Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الزخرف 43:36 – الزخرف 43:89

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الزخرف 43:36
  2. الزخرف 43:37
  3. الزخرف 43:38
  4. الزخرف 43:39
  5. الزخرف 43:40
  6. الزخرف 43:41
  7. الزخرف 43:42
  8. الزخرف 43:43
  9. الزخرف 43:44
  10. الزخرف 43:45
  11. الزخرف 43:46
  12. الزخرف 43:47
  13. الزخرف 43:48
  14. الزخرف 43:49
  15. الزخرف 43:50
  16. الزخرف 43:51
  17. الزخرف 43:52
  18. الزخرف 43:53
  19. الزخرف 43:54
  20. الزخرف 43:55
  21. الزخرف 43:56
  22. الزخرف 43:57
  23. الزخرف 43:58
  24. الزخرف 43:59
  25. الزخرف 43:60
  26. الزخرف 43:61
  27. الزخرف 43:62
  28. الزخرف 43:63
  29. الزخرف 43:64
  30. الزخرف 43:65
  31. الزخرف 43:66
  32. الزخرف 43:67
  33. الزخرف 43:68
  34. الزخرف 43:69
  35. الزخرف 43:70
  36. الزخرف 43:71
  37. الزخرف 43:72
  38. الزخرف 43:73
  39. الزخرف 43:74
  40. الزخرف 43:75
  41. الزخرف 43:76
  42. الزخرف 43:77
  43. الزخرف 43:78
  44. الزخرف 43:79
  45. الزخرف 43:80
  46. الزخرف 43:81
  47. الزخرف 43:82
  48. الزخرف 43:83
  49. الزخرف 43:84
  50. الزخرف 43:85
  51. الزخرف 43:86
  52. الزخرف 43:87
  53. الزخرف 43:88
  54. الزخرف 43:89

الزخرف 43:36

آیت نمبر 36 تا 39 العشی کے معنی ہوتے ہیں نظر کا دیکھ نہ سکنا ، بالعموم یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب تیز روشنی سے آنکھیں دو چار ہوں ، جس میں آنکھوں کو کھولنا ممکن نہ ہو۔ نیز عشی کی وجہ سے شام کے اندھیرے میں کمزور نظر کے لوگ صحیح طرح معلوم نہیں کرسکتے۔ اور ایک خاص بیماری کی وجہ سے بھی یہ ہوتا ہے۔ یہاں مقصد غفلت اور اللہ کی یاد سے منہ موڑنا اور دل سے یہ شعور محو کردینا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ ومن یعش عن ذکر الرحمٰن نقیض لہ شیطنا فھو لہ قرین (43 : 36) “ جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے ، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے ”۔ اللہ کی مشیت نے فطرت انسان میں یہ بات رکھ دی ہے کہ جب اس کا دل ذکر الٰہی سے غافل ہوا اس کی طرف ایک شیطان راہ پالیتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ لگ جاتا ہے ، ہر وقت اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ اور اس کے لئے برائی کو خوبصورت بناتا رہتا ہے۔ یہ شرط اور اس کا جواب دونوں مل کر اللہ کے نظام مشیت کی خوبصورت تعبیر کرتے ہیں۔ اللہ کی سنت کے مطابق سبب آتے ہی نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے سے اللہ کے علم کے مطابق طے ہوتا ہے اور اسے قضا اور قدر کہتے ہیں۔ اور شیطانی برے دوستوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے انسانی برے دوستوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ یوں یہ انسان خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ وانھم لیصدونھم عن السبیل ویحسبون انھم مھتدون (43 : 37) “ اور یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں اور وہ اپنی جگہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں ”۔ ایک دوست کی طرف سے ایک دوست کے ساتھ یہ نہایت ہی برا سلوک ہے کہ وہ دوست کو سیدھے راستے سے روک کر غلط راہ پر ڈال دے اور پھر اسے مسلسل غافل رکھے کہ وہ انسانی دوست کبھی یہ سوچ بھی نہ سکے کہ وہ غلطی پر ہے بلکہ اسے یہ تسلی دیتا رہے کہ وہ سیدھی راہ پر جارہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ برے انجام کے ساتھ متصادم ہوجاتا ہے۔ یہاں انداز تعبیر کے لئے فعل مضارع استعمال ہوا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ہر عمل جاری ہے۔ لیصدونھم “ وہ روکتے ہیں ”۔ یحسبون “ وہ گمان کرتے ہیں ”۔ اور دیکھا جاسکتا ہے بلکہ دوسرے لوگ دیکھ رہے ہیں اس تماشہ کو ، جبکہ وہ خود اسے تمہیں دیکھ رہے جو جہنم کی طرف رواں ہیں لیکن انجام سے بیخبر اور جس راہ پر وہ جارہے ہیں ، اچانک ہی وہ انجام بد تک پہنچ جائیں گے۔ حتی اذا جاء ۔۔۔۔ فبئس القرین (43 : 38) “ آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا ، “ کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بعد ہوتا تو ، تو بدترین ساتھی نکلا ”۔ چشم زدن میں ہم دنیا سے آخرت میں چلے جاتے ہیں ، ہماری اس زندگی کا دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اور یہ اندھا پن اس کو شیطان کی رفاقت میں آخری انجام تک پہنچا دیتا ہے۔ یہاں اب ہوش آجائے گا ، جس طرح شرابی کا نشہ اترتا ہے اور اندھے پن اور مدہوشی کے بعد یہ نظریں اٹھا کر دیکھیں گے۔ اب یہ شخص اپنے ساتھی کو غور سے دیکھے گا جو اسے یہ یقین دہائیاں کرا رہا تھا کہ میں تو آپ کو صحیح راہ پر لے جا رہا ہوں ، لیکن تھا وہ بربادی و ہلاکت کا راہبر۔ اس لیے وہ جل بھن کر اسے کہے گا۔ یلیت بینی وبینک بعد المشرقین ( 43 : 37) “ کاش میرے اور تیرے درمیان شرق و مغرب کا بعد ہوتا ”۔ کاش کہ ہم ملتے ہی نہ اور ہمارے درمیان یہ دوریاں ہوتیں اور پھر قرآن مجید کہتا ہے۔ فبئس القرین (43 : 38) “ یہ تو بہت ہی برا ساتھی ہے ”۔ اب دونوں کی حالت پر مایوس کردینے والا تبصرہ۔ اور پھر اس منظر پر پردہ کرتا ہے۔ ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم انکم فی العذاب مشترکون (43 : 39) “ اور اس وقت ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کرچکے تو آج یہ بات تمہارے لئے کچھ نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیطان عذاب میں مشترک ہیں ” ۔ عذاب سب کے لئے برابر ہے اور اس کو باہم تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ ٭٭٭٭ اب روئے سخن ان لوگوں سے بھر جاتا ہے۔ ان لوگوں کو اس بری حالت میں چھوڑ کر کہ ایک دوسرے کو ملامت کریں ، الزامات کی بوچھاڑ کریں ، برا بھلا کہیں ، خطاب رسول اللہ ﷺ سے شروع ہوجاتا ہے کہ آپ ان لوگوں کے اس انجام بد سے پریشان نہ ہوں اور ان کے اعراض اور کفر کی پرواہ بھی نہ کریں جو حق آپ کی طرف آرہا ہے اس پر جم جائیں اور سچائی قدیم زمانے سے مسلسل آرہی ہے اور ہر رسول نے اسی کو پیش کیا ہے۔

الزخرف 43:37

آیت نمبر 36 تا 39 العشی کے معنی ہوتے ہیں نظر کا دیکھ نہ سکنا ، بالعموم یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب تیز روشنی سے آنکھیں دو چار ہوں ، جس میں آنکھوں کو کھولنا ممکن نہ ہو۔ نیز عشی کی وجہ سے شام کے اندھیرے میں کمزور نظر کے لوگ صحیح طرح معلوم نہیں کرسکتے۔ اور ایک خاص بیماری کی وجہ سے بھی یہ ہوتا ہے۔ یہاں مقصد غفلت اور اللہ کی یاد سے منہ موڑنا اور دل سے یہ شعور محو کردینا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ ومن یعش عن ذکر الرحمٰن نقیض لہ شیطنا فھو لہ قرین (43 : 36) “ جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے ، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے ”۔ اللہ کی مشیت نے فطرت انسان میں یہ بات رکھ دی ہے کہ جب اس کا دل ذکر الٰہی سے غافل ہوا اس کی طرف ایک شیطان راہ پالیتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ لگ جاتا ہے ، ہر وقت اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ اور اس کے لئے برائی کو خوبصورت بناتا رہتا ہے۔ یہ شرط اور اس کا جواب دونوں مل کر اللہ کے نظام مشیت کی خوبصورت تعبیر کرتے ہیں۔ اللہ کی سنت کے مطابق سبب آتے ہی نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے سے اللہ کے علم کے مطابق طے ہوتا ہے اور اسے قضا اور قدر کہتے ہیں۔ اور شیطانی برے دوستوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے انسانی برے دوستوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ یوں یہ انسان خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ وانھم لیصدونھم عن السبیل ویحسبون انھم مھتدون (43 : 37) “ اور یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں اور وہ اپنی جگہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں ”۔ ایک دوست کی طرف سے ایک دوست کے ساتھ یہ نہایت ہی برا سلوک ہے کہ وہ دوست کو سیدھے راستے سے روک کر غلط راہ پر ڈال دے اور پھر اسے مسلسل غافل رکھے کہ وہ انسانی دوست کبھی یہ سوچ بھی نہ سکے کہ وہ غلطی پر ہے بلکہ اسے یہ تسلی دیتا رہے کہ وہ سیدھی راہ پر جارہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ برے انجام کے ساتھ متصادم ہوجاتا ہے۔ یہاں انداز تعبیر کے لئے فعل مضارع استعمال ہوا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ہر عمل جاری ہے۔ لیصدونھم “ وہ روکتے ہیں ”۔ یحسبون “ وہ گمان کرتے ہیں ”۔ اور دیکھا جاسکتا ہے بلکہ دوسرے لوگ دیکھ رہے ہیں اس تماشہ کو ، جبکہ وہ خود اسے تمہیں دیکھ رہے جو جہنم کی طرف رواں ہیں لیکن انجام سے بیخبر اور جس راہ پر وہ جارہے ہیں ، اچانک ہی وہ انجام بد تک پہنچ جائیں گے۔ حتی اذا جاء ۔۔۔۔ فبئس القرین (43 : 38) “ آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا ، “ کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بعد ہوتا تو ، تو بدترین ساتھی نکلا ”۔ چشم زدن میں ہم دنیا سے آخرت میں چلے جاتے ہیں ، ہماری اس زندگی کا دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اور یہ اندھا پن اس کو شیطان کی رفاقت میں آخری انجام تک پہنچا دیتا ہے۔ یہاں اب ہوش آجائے گا ، جس طرح شرابی کا نشہ اترتا ہے اور اندھے پن اور مدہوشی کے بعد یہ نظریں اٹھا کر دیکھیں گے۔ اب یہ شخص اپنے ساتھی کو غور سے دیکھے گا جو اسے یہ یقین دہائیاں کرا رہا تھا کہ میں تو آپ کو صحیح راہ پر لے جا رہا ہوں ، لیکن تھا وہ بربادی و ہلاکت کا راہبر۔ اس لیے وہ جل بھن کر اسے کہے گا۔ یلیت بینی وبینک بعد المشرقین ( 43 : 37) “ کاش میرے اور تیرے درمیان شرق و مغرب کا بعد ہوتا ”۔ کاش کہ ہم ملتے ہی نہ اور ہمارے درمیان یہ دوریاں ہوتیں اور پھر قرآن مجید کہتا ہے۔ فبئس القرین (43 : 38) “ یہ تو بہت ہی برا ساتھی ہے ”۔ اب دونوں کی حالت پر مایوس کردینے والا تبصرہ۔ اور پھر اس منظر پر پردہ کرتا ہے۔ ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم انکم فی العذاب مشترکون (43 : 39) “ اور اس وقت ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کرچکے تو آج یہ بات تمہارے لئے کچھ نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیطان عذاب میں مشترک ہیں ” ۔ عذاب سب کے لئے برابر ہے اور اس کو باہم تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ ٭٭٭٭ اب روئے سخن ان لوگوں سے بھر جاتا ہے۔ ان لوگوں کو اس بری حالت میں چھوڑ کر کہ ایک دوسرے کو ملامت کریں ، الزامات کی بوچھاڑ کریں ، برا بھلا کہیں ، خطاب رسول اللہ ﷺ سے شروع ہوجاتا ہے کہ آپ ان لوگوں کے اس انجام بد سے پریشان نہ ہوں اور ان کے اعراض اور کفر کی پرواہ بھی نہ کریں جو حق آپ کی طرف آرہا ہے اس پر جم جائیں اور سچائی قدیم زمانے سے مسلسل آرہی ہے اور ہر رسول نے اسی کو پیش کیا ہے۔

الزخرف 43:38

آیت نمبر 36 تا 39 العشی کے معنی ہوتے ہیں نظر کا دیکھ نہ سکنا ، بالعموم یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب تیز روشنی سے آنکھیں دو چار ہوں ، جس میں آنکھوں کو کھولنا ممکن نہ ہو۔ نیز عشی کی وجہ سے شام کے اندھیرے میں کمزور نظر کے لوگ صحیح طرح معلوم نہیں کرسکتے۔ اور ایک خاص بیماری کی وجہ سے بھی یہ ہوتا ہے۔ یہاں مقصد غفلت اور اللہ کی یاد سے منہ موڑنا اور دل سے یہ شعور محو کردینا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ ومن یعش عن ذکر الرحمٰن نقیض لہ شیطنا فھو لہ قرین (43 : 36) “ جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے ، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے ”۔ اللہ کی مشیت نے فطرت انسان میں یہ بات رکھ دی ہے کہ جب اس کا دل ذکر الٰہی سے غافل ہوا اس کی طرف ایک شیطان راہ پالیتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ لگ جاتا ہے ، ہر وقت اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ اور اس کے لئے برائی کو خوبصورت بناتا رہتا ہے۔ یہ شرط اور اس کا جواب دونوں مل کر اللہ کے نظام مشیت کی خوبصورت تعبیر کرتے ہیں۔ اللہ کی سنت کے مطابق سبب آتے ہی نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے سے اللہ کے علم کے مطابق طے ہوتا ہے اور اسے قضا اور قدر کہتے ہیں۔ اور شیطانی برے دوستوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے انسانی برے دوستوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ یوں یہ انسان خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ وانھم لیصدونھم عن السبیل ویحسبون انھم مھتدون (43 : 37) “ اور یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں اور وہ اپنی جگہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں ”۔ ایک دوست کی طرف سے ایک دوست کے ساتھ یہ نہایت ہی برا سلوک ہے کہ وہ دوست کو سیدھے راستے سے روک کر غلط راہ پر ڈال دے اور پھر اسے مسلسل غافل رکھے کہ وہ انسانی دوست کبھی یہ سوچ بھی نہ سکے کہ وہ غلطی پر ہے بلکہ اسے یہ تسلی دیتا رہے کہ وہ سیدھی راہ پر جارہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ برے انجام کے ساتھ متصادم ہوجاتا ہے۔ یہاں انداز تعبیر کے لئے فعل مضارع استعمال ہوا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ہر عمل جاری ہے۔ لیصدونھم “ وہ روکتے ہیں ”۔ یحسبون “ وہ گمان کرتے ہیں ”۔ اور دیکھا جاسکتا ہے بلکہ دوسرے لوگ دیکھ رہے ہیں اس تماشہ کو ، جبکہ وہ خود اسے تمہیں دیکھ رہے جو جہنم کی طرف رواں ہیں لیکن انجام سے بیخبر اور جس راہ پر وہ جارہے ہیں ، اچانک ہی وہ انجام بد تک پہنچ جائیں گے۔ حتی اذا جاء ۔۔۔۔ فبئس القرین (43 : 38) “ آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا ، “ کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بعد ہوتا تو ، تو بدترین ساتھی نکلا ”۔ چشم زدن میں ہم دنیا سے آخرت میں چلے جاتے ہیں ، ہماری اس زندگی کا دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اور یہ اندھا پن اس کو شیطان کی رفاقت میں آخری انجام تک پہنچا دیتا ہے۔ یہاں اب ہوش آجائے گا ، جس طرح شرابی کا نشہ اترتا ہے اور اندھے پن اور مدہوشی کے بعد یہ نظریں اٹھا کر دیکھیں گے۔ اب یہ شخص اپنے ساتھی کو غور سے دیکھے گا جو اسے یہ یقین دہائیاں کرا رہا تھا کہ میں تو آپ کو صحیح راہ پر لے جا رہا ہوں ، لیکن تھا وہ بربادی و ہلاکت کا راہبر۔ اس لیے وہ جل بھن کر اسے کہے گا۔ یلیت بینی وبینک بعد المشرقین ( 43 : 37) “ کاش میرے اور تیرے درمیان شرق و مغرب کا بعد ہوتا ”۔ کاش کہ ہم ملتے ہی نہ اور ہمارے درمیان یہ دوریاں ہوتیں اور پھر قرآن مجید کہتا ہے۔ فبئس القرین (43 : 38) “ یہ تو بہت ہی برا ساتھی ہے ”۔ اب دونوں کی حالت پر مایوس کردینے والا تبصرہ۔ اور پھر اس منظر پر پردہ کرتا ہے۔ ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم انکم فی العذاب مشترکون (43 : 39) “ اور اس وقت ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کرچکے تو آج یہ بات تمہارے لئے کچھ نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیطان عذاب میں مشترک ہیں ” ۔ عذاب سب کے لئے برابر ہے اور اس کو باہم تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ ٭٭٭٭ اب روئے سخن ان لوگوں سے بھر جاتا ہے۔ ان لوگوں کو اس بری حالت میں چھوڑ کر کہ ایک دوسرے کو ملامت کریں ، الزامات کی بوچھاڑ کریں ، برا بھلا کہیں ، خطاب رسول اللہ ﷺ سے شروع ہوجاتا ہے کہ آپ ان لوگوں کے اس انجام بد سے پریشان نہ ہوں اور ان کے اعراض اور کفر کی پرواہ بھی نہ کریں جو حق آپ کی طرف آرہا ہے اس پر جم جائیں اور سچائی قدیم زمانے سے مسلسل آرہی ہے اور ہر رسول نے اسی کو پیش کیا ہے۔

الزخرف 43:39

آیت نمبر 36 تا 39 العشی کے معنی ہوتے ہیں نظر کا دیکھ نہ سکنا ، بالعموم یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب تیز روشنی سے آنکھیں دو چار ہوں ، جس میں آنکھوں کو کھولنا ممکن نہ ہو۔ نیز عشی کی وجہ سے شام کے اندھیرے میں کمزور نظر کے لوگ صحیح طرح معلوم نہیں کرسکتے۔ اور ایک خاص بیماری کی وجہ سے بھی یہ ہوتا ہے۔ یہاں مقصد غفلت اور اللہ کی یاد سے منہ موڑنا اور دل سے یہ شعور محو کردینا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ ومن یعش عن ذکر الرحمٰن نقیض لہ شیطنا فھو لہ قرین (43 : 36) “ جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے ، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے ”۔ اللہ کی مشیت نے فطرت انسان میں یہ بات رکھ دی ہے کہ جب اس کا دل ذکر الٰہی سے غافل ہوا اس کی طرف ایک شیطان راہ پالیتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ لگ جاتا ہے ، ہر وقت اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ اور اس کے لئے برائی کو خوبصورت بناتا رہتا ہے۔ یہ شرط اور اس کا جواب دونوں مل کر اللہ کے نظام مشیت کی خوبصورت تعبیر کرتے ہیں۔ اللہ کی سنت کے مطابق سبب آتے ہی نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے سے اللہ کے علم کے مطابق طے ہوتا ہے اور اسے قضا اور قدر کہتے ہیں۔ اور شیطانی برے دوستوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے انسانی برے دوستوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ یوں یہ انسان خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ وانھم لیصدونھم عن السبیل ویحسبون انھم مھتدون (43 : 37) “ اور یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں اور وہ اپنی جگہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں ”۔ ایک دوست کی طرف سے ایک دوست کے ساتھ یہ نہایت ہی برا سلوک ہے کہ وہ دوست کو سیدھے راستے سے روک کر غلط راہ پر ڈال دے اور پھر اسے مسلسل غافل رکھے کہ وہ انسانی دوست کبھی یہ سوچ بھی نہ سکے کہ وہ غلطی پر ہے بلکہ اسے یہ تسلی دیتا رہے کہ وہ سیدھی راہ پر جارہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ برے انجام کے ساتھ متصادم ہوجاتا ہے۔ یہاں انداز تعبیر کے لئے فعل مضارع استعمال ہوا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ہر عمل جاری ہے۔ لیصدونھم “ وہ روکتے ہیں ”۔ یحسبون “ وہ گمان کرتے ہیں ”۔ اور دیکھا جاسکتا ہے بلکہ دوسرے لوگ دیکھ رہے ہیں اس تماشہ کو ، جبکہ وہ خود اسے تمہیں دیکھ رہے جو جہنم کی طرف رواں ہیں لیکن انجام سے بیخبر اور جس راہ پر وہ جارہے ہیں ، اچانک ہی وہ انجام بد تک پہنچ جائیں گے۔ حتی اذا جاء ۔۔۔۔ فبئس القرین (43 : 38) “ آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا ، “ کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بعد ہوتا تو ، تو بدترین ساتھی نکلا ”۔ چشم زدن میں ہم دنیا سے آخرت میں چلے جاتے ہیں ، ہماری اس زندگی کا دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اور یہ اندھا پن اس کو شیطان کی رفاقت میں آخری انجام تک پہنچا دیتا ہے۔ یہاں اب ہوش آجائے گا ، جس طرح شرابی کا نشہ اترتا ہے اور اندھے پن اور مدہوشی کے بعد یہ نظریں اٹھا کر دیکھیں گے۔ اب یہ شخص اپنے ساتھی کو غور سے دیکھے گا جو اسے یہ یقین دہائیاں کرا رہا تھا کہ میں تو آپ کو صحیح راہ پر لے جا رہا ہوں ، لیکن تھا وہ بربادی و ہلاکت کا راہبر۔ اس لیے وہ جل بھن کر اسے کہے گا۔ یلیت بینی وبینک بعد المشرقین ( 43 : 37) “ کاش میرے اور تیرے درمیان شرق و مغرب کا بعد ہوتا ”۔ کاش کہ ہم ملتے ہی نہ اور ہمارے درمیان یہ دوریاں ہوتیں اور پھر قرآن مجید کہتا ہے۔ فبئس القرین (43 : 38) “ یہ تو بہت ہی برا ساتھی ہے ”۔ اب دونوں کی حالت پر مایوس کردینے والا تبصرہ۔ اور پھر اس منظر پر پردہ کرتا ہے۔ ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم انکم فی العذاب مشترکون (43 : 39) “ اور اس وقت ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کرچکے تو آج یہ بات تمہارے لئے کچھ نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیطان عذاب میں مشترک ہیں ” ۔ عذاب سب کے لئے برابر ہے اور اس کو باہم تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ ٭٭٭٭ اب روئے سخن ان لوگوں سے بھر جاتا ہے۔ ان لوگوں کو اس بری حالت میں چھوڑ کر کہ ایک دوسرے کو ملامت کریں ، الزامات کی بوچھاڑ کریں ، برا بھلا کہیں ، خطاب رسول اللہ ﷺ سے شروع ہوجاتا ہے کہ آپ ان لوگوں کے اس انجام بد سے پریشان نہ ہوں اور ان کے اعراض اور کفر کی پرواہ بھی نہ کریں جو حق آپ کی طرف آرہا ہے اس پر جم جائیں اور سچائی قدیم زمانے سے مسلسل آرہی ہے اور ہر رسول نے اسی کو پیش کیا ہے۔

الزخرف 43:40

آیت نمبر 40 تا 45 قرآن کریم میں یہ مثال باربار دہرائی جاتی ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آتی ہے ۔ اور اس کے ذریعہ ہدایت و ضلالت کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کا جو نظام ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رسول کے فرائض میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پر لے آئے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک اعلیٰ ترین جدو جہد کرنے والے انسان یعنی رسول کے کام کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قدرت الٰہیہ اور نظام معیشت کہاں تک ہے۔ اور اس سے عقیدہ توحید کی طرف اشارہ ، بہت ہی لطیف اشارہ کہ وہی کچھ ہوتا جو منظور خدا ہوتا ہے۔ افانت تسمع الصم او تھدی العمی ومن کان فی ضلل مبین (43 : 40) “ اے نبی ﷺ ، کیا تم بہروں کو سناؤ گے ، یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ راست دکھاؤ گے ؟” وہ تو نہ بہرے تھے اور اندھے تھے لیکن بہروں اور اندھوں کی طرح تھے اور گمراہی میں دور چلے گئے تھے ، اور ان پر دعوت اور پکار کا کوئی اثر نہ ہو رہا تھا۔ نہ وہ دلائل ہدایت کو سمجھتے تھے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی ڈیوٹی تو یہ تھی کہ جو سنتا ہے اسے سمجھائیں اور جو دیکھنا چاہے اسے راہ راست دکھائیں۔ جب انہوں نے اپنے یہ اعضا ہی معطل کر دئیے ہیں اور انہوں نے اپنے دل و دماغ کی آنکھیں ہی بند کردی ہیں تو رسول اللہ ﷺ ان کو ہدایت کس طرح دے سکتے ہیں۔ پھر اگر یہ گمراہ ہوتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ پر کیا ذمہ داری ہے۔ آپ نے اپنا فرض ادا کردیا۔۔۔۔ اب اللہ کا کام ہے کہ ادائیگی فرض کے بعد ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ فاما نذھبن بک فانا منھم متقمون (43 : 41) او نرینک الذی ۔۔۔۔۔ علیھم مقتدرون (43 : 42) “ اب تو ہمیں ان کو سزا دینی ہے ، خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیں ، یا تم کو آنکھوں سے ان کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ، ہمیں ان پر پوری قدرت حاصل ہے ”۔ بہرحال ان دونوں صورتوں میں سے ایک ضرور پیش آئے گی۔ اگر اللہ نے نبی کو اٹھا لیا تو اللہ اس کے مکذبین سے انتقام لے گا اور اگر آپ کے ہوتے ہوئے وہ بات وجود میں آگئی جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے تو اللہ اس پر قادر ہے کہ جس بات سے وہ ڈرا رہا ہے ، اس کو وجود میں لائے ۔ وہ تو اللہ کو کسی صورت میں شکست نہیں دے سکتے۔ دونوں حالات میں معاملہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے اختیار میں ہے ، اللہ ہی اس دعوت کا مالک ہے۔ رسول تو پیغام پہنچانے والا ہے۔ فاستمسک بالذی اوحی الیک انک علی صراط مستقیم ( 43 : 43) “ تم بہرحال اس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو ” ۔ آپ جس کام میں لگے ہوئے ہیں ، اس پر جم جائیں اور اپنے راستے پر چلیں ان لوگوں نے جو رویہ اختیار کیا یا آئندہ کریں گے اس کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اپنے راستے پر پوری طرح مطمئن ہو کر چلیں۔ آپ تو یقیناً سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ راستہ آپ کو نہ ادھر ادھر لے جائے گا ، نہ اس میں ٹیٹرھ ہے اور نہ وہ اپنی منزل سے دور لے جاتا ہے۔ پھر جس عقیدے اور نظریہ کی آپ تبلیغ کرتے ہیں وہ اس پوری کائنات کی حقیقت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اللہ اس عام قانون کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ یہ نظریہ اس کائنات کے ناموس اکبر کی لائن پر ہے۔ اس سے جدا نہیں ہوتا اور نہ اس سے منقطع ہوتا ہے۔ اور یہ راستہ اپنے راہ رو کو ٹھیک اپنے خالق تک پہنچاتا ہے اور یہ اس قدر سیدھا ہے کہ سفر بھی نہایت ہی خوشگوار رہتا ہے۔ آپ ﷺ کو تاکید کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ اس حقیقت پر جمے رہیں اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت کے جو داعی ہوں گے آپ ﷺ کا عمل ان کے لئے مشعل راہ ہوگا اگرچہ اس راہ کے منحرفین کے ہاتھوں ان کو اذیتیں کیوں نہ مل رہی ہوں۔ وانہ لذکر لک ولقومک وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لئے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ یہاں اس آیت کے دو مفہوم ہیں کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے جلد ہی قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ لہٰذا اس نصیحت اور یاد دہانی کے بعد تمہارے پاس کوئی حجت نہ رہے گی۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے ایک شرف اور شہرت ہے اور یہ وہ مفہوم ہے جو واقع ہوگیا۔ جہاں تک رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے تو اربوں ہونٹ آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور رات دن اور صبح و شام آپ ﷺ کو عاشقانہ انداز میں یاد کرتے ہیں اور اس طرح حضور ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک اربوں لوگ آپ ﷺ پر درود وسلام پڑھتے رہیں گے۔ رہی حضور ﷺ کی قوم تو جب قرآن آیا تو دنیا میں ان کا نام و نشان نہ تھا۔ اور اگر کچھ تھا تو زندگی کی کتاب پر ایک حاشیے کی شکل میں ، ایک کونے میں۔ یہ یہی قرآن ہے جس کے ذریعے انسانی تاریخ میں عربوں کا ایک عظیم کردار متعین ہوا۔ یہ قرآن ہی تھا جس کی وجہ سے ربع مسکوں ان کے زیر نگیں رہا۔ جب تک انہوں نے قرآن کو سینے سے لگا رکھا تھا اور جب انہوں نے قرآن کو چھوڑا تو دنیا نے ان کو چھوڑ دیا ، وہ دوبارہ حقیر ہوگئے اور پھر ان کو قافلہ انسانیت کی لائن میں سب سے پیچھے پھینک دیا۔ لیکن جب قرآن انہوں نے سینے سے لگایا ہوا تھا تو وہ قافلہ سالار تھے۔۔۔۔ اور یہ ایک عظیم ذمہ داری تھی ، ۔۔۔۔۔ انسانیت کی ذمہ داری اور اس کے بارے میں اللہ عنقریب تم سے جواب دہی کرے گا کہ کیوں تم نے اس منصب کو چھوڑا۔ وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور جلد ہی تم سے پوچھا جائے گا ”۔ یہ آخری مفہوم زیادہ جامع و مانع ہے۔ میں اسی کی طرف مائل ہوں۔ وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود کئے کہ ان کی بندگی کی جائے ؟ ” اس حقیقت کو قرآن یہاں نہایت ہی منفرد انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس صورت میں کہ رسول اللہ سابقہ رسولوں سے پوچھ لیں۔ اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون (43 : 45) “ کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ”۔ اور پھر اس سوال کا جواب ہر رسول کی طرف سے قطعی انکار ہے۔ استفہام انکاری کی یہ وصیت نہایت ہی عجیب اور موثر ہے۔ اور یہ اسلوب نہایت ہی پر تاثیر ہے ، یعنی تاریخ سے پوچھو۔ رسول اللہ ﷺ اور انبیائے سابقین کے درمیان تو زمان و مکان کے طویل فاصلے ہیں۔ پھر موت وحیات کے فاصلے بھی بہت طویل ہیں ، آب زندہ ہیں اور انبیائے سابقہ فوت ہوگئے ہیں لیکن یہ تمام فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ پوری انسانی تاریخ میں رسالت تو ایک ہے ، پیغام ایک ہے اور کلمہ توحید بھی ایک ہے۔ اگرچہ زمان و مکان بعید ہیں۔ حیات اور موت کے درمیان دبیز پردے ہیں لیکن وحدت نبوت ان تمام دوریوں اور پردوں کو مٹا دیتی ہے۔ مردے اور زندہ ایک ہوجاتے ہیں۔ ماضی وحال ایک ہوجاتے ہیں۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تعبیر جو لطیف اور عجیب ہے۔ پھر نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے برادر دیگر انبیائے کرام اور اللہ کے ساتھ ان کے ربط کو دیکھا جائے تو یہاں قریب و بعید کے فاصلے ختم ہوجاتے ہیں۔ اللہ کے ہاں یہ پردے چشم زدن میں دور ہوجاتے ہیں اور تمام رکاوٹیں اور فاصلے دور ہو کر حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ پھر سوال کرتے ہیں اور انبیاء جواب دیتے ہیں جیسا کہ لیلۃ المعراج میں ہوا۔ ایسے مقامات پر چاہئے کہ ہم اپنی زندگی کے معمولات اور عادات کو اہمیت نہ دیں کیونکہ یہ مالوفات جو ہم دیکھتے ہیں کہ سبب کے بعد مسبب آتا ہے۔ یہ اللہ کے حوالے سے کوئی کلی قواعد نہیں ہیں۔ ہم تو اس کائنات کے بعض آثار ہی کو دیکھ سکتے ہیں اور اس کائنات کے طبیعی حالات کے بھی ایک نہایت ہی معمولی حصے تک پہنچ سکے ہیں۔ کئی ایسے حقائق ہیں جو ہماری ساخت ، ہمارے حواس اور ہمارے مرتب کردہ نتائج سے وراء ہیں۔ جب نفس انسانی ان مالوفات اور طبیعات کے دائرے سے نکل جاتا ہے اور اسے تجرد حاصل ہوجاتا ہے تو پھر ایک مجرد حقیقت تک انسان کا پہنچنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ ادراک پھر اس سے آسان تر ہوتا ہے جس طرح کوئی اپنے ہی جسم سے کسی دوسرے جسم کو چھو کر ادراک کرے۔ ٭٭٭ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے حوالے سے کہ کبرائے قریش نے آپ کی نبوت پر اعتراض کیا۔ آپ ﷺ کو کیوں منتخب کیا گیا ہے ۔ اور پھر آپ ﷺ کے انتخاب پر ان کا اعتراض صرف دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کی بنا پر کیا گیا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ آپ کی قوم نے جس طرح اپنے آپ کو بڑا سمجھا ، اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھا تھا۔ جس طرح انہوں نے کہا۔ لو لا نزل ۔۔۔۔۔۔ عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہیں اتارا کیا ”۔ اسی طرح فرعون نے بھی اپنی قوت ، حکومت اور مال و دولت پر گھمنڈ کیا تھا اور نہایت فخریہ انداز میں پوچھا تھا : الیس لی ملک ۔۔۔۔۔ تبصرون ( 43 : 51) “ لوگو ، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ”۔ اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا وہ محض اپنے دنیاوی مرتبہ و مقام کی بنا پر اور مال و دولت کی بنا پر تھا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے۔ لیکن وہ دنیاوی اعتبار سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا : ام انا ۔۔۔۔۔ ولا یکادیبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ اور فرعون کی تجویز اور اہل قریش کی تجویز کس قدر مماثل ہیں۔ فلو لا القی ۔۔۔۔۔۔ مقترنین (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن نہ اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ ایک نسخہ ہے جو بار بار پیغمبروں کے خلاف آزمایا جا رہا ہے۔ بنی بنائی دلیل ہے۔ جو ہر نبی کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عوام جن کو فرعون نے ذلیل کر کے رکھا ہوا تھا اور پوری طرح دھوکے میں رکھا ہوا تھا ، کس طرح فرعون کی بات پر لبیک کہتے ہیں۔ حالانکہ عوام اور فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حیران کن معجزات پیش کئے تھے۔ پھر ان لوگوں پر اور آزمائشیں بھی آئی تھیں اور یہ لوگ دوڑ کر آتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کراتے تھے اور اللہ ان مصیبتوں سے ان کو نجات دیتا تھا۔ جب معجزات اور تبلیغ کے ذریعہ ان پر حجت تمام ہوگئی تو ان کا انجام یہ ہوا۔ فلما اسفونا ۔۔۔۔ اجمعین (43 : 55) فجعلنھم سلفنا ۔۔۔۔۔ للاخرین (43 : 56) “ آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کردیا اور بعد والوں کے لئے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا ”۔ اور دیکھئے ، یہ ہیں بعد میں آنے والے ، نہ عبرت پکڑتے اور نہ نصیحت لیتے ہیں۔ اس پیراگراف کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسالت اور دعوت ایک رہی ہے۔ تمام رسولوں کا منہاج کار ایک رہا ہے ، راستہ ایک رہا ہے۔ اس طرح سرکشوں اور کبراء زمانہ کا رویہ بھی سچائی کے رد عمل میں ایک ہی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کے زاویہ سے پیغمبروں کو دیکھا اور ہمیشہ جمہور عوام کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جن کو کبرا ذلیل کر کے رکھتے ہیں اور پوری انسانی تاریخ اس کی داستان ہے۔

الزخرف 43:41

آیت نمبر 40 تا 45 قرآن کریم میں یہ مثال باربار دہرائی جاتی ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آتی ہے ۔ اور اس کے ذریعہ ہدایت و ضلالت کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کا جو نظام ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رسول کے فرائض میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پر لے آئے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک اعلیٰ ترین جدو جہد کرنے والے انسان یعنی رسول کے کام کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قدرت الٰہیہ اور نظام معیشت کہاں تک ہے۔ اور اس سے عقیدہ توحید کی طرف اشارہ ، بہت ہی لطیف اشارہ کہ وہی کچھ ہوتا جو منظور خدا ہوتا ہے۔ افانت تسمع الصم او تھدی العمی ومن کان فی ضلل مبین (43 : 40) “ اے نبی ﷺ ، کیا تم بہروں کو سناؤ گے ، یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ راست دکھاؤ گے ؟” وہ تو نہ بہرے تھے اور اندھے تھے لیکن بہروں اور اندھوں کی طرح تھے اور گمراہی میں دور چلے گئے تھے ، اور ان پر دعوت اور پکار کا کوئی اثر نہ ہو رہا تھا۔ نہ وہ دلائل ہدایت کو سمجھتے تھے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی ڈیوٹی تو یہ تھی کہ جو سنتا ہے اسے سمجھائیں اور جو دیکھنا چاہے اسے راہ راست دکھائیں۔ جب انہوں نے اپنے یہ اعضا ہی معطل کر دئیے ہیں اور انہوں نے اپنے دل و دماغ کی آنکھیں ہی بند کردی ہیں تو رسول اللہ ﷺ ان کو ہدایت کس طرح دے سکتے ہیں۔ پھر اگر یہ گمراہ ہوتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ پر کیا ذمہ داری ہے۔ آپ نے اپنا فرض ادا کردیا۔۔۔۔ اب اللہ کا کام ہے کہ ادائیگی فرض کے بعد ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ فاما نذھبن بک فانا منھم متقمون (43 : 41) او نرینک الذی ۔۔۔۔۔ علیھم مقتدرون (43 : 42) “ اب تو ہمیں ان کو سزا دینی ہے ، خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیں ، یا تم کو آنکھوں سے ان کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ، ہمیں ان پر پوری قدرت حاصل ہے ”۔ بہرحال ان دونوں صورتوں میں سے ایک ضرور پیش آئے گی۔ اگر اللہ نے نبی کو اٹھا لیا تو اللہ اس کے مکذبین سے انتقام لے گا اور اگر آپ کے ہوتے ہوئے وہ بات وجود میں آگئی جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے تو اللہ اس پر قادر ہے کہ جس بات سے وہ ڈرا رہا ہے ، اس کو وجود میں لائے ۔ وہ تو اللہ کو کسی صورت میں شکست نہیں دے سکتے۔ دونوں حالات میں معاملہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے اختیار میں ہے ، اللہ ہی اس دعوت کا مالک ہے۔ رسول تو پیغام پہنچانے والا ہے۔ فاستمسک بالذی اوحی الیک انک علی صراط مستقیم ( 43 : 43) “ تم بہرحال اس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو ” ۔ آپ جس کام میں لگے ہوئے ہیں ، اس پر جم جائیں اور اپنے راستے پر چلیں ان لوگوں نے جو رویہ اختیار کیا یا آئندہ کریں گے اس کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اپنے راستے پر پوری طرح مطمئن ہو کر چلیں۔ آپ تو یقیناً سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ راستہ آپ کو نہ ادھر ادھر لے جائے گا ، نہ اس میں ٹیٹرھ ہے اور نہ وہ اپنی منزل سے دور لے جاتا ہے۔ پھر جس عقیدے اور نظریہ کی آپ تبلیغ کرتے ہیں وہ اس پوری کائنات کی حقیقت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اللہ اس عام قانون کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ یہ نظریہ اس کائنات کے ناموس اکبر کی لائن پر ہے۔ اس سے جدا نہیں ہوتا اور نہ اس سے منقطع ہوتا ہے۔ اور یہ راستہ اپنے راہ رو کو ٹھیک اپنے خالق تک پہنچاتا ہے اور یہ اس قدر سیدھا ہے کہ سفر بھی نہایت ہی خوشگوار رہتا ہے۔ آپ ﷺ کو تاکید کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ اس حقیقت پر جمے رہیں اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت کے جو داعی ہوں گے آپ ﷺ کا عمل ان کے لئے مشعل راہ ہوگا اگرچہ اس راہ کے منحرفین کے ہاتھوں ان کو اذیتیں کیوں نہ مل رہی ہوں۔ وانہ لذکر لک ولقومک وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لئے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ یہاں اس آیت کے دو مفہوم ہیں کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے جلد ہی قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ لہٰذا اس نصیحت اور یاد دہانی کے بعد تمہارے پاس کوئی حجت نہ رہے گی۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے ایک شرف اور شہرت ہے اور یہ وہ مفہوم ہے جو واقع ہوگیا۔ جہاں تک رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے تو اربوں ہونٹ آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور رات دن اور صبح و شام آپ ﷺ کو عاشقانہ انداز میں یاد کرتے ہیں اور اس طرح حضور ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک اربوں لوگ آپ ﷺ پر درود وسلام پڑھتے رہیں گے۔ رہی حضور ﷺ کی قوم تو جب قرآن آیا تو دنیا میں ان کا نام و نشان نہ تھا۔ اور اگر کچھ تھا تو زندگی کی کتاب پر ایک حاشیے کی شکل میں ، ایک کونے میں۔ یہ یہی قرآن ہے جس کے ذریعے انسانی تاریخ میں عربوں کا ایک عظیم کردار متعین ہوا۔ یہ قرآن ہی تھا جس کی وجہ سے ربع مسکوں ان کے زیر نگیں رہا۔ جب تک انہوں نے قرآن کو سینے سے لگا رکھا تھا اور جب انہوں نے قرآن کو چھوڑا تو دنیا نے ان کو چھوڑ دیا ، وہ دوبارہ حقیر ہوگئے اور پھر ان کو قافلہ انسانیت کی لائن میں سب سے پیچھے پھینک دیا۔ لیکن جب قرآن انہوں نے سینے سے لگایا ہوا تھا تو وہ قافلہ سالار تھے۔۔۔۔ اور یہ ایک عظیم ذمہ داری تھی ، ۔۔۔۔۔ انسانیت کی ذمہ داری اور اس کے بارے میں اللہ عنقریب تم سے جواب دہی کرے گا کہ کیوں تم نے اس منصب کو چھوڑا۔ وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور جلد ہی تم سے پوچھا جائے گا ”۔ یہ آخری مفہوم زیادہ جامع و مانع ہے۔ میں اسی کی طرف مائل ہوں۔ وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود کئے کہ ان کی بندگی کی جائے ؟ ” اس حقیقت کو قرآن یہاں نہایت ہی منفرد انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس صورت میں کہ رسول اللہ سابقہ رسولوں سے پوچھ لیں۔ اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون (43 : 45) “ کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ”۔ اور پھر اس سوال کا جواب ہر رسول کی طرف سے قطعی انکار ہے۔ استفہام انکاری کی یہ وصیت نہایت ہی عجیب اور موثر ہے۔ اور یہ اسلوب نہایت ہی پر تاثیر ہے ، یعنی تاریخ سے پوچھو۔ رسول اللہ ﷺ اور انبیائے سابقین کے درمیان تو زمان و مکان کے طویل فاصلے ہیں۔ پھر موت وحیات کے فاصلے بھی بہت طویل ہیں ، آب زندہ ہیں اور انبیائے سابقہ فوت ہوگئے ہیں لیکن یہ تمام فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ پوری انسانی تاریخ میں رسالت تو ایک ہے ، پیغام ایک ہے اور کلمہ توحید بھی ایک ہے۔ اگرچہ زمان و مکان بعید ہیں۔ حیات اور موت کے درمیان دبیز پردے ہیں لیکن وحدت نبوت ان تمام دوریوں اور پردوں کو مٹا دیتی ہے۔ مردے اور زندہ ایک ہوجاتے ہیں۔ ماضی وحال ایک ہوجاتے ہیں۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تعبیر جو لطیف اور عجیب ہے۔ پھر نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے برادر دیگر انبیائے کرام اور اللہ کے ساتھ ان کے ربط کو دیکھا جائے تو یہاں قریب و بعید کے فاصلے ختم ہوجاتے ہیں۔ اللہ کے ہاں یہ پردے چشم زدن میں دور ہوجاتے ہیں اور تمام رکاوٹیں اور فاصلے دور ہو کر حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ پھر سوال کرتے ہیں اور انبیاء جواب دیتے ہیں جیسا کہ لیلۃ المعراج میں ہوا۔ ایسے مقامات پر چاہئے کہ ہم اپنی زندگی کے معمولات اور عادات کو اہمیت نہ دیں کیونکہ یہ مالوفات جو ہم دیکھتے ہیں کہ سبب کے بعد مسبب آتا ہے۔ یہ اللہ کے حوالے سے کوئی کلی قواعد نہیں ہیں۔ ہم تو اس کائنات کے بعض آثار ہی کو دیکھ سکتے ہیں اور اس کائنات کے طبیعی حالات کے بھی ایک نہایت ہی معمولی حصے تک پہنچ سکے ہیں۔ کئی ایسے حقائق ہیں جو ہماری ساخت ، ہمارے حواس اور ہمارے مرتب کردہ نتائج سے وراء ہیں۔ جب نفس انسانی ان مالوفات اور طبیعات کے دائرے سے نکل جاتا ہے اور اسے تجرد حاصل ہوجاتا ہے تو پھر ایک مجرد حقیقت تک انسان کا پہنچنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ ادراک پھر اس سے آسان تر ہوتا ہے جس طرح کوئی اپنے ہی جسم سے کسی دوسرے جسم کو چھو کر ادراک کرے۔ ٭٭٭ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے حوالے سے کہ کبرائے قریش نے آپ کی نبوت پر اعتراض کیا۔ آپ ﷺ کو کیوں منتخب کیا گیا ہے ۔ اور پھر آپ ﷺ کے انتخاب پر ان کا اعتراض صرف دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کی بنا پر کیا گیا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ آپ کی قوم نے جس طرح اپنے آپ کو بڑا سمجھا ، اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھا تھا۔ جس طرح انہوں نے کہا۔ لو لا نزل ۔۔۔۔۔۔ عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہیں اتارا کیا ”۔ اسی طرح فرعون نے بھی اپنی قوت ، حکومت اور مال و دولت پر گھمنڈ کیا تھا اور نہایت فخریہ انداز میں پوچھا تھا : الیس لی ملک ۔۔۔۔۔ تبصرون ( 43 : 51) “ لوگو ، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ”۔ اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا وہ محض اپنے دنیاوی مرتبہ و مقام کی بنا پر اور مال و دولت کی بنا پر تھا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے۔ لیکن وہ دنیاوی اعتبار سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا : ام انا ۔۔۔۔۔ ولا یکادیبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ اور فرعون کی تجویز اور اہل قریش کی تجویز کس قدر مماثل ہیں۔ فلو لا القی ۔۔۔۔۔۔ مقترنین (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن نہ اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ ایک نسخہ ہے جو بار بار پیغمبروں کے خلاف آزمایا جا رہا ہے۔ بنی بنائی دلیل ہے۔ جو ہر نبی کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عوام جن کو فرعون نے ذلیل کر کے رکھا ہوا تھا اور پوری طرح دھوکے میں رکھا ہوا تھا ، کس طرح فرعون کی بات پر لبیک کہتے ہیں۔ حالانکہ عوام اور فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حیران کن معجزات پیش کئے تھے۔ پھر ان لوگوں پر اور آزمائشیں بھی آئی تھیں اور یہ لوگ دوڑ کر آتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کراتے تھے اور اللہ ان مصیبتوں سے ان کو نجات دیتا تھا۔ جب معجزات اور تبلیغ کے ذریعہ ان پر حجت تمام ہوگئی تو ان کا انجام یہ ہوا۔ فلما اسفونا ۔۔۔۔ اجمعین (43 : 55) فجعلنھم سلفنا ۔۔۔۔۔ للاخرین (43 : 56) “ آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کردیا اور بعد والوں کے لئے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا ”۔ اور دیکھئے ، یہ ہیں بعد میں آنے والے ، نہ عبرت پکڑتے اور نہ نصیحت لیتے ہیں۔ اس پیراگراف کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسالت اور دعوت ایک رہی ہے۔ تمام رسولوں کا منہاج کار ایک رہا ہے ، راستہ ایک رہا ہے۔ اس طرح سرکشوں اور کبراء زمانہ کا رویہ بھی سچائی کے رد عمل میں ایک ہی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کے زاویہ سے پیغمبروں کو دیکھا اور ہمیشہ جمہور عوام کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جن کو کبرا ذلیل کر کے رکھتے ہیں اور پوری انسانی تاریخ اس کی داستان ہے۔

الزخرف 43:42

آیت نمبر 40 تا 45 قرآن کریم میں یہ مثال باربار دہرائی جاتی ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آتی ہے ۔ اور اس کے ذریعہ ہدایت و ضلالت کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کا جو نظام ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رسول کے فرائض میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پر لے آئے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک اعلیٰ ترین جدو جہد کرنے والے انسان یعنی رسول کے کام کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قدرت الٰہیہ اور نظام معیشت کہاں تک ہے۔ اور اس سے عقیدہ توحید کی طرف اشارہ ، بہت ہی لطیف اشارہ کہ وہی کچھ ہوتا جو منظور خدا ہوتا ہے۔ افانت تسمع الصم او تھدی العمی ومن کان فی ضلل مبین (43 : 40) “ اے نبی ﷺ ، کیا تم بہروں کو سناؤ گے ، یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ راست دکھاؤ گے ؟” وہ تو نہ بہرے تھے اور اندھے تھے لیکن بہروں اور اندھوں کی طرح تھے اور گمراہی میں دور چلے گئے تھے ، اور ان پر دعوت اور پکار کا کوئی اثر نہ ہو رہا تھا۔ نہ وہ دلائل ہدایت کو سمجھتے تھے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی ڈیوٹی تو یہ تھی کہ جو سنتا ہے اسے سمجھائیں اور جو دیکھنا چاہے اسے راہ راست دکھائیں۔ جب انہوں نے اپنے یہ اعضا ہی معطل کر دئیے ہیں اور انہوں نے اپنے دل و دماغ کی آنکھیں ہی بند کردی ہیں تو رسول اللہ ﷺ ان کو ہدایت کس طرح دے سکتے ہیں۔ پھر اگر یہ گمراہ ہوتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ پر کیا ذمہ داری ہے۔ آپ نے اپنا فرض ادا کردیا۔۔۔۔ اب اللہ کا کام ہے کہ ادائیگی فرض کے بعد ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ فاما نذھبن بک فانا منھم متقمون (43 : 41) او نرینک الذی ۔۔۔۔۔ علیھم مقتدرون (43 : 42) “ اب تو ہمیں ان کو سزا دینی ہے ، خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیں ، یا تم کو آنکھوں سے ان کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ، ہمیں ان پر پوری قدرت حاصل ہے ”۔ بہرحال ان دونوں صورتوں میں سے ایک ضرور پیش آئے گی۔ اگر اللہ نے نبی کو اٹھا لیا تو اللہ اس کے مکذبین سے انتقام لے گا اور اگر آپ کے ہوتے ہوئے وہ بات وجود میں آگئی جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے تو اللہ اس پر قادر ہے کہ جس بات سے وہ ڈرا رہا ہے ، اس کو وجود میں لائے ۔ وہ تو اللہ کو کسی صورت میں شکست نہیں دے سکتے۔ دونوں حالات میں معاملہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے اختیار میں ہے ، اللہ ہی اس دعوت کا مالک ہے۔ رسول تو پیغام پہنچانے والا ہے۔ فاستمسک بالذی اوحی الیک انک علی صراط مستقیم ( 43 : 43) “ تم بہرحال اس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو ” ۔ آپ جس کام میں لگے ہوئے ہیں ، اس پر جم جائیں اور اپنے راستے پر چلیں ان لوگوں نے جو رویہ اختیار کیا یا آئندہ کریں گے اس کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اپنے راستے پر پوری طرح مطمئن ہو کر چلیں۔ آپ تو یقیناً سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ راستہ آپ کو نہ ادھر ادھر لے جائے گا ، نہ اس میں ٹیٹرھ ہے اور نہ وہ اپنی منزل سے دور لے جاتا ہے۔ پھر جس عقیدے اور نظریہ کی آپ تبلیغ کرتے ہیں وہ اس پوری کائنات کی حقیقت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اللہ اس عام قانون کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ یہ نظریہ اس کائنات کے ناموس اکبر کی لائن پر ہے۔ اس سے جدا نہیں ہوتا اور نہ اس سے منقطع ہوتا ہے۔ اور یہ راستہ اپنے راہ رو کو ٹھیک اپنے خالق تک پہنچاتا ہے اور یہ اس قدر سیدھا ہے کہ سفر بھی نہایت ہی خوشگوار رہتا ہے۔ آپ ﷺ کو تاکید کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ اس حقیقت پر جمے رہیں اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت کے جو داعی ہوں گے آپ ﷺ کا عمل ان کے لئے مشعل راہ ہوگا اگرچہ اس راہ کے منحرفین کے ہاتھوں ان کو اذیتیں کیوں نہ مل رہی ہوں۔ وانہ لذکر لک ولقومک وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لئے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ یہاں اس آیت کے دو مفہوم ہیں کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے جلد ہی قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ لہٰذا اس نصیحت اور یاد دہانی کے بعد تمہارے پاس کوئی حجت نہ رہے گی۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے ایک شرف اور شہرت ہے اور یہ وہ مفہوم ہے جو واقع ہوگیا۔ جہاں تک رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے تو اربوں ہونٹ آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور رات دن اور صبح و شام آپ ﷺ کو عاشقانہ انداز میں یاد کرتے ہیں اور اس طرح حضور ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک اربوں لوگ آپ ﷺ پر درود وسلام پڑھتے رہیں گے۔ رہی حضور ﷺ کی قوم تو جب قرآن آیا تو دنیا میں ان کا نام و نشان نہ تھا۔ اور اگر کچھ تھا تو زندگی کی کتاب پر ایک حاشیے کی شکل میں ، ایک کونے میں۔ یہ یہی قرآن ہے جس کے ذریعے انسانی تاریخ میں عربوں کا ایک عظیم کردار متعین ہوا۔ یہ قرآن ہی تھا جس کی وجہ سے ربع مسکوں ان کے زیر نگیں رہا۔ جب تک انہوں نے قرآن کو سینے سے لگا رکھا تھا اور جب انہوں نے قرآن کو چھوڑا تو دنیا نے ان کو چھوڑ دیا ، وہ دوبارہ حقیر ہوگئے اور پھر ان کو قافلہ انسانیت کی لائن میں سب سے پیچھے پھینک دیا۔ لیکن جب قرآن انہوں نے سینے سے لگایا ہوا تھا تو وہ قافلہ سالار تھے۔۔۔۔ اور یہ ایک عظیم ذمہ داری تھی ، ۔۔۔۔۔ انسانیت کی ذمہ داری اور اس کے بارے میں اللہ عنقریب تم سے جواب دہی کرے گا کہ کیوں تم نے اس منصب کو چھوڑا۔ وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور جلد ہی تم سے پوچھا جائے گا ”۔ یہ آخری مفہوم زیادہ جامع و مانع ہے۔ میں اسی کی طرف مائل ہوں۔ وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود کئے کہ ان کی بندگی کی جائے ؟ ” اس حقیقت کو قرآن یہاں نہایت ہی منفرد انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس صورت میں کہ رسول اللہ سابقہ رسولوں سے پوچھ لیں۔ اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون (43 : 45) “ کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ”۔ اور پھر اس سوال کا جواب ہر رسول کی طرف سے قطعی انکار ہے۔ استفہام انکاری کی یہ وصیت نہایت ہی عجیب اور موثر ہے۔ اور یہ اسلوب نہایت ہی پر تاثیر ہے ، یعنی تاریخ سے پوچھو۔ رسول اللہ ﷺ اور انبیائے سابقین کے درمیان تو زمان و مکان کے طویل فاصلے ہیں۔ پھر موت وحیات کے فاصلے بھی بہت طویل ہیں ، آب زندہ ہیں اور انبیائے سابقہ فوت ہوگئے ہیں لیکن یہ تمام فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ پوری انسانی تاریخ میں رسالت تو ایک ہے ، پیغام ایک ہے اور کلمہ توحید بھی ایک ہے۔ اگرچہ زمان و مکان بعید ہیں۔ حیات اور موت کے درمیان دبیز پردے ہیں لیکن وحدت نبوت ان تمام دوریوں اور پردوں کو مٹا دیتی ہے۔ مردے اور زندہ ایک ہوجاتے ہیں۔ ماضی وحال ایک ہوجاتے ہیں۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تعبیر جو لطیف اور عجیب ہے۔ پھر نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے برادر دیگر انبیائے کرام اور اللہ کے ساتھ ان کے ربط کو دیکھا جائے تو یہاں قریب و بعید کے فاصلے ختم ہوجاتے ہیں۔ اللہ کے ہاں یہ پردے چشم زدن میں دور ہوجاتے ہیں اور تمام رکاوٹیں اور فاصلے دور ہو کر حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ پھر سوال کرتے ہیں اور انبیاء جواب دیتے ہیں جیسا کہ لیلۃ المعراج میں ہوا۔ ایسے مقامات پر چاہئے کہ ہم اپنی زندگی کے معمولات اور عادات کو اہمیت نہ دیں کیونکہ یہ مالوفات جو ہم دیکھتے ہیں کہ سبب کے بعد مسبب آتا ہے۔ یہ اللہ کے حوالے سے کوئی کلی قواعد نہیں ہیں۔ ہم تو اس کائنات کے بعض آثار ہی کو دیکھ سکتے ہیں اور اس کائنات کے طبیعی حالات کے بھی ایک نہایت ہی معمولی حصے تک پہنچ سکے ہیں۔ کئی ایسے حقائق ہیں جو ہماری ساخت ، ہمارے حواس اور ہمارے مرتب کردہ نتائج سے وراء ہیں۔ جب نفس انسانی ان مالوفات اور طبیعات کے دائرے سے نکل جاتا ہے اور اسے تجرد حاصل ہوجاتا ہے تو پھر ایک مجرد حقیقت تک انسان کا پہنچنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ ادراک پھر اس سے آسان تر ہوتا ہے جس طرح کوئی اپنے ہی جسم سے کسی دوسرے جسم کو چھو کر ادراک کرے۔ ٭٭٭ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے حوالے سے کہ کبرائے قریش نے آپ کی نبوت پر اعتراض کیا۔ آپ ﷺ کو کیوں منتخب کیا گیا ہے ۔ اور پھر آپ ﷺ کے انتخاب پر ان کا اعتراض صرف دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کی بنا پر کیا گیا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ آپ کی قوم نے جس طرح اپنے آپ کو بڑا سمجھا ، اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھا تھا۔ جس طرح انہوں نے کہا۔ لو لا نزل ۔۔۔۔۔۔ عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہیں اتارا کیا ”۔ اسی طرح فرعون نے بھی اپنی قوت ، حکومت اور مال و دولت پر گھمنڈ کیا تھا اور نہایت فخریہ انداز میں پوچھا تھا : الیس لی ملک ۔۔۔۔۔ تبصرون ( 43 : 51) “ لوگو ، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ”۔ اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا وہ محض اپنے دنیاوی مرتبہ و مقام کی بنا پر اور مال و دولت کی بنا پر تھا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے۔ لیکن وہ دنیاوی اعتبار سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا : ام انا ۔۔۔۔۔ ولا یکادیبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ اور فرعون کی تجویز اور اہل قریش کی تجویز کس قدر مماثل ہیں۔ فلو لا القی ۔۔۔۔۔۔ مقترنین (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن نہ اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ ایک نسخہ ہے جو بار بار پیغمبروں کے خلاف آزمایا جا رہا ہے۔ بنی بنائی دلیل ہے۔ جو ہر نبی کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عوام جن کو فرعون نے ذلیل کر کے رکھا ہوا تھا اور پوری طرح دھوکے میں رکھا ہوا تھا ، کس طرح فرعون کی بات پر لبیک کہتے ہیں۔ حالانکہ عوام اور فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حیران کن معجزات پیش کئے تھے۔ پھر ان لوگوں پر اور آزمائشیں بھی آئی تھیں اور یہ لوگ دوڑ کر آتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کراتے تھے اور اللہ ان مصیبتوں سے ان کو نجات دیتا تھا۔ جب معجزات اور تبلیغ کے ذریعہ ان پر حجت تمام ہوگئی تو ان کا انجام یہ ہوا۔ فلما اسفونا ۔۔۔۔ اجمعین (43 : 55) فجعلنھم سلفنا ۔۔۔۔۔ للاخرین (43 : 56) “ آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کردیا اور بعد والوں کے لئے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا ”۔ اور دیکھئے ، یہ ہیں بعد میں آنے والے ، نہ عبرت پکڑتے اور نہ نصیحت لیتے ہیں۔ اس پیراگراف کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسالت اور دعوت ایک رہی ہے۔ تمام رسولوں کا منہاج کار ایک رہا ہے ، راستہ ایک رہا ہے۔ اس طرح سرکشوں اور کبراء زمانہ کا رویہ بھی سچائی کے رد عمل میں ایک ہی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کے زاویہ سے پیغمبروں کو دیکھا اور ہمیشہ جمہور عوام کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جن کو کبرا ذلیل کر کے رکھتے ہیں اور پوری انسانی تاریخ اس کی داستان ہے۔

الزخرف 43:43

آیت نمبر 40 تا 45 قرآن کریم میں یہ مثال باربار دہرائی جاتی ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آتی ہے ۔ اور اس کے ذریعہ ہدایت و ضلالت کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کا جو نظام ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رسول کے فرائض میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پر لے آئے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک اعلیٰ ترین جدو جہد کرنے والے انسان یعنی رسول کے کام کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قدرت الٰہیہ اور نظام معیشت کہاں تک ہے۔ اور اس سے عقیدہ توحید کی طرف اشارہ ، بہت ہی لطیف اشارہ کہ وہی کچھ ہوتا جو منظور خدا ہوتا ہے۔ افانت تسمع الصم او تھدی العمی ومن کان فی ضلل مبین (43 : 40) “ اے نبی ﷺ ، کیا تم بہروں کو سناؤ گے ، یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ راست دکھاؤ گے ؟” وہ تو نہ بہرے تھے اور اندھے تھے لیکن بہروں اور اندھوں کی طرح تھے اور گمراہی میں دور چلے گئے تھے ، اور ان پر دعوت اور پکار کا کوئی اثر نہ ہو رہا تھا۔ نہ وہ دلائل ہدایت کو سمجھتے تھے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی ڈیوٹی تو یہ تھی کہ جو سنتا ہے اسے سمجھائیں اور جو دیکھنا چاہے اسے راہ راست دکھائیں۔ جب انہوں نے اپنے یہ اعضا ہی معطل کر دئیے ہیں اور انہوں نے اپنے دل و دماغ کی آنکھیں ہی بند کردی ہیں تو رسول اللہ ﷺ ان کو ہدایت کس طرح دے سکتے ہیں۔ پھر اگر یہ گمراہ ہوتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ پر کیا ذمہ داری ہے۔ آپ نے اپنا فرض ادا کردیا۔۔۔۔ اب اللہ کا کام ہے کہ ادائیگی فرض کے بعد ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ فاما نذھبن بک فانا منھم متقمون (43 : 41) او نرینک الذی ۔۔۔۔۔ علیھم مقتدرون (43 : 42) “ اب تو ہمیں ان کو سزا دینی ہے ، خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیں ، یا تم کو آنکھوں سے ان کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ، ہمیں ان پر پوری قدرت حاصل ہے ”۔ بہرحال ان دونوں صورتوں میں سے ایک ضرور پیش آئے گی۔ اگر اللہ نے نبی کو اٹھا لیا تو اللہ اس کے مکذبین سے انتقام لے گا اور اگر آپ کے ہوتے ہوئے وہ بات وجود میں آگئی جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے تو اللہ اس پر قادر ہے کہ جس بات سے وہ ڈرا رہا ہے ، اس کو وجود میں لائے ۔ وہ تو اللہ کو کسی صورت میں شکست نہیں دے سکتے۔ دونوں حالات میں معاملہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے اختیار میں ہے ، اللہ ہی اس دعوت کا مالک ہے۔ رسول تو پیغام پہنچانے والا ہے۔ فاستمسک بالذی اوحی الیک انک علی صراط مستقیم ( 43 : 43) “ تم بہرحال اس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو ” ۔ آپ جس کام میں لگے ہوئے ہیں ، اس پر جم جائیں اور اپنے راستے پر چلیں ان لوگوں نے جو رویہ اختیار کیا یا آئندہ کریں گے اس کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اپنے راستے پر پوری طرح مطمئن ہو کر چلیں۔ آپ تو یقیناً سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ راستہ آپ کو نہ ادھر ادھر لے جائے گا ، نہ اس میں ٹیٹرھ ہے اور نہ وہ اپنی منزل سے دور لے جاتا ہے۔ پھر جس عقیدے اور نظریہ کی آپ تبلیغ کرتے ہیں وہ اس پوری کائنات کی حقیقت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اللہ اس عام قانون کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ یہ نظریہ اس کائنات کے ناموس اکبر کی لائن پر ہے۔ اس سے جدا نہیں ہوتا اور نہ اس سے منقطع ہوتا ہے۔ اور یہ راستہ اپنے راہ رو کو ٹھیک اپنے خالق تک پہنچاتا ہے اور یہ اس قدر سیدھا ہے کہ سفر بھی نہایت ہی خوشگوار رہتا ہے۔ آپ ﷺ کو تاکید کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ اس حقیقت پر جمے رہیں اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت کے جو داعی ہوں گے آپ ﷺ کا عمل ان کے لئے مشعل راہ ہوگا اگرچہ اس راہ کے منحرفین کے ہاتھوں ان کو اذیتیں کیوں نہ مل رہی ہوں۔ وانہ لذکر لک ولقومک وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لئے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ یہاں اس آیت کے دو مفہوم ہیں کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے جلد ہی قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ لہٰذا اس نصیحت اور یاد دہانی کے بعد تمہارے پاس کوئی حجت نہ رہے گی۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے ایک شرف اور شہرت ہے اور یہ وہ مفہوم ہے جو واقع ہوگیا۔ جہاں تک رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے تو اربوں ہونٹ آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور رات دن اور صبح و شام آپ ﷺ کو عاشقانہ انداز میں یاد کرتے ہیں اور اس طرح حضور ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک اربوں لوگ آپ ﷺ پر درود وسلام پڑھتے رہیں گے۔ رہی حضور ﷺ کی قوم تو جب قرآن آیا تو دنیا میں ان کا نام و نشان نہ تھا۔ اور اگر کچھ تھا تو زندگی کی کتاب پر ایک حاشیے کی شکل میں ، ایک کونے میں۔ یہ یہی قرآن ہے جس کے ذریعے انسانی تاریخ میں عربوں کا ایک عظیم کردار متعین ہوا۔ یہ قرآن ہی تھا جس کی وجہ سے ربع مسکوں ان کے زیر نگیں رہا۔ جب تک انہوں نے قرآن کو سینے سے لگا رکھا تھا اور جب انہوں نے قرآن کو چھوڑا تو دنیا نے ان کو چھوڑ دیا ، وہ دوبارہ حقیر ہوگئے اور پھر ان کو قافلہ انسانیت کی لائن میں سب سے پیچھے پھینک دیا۔ لیکن جب قرآن انہوں نے سینے سے لگایا ہوا تھا تو وہ قافلہ سالار تھے۔۔۔۔ اور یہ ایک عظیم ذمہ داری تھی ، ۔۔۔۔۔ انسانیت کی ذمہ داری اور اس کے بارے میں اللہ عنقریب تم سے جواب دہی کرے گا کہ کیوں تم نے اس منصب کو چھوڑا۔ وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور جلد ہی تم سے پوچھا جائے گا ”۔ یہ آخری مفہوم زیادہ جامع و مانع ہے۔ میں اسی کی طرف مائل ہوں۔ وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود کئے کہ ان کی بندگی کی جائے ؟ ” اس حقیقت کو قرآن یہاں نہایت ہی منفرد انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس صورت میں کہ رسول اللہ سابقہ رسولوں سے پوچھ لیں۔ اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون (43 : 45) “ کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ”۔ اور پھر اس سوال کا جواب ہر رسول کی طرف سے قطعی انکار ہے۔ استفہام انکاری کی یہ وصیت نہایت ہی عجیب اور موثر ہے۔ اور یہ اسلوب نہایت ہی پر تاثیر ہے ، یعنی تاریخ سے پوچھو۔ رسول اللہ ﷺ اور انبیائے سابقین کے درمیان تو زمان و مکان کے طویل فاصلے ہیں۔ پھر موت وحیات کے فاصلے بھی بہت طویل ہیں ، آب زندہ ہیں اور انبیائے سابقہ فوت ہوگئے ہیں لیکن یہ تمام فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ پوری انسانی تاریخ میں رسالت تو ایک ہے ، پیغام ایک ہے اور کلمہ توحید بھی ایک ہے۔ اگرچہ زمان و مکان بعید ہیں۔ حیات اور موت کے درمیان دبیز پردے ہیں لیکن وحدت نبوت ان تمام دوریوں اور پردوں کو مٹا دیتی ہے۔ مردے اور زندہ ایک ہوجاتے ہیں۔ ماضی وحال ایک ہوجاتے ہیں۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تعبیر جو لطیف اور عجیب ہے۔ پھر نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے برادر دیگر انبیائے کرام اور اللہ کے ساتھ ان کے ربط کو دیکھا جائے تو یہاں قریب و بعید کے فاصلے ختم ہوجاتے ہیں۔ اللہ کے ہاں یہ پردے چشم زدن میں دور ہوجاتے ہیں اور تمام رکاوٹیں اور فاصلے دور ہو کر حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ پھر سوال کرتے ہیں اور انبیاء جواب دیتے ہیں جیسا کہ لیلۃ المعراج میں ہوا۔ ایسے مقامات پر چاہئے کہ ہم اپنی زندگی کے معمولات اور عادات کو اہمیت نہ دیں کیونکہ یہ مالوفات جو ہم دیکھتے ہیں کہ سبب کے بعد مسبب آتا ہے۔ یہ اللہ کے حوالے سے کوئی کلی قواعد نہیں ہیں۔ ہم تو اس کائنات کے بعض آثار ہی کو دیکھ سکتے ہیں اور اس کائنات کے طبیعی حالات کے بھی ایک نہایت ہی معمولی حصے تک پہنچ سکے ہیں۔ کئی ایسے حقائق ہیں جو ہماری ساخت ، ہمارے حواس اور ہمارے مرتب کردہ نتائج سے وراء ہیں۔ جب نفس انسانی ان مالوفات اور طبیعات کے دائرے سے نکل جاتا ہے اور اسے تجرد حاصل ہوجاتا ہے تو پھر ایک مجرد حقیقت تک انسان کا پہنچنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ ادراک پھر اس سے آسان تر ہوتا ہے جس طرح کوئی اپنے ہی جسم سے کسی دوسرے جسم کو چھو کر ادراک کرے۔ ٭٭٭ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے حوالے سے کہ کبرائے قریش نے آپ کی نبوت پر اعتراض کیا۔ آپ ﷺ کو کیوں منتخب کیا گیا ہے ۔ اور پھر آپ ﷺ کے انتخاب پر ان کا اعتراض صرف دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کی بنا پر کیا گیا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ آپ کی قوم نے جس طرح اپنے آپ کو بڑا سمجھا ، اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھا تھا۔ جس طرح انہوں نے کہا۔ لو لا نزل ۔۔۔۔۔۔ عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہیں اتارا کیا ”۔ اسی طرح فرعون نے بھی اپنی قوت ، حکومت اور مال و دولت پر گھمنڈ کیا تھا اور نہایت فخریہ انداز میں پوچھا تھا : الیس لی ملک ۔۔۔۔۔ تبصرون ( 43 : 51) “ لوگو ، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ”۔ اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا وہ محض اپنے دنیاوی مرتبہ و مقام کی بنا پر اور مال و دولت کی بنا پر تھا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے۔ لیکن وہ دنیاوی اعتبار سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا : ام انا ۔۔۔۔۔ ولا یکادیبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ اور فرعون کی تجویز اور اہل قریش کی تجویز کس قدر مماثل ہیں۔ فلو لا القی ۔۔۔۔۔۔ مقترنین (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن نہ اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ ایک نسخہ ہے جو بار بار پیغمبروں کے خلاف آزمایا جا رہا ہے۔ بنی بنائی دلیل ہے۔ جو ہر نبی کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عوام جن کو فرعون نے ذلیل کر کے رکھا ہوا تھا اور پوری طرح دھوکے میں رکھا ہوا تھا ، کس طرح فرعون کی بات پر لبیک کہتے ہیں۔ حالانکہ عوام اور فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حیران کن معجزات پیش کئے تھے۔ پھر ان لوگوں پر اور آزمائشیں بھی آئی تھیں اور یہ لوگ دوڑ کر آتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کراتے تھے اور اللہ ان مصیبتوں سے ان کو نجات دیتا تھا۔ جب معجزات اور تبلیغ کے ذریعہ ان پر حجت تمام ہوگئی تو ان کا انجام یہ ہوا۔ فلما اسفونا ۔۔۔۔ اجمعین (43 : 55) فجعلنھم سلفنا ۔۔۔۔۔ للاخرین (43 : 56) “ آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کردیا اور بعد والوں کے لئے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا ”۔ اور دیکھئے ، یہ ہیں بعد میں آنے والے ، نہ عبرت پکڑتے اور نہ نصیحت لیتے ہیں۔ اس پیراگراف کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسالت اور دعوت ایک رہی ہے۔ تمام رسولوں کا منہاج کار ایک رہا ہے ، راستہ ایک رہا ہے۔ اس طرح سرکشوں اور کبراء زمانہ کا رویہ بھی سچائی کے رد عمل میں ایک ہی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کے زاویہ سے پیغمبروں کو دیکھا اور ہمیشہ جمہور عوام کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جن کو کبرا ذلیل کر کے رکھتے ہیں اور پوری انسانی تاریخ اس کی داستان ہے۔

الزخرف 43:44

آیت نمبر 40 تا 45 قرآن کریم میں یہ مثال باربار دہرائی جاتی ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آتی ہے ۔ اور اس کے ذریعہ ہدایت و ضلالت کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کا جو نظام ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رسول کے فرائض میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پر لے آئے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک اعلیٰ ترین جدو جہد کرنے والے انسان یعنی رسول کے کام کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قدرت الٰہیہ اور نظام معیشت کہاں تک ہے۔ اور اس سے عقیدہ توحید کی طرف اشارہ ، بہت ہی لطیف اشارہ کہ وہی کچھ ہوتا جو منظور خدا ہوتا ہے۔ افانت تسمع الصم او تھدی العمی ومن کان فی ضلل مبین (43 : 40) “ اے نبی ﷺ ، کیا تم بہروں کو سناؤ گے ، یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ راست دکھاؤ گے ؟” وہ تو نہ بہرے تھے اور اندھے تھے لیکن بہروں اور اندھوں کی طرح تھے اور گمراہی میں دور چلے گئے تھے ، اور ان پر دعوت اور پکار کا کوئی اثر نہ ہو رہا تھا۔ نہ وہ دلائل ہدایت کو سمجھتے تھے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی ڈیوٹی تو یہ تھی کہ جو سنتا ہے اسے سمجھائیں اور جو دیکھنا چاہے اسے راہ راست دکھائیں۔ جب انہوں نے اپنے یہ اعضا ہی معطل کر دئیے ہیں اور انہوں نے اپنے دل و دماغ کی آنکھیں ہی بند کردی ہیں تو رسول اللہ ﷺ ان کو ہدایت کس طرح دے سکتے ہیں۔ پھر اگر یہ گمراہ ہوتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ پر کیا ذمہ داری ہے۔ آپ نے اپنا فرض ادا کردیا۔۔۔۔ اب اللہ کا کام ہے کہ ادائیگی فرض کے بعد ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ فاما نذھبن بک فانا منھم متقمون (43 : 41) او نرینک الذی ۔۔۔۔۔ علیھم مقتدرون (43 : 42) “ اب تو ہمیں ان کو سزا دینی ہے ، خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیں ، یا تم کو آنکھوں سے ان کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ، ہمیں ان پر پوری قدرت حاصل ہے ”۔ بہرحال ان دونوں صورتوں میں سے ایک ضرور پیش آئے گی۔ اگر اللہ نے نبی کو اٹھا لیا تو اللہ اس کے مکذبین سے انتقام لے گا اور اگر آپ کے ہوتے ہوئے وہ بات وجود میں آگئی جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے تو اللہ اس پر قادر ہے کہ جس بات سے وہ ڈرا رہا ہے ، اس کو وجود میں لائے ۔ وہ تو اللہ کو کسی صورت میں شکست نہیں دے سکتے۔ دونوں حالات میں معاملہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے اختیار میں ہے ، اللہ ہی اس دعوت کا مالک ہے۔ رسول تو پیغام پہنچانے والا ہے۔ فاستمسک بالذی اوحی الیک انک علی صراط مستقیم ( 43 : 43) “ تم بہرحال اس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو ” ۔ آپ جس کام میں لگے ہوئے ہیں ، اس پر جم جائیں اور اپنے راستے پر چلیں ان لوگوں نے جو رویہ اختیار کیا یا آئندہ کریں گے اس کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اپنے راستے پر پوری طرح مطمئن ہو کر چلیں۔ آپ تو یقیناً سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ راستہ آپ کو نہ ادھر ادھر لے جائے گا ، نہ اس میں ٹیٹرھ ہے اور نہ وہ اپنی منزل سے دور لے جاتا ہے۔ پھر جس عقیدے اور نظریہ کی آپ تبلیغ کرتے ہیں وہ اس پوری کائنات کی حقیقت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اللہ اس عام قانون کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ یہ نظریہ اس کائنات کے ناموس اکبر کی لائن پر ہے۔ اس سے جدا نہیں ہوتا اور نہ اس سے منقطع ہوتا ہے۔ اور یہ راستہ اپنے راہ رو کو ٹھیک اپنے خالق تک پہنچاتا ہے اور یہ اس قدر سیدھا ہے کہ سفر بھی نہایت ہی خوشگوار رہتا ہے۔ آپ ﷺ کو تاکید کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ اس حقیقت پر جمے رہیں اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت کے جو داعی ہوں گے آپ ﷺ کا عمل ان کے لئے مشعل راہ ہوگا اگرچہ اس راہ کے منحرفین کے ہاتھوں ان کو اذیتیں کیوں نہ مل رہی ہوں۔ وانہ لذکر لک ولقومک وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لئے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ یہاں اس آیت کے دو مفہوم ہیں کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے جلد ہی قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ لہٰذا اس نصیحت اور یاد دہانی کے بعد تمہارے پاس کوئی حجت نہ رہے گی۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے ایک شرف اور شہرت ہے اور یہ وہ مفہوم ہے جو واقع ہوگیا۔ جہاں تک رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے تو اربوں ہونٹ آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور رات دن اور صبح و شام آپ ﷺ کو عاشقانہ انداز میں یاد کرتے ہیں اور اس طرح حضور ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک اربوں لوگ آپ ﷺ پر درود وسلام پڑھتے رہیں گے۔ رہی حضور ﷺ کی قوم تو جب قرآن آیا تو دنیا میں ان کا نام و نشان نہ تھا۔ اور اگر کچھ تھا تو زندگی کی کتاب پر ایک حاشیے کی شکل میں ، ایک کونے میں۔ یہ یہی قرآن ہے جس کے ذریعے انسانی تاریخ میں عربوں کا ایک عظیم کردار متعین ہوا۔ یہ قرآن ہی تھا جس کی وجہ سے ربع مسکوں ان کے زیر نگیں رہا۔ جب تک انہوں نے قرآن کو سینے سے لگا رکھا تھا اور جب انہوں نے قرآن کو چھوڑا تو دنیا نے ان کو چھوڑ دیا ، وہ دوبارہ حقیر ہوگئے اور پھر ان کو قافلہ انسانیت کی لائن میں سب سے پیچھے پھینک دیا۔ لیکن جب قرآن انہوں نے سینے سے لگایا ہوا تھا تو وہ قافلہ سالار تھے۔۔۔۔ اور یہ ایک عظیم ذمہ داری تھی ، ۔۔۔۔۔ انسانیت کی ذمہ داری اور اس کے بارے میں اللہ عنقریب تم سے جواب دہی کرے گا کہ کیوں تم نے اس منصب کو چھوڑا۔ وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور جلد ہی تم سے پوچھا جائے گا ”۔ یہ آخری مفہوم زیادہ جامع و مانع ہے۔ میں اسی کی طرف مائل ہوں۔ وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود کئے کہ ان کی بندگی کی جائے ؟ ” اس حقیقت کو قرآن یہاں نہایت ہی منفرد انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس صورت میں کہ رسول اللہ سابقہ رسولوں سے پوچھ لیں۔ اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون (43 : 45) “ کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ”۔ اور پھر اس سوال کا جواب ہر رسول کی طرف سے قطعی انکار ہے۔ استفہام انکاری کی یہ وصیت نہایت ہی عجیب اور موثر ہے۔ اور یہ اسلوب نہایت ہی پر تاثیر ہے ، یعنی تاریخ سے پوچھو۔ رسول اللہ ﷺ اور انبیائے سابقین کے درمیان تو زمان و مکان کے طویل فاصلے ہیں۔ پھر موت وحیات کے فاصلے بھی بہت طویل ہیں ، آب زندہ ہیں اور انبیائے سابقہ فوت ہوگئے ہیں لیکن یہ تمام فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ پوری انسانی تاریخ میں رسالت تو ایک ہے ، پیغام ایک ہے اور کلمہ توحید بھی ایک ہے۔ اگرچہ زمان و مکان بعید ہیں۔ حیات اور موت کے درمیان دبیز پردے ہیں لیکن وحدت نبوت ان تمام دوریوں اور پردوں کو مٹا دیتی ہے۔ مردے اور زندہ ایک ہوجاتے ہیں۔ ماضی وحال ایک ہوجاتے ہیں۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تعبیر جو لطیف اور عجیب ہے۔ پھر نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے برادر دیگر انبیائے کرام اور اللہ کے ساتھ ان کے ربط کو دیکھا جائے تو یہاں قریب و بعید کے فاصلے ختم ہوجاتے ہیں۔ اللہ کے ہاں یہ پردے چشم زدن میں دور ہوجاتے ہیں اور تمام رکاوٹیں اور فاصلے دور ہو کر حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ پھر سوال کرتے ہیں اور انبیاء جواب دیتے ہیں جیسا کہ لیلۃ المعراج میں ہوا۔ ایسے مقامات پر چاہئے کہ ہم اپنی زندگی کے معمولات اور عادات کو اہمیت نہ دیں کیونکہ یہ مالوفات جو ہم دیکھتے ہیں کہ سبب کے بعد مسبب آتا ہے۔ یہ اللہ کے حوالے سے کوئی کلی قواعد نہیں ہیں۔ ہم تو اس کائنات کے بعض آثار ہی کو دیکھ سکتے ہیں اور اس کائنات کے طبیعی حالات کے بھی ایک نہایت ہی معمولی حصے تک پہنچ سکے ہیں۔ کئی ایسے حقائق ہیں جو ہماری ساخت ، ہمارے حواس اور ہمارے مرتب کردہ نتائج سے وراء ہیں۔ جب نفس انسانی ان مالوفات اور طبیعات کے دائرے سے نکل جاتا ہے اور اسے تجرد حاصل ہوجاتا ہے تو پھر ایک مجرد حقیقت تک انسان کا پہنچنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ ادراک پھر اس سے آسان تر ہوتا ہے جس طرح کوئی اپنے ہی جسم سے کسی دوسرے جسم کو چھو کر ادراک کرے۔ ٭٭٭ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے حوالے سے کہ کبرائے قریش نے آپ کی نبوت پر اعتراض کیا۔ آپ ﷺ کو کیوں منتخب کیا گیا ہے ۔ اور پھر آپ ﷺ کے انتخاب پر ان کا اعتراض صرف دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کی بنا پر کیا گیا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ آپ کی قوم نے جس طرح اپنے آپ کو بڑا سمجھا ، اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھا تھا۔ جس طرح انہوں نے کہا۔ لو لا نزل ۔۔۔۔۔۔ عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہیں اتارا کیا ”۔ اسی طرح فرعون نے بھی اپنی قوت ، حکومت اور مال و دولت پر گھمنڈ کیا تھا اور نہایت فخریہ انداز میں پوچھا تھا : الیس لی ملک ۔۔۔۔۔ تبصرون ( 43 : 51) “ لوگو ، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ”۔ اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا وہ محض اپنے دنیاوی مرتبہ و مقام کی بنا پر اور مال و دولت کی بنا پر تھا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے۔ لیکن وہ دنیاوی اعتبار سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا : ام انا ۔۔۔۔۔ ولا یکادیبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ اور فرعون کی تجویز اور اہل قریش کی تجویز کس قدر مماثل ہیں۔ فلو لا القی ۔۔۔۔۔۔ مقترنین (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن نہ اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ ایک نسخہ ہے جو بار بار پیغمبروں کے خلاف آزمایا جا رہا ہے۔ بنی بنائی دلیل ہے۔ جو ہر نبی کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عوام جن کو فرعون نے ذلیل کر کے رکھا ہوا تھا اور پوری طرح دھوکے میں رکھا ہوا تھا ، کس طرح فرعون کی بات پر لبیک کہتے ہیں۔ حالانکہ عوام اور فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حیران کن معجزات پیش کئے تھے۔ پھر ان لوگوں پر اور آزمائشیں بھی آئی تھیں اور یہ لوگ دوڑ کر آتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کراتے تھے اور اللہ ان مصیبتوں سے ان کو نجات دیتا تھا۔ جب معجزات اور تبلیغ کے ذریعہ ان پر حجت تمام ہوگئی تو ان کا انجام یہ ہوا۔ فلما اسفونا ۔۔۔۔ اجمعین (43 : 55) فجعلنھم سلفنا ۔۔۔۔۔ للاخرین (43 : 56) “ آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کردیا اور بعد والوں کے لئے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا ”۔ اور دیکھئے ، یہ ہیں بعد میں آنے والے ، نہ عبرت پکڑتے اور نہ نصیحت لیتے ہیں۔ اس پیراگراف کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسالت اور دعوت ایک رہی ہے۔ تمام رسولوں کا منہاج کار ایک رہا ہے ، راستہ ایک رہا ہے۔ اس طرح سرکشوں اور کبراء زمانہ کا رویہ بھی سچائی کے رد عمل میں ایک ہی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کے زاویہ سے پیغمبروں کو دیکھا اور ہمیشہ جمہور عوام کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جن کو کبرا ذلیل کر کے رکھتے ہیں اور پوری انسانی تاریخ اس کی داستان ہے۔

الزخرف 43:45

آیت نمبر 40 تا 45 قرآن کریم میں یہ مثال باربار دہرائی جاتی ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آتی ہے ۔ اور اس کے ذریعہ ہدایت و ضلالت کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کا جو نظام ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رسول کے فرائض میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پر لے آئے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک اعلیٰ ترین جدو جہد کرنے والے انسان یعنی رسول کے کام کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قدرت الٰہیہ اور نظام معیشت کہاں تک ہے۔ اور اس سے عقیدہ توحید کی طرف اشارہ ، بہت ہی لطیف اشارہ کہ وہی کچھ ہوتا جو منظور خدا ہوتا ہے۔ افانت تسمع الصم او تھدی العمی ومن کان فی ضلل مبین (43 : 40) “ اے نبی ﷺ ، کیا تم بہروں کو سناؤ گے ، یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ راست دکھاؤ گے ؟” وہ تو نہ بہرے تھے اور اندھے تھے لیکن بہروں اور اندھوں کی طرح تھے اور گمراہی میں دور چلے گئے تھے ، اور ان پر دعوت اور پکار کا کوئی اثر نہ ہو رہا تھا۔ نہ وہ دلائل ہدایت کو سمجھتے تھے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی ڈیوٹی تو یہ تھی کہ جو سنتا ہے اسے سمجھائیں اور جو دیکھنا چاہے اسے راہ راست دکھائیں۔ جب انہوں نے اپنے یہ اعضا ہی معطل کر دئیے ہیں اور انہوں نے اپنے دل و دماغ کی آنکھیں ہی بند کردی ہیں تو رسول اللہ ﷺ ان کو ہدایت کس طرح دے سکتے ہیں۔ پھر اگر یہ گمراہ ہوتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ پر کیا ذمہ داری ہے۔ آپ نے اپنا فرض ادا کردیا۔۔۔۔ اب اللہ کا کام ہے کہ ادائیگی فرض کے بعد ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ فاما نذھبن بک فانا منھم متقمون (43 : 41) او نرینک الذی ۔۔۔۔۔ علیھم مقتدرون (43 : 42) “ اب تو ہمیں ان کو سزا دینی ہے ، خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیں ، یا تم کو آنکھوں سے ان کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ، ہمیں ان پر پوری قدرت حاصل ہے ”۔ بہرحال ان دونوں صورتوں میں سے ایک ضرور پیش آئے گی۔ اگر اللہ نے نبی کو اٹھا لیا تو اللہ اس کے مکذبین سے انتقام لے گا اور اگر آپ کے ہوتے ہوئے وہ بات وجود میں آگئی جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے تو اللہ اس پر قادر ہے کہ جس بات سے وہ ڈرا رہا ہے ، اس کو وجود میں لائے ۔ وہ تو اللہ کو کسی صورت میں شکست نہیں دے سکتے۔ دونوں حالات میں معاملہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے اختیار میں ہے ، اللہ ہی اس دعوت کا مالک ہے۔ رسول تو پیغام پہنچانے والا ہے۔ فاستمسک بالذی اوحی الیک انک علی صراط مستقیم ( 43 : 43) “ تم بہرحال اس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو ” ۔ آپ جس کام میں لگے ہوئے ہیں ، اس پر جم جائیں اور اپنے راستے پر چلیں ان لوگوں نے جو رویہ اختیار کیا یا آئندہ کریں گے اس کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اپنے راستے پر پوری طرح مطمئن ہو کر چلیں۔ آپ تو یقیناً سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ راستہ آپ کو نہ ادھر ادھر لے جائے گا ، نہ اس میں ٹیٹرھ ہے اور نہ وہ اپنی منزل سے دور لے جاتا ہے۔ پھر جس عقیدے اور نظریہ کی آپ تبلیغ کرتے ہیں وہ اس پوری کائنات کی حقیقت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اللہ اس عام قانون کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ یہ نظریہ اس کائنات کے ناموس اکبر کی لائن پر ہے۔ اس سے جدا نہیں ہوتا اور نہ اس سے منقطع ہوتا ہے۔ اور یہ راستہ اپنے راہ رو کو ٹھیک اپنے خالق تک پہنچاتا ہے اور یہ اس قدر سیدھا ہے کہ سفر بھی نہایت ہی خوشگوار رہتا ہے۔ آپ ﷺ کو تاکید کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ اس حقیقت پر جمے رہیں اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت کے جو داعی ہوں گے آپ ﷺ کا عمل ان کے لئے مشعل راہ ہوگا اگرچہ اس راہ کے منحرفین کے ہاتھوں ان کو اذیتیں کیوں نہ مل رہی ہوں۔ وانہ لذکر لک ولقومک وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لئے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ یہاں اس آیت کے دو مفہوم ہیں کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے جلد ہی قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ لہٰذا اس نصیحت اور یاد دہانی کے بعد تمہارے پاس کوئی حجت نہ رہے گی۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے ایک شرف اور شہرت ہے اور یہ وہ مفہوم ہے جو واقع ہوگیا۔ جہاں تک رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے تو اربوں ہونٹ آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور رات دن اور صبح و شام آپ ﷺ کو عاشقانہ انداز میں یاد کرتے ہیں اور اس طرح حضور ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک اربوں لوگ آپ ﷺ پر درود وسلام پڑھتے رہیں گے۔ رہی حضور ﷺ کی قوم تو جب قرآن آیا تو دنیا میں ان کا نام و نشان نہ تھا۔ اور اگر کچھ تھا تو زندگی کی کتاب پر ایک حاشیے کی شکل میں ، ایک کونے میں۔ یہ یہی قرآن ہے جس کے ذریعے انسانی تاریخ میں عربوں کا ایک عظیم کردار متعین ہوا۔ یہ قرآن ہی تھا جس کی وجہ سے ربع مسکوں ان کے زیر نگیں رہا۔ جب تک انہوں نے قرآن کو سینے سے لگا رکھا تھا اور جب انہوں نے قرآن کو چھوڑا تو دنیا نے ان کو چھوڑ دیا ، وہ دوبارہ حقیر ہوگئے اور پھر ان کو قافلہ انسانیت کی لائن میں سب سے پیچھے پھینک دیا۔ لیکن جب قرآن انہوں نے سینے سے لگایا ہوا تھا تو وہ قافلہ سالار تھے۔۔۔۔ اور یہ ایک عظیم ذمہ داری تھی ، ۔۔۔۔۔ انسانیت کی ذمہ داری اور اس کے بارے میں اللہ عنقریب تم سے جواب دہی کرے گا کہ کیوں تم نے اس منصب کو چھوڑا۔ وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور جلد ہی تم سے پوچھا جائے گا ”۔ یہ آخری مفہوم زیادہ جامع و مانع ہے۔ میں اسی کی طرف مائل ہوں۔ وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود کئے کہ ان کی بندگی کی جائے ؟ ” اس حقیقت کو قرآن یہاں نہایت ہی منفرد انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس صورت میں کہ رسول اللہ سابقہ رسولوں سے پوچھ لیں۔ اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون (43 : 45) “ کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ”۔ اور پھر اس سوال کا جواب ہر رسول کی طرف سے قطعی انکار ہے۔ استفہام انکاری کی یہ وصیت نہایت ہی عجیب اور موثر ہے۔ اور یہ اسلوب نہایت ہی پر تاثیر ہے ، یعنی تاریخ سے پوچھو۔ رسول اللہ ﷺ اور انبیائے سابقین کے درمیان تو زمان و مکان کے طویل فاصلے ہیں۔ پھر موت وحیات کے فاصلے بھی بہت طویل ہیں ، آب زندہ ہیں اور انبیائے سابقہ فوت ہوگئے ہیں لیکن یہ تمام فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ پوری انسانی تاریخ میں رسالت تو ایک ہے ، پیغام ایک ہے اور کلمہ توحید بھی ایک ہے۔ اگرچہ زمان و مکان بعید ہیں۔ حیات اور موت کے درمیان دبیز پردے ہیں لیکن وحدت نبوت ان تمام دوریوں اور پردوں کو مٹا دیتی ہے۔ مردے اور زندہ ایک ہوجاتے ہیں۔ ماضی وحال ایک ہوجاتے ہیں۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تعبیر جو لطیف اور عجیب ہے۔ پھر نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے برادر دیگر انبیائے کرام اور اللہ کے ساتھ ان کے ربط کو دیکھا جائے تو یہاں قریب و بعید کے فاصلے ختم ہوجاتے ہیں۔ اللہ کے ہاں یہ پردے چشم زدن میں دور ہوجاتے ہیں اور تمام رکاوٹیں اور فاصلے دور ہو کر حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ پھر سوال کرتے ہیں اور انبیاء جواب دیتے ہیں جیسا کہ لیلۃ المعراج میں ہوا۔ ایسے مقامات پر چاہئے کہ ہم اپنی زندگی کے معمولات اور عادات کو اہمیت نہ دیں کیونکہ یہ مالوفات جو ہم دیکھتے ہیں کہ سبب کے بعد مسبب آتا ہے۔ یہ اللہ کے حوالے سے کوئی کلی قواعد نہیں ہیں۔ ہم تو اس کائنات کے بعض آثار ہی کو دیکھ سکتے ہیں اور اس کائنات کے طبیعی حالات کے بھی ایک نہایت ہی معمولی حصے تک پہنچ سکے ہیں۔ کئی ایسے حقائق ہیں جو ہماری ساخت ، ہمارے حواس اور ہمارے مرتب کردہ نتائج سے وراء ہیں۔ جب نفس انسانی ان مالوفات اور طبیعات کے دائرے سے نکل جاتا ہے اور اسے تجرد حاصل ہوجاتا ہے تو پھر ایک مجرد حقیقت تک انسان کا پہنچنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ ادراک پھر اس سے آسان تر ہوتا ہے جس طرح کوئی اپنے ہی جسم سے کسی دوسرے جسم کو چھو کر ادراک کرے۔ ٭٭٭ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے حوالے سے کہ کبرائے قریش نے آپ کی نبوت پر اعتراض کیا۔ آپ ﷺ کو کیوں منتخب کیا گیا ہے ۔ اور پھر آپ ﷺ کے انتخاب پر ان کا اعتراض صرف دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کی بنا پر کیا گیا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ آپ کی قوم نے جس طرح اپنے آپ کو بڑا سمجھا ، اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھا تھا۔ جس طرح انہوں نے کہا۔ لو لا نزل ۔۔۔۔۔۔ عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہیں اتارا کیا ”۔ اسی طرح فرعون نے بھی اپنی قوت ، حکومت اور مال و دولت پر گھمنڈ کیا تھا اور نہایت فخریہ انداز میں پوچھا تھا : الیس لی ملک ۔۔۔۔۔ تبصرون ( 43 : 51) “ لوگو ، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ”۔ اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا وہ محض اپنے دنیاوی مرتبہ و مقام کی بنا پر اور مال و دولت کی بنا پر تھا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے۔ لیکن وہ دنیاوی اعتبار سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا : ام انا ۔۔۔۔۔ ولا یکادیبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ اور فرعون کی تجویز اور اہل قریش کی تجویز کس قدر مماثل ہیں۔ فلو لا القی ۔۔۔۔۔۔ مقترنین (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن نہ اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ ایک نسخہ ہے جو بار بار پیغمبروں کے خلاف آزمایا جا رہا ہے۔ بنی بنائی دلیل ہے۔ جو ہر نبی کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عوام جن کو فرعون نے ذلیل کر کے رکھا ہوا تھا اور پوری طرح دھوکے میں رکھا ہوا تھا ، کس طرح فرعون کی بات پر لبیک کہتے ہیں۔ حالانکہ عوام اور فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حیران کن معجزات پیش کئے تھے۔ پھر ان لوگوں پر اور آزمائشیں بھی آئی تھیں اور یہ لوگ دوڑ کر آتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کراتے تھے اور اللہ ان مصیبتوں سے ان کو نجات دیتا تھا۔ جب معجزات اور تبلیغ کے ذریعہ ان پر حجت تمام ہوگئی تو ان کا انجام یہ ہوا۔ فلما اسفونا ۔۔۔۔ اجمعین (43 : 55) فجعلنھم سلفنا ۔۔۔۔۔ للاخرین (43 : 56) “ آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کردیا اور بعد والوں کے لئے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا ”۔ اور دیکھئے ، یہ ہیں بعد میں آنے والے ، نہ عبرت پکڑتے اور نہ نصیحت لیتے ہیں۔ اس پیراگراف کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسالت اور دعوت ایک رہی ہے۔ تمام رسولوں کا منہاج کار ایک رہا ہے ، راستہ ایک رہا ہے۔ اس طرح سرکشوں اور کبراء زمانہ کا رویہ بھی سچائی کے رد عمل میں ایک ہی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کے زاویہ سے پیغمبروں کو دیکھا اور ہمیشہ جمہور عوام کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جن کو کبرا ذلیل کر کے رکھتے ہیں اور پوری انسانی تاریخ اس کی داستان ہے۔

الزخرف 43:46

آیت نمبر 46 تا 47 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے اور اس کا ذکر بطور تمہید ہوا۔ اصل مقصد یہ ہے کہ اس قصے کا متعلقہ حصہ پیش کیا جائے ، متعلقہ حصہ یہ ہے کہ جس طرح قریش نے حضرت محمد ﷺ پر اعتراضات کئے ، ویسے ہی فرعون نے بھی کئے تھے ، جس طرح یہ اعتراضات دنیائے ونی کے جھوٹے معیار کے حوالے سے تھے اسی طرح فرعون نے بھی اپنی برتری کے لئے دنیاوی معیار پیش کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں اور تمام رسولوں نے کہا کہ ہم رسول ہیں ، یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی طرف اور ان کے مقابلے میں فرعونیوں کے رد عمل کی طرف بھی صریح اشارہ۔ اذاھم منھا یضحکون (43 : 48) “ وہ ٹھٹھے مارنے لگے ”۔ اور ہمیشہ جاہلوں کا یہی انداز ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان آزمائشوں کی طرف اشارہ آتا ہے ، جن کی تفصیلات دوسری سورتوں میں دے دی گئی ہیں۔ یہ آزمائشیں پے در پے ان پر آئیں اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں فریادی ہوئے اور آپ ؐ کی دعاؤں سے وہ آزمائشیں دور ہوئیں۔

الزخرف 43:47

آیت نمبر 46 تا 47 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے اور اس کا ذکر بطور تمہید ہوا۔ اصل مقصد یہ ہے کہ اس قصے کا متعلقہ حصہ پیش کیا جائے ، متعلقہ حصہ یہ ہے کہ جس طرح قریش نے حضرت محمد ﷺ پر اعتراضات کئے ، ویسے ہی فرعون نے بھی کئے تھے ، جس طرح یہ اعتراضات دنیائے ونی کے جھوٹے معیار کے حوالے سے تھے اسی طرح فرعون نے بھی اپنی برتری کے لئے دنیاوی معیار پیش کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں اور تمام رسولوں نے کہا کہ ہم رسول ہیں ، یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی طرف اور ان کے مقابلے میں فرعونیوں کے رد عمل کی طرف بھی صریح اشارہ۔ اذاھم منھا یضحکون (43 : 48) “ وہ ٹھٹھے مارنے لگے ”۔ اور ہمیشہ جاہلوں کا یہی انداز ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان آزمائشوں کی طرف اشارہ آتا ہے ، جن کی تفصیلات دوسری سورتوں میں دے دی گئی ہیں۔ یہ آزمائشیں پے در پے ان پر آئیں اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں فریادی ہوئے اور آپ ؐ کی دعاؤں سے وہ آزمائشیں دور ہوئیں۔

الزخرف 43:48

آیت نمبر 48 تا 50 یوں یہ مسلسل معجزات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے جا رہے تھے ذریعہ ایمان نہ بنے۔ حالانکہ ایک سے ایک بڑا معجزہ ظاہر ہو رہا تھا۔ یہ بات قرآن کریم کے اس اصول کی تصدیق کرتی ہے جو قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ جو دل ہدایت کے قابل ہی نہ ہو اس کو معجزات کے ذریعہ کبھی ہدایت نہیں ملتی اور یہ کہ کوئی رسول بہرے کو سنا نہیں سکتا اور اندھے کو راہ نہیں دکھا سکتا۔ یہاں قرآن کریم فرعون اور اس کے درباریوں سے جو بات نقل کرتا ہے اس میں عجیب بات یہ ہے جو وہ کہتے ہیں۔ وقالوا یا ایھا ۔۔۔۔ اننا لمھتدون (43 : 49) “ اے ساحر ، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے ، اس کی بنا پر ہمارے لیے اس سے دعا کر ، ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے ”۔ یہ ایک مصیبت میں گرفتار ہیں۔۔۔۔ ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ دعا کراتے ہیں کہ یہ مصیبت ٹل جائے لیکن اس کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو “ اے جادوگر ” سے خطاب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں۔ ادع النا ربک بما عھد عندک (43 : 49) “ اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے ، اس کی بنا پر ہمارے لیے اس سے دعا کر ”۔ حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو ان کو کہتے تھے کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ یہ نہ کہتے تھے کہ میں صرف اپنے رب کی طرف سے رسول ہوں۔ لیکن اصل بات یہ تھی نہ ان معجزات نے ان کے دل پر اثر کیا تھا اور نہ رسول کے کلام نے ان پر اثر کیا تھا۔ وہ یہ غلط کہتے تھے کہ اننا لمھتدون (43 : 49) “ ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے ”۔ فلما کشفنا عنھم العذاب اذاھم ینکثون (43 : 50) “ مگر جونہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے ”۔ لیکن بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ معجزات کے نتیجے میں جمہور عوام کے دلوں پر اثر ہوجاتا ہے اور ان کے دھوکہ کھائے ہوئے دماغوں میں بعض اوقات بات آجاتی ہے۔ اب فرعون دبدبہ شاہی اور اقتدار کے رنگ میں آتا ہے۔ زیب وزینت کے کروفر میں۔ اور جمہور کے سامنے اپنی سطحی منطق پیش کرتا ہے۔ اور عوام کو متاثر کرنے کی سعی کرتا ہے۔ غلامی کی ذہنیت رکھنے والے عوام کے سامنے جن کا خمیر ظلم اور جبر کے دور میں بالعموم بدل جاتا ہے ، وہ چکنی چپڑی باتیں کرتا ہے اور ان کے سامنے کروفر کے ذریعے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

الزخرف 43:49

آیت نمبر 48 تا 50 یوں یہ مسلسل معجزات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے جا رہے تھے ذریعہ ایمان نہ بنے۔ حالانکہ ایک سے ایک بڑا معجزہ ظاہر ہو رہا تھا۔ یہ بات قرآن کریم کے اس اصول کی تصدیق کرتی ہے جو قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ جو دل ہدایت کے قابل ہی نہ ہو اس کو معجزات کے ذریعہ کبھی ہدایت نہیں ملتی اور یہ کہ کوئی رسول بہرے کو سنا نہیں سکتا اور اندھے کو راہ نہیں دکھا سکتا۔ یہاں قرآن کریم فرعون اور اس کے درباریوں سے جو بات نقل کرتا ہے اس میں عجیب بات یہ ہے جو وہ کہتے ہیں۔ وقالوا یا ایھا ۔۔۔۔ اننا لمھتدون (43 : 49) “ اے ساحر ، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے ، اس کی بنا پر ہمارے لیے اس سے دعا کر ، ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے ”۔ یہ ایک مصیبت میں گرفتار ہیں۔۔۔۔ ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ دعا کراتے ہیں کہ یہ مصیبت ٹل جائے لیکن اس کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو “ اے جادوگر ” سے خطاب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں۔ ادع النا ربک بما عھد عندک (43 : 49) “ اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے ، اس کی بنا پر ہمارے لیے اس سے دعا کر ”۔ حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو ان کو کہتے تھے کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ یہ نہ کہتے تھے کہ میں صرف اپنے رب کی طرف سے رسول ہوں۔ لیکن اصل بات یہ تھی نہ ان معجزات نے ان کے دل پر اثر کیا تھا اور نہ رسول کے کلام نے ان پر اثر کیا تھا۔ وہ یہ غلط کہتے تھے کہ اننا لمھتدون (43 : 49) “ ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے ”۔ فلما کشفنا عنھم العذاب اذاھم ینکثون (43 : 50) “ مگر جونہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے ”۔ لیکن بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ معجزات کے نتیجے میں جمہور عوام کے دلوں پر اثر ہوجاتا ہے اور ان کے دھوکہ کھائے ہوئے دماغوں میں بعض اوقات بات آجاتی ہے۔ اب فرعون دبدبہ شاہی اور اقتدار کے رنگ میں آتا ہے۔ زیب وزینت کے کروفر میں۔ اور جمہور کے سامنے اپنی سطحی منطق پیش کرتا ہے۔ اور عوام کو متاثر کرنے کی سعی کرتا ہے۔ غلامی کی ذہنیت رکھنے والے عوام کے سامنے جن کا خمیر ظلم اور جبر کے دور میں بالعموم بدل جاتا ہے ، وہ چکنی چپڑی باتیں کرتا ہے اور ان کے سامنے کروفر کے ذریعے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

الزخرف 43:50

آیت نمبر 48 تا 50 یوں یہ مسلسل معجزات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے جا رہے تھے ذریعہ ایمان نہ بنے۔ حالانکہ ایک سے ایک بڑا معجزہ ظاہر ہو رہا تھا۔ یہ بات قرآن کریم کے اس اصول کی تصدیق کرتی ہے جو قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ جو دل ہدایت کے قابل ہی نہ ہو اس کو معجزات کے ذریعہ کبھی ہدایت نہیں ملتی اور یہ کہ کوئی رسول بہرے کو سنا نہیں سکتا اور اندھے کو راہ نہیں دکھا سکتا۔ یہاں قرآن کریم فرعون اور اس کے درباریوں سے جو بات نقل کرتا ہے اس میں عجیب بات یہ ہے جو وہ کہتے ہیں۔ وقالوا یا ایھا ۔۔۔۔ اننا لمھتدون (43 : 49) “ اے ساحر ، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے ، اس کی بنا پر ہمارے لیے اس سے دعا کر ، ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے ”۔ یہ ایک مصیبت میں گرفتار ہیں۔۔۔۔ ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ دعا کراتے ہیں کہ یہ مصیبت ٹل جائے لیکن اس کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو “ اے جادوگر ” سے خطاب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں۔ ادع النا ربک بما عھد عندک (43 : 49) “ اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے ، اس کی بنا پر ہمارے لیے اس سے دعا کر ”۔ حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو ان کو کہتے تھے کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ یہ نہ کہتے تھے کہ میں صرف اپنے رب کی طرف سے رسول ہوں۔ لیکن اصل بات یہ تھی نہ ان معجزات نے ان کے دل پر اثر کیا تھا اور نہ رسول کے کلام نے ان پر اثر کیا تھا۔ وہ یہ غلط کہتے تھے کہ اننا لمھتدون (43 : 49) “ ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے ”۔ فلما کشفنا عنھم العذاب اذاھم ینکثون (43 : 50) “ مگر جونہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے ”۔ لیکن بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ معجزات کے نتیجے میں جمہور عوام کے دلوں پر اثر ہوجاتا ہے اور ان کے دھوکہ کھائے ہوئے دماغوں میں بعض اوقات بات آجاتی ہے۔ اب فرعون دبدبہ شاہی اور اقتدار کے رنگ میں آتا ہے۔ زیب وزینت کے کروفر میں۔ اور جمہور کے سامنے اپنی سطحی منطق پیش کرتا ہے۔ اور عوام کو متاثر کرنے کی سعی کرتا ہے۔ غلامی کی ذہنیت رکھنے والے عوام کے سامنے جن کا خمیر ظلم اور جبر کے دور میں بالعموم بدل جاتا ہے ، وہ چکنی چپڑی باتیں کرتا ہے اور ان کے سامنے کروفر کے ذریعے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

الزخرف 43:51

آیت نمبر 51 تا 53 مصر کی بادشاہت ، مصر کی نہریں فرعون کے زیر انتظام تھیں اور جمہور عوام کو نظر آتی تھیں۔ یہ ان کی آنکھوں کو چکا چوند کردیتی تھیں۔ اس لیے لوگ دھوکہ کھا جاتے تھے ۔ رہی آسمانوں اور زمین کی بادشاہت جس میں مصر ایک ذرہ ہے ، تو اس کو سمجھنے کے لئے مومن دلوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جو اس بات کو سمجھ سکیں اور اللہ کی بادشاہت اور مصر کی بادشاہت کے درمیان موازنہ کرسکیں۔ رہے غلامی کے خوگر عوام جن کا ہر دور میں استحصال کیا جاتا ہے تو ان کو قریب کی دنیاوی چمک دمک متاثر کردیتی ہے اس لیے ان کی نظریں ، ان کے دل اور ان کے دماغ اللہ کی بلند حکومت اور بادشاہت کو سمجھنے کے لئے سر بلند ہی نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے ان عوام کے غافل اور سطحی دلوں کے سامنے ترقیات کا زرق برق نقشہ پیش کیا اور کہا۔ ام انا خیر ۔۔۔۔۔ یکاد یبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ یہاں ذلت سے اس کی مراد یہ تھی کہ یہ نہ امیر ہے ، نہ صاحب اقتدار اور نہ اس کے پاس نظر آنے والی مالی پوزیشن ہے۔ لفظ ام سے وہ اشارہ بنی اسرائیل کی غلام قوم کی طرف کرتا ہے ، اور “ اپنی بات کھول کر بیان نہیں کر سکتا ” اس طرف کہ مصر سے جانے سے پہلے آپ کی زبان میں لکنت تھی۔ یہ پہلے کی بات تھی ورنہ اب لکنت نہ تھی۔ حضرت موسیٰ علی السلام نے دعا فرمائی تھی۔ رب اشرح لی ۔۔۔۔۔۔ یفقھوا قولی “ اے میرے رب میرے سینہ کو کھول دے ، میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے ، اور میری زبان میں لکنت ہے ، اسے کھول دے تا کہ وہ میری بات کو سمجھیں ”۔ اس وقت آپ کی زبان کا عقدہ کھل گیا تھا اور آپ اب بات بیان کرسکتے تھے۔ اور جمہور عوام کا ظاہر ہے کہ فیصلہ یہی ہوگا کہ فرعون جو مصر کا بادشاہ ہے ، مصر میں نہریں اس نے جاری کر رکھی ہیں۔ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بہتر ہوگا ۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس تو حق بات ، نبوت کا پیغام ، نجات کی دعوت اور دردناک عذاب سے بچنے کی راہ تھی۔ فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذھب (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے ”۔ یہ ہے ذہنیت وڈیروں کی۔ اس دنیا کا حقیر سازو سامان ، نبوت کی حقانیت کے لئے بطور علامت تجویز ہو رہا ہے۔ سونے کے کنگن ، ان معجزات سے بھاری ہوگئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوئے۔ مطلب یہ تھا کہ اسے مصر کا اقتدار کیوں نہیں دیا گیا۔ کیونکہ مصر کے بادشاہ کی تاج پوشی کے موقعہ پر سونے کے کنگن اتارے جاتے تھے۔ یہ ان کی رسم تھی۔ یوں وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ رسول کو مقتدر اعلیٰ ہونا چاہئے اور یہ میں ہوں۔ اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین ( 43 : 53) “ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ بھی ایک اعتراض تھا ، جس کا تعلق اس دنیا کی چمک دمک سے تھا۔ اور عوام پر اثر انداز ہوتا تھا۔ یہ بھی ایک بنا بنایا اعتراض ہے جو ہر رسول پر کیا گیا۔

الزخرف 43:52

آیت نمبر 51 تا 53 مصر کی بادشاہت ، مصر کی نہریں فرعون کے زیر انتظام تھیں اور جمہور عوام کو نظر آتی تھیں۔ یہ ان کی آنکھوں کو چکا چوند کردیتی تھیں۔ اس لیے لوگ دھوکہ کھا جاتے تھے ۔ رہی آسمانوں اور زمین کی بادشاہت جس میں مصر ایک ذرہ ہے ، تو اس کو سمجھنے کے لئے مومن دلوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جو اس بات کو سمجھ سکیں اور اللہ کی بادشاہت اور مصر کی بادشاہت کے درمیان موازنہ کرسکیں۔ رہے غلامی کے خوگر عوام جن کا ہر دور میں استحصال کیا جاتا ہے تو ان کو قریب کی دنیاوی چمک دمک متاثر کردیتی ہے اس لیے ان کی نظریں ، ان کے دل اور ان کے دماغ اللہ کی بلند حکومت اور بادشاہت کو سمجھنے کے لئے سر بلند ہی نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے ان عوام کے غافل اور سطحی دلوں کے سامنے ترقیات کا زرق برق نقشہ پیش کیا اور کہا۔ ام انا خیر ۔۔۔۔۔ یکاد یبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ یہاں ذلت سے اس کی مراد یہ تھی کہ یہ نہ امیر ہے ، نہ صاحب اقتدار اور نہ اس کے پاس نظر آنے والی مالی پوزیشن ہے۔ لفظ ام سے وہ اشارہ بنی اسرائیل کی غلام قوم کی طرف کرتا ہے ، اور “ اپنی بات کھول کر بیان نہیں کر سکتا ” اس طرف کہ مصر سے جانے سے پہلے آپ کی زبان میں لکنت تھی۔ یہ پہلے کی بات تھی ورنہ اب لکنت نہ تھی۔ حضرت موسیٰ علی السلام نے دعا فرمائی تھی۔ رب اشرح لی ۔۔۔۔۔۔ یفقھوا قولی “ اے میرے رب میرے سینہ کو کھول دے ، میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے ، اور میری زبان میں لکنت ہے ، اسے کھول دے تا کہ وہ میری بات کو سمجھیں ”۔ اس وقت آپ کی زبان کا عقدہ کھل گیا تھا اور آپ اب بات بیان کرسکتے تھے۔ اور جمہور عوام کا ظاہر ہے کہ فیصلہ یہی ہوگا کہ فرعون جو مصر کا بادشاہ ہے ، مصر میں نہریں اس نے جاری کر رکھی ہیں۔ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بہتر ہوگا ۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس تو حق بات ، نبوت کا پیغام ، نجات کی دعوت اور دردناک عذاب سے بچنے کی راہ تھی۔ فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذھب (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے ”۔ یہ ہے ذہنیت وڈیروں کی۔ اس دنیا کا حقیر سازو سامان ، نبوت کی حقانیت کے لئے بطور علامت تجویز ہو رہا ہے۔ سونے کے کنگن ، ان معجزات سے بھاری ہوگئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوئے۔ مطلب یہ تھا کہ اسے مصر کا اقتدار کیوں نہیں دیا گیا۔ کیونکہ مصر کے بادشاہ کی تاج پوشی کے موقعہ پر سونے کے کنگن اتارے جاتے تھے۔ یہ ان کی رسم تھی۔ یوں وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ رسول کو مقتدر اعلیٰ ہونا چاہئے اور یہ میں ہوں۔ اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین ( 43 : 53) “ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ بھی ایک اعتراض تھا ، جس کا تعلق اس دنیا کی چمک دمک سے تھا۔ اور عوام پر اثر انداز ہوتا تھا۔ یہ بھی ایک بنا بنایا اعتراض ہے جو ہر رسول پر کیا گیا۔

الزخرف 43:53

آیت نمبر 51 تا 53 مصر کی بادشاہت ، مصر کی نہریں فرعون کے زیر انتظام تھیں اور جمہور عوام کو نظر آتی تھیں۔ یہ ان کی آنکھوں کو چکا چوند کردیتی تھیں۔ اس لیے لوگ دھوکہ کھا جاتے تھے ۔ رہی آسمانوں اور زمین کی بادشاہت جس میں مصر ایک ذرہ ہے ، تو اس کو سمجھنے کے لئے مومن دلوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جو اس بات کو سمجھ سکیں اور اللہ کی بادشاہت اور مصر کی بادشاہت کے درمیان موازنہ کرسکیں۔ رہے غلامی کے خوگر عوام جن کا ہر دور میں استحصال کیا جاتا ہے تو ان کو قریب کی دنیاوی چمک دمک متاثر کردیتی ہے اس لیے ان کی نظریں ، ان کے دل اور ان کے دماغ اللہ کی بلند حکومت اور بادشاہت کو سمجھنے کے لئے سر بلند ہی نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے ان عوام کے غافل اور سطحی دلوں کے سامنے ترقیات کا زرق برق نقشہ پیش کیا اور کہا۔ ام انا خیر ۔۔۔۔۔ یکاد یبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ یہاں ذلت سے اس کی مراد یہ تھی کہ یہ نہ امیر ہے ، نہ صاحب اقتدار اور نہ اس کے پاس نظر آنے والی مالی پوزیشن ہے۔ لفظ ام سے وہ اشارہ بنی اسرائیل کی غلام قوم کی طرف کرتا ہے ، اور “ اپنی بات کھول کر بیان نہیں کر سکتا ” اس طرف کہ مصر سے جانے سے پہلے آپ کی زبان میں لکنت تھی۔ یہ پہلے کی بات تھی ورنہ اب لکنت نہ تھی۔ حضرت موسیٰ علی السلام نے دعا فرمائی تھی۔ رب اشرح لی ۔۔۔۔۔۔ یفقھوا قولی “ اے میرے رب میرے سینہ کو کھول دے ، میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے ، اور میری زبان میں لکنت ہے ، اسے کھول دے تا کہ وہ میری بات کو سمجھیں ”۔ اس وقت آپ کی زبان کا عقدہ کھل گیا تھا اور آپ اب بات بیان کرسکتے تھے۔ اور جمہور عوام کا ظاہر ہے کہ فیصلہ یہی ہوگا کہ فرعون جو مصر کا بادشاہ ہے ، مصر میں نہریں اس نے جاری کر رکھی ہیں۔ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بہتر ہوگا ۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس تو حق بات ، نبوت کا پیغام ، نجات کی دعوت اور دردناک عذاب سے بچنے کی راہ تھی۔ فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذھب (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے ”۔ یہ ہے ذہنیت وڈیروں کی۔ اس دنیا کا حقیر سازو سامان ، نبوت کی حقانیت کے لئے بطور علامت تجویز ہو رہا ہے۔ سونے کے کنگن ، ان معجزات سے بھاری ہوگئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوئے۔ مطلب یہ تھا کہ اسے مصر کا اقتدار کیوں نہیں دیا گیا۔ کیونکہ مصر کے بادشاہ کی تاج پوشی کے موقعہ پر سونے کے کنگن اتارے جاتے تھے۔ یہ ان کی رسم تھی۔ یوں وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ رسول کو مقتدر اعلیٰ ہونا چاہئے اور یہ میں ہوں۔ اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین ( 43 : 53) “ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ بھی ایک اعتراض تھا ، جس کا تعلق اس دنیا کی چمک دمک سے تھا۔ اور عوام پر اثر انداز ہوتا تھا۔ یہ بھی ایک بنا بنایا اعتراض ہے جو ہر رسول پر کیا گیا۔

الزخرف 43:54

آیت نمبر 54 جمہور عوام کو ڈکٹیٹروں کی طرف سے خفیف و حقیر سمجھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے وہ پہلے تو عوام سے ہر بات کو چھپا کر رکھتے ہیں۔ ان سے حقائق کو چھپاتے ہیں تا کہ وہ بھول جائیں۔ اور ان کے بارے میں وہ دوبارہ کھوج ہی نہ لگائیں۔ ان کے دل و دماغ کو اس قدر متاثر کرتے ہیں کہ ان کی شخصیت عوام کے ذہنوں پر چھا جاتی ہے۔ اس کے بعد پھر ان کے لئے عوام کو ہلکا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد وہ مطیع ہوجاتے اور جدھر چاہتے ہیں ، ادھر جاتے ہیں۔ لیکن کوئی ڈکٹیٹر عوام کو اس قدر ہلکا نہیں بنا سکتا جب تک وہ خود فاسق و فاجر نہ ہوں اور بےراہ روی نہ کرتے ہوں۔ انہوں نے اللہ کی رسی نہ پکڑی ہو۔ معاملات کو ایمان کے ترازو سے نہ تولتے ہوں ، رہے مومن تو نہ ان کو کوئی ہلکا سمجھ سکتا ہے ، نہ ان کو دھوکہ دے سکتا ہے ، اور نہ ان کو کھلونا بنایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید یہ بتاتا ہے کہ عوام الناس نے فسق وفجور کی وجہ سے فرعون کا ساتھ دیا۔ فاستخف قومہ فاطاعوہ انھم کانوا قوما فسقین (43 : 54) “ اس نے اپنی قوم کو ہلکا بنا دیا ، پس انہوں نے اس کی اطاعت کرلی اور یہ لوگ ایک فاسق قوم کے فرد تھے ”۔ اب ان کی آزمائش ، ان کو ڈرانے اور سمجھانے کا مرحلہ ختم ہوتا ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ فتنہ عام ہوگیا ہے ، جمہور عوام فرعون کے پیچھے لگ گئے ہیں اور فرعون بہت ہی سر کش ، متکبر ، مغرور ہے اور عوام کے بین معجزات کے مقابلے میں بالکل اندھے ہوگئے ہیں ، ان کو یہ روشنی نظر ہی نہیں آتی۔ اب اللہ کے عذاب کا فیصلہ ان پر آجاتا ہے۔

الزخرف 43:55

آیت نمبر 55 تا 56 ذات باری کے غضب اور انتقام اور تباہی مچانے والے اقدام کو پیش کرنا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے غضب کے نتیجے میں اس کی قوت جو کام کرتی ہے وہ تاریخ میں مثال ہوتی ہے۔ فلما اسفونا (43 : 55) “ جب انہوں نے ہمیں غضب ناک کر دیا ”۔ یعنی بہت زیادہ ناراض کردیا۔ انتقمنا منھم فاغرقنھم اجمعین (43 : 55) “ ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو اکٹھا غرق کر دیا ”۔ فرعون ، اس کے سرداروں اور لشکر کو۔ یہی لوگ تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاقب میں ہلاک ہوئے ، ان کو پیشوا بنا دیا کہ ہر ظالم یہی کام کرے اور اسی انجام تک پہنچے۔ ومثلا للاخرین (43 : 56) “ اور نمونہ عبرت پچھلوں کے لئے ”۔ یعنی ان لوگوں کے لئے جو فرعون کے بعد ایسے کام کرنے والے تھے اور جو ان کے قصے کو معلوم کر کے اس سے عبرت حاصل کرنے والے تھے۔ ٭٭٭ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی یہ کڑی یہاں ختم ہوتی ہے۔ یہ کڑی ان حالات کے مشابہ تھی جو نبی ﷺ کو بمقابلہ قریش درپیش تھے۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ مومنین نے سخت بےجگری سے ان کا مقابلہ کیا۔ اس قصے کے ذریعہ عرب کے مشرکین کو تنبیہہ کی جاتی ہے کہ تم جس طرح کے اعتراضات کرتے ہو ، یہی اعتراضات فرعون اور اس کی قوم نے کئے تھے اور ان کا یہ انجام ہوا تھا۔ اس طرح اس قصے میں جو حقائق بیان کئے گئے ہیں ، وہ قصہ فرعون و موسیٰ اور حالات موجودہ یعنی نبی کریم ﷺ اور اہل قریش کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتے ہیں ، اور یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سورت میں بیان کردہ حالات میں قصے کی اس کڑی کو کیوں لایا گیا ہے ، پھر اس طرح یہ قصہ الٰہی منہاج تربیت کے مطابق مسلمانوں کے لئے بہترین ذریعہ تربیت بھی ہے۔ اب قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس کڑی سے بات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک کڑی کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ اور یہ کڑی اس نکتے پر لائی گئی ہے کہ مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر ان کی عبادت کرتے تھے اور پیرو کار ان مسیح ان کو خدا کا بیٹا سمجھ کر ان کی بندگی کرتے ہیں اور یہ اس سورت کا آخری سبق ہے۔ ٭٭٭٭٭

الزخرف 43:56

آیت نمبر 55 تا 56 ذات باری کے غضب اور انتقام اور تباہی مچانے والے اقدام کو پیش کرنا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے غضب کے نتیجے میں اس کی قوت جو کام کرتی ہے وہ تاریخ میں مثال ہوتی ہے۔ فلما اسفونا (43 : 55) “ جب انہوں نے ہمیں غضب ناک کر دیا ”۔ یعنی بہت زیادہ ناراض کردیا۔ انتقمنا منھم فاغرقنھم اجمعین (43 : 55) “ ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو اکٹھا غرق کر دیا ”۔ فرعون ، اس کے سرداروں اور لشکر کو۔ یہی لوگ تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاقب میں ہلاک ہوئے ، ان کو پیشوا بنا دیا کہ ہر ظالم یہی کام کرے اور اسی انجام تک پہنچے۔ ومثلا للاخرین (43 : 56) “ اور نمونہ عبرت پچھلوں کے لئے ”۔ یعنی ان لوگوں کے لئے جو فرعون کے بعد ایسے کام کرنے والے تھے اور جو ان کے قصے کو معلوم کر کے اس سے عبرت حاصل کرنے والے تھے۔ ٭٭٭ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی یہ کڑی یہاں ختم ہوتی ہے۔ یہ کڑی ان حالات کے مشابہ تھی جو نبی ﷺ کو بمقابلہ قریش درپیش تھے۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ مومنین نے سخت بےجگری سے ان کا مقابلہ کیا۔ اس قصے کے ذریعہ عرب کے مشرکین کو تنبیہہ کی جاتی ہے کہ تم جس طرح کے اعتراضات کرتے ہو ، یہی اعتراضات فرعون اور اس کی قوم نے کئے تھے اور ان کا یہ انجام ہوا تھا۔ اس طرح اس قصے میں جو حقائق بیان کئے گئے ہیں ، وہ قصہ فرعون و موسیٰ اور حالات موجودہ یعنی نبی کریم ﷺ اور اہل قریش کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتے ہیں ، اور یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سورت میں بیان کردہ حالات میں قصے کی اس کڑی کو کیوں لایا گیا ہے ، پھر اس طرح یہ قصہ الٰہی منہاج تربیت کے مطابق مسلمانوں کے لئے بہترین ذریعہ تربیت بھی ہے۔ اب قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس کڑی سے بات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک کڑی کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ اور یہ کڑی اس نکتے پر لائی گئی ہے کہ مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر ان کی عبادت کرتے تھے اور پیرو کار ان مسیح ان کو خدا کا بیٹا سمجھ کر ان کی بندگی کرتے ہیں اور یہ اس سورت کا آخری سبق ہے۔ ٭٭٭٭٭

الزخرف 43:57

درس نمبر 233 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ بھی جہنم میں ہوں گے۔ غرض ان سے جب یہ کہا گیا کہ عابدو معبود دونوں جہنم میں ہوں گے۔ جب ان سے یہ کہا گیا تو بعض لوگوں نے عیسیٰ ابن مریم کی مثال دی کہ بعض گمراہ عیسائی ان کی بندگی کرتے تھے۔ یہ ان کی طرف سے محض ایک کج بحثی تھی۔ پھر وہ کہتے تھے کہ جب اہل کتاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بندگی کرتے ہیں تو ان سے ہم بہتر ہیں کہ ہم فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ یہ استدلال بناء الباطل علی الباطل کی بہترین مثال تھا۔ اس بنا پر یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت کیا ہے۔ آپ کی دعوت کیا تھی۔ اور ان سے پہلے بنی اسرائیل میں کیا اختلافات تھے اور ان کے بعد کیا اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد تمام بد عقیدہ اور مشرکانہ خیالات رکھنے والوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اچانک قیامت آجائے گی اور پھر حالت کیا ہوگی ؟ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں ایک جھلک ان نعمتوں کی ہے جو متقین کے لئے تیار کی گئی ہیں اور ایک جھلک اس دردناک عذاب کی ہے جو مجرمین کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس سبق میں فرشتوں کے بارے میں عربوں کے اس افسانے کو بھی رد کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ پاک ان باتوں سے بری ہے جو یہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس مناسب سے اللہ کی بعض صفات کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ زمین و آسمان اور دنیا و آخرت کا مطلق مالک ہے اور سب لوگوں نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ ان کو نظر انداز کردیں ، ان سے منہ پھیر لیں اور ان کو کرتے دیں جو کرتے ہیں۔ عنقریب ان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور یہ ایک ایسی بالواسطہ دھمکی ہے جو ان لوگوں کے لئے مناسبت ہے جو محض دکھاوے کے لئے کٹ حجتی کرنے میں ، احقاق حق کے لئے بات نہیں کرتے۔ ٭٭٭ درس نمبر 233 تشریح آیات 57 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 89 آیت نمبر 57 تا 65 ابن اسحاق نے سیرۃ میں لکھا ہے کہ جس طرح مجھ تک یہ بات پہنچی ، حضور اکرم ﷺ حرم میں ولید ابن مغیرہ کے پاس بیٹھے تھے ، نضر ابن الحارث بھی آیا اور وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ مجلس میں قریش کے کئی اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ بات کی۔ نضر ابن حارث نے کچھ اعتراض کیا ، تو حضور ﷺ نے اس کو خاموش کرا دیا۔ اس کے بعد ان پر یہ آیت پڑھی۔ انکم وما تعبدون ۔۔۔۔۔۔ لھا واردون (21 : 98) ” تم اور جن بتوں کو تم پوجا کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہیں۔ تم اس جہنم میں پہنچنے والے ہو۔۔۔۔ “۔ رسول اللہ ﷺ اس مجلس سے اٹھ گئے اور عبد اللہ ابن الزیعری تمیمی آیا اور مجلس میں بیٹھ گیا تو ولید ابن مغیرہ نے کہا : ” خدا کی قسم نضر ابن الحارث کا کھڑا ہونا تھا کہ عبد المطلب کے بیٹے اٹھ کر چلے گئے۔ محمد ﷺ کا خیال یہ ہے کہ ہم اور ہمارے سب معبود جہنم کا ایندھن ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن الزیعری نے کہا ، خدا کی قسم اگر مجھے ملے تو میں اس کے ساتھ جھگڑا کروں گا۔ تم محمد ﷺ سے پوچھو کیا وہ تمام معبود جن کی عبادت کی جاتی ہے ، اپنے عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ ہم تو ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہودی عزیر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاریٰ مسیح ابن مریم کی عبادت کرتے ہیں تو ولید اور اہل مجلس ، عبد اللہ ابن زیعری کی بات سے بےحد متاثر ہوئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اس نے خوب دلیل پیش کی اور مباحثہ کیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا :” جس نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ اللہ کے سوا پوجا جائے تو بیشک وہ ان لوگوں کے ساتھ جہنم میں ہوگا جنہوں نے اسے پوجا۔ یہ لوگ دراصل شیطان کی عبادت کرتے ہیں جس نے ان کو ان بزرگوں کی بندگی کا حکم دیا ہے “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان الذین سبقت ۔۔۔۔۔ مبعدون (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہوگا تو وہ یقیناً اس سے دور رکھے جائیں گے “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عزیر (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ پوجے جانے والے دوسرے احبار اور رہبان ۔ جو اللہ کی عبادت پر قائم رہے اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے ان کی عبادت شروع کردی اور ان کو ارباب من دون اللہ بنا دیا۔ اور یہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں بات کی گئی کہ ان کو بھی من دون اللہ عبادت کی جاتی ہے اور ولید اور دوسرے اہل مجلس اس سے متاثر ہوئے تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ولما ضرب ۔۔۔۔۔۔۔ منہ یصدون (43 : 57) ” جب ان مریم کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم نے اچانک غل مچا دیا “۔ یصدون کے معنی ہیں یصدون عن امرک یعنی تمہاری دعوت سے روکتے رہیں۔۔۔۔ “۔ علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سامنے یہ آیت پڑھی انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم (21 : 98) ” تم اور تمہارے معبود جہنم کا ایندھن ہوں گے اور سب نے اس میں جانا ہے “۔ تو اس پر اہل قریش سخت برہم ہوئے ۔ عبد اللہ ابن زیعری نے پوچھا محمد ، یہ حکم صرف ہمارے معبدوں اور ہمارے بارے میں ہے یا دوسری ملتوں کے بارے بھی ہے ۔ آپ نے فرمایا ” یہ تمہارے لیے تمہارے الہوں کے لئے اور تمام اقوام کے لئے ہے “۔ تو اس نے کہا ، رب کعبہ کی قسم میں نے تمہیں شکست دے دی۔ کیا تم یقین نہیں کرتے کہ عیسیٰ ابن مریم نبی ہیں اور تم ان کے اور ان کی والدہ کے بارے میں اچھی باتیں کرتے ہو ، اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ نصاری ان کی عبادت کرتے ہیں اور عزیر کی بھی یہودی بندگی کرتے ہیں ، ملائکہ کی بھی بندگی کی جاتی ہے۔ اگر یہ سب لوگگ جہنم میں خاموش ہو تو اپنے الہوں کے ساتھ جہنم میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس پر وہ بہت ہنسے اور خوش ہوئے ۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نال بات ہوئی : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہمارے طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہوگا “۔ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ جب عبد اللہ ابن الزیعری نے عیسیٰ بن مریم کی مثال دی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مباحثہ کیا کہ نصاریٰ بھی تو عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں تو اچانک تمہاری قوم اہل قریش نے شوروغل مچانا شروع کردیا۔ اور یہ انہوں نے اس لیے کیا کہ وہ اس دلیل پر بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو زیعری نے خاموش کردیا تھا۔ جس طرح بعض اوقات بےدلیل لوگ جب بحث میں ہار جاتے ہیں اور اچانک ان کو کوئی دلیل مل جاتی ہے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ لفظ یصدون کے معنی تو ہیں شور کرنا۔ لیکن جنہوں نے اسے یصدون (حرف صاد پر پیش کے ساتھ ) پڑھا ہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ حق سے منہ موڑتے ہیں ، اعراض کرتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یصدون الصدید سے ہے جس کے معنی مقابلہ اور کٹ جانے کے ہیں۔ یصدون اور یصدون دونوں طرح آتا ہے جس طرح یعکف اور یعکف آتا ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ”۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہارے نزدیک ہمارے الٰہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے اچھے اور بہتر نہیں ؟ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) جہنم کا ایندھن ہیں تو پھر ہمارے الہٰوں کا معاملہ آسان ہے۔ یہ تھی صاحب کشاف کی روایت ، معلوم نہیں انہوں نے کس سے اخذ کی ہے لیکن اپنے عمومی مضمون میں یہ ابن اسحاق کی روایت کے ساتھ متفق ہے۔ دونوں روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس جدل وجدال میں محض ظاہری اور لفظی کج بحثی سے کام لیتے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے۔ بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ “ ۔ یہ جھگڑتے ہیں اور تنقید کرنے میں بہت ماہر ہیں ، مناظرہ باز ہیں۔ ان کو پہلے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ار رسول اللہ ﷺ کی مراد کیا ، اس کے بعد وہ مفہوم کو توڑ مروڑ کر اپنی مراد پر لاتے ہیں اور پھر اعتراض کرتے ہیں اور الفاظ کے عموم کو لے کر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ ان کے اندر وہ پورے قرآن کی تعلیمات سے خود اختصاص پیدا کرسکتے تھے اور اس قسم کے عمومی اعتراضات وہی عائد کرتا ہے جو مخلص نہ ہو اور پوری طرح چالاک ہو ، جس کی سوچ درست نہ ہو ، مکابرہ کرنے والا ہو اور ہر وقت شبہات ، الفاظ کے ہیر پھیر اور کسی جگہ پر نقب زنی کرنے کا متلاشی ہو۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ نے ہمیشہ ایسی گفتگو سے منع فرمایا ہے جس میں محض دکھاوا ہو ، حقیقت نہ ہو ، اور جس میں صاحب کلام ہر صورت میں کلام ہر صورت میں اپنی بات کو غالب کرنا چاہتا ہو۔ ابن جریر نے ، ابو کریب سے انہوں نے احمد ابن عبد الرحمٰن سے انہوں نے عبادہ ابن عبادہ سے انہوں نے جعفر سے انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور لوگ قرآن کریم میں مباحثہ اور مناظرہ کر رہے تھے۔ آپ کو بہت شدید غصہ آیا۔ گویا آپ کے چہرۂ مبارک پر سرکہ ڈال دیا گیا ہو۔ (ترشہ روئی کا اظہار کیا) اس کے بعد آپ نے فرمایا ” قرآن کے بعض حصوں کو بعض دوسرے حصوں سے نہ ٹکراؤ، کیونکہ لوگ گمراہ تب ہوئے جب ان کے اندر مذہبی جھگڑے اور اختلافات شروع ہوگئے “۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرا احتمال بھی ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” اور وہ کہنے لگے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ؟ “ میں یہ اشارہ ہے کہ ان کے افسانوی عقائد کے مطابق وہ ملائکہ کی پوجا کرتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ ان کی یہ پوجا نصاریٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوجا سے بہتر ہے۔ کیونکہ ملائکہ اپنے مزاج کے اعتبار سے اور ان کے افسانوی خیال کی رو سے خدا کے زیادہ قریب ہیں۔ اس پر یہ تبصرہ ۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اور جس طرح پہلے گزرا یہ ابن الزیعری پر رد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کی عبادت مسیح کی مثال لانا یہاں باطل ہے۔ نصاریٰ کا عمل حجت نہیں ہے کیونکہ وہ تو توحید سے پھرگئے ہیں جس طرح مشرکین توحید سے پھرگئے ہیں۔ لہٰذا دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کے سب گمراہ ہیں۔ بعض مفسرین نے اس طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بھی ایک قریب الفہم تفسیر ہو سکتی ہے۔ اور اس کے بعد حضرت عیسٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جامع تبصرہ ۔ ان ھو الا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلا لبنی اسرائیل (43 : 59) ” ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لئے اسے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا “۔ اور وہ الٰہ نہیں جس کی عبادت کی جائے ، جس طرح نصاریٰ کا ایک گروہ گمراہ ہوا اور اس نے ان کی بندگی شروع کردی۔ وہ تو ایک بندۂ خدا ہیں ان پر اللہ کا انعام ہوگیا ، اور اگر بعض لوگوں نے ان کی بندگی کی ہے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے ان کو رسالت اور معجزات دے کر بنی اسرائیل کے لئے نمونہ قدرت الٰہیہ بنا گیا گیا تھا اور بنی اسرائیل کو چاہئے تھا کہ وہ ان کی پیروی کرتے اور ہدایت حاصل کرتے مگر وہ گمراہ ہوگئے۔ اب بات ان کے عقائد بابت ملائکہ کے موضوع کی طرف آتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فرشتے تو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس زمین میں تمہارا جانشین فرشتوں کو بنا دیں یا بعض لوگوں کو فرشتے بنا دیں جو زمین میں جانشین ہوجائیں۔ ولو نشاء ۔۔۔۔۔ یخلفون (43 : 50) ” اگر اللہ چاہتا تو ملائکہ کو تمہارا خلیفہ بنا دیتا “ ۔ یہ سارے معاملات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اپنی مخلوق کے بارے میں جو چاہے ، کر دے لیکن مخلوق میں سے کوئی اللہ سے نسب نہیں جوڑ سکتا۔ اور نہ اللہ سے مل سکتا ہے سوائے خالق و مخلوق کے تعلق سے یا عہد و معبود کے تعلق سے یا غلام اور مالک کے تعلق سے۔ اس کے بعد کچھ فیصلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق کہ وہ ایک تو قیامت کی نشانی ہیں۔ اس قیامت کی جس کی یہ تکذیب کرتے ہیں یا ان کو اس کے آنے میں شک ہے۔ وانہ لعلم ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 61) ولا یصدنکم ۔۔۔۔۔۔ مبین (43 : 62) ” اور ابن مریم دراصل قیامت کا علم ہے بس تم اس میں شک نہ کرو ، اور میری بات مان لو۔ یہی سیدھا راستہ ہے ، ایسانہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قیامت سے قبل نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے موضوع پر کئی احادیث آئی ہیں۔ یہ قیامت سے قدرے پہلے زمین پر اتریں گے۔ اور اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کا علم ہے “۔ یعنی ان کے آنے سے قرب قیامت کا علم ہوجائے گا اور دوسری قرات یہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کی نشانی ہے “ ۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ تمہارے اندر ابن مریم بطور ایک منصف حاکم نازل ہوں ، وہ صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کردیں گے ، لوگوں پر جزیہ عائد کریں گے اور مال تقسیم کریں گے یہاں تک کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا ، حالت یہ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا (متفق علیہ ، ابو داؤد ، مالک) ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا یہاں تک کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ، مسلمانوں کے امیر ان سے کہیں گے ، آپ ہمیں نماز پڑھائیں ، وہ کہیں گے ، نہیں۔ تم میں سے بعض بعض کے امراء ہوں گے ، اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا ہے “۔ (مسلم ) یہ ایک غیب ہے ، اور اس کی اطلاع ہمیں صادق و امین ﷺ نے دی ہے اور اس طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے ، لہٰذا اس بات میں کوئی انسان کوئی اور بات نہیں کرسکتا صرف وہی بات حق ہے جو ان دو سچے ذرائع سے آئی ہے اور ہمارے لیے سچے مصادر قیامت تک یہی ہیں۔ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم (43 : 61) ” پس تم اس میں شک نہ کرو اور میری بات مانو ، یہی سیدھا راستہ ہے “۔ یہ لوگ قیامت میں شک کرتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دیتا ہے کہ اس پر یقین کرو ، حضور اکرم ﷺ کی زبانی ان کو دعوت یقین دی جاتی ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میں تمہیں سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔ جو بالکل سیدھا اور منزل مقصود تک پہنچنے والا ہے۔ اور اس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں اور راندۂ درگاہ ہوتے ہیں ، وہ شیطان کے اثر سے ہوتے ہیں ، لہٰذا شیطان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے۔ ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (63 : 62) ” ایسا نہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قرآن کریم اس مسلسل معرکہ کی طرف بار بار اشارہ کرتا ہے جو اولاد آدم اور شیطان کے درمیان حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے جاری ہے۔ یہ معرکہ جنت سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اور اس شخص سے بڑا احمق اور غافل اور کون ہوسکتا ہے جسے بار بار متنبہ کیا جائے کہ گھات میں دشمن بیٹھا ہے اور اس نے تمہارا ارادہ کر رکھا ہے اور یہ شخص اس کے برعکس دشمن کا مطیع فرمان بن جائے۔ اسلام نے تو انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں شیطان کے خلاف اس دوامی جنگ میں برسر پیکار رہے اور اس کے ساتھ اس قدر عظیم مال غنیمت کا وعدہ کیا ہے جو کسی بشر کے تصور سے باہر ہے۔ اسلام نے انسانی جنگ کا رخ اس معرکہ خیر و شر کی طرف پھیر دیا جس کی وجہ سے انسان صحیح انسان بنتا ہے اور جس کی وجہ سے تمام مخلوقات میں سے انسان کو ایک ممتاز مخلوق بنایا گیا ہے اور ایک خاص مزاج دیا گیا ہے اور یہاں انسان کا سب سے بڑ انصب العین یہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کھلے دشمن شیطان پر غالب آجائے ، یوں وہ شر ، خباثت اور ہر قسم کی گندگی پر غالب آجائے اور زمین میں خیر کی بنیادیں رکھ دے جن میں لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے اور پاکیزہ زندگی گزاریں گے۔ اس نصیحت کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مزید معلومات کہ وہ کیا پیغام لے کر آئے تھے اور ان سے پہلے نبی اسرائیل کے باہم اختلافات کیا تھا اور بعد میں کیا ہوتا رہا۔ ولما جاء عیسیٰ ۔۔۔۔۔۔ واطیعون (43 : 63) ان اللہ ھو ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 64) فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” اور جب عیسیٰ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں اختلاف کر رہے ہو ، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا بھی۔ اس کی تم عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس تباہی ہے ان لوگوں لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے واضح نشانیاں لے کر آئے تھے۔ یہ نشانیاں وہ معجزات بھی تھے جس صدور آپ کے ہاتھوں پر ہوا۔ اور وہ کلمات اور تقاریر بھی تھیں جو آپ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے کیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا : قد جئتکم بالحکمۃ (43 : 63) ” میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں “ اور جسے حکمت دی گئی وہ گویا خیر کثیر کا مالک بن گیا ۔ وہ لغزش اور بےراہ روی سے امن میں ہوگیا۔ تفریط اور تقصیر سے محفوظ ہوگیا ۔ اور صحیح راستے پر اس کے قدم نہایت ہی توازن اور روشنی میں اٹھنے لگے اور آپ ان کے پاس اس لیے بھی خصوصی طور پر آئے تھے کہ اس وقت مذہبی گروہوں میں جو بہت بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا تھا آپ اسے دور کریں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کے فقہاء نے بےحد اختلاف شروع کردیا تھا۔ وہ فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے۔ آپ نے قوم کو اس طرف بلایا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور آپ نے عقیدۂ توحید تو بڑی وضاحت ، بلاریب اور بغیر کسی التباس اور پیچیدگی کے بیان کیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 64) ” بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے لہٰذا اسی کی بندگی کرو “ نہ آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ الٰہ ہیں اور نہ یہ دعویٰ کیا کہ آپ ابن اللہ ہیں اور آپ نے اپنے کلام میں کسی جگہ ماسوائے تعلق رب اور بندہ اور خالق و مخلوق ، اللہ کے ساتھ کسی اور تعلق کا اشارہ تک نہیں کیا۔ صرف یہی کہا کہ میں رسول ہوں ، صراط مستقیم دے کر بھیجا گیا ہوں ، جس میں کوئی ٹیٹرھ نہیں ہے ، نہ کوئی پھسلن ہے اور نہ کج روی۔ لیکن جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے وہ بھی اسی طرح ٹکڑے اور پارٹیاں بن گئے جس طرح آپ سے پہلے کے لوگ ٹکڑے اور پارٹیاں تھے۔ یہ اختلاف انہوں نے محض ظلم کرتے ہوئے کئے ، اختلافات کے لئے نہ کوئی جواز تھا ، اور نہ شبہ تھا۔ فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم (43 : 65) ” پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی رسالت بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اس دور میں بنی اسرائیل رومیوں کے غلام تھے ، ان کو انتظار تھا کہ نجات دہندہ آئے گا اور ہمیں چھڑائے گا لیکن جب وہ آیا تو انہوں نے اسے پہچاننے سے انکار کردیا اور اس کی دشمنی پر اتر آئے اور انہوں نے اسے سولی پر چڑھانے کی سعی کی۔ جب آپ تشریف لائے تو اس وقت بنی اسرائیل ٹکڑے ٹکڑے تھے ، اہم فرقے چار تھے : 1۔ صدوقی فرقہ : یہ صدوق کی طرف منسوب تھے ، وہ اور اس کے خاندان کے لوگ ہیکل سلیمانی کے کاہن تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہما السلام) کے زمانے سے وہ اس منصب پر تھے۔ شریعت کے مطابق ضروری تھا کہ ان کا نسب ہارون (علیہ السلام) تک پہنچے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی پیغمبر تھے کیونکہ ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہی ہیکل کی متولی تھی۔ یہ لوگ اپنے فرائض کے مطابق عبادات کی ظاہری صورت پر بہت زور دیتے تھے۔ اور کسی قسم کی بدعت کے سخت مخالف تھے جبکہ اپنی شخصی زندگی میں بہت عیاش تھے اور زندگی کے مزے لیتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ قیامت نہیں ہے۔ 2۔ فرسیوں کا فرقہ : یہ صدوقیوں کے سخت خلاف تھے۔ ان کو اعتراض یہ تھا کہ یہ لوگ مذہبی رسومات اور عبادات کی ظاہری شکل پر بہت زور دیتے ہیں اور قیامت اور حساب و کتاب کے منکر ہیں۔ یہ نہایت ہی متقی اور صوفی قسم کے لوگ تھے۔ اگرچہ بعض کے اوپر علمی غرور چھایا ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا علمی غرور پسند نہ تھا۔ نیز آپ کو ان کی لفاظی بھی پسند نہ تھی۔ 3۔ تیسرا فرقہ سامریوں کا تھا : یہ فرقہ یہودیوں اور اشوریوں پر مشتمل تھا۔ اور یہ عہد قدیمہ کی صرف پانچ کتابوں کو مانتا تھا۔ باقی کتب کو بعد کے اضافے سمجھتا تھا۔ یہ پانچ کتابیں موسوی کتب کے نام سے مشہور ہیں جبکہ دوسرے فرقے ساری کتب کو مانتے تھے۔ 4۔ ان کو آسین یا اسینین کہتے تھے۔ یہ لوگ بعض فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اور یہ لوگ دوسرے فرقوں سے علیحدہ رہتے تھے۔ اور اپنے آپ کو نہایت سختی اور تقشف میں رکھتے تھے اور ان کی جماعت بھی تنظیم میں بہت سخت تھی۔ ان چار مشہور فرقوں کے علاوہ بھی بہت سے انفرادی فرقے تھے۔ غرض بنی اسرائیل کے اندر نظریات اور طرز عمل کا سخت اختلاف و انتشار تھا۔ جن پر رومی شہنشاہیت کا سخت دباؤ تھا۔ اور پوری قوم سخت ذلت اور غلامی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ یہ منظر تھا جس میں ایک نجات دہندہ کی پیشین گوئی کتابوں کی گئی تھی کہ وہ آئے گا اور ہمیں نجات دلائے گا۔ جب حضرت مسیح عقیدۂ توحید کے ساتھ بھیجے گئے اور انہوں نے اعلان کردیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 63) ” کہ اللہ میرا بھی رب ہے ، اور تمہارا بھی رب ہے ، لہٰذا اس کی عبادت کرو “۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے ایسی شریعت پیش کی جس میں رواداری اور روحانی اصلاح پر اور عبادات کی ظاہری صورت کی بجائے عبادات کے روحانی پہلو پر زور دیا گیا تھا تو ان فقہاء اور فرسیوں نے آپ کا مقابلہ کیا کیونکہ یہ لوگ عبادات کی ظاہری شکلوں ہی پر زور دیتے تھے۔ ان لوگوں کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا ، ان میں سے آپ کے بعض اقوال نہایت ہی موثر ہیں مثلاً ” یہ لوگ بڑے بڑے بھاری بوجھ باندھتے ہیں اور لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کو اپنے کاندھوں پر اٹھائیں اور خود اپنی انگلی بھی آگے نہیں بڑھاتے کہ اس بوجھ کو جگہ سے ہلا دیں۔ وہ جو کام بھی کرتے ہیں ، اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ اسے دیکھیں۔ اور اپنے کپڑوں کے دامن لمبے کرتے ہیں اور دعوتوں میں اول مقام پر بیٹھتے ہیں اور جلسوں میں پہلی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں اور بازاروں میں پھر کر سلام وصول کرتے ہیں اور یہ پسند کرتے ہیں کہ انہیں پکارا جائے ، ” سیدی سیدی “ کہ کر جہاں بھی وہ جائیں “۔ اور فرسیوں اور فقیہوں سے کہتے ہیں ” اے اندھے قائدین ! تم مچھر چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو ، تم پیالے اور تھالی کے ظاہری حصے کو خوب صاف کرتے ہو لیکن ان کے اندر گندگی اور بدکاری ہوتی ہے ، اے لکھنے والے مفتیان کرام اور دھاوا کرنے والے فقہاء ، تمہاری مثال یوں ہے جس طرح ایک چونا گچ کی سفید قبر ، جس کا ظاہری حصہ خوبصورت اور ملمع شدہ ہے اور اندر بوسیدہ ہڈیاں ہیں “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان کلمات کو پڑھو اور خود اپنے دور کے علماء اور مفتیان کرام کو دیکھو ، کیا یہی الفاظ ان پر صادق نہیں آتے ، دین کی تحریف کرنے والے ، رسومات کے پجاری ، ظاہر پرست اور دکھاوا کرنے والے۔ اس کے بعد حضرت مسیح اپنے رب کے پاس چلے گئے۔ اس طرح آپ کے پیرو کاروں کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے۔ یہ اس طرح فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ بعض نے خود ان کو الٰہ بنا دیا۔ بعض نے اللہ کا بیٹا بنا لیا۔ بعض نے ثالث ثلاثہ کہا اور وہ کلمہ توحید ان سے گم ہوگیا جس کی دعوت لے کر آپ اس لیے تشریف لائے تھے کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور دین اللہ کے لئے خالص کردیں۔ فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک عذاب کے دن کی “۔ مشرکین عرب آئے اور انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مجادلہ شروع کردیا۔ اس وجہ سے کہ پیروکار ان مسیح نے آپ کے بعد گل کھلائے تھے اور آپ کے بارے میں بیشمار افسانے گھڑ لیے تھے۔ ٭٭٭

الزخرف 43:58

درس نمبر 233 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ بھی جہنم میں ہوں گے۔ غرض ان سے جب یہ کہا گیا کہ عابدو معبود دونوں جہنم میں ہوں گے۔ جب ان سے یہ کہا گیا تو بعض لوگوں نے عیسیٰ ابن مریم کی مثال دی کہ بعض گمراہ عیسائی ان کی بندگی کرتے تھے۔ یہ ان کی طرف سے محض ایک کج بحثی تھی۔ پھر وہ کہتے تھے کہ جب اہل کتاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بندگی کرتے ہیں تو ان سے ہم بہتر ہیں کہ ہم فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ یہ استدلال بناء الباطل علی الباطل کی بہترین مثال تھا۔ اس بنا پر یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت کیا ہے۔ آپ کی دعوت کیا تھی۔ اور ان سے پہلے بنی اسرائیل میں کیا اختلافات تھے اور ان کے بعد کیا اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد تمام بد عقیدہ اور مشرکانہ خیالات رکھنے والوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اچانک قیامت آجائے گی اور پھر حالت کیا ہوگی ؟ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں ایک جھلک ان نعمتوں کی ہے جو متقین کے لئے تیار کی گئی ہیں اور ایک جھلک اس دردناک عذاب کی ہے جو مجرمین کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس سبق میں فرشتوں کے بارے میں عربوں کے اس افسانے کو بھی رد کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ پاک ان باتوں سے بری ہے جو یہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس مناسب سے اللہ کی بعض صفات کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ زمین و آسمان اور دنیا و آخرت کا مطلق مالک ہے اور سب لوگوں نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ ان کو نظر انداز کردیں ، ان سے منہ پھیر لیں اور ان کو کرتے دیں جو کرتے ہیں۔ عنقریب ان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور یہ ایک ایسی بالواسطہ دھمکی ہے جو ان لوگوں کے لئے مناسبت ہے جو محض دکھاوے کے لئے کٹ حجتی کرنے میں ، احقاق حق کے لئے بات نہیں کرتے۔ ٭٭٭ درس نمبر 233 تشریح آیات 57 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 89 آیت نمبر 57 تا 65 ابن اسحاق نے سیرۃ میں لکھا ہے کہ جس طرح مجھ تک یہ بات پہنچی ، حضور اکرم ﷺ حرم میں ولید ابن مغیرہ کے پاس بیٹھے تھے ، نضر ابن الحارث بھی آیا اور وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ مجلس میں قریش کے کئی اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ بات کی۔ نضر ابن حارث نے کچھ اعتراض کیا ، تو حضور ﷺ نے اس کو خاموش کرا دیا۔ اس کے بعد ان پر یہ آیت پڑھی۔ انکم وما تعبدون ۔۔۔۔۔۔ لھا واردون (21 : 98) ” تم اور جن بتوں کو تم پوجا کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہیں۔ تم اس جہنم میں پہنچنے والے ہو۔۔۔۔ “۔ رسول اللہ ﷺ اس مجلس سے اٹھ گئے اور عبد اللہ ابن الزیعری تمیمی آیا اور مجلس میں بیٹھ گیا تو ولید ابن مغیرہ نے کہا : ” خدا کی قسم نضر ابن الحارث کا کھڑا ہونا تھا کہ عبد المطلب کے بیٹے اٹھ کر چلے گئے۔ محمد ﷺ کا خیال یہ ہے کہ ہم اور ہمارے سب معبود جہنم کا ایندھن ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن الزیعری نے کہا ، خدا کی قسم اگر مجھے ملے تو میں اس کے ساتھ جھگڑا کروں گا۔ تم محمد ﷺ سے پوچھو کیا وہ تمام معبود جن کی عبادت کی جاتی ہے ، اپنے عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ ہم تو ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہودی عزیر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاریٰ مسیح ابن مریم کی عبادت کرتے ہیں تو ولید اور اہل مجلس ، عبد اللہ ابن زیعری کی بات سے بےحد متاثر ہوئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اس نے خوب دلیل پیش کی اور مباحثہ کیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا :” جس نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ اللہ کے سوا پوجا جائے تو بیشک وہ ان لوگوں کے ساتھ جہنم میں ہوگا جنہوں نے اسے پوجا۔ یہ لوگ دراصل شیطان کی عبادت کرتے ہیں جس نے ان کو ان بزرگوں کی بندگی کا حکم دیا ہے “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان الذین سبقت ۔۔۔۔۔ مبعدون (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہوگا تو وہ یقیناً اس سے دور رکھے جائیں گے “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عزیر (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ پوجے جانے والے دوسرے احبار اور رہبان ۔ جو اللہ کی عبادت پر قائم رہے اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے ان کی عبادت شروع کردی اور ان کو ارباب من دون اللہ بنا دیا۔ اور یہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں بات کی گئی کہ ان کو بھی من دون اللہ عبادت کی جاتی ہے اور ولید اور دوسرے اہل مجلس اس سے متاثر ہوئے تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ولما ضرب ۔۔۔۔۔۔۔ منہ یصدون (43 : 57) ” جب ان مریم کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم نے اچانک غل مچا دیا “۔ یصدون کے معنی ہیں یصدون عن امرک یعنی تمہاری دعوت سے روکتے رہیں۔۔۔۔ “۔ علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سامنے یہ آیت پڑھی انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم (21 : 98) ” تم اور تمہارے معبود جہنم کا ایندھن ہوں گے اور سب نے اس میں جانا ہے “۔ تو اس پر اہل قریش سخت برہم ہوئے ۔ عبد اللہ ابن زیعری نے پوچھا محمد ، یہ حکم صرف ہمارے معبدوں اور ہمارے بارے میں ہے یا دوسری ملتوں کے بارے بھی ہے ۔ آپ نے فرمایا ” یہ تمہارے لیے تمہارے الہوں کے لئے اور تمام اقوام کے لئے ہے “۔ تو اس نے کہا ، رب کعبہ کی قسم میں نے تمہیں شکست دے دی۔ کیا تم یقین نہیں کرتے کہ عیسیٰ ابن مریم نبی ہیں اور تم ان کے اور ان کی والدہ کے بارے میں اچھی باتیں کرتے ہو ، اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ نصاری ان کی عبادت کرتے ہیں اور عزیر کی بھی یہودی بندگی کرتے ہیں ، ملائکہ کی بھی بندگی کی جاتی ہے۔ اگر یہ سب لوگگ جہنم میں خاموش ہو تو اپنے الہوں کے ساتھ جہنم میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس پر وہ بہت ہنسے اور خوش ہوئے ۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نال بات ہوئی : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہمارے طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہوگا “۔ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ جب عبد اللہ ابن الزیعری نے عیسیٰ بن مریم کی مثال دی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مباحثہ کیا کہ نصاریٰ بھی تو عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں تو اچانک تمہاری قوم اہل قریش نے شوروغل مچانا شروع کردیا۔ اور یہ انہوں نے اس لیے کیا کہ وہ اس دلیل پر بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو زیعری نے خاموش کردیا تھا۔ جس طرح بعض اوقات بےدلیل لوگ جب بحث میں ہار جاتے ہیں اور اچانک ان کو کوئی دلیل مل جاتی ہے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ لفظ یصدون کے معنی تو ہیں شور کرنا۔ لیکن جنہوں نے اسے یصدون (حرف صاد پر پیش کے ساتھ ) پڑھا ہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ حق سے منہ موڑتے ہیں ، اعراض کرتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یصدون الصدید سے ہے جس کے معنی مقابلہ اور کٹ جانے کے ہیں۔ یصدون اور یصدون دونوں طرح آتا ہے جس طرح یعکف اور یعکف آتا ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ”۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہارے نزدیک ہمارے الٰہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے اچھے اور بہتر نہیں ؟ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) جہنم کا ایندھن ہیں تو پھر ہمارے الہٰوں کا معاملہ آسان ہے۔ یہ تھی صاحب کشاف کی روایت ، معلوم نہیں انہوں نے کس سے اخذ کی ہے لیکن اپنے عمومی مضمون میں یہ ابن اسحاق کی روایت کے ساتھ متفق ہے۔ دونوں روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس جدل وجدال میں محض ظاہری اور لفظی کج بحثی سے کام لیتے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے۔ بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ “ ۔ یہ جھگڑتے ہیں اور تنقید کرنے میں بہت ماہر ہیں ، مناظرہ باز ہیں۔ ان کو پہلے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ار رسول اللہ ﷺ کی مراد کیا ، اس کے بعد وہ مفہوم کو توڑ مروڑ کر اپنی مراد پر لاتے ہیں اور پھر اعتراض کرتے ہیں اور الفاظ کے عموم کو لے کر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ ان کے اندر وہ پورے قرآن کی تعلیمات سے خود اختصاص پیدا کرسکتے تھے اور اس قسم کے عمومی اعتراضات وہی عائد کرتا ہے جو مخلص نہ ہو اور پوری طرح چالاک ہو ، جس کی سوچ درست نہ ہو ، مکابرہ کرنے والا ہو اور ہر وقت شبہات ، الفاظ کے ہیر پھیر اور کسی جگہ پر نقب زنی کرنے کا متلاشی ہو۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ نے ہمیشہ ایسی گفتگو سے منع فرمایا ہے جس میں محض دکھاوا ہو ، حقیقت نہ ہو ، اور جس میں صاحب کلام ہر صورت میں کلام ہر صورت میں اپنی بات کو غالب کرنا چاہتا ہو۔ ابن جریر نے ، ابو کریب سے انہوں نے احمد ابن عبد الرحمٰن سے انہوں نے عبادہ ابن عبادہ سے انہوں نے جعفر سے انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور لوگ قرآن کریم میں مباحثہ اور مناظرہ کر رہے تھے۔ آپ کو بہت شدید غصہ آیا۔ گویا آپ کے چہرۂ مبارک پر سرکہ ڈال دیا گیا ہو۔ (ترشہ روئی کا اظہار کیا) اس کے بعد آپ نے فرمایا ” قرآن کے بعض حصوں کو بعض دوسرے حصوں سے نہ ٹکراؤ، کیونکہ لوگ گمراہ تب ہوئے جب ان کے اندر مذہبی جھگڑے اور اختلافات شروع ہوگئے “۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرا احتمال بھی ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” اور وہ کہنے لگے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ؟ “ میں یہ اشارہ ہے کہ ان کے افسانوی عقائد کے مطابق وہ ملائکہ کی پوجا کرتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ ان کی یہ پوجا نصاریٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوجا سے بہتر ہے۔ کیونکہ ملائکہ اپنے مزاج کے اعتبار سے اور ان کے افسانوی خیال کی رو سے خدا کے زیادہ قریب ہیں۔ اس پر یہ تبصرہ ۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اور جس طرح پہلے گزرا یہ ابن الزیعری پر رد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کی عبادت مسیح کی مثال لانا یہاں باطل ہے۔ نصاریٰ کا عمل حجت نہیں ہے کیونکہ وہ تو توحید سے پھرگئے ہیں جس طرح مشرکین توحید سے پھرگئے ہیں۔ لہٰذا دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کے سب گمراہ ہیں۔ بعض مفسرین نے اس طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بھی ایک قریب الفہم تفسیر ہو سکتی ہے۔ اور اس کے بعد حضرت عیسٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جامع تبصرہ ۔ ان ھو الا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلا لبنی اسرائیل (43 : 59) ” ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لئے اسے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا “۔ اور وہ الٰہ نہیں جس کی عبادت کی جائے ، جس طرح نصاریٰ کا ایک گروہ گمراہ ہوا اور اس نے ان کی بندگی شروع کردی۔ وہ تو ایک بندۂ خدا ہیں ان پر اللہ کا انعام ہوگیا ، اور اگر بعض لوگوں نے ان کی بندگی کی ہے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے ان کو رسالت اور معجزات دے کر بنی اسرائیل کے لئے نمونہ قدرت الٰہیہ بنا گیا گیا تھا اور بنی اسرائیل کو چاہئے تھا کہ وہ ان کی پیروی کرتے اور ہدایت حاصل کرتے مگر وہ گمراہ ہوگئے۔ اب بات ان کے عقائد بابت ملائکہ کے موضوع کی طرف آتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فرشتے تو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس زمین میں تمہارا جانشین فرشتوں کو بنا دیں یا بعض لوگوں کو فرشتے بنا دیں جو زمین میں جانشین ہوجائیں۔ ولو نشاء ۔۔۔۔۔ یخلفون (43 : 50) ” اگر اللہ چاہتا تو ملائکہ کو تمہارا خلیفہ بنا دیتا “ ۔ یہ سارے معاملات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اپنی مخلوق کے بارے میں جو چاہے ، کر دے لیکن مخلوق میں سے کوئی اللہ سے نسب نہیں جوڑ سکتا۔ اور نہ اللہ سے مل سکتا ہے سوائے خالق و مخلوق کے تعلق سے یا عہد و معبود کے تعلق سے یا غلام اور مالک کے تعلق سے۔ اس کے بعد کچھ فیصلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق کہ وہ ایک تو قیامت کی نشانی ہیں۔ اس قیامت کی جس کی یہ تکذیب کرتے ہیں یا ان کو اس کے آنے میں شک ہے۔ وانہ لعلم ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 61) ولا یصدنکم ۔۔۔۔۔۔ مبین (43 : 62) ” اور ابن مریم دراصل قیامت کا علم ہے بس تم اس میں شک نہ کرو ، اور میری بات مان لو۔ یہی سیدھا راستہ ہے ، ایسانہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قیامت سے قبل نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے موضوع پر کئی احادیث آئی ہیں۔ یہ قیامت سے قدرے پہلے زمین پر اتریں گے۔ اور اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کا علم ہے “۔ یعنی ان کے آنے سے قرب قیامت کا علم ہوجائے گا اور دوسری قرات یہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کی نشانی ہے “ ۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ تمہارے اندر ابن مریم بطور ایک منصف حاکم نازل ہوں ، وہ صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کردیں گے ، لوگوں پر جزیہ عائد کریں گے اور مال تقسیم کریں گے یہاں تک کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا ، حالت یہ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا (متفق علیہ ، ابو داؤد ، مالک) ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا یہاں تک کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ، مسلمانوں کے امیر ان سے کہیں گے ، آپ ہمیں نماز پڑھائیں ، وہ کہیں گے ، نہیں۔ تم میں سے بعض بعض کے امراء ہوں گے ، اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا ہے “۔ (مسلم ) یہ ایک غیب ہے ، اور اس کی اطلاع ہمیں صادق و امین ﷺ نے دی ہے اور اس طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے ، لہٰذا اس بات میں کوئی انسان کوئی اور بات نہیں کرسکتا صرف وہی بات حق ہے جو ان دو سچے ذرائع سے آئی ہے اور ہمارے لیے سچے مصادر قیامت تک یہی ہیں۔ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم (43 : 61) ” پس تم اس میں شک نہ کرو اور میری بات مانو ، یہی سیدھا راستہ ہے “۔ یہ لوگ قیامت میں شک کرتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دیتا ہے کہ اس پر یقین کرو ، حضور اکرم ﷺ کی زبانی ان کو دعوت یقین دی جاتی ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میں تمہیں سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔ جو بالکل سیدھا اور منزل مقصود تک پہنچنے والا ہے۔ اور اس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں اور راندۂ درگاہ ہوتے ہیں ، وہ شیطان کے اثر سے ہوتے ہیں ، لہٰذا شیطان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے۔ ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (63 : 62) ” ایسا نہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قرآن کریم اس مسلسل معرکہ کی طرف بار بار اشارہ کرتا ہے جو اولاد آدم اور شیطان کے درمیان حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے جاری ہے۔ یہ معرکہ جنت سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اور اس شخص سے بڑا احمق اور غافل اور کون ہوسکتا ہے جسے بار بار متنبہ کیا جائے کہ گھات میں دشمن بیٹھا ہے اور اس نے تمہارا ارادہ کر رکھا ہے اور یہ شخص اس کے برعکس دشمن کا مطیع فرمان بن جائے۔ اسلام نے تو انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں شیطان کے خلاف اس دوامی جنگ میں برسر پیکار رہے اور اس کے ساتھ اس قدر عظیم مال غنیمت کا وعدہ کیا ہے جو کسی بشر کے تصور سے باہر ہے۔ اسلام نے انسانی جنگ کا رخ اس معرکہ خیر و شر کی طرف پھیر دیا جس کی وجہ سے انسان صحیح انسان بنتا ہے اور جس کی وجہ سے تمام مخلوقات میں سے انسان کو ایک ممتاز مخلوق بنایا گیا ہے اور ایک خاص مزاج دیا گیا ہے اور یہاں انسان کا سب سے بڑ انصب العین یہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کھلے دشمن شیطان پر غالب آجائے ، یوں وہ شر ، خباثت اور ہر قسم کی گندگی پر غالب آجائے اور زمین میں خیر کی بنیادیں رکھ دے جن میں لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے اور پاکیزہ زندگی گزاریں گے۔ اس نصیحت کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مزید معلومات کہ وہ کیا پیغام لے کر آئے تھے اور ان سے پہلے نبی اسرائیل کے باہم اختلافات کیا تھا اور بعد میں کیا ہوتا رہا۔ ولما جاء عیسیٰ ۔۔۔۔۔۔ واطیعون (43 : 63) ان اللہ ھو ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 64) فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” اور جب عیسیٰ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں اختلاف کر رہے ہو ، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا بھی۔ اس کی تم عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس تباہی ہے ان لوگوں لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے واضح نشانیاں لے کر آئے تھے۔ یہ نشانیاں وہ معجزات بھی تھے جس صدور آپ کے ہاتھوں پر ہوا۔ اور وہ کلمات اور تقاریر بھی تھیں جو آپ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے کیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا : قد جئتکم بالحکمۃ (43 : 63) ” میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں “ اور جسے حکمت دی گئی وہ گویا خیر کثیر کا مالک بن گیا ۔ وہ لغزش اور بےراہ روی سے امن میں ہوگیا۔ تفریط اور تقصیر سے محفوظ ہوگیا ۔ اور صحیح راستے پر اس کے قدم نہایت ہی توازن اور روشنی میں اٹھنے لگے اور آپ ان کے پاس اس لیے بھی خصوصی طور پر آئے تھے کہ اس وقت مذہبی گروہوں میں جو بہت بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا تھا آپ اسے دور کریں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کے فقہاء نے بےحد اختلاف شروع کردیا تھا۔ وہ فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے۔ آپ نے قوم کو اس طرف بلایا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور آپ نے عقیدۂ توحید تو بڑی وضاحت ، بلاریب اور بغیر کسی التباس اور پیچیدگی کے بیان کیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 64) ” بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے لہٰذا اسی کی بندگی کرو “ نہ آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ الٰہ ہیں اور نہ یہ دعویٰ کیا کہ آپ ابن اللہ ہیں اور آپ نے اپنے کلام میں کسی جگہ ماسوائے تعلق رب اور بندہ اور خالق و مخلوق ، اللہ کے ساتھ کسی اور تعلق کا اشارہ تک نہیں کیا۔ صرف یہی کہا کہ میں رسول ہوں ، صراط مستقیم دے کر بھیجا گیا ہوں ، جس میں کوئی ٹیٹرھ نہیں ہے ، نہ کوئی پھسلن ہے اور نہ کج روی۔ لیکن جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے وہ بھی اسی طرح ٹکڑے اور پارٹیاں بن گئے جس طرح آپ سے پہلے کے لوگ ٹکڑے اور پارٹیاں تھے۔ یہ اختلاف انہوں نے محض ظلم کرتے ہوئے کئے ، اختلافات کے لئے نہ کوئی جواز تھا ، اور نہ شبہ تھا۔ فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم (43 : 65) ” پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی رسالت بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اس دور میں بنی اسرائیل رومیوں کے غلام تھے ، ان کو انتظار تھا کہ نجات دہندہ آئے گا اور ہمیں چھڑائے گا لیکن جب وہ آیا تو انہوں نے اسے پہچاننے سے انکار کردیا اور اس کی دشمنی پر اتر آئے اور انہوں نے اسے سولی پر چڑھانے کی سعی کی۔ جب آپ تشریف لائے تو اس وقت بنی اسرائیل ٹکڑے ٹکڑے تھے ، اہم فرقے چار تھے : 1۔ صدوقی فرقہ : یہ صدوق کی طرف منسوب تھے ، وہ اور اس کے خاندان کے لوگ ہیکل سلیمانی کے کاہن تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہما السلام) کے زمانے سے وہ اس منصب پر تھے۔ شریعت کے مطابق ضروری تھا کہ ان کا نسب ہارون (علیہ السلام) تک پہنچے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی پیغمبر تھے کیونکہ ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہی ہیکل کی متولی تھی۔ یہ لوگ اپنے فرائض کے مطابق عبادات کی ظاہری صورت پر بہت زور دیتے تھے۔ اور کسی قسم کی بدعت کے سخت مخالف تھے جبکہ اپنی شخصی زندگی میں بہت عیاش تھے اور زندگی کے مزے لیتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ قیامت نہیں ہے۔ 2۔ فرسیوں کا فرقہ : یہ صدوقیوں کے سخت خلاف تھے۔ ان کو اعتراض یہ تھا کہ یہ لوگ مذہبی رسومات اور عبادات کی ظاہری شکل پر بہت زور دیتے ہیں اور قیامت اور حساب و کتاب کے منکر ہیں۔ یہ نہایت ہی متقی اور صوفی قسم کے لوگ تھے۔ اگرچہ بعض کے اوپر علمی غرور چھایا ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا علمی غرور پسند نہ تھا۔ نیز آپ کو ان کی لفاظی بھی پسند نہ تھی۔ 3۔ تیسرا فرقہ سامریوں کا تھا : یہ فرقہ یہودیوں اور اشوریوں پر مشتمل تھا۔ اور یہ عہد قدیمہ کی صرف پانچ کتابوں کو مانتا تھا۔ باقی کتب کو بعد کے اضافے سمجھتا تھا۔ یہ پانچ کتابیں موسوی کتب کے نام سے مشہور ہیں جبکہ دوسرے فرقے ساری کتب کو مانتے تھے۔ 4۔ ان کو آسین یا اسینین کہتے تھے۔ یہ لوگ بعض فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اور یہ لوگ دوسرے فرقوں سے علیحدہ رہتے تھے۔ اور اپنے آپ کو نہایت سختی اور تقشف میں رکھتے تھے اور ان کی جماعت بھی تنظیم میں بہت سخت تھی۔ ان چار مشہور فرقوں کے علاوہ بھی بہت سے انفرادی فرقے تھے۔ غرض بنی اسرائیل کے اندر نظریات اور طرز عمل کا سخت اختلاف و انتشار تھا۔ جن پر رومی شہنشاہیت کا سخت دباؤ تھا۔ اور پوری قوم سخت ذلت اور غلامی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ یہ منظر تھا جس میں ایک نجات دہندہ کی پیشین گوئی کتابوں کی گئی تھی کہ وہ آئے گا اور ہمیں نجات دلائے گا۔ جب حضرت مسیح عقیدۂ توحید کے ساتھ بھیجے گئے اور انہوں نے اعلان کردیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 63) ” کہ اللہ میرا بھی رب ہے ، اور تمہارا بھی رب ہے ، لہٰذا اس کی عبادت کرو “۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے ایسی شریعت پیش کی جس میں رواداری اور روحانی اصلاح پر اور عبادات کی ظاہری صورت کی بجائے عبادات کے روحانی پہلو پر زور دیا گیا تھا تو ان فقہاء اور فرسیوں نے آپ کا مقابلہ کیا کیونکہ یہ لوگ عبادات کی ظاہری شکلوں ہی پر زور دیتے تھے۔ ان لوگوں کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا ، ان میں سے آپ کے بعض اقوال نہایت ہی موثر ہیں مثلاً ” یہ لوگ بڑے بڑے بھاری بوجھ باندھتے ہیں اور لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کو اپنے کاندھوں پر اٹھائیں اور خود اپنی انگلی بھی آگے نہیں بڑھاتے کہ اس بوجھ کو جگہ سے ہلا دیں۔ وہ جو کام بھی کرتے ہیں ، اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ اسے دیکھیں۔ اور اپنے کپڑوں کے دامن لمبے کرتے ہیں اور دعوتوں میں اول مقام پر بیٹھتے ہیں اور جلسوں میں پہلی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں اور بازاروں میں پھر کر سلام وصول کرتے ہیں اور یہ پسند کرتے ہیں کہ انہیں پکارا جائے ، ” سیدی سیدی “ کہ کر جہاں بھی وہ جائیں “۔ اور فرسیوں اور فقیہوں سے کہتے ہیں ” اے اندھے قائدین ! تم مچھر چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو ، تم پیالے اور تھالی کے ظاہری حصے کو خوب صاف کرتے ہو لیکن ان کے اندر گندگی اور بدکاری ہوتی ہے ، اے لکھنے والے مفتیان کرام اور دھاوا کرنے والے فقہاء ، تمہاری مثال یوں ہے جس طرح ایک چونا گچ کی سفید قبر ، جس کا ظاہری حصہ خوبصورت اور ملمع شدہ ہے اور اندر بوسیدہ ہڈیاں ہیں “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان کلمات کو پڑھو اور خود اپنے دور کے علماء اور مفتیان کرام کو دیکھو ، کیا یہی الفاظ ان پر صادق نہیں آتے ، دین کی تحریف کرنے والے ، رسومات کے پجاری ، ظاہر پرست اور دکھاوا کرنے والے۔ اس کے بعد حضرت مسیح اپنے رب کے پاس چلے گئے۔ اس طرح آپ کے پیرو کاروں کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے۔ یہ اس طرح فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ بعض نے خود ان کو الٰہ بنا دیا۔ بعض نے اللہ کا بیٹا بنا لیا۔ بعض نے ثالث ثلاثہ کہا اور وہ کلمہ توحید ان سے گم ہوگیا جس کی دعوت لے کر آپ اس لیے تشریف لائے تھے کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور دین اللہ کے لئے خالص کردیں۔ فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک عذاب کے دن کی “۔ مشرکین عرب آئے اور انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مجادلہ شروع کردیا۔ اس وجہ سے کہ پیروکار ان مسیح نے آپ کے بعد گل کھلائے تھے اور آپ کے بارے میں بیشمار افسانے گھڑ لیے تھے۔ ٭٭٭

الزخرف 43:59

درس نمبر 233 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ بھی جہنم میں ہوں گے۔ غرض ان سے جب یہ کہا گیا کہ عابدو معبود دونوں جہنم میں ہوں گے۔ جب ان سے یہ کہا گیا تو بعض لوگوں نے عیسیٰ ابن مریم کی مثال دی کہ بعض گمراہ عیسائی ان کی بندگی کرتے تھے۔ یہ ان کی طرف سے محض ایک کج بحثی تھی۔ پھر وہ کہتے تھے کہ جب اہل کتاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بندگی کرتے ہیں تو ان سے ہم بہتر ہیں کہ ہم فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ یہ استدلال بناء الباطل علی الباطل کی بہترین مثال تھا۔ اس بنا پر یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت کیا ہے۔ آپ کی دعوت کیا تھی۔ اور ان سے پہلے بنی اسرائیل میں کیا اختلافات تھے اور ان کے بعد کیا اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد تمام بد عقیدہ اور مشرکانہ خیالات رکھنے والوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اچانک قیامت آجائے گی اور پھر حالت کیا ہوگی ؟ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں ایک جھلک ان نعمتوں کی ہے جو متقین کے لئے تیار کی گئی ہیں اور ایک جھلک اس دردناک عذاب کی ہے جو مجرمین کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس سبق میں فرشتوں کے بارے میں عربوں کے اس افسانے کو بھی رد کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ پاک ان باتوں سے بری ہے جو یہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس مناسب سے اللہ کی بعض صفات کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ زمین و آسمان اور دنیا و آخرت کا مطلق مالک ہے اور سب لوگوں نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ ان کو نظر انداز کردیں ، ان سے منہ پھیر لیں اور ان کو کرتے دیں جو کرتے ہیں۔ عنقریب ان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور یہ ایک ایسی بالواسطہ دھمکی ہے جو ان لوگوں کے لئے مناسبت ہے جو محض دکھاوے کے لئے کٹ حجتی کرنے میں ، احقاق حق کے لئے بات نہیں کرتے۔ ٭٭٭ درس نمبر 233 تشریح آیات 57 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 89 آیت نمبر 57 تا 65 ابن اسحاق نے سیرۃ میں لکھا ہے کہ جس طرح مجھ تک یہ بات پہنچی ، حضور اکرم ﷺ حرم میں ولید ابن مغیرہ کے پاس بیٹھے تھے ، نضر ابن الحارث بھی آیا اور وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ مجلس میں قریش کے کئی اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ بات کی۔ نضر ابن حارث نے کچھ اعتراض کیا ، تو حضور ﷺ نے اس کو خاموش کرا دیا۔ اس کے بعد ان پر یہ آیت پڑھی۔ انکم وما تعبدون ۔۔۔۔۔۔ لھا واردون (21 : 98) ” تم اور جن بتوں کو تم پوجا کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہیں۔ تم اس جہنم میں پہنچنے والے ہو۔۔۔۔ “۔ رسول اللہ ﷺ اس مجلس سے اٹھ گئے اور عبد اللہ ابن الزیعری تمیمی آیا اور مجلس میں بیٹھ گیا تو ولید ابن مغیرہ نے کہا : ” خدا کی قسم نضر ابن الحارث کا کھڑا ہونا تھا کہ عبد المطلب کے بیٹے اٹھ کر چلے گئے۔ محمد ﷺ کا خیال یہ ہے کہ ہم اور ہمارے سب معبود جہنم کا ایندھن ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن الزیعری نے کہا ، خدا کی قسم اگر مجھے ملے تو میں اس کے ساتھ جھگڑا کروں گا۔ تم محمد ﷺ سے پوچھو کیا وہ تمام معبود جن کی عبادت کی جاتی ہے ، اپنے عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ ہم تو ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہودی عزیر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاریٰ مسیح ابن مریم کی عبادت کرتے ہیں تو ولید اور اہل مجلس ، عبد اللہ ابن زیعری کی بات سے بےحد متاثر ہوئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اس نے خوب دلیل پیش کی اور مباحثہ کیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا :” جس نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ اللہ کے سوا پوجا جائے تو بیشک وہ ان لوگوں کے ساتھ جہنم میں ہوگا جنہوں نے اسے پوجا۔ یہ لوگ دراصل شیطان کی عبادت کرتے ہیں جس نے ان کو ان بزرگوں کی بندگی کا حکم دیا ہے “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان الذین سبقت ۔۔۔۔۔ مبعدون (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہوگا تو وہ یقیناً اس سے دور رکھے جائیں گے “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عزیر (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ پوجے جانے والے دوسرے احبار اور رہبان ۔ جو اللہ کی عبادت پر قائم رہے اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے ان کی عبادت شروع کردی اور ان کو ارباب من دون اللہ بنا دیا۔ اور یہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں بات کی گئی کہ ان کو بھی من دون اللہ عبادت کی جاتی ہے اور ولید اور دوسرے اہل مجلس اس سے متاثر ہوئے تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ولما ضرب ۔۔۔۔۔۔۔ منہ یصدون (43 : 57) ” جب ان مریم کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم نے اچانک غل مچا دیا “۔ یصدون کے معنی ہیں یصدون عن امرک یعنی تمہاری دعوت سے روکتے رہیں۔۔۔۔ “۔ علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سامنے یہ آیت پڑھی انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم (21 : 98) ” تم اور تمہارے معبود جہنم کا ایندھن ہوں گے اور سب نے اس میں جانا ہے “۔ تو اس پر اہل قریش سخت برہم ہوئے ۔ عبد اللہ ابن زیعری نے پوچھا محمد ، یہ حکم صرف ہمارے معبدوں اور ہمارے بارے میں ہے یا دوسری ملتوں کے بارے بھی ہے ۔ آپ نے فرمایا ” یہ تمہارے لیے تمہارے الہوں کے لئے اور تمام اقوام کے لئے ہے “۔ تو اس نے کہا ، رب کعبہ کی قسم میں نے تمہیں شکست دے دی۔ کیا تم یقین نہیں کرتے کہ عیسیٰ ابن مریم نبی ہیں اور تم ان کے اور ان کی والدہ کے بارے میں اچھی باتیں کرتے ہو ، اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ نصاری ان کی عبادت کرتے ہیں اور عزیر کی بھی یہودی بندگی کرتے ہیں ، ملائکہ کی بھی بندگی کی جاتی ہے۔ اگر یہ سب لوگگ جہنم میں خاموش ہو تو اپنے الہوں کے ساتھ جہنم میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس پر وہ بہت ہنسے اور خوش ہوئے ۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نال بات ہوئی : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہمارے طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہوگا “۔ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ جب عبد اللہ ابن الزیعری نے عیسیٰ بن مریم کی مثال دی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مباحثہ کیا کہ نصاریٰ بھی تو عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں تو اچانک تمہاری قوم اہل قریش نے شوروغل مچانا شروع کردیا۔ اور یہ انہوں نے اس لیے کیا کہ وہ اس دلیل پر بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو زیعری نے خاموش کردیا تھا۔ جس طرح بعض اوقات بےدلیل لوگ جب بحث میں ہار جاتے ہیں اور اچانک ان کو کوئی دلیل مل جاتی ہے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ لفظ یصدون کے معنی تو ہیں شور کرنا۔ لیکن جنہوں نے اسے یصدون (حرف صاد پر پیش کے ساتھ ) پڑھا ہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ حق سے منہ موڑتے ہیں ، اعراض کرتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یصدون الصدید سے ہے جس کے معنی مقابلہ اور کٹ جانے کے ہیں۔ یصدون اور یصدون دونوں طرح آتا ہے جس طرح یعکف اور یعکف آتا ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ”۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہارے نزدیک ہمارے الٰہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے اچھے اور بہتر نہیں ؟ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) جہنم کا ایندھن ہیں تو پھر ہمارے الہٰوں کا معاملہ آسان ہے۔ یہ تھی صاحب کشاف کی روایت ، معلوم نہیں انہوں نے کس سے اخذ کی ہے لیکن اپنے عمومی مضمون میں یہ ابن اسحاق کی روایت کے ساتھ متفق ہے۔ دونوں روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس جدل وجدال میں محض ظاہری اور لفظی کج بحثی سے کام لیتے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے۔ بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ “ ۔ یہ جھگڑتے ہیں اور تنقید کرنے میں بہت ماہر ہیں ، مناظرہ باز ہیں۔ ان کو پہلے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ار رسول اللہ ﷺ کی مراد کیا ، اس کے بعد وہ مفہوم کو توڑ مروڑ کر اپنی مراد پر لاتے ہیں اور پھر اعتراض کرتے ہیں اور الفاظ کے عموم کو لے کر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ ان کے اندر وہ پورے قرآن کی تعلیمات سے خود اختصاص پیدا کرسکتے تھے اور اس قسم کے عمومی اعتراضات وہی عائد کرتا ہے جو مخلص نہ ہو اور پوری طرح چالاک ہو ، جس کی سوچ درست نہ ہو ، مکابرہ کرنے والا ہو اور ہر وقت شبہات ، الفاظ کے ہیر پھیر اور کسی جگہ پر نقب زنی کرنے کا متلاشی ہو۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ نے ہمیشہ ایسی گفتگو سے منع فرمایا ہے جس میں محض دکھاوا ہو ، حقیقت نہ ہو ، اور جس میں صاحب کلام ہر صورت میں کلام ہر صورت میں اپنی بات کو غالب کرنا چاہتا ہو۔ ابن جریر نے ، ابو کریب سے انہوں نے احمد ابن عبد الرحمٰن سے انہوں نے عبادہ ابن عبادہ سے انہوں نے جعفر سے انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور لوگ قرآن کریم میں مباحثہ اور مناظرہ کر رہے تھے۔ آپ کو بہت شدید غصہ آیا۔ گویا آپ کے چہرۂ مبارک پر سرکہ ڈال دیا گیا ہو۔ (ترشہ روئی کا اظہار کیا) اس کے بعد آپ نے فرمایا ” قرآن کے بعض حصوں کو بعض دوسرے حصوں سے نہ ٹکراؤ، کیونکہ لوگ گمراہ تب ہوئے جب ان کے اندر مذہبی جھگڑے اور اختلافات شروع ہوگئے “۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرا احتمال بھی ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” اور وہ کہنے لگے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ؟ “ میں یہ اشارہ ہے کہ ان کے افسانوی عقائد کے مطابق وہ ملائکہ کی پوجا کرتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ ان کی یہ پوجا نصاریٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوجا سے بہتر ہے۔ کیونکہ ملائکہ اپنے مزاج کے اعتبار سے اور ان کے افسانوی خیال کی رو سے خدا کے زیادہ قریب ہیں۔ اس پر یہ تبصرہ ۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اور جس طرح پہلے گزرا یہ ابن الزیعری پر رد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کی عبادت مسیح کی مثال لانا یہاں باطل ہے۔ نصاریٰ کا عمل حجت نہیں ہے کیونکہ وہ تو توحید سے پھرگئے ہیں جس طرح مشرکین توحید سے پھرگئے ہیں۔ لہٰذا دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کے سب گمراہ ہیں۔ بعض مفسرین نے اس طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بھی ایک قریب الفہم تفسیر ہو سکتی ہے۔ اور اس کے بعد حضرت عیسٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جامع تبصرہ ۔ ان ھو الا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلا لبنی اسرائیل (43 : 59) ” ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لئے اسے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا “۔ اور وہ الٰہ نہیں جس کی عبادت کی جائے ، جس طرح نصاریٰ کا ایک گروہ گمراہ ہوا اور اس نے ان کی بندگی شروع کردی۔ وہ تو ایک بندۂ خدا ہیں ان پر اللہ کا انعام ہوگیا ، اور اگر بعض لوگوں نے ان کی بندگی کی ہے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے ان کو رسالت اور معجزات دے کر بنی اسرائیل کے لئے نمونہ قدرت الٰہیہ بنا گیا گیا تھا اور بنی اسرائیل کو چاہئے تھا کہ وہ ان کی پیروی کرتے اور ہدایت حاصل کرتے مگر وہ گمراہ ہوگئے۔ اب بات ان کے عقائد بابت ملائکہ کے موضوع کی طرف آتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فرشتے تو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس زمین میں تمہارا جانشین فرشتوں کو بنا دیں یا بعض لوگوں کو فرشتے بنا دیں جو زمین میں جانشین ہوجائیں۔ ولو نشاء ۔۔۔۔۔ یخلفون (43 : 50) ” اگر اللہ چاہتا تو ملائکہ کو تمہارا خلیفہ بنا دیتا “ ۔ یہ سارے معاملات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اپنی مخلوق کے بارے میں جو چاہے ، کر دے لیکن مخلوق میں سے کوئی اللہ سے نسب نہیں جوڑ سکتا۔ اور نہ اللہ سے مل سکتا ہے سوائے خالق و مخلوق کے تعلق سے یا عہد و معبود کے تعلق سے یا غلام اور مالک کے تعلق سے۔ اس کے بعد کچھ فیصلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق کہ وہ ایک تو قیامت کی نشانی ہیں۔ اس قیامت کی جس کی یہ تکذیب کرتے ہیں یا ان کو اس کے آنے میں شک ہے۔ وانہ لعلم ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 61) ولا یصدنکم ۔۔۔۔۔۔ مبین (43 : 62) ” اور ابن مریم دراصل قیامت کا علم ہے بس تم اس میں شک نہ کرو ، اور میری بات مان لو۔ یہی سیدھا راستہ ہے ، ایسانہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قیامت سے قبل نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے موضوع پر کئی احادیث آئی ہیں۔ یہ قیامت سے قدرے پہلے زمین پر اتریں گے۔ اور اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کا علم ہے “۔ یعنی ان کے آنے سے قرب قیامت کا علم ہوجائے گا اور دوسری قرات یہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کی نشانی ہے “ ۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ تمہارے اندر ابن مریم بطور ایک منصف حاکم نازل ہوں ، وہ صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کردیں گے ، لوگوں پر جزیہ عائد کریں گے اور مال تقسیم کریں گے یہاں تک کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا ، حالت یہ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا (متفق علیہ ، ابو داؤد ، مالک) ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا یہاں تک کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ، مسلمانوں کے امیر ان سے کہیں گے ، آپ ہمیں نماز پڑھائیں ، وہ کہیں گے ، نہیں۔ تم میں سے بعض بعض کے امراء ہوں گے ، اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا ہے “۔ (مسلم ) یہ ایک غیب ہے ، اور اس کی اطلاع ہمیں صادق و امین ﷺ نے دی ہے اور اس طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے ، لہٰذا اس بات میں کوئی انسان کوئی اور بات نہیں کرسکتا صرف وہی بات حق ہے جو ان دو سچے ذرائع سے آئی ہے اور ہمارے لیے سچے مصادر قیامت تک یہی ہیں۔ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم (43 : 61) ” پس تم اس میں شک نہ کرو اور میری بات مانو ، یہی سیدھا راستہ ہے “۔ یہ لوگ قیامت میں شک کرتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دیتا ہے کہ اس پر یقین کرو ، حضور اکرم ﷺ کی زبانی ان کو دعوت یقین دی جاتی ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میں تمہیں سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔ جو بالکل سیدھا اور منزل مقصود تک پہنچنے والا ہے۔ اور اس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں اور راندۂ درگاہ ہوتے ہیں ، وہ شیطان کے اثر سے ہوتے ہیں ، لہٰذا شیطان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے۔ ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (63 : 62) ” ایسا نہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قرآن کریم اس مسلسل معرکہ کی طرف بار بار اشارہ کرتا ہے جو اولاد آدم اور شیطان کے درمیان حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے جاری ہے۔ یہ معرکہ جنت سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اور اس شخص سے بڑا احمق اور غافل اور کون ہوسکتا ہے جسے بار بار متنبہ کیا جائے کہ گھات میں دشمن بیٹھا ہے اور اس نے تمہارا ارادہ کر رکھا ہے اور یہ شخص اس کے برعکس دشمن کا مطیع فرمان بن جائے۔ اسلام نے تو انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں شیطان کے خلاف اس دوامی جنگ میں برسر پیکار رہے اور اس کے ساتھ اس قدر عظیم مال غنیمت کا وعدہ کیا ہے جو کسی بشر کے تصور سے باہر ہے۔ اسلام نے انسانی جنگ کا رخ اس معرکہ خیر و شر کی طرف پھیر دیا جس کی وجہ سے انسان صحیح انسان بنتا ہے اور جس کی وجہ سے تمام مخلوقات میں سے انسان کو ایک ممتاز مخلوق بنایا گیا ہے اور ایک خاص مزاج دیا گیا ہے اور یہاں انسان کا سب سے بڑ انصب العین یہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کھلے دشمن شیطان پر غالب آجائے ، یوں وہ شر ، خباثت اور ہر قسم کی گندگی پر غالب آجائے اور زمین میں خیر کی بنیادیں رکھ دے جن میں لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے اور پاکیزہ زندگی گزاریں گے۔ اس نصیحت کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مزید معلومات کہ وہ کیا پیغام لے کر آئے تھے اور ان سے پہلے نبی اسرائیل کے باہم اختلافات کیا تھا اور بعد میں کیا ہوتا رہا۔ ولما جاء عیسیٰ ۔۔۔۔۔۔ واطیعون (43 : 63) ان اللہ ھو ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 64) فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” اور جب عیسیٰ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں اختلاف کر رہے ہو ، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا بھی۔ اس کی تم عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس تباہی ہے ان لوگوں لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے واضح نشانیاں لے کر آئے تھے۔ یہ نشانیاں وہ معجزات بھی تھے جس صدور آپ کے ہاتھوں پر ہوا۔ اور وہ کلمات اور تقاریر بھی تھیں جو آپ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے کیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا : قد جئتکم بالحکمۃ (43 : 63) ” میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں “ اور جسے حکمت دی گئی وہ گویا خیر کثیر کا مالک بن گیا ۔ وہ لغزش اور بےراہ روی سے امن میں ہوگیا۔ تفریط اور تقصیر سے محفوظ ہوگیا ۔ اور صحیح راستے پر اس کے قدم نہایت ہی توازن اور روشنی میں اٹھنے لگے اور آپ ان کے پاس اس لیے بھی خصوصی طور پر آئے تھے کہ اس وقت مذہبی گروہوں میں جو بہت بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا تھا آپ اسے دور کریں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کے فقہاء نے بےحد اختلاف شروع کردیا تھا۔ وہ فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے۔ آپ نے قوم کو اس طرف بلایا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور آپ نے عقیدۂ توحید تو بڑی وضاحت ، بلاریب اور بغیر کسی التباس اور پیچیدگی کے بیان کیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 64) ” بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے لہٰذا اسی کی بندگی کرو “ نہ آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ الٰہ ہیں اور نہ یہ دعویٰ کیا کہ آپ ابن اللہ ہیں اور آپ نے اپنے کلام میں کسی جگہ ماسوائے تعلق رب اور بندہ اور خالق و مخلوق ، اللہ کے ساتھ کسی اور تعلق کا اشارہ تک نہیں کیا۔ صرف یہی کہا کہ میں رسول ہوں ، صراط مستقیم دے کر بھیجا گیا ہوں ، جس میں کوئی ٹیٹرھ نہیں ہے ، نہ کوئی پھسلن ہے اور نہ کج روی۔ لیکن جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے وہ بھی اسی طرح ٹکڑے اور پارٹیاں بن گئے جس طرح آپ سے پہلے کے لوگ ٹکڑے اور پارٹیاں تھے۔ یہ اختلاف انہوں نے محض ظلم کرتے ہوئے کئے ، اختلافات کے لئے نہ کوئی جواز تھا ، اور نہ شبہ تھا۔ فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم (43 : 65) ” پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی رسالت بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اس دور میں بنی اسرائیل رومیوں کے غلام تھے ، ان کو انتظار تھا کہ نجات دہندہ آئے گا اور ہمیں چھڑائے گا لیکن جب وہ آیا تو انہوں نے اسے پہچاننے سے انکار کردیا اور اس کی دشمنی پر اتر آئے اور انہوں نے اسے سولی پر چڑھانے کی سعی کی۔ جب آپ تشریف لائے تو اس وقت بنی اسرائیل ٹکڑے ٹکڑے تھے ، اہم فرقے چار تھے : 1۔ صدوقی فرقہ : یہ صدوق کی طرف منسوب تھے ، وہ اور اس کے خاندان کے لوگ ہیکل سلیمانی کے کاہن تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہما السلام) کے زمانے سے وہ اس منصب پر تھے۔ شریعت کے مطابق ضروری تھا کہ ان کا نسب ہارون (علیہ السلام) تک پہنچے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی پیغمبر تھے کیونکہ ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہی ہیکل کی متولی تھی۔ یہ لوگ اپنے فرائض کے مطابق عبادات کی ظاہری صورت پر بہت زور دیتے تھے۔ اور کسی قسم کی بدعت کے سخت مخالف تھے جبکہ اپنی شخصی زندگی میں بہت عیاش تھے اور زندگی کے مزے لیتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ قیامت نہیں ہے۔ 2۔ فرسیوں کا فرقہ : یہ صدوقیوں کے سخت خلاف تھے۔ ان کو اعتراض یہ تھا کہ یہ لوگ مذہبی رسومات اور عبادات کی ظاہری شکل پر بہت زور دیتے ہیں اور قیامت اور حساب و کتاب کے منکر ہیں۔ یہ نہایت ہی متقی اور صوفی قسم کے لوگ تھے۔ اگرچہ بعض کے اوپر علمی غرور چھایا ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا علمی غرور پسند نہ تھا۔ نیز آپ کو ان کی لفاظی بھی پسند نہ تھی۔ 3۔ تیسرا فرقہ سامریوں کا تھا : یہ فرقہ یہودیوں اور اشوریوں پر مشتمل تھا۔ اور یہ عہد قدیمہ کی صرف پانچ کتابوں کو مانتا تھا۔ باقی کتب کو بعد کے اضافے سمجھتا تھا۔ یہ پانچ کتابیں موسوی کتب کے نام سے مشہور ہیں جبکہ دوسرے فرقے ساری کتب کو مانتے تھے۔ 4۔ ان کو آسین یا اسینین کہتے تھے۔ یہ لوگ بعض فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اور یہ لوگ دوسرے فرقوں سے علیحدہ رہتے تھے۔ اور اپنے آپ کو نہایت سختی اور تقشف میں رکھتے تھے اور ان کی جماعت بھی تنظیم میں بہت سخت تھی۔ ان چار مشہور فرقوں کے علاوہ بھی بہت سے انفرادی فرقے تھے۔ غرض بنی اسرائیل کے اندر نظریات اور طرز عمل کا سخت اختلاف و انتشار تھا۔ جن پر رومی شہنشاہیت کا سخت دباؤ تھا۔ اور پوری قوم سخت ذلت اور غلامی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ یہ منظر تھا جس میں ایک نجات دہندہ کی پیشین گوئی کتابوں کی گئی تھی کہ وہ آئے گا اور ہمیں نجات دلائے گا۔ جب حضرت مسیح عقیدۂ توحید کے ساتھ بھیجے گئے اور انہوں نے اعلان کردیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 63) ” کہ اللہ میرا بھی رب ہے ، اور تمہارا بھی رب ہے ، لہٰذا اس کی عبادت کرو “۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے ایسی شریعت پیش کی جس میں رواداری اور روحانی اصلاح پر اور عبادات کی ظاہری صورت کی بجائے عبادات کے روحانی پہلو پر زور دیا گیا تھا تو ان فقہاء اور فرسیوں نے آپ کا مقابلہ کیا کیونکہ یہ لوگ عبادات کی ظاہری شکلوں ہی پر زور دیتے تھے۔ ان لوگوں کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا ، ان میں سے آپ کے بعض اقوال نہایت ہی موثر ہیں مثلاً ” یہ لوگ بڑے بڑے بھاری بوجھ باندھتے ہیں اور لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کو اپنے کاندھوں پر اٹھائیں اور خود اپنی انگلی بھی آگے نہیں بڑھاتے کہ اس بوجھ کو جگہ سے ہلا دیں۔ وہ جو کام بھی کرتے ہیں ، اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ اسے دیکھیں۔ اور اپنے کپڑوں کے دامن لمبے کرتے ہیں اور دعوتوں میں اول مقام پر بیٹھتے ہیں اور جلسوں میں پہلی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں اور بازاروں میں پھر کر سلام وصول کرتے ہیں اور یہ پسند کرتے ہیں کہ انہیں پکارا جائے ، ” سیدی سیدی “ کہ کر جہاں بھی وہ جائیں “۔ اور فرسیوں اور فقیہوں سے کہتے ہیں ” اے اندھے قائدین ! تم مچھر چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو ، تم پیالے اور تھالی کے ظاہری حصے کو خوب صاف کرتے ہو لیکن ان کے اندر گندگی اور بدکاری ہوتی ہے ، اے لکھنے والے مفتیان کرام اور دھاوا کرنے والے فقہاء ، تمہاری مثال یوں ہے جس طرح ایک چونا گچ کی سفید قبر ، جس کا ظاہری حصہ خوبصورت اور ملمع شدہ ہے اور اندر بوسیدہ ہڈیاں ہیں “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان کلمات کو پڑھو اور خود اپنے دور کے علماء اور مفتیان کرام کو دیکھو ، کیا یہی الفاظ ان پر صادق نہیں آتے ، دین کی تحریف کرنے والے ، رسومات کے پجاری ، ظاہر پرست اور دکھاوا کرنے والے۔ اس کے بعد حضرت مسیح اپنے رب کے پاس چلے گئے۔ اس طرح آپ کے پیرو کاروں کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے۔ یہ اس طرح فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ بعض نے خود ان کو الٰہ بنا دیا۔ بعض نے اللہ کا بیٹا بنا لیا۔ بعض نے ثالث ثلاثہ کہا اور وہ کلمہ توحید ان سے گم ہوگیا جس کی دعوت لے کر آپ اس لیے تشریف لائے تھے کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور دین اللہ کے لئے خالص کردیں۔ فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک عذاب کے دن کی “۔ مشرکین عرب آئے اور انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مجادلہ شروع کردیا۔ اس وجہ سے کہ پیروکار ان مسیح نے آپ کے بعد گل کھلائے تھے اور آپ کے بارے میں بیشمار افسانے گھڑ لیے تھے۔ ٭٭٭

الزخرف 43:60

درس نمبر 233 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ بھی جہنم میں ہوں گے۔ غرض ان سے جب یہ کہا گیا کہ عابدو معبود دونوں جہنم میں ہوں گے۔ جب ان سے یہ کہا گیا تو بعض لوگوں نے عیسیٰ ابن مریم کی مثال دی کہ بعض گمراہ عیسائی ان کی بندگی کرتے تھے۔ یہ ان کی طرف سے محض ایک کج بحثی تھی۔ پھر وہ کہتے تھے کہ جب اہل کتاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بندگی کرتے ہیں تو ان سے ہم بہتر ہیں کہ ہم فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ یہ استدلال بناء الباطل علی الباطل کی بہترین مثال تھا۔ اس بنا پر یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت کیا ہے۔ آپ کی دعوت کیا تھی۔ اور ان سے پہلے بنی اسرائیل میں کیا اختلافات تھے اور ان کے بعد کیا اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد تمام بد عقیدہ اور مشرکانہ خیالات رکھنے والوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اچانک قیامت آجائے گی اور پھر حالت کیا ہوگی ؟ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں ایک جھلک ان نعمتوں کی ہے جو متقین کے لئے تیار کی گئی ہیں اور ایک جھلک اس دردناک عذاب کی ہے جو مجرمین کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس سبق میں فرشتوں کے بارے میں عربوں کے اس افسانے کو بھی رد کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ پاک ان باتوں سے بری ہے جو یہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس مناسب سے اللہ کی بعض صفات کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ زمین و آسمان اور دنیا و آخرت کا مطلق مالک ہے اور سب لوگوں نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ ان کو نظر انداز کردیں ، ان سے منہ پھیر لیں اور ان کو کرتے دیں جو کرتے ہیں۔ عنقریب ان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور یہ ایک ایسی بالواسطہ دھمکی ہے جو ان لوگوں کے لئے مناسبت ہے جو محض دکھاوے کے لئے کٹ حجتی کرنے میں ، احقاق حق کے لئے بات نہیں کرتے۔ ٭٭٭ درس نمبر 233 تشریح آیات 57 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 89 آیت نمبر 57 تا 65 ابن اسحاق نے سیرۃ میں لکھا ہے کہ جس طرح مجھ تک یہ بات پہنچی ، حضور اکرم ﷺ حرم میں ولید ابن مغیرہ کے پاس بیٹھے تھے ، نضر ابن الحارث بھی آیا اور وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ مجلس میں قریش کے کئی اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ بات کی۔ نضر ابن حارث نے کچھ اعتراض کیا ، تو حضور ﷺ نے اس کو خاموش کرا دیا۔ اس کے بعد ان پر یہ آیت پڑھی۔ انکم وما تعبدون ۔۔۔۔۔۔ لھا واردون (21 : 98) ” تم اور جن بتوں کو تم پوجا کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہیں۔ تم اس جہنم میں پہنچنے والے ہو۔۔۔۔ “۔ رسول اللہ ﷺ اس مجلس سے اٹھ گئے اور عبد اللہ ابن الزیعری تمیمی آیا اور مجلس میں بیٹھ گیا تو ولید ابن مغیرہ نے کہا : ” خدا کی قسم نضر ابن الحارث کا کھڑا ہونا تھا کہ عبد المطلب کے بیٹے اٹھ کر چلے گئے۔ محمد ﷺ کا خیال یہ ہے کہ ہم اور ہمارے سب معبود جہنم کا ایندھن ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن الزیعری نے کہا ، خدا کی قسم اگر مجھے ملے تو میں اس کے ساتھ جھگڑا کروں گا۔ تم محمد ﷺ سے پوچھو کیا وہ تمام معبود جن کی عبادت کی جاتی ہے ، اپنے عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ ہم تو ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہودی عزیر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاریٰ مسیح ابن مریم کی عبادت کرتے ہیں تو ولید اور اہل مجلس ، عبد اللہ ابن زیعری کی بات سے بےحد متاثر ہوئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اس نے خوب دلیل پیش کی اور مباحثہ کیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا :” جس نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ اللہ کے سوا پوجا جائے تو بیشک وہ ان لوگوں کے ساتھ جہنم میں ہوگا جنہوں نے اسے پوجا۔ یہ لوگ دراصل شیطان کی عبادت کرتے ہیں جس نے ان کو ان بزرگوں کی بندگی کا حکم دیا ہے “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان الذین سبقت ۔۔۔۔۔ مبعدون (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہوگا تو وہ یقیناً اس سے دور رکھے جائیں گے “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عزیر (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ پوجے جانے والے دوسرے احبار اور رہبان ۔ جو اللہ کی عبادت پر قائم رہے اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے ان کی عبادت شروع کردی اور ان کو ارباب من دون اللہ بنا دیا۔ اور یہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں بات کی گئی کہ ان کو بھی من دون اللہ عبادت کی جاتی ہے اور ولید اور دوسرے اہل مجلس اس سے متاثر ہوئے تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ولما ضرب ۔۔۔۔۔۔۔ منہ یصدون (43 : 57) ” جب ان مریم کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم نے اچانک غل مچا دیا “۔ یصدون کے معنی ہیں یصدون عن امرک یعنی تمہاری دعوت سے روکتے رہیں۔۔۔۔ “۔ علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سامنے یہ آیت پڑھی انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم (21 : 98) ” تم اور تمہارے معبود جہنم کا ایندھن ہوں گے اور سب نے اس میں جانا ہے “۔ تو اس پر اہل قریش سخت برہم ہوئے ۔ عبد اللہ ابن زیعری نے پوچھا محمد ، یہ حکم صرف ہمارے معبدوں اور ہمارے بارے میں ہے یا دوسری ملتوں کے بارے بھی ہے ۔ آپ نے فرمایا ” یہ تمہارے لیے تمہارے الہوں کے لئے اور تمام اقوام کے لئے ہے “۔ تو اس نے کہا ، رب کعبہ کی قسم میں نے تمہیں شکست دے دی۔ کیا تم یقین نہیں کرتے کہ عیسیٰ ابن مریم نبی ہیں اور تم ان کے اور ان کی والدہ کے بارے میں اچھی باتیں کرتے ہو ، اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ نصاری ان کی عبادت کرتے ہیں اور عزیر کی بھی یہودی بندگی کرتے ہیں ، ملائکہ کی بھی بندگی کی جاتی ہے۔ اگر یہ سب لوگگ جہنم میں خاموش ہو تو اپنے الہوں کے ساتھ جہنم میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس پر وہ بہت ہنسے اور خوش ہوئے ۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نال بات ہوئی : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہمارے طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہوگا “۔ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ جب عبد اللہ ابن الزیعری نے عیسیٰ بن مریم کی مثال دی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مباحثہ کیا کہ نصاریٰ بھی تو عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں تو اچانک تمہاری قوم اہل قریش نے شوروغل مچانا شروع کردیا۔ اور یہ انہوں نے اس لیے کیا کہ وہ اس دلیل پر بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو زیعری نے خاموش کردیا تھا۔ جس طرح بعض اوقات بےدلیل لوگ جب بحث میں ہار جاتے ہیں اور اچانک ان کو کوئی دلیل مل جاتی ہے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ لفظ یصدون کے معنی تو ہیں شور کرنا۔ لیکن جنہوں نے اسے یصدون (حرف صاد پر پیش کے ساتھ ) پڑھا ہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ حق سے منہ موڑتے ہیں ، اعراض کرتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یصدون الصدید سے ہے جس کے معنی مقابلہ اور کٹ جانے کے ہیں۔ یصدون اور یصدون دونوں طرح آتا ہے جس طرح یعکف اور یعکف آتا ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ”۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہارے نزدیک ہمارے الٰہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے اچھے اور بہتر نہیں ؟ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) جہنم کا ایندھن ہیں تو پھر ہمارے الہٰوں کا معاملہ آسان ہے۔ یہ تھی صاحب کشاف کی روایت ، معلوم نہیں انہوں نے کس سے اخذ کی ہے لیکن اپنے عمومی مضمون میں یہ ابن اسحاق کی روایت کے ساتھ متفق ہے۔ دونوں روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس جدل وجدال میں محض ظاہری اور لفظی کج بحثی سے کام لیتے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے۔ بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ “ ۔ یہ جھگڑتے ہیں اور تنقید کرنے میں بہت ماہر ہیں ، مناظرہ باز ہیں۔ ان کو پہلے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ار رسول اللہ ﷺ کی مراد کیا ، اس کے بعد وہ مفہوم کو توڑ مروڑ کر اپنی مراد پر لاتے ہیں اور پھر اعتراض کرتے ہیں اور الفاظ کے عموم کو لے کر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ ان کے اندر وہ پورے قرآن کی تعلیمات سے خود اختصاص پیدا کرسکتے تھے اور اس قسم کے عمومی اعتراضات وہی عائد کرتا ہے جو مخلص نہ ہو اور پوری طرح چالاک ہو ، جس کی سوچ درست نہ ہو ، مکابرہ کرنے والا ہو اور ہر وقت شبہات ، الفاظ کے ہیر پھیر اور کسی جگہ پر نقب زنی کرنے کا متلاشی ہو۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ نے ہمیشہ ایسی گفتگو سے منع فرمایا ہے جس میں محض دکھاوا ہو ، حقیقت نہ ہو ، اور جس میں صاحب کلام ہر صورت میں کلام ہر صورت میں اپنی بات کو غالب کرنا چاہتا ہو۔ ابن جریر نے ، ابو کریب سے انہوں نے احمد ابن عبد الرحمٰن سے انہوں نے عبادہ ابن عبادہ سے انہوں نے جعفر سے انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور لوگ قرآن کریم میں مباحثہ اور مناظرہ کر رہے تھے۔ آپ کو بہت شدید غصہ آیا۔ گویا آپ کے چہرۂ مبارک پر سرکہ ڈال دیا گیا ہو۔ (ترشہ روئی کا اظہار کیا) اس کے بعد آپ نے فرمایا ” قرآن کے بعض حصوں کو بعض دوسرے حصوں سے نہ ٹکراؤ، کیونکہ لوگ گمراہ تب ہوئے جب ان کے اندر مذہبی جھگڑے اور اختلافات شروع ہوگئے “۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرا احتمال بھی ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” اور وہ کہنے لگے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ؟ “ میں یہ اشارہ ہے کہ ان کے افسانوی عقائد کے مطابق وہ ملائکہ کی پوجا کرتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ ان کی یہ پوجا نصاریٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوجا سے بہتر ہے۔ کیونکہ ملائکہ اپنے مزاج کے اعتبار سے اور ان کے افسانوی خیال کی رو سے خدا کے زیادہ قریب ہیں۔ اس پر یہ تبصرہ ۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اور جس طرح پہلے گزرا یہ ابن الزیعری پر رد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کی عبادت مسیح کی مثال لانا یہاں باطل ہے۔ نصاریٰ کا عمل حجت نہیں ہے کیونکہ وہ تو توحید سے پھرگئے ہیں جس طرح مشرکین توحید سے پھرگئے ہیں۔ لہٰذا دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کے سب گمراہ ہیں۔ بعض مفسرین نے اس طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بھی ایک قریب الفہم تفسیر ہو سکتی ہے۔ اور اس کے بعد حضرت عیسٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جامع تبصرہ ۔ ان ھو الا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلا لبنی اسرائیل (43 : 59) ” ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لئے اسے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا “۔ اور وہ الٰہ نہیں جس کی عبادت کی جائے ، جس طرح نصاریٰ کا ایک گروہ گمراہ ہوا اور اس نے ان کی بندگی شروع کردی۔ وہ تو ایک بندۂ خدا ہیں ان پر اللہ کا انعام ہوگیا ، اور اگر بعض لوگوں نے ان کی بندگی کی ہے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے ان کو رسالت اور معجزات دے کر بنی اسرائیل کے لئے نمونہ قدرت الٰہیہ بنا گیا گیا تھا اور بنی اسرائیل کو چاہئے تھا کہ وہ ان کی پیروی کرتے اور ہدایت حاصل کرتے مگر وہ گمراہ ہوگئے۔ اب بات ان کے عقائد بابت ملائکہ کے موضوع کی طرف آتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فرشتے تو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس زمین میں تمہارا جانشین فرشتوں کو بنا دیں یا بعض لوگوں کو فرشتے بنا دیں جو زمین میں جانشین ہوجائیں۔ ولو نشاء ۔۔۔۔۔ یخلفون (43 : 50) ” اگر اللہ چاہتا تو ملائکہ کو تمہارا خلیفہ بنا دیتا “ ۔ یہ سارے معاملات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اپنی مخلوق کے بارے میں جو چاہے ، کر دے لیکن مخلوق میں سے کوئی اللہ سے نسب نہیں جوڑ سکتا۔ اور نہ اللہ سے مل سکتا ہے سوائے خالق و مخلوق کے تعلق سے یا عہد و معبود کے تعلق سے یا غلام اور مالک کے تعلق سے۔ اس کے بعد کچھ فیصلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق کہ وہ ایک تو قیامت کی نشانی ہیں۔ اس قیامت کی جس کی یہ تکذیب کرتے ہیں یا ان کو اس کے آنے میں شک ہے۔ وانہ لعلم ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 61) ولا یصدنکم ۔۔۔۔۔۔ مبین (43 : 62) ” اور ابن مریم دراصل قیامت کا علم ہے بس تم اس میں شک نہ کرو ، اور میری بات مان لو۔ یہی سیدھا راستہ ہے ، ایسانہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قیامت سے قبل نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے موضوع پر کئی احادیث آئی ہیں۔ یہ قیامت سے قدرے پہلے زمین پر اتریں گے۔ اور اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کا علم ہے “۔ یعنی ان کے آنے سے قرب قیامت کا علم ہوجائے گا اور دوسری قرات یہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کی نشانی ہے “ ۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ تمہارے اندر ابن مریم بطور ایک منصف حاکم نازل ہوں ، وہ صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کردیں گے ، لوگوں پر جزیہ عائد کریں گے اور مال تقسیم کریں گے یہاں تک کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا ، حالت یہ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا (متفق علیہ ، ابو داؤد ، مالک) ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا یہاں تک کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ، مسلمانوں کے امیر ان سے کہیں گے ، آپ ہمیں نماز پڑھائیں ، وہ کہیں گے ، نہیں۔ تم میں سے بعض بعض کے امراء ہوں گے ، اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا ہے “۔ (مسلم ) یہ ایک غیب ہے ، اور اس کی اطلاع ہمیں صادق و امین ﷺ نے دی ہے اور اس طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے ، لہٰذا اس بات میں کوئی انسان کوئی اور بات نہیں کرسکتا صرف وہی بات حق ہے جو ان دو سچے ذرائع سے آئی ہے اور ہمارے لیے سچے مصادر قیامت تک یہی ہیں۔ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم (43 : 61) ” پس تم اس میں شک نہ کرو اور میری بات مانو ، یہی سیدھا راستہ ہے “۔ یہ لوگ قیامت میں شک کرتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دیتا ہے کہ اس پر یقین کرو ، حضور اکرم ﷺ کی زبانی ان کو دعوت یقین دی جاتی ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میں تمہیں سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔ جو بالکل سیدھا اور منزل مقصود تک پہنچنے والا ہے۔ اور اس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں اور راندۂ درگاہ ہوتے ہیں ، وہ شیطان کے اثر سے ہوتے ہیں ، لہٰذا شیطان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے۔ ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (63 : 62) ” ایسا نہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قرآن کریم اس مسلسل معرکہ کی طرف بار بار اشارہ کرتا ہے جو اولاد آدم اور شیطان کے درمیان حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے جاری ہے۔ یہ معرکہ جنت سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اور اس شخص سے بڑا احمق اور غافل اور کون ہوسکتا ہے جسے بار بار متنبہ کیا جائے کہ گھات میں دشمن بیٹھا ہے اور اس نے تمہارا ارادہ کر رکھا ہے اور یہ شخص اس کے برعکس دشمن کا مطیع فرمان بن جائے۔ اسلام نے تو انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں شیطان کے خلاف اس دوامی جنگ میں برسر پیکار رہے اور اس کے ساتھ اس قدر عظیم مال غنیمت کا وعدہ کیا ہے جو کسی بشر کے تصور سے باہر ہے۔ اسلام نے انسانی جنگ کا رخ اس معرکہ خیر و شر کی طرف پھیر دیا جس کی وجہ سے انسان صحیح انسان بنتا ہے اور جس کی وجہ سے تمام مخلوقات میں سے انسان کو ایک ممتاز مخلوق بنایا گیا ہے اور ایک خاص مزاج دیا گیا ہے اور یہاں انسان کا سب سے بڑ انصب العین یہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کھلے دشمن شیطان پر غالب آجائے ، یوں وہ شر ، خباثت اور ہر قسم کی گندگی پر غالب آجائے اور زمین میں خیر کی بنیادیں رکھ دے جن میں لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے اور پاکیزہ زندگی گزاریں گے۔ اس نصیحت کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مزید معلومات کہ وہ کیا پیغام لے کر آئے تھے اور ان سے پہلے نبی اسرائیل کے باہم اختلافات کیا تھا اور بعد میں کیا ہوتا رہا۔ ولما جاء عیسیٰ ۔۔۔۔۔۔ واطیعون (43 : 63) ان اللہ ھو ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 64) فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” اور جب عیسیٰ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں اختلاف کر رہے ہو ، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا بھی۔ اس کی تم عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس تباہی ہے ان لوگوں لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے واضح نشانیاں لے کر آئے تھے۔ یہ نشانیاں وہ معجزات بھی تھے جس صدور آپ کے ہاتھوں پر ہوا۔ اور وہ کلمات اور تقاریر بھی تھیں جو آپ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے کیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا : قد جئتکم بالحکمۃ (43 : 63) ” میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں “ اور جسے حکمت دی گئی وہ گویا خیر کثیر کا مالک بن گیا ۔ وہ لغزش اور بےراہ روی سے امن میں ہوگیا۔ تفریط اور تقصیر سے محفوظ ہوگیا ۔ اور صحیح راستے پر اس کے قدم نہایت ہی توازن اور روشنی میں اٹھنے لگے اور آپ ان کے پاس اس لیے بھی خصوصی طور پر آئے تھے کہ اس وقت مذہبی گروہوں میں جو بہت بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا تھا آپ اسے دور کریں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کے فقہاء نے بےحد اختلاف شروع کردیا تھا۔ وہ فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے۔ آپ نے قوم کو اس طرف بلایا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور آپ نے عقیدۂ توحید تو بڑی وضاحت ، بلاریب اور بغیر کسی التباس اور پیچیدگی کے بیان کیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 64) ” بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے لہٰذا اسی کی بندگی کرو “ نہ آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ الٰہ ہیں اور نہ یہ دعویٰ کیا کہ آپ ابن اللہ ہیں اور آپ نے اپنے کلام میں کسی جگہ ماسوائے تعلق رب اور بندہ اور خالق و مخلوق ، اللہ کے ساتھ کسی اور تعلق کا اشارہ تک نہیں کیا۔ صرف یہی کہا کہ میں رسول ہوں ، صراط مستقیم دے کر بھیجا گیا ہوں ، جس میں کوئی ٹیٹرھ نہیں ہے ، نہ کوئی پھسلن ہے اور نہ کج روی۔ لیکن جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے وہ بھی اسی طرح ٹکڑے اور پارٹیاں بن گئے جس طرح آپ سے پہلے کے لوگ ٹکڑے اور پارٹیاں تھے۔ یہ اختلاف انہوں نے محض ظلم کرتے ہوئے کئے ، اختلافات کے لئے نہ کوئی جواز تھا ، اور نہ شبہ تھا۔ فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم (43 : 65) ” پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی رسالت بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اس دور میں بنی اسرائیل رومیوں کے غلام تھے ، ان کو انتظار تھا کہ نجات دہندہ آئے گا اور ہمیں چھڑائے گا لیکن جب وہ آیا تو انہوں نے اسے پہچاننے سے انکار کردیا اور اس کی دشمنی پر اتر آئے اور انہوں نے اسے سولی پر چڑھانے کی سعی کی۔ جب آپ تشریف لائے تو اس وقت بنی اسرائیل ٹکڑے ٹکڑے تھے ، اہم فرقے چار تھے : 1۔ صدوقی فرقہ : یہ صدوق کی طرف منسوب تھے ، وہ اور اس کے خاندان کے لوگ ہیکل سلیمانی کے کاہن تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہما السلام) کے زمانے سے وہ اس منصب پر تھے۔ شریعت کے مطابق ضروری تھا کہ ان کا نسب ہارون (علیہ السلام) تک پہنچے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی پیغمبر تھے کیونکہ ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہی ہیکل کی متولی تھی۔ یہ لوگ اپنے فرائض کے مطابق عبادات کی ظاہری صورت پر بہت زور دیتے تھے۔ اور کسی قسم کی بدعت کے سخت مخالف تھے جبکہ اپنی شخصی زندگی میں بہت عیاش تھے اور زندگی کے مزے لیتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ قیامت نہیں ہے۔ 2۔ فرسیوں کا فرقہ : یہ صدوقیوں کے سخت خلاف تھے۔ ان کو اعتراض یہ تھا کہ یہ لوگ مذہبی رسومات اور عبادات کی ظاہری شکل پر بہت زور دیتے ہیں اور قیامت اور حساب و کتاب کے منکر ہیں۔ یہ نہایت ہی متقی اور صوفی قسم کے لوگ تھے۔ اگرچہ بعض کے اوپر علمی غرور چھایا ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا علمی غرور پسند نہ تھا۔ نیز آپ کو ان کی لفاظی بھی پسند نہ تھی۔ 3۔ تیسرا فرقہ سامریوں کا تھا : یہ فرقہ یہودیوں اور اشوریوں پر مشتمل تھا۔ اور یہ عہد قدیمہ کی صرف پانچ کتابوں کو مانتا تھا۔ باقی کتب کو بعد کے اضافے سمجھتا تھا۔ یہ پانچ کتابیں موسوی کتب کے نام سے مشہور ہیں جبکہ دوسرے فرقے ساری کتب کو مانتے تھے۔ 4۔ ان کو آسین یا اسینین کہتے تھے۔ یہ لوگ بعض فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اور یہ لوگ دوسرے فرقوں سے علیحدہ رہتے تھے۔ اور اپنے آپ کو نہایت سختی اور تقشف میں رکھتے تھے اور ان کی جماعت بھی تنظیم میں بہت سخت تھی۔ ان چار مشہور فرقوں کے علاوہ بھی بہت سے انفرادی فرقے تھے۔ غرض بنی اسرائیل کے اندر نظریات اور طرز عمل کا سخت اختلاف و انتشار تھا۔ جن پر رومی شہنشاہیت کا سخت دباؤ تھا۔ اور پوری قوم سخت ذلت اور غلامی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ یہ منظر تھا جس میں ایک نجات دہندہ کی پیشین گوئی کتابوں کی گئی تھی کہ وہ آئے گا اور ہمیں نجات دلائے گا۔ جب حضرت مسیح عقیدۂ توحید کے ساتھ بھیجے گئے اور انہوں نے اعلان کردیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 63) ” کہ اللہ میرا بھی رب ہے ، اور تمہارا بھی رب ہے ، لہٰذا اس کی عبادت کرو “۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے ایسی شریعت پیش کی جس میں رواداری اور روحانی اصلاح پر اور عبادات کی ظاہری صورت کی بجائے عبادات کے روحانی پہلو پر زور دیا گیا تھا تو ان فقہاء اور فرسیوں نے آپ کا مقابلہ کیا کیونکہ یہ لوگ عبادات کی ظاہری شکلوں ہی پر زور دیتے تھے۔ ان لوگوں کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا ، ان میں سے آپ کے بعض اقوال نہایت ہی موثر ہیں مثلاً ” یہ لوگ بڑے بڑے بھاری بوجھ باندھتے ہیں اور لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کو اپنے کاندھوں پر اٹھائیں اور خود اپنی انگلی بھی آگے نہیں بڑھاتے کہ اس بوجھ کو جگہ سے ہلا دیں۔ وہ جو کام بھی کرتے ہیں ، اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ اسے دیکھیں۔ اور اپنے کپڑوں کے دامن لمبے کرتے ہیں اور دعوتوں میں اول مقام پر بیٹھتے ہیں اور جلسوں میں پہلی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں اور بازاروں میں پھر کر سلام وصول کرتے ہیں اور یہ پسند کرتے ہیں کہ انہیں پکارا جائے ، ” سیدی سیدی “ کہ کر جہاں بھی وہ جائیں “۔ اور فرسیوں اور فقیہوں سے کہتے ہیں ” اے اندھے قائدین ! تم مچھر چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو ، تم پیالے اور تھالی کے ظاہری حصے کو خوب صاف کرتے ہو لیکن ان کے اندر گندگی اور بدکاری ہوتی ہے ، اے لکھنے والے مفتیان کرام اور دھاوا کرنے والے فقہاء ، تمہاری مثال یوں ہے جس طرح ایک چونا گچ کی سفید قبر ، جس کا ظاہری حصہ خوبصورت اور ملمع شدہ ہے اور اندر بوسیدہ ہڈیاں ہیں “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان کلمات کو پڑھو اور خود اپنے دور کے علماء اور مفتیان کرام کو دیکھو ، کیا یہی الفاظ ان پر صادق نہیں آتے ، دین کی تحریف کرنے والے ، رسومات کے پجاری ، ظاہر پرست اور دکھاوا کرنے والے۔ اس کے بعد حضرت مسیح اپنے رب کے پاس چلے گئے۔ اس طرح آپ کے پیرو کاروں کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے۔ یہ اس طرح فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ بعض نے خود ان کو الٰہ بنا دیا۔ بعض نے اللہ کا بیٹا بنا لیا۔ بعض نے ثالث ثلاثہ کہا اور وہ کلمہ توحید ان سے گم ہوگیا جس کی دعوت لے کر آپ اس لیے تشریف لائے تھے کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور دین اللہ کے لئے خالص کردیں۔ فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک عذاب کے دن کی “۔ مشرکین عرب آئے اور انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مجادلہ شروع کردیا۔ اس وجہ سے کہ پیروکار ان مسیح نے آپ کے بعد گل کھلائے تھے اور آپ کے بارے میں بیشمار افسانے گھڑ لیے تھے۔ ٭٭٭

الزخرف 43:61

درس نمبر 233 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ بھی جہنم میں ہوں گے۔ غرض ان سے جب یہ کہا گیا کہ عابدو معبود دونوں جہنم میں ہوں گے۔ جب ان سے یہ کہا گیا تو بعض لوگوں نے عیسیٰ ابن مریم کی مثال دی کہ بعض گمراہ عیسائی ان کی بندگی کرتے تھے۔ یہ ان کی طرف سے محض ایک کج بحثی تھی۔ پھر وہ کہتے تھے کہ جب اہل کتاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بندگی کرتے ہیں تو ان سے ہم بہتر ہیں کہ ہم فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ یہ استدلال بناء الباطل علی الباطل کی بہترین مثال تھا۔ اس بنا پر یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت کیا ہے۔ آپ کی دعوت کیا تھی۔ اور ان سے پہلے بنی اسرائیل میں کیا اختلافات تھے اور ان کے بعد کیا اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد تمام بد عقیدہ اور مشرکانہ خیالات رکھنے والوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اچانک قیامت آجائے گی اور پھر حالت کیا ہوگی ؟ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں ایک جھلک ان نعمتوں کی ہے جو متقین کے لئے تیار کی گئی ہیں اور ایک جھلک اس دردناک عذاب کی ہے جو مجرمین کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس سبق میں فرشتوں کے بارے میں عربوں کے اس افسانے کو بھی رد کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ پاک ان باتوں سے بری ہے جو یہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس مناسب سے اللہ کی بعض صفات کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ زمین و آسمان اور دنیا و آخرت کا مطلق مالک ہے اور سب لوگوں نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ ان کو نظر انداز کردیں ، ان سے منہ پھیر لیں اور ان کو کرتے دیں جو کرتے ہیں۔ عنقریب ان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور یہ ایک ایسی بالواسطہ دھمکی ہے جو ان لوگوں کے لئے مناسبت ہے جو محض دکھاوے کے لئے کٹ حجتی کرنے میں ، احقاق حق کے لئے بات نہیں کرتے۔ ٭٭٭ درس نمبر 233 تشریح آیات 57 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 89 آیت نمبر 57 تا 65 ابن اسحاق نے سیرۃ میں لکھا ہے کہ جس طرح مجھ تک یہ بات پہنچی ، حضور اکرم ﷺ حرم میں ولید ابن مغیرہ کے پاس بیٹھے تھے ، نضر ابن الحارث بھی آیا اور وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ مجلس میں قریش کے کئی اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ بات کی۔ نضر ابن حارث نے کچھ اعتراض کیا ، تو حضور ﷺ نے اس کو خاموش کرا دیا۔ اس کے بعد ان پر یہ آیت پڑھی۔ انکم وما تعبدون ۔۔۔۔۔۔ لھا واردون (21 : 98) ” تم اور جن بتوں کو تم پوجا کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہیں۔ تم اس جہنم میں پہنچنے والے ہو۔۔۔۔ “۔ رسول اللہ ﷺ اس مجلس سے اٹھ گئے اور عبد اللہ ابن الزیعری تمیمی آیا اور مجلس میں بیٹھ گیا تو ولید ابن مغیرہ نے کہا : ” خدا کی قسم نضر ابن الحارث کا کھڑا ہونا تھا کہ عبد المطلب کے بیٹے اٹھ کر چلے گئے۔ محمد ﷺ کا خیال یہ ہے کہ ہم اور ہمارے سب معبود جہنم کا ایندھن ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن الزیعری نے کہا ، خدا کی قسم اگر مجھے ملے تو میں اس کے ساتھ جھگڑا کروں گا۔ تم محمد ﷺ سے پوچھو کیا وہ تمام معبود جن کی عبادت کی جاتی ہے ، اپنے عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ ہم تو ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہودی عزیر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاریٰ مسیح ابن مریم کی عبادت کرتے ہیں تو ولید اور اہل مجلس ، عبد اللہ ابن زیعری کی بات سے بےحد متاثر ہوئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اس نے خوب دلیل پیش کی اور مباحثہ کیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا :” جس نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ اللہ کے سوا پوجا جائے تو بیشک وہ ان لوگوں کے ساتھ جہنم میں ہوگا جنہوں نے اسے پوجا۔ یہ لوگ دراصل شیطان کی عبادت کرتے ہیں جس نے ان کو ان بزرگوں کی بندگی کا حکم دیا ہے “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان الذین سبقت ۔۔۔۔۔ مبعدون (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہوگا تو وہ یقیناً اس سے دور رکھے جائیں گے “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عزیر (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ پوجے جانے والے دوسرے احبار اور رہبان ۔ جو اللہ کی عبادت پر قائم رہے اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے ان کی عبادت شروع کردی اور ان کو ارباب من دون اللہ بنا دیا۔ اور یہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں بات کی گئی کہ ان کو بھی من دون اللہ عبادت کی جاتی ہے اور ولید اور دوسرے اہل مجلس اس سے متاثر ہوئے تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ولما ضرب ۔۔۔۔۔۔۔ منہ یصدون (43 : 57) ” جب ان مریم کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم نے اچانک غل مچا دیا “۔ یصدون کے معنی ہیں یصدون عن امرک یعنی تمہاری دعوت سے روکتے رہیں۔۔۔۔ “۔ علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سامنے یہ آیت پڑھی انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم (21 : 98) ” تم اور تمہارے معبود جہنم کا ایندھن ہوں گے اور سب نے اس میں جانا ہے “۔ تو اس پر اہل قریش سخت برہم ہوئے ۔ عبد اللہ ابن زیعری نے پوچھا محمد ، یہ حکم صرف ہمارے معبدوں اور ہمارے بارے میں ہے یا دوسری ملتوں کے بارے بھی ہے ۔ آپ نے فرمایا ” یہ تمہارے لیے تمہارے الہوں کے لئے اور تمام اقوام کے لئے ہے “۔ تو اس نے کہا ، رب کعبہ کی قسم میں نے تمہیں شکست دے دی۔ کیا تم یقین نہیں کرتے کہ عیسیٰ ابن مریم نبی ہیں اور تم ان کے اور ان کی والدہ کے بارے میں اچھی باتیں کرتے ہو ، اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ نصاری ان کی عبادت کرتے ہیں اور عزیر کی بھی یہودی بندگی کرتے ہیں ، ملائکہ کی بھی بندگی کی جاتی ہے۔ اگر یہ سب لوگگ جہنم میں خاموش ہو تو اپنے الہوں کے ساتھ جہنم میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس پر وہ بہت ہنسے اور خوش ہوئے ۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نال بات ہوئی : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہمارے طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہوگا “۔ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ جب عبد اللہ ابن الزیعری نے عیسیٰ بن مریم کی مثال دی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مباحثہ کیا کہ نصاریٰ بھی تو عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں تو اچانک تمہاری قوم اہل قریش نے شوروغل مچانا شروع کردیا۔ اور یہ انہوں نے اس لیے کیا کہ وہ اس دلیل پر بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو زیعری نے خاموش کردیا تھا۔ جس طرح بعض اوقات بےدلیل لوگ جب بحث میں ہار جاتے ہیں اور اچانک ان کو کوئی دلیل مل جاتی ہے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ لفظ یصدون کے معنی تو ہیں شور کرنا۔ لیکن جنہوں نے اسے یصدون (حرف صاد پر پیش کے ساتھ ) پڑھا ہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ حق سے منہ موڑتے ہیں ، اعراض کرتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یصدون الصدید سے ہے جس کے معنی مقابلہ اور کٹ جانے کے ہیں۔ یصدون اور یصدون دونوں طرح آتا ہے جس طرح یعکف اور یعکف آتا ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ”۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہارے نزدیک ہمارے الٰہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے اچھے اور بہتر نہیں ؟ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) جہنم کا ایندھن ہیں تو پھر ہمارے الہٰوں کا معاملہ آسان ہے۔ یہ تھی صاحب کشاف کی روایت ، معلوم نہیں انہوں نے کس سے اخذ کی ہے لیکن اپنے عمومی مضمون میں یہ ابن اسحاق کی روایت کے ساتھ متفق ہے۔ دونوں روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس جدل وجدال میں محض ظاہری اور لفظی کج بحثی سے کام لیتے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے۔ بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ “ ۔ یہ جھگڑتے ہیں اور تنقید کرنے میں بہت ماہر ہیں ، مناظرہ باز ہیں۔ ان کو پہلے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ار رسول اللہ ﷺ کی مراد کیا ، اس کے بعد وہ مفہوم کو توڑ مروڑ کر اپنی مراد پر لاتے ہیں اور پھر اعتراض کرتے ہیں اور الفاظ کے عموم کو لے کر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ ان کے اندر وہ پورے قرآن کی تعلیمات سے خود اختصاص پیدا کرسکتے تھے اور اس قسم کے عمومی اعتراضات وہی عائد کرتا ہے جو مخلص نہ ہو اور پوری طرح چالاک ہو ، جس کی سوچ درست نہ ہو ، مکابرہ کرنے والا ہو اور ہر وقت شبہات ، الفاظ کے ہیر پھیر اور کسی جگہ پر نقب زنی کرنے کا متلاشی ہو۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ نے ہمیشہ ایسی گفتگو سے منع فرمایا ہے جس میں محض دکھاوا ہو ، حقیقت نہ ہو ، اور جس میں صاحب کلام ہر صورت میں کلام ہر صورت میں اپنی بات کو غالب کرنا چاہتا ہو۔ ابن جریر نے ، ابو کریب سے انہوں نے احمد ابن عبد الرحمٰن سے انہوں نے عبادہ ابن عبادہ سے انہوں نے جعفر سے انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور لوگ قرآن کریم میں مباحثہ اور مناظرہ کر رہے تھے۔ آپ کو بہت شدید غصہ آیا۔ گویا آپ کے چہرۂ مبارک پر سرکہ ڈال دیا گیا ہو۔ (ترشہ روئی کا اظہار کیا) اس کے بعد آپ نے فرمایا ” قرآن کے بعض حصوں کو بعض دوسرے حصوں سے نہ ٹکراؤ، کیونکہ لوگ گمراہ تب ہوئے جب ان کے اندر مذہبی جھگڑے اور اختلافات شروع ہوگئے “۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرا احتمال بھی ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” اور وہ کہنے لگے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ؟ “ میں یہ اشارہ ہے کہ ان کے افسانوی عقائد کے مطابق وہ ملائکہ کی پوجا کرتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ ان کی یہ پوجا نصاریٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوجا سے بہتر ہے۔ کیونکہ ملائکہ اپنے مزاج کے اعتبار سے اور ان کے افسانوی خیال کی رو سے خدا کے زیادہ قریب ہیں۔ اس پر یہ تبصرہ ۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اور جس طرح پہلے گزرا یہ ابن الزیعری پر رد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کی عبادت مسیح کی مثال لانا یہاں باطل ہے۔ نصاریٰ کا عمل حجت نہیں ہے کیونکہ وہ تو توحید سے پھرگئے ہیں جس طرح مشرکین توحید سے پھرگئے ہیں۔ لہٰذا دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کے سب گمراہ ہیں۔ بعض مفسرین نے اس طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بھی ایک قریب الفہم تفسیر ہو سکتی ہے۔ اور اس کے بعد حضرت عیسٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جامع تبصرہ ۔ ان ھو الا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلا لبنی اسرائیل (43 : 59) ” ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لئے اسے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا “۔ اور وہ الٰہ نہیں جس کی عبادت کی جائے ، جس طرح نصاریٰ کا ایک گروہ گمراہ ہوا اور اس نے ان کی بندگی شروع کردی۔ وہ تو ایک بندۂ خدا ہیں ان پر اللہ کا انعام ہوگیا ، اور اگر بعض لوگوں نے ان کی بندگی کی ہے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے ان کو رسالت اور معجزات دے کر بنی اسرائیل کے لئے نمونہ قدرت الٰہیہ بنا گیا گیا تھا اور بنی اسرائیل کو چاہئے تھا کہ وہ ان کی پیروی کرتے اور ہدایت حاصل کرتے مگر وہ گمراہ ہوگئے۔ اب بات ان کے عقائد بابت ملائکہ کے موضوع کی طرف آتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فرشتے تو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس زمین میں تمہارا جانشین فرشتوں کو بنا دیں یا بعض لوگوں کو فرشتے بنا دیں جو زمین میں جانشین ہوجائیں۔ ولو نشاء ۔۔۔۔۔ یخلفون (43 : 50) ” اگر اللہ چاہتا تو ملائکہ کو تمہارا خلیفہ بنا دیتا “ ۔ یہ سارے معاملات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اپنی مخلوق کے بارے میں جو چاہے ، کر دے لیکن مخلوق میں سے کوئی اللہ سے نسب نہیں جوڑ سکتا۔ اور نہ اللہ سے مل سکتا ہے سوائے خالق و مخلوق کے تعلق سے یا عہد و معبود کے تعلق سے یا غلام اور مالک کے تعلق سے۔ اس کے بعد کچھ فیصلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق کہ وہ ایک تو قیامت کی نشانی ہیں۔ اس قیامت کی جس کی یہ تکذیب کرتے ہیں یا ان کو اس کے آنے میں شک ہے۔ وانہ لعلم ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 61) ولا یصدنکم ۔۔۔۔۔۔ مبین (43 : 62) ” اور ابن مریم دراصل قیامت کا علم ہے بس تم اس میں شک نہ کرو ، اور میری بات مان لو۔ یہی سیدھا راستہ ہے ، ایسانہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قیامت سے قبل نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے موضوع پر کئی احادیث آئی ہیں۔ یہ قیامت سے قدرے پہلے زمین پر اتریں گے۔ اور اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کا علم ہے “۔ یعنی ان کے آنے سے قرب قیامت کا علم ہوجائے گا اور دوسری قرات یہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کی نشانی ہے “ ۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ تمہارے اندر ابن مریم بطور ایک منصف حاکم نازل ہوں ، وہ صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کردیں گے ، لوگوں پر جزیہ عائد کریں گے اور مال تقسیم کریں گے یہاں تک کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا ، حالت یہ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا (متفق علیہ ، ابو داؤد ، مالک) ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا یہاں تک کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ، مسلمانوں کے امیر ان سے کہیں گے ، آپ ہمیں نماز پڑھائیں ، وہ کہیں گے ، نہیں۔ تم میں سے بعض بعض کے امراء ہوں گے ، اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا ہے “۔ (مسلم ) یہ ایک غیب ہے ، اور اس کی اطلاع ہمیں صادق و امین ﷺ نے دی ہے اور اس طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے ، لہٰذا اس بات میں کوئی انسان کوئی اور بات نہیں کرسکتا صرف وہی بات حق ہے جو ان دو سچے ذرائع سے آئی ہے اور ہمارے لیے سچے مصادر قیامت تک یہی ہیں۔ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم (43 : 61) ” پس تم اس میں شک نہ کرو اور میری بات مانو ، یہی سیدھا راستہ ہے “۔ یہ لوگ قیامت میں شک کرتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دیتا ہے کہ اس پر یقین کرو ، حضور اکرم ﷺ کی زبانی ان کو دعوت یقین دی جاتی ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میں تمہیں سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔ جو بالکل سیدھا اور منزل مقصود تک پہنچنے والا ہے۔ اور اس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں اور راندۂ درگاہ ہوتے ہیں ، وہ شیطان کے اثر سے ہوتے ہیں ، لہٰذا شیطان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے۔ ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (63 : 62) ” ایسا نہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قرآن کریم اس مسلسل معرکہ کی طرف بار بار اشارہ کرتا ہے جو اولاد آدم اور شیطان کے درمیان حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے جاری ہے۔ یہ معرکہ جنت سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اور اس شخص سے بڑا احمق اور غافل اور کون ہوسکتا ہے جسے بار بار متنبہ کیا جائے کہ گھات میں دشمن بیٹھا ہے اور اس نے تمہارا ارادہ کر رکھا ہے اور یہ شخص اس کے برعکس دشمن کا مطیع فرمان بن جائے۔ اسلام نے تو انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں شیطان کے خلاف اس دوامی جنگ میں برسر پیکار رہے اور اس کے ساتھ اس قدر عظیم مال غنیمت کا وعدہ کیا ہے جو کسی بشر کے تصور سے باہر ہے۔ اسلام نے انسانی جنگ کا رخ اس معرکہ خیر و شر کی طرف پھیر دیا جس کی وجہ سے انسان صحیح انسان بنتا ہے اور جس کی وجہ سے تمام مخلوقات میں سے انسان کو ایک ممتاز مخلوق بنایا گیا ہے اور ایک خاص مزاج دیا گیا ہے اور یہاں انسان کا سب سے بڑ انصب العین یہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کھلے دشمن شیطان پر غالب آجائے ، یوں وہ شر ، خباثت اور ہر قسم کی گندگی پر غالب آجائے اور زمین میں خیر کی بنیادیں رکھ دے جن میں لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے اور پاکیزہ زندگی گزاریں گے۔ اس نصیحت کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مزید معلومات کہ وہ کیا پیغام لے کر آئے تھے اور ان سے پہلے نبی اسرائیل کے باہم اختلافات کیا تھا اور بعد میں کیا ہوتا رہا۔ ولما جاء عیسیٰ ۔۔۔۔۔۔ واطیعون (43 : 63) ان اللہ ھو ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 64) فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” اور جب عیسیٰ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں اختلاف کر رہے ہو ، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا بھی۔ اس کی تم عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس تباہی ہے ان لوگوں لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے واضح نشانیاں لے کر آئے تھے۔ یہ نشانیاں وہ معجزات بھی تھے جس صدور آپ کے ہاتھوں پر ہوا۔ اور وہ کلمات اور تقاریر بھی تھیں جو آپ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے کیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا : قد جئتکم بالحکمۃ (43 : 63) ” میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں “ اور جسے حکمت دی گئی وہ گویا خیر کثیر کا مالک بن گیا ۔ وہ لغزش اور بےراہ روی سے امن میں ہوگیا۔ تفریط اور تقصیر سے محفوظ ہوگیا ۔ اور صحیح راستے پر اس کے قدم نہایت ہی توازن اور روشنی میں اٹھنے لگے اور آپ ان کے پاس اس لیے بھی خصوصی طور پر آئے تھے کہ اس وقت مذہبی گروہوں میں جو بہت بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا تھا آپ اسے دور کریں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کے فقہاء نے بےحد اختلاف شروع کردیا تھا۔ وہ فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے۔ آپ نے قوم کو اس طرف بلایا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور آپ نے عقیدۂ توحید تو بڑی وضاحت ، بلاریب اور بغیر کسی التباس اور پیچیدگی کے بیان کیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 64) ” بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے لہٰذا اسی کی بندگی کرو “ نہ آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ الٰہ ہیں اور نہ یہ دعویٰ کیا کہ آپ ابن اللہ ہیں اور آپ نے اپنے کلام میں کسی جگہ ماسوائے تعلق رب اور بندہ اور خالق و مخلوق ، اللہ کے ساتھ کسی اور تعلق کا اشارہ تک نہیں کیا۔ صرف یہی کہا کہ میں رسول ہوں ، صراط مستقیم دے کر بھیجا گیا ہوں ، جس میں کوئی ٹیٹرھ نہیں ہے ، نہ کوئی پھسلن ہے اور نہ کج روی۔ لیکن جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے وہ بھی اسی طرح ٹکڑے اور پارٹیاں بن گئے جس طرح آپ سے پہلے کے لوگ ٹکڑے اور پارٹیاں تھے۔ یہ اختلاف انہوں نے محض ظلم کرتے ہوئے کئے ، اختلافات کے لئے نہ کوئی جواز تھا ، اور نہ شبہ تھا۔ فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم (43 : 65) ” پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی رسالت بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اس دور میں بنی اسرائیل رومیوں کے غلام تھے ، ان کو انتظار تھا کہ نجات دہندہ آئے گا اور ہمیں چھڑائے گا لیکن جب وہ آیا تو انہوں نے اسے پہچاننے سے انکار کردیا اور اس کی دشمنی پر اتر آئے اور انہوں نے اسے سولی پر چڑھانے کی سعی کی۔ جب آپ تشریف لائے تو اس وقت بنی اسرائیل ٹکڑے ٹکڑے تھے ، اہم فرقے چار تھے : 1۔ صدوقی فرقہ : یہ صدوق کی طرف منسوب تھے ، وہ اور اس کے خاندان کے لوگ ہیکل سلیمانی کے کاہن تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہما السلام) کے زمانے سے وہ اس منصب پر تھے۔ شریعت کے مطابق ضروری تھا کہ ان کا نسب ہارون (علیہ السلام) تک پہنچے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی پیغمبر تھے کیونکہ ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہی ہیکل کی متولی تھی۔ یہ لوگ اپنے فرائض کے مطابق عبادات کی ظاہری صورت پر بہت زور دیتے تھے۔ اور کسی قسم کی بدعت کے سخت مخالف تھے جبکہ اپنی شخصی زندگی میں بہت عیاش تھے اور زندگی کے مزے لیتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ قیامت نہیں ہے۔ 2۔ فرسیوں کا فرقہ : یہ صدوقیوں کے سخت خلاف تھے۔ ان کو اعتراض یہ تھا کہ یہ لوگ مذہبی رسومات اور عبادات کی ظاہری شکل پر بہت زور دیتے ہیں اور قیامت اور حساب و کتاب کے منکر ہیں۔ یہ نہایت ہی متقی اور صوفی قسم کے لوگ تھے۔ اگرچہ بعض کے اوپر علمی غرور چھایا ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا علمی غرور پسند نہ تھا۔ نیز آپ کو ان کی لفاظی بھی پسند نہ تھی۔ 3۔ تیسرا فرقہ سامریوں کا تھا : یہ فرقہ یہودیوں اور اشوریوں پر مشتمل تھا۔ اور یہ عہد قدیمہ کی صرف پانچ کتابوں کو مانتا تھا۔ باقی کتب کو بعد کے اضافے سمجھتا تھا۔ یہ پانچ کتابیں موسوی کتب کے نام سے مشہور ہیں جبکہ دوسرے فرقے ساری کتب کو مانتے تھے۔ 4۔ ان کو آسین یا اسینین کہتے تھے۔ یہ لوگ بعض فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اور یہ لوگ دوسرے فرقوں سے علیحدہ رہتے تھے۔ اور اپنے آپ کو نہایت سختی اور تقشف میں رکھتے تھے اور ان کی جماعت بھی تنظیم میں بہت سخت تھی۔ ان چار مشہور فرقوں کے علاوہ بھی بہت سے انفرادی فرقے تھے۔ غرض بنی اسرائیل کے اندر نظریات اور طرز عمل کا سخت اختلاف و انتشار تھا۔ جن پر رومی شہنشاہیت کا سخت دباؤ تھا۔ اور پوری قوم سخت ذلت اور غلامی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ یہ منظر تھا جس میں ایک نجات دہندہ کی پیشین گوئی کتابوں کی گئی تھی کہ وہ آئے گا اور ہمیں نجات دلائے گا۔ جب حضرت مسیح عقیدۂ توحید کے ساتھ بھیجے گئے اور انہوں نے اعلان کردیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 63) ” کہ اللہ میرا بھی رب ہے ، اور تمہارا بھی رب ہے ، لہٰذا اس کی عبادت کرو “۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے ایسی شریعت پیش کی جس میں رواداری اور روحانی اصلاح پر اور عبادات کی ظاہری صورت کی بجائے عبادات کے روحانی پہلو پر زور دیا گیا تھا تو ان فقہاء اور فرسیوں نے آپ کا مقابلہ کیا کیونکہ یہ لوگ عبادات کی ظاہری شکلوں ہی پر زور دیتے تھے۔ ان لوگوں کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا ، ان میں سے آپ کے بعض اقوال نہایت ہی موثر ہیں مثلاً ” یہ لوگ بڑے بڑے بھاری بوجھ باندھتے ہیں اور لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کو اپنے کاندھوں پر اٹھائیں اور خود اپنی انگلی بھی آگے نہیں بڑھاتے کہ اس بوجھ کو جگہ سے ہلا دیں۔ وہ جو کام بھی کرتے ہیں ، اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ اسے دیکھیں۔ اور اپنے کپڑوں کے دامن لمبے کرتے ہیں اور دعوتوں میں اول مقام پر بیٹھتے ہیں اور جلسوں میں پہلی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں اور بازاروں میں پھر کر سلام وصول کرتے ہیں اور یہ پسند کرتے ہیں کہ انہیں پکارا جائے ، ” سیدی سیدی “ کہ کر جہاں بھی وہ جائیں “۔ اور فرسیوں اور فقیہوں سے کہتے ہیں ” اے اندھے قائدین ! تم مچھر چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو ، تم پیالے اور تھالی کے ظاہری حصے کو خوب صاف کرتے ہو لیکن ان کے اندر گندگی اور بدکاری ہوتی ہے ، اے لکھنے والے مفتیان کرام اور دھاوا کرنے والے فقہاء ، تمہاری مثال یوں ہے جس طرح ایک چونا گچ کی سفید قبر ، جس کا ظاہری حصہ خوبصورت اور ملمع شدہ ہے اور اندر بوسیدہ ہڈیاں ہیں “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان کلمات کو پڑھو اور خود اپنے دور کے علماء اور مفتیان کرام کو دیکھو ، کیا یہی الفاظ ان پر صادق نہیں آتے ، دین کی تحریف کرنے والے ، رسومات کے پجاری ، ظاہر پرست اور دکھاوا کرنے والے۔ اس کے بعد حضرت مسیح اپنے رب کے پاس چلے گئے۔ اس طرح آپ کے پیرو کاروں کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے۔ یہ اس طرح فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ بعض نے خود ان کو الٰہ بنا دیا۔ بعض نے اللہ کا بیٹا بنا لیا۔ بعض نے ثالث ثلاثہ کہا اور وہ کلمہ توحید ان سے گم ہوگیا جس کی دعوت لے کر آپ اس لیے تشریف لائے تھے کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور دین اللہ کے لئے خالص کردیں۔ فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک عذاب کے دن کی “۔ مشرکین عرب آئے اور انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مجادلہ شروع کردیا۔ اس وجہ سے کہ پیروکار ان مسیح نے آپ کے بعد گل کھلائے تھے اور آپ کے بارے میں بیشمار افسانے گھڑ لیے تھے۔ ٭٭٭

الزخرف 43:62

درس نمبر 233 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ بھی جہنم میں ہوں گے۔ غرض ان سے جب یہ کہا گیا کہ عابدو معبود دونوں جہنم میں ہوں گے۔ جب ان سے یہ کہا گیا تو بعض لوگوں نے عیسیٰ ابن مریم کی مثال دی کہ بعض گمراہ عیسائی ان کی بندگی کرتے تھے۔ یہ ان کی طرف سے محض ایک کج بحثی تھی۔ پھر وہ کہتے تھے کہ جب اہل کتاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بندگی کرتے ہیں تو ان سے ہم بہتر ہیں کہ ہم فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ یہ استدلال بناء الباطل علی الباطل کی بہترین مثال تھا۔ اس بنا پر یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت کیا ہے۔ آپ کی دعوت کیا تھی۔ اور ان سے پہلے بنی اسرائیل میں کیا اختلافات تھے اور ان کے بعد کیا اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد تمام بد عقیدہ اور مشرکانہ خیالات رکھنے والوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اچانک قیامت آجائے گی اور پھر حالت کیا ہوگی ؟ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں ایک جھلک ان نعمتوں کی ہے جو متقین کے لئے تیار کی گئی ہیں اور ایک جھلک اس دردناک عذاب کی ہے جو مجرمین کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس سبق میں فرشتوں کے بارے میں عربوں کے اس افسانے کو بھی رد کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ پاک ان باتوں سے بری ہے جو یہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس مناسب سے اللہ کی بعض صفات کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ زمین و آسمان اور دنیا و آخرت کا مطلق مالک ہے اور سب لوگوں نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ ان کو نظر انداز کردیں ، ان سے منہ پھیر لیں اور ان کو کرتے دیں جو کرتے ہیں۔ عنقریب ان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور یہ ایک ایسی بالواسطہ دھمکی ہے جو ان لوگوں کے لئے مناسبت ہے جو محض دکھاوے کے لئے کٹ حجتی کرنے میں ، احقاق حق کے لئے بات نہیں کرتے۔ ٭٭٭ درس نمبر 233 تشریح آیات 57 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 89 آیت نمبر 57 تا 65 ابن اسحاق نے سیرۃ میں لکھا ہے کہ جس طرح مجھ تک یہ بات پہنچی ، حضور اکرم ﷺ حرم میں ولید ابن مغیرہ کے پاس بیٹھے تھے ، نضر ابن الحارث بھی آیا اور وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ مجلس میں قریش کے کئی اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ بات کی۔ نضر ابن حارث نے کچھ اعتراض کیا ، تو حضور ﷺ نے اس کو خاموش کرا دیا۔ اس کے بعد ان پر یہ آیت پڑھی۔ انکم وما تعبدون ۔۔۔۔۔۔ لھا واردون (21 : 98) ” تم اور جن بتوں کو تم پوجا کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہیں۔ تم اس جہنم میں پہنچنے والے ہو۔۔۔۔ “۔ رسول اللہ ﷺ اس مجلس سے اٹھ گئے اور عبد اللہ ابن الزیعری تمیمی آیا اور مجلس میں بیٹھ گیا تو ولید ابن مغیرہ نے کہا : ” خدا کی قسم نضر ابن الحارث کا کھڑا ہونا تھا کہ عبد المطلب کے بیٹے اٹھ کر چلے گئے۔ محمد ﷺ کا خیال یہ ہے کہ ہم اور ہمارے سب معبود جہنم کا ایندھن ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن الزیعری نے کہا ، خدا کی قسم اگر مجھے ملے تو میں اس کے ساتھ جھگڑا کروں گا۔ تم محمد ﷺ سے پوچھو کیا وہ تمام معبود جن کی عبادت کی جاتی ہے ، اپنے عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ ہم تو ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہودی عزیر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاریٰ مسیح ابن مریم کی عبادت کرتے ہیں تو ولید اور اہل مجلس ، عبد اللہ ابن زیعری کی بات سے بےحد متاثر ہوئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اس نے خوب دلیل پیش کی اور مباحثہ کیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا :” جس نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ اللہ کے سوا پوجا جائے تو بیشک وہ ان لوگوں کے ساتھ جہنم میں ہوگا جنہوں نے اسے پوجا۔ یہ لوگ دراصل شیطان کی عبادت کرتے ہیں جس نے ان کو ان بزرگوں کی بندگی کا حکم دیا ہے “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان الذین سبقت ۔۔۔۔۔ مبعدون (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہوگا تو وہ یقیناً اس سے دور رکھے جائیں گے “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عزیر (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ پوجے جانے والے دوسرے احبار اور رہبان ۔ جو اللہ کی عبادت پر قائم رہے اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے ان کی عبادت شروع کردی اور ان کو ارباب من دون اللہ بنا دیا۔ اور یہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں بات کی گئی کہ ان کو بھی من دون اللہ عبادت کی جاتی ہے اور ولید اور دوسرے اہل مجلس اس سے متاثر ہوئے تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ولما ضرب ۔۔۔۔۔۔۔ منہ یصدون (43 : 57) ” جب ان مریم کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم نے اچانک غل مچا دیا “۔ یصدون کے معنی ہیں یصدون عن امرک یعنی تمہاری دعوت سے روکتے رہیں۔۔۔۔ “۔ علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سامنے یہ آیت پڑھی انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم (21 : 98) ” تم اور تمہارے معبود جہنم کا ایندھن ہوں گے اور سب نے اس میں جانا ہے “۔ تو اس پر اہل قریش سخت برہم ہوئے ۔ عبد اللہ ابن زیعری نے پوچھا محمد ، یہ حکم صرف ہمارے معبدوں اور ہمارے بارے میں ہے یا دوسری ملتوں کے بارے بھی ہے ۔ آپ نے فرمایا ” یہ تمہارے لیے تمہارے الہوں کے لئے اور تمام اقوام کے لئے ہے “۔ تو اس نے کہا ، رب کعبہ کی قسم میں نے تمہیں شکست دے دی۔ کیا تم یقین نہیں کرتے کہ عیسیٰ ابن مریم نبی ہیں اور تم ان کے اور ان کی والدہ کے بارے میں اچھی باتیں کرتے ہو ، اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ نصاری ان کی عبادت کرتے ہیں اور عزیر کی بھی یہودی بندگی کرتے ہیں ، ملائکہ کی بھی بندگی کی جاتی ہے۔ اگر یہ سب لوگگ جہنم میں خاموش ہو تو اپنے الہوں کے ساتھ جہنم میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس پر وہ بہت ہنسے اور خوش ہوئے ۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نال بات ہوئی : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہمارے طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہوگا “۔ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ جب عبد اللہ ابن الزیعری نے عیسیٰ بن مریم کی مثال دی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مباحثہ کیا کہ نصاریٰ بھی تو عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں تو اچانک تمہاری قوم اہل قریش نے شوروغل مچانا شروع کردیا۔ اور یہ انہوں نے اس لیے کیا کہ وہ اس دلیل پر بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو زیعری نے خاموش کردیا تھا۔ جس طرح بعض اوقات بےدلیل لوگ جب بحث میں ہار جاتے ہیں اور اچانک ان کو کوئی دلیل مل جاتی ہے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ لفظ یصدون کے معنی تو ہیں شور کرنا۔ لیکن جنہوں نے اسے یصدون (حرف صاد پر پیش کے ساتھ ) پڑھا ہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ حق سے منہ موڑتے ہیں ، اعراض کرتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یصدون الصدید سے ہے جس کے معنی مقابلہ اور کٹ جانے کے ہیں۔ یصدون اور یصدون دونوں طرح آتا ہے جس طرح یعکف اور یعکف آتا ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ”۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہارے نزدیک ہمارے الٰہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے اچھے اور بہتر نہیں ؟ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) جہنم کا ایندھن ہیں تو پھر ہمارے الہٰوں کا معاملہ آسان ہے۔ یہ تھی صاحب کشاف کی روایت ، معلوم نہیں انہوں نے کس سے اخذ کی ہے لیکن اپنے عمومی مضمون میں یہ ابن اسحاق کی روایت کے ساتھ متفق ہے۔ دونوں روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس جدل وجدال میں محض ظاہری اور لفظی کج بحثی سے کام لیتے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے۔ بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ “ ۔ یہ جھگڑتے ہیں اور تنقید کرنے میں بہت ماہر ہیں ، مناظرہ باز ہیں۔ ان کو پہلے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ار رسول اللہ ﷺ کی مراد کیا ، اس کے بعد وہ مفہوم کو توڑ مروڑ کر اپنی مراد پر لاتے ہیں اور پھر اعتراض کرتے ہیں اور الفاظ کے عموم کو لے کر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ ان کے اندر وہ پورے قرآن کی تعلیمات سے خود اختصاص پیدا کرسکتے تھے اور اس قسم کے عمومی اعتراضات وہی عائد کرتا ہے جو مخلص نہ ہو اور پوری طرح چالاک ہو ، جس کی سوچ درست نہ ہو ، مکابرہ کرنے والا ہو اور ہر وقت شبہات ، الفاظ کے ہیر پھیر اور کسی جگہ پر نقب زنی کرنے کا متلاشی ہو۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ نے ہمیشہ ایسی گفتگو سے منع فرمایا ہے جس میں محض دکھاوا ہو ، حقیقت نہ ہو ، اور جس میں صاحب کلام ہر صورت میں کلام ہر صورت میں اپنی بات کو غالب کرنا چاہتا ہو۔ ابن جریر نے ، ابو کریب سے انہوں نے احمد ابن عبد الرحمٰن سے انہوں نے عبادہ ابن عبادہ سے انہوں نے جعفر سے انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور لوگ قرآن کریم میں مباحثہ اور مناظرہ کر رہے تھے۔ آپ کو بہت شدید غصہ آیا۔ گویا آپ کے چہرۂ مبارک پر سرکہ ڈال دیا گیا ہو۔ (ترشہ روئی کا اظہار کیا) اس کے بعد آپ نے فرمایا ” قرآن کے بعض حصوں کو بعض دوسرے حصوں سے نہ ٹکراؤ، کیونکہ لوگ گمراہ تب ہوئے جب ان کے اندر مذہبی جھگڑے اور اختلافات شروع ہوگئے “۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرا احتمال بھی ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” اور وہ کہنے لگے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ؟ “ میں یہ اشارہ ہے کہ ان کے افسانوی عقائد کے مطابق وہ ملائکہ کی پوجا کرتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ ان کی یہ پوجا نصاریٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوجا سے بہتر ہے۔ کیونکہ ملائکہ اپنے مزاج کے اعتبار سے اور ان کے افسانوی خیال کی رو سے خدا کے زیادہ قریب ہیں۔ اس پر یہ تبصرہ ۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اور جس طرح پہلے گزرا یہ ابن الزیعری پر رد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کی عبادت مسیح کی مثال لانا یہاں باطل ہے۔ نصاریٰ کا عمل حجت نہیں ہے کیونکہ وہ تو توحید سے پھرگئے ہیں جس طرح مشرکین توحید سے پھرگئے ہیں۔ لہٰذا دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کے سب گمراہ ہیں۔ بعض مفسرین نے اس طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بھی ایک قریب الفہم تفسیر ہو سکتی ہے۔ اور اس کے بعد حضرت عیسٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جامع تبصرہ ۔ ان ھو الا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلا لبنی اسرائیل (43 : 59) ” ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لئے اسے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا “۔ اور وہ الٰہ نہیں جس کی عبادت کی جائے ، جس طرح نصاریٰ کا ایک گروہ گمراہ ہوا اور اس نے ان کی بندگی شروع کردی۔ وہ تو ایک بندۂ خدا ہیں ان پر اللہ کا انعام ہوگیا ، اور اگر بعض لوگوں نے ان کی بندگی کی ہے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے ان کو رسالت اور معجزات دے کر بنی اسرائیل کے لئے نمونہ قدرت الٰہیہ بنا گیا گیا تھا اور بنی اسرائیل کو چاہئے تھا کہ وہ ان کی پیروی کرتے اور ہدایت حاصل کرتے مگر وہ گمراہ ہوگئے۔ اب بات ان کے عقائد بابت ملائکہ کے موضوع کی طرف آتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فرشتے تو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس زمین میں تمہارا جانشین فرشتوں کو بنا دیں یا بعض لوگوں کو فرشتے بنا دیں جو زمین میں جانشین ہوجائیں۔ ولو نشاء ۔۔۔۔۔ یخلفون (43 : 50) ” اگر اللہ چاہتا تو ملائکہ کو تمہارا خلیفہ بنا دیتا “ ۔ یہ سارے معاملات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اپنی مخلوق کے بارے میں جو چاہے ، کر دے لیکن مخلوق میں سے کوئی اللہ سے نسب نہیں جوڑ سکتا۔ اور نہ اللہ سے مل سکتا ہے سوائے خالق و مخلوق کے تعلق سے یا عہد و معبود کے تعلق سے یا غلام اور مالک کے تعلق سے۔ اس کے بعد کچھ فیصلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق کہ وہ ایک تو قیامت کی نشانی ہیں۔ اس قیامت کی جس کی یہ تکذیب کرتے ہیں یا ان کو اس کے آنے میں شک ہے۔ وانہ لعلم ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 61) ولا یصدنکم ۔۔۔۔۔۔ مبین (43 : 62) ” اور ابن مریم دراصل قیامت کا علم ہے بس تم اس میں شک نہ کرو ، اور میری بات مان لو۔ یہی سیدھا راستہ ہے ، ایسانہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قیامت سے قبل نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے موضوع پر کئی احادیث آئی ہیں۔ یہ قیامت سے قدرے پہلے زمین پر اتریں گے۔ اور اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کا علم ہے “۔ یعنی ان کے آنے سے قرب قیامت کا علم ہوجائے گا اور دوسری قرات یہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کی نشانی ہے “ ۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ تمہارے اندر ابن مریم بطور ایک منصف حاکم نازل ہوں ، وہ صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کردیں گے ، لوگوں پر جزیہ عائد کریں گے اور مال تقسیم کریں گے یہاں تک کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا ، حالت یہ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا (متفق علیہ ، ابو داؤد ، مالک) ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا یہاں تک کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ، مسلمانوں کے امیر ان سے کہیں گے ، آپ ہمیں نماز پڑھائیں ، وہ کہیں گے ، نہیں۔ تم میں سے بعض بعض کے امراء ہوں گے ، اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا ہے “۔ (مسلم ) یہ ایک غیب ہے ، اور اس کی اطلاع ہمیں صادق و امین ﷺ نے دی ہے اور اس طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے ، لہٰذا اس بات میں کوئی انسان کوئی اور بات نہیں کرسکتا صرف وہی بات حق ہے جو ان دو سچے ذرائع سے آئی ہے اور ہمارے لیے سچے مصادر قیامت تک یہی ہیں۔ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم (43 : 61) ” پس تم اس میں شک نہ کرو اور میری بات مانو ، یہی سیدھا راستہ ہے “۔ یہ لوگ قیامت میں شک کرتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دیتا ہے کہ اس پر یقین کرو ، حضور اکرم ﷺ کی زبانی ان کو دعوت یقین دی جاتی ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میں تمہیں سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔ جو بالکل سیدھا اور منزل مقصود تک پہنچنے والا ہے۔ اور اس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں اور راندۂ درگاہ ہوتے ہیں ، وہ شیطان کے اثر سے ہوتے ہیں ، لہٰذا شیطان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے۔ ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (63 : 62) ” ایسا نہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قرآن کریم اس مسلسل معرکہ کی طرف بار بار اشارہ کرتا ہے جو اولاد آدم اور شیطان کے درمیان حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے جاری ہے۔ یہ معرکہ جنت سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اور اس شخص سے بڑا احمق اور غافل اور کون ہوسکتا ہے جسے بار بار متنبہ کیا جائے کہ گھات میں دشمن بیٹھا ہے اور اس نے تمہارا ارادہ کر رکھا ہے اور یہ شخص اس کے برعکس دشمن کا مطیع فرمان بن جائے۔ اسلام نے تو انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں شیطان کے خلاف اس دوامی جنگ میں برسر پیکار رہے اور اس کے ساتھ اس قدر عظیم مال غنیمت کا وعدہ کیا ہے جو کسی بشر کے تصور سے باہر ہے۔ اسلام نے انسانی جنگ کا رخ اس معرکہ خیر و شر کی طرف پھیر دیا جس کی وجہ سے انسان صحیح انسان بنتا ہے اور جس کی وجہ سے تمام مخلوقات میں سے انسان کو ایک ممتاز مخلوق بنایا گیا ہے اور ایک خاص مزاج دیا گیا ہے اور یہاں انسان کا سب سے بڑ انصب العین یہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کھلے دشمن شیطان پر غالب آجائے ، یوں وہ شر ، خباثت اور ہر قسم کی گندگی پر غالب آجائے اور زمین میں خیر کی بنیادیں رکھ دے جن میں لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے اور پاکیزہ زندگی گزاریں گے۔ اس نصیحت کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مزید معلومات کہ وہ کیا پیغام لے کر آئے تھے اور ان سے پہلے نبی اسرائیل کے باہم اختلافات کیا تھا اور بعد میں کیا ہوتا رہا۔ ولما جاء عیسیٰ ۔۔۔۔۔۔ واطیعون (43 : 63) ان اللہ ھو ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 64) فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” اور جب عیسیٰ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں اختلاف کر رہے ہو ، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا بھی۔ اس کی تم عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس تباہی ہے ان لوگوں لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے واضح نشانیاں لے کر آئے تھے۔ یہ نشانیاں وہ معجزات بھی تھے جس صدور آپ کے ہاتھوں پر ہوا۔ اور وہ کلمات اور تقاریر بھی تھیں جو آپ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے کیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا : قد جئتکم بالحکمۃ (43 : 63) ” میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں “ اور جسے حکمت دی گئی وہ گویا خیر کثیر کا مالک بن گیا ۔ وہ لغزش اور بےراہ روی سے امن میں ہوگیا۔ تفریط اور تقصیر سے محفوظ ہوگیا ۔ اور صحیح راستے پر اس کے قدم نہایت ہی توازن اور روشنی میں اٹھنے لگے اور آپ ان کے پاس اس لیے بھی خصوصی طور پر آئے تھے کہ اس وقت مذہبی گروہوں میں جو بہت بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا تھا آپ اسے دور کریں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کے فقہاء نے بےحد اختلاف شروع کردیا تھا۔ وہ فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے۔ آپ نے قوم کو اس طرف بلایا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور آپ نے عقیدۂ توحید تو بڑی وضاحت ، بلاریب اور بغیر کسی التباس اور پیچیدگی کے بیان کیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 64) ” بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے لہٰذا اسی کی بندگی کرو “ نہ آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ الٰہ ہیں اور نہ یہ دعویٰ کیا کہ آپ ابن اللہ ہیں اور آپ نے اپنے کلام میں کسی جگہ ماسوائے تعلق رب اور بندہ اور خالق و مخلوق ، اللہ کے ساتھ کسی اور تعلق کا اشارہ تک نہیں کیا۔ صرف یہی کہا کہ میں رسول ہوں ، صراط مستقیم دے کر بھیجا گیا ہوں ، جس میں کوئی ٹیٹرھ نہیں ہے ، نہ کوئی پھسلن ہے اور نہ کج روی۔ لیکن جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے وہ بھی اسی طرح ٹکڑے اور پارٹیاں بن گئے جس طرح آپ سے پہلے کے لوگ ٹکڑے اور پارٹیاں تھے۔ یہ اختلاف انہوں نے محض ظلم کرتے ہوئے کئے ، اختلافات کے لئے نہ کوئی جواز تھا ، اور نہ شبہ تھا۔ فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم (43 : 65) ” پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی رسالت بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اس دور میں بنی اسرائیل رومیوں کے غلام تھے ، ان کو انتظار تھا کہ نجات دہندہ آئے گا اور ہمیں چھڑائے گا لیکن جب وہ آیا تو انہوں نے اسے پہچاننے سے انکار کردیا اور اس کی دشمنی پر اتر آئے اور انہوں نے اسے سولی پر چڑھانے کی سعی کی۔ جب آپ تشریف لائے تو اس وقت بنی اسرائیل ٹکڑے ٹکڑے تھے ، اہم فرقے چار تھے : 1۔ صدوقی فرقہ : یہ صدوق کی طرف منسوب تھے ، وہ اور اس کے خاندان کے لوگ ہیکل سلیمانی کے کاہن تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہما السلام) کے زمانے سے وہ اس منصب پر تھے۔ شریعت کے مطابق ضروری تھا کہ ان کا نسب ہارون (علیہ السلام) تک پہنچے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی پیغمبر تھے کیونکہ ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہی ہیکل کی متولی تھی۔ یہ لوگ اپنے فرائض کے مطابق عبادات کی ظاہری صورت پر بہت زور دیتے تھے۔ اور کسی قسم کی بدعت کے سخت مخالف تھے جبکہ اپنی شخصی زندگی میں بہت عیاش تھے اور زندگی کے مزے لیتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ قیامت نہیں ہے۔ 2۔ فرسیوں کا فرقہ : یہ صدوقیوں کے سخت خلاف تھے۔ ان کو اعتراض یہ تھا کہ یہ لوگ مذہبی رسومات اور عبادات کی ظاہری شکل پر بہت زور دیتے ہیں اور قیامت اور حساب و کتاب کے منکر ہیں۔ یہ نہایت ہی متقی اور صوفی قسم کے لوگ تھے۔ اگرچہ بعض کے اوپر علمی غرور چھایا ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا علمی غرور پسند نہ تھا۔ نیز آپ کو ان کی لفاظی بھی پسند نہ تھی۔ 3۔ تیسرا فرقہ سامریوں کا تھا : یہ فرقہ یہودیوں اور اشوریوں پر مشتمل تھا۔ اور یہ عہد قدیمہ کی صرف پانچ کتابوں کو مانتا تھا۔ باقی کتب کو بعد کے اضافے سمجھتا تھا۔ یہ پانچ کتابیں موسوی کتب کے نام سے مشہور ہیں جبکہ دوسرے فرقے ساری کتب کو مانتے تھے۔ 4۔ ان کو آسین یا اسینین کہتے تھے۔ یہ لوگ بعض فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اور یہ لوگ دوسرے فرقوں سے علیحدہ رہتے تھے۔ اور اپنے آپ کو نہایت سختی اور تقشف میں رکھتے تھے اور ان کی جماعت بھی تنظیم میں بہت سخت تھی۔ ان چار مشہور فرقوں کے علاوہ بھی بہت سے انفرادی فرقے تھے۔ غرض بنی اسرائیل کے اندر نظریات اور طرز عمل کا سخت اختلاف و انتشار تھا۔ جن پر رومی شہنشاہیت کا سخت دباؤ تھا۔ اور پوری قوم سخت ذلت اور غلامی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ یہ منظر تھا جس میں ایک نجات دہندہ کی پیشین گوئی کتابوں کی گئی تھی کہ وہ آئے گا اور ہمیں نجات دلائے گا۔ جب حضرت مسیح عقیدۂ توحید کے ساتھ بھیجے گئے اور انہوں نے اعلان کردیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 63) ” کہ اللہ میرا بھی رب ہے ، اور تمہارا بھی رب ہے ، لہٰذا اس کی عبادت کرو “۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے ایسی شریعت پیش کی جس میں رواداری اور روحانی اصلاح پر اور عبادات کی ظاہری صورت کی بجائے عبادات کے روحانی پہلو پر زور دیا گیا تھا تو ان فقہاء اور فرسیوں نے آپ کا مقابلہ کیا کیونکہ یہ لوگ عبادات کی ظاہری شکلوں ہی پر زور دیتے تھے۔ ان لوگوں کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا ، ان میں سے آپ کے بعض اقوال نہایت ہی موثر ہیں مثلاً ” یہ لوگ بڑے بڑے بھاری بوجھ باندھتے ہیں اور لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کو اپنے کاندھوں پر اٹھائیں اور خود اپنی انگلی بھی آگے نہیں بڑھاتے کہ اس بوجھ کو جگہ سے ہلا دیں۔ وہ جو کام بھی کرتے ہیں ، اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ اسے دیکھیں۔ اور اپنے کپڑوں کے دامن لمبے کرتے ہیں اور دعوتوں میں اول مقام پر بیٹھتے ہیں اور جلسوں میں پہلی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں اور بازاروں میں پھر کر سلام وصول کرتے ہیں اور یہ پسند کرتے ہیں کہ انہیں پکارا جائے ، ” سیدی سیدی “ کہ کر جہاں بھی وہ جائیں “۔ اور فرسیوں اور فقیہوں سے کہتے ہیں ” اے اندھے قائدین ! تم مچھر چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو ، تم پیالے اور تھالی کے ظاہری حصے کو خوب صاف کرتے ہو لیکن ان کے اندر گندگی اور بدکاری ہوتی ہے ، اے لکھنے والے مفتیان کرام اور دھاوا کرنے والے فقہاء ، تمہاری مثال یوں ہے جس طرح ایک چونا گچ کی سفید قبر ، جس کا ظاہری حصہ خوبصورت اور ملمع شدہ ہے اور اندر بوسیدہ ہڈیاں ہیں “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان کلمات کو پڑھو اور خود اپنے دور کے علماء اور مفتیان کرام کو دیکھو ، کیا یہی الفاظ ان پر صادق نہیں آتے ، دین کی تحریف کرنے والے ، رسومات کے پجاری ، ظاہر پرست اور دکھاوا کرنے والے۔ اس کے بعد حضرت مسیح اپنے رب کے پاس چلے گئے۔ اس طرح آپ کے پیرو کاروں کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے۔ یہ اس طرح فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ بعض نے خود ان کو الٰہ بنا دیا۔ بعض نے اللہ کا بیٹا بنا لیا۔ بعض نے ثالث ثلاثہ کہا اور وہ کلمہ توحید ان سے گم ہوگیا جس کی دعوت لے کر آپ اس لیے تشریف لائے تھے کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور دین اللہ کے لئے خالص کردیں۔ فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک عذاب کے دن کی “۔ مشرکین عرب آئے اور انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مجادلہ شروع کردیا۔ اس وجہ سے کہ پیروکار ان مسیح نے آپ کے بعد گل کھلائے تھے اور آپ کے بارے میں بیشمار افسانے گھڑ لیے تھے۔ ٭٭٭

الزخرف 43:63

درس نمبر 233 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ بھی جہنم میں ہوں گے۔ غرض ان سے جب یہ کہا گیا کہ عابدو معبود دونوں جہنم میں ہوں گے۔ جب ان سے یہ کہا گیا تو بعض لوگوں نے عیسیٰ ابن مریم کی مثال دی کہ بعض گمراہ عیسائی ان کی بندگی کرتے تھے۔ یہ ان کی طرف سے محض ایک کج بحثی تھی۔ پھر وہ کہتے تھے کہ جب اہل کتاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بندگی کرتے ہیں تو ان سے ہم بہتر ہیں کہ ہم فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ یہ استدلال بناء الباطل علی الباطل کی بہترین مثال تھا۔ اس بنا پر یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت کیا ہے۔ آپ کی دعوت کیا تھی۔ اور ان سے پہلے بنی اسرائیل میں کیا اختلافات تھے اور ان کے بعد کیا اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد تمام بد عقیدہ اور مشرکانہ خیالات رکھنے والوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اچانک قیامت آجائے گی اور پھر حالت کیا ہوگی ؟ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں ایک جھلک ان نعمتوں کی ہے جو متقین کے لئے تیار کی گئی ہیں اور ایک جھلک اس دردناک عذاب کی ہے جو مجرمین کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس سبق میں فرشتوں کے بارے میں عربوں کے اس افسانے کو بھی رد کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ پاک ان باتوں سے بری ہے جو یہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس مناسب سے اللہ کی بعض صفات کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ زمین و آسمان اور دنیا و آخرت کا مطلق مالک ہے اور سب لوگوں نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ ان کو نظر انداز کردیں ، ان سے منہ پھیر لیں اور ان کو کرتے دیں جو کرتے ہیں۔ عنقریب ان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور یہ ایک ایسی بالواسطہ دھمکی ہے جو ان لوگوں کے لئے مناسبت ہے جو محض دکھاوے کے لئے کٹ حجتی کرنے میں ، احقاق حق کے لئے بات نہیں کرتے۔ ٭٭٭ درس نمبر 233 تشریح آیات 57 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 89 آیت نمبر 57 تا 65 ابن اسحاق نے سیرۃ میں لکھا ہے کہ جس طرح مجھ تک یہ بات پہنچی ، حضور اکرم ﷺ حرم میں ولید ابن مغیرہ کے پاس بیٹھے تھے ، نضر ابن الحارث بھی آیا اور وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ مجلس میں قریش کے کئی اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ بات کی۔ نضر ابن حارث نے کچھ اعتراض کیا ، تو حضور ﷺ نے اس کو خاموش کرا دیا۔ اس کے بعد ان پر یہ آیت پڑھی۔ انکم وما تعبدون ۔۔۔۔۔۔ لھا واردون (21 : 98) ” تم اور جن بتوں کو تم پوجا کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہیں۔ تم اس جہنم میں پہنچنے والے ہو۔۔۔۔ “۔ رسول اللہ ﷺ اس مجلس سے اٹھ گئے اور عبد اللہ ابن الزیعری تمیمی آیا اور مجلس میں بیٹھ گیا تو ولید ابن مغیرہ نے کہا : ” خدا کی قسم نضر ابن الحارث کا کھڑا ہونا تھا کہ عبد المطلب کے بیٹے اٹھ کر چلے گئے۔ محمد ﷺ کا خیال یہ ہے کہ ہم اور ہمارے سب معبود جہنم کا ایندھن ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن الزیعری نے کہا ، خدا کی قسم اگر مجھے ملے تو میں اس کے ساتھ جھگڑا کروں گا۔ تم محمد ﷺ سے پوچھو کیا وہ تمام معبود جن کی عبادت کی جاتی ہے ، اپنے عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ ہم تو ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہودی عزیر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاریٰ مسیح ابن مریم کی عبادت کرتے ہیں تو ولید اور اہل مجلس ، عبد اللہ ابن زیعری کی بات سے بےحد متاثر ہوئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اس نے خوب دلیل پیش کی اور مباحثہ کیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا :” جس نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ اللہ کے سوا پوجا جائے تو بیشک وہ ان لوگوں کے ساتھ جہنم میں ہوگا جنہوں نے اسے پوجا۔ یہ لوگ دراصل شیطان کی عبادت کرتے ہیں جس نے ان کو ان بزرگوں کی بندگی کا حکم دیا ہے “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان الذین سبقت ۔۔۔۔۔ مبعدون (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہوگا تو وہ یقیناً اس سے دور رکھے جائیں گے “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عزیر (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ پوجے جانے والے دوسرے احبار اور رہبان ۔ جو اللہ کی عبادت پر قائم رہے اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے ان کی عبادت شروع کردی اور ان کو ارباب من دون اللہ بنا دیا۔ اور یہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں بات کی گئی کہ ان کو بھی من دون اللہ عبادت کی جاتی ہے اور ولید اور دوسرے اہل مجلس اس سے متاثر ہوئے تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ولما ضرب ۔۔۔۔۔۔۔ منہ یصدون (43 : 57) ” جب ان مریم کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم نے اچانک غل مچا دیا “۔ یصدون کے معنی ہیں یصدون عن امرک یعنی تمہاری دعوت سے روکتے رہیں۔۔۔۔ “۔ علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سامنے یہ آیت پڑھی انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم (21 : 98) ” تم اور تمہارے معبود جہنم کا ایندھن ہوں گے اور سب نے اس میں جانا ہے “۔ تو اس پر اہل قریش سخت برہم ہوئے ۔ عبد اللہ ابن زیعری نے پوچھا محمد ، یہ حکم صرف ہمارے معبدوں اور ہمارے بارے میں ہے یا دوسری ملتوں کے بارے بھی ہے ۔ آپ نے فرمایا ” یہ تمہارے لیے تمہارے الہوں کے لئے اور تمام اقوام کے لئے ہے “۔ تو اس نے کہا ، رب کعبہ کی قسم میں نے تمہیں شکست دے دی۔ کیا تم یقین نہیں کرتے کہ عیسیٰ ابن مریم نبی ہیں اور تم ان کے اور ان کی والدہ کے بارے میں اچھی باتیں کرتے ہو ، اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ نصاری ان کی عبادت کرتے ہیں اور عزیر کی بھی یہودی بندگی کرتے ہیں ، ملائکہ کی بھی بندگی کی جاتی ہے۔ اگر یہ سب لوگگ جہنم میں خاموش ہو تو اپنے الہوں کے ساتھ جہنم میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس پر وہ بہت ہنسے اور خوش ہوئے ۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نال بات ہوئی : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہمارے طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہوگا “۔ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ جب عبد اللہ ابن الزیعری نے عیسیٰ بن مریم کی مثال دی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مباحثہ کیا کہ نصاریٰ بھی تو عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں تو اچانک تمہاری قوم اہل قریش نے شوروغل مچانا شروع کردیا۔ اور یہ انہوں نے اس لیے کیا کہ وہ اس دلیل پر بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو زیعری نے خاموش کردیا تھا۔ جس طرح بعض اوقات بےدلیل لوگ جب بحث میں ہار جاتے ہیں اور اچانک ان کو کوئی دلیل مل جاتی ہے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ لفظ یصدون کے معنی تو ہیں شور کرنا۔ لیکن جنہوں نے اسے یصدون (حرف صاد پر پیش کے ساتھ ) پڑھا ہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ حق سے منہ موڑتے ہیں ، اعراض کرتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یصدون الصدید سے ہے جس کے معنی مقابلہ اور کٹ جانے کے ہیں۔ یصدون اور یصدون دونوں طرح آتا ہے جس طرح یعکف اور یعکف آتا ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ”۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہارے نزدیک ہمارے الٰہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے اچھے اور بہتر نہیں ؟ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) جہنم کا ایندھن ہیں تو پھر ہمارے الہٰوں کا معاملہ آسان ہے۔ یہ تھی صاحب کشاف کی روایت ، معلوم نہیں انہوں نے کس سے اخذ کی ہے لیکن اپنے عمومی مضمون میں یہ ابن اسحاق کی روایت کے ساتھ متفق ہے۔ دونوں روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس جدل وجدال میں محض ظاہری اور لفظی کج بحثی سے کام لیتے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے۔ بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ “ ۔ یہ جھگڑتے ہیں اور تنقید کرنے میں بہت ماہر ہیں ، مناظرہ باز ہیں۔ ان کو پہلے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ار رسول اللہ ﷺ کی مراد کیا ، اس کے بعد وہ مفہوم کو توڑ مروڑ کر اپنی مراد پر لاتے ہیں اور پھر اعتراض کرتے ہیں اور الفاظ کے عموم کو لے کر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ ان کے اندر وہ پورے قرآن کی تعلیمات سے خود اختصاص پیدا کرسکتے تھے اور اس قسم کے عمومی اعتراضات وہی عائد کرتا ہے جو مخلص نہ ہو اور پوری طرح چالاک ہو ، جس کی سوچ درست نہ ہو ، مکابرہ کرنے والا ہو اور ہر وقت شبہات ، الفاظ کے ہیر پھیر اور کسی جگہ پر نقب زنی کرنے کا متلاشی ہو۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ نے ہمیشہ ایسی گفتگو سے منع فرمایا ہے جس میں محض دکھاوا ہو ، حقیقت نہ ہو ، اور جس میں صاحب کلام ہر صورت میں کلام ہر صورت میں اپنی بات کو غالب کرنا چاہتا ہو۔ ابن جریر نے ، ابو کریب سے انہوں نے احمد ابن عبد الرحمٰن سے انہوں نے عبادہ ابن عبادہ سے انہوں نے جعفر سے انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور لوگ قرآن کریم میں مباحثہ اور مناظرہ کر رہے تھے۔ آپ کو بہت شدید غصہ آیا۔ گویا آپ کے چہرۂ مبارک پر سرکہ ڈال دیا گیا ہو۔ (ترشہ روئی کا اظہار کیا) اس کے بعد آپ نے فرمایا ” قرآن کے بعض حصوں کو بعض دوسرے حصوں سے نہ ٹکراؤ، کیونکہ لوگ گمراہ تب ہوئے جب ان کے اندر مذہبی جھگڑے اور اختلافات شروع ہوگئے “۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرا احتمال بھی ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” اور وہ کہنے لگے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ؟ “ میں یہ اشارہ ہے کہ ان کے افسانوی عقائد کے مطابق وہ ملائکہ کی پوجا کرتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ ان کی یہ پوجا نصاریٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوجا سے بہتر ہے۔ کیونکہ ملائکہ اپنے مزاج کے اعتبار سے اور ان کے افسانوی خیال کی رو سے خدا کے زیادہ قریب ہیں۔ اس پر یہ تبصرہ ۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اور جس طرح پہلے گزرا یہ ابن الزیعری پر رد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کی عبادت مسیح کی مثال لانا یہاں باطل ہے۔ نصاریٰ کا عمل حجت نہیں ہے کیونکہ وہ تو توحید سے پھرگئے ہیں جس طرح مشرکین توحید سے پھرگئے ہیں۔ لہٰذا دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کے سب گمراہ ہیں۔ بعض مفسرین نے اس طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بھی ایک قریب الفہم تفسیر ہو سکتی ہے۔ اور اس کے بعد حضرت عیسٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جامع تبصرہ ۔ ان ھو الا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلا لبنی اسرائیل (43 : 59) ” ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لئے اسے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا “۔ اور وہ الٰہ نہیں جس کی عبادت کی جائے ، جس طرح نصاریٰ کا ایک گروہ گمراہ ہوا اور اس نے ان کی بندگی شروع کردی۔ وہ تو ایک بندۂ خدا ہیں ان پر اللہ کا انعام ہوگیا ، اور اگر بعض لوگوں نے ان کی بندگی کی ہے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے ان کو رسالت اور معجزات دے کر بنی اسرائیل کے لئے نمونہ قدرت الٰہیہ بنا گیا گیا تھا اور بنی اسرائیل کو چاہئے تھا کہ وہ ان کی پیروی کرتے اور ہدایت حاصل کرتے مگر وہ گمراہ ہوگئے۔ اب بات ان کے عقائد بابت ملائکہ کے موضوع کی طرف آتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فرشتے تو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس زمین میں تمہارا جانشین فرشتوں کو بنا دیں یا بعض لوگوں کو فرشتے بنا دیں جو زمین میں جانشین ہوجائیں۔ ولو نشاء ۔۔۔۔۔ یخلفون (43 : 50) ” اگر اللہ چاہتا تو ملائکہ کو تمہارا خلیفہ بنا دیتا “ ۔ یہ سارے معاملات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اپنی مخلوق کے بارے میں جو چاہے ، کر دے لیکن مخلوق میں سے کوئی اللہ سے نسب نہیں جوڑ سکتا۔ اور نہ اللہ سے مل سکتا ہے سوائے خالق و مخلوق کے تعلق سے یا عہد و معبود کے تعلق سے یا غلام اور مالک کے تعلق سے۔ اس کے بعد کچھ فیصلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق کہ وہ ایک تو قیامت کی نشانی ہیں۔ اس قیامت کی جس کی یہ تکذیب کرتے ہیں یا ان کو اس کے آنے میں شک ہے۔ وانہ لعلم ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 61) ولا یصدنکم ۔۔۔۔۔۔ مبین (43 : 62) ” اور ابن مریم دراصل قیامت کا علم ہے بس تم اس میں شک نہ کرو ، اور میری بات مان لو۔ یہی سیدھا راستہ ہے ، ایسانہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قیامت سے قبل نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے موضوع پر کئی احادیث آئی ہیں۔ یہ قیامت سے قدرے پہلے زمین پر اتریں گے۔ اور اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کا علم ہے “۔ یعنی ان کے آنے سے قرب قیامت کا علم ہوجائے گا اور دوسری قرات یہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کی نشانی ہے “ ۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ تمہارے اندر ابن مریم بطور ایک منصف حاکم نازل ہوں ، وہ صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کردیں گے ، لوگوں پر جزیہ عائد کریں گے اور مال تقسیم کریں گے یہاں تک کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا ، حالت یہ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا (متفق علیہ ، ابو داؤد ، مالک) ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا یہاں تک کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ، مسلمانوں کے امیر ان سے کہیں گے ، آپ ہمیں نماز پڑھائیں ، وہ کہیں گے ، نہیں۔ تم میں سے بعض بعض کے امراء ہوں گے ، اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا ہے “۔ (مسلم ) یہ ایک غیب ہے ، اور اس کی اطلاع ہمیں صادق و امین ﷺ نے دی ہے اور اس طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے ، لہٰذا اس بات میں کوئی انسان کوئی اور بات نہیں کرسکتا صرف وہی بات حق ہے جو ان دو سچے ذرائع سے آئی ہے اور ہمارے لیے سچے مصادر قیامت تک یہی ہیں۔ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم (43 : 61) ” پس تم اس میں شک نہ کرو اور میری بات مانو ، یہی سیدھا راستہ ہے “۔ یہ لوگ قیامت میں شک کرتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دیتا ہے کہ اس پر یقین کرو ، حضور اکرم ﷺ کی زبانی ان کو دعوت یقین دی جاتی ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میں تمہیں سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔ جو بالکل سیدھا اور منزل مقصود تک پہنچنے والا ہے۔ اور اس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں اور راندۂ درگاہ ہوتے ہیں ، وہ شیطان کے اثر سے ہوتے ہیں ، لہٰذا شیطان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے۔ ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (63 : 62) ” ایسا نہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قرآن کریم اس مسلسل معرکہ کی طرف بار بار اشارہ کرتا ہے جو اولاد آدم اور شیطان کے درمیان حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے جاری ہے۔ یہ معرکہ جنت سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اور اس شخص سے بڑا احمق اور غافل اور کون ہوسکتا ہے جسے بار بار متنبہ کیا جائے کہ گھات میں دشمن بیٹھا ہے اور اس نے تمہارا ارادہ کر رکھا ہے اور یہ شخص اس کے برعکس دشمن کا مطیع فرمان بن جائے۔ اسلام نے تو انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں شیطان کے خلاف اس دوامی جنگ میں برسر پیکار رہے اور اس کے ساتھ اس قدر عظیم مال غنیمت کا وعدہ کیا ہے جو کسی بشر کے تصور سے باہر ہے۔ اسلام نے انسانی جنگ کا رخ اس معرکہ خیر و شر کی طرف پھیر دیا جس کی وجہ سے انسان صحیح انسان بنتا ہے اور جس کی وجہ سے تمام مخلوقات میں سے انسان کو ایک ممتاز مخلوق بنایا گیا ہے اور ایک خاص مزاج دیا گیا ہے اور یہاں انسان کا سب سے بڑ انصب العین یہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کھلے دشمن شیطان پر غالب آجائے ، یوں وہ شر ، خباثت اور ہر قسم کی گندگی پر غالب آجائے اور زمین میں خیر کی بنیادیں رکھ دے جن میں لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے اور پاکیزہ زندگی گزاریں گے۔ اس نصیحت کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مزید معلومات کہ وہ کیا پیغام لے کر آئے تھے اور ان سے پہلے نبی اسرائیل کے باہم اختلافات کیا تھا اور بعد میں کیا ہوتا رہا۔ ولما جاء عیسیٰ ۔۔۔۔۔۔ واطیعون (43 : 63) ان اللہ ھو ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 64) فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” اور جب عیسیٰ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں اختلاف کر رہے ہو ، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا بھی۔ اس کی تم عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس تباہی ہے ان لوگوں لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے واضح نشانیاں لے کر آئے تھے۔ یہ نشانیاں وہ معجزات بھی تھے جس صدور آپ کے ہاتھوں پر ہوا۔ اور وہ کلمات اور تقاریر بھی تھیں جو آپ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے کیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا : قد جئتکم بالحکمۃ (43 : 63) ” میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں “ اور جسے حکمت دی گئی وہ گویا خیر کثیر کا مالک بن گیا ۔ وہ لغزش اور بےراہ روی سے امن میں ہوگیا۔ تفریط اور تقصیر سے محفوظ ہوگیا ۔ اور صحیح راستے پر اس کے قدم نہایت ہی توازن اور روشنی میں اٹھنے لگے اور آپ ان کے پاس اس لیے بھی خصوصی طور پر آئے تھے کہ اس وقت مذہبی گروہوں میں جو بہت بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا تھا آپ اسے دور کریں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کے فقہاء نے بےحد اختلاف شروع کردیا تھا۔ وہ فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے۔ آپ نے قوم کو اس طرف بلایا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور آپ نے عقیدۂ توحید تو بڑی وضاحت ، بلاریب اور بغیر کسی التباس اور پیچیدگی کے بیان کیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 64) ” بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے لہٰذا اسی کی بندگی کرو “ نہ آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ الٰہ ہیں اور نہ یہ دعویٰ کیا کہ آپ ابن اللہ ہیں اور آپ نے اپنے کلام میں کسی جگہ ماسوائے تعلق رب اور بندہ اور خالق و مخلوق ، اللہ کے ساتھ کسی اور تعلق کا اشارہ تک نہیں کیا۔ صرف یہی کہا کہ میں رسول ہوں ، صراط مستقیم دے کر بھیجا گیا ہوں ، جس میں کوئی ٹیٹرھ نہیں ہے ، نہ کوئی پھسلن ہے اور نہ کج روی۔ لیکن جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے وہ بھی اسی طرح ٹکڑے اور پارٹیاں بن گئے جس طرح آپ سے پہلے کے لوگ ٹکڑے اور پارٹیاں تھے۔ یہ اختلاف انہوں نے محض ظلم کرتے ہوئے کئے ، اختلافات کے لئے نہ کوئی جواز تھا ، اور نہ شبہ تھا۔ فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم (43 : 65) ” پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی رسالت بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اس دور میں بنی اسرائیل رومیوں کے غلام تھے ، ان کو انتظار تھا کہ نجات دہندہ آئے گا اور ہمیں چھڑائے گا لیکن جب وہ آیا تو انہوں نے اسے پہچاننے سے انکار کردیا اور اس کی دشمنی پر اتر آئے اور انہوں نے اسے سولی پر چڑھانے کی سعی کی۔ جب آپ تشریف لائے تو اس وقت بنی اسرائیل ٹکڑے ٹکڑے تھے ، اہم فرقے چار تھے : 1۔ صدوقی فرقہ : یہ صدوق کی طرف منسوب تھے ، وہ اور اس کے خاندان کے لوگ ہیکل سلیمانی کے کاہن تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہما السلام) کے زمانے سے وہ اس منصب پر تھے۔ شریعت کے مطابق ضروری تھا کہ ان کا نسب ہارون (علیہ السلام) تک پہنچے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی پیغمبر تھے کیونکہ ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہی ہیکل کی متولی تھی۔ یہ لوگ اپنے فرائض کے مطابق عبادات کی ظاہری صورت پر بہت زور دیتے تھے۔ اور کسی قسم کی بدعت کے سخت مخالف تھے جبکہ اپنی شخصی زندگی میں بہت عیاش تھے اور زندگی کے مزے لیتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ قیامت نہیں ہے۔ 2۔ فرسیوں کا فرقہ : یہ صدوقیوں کے سخت خلاف تھے۔ ان کو اعتراض یہ تھا کہ یہ لوگ مذہبی رسومات اور عبادات کی ظاہری شکل پر بہت زور دیتے ہیں اور قیامت اور حساب و کتاب کے منکر ہیں۔ یہ نہایت ہی متقی اور صوفی قسم کے لوگ تھے۔ اگرچہ بعض کے اوپر علمی غرور چھایا ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا علمی غرور پسند نہ تھا۔ نیز آپ کو ان کی لفاظی بھی پسند نہ تھی۔ 3۔ تیسرا فرقہ سامریوں کا تھا : یہ فرقہ یہودیوں اور اشوریوں پر مشتمل تھا۔ اور یہ عہد قدیمہ کی صرف پانچ کتابوں کو مانتا تھا۔ باقی کتب کو بعد کے اضافے سمجھتا تھا۔ یہ پانچ کتابیں موسوی کتب کے نام سے مشہور ہیں جبکہ دوسرے فرقے ساری کتب کو مانتے تھے۔ 4۔ ان کو آسین یا اسینین کہتے تھے۔ یہ لوگ بعض فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اور یہ لوگ دوسرے فرقوں سے علیحدہ رہتے تھے۔ اور اپنے آپ کو نہایت سختی اور تقشف میں رکھتے تھے اور ان کی جماعت بھی تنظیم میں بہت سخت تھی۔ ان چار مشہور فرقوں کے علاوہ بھی بہت سے انفرادی فرقے تھے۔ غرض بنی اسرائیل کے اندر نظریات اور طرز عمل کا سخت اختلاف و انتشار تھا۔ جن پر رومی شہنشاہیت کا سخت دباؤ تھا۔ اور پوری قوم سخت ذلت اور غلامی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ یہ منظر تھا جس میں ایک نجات دہندہ کی پیشین گوئی کتابوں کی گئی تھی کہ وہ آئے گا اور ہمیں نجات دلائے گا۔ جب حضرت مسیح عقیدۂ توحید کے ساتھ بھیجے گئے اور انہوں نے اعلان کردیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 63) ” کہ اللہ میرا بھی رب ہے ، اور تمہارا بھی رب ہے ، لہٰذا اس کی عبادت کرو “۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے ایسی شریعت پیش کی جس میں رواداری اور روحانی اصلاح پر اور عبادات کی ظاہری صورت کی بجائے عبادات کے روحانی پہلو پر زور دیا گیا تھا تو ان فقہاء اور فرسیوں نے آپ کا مقابلہ کیا کیونکہ یہ لوگ عبادات کی ظاہری شکلوں ہی پر زور دیتے تھے۔ ان لوگوں کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا ، ان میں سے آپ کے بعض اقوال نہایت ہی موثر ہیں مثلاً ” یہ لوگ بڑے بڑے بھاری بوجھ باندھتے ہیں اور لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کو اپنے کاندھوں پر اٹھائیں اور خود اپنی انگلی بھی آگے نہیں بڑھاتے کہ اس بوجھ کو جگہ سے ہلا دیں۔ وہ جو کام بھی کرتے ہیں ، اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ اسے دیکھیں۔ اور اپنے کپڑوں کے دامن لمبے کرتے ہیں اور دعوتوں میں اول مقام پر بیٹھتے ہیں اور جلسوں میں پہلی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں اور بازاروں میں پھر کر سلام وصول کرتے ہیں اور یہ پسند کرتے ہیں کہ انہیں پکارا جائے ، ” سیدی سیدی “ کہ کر جہاں بھی وہ جائیں “۔ اور فرسیوں اور فقیہوں سے کہتے ہیں ” اے اندھے قائدین ! تم مچھر چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو ، تم پیالے اور تھالی کے ظاہری حصے کو خوب صاف کرتے ہو لیکن ان کے اندر گندگی اور بدکاری ہوتی ہے ، اے لکھنے والے مفتیان کرام اور دھاوا کرنے والے فقہاء ، تمہاری مثال یوں ہے جس طرح ایک چونا گچ کی سفید قبر ، جس کا ظاہری حصہ خوبصورت اور ملمع شدہ ہے اور اندر بوسیدہ ہڈیاں ہیں “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان کلمات کو پڑھو اور خود اپنے دور کے علماء اور مفتیان کرام کو دیکھو ، کیا یہی الفاظ ان پر صادق نہیں آتے ، دین کی تحریف کرنے والے ، رسومات کے پجاری ، ظاہر پرست اور دکھاوا کرنے والے۔ اس کے بعد حضرت مسیح اپنے رب کے پاس چلے گئے۔ اس طرح آپ کے پیرو کاروں کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے۔ یہ اس طرح فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ بعض نے خود ان کو الٰہ بنا دیا۔ بعض نے اللہ کا بیٹا بنا لیا۔ بعض نے ثالث ثلاثہ کہا اور وہ کلمہ توحید ان سے گم ہوگیا جس کی دعوت لے کر آپ اس لیے تشریف لائے تھے کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور دین اللہ کے لئے خالص کردیں۔ فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک عذاب کے دن کی “۔ مشرکین عرب آئے اور انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مجادلہ شروع کردیا۔ اس وجہ سے کہ پیروکار ان مسیح نے آپ کے بعد گل کھلائے تھے اور آپ کے بارے میں بیشمار افسانے گھڑ لیے تھے۔ ٭٭٭

الزخرف 43:64

درس نمبر 233 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ بھی جہنم میں ہوں گے۔ غرض ان سے جب یہ کہا گیا کہ عابدو معبود دونوں جہنم میں ہوں گے۔ جب ان سے یہ کہا گیا تو بعض لوگوں نے عیسیٰ ابن مریم کی مثال دی کہ بعض گمراہ عیسائی ان کی بندگی کرتے تھے۔ یہ ان کی طرف سے محض ایک کج بحثی تھی۔ پھر وہ کہتے تھے کہ جب اہل کتاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بندگی کرتے ہیں تو ان سے ہم بہتر ہیں کہ ہم فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ یہ استدلال بناء الباطل علی الباطل کی بہترین مثال تھا۔ اس بنا پر یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت کیا ہے۔ آپ کی دعوت کیا تھی۔ اور ان سے پہلے بنی اسرائیل میں کیا اختلافات تھے اور ان کے بعد کیا اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد تمام بد عقیدہ اور مشرکانہ خیالات رکھنے والوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اچانک قیامت آجائے گی اور پھر حالت کیا ہوگی ؟ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں ایک جھلک ان نعمتوں کی ہے جو متقین کے لئے تیار کی گئی ہیں اور ایک جھلک اس دردناک عذاب کی ہے جو مجرمین کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس سبق میں فرشتوں کے بارے میں عربوں کے اس افسانے کو بھی رد کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ پاک ان باتوں سے بری ہے جو یہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس مناسب سے اللہ کی بعض صفات کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ زمین و آسمان اور دنیا و آخرت کا مطلق مالک ہے اور سب لوگوں نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ ان کو نظر انداز کردیں ، ان سے منہ پھیر لیں اور ان کو کرتے دیں جو کرتے ہیں۔ عنقریب ان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور یہ ایک ایسی بالواسطہ دھمکی ہے جو ان لوگوں کے لئے مناسبت ہے جو محض دکھاوے کے لئے کٹ حجتی کرنے میں ، احقاق حق کے لئے بات نہیں کرتے۔ ٭٭٭ درس نمبر 233 تشریح آیات 57 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 89 آیت نمبر 57 تا 65 ابن اسحاق نے سیرۃ میں لکھا ہے کہ جس طرح مجھ تک یہ بات پہنچی ، حضور اکرم ﷺ حرم میں ولید ابن مغیرہ کے پاس بیٹھے تھے ، نضر ابن الحارث بھی آیا اور وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ مجلس میں قریش کے کئی اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ بات کی۔ نضر ابن حارث نے کچھ اعتراض کیا ، تو حضور ﷺ نے اس کو خاموش کرا دیا۔ اس کے بعد ان پر یہ آیت پڑھی۔ انکم وما تعبدون ۔۔۔۔۔۔ لھا واردون (21 : 98) ” تم اور جن بتوں کو تم پوجا کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہیں۔ تم اس جہنم میں پہنچنے والے ہو۔۔۔۔ “۔ رسول اللہ ﷺ اس مجلس سے اٹھ گئے اور عبد اللہ ابن الزیعری تمیمی آیا اور مجلس میں بیٹھ گیا تو ولید ابن مغیرہ نے کہا : ” خدا کی قسم نضر ابن الحارث کا کھڑا ہونا تھا کہ عبد المطلب کے بیٹے اٹھ کر چلے گئے۔ محمد ﷺ کا خیال یہ ہے کہ ہم اور ہمارے سب معبود جہنم کا ایندھن ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن الزیعری نے کہا ، خدا کی قسم اگر مجھے ملے تو میں اس کے ساتھ جھگڑا کروں گا۔ تم محمد ﷺ سے پوچھو کیا وہ تمام معبود جن کی عبادت کی جاتی ہے ، اپنے عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ ہم تو ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہودی عزیر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاریٰ مسیح ابن مریم کی عبادت کرتے ہیں تو ولید اور اہل مجلس ، عبد اللہ ابن زیعری کی بات سے بےحد متاثر ہوئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اس نے خوب دلیل پیش کی اور مباحثہ کیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا :” جس نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ اللہ کے سوا پوجا جائے تو بیشک وہ ان لوگوں کے ساتھ جہنم میں ہوگا جنہوں نے اسے پوجا۔ یہ لوگ دراصل شیطان کی عبادت کرتے ہیں جس نے ان کو ان بزرگوں کی بندگی کا حکم دیا ہے “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان الذین سبقت ۔۔۔۔۔ مبعدون (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہوگا تو وہ یقیناً اس سے دور رکھے جائیں گے “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عزیر (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ پوجے جانے والے دوسرے احبار اور رہبان ۔ جو اللہ کی عبادت پر قائم رہے اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے ان کی عبادت شروع کردی اور ان کو ارباب من دون اللہ بنا دیا۔ اور یہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں بات کی گئی کہ ان کو بھی من دون اللہ عبادت کی جاتی ہے اور ولید اور دوسرے اہل مجلس اس سے متاثر ہوئے تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ولما ضرب ۔۔۔۔۔۔۔ منہ یصدون (43 : 57) ” جب ان مریم کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم نے اچانک غل مچا دیا “۔ یصدون کے معنی ہیں یصدون عن امرک یعنی تمہاری دعوت سے روکتے رہیں۔۔۔۔ “۔ علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سامنے یہ آیت پڑھی انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم (21 : 98) ” تم اور تمہارے معبود جہنم کا ایندھن ہوں گے اور سب نے اس میں جانا ہے “۔ تو اس پر اہل قریش سخت برہم ہوئے ۔ عبد اللہ ابن زیعری نے پوچھا محمد ، یہ حکم صرف ہمارے معبدوں اور ہمارے بارے میں ہے یا دوسری ملتوں کے بارے بھی ہے ۔ آپ نے فرمایا ” یہ تمہارے لیے تمہارے الہوں کے لئے اور تمام اقوام کے لئے ہے “۔ تو اس نے کہا ، رب کعبہ کی قسم میں نے تمہیں شکست دے دی۔ کیا تم یقین نہیں کرتے کہ عیسیٰ ابن مریم نبی ہیں اور تم ان کے اور ان کی والدہ کے بارے میں اچھی باتیں کرتے ہو ، اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ نصاری ان کی عبادت کرتے ہیں اور عزیر کی بھی یہودی بندگی کرتے ہیں ، ملائکہ کی بھی بندگی کی جاتی ہے۔ اگر یہ سب لوگگ جہنم میں خاموش ہو تو اپنے الہوں کے ساتھ جہنم میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس پر وہ بہت ہنسے اور خوش ہوئے ۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نال بات ہوئی : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہمارے طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہوگا “۔ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ جب عبد اللہ ابن الزیعری نے عیسیٰ بن مریم کی مثال دی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مباحثہ کیا کہ نصاریٰ بھی تو عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں تو اچانک تمہاری قوم اہل قریش نے شوروغل مچانا شروع کردیا۔ اور یہ انہوں نے اس لیے کیا کہ وہ اس دلیل پر بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو زیعری نے خاموش کردیا تھا۔ جس طرح بعض اوقات بےدلیل لوگ جب بحث میں ہار جاتے ہیں اور اچانک ان کو کوئی دلیل مل جاتی ہے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ لفظ یصدون کے معنی تو ہیں شور کرنا۔ لیکن جنہوں نے اسے یصدون (حرف صاد پر پیش کے ساتھ ) پڑھا ہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ حق سے منہ موڑتے ہیں ، اعراض کرتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یصدون الصدید سے ہے جس کے معنی مقابلہ اور کٹ جانے کے ہیں۔ یصدون اور یصدون دونوں طرح آتا ہے جس طرح یعکف اور یعکف آتا ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ”۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہارے نزدیک ہمارے الٰہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے اچھے اور بہتر نہیں ؟ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) جہنم کا ایندھن ہیں تو پھر ہمارے الہٰوں کا معاملہ آسان ہے۔ یہ تھی صاحب کشاف کی روایت ، معلوم نہیں انہوں نے کس سے اخذ کی ہے لیکن اپنے عمومی مضمون میں یہ ابن اسحاق کی روایت کے ساتھ متفق ہے۔ دونوں روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس جدل وجدال میں محض ظاہری اور لفظی کج بحثی سے کام لیتے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے۔ بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ “ ۔ یہ جھگڑتے ہیں اور تنقید کرنے میں بہت ماہر ہیں ، مناظرہ باز ہیں۔ ان کو پہلے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ار رسول اللہ ﷺ کی مراد کیا ، اس کے بعد وہ مفہوم کو توڑ مروڑ کر اپنی مراد پر لاتے ہیں اور پھر اعتراض کرتے ہیں اور الفاظ کے عموم کو لے کر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ ان کے اندر وہ پورے قرآن کی تعلیمات سے خود اختصاص پیدا کرسکتے تھے اور اس قسم کے عمومی اعتراضات وہی عائد کرتا ہے جو مخلص نہ ہو اور پوری طرح چالاک ہو ، جس کی سوچ درست نہ ہو ، مکابرہ کرنے والا ہو اور ہر وقت شبہات ، الفاظ کے ہیر پھیر اور کسی جگہ پر نقب زنی کرنے کا متلاشی ہو۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ نے ہمیشہ ایسی گفتگو سے منع فرمایا ہے جس میں محض دکھاوا ہو ، حقیقت نہ ہو ، اور جس میں صاحب کلام ہر صورت میں کلام ہر صورت میں اپنی بات کو غالب کرنا چاہتا ہو۔ ابن جریر نے ، ابو کریب سے انہوں نے احمد ابن عبد الرحمٰن سے انہوں نے عبادہ ابن عبادہ سے انہوں نے جعفر سے انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور لوگ قرآن کریم میں مباحثہ اور مناظرہ کر رہے تھے۔ آپ کو بہت شدید غصہ آیا۔ گویا آپ کے چہرۂ مبارک پر سرکہ ڈال دیا گیا ہو۔ (ترشہ روئی کا اظہار کیا) اس کے بعد آپ نے فرمایا ” قرآن کے بعض حصوں کو بعض دوسرے حصوں سے نہ ٹکراؤ، کیونکہ لوگ گمراہ تب ہوئے جب ان کے اندر مذہبی جھگڑے اور اختلافات شروع ہوگئے “۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرا احتمال بھی ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” اور وہ کہنے لگے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ؟ “ میں یہ اشارہ ہے کہ ان کے افسانوی عقائد کے مطابق وہ ملائکہ کی پوجا کرتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ ان کی یہ پوجا نصاریٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوجا سے بہتر ہے۔ کیونکہ ملائکہ اپنے مزاج کے اعتبار سے اور ان کے افسانوی خیال کی رو سے خدا کے زیادہ قریب ہیں۔ اس پر یہ تبصرہ ۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اور جس طرح پہلے گزرا یہ ابن الزیعری پر رد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کی عبادت مسیح کی مثال لانا یہاں باطل ہے۔ نصاریٰ کا عمل حجت نہیں ہے کیونکہ وہ تو توحید سے پھرگئے ہیں جس طرح مشرکین توحید سے پھرگئے ہیں۔ لہٰذا دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کے سب گمراہ ہیں۔ بعض مفسرین نے اس طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بھی ایک قریب الفہم تفسیر ہو سکتی ہے۔ اور اس کے بعد حضرت عیسٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جامع تبصرہ ۔ ان ھو الا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلا لبنی اسرائیل (43 : 59) ” ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لئے اسے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا “۔ اور وہ الٰہ نہیں جس کی عبادت کی جائے ، جس طرح نصاریٰ کا ایک گروہ گمراہ ہوا اور اس نے ان کی بندگی شروع کردی۔ وہ تو ایک بندۂ خدا ہیں ان پر اللہ کا انعام ہوگیا ، اور اگر بعض لوگوں نے ان کی بندگی کی ہے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے ان کو رسالت اور معجزات دے کر بنی اسرائیل کے لئے نمونہ قدرت الٰہیہ بنا گیا گیا تھا اور بنی اسرائیل کو چاہئے تھا کہ وہ ان کی پیروی کرتے اور ہدایت حاصل کرتے مگر وہ گمراہ ہوگئے۔ اب بات ان کے عقائد بابت ملائکہ کے موضوع کی طرف آتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فرشتے تو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس زمین میں تمہارا جانشین فرشتوں کو بنا دیں یا بعض لوگوں کو فرشتے بنا دیں جو زمین میں جانشین ہوجائیں۔ ولو نشاء ۔۔۔۔۔ یخلفون (43 : 50) ” اگر اللہ چاہتا تو ملائکہ کو تمہارا خلیفہ بنا دیتا “ ۔ یہ سارے معاملات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اپنی مخلوق کے بارے میں جو چاہے ، کر دے لیکن مخلوق میں سے کوئی اللہ سے نسب نہیں جوڑ سکتا۔ اور نہ اللہ سے مل سکتا ہے سوائے خالق و مخلوق کے تعلق سے یا عہد و معبود کے تعلق سے یا غلام اور مالک کے تعلق سے۔ اس کے بعد کچھ فیصلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق کہ وہ ایک تو قیامت کی نشانی ہیں۔ اس قیامت کی جس کی یہ تکذیب کرتے ہیں یا ان کو اس کے آنے میں شک ہے۔ وانہ لعلم ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 61) ولا یصدنکم ۔۔۔۔۔۔ مبین (43 : 62) ” اور ابن مریم دراصل قیامت کا علم ہے بس تم اس میں شک نہ کرو ، اور میری بات مان لو۔ یہی سیدھا راستہ ہے ، ایسانہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قیامت سے قبل نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے موضوع پر کئی احادیث آئی ہیں۔ یہ قیامت سے قدرے پہلے زمین پر اتریں گے۔ اور اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کا علم ہے “۔ یعنی ان کے آنے سے قرب قیامت کا علم ہوجائے گا اور دوسری قرات یہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کی نشانی ہے “ ۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ تمہارے اندر ابن مریم بطور ایک منصف حاکم نازل ہوں ، وہ صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کردیں گے ، لوگوں پر جزیہ عائد کریں گے اور مال تقسیم کریں گے یہاں تک کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا ، حالت یہ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا (متفق علیہ ، ابو داؤد ، مالک) ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا یہاں تک کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ، مسلمانوں کے امیر ان سے کہیں گے ، آپ ہمیں نماز پڑھائیں ، وہ کہیں گے ، نہیں۔ تم میں سے بعض بعض کے امراء ہوں گے ، اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا ہے “۔ (مسلم ) یہ ایک غیب ہے ، اور اس کی اطلاع ہمیں صادق و امین ﷺ نے دی ہے اور اس طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے ، لہٰذا اس بات میں کوئی انسان کوئی اور بات نہیں کرسکتا صرف وہی بات حق ہے جو ان دو سچے ذرائع سے آئی ہے اور ہمارے لیے سچے مصادر قیامت تک یہی ہیں۔ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم (43 : 61) ” پس تم اس میں شک نہ کرو اور میری بات مانو ، یہی سیدھا راستہ ہے “۔ یہ لوگ قیامت میں شک کرتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دیتا ہے کہ اس پر یقین کرو ، حضور اکرم ﷺ کی زبانی ان کو دعوت یقین دی جاتی ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میں تمہیں سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔ جو بالکل سیدھا اور منزل مقصود تک پہنچنے والا ہے۔ اور اس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں اور راندۂ درگاہ ہوتے ہیں ، وہ شیطان کے اثر سے ہوتے ہیں ، لہٰذا شیطان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے۔ ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (63 : 62) ” ایسا نہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قرآن کریم اس مسلسل معرکہ کی طرف بار بار اشارہ کرتا ہے جو اولاد آدم اور شیطان کے درمیان حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے جاری ہے۔ یہ معرکہ جنت سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اور اس شخص سے بڑا احمق اور غافل اور کون ہوسکتا ہے جسے بار بار متنبہ کیا جائے کہ گھات میں دشمن بیٹھا ہے اور اس نے تمہارا ارادہ کر رکھا ہے اور یہ شخص اس کے برعکس دشمن کا مطیع فرمان بن جائے۔ اسلام نے تو انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں شیطان کے خلاف اس دوامی جنگ میں برسر پیکار رہے اور اس کے ساتھ اس قدر عظیم مال غنیمت کا وعدہ کیا ہے جو کسی بشر کے تصور سے باہر ہے۔ اسلام نے انسانی جنگ کا رخ اس معرکہ خیر و شر کی طرف پھیر دیا جس کی وجہ سے انسان صحیح انسان بنتا ہے اور جس کی وجہ سے تمام مخلوقات میں سے انسان کو ایک ممتاز مخلوق بنایا گیا ہے اور ایک خاص مزاج دیا گیا ہے اور یہاں انسان کا سب سے بڑ انصب العین یہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کھلے دشمن شیطان پر غالب آجائے ، یوں وہ شر ، خباثت اور ہر قسم کی گندگی پر غالب آجائے اور زمین میں خیر کی بنیادیں رکھ دے جن میں لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے اور پاکیزہ زندگی گزاریں گے۔ اس نصیحت کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مزید معلومات کہ وہ کیا پیغام لے کر آئے تھے اور ان سے پہلے نبی اسرائیل کے باہم اختلافات کیا تھا اور بعد میں کیا ہوتا رہا۔ ولما جاء عیسیٰ ۔۔۔۔۔۔ واطیعون (43 : 63) ان اللہ ھو ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 64) فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” اور جب عیسیٰ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں اختلاف کر رہے ہو ، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا بھی۔ اس کی تم عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس تباہی ہے ان لوگوں لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے واضح نشانیاں لے کر آئے تھے۔ یہ نشانیاں وہ معجزات بھی تھے جس صدور آپ کے ہاتھوں پر ہوا۔ اور وہ کلمات اور تقاریر بھی تھیں جو آپ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے کیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا : قد جئتکم بالحکمۃ (43 : 63) ” میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں “ اور جسے حکمت دی گئی وہ گویا خیر کثیر کا مالک بن گیا ۔ وہ لغزش اور بےراہ روی سے امن میں ہوگیا۔ تفریط اور تقصیر سے محفوظ ہوگیا ۔ اور صحیح راستے پر اس کے قدم نہایت ہی توازن اور روشنی میں اٹھنے لگے اور آپ ان کے پاس اس لیے بھی خصوصی طور پر آئے تھے کہ اس وقت مذہبی گروہوں میں جو بہت بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا تھا آپ اسے دور کریں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کے فقہاء نے بےحد اختلاف شروع کردیا تھا۔ وہ فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے۔ آپ نے قوم کو اس طرف بلایا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور آپ نے عقیدۂ توحید تو بڑی وضاحت ، بلاریب اور بغیر کسی التباس اور پیچیدگی کے بیان کیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 64) ” بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے لہٰذا اسی کی بندگی کرو “ نہ آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ الٰہ ہیں اور نہ یہ دعویٰ کیا کہ آپ ابن اللہ ہیں اور آپ نے اپنے کلام میں کسی جگہ ماسوائے تعلق رب اور بندہ اور خالق و مخلوق ، اللہ کے ساتھ کسی اور تعلق کا اشارہ تک نہیں کیا۔ صرف یہی کہا کہ میں رسول ہوں ، صراط مستقیم دے کر بھیجا گیا ہوں ، جس میں کوئی ٹیٹرھ نہیں ہے ، نہ کوئی پھسلن ہے اور نہ کج روی۔ لیکن جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے وہ بھی اسی طرح ٹکڑے اور پارٹیاں بن گئے جس طرح آپ سے پہلے کے لوگ ٹکڑے اور پارٹیاں تھے۔ یہ اختلاف انہوں نے محض ظلم کرتے ہوئے کئے ، اختلافات کے لئے نہ کوئی جواز تھا ، اور نہ شبہ تھا۔ فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم (43 : 65) ” پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی رسالت بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اس دور میں بنی اسرائیل رومیوں کے غلام تھے ، ان کو انتظار تھا کہ نجات دہندہ آئے گا اور ہمیں چھڑائے گا لیکن جب وہ آیا تو انہوں نے اسے پہچاننے سے انکار کردیا اور اس کی دشمنی پر اتر آئے اور انہوں نے اسے سولی پر چڑھانے کی سعی کی۔ جب آپ تشریف لائے تو اس وقت بنی اسرائیل ٹکڑے ٹکڑے تھے ، اہم فرقے چار تھے : 1۔ صدوقی فرقہ : یہ صدوق کی طرف منسوب تھے ، وہ اور اس کے خاندان کے لوگ ہیکل سلیمانی کے کاہن تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہما السلام) کے زمانے سے وہ اس منصب پر تھے۔ شریعت کے مطابق ضروری تھا کہ ان کا نسب ہارون (علیہ السلام) تک پہنچے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی پیغمبر تھے کیونکہ ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہی ہیکل کی متولی تھی۔ یہ لوگ اپنے فرائض کے مطابق عبادات کی ظاہری صورت پر بہت زور دیتے تھے۔ اور کسی قسم کی بدعت کے سخت مخالف تھے جبکہ اپنی شخصی زندگی میں بہت عیاش تھے اور زندگی کے مزے لیتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ قیامت نہیں ہے۔ 2۔ فرسیوں کا فرقہ : یہ صدوقیوں کے سخت خلاف تھے۔ ان کو اعتراض یہ تھا کہ یہ لوگ مذہبی رسومات اور عبادات کی ظاہری شکل پر بہت زور دیتے ہیں اور قیامت اور حساب و کتاب کے منکر ہیں۔ یہ نہایت ہی متقی اور صوفی قسم کے لوگ تھے۔ اگرچہ بعض کے اوپر علمی غرور چھایا ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا علمی غرور پسند نہ تھا۔ نیز آپ کو ان کی لفاظی بھی پسند نہ تھی۔ 3۔ تیسرا فرقہ سامریوں کا تھا : یہ فرقہ یہودیوں اور اشوریوں پر مشتمل تھا۔ اور یہ عہد قدیمہ کی صرف پانچ کتابوں کو مانتا تھا۔ باقی کتب کو بعد کے اضافے سمجھتا تھا۔ یہ پانچ کتابیں موسوی کتب کے نام سے مشہور ہیں جبکہ دوسرے فرقے ساری کتب کو مانتے تھے۔ 4۔ ان کو آسین یا اسینین کہتے تھے۔ یہ لوگ بعض فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اور یہ لوگ دوسرے فرقوں سے علیحدہ رہتے تھے۔ اور اپنے آپ کو نہایت سختی اور تقشف میں رکھتے تھے اور ان کی جماعت بھی تنظیم میں بہت سخت تھی۔ ان چار مشہور فرقوں کے علاوہ بھی بہت سے انفرادی فرقے تھے۔ غرض بنی اسرائیل کے اندر نظریات اور طرز عمل کا سخت اختلاف و انتشار تھا۔ جن پر رومی شہنشاہیت کا سخت دباؤ تھا۔ اور پوری قوم سخت ذلت اور غلامی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ یہ منظر تھا جس میں ایک نجات دہندہ کی پیشین گوئی کتابوں کی گئی تھی کہ وہ آئے گا اور ہمیں نجات دلائے گا۔ جب حضرت مسیح عقیدۂ توحید کے ساتھ بھیجے گئے اور انہوں نے اعلان کردیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 63) ” کہ اللہ میرا بھی رب ہے ، اور تمہارا بھی رب ہے ، لہٰذا اس کی عبادت کرو “۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے ایسی شریعت پیش کی جس میں رواداری اور روحانی اصلاح پر اور عبادات کی ظاہری صورت کی بجائے عبادات کے روحانی پہلو پر زور دیا گیا تھا تو ان فقہاء اور فرسیوں نے آپ کا مقابلہ کیا کیونکہ یہ لوگ عبادات کی ظاہری شکلوں ہی پر زور دیتے تھے۔ ان لوگوں کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا ، ان میں سے آپ کے بعض اقوال نہایت ہی موثر ہیں مثلاً ” یہ لوگ بڑے بڑے بھاری بوجھ باندھتے ہیں اور لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کو اپنے کاندھوں پر اٹھائیں اور خود اپنی انگلی بھی آگے نہیں بڑھاتے کہ اس بوجھ کو جگہ سے ہلا دیں۔ وہ جو کام بھی کرتے ہیں ، اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ اسے دیکھیں۔ اور اپنے کپڑوں کے دامن لمبے کرتے ہیں اور دعوتوں میں اول مقام پر بیٹھتے ہیں اور جلسوں میں پہلی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں اور بازاروں میں پھر کر سلام وصول کرتے ہیں اور یہ پسند کرتے ہیں کہ انہیں پکارا جائے ، ” سیدی سیدی “ کہ کر جہاں بھی وہ جائیں “۔ اور فرسیوں اور فقیہوں سے کہتے ہیں ” اے اندھے قائدین ! تم مچھر چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو ، تم پیالے اور تھالی کے ظاہری حصے کو خوب صاف کرتے ہو لیکن ان کے اندر گندگی اور بدکاری ہوتی ہے ، اے لکھنے والے مفتیان کرام اور دھاوا کرنے والے فقہاء ، تمہاری مثال یوں ہے جس طرح ایک چونا گچ کی سفید قبر ، جس کا ظاہری حصہ خوبصورت اور ملمع شدہ ہے اور اندر بوسیدہ ہڈیاں ہیں “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان کلمات کو پڑھو اور خود اپنے دور کے علماء اور مفتیان کرام کو دیکھو ، کیا یہی الفاظ ان پر صادق نہیں آتے ، دین کی تحریف کرنے والے ، رسومات کے پجاری ، ظاہر پرست اور دکھاوا کرنے والے۔ اس کے بعد حضرت مسیح اپنے رب کے پاس چلے گئے۔ اس طرح آپ کے پیرو کاروں کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے۔ یہ اس طرح فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ بعض نے خود ان کو الٰہ بنا دیا۔ بعض نے اللہ کا بیٹا بنا لیا۔ بعض نے ثالث ثلاثہ کہا اور وہ کلمہ توحید ان سے گم ہوگیا جس کی دعوت لے کر آپ اس لیے تشریف لائے تھے کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور دین اللہ کے لئے خالص کردیں۔ فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک عذاب کے دن کی “۔ مشرکین عرب آئے اور انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مجادلہ شروع کردیا۔ اس وجہ سے کہ پیروکار ان مسیح نے آپ کے بعد گل کھلائے تھے اور آپ کے بارے میں بیشمار افسانے گھڑ لیے تھے۔ ٭٭٭

الزخرف 43:65

درس نمبر 233 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس کا موضوع بھی عربوں کے افسانوی عقائد ہیں ، یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ہم ان کی بندگی کرتے ہیں ، یہاں ایک استدلال نقل کیا جاتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے واہی تباہی عقائد کی مدافعت میں پیش کیا کرتے تھے۔ یہ استدلال وہ اس نیت سے نہ کرتے تھے کہ وہ سچائی کے متلاشی تھے ، یہ محض دکھاوا اور دھوکہ تھا۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم اور جن بتوں کی تم بندگی کرتے ہو ، وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ مراد تو یہ تھی کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہو ، خواہ وہ فرشتوں کے نام سے ہیں یا کسی اور کے نام کے۔ مراد یہ نہ تھی کہ جن کے نام سے تم بتوں کو منسوب کرتے ہو ، وہ بھی جہنم میں ہوں گے۔ غرض ان سے جب یہ کہا گیا کہ عابدو معبود دونوں جہنم میں ہوں گے۔ جب ان سے یہ کہا گیا تو بعض لوگوں نے عیسیٰ ابن مریم کی مثال دی کہ بعض گمراہ عیسائی ان کی بندگی کرتے تھے۔ یہ ان کی طرف سے محض ایک کج بحثی تھی۔ پھر وہ کہتے تھے کہ جب اہل کتاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بندگی کرتے ہیں تو ان سے ہم بہتر ہیں کہ ہم فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ یہ استدلال بناء الباطل علی الباطل کی بہترین مثال تھا۔ اس بنا پر یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت کیا ہے۔ آپ کی دعوت کیا تھی۔ اور ان سے پہلے بنی اسرائیل میں کیا اختلافات تھے اور ان کے بعد کیا اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد تمام بد عقیدہ اور مشرکانہ خیالات رکھنے والوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اچانک قیامت آجائے گی اور پھر حالت کیا ہوگی ؟ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے جس میں ایک جھلک ان نعمتوں کی ہے جو متقین کے لئے تیار کی گئی ہیں اور ایک جھلک اس دردناک عذاب کی ہے جو مجرمین کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس سبق میں فرشتوں کے بارے میں عربوں کے اس افسانے کو بھی رد کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ پاک ان باتوں سے بری ہے جو یہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس مناسب سے اللہ کی بعض صفات کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ زمین و آسمان اور دنیا و آخرت کا مطلق مالک ہے اور سب لوگوں نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ ان کو نظر انداز کردیں ، ان سے منہ پھیر لیں اور ان کو کرتے دیں جو کرتے ہیں۔ عنقریب ان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور یہ ایک ایسی بالواسطہ دھمکی ہے جو ان لوگوں کے لئے مناسبت ہے جو محض دکھاوے کے لئے کٹ حجتی کرنے میں ، احقاق حق کے لئے بات نہیں کرتے۔ ٭٭٭ درس نمبر 233 تشریح آیات 57 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 89 آیت نمبر 57 تا 65 ابن اسحاق نے سیرۃ میں لکھا ہے کہ جس طرح مجھ تک یہ بات پہنچی ، حضور اکرم ﷺ حرم میں ولید ابن مغیرہ کے پاس بیٹھے تھے ، نضر ابن الحارث بھی آیا اور وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ مجلس میں قریش کے کئی اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ بات کی۔ نضر ابن حارث نے کچھ اعتراض کیا ، تو حضور ﷺ نے اس کو خاموش کرا دیا۔ اس کے بعد ان پر یہ آیت پڑھی۔ انکم وما تعبدون ۔۔۔۔۔۔ لھا واردون (21 : 98) ” تم اور جن بتوں کو تم پوجا کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہیں۔ تم اس جہنم میں پہنچنے والے ہو۔۔۔۔ “۔ رسول اللہ ﷺ اس مجلس سے اٹھ گئے اور عبد اللہ ابن الزیعری تمیمی آیا اور مجلس میں بیٹھ گیا تو ولید ابن مغیرہ نے کہا : ” خدا کی قسم نضر ابن الحارث کا کھڑا ہونا تھا کہ عبد المطلب کے بیٹے اٹھ کر چلے گئے۔ محمد ﷺ کا خیال یہ ہے کہ ہم اور ہمارے سب معبود جہنم کا ایندھن ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن الزیعری نے کہا ، خدا کی قسم اگر مجھے ملے تو میں اس کے ساتھ جھگڑا کروں گا۔ تم محمد ﷺ سے پوچھو کیا وہ تمام معبود جن کی عبادت کی جاتی ہے ، اپنے عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ ہم تو ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہودی عزیر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاریٰ مسیح ابن مریم کی عبادت کرتے ہیں تو ولید اور اہل مجلس ، عبد اللہ ابن زیعری کی بات سے بےحد متاثر ہوئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اس نے خوب دلیل پیش کی اور مباحثہ کیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا :” جس نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ اللہ کے سوا پوجا جائے تو بیشک وہ ان لوگوں کے ساتھ جہنم میں ہوگا جنہوں نے اسے پوجا۔ یہ لوگ دراصل شیطان کی عبادت کرتے ہیں جس نے ان کو ان بزرگوں کی بندگی کا حکم دیا ہے “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان الذین سبقت ۔۔۔۔۔ مبعدون (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہوگا تو وہ یقیناً اس سے دور رکھے جائیں گے “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عزیر (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ پوجے جانے والے دوسرے احبار اور رہبان ۔ جو اللہ کی عبادت پر قائم رہے اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے ان کی عبادت شروع کردی اور ان کو ارباب من دون اللہ بنا دیا۔ اور یہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں بات کی گئی کہ ان کو بھی من دون اللہ عبادت کی جاتی ہے اور ولید اور دوسرے اہل مجلس اس سے متاثر ہوئے تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ولما ضرب ۔۔۔۔۔۔۔ منہ یصدون (43 : 57) ” جب ان مریم کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم نے اچانک غل مچا دیا “۔ یصدون کے معنی ہیں یصدون عن امرک یعنی تمہاری دعوت سے روکتے رہیں۔۔۔۔ “۔ علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سامنے یہ آیت پڑھی انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم (21 : 98) ” تم اور تمہارے معبود جہنم کا ایندھن ہوں گے اور سب نے اس میں جانا ہے “۔ تو اس پر اہل قریش سخت برہم ہوئے ۔ عبد اللہ ابن زیعری نے پوچھا محمد ، یہ حکم صرف ہمارے معبدوں اور ہمارے بارے میں ہے یا دوسری ملتوں کے بارے بھی ہے ۔ آپ نے فرمایا ” یہ تمہارے لیے تمہارے الہوں کے لئے اور تمام اقوام کے لئے ہے “۔ تو اس نے کہا ، رب کعبہ کی قسم میں نے تمہیں شکست دے دی۔ کیا تم یقین نہیں کرتے کہ عیسیٰ ابن مریم نبی ہیں اور تم ان کے اور ان کی والدہ کے بارے میں اچھی باتیں کرتے ہو ، اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ نصاری ان کی عبادت کرتے ہیں اور عزیر کی بھی یہودی بندگی کرتے ہیں ، ملائکہ کی بھی بندگی کی جاتی ہے۔ اگر یہ سب لوگگ جہنم میں خاموش ہو تو اپنے الہوں کے ساتھ جہنم میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس پر وہ بہت ہنسے اور خوش ہوئے ۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نال بات ہوئی : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی (21 : 101) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہمارے طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہوگا “۔ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ جب عبد اللہ ابن الزیعری نے عیسیٰ بن مریم کی مثال دی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مباحثہ کیا کہ نصاریٰ بھی تو عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں تو اچانک تمہاری قوم اہل قریش نے شوروغل مچانا شروع کردیا۔ اور یہ انہوں نے اس لیے کیا کہ وہ اس دلیل پر بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو زیعری نے خاموش کردیا تھا۔ جس طرح بعض اوقات بےدلیل لوگ جب بحث میں ہار جاتے ہیں اور اچانک ان کو کوئی دلیل مل جاتی ہے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ لفظ یصدون کے معنی تو ہیں شور کرنا۔ لیکن جنہوں نے اسے یصدون (حرف صاد پر پیش کے ساتھ ) پڑھا ہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ حق سے منہ موڑتے ہیں ، اعراض کرتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یصدون الصدید سے ہے جس کے معنی مقابلہ اور کٹ جانے کے ہیں۔ یصدون اور یصدون دونوں طرح آتا ہے جس طرح یعکف اور یعکف آتا ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ”۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہارے نزدیک ہمارے الٰہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے اچھے اور بہتر نہیں ؟ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) جہنم کا ایندھن ہیں تو پھر ہمارے الہٰوں کا معاملہ آسان ہے۔ یہ تھی صاحب کشاف کی روایت ، معلوم نہیں انہوں نے کس سے اخذ کی ہے لیکن اپنے عمومی مضمون میں یہ ابن اسحاق کی روایت کے ساتھ متفق ہے۔ دونوں روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس جدل وجدال میں محض ظاہری اور لفظی کج بحثی سے کام لیتے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے۔ بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ “ ۔ یہ جھگڑتے ہیں اور تنقید کرنے میں بہت ماہر ہیں ، مناظرہ باز ہیں۔ ان کو پہلے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ار رسول اللہ ﷺ کی مراد کیا ، اس کے بعد وہ مفہوم کو توڑ مروڑ کر اپنی مراد پر لاتے ہیں اور پھر اعتراض کرتے ہیں اور الفاظ کے عموم کو لے کر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ ان کے اندر وہ پورے قرآن کی تعلیمات سے خود اختصاص پیدا کرسکتے تھے اور اس قسم کے عمومی اعتراضات وہی عائد کرتا ہے جو مخلص نہ ہو اور پوری طرح چالاک ہو ، جس کی سوچ درست نہ ہو ، مکابرہ کرنے والا ہو اور ہر وقت شبہات ، الفاظ کے ہیر پھیر اور کسی جگہ پر نقب زنی کرنے کا متلاشی ہو۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ نے ہمیشہ ایسی گفتگو سے منع فرمایا ہے جس میں محض دکھاوا ہو ، حقیقت نہ ہو ، اور جس میں صاحب کلام ہر صورت میں کلام ہر صورت میں اپنی بات کو غالب کرنا چاہتا ہو۔ ابن جریر نے ، ابو کریب سے انہوں نے احمد ابن عبد الرحمٰن سے انہوں نے عبادہ ابن عبادہ سے انہوں نے جعفر سے انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور لوگ قرآن کریم میں مباحثہ اور مناظرہ کر رہے تھے۔ آپ کو بہت شدید غصہ آیا۔ گویا آپ کے چہرۂ مبارک پر سرکہ ڈال دیا گیا ہو۔ (ترشہ روئی کا اظہار کیا) اس کے بعد آپ نے فرمایا ” قرآن کے بعض حصوں کو بعض دوسرے حصوں سے نہ ٹکراؤ، کیونکہ لوگ گمراہ تب ہوئے جب ان کے اندر مذہبی جھگڑے اور اختلافات شروع ہوگئے “۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرا احتمال بھی ہے۔ وقالواء الھتنا خیر ام ھو (43 : 57) ” اور وہ کہنے لگے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ؟ “ میں یہ اشارہ ہے کہ ان کے افسانوی عقائد کے مطابق وہ ملائکہ کی پوجا کرتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ ان کی یہ پوجا نصاریٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوجا سے بہتر ہے۔ کیونکہ ملائکہ اپنے مزاج کے اعتبار سے اور ان کے افسانوی خیال کی رو سے خدا کے زیادہ قریب ہیں۔ اس پر یہ تبصرہ ۔ ما ضربوہ لک الا جدلا بل ھم قوم خصمون (43 : 58) ” یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لئے لائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی جھگڑالو لوگ ہیں “۔ اور جس طرح پہلے گزرا یہ ابن الزیعری پر رد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کی عبادت مسیح کی مثال لانا یہاں باطل ہے۔ نصاریٰ کا عمل حجت نہیں ہے کیونکہ وہ تو توحید سے پھرگئے ہیں جس طرح مشرکین توحید سے پھرگئے ہیں۔ لہٰذا دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کے سب گمراہ ہیں۔ بعض مفسرین نے اس طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بھی ایک قریب الفہم تفسیر ہو سکتی ہے۔ اور اس کے بعد حضرت عیسٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جامع تبصرہ ۔ ان ھو الا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلا لبنی اسرائیل (43 : 59) ” ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لئے اسے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا “۔ اور وہ الٰہ نہیں جس کی عبادت کی جائے ، جس طرح نصاریٰ کا ایک گروہ گمراہ ہوا اور اس نے ان کی بندگی شروع کردی۔ وہ تو ایک بندۂ خدا ہیں ان پر اللہ کا انعام ہوگیا ، اور اگر بعض لوگوں نے ان کی بندگی کی ہے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے ان کو رسالت اور معجزات دے کر بنی اسرائیل کے لئے نمونہ قدرت الٰہیہ بنا گیا گیا تھا اور بنی اسرائیل کو چاہئے تھا کہ وہ ان کی پیروی کرتے اور ہدایت حاصل کرتے مگر وہ گمراہ ہوگئے۔ اب بات ان کے عقائد بابت ملائکہ کے موضوع کی طرف آتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فرشتے تو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس زمین میں تمہارا جانشین فرشتوں کو بنا دیں یا بعض لوگوں کو فرشتے بنا دیں جو زمین میں جانشین ہوجائیں۔ ولو نشاء ۔۔۔۔۔ یخلفون (43 : 50) ” اگر اللہ چاہتا تو ملائکہ کو تمہارا خلیفہ بنا دیتا “ ۔ یہ سارے معاملات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اپنی مخلوق کے بارے میں جو چاہے ، کر دے لیکن مخلوق میں سے کوئی اللہ سے نسب نہیں جوڑ سکتا۔ اور نہ اللہ سے مل سکتا ہے سوائے خالق و مخلوق کے تعلق سے یا عہد و معبود کے تعلق سے یا غلام اور مالک کے تعلق سے۔ اس کے بعد کچھ فیصلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق کہ وہ ایک تو قیامت کی نشانی ہیں۔ اس قیامت کی جس کی یہ تکذیب کرتے ہیں یا ان کو اس کے آنے میں شک ہے۔ وانہ لعلم ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 61) ولا یصدنکم ۔۔۔۔۔۔ مبین (43 : 62) ” اور ابن مریم دراصل قیامت کا علم ہے بس تم اس میں شک نہ کرو ، اور میری بات مان لو۔ یہی سیدھا راستہ ہے ، ایسانہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قیامت سے قبل نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے موضوع پر کئی احادیث آئی ہیں۔ یہ قیامت سے قدرے پہلے زمین پر اتریں گے۔ اور اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کا علم ہے “۔ یعنی ان کے آنے سے قرب قیامت کا علم ہوجائے گا اور دوسری قرات یہ ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ (43 : 61) ” اور وہ قیامت کی نشانی ہے “ ۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ تمہارے اندر ابن مریم بطور ایک منصف حاکم نازل ہوں ، وہ صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کردیں گے ، لوگوں پر جزیہ عائد کریں گے اور مال تقسیم کریں گے یہاں تک کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا ، حالت یہ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا (متفق علیہ ، ابو داؤد ، مالک) ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا یہاں تک کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ، مسلمانوں کے امیر ان سے کہیں گے ، آپ ہمیں نماز پڑھائیں ، وہ کہیں گے ، نہیں۔ تم میں سے بعض بعض کے امراء ہوں گے ، اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا ہے “۔ (مسلم ) یہ ایک غیب ہے ، اور اس کی اطلاع ہمیں صادق و امین ﷺ نے دی ہے اور اس طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے ، لہٰذا اس بات میں کوئی انسان کوئی اور بات نہیں کرسکتا صرف وہی بات حق ہے جو ان دو سچے ذرائع سے آئی ہے اور ہمارے لیے سچے مصادر قیامت تک یہی ہیں۔ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم (43 : 61) ” پس تم اس میں شک نہ کرو اور میری بات مانو ، یہی سیدھا راستہ ہے “۔ یہ لوگ قیامت میں شک کرتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دیتا ہے کہ اس پر یقین کرو ، حضور اکرم ﷺ کی زبانی ان کو دعوت یقین دی جاتی ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میں تمہیں سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔ جو بالکل سیدھا اور منزل مقصود تک پہنچنے والا ہے۔ اور اس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں اور راندۂ درگاہ ہوتے ہیں ، وہ شیطان کے اثر سے ہوتے ہیں ، لہٰذا شیطان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے۔ ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (63 : 62) ” ایسا نہ ہو کہ شیطان تم کو اس سے روک دے ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ قرآن کریم اس مسلسل معرکہ کی طرف بار بار اشارہ کرتا ہے جو اولاد آدم اور شیطان کے درمیان حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے جاری ہے۔ یہ معرکہ جنت سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اور اس شخص سے بڑا احمق اور غافل اور کون ہوسکتا ہے جسے بار بار متنبہ کیا جائے کہ گھات میں دشمن بیٹھا ہے اور اس نے تمہارا ارادہ کر رکھا ہے اور یہ شخص اس کے برعکس دشمن کا مطیع فرمان بن جائے۔ اسلام نے تو انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں شیطان کے خلاف اس دوامی جنگ میں برسر پیکار رہے اور اس کے ساتھ اس قدر عظیم مال غنیمت کا وعدہ کیا ہے جو کسی بشر کے تصور سے باہر ہے۔ اسلام نے انسانی جنگ کا رخ اس معرکہ خیر و شر کی طرف پھیر دیا جس کی وجہ سے انسان صحیح انسان بنتا ہے اور جس کی وجہ سے تمام مخلوقات میں سے انسان کو ایک ممتاز مخلوق بنایا گیا ہے اور ایک خاص مزاج دیا گیا ہے اور یہاں انسان کا سب سے بڑ انصب العین یہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کھلے دشمن شیطان پر غالب آجائے ، یوں وہ شر ، خباثت اور ہر قسم کی گندگی پر غالب آجائے اور زمین میں خیر کی بنیادیں رکھ دے جن میں لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے اور پاکیزہ زندگی گزاریں گے۔ اس نصیحت کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مزید معلومات کہ وہ کیا پیغام لے کر آئے تھے اور ان سے پہلے نبی اسرائیل کے باہم اختلافات کیا تھا اور بعد میں کیا ہوتا رہا۔ ولما جاء عیسیٰ ۔۔۔۔۔۔ واطیعون (43 : 63) ان اللہ ھو ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (43 : 64) فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” اور جب عیسیٰ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں اختلاف کر رہے ہو ، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا بھی۔ اس کی تم عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس تباہی ہے ان لوگوں لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے واضح نشانیاں لے کر آئے تھے۔ یہ نشانیاں وہ معجزات بھی تھے جس صدور آپ کے ہاتھوں پر ہوا۔ اور وہ کلمات اور تقاریر بھی تھیں جو آپ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے کیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا : قد جئتکم بالحکمۃ (43 : 63) ” میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں “ اور جسے حکمت دی گئی وہ گویا خیر کثیر کا مالک بن گیا ۔ وہ لغزش اور بےراہ روی سے امن میں ہوگیا۔ تفریط اور تقصیر سے محفوظ ہوگیا ۔ اور صحیح راستے پر اس کے قدم نہایت ہی توازن اور روشنی میں اٹھنے لگے اور آپ ان کے پاس اس لیے بھی خصوصی طور پر آئے تھے کہ اس وقت مذہبی گروہوں میں جو بہت بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا تھا آپ اسے دور کریں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کے فقہاء نے بےحد اختلاف شروع کردیا تھا۔ وہ فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے۔ آپ نے قوم کو اس طرف بلایا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور آپ نے عقیدۂ توحید تو بڑی وضاحت ، بلاریب اور بغیر کسی التباس اور پیچیدگی کے بیان کیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 64) ” بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے لہٰذا اسی کی بندگی کرو “ نہ آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ الٰہ ہیں اور نہ یہ دعویٰ کیا کہ آپ ابن اللہ ہیں اور آپ نے اپنے کلام میں کسی جگہ ماسوائے تعلق رب اور بندہ اور خالق و مخلوق ، اللہ کے ساتھ کسی اور تعلق کا اشارہ تک نہیں کیا۔ صرف یہی کہا کہ میں رسول ہوں ، صراط مستقیم دے کر بھیجا گیا ہوں ، جس میں کوئی ٹیٹرھ نہیں ہے ، نہ کوئی پھسلن ہے اور نہ کج روی۔ لیکن جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے وہ بھی اسی طرح ٹکڑے اور پارٹیاں بن گئے جس طرح آپ سے پہلے کے لوگ ٹکڑے اور پارٹیاں تھے۔ یہ اختلاف انہوں نے محض ظلم کرتے ہوئے کئے ، اختلافات کے لئے نہ کوئی جواز تھا ، اور نہ شبہ تھا۔ فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم (43 : 65) ” پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب کی “۔ حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی رسالت بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اس دور میں بنی اسرائیل رومیوں کے غلام تھے ، ان کو انتظار تھا کہ نجات دہندہ آئے گا اور ہمیں چھڑائے گا لیکن جب وہ آیا تو انہوں نے اسے پہچاننے سے انکار کردیا اور اس کی دشمنی پر اتر آئے اور انہوں نے اسے سولی پر چڑھانے کی سعی کی۔ جب آپ تشریف لائے تو اس وقت بنی اسرائیل ٹکڑے ٹکڑے تھے ، اہم فرقے چار تھے : 1۔ صدوقی فرقہ : یہ صدوق کی طرف منسوب تھے ، وہ اور اس کے خاندان کے لوگ ہیکل سلیمانی کے کاہن تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہما السلام) کے زمانے سے وہ اس منصب پر تھے۔ شریعت کے مطابق ضروری تھا کہ ان کا نسب ہارون (علیہ السلام) تک پہنچے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی پیغمبر تھے کیونکہ ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہی ہیکل کی متولی تھی۔ یہ لوگ اپنے فرائض کے مطابق عبادات کی ظاہری صورت پر بہت زور دیتے تھے۔ اور کسی قسم کی بدعت کے سخت مخالف تھے جبکہ اپنی شخصی زندگی میں بہت عیاش تھے اور زندگی کے مزے لیتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ قیامت نہیں ہے۔ 2۔ فرسیوں کا فرقہ : یہ صدوقیوں کے سخت خلاف تھے۔ ان کو اعتراض یہ تھا کہ یہ لوگ مذہبی رسومات اور عبادات کی ظاہری شکل پر بہت زور دیتے ہیں اور قیامت اور حساب و کتاب کے منکر ہیں۔ یہ نہایت ہی متقی اور صوفی قسم کے لوگ تھے۔ اگرچہ بعض کے اوپر علمی غرور چھایا ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا علمی غرور پسند نہ تھا۔ نیز آپ کو ان کی لفاظی بھی پسند نہ تھی۔ 3۔ تیسرا فرقہ سامریوں کا تھا : یہ فرقہ یہودیوں اور اشوریوں پر مشتمل تھا۔ اور یہ عہد قدیمہ کی صرف پانچ کتابوں کو مانتا تھا۔ باقی کتب کو بعد کے اضافے سمجھتا تھا۔ یہ پانچ کتابیں موسوی کتب کے نام سے مشہور ہیں جبکہ دوسرے فرقے ساری کتب کو مانتے تھے۔ 4۔ ان کو آسین یا اسینین کہتے تھے۔ یہ لوگ بعض فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اور یہ لوگ دوسرے فرقوں سے علیحدہ رہتے تھے۔ اور اپنے آپ کو نہایت سختی اور تقشف میں رکھتے تھے اور ان کی جماعت بھی تنظیم میں بہت سخت تھی۔ ان چار مشہور فرقوں کے علاوہ بھی بہت سے انفرادی فرقے تھے۔ غرض بنی اسرائیل کے اندر نظریات اور طرز عمل کا سخت اختلاف و انتشار تھا۔ جن پر رومی شہنشاہیت کا سخت دباؤ تھا۔ اور پوری قوم سخت ذلت اور غلامی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ یہ منظر تھا جس میں ایک نجات دہندہ کی پیشین گوئی کتابوں کی گئی تھی کہ وہ آئے گا اور ہمیں نجات دلائے گا۔ جب حضرت مسیح عقیدۂ توحید کے ساتھ بھیجے گئے اور انہوں نے اعلان کردیا۔ ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ (43 : 63) ” کہ اللہ میرا بھی رب ہے ، اور تمہارا بھی رب ہے ، لہٰذا اس کی عبادت کرو “۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے ایسی شریعت پیش کی جس میں رواداری اور روحانی اصلاح پر اور عبادات کی ظاہری صورت کی بجائے عبادات کے روحانی پہلو پر زور دیا گیا تھا تو ان فقہاء اور فرسیوں نے آپ کا مقابلہ کیا کیونکہ یہ لوگ عبادات کی ظاہری شکلوں ہی پر زور دیتے تھے۔ ان لوگوں کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا ، ان میں سے آپ کے بعض اقوال نہایت ہی موثر ہیں مثلاً ” یہ لوگ بڑے بڑے بھاری بوجھ باندھتے ہیں اور لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کو اپنے کاندھوں پر اٹھائیں اور خود اپنی انگلی بھی آگے نہیں بڑھاتے کہ اس بوجھ کو جگہ سے ہلا دیں۔ وہ جو کام بھی کرتے ہیں ، اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ اسے دیکھیں۔ اور اپنے کپڑوں کے دامن لمبے کرتے ہیں اور دعوتوں میں اول مقام پر بیٹھتے ہیں اور جلسوں میں پہلی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں اور بازاروں میں پھر کر سلام وصول کرتے ہیں اور یہ پسند کرتے ہیں کہ انہیں پکارا جائے ، ” سیدی سیدی “ کہ کر جہاں بھی وہ جائیں “۔ اور فرسیوں اور فقیہوں سے کہتے ہیں ” اے اندھے قائدین ! تم مچھر چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو ، تم پیالے اور تھالی کے ظاہری حصے کو خوب صاف کرتے ہو لیکن ان کے اندر گندگی اور بدکاری ہوتی ہے ، اے لکھنے والے مفتیان کرام اور دھاوا کرنے والے فقہاء ، تمہاری مثال یوں ہے جس طرح ایک چونا گچ کی سفید قبر ، جس کا ظاہری حصہ خوبصورت اور ملمع شدہ ہے اور اندر بوسیدہ ہڈیاں ہیں “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان کلمات کو پڑھو اور خود اپنے دور کے علماء اور مفتیان کرام کو دیکھو ، کیا یہی الفاظ ان پر صادق نہیں آتے ، دین کی تحریف کرنے والے ، رسومات کے پجاری ، ظاہر پرست اور دکھاوا کرنے والے۔ اس کے بعد حضرت مسیح اپنے رب کے پاس چلے گئے۔ اس طرح آپ کے پیرو کاروں کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے۔ یہ اس طرح فرقے فرقے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ بعض نے خود ان کو الٰہ بنا دیا۔ بعض نے اللہ کا بیٹا بنا لیا۔ بعض نے ثالث ثلاثہ کہا اور وہ کلمہ توحید ان سے گم ہوگیا جس کی دعوت لے کر آپ اس لیے تشریف لائے تھے کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور دین اللہ کے لئے خالص کردیں۔ فاختلف الاحزاب ۔۔۔۔۔۔ یوم الیم (43 : 65) ” مگر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک عذاب کے دن کی “۔ مشرکین عرب آئے اور انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مجادلہ شروع کردیا۔ اس وجہ سے کہ پیروکار ان مسیح نے آپ کے بعد گل کھلائے تھے اور آپ کے بارے میں بیشمار افسانے گھڑ لیے تھے۔ ٭٭٭

الزخرف 43:66

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔ اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔ جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی : یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔ اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔ یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔ اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔ اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں : ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔ وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔ ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔ یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔ لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔ قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔ اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

الزخرف 43:67

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔ اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔ جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی : یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔ اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔ یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔ اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔ اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں : ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔ وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔ ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔ یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔ لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔ قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔ اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

الزخرف 43:68

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔ اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔ جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی : یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔ اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔ یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔ اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔ اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں : ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔ وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔ ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔ یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔ لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔ قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔ اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

الزخرف 43:69

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔ اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔ جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی : یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔ اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔ یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔ اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔ اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں : ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔ وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔ ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔ یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔ لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔ قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔ اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

الزخرف 43:70

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔ اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔ جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی : یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔ اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔ یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔ اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔ اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں : ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔ وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔ ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔ یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔ لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔ قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔ اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

الزخرف 43:71

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔ اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔ جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی : یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔ اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔ یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔ اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔ اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں : ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔ وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔ ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔ یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔ لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔ قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔ اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

الزخرف 43:72

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔ اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔ جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی : یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔ اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔ یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔ اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔ اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں : ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔ وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔ ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔ یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔ لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔ قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔ اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

الزخرف 43:73

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔ اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔ جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی : یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔ اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔ یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔ اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔ اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں : ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔ وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔ ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔ یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔ لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔ قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔ اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

الزخرف 43:74

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔ اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔ جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی : یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔ اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔ یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔ اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔ اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں : ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔ وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔ ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔ یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔ لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔ قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔ اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

الزخرف 43:75

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔ اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔ جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی : یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔ اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔ یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔ اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔ اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں : ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔ وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔ ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔ یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔ لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔ قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔ اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

الزخرف 43:76

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔ اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔ جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی : یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔ اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔ یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔ اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔ اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں : ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔ وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔ ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔ یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔ لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔ قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔ اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

الزخرف 43:77

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔ آیت نمبر 66 تا 77 یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔ ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔ اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔ جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی : یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔ اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔ یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔ اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔ اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں : ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔ وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔ ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔ یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔ لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔ قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔ اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

الزخرف 43:78

آیت نمبر 78 تا 80 یہ ہے وہ اصل بات جو اصل حق کی کراہیت اور ناگواری اس بات سے مانع تھی کہ وہ اسے قبول کریں۔ یہ بات مانع نہیں تھی کہ وہ سچائی کا ادراک نہ کرسکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی سچائی میں ان کو کوئی شک ہی نہ تھا ۔ انہوں نے کبھی آپ کی طرف جھوٹ منسوب ہوتے نہ دیکھا تھا۔ جب ایک شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ کا معاملہ نہیں کرتا تو وہ اپنے اللہ پر جھوٹ کس طرح باندھ سکتا ہے ۔ اور جھوٹا دعوائے نبوت کیسے کرسکتا ہے۔ دنیا میں جو لوگ بھی حق کے خلاف جنگ کرتے ہیں ، وہ حق سے لا علم نہیں ہوتے ، اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ حق کو پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ حق ان کی خواہشات نفسانیہ کے خلاف ہوتا ہے ، ان کی شہوات سے متصادم ہوتا ہے اور ایسے لوگ اخلاقی لحاظ سے اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ اپنی خواہشات اور اپنی حاجتوں کو دبا نہیں سکتے۔ اس کے مقابلے میں وہ سچائی پر وار کرنے میں بڑے ۔۔۔۔ ہوتے ہیں اور سچائی کے داعیوں کے ایسے لوگ جانی دشمن ہوتے ہیں ، اپنی خواہشات اور چاہتوں کے مقابلے میں ان کی یہ کمزور سچائی اور سچائی کے حاملین کے خلاف قوت کے استعمال کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ تو پھر حقیقی قوت کا مالک اور جبار وقہار بھی ان کو دھمکی دیتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ میں ان کی تمام خفیہ اور ظاہری سازشوں سے باخبر ہوں۔ ام ابرموا مرا فانا مبرمون (43 : 79) ام یحسبون ۔۔۔۔۔۔ لدیھم یکتبون ( 43 : 80) “ کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں ؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں ”۔ حق کے مقابلے میں باطل پر ان کا اصرار ہے تو اللہ کو بھی اصرار ہے کہ ان کے باطل کے مقابلے میں حق کا بول بالا کر کے رہے گا۔ ان کی تدابیر اور ان کی سازشوں کے مقابلے میں اللہ کا علم کام کر رہا ہے جو راز کو بھی جانتا ہے اور سرگوشیوں سے بھی باخبر ہے۔ اللہ خالق اور عزیز وعلیم ہے اور اس کے مقابلے میں آنے والے ضعیف انسان ہیں ، اس لیے یہ کچھ نہ کرسکیں گے۔ ٭٭٭٭ اس خوفناک ڈراوے کو چھوڑ کر رسول کریم ﷺ کو ایک ایسی بات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو آخری بات ہے کہ یہ ان سے کہہ دیں اور پھر ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں تا کہ اس انجام تک پہنچ جائیں جس کی تصویر تم نے ابھی دیکھی ہے۔

الزخرف 43:79

آیت نمبر 78 تا 80 یہ ہے وہ اصل بات جو اصل حق کی کراہیت اور ناگواری اس بات سے مانع تھی کہ وہ اسے قبول کریں۔ یہ بات مانع نہیں تھی کہ وہ سچائی کا ادراک نہ کرسکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی سچائی میں ان کو کوئی شک ہی نہ تھا ۔ انہوں نے کبھی آپ کی طرف جھوٹ منسوب ہوتے نہ دیکھا تھا۔ جب ایک شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ کا معاملہ نہیں کرتا تو وہ اپنے اللہ پر جھوٹ کس طرح باندھ سکتا ہے ۔ اور جھوٹا دعوائے نبوت کیسے کرسکتا ہے۔ دنیا میں جو لوگ بھی حق کے خلاف جنگ کرتے ہیں ، وہ حق سے لا علم نہیں ہوتے ، اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ حق کو پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ حق ان کی خواہشات نفسانیہ کے خلاف ہوتا ہے ، ان کی شہوات سے متصادم ہوتا ہے اور ایسے لوگ اخلاقی لحاظ سے اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ اپنی خواہشات اور اپنی حاجتوں کو دبا نہیں سکتے۔ اس کے مقابلے میں وہ سچائی پر وار کرنے میں بڑے ۔۔۔۔ ہوتے ہیں اور سچائی کے داعیوں کے ایسے لوگ جانی دشمن ہوتے ہیں ، اپنی خواہشات اور چاہتوں کے مقابلے میں ان کی یہ کمزور سچائی اور سچائی کے حاملین کے خلاف قوت کے استعمال کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ تو پھر حقیقی قوت کا مالک اور جبار وقہار بھی ان کو دھمکی دیتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ میں ان کی تمام خفیہ اور ظاہری سازشوں سے باخبر ہوں۔ ام ابرموا مرا فانا مبرمون (43 : 79) ام یحسبون ۔۔۔۔۔۔ لدیھم یکتبون ( 43 : 80) “ کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں ؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں ”۔ حق کے مقابلے میں باطل پر ان کا اصرار ہے تو اللہ کو بھی اصرار ہے کہ ان کے باطل کے مقابلے میں حق کا بول بالا کر کے رہے گا۔ ان کی تدابیر اور ان کی سازشوں کے مقابلے میں اللہ کا علم کام کر رہا ہے جو راز کو بھی جانتا ہے اور سرگوشیوں سے بھی باخبر ہے۔ اللہ خالق اور عزیز وعلیم ہے اور اس کے مقابلے میں آنے والے ضعیف انسان ہیں ، اس لیے یہ کچھ نہ کرسکیں گے۔ ٭٭٭٭ اس خوفناک ڈراوے کو چھوڑ کر رسول کریم ﷺ کو ایک ایسی بات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو آخری بات ہے کہ یہ ان سے کہہ دیں اور پھر ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں تا کہ اس انجام تک پہنچ جائیں جس کی تصویر تم نے ابھی دیکھی ہے۔

الزخرف 43:80

آیت نمبر 78 تا 80 یہ ہے وہ اصل بات جو اصل حق کی کراہیت اور ناگواری اس بات سے مانع تھی کہ وہ اسے قبول کریں۔ یہ بات مانع نہیں تھی کہ وہ سچائی کا ادراک نہ کرسکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی سچائی میں ان کو کوئی شک ہی نہ تھا ۔ انہوں نے کبھی آپ کی طرف جھوٹ منسوب ہوتے نہ دیکھا تھا۔ جب ایک شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ کا معاملہ نہیں کرتا تو وہ اپنے اللہ پر جھوٹ کس طرح باندھ سکتا ہے ۔ اور جھوٹا دعوائے نبوت کیسے کرسکتا ہے۔ دنیا میں جو لوگ بھی حق کے خلاف جنگ کرتے ہیں ، وہ حق سے لا علم نہیں ہوتے ، اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ حق کو پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ حق ان کی خواہشات نفسانیہ کے خلاف ہوتا ہے ، ان کی شہوات سے متصادم ہوتا ہے اور ایسے لوگ اخلاقی لحاظ سے اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ اپنی خواہشات اور اپنی حاجتوں کو دبا نہیں سکتے۔ اس کے مقابلے میں وہ سچائی پر وار کرنے میں بڑے ۔۔۔۔ ہوتے ہیں اور سچائی کے داعیوں کے ایسے لوگ جانی دشمن ہوتے ہیں ، اپنی خواہشات اور چاہتوں کے مقابلے میں ان کی یہ کمزور سچائی اور سچائی کے حاملین کے خلاف قوت کے استعمال کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ تو پھر حقیقی قوت کا مالک اور جبار وقہار بھی ان کو دھمکی دیتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ میں ان کی تمام خفیہ اور ظاہری سازشوں سے باخبر ہوں۔ ام ابرموا مرا فانا مبرمون (43 : 79) ام یحسبون ۔۔۔۔۔۔ لدیھم یکتبون ( 43 : 80) “ کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں ؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں ”۔ حق کے مقابلے میں باطل پر ان کا اصرار ہے تو اللہ کو بھی اصرار ہے کہ ان کے باطل کے مقابلے میں حق کا بول بالا کر کے رہے گا۔ ان کی تدابیر اور ان کی سازشوں کے مقابلے میں اللہ کا علم کام کر رہا ہے جو راز کو بھی جانتا ہے اور سرگوشیوں سے بھی باخبر ہے۔ اللہ خالق اور عزیز وعلیم ہے اور اس کے مقابلے میں آنے والے ضعیف انسان ہیں ، اس لیے یہ کچھ نہ کرسکیں گے۔ ٭٭٭٭ اس خوفناک ڈراوے کو چھوڑ کر رسول کریم ﷺ کو ایک ایسی بات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو آخری بات ہے کہ یہ ان سے کہہ دیں اور پھر ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں تا کہ اس انجام تک پہنچ جائیں جس کی تصویر تم نے ابھی دیکھی ہے۔

الزخرف 43:81

آیت نمبر 81 تا 83 یہ لوگ فرشتوں کی عبادت اس تصور پر کرتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو اس کے ساتھ جان پہچان اور اس کی بندگی کا حق دار سب سے پہلے نبی ہوتا۔ کیونکہ انسانوں میں سے خدا کے قریب نبی اور رسول ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر اللہ کی بندگی اور اطاعت میں بھی وہ سب سے آگے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اولاد ہوتی تو اس کی عزت بھی سب سے پہلے نبی کرتے۔ لہٰذا ان لوگوں کا یہ تصور اور زعم ہی محض افسانہ ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اور اس قسم کی صفات کی اللہ کی طرف نسبت کرنا اس کے شایان شان نہیں ہے ، وہ پاک ہے۔ سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (43 : 82) “ پاک ہے آسمان اور زمین کا فرماں روا ، عرش عظیم کا مالک ان ساری باتوں سے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں ”۔ جب انسان ان آسمانوں اور زمین پر غور کرتا ہے ، ان کے نظام پر غور کرتا ہے ، ان کی رفتار اور آثار کے اندر غایت درجہ ہم آہنگی دیکھتا ہے ، اور اس نظام کے پیچھے جب بلند اور عظیم قوت کی عظمت کو دیکھتا ہے اور پھر اس پورے نظام پر اس کے قبضے اور کنٹرول کو دیکھتا ہے ، جس کی طرف رب العرش کا لفظ اشارہ کرتا ہے تو انسان کے ذہن سے اس قسم کے افسانوی خیالات و خرافات خود بخود محو ہوجاتے ہیں۔ اور یہ غور کرنے والا انسان خود اپنی فطرت کے ذریعہ یہ معلوم کرلیتا ہے کہ ایسی ذات بےمثال ہی ہو سکتی ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی جس طرح مخلوق کی اولاد ہوتی ہے اور نسلیں چلتی ہیں۔ یہ اللہ کے لائق نہیں ہے۔ وہ اس سے پاک ہے۔ اس قسم کے عقائد اس سوچ کے بعد خود بخود لغو نظر آتے ہیں ۔ یہ فضول کلام اور ناجائز جسارت ہے۔ اس لیے کلام کرنا ہی فضول ہے۔ مناسب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ فذرھم یخوضوا ۔۔۔۔۔۔ یوعدون (43 : 83) “ انہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جن کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے ”۔ اور وہ دن کیسا ہوگا ، اس کی ایک تصویر تو ابھی انہوں نے دیکھ لی ہے۔ ٭٭٭

الزخرف 43:82

آیت نمبر 81 تا 83 یہ لوگ فرشتوں کی عبادت اس تصور پر کرتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو اس کے ساتھ جان پہچان اور اس کی بندگی کا حق دار سب سے پہلے نبی ہوتا۔ کیونکہ انسانوں میں سے خدا کے قریب نبی اور رسول ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر اللہ کی بندگی اور اطاعت میں بھی وہ سب سے آگے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اولاد ہوتی تو اس کی عزت بھی سب سے پہلے نبی کرتے۔ لہٰذا ان لوگوں کا یہ تصور اور زعم ہی محض افسانہ ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اور اس قسم کی صفات کی اللہ کی طرف نسبت کرنا اس کے شایان شان نہیں ہے ، وہ پاک ہے۔ سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (43 : 82) “ پاک ہے آسمان اور زمین کا فرماں روا ، عرش عظیم کا مالک ان ساری باتوں سے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں ”۔ جب انسان ان آسمانوں اور زمین پر غور کرتا ہے ، ان کے نظام پر غور کرتا ہے ، ان کی رفتار اور آثار کے اندر غایت درجہ ہم آہنگی دیکھتا ہے ، اور اس نظام کے پیچھے جب بلند اور عظیم قوت کی عظمت کو دیکھتا ہے اور پھر اس پورے نظام پر اس کے قبضے اور کنٹرول کو دیکھتا ہے ، جس کی طرف رب العرش کا لفظ اشارہ کرتا ہے تو انسان کے ذہن سے اس قسم کے افسانوی خیالات و خرافات خود بخود محو ہوجاتے ہیں۔ اور یہ غور کرنے والا انسان خود اپنی فطرت کے ذریعہ یہ معلوم کرلیتا ہے کہ ایسی ذات بےمثال ہی ہو سکتی ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی جس طرح مخلوق کی اولاد ہوتی ہے اور نسلیں چلتی ہیں۔ یہ اللہ کے لائق نہیں ہے۔ وہ اس سے پاک ہے۔ اس قسم کے عقائد اس سوچ کے بعد خود بخود لغو نظر آتے ہیں ۔ یہ فضول کلام اور ناجائز جسارت ہے۔ اس لیے کلام کرنا ہی فضول ہے۔ مناسب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ فذرھم یخوضوا ۔۔۔۔۔۔ یوعدون (43 : 83) “ انہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جن کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے ”۔ اور وہ دن کیسا ہوگا ، اس کی ایک تصویر تو ابھی انہوں نے دیکھ لی ہے۔ ٭٭٭

الزخرف 43:83

آیت نمبر 81 تا 83 یہ لوگ فرشتوں کی عبادت اس تصور پر کرتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو اس کے ساتھ جان پہچان اور اس کی بندگی کا حق دار سب سے پہلے نبی ہوتا۔ کیونکہ انسانوں میں سے خدا کے قریب نبی اور رسول ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر اللہ کی بندگی اور اطاعت میں بھی وہ سب سے آگے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اولاد ہوتی تو اس کی عزت بھی سب سے پہلے نبی کرتے۔ لہٰذا ان لوگوں کا یہ تصور اور زعم ہی محض افسانہ ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اور اس قسم کی صفات کی اللہ کی طرف نسبت کرنا اس کے شایان شان نہیں ہے ، وہ پاک ہے۔ سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (43 : 82) “ پاک ہے آسمان اور زمین کا فرماں روا ، عرش عظیم کا مالک ان ساری باتوں سے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں ”۔ جب انسان ان آسمانوں اور زمین پر غور کرتا ہے ، ان کے نظام پر غور کرتا ہے ، ان کی رفتار اور آثار کے اندر غایت درجہ ہم آہنگی دیکھتا ہے ، اور اس نظام کے پیچھے جب بلند اور عظیم قوت کی عظمت کو دیکھتا ہے اور پھر اس پورے نظام پر اس کے قبضے اور کنٹرول کو دیکھتا ہے ، جس کی طرف رب العرش کا لفظ اشارہ کرتا ہے تو انسان کے ذہن سے اس قسم کے افسانوی خیالات و خرافات خود بخود محو ہوجاتے ہیں۔ اور یہ غور کرنے والا انسان خود اپنی فطرت کے ذریعہ یہ معلوم کرلیتا ہے کہ ایسی ذات بےمثال ہی ہو سکتی ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی جس طرح مخلوق کی اولاد ہوتی ہے اور نسلیں چلتی ہیں۔ یہ اللہ کے لائق نہیں ہے۔ وہ اس سے پاک ہے۔ اس قسم کے عقائد اس سوچ کے بعد خود بخود لغو نظر آتے ہیں ۔ یہ فضول کلام اور ناجائز جسارت ہے۔ اس لیے کلام کرنا ہی فضول ہے۔ مناسب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ فذرھم یخوضوا ۔۔۔۔۔۔ یوعدون (43 : 83) “ انہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جن کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے ”۔ اور وہ دن کیسا ہوگا ، اس کی ایک تصویر تو ابھی انہوں نے دیکھ لی ہے۔ ٭٭٭

الزخرف 43:84

ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کے بعد اللہ کی تعریف اور حمد میں کچھ باتیں کی جاتی ہیں ، یہ بتانے کے لئے کہ اس عظیم کائنات کا رب ایسا ہوتا ہے۔ یہ ہیں اس کی صفات : آیت نمبر 84 تا 86 یہ ہے زمین و آسمان میں صرف ایک ہی الوہیت کا اعلان ، جو وحدہ لا شریک ہے ، وہ جو کام بھی کرتا ہے حکمت کی بنا پر کرتا ہے اور اپنے بےقید علم کے مطابق کرتا ہے۔ پھر یہاں لفظ تبارک کا استعمال ہوا ہے یعنی برکتوں والا ہے اور اس کے بارے میں یہ لوگ جو تصورات رکھتے ہیں ، ان سے بہت بلند ہے ، وہ زمین و آسمانوں اور ان کے اندر تمام مخلوقات کا رب اور مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن کا جاننے والا ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس دن ان الہوں میں سے کوئی بھی نہ ہوگا۔ سب غائب ہوں گے جن کو یہ پکارتے ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ کہتے تھے ہمارے یہ رب دراصل ہمارے سفارشی ہیں اور وہاں تو سفارش اس کی چلے گی جس کو پیشگی اجازت دے دی جائے گی ، اور ظاہر ہے جن کو پیشگی اجازت ملے گی وہ معاندین حق اور دشمنان اسلام کی سفارش کرنے سے رہے۔ اب یہاں ان کے سامنے وہ بات رکھی جاتی ہے جس میں وہ نہ شک کرتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔ یہ کہ اللہ ہی ہمارے خالق ہے۔ سوال یہ کیا جاتا ہے جب اللہ خالق ہے تو پھر کیوں دوسروں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہو۔

الزخرف 43:85

ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کے بعد اللہ کی تعریف اور حمد میں کچھ باتیں کی جاتی ہیں ، یہ بتانے کے لئے کہ اس عظیم کائنات کا رب ایسا ہوتا ہے۔ یہ ہیں اس کی صفات : آیت نمبر 84 تا 86 یہ ہے زمین و آسمان میں صرف ایک ہی الوہیت کا اعلان ، جو وحدہ لا شریک ہے ، وہ جو کام بھی کرتا ہے حکمت کی بنا پر کرتا ہے اور اپنے بےقید علم کے مطابق کرتا ہے۔ پھر یہاں لفظ تبارک کا استعمال ہوا ہے یعنی برکتوں والا ہے اور اس کے بارے میں یہ لوگ جو تصورات رکھتے ہیں ، ان سے بہت بلند ہے ، وہ زمین و آسمانوں اور ان کے اندر تمام مخلوقات کا رب اور مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن کا جاننے والا ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس دن ان الہوں میں سے کوئی بھی نہ ہوگا۔ سب غائب ہوں گے جن کو یہ پکارتے ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ کہتے تھے ہمارے یہ رب دراصل ہمارے سفارشی ہیں اور وہاں تو سفارش اس کی چلے گی جس کو پیشگی اجازت دے دی جائے گی ، اور ظاہر ہے جن کو پیشگی اجازت ملے گی وہ معاندین حق اور دشمنان اسلام کی سفارش کرنے سے رہے۔ اب یہاں ان کے سامنے وہ بات رکھی جاتی ہے جس میں وہ نہ شک کرتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔ یہ کہ اللہ ہی ہمارے خالق ہے۔ سوال یہ کیا جاتا ہے جب اللہ خالق ہے تو پھر کیوں دوسروں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہو۔

الزخرف 43:86

ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کے بعد اللہ کی تعریف اور حمد میں کچھ باتیں کی جاتی ہیں ، یہ بتانے کے لئے کہ اس عظیم کائنات کا رب ایسا ہوتا ہے۔ یہ ہیں اس کی صفات : آیت نمبر 84 تا 86 یہ ہے زمین و آسمان میں صرف ایک ہی الوہیت کا اعلان ، جو وحدہ لا شریک ہے ، وہ جو کام بھی کرتا ہے حکمت کی بنا پر کرتا ہے اور اپنے بےقید علم کے مطابق کرتا ہے۔ پھر یہاں لفظ تبارک کا استعمال ہوا ہے یعنی برکتوں والا ہے اور اس کے بارے میں یہ لوگ جو تصورات رکھتے ہیں ، ان سے بہت بلند ہے ، وہ زمین و آسمانوں اور ان کے اندر تمام مخلوقات کا رب اور مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن کا جاننے والا ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس دن ان الہوں میں سے کوئی بھی نہ ہوگا۔ سب غائب ہوں گے جن کو یہ پکارتے ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ کہتے تھے ہمارے یہ رب دراصل ہمارے سفارشی ہیں اور وہاں تو سفارش اس کی چلے گی جس کو پیشگی اجازت دے دی جائے گی ، اور ظاہر ہے جن کو پیشگی اجازت ملے گی وہ معاندین حق اور دشمنان اسلام کی سفارش کرنے سے رہے۔ اب یہاں ان کے سامنے وہ بات رکھی جاتی ہے جس میں وہ نہ شک کرتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔ یہ کہ اللہ ہی ہمارے خالق ہے۔ سوال یہ کیا جاتا ہے جب اللہ خالق ہے تو پھر کیوں دوسروں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہو۔

الزخرف 43:87

آیت نمبر 87 یعنی جس سچائی کو ان کی فطرت تسلیم کرتی ہے اس سے وہ کیوں منہ موڑتے ہیں اور ایک طرف ہو کر نکل جاتے ہیں۔ سورت کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کی فریاد کو لایا جاتا ہے جو آپ کرتے تھے کہ میری قوم کفر ، عناد اور ایمان نہ لانے پر تلی ہوئی ہے۔ یہاں اس فریاد کو لا کر اس کی قسم اٹھائی جاتی ہے۔

الزخرف 43:88

آیت نمبر 88 تا 89 اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریاد دور رس ہے ، اس کے گہرے نتائج نکلنے والے ہیں ، اسے سن لیا گیا ، اور عالم بالا اس کے نتیجے میں کچھ عظیم اقدامات کر رہا ہے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان کی کاروائیوں اور ریشہ دوانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں ، مطمئن رہیں ، نہایت امن سلامتی اور شرافت کے ساتھ اپنی راہ پر چلتے رہیں ۔ اس میں بھی درپردہ ایمان نہ لانے والوں کو سخت دھمکی دی جارہی ہے۔ اس دن کے سلسلے میں جب سب چھپے ظاہر ہوں گے۔ “ اے نبی ﷺ ان سے درگزر کرو اور کہہ دو سلام ہے تمہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ”۔ ٭٭٭٭٭٭

الزخرف 43:89

آیت نمبر 88 تا 89 اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریاد دور رس ہے ، اس کے گہرے نتائج نکلنے والے ہیں ، اسے سن لیا گیا ، اور عالم بالا اس کے نتیجے میں کچھ عظیم اقدامات کر رہا ہے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان کی کاروائیوں اور ریشہ دوانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں ، مطمئن رہیں ، نہایت امن سلامتی اور شرافت کے ساتھ اپنی راہ پر چلتے رہیں ۔ اس میں بھی درپردہ ایمان نہ لانے والوں کو سخت دھمکی دی جارہی ہے۔ اس دن کے سلسلے میں جب سب چھپے ظاہر ہوں گے۔ “ اے نبی ﷺ ان سے درگزر کرو اور کہہ دو سلام ہے تمہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ”۔ ٭٭٭٭٭٭