعد اب حضرت سلیمان اور ملکہ کی ملاقات ہوتی ہے۔
النمل 27:42
فلما جآءت قیل اھکذا عرشک قالت کانہ ھو
یہ اس لئے ایک انوکھی اور غیر متوقع بات تھی۔ اس کی مملکت کہاں اور تخت کہاں اور وہ دیکھ رہی ہے۔ آخر محفوظ مقامات کے اندر زیر حراست تخت یہاں کس طرح آگیا ۔ جنوب یمن اور بیت المقدس کا فاصلہ یہ کیسے آگیا اور کون اسے لایا ہے۔
لیکن تھوڑی سی تبدیلی کے باوجود تخت تو اسی کا ہے لیکن وہ غیر متوقع ہونے ، حالاتی شہادت خلاف ہونے کی وجہ سے اور زیادہ تر علامات اصلی باقی رہنے کی وجہ سے وہ یوں کہتی ہے کہ ” گویا یہ وہی ہے۔ “ اس نے نہایت فراست اور عقلمندی سے یہ جواب دیا۔ جس میں نہ اس تخت کا اقرار ہے اور نہ انکار ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان غیر متوقع حالات میں بھی دھوکہ نہیں کھاتی اور اعلیٰ درجے کی سفارتی زبان استعمال کرتی ہے۔
اب یہاں سیاق کلام میں ایک خلا ہے۔ گویا اسے حضرت سلیمان نے اطلاع کردی کہ یہ قوت ہے جس کے ذریعے ہم تمہارا تخت تم سے بھی پہلے لے آئے۔ تو اس کا جواب وہ دیتی ہے کہ ہم نے خود اپنے ہاں حالات کا جائزہ لے لیا تھا اور یہ عزم کرلیا تھا کہ ہم سلیمان کی اطاعت قبول کریں گے جب ہمارے ہدایا رد کردیئے گئے تھے۔
واو تینا العلم من قبلھا وکنا مسلمین (24)
اب قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ ملک سبا اپنی اس دانشمندی کے باوجود پھر حضرت سلیمان کے پہلے خط پر ایمان کیوں نہیں لائی۔ یہ اس لئے کہ یہ ایک کافر سوسائٹی میں پیدا ہوئی تھی۔ لہٰذا وہ بھی عام رواج کے مطابق اللہ کی بندگی کے بجائے سورج کی بندگی کرتی رہی۔ جیسا کہ ہد ہد کی رپورٹ سے ظاہر ہے۔
النمل 27:43
وصدما ……قوم کفرین (34)
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کو مرعوب کرنے کیل ئے ایک دوسری غیر متوقع امتحان گاہ بھی اس کے لئے تیار تھی۔ یہ امتحان اس قدر اچانک ہے کہ یہاں بھی بیان قصہ کے وقت بھی اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔ پہلے تخت کے سلسلے میں تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو بتا دیا کہ یہ تخت یوں معجزانہ انداز میں لایا گیا ہے۔ یہاں قرآن کریم کی طرز ادا بھی نہایت ہی بلبغانہ ہے۔
النمل 27:44
قیل لھا ادخلی ……رب العلمین (34)
یہ غیر متوقع محتان یوں تھا کہ حضرت سلیمان نے ایک عظیم الشان محل تعمیر کرایا تھا۔ یہ شیش محل تھا۔ اس کے فرش کے نیچے سے پانی گزارا گیا تھا اور فرش شیشے کا بھی اب فرش یوں نظر آ رہا تھا کہ گویا پانی کی لہر ہے۔ جب ملکہ کو کہا گیا کہ آپ اس محل میں داخل ہوں تو اس نے سمجھا کہ اسے پانی سے چل کر گزرنا ہے۔ اس پر اس نے شلوار کے پائنچے اٹھا دیئے۔ اس کی ٹانگیں کھل گئیں۔ اس واقعہ کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بتایا۔
قال انہ صرح ممرد من قواریر (82 : 33) ” انہوں نے کہا کہ یہ شیشے کا چکنا فرش ہے۔ “ یہاں ملکہ حیران رہ گئی کہ حضرت سلیمان کے پاس تو حیران کن عجائبات ہیں اور یقینا یہ قوتیں فوق الفطرت ہیں۔ یوں اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا۔ اور اللہ کو پکار اٹھی کہ اس نے اس سے قبل جو غیر اللہ کی عبادت کی ہے وہ اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔ چناچہ اس نے سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا کہ میں اب سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی اطاعت قبول کرتی ہوں۔
اس نے سوچ لیا کہ اسلامی نظام زندگی کیا چیز ہے۔ یہ کہ اس میں کوئی انسان کسی انسان کے آگے نہیں جھکتا۔ بلکہ سب انسان اللہ کے آگے جھکتے ہیں۔ سلیمان اگرچہ نبی ہیں لیکن وہ کہتی ہے کہ میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی اطاعت قبول کرتی ہوں یعنی سلیمان کی معیت تو ہے جس طرح ایک مسلمان دوسرے مسلمانوں کا ساتھی ہوتا ہے لیکن اطاعت رب العالمین کی ہوتی ہے۔
اسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین (82 : 33) قرآن کریم نے یہاں اس بات کو خصوصی طور پر ریکارڈ کیا ہوا ہے کہ اسلام اللہ کے لئے ہوتا ہے اور اسلام قبول کرنے سے ایک انسان ایک ایسی صف میں جا کر کھڑا ہوجاتا ہے جو مقتدر اعلیٰ ہوتی ہے بلکہ اسلام میں آ کر غاب اور مغلوب اور محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دونوں بھائی ہوتے ہیں کوئی غالب و مغلوب نہیں ہوتا۔ سب مساوی طور پر رب العالمین کے آگے جھکتے ہیں۔
اہل قریش اسلام کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرتے تھے حالانکہ رسول اللہ انہیں اسلام اور رب العالمین کی اطاعت کی طرف بلاتے تھے۔ محمد ابن عبداللہ کی اطاعت کی ضرورت نہیں کہ وہ ایک سربراہ مملکت بن جائیں۔ قریش کو ملکہ سبایہ تعلیم دیتی ہے کہ کس نبی کی دعوت قبول کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان اس نبی کی معیت میں اللہ رب العالمین کا مطیع ہوجاتا ہے ۔ داعی اور مدعو برابر ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ اسلام قبول کریں تو رسول اللہ کے ساتھ وہ رب العالمین کے مطیع ہوں گے۔
النمل 27:45
درس نمبر 371 تشریح آیات
54……تا……35
قرآن کریم میں حضرت صالح اور قوم ثمود کا قصہ بالعموم حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کے قصص کے ساتھ آتا ہے۔ ان قصص کے ساتھ حضرت ابراہیم کا قصہ کبھی آتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔ اس سورة میں بھی بنی اسرائیل کے قصص آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ اور حضرت دائود اور حضرت سلیمان کے قصے گزر گئے ہیں۔
ہیاں بھی حضرت ہود اور حضرت شعیب کا قصہ مختصراً آیا ہے جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ نہیں آیا۔
حضرت صالح کے قصے میں ناقہ والی کڑی نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے 9 مفسدین کا ذکر ہے جو حضرت صالح کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ حضرت صالح کو ان کی مکاریوں کا علم نہ تھا۔ ان کی ان سازشوں کے جواب میں اللہ نے ان کے خلاف ایسی تدبیر اختیار کی جس کا وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ وہ یہ کہ ان سب مفسدوں کو تباہ کر کے رکھ دیا اور حضرت صالح اور اہل ایمان کو نجات دے دی۔ مشرکین مکہ کو کہا جاتا ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے ان کے مکانات کو دیکھتے ہو مگر عبرت نہیں پکڑتے۔
ولقد ……یختصمون (54)
حضرت صالح کی رسالت کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ ” صرف اللہ کی بندگی کرو۔ “ ہر دور میں انسانوں کو جو سماوی ہدایت دی گئی ہے اس کا خلاصہ یہی رہا ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی رو ، ہر رسول اور ہر قوم کو یہی تعلیم دی گئی جبکہ اس کائنات میں انسانوں کے اردگرد پائی جانے والی کائنات میں اور خود انسانوں کے نفوس کے اندر بھی وجدانی دلائل موجود ہیں جو یہی حقیقت بتاتے ہیں کہ اس کائنات کا معبود ایک ہی ہے۔ لیکن انسان ہے کہ وہ اس سادہ حقیقت کا انکار کرتا ہے۔ نہ صرف انکار بلکہ وہ اس دعوت کے ساتھ مذاق بھی کرتا ہے۔ اور حقارت آمیز انداز میں اسے ٹھکراتا ہے اور آج تک انسان بھٹک رہا ہے ۔ مختلف راستوں پہ چلتا ہے ، ٹھوکریں کھاتا ہے لیکن صراط مستقیم کی طرف نہیں آتا۔
یہاں قرآن کریم نے حضرت صالح کی دعوت کا صرف یہ اثر بتایا ہے کہ قوم دو ٹکڑے ہوگئی اور ان کے درمیان مخاصمت شروع ہوگئی۔ ایک فریق نے دعوت قبول کرلی اور دوسرا مخالف ہوگیا۔ فریق ، تعداد میں بہت زیادہ تھا جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری سورتوں سے ظاہر ہے۔
یہاں قصے کے اختصار کی وجہ سے خلا ہے۔ اس میں قوم نے حضرت صالح سے مطالبہ کیا ہے کہ تم ہمیں جس عذاب سے ڈراتے ہو ، اسے لے آئو۔ منکرین کا ہمیشہ یہ طریقہ ہوتا ہے کہ وہ ہدایت و رحمت طلب کرنے کی بجائے اللہ کا عذاب طلب کرتے ہیں جس طرح مشرکین قریش نبی ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے۔ حضرت صالح نے انہیں تنبیہ کی کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم رحمت و ہدایت طلب کرنے کی بجائے خدا کا عذاب طلب کرتے ہو۔ وہ ان کو مشورہ دیتے ہیں اللہ سے مغفرت طلب کرو وہ تم پر رحم کر دے گا۔
النمل 27:46
قال یقوم لم ……ترحمون (64)
لوگوں کے دماغ اس قدر بگڑ گئیت ہے کہ سچائی کو جھٹلانے والے کہنے لگے تھے۔ اے اللہ ، اگر یہ شخص تیری طرف سے رسول ہے اور سچائی پر ہے تو ، تو ہم پر پتھروں کی بارش کر دے اور درد ناک عذاب نازل کر دے۔ “ حالانکہ ان کو کہنا یوں چاہئے تھا ” اے اللہ ، اگر یہ شخص تیری طرف سے آیا ہوا ہے اور سچا ہے تو ، تو ہمیں توفیق دے کہ ہم ایمان لے آئیں اور اس کی تصدیق کردیں۔ “
یہی حال قوم صالح کا ہوگیا تھا۔ ان کا رسول ان کو رحمت ، توبہ اور استغفار کی راہ کی طرف بلاتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں ، یہ لوگ اس بات کا اظہار کرتے ہیں ہم تو صالح اور ان لوگوں سے تنگ آگئے ہیں جو اس کے ساتھ ہوگئے تھے کیونکہ یہ لوگ ہمارے لئے مصیبت بن گئے ہیں اور ہمیں خطرہ ہے کہ یہ لوگ ہم پر کوئی بڑی مصیبت لے آئیں گے۔
النمل 27:47
قالوا اطیرنا بک وبمن معک ط
تطسیر کے معنی بدشگونی کے ہیں۔ یہ لفظ اقوام جاہلہ کی وہم پرستیوں اور خرافات سے نکلا ہے۔ وہ اوبام جن سے کوئی شخص صرف سیدھے اور صاف ایمان کے ذریعے نکل سکتا ہے۔ ایام جاہلیت میں اگر کوئی کسی کام کے لئے نکلنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نیک شگون یا بدشگون معلوم کرنے کے لئے کسی پرندے سے فال گیری کرتا ہے۔ وہ کسی جگہ بیٹھے ہوئے پرندے کو اڑاتا۔ اگر یہ پرندہ اس کے دائیں جانب سے بائیں جانب جاتا تو یہ خوش ہوتا اور وہ کام کر گزرتا۔ اور اگر یہ پرندہ بائیں جانب سے دائیں جانب کی طرف جاتا تو یہ شخص بدشگوفی کرتے ہوئے یہ سمجھتا کہ یہ معاملہ خطرناک ہے۔ سوال یہ ہے کہ کسی پرندے کو لیا معلوم ہے کہ وہ کدھر جائے اور کدھر نہ جائے۔ نیز کسی پرندے کی اتفاق حرکت سے غیبی باتیں کس طرح معلوم ہو سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نفس انسانی اپنے معاملات ہمیشہ کسی غیبی قوت کے حوالے کرتا ہے۔ اگر کوئی اپنا غیب اور مستقبل اللہ علام الغیوب کے حوالے نہیں کرتا اور اللہ پر بھروسہ نہیں کرتا تو پھر وہ ایسے ہی اوہام و خرافات کا شکار ہوتا ہے۔ پھر وہ اوبام و خرافات کسی حد پر جا کر رکتے نہیں۔ نہ عقل کی حدود میں رہتے ہیں۔ نہ ان سے کوئی یقین و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
آج صورت حال ایسی ہے جو لوگ ایمان نہیں لاتے اور عالم غیب کے پوشیدہ امور کو اللہ کے سپرد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور جن کا زعم یہ ہے کہ انہوں نے اس قدر علمی ترقی حاصل کرلی ہے کہ دین و مذاہب کے خرافات پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ یہ لوگ نہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں ، نہ دین اسلام پر ایمان لاتے ہیں اور نہ غیب پر ایمان لاتے ہیں ، لیکن ایسے تعلیم یافتہ لوگوں کی وہم پرستی کا حال یہ ہے کہ یہ لوگ بھی عدد 31 کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ اور جب یہ لوگ جا رہے ہوں اور کوء سیاہ بلی ان کے راستے سے گزر جائے تو اس کو بھی نہایت ہی اہم واقعہ سمجھتے ہیں۔ مثلاًدیا سلائی کی ایک پتلی سے دو سے زیادہ سگریٹ جلانا اور اس قسم کے دور سے خرافات پر یہ لوگ بڑا یقین رکھتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ اس قسم کے لوگ دراصل فطرت سے عناد کرتے ہیں حالانکہ فطرت سلیمہ کے اندر ایمان باللہ کو پیاس ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کبھی بھی مستغنی نہیں ہوتی۔
اس دنیا کے حقائق میں اسے عالم غیب کا سہارا لینا پڑتا ہے ، جن تک انسانی علم و معرفت کی رسائی نہیں ہوتی اور بعض حقائق تو ایسے ہیں کہ ان تک انسانی علم کبھی بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ کیونکہ یہ حقائق انسان کی قوت مدرکہ کی حدود طاقت ہی سے ماوراء ہیں اور جو انسان کے مخصوص مقصد پیدائش او خلافت فی الارض کے منصب کے ساتھ متعلق ہی نہیں ہیں۔ اس لئے انسان کو ان کے علم کی طاقت ہی نہیں دی گئی۔ انسانی قوتیں اس کے منصب تک محدود ہیں۔
جب قوم صالح نے اپنی وہی بدویانہ اور گمراہانہ بات کہی ، جو اوہام و خرافات کے اندر ڈوبی ہوئی تھی تو حضرت صالح نے ان کو یقین کی روشنی کی طرف موڑ دیا اور ایک واضح حقیقت کی دعوت دی جس کے اندر کوئی پیچیدگی اور کوئی تاریک گوشہ نہ تھا۔
قال طئرکم عند اللہ
صالح نے جواب دیا تمہارا نیک و بد اور تمہارا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ نے اس کائنات کے لئے ایک سنت جاری کی ہے اور پھر لوگوں کو کچھ احکام دیئے ہیں اور لوگوں کے لئے ایک نہایت ہی سیدھی راہ تجویز کی ہے۔ پس جس نے سنن الہیہ کا اتباع کیا ، اللہ کی ہدایات پر چلا تو اس کا انجام اچھا ہوگا اور اسے پرندے اڑانے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی ، اور جو شخص سنن الہیہ سے سرتابی کرے گا اور صحیح راستے سے ادھر ادھر ہوجائے گا وہ ایک عظیم شر سے دوچار ہوگا۔ اسے پھر پرندوں سے نیک شگون اور بدشگون لینے کی ضرورت نہ ہوگی۔
بل انتم قوم تقنتون (74)
” اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔ “ اللہ نے تم پر جو انعامات کئے ہوئے ہیں۔ یہ تمہارے لئے ایک فتنہ ہے اور جو خیر و شر تمہیں پیش آ رہا ہے۔ وہ تمہارے لئے آزمائش ہے۔ لہٰذا بیداری ، اللہ کے قوانین فطرت کے مطابق تدبیر اور واقعات و حادثات کو سمجھنا اور ان کے اندر جو آزمائش اور ابتلا ہوتی ہے ، اس کا ادراک کرنا اور شعور رکھنا ہی اچھے انجام کا ضامن ہے۔ یہ جو تم پرندوں کو اڑا کر شگون یا بدشگون معلوم کرتے ہو ، اس کا واقعات کے انجام پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، یہ محض تمہارے اوہام ہیں۔
ایک صحیح نظریہ اور عقیدہ لوگوں کو ذہنی روشنی اور استقامت عطا کرتا ہے اور انسان معاملات کی صحیح قدر معلوم کرلیتا ہے۔ انسان کا دل بیدار ہوتا ہے اور وہ اپنے ماحول پر اچھی نظر رکھتا ہے اور غور و فکر کرتا ہے۔ انسان کو یہ شعور ہوتا ہے کہ اس کے اردگرد جو کچھ ہو رہا ہے دست قدرت اس میں موثر ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں یہ واقعات یونہی اتفاقاً واقع نہیں ہوتے ، نہ یہ زندگی ایک عبث عمل ہے بلکہ انسان کی زندگی بامقصد ہوتی ہے ، وہ ایک قیمت رکھتی ہے۔ لوگوں کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اور یوں یہ چھوٹا سا انسان اس کرہ ارض پر ایک بامقصد سفر کرتا ہے۔ وہ اللہ سے بھی مربوط ہوتا ہے اور اللہ کی اس کائنات کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہوتا ہے اور ان قوانین کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہوتا ہے۔ جو خالق نے اس کائنات کے لئے وضع کئے ہیں اور جن کے مطابق یہ کائنات بحفاظت چل رہی ہے۔
لیکن یہ سادہ سادہ استدلال ان لوگوں پر کیا اثر کرتا جن کے قلوب بگڑ چکے ہوں۔ ان کے دل اس قدر فساد میں مبتلا ہوئے ہوں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔ اصلاح کا کوئی امکان نہ رہا ہو۔ قوم صالح بگاڑ کے اس مرحلے پر پہنچ گئی تھی جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔ ان میں 9 افراد ایسے تھے جو پوری بگاڑ کے ذمہ دار تھے۔ یہ لوگ فساد کی آخری سرحدوں کو چھو رہے تھے چناچہ انہوں نے اس تحریک کو ختم کرنے کے لئے ایسی سازش تیار کی جس پر رات کے اندھیروں میں عمل کیا جانا تھا۔
النمل 27:48
وکان فی المدینۃ ……لصدقون (94)
یہ نو افراد ایسے تھے جن کی اصلاح ناممکن ہوگئی تھی ، یہ ہر وقت فساد اور سرکشی پر آمادہ رہتے تھے۔ یہ لوگ حضرت صالح کی دعوت سے اس قدر تنگ آگئے کہ انہوں نے ایک دور سے کے ساتھ رات کو ایک خفیہ معاہدہ کیا اور اس عہد پر اللہ کے نام سے قسم بھی اٹھائی کہ اس پر عمل کریں گے ، حضرت صالح کو قتل کردیں گے۔ حالانکہ حضرت صالح تو ان کو صرف اللہ ہی کی طرف بلاتے تھے۔
یہاں عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے اس سازش پر بھی اللہ ہی کو گواہ ٹھہرایا۔
تقاسموا ……اھلہ (82 : 93)
” خدا کی قسم کھا کر عہد کر لوگو ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے۔ “ نہ ہم نے قتل کیا ہے نہ موجود تھے۔
وانا لصدقون (82 : 93) ” اور ہم بالکل سچے ہیں۔ “ اس لئے کہ یہ قتل رات کے اندھیرے میں ہوگا کوئی دیکھنے والا نہ ہوگا۔
ان لوگوں کی یہ تدبیر بھی نہایت سطحی اور سادہ تدبیر تھی لیکن بہرحال یہ تدبیر کر کے وہ اپنے آپ کو مطئمن کر رہے تھے۔ اور ان لوگوں کے نزدیک خدا کے نام پر یہ جھوٹ بالکل جائز تھا اور پھر یہ اپنی اس اسکیم کے مطابق اپنے آپ کو بالکل سچا بھی ثابت کرتے ہیں۔ انسانی سوچ بھی عجیب پیچیدہ اور سطحی ہوتی ہے۔ خصوصاً جبکہ انسان کا دل نور ایمان سے خالی ہو ، کیونکہ سیدھا راستہ تو ایمان ہی بناتا ہے۔
یہ تھی ان کی تدبیر اور ان کی سوچ۔ لیکن اللہ بزرگ و برتر تو سب کچھ دیکھ رہا ہے اور یہ لوگ اللہ کو نہیں دیکھ رہے ۔ اللہ کے علم میں ان کی پوری سازش ہے ، لیکن اپنے خیال میں یہ سازش بھی اندھیرے میں کر رہے ہیں اور عمل بھی اندھیرے میں ہوگا۔ لیکن ہیں خود اندھیرے میں۔
النمل 27:49
وکان فی المدینۃ ……لصدقون (94)
یہ نو افراد ایسے تھے جن کی اصلاح ناممکن ہوگئی تھی ، یہ ہر وقت فساد اور سرکشی پر آمادہ رہتے تھے۔ یہ لوگ حضرت صالح کی دعوت سے اس قدر تنگ آگئے کہ انہوں نے ایک دور سے کے ساتھ رات کو ایک خفیہ معاہدہ کیا اور اس عہد پر اللہ کے نام سے قسم بھی اٹھائی کہ اس پر عمل کریں گے ، حضرت صالح کو قتل کردیں گے۔ حالانکہ حضرت صالح تو ان کو صرف اللہ ہی کی طرف بلاتے تھے۔
یہاں عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے اس سازش پر بھی اللہ ہی کو گواہ ٹھہرایا۔
تقاسموا ……اھلہ (82 : 93)
” خدا کی قسم کھا کر عہد کر لوگو ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے۔ “ نہ ہم نے قتل کیا ہے نہ موجود تھے۔
وانا لصدقون (82 : 93) ” اور ہم بالکل سچے ہیں۔ “ اس لئے کہ یہ قتل رات کے اندھیرے میں ہوگا کوئی دیکھنے والا نہ ہوگا۔
ان لوگوں کی یہ تدبیر بھی نہایت سطحی اور سادہ تدبیر تھی لیکن بہرحال یہ تدبیر کر کے وہ اپنے آپ کو مطئمن کر رہے تھے۔ اور ان لوگوں کے نزدیک خدا کے نام پر یہ جھوٹ بالکل جائز تھا اور پھر یہ اپنی اس اسکیم کے مطابق اپنے آپ کو بالکل سچا بھی ثابت کرتے ہیں۔ انسانی سوچ بھی عجیب پیچیدہ اور سطحی ہوتی ہے۔ خصوصاً جبکہ انسان کا دل نور ایمان سے خالی ہو ، کیونکہ سیدھا راستہ تو ایمان ہی بناتا ہے۔
یہ تھی ان کی تدبیر اور ان کی سوچ۔ لیکن اللہ بزرگ و برتر تو سب کچھ دیکھ رہا ہے اور یہ لوگ اللہ کو نہیں دیکھ رہے ۔ اللہ کے علم میں ان کی پوری سازش ہے ، لیکن اپنے خیال میں یہ سازش بھی اندھیرے میں کر رہے ہیں اور عمل بھی اندھیرے میں ہوگا۔ لیکن ہیں خود اندھیرے میں۔
النمل 27:50
ومکروا ……لایشعرون (05)
دیکھیے ان کی تدبیر کیا ہے۔ ان کی سازش بمقابلہ امرا نہی۔ اللہ کی قوت کے مقابلے میں یہ شرپسند کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں جھوٹے جبار وقہار جو تھوڑی بہت قوت کے مالک بن جاتے ہیں وہ اپنی اس قوت میں اس قدر مست ہوجاتے ہیں کہ اوپر دیکھنے والی آنکھ سے غافل ہوجاتے ہیں۔ وہ اس قوت سے بالکل غافل ہوتے ہیں کہ جو اچانک ان کو پکڑ لے گی اور ان کی توقع ہی نہ ہوگی۔
النمل 27:51
فانظر ……ظلموا ط
ایک لمحے کے اندر ان کو برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ اگلے لمحے میں ان کے محلات ان پر الٹ دیئے گئے۔ گھر خالی رہ گئے ۔ ایک لمحہ پہلے وہ تو اہل ایمان کے خلاف سازشیں کر رہے تھے اور ان کو پورا یقین تھا کہ وہ اپنی سازشوں پر عمل کرسکیں گے۔
سیاق کلام میں یہ شتابی کہ ادھر سازش ہوئی ادھر وہ صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ اس اچانک اور فیصلہ کن گرفت سے ڈرانا مقصود ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں قوت آجاتی ہے۔ وہ مغرور نہ ہوں اور غرے میں نہ آجائیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو اسی طرح اچانک گرفت میں لے سکتا ہے اور ان کو ان کی مکاریوں اور تدابیر کے ساتھ ہلاک کرسکتا ہے۔
النمل 27:52
ان فی ذلک لایۃ لقوم یعلمون (25)
” اور بچا لیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے۔ “ کفار کی اچانک ہلاکت کے بعد اب بتا دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کو نجات دے دی گئی۔ اس لئے کہ وہ دنیا کی قوتوں کی بجائے صرف اللہ سے ڈرتے تھے۔ اور کسی مومن کے دل میں اللہ کے ڈر کے ساتھ دورسا کوئی ڈر جمع نہیں ہو سکتا۔
النمل 27:53
درس نمبر 471 ایک نظر میں
حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصے کا یہ مختصر ترین حلقہ مختصر اور شوٹنگ کے انداز میں ہے۔ قوم لوط حضرت لوط کو ملک بدر کرنا چاہتی ہے اور جرم کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ اخلاقی تطہیر اور پاکیزگی کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کو اس اخلاقی گندگی سے نکالنا چاہتے تھے جس میں یہ لوگ علانیہ اور اجتماعی طور پر مبتلا تھے۔ ہم جنس پرستی یعنی مردوں کا مردوں کے ساتھ جنسی ملاپ اور عورتوں کے قریب نہ آنا ، یہ انتہائی گندگی ، غلاظت اور خلاف فطرت عمل تھا۔
انسانی تاریخ میں یہ جنسی بےراہ روی کبھی کبھی اجتماعی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ بعض اوقات بعض افراد تو اس میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور ان کے لئے ایسے حالات بھی ہو سکتے ہیں مثلاً فوجی چھائونیوں میں لوگ خلاف فطرت جنسی عمل میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، جہاں انہیں فوجی کیمپوں میں عورتیں نہیں ملتیں۔ پھر قید خانوں اور جیلوں میں بھی یہ بیماری پھیل سکتی ہے۔ جہاں ایک طویل عرصے تک قیدیوں کو جنسی ملاپ سے محروم رکھا جاتا ہے اور ان پر جنسی ملاپ کا سخت دبائو ہوتا ہے اور عورتوں سے وہ دور ہوتے ہیں۔ رہی یہ صورتحال کہ کس بستی میں یہ جنسی بےراہ روی اور ایک عام مسلمہ قاعدہ بن جائے ، عورتیں موجود ہوں ، نکاح ہو سکتے ہوں تو حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں فی الواقعہ ، یہ ایک عجیب واقعہ ہے۔ (1)
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی فطرت ایسی بنائی ہے اس میں نر اور مادہ ہیں اور فطرتاً نر اور مدہ کے درمیان ملاپ کا داعیہ رکھا ہے۔ تمام زندہ مخلوقات کی یہ فطرت ہے۔
سبحن الذی ……یعلمون (63 : 63) ” پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس میں سے یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں۔ “ تو اللہ نے تمام زندہ اشیاء کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ خواہ زمین کی نباتات ہوں یا انسان ہوں یا دوسرے حیوان ہوں ، خواہ ان کو انسان جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ اللہ کی مخلوقات میں سے بیشمار ایسی مخلوق اب بھی ہے جسے ہم نہیں جانتے ۔ لہٰذا نرو مادہ یا مخلاف جوڑا اس پوری کائنات کی تخلیق میں اصل الاصول ہے۔ زندہ چیزوں کے علاوہ دوسری نامعلوم مخلوقات میں بھی۔ ایٹم ، کائنات کا صغیر ترین ٹکڑا ابھی الیکٹرون سے پیدا شدہ ہے ، جس میں مثبت اور منفی چارج ہوتے ہیں ، گویا کائنات کے ہر ایٹم کے اندر جوڑا موجود ہے۔
……
(1) مصنف جس وقت لکھ رہے تھے اس وقت یورپ کے ملکوں نے اس فعل کو قانوناً جائز نہ کیا تھا (مترجم) ۔
جہاں تک زندہ مخلوقات کا تعلق ہے ان کے اندر نر و مادہ کا ہونا تو ایک لازمی امر ہے اور معلوم ہے یہاں تک کہ جن زندہ چیزوں میں نر اور مدہ نہیں ہوتے خود ان کے اندر نر اور مادہ کے خلیے ہوتے ہیں اور ان خلیوں کے اجتماع کی وجہ سے ان کے اندر پیداواری عمل جاری رہتا ہے۔
چونکہ نر اور مادہ کا ہونا اور تمام زندہ مخلوقات کا جوڑا جوڑا ہونا ناموس فطرت ہے۔ اس لئے اللہ نے فطرتاً نر اور مادہ کے درمیان ایک کشش رکھی ہے۔ ایسی کشش جسے کسی خارجی تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ کسی غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نے زندگی کو اس کی صحیح طور چلانا تھا اور اس راستے پر چلنے کا داعیہ بھی فطرتاً رکھا گیا اور اس کے لئے تعلیم و ترغیب کی ضرورت ہی نہ رکھی گئی۔ لوگوں کے لئے دواعی فطرت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا باعث لذت بنایا۔ اس طرح دست قدرت بغیر تعلیم اور ترغیب کے لوگوں سے یہ فطری کام لیتی ہے۔ اللہ نے نر اور مادہ کے مقامات نہانی کے اندر اس فطری ملاپ کا میلان رکھ دیا ہے اور یہ میلان اور لذت اللہ نے دو مردوں کے اعضاء کے اندر نہیں رکھا۔
یہی وجہ ہے کہ فطرت کا یہ اجتماعی بگاڑ ، جو قوم لوط کے اندر ہوا ، عجیب لگتا ہے کیونکہ یہ تقاضا ئے فطرت کے خلاف ہے۔ چناچہ حضرت لوط ان لوگوں کے اس فطری بگاڑ کی اصلاح کرنے لگے۔
درس نمبر 471 تشریح آیات
45……تا ……95
النمل 27:54
ولوطا……قوم تجھلون (55)
پہلے فقرے میں اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ تم جس بگاڑ میں مبتلا ہو یہ نہایت ہی عجیب و غریب ہے ، تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمام زندہ مخلوقات کی فطرت کیا ہے۔ تم تو اچھی طرح دیکھتے ہو کہ حیات انسانی و حیوانی کے اندر قانون فطرت کیا ہے۔ تمام زندہ مخلوق میں سے صرف تم ایسے ہو کہ خلاف فطرت روش میں مبتلا ہو اور دوسرے فقرے میں اس بات کی وضاحت کردی کہ تمہار ایہ فعل انسانیت کے خلاف ہے کہ تم اپنی جنس ضرورت عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے پوری کرتے ہو۔ محض یہ بیان کہ وہ ایسا کرتے تھے ، اس بات کے لئے کافی ہے کہ یہ فعل غیر فطری اور عجیب ہے اور پوری حیوانی نباتاتی بلکہ کائنتای فطرت کے خلاف ہے۔
اس کے بعد ان پر تنقید کی کہ تم بہت ہی جاہل ہو۔ اس مفہوم میں بھی جاہل ہو کہ تمہیں فطرت کائنات اور ناموس کائنات کا علم نہیں ہے اور اس لحاظ سے بھی جاہل اور احمق ہو کہ تم ایسے برے افعال کا ارتکاب کرتے ہو کیونکہ جو شخص فطرت کے تقاضوں سے نابلد ہو ، وہ جاہل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بیوقوف اور احمق بھی ہوتا ہے۔
اب آپ کی قوم کا جواب کیا تھا ؟ ان سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اس جہالت اور حماقت کو چھوڑ کر اصل راہ فطرت کی طرف آ جائو جس کے مطابق تم پیدا ہوئے ہو تو ان کا جواب یہی تھا جو ہر جاہل کا ہوتا ہے یعنی یہ کہ تم بہت پاک لوگ ہونکلو ہمارے گائوں سے۔ “
النمل 27:55
ولوطا……قوم تجھلون (55)
پہلے فقرے میں اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ تم جس بگاڑ میں مبتلا ہو یہ نہایت ہی عجیب و غریب ہے ، تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمام زندہ مخلوقات کی فطرت کیا ہے۔ تم تو اچھی طرح دیکھتے ہو کہ حیات انسانی و حیوانی کے اندر قانون فطرت کیا ہے۔ تمام زندہ مخلوق میں سے صرف تم ایسے ہو کہ خلاف فطرت روش میں مبتلا ہو اور دوسرے فقرے میں اس بات کی وضاحت کردی کہ تمہار ایہ فعل انسانیت کے خلاف ہے کہ تم اپنی جنس ضرورت عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے پوری کرتے ہو۔ محض یہ بیان کہ وہ ایسا کرتے تھے ، اس بات کے لئے کافی ہے کہ یہ فعل غیر فطری اور عجیب ہے اور پوری حیوانی نباتاتی بلکہ کائنتای فطرت کے خلاف ہے۔
اس کے بعد ان پر تنقید کی کہ تم بہت ہی جاہل ہو۔ اس مفہوم میں بھی جاہل ہو کہ تمہیں فطرت کائنات اور ناموس کائنات کا علم نہیں ہے اور اس لحاظ سے بھی جاہل اور احمق ہو کہ تم ایسے برے افعال کا ارتکاب کرتے ہو کیونکہ جو شخص فطرت کے تقاضوں سے نابلد ہو ، وہ جاہل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بیوقوف اور احمق بھی ہوتا ہے۔
اب آپ کی قوم کا جواب کیا تھا ؟ ان سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اس جہالت اور حماقت کو چھوڑ کر اصل راہ فطرت کی طرف آ جائو جس کے مطابق تم پیدا ہوئے ہو تو ان کا جواب یہی تھا جو ہر جاہل کا ہوتا ہے یعنی یہ کہ تم بہت پاک لوگ ہونکلو ہمارے گائوں سے۔ “
النمل 27:56
فما کان ……یتطھرون (65)
انہوں نے بطور مزاح حضرت لوط اور مومنین کو ” پاکباز “ کہا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کا یہ فعل گندہ ہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ الٹا ان پاکبازوں کو گندے لوگ سمجھتے ہیں اور ان کو یہ بات بری لگتی ہو کہ مسلمان اپنے آپ کو پاک سمجھتے ہیں کیونکہ ان لوگوں کی فطرت کے اندر اس قدر انحراف پیدا ہوگیا تھا کہ اس فعل کو گندگی نہ سمجھ رہے تھے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس فعل کو چھوڑنا وہ اپنے لئے گندہ فعل سمجھ رہے ہوں۔
بہرحال ان لوگوں نے فیصلہ کرلیا اور پختہ ارداہ کرلیا کہ حضرت لوط کو ملک بدر کردیں لیکن اللہ کا ارادہ کچھ اور تھا۔ اللہ نے ان کو دنیا بدر کردیا۔
النمل 27:57
فانجینہ ……المئنذرین (85)
یہاں اس بارش کی تفصیلات نہیں دی گئیں جس طرح دوسری سورتوں میں دی گئی ہیں۔ لہٰذا ہم بھی سیاق کلام کے مطابق بس اس آیت کو اسی طرح مجمل چھوڑتے ہیں لیکن اس قوم کو پانی سے ہلاک کیا گیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ لوگ نامہ حیات کو غلط جگہ گراتے تھے جو فعل خلاف فطرت تھا۔ اس سے کوئی انسانی فعل مطلوب نہ تھا ، اس لئے اللہ نے بھی ان کو پانی کے ذریعے ہلاک کیا حالانکہ پانی سے اللہ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا ہے۔ یہ ان کے ساتھ ایک لطیف مذاق بھی تھا۔ واللہ اعلم ! یہ میری رائے ہے ورنہ اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی سنت کس طرح اور کیوں کام کرتی ہے۔
النمل 27:58
فانجینہ ……المئنذرین (85)
یہاں اس بارش کی تفصیلات نہیں دی گئیں جس طرح دوسری سورتوں میں دی گئی ہیں۔ لہٰذا ہم بھی سیاق کلام کے مطابق بس اس آیت کو اسی طرح مجمل چھوڑتے ہیں لیکن اس قوم کو پانی سے ہلاک کیا گیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ لوگ نامہ حیات کو غلط جگہ گراتے تھے جو فعل خلاف فطرت تھا۔ اس سے کوئی انسانی فعل مطلوب نہ تھا ، اس لئے اللہ نے بھی ان کو پانی کے ذریعے ہلاک کیا حالانکہ پانی سے اللہ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا ہے۔ یہ ان کے ساتھ ایک لطیف مذاق بھی تھا۔ واللہ اعلم ! یہ میری رائے ہے ورنہ اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی سنت کس طرح اور کیوں کام کرتی ہے۔
النمل 27:59
درس نمبر 175 ایک نظر میں
یہ سبق سورة نمل کا خاتمہ ہے۔ درمیان میں حضرت موسیٰ ، حضرت داؤد ، حضرت سلیمان ، حضرت صالح اور حضرت لوط (علیہم السلام) کے قصص سے مختصر کڑیاں لائی گئیں۔ یہ خاتمہ سورت کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اسی طرح سورت کے مضمون اور موضوع کے ساتھ بھی مربوط ہے۔ اس سورت میں قصص انبیاء میں سے جو کڑیاں لائی گئی ہیں وہ بھی سورت کے آغاذ ، اختتام اور موضوع و مضمون کے ساتھ مربوط ہیں۔ ہر قصہ اس مقصد کو ثابت کرتا ہے جو اس سورت کے پیش نظر ہے۔
یہ سبق اللہ کی حمد کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ اور ان بندگان خدا پر سلامتی بھیجی جاتی ہے جو برگزیدہ ہیں۔ ان میں وہ انبیاء ورسل شامل ہیں جن کے قصے اس سورت میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس حمد وسلام کے بعد پھر اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقیدے کا بیان شروع ہوتا ہے۔ اس میں اس کائنات کے دلائل توحید نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے وجدانی دلائل ، بعض غیبی امور اور علامات قیامت اور پھر مشاہد قیامت اور پھر حشر و نشر کے ہولناک لمحات بیان کئے گئے ہیں۔ جن کے اندر زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوفزدہ ہوگی الا وہ شخص کہ جسے اللہ بچالے۔
اس سبق میں انسان کو نفس انسانی اور اس کائنات کے کچھ مشاہدات کرائے جاتے ہیں۔ کوئی انسان ان مشاہدات اور ان دلائل کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور کوئی شخص بھی ان کی کوئی تشریح اس کے سوا نہیں کرسکتا کہ ایک واحد خالق ذات موجود ہے جو نہایت مدبر اور صاحب قدرت ہے۔
یہ مشاہدات مسلسل اور نہایت موثر ضربات کی شکل میں آتے ہیں اور انسان پر حجت تمام کرتے ہیں ، اس کے شعور کو جگاتے ہیں ، مسلسل سوالات ہیں جن کا جواب حقیقی یہی ہے کہ اللہ کون ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ؟ کون ہے جس نے آسمانوں سے پانی اتارا جس کے ذریعہ ہم نے تروتازہ باغات پیدا کئے ؟ کون ہے جس نے اس زمین کو ٹھہرا رکھا ہے ؟ کون ہے جس نے زمین کے اندر دریا بہائے ؟ کون ہے جس نے زمین میں اونچے اونچے پہاڑ کھڑے کیے ؟ کون ہے جس نے دو دریاؤں اور سمندروں کے درمیان پر دے کھڑے کیے۔ کون ہے جو ایک مضطرب شخص کی پکار سنتا ہے اور اس کی تکلیف دور کرتا ہے ؟ کون ہے جو تمہیں زمین کے اندر اقتدار دے کر خلیفہ بناتا ہے ؟ یہ بحروبر کی ظلمات میں تمہیں راہ دکھانے والا کون ہے ؟ پھر اپنی رحمت (بارش) سے قبل ٹھنڈی ہوا کون بھیجتا ہے ؟ کون ہے جس نے یہ تخلیق کی اور پھر دوبارہ تخلیق کرے گا ؟ کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یہ سوالات مسلسل آتے ہیں اور ہر سوال کے بعد پھر ان کو جھنجھوڑا جاتا ہے کہ آیا ہے کوئی الٰہ اللہ کے سوا ؟ چناچہ کوئی معقول شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ کوئی الٰہ اللہ کے ساتھ اور بھی ہے۔ کوئی ایسا دعویٰ نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود ان کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ اللہ کے سوا اور معبودوں کی بندگی کرتے ہیں۔
یہ ضربات جو براہ راست انسان کے دل پر پڑتی ہیں۔ اس لیے کہ یہ اس کائنات کی کھلی کتاب کے صفحات ہیں اور یہ ان کا شعوری وجدان ہے جسے وہ محسوس کرتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ پھر بھی آخرت کی تکذیب کرتے ہیں اور آخرت کے معاملے میں یہ لوگ نہایت التباس کا شکار ہیں۔ چناچہ ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ امم سابقہ نے بھی اسی طرح تکذیب کی تھی تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا تھا۔ یہاں سے بات پھر حشرونشر کے ہولناک مناظر کی طرف لوٹ کر آتی ہے۔ دیکھئے ہر لمحے میں قارئین پھر دنیا کے اندر آجاتے ہیں اور دوبارہ مشاہد قیامت نہایت ہی خوفناک انداز میں آتے ہیں۔ یوں انسانی دلوں کو ہلا مارا جاتا ہے اور ان کو خوب جھنجھوڑا جاتا ہے۔
اس سبق کے آخر میں ایک زبردست چوٹ لگائی جاتی ہے ، جس طرح کوئی آخری بات کرتا ہے اور خوفناک نتائج سے خبردار کرکے اور آخری وارننگ دے کر اٹھ کر چلا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے یہ کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اب ان مزاح کرنے والوں اور آخرت کا انکار کرنے والوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ آپ ﷺ نے ان کو دلائل تکوینی کی طرف بھی متوجہ کردیا۔ قیامت کے ہولناک مناظر بھی پیش کر دئیے ۔ پس اب چھوڑ دئیے جائیں یہ لوگ تاکہ وہ اپنے فطری انجام تک پہنچ جائیں۔ کیونکہ انہوں نے اس انجام کو اپنے لیے خود پسند کیا ہے اور ان کو بتا دیا جاتا ہے کہ رسول ﷺ کے ذمہ جو کام ہے وہ محدود اور متعین ہے۔ اور رسول کے پاس جو ذرائع ہیں وہ محدود ہیں کیونکہ ڈرانے کے بعد اختیار ان کا ہے کہ وہ راہ راست کو اختیار کریں یا نہ۔
آیت نمبر 91 تا 92
” اے نبی ﷺ کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لئے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبردار کرنے والا ہوں “۔
اور یہ سبق اسی مضمون پر ختم ہوتا ہے جس کے ساتھ اس کا آغاز ہوا تھا۔ یعنی صرف اللہ کی حمد جس کا وہ اہل ہے۔ ان لوگوں کو اللہ کے سپرد کردیا جاتا ہے جو ان کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور جو ان کے اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے خواہ ظاہر ہوں یا باطن۔
آیت نمبر 93
” ان سے کہو تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ عنقریب تمہیں اپنی ۔۔۔۔۔ دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لوگے اور تیرا رب بیخبر نہیں ہے ، ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو “۔
درس نمبر 175 تشریح آیات
60 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔ 93
آیت نمبر 59
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو وہ کلمات سکھاتا ہے جن کے ساتھ ہر مومن کو اپنے کلام کا آغاز کرنا بھی ایسے ہی کلمات پر ہونا چاہئے۔ وقل الحمد للہ سیریکم ” کہو سب تعریف اللہ کے لئے ہے عنقریب وہ تمہیں دکھائے گا۔۔۔ “۔ اللہ نے اپنے بندوں پر جو انعامات کیے ہیں ان کی وجہ سے اللہ مستحق ہے کہ وہ اس کی تعریفیں کرتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں میں سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو صحیح راہ دکھائی۔ وہ نظام جس کے مطابق انسانوں نے زندگی گزارنی ہے۔ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی (72: 59) ” اور سلام اس کے ان بندوں کے لیے جنہیں ان نے برگزیدہ کیا “۔ یعنی اپنی رسالت کے لیے دعوت کے لئے اور اسلامی نظام زندگی کی تبلیغ اور اقامت کے لیے۔
اس افتتاح کے بعد اب مشرکین پر حملے شروع ہوتے ہیں اور ان کو خوب ضربات لگائی جاتی ہیں۔ ان دلوں کو جھنجھوڑا جاتا ہے جو آیات الٰہیہ کا انکار کرتے ہیں۔ آغاز ایسے سوال سے کیا جاتا ہے جس کا صرف ایک ہی جواب ہے۔ اس سو سال کے ذریعے ان پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ ٹھہراتے ہیں۔ اللہ خیر اما یشرکون (27: 59) ” اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بناتے ہیں “۔
یہ جن لوگوں کو شریک بناتے ہیں وہ بت ہیں یا آستانے ہیں یا ملائکہ ہیں اور یا جن ہیں اور یہ سب چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں یا ان کے علاوہ کسی اور مخلوق کو یہ شریک کرتے ہیں۔ بہر حال ان کے معبود ان باطل کسی حالت میں اللہ کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے ، چہ جائیکہ وہ اللہ سے بہتر ہوجائیں۔ کوئی عقلمند آدمی ان معبودوں اور اللہ کے درمیان کوئی موازنہ نہیں کرسکتا ۔ یہ سوال اپنے ان الفاظ میں گویا ان کے ساتھ ایک خوبصورت مزاح ہے اور ایک طرح کی تہدید اور توبیخ بھی ہے ، کیونکہ کوئی شخص اس قسم کا سوال سنجیدگی سے نہیں کرسکتا۔ یہ اس سوال کا جواب طلب کیا جاسکتا ہے۔ چناچہ جواب کے انتظار سے بھی پہلے دوسرا سوال کردیا جاتا ہے اور یہ سوال انسانوں کے اردگرد پھیلی ہوئی اس کائنات کے بارے میں ہے ، جس کی بو قلمونیوں کو وہ رات دن مشاہدہ کرتے ہیں
النمل 27:60
امن خلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم یعدلون۔ آیت نمبر 60
” زمین و آسمان ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو ہمارے اردگرد قائم ہے۔ کوئی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور نہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ جن الہوں کو وہ پکارتا ہے ان میں سے کسی نے ان کو پیدا کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ تو اصنام و اوثان اور مائک و شیاطین اور شجر و حجر کے پوجنے والے تھے یا پھر شمس و قمر کے پجاری تھے۔ لہٰذا یہ بات بدیہی ہے کہ ان چیزوں نے اس کائنات کو پیدا نہیں کیا ، بلکہ مشرکین میں ایسے بیوقوف بھی نہ تھے جو یہ دعویٰ کرتے ہوں کہ یہ کائنات خود اپنے وجود کی وجہ سے قائم ہے۔ بذات خود خالق و مخلوق ہے۔ اس قسم کے کم عقل صرف ہمارے ترقی یافتہ دور ہی میں پیدا ہوئے۔ لہٰذا صرف یہ بات ان کے لیے کافی تھی کہ ان کو اس کائنات کی طرف متوجہ کردیا جائے اور یہ کہا جائے کہ ذرا اس کے بارے میں غوروفکر کرو۔ محض یہ توجہ ہی کافی دلیل ہے ، ردشرک کے لئے اور مشرکین کو لاجواب کرنے کے لیے ۔ اور یہ سوال انسان ، ایک سوچنے والے انسان کے سامنے ہمیشہ قائم رہتا ہے کیونکہ اس کائنات کی تخلیق ایسی ہے کہ اسے کسی ذات نے ایک منصوبے اور ارادے سے پیدا کیا ہے۔ اس کے اندر کسی مدبر کی تدبیر صاف نظر آتی ہے۔ اس کے اصولوں کے اندر اس قدر ہم آہنگی ہے کہ یہ محض اتفافی مخلوق معلوم نہیں ہوتی صرف معمولی غور کرنے ہی سے انسان اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کی خالق کوئی عظیم قدرت ہے۔ یہ واحد قوت ہے اور اس کی تخلیق کے آثار بتاتے ہیں کہ وہ وحدہ لاشریک ہے اور اس نے اس کائنات کو ایک زبردست منصوبے کے ساتھ بنایا ہے۔ اس کائنات کے اصولوں اور اس کے قوانین میں وحدت اور تناسق پایا جاتا ہے۔ لہٰذا اس کا خالق بھی ایک ہے اور وہ ایسا خالق ہے کہ اس کا ارادہ اس کائنات کی ہر چھوٹی اور بڑی چیز میں جاری وساری نظر آتا ہے۔
ذرا سوالات پر دوبارہ غور کریں۔ ” بھلا وہ کون ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ؟ “۔ ” وہ کون ہے جس نے تمہارے لیے پانی برسایا ؟ “۔ ” وہ کون ہے جس نے تمہارے لیے یہ رنگ برنگے دریچے بنائے ؟ “۔ ” کیا تم ایسے درخت اگا سکتے ہو ؟ “۔
پانی آسمانوں سے بارش کے ذریعہ اترتا ہے۔ کوئی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور کسی کے پاس اس کے حقیقی اسباب کے لیے اس کے سوا اور کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ ایک خالق کائنات ہے جو اس کائنات کی تدبیر کر رہا ہے۔ وہی ہے جس نے اس کائنات اور اس کے اس فطری نظام کو جاری کیا ہے۔ اور اس کے جاری کردہ اس قانون قدرت کے مطابق ایک خاص مقدار میں بارش نازل ہوی ہے۔ پھر اس بارش کے ذریعہ اس کرہ ارض پر اس انداز اور مقدار کے مطابق زندگی پائی جاتی ہے لہٰذا یہ سب کچھ محض اتفاق کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ یہ اتفاقات ایک خاص پیچیدہ ترتیب کے مطابق ہوتے ہیں۔ نہایت ہی طے شدہ اور مضبوط تسلسل کے ساتھ۔ جس میں زندہ مخلوق کی تمام ضروریات کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ خصوصا انسان کی تو تمام ضروریات کے مطابق اس کائنات کو بنایا گیا ہے۔ اس کی تخلیق میں انسانوں کی ضروریات کو مخصوص طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے :
وانزل لکم (27: 60) ” اور اس نے تمہارے لیے نازل کیا ہے “۔ قرآن کریم اس طرف بار بار اشارہ کرتا ہے کہ نازل ہونے والے اس پانی کے اندر زندہ کرنے والے اثرات ہیں۔ اس کے اندر انسان کے وجود ، اس کی ضروریات اور اس کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ قرآن انسانوں کو ان زندہ آثار کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جو ان کے سامنے زندہ موجود ہیں لیکن یہ لوگ ان سے غافل ہیں۔
فانبتنا بہ حدآئق ذات بھجۃ (27: 60) ” پھر اسکے ذریعہ ہم نے وہ خوشنما باغ اگائے “۔ یعنی تروتازہ اور خوبصورت ، زندہ اور خوش منظر باغ اگائے۔ باغات کو دیکھ کر انسان کے دلوں میں زندگی ، خوشی اور نشاط کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اس حسن و جمال اور تروتازگی پر غور کرنے سے مردہ دل بھی زندہ ہو سکتے ہیں۔ پانی سے پیدا ہونے والے اس حسن و جمال کے آثار پر غور کرکے ایک زندہ دل دماغ والا انسان صانع کائنات تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور اس کی تسبیح و تمجید کرسکتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ایک خوبصورت چیز کی ساخت پر غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ دنیا کے تمام ماہرین فن بھی جمع ہوجائیں تو وہ ایک خوبصورت پھول بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اس کے اندر رنگوں کی لہریں اور امتزاج ، اس کے خطوط ، اس کی پتیوں کی ترتیب و تنظیم صرف ایک پھول کے اندر تخلیق و فن کا وہ کمال ہے جو معجز ہے۔ اسنان کے قدیم اور جدید ترقی یافتہ فن کے اندر اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ رہی پورے درخت کے اندر قوت نامیہ تو یہ ایک عظیم راز ہے۔ پھر درخت کے اندر سے اس کی نسل کا تسلسل یہ وہ راز ہیں جو انسان کے لیے تو معجزہ ہیں۔
ما کان لکم ان تنبتوا شجرھا (27: 60) ” جن کے درختوں کا اگانا تمہارے لیے ممکن نہ تھا “۔ اور زندگی تو ابھی تک علماء کے نزدیک ایک راز ہی ہے۔ خواہ بناتات کی ہو یا حیوانات کی۔ آج تک کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ زندگی کس طرح وجود میں آگئی یا زندہ انسان کے جسم ، حیوانات کے اجسام اور درختوں کے اجسام کے اندر پائے جانے والے میٹریل کے ساتھ کس طرح وابستہ ہوگئی۔ لہٰذا زندگی کی اس تخلیق کا مقصد کہیں اور تلاش کرنا ہوگا۔
نباتات کی زندگی ، اور اس کے آثار اور باغ و راغ کو پیش کرکے اور انسانی عقل کو دعوت غور وفکر دے کر اور انسان کے قوائے مدرکہ کو تحریک دے کر اب قارئین کے سامنے ایک سوال رکھا جاتا ہے۔
ء الہ مع اللہ (27: 60) ” کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ بھی ہے “۔ کون ہے جو اس سوال کے جواب میں ہاں کہہ سکتا ہے اقرار اور یقین اور نفی شرک کے سوا اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے لیکن ایسے واضح حالات میں بھی لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ پھر بھی عجیب موقف اختیار کرتے ہیں اور وہ ایسے خالق کائنات کیساتھ اپنے نام نہاد معبودوں کو الٰہ سمجھتے ہیں ، ان کی بندگی کرتے ہیںٗ
بل ھم قوم یعدلون (27: 60) ” بلکہ یہ لوگ راہ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں “۔ یعدلون کا معنی یا تو یہ ہے کہ وہ الٰہ سمجھتے ہیں اور یا اس کے معنی ہیں عدل عن الحق یعنی یہ لوگ سچے راستے سے ایک طرف ہو کر چلتے ہیں حالانکہ حق کا راستہ بالکل واضح ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ دیگر الٰہوں کو شریک کرکے وہ سچائی کے راستے سے ہٹ گئے جبکہ اللہ وحدہ خالق ہے۔ دونوں مفہوموں کے اعتبار سے ان کا موقف قابل تعجب ہے جو کسی عقل مند آدمی کے لائق نہیں ہے۔ اب ان کو ایک دوسری کائناتی حقیقت کی طرف منتقل کیا جاتا ہے۔ جس طرح پہلے تخلیق حیات اور اس کے مظاہر کی طرف متوجہ کیا گیا تھا۔
النمل 27:61
امن جعل الارض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بل اکثرھم لایعلمون (61)
اس کائنات کی پہلی حقیقت اور اس کے بارے میں پہلا سوال جو انسانی ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کیسے ہوئی۔ پھر جب ہم کرہ ارض پر ہیں ، تو اس زمین کا اپنی موجودہ ہیئت پر وجود میں آنا ہمارے لیے ایک اہم سوال ہے۔ پھر یہ کہ اس زمین کو زندگی کا مستقر اور سکون کی جگہ بنایا گیا ہے۔ زمین کو ایسا بنایا گیا ہے کہ اس کے اندر زندگی وجود پا سکتی ہےٗ یہاں اسے سکون ملتا ہے اور نشوونما کے اسباب ملتے ہیں۔ اگر اس زمین کی موجودہ شکل یہ نہ ہوتی اور شمس و قمر کے مقابلے میں اس کے موجودہ فاصلے نہ ہوتے یا اس کا حجم وہ نہ ہوتا جو ہے یا اس کے عناصر اور اس کی فضا میں جو عناصر ہیں وہ نہ ہوتے ، یا زمین کی حرکت اپنے محور کے اردگرد ذرا تیز ہوتی یا سورج کے اردگرد اس کی گردش موجودہ گردش سے زیادہ تیز ہوتی یا چاند کی گردش زمین کے گرد تیز ہوتی۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے حالات جو محض اتفاق سے وجود میں نہیں آئے۔ بلکہ ایک مکمل ترتیب اور ہم آہنگی کے ساتھ وجود میں لائے گئے ہیں۔ اگر ان حالات میں سے کسی چیز میں کوئی ادنیٰ سا تغیر بھی آجائے تو یہ زمین ” قرار “ نہ ہوتی اور نہ اس میں انسان یا کوئی اور چیز زندہ رہ سکتی۔
یہ ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم کے پہلے مخاطب اللہ کے اس قول سے وہ باتیں نہ سمجھتے ہوں جو ہم سمجھتے ہیں : امن جعل الارض قرار (27: 61) ” کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا “۔ لیکن اس قدر وہ لوگ بھی سمجھتے تھے کہ یہ زمین زندگی کے لیے ایک جائے قرار ہے اور اس کے اوپر زندگی کو ممکن بنایا گیا ہے۔ وہ اس حقیقت کو ذرا اجمال کے ساتھ سمجھتے تھے اور ہم ذرا مزید تفصیلات کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی مشرک بھی یہ دعویٰ نہ کرسکتا تھا کہ ان کے الہوں میں سے کوئی الہہ تخلیق زمین میں اللہ کے ساتھ شریک ہے۔ پس اس آیت سے ان کے لیے یہ بات کافی تھی اور اس آیت کے معنی کے اندر علم کی وسعت کے ساتھ ساتھ اب تفصیلات کی وسعت پیدا ہوگئی اور ہوتی رہے گی۔ یہ قرآن کریم کے انداز بیان اور طرز استدلال کا معجزہ ہے کہ اس سے سائنسی اعتبار سے پسماندہ سوسائٹی بھی اسی قدر استفادہ کرتی تھی جس طرح زمانوں بعد آج کے ترقی یافتہ لوگ کرتے ہیں۔
امن جعل الارض قرار وجعل خللھا انھرا (27: 61) ” کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے “۔ زمین کے اوپر اللہ نے جو دریا چلا رکھے ہیں وہ دراصل زندگی کے شربان ہیں۔ یہ اس کرہ ارض کی بلندیوں سے مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب کی سمتوں میں چلتے ہیں۔ اور اپنے ساتھ سرسبزی شادابی اور نشوونما لاتے ہیں۔ ان کی تشکیل ان پانیوں سے ہوتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ زمین میں جمع فرماتا ہے ، ہر علاقے کے طبیعی حالات کے مطابق ، جس ذات نے اس زمین کو پیدا کیا ، اس نے اس کے منصوبے میں بادلوں کی تشکیل ، بارش کا نظام اور دریاؤں کا بہاؤ رکھا۔ کوئی ہے جو یہ کہہ سکتا ہو کہ اس نظام کی تشکیل میں خالق کائنات کے سوا کوئی اور بی شریک ہے۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ اس کرہ ارض پر بڑے بڑے دریا بہہ رہے ہیں۔ یہ سوال ایک حقیقی سوال ہے کہ آخر کون ہے جس نے ان دریاؤں کو یوں چلایا اور بہایا۔ کیا ہے کوئی الہہ اللہ کے ساتھ ؟
وجعل لھا رواسی (27: 61) ” اور اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں “۔ رواسی کے معنی اونچے پہاڑ کے ہیں۔ یہ اپنی جگہ جمے ہوئے اور زمین پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اور اکثر اوقات ان پہاڑوں ہی سے نہریں نکلتی ہیں۔ جہاں سے بارشوں کے پانی نکل کر دریاؤں کی شکل اختیار کرتے ہیں اور پھر ان دریاؤں کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں شگاف اور گہرائیاں پیدا ہو کر وادیاں بن جاتی ہیں اور اونچے مقامات سے یہ دریا قوت کے ساتھ نشیبی علاقوں کی طرف چلتے ہیں۔ یہاں انداز بیان میں اونچے اور جمے ہوئے پہاڑوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی ندیاں اور دریا دکھائے گئے ہیں۔ قرآن کی تصویر کشی کے اندر یہ طرز ادا عام ہے کہ وہ ایک ہی آیت میں باہم متضاد مناظرو معانی پیش کرتا ہے ۔ یہاں بھی چلتے دریاؤں کے بعد کھڑے پہاڑ دکھائے گئے ہیں۔
وجعل بین البحرین حاجزا (27: 61) ” اور پانی کے دو سمندروں کے درمیان پردے حائل کر دئیے “۔ ایک سمندر سخت نمکین کھارا اور دوسرا میٹھا اور خوشگوار۔ دونوں کو بحرین کہا گیا۔ بطور تغلب کیونکہ دونوں کا مشترکہ مادہ پانی ہے اور دونوں کے درمیان پردہ ایک طبعی پردہ ہوتا ہے۔ اس طرح کہ سمندر کا پانی دریا کے پانی کے ساتھ ملتا نہیں۔ اس طرح اسے کھارا نہیں بنا دیتا۔ اس کی تفصیلات یوں ہیں کہ دریاؤں کی سطح سمندر کی سطح سے قدرے اونچی ہوتی ہے۔ جب دریاؤں کا پانی سمندر میں گرتا ہے تو اس پانی کی سطح سمندر کی سطح سے اونچی ہوتی ہے ۔ یہ دریا پھر سمندر کی سطح کے اوپر دور تک چلتا رہتا ہے۔ سمندر اس کو خراب نہیں کرتا۔ اب اگر دریا کا یہ پانی سمندر کے پانی سے نیچے بھی ہوجائے تو وہ آپس میں ملتے نہیں۔ اس وجہ سے کہ سمندر کا پانی دریا کے پانی کی نسبت زیادہ کثیف ہوتا ہے۔ اس فرق کی وجہ سے دونوں پانی ایک دوسرے کے ساتھ ملتے نہیں ، جدا ہی بہتے ہیں۔ یہ ہے اللہ کی سنت اپنی اس کائنات کے اندر اور اس معجزانہ انداز میں اللہ نے اپنی اس کائنات کو بنایا ہے۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ یہ معجزانہ کام کس نے کیا۔ اللہ کے سوا اور کون ہو سکتا ہے ؟ ء الہ مع اللہ (27: 61) اگر کوئی اللہ کے سوا کسی اور کی بابت ایسا دعویٰ کرسکتا ہے ، تو وہ سامنے آئے۔ اگر نہیں تو اس کائنات کے یہ عجوبے اور یہ منصوبے دلیل ناطق ہیں کہ اس کا ایک خالق ہے اور وہ ایک ہی ہے۔
بل اکثرھم لا یعلمون (27: 61) ” بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں “۔ یہاں بھی علم کا ذکر کیا کہ ” بےعلم نتواں خدارا شناخت “۔ اور جس طرح اس سورت کے خلاصہ میں اور پارہ سابق میں ہم نے بتایا تھا کہ اس سورت کا محور ہی علم ہے۔ پوری سورت میں علم کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
اب روئے سخن مشاہد کائنات سے خود انسان کی نفسیاتی دنیا کی وادیوں کی طرف پھرجاتا ہے۔
النمل 27:62
امن یجیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قلیلا ما تذکرون (62)
اب ان کے وجدان کو چھوا جاتا ہے۔ ان کے نفس کے اندر موجود خلجانات کو چھڑا جاتا ہے اور ان کی زندگی کے عملی حالات اور اہم واقعات کے دوران ان کے نفس کی کیفیات ان کے سامنے رکھی جاتی ہیں۔ سمندر کے سفر میں جو لوگ نہایت ہی مشکل حالات میں گھر جاتے ہیں اور جہاں ظاہری اسباب ختم ہوجاتے ہیں اور بظاہر مدد کو پہنچنے والا کوئی نہیں رہتا۔ صرف اللہ کی مدد کی امید ہوتی ہے اور تمام سہارے ختم ہوجاتے ہیں۔ انسان ہر طرف نظر دوڑاتا ہے اور کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ زمین کی کوئی قوت ان کی مدد کو نہیں پہنچ رہی ہوتی۔ انسان اپنے خیال میں جن قوتوں کے سہارے کے بارے میں سوچتا رہتا تھا ۔ وہ سب قوتیں ایک ایک کرکے اوجھل ہوجاتی ہیں۔ ہر وہ قوت جس سے کچھ بھی توقع تھی وہ جواب دے دیتی ہے۔ ایسے مایوس کن حالات میں پھر انسان کی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ انسان اس قوت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، جو صحیح قوت ہوتی ہے۔ اب انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے حالانکہ اس سے قبل انسان اپنے نارمل حالات میں اللہ کو بھولا ہوا تھا۔ کیونکہ اب تو اللہ ہی ہے جو کسی مجبور شخص کو امداد دیتا ہے جب وہ بےسہارا ہوکر اس پکارتا ہے اور یہ اللہ ہی ہے جو پھر اس کو مشکلات سے نکالتا ہے۔ امن و سلامتی عطا کرتا ہے اور اس مشکل سے نکالتا ہے۔
جب لوگ امن و عافیت اور خوشحالی میں ہوتے ہیں تو وہ غفلت میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ وہ ذات باری کو بھول جاتے ہیں۔ پھر وہ زمین کی قوتوں میں کسی قوت سے نصرت و امداد طلب کرتے ہیں ۔ لیکن جب سختی آتی ہے اور انتہائی کرب کے حالات میں وہ گھر جاتے ہیں تو اس وقت غفلت کے پردے اتر جاتے ہیں اور اس وقت وہ گڑ گڑا کر اپنے رب کی طرف لوٹتے ہیں۔ اگرچہ وہ غافل تھے اور ہٹ دھرمی کرنے والے تھے۔
قرآن کریم منکرین اور ہٹ دھرمی کرنے والوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ جو خود ان کی فطرت میں ہے۔ یہ بات قرآن کریم ایسے ماحول میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے جس میں زمین و آسمان کی تخلیق ، آسمانوں سے پانی کا نزول ، زمین کے اوپر تروتازہ باغ و راغ کی پیدائش ، اس کرہ ارض کا قرار ، اس کے اوپر پہاڑوں کا نصب کرنا اس کے اندر دریاؤں اور نالوں کا چلانا اور بہانا اور سمندر کے اندر دو قسم کے پانیوں کے پردے حائل کرنے کے مناظر پیش کیے گئے ہیں اور پھر سمندر میں ایک مضطرب اور کربناک صورت حال پیش کرکے سمجھا یا گیا کہ ایسے حالات میں تو کوئی شخص بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارتا اور یہ بھی مذکورہ بالا کائناتی خالق کی طرح ایک حقیقت ہے۔ وہ خالق کائناتی تھے اور اس کا تعلق انسان کی نفسیاتی دنیا سے ہے۔
اب ان کی نفسیات کی دنیا سے بھی باہر لاکر ، اللہ تعالیٰ ان کو ان کی زندگی کے ایک عملی حال کی طرف لاتا ہے۔
ویجعلکم خلفاء الارض (27: 62) ” اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے “۔ وہ کون ہے جس نے یہاں انسان کو پیدا کیا ، پوری مخلوقات پر فضیلت بخشی۔ اس کے بعد پھر ایک کے بعد دوسرے کو اس زمین کا اقتدار دیتا رہا ، کسی کو زوال ہوا اور دوسرے نے کمال حاصل کیا۔ یہ گرا اور وہ اٹھا۔
کیا یہ اللہ ہی نہی ہے کہ جس نے قوانین قدرت کے مطابق تمہیں اس زمین پر زندگی بخشی اور پھر تمہیں ایسی قوتیں عطا کیں جن کی وجہ سے تم اس کرہ ارض پر اللہ کی خلافت کے مستحق قرار پائے اور پھر تمہیں اس عظیم منصب کے لیے یہاں تیار کیا۔ زمین کو تمہارے لئے جائے قرار بنایا۔ اور اس کی ہر چیز کو تمہاری زندگی کے لیے ممدومعاون اور ہم آہنگ بنایا کہ زمین کو ہر چیز تمہارے لیے ممد حیات بن گئی اور اگر ایسا ہوتا کہ زمین کے اہم عناصر میں سے ایک عنصر غائب کردیا جائے تو تمام انسان کیا تمام زندہ چیزیں ایک دم میں ختم ہوکر رہ جائیں۔ اور آئندہ کے لیے بھی یہاں کسی چیز کا وجود محال ہوجائے۔
سب سے آخر میں یہ بات ہے کہ اللہ ہے وہ ذات جس نے موت وحیات کو پیدا کیا اور ایک نسل کے بعد دوسرے لوگوں کو اٹھایا۔ اگر اللہ اگلی نسلوں کو اسی طرح قائم رکھتا اور آنے والی نسلیں پیدا ہوتی چلی جاتیں تو اس کرہ ارض پر تل دھرنے کی جگہ ہی نہ ہوتی۔ زندگی کا یہ دھارا بہت ہی سست ہوتا۔ انسانی سوچ نہایت سست رفتار ہوتی۔ کیونکہ تازہ تازہ نسلیں وجود میں آنے کے ساتھ تازہ افکار اور تازہ خیالات بھی آتے ہیں۔ لوگ نئے نئے تجربے کرتے ہیں اور زندگی کی جدوجہد میں نئی نجی کوششیں کرتے ہیں۔ زندگی گزارنے کے نئے نئے طریقے دریافت کرتے ہیں اور اب تو صورت یہ ہے کہ پرانے اور نئے لوگوں کی جنگ صرف فکر و شعور کے میدان میں ہوتی ہے۔ اور اگر سابقہ لوگ بھی سب کے سب زندہ ہوتے تو پرانے اور نئے لوگوں کے درمیان جسمانی تصادم بھی ہوتا۔ اور زندگی کی گاڑی آگے بڑھنے کے بجائے باہم تضادات اور تصادمات کا شکار ہوجاتی۔
یہ تمام نفسیاتی حقائق ہیں جس طرح اس سے قبل بیان کیے جانے والے آفاقی حقائق تھے۔ کون ہے جس نے یہ حقائق پیدا کیے ، تمہیں خلیفہ بنایا۔ کوئی ہے اللہ کے سوا ؟ ء الہ مع اللہ (27: 62) ” کیا اللہ کے ساتھ ہے کوئی اور الہ “۔
حقیقت یہ ہے کہ لوگ حقائق کو بھول جاتے ہیں جب سمندر کی مشکلات سے نکلتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ ان کی فطرت بھی سو جاتی ہے اور یہ غافل ہوجاتے ہیں حالانکہ خود ان کے نفس اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں حقائق موجود ہیں
قلیلا ما تذکرون (27: 62) ” تم لوگ کم ہی سوچتے ہو “۔ اگر انسان حقائق کو یاد رکھے ، اور ان پر مسلسل غور کرتا رہے ، تو وہ ہمیشہ اللہ کے ساتھ جڑا رہے اور فطرت کی پکار کو سنتا رہے۔ وہ کبھی اپنے رب سے غافل نہ ہو اور کبھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔
اس کے بعد لوگوں کی زندگی سے بعض اور حقائق پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کا تعلق اس کرہ ارض پر لوگوں کی سرگرمیوں سے ہے اور ان کے ان مشاہدات سے ہے جو ہر وقت دہرائے جاتے ہیں۔
النمل 27:63
امن یھدیکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ تعلی اللہ عما یشرکون (63)
سب لوگ بحری سفر کرتے ہیں اور ان میں وہ لوگ بھی تھے جو قرآن مجید کے مخاطب اول تھے۔ یہ لوگ بحرو بر کے راستوں میں سفر کرتے ہیں اور انہوں نے بحروبر کی تاریکیوں میں اپنے تجربات اور علم کے مطابق سفر کیے اور کرتے ہیں۔ ان سفروں میں وہ صحیح راستے معلوم کرلیتے ہیں ، وہ کون ہے جو ان سفروں میں انسان کو سیدھے راستے بتاتا ہے ؟ کس نے انسانوں کو یہ عقل و خرد عطا کیا جس کے ذریعے وہ ان راستوں کا ادراک کرتے ہیں۔ ستاروں کے علوم کس نے دئیے ، پھر آلات دریافت کرنے کی قوت کس نے دی۔ اور تجربات و نشانات کس نے بتائے ؟ وہ کون ذات ہے جس نے انسانی فطرت اور فطرت کائنات کے اندر ہم آہنگی پیدا کی۔ اور انسان کے لیے فطرت کائنات تک پہنچنے کی راہ ہموار کی۔ کون ہے جس نے کانوں کے ذریعے انسانوں کو آوازیں معلوم کرنے کی طاقت دی۔ کون ہے جس نے آنکھ کے ذریعے انسان کو دور تک مشاہدے کی طاقت دی۔ اور کون ہے جس نے حواس خمسہ کے ذریعے انسان کو تمام محسوسات معلوم کرنے کی توفیق دی ؟ پھر انسان کو عقل کی طاقت دی جس کے ذریعے انسان حواس سے بھی زیادہ لطیف مدرکات معلوم کرتا ہے۔ پھر حواس کے تجربات سے نتائج اخذ کرنے اور وجدان اور الہام کے ذریعہ حقائق اخذ کرنے کی قوتیں دیں۔ ئ الہ مع اللہ (27: 63) ” کیا ہے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الہٰ “۔
ومن یرسل الریح بسرا بین یدی رحمتہ (27: 63) ” اور کون ہے جو اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوشخبری دے کر بھیجتا ہے “۔ یہ ہوائیں جن کے فلکی اسباب کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے اور کہا جائے گا لیکن یہ وہ ہیں جو روز اول سے اللہ نے اس کرہ ارض کے ساتھ پیدا کی ہیں۔ اور جس طرح یہ چلتی ہیں روز اول سے ان کے لیے یہی منصوبہ ہے کہ یہ ایک جگہ سے بادلوں کو اپنی دوش پر لے کر چلتی ہیں اور انسانوں کو اس چیز کی خوشخبری دیتی ہیں جو ممد حیات ہے یعنی پانی۔
سوال یہ ہے کہ یہ ہوائیں ، یہ بادل اور یہ بارش کا نظام اپنی موجودہ شکل میں کس نے تخلیق کیا ؟ اور پھر ہوائیں ، ٹھنڈی ہوائیں ، بادلوں اور بارش سے قبل کون بھیجتا ہے۔
ء الہ مع اللہ (27: 63) ” کیا ہے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الہٰ “۔
تعالیٰ اللہ عما یشرکون (27: 63) بہت بلند اور بالا ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔
النمل 27:64
امن یبدوا الخلق ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (64)
اس کائنات و مخلوقات کا آغاز ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کوئی نہیں کرسکتا۔ نہ تخلیق کائنات کے مسئلے کو اللہ وحدہ کے وجود کو تسلیم کیے بغیر حل کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کائنات کا وجود ہی اس بات کو مستلزم ہے کہ اللہ موجود ہے۔ دنیا میں جن لوگوں نے اس کائنات کے وجود کے مسئلے کو وجود باری تعلیم کرنے کے بغیر حل کرنے کی سعی کی ہے ، درآں حالیکہ اس کائنات کے وجود ہی میں ایک معمم ارادہ اور ایک قصد اور ایک منصوبہ نظر آتا ہے تو ایسے لوگ مسئلہ کائنات کے حل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اور اللہ کی وحدانیت اس لیے ثابت ہوتی ہے کہ اس کائنات کے تمام آثار کے اندر وحدت نظر آتی ہے ، اس کی تدبیر ایک ہے ، تقدیر ایک ہے اور اس پوری کائنات کی اسکیم میں ایک ایسا ربط اور ہم آہنگی ہے کہ اس کا ایک ہی خالق تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔
یہ تو تھا آغاز ، رہا یہ معاملہ کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کی تخلیق کا دوبارہ اعادہ کرے گا تو اس بارے میں تمام کفار اور مشرکین کو خلجان تھا۔ لیکن جو شخص اس کائنات کے آغاز کے بارے میں اس نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ ایک صاحب ارادہ و تدبیر ذات کی تخلیق ہے اور وہ اس کائنات کے اندر پائی جانے والی وحدت اور ربط کی وجہ سے ایک ہے تو اس کے لیے یہ تسلیم کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہوتی کہ وہ ذات اسے دوبارہ پیدا کرے گی تاکہ اس دنیا میں آنے والے لوگ اپنے اعمال کی جزا پوری کی پوری وہاں پائیں گے کیونکہ اس دنیا میں اچھے برے عمل پر انسان کو اگرچہ جزاء و سزا ملتی ہے مگر وہ پوری جزاء و سزا نہیں ہوتی۔ لہٰذا مکمل مکافات عمل کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا جہاں ہو جس میں مکمل جزاء و سزا ہو۔ اس کے بغیر اس دنیا کی زندگی کی تکمیل ممکن ہی نہیں ہے۔ لہٰذا ایک آنے والی زندگی کی تصدیق ضروری ہے جس میں مکمل ہم آہنگی ، مکمل کمال نصیب ہو۔ سوال یہ ہے کہ مکافات عمل کے اصول کے مطابق جزاء و سزا اس جہاں میں کیوں نہ ہوئی۔ تو یہ ان حکمتوں کی وجہ سے جن کو خالق کائنات ہی خوب جانتا ہے۔ کیونکہ اپنی مخلوق کے تمام راز خالق ہی کے پاس ہیں۔ اور یہ وہ غائبانہ راز ہیں جن کی اطلاع اللہ نے انسان کو نہیں دی۔
یہی اصول ہے جس کے مطابق اس آیت میں سوال کیا گیا ہے کہ کس نے ابتداء اس کائنات کو پیدا کیا اور کون ہے جو دوبارہ پیدا کرے گا ؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں ہے۔
ء الہ مع اللہ (27: 64) ” کیا ہے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الہٰ “۔
رزق دینے کا تعلق ، آغاز تخلیق سے بھی متعلق ہے اور اعادہ تخلیق سے بھی وابستہ ہے۔ اللہ کے بندوں کے رزق کا انتظام بالکل ظاہر و باہر ہے۔ نباتات کی شکل میں اور حیوانات کی شکل میں۔ پانی اور ہوا ، کھانے پینے اور سانس لینے کے لیے ضردری ہیں۔ زمین کے معدنی ذخائر اور دھاتیں بھی انسانوں کے لیے مفید اور ضروری ہیں ، جن میں مقناطیسی قوت اور بجلی کی قوت بہت ہی اہم ہے ۔ اس کائنات کے اندر اللہ نے انسانی زندگی کے لیے اس کے علاوہ اور بھی بےحدوحساب ایسی قوتیں رکھی ہیں جو انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں لیکن انسان کو ابھی تک ان کے بارے میں علم نہیں ہے ۔ وقفے وقفے سے اللہ تعالیٰ انسانوں کو ان کے بارے میں بتاتا جاتا ہے ۔
آسمانوں سے انسان کو کس طرح رزق فراہم ہوتا ہے ؟ دنیا میں انسان کو آسمانوں سے روشنی فراہم ہوتی ہے ، حرارت فراہم ہوتی ہے ، بارش فراہم ہوتی اور تمام دوسری چیزیں جن کا مرکز آسمانوں میں ہے اور قیامت میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جو درجات بلند اور جو انعامات دے گا وہ بھی معنوی اعتبار سے ایک آسمانی رزق ہے کیو ن کہ قرآن بھی آسمان ارتفاع اور بلندی سے آتا ہے اور بلندی کے لیے آتا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے تخلیق اور اعادہ تخلیق کے بعد اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ اپنی مخلوق کو آسمانوں سے رزق فراہم کرتا ہے ۔ اس لیے کہ آغاز تخلیق کے ساتھ زمین کے ارزاق کا واضح تعلق ہے ۔ تمام مخلوق زمین کے ارزاق کی وجہ سے زندہ ہیں ۔ اور آخرت کے ساتھ ان ارزاق کا تعلق بھی آغاز تخلیق سے واضح ہے۔ دنیا میں حیات انسانی کے لیے آسمانوں کے ارزاق اور سامان زیست کی ضرورت ہے اور آخرت میں یہ انعامات انسان کے جزاء و فاقا ” پوری پوری جزا “ کی صورت میں ہوں گے ۔ لہٰذا آغاز تخلیق اور زمین و آسمان کے ارزاق سے اس کا تعلق واضح ہے اور کلام الٰہی باہم حیرت انگیز انداز میں مربوط ہے۔ آغاز تخلیق اور اعادہ تخلیق تو درحقیقت پیش پا افتادہ حقائق ہیں۔ اسی طرح زمین و آسمان سے انسانوں اور تمام مخلوقات کے لیے رزق کا سامان بھی دراصل معلوم حقائق ہیں لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان حقائق پر غور نہیں کرتے۔ اس لیے قرآن نہایت زوردار اور تحدی یعنی چیلنج کے انداز میں ان کو اس طرح متوجہ کرتا ہے۔
قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین (27: 64) ” کہو لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو “۔
بیشک اس وقت بھی مخالفین اس قسم کی کوئی دلیل لانے سے عاجز رہے اور آج تک کوئی اس قسم کی کوئی دلیل نہیں لاسکا۔ یہ ہے نظریاتی مباحث میں قرآن کا انداز کلام۔ قرآن کریم کائنات کے مناظر و مشاہد پیش کرتا ہے۔ انسانی نفس کے اندر موجود حقائق کو پیش کرتا ہے۔ اس طرح قرآن جو منطق پیش کرتا ہے اس کا دائرہ اس پوری کائنات تک وسیع ہوتا ہے۔ انسانی فکر و نظر کو پوری کائنات میں گھماتا ہے۔ انسان کی فطرت کو میقل کرتا ہے تاکہ انسانی دماغ اور انسانی فطرت خود کسی نتیجے تک پہنچ سکیں جو واضح اور سادہ ہو۔ اور انسانی شعور پر جوش ہو اور اسکی وجدانی قوت اچھی طرح کام کر رہی ہو ، کیونکہ دلائل تو خود انسانی نفس اور انسانی فطرت میں موجود ہیں لیکن غفلت اور نسیان کی وجہ سے انسان ان کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ اور کفر اور انکار ان دلائل پر پردے ڈال دیتے ہیں۔ چناچہ ان وجدانی اور کائناتی دلائل سے اور اپنی اس فطری منطق کے بل بوتے پر قرآن کریم انسان کو اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے عظیم حقائق تک پہنچاتا ہے۔ یہ حقائق اس طرح واضح ہوجاتے ہیں کہ ان میں وہ شکوک و شبہات نہیں رہتے جو کسی خشک منطقی استدلال سے بذریعہ صغریٰ و کبریٰ ثابت کیے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ کتابی منطق ہم تک یونانی ثقافت کے ذریعے آتی ہے اور ہمارے علم الکلام کا حصہ بن گئی حالانکہ اس کا انداز قرآنی نہ تھا ۔ اس نے ہمیں قرآنی منطق سے دور کردیا۔ انفس وآفاق کی وا دیوں میں سیر کرتے ہوئے اور عقیدہ تو حید اور نفی شرک کو وجدانی طور پر ثا بت کرنے کے بعد ، اب قران کر یم ہمیں اس وادی میں لے جاتا ہے جو عا لم غیب کے اندر مستور ہے اور جس کے حالات صرف وہ خالق اور مدبر ہی بتا سکتا ہے جس نے اس کا ئنات کو پیدا کیا ہے یعنی یہ کہ موت بعد کیا ہوگا ۔ آخرت کس طرح کیونکہ یہ اللہ کے غیوب میں ایک غیب ہے ۔ اور قرآن منطقٰ وجد انی ہدایت اور انسانی فطرت اس کے و قوع کی شہادت دیتی ہیں اور انسان علم وادراک کے ذریعہ اس بات کے تعین سے قاصر ہیں کہ یہ گھڑی کب آئے گی ؟
قل لایعلم من فی السوتوالارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والارض الا فی کتب مبین (75)
” ان سے کہو ، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا اور وہ (تمہارے معبود تو یہ بھی) نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے۔ بلکہ آخرت کا تو علم ہی ان لوگوں سے گم ہوگیا ہے ، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں ، بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں۔ یہ منکرین کہتے ہیں ” کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوچکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا ؟ یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباؤ اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں ، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سنتے چلے رہے ہیں “۔ کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔ اے نبی ﷺ ، ان کے حال پر رنج نہ کرو اور نہ ان کی چالوں پر دل تنگ ہو۔ ۔ وہ کہتے ہیں کہ ” یہ دھمکی کب پوری ہوگی اگر تم سچے ہو ؟ “ کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو ، اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ بلاشبہ تیرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجود نہ ہو “۔
غیب پر ایمان لانا ، موت کے بعد اٹھایا جانا اور پوری زندگی کے اعمال کا حساب و کتاب دینا اسلامی عقائد کے اندر ایک بنیادی عنصر ہے۔ اسلامی زوایہ سے زندگی کا کوئی نظام ان عقائد کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ آنے والے جہان پر ایمان لائے ، جہاں اعمال کی مکمل جزاء و سزا ہو اور عمل اور اس کی اجرت کے درمیان مکمل توازن ہو۔ یہ عقیدہ انسان کے دل میں جاگزیں ہو ، انسانی نفس اس کے بارے میں حساس ہو ، اور اس دنیا میں انسان کی تمام سرگرمیاں اس عقیدے پر قائم ہوں کہ اس نے آخرت میں اپنی زندگی کا پورا حساب و کتاب دینا ہے۔
انسانیت نے اپنی طویل تاریخ میں عقیدہ آخرت کے بارے میں مختلف رسولوں کے مقابلے میں عجیب و غریب موقف اختیار کیے ، حالانکہ یہ عقیدہ بہت ہی سادہ ہے اور ہادی النظر میں بہت ہی ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ جب بھی کوئی رسول آیا اور اس نے لوگوں کو عقیدہ آخرت کی طرف متوجہ کیا تو لوگوں نے اس دعوت کو بہت ہی عجیب و غریب سمجھا۔ حالانکہ یہ کائنات موجود تھی ، اس کے اوپر یہ رنگا رنگ حیات موجود تھی ، وہ کود موجود تھے کیا ان معجزات کو پہلی مرتبہ صادر کرنا اور پیدا کرنا مشکل تھا یا دوسری مرتبہ ان کو دہرانا مشکل تھا ؟ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ انسانوں نے آخرت کے بارے میں ڈرانے والوں کی دعوت سے منہ موڑا۔ وہ اس دعوت کے بارے میں بکواس کرتے رہے۔ اور کفر و انکار میں بڑھتے ہی چلے گئے۔
قیام قیامت ایک غیب ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے ، اور اس کے بارے میں علم صرف اللہ کو ہے۔ کفار نے ہمیشہ نبیوں سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ قیامت کے وقوع کے وقت کا تعین کردیں۔ جب یہ یقین نہ ہوا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا اور اسے محض پرانے وقتوں کی ایک کہانی سمجھا کہ یہ ایک بات ہے جو پرانے وقتوں سے کہی جا رہی ہے لیکن ابھی تک واقع نہیں ہوئی۔
یہاں پہلے یہ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا علم آخرت کے بارے میں محدود ہے اور آخرت کا وقوع ان غیبی امور میں سے ایک ہے جس کا انسان کو علم نہیں ہے۔
النمل 27:65
قل لا یعلم من فی السموت ۔۔۔۔۔۔ ایان یبعثون (65) بل ادرک علمھم ۔۔۔۔۔ بل ھم منھا عمون (66) (27: 65- 66) “۔
ابتدائے تخلیق سے انسان کو اس خفیہ غیب کا سامنا ہے۔ انسانی علم ایک حد سے آگے نہیں جاسکتا ۔ غیب کے آگے جو پردے لٹک رہے ہیں ان سے وہ آگے نہیں جھانک سکتا۔ یہ مغیبات میں سے صرف اسی قدر علم حاصل کرسکتا ہے جس قدر اللہ تعالیٰ اسے توفیق دیتا ہے اور انسان کے لیے بھلائی اسی میں ہے کہ اللہ نے اسے مستقبل کے علوم غیبیہ سے محروم رکھا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس میں انسان کے لیے کوئی خیر دیکھتا تو وہ ضرور اسے عالم غیب کے بارے میں پورا علم عطا کردیتا۔
اللہ نے انسان کو اس قدر قوت اور استعداد دی ہے جس نے ذریعے وہ اس دنیا میں اپنے فرائض بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض پورے کرسکے۔ یہ فرائض کوئی معمولی فرائض نہیں دیں۔ اس سے آگے اللہ نے انسان کو مزید غیبی قوتیں نہیں دیں ۔ اگر انسان کو ایسی قوت دے دی جاتی جس کے ذریعہ وہ مستقبل کے پردوں کو چاک کرکے معلومات حاصل کرسکتا تو اس کے ذریعہ اس کی ان قوتوں میں کوئی اضافہ ممکن نہ تھا۔ جن کے ذریعہ وہ یہاں بطور خلیفہ کام کر رہا ہے۔ بلکہ واقعات مستقطل کے سامنے پردوں کا نصب کرنا ہی دراصل اس شوق علم کے لیے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ یوں وہ اپنے طور پر غیوب مستقبل کے لیے نقب زنی کرنے اور کھوج لگانے کی سعی کرتا رہتا ہے۔ اس طرح وہ زمین کے اندر پوشیدہ رازوں کو ڈھونڈتا ہے۔ وہ سمندر کے سینے کو چیرتا ہے۔ وہ آسمان کی فضاؤں میں دور تک دوڑتا ہے۔ وہ اس کائنات کے پوشیدہ رازوں کا انکشاف کرتا ہے۔ اور انسانوں کے لیے بھلائی کے جو راز ہیں ، ان کو وہ دریافت کرتا رہتا ہے۔ وہ زمین سے مواد اور عناصر کی تحلیل کرتا ہے۔ اس کی ترکیب اور شکل و صورت میں کیمیاوی عمل کرتا ہے اور زندگی کی انواع و اقسام اور طرز و طریقوں میں تبدیلیاں لاتا ہے۔ اور اس طرح اس زمین کی تعمیر و ترقی میں نہایت ہی اہم کردار ادا کررہا ہے اور جن ذمہ داریوں کے ساتھ اللہ نے انسان کو منصب خلافت دیا تھا انہیں پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہا ہے
صرف انسان ہی کو علوم غیبہ سے محروم نہیں کیا گیا۔ زمین و آسمان میں جس قدر مخلوق بھی ہے اسے محروم کیا گیا ہے ، خواہ ملائکہ ہیں یا جن ہیں یا دوسری کوئی مخلوق ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ ان سب کو علم غیب نہیں دیا گیا اس لیے کہ ان کو اس کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس لیے تمام غیبی علوم اور واقع ہونے والے حوادث کا علم صرف اللہ کو ہے۔
قل لا یعلم ۔۔۔۔۔ الا اللہ (27: 65) ” کہو ، آسمان اور زمین میں کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا ، اللہ کے سوا “ یہ ایک قطعی نص ہے ، اور اس کے ہوتے ہوئے کوئی شخص علم غیب کا دعویٰ نہیں کرسکتا اور نہ اس سلسلے میں اوہان و خرافات پر یقین کرنے کی کوئی گنجائش رہتی ہے۔
غیب کی عمومی نفی کے بعد اب قیام قیامت کی خصوصی نفی کی جاتی ہے۔ کیونکہ عقیدہ توحید کے بعد اہل شرک کے ساتھ مسلمانوں کا بڑا نزاع یہی تھا۔ وما یشعرون ایان یبعثون (27: 65) ” اور وہ تو نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے “۔ یعنی وہ لوگ جن کی پوجا تم کرتے ہو ، ان کو تو قیامت کا شعور تک نہیں ہے۔ جب ان کو قیامت کا شعور ہی نہیں تو علم کیسے ہوگا تو قیام قیامت ان مغیبات مکیں سے ہے جن کا علم زمین و آسمان میں کسی کو نہیں ہے بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ہی بہت محدود ہے
بل ادرک علمھم فی الاخرۃ (27: 66) ” بلکہ آخرت کا تو علم ہی ان سے گم ہوگیا ہے “۔ یہ اپنے حدود میں بہت
دور چلا گیا ہے اور لوگوں کا اس تک پہنچنا دور رہ گیا ہے۔ اور اس کے اور ان کے درمیان پردے حائل ہوگئے ہیں۔
بل ھم فی شک منھا (27: 66) ” بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں “۔ ان لوگوں کو اس قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ ان کو اس کے آنے کے وقت کا کوئی علم ہو یا اسکے وقوع کے بارے میں وہ انتظار کر رہے ہیں
بل ھم فی شک منھا (27: 66) ” بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں “۔ ان لوگوں کو اس قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ ان کو اسکے آنے کے وقت کا کوئی علم ہو یا اس کے وقوع کے بارے میں وہ انتظار کر رہے ہیں
بل ھم منھا عمون (27: 66) ” بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں “۔ یعنی وہ تو اس کے بارے میں اندھے ہیں۔ قیامت کے حوالے سے ان کو کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ نہ اس کی نوعیت کے بارے میں وہ کچھ یاد کریں گے۔ ان کی یہ دوری پہلی اور دوسری دوری سے بھی زیادہ ہے۔
النمل 27:66
قل لا یعلم من فی السموت ۔۔۔۔۔۔ ایان یبعثون (65) بل ادرک علمھم ۔۔۔۔۔ بل ھم منھا عمون (66) (27: 65- 66) “۔
ابتدائے تخلیق سے انسان کو اس خفیہ غیب کا سامنا ہے۔ انسانی علم ایک حد سے آگے نہیں جاسکتا ۔ غیب کے آگے جو پردے لٹک رہے ہیں ان سے وہ آگے نہیں جھانک سکتا۔ یہ مغیبات میں سے صرف اسی قدر علم حاصل کرسکتا ہے جس قدر اللہ تعالیٰ اسے توفیق دیتا ہے اور انسان کے لیے بھلائی اسی میں ہے کہ اللہ نے اسے مستقبل کے علوم غیبیہ سے محروم رکھا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس میں انسان کے لیے کوئی خیر دیکھتا تو وہ ضرور اسے عالم غیب کے بارے میں پورا علم عطا کردیتا۔
اللہ نے انسان کو اس قدر قوت اور استعداد دی ہے جس نے ذریعے وہ اس دنیا میں اپنے فرائض بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض پورے کرسکے۔ یہ فرائض کوئی معمولی فرائض نہیں دیں۔ اس سے آگے اللہ نے انسان کو مزید غیبی قوتیں نہیں دیں ۔ اگر انسان کو ایسی قوت دے دی جاتی جس کے ذریعہ وہ مستقبل کے پردوں کو چاک کرکے معلومات حاصل کرسکتا تو اس کے ذریعہ اس کی ان قوتوں میں کوئی اضافہ ممکن نہ تھا۔ جن کے ذریعہ وہ یہاں بطور خلیفہ کام کر رہا ہے۔ بلکہ واقعات مستقطل کے سامنے پردوں کا نصب کرنا ہی دراصل اس شوق علم کے لیے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ یوں وہ اپنے طور پر غیوب مستقبل کے لیے نقب زنی کرنے اور کھوج لگانے کی سعی کرتا رہتا ہے۔ اس طرح وہ زمین کے اندر پوشیدہ رازوں کو ڈھونڈتا ہے۔ وہ سمندر کے سینے کو چیرتا ہے۔ وہ آسمان کی فضاؤں میں دور تک دوڑتا ہے۔ وہ اس کائنات کے پوشیدہ رازوں کا انکشاف کرتا ہے۔ اور انسانوں کے لیے بھلائی کے جو راز ہیں ، ان کو وہ دریافت کرتا رہتا ہے۔ وہ زمین سے مواد اور عناصر کی تحلیل کرتا ہے۔ اس کی ترکیب اور شکل و صورت میں کیمیاوی عمل کرتا ہے اور زندگی کی انواع و اقسام اور طرز و طریقوں میں تبدیلیاں لاتا ہے۔ اور اس طرح اس زمین کی تعمیر و ترقی میں نہایت ہی اہم کردار ادا کررہا ہے اور جن ذمہ داریوں کے ساتھ اللہ نے انسان کو منصب خلافت دیا تھا انہیں پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہا ہے
صرف انسان ہی کو علوم غیبہ سے محروم نہیں کیا گیا۔ زمین و آسمان میں جس قدر مخلوق بھی ہے اسے محروم کیا گیا ہے ، خواہ ملائکہ ہیں یا جن ہیں یا دوسری کوئی مخلوق ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ ان سب کو علم غیب نہیں دیا گیا اس لیے کہ ان کو اس کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس لیے تمام غیبی علوم اور واقع ہونے والے حوادث کا علم صرف اللہ کو ہے۔
قل لا یعلم ۔۔۔۔۔ الا اللہ (27: 65) ” کہو ، آسمان اور زمین میں کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا ، اللہ کے سوا “ یہ ایک قطعی نص ہے ، اور اس کے ہوتے ہوئے کوئی شخص علم غیب کا دعویٰ نہیں کرسکتا اور نہ اس سلسلے میں اوہان و خرافات پر یقین کرنے کی کوئی گنجائش رہتی ہے۔
غیب کی عمومی نفی کے بعد اب قیام قیامت کی خصوصی نفی کی جاتی ہے۔ کیونکہ عقیدہ توحید کے بعد اہل شرک کے ساتھ مسلمانوں کا بڑا نزاع یہی تھا۔ وما یشعرون ایان یبعثون (27: 65) ” اور وہ تو نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے “۔ یعنی وہ لوگ جن کی پوجا تم کرتے ہو ، ان کو تو قیامت کا شعور تک نہیں ہے۔ جب ان کو قیامت کا شعور ہی نہیں تو علم کیسے ہوگا تو قیام قیامت ان مغیبات مکیں سے ہے جن کا علم زمین و آسمان میں کسی کو نہیں ہے بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ہی بہت محدود ہے
بل ادرک علمھم فی الاخرۃ (27: 66) ” بلکہ آخرت کا تو علم ہی ان سے گم ہوگیا ہے “۔ یہ اپنے حدود میں بہت
دور چلا گیا ہے اور لوگوں کا اس تک پہنچنا دور رہ گیا ہے۔ اور اس کے اور ان کے درمیان پردے حائل ہوگئے ہیں۔
بل ھم فی شک منھا (27: 66) ” بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں “۔ ان لوگوں کو اس قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ ان کو اس کے آنے کے وقت کا کوئی علم ہو یا اسکے وقوع کے بارے میں وہ انتظار کر رہے ہیں
بل ھم فی شک منھا (27: 66) ” بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں “۔ ان لوگوں کو اس قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ ان کو اسکے آنے کے وقت کا کوئی علم ہو یا اس کے وقوع کے بارے میں وہ انتظار کر رہے ہیں
بل ھم منھا عمون (27: 66) ” بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں “۔ یعنی وہ تو اس کے بارے میں اندھے ہیں۔ قیامت کے حوالے سے ان کو کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ نہ اس کی نوعیت کے بارے میں وہ کچھ یاد کریں گے۔ ان کی یہ دوری پہلی اور دوسری دوری سے بھی زیادہ ہے۔
النمل 27:67
وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔ انا لمخرجون (27: 67) ۔ کفار کے سامنے یہی عقیدہ تھا کہ جب ہم مرجائیں گے اور قبروں میں ہمارے جسم مٹی ہوجائیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جیسا کہ یہ مشاہدہ ہے کہ تمام مردے دفنائے جانے کے کچھ عرصہ بعد اسی طرح ہوتے ہیں۔ شاذو نادر ہی جسم محفوظ رہتے ہیں۔ جب ہم بھی ایسے ہوجائیں گے اور ہمارے آباؤ اجداد بھی ایسے ہی جائیں گے تو کیا ہمیں دوبارہ نکالا جائے گا ، زندہ کیا جائے گا جبکہ ہمارے اجسام کے ذرے مٹی میں مل چکے ہوں گے۔ یہ تو بڑی مسعبد بات ہے۔ وہ یہ بات کرتے ہیں اور مادہ کے بارے میں ان کا جو تصور ہے وہ ان کے لیے حیات اخروی کے تصور کو مشکل بنا رہا ہے لیکن وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ان کو پہلے بھی پیدا کیا گیا اور اس پیدائش سے قبل وہ کچھ بھی نہ تھے۔ کسی کو پتہ نہ تھا کہ اس کے جسم میں جو خلئے اور جو ذرات ہیں اور جن سے ان کی زندگی کا یہ ہیکل بنا ہوا ہے۔ یہ کہاں کہاں سے جمع ہوئے ، یہ زمین کے اطراف اور سمندر کی گہرائیوں میں بکھرے ہوئے تھے اور یا اس کائنات کی فضاؤں میں اڑ رہے تھے۔ زمین سے مٹی لی گئی ، ہواؤں سے ذرات لیے گئے ، پانی کے ذرات کہاں کہاں سے کس کس بادل نے اٹھا کر لائے ، اور بعض ذرات تو سورج سے آئے۔ پھر جو بدستور بذریعہ تنفس ، نباتات نیز ، حیوانات کے دودھ اور گوشت ، پھر بخارات کے ذریعہ جس میں داخل ہوتے ہیں ، پینے کے ذریعے جو چیزیں جسم کا حصہ بنتی ہیں۔ پھر سورک کی گرمی سے جو جسم اثر لیتا ہے۔ یہ سب متفرق چیزیں جن کی تعداد تو صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ سب چیزیں انسانی جس میں جمع ہوجاتی ہیں اور یہ انسان اس چھوٹے سے خوردبینی انڈے سے یہاں تک پہنچتا ہے ، اور یہ انڈا رحم مادر کی دیواروں کے ساتھ متعلق ہوتا ہے اور بڑا ہوکر ، مر کر کفن کے اندر یہ سب اجزاء جمع ہوتے ہیں۔ یہ تو ہے اس کی پہلی تخلیق۔ تو اس میں کیا تعجب ہے کہ اس مخلوق کو اللہ قبر سے دوبارہ اٹھالے۔ لیکن وہ لوگ یہ بات بہر حال کرتے تھے اور اس قسم کے لوگوں میں سے بعض آج بھی موجود ہیں جو ایسی ہی باتیں کرتے ہیں۔ وہ یہ باتیں کرتے تھے اور اس کے بعد مزید مزاح اور ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے وہ یہ کہتے تھے۔
النمل 27:68
لقد وعدنا ۔۔۔۔۔۔ اساطیر الاولین (27: 67)
یہ لوگ جانتے تھے کہ ان سے پہلے بھی ، رسولوں نے ان کے آبا کو اسی طرح قیامت سے ڈرایا ہے اور حساب و کتاب اور حشر و نشر کی بات کی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے لیے عقیدہ آخرت بالکل ایک نیا عقیدہ نہ تھا۔ یہ نہ تھا کہ وہ بعث بعد الموت کے معنی ہی نہ سمجھتے ہوں بلکہ ان کا اعتراض یہ تھا کہ صدیوں سے یہ وعدے کیے جا رہے ہیں ان کا تحقق نہیں ہوا۔ چناچہ اس بنا پر وہ اس عقیدے کا مذاق اڑاتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور حضرت محمد ﷺ ان کو نقل کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے غافل تھے کہ قیام قیامت کے لیے تو ایک وقت مقرر ہے۔ وہ نہ کسی کی جلد بازی سے جلدی آسکتا ہے اور نہ کسی کی غفلت کی وجہ سے موخر ہو سکتا ہے۔ یہ تو ایک معلوم اور مقرر وقت پر ہوگا اور اس کا علم زمین و آسمان دونوں کی مخلوقات سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) سے یہی کہا ، جب انہوں نے آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔
ما المسؤل عنھا باعلم من السائل ” اس کے بارے میں پوچھے جانے والا پوچھنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا “
یہاں ان لوگوں کو ان لوگوں کی قتل گاہوں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ، جو ان سے قبل ہلاک کیے گئے ، جنہوں نے سچائی کا انکار کیا اور قرآن میں یہاں ان کو مجرمین سے تعبیر کیا گیا ہے۔
النمل 27:69
قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ المجرمین (27: 69) ” “۔ یہاں ، اس ہدایت ، سیر فی الارض کے ذریعہ ان کی سوچ کے حدود کو وسیع کیا جاتا ہے۔ کیونکہ انسانیت کی کوئی سوسائٹی بھی سجرہ انسانیت سے مقطوع نہیں ہوتی۔ انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو سنن رکھے ہیں وہ سب کے لیے اٹل ہیں۔ اس سے قبل انسانی سوسائٹیوں کے مجرمین کو جو حالات درپیش ہوئے ، بعد میں انے والے بھی لازما ان جیسے حالات ہی سے دوچار ہوں گے۔ کیونکہ اللہ کے سنن اٹل ہوتے ہیں ، وہ کسی کی رو رعایت نہیں کرتے۔ اور زمین میں چلنے پھرنے سے نفس انسانی کی اطلاعات کا دائرہ بہت ہی وسیع ہوجاتا ہے۔ انسان کا دماغ روشن ہوجاتا ہے اور سیرفی الارض کے دوران انسان پر ایسے لمحات آتے ہیں کہ انسان کا ضمیر روشن ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم انسانوں کو اس کائنات کے اٹل اصولوں اور سنن کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے۔ اور انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ ان سنن یا بالفاظ دیگر سلسلہ علت و مطول پر ذرا غور کرو ، اس کی کڑیوں کو دیکھتے چلے جاؤ، تاکہ تمہاری زندگی انسانیت کی مجموعی زندگی سے وابستہ اور متصل رہے اور تمہاری سوچ کی حدود وسعت اختیار کریں۔ تمہاری سوچ محدود ، تنگ اور زندگی کے دھارے سے منقطع نہ ہو۔
ان توجہات کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان لوگوں سے اپنے ہاتھ جھاڑ دیں۔ ان کو چھوڑ دیں کہ وہ جس انجام سے دو چار ہوتے ہوں ہوجائیں۔ جس طرح تاریخ میں ان سے قبل بھی ایسے مجرمین ایسے ہی انجام سے دوچار ہوئے۔ اور یہ لوگ تحریک اسلامی کے خلاف جو مکاریاں کر رہے ہیں ۔۔۔۔ ۔ کو کوئی نقصان نہ دے سکیں گی۔ نیز ازروئے ہمدردی ان کے
لیے پریشان بھی نہ ہوں کیونکہ آپ نے تبلیغ اور راہنمائی کا حق ادا کردیا ہے اور ان کو خوب سمجھا دیا ہے۔
النمل 27:70
ولا تحزن ۔۔۔۔۔۔ یمکرون (27: 70) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کس قدر حساس تھے اور آپ کو اپنی قوم کے برے انجام کے بارے میں کس قدر فکر مندی تھی۔ کیونکہ آپ جانتے تھے کہ جن اقوام نے تکذیب کی ان کا حشر کیا ہوا۔ اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ، اس وقت ان لوگوں نے نبی ﷺ کے خلاف مکاری کے جال بن رکھے تھے۔ اور وہ مسلمانوں ، دعوت اسلامی کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینکنا چاہتے تھے اور حضور ﷺ اس کے بارے میں بہت ہی فکر مند تھے۔
بعثت بعد الموت کے بارے میں ان کے جو خیالات تھے ان کے مزید نمونے یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں ان کو جس برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا ، وہ اس کے ساتھ مزاح کرتے تھے اور کہتے تھے۔
النمل 27:71
ویقولون متی ۔۔۔۔۔ صدقین (27: 71) ۔ یہ وہ تب کہتے تھے جب کبھی ان کو امم سابقہ کی طرح کے برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا ، جن کی بستیوں پر سے وہ رات دن گزرتے تھے مثلاً حضرت لوط کی قوم کی بستی سدوم ، اور حجر میں ثمود کے آثار اور احقاف کے علاقے میں قوم عاد کے آثار اور قوم سبا کے کھنڈرات جو سیل العرم کے بعد تباہ ہوئے۔ تو یہ لوگ کہتے تھے کہ جن باتوں سے ہمیں ڈراتے ہو ، متعین طور پر بتاؤ وہ عذاب کب آئے گا۔ اگر سچے ہو تو بتاؤ کہ وہ کیسا عذاب ہوگا اور کب ہوگا۔ یہاں پھر اس کا جواب بھی ویسے ہی حقارت آمیز انداز میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ دے دیا جاتا ہے۔
النمل 27:72
قل عسی ان یکون ۔۔۔۔۔ تستعجلون (27: 72) ۔ اس طرح اللہ اور حضور اکرم ﷺ ان کے دل میں عذاب اور ہلاکت کے تصور سے خوف پیدا کرتے ہیں۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ یہ عذاب تمہارے اسی طرح قریب ہو اور تمہارے ساتھ لگا ہوا ہو جس طرح اونٹ پر سوار شخص کے پیچھے بیٹھا ہوا دوسرا شخص اس کے بالکل قریب ہوتا ہے۔ اور تمہیں اس کا شعور نہ ہو۔ اور اپنی غفلت اور نادانی کی وجہ سے جلدی کر رہے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے پیچھے بیٹھا ہوا ہے اور اچانک تمہیں پکڑ لے گا۔ ردیف کی طرف سے اس طرح اچانک پکڑے جانے سے انسان کا پورا جسم کانپ اٹھتا ہے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ یہ عذاب تمہیں پکڑ لے۔ اس حال میں کہ تم مزاح کر رہے ہو۔ کون جانتا ہے کہ مستقبل میں اور اگلے لمحے میں کیا ہونے والا ہے۔ کیونکہ مستقبل کا غیب تو مستور ہے۔ ہمارے اور اس کے درمیان پردے حائل ہیں۔ کسی کو کیا معلوم کہ پردوں کے پیچھے کیا ہے۔ بعض اوقات چند قوموں کے فاصلے پر ایک خوفناک صورت حالات ہوتی ہے۔ عقلمند شخص تو ہر وقت چوکنا رہتا ہے ، ڈرتا ہے اور ہر وقت اور ہر قسم کی صورت حال کے لیے تیار رہتا ہے کہ کوئی صورت بھی پیش آسکتی ہے۔
النمل 27:73
وان ربک ۔۔۔۔۔۔ لا یشکرون (27: 73)
۔ اور اللہ کا فضل تو ظاہر و باہر ہے کہ اللہ لوگوں کو مہلت دئیے جا رہا ہے اور ان سے عذاب کو موخر کر رہا ہے۔ حالانکہ وہ قصوروار اور گناہ گار ہیں اور گناہوں پر اصرار کر رہے ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان کی اصلاح کی امید ابھی باقی ہے اور عذاب کو موخر کرنا تو اللہ کا فضل ہے۔ اس کا شکر ادا کرنا چاہئے لیکن اکثر لوگ شکر ادا کرنے کے بجائے الٹا مزاح کرتے ہیں۔ اور اپنی گمراہی میں بغیر سوچے سمجھے بڑھے چلے جا رہے ہیں۔
النمل 27:74
وان ربک لیعلم ما تکن صدورھم وما یعلنون (27: 74) ” “ اللہ ان پر عذاب نہیں لاتا اور اسے موخر کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ خوب جانتا ہے کہ اپنئ سینوں میں یہ لوگ کیا چھپائے ہوئے ہیں اور کیا وہ طاہر کر رہے ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی شے اللہ سے غائب اور پوشیدہ نہیں ہے۔
النمل 27:75
وما من غائبۃ فی السماء والارض الا فی کتب مبین (27: 75) فکر و خیال اب زمین و آسمان کے وسیع میدان میں چلا جاتا ہے۔ زمین و آسمان کے اندر چھپے ہوئے بھید تو بیشمار ہیں۔ بیشمار راز ، بیشمار قوتیں ، بیشمار عجوبے ، سب کے سب اللہ کے علم و ناموس کے پابند۔ کوئی چیز بھی علم الٰہی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اور نہ وہ بنیست علم الٰہی غائب ہے۔ یہ حاضر و غائب تو انسانی علم کی تقسیم ہے۔ اس سورت کی تذکیر تو علم پر ہے۔ پوری سورت میں علم کی طرف اشارات ہیں اور اس سبق کے اختتام پر یہ آخری اشارہ ہے۔
اللہ کے علم مطلق کے حوالے سے یہاں علم الٰہی نے کس طرح قرآن کریم میں فیصلہ کن اور دو ٹوک باتیں سامنے لاکر بنی اسرائیل کے وہ مسائل حل کر دئیے جس میں وہ صدیوں سے مختلف فیہ تھے۔ یہ قرآن اللہ کے علم کا ایک حصہ اور نمونہ ہے۔ اور اللہ کے فضل میں سے ایک فضل ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک گونہ تسلی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو اللہ کے اس آخری فیصلے کی طرف بلاتے رہیں۔
النمل 27:76
ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81)
نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے بصورت انسان پیدا ہوئے۔ ایک جماعت نے کہا کہ ابن ازلی نہیں ہے ، جس طرح باپ ازلی ہے۔ ہاں وہ عالم سے قبل پیدا کردہ ہے۔ لہٰذا وہ رب سے کم درجے کا ہے اور رب کے تابع فرمان ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ روح القدس اقتوم نہیں ہے اور نیقیا کی مجلس منعقدہ 325 نے یہ فیصلہ کیا اور قسطنطینہ کی مجلس 381 نے اس کی توثیق کی کہ ابن اور روح القدس باپ کے برابر ہیں اور یہ بھی لاہوت کی وحدت کا حصہ ہیں۔ یہ بیٹے بھی ازل ہی میں پیدا ہوئے تھے جبکہ روح القدس رب سے نکلے ہیں۔ اور طیفلہ کی مجلس منعقدہ 589 نے یہ فیصلہ کیا کہ روح القدس ابن سے نکلا ہے۔ اس نکتے پر مشرقی اور مغربی کنیہ کے درمیان افتراق پیدا ہوگیا جو آج تک نکتہ اختلاف ہے۔ قرآن کریم جب نازل ہوا تو اس نے ایک فیصلہ کن بات کردی کہ وہ ایک کلمہ ہے جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔ اور وہ بشر ہیں
ان ھو الا ۔۔۔۔۔ اسراء یل (43: 59) ” نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنا دیا “۔ یہ تھی وہ فیصلہ کن بات جس میں ان کے درمیان اختلاف رائے تھا۔
اسی طرح بنی اسرائیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سولی پر چٖڑھائے جانے کے مسئلے میں بھی اختلاف ہوا۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کو سولی پر چڑھایا گیا۔ آپ فوت ہوگئے اور دفن کر دئیے گئے اور تین دنوں کے بعد آپ اپنی قبر سے نکلے اور آسمانوں کی طرف اٹھالیے گئے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے حواریوں میں سے ایک شخص یہوذا کو حضرت مسیح کے مشابہ بنا دیا گیا اور اس کو سولی دے دی گئی اس لیے کہ اس شخص نے حضرت مسیح کے ساتھ خیانت کی تھی اور حکومت کو آپ کی نشاندہی کی تھی اور آپ گرفتار ہوگئے تھے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے ایک حواری شمعون کو آپ کا مشابہ بنا دیا گیا اور وہ گرفتار ہوئے۔ قرآن کریم نے اصل بتا دی وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم (4: 157) ” انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ سولی پر چڑھایا ، لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا “۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید نے فرمایا :
یا عیسیٰ انی ۔۔۔۔۔۔ ومطھرک (3: 55) ” اے عیسیٰ میں تمہیں واپس لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں پاک کرنے والا ہوں “۔ یہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں فیصلہ کن بات تھی۔
اس سے قبل یہودیوں نے بھی تورات کی شریعت کو بدل دیا تھا۔ کئی احکام میں تحریفات کردی گئی تھی۔ قرآن مجید آیا تو اصل شریعت بتا دی۔
وکتبنا علیھم فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ قصاص ” تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ “۔ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی تاریخ اور ان کے انبیاء کے بارے میں حقائق بتائے۔ اور ان حقائق میں سے ان قصے اور کہانیوں اور افسانوں کو علیحدہ کرکے صاف کردیا جو ان حقائق کے ساتھ انہوں نے ناحق ملا دئیے تھے۔ یہ افسانے ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی نبی بھی معصوم اور پاک ہوکر نہیں نکل سکتا تھا۔ ان کے افسانوں کے چند نمونے مشہور ہیں۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ انہوں نے ابو مالک شاہ فلسطین اور فرعون شاہ مصر کے سامنے اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پیش کیا۔ اور ان کے کہنے کے مطابق حضرت ابراہیم ان کی نظروں میں مقام بلند حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن کا نام اسرائیل تھا ، انہوں نے خود اپنے باپ اسحاق سے ، حضرت ابراہیم کی برکات حیلہ سازی ، جھوٹ اور چوری کے طور پر حاصل کیں۔ جبکہ یہ تبرکات ان کے بڑے بھائی عیصو کی ملکیت تھیں۔ اور حضرت لوط کے بارے میں ان کی روایات یہ ہیں کہ ان کی دو بیٹیوں نے ان کی میراث اوروں کے پاس نہ چلی جائے اور جس طرح ان لڑکیوں نے چاہا ایسا ہی ہوا۔ اور داؤد نے اپنے محل میں ایک خوبصورت عورت کو دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ ان کے فوجی کی بیوی ہے۔ پھر اس فوجی کو انہوں نے ایک ہلاکت آفرین مہم میں بھیجا تاکہ وہ بیوی کو حاصل کرسکیں۔ اور سلیمان لعل کی عبادت کی طرف مائل ہوگئے۔ محض اپنی عورتوں میں سے ایک عورت کو خوش کرنے کے لئے ، کیونکہ ان کو اس کے ساتھ محبت تھی اور وہ اس کے مطالبے کو رد نہ کرسکتے تھے۔ یہ تھے ان کے الزامات اپنے پیغمبروں پر۔
اور جب قرآن کریم نازل ہوا تو اللہ نے تمام پیغمبروں کی صفائی بیان کی اور ان اوہام اور افسانوں کو پیغمبروں کی سیرتوں سے نکال دیا۔ کیونکہ یہ اوہام یہود و نصاریٰ نے خود اپنی کتابوں کے اندر داخل کر دئیے تھے۔ خصوصا قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی ذات کے ساتھ منسوب تمام غلط باتوں کی نفی کی اور وہ صحیح تعلیمات بیان کردیں جو اللہ کی طرف سے تھیں۔ اس مفہوم میں اس قرآن کو سابقہ کتب کے لیے مہیمن کہا گیا ہے کہ وہ سابقہ کتب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور تمام اختلافی اور جدلیاتی مسائل میں فیصلہ کن بات کرتا ہے۔
وانا لھدی ورحمۃ للمومنین (27: 77) ” اور یہ ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے “۔ یہ وہ ہدایت ہے جو اہل ایمان کو ضلالت اور اختلاف سے بچاتا ہے۔ ان کو ایک منہاج حیات دیتا ہے۔ زندگی کی راہ میں ان کے ساتھ معاونت کرتا ہے اور ان کو اپنی تعلیماے اور نظریات دیتا ہے جو اس پوری کائنات میں موجود سنن الہیہ سے ہم آہنگ ہیں۔ اور یہ قرآن ہدایت کے ساتھ رحمت بھی ہے ۔ انسانوں کو شک ، بےچینی اور پریشانی اور بےیقینی سے نجات دیتا ہے۔ اور انسان کو ایسے کچے نظریات سے بچاتا ہے جو آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔ پائے چوبیں رکھتے ہیں اور اپنے حال پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ اس کی تعلیمات انسان کو مطمئن کرکے اللہ کے جوار رحمت اور بارگاہ سکون تک پہنچاتی ہیں۔ اس طرح انسان اپنے ماحول ، اپنی سوسائٹی اور کود اپنے افکار کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور عظیم ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ انسانی نفس کی تربیت اور از سر نو قوانین فطرت کے مطابق اس کی تسکیل و تصفیل کے معاملے میں قرآنی طریق کار ایک منفرد طریق کار ہے۔ اس طریق کار کے مطابق انسان اپنی زندگی ان قوانین فطرت کے مطابق گزارتا ہے جو خود اس کائنات میں بھی جاری وساری ہیں اور اس طرح انسان کی زندگی نہایت سکون کے ساتھ ، فطری انداز میں گزرتی ہے۔ اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی۔ اسلامی منہاج تربیت کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کی گہرائیوں تک میں اطمینان محسوس کرتا ہے اور یہ بہت بڑی دولت ہوتی ہے۔ اور یہ اطمینان اسے اس وجہ سے حاصل ہوتا ہے کہ اسلامی نظام تربیت کے مطابق انسان کی زندگی قوانین فطرت کے ساتھ متصادم نہیں ہوتی اور نہ انسان قوانین فطرت اور ان کے مطابق چلنے والی اس کائنات سے متصادم ہوتا ہے ، نہ انسانی اخلاقیات ان قوانین فطرت سے متصادم ہوتی ہیں۔ بشرطیکہ انسان قوانین فطرت اور نوامیس کو اچھی طرح معلوم کرسکے اور وہ مقامات معلوم کرلے جہاں انسانی شخصیت اور اس کائنات کے درمیان باہم اتصال ہوتا ہے۔ اور انسان اس نتیجے تک پہنچ جائے کہ انسانی فطرت اور کائناتی فطرت اور اسلامی نظام زندگی کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ وہ باہم متناسب اور ہم آہنگ ہیں۔ یہ ہے وہ عظیم سلامتی جو انسانی شخصیت اور انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی اس عظیم کائنات کے درمیان قائم ہوتی ہے اور اس سلامتی کے نتیجے میں انسانی سوسائٹی نہایت ہی پر سکون زندگی بسر کرتی ہے۔ اور یہ ہے وہ رحمت جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے۔ یہ رحمت الہیہ کا وسیع تر مفہوم ہے۔
ان اشارات کے بعد کہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے بیشتر نطریاتی مسائل کو حل کرتا ہے ، ان کے اختلافات کو دور کرتا ہے اور اہل ایمان کو ایک فطری نظام زندگی دے کر ان کو عظیم سکون اور سلامتی عطا کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ کو یہ تسلی دیتا ہے کہ آپ کی قوم آپ کے ساتھ ناحق مجادلہ کر رہی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی عنقریب اللہ کر دے گا ۔ ایسا فیصلہ جسے کوئی رد نہ کرسکے گا۔ کیونکہ اللہ کے فیصلے حقائق اور صحیح علم پر مبنی ہوتے ہیں۔
فتوکل علی اللہ انک علی الحق المبین (27: 79) ” پس اے نبی ﷺ ، اللہ پر بھروسہ رکھو یقیناً تم صریح حق پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی نصرت کرنا ، حق کو غالب کرنا ، اپنے اوپر اسی طرح لازم قرار دیا ہے جس طرح اس کائنات میں اللہ کے دوسرے چلنے والے قوانین لازمی اور اٹل ہیں۔ یہ قوانین رکتے نہیں ، اسی طرح حق بھی غالب آتا ہے لیکن اللہ کی بعض پوشیدہ حکمتوں کی وجہ سے کبھی کبھار یہ غلبہ دیر سے آتا ہے اور ان حکمتوں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ کچھ مقاصد ہوتے جن کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے لیکن یہ سنت پوری ہوکر رہتی ہیں اور آخر کار حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ انسان کا ایمان اس وقت تک پورا اور مکمل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس سنت کے اٹل ہونے پر ایمان نہ لائے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کی کامیابی کے لیے اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اس سے قبل یہ کامیابی نہیں آسکتی۔ انسان اگر جلدی کرتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔
نبی ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے بڑی مشکلات درپیش تھیں ، بات بات پر وہ جھگڑتے تھے ، کٹ جحتی اور ہٹ دھرمی کرتے تھے۔ محض عناد کی وجہ سے بادی النظر چیزوں کو بھی نہ مانتے تھے۔ حضور ﷺ کی جدوجہد اور نہایت ہی واضح بیان و تبلیغ کے بعد بھی وہ کفر پر اصرار کر رہے تھے۔ قرآن کریم کے بار بار کے خطاب کو نظر انداز کر رہے تھے۔ ان سب باتوں پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے تو تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے ، کوئی قصور نہیں کیا ہے ، لیکن بات کو وہ لوگ سنتے ہیں جو زندہ ہوں اور ان کے کانوں کے پردے حساس ہوں۔ مردے تو کبھی سنا نہیں کرتے۔ مردوں کا دماغ مرچکا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے عاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مردے نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ بس آپ کی قوم کے دل و دماغ مرچکے ہیں۔ لہٰذا ان کو سنانا اب نہ سنانے کے برابر ہوگیا ہے۔ ہدایت پر آنے کی ان کے سامنے کوئی سبیل باقی نہیں ہے۔ اب چھوڑدیں ان کو اپنی گمراہی اور سرکشی اور بےراہ روی پر۔
انک لا تسمع ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (27: 80- 81) ” تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ، نہ ان بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو ، جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں ، اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔ تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔
قرآن کریم نے نہایت ہی عجیب انداز میں ان لوگوں کی نظریاتی اور نفسیاتی حالت کی تصویر کشی کی ہے۔ چناچہ غیر محسوس معانی کو محسوس شکل دے دی ہے۔ قلبی جمود ، روح کی مردنی ، کند ذہنی اور شعور کی گراؤٹ کو یوں بیان کیا ہے کہ گویا یہ لوگ مردے ہیں اور بہرے ہیں اور رسول ان کو پکار رہا ہے۔ یہ نہیں سنتے ، نہ جواب دیتے ہیں۔ کیونکہ مردے نہ سنتے ہیں ، نہ ان کو شعور ہوتا ہے اور نہ جواب دے سکتے ہیں۔ ایک دوسری محسوس صورت یوں ہے کہ ایک شخص بہرا ہے۔ بالکل نہیں سنتا اور پکار والے کی طرف اس کا رخ بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ مخالف سمت پر جا رہا ہے۔ ایسے شخص کو لاکھ پکارو وہ نہ سنے گا۔ کبھی قرآن ان کو اس شکل میں لاتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ ایک اندھا شخص راہ راست پر کیسے جاسکتا ہے۔ جب اسے اگلے قدم پر کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ ان آیات میں ان تمام صورتوں کو نہایت ہی مجسم و شخصی صورت میں پیش کردیا گیا ہے۔
اب ان مردوں ، بہروں اور اندھوں کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں۔ یہ زندہ ہیں ، یہ سنتے ہیں ، یہ دیکھتے ہیں۔
ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (27: 81) ” آپ اپنی بات انہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔ یعنی جن لوگوں کے اندر زندگی ، قوت سامعہ اور قوت باصرہ ہے۔ آپ انہی کو سنا سکتے ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کو سنائیں۔ یہ علامات زندگی ہیں اور شعور زندہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ سننے والے اور دیکھنے والے ہی دعوت کو قبول کرسکتے ہیں اور یہ اہل ایمان ہی ہیں جن کے اندر حیات ، سماعت اور بصارت پائی جاتی ہے۔ ان لوگوں پر رسول اللہ ﷺ نے کام کیا۔ انہوں نے دعوت کو قبول کیا اور سرتسلیم خم کردیا۔
اسلام بہت ہی سادہ اور قریب الفہم دین ہے۔ فطرت سلیم کے بہت ہی قریب ہے۔ قلب سلیم اور فطرت سلیم دعوت اسلامی کو پاتے ہی قبول کرتے ہیں اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ وہ پھر قیل و قال اور جدل وجدال میں نہیں پڑتے۔ یہی تصویر ہے اہل ایمان کی اور ایسے ہی لوگوں کو دعوت دینا چاہئے۔ ایسے لوگ دعوت کو سنتے ہی اس کی طرف لپکتے ہیں اور فوراً ایمان لاتے ہیں۔ مردوں کو اپنی جگہ پر چھوڑ کر داعی کو ایسے لوگوں تک پہنچنا چاہئے جو قبولیت کے لیے تیار ہوں۔
النمل 27:77
ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81)
نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے بصورت انسان پیدا ہوئے۔ ایک جماعت نے کہا کہ ابن ازلی نہیں ہے ، جس طرح باپ ازلی ہے۔ ہاں وہ عالم سے قبل پیدا کردہ ہے۔ لہٰذا وہ رب سے کم درجے کا ہے اور رب کے تابع فرمان ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ روح القدس اقتوم نہیں ہے اور نیقیا کی مجلس منعقدہ 325 نے یہ فیصلہ کیا اور قسطنطینہ کی مجلس 381 نے اس کی توثیق کی کہ ابن اور روح القدس باپ کے برابر ہیں اور یہ بھی لاہوت کی وحدت کا حصہ ہیں۔ یہ بیٹے بھی ازل ہی میں پیدا ہوئے تھے جبکہ روح القدس رب سے نکلے ہیں۔ اور طیفلہ کی مجلس منعقدہ 589 نے یہ فیصلہ کیا کہ روح القدس ابن سے نکلا ہے۔ اس نکتے پر مشرقی اور مغربی کنیہ کے درمیان افتراق پیدا ہوگیا جو آج تک نکتہ اختلاف ہے۔ قرآن کریم جب نازل ہوا تو اس نے ایک فیصلہ کن بات کردی کہ وہ ایک کلمہ ہے جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔ اور وہ بشر ہیں
ان ھو الا ۔۔۔۔۔ اسراء یل (43: 59) ” نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنا دیا “۔ یہ تھی وہ فیصلہ کن بات جس میں ان کے درمیان اختلاف رائے تھا۔
اسی طرح بنی اسرائیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سولی پر چٖڑھائے جانے کے مسئلے میں بھی اختلاف ہوا۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کو سولی پر چڑھایا گیا۔ آپ فوت ہوگئے اور دفن کر دئیے گئے اور تین دنوں کے بعد آپ اپنی قبر سے نکلے اور آسمانوں کی طرف اٹھالیے گئے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے حواریوں میں سے ایک شخص یہوذا کو حضرت مسیح کے مشابہ بنا دیا گیا اور اس کو سولی دے دی گئی اس لیے کہ اس شخص نے حضرت مسیح کے ساتھ خیانت کی تھی اور حکومت کو آپ کی نشاندہی کی تھی اور آپ گرفتار ہوگئے تھے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے ایک حواری شمعون کو آپ کا مشابہ بنا دیا گیا اور وہ گرفتار ہوئے۔ قرآن کریم نے اصل بتا دی وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم (4: 157) ” انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ سولی پر چڑھایا ، لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا “۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید نے فرمایا :
یا عیسیٰ انی ۔۔۔۔۔۔ ومطھرک (3: 55) ” اے عیسیٰ میں تمہیں واپس لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں پاک کرنے والا ہوں “۔ یہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں فیصلہ کن بات تھی۔
اس سے قبل یہودیوں نے بھی تورات کی شریعت کو بدل دیا تھا۔ کئی احکام میں تحریفات کردی گئی تھی۔ قرآن مجید آیا تو اصل شریعت بتا دی۔
وکتبنا علیھم فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ قصاص ” تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ “۔ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی تاریخ اور ان کے انبیاء کے بارے میں حقائق بتائے۔ اور ان حقائق میں سے ان قصے اور کہانیوں اور افسانوں کو علیحدہ کرکے صاف کردیا جو ان حقائق کے ساتھ انہوں نے ناحق ملا دئیے تھے۔ یہ افسانے ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی نبی بھی معصوم اور پاک ہوکر نہیں نکل سکتا تھا۔ ان کے افسانوں کے چند نمونے مشہور ہیں۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ انہوں نے ابو مالک شاہ فلسطین اور فرعون شاہ مصر کے سامنے اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پیش کیا۔ اور ان کے کہنے کے مطابق حضرت ابراہیم ان کی نظروں میں مقام بلند حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن کا نام اسرائیل تھا ، انہوں نے خود اپنے باپ اسحاق سے ، حضرت ابراہیم کی برکات حیلہ سازی ، جھوٹ اور چوری کے طور پر حاصل کیں۔ جبکہ یہ تبرکات ان کے بڑے بھائی عیصو کی ملکیت تھیں۔ اور حضرت لوط کے بارے میں ان کی روایات یہ ہیں کہ ان کی دو بیٹیوں نے ان کی میراث اوروں کے پاس نہ چلی جائے اور جس طرح ان لڑکیوں نے چاہا ایسا ہی ہوا۔ اور داؤد نے اپنے محل میں ایک خوبصورت عورت کو دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ ان کے فوجی کی بیوی ہے۔ پھر اس فوجی کو انہوں نے ایک ہلاکت آفرین مہم میں بھیجا تاکہ وہ بیوی کو حاصل کرسکیں۔ اور سلیمان لعل کی عبادت کی طرف مائل ہوگئے۔ محض اپنی عورتوں میں سے ایک عورت کو خوش کرنے کے لئے ، کیونکہ ان کو اس کے ساتھ محبت تھی اور وہ اس کے مطالبے کو رد نہ کرسکتے تھے۔ یہ تھے ان کے الزامات اپنے پیغمبروں پر۔
اور جب قرآن کریم نازل ہوا تو اللہ نے تمام پیغمبروں کی صفائی بیان کی اور ان اوہام اور افسانوں کو پیغمبروں کی سیرتوں سے نکال دیا۔ کیونکہ یہ اوہام یہود و نصاریٰ نے خود اپنی کتابوں کے اندر داخل کر دئیے تھے۔ خصوصا قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی ذات کے ساتھ منسوب تمام غلط باتوں کی نفی کی اور وہ صحیح تعلیمات بیان کردیں جو اللہ کی طرف سے تھیں۔ اس مفہوم میں اس قرآن کو سابقہ کتب کے لیے مہیمن کہا گیا ہے کہ وہ سابقہ کتب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور تمام اختلافی اور جدلیاتی مسائل میں فیصلہ کن بات کرتا ہے۔
وانا لھدی ورحمۃ للمومنین (27: 77) ” اور یہ ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے “۔ یہ وہ ہدایت ہے جو اہل ایمان کو ضلالت اور اختلاف سے بچاتا ہے۔ ان کو ایک منہاج حیات دیتا ہے۔ زندگی کی راہ میں ان کے ساتھ معاونت کرتا ہے اور ان کو اپنی تعلیماے اور نظریات دیتا ہے جو اس پوری کائنات میں موجود سنن الہیہ سے ہم آہنگ ہیں۔ اور یہ قرآن ہدایت کے ساتھ رحمت بھی ہے ۔ انسانوں کو شک ، بےچینی اور پریشانی اور بےیقینی سے نجات دیتا ہے۔ اور انسان کو ایسے کچے نظریات سے بچاتا ہے جو آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔ پائے چوبیں رکھتے ہیں اور اپنے حال پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ اس کی تعلیمات انسان کو مطمئن کرکے اللہ کے جوار رحمت اور بارگاہ سکون تک پہنچاتی ہیں۔ اس طرح انسان اپنے ماحول ، اپنی سوسائٹی اور کود اپنے افکار کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور عظیم ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ انسانی نفس کی تربیت اور از سر نو قوانین فطرت کے مطابق اس کی تسکیل و تصفیل کے معاملے میں قرآنی طریق کار ایک منفرد طریق کار ہے۔ اس طریق کار کے مطابق انسان اپنی زندگی ان قوانین فطرت کے مطابق گزارتا ہے جو خود اس کائنات میں بھی جاری وساری ہیں اور اس طرح انسان کی زندگی نہایت سکون کے ساتھ ، فطری انداز میں گزرتی ہے۔ اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی۔ اسلامی منہاج تربیت کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کی گہرائیوں تک میں اطمینان محسوس کرتا ہے اور یہ بہت بڑی دولت ہوتی ہے۔ اور یہ اطمینان اسے اس وجہ سے حاصل ہوتا ہے کہ اسلامی نظام تربیت کے مطابق انسان کی زندگی قوانین فطرت کے ساتھ متصادم نہیں ہوتی اور نہ انسان قوانین فطرت اور ان کے مطابق چلنے والی اس کائنات سے متصادم ہوتا ہے ، نہ انسانی اخلاقیات ان قوانین فطرت سے متصادم ہوتی ہیں۔ بشرطیکہ انسان قوانین فطرت اور نوامیس کو اچھی طرح معلوم کرسکے اور وہ مقامات معلوم کرلے جہاں انسانی شخصیت اور اس کائنات کے درمیان باہم اتصال ہوتا ہے۔ اور انسان اس نتیجے تک پہنچ جائے کہ انسانی فطرت اور کائناتی فطرت اور اسلامی نظام زندگی کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ وہ باہم متناسب اور ہم آہنگ ہیں۔ یہ ہے وہ عظیم سلامتی جو انسانی شخصیت اور انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی اس عظیم کائنات کے درمیان قائم ہوتی ہے اور اس سلامتی کے نتیجے میں انسانی سوسائٹی نہایت ہی پر سکون زندگی بسر کرتی ہے۔ اور یہ ہے وہ رحمت جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے۔ یہ رحمت الہیہ کا وسیع تر مفہوم ہے۔
ان اشارات کے بعد کہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے بیشتر نطریاتی مسائل کو حل کرتا ہے ، ان کے اختلافات کو دور کرتا ہے اور اہل ایمان کو ایک فطری نظام زندگی دے کر ان کو عظیم سکون اور سلامتی عطا کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ کو یہ تسلی دیتا ہے کہ آپ کی قوم آپ کے ساتھ ناحق مجادلہ کر رہی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی عنقریب اللہ کر دے گا ۔ ایسا فیصلہ جسے کوئی رد نہ کرسکے گا۔ کیونکہ اللہ کے فیصلے حقائق اور صحیح علم پر مبنی ہوتے ہیں۔
فتوکل علی اللہ انک علی الحق المبین (27: 79) ” پس اے نبی ﷺ ، اللہ پر بھروسہ رکھو یقیناً تم صریح حق پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی نصرت کرنا ، حق کو غالب کرنا ، اپنے اوپر اسی طرح لازم قرار دیا ہے جس طرح اس کائنات میں اللہ کے دوسرے چلنے والے قوانین لازمی اور اٹل ہیں۔ یہ قوانین رکتے نہیں ، اسی طرح حق بھی غالب آتا ہے لیکن اللہ کی بعض پوشیدہ حکمتوں کی وجہ سے کبھی کبھار یہ غلبہ دیر سے آتا ہے اور ان حکمتوں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ کچھ مقاصد ہوتے جن کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے لیکن یہ سنت پوری ہوکر رہتی ہیں اور آخر کار حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ انسان کا ایمان اس وقت تک پورا اور مکمل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس سنت کے اٹل ہونے پر ایمان نہ لائے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کی کامیابی کے لیے اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اس سے قبل یہ کامیابی نہیں آسکتی۔ انسان اگر جلدی کرتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔
نبی ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے بڑی مشکلات درپیش تھیں ، بات بات پر وہ جھگڑتے تھے ، کٹ جحتی اور ہٹ دھرمی کرتے تھے۔ محض عناد کی وجہ سے بادی النظر چیزوں کو بھی نہ مانتے تھے۔ حضور ﷺ کی جدوجہد اور نہایت ہی واضح بیان و تبلیغ کے بعد بھی وہ کفر پر اصرار کر رہے تھے۔ قرآن کریم کے بار بار کے خطاب کو نظر انداز کر رہے تھے۔ ان سب باتوں پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے تو تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے ، کوئی قصور نہیں کیا ہے ، لیکن بات کو وہ لوگ سنتے ہیں جو زندہ ہوں اور ان کے کانوں کے پردے حساس ہوں۔ مردے تو کبھی سنا نہیں کرتے۔ مردوں کا دماغ مرچکا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے عاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مردے نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ بس آپ کی قوم کے دل و دماغ مرچکے ہیں۔ لہٰذا ان کو سنانا اب نہ سنانے کے برابر ہوگیا ہے۔ ہدایت پر آنے کی ان کے سامنے کوئی سبیل باقی نہیں ہے۔ اب چھوڑدیں ان کو اپنی گمراہی اور سرکشی اور بےراہ روی پر۔
انک لا تسمع ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (27: 80- 81) ” تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ، نہ ان بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو ، جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں ، اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔ تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔
قرآن کریم نے نہایت ہی عجیب انداز میں ان لوگوں کی نظریاتی اور نفسیاتی حالت کی تصویر کشی کی ہے۔ چناچہ غیر محسوس معانی کو محسوس شکل دے دی ہے۔ قلبی جمود ، روح کی مردنی ، کند ذہنی اور شعور کی گراؤٹ کو یوں بیان کیا ہے کہ گویا یہ لوگ مردے ہیں اور بہرے ہیں اور رسول ان کو پکار رہا ہے۔ یہ نہیں سنتے ، نہ جواب دیتے ہیں۔ کیونکہ مردے نہ سنتے ہیں ، نہ ان کو شعور ہوتا ہے اور نہ جواب دے سکتے ہیں۔ ایک دوسری محسوس صورت یوں ہے کہ ایک شخص بہرا ہے۔ بالکل نہیں سنتا اور پکار والے کی طرف اس کا رخ بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ مخالف سمت پر جا رہا ہے۔ ایسے شخص کو لاکھ پکارو وہ نہ سنے گا۔ کبھی قرآن ان کو اس شکل میں لاتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ ایک اندھا شخص راہ راست پر کیسے جاسکتا ہے۔ جب اسے اگلے قدم پر کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ ان آیات میں ان تمام صورتوں کو نہایت ہی مجسم و شخصی صورت میں پیش کردیا گیا ہے۔
اب ان مردوں ، بہروں اور اندھوں کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں۔ یہ زندہ ہیں ، یہ سنتے ہیں ، یہ دیکھتے ہیں۔
ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (27: 81) ” آپ اپنی بات انہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔ یعنی جن لوگوں کے اندر زندگی ، قوت سامعہ اور قوت باصرہ ہے۔ آپ انہی کو سنا سکتے ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کو سنائیں۔ یہ علامات زندگی ہیں اور شعور زندہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ سننے والے اور دیکھنے والے ہی دعوت کو قبول کرسکتے ہیں اور یہ اہل ایمان ہی ہیں جن کے اندر حیات ، سماعت اور بصارت پائی جاتی ہے۔ ان لوگوں پر رسول اللہ ﷺ نے کام کیا۔ انہوں نے دعوت کو قبول کیا اور سرتسلیم خم کردیا۔
اسلام بہت ہی سادہ اور قریب الفہم دین ہے۔ فطرت سلیم کے بہت ہی قریب ہے۔ قلب سلیم اور فطرت سلیم دعوت اسلامی کو پاتے ہی قبول کرتے ہیں اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ وہ پھر قیل و قال اور جدل وجدال میں نہیں پڑتے۔ یہی تصویر ہے اہل ایمان کی اور ایسے ہی لوگوں کو دعوت دینا چاہئے۔ ایسے لوگ دعوت کو سنتے ہی اس کی طرف لپکتے ہیں اور فوراً ایمان لاتے ہیں۔ مردوں کو اپنی جگہ پر چھوڑ کر داعی کو ایسے لوگوں تک پہنچنا چاہئے جو قبولیت کے لیے تیار ہوں۔
النمل 27:78
ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81)
نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے بصورت انسان پیدا ہوئے۔ ایک جماعت نے کہا کہ ابن ازلی نہیں ہے ، جس طرح باپ ازلی ہے۔ ہاں وہ عالم سے قبل پیدا کردہ ہے۔ لہٰذا وہ رب سے کم درجے کا ہے اور رب کے تابع فرمان ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ روح القدس اقتوم نہیں ہے اور نیقیا کی مجلس منعقدہ 325 نے یہ فیصلہ کیا اور قسطنطینہ کی مجلس 381 نے اس کی توثیق کی کہ ابن اور روح القدس باپ کے برابر ہیں اور یہ بھی لاہوت کی وحدت کا حصہ ہیں۔ یہ بیٹے بھی ازل ہی میں پیدا ہوئے تھے جبکہ روح القدس رب سے نکلے ہیں۔ اور طیفلہ کی مجلس منعقدہ 589 نے یہ فیصلہ کیا کہ روح القدس ابن سے نکلا ہے۔ اس نکتے پر مشرقی اور مغربی کنیہ کے درمیان افتراق پیدا ہوگیا جو آج تک نکتہ اختلاف ہے۔ قرآن کریم جب نازل ہوا تو اس نے ایک فیصلہ کن بات کردی کہ وہ ایک کلمہ ہے جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔ اور وہ بشر ہیں
ان ھو الا ۔۔۔۔۔ اسراء یل (43: 59) ” نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنا دیا “۔ یہ تھی وہ فیصلہ کن بات جس میں ان کے درمیان اختلاف رائے تھا۔
اسی طرح بنی اسرائیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سولی پر چٖڑھائے جانے کے مسئلے میں بھی اختلاف ہوا۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کو سولی پر چڑھایا گیا۔ آپ فوت ہوگئے اور دفن کر دئیے گئے اور تین دنوں کے بعد آپ اپنی قبر سے نکلے اور آسمانوں کی طرف اٹھالیے گئے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے حواریوں میں سے ایک شخص یہوذا کو حضرت مسیح کے مشابہ بنا دیا گیا اور اس کو سولی دے دی گئی اس لیے کہ اس شخص نے حضرت مسیح کے ساتھ خیانت کی تھی اور حکومت کو آپ کی نشاندہی کی تھی اور آپ گرفتار ہوگئے تھے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے ایک حواری شمعون کو آپ کا مشابہ بنا دیا گیا اور وہ گرفتار ہوئے۔ قرآن کریم نے اصل بتا دی وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم (4: 157) ” انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ سولی پر چڑھایا ، لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا “۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید نے فرمایا :
یا عیسیٰ انی ۔۔۔۔۔۔ ومطھرک (3: 55) ” اے عیسیٰ میں تمہیں واپس لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں پاک کرنے والا ہوں “۔ یہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں فیصلہ کن بات تھی۔
اس سے قبل یہودیوں نے بھی تورات کی شریعت کو بدل دیا تھا۔ کئی احکام میں تحریفات کردی گئی تھی۔ قرآن مجید آیا تو اصل شریعت بتا دی۔
وکتبنا علیھم فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ قصاص ” تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ “۔ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی تاریخ اور ان کے انبیاء کے بارے میں حقائق بتائے۔ اور ان حقائق میں سے ان قصے اور کہانیوں اور افسانوں کو علیحدہ کرکے صاف کردیا جو ان حقائق کے ساتھ انہوں نے ناحق ملا دئیے تھے۔ یہ افسانے ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی نبی بھی معصوم اور پاک ہوکر نہیں نکل سکتا تھا۔ ان کے افسانوں کے چند نمونے مشہور ہیں۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ انہوں نے ابو مالک شاہ فلسطین اور فرعون شاہ مصر کے سامنے اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پیش کیا۔ اور ان کے کہنے کے مطابق حضرت ابراہیم ان کی نظروں میں مقام بلند حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن کا نام اسرائیل تھا ، انہوں نے خود اپنے باپ اسحاق سے ، حضرت ابراہیم کی برکات حیلہ سازی ، جھوٹ اور چوری کے طور پر حاصل کیں۔ جبکہ یہ تبرکات ان کے بڑے بھائی عیصو کی ملکیت تھیں۔ اور حضرت لوط کے بارے میں ان کی روایات یہ ہیں کہ ان کی دو بیٹیوں نے ان کی میراث اوروں کے پاس نہ چلی جائے اور جس طرح ان لڑکیوں نے چاہا ایسا ہی ہوا۔ اور داؤد نے اپنے محل میں ایک خوبصورت عورت کو دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ ان کے فوجی کی بیوی ہے۔ پھر اس فوجی کو انہوں نے ایک ہلاکت آفرین مہم میں بھیجا تاکہ وہ بیوی کو حاصل کرسکیں۔ اور سلیمان لعل کی عبادت کی طرف مائل ہوگئے۔ محض اپنی عورتوں میں سے ایک عورت کو خوش کرنے کے لئے ، کیونکہ ان کو اس کے ساتھ محبت تھی اور وہ اس کے مطالبے کو رد نہ کرسکتے تھے۔ یہ تھے ان کے الزامات اپنے پیغمبروں پر۔
اور جب قرآن کریم نازل ہوا تو اللہ نے تمام پیغمبروں کی صفائی بیان کی اور ان اوہام اور افسانوں کو پیغمبروں کی سیرتوں سے نکال دیا۔ کیونکہ یہ اوہام یہود و نصاریٰ نے خود اپنی کتابوں کے اندر داخل کر دئیے تھے۔ خصوصا قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی ذات کے ساتھ منسوب تمام غلط باتوں کی نفی کی اور وہ صحیح تعلیمات بیان کردیں جو اللہ کی طرف سے تھیں۔ اس مفہوم میں اس قرآن کو سابقہ کتب کے لیے مہیمن کہا گیا ہے کہ وہ سابقہ کتب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور تمام اختلافی اور جدلیاتی مسائل میں فیصلہ کن بات کرتا ہے۔
وانا لھدی ورحمۃ للمومنین (27: 77) ” اور یہ ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے “۔ یہ وہ ہدایت ہے جو اہل ایمان کو ضلالت اور اختلاف سے بچاتا ہے۔ ان کو ایک منہاج حیات دیتا ہے۔ زندگی کی راہ میں ان کے ساتھ معاونت کرتا ہے اور ان کو اپنی تعلیماے اور نظریات دیتا ہے جو اس پوری کائنات میں موجود سنن الہیہ سے ہم آہنگ ہیں۔ اور یہ قرآن ہدایت کے ساتھ رحمت بھی ہے ۔ انسانوں کو شک ، بےچینی اور پریشانی اور بےیقینی سے نجات دیتا ہے۔ اور انسان کو ایسے کچے نظریات سے بچاتا ہے جو آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔ پائے چوبیں رکھتے ہیں اور اپنے حال پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ اس کی تعلیمات انسان کو مطمئن کرکے اللہ کے جوار رحمت اور بارگاہ سکون تک پہنچاتی ہیں۔ اس طرح انسان اپنے ماحول ، اپنی سوسائٹی اور کود اپنے افکار کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور عظیم ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ انسانی نفس کی تربیت اور از سر نو قوانین فطرت کے مطابق اس کی تسکیل و تصفیل کے معاملے میں قرآنی طریق کار ایک منفرد طریق کار ہے۔ اس طریق کار کے مطابق انسان اپنی زندگی ان قوانین فطرت کے مطابق گزارتا ہے جو خود اس کائنات میں بھی جاری وساری ہیں اور اس طرح انسان کی زندگی نہایت سکون کے ساتھ ، فطری انداز میں گزرتی ہے۔ اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی۔ اسلامی منہاج تربیت کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کی گہرائیوں تک میں اطمینان محسوس کرتا ہے اور یہ بہت بڑی دولت ہوتی ہے۔ اور یہ اطمینان اسے اس وجہ سے حاصل ہوتا ہے کہ اسلامی نظام تربیت کے مطابق انسان کی زندگی قوانین فطرت کے ساتھ متصادم نہیں ہوتی اور نہ انسان قوانین فطرت اور ان کے مطابق چلنے والی اس کائنات سے متصادم ہوتا ہے ، نہ انسانی اخلاقیات ان قوانین فطرت سے متصادم ہوتی ہیں۔ بشرطیکہ انسان قوانین فطرت اور نوامیس کو اچھی طرح معلوم کرسکے اور وہ مقامات معلوم کرلے جہاں انسانی شخصیت اور اس کائنات کے درمیان باہم اتصال ہوتا ہے۔ اور انسان اس نتیجے تک پہنچ جائے کہ انسانی فطرت اور کائناتی فطرت اور اسلامی نظام زندگی کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ وہ باہم متناسب اور ہم آہنگ ہیں۔ یہ ہے وہ عظیم سلامتی جو انسانی شخصیت اور انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی اس عظیم کائنات کے درمیان قائم ہوتی ہے اور اس سلامتی کے نتیجے میں انسانی سوسائٹی نہایت ہی پر سکون زندگی بسر کرتی ہے۔ اور یہ ہے وہ رحمت جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے۔ یہ رحمت الہیہ کا وسیع تر مفہوم ہے۔
ان اشارات کے بعد کہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے بیشتر نطریاتی مسائل کو حل کرتا ہے ، ان کے اختلافات کو دور کرتا ہے اور اہل ایمان کو ایک فطری نظام زندگی دے کر ان کو عظیم سکون اور سلامتی عطا کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ کو یہ تسلی دیتا ہے کہ آپ کی قوم آپ کے ساتھ ناحق مجادلہ کر رہی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی عنقریب اللہ کر دے گا ۔ ایسا فیصلہ جسے کوئی رد نہ کرسکے گا۔ کیونکہ اللہ کے فیصلے حقائق اور صحیح علم پر مبنی ہوتے ہیں۔
فتوکل علی اللہ انک علی الحق المبین (27: 79) ” پس اے نبی ﷺ ، اللہ پر بھروسہ رکھو یقیناً تم صریح حق پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی نصرت کرنا ، حق کو غالب کرنا ، اپنے اوپر اسی طرح لازم قرار دیا ہے جس طرح اس کائنات میں اللہ کے دوسرے چلنے والے قوانین لازمی اور اٹل ہیں۔ یہ قوانین رکتے نہیں ، اسی طرح حق بھی غالب آتا ہے لیکن اللہ کی بعض پوشیدہ حکمتوں کی وجہ سے کبھی کبھار یہ غلبہ دیر سے آتا ہے اور ان حکمتوں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ کچھ مقاصد ہوتے جن کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے لیکن یہ سنت پوری ہوکر رہتی ہیں اور آخر کار حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ انسان کا ایمان اس وقت تک پورا اور مکمل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس سنت کے اٹل ہونے پر ایمان نہ لائے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کی کامیابی کے لیے اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اس سے قبل یہ کامیابی نہیں آسکتی۔ انسان اگر جلدی کرتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔
نبی ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے بڑی مشکلات درپیش تھیں ، بات بات پر وہ جھگڑتے تھے ، کٹ جحتی اور ہٹ دھرمی کرتے تھے۔ محض عناد کی وجہ سے بادی النظر چیزوں کو بھی نہ مانتے تھے۔ حضور ﷺ کی جدوجہد اور نہایت ہی واضح بیان و تبلیغ کے بعد بھی وہ کفر پر اصرار کر رہے تھے۔ قرآن کریم کے بار بار کے خطاب کو نظر انداز کر رہے تھے۔ ان سب باتوں پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے تو تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے ، کوئی قصور نہیں کیا ہے ، لیکن بات کو وہ لوگ سنتے ہیں جو زندہ ہوں اور ان کے کانوں کے پردے حساس ہوں۔ مردے تو کبھی سنا نہیں کرتے۔ مردوں کا دماغ مرچکا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے عاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مردے نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ بس آپ کی قوم کے دل و دماغ مرچکے ہیں۔ لہٰذا ان کو سنانا اب نہ سنانے کے برابر ہوگیا ہے۔ ہدایت پر آنے کی ان کے سامنے کوئی سبیل باقی نہیں ہے۔ اب چھوڑدیں ان کو اپنی گمراہی اور سرکشی اور بےراہ روی پر۔
انک لا تسمع ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (27: 80- 81) ” تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ، نہ ان بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو ، جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں ، اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔ تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔
قرآن کریم نے نہایت ہی عجیب انداز میں ان لوگوں کی نظریاتی اور نفسیاتی حالت کی تصویر کشی کی ہے۔ چناچہ غیر محسوس معانی کو محسوس شکل دے دی ہے۔ قلبی جمود ، روح کی مردنی ، کند ذہنی اور شعور کی گراؤٹ کو یوں بیان کیا ہے کہ گویا یہ لوگ مردے ہیں اور بہرے ہیں اور رسول ان کو پکار رہا ہے۔ یہ نہیں سنتے ، نہ جواب دیتے ہیں۔ کیونکہ مردے نہ سنتے ہیں ، نہ ان کو شعور ہوتا ہے اور نہ جواب دے سکتے ہیں۔ ایک دوسری محسوس صورت یوں ہے کہ ایک شخص بہرا ہے۔ بالکل نہیں سنتا اور پکار والے کی طرف اس کا رخ بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ مخالف سمت پر جا رہا ہے۔ ایسے شخص کو لاکھ پکارو وہ نہ سنے گا۔ کبھی قرآن ان کو اس شکل میں لاتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ ایک اندھا شخص راہ راست پر کیسے جاسکتا ہے۔ جب اسے اگلے قدم پر کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ ان آیات میں ان تمام صورتوں کو نہایت ہی مجسم و شخصی صورت میں پیش کردیا گیا ہے۔
اب ان مردوں ، بہروں اور اندھوں کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں۔ یہ زندہ ہیں ، یہ سنتے ہیں ، یہ دیکھتے ہیں۔
ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (27: 81) ” آپ اپنی بات انہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔ یعنی جن لوگوں کے اندر زندگی ، قوت سامعہ اور قوت باصرہ ہے۔ آپ انہی کو سنا سکتے ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کو سنائیں۔ یہ علامات زندگی ہیں اور شعور زندہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ سننے والے اور دیکھنے والے ہی دعوت کو قبول کرسکتے ہیں اور یہ اہل ایمان ہی ہیں جن کے اندر حیات ، سماعت اور بصارت پائی جاتی ہے۔ ان لوگوں پر رسول اللہ ﷺ نے کام کیا۔ انہوں نے دعوت کو قبول کیا اور سرتسلیم خم کردیا۔
اسلام بہت ہی سادہ اور قریب الفہم دین ہے۔ فطرت سلیم کے بہت ہی قریب ہے۔ قلب سلیم اور فطرت سلیم دعوت اسلامی کو پاتے ہی قبول کرتے ہیں اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ وہ پھر قیل و قال اور جدل وجدال میں نہیں پڑتے۔ یہی تصویر ہے اہل ایمان کی اور ایسے ہی لوگوں کو دعوت دینا چاہئے۔ ایسے لوگ دعوت کو سنتے ہی اس کی طرف لپکتے ہیں اور فوراً ایمان لاتے ہیں۔ مردوں کو اپنی جگہ پر چھوڑ کر داعی کو ایسے لوگوں تک پہنچنا چاہئے جو قبولیت کے لیے تیار ہوں۔
النمل 27:79
ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81)
نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے بصورت انسان پیدا ہوئے۔ ایک جماعت نے کہا کہ ابن ازلی نہیں ہے ، جس طرح باپ ازلی ہے۔ ہاں وہ عالم سے قبل پیدا کردہ ہے۔ لہٰذا وہ رب سے کم درجے کا ہے اور رب کے تابع فرمان ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ روح القدس اقتوم نہیں ہے اور نیقیا کی مجلس منعقدہ 325 نے یہ فیصلہ کیا اور قسطنطینہ کی مجلس 381 نے اس کی توثیق کی کہ ابن اور روح القدس باپ کے برابر ہیں اور یہ بھی لاہوت کی وحدت کا حصہ ہیں۔ یہ بیٹے بھی ازل ہی میں پیدا ہوئے تھے جبکہ روح القدس رب سے نکلے ہیں۔ اور طیفلہ کی مجلس منعقدہ 589 نے یہ فیصلہ کیا کہ روح القدس ابن سے نکلا ہے۔ اس نکتے پر مشرقی اور مغربی کنیہ کے درمیان افتراق پیدا ہوگیا جو آج تک نکتہ اختلاف ہے۔ قرآن کریم جب نازل ہوا تو اس نے ایک فیصلہ کن بات کردی کہ وہ ایک کلمہ ہے جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔ اور وہ بشر ہیں
ان ھو الا ۔۔۔۔۔ اسراء یل (43: 59) ” نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنا دیا “۔ یہ تھی وہ فیصلہ کن بات جس میں ان کے درمیان اختلاف رائے تھا۔
اسی طرح بنی اسرائیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سولی پر چٖڑھائے جانے کے مسئلے میں بھی اختلاف ہوا۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کو سولی پر چڑھایا گیا۔ آپ فوت ہوگئے اور دفن کر دئیے گئے اور تین دنوں کے بعد آپ اپنی قبر سے نکلے اور آسمانوں کی طرف اٹھالیے گئے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے حواریوں میں سے ایک شخص یہوذا کو حضرت مسیح کے مشابہ بنا دیا گیا اور اس کو سولی دے دی گئی اس لیے کہ اس شخص نے حضرت مسیح کے ساتھ خیانت کی تھی اور حکومت کو آپ کی نشاندہی کی تھی اور آپ گرفتار ہوگئے تھے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے ایک حواری شمعون کو آپ کا مشابہ بنا دیا گیا اور وہ گرفتار ہوئے۔ قرآن کریم نے اصل بتا دی وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم (4: 157) ” انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ سولی پر چڑھایا ، لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا “۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید نے فرمایا :
یا عیسیٰ انی ۔۔۔۔۔۔ ومطھرک (3: 55) ” اے عیسیٰ میں تمہیں واپس لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں پاک کرنے والا ہوں “۔ یہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں فیصلہ کن بات تھی۔
اس سے قبل یہودیوں نے بھی تورات کی شریعت کو بدل دیا تھا۔ کئی احکام میں تحریفات کردی گئی تھی۔ قرآن مجید آیا تو اصل شریعت بتا دی۔
وکتبنا علیھم فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ قصاص ” تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ “۔ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی تاریخ اور ان کے انبیاء کے بارے میں حقائق بتائے۔ اور ان حقائق میں سے ان قصے اور کہانیوں اور افسانوں کو علیحدہ کرکے صاف کردیا جو ان حقائق کے ساتھ انہوں نے ناحق ملا دئیے تھے۔ یہ افسانے ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی نبی بھی معصوم اور پاک ہوکر نہیں نکل سکتا تھا۔ ان کے افسانوں کے چند نمونے مشہور ہیں۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ انہوں نے ابو مالک شاہ فلسطین اور فرعون شاہ مصر کے سامنے اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پیش کیا۔ اور ان کے کہنے کے مطابق حضرت ابراہیم ان کی نظروں میں مقام بلند حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن کا نام اسرائیل تھا ، انہوں نے خود اپنے باپ اسحاق سے ، حضرت ابراہیم کی برکات حیلہ سازی ، جھوٹ اور چوری کے طور پر حاصل کیں۔ جبکہ یہ تبرکات ان کے بڑے بھائی عیصو کی ملکیت تھیں۔ اور حضرت لوط کے بارے میں ان کی روایات یہ ہیں کہ ان کی دو بیٹیوں نے ان کی میراث اوروں کے پاس نہ چلی جائے اور جس طرح ان لڑکیوں نے چاہا ایسا ہی ہوا۔ اور داؤد نے اپنے محل میں ایک خوبصورت عورت کو دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ ان کے فوجی کی بیوی ہے۔ پھر اس فوجی کو انہوں نے ایک ہلاکت آفرین مہم میں بھیجا تاکہ وہ بیوی کو حاصل کرسکیں۔ اور سلیمان لعل کی عبادت کی طرف مائل ہوگئے۔ محض اپنی عورتوں میں سے ایک عورت کو خوش کرنے کے لئے ، کیونکہ ان کو اس کے ساتھ محبت تھی اور وہ اس کے مطالبے کو رد نہ کرسکتے تھے۔ یہ تھے ان کے الزامات اپنے پیغمبروں پر۔
اور جب قرآن کریم نازل ہوا تو اللہ نے تمام پیغمبروں کی صفائی بیان کی اور ان اوہام اور افسانوں کو پیغمبروں کی سیرتوں سے نکال دیا۔ کیونکہ یہ اوہام یہود و نصاریٰ نے خود اپنی کتابوں کے اندر داخل کر دئیے تھے۔ خصوصا قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی ذات کے ساتھ منسوب تمام غلط باتوں کی نفی کی اور وہ صحیح تعلیمات بیان کردیں جو اللہ کی طرف سے تھیں۔ اس مفہوم میں اس قرآن کو سابقہ کتب کے لیے مہیمن کہا گیا ہے کہ وہ سابقہ کتب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور تمام اختلافی اور جدلیاتی مسائل میں فیصلہ کن بات کرتا ہے۔
وانا لھدی ورحمۃ للمومنین (27: 77) ” اور یہ ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے “۔ یہ وہ ہدایت ہے جو اہل ایمان کو ضلالت اور اختلاف سے بچاتا ہے۔ ان کو ایک منہاج حیات دیتا ہے۔ زندگی کی راہ میں ان کے ساتھ معاونت کرتا ہے اور ان کو اپنی تعلیماے اور نظریات دیتا ہے جو اس پوری کائنات میں موجود سنن الہیہ سے ہم آہنگ ہیں۔ اور یہ قرآن ہدایت کے ساتھ رحمت بھی ہے ۔ انسانوں کو شک ، بےچینی اور پریشانی اور بےیقینی سے نجات دیتا ہے۔ اور انسان کو ایسے کچے نظریات سے بچاتا ہے جو آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔ پائے چوبیں رکھتے ہیں اور اپنے حال پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ اس کی تعلیمات انسان کو مطمئن کرکے اللہ کے جوار رحمت اور بارگاہ سکون تک پہنچاتی ہیں۔ اس طرح انسان اپنے ماحول ، اپنی سوسائٹی اور کود اپنے افکار کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور عظیم ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ انسانی نفس کی تربیت اور از سر نو قوانین فطرت کے مطابق اس کی تسکیل و تصفیل کے معاملے میں قرآنی طریق کار ایک منفرد طریق کار ہے۔ اس طریق کار کے مطابق انسان اپنی زندگی ان قوانین فطرت کے مطابق گزارتا ہے جو خود اس کائنات میں بھی جاری وساری ہیں اور اس طرح انسان کی زندگی نہایت سکون کے ساتھ ، فطری انداز میں گزرتی ہے۔ اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی۔ اسلامی منہاج تربیت کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کی گہرائیوں تک میں اطمینان محسوس کرتا ہے اور یہ بہت بڑی دولت ہوتی ہے۔ اور یہ اطمینان اسے اس وجہ سے حاصل ہوتا ہے کہ اسلامی نظام تربیت کے مطابق انسان کی زندگی قوانین فطرت کے ساتھ متصادم نہیں ہوتی اور نہ انسان قوانین فطرت اور ان کے مطابق چلنے والی اس کائنات سے متصادم ہوتا ہے ، نہ انسانی اخلاقیات ان قوانین فطرت سے متصادم ہوتی ہیں۔ بشرطیکہ انسان قوانین فطرت اور نوامیس کو اچھی طرح معلوم کرسکے اور وہ مقامات معلوم کرلے جہاں انسانی شخصیت اور اس کائنات کے درمیان باہم اتصال ہوتا ہے۔ اور انسان اس نتیجے تک پہنچ جائے کہ انسانی فطرت اور کائناتی فطرت اور اسلامی نظام زندگی کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ وہ باہم متناسب اور ہم آہنگ ہیں۔ یہ ہے وہ عظیم سلامتی جو انسانی شخصیت اور انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی اس عظیم کائنات کے درمیان قائم ہوتی ہے اور اس سلامتی کے نتیجے میں انسانی سوسائٹی نہایت ہی پر سکون زندگی بسر کرتی ہے۔ اور یہ ہے وہ رحمت جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے۔ یہ رحمت الہیہ کا وسیع تر مفہوم ہے۔
ان اشارات کے بعد کہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے بیشتر نطریاتی مسائل کو حل کرتا ہے ، ان کے اختلافات کو دور کرتا ہے اور اہل ایمان کو ایک فطری نظام زندگی دے کر ان کو عظیم سکون اور سلامتی عطا کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ کو یہ تسلی دیتا ہے کہ آپ کی قوم آپ کے ساتھ ناحق مجادلہ کر رہی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی عنقریب اللہ کر دے گا ۔ ایسا فیصلہ جسے کوئی رد نہ کرسکے گا۔ کیونکہ اللہ کے فیصلے حقائق اور صحیح علم پر مبنی ہوتے ہیں۔
فتوکل علی اللہ انک علی الحق المبین (27: 79) ” پس اے نبی ﷺ ، اللہ پر بھروسہ رکھو یقیناً تم صریح حق پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی نصرت کرنا ، حق کو غالب کرنا ، اپنے اوپر اسی طرح لازم قرار دیا ہے جس طرح اس کائنات میں اللہ کے دوسرے چلنے والے قوانین لازمی اور اٹل ہیں۔ یہ قوانین رکتے نہیں ، اسی طرح حق بھی غالب آتا ہے لیکن اللہ کی بعض پوشیدہ حکمتوں کی وجہ سے کبھی کبھار یہ غلبہ دیر سے آتا ہے اور ان حکمتوں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ کچھ مقاصد ہوتے جن کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے لیکن یہ سنت پوری ہوکر رہتی ہیں اور آخر کار حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ انسان کا ایمان اس وقت تک پورا اور مکمل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس سنت کے اٹل ہونے پر ایمان نہ لائے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کی کامیابی کے لیے اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اس سے قبل یہ کامیابی نہیں آسکتی۔ انسان اگر جلدی کرتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔
نبی ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے بڑی مشکلات درپیش تھیں ، بات بات پر وہ جھگڑتے تھے ، کٹ جحتی اور ہٹ دھرمی کرتے تھے۔ محض عناد کی وجہ سے بادی النظر چیزوں کو بھی نہ مانتے تھے۔ حضور ﷺ کی جدوجہد اور نہایت ہی واضح بیان و تبلیغ کے بعد بھی وہ کفر پر اصرار کر رہے تھے۔ قرآن کریم کے بار بار کے خطاب کو نظر انداز کر رہے تھے۔ ان سب باتوں پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے تو تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے ، کوئی قصور نہیں کیا ہے ، لیکن بات کو وہ لوگ سنتے ہیں جو زندہ ہوں اور ان کے کانوں کے پردے حساس ہوں۔ مردے تو کبھی سنا نہیں کرتے۔ مردوں کا دماغ مرچکا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے عاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مردے نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ بس آپ کی قوم کے دل و دماغ مرچکے ہیں۔ لہٰذا ان کو سنانا اب نہ سنانے کے برابر ہوگیا ہے۔ ہدایت پر آنے کی ان کے سامنے کوئی سبیل باقی نہیں ہے۔ اب چھوڑدیں ان کو اپنی گمراہی اور سرکشی اور بےراہ روی پر۔
انک لا تسمع ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (27: 80- 81) ” تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ، نہ ان بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو ، جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں ، اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔ تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔
قرآن کریم نے نہایت ہی عجیب انداز میں ان لوگوں کی نظریاتی اور نفسیاتی حالت کی تصویر کشی کی ہے۔ چناچہ غیر محسوس معانی کو محسوس شکل دے دی ہے۔ قلبی جمود ، روح کی مردنی ، کند ذہنی اور شعور کی گراؤٹ کو یوں بیان کیا ہے کہ گویا یہ لوگ مردے ہیں اور بہرے ہیں اور رسول ان کو پکار رہا ہے۔ یہ نہیں سنتے ، نہ جواب دیتے ہیں۔ کیونکہ مردے نہ سنتے ہیں ، نہ ان کو شعور ہوتا ہے اور نہ جواب دے سکتے ہیں۔ ایک دوسری محسوس صورت یوں ہے کہ ایک شخص بہرا ہے۔ بالکل نہیں سنتا اور پکار والے کی طرف اس کا رخ بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ مخالف سمت پر جا رہا ہے۔ ایسے شخص کو لاکھ پکارو وہ نہ سنے گا۔ کبھی قرآن ان کو اس شکل میں لاتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ ایک اندھا شخص راہ راست پر کیسے جاسکتا ہے۔ جب اسے اگلے قدم پر کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ ان آیات میں ان تمام صورتوں کو نہایت ہی مجسم و شخصی صورت میں پیش کردیا گیا ہے۔
اب ان مردوں ، بہروں اور اندھوں کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں۔ یہ زندہ ہیں ، یہ سنتے ہیں ، یہ دیکھتے ہیں۔
ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (27: 81) ” آپ اپنی بات انہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔ یعنی جن لوگوں کے اندر زندگی ، قوت سامعہ اور قوت باصرہ ہے۔ آپ انہی کو سنا سکتے ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کو سنائیں۔ یہ علامات زندگی ہیں اور شعور زندہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ سننے والے اور دیکھنے والے ہی دعوت کو قبول کرسکتے ہیں اور یہ اہل ایمان ہی ہیں جن کے اندر حیات ، سماعت اور بصارت پائی جاتی ہے۔ ان لوگوں پر رسول اللہ ﷺ نے کام کیا۔ انہوں نے دعوت کو قبول کیا اور سرتسلیم خم کردیا۔
اسلام بہت ہی سادہ اور قریب الفہم دین ہے۔ فطرت سلیم کے بہت ہی قریب ہے۔ قلب سلیم اور فطرت سلیم دعوت اسلامی کو پاتے ہی قبول کرتے ہیں اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ وہ پھر قیل و قال اور جدل وجدال میں نہیں پڑتے۔ یہی تصویر ہے اہل ایمان کی اور ایسے ہی لوگوں کو دعوت دینا چاہئے۔ ایسے لوگ دعوت کو سنتے ہی اس کی طرف لپکتے ہیں اور فوراً ایمان لاتے ہیں۔ مردوں کو اپنی جگہ پر چھوڑ کر داعی کو ایسے لوگوں تک پہنچنا چاہئے جو قبولیت کے لیے تیار ہوں۔
النمل 27:80
ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81)
نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے بصورت انسان پیدا ہوئے۔ ایک جماعت نے کہا کہ ابن ازلی نہیں ہے ، جس طرح باپ ازلی ہے۔ ہاں وہ عالم سے قبل پیدا کردہ ہے۔ لہٰذا وہ رب سے کم درجے کا ہے اور رب کے تابع فرمان ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ روح القدس اقتوم نہیں ہے اور نیقیا کی مجلس منعقدہ 325 نے یہ فیصلہ کیا اور قسطنطینہ کی مجلس 381 نے اس کی توثیق کی کہ ابن اور روح القدس باپ کے برابر ہیں اور یہ بھی لاہوت کی وحدت کا حصہ ہیں۔ یہ بیٹے بھی ازل ہی میں پیدا ہوئے تھے جبکہ روح القدس رب سے نکلے ہیں۔ اور طیفلہ کی مجلس منعقدہ 589 نے یہ فیصلہ کیا کہ روح القدس ابن سے نکلا ہے۔ اس نکتے پر مشرقی اور مغربی کنیہ کے درمیان افتراق پیدا ہوگیا جو آج تک نکتہ اختلاف ہے۔ قرآن کریم جب نازل ہوا تو اس نے ایک فیصلہ کن بات کردی کہ وہ ایک کلمہ ہے جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔ اور وہ بشر ہیں
ان ھو الا ۔۔۔۔۔ اسراء یل (43: 59) ” نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنا دیا “۔ یہ تھی وہ فیصلہ کن بات جس میں ان کے درمیان اختلاف رائے تھا۔
اسی طرح بنی اسرائیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سولی پر چٖڑھائے جانے کے مسئلے میں بھی اختلاف ہوا۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کو سولی پر چڑھایا گیا۔ آپ فوت ہوگئے اور دفن کر دئیے گئے اور تین دنوں کے بعد آپ اپنی قبر سے نکلے اور آسمانوں کی طرف اٹھالیے گئے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے حواریوں میں سے ایک شخص یہوذا کو حضرت مسیح کے مشابہ بنا دیا گیا اور اس کو سولی دے دی گئی اس لیے کہ اس شخص نے حضرت مسیح کے ساتھ خیانت کی تھی اور حکومت کو آپ کی نشاندہی کی تھی اور آپ گرفتار ہوگئے تھے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے ایک حواری شمعون کو آپ کا مشابہ بنا دیا گیا اور وہ گرفتار ہوئے۔ قرآن کریم نے اصل بتا دی وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم (4: 157) ” انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ سولی پر چڑھایا ، لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا “۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید نے فرمایا :
یا عیسیٰ انی ۔۔۔۔۔۔ ومطھرک (3: 55) ” اے عیسیٰ میں تمہیں واپس لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں پاک کرنے والا ہوں “۔ یہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں فیصلہ کن بات تھی۔
اس سے قبل یہودیوں نے بھی تورات کی شریعت کو بدل دیا تھا۔ کئی احکام میں تحریفات کردی گئی تھی۔ قرآن مجید آیا تو اصل شریعت بتا دی۔
وکتبنا علیھم فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ قصاص ” تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ “۔ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی تاریخ اور ان کے انبیاء کے بارے میں حقائق بتائے۔ اور ان حقائق میں سے ان قصے اور کہانیوں اور افسانوں کو علیحدہ کرکے صاف کردیا جو ان حقائق کے ساتھ انہوں نے ناحق ملا دئیے تھے۔ یہ افسانے ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی نبی بھی معصوم اور پاک ہوکر نہیں نکل سکتا تھا۔ ان کے افسانوں کے چند نمونے مشہور ہیں۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ انہوں نے ابو مالک شاہ فلسطین اور فرعون شاہ مصر کے سامنے اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پیش کیا۔ اور ان کے کہنے کے مطابق حضرت ابراہیم ان کی نظروں میں مقام بلند حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن کا نام اسرائیل تھا ، انہوں نے خود اپنے باپ اسحاق سے ، حضرت ابراہیم کی برکات حیلہ سازی ، جھوٹ اور چوری کے طور پر حاصل کیں۔ جبکہ یہ تبرکات ان کے بڑے بھائی عیصو کی ملکیت تھیں۔ اور حضرت لوط کے بارے میں ان کی روایات یہ ہیں کہ ان کی دو بیٹیوں نے ان کی میراث اوروں کے پاس نہ چلی جائے اور جس طرح ان لڑکیوں نے چاہا ایسا ہی ہوا۔ اور داؤد نے اپنے محل میں ایک خوبصورت عورت کو دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ ان کے فوجی کی بیوی ہے۔ پھر اس فوجی کو انہوں نے ایک ہلاکت آفرین مہم میں بھیجا تاکہ وہ بیوی کو حاصل کرسکیں۔ اور سلیمان لعل کی عبادت کی طرف مائل ہوگئے۔ محض اپنی عورتوں میں سے ایک عورت کو خوش کرنے کے لئے ، کیونکہ ان کو اس کے ساتھ محبت تھی اور وہ اس کے مطالبے کو رد نہ کرسکتے تھے۔ یہ تھے ان کے الزامات اپنے پیغمبروں پر۔
اور جب قرآن کریم نازل ہوا تو اللہ نے تمام پیغمبروں کی صفائی بیان کی اور ان اوہام اور افسانوں کو پیغمبروں کی سیرتوں سے نکال دیا۔ کیونکہ یہ اوہام یہود و نصاریٰ نے خود اپنی کتابوں کے اندر داخل کر دئیے تھے۔ خصوصا قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی ذات کے ساتھ منسوب تمام غلط باتوں کی نفی کی اور وہ صحیح تعلیمات بیان کردیں جو اللہ کی طرف سے تھیں۔ اس مفہوم میں اس قرآن کو سابقہ کتب کے لیے مہیمن کہا گیا ہے کہ وہ سابقہ کتب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور تمام اختلافی اور جدلیاتی مسائل میں فیصلہ کن بات کرتا ہے۔
وانا لھدی ورحمۃ للمومنین (27: 77) ” اور یہ ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے “۔ یہ وہ ہدایت ہے جو اہل ایمان کو ضلالت اور اختلاف سے بچاتا ہے۔ ان کو ایک منہاج حیات دیتا ہے۔ زندگی کی راہ میں ان کے ساتھ معاونت کرتا ہے اور ان کو اپنی تعلیماے اور نظریات دیتا ہے جو اس پوری کائنات میں موجود سنن الہیہ سے ہم آہنگ ہیں۔ اور یہ قرآن ہدایت کے ساتھ رحمت بھی ہے ۔ انسانوں کو شک ، بےچینی اور پریشانی اور بےیقینی سے نجات دیتا ہے۔ اور انسان کو ایسے کچے نظریات سے بچاتا ہے جو آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔ پائے چوبیں رکھتے ہیں اور اپنے حال پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ اس کی تعلیمات انسان کو مطمئن کرکے اللہ کے جوار رحمت اور بارگاہ سکون تک پہنچاتی ہیں۔ اس طرح انسان اپنے ماحول ، اپنی سوسائٹی اور کود اپنے افکار کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور عظیم ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ انسانی نفس کی تربیت اور از سر نو قوانین فطرت کے مطابق اس کی تسکیل و تصفیل کے معاملے میں قرآنی طریق کار ایک منفرد طریق کار ہے۔ اس طریق کار کے مطابق انسان اپنی زندگی ان قوانین فطرت کے مطابق گزارتا ہے جو خود اس کائنات میں بھی جاری وساری ہیں اور اس طرح انسان کی زندگی نہایت سکون کے ساتھ ، فطری انداز میں گزرتی ہے۔ اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی۔ اسلامی منہاج تربیت کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کی گہرائیوں تک میں اطمینان محسوس کرتا ہے اور یہ بہت بڑی دولت ہوتی ہے۔ اور یہ اطمینان اسے اس وجہ سے حاصل ہوتا ہے کہ اسلامی نظام تربیت کے مطابق انسان کی زندگی قوانین فطرت کے ساتھ متصادم نہیں ہوتی اور نہ انسان قوانین فطرت اور ان کے مطابق چلنے والی اس کائنات سے متصادم ہوتا ہے ، نہ انسانی اخلاقیات ان قوانین فطرت سے متصادم ہوتی ہیں۔ بشرطیکہ انسان قوانین فطرت اور نوامیس کو اچھی طرح معلوم کرسکے اور وہ مقامات معلوم کرلے جہاں انسانی شخصیت اور اس کائنات کے درمیان باہم اتصال ہوتا ہے۔ اور انسان اس نتیجے تک پہنچ جائے کہ انسانی فطرت اور کائناتی فطرت اور اسلامی نظام زندگی کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ وہ باہم متناسب اور ہم آہنگ ہیں۔ یہ ہے وہ عظیم سلامتی جو انسانی شخصیت اور انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی اس عظیم کائنات کے درمیان قائم ہوتی ہے اور اس سلامتی کے نتیجے میں انسانی سوسائٹی نہایت ہی پر سکون زندگی بسر کرتی ہے۔ اور یہ ہے وہ رحمت جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے۔ یہ رحمت الہیہ کا وسیع تر مفہوم ہے۔
ان اشارات کے بعد کہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے بیشتر نطریاتی مسائل کو حل کرتا ہے ، ان کے اختلافات کو دور کرتا ہے اور اہل ایمان کو ایک فطری نظام زندگی دے کر ان کو عظیم سکون اور سلامتی عطا کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ کو یہ تسلی دیتا ہے کہ آپ کی قوم آپ کے ساتھ ناحق مجادلہ کر رہی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی عنقریب اللہ کر دے گا ۔ ایسا فیصلہ جسے کوئی رد نہ کرسکے گا۔ کیونکہ اللہ کے فیصلے حقائق اور صحیح علم پر مبنی ہوتے ہیں۔
فتوکل علی اللہ انک علی الحق المبین (27: 79) ” پس اے نبی ﷺ ، اللہ پر بھروسہ رکھو یقیناً تم صریح حق پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی نصرت کرنا ، حق کو غالب کرنا ، اپنے اوپر اسی طرح لازم قرار دیا ہے جس طرح اس کائنات میں اللہ کے دوسرے چلنے والے قوانین لازمی اور اٹل ہیں۔ یہ قوانین رکتے نہیں ، اسی طرح حق بھی غالب آتا ہے لیکن اللہ کی بعض پوشیدہ حکمتوں کی وجہ سے کبھی کبھار یہ غلبہ دیر سے آتا ہے اور ان حکمتوں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ کچھ مقاصد ہوتے جن کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے لیکن یہ سنت پوری ہوکر رہتی ہیں اور آخر کار حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ انسان کا ایمان اس وقت تک پورا اور مکمل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس سنت کے اٹل ہونے پر ایمان نہ لائے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کی کامیابی کے لیے اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اس سے قبل یہ کامیابی نہیں آسکتی۔ انسان اگر جلدی کرتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔
نبی ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے بڑی مشکلات درپیش تھیں ، بات بات پر وہ جھگڑتے تھے ، کٹ جحتی اور ہٹ دھرمی کرتے تھے۔ محض عناد کی وجہ سے بادی النظر چیزوں کو بھی نہ مانتے تھے۔ حضور ﷺ کی جدوجہد اور نہایت ہی واضح بیان و تبلیغ کے بعد بھی وہ کفر پر اصرار کر رہے تھے۔ قرآن کریم کے بار بار کے خطاب کو نظر انداز کر رہے تھے۔ ان سب باتوں پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے تو تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے ، کوئی قصور نہیں کیا ہے ، لیکن بات کو وہ لوگ سنتے ہیں جو زندہ ہوں اور ان کے کانوں کے پردے حساس ہوں۔ مردے تو کبھی سنا نہیں کرتے۔ مردوں کا دماغ مرچکا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے عاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مردے نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ بس آپ کی قوم کے دل و دماغ مرچکے ہیں۔ لہٰذا ان کو سنانا اب نہ سنانے کے برابر ہوگیا ہے۔ ہدایت پر آنے کی ان کے سامنے کوئی سبیل باقی نہیں ہے۔ اب چھوڑدیں ان کو اپنی گمراہی اور سرکشی اور بےراہ روی پر۔
انک لا تسمع ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (27: 80- 81) ” تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ، نہ ان بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو ، جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں ، اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔ تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔
قرآن کریم نے نہایت ہی عجیب انداز میں ان لوگوں کی نظریاتی اور نفسیاتی حالت کی تصویر کشی کی ہے۔ چناچہ غیر محسوس معانی کو محسوس شکل دے دی ہے۔ قلبی جمود ، روح کی مردنی ، کند ذہنی اور شعور کی گراؤٹ کو یوں بیان کیا ہے کہ گویا یہ لوگ مردے ہیں اور بہرے ہیں اور رسول ان کو پکار رہا ہے۔ یہ نہیں سنتے ، نہ جواب دیتے ہیں۔ کیونکہ مردے نہ سنتے ہیں ، نہ ان کو شعور ہوتا ہے اور نہ جواب دے سکتے ہیں۔ ایک دوسری محسوس صورت یوں ہے کہ ایک شخص بہرا ہے۔ بالکل نہیں سنتا اور پکار والے کی طرف اس کا رخ بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ مخالف سمت پر جا رہا ہے۔ ایسے شخص کو لاکھ پکارو وہ نہ سنے گا۔ کبھی قرآن ان کو اس شکل میں لاتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ ایک اندھا شخص راہ راست پر کیسے جاسکتا ہے۔ جب اسے اگلے قدم پر کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ ان آیات میں ان تمام صورتوں کو نہایت ہی مجسم و شخصی صورت میں پیش کردیا گیا ہے۔
اب ان مردوں ، بہروں اور اندھوں کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں۔ یہ زندہ ہیں ، یہ سنتے ہیں ، یہ دیکھتے ہیں۔
ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (27: 81) ” آپ اپنی بات انہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔ یعنی جن لوگوں کے اندر زندگی ، قوت سامعہ اور قوت باصرہ ہے۔ آپ انہی کو سنا سکتے ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کو سنائیں۔ یہ علامات زندگی ہیں اور شعور زندہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ سننے والے اور دیکھنے والے ہی دعوت کو قبول کرسکتے ہیں اور یہ اہل ایمان ہی ہیں جن کے اندر حیات ، سماعت اور بصارت پائی جاتی ہے۔ ان لوگوں پر رسول اللہ ﷺ نے کام کیا۔ انہوں نے دعوت کو قبول کیا اور سرتسلیم خم کردیا۔
اسلام بہت ہی سادہ اور قریب الفہم دین ہے۔ فطرت سلیم کے بہت ہی قریب ہے۔ قلب سلیم اور فطرت سلیم دعوت اسلامی کو پاتے ہی قبول کرتے ہیں اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ وہ پھر قیل و قال اور جدل وجدال میں نہیں پڑتے۔ یہی تصویر ہے اہل ایمان کی اور ایسے ہی لوگوں کو دعوت دینا چاہئے۔ ایسے لوگ دعوت کو سنتے ہی اس کی طرف لپکتے ہیں اور فوراً ایمان لاتے ہیں۔ مردوں کو اپنی جگہ پر چھوڑ کر داعی کو ایسے لوگوں تک پہنچنا چاہئے جو قبولیت کے لیے تیار ہوں۔
النمل 27:81
ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81)
نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے بصورت انسان پیدا ہوئے۔ ایک جماعت نے کہا کہ ابن ازلی نہیں ہے ، جس طرح باپ ازلی ہے۔ ہاں وہ عالم سے قبل پیدا کردہ ہے۔ لہٰذا وہ رب سے کم درجے کا ہے اور رب کے تابع فرمان ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ روح القدس اقتوم نہیں ہے اور نیقیا کی مجلس منعقدہ 325 نے یہ فیصلہ کیا اور قسطنطینہ کی مجلس 381 نے اس کی توثیق کی کہ ابن اور روح القدس باپ کے برابر ہیں اور یہ بھی لاہوت کی وحدت کا حصہ ہیں۔ یہ بیٹے بھی ازل ہی میں پیدا ہوئے تھے جبکہ روح القدس رب سے نکلے ہیں۔ اور طیفلہ کی مجلس منعقدہ 589 نے یہ فیصلہ کیا کہ روح القدس ابن سے نکلا ہے۔ اس نکتے پر مشرقی اور مغربی کنیہ کے درمیان افتراق پیدا ہوگیا جو آج تک نکتہ اختلاف ہے۔ قرآن کریم جب نازل ہوا تو اس نے ایک فیصلہ کن بات کردی کہ وہ ایک کلمہ ہے جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔ اور وہ بشر ہیں
ان ھو الا ۔۔۔۔۔ اسراء یل (43: 59) ” نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنا دیا “۔ یہ تھی وہ فیصلہ کن بات جس میں ان کے درمیان اختلاف رائے تھا۔
اسی طرح بنی اسرائیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سولی پر چٖڑھائے جانے کے مسئلے میں بھی اختلاف ہوا۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کو سولی پر چڑھایا گیا۔ آپ فوت ہوگئے اور دفن کر دئیے گئے اور تین دنوں کے بعد آپ اپنی قبر سے نکلے اور آسمانوں کی طرف اٹھالیے گئے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے حواریوں میں سے ایک شخص یہوذا کو حضرت مسیح کے مشابہ بنا دیا گیا اور اس کو سولی دے دی گئی اس لیے کہ اس شخص نے حضرت مسیح کے ساتھ خیانت کی تھی اور حکومت کو آپ کی نشاندہی کی تھی اور آپ گرفتار ہوگئے تھے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے ایک حواری شمعون کو آپ کا مشابہ بنا دیا گیا اور وہ گرفتار ہوئے۔ قرآن کریم نے اصل بتا دی وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم (4: 157) ” انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ سولی پر چڑھایا ، لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا “۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید نے فرمایا :
یا عیسیٰ انی ۔۔۔۔۔۔ ومطھرک (3: 55) ” اے عیسیٰ میں تمہیں واپس لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں پاک کرنے والا ہوں “۔ یہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں فیصلہ کن بات تھی۔
اس سے قبل یہودیوں نے بھی تورات کی شریعت کو بدل دیا تھا۔ کئی احکام میں تحریفات کردی گئی تھی۔ قرآن مجید آیا تو اصل شریعت بتا دی۔
وکتبنا علیھم فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ قصاص ” تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ “۔ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی تاریخ اور ان کے انبیاء کے بارے میں حقائق بتائے۔ اور ان حقائق میں سے ان قصے اور کہانیوں اور افسانوں کو علیحدہ کرکے صاف کردیا جو ان حقائق کے ساتھ انہوں نے ناحق ملا دئیے تھے۔ یہ افسانے ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی نبی بھی معصوم اور پاک ہوکر نہیں نکل سکتا تھا۔ ان کے افسانوں کے چند نمونے مشہور ہیں۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ انہوں نے ابو مالک شاہ فلسطین اور فرعون شاہ مصر کے سامنے اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پیش کیا۔ اور ان کے کہنے کے مطابق حضرت ابراہیم ان کی نظروں میں مقام بلند حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن کا نام اسرائیل تھا ، انہوں نے خود اپنے باپ اسحاق سے ، حضرت ابراہیم کی برکات حیلہ سازی ، جھوٹ اور چوری کے طور پر حاصل کیں۔ جبکہ یہ تبرکات ان کے بڑے بھائی عیصو کی ملکیت تھیں۔ اور حضرت لوط کے بارے میں ان کی روایات یہ ہیں کہ ان کی دو بیٹیوں نے ان کی میراث اوروں کے پاس نہ چلی جائے اور جس طرح ان لڑکیوں نے چاہا ایسا ہی ہوا۔ اور داؤد نے اپنے محل میں ایک خوبصورت عورت کو دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ ان کے فوجی کی بیوی ہے۔ پھر اس فوجی کو انہوں نے ایک ہلاکت آفرین مہم میں بھیجا تاکہ وہ بیوی کو حاصل کرسکیں۔ اور سلیمان لعل کی عبادت کی طرف مائل ہوگئے۔ محض اپنی عورتوں میں سے ایک عورت کو خوش کرنے کے لئے ، کیونکہ ان کو اس کے ساتھ محبت تھی اور وہ اس کے مطالبے کو رد نہ کرسکتے تھے۔ یہ تھے ان کے الزامات اپنے پیغمبروں پر۔
اور جب قرآن کریم نازل ہوا تو اللہ نے تمام پیغمبروں کی صفائی بیان کی اور ان اوہام اور افسانوں کو پیغمبروں کی سیرتوں سے نکال دیا۔ کیونکہ یہ اوہام یہود و نصاریٰ نے خود اپنی کتابوں کے اندر داخل کر دئیے تھے۔ خصوصا قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی ذات کے ساتھ منسوب تمام غلط باتوں کی نفی کی اور وہ صحیح تعلیمات بیان کردیں جو اللہ کی طرف سے تھیں۔ اس مفہوم میں اس قرآن کو سابقہ کتب کے لیے مہیمن کہا گیا ہے کہ وہ سابقہ کتب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور تمام اختلافی اور جدلیاتی مسائل میں فیصلہ کن بات کرتا ہے۔
وانا لھدی ورحمۃ للمومنین (27: 77) ” اور یہ ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے “۔ یہ وہ ہدایت ہے جو اہل ایمان کو ضلالت اور اختلاف سے بچاتا ہے۔ ان کو ایک منہاج حیات دیتا ہے۔ زندگی کی راہ میں ان کے ساتھ معاونت کرتا ہے اور ان کو اپنی تعلیماے اور نظریات دیتا ہے جو اس پوری کائنات میں موجود سنن الہیہ سے ہم آہنگ ہیں۔ اور یہ قرآن ہدایت کے ساتھ رحمت بھی ہے ۔ انسانوں کو شک ، بےچینی اور پریشانی اور بےیقینی سے نجات دیتا ہے۔ اور انسان کو ایسے کچے نظریات سے بچاتا ہے جو آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔ پائے چوبیں رکھتے ہیں اور اپنے حال پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ اس کی تعلیمات انسان کو مطمئن کرکے اللہ کے جوار رحمت اور بارگاہ سکون تک پہنچاتی ہیں۔ اس طرح انسان اپنے ماحول ، اپنی سوسائٹی اور کود اپنے افکار کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور عظیم ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ انسانی نفس کی تربیت اور از سر نو قوانین فطرت کے مطابق اس کی تسکیل و تصفیل کے معاملے میں قرآنی طریق کار ایک منفرد طریق کار ہے۔ اس طریق کار کے مطابق انسان اپنی زندگی ان قوانین فطرت کے مطابق گزارتا ہے جو خود اس کائنات میں بھی جاری وساری ہیں اور اس طرح انسان کی زندگی نہایت سکون کے ساتھ ، فطری انداز میں گزرتی ہے۔ اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی۔ اسلامی منہاج تربیت کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کی گہرائیوں تک میں اطمینان محسوس کرتا ہے اور یہ بہت بڑی دولت ہوتی ہے۔ اور یہ اطمینان اسے اس وجہ سے حاصل ہوتا ہے کہ اسلامی نظام تربیت کے مطابق انسان کی زندگی قوانین فطرت کے ساتھ متصادم نہیں ہوتی اور نہ انسان قوانین فطرت اور ان کے مطابق چلنے والی اس کائنات سے متصادم ہوتا ہے ، نہ انسانی اخلاقیات ان قوانین فطرت سے متصادم ہوتی ہیں۔ بشرطیکہ انسان قوانین فطرت اور نوامیس کو اچھی طرح معلوم کرسکے اور وہ مقامات معلوم کرلے جہاں انسانی شخصیت اور اس کائنات کے درمیان باہم اتصال ہوتا ہے۔ اور انسان اس نتیجے تک پہنچ جائے کہ انسانی فطرت اور کائناتی فطرت اور اسلامی نظام زندگی کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ وہ باہم متناسب اور ہم آہنگ ہیں۔ یہ ہے وہ عظیم سلامتی جو انسانی شخصیت اور انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی اس عظیم کائنات کے درمیان قائم ہوتی ہے اور اس سلامتی کے نتیجے میں انسانی سوسائٹی نہایت ہی پر سکون زندگی بسر کرتی ہے۔ اور یہ ہے وہ رحمت جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے۔ یہ رحمت الہیہ کا وسیع تر مفہوم ہے۔
ان اشارات کے بعد کہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے بیشتر نطریاتی مسائل کو حل کرتا ہے ، ان کے اختلافات کو دور کرتا ہے اور اہل ایمان کو ایک فطری نظام زندگی دے کر ان کو عظیم سکون اور سلامتی عطا کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ کو یہ تسلی دیتا ہے کہ آپ کی قوم آپ کے ساتھ ناحق مجادلہ کر رہی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی عنقریب اللہ کر دے گا ۔ ایسا فیصلہ جسے کوئی رد نہ کرسکے گا۔ کیونکہ اللہ کے فیصلے حقائق اور صحیح علم پر مبنی ہوتے ہیں۔
فتوکل علی اللہ انک علی الحق المبین (27: 79) ” پس اے نبی ﷺ ، اللہ پر بھروسہ رکھو یقیناً تم صریح حق پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی نصرت کرنا ، حق کو غالب کرنا ، اپنے اوپر اسی طرح لازم قرار دیا ہے جس طرح اس کائنات میں اللہ کے دوسرے چلنے والے قوانین لازمی اور اٹل ہیں۔ یہ قوانین رکتے نہیں ، اسی طرح حق بھی غالب آتا ہے لیکن اللہ کی بعض پوشیدہ حکمتوں کی وجہ سے کبھی کبھار یہ غلبہ دیر سے آتا ہے اور ان حکمتوں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ کچھ مقاصد ہوتے جن کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے لیکن یہ سنت پوری ہوکر رہتی ہیں اور آخر کار حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ انسان کا ایمان اس وقت تک پورا اور مکمل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس سنت کے اٹل ہونے پر ایمان نہ لائے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کی کامیابی کے لیے اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اس سے قبل یہ کامیابی نہیں آسکتی۔ انسان اگر جلدی کرتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔
نبی ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے بڑی مشکلات درپیش تھیں ، بات بات پر وہ جھگڑتے تھے ، کٹ جحتی اور ہٹ دھرمی کرتے تھے۔ محض عناد کی وجہ سے بادی النظر چیزوں کو بھی نہ مانتے تھے۔ حضور ﷺ کی جدوجہد اور نہایت ہی واضح بیان و تبلیغ کے بعد بھی وہ کفر پر اصرار کر رہے تھے۔ قرآن کریم کے بار بار کے خطاب کو نظر انداز کر رہے تھے۔ ان سب باتوں پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے تو تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے ، کوئی قصور نہیں کیا ہے ، لیکن بات کو وہ لوگ سنتے ہیں جو زندہ ہوں اور ان کے کانوں کے پردے حساس ہوں۔ مردے تو کبھی سنا نہیں کرتے۔ مردوں کا دماغ مرچکا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے عاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مردے نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ بس آپ کی قوم کے دل و دماغ مرچکے ہیں۔ لہٰذا ان کو سنانا اب نہ سنانے کے برابر ہوگیا ہے۔ ہدایت پر آنے کی ان کے سامنے کوئی سبیل باقی نہیں ہے۔ اب چھوڑدیں ان کو اپنی گمراہی اور سرکشی اور بےراہ روی پر۔
انک لا تسمع ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (27: 80- 81) ” تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ، نہ ان بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو ، جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں ، اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔ تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔
قرآن کریم نے نہایت ہی عجیب انداز میں ان لوگوں کی نظریاتی اور نفسیاتی حالت کی تصویر کشی کی ہے۔ چناچہ غیر محسوس معانی کو محسوس شکل دے دی ہے۔ قلبی جمود ، روح کی مردنی ، کند ذہنی اور شعور کی گراؤٹ کو یوں بیان کیا ہے کہ گویا یہ لوگ مردے ہیں اور بہرے ہیں اور رسول ان کو پکار رہا ہے۔ یہ نہیں سنتے ، نہ جواب دیتے ہیں۔ کیونکہ مردے نہ سنتے ہیں ، نہ ان کو شعور ہوتا ہے اور نہ جواب دے سکتے ہیں۔ ایک دوسری محسوس صورت یوں ہے کہ ایک شخص بہرا ہے۔ بالکل نہیں سنتا اور پکار والے کی طرف اس کا رخ بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ مخالف سمت پر جا رہا ہے۔ ایسے شخص کو لاکھ پکارو وہ نہ سنے گا۔ کبھی قرآن ان کو اس شکل میں لاتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ ایک اندھا شخص راہ راست پر کیسے جاسکتا ہے۔ جب اسے اگلے قدم پر کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ ان آیات میں ان تمام صورتوں کو نہایت ہی مجسم و شخصی صورت میں پیش کردیا گیا ہے۔
اب ان مردوں ، بہروں اور اندھوں کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں۔ یہ زندہ ہیں ، یہ سنتے ہیں ، یہ دیکھتے ہیں۔
ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (27: 81) ” آپ اپنی بات انہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔ یعنی جن لوگوں کے اندر زندگی ، قوت سامعہ اور قوت باصرہ ہے۔ آپ انہی کو سنا سکتے ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کو سنائیں۔ یہ علامات زندگی ہیں اور شعور زندہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ سننے والے اور دیکھنے والے ہی دعوت کو قبول کرسکتے ہیں اور یہ اہل ایمان ہی ہیں جن کے اندر حیات ، سماعت اور بصارت پائی جاتی ہے۔ ان لوگوں پر رسول اللہ ﷺ نے کام کیا۔ انہوں نے دعوت کو قبول کیا اور سرتسلیم خم کردیا۔
اسلام بہت ہی سادہ اور قریب الفہم دین ہے۔ فطرت سلیم کے بہت ہی قریب ہے۔ قلب سلیم اور فطرت سلیم دعوت اسلامی کو پاتے ہی قبول کرتے ہیں اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ وہ پھر قیل و قال اور جدل وجدال میں نہیں پڑتے۔ یہی تصویر ہے اہل ایمان کی اور ایسے ہی لوگوں کو دعوت دینا چاہئے۔ ایسے لوگ دعوت کو سنتے ہی اس کی طرف لپکتے ہیں اور فوراً ایمان لاتے ہیں۔ مردوں کو اپنی جگہ پر چھوڑ کر داعی کو ایسے لوگوں تک پہنچنا چاہئے جو قبولیت کے لیے تیار ہوں۔
النمل 27:82
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے مگر بےفائدہ ۔ جب پہاڑ چل پڑیں گے اور یہ فضائے کائنات میں بادلوں کی طرف اڑ رہے ہوں گے پھر بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ اس جزع و فزع اور خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں گے اور بالکل مطمئن کھڑے ہوں گے اور کچھ دوسرے نہایت ہی دہشت زدہ سرنگوں ہوں گے۔ اور اسی حالت میں جہنم کے اندر گرا دئیے جائیں گے۔
واذا وقع القول علیھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (82- 90)
” ، ۔ “۔۔۔۔ ، “۔ زمین سے جانور نکالنے کا ذکر بعض احادیث میں آتا ہے۔ لیکن ان صحیح روایات میں اس جانور کی تفصیلات وصفات نہیں ہیں۔ جن روایات میں اس جانور کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں۔ وہ حد صحت تک پہنچی ہوئی نہیں ہیں ، لہٰذا ہم یہاں ان صفات سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس لیے کہ کسی جانور کا طول اگر سات گز ہو یا اس کا روئیں والا ہونا ، یا داڑھی والا ہونا ، یا اس کا سر بیل جیسا ہونا ، یا اس کی آنکھیں خنزیر جیسی ہونا ، یا اس کے کان ہاتھی جیسے ہونا یا اس کے سینگ بارہ سنگے یا اس کی گردن آہو کی طرح ہونا اور اس کا سینہ شیر کی طرح ہونا اور اس کا رنگ چیتے کی طرح ہونا اور اس کے دونوں پہلو بلی کی طرح ہونا اور اس کی دم دنبے کی طرح ہونا ، اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہونا اور پروں اور کھروں والا ہونا کوئی ایم بات نہیں ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جن میں مفسرین پریشان ہوئے۔
بس ہمیں چاہئے کہ قرآنی نص اور صحیح احادیث پر اکتفاء کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ علامات قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ اس قسم کا جانور نکلے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس وقت جو لوگ ہوں گے ان پر فیصلہ اٹل ہوجائے گا اور اب ان کے لیے توبہ کرنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا۔ بس اب جو لوگ جس حالت اور جس عقیدے پر ہوں گے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس وقت یہ جانور نکلے گا۔ یہ ان کے ساتھ بات کرے گا جبکہ عموماً جانور بات نہیں کرتے یا ہم لوگ ان کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔ لیکن آج سب لوگ اس جانور کی بات سمجھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ یہ وہ معجزہ ہے جسے قیامت سے قبل آنا تھا۔ اس سے قبل وہ آیات الہیہ پر ایمان نہ لاتے تھے۔ نہ ان کی تصدیق کرتے تھے اور نہ قیامت کی تصدیق کرتے تھے
یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سورت نمل میں ایسے مشاہدات و عجائبات کا ذکر ہے مثلاً حشرات الارض کی آپس میں گفتگو ، طیور کی گفتگو ، جنوں کی گفتگو ، اور سلیمان (علیہ السلام) کا ان کی گفتگو سمجھنا۔ اسی ضمن میں دابۃ الارض اور لوگوں کے ساتھ اس کی گفتگو ، مضمون کلام کی ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ اس طرح قرآن کریم ہر سورت میں مناظر ، مثالیں اور مضامین و مفاہیم و معانی بھی باہم متناسب اور ہم آہنگ لے کر آتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی)
اب علامت دابۃ الارض کے بیان کے بعد ، بات خود مناظر قیامت میں داخل ہوتی ہے۔
ویوم نحشر من ۔۔۔۔۔۔۔ یوزعون (27: 83) ” اور ذرا تصور کرو اس دن کا ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو مرتب کیا جائے گا “۔ تمام لوگوں کو اٹھایا جائے گا۔ اللہ کی مرضی یوں اس لیے ہوئی کہ وہ مکذبین کے موقف کو واضح کر دے۔ یوزعون کے معنی ہیں کہ ان سب کو ایک نظم کے ساتھ چلایا جائے گا ، ان کا اپنا کوئی اختیار و ارادہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنی مرضی سے کسی طرح جاسکیں گے۔
حتی اذا جآء ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (27: 84) ” یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو وہ پوچھے گا : تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے ؟ “ پہلا سوال تو ان کو شرمندہ کرنے اور ملامت کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات تو معلوم و معروف تھی کہ انہوں نے تکذیب کی تھی۔ رہا دوسرا سوال تو وہ ان کی زندگی پر ایک بھرپور طنز ہے۔ اور اس انداز خطاب کے نظائر ہر زبان میں موجود ہوتے ہیں۔ کیا تم نے تکذیب کی یا تم کیا کرتے تھے ؟ کیونکہ بظاہر تمہاری زندگی کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔ یعنی تکذیب کے علاوہ تمہاری زندگی کا اور تو کوئی عمل معلوم نہیں ہے جبکہ تمہیں تکذیب نہ کرنا چاہئے تھی۔ ایسے سوالات کا جواب ظاہر ہوتا ہے اس لیے جواب نہیں دیا جاتا اور مکاطب خاموش رہتا ہے۔ گویا اس سوال ہی کی وجہ سے مخاطب گنگ ہوجاتا ہے اور اس سے کوئی جواب بن نہیں پاتا۔
ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لاینطقون (27: 85) ” اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی بول نہ سکیں گے “۔ یعنی دنیا میں ظلم اور شرک کرنے کی وجہ سے ان پر فیصلہ برحق ہوگیا اور اب وہ بیکار ، لاجواب اور خاموش کھڑے ہیں اور یہ اس وقت ہوگا جب دابۃ الارض بات کرے گا اور لوگ بات نہ کرسکیں گے۔ قرآن کے معجزاتی انداز کا یہ ایک پہلو ہے کہ وہ کلام کے اندر ایک حسین معنوی تقابل پیدا کرتا ہے کہ جانور بات کر رہا ہے ، اسکے منہ میں زبان ہے اور یہ انسان ہوکر بھی لاکلام ہیں۔ پھر یہاں مشاہد دنیا اور مشاہد قیامت کے درمیان بھی ایک امتزاج اور تقابل ہے۔ کبھی دنیا کا منظر سامنے آتا ہے اور کبھی آخرت کا کیونکہ خروج دابہ دنیا کے آخری ایام میں ہوگا۔ اور یوں فضا میں گہرا تاثر قائم ہوجاتا ہے
یہاں پہلے قیامت کا منظر ہے کہ مکذبین وہاں مبہوت اور لاجواب کھڑے ہیں۔ پھر بات دنیا کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اور ان کے وجدان اور شعور کو بیدار کیا جاتا ہے اور دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ذرا اس نظام کائنات پر غور تو کریں کہ الہہ العالمین کس قدر عظیم قدرت والا ہے کہ تمہارے لیے وہ تمام اسباب حیات مہیا کرتا ہے ۔ تمہارے لیے دنیا میں راحت اور آرام کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ اس نے پوری کائنات کو اس طرح سازگار بنایا ہے کہ اس کے اندر تمہاری زندگی نہایت خوش و خرم گزر رہی ہے۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ممد حیات ہیں ، مضر حیات نہیں ہیں۔ وہ حیات انسانی کیلئے معاون ہیں۔ اس کے ساتھ برسرپیکار نہیں ہیں۔
الم یروا انا ۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یومنون (27: 86) ” کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا ؟ اس میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے “۔ رات کا منظر بالکل پرسکون اور خاموش ہے اور دن روشن اور گویا ہے۔ اور یہ منظر اس قابل ہیں کہ انسان کے اندر ایک ایسا شعور اور وجدان پیدا کریں جو اسے اللہ سے ملا دے ۔ جو رات اور دن کو گردش میں لانے والا ہے۔ رات اور دن کو منظر تو دراصل دو کائناتی شواہد ہیں اور ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو ایمان لانا چاہیں لیکن وہ ایمان نہیں لاتے۔
اگر رات نہ ہوتی تو تمام زمانہ دن پر مشتمل ہوتا اور اس کرہ ارض پر حیات ممکن نہ ہوتی اور اسی طرح اگر مسلسل رات ہوتی تو بھی زندگی ممکن نہ ہوتی بلکہ اگر رات اور دن اپنے موجودہ وقت سے دس گنا بھی طویل ہوتے تب بھی اس کرہ ارض پر زندگی محال ہوجاتی۔ سورج تمام نباتات کو جلا ڈالتا۔ اور رات تمام چیزوں کو منجمد کرکے رکھ دیتی۔ لہٰذا گردش لیل و نہار بھی انسانوں کے لیے ذریعہ حیات ہے لیکن لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔
اب گردش لیل و نہار کے ان دونوں دلائل و معجزات کے منظر سے بات چشم زدن میں قیامت کے مناظر کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایک لمحہ پہلے انسان اس کرہ ارض پر خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے کہ صور پھونک دیا گیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان ایک بھونچال سا آگیا ۔ تمام مخلوقات الا ماشاء اللہ خوفزدہ ہوگئی۔ پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگے ، حالانکہ وہ سکون وقرار کی علامت تھے۔ پھر اس دن لوگوں کے انجام سامنے آگئے۔ کسی کا انجام امن و عافیت ہوا اور کسی کا جزع و فزع اور اوندھے منہ آگ میں گرائے جانے تک پہنچا۔
ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔۔۔۔۔ الا ما کنتم تعملون (27: 87- 90) ” اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صور پھونکا جائے گا اور ہول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۔۔ سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا ۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے ، اور جو برائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو ؟ “
صور وہ نرسنگھا ہے ، جس میں قیامت کے دن پھونکا جائے گا۔ اور یہ وہ آواز ہوگی جس سے زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوفزدہ ہوجائے گی۔ الایہ کہ کسی کو اللہ اس سے مامون و محفوظ کر دے۔ کہا گیا ہے کہ شہداء اس سے محفوظ ہوں گے۔ تمام زندہ مخلوق بیہوش ہوجائے گی یا مر جائے گی۔ اس کے بعد دوسری بار پھونکا جائے گا تو تمام لوگ یکدم جی اٹھیں گے۔ وکل اتوہ دخرین (27: 87) ” اور سب کان دبا کر اس کے حضور حاضر ہوں گے “۔ یعنی نہایت مطیع فرمان ، سرخم کیے ہوئے ہوں گے۔ اس خوف و ہراس کے ساتھ ہی افلاک کا موجودہ نظام خلل پذیر ہوجائے گا اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے۔ تمام مدار ختم ہوں گے۔ اور پہاڑ بادلوں کی طرح چل پڑیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جس طرح لوگ مشوش ہوں گے اسی طرح پہاڑ بھی مشوش ہوں گے۔ ذی حیات اور جمادات سب میں انتشار ہوگا ، گویا پہاڑ بھی کو فزدہ ہوجائیں گے اور حیران و پریشان دوڑتے پھریں گے۔ اور پریشان و بےقرار ہوں گے۔ زندہ چیزوں کی طرح ان کی حرکت کی نہ سمت ہوگی نہ کوئی قرار ہوگا۔
صنع اللہ الذی اتقن کل شی (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا “۔ سبحان اللہ ، اس کی کاریگری کی خوبصورتی اور کمال تو اس کی تمام مصنوعات سے عیاں ہے ۔ اس کا ہر کام صحیح وقت پر ہوتا ہے ، اس میں کوئی نقص ، کوئی بخت و اتفاق ، کوئی بغاوت نہیں ہے نہ اس میں اللہ نے کوئی چیز بھال دی ہے ۔ اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کے مالہ و ما علیہ کو مکمل کیا۔ ہر چیز بامقصد بنائی۔ ہر چھوٹی اور بڑی چیز ایک اندازے سے رکھی۔ منصوبے اور مقاصد کے مطابق اور اس کے اندر اس قدر گہری حکمت اور دقیق منصوبہ بندی ہے کہ سر چکرا جاتے ہیں۔ مزید تفصیلات دیکھئے سورة الفرقان
کی آیت خلق کل شئ کی تفسیر میں۔
انہ خبیر بما تفعلون (27: 88) ” وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اور یہ ہے یوم الحساب ، ان کاموں کا جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور اس دن کو اس ذات نے مقرر کیا ہے جس کی قدرت کا کرشمہ یہ پوری کائنات ہے۔ اللہ اسے اپنے وقت پر لایا ہے۔ اس میں ایک گھنٹے کی تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر چیز نے اس کی حکمت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ عمل اور مکافات عمل کی خدائی اسکیم اپنے انجام کو پہنچے۔ عمل پہلی زندگی میں
ہو اور اس کا اجر وثواب دوسری زندگی میں۔
صنع اللہ الذی۔۔۔۔ بما تفعلون (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اس خوفزدہ کرنے والے ہولناک دن میں ، وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اچھے کام کیے ، نہایت ہی امن و سکون میں ہوں گے۔ اور اس امن و سکون کے علاوہ ان کو جو اجر اور بدلہ ملے گا وہ بہت ہی بڑا ہوگا اور کافی و شافی ہوگا۔
من جآء ۔۔۔۔۔ یومئذ امنون (27: 89) ” جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے “۔ قیامت کے دن کے ہول سے پر امن رہنا ہی ہمارے حقیر اعمال کی پوری جزاء ہے۔ اس کے بعد جو انعامات و اکرامات ملیں گے وہ گویا انعام اور پنشن ہے۔ اس لیے کہ اہل تقویٰ دنیا میں بھی اللہ سے ڈرتے رہتے تھے لیکن دنیا میں اللہ کے خوف اور تقویٰ کے ساتھ آخرت کے ہول کو جمع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ اللہ نے اہل تقویٰ کو اس سے مستثنیٰ کیا۔ اس دن جو مخلوق بھی زمین و آسمانوں میں ہے وہ اس ہول کا شکار ہوگی ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے بچا لیا اور یہ متقین ہوں گے۔
ومن جآء ۔۔۔۔۔۔ فی النار (27: 90) ” اور جو برائی لئے ہوئے آئے گا ایسے سب لوگ اوندھے منہ اگ میں پھینکے جائیں گے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے کہ لوگوں کو لا لا کر جہنم کے دھانے سے اوندھے منہ اس کے اندر گرایا جا رہا ہوگا اور اس پر مزید ان کو زجر و توبیخ بھی کی جا رہی ہوگی۔
ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (27: 90) ” کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو “۔ اس سے قبل دنیا میں انہوں نے ہدایت سے منہ موڑا اور انکار کیا۔ اس لیے یہاں ان کو بطور سزا منہ کے بل آگ میں گرایا جا رہا ہے کیونکہ ان کے سامنے سچائی نہایت ہی واضح ہو کر اور کھل کر آگئی تھی۔ اور اس طرح واضح تھی جس طرح رات اور دن واضح تھے مگر انہوں نے منہ موڑا۔
النمل 27:83
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے مگر بےفائدہ ۔ جب پہاڑ چل پڑیں گے اور یہ فضائے کائنات میں بادلوں کی طرف اڑ رہے ہوں گے پھر بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ اس جزع و فزع اور خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں گے اور بالکل مطمئن کھڑے ہوں گے اور کچھ دوسرے نہایت ہی دہشت زدہ سرنگوں ہوں گے۔ اور اسی حالت میں جہنم کے اندر گرا دئیے جائیں گے۔
واذا وقع القول علیھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (82- 90)
” ، ۔ “۔۔۔۔ ، “۔ زمین سے جانور نکالنے کا ذکر بعض احادیث میں آتا ہے۔ لیکن ان صحیح روایات میں اس جانور کی تفصیلات وصفات نہیں ہیں۔ جن روایات میں اس جانور کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں۔ وہ حد صحت تک پہنچی ہوئی نہیں ہیں ، لہٰذا ہم یہاں ان صفات سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس لیے کہ کسی جانور کا طول اگر سات گز ہو یا اس کا روئیں والا ہونا ، یا داڑھی والا ہونا ، یا اس کا سر بیل جیسا ہونا ، یا اس کی آنکھیں خنزیر جیسی ہونا ، یا اس کے کان ہاتھی جیسے ہونا یا اس کے سینگ بارہ سنگے یا اس کی گردن آہو کی طرح ہونا اور اس کا سینہ شیر کی طرح ہونا اور اس کا رنگ چیتے کی طرح ہونا اور اس کے دونوں پہلو بلی کی طرح ہونا اور اس کی دم دنبے کی طرح ہونا ، اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہونا اور پروں اور کھروں والا ہونا کوئی ایم بات نہیں ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جن میں مفسرین پریشان ہوئے۔
بس ہمیں چاہئے کہ قرآنی نص اور صحیح احادیث پر اکتفاء کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ علامات قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ اس قسم کا جانور نکلے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس وقت جو لوگ ہوں گے ان پر فیصلہ اٹل ہوجائے گا اور اب ان کے لیے توبہ کرنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا۔ بس اب جو لوگ جس حالت اور جس عقیدے پر ہوں گے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس وقت یہ جانور نکلے گا۔ یہ ان کے ساتھ بات کرے گا جبکہ عموماً جانور بات نہیں کرتے یا ہم لوگ ان کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔ لیکن آج سب لوگ اس جانور کی بات سمجھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ یہ وہ معجزہ ہے جسے قیامت سے قبل آنا تھا۔ اس سے قبل وہ آیات الہیہ پر ایمان نہ لاتے تھے۔ نہ ان کی تصدیق کرتے تھے اور نہ قیامت کی تصدیق کرتے تھے
یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سورت نمل میں ایسے مشاہدات و عجائبات کا ذکر ہے مثلاً حشرات الارض کی آپس میں گفتگو ، طیور کی گفتگو ، جنوں کی گفتگو ، اور سلیمان (علیہ السلام) کا ان کی گفتگو سمجھنا۔ اسی ضمن میں دابۃ الارض اور لوگوں کے ساتھ اس کی گفتگو ، مضمون کلام کی ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ اس طرح قرآن کریم ہر سورت میں مناظر ، مثالیں اور مضامین و مفاہیم و معانی بھی باہم متناسب اور ہم آہنگ لے کر آتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی)
اب علامت دابۃ الارض کے بیان کے بعد ، بات خود مناظر قیامت میں داخل ہوتی ہے۔
ویوم نحشر من ۔۔۔۔۔۔۔ یوزعون (27: 83) ” اور ذرا تصور کرو اس دن کا ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو مرتب کیا جائے گا “۔ تمام لوگوں کو اٹھایا جائے گا۔ اللہ کی مرضی یوں اس لیے ہوئی کہ وہ مکذبین کے موقف کو واضح کر دے۔ یوزعون کے معنی ہیں کہ ان سب کو ایک نظم کے ساتھ چلایا جائے گا ، ان کا اپنا کوئی اختیار و ارادہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنی مرضی سے کسی طرح جاسکیں گے۔
حتی اذا جآء ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (27: 84) ” یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو وہ پوچھے گا : تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے ؟ “ پہلا سوال تو ان کو شرمندہ کرنے اور ملامت کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات تو معلوم و معروف تھی کہ انہوں نے تکذیب کی تھی۔ رہا دوسرا سوال تو وہ ان کی زندگی پر ایک بھرپور طنز ہے۔ اور اس انداز خطاب کے نظائر ہر زبان میں موجود ہوتے ہیں۔ کیا تم نے تکذیب کی یا تم کیا کرتے تھے ؟ کیونکہ بظاہر تمہاری زندگی کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔ یعنی تکذیب کے علاوہ تمہاری زندگی کا اور تو کوئی عمل معلوم نہیں ہے جبکہ تمہیں تکذیب نہ کرنا چاہئے تھی۔ ایسے سوالات کا جواب ظاہر ہوتا ہے اس لیے جواب نہیں دیا جاتا اور مکاطب خاموش رہتا ہے۔ گویا اس سوال ہی کی وجہ سے مخاطب گنگ ہوجاتا ہے اور اس سے کوئی جواب بن نہیں پاتا۔
ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لاینطقون (27: 85) ” اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی بول نہ سکیں گے “۔ یعنی دنیا میں ظلم اور شرک کرنے کی وجہ سے ان پر فیصلہ برحق ہوگیا اور اب وہ بیکار ، لاجواب اور خاموش کھڑے ہیں اور یہ اس وقت ہوگا جب دابۃ الارض بات کرے گا اور لوگ بات نہ کرسکیں گے۔ قرآن کے معجزاتی انداز کا یہ ایک پہلو ہے کہ وہ کلام کے اندر ایک حسین معنوی تقابل پیدا کرتا ہے کہ جانور بات کر رہا ہے ، اسکے منہ میں زبان ہے اور یہ انسان ہوکر بھی لاکلام ہیں۔ پھر یہاں مشاہد دنیا اور مشاہد قیامت کے درمیان بھی ایک امتزاج اور تقابل ہے۔ کبھی دنیا کا منظر سامنے آتا ہے اور کبھی آخرت کا کیونکہ خروج دابہ دنیا کے آخری ایام میں ہوگا۔ اور یوں فضا میں گہرا تاثر قائم ہوجاتا ہے
یہاں پہلے قیامت کا منظر ہے کہ مکذبین وہاں مبہوت اور لاجواب کھڑے ہیں۔ پھر بات دنیا کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اور ان کے وجدان اور شعور کو بیدار کیا جاتا ہے اور دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ذرا اس نظام کائنات پر غور تو کریں کہ الہہ العالمین کس قدر عظیم قدرت والا ہے کہ تمہارے لیے وہ تمام اسباب حیات مہیا کرتا ہے ۔ تمہارے لیے دنیا میں راحت اور آرام کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ اس نے پوری کائنات کو اس طرح سازگار بنایا ہے کہ اس کے اندر تمہاری زندگی نہایت خوش و خرم گزر رہی ہے۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ممد حیات ہیں ، مضر حیات نہیں ہیں۔ وہ حیات انسانی کیلئے معاون ہیں۔ اس کے ساتھ برسرپیکار نہیں ہیں۔
الم یروا انا ۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یومنون (27: 86) ” کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا ؟ اس میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے “۔ رات کا منظر بالکل پرسکون اور خاموش ہے اور دن روشن اور گویا ہے۔ اور یہ منظر اس قابل ہیں کہ انسان کے اندر ایک ایسا شعور اور وجدان پیدا کریں جو اسے اللہ سے ملا دے ۔ جو رات اور دن کو گردش میں لانے والا ہے۔ رات اور دن کو منظر تو دراصل دو کائناتی شواہد ہیں اور ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو ایمان لانا چاہیں لیکن وہ ایمان نہیں لاتے۔
اگر رات نہ ہوتی تو تمام زمانہ دن پر مشتمل ہوتا اور اس کرہ ارض پر حیات ممکن نہ ہوتی اور اسی طرح اگر مسلسل رات ہوتی تو بھی زندگی ممکن نہ ہوتی بلکہ اگر رات اور دن اپنے موجودہ وقت سے دس گنا بھی طویل ہوتے تب بھی اس کرہ ارض پر زندگی محال ہوجاتی۔ سورج تمام نباتات کو جلا ڈالتا۔ اور رات تمام چیزوں کو منجمد کرکے رکھ دیتی۔ لہٰذا گردش لیل و نہار بھی انسانوں کے لیے ذریعہ حیات ہے لیکن لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔
اب گردش لیل و نہار کے ان دونوں دلائل و معجزات کے منظر سے بات چشم زدن میں قیامت کے مناظر کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایک لمحہ پہلے انسان اس کرہ ارض پر خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے کہ صور پھونک دیا گیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان ایک بھونچال سا آگیا ۔ تمام مخلوقات الا ماشاء اللہ خوفزدہ ہوگئی۔ پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگے ، حالانکہ وہ سکون وقرار کی علامت تھے۔ پھر اس دن لوگوں کے انجام سامنے آگئے۔ کسی کا انجام امن و عافیت ہوا اور کسی کا جزع و فزع اور اوندھے منہ آگ میں گرائے جانے تک پہنچا۔
ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔۔۔۔۔ الا ما کنتم تعملون (27: 87- 90) ” اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صور پھونکا جائے گا اور ہول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۔۔ سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا ۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے ، اور جو برائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو ؟ “
صور وہ نرسنگھا ہے ، جس میں قیامت کے دن پھونکا جائے گا۔ اور یہ وہ آواز ہوگی جس سے زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوفزدہ ہوجائے گی۔ الایہ کہ کسی کو اللہ اس سے مامون و محفوظ کر دے۔ کہا گیا ہے کہ شہداء اس سے محفوظ ہوں گے۔ تمام زندہ مخلوق بیہوش ہوجائے گی یا مر جائے گی۔ اس کے بعد دوسری بار پھونکا جائے گا تو تمام لوگ یکدم جی اٹھیں گے۔ وکل اتوہ دخرین (27: 87) ” اور سب کان دبا کر اس کے حضور حاضر ہوں گے “۔ یعنی نہایت مطیع فرمان ، سرخم کیے ہوئے ہوں گے۔ اس خوف و ہراس کے ساتھ ہی افلاک کا موجودہ نظام خلل پذیر ہوجائے گا اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے۔ تمام مدار ختم ہوں گے۔ اور پہاڑ بادلوں کی طرح چل پڑیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جس طرح لوگ مشوش ہوں گے اسی طرح پہاڑ بھی مشوش ہوں گے۔ ذی حیات اور جمادات سب میں انتشار ہوگا ، گویا پہاڑ بھی کو فزدہ ہوجائیں گے اور حیران و پریشان دوڑتے پھریں گے۔ اور پریشان و بےقرار ہوں گے۔ زندہ چیزوں کی طرح ان کی حرکت کی نہ سمت ہوگی نہ کوئی قرار ہوگا۔
صنع اللہ الذی اتقن کل شی (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا “۔ سبحان اللہ ، اس کی کاریگری کی خوبصورتی اور کمال تو اس کی تمام مصنوعات سے عیاں ہے ۔ اس کا ہر کام صحیح وقت پر ہوتا ہے ، اس میں کوئی نقص ، کوئی بخت و اتفاق ، کوئی بغاوت نہیں ہے نہ اس میں اللہ نے کوئی چیز بھال دی ہے ۔ اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کے مالہ و ما علیہ کو مکمل کیا۔ ہر چیز بامقصد بنائی۔ ہر چھوٹی اور بڑی چیز ایک اندازے سے رکھی۔ منصوبے اور مقاصد کے مطابق اور اس کے اندر اس قدر گہری حکمت اور دقیق منصوبہ بندی ہے کہ سر چکرا جاتے ہیں۔ مزید تفصیلات دیکھئے سورة الفرقان
کی آیت خلق کل شئ کی تفسیر میں۔
انہ خبیر بما تفعلون (27: 88) ” وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اور یہ ہے یوم الحساب ، ان کاموں کا جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور اس دن کو اس ذات نے مقرر کیا ہے جس کی قدرت کا کرشمہ یہ پوری کائنات ہے۔ اللہ اسے اپنے وقت پر لایا ہے۔ اس میں ایک گھنٹے کی تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر چیز نے اس کی حکمت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ عمل اور مکافات عمل کی خدائی اسکیم اپنے انجام کو پہنچے۔ عمل پہلی زندگی میں
ہو اور اس کا اجر وثواب دوسری زندگی میں۔
صنع اللہ الذی۔۔۔۔ بما تفعلون (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اس خوفزدہ کرنے والے ہولناک دن میں ، وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اچھے کام کیے ، نہایت ہی امن و سکون میں ہوں گے۔ اور اس امن و سکون کے علاوہ ان کو جو اجر اور بدلہ ملے گا وہ بہت ہی بڑا ہوگا اور کافی و شافی ہوگا۔
من جآء ۔۔۔۔۔ یومئذ امنون (27: 89) ” جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے “۔ قیامت کے دن کے ہول سے پر امن رہنا ہی ہمارے حقیر اعمال کی پوری جزاء ہے۔ اس کے بعد جو انعامات و اکرامات ملیں گے وہ گویا انعام اور پنشن ہے۔ اس لیے کہ اہل تقویٰ دنیا میں بھی اللہ سے ڈرتے رہتے تھے لیکن دنیا میں اللہ کے خوف اور تقویٰ کے ساتھ آخرت کے ہول کو جمع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ اللہ نے اہل تقویٰ کو اس سے مستثنیٰ کیا۔ اس دن جو مخلوق بھی زمین و آسمانوں میں ہے وہ اس ہول کا شکار ہوگی ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے بچا لیا اور یہ متقین ہوں گے۔
ومن جآء ۔۔۔۔۔۔ فی النار (27: 90) ” اور جو برائی لئے ہوئے آئے گا ایسے سب لوگ اوندھے منہ اگ میں پھینکے جائیں گے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے کہ لوگوں کو لا لا کر جہنم کے دھانے سے اوندھے منہ اس کے اندر گرایا جا رہا ہوگا اور اس پر مزید ان کو زجر و توبیخ بھی کی جا رہی ہوگی۔
ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (27: 90) ” کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو “۔ اس سے قبل دنیا میں انہوں نے ہدایت سے منہ موڑا اور انکار کیا۔ اس لیے یہاں ان کو بطور سزا منہ کے بل آگ میں گرایا جا رہا ہے کیونکہ ان کے سامنے سچائی نہایت ہی واضح ہو کر اور کھل کر آگئی تھی۔ اور اس طرح واضح تھی جس طرح رات اور دن واضح تھے مگر انہوں نے منہ موڑا۔
النمل 27:84
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے مگر بےفائدہ ۔ جب پہاڑ چل پڑیں گے اور یہ فضائے کائنات میں بادلوں کی طرف اڑ رہے ہوں گے پھر بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ اس جزع و فزع اور خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں گے اور بالکل مطمئن کھڑے ہوں گے اور کچھ دوسرے نہایت ہی دہشت زدہ سرنگوں ہوں گے۔ اور اسی حالت میں جہنم کے اندر گرا دئیے جائیں گے۔
واذا وقع القول علیھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (82- 90)
” ، ۔ “۔۔۔۔ ، “۔ زمین سے جانور نکالنے کا ذکر بعض احادیث میں آتا ہے۔ لیکن ان صحیح روایات میں اس جانور کی تفصیلات وصفات نہیں ہیں۔ جن روایات میں اس جانور کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں۔ وہ حد صحت تک پہنچی ہوئی نہیں ہیں ، لہٰذا ہم یہاں ان صفات سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس لیے کہ کسی جانور کا طول اگر سات گز ہو یا اس کا روئیں والا ہونا ، یا داڑھی والا ہونا ، یا اس کا سر بیل جیسا ہونا ، یا اس کی آنکھیں خنزیر جیسی ہونا ، یا اس کے کان ہاتھی جیسے ہونا یا اس کے سینگ بارہ سنگے یا اس کی گردن آہو کی طرح ہونا اور اس کا سینہ شیر کی طرح ہونا اور اس کا رنگ چیتے کی طرح ہونا اور اس کے دونوں پہلو بلی کی طرح ہونا اور اس کی دم دنبے کی طرح ہونا ، اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہونا اور پروں اور کھروں والا ہونا کوئی ایم بات نہیں ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جن میں مفسرین پریشان ہوئے۔
بس ہمیں چاہئے کہ قرآنی نص اور صحیح احادیث پر اکتفاء کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ علامات قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ اس قسم کا جانور نکلے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس وقت جو لوگ ہوں گے ان پر فیصلہ اٹل ہوجائے گا اور اب ان کے لیے توبہ کرنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا۔ بس اب جو لوگ جس حالت اور جس عقیدے پر ہوں گے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس وقت یہ جانور نکلے گا۔ یہ ان کے ساتھ بات کرے گا جبکہ عموماً جانور بات نہیں کرتے یا ہم لوگ ان کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔ لیکن آج سب لوگ اس جانور کی بات سمجھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ یہ وہ معجزہ ہے جسے قیامت سے قبل آنا تھا۔ اس سے قبل وہ آیات الہیہ پر ایمان نہ لاتے تھے۔ نہ ان کی تصدیق کرتے تھے اور نہ قیامت کی تصدیق کرتے تھے
یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سورت نمل میں ایسے مشاہدات و عجائبات کا ذکر ہے مثلاً حشرات الارض کی آپس میں گفتگو ، طیور کی گفتگو ، جنوں کی گفتگو ، اور سلیمان (علیہ السلام) کا ان کی گفتگو سمجھنا۔ اسی ضمن میں دابۃ الارض اور لوگوں کے ساتھ اس کی گفتگو ، مضمون کلام کی ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ اس طرح قرآن کریم ہر سورت میں مناظر ، مثالیں اور مضامین و مفاہیم و معانی بھی باہم متناسب اور ہم آہنگ لے کر آتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی)
اب علامت دابۃ الارض کے بیان کے بعد ، بات خود مناظر قیامت میں داخل ہوتی ہے۔
ویوم نحشر من ۔۔۔۔۔۔۔ یوزعون (27: 83) ” اور ذرا تصور کرو اس دن کا ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو مرتب کیا جائے گا “۔ تمام لوگوں کو اٹھایا جائے گا۔ اللہ کی مرضی یوں اس لیے ہوئی کہ وہ مکذبین کے موقف کو واضح کر دے۔ یوزعون کے معنی ہیں کہ ان سب کو ایک نظم کے ساتھ چلایا جائے گا ، ان کا اپنا کوئی اختیار و ارادہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنی مرضی سے کسی طرح جاسکیں گے۔
حتی اذا جآء ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (27: 84) ” یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو وہ پوچھے گا : تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے ؟ “ پہلا سوال تو ان کو شرمندہ کرنے اور ملامت کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات تو معلوم و معروف تھی کہ انہوں نے تکذیب کی تھی۔ رہا دوسرا سوال تو وہ ان کی زندگی پر ایک بھرپور طنز ہے۔ اور اس انداز خطاب کے نظائر ہر زبان میں موجود ہوتے ہیں۔ کیا تم نے تکذیب کی یا تم کیا کرتے تھے ؟ کیونکہ بظاہر تمہاری زندگی کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔ یعنی تکذیب کے علاوہ تمہاری زندگی کا اور تو کوئی عمل معلوم نہیں ہے جبکہ تمہیں تکذیب نہ کرنا چاہئے تھی۔ ایسے سوالات کا جواب ظاہر ہوتا ہے اس لیے جواب نہیں دیا جاتا اور مکاطب خاموش رہتا ہے۔ گویا اس سوال ہی کی وجہ سے مخاطب گنگ ہوجاتا ہے اور اس سے کوئی جواب بن نہیں پاتا۔
ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لاینطقون (27: 85) ” اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی بول نہ سکیں گے “۔ یعنی دنیا میں ظلم اور شرک کرنے کی وجہ سے ان پر فیصلہ برحق ہوگیا اور اب وہ بیکار ، لاجواب اور خاموش کھڑے ہیں اور یہ اس وقت ہوگا جب دابۃ الارض بات کرے گا اور لوگ بات نہ کرسکیں گے۔ قرآن کے معجزاتی انداز کا یہ ایک پہلو ہے کہ وہ کلام کے اندر ایک حسین معنوی تقابل پیدا کرتا ہے کہ جانور بات کر رہا ہے ، اسکے منہ میں زبان ہے اور یہ انسان ہوکر بھی لاکلام ہیں۔ پھر یہاں مشاہد دنیا اور مشاہد قیامت کے درمیان بھی ایک امتزاج اور تقابل ہے۔ کبھی دنیا کا منظر سامنے آتا ہے اور کبھی آخرت کا کیونکہ خروج دابہ دنیا کے آخری ایام میں ہوگا۔ اور یوں فضا میں گہرا تاثر قائم ہوجاتا ہے
یہاں پہلے قیامت کا منظر ہے کہ مکذبین وہاں مبہوت اور لاجواب کھڑے ہیں۔ پھر بات دنیا کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اور ان کے وجدان اور شعور کو بیدار کیا جاتا ہے اور دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ذرا اس نظام کائنات پر غور تو کریں کہ الہہ العالمین کس قدر عظیم قدرت والا ہے کہ تمہارے لیے وہ تمام اسباب حیات مہیا کرتا ہے ۔ تمہارے لیے دنیا میں راحت اور آرام کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ اس نے پوری کائنات کو اس طرح سازگار بنایا ہے کہ اس کے اندر تمہاری زندگی نہایت خوش و خرم گزر رہی ہے۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ممد حیات ہیں ، مضر حیات نہیں ہیں۔ وہ حیات انسانی کیلئے معاون ہیں۔ اس کے ساتھ برسرپیکار نہیں ہیں۔
الم یروا انا ۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یومنون (27: 86) ” کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا ؟ اس میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے “۔ رات کا منظر بالکل پرسکون اور خاموش ہے اور دن روشن اور گویا ہے۔ اور یہ منظر اس قابل ہیں کہ انسان کے اندر ایک ایسا شعور اور وجدان پیدا کریں جو اسے اللہ سے ملا دے ۔ جو رات اور دن کو گردش میں لانے والا ہے۔ رات اور دن کو منظر تو دراصل دو کائناتی شواہد ہیں اور ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو ایمان لانا چاہیں لیکن وہ ایمان نہیں لاتے۔
اگر رات نہ ہوتی تو تمام زمانہ دن پر مشتمل ہوتا اور اس کرہ ارض پر حیات ممکن نہ ہوتی اور اسی طرح اگر مسلسل رات ہوتی تو بھی زندگی ممکن نہ ہوتی بلکہ اگر رات اور دن اپنے موجودہ وقت سے دس گنا بھی طویل ہوتے تب بھی اس کرہ ارض پر زندگی محال ہوجاتی۔ سورج تمام نباتات کو جلا ڈالتا۔ اور رات تمام چیزوں کو منجمد کرکے رکھ دیتی۔ لہٰذا گردش لیل و نہار بھی انسانوں کے لیے ذریعہ حیات ہے لیکن لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔
اب گردش لیل و نہار کے ان دونوں دلائل و معجزات کے منظر سے بات چشم زدن میں قیامت کے مناظر کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایک لمحہ پہلے انسان اس کرہ ارض پر خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے کہ صور پھونک دیا گیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان ایک بھونچال سا آگیا ۔ تمام مخلوقات الا ماشاء اللہ خوفزدہ ہوگئی۔ پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگے ، حالانکہ وہ سکون وقرار کی علامت تھے۔ پھر اس دن لوگوں کے انجام سامنے آگئے۔ کسی کا انجام امن و عافیت ہوا اور کسی کا جزع و فزع اور اوندھے منہ آگ میں گرائے جانے تک پہنچا۔
ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔۔۔۔۔ الا ما کنتم تعملون (27: 87- 90) ” اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صور پھونکا جائے گا اور ہول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۔۔ سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا ۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے ، اور جو برائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو ؟ “
صور وہ نرسنگھا ہے ، جس میں قیامت کے دن پھونکا جائے گا۔ اور یہ وہ آواز ہوگی جس سے زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوفزدہ ہوجائے گی۔ الایہ کہ کسی کو اللہ اس سے مامون و محفوظ کر دے۔ کہا گیا ہے کہ شہداء اس سے محفوظ ہوں گے۔ تمام زندہ مخلوق بیہوش ہوجائے گی یا مر جائے گی۔ اس کے بعد دوسری بار پھونکا جائے گا تو تمام لوگ یکدم جی اٹھیں گے۔ وکل اتوہ دخرین (27: 87) ” اور سب کان دبا کر اس کے حضور حاضر ہوں گے “۔ یعنی نہایت مطیع فرمان ، سرخم کیے ہوئے ہوں گے۔ اس خوف و ہراس کے ساتھ ہی افلاک کا موجودہ نظام خلل پذیر ہوجائے گا اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے۔ تمام مدار ختم ہوں گے۔ اور پہاڑ بادلوں کی طرح چل پڑیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جس طرح لوگ مشوش ہوں گے اسی طرح پہاڑ بھی مشوش ہوں گے۔ ذی حیات اور جمادات سب میں انتشار ہوگا ، گویا پہاڑ بھی کو فزدہ ہوجائیں گے اور حیران و پریشان دوڑتے پھریں گے۔ اور پریشان و بےقرار ہوں گے۔ زندہ چیزوں کی طرح ان کی حرکت کی نہ سمت ہوگی نہ کوئی قرار ہوگا۔
صنع اللہ الذی اتقن کل شی (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا “۔ سبحان اللہ ، اس کی کاریگری کی خوبصورتی اور کمال تو اس کی تمام مصنوعات سے عیاں ہے ۔ اس کا ہر کام صحیح وقت پر ہوتا ہے ، اس میں کوئی نقص ، کوئی بخت و اتفاق ، کوئی بغاوت نہیں ہے نہ اس میں اللہ نے کوئی چیز بھال دی ہے ۔ اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کے مالہ و ما علیہ کو مکمل کیا۔ ہر چیز بامقصد بنائی۔ ہر چھوٹی اور بڑی چیز ایک اندازے سے رکھی۔ منصوبے اور مقاصد کے مطابق اور اس کے اندر اس قدر گہری حکمت اور دقیق منصوبہ بندی ہے کہ سر چکرا جاتے ہیں۔ مزید تفصیلات دیکھئے سورة الفرقان
کی آیت خلق کل شئ کی تفسیر میں۔
انہ خبیر بما تفعلون (27: 88) ” وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اور یہ ہے یوم الحساب ، ان کاموں کا جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور اس دن کو اس ذات نے مقرر کیا ہے جس کی قدرت کا کرشمہ یہ پوری کائنات ہے۔ اللہ اسے اپنے وقت پر لایا ہے۔ اس میں ایک گھنٹے کی تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر چیز نے اس کی حکمت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ عمل اور مکافات عمل کی خدائی اسکیم اپنے انجام کو پہنچے۔ عمل پہلی زندگی میں
ہو اور اس کا اجر وثواب دوسری زندگی میں۔
صنع اللہ الذی۔۔۔۔ بما تفعلون (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اس خوفزدہ کرنے والے ہولناک دن میں ، وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اچھے کام کیے ، نہایت ہی امن و سکون میں ہوں گے۔ اور اس امن و سکون کے علاوہ ان کو جو اجر اور بدلہ ملے گا وہ بہت ہی بڑا ہوگا اور کافی و شافی ہوگا۔
من جآء ۔۔۔۔۔ یومئذ امنون (27: 89) ” جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے “۔ قیامت کے دن کے ہول سے پر امن رہنا ہی ہمارے حقیر اعمال کی پوری جزاء ہے۔ اس کے بعد جو انعامات و اکرامات ملیں گے وہ گویا انعام اور پنشن ہے۔ اس لیے کہ اہل تقویٰ دنیا میں بھی اللہ سے ڈرتے رہتے تھے لیکن دنیا میں اللہ کے خوف اور تقویٰ کے ساتھ آخرت کے ہول کو جمع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ اللہ نے اہل تقویٰ کو اس سے مستثنیٰ کیا۔ اس دن جو مخلوق بھی زمین و آسمانوں میں ہے وہ اس ہول کا شکار ہوگی ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے بچا لیا اور یہ متقین ہوں گے۔
ومن جآء ۔۔۔۔۔۔ فی النار (27: 90) ” اور جو برائی لئے ہوئے آئے گا ایسے سب لوگ اوندھے منہ اگ میں پھینکے جائیں گے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے کہ لوگوں کو لا لا کر جہنم کے دھانے سے اوندھے منہ اس کے اندر گرایا جا رہا ہوگا اور اس پر مزید ان کو زجر و توبیخ بھی کی جا رہی ہوگی۔
ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (27: 90) ” کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو “۔ اس سے قبل دنیا میں انہوں نے ہدایت سے منہ موڑا اور انکار کیا۔ اس لیے یہاں ان کو بطور سزا منہ کے بل آگ میں گرایا جا رہا ہے کیونکہ ان کے سامنے سچائی نہایت ہی واضح ہو کر اور کھل کر آگئی تھی۔ اور اس طرح واضح تھی جس طرح رات اور دن واضح تھے مگر انہوں نے منہ موڑا۔
النمل 27:85
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے مگر بےفائدہ ۔ جب پہاڑ چل پڑیں گے اور یہ فضائے کائنات میں بادلوں کی طرف اڑ رہے ہوں گے پھر بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ اس جزع و فزع اور خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں گے اور بالکل مطمئن کھڑے ہوں گے اور کچھ دوسرے نہایت ہی دہشت زدہ سرنگوں ہوں گے۔ اور اسی حالت میں جہنم کے اندر گرا دئیے جائیں گے۔
واذا وقع القول علیھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (82- 90)
” ، ۔ “۔۔۔۔ ، “۔ زمین سے جانور نکالنے کا ذکر بعض احادیث میں آتا ہے۔ لیکن ان صحیح روایات میں اس جانور کی تفصیلات وصفات نہیں ہیں۔ جن روایات میں اس جانور کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں۔ وہ حد صحت تک پہنچی ہوئی نہیں ہیں ، لہٰذا ہم یہاں ان صفات سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس لیے کہ کسی جانور کا طول اگر سات گز ہو یا اس کا روئیں والا ہونا ، یا داڑھی والا ہونا ، یا اس کا سر بیل جیسا ہونا ، یا اس کی آنکھیں خنزیر جیسی ہونا ، یا اس کے کان ہاتھی جیسے ہونا یا اس کے سینگ بارہ سنگے یا اس کی گردن آہو کی طرح ہونا اور اس کا سینہ شیر کی طرح ہونا اور اس کا رنگ چیتے کی طرح ہونا اور اس کے دونوں پہلو بلی کی طرح ہونا اور اس کی دم دنبے کی طرح ہونا ، اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہونا اور پروں اور کھروں والا ہونا کوئی ایم بات نہیں ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جن میں مفسرین پریشان ہوئے۔
بس ہمیں چاہئے کہ قرآنی نص اور صحیح احادیث پر اکتفاء کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ علامات قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ اس قسم کا جانور نکلے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس وقت جو لوگ ہوں گے ان پر فیصلہ اٹل ہوجائے گا اور اب ان کے لیے توبہ کرنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا۔ بس اب جو لوگ جس حالت اور جس عقیدے پر ہوں گے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس وقت یہ جانور نکلے گا۔ یہ ان کے ساتھ بات کرے گا جبکہ عموماً جانور بات نہیں کرتے یا ہم لوگ ان کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔ لیکن آج سب لوگ اس جانور کی بات سمجھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ یہ وہ معجزہ ہے جسے قیامت سے قبل آنا تھا۔ اس سے قبل وہ آیات الہیہ پر ایمان نہ لاتے تھے۔ نہ ان کی تصدیق کرتے تھے اور نہ قیامت کی تصدیق کرتے تھے
یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سورت نمل میں ایسے مشاہدات و عجائبات کا ذکر ہے مثلاً حشرات الارض کی آپس میں گفتگو ، طیور کی گفتگو ، جنوں کی گفتگو ، اور سلیمان (علیہ السلام) کا ان کی گفتگو سمجھنا۔ اسی ضمن میں دابۃ الارض اور لوگوں کے ساتھ اس کی گفتگو ، مضمون کلام کی ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ اس طرح قرآن کریم ہر سورت میں مناظر ، مثالیں اور مضامین و مفاہیم و معانی بھی باہم متناسب اور ہم آہنگ لے کر آتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی)
اب علامت دابۃ الارض کے بیان کے بعد ، بات خود مناظر قیامت میں داخل ہوتی ہے۔
ویوم نحشر من ۔۔۔۔۔۔۔ یوزعون (27: 83) ” اور ذرا تصور کرو اس دن کا ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو مرتب کیا جائے گا “۔ تمام لوگوں کو اٹھایا جائے گا۔ اللہ کی مرضی یوں اس لیے ہوئی کہ وہ مکذبین کے موقف کو واضح کر دے۔ یوزعون کے معنی ہیں کہ ان سب کو ایک نظم کے ساتھ چلایا جائے گا ، ان کا اپنا کوئی اختیار و ارادہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنی مرضی سے کسی طرح جاسکیں گے۔
حتی اذا جآء ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (27: 84) ” یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو وہ پوچھے گا : تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے ؟ “ پہلا سوال تو ان کو شرمندہ کرنے اور ملامت کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات تو معلوم و معروف تھی کہ انہوں نے تکذیب کی تھی۔ رہا دوسرا سوال تو وہ ان کی زندگی پر ایک بھرپور طنز ہے۔ اور اس انداز خطاب کے نظائر ہر زبان میں موجود ہوتے ہیں۔ کیا تم نے تکذیب کی یا تم کیا کرتے تھے ؟ کیونکہ بظاہر تمہاری زندگی کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔ یعنی تکذیب کے علاوہ تمہاری زندگی کا اور تو کوئی عمل معلوم نہیں ہے جبکہ تمہیں تکذیب نہ کرنا چاہئے تھی۔ ایسے سوالات کا جواب ظاہر ہوتا ہے اس لیے جواب نہیں دیا جاتا اور مکاطب خاموش رہتا ہے۔ گویا اس سوال ہی کی وجہ سے مخاطب گنگ ہوجاتا ہے اور اس سے کوئی جواب بن نہیں پاتا۔
ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لاینطقون (27: 85) ” اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی بول نہ سکیں گے “۔ یعنی دنیا میں ظلم اور شرک کرنے کی وجہ سے ان پر فیصلہ برحق ہوگیا اور اب وہ بیکار ، لاجواب اور خاموش کھڑے ہیں اور یہ اس وقت ہوگا جب دابۃ الارض بات کرے گا اور لوگ بات نہ کرسکیں گے۔ قرآن کے معجزاتی انداز کا یہ ایک پہلو ہے کہ وہ کلام کے اندر ایک حسین معنوی تقابل پیدا کرتا ہے کہ جانور بات کر رہا ہے ، اسکے منہ میں زبان ہے اور یہ انسان ہوکر بھی لاکلام ہیں۔ پھر یہاں مشاہد دنیا اور مشاہد قیامت کے درمیان بھی ایک امتزاج اور تقابل ہے۔ کبھی دنیا کا منظر سامنے آتا ہے اور کبھی آخرت کا کیونکہ خروج دابہ دنیا کے آخری ایام میں ہوگا۔ اور یوں فضا میں گہرا تاثر قائم ہوجاتا ہے
یہاں پہلے قیامت کا منظر ہے کہ مکذبین وہاں مبہوت اور لاجواب کھڑے ہیں۔ پھر بات دنیا کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اور ان کے وجدان اور شعور کو بیدار کیا جاتا ہے اور دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ذرا اس نظام کائنات پر غور تو کریں کہ الہہ العالمین کس قدر عظیم قدرت والا ہے کہ تمہارے لیے وہ تمام اسباب حیات مہیا کرتا ہے ۔ تمہارے لیے دنیا میں راحت اور آرام کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ اس نے پوری کائنات کو اس طرح سازگار بنایا ہے کہ اس کے اندر تمہاری زندگی نہایت خوش و خرم گزر رہی ہے۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ممد حیات ہیں ، مضر حیات نہیں ہیں۔ وہ حیات انسانی کیلئے معاون ہیں۔ اس کے ساتھ برسرپیکار نہیں ہیں۔
الم یروا انا ۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یومنون (27: 86) ” کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا ؟ اس میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے “۔ رات کا منظر بالکل پرسکون اور خاموش ہے اور دن روشن اور گویا ہے۔ اور یہ منظر اس قابل ہیں کہ انسان کے اندر ایک ایسا شعور اور وجدان پیدا کریں جو اسے اللہ سے ملا دے ۔ جو رات اور دن کو گردش میں لانے والا ہے۔ رات اور دن کو منظر تو دراصل دو کائناتی شواہد ہیں اور ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو ایمان لانا چاہیں لیکن وہ ایمان نہیں لاتے۔
اگر رات نہ ہوتی تو تمام زمانہ دن پر مشتمل ہوتا اور اس کرہ ارض پر حیات ممکن نہ ہوتی اور اسی طرح اگر مسلسل رات ہوتی تو بھی زندگی ممکن نہ ہوتی بلکہ اگر رات اور دن اپنے موجودہ وقت سے دس گنا بھی طویل ہوتے تب بھی اس کرہ ارض پر زندگی محال ہوجاتی۔ سورج تمام نباتات کو جلا ڈالتا۔ اور رات تمام چیزوں کو منجمد کرکے رکھ دیتی۔ لہٰذا گردش لیل و نہار بھی انسانوں کے لیے ذریعہ حیات ہے لیکن لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔
اب گردش لیل و نہار کے ان دونوں دلائل و معجزات کے منظر سے بات چشم زدن میں قیامت کے مناظر کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایک لمحہ پہلے انسان اس کرہ ارض پر خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے کہ صور پھونک دیا گیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان ایک بھونچال سا آگیا ۔ تمام مخلوقات الا ماشاء اللہ خوفزدہ ہوگئی۔ پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگے ، حالانکہ وہ سکون وقرار کی علامت تھے۔ پھر اس دن لوگوں کے انجام سامنے آگئے۔ کسی کا انجام امن و عافیت ہوا اور کسی کا جزع و فزع اور اوندھے منہ آگ میں گرائے جانے تک پہنچا۔
ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔۔۔۔۔ الا ما کنتم تعملون (27: 87- 90) ” اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صور پھونکا جائے گا اور ہول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۔۔ سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا ۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے ، اور جو برائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو ؟ “
صور وہ نرسنگھا ہے ، جس میں قیامت کے دن پھونکا جائے گا۔ اور یہ وہ آواز ہوگی جس سے زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوفزدہ ہوجائے گی۔ الایہ کہ کسی کو اللہ اس سے مامون و محفوظ کر دے۔ کہا گیا ہے کہ شہداء اس سے محفوظ ہوں گے۔ تمام زندہ مخلوق بیہوش ہوجائے گی یا مر جائے گی۔ اس کے بعد دوسری بار پھونکا جائے گا تو تمام لوگ یکدم جی اٹھیں گے۔ وکل اتوہ دخرین (27: 87) ” اور سب کان دبا کر اس کے حضور حاضر ہوں گے “۔ یعنی نہایت مطیع فرمان ، سرخم کیے ہوئے ہوں گے۔ اس خوف و ہراس کے ساتھ ہی افلاک کا موجودہ نظام خلل پذیر ہوجائے گا اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے۔ تمام مدار ختم ہوں گے۔ اور پہاڑ بادلوں کی طرح چل پڑیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جس طرح لوگ مشوش ہوں گے اسی طرح پہاڑ بھی مشوش ہوں گے۔ ذی حیات اور جمادات سب میں انتشار ہوگا ، گویا پہاڑ بھی کو فزدہ ہوجائیں گے اور حیران و پریشان دوڑتے پھریں گے۔ اور پریشان و بےقرار ہوں گے۔ زندہ چیزوں کی طرح ان کی حرکت کی نہ سمت ہوگی نہ کوئی قرار ہوگا۔
صنع اللہ الذی اتقن کل شی (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا “۔ سبحان اللہ ، اس کی کاریگری کی خوبصورتی اور کمال تو اس کی تمام مصنوعات سے عیاں ہے ۔ اس کا ہر کام صحیح وقت پر ہوتا ہے ، اس میں کوئی نقص ، کوئی بخت و اتفاق ، کوئی بغاوت نہیں ہے نہ اس میں اللہ نے کوئی چیز بھال دی ہے ۔ اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کے مالہ و ما علیہ کو مکمل کیا۔ ہر چیز بامقصد بنائی۔ ہر چھوٹی اور بڑی چیز ایک اندازے سے رکھی۔ منصوبے اور مقاصد کے مطابق اور اس کے اندر اس قدر گہری حکمت اور دقیق منصوبہ بندی ہے کہ سر چکرا جاتے ہیں۔ مزید تفصیلات دیکھئے سورة الفرقان
کی آیت خلق کل شئ کی تفسیر میں۔
انہ خبیر بما تفعلون (27: 88) ” وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اور یہ ہے یوم الحساب ، ان کاموں کا جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور اس دن کو اس ذات نے مقرر کیا ہے جس کی قدرت کا کرشمہ یہ پوری کائنات ہے۔ اللہ اسے اپنے وقت پر لایا ہے۔ اس میں ایک گھنٹے کی تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر چیز نے اس کی حکمت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ عمل اور مکافات عمل کی خدائی اسکیم اپنے انجام کو پہنچے۔ عمل پہلی زندگی میں
ہو اور اس کا اجر وثواب دوسری زندگی میں۔
صنع اللہ الذی۔۔۔۔ بما تفعلون (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اس خوفزدہ کرنے والے ہولناک دن میں ، وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اچھے کام کیے ، نہایت ہی امن و سکون میں ہوں گے۔ اور اس امن و سکون کے علاوہ ان کو جو اجر اور بدلہ ملے گا وہ بہت ہی بڑا ہوگا اور کافی و شافی ہوگا۔
من جآء ۔۔۔۔۔ یومئذ امنون (27: 89) ” جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے “۔ قیامت کے دن کے ہول سے پر امن رہنا ہی ہمارے حقیر اعمال کی پوری جزاء ہے۔ اس کے بعد جو انعامات و اکرامات ملیں گے وہ گویا انعام اور پنشن ہے۔ اس لیے کہ اہل تقویٰ دنیا میں بھی اللہ سے ڈرتے رہتے تھے لیکن دنیا میں اللہ کے خوف اور تقویٰ کے ساتھ آخرت کے ہول کو جمع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ اللہ نے اہل تقویٰ کو اس سے مستثنیٰ کیا۔ اس دن جو مخلوق بھی زمین و آسمانوں میں ہے وہ اس ہول کا شکار ہوگی ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے بچا لیا اور یہ متقین ہوں گے۔
ومن جآء ۔۔۔۔۔۔ فی النار (27: 90) ” اور جو برائی لئے ہوئے آئے گا ایسے سب لوگ اوندھے منہ اگ میں پھینکے جائیں گے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے کہ لوگوں کو لا لا کر جہنم کے دھانے سے اوندھے منہ اس کے اندر گرایا جا رہا ہوگا اور اس پر مزید ان کو زجر و توبیخ بھی کی جا رہی ہوگی۔
ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (27: 90) ” کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو “۔ اس سے قبل دنیا میں انہوں نے ہدایت سے منہ موڑا اور انکار کیا۔ اس لیے یہاں ان کو بطور سزا منہ کے بل آگ میں گرایا جا رہا ہے کیونکہ ان کے سامنے سچائی نہایت ہی واضح ہو کر اور کھل کر آگئی تھی۔ اور اس طرح واضح تھی جس طرح رات اور دن واضح تھے مگر انہوں نے منہ موڑا۔
النمل 27:86
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے مگر بےفائدہ ۔ جب پہاڑ چل پڑیں گے اور یہ فضائے کائنات میں بادلوں کی طرف اڑ رہے ہوں گے پھر بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ اس جزع و فزع اور خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں گے اور بالکل مطمئن کھڑے ہوں گے اور کچھ دوسرے نہایت ہی دہشت زدہ سرنگوں ہوں گے۔ اور اسی حالت میں جہنم کے اندر گرا دئیے جائیں گے۔
واذا وقع القول علیھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (82- 90)
” ، ۔ “۔۔۔۔ ، “۔ زمین سے جانور نکالنے کا ذکر بعض احادیث میں آتا ہے۔ لیکن ان صحیح روایات میں اس جانور کی تفصیلات وصفات نہیں ہیں۔ جن روایات میں اس جانور کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں۔ وہ حد صحت تک پہنچی ہوئی نہیں ہیں ، لہٰذا ہم یہاں ان صفات سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس لیے کہ کسی جانور کا طول اگر سات گز ہو یا اس کا روئیں والا ہونا ، یا داڑھی والا ہونا ، یا اس کا سر بیل جیسا ہونا ، یا اس کی آنکھیں خنزیر جیسی ہونا ، یا اس کے کان ہاتھی جیسے ہونا یا اس کے سینگ بارہ سنگے یا اس کی گردن آہو کی طرح ہونا اور اس کا سینہ شیر کی طرح ہونا اور اس کا رنگ چیتے کی طرح ہونا اور اس کے دونوں پہلو بلی کی طرح ہونا اور اس کی دم دنبے کی طرح ہونا ، اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہونا اور پروں اور کھروں والا ہونا کوئی ایم بات نہیں ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جن میں مفسرین پریشان ہوئے۔
بس ہمیں چاہئے کہ قرآنی نص اور صحیح احادیث پر اکتفاء کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ علامات قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ اس قسم کا جانور نکلے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس وقت جو لوگ ہوں گے ان پر فیصلہ اٹل ہوجائے گا اور اب ان کے لیے توبہ کرنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا۔ بس اب جو لوگ جس حالت اور جس عقیدے پر ہوں گے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس وقت یہ جانور نکلے گا۔ یہ ان کے ساتھ بات کرے گا جبکہ عموماً جانور بات نہیں کرتے یا ہم لوگ ان کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔ لیکن آج سب لوگ اس جانور کی بات سمجھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ یہ وہ معجزہ ہے جسے قیامت سے قبل آنا تھا۔ اس سے قبل وہ آیات الہیہ پر ایمان نہ لاتے تھے۔ نہ ان کی تصدیق کرتے تھے اور نہ قیامت کی تصدیق کرتے تھے
یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سورت نمل میں ایسے مشاہدات و عجائبات کا ذکر ہے مثلاً حشرات الارض کی آپس میں گفتگو ، طیور کی گفتگو ، جنوں کی گفتگو ، اور سلیمان (علیہ السلام) کا ان کی گفتگو سمجھنا۔ اسی ضمن میں دابۃ الارض اور لوگوں کے ساتھ اس کی گفتگو ، مضمون کلام کی ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ اس طرح قرآن کریم ہر سورت میں مناظر ، مثالیں اور مضامین و مفاہیم و معانی بھی باہم متناسب اور ہم آہنگ لے کر آتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی)
اب علامت دابۃ الارض کے بیان کے بعد ، بات خود مناظر قیامت میں داخل ہوتی ہے۔
ویوم نحشر من ۔۔۔۔۔۔۔ یوزعون (27: 83) ” اور ذرا تصور کرو اس دن کا ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو مرتب کیا جائے گا “۔ تمام لوگوں کو اٹھایا جائے گا۔ اللہ کی مرضی یوں اس لیے ہوئی کہ وہ مکذبین کے موقف کو واضح کر دے۔ یوزعون کے معنی ہیں کہ ان سب کو ایک نظم کے ساتھ چلایا جائے گا ، ان کا اپنا کوئی اختیار و ارادہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنی مرضی سے کسی طرح جاسکیں گے۔
حتی اذا جآء ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (27: 84) ” یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو وہ پوچھے گا : تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے ؟ “ پہلا سوال تو ان کو شرمندہ کرنے اور ملامت کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات تو معلوم و معروف تھی کہ انہوں نے تکذیب کی تھی۔ رہا دوسرا سوال تو وہ ان کی زندگی پر ایک بھرپور طنز ہے۔ اور اس انداز خطاب کے نظائر ہر زبان میں موجود ہوتے ہیں۔ کیا تم نے تکذیب کی یا تم کیا کرتے تھے ؟ کیونکہ بظاہر تمہاری زندگی کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔ یعنی تکذیب کے علاوہ تمہاری زندگی کا اور تو کوئی عمل معلوم نہیں ہے جبکہ تمہیں تکذیب نہ کرنا چاہئے تھی۔ ایسے سوالات کا جواب ظاہر ہوتا ہے اس لیے جواب نہیں دیا جاتا اور مکاطب خاموش رہتا ہے۔ گویا اس سوال ہی کی وجہ سے مخاطب گنگ ہوجاتا ہے اور اس سے کوئی جواب بن نہیں پاتا۔
ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لاینطقون (27: 85) ” اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی بول نہ سکیں گے “۔ یعنی دنیا میں ظلم اور شرک کرنے کی وجہ سے ان پر فیصلہ برحق ہوگیا اور اب وہ بیکار ، لاجواب اور خاموش کھڑے ہیں اور یہ اس وقت ہوگا جب دابۃ الارض بات کرے گا اور لوگ بات نہ کرسکیں گے۔ قرآن کے معجزاتی انداز کا یہ ایک پہلو ہے کہ وہ کلام کے اندر ایک حسین معنوی تقابل پیدا کرتا ہے کہ جانور بات کر رہا ہے ، اسکے منہ میں زبان ہے اور یہ انسان ہوکر بھی لاکلام ہیں۔ پھر یہاں مشاہد دنیا اور مشاہد قیامت کے درمیان بھی ایک امتزاج اور تقابل ہے۔ کبھی دنیا کا منظر سامنے آتا ہے اور کبھی آخرت کا کیونکہ خروج دابہ دنیا کے آخری ایام میں ہوگا۔ اور یوں فضا میں گہرا تاثر قائم ہوجاتا ہے
یہاں پہلے قیامت کا منظر ہے کہ مکذبین وہاں مبہوت اور لاجواب کھڑے ہیں۔ پھر بات دنیا کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اور ان کے وجدان اور شعور کو بیدار کیا جاتا ہے اور دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ذرا اس نظام کائنات پر غور تو کریں کہ الہہ العالمین کس قدر عظیم قدرت والا ہے کہ تمہارے لیے وہ تمام اسباب حیات مہیا کرتا ہے ۔ تمہارے لیے دنیا میں راحت اور آرام کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ اس نے پوری کائنات کو اس طرح سازگار بنایا ہے کہ اس کے اندر تمہاری زندگی نہایت خوش و خرم گزر رہی ہے۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ممد حیات ہیں ، مضر حیات نہیں ہیں۔ وہ حیات انسانی کیلئے معاون ہیں۔ اس کے ساتھ برسرپیکار نہیں ہیں۔
الم یروا انا ۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یومنون (27: 86) ” کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا ؟ اس میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے “۔ رات کا منظر بالکل پرسکون اور خاموش ہے اور دن روشن اور گویا ہے۔ اور یہ منظر اس قابل ہیں کہ انسان کے اندر ایک ایسا شعور اور وجدان پیدا کریں جو اسے اللہ سے ملا دے ۔ جو رات اور دن کو گردش میں لانے والا ہے۔ رات اور دن کو منظر تو دراصل دو کائناتی شواہد ہیں اور ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو ایمان لانا چاہیں لیکن وہ ایمان نہیں لاتے۔
اگر رات نہ ہوتی تو تمام زمانہ دن پر مشتمل ہوتا اور اس کرہ ارض پر حیات ممکن نہ ہوتی اور اسی طرح اگر مسلسل رات ہوتی تو بھی زندگی ممکن نہ ہوتی بلکہ اگر رات اور دن اپنے موجودہ وقت سے دس گنا بھی طویل ہوتے تب بھی اس کرہ ارض پر زندگی محال ہوجاتی۔ سورج تمام نباتات کو جلا ڈالتا۔ اور رات تمام چیزوں کو منجمد کرکے رکھ دیتی۔ لہٰذا گردش لیل و نہار بھی انسانوں کے لیے ذریعہ حیات ہے لیکن لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔
اب گردش لیل و نہار کے ان دونوں دلائل و معجزات کے منظر سے بات چشم زدن میں قیامت کے مناظر کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایک لمحہ پہلے انسان اس کرہ ارض پر خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے کہ صور پھونک دیا گیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان ایک بھونچال سا آگیا ۔ تمام مخلوقات الا ماشاء اللہ خوفزدہ ہوگئی۔ پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگے ، حالانکہ وہ سکون وقرار کی علامت تھے۔ پھر اس دن لوگوں کے انجام سامنے آگئے۔ کسی کا انجام امن و عافیت ہوا اور کسی کا جزع و فزع اور اوندھے منہ آگ میں گرائے جانے تک پہنچا۔
ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔۔۔۔۔ الا ما کنتم تعملون (27: 87- 90) ” اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صور پھونکا جائے گا اور ہول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۔۔ سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا ۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے ، اور جو برائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو ؟ “
صور وہ نرسنگھا ہے ، جس میں قیامت کے دن پھونکا جائے گا۔ اور یہ وہ آواز ہوگی جس سے زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوفزدہ ہوجائے گی۔ الایہ کہ کسی کو اللہ اس سے مامون و محفوظ کر دے۔ کہا گیا ہے کہ شہداء اس سے محفوظ ہوں گے۔ تمام زندہ مخلوق بیہوش ہوجائے گی یا مر جائے گی۔ اس کے بعد دوسری بار پھونکا جائے گا تو تمام لوگ یکدم جی اٹھیں گے۔ وکل اتوہ دخرین (27: 87) ” اور سب کان دبا کر اس کے حضور حاضر ہوں گے “۔ یعنی نہایت مطیع فرمان ، سرخم کیے ہوئے ہوں گے۔ اس خوف و ہراس کے ساتھ ہی افلاک کا موجودہ نظام خلل پذیر ہوجائے گا اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے۔ تمام مدار ختم ہوں گے۔ اور پہاڑ بادلوں کی طرح چل پڑیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جس طرح لوگ مشوش ہوں گے اسی طرح پہاڑ بھی مشوش ہوں گے۔ ذی حیات اور جمادات سب میں انتشار ہوگا ، گویا پہاڑ بھی کو فزدہ ہوجائیں گے اور حیران و پریشان دوڑتے پھریں گے۔ اور پریشان و بےقرار ہوں گے۔ زندہ چیزوں کی طرح ان کی حرکت کی نہ سمت ہوگی نہ کوئی قرار ہوگا۔
صنع اللہ الذی اتقن کل شی (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا “۔ سبحان اللہ ، اس کی کاریگری کی خوبصورتی اور کمال تو اس کی تمام مصنوعات سے عیاں ہے ۔ اس کا ہر کام صحیح وقت پر ہوتا ہے ، اس میں کوئی نقص ، کوئی بخت و اتفاق ، کوئی بغاوت نہیں ہے نہ اس میں اللہ نے کوئی چیز بھال دی ہے ۔ اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کے مالہ و ما علیہ کو مکمل کیا۔ ہر چیز بامقصد بنائی۔ ہر چھوٹی اور بڑی چیز ایک اندازے سے رکھی۔ منصوبے اور مقاصد کے مطابق اور اس کے اندر اس قدر گہری حکمت اور دقیق منصوبہ بندی ہے کہ سر چکرا جاتے ہیں۔ مزید تفصیلات دیکھئے سورة الفرقان
کی آیت خلق کل شئ کی تفسیر میں۔
انہ خبیر بما تفعلون (27: 88) ” وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اور یہ ہے یوم الحساب ، ان کاموں کا جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور اس دن کو اس ذات نے مقرر کیا ہے جس کی قدرت کا کرشمہ یہ پوری کائنات ہے۔ اللہ اسے اپنے وقت پر لایا ہے۔ اس میں ایک گھنٹے کی تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر چیز نے اس کی حکمت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ عمل اور مکافات عمل کی خدائی اسکیم اپنے انجام کو پہنچے۔ عمل پہلی زندگی میں
ہو اور اس کا اجر وثواب دوسری زندگی میں۔
صنع اللہ الذی۔۔۔۔ بما تفعلون (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اس خوفزدہ کرنے والے ہولناک دن میں ، وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اچھے کام کیے ، نہایت ہی امن و سکون میں ہوں گے۔ اور اس امن و سکون کے علاوہ ان کو جو اجر اور بدلہ ملے گا وہ بہت ہی بڑا ہوگا اور کافی و شافی ہوگا۔
من جآء ۔۔۔۔۔ یومئذ امنون (27: 89) ” جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے “۔ قیامت کے دن کے ہول سے پر امن رہنا ہی ہمارے حقیر اعمال کی پوری جزاء ہے۔ اس کے بعد جو انعامات و اکرامات ملیں گے وہ گویا انعام اور پنشن ہے۔ اس لیے کہ اہل تقویٰ دنیا میں بھی اللہ سے ڈرتے رہتے تھے لیکن دنیا میں اللہ کے خوف اور تقویٰ کے ساتھ آخرت کے ہول کو جمع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ اللہ نے اہل تقویٰ کو اس سے مستثنیٰ کیا۔ اس دن جو مخلوق بھی زمین و آسمانوں میں ہے وہ اس ہول کا شکار ہوگی ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے بچا لیا اور یہ متقین ہوں گے۔
ومن جآء ۔۔۔۔۔۔ فی النار (27: 90) ” اور جو برائی لئے ہوئے آئے گا ایسے سب لوگ اوندھے منہ اگ میں پھینکے جائیں گے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے کہ لوگوں کو لا لا کر جہنم کے دھانے سے اوندھے منہ اس کے اندر گرایا جا رہا ہوگا اور اس پر مزید ان کو زجر و توبیخ بھی کی جا رہی ہوگی۔
ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (27: 90) ” کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو “۔ اس سے قبل دنیا میں انہوں نے ہدایت سے منہ موڑا اور انکار کیا۔ اس لیے یہاں ان کو بطور سزا منہ کے بل آگ میں گرایا جا رہا ہے کیونکہ ان کے سامنے سچائی نہایت ہی واضح ہو کر اور کھل کر آگئی تھی۔ اور اس طرح واضح تھی جس طرح رات اور دن واضح تھے مگر انہوں نے منہ موڑا۔
النمل 27:87
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے مگر بےفائدہ ۔ جب پہاڑ چل پڑیں گے اور یہ فضائے کائنات میں بادلوں کی طرف اڑ رہے ہوں گے پھر بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ اس جزع و فزع اور خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں گے اور بالکل مطمئن کھڑے ہوں گے اور کچھ دوسرے نہایت ہی دہشت زدہ سرنگوں ہوں گے۔ اور اسی حالت میں جہنم کے اندر گرا دئیے جائیں گے۔
واذا وقع القول علیھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (82- 90)
” ، ۔ “۔۔۔۔ ، “۔ زمین سے جانور نکالنے کا ذکر بعض احادیث میں آتا ہے۔ لیکن ان صحیح روایات میں اس جانور کی تفصیلات وصفات نہیں ہیں۔ جن روایات میں اس جانور کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں۔ وہ حد صحت تک پہنچی ہوئی نہیں ہیں ، لہٰذا ہم یہاں ان صفات سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس لیے کہ کسی جانور کا طول اگر سات گز ہو یا اس کا روئیں والا ہونا ، یا داڑھی والا ہونا ، یا اس کا سر بیل جیسا ہونا ، یا اس کی آنکھیں خنزیر جیسی ہونا ، یا اس کے کان ہاتھی جیسے ہونا یا اس کے سینگ بارہ سنگے یا اس کی گردن آہو کی طرح ہونا اور اس کا سینہ شیر کی طرح ہونا اور اس کا رنگ چیتے کی طرح ہونا اور اس کے دونوں پہلو بلی کی طرح ہونا اور اس کی دم دنبے کی طرح ہونا ، اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہونا اور پروں اور کھروں والا ہونا کوئی ایم بات نہیں ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جن میں مفسرین پریشان ہوئے۔
بس ہمیں چاہئے کہ قرآنی نص اور صحیح احادیث پر اکتفاء کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ علامات قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ اس قسم کا جانور نکلے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس وقت جو لوگ ہوں گے ان پر فیصلہ اٹل ہوجائے گا اور اب ان کے لیے توبہ کرنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا۔ بس اب جو لوگ جس حالت اور جس عقیدے پر ہوں گے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس وقت یہ جانور نکلے گا۔ یہ ان کے ساتھ بات کرے گا جبکہ عموماً جانور بات نہیں کرتے یا ہم لوگ ان کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔ لیکن آج سب لوگ اس جانور کی بات سمجھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ یہ وہ معجزہ ہے جسے قیامت سے قبل آنا تھا۔ اس سے قبل وہ آیات الہیہ پر ایمان نہ لاتے تھے۔ نہ ان کی تصدیق کرتے تھے اور نہ قیامت کی تصدیق کرتے تھے
یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سورت نمل میں ایسے مشاہدات و عجائبات کا ذکر ہے مثلاً حشرات الارض کی آپس میں گفتگو ، طیور کی گفتگو ، جنوں کی گفتگو ، اور سلیمان (علیہ السلام) کا ان کی گفتگو سمجھنا۔ اسی ضمن میں دابۃ الارض اور لوگوں کے ساتھ اس کی گفتگو ، مضمون کلام کی ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ اس طرح قرآن کریم ہر سورت میں مناظر ، مثالیں اور مضامین و مفاہیم و معانی بھی باہم متناسب اور ہم آہنگ لے کر آتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی)
اب علامت دابۃ الارض کے بیان کے بعد ، بات خود مناظر قیامت میں داخل ہوتی ہے۔
ویوم نحشر من ۔۔۔۔۔۔۔ یوزعون (27: 83) ” اور ذرا تصور کرو اس دن کا ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو مرتب کیا جائے گا “۔ تمام لوگوں کو اٹھایا جائے گا۔ اللہ کی مرضی یوں اس لیے ہوئی کہ وہ مکذبین کے موقف کو واضح کر دے۔ یوزعون کے معنی ہیں کہ ان سب کو ایک نظم کے ساتھ چلایا جائے گا ، ان کا اپنا کوئی اختیار و ارادہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنی مرضی سے کسی طرح جاسکیں گے۔
حتی اذا جآء ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (27: 84) ” یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو وہ پوچھے گا : تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے ؟ “ پہلا سوال تو ان کو شرمندہ کرنے اور ملامت کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات تو معلوم و معروف تھی کہ انہوں نے تکذیب کی تھی۔ رہا دوسرا سوال تو وہ ان کی زندگی پر ایک بھرپور طنز ہے۔ اور اس انداز خطاب کے نظائر ہر زبان میں موجود ہوتے ہیں۔ کیا تم نے تکذیب کی یا تم کیا کرتے تھے ؟ کیونکہ بظاہر تمہاری زندگی کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔ یعنی تکذیب کے علاوہ تمہاری زندگی کا اور تو کوئی عمل معلوم نہیں ہے جبکہ تمہیں تکذیب نہ کرنا چاہئے تھی۔ ایسے سوالات کا جواب ظاہر ہوتا ہے اس لیے جواب نہیں دیا جاتا اور مکاطب خاموش رہتا ہے۔ گویا اس سوال ہی کی وجہ سے مخاطب گنگ ہوجاتا ہے اور اس سے کوئی جواب بن نہیں پاتا۔
ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لاینطقون (27: 85) ” اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی بول نہ سکیں گے “۔ یعنی دنیا میں ظلم اور شرک کرنے کی وجہ سے ان پر فیصلہ برحق ہوگیا اور اب وہ بیکار ، لاجواب اور خاموش کھڑے ہیں اور یہ اس وقت ہوگا جب دابۃ الارض بات کرے گا اور لوگ بات نہ کرسکیں گے۔ قرآن کے معجزاتی انداز کا یہ ایک پہلو ہے کہ وہ کلام کے اندر ایک حسین معنوی تقابل پیدا کرتا ہے کہ جانور بات کر رہا ہے ، اسکے منہ میں زبان ہے اور یہ انسان ہوکر بھی لاکلام ہیں۔ پھر یہاں مشاہد دنیا اور مشاہد قیامت کے درمیان بھی ایک امتزاج اور تقابل ہے۔ کبھی دنیا کا منظر سامنے آتا ہے اور کبھی آخرت کا کیونکہ خروج دابہ دنیا کے آخری ایام میں ہوگا۔ اور یوں فضا میں گہرا تاثر قائم ہوجاتا ہے
یہاں پہلے قیامت کا منظر ہے کہ مکذبین وہاں مبہوت اور لاجواب کھڑے ہیں۔ پھر بات دنیا کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اور ان کے وجدان اور شعور کو بیدار کیا جاتا ہے اور دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ذرا اس نظام کائنات پر غور تو کریں کہ الہہ العالمین کس قدر عظیم قدرت والا ہے کہ تمہارے لیے وہ تمام اسباب حیات مہیا کرتا ہے ۔ تمہارے لیے دنیا میں راحت اور آرام کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ اس نے پوری کائنات کو اس طرح سازگار بنایا ہے کہ اس کے اندر تمہاری زندگی نہایت خوش و خرم گزر رہی ہے۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ممد حیات ہیں ، مضر حیات نہیں ہیں۔ وہ حیات انسانی کیلئے معاون ہیں۔ اس کے ساتھ برسرپیکار نہیں ہیں۔
الم یروا انا ۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یومنون (27: 86) ” کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا ؟ اس میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے “۔ رات کا منظر بالکل پرسکون اور خاموش ہے اور دن روشن اور گویا ہے۔ اور یہ منظر اس قابل ہیں کہ انسان کے اندر ایک ایسا شعور اور وجدان پیدا کریں جو اسے اللہ سے ملا دے ۔ جو رات اور دن کو گردش میں لانے والا ہے۔ رات اور دن کو منظر تو دراصل دو کائناتی شواہد ہیں اور ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو ایمان لانا چاہیں لیکن وہ ایمان نہیں لاتے۔
اگر رات نہ ہوتی تو تمام زمانہ دن پر مشتمل ہوتا اور اس کرہ ارض پر حیات ممکن نہ ہوتی اور اسی طرح اگر مسلسل رات ہوتی تو بھی زندگی ممکن نہ ہوتی بلکہ اگر رات اور دن اپنے موجودہ وقت سے دس گنا بھی طویل ہوتے تب بھی اس کرہ ارض پر زندگی محال ہوجاتی۔ سورج تمام نباتات کو جلا ڈالتا۔ اور رات تمام چیزوں کو منجمد کرکے رکھ دیتی۔ لہٰذا گردش لیل و نہار بھی انسانوں کے لیے ذریعہ حیات ہے لیکن لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔
اب گردش لیل و نہار کے ان دونوں دلائل و معجزات کے منظر سے بات چشم زدن میں قیامت کے مناظر کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایک لمحہ پہلے انسان اس کرہ ارض پر خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے کہ صور پھونک دیا گیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان ایک بھونچال سا آگیا ۔ تمام مخلوقات الا ماشاء اللہ خوفزدہ ہوگئی۔ پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگے ، حالانکہ وہ سکون وقرار کی علامت تھے۔ پھر اس دن لوگوں کے انجام سامنے آگئے۔ کسی کا انجام امن و عافیت ہوا اور کسی کا جزع و فزع اور اوندھے منہ آگ میں گرائے جانے تک پہنچا۔
ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔۔۔۔۔ الا ما کنتم تعملون (27: 87- 90) ” اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صور پھونکا جائے گا اور ہول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۔۔ سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا ۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے ، اور جو برائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو ؟ “
صور وہ نرسنگھا ہے ، جس میں قیامت کے دن پھونکا جائے گا۔ اور یہ وہ آواز ہوگی جس سے زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوفزدہ ہوجائے گی۔ الایہ کہ کسی کو اللہ اس سے مامون و محفوظ کر دے۔ کہا گیا ہے کہ شہداء اس سے محفوظ ہوں گے۔ تمام زندہ مخلوق بیہوش ہوجائے گی یا مر جائے گی۔ اس کے بعد دوسری بار پھونکا جائے گا تو تمام لوگ یکدم جی اٹھیں گے۔ وکل اتوہ دخرین (27: 87) ” اور سب کان دبا کر اس کے حضور حاضر ہوں گے “۔ یعنی نہایت مطیع فرمان ، سرخم کیے ہوئے ہوں گے۔ اس خوف و ہراس کے ساتھ ہی افلاک کا موجودہ نظام خلل پذیر ہوجائے گا اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے۔ تمام مدار ختم ہوں گے۔ اور پہاڑ بادلوں کی طرح چل پڑیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جس طرح لوگ مشوش ہوں گے اسی طرح پہاڑ بھی مشوش ہوں گے۔ ذی حیات اور جمادات سب میں انتشار ہوگا ، گویا پہاڑ بھی کو فزدہ ہوجائیں گے اور حیران و پریشان دوڑتے پھریں گے۔ اور پریشان و بےقرار ہوں گے۔ زندہ چیزوں کی طرح ان کی حرکت کی نہ سمت ہوگی نہ کوئی قرار ہوگا۔
صنع اللہ الذی اتقن کل شی (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا “۔ سبحان اللہ ، اس کی کاریگری کی خوبصورتی اور کمال تو اس کی تمام مصنوعات سے عیاں ہے ۔ اس کا ہر کام صحیح وقت پر ہوتا ہے ، اس میں کوئی نقص ، کوئی بخت و اتفاق ، کوئی بغاوت نہیں ہے نہ اس میں اللہ نے کوئی چیز بھال دی ہے ۔ اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کے مالہ و ما علیہ کو مکمل کیا۔ ہر چیز بامقصد بنائی۔ ہر چھوٹی اور بڑی چیز ایک اندازے سے رکھی۔ منصوبے اور مقاصد کے مطابق اور اس کے اندر اس قدر گہری حکمت اور دقیق منصوبہ بندی ہے کہ سر چکرا جاتے ہیں۔ مزید تفصیلات دیکھئے سورة الفرقان
کی آیت خلق کل شئ کی تفسیر میں۔
انہ خبیر بما تفعلون (27: 88) ” وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اور یہ ہے یوم الحساب ، ان کاموں کا جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور اس دن کو اس ذات نے مقرر کیا ہے جس کی قدرت کا کرشمہ یہ پوری کائنات ہے۔ اللہ اسے اپنے وقت پر لایا ہے۔ اس میں ایک گھنٹے کی تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر چیز نے اس کی حکمت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ عمل اور مکافات عمل کی خدائی اسکیم اپنے انجام کو پہنچے۔ عمل پہلی زندگی میں
ہو اور اس کا اجر وثواب دوسری زندگی میں۔
صنع اللہ الذی۔۔۔۔ بما تفعلون (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اس خوفزدہ کرنے والے ہولناک دن میں ، وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اچھے کام کیے ، نہایت ہی امن و سکون میں ہوں گے۔ اور اس امن و سکون کے علاوہ ان کو جو اجر اور بدلہ ملے گا وہ بہت ہی بڑا ہوگا اور کافی و شافی ہوگا۔
من جآء ۔۔۔۔۔ یومئذ امنون (27: 89) ” جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے “۔ قیامت کے دن کے ہول سے پر امن رہنا ہی ہمارے حقیر اعمال کی پوری جزاء ہے۔ اس کے بعد جو انعامات و اکرامات ملیں گے وہ گویا انعام اور پنشن ہے۔ اس لیے کہ اہل تقویٰ دنیا میں بھی اللہ سے ڈرتے رہتے تھے لیکن دنیا میں اللہ کے خوف اور تقویٰ کے ساتھ آخرت کے ہول کو جمع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ اللہ نے اہل تقویٰ کو اس سے مستثنیٰ کیا۔ اس دن جو مخلوق بھی زمین و آسمانوں میں ہے وہ اس ہول کا شکار ہوگی ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے بچا لیا اور یہ متقین ہوں گے۔
ومن جآء ۔۔۔۔۔۔ فی النار (27: 90) ” اور جو برائی لئے ہوئے آئے گا ایسے سب لوگ اوندھے منہ اگ میں پھینکے جائیں گے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے کہ لوگوں کو لا لا کر جہنم کے دھانے سے اوندھے منہ اس کے اندر گرایا جا رہا ہوگا اور اس پر مزید ان کو زجر و توبیخ بھی کی جا رہی ہوگی۔
ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (27: 90) ” کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو “۔ اس سے قبل دنیا میں انہوں نے ہدایت سے منہ موڑا اور انکار کیا۔ اس لیے یہاں ان کو بطور سزا منہ کے بل آگ میں گرایا جا رہا ہے کیونکہ ان کے سامنے سچائی نہایت ہی واضح ہو کر اور کھل کر آگئی تھی۔ اور اس طرح واضح تھی جس طرح رات اور دن واضح تھے مگر انہوں نے منہ موڑا۔
النمل 27:88
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے مگر بےفائدہ ۔ جب پہاڑ چل پڑیں گے اور یہ فضائے کائنات میں بادلوں کی طرف اڑ رہے ہوں گے پھر بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ اس جزع و فزع اور خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں گے اور بالکل مطمئن کھڑے ہوں گے اور کچھ دوسرے نہایت ہی دہشت زدہ سرنگوں ہوں گے۔ اور اسی حالت میں جہنم کے اندر گرا دئیے جائیں گے۔
واذا وقع القول علیھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (82- 90)
” ، ۔ “۔۔۔۔ ، “۔ زمین سے جانور نکالنے کا ذکر بعض احادیث میں آتا ہے۔ لیکن ان صحیح روایات میں اس جانور کی تفصیلات وصفات نہیں ہیں۔ جن روایات میں اس جانور کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں۔ وہ حد صحت تک پہنچی ہوئی نہیں ہیں ، لہٰذا ہم یہاں ان صفات سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس لیے کہ کسی جانور کا طول اگر سات گز ہو یا اس کا روئیں والا ہونا ، یا داڑھی والا ہونا ، یا اس کا سر بیل جیسا ہونا ، یا اس کی آنکھیں خنزیر جیسی ہونا ، یا اس کے کان ہاتھی جیسے ہونا یا اس کے سینگ بارہ سنگے یا اس کی گردن آہو کی طرح ہونا اور اس کا سینہ شیر کی طرح ہونا اور اس کا رنگ چیتے کی طرح ہونا اور اس کے دونوں پہلو بلی کی طرح ہونا اور اس کی دم دنبے کی طرح ہونا ، اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہونا اور پروں اور کھروں والا ہونا کوئی ایم بات نہیں ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جن میں مفسرین پریشان ہوئے۔
بس ہمیں چاہئے کہ قرآنی نص اور صحیح احادیث پر اکتفاء کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ علامات قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ اس قسم کا جانور نکلے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس وقت جو لوگ ہوں گے ان پر فیصلہ اٹل ہوجائے گا اور اب ان کے لیے توبہ کرنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا۔ بس اب جو لوگ جس حالت اور جس عقیدے پر ہوں گے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس وقت یہ جانور نکلے گا۔ یہ ان کے ساتھ بات کرے گا جبکہ عموماً جانور بات نہیں کرتے یا ہم لوگ ان کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔ لیکن آج سب لوگ اس جانور کی بات سمجھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ یہ وہ معجزہ ہے جسے قیامت سے قبل آنا تھا۔ اس سے قبل وہ آیات الہیہ پر ایمان نہ لاتے تھے۔ نہ ان کی تصدیق کرتے تھے اور نہ قیامت کی تصدیق کرتے تھے
یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سورت نمل میں ایسے مشاہدات و عجائبات کا ذکر ہے مثلاً حشرات الارض کی آپس میں گفتگو ، طیور کی گفتگو ، جنوں کی گفتگو ، اور سلیمان (علیہ السلام) کا ان کی گفتگو سمجھنا۔ اسی ضمن میں دابۃ الارض اور لوگوں کے ساتھ اس کی گفتگو ، مضمون کلام کی ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ اس طرح قرآن کریم ہر سورت میں مناظر ، مثالیں اور مضامین و مفاہیم و معانی بھی باہم متناسب اور ہم آہنگ لے کر آتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی)
اب علامت دابۃ الارض کے بیان کے بعد ، بات خود مناظر قیامت میں داخل ہوتی ہے۔
ویوم نحشر من ۔۔۔۔۔۔۔ یوزعون (27: 83) ” اور ذرا تصور کرو اس دن کا ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو مرتب کیا جائے گا “۔ تمام لوگوں کو اٹھایا جائے گا۔ اللہ کی مرضی یوں اس لیے ہوئی کہ وہ مکذبین کے موقف کو واضح کر دے۔ یوزعون کے معنی ہیں کہ ان سب کو ایک نظم کے ساتھ چلایا جائے گا ، ان کا اپنا کوئی اختیار و ارادہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنی مرضی سے کسی طرح جاسکیں گے۔
حتی اذا جآء ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (27: 84) ” یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو وہ پوچھے گا : تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے ؟ “ پہلا سوال تو ان کو شرمندہ کرنے اور ملامت کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات تو معلوم و معروف تھی کہ انہوں نے تکذیب کی تھی۔ رہا دوسرا سوال تو وہ ان کی زندگی پر ایک بھرپور طنز ہے۔ اور اس انداز خطاب کے نظائر ہر زبان میں موجود ہوتے ہیں۔ کیا تم نے تکذیب کی یا تم کیا کرتے تھے ؟ کیونکہ بظاہر تمہاری زندگی کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔ یعنی تکذیب کے علاوہ تمہاری زندگی کا اور تو کوئی عمل معلوم نہیں ہے جبکہ تمہیں تکذیب نہ کرنا چاہئے تھی۔ ایسے سوالات کا جواب ظاہر ہوتا ہے اس لیے جواب نہیں دیا جاتا اور مکاطب خاموش رہتا ہے۔ گویا اس سوال ہی کی وجہ سے مخاطب گنگ ہوجاتا ہے اور اس سے کوئی جواب بن نہیں پاتا۔
ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لاینطقون (27: 85) ” اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی بول نہ سکیں گے “۔ یعنی دنیا میں ظلم اور شرک کرنے کی وجہ سے ان پر فیصلہ برحق ہوگیا اور اب وہ بیکار ، لاجواب اور خاموش کھڑے ہیں اور یہ اس وقت ہوگا جب دابۃ الارض بات کرے گا اور لوگ بات نہ کرسکیں گے۔ قرآن کے معجزاتی انداز کا یہ ایک پہلو ہے کہ وہ کلام کے اندر ایک حسین معنوی تقابل پیدا کرتا ہے کہ جانور بات کر رہا ہے ، اسکے منہ میں زبان ہے اور یہ انسان ہوکر بھی لاکلام ہیں۔ پھر یہاں مشاہد دنیا اور مشاہد قیامت کے درمیان بھی ایک امتزاج اور تقابل ہے۔ کبھی دنیا کا منظر سامنے آتا ہے اور کبھی آخرت کا کیونکہ خروج دابہ دنیا کے آخری ایام میں ہوگا۔ اور یوں فضا میں گہرا تاثر قائم ہوجاتا ہے
یہاں پہلے قیامت کا منظر ہے کہ مکذبین وہاں مبہوت اور لاجواب کھڑے ہیں۔ پھر بات دنیا کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اور ان کے وجدان اور شعور کو بیدار کیا جاتا ہے اور دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ذرا اس نظام کائنات پر غور تو کریں کہ الہہ العالمین کس قدر عظیم قدرت والا ہے کہ تمہارے لیے وہ تمام اسباب حیات مہیا کرتا ہے ۔ تمہارے لیے دنیا میں راحت اور آرام کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ اس نے پوری کائنات کو اس طرح سازگار بنایا ہے کہ اس کے اندر تمہاری زندگی نہایت خوش و خرم گزر رہی ہے۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ممد حیات ہیں ، مضر حیات نہیں ہیں۔ وہ حیات انسانی کیلئے معاون ہیں۔ اس کے ساتھ برسرپیکار نہیں ہیں۔
الم یروا انا ۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یومنون (27: 86) ” کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا ؟ اس میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے “۔ رات کا منظر بالکل پرسکون اور خاموش ہے اور دن روشن اور گویا ہے۔ اور یہ منظر اس قابل ہیں کہ انسان کے اندر ایک ایسا شعور اور وجدان پیدا کریں جو اسے اللہ سے ملا دے ۔ جو رات اور دن کو گردش میں لانے والا ہے۔ رات اور دن کو منظر تو دراصل دو کائناتی شواہد ہیں اور ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو ایمان لانا چاہیں لیکن وہ ایمان نہیں لاتے۔
اگر رات نہ ہوتی تو تمام زمانہ دن پر مشتمل ہوتا اور اس کرہ ارض پر حیات ممکن نہ ہوتی اور اسی طرح اگر مسلسل رات ہوتی تو بھی زندگی ممکن نہ ہوتی بلکہ اگر رات اور دن اپنے موجودہ وقت سے دس گنا بھی طویل ہوتے تب بھی اس کرہ ارض پر زندگی محال ہوجاتی۔ سورج تمام نباتات کو جلا ڈالتا۔ اور رات تمام چیزوں کو منجمد کرکے رکھ دیتی۔ لہٰذا گردش لیل و نہار بھی انسانوں کے لیے ذریعہ حیات ہے لیکن لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔
اب گردش لیل و نہار کے ان دونوں دلائل و معجزات کے منظر سے بات چشم زدن میں قیامت کے مناظر کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایک لمحہ پہلے انسان اس کرہ ارض پر خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے کہ صور پھونک دیا گیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان ایک بھونچال سا آگیا ۔ تمام مخلوقات الا ماشاء اللہ خوفزدہ ہوگئی۔ پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگے ، حالانکہ وہ سکون وقرار کی علامت تھے۔ پھر اس دن لوگوں کے انجام سامنے آگئے۔ کسی کا انجام امن و عافیت ہوا اور کسی کا جزع و فزع اور اوندھے منہ آگ میں گرائے جانے تک پہنچا۔
ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔۔۔۔۔ الا ما کنتم تعملون (27: 87- 90) ” اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صور پھونکا جائے گا اور ہول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۔۔ سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا ۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے ، اور جو برائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو ؟ “
صور وہ نرسنگھا ہے ، جس میں قیامت کے دن پھونکا جائے گا۔ اور یہ وہ آواز ہوگی جس سے زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوفزدہ ہوجائے گی۔ الایہ کہ کسی کو اللہ اس سے مامون و محفوظ کر دے۔ کہا گیا ہے کہ شہداء اس سے محفوظ ہوں گے۔ تمام زندہ مخلوق بیہوش ہوجائے گی یا مر جائے گی۔ اس کے بعد دوسری بار پھونکا جائے گا تو تمام لوگ یکدم جی اٹھیں گے۔ وکل اتوہ دخرین (27: 87) ” اور سب کان دبا کر اس کے حضور حاضر ہوں گے “۔ یعنی نہایت مطیع فرمان ، سرخم کیے ہوئے ہوں گے۔ اس خوف و ہراس کے ساتھ ہی افلاک کا موجودہ نظام خلل پذیر ہوجائے گا اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے۔ تمام مدار ختم ہوں گے۔ اور پہاڑ بادلوں کی طرح چل پڑیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جس طرح لوگ مشوش ہوں گے اسی طرح پہاڑ بھی مشوش ہوں گے۔ ذی حیات اور جمادات سب میں انتشار ہوگا ، گویا پہاڑ بھی کو فزدہ ہوجائیں گے اور حیران و پریشان دوڑتے پھریں گے۔ اور پریشان و بےقرار ہوں گے۔ زندہ چیزوں کی طرح ان کی حرکت کی نہ سمت ہوگی نہ کوئی قرار ہوگا۔
صنع اللہ الذی اتقن کل شی (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا “۔ سبحان اللہ ، اس کی کاریگری کی خوبصورتی اور کمال تو اس کی تمام مصنوعات سے عیاں ہے ۔ اس کا ہر کام صحیح وقت پر ہوتا ہے ، اس میں کوئی نقص ، کوئی بخت و اتفاق ، کوئی بغاوت نہیں ہے نہ اس میں اللہ نے کوئی چیز بھال دی ہے ۔ اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کے مالہ و ما علیہ کو مکمل کیا۔ ہر چیز بامقصد بنائی۔ ہر چھوٹی اور بڑی چیز ایک اندازے سے رکھی۔ منصوبے اور مقاصد کے مطابق اور اس کے اندر اس قدر گہری حکمت اور دقیق منصوبہ بندی ہے کہ سر چکرا جاتے ہیں۔ مزید تفصیلات دیکھئے سورة الفرقان
کی آیت خلق کل شئ کی تفسیر میں۔
انہ خبیر بما تفعلون (27: 88) ” وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اور یہ ہے یوم الحساب ، ان کاموں کا جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور اس دن کو اس ذات نے مقرر کیا ہے جس کی قدرت کا کرشمہ یہ پوری کائنات ہے۔ اللہ اسے اپنے وقت پر لایا ہے۔ اس میں ایک گھنٹے کی تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر چیز نے اس کی حکمت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ عمل اور مکافات عمل کی خدائی اسکیم اپنے انجام کو پہنچے۔ عمل پہلی زندگی میں
ہو اور اس کا اجر وثواب دوسری زندگی میں۔
صنع اللہ الذی۔۔۔۔ بما تفعلون (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اس خوفزدہ کرنے والے ہولناک دن میں ، وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اچھے کام کیے ، نہایت ہی امن و سکون میں ہوں گے۔ اور اس امن و سکون کے علاوہ ان کو جو اجر اور بدلہ ملے گا وہ بہت ہی بڑا ہوگا اور کافی و شافی ہوگا۔
من جآء ۔۔۔۔۔ یومئذ امنون (27: 89) ” جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے “۔ قیامت کے دن کے ہول سے پر امن رہنا ہی ہمارے حقیر اعمال کی پوری جزاء ہے۔ اس کے بعد جو انعامات و اکرامات ملیں گے وہ گویا انعام اور پنشن ہے۔ اس لیے کہ اہل تقویٰ دنیا میں بھی اللہ سے ڈرتے رہتے تھے لیکن دنیا میں اللہ کے خوف اور تقویٰ کے ساتھ آخرت کے ہول کو جمع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ اللہ نے اہل تقویٰ کو اس سے مستثنیٰ کیا۔ اس دن جو مخلوق بھی زمین و آسمانوں میں ہے وہ اس ہول کا شکار ہوگی ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے بچا لیا اور یہ متقین ہوں گے۔
ومن جآء ۔۔۔۔۔۔ فی النار (27: 90) ” اور جو برائی لئے ہوئے آئے گا ایسے سب لوگ اوندھے منہ اگ میں پھینکے جائیں گے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے کہ لوگوں کو لا لا کر جہنم کے دھانے سے اوندھے منہ اس کے اندر گرایا جا رہا ہوگا اور اس پر مزید ان کو زجر و توبیخ بھی کی جا رہی ہوگی۔
ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (27: 90) ” کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو “۔ اس سے قبل دنیا میں انہوں نے ہدایت سے منہ موڑا اور انکار کیا۔ اس لیے یہاں ان کو بطور سزا منہ کے بل آگ میں گرایا جا رہا ہے کیونکہ ان کے سامنے سچائی نہایت ہی واضح ہو کر اور کھل کر آگئی تھی۔ اور اس طرح واضح تھی جس طرح رات اور دن واضح تھے مگر انہوں نے منہ موڑا۔
النمل 27:89
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے مگر بےفائدہ ۔ جب پہاڑ چل پڑیں گے اور یہ فضائے کائنات میں بادلوں کی طرف اڑ رہے ہوں گے پھر بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ اس جزع و فزع اور خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں گے اور بالکل مطمئن کھڑے ہوں گے اور کچھ دوسرے نہایت ہی دہشت زدہ سرنگوں ہوں گے۔ اور اسی حالت میں جہنم کے اندر گرا دئیے جائیں گے۔
واذا وقع القول علیھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (82- 90)
” ، ۔ “۔۔۔۔ ، “۔ زمین سے جانور نکالنے کا ذکر بعض احادیث میں آتا ہے۔ لیکن ان صحیح روایات میں اس جانور کی تفصیلات وصفات نہیں ہیں۔ جن روایات میں اس جانور کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں۔ وہ حد صحت تک پہنچی ہوئی نہیں ہیں ، لہٰذا ہم یہاں ان صفات سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس لیے کہ کسی جانور کا طول اگر سات گز ہو یا اس کا روئیں والا ہونا ، یا داڑھی والا ہونا ، یا اس کا سر بیل جیسا ہونا ، یا اس کی آنکھیں خنزیر جیسی ہونا ، یا اس کے کان ہاتھی جیسے ہونا یا اس کے سینگ بارہ سنگے یا اس کی گردن آہو کی طرح ہونا اور اس کا سینہ شیر کی طرح ہونا اور اس کا رنگ چیتے کی طرح ہونا اور اس کے دونوں پہلو بلی کی طرح ہونا اور اس کی دم دنبے کی طرح ہونا ، اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہونا اور پروں اور کھروں والا ہونا کوئی ایم بات نہیں ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جن میں مفسرین پریشان ہوئے۔
بس ہمیں چاہئے کہ قرآنی نص اور صحیح احادیث پر اکتفاء کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ علامات قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ اس قسم کا جانور نکلے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس وقت جو لوگ ہوں گے ان پر فیصلہ اٹل ہوجائے گا اور اب ان کے لیے توبہ کرنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا۔ بس اب جو لوگ جس حالت اور جس عقیدے پر ہوں گے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس وقت یہ جانور نکلے گا۔ یہ ان کے ساتھ بات کرے گا جبکہ عموماً جانور بات نہیں کرتے یا ہم لوگ ان کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔ لیکن آج سب لوگ اس جانور کی بات سمجھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ یہ وہ معجزہ ہے جسے قیامت سے قبل آنا تھا۔ اس سے قبل وہ آیات الہیہ پر ایمان نہ لاتے تھے۔ نہ ان کی تصدیق کرتے تھے اور نہ قیامت کی تصدیق کرتے تھے
یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سورت نمل میں ایسے مشاہدات و عجائبات کا ذکر ہے مثلاً حشرات الارض کی آپس میں گفتگو ، طیور کی گفتگو ، جنوں کی گفتگو ، اور سلیمان (علیہ السلام) کا ان کی گفتگو سمجھنا۔ اسی ضمن میں دابۃ الارض اور لوگوں کے ساتھ اس کی گفتگو ، مضمون کلام کی ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ اس طرح قرآن کریم ہر سورت میں مناظر ، مثالیں اور مضامین و مفاہیم و معانی بھی باہم متناسب اور ہم آہنگ لے کر آتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی)
اب علامت دابۃ الارض کے بیان کے بعد ، بات خود مناظر قیامت میں داخل ہوتی ہے۔
ویوم نحشر من ۔۔۔۔۔۔۔ یوزعون (27: 83) ” اور ذرا تصور کرو اس دن کا ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو مرتب کیا جائے گا “۔ تمام لوگوں کو اٹھایا جائے گا۔ اللہ کی مرضی یوں اس لیے ہوئی کہ وہ مکذبین کے موقف کو واضح کر دے۔ یوزعون کے معنی ہیں کہ ان سب کو ایک نظم کے ساتھ چلایا جائے گا ، ان کا اپنا کوئی اختیار و ارادہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنی مرضی سے کسی طرح جاسکیں گے۔
حتی اذا جآء ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (27: 84) ” یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو وہ پوچھے گا : تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے ؟ “ پہلا سوال تو ان کو شرمندہ کرنے اور ملامت کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات تو معلوم و معروف تھی کہ انہوں نے تکذیب کی تھی۔ رہا دوسرا سوال تو وہ ان کی زندگی پر ایک بھرپور طنز ہے۔ اور اس انداز خطاب کے نظائر ہر زبان میں موجود ہوتے ہیں۔ کیا تم نے تکذیب کی یا تم کیا کرتے تھے ؟ کیونکہ بظاہر تمہاری زندگی کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔ یعنی تکذیب کے علاوہ تمہاری زندگی کا اور تو کوئی عمل معلوم نہیں ہے جبکہ تمہیں تکذیب نہ کرنا چاہئے تھی۔ ایسے سوالات کا جواب ظاہر ہوتا ہے اس لیے جواب نہیں دیا جاتا اور مکاطب خاموش رہتا ہے۔ گویا اس سوال ہی کی وجہ سے مخاطب گنگ ہوجاتا ہے اور اس سے کوئی جواب بن نہیں پاتا۔
ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لاینطقون (27: 85) ” اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی بول نہ سکیں گے “۔ یعنی دنیا میں ظلم اور شرک کرنے کی وجہ سے ان پر فیصلہ برحق ہوگیا اور اب وہ بیکار ، لاجواب اور خاموش کھڑے ہیں اور یہ اس وقت ہوگا جب دابۃ الارض بات کرے گا اور لوگ بات نہ کرسکیں گے۔ قرآن کے معجزاتی انداز کا یہ ایک پہلو ہے کہ وہ کلام کے اندر ایک حسین معنوی تقابل پیدا کرتا ہے کہ جانور بات کر رہا ہے ، اسکے منہ میں زبان ہے اور یہ انسان ہوکر بھی لاکلام ہیں۔ پھر یہاں مشاہد دنیا اور مشاہد قیامت کے درمیان بھی ایک امتزاج اور تقابل ہے۔ کبھی دنیا کا منظر سامنے آتا ہے اور کبھی آخرت کا کیونکہ خروج دابہ دنیا کے آخری ایام میں ہوگا۔ اور یوں فضا میں گہرا تاثر قائم ہوجاتا ہے
یہاں پہلے قیامت کا منظر ہے کہ مکذبین وہاں مبہوت اور لاجواب کھڑے ہیں۔ پھر بات دنیا کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اور ان کے وجدان اور شعور کو بیدار کیا جاتا ہے اور دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ذرا اس نظام کائنات پر غور تو کریں کہ الہہ العالمین کس قدر عظیم قدرت والا ہے کہ تمہارے لیے وہ تمام اسباب حیات مہیا کرتا ہے ۔ تمہارے لیے دنیا میں راحت اور آرام کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ اس نے پوری کائنات کو اس طرح سازگار بنایا ہے کہ اس کے اندر تمہاری زندگی نہایت خوش و خرم گزر رہی ہے۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ممد حیات ہیں ، مضر حیات نہیں ہیں۔ وہ حیات انسانی کیلئے معاون ہیں۔ اس کے ساتھ برسرپیکار نہیں ہیں۔
الم یروا انا ۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یومنون (27: 86) ” کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا ؟ اس میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے “۔ رات کا منظر بالکل پرسکون اور خاموش ہے اور دن روشن اور گویا ہے۔ اور یہ منظر اس قابل ہیں کہ انسان کے اندر ایک ایسا شعور اور وجدان پیدا کریں جو اسے اللہ سے ملا دے ۔ جو رات اور دن کو گردش میں لانے والا ہے۔ رات اور دن کو منظر تو دراصل دو کائناتی شواہد ہیں اور ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو ایمان لانا چاہیں لیکن وہ ایمان نہیں لاتے۔
اگر رات نہ ہوتی تو تمام زمانہ دن پر مشتمل ہوتا اور اس کرہ ارض پر حیات ممکن نہ ہوتی اور اسی طرح اگر مسلسل رات ہوتی تو بھی زندگی ممکن نہ ہوتی بلکہ اگر رات اور دن اپنے موجودہ وقت سے دس گنا بھی طویل ہوتے تب بھی اس کرہ ارض پر زندگی محال ہوجاتی۔ سورج تمام نباتات کو جلا ڈالتا۔ اور رات تمام چیزوں کو منجمد کرکے رکھ دیتی۔ لہٰذا گردش لیل و نہار بھی انسانوں کے لیے ذریعہ حیات ہے لیکن لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔
اب گردش لیل و نہار کے ان دونوں دلائل و معجزات کے منظر سے بات چشم زدن میں قیامت کے مناظر کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایک لمحہ پہلے انسان اس کرہ ارض پر خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے کہ صور پھونک دیا گیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان ایک بھونچال سا آگیا ۔ تمام مخلوقات الا ماشاء اللہ خوفزدہ ہوگئی۔ پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگے ، حالانکہ وہ سکون وقرار کی علامت تھے۔ پھر اس دن لوگوں کے انجام سامنے آگئے۔ کسی کا انجام امن و عافیت ہوا اور کسی کا جزع و فزع اور اوندھے منہ آگ میں گرائے جانے تک پہنچا۔
ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔۔۔۔۔ الا ما کنتم تعملون (27: 87- 90) ” اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صور پھونکا جائے گا اور ہول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۔۔ سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا ۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے ، اور جو برائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو ؟ “
صور وہ نرسنگھا ہے ، جس میں قیامت کے دن پھونکا جائے گا۔ اور یہ وہ آواز ہوگی جس سے زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوفزدہ ہوجائے گی۔ الایہ کہ کسی کو اللہ اس سے مامون و محفوظ کر دے۔ کہا گیا ہے کہ شہداء اس سے محفوظ ہوں گے۔ تمام زندہ مخلوق بیہوش ہوجائے گی یا مر جائے گی۔ اس کے بعد دوسری بار پھونکا جائے گا تو تمام لوگ یکدم جی اٹھیں گے۔ وکل اتوہ دخرین (27: 87) ” اور سب کان دبا کر اس کے حضور حاضر ہوں گے “۔ یعنی نہایت مطیع فرمان ، سرخم کیے ہوئے ہوں گے۔ اس خوف و ہراس کے ساتھ ہی افلاک کا موجودہ نظام خلل پذیر ہوجائے گا اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے۔ تمام مدار ختم ہوں گے۔ اور پہاڑ بادلوں کی طرح چل پڑیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جس طرح لوگ مشوش ہوں گے اسی طرح پہاڑ بھی مشوش ہوں گے۔ ذی حیات اور جمادات سب میں انتشار ہوگا ، گویا پہاڑ بھی کو فزدہ ہوجائیں گے اور حیران و پریشان دوڑتے پھریں گے۔ اور پریشان و بےقرار ہوں گے۔ زندہ چیزوں کی طرح ان کی حرکت کی نہ سمت ہوگی نہ کوئی قرار ہوگا۔
صنع اللہ الذی اتقن کل شی (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا “۔ سبحان اللہ ، اس کی کاریگری کی خوبصورتی اور کمال تو اس کی تمام مصنوعات سے عیاں ہے ۔ اس کا ہر کام صحیح وقت پر ہوتا ہے ، اس میں کوئی نقص ، کوئی بخت و اتفاق ، کوئی بغاوت نہیں ہے نہ اس میں اللہ نے کوئی چیز بھال دی ہے ۔ اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کے مالہ و ما علیہ کو مکمل کیا۔ ہر چیز بامقصد بنائی۔ ہر چھوٹی اور بڑی چیز ایک اندازے سے رکھی۔ منصوبے اور مقاصد کے مطابق اور اس کے اندر اس قدر گہری حکمت اور دقیق منصوبہ بندی ہے کہ سر چکرا جاتے ہیں۔ مزید تفصیلات دیکھئے سورة الفرقان
کی آیت خلق کل شئ کی تفسیر میں۔
انہ خبیر بما تفعلون (27: 88) ” وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اور یہ ہے یوم الحساب ، ان کاموں کا جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور اس دن کو اس ذات نے مقرر کیا ہے جس کی قدرت کا کرشمہ یہ پوری کائنات ہے۔ اللہ اسے اپنے وقت پر لایا ہے۔ اس میں ایک گھنٹے کی تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر چیز نے اس کی حکمت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ عمل اور مکافات عمل کی خدائی اسکیم اپنے انجام کو پہنچے۔ عمل پہلی زندگی میں
ہو اور اس کا اجر وثواب دوسری زندگی میں۔
صنع اللہ الذی۔۔۔۔ بما تفعلون (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اس خوفزدہ کرنے والے ہولناک دن میں ، وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اچھے کام کیے ، نہایت ہی امن و سکون میں ہوں گے۔ اور اس امن و سکون کے علاوہ ان کو جو اجر اور بدلہ ملے گا وہ بہت ہی بڑا ہوگا اور کافی و شافی ہوگا۔
من جآء ۔۔۔۔۔ یومئذ امنون (27: 89) ” جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے “۔ قیامت کے دن کے ہول سے پر امن رہنا ہی ہمارے حقیر اعمال کی پوری جزاء ہے۔ اس کے بعد جو انعامات و اکرامات ملیں گے وہ گویا انعام اور پنشن ہے۔ اس لیے کہ اہل تقویٰ دنیا میں بھی اللہ سے ڈرتے رہتے تھے لیکن دنیا میں اللہ کے خوف اور تقویٰ کے ساتھ آخرت کے ہول کو جمع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ اللہ نے اہل تقویٰ کو اس سے مستثنیٰ کیا۔ اس دن جو مخلوق بھی زمین و آسمانوں میں ہے وہ اس ہول کا شکار ہوگی ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے بچا لیا اور یہ متقین ہوں گے۔
ومن جآء ۔۔۔۔۔۔ فی النار (27: 90) ” اور جو برائی لئے ہوئے آئے گا ایسے سب لوگ اوندھے منہ اگ میں پھینکے جائیں گے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے کہ لوگوں کو لا لا کر جہنم کے دھانے سے اوندھے منہ اس کے اندر گرایا جا رہا ہوگا اور اس پر مزید ان کو زجر و توبیخ بھی کی جا رہی ہوگی۔
ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (27: 90) ” کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو “۔ اس سے قبل دنیا میں انہوں نے ہدایت سے منہ موڑا اور انکار کیا۔ اس لیے یہاں ان کو بطور سزا منہ کے بل آگ میں گرایا جا رہا ہے کیونکہ ان کے سامنے سچائی نہایت ہی واضح ہو کر اور کھل کر آگئی تھی۔ اور اس طرح واضح تھی جس طرح رات اور دن واضح تھے مگر انہوں نے منہ موڑا۔
النمل 27:90
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے مگر بےفائدہ ۔ جب پہاڑ چل پڑیں گے اور یہ فضائے کائنات میں بادلوں کی طرف اڑ رہے ہوں گے پھر بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ اس جزع و فزع اور خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں گے اور بالکل مطمئن کھڑے ہوں گے اور کچھ دوسرے نہایت ہی دہشت زدہ سرنگوں ہوں گے۔ اور اسی حالت میں جہنم کے اندر گرا دئیے جائیں گے۔
واذا وقع القول علیھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (82- 90)
” ، ۔ “۔۔۔۔ ، “۔ زمین سے جانور نکالنے کا ذکر بعض احادیث میں آتا ہے۔ لیکن ان صحیح روایات میں اس جانور کی تفصیلات وصفات نہیں ہیں۔ جن روایات میں اس جانور کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں۔ وہ حد صحت تک پہنچی ہوئی نہیں ہیں ، لہٰذا ہم یہاں ان صفات سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اس لیے کہ کسی جانور کا طول اگر سات گز ہو یا اس کا روئیں والا ہونا ، یا داڑھی والا ہونا ، یا اس کا سر بیل جیسا ہونا ، یا اس کی آنکھیں خنزیر جیسی ہونا ، یا اس کے کان ہاتھی جیسے ہونا یا اس کے سینگ بارہ سنگے یا اس کی گردن آہو کی طرح ہونا اور اس کا سینہ شیر کی طرح ہونا اور اس کا رنگ چیتے کی طرح ہونا اور اس کے دونوں پہلو بلی کی طرح ہونا اور اس کی دم دنبے کی طرح ہونا ، اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہونا اور پروں اور کھروں والا ہونا کوئی ایم بات نہیں ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جن میں مفسرین پریشان ہوئے۔
بس ہمیں چاہئے کہ قرآنی نص اور صحیح احادیث پر اکتفاء کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ علامات قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ اس قسم کا جانور نکلے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس وقت جو لوگ ہوں گے ان پر فیصلہ اٹل ہوجائے گا اور اب ان کے لیے توبہ کرنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا۔ بس اب جو لوگ جس حالت اور جس عقیدے پر ہوں گے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس وقت یہ جانور نکلے گا۔ یہ ان کے ساتھ بات کرے گا جبکہ عموماً جانور بات نہیں کرتے یا ہم لوگ ان کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔ لیکن آج سب لوگ اس جانور کی بات سمجھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ یہ وہ معجزہ ہے جسے قیامت سے قبل آنا تھا۔ اس سے قبل وہ آیات الہیہ پر ایمان نہ لاتے تھے۔ نہ ان کی تصدیق کرتے تھے اور نہ قیامت کی تصدیق کرتے تھے
یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سورت نمل میں ایسے مشاہدات و عجائبات کا ذکر ہے مثلاً حشرات الارض کی آپس میں گفتگو ، طیور کی گفتگو ، جنوں کی گفتگو ، اور سلیمان (علیہ السلام) کا ان کی گفتگو سمجھنا۔ اسی ضمن میں دابۃ الارض اور لوگوں کے ساتھ اس کی گفتگو ، مضمون کلام کی ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ اس طرح قرآن کریم ہر سورت میں مناظر ، مثالیں اور مضامین و مفاہیم و معانی بھی باہم متناسب اور ہم آہنگ لے کر آتا ہے۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی)
اب علامت دابۃ الارض کے بیان کے بعد ، بات خود مناظر قیامت میں داخل ہوتی ہے۔
ویوم نحشر من ۔۔۔۔۔۔۔ یوزعون (27: 83) ” اور ذرا تصور کرو اس دن کا ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو مرتب کیا جائے گا “۔ تمام لوگوں کو اٹھایا جائے گا۔ اللہ کی مرضی یوں اس لیے ہوئی کہ وہ مکذبین کے موقف کو واضح کر دے۔ یوزعون کے معنی ہیں کہ ان سب کو ایک نظم کے ساتھ چلایا جائے گا ، ان کا اپنا کوئی اختیار و ارادہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنی مرضی سے کسی طرح جاسکیں گے۔
حتی اذا جآء ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (27: 84) ” یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو وہ پوچھے گا : تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے ؟ “ پہلا سوال تو ان کو شرمندہ کرنے اور ملامت کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات تو معلوم و معروف تھی کہ انہوں نے تکذیب کی تھی۔ رہا دوسرا سوال تو وہ ان کی زندگی پر ایک بھرپور طنز ہے۔ اور اس انداز خطاب کے نظائر ہر زبان میں موجود ہوتے ہیں۔ کیا تم نے تکذیب کی یا تم کیا کرتے تھے ؟ کیونکہ بظاہر تمہاری زندگی کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔ یعنی تکذیب کے علاوہ تمہاری زندگی کا اور تو کوئی عمل معلوم نہیں ہے جبکہ تمہیں تکذیب نہ کرنا چاہئے تھی۔ ایسے سوالات کا جواب ظاہر ہوتا ہے اس لیے جواب نہیں دیا جاتا اور مکاطب خاموش رہتا ہے۔ گویا اس سوال ہی کی وجہ سے مخاطب گنگ ہوجاتا ہے اور اس سے کوئی جواب بن نہیں پاتا۔
ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لاینطقون (27: 85) ” اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی بول نہ سکیں گے “۔ یعنی دنیا میں ظلم اور شرک کرنے کی وجہ سے ان پر فیصلہ برحق ہوگیا اور اب وہ بیکار ، لاجواب اور خاموش کھڑے ہیں اور یہ اس وقت ہوگا جب دابۃ الارض بات کرے گا اور لوگ بات نہ کرسکیں گے۔ قرآن کے معجزاتی انداز کا یہ ایک پہلو ہے کہ وہ کلام کے اندر ایک حسین معنوی تقابل پیدا کرتا ہے کہ جانور بات کر رہا ہے ، اسکے منہ میں زبان ہے اور یہ انسان ہوکر بھی لاکلام ہیں۔ پھر یہاں مشاہد دنیا اور مشاہد قیامت کے درمیان بھی ایک امتزاج اور تقابل ہے۔ کبھی دنیا کا منظر سامنے آتا ہے اور کبھی آخرت کا کیونکہ خروج دابہ دنیا کے آخری ایام میں ہوگا۔ اور یوں فضا میں گہرا تاثر قائم ہوجاتا ہے
یہاں پہلے قیامت کا منظر ہے کہ مکذبین وہاں مبہوت اور لاجواب کھڑے ہیں۔ پھر بات دنیا کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اور ان کے وجدان اور شعور کو بیدار کیا جاتا ہے اور دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ذرا اس نظام کائنات پر غور تو کریں کہ الہہ العالمین کس قدر عظیم قدرت والا ہے کہ تمہارے لیے وہ تمام اسباب حیات مہیا کرتا ہے ۔ تمہارے لیے دنیا میں راحت اور آرام کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ اس نے پوری کائنات کو اس طرح سازگار بنایا ہے کہ اس کے اندر تمہاری زندگی نہایت خوش و خرم گزر رہی ہے۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ممد حیات ہیں ، مضر حیات نہیں ہیں۔ وہ حیات انسانی کیلئے معاون ہیں۔ اس کے ساتھ برسرپیکار نہیں ہیں۔
الم یروا انا ۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یومنون (27: 86) ” کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا ؟ اس میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے “۔ رات کا منظر بالکل پرسکون اور خاموش ہے اور دن روشن اور گویا ہے۔ اور یہ منظر اس قابل ہیں کہ انسان کے اندر ایک ایسا شعور اور وجدان پیدا کریں جو اسے اللہ سے ملا دے ۔ جو رات اور دن کو گردش میں لانے والا ہے۔ رات اور دن کو منظر تو دراصل دو کائناتی شواہد ہیں اور ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو ایمان لانا چاہیں لیکن وہ ایمان نہیں لاتے۔
اگر رات نہ ہوتی تو تمام زمانہ دن پر مشتمل ہوتا اور اس کرہ ارض پر حیات ممکن نہ ہوتی اور اسی طرح اگر مسلسل رات ہوتی تو بھی زندگی ممکن نہ ہوتی بلکہ اگر رات اور دن اپنے موجودہ وقت سے دس گنا بھی طویل ہوتے تب بھی اس کرہ ارض پر زندگی محال ہوجاتی۔ سورج تمام نباتات کو جلا ڈالتا۔ اور رات تمام چیزوں کو منجمد کرکے رکھ دیتی۔ لہٰذا گردش لیل و نہار بھی انسانوں کے لیے ذریعہ حیات ہے لیکن لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔
اب گردش لیل و نہار کے ان دونوں دلائل و معجزات کے منظر سے بات چشم زدن میں قیامت کے مناظر کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایک لمحہ پہلے انسان اس کرہ ارض پر خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے کہ صور پھونک دیا گیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان ایک بھونچال سا آگیا ۔ تمام مخلوقات الا ماشاء اللہ خوفزدہ ہوگئی۔ پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگے ، حالانکہ وہ سکون وقرار کی علامت تھے۔ پھر اس دن لوگوں کے انجام سامنے آگئے۔ کسی کا انجام امن و عافیت ہوا اور کسی کا جزع و فزع اور اوندھے منہ آگ میں گرائے جانے تک پہنچا۔
ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔۔۔۔۔ الا ما کنتم تعملون (27: 87- 90) ” اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صور پھونکا جائے گا اور ہول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۔۔ سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا ۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے ، اور جو برائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو ؟ “
صور وہ نرسنگھا ہے ، جس میں قیامت کے دن پھونکا جائے گا۔ اور یہ وہ آواز ہوگی جس سے زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوفزدہ ہوجائے گی۔ الایہ کہ کسی کو اللہ اس سے مامون و محفوظ کر دے۔ کہا گیا ہے کہ شہداء اس سے محفوظ ہوں گے۔ تمام زندہ مخلوق بیہوش ہوجائے گی یا مر جائے گی۔ اس کے بعد دوسری بار پھونکا جائے گا تو تمام لوگ یکدم جی اٹھیں گے۔ وکل اتوہ دخرین (27: 87) ” اور سب کان دبا کر اس کے حضور حاضر ہوں گے “۔ یعنی نہایت مطیع فرمان ، سرخم کیے ہوئے ہوں گے۔ اس خوف و ہراس کے ساتھ ہی افلاک کا موجودہ نظام خلل پذیر ہوجائے گا اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے۔ تمام مدار ختم ہوں گے۔ اور پہاڑ بادلوں کی طرح چل پڑیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جس طرح لوگ مشوش ہوں گے اسی طرح پہاڑ بھی مشوش ہوں گے۔ ذی حیات اور جمادات سب میں انتشار ہوگا ، گویا پہاڑ بھی کو فزدہ ہوجائیں گے اور حیران و پریشان دوڑتے پھریں گے۔ اور پریشان و بےقرار ہوں گے۔ زندہ چیزوں کی طرح ان کی حرکت کی نہ سمت ہوگی نہ کوئی قرار ہوگا۔
صنع اللہ الذی اتقن کل شی (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا “۔ سبحان اللہ ، اس کی کاریگری کی خوبصورتی اور کمال تو اس کی تمام مصنوعات سے عیاں ہے ۔ اس کا ہر کام صحیح وقت پر ہوتا ہے ، اس میں کوئی نقص ، کوئی بخت و اتفاق ، کوئی بغاوت نہیں ہے نہ اس میں اللہ نے کوئی چیز بھال دی ہے ۔ اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کے مالہ و ما علیہ کو مکمل کیا۔ ہر چیز بامقصد بنائی۔ ہر چھوٹی اور بڑی چیز ایک اندازے سے رکھی۔ منصوبے اور مقاصد کے مطابق اور اس کے اندر اس قدر گہری حکمت اور دقیق منصوبہ بندی ہے کہ سر چکرا جاتے ہیں۔ مزید تفصیلات دیکھئے سورة الفرقان
کی آیت خلق کل شئ کی تفسیر میں۔
انہ خبیر بما تفعلون (27: 88) ” وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اور یہ ہے یوم الحساب ، ان کاموں کا جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور اس دن کو اس ذات نے مقرر کیا ہے جس کی قدرت کا کرشمہ یہ پوری کائنات ہے۔ اللہ اسے اپنے وقت پر لایا ہے۔ اس میں ایک گھنٹے کی تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر چیز نے اس کی حکمت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ عمل اور مکافات عمل کی خدائی اسکیم اپنے انجام کو پہنچے۔ عمل پہلی زندگی میں
ہو اور اس کا اجر وثواب دوسری زندگی میں۔
صنع اللہ الذی۔۔۔۔ بما تفعلون (27: 88) ” یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو “۔ اس خوفزدہ کرنے والے ہولناک دن میں ، وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اچھے کام کیے ، نہایت ہی امن و سکون میں ہوں گے۔ اور اس امن و سکون کے علاوہ ان کو جو اجر اور بدلہ ملے گا وہ بہت ہی بڑا ہوگا اور کافی و شافی ہوگا۔
من جآء ۔۔۔۔۔ یومئذ امنون (27: 89) ” جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے “۔ قیامت کے دن کے ہول سے پر امن رہنا ہی ہمارے حقیر اعمال کی پوری جزاء ہے۔ اس کے بعد جو انعامات و اکرامات ملیں گے وہ گویا انعام اور پنشن ہے۔ اس لیے کہ اہل تقویٰ دنیا میں بھی اللہ سے ڈرتے رہتے تھے لیکن دنیا میں اللہ کے خوف اور تقویٰ کے ساتھ آخرت کے ہول کو جمع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ اللہ نے اہل تقویٰ کو اس سے مستثنیٰ کیا۔ اس دن جو مخلوق بھی زمین و آسمانوں میں ہے وہ اس ہول کا شکار ہوگی ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے بچا لیا اور یہ متقین ہوں گے۔
ومن جآء ۔۔۔۔۔۔ فی النار (27: 90) ” اور جو برائی لئے ہوئے آئے گا ایسے سب لوگ اوندھے منہ اگ میں پھینکے جائیں گے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے کہ لوگوں کو لا لا کر جہنم کے دھانے سے اوندھے منہ اس کے اندر گرایا جا رہا ہوگا اور اس پر مزید ان کو زجر و توبیخ بھی کی جا رہی ہوگی۔
ھل تجزون الا ما کنتم تعملون (27: 90) ” کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو “۔ اس سے قبل دنیا میں انہوں نے ہدایت سے منہ موڑا اور انکار کیا۔ اس لیے یہاں ان کو بطور سزا منہ کے بل آگ میں گرایا جا رہا ہے کیونکہ ان کے سامنے سچائی نہایت ہی واضح ہو کر اور کھل کر آگئی تھی۔ اور اس طرح واضح تھی جس طرح رات اور دن واضح تھے مگر انہوں نے منہ موڑا۔
النمل 27:91
اب سورت کے آخر میں آخری ضربات ہیں۔ یہاں یہاں رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی دعوت کا خلاصہ بیان کریں۔ اپنے منہاج کار کی وضاحت کردیں۔ طریقہ دعوت بتا دیں اور تبلیغ کردینے اور خدا کا پیغام پہنچا دینے کے بعد اب ان کو اس انجام کے حوالے کردیں۔ جو اللہ نے ان لوگوں کے لیے پسند فرمایا ہے اس لیے کہ انہوں نے خود اپنے لیے اسے چنا ہے۔ اور بات کا خاتمہ بھی اسی حمد و ثنا پر ہوتا ہے جس کے ساتھ آغاز ہوا تھا۔
انما امرت ان اعبد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما ربک بغافل عما تعملون (27: 91- 93)
” “۔
اہل عرب مکہ مکرمہ کو بیت الحرام اور حرم کو قابل احترام سمجھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور حرم شریف کے اس احترام پر ان کی قیادت و سیادت قائم تھی لیکن اس کے باوجود وہ اس اللہ کو وحدہ لاشریک نہ سمجھتے تھے جس نے اس شہر اور کعبہ کو احترام دے کر ان کو عزت بخشی تھی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ یہاں ان کے نظریہ کو اس طرح درست فرماتے ہیں جس طرح نظریہ کو درست کرنا چاہئے۔ وہ اعلان فرماتے ہیں کہ لوگو مجھے سب سے پہلے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس شہر کو محترم بنایا ہے۔ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ اللہ کی الوہیت کا پورا تصور یہاں یہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس شہر کا مالک ہے اور اس شہر کے علاوہ بھی ہر چیز اس کی ملکیت ہے۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ مجھے سب سے پہلے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں بھی سرتسلیم خم کردینے والا بندہ ، مسلم بن جاؤں۔ اس طرح کہ اس تسلیم و رضا میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ ایسا ہی مسلم وہ گروہ ہے جس پر پوری انسانی تاریخ میں دعوت اسلامی کا مدار رہا ہے۔ جو پورے موحد اور پوری طرح سر تسلیم خم کرنے والے رہے ہیں۔ یہ تو تھے دعوت اسلامی کے بنیادی عناصر۔ رہا اس دعوت کا وسیلہ اور اس کا ذریعہ تو وہ تلاوت قرآن ہے۔
وان اتلو القران (27: 92) ” اور یہ کہ قرآن پڑھ کر سناؤں “۔ قرآن دراصل دعوت اسلامی کی کتاب اول بنے۔ یہ ہمارا دستور ہے اور ہماری کامیابی اور فلاح کا وسیلہ ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اس قرآن کے ذریعے جہاد فرمائیں بمقابلہ کفار۔ انسانی عقل اور انسانی روح کی تربیت کے لیے اس کے اندر بہت کچھ ہے۔ یہ نفس انسانی کے ہر پہلو کو لیتا ہے۔ یہ انسانی شعور کے تمام طریقوں کو آزماتا ہے۔ اس کے اندر ایسی قوت ہے کہ وہ خشک دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کردیتا ہے۔ وہ انسان کے دل و دماغ کو اس قدر جھنجھوڑتا ہے کہ انہیں بےقرار کردیتا ہے۔ دعوت اسلامی کے لیے تو قرآن کافی و شافی ہے۔ اس کے ساتھ جہاد و قتال کو تو محض اس لیے فرض کیا گیا ہے کہ اہل ایمان کو فتنوں اور دشمنوں کے شر سے بچایا جاسکے۔ اور پوری دنیا میں قرآن کی دعوت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اور جہاد کو دوسرا مقصد ایسی قوت کا حصول ہے جس کے ذریعے شریعت نے قانون کو نافذ کیا جاسکے۔ رہی دعوت اسلامی تو اس کا ذریعہ اور وسیلہ صرف کتاب اللہ ہے۔ وان اتلو۔۔۔۔۔ (27: 92) ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن کریم کی تلاوت کروں “۔
فمن اھتدی فانما یھتدی ۔۔۔۔۔۔۔ من المنذرین (27: 92) ” اب جو ہدایت اختیار کرے گا ، وہ اپنے بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اس سے کہہ دو کہ میں بس خبردار کردینے والا ہوں “۔ اس آیت میں انفرادی ذمہ داری کا اصول بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ہدایت و ضلالت کی راہ اپنانے میں ہر شخص خود ذمہ دار ہے۔ اس انفرادی ذمہ داری کے اصول کے اندر یہ اصول کار فرما ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان بہت ہی محترم ہے۔ اور اسلام احترام آدمیت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اسلام انسانوں کو حیوانوں کی طرح ہانک کر اسلام کے دائرے میں جبراً داخل نہیں کرتا ۔ اسلام دعوت اسلامی کو قرآن کی شکل میں انسانوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ان کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ دعوت لوگوں کے دلوں پر اثر کرتی ہے۔ یہ ہے اسلام کا گہرا ، عمدہ اور عمیق طریق کار۔ یہ انسانی فطرت کو اس کی گہرائیوں سے لیتا ہے جس طرح قرآن نے انسانی نفوس کی تربیت کے لیے نہایت ہی فطری منہاج اپنایا ہے۔
وقل الحمدللہ (27: 93) ” ان سے کہو تعریف اللہ ہی کے لیے ہے “۔ اللہ کے کمالات اور کاری گریوں سے پہلے اللہ کی تعریف۔
سیریکم ایتہ فتعرفونھا (27: 93) ” عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لوگے “۔ اللہ نے بالکل سچ کہا ، اللہ کے بندے ہر دن انفس و آفاق میں اللہ کی آیات و نشانات کو دیکھتے ہیں اور اللہ نے اس کائنات میں جو اسرار و رموز ودیعت کیے ہیں ، آئے دن ان کے بارے میں انکشافات ہوتے رہے ہیں۔
وما ربک بغافل عما تعلمون (27: 93) ” اور تیرا رب بیخبر نہیں ہے ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو “۔ یہ وہ آخری ضرب ہے جو انسانی عقل و خرو کی تاروں پر اس سورت کے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ نہایت ہی میٹھے ، خوبصورت اشاراتی اور پھر نہایت ہی دو ٹوک اور خوفناک انداز بیان میں۔ اس کے بعد لوگوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اب وہ جو چاہیں کریں لیکن ان کو اس تنبیہہ کے ساتھ آزاد چھوڑا جاتا ہے۔
وما ربک بغافل عما تعلمون (27: 93) ” اور تیرا رب بیخبر نہیں ہے ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو “۔
النمل 27:92
اب سورت کے آخر میں آخری ضربات ہیں۔ یہاں یہاں رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی دعوت کا خلاصہ بیان کریں۔ اپنے منہاج کار کی وضاحت کردیں۔ طریقہ دعوت بتا دیں اور تبلیغ کردینے اور خدا کا پیغام پہنچا دینے کے بعد اب ان کو اس انجام کے حوالے کردیں۔ جو اللہ نے ان لوگوں کے لیے پسند فرمایا ہے اس لیے کہ انہوں نے خود اپنے لیے اسے چنا ہے۔ اور بات کا خاتمہ بھی اسی حمد و ثنا پر ہوتا ہے جس کے ساتھ آغاز ہوا تھا۔
انما امرت ان اعبد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما ربک بغافل عما تعملون (27: 91- 93)
” “۔
اہل عرب مکہ مکرمہ کو بیت الحرام اور حرم کو قابل احترام سمجھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور حرم شریف کے اس احترام پر ان کی قیادت و سیادت قائم تھی لیکن اس کے باوجود وہ اس اللہ کو وحدہ لاشریک نہ سمجھتے تھے جس نے اس شہر اور کعبہ کو احترام دے کر ان کو عزت بخشی تھی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ یہاں ان کے نظریہ کو اس طرح درست فرماتے ہیں جس طرح نظریہ کو درست کرنا چاہئے۔ وہ اعلان فرماتے ہیں کہ لوگو مجھے سب سے پہلے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس شہر کو محترم بنایا ہے۔ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ اللہ کی الوہیت کا پورا تصور یہاں یہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس شہر کا مالک ہے اور اس شہر کے علاوہ بھی ہر چیز اس کی ملکیت ہے۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ مجھے سب سے پہلے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں بھی سرتسلیم خم کردینے والا بندہ ، مسلم بن جاؤں۔ اس طرح کہ اس تسلیم و رضا میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ ایسا ہی مسلم وہ گروہ ہے جس پر پوری انسانی تاریخ میں دعوت اسلامی کا مدار رہا ہے۔ جو پورے موحد اور پوری طرح سر تسلیم خم کرنے والے رہے ہیں۔ یہ تو تھے دعوت اسلامی کے بنیادی عناصر۔ رہا اس دعوت کا وسیلہ اور اس کا ذریعہ تو وہ تلاوت قرآن ہے۔
وان اتلو القران (27: 92) ” اور یہ کہ قرآن پڑھ کر سناؤں “۔ قرآن دراصل دعوت اسلامی کی کتاب اول بنے۔ یہ ہمارا دستور ہے اور ہماری کامیابی اور فلاح کا وسیلہ ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اس قرآن کے ذریعے جہاد فرمائیں بمقابلہ کفار۔ انسانی عقل اور انسانی روح کی تربیت کے لیے اس کے اندر بہت کچھ ہے۔ یہ نفس انسانی کے ہر پہلو کو لیتا ہے۔ یہ انسانی شعور کے تمام طریقوں کو آزماتا ہے۔ اس کے اندر ایسی قوت ہے کہ وہ خشک دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کردیتا ہے۔ وہ انسان کے دل و دماغ کو اس قدر جھنجھوڑتا ہے کہ انہیں بےقرار کردیتا ہے۔ دعوت اسلامی کے لیے تو قرآن کافی و شافی ہے۔ اس کے ساتھ جہاد و قتال کو تو محض اس لیے فرض کیا گیا ہے کہ اہل ایمان کو فتنوں اور دشمنوں کے شر سے بچایا جاسکے۔ اور پوری دنیا میں قرآن کی دعوت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اور جہاد کو دوسرا مقصد ایسی قوت کا حصول ہے جس کے ذریعے شریعت نے قانون کو نافذ کیا جاسکے۔ رہی دعوت اسلامی تو اس کا ذریعہ اور وسیلہ صرف کتاب اللہ ہے۔ وان اتلو۔۔۔۔۔ (27: 92) ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن کریم کی تلاوت کروں “۔
فمن اھتدی فانما یھتدی ۔۔۔۔۔۔۔ من المنذرین (27: 92) ” اب جو ہدایت اختیار کرے گا ، وہ اپنے بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اس سے کہہ دو کہ میں بس خبردار کردینے والا ہوں “۔ اس آیت میں انفرادی ذمہ داری کا اصول بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ہدایت و ضلالت کی راہ اپنانے میں ہر شخص خود ذمہ دار ہے۔ اس انفرادی ذمہ داری کے اصول کے اندر یہ اصول کار فرما ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان بہت ہی محترم ہے۔ اور اسلام احترام آدمیت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اسلام انسانوں کو حیوانوں کی طرح ہانک کر اسلام کے دائرے میں جبراً داخل نہیں کرتا ۔ اسلام دعوت اسلامی کو قرآن کی شکل میں انسانوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ان کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ دعوت لوگوں کے دلوں پر اثر کرتی ہے۔ یہ ہے اسلام کا گہرا ، عمدہ اور عمیق طریق کار۔ یہ انسانی فطرت کو اس کی گہرائیوں سے لیتا ہے جس طرح قرآن نے انسانی نفوس کی تربیت کے لیے نہایت ہی فطری منہاج اپنایا ہے۔
وقل الحمدللہ (27: 93) ” ان سے کہو تعریف اللہ ہی کے لیے ہے “۔ اللہ کے کمالات اور کاری گریوں سے پہلے اللہ کی تعریف۔
سیریکم ایتہ فتعرفونھا (27: 93) ” عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لوگے “۔ اللہ نے بالکل سچ کہا ، اللہ کے بندے ہر دن انفس و آفاق میں اللہ کی آیات و نشانات کو دیکھتے ہیں اور اللہ نے اس کائنات میں جو اسرار و رموز ودیعت کیے ہیں ، آئے دن ان کے بارے میں انکشافات ہوتے رہے ہیں۔
وما ربک بغافل عما تعلمون (27: 93) ” اور تیرا رب بیخبر نہیں ہے ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو “۔ یہ وہ آخری ضرب ہے جو انسانی عقل و خرو کی تاروں پر اس سورت کے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ نہایت ہی میٹھے ، خوبصورت اشاراتی اور پھر نہایت ہی دو ٹوک اور خوفناک انداز بیان میں۔ اس کے بعد لوگوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اب وہ جو چاہیں کریں لیکن ان کو اس تنبیہہ کے ساتھ آزاد چھوڑا جاتا ہے۔
وما ربک بغافل عما تعلمون (27: 93) ” اور تیرا رب بیخبر نہیں ہے ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو “۔
النمل 27:93
اب سورت کے آخر میں آخری ضربات ہیں۔ یہاں یہاں رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی دعوت کا خلاصہ بیان کریں۔ اپنے منہاج کار کی وضاحت کردیں۔ طریقہ دعوت بتا دیں اور تبلیغ کردینے اور خدا کا پیغام پہنچا دینے کے بعد اب ان کو اس انجام کے حوالے کردیں۔ جو اللہ نے ان لوگوں کے لیے پسند فرمایا ہے اس لیے کہ انہوں نے خود اپنے لیے اسے چنا ہے۔ اور بات کا خاتمہ بھی اسی حمد و ثنا پر ہوتا ہے جس کے ساتھ آغاز ہوا تھا۔
انما امرت ان اعبد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما ربک بغافل عما تعملون (27: 91- 93)
” “۔
اہل عرب مکہ مکرمہ کو بیت الحرام اور حرم کو قابل احترام سمجھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور حرم شریف کے اس احترام پر ان کی قیادت و سیادت قائم تھی لیکن اس کے باوجود وہ اس اللہ کو وحدہ لاشریک نہ سمجھتے تھے جس نے اس شہر اور کعبہ کو احترام دے کر ان کو عزت بخشی تھی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ یہاں ان کے نظریہ کو اس طرح درست فرماتے ہیں جس طرح نظریہ کو درست کرنا چاہئے۔ وہ اعلان فرماتے ہیں کہ لوگو مجھے سب سے پہلے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس شہر کو محترم بنایا ہے۔ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ اللہ کی الوہیت کا پورا تصور یہاں یہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس شہر کا مالک ہے اور اس شہر کے علاوہ بھی ہر چیز اس کی ملکیت ہے۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ مجھے سب سے پہلے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں بھی سرتسلیم خم کردینے والا بندہ ، مسلم بن جاؤں۔ اس طرح کہ اس تسلیم و رضا میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ ایسا ہی مسلم وہ گروہ ہے جس پر پوری انسانی تاریخ میں دعوت اسلامی کا مدار رہا ہے۔ جو پورے موحد اور پوری طرح سر تسلیم خم کرنے والے رہے ہیں۔ یہ تو تھے دعوت اسلامی کے بنیادی عناصر۔ رہا اس دعوت کا وسیلہ اور اس کا ذریعہ تو وہ تلاوت قرآن ہے۔
وان اتلو القران (27: 92) ” اور یہ کہ قرآن پڑھ کر سناؤں “۔ قرآن دراصل دعوت اسلامی کی کتاب اول بنے۔ یہ ہمارا دستور ہے اور ہماری کامیابی اور فلاح کا وسیلہ ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اس قرآن کے ذریعے جہاد فرمائیں بمقابلہ کفار۔ انسانی عقل اور انسانی روح کی تربیت کے لیے اس کے اندر بہت کچھ ہے۔ یہ نفس انسانی کے ہر پہلو کو لیتا ہے۔ یہ انسانی شعور کے تمام طریقوں کو آزماتا ہے۔ اس کے اندر ایسی قوت ہے کہ وہ خشک دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کردیتا ہے۔ وہ انسان کے دل و دماغ کو اس قدر جھنجھوڑتا ہے کہ انہیں بےقرار کردیتا ہے۔ دعوت اسلامی کے لیے تو قرآن کافی و شافی ہے۔ اس کے ساتھ جہاد و قتال کو تو محض اس لیے فرض کیا گیا ہے کہ اہل ایمان کو فتنوں اور دشمنوں کے شر سے بچایا جاسکے۔ اور پوری دنیا میں قرآن کی دعوت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اور جہاد کو دوسرا مقصد ایسی قوت کا حصول ہے جس کے ذریعے شریعت نے قانون کو نافذ کیا جاسکے۔ رہی دعوت اسلامی تو اس کا ذریعہ اور وسیلہ صرف کتاب اللہ ہے۔ وان اتلو۔۔۔۔۔ (27: 92) ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن کریم کی تلاوت کروں “۔
فمن اھتدی فانما یھتدی ۔۔۔۔۔۔۔ من المنذرین (27: 92) ” اب جو ہدایت اختیار کرے گا ، وہ اپنے بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اس سے کہہ دو کہ میں بس خبردار کردینے والا ہوں “۔ اس آیت میں انفرادی ذمہ داری کا اصول بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ہدایت و ضلالت کی راہ اپنانے میں ہر شخص خود ذمہ دار ہے۔ اس انفرادی ذمہ داری کے اصول کے اندر یہ اصول کار فرما ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان بہت ہی محترم ہے۔ اور اسلام احترام آدمیت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اسلام انسانوں کو حیوانوں کی طرح ہانک کر اسلام کے دائرے میں جبراً داخل نہیں کرتا ۔ اسلام دعوت اسلامی کو قرآن کی شکل میں انسانوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ان کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ دعوت لوگوں کے دلوں پر اثر کرتی ہے۔ یہ ہے اسلام کا گہرا ، عمدہ اور عمیق طریق کار۔ یہ انسانی فطرت کو اس کی گہرائیوں سے لیتا ہے جس طرح قرآن نے انسانی نفوس کی تربیت کے لیے نہایت ہی فطری منہاج اپنایا ہے۔
وقل الحمدللہ (27: 93) ” ان سے کہو تعریف اللہ ہی کے لیے ہے “۔ اللہ کے کمالات اور کاری گریوں سے پہلے اللہ کی تعریف۔
سیریکم ایتہ فتعرفونھا (27: 93) ” عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لوگے “۔ اللہ نے بالکل سچ کہا ، اللہ کے بندے ہر دن انفس و آفاق میں اللہ کی آیات و نشانات کو دیکھتے ہیں اور اللہ نے اس کائنات میں جو اسرار و رموز ودیعت کیے ہیں ، آئے دن ان کے بارے میں انکشافات ہوتے رہے ہیں۔
وما ربک بغافل عما تعلمون (27: 93) ” اور تیرا رب بیخبر نہیں ہے ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو “۔ یہ وہ آخری ضرب ہے جو انسانی عقل و خرو کی تاروں پر اس سورت کے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ نہایت ہی میٹھے ، خوبصورت اشاراتی اور پھر نہایت ہی دو ٹوک اور خوفناک انداز بیان میں۔ اس کے بعد لوگوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اب وہ جو چاہیں کریں لیکن ان کو اس تنبیہہ کے ساتھ آزاد چھوڑا جاتا ہے۔
وما ربک بغافل عما تعلمون (27: 93) ” اور تیرا رب بیخبر نہیں ہے ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو “۔