Fi Zilal al-Quran — الشورى 42:42 – الزخرف 43:35
Contents
- الشورى 42:42
- الشورى 42:43
- الشورى 42:44
- الشورى 42:45
- الشورى 42:46
- الشورى 42:47
- الشورى 42:48
- الشورى 42:49
- الشورى 42:50
- الشورى 42:51
- الشورى 42:52
- الشورى 42:53
- الزخرف 43:1
- الزخرف 43:2
- الزخرف 43:3
- الزخرف 43:4
- الزخرف 43:5
- الزخرف 43:6
- الزخرف 43:7
- الزخرف 43:8
- الزخرف 43:9
- الزخرف 43:10
- الزخرف 43:11
- الزخرف 43:12
- الزخرف 43:13
- الزخرف 43:14
- الزخرف 43:15
- الزخرف 43:16
- الزخرف 43:17
- الزخرف 43:18
- الزخرف 43:19
- الزخرف 43:20
- الزخرف 43:21
- الزخرف 43:22
- الزخرف 43:23
- الزخرف 43:24
- الزخرف 43:25
- الزخرف 43:26
- الزخرف 43:27
- الزخرف 43:28
- الزخرف 43:29
- الزخرف 43:30
- الزخرف 43:31
- الزخرف 43:32
- الزخرف 43:33
- الزخرف 43:34
- الزخرف 43:35
الشورى 42:42
آیت نمبر 36 تا 43
اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف کیا ان کے بعدجب کوئی کتاب ان کی اگلی نسلوں کو ملی تو ان اختلافات کی وجہ سے وہ سرے سے کتابوں کے بارے میں شک میں پڑگئے۔ جب اہل کتاب اور اہل دین سماوی کا یہ حال ہوگیا تھا تو جن اقوام کے پاس کوئی کتاب یا کوئی دین ہی نہ تھا ، ظاہر ہے کہ ان کی حالت تو ان سے بھی بدتر ہوگی۔
یہی وجہ ہے کہ انسانیت کو ایک صالح قیادت کی ضرورت تھی تا کہ وہ انسانوں کو ان اندھی جاہلیتوں سے نکالے اور ان کی رہنمائی کر کے ان کو ایک مضبوط رسی میں باندھ دے۔ اور ان کی رہنمائی ایک ایسے راستے کی طرف کرے جو اللہ تک پہنچاتا ہو جو اس وجود کا رب ہے۔
اس لیے اللہ نے یہ آخری کتاب عربی زبان میں اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر اتاری تا کہ ام القریٰ ، مکہ مکرمہ اور اس کے ماحول میں رہنے والوں سے دعوت کا آغاز کرے اور ان کے اندر وہی دین قائم کرے جس کی سخت تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی تھی تا کہ تمام ادیان حقہ کی کڑیاں باہم مل جائیں اور آغاز تاریخ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی نہج ، ایک منہاج ، ایک ہی دین اور ایک ہی شریعت ہو اور ایک ایسی جماعت یہاں قائم کی جائے جو اس تاریخی دعوت کی محافظ ہو ، اس کی قیادت کرے اور اس کرۂ ارض پر اس دعوت کو اللہ کی منشا کے مطابق برپا کر کے یہاں اس منہاج کو قائم کرے۔ اور یہ کام اس شکل و صورت میں ہو جو اللہ کو پسند ہو۔ لہٰذا زیر بحث آیات میں اس جماعت کے خدوخال بیان ہو رہے ہیں۔ جس نے یہ عظیم فریضہ سر انجام دینا ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ آیات مکی ہیں اور مدینہ میں اسلامی نظام حکومت کے قیام سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ لیکن ہم مکہ میں بھی تحریک اسلامی کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت دیکھتے ہیں۔
وامرھم شوری بینھم (42 : 38) “ اور اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاورت کا قیام اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اسلامی جماعت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ جماعتی نظام شوریٰ پر قائم ہوتا ہے۔ یہی نظام جماعت سے آگے بڑھ کر پھر مملکت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یعنی اسلامی معاشرے کی جان شورائیت ہے اور یہ اس کے اندر پھیلتی جاتی ہے۔ اس طرح اس جماعت کی دوسری خصوصیت یہ بتائی گئی ہے۔
والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ باوجود اس کے کہ مکہ میں حکم یہی تھا کہ صبر کرو ، اور زیادتی کا بدلہ زیادتی سے نہ دو ، اور یہ حکم اس وقت تک کے لئے تھا جب ہجرت کے بعد قتال کی اجازت دے دی گئی اور یہ کہا گیا ۔
اذن للذین ۔۔۔۔۔ نصرھم لقدیر (22 : 39) “ اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر قادر ہے ”۔ تو اس صفت کا ان مکی آیات میں ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ تحریک اسلامی کا مزاج یہی ہے کہ وہ زیادتی کے خلاف سینہ سپر ہوجاتی ہے اور اس سے پہلے اور بعد کے جو احکام ہیں وہ صبر کرنے اور رکے رہنے کے لئے ہیں۔ اور استثنائی احکام ہیں اور ایک متبعین وقت تک کے لئے ہیں۔ یہاں اس مکی سورت میں چونکہ جماعت مسلمہ کی بنیادی صفات قلم بند کی جا رہی تھیں اس لیے یہاں ذکر کردیا کہ اگرچہ فی الوقت انتصار کی ممانعت تھی لیکن یہ صفت اہل ایمان کی بنیادی صفات میں سے ہے۔
بہرحال جماعت مسلمہ کی صفات کے ضمن میں ایسے امور کا ذکر جن پر عمل نہ ہو رہا تھا اور نہ جماعت کے ہاتھ میں کسی ملک کی عملی قیادت تھی اور جماعت ابھی مکہ میں مصائب برداشت کر رہی تھی ، یہ اس لیے ہوا کہ اس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی تھی اور اسے اس لیے برپا کیا گیا تھا کہ وہ پوری انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر نور اسلام میں لائے گی۔ لہٰذا جماعت مسلمہ کے اندر ان صفات کا پیدا ہونا اور جماعت کے لئے ان مقاصد کے لئے تیار کرنا ضروری تھا۔ یہاں ان باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے تا کہ جب اس کے ہاتھ میں اقتدار آئے تو وہ اس کی اہل ہو۔ لہٰذا ان صفات پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے کہ یہ کیا ہیں ؟ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور انسانی معاشرے میں ان کی اہمیت کیا ہے۔
یہ ہیں ایک اسلامی جماعت کی صفات۔ ایمان ، توکل ، اجتناب کبائر اور فواحش ، غصے کے وقت معافی ، اللہ کی پکار پر لبیک کہنا ، اقامت صلوٰۃ ، ہر معاملے میں مشاورت ، انفاق فی سبیل اللہ ، ظلم و زیادتی کا مقابلہ ، عفو ، اصلاح اور صبر۔ یہ کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور ان کی اہمیت کیا ہے۔ مناسب ہے کہ ان صفات کو قرآنی ترتیب کے مطابق بیان کریں۔
قرآن کریم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طے کردہ ، مستحکم اور دائمی میزان کے سامنے کھڑا کردیتا ہے تا کہ وہ دائمی اور مستقل قدروں اور عارضی اور بدلنے والے حالات کے درمیان فرق و امتیاز کرسکیں۔ اور ان کی سوچ میں فرق نہ ہو ورنہ ان کی نگاہ میں ہر چیز کی حقیقی قدرو قیمت صحیح نہ رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومنین کی صفات کے بیان سے پہلے ایک مستقبل میزان اور پیمانہ بیان کردیا کہ ایک مسلم جماعت کی صفات کے لئے یہ پیمانہ ہے۔
فما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ خیر وابقیٰ (42 : 36) “ جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی اور پائیدار بھی ”۔ اس زمین کا سازو سامان بہت ہی پرکشش اور زرق وبرق ہے۔ کھانے پینے کے سامان ، اولاد ، شہوات ، لذائذ ، مرتبہ اور اقتدار وغیرہ اور بعض نعمتیں وہ ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کو زمین میں بطور مہربانی دی ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے خالص بخشش ہیں۔ ان کو اللہ نے اس دنیا میں معصیت اور طاعت پر موقوف نہیں کیا ہے۔ اگرچہ اطاعت شعار کی اس قلیل بخشش میں برکت ہوتی ہے اور بدکار کے ہاتھ میں اگر بہت کچھ ہو تب بھی اس سے برکت چھن جاتی ہے۔
لیکن یہ سب امور باقی اقدار نہیں ہیں۔ یہ متاع اور اس زندگی کا سروسامان ہے۔ یہ سرو سامان محدود وقت کے لئے ہے۔ یہ نہ کسی کا مرتبہ بلند کرتا ہے ، نہ گراتا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک نہ شرافت و عزت کی دلیل ہے اور نہ کراہت اور ناپسندیدگی کی دلیل ہے۔ نہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے اللہ راضی ہے اور نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اللہ ناراض ہے۔ بس یہ اس زندگی ، فانی زندگی کا سامان ہے اور اس کے مقابلے میں۔
وما عند اللہ خیر وابقی (42 : 36) “ جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی ”۔ بہتر ہے اپنی قیمت کے اعتبار سے اور پائیداریوں کہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ لہٰذا اس فانی دنیا کا سازو سامان بمقابلہ آخرت کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت ہی محدود اور کم قیمت ہے اور چند روزہ ہے۔ ایک فرد کے لئے صرف اسی کی زندگی میں کار آمد ہے اور پھر ہر شخص سوچ لے کہ وہ کتنی عمر لے کر آیا ہے اور کتنی رہ گئی ہے۔ اور بمقابلہ ایام اللہ یہ تو بہت کم بلکہ لمحات ہیں جس طرح چشم زدن۔
اس تمہیدی بیان اور اصل معیار نیک و بد کے بیان کے بعد اب اللہ ان مومنین کی صفات بیان فرماتا ہے جن کے لئے اللہ نے بہتر اور پائیدار انجام اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے۔
وما عند اللہ خیر وابقی للذین امنوا (42 : 36) “ اور اللہ کے ہاں جو ہے وہ بہتر اور پائیدار ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں ”۔ ایمان وہ حقیقت ہے کہ جب یہ ذہن میں بیٹھ جائے تب ہی جا کر اس کے ذریعہ انسانوں کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز کی اصل “ قدر ” معلوم کرسکیں۔ صرف ایمان کے ذریعہ ہم اس کائنات کی حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں کہ اس کائنات کو الٰہ العالمین نے بتایا ہے۔ اس حقیقت کے ادراک کے بعد ہی کوئی شخص اس کائنات کے ساتھ کوئی معاملہ کرسکتا ہے۔ اس طرح انسان اس کی حقیقت کو معلوم کرلیتا ہے۔ اس کے اندر پائے جانے والے قوانی قدرت کا حقیقی ادراک کرسکتا ہے اور اس طرح یہ انسان اپنی حرکت کو اس کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کرسکتا ہے۔ پھر انسان اس کائنات کے کلی قوانین قدرت سے انحراف نہ کرے گا کیونکہ اس طرح یہ ہم آہنگی ختم ہوجائے گی اور یہ ہم آہنگی اس قدر اہم ہے کہ اس کے ساتھ انسان اس دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرسکے گا۔ اور اس عظیم وجود کے ساتھ مل کر اپنے باری تعالیٰ اور خالق کی اطاعت اور تابعداری میں زندگی بسر کرسکے گا۔ یہ صفت ہر انسان کے لئے لازمی صفت ہے کہ وہ مومن ہو ، لیکن جس جماعت نے پوری انسانیت کے اس سفر کی قیادت کرنی ہے اور جس نے پوری انسانیت کو خالق کائنات تک پہنچا نا ہے اس کے اندر اس صفت کا بدرجہ اتم موجود ہونا ضروری ہے۔
اس ایمان کے نتائج کیا نکلتے ہیں ؟ مومن کو نفسیاتی اطمینان اور نصب العین کا تعین حاصل ہوجاتا ہے۔ تردد ، حیرت ، خوف اور مایوسی اس کے قریب نہیں لگتی اور اس کرۂ ارض پر عام زندگی گزارنے کے لئے بھی یہ صفات اشد ضروری ہیں۔ لیکن یہ صفات اس جماعت کے لئے تو لابدی ہیں جس نے اس کٹھن راہ میں دوسرے انسانوں کی رہنمائی کرنی ہے۔
ایمان کو اہم قدروں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مومن خواہشات نفسانیہ ، ذاتی اغراض ، ذاتی مصلحتوں ، مفادات کے حصول سے پاک ہو۔ تب جا کر وہ کسی اونچے مقاصد کے لئے کام کرسکے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ اس کام میں اس کی ذات کی کوئی حصہ داری نہیں ہے۔ یہ تو صرف دعوت الی اللہ کی ڈیوٹی ہے۔ یہ عند اللہ اجر پا چکا ہے۔ اللہ کے ساتھ سودا ہوچکا ہے اور یہ شعور اس شخص کے لئے تو بہت ہی لازمی ہے جو قائد تحریک ہو ، تا کہ وہ اس وقت مایوس نہ ہو جب ایک خود سر گروہ اس سے الگ ہوجائے یا اسے دعوت کی وجہ سے ایذا دی گئی ہو ، اور اگر تمام عوام اس کے گرویہ ہوجائیں اس کے مطیع ہوجائیں تو وہ مغرور نہ ہوجائے کیونکہ وہ تو ایک مزدور ہے ، اس نے اجرت اللہ سے پہلے ہی لے لی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا پہلا گروہ ، جماعت صحابہ کے اندر اس قسم کا ایمان پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے ایمان نے ان کے نفوس ، ان کے اخلاق ، ان کے طرز عمل میں ایک عجیب انقلاب پید کردیا تھا۔ ان کے دور میں پوری انسانیت کے اندر ایمان کی شکل ہی بگڑ گئی تھی۔ ایمان دب گیا تھا ، بلکہ ایمان کا لوگوں کے اخلاق ، ان کے طرزعمل اور ان کی نفسیات پر کوئی اثر ہی نہ رہا تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے ایمان کی ایک زندہ ، موثر ، فعال صورت دی۔ اور اس نے صحابہ کرام ؓ کی ایک ایسی جماعت پیدا کردی جنہوں نے اسلامی انقلاب کا بیڑا اٹھایا۔
٭٭٭
سید ابو الحسن علی ندوی اپنی کتاب “ مسلمانوں کے زوال کے عالمی اثرات ” میں فرماتے ہیں :
“ یہ ہے وہ ایمان جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں ایمان کو اس جماعت کی صفت اول بتایا گیا ہے جو پوری انسانیت کی قیادت کے لئے اٹھائی گئی ہے جو اپنے ایمان کی وجہ سے انسانیت کی قیادت کرتی ہے۔ اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مومن صرف اللہ پر توکل کرے ”۔ لیکن قرآن مجید تو کل علی اللہ کو بطور ایک مستقل عنوان ذکر کرتا ہے۔
وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) “ اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ”۔ یہاں سیدھے سارے فقرے یتوکلون علی ربھم کی بجائے وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) کہا۔ یعنی بعد کے الفاظ کو مقدم یعنی جار مجرور کو مقدم کرنے سے حصر کے معنی پیدا ہوئے یعنی صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور کسی پر نہیں کرتے۔ یہ بھی عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ان کا اللہ پر بھروسہ ہو۔ مومن کا اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان ہوتا ہے۔ اس کا یقین ہوتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی شخص اپنی مشیت سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ کوئی کام یہاں اللہ کے اذن کے بغیر واقع ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مومن صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ کسی کام کے کرنے یا کسی کام کے نہ کرنے میں مومن صرف اللہ پر توکل کرتا ہے۔
ہر شخص کے لئے یہ شعور اس کی عملی زندگی میں لابدی ہے ۔ کیونکہ اس طرح وہ ہر کسی کے سامنے سر اٹھا کے چلے گا۔ اور اس کا سر کسی کے سامنے نہ جھکے گا۔ وہ بہت مطمئن ہوگا ، نہ کسی سے کوئی امید رکھے گا نہ اسے کسی کا خوف ہوگا اگر مشکلات آجائیں تو پرجوش اور ثابت قدم ہوگا اور اچھے دن ہوں تو سنجیدہ رہے گا۔ نہ خوشحالی اور نہ ہی بدحالی اسے اپنی جگہ سے ہلا سکے گی۔ لیکن یہ شعور اسلامی انقلاب کے قائد کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ وہ اس راہ کے نشیب و فراز میں جم جانے اور اسلامی انقلاب لانے والی جماعت کے ہر فرد میں بھی یہ صفت ضروری ہے۔
والذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش (42 : 37) “ جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں ” ۔ قلب کی طہارت ، طرز عمل کا شفاف ہونا ، خصوصاً بڑے گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے ، اسلامی معاشرے کی اساسی خصوصیت ہے اور یہ ایمان کے نمایاں آثار میں سے ہے۔ اور کسی صحیح قائد اور خصوصاً اسلامی دعوت کے لئے اٹھنے والی جماعت کے لئے تو یہ بہت ہی ضروری صفت ہے۔ کوئی دل اور شفاف نہیں رہ سکتا ، اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہا ہو اور فحاشی کے کاموں میں حصہ دار ہو اور ان چیزوں سے اجتناب کرنے والا نہ ہو ، اور کوئی فرد اور کوئی جماعت قیادت کے قابل نہیں ، اگر اس کا دل صاف نہ ہو ، اور معصیت اور فحاشی نے اس کے ایمان کو خود ختم کردیا ہو اور اس کی شکل ہی بگڑی ہوئی ہو۔
پہلی جماعت مسلمہ کے دل میں ایمان اس قدر تیز احساس کے ساتھ ، اس درجے تک بلند ہوگیا تھا ، جس کی طرف محولہ بالا ص میں 22 میں اشارہ کیا گیا اور اس طرح اس جماعت کو اس کے ایمان نے انسانی قیادت کے منصب پر فائز کردیا تھا۔ اور انہوں نے ایسی قیادت کی کہ اس کی مثال نہ سابقہ قدیم تاریخ میں ملتی ہے اور نہ نئی تاریخ میں۔ اس قیادت کی مثال ایسی ہے جس طرح ایک تیز ہو اور جو ستارے کی طرف اشارہ کرتا ہو ، اس جہان میں جہاں خواہشات کی جنگ برپا ہو اور نفسا نفسی کا عالم ہو۔
اللہ اس انسانی مخلوق کی کمزوریوں سے خوب واقف ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قیادت کے لئے شرائط بھی معقول حد کے اندر رکھی ہیں۔ جن پر کوئی قیادت عمل کرسکے اور اس پر وہ اللہ کے ہاں موہود اجر پاسکے۔ اللہ نے جو معیار تجویز فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی جماعت اور اس کی لیڈر شپ کبائر گناہوں اور فواحش سے مجتنب ہو۔ رہے چھوڑے گناہوں کا ارتکاب تو وہ اللہ معاف کر دے گا۔ کیونکہ اللہ انسانوں کی طاعت کی حدود وقیود سے خوب واقف ہے۔ یہ اللہ کا فضل ، اس کی مہربانی اور رحمت ہے ، جو اس نے اس انسان پر کیا۔ مناسب ہے کہ ہم اللہ سے شرم کریں کیونکہ مہربانی سے انسان کے اندر حیا کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عفو درگزر کی وجہ سے عزت و احترام پیدا ہوتا ہے۔
واذا ما غضبوا ھم یغفرون (42 : 37) “ اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کر جاتے ہیں ” ۔ یہ صفت اس کے بعد متصلا آئی جب اس سے قبل اشارہ کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے چھوٹے گناہ معاف کر کے درگزر فرماتا ہے۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ آپس میں مہربانی اور درگزر کا سلوک روا رکھیں۔ چناچہ مومنین کی صفات میں اس بات کو شامل کیا گیا کہ جب ان کو غصہ آئے تو وہ ایک دوسرے کو معاف کریں۔
اس معاملے میں بھی اسلام نفس انسانی کے ساتھ نہایت ہی احسان کرتا ہے۔ اسلام انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اللہ کو تو معلوم تھا کہ غصہ ایک ایسا انسانی رد عمل ہے جو انسان کی فطرت سے اٹھتا ہے۔ اور یہ غصہ سرا سر شر بھی نہیں ہے۔ اللہ کے لئے ، اللہ کے دین کی خاطر ، سچائی کے لئے اور انصاف کی خاطر تو غصہ مطلوب ہے۔ اور اس میں خیر ہے۔ لہٰذا اسلام نفس غصے کو جرم قرار نہیں دیتا۔ نہ اسے غلطی قرار دیتا ہے بلکہ اسلام انسانی مزاج اور فطرت میں غصے کو قبول کرتا ہے۔ اس لیے اسلام انسان اور اس کی فطرت کے درمیان کسی دینی حکم کی وجہ سے جدائی اور تفریق نہیں کرتا۔ ہاں اسلام یہ ہدایت ضرور دیتا ہے کہ انسان کو اپنے غصے پر قابو پانا چاہئے۔ اسے چاہئے کہ حتی الوسع عفو و درگزر سے کام لے اور یہ اس کی ایمانی صفات میں سے ایک مثالی صفت ہوگی۔ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ آپ کبھی بھی ذاتی معاملات میں غصہ نہیں ہوئے۔ آپ کا غصہ اللہ کے لئے ہوتا تھا اور پھر آپ کے غصے کے سامنے کوئی طاقت ٹھہر نہ سکتی تھی۔ خیر یہ تو مقام محمدی ﷺ کے درجات و کمالات ہیں۔ عام مسلمانوں کو اللہ ان کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے ۔ اگرچہ وہ اس میں ان کو آزماتا ہے اور صرف یہ حکم دیتا ہے کہ اگر غصہ آجائے تو معاف کردیں ، اور اگر ممکن ہو سکے تو معاف کردیں اور انتقام کے جذبات پر قابو پالیں بشرطیکہ معاملہ ذاتی حدود کے اندر ہو۔ اور دو افراد کے درمیان ہو۔
والذین استجابوا لربھم (42 : 38) “ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں ”۔ وہ اپنے اور رب کے درمیان حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں اور نفس انسانی سے وہ باتیں محو کرتے ہیں جو توجہ الی اللہ سے مانع ہوں ، یہ رکاوٹیں نفسانی خواہشات ، جذبات و میلانات اور وہ رکاوٹیں جو انسان کے وجود اور اس کی ذات سے لگی ہوئی ہیں ، جب انسان ذاتی خواہشات پر قابو پالے اور شخصی رکاوٹوں کو دور کرے تو پھر اس کے اور اس کے رب کے درمیان راستہ صاف ہوجاتا ہے ۔ اور پھر یہ رب کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے سامنے ذاتی خواہشات کی کوئی رکاوٹ ، رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی یہ عمومی صفت ہے لیکن احکام الٰہی میں سے بعض کا یہاں خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے۔
واقاموا الصلوٰۃ (42 : 38) “ نماز قائم کرتے ہیں ”۔ اسلام میں نماز کو ایک بہت بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ کلمہ طیبہ کے اقرار کے بعد پہلا حکم نماز کا آتا ہے۔ گویا نماز اللہ کے احکام کی پیروی کا آغاز ہوتا ہے۔ بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا نام نماز ہے۔ پھر یہ اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام میں محمود وایاز ایک ہی صفت میں کھڑے ہوں گے۔ کسی کا سر دوسرے کے مقابلے میں بلند نہ ہوگا ، کوئی کسی سے آگے نہ ہوگا۔ اور یہی پہلو ہے یعنی مساوات کا پہلو کہ نماز کے بعد بالعموم زکوٰۃ کا ذکر آتا ہے لیکن یہاں زکوٰۃ سے پہلے وامرھم شوری (42 : 38) کا ذکر کیا تا کہ معلوم ہو کہ رائے ہر شخص کی برابر شمار ہوگی۔
وامرھم شوریٰ بینھم (42 : 38) “ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ انداز بیان ایسا ہے کہ ان کے تمام امور مشورے کے نتیجے میں ہوتے ہیں گویا ان کی پوری زندگی مشورے کے رنگ میں رنگی ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ ایک مکی آیت ہے اور یہ حکم اسلامی حکومت کے قیام سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ رنگ گویا صرف حکومتی امور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسلامی سوسائٹی کا عمومی طرز عمل ہے۔ اگرچہ حکومت اس وقت قائم ہی نہ ہوئی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کی تنظیم دراصل اسلامی سوسائٹی کے خدو خال کا ایک منظم ظہور ہی ہے اور اسلامی سوسائٹی میں اسلامی حکومت بھی آتی ہے۔ لہٰذا اسلامی سوسائٹی ، اسلامی حکومت کو بھی اسی نہج پر چلاتی ہے۔ جس طرح اس کے عمومی امور چلتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں آغاز ہی سے مشورے کا عمل جاری تھا۔ اور اس مشورے کا دائرہ حکومت اور حکومتی احکام سے بہت زیادہ وسیع تھا۔ یہ دراصل اسلامی سوسائٹی کی صفت ہے اور اس جماعت کی تو ممتاز صفات میں سے ہے جسے اللہ نے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے برپا کیا ہے۔ اور قیادت کے لئے تو یہ بہت ہی اہم ہے۔
شوریٰ کی شکل و صورت کیا ہونی چاہئے تو اسلام نے اس کے لئے کوئی فولادی قالب نہیں تیار کیا۔ ہر زمان و مکان کے حالات میں اس کی مختلف شکل و صورت تیار ہو سکتی ہے تا کہ یہ صفت یعنی شو رائیت اسلامی سوسائٹی میں بھی رائج ہو۔ اسلامی اداروں میں بھی مروج ہو ، لیکن اس کی کوئی جامد شکل نہ ہو بلکہ شوریٰ کی روح ہر جگہ موجود ہو۔ یعنی یہ شورائیت دراصل الفاظ اور اشکال کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک صفت ہے جو ایمان کے نتیجے میں اسلامی سوسائٹی میں شورائی شعور اور طرز عمل پیدا کرتی ہے۔ بعض لوگ ایسے اسلامی اداروں کی بات کرتے ہیں جن کی تہہ میں ایمان نہ ہو یا ایمان کا ہونا ضروری نہ ہو تو وہ ایک فضول کام کر رہے ہیں۔ اور یہ کوئی سطحی بات نہیں ہے جس طرح پہلی نظر میں نظر آئے گی اور خصوصاً ان لوگوں کو نظر آئے گی جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات میں ایمان کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اسلامی نظریہ حیات اداروں اور تنظیمات میں منتقل ہونے سے قبل ، اس کے اندر ایسی عقلی اور نفسیاتی حقیقتیں ہوتی ہیں جو انسانی سوچ اور انسان کی ذات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اور اس کے بعد اسلام کے اجتماعی اداروں میں وہ اصول بن کر ایک متبعین شکل اختیار کر کے سامنے آتی ہیں اور اس کے بعد پھر نصوص آتے ہیں اور وہ ان اشکال اور حالات کی طرف اشارہ کردیتے ہیں ۔ نصوص ان اصولوں کو منظم کردیتے ہیں ، ان کی تخلیق نہیں کرتے ، ان کی تخلیق تو ایمان کی وجہ سے ہوچکی ہوتی ہے۔ لہٰذا اسلامی نظریہ حیات کی کسی شکل و صورت کے ظہور کے لئے کسی ملک میں اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کا وجود ضروری ہے۔ اور ان مسلمانوں کا ایمان فعال اور بااثر ہو۔ اگر مسلمانوں کا وجود ہی نہ ہو تو محض اداروں کے قیام سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ محض ادارے ضروریات پوری نہ کرسکیں گے اور اس صورت میں کوئی ایسا نظام وجود میں نہ آسکے گا جسے اسلامی کہا جاسکے۔
جب مسلمان صحیح معنوں میں پائے جائیں گے اور ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے وجود میں آجائے گا تو اسلامی نظام بذات خود وجود میں آجائے گا اور اس کی ایک اداراتی شکل خودبخود وجود میں آجائے گی جو ان مسلمانوں کی ضرورت ہوگی اور ان کی سوسائٹی کی ضرورت ہوگی اور صرف اس طرح اسلامی اصولوں کے خواب کی سچی تعبیر وجود میں آسکے گی۔
ومما رزقنھم ینفقون (42 : 38) “ اور ہم نے ان کو جو رزق دیا اس سے خرچ کرتے ہیں ” یہ آیت بھی حکم فرضیت زکوٰۃ سے پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ زکوٰۃ دو ہجری میں فرض ہوئی لیکن انفاق فی سبیل اللہ عام حکم اسلامی جماعت کے لئے پہلے سے تھا۔ بلکہ اسلامی سوسائٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی یہ حکم وجود میں آگیا تھا۔
دعوت اسلامی کے عمل کے لئے مال کی ضرورت ہے اور یہ مال بذریعہ انفاق حاصل ہوگا۔ انفاق کے ذریعہ انسانوں کے دل کنجوسی کی بری خصلت سے پاک ہوتے ہیں جب انسانی جذبہ مال پر قابو پا لیتا ہے اور اپنی مملوکات کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھنا ہے ، ایمان کے مفہوم کے نکھار کے لئے یہ سب امور ضروری ہیں۔ اور یہ بات تو اپنی جگہ ہے کہ انفاق کے بغیر کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دعوت تو ایک جدو جہد ہے اور جدو جہد میں کارکنوں کی کفالت ضروری ہے تا کہ اجماعی ضروریات پوری ہوں اور نتائج برآمد ہوں۔ بعض اوقات یہ تکافل ہمہ گیر ہوجاتا ہے کہ کیس کے لئے انفرادی دولت رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔ جب مہاجرین مکہ سے نکلے اور مدینہ میں انصار کے ساتھ مل کر جو نظام قائم ہوا یہ سب اسی اصول کے تحت تھا لیکن جب حالات معمول پر آگئے تو پھر زکوٰۃ کو رائج کر کے موافات کے نظام کو منسوخ کردیا گیا جو کلی تکافل تھا۔ بہرحال انفاق فی سبیل اللہ اس جماعت کی ممتاز خصوصیت ہے جسے اس مقصد کے لئے چنا گیا ہو یا اسے اس مقصد کے لئے قائم کیا گیا ہو کہ وہ کسی خطے میں اسلامی انقلاب برپا کرے۔
والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ مکی سورتوں میں اس صفت کا ذکر اپنے اندر خاص معنی رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلامی جماعت مسلمہ کے اندر یہ طبیعی صفت ہوتی ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا مقابلہ کرنا ایک اہم فریضہ ہے کیونکہ اگر کوئی ظالم کے سامنے ہتھیار ڈال دے تو ظالم اور جری ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ظالم کا مقابلہ کرنا بہت ضروی ہے۔ اور ایک ایسی ملت جسے اٹھایا ہی اس لیے گیا ہو کہ لوگوں کے حقوق کی پاسبانی کرے ، امر بالمعروف اس کا مشن ہو اور “ نہی عن المنکر اس کا فریضہ ہو ، اس کے لئے تو برائی کا مقابلہ کرنا بہت ہی اہم ہے کیونکہ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کا نصب العین یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی پر چھا جانے اور اس کے اندر سچائی کے ساتھ عدل و انصاف قائم کرے۔
وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین “ اور عزت اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہے ”۔ لہٰذا اسلامی جماعت کا مزاج ، اس کے فرائض کی نوعیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرے اور اس پر جو دست درازیاں کی جا رہی ہیں ان کی مدافعت کرے۔ مکہ میں حکم یہ تھا کہ رک جاؤ اور ہاتھ روک لو اور صبر کرو۔ نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو ، وہاں یہ احکام مکہ کے مخصوص حالات کی وجہ سے تھے اور ابتدائے عرب مسلمانوں کی قدرے تربیت بھی مطلوب تھی کیونکہ عرب مزاجاً منتقم المزاج تھے ، یہ اسلامی جماعت اور اسلامی سوسائٹی کے لئے مستقل احکام نہ تھے۔ مکہ میں بعض خصوصی اسباب کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ ہر قیمت پر بقائے باہمی کے لئے امن اور سلامتی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔
1۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے خلاف سختی اور زیادتی کسی منظم حکومت ادارے کی طرف سے نہ تھی جو اس وقت کی جماعت پر حکمران ہو ، کیونکہ جزیرۃ العرب کی سیاسی صورت حال غیر منظم قبائل انداز کی تھی۔ وہاں مسلمانوں پر جو تشدد کیا جاتا ہے تھا ، اگر کوئی مسلمان کسی قبیلے کا فرد تھا تو اس پر یہ تشدد قبیلہ کرتا تھا اور قبیلے میں بھی اس کے قریبی رشتہ دار کے علاوہ کوئی جرات نہ کرسکتا تھا۔ مسلمانوں پر بحیثیت جماعت کوئی تشدد نہ ہوتا تھا۔ بعض اوقات آقا اپنے مسلمان غلاموں پر تشدد کرتے تھے اور مسلمان انہیں خرید کر آزاد کردیتے تھے۔ اس لیے کوئی بھی اپنے غلاموں پر زیادہ تشدد کی جرات نہ کرتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نہ چاہتے تھے کہ مکہ میں گھر گھر کے اندر لڑائی شروع ہوجائے۔ ایک ہی گھر کے جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں وہ غیر مسلموں سے لڑنا شروع کردیں۔ پھر مکہ میں نرمی دوسرے لوگوں کے دلوں کو زیادہ نرم کردیتی تھی بسنبت سختی کے۔
پھر عرب معاشرہ ایک خوددار اور جوانمرد معاشرہ تھا۔ اس میں مظلوم کی تمایت میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ مسلمان جب اذیت برداشت کرتے تھے اور اپنے عقیدے پر جم جاتے تھے تو عربوں کی جوانمردی کے جذبات ان کے حق میں اٹھتے تھے۔ شعب ابی طالب میں محصوری کے دوران بالعموم اسی جذبے نے مسلمانوں کی مدد کی ، جس میں بنی ہاشم سب محصور کر دئیے گئے تھے۔ اس محاصرے کے خلاف لوگوں کی ہمدردیاں ، مسلمانوں کے حق میں ہوگئیں اور لوگوں نے اس معاہدے کے پرزے پرزے کر دئیے جو صحیفے میں تھا اور یوں یہ ظالمانہ معاہدہ ختم ہوا۔
پھر عربوں کے اندر یہ رواج تھا کہ وہ بات بات پر تلوار سونت لیتے تھے۔ وہ بڑے جذباتی تھے اور کسی نظم و نسق کے پابند نہ تھے ۔ اسلامی جماعت میں جو تنظیم مطلوب تھی اس کا تقاضا تھا کہ اس جذباتیت کو ذرا دبایا جائے اور اسے کسی ہدف کا پابند کیا جائے۔ اور لوگوں کو اعصابی ضبط اور صبر کا عادی بنایا جائے۔ اور لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ نظریہ اور نصب العین ہر جذبے اور ہر مفاد پر مقدم ہیں۔ لہٰذا مکہ میں صبر اور مسلسل صبر کی تلقین کرنا اسلام کے منہاج تربیت کے لیے بہت ضروری تھا۔ اس طرح ایک مسلم کی شخصیت میں مطلویہ توازن پیدا ہوگیا اور وہ صبر وثبات کے ساتھ اپنے مقصد کے لئے آگے بڑھتے رہے۔۔۔۔ غرض یہ اور اس طرح کے دوسرے اسباب تھے جن کو اللہ اور رسول جانتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں ، صبر کی تلقین ہوتی رہی لیکن اصلی ہدف تحریک اسلامی کا یہی تھا۔
والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ وہ لوگ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ مقابلہ کرتے ہیں ”۔
اس اصول کو زندگی کا ایک دوسرا اصول عملاً رائج کرتا ہے ، وہ ہے :
وجذء سیئۃ سیئۃ مثلھا (42 : 40) “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔ سزا کا یہ اصول ہے کہ جیسا جرم ہو ، ویسی ہی سزا دی جائے تا کہ سرکشی اختیار نہ کرے۔ اگر کسی سرکش انسان کو کوئی روکنے والا نہ ہو تو وہ سر کشی اور ظلم میں بڑے اطمینان سے بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔
یہ تو ہے مظلوم کا حق اور اصول عامہ۔ لیکن اگر کوئی اپنے اصلاح نفس یا جزائے خیر اور اخروی اجر کے لئے کسی کو معاف کرتا ہے یا جماعت مسلمہ کے خلاف اٹھنے والے جذبات کی وجہ سے معاف کرتا ہے تو اس قاعدے میں استثناء موجود ہے۔ لیکن معافی کو اس وقت معانی تصور کیا جائے گا جب کوئی شخص برائی کا جواب برائی کے ساتھ دینے پر قدرت رکھتا ہو۔ اس وقت عفو کا وزن بھی ہوگا اور دست درازی کرنے والے کی اصلاح بھی ہوگی کیونکہ دست درازی کرنے والا جب یہ سوچے گا کہ عفو اور در گزر محض احسان کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس میں معاف کرنے والے کی کوئی کمزوری نہیں ہے۔ تو اس صورت میں وہ شرمندگی محسوس کرے گا ، نادم ہوگا اور آئندہ حیا کرے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ میرے مخالف نے میرے ساتھ شریفانہ سلوک کیا ہے۔ وہ اونچا آدمی ہے اور جو شخص انتقام لینے پر قادر ہو اور معاف کر دے تو اس کا دل بھی صاف ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایسے حالات میں عفو و درگزر دونوں کے لئے مفید ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک شخص انتقام لینے سے عاجز ہو اور معاف کردے تو پھر صورت یہ ہوگی ، گداگر تواضع کند خوئے اوست۔ لہٰذا ایسے عفو کو عفو کہنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ وہاں عفو نہیں ہے ، مجبوری ہے۔ اور یہ صورت حال ایک شر انگیز صورت حال ہے ۔ اس کے نتیجے میں ظلم کرنے والا اور جری ہوتا ہے۔ اور فساد اور پھیلتا ہے ، یہ آیت مفہوم ۔
فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ (42 : 40) “ پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ پر ہے ”۔
انہ لا یحب الظلمین (42 : 40) “ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ”۔ یہ پہلے قاعدے کی تاکید ہے کہ “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یا تو معاف کر دو یا اگر بدلہ لینا ہے تو برابر بدلہ لو اس میں حدت نہ بڑھو۔۔۔۔ ایک دوسری تاکید اسی قاعدے گی :
ولمن انتصر بعد ۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 42) انما السبیل علی الذین ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (42 : 42) “ اور جو لوگ ظلم کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی۔ ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے ”۔ لہٰذا جو شخص ظلم کے بعد مدافعت کرتا ہے اور برائی کا بدلہ اس کے مساوی لینا ہے ، تعدی نہیں کرتا تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ وہ تو اپنا قانون حق استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کسی کے پاس کوئی حجت نہیں ہے۔ نہ کسی کے لئے جائز ہے کہ اس کی راہ روکے۔ راہ تو ان لوگوں کی روکنی چاہئے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ، اور زمین میں بغیر استحقاق کے زیادتیاں کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی ایسے ملک کی اصلاح نہیں ہو سکتی جب اس میں ایک ظالم لوگوں پر ظلم کر رہا ہو اور اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ اس میں باغی ہو جو لوگوں پر مظالم ڈھا رہا ہو اور کوئی قوت ایسی نہ ہو جو اس کا ہاتھ روکے یا اس سے قصاص دلواسکے۔ اللہ تعالیٰ بہرحال اس قسم کے ظالموں کو عذاب الیم کی دھمکی دیتا ہے۔ لیکن یہ لوگوں کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ظالم کا ہاتھ پکڑیں۔
آخر میں پھر انفرادی حالات اور طاقت انتقام کے باوجود ، تو ازن ، اعتدال ، ضبط نفس ، صبر اور احسان کا رویہ اپنانے پر متوجہ کیا جاتا ہے۔ جب صبر اور احسان فی الواقعہ ایک درگزر ہو ، ذلت نہ ہو ، کوئی احسان ہو ، مجبور نہ کردیا گیا ہو۔
ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور (42 : 43) “ البتہ جو صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولو العزمی کے کاموں میں سے ہے ”۔
اس پیراگراف کی تمام ہدایات و احکام نہایت ہی اعتدال اور میانہ روی پر مبنی ہیں۔ نفس انسانی کو ایک طرف کینہ اور غصے سے بچانے کی سعی کی گئی ہے ، اور دوسری جانب کمزوری ، ذلت اور ظلم و زیادتی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ہر حال میں اللہ کی رضا مندی کو پیش نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ صبر بہرحال زاد راہ ہے۔
اور مومنین کی جو صفات یہاں دی گئی ہیں وہ اس انقلابی جماعت کی خصوصیات ہیں ، جس نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی ہے ، اور جس کے پیش نظر انعام اخروی اور رضائے الٰہی ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں اور رب پر توکل کریں۔
یہ بیان کرنے کے بعد کہ صفات مومنین یہ ہیں اور ان کے لئے جو اخروی اجر ہے ، وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اب بطور تقابل تصویر کا دوسرا رخ بعض ظالموں کا انجام بھی یہاں دے دیا جاتا ہے۔ اور ان کے لئے ذلت اور خسران کا اعلان کیا گیا ہے۔
الشورى 42:43
آیت نمبر 36 تا 43
اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف کیا ان کے بعدجب کوئی کتاب ان کی اگلی نسلوں کو ملی تو ان اختلافات کی وجہ سے وہ سرے سے کتابوں کے بارے میں شک میں پڑگئے۔ جب اہل کتاب اور اہل دین سماوی کا یہ حال ہوگیا تھا تو جن اقوام کے پاس کوئی کتاب یا کوئی دین ہی نہ تھا ، ظاہر ہے کہ ان کی حالت تو ان سے بھی بدتر ہوگی۔
یہی وجہ ہے کہ انسانیت کو ایک صالح قیادت کی ضرورت تھی تا کہ وہ انسانوں کو ان اندھی جاہلیتوں سے نکالے اور ان کی رہنمائی کر کے ان کو ایک مضبوط رسی میں باندھ دے۔ اور ان کی رہنمائی ایک ایسے راستے کی طرف کرے جو اللہ تک پہنچاتا ہو جو اس وجود کا رب ہے۔
اس لیے اللہ نے یہ آخری کتاب عربی زبان میں اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر اتاری تا کہ ام القریٰ ، مکہ مکرمہ اور اس کے ماحول میں رہنے والوں سے دعوت کا آغاز کرے اور ان کے اندر وہی دین قائم کرے جس کی سخت تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی تھی تا کہ تمام ادیان حقہ کی کڑیاں باہم مل جائیں اور آغاز تاریخ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی نہج ، ایک منہاج ، ایک ہی دین اور ایک ہی شریعت ہو اور ایک ایسی جماعت یہاں قائم کی جائے جو اس تاریخی دعوت کی محافظ ہو ، اس کی قیادت کرے اور اس کرۂ ارض پر اس دعوت کو اللہ کی منشا کے مطابق برپا کر کے یہاں اس منہاج کو قائم کرے۔ اور یہ کام اس شکل و صورت میں ہو جو اللہ کو پسند ہو۔ لہٰذا زیر بحث آیات میں اس جماعت کے خدوخال بیان ہو رہے ہیں۔ جس نے یہ عظیم فریضہ سر انجام دینا ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ آیات مکی ہیں اور مدینہ میں اسلامی نظام حکومت کے قیام سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ لیکن ہم مکہ میں بھی تحریک اسلامی کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت دیکھتے ہیں۔
وامرھم شوری بینھم (42 : 38) “ اور اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاورت کا قیام اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اسلامی جماعت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ جماعتی نظام شوریٰ پر قائم ہوتا ہے۔ یہی نظام جماعت سے آگے بڑھ کر پھر مملکت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یعنی اسلامی معاشرے کی جان شورائیت ہے اور یہ اس کے اندر پھیلتی جاتی ہے۔ اس طرح اس جماعت کی دوسری خصوصیت یہ بتائی گئی ہے۔
والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ باوجود اس کے کہ مکہ میں حکم یہی تھا کہ صبر کرو ، اور زیادتی کا بدلہ زیادتی سے نہ دو ، اور یہ حکم اس وقت تک کے لئے تھا جب ہجرت کے بعد قتال کی اجازت دے دی گئی اور یہ کہا گیا ۔
اذن للذین ۔۔۔۔۔ نصرھم لقدیر (22 : 39) “ اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر قادر ہے ”۔ تو اس صفت کا ان مکی آیات میں ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ تحریک اسلامی کا مزاج یہی ہے کہ وہ زیادتی کے خلاف سینہ سپر ہوجاتی ہے اور اس سے پہلے اور بعد کے جو احکام ہیں وہ صبر کرنے اور رکے رہنے کے لئے ہیں۔ اور استثنائی احکام ہیں اور ایک متبعین وقت تک کے لئے ہیں۔ یہاں اس مکی سورت میں چونکہ جماعت مسلمہ کی بنیادی صفات قلم بند کی جا رہی تھیں اس لیے یہاں ذکر کردیا کہ اگرچہ فی الوقت انتصار کی ممانعت تھی لیکن یہ صفت اہل ایمان کی بنیادی صفات میں سے ہے۔
بہرحال جماعت مسلمہ کی صفات کے ضمن میں ایسے امور کا ذکر جن پر عمل نہ ہو رہا تھا اور نہ جماعت کے ہاتھ میں کسی ملک کی عملی قیادت تھی اور جماعت ابھی مکہ میں مصائب برداشت کر رہی تھی ، یہ اس لیے ہوا کہ اس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی تھی اور اسے اس لیے برپا کیا گیا تھا کہ وہ پوری انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر نور اسلام میں لائے گی۔ لہٰذا جماعت مسلمہ کے اندر ان صفات کا پیدا ہونا اور جماعت کے لئے ان مقاصد کے لئے تیار کرنا ضروری تھا۔ یہاں ان باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے تا کہ جب اس کے ہاتھ میں اقتدار آئے تو وہ اس کی اہل ہو۔ لہٰذا ان صفات پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے کہ یہ کیا ہیں ؟ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور انسانی معاشرے میں ان کی اہمیت کیا ہے۔
یہ ہیں ایک اسلامی جماعت کی صفات۔ ایمان ، توکل ، اجتناب کبائر اور فواحش ، غصے کے وقت معافی ، اللہ کی پکار پر لبیک کہنا ، اقامت صلوٰۃ ، ہر معاملے میں مشاورت ، انفاق فی سبیل اللہ ، ظلم و زیادتی کا مقابلہ ، عفو ، اصلاح اور صبر۔ یہ کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور ان کی اہمیت کیا ہے۔ مناسب ہے کہ ان صفات کو قرآنی ترتیب کے مطابق بیان کریں۔
قرآن کریم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طے کردہ ، مستحکم اور دائمی میزان کے سامنے کھڑا کردیتا ہے تا کہ وہ دائمی اور مستقل قدروں اور عارضی اور بدلنے والے حالات کے درمیان فرق و امتیاز کرسکیں۔ اور ان کی سوچ میں فرق نہ ہو ورنہ ان کی نگاہ میں ہر چیز کی حقیقی قدرو قیمت صحیح نہ رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومنین کی صفات کے بیان سے پہلے ایک مستقبل میزان اور پیمانہ بیان کردیا کہ ایک مسلم جماعت کی صفات کے لئے یہ پیمانہ ہے۔
فما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ خیر وابقیٰ (42 : 36) “ جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی اور پائیدار بھی ”۔ اس زمین کا سازو سامان بہت ہی پرکشش اور زرق وبرق ہے۔ کھانے پینے کے سامان ، اولاد ، شہوات ، لذائذ ، مرتبہ اور اقتدار وغیرہ اور بعض نعمتیں وہ ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کو زمین میں بطور مہربانی دی ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے خالص بخشش ہیں۔ ان کو اللہ نے اس دنیا میں معصیت اور طاعت پر موقوف نہیں کیا ہے۔ اگرچہ اطاعت شعار کی اس قلیل بخشش میں برکت ہوتی ہے اور بدکار کے ہاتھ میں اگر بہت کچھ ہو تب بھی اس سے برکت چھن جاتی ہے۔
لیکن یہ سب امور باقی اقدار نہیں ہیں۔ یہ متاع اور اس زندگی کا سروسامان ہے۔ یہ سرو سامان محدود وقت کے لئے ہے۔ یہ نہ کسی کا مرتبہ بلند کرتا ہے ، نہ گراتا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک نہ شرافت و عزت کی دلیل ہے اور نہ کراہت اور ناپسندیدگی کی دلیل ہے۔ نہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے اللہ راضی ہے اور نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اللہ ناراض ہے۔ بس یہ اس زندگی ، فانی زندگی کا سامان ہے اور اس کے مقابلے میں۔
وما عند اللہ خیر وابقی (42 : 36) “ جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی ”۔ بہتر ہے اپنی قیمت کے اعتبار سے اور پائیداریوں کہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ لہٰذا اس فانی دنیا کا سازو سامان بمقابلہ آخرت کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت ہی محدود اور کم قیمت ہے اور چند روزہ ہے۔ ایک فرد کے لئے صرف اسی کی زندگی میں کار آمد ہے اور پھر ہر شخص سوچ لے کہ وہ کتنی عمر لے کر آیا ہے اور کتنی رہ گئی ہے۔ اور بمقابلہ ایام اللہ یہ تو بہت کم بلکہ لمحات ہیں جس طرح چشم زدن۔
اس تمہیدی بیان اور اصل معیار نیک و بد کے بیان کے بعد اب اللہ ان مومنین کی صفات بیان فرماتا ہے جن کے لئے اللہ نے بہتر اور پائیدار انجام اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے۔
وما عند اللہ خیر وابقی للذین امنوا (42 : 36) “ اور اللہ کے ہاں جو ہے وہ بہتر اور پائیدار ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں ”۔ ایمان وہ حقیقت ہے کہ جب یہ ذہن میں بیٹھ جائے تب ہی جا کر اس کے ذریعہ انسانوں کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز کی اصل “ قدر ” معلوم کرسکیں۔ صرف ایمان کے ذریعہ ہم اس کائنات کی حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں کہ اس کائنات کو الٰہ العالمین نے بتایا ہے۔ اس حقیقت کے ادراک کے بعد ہی کوئی شخص اس کائنات کے ساتھ کوئی معاملہ کرسکتا ہے۔ اس طرح انسان اس کی حقیقت کو معلوم کرلیتا ہے۔ اس کے اندر پائے جانے والے قوانی قدرت کا حقیقی ادراک کرسکتا ہے اور اس طرح یہ انسان اپنی حرکت کو اس کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کرسکتا ہے۔ پھر انسان اس کائنات کے کلی قوانین قدرت سے انحراف نہ کرے گا کیونکہ اس طرح یہ ہم آہنگی ختم ہوجائے گی اور یہ ہم آہنگی اس قدر اہم ہے کہ اس کے ساتھ انسان اس دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرسکے گا۔ اور اس عظیم وجود کے ساتھ مل کر اپنے باری تعالیٰ اور خالق کی اطاعت اور تابعداری میں زندگی بسر کرسکے گا۔ یہ صفت ہر انسان کے لئے لازمی صفت ہے کہ وہ مومن ہو ، لیکن جس جماعت نے پوری انسانیت کے اس سفر کی قیادت کرنی ہے اور جس نے پوری انسانیت کو خالق کائنات تک پہنچا نا ہے اس کے اندر اس صفت کا بدرجہ اتم موجود ہونا ضروری ہے۔
اس ایمان کے نتائج کیا نکلتے ہیں ؟ مومن کو نفسیاتی اطمینان اور نصب العین کا تعین حاصل ہوجاتا ہے۔ تردد ، حیرت ، خوف اور مایوسی اس کے قریب نہیں لگتی اور اس کرۂ ارض پر عام زندگی گزارنے کے لئے بھی یہ صفات اشد ضروری ہیں۔ لیکن یہ صفات اس جماعت کے لئے تو لابدی ہیں جس نے اس کٹھن راہ میں دوسرے انسانوں کی رہنمائی کرنی ہے۔
ایمان کو اہم قدروں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مومن خواہشات نفسانیہ ، ذاتی اغراض ، ذاتی مصلحتوں ، مفادات کے حصول سے پاک ہو۔ تب جا کر وہ کسی اونچے مقاصد کے لئے کام کرسکے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ اس کام میں اس کی ذات کی کوئی حصہ داری نہیں ہے۔ یہ تو صرف دعوت الی اللہ کی ڈیوٹی ہے۔ یہ عند اللہ اجر پا چکا ہے۔ اللہ کے ساتھ سودا ہوچکا ہے اور یہ شعور اس شخص کے لئے تو بہت ہی لازمی ہے جو قائد تحریک ہو ، تا کہ وہ اس وقت مایوس نہ ہو جب ایک خود سر گروہ اس سے الگ ہوجائے یا اسے دعوت کی وجہ سے ایذا دی گئی ہو ، اور اگر تمام عوام اس کے گرویہ ہوجائیں اس کے مطیع ہوجائیں تو وہ مغرور نہ ہوجائے کیونکہ وہ تو ایک مزدور ہے ، اس نے اجرت اللہ سے پہلے ہی لے لی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا پہلا گروہ ، جماعت صحابہ کے اندر اس قسم کا ایمان پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے ایمان نے ان کے نفوس ، ان کے اخلاق ، ان کے طرز عمل میں ایک عجیب انقلاب پید کردیا تھا۔ ان کے دور میں پوری انسانیت کے اندر ایمان کی شکل ہی بگڑ گئی تھی۔ ایمان دب گیا تھا ، بلکہ ایمان کا لوگوں کے اخلاق ، ان کے طرزعمل اور ان کی نفسیات پر کوئی اثر ہی نہ رہا تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے ایمان کی ایک زندہ ، موثر ، فعال صورت دی۔ اور اس نے صحابہ کرام ؓ کی ایک ایسی جماعت پیدا کردی جنہوں نے اسلامی انقلاب کا بیڑا اٹھایا۔
٭٭٭
سید ابو الحسن علی ندوی اپنی کتاب “ مسلمانوں کے زوال کے عالمی اثرات ” میں فرماتے ہیں :
“ یہ ہے وہ ایمان جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں ایمان کو اس جماعت کی صفت اول بتایا گیا ہے جو پوری انسانیت کی قیادت کے لئے اٹھائی گئی ہے جو اپنے ایمان کی وجہ سے انسانیت کی قیادت کرتی ہے۔ اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مومن صرف اللہ پر توکل کرے ”۔ لیکن قرآن مجید تو کل علی اللہ کو بطور ایک مستقل عنوان ذکر کرتا ہے۔
وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) “ اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ”۔ یہاں سیدھے سارے فقرے یتوکلون علی ربھم کی بجائے وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) کہا۔ یعنی بعد کے الفاظ کو مقدم یعنی جار مجرور کو مقدم کرنے سے حصر کے معنی پیدا ہوئے یعنی صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور کسی پر نہیں کرتے۔ یہ بھی عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ان کا اللہ پر بھروسہ ہو۔ مومن کا اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان ہوتا ہے۔ اس کا یقین ہوتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی شخص اپنی مشیت سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ کوئی کام یہاں اللہ کے اذن کے بغیر واقع ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مومن صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ کسی کام کے کرنے یا کسی کام کے نہ کرنے میں مومن صرف اللہ پر توکل کرتا ہے۔
ہر شخص کے لئے یہ شعور اس کی عملی زندگی میں لابدی ہے ۔ کیونکہ اس طرح وہ ہر کسی کے سامنے سر اٹھا کے چلے گا۔ اور اس کا سر کسی کے سامنے نہ جھکے گا۔ وہ بہت مطمئن ہوگا ، نہ کسی سے کوئی امید رکھے گا نہ اسے کسی کا خوف ہوگا اگر مشکلات آجائیں تو پرجوش اور ثابت قدم ہوگا اور اچھے دن ہوں تو سنجیدہ رہے گا۔ نہ خوشحالی اور نہ ہی بدحالی اسے اپنی جگہ سے ہلا سکے گی۔ لیکن یہ شعور اسلامی انقلاب کے قائد کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ وہ اس راہ کے نشیب و فراز میں جم جانے اور اسلامی انقلاب لانے والی جماعت کے ہر فرد میں بھی یہ صفت ضروری ہے۔
والذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش (42 : 37) “ جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں ” ۔ قلب کی طہارت ، طرز عمل کا شفاف ہونا ، خصوصاً بڑے گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے ، اسلامی معاشرے کی اساسی خصوصیت ہے اور یہ ایمان کے نمایاں آثار میں سے ہے۔ اور کسی صحیح قائد اور خصوصاً اسلامی دعوت کے لئے اٹھنے والی جماعت کے لئے تو یہ بہت ہی ضروری صفت ہے۔ کوئی دل اور شفاف نہیں رہ سکتا ، اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہا ہو اور فحاشی کے کاموں میں حصہ دار ہو اور ان چیزوں سے اجتناب کرنے والا نہ ہو ، اور کوئی فرد اور کوئی جماعت قیادت کے قابل نہیں ، اگر اس کا دل صاف نہ ہو ، اور معصیت اور فحاشی نے اس کے ایمان کو خود ختم کردیا ہو اور اس کی شکل ہی بگڑی ہوئی ہو۔
پہلی جماعت مسلمہ کے دل میں ایمان اس قدر تیز احساس کے ساتھ ، اس درجے تک بلند ہوگیا تھا ، جس کی طرف محولہ بالا ص میں 22 میں اشارہ کیا گیا اور اس طرح اس جماعت کو اس کے ایمان نے انسانی قیادت کے منصب پر فائز کردیا تھا۔ اور انہوں نے ایسی قیادت کی کہ اس کی مثال نہ سابقہ قدیم تاریخ میں ملتی ہے اور نہ نئی تاریخ میں۔ اس قیادت کی مثال ایسی ہے جس طرح ایک تیز ہو اور جو ستارے کی طرف اشارہ کرتا ہو ، اس جہان میں جہاں خواہشات کی جنگ برپا ہو اور نفسا نفسی کا عالم ہو۔
اللہ اس انسانی مخلوق کی کمزوریوں سے خوب واقف ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قیادت کے لئے شرائط بھی معقول حد کے اندر رکھی ہیں۔ جن پر کوئی قیادت عمل کرسکے اور اس پر وہ اللہ کے ہاں موہود اجر پاسکے۔ اللہ نے جو معیار تجویز فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی جماعت اور اس کی لیڈر شپ کبائر گناہوں اور فواحش سے مجتنب ہو۔ رہے چھوڑے گناہوں کا ارتکاب تو وہ اللہ معاف کر دے گا۔ کیونکہ اللہ انسانوں کی طاعت کی حدود وقیود سے خوب واقف ہے۔ یہ اللہ کا فضل ، اس کی مہربانی اور رحمت ہے ، جو اس نے اس انسان پر کیا۔ مناسب ہے کہ ہم اللہ سے شرم کریں کیونکہ مہربانی سے انسان کے اندر حیا کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عفو درگزر کی وجہ سے عزت و احترام پیدا ہوتا ہے۔
واذا ما غضبوا ھم یغفرون (42 : 37) “ اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کر جاتے ہیں ” ۔ یہ صفت اس کے بعد متصلا آئی جب اس سے قبل اشارہ کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے چھوٹے گناہ معاف کر کے درگزر فرماتا ہے۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ آپس میں مہربانی اور درگزر کا سلوک روا رکھیں۔ چناچہ مومنین کی صفات میں اس بات کو شامل کیا گیا کہ جب ان کو غصہ آئے تو وہ ایک دوسرے کو معاف کریں۔
اس معاملے میں بھی اسلام نفس انسانی کے ساتھ نہایت ہی احسان کرتا ہے۔ اسلام انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اللہ کو تو معلوم تھا کہ غصہ ایک ایسا انسانی رد عمل ہے جو انسان کی فطرت سے اٹھتا ہے۔ اور یہ غصہ سرا سر شر بھی نہیں ہے۔ اللہ کے لئے ، اللہ کے دین کی خاطر ، سچائی کے لئے اور انصاف کی خاطر تو غصہ مطلوب ہے۔ اور اس میں خیر ہے۔ لہٰذا اسلام نفس غصے کو جرم قرار نہیں دیتا۔ نہ اسے غلطی قرار دیتا ہے بلکہ اسلام انسانی مزاج اور فطرت میں غصے کو قبول کرتا ہے۔ اس لیے اسلام انسان اور اس کی فطرت کے درمیان کسی دینی حکم کی وجہ سے جدائی اور تفریق نہیں کرتا۔ ہاں اسلام یہ ہدایت ضرور دیتا ہے کہ انسان کو اپنے غصے پر قابو پانا چاہئے۔ اسے چاہئے کہ حتی الوسع عفو و درگزر سے کام لے اور یہ اس کی ایمانی صفات میں سے ایک مثالی صفت ہوگی۔ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ آپ کبھی بھی ذاتی معاملات میں غصہ نہیں ہوئے۔ آپ کا غصہ اللہ کے لئے ہوتا تھا اور پھر آپ کے غصے کے سامنے کوئی طاقت ٹھہر نہ سکتی تھی۔ خیر یہ تو مقام محمدی ﷺ کے درجات و کمالات ہیں۔ عام مسلمانوں کو اللہ ان کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے ۔ اگرچہ وہ اس میں ان کو آزماتا ہے اور صرف یہ حکم دیتا ہے کہ اگر غصہ آجائے تو معاف کردیں ، اور اگر ممکن ہو سکے تو معاف کردیں اور انتقام کے جذبات پر قابو پالیں بشرطیکہ معاملہ ذاتی حدود کے اندر ہو۔ اور دو افراد کے درمیان ہو۔
والذین استجابوا لربھم (42 : 38) “ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں ”۔ وہ اپنے اور رب کے درمیان حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں اور نفس انسانی سے وہ باتیں محو کرتے ہیں جو توجہ الی اللہ سے مانع ہوں ، یہ رکاوٹیں نفسانی خواہشات ، جذبات و میلانات اور وہ رکاوٹیں جو انسان کے وجود اور اس کی ذات سے لگی ہوئی ہیں ، جب انسان ذاتی خواہشات پر قابو پالے اور شخصی رکاوٹوں کو دور کرے تو پھر اس کے اور اس کے رب کے درمیان راستہ صاف ہوجاتا ہے ۔ اور پھر یہ رب کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے سامنے ذاتی خواہشات کی کوئی رکاوٹ ، رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی یہ عمومی صفت ہے لیکن احکام الٰہی میں سے بعض کا یہاں خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے۔
واقاموا الصلوٰۃ (42 : 38) “ نماز قائم کرتے ہیں ”۔ اسلام میں نماز کو ایک بہت بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ کلمہ طیبہ کے اقرار کے بعد پہلا حکم نماز کا آتا ہے۔ گویا نماز اللہ کے احکام کی پیروی کا آغاز ہوتا ہے۔ بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا نام نماز ہے۔ پھر یہ اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام میں محمود وایاز ایک ہی صفت میں کھڑے ہوں گے۔ کسی کا سر دوسرے کے مقابلے میں بلند نہ ہوگا ، کوئی کسی سے آگے نہ ہوگا۔ اور یہی پہلو ہے یعنی مساوات کا پہلو کہ نماز کے بعد بالعموم زکوٰۃ کا ذکر آتا ہے لیکن یہاں زکوٰۃ سے پہلے وامرھم شوری (42 : 38) کا ذکر کیا تا کہ معلوم ہو کہ رائے ہر شخص کی برابر شمار ہوگی۔
وامرھم شوریٰ بینھم (42 : 38) “ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ انداز بیان ایسا ہے کہ ان کے تمام امور مشورے کے نتیجے میں ہوتے ہیں گویا ان کی پوری زندگی مشورے کے رنگ میں رنگی ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ ایک مکی آیت ہے اور یہ حکم اسلامی حکومت کے قیام سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ رنگ گویا صرف حکومتی امور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسلامی سوسائٹی کا عمومی طرز عمل ہے۔ اگرچہ حکومت اس وقت قائم ہی نہ ہوئی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کی تنظیم دراصل اسلامی سوسائٹی کے خدو خال کا ایک منظم ظہور ہی ہے اور اسلامی سوسائٹی میں اسلامی حکومت بھی آتی ہے۔ لہٰذا اسلامی سوسائٹی ، اسلامی حکومت کو بھی اسی نہج پر چلاتی ہے۔ جس طرح اس کے عمومی امور چلتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں آغاز ہی سے مشورے کا عمل جاری تھا۔ اور اس مشورے کا دائرہ حکومت اور حکومتی احکام سے بہت زیادہ وسیع تھا۔ یہ دراصل اسلامی سوسائٹی کی صفت ہے اور اس جماعت کی تو ممتاز صفات میں سے ہے جسے اللہ نے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے برپا کیا ہے۔ اور قیادت کے لئے تو یہ بہت ہی اہم ہے۔
شوریٰ کی شکل و صورت کیا ہونی چاہئے تو اسلام نے اس کے لئے کوئی فولادی قالب نہیں تیار کیا۔ ہر زمان و مکان کے حالات میں اس کی مختلف شکل و صورت تیار ہو سکتی ہے تا کہ یہ صفت یعنی شو رائیت اسلامی سوسائٹی میں بھی رائج ہو۔ اسلامی اداروں میں بھی مروج ہو ، لیکن اس کی کوئی جامد شکل نہ ہو بلکہ شوریٰ کی روح ہر جگہ موجود ہو۔ یعنی یہ شورائیت دراصل الفاظ اور اشکال کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک صفت ہے جو ایمان کے نتیجے میں اسلامی سوسائٹی میں شورائی شعور اور طرز عمل پیدا کرتی ہے۔ بعض لوگ ایسے اسلامی اداروں کی بات کرتے ہیں جن کی تہہ میں ایمان نہ ہو یا ایمان کا ہونا ضروری نہ ہو تو وہ ایک فضول کام کر رہے ہیں۔ اور یہ کوئی سطحی بات نہیں ہے جس طرح پہلی نظر میں نظر آئے گی اور خصوصاً ان لوگوں کو نظر آئے گی جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات میں ایمان کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اسلامی نظریہ حیات اداروں اور تنظیمات میں منتقل ہونے سے قبل ، اس کے اندر ایسی عقلی اور نفسیاتی حقیقتیں ہوتی ہیں جو انسانی سوچ اور انسان کی ذات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اور اس کے بعد اسلام کے اجتماعی اداروں میں وہ اصول بن کر ایک متبعین شکل اختیار کر کے سامنے آتی ہیں اور اس کے بعد پھر نصوص آتے ہیں اور وہ ان اشکال اور حالات کی طرف اشارہ کردیتے ہیں ۔ نصوص ان اصولوں کو منظم کردیتے ہیں ، ان کی تخلیق نہیں کرتے ، ان کی تخلیق تو ایمان کی وجہ سے ہوچکی ہوتی ہے۔ لہٰذا اسلامی نظریہ حیات کی کسی شکل و صورت کے ظہور کے لئے کسی ملک میں اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کا وجود ضروری ہے۔ اور ان مسلمانوں کا ایمان فعال اور بااثر ہو۔ اگر مسلمانوں کا وجود ہی نہ ہو تو محض اداروں کے قیام سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ محض ادارے ضروریات پوری نہ کرسکیں گے اور اس صورت میں کوئی ایسا نظام وجود میں نہ آسکے گا جسے اسلامی کہا جاسکے۔
جب مسلمان صحیح معنوں میں پائے جائیں گے اور ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے وجود میں آجائے گا تو اسلامی نظام بذات خود وجود میں آجائے گا اور اس کی ایک اداراتی شکل خودبخود وجود میں آجائے گی جو ان مسلمانوں کی ضرورت ہوگی اور ان کی سوسائٹی کی ضرورت ہوگی اور صرف اس طرح اسلامی اصولوں کے خواب کی سچی تعبیر وجود میں آسکے گی۔
ومما رزقنھم ینفقون (42 : 38) “ اور ہم نے ان کو جو رزق دیا اس سے خرچ کرتے ہیں ” یہ آیت بھی حکم فرضیت زکوٰۃ سے پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ زکوٰۃ دو ہجری میں فرض ہوئی لیکن انفاق فی سبیل اللہ عام حکم اسلامی جماعت کے لئے پہلے سے تھا۔ بلکہ اسلامی سوسائٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی یہ حکم وجود میں آگیا تھا۔
دعوت اسلامی کے عمل کے لئے مال کی ضرورت ہے اور یہ مال بذریعہ انفاق حاصل ہوگا۔ انفاق کے ذریعہ انسانوں کے دل کنجوسی کی بری خصلت سے پاک ہوتے ہیں جب انسانی جذبہ مال پر قابو پا لیتا ہے اور اپنی مملوکات کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھنا ہے ، ایمان کے مفہوم کے نکھار کے لئے یہ سب امور ضروری ہیں۔ اور یہ بات تو اپنی جگہ ہے کہ انفاق کے بغیر کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دعوت تو ایک جدو جہد ہے اور جدو جہد میں کارکنوں کی کفالت ضروری ہے تا کہ اجماعی ضروریات پوری ہوں اور نتائج برآمد ہوں۔ بعض اوقات یہ تکافل ہمہ گیر ہوجاتا ہے کہ کیس کے لئے انفرادی دولت رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔ جب مہاجرین مکہ سے نکلے اور مدینہ میں انصار کے ساتھ مل کر جو نظام قائم ہوا یہ سب اسی اصول کے تحت تھا لیکن جب حالات معمول پر آگئے تو پھر زکوٰۃ کو رائج کر کے موافات کے نظام کو منسوخ کردیا گیا جو کلی تکافل تھا۔ بہرحال انفاق فی سبیل اللہ اس جماعت کی ممتاز خصوصیت ہے جسے اس مقصد کے لئے چنا گیا ہو یا اسے اس مقصد کے لئے قائم کیا گیا ہو کہ وہ کسی خطے میں اسلامی انقلاب برپا کرے۔
والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ مکی سورتوں میں اس صفت کا ذکر اپنے اندر خاص معنی رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلامی جماعت مسلمہ کے اندر یہ طبیعی صفت ہوتی ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا مقابلہ کرنا ایک اہم فریضہ ہے کیونکہ اگر کوئی ظالم کے سامنے ہتھیار ڈال دے تو ظالم اور جری ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ظالم کا مقابلہ کرنا بہت ضروی ہے۔ اور ایک ایسی ملت جسے اٹھایا ہی اس لیے گیا ہو کہ لوگوں کے حقوق کی پاسبانی کرے ، امر بالمعروف اس کا مشن ہو اور “ نہی عن المنکر اس کا فریضہ ہو ، اس کے لئے تو برائی کا مقابلہ کرنا بہت ہی اہم ہے کیونکہ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کا نصب العین یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی پر چھا جانے اور اس کے اندر سچائی کے ساتھ عدل و انصاف قائم کرے۔
وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین “ اور عزت اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہے ”۔ لہٰذا اسلامی جماعت کا مزاج ، اس کے فرائض کی نوعیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرے اور اس پر جو دست درازیاں کی جا رہی ہیں ان کی مدافعت کرے۔ مکہ میں حکم یہ تھا کہ رک جاؤ اور ہاتھ روک لو اور صبر کرو۔ نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو ، وہاں یہ احکام مکہ کے مخصوص حالات کی وجہ سے تھے اور ابتدائے عرب مسلمانوں کی قدرے تربیت بھی مطلوب تھی کیونکہ عرب مزاجاً منتقم المزاج تھے ، یہ اسلامی جماعت اور اسلامی سوسائٹی کے لئے مستقل احکام نہ تھے۔ مکہ میں بعض خصوصی اسباب کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ ہر قیمت پر بقائے باہمی کے لئے امن اور سلامتی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔
1۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے خلاف سختی اور زیادتی کسی منظم حکومت ادارے کی طرف سے نہ تھی جو اس وقت کی جماعت پر حکمران ہو ، کیونکہ جزیرۃ العرب کی سیاسی صورت حال غیر منظم قبائل انداز کی تھی۔ وہاں مسلمانوں پر جو تشدد کیا جاتا ہے تھا ، اگر کوئی مسلمان کسی قبیلے کا فرد تھا تو اس پر یہ تشدد قبیلہ کرتا تھا اور قبیلے میں بھی اس کے قریبی رشتہ دار کے علاوہ کوئی جرات نہ کرسکتا تھا۔ مسلمانوں پر بحیثیت جماعت کوئی تشدد نہ ہوتا تھا۔ بعض اوقات آقا اپنے مسلمان غلاموں پر تشدد کرتے تھے اور مسلمان انہیں خرید کر آزاد کردیتے تھے۔ اس لیے کوئی بھی اپنے غلاموں پر زیادہ تشدد کی جرات نہ کرتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نہ چاہتے تھے کہ مکہ میں گھر گھر کے اندر لڑائی شروع ہوجائے۔ ایک ہی گھر کے جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں وہ غیر مسلموں سے لڑنا شروع کردیں۔ پھر مکہ میں نرمی دوسرے لوگوں کے دلوں کو زیادہ نرم کردیتی تھی بسنبت سختی کے۔
پھر عرب معاشرہ ایک خوددار اور جوانمرد معاشرہ تھا۔ اس میں مظلوم کی تمایت میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ مسلمان جب اذیت برداشت کرتے تھے اور اپنے عقیدے پر جم جاتے تھے تو عربوں کی جوانمردی کے جذبات ان کے حق میں اٹھتے تھے۔ شعب ابی طالب میں محصوری کے دوران بالعموم اسی جذبے نے مسلمانوں کی مدد کی ، جس میں بنی ہاشم سب محصور کر دئیے گئے تھے۔ اس محاصرے کے خلاف لوگوں کی ہمدردیاں ، مسلمانوں کے حق میں ہوگئیں اور لوگوں نے اس معاہدے کے پرزے پرزے کر دئیے جو صحیفے میں تھا اور یوں یہ ظالمانہ معاہدہ ختم ہوا۔
پھر عربوں کے اندر یہ رواج تھا کہ وہ بات بات پر تلوار سونت لیتے تھے۔ وہ بڑے جذباتی تھے اور کسی نظم و نسق کے پابند نہ تھے ۔ اسلامی جماعت میں جو تنظیم مطلوب تھی اس کا تقاضا تھا کہ اس جذباتیت کو ذرا دبایا جائے اور اسے کسی ہدف کا پابند کیا جائے۔ اور لوگوں کو اعصابی ضبط اور صبر کا عادی بنایا جائے۔ اور لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ نظریہ اور نصب العین ہر جذبے اور ہر مفاد پر مقدم ہیں۔ لہٰذا مکہ میں صبر اور مسلسل صبر کی تلقین کرنا اسلام کے منہاج تربیت کے لیے بہت ضروری تھا۔ اس طرح ایک مسلم کی شخصیت میں مطلویہ توازن پیدا ہوگیا اور وہ صبر وثبات کے ساتھ اپنے مقصد کے لئے آگے بڑھتے رہے۔۔۔۔ غرض یہ اور اس طرح کے دوسرے اسباب تھے جن کو اللہ اور رسول جانتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں ، صبر کی تلقین ہوتی رہی لیکن اصلی ہدف تحریک اسلامی کا یہی تھا۔
والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ وہ لوگ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ مقابلہ کرتے ہیں ”۔
اس اصول کو زندگی کا ایک دوسرا اصول عملاً رائج کرتا ہے ، وہ ہے :
وجذء سیئۃ سیئۃ مثلھا (42 : 40) “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔ سزا کا یہ اصول ہے کہ جیسا جرم ہو ، ویسی ہی سزا دی جائے تا کہ سرکشی اختیار نہ کرے۔ اگر کسی سرکش انسان کو کوئی روکنے والا نہ ہو تو وہ سر کشی اور ظلم میں بڑے اطمینان سے بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔
یہ تو ہے مظلوم کا حق اور اصول عامہ۔ لیکن اگر کوئی اپنے اصلاح نفس یا جزائے خیر اور اخروی اجر کے لئے کسی کو معاف کرتا ہے یا جماعت مسلمہ کے خلاف اٹھنے والے جذبات کی وجہ سے معاف کرتا ہے تو اس قاعدے میں استثناء موجود ہے۔ لیکن معافی کو اس وقت معانی تصور کیا جائے گا جب کوئی شخص برائی کا جواب برائی کے ساتھ دینے پر قدرت رکھتا ہو۔ اس وقت عفو کا وزن بھی ہوگا اور دست درازی کرنے والے کی اصلاح بھی ہوگی کیونکہ دست درازی کرنے والا جب یہ سوچے گا کہ عفو اور در گزر محض احسان کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس میں معاف کرنے والے کی کوئی کمزوری نہیں ہے۔ تو اس صورت میں وہ شرمندگی محسوس کرے گا ، نادم ہوگا اور آئندہ حیا کرے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ میرے مخالف نے میرے ساتھ شریفانہ سلوک کیا ہے۔ وہ اونچا آدمی ہے اور جو شخص انتقام لینے پر قادر ہو اور معاف کر دے تو اس کا دل بھی صاف ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایسے حالات میں عفو و درگزر دونوں کے لئے مفید ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک شخص انتقام لینے سے عاجز ہو اور معاف کردے تو پھر صورت یہ ہوگی ، گداگر تواضع کند خوئے اوست۔ لہٰذا ایسے عفو کو عفو کہنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ وہاں عفو نہیں ہے ، مجبوری ہے۔ اور یہ صورت حال ایک شر انگیز صورت حال ہے ۔ اس کے نتیجے میں ظلم کرنے والا اور جری ہوتا ہے۔ اور فساد اور پھیلتا ہے ، یہ آیت مفہوم ۔
فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ (42 : 40) “ پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ پر ہے ”۔
انہ لا یحب الظلمین (42 : 40) “ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ”۔ یہ پہلے قاعدے کی تاکید ہے کہ “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یا تو معاف کر دو یا اگر بدلہ لینا ہے تو برابر بدلہ لو اس میں حدت نہ بڑھو۔۔۔۔ ایک دوسری تاکید اسی قاعدے گی :
ولمن انتصر بعد ۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 42) انما السبیل علی الذین ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (42 : 42) “ اور جو لوگ ظلم کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی۔ ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے ”۔ لہٰذا جو شخص ظلم کے بعد مدافعت کرتا ہے اور برائی کا بدلہ اس کے مساوی لینا ہے ، تعدی نہیں کرتا تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ وہ تو اپنا قانون حق استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کسی کے پاس کوئی حجت نہیں ہے۔ نہ کسی کے لئے جائز ہے کہ اس کی راہ روکے۔ راہ تو ان لوگوں کی روکنی چاہئے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ، اور زمین میں بغیر استحقاق کے زیادتیاں کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی ایسے ملک کی اصلاح نہیں ہو سکتی جب اس میں ایک ظالم لوگوں پر ظلم کر رہا ہو اور اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ اس میں باغی ہو جو لوگوں پر مظالم ڈھا رہا ہو اور کوئی قوت ایسی نہ ہو جو اس کا ہاتھ روکے یا اس سے قصاص دلواسکے۔ اللہ تعالیٰ بہرحال اس قسم کے ظالموں کو عذاب الیم کی دھمکی دیتا ہے۔ لیکن یہ لوگوں کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ظالم کا ہاتھ پکڑیں۔
آخر میں پھر انفرادی حالات اور طاقت انتقام کے باوجود ، تو ازن ، اعتدال ، ضبط نفس ، صبر اور احسان کا رویہ اپنانے پر متوجہ کیا جاتا ہے۔ جب صبر اور احسان فی الواقعہ ایک درگزر ہو ، ذلت نہ ہو ، کوئی احسان ہو ، مجبور نہ کردیا گیا ہو۔
ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور (42 : 43) “ البتہ جو صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولو العزمی کے کاموں میں سے ہے ”۔
اس پیراگراف کی تمام ہدایات و احکام نہایت ہی اعتدال اور میانہ روی پر مبنی ہیں۔ نفس انسانی کو ایک طرف کینہ اور غصے سے بچانے کی سعی کی گئی ہے ، اور دوسری جانب کمزوری ، ذلت اور ظلم و زیادتی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ہر حال میں اللہ کی رضا مندی کو پیش نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ صبر بہرحال زاد راہ ہے۔
اور مومنین کی جو صفات یہاں دی گئی ہیں وہ اس انقلابی جماعت کی خصوصیات ہیں ، جس نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی ہے ، اور جس کے پیش نظر انعام اخروی اور رضائے الٰہی ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں اور رب پر توکل کریں۔
یہ بیان کرنے کے بعد کہ صفات مومنین یہ ہیں اور ان کے لئے جو اخروی اجر ہے ، وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اب بطور تقابل تصویر کا دوسرا رخ بعض ظالموں کا انجام بھی یہاں دے دیا جاتا ہے۔ اور ان کے لئے ذلت اور خسران کا اعلان کیا گیا ہے۔
الشورى 42:44
آیت نمبر 44 تا 46
اللہ کے فیصلے کو رد نہیں کیا جاسکتا اور اللہ مشیت کی راہ کوئی روک نہیں سکتا۔
ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ (42 : 44) “ جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے ، اس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ”۔ جب اللہ کے علم میں یہ بات آجاتی ہے کہ یہ بندہ گمراہی کا مستحق ہے تو اللہ کا فیصلہ ہوجاتا ہے کہ یہ گمراہ ہوگا۔ اس کے بعد پھر کوئی ولی اسے ہدایت دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ نہ اس کی مدد یوم الحساب میں عذاب سے بچانے میں کرسکتا ہے۔ باقی آیت میں ایک منظر !
وتری الظلمین ۔۔۔۔۔ مرد من سبیل ( 42 : 44) وترھم یعرضون ۔۔۔۔۔ طرف خفی (42 : 44) “ تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی کوئی سبیل ہے ؟ اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے ، ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے۔ اور اس کو نظریں بچا کر کن اکھیوں سے دیکھیں گے ”۔ ظالم چونکہ سرکش اور باغی تھے تو اللہ تعالیٰ نے یوم الجزاء میں انہیں بظاہر ذلت کی حالت میں رکھا۔ یہ عذاب دیکھتے ہیں تو ان کی بڑائی دھڑام سے گرتی ہے اور نہایت ہی ذلت اور انکسار سے باہم بات کرتے ہیں کہ کوئی راستہ ہے پلٹنے کا ہے۔ اس بےتابانہ مایوسی کے مکالمے اور اس ذلت و خواری کی حالت میں جب آگ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو حالت خشوع میں ہیں۔ تقویٰ اور احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ ذلت اور خواری کی وجہ سے ، وہ خود بھی سہمے ہوئے ، جھکے ہوئے ہیں اور نظریں بھی نیچی ہیں۔ ذلت اور شرمندگی کی وجہ سے نظریں اٹھا کر نہ دیکھ سکیں گے۔
ینظرون من طرف خفی (42 : 44) “ اور نظریں بچا بچا کر کن اکھیوں سے دیکھیں گے ”۔ یہ اس وقت نہایت ہی توہین آمیز حالت میں ہوں گے۔
اور اس وقت یہ معلوم ہوگا کہ یہ دن اہل ایمان کا ہے۔ وہ بات کرتے ہیں اور تبصرے کرتے ہیں۔
وقال الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ یوم القیمۃ (42 : 45) “ اس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا ”۔ اور یہ کفار واقعی سب کچھ ہار گئے۔ اور یہ لوگ ذلت سے جھکے کھڑے ہیں وہ بھی باہم تبصرہ کرتے ہیں مگر یوں کہ کیا ایسی کی کوئی راہ ہے ؟ ۔۔۔۔ اب ایک عام تبصرہ آتا ہے اس پورے منظر پر کہ یہ لوگ جن کو آگ پر پیش کیا گیا ان کا انجام کیا ہوگا۔
الا ان الظلمین فی عذاب مقیم (42 : 45) وما کان لھم ۔۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 46) “ خبردار رہو ، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے ، جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں اور جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لئے بچاؤ کی کوئی سبیل نہیں ”۔ نہ کوئی مددگار ہے اور نہ نکلنے کا کوئی راستہ ہے۔ لہٰذا اب ان کے لئے عذاب مقیم ہی ہے۔
٭٭٭
اس منظر کی روشنی میں حضور ﷺ کے معاندین اور مغرور مخاطبین کو اب نہایت ہی ہمدردی سے خطاب کیا جاتا ہے کہ اللہ کی بات کو قبول کرلو ، قبل اس کے کہ اچانک تم پر یہ دن آجائے ، جس سے پھر کوئی پناہ تمہیں نہ ملے ، کوئی مدد گار نہ ملے جو اس برے انجام پر اجتجاج کرسکے ، اور حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر یہ اس مخلصانہ تنبیہ کو نہیں مانتے اور منہ موڑتے ہیں تو آپ کا فرض پورا ہوگیا۔ آپ کا فریضہ صرف یہ ہے کہ بات پہنچا دیں ، آپ ان کی ہدایت کے مکلف اور ذمہ دار نہیں نہ ان کے ٹھیکہ دار ہیں۔
الشورى 42:45
آیت نمبر 44 تا 46
اللہ کے فیصلے کو رد نہیں کیا جاسکتا اور اللہ مشیت کی راہ کوئی روک نہیں سکتا۔
ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ (42 : 44) “ جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے ، اس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ”۔ جب اللہ کے علم میں یہ بات آجاتی ہے کہ یہ بندہ گمراہی کا مستحق ہے تو اللہ کا فیصلہ ہوجاتا ہے کہ یہ گمراہ ہوگا۔ اس کے بعد پھر کوئی ولی اسے ہدایت دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ نہ اس کی مدد یوم الحساب میں عذاب سے بچانے میں کرسکتا ہے۔ باقی آیت میں ایک منظر !
وتری الظلمین ۔۔۔۔۔ مرد من سبیل ( 42 : 44) وترھم یعرضون ۔۔۔۔۔ طرف خفی (42 : 44) “ تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی کوئی سبیل ہے ؟ اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے ، ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے۔ اور اس کو نظریں بچا کر کن اکھیوں سے دیکھیں گے ”۔ ظالم چونکہ سرکش اور باغی تھے تو اللہ تعالیٰ نے یوم الجزاء میں انہیں بظاہر ذلت کی حالت میں رکھا۔ یہ عذاب دیکھتے ہیں تو ان کی بڑائی دھڑام سے گرتی ہے اور نہایت ہی ذلت اور انکسار سے باہم بات کرتے ہیں کہ کوئی راستہ ہے پلٹنے کا ہے۔ اس بےتابانہ مایوسی کے مکالمے اور اس ذلت و خواری کی حالت میں جب آگ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو حالت خشوع میں ہیں۔ تقویٰ اور احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ ذلت اور خواری کی وجہ سے ، وہ خود بھی سہمے ہوئے ، جھکے ہوئے ہیں اور نظریں بھی نیچی ہیں۔ ذلت اور شرمندگی کی وجہ سے نظریں اٹھا کر نہ دیکھ سکیں گے۔
ینظرون من طرف خفی (42 : 44) “ اور نظریں بچا بچا کر کن اکھیوں سے دیکھیں گے ”۔ یہ اس وقت نہایت ہی توہین آمیز حالت میں ہوں گے۔
اور اس وقت یہ معلوم ہوگا کہ یہ دن اہل ایمان کا ہے۔ وہ بات کرتے ہیں اور تبصرے کرتے ہیں۔
وقال الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ یوم القیمۃ (42 : 45) “ اس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا ”۔ اور یہ کفار واقعی سب کچھ ہار گئے۔ اور یہ لوگ ذلت سے جھکے کھڑے ہیں وہ بھی باہم تبصرہ کرتے ہیں مگر یوں کہ کیا ایسی کی کوئی راہ ہے ؟ ۔۔۔۔ اب ایک عام تبصرہ آتا ہے اس پورے منظر پر کہ یہ لوگ جن کو آگ پر پیش کیا گیا ان کا انجام کیا ہوگا۔
الا ان الظلمین فی عذاب مقیم (42 : 45) وما کان لھم ۔۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 46) “ خبردار رہو ، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے ، جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں اور جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لئے بچاؤ کی کوئی سبیل نہیں ”۔ نہ کوئی مددگار ہے اور نہ نکلنے کا کوئی راستہ ہے۔ لہٰذا اب ان کے لئے عذاب مقیم ہی ہے۔
٭٭٭
اس منظر کی روشنی میں حضور ﷺ کے معاندین اور مغرور مخاطبین کو اب نہایت ہی ہمدردی سے خطاب کیا جاتا ہے کہ اللہ کی بات کو قبول کرلو ، قبل اس کے کہ اچانک تم پر یہ دن آجائے ، جس سے پھر کوئی پناہ تمہیں نہ ملے ، کوئی مدد گار نہ ملے جو اس برے انجام پر اجتجاج کرسکے ، اور حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر یہ اس مخلصانہ تنبیہ کو نہیں مانتے اور منہ موڑتے ہیں تو آپ کا فرض پورا ہوگیا۔ آپ کا فریضہ صرف یہ ہے کہ بات پہنچا دیں ، آپ ان کی ہدایت کے مکلف اور ذمہ دار نہیں نہ ان کے ٹھیکہ دار ہیں۔
الشورى 42:46
آیت نمبر 44 تا 46
اللہ کے فیصلے کو رد نہیں کیا جاسکتا اور اللہ مشیت کی راہ کوئی روک نہیں سکتا۔
ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ (42 : 44) “ جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے ، اس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ”۔ جب اللہ کے علم میں یہ بات آجاتی ہے کہ یہ بندہ گمراہی کا مستحق ہے تو اللہ کا فیصلہ ہوجاتا ہے کہ یہ گمراہ ہوگا۔ اس کے بعد پھر کوئی ولی اسے ہدایت دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ نہ اس کی مدد یوم الحساب میں عذاب سے بچانے میں کرسکتا ہے۔ باقی آیت میں ایک منظر !
وتری الظلمین ۔۔۔۔۔ مرد من سبیل ( 42 : 44) وترھم یعرضون ۔۔۔۔۔ طرف خفی (42 : 44) “ تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی کوئی سبیل ہے ؟ اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے ، ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے۔ اور اس کو نظریں بچا کر کن اکھیوں سے دیکھیں گے ”۔ ظالم چونکہ سرکش اور باغی تھے تو اللہ تعالیٰ نے یوم الجزاء میں انہیں بظاہر ذلت کی حالت میں رکھا۔ یہ عذاب دیکھتے ہیں تو ان کی بڑائی دھڑام سے گرتی ہے اور نہایت ہی ذلت اور انکسار سے باہم بات کرتے ہیں کہ کوئی راستہ ہے پلٹنے کا ہے۔ اس بےتابانہ مایوسی کے مکالمے اور اس ذلت و خواری کی حالت میں جب آگ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو حالت خشوع میں ہیں۔ تقویٰ اور احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ ذلت اور خواری کی وجہ سے ، وہ خود بھی سہمے ہوئے ، جھکے ہوئے ہیں اور نظریں بھی نیچی ہیں۔ ذلت اور شرمندگی کی وجہ سے نظریں اٹھا کر نہ دیکھ سکیں گے۔
ینظرون من طرف خفی (42 : 44) “ اور نظریں بچا بچا کر کن اکھیوں سے دیکھیں گے ”۔ یہ اس وقت نہایت ہی توہین آمیز حالت میں ہوں گے۔
اور اس وقت یہ معلوم ہوگا کہ یہ دن اہل ایمان کا ہے۔ وہ بات کرتے ہیں اور تبصرے کرتے ہیں۔
وقال الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ یوم القیمۃ (42 : 45) “ اس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا ”۔ اور یہ کفار واقعی سب کچھ ہار گئے۔ اور یہ لوگ ذلت سے جھکے کھڑے ہیں وہ بھی باہم تبصرہ کرتے ہیں مگر یوں کہ کیا ایسی کی کوئی راہ ہے ؟ ۔۔۔۔ اب ایک عام تبصرہ آتا ہے اس پورے منظر پر کہ یہ لوگ جن کو آگ پر پیش کیا گیا ان کا انجام کیا ہوگا۔
الا ان الظلمین فی عذاب مقیم (42 : 45) وما کان لھم ۔۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 46) “ خبردار رہو ، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے ، جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں اور جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لئے بچاؤ کی کوئی سبیل نہیں ”۔ نہ کوئی مددگار ہے اور نہ نکلنے کا کوئی راستہ ہے۔ لہٰذا اب ان کے لئے عذاب مقیم ہی ہے۔
٭٭٭
اس منظر کی روشنی میں حضور ﷺ کے معاندین اور مغرور مخاطبین کو اب نہایت ہی ہمدردی سے خطاب کیا جاتا ہے کہ اللہ کی بات کو قبول کرلو ، قبل اس کے کہ اچانک تم پر یہ دن آجائے ، جس سے پھر کوئی پناہ تمہیں نہ ملے ، کوئی مدد گار نہ ملے جو اس برے انجام پر اجتجاج کرسکے ، اور حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر یہ اس مخلصانہ تنبیہ کو نہیں مانتے اور منہ موڑتے ہیں تو آپ کا فرض پورا ہوگیا۔ آپ کا فریضہ صرف یہ ہے کہ بات پہنچا دیں ، آپ ان کی ہدایت کے مکلف اور ذمہ دار نہیں نہ ان کے ٹھیکہ دار ہیں۔
الشورى 42:47
آیت نمبر 47
اس کے بعد انسان کے عمومی مزاج کو ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ انسان جو دعوت اسلامی اور سچائی کا مقابلہ کرتا ہے اور رسول برحق سے عناد رکھتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو اذیت و عذاب کا مستحق گردانتا ہے تو اس کی حالت یہ ہے کہ جب کسی اذیت میں یہ مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کی قوت برداشت جواب دے دیتی ہے۔ جزع فزع اور آہ و فغاں شروع کردیتا ہے اور اگر اللہ کی کوئی نعمت مل جائے تو ہواؤں پر اڑنے لگتا ہے۔ اور حدود پار کرلیتا ہے جبکہ سختی میں مایوس اور کافر ہوجاتا ہے۔
الشورى 42:48
آیت نمبر 48
اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کے حصے میں خوشی آتی ہے یا غم آتا ہے ، تنگی آتی ہے یا کشادگی نصیب ہوتی ہے ، یہ سب امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ پس یہ بدبخت انسان جو بھلائی کا شیدائی ہے اور برائی اور سختی سے نفور ہے ، اسے کیا ہوگیا ہے کہ یہ اس مالک سے دوررہا ہے جس کے ہاتھ میں اس کے سب امور ہیں اور ہر حال میں وہ خالق ومالک ہے
الشورى 42:49
آیت نمبر 49 تا 50
اولاد کسی شخص پر فضل و کرم ہونے یا اس سے محروم ہونے کی بڑی نشانی ہے۔ پھر اولاد انسانی نفس کے بہت ہی قریب پسندیدہ چیز ہے ۔ اولاد سے انسان کو بہت محبت ہوتی ہے۔ اس لیے کسی پر اللہ کے فضل ہونے یا اس سے محروم ہونے کے حوالے سے یہ بہت ہی حساس اور قوی الاثر چیز ہے۔ اس سورت میں رزق کے اعتبار سے خوشحالی اور بدحالی کی بات گزر چکی ہے۔ یہاں اولاد کے حوالے سے بھی انسان کے نصیب کی بات کردی تا کہ مال و الاد دونوں کی بات ہوجائے ، کیونکہ اولاد بھی اللہ کی طرف سے ایک بہترین رزق ہے۔ مال کی طرح بلکہ اس سے پیارا۔
جہاں بھی اللہ کے ملک کی بات ہوتی ہے وہ ملک سماوات اور پوری زمین سے شروع ہوتی ہے ، مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ عام مالک ہے۔ اسی طرح یخلق ما یشاء (42 : 49) “ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے ” ۔ تخلیق کا ذکر بھی یہاں نہایت مناسب اور معنی خیز ہے۔ یہاں اولاد کو زندہ کرنے اور عطا کرنے کا مضمون ہے۔ اس کے ساتھ صفت تخلیق کا ذکر مناسب ہے۔ انسان کو بتایا گیا کہ تم جو پسند کرتے ہو ، ان کو بھی اللہ پیدا کرتا ہے اور جن کو تم ناپسند کرتے ہو ، ان کو بھی اللہ پیدا کرتا ہے۔ وہی دینے والا اور وہی محروم کرنے والا ہے۔
اب حالات دادو دہش اور حالات محرومیت کی تفصیلات ۔ اللہ جسے چاہتا ہے عورتیں دیتا ہے اور یہ لوگ عورتوں کو پسند نہ کرتے تھے ( جس طرح آج بھی نہیں کیا جاتا) یہ تو اللہ ہے کہ کسی کو لڑکے ، کسی کو لڑکیاں اور کسی کو دونوں دیتا ہے۔ اور کسی کو اس میٹھے پھل سے صاف صاف محروم کردیتا ہے۔ یہ سب حالات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اس میں اللہ کے سوا کسی کا دخل نہیں ہے ، وہ اپنے علم وقدرت کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔
انہ علیم قدیر (42 : 50) “ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ”۔
٭٭٭٭
سورت کے خاتمہ پر موضوع اول سامنے آتا ہے جس پر اس پوری سورت میں بات ہوتی رہی ہے۔ یعنی رسالت اور وحی کی حقیقت یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس عمل میں بندے اور خدا کے درمیان رابطہ کس طرح ہوتا ہے ، اور اس کی صورتیں کیا کیا ہیں ؟ اور یہ رابطہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ ہوچکا ہے اور اس کے نہایت ہی بلند مقاصد ہیں یہ کہ جو صراط مستقیم کی طرف آنا چاہے اسے لایا جائے۔
الشورى 42:50
آیت نمبر 49 تا 50
اولاد کسی شخص پر فضل و کرم ہونے یا اس سے محروم ہونے کی بڑی نشانی ہے۔ پھر اولاد انسانی نفس کے بہت ہی قریب پسندیدہ چیز ہے ۔ اولاد سے انسان کو بہت محبت ہوتی ہے۔ اس لیے کسی پر اللہ کے فضل ہونے یا اس سے محروم ہونے کے حوالے سے یہ بہت ہی حساس اور قوی الاثر چیز ہے۔ اس سورت میں رزق کے اعتبار سے خوشحالی اور بدحالی کی بات گزر چکی ہے۔ یہاں اولاد کے حوالے سے بھی انسان کے نصیب کی بات کردی تا کہ مال و الاد دونوں کی بات ہوجائے ، کیونکہ اولاد بھی اللہ کی طرف سے ایک بہترین رزق ہے۔ مال کی طرح بلکہ اس سے پیارا۔
جہاں بھی اللہ کے ملک کی بات ہوتی ہے وہ ملک سماوات اور پوری زمین سے شروع ہوتی ہے ، مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ عام مالک ہے۔ اسی طرح یخلق ما یشاء (42 : 49) “ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے ” ۔ تخلیق کا ذکر بھی یہاں نہایت مناسب اور معنی خیز ہے۔ یہاں اولاد کو زندہ کرنے اور عطا کرنے کا مضمون ہے۔ اس کے ساتھ صفت تخلیق کا ذکر مناسب ہے۔ انسان کو بتایا گیا کہ تم جو پسند کرتے ہو ، ان کو بھی اللہ پیدا کرتا ہے اور جن کو تم ناپسند کرتے ہو ، ان کو بھی اللہ پیدا کرتا ہے۔ وہی دینے والا اور وہی محروم کرنے والا ہے۔
اب حالات دادو دہش اور حالات محرومیت کی تفصیلات ۔ اللہ جسے چاہتا ہے عورتیں دیتا ہے اور یہ لوگ عورتوں کو پسند نہ کرتے تھے ( جس طرح آج بھی نہیں کیا جاتا) یہ تو اللہ ہے کہ کسی کو لڑکے ، کسی کو لڑکیاں اور کسی کو دونوں دیتا ہے۔ اور کسی کو اس میٹھے پھل سے صاف صاف محروم کردیتا ہے۔ یہ سب حالات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اس میں اللہ کے سوا کسی کا دخل نہیں ہے ، وہ اپنے علم وقدرت کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔
انہ علیم قدیر (42 : 50) “ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ”۔
٭٭٭٭
سورت کے خاتمہ پر موضوع اول سامنے آتا ہے جس پر اس پوری سورت میں بات ہوتی رہی ہے۔ یعنی رسالت اور وحی کی حقیقت یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس عمل میں بندے اور خدا کے درمیان رابطہ کس طرح ہوتا ہے ، اور اس کی صورتیں کیا کیا ہیں ؟ اور یہ رابطہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ ہوچکا ہے اور اس کے نہایت ہی بلند مقاصد ہیں یہ کہ جو صراط مستقیم کی طرف آنا چاہے اسے لایا جائے۔
الشورى 42:51
اس آیت میں یہ بات قطعی انداز میں کہہ دی گئی ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ آمنے سامنے ہو کر بات نہیں کرسکتا۔ حضرت عائشہ ؓ سے یہ مروی ہے : “ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے بہت پر افترا باندھا ” (متفق علیہ ) خدا کا مکالمہ بندوں کے ساتھ تین طریقوں سے سر انجام پاتا ہے۔ بذریعہ وحی ، یہ وحی قلب نبی پر براہ راست ہوتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ یہ وحی ہے ، یا پردے کے پیچھے سے ، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمہ ہوا۔ لیکن جب آپ نے اللہ کو دیکھنے کی درخواست کی تو اس درخواست کو قبول نہ کیا گیا۔ اور پہاڑ نے بھی تجلیات الہٰیہ کو برداشت نہ کیا۔
وخر موسیٰ صعقاً ۔۔۔۔۔ اول المومنین (7 : 143) “ اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑا جب ہوش آیا تو بولا : پاک ہے تیری ذات میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والوں میں سے ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والوں میں سے ہوں ”۔ یا پھر یہ طریقہ ہے کہ ایک پیغام لانے والا بھیج دے اور یہ فرشتہ ہوتا ہے جو اللہ کے حکم سے جو چاہے وحی کر دے۔ اور اس کی تفصیلات حضور اکرم ﷺ نے خود بتا دی ہیں۔ پہلا طریقہ یہ کہ فرشتہ آپ کے دل میں بات ڈال دے ماسوائے اس کے کہ آپ فرشتے کو دیکھیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا “ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہ مرے گا قبل اس کے کہ وہ اپنا رزق مکمل نہ کردے ، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور نہایت ہی خوبصورت طریقے سے رزق کی تلاش کرو ”۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فرشتہ ایک انسان کی شکل میں آپ سے بات کرتا اور آپ اس کی بات کو سمجھ لیتے۔ تیسری صورت یہ کہ وحی آپ پر گھنٹی کی آواز کی طرح آتی اور یہ طریقہ آپ کے لئے بہت سخت ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ سخت سردی کے دنوں میں بھی آپ کے ماتھے سے پسینہ ٹپکتا اور ایسی حالت میں اگر آپ سواری پر ہوتے تو اس پر اس قدر بوجھ ہوتا کہ سواری بیٹھ جاتی۔ آپ پر ایک بار ایسی حالت میں وحی آئی اور آپ کا سر مبارک زید ابن ثابت کی ران پر تھا۔ اس پر یہ اس قدر بھاری ہوگیا کہ قریب تھا کہ اس سے ان کی ران چورہ چورہ ہوجاتی۔ چوتھی صورت یہ تھی کہ آپ فرشتے کو ایسی شکل میں دیکھتے جس میں اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ اس وقت وہ جو چاہتا ، وحی کرد یتا۔ اور اس شکل میں فرشتہ صرف دوبارآیا ہے۔ جیسا کہ سورت نجم میں ذکر ہوا ( زاد العماد ، ابن قیم الجوزیہ)
یہ ہیں وحی کی صورتیں ، اور ان کے مطابق اللہ کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کا رابطہ ہوتا رہا ہے۔
انہ علی حکیم (42 : 51) “ اللہ برتر اور حکیم ہے ”۔ وہ اپنی بلندیوں سے وحی کرتا ہے اور وہ اپنی حکمت سے جسے چاہتا ہے ، چن لیتا ہے۔
میں یہاں ضرور کہوں گا کہ جب بھی میں نے کسی ایسی آیت یا حدیث پر غور کیا ہے جس میں بندے اور رب کے درمیان رابطے کا ذکر ہو ، تو میرا رواں رواں کانپ اٹھا ہے کہ ایک ازلی ابدی ذات جو لازمان اور لامکان ہے ، جس کو کسی جگہ میں محدود نہیں کیا جاسکتا ، جس کی مثل کائنات میں کوئی چیز نہیں ہے اور فانی بندے کے درمیان اتصال کس طرح واقع ہو سکتا ہے جبکہ انسان ایک جگہ میں محدود ہے ، ایک زمان تک محدود ہے۔ اور مخلوقات کی دوسری حدود کا پابند ہے۔ پھر یہ رابطہ معانی اور کلمات کی شکل کس طرح اختیار کرتا ہے اور ایک فانی محدود ذات کے اندر یہ قوت کس طرح ودیعت کردی جاتی ہے کہ وہ ازلی و ابدی اور لامکان ذات کا کلام پا سکے۔ جس کی کوئی مثال نہیں ہے ، یہ کس طرح ممکن ہوا ۔ کیونکر ہوا ؟
لیکن میں نے پھر لوٹ کر اپنے آپ سے پوچھا تم کیف سے سوال کرتے ہو ؟ لیکن خود تمہارا یہ کیف بھی محدود ، فانی ، قاصر اور ایک حدود کے اندر ہے۔ لیکن یہ حقیقت تو واقع ہوچکی ہے ۔ اور اس نے ایک شکل بھی اختیار کرلی۔ اس کا ایک وجود ہمارے سامنے آگیا ہے اور تم اسے پا رہے ہو۔
لیکن اس کے باوجود یہ اچنبھا ، یہ گھبراہٹ اور یہ خوف موجود ہے۔ یہ نبوت تو بہت ہی عظیم امر ہے۔ اور اس پیغام کے وصول کرنے کا وقت تو بہت ہی عظیم ہے۔ ایک انسانی ذات ایک ذات عالی مقام کا پیغام وصول کرتی ہے۔ بھائی ! تم یہ کلمات پڑھتے ہو کیا تم میرے اس تصور میں میرے ساتھ شریک ہو ؟ کیا تم میرے ساتھ اس امر عظیم کو سوچ رہے ہو ؟ کہ یہ وحی وہاں سے آرہی ہے۔ نہیں میں کہتا ہوں کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ “ وہاں ” سے اس دربار عالی میں تو “ یہاں ” اور “ وہاں ” نہیں ہے۔ یہ نزول تو غیر مکان اور لازمان سے واقع ہے۔ یہ تو جگہ مکان اور حدود سے پاک ہے۔ جہت اور طرف تو اس بارگاہ میں نہیں۔ انتہائی مطلق ، ازلی ابدی ذات ہے ، اللہ ذوالجلال ہے۔ دوسری طرف ایک انسان ہے ، نبی ہے ، رسول ہے لیکن انسان ہے۔ وہ حدود وقیود رکھتا ہے۔ یہ وحی ! یہ ایک عجیب رابطہ ہے۔ معجزانہ رابطہ ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اسے ایک حقیقت واقعہ بنا سکتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ یہ واقعہ کیسے متحقق ہوا۔ بھائی ! تم یہ کلمات پڑھ رہے ہو کیا تم ان خیالات کو پا رہے ہو جو میرے دل میں آتے ہیں اور میں انہیں کلمات کی شکل دے رہا ہوں ۔ میرا پورا وجود جس قدر رعب ، کپکپی محسوس کرتا ہے اور میں اسے کلمات میں منتقل کر رہا ہوں ، میں نہیں جانتا کہ اس کے لئے میں کیسے کلمات لا سکتا ہوں۔ یہ واقعہ تو اپنی ماہیت کے اعتبار سے بہت ہی عظیم عجیب اور خارق عادت ہے۔ جن صورتوں میں بار بار واقعہ ہوا۔ لوگوں نے اسے محسوس کیا اور بارہا اس کے مناظر بھی دیکھے ، رسول اللہ ﷺ کے عہد میں آپ کے ساتھیوں نے۔ حضرت عائشہ ؓ انسانی تاریخ کے اس عظیم واقعہ کو دیکھ رہی ہیں۔ اور روایت کر رہی ہیں۔ آپ ﷺ فرماتے عائشہ ! یہ ہیں جبرئیل ، تم پر سلام کہتے ہیں۔ آپ فرماتی ہیں وعلیہ السلام۔ آپ فرماتے ہیں وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتیں۔ یہ ہیں زید ابن ثابت ؓ ۔ اس وقت حضور ﷺ کا سرمبارک ان کی ران پر ہے۔ وحی آتی ہے ، قریب ہے کہ ان کی ران کو پیس ڈالے۔ اور یہ دوسرے صحابہ کرام بار ہا اس واقعہ کر دیکھتے ہیں ، اور پہچان جاتے ہیں آپ کے چہرۂ مبارک پر آثار وحی۔ آپ کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں کہ وحی کی تلقی کا عمل پورا ہوجائے۔ آپ بھی واپس آتے ہیں اور وہ بھی واپس آتے ہیں۔
یہ کیا شخصیت ہے رسول خدا ﷺ کی جو ذات علوی کے ساتھ یہ رابطہ رکھتے ہیں ؟ آپ کو جو ہر کیا ہے ؟ آپ کی روح کیسی ہے کہ ایک ابدی کے ساتھ ازلی کے ساتھ آپ رابطہ ہوجاتا ہے۔ یہ اختلاط کیسے ہوتا ہے۔ یہ مسائل ہیں لیکن یہ حقیقت ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ واقعات ہمارے ادراک کے آفاق سے بہت دور ہیں ، بہت بلند ہیں۔
ہمارے نبی کی روح کی ایک انسانی روح ہے۔ یہ انسانی اور فانی روح کس طرح وحی اخذ کرتی ہے۔ تلقی اور ادراک کے دروازے کس طرح کھل جاتے تھے ؟ کس طرح ان پر یہ فیضان ہوتا تھا۔ ان عجیب لمحات میں وجود رسول اور وجود کائنات کس طرح محسوس کرتا تھا۔ جس میں اللہ کی تجلیات آتی تھیں۔ اور یہ تجلیات کلمات کی شکل اختیار کرتی تھیں۔
پھر اللہ کی نگہبانیاں ، اللہ کی مہربانیاں اور اللہ کی عزت افزائیاں تو دیکھو ! اللہ بہت ہی بلند ، بہت ہی بڑا اور وہ اس نہایت ہی چھوٹی ، کمزور اور بےبس مخلوق پر رحمتیں نازل کرتا ہے۔ یہ وحی اس کی اصلاح کے لئے ہے۔ اس کی راہ روشن کرنے کے لئے ہے۔ ان میں سے جو بےراہ ہوگئے۔ حیران ہیں ان کی راہنمائی کے لئے۔ انسان جو اللہ کے لئے اس سے بھی کم قیمت ہے جس طرح انسانوں کے لئے ایک مچھر۔ وہ اللہ کی مملکت میں اسی طرح ہے جس طرح پوری زمین کے مقابلے میں ایک مچھر۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے لیکن یہ انسان کی قوت مدرکہ کے تصورات بہت ہی بلند وبالا ہے ۔ ہم صرف اللہ کی اس افق عالی کی طرف دیکھ سکتے ہیں۔
وکذلک اوحینا الیک ۔۔۔۔۔ الی صراط مستقیم (42 : 52) صراط اللہ الذی ۔۔۔۔۔ تصیر الامور (42 : 53) “ اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے۔ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ، مگر اس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ یقینا ً تم سیدھے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کی مالک ہے ۔ خبردار رہو ، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں ”۔
وکذلک (اسی طرح) اس عجیب رابطے کے ذریعے اوحینا الیک (42 : 52) “ ہم نے تمہاری طرف وحی کی ” ۔ گویا وحی مذکور طریقے سے ہوئی۔ کوئی نئی بات نہ تھی۔ اور روحا من امرنا ( 42 : 52) “ اپنے حکم سے ایک روح ” ۔ ہم نے تمہاری طرف وحی کی۔ یہ ایک روح ہے ، اس میں زندگی ہے ۔ یہ انسانوں کو زندگی عطا کرتی ہے۔ یہ انسانوں کو آگے بڑھاتی ہے ، حرکت دیتی ہے اور نشوونما عطا کرتی ہے ، دلوں کو زندہ کرتی ہے اور عملی زاویہ سے لوگوں کو زندہ کرتی ہے۔
ما کنت تدری ما الکتب ولا الایمان ( 42 : 52) “ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ”۔ یوں رسول اللہ ﷺ کی ذہنی کیفیت کی تصویر اللہ کھینچتا ہے۔ اور اللہ آپ کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہے۔ یہ اس وحی کے نزول و وصول سے پہلے کی بات ہے۔ اس نزول وحی سے قبل حضور ﷺ نے کتابوں کے بارے میں بھی سنا ہوا تھا۔ اور ایمان کے بارے میں بھی سنا ہوا تھا ۔ اور جزیرۃ العرب میں یہ بات مشہور تھی کہ وہاں اہل کتاب ہیں اور ان کے پاس کتاب الٰہی ہے ، اور ان کا یہ عقیدہ ہے۔ لہٰذا مراد یہ نہیں ہے کہ آپ نہ کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو جانتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ضمیر کے اندر وحی کتاب اور ایمان کا وہ شعور نہ پاتے تھے۔ وحی الٰہی سے قبل آپ کے شعور میں یہ باتیں نہ تھیں جو وحی کے ذریعہ اب آپ لوگوں کو بتا تے ہیں۔
ولکن جعلنہ نورا نھدی بہ من نشاء (42 : 52) “ مگر اس کو ہم نے روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں ”۔ یہ ہے اس وحی کی ماہیت اور اس کی ذاتی خصوصیت۔ یہ روح ، یہ وحی ، یہ کتاب دراصل ایک نور ہے ۔ یہ نور جب قلب کا حصہ بن جاتا ہے تو پھر رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن یہ نور اسی شخص کے دل میں داخل ہوتا ہے جس کے بارے میں اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کے دل میں راہ پا سکتا ہے۔ اور یہ شخص اس کی طرف مائل ہے۔
وانک لتھدی الی صراط مستقیم (42 : 52) “ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو ”۔ یہاں تاکید کے ساتھ وحی کی رہنمائی کی حیثیت کو واضح کیا جاتا ہے کہ یہ ایک عملی رہنمائی کا پرو گرام ہے۔ اور ہدایت بھی اسی کو ملتی ہے جس شخص کے بارے میں اللہ کی مشیت ہو۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ جس کے مقدر میں چاہے ، لکھ دے ۔ اور اللہ ہر مقدر اپنے پیشگی علم کی وجہ سے تحریر کرتا ہے۔ یہ علم صرف اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ رسول کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا۔ رسول تو حکم الٰہی سے تبلیغ پر مامور ہے۔ وہ کسی کے دل میں ہدایت نہیں ڈال سکتا۔ آپ اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی مشیت کام کرتی ہے۔
وانک لتھدی الی صراط مستقیم (42 : 52) “ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو ”۔ یہاں تا کید کے ساتھ وحی کی رہنمائی کی حیثیت کو واضح کیا جاتا ہے کہ یہ ایک عملی رہنمائی کا پروگرام ہے۔ اور ہدایت بھی اسی کو ملتی ہے۔ جس شخص کے بارے میں اللہ کی مشیت ہو۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ جس کے مقدر میں چاہے ، لکھ دے ۔ اور اللہ ہر مقدر اپنے پیشگی علم کی وجہ سے تحریر کرتا ہے۔ یہ علم صرف اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ رسول کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا۔ رسول تو حکم الٰہی سے تبلیغ پر مامور ہے۔ وہ کسی کے دل میں ہدایت نہیں ڈال سکتا۔ آپ اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی مشیئت کام کرتی ہے۔
وانک لتھدی الی صراط مستقیم (42 : 52) صراط اللہ ۔۔۔۔۔۔ فی الارض (42 : 53) “ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے ”۔ یہ وحی ہدایت ہے اللہ کے راستے کی طرف۔ جہاں تمام راستے آ کر ملتے ہیں اور یہ مالک کا راستہ ہے جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے جو اس راتے پر آگیا۔ اسے اس کائنات کے قوانین فطرت کی راہ بھی معلوم ہوگئی۔ اسے زمین و آسمان کی قوتوں کا پتہ بھی چل گیا ، اسے آسمانوں اور زمینوں کی ارزاق کا بھی پتہ چل گیا۔ اسے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ زمین و آسمان سب اللہ کی راہ پر چل رہے ہیں۔ اللہ ہی ان کا مالک ہے ، یہ سب اس کی طرف متوجہ ہیں اور تمام امور اسی کی طرف مڑتے ہیں۔
الا الی اللہ تصیر الامور (42 : 53) “ خبردار رہو ، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں ”۔ سب چیزیں اللہ پر جا کر منتہی ہوتی ہیں ، وہاں سب امور جمع ہوں گے اور ان کے فیصلے ہوں گے۔ اور یہ نور اس راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو اللہ نے بندوں کے لئے پسند کیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ جڑنے کے لئے اس کی طرف آئیں اور اس کے نشانات پر مطیع فرمان ہو کر چلیں۔
یوں اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ اس کا آغاز وحی پر بات سے ہوا ، اس کا آخری مضمون اور محور وحی تھا۔ ابتدائی نبوتوں سے لے کر اس نے تمام نبوتوں کو لیا اور بتایا کہ یہ ایک ہی سلسلہ ہے۔ ایک ہی نظام اور منہاج کی طرف دعوت ہے ، راستہ بھی ایک ہے ، طریقہ بھی ایک ہے۔ محمد ﷺ کی رسالت نے تمام انسانیت کی رہنمائی کرنی ہے اور اس کی قیادت جماعت مومنہ نے کرنی ہے۔ اس نے لوگوں کو راہ راست پر لانا ہے۔ یہ اس ذات کا راستہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ۔ پھر اس سورت نے اس ابتدائی جماعت کی خصوصیات بھی بتا دیں جو حضور ﷺ پر ایمان لائی اور جس نے بھی یہ کام کرنا ہو ، اس کے اندر یہ خصوصیات لازمی ہیں۔ ان خصوصیات کے بغیر نہ قیادت ممکن ہے اور نہ اس امانت کا حق ادا کیا جاسکتا ہے۔ یہ امانت جو اس منہاج کے مطابق آسمانوں سے زمین پر اتاری گئی۔
الشورى 42:52
اس آیت میں یہ بات قطعی انداز میں کہہ دی گئی ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ آمنے سامنے ہو کر بات نہیں کرسکتا۔ حضرت عائشہ ؓ سے یہ مروی ہے : “ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے بہت پر افترا باندھا ” (متفق علیہ ) خدا کا مکالمہ بندوں کے ساتھ تین طریقوں سے سر انجام پاتا ہے۔ بذریعہ وحی ، یہ وحی قلب نبی پر براہ راست ہوتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ یہ وحی ہے ، یا پردے کے پیچھے سے ، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمہ ہوا۔ لیکن جب آپ نے اللہ کو دیکھنے کی درخواست کی تو اس درخواست کو قبول نہ کیا گیا۔ اور پہاڑ نے بھی تجلیات الہٰیہ کو برداشت نہ کیا۔
وخر موسیٰ صعقاً ۔۔۔۔۔ اول المومنین (7 : 143) “ اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑا جب ہوش آیا تو بولا : پاک ہے تیری ذات میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والوں میں سے ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والوں میں سے ہوں ”۔ یا پھر یہ طریقہ ہے کہ ایک پیغام لانے والا بھیج دے اور یہ فرشتہ ہوتا ہے جو اللہ کے حکم سے جو چاہے وحی کر دے۔ اور اس کی تفصیلات حضور اکرم ﷺ نے خود بتا دی ہیں۔ پہلا طریقہ یہ کہ فرشتہ آپ کے دل میں بات ڈال دے ماسوائے اس کے کہ آپ فرشتے کو دیکھیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا “ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہ مرے گا قبل اس کے کہ وہ اپنا رزق مکمل نہ کردے ، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور نہایت ہی خوبصورت طریقے سے رزق کی تلاش کرو ”۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فرشتہ ایک انسان کی شکل میں آپ سے بات کرتا اور آپ اس کی بات کو سمجھ لیتے۔ تیسری صورت یہ کہ وحی آپ پر گھنٹی کی آواز کی طرح آتی اور یہ طریقہ آپ کے لئے بہت سخت ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ سخت سردی کے دنوں میں بھی آپ کے ماتھے سے پسینہ ٹپکتا اور ایسی حالت میں اگر آپ سواری پر ہوتے تو اس پر اس قدر بوجھ ہوتا کہ سواری بیٹھ جاتی۔ آپ پر ایک بار ایسی حالت میں وحی آئی اور آپ کا سر مبارک زید ابن ثابت کی ران پر تھا۔ اس پر یہ اس قدر بھاری ہوگیا کہ قریب تھا کہ اس سے ان کی ران چورہ چورہ ہوجاتی۔ چوتھی صورت یہ تھی کہ آپ فرشتے کو ایسی شکل میں دیکھتے جس میں اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ اس وقت وہ جو چاہتا ، وحی کرد یتا۔ اور اس شکل میں فرشتہ صرف دوبارآیا ہے۔ جیسا کہ سورت نجم میں ذکر ہوا ( زاد العماد ، ابن قیم الجوزیہ)
یہ ہیں وحی کی صورتیں ، اور ان کے مطابق اللہ کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کا رابطہ ہوتا رہا ہے۔
انہ علی حکیم (42 : 51) “ اللہ برتر اور حکیم ہے ”۔ وہ اپنی بلندیوں سے وحی کرتا ہے اور وہ اپنی حکمت سے جسے چاہتا ہے ، چن لیتا ہے۔
میں یہاں ضرور کہوں گا کہ جب بھی میں نے کسی ایسی آیت یا حدیث پر غور کیا ہے جس میں بندے اور رب کے درمیان رابطے کا ذکر ہو ، تو میرا رواں رواں کانپ اٹھا ہے کہ ایک ازلی ابدی ذات جو لازمان اور لامکان ہے ، جس کو کسی جگہ میں محدود نہیں کیا جاسکتا ، جس کی مثل کائنات میں کوئی چیز نہیں ہے اور فانی بندے کے درمیان اتصال کس طرح واقع ہو سکتا ہے جبکہ انسان ایک جگہ میں محدود ہے ، ایک زمان تک محدود ہے۔ اور مخلوقات کی دوسری حدود کا پابند ہے۔ پھر یہ رابطہ معانی اور کلمات کی شکل کس طرح اختیار کرتا ہے اور ایک فانی محدود ذات کے اندر یہ قوت کس طرح ودیعت کردی جاتی ہے کہ وہ ازلی و ابدی اور لامکان ذات کا کلام پا سکے۔ جس کی کوئی مثال نہیں ہے ، یہ کس طرح ممکن ہوا ۔ کیونکر ہوا ؟
لیکن میں نے پھر لوٹ کر اپنے آپ سے پوچھا تم کیف سے سوال کرتے ہو ؟ لیکن خود تمہارا یہ کیف بھی محدود ، فانی ، قاصر اور ایک حدود کے اندر ہے۔ لیکن یہ حقیقت تو واقع ہوچکی ہے ۔ اور اس نے ایک شکل بھی اختیار کرلی۔ اس کا ایک وجود ہمارے سامنے آگیا ہے اور تم اسے پا رہے ہو۔
لیکن اس کے باوجود یہ اچنبھا ، یہ گھبراہٹ اور یہ خوف موجود ہے۔ یہ نبوت تو بہت ہی عظیم امر ہے۔ اور اس پیغام کے وصول کرنے کا وقت تو بہت ہی عظیم ہے۔ ایک انسانی ذات ایک ذات عالی مقام کا پیغام وصول کرتی ہے۔ بھائی ! تم یہ کلمات پڑھتے ہو کیا تم میرے اس تصور میں میرے ساتھ شریک ہو ؟ کیا تم میرے ساتھ اس امر عظیم کو سوچ رہے ہو ؟ کہ یہ وحی وہاں سے آرہی ہے۔ نہیں میں کہتا ہوں کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ “ وہاں ” سے اس دربار عالی میں تو “ یہاں ” اور “ وہاں ” نہیں ہے۔ یہ نزول تو غیر مکان اور لازمان سے واقع ہے۔ یہ تو جگہ مکان اور حدود سے پاک ہے۔ جہت اور طرف تو اس بارگاہ میں نہیں۔ انتہائی مطلق ، ازلی ابدی ذات ہے ، اللہ ذوالجلال ہے۔ دوسری طرف ایک انسان ہے ، نبی ہے ، رسول ہے لیکن انسان ہے۔ وہ حدود وقیود رکھتا ہے۔ یہ وحی ! یہ ایک عجیب رابطہ ہے۔ معجزانہ رابطہ ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اسے ایک حقیقت واقعہ بنا سکتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ یہ واقعہ کیسے متحقق ہوا۔ بھائی ! تم یہ کلمات پڑھ رہے ہو کیا تم ان خیالات کو پا رہے ہو جو میرے دل میں آتے ہیں اور میں انہیں کلمات کی شکل دے رہا ہوں ۔ میرا پورا وجود جس قدر رعب ، کپکپی محسوس کرتا ہے اور میں اسے کلمات میں منتقل کر رہا ہوں ، میں نہیں جانتا کہ اس کے لئے میں کیسے کلمات لا سکتا ہوں۔ یہ واقعہ تو اپنی ماہیت کے اعتبار سے بہت ہی عظیم عجیب اور خارق عادت ہے۔ جن صورتوں میں بار بار واقعہ ہوا۔ لوگوں نے اسے محسوس کیا اور بارہا اس کے مناظر بھی دیکھے ، رسول اللہ ﷺ کے عہد میں آپ کے ساتھیوں نے۔ حضرت عائشہ ؓ انسانی تاریخ کے اس عظیم واقعہ کو دیکھ رہی ہیں۔ اور روایت کر رہی ہیں۔ آپ ﷺ فرماتے عائشہ ! یہ ہیں جبرئیل ، تم پر سلام کہتے ہیں۔ آپ فرماتی ہیں وعلیہ السلام۔ آپ فرماتے ہیں وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتیں۔ یہ ہیں زید ابن ثابت ؓ ۔ اس وقت حضور ﷺ کا سرمبارک ان کی ران پر ہے۔ وحی آتی ہے ، قریب ہے کہ ان کی ران کو پیس ڈالے۔ اور یہ دوسرے صحابہ کرام بار ہا اس واقعہ کر دیکھتے ہیں ، اور پہچان جاتے ہیں آپ کے چہرۂ مبارک پر آثار وحی۔ آپ کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں کہ وحی کی تلقی کا عمل پورا ہوجائے۔ آپ بھی واپس آتے ہیں اور وہ بھی واپس آتے ہیں۔
یہ کیا شخصیت ہے رسول خدا ﷺ کی جو ذات علوی کے ساتھ یہ رابطہ رکھتے ہیں ؟ آپ کو جو ہر کیا ہے ؟ آپ کی روح کیسی ہے کہ ایک ابدی کے ساتھ ازلی کے ساتھ آپ رابطہ ہوجاتا ہے۔ یہ اختلاط کیسے ہوتا ہے۔ یہ مسائل ہیں لیکن یہ حقیقت ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ واقعات ہمارے ادراک کے آفاق سے بہت دور ہیں ، بہت بلند ہیں۔
ہمارے نبی کی روح کی ایک انسانی روح ہے۔ یہ انسانی اور فانی روح کس طرح وحی اخذ کرتی ہے۔ تلقی اور ادراک کے دروازے کس طرح کھل جاتے تھے ؟ کس طرح ان پر یہ فیضان ہوتا تھا۔ ان عجیب لمحات میں وجود رسول اور وجود کائنات کس طرح محسوس کرتا تھا۔ جس میں اللہ کی تجلیات آتی تھیں۔ اور یہ تجلیات کلمات کی شکل اختیار کرتی تھیں۔
پھر اللہ کی نگہبانیاں ، اللہ کی مہربانیاں اور اللہ کی عزت افزائیاں تو دیکھو ! اللہ بہت ہی بلند ، بہت ہی بڑا اور وہ اس نہایت ہی چھوٹی ، کمزور اور بےبس مخلوق پر رحمتیں نازل کرتا ہے۔ یہ وحی اس کی اصلاح کے لئے ہے۔ اس کی راہ روشن کرنے کے لئے ہے۔ ان میں سے جو بےراہ ہوگئے۔ حیران ہیں ان کی راہنمائی کے لئے۔ انسان جو اللہ کے لئے اس سے بھی کم قیمت ہے جس طرح انسانوں کے لئے ایک مچھر۔ وہ اللہ کی مملکت میں اسی طرح ہے جس طرح پوری زمین کے مقابلے میں ایک مچھر۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے لیکن یہ انسان کی قوت مدرکہ کے تصورات بہت ہی بلند وبالا ہے ۔ ہم صرف اللہ کی اس افق عالی کی طرف دیکھ سکتے ہیں۔
وکذلک اوحینا الیک ۔۔۔۔۔ الی صراط مستقیم (42 : 52) صراط اللہ الذی ۔۔۔۔۔ تصیر الامور (42 : 53) “ اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے۔ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ، مگر اس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ یقینا ً تم سیدھے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کی مالک ہے ۔ خبردار رہو ، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں ”۔
وکذلک (اسی طرح) اس عجیب رابطے کے ذریعے اوحینا الیک (42 : 52) “ ہم نے تمہاری طرف وحی کی ” ۔ گویا وحی مذکور طریقے سے ہوئی۔ کوئی نئی بات نہ تھی۔ اور روحا من امرنا ( 42 : 52) “ اپنے حکم سے ایک روح ” ۔ ہم نے تمہاری طرف وحی کی۔ یہ ایک روح ہے ، اس میں زندگی ہے ۔ یہ انسانوں کو زندگی عطا کرتی ہے۔ یہ انسانوں کو آگے بڑھاتی ہے ، حرکت دیتی ہے اور نشوونما عطا کرتی ہے ، دلوں کو زندہ کرتی ہے اور عملی زاویہ سے لوگوں کو زندہ کرتی ہے۔
ما کنت تدری ما الکتب ولا الایمان ( 42 : 52) “ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ”۔ یوں رسول اللہ ﷺ کی ذہنی کیفیت کی تصویر اللہ کھینچتا ہے۔ اور اللہ آپ کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہے۔ یہ اس وحی کے نزول و وصول سے پہلے کی بات ہے۔ اس نزول وحی سے قبل حضور ﷺ نے کتابوں کے بارے میں بھی سنا ہوا تھا۔ اور ایمان کے بارے میں بھی سنا ہوا تھا ۔ اور جزیرۃ العرب میں یہ بات مشہور تھی کہ وہاں اہل کتاب ہیں اور ان کے پاس کتاب الٰہی ہے ، اور ان کا یہ عقیدہ ہے۔ لہٰذا مراد یہ نہیں ہے کہ آپ نہ کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو جانتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ضمیر کے اندر وحی کتاب اور ایمان کا وہ شعور نہ پاتے تھے۔ وحی الٰہی سے قبل آپ کے شعور میں یہ باتیں نہ تھیں جو وحی کے ذریعہ اب آپ لوگوں کو بتا تے ہیں۔
ولکن جعلنہ نورا نھدی بہ من نشاء (42 : 52) “ مگر اس کو ہم نے روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں ”۔ یہ ہے اس وحی کی ماہیت اور اس کی ذاتی خصوصیت۔ یہ روح ، یہ وحی ، یہ کتاب دراصل ایک نور ہے ۔ یہ نور جب قلب کا حصہ بن جاتا ہے تو پھر رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن یہ نور اسی شخص کے دل میں داخل ہوتا ہے جس کے بارے میں اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کے دل میں راہ پا سکتا ہے۔ اور یہ شخص اس کی طرف مائل ہے۔
وانک لتھدی الی صراط مستقیم (42 : 52) “ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو ”۔ یہاں تاکید کے ساتھ وحی کی رہنمائی کی حیثیت کو واضح کیا جاتا ہے کہ یہ ایک عملی رہنمائی کا پرو گرام ہے۔ اور ہدایت بھی اسی کو ملتی ہے جس شخص کے بارے میں اللہ کی مشیت ہو۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ جس کے مقدر میں چاہے ، لکھ دے ۔ اور اللہ ہر مقدر اپنے پیشگی علم کی وجہ سے تحریر کرتا ہے۔ یہ علم صرف اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ رسول کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا۔ رسول تو حکم الٰہی سے تبلیغ پر مامور ہے۔ وہ کسی کے دل میں ہدایت نہیں ڈال سکتا۔ آپ اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی مشیت کام کرتی ہے۔
وانک لتھدی الی صراط مستقیم (42 : 52) “ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو ”۔ یہاں تا کید کے ساتھ وحی کی رہنمائی کی حیثیت کو واضح کیا جاتا ہے کہ یہ ایک عملی رہنمائی کا پروگرام ہے۔ اور ہدایت بھی اسی کو ملتی ہے۔ جس شخص کے بارے میں اللہ کی مشیت ہو۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ جس کے مقدر میں چاہے ، لکھ دے ۔ اور اللہ ہر مقدر اپنے پیشگی علم کی وجہ سے تحریر کرتا ہے۔ یہ علم صرف اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ رسول کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا۔ رسول تو حکم الٰہی سے تبلیغ پر مامور ہے۔ وہ کسی کے دل میں ہدایت نہیں ڈال سکتا۔ آپ اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی مشیئت کام کرتی ہے۔
وانک لتھدی الی صراط مستقیم (42 : 52) صراط اللہ ۔۔۔۔۔۔ فی الارض (42 : 53) “ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے ”۔ یہ وحی ہدایت ہے اللہ کے راستے کی طرف۔ جہاں تمام راستے آ کر ملتے ہیں اور یہ مالک کا راستہ ہے جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے جو اس راتے پر آگیا۔ اسے اس کائنات کے قوانین فطرت کی راہ بھی معلوم ہوگئی۔ اسے زمین و آسمان کی قوتوں کا پتہ بھی چل گیا ، اسے آسمانوں اور زمینوں کی ارزاق کا بھی پتہ چل گیا۔ اسے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ زمین و آسمان سب اللہ کی راہ پر چل رہے ہیں۔ اللہ ہی ان کا مالک ہے ، یہ سب اس کی طرف متوجہ ہیں اور تمام امور اسی کی طرف مڑتے ہیں۔
الا الی اللہ تصیر الامور (42 : 53) “ خبردار رہو ، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں ”۔ سب چیزیں اللہ پر جا کر منتہی ہوتی ہیں ، وہاں سب امور جمع ہوں گے اور ان کے فیصلے ہوں گے۔ اور یہ نور اس راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو اللہ نے بندوں کے لئے پسند کیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ جڑنے کے لئے اس کی طرف آئیں اور اس کے نشانات پر مطیع فرمان ہو کر چلیں۔
یوں اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ اس کا آغاز وحی پر بات سے ہوا ، اس کا آخری مضمون اور محور وحی تھا۔ ابتدائی نبوتوں سے لے کر اس نے تمام نبوتوں کو لیا اور بتایا کہ یہ ایک ہی سلسلہ ہے۔ ایک ہی نظام اور منہاج کی طرف دعوت ہے ، راستہ بھی ایک ہے ، طریقہ بھی ایک ہے۔ محمد ﷺ کی رسالت نے تمام انسانیت کی رہنمائی کرنی ہے اور اس کی قیادت جماعت مومنہ نے کرنی ہے۔ اس نے لوگوں کو راہ راست پر لانا ہے۔ یہ اس ذات کا راستہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ۔ پھر اس سورت نے اس ابتدائی جماعت کی خصوصیات بھی بتا دیں جو حضور ﷺ پر ایمان لائی اور جس نے بھی یہ کام کرنا ہو ، اس کے اندر یہ خصوصیات لازمی ہیں۔ ان خصوصیات کے بغیر نہ قیادت ممکن ہے اور نہ اس امانت کا حق ادا کیا جاسکتا ہے۔ یہ امانت جو اس منہاج کے مطابق آسمانوں سے زمین پر اتاری گئی۔
الشورى 42:53
اس آیت میں یہ بات قطعی انداز میں کہہ دی گئی ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ آمنے سامنے ہو کر بات نہیں کرسکتا۔ حضرت عائشہ ؓ سے یہ مروی ہے : “ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے بہت پر افترا باندھا ” (متفق علیہ ) خدا کا مکالمہ بندوں کے ساتھ تین طریقوں سے سر انجام پاتا ہے۔ بذریعہ وحی ، یہ وحی قلب نبی پر براہ راست ہوتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ یہ وحی ہے ، یا پردے کے پیچھے سے ، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمہ ہوا۔ لیکن جب آپ نے اللہ کو دیکھنے کی درخواست کی تو اس درخواست کو قبول نہ کیا گیا۔ اور پہاڑ نے بھی تجلیات الہٰیہ کو برداشت نہ کیا۔
وخر موسیٰ صعقاً ۔۔۔۔۔ اول المومنین (7 : 143) “ اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑا جب ہوش آیا تو بولا : پاک ہے تیری ذات میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والوں میں سے ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والوں میں سے ہوں ”۔ یا پھر یہ طریقہ ہے کہ ایک پیغام لانے والا بھیج دے اور یہ فرشتہ ہوتا ہے جو اللہ کے حکم سے جو چاہے وحی کر دے۔ اور اس کی تفصیلات حضور اکرم ﷺ نے خود بتا دی ہیں۔ پہلا طریقہ یہ کہ فرشتہ آپ کے دل میں بات ڈال دے ماسوائے اس کے کہ آپ فرشتے کو دیکھیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا “ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہ مرے گا قبل اس کے کہ وہ اپنا رزق مکمل نہ کردے ، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور نہایت ہی خوبصورت طریقے سے رزق کی تلاش کرو ”۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فرشتہ ایک انسان کی شکل میں آپ سے بات کرتا اور آپ اس کی بات کو سمجھ لیتے۔ تیسری صورت یہ کہ وحی آپ پر گھنٹی کی آواز کی طرح آتی اور یہ طریقہ آپ کے لئے بہت سخت ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ سخت سردی کے دنوں میں بھی آپ کے ماتھے سے پسینہ ٹپکتا اور ایسی حالت میں اگر آپ سواری پر ہوتے تو اس پر اس قدر بوجھ ہوتا کہ سواری بیٹھ جاتی۔ آپ پر ایک بار ایسی حالت میں وحی آئی اور آپ کا سر مبارک زید ابن ثابت کی ران پر تھا۔ اس پر یہ اس قدر بھاری ہوگیا کہ قریب تھا کہ اس سے ان کی ران چورہ چورہ ہوجاتی۔ چوتھی صورت یہ تھی کہ آپ فرشتے کو ایسی شکل میں دیکھتے جس میں اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ اس وقت وہ جو چاہتا ، وحی کرد یتا۔ اور اس شکل میں فرشتہ صرف دوبارآیا ہے۔ جیسا کہ سورت نجم میں ذکر ہوا ( زاد العماد ، ابن قیم الجوزیہ)
یہ ہیں وحی کی صورتیں ، اور ان کے مطابق اللہ کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کا رابطہ ہوتا رہا ہے۔
انہ علی حکیم (42 : 51) “ اللہ برتر اور حکیم ہے ”۔ وہ اپنی بلندیوں سے وحی کرتا ہے اور وہ اپنی حکمت سے جسے چاہتا ہے ، چن لیتا ہے۔
میں یہاں ضرور کہوں گا کہ جب بھی میں نے کسی ایسی آیت یا حدیث پر غور کیا ہے جس میں بندے اور رب کے درمیان رابطے کا ذکر ہو ، تو میرا رواں رواں کانپ اٹھا ہے کہ ایک ازلی ابدی ذات جو لازمان اور لامکان ہے ، جس کو کسی جگہ میں محدود نہیں کیا جاسکتا ، جس کی مثل کائنات میں کوئی چیز نہیں ہے اور فانی بندے کے درمیان اتصال کس طرح واقع ہو سکتا ہے جبکہ انسان ایک جگہ میں محدود ہے ، ایک زمان تک محدود ہے۔ اور مخلوقات کی دوسری حدود کا پابند ہے۔ پھر یہ رابطہ معانی اور کلمات کی شکل کس طرح اختیار کرتا ہے اور ایک فانی محدود ذات کے اندر یہ قوت کس طرح ودیعت کردی جاتی ہے کہ وہ ازلی و ابدی اور لامکان ذات کا کلام پا سکے۔ جس کی کوئی مثال نہیں ہے ، یہ کس طرح ممکن ہوا ۔ کیونکر ہوا ؟
لیکن میں نے پھر لوٹ کر اپنے آپ سے پوچھا تم کیف سے سوال کرتے ہو ؟ لیکن خود تمہارا یہ کیف بھی محدود ، فانی ، قاصر اور ایک حدود کے اندر ہے۔ لیکن یہ حقیقت تو واقع ہوچکی ہے ۔ اور اس نے ایک شکل بھی اختیار کرلی۔ اس کا ایک وجود ہمارے سامنے آگیا ہے اور تم اسے پا رہے ہو۔
لیکن اس کے باوجود یہ اچنبھا ، یہ گھبراہٹ اور یہ خوف موجود ہے۔ یہ نبوت تو بہت ہی عظیم امر ہے۔ اور اس پیغام کے وصول کرنے کا وقت تو بہت ہی عظیم ہے۔ ایک انسانی ذات ایک ذات عالی مقام کا پیغام وصول کرتی ہے۔ بھائی ! تم یہ کلمات پڑھتے ہو کیا تم میرے اس تصور میں میرے ساتھ شریک ہو ؟ کیا تم میرے ساتھ اس امر عظیم کو سوچ رہے ہو ؟ کہ یہ وحی وہاں سے آرہی ہے۔ نہیں میں کہتا ہوں کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ “ وہاں ” سے اس دربار عالی میں تو “ یہاں ” اور “ وہاں ” نہیں ہے۔ یہ نزول تو غیر مکان اور لازمان سے واقع ہے۔ یہ تو جگہ مکان اور حدود سے پاک ہے۔ جہت اور طرف تو اس بارگاہ میں نہیں۔ انتہائی مطلق ، ازلی ابدی ذات ہے ، اللہ ذوالجلال ہے۔ دوسری طرف ایک انسان ہے ، نبی ہے ، رسول ہے لیکن انسان ہے۔ وہ حدود وقیود رکھتا ہے۔ یہ وحی ! یہ ایک عجیب رابطہ ہے۔ معجزانہ رابطہ ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اسے ایک حقیقت واقعہ بنا سکتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ یہ واقعہ کیسے متحقق ہوا۔ بھائی ! تم یہ کلمات پڑھ رہے ہو کیا تم ان خیالات کو پا رہے ہو جو میرے دل میں آتے ہیں اور میں انہیں کلمات کی شکل دے رہا ہوں ۔ میرا پورا وجود جس قدر رعب ، کپکپی محسوس کرتا ہے اور میں اسے کلمات میں منتقل کر رہا ہوں ، میں نہیں جانتا کہ اس کے لئے میں کیسے کلمات لا سکتا ہوں۔ یہ واقعہ تو اپنی ماہیت کے اعتبار سے بہت ہی عظیم عجیب اور خارق عادت ہے۔ جن صورتوں میں بار بار واقعہ ہوا۔ لوگوں نے اسے محسوس کیا اور بارہا اس کے مناظر بھی دیکھے ، رسول اللہ ﷺ کے عہد میں آپ کے ساتھیوں نے۔ حضرت عائشہ ؓ انسانی تاریخ کے اس عظیم واقعہ کو دیکھ رہی ہیں۔ اور روایت کر رہی ہیں۔ آپ ﷺ فرماتے عائشہ ! یہ ہیں جبرئیل ، تم پر سلام کہتے ہیں۔ آپ فرماتی ہیں وعلیہ السلام۔ آپ فرماتے ہیں وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتیں۔ یہ ہیں زید ابن ثابت ؓ ۔ اس وقت حضور ﷺ کا سرمبارک ان کی ران پر ہے۔ وحی آتی ہے ، قریب ہے کہ ان کی ران کو پیس ڈالے۔ اور یہ دوسرے صحابہ کرام بار ہا اس واقعہ کر دیکھتے ہیں ، اور پہچان جاتے ہیں آپ کے چہرۂ مبارک پر آثار وحی۔ آپ کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں کہ وحی کی تلقی کا عمل پورا ہوجائے۔ آپ بھی واپس آتے ہیں اور وہ بھی واپس آتے ہیں۔
یہ کیا شخصیت ہے رسول خدا ﷺ کی جو ذات علوی کے ساتھ یہ رابطہ رکھتے ہیں ؟ آپ کو جو ہر کیا ہے ؟ آپ کی روح کیسی ہے کہ ایک ابدی کے ساتھ ازلی کے ساتھ آپ رابطہ ہوجاتا ہے۔ یہ اختلاط کیسے ہوتا ہے۔ یہ مسائل ہیں لیکن یہ حقیقت ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ واقعات ہمارے ادراک کے آفاق سے بہت دور ہیں ، بہت بلند ہیں۔
ہمارے نبی کی روح کی ایک انسانی روح ہے۔ یہ انسانی اور فانی روح کس طرح وحی اخذ کرتی ہے۔ تلقی اور ادراک کے دروازے کس طرح کھل جاتے تھے ؟ کس طرح ان پر یہ فیضان ہوتا تھا۔ ان عجیب لمحات میں وجود رسول اور وجود کائنات کس طرح محسوس کرتا تھا۔ جس میں اللہ کی تجلیات آتی تھیں۔ اور یہ تجلیات کلمات کی شکل اختیار کرتی تھیں۔
پھر اللہ کی نگہبانیاں ، اللہ کی مہربانیاں اور اللہ کی عزت افزائیاں تو دیکھو ! اللہ بہت ہی بلند ، بہت ہی بڑا اور وہ اس نہایت ہی چھوٹی ، کمزور اور بےبس مخلوق پر رحمتیں نازل کرتا ہے۔ یہ وحی اس کی اصلاح کے لئے ہے۔ اس کی راہ روشن کرنے کے لئے ہے۔ ان میں سے جو بےراہ ہوگئے۔ حیران ہیں ان کی راہنمائی کے لئے۔ انسان جو اللہ کے لئے اس سے بھی کم قیمت ہے جس طرح انسانوں کے لئے ایک مچھر۔ وہ اللہ کی مملکت میں اسی طرح ہے جس طرح پوری زمین کے مقابلے میں ایک مچھر۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے لیکن یہ انسان کی قوت مدرکہ کے تصورات بہت ہی بلند وبالا ہے ۔ ہم صرف اللہ کی اس افق عالی کی طرف دیکھ سکتے ہیں۔
وکذلک اوحینا الیک ۔۔۔۔۔ الی صراط مستقیم (42 : 52) صراط اللہ الذی ۔۔۔۔۔ تصیر الامور (42 : 53) “ اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے۔ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ، مگر اس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ یقینا ً تم سیدھے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کی مالک ہے ۔ خبردار رہو ، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں ”۔
وکذلک (اسی طرح) اس عجیب رابطے کے ذریعے اوحینا الیک (42 : 52) “ ہم نے تمہاری طرف وحی کی ” ۔ گویا وحی مذکور طریقے سے ہوئی۔ کوئی نئی بات نہ تھی۔ اور روحا من امرنا ( 42 : 52) “ اپنے حکم سے ایک روح ” ۔ ہم نے تمہاری طرف وحی کی۔ یہ ایک روح ہے ، اس میں زندگی ہے ۔ یہ انسانوں کو زندگی عطا کرتی ہے۔ یہ انسانوں کو آگے بڑھاتی ہے ، حرکت دیتی ہے اور نشوونما عطا کرتی ہے ، دلوں کو زندہ کرتی ہے اور عملی زاویہ سے لوگوں کو زندہ کرتی ہے۔
ما کنت تدری ما الکتب ولا الایمان ( 42 : 52) “ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ”۔ یوں رسول اللہ ﷺ کی ذہنی کیفیت کی تصویر اللہ کھینچتا ہے۔ اور اللہ آپ کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہے۔ یہ اس وحی کے نزول و وصول سے پہلے کی بات ہے۔ اس نزول وحی سے قبل حضور ﷺ نے کتابوں کے بارے میں بھی سنا ہوا تھا۔ اور ایمان کے بارے میں بھی سنا ہوا تھا ۔ اور جزیرۃ العرب میں یہ بات مشہور تھی کہ وہاں اہل کتاب ہیں اور ان کے پاس کتاب الٰہی ہے ، اور ان کا یہ عقیدہ ہے۔ لہٰذا مراد یہ نہیں ہے کہ آپ نہ کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو جانتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ضمیر کے اندر وحی کتاب اور ایمان کا وہ شعور نہ پاتے تھے۔ وحی الٰہی سے قبل آپ کے شعور میں یہ باتیں نہ تھیں جو وحی کے ذریعہ اب آپ لوگوں کو بتا تے ہیں۔
ولکن جعلنہ نورا نھدی بہ من نشاء (42 : 52) “ مگر اس کو ہم نے روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں ”۔ یہ ہے اس وحی کی ماہیت اور اس کی ذاتی خصوصیت۔ یہ روح ، یہ وحی ، یہ کتاب دراصل ایک نور ہے ۔ یہ نور جب قلب کا حصہ بن جاتا ہے تو پھر رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن یہ نور اسی شخص کے دل میں داخل ہوتا ہے جس کے بارے میں اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کے دل میں راہ پا سکتا ہے۔ اور یہ شخص اس کی طرف مائل ہے۔
وانک لتھدی الی صراط مستقیم (42 : 52) “ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو ”۔ یہاں تاکید کے ساتھ وحی کی رہنمائی کی حیثیت کو واضح کیا جاتا ہے کہ یہ ایک عملی رہنمائی کا پرو گرام ہے۔ اور ہدایت بھی اسی کو ملتی ہے جس شخص کے بارے میں اللہ کی مشیت ہو۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ جس کے مقدر میں چاہے ، لکھ دے ۔ اور اللہ ہر مقدر اپنے پیشگی علم کی وجہ سے تحریر کرتا ہے۔ یہ علم صرف اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ رسول کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا۔ رسول تو حکم الٰہی سے تبلیغ پر مامور ہے۔ وہ کسی کے دل میں ہدایت نہیں ڈال سکتا۔ آپ اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی مشیت کام کرتی ہے۔
وانک لتھدی الی صراط مستقیم (42 : 52) “ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو ”۔ یہاں تا کید کے ساتھ وحی کی رہنمائی کی حیثیت کو واضح کیا جاتا ہے کہ یہ ایک عملی رہنمائی کا پروگرام ہے۔ اور ہدایت بھی اسی کو ملتی ہے۔ جس شخص کے بارے میں اللہ کی مشیت ہو۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ جس کے مقدر میں چاہے ، لکھ دے ۔ اور اللہ ہر مقدر اپنے پیشگی علم کی وجہ سے تحریر کرتا ہے۔ یہ علم صرف اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ رسول کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا۔ رسول تو حکم الٰہی سے تبلیغ پر مامور ہے۔ وہ کسی کے دل میں ہدایت نہیں ڈال سکتا۔ آپ اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی مشیئت کام کرتی ہے۔
وانک لتھدی الی صراط مستقیم (42 : 52) صراط اللہ ۔۔۔۔۔۔ فی الارض (42 : 53) “ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے ”۔ یہ وحی ہدایت ہے اللہ کے راستے کی طرف۔ جہاں تمام راستے آ کر ملتے ہیں اور یہ مالک کا راستہ ہے جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے جو اس راتے پر آگیا۔ اسے اس کائنات کے قوانین فطرت کی راہ بھی معلوم ہوگئی۔ اسے زمین و آسمان کی قوتوں کا پتہ بھی چل گیا ، اسے آسمانوں اور زمینوں کی ارزاق کا بھی پتہ چل گیا۔ اسے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ زمین و آسمان سب اللہ کی راہ پر چل رہے ہیں۔ اللہ ہی ان کا مالک ہے ، یہ سب اس کی طرف متوجہ ہیں اور تمام امور اسی کی طرف مڑتے ہیں۔
الا الی اللہ تصیر الامور (42 : 53) “ خبردار رہو ، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں ”۔ سب چیزیں اللہ پر جا کر منتہی ہوتی ہیں ، وہاں سب امور جمع ہوں گے اور ان کے فیصلے ہوں گے۔ اور یہ نور اس راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو اللہ نے بندوں کے لئے پسند کیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ جڑنے کے لئے اس کی طرف آئیں اور اس کے نشانات پر مطیع فرمان ہو کر چلیں۔
یوں اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ اس کا آغاز وحی پر بات سے ہوا ، اس کا آخری مضمون اور محور وحی تھا۔ ابتدائی نبوتوں سے لے کر اس نے تمام نبوتوں کو لیا اور بتایا کہ یہ ایک ہی سلسلہ ہے۔ ایک ہی نظام اور منہاج کی طرف دعوت ہے ، راستہ بھی ایک ہے ، طریقہ بھی ایک ہے۔ محمد ﷺ کی رسالت نے تمام انسانیت کی رہنمائی کرنی ہے اور اس کی قیادت جماعت مومنہ نے کرنی ہے۔ اس نے لوگوں کو راہ راست پر لانا ہے۔ یہ اس ذات کا راستہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ۔ پھر اس سورت نے اس ابتدائی جماعت کی خصوصیات بھی بتا دیں جو حضور ﷺ پر ایمان لائی اور جس نے بھی یہ کام کرنا ہو ، اس کے اندر یہ خصوصیات لازمی ہیں۔ ان خصوصیات کے بغیر نہ قیادت ممکن ہے اور نہ اس امانت کا حق ادا کیا جاسکتا ہے۔ یہ امانت جو اس منہاج کے مطابق آسمانوں سے زمین پر اتاری گئی۔
الزخرف 43:1
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار دلالات و اشارات ہوتے ہیں۔ قسم اس بات پر اٹھائی جاتی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو اس انداز پر بنایا عربی زبان میں۔
انا جعلنہ قرءنا عربیا لعلکم تعقلون (43 : 3) “ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو ”۔ جب قرآن ان کی زبان میں ہے اور وہ اس کے معنی جانتے بھی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن تو وحی الٰہی ہے لیکن اللہ نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا ، کیونکہ قرآن کی دعوت کے لئے اللہ نے آغاز میں عربی معاشرے کو چنا اور سب سے پہلے اس دعوت کے حاملین عرب ہی رہے۔ اس حکمت کی بنا پر جس کی طرف ہم نے سورة شوریٰ میں اشارات کئے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس امانت اور اس زبان کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتا تھا کہ امت عربیہ اور لسان عربی اس دعوت کو دوسری اقوام تک اچھی طرح منتقل کرسکتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی امانت کو کہاں رکھے اور کہاں نہ رکھے۔
اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس قرآن کا مقام و مرتبہ اللہ ازلی اور ابدی ذات کے ہاں کیا ہے ؟
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ اور در حقیقت یہ ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ ام الکتاب کیا ہے ، اس کے لفظی معنوں میں ہم نہیں پڑتے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے یا اللہ کا علم ازلی ہے ، کیونکہ ہمارے ادراک میں نہ تو لوح محفوظ کا۔ اور نہ اللہ کے علم ازلی کا پورا تصور ہے البتہ اس آیت سے ہمارے علم میں ایک اصولی حقیقت آتی ہے۔ جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں۔
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ یہ درحقیقت ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ تو اس سے ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر آجاتی ہے کہ اللہ کے علم میں اس کتاب کی بڑی وقعت ہے اور اسے بہت ہی اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ بس یہ اصولی اور کلی بات ہمارے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک بلند مرتبت کتاب ہے اور حکیم ہے یعنی حکمت والی کتاب ہے۔ یہ دونوں صفات اس کتاب کو ایک ایسی شخصیت دیتی ہیں جس طرح زندہ انسان ہوتا ہے یعنی بلند اور حکیم کا۔ اور بالکل یہ بات اسی طرح ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے گویا اس میں زندگی ہے اور اس میں زندہ شخصیت کی صفات ہیں یہ کہ جو ارواح اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں یہ ان کے ہمقدم چلتی ہے۔ اور یہ اپنی بلندی اور حکمت کے بدولت انسانیت پر نگراں ہے ، اس کو ہدایت دیتی ہے ، اس کی قیادت کرتی ہے ، اپنی طبیعت اور اپنے خصائص کے مطابق ، اور یہ انسانی فہم و ادراک میں وہ اقدار اور وہ تصورات بٹھاتی ہے جن پر ان دو صفات علی اور حکیم کا اطلاق ہوتا ہے۔
اس حقیقت کو فیصلہ کن انداز میں طے کرنے کے بعد اب اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جن کی زبان میں یہ علی و حکیم کتاب اتری ہے کہ اللہ نے ان کو کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے اور یہ لوگ پھر بھی اللہ کے اس فضل و کرم کو نہیں سمجھتے۔ اور پھر بھی اس خزانہ حکمت سے منہ موڑتے ہیں اور اس کی توہین کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ تو اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے پاس آنے والی اس حکمت و ہدایت پر مشتمل کتاب کا نزول ہی بند کردیں ، چناچہ یہاں ان کی اس زیادتی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا تمہاری اس زیادتی اور حد سے گزر کر زیادتی کی وجہ سے اس سر چشمہ ہدایت دانائی کو بند کردیں۔
افنضرب عنکم ۔۔۔۔۔ مسرفین (53 : 5) “ اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا بند کردیں۔ صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو۔ یہ بات نہایت ہی عجیب لگتی ہے اور آئندہ بھی عجیب رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو اس قدر اہمیت دی کہ اس کے لئے اس نے کتاب بھیجی۔ ان کی زبان میں بھیجی۔ اس کتاب نے ان کی فطرت کے عین مطابق وہ باتیں کیں جو ان کے دل میں تھیں ، ان کی زندگی کی گہرائیوں تک چلی گئی ، اور ان کے لئے ہدایت کا راستہ بیان کیا ، پہلی اقوام کے عبرت آموز قصے بیان کئے ، گزشتہ اقوام کے ساتھ سنت الہٰیہ نے جو سلوک کیا وہ بیان کیا گیا ، لیکن اس نے اس کتاب کو نظر انداز کردیا اور اعراض کرلیا ! پھر بھی اللہ ان لوگوں کی فکر کرتا ہے حالانکہ وہ نہایت بلند ، نہایت عظیم اور غنی بادشاہ ہے۔
اس آیت میں در حقیقت ایک خوفناک تہدید ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اس سر چشمہ فیض و حکمت کو ختم کر دے اور تم پر ہونے والی اس مہربانی کو بند کر دے۔ کیونکہ تم اس عظیم حکیمانہ اور بلند مرتبہ کتاب کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کر رہے ہو ، اور تم سے ان اقوام جیسا سلوک کرے جو تم سے پہلے گزر ہیں۔
وکم ارسلان ۔۔۔۔۔ الاولین (43 : 6) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (43 : 7) فاھلکنا ۔۔۔۔ مثل الاولین (43 : 8) “ پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ پھر جو لوگ ان سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے ، انہیں ہم نے ہلاک کردیا ، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں ”۔ وہ اب اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ، اللہ نے ایسے رویہ پر تو ان سے زیادہ قوت گرفت رکھنے والی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو انہی کی طرح رسولوں اور کتابوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ کئی مثالیں موجود ہیں۔
بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے وجود کا اعتراف کرتے تھے۔ یہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، لیکن ان اعترافات کے بعد پھر ان کے قدرتی نتائج کو قبول نہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کے امور میں صرف اللہ کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے اور اللہ کے پیدا کردہ بعض جانوروں کو ان الہٰوں کے لیے مخصوص کرتے تھے اور یہ عقیدہ انہوں نے گھڑ لیا تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور ملائکہ کے بت بنا کر یہ ان کو پوجتے تھے۔
قرآن مجید یہاں ان کے اعترافات کو پیش کر کے پھر اس کے فطری نتائج مرتب کرتا ہے اور پھر ان کو فطری استدلال کے سامنے کھڑا کرتا ہے جس سے وہ بھاگتے تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اللہ کی مخلوقات میں سے حیوانات اور کشتی کو بطور مثال پیش فرماتا ہے کہ ان میں تمہارے لیے کتنے فائدے ہیں اور اس کے مقابلے میں تمہارا رویہ کیا ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے پیرا گراف میں یہ بتایا گیا کہ کیا جواز ہے کہ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔
الزخرف 43:2
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار دلالات و اشارات ہوتے ہیں۔ قسم اس بات پر اٹھائی جاتی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو اس انداز پر بنایا عربی زبان میں۔
انا جعلنہ قرءنا عربیا لعلکم تعقلون (43 : 3) “ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو ”۔ جب قرآن ان کی زبان میں ہے اور وہ اس کے معنی جانتے بھی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن تو وحی الٰہی ہے لیکن اللہ نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا ، کیونکہ قرآن کی دعوت کے لئے اللہ نے آغاز میں عربی معاشرے کو چنا اور سب سے پہلے اس دعوت کے حاملین عرب ہی رہے۔ اس حکمت کی بنا پر جس کی طرف ہم نے سورة شوریٰ میں اشارات کئے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس امانت اور اس زبان کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتا تھا کہ امت عربیہ اور لسان عربی اس دعوت کو دوسری اقوام تک اچھی طرح منتقل کرسکتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی امانت کو کہاں رکھے اور کہاں نہ رکھے۔
اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس قرآن کا مقام و مرتبہ اللہ ازلی اور ابدی ذات کے ہاں کیا ہے ؟
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ اور در حقیقت یہ ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ ام الکتاب کیا ہے ، اس کے لفظی معنوں میں ہم نہیں پڑتے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے یا اللہ کا علم ازلی ہے ، کیونکہ ہمارے ادراک میں نہ تو لوح محفوظ کا۔ اور نہ اللہ کے علم ازلی کا پورا تصور ہے البتہ اس آیت سے ہمارے علم میں ایک اصولی حقیقت آتی ہے۔ جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں۔
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ یہ درحقیقت ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ تو اس سے ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر آجاتی ہے کہ اللہ کے علم میں اس کتاب کی بڑی وقعت ہے اور اسے بہت ہی اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ بس یہ اصولی اور کلی بات ہمارے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک بلند مرتبت کتاب ہے اور حکیم ہے یعنی حکمت والی کتاب ہے۔ یہ دونوں صفات اس کتاب کو ایک ایسی شخصیت دیتی ہیں جس طرح زندہ انسان ہوتا ہے یعنی بلند اور حکیم کا۔ اور بالکل یہ بات اسی طرح ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے گویا اس میں زندگی ہے اور اس میں زندہ شخصیت کی صفات ہیں یہ کہ جو ارواح اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں یہ ان کے ہمقدم چلتی ہے۔ اور یہ اپنی بلندی اور حکمت کے بدولت انسانیت پر نگراں ہے ، اس کو ہدایت دیتی ہے ، اس کی قیادت کرتی ہے ، اپنی طبیعت اور اپنے خصائص کے مطابق ، اور یہ انسانی فہم و ادراک میں وہ اقدار اور وہ تصورات بٹھاتی ہے جن پر ان دو صفات علی اور حکیم کا اطلاق ہوتا ہے۔
اس حقیقت کو فیصلہ کن انداز میں طے کرنے کے بعد اب اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جن کی زبان میں یہ علی و حکیم کتاب اتری ہے کہ اللہ نے ان کو کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے اور یہ لوگ پھر بھی اللہ کے اس فضل و کرم کو نہیں سمجھتے۔ اور پھر بھی اس خزانہ حکمت سے منہ موڑتے ہیں اور اس کی توہین کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ تو اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے پاس آنے والی اس حکمت و ہدایت پر مشتمل کتاب کا نزول ہی بند کردیں ، چناچہ یہاں ان کی اس زیادتی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا تمہاری اس زیادتی اور حد سے گزر کر زیادتی کی وجہ سے اس سر چشمہ ہدایت دانائی کو بند کردیں۔
افنضرب عنکم ۔۔۔۔۔ مسرفین (53 : 5) “ اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا بند کردیں۔ صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو۔ یہ بات نہایت ہی عجیب لگتی ہے اور آئندہ بھی عجیب رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو اس قدر اہمیت دی کہ اس کے لئے اس نے کتاب بھیجی۔ ان کی زبان میں بھیجی۔ اس کتاب نے ان کی فطرت کے عین مطابق وہ باتیں کیں جو ان کے دل میں تھیں ، ان کی زندگی کی گہرائیوں تک چلی گئی ، اور ان کے لئے ہدایت کا راستہ بیان کیا ، پہلی اقوام کے عبرت آموز قصے بیان کئے ، گزشتہ اقوام کے ساتھ سنت الہٰیہ نے جو سلوک کیا وہ بیان کیا گیا ، لیکن اس نے اس کتاب کو نظر انداز کردیا اور اعراض کرلیا ! پھر بھی اللہ ان لوگوں کی فکر کرتا ہے حالانکہ وہ نہایت بلند ، نہایت عظیم اور غنی بادشاہ ہے۔
اس آیت میں در حقیقت ایک خوفناک تہدید ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اس سر چشمہ فیض و حکمت کو ختم کر دے اور تم پر ہونے والی اس مہربانی کو بند کر دے۔ کیونکہ تم اس عظیم حکیمانہ اور بلند مرتبہ کتاب کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کر رہے ہو ، اور تم سے ان اقوام جیسا سلوک کرے جو تم سے پہلے گزر ہیں۔
وکم ارسلان ۔۔۔۔۔ الاولین (43 : 6) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (43 : 7) فاھلکنا ۔۔۔۔ مثل الاولین (43 : 8) “ پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ پھر جو لوگ ان سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے ، انہیں ہم نے ہلاک کردیا ، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں ”۔ وہ اب اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ، اللہ نے ایسے رویہ پر تو ان سے زیادہ قوت گرفت رکھنے والی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو انہی کی طرح رسولوں اور کتابوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ کئی مثالیں موجود ہیں۔
بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے وجود کا اعتراف کرتے تھے۔ یہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، لیکن ان اعترافات کے بعد پھر ان کے قدرتی نتائج کو قبول نہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کے امور میں صرف اللہ کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے اور اللہ کے پیدا کردہ بعض جانوروں کو ان الہٰوں کے لیے مخصوص کرتے تھے اور یہ عقیدہ انہوں نے گھڑ لیا تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور ملائکہ کے بت بنا کر یہ ان کو پوجتے تھے۔
قرآن مجید یہاں ان کے اعترافات کو پیش کر کے پھر اس کے فطری نتائج مرتب کرتا ہے اور پھر ان کو فطری استدلال کے سامنے کھڑا کرتا ہے جس سے وہ بھاگتے تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اللہ کی مخلوقات میں سے حیوانات اور کشتی کو بطور مثال پیش فرماتا ہے کہ ان میں تمہارے لیے کتنے فائدے ہیں اور اس کے مقابلے میں تمہارا رویہ کیا ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے پیرا گراف میں یہ بتایا گیا کہ کیا جواز ہے کہ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔
الزخرف 43:3
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار دلالات و اشارات ہوتے ہیں۔ قسم اس بات پر اٹھائی جاتی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو اس انداز پر بنایا عربی زبان میں۔
انا جعلنہ قرءنا عربیا لعلکم تعقلون (43 : 3) “ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو ”۔ جب قرآن ان کی زبان میں ہے اور وہ اس کے معنی جانتے بھی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن تو وحی الٰہی ہے لیکن اللہ نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا ، کیونکہ قرآن کی دعوت کے لئے اللہ نے آغاز میں عربی معاشرے کو چنا اور سب سے پہلے اس دعوت کے حاملین عرب ہی رہے۔ اس حکمت کی بنا پر جس کی طرف ہم نے سورة شوریٰ میں اشارات کئے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس امانت اور اس زبان کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتا تھا کہ امت عربیہ اور لسان عربی اس دعوت کو دوسری اقوام تک اچھی طرح منتقل کرسکتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی امانت کو کہاں رکھے اور کہاں نہ رکھے۔
اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس قرآن کا مقام و مرتبہ اللہ ازلی اور ابدی ذات کے ہاں کیا ہے ؟
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ اور در حقیقت یہ ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ ام الکتاب کیا ہے ، اس کے لفظی معنوں میں ہم نہیں پڑتے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے یا اللہ کا علم ازلی ہے ، کیونکہ ہمارے ادراک میں نہ تو لوح محفوظ کا۔ اور نہ اللہ کے علم ازلی کا پورا تصور ہے البتہ اس آیت سے ہمارے علم میں ایک اصولی حقیقت آتی ہے۔ جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں۔
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ یہ درحقیقت ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ تو اس سے ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر آجاتی ہے کہ اللہ کے علم میں اس کتاب کی بڑی وقعت ہے اور اسے بہت ہی اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ بس یہ اصولی اور کلی بات ہمارے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک بلند مرتبت کتاب ہے اور حکیم ہے یعنی حکمت والی کتاب ہے۔ یہ دونوں صفات اس کتاب کو ایک ایسی شخصیت دیتی ہیں جس طرح زندہ انسان ہوتا ہے یعنی بلند اور حکیم کا۔ اور بالکل یہ بات اسی طرح ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے گویا اس میں زندگی ہے اور اس میں زندہ شخصیت کی صفات ہیں یہ کہ جو ارواح اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں یہ ان کے ہمقدم چلتی ہے۔ اور یہ اپنی بلندی اور حکمت کے بدولت انسانیت پر نگراں ہے ، اس کو ہدایت دیتی ہے ، اس کی قیادت کرتی ہے ، اپنی طبیعت اور اپنے خصائص کے مطابق ، اور یہ انسانی فہم و ادراک میں وہ اقدار اور وہ تصورات بٹھاتی ہے جن پر ان دو صفات علی اور حکیم کا اطلاق ہوتا ہے۔
اس حقیقت کو فیصلہ کن انداز میں طے کرنے کے بعد اب اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جن کی زبان میں یہ علی و حکیم کتاب اتری ہے کہ اللہ نے ان کو کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے اور یہ لوگ پھر بھی اللہ کے اس فضل و کرم کو نہیں سمجھتے۔ اور پھر بھی اس خزانہ حکمت سے منہ موڑتے ہیں اور اس کی توہین کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ تو اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے پاس آنے والی اس حکمت و ہدایت پر مشتمل کتاب کا نزول ہی بند کردیں ، چناچہ یہاں ان کی اس زیادتی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا تمہاری اس زیادتی اور حد سے گزر کر زیادتی کی وجہ سے اس سر چشمہ ہدایت دانائی کو بند کردیں۔
افنضرب عنکم ۔۔۔۔۔ مسرفین (53 : 5) “ اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا بند کردیں۔ صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو۔ یہ بات نہایت ہی عجیب لگتی ہے اور آئندہ بھی عجیب رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو اس قدر اہمیت دی کہ اس کے لئے اس نے کتاب بھیجی۔ ان کی زبان میں بھیجی۔ اس کتاب نے ان کی فطرت کے عین مطابق وہ باتیں کیں جو ان کے دل میں تھیں ، ان کی زندگی کی گہرائیوں تک چلی گئی ، اور ان کے لئے ہدایت کا راستہ بیان کیا ، پہلی اقوام کے عبرت آموز قصے بیان کئے ، گزشتہ اقوام کے ساتھ سنت الہٰیہ نے جو سلوک کیا وہ بیان کیا گیا ، لیکن اس نے اس کتاب کو نظر انداز کردیا اور اعراض کرلیا ! پھر بھی اللہ ان لوگوں کی فکر کرتا ہے حالانکہ وہ نہایت بلند ، نہایت عظیم اور غنی بادشاہ ہے۔
اس آیت میں در حقیقت ایک خوفناک تہدید ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اس سر چشمہ فیض و حکمت کو ختم کر دے اور تم پر ہونے والی اس مہربانی کو بند کر دے۔ کیونکہ تم اس عظیم حکیمانہ اور بلند مرتبہ کتاب کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کر رہے ہو ، اور تم سے ان اقوام جیسا سلوک کرے جو تم سے پہلے گزر ہیں۔
وکم ارسلان ۔۔۔۔۔ الاولین (43 : 6) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (43 : 7) فاھلکنا ۔۔۔۔ مثل الاولین (43 : 8) “ پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ پھر جو لوگ ان سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے ، انہیں ہم نے ہلاک کردیا ، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں ”۔ وہ اب اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ، اللہ نے ایسے رویہ پر تو ان سے زیادہ قوت گرفت رکھنے والی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو انہی کی طرح رسولوں اور کتابوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ کئی مثالیں موجود ہیں۔
بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے وجود کا اعتراف کرتے تھے۔ یہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، لیکن ان اعترافات کے بعد پھر ان کے قدرتی نتائج کو قبول نہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کے امور میں صرف اللہ کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے اور اللہ کے پیدا کردہ بعض جانوروں کو ان الہٰوں کے لیے مخصوص کرتے تھے اور یہ عقیدہ انہوں نے گھڑ لیا تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور ملائکہ کے بت بنا کر یہ ان کو پوجتے تھے۔
قرآن مجید یہاں ان کے اعترافات کو پیش کر کے پھر اس کے فطری نتائج مرتب کرتا ہے اور پھر ان کو فطری استدلال کے سامنے کھڑا کرتا ہے جس سے وہ بھاگتے تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اللہ کی مخلوقات میں سے حیوانات اور کشتی کو بطور مثال پیش فرماتا ہے کہ ان میں تمہارے لیے کتنے فائدے ہیں اور اس کے مقابلے میں تمہارا رویہ کیا ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے پیرا گراف میں یہ بتایا گیا کہ کیا جواز ہے کہ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔
الزخرف 43:4
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار دلالات و اشارات ہوتے ہیں۔ قسم اس بات پر اٹھائی جاتی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو اس انداز پر بنایا عربی زبان میں۔
انا جعلنہ قرءنا عربیا لعلکم تعقلون (43 : 3) “ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو ”۔ جب قرآن ان کی زبان میں ہے اور وہ اس کے معنی جانتے بھی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن تو وحی الٰہی ہے لیکن اللہ نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا ، کیونکہ قرآن کی دعوت کے لئے اللہ نے آغاز میں عربی معاشرے کو چنا اور سب سے پہلے اس دعوت کے حاملین عرب ہی رہے۔ اس حکمت کی بنا پر جس کی طرف ہم نے سورة شوریٰ میں اشارات کئے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس امانت اور اس زبان کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتا تھا کہ امت عربیہ اور لسان عربی اس دعوت کو دوسری اقوام تک اچھی طرح منتقل کرسکتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی امانت کو کہاں رکھے اور کہاں نہ رکھے۔
اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس قرآن کا مقام و مرتبہ اللہ ازلی اور ابدی ذات کے ہاں کیا ہے ؟
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ اور در حقیقت یہ ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ ام الکتاب کیا ہے ، اس کے لفظی معنوں میں ہم نہیں پڑتے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے یا اللہ کا علم ازلی ہے ، کیونکہ ہمارے ادراک میں نہ تو لوح محفوظ کا۔ اور نہ اللہ کے علم ازلی کا پورا تصور ہے البتہ اس آیت سے ہمارے علم میں ایک اصولی حقیقت آتی ہے۔ جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں۔
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ یہ درحقیقت ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ تو اس سے ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر آجاتی ہے کہ اللہ کے علم میں اس کتاب کی بڑی وقعت ہے اور اسے بہت ہی اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ بس یہ اصولی اور کلی بات ہمارے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک بلند مرتبت کتاب ہے اور حکیم ہے یعنی حکمت والی کتاب ہے۔ یہ دونوں صفات اس کتاب کو ایک ایسی شخصیت دیتی ہیں جس طرح زندہ انسان ہوتا ہے یعنی بلند اور حکیم کا۔ اور بالکل یہ بات اسی طرح ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے گویا اس میں زندگی ہے اور اس میں زندہ شخصیت کی صفات ہیں یہ کہ جو ارواح اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں یہ ان کے ہمقدم چلتی ہے۔ اور یہ اپنی بلندی اور حکمت کے بدولت انسانیت پر نگراں ہے ، اس کو ہدایت دیتی ہے ، اس کی قیادت کرتی ہے ، اپنی طبیعت اور اپنے خصائص کے مطابق ، اور یہ انسانی فہم و ادراک میں وہ اقدار اور وہ تصورات بٹھاتی ہے جن پر ان دو صفات علی اور حکیم کا اطلاق ہوتا ہے۔
اس حقیقت کو فیصلہ کن انداز میں طے کرنے کے بعد اب اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جن کی زبان میں یہ علی و حکیم کتاب اتری ہے کہ اللہ نے ان کو کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے اور یہ لوگ پھر بھی اللہ کے اس فضل و کرم کو نہیں سمجھتے۔ اور پھر بھی اس خزانہ حکمت سے منہ موڑتے ہیں اور اس کی توہین کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ تو اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے پاس آنے والی اس حکمت و ہدایت پر مشتمل کتاب کا نزول ہی بند کردیں ، چناچہ یہاں ان کی اس زیادتی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا تمہاری اس زیادتی اور حد سے گزر کر زیادتی کی وجہ سے اس سر چشمہ ہدایت دانائی کو بند کردیں۔
افنضرب عنکم ۔۔۔۔۔ مسرفین (53 : 5) “ اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا بند کردیں۔ صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو۔ یہ بات نہایت ہی عجیب لگتی ہے اور آئندہ بھی عجیب رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو اس قدر اہمیت دی کہ اس کے لئے اس نے کتاب بھیجی۔ ان کی زبان میں بھیجی۔ اس کتاب نے ان کی فطرت کے عین مطابق وہ باتیں کیں جو ان کے دل میں تھیں ، ان کی زندگی کی گہرائیوں تک چلی گئی ، اور ان کے لئے ہدایت کا راستہ بیان کیا ، پہلی اقوام کے عبرت آموز قصے بیان کئے ، گزشتہ اقوام کے ساتھ سنت الہٰیہ نے جو سلوک کیا وہ بیان کیا گیا ، لیکن اس نے اس کتاب کو نظر انداز کردیا اور اعراض کرلیا ! پھر بھی اللہ ان لوگوں کی فکر کرتا ہے حالانکہ وہ نہایت بلند ، نہایت عظیم اور غنی بادشاہ ہے۔
اس آیت میں در حقیقت ایک خوفناک تہدید ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اس سر چشمہ فیض و حکمت کو ختم کر دے اور تم پر ہونے والی اس مہربانی کو بند کر دے۔ کیونکہ تم اس عظیم حکیمانہ اور بلند مرتبہ کتاب کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کر رہے ہو ، اور تم سے ان اقوام جیسا سلوک کرے جو تم سے پہلے گزر ہیں۔
وکم ارسلان ۔۔۔۔۔ الاولین (43 : 6) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (43 : 7) فاھلکنا ۔۔۔۔ مثل الاولین (43 : 8) “ پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ پھر جو لوگ ان سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے ، انہیں ہم نے ہلاک کردیا ، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں ”۔ وہ اب اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ، اللہ نے ایسے رویہ پر تو ان سے زیادہ قوت گرفت رکھنے والی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو انہی کی طرح رسولوں اور کتابوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ کئی مثالیں موجود ہیں۔
بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے وجود کا اعتراف کرتے تھے۔ یہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، لیکن ان اعترافات کے بعد پھر ان کے قدرتی نتائج کو قبول نہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کے امور میں صرف اللہ کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے اور اللہ کے پیدا کردہ بعض جانوروں کو ان الہٰوں کے لیے مخصوص کرتے تھے اور یہ عقیدہ انہوں نے گھڑ لیا تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور ملائکہ کے بت بنا کر یہ ان کو پوجتے تھے۔
قرآن مجید یہاں ان کے اعترافات کو پیش کر کے پھر اس کے فطری نتائج مرتب کرتا ہے اور پھر ان کو فطری استدلال کے سامنے کھڑا کرتا ہے جس سے وہ بھاگتے تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اللہ کی مخلوقات میں سے حیوانات اور کشتی کو بطور مثال پیش فرماتا ہے کہ ان میں تمہارے لیے کتنے فائدے ہیں اور اس کے مقابلے میں تمہارا رویہ کیا ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے پیرا گراف میں یہ بتایا گیا کہ کیا جواز ہے کہ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔
الزخرف 43:5
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار دلالات و اشارات ہوتے ہیں۔ قسم اس بات پر اٹھائی جاتی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو اس انداز پر بنایا عربی زبان میں۔
انا جعلنہ قرءنا عربیا لعلکم تعقلون (43 : 3) “ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو ”۔ جب قرآن ان کی زبان میں ہے اور وہ اس کے معنی جانتے بھی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن تو وحی الٰہی ہے لیکن اللہ نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا ، کیونکہ قرآن کی دعوت کے لئے اللہ نے آغاز میں عربی معاشرے کو چنا اور سب سے پہلے اس دعوت کے حاملین عرب ہی رہے۔ اس حکمت کی بنا پر جس کی طرف ہم نے سورة شوریٰ میں اشارات کئے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس امانت اور اس زبان کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتا تھا کہ امت عربیہ اور لسان عربی اس دعوت کو دوسری اقوام تک اچھی طرح منتقل کرسکتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی امانت کو کہاں رکھے اور کہاں نہ رکھے۔
اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس قرآن کا مقام و مرتبہ اللہ ازلی اور ابدی ذات کے ہاں کیا ہے ؟
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ اور در حقیقت یہ ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ ام الکتاب کیا ہے ، اس کے لفظی معنوں میں ہم نہیں پڑتے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے یا اللہ کا علم ازلی ہے ، کیونکہ ہمارے ادراک میں نہ تو لوح محفوظ کا۔ اور نہ اللہ کے علم ازلی کا پورا تصور ہے البتہ اس آیت سے ہمارے علم میں ایک اصولی حقیقت آتی ہے۔ جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں۔
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ یہ درحقیقت ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ تو اس سے ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر آجاتی ہے کہ اللہ کے علم میں اس کتاب کی بڑی وقعت ہے اور اسے بہت ہی اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ بس یہ اصولی اور کلی بات ہمارے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک بلند مرتبت کتاب ہے اور حکیم ہے یعنی حکمت والی کتاب ہے۔ یہ دونوں صفات اس کتاب کو ایک ایسی شخصیت دیتی ہیں جس طرح زندہ انسان ہوتا ہے یعنی بلند اور حکیم کا۔ اور بالکل یہ بات اسی طرح ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے گویا اس میں زندگی ہے اور اس میں زندہ شخصیت کی صفات ہیں یہ کہ جو ارواح اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں یہ ان کے ہمقدم چلتی ہے۔ اور یہ اپنی بلندی اور حکمت کے بدولت انسانیت پر نگراں ہے ، اس کو ہدایت دیتی ہے ، اس کی قیادت کرتی ہے ، اپنی طبیعت اور اپنے خصائص کے مطابق ، اور یہ انسانی فہم و ادراک میں وہ اقدار اور وہ تصورات بٹھاتی ہے جن پر ان دو صفات علی اور حکیم کا اطلاق ہوتا ہے۔
اس حقیقت کو فیصلہ کن انداز میں طے کرنے کے بعد اب اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جن کی زبان میں یہ علی و حکیم کتاب اتری ہے کہ اللہ نے ان کو کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے اور یہ لوگ پھر بھی اللہ کے اس فضل و کرم کو نہیں سمجھتے۔ اور پھر بھی اس خزانہ حکمت سے منہ موڑتے ہیں اور اس کی توہین کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ تو اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے پاس آنے والی اس حکمت و ہدایت پر مشتمل کتاب کا نزول ہی بند کردیں ، چناچہ یہاں ان کی اس زیادتی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا تمہاری اس زیادتی اور حد سے گزر کر زیادتی کی وجہ سے اس سر چشمہ ہدایت دانائی کو بند کردیں۔
افنضرب عنکم ۔۔۔۔۔ مسرفین (53 : 5) “ اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا بند کردیں۔ صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو۔ یہ بات نہایت ہی عجیب لگتی ہے اور آئندہ بھی عجیب رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو اس قدر اہمیت دی کہ اس کے لئے اس نے کتاب بھیجی۔ ان کی زبان میں بھیجی۔ اس کتاب نے ان کی فطرت کے عین مطابق وہ باتیں کیں جو ان کے دل میں تھیں ، ان کی زندگی کی گہرائیوں تک چلی گئی ، اور ان کے لئے ہدایت کا راستہ بیان کیا ، پہلی اقوام کے عبرت آموز قصے بیان کئے ، گزشتہ اقوام کے ساتھ سنت الہٰیہ نے جو سلوک کیا وہ بیان کیا گیا ، لیکن اس نے اس کتاب کو نظر انداز کردیا اور اعراض کرلیا ! پھر بھی اللہ ان لوگوں کی فکر کرتا ہے حالانکہ وہ نہایت بلند ، نہایت عظیم اور غنی بادشاہ ہے۔
اس آیت میں در حقیقت ایک خوفناک تہدید ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اس سر چشمہ فیض و حکمت کو ختم کر دے اور تم پر ہونے والی اس مہربانی کو بند کر دے۔ کیونکہ تم اس عظیم حکیمانہ اور بلند مرتبہ کتاب کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کر رہے ہو ، اور تم سے ان اقوام جیسا سلوک کرے جو تم سے پہلے گزر ہیں۔
وکم ارسلان ۔۔۔۔۔ الاولین (43 : 6) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (43 : 7) فاھلکنا ۔۔۔۔ مثل الاولین (43 : 8) “ پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ پھر جو لوگ ان سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے ، انہیں ہم نے ہلاک کردیا ، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں ”۔ وہ اب اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ، اللہ نے ایسے رویہ پر تو ان سے زیادہ قوت گرفت رکھنے والی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو انہی کی طرح رسولوں اور کتابوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ کئی مثالیں موجود ہیں۔
بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے وجود کا اعتراف کرتے تھے۔ یہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، لیکن ان اعترافات کے بعد پھر ان کے قدرتی نتائج کو قبول نہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کے امور میں صرف اللہ کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے اور اللہ کے پیدا کردہ بعض جانوروں کو ان الہٰوں کے لیے مخصوص کرتے تھے اور یہ عقیدہ انہوں نے گھڑ لیا تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور ملائکہ کے بت بنا کر یہ ان کو پوجتے تھے۔
قرآن مجید یہاں ان کے اعترافات کو پیش کر کے پھر اس کے فطری نتائج مرتب کرتا ہے اور پھر ان کو فطری استدلال کے سامنے کھڑا کرتا ہے جس سے وہ بھاگتے تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اللہ کی مخلوقات میں سے حیوانات اور کشتی کو بطور مثال پیش فرماتا ہے کہ ان میں تمہارے لیے کتنے فائدے ہیں اور اس کے مقابلے میں تمہارا رویہ کیا ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے پیرا گراف میں یہ بتایا گیا کہ کیا جواز ہے کہ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔
الزخرف 43:6
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار دلالات و اشارات ہوتے ہیں۔ قسم اس بات پر اٹھائی جاتی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو اس انداز پر بنایا عربی زبان میں۔
انا جعلنہ قرءنا عربیا لعلکم تعقلون (43 : 3) “ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو ”۔ جب قرآن ان کی زبان میں ہے اور وہ اس کے معنی جانتے بھی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن تو وحی الٰہی ہے لیکن اللہ نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا ، کیونکہ قرآن کی دعوت کے لئے اللہ نے آغاز میں عربی معاشرے کو چنا اور سب سے پہلے اس دعوت کے حاملین عرب ہی رہے۔ اس حکمت کی بنا پر جس کی طرف ہم نے سورة شوریٰ میں اشارات کئے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس امانت اور اس زبان کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتا تھا کہ امت عربیہ اور لسان عربی اس دعوت کو دوسری اقوام تک اچھی طرح منتقل کرسکتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی امانت کو کہاں رکھے اور کہاں نہ رکھے۔
اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس قرآن کا مقام و مرتبہ اللہ ازلی اور ابدی ذات کے ہاں کیا ہے ؟
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ اور در حقیقت یہ ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ ام الکتاب کیا ہے ، اس کے لفظی معنوں میں ہم نہیں پڑتے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے یا اللہ کا علم ازلی ہے ، کیونکہ ہمارے ادراک میں نہ تو لوح محفوظ کا۔ اور نہ اللہ کے علم ازلی کا پورا تصور ہے البتہ اس آیت سے ہمارے علم میں ایک اصولی حقیقت آتی ہے۔ جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں۔
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ یہ درحقیقت ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ تو اس سے ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر آجاتی ہے کہ اللہ کے علم میں اس کتاب کی بڑی وقعت ہے اور اسے بہت ہی اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ بس یہ اصولی اور کلی بات ہمارے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک بلند مرتبت کتاب ہے اور حکیم ہے یعنی حکمت والی کتاب ہے۔ یہ دونوں صفات اس کتاب کو ایک ایسی شخصیت دیتی ہیں جس طرح زندہ انسان ہوتا ہے یعنی بلند اور حکیم کا۔ اور بالکل یہ بات اسی طرح ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے گویا اس میں زندگی ہے اور اس میں زندہ شخصیت کی صفات ہیں یہ کہ جو ارواح اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں یہ ان کے ہمقدم چلتی ہے۔ اور یہ اپنی بلندی اور حکمت کے بدولت انسانیت پر نگراں ہے ، اس کو ہدایت دیتی ہے ، اس کی قیادت کرتی ہے ، اپنی طبیعت اور اپنے خصائص کے مطابق ، اور یہ انسانی فہم و ادراک میں وہ اقدار اور وہ تصورات بٹھاتی ہے جن پر ان دو صفات علی اور حکیم کا اطلاق ہوتا ہے۔
اس حقیقت کو فیصلہ کن انداز میں طے کرنے کے بعد اب اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جن کی زبان میں یہ علی و حکیم کتاب اتری ہے کہ اللہ نے ان کو کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے اور یہ لوگ پھر بھی اللہ کے اس فضل و کرم کو نہیں سمجھتے۔ اور پھر بھی اس خزانہ حکمت سے منہ موڑتے ہیں اور اس کی توہین کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ تو اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے پاس آنے والی اس حکمت و ہدایت پر مشتمل کتاب کا نزول ہی بند کردیں ، چناچہ یہاں ان کی اس زیادتی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا تمہاری اس زیادتی اور حد سے گزر کر زیادتی کی وجہ سے اس سر چشمہ ہدایت دانائی کو بند کردیں۔
افنضرب عنکم ۔۔۔۔۔ مسرفین (53 : 5) “ اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا بند کردیں۔ صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو۔ یہ بات نہایت ہی عجیب لگتی ہے اور آئندہ بھی عجیب رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو اس قدر اہمیت دی کہ اس کے لئے اس نے کتاب بھیجی۔ ان کی زبان میں بھیجی۔ اس کتاب نے ان کی فطرت کے عین مطابق وہ باتیں کیں جو ان کے دل میں تھیں ، ان کی زندگی کی گہرائیوں تک چلی گئی ، اور ان کے لئے ہدایت کا راستہ بیان کیا ، پہلی اقوام کے عبرت آموز قصے بیان کئے ، گزشتہ اقوام کے ساتھ سنت الہٰیہ نے جو سلوک کیا وہ بیان کیا گیا ، لیکن اس نے اس کتاب کو نظر انداز کردیا اور اعراض کرلیا ! پھر بھی اللہ ان لوگوں کی فکر کرتا ہے حالانکہ وہ نہایت بلند ، نہایت عظیم اور غنی بادشاہ ہے۔
اس آیت میں در حقیقت ایک خوفناک تہدید ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اس سر چشمہ فیض و حکمت کو ختم کر دے اور تم پر ہونے والی اس مہربانی کو بند کر دے۔ کیونکہ تم اس عظیم حکیمانہ اور بلند مرتبہ کتاب کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کر رہے ہو ، اور تم سے ان اقوام جیسا سلوک کرے جو تم سے پہلے گزر ہیں۔
وکم ارسلان ۔۔۔۔۔ الاولین (43 : 6) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (43 : 7) فاھلکنا ۔۔۔۔ مثل الاولین (43 : 8) “ پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ پھر جو لوگ ان سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے ، انہیں ہم نے ہلاک کردیا ، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں ”۔ وہ اب اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ، اللہ نے ایسے رویہ پر تو ان سے زیادہ قوت گرفت رکھنے والی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو انہی کی طرح رسولوں اور کتابوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ کئی مثالیں موجود ہیں۔
بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے وجود کا اعتراف کرتے تھے۔ یہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، لیکن ان اعترافات کے بعد پھر ان کے قدرتی نتائج کو قبول نہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کے امور میں صرف اللہ کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے اور اللہ کے پیدا کردہ بعض جانوروں کو ان الہٰوں کے لیے مخصوص کرتے تھے اور یہ عقیدہ انہوں نے گھڑ لیا تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور ملائکہ کے بت بنا کر یہ ان کو پوجتے تھے۔
قرآن مجید یہاں ان کے اعترافات کو پیش کر کے پھر اس کے فطری نتائج مرتب کرتا ہے اور پھر ان کو فطری استدلال کے سامنے کھڑا کرتا ہے جس سے وہ بھاگتے تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اللہ کی مخلوقات میں سے حیوانات اور کشتی کو بطور مثال پیش فرماتا ہے کہ ان میں تمہارے لیے کتنے فائدے ہیں اور اس کے مقابلے میں تمہارا رویہ کیا ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے پیرا گراف میں یہ بتایا گیا کہ کیا جواز ہے کہ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔
الزخرف 43:7
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار دلالات و اشارات ہوتے ہیں۔ قسم اس بات پر اٹھائی جاتی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو اس انداز پر بنایا عربی زبان میں۔
انا جعلنہ قرءنا عربیا لعلکم تعقلون (43 : 3) “ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو ”۔ جب قرآن ان کی زبان میں ہے اور وہ اس کے معنی جانتے بھی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن تو وحی الٰہی ہے لیکن اللہ نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا ، کیونکہ قرآن کی دعوت کے لئے اللہ نے آغاز میں عربی معاشرے کو چنا اور سب سے پہلے اس دعوت کے حاملین عرب ہی رہے۔ اس حکمت کی بنا پر جس کی طرف ہم نے سورة شوریٰ میں اشارات کئے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس امانت اور اس زبان کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتا تھا کہ امت عربیہ اور لسان عربی اس دعوت کو دوسری اقوام تک اچھی طرح منتقل کرسکتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی امانت کو کہاں رکھے اور کہاں نہ رکھے۔
اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس قرآن کا مقام و مرتبہ اللہ ازلی اور ابدی ذات کے ہاں کیا ہے ؟
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ اور در حقیقت یہ ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ ام الکتاب کیا ہے ، اس کے لفظی معنوں میں ہم نہیں پڑتے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے یا اللہ کا علم ازلی ہے ، کیونکہ ہمارے ادراک میں نہ تو لوح محفوظ کا۔ اور نہ اللہ کے علم ازلی کا پورا تصور ہے البتہ اس آیت سے ہمارے علم میں ایک اصولی حقیقت آتی ہے۔ جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں۔
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ یہ درحقیقت ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ تو اس سے ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر آجاتی ہے کہ اللہ کے علم میں اس کتاب کی بڑی وقعت ہے اور اسے بہت ہی اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ بس یہ اصولی اور کلی بات ہمارے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک بلند مرتبت کتاب ہے اور حکیم ہے یعنی حکمت والی کتاب ہے۔ یہ دونوں صفات اس کتاب کو ایک ایسی شخصیت دیتی ہیں جس طرح زندہ انسان ہوتا ہے یعنی بلند اور حکیم کا۔ اور بالکل یہ بات اسی طرح ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے گویا اس میں زندگی ہے اور اس میں زندہ شخصیت کی صفات ہیں یہ کہ جو ارواح اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں یہ ان کے ہمقدم چلتی ہے۔ اور یہ اپنی بلندی اور حکمت کے بدولت انسانیت پر نگراں ہے ، اس کو ہدایت دیتی ہے ، اس کی قیادت کرتی ہے ، اپنی طبیعت اور اپنے خصائص کے مطابق ، اور یہ انسانی فہم و ادراک میں وہ اقدار اور وہ تصورات بٹھاتی ہے جن پر ان دو صفات علی اور حکیم کا اطلاق ہوتا ہے۔
اس حقیقت کو فیصلہ کن انداز میں طے کرنے کے بعد اب اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جن کی زبان میں یہ علی و حکیم کتاب اتری ہے کہ اللہ نے ان کو کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے اور یہ لوگ پھر بھی اللہ کے اس فضل و کرم کو نہیں سمجھتے۔ اور پھر بھی اس خزانہ حکمت سے منہ موڑتے ہیں اور اس کی توہین کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ تو اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے پاس آنے والی اس حکمت و ہدایت پر مشتمل کتاب کا نزول ہی بند کردیں ، چناچہ یہاں ان کی اس زیادتی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا تمہاری اس زیادتی اور حد سے گزر کر زیادتی کی وجہ سے اس سر چشمہ ہدایت دانائی کو بند کردیں۔
افنضرب عنکم ۔۔۔۔۔ مسرفین (53 : 5) “ اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا بند کردیں۔ صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو۔ یہ بات نہایت ہی عجیب لگتی ہے اور آئندہ بھی عجیب رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو اس قدر اہمیت دی کہ اس کے لئے اس نے کتاب بھیجی۔ ان کی زبان میں بھیجی۔ اس کتاب نے ان کی فطرت کے عین مطابق وہ باتیں کیں جو ان کے دل میں تھیں ، ان کی زندگی کی گہرائیوں تک چلی گئی ، اور ان کے لئے ہدایت کا راستہ بیان کیا ، پہلی اقوام کے عبرت آموز قصے بیان کئے ، گزشتہ اقوام کے ساتھ سنت الہٰیہ نے جو سلوک کیا وہ بیان کیا گیا ، لیکن اس نے اس کتاب کو نظر انداز کردیا اور اعراض کرلیا ! پھر بھی اللہ ان لوگوں کی فکر کرتا ہے حالانکہ وہ نہایت بلند ، نہایت عظیم اور غنی بادشاہ ہے۔
اس آیت میں در حقیقت ایک خوفناک تہدید ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اس سر چشمہ فیض و حکمت کو ختم کر دے اور تم پر ہونے والی اس مہربانی کو بند کر دے۔ کیونکہ تم اس عظیم حکیمانہ اور بلند مرتبہ کتاب کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کر رہے ہو ، اور تم سے ان اقوام جیسا سلوک کرے جو تم سے پہلے گزر ہیں۔
وکم ارسلان ۔۔۔۔۔ الاولین (43 : 6) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (43 : 7) فاھلکنا ۔۔۔۔ مثل الاولین (43 : 8) “ پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ پھر جو لوگ ان سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے ، انہیں ہم نے ہلاک کردیا ، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں ”۔ وہ اب اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ، اللہ نے ایسے رویہ پر تو ان سے زیادہ قوت گرفت رکھنے والی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو انہی کی طرح رسولوں اور کتابوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ کئی مثالیں موجود ہیں۔
بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے وجود کا اعتراف کرتے تھے۔ یہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، لیکن ان اعترافات کے بعد پھر ان کے قدرتی نتائج کو قبول نہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کے امور میں صرف اللہ کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے اور اللہ کے پیدا کردہ بعض جانوروں کو ان الہٰوں کے لیے مخصوص کرتے تھے اور یہ عقیدہ انہوں نے گھڑ لیا تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور ملائکہ کے بت بنا کر یہ ان کو پوجتے تھے۔
قرآن مجید یہاں ان کے اعترافات کو پیش کر کے پھر اس کے فطری نتائج مرتب کرتا ہے اور پھر ان کو فطری استدلال کے سامنے کھڑا کرتا ہے جس سے وہ بھاگتے تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اللہ کی مخلوقات میں سے حیوانات اور کشتی کو بطور مثال پیش فرماتا ہے کہ ان میں تمہارے لیے کتنے فائدے ہیں اور اس کے مقابلے میں تمہارا رویہ کیا ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے پیرا گراف میں یہ بتایا گیا کہ کیا جواز ہے کہ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔
الزخرف 43:8
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار دلالات و اشارات ہوتے ہیں۔ قسم اس بات پر اٹھائی جاتی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو اس انداز پر بنایا عربی زبان میں۔
انا جعلنہ قرءنا عربیا لعلکم تعقلون (43 : 3) “ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو ”۔ جب قرآن ان کی زبان میں ہے اور وہ اس کے معنی جانتے بھی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن تو وحی الٰہی ہے لیکن اللہ نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا ، کیونکہ قرآن کی دعوت کے لئے اللہ نے آغاز میں عربی معاشرے کو چنا اور سب سے پہلے اس دعوت کے حاملین عرب ہی رہے۔ اس حکمت کی بنا پر جس کی طرف ہم نے سورة شوریٰ میں اشارات کئے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس امانت اور اس زبان کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتا تھا کہ امت عربیہ اور لسان عربی اس دعوت کو دوسری اقوام تک اچھی طرح منتقل کرسکتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی امانت کو کہاں رکھے اور کہاں نہ رکھے۔
اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس قرآن کا مقام و مرتبہ اللہ ازلی اور ابدی ذات کے ہاں کیا ہے ؟
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ اور در حقیقت یہ ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ ام الکتاب کیا ہے ، اس کے لفظی معنوں میں ہم نہیں پڑتے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے یا اللہ کا علم ازلی ہے ، کیونکہ ہمارے ادراک میں نہ تو لوح محفوظ کا۔ اور نہ اللہ کے علم ازلی کا پورا تصور ہے البتہ اس آیت سے ہمارے علم میں ایک اصولی حقیقت آتی ہے۔ جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں۔
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ یہ درحقیقت ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ تو اس سے ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر آجاتی ہے کہ اللہ کے علم میں اس کتاب کی بڑی وقعت ہے اور اسے بہت ہی اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ بس یہ اصولی اور کلی بات ہمارے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک بلند مرتبت کتاب ہے اور حکیم ہے یعنی حکمت والی کتاب ہے۔ یہ دونوں صفات اس کتاب کو ایک ایسی شخصیت دیتی ہیں جس طرح زندہ انسان ہوتا ہے یعنی بلند اور حکیم کا۔ اور بالکل یہ بات اسی طرح ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے گویا اس میں زندگی ہے اور اس میں زندہ شخصیت کی صفات ہیں یہ کہ جو ارواح اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں یہ ان کے ہمقدم چلتی ہے۔ اور یہ اپنی بلندی اور حکمت کے بدولت انسانیت پر نگراں ہے ، اس کو ہدایت دیتی ہے ، اس کی قیادت کرتی ہے ، اپنی طبیعت اور اپنے خصائص کے مطابق ، اور یہ انسانی فہم و ادراک میں وہ اقدار اور وہ تصورات بٹھاتی ہے جن پر ان دو صفات علی اور حکیم کا اطلاق ہوتا ہے۔
اس حقیقت کو فیصلہ کن انداز میں طے کرنے کے بعد اب اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جن کی زبان میں یہ علی و حکیم کتاب اتری ہے کہ اللہ نے ان کو کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے اور یہ لوگ پھر بھی اللہ کے اس فضل و کرم کو نہیں سمجھتے۔ اور پھر بھی اس خزانہ حکمت سے منہ موڑتے ہیں اور اس کی توہین کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ تو اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے پاس آنے والی اس حکمت و ہدایت پر مشتمل کتاب کا نزول ہی بند کردیں ، چناچہ یہاں ان کی اس زیادتی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا تمہاری اس زیادتی اور حد سے گزر کر زیادتی کی وجہ سے اس سر چشمہ ہدایت دانائی کو بند کردیں۔
افنضرب عنکم ۔۔۔۔۔ مسرفین (53 : 5) “ اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا بند کردیں۔ صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو۔ یہ بات نہایت ہی عجیب لگتی ہے اور آئندہ بھی عجیب رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو اس قدر اہمیت دی کہ اس کے لئے اس نے کتاب بھیجی۔ ان کی زبان میں بھیجی۔ اس کتاب نے ان کی فطرت کے عین مطابق وہ باتیں کیں جو ان کے دل میں تھیں ، ان کی زندگی کی گہرائیوں تک چلی گئی ، اور ان کے لئے ہدایت کا راستہ بیان کیا ، پہلی اقوام کے عبرت آموز قصے بیان کئے ، گزشتہ اقوام کے ساتھ سنت الہٰیہ نے جو سلوک کیا وہ بیان کیا گیا ، لیکن اس نے اس کتاب کو نظر انداز کردیا اور اعراض کرلیا ! پھر بھی اللہ ان لوگوں کی فکر کرتا ہے حالانکہ وہ نہایت بلند ، نہایت عظیم اور غنی بادشاہ ہے۔
اس آیت میں در حقیقت ایک خوفناک تہدید ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اس سر چشمہ فیض و حکمت کو ختم کر دے اور تم پر ہونے والی اس مہربانی کو بند کر دے۔ کیونکہ تم اس عظیم حکیمانہ اور بلند مرتبہ کتاب کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کر رہے ہو ، اور تم سے ان اقوام جیسا سلوک کرے جو تم سے پہلے گزر ہیں۔
وکم ارسلان ۔۔۔۔۔ الاولین (43 : 6) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (43 : 7) فاھلکنا ۔۔۔۔ مثل الاولین (43 : 8) “ پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ پھر جو لوگ ان سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے ، انہیں ہم نے ہلاک کردیا ، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں ”۔ وہ اب اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ، اللہ نے ایسے رویہ پر تو ان سے زیادہ قوت گرفت رکھنے والی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو انہی کی طرح رسولوں اور کتابوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ کئی مثالیں موجود ہیں۔
بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے وجود کا اعتراف کرتے تھے۔ یہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، لیکن ان اعترافات کے بعد پھر ان کے قدرتی نتائج کو قبول نہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کے امور میں صرف اللہ کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے اور اللہ کے پیدا کردہ بعض جانوروں کو ان الہٰوں کے لیے مخصوص کرتے تھے اور یہ عقیدہ انہوں نے گھڑ لیا تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور ملائکہ کے بت بنا کر یہ ان کو پوجتے تھے۔
قرآن مجید یہاں ان کے اعترافات کو پیش کر کے پھر اس کے فطری نتائج مرتب کرتا ہے اور پھر ان کو فطری استدلال کے سامنے کھڑا کرتا ہے جس سے وہ بھاگتے تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اللہ کی مخلوقات میں سے حیوانات اور کشتی کو بطور مثال پیش فرماتا ہے کہ ان میں تمہارے لیے کتنے فائدے ہیں اور اس کے مقابلے میں تمہارا رویہ کیا ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے پیرا گراف میں یہ بتایا گیا کہ کیا جواز ہے کہ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔
الزخرف 43:9
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار دلالات و اشارات ہوتے ہیں۔ قسم اس بات پر اٹھائی جاتی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو اس انداز پر بنایا عربی زبان میں۔
انا جعلنہ قرءنا عربیا لعلکم تعقلون (43 : 3) “ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو ”۔ جب قرآن ان کی زبان میں ہے اور وہ اس کے معنی جانتے بھی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن تو وحی الٰہی ہے لیکن اللہ نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا ، کیونکہ قرآن کی دعوت کے لئے اللہ نے آغاز میں عربی معاشرے کو چنا اور سب سے پہلے اس دعوت کے حاملین عرب ہی رہے۔ اس حکمت کی بنا پر جس کی طرف ہم نے سورة شوریٰ میں اشارات کئے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس امانت اور اس زبان کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتا تھا کہ امت عربیہ اور لسان عربی اس دعوت کو دوسری اقوام تک اچھی طرح منتقل کرسکتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی امانت کو کہاں رکھے اور کہاں نہ رکھے۔
اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس قرآن کا مقام و مرتبہ اللہ ازلی اور ابدی ذات کے ہاں کیا ہے ؟
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ اور در حقیقت یہ ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ ام الکتاب کیا ہے ، اس کے لفظی معنوں میں ہم نہیں پڑتے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے یا اللہ کا علم ازلی ہے ، کیونکہ ہمارے ادراک میں نہ تو لوح محفوظ کا۔ اور نہ اللہ کے علم ازلی کا پورا تصور ہے البتہ اس آیت سے ہمارے علم میں ایک اصولی حقیقت آتی ہے۔ جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں۔
وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (43 : 4) “ یہ درحقیقت ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ تو اس سے ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر آجاتی ہے کہ اللہ کے علم میں اس کتاب کی بڑی وقعت ہے اور اسے بہت ہی اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ بس یہ اصولی اور کلی بات ہمارے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک بلند مرتبت کتاب ہے اور حکیم ہے یعنی حکمت والی کتاب ہے۔ یہ دونوں صفات اس کتاب کو ایک ایسی شخصیت دیتی ہیں جس طرح زندہ انسان ہوتا ہے یعنی بلند اور حکیم کا۔ اور بالکل یہ بات اسی طرح ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے گویا اس میں زندگی ہے اور اس میں زندہ شخصیت کی صفات ہیں یہ کہ جو ارواح اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں یہ ان کے ہمقدم چلتی ہے۔ اور یہ اپنی بلندی اور حکمت کے بدولت انسانیت پر نگراں ہے ، اس کو ہدایت دیتی ہے ، اس کی قیادت کرتی ہے ، اپنی طبیعت اور اپنے خصائص کے مطابق ، اور یہ انسانی فہم و ادراک میں وہ اقدار اور وہ تصورات بٹھاتی ہے جن پر ان دو صفات علی اور حکیم کا اطلاق ہوتا ہے۔
اس حقیقت کو فیصلہ کن انداز میں طے کرنے کے بعد اب اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جن کی زبان میں یہ علی و حکیم کتاب اتری ہے کہ اللہ نے ان کو کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے اور یہ لوگ پھر بھی اللہ کے اس فضل و کرم کو نہیں سمجھتے۔ اور پھر بھی اس خزانہ حکمت سے منہ موڑتے ہیں اور اس کی توہین کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ تو اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے پاس آنے والی اس حکمت و ہدایت پر مشتمل کتاب کا نزول ہی بند کردیں ، چناچہ یہاں ان کی اس زیادتی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا تمہاری اس زیادتی اور حد سے گزر کر زیادتی کی وجہ سے اس سر چشمہ ہدایت دانائی کو بند کردیں۔
افنضرب عنکم ۔۔۔۔۔ مسرفین (53 : 5) “ اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا بند کردیں۔ صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو۔ یہ بات نہایت ہی عجیب لگتی ہے اور آئندہ بھی عجیب رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو اس قدر اہمیت دی کہ اس کے لئے اس نے کتاب بھیجی۔ ان کی زبان میں بھیجی۔ اس کتاب نے ان کی فطرت کے عین مطابق وہ باتیں کیں جو ان کے دل میں تھیں ، ان کی زندگی کی گہرائیوں تک چلی گئی ، اور ان کے لئے ہدایت کا راستہ بیان کیا ، پہلی اقوام کے عبرت آموز قصے بیان کئے ، گزشتہ اقوام کے ساتھ سنت الہٰیہ نے جو سلوک کیا وہ بیان کیا گیا ، لیکن اس نے اس کتاب کو نظر انداز کردیا اور اعراض کرلیا ! پھر بھی اللہ ان لوگوں کی فکر کرتا ہے حالانکہ وہ نہایت بلند ، نہایت عظیم اور غنی بادشاہ ہے۔
اس آیت میں در حقیقت ایک خوفناک تہدید ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اس سر چشمہ فیض و حکمت کو ختم کر دے اور تم پر ہونے والی اس مہربانی کو بند کر دے۔ کیونکہ تم اس عظیم حکیمانہ اور بلند مرتبہ کتاب کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کر رہے ہو ، اور تم سے ان اقوام جیسا سلوک کرے جو تم سے پہلے گزر ہیں۔
وکم ارسلان ۔۔۔۔۔ الاولین (43 : 6) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (43 : 7) فاھلکنا ۔۔۔۔ مثل الاولین (43 : 8) “ پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ پھر جو لوگ ان سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے ، انہیں ہم نے ہلاک کردیا ، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں ”۔ وہ اب اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ، اللہ نے ایسے رویہ پر تو ان سے زیادہ قوت گرفت رکھنے والی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو انہی کی طرح رسولوں اور کتابوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ کئی مثالیں موجود ہیں۔
بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے وجود کا اعتراف کرتے تھے۔ یہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، لیکن ان اعترافات کے بعد پھر ان کے قدرتی نتائج کو قبول نہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کے امور میں صرف اللہ کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے اور اللہ کے پیدا کردہ بعض جانوروں کو ان الہٰوں کے لیے مخصوص کرتے تھے اور یہ عقیدہ انہوں نے گھڑ لیا تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور ملائکہ کے بت بنا کر یہ ان کو پوجتے تھے۔
قرآن مجید یہاں ان کے اعترافات کو پیش کر کے پھر اس کے فطری نتائج مرتب کرتا ہے اور پھر ان کو فطری استدلال کے سامنے کھڑا کرتا ہے جس سے وہ بھاگتے تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اللہ کی مخلوقات میں سے حیوانات اور کشتی کو بطور مثال پیش فرماتا ہے کہ ان میں تمہارے لیے کتنے فائدے ہیں اور اس کے مقابلے میں تمہارا رویہ کیا ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے پیرا گراف میں یہ بتایا گیا کہ کیا جواز ہے کہ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔
الزخرف 43:10
آیت نمبر 9 تا 14
عربوں کے اندر خدا پر یقین تھا ، وہ ملت ابراہیمی پر تھے۔ لیکن عربوں کے اندر ملت ابراہیمی کی بگڑی ہوئی شکل رہ گئی تھی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ توحید کی جگہ شرف اور دوسرے افسانے اس میں داخل ہوگئے تھے۔ بہرحال وجود باری کے وہ قائل تھے کیونکہ فطرت انسانی بہرحال اس کا انکار نہیں کرسکتی کہ ایک خالق ہے ، جو اللہ ہے۔ کیونکہ کسی خالق کا انکار کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا۔ اور کوئی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عظیم اور ہولناک کائنات خالق کے بغیر پیدا ہوگئی۔ اس کائنات کو اللہ کے سوا کوئی اور پیدا بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس عظیم کائنات کا خالق تو اس سے بھی عظیم اور طاقتور ہونا چاہئے لیکن وہ یہاں آکر رک جاتے تھے اور خود اپنے عقیدے کے لازمی تقاضوں کو تسلیم نہ کرتے تھے۔
ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔۔۔ العزیز العلیم (43 : 9) “ اگر تم ان سے پوچھو کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے ” ۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ دو صفات عزیز و زبردست اور علیم یہ کفار کا قول نہ تھا۔ وہ تو صرف اسی قدر مانتے تھے کہ وہ اللہ ہے وہ اللہ وہ صفات نہ مانتے تھے جو اسلام اور قرآن نے پیش کیں۔ ایسی صفات جو ان کی زندگی پر مثبت اثر ڈالیں۔ جو ان کی زندگی اور اس کائنات کو بیک وقت عملاً چلائیں۔ وہ اللہ کو بس اس کائنات کا خالق مانتے تھے۔ خود اپنا خالق بھی اللہ کو مانتے تھے لیکن زندگی کو عملاً چلانے کے لئے پھر انہوں نے کچھ دوسری ہستیاں بنا رکھی تھیں۔ کیونکہ اللہ کی ایسی صفات سے متعارف نہ تھے جن کے بعد پھر انہیں شرک کی ضرورت نہ پڑے ۔ اور عقیدہ شرک انہیں پوچ اور بےوقعت نظر آئے۔
قرآن مجید یہاں ان کو یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس خدا کو تم خالق السموات والارض سمجھتے ہو۔ وہ العزیز بھی ہے اور العلیم بھی ہے۔ وہ قادر بھی ہے ، وہ علیم و عارف بھی ہے۔ چناچہ اللہ ان کے اس اعتراف کو بنیاد بنا کر ان کو درج ذیل اعترافات پر مجبور کرتا ہے۔ غرض ان کو ایک قدم آگے بڑھا کر ان کو یہ بتاتا ہے کہ تخلیق کے بعد اللہ نے تم پر یہ فضل کیا :
الذی جعل لکم ۔۔۔۔۔۔ لعلکم تھتدون (43 : 10) “ وہی نا جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دئیے تا کہ تم اپنی منزل کی راہ پاسکو ”۔ یہ حقیقت کہ اللہ نے انسان کے لئے اس زمین کو گہوارہ بنایا اسے ہر دور کے انسان نے اپنے حدود علم کے مطابق سمجھا ہے اور اس کی تصویر بنائی ہے۔ جن لوگوں نے پہلی مرتبہ اس کو سنا ہوگا ، انہوں نے بھی یہ سمجھا ہوگا کہ اللہ نے زمین کو اس قابل بنایا کہ وہ ان کے قدموں کے نیچے چلنے کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زراعت کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زندگی اور نباتات کے لئے موزوں ہے لیکن آج ہم اس بات کو کہ زمین تمہارے لیے گہوارہ بنا دی گئی ذرا زیادہ وسعت اور گہرائی کے ساتھ سمجھ رہے ہیں۔ جس حد تک ہم نے اس زمین کے بارے میں معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اس کی بعید و قریب تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کرلی ہیں بشرطیکہ ہمارے اپنے علوم کے بارے میں جو نظریات قائم ہوتے ہیں وہ ہوں بھی درست اور ہم جو اندازے اور تخمینے لگاتے ہیں وہ صحیح ثابت ہوجائیں۔ ہم سے بعد میں آنے والی نسلیں ان کے بارے میں ہم سے بھی زیادہ سمجھیں گی۔ یوں اس آیت کا مفہوم وسعت اختیار کرتا جائے گا۔ جس قدر ہم علم میں آگے بڑھیں گے ، علم و معرفت کی فتوحات کی وسعت کے ساتھ ساتھ اس آیت کے معانی بھی وسیع ہوتے جائیں گے اور یوں انسانی جہالت کا پردہ دور تر جاتا رہے گا۔
ہم آج جانتے ہیں کہ یہ زمین انسان کے لئے کس قدر اچھا گہوارہ بنائی گئی ہے اور اس کے اندر انسان اپنے لیے زندگی کی کس قدر مختلف راہیں تلاش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کرۂ ارض مختلف مراحل سے گزر کر یہاں تک یعنی اپنی موجودہ حالت تک پہنچی ہے اور انسان کے لئے گہوارہ بنائی گئی ہے۔ ان مراحل میں سے ایک مرحلہ یہ تھا کہ اس پوری زمین کی سطح ایک سخت چٹان تھی۔ اس کے بعد اس پر جگہ جگہ مٹی جمع ہوئی اور اس میں نباتات اگنا شروع ہوئے اور اس کی سطح پر جو ہائیڈروجن گیس اور آکسیجن گیس موجود تھی ، ان کے ملاپ سے پانی وجود میں آگیا۔ پھر اپنی گردش محوری کے نتیجے میں اس کے دن کے اندر اس قدر معتدل حرارت پیدا ہوئی کہ وہ حیوانات کی زندگی کے لئے مناسب ہوگئی۔ اور اس کی رفتار گردش محوری کو یوں رکھا گیا کہ اس کی سطح پر چیزوں کا کھڑا رہنا ممکن ہوا۔ انسان مکانات اور دوسری چیزیں بکھر کر ہوا میں نہیں اڑ گئیں۔
پھر اللہ نے اس زمین کے اندر کشش ثقل پیدا کی ۔ یوں ہوا کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا جس کے اندر زندگی ممکن ہوئی۔ اگر اس زمین کے اردگرد پائی جانے والی ہوا زمین کی جاذبیت سے چھوٹ جائے تو زمین پر کسی چیز کا زندہ رہنا ممکن نہ ہو ، دوسرے اجرام فلکی کی سطح پر چونکہ جاذبیت نہیں ہے یا اس سے کمزور ہے تو وہاں حیات ممکن نہیں ہوسکی۔ ان کر ات سے ہوا چلی گئی۔ مثلاً چاند کے اوپر کوئی ہوا نہیں ہے۔ یہ جاذبیت اس قدر متوازن ہے کہ حرکت زمین کی وجہ سے اشیاء کو دور پھینکنے کا جو عمل پیدا ہوتا ہے اس کے اندر یہ توازن پیدا کردیتی ہے۔ یوں تمام اشیاء اور زندہ چیزیں بکھرنے اور اڑ جانے کے عمل سے محفوظ ہیں۔ اور یہاں زمین کی سطح پر ان کا ٹھہرنا اور چلنا بالکل ممکن ہے۔ اگر یہ جاذبیت موجودہ مقدار سے بڑھ جائے تو تمام زندہ اور مردہ چیزیں زمین کے ساتھ لیٹ جائیں۔ انسانوں کے لئے قدم اٹھانا ممکن نہ ہو ، یا بہت مشکل ہو اور اس کے لئے بہت ہی قوت صرف کرنی پڑے اور دوسری جانب سے انسان پر ہوا کا دباؤ بڑھ جائے تو انسان کو زمین کے ساتھ چپکا دے ۔ جس طرح ہم مچھروں اور مکھیوں کو پریشر کے ارتکاذ سے ہاتھ لگائے بغیر ہلاک کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ دباؤ اس سے کم ہوجائے جو ہے تو ہمارا سینہ اور ہماری شریانیں خون کے دباؤ کی وجہ سے پھٹ جائیں۔
اور زمین کو گہوارہ بنانے اور اس کے اوپر راستوں کو ہموار کرنے کے سلسلے میں ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خالق ارض و سمانے اس زمین کے اندر ایسی موافق قوتیں و دیعت فرمائی ہیں جو سب کی سب مل کر اس زمین پر زندگی کو سہل بناتی ہیں۔ اگر ان موافق حیات یا ممد حیات قوتوں میں سے ایک قوت بھی ناپید ہوجائے یا اس میں خلل واقع ہوجائے تو اس کرۂ ارض پر زندگی محال ہوجائے۔ بعض تو وہ ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ اور بعض اور ہیں۔ مثلاً اللہ نے اس کرۂ ارض پر پانیوں کی مقدار کو اس قدر رکھا ہے جو سمندروں ، دریاؤں کی شکل میں زمین کی سطح کے اوپر ہونے والے تمام مسموم گیسوں کو چوس لیتے ہیں اور زمین کی فضا کو آلودگی سے اس قدر صاف رکھا جاتا ہے کہ یہاں زندگی کا وجود ممکن ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے نباتات کو آکسیجن کے درمیان توازن کے قیام کا ذریعہ بنایا۔ وہ آکسیجن جس کو انسان سانس کے ذریعہ لیتا ہے اور اس آکسیجن کے درمیان جس کو نباتات چھوڑتے ہیں۔ اگر یہ توازن نہ ہوتا تو ایک عرصہ کے بعد انسان دم گھٹ کر مرجاتا۔
یہ اور اس قسم کے دوسرے مفہوم و معانی اس آیت میں شامل ہیں۔
الذی جعل ۔۔۔۔۔۔ فیھا سبلا (43 : 10) “ جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنائے ”۔ ہر دم اور ہر روز اس کے نئے نئے معانی منکشف ہو رہے ہیں اور یہ معانی اور مدلولات ان معانی پر اضافہ ہوتے جاتے ہیں جو اس آیت سے اس کے اول مخاطبین کرام سمجھتے تھے ۔ اور یہ سب اللہ حاکم سموات والارض کے علم کو بھی ظاہر کرتے ہیں اور اس کی قدرت کے بھی مظاہر ہیں۔ جو زبردست ہے اور نہایت حکمت والا ہے۔ یہ سب معانی ایک شعور رکھنے والے دل کو یہ دکھاتے ہیں کہ ایک خالق اور مدبر قوت موجود ہے جس قدر انسان کی نظر آگے بڑھتی ہے اور اس کی سوچ گہرائی تک جاتی ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ کوئی ایسی مخلوق نہیں جو آوارہ چھوڑ دی گئی ہو ، اور یہ کہ اس نے کسی کے آگے جواب نہیں دینا ہے بلکہ انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ ایک زبردست قوت والے مدبر نے ان کو پکڑ رکھا ہے اور وہ اس کے تمام امور کا والی ہے ، زندگی میں بھی ، زندگی کے بعد بھی۔
لعلکم تھتدون (43 : 10) “ تا کہ تم اپنی منزل مقصود پا سکو ”۔ اس کائنات پر اس طرح گہرائی کے ساتھ غور کرنا ، اور اس کے اندر پائے جانے والے نوامیس فطرت کا گہرا مطالعہ اس بات کا ضامن ہے کہ انسان کا دل و دماغ خالق کائنات کی طرف راہ لے۔ جس نے اس کائنات کے اندر اس قدر گہری تنظیم اور توازن رکھا ہے۔
زندگی کی نشوونما اور اس میں زندوں کے لئے سہولیات اور زمین کو ان کے لئے گہوارہ بنانے اور اس میں انسانوں کے لئے راستے بنانے کے بعد اب ایک قدم اور آگے :
والذی نزل ۔۔۔۔۔۔ کذلک تخرجون (43 : 11) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ مردہ کو جلا اٹھایا اسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ وہ پانی جو آسمانوں سے نازل کیا جاتا ہے اسے تو ہر انسان دیکھتا ہے اور جانتا ہے لیکن اس منظر کو اکثر لوگ یونہی دیکھ کر گزر جاتے ہیں اور اس پر انہیں کوئی تعجب نہیں ہوتا اور اس کے احساس و شعور میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ ہر وقت اور بسا اوقات نزول باران رحمت دیکھتے رہے ہیں لیکن حضرت محمد ﷺ بارش کے قطروں کو نہایت ہی محبت ، نہایت ہی دلچسپی اور نہایت مسرت سے دیکھتے تھے ، اس لیے کہ آپ کو یہ پختہ شعور حاصل تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے آرہے ہیں اس لیے کہ آپ کا زندہ و بیدار قلب اچھ طرح دیکھ رہا تھا کہ یہ قطرے اللہ کی صفت کے اعلیٰ نمونے ہیں۔ آپ ان میں دست قدرت کی کاریگری دیکھ رہے تھے۔ ان قطروں پر اس دل کو اسی طرح دیکھنا چاہئے جو اللہ تک پہنچا ہوا ہو اور اس کائنات کے اندر اللہ کے جاری کردہ نوامیس فطرت کو جانتا ہو۔ کیونکہ بارش کے یہ قطرے انہی قوانین قدرت کے نتائج ہیں۔ یہ نوامیس فطرت اس کائنات میں اللہ کی نظروں کے تحت اور اللہ کے دست قدرت کے ذریعہ ایک ایک قطرہ ہو کر گرتے ہیں۔ اس حقیقت کی ضرورت اور اس کے اثرات میں یہ سوچ کمی نہیں لا سکتی کہ یہ پانی دراصل بخارات تھے جو زمین سے اوپر فضا میں جا کر ٹھنڈے ہوگئے اور فضاؤں میں ان کے اندر اس قدر کثافت پیدا ہوگئی کہ بارش ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر زمین کو کس نے پیدا کیا۔ یہاں پانی کس نے بنایا۔ پھر ان پر حرارت کس نے مسلط کی اور اپنی کی ساخت کس نے اس طرح بنائی کہ وہ حرارت سے بخار بن جائے۔ پھر بخارات کے اندر یہ خاصیت کس نے رکھی کہ وہ اوپر جائیں ؟ اور اوپر پھر کثیف ہوجائیں۔ پھر یہ خصائص کس نے رکھے۔ یہ بخارات بجلیوں سے بھی بھر جائیں جو آپس میں ملیں تو پانی نیچے گرجائے اور پھر بجلی کیا چیز ہے ؟ غرض وہ تمام خصائص طبیعت کیا ہیں جن سے مل کر بارش بنتی ہے۔
سائنسی پڑھ کر دراصل ہم اپنے احساس کے پردوں کو اس قدر کثیف بنا دیتے ہیں کہ اس کائنات کے عجائبات کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا حالانکہ ہمیں چاہئے تو یہ ہے کہ سائنس کے ذریعہ ہم اپنے احساسات کو مزید تیز کردیں ، اس قدر تیز کہ دل خوف خدا سے کانپ اٹھیں۔
والذی ۔۔۔۔ ماء بقدر (43 : 11) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا ”۔ یہ پانی ایک اندازے کے اندر مقدر اور موزوں ہے ، نہ زیادہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو غرق کر دے ، نہ اس قدر کم ہوتا ہے کہ زمین خشک ہو کر زندگی کے قابل ہی نہ رہے۔ ہم یہ عجیب توازن اور مقدار دیکھ رہے ہیں۔ اور آج اسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ توازن زندگی کی ضروریات کے لئے ضروری ہے اور یہ ارادۂ الٰہیہ سے قائم ہوا۔
فانشرنا بہ بلدۃ میتا (43 : 11) “ اور اس کے ذریعہ مردہ زمین کو جلا اٹھایا ”۔ انشا سے مراد احیاء ہے اور ہر قسم کی زندگی پانی کے بعد آتی ہے کیونکہ اللہ نے ہر چیز کو پانی سے زندہ کیا۔
کذلک تخرجون (43 : 11) “ اس طرح تم ایک روز زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ جس نے پہلی مرتبہ زندہ کیا وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے۔ جس نے زندہ چیزوں کو پہلی مرتبہ مردہ زمین سے نکالا ، اس طرح وہی قیامت کے دن میدان حشر میں سب زندہ انسانوں کو اگا کر نکال لائے گا۔ جب ابتداء ہوگئی تو اعادہ اور تکرار مشکل نہیں رہتا۔ اس میں اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔
پھر یہ جانور جن کو یہ لوگ تقسیم کر کے کچھ اللہ کو دیتے ہیں اور کچھ اللہ کے سوا دوسرے شریکوں کو ، وہ تو اللہ نے اس لیے نہیں پیدا کئے کہ تم اس طرح کی تقسیم کرو ، یہ تو اس لیے تخلیق کیے گئے ہیں کہ یہ لوگوں کے لئے نعمت خداوندی کا کام کریں۔ لوگ ان پر اس طرح سوار ہوں جس طرح کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں اور ان کی اس تسخیر پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ اور اللہ کے انعامات کے مقابلے میں شکریہ ادا کریں۔
والذی خلق الازواج ۔۔۔۔۔ ما ترکبون (43 : 12) لتستوا علی ۔۔۔۔۔ لہ مقرنین (43 : 13) وانا الی ربنا لمنقلبون (43 : 14) “ وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کئے اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا۔ تا کہ تم ان کی پشت پر چڑھو اور ۔۔۔۔ پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ۔۔۔۔۔ قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی پلٹنا ہے ”۔
اللہ نے زندگی کے تسلسل کو زوجیت کے اصول پر رکھا ہے۔ تمام زندہ اشیاء جوڑے جوڑے ہیں۔ یہاں تک کہ پہلا خلیہ بھی اپنے ساتھ تذکیر زمانیت کے خصائص لیے ہوئے ہوتا ہے ، بلکہ سائنسی تحقیقات نے یہ بتا دیا ہے کہ پوری کائنات کا دارومدار ازواج پر ہے۔ اور ہم پر یہ تسلیم کریں کہ کائنات کی پہلی اکائی ذرہ ہے۔ جو منفی الیکٹرون اور مثبت پروٹون سے مرکب ہے تو یہ بھی جوڑا ہے اور طبیعی تحقیقات اسی نہج پر آگے جاری ہیں۔
بہرحال زندگی میں زوجیت کا نظام بالکل ظاہر ہے اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمام جوڑے پیدا کئے خواہ انسانوں کے ہوں یا حیوانوں کے :
وجعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون (43 : 12) “ اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا ”۔ یہاں اشارہ اسی طرف ہے کہ تمہیں خلیفۃ اللہ فی الارض بنایا اور اس زمین کی تمام قوتیں اور طاقتیں تمہارے لیے مسخر کیں۔ اس کے بعد ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ ان نعمتوں کا شکر لازم ہے۔ اس مرتبے کے آداب بجا لانا لازم ہے۔ اور جب بھی نعمت سامنے آئے ، منعم کو یاد کرو ، تا کہ دل خالق سے جڑے رہیں۔ زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں۔
لتستوا علی ظھورہ۔۔۔۔ لہ مقرنین (43 : 13) “ اور جب ان پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے ”۔ ہم تو اللہ کی نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت کے مقابلے میں نعمت کا بدلہ نعمت سے نہیں دے سکتے۔ ہم تو نعمتوں کے مقابلے میں صرف شکر کرسکتے ہیں پھر وہ یاد کریں کہ زمین پر سے اپنی خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد انہوں نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور وہ ان کو ان کے تمام اعمال پر جزا دے گا جو انہوں نے فریضہ خلافت سر انجام دینے کے سلسلے میں کئے اور یہاں ان پر انعامات کئے اور پوری دنیا کو ان کے لئے مسخر کیا۔
وانا الی ربنا لمنقلبون (43 : 14) “ اور ایک روز ہم نے اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ” ۔ یہ ہے منعم حقیقی کے حوالے سے ایک مسلمان کا رویہ اور طرز عمل۔ اللہ اس کے بارے میں ہمیں یاد دہانی فرماتا ہے کہ جب بھی کسی نعمت سے لطف اندوز ہوجاؤ تو رب کا شکر ادا کرو۔ کیونکہ تم ہر وقت اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہو لیکن نعمت اور شکر نعمت بھول جاتے ہو۔
یہ اسلامی آداب جو اللہ کی نعمتوں کے استعمال کے وقت سکھائے گئے ہیں ، یہ محض رسومات نہیں کہ رسماً یہ دعا پڑھ لی جائے جب بھی کوئی کسی سواری پر سوار ہو یا کشتی پر سوار ہو ، یا محض منتر کی طرح عبارات نہیں کہ ان کو پڑھ لیا جائے بلکہ ان عبارات کے معانی کو سمجھ کر ان کا شعور اپنے دل میں پیدا کرنا چاہیے۔ اللہ کی ذات کا تصور ، بندے اور خدا کے تعلق کا تصور اور اللہ کی ان تمام نعمتوں کا تصور جو ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں اور جن قوتوں کو اللہ نے ہمارے لیے مسخر کیا ہے ان کے بارے میں یہ زندہ تصور کہ یہ تو اللہ کے بہت بڑے انعامات ہیں جو انسان پر ہوئے ہیں۔ جن کا کوئی بدلہ انسان اللہ کو نہیں دے سکتا وہ اللہ کے فضل و کرم کا بدلہ دینے پر تو قادر ہی نہیں۔ اس لیے وہ نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اللہ کے ہاں حاضر ہونے سے ہر وقت ڈرتے رہیں کہ حساب و کتاب میں مارے نہ جائیں۔ یہ سب احساسات اس بات کے ضامن ہیں کہ انسان کا دل ہر وقت بیدار رہے ، حساس رہے اور اللہ کی نگرانی کا ہر وقت خیال کرے۔ اور کسی بھی وقت اس پر غفلت اور نسیان کی حالت طاری نہ ہو۔
٭٭٭
اور اس کے بعد یہ بات کہ فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ یہ ان کا زعم تھا اور حقیقت کے مطابق ان کا افسانوی عقیدہ تھا۔
الزخرف 43:11
آیت نمبر 9 تا 14
عربوں کے اندر خدا پر یقین تھا ، وہ ملت ابراہیمی پر تھے۔ لیکن عربوں کے اندر ملت ابراہیمی کی بگڑی ہوئی شکل رہ گئی تھی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ توحید کی جگہ شرف اور دوسرے افسانے اس میں داخل ہوگئے تھے۔ بہرحال وجود باری کے وہ قائل تھے کیونکہ فطرت انسانی بہرحال اس کا انکار نہیں کرسکتی کہ ایک خالق ہے ، جو اللہ ہے۔ کیونکہ کسی خالق کا انکار کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا۔ اور کوئی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عظیم اور ہولناک کائنات خالق کے بغیر پیدا ہوگئی۔ اس کائنات کو اللہ کے سوا کوئی اور پیدا بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس عظیم کائنات کا خالق تو اس سے بھی عظیم اور طاقتور ہونا چاہئے لیکن وہ یہاں آکر رک جاتے تھے اور خود اپنے عقیدے کے لازمی تقاضوں کو تسلیم نہ کرتے تھے۔
ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔۔۔ العزیز العلیم (43 : 9) “ اگر تم ان سے پوچھو کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے ” ۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ دو صفات عزیز و زبردست اور علیم یہ کفار کا قول نہ تھا۔ وہ تو صرف اسی قدر مانتے تھے کہ وہ اللہ ہے وہ اللہ وہ صفات نہ مانتے تھے جو اسلام اور قرآن نے پیش کیں۔ ایسی صفات جو ان کی زندگی پر مثبت اثر ڈالیں۔ جو ان کی زندگی اور اس کائنات کو بیک وقت عملاً چلائیں۔ وہ اللہ کو بس اس کائنات کا خالق مانتے تھے۔ خود اپنا خالق بھی اللہ کو مانتے تھے لیکن زندگی کو عملاً چلانے کے لئے پھر انہوں نے کچھ دوسری ہستیاں بنا رکھی تھیں۔ کیونکہ اللہ کی ایسی صفات سے متعارف نہ تھے جن کے بعد پھر انہیں شرک کی ضرورت نہ پڑے ۔ اور عقیدہ شرک انہیں پوچ اور بےوقعت نظر آئے۔
قرآن مجید یہاں ان کو یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس خدا کو تم خالق السموات والارض سمجھتے ہو۔ وہ العزیز بھی ہے اور العلیم بھی ہے۔ وہ قادر بھی ہے ، وہ علیم و عارف بھی ہے۔ چناچہ اللہ ان کے اس اعتراف کو بنیاد بنا کر ان کو درج ذیل اعترافات پر مجبور کرتا ہے۔ غرض ان کو ایک قدم آگے بڑھا کر ان کو یہ بتاتا ہے کہ تخلیق کے بعد اللہ نے تم پر یہ فضل کیا :
الذی جعل لکم ۔۔۔۔۔۔ لعلکم تھتدون (43 : 10) “ وہی نا جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دئیے تا کہ تم اپنی منزل کی راہ پاسکو ”۔ یہ حقیقت کہ اللہ نے انسان کے لئے اس زمین کو گہوارہ بنایا اسے ہر دور کے انسان نے اپنے حدود علم کے مطابق سمجھا ہے اور اس کی تصویر بنائی ہے۔ جن لوگوں نے پہلی مرتبہ اس کو سنا ہوگا ، انہوں نے بھی یہ سمجھا ہوگا کہ اللہ نے زمین کو اس قابل بنایا کہ وہ ان کے قدموں کے نیچے چلنے کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زراعت کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زندگی اور نباتات کے لئے موزوں ہے لیکن آج ہم اس بات کو کہ زمین تمہارے لیے گہوارہ بنا دی گئی ذرا زیادہ وسعت اور گہرائی کے ساتھ سمجھ رہے ہیں۔ جس حد تک ہم نے اس زمین کے بارے میں معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اس کی بعید و قریب تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کرلی ہیں بشرطیکہ ہمارے اپنے علوم کے بارے میں جو نظریات قائم ہوتے ہیں وہ ہوں بھی درست اور ہم جو اندازے اور تخمینے لگاتے ہیں وہ صحیح ثابت ہوجائیں۔ ہم سے بعد میں آنے والی نسلیں ان کے بارے میں ہم سے بھی زیادہ سمجھیں گی۔ یوں اس آیت کا مفہوم وسعت اختیار کرتا جائے گا۔ جس قدر ہم علم میں آگے بڑھیں گے ، علم و معرفت کی فتوحات کی وسعت کے ساتھ ساتھ اس آیت کے معانی بھی وسیع ہوتے جائیں گے اور یوں انسانی جہالت کا پردہ دور تر جاتا رہے گا۔
ہم آج جانتے ہیں کہ یہ زمین انسان کے لئے کس قدر اچھا گہوارہ بنائی گئی ہے اور اس کے اندر انسان اپنے لیے زندگی کی کس قدر مختلف راہیں تلاش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کرۂ ارض مختلف مراحل سے گزر کر یہاں تک یعنی اپنی موجودہ حالت تک پہنچی ہے اور انسان کے لئے گہوارہ بنائی گئی ہے۔ ان مراحل میں سے ایک مرحلہ یہ تھا کہ اس پوری زمین کی سطح ایک سخت چٹان تھی۔ اس کے بعد اس پر جگہ جگہ مٹی جمع ہوئی اور اس میں نباتات اگنا شروع ہوئے اور اس کی سطح پر جو ہائیڈروجن گیس اور آکسیجن گیس موجود تھی ، ان کے ملاپ سے پانی وجود میں آگیا۔ پھر اپنی گردش محوری کے نتیجے میں اس کے دن کے اندر اس قدر معتدل حرارت پیدا ہوئی کہ وہ حیوانات کی زندگی کے لئے مناسب ہوگئی۔ اور اس کی رفتار گردش محوری کو یوں رکھا گیا کہ اس کی سطح پر چیزوں کا کھڑا رہنا ممکن ہوا۔ انسان مکانات اور دوسری چیزیں بکھر کر ہوا میں نہیں اڑ گئیں۔
پھر اللہ نے اس زمین کے اندر کشش ثقل پیدا کی ۔ یوں ہوا کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا جس کے اندر زندگی ممکن ہوئی۔ اگر اس زمین کے اردگرد پائی جانے والی ہوا زمین کی جاذبیت سے چھوٹ جائے تو زمین پر کسی چیز کا زندہ رہنا ممکن نہ ہو ، دوسرے اجرام فلکی کی سطح پر چونکہ جاذبیت نہیں ہے یا اس سے کمزور ہے تو وہاں حیات ممکن نہیں ہوسکی۔ ان کر ات سے ہوا چلی گئی۔ مثلاً چاند کے اوپر کوئی ہوا نہیں ہے۔ یہ جاذبیت اس قدر متوازن ہے کہ حرکت زمین کی وجہ سے اشیاء کو دور پھینکنے کا جو عمل پیدا ہوتا ہے اس کے اندر یہ توازن پیدا کردیتی ہے۔ یوں تمام اشیاء اور زندہ چیزیں بکھرنے اور اڑ جانے کے عمل سے محفوظ ہیں۔ اور یہاں زمین کی سطح پر ان کا ٹھہرنا اور چلنا بالکل ممکن ہے۔ اگر یہ جاذبیت موجودہ مقدار سے بڑھ جائے تو تمام زندہ اور مردہ چیزیں زمین کے ساتھ لیٹ جائیں۔ انسانوں کے لئے قدم اٹھانا ممکن نہ ہو ، یا بہت مشکل ہو اور اس کے لئے بہت ہی قوت صرف کرنی پڑے اور دوسری جانب سے انسان پر ہوا کا دباؤ بڑھ جائے تو انسان کو زمین کے ساتھ چپکا دے ۔ جس طرح ہم مچھروں اور مکھیوں کو پریشر کے ارتکاذ سے ہاتھ لگائے بغیر ہلاک کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ دباؤ اس سے کم ہوجائے جو ہے تو ہمارا سینہ اور ہماری شریانیں خون کے دباؤ کی وجہ سے پھٹ جائیں۔
اور زمین کو گہوارہ بنانے اور اس کے اوپر راستوں کو ہموار کرنے کے سلسلے میں ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خالق ارض و سمانے اس زمین کے اندر ایسی موافق قوتیں و دیعت فرمائی ہیں جو سب کی سب مل کر اس زمین پر زندگی کو سہل بناتی ہیں۔ اگر ان موافق حیات یا ممد حیات قوتوں میں سے ایک قوت بھی ناپید ہوجائے یا اس میں خلل واقع ہوجائے تو اس کرۂ ارض پر زندگی محال ہوجائے۔ بعض تو وہ ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ اور بعض اور ہیں۔ مثلاً اللہ نے اس کرۂ ارض پر پانیوں کی مقدار کو اس قدر رکھا ہے جو سمندروں ، دریاؤں کی شکل میں زمین کی سطح کے اوپر ہونے والے تمام مسموم گیسوں کو چوس لیتے ہیں اور زمین کی فضا کو آلودگی سے اس قدر صاف رکھا جاتا ہے کہ یہاں زندگی کا وجود ممکن ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے نباتات کو آکسیجن کے درمیان توازن کے قیام کا ذریعہ بنایا۔ وہ آکسیجن جس کو انسان سانس کے ذریعہ لیتا ہے اور اس آکسیجن کے درمیان جس کو نباتات چھوڑتے ہیں۔ اگر یہ توازن نہ ہوتا تو ایک عرصہ کے بعد انسان دم گھٹ کر مرجاتا۔
یہ اور اس قسم کے دوسرے مفہوم و معانی اس آیت میں شامل ہیں۔
الذی جعل ۔۔۔۔۔۔ فیھا سبلا (43 : 10) “ جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنائے ”۔ ہر دم اور ہر روز اس کے نئے نئے معانی منکشف ہو رہے ہیں اور یہ معانی اور مدلولات ان معانی پر اضافہ ہوتے جاتے ہیں جو اس آیت سے اس کے اول مخاطبین کرام سمجھتے تھے ۔ اور یہ سب اللہ حاکم سموات والارض کے علم کو بھی ظاہر کرتے ہیں اور اس کی قدرت کے بھی مظاہر ہیں۔ جو زبردست ہے اور نہایت حکمت والا ہے۔ یہ سب معانی ایک شعور رکھنے والے دل کو یہ دکھاتے ہیں کہ ایک خالق اور مدبر قوت موجود ہے جس قدر انسان کی نظر آگے بڑھتی ہے اور اس کی سوچ گہرائی تک جاتی ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ کوئی ایسی مخلوق نہیں جو آوارہ چھوڑ دی گئی ہو ، اور یہ کہ اس نے کسی کے آگے جواب نہیں دینا ہے بلکہ انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ ایک زبردست قوت والے مدبر نے ان کو پکڑ رکھا ہے اور وہ اس کے تمام امور کا والی ہے ، زندگی میں بھی ، زندگی کے بعد بھی۔
لعلکم تھتدون (43 : 10) “ تا کہ تم اپنی منزل مقصود پا سکو ”۔ اس کائنات پر اس طرح گہرائی کے ساتھ غور کرنا ، اور اس کے اندر پائے جانے والے نوامیس فطرت کا گہرا مطالعہ اس بات کا ضامن ہے کہ انسان کا دل و دماغ خالق کائنات کی طرف راہ لے۔ جس نے اس کائنات کے اندر اس قدر گہری تنظیم اور توازن رکھا ہے۔
زندگی کی نشوونما اور اس میں زندوں کے لئے سہولیات اور زمین کو ان کے لئے گہوارہ بنانے اور اس میں انسانوں کے لئے راستے بنانے کے بعد اب ایک قدم اور آگے :
والذی نزل ۔۔۔۔۔۔ کذلک تخرجون (43 : 11) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ مردہ کو جلا اٹھایا اسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ وہ پانی جو آسمانوں سے نازل کیا جاتا ہے اسے تو ہر انسان دیکھتا ہے اور جانتا ہے لیکن اس منظر کو اکثر لوگ یونہی دیکھ کر گزر جاتے ہیں اور اس پر انہیں کوئی تعجب نہیں ہوتا اور اس کے احساس و شعور میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ ہر وقت اور بسا اوقات نزول باران رحمت دیکھتے رہے ہیں لیکن حضرت محمد ﷺ بارش کے قطروں کو نہایت ہی محبت ، نہایت ہی دلچسپی اور نہایت مسرت سے دیکھتے تھے ، اس لیے کہ آپ کو یہ پختہ شعور حاصل تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے آرہے ہیں اس لیے کہ آپ کا زندہ و بیدار قلب اچھ طرح دیکھ رہا تھا کہ یہ قطرے اللہ کی صفت کے اعلیٰ نمونے ہیں۔ آپ ان میں دست قدرت کی کاریگری دیکھ رہے تھے۔ ان قطروں پر اس دل کو اسی طرح دیکھنا چاہئے جو اللہ تک پہنچا ہوا ہو اور اس کائنات کے اندر اللہ کے جاری کردہ نوامیس فطرت کو جانتا ہو۔ کیونکہ بارش کے یہ قطرے انہی قوانین قدرت کے نتائج ہیں۔ یہ نوامیس فطرت اس کائنات میں اللہ کی نظروں کے تحت اور اللہ کے دست قدرت کے ذریعہ ایک ایک قطرہ ہو کر گرتے ہیں۔ اس حقیقت کی ضرورت اور اس کے اثرات میں یہ سوچ کمی نہیں لا سکتی کہ یہ پانی دراصل بخارات تھے جو زمین سے اوپر فضا میں جا کر ٹھنڈے ہوگئے اور فضاؤں میں ان کے اندر اس قدر کثافت پیدا ہوگئی کہ بارش ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر زمین کو کس نے پیدا کیا۔ یہاں پانی کس نے بنایا۔ پھر ان پر حرارت کس نے مسلط کی اور اپنی کی ساخت کس نے اس طرح بنائی کہ وہ حرارت سے بخار بن جائے۔ پھر بخارات کے اندر یہ خاصیت کس نے رکھی کہ وہ اوپر جائیں ؟ اور اوپر پھر کثیف ہوجائیں۔ پھر یہ خصائص کس نے رکھے۔ یہ بخارات بجلیوں سے بھی بھر جائیں جو آپس میں ملیں تو پانی نیچے گرجائے اور پھر بجلی کیا چیز ہے ؟ غرض وہ تمام خصائص طبیعت کیا ہیں جن سے مل کر بارش بنتی ہے۔
سائنسی پڑھ کر دراصل ہم اپنے احساس کے پردوں کو اس قدر کثیف بنا دیتے ہیں کہ اس کائنات کے عجائبات کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا حالانکہ ہمیں چاہئے تو یہ ہے کہ سائنس کے ذریعہ ہم اپنے احساسات کو مزید تیز کردیں ، اس قدر تیز کہ دل خوف خدا سے کانپ اٹھیں۔
والذی ۔۔۔۔ ماء بقدر (43 : 11) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا ”۔ یہ پانی ایک اندازے کے اندر مقدر اور موزوں ہے ، نہ زیادہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو غرق کر دے ، نہ اس قدر کم ہوتا ہے کہ زمین خشک ہو کر زندگی کے قابل ہی نہ رہے۔ ہم یہ عجیب توازن اور مقدار دیکھ رہے ہیں۔ اور آج اسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ توازن زندگی کی ضروریات کے لئے ضروری ہے اور یہ ارادۂ الٰہیہ سے قائم ہوا۔
فانشرنا بہ بلدۃ میتا (43 : 11) “ اور اس کے ذریعہ مردہ زمین کو جلا اٹھایا ”۔ انشا سے مراد احیاء ہے اور ہر قسم کی زندگی پانی کے بعد آتی ہے کیونکہ اللہ نے ہر چیز کو پانی سے زندہ کیا۔
کذلک تخرجون (43 : 11) “ اس طرح تم ایک روز زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ جس نے پہلی مرتبہ زندہ کیا وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے۔ جس نے زندہ چیزوں کو پہلی مرتبہ مردہ زمین سے نکالا ، اس طرح وہی قیامت کے دن میدان حشر میں سب زندہ انسانوں کو اگا کر نکال لائے گا۔ جب ابتداء ہوگئی تو اعادہ اور تکرار مشکل نہیں رہتا۔ اس میں اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔
پھر یہ جانور جن کو یہ لوگ تقسیم کر کے کچھ اللہ کو دیتے ہیں اور کچھ اللہ کے سوا دوسرے شریکوں کو ، وہ تو اللہ نے اس لیے نہیں پیدا کئے کہ تم اس طرح کی تقسیم کرو ، یہ تو اس لیے تخلیق کیے گئے ہیں کہ یہ لوگوں کے لئے نعمت خداوندی کا کام کریں۔ لوگ ان پر اس طرح سوار ہوں جس طرح کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں اور ان کی اس تسخیر پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ اور اللہ کے انعامات کے مقابلے میں شکریہ ادا کریں۔
والذی خلق الازواج ۔۔۔۔۔ ما ترکبون (43 : 12) لتستوا علی ۔۔۔۔۔ لہ مقرنین (43 : 13) وانا الی ربنا لمنقلبون (43 : 14) “ وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کئے اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا۔ تا کہ تم ان کی پشت پر چڑھو اور ۔۔۔۔ پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ۔۔۔۔۔ قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی پلٹنا ہے ”۔
اللہ نے زندگی کے تسلسل کو زوجیت کے اصول پر رکھا ہے۔ تمام زندہ اشیاء جوڑے جوڑے ہیں۔ یہاں تک کہ پہلا خلیہ بھی اپنے ساتھ تذکیر زمانیت کے خصائص لیے ہوئے ہوتا ہے ، بلکہ سائنسی تحقیقات نے یہ بتا دیا ہے کہ پوری کائنات کا دارومدار ازواج پر ہے۔ اور ہم پر یہ تسلیم کریں کہ کائنات کی پہلی اکائی ذرہ ہے۔ جو منفی الیکٹرون اور مثبت پروٹون سے مرکب ہے تو یہ بھی جوڑا ہے اور طبیعی تحقیقات اسی نہج پر آگے جاری ہیں۔
بہرحال زندگی میں زوجیت کا نظام بالکل ظاہر ہے اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمام جوڑے پیدا کئے خواہ انسانوں کے ہوں یا حیوانوں کے :
وجعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون (43 : 12) “ اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا ”۔ یہاں اشارہ اسی طرف ہے کہ تمہیں خلیفۃ اللہ فی الارض بنایا اور اس زمین کی تمام قوتیں اور طاقتیں تمہارے لیے مسخر کیں۔ اس کے بعد ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ ان نعمتوں کا شکر لازم ہے۔ اس مرتبے کے آداب بجا لانا لازم ہے۔ اور جب بھی نعمت سامنے آئے ، منعم کو یاد کرو ، تا کہ دل خالق سے جڑے رہیں۔ زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں۔
لتستوا علی ظھورہ۔۔۔۔ لہ مقرنین (43 : 13) “ اور جب ان پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے ”۔ ہم تو اللہ کی نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت کے مقابلے میں نعمت کا بدلہ نعمت سے نہیں دے سکتے۔ ہم تو نعمتوں کے مقابلے میں صرف شکر کرسکتے ہیں پھر وہ یاد کریں کہ زمین پر سے اپنی خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد انہوں نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور وہ ان کو ان کے تمام اعمال پر جزا دے گا جو انہوں نے فریضہ خلافت سر انجام دینے کے سلسلے میں کئے اور یہاں ان پر انعامات کئے اور پوری دنیا کو ان کے لئے مسخر کیا۔
وانا الی ربنا لمنقلبون (43 : 14) “ اور ایک روز ہم نے اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ” ۔ یہ ہے منعم حقیقی کے حوالے سے ایک مسلمان کا رویہ اور طرز عمل۔ اللہ اس کے بارے میں ہمیں یاد دہانی فرماتا ہے کہ جب بھی کسی نعمت سے لطف اندوز ہوجاؤ تو رب کا شکر ادا کرو۔ کیونکہ تم ہر وقت اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہو لیکن نعمت اور شکر نعمت بھول جاتے ہو۔
یہ اسلامی آداب جو اللہ کی نعمتوں کے استعمال کے وقت سکھائے گئے ہیں ، یہ محض رسومات نہیں کہ رسماً یہ دعا پڑھ لی جائے جب بھی کوئی کسی سواری پر سوار ہو یا کشتی پر سوار ہو ، یا محض منتر کی طرح عبارات نہیں کہ ان کو پڑھ لیا جائے بلکہ ان عبارات کے معانی کو سمجھ کر ان کا شعور اپنے دل میں پیدا کرنا چاہیے۔ اللہ کی ذات کا تصور ، بندے اور خدا کے تعلق کا تصور اور اللہ کی ان تمام نعمتوں کا تصور جو ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں اور جن قوتوں کو اللہ نے ہمارے لیے مسخر کیا ہے ان کے بارے میں یہ زندہ تصور کہ یہ تو اللہ کے بہت بڑے انعامات ہیں جو انسان پر ہوئے ہیں۔ جن کا کوئی بدلہ انسان اللہ کو نہیں دے سکتا وہ اللہ کے فضل و کرم کا بدلہ دینے پر تو قادر ہی نہیں۔ اس لیے وہ نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اللہ کے ہاں حاضر ہونے سے ہر وقت ڈرتے رہیں کہ حساب و کتاب میں مارے نہ جائیں۔ یہ سب احساسات اس بات کے ضامن ہیں کہ انسان کا دل ہر وقت بیدار رہے ، حساس رہے اور اللہ کی نگرانی کا ہر وقت خیال کرے۔ اور کسی بھی وقت اس پر غفلت اور نسیان کی حالت طاری نہ ہو۔
٭٭٭
اور اس کے بعد یہ بات کہ فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ یہ ان کا زعم تھا اور حقیقت کے مطابق ان کا افسانوی عقیدہ تھا۔
الزخرف 43:12
آیت نمبر 9 تا 14
عربوں کے اندر خدا پر یقین تھا ، وہ ملت ابراہیمی پر تھے۔ لیکن عربوں کے اندر ملت ابراہیمی کی بگڑی ہوئی شکل رہ گئی تھی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ توحید کی جگہ شرف اور دوسرے افسانے اس میں داخل ہوگئے تھے۔ بہرحال وجود باری کے وہ قائل تھے کیونکہ فطرت انسانی بہرحال اس کا انکار نہیں کرسکتی کہ ایک خالق ہے ، جو اللہ ہے۔ کیونکہ کسی خالق کا انکار کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا۔ اور کوئی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عظیم اور ہولناک کائنات خالق کے بغیر پیدا ہوگئی۔ اس کائنات کو اللہ کے سوا کوئی اور پیدا بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس عظیم کائنات کا خالق تو اس سے بھی عظیم اور طاقتور ہونا چاہئے لیکن وہ یہاں آکر رک جاتے تھے اور خود اپنے عقیدے کے لازمی تقاضوں کو تسلیم نہ کرتے تھے۔
ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔۔۔ العزیز العلیم (43 : 9) “ اگر تم ان سے پوچھو کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے ” ۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ دو صفات عزیز و زبردست اور علیم یہ کفار کا قول نہ تھا۔ وہ تو صرف اسی قدر مانتے تھے کہ وہ اللہ ہے وہ اللہ وہ صفات نہ مانتے تھے جو اسلام اور قرآن نے پیش کیں۔ ایسی صفات جو ان کی زندگی پر مثبت اثر ڈالیں۔ جو ان کی زندگی اور اس کائنات کو بیک وقت عملاً چلائیں۔ وہ اللہ کو بس اس کائنات کا خالق مانتے تھے۔ خود اپنا خالق بھی اللہ کو مانتے تھے لیکن زندگی کو عملاً چلانے کے لئے پھر انہوں نے کچھ دوسری ہستیاں بنا رکھی تھیں۔ کیونکہ اللہ کی ایسی صفات سے متعارف نہ تھے جن کے بعد پھر انہیں شرک کی ضرورت نہ پڑے ۔ اور عقیدہ شرک انہیں پوچ اور بےوقعت نظر آئے۔
قرآن مجید یہاں ان کو یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس خدا کو تم خالق السموات والارض سمجھتے ہو۔ وہ العزیز بھی ہے اور العلیم بھی ہے۔ وہ قادر بھی ہے ، وہ علیم و عارف بھی ہے۔ چناچہ اللہ ان کے اس اعتراف کو بنیاد بنا کر ان کو درج ذیل اعترافات پر مجبور کرتا ہے۔ غرض ان کو ایک قدم آگے بڑھا کر ان کو یہ بتاتا ہے کہ تخلیق کے بعد اللہ نے تم پر یہ فضل کیا :
الذی جعل لکم ۔۔۔۔۔۔ لعلکم تھتدون (43 : 10) “ وہی نا جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دئیے تا کہ تم اپنی منزل کی راہ پاسکو ”۔ یہ حقیقت کہ اللہ نے انسان کے لئے اس زمین کو گہوارہ بنایا اسے ہر دور کے انسان نے اپنے حدود علم کے مطابق سمجھا ہے اور اس کی تصویر بنائی ہے۔ جن لوگوں نے پہلی مرتبہ اس کو سنا ہوگا ، انہوں نے بھی یہ سمجھا ہوگا کہ اللہ نے زمین کو اس قابل بنایا کہ وہ ان کے قدموں کے نیچے چلنے کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زراعت کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زندگی اور نباتات کے لئے موزوں ہے لیکن آج ہم اس بات کو کہ زمین تمہارے لیے گہوارہ بنا دی گئی ذرا زیادہ وسعت اور گہرائی کے ساتھ سمجھ رہے ہیں۔ جس حد تک ہم نے اس زمین کے بارے میں معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اس کی بعید و قریب تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کرلی ہیں بشرطیکہ ہمارے اپنے علوم کے بارے میں جو نظریات قائم ہوتے ہیں وہ ہوں بھی درست اور ہم جو اندازے اور تخمینے لگاتے ہیں وہ صحیح ثابت ہوجائیں۔ ہم سے بعد میں آنے والی نسلیں ان کے بارے میں ہم سے بھی زیادہ سمجھیں گی۔ یوں اس آیت کا مفہوم وسعت اختیار کرتا جائے گا۔ جس قدر ہم علم میں آگے بڑھیں گے ، علم و معرفت کی فتوحات کی وسعت کے ساتھ ساتھ اس آیت کے معانی بھی وسیع ہوتے جائیں گے اور یوں انسانی جہالت کا پردہ دور تر جاتا رہے گا۔
ہم آج جانتے ہیں کہ یہ زمین انسان کے لئے کس قدر اچھا گہوارہ بنائی گئی ہے اور اس کے اندر انسان اپنے لیے زندگی کی کس قدر مختلف راہیں تلاش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کرۂ ارض مختلف مراحل سے گزر کر یہاں تک یعنی اپنی موجودہ حالت تک پہنچی ہے اور انسان کے لئے گہوارہ بنائی گئی ہے۔ ان مراحل میں سے ایک مرحلہ یہ تھا کہ اس پوری زمین کی سطح ایک سخت چٹان تھی۔ اس کے بعد اس پر جگہ جگہ مٹی جمع ہوئی اور اس میں نباتات اگنا شروع ہوئے اور اس کی سطح پر جو ہائیڈروجن گیس اور آکسیجن گیس موجود تھی ، ان کے ملاپ سے پانی وجود میں آگیا۔ پھر اپنی گردش محوری کے نتیجے میں اس کے دن کے اندر اس قدر معتدل حرارت پیدا ہوئی کہ وہ حیوانات کی زندگی کے لئے مناسب ہوگئی۔ اور اس کی رفتار گردش محوری کو یوں رکھا گیا کہ اس کی سطح پر چیزوں کا کھڑا رہنا ممکن ہوا۔ انسان مکانات اور دوسری چیزیں بکھر کر ہوا میں نہیں اڑ گئیں۔
پھر اللہ نے اس زمین کے اندر کشش ثقل پیدا کی ۔ یوں ہوا کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا جس کے اندر زندگی ممکن ہوئی۔ اگر اس زمین کے اردگرد پائی جانے والی ہوا زمین کی جاذبیت سے چھوٹ جائے تو زمین پر کسی چیز کا زندہ رہنا ممکن نہ ہو ، دوسرے اجرام فلکی کی سطح پر چونکہ جاذبیت نہیں ہے یا اس سے کمزور ہے تو وہاں حیات ممکن نہیں ہوسکی۔ ان کر ات سے ہوا چلی گئی۔ مثلاً چاند کے اوپر کوئی ہوا نہیں ہے۔ یہ جاذبیت اس قدر متوازن ہے کہ حرکت زمین کی وجہ سے اشیاء کو دور پھینکنے کا جو عمل پیدا ہوتا ہے اس کے اندر یہ توازن پیدا کردیتی ہے۔ یوں تمام اشیاء اور زندہ چیزیں بکھرنے اور اڑ جانے کے عمل سے محفوظ ہیں۔ اور یہاں زمین کی سطح پر ان کا ٹھہرنا اور چلنا بالکل ممکن ہے۔ اگر یہ جاذبیت موجودہ مقدار سے بڑھ جائے تو تمام زندہ اور مردہ چیزیں زمین کے ساتھ لیٹ جائیں۔ انسانوں کے لئے قدم اٹھانا ممکن نہ ہو ، یا بہت مشکل ہو اور اس کے لئے بہت ہی قوت صرف کرنی پڑے اور دوسری جانب سے انسان پر ہوا کا دباؤ بڑھ جائے تو انسان کو زمین کے ساتھ چپکا دے ۔ جس طرح ہم مچھروں اور مکھیوں کو پریشر کے ارتکاذ سے ہاتھ لگائے بغیر ہلاک کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ دباؤ اس سے کم ہوجائے جو ہے تو ہمارا سینہ اور ہماری شریانیں خون کے دباؤ کی وجہ سے پھٹ جائیں۔
اور زمین کو گہوارہ بنانے اور اس کے اوپر راستوں کو ہموار کرنے کے سلسلے میں ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خالق ارض و سمانے اس زمین کے اندر ایسی موافق قوتیں و دیعت فرمائی ہیں جو سب کی سب مل کر اس زمین پر زندگی کو سہل بناتی ہیں۔ اگر ان موافق حیات یا ممد حیات قوتوں میں سے ایک قوت بھی ناپید ہوجائے یا اس میں خلل واقع ہوجائے تو اس کرۂ ارض پر زندگی محال ہوجائے۔ بعض تو وہ ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ اور بعض اور ہیں۔ مثلاً اللہ نے اس کرۂ ارض پر پانیوں کی مقدار کو اس قدر رکھا ہے جو سمندروں ، دریاؤں کی شکل میں زمین کی سطح کے اوپر ہونے والے تمام مسموم گیسوں کو چوس لیتے ہیں اور زمین کی فضا کو آلودگی سے اس قدر صاف رکھا جاتا ہے کہ یہاں زندگی کا وجود ممکن ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے نباتات کو آکسیجن کے درمیان توازن کے قیام کا ذریعہ بنایا۔ وہ آکسیجن جس کو انسان سانس کے ذریعہ لیتا ہے اور اس آکسیجن کے درمیان جس کو نباتات چھوڑتے ہیں۔ اگر یہ توازن نہ ہوتا تو ایک عرصہ کے بعد انسان دم گھٹ کر مرجاتا۔
یہ اور اس قسم کے دوسرے مفہوم و معانی اس آیت میں شامل ہیں۔
الذی جعل ۔۔۔۔۔۔ فیھا سبلا (43 : 10) “ جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنائے ”۔ ہر دم اور ہر روز اس کے نئے نئے معانی منکشف ہو رہے ہیں اور یہ معانی اور مدلولات ان معانی پر اضافہ ہوتے جاتے ہیں جو اس آیت سے اس کے اول مخاطبین کرام سمجھتے تھے ۔ اور یہ سب اللہ حاکم سموات والارض کے علم کو بھی ظاہر کرتے ہیں اور اس کی قدرت کے بھی مظاہر ہیں۔ جو زبردست ہے اور نہایت حکمت والا ہے۔ یہ سب معانی ایک شعور رکھنے والے دل کو یہ دکھاتے ہیں کہ ایک خالق اور مدبر قوت موجود ہے جس قدر انسان کی نظر آگے بڑھتی ہے اور اس کی سوچ گہرائی تک جاتی ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ کوئی ایسی مخلوق نہیں جو آوارہ چھوڑ دی گئی ہو ، اور یہ کہ اس نے کسی کے آگے جواب نہیں دینا ہے بلکہ انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ ایک زبردست قوت والے مدبر نے ان کو پکڑ رکھا ہے اور وہ اس کے تمام امور کا والی ہے ، زندگی میں بھی ، زندگی کے بعد بھی۔
لعلکم تھتدون (43 : 10) “ تا کہ تم اپنی منزل مقصود پا سکو ”۔ اس کائنات پر اس طرح گہرائی کے ساتھ غور کرنا ، اور اس کے اندر پائے جانے والے نوامیس فطرت کا گہرا مطالعہ اس بات کا ضامن ہے کہ انسان کا دل و دماغ خالق کائنات کی طرف راہ لے۔ جس نے اس کائنات کے اندر اس قدر گہری تنظیم اور توازن رکھا ہے۔
زندگی کی نشوونما اور اس میں زندوں کے لئے سہولیات اور زمین کو ان کے لئے گہوارہ بنانے اور اس میں انسانوں کے لئے راستے بنانے کے بعد اب ایک قدم اور آگے :
والذی نزل ۔۔۔۔۔۔ کذلک تخرجون (43 : 11) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ مردہ کو جلا اٹھایا اسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ وہ پانی جو آسمانوں سے نازل کیا جاتا ہے اسے تو ہر انسان دیکھتا ہے اور جانتا ہے لیکن اس منظر کو اکثر لوگ یونہی دیکھ کر گزر جاتے ہیں اور اس پر انہیں کوئی تعجب نہیں ہوتا اور اس کے احساس و شعور میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ ہر وقت اور بسا اوقات نزول باران رحمت دیکھتے رہے ہیں لیکن حضرت محمد ﷺ بارش کے قطروں کو نہایت ہی محبت ، نہایت ہی دلچسپی اور نہایت مسرت سے دیکھتے تھے ، اس لیے کہ آپ کو یہ پختہ شعور حاصل تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے آرہے ہیں اس لیے کہ آپ کا زندہ و بیدار قلب اچھ طرح دیکھ رہا تھا کہ یہ قطرے اللہ کی صفت کے اعلیٰ نمونے ہیں۔ آپ ان میں دست قدرت کی کاریگری دیکھ رہے تھے۔ ان قطروں پر اس دل کو اسی طرح دیکھنا چاہئے جو اللہ تک پہنچا ہوا ہو اور اس کائنات کے اندر اللہ کے جاری کردہ نوامیس فطرت کو جانتا ہو۔ کیونکہ بارش کے یہ قطرے انہی قوانین قدرت کے نتائج ہیں۔ یہ نوامیس فطرت اس کائنات میں اللہ کی نظروں کے تحت اور اللہ کے دست قدرت کے ذریعہ ایک ایک قطرہ ہو کر گرتے ہیں۔ اس حقیقت کی ضرورت اور اس کے اثرات میں یہ سوچ کمی نہیں لا سکتی کہ یہ پانی دراصل بخارات تھے جو زمین سے اوپر فضا میں جا کر ٹھنڈے ہوگئے اور فضاؤں میں ان کے اندر اس قدر کثافت پیدا ہوگئی کہ بارش ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر زمین کو کس نے پیدا کیا۔ یہاں پانی کس نے بنایا۔ پھر ان پر حرارت کس نے مسلط کی اور اپنی کی ساخت کس نے اس طرح بنائی کہ وہ حرارت سے بخار بن جائے۔ پھر بخارات کے اندر یہ خاصیت کس نے رکھی کہ وہ اوپر جائیں ؟ اور اوپر پھر کثیف ہوجائیں۔ پھر یہ خصائص کس نے رکھے۔ یہ بخارات بجلیوں سے بھی بھر جائیں جو آپس میں ملیں تو پانی نیچے گرجائے اور پھر بجلی کیا چیز ہے ؟ غرض وہ تمام خصائص طبیعت کیا ہیں جن سے مل کر بارش بنتی ہے۔
سائنسی پڑھ کر دراصل ہم اپنے احساس کے پردوں کو اس قدر کثیف بنا دیتے ہیں کہ اس کائنات کے عجائبات کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا حالانکہ ہمیں چاہئے تو یہ ہے کہ سائنس کے ذریعہ ہم اپنے احساسات کو مزید تیز کردیں ، اس قدر تیز کہ دل خوف خدا سے کانپ اٹھیں۔
والذی ۔۔۔۔ ماء بقدر (43 : 11) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا ”۔ یہ پانی ایک اندازے کے اندر مقدر اور موزوں ہے ، نہ زیادہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو غرق کر دے ، نہ اس قدر کم ہوتا ہے کہ زمین خشک ہو کر زندگی کے قابل ہی نہ رہے۔ ہم یہ عجیب توازن اور مقدار دیکھ رہے ہیں۔ اور آج اسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ توازن زندگی کی ضروریات کے لئے ضروری ہے اور یہ ارادۂ الٰہیہ سے قائم ہوا۔
فانشرنا بہ بلدۃ میتا (43 : 11) “ اور اس کے ذریعہ مردہ زمین کو جلا اٹھایا ”۔ انشا سے مراد احیاء ہے اور ہر قسم کی زندگی پانی کے بعد آتی ہے کیونکہ اللہ نے ہر چیز کو پانی سے زندہ کیا۔
کذلک تخرجون (43 : 11) “ اس طرح تم ایک روز زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ جس نے پہلی مرتبہ زندہ کیا وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے۔ جس نے زندہ چیزوں کو پہلی مرتبہ مردہ زمین سے نکالا ، اس طرح وہی قیامت کے دن میدان حشر میں سب زندہ انسانوں کو اگا کر نکال لائے گا۔ جب ابتداء ہوگئی تو اعادہ اور تکرار مشکل نہیں رہتا۔ اس میں اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔
پھر یہ جانور جن کو یہ لوگ تقسیم کر کے کچھ اللہ کو دیتے ہیں اور کچھ اللہ کے سوا دوسرے شریکوں کو ، وہ تو اللہ نے اس لیے نہیں پیدا کئے کہ تم اس طرح کی تقسیم کرو ، یہ تو اس لیے تخلیق کیے گئے ہیں کہ یہ لوگوں کے لئے نعمت خداوندی کا کام کریں۔ لوگ ان پر اس طرح سوار ہوں جس طرح کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں اور ان کی اس تسخیر پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ اور اللہ کے انعامات کے مقابلے میں شکریہ ادا کریں۔
والذی خلق الازواج ۔۔۔۔۔ ما ترکبون (43 : 12) لتستوا علی ۔۔۔۔۔ لہ مقرنین (43 : 13) وانا الی ربنا لمنقلبون (43 : 14) “ وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کئے اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا۔ تا کہ تم ان کی پشت پر چڑھو اور ۔۔۔۔ پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ۔۔۔۔۔ قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی پلٹنا ہے ”۔
اللہ نے زندگی کے تسلسل کو زوجیت کے اصول پر رکھا ہے۔ تمام زندہ اشیاء جوڑے جوڑے ہیں۔ یہاں تک کہ پہلا خلیہ بھی اپنے ساتھ تذکیر زمانیت کے خصائص لیے ہوئے ہوتا ہے ، بلکہ سائنسی تحقیقات نے یہ بتا دیا ہے کہ پوری کائنات کا دارومدار ازواج پر ہے۔ اور ہم پر یہ تسلیم کریں کہ کائنات کی پہلی اکائی ذرہ ہے۔ جو منفی الیکٹرون اور مثبت پروٹون سے مرکب ہے تو یہ بھی جوڑا ہے اور طبیعی تحقیقات اسی نہج پر آگے جاری ہیں۔
بہرحال زندگی میں زوجیت کا نظام بالکل ظاہر ہے اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمام جوڑے پیدا کئے خواہ انسانوں کے ہوں یا حیوانوں کے :
وجعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون (43 : 12) “ اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا ”۔ یہاں اشارہ اسی طرف ہے کہ تمہیں خلیفۃ اللہ فی الارض بنایا اور اس زمین کی تمام قوتیں اور طاقتیں تمہارے لیے مسخر کیں۔ اس کے بعد ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ ان نعمتوں کا شکر لازم ہے۔ اس مرتبے کے آداب بجا لانا لازم ہے۔ اور جب بھی نعمت سامنے آئے ، منعم کو یاد کرو ، تا کہ دل خالق سے جڑے رہیں۔ زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں۔
لتستوا علی ظھورہ۔۔۔۔ لہ مقرنین (43 : 13) “ اور جب ان پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے ”۔ ہم تو اللہ کی نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت کے مقابلے میں نعمت کا بدلہ نعمت سے نہیں دے سکتے۔ ہم تو نعمتوں کے مقابلے میں صرف شکر کرسکتے ہیں پھر وہ یاد کریں کہ زمین پر سے اپنی خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد انہوں نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور وہ ان کو ان کے تمام اعمال پر جزا دے گا جو انہوں نے فریضہ خلافت سر انجام دینے کے سلسلے میں کئے اور یہاں ان پر انعامات کئے اور پوری دنیا کو ان کے لئے مسخر کیا۔
وانا الی ربنا لمنقلبون (43 : 14) “ اور ایک روز ہم نے اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ” ۔ یہ ہے منعم حقیقی کے حوالے سے ایک مسلمان کا رویہ اور طرز عمل۔ اللہ اس کے بارے میں ہمیں یاد دہانی فرماتا ہے کہ جب بھی کسی نعمت سے لطف اندوز ہوجاؤ تو رب کا شکر ادا کرو۔ کیونکہ تم ہر وقت اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہو لیکن نعمت اور شکر نعمت بھول جاتے ہو۔
یہ اسلامی آداب جو اللہ کی نعمتوں کے استعمال کے وقت سکھائے گئے ہیں ، یہ محض رسومات نہیں کہ رسماً یہ دعا پڑھ لی جائے جب بھی کوئی کسی سواری پر سوار ہو یا کشتی پر سوار ہو ، یا محض منتر کی طرح عبارات نہیں کہ ان کو پڑھ لیا جائے بلکہ ان عبارات کے معانی کو سمجھ کر ان کا شعور اپنے دل میں پیدا کرنا چاہیے۔ اللہ کی ذات کا تصور ، بندے اور خدا کے تعلق کا تصور اور اللہ کی ان تمام نعمتوں کا تصور جو ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں اور جن قوتوں کو اللہ نے ہمارے لیے مسخر کیا ہے ان کے بارے میں یہ زندہ تصور کہ یہ تو اللہ کے بہت بڑے انعامات ہیں جو انسان پر ہوئے ہیں۔ جن کا کوئی بدلہ انسان اللہ کو نہیں دے سکتا وہ اللہ کے فضل و کرم کا بدلہ دینے پر تو قادر ہی نہیں۔ اس لیے وہ نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اللہ کے ہاں حاضر ہونے سے ہر وقت ڈرتے رہیں کہ حساب و کتاب میں مارے نہ جائیں۔ یہ سب احساسات اس بات کے ضامن ہیں کہ انسان کا دل ہر وقت بیدار رہے ، حساس رہے اور اللہ کی نگرانی کا ہر وقت خیال کرے۔ اور کسی بھی وقت اس پر غفلت اور نسیان کی حالت طاری نہ ہو۔
٭٭٭
اور اس کے بعد یہ بات کہ فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ یہ ان کا زعم تھا اور حقیقت کے مطابق ان کا افسانوی عقیدہ تھا۔
الزخرف 43:13
آیت نمبر 9 تا 14
عربوں کے اندر خدا پر یقین تھا ، وہ ملت ابراہیمی پر تھے۔ لیکن عربوں کے اندر ملت ابراہیمی کی بگڑی ہوئی شکل رہ گئی تھی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ توحید کی جگہ شرف اور دوسرے افسانے اس میں داخل ہوگئے تھے۔ بہرحال وجود باری کے وہ قائل تھے کیونکہ فطرت انسانی بہرحال اس کا انکار نہیں کرسکتی کہ ایک خالق ہے ، جو اللہ ہے۔ کیونکہ کسی خالق کا انکار کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا۔ اور کوئی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عظیم اور ہولناک کائنات خالق کے بغیر پیدا ہوگئی۔ اس کائنات کو اللہ کے سوا کوئی اور پیدا بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس عظیم کائنات کا خالق تو اس سے بھی عظیم اور طاقتور ہونا چاہئے لیکن وہ یہاں آکر رک جاتے تھے اور خود اپنے عقیدے کے لازمی تقاضوں کو تسلیم نہ کرتے تھے۔
ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔۔۔ العزیز العلیم (43 : 9) “ اگر تم ان سے پوچھو کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے ” ۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ دو صفات عزیز و زبردست اور علیم یہ کفار کا قول نہ تھا۔ وہ تو صرف اسی قدر مانتے تھے کہ وہ اللہ ہے وہ اللہ وہ صفات نہ مانتے تھے جو اسلام اور قرآن نے پیش کیں۔ ایسی صفات جو ان کی زندگی پر مثبت اثر ڈالیں۔ جو ان کی زندگی اور اس کائنات کو بیک وقت عملاً چلائیں۔ وہ اللہ کو بس اس کائنات کا خالق مانتے تھے۔ خود اپنا خالق بھی اللہ کو مانتے تھے لیکن زندگی کو عملاً چلانے کے لئے پھر انہوں نے کچھ دوسری ہستیاں بنا رکھی تھیں۔ کیونکہ اللہ کی ایسی صفات سے متعارف نہ تھے جن کے بعد پھر انہیں شرک کی ضرورت نہ پڑے ۔ اور عقیدہ شرک انہیں پوچ اور بےوقعت نظر آئے۔
قرآن مجید یہاں ان کو یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس خدا کو تم خالق السموات والارض سمجھتے ہو۔ وہ العزیز بھی ہے اور العلیم بھی ہے۔ وہ قادر بھی ہے ، وہ علیم و عارف بھی ہے۔ چناچہ اللہ ان کے اس اعتراف کو بنیاد بنا کر ان کو درج ذیل اعترافات پر مجبور کرتا ہے۔ غرض ان کو ایک قدم آگے بڑھا کر ان کو یہ بتاتا ہے کہ تخلیق کے بعد اللہ نے تم پر یہ فضل کیا :
الذی جعل لکم ۔۔۔۔۔۔ لعلکم تھتدون (43 : 10) “ وہی نا جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دئیے تا کہ تم اپنی منزل کی راہ پاسکو ”۔ یہ حقیقت کہ اللہ نے انسان کے لئے اس زمین کو گہوارہ بنایا اسے ہر دور کے انسان نے اپنے حدود علم کے مطابق سمجھا ہے اور اس کی تصویر بنائی ہے۔ جن لوگوں نے پہلی مرتبہ اس کو سنا ہوگا ، انہوں نے بھی یہ سمجھا ہوگا کہ اللہ نے زمین کو اس قابل بنایا کہ وہ ان کے قدموں کے نیچے چلنے کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زراعت کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زندگی اور نباتات کے لئے موزوں ہے لیکن آج ہم اس بات کو کہ زمین تمہارے لیے گہوارہ بنا دی گئی ذرا زیادہ وسعت اور گہرائی کے ساتھ سمجھ رہے ہیں۔ جس حد تک ہم نے اس زمین کے بارے میں معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اس کی بعید و قریب تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کرلی ہیں بشرطیکہ ہمارے اپنے علوم کے بارے میں جو نظریات قائم ہوتے ہیں وہ ہوں بھی درست اور ہم جو اندازے اور تخمینے لگاتے ہیں وہ صحیح ثابت ہوجائیں۔ ہم سے بعد میں آنے والی نسلیں ان کے بارے میں ہم سے بھی زیادہ سمجھیں گی۔ یوں اس آیت کا مفہوم وسعت اختیار کرتا جائے گا۔ جس قدر ہم علم میں آگے بڑھیں گے ، علم و معرفت کی فتوحات کی وسعت کے ساتھ ساتھ اس آیت کے معانی بھی وسیع ہوتے جائیں گے اور یوں انسانی جہالت کا پردہ دور تر جاتا رہے گا۔
ہم آج جانتے ہیں کہ یہ زمین انسان کے لئے کس قدر اچھا گہوارہ بنائی گئی ہے اور اس کے اندر انسان اپنے لیے زندگی کی کس قدر مختلف راہیں تلاش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کرۂ ارض مختلف مراحل سے گزر کر یہاں تک یعنی اپنی موجودہ حالت تک پہنچی ہے اور انسان کے لئے گہوارہ بنائی گئی ہے۔ ان مراحل میں سے ایک مرحلہ یہ تھا کہ اس پوری زمین کی سطح ایک سخت چٹان تھی۔ اس کے بعد اس پر جگہ جگہ مٹی جمع ہوئی اور اس میں نباتات اگنا شروع ہوئے اور اس کی سطح پر جو ہائیڈروجن گیس اور آکسیجن گیس موجود تھی ، ان کے ملاپ سے پانی وجود میں آگیا۔ پھر اپنی گردش محوری کے نتیجے میں اس کے دن کے اندر اس قدر معتدل حرارت پیدا ہوئی کہ وہ حیوانات کی زندگی کے لئے مناسب ہوگئی۔ اور اس کی رفتار گردش محوری کو یوں رکھا گیا کہ اس کی سطح پر چیزوں کا کھڑا رہنا ممکن ہوا۔ انسان مکانات اور دوسری چیزیں بکھر کر ہوا میں نہیں اڑ گئیں۔
پھر اللہ نے اس زمین کے اندر کشش ثقل پیدا کی ۔ یوں ہوا کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا جس کے اندر زندگی ممکن ہوئی۔ اگر اس زمین کے اردگرد پائی جانے والی ہوا زمین کی جاذبیت سے چھوٹ جائے تو زمین پر کسی چیز کا زندہ رہنا ممکن نہ ہو ، دوسرے اجرام فلکی کی سطح پر چونکہ جاذبیت نہیں ہے یا اس سے کمزور ہے تو وہاں حیات ممکن نہیں ہوسکی۔ ان کر ات سے ہوا چلی گئی۔ مثلاً چاند کے اوپر کوئی ہوا نہیں ہے۔ یہ جاذبیت اس قدر متوازن ہے کہ حرکت زمین کی وجہ سے اشیاء کو دور پھینکنے کا جو عمل پیدا ہوتا ہے اس کے اندر یہ توازن پیدا کردیتی ہے۔ یوں تمام اشیاء اور زندہ چیزیں بکھرنے اور اڑ جانے کے عمل سے محفوظ ہیں۔ اور یہاں زمین کی سطح پر ان کا ٹھہرنا اور چلنا بالکل ممکن ہے۔ اگر یہ جاذبیت موجودہ مقدار سے بڑھ جائے تو تمام زندہ اور مردہ چیزیں زمین کے ساتھ لیٹ جائیں۔ انسانوں کے لئے قدم اٹھانا ممکن نہ ہو ، یا بہت مشکل ہو اور اس کے لئے بہت ہی قوت صرف کرنی پڑے اور دوسری جانب سے انسان پر ہوا کا دباؤ بڑھ جائے تو انسان کو زمین کے ساتھ چپکا دے ۔ جس طرح ہم مچھروں اور مکھیوں کو پریشر کے ارتکاذ سے ہاتھ لگائے بغیر ہلاک کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ دباؤ اس سے کم ہوجائے جو ہے تو ہمارا سینہ اور ہماری شریانیں خون کے دباؤ کی وجہ سے پھٹ جائیں۔
اور زمین کو گہوارہ بنانے اور اس کے اوپر راستوں کو ہموار کرنے کے سلسلے میں ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خالق ارض و سمانے اس زمین کے اندر ایسی موافق قوتیں و دیعت فرمائی ہیں جو سب کی سب مل کر اس زمین پر زندگی کو سہل بناتی ہیں۔ اگر ان موافق حیات یا ممد حیات قوتوں میں سے ایک قوت بھی ناپید ہوجائے یا اس میں خلل واقع ہوجائے تو اس کرۂ ارض پر زندگی محال ہوجائے۔ بعض تو وہ ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ اور بعض اور ہیں۔ مثلاً اللہ نے اس کرۂ ارض پر پانیوں کی مقدار کو اس قدر رکھا ہے جو سمندروں ، دریاؤں کی شکل میں زمین کی سطح کے اوپر ہونے والے تمام مسموم گیسوں کو چوس لیتے ہیں اور زمین کی فضا کو آلودگی سے اس قدر صاف رکھا جاتا ہے کہ یہاں زندگی کا وجود ممکن ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے نباتات کو آکسیجن کے درمیان توازن کے قیام کا ذریعہ بنایا۔ وہ آکسیجن جس کو انسان سانس کے ذریعہ لیتا ہے اور اس آکسیجن کے درمیان جس کو نباتات چھوڑتے ہیں۔ اگر یہ توازن نہ ہوتا تو ایک عرصہ کے بعد انسان دم گھٹ کر مرجاتا۔
یہ اور اس قسم کے دوسرے مفہوم و معانی اس آیت میں شامل ہیں۔
الذی جعل ۔۔۔۔۔۔ فیھا سبلا (43 : 10) “ جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنائے ”۔ ہر دم اور ہر روز اس کے نئے نئے معانی منکشف ہو رہے ہیں اور یہ معانی اور مدلولات ان معانی پر اضافہ ہوتے جاتے ہیں جو اس آیت سے اس کے اول مخاطبین کرام سمجھتے تھے ۔ اور یہ سب اللہ حاکم سموات والارض کے علم کو بھی ظاہر کرتے ہیں اور اس کی قدرت کے بھی مظاہر ہیں۔ جو زبردست ہے اور نہایت حکمت والا ہے۔ یہ سب معانی ایک شعور رکھنے والے دل کو یہ دکھاتے ہیں کہ ایک خالق اور مدبر قوت موجود ہے جس قدر انسان کی نظر آگے بڑھتی ہے اور اس کی سوچ گہرائی تک جاتی ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ کوئی ایسی مخلوق نہیں جو آوارہ چھوڑ دی گئی ہو ، اور یہ کہ اس نے کسی کے آگے جواب نہیں دینا ہے بلکہ انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ ایک زبردست قوت والے مدبر نے ان کو پکڑ رکھا ہے اور وہ اس کے تمام امور کا والی ہے ، زندگی میں بھی ، زندگی کے بعد بھی۔
لعلکم تھتدون (43 : 10) “ تا کہ تم اپنی منزل مقصود پا سکو ”۔ اس کائنات پر اس طرح گہرائی کے ساتھ غور کرنا ، اور اس کے اندر پائے جانے والے نوامیس فطرت کا گہرا مطالعہ اس بات کا ضامن ہے کہ انسان کا دل و دماغ خالق کائنات کی طرف راہ لے۔ جس نے اس کائنات کے اندر اس قدر گہری تنظیم اور توازن رکھا ہے۔
زندگی کی نشوونما اور اس میں زندوں کے لئے سہولیات اور زمین کو ان کے لئے گہوارہ بنانے اور اس میں انسانوں کے لئے راستے بنانے کے بعد اب ایک قدم اور آگے :
والذی نزل ۔۔۔۔۔۔ کذلک تخرجون (43 : 11) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ مردہ کو جلا اٹھایا اسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ وہ پانی جو آسمانوں سے نازل کیا جاتا ہے اسے تو ہر انسان دیکھتا ہے اور جانتا ہے لیکن اس منظر کو اکثر لوگ یونہی دیکھ کر گزر جاتے ہیں اور اس پر انہیں کوئی تعجب نہیں ہوتا اور اس کے احساس و شعور میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ ہر وقت اور بسا اوقات نزول باران رحمت دیکھتے رہے ہیں لیکن حضرت محمد ﷺ بارش کے قطروں کو نہایت ہی محبت ، نہایت ہی دلچسپی اور نہایت مسرت سے دیکھتے تھے ، اس لیے کہ آپ کو یہ پختہ شعور حاصل تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے آرہے ہیں اس لیے کہ آپ کا زندہ و بیدار قلب اچھ طرح دیکھ رہا تھا کہ یہ قطرے اللہ کی صفت کے اعلیٰ نمونے ہیں۔ آپ ان میں دست قدرت کی کاریگری دیکھ رہے تھے۔ ان قطروں پر اس دل کو اسی طرح دیکھنا چاہئے جو اللہ تک پہنچا ہوا ہو اور اس کائنات کے اندر اللہ کے جاری کردہ نوامیس فطرت کو جانتا ہو۔ کیونکہ بارش کے یہ قطرے انہی قوانین قدرت کے نتائج ہیں۔ یہ نوامیس فطرت اس کائنات میں اللہ کی نظروں کے تحت اور اللہ کے دست قدرت کے ذریعہ ایک ایک قطرہ ہو کر گرتے ہیں۔ اس حقیقت کی ضرورت اور اس کے اثرات میں یہ سوچ کمی نہیں لا سکتی کہ یہ پانی دراصل بخارات تھے جو زمین سے اوپر فضا میں جا کر ٹھنڈے ہوگئے اور فضاؤں میں ان کے اندر اس قدر کثافت پیدا ہوگئی کہ بارش ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر زمین کو کس نے پیدا کیا۔ یہاں پانی کس نے بنایا۔ پھر ان پر حرارت کس نے مسلط کی اور اپنی کی ساخت کس نے اس طرح بنائی کہ وہ حرارت سے بخار بن جائے۔ پھر بخارات کے اندر یہ خاصیت کس نے رکھی کہ وہ اوپر جائیں ؟ اور اوپر پھر کثیف ہوجائیں۔ پھر یہ خصائص کس نے رکھے۔ یہ بخارات بجلیوں سے بھی بھر جائیں جو آپس میں ملیں تو پانی نیچے گرجائے اور پھر بجلی کیا چیز ہے ؟ غرض وہ تمام خصائص طبیعت کیا ہیں جن سے مل کر بارش بنتی ہے۔
سائنسی پڑھ کر دراصل ہم اپنے احساس کے پردوں کو اس قدر کثیف بنا دیتے ہیں کہ اس کائنات کے عجائبات کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا حالانکہ ہمیں چاہئے تو یہ ہے کہ سائنس کے ذریعہ ہم اپنے احساسات کو مزید تیز کردیں ، اس قدر تیز کہ دل خوف خدا سے کانپ اٹھیں۔
والذی ۔۔۔۔ ماء بقدر (43 : 11) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا ”۔ یہ پانی ایک اندازے کے اندر مقدر اور موزوں ہے ، نہ زیادہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو غرق کر دے ، نہ اس قدر کم ہوتا ہے کہ زمین خشک ہو کر زندگی کے قابل ہی نہ رہے۔ ہم یہ عجیب توازن اور مقدار دیکھ رہے ہیں۔ اور آج اسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ توازن زندگی کی ضروریات کے لئے ضروری ہے اور یہ ارادۂ الٰہیہ سے قائم ہوا۔
فانشرنا بہ بلدۃ میتا (43 : 11) “ اور اس کے ذریعہ مردہ زمین کو جلا اٹھایا ”۔ انشا سے مراد احیاء ہے اور ہر قسم کی زندگی پانی کے بعد آتی ہے کیونکہ اللہ نے ہر چیز کو پانی سے زندہ کیا۔
کذلک تخرجون (43 : 11) “ اس طرح تم ایک روز زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ جس نے پہلی مرتبہ زندہ کیا وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے۔ جس نے زندہ چیزوں کو پہلی مرتبہ مردہ زمین سے نکالا ، اس طرح وہی قیامت کے دن میدان حشر میں سب زندہ انسانوں کو اگا کر نکال لائے گا۔ جب ابتداء ہوگئی تو اعادہ اور تکرار مشکل نہیں رہتا۔ اس میں اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔
پھر یہ جانور جن کو یہ لوگ تقسیم کر کے کچھ اللہ کو دیتے ہیں اور کچھ اللہ کے سوا دوسرے شریکوں کو ، وہ تو اللہ نے اس لیے نہیں پیدا کئے کہ تم اس طرح کی تقسیم کرو ، یہ تو اس لیے تخلیق کیے گئے ہیں کہ یہ لوگوں کے لئے نعمت خداوندی کا کام کریں۔ لوگ ان پر اس طرح سوار ہوں جس طرح کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں اور ان کی اس تسخیر پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ اور اللہ کے انعامات کے مقابلے میں شکریہ ادا کریں۔
والذی خلق الازواج ۔۔۔۔۔ ما ترکبون (43 : 12) لتستوا علی ۔۔۔۔۔ لہ مقرنین (43 : 13) وانا الی ربنا لمنقلبون (43 : 14) “ وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کئے اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا۔ تا کہ تم ان کی پشت پر چڑھو اور ۔۔۔۔ پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ۔۔۔۔۔ قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی پلٹنا ہے ”۔
اللہ نے زندگی کے تسلسل کو زوجیت کے اصول پر رکھا ہے۔ تمام زندہ اشیاء جوڑے جوڑے ہیں۔ یہاں تک کہ پہلا خلیہ بھی اپنے ساتھ تذکیر زمانیت کے خصائص لیے ہوئے ہوتا ہے ، بلکہ سائنسی تحقیقات نے یہ بتا دیا ہے کہ پوری کائنات کا دارومدار ازواج پر ہے۔ اور ہم پر یہ تسلیم کریں کہ کائنات کی پہلی اکائی ذرہ ہے۔ جو منفی الیکٹرون اور مثبت پروٹون سے مرکب ہے تو یہ بھی جوڑا ہے اور طبیعی تحقیقات اسی نہج پر آگے جاری ہیں۔
بہرحال زندگی میں زوجیت کا نظام بالکل ظاہر ہے اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمام جوڑے پیدا کئے خواہ انسانوں کے ہوں یا حیوانوں کے :
وجعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون (43 : 12) “ اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا ”۔ یہاں اشارہ اسی طرف ہے کہ تمہیں خلیفۃ اللہ فی الارض بنایا اور اس زمین کی تمام قوتیں اور طاقتیں تمہارے لیے مسخر کیں۔ اس کے بعد ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ ان نعمتوں کا شکر لازم ہے۔ اس مرتبے کے آداب بجا لانا لازم ہے۔ اور جب بھی نعمت سامنے آئے ، منعم کو یاد کرو ، تا کہ دل خالق سے جڑے رہیں۔ زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں۔
لتستوا علی ظھورہ۔۔۔۔ لہ مقرنین (43 : 13) “ اور جب ان پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے ”۔ ہم تو اللہ کی نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت کے مقابلے میں نعمت کا بدلہ نعمت سے نہیں دے سکتے۔ ہم تو نعمتوں کے مقابلے میں صرف شکر کرسکتے ہیں پھر وہ یاد کریں کہ زمین پر سے اپنی خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد انہوں نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور وہ ان کو ان کے تمام اعمال پر جزا دے گا جو انہوں نے فریضہ خلافت سر انجام دینے کے سلسلے میں کئے اور یہاں ان پر انعامات کئے اور پوری دنیا کو ان کے لئے مسخر کیا۔
وانا الی ربنا لمنقلبون (43 : 14) “ اور ایک روز ہم نے اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ” ۔ یہ ہے منعم حقیقی کے حوالے سے ایک مسلمان کا رویہ اور طرز عمل۔ اللہ اس کے بارے میں ہمیں یاد دہانی فرماتا ہے کہ جب بھی کسی نعمت سے لطف اندوز ہوجاؤ تو رب کا شکر ادا کرو۔ کیونکہ تم ہر وقت اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہو لیکن نعمت اور شکر نعمت بھول جاتے ہو۔
یہ اسلامی آداب جو اللہ کی نعمتوں کے استعمال کے وقت سکھائے گئے ہیں ، یہ محض رسومات نہیں کہ رسماً یہ دعا پڑھ لی جائے جب بھی کوئی کسی سواری پر سوار ہو یا کشتی پر سوار ہو ، یا محض منتر کی طرح عبارات نہیں کہ ان کو پڑھ لیا جائے بلکہ ان عبارات کے معانی کو سمجھ کر ان کا شعور اپنے دل میں پیدا کرنا چاہیے۔ اللہ کی ذات کا تصور ، بندے اور خدا کے تعلق کا تصور اور اللہ کی ان تمام نعمتوں کا تصور جو ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں اور جن قوتوں کو اللہ نے ہمارے لیے مسخر کیا ہے ان کے بارے میں یہ زندہ تصور کہ یہ تو اللہ کے بہت بڑے انعامات ہیں جو انسان پر ہوئے ہیں۔ جن کا کوئی بدلہ انسان اللہ کو نہیں دے سکتا وہ اللہ کے فضل و کرم کا بدلہ دینے پر تو قادر ہی نہیں۔ اس لیے وہ نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اللہ کے ہاں حاضر ہونے سے ہر وقت ڈرتے رہیں کہ حساب و کتاب میں مارے نہ جائیں۔ یہ سب احساسات اس بات کے ضامن ہیں کہ انسان کا دل ہر وقت بیدار رہے ، حساس رہے اور اللہ کی نگرانی کا ہر وقت خیال کرے۔ اور کسی بھی وقت اس پر غفلت اور نسیان کی حالت طاری نہ ہو۔
٭٭٭
اور اس کے بعد یہ بات کہ فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ یہ ان کا زعم تھا اور حقیقت کے مطابق ان کا افسانوی عقیدہ تھا۔
الزخرف 43:14
آیت نمبر 9 تا 14
عربوں کے اندر خدا پر یقین تھا ، وہ ملت ابراہیمی پر تھے۔ لیکن عربوں کے اندر ملت ابراہیمی کی بگڑی ہوئی شکل رہ گئی تھی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ توحید کی جگہ شرف اور دوسرے افسانے اس میں داخل ہوگئے تھے۔ بہرحال وجود باری کے وہ قائل تھے کیونکہ فطرت انسانی بہرحال اس کا انکار نہیں کرسکتی کہ ایک خالق ہے ، جو اللہ ہے۔ کیونکہ کسی خالق کا انکار کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا۔ اور کوئی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عظیم اور ہولناک کائنات خالق کے بغیر پیدا ہوگئی۔ اس کائنات کو اللہ کے سوا کوئی اور پیدا بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس عظیم کائنات کا خالق تو اس سے بھی عظیم اور طاقتور ہونا چاہئے لیکن وہ یہاں آکر رک جاتے تھے اور خود اپنے عقیدے کے لازمی تقاضوں کو تسلیم نہ کرتے تھے۔
ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔۔۔ العزیز العلیم (43 : 9) “ اگر تم ان سے پوچھو کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے ” ۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ دو صفات عزیز و زبردست اور علیم یہ کفار کا قول نہ تھا۔ وہ تو صرف اسی قدر مانتے تھے کہ وہ اللہ ہے وہ اللہ وہ صفات نہ مانتے تھے جو اسلام اور قرآن نے پیش کیں۔ ایسی صفات جو ان کی زندگی پر مثبت اثر ڈالیں۔ جو ان کی زندگی اور اس کائنات کو بیک وقت عملاً چلائیں۔ وہ اللہ کو بس اس کائنات کا خالق مانتے تھے۔ خود اپنا خالق بھی اللہ کو مانتے تھے لیکن زندگی کو عملاً چلانے کے لئے پھر انہوں نے کچھ دوسری ہستیاں بنا رکھی تھیں۔ کیونکہ اللہ کی ایسی صفات سے متعارف نہ تھے جن کے بعد پھر انہیں شرک کی ضرورت نہ پڑے ۔ اور عقیدہ شرک انہیں پوچ اور بےوقعت نظر آئے۔
قرآن مجید یہاں ان کو یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس خدا کو تم خالق السموات والارض سمجھتے ہو۔ وہ العزیز بھی ہے اور العلیم بھی ہے۔ وہ قادر بھی ہے ، وہ علیم و عارف بھی ہے۔ چناچہ اللہ ان کے اس اعتراف کو بنیاد بنا کر ان کو درج ذیل اعترافات پر مجبور کرتا ہے۔ غرض ان کو ایک قدم آگے بڑھا کر ان کو یہ بتاتا ہے کہ تخلیق کے بعد اللہ نے تم پر یہ فضل کیا :
الذی جعل لکم ۔۔۔۔۔۔ لعلکم تھتدون (43 : 10) “ وہی نا جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دئیے تا کہ تم اپنی منزل کی راہ پاسکو ”۔ یہ حقیقت کہ اللہ نے انسان کے لئے اس زمین کو گہوارہ بنایا اسے ہر دور کے انسان نے اپنے حدود علم کے مطابق سمجھا ہے اور اس کی تصویر بنائی ہے۔ جن لوگوں نے پہلی مرتبہ اس کو سنا ہوگا ، انہوں نے بھی یہ سمجھا ہوگا کہ اللہ نے زمین کو اس قابل بنایا کہ وہ ان کے قدموں کے نیچے چلنے کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زراعت کے لئے موزوں ہے۔ پھر وہ زندگی اور نباتات کے لئے موزوں ہے لیکن آج ہم اس بات کو کہ زمین تمہارے لیے گہوارہ بنا دی گئی ذرا زیادہ وسعت اور گہرائی کے ساتھ سمجھ رہے ہیں۔ جس حد تک ہم نے اس زمین کے بارے میں معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اس کی بعید و قریب تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کرلی ہیں بشرطیکہ ہمارے اپنے علوم کے بارے میں جو نظریات قائم ہوتے ہیں وہ ہوں بھی درست اور ہم جو اندازے اور تخمینے لگاتے ہیں وہ صحیح ثابت ہوجائیں۔ ہم سے بعد میں آنے والی نسلیں ان کے بارے میں ہم سے بھی زیادہ سمجھیں گی۔ یوں اس آیت کا مفہوم وسعت اختیار کرتا جائے گا۔ جس قدر ہم علم میں آگے بڑھیں گے ، علم و معرفت کی فتوحات کی وسعت کے ساتھ ساتھ اس آیت کے معانی بھی وسیع ہوتے جائیں گے اور یوں انسانی جہالت کا پردہ دور تر جاتا رہے گا۔
ہم آج جانتے ہیں کہ یہ زمین انسان کے لئے کس قدر اچھا گہوارہ بنائی گئی ہے اور اس کے اندر انسان اپنے لیے زندگی کی کس قدر مختلف راہیں تلاش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کرۂ ارض مختلف مراحل سے گزر کر یہاں تک یعنی اپنی موجودہ حالت تک پہنچی ہے اور انسان کے لئے گہوارہ بنائی گئی ہے۔ ان مراحل میں سے ایک مرحلہ یہ تھا کہ اس پوری زمین کی سطح ایک سخت چٹان تھی۔ اس کے بعد اس پر جگہ جگہ مٹی جمع ہوئی اور اس میں نباتات اگنا شروع ہوئے اور اس کی سطح پر جو ہائیڈروجن گیس اور آکسیجن گیس موجود تھی ، ان کے ملاپ سے پانی وجود میں آگیا۔ پھر اپنی گردش محوری کے نتیجے میں اس کے دن کے اندر اس قدر معتدل حرارت پیدا ہوئی کہ وہ حیوانات کی زندگی کے لئے مناسب ہوگئی۔ اور اس کی رفتار گردش محوری کو یوں رکھا گیا کہ اس کی سطح پر چیزوں کا کھڑا رہنا ممکن ہوا۔ انسان مکانات اور دوسری چیزیں بکھر کر ہوا میں نہیں اڑ گئیں۔
پھر اللہ نے اس زمین کے اندر کشش ثقل پیدا کی ۔ یوں ہوا کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا جس کے اندر زندگی ممکن ہوئی۔ اگر اس زمین کے اردگرد پائی جانے والی ہوا زمین کی جاذبیت سے چھوٹ جائے تو زمین پر کسی چیز کا زندہ رہنا ممکن نہ ہو ، دوسرے اجرام فلکی کی سطح پر چونکہ جاذبیت نہیں ہے یا اس سے کمزور ہے تو وہاں حیات ممکن نہیں ہوسکی۔ ان کر ات سے ہوا چلی گئی۔ مثلاً چاند کے اوپر کوئی ہوا نہیں ہے۔ یہ جاذبیت اس قدر متوازن ہے کہ حرکت زمین کی وجہ سے اشیاء کو دور پھینکنے کا جو عمل پیدا ہوتا ہے اس کے اندر یہ توازن پیدا کردیتی ہے۔ یوں تمام اشیاء اور زندہ چیزیں بکھرنے اور اڑ جانے کے عمل سے محفوظ ہیں۔ اور یہاں زمین کی سطح پر ان کا ٹھہرنا اور چلنا بالکل ممکن ہے۔ اگر یہ جاذبیت موجودہ مقدار سے بڑھ جائے تو تمام زندہ اور مردہ چیزیں زمین کے ساتھ لیٹ جائیں۔ انسانوں کے لئے قدم اٹھانا ممکن نہ ہو ، یا بہت مشکل ہو اور اس کے لئے بہت ہی قوت صرف کرنی پڑے اور دوسری جانب سے انسان پر ہوا کا دباؤ بڑھ جائے تو انسان کو زمین کے ساتھ چپکا دے ۔ جس طرح ہم مچھروں اور مکھیوں کو پریشر کے ارتکاذ سے ہاتھ لگائے بغیر ہلاک کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ دباؤ اس سے کم ہوجائے جو ہے تو ہمارا سینہ اور ہماری شریانیں خون کے دباؤ کی وجہ سے پھٹ جائیں۔
اور زمین کو گہوارہ بنانے اور اس کے اوپر راستوں کو ہموار کرنے کے سلسلے میں ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خالق ارض و سمانے اس زمین کے اندر ایسی موافق قوتیں و دیعت فرمائی ہیں جو سب کی سب مل کر اس زمین پر زندگی کو سہل بناتی ہیں۔ اگر ان موافق حیات یا ممد حیات قوتوں میں سے ایک قوت بھی ناپید ہوجائے یا اس میں خلل واقع ہوجائے تو اس کرۂ ارض پر زندگی محال ہوجائے۔ بعض تو وہ ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ اور بعض اور ہیں۔ مثلاً اللہ نے اس کرۂ ارض پر پانیوں کی مقدار کو اس قدر رکھا ہے جو سمندروں ، دریاؤں کی شکل میں زمین کی سطح کے اوپر ہونے والے تمام مسموم گیسوں کو چوس لیتے ہیں اور زمین کی فضا کو آلودگی سے اس قدر صاف رکھا جاتا ہے کہ یہاں زندگی کا وجود ممکن ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے نباتات کو آکسیجن کے درمیان توازن کے قیام کا ذریعہ بنایا۔ وہ آکسیجن جس کو انسان سانس کے ذریعہ لیتا ہے اور اس آکسیجن کے درمیان جس کو نباتات چھوڑتے ہیں۔ اگر یہ توازن نہ ہوتا تو ایک عرصہ کے بعد انسان دم گھٹ کر مرجاتا۔
یہ اور اس قسم کے دوسرے مفہوم و معانی اس آیت میں شامل ہیں۔
الذی جعل ۔۔۔۔۔۔ فیھا سبلا (43 : 10) “ جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنائے ”۔ ہر دم اور ہر روز اس کے نئے نئے معانی منکشف ہو رہے ہیں اور یہ معانی اور مدلولات ان معانی پر اضافہ ہوتے جاتے ہیں جو اس آیت سے اس کے اول مخاطبین کرام سمجھتے تھے ۔ اور یہ سب اللہ حاکم سموات والارض کے علم کو بھی ظاہر کرتے ہیں اور اس کی قدرت کے بھی مظاہر ہیں۔ جو زبردست ہے اور نہایت حکمت والا ہے۔ یہ سب معانی ایک شعور رکھنے والے دل کو یہ دکھاتے ہیں کہ ایک خالق اور مدبر قوت موجود ہے جس قدر انسان کی نظر آگے بڑھتی ہے اور اس کی سوچ گہرائی تک جاتی ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ کوئی ایسی مخلوق نہیں جو آوارہ چھوڑ دی گئی ہو ، اور یہ کہ اس نے کسی کے آگے جواب نہیں دینا ہے بلکہ انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ ایک زبردست قوت والے مدبر نے ان کو پکڑ رکھا ہے اور وہ اس کے تمام امور کا والی ہے ، زندگی میں بھی ، زندگی کے بعد بھی۔
لعلکم تھتدون (43 : 10) “ تا کہ تم اپنی منزل مقصود پا سکو ”۔ اس کائنات پر اس طرح گہرائی کے ساتھ غور کرنا ، اور اس کے اندر پائے جانے والے نوامیس فطرت کا گہرا مطالعہ اس بات کا ضامن ہے کہ انسان کا دل و دماغ خالق کائنات کی طرف راہ لے۔ جس نے اس کائنات کے اندر اس قدر گہری تنظیم اور توازن رکھا ہے۔
زندگی کی نشوونما اور اس میں زندوں کے لئے سہولیات اور زمین کو ان کے لئے گہوارہ بنانے اور اس میں انسانوں کے لئے راستے بنانے کے بعد اب ایک قدم اور آگے :
والذی نزل ۔۔۔۔۔۔ کذلک تخرجون (43 : 11) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ مردہ کو جلا اٹھایا اسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ وہ پانی جو آسمانوں سے نازل کیا جاتا ہے اسے تو ہر انسان دیکھتا ہے اور جانتا ہے لیکن اس منظر کو اکثر لوگ یونہی دیکھ کر گزر جاتے ہیں اور اس پر انہیں کوئی تعجب نہیں ہوتا اور اس کے احساس و شعور میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ ہر وقت اور بسا اوقات نزول باران رحمت دیکھتے رہے ہیں لیکن حضرت محمد ﷺ بارش کے قطروں کو نہایت ہی محبت ، نہایت ہی دلچسپی اور نہایت مسرت سے دیکھتے تھے ، اس لیے کہ آپ کو یہ پختہ شعور حاصل تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے آرہے ہیں اس لیے کہ آپ کا زندہ و بیدار قلب اچھ طرح دیکھ رہا تھا کہ یہ قطرے اللہ کی صفت کے اعلیٰ نمونے ہیں۔ آپ ان میں دست قدرت کی کاریگری دیکھ رہے تھے۔ ان قطروں پر اس دل کو اسی طرح دیکھنا چاہئے جو اللہ تک پہنچا ہوا ہو اور اس کائنات کے اندر اللہ کے جاری کردہ نوامیس فطرت کو جانتا ہو۔ کیونکہ بارش کے یہ قطرے انہی قوانین قدرت کے نتائج ہیں۔ یہ نوامیس فطرت اس کائنات میں اللہ کی نظروں کے تحت اور اللہ کے دست قدرت کے ذریعہ ایک ایک قطرہ ہو کر گرتے ہیں۔ اس حقیقت کی ضرورت اور اس کے اثرات میں یہ سوچ کمی نہیں لا سکتی کہ یہ پانی دراصل بخارات تھے جو زمین سے اوپر فضا میں جا کر ٹھنڈے ہوگئے اور فضاؤں میں ان کے اندر اس قدر کثافت پیدا ہوگئی کہ بارش ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر زمین کو کس نے پیدا کیا۔ یہاں پانی کس نے بنایا۔ پھر ان پر حرارت کس نے مسلط کی اور اپنی کی ساخت کس نے اس طرح بنائی کہ وہ حرارت سے بخار بن جائے۔ پھر بخارات کے اندر یہ خاصیت کس نے رکھی کہ وہ اوپر جائیں ؟ اور اوپر پھر کثیف ہوجائیں۔ پھر یہ خصائص کس نے رکھے۔ یہ بخارات بجلیوں سے بھی بھر جائیں جو آپس میں ملیں تو پانی نیچے گرجائے اور پھر بجلی کیا چیز ہے ؟ غرض وہ تمام خصائص طبیعت کیا ہیں جن سے مل کر بارش بنتی ہے۔
سائنسی پڑھ کر دراصل ہم اپنے احساس کے پردوں کو اس قدر کثیف بنا دیتے ہیں کہ اس کائنات کے عجائبات کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا حالانکہ ہمیں چاہئے تو یہ ہے کہ سائنس کے ذریعہ ہم اپنے احساسات کو مزید تیز کردیں ، اس قدر تیز کہ دل خوف خدا سے کانپ اٹھیں۔
والذی ۔۔۔۔ ماء بقدر (43 : 11) “ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا ”۔ یہ پانی ایک اندازے کے اندر مقدر اور موزوں ہے ، نہ زیادہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو غرق کر دے ، نہ اس قدر کم ہوتا ہے کہ زمین خشک ہو کر زندگی کے قابل ہی نہ رہے۔ ہم یہ عجیب توازن اور مقدار دیکھ رہے ہیں۔ اور آج اسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ توازن زندگی کی ضروریات کے لئے ضروری ہے اور یہ ارادۂ الٰہیہ سے قائم ہوا۔
فانشرنا بہ بلدۃ میتا (43 : 11) “ اور اس کے ذریعہ مردہ زمین کو جلا اٹھایا ”۔ انشا سے مراد احیاء ہے اور ہر قسم کی زندگی پانی کے بعد آتی ہے کیونکہ اللہ نے ہر چیز کو پانی سے زندہ کیا۔
کذلک تخرجون (43 : 11) “ اس طرح تم ایک روز زمین سے برآمد کئے جاؤ گے ”۔ جس نے پہلی مرتبہ زندہ کیا وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے۔ جس نے زندہ چیزوں کو پہلی مرتبہ مردہ زمین سے نکالا ، اس طرح وہی قیامت کے دن میدان حشر میں سب زندہ انسانوں کو اگا کر نکال لائے گا۔ جب ابتداء ہوگئی تو اعادہ اور تکرار مشکل نہیں رہتا۔ اس میں اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔
پھر یہ جانور جن کو یہ لوگ تقسیم کر کے کچھ اللہ کو دیتے ہیں اور کچھ اللہ کے سوا دوسرے شریکوں کو ، وہ تو اللہ نے اس لیے نہیں پیدا کئے کہ تم اس طرح کی تقسیم کرو ، یہ تو اس لیے تخلیق کیے گئے ہیں کہ یہ لوگوں کے لئے نعمت خداوندی کا کام کریں۔ لوگ ان پر اس طرح سوار ہوں جس طرح کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں اور ان کی اس تسخیر پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ اور اللہ کے انعامات کے مقابلے میں شکریہ ادا کریں۔
والذی خلق الازواج ۔۔۔۔۔ ما ترکبون (43 : 12) لتستوا علی ۔۔۔۔۔ لہ مقرنین (43 : 13) وانا الی ربنا لمنقلبون (43 : 14) “ وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کئے اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا۔ تا کہ تم ان کی پشت پر چڑھو اور ۔۔۔۔ پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ۔۔۔۔۔ قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی پلٹنا ہے ”۔
اللہ نے زندگی کے تسلسل کو زوجیت کے اصول پر رکھا ہے۔ تمام زندہ اشیاء جوڑے جوڑے ہیں۔ یہاں تک کہ پہلا خلیہ بھی اپنے ساتھ تذکیر زمانیت کے خصائص لیے ہوئے ہوتا ہے ، بلکہ سائنسی تحقیقات نے یہ بتا دیا ہے کہ پوری کائنات کا دارومدار ازواج پر ہے۔ اور ہم پر یہ تسلیم کریں کہ کائنات کی پہلی اکائی ذرہ ہے۔ جو منفی الیکٹرون اور مثبت پروٹون سے مرکب ہے تو یہ بھی جوڑا ہے اور طبیعی تحقیقات اسی نہج پر آگے جاری ہیں۔
بہرحال زندگی میں زوجیت کا نظام بالکل ظاہر ہے اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمام جوڑے پیدا کئے خواہ انسانوں کے ہوں یا حیوانوں کے :
وجعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون (43 : 12) “ اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا ”۔ یہاں اشارہ اسی طرف ہے کہ تمہیں خلیفۃ اللہ فی الارض بنایا اور اس زمین کی تمام قوتیں اور طاقتیں تمہارے لیے مسخر کیں۔ اس کے بعد ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ ان نعمتوں کا شکر لازم ہے۔ اس مرتبے کے آداب بجا لانا لازم ہے۔ اور جب بھی نعمت سامنے آئے ، منعم کو یاد کرو ، تا کہ دل خالق سے جڑے رہیں۔ زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں۔
لتستوا علی ظھورہ۔۔۔۔ لہ مقرنین (43 : 13) “ اور جب ان پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے ”۔ ہم تو اللہ کی نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت کے مقابلے میں نعمت کا بدلہ نعمت سے نہیں دے سکتے۔ ہم تو نعمتوں کے مقابلے میں صرف شکر کرسکتے ہیں پھر وہ یاد کریں کہ زمین پر سے اپنی خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد انہوں نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور وہ ان کو ان کے تمام اعمال پر جزا دے گا جو انہوں نے فریضہ خلافت سر انجام دینے کے سلسلے میں کئے اور یہاں ان پر انعامات کئے اور پوری دنیا کو ان کے لئے مسخر کیا۔
وانا الی ربنا لمنقلبون (43 : 14) “ اور ایک روز ہم نے اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ” ۔ یہ ہے منعم حقیقی کے حوالے سے ایک مسلمان کا رویہ اور طرز عمل۔ اللہ اس کے بارے میں ہمیں یاد دہانی فرماتا ہے کہ جب بھی کسی نعمت سے لطف اندوز ہوجاؤ تو رب کا شکر ادا کرو۔ کیونکہ تم ہر وقت اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہو لیکن نعمت اور شکر نعمت بھول جاتے ہو۔
یہ اسلامی آداب جو اللہ کی نعمتوں کے استعمال کے وقت سکھائے گئے ہیں ، یہ محض رسومات نہیں کہ رسماً یہ دعا پڑھ لی جائے جب بھی کوئی کسی سواری پر سوار ہو یا کشتی پر سوار ہو ، یا محض منتر کی طرح عبارات نہیں کہ ان کو پڑھ لیا جائے بلکہ ان عبارات کے معانی کو سمجھ کر ان کا شعور اپنے دل میں پیدا کرنا چاہیے۔ اللہ کی ذات کا تصور ، بندے اور خدا کے تعلق کا تصور اور اللہ کی ان تمام نعمتوں کا تصور جو ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں اور جن قوتوں کو اللہ نے ہمارے لیے مسخر کیا ہے ان کے بارے میں یہ زندہ تصور کہ یہ تو اللہ کے بہت بڑے انعامات ہیں جو انسان پر ہوئے ہیں۔ جن کا کوئی بدلہ انسان اللہ کو نہیں دے سکتا وہ اللہ کے فضل و کرم کا بدلہ دینے پر تو قادر ہی نہیں۔ اس لیے وہ نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اللہ کے ہاں حاضر ہونے سے ہر وقت ڈرتے رہیں کہ حساب و کتاب میں مارے نہ جائیں۔ یہ سب احساسات اس بات کے ضامن ہیں کہ انسان کا دل ہر وقت بیدار رہے ، حساس رہے اور اللہ کی نگرانی کا ہر وقت خیال کرے۔ اور کسی بھی وقت اس پر غفلت اور نسیان کی حالت طاری نہ ہو۔
٭٭٭
اور اس کے بعد یہ بات کہ فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ یہ ان کا زعم تھا اور حقیقت کے مطابق ان کا افسانوی عقیدہ تھا۔
الزخرف 43:15
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (43 : 15) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اللہ کی صفت عبودیت سے محروم کردیا گیا۔ اور ان کو اللہ کی قریبی رشتہ داری کا مقام دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ ساری مخلوقات کی طرح مخلوق ہیں۔ اور اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو اللہ کی بندگی کے بجائے کوئی اور صفت دیں۔ اور ان کا اور ان کے رب کا کوئی اور تعلق بتائیں۔ جبکہ اللہ کی تمام مخلوقات۔۔۔ اس کے بندے بندیاں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کے دعوے کرتے ہیں وہ بلاشبہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان الانسان لکفور مبین (43 : 15) “ بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔
اس کے بعد ان کے خلاف ان کے عرف اور ان کی ذہنیت سے دلیل دی جاتی ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ان کو دعویٰ کس قدر غلط اور اللہ کے حق میں کس قدر توہین آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو۔
ام اتخذ مما یخلق بنت واصفکم بالبنین (43 : 16) “ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ”۔ اگر اللہ نے اولاد پیدا ہی کرنی تھی تو یہ کیسے ہوا کہ خود تو بیٹیاں پیدا کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا۔ اور کیا ان کے لئے ایسی بات کہنا مناسب ہے کہ خود وہ بیٹی پیدا ہونے سے بہت سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔
واذا بشر احدھم ۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (43 : 17) “ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ” ۔ کیا ادب ، احترام اور انسانیت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ جس اولاد کی پیدائش سے وہ خود کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اس کی نسبت رحمٰن کی طرف نہ کریں۔ خود تو یہ لوگ لڑکیاں ہونے پر اس قدر خفا ہوتے ہیں کہ چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور کسی کو منہ نہیں دکھاتے اور ولادت کو چھپاتے پھرتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ اس غم کی وجہ سے مر ہی جائیں۔ کیا وہ کمزور مخلوق جو زیورات میں پلتی ہے اور نہایت ہی ناز اور نخرے میں زندہ رہتی ہے اور اپنا ما فی الضمیر بھی پیش نہیں کرسکتی اور نہ جنگ و قتال میں حصہ لیتی ہے ، اس کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں ، جبکہ خود اپنے لیے ایسی اولاد چاہتے ہیں جو تیز و طرار ہو اور جنگ کے موقعے پر گھوڑ سوار ہو۔
غرض قرآن یہاں ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بحث کرتا ہے اور ان کو شرمندہ کرتا ہے کہ جس اولاد کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اگر تم نے یہ حماقت کرنی ہی تھی تو تم اللہ کے لئے ایسی نسبت کرتے جسے تم خود بھی اپنے لیے پسند کرتے ہو اگر یہ کفر تم نے کرنا ہی تھا۔ اب ان کے اس افسانوی عقیدے کو اس دوسرے زاویہ سے گھبرا جانا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ آخر کس بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسئلون (43 : 19) “ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دیا کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے۔ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ کیا جب فرشتے پیدا کئے جا رہے تھے تو یہ لوگ وہاں موجود تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں کیونکہ جو شخص ایک دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس چشم دید شہادت ہونی چاہئے جو اس کے دعوے کو ثابت کرے۔ وہ یہ دعویٰ تو نہ کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ ساخت نہیں دیکھی پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اور شہادت دیتے ہیں لہٰذا اب اس جھوٹی شہادت کے نتائج برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
ستکتب شھادتھم ویسئلون (43 : 19) “ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ”۔
اس کے بعد ان کی اس افتراء پردازی پر مزید بحث کی جاتی ہے اور اس کے لئے وہ جو جھوٹے دلائل لاتے تھے ان کا رد کیا جاتا ہے۔
وقالوا لو شاء ۔۔۔۔۔ الا یخرصون (43 : 20) “ وہ کہتے ہیں کہ اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے۔ محض تیز تکے لڑاتے ہیں ”۔ جب ان کو قوی دلائیل کے ذریعہ سے ہر طرف سے گھیرا جاتا ہے۔ اور ان کا یہ افسانوی عقیدہ ان کے سامنے تہس نہس ہوجاتا ہے تو پھر وہ نظریہ مشیت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں یہ کہ اللہ دراصل فرشتوں کی عبادت پر خوش ہے۔ اگر اللہ راضی نہ ہوتا تو ان کے لئے یہ عبادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ سختی سے ہمیں منع کردیتا۔
یہ دراصل ایک دھوکہ ہے ، یہ در ست ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی مشیت سے واقع ہوتی ہے لیکن اللہ کی مشیت کے دائرے میں تو یہ بات بھی ہے کہ انسان ہدایت بھی لے سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی لے سکتا ہے اور اللہ نے انسان پر یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرے اور اس پر اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور اگر انسان گمراہ اور کافر ہو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی مشیت نے اسے ہدایت و گمراہی دونوں کے قابل بنایا ہے۔
وہ مشیت الہٰیہ کے نظریہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ خود ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ لوگ فرشتوں کی پوجا کریں۔ یہ یقین وہ تو نہیں رکھتے۔
ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون (43 : 20) “ یہ اس معاملے کی حقیقت کو نہیں جانتے محض تیر تکے اڑاتے ہیں ”۔ اور اوہام و خرافات پر یقین کرتے ہیں۔
ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (43 : 21) “ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ”۔ اور ان کا دعویٰ اس کتاب کے نصوص پر مبنی ہے۔ اور اپنی یہ عبادت انہوں نے اس کتاب سے اخذ کی ہے۔ اور اس کے دلائل ان کے پاس موجود ہیں ؟ یوں ان لوگوں کے لئے نقلی دلیل کی راہ بھی بند کردی جاتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عقائد و نظریات ، واہی تباہی باتوں اور اندھیرے میں تیر تکے چلانے سے ثابت نہیں ہوتے ، محض ظن وتخمین سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ عقائد تو اللہ کی کتابوں سے صریح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔
اب آخر میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے اس افسانوی عقیدے پر واحد دلیل جو عینی شہادت پر مبنی نہیں ہے اور کسی کتاب سے بھی ماخوذ نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ :
بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (43 : 22) “ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”۔ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز استدلال ہے۔ پھر دلیل کے اعتبار سے بھی یہ ایک گری ہوئی بات ہے۔ یہ محض نقالی اور تقلید ہے اور اس پر کوئی غوروفکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ اور صحیح استدلال اور منطقی انداز میں اس پر غور نہیں کیا ۔ ان کی مثال ایک ریوڑ کی طرح ہے جسے ہانکنے والا جس طرف چاہتا ہے ، لے جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کہ اس طرف ہمیں کیوں چلایا جا رہا ہے ، ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ؟
اسلام فکری اور آزادی کا بھی ایک پیغام ہے اور شعور و نظریہ کی آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اسلام اس قسم کی جامد تقلید کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ گناہ اور گمراہی کو محض اس لیے برداشت نہیں کرتا کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا کرتے تھے۔ ہر کام ، ہر سند ار ہر بات پر دلیل چاہئے۔ ہر اقدام سے پہلے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسے علم و یقین پر مبنی خود مختاری دی گئی ہے۔
آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے افسانوی عقائد جنہوں نے اختیار کئے اور محض نقالی اور جامد تقلید کی راہ اختیار کی ایسے لوگوں کا انجام تاریخ میں کیا ہوا ، جن کے سامنے حقیقت بیان کردی گئی اور ان کو یہ بہانہ بھی ختم کردیا گیا کہ ہم تک تو صحیح بات ہی نہیں پہنچی اور پھر بھی انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرنے سے منہ موڑا۔
وکذلک ما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ مقتدون (43 : 23) قال اولو ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (43 : 24) فانتقمنا ۔۔۔۔۔ عاقبۃ المکذبین (43 : 25) “ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں۔ آخرت کا ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ”۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام روگردانی کرنے والوں کی دلیل و مزاج ایک ہوتے ہیں۔ یہ کہ “ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ”۔ بس نقالی آنکھیں بند کر کے ، عقل اندھی ہوجاتی ہے جو لوگ غوروفکر کے بغیر تقلید کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے سامنے جو بات پیش کی جاتی ہے وہ تقلیدی نظریات و اعمال سے زیادہ معقول کیوں نہ ہو۔ اس کی پشت پر دلائل و شواہد کا انبار کیوں نہ ہو۔ ایسی فطرت کے لوگوں کو ہلاک کرنا ہی بہتر ہے جو آنکھ نہیں کھولتے کہ دیکھیں ، دل نہیں کھولتے کہ سمجھیں دماغ نہیں کھولتے کہ دلائل کا وزن کریں۔
اس قسم کے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے اور ان کے سامنے اسے پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھ کر اس سے بچیں اور اس راہ کے انجام سے خبردار ہوں۔
الزخرف 43:16
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (43 : 15) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اللہ کی صفت عبودیت سے محروم کردیا گیا۔ اور ان کو اللہ کی قریبی رشتہ داری کا مقام دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ ساری مخلوقات کی طرح مخلوق ہیں۔ اور اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو اللہ کی بندگی کے بجائے کوئی اور صفت دیں۔ اور ان کا اور ان کے رب کا کوئی اور تعلق بتائیں۔ جبکہ اللہ کی تمام مخلوقات۔۔۔ اس کے بندے بندیاں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کے دعوے کرتے ہیں وہ بلاشبہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان الانسان لکفور مبین (43 : 15) “ بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔
اس کے بعد ان کے خلاف ان کے عرف اور ان کی ذہنیت سے دلیل دی جاتی ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ان کو دعویٰ کس قدر غلط اور اللہ کے حق میں کس قدر توہین آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو۔
ام اتخذ مما یخلق بنت واصفکم بالبنین (43 : 16) “ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ”۔ اگر اللہ نے اولاد پیدا ہی کرنی تھی تو یہ کیسے ہوا کہ خود تو بیٹیاں پیدا کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا۔ اور کیا ان کے لئے ایسی بات کہنا مناسب ہے کہ خود وہ بیٹی پیدا ہونے سے بہت سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔
واذا بشر احدھم ۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (43 : 17) “ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ” ۔ کیا ادب ، احترام اور انسانیت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ جس اولاد کی پیدائش سے وہ خود کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اس کی نسبت رحمٰن کی طرف نہ کریں۔ خود تو یہ لوگ لڑکیاں ہونے پر اس قدر خفا ہوتے ہیں کہ چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور کسی کو منہ نہیں دکھاتے اور ولادت کو چھپاتے پھرتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ اس غم کی وجہ سے مر ہی جائیں۔ کیا وہ کمزور مخلوق جو زیورات میں پلتی ہے اور نہایت ہی ناز اور نخرے میں زندہ رہتی ہے اور اپنا ما فی الضمیر بھی پیش نہیں کرسکتی اور نہ جنگ و قتال میں حصہ لیتی ہے ، اس کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں ، جبکہ خود اپنے لیے ایسی اولاد چاہتے ہیں جو تیز و طرار ہو اور جنگ کے موقعے پر گھوڑ سوار ہو۔
غرض قرآن یہاں ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بحث کرتا ہے اور ان کو شرمندہ کرتا ہے کہ جس اولاد کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اگر تم نے یہ حماقت کرنی ہی تھی تو تم اللہ کے لئے ایسی نسبت کرتے جسے تم خود بھی اپنے لیے پسند کرتے ہو اگر یہ کفر تم نے کرنا ہی تھا۔ اب ان کے اس افسانوی عقیدے کو اس دوسرے زاویہ سے گھبرا جانا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ آخر کس بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسئلون (43 : 19) “ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دیا کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے۔ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ کیا جب فرشتے پیدا کئے جا رہے تھے تو یہ لوگ وہاں موجود تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں کیونکہ جو شخص ایک دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس چشم دید شہادت ہونی چاہئے جو اس کے دعوے کو ثابت کرے۔ وہ یہ دعویٰ تو نہ کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ ساخت نہیں دیکھی پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اور شہادت دیتے ہیں لہٰذا اب اس جھوٹی شہادت کے نتائج برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
ستکتب شھادتھم ویسئلون (43 : 19) “ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ”۔
اس کے بعد ان کی اس افتراء پردازی پر مزید بحث کی جاتی ہے اور اس کے لئے وہ جو جھوٹے دلائل لاتے تھے ان کا رد کیا جاتا ہے۔
وقالوا لو شاء ۔۔۔۔۔ الا یخرصون (43 : 20) “ وہ کہتے ہیں کہ اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے۔ محض تیز تکے لڑاتے ہیں ”۔ جب ان کو قوی دلائیل کے ذریعہ سے ہر طرف سے گھیرا جاتا ہے۔ اور ان کا یہ افسانوی عقیدہ ان کے سامنے تہس نہس ہوجاتا ہے تو پھر وہ نظریہ مشیت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں یہ کہ اللہ دراصل فرشتوں کی عبادت پر خوش ہے۔ اگر اللہ راضی نہ ہوتا تو ان کے لئے یہ عبادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ سختی سے ہمیں منع کردیتا۔
یہ دراصل ایک دھوکہ ہے ، یہ در ست ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی مشیت سے واقع ہوتی ہے لیکن اللہ کی مشیت کے دائرے میں تو یہ بات بھی ہے کہ انسان ہدایت بھی لے سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی لے سکتا ہے اور اللہ نے انسان پر یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرے اور اس پر اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور اگر انسان گمراہ اور کافر ہو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی مشیت نے اسے ہدایت و گمراہی دونوں کے قابل بنایا ہے۔
وہ مشیت الہٰیہ کے نظریہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ خود ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ لوگ فرشتوں کی پوجا کریں۔ یہ یقین وہ تو نہیں رکھتے۔
ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون (43 : 20) “ یہ اس معاملے کی حقیقت کو نہیں جانتے محض تیر تکے اڑاتے ہیں ”۔ اور اوہام و خرافات پر یقین کرتے ہیں۔
ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (43 : 21) “ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ”۔ اور ان کا دعویٰ اس کتاب کے نصوص پر مبنی ہے۔ اور اپنی یہ عبادت انہوں نے اس کتاب سے اخذ کی ہے۔ اور اس کے دلائل ان کے پاس موجود ہیں ؟ یوں ان لوگوں کے لئے نقلی دلیل کی راہ بھی بند کردی جاتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عقائد و نظریات ، واہی تباہی باتوں اور اندھیرے میں تیر تکے چلانے سے ثابت نہیں ہوتے ، محض ظن وتخمین سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ عقائد تو اللہ کی کتابوں سے صریح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔
اب آخر میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے اس افسانوی عقیدے پر واحد دلیل جو عینی شہادت پر مبنی نہیں ہے اور کسی کتاب سے بھی ماخوذ نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ :
بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (43 : 22) “ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”۔ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز استدلال ہے۔ پھر دلیل کے اعتبار سے بھی یہ ایک گری ہوئی بات ہے۔ یہ محض نقالی اور تقلید ہے اور اس پر کوئی غوروفکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ اور صحیح استدلال اور منطقی انداز میں اس پر غور نہیں کیا ۔ ان کی مثال ایک ریوڑ کی طرح ہے جسے ہانکنے والا جس طرف چاہتا ہے ، لے جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کہ اس طرف ہمیں کیوں چلایا جا رہا ہے ، ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ؟
اسلام فکری اور آزادی کا بھی ایک پیغام ہے اور شعور و نظریہ کی آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اسلام اس قسم کی جامد تقلید کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ گناہ اور گمراہی کو محض اس لیے برداشت نہیں کرتا کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا کرتے تھے۔ ہر کام ، ہر سند ار ہر بات پر دلیل چاہئے۔ ہر اقدام سے پہلے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسے علم و یقین پر مبنی خود مختاری دی گئی ہے۔
آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے افسانوی عقائد جنہوں نے اختیار کئے اور محض نقالی اور جامد تقلید کی راہ اختیار کی ایسے لوگوں کا انجام تاریخ میں کیا ہوا ، جن کے سامنے حقیقت بیان کردی گئی اور ان کو یہ بہانہ بھی ختم کردیا گیا کہ ہم تک تو صحیح بات ہی نہیں پہنچی اور پھر بھی انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرنے سے منہ موڑا۔
وکذلک ما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ مقتدون (43 : 23) قال اولو ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (43 : 24) فانتقمنا ۔۔۔۔۔ عاقبۃ المکذبین (43 : 25) “ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں۔ آخرت کا ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ”۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام روگردانی کرنے والوں کی دلیل و مزاج ایک ہوتے ہیں۔ یہ کہ “ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ”۔ بس نقالی آنکھیں بند کر کے ، عقل اندھی ہوجاتی ہے جو لوگ غوروفکر کے بغیر تقلید کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے سامنے جو بات پیش کی جاتی ہے وہ تقلیدی نظریات و اعمال سے زیادہ معقول کیوں نہ ہو۔ اس کی پشت پر دلائل و شواہد کا انبار کیوں نہ ہو۔ ایسی فطرت کے لوگوں کو ہلاک کرنا ہی بہتر ہے جو آنکھ نہیں کھولتے کہ دیکھیں ، دل نہیں کھولتے کہ سمجھیں دماغ نہیں کھولتے کہ دلائل کا وزن کریں۔
اس قسم کے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے اور ان کے سامنے اسے پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھ کر اس سے بچیں اور اس راہ کے انجام سے خبردار ہوں۔
الزخرف 43:17
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (43 : 15) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اللہ کی صفت عبودیت سے محروم کردیا گیا۔ اور ان کو اللہ کی قریبی رشتہ داری کا مقام دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ ساری مخلوقات کی طرح مخلوق ہیں۔ اور اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو اللہ کی بندگی کے بجائے کوئی اور صفت دیں۔ اور ان کا اور ان کے رب کا کوئی اور تعلق بتائیں۔ جبکہ اللہ کی تمام مخلوقات۔۔۔ اس کے بندے بندیاں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کے دعوے کرتے ہیں وہ بلاشبہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان الانسان لکفور مبین (43 : 15) “ بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔
اس کے بعد ان کے خلاف ان کے عرف اور ان کی ذہنیت سے دلیل دی جاتی ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ان کو دعویٰ کس قدر غلط اور اللہ کے حق میں کس قدر توہین آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو۔
ام اتخذ مما یخلق بنت واصفکم بالبنین (43 : 16) “ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ”۔ اگر اللہ نے اولاد پیدا ہی کرنی تھی تو یہ کیسے ہوا کہ خود تو بیٹیاں پیدا کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا۔ اور کیا ان کے لئے ایسی بات کہنا مناسب ہے کہ خود وہ بیٹی پیدا ہونے سے بہت سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔
واذا بشر احدھم ۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (43 : 17) “ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ” ۔ کیا ادب ، احترام اور انسانیت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ جس اولاد کی پیدائش سے وہ خود کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اس کی نسبت رحمٰن کی طرف نہ کریں۔ خود تو یہ لوگ لڑکیاں ہونے پر اس قدر خفا ہوتے ہیں کہ چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور کسی کو منہ نہیں دکھاتے اور ولادت کو چھپاتے پھرتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ اس غم کی وجہ سے مر ہی جائیں۔ کیا وہ کمزور مخلوق جو زیورات میں پلتی ہے اور نہایت ہی ناز اور نخرے میں زندہ رہتی ہے اور اپنا ما فی الضمیر بھی پیش نہیں کرسکتی اور نہ جنگ و قتال میں حصہ لیتی ہے ، اس کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں ، جبکہ خود اپنے لیے ایسی اولاد چاہتے ہیں جو تیز و طرار ہو اور جنگ کے موقعے پر گھوڑ سوار ہو۔
غرض قرآن یہاں ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بحث کرتا ہے اور ان کو شرمندہ کرتا ہے کہ جس اولاد کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اگر تم نے یہ حماقت کرنی ہی تھی تو تم اللہ کے لئے ایسی نسبت کرتے جسے تم خود بھی اپنے لیے پسند کرتے ہو اگر یہ کفر تم نے کرنا ہی تھا۔ اب ان کے اس افسانوی عقیدے کو اس دوسرے زاویہ سے گھبرا جانا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ آخر کس بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسئلون (43 : 19) “ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دیا کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے۔ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ کیا جب فرشتے پیدا کئے جا رہے تھے تو یہ لوگ وہاں موجود تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں کیونکہ جو شخص ایک دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس چشم دید شہادت ہونی چاہئے جو اس کے دعوے کو ثابت کرے۔ وہ یہ دعویٰ تو نہ کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ ساخت نہیں دیکھی پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اور شہادت دیتے ہیں لہٰذا اب اس جھوٹی شہادت کے نتائج برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
ستکتب شھادتھم ویسئلون (43 : 19) “ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ”۔
اس کے بعد ان کی اس افتراء پردازی پر مزید بحث کی جاتی ہے اور اس کے لئے وہ جو جھوٹے دلائل لاتے تھے ان کا رد کیا جاتا ہے۔
وقالوا لو شاء ۔۔۔۔۔ الا یخرصون (43 : 20) “ وہ کہتے ہیں کہ اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے۔ محض تیز تکے لڑاتے ہیں ”۔ جب ان کو قوی دلائیل کے ذریعہ سے ہر طرف سے گھیرا جاتا ہے۔ اور ان کا یہ افسانوی عقیدہ ان کے سامنے تہس نہس ہوجاتا ہے تو پھر وہ نظریہ مشیت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں یہ کہ اللہ دراصل فرشتوں کی عبادت پر خوش ہے۔ اگر اللہ راضی نہ ہوتا تو ان کے لئے یہ عبادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ سختی سے ہمیں منع کردیتا۔
یہ دراصل ایک دھوکہ ہے ، یہ در ست ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی مشیت سے واقع ہوتی ہے لیکن اللہ کی مشیت کے دائرے میں تو یہ بات بھی ہے کہ انسان ہدایت بھی لے سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی لے سکتا ہے اور اللہ نے انسان پر یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرے اور اس پر اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور اگر انسان گمراہ اور کافر ہو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی مشیت نے اسے ہدایت و گمراہی دونوں کے قابل بنایا ہے۔
وہ مشیت الہٰیہ کے نظریہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ خود ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ لوگ فرشتوں کی پوجا کریں۔ یہ یقین وہ تو نہیں رکھتے۔
ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون (43 : 20) “ یہ اس معاملے کی حقیقت کو نہیں جانتے محض تیر تکے اڑاتے ہیں ”۔ اور اوہام و خرافات پر یقین کرتے ہیں۔
ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (43 : 21) “ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ”۔ اور ان کا دعویٰ اس کتاب کے نصوص پر مبنی ہے۔ اور اپنی یہ عبادت انہوں نے اس کتاب سے اخذ کی ہے۔ اور اس کے دلائل ان کے پاس موجود ہیں ؟ یوں ان لوگوں کے لئے نقلی دلیل کی راہ بھی بند کردی جاتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عقائد و نظریات ، واہی تباہی باتوں اور اندھیرے میں تیر تکے چلانے سے ثابت نہیں ہوتے ، محض ظن وتخمین سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ عقائد تو اللہ کی کتابوں سے صریح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔
اب آخر میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے اس افسانوی عقیدے پر واحد دلیل جو عینی شہادت پر مبنی نہیں ہے اور کسی کتاب سے بھی ماخوذ نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ :
بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (43 : 22) “ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”۔ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز استدلال ہے۔ پھر دلیل کے اعتبار سے بھی یہ ایک گری ہوئی بات ہے۔ یہ محض نقالی اور تقلید ہے اور اس پر کوئی غوروفکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ اور صحیح استدلال اور منطقی انداز میں اس پر غور نہیں کیا ۔ ان کی مثال ایک ریوڑ کی طرح ہے جسے ہانکنے والا جس طرف چاہتا ہے ، لے جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کہ اس طرف ہمیں کیوں چلایا جا رہا ہے ، ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ؟
اسلام فکری اور آزادی کا بھی ایک پیغام ہے اور شعور و نظریہ کی آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اسلام اس قسم کی جامد تقلید کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ گناہ اور گمراہی کو محض اس لیے برداشت نہیں کرتا کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا کرتے تھے۔ ہر کام ، ہر سند ار ہر بات پر دلیل چاہئے۔ ہر اقدام سے پہلے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسے علم و یقین پر مبنی خود مختاری دی گئی ہے۔
آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے افسانوی عقائد جنہوں نے اختیار کئے اور محض نقالی اور جامد تقلید کی راہ اختیار کی ایسے لوگوں کا انجام تاریخ میں کیا ہوا ، جن کے سامنے حقیقت بیان کردی گئی اور ان کو یہ بہانہ بھی ختم کردیا گیا کہ ہم تک تو صحیح بات ہی نہیں پہنچی اور پھر بھی انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرنے سے منہ موڑا۔
وکذلک ما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ مقتدون (43 : 23) قال اولو ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (43 : 24) فانتقمنا ۔۔۔۔۔ عاقبۃ المکذبین (43 : 25) “ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں۔ آخرت کا ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ”۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام روگردانی کرنے والوں کی دلیل و مزاج ایک ہوتے ہیں۔ یہ کہ “ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ”۔ بس نقالی آنکھیں بند کر کے ، عقل اندھی ہوجاتی ہے جو لوگ غوروفکر کے بغیر تقلید کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے سامنے جو بات پیش کی جاتی ہے وہ تقلیدی نظریات و اعمال سے زیادہ معقول کیوں نہ ہو۔ اس کی پشت پر دلائل و شواہد کا انبار کیوں نہ ہو۔ ایسی فطرت کے لوگوں کو ہلاک کرنا ہی بہتر ہے جو آنکھ نہیں کھولتے کہ دیکھیں ، دل نہیں کھولتے کہ سمجھیں دماغ نہیں کھولتے کہ دلائل کا وزن کریں۔
اس قسم کے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے اور ان کے سامنے اسے پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھ کر اس سے بچیں اور اس راہ کے انجام سے خبردار ہوں۔
الزخرف 43:18
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (43 : 15) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اللہ کی صفت عبودیت سے محروم کردیا گیا۔ اور ان کو اللہ کی قریبی رشتہ داری کا مقام دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ ساری مخلوقات کی طرح مخلوق ہیں۔ اور اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو اللہ کی بندگی کے بجائے کوئی اور صفت دیں۔ اور ان کا اور ان کے رب کا کوئی اور تعلق بتائیں۔ جبکہ اللہ کی تمام مخلوقات۔۔۔ اس کے بندے بندیاں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کے دعوے کرتے ہیں وہ بلاشبہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان الانسان لکفور مبین (43 : 15) “ بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔
اس کے بعد ان کے خلاف ان کے عرف اور ان کی ذہنیت سے دلیل دی جاتی ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ان کو دعویٰ کس قدر غلط اور اللہ کے حق میں کس قدر توہین آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو۔
ام اتخذ مما یخلق بنت واصفکم بالبنین (43 : 16) “ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ”۔ اگر اللہ نے اولاد پیدا ہی کرنی تھی تو یہ کیسے ہوا کہ خود تو بیٹیاں پیدا کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا۔ اور کیا ان کے لئے ایسی بات کہنا مناسب ہے کہ خود وہ بیٹی پیدا ہونے سے بہت سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔
واذا بشر احدھم ۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (43 : 17) “ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ” ۔ کیا ادب ، احترام اور انسانیت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ جس اولاد کی پیدائش سے وہ خود کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اس کی نسبت رحمٰن کی طرف نہ کریں۔ خود تو یہ لوگ لڑکیاں ہونے پر اس قدر خفا ہوتے ہیں کہ چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور کسی کو منہ نہیں دکھاتے اور ولادت کو چھپاتے پھرتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ اس غم کی وجہ سے مر ہی جائیں۔ کیا وہ کمزور مخلوق جو زیورات میں پلتی ہے اور نہایت ہی ناز اور نخرے میں زندہ رہتی ہے اور اپنا ما فی الضمیر بھی پیش نہیں کرسکتی اور نہ جنگ و قتال میں حصہ لیتی ہے ، اس کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں ، جبکہ خود اپنے لیے ایسی اولاد چاہتے ہیں جو تیز و طرار ہو اور جنگ کے موقعے پر گھوڑ سوار ہو۔
غرض قرآن یہاں ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بحث کرتا ہے اور ان کو شرمندہ کرتا ہے کہ جس اولاد کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اگر تم نے یہ حماقت کرنی ہی تھی تو تم اللہ کے لئے ایسی نسبت کرتے جسے تم خود بھی اپنے لیے پسند کرتے ہو اگر یہ کفر تم نے کرنا ہی تھا۔ اب ان کے اس افسانوی عقیدے کو اس دوسرے زاویہ سے گھبرا جانا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ آخر کس بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسئلون (43 : 19) “ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دیا کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے۔ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ کیا جب فرشتے پیدا کئے جا رہے تھے تو یہ لوگ وہاں موجود تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں کیونکہ جو شخص ایک دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس چشم دید شہادت ہونی چاہئے جو اس کے دعوے کو ثابت کرے۔ وہ یہ دعویٰ تو نہ کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ ساخت نہیں دیکھی پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اور شہادت دیتے ہیں لہٰذا اب اس جھوٹی شہادت کے نتائج برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
ستکتب شھادتھم ویسئلون (43 : 19) “ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ”۔
اس کے بعد ان کی اس افتراء پردازی پر مزید بحث کی جاتی ہے اور اس کے لئے وہ جو جھوٹے دلائل لاتے تھے ان کا رد کیا جاتا ہے۔
وقالوا لو شاء ۔۔۔۔۔ الا یخرصون (43 : 20) “ وہ کہتے ہیں کہ اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے۔ محض تیز تکے لڑاتے ہیں ”۔ جب ان کو قوی دلائیل کے ذریعہ سے ہر طرف سے گھیرا جاتا ہے۔ اور ان کا یہ افسانوی عقیدہ ان کے سامنے تہس نہس ہوجاتا ہے تو پھر وہ نظریہ مشیت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں یہ کہ اللہ دراصل فرشتوں کی عبادت پر خوش ہے۔ اگر اللہ راضی نہ ہوتا تو ان کے لئے یہ عبادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ سختی سے ہمیں منع کردیتا۔
یہ دراصل ایک دھوکہ ہے ، یہ در ست ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی مشیت سے واقع ہوتی ہے لیکن اللہ کی مشیت کے دائرے میں تو یہ بات بھی ہے کہ انسان ہدایت بھی لے سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی لے سکتا ہے اور اللہ نے انسان پر یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرے اور اس پر اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور اگر انسان گمراہ اور کافر ہو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی مشیت نے اسے ہدایت و گمراہی دونوں کے قابل بنایا ہے۔
وہ مشیت الہٰیہ کے نظریہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ خود ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ لوگ فرشتوں کی پوجا کریں۔ یہ یقین وہ تو نہیں رکھتے۔
ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون (43 : 20) “ یہ اس معاملے کی حقیقت کو نہیں جانتے محض تیر تکے اڑاتے ہیں ”۔ اور اوہام و خرافات پر یقین کرتے ہیں۔
ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (43 : 21) “ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ”۔ اور ان کا دعویٰ اس کتاب کے نصوص پر مبنی ہے۔ اور اپنی یہ عبادت انہوں نے اس کتاب سے اخذ کی ہے۔ اور اس کے دلائل ان کے پاس موجود ہیں ؟ یوں ان لوگوں کے لئے نقلی دلیل کی راہ بھی بند کردی جاتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عقائد و نظریات ، واہی تباہی باتوں اور اندھیرے میں تیر تکے چلانے سے ثابت نہیں ہوتے ، محض ظن وتخمین سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ عقائد تو اللہ کی کتابوں سے صریح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔
اب آخر میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے اس افسانوی عقیدے پر واحد دلیل جو عینی شہادت پر مبنی نہیں ہے اور کسی کتاب سے بھی ماخوذ نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ :
بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (43 : 22) “ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”۔ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز استدلال ہے۔ پھر دلیل کے اعتبار سے بھی یہ ایک گری ہوئی بات ہے۔ یہ محض نقالی اور تقلید ہے اور اس پر کوئی غوروفکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ اور صحیح استدلال اور منطقی انداز میں اس پر غور نہیں کیا ۔ ان کی مثال ایک ریوڑ کی طرح ہے جسے ہانکنے والا جس طرف چاہتا ہے ، لے جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کہ اس طرف ہمیں کیوں چلایا جا رہا ہے ، ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ؟
اسلام فکری اور آزادی کا بھی ایک پیغام ہے اور شعور و نظریہ کی آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اسلام اس قسم کی جامد تقلید کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ گناہ اور گمراہی کو محض اس لیے برداشت نہیں کرتا کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا کرتے تھے۔ ہر کام ، ہر سند ار ہر بات پر دلیل چاہئے۔ ہر اقدام سے پہلے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسے علم و یقین پر مبنی خود مختاری دی گئی ہے۔
آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے افسانوی عقائد جنہوں نے اختیار کئے اور محض نقالی اور جامد تقلید کی راہ اختیار کی ایسے لوگوں کا انجام تاریخ میں کیا ہوا ، جن کے سامنے حقیقت بیان کردی گئی اور ان کو یہ بہانہ بھی ختم کردیا گیا کہ ہم تک تو صحیح بات ہی نہیں پہنچی اور پھر بھی انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرنے سے منہ موڑا۔
وکذلک ما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ مقتدون (43 : 23) قال اولو ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (43 : 24) فانتقمنا ۔۔۔۔۔ عاقبۃ المکذبین (43 : 25) “ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں۔ آخرت کا ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ”۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام روگردانی کرنے والوں کی دلیل و مزاج ایک ہوتے ہیں۔ یہ کہ “ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ”۔ بس نقالی آنکھیں بند کر کے ، عقل اندھی ہوجاتی ہے جو لوگ غوروفکر کے بغیر تقلید کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے سامنے جو بات پیش کی جاتی ہے وہ تقلیدی نظریات و اعمال سے زیادہ معقول کیوں نہ ہو۔ اس کی پشت پر دلائل و شواہد کا انبار کیوں نہ ہو۔ ایسی فطرت کے لوگوں کو ہلاک کرنا ہی بہتر ہے جو آنکھ نہیں کھولتے کہ دیکھیں ، دل نہیں کھولتے کہ سمجھیں دماغ نہیں کھولتے کہ دلائل کا وزن کریں۔
اس قسم کے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے اور ان کے سامنے اسے پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھ کر اس سے بچیں اور اس راہ کے انجام سے خبردار ہوں۔
الزخرف 43:19
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (43 : 15) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اللہ کی صفت عبودیت سے محروم کردیا گیا۔ اور ان کو اللہ کی قریبی رشتہ داری کا مقام دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ ساری مخلوقات کی طرح مخلوق ہیں۔ اور اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو اللہ کی بندگی کے بجائے کوئی اور صفت دیں۔ اور ان کا اور ان کے رب کا کوئی اور تعلق بتائیں۔ جبکہ اللہ کی تمام مخلوقات۔۔۔ اس کے بندے بندیاں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کے دعوے کرتے ہیں وہ بلاشبہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان الانسان لکفور مبین (43 : 15) “ بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔
اس کے بعد ان کے خلاف ان کے عرف اور ان کی ذہنیت سے دلیل دی جاتی ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ان کو دعویٰ کس قدر غلط اور اللہ کے حق میں کس قدر توہین آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو۔
ام اتخذ مما یخلق بنت واصفکم بالبنین (43 : 16) “ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ”۔ اگر اللہ نے اولاد پیدا ہی کرنی تھی تو یہ کیسے ہوا کہ خود تو بیٹیاں پیدا کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا۔ اور کیا ان کے لئے ایسی بات کہنا مناسب ہے کہ خود وہ بیٹی پیدا ہونے سے بہت سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔
واذا بشر احدھم ۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (43 : 17) “ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ” ۔ کیا ادب ، احترام اور انسانیت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ جس اولاد کی پیدائش سے وہ خود کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اس کی نسبت رحمٰن کی طرف نہ کریں۔ خود تو یہ لوگ لڑکیاں ہونے پر اس قدر خفا ہوتے ہیں کہ چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور کسی کو منہ نہیں دکھاتے اور ولادت کو چھپاتے پھرتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ اس غم کی وجہ سے مر ہی جائیں۔ کیا وہ کمزور مخلوق جو زیورات میں پلتی ہے اور نہایت ہی ناز اور نخرے میں زندہ رہتی ہے اور اپنا ما فی الضمیر بھی پیش نہیں کرسکتی اور نہ جنگ و قتال میں حصہ لیتی ہے ، اس کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں ، جبکہ خود اپنے لیے ایسی اولاد چاہتے ہیں جو تیز و طرار ہو اور جنگ کے موقعے پر گھوڑ سوار ہو۔
غرض قرآن یہاں ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بحث کرتا ہے اور ان کو شرمندہ کرتا ہے کہ جس اولاد کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اگر تم نے یہ حماقت کرنی ہی تھی تو تم اللہ کے لئے ایسی نسبت کرتے جسے تم خود بھی اپنے لیے پسند کرتے ہو اگر یہ کفر تم نے کرنا ہی تھا۔ اب ان کے اس افسانوی عقیدے کو اس دوسرے زاویہ سے گھبرا جانا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ آخر کس بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسئلون (43 : 19) “ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دیا کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے۔ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ کیا جب فرشتے پیدا کئے جا رہے تھے تو یہ لوگ وہاں موجود تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں کیونکہ جو شخص ایک دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس چشم دید شہادت ہونی چاہئے جو اس کے دعوے کو ثابت کرے۔ وہ یہ دعویٰ تو نہ کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ ساخت نہیں دیکھی پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اور شہادت دیتے ہیں لہٰذا اب اس جھوٹی شہادت کے نتائج برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
ستکتب شھادتھم ویسئلون (43 : 19) “ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ”۔
اس کے بعد ان کی اس افتراء پردازی پر مزید بحث کی جاتی ہے اور اس کے لئے وہ جو جھوٹے دلائل لاتے تھے ان کا رد کیا جاتا ہے۔
وقالوا لو شاء ۔۔۔۔۔ الا یخرصون (43 : 20) “ وہ کہتے ہیں کہ اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے۔ محض تیز تکے لڑاتے ہیں ”۔ جب ان کو قوی دلائیل کے ذریعہ سے ہر طرف سے گھیرا جاتا ہے۔ اور ان کا یہ افسانوی عقیدہ ان کے سامنے تہس نہس ہوجاتا ہے تو پھر وہ نظریہ مشیت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں یہ کہ اللہ دراصل فرشتوں کی عبادت پر خوش ہے۔ اگر اللہ راضی نہ ہوتا تو ان کے لئے یہ عبادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ سختی سے ہمیں منع کردیتا۔
یہ دراصل ایک دھوکہ ہے ، یہ در ست ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی مشیت سے واقع ہوتی ہے لیکن اللہ کی مشیت کے دائرے میں تو یہ بات بھی ہے کہ انسان ہدایت بھی لے سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی لے سکتا ہے اور اللہ نے انسان پر یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرے اور اس پر اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور اگر انسان گمراہ اور کافر ہو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی مشیت نے اسے ہدایت و گمراہی دونوں کے قابل بنایا ہے۔
وہ مشیت الہٰیہ کے نظریہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ خود ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ لوگ فرشتوں کی پوجا کریں۔ یہ یقین وہ تو نہیں رکھتے۔
ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون (43 : 20) “ یہ اس معاملے کی حقیقت کو نہیں جانتے محض تیر تکے اڑاتے ہیں ”۔ اور اوہام و خرافات پر یقین کرتے ہیں۔
ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (43 : 21) “ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ”۔ اور ان کا دعویٰ اس کتاب کے نصوص پر مبنی ہے۔ اور اپنی یہ عبادت انہوں نے اس کتاب سے اخذ کی ہے۔ اور اس کے دلائل ان کے پاس موجود ہیں ؟ یوں ان لوگوں کے لئے نقلی دلیل کی راہ بھی بند کردی جاتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عقائد و نظریات ، واہی تباہی باتوں اور اندھیرے میں تیر تکے چلانے سے ثابت نہیں ہوتے ، محض ظن وتخمین سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ عقائد تو اللہ کی کتابوں سے صریح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔
اب آخر میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے اس افسانوی عقیدے پر واحد دلیل جو عینی شہادت پر مبنی نہیں ہے اور کسی کتاب سے بھی ماخوذ نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ :
بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (43 : 22) “ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”۔ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز استدلال ہے۔ پھر دلیل کے اعتبار سے بھی یہ ایک گری ہوئی بات ہے۔ یہ محض نقالی اور تقلید ہے اور اس پر کوئی غوروفکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ اور صحیح استدلال اور منطقی انداز میں اس پر غور نہیں کیا ۔ ان کی مثال ایک ریوڑ کی طرح ہے جسے ہانکنے والا جس طرف چاہتا ہے ، لے جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کہ اس طرف ہمیں کیوں چلایا جا رہا ہے ، ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ؟
اسلام فکری اور آزادی کا بھی ایک پیغام ہے اور شعور و نظریہ کی آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اسلام اس قسم کی جامد تقلید کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ گناہ اور گمراہی کو محض اس لیے برداشت نہیں کرتا کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا کرتے تھے۔ ہر کام ، ہر سند ار ہر بات پر دلیل چاہئے۔ ہر اقدام سے پہلے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسے علم و یقین پر مبنی خود مختاری دی گئی ہے۔
آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے افسانوی عقائد جنہوں نے اختیار کئے اور محض نقالی اور جامد تقلید کی راہ اختیار کی ایسے لوگوں کا انجام تاریخ میں کیا ہوا ، جن کے سامنے حقیقت بیان کردی گئی اور ان کو یہ بہانہ بھی ختم کردیا گیا کہ ہم تک تو صحیح بات ہی نہیں پہنچی اور پھر بھی انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرنے سے منہ موڑا۔
وکذلک ما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ مقتدون (43 : 23) قال اولو ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (43 : 24) فانتقمنا ۔۔۔۔۔ عاقبۃ المکذبین (43 : 25) “ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں۔ آخرت کا ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ”۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام روگردانی کرنے والوں کی دلیل و مزاج ایک ہوتے ہیں۔ یہ کہ “ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ”۔ بس نقالی آنکھیں بند کر کے ، عقل اندھی ہوجاتی ہے جو لوگ غوروفکر کے بغیر تقلید کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے سامنے جو بات پیش کی جاتی ہے وہ تقلیدی نظریات و اعمال سے زیادہ معقول کیوں نہ ہو۔ اس کی پشت پر دلائل و شواہد کا انبار کیوں نہ ہو۔ ایسی فطرت کے لوگوں کو ہلاک کرنا ہی بہتر ہے جو آنکھ نہیں کھولتے کہ دیکھیں ، دل نہیں کھولتے کہ سمجھیں دماغ نہیں کھولتے کہ دلائل کا وزن کریں۔
اس قسم کے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے اور ان کے سامنے اسے پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھ کر اس سے بچیں اور اس راہ کے انجام سے خبردار ہوں۔
الزخرف 43:20
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (43 : 15) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اللہ کی صفت عبودیت سے محروم کردیا گیا۔ اور ان کو اللہ کی قریبی رشتہ داری کا مقام دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ ساری مخلوقات کی طرح مخلوق ہیں۔ اور اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو اللہ کی بندگی کے بجائے کوئی اور صفت دیں۔ اور ان کا اور ان کے رب کا کوئی اور تعلق بتائیں۔ جبکہ اللہ کی تمام مخلوقات۔۔۔ اس کے بندے بندیاں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کے دعوے کرتے ہیں وہ بلاشبہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان الانسان لکفور مبین (43 : 15) “ بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔
اس کے بعد ان کے خلاف ان کے عرف اور ان کی ذہنیت سے دلیل دی جاتی ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ان کو دعویٰ کس قدر غلط اور اللہ کے حق میں کس قدر توہین آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو۔
ام اتخذ مما یخلق بنت واصفکم بالبنین (43 : 16) “ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ”۔ اگر اللہ نے اولاد پیدا ہی کرنی تھی تو یہ کیسے ہوا کہ خود تو بیٹیاں پیدا کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا۔ اور کیا ان کے لئے ایسی بات کہنا مناسب ہے کہ خود وہ بیٹی پیدا ہونے سے بہت سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔
واذا بشر احدھم ۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (43 : 17) “ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ” ۔ کیا ادب ، احترام اور انسانیت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ جس اولاد کی پیدائش سے وہ خود کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اس کی نسبت رحمٰن کی طرف نہ کریں۔ خود تو یہ لوگ لڑکیاں ہونے پر اس قدر خفا ہوتے ہیں کہ چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور کسی کو منہ نہیں دکھاتے اور ولادت کو چھپاتے پھرتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ اس غم کی وجہ سے مر ہی جائیں۔ کیا وہ کمزور مخلوق جو زیورات میں پلتی ہے اور نہایت ہی ناز اور نخرے میں زندہ رہتی ہے اور اپنا ما فی الضمیر بھی پیش نہیں کرسکتی اور نہ جنگ و قتال میں حصہ لیتی ہے ، اس کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں ، جبکہ خود اپنے لیے ایسی اولاد چاہتے ہیں جو تیز و طرار ہو اور جنگ کے موقعے پر گھوڑ سوار ہو۔
غرض قرآن یہاں ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بحث کرتا ہے اور ان کو شرمندہ کرتا ہے کہ جس اولاد کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اگر تم نے یہ حماقت کرنی ہی تھی تو تم اللہ کے لئے ایسی نسبت کرتے جسے تم خود بھی اپنے لیے پسند کرتے ہو اگر یہ کفر تم نے کرنا ہی تھا۔ اب ان کے اس افسانوی عقیدے کو اس دوسرے زاویہ سے گھبرا جانا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ آخر کس بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسئلون (43 : 19) “ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دیا کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے۔ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ کیا جب فرشتے پیدا کئے جا رہے تھے تو یہ لوگ وہاں موجود تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں کیونکہ جو شخص ایک دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس چشم دید شہادت ہونی چاہئے جو اس کے دعوے کو ثابت کرے۔ وہ یہ دعویٰ تو نہ کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ ساخت نہیں دیکھی پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اور شہادت دیتے ہیں لہٰذا اب اس جھوٹی شہادت کے نتائج برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
ستکتب شھادتھم ویسئلون (43 : 19) “ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ”۔
اس کے بعد ان کی اس افتراء پردازی پر مزید بحث کی جاتی ہے اور اس کے لئے وہ جو جھوٹے دلائل لاتے تھے ان کا رد کیا جاتا ہے۔
وقالوا لو شاء ۔۔۔۔۔ الا یخرصون (43 : 20) “ وہ کہتے ہیں کہ اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے۔ محض تیز تکے لڑاتے ہیں ”۔ جب ان کو قوی دلائیل کے ذریعہ سے ہر طرف سے گھیرا جاتا ہے۔ اور ان کا یہ افسانوی عقیدہ ان کے سامنے تہس نہس ہوجاتا ہے تو پھر وہ نظریہ مشیت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں یہ کہ اللہ دراصل فرشتوں کی عبادت پر خوش ہے۔ اگر اللہ راضی نہ ہوتا تو ان کے لئے یہ عبادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ سختی سے ہمیں منع کردیتا۔
یہ دراصل ایک دھوکہ ہے ، یہ در ست ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی مشیت سے واقع ہوتی ہے لیکن اللہ کی مشیت کے دائرے میں تو یہ بات بھی ہے کہ انسان ہدایت بھی لے سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی لے سکتا ہے اور اللہ نے انسان پر یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرے اور اس پر اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور اگر انسان گمراہ اور کافر ہو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی مشیت نے اسے ہدایت و گمراہی دونوں کے قابل بنایا ہے۔
وہ مشیت الہٰیہ کے نظریہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ خود ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ لوگ فرشتوں کی پوجا کریں۔ یہ یقین وہ تو نہیں رکھتے۔
ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون (43 : 20) “ یہ اس معاملے کی حقیقت کو نہیں جانتے محض تیر تکے اڑاتے ہیں ”۔ اور اوہام و خرافات پر یقین کرتے ہیں۔
ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (43 : 21) “ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ”۔ اور ان کا دعویٰ اس کتاب کے نصوص پر مبنی ہے۔ اور اپنی یہ عبادت انہوں نے اس کتاب سے اخذ کی ہے۔ اور اس کے دلائل ان کے پاس موجود ہیں ؟ یوں ان لوگوں کے لئے نقلی دلیل کی راہ بھی بند کردی جاتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عقائد و نظریات ، واہی تباہی باتوں اور اندھیرے میں تیر تکے چلانے سے ثابت نہیں ہوتے ، محض ظن وتخمین سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ عقائد تو اللہ کی کتابوں سے صریح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔
اب آخر میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے اس افسانوی عقیدے پر واحد دلیل جو عینی شہادت پر مبنی نہیں ہے اور کسی کتاب سے بھی ماخوذ نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ :
بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (43 : 22) “ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”۔ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز استدلال ہے۔ پھر دلیل کے اعتبار سے بھی یہ ایک گری ہوئی بات ہے۔ یہ محض نقالی اور تقلید ہے اور اس پر کوئی غوروفکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ اور صحیح استدلال اور منطقی انداز میں اس پر غور نہیں کیا ۔ ان کی مثال ایک ریوڑ کی طرح ہے جسے ہانکنے والا جس طرف چاہتا ہے ، لے جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کہ اس طرف ہمیں کیوں چلایا جا رہا ہے ، ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ؟
اسلام فکری اور آزادی کا بھی ایک پیغام ہے اور شعور و نظریہ کی آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اسلام اس قسم کی جامد تقلید کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ گناہ اور گمراہی کو محض اس لیے برداشت نہیں کرتا کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا کرتے تھے۔ ہر کام ، ہر سند ار ہر بات پر دلیل چاہئے۔ ہر اقدام سے پہلے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسے علم و یقین پر مبنی خود مختاری دی گئی ہے۔
آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے افسانوی عقائد جنہوں نے اختیار کئے اور محض نقالی اور جامد تقلید کی راہ اختیار کی ایسے لوگوں کا انجام تاریخ میں کیا ہوا ، جن کے سامنے حقیقت بیان کردی گئی اور ان کو یہ بہانہ بھی ختم کردیا گیا کہ ہم تک تو صحیح بات ہی نہیں پہنچی اور پھر بھی انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرنے سے منہ موڑا۔
وکذلک ما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ مقتدون (43 : 23) قال اولو ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (43 : 24) فانتقمنا ۔۔۔۔۔ عاقبۃ المکذبین (43 : 25) “ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں۔ آخرت کا ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ”۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام روگردانی کرنے والوں کی دلیل و مزاج ایک ہوتے ہیں۔ یہ کہ “ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ”۔ بس نقالی آنکھیں بند کر کے ، عقل اندھی ہوجاتی ہے جو لوگ غوروفکر کے بغیر تقلید کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے سامنے جو بات پیش کی جاتی ہے وہ تقلیدی نظریات و اعمال سے زیادہ معقول کیوں نہ ہو۔ اس کی پشت پر دلائل و شواہد کا انبار کیوں نہ ہو۔ ایسی فطرت کے لوگوں کو ہلاک کرنا ہی بہتر ہے جو آنکھ نہیں کھولتے کہ دیکھیں ، دل نہیں کھولتے کہ سمجھیں دماغ نہیں کھولتے کہ دلائل کا وزن کریں۔
اس قسم کے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے اور ان کے سامنے اسے پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھ کر اس سے بچیں اور اس راہ کے انجام سے خبردار ہوں۔
الزخرف 43:21
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (43 : 15) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اللہ کی صفت عبودیت سے محروم کردیا گیا۔ اور ان کو اللہ کی قریبی رشتہ داری کا مقام دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ ساری مخلوقات کی طرح مخلوق ہیں۔ اور اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو اللہ کی بندگی کے بجائے کوئی اور صفت دیں۔ اور ان کا اور ان کے رب کا کوئی اور تعلق بتائیں۔ جبکہ اللہ کی تمام مخلوقات۔۔۔ اس کے بندے بندیاں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کے دعوے کرتے ہیں وہ بلاشبہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان الانسان لکفور مبین (43 : 15) “ بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔
اس کے بعد ان کے خلاف ان کے عرف اور ان کی ذہنیت سے دلیل دی جاتی ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ان کو دعویٰ کس قدر غلط اور اللہ کے حق میں کس قدر توہین آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو۔
ام اتخذ مما یخلق بنت واصفکم بالبنین (43 : 16) “ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ”۔ اگر اللہ نے اولاد پیدا ہی کرنی تھی تو یہ کیسے ہوا کہ خود تو بیٹیاں پیدا کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا۔ اور کیا ان کے لئے ایسی بات کہنا مناسب ہے کہ خود وہ بیٹی پیدا ہونے سے بہت سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔
واذا بشر احدھم ۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (43 : 17) “ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ” ۔ کیا ادب ، احترام اور انسانیت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ جس اولاد کی پیدائش سے وہ خود کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اس کی نسبت رحمٰن کی طرف نہ کریں۔ خود تو یہ لوگ لڑکیاں ہونے پر اس قدر خفا ہوتے ہیں کہ چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور کسی کو منہ نہیں دکھاتے اور ولادت کو چھپاتے پھرتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ اس غم کی وجہ سے مر ہی جائیں۔ کیا وہ کمزور مخلوق جو زیورات میں پلتی ہے اور نہایت ہی ناز اور نخرے میں زندہ رہتی ہے اور اپنا ما فی الضمیر بھی پیش نہیں کرسکتی اور نہ جنگ و قتال میں حصہ لیتی ہے ، اس کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں ، جبکہ خود اپنے لیے ایسی اولاد چاہتے ہیں جو تیز و طرار ہو اور جنگ کے موقعے پر گھوڑ سوار ہو۔
غرض قرآن یہاں ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بحث کرتا ہے اور ان کو شرمندہ کرتا ہے کہ جس اولاد کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اگر تم نے یہ حماقت کرنی ہی تھی تو تم اللہ کے لئے ایسی نسبت کرتے جسے تم خود بھی اپنے لیے پسند کرتے ہو اگر یہ کفر تم نے کرنا ہی تھا۔ اب ان کے اس افسانوی عقیدے کو اس دوسرے زاویہ سے گھبرا جانا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ آخر کس بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسئلون (43 : 19) “ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دیا کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے۔ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ کیا جب فرشتے پیدا کئے جا رہے تھے تو یہ لوگ وہاں موجود تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں کیونکہ جو شخص ایک دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس چشم دید شہادت ہونی چاہئے جو اس کے دعوے کو ثابت کرے۔ وہ یہ دعویٰ تو نہ کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ ساخت نہیں دیکھی پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اور شہادت دیتے ہیں لہٰذا اب اس جھوٹی شہادت کے نتائج برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
ستکتب شھادتھم ویسئلون (43 : 19) “ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ”۔
اس کے بعد ان کی اس افتراء پردازی پر مزید بحث کی جاتی ہے اور اس کے لئے وہ جو جھوٹے دلائل لاتے تھے ان کا رد کیا جاتا ہے۔
وقالوا لو شاء ۔۔۔۔۔ الا یخرصون (43 : 20) “ وہ کہتے ہیں کہ اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے۔ محض تیز تکے لڑاتے ہیں ”۔ جب ان کو قوی دلائیل کے ذریعہ سے ہر طرف سے گھیرا جاتا ہے۔ اور ان کا یہ افسانوی عقیدہ ان کے سامنے تہس نہس ہوجاتا ہے تو پھر وہ نظریہ مشیت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں یہ کہ اللہ دراصل فرشتوں کی عبادت پر خوش ہے۔ اگر اللہ راضی نہ ہوتا تو ان کے لئے یہ عبادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ سختی سے ہمیں منع کردیتا۔
یہ دراصل ایک دھوکہ ہے ، یہ در ست ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی مشیت سے واقع ہوتی ہے لیکن اللہ کی مشیت کے دائرے میں تو یہ بات بھی ہے کہ انسان ہدایت بھی لے سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی لے سکتا ہے اور اللہ نے انسان پر یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرے اور اس پر اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور اگر انسان گمراہ اور کافر ہو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی مشیت نے اسے ہدایت و گمراہی دونوں کے قابل بنایا ہے۔
وہ مشیت الہٰیہ کے نظریہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ خود ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ لوگ فرشتوں کی پوجا کریں۔ یہ یقین وہ تو نہیں رکھتے۔
ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون (43 : 20) “ یہ اس معاملے کی حقیقت کو نہیں جانتے محض تیر تکے اڑاتے ہیں ”۔ اور اوہام و خرافات پر یقین کرتے ہیں۔
ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (43 : 21) “ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ”۔ اور ان کا دعویٰ اس کتاب کے نصوص پر مبنی ہے۔ اور اپنی یہ عبادت انہوں نے اس کتاب سے اخذ کی ہے۔ اور اس کے دلائل ان کے پاس موجود ہیں ؟ یوں ان لوگوں کے لئے نقلی دلیل کی راہ بھی بند کردی جاتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عقائد و نظریات ، واہی تباہی باتوں اور اندھیرے میں تیر تکے چلانے سے ثابت نہیں ہوتے ، محض ظن وتخمین سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ عقائد تو اللہ کی کتابوں سے صریح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔
اب آخر میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے اس افسانوی عقیدے پر واحد دلیل جو عینی شہادت پر مبنی نہیں ہے اور کسی کتاب سے بھی ماخوذ نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ :
بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (43 : 22) “ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”۔ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز استدلال ہے۔ پھر دلیل کے اعتبار سے بھی یہ ایک گری ہوئی بات ہے۔ یہ محض نقالی اور تقلید ہے اور اس پر کوئی غوروفکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ اور صحیح استدلال اور منطقی انداز میں اس پر غور نہیں کیا ۔ ان کی مثال ایک ریوڑ کی طرح ہے جسے ہانکنے والا جس طرف چاہتا ہے ، لے جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کہ اس طرف ہمیں کیوں چلایا جا رہا ہے ، ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ؟
اسلام فکری اور آزادی کا بھی ایک پیغام ہے اور شعور و نظریہ کی آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اسلام اس قسم کی جامد تقلید کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ گناہ اور گمراہی کو محض اس لیے برداشت نہیں کرتا کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا کرتے تھے۔ ہر کام ، ہر سند ار ہر بات پر دلیل چاہئے۔ ہر اقدام سے پہلے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسے علم و یقین پر مبنی خود مختاری دی گئی ہے۔
آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے افسانوی عقائد جنہوں نے اختیار کئے اور محض نقالی اور جامد تقلید کی راہ اختیار کی ایسے لوگوں کا انجام تاریخ میں کیا ہوا ، جن کے سامنے حقیقت بیان کردی گئی اور ان کو یہ بہانہ بھی ختم کردیا گیا کہ ہم تک تو صحیح بات ہی نہیں پہنچی اور پھر بھی انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرنے سے منہ موڑا۔
وکذلک ما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ مقتدون (43 : 23) قال اولو ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (43 : 24) فانتقمنا ۔۔۔۔۔ عاقبۃ المکذبین (43 : 25) “ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں۔ آخرت کا ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ”۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام روگردانی کرنے والوں کی دلیل و مزاج ایک ہوتے ہیں۔ یہ کہ “ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ”۔ بس نقالی آنکھیں بند کر کے ، عقل اندھی ہوجاتی ہے جو لوگ غوروفکر کے بغیر تقلید کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے سامنے جو بات پیش کی جاتی ہے وہ تقلیدی نظریات و اعمال سے زیادہ معقول کیوں نہ ہو۔ اس کی پشت پر دلائل و شواہد کا انبار کیوں نہ ہو۔ ایسی فطرت کے لوگوں کو ہلاک کرنا ہی بہتر ہے جو آنکھ نہیں کھولتے کہ دیکھیں ، دل نہیں کھولتے کہ سمجھیں دماغ نہیں کھولتے کہ دلائل کا وزن کریں۔
اس قسم کے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے اور ان کے سامنے اسے پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھ کر اس سے بچیں اور اس راہ کے انجام سے خبردار ہوں۔
الزخرف 43:22
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (43 : 15) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اللہ کی صفت عبودیت سے محروم کردیا گیا۔ اور ان کو اللہ کی قریبی رشتہ داری کا مقام دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ ساری مخلوقات کی طرح مخلوق ہیں۔ اور اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو اللہ کی بندگی کے بجائے کوئی اور صفت دیں۔ اور ان کا اور ان کے رب کا کوئی اور تعلق بتائیں۔ جبکہ اللہ کی تمام مخلوقات۔۔۔ اس کے بندے بندیاں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کے دعوے کرتے ہیں وہ بلاشبہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان الانسان لکفور مبین (43 : 15) “ بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔
اس کے بعد ان کے خلاف ان کے عرف اور ان کی ذہنیت سے دلیل دی جاتی ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ان کو دعویٰ کس قدر غلط اور اللہ کے حق میں کس قدر توہین آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو۔
ام اتخذ مما یخلق بنت واصفکم بالبنین (43 : 16) “ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ”۔ اگر اللہ نے اولاد پیدا ہی کرنی تھی تو یہ کیسے ہوا کہ خود تو بیٹیاں پیدا کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا۔ اور کیا ان کے لئے ایسی بات کہنا مناسب ہے کہ خود وہ بیٹی پیدا ہونے سے بہت سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔
واذا بشر احدھم ۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (43 : 17) “ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ” ۔ کیا ادب ، احترام اور انسانیت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ جس اولاد کی پیدائش سے وہ خود کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اس کی نسبت رحمٰن کی طرف نہ کریں۔ خود تو یہ لوگ لڑکیاں ہونے پر اس قدر خفا ہوتے ہیں کہ چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور کسی کو منہ نہیں دکھاتے اور ولادت کو چھپاتے پھرتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ اس غم کی وجہ سے مر ہی جائیں۔ کیا وہ کمزور مخلوق جو زیورات میں پلتی ہے اور نہایت ہی ناز اور نخرے میں زندہ رہتی ہے اور اپنا ما فی الضمیر بھی پیش نہیں کرسکتی اور نہ جنگ و قتال میں حصہ لیتی ہے ، اس کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں ، جبکہ خود اپنے لیے ایسی اولاد چاہتے ہیں جو تیز و طرار ہو اور جنگ کے موقعے پر گھوڑ سوار ہو۔
غرض قرآن یہاں ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بحث کرتا ہے اور ان کو شرمندہ کرتا ہے کہ جس اولاد کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اگر تم نے یہ حماقت کرنی ہی تھی تو تم اللہ کے لئے ایسی نسبت کرتے جسے تم خود بھی اپنے لیے پسند کرتے ہو اگر یہ کفر تم نے کرنا ہی تھا۔ اب ان کے اس افسانوی عقیدے کو اس دوسرے زاویہ سے گھبرا جانا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ آخر کس بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسئلون (43 : 19) “ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دیا کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے۔ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ کیا جب فرشتے پیدا کئے جا رہے تھے تو یہ لوگ وہاں موجود تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں کیونکہ جو شخص ایک دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس چشم دید شہادت ہونی چاہئے جو اس کے دعوے کو ثابت کرے۔ وہ یہ دعویٰ تو نہ کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ ساخت نہیں دیکھی پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اور شہادت دیتے ہیں لہٰذا اب اس جھوٹی شہادت کے نتائج برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
ستکتب شھادتھم ویسئلون (43 : 19) “ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ”۔
اس کے بعد ان کی اس افتراء پردازی پر مزید بحث کی جاتی ہے اور اس کے لئے وہ جو جھوٹے دلائل لاتے تھے ان کا رد کیا جاتا ہے۔
وقالوا لو شاء ۔۔۔۔۔ الا یخرصون (43 : 20) “ وہ کہتے ہیں کہ اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے۔ محض تیز تکے لڑاتے ہیں ”۔ جب ان کو قوی دلائیل کے ذریعہ سے ہر طرف سے گھیرا جاتا ہے۔ اور ان کا یہ افسانوی عقیدہ ان کے سامنے تہس نہس ہوجاتا ہے تو پھر وہ نظریہ مشیت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں یہ کہ اللہ دراصل فرشتوں کی عبادت پر خوش ہے۔ اگر اللہ راضی نہ ہوتا تو ان کے لئے یہ عبادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ سختی سے ہمیں منع کردیتا۔
یہ دراصل ایک دھوکہ ہے ، یہ در ست ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی مشیت سے واقع ہوتی ہے لیکن اللہ کی مشیت کے دائرے میں تو یہ بات بھی ہے کہ انسان ہدایت بھی لے سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی لے سکتا ہے اور اللہ نے انسان پر یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرے اور اس پر اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور اگر انسان گمراہ اور کافر ہو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی مشیت نے اسے ہدایت و گمراہی دونوں کے قابل بنایا ہے۔
وہ مشیت الہٰیہ کے نظریہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ خود ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ لوگ فرشتوں کی پوجا کریں۔ یہ یقین وہ تو نہیں رکھتے۔
ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون (43 : 20) “ یہ اس معاملے کی حقیقت کو نہیں جانتے محض تیر تکے اڑاتے ہیں ”۔ اور اوہام و خرافات پر یقین کرتے ہیں۔
ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (43 : 21) “ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ”۔ اور ان کا دعویٰ اس کتاب کے نصوص پر مبنی ہے۔ اور اپنی یہ عبادت انہوں نے اس کتاب سے اخذ کی ہے۔ اور اس کے دلائل ان کے پاس موجود ہیں ؟ یوں ان لوگوں کے لئے نقلی دلیل کی راہ بھی بند کردی جاتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عقائد و نظریات ، واہی تباہی باتوں اور اندھیرے میں تیر تکے چلانے سے ثابت نہیں ہوتے ، محض ظن وتخمین سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ عقائد تو اللہ کی کتابوں سے صریح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔
اب آخر میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے اس افسانوی عقیدے پر واحد دلیل جو عینی شہادت پر مبنی نہیں ہے اور کسی کتاب سے بھی ماخوذ نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ :
بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (43 : 22) “ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”۔ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز استدلال ہے۔ پھر دلیل کے اعتبار سے بھی یہ ایک گری ہوئی بات ہے۔ یہ محض نقالی اور تقلید ہے اور اس پر کوئی غوروفکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ اور صحیح استدلال اور منطقی انداز میں اس پر غور نہیں کیا ۔ ان کی مثال ایک ریوڑ کی طرح ہے جسے ہانکنے والا جس طرف چاہتا ہے ، لے جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کہ اس طرف ہمیں کیوں چلایا جا رہا ہے ، ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ؟
اسلام فکری اور آزادی کا بھی ایک پیغام ہے اور شعور و نظریہ کی آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اسلام اس قسم کی جامد تقلید کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ گناہ اور گمراہی کو محض اس لیے برداشت نہیں کرتا کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا کرتے تھے۔ ہر کام ، ہر سند ار ہر بات پر دلیل چاہئے۔ ہر اقدام سے پہلے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسے علم و یقین پر مبنی خود مختاری دی گئی ہے۔
آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے افسانوی عقائد جنہوں نے اختیار کئے اور محض نقالی اور جامد تقلید کی راہ اختیار کی ایسے لوگوں کا انجام تاریخ میں کیا ہوا ، جن کے سامنے حقیقت بیان کردی گئی اور ان کو یہ بہانہ بھی ختم کردیا گیا کہ ہم تک تو صحیح بات ہی نہیں پہنچی اور پھر بھی انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرنے سے منہ موڑا۔
وکذلک ما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ مقتدون (43 : 23) قال اولو ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (43 : 24) فانتقمنا ۔۔۔۔۔ عاقبۃ المکذبین (43 : 25) “ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں۔ آخرت کا ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ”۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام روگردانی کرنے والوں کی دلیل و مزاج ایک ہوتے ہیں۔ یہ کہ “ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ”۔ بس نقالی آنکھیں بند کر کے ، عقل اندھی ہوجاتی ہے جو لوگ غوروفکر کے بغیر تقلید کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے سامنے جو بات پیش کی جاتی ہے وہ تقلیدی نظریات و اعمال سے زیادہ معقول کیوں نہ ہو۔ اس کی پشت پر دلائل و شواہد کا انبار کیوں نہ ہو۔ ایسی فطرت کے لوگوں کو ہلاک کرنا ہی بہتر ہے جو آنکھ نہیں کھولتے کہ دیکھیں ، دل نہیں کھولتے کہ سمجھیں دماغ نہیں کھولتے کہ دلائل کا وزن کریں۔
اس قسم کے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے اور ان کے سامنے اسے پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھ کر اس سے بچیں اور اس راہ کے انجام سے خبردار ہوں۔
الزخرف 43:23
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (43 : 15) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اللہ کی صفت عبودیت سے محروم کردیا گیا۔ اور ان کو اللہ کی قریبی رشتہ داری کا مقام دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ ساری مخلوقات کی طرح مخلوق ہیں۔ اور اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو اللہ کی بندگی کے بجائے کوئی اور صفت دیں۔ اور ان کا اور ان کے رب کا کوئی اور تعلق بتائیں۔ جبکہ اللہ کی تمام مخلوقات۔۔۔ اس کے بندے بندیاں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کے دعوے کرتے ہیں وہ بلاشبہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان الانسان لکفور مبین (43 : 15) “ بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔
اس کے بعد ان کے خلاف ان کے عرف اور ان کی ذہنیت سے دلیل دی جاتی ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ان کو دعویٰ کس قدر غلط اور اللہ کے حق میں کس قدر توہین آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو۔
ام اتخذ مما یخلق بنت واصفکم بالبنین (43 : 16) “ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ”۔ اگر اللہ نے اولاد پیدا ہی کرنی تھی تو یہ کیسے ہوا کہ خود تو بیٹیاں پیدا کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا۔ اور کیا ان کے لئے ایسی بات کہنا مناسب ہے کہ خود وہ بیٹی پیدا ہونے سے بہت سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔
واذا بشر احدھم ۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (43 : 17) “ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ” ۔ کیا ادب ، احترام اور انسانیت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ جس اولاد کی پیدائش سے وہ خود کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اس کی نسبت رحمٰن کی طرف نہ کریں۔ خود تو یہ لوگ لڑکیاں ہونے پر اس قدر خفا ہوتے ہیں کہ چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور کسی کو منہ نہیں دکھاتے اور ولادت کو چھپاتے پھرتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ اس غم کی وجہ سے مر ہی جائیں۔ کیا وہ کمزور مخلوق جو زیورات میں پلتی ہے اور نہایت ہی ناز اور نخرے میں زندہ رہتی ہے اور اپنا ما فی الضمیر بھی پیش نہیں کرسکتی اور نہ جنگ و قتال میں حصہ لیتی ہے ، اس کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں ، جبکہ خود اپنے لیے ایسی اولاد چاہتے ہیں جو تیز و طرار ہو اور جنگ کے موقعے پر گھوڑ سوار ہو۔
غرض قرآن یہاں ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بحث کرتا ہے اور ان کو شرمندہ کرتا ہے کہ جس اولاد کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اگر تم نے یہ حماقت کرنی ہی تھی تو تم اللہ کے لئے ایسی نسبت کرتے جسے تم خود بھی اپنے لیے پسند کرتے ہو اگر یہ کفر تم نے کرنا ہی تھا۔ اب ان کے اس افسانوی عقیدے کو اس دوسرے زاویہ سے گھبرا جانا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ آخر کس بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسئلون (43 : 19) “ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دیا کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے۔ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ کیا جب فرشتے پیدا کئے جا رہے تھے تو یہ لوگ وہاں موجود تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں کیونکہ جو شخص ایک دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس چشم دید شہادت ہونی چاہئے جو اس کے دعوے کو ثابت کرے۔ وہ یہ دعویٰ تو نہ کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ ساخت نہیں دیکھی پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اور شہادت دیتے ہیں لہٰذا اب اس جھوٹی شہادت کے نتائج برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
ستکتب شھادتھم ویسئلون (43 : 19) “ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ”۔
اس کے بعد ان کی اس افتراء پردازی پر مزید بحث کی جاتی ہے اور اس کے لئے وہ جو جھوٹے دلائل لاتے تھے ان کا رد کیا جاتا ہے۔
وقالوا لو شاء ۔۔۔۔۔ الا یخرصون (43 : 20) “ وہ کہتے ہیں کہ اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے۔ محض تیز تکے لڑاتے ہیں ”۔ جب ان کو قوی دلائیل کے ذریعہ سے ہر طرف سے گھیرا جاتا ہے۔ اور ان کا یہ افسانوی عقیدہ ان کے سامنے تہس نہس ہوجاتا ہے تو پھر وہ نظریہ مشیت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں یہ کہ اللہ دراصل فرشتوں کی عبادت پر خوش ہے۔ اگر اللہ راضی نہ ہوتا تو ان کے لئے یہ عبادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ سختی سے ہمیں منع کردیتا۔
یہ دراصل ایک دھوکہ ہے ، یہ در ست ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی مشیت سے واقع ہوتی ہے لیکن اللہ کی مشیت کے دائرے میں تو یہ بات بھی ہے کہ انسان ہدایت بھی لے سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی لے سکتا ہے اور اللہ نے انسان پر یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرے اور اس پر اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور اگر انسان گمراہ اور کافر ہو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی مشیت نے اسے ہدایت و گمراہی دونوں کے قابل بنایا ہے۔
وہ مشیت الہٰیہ کے نظریہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ خود ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ لوگ فرشتوں کی پوجا کریں۔ یہ یقین وہ تو نہیں رکھتے۔
ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون (43 : 20) “ یہ اس معاملے کی حقیقت کو نہیں جانتے محض تیر تکے اڑاتے ہیں ”۔ اور اوہام و خرافات پر یقین کرتے ہیں۔
ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (43 : 21) “ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ”۔ اور ان کا دعویٰ اس کتاب کے نصوص پر مبنی ہے۔ اور اپنی یہ عبادت انہوں نے اس کتاب سے اخذ کی ہے۔ اور اس کے دلائل ان کے پاس موجود ہیں ؟ یوں ان لوگوں کے لئے نقلی دلیل کی راہ بھی بند کردی جاتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عقائد و نظریات ، واہی تباہی باتوں اور اندھیرے میں تیر تکے چلانے سے ثابت نہیں ہوتے ، محض ظن وتخمین سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ عقائد تو اللہ کی کتابوں سے صریح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔
اب آخر میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے اس افسانوی عقیدے پر واحد دلیل جو عینی شہادت پر مبنی نہیں ہے اور کسی کتاب سے بھی ماخوذ نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ :
بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (43 : 22) “ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”۔ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز استدلال ہے۔ پھر دلیل کے اعتبار سے بھی یہ ایک گری ہوئی بات ہے۔ یہ محض نقالی اور تقلید ہے اور اس پر کوئی غوروفکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ اور صحیح استدلال اور منطقی انداز میں اس پر غور نہیں کیا ۔ ان کی مثال ایک ریوڑ کی طرح ہے جسے ہانکنے والا جس طرف چاہتا ہے ، لے جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کہ اس طرف ہمیں کیوں چلایا جا رہا ہے ، ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ؟
اسلام فکری اور آزادی کا بھی ایک پیغام ہے اور شعور و نظریہ کی آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اسلام اس قسم کی جامد تقلید کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ گناہ اور گمراہی کو محض اس لیے برداشت نہیں کرتا کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا کرتے تھے۔ ہر کام ، ہر سند ار ہر بات پر دلیل چاہئے۔ ہر اقدام سے پہلے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسے علم و یقین پر مبنی خود مختاری دی گئی ہے۔
آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے افسانوی عقائد جنہوں نے اختیار کئے اور محض نقالی اور جامد تقلید کی راہ اختیار کی ایسے لوگوں کا انجام تاریخ میں کیا ہوا ، جن کے سامنے حقیقت بیان کردی گئی اور ان کو یہ بہانہ بھی ختم کردیا گیا کہ ہم تک تو صحیح بات ہی نہیں پہنچی اور پھر بھی انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرنے سے منہ موڑا۔
وکذلک ما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ مقتدون (43 : 23) قال اولو ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (43 : 24) فانتقمنا ۔۔۔۔۔ عاقبۃ المکذبین (43 : 25) “ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں۔ آخرت کا ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ”۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام روگردانی کرنے والوں کی دلیل و مزاج ایک ہوتے ہیں۔ یہ کہ “ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ”۔ بس نقالی آنکھیں بند کر کے ، عقل اندھی ہوجاتی ہے جو لوگ غوروفکر کے بغیر تقلید کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے سامنے جو بات پیش کی جاتی ہے وہ تقلیدی نظریات و اعمال سے زیادہ معقول کیوں نہ ہو۔ اس کی پشت پر دلائل و شواہد کا انبار کیوں نہ ہو۔ ایسی فطرت کے لوگوں کو ہلاک کرنا ہی بہتر ہے جو آنکھ نہیں کھولتے کہ دیکھیں ، دل نہیں کھولتے کہ سمجھیں دماغ نہیں کھولتے کہ دلائل کا وزن کریں۔
اس قسم کے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے اور ان کے سامنے اسے پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھ کر اس سے بچیں اور اس راہ کے انجام سے خبردار ہوں۔
الزخرف 43:24
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (43 : 15) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اللہ کی صفت عبودیت سے محروم کردیا گیا۔ اور ان کو اللہ کی قریبی رشتہ داری کا مقام دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ ساری مخلوقات کی طرح مخلوق ہیں۔ اور اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو اللہ کی بندگی کے بجائے کوئی اور صفت دیں۔ اور ان کا اور ان کے رب کا کوئی اور تعلق بتائیں۔ جبکہ اللہ کی تمام مخلوقات۔۔۔ اس کے بندے بندیاں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کے دعوے کرتے ہیں وہ بلاشبہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان الانسان لکفور مبین (43 : 15) “ بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔
اس کے بعد ان کے خلاف ان کے عرف اور ان کی ذہنیت سے دلیل دی جاتی ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ان کو دعویٰ کس قدر غلط اور اللہ کے حق میں کس قدر توہین آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو۔
ام اتخذ مما یخلق بنت واصفکم بالبنین (43 : 16) “ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ”۔ اگر اللہ نے اولاد پیدا ہی کرنی تھی تو یہ کیسے ہوا کہ خود تو بیٹیاں پیدا کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا۔ اور کیا ان کے لئے ایسی بات کہنا مناسب ہے کہ خود وہ بیٹی پیدا ہونے سے بہت سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔
واذا بشر احدھم ۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (43 : 17) “ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ” ۔ کیا ادب ، احترام اور انسانیت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ جس اولاد کی پیدائش سے وہ خود کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اس کی نسبت رحمٰن کی طرف نہ کریں۔ خود تو یہ لوگ لڑکیاں ہونے پر اس قدر خفا ہوتے ہیں کہ چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور کسی کو منہ نہیں دکھاتے اور ولادت کو چھپاتے پھرتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ اس غم کی وجہ سے مر ہی جائیں۔ کیا وہ کمزور مخلوق جو زیورات میں پلتی ہے اور نہایت ہی ناز اور نخرے میں زندہ رہتی ہے اور اپنا ما فی الضمیر بھی پیش نہیں کرسکتی اور نہ جنگ و قتال میں حصہ لیتی ہے ، اس کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں ، جبکہ خود اپنے لیے ایسی اولاد چاہتے ہیں جو تیز و طرار ہو اور جنگ کے موقعے پر گھوڑ سوار ہو۔
غرض قرآن یہاں ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بحث کرتا ہے اور ان کو شرمندہ کرتا ہے کہ جس اولاد کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اگر تم نے یہ حماقت کرنی ہی تھی تو تم اللہ کے لئے ایسی نسبت کرتے جسے تم خود بھی اپنے لیے پسند کرتے ہو اگر یہ کفر تم نے کرنا ہی تھا۔ اب ان کے اس افسانوی عقیدے کو اس دوسرے زاویہ سے گھبرا جانا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ آخر کس بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسئلون (43 : 19) “ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دیا کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے۔ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ کیا جب فرشتے پیدا کئے جا رہے تھے تو یہ لوگ وہاں موجود تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں کیونکہ جو شخص ایک دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس چشم دید شہادت ہونی چاہئے جو اس کے دعوے کو ثابت کرے۔ وہ یہ دعویٰ تو نہ کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ ساخت نہیں دیکھی پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اور شہادت دیتے ہیں لہٰذا اب اس جھوٹی شہادت کے نتائج برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
ستکتب شھادتھم ویسئلون (43 : 19) “ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ”۔
اس کے بعد ان کی اس افتراء پردازی پر مزید بحث کی جاتی ہے اور اس کے لئے وہ جو جھوٹے دلائل لاتے تھے ان کا رد کیا جاتا ہے۔
وقالوا لو شاء ۔۔۔۔۔ الا یخرصون (43 : 20) “ وہ کہتے ہیں کہ اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے۔ محض تیز تکے لڑاتے ہیں ”۔ جب ان کو قوی دلائیل کے ذریعہ سے ہر طرف سے گھیرا جاتا ہے۔ اور ان کا یہ افسانوی عقیدہ ان کے سامنے تہس نہس ہوجاتا ہے تو پھر وہ نظریہ مشیت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں یہ کہ اللہ دراصل فرشتوں کی عبادت پر خوش ہے۔ اگر اللہ راضی نہ ہوتا تو ان کے لئے یہ عبادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ سختی سے ہمیں منع کردیتا۔
یہ دراصل ایک دھوکہ ہے ، یہ در ست ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی مشیت سے واقع ہوتی ہے لیکن اللہ کی مشیت کے دائرے میں تو یہ بات بھی ہے کہ انسان ہدایت بھی لے سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی لے سکتا ہے اور اللہ نے انسان پر یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرے اور اس پر اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور اگر انسان گمراہ اور کافر ہو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی مشیت نے اسے ہدایت و گمراہی دونوں کے قابل بنایا ہے۔
وہ مشیت الہٰیہ کے نظریہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ خود ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ لوگ فرشتوں کی پوجا کریں۔ یہ یقین وہ تو نہیں رکھتے۔
ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون (43 : 20) “ یہ اس معاملے کی حقیقت کو نہیں جانتے محض تیر تکے اڑاتے ہیں ”۔ اور اوہام و خرافات پر یقین کرتے ہیں۔
ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (43 : 21) “ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ”۔ اور ان کا دعویٰ اس کتاب کے نصوص پر مبنی ہے۔ اور اپنی یہ عبادت انہوں نے اس کتاب سے اخذ کی ہے۔ اور اس کے دلائل ان کے پاس موجود ہیں ؟ یوں ان لوگوں کے لئے نقلی دلیل کی راہ بھی بند کردی جاتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عقائد و نظریات ، واہی تباہی باتوں اور اندھیرے میں تیر تکے چلانے سے ثابت نہیں ہوتے ، محض ظن وتخمین سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ عقائد تو اللہ کی کتابوں سے صریح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔
اب آخر میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے اس افسانوی عقیدے پر واحد دلیل جو عینی شہادت پر مبنی نہیں ہے اور کسی کتاب سے بھی ماخوذ نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ :
بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (43 : 22) “ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”۔ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز استدلال ہے۔ پھر دلیل کے اعتبار سے بھی یہ ایک گری ہوئی بات ہے۔ یہ محض نقالی اور تقلید ہے اور اس پر کوئی غوروفکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ اور صحیح استدلال اور منطقی انداز میں اس پر غور نہیں کیا ۔ ان کی مثال ایک ریوڑ کی طرح ہے جسے ہانکنے والا جس طرف چاہتا ہے ، لے جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کہ اس طرف ہمیں کیوں چلایا جا رہا ہے ، ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ؟
اسلام فکری اور آزادی کا بھی ایک پیغام ہے اور شعور و نظریہ کی آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اسلام اس قسم کی جامد تقلید کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ گناہ اور گمراہی کو محض اس لیے برداشت نہیں کرتا کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا کرتے تھے۔ ہر کام ، ہر سند ار ہر بات پر دلیل چاہئے۔ ہر اقدام سے پہلے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسے علم و یقین پر مبنی خود مختاری دی گئی ہے۔
آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے افسانوی عقائد جنہوں نے اختیار کئے اور محض نقالی اور جامد تقلید کی راہ اختیار کی ایسے لوگوں کا انجام تاریخ میں کیا ہوا ، جن کے سامنے حقیقت بیان کردی گئی اور ان کو یہ بہانہ بھی ختم کردیا گیا کہ ہم تک تو صحیح بات ہی نہیں پہنچی اور پھر بھی انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرنے سے منہ موڑا۔
وکذلک ما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ مقتدون (43 : 23) قال اولو ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (43 : 24) فانتقمنا ۔۔۔۔۔ عاقبۃ المکذبین (43 : 25) “ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں۔ آخرت کا ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ”۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام روگردانی کرنے والوں کی دلیل و مزاج ایک ہوتے ہیں۔ یہ کہ “ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ”۔ بس نقالی آنکھیں بند کر کے ، عقل اندھی ہوجاتی ہے جو لوگ غوروفکر کے بغیر تقلید کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے سامنے جو بات پیش کی جاتی ہے وہ تقلیدی نظریات و اعمال سے زیادہ معقول کیوں نہ ہو۔ اس کی پشت پر دلائل و شواہد کا انبار کیوں نہ ہو۔ ایسی فطرت کے لوگوں کو ہلاک کرنا ہی بہتر ہے جو آنکھ نہیں کھولتے کہ دیکھیں ، دل نہیں کھولتے کہ سمجھیں دماغ نہیں کھولتے کہ دلائل کا وزن کریں۔
اس قسم کے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے اور ان کے سامنے اسے پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھ کر اس سے بچیں اور اس راہ کے انجام سے خبردار ہوں۔
الزخرف 43:25
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (43 : 15) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اللہ کی صفت عبودیت سے محروم کردیا گیا۔ اور ان کو اللہ کی قریبی رشتہ داری کا مقام دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ ساری مخلوقات کی طرح مخلوق ہیں۔ اور اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو اللہ کی بندگی کے بجائے کوئی اور صفت دیں۔ اور ان کا اور ان کے رب کا کوئی اور تعلق بتائیں۔ جبکہ اللہ کی تمام مخلوقات۔۔۔ اس کے بندے بندیاں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قسم کے دعوے کرتے ہیں وہ بلاشبہ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان الانسان لکفور مبین (43 : 15) “ بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے ”۔
اس کے بعد ان کے خلاف ان کے عرف اور ان کی ذہنیت سے دلیل دی جاتی ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ان کو دعویٰ کس قدر غلط اور اللہ کے حق میں کس قدر توہین آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو۔
ام اتخذ مما یخلق بنت واصفکم بالبنین (43 : 16) “ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ”۔ اگر اللہ نے اولاد پیدا ہی کرنی تھی تو یہ کیسے ہوا کہ خود تو بیٹیاں پیدا کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا۔ اور کیا ان کے لئے ایسی بات کہنا مناسب ہے کہ خود وہ بیٹی پیدا ہونے سے بہت سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔
واذا بشر احدھم ۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (43 : 17) “ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ” ۔ کیا ادب ، احترام اور انسانیت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ جس اولاد کی پیدائش سے وہ خود کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اس کی نسبت رحمٰن کی طرف نہ کریں۔ خود تو یہ لوگ لڑکیاں ہونے پر اس قدر خفا ہوتے ہیں کہ چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں اور کسی کو منہ نہیں دکھاتے اور ولادت کو چھپاتے پھرتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ اس غم کی وجہ سے مر ہی جائیں۔ کیا وہ کمزور مخلوق جو زیورات میں پلتی ہے اور نہایت ہی ناز اور نخرے میں زندہ رہتی ہے اور اپنا ما فی الضمیر بھی پیش نہیں کرسکتی اور نہ جنگ و قتال میں حصہ لیتی ہے ، اس کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں ، جبکہ خود اپنے لیے ایسی اولاد چاہتے ہیں جو تیز و طرار ہو اور جنگ کے موقعے پر گھوڑ سوار ہو۔
غرض قرآن یہاں ان کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بحث کرتا ہے اور ان کو شرمندہ کرتا ہے کہ جس اولاد کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اگر تم نے یہ حماقت کرنی ہی تھی تو تم اللہ کے لئے ایسی نسبت کرتے جسے تم خود بھی اپنے لیے پسند کرتے ہو اگر یہ کفر تم نے کرنا ہی تھا۔ اب ان کے اس افسانوی عقیدے کو اس دوسرے زاویہ سے گھبرا جانا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ آخر کس بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسئلون (43 : 19) “ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دیا کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے۔ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ کیا جب فرشتے پیدا کئے جا رہے تھے تو یہ لوگ وہاں موجود تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں کیونکہ جو شخص ایک دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس چشم دید شہادت ہونی چاہئے جو اس کے دعوے کو ثابت کرے۔ وہ یہ دعویٰ تو نہ کرتے تھے اور نہ کرسکتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ ساخت نہیں دیکھی پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں اور شہادت دیتے ہیں لہٰذا اب اس جھوٹی شہادت کے نتائج برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
ستکتب شھادتھم ویسئلون (43 : 19) “ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ”۔
اس کے بعد ان کی اس افتراء پردازی پر مزید بحث کی جاتی ہے اور اس کے لئے وہ جو جھوٹے دلائل لاتے تھے ان کا رد کیا جاتا ہے۔
وقالوا لو شاء ۔۔۔۔۔ الا یخرصون (43 : 20) “ وہ کہتے ہیں کہ اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے۔ محض تیز تکے لڑاتے ہیں ”۔ جب ان کو قوی دلائیل کے ذریعہ سے ہر طرف سے گھیرا جاتا ہے۔ اور ان کا یہ افسانوی عقیدہ ان کے سامنے تہس نہس ہوجاتا ہے تو پھر وہ نظریہ مشیت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں یہ کہ اللہ دراصل فرشتوں کی عبادت پر خوش ہے۔ اگر اللہ راضی نہ ہوتا تو ان کے لئے یہ عبادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اللہ سختی سے ہمیں منع کردیتا۔
یہ دراصل ایک دھوکہ ہے ، یہ در ست ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی مشیت سے واقع ہوتی ہے لیکن اللہ کی مشیت کے دائرے میں تو یہ بات بھی ہے کہ انسان ہدایت بھی لے سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی لے سکتا ہے اور اللہ نے انسان پر یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرے اور اس پر اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور اگر انسان گمراہ اور کافر ہو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی مشیت نے اسے ہدایت و گمراہی دونوں کے قابل بنایا ہے۔
وہ مشیت الہٰیہ کے نظریہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ خود ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ لوگ فرشتوں کی پوجا کریں۔ یہ یقین وہ تو نہیں رکھتے۔
ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون (43 : 20) “ یہ اس معاملے کی حقیقت کو نہیں جانتے محض تیر تکے اڑاتے ہیں ”۔ اور اوہام و خرافات پر یقین کرتے ہیں۔
ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (43 : 21) “ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ”۔ اور ان کا دعویٰ اس کتاب کے نصوص پر مبنی ہے۔ اور اپنی یہ عبادت انہوں نے اس کتاب سے اخذ کی ہے۔ اور اس کے دلائل ان کے پاس موجود ہیں ؟ یوں ان لوگوں کے لئے نقلی دلیل کی راہ بھی بند کردی جاتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عقائد و نظریات ، واہی تباہی باتوں اور اندھیرے میں تیر تکے چلانے سے ثابت نہیں ہوتے ، محض ظن وتخمین سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ عقائد تو اللہ کی کتابوں سے صریح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔
اب آخر میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنے اس افسانوی عقیدے پر واحد دلیل جو عینی شہادت پر مبنی نہیں ہے اور کسی کتاب سے بھی ماخوذ نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ :
بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (43 : 22) “ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”۔ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز استدلال ہے۔ پھر دلیل کے اعتبار سے بھی یہ ایک گری ہوئی بات ہے۔ یہ محض نقالی اور تقلید ہے اور اس پر کوئی غوروفکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ اور صحیح استدلال اور منطقی انداز میں اس پر غور نہیں کیا ۔ ان کی مثال ایک ریوڑ کی طرح ہے جسے ہانکنے والا جس طرف چاہتا ہے ، لے جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کہ اس طرف ہمیں کیوں چلایا جا رہا ہے ، ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ؟
اسلام فکری اور آزادی کا بھی ایک پیغام ہے اور شعور و نظریہ کی آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اسلام اس قسم کی جامد تقلید کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ گناہ اور گمراہی کو محض اس لیے برداشت نہیں کرتا کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا کرتے تھے۔ ہر کام ، ہر سند ار ہر بات پر دلیل چاہئے۔ ہر اقدام سے پہلے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اسے علم و یقین پر مبنی خود مختاری دی گئی ہے۔
آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے افسانوی عقائد جنہوں نے اختیار کئے اور محض نقالی اور جامد تقلید کی راہ اختیار کی ایسے لوگوں کا انجام تاریخ میں کیا ہوا ، جن کے سامنے حقیقت بیان کردی گئی اور ان کو یہ بہانہ بھی ختم کردیا گیا کہ ہم تک تو صحیح بات ہی نہیں پہنچی اور پھر بھی انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرنے سے منہ موڑا۔
وکذلک ما ارسلنا۔۔۔۔۔۔ مقتدون (43 : 23) قال اولو ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (43 : 24) فانتقمنا ۔۔۔۔۔ عاقبۃ المکذبین (43 : 25) “ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا ، اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر نبی نے ان سے پوچھا ، کیا تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ، ہم اس کے کافر ہیں۔ آخرت کا ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ”۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام روگردانی کرنے والوں کی دلیل و مزاج ایک ہوتے ہیں۔ یہ کہ “ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ”۔ بس نقالی آنکھیں بند کر کے ، عقل اندھی ہوجاتی ہے جو لوگ غوروفکر کے بغیر تقلید کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے سامنے جو بات پیش کی جاتی ہے وہ تقلیدی نظریات و اعمال سے زیادہ معقول کیوں نہ ہو۔ اس کی پشت پر دلائل و شواہد کا انبار کیوں نہ ہو۔ ایسی فطرت کے لوگوں کو ہلاک کرنا ہی بہتر ہے جو آنکھ نہیں کھولتے کہ دیکھیں ، دل نہیں کھولتے کہ سمجھیں دماغ نہیں کھولتے کہ دلائل کا وزن کریں۔
اس قسم کے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے اور ان کے سامنے اسے پیش کیا جاتا ہے کہ سمجھ کر اس سے بچیں اور اس راہ کے انجام سے خبردار ہوں۔
الزخرف 43:26
درس نمبر 232 ایک نظر میں
قریش کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ اور یہ دعویٰ برحق تھا۔ پھر ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ ملت ابراہیمی پر ہیں اور ان کی یہ بات غلط تھی۔ حضرت ابراہیم نے تو عقیدۂ توحید کا اعلان نہایت کھل کر کیا تھا۔ جس کے اندر کوئی التباس اور پیچیدگی نہ تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے باپ کو چھوڑا ، اپنی قوم کو چھوڑا ، اس سے پہلے ان کو قتل کرنے اور جلانے کی سعی کی گئی۔ اور ان کی شریعت بھی عقیدۂ توحید پر قائم تھی اور اسی کی انہوں نے اپنی اولاد کو تاکید کی تھی۔ اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور شریعت میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔
اس سبق میں قرآن اپنے مخاطبین کو خود ان کی تاریخ کی سیر کراتا ہے تا کہ ان کے دعوے کو تاریخ کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ اس کے بعد رسالت محمدی پر ان کے اعتراضات کو پرکھا جا رہا ہے۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قرآن دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں ہوا ”۔ ان کے اس قول کی تردید کی جاتی ہے کہ ان کی سوچ میں بہت بڑی کجی ہے۔ کیونکہ اسلام جن قدروں پر مبنی ہے ، ان کے اعتبار سے یہ سوچ ہی غلط ہے کہ دعوت اسلامی کی زمام کسی بڑے آدمی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہ جھوٹی قدریں ہیں اور یہی اسلام کی طرف آنے میں ان کے لئے رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہی باطل سوچوں نے ان کو حق و ہدایت سے دور رکھا ہوا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان کو یہ اطلاع بھی کردی جاتی ہے کہ اس گمراہی کی اصل علت اور وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ اس درس کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کی طرف آپ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ان سے منہ موڑ لیں ، ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں ، آپ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی اندھے کو بینا کردیں ، کسی بہرے کو شنوائی دے دیں۔ یہ اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں ۔ اور ان کو ضرور سزا ملے گی خواہ آپ کی زندگی میں اللہ ان سے انتقام لے یا آپ کے بعد وہ اس سے دو چار ہوں۔ آپ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ کو جو پیغام دیا گیا ہے ، آپ اس کو مضبوطی سے پکڑیں ۔ یہی پیغام تمام انبیاء کو دیا گیا تھا۔ سب کلمہ توحید لے کر آئے تھے۔
وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ، ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ” ۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا ایک حلقہ پیش کیا جاتا ہے۔ فرعون کلیم کے قصے کا وہ حصہ جس میں وہی جھوٹی قدریں سامنے آتی ہیں جو اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پیش کیں گویا یہ ایک تیار استدلال ہے ، بنا بنایا اور تاریخ کے ہر مرحلے میں اسے دہرایا جاتا ہے۔
٭٭٭٭
درس نمبر 232 تشریح آیات
26 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 56
آیت نمبر 26 تا 28 دعوت توحید جسے یہ لوگ انوکھا سمجھتے ہیں ، یہ دراصل ان کے باپ کی دعوت ہے ، یہ وہ دعوت ہے جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے سامنے پیش کی اور ان کے باطل عقائد کی تردید کی۔ اور اس میں انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے موروثی عقائد کو ترک کیا اور موروثی راہ پر رسم نہ چلے۔ محض اس لیے کہ آباء و اجداد یہی کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ، اس معاملے میں ان کے مقابلے میں برات کے اظہار میں کوئی لگی لپٹی بات نہیں کی بلکہ نہایت ہی صاف الفاظ اور شفاف عمل میں ان کی تردید کی ، جس طرح قرآن نقل کرتا ہے :
اننی براء مما تعبدون (43 : 26) الا الذی فطرنی فانہ سیھدین (43 : 27) “ بیشک میں ان سے بری الذمہ ہوں جن کی تم بندگی کرتے ہو ، میرا تعلق اس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا وہی میری رہنمائی کرے گا ”۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اظہار برات اور پھر اس اعلان سے کہ میں صرف اس خدا کی بندگی کروں گا جو میرا خالق ہے ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ نمرودی معاشرہ بھی بالکل خدا کا منکر نہ تھا بلکہ وہ اللہ کے سوا اور الہٰوں کو اللہ کے ساتھ شریک قرار دیتے تھے۔ اور ان کی بندگی کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ان سے برات کا اظہار کیا۔ اس لا تعلقی کے اظہار سے آپ نے خالق کائنات کو مستثنیٰ لیا۔ اور اللہ کی یہاں آپ نے وہ صفت بیان جو صرف اللہ کے لئے عبادت کا استحقاق ثابت کرتی ہے۔ یہ کہ وہ پیدا کرنے والا ہے۔ لہٰذا بندگی اور حکم بھی اسی کا چلنا چاہئے اور آپ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اللہ انہیں ہدایات دے گا کہ وہ کیا کریں کیونکہ خالق اپنی مخلوق کی راہنمائی کا انتظام بھی کرتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس طرح ہدایت دے۔ یہ کلمہ جس کے اوپر زندگی قائم ہے جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے اور جس پر شہادت دے رہی ہے ، یہ حضرت ابراہیم نے کہا۔
وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون (43 : 28) “ اور ابراہیم یہی کلمہ پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تا کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں ”۔ اس کرۂ ارض پر کلمہ توحید کے اقرار اور رواج میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا بڑا حصہ ہے۔ آپ ہی کے بعد یہ کلمہ تمام نسلوں میں رائج ہوا۔ اور یہ رواج آپ کی اولاد کے ذریعے ہوا۔ آپ کی اولاد سے بیشمار رسول بھیجے گئے۔ تین رسول تو اولو العزم رسول تھے۔ حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ ۔ آج دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ ایسے پائے جاتے ہیں ، جو مختلف بڑے ادیان کے پیروکار ہیں جو اپنے باپ کے کلمہ توحید پر کاربند ہیں۔ اس نے اس کلمے کو اپنی اولاد میں باقی رکھا۔ اگرچہ ان میں سے بھی گمراہ ہونے والے گمراہ ہوئے لیکن یہ کلمہ باقی رہا۔ کبھی یہ بالکل نا پید نہیں ہوا ، اور اس کے قدم مضبوط رہے ، کبھی کسی نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا اور نہ اس کے ساتھ باطل کا امتزاج ہوا ہے تا کہ لوگ اللہ کی طرف لوٹیں اور اسے سینے سے لگائیں۔
ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے بھی کلمہ توحید سے انسانیت واقف تھی لیکن زمین کے اوپر کلمہ توحید کو قرار و ثبات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نصیب ہوا۔ آپ سے پہلے حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت صالح اور شاید حضرت ادریس (علیہ السلام) نے کلمہ توحید پیش کیا لیکن ان رسولوں کو ایسے جانشین نہ ملے جو ان کے بعد کلمہ توحید کو باقی رکھتے اور اس کے مطابق زندگی گزارتے اور جو اس کے لئے زندہ رہتے۔ لیکن جب یہ کلمہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے پیش فرمایا تو آپ کے بعد اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اور رسولوں کا بھی ایک غیر منقطع سلسلہ چل نکلا۔ چناچہ آپ کی اولاد میں سے آخری بیٹے اور آپ کے ساتھ زیادہ مشابہ حضرت محمد خاتم النبین ﷺ تشریف لائے ، اور انہوں نے کلمہ توحید کو اس کی کامل اور شامل صورت میں پیش کیا جس نے پوری زندگی کو اس کلمے کے ارد گرد گمادیا۔ اور انسان کی ہر سرگرمی میں اس کو اثر انداز کردیا۔
یہ تھی توحید کی کہانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جن کے بارے میں اہل قریش یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور اس کلمے کو ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جن کے بارے میں اہل قریش یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور اس کلمے کو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں وراثت میں باقی رکھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر یہ کلمہ نسلاً بعد نسل نقل ہوتا رہا۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف نسبت کرنے والے اس کلمے کے مقابلے میں کیا رد عمل اختیار کرتے ہیں۔
زمانے گزر گئے۔ اللہ نے نسلاً بعد نسل ان کو زندگی کے خوب سازو سامان دئیے ، بہت زیادہ دور چلے جانے کے بعد انہوں نے ملت ابراہیمی کو بھلا دیا۔ اور ان عربوں کے اندر کلمہ توحید انوکھا ہوگیا۔ اب جبکہ حضرت محمد ﷺ آئے ہیں تو انہوں نے اس کا بہت ہی برا استقبال کیا اور اسے بھی اہل زمین اور دنیا پرستوں کی قدروں کے پیمانوں سے ناپنا شروع کردیا اور خود ان کے پیمانے بھی بدل گئے۔
الزخرف 43:27
درس نمبر 232 ایک نظر میں
قریش کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ اور یہ دعویٰ برحق تھا۔ پھر ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ ملت ابراہیمی پر ہیں اور ان کی یہ بات غلط تھی۔ حضرت ابراہیم نے تو عقیدۂ توحید کا اعلان نہایت کھل کر کیا تھا۔ جس کے اندر کوئی التباس اور پیچیدگی نہ تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے باپ کو چھوڑا ، اپنی قوم کو چھوڑا ، اس سے پہلے ان کو قتل کرنے اور جلانے کی سعی کی گئی۔ اور ان کی شریعت بھی عقیدۂ توحید پر قائم تھی اور اسی کی انہوں نے اپنی اولاد کو تاکید کی تھی۔ اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور شریعت میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔
اس سبق میں قرآن اپنے مخاطبین کو خود ان کی تاریخ کی سیر کراتا ہے تا کہ ان کے دعوے کو تاریخ کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ اس کے بعد رسالت محمدی پر ان کے اعتراضات کو پرکھا جا رہا ہے۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قرآن دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں ہوا ”۔ ان کے اس قول کی تردید کی جاتی ہے کہ ان کی سوچ میں بہت بڑی کجی ہے۔ کیونکہ اسلام جن قدروں پر مبنی ہے ، ان کے اعتبار سے یہ سوچ ہی غلط ہے کہ دعوت اسلامی کی زمام کسی بڑے آدمی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہ جھوٹی قدریں ہیں اور یہی اسلام کی طرف آنے میں ان کے لئے رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہی باطل سوچوں نے ان کو حق و ہدایت سے دور رکھا ہوا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان کو یہ اطلاع بھی کردی جاتی ہے کہ اس گمراہی کی اصل علت اور وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ اس درس کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کی طرف آپ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ان سے منہ موڑ لیں ، ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں ، آپ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی اندھے کو بینا کردیں ، کسی بہرے کو شنوائی دے دیں۔ یہ اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں ۔ اور ان کو ضرور سزا ملے گی خواہ آپ کی زندگی میں اللہ ان سے انتقام لے یا آپ کے بعد وہ اس سے دو چار ہوں۔ آپ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ کو جو پیغام دیا گیا ہے ، آپ اس کو مضبوطی سے پکڑیں ۔ یہی پیغام تمام انبیاء کو دیا گیا تھا۔ سب کلمہ توحید لے کر آئے تھے۔
وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ، ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ” ۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا ایک حلقہ پیش کیا جاتا ہے۔ فرعون کلیم کے قصے کا وہ حصہ جس میں وہی جھوٹی قدریں سامنے آتی ہیں جو اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پیش کیں گویا یہ ایک تیار استدلال ہے ، بنا بنایا اور تاریخ کے ہر مرحلے میں اسے دہرایا جاتا ہے۔
٭٭٭٭
درس نمبر 232 تشریح آیات
26 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 56
آیت نمبر 26 تا 28 دعوت توحید جسے یہ لوگ انوکھا سمجھتے ہیں ، یہ دراصل ان کے باپ کی دعوت ہے ، یہ وہ دعوت ہے جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے سامنے پیش کی اور ان کے باطل عقائد کی تردید کی۔ اور اس میں انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے موروثی عقائد کو ترک کیا اور موروثی راہ پر رسم نہ چلے۔ محض اس لیے کہ آباء و اجداد یہی کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ، اس معاملے میں ان کے مقابلے میں برات کے اظہار میں کوئی لگی لپٹی بات نہیں کی بلکہ نہایت ہی صاف الفاظ اور شفاف عمل میں ان کی تردید کی ، جس طرح قرآن نقل کرتا ہے :
اننی براء مما تعبدون (43 : 26) الا الذی فطرنی فانہ سیھدین (43 : 27) “ بیشک میں ان سے بری الذمہ ہوں جن کی تم بندگی کرتے ہو ، میرا تعلق اس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا وہی میری رہنمائی کرے گا ”۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اظہار برات اور پھر اس اعلان سے کہ میں صرف اس خدا کی بندگی کروں گا جو میرا خالق ہے ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ نمرودی معاشرہ بھی بالکل خدا کا منکر نہ تھا بلکہ وہ اللہ کے سوا اور الہٰوں کو اللہ کے ساتھ شریک قرار دیتے تھے۔ اور ان کی بندگی کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ان سے برات کا اظہار کیا۔ اس لا تعلقی کے اظہار سے آپ نے خالق کائنات کو مستثنیٰ لیا۔ اور اللہ کی یہاں آپ نے وہ صفت بیان جو صرف اللہ کے لئے عبادت کا استحقاق ثابت کرتی ہے۔ یہ کہ وہ پیدا کرنے والا ہے۔ لہٰذا بندگی اور حکم بھی اسی کا چلنا چاہئے اور آپ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اللہ انہیں ہدایات دے گا کہ وہ کیا کریں کیونکہ خالق اپنی مخلوق کی راہنمائی کا انتظام بھی کرتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس طرح ہدایت دے۔ یہ کلمہ جس کے اوپر زندگی قائم ہے جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے اور جس پر شہادت دے رہی ہے ، یہ حضرت ابراہیم نے کہا۔
وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون (43 : 28) “ اور ابراہیم یہی کلمہ پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تا کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں ”۔ اس کرۂ ارض پر کلمہ توحید کے اقرار اور رواج میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا بڑا حصہ ہے۔ آپ ہی کے بعد یہ کلمہ تمام نسلوں میں رائج ہوا۔ اور یہ رواج آپ کی اولاد کے ذریعے ہوا۔ آپ کی اولاد سے بیشمار رسول بھیجے گئے۔ تین رسول تو اولو العزم رسول تھے۔ حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ ۔ آج دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ ایسے پائے جاتے ہیں ، جو مختلف بڑے ادیان کے پیروکار ہیں جو اپنے باپ کے کلمہ توحید پر کاربند ہیں۔ اس نے اس کلمے کو اپنی اولاد میں باقی رکھا۔ اگرچہ ان میں سے بھی گمراہ ہونے والے گمراہ ہوئے لیکن یہ کلمہ باقی رہا۔ کبھی یہ بالکل نا پید نہیں ہوا ، اور اس کے قدم مضبوط رہے ، کبھی کسی نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا اور نہ اس کے ساتھ باطل کا امتزاج ہوا ہے تا کہ لوگ اللہ کی طرف لوٹیں اور اسے سینے سے لگائیں۔
ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے بھی کلمہ توحید سے انسانیت واقف تھی لیکن زمین کے اوپر کلمہ توحید کو قرار و ثبات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نصیب ہوا۔ آپ سے پہلے حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت صالح اور شاید حضرت ادریس (علیہ السلام) نے کلمہ توحید پیش کیا لیکن ان رسولوں کو ایسے جانشین نہ ملے جو ان کے بعد کلمہ توحید کو باقی رکھتے اور اس کے مطابق زندگی گزارتے اور جو اس کے لئے زندہ رہتے۔ لیکن جب یہ کلمہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے پیش فرمایا تو آپ کے بعد اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اور رسولوں کا بھی ایک غیر منقطع سلسلہ چل نکلا۔ چناچہ آپ کی اولاد میں سے آخری بیٹے اور آپ کے ساتھ زیادہ مشابہ حضرت محمد خاتم النبین ﷺ تشریف لائے ، اور انہوں نے کلمہ توحید کو اس کی کامل اور شامل صورت میں پیش کیا جس نے پوری زندگی کو اس کلمے کے ارد گرد گمادیا۔ اور انسان کی ہر سرگرمی میں اس کو اثر انداز کردیا۔
یہ تھی توحید کی کہانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جن کے بارے میں اہل قریش یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور اس کلمے کو ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جن کے بارے میں اہل قریش یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور اس کلمے کو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں وراثت میں باقی رکھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر یہ کلمہ نسلاً بعد نسل نقل ہوتا رہا۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف نسبت کرنے والے اس کلمے کے مقابلے میں کیا رد عمل اختیار کرتے ہیں۔
زمانے گزر گئے۔ اللہ نے نسلاً بعد نسل ان کو زندگی کے خوب سازو سامان دئیے ، بہت زیادہ دور چلے جانے کے بعد انہوں نے ملت ابراہیمی کو بھلا دیا۔ اور ان عربوں کے اندر کلمہ توحید انوکھا ہوگیا۔ اب جبکہ حضرت محمد ﷺ آئے ہیں تو انہوں نے اس کا بہت ہی برا استقبال کیا اور اسے بھی اہل زمین اور دنیا پرستوں کی قدروں کے پیمانوں سے ناپنا شروع کردیا اور خود ان کے پیمانے بھی بدل گئے۔
الزخرف 43:28
درس نمبر 232 ایک نظر میں
قریش کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ اور یہ دعویٰ برحق تھا۔ پھر ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ ملت ابراہیمی پر ہیں اور ان کی یہ بات غلط تھی۔ حضرت ابراہیم نے تو عقیدۂ توحید کا اعلان نہایت کھل کر کیا تھا۔ جس کے اندر کوئی التباس اور پیچیدگی نہ تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے باپ کو چھوڑا ، اپنی قوم کو چھوڑا ، اس سے پہلے ان کو قتل کرنے اور جلانے کی سعی کی گئی۔ اور ان کی شریعت بھی عقیدۂ توحید پر قائم تھی اور اسی کی انہوں نے اپنی اولاد کو تاکید کی تھی۔ اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور شریعت میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔
اس سبق میں قرآن اپنے مخاطبین کو خود ان کی تاریخ کی سیر کراتا ہے تا کہ ان کے دعوے کو تاریخ کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ اس کے بعد رسالت محمدی پر ان کے اعتراضات کو پرکھا جا رہا ہے۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قرآن دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں ہوا ”۔ ان کے اس قول کی تردید کی جاتی ہے کہ ان کی سوچ میں بہت بڑی کجی ہے۔ کیونکہ اسلام جن قدروں پر مبنی ہے ، ان کے اعتبار سے یہ سوچ ہی غلط ہے کہ دعوت اسلامی کی زمام کسی بڑے آدمی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہ جھوٹی قدریں ہیں اور یہی اسلام کی طرف آنے میں ان کے لئے رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہی باطل سوچوں نے ان کو حق و ہدایت سے دور رکھا ہوا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان کو یہ اطلاع بھی کردی جاتی ہے کہ اس گمراہی کی اصل علت اور وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ اس درس کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کی طرف آپ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ان سے منہ موڑ لیں ، ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں ، آپ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی اندھے کو بینا کردیں ، کسی بہرے کو شنوائی دے دیں۔ یہ اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں ۔ اور ان کو ضرور سزا ملے گی خواہ آپ کی زندگی میں اللہ ان سے انتقام لے یا آپ کے بعد وہ اس سے دو چار ہوں۔ آپ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ کو جو پیغام دیا گیا ہے ، آپ اس کو مضبوطی سے پکڑیں ۔ یہی پیغام تمام انبیاء کو دیا گیا تھا۔ سب کلمہ توحید لے کر آئے تھے۔
وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ، ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ” ۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا ایک حلقہ پیش کیا جاتا ہے۔ فرعون کلیم کے قصے کا وہ حصہ جس میں وہی جھوٹی قدریں سامنے آتی ہیں جو اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پیش کیں گویا یہ ایک تیار استدلال ہے ، بنا بنایا اور تاریخ کے ہر مرحلے میں اسے دہرایا جاتا ہے۔
٭٭٭٭
درس نمبر 232 تشریح آیات
26 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 56
آیت نمبر 26 تا 28 دعوت توحید جسے یہ لوگ انوکھا سمجھتے ہیں ، یہ دراصل ان کے باپ کی دعوت ہے ، یہ وہ دعوت ہے جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے سامنے پیش کی اور ان کے باطل عقائد کی تردید کی۔ اور اس میں انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے موروثی عقائد کو ترک کیا اور موروثی راہ پر رسم نہ چلے۔ محض اس لیے کہ آباء و اجداد یہی کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ، اس معاملے میں ان کے مقابلے میں برات کے اظہار میں کوئی لگی لپٹی بات نہیں کی بلکہ نہایت ہی صاف الفاظ اور شفاف عمل میں ان کی تردید کی ، جس طرح قرآن نقل کرتا ہے :
اننی براء مما تعبدون (43 : 26) الا الذی فطرنی فانہ سیھدین (43 : 27) “ بیشک میں ان سے بری الذمہ ہوں جن کی تم بندگی کرتے ہو ، میرا تعلق اس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا وہی میری رہنمائی کرے گا ”۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اظہار برات اور پھر اس اعلان سے کہ میں صرف اس خدا کی بندگی کروں گا جو میرا خالق ہے ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ نمرودی معاشرہ بھی بالکل خدا کا منکر نہ تھا بلکہ وہ اللہ کے سوا اور الہٰوں کو اللہ کے ساتھ شریک قرار دیتے تھے۔ اور ان کی بندگی کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ان سے برات کا اظہار کیا۔ اس لا تعلقی کے اظہار سے آپ نے خالق کائنات کو مستثنیٰ لیا۔ اور اللہ کی یہاں آپ نے وہ صفت بیان جو صرف اللہ کے لئے عبادت کا استحقاق ثابت کرتی ہے۔ یہ کہ وہ پیدا کرنے والا ہے۔ لہٰذا بندگی اور حکم بھی اسی کا چلنا چاہئے اور آپ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اللہ انہیں ہدایات دے گا کہ وہ کیا کریں کیونکہ خالق اپنی مخلوق کی راہنمائی کا انتظام بھی کرتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس طرح ہدایت دے۔ یہ کلمہ جس کے اوپر زندگی قائم ہے جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے اور جس پر شہادت دے رہی ہے ، یہ حضرت ابراہیم نے کہا۔
وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون (43 : 28) “ اور ابراہیم یہی کلمہ پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تا کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں ”۔ اس کرۂ ارض پر کلمہ توحید کے اقرار اور رواج میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا بڑا حصہ ہے۔ آپ ہی کے بعد یہ کلمہ تمام نسلوں میں رائج ہوا۔ اور یہ رواج آپ کی اولاد کے ذریعے ہوا۔ آپ کی اولاد سے بیشمار رسول بھیجے گئے۔ تین رسول تو اولو العزم رسول تھے۔ حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ ۔ آج دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ ایسے پائے جاتے ہیں ، جو مختلف بڑے ادیان کے پیروکار ہیں جو اپنے باپ کے کلمہ توحید پر کاربند ہیں۔ اس نے اس کلمے کو اپنی اولاد میں باقی رکھا۔ اگرچہ ان میں سے بھی گمراہ ہونے والے گمراہ ہوئے لیکن یہ کلمہ باقی رہا۔ کبھی یہ بالکل نا پید نہیں ہوا ، اور اس کے قدم مضبوط رہے ، کبھی کسی نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا اور نہ اس کے ساتھ باطل کا امتزاج ہوا ہے تا کہ لوگ اللہ کی طرف لوٹیں اور اسے سینے سے لگائیں۔
ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے بھی کلمہ توحید سے انسانیت واقف تھی لیکن زمین کے اوپر کلمہ توحید کو قرار و ثبات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نصیب ہوا۔ آپ سے پہلے حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت صالح اور شاید حضرت ادریس (علیہ السلام) نے کلمہ توحید پیش کیا لیکن ان رسولوں کو ایسے جانشین نہ ملے جو ان کے بعد کلمہ توحید کو باقی رکھتے اور اس کے مطابق زندگی گزارتے اور جو اس کے لئے زندہ رہتے۔ لیکن جب یہ کلمہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے پیش فرمایا تو آپ کے بعد اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اور رسولوں کا بھی ایک غیر منقطع سلسلہ چل نکلا۔ چناچہ آپ کی اولاد میں سے آخری بیٹے اور آپ کے ساتھ زیادہ مشابہ حضرت محمد خاتم النبین ﷺ تشریف لائے ، اور انہوں نے کلمہ توحید کو اس کی کامل اور شامل صورت میں پیش کیا جس نے پوری زندگی کو اس کلمے کے ارد گرد گمادیا۔ اور انسان کی ہر سرگرمی میں اس کو اثر انداز کردیا۔
یہ تھی توحید کی کہانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جن کے بارے میں اہل قریش یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور اس کلمے کو ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جن کے بارے میں اہل قریش یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور اس کلمے کو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں وراثت میں باقی رکھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر یہ کلمہ نسلاً بعد نسل نقل ہوتا رہا۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف نسبت کرنے والے اس کلمے کے مقابلے میں کیا رد عمل اختیار کرتے ہیں۔
زمانے گزر گئے۔ اللہ نے نسلاً بعد نسل ان کو زندگی کے خوب سازو سامان دئیے ، بہت زیادہ دور چلے جانے کے بعد انہوں نے ملت ابراہیمی کو بھلا دیا۔ اور ان عربوں کے اندر کلمہ توحید انوکھا ہوگیا۔ اب جبکہ حضرت محمد ﷺ آئے ہیں تو انہوں نے اس کا بہت ہی برا استقبال کیا اور اسے بھی اہل زمین اور دنیا پرستوں کی قدروں کے پیمانوں سے ناپنا شروع کردیا اور خود ان کے پیمانے بھی بدل گئے۔
الزخرف 43:29
آیت نمبر 29 تا 35
اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔
بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو خوب سامان زندگی دیا گیا ، ان کو طویل مہلت دی گئی ، یہاں تک کہ وہ سچائی اس قرآن کی شکل میں آئی اور اس کے ساتھ ایک نہایت ہی کھول کر بات سمجھانے والا رسول بھی آگیا جو ان پر یہ سچائی پیش کرتا ہے اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
ولما جاءھم الحق قالوا ھذا سحر وانا بہ کفرون (43 : 30) “ مگر جب وہ حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جادو میں سچائی کا شائبہ تک نہیں ہوتا ، یہ بات بالکل واضح ہے۔ یہ تو ان کا محض ایک دعویٰ اور الزام تھا اور اس کے بارے میں سب سے پہلے خود ان کو یقین تھا کہ یہ الزام غلط ہے۔ کیونکہ کبراء قریش اس حد تک جہاندیدہ تھے کہ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی کہ قرآن کریم کلام حق ہے ، یہ جو الزامات وہ لگاتے تھے۔ وہ جمہور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے وہ ایسا کرتے تھے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے اور اس کے بعد یہ جو اعلان کرتے تھے کہ ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ بات کو پکی کرنے کے لئے اعلان کرتے تھے۔
انہ بہ کفرون (43 : 30) “ اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ جمہور عوام کو وہ اس سے یہ تاثر دیتے تھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا انہیں پورا پورا یقین ہے۔ اس طرح وہ ان کو یہ اشارہ دیتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلتے رہو اور ہمارے مطیع فرمان رہو اور ہر قوم سے سردار جمہور عوام کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں ، یہ نہ ہو کہ وہ ان کے دائرہ اختیار سے نکل جائیں اور کلمہ توحید کو قبول کرلیں ۔ کیونکہ جب کلمہ توحید کا اقتدار قائم ہوتا ہے ، تمام گردن کش گرجاتے ہیں۔ پھر تو صرف اللہ کی بندگی ہوتی ہے اور لوگ اللہ ہی سے ڈرتے ہیں۔
اس کے بعد قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان کس طرح ملاوٹ کردی ہے۔ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو ہی منتخب کیا ہے کہ وہ یہ پیغام پہنچائیں۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟” دو گاؤں سے ان کی مراد مکہ اور طائف ہے۔ حضرت محمد ﷺ قریش کی ایک شاخ سے تھے۔ پھر بنی ہاشم کی ایک شاخ کے فرد تھے۔ اور یہ لوگ عربوں میں سے برتر لوگ تھے جبکہ آپ کی ذات بھی اخلاق عالیہ کے لحاظ سے ممتاز تھی۔ بعثت سے پہلے آپ صادق و امین اور اعلیٰ اخلاق کے مالک انسان کے طور پر مشہور تھے۔ لیکن آپ اپنے قبیلے کے سر براہ نہ تھے ۔ نہ کسی خاندان کے رئیس تھے اور اس دور میں لوگ انہی چیزوں پر فخر کرتے تھے کہ کوئی قبیلے یا کسی شاخ کا سربراہ ہو۔ معترضین کا اعتراض یہی تھا۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قران ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر نازل کیوں نہ کیا گیا ”۔ حالانکہ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی رسالت اور دعوت کے لئے کون موزوں ہے اور یہ منصب کس کو دیا جائے۔ لہٰذا ! اللہ نے اہل ترین شخص کا انتخاب کرلیا۔ اللہ کا منشا یہ نہ تھا کہ اس رسالت کو خارجی اسباب میں سے کوئی سہارا ملے ، اس کی قوت اس کے خارج سے نہ ہو بلکہ اس کے اندر سے ہو۔ لہٰذا اس نے اس کے لئے ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جس کی بڑی خصوصیت اس کے اخلاق تھے۔ اس دعوت کا مزاج ہی یہ ہے اور یہ اس کی بالکل ممتاز خصوصیت ہے۔ اس لیے کسی قبیلے کے سردار کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ نہ کسی خاندان کے سر براہ کو اس کے لئے منتخب کیا گیا۔ نہ کسی صاحب جاہ مرتبہ کا انتخاب ہوا۔ نہ ایک بہت بڑے مالدار کا یوں انتخاب ہوا تا کہ آسمانوں پر سے نازل ہونے والی اس دعوت کی اصل اقدار کسی ایسی قدر سے ملتبس نہ ہوجائیں جس کا تعلق اس دنیا پرستی سے ہو اور اس دعوت کے اندر دنیا پرستی کے خلیات میں سے کوئی خلیہ داخل نہ ہوجائے جو اس دعوت کی حقیقت کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں رکھتا۔ اور دعوت اسلامی کی ذاتی قوت کے سوا کوئی اور خارجی سبب اس پر اثر انداز نہ ہو۔ نہ کوئی طالع آزما اس کے قریب آئے اور نہ کوئی پاکباز اس سے دور ہو۔
لیکن اس قوم پر دنیا پرستی کا غلبہ تھا ، اس لیے جو لوگ آسمانی دعوت کی نوعیت کو سمجھتے نہ تھے۔ وہ اس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ”۔
لہٰذا قرآن نے اللہ کی اس عظیم رحمت پر ان کے اس سطحی اعتراض کو رد فرما دیا ، یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی رحمت کے لئے جو چاہے ، اختیار کرلے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے انہوں نے دنیا پرستی اور جاہلیت کی اقدار اور اللہ کی آسمانی قدروں کو ملا دیا ہے۔ اور وہ اپنی دنیا پرستی کی آنکھوں سے اس دعوت اسلامی کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ دعوت خدا پرستی اور آخرت کے حساب سے دی جارہی ہے۔
اھم یقسمون رحمت ۔۔۔۔۔۔ خیر مما یجمعون (43 : 32) “ کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ سمیٹ رہے ہیں ”۔ یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب نبوت بھی خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو اللہ کی رحمت اور نبوت سے واسطہ کیا ہے ؟ اصل پوزیشن ان کی یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، خود اپنے رزق کے بھی یہ مالک نہیں ہیں ، یعنی اس دنیا کی مختصر زندگی کے لئے بھی ان کا رزق ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ بھی ہم ان پر تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ہم اپنی حکمت اور تدبیر سے تقسیم کرتے ہیں اور یہ ہماری تقسیم اس زمین کی تعمیر و ترقی کے لئے ہے۔
اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے رزق لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق دیا جاتا ہے۔ زندگی کے حالات کے مطابق دیا جاتا ہے اور معاشرے کے افراد کے باہم تعلقات کے مطابق دیا جاتا ہے۔ مختلف عوامل کے مطابق افراد معاشرہ کے درمیان اس کی تقسیم ہوتی ہے۔ ہر معاشرے میں نظام تقسیم رزق مختلف ہوتا ہے۔ ہر زمانے میں اس کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہر سوسائٹی دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ اور اس میں عمومی حالات اور افراد معاشرہ کے باہم تعلقات پر دارومدار ہوتا ہے۔ لیکن ہر دور اور ہر معاشرے میں تقسیم رزق میں جو بات موجود ہو رہی ہے ، وہ یہ رہی ہے کہ رزق کی تقسیم میں فرق رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مصنوعی معاشروں میں بھی تقسیم رزق میں فرق ہے ، جن کا مقصد ہی پیداوار بڑھانا اور مساویانہ تقسیم کرنا ہے۔
تفاوت رزق کے اسباب مختلف معاشروں میں مختلف رہے ہیں۔ لیکن مقدار رزق کے اختلافات میں اختلاف ناپید کبھی نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ جن مصنوعی معاشروں کے اندر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مکمل مساوات ہے وہاں بھی رزق مختلف ہوتا ہے اور ورفعنا بعضھم فوق بعض (43 : 32) “ اور کچھ لوگ کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے ”۔
اور تمام معاشروں میں فرق مراتب رزق کے اسباب تو مختلف رہے ہیں لیکن حکمت یہی رہی ہے۔
درجت لیتخذ بعضھم سخریا (43 : 32) “ یا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں ”۔ یعنی بعض لوگ دوسروں کو اپنا ماتحت کر کے ان سے خدمات لیں ، اس دنیا میں جب معیشت کی گاڑی چلتی ہے تو بعض لوگ خدمات فروخت کرتے ہیں اور بعض خریدتے ہیں۔ یوں بعض بعض کے لئے مسخر ہوجاتے ہیں ، یہاں تسخیر کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک طبعہ برتر ہو اور دوسرا کم تر ہو یا ایک فرد دوسرے کا غلام ہو۔ اگر یہ لیا جائے تو یہ اس لفظ کا بہت ہی سادہ مفہوم ہوگا۔ یہ اللہ کے دائمی اور بلند کلام کی سطح تک نہیں پہنچتا۔ اللہ کے فرمان کا مفہوم کسی تغیر سے بالا ہے ، اگرچہ انسانی سوسائٹی کے حالات میں جس قدر تبدیلی واقع ہوجائے ، یہ ایسا مفہوم نہیں ہے کہ جانے والے حالات میں اور ہو اور آنے والے حالات میں اور ہو۔ حقیقی مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں اور زندگی اور معیشت کا چکر سب کو گھماتا ہے۔ اور ہر حال اور ہر صورت میں لوگ ایک دوسرے کے محتاج و مجبور ہیں۔ ہر ایک کے وسائل رزق متعین ہیں ، کسی کے ذرائع ، کشادہ ہیں اور کسی کے محدود ہیں۔ کوئی اس کام میں لگا ہوا کہ دولت جمع کرے ، اس سے خود بھی کھائے اور وہ دوسروں کو بھی دے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں۔ اور دونوں کے وسائل رزق میں جو فرق ہے اس نے دونوں کو ایک دوسرے کے لئے محتاج اور مسخر بنا دیا ہے۔ اور زندگی خصوصاً معاشی زندگی کے چکر میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ، مزدور انجینئر کا محتاج ہے اور انجینئر مالک کا محتاج ہے۔ انجینئر اور مزدور دونوں مالک کے محتاج ہیں ، مالک انجینئر اور مزدور دونوں کا محتاج ہے۔ اور ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کے پورا کرنے میں لگا ہوا ہے اور مسخر ہے۔ اور یہ سب نظام رزق میں تعاون کی وجہ سے قائم ہوا ہے۔ کسی کو خدمات درکار ہیں اور کسی نے بیچنی ہیں۔
بعض ایسے لوگ جو خود ساختہ نظریات کے داعی ہیں وہ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر اسلام اور اسلام کے اقتصادی نظام پر بہت سے اعتراضات کرتے ہیں اور پھر بعض مسلمان اس آیت کے سامنے شف شف کرتے ہیں اور ان کا اندازیوں ہوتا ہے کہ وہ گویا اسلام پر یہ ایک الزام ہے اور وہ اس کا رد کرتے ہیں کہ اسلام رزق کے معاملے میں فرق مراتب کا قائل نہیں ہے اور یہ کہ رزق میں فرق مراتب اسلام پر تہمت ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اہل اسلام ، اسلام کے بارے بالکل کھل کر اور صاف صاف بات کریں۔ وہ ان خود ساختہ نظریات سے متاثر ہوئے بغیر اور دفاعی انداز اختیار کئے بغیر صاف صاف کہہ دیں کہ رزق میں فرق مراتب ایک حقیقت ہے جسے اسلام روا رکھتا ہے اور لوگ ہمیشہ وسائل رزق کے معاملے میں مختلف ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی حالت طبیعی اور حالت نفسی اسی تفاوت پر قائم ہے۔ لوگوں کو خالق کائنات کی طرف سے مختلف درجوں کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرسکتا ہے اور یہ تفاوت اور فرق مراتب اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہر شخص نے اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کی ادائیگی میں بالکل ایک جدا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر سب لوگ اس طرح پیدا کئے گئے ہوتے جس طرح پریس سے ایک اشتہار چھپتا ہے یا کتاب کا ایک نسخہ تیار ہوتا ہے تو اس دنیا میں زندگی کی یہ اجتماعی صورت نہ ہوتی اور کئی ضروری کام یونہی رہ جاتے جن کے سر انجام دینے کے لئے کوئی قابل آدمی نہ ہوتا کیونکہ ان کے لئے کوئی قابل آدمی ہی نہ ملتا۔ جس اللہ نے زندگی پیدا کی ہے اور اس کے لئے بقا کا انتظام فرمایا ہے اس نے ہر شخص کے لئے ایک کردار رکھا ہے اور ہر عمل کے لئے ایک شخص ، ہر کسے رابہر کارے ساختد ، پھر ہر شخص کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے رزق میں بھی فرق ہوتا ہے ، گر فرق مراتب نہ کئی زندیقی ، یہ ہے اصل قاعدہ ۔ رہا یہ کہ مختلف اہلیت کے لوگوں کے رزق کے اندر کس قدر فرق ہو تو یہ ہر نظام ، ہر معاشرے اور ہر ملک کے اپنے حالات پر موقوف ہوتا ہے ۔ لیکن یہ فطری اصول کسی جگہ رد نہیں کیا جاسکتا کہ فرق مراتب ہو اور اس طرح زندگی نشوونما پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے مصنوعی نظامہائے معیشت کے پیروکاروں نے جنہوں نے مساوات کے بلند بانگ دعوے کئے ، مزدور ، انجینئر اور منیجر کی تنخواہوں کے اندر مساوات قائم نہ کی اور نہ کرسکے ۔ حالانکہ انہوں نے اپنے نظام کو بروئے کار لانے کے لئے بڑے سے بڑا تشدد کیا لیکن آخر کار یہ لوگ اللہ کے ابدی اصول کے سامنے شکست کھا گئے۔ کیونکہ اللہ کا قانون اس کائنات کے اندر موجود نہایت ہی مستحکم ناموس زندگی پر مبنی ہے (سید قطب ، اے کاش آپ زندہ ہوتے اور ان مصنوعی مذاہب کو روس میں دھڑام سے گرتے دیکھتے ! ) اور جس نظام کی نشاندہی اللہ نے اس دنیا کی زندگی کے لئے کی ہے اسی میں اللہ کی رحمت ہے۔
و رحمت ربک خیر مما یجمعون (43 : 32) “ تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ جمع کرتے ہیں ” اور یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس رحمت کے لئے جس کو چاہے ، چن لے ، کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس منصب کے لئے کون اہل ہے۔ پھر اللہ کی رحمت کا تعلق اس دنیا میں پائے جانے والے نظام معیشت کی اہلیت پر نہیں ہے۔ یہ تو دنیاوی اقدار ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ کوئی بہت بڑا کمال نہیں ہے کہ کوئی بہت بڑی دولت جمع کر دے کیونکہ دولت کے جمع کرنے میں نیکو کاروں اور بدکاروں کے لئے برابر کے مواقع ہیں اور اچھوں اور بروں کے لئے اس میں برابر مواقع ہیں لیکن اللہ کی رحمت (نبوت) کے لئے تو بہت ہی ممتاز ترین لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور اس کام کو اللہ ہی جانتا ہے۔
اللہ کے نزدیک یہ دنیا اور اس کی دولت اس قدر حقیر اور اس قدر بےوقعت ہے کہ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سب لوگ کافر ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ یہاں کافروں پر دولت کی بارش کردیتا۔ لیکن اندیشہ یہ تھا کہ یہ دولت لوگوں کے لئے فتنہ بن جائے گی اور انہیں ایمان کی راہ سے روک دے گی۔
ولو لا این یکون ۔۔۔۔۔۔ علیھا یظھرون (43 : 33) ولبیوتھم ابوابا ۔۔۔۔۔ یتکئون (43 : 34) وزخرفا وان کل ۔۔۔۔۔ عند ربک للمتقین (43 : 35) “ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں ، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ سے اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے ۔ یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لئے ہے ”۔
اللہ جانتا ہے کہ اس کی مخلوق ضعیف ہے اور وہ دنیا کے مال و دولت سے کس قدر متاثر ہوجاتی ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اپنی اس عظیم رحمت کا انکار کرنے والوں کو اس حقیر و ذلیل دنیا سے مالا مال کردیتا ، ان کے مکانات ، ان کی چھتیں اور ان کے دروازے اور ان کا فرنیچر سب سونے چاندی کے ہوجاتے ۔ ان کے گھروں کے بڑے بڑے گیٹ ہوتے۔ جن تختوں پر وہ بیٹھے ان کے بڑے بڑے تکیے ہوتے اور یہ سونے چاندی اور دوسری قیمتی دھاتوں کے ہوتے۔ یہ دنیائے ونی سب کی سب ان کفار کے حوالے کردی جاتی۔
وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا (43 : 35) “ یہ تو سب حیات دنیا کی متاع ہے ”۔ یعنی زائل ہونے والا سازو سامان ، جو اس دنیا کی حدود سے آگے جاتا ہی نہیں۔ یہ دنیا بھی کم قیمت اور مختصر اور اس پر انسان کی زندگی بھی مختصر۔
والاخرۃ عند ربک للمقتین (43 : 35) “ اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے ”۔ اور یہ لوگ اللہ کے نزدیک اپنے تقویٰ کی وجہ سے مکرم ہیں۔ لہٰذا اس نے ان کے لئے وہ انعامات تیار کر رکھے جو بہت ہی باعزت اور قیمتی ہیں۔ اور وہ اس دنیا کے فانی متاع کے مقابلے میں زیادہ باقی رہنے والے بیش قیمت ہیں۔ اور اللہ ان کو قیامت میں رحمٰن کے کافروں کے مقابلے میں بہت ہی امتیازی شان دے گا اور رہے یہ کافر تو ان کو اللہ متاع حیات اس حساب سے دیتا ہے جس طرح حیوانات کو چارہ دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حیات دنیا کا یہ سازو سامان جس کی مثال اللہ نے یہاں دی ، اس دنیا کے بہت سے لوگوں کی نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے ۔ اور جب اہل ایمان فساق و فجار کے ہاتھ میں یہ مال و دولت دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ہاتھ ان سے خالی ہیں یا وہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ عسرت ، سختی اور تنگی ترشی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ فساق و فجار اپنی دولت کے بل بوتے پر ، قوت و سطوت اور اقتدار پر ہیں تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ فتنہ لوگوں پر بہت اثر کرتا ہے لیکن اللہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ یہ چیزیں نہایت ہی حقیر ، عارضی اور کم قیمت ہیں۔ اور اللہ نے اپنے ہاں متقین کے لئے جو کچھ تیار کر رکھا ، وہ ناقابل تصور ہے۔ یہ نیک لوگوں کے لئے ہے۔ اس طرح قلب مومن اس حالت پر مطمئن ہوجاتا ہے جو اللہ نے ابرار کے لئے اختیار کیا ہے یا فجار کے لئے اختیار کیا ہے۔
ان لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اللہ نے نبوت کے لئے ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے جس کے پاس دولت دنیا نہیں ہے ۔ وہ لوگوں کی قدرو قیمت کا اندازہ ان کے اقتدار ، ان کے مال ، اور ان کے مرتبے سے لگاتے ہیں۔ ان کو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں تو یہ چیزیں حقیر اور فانی ہیں۔ یہ تو اللہ کی شریر ترین مخلوق کے پاس بہت زیادہ ہوتی ہیں اور اللہ کے مبغوض ترین لوگوں کے پاس زیادہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا مال و دولت اللہ کے ہاں قرب ، مرتبہ اور رضائے الٰہی کی دلیل نہیں ہے۔
یوں قرآن کریم ہر چیز کو اپنی جگہ اور صحیح مقام پر رکھتا ہے ۔ اور اللہ کے قوانین بابت تقسیم رزق بیان کرتا ہے کہ اس دنیا میں دولت کی تقسیم کا یہ نظام ہے۔ اور یہ وضاحت کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس سلسلے میں کیا قدریں ہیں اور یہ تمام باتیں اس حوالے سے کی گئیں کہ ان لوگوں کو رسالت محمدی پر اس زاویہ سے اعتراض تھا کہ اللہ نے مکہ اور طائف کے رؤسا کو چھوڑ کر محمد ﷺ کو نبی بنا دیا جو دولت کے اعتبار سے ایک عام آدمی تھے۔
یوں ، اس مناسبت سے امارت اور غربت کے بارے میں ، اسلامی نظام معیشت کے لئے بنیادی اور کلی قواعد وضع کر دئیے گئے ، جن کے اندر کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی تغیر ممکن نہ ہوگا۔ زندگی کی بو قلمونیاں ، نظام کا اختلاف ، نظریات کا اختلاف ، معاشروں اور سوسائٹیوں کا اختلاف کوئی چیز بھی ان قواعد کو متاثر نہ کرے گی۔ کیونکہ زندگی کی بعض مستقل قدریں ہیں اور یہ زندگی ان کے دائرے کے اندر ہی حرکت کرتی ہے۔ وہ اس کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتی۔ جن لوگوں کو بدلتے ہوئے حالات اس طرف سے اندھا کردیتے ہیں کہ وہ زندگی کی ان مستقل قدروں کو دیکھ سکیں ، وہ اللہ کے اس مستقل معاشی اصول اور معاشی کلیہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ (انہدام روس کے بعد سمجھ لیا ہے ) اسلامی نظام دراصل ثبات اور تغیر کے درمیان ایک حسین امتزاج ہے۔ اس کے معاشی نظام میں بدلنے والے اصول بھی ہیں اور ناقابل تغیر بھی ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ، وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ زندگی کی ترقی میں تغیر و تبدل ہی اصل چیز ہے۔ یہ تغیر اور انقلاب اشیاء کی حقیقت میں بھی آتا ہے اور شکل میں بھی آتا ہے اور ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ اس تغیر اور تبدیلی کے ساتھ مستقل اور ثابت اصول نہیں چل سکتے۔ یہ لوگ اس بات کے منکر ہیں کہ تبدل و تغیر کے سوا اور کوئی مستقل قانون معیشت بھی ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ یہ لوگ صرف تغیر کے قانون کو تسلیم کرتے ہیں۔ رہے ہم مسلمان تو ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس پوری کائنات میں ثبات اور تغیر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اور اس دنیا کی بعض چیزوں میں ثبات بطور ایک مستقل قدر موجود ہے اور اس کی بڑی مثال تو یہی مسئلہ موضوع بحث ہے۔ لوگوں کے درمیان تقسیم رزق میں تفاوت ایک مستقل اصول ہے اور نسبت تفاوت میں فرق و امتیاز بہرحال ہوتا ہی رہتا ہے۔ یہ نسبت ہر ملک اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں بدل سکتی ہے۔ خود موضوع زیر بحث میں دونوں مثالیں موجود ہیں کہ ثبات و تغیر تقسیم معیشت میں موجود ہے۔ اور تفاوت مستقل ہے اور نسبت تفاوت متغیر ہے۔
٭٭٭
جب یہ بیان کردیا گیا کہ اللہ کے نزدیک اس دنیا کا مال و متاع کوئی چیز نہیں ہے اور یہ ایک حقیر سامان چند روزہ ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ فساق و فجار کو جو دولت دی جاتی ہے یہ ان کی کرامت اور شرافت کی دلیل نہیں ہے۔ اور آخرت کے تمام مزے متقین کے لئے ہیں۔ تو یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں دولت دی گئی اور وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے اور وہ ان عبادات سے منہ پھیرے ہیں جن کے نتیجے میں آخرت میں نعمتیں ملیں گی تو ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوگا۔
الزخرف 43:30
آیت نمبر 29 تا 35
اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔
بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو خوب سامان زندگی دیا گیا ، ان کو طویل مہلت دی گئی ، یہاں تک کہ وہ سچائی اس قرآن کی شکل میں آئی اور اس کے ساتھ ایک نہایت ہی کھول کر بات سمجھانے والا رسول بھی آگیا جو ان پر یہ سچائی پیش کرتا ہے اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
ولما جاءھم الحق قالوا ھذا سحر وانا بہ کفرون (43 : 30) “ مگر جب وہ حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جادو میں سچائی کا شائبہ تک نہیں ہوتا ، یہ بات بالکل واضح ہے۔ یہ تو ان کا محض ایک دعویٰ اور الزام تھا اور اس کے بارے میں سب سے پہلے خود ان کو یقین تھا کہ یہ الزام غلط ہے۔ کیونکہ کبراء قریش اس حد تک جہاندیدہ تھے کہ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی کہ قرآن کریم کلام حق ہے ، یہ جو الزامات وہ لگاتے تھے۔ وہ جمہور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے وہ ایسا کرتے تھے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے اور اس کے بعد یہ جو اعلان کرتے تھے کہ ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ بات کو پکی کرنے کے لئے اعلان کرتے تھے۔
انہ بہ کفرون (43 : 30) “ اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ جمہور عوام کو وہ اس سے یہ تاثر دیتے تھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا انہیں پورا پورا یقین ہے۔ اس طرح وہ ان کو یہ اشارہ دیتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلتے رہو اور ہمارے مطیع فرمان رہو اور ہر قوم سے سردار جمہور عوام کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں ، یہ نہ ہو کہ وہ ان کے دائرہ اختیار سے نکل جائیں اور کلمہ توحید کو قبول کرلیں ۔ کیونکہ جب کلمہ توحید کا اقتدار قائم ہوتا ہے ، تمام گردن کش گرجاتے ہیں۔ پھر تو صرف اللہ کی بندگی ہوتی ہے اور لوگ اللہ ہی سے ڈرتے ہیں۔
اس کے بعد قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان کس طرح ملاوٹ کردی ہے۔ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو ہی منتخب کیا ہے کہ وہ یہ پیغام پہنچائیں۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟” دو گاؤں سے ان کی مراد مکہ اور طائف ہے۔ حضرت محمد ﷺ قریش کی ایک شاخ سے تھے۔ پھر بنی ہاشم کی ایک شاخ کے فرد تھے۔ اور یہ لوگ عربوں میں سے برتر لوگ تھے جبکہ آپ کی ذات بھی اخلاق عالیہ کے لحاظ سے ممتاز تھی۔ بعثت سے پہلے آپ صادق و امین اور اعلیٰ اخلاق کے مالک انسان کے طور پر مشہور تھے۔ لیکن آپ اپنے قبیلے کے سر براہ نہ تھے ۔ نہ کسی خاندان کے رئیس تھے اور اس دور میں لوگ انہی چیزوں پر فخر کرتے تھے کہ کوئی قبیلے یا کسی شاخ کا سربراہ ہو۔ معترضین کا اعتراض یہی تھا۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قران ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر نازل کیوں نہ کیا گیا ”۔ حالانکہ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی رسالت اور دعوت کے لئے کون موزوں ہے اور یہ منصب کس کو دیا جائے۔ لہٰذا ! اللہ نے اہل ترین شخص کا انتخاب کرلیا۔ اللہ کا منشا یہ نہ تھا کہ اس رسالت کو خارجی اسباب میں سے کوئی سہارا ملے ، اس کی قوت اس کے خارج سے نہ ہو بلکہ اس کے اندر سے ہو۔ لہٰذا اس نے اس کے لئے ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جس کی بڑی خصوصیت اس کے اخلاق تھے۔ اس دعوت کا مزاج ہی یہ ہے اور یہ اس کی بالکل ممتاز خصوصیت ہے۔ اس لیے کسی قبیلے کے سردار کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ نہ کسی خاندان کے سر براہ کو اس کے لئے منتخب کیا گیا۔ نہ کسی صاحب جاہ مرتبہ کا انتخاب ہوا۔ نہ ایک بہت بڑے مالدار کا یوں انتخاب ہوا تا کہ آسمانوں پر سے نازل ہونے والی اس دعوت کی اصل اقدار کسی ایسی قدر سے ملتبس نہ ہوجائیں جس کا تعلق اس دنیا پرستی سے ہو اور اس دعوت کے اندر دنیا پرستی کے خلیات میں سے کوئی خلیہ داخل نہ ہوجائے جو اس دعوت کی حقیقت کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں رکھتا۔ اور دعوت اسلامی کی ذاتی قوت کے سوا کوئی اور خارجی سبب اس پر اثر انداز نہ ہو۔ نہ کوئی طالع آزما اس کے قریب آئے اور نہ کوئی پاکباز اس سے دور ہو۔
لیکن اس قوم پر دنیا پرستی کا غلبہ تھا ، اس لیے جو لوگ آسمانی دعوت کی نوعیت کو سمجھتے نہ تھے۔ وہ اس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ”۔
لہٰذا قرآن نے اللہ کی اس عظیم رحمت پر ان کے اس سطحی اعتراض کو رد فرما دیا ، یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی رحمت کے لئے جو چاہے ، اختیار کرلے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے انہوں نے دنیا پرستی اور جاہلیت کی اقدار اور اللہ کی آسمانی قدروں کو ملا دیا ہے۔ اور وہ اپنی دنیا پرستی کی آنکھوں سے اس دعوت اسلامی کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ دعوت خدا پرستی اور آخرت کے حساب سے دی جارہی ہے۔
اھم یقسمون رحمت ۔۔۔۔۔۔ خیر مما یجمعون (43 : 32) “ کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ سمیٹ رہے ہیں ”۔ یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب نبوت بھی خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو اللہ کی رحمت اور نبوت سے واسطہ کیا ہے ؟ اصل پوزیشن ان کی یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، خود اپنے رزق کے بھی یہ مالک نہیں ہیں ، یعنی اس دنیا کی مختصر زندگی کے لئے بھی ان کا رزق ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ بھی ہم ان پر تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ہم اپنی حکمت اور تدبیر سے تقسیم کرتے ہیں اور یہ ہماری تقسیم اس زمین کی تعمیر و ترقی کے لئے ہے۔
اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے رزق لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق دیا جاتا ہے۔ زندگی کے حالات کے مطابق دیا جاتا ہے اور معاشرے کے افراد کے باہم تعلقات کے مطابق دیا جاتا ہے۔ مختلف عوامل کے مطابق افراد معاشرہ کے درمیان اس کی تقسیم ہوتی ہے۔ ہر معاشرے میں نظام تقسیم رزق مختلف ہوتا ہے۔ ہر زمانے میں اس کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہر سوسائٹی دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ اور اس میں عمومی حالات اور افراد معاشرہ کے باہم تعلقات پر دارومدار ہوتا ہے۔ لیکن ہر دور اور ہر معاشرے میں تقسیم رزق میں جو بات موجود ہو رہی ہے ، وہ یہ رہی ہے کہ رزق کی تقسیم میں فرق رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مصنوعی معاشروں میں بھی تقسیم رزق میں فرق ہے ، جن کا مقصد ہی پیداوار بڑھانا اور مساویانہ تقسیم کرنا ہے۔
تفاوت رزق کے اسباب مختلف معاشروں میں مختلف رہے ہیں۔ لیکن مقدار رزق کے اختلافات میں اختلاف ناپید کبھی نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ جن مصنوعی معاشروں کے اندر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مکمل مساوات ہے وہاں بھی رزق مختلف ہوتا ہے اور ورفعنا بعضھم فوق بعض (43 : 32) “ اور کچھ لوگ کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے ”۔
اور تمام معاشروں میں فرق مراتب رزق کے اسباب تو مختلف رہے ہیں لیکن حکمت یہی رہی ہے۔
درجت لیتخذ بعضھم سخریا (43 : 32) “ یا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں ”۔ یعنی بعض لوگ دوسروں کو اپنا ماتحت کر کے ان سے خدمات لیں ، اس دنیا میں جب معیشت کی گاڑی چلتی ہے تو بعض لوگ خدمات فروخت کرتے ہیں اور بعض خریدتے ہیں۔ یوں بعض بعض کے لئے مسخر ہوجاتے ہیں ، یہاں تسخیر کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک طبعہ برتر ہو اور دوسرا کم تر ہو یا ایک فرد دوسرے کا غلام ہو۔ اگر یہ لیا جائے تو یہ اس لفظ کا بہت ہی سادہ مفہوم ہوگا۔ یہ اللہ کے دائمی اور بلند کلام کی سطح تک نہیں پہنچتا۔ اللہ کے فرمان کا مفہوم کسی تغیر سے بالا ہے ، اگرچہ انسانی سوسائٹی کے حالات میں جس قدر تبدیلی واقع ہوجائے ، یہ ایسا مفہوم نہیں ہے کہ جانے والے حالات میں اور ہو اور آنے والے حالات میں اور ہو۔ حقیقی مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں اور زندگی اور معیشت کا چکر سب کو گھماتا ہے۔ اور ہر حال اور ہر صورت میں لوگ ایک دوسرے کے محتاج و مجبور ہیں۔ ہر ایک کے وسائل رزق متعین ہیں ، کسی کے ذرائع ، کشادہ ہیں اور کسی کے محدود ہیں۔ کوئی اس کام میں لگا ہوا کہ دولت جمع کرے ، اس سے خود بھی کھائے اور وہ دوسروں کو بھی دے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں۔ اور دونوں کے وسائل رزق میں جو فرق ہے اس نے دونوں کو ایک دوسرے کے لئے محتاج اور مسخر بنا دیا ہے۔ اور زندگی خصوصاً معاشی زندگی کے چکر میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ، مزدور انجینئر کا محتاج ہے اور انجینئر مالک کا محتاج ہے۔ انجینئر اور مزدور دونوں مالک کے محتاج ہیں ، مالک انجینئر اور مزدور دونوں کا محتاج ہے۔ اور ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کے پورا کرنے میں لگا ہوا ہے اور مسخر ہے۔ اور یہ سب نظام رزق میں تعاون کی وجہ سے قائم ہوا ہے۔ کسی کو خدمات درکار ہیں اور کسی نے بیچنی ہیں۔
بعض ایسے لوگ جو خود ساختہ نظریات کے داعی ہیں وہ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر اسلام اور اسلام کے اقتصادی نظام پر بہت سے اعتراضات کرتے ہیں اور پھر بعض مسلمان اس آیت کے سامنے شف شف کرتے ہیں اور ان کا اندازیوں ہوتا ہے کہ وہ گویا اسلام پر یہ ایک الزام ہے اور وہ اس کا رد کرتے ہیں کہ اسلام رزق کے معاملے میں فرق مراتب کا قائل نہیں ہے اور یہ کہ رزق میں فرق مراتب اسلام پر تہمت ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اہل اسلام ، اسلام کے بارے بالکل کھل کر اور صاف صاف بات کریں۔ وہ ان خود ساختہ نظریات سے متاثر ہوئے بغیر اور دفاعی انداز اختیار کئے بغیر صاف صاف کہہ دیں کہ رزق میں فرق مراتب ایک حقیقت ہے جسے اسلام روا رکھتا ہے اور لوگ ہمیشہ وسائل رزق کے معاملے میں مختلف ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی حالت طبیعی اور حالت نفسی اسی تفاوت پر قائم ہے۔ لوگوں کو خالق کائنات کی طرف سے مختلف درجوں کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرسکتا ہے اور یہ تفاوت اور فرق مراتب اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہر شخص نے اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کی ادائیگی میں بالکل ایک جدا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر سب لوگ اس طرح پیدا کئے گئے ہوتے جس طرح پریس سے ایک اشتہار چھپتا ہے یا کتاب کا ایک نسخہ تیار ہوتا ہے تو اس دنیا میں زندگی کی یہ اجتماعی صورت نہ ہوتی اور کئی ضروری کام یونہی رہ جاتے جن کے سر انجام دینے کے لئے کوئی قابل آدمی نہ ہوتا کیونکہ ان کے لئے کوئی قابل آدمی ہی نہ ملتا۔ جس اللہ نے زندگی پیدا کی ہے اور اس کے لئے بقا کا انتظام فرمایا ہے اس نے ہر شخص کے لئے ایک کردار رکھا ہے اور ہر عمل کے لئے ایک شخص ، ہر کسے رابہر کارے ساختد ، پھر ہر شخص کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے رزق میں بھی فرق ہوتا ہے ، گر فرق مراتب نہ کئی زندیقی ، یہ ہے اصل قاعدہ ۔ رہا یہ کہ مختلف اہلیت کے لوگوں کے رزق کے اندر کس قدر فرق ہو تو یہ ہر نظام ، ہر معاشرے اور ہر ملک کے اپنے حالات پر موقوف ہوتا ہے ۔ لیکن یہ فطری اصول کسی جگہ رد نہیں کیا جاسکتا کہ فرق مراتب ہو اور اس طرح زندگی نشوونما پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے مصنوعی نظامہائے معیشت کے پیروکاروں نے جنہوں نے مساوات کے بلند بانگ دعوے کئے ، مزدور ، انجینئر اور منیجر کی تنخواہوں کے اندر مساوات قائم نہ کی اور نہ کرسکے ۔ حالانکہ انہوں نے اپنے نظام کو بروئے کار لانے کے لئے بڑے سے بڑا تشدد کیا لیکن آخر کار یہ لوگ اللہ کے ابدی اصول کے سامنے شکست کھا گئے۔ کیونکہ اللہ کا قانون اس کائنات کے اندر موجود نہایت ہی مستحکم ناموس زندگی پر مبنی ہے (سید قطب ، اے کاش آپ زندہ ہوتے اور ان مصنوعی مذاہب کو روس میں دھڑام سے گرتے دیکھتے ! ) اور جس نظام کی نشاندہی اللہ نے اس دنیا کی زندگی کے لئے کی ہے اسی میں اللہ کی رحمت ہے۔
و رحمت ربک خیر مما یجمعون (43 : 32) “ تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ جمع کرتے ہیں ” اور یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس رحمت کے لئے جس کو چاہے ، چن لے ، کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس منصب کے لئے کون اہل ہے۔ پھر اللہ کی رحمت کا تعلق اس دنیا میں پائے جانے والے نظام معیشت کی اہلیت پر نہیں ہے۔ یہ تو دنیاوی اقدار ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ کوئی بہت بڑا کمال نہیں ہے کہ کوئی بہت بڑی دولت جمع کر دے کیونکہ دولت کے جمع کرنے میں نیکو کاروں اور بدکاروں کے لئے برابر کے مواقع ہیں اور اچھوں اور بروں کے لئے اس میں برابر مواقع ہیں لیکن اللہ کی رحمت (نبوت) کے لئے تو بہت ہی ممتاز ترین لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور اس کام کو اللہ ہی جانتا ہے۔
اللہ کے نزدیک یہ دنیا اور اس کی دولت اس قدر حقیر اور اس قدر بےوقعت ہے کہ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سب لوگ کافر ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ یہاں کافروں پر دولت کی بارش کردیتا۔ لیکن اندیشہ یہ تھا کہ یہ دولت لوگوں کے لئے فتنہ بن جائے گی اور انہیں ایمان کی راہ سے روک دے گی۔
ولو لا این یکون ۔۔۔۔۔۔ علیھا یظھرون (43 : 33) ولبیوتھم ابوابا ۔۔۔۔۔ یتکئون (43 : 34) وزخرفا وان کل ۔۔۔۔۔ عند ربک للمتقین (43 : 35) “ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں ، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ سے اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے ۔ یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لئے ہے ”۔
اللہ جانتا ہے کہ اس کی مخلوق ضعیف ہے اور وہ دنیا کے مال و دولت سے کس قدر متاثر ہوجاتی ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اپنی اس عظیم رحمت کا انکار کرنے والوں کو اس حقیر و ذلیل دنیا سے مالا مال کردیتا ، ان کے مکانات ، ان کی چھتیں اور ان کے دروازے اور ان کا فرنیچر سب سونے چاندی کے ہوجاتے ۔ ان کے گھروں کے بڑے بڑے گیٹ ہوتے۔ جن تختوں پر وہ بیٹھے ان کے بڑے بڑے تکیے ہوتے اور یہ سونے چاندی اور دوسری قیمتی دھاتوں کے ہوتے۔ یہ دنیائے ونی سب کی سب ان کفار کے حوالے کردی جاتی۔
وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا (43 : 35) “ یہ تو سب حیات دنیا کی متاع ہے ”۔ یعنی زائل ہونے والا سازو سامان ، جو اس دنیا کی حدود سے آگے جاتا ہی نہیں۔ یہ دنیا بھی کم قیمت اور مختصر اور اس پر انسان کی زندگی بھی مختصر۔
والاخرۃ عند ربک للمقتین (43 : 35) “ اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے ”۔ اور یہ لوگ اللہ کے نزدیک اپنے تقویٰ کی وجہ سے مکرم ہیں۔ لہٰذا اس نے ان کے لئے وہ انعامات تیار کر رکھے جو بہت ہی باعزت اور قیمتی ہیں۔ اور وہ اس دنیا کے فانی متاع کے مقابلے میں زیادہ باقی رہنے والے بیش قیمت ہیں۔ اور اللہ ان کو قیامت میں رحمٰن کے کافروں کے مقابلے میں بہت ہی امتیازی شان دے گا اور رہے یہ کافر تو ان کو اللہ متاع حیات اس حساب سے دیتا ہے جس طرح حیوانات کو چارہ دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حیات دنیا کا یہ سازو سامان جس کی مثال اللہ نے یہاں دی ، اس دنیا کے بہت سے لوگوں کی نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے ۔ اور جب اہل ایمان فساق و فجار کے ہاتھ میں یہ مال و دولت دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ہاتھ ان سے خالی ہیں یا وہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ عسرت ، سختی اور تنگی ترشی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ فساق و فجار اپنی دولت کے بل بوتے پر ، قوت و سطوت اور اقتدار پر ہیں تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ فتنہ لوگوں پر بہت اثر کرتا ہے لیکن اللہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ یہ چیزیں نہایت ہی حقیر ، عارضی اور کم قیمت ہیں۔ اور اللہ نے اپنے ہاں متقین کے لئے جو کچھ تیار کر رکھا ، وہ ناقابل تصور ہے۔ یہ نیک لوگوں کے لئے ہے۔ اس طرح قلب مومن اس حالت پر مطمئن ہوجاتا ہے جو اللہ نے ابرار کے لئے اختیار کیا ہے یا فجار کے لئے اختیار کیا ہے۔
ان لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اللہ نے نبوت کے لئے ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے جس کے پاس دولت دنیا نہیں ہے ۔ وہ لوگوں کی قدرو قیمت کا اندازہ ان کے اقتدار ، ان کے مال ، اور ان کے مرتبے سے لگاتے ہیں۔ ان کو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں تو یہ چیزیں حقیر اور فانی ہیں۔ یہ تو اللہ کی شریر ترین مخلوق کے پاس بہت زیادہ ہوتی ہیں اور اللہ کے مبغوض ترین لوگوں کے پاس زیادہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا مال و دولت اللہ کے ہاں قرب ، مرتبہ اور رضائے الٰہی کی دلیل نہیں ہے۔
یوں قرآن کریم ہر چیز کو اپنی جگہ اور صحیح مقام پر رکھتا ہے ۔ اور اللہ کے قوانین بابت تقسیم رزق بیان کرتا ہے کہ اس دنیا میں دولت کی تقسیم کا یہ نظام ہے۔ اور یہ وضاحت کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس سلسلے میں کیا قدریں ہیں اور یہ تمام باتیں اس حوالے سے کی گئیں کہ ان لوگوں کو رسالت محمدی پر اس زاویہ سے اعتراض تھا کہ اللہ نے مکہ اور طائف کے رؤسا کو چھوڑ کر محمد ﷺ کو نبی بنا دیا جو دولت کے اعتبار سے ایک عام آدمی تھے۔
یوں ، اس مناسبت سے امارت اور غربت کے بارے میں ، اسلامی نظام معیشت کے لئے بنیادی اور کلی قواعد وضع کر دئیے گئے ، جن کے اندر کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی تغیر ممکن نہ ہوگا۔ زندگی کی بو قلمونیاں ، نظام کا اختلاف ، نظریات کا اختلاف ، معاشروں اور سوسائٹیوں کا اختلاف کوئی چیز بھی ان قواعد کو متاثر نہ کرے گی۔ کیونکہ زندگی کی بعض مستقل قدریں ہیں اور یہ زندگی ان کے دائرے کے اندر ہی حرکت کرتی ہے۔ وہ اس کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتی۔ جن لوگوں کو بدلتے ہوئے حالات اس طرف سے اندھا کردیتے ہیں کہ وہ زندگی کی ان مستقل قدروں کو دیکھ سکیں ، وہ اللہ کے اس مستقل معاشی اصول اور معاشی کلیہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ (انہدام روس کے بعد سمجھ لیا ہے ) اسلامی نظام دراصل ثبات اور تغیر کے درمیان ایک حسین امتزاج ہے۔ اس کے معاشی نظام میں بدلنے والے اصول بھی ہیں اور ناقابل تغیر بھی ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ، وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ زندگی کی ترقی میں تغیر و تبدل ہی اصل چیز ہے۔ یہ تغیر اور انقلاب اشیاء کی حقیقت میں بھی آتا ہے اور شکل میں بھی آتا ہے اور ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ اس تغیر اور تبدیلی کے ساتھ مستقل اور ثابت اصول نہیں چل سکتے۔ یہ لوگ اس بات کے منکر ہیں کہ تبدل و تغیر کے سوا اور کوئی مستقل قانون معیشت بھی ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ یہ لوگ صرف تغیر کے قانون کو تسلیم کرتے ہیں۔ رہے ہم مسلمان تو ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس پوری کائنات میں ثبات اور تغیر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اور اس دنیا کی بعض چیزوں میں ثبات بطور ایک مستقل قدر موجود ہے اور اس کی بڑی مثال تو یہی مسئلہ موضوع بحث ہے۔ لوگوں کے درمیان تقسیم رزق میں تفاوت ایک مستقل اصول ہے اور نسبت تفاوت میں فرق و امتیاز بہرحال ہوتا ہی رہتا ہے۔ یہ نسبت ہر ملک اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں بدل سکتی ہے۔ خود موضوع زیر بحث میں دونوں مثالیں موجود ہیں کہ ثبات و تغیر تقسیم معیشت میں موجود ہے۔ اور تفاوت مستقل ہے اور نسبت تفاوت متغیر ہے۔
٭٭٭
جب یہ بیان کردیا گیا کہ اللہ کے نزدیک اس دنیا کا مال و متاع کوئی چیز نہیں ہے اور یہ ایک حقیر سامان چند روزہ ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ فساق و فجار کو جو دولت دی جاتی ہے یہ ان کی کرامت اور شرافت کی دلیل نہیں ہے۔ اور آخرت کے تمام مزے متقین کے لئے ہیں۔ تو یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں دولت دی گئی اور وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے اور وہ ان عبادات سے منہ پھیرے ہیں جن کے نتیجے میں آخرت میں نعمتیں ملیں گی تو ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوگا۔
الزخرف 43:31
آیت نمبر 29 تا 35
اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔
بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو خوب سامان زندگی دیا گیا ، ان کو طویل مہلت دی گئی ، یہاں تک کہ وہ سچائی اس قرآن کی شکل میں آئی اور اس کے ساتھ ایک نہایت ہی کھول کر بات سمجھانے والا رسول بھی آگیا جو ان پر یہ سچائی پیش کرتا ہے اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
ولما جاءھم الحق قالوا ھذا سحر وانا بہ کفرون (43 : 30) “ مگر جب وہ حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جادو میں سچائی کا شائبہ تک نہیں ہوتا ، یہ بات بالکل واضح ہے۔ یہ تو ان کا محض ایک دعویٰ اور الزام تھا اور اس کے بارے میں سب سے پہلے خود ان کو یقین تھا کہ یہ الزام غلط ہے۔ کیونکہ کبراء قریش اس حد تک جہاندیدہ تھے کہ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی کہ قرآن کریم کلام حق ہے ، یہ جو الزامات وہ لگاتے تھے۔ وہ جمہور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے وہ ایسا کرتے تھے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے اور اس کے بعد یہ جو اعلان کرتے تھے کہ ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ بات کو پکی کرنے کے لئے اعلان کرتے تھے۔
انہ بہ کفرون (43 : 30) “ اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ جمہور عوام کو وہ اس سے یہ تاثر دیتے تھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا انہیں پورا پورا یقین ہے۔ اس طرح وہ ان کو یہ اشارہ دیتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلتے رہو اور ہمارے مطیع فرمان رہو اور ہر قوم سے سردار جمہور عوام کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں ، یہ نہ ہو کہ وہ ان کے دائرہ اختیار سے نکل جائیں اور کلمہ توحید کو قبول کرلیں ۔ کیونکہ جب کلمہ توحید کا اقتدار قائم ہوتا ہے ، تمام گردن کش گرجاتے ہیں۔ پھر تو صرف اللہ کی بندگی ہوتی ہے اور لوگ اللہ ہی سے ڈرتے ہیں۔
اس کے بعد قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان کس طرح ملاوٹ کردی ہے۔ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو ہی منتخب کیا ہے کہ وہ یہ پیغام پہنچائیں۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟” دو گاؤں سے ان کی مراد مکہ اور طائف ہے۔ حضرت محمد ﷺ قریش کی ایک شاخ سے تھے۔ پھر بنی ہاشم کی ایک شاخ کے فرد تھے۔ اور یہ لوگ عربوں میں سے برتر لوگ تھے جبکہ آپ کی ذات بھی اخلاق عالیہ کے لحاظ سے ممتاز تھی۔ بعثت سے پہلے آپ صادق و امین اور اعلیٰ اخلاق کے مالک انسان کے طور پر مشہور تھے۔ لیکن آپ اپنے قبیلے کے سر براہ نہ تھے ۔ نہ کسی خاندان کے رئیس تھے اور اس دور میں لوگ انہی چیزوں پر فخر کرتے تھے کہ کوئی قبیلے یا کسی شاخ کا سربراہ ہو۔ معترضین کا اعتراض یہی تھا۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قران ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر نازل کیوں نہ کیا گیا ”۔ حالانکہ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی رسالت اور دعوت کے لئے کون موزوں ہے اور یہ منصب کس کو دیا جائے۔ لہٰذا ! اللہ نے اہل ترین شخص کا انتخاب کرلیا۔ اللہ کا منشا یہ نہ تھا کہ اس رسالت کو خارجی اسباب میں سے کوئی سہارا ملے ، اس کی قوت اس کے خارج سے نہ ہو بلکہ اس کے اندر سے ہو۔ لہٰذا اس نے اس کے لئے ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جس کی بڑی خصوصیت اس کے اخلاق تھے۔ اس دعوت کا مزاج ہی یہ ہے اور یہ اس کی بالکل ممتاز خصوصیت ہے۔ اس لیے کسی قبیلے کے سردار کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ نہ کسی خاندان کے سر براہ کو اس کے لئے منتخب کیا گیا۔ نہ کسی صاحب جاہ مرتبہ کا انتخاب ہوا۔ نہ ایک بہت بڑے مالدار کا یوں انتخاب ہوا تا کہ آسمانوں پر سے نازل ہونے والی اس دعوت کی اصل اقدار کسی ایسی قدر سے ملتبس نہ ہوجائیں جس کا تعلق اس دنیا پرستی سے ہو اور اس دعوت کے اندر دنیا پرستی کے خلیات میں سے کوئی خلیہ داخل نہ ہوجائے جو اس دعوت کی حقیقت کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں رکھتا۔ اور دعوت اسلامی کی ذاتی قوت کے سوا کوئی اور خارجی سبب اس پر اثر انداز نہ ہو۔ نہ کوئی طالع آزما اس کے قریب آئے اور نہ کوئی پاکباز اس سے دور ہو۔
لیکن اس قوم پر دنیا پرستی کا غلبہ تھا ، اس لیے جو لوگ آسمانی دعوت کی نوعیت کو سمجھتے نہ تھے۔ وہ اس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ”۔
لہٰذا قرآن نے اللہ کی اس عظیم رحمت پر ان کے اس سطحی اعتراض کو رد فرما دیا ، یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی رحمت کے لئے جو چاہے ، اختیار کرلے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے انہوں نے دنیا پرستی اور جاہلیت کی اقدار اور اللہ کی آسمانی قدروں کو ملا دیا ہے۔ اور وہ اپنی دنیا پرستی کی آنکھوں سے اس دعوت اسلامی کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ دعوت خدا پرستی اور آخرت کے حساب سے دی جارہی ہے۔
اھم یقسمون رحمت ۔۔۔۔۔۔ خیر مما یجمعون (43 : 32) “ کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ سمیٹ رہے ہیں ”۔ یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب نبوت بھی خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو اللہ کی رحمت اور نبوت سے واسطہ کیا ہے ؟ اصل پوزیشن ان کی یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، خود اپنے رزق کے بھی یہ مالک نہیں ہیں ، یعنی اس دنیا کی مختصر زندگی کے لئے بھی ان کا رزق ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ بھی ہم ان پر تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ہم اپنی حکمت اور تدبیر سے تقسیم کرتے ہیں اور یہ ہماری تقسیم اس زمین کی تعمیر و ترقی کے لئے ہے۔
اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے رزق لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق دیا جاتا ہے۔ زندگی کے حالات کے مطابق دیا جاتا ہے اور معاشرے کے افراد کے باہم تعلقات کے مطابق دیا جاتا ہے۔ مختلف عوامل کے مطابق افراد معاشرہ کے درمیان اس کی تقسیم ہوتی ہے۔ ہر معاشرے میں نظام تقسیم رزق مختلف ہوتا ہے۔ ہر زمانے میں اس کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہر سوسائٹی دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ اور اس میں عمومی حالات اور افراد معاشرہ کے باہم تعلقات پر دارومدار ہوتا ہے۔ لیکن ہر دور اور ہر معاشرے میں تقسیم رزق میں جو بات موجود ہو رہی ہے ، وہ یہ رہی ہے کہ رزق کی تقسیم میں فرق رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مصنوعی معاشروں میں بھی تقسیم رزق میں فرق ہے ، جن کا مقصد ہی پیداوار بڑھانا اور مساویانہ تقسیم کرنا ہے۔
تفاوت رزق کے اسباب مختلف معاشروں میں مختلف رہے ہیں۔ لیکن مقدار رزق کے اختلافات میں اختلاف ناپید کبھی نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ جن مصنوعی معاشروں کے اندر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مکمل مساوات ہے وہاں بھی رزق مختلف ہوتا ہے اور ورفعنا بعضھم فوق بعض (43 : 32) “ اور کچھ لوگ کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے ”۔
اور تمام معاشروں میں فرق مراتب رزق کے اسباب تو مختلف رہے ہیں لیکن حکمت یہی رہی ہے۔
درجت لیتخذ بعضھم سخریا (43 : 32) “ یا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں ”۔ یعنی بعض لوگ دوسروں کو اپنا ماتحت کر کے ان سے خدمات لیں ، اس دنیا میں جب معیشت کی گاڑی چلتی ہے تو بعض لوگ خدمات فروخت کرتے ہیں اور بعض خریدتے ہیں۔ یوں بعض بعض کے لئے مسخر ہوجاتے ہیں ، یہاں تسخیر کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک طبعہ برتر ہو اور دوسرا کم تر ہو یا ایک فرد دوسرے کا غلام ہو۔ اگر یہ لیا جائے تو یہ اس لفظ کا بہت ہی سادہ مفہوم ہوگا۔ یہ اللہ کے دائمی اور بلند کلام کی سطح تک نہیں پہنچتا۔ اللہ کے فرمان کا مفہوم کسی تغیر سے بالا ہے ، اگرچہ انسانی سوسائٹی کے حالات میں جس قدر تبدیلی واقع ہوجائے ، یہ ایسا مفہوم نہیں ہے کہ جانے والے حالات میں اور ہو اور آنے والے حالات میں اور ہو۔ حقیقی مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں اور زندگی اور معیشت کا چکر سب کو گھماتا ہے۔ اور ہر حال اور ہر صورت میں لوگ ایک دوسرے کے محتاج و مجبور ہیں۔ ہر ایک کے وسائل رزق متعین ہیں ، کسی کے ذرائع ، کشادہ ہیں اور کسی کے محدود ہیں۔ کوئی اس کام میں لگا ہوا کہ دولت جمع کرے ، اس سے خود بھی کھائے اور وہ دوسروں کو بھی دے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں۔ اور دونوں کے وسائل رزق میں جو فرق ہے اس نے دونوں کو ایک دوسرے کے لئے محتاج اور مسخر بنا دیا ہے۔ اور زندگی خصوصاً معاشی زندگی کے چکر میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ، مزدور انجینئر کا محتاج ہے اور انجینئر مالک کا محتاج ہے۔ انجینئر اور مزدور دونوں مالک کے محتاج ہیں ، مالک انجینئر اور مزدور دونوں کا محتاج ہے۔ اور ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کے پورا کرنے میں لگا ہوا ہے اور مسخر ہے۔ اور یہ سب نظام رزق میں تعاون کی وجہ سے قائم ہوا ہے۔ کسی کو خدمات درکار ہیں اور کسی نے بیچنی ہیں۔
بعض ایسے لوگ جو خود ساختہ نظریات کے داعی ہیں وہ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر اسلام اور اسلام کے اقتصادی نظام پر بہت سے اعتراضات کرتے ہیں اور پھر بعض مسلمان اس آیت کے سامنے شف شف کرتے ہیں اور ان کا اندازیوں ہوتا ہے کہ وہ گویا اسلام پر یہ ایک الزام ہے اور وہ اس کا رد کرتے ہیں کہ اسلام رزق کے معاملے میں فرق مراتب کا قائل نہیں ہے اور یہ کہ رزق میں فرق مراتب اسلام پر تہمت ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اہل اسلام ، اسلام کے بارے بالکل کھل کر اور صاف صاف بات کریں۔ وہ ان خود ساختہ نظریات سے متاثر ہوئے بغیر اور دفاعی انداز اختیار کئے بغیر صاف صاف کہہ دیں کہ رزق میں فرق مراتب ایک حقیقت ہے جسے اسلام روا رکھتا ہے اور لوگ ہمیشہ وسائل رزق کے معاملے میں مختلف ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی حالت طبیعی اور حالت نفسی اسی تفاوت پر قائم ہے۔ لوگوں کو خالق کائنات کی طرف سے مختلف درجوں کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرسکتا ہے اور یہ تفاوت اور فرق مراتب اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہر شخص نے اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کی ادائیگی میں بالکل ایک جدا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر سب لوگ اس طرح پیدا کئے گئے ہوتے جس طرح پریس سے ایک اشتہار چھپتا ہے یا کتاب کا ایک نسخہ تیار ہوتا ہے تو اس دنیا میں زندگی کی یہ اجتماعی صورت نہ ہوتی اور کئی ضروری کام یونہی رہ جاتے جن کے سر انجام دینے کے لئے کوئی قابل آدمی نہ ہوتا کیونکہ ان کے لئے کوئی قابل آدمی ہی نہ ملتا۔ جس اللہ نے زندگی پیدا کی ہے اور اس کے لئے بقا کا انتظام فرمایا ہے اس نے ہر شخص کے لئے ایک کردار رکھا ہے اور ہر عمل کے لئے ایک شخص ، ہر کسے رابہر کارے ساختد ، پھر ہر شخص کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے رزق میں بھی فرق ہوتا ہے ، گر فرق مراتب نہ کئی زندیقی ، یہ ہے اصل قاعدہ ۔ رہا یہ کہ مختلف اہلیت کے لوگوں کے رزق کے اندر کس قدر فرق ہو تو یہ ہر نظام ، ہر معاشرے اور ہر ملک کے اپنے حالات پر موقوف ہوتا ہے ۔ لیکن یہ فطری اصول کسی جگہ رد نہیں کیا جاسکتا کہ فرق مراتب ہو اور اس طرح زندگی نشوونما پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے مصنوعی نظامہائے معیشت کے پیروکاروں نے جنہوں نے مساوات کے بلند بانگ دعوے کئے ، مزدور ، انجینئر اور منیجر کی تنخواہوں کے اندر مساوات قائم نہ کی اور نہ کرسکے ۔ حالانکہ انہوں نے اپنے نظام کو بروئے کار لانے کے لئے بڑے سے بڑا تشدد کیا لیکن آخر کار یہ لوگ اللہ کے ابدی اصول کے سامنے شکست کھا گئے۔ کیونکہ اللہ کا قانون اس کائنات کے اندر موجود نہایت ہی مستحکم ناموس زندگی پر مبنی ہے (سید قطب ، اے کاش آپ زندہ ہوتے اور ان مصنوعی مذاہب کو روس میں دھڑام سے گرتے دیکھتے ! ) اور جس نظام کی نشاندہی اللہ نے اس دنیا کی زندگی کے لئے کی ہے اسی میں اللہ کی رحمت ہے۔
و رحمت ربک خیر مما یجمعون (43 : 32) “ تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ جمع کرتے ہیں ” اور یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس رحمت کے لئے جس کو چاہے ، چن لے ، کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس منصب کے لئے کون اہل ہے۔ پھر اللہ کی رحمت کا تعلق اس دنیا میں پائے جانے والے نظام معیشت کی اہلیت پر نہیں ہے۔ یہ تو دنیاوی اقدار ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ کوئی بہت بڑا کمال نہیں ہے کہ کوئی بہت بڑی دولت جمع کر دے کیونکہ دولت کے جمع کرنے میں نیکو کاروں اور بدکاروں کے لئے برابر کے مواقع ہیں اور اچھوں اور بروں کے لئے اس میں برابر مواقع ہیں لیکن اللہ کی رحمت (نبوت) کے لئے تو بہت ہی ممتاز ترین لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور اس کام کو اللہ ہی جانتا ہے۔
اللہ کے نزدیک یہ دنیا اور اس کی دولت اس قدر حقیر اور اس قدر بےوقعت ہے کہ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سب لوگ کافر ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ یہاں کافروں پر دولت کی بارش کردیتا۔ لیکن اندیشہ یہ تھا کہ یہ دولت لوگوں کے لئے فتنہ بن جائے گی اور انہیں ایمان کی راہ سے روک دے گی۔
ولو لا این یکون ۔۔۔۔۔۔ علیھا یظھرون (43 : 33) ولبیوتھم ابوابا ۔۔۔۔۔ یتکئون (43 : 34) وزخرفا وان کل ۔۔۔۔۔ عند ربک للمتقین (43 : 35) “ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں ، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ سے اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے ۔ یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لئے ہے ”۔
اللہ جانتا ہے کہ اس کی مخلوق ضعیف ہے اور وہ دنیا کے مال و دولت سے کس قدر متاثر ہوجاتی ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اپنی اس عظیم رحمت کا انکار کرنے والوں کو اس حقیر و ذلیل دنیا سے مالا مال کردیتا ، ان کے مکانات ، ان کی چھتیں اور ان کے دروازے اور ان کا فرنیچر سب سونے چاندی کے ہوجاتے ۔ ان کے گھروں کے بڑے بڑے گیٹ ہوتے۔ جن تختوں پر وہ بیٹھے ان کے بڑے بڑے تکیے ہوتے اور یہ سونے چاندی اور دوسری قیمتی دھاتوں کے ہوتے۔ یہ دنیائے ونی سب کی سب ان کفار کے حوالے کردی جاتی۔
وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا (43 : 35) “ یہ تو سب حیات دنیا کی متاع ہے ”۔ یعنی زائل ہونے والا سازو سامان ، جو اس دنیا کی حدود سے آگے جاتا ہی نہیں۔ یہ دنیا بھی کم قیمت اور مختصر اور اس پر انسان کی زندگی بھی مختصر۔
والاخرۃ عند ربک للمقتین (43 : 35) “ اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے ”۔ اور یہ لوگ اللہ کے نزدیک اپنے تقویٰ کی وجہ سے مکرم ہیں۔ لہٰذا اس نے ان کے لئے وہ انعامات تیار کر رکھے جو بہت ہی باعزت اور قیمتی ہیں۔ اور وہ اس دنیا کے فانی متاع کے مقابلے میں زیادہ باقی رہنے والے بیش قیمت ہیں۔ اور اللہ ان کو قیامت میں رحمٰن کے کافروں کے مقابلے میں بہت ہی امتیازی شان دے گا اور رہے یہ کافر تو ان کو اللہ متاع حیات اس حساب سے دیتا ہے جس طرح حیوانات کو چارہ دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حیات دنیا کا یہ سازو سامان جس کی مثال اللہ نے یہاں دی ، اس دنیا کے بہت سے لوگوں کی نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے ۔ اور جب اہل ایمان فساق و فجار کے ہاتھ میں یہ مال و دولت دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ہاتھ ان سے خالی ہیں یا وہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ عسرت ، سختی اور تنگی ترشی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ فساق و فجار اپنی دولت کے بل بوتے پر ، قوت و سطوت اور اقتدار پر ہیں تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ فتنہ لوگوں پر بہت اثر کرتا ہے لیکن اللہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ یہ چیزیں نہایت ہی حقیر ، عارضی اور کم قیمت ہیں۔ اور اللہ نے اپنے ہاں متقین کے لئے جو کچھ تیار کر رکھا ، وہ ناقابل تصور ہے۔ یہ نیک لوگوں کے لئے ہے۔ اس طرح قلب مومن اس حالت پر مطمئن ہوجاتا ہے جو اللہ نے ابرار کے لئے اختیار کیا ہے یا فجار کے لئے اختیار کیا ہے۔
ان لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اللہ نے نبوت کے لئے ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے جس کے پاس دولت دنیا نہیں ہے ۔ وہ لوگوں کی قدرو قیمت کا اندازہ ان کے اقتدار ، ان کے مال ، اور ان کے مرتبے سے لگاتے ہیں۔ ان کو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں تو یہ چیزیں حقیر اور فانی ہیں۔ یہ تو اللہ کی شریر ترین مخلوق کے پاس بہت زیادہ ہوتی ہیں اور اللہ کے مبغوض ترین لوگوں کے پاس زیادہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا مال و دولت اللہ کے ہاں قرب ، مرتبہ اور رضائے الٰہی کی دلیل نہیں ہے۔
یوں قرآن کریم ہر چیز کو اپنی جگہ اور صحیح مقام پر رکھتا ہے ۔ اور اللہ کے قوانین بابت تقسیم رزق بیان کرتا ہے کہ اس دنیا میں دولت کی تقسیم کا یہ نظام ہے۔ اور یہ وضاحت کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس سلسلے میں کیا قدریں ہیں اور یہ تمام باتیں اس حوالے سے کی گئیں کہ ان لوگوں کو رسالت محمدی پر اس زاویہ سے اعتراض تھا کہ اللہ نے مکہ اور طائف کے رؤسا کو چھوڑ کر محمد ﷺ کو نبی بنا دیا جو دولت کے اعتبار سے ایک عام آدمی تھے۔
یوں ، اس مناسبت سے امارت اور غربت کے بارے میں ، اسلامی نظام معیشت کے لئے بنیادی اور کلی قواعد وضع کر دئیے گئے ، جن کے اندر کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی تغیر ممکن نہ ہوگا۔ زندگی کی بو قلمونیاں ، نظام کا اختلاف ، نظریات کا اختلاف ، معاشروں اور سوسائٹیوں کا اختلاف کوئی چیز بھی ان قواعد کو متاثر نہ کرے گی۔ کیونکہ زندگی کی بعض مستقل قدریں ہیں اور یہ زندگی ان کے دائرے کے اندر ہی حرکت کرتی ہے۔ وہ اس کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتی۔ جن لوگوں کو بدلتے ہوئے حالات اس طرف سے اندھا کردیتے ہیں کہ وہ زندگی کی ان مستقل قدروں کو دیکھ سکیں ، وہ اللہ کے اس مستقل معاشی اصول اور معاشی کلیہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ (انہدام روس کے بعد سمجھ لیا ہے ) اسلامی نظام دراصل ثبات اور تغیر کے درمیان ایک حسین امتزاج ہے۔ اس کے معاشی نظام میں بدلنے والے اصول بھی ہیں اور ناقابل تغیر بھی ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ، وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ زندگی کی ترقی میں تغیر و تبدل ہی اصل چیز ہے۔ یہ تغیر اور انقلاب اشیاء کی حقیقت میں بھی آتا ہے اور شکل میں بھی آتا ہے اور ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ اس تغیر اور تبدیلی کے ساتھ مستقل اور ثابت اصول نہیں چل سکتے۔ یہ لوگ اس بات کے منکر ہیں کہ تبدل و تغیر کے سوا اور کوئی مستقل قانون معیشت بھی ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ یہ لوگ صرف تغیر کے قانون کو تسلیم کرتے ہیں۔ رہے ہم مسلمان تو ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس پوری کائنات میں ثبات اور تغیر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اور اس دنیا کی بعض چیزوں میں ثبات بطور ایک مستقل قدر موجود ہے اور اس کی بڑی مثال تو یہی مسئلہ موضوع بحث ہے۔ لوگوں کے درمیان تقسیم رزق میں تفاوت ایک مستقل اصول ہے اور نسبت تفاوت میں فرق و امتیاز بہرحال ہوتا ہی رہتا ہے۔ یہ نسبت ہر ملک اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں بدل سکتی ہے۔ خود موضوع زیر بحث میں دونوں مثالیں موجود ہیں کہ ثبات و تغیر تقسیم معیشت میں موجود ہے۔ اور تفاوت مستقل ہے اور نسبت تفاوت متغیر ہے۔
٭٭٭
جب یہ بیان کردیا گیا کہ اللہ کے نزدیک اس دنیا کا مال و متاع کوئی چیز نہیں ہے اور یہ ایک حقیر سامان چند روزہ ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ فساق و فجار کو جو دولت دی جاتی ہے یہ ان کی کرامت اور شرافت کی دلیل نہیں ہے۔ اور آخرت کے تمام مزے متقین کے لئے ہیں۔ تو یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں دولت دی گئی اور وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے اور وہ ان عبادات سے منہ پھیرے ہیں جن کے نتیجے میں آخرت میں نعمتیں ملیں گی تو ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوگا۔
الزخرف 43:32
آیت نمبر 29 تا 35
اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔
بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو خوب سامان زندگی دیا گیا ، ان کو طویل مہلت دی گئی ، یہاں تک کہ وہ سچائی اس قرآن کی شکل میں آئی اور اس کے ساتھ ایک نہایت ہی کھول کر بات سمجھانے والا رسول بھی آگیا جو ان پر یہ سچائی پیش کرتا ہے اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
ولما جاءھم الحق قالوا ھذا سحر وانا بہ کفرون (43 : 30) “ مگر جب وہ حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جادو میں سچائی کا شائبہ تک نہیں ہوتا ، یہ بات بالکل واضح ہے۔ یہ تو ان کا محض ایک دعویٰ اور الزام تھا اور اس کے بارے میں سب سے پہلے خود ان کو یقین تھا کہ یہ الزام غلط ہے۔ کیونکہ کبراء قریش اس حد تک جہاندیدہ تھے کہ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی کہ قرآن کریم کلام حق ہے ، یہ جو الزامات وہ لگاتے تھے۔ وہ جمہور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے وہ ایسا کرتے تھے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے اور اس کے بعد یہ جو اعلان کرتے تھے کہ ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ بات کو پکی کرنے کے لئے اعلان کرتے تھے۔
انہ بہ کفرون (43 : 30) “ اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ جمہور عوام کو وہ اس سے یہ تاثر دیتے تھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا انہیں پورا پورا یقین ہے۔ اس طرح وہ ان کو یہ اشارہ دیتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلتے رہو اور ہمارے مطیع فرمان رہو اور ہر قوم سے سردار جمہور عوام کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں ، یہ نہ ہو کہ وہ ان کے دائرہ اختیار سے نکل جائیں اور کلمہ توحید کو قبول کرلیں ۔ کیونکہ جب کلمہ توحید کا اقتدار قائم ہوتا ہے ، تمام گردن کش گرجاتے ہیں۔ پھر تو صرف اللہ کی بندگی ہوتی ہے اور لوگ اللہ ہی سے ڈرتے ہیں۔
اس کے بعد قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان کس طرح ملاوٹ کردی ہے۔ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو ہی منتخب کیا ہے کہ وہ یہ پیغام پہنچائیں۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟” دو گاؤں سے ان کی مراد مکہ اور طائف ہے۔ حضرت محمد ﷺ قریش کی ایک شاخ سے تھے۔ پھر بنی ہاشم کی ایک شاخ کے فرد تھے۔ اور یہ لوگ عربوں میں سے برتر لوگ تھے جبکہ آپ کی ذات بھی اخلاق عالیہ کے لحاظ سے ممتاز تھی۔ بعثت سے پہلے آپ صادق و امین اور اعلیٰ اخلاق کے مالک انسان کے طور پر مشہور تھے۔ لیکن آپ اپنے قبیلے کے سر براہ نہ تھے ۔ نہ کسی خاندان کے رئیس تھے اور اس دور میں لوگ انہی چیزوں پر فخر کرتے تھے کہ کوئی قبیلے یا کسی شاخ کا سربراہ ہو۔ معترضین کا اعتراض یہی تھا۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قران ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر نازل کیوں نہ کیا گیا ”۔ حالانکہ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی رسالت اور دعوت کے لئے کون موزوں ہے اور یہ منصب کس کو دیا جائے۔ لہٰذا ! اللہ نے اہل ترین شخص کا انتخاب کرلیا۔ اللہ کا منشا یہ نہ تھا کہ اس رسالت کو خارجی اسباب میں سے کوئی سہارا ملے ، اس کی قوت اس کے خارج سے نہ ہو بلکہ اس کے اندر سے ہو۔ لہٰذا اس نے اس کے لئے ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جس کی بڑی خصوصیت اس کے اخلاق تھے۔ اس دعوت کا مزاج ہی یہ ہے اور یہ اس کی بالکل ممتاز خصوصیت ہے۔ اس لیے کسی قبیلے کے سردار کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ نہ کسی خاندان کے سر براہ کو اس کے لئے منتخب کیا گیا۔ نہ کسی صاحب جاہ مرتبہ کا انتخاب ہوا۔ نہ ایک بہت بڑے مالدار کا یوں انتخاب ہوا تا کہ آسمانوں پر سے نازل ہونے والی اس دعوت کی اصل اقدار کسی ایسی قدر سے ملتبس نہ ہوجائیں جس کا تعلق اس دنیا پرستی سے ہو اور اس دعوت کے اندر دنیا پرستی کے خلیات میں سے کوئی خلیہ داخل نہ ہوجائے جو اس دعوت کی حقیقت کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں رکھتا۔ اور دعوت اسلامی کی ذاتی قوت کے سوا کوئی اور خارجی سبب اس پر اثر انداز نہ ہو۔ نہ کوئی طالع آزما اس کے قریب آئے اور نہ کوئی پاکباز اس سے دور ہو۔
لیکن اس قوم پر دنیا پرستی کا غلبہ تھا ، اس لیے جو لوگ آسمانی دعوت کی نوعیت کو سمجھتے نہ تھے۔ وہ اس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ”۔
لہٰذا قرآن نے اللہ کی اس عظیم رحمت پر ان کے اس سطحی اعتراض کو رد فرما دیا ، یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی رحمت کے لئے جو چاہے ، اختیار کرلے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے انہوں نے دنیا پرستی اور جاہلیت کی اقدار اور اللہ کی آسمانی قدروں کو ملا دیا ہے۔ اور وہ اپنی دنیا پرستی کی آنکھوں سے اس دعوت اسلامی کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ دعوت خدا پرستی اور آخرت کے حساب سے دی جارہی ہے۔
اھم یقسمون رحمت ۔۔۔۔۔۔ خیر مما یجمعون (43 : 32) “ کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ سمیٹ رہے ہیں ”۔ یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب نبوت بھی خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو اللہ کی رحمت اور نبوت سے واسطہ کیا ہے ؟ اصل پوزیشن ان کی یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، خود اپنے رزق کے بھی یہ مالک نہیں ہیں ، یعنی اس دنیا کی مختصر زندگی کے لئے بھی ان کا رزق ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ بھی ہم ان پر تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ہم اپنی حکمت اور تدبیر سے تقسیم کرتے ہیں اور یہ ہماری تقسیم اس زمین کی تعمیر و ترقی کے لئے ہے۔
اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے رزق لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق دیا جاتا ہے۔ زندگی کے حالات کے مطابق دیا جاتا ہے اور معاشرے کے افراد کے باہم تعلقات کے مطابق دیا جاتا ہے۔ مختلف عوامل کے مطابق افراد معاشرہ کے درمیان اس کی تقسیم ہوتی ہے۔ ہر معاشرے میں نظام تقسیم رزق مختلف ہوتا ہے۔ ہر زمانے میں اس کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہر سوسائٹی دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ اور اس میں عمومی حالات اور افراد معاشرہ کے باہم تعلقات پر دارومدار ہوتا ہے۔ لیکن ہر دور اور ہر معاشرے میں تقسیم رزق میں جو بات موجود ہو رہی ہے ، وہ یہ رہی ہے کہ رزق کی تقسیم میں فرق رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مصنوعی معاشروں میں بھی تقسیم رزق میں فرق ہے ، جن کا مقصد ہی پیداوار بڑھانا اور مساویانہ تقسیم کرنا ہے۔
تفاوت رزق کے اسباب مختلف معاشروں میں مختلف رہے ہیں۔ لیکن مقدار رزق کے اختلافات میں اختلاف ناپید کبھی نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ جن مصنوعی معاشروں کے اندر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مکمل مساوات ہے وہاں بھی رزق مختلف ہوتا ہے اور ورفعنا بعضھم فوق بعض (43 : 32) “ اور کچھ لوگ کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے ”۔
اور تمام معاشروں میں فرق مراتب رزق کے اسباب تو مختلف رہے ہیں لیکن حکمت یہی رہی ہے۔
درجت لیتخذ بعضھم سخریا (43 : 32) “ یا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں ”۔ یعنی بعض لوگ دوسروں کو اپنا ماتحت کر کے ان سے خدمات لیں ، اس دنیا میں جب معیشت کی گاڑی چلتی ہے تو بعض لوگ خدمات فروخت کرتے ہیں اور بعض خریدتے ہیں۔ یوں بعض بعض کے لئے مسخر ہوجاتے ہیں ، یہاں تسخیر کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک طبعہ برتر ہو اور دوسرا کم تر ہو یا ایک فرد دوسرے کا غلام ہو۔ اگر یہ لیا جائے تو یہ اس لفظ کا بہت ہی سادہ مفہوم ہوگا۔ یہ اللہ کے دائمی اور بلند کلام کی سطح تک نہیں پہنچتا۔ اللہ کے فرمان کا مفہوم کسی تغیر سے بالا ہے ، اگرچہ انسانی سوسائٹی کے حالات میں جس قدر تبدیلی واقع ہوجائے ، یہ ایسا مفہوم نہیں ہے کہ جانے والے حالات میں اور ہو اور آنے والے حالات میں اور ہو۔ حقیقی مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں اور زندگی اور معیشت کا چکر سب کو گھماتا ہے۔ اور ہر حال اور ہر صورت میں لوگ ایک دوسرے کے محتاج و مجبور ہیں۔ ہر ایک کے وسائل رزق متعین ہیں ، کسی کے ذرائع ، کشادہ ہیں اور کسی کے محدود ہیں۔ کوئی اس کام میں لگا ہوا کہ دولت جمع کرے ، اس سے خود بھی کھائے اور وہ دوسروں کو بھی دے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں۔ اور دونوں کے وسائل رزق میں جو فرق ہے اس نے دونوں کو ایک دوسرے کے لئے محتاج اور مسخر بنا دیا ہے۔ اور زندگی خصوصاً معاشی زندگی کے چکر میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ، مزدور انجینئر کا محتاج ہے اور انجینئر مالک کا محتاج ہے۔ انجینئر اور مزدور دونوں مالک کے محتاج ہیں ، مالک انجینئر اور مزدور دونوں کا محتاج ہے۔ اور ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کے پورا کرنے میں لگا ہوا ہے اور مسخر ہے۔ اور یہ سب نظام رزق میں تعاون کی وجہ سے قائم ہوا ہے۔ کسی کو خدمات درکار ہیں اور کسی نے بیچنی ہیں۔
بعض ایسے لوگ جو خود ساختہ نظریات کے داعی ہیں وہ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر اسلام اور اسلام کے اقتصادی نظام پر بہت سے اعتراضات کرتے ہیں اور پھر بعض مسلمان اس آیت کے سامنے شف شف کرتے ہیں اور ان کا اندازیوں ہوتا ہے کہ وہ گویا اسلام پر یہ ایک الزام ہے اور وہ اس کا رد کرتے ہیں کہ اسلام رزق کے معاملے میں فرق مراتب کا قائل نہیں ہے اور یہ کہ رزق میں فرق مراتب اسلام پر تہمت ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اہل اسلام ، اسلام کے بارے بالکل کھل کر اور صاف صاف بات کریں۔ وہ ان خود ساختہ نظریات سے متاثر ہوئے بغیر اور دفاعی انداز اختیار کئے بغیر صاف صاف کہہ دیں کہ رزق میں فرق مراتب ایک حقیقت ہے جسے اسلام روا رکھتا ہے اور لوگ ہمیشہ وسائل رزق کے معاملے میں مختلف ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی حالت طبیعی اور حالت نفسی اسی تفاوت پر قائم ہے۔ لوگوں کو خالق کائنات کی طرف سے مختلف درجوں کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرسکتا ہے اور یہ تفاوت اور فرق مراتب اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہر شخص نے اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کی ادائیگی میں بالکل ایک جدا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر سب لوگ اس طرح پیدا کئے گئے ہوتے جس طرح پریس سے ایک اشتہار چھپتا ہے یا کتاب کا ایک نسخہ تیار ہوتا ہے تو اس دنیا میں زندگی کی یہ اجتماعی صورت نہ ہوتی اور کئی ضروری کام یونہی رہ جاتے جن کے سر انجام دینے کے لئے کوئی قابل آدمی نہ ہوتا کیونکہ ان کے لئے کوئی قابل آدمی ہی نہ ملتا۔ جس اللہ نے زندگی پیدا کی ہے اور اس کے لئے بقا کا انتظام فرمایا ہے اس نے ہر شخص کے لئے ایک کردار رکھا ہے اور ہر عمل کے لئے ایک شخص ، ہر کسے رابہر کارے ساختد ، پھر ہر شخص کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے رزق میں بھی فرق ہوتا ہے ، گر فرق مراتب نہ کئی زندیقی ، یہ ہے اصل قاعدہ ۔ رہا یہ کہ مختلف اہلیت کے لوگوں کے رزق کے اندر کس قدر فرق ہو تو یہ ہر نظام ، ہر معاشرے اور ہر ملک کے اپنے حالات پر موقوف ہوتا ہے ۔ لیکن یہ فطری اصول کسی جگہ رد نہیں کیا جاسکتا کہ فرق مراتب ہو اور اس طرح زندگی نشوونما پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے مصنوعی نظامہائے معیشت کے پیروکاروں نے جنہوں نے مساوات کے بلند بانگ دعوے کئے ، مزدور ، انجینئر اور منیجر کی تنخواہوں کے اندر مساوات قائم نہ کی اور نہ کرسکے ۔ حالانکہ انہوں نے اپنے نظام کو بروئے کار لانے کے لئے بڑے سے بڑا تشدد کیا لیکن آخر کار یہ لوگ اللہ کے ابدی اصول کے سامنے شکست کھا گئے۔ کیونکہ اللہ کا قانون اس کائنات کے اندر موجود نہایت ہی مستحکم ناموس زندگی پر مبنی ہے (سید قطب ، اے کاش آپ زندہ ہوتے اور ان مصنوعی مذاہب کو روس میں دھڑام سے گرتے دیکھتے ! ) اور جس نظام کی نشاندہی اللہ نے اس دنیا کی زندگی کے لئے کی ہے اسی میں اللہ کی رحمت ہے۔
و رحمت ربک خیر مما یجمعون (43 : 32) “ تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ جمع کرتے ہیں ” اور یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس رحمت کے لئے جس کو چاہے ، چن لے ، کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس منصب کے لئے کون اہل ہے۔ پھر اللہ کی رحمت کا تعلق اس دنیا میں پائے جانے والے نظام معیشت کی اہلیت پر نہیں ہے۔ یہ تو دنیاوی اقدار ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ کوئی بہت بڑا کمال نہیں ہے کہ کوئی بہت بڑی دولت جمع کر دے کیونکہ دولت کے جمع کرنے میں نیکو کاروں اور بدکاروں کے لئے برابر کے مواقع ہیں اور اچھوں اور بروں کے لئے اس میں برابر مواقع ہیں لیکن اللہ کی رحمت (نبوت) کے لئے تو بہت ہی ممتاز ترین لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور اس کام کو اللہ ہی جانتا ہے۔
اللہ کے نزدیک یہ دنیا اور اس کی دولت اس قدر حقیر اور اس قدر بےوقعت ہے کہ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سب لوگ کافر ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ یہاں کافروں پر دولت کی بارش کردیتا۔ لیکن اندیشہ یہ تھا کہ یہ دولت لوگوں کے لئے فتنہ بن جائے گی اور انہیں ایمان کی راہ سے روک دے گی۔
ولو لا این یکون ۔۔۔۔۔۔ علیھا یظھرون (43 : 33) ولبیوتھم ابوابا ۔۔۔۔۔ یتکئون (43 : 34) وزخرفا وان کل ۔۔۔۔۔ عند ربک للمتقین (43 : 35) “ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں ، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ سے اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے ۔ یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لئے ہے ”۔
اللہ جانتا ہے کہ اس کی مخلوق ضعیف ہے اور وہ دنیا کے مال و دولت سے کس قدر متاثر ہوجاتی ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اپنی اس عظیم رحمت کا انکار کرنے والوں کو اس حقیر و ذلیل دنیا سے مالا مال کردیتا ، ان کے مکانات ، ان کی چھتیں اور ان کے دروازے اور ان کا فرنیچر سب سونے چاندی کے ہوجاتے ۔ ان کے گھروں کے بڑے بڑے گیٹ ہوتے۔ جن تختوں پر وہ بیٹھے ان کے بڑے بڑے تکیے ہوتے اور یہ سونے چاندی اور دوسری قیمتی دھاتوں کے ہوتے۔ یہ دنیائے ونی سب کی سب ان کفار کے حوالے کردی جاتی۔
وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا (43 : 35) “ یہ تو سب حیات دنیا کی متاع ہے ”۔ یعنی زائل ہونے والا سازو سامان ، جو اس دنیا کی حدود سے آگے جاتا ہی نہیں۔ یہ دنیا بھی کم قیمت اور مختصر اور اس پر انسان کی زندگی بھی مختصر۔
والاخرۃ عند ربک للمقتین (43 : 35) “ اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے ”۔ اور یہ لوگ اللہ کے نزدیک اپنے تقویٰ کی وجہ سے مکرم ہیں۔ لہٰذا اس نے ان کے لئے وہ انعامات تیار کر رکھے جو بہت ہی باعزت اور قیمتی ہیں۔ اور وہ اس دنیا کے فانی متاع کے مقابلے میں زیادہ باقی رہنے والے بیش قیمت ہیں۔ اور اللہ ان کو قیامت میں رحمٰن کے کافروں کے مقابلے میں بہت ہی امتیازی شان دے گا اور رہے یہ کافر تو ان کو اللہ متاع حیات اس حساب سے دیتا ہے جس طرح حیوانات کو چارہ دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حیات دنیا کا یہ سازو سامان جس کی مثال اللہ نے یہاں دی ، اس دنیا کے بہت سے لوگوں کی نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے ۔ اور جب اہل ایمان فساق و فجار کے ہاتھ میں یہ مال و دولت دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ہاتھ ان سے خالی ہیں یا وہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ عسرت ، سختی اور تنگی ترشی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ فساق و فجار اپنی دولت کے بل بوتے پر ، قوت و سطوت اور اقتدار پر ہیں تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ فتنہ لوگوں پر بہت اثر کرتا ہے لیکن اللہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ یہ چیزیں نہایت ہی حقیر ، عارضی اور کم قیمت ہیں۔ اور اللہ نے اپنے ہاں متقین کے لئے جو کچھ تیار کر رکھا ، وہ ناقابل تصور ہے۔ یہ نیک لوگوں کے لئے ہے۔ اس طرح قلب مومن اس حالت پر مطمئن ہوجاتا ہے جو اللہ نے ابرار کے لئے اختیار کیا ہے یا فجار کے لئے اختیار کیا ہے۔
ان لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اللہ نے نبوت کے لئے ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے جس کے پاس دولت دنیا نہیں ہے ۔ وہ لوگوں کی قدرو قیمت کا اندازہ ان کے اقتدار ، ان کے مال ، اور ان کے مرتبے سے لگاتے ہیں۔ ان کو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں تو یہ چیزیں حقیر اور فانی ہیں۔ یہ تو اللہ کی شریر ترین مخلوق کے پاس بہت زیادہ ہوتی ہیں اور اللہ کے مبغوض ترین لوگوں کے پاس زیادہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا مال و دولت اللہ کے ہاں قرب ، مرتبہ اور رضائے الٰہی کی دلیل نہیں ہے۔
یوں قرآن کریم ہر چیز کو اپنی جگہ اور صحیح مقام پر رکھتا ہے ۔ اور اللہ کے قوانین بابت تقسیم رزق بیان کرتا ہے کہ اس دنیا میں دولت کی تقسیم کا یہ نظام ہے۔ اور یہ وضاحت کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس سلسلے میں کیا قدریں ہیں اور یہ تمام باتیں اس حوالے سے کی گئیں کہ ان لوگوں کو رسالت محمدی پر اس زاویہ سے اعتراض تھا کہ اللہ نے مکہ اور طائف کے رؤسا کو چھوڑ کر محمد ﷺ کو نبی بنا دیا جو دولت کے اعتبار سے ایک عام آدمی تھے۔
یوں ، اس مناسبت سے امارت اور غربت کے بارے میں ، اسلامی نظام معیشت کے لئے بنیادی اور کلی قواعد وضع کر دئیے گئے ، جن کے اندر کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی تغیر ممکن نہ ہوگا۔ زندگی کی بو قلمونیاں ، نظام کا اختلاف ، نظریات کا اختلاف ، معاشروں اور سوسائٹیوں کا اختلاف کوئی چیز بھی ان قواعد کو متاثر نہ کرے گی۔ کیونکہ زندگی کی بعض مستقل قدریں ہیں اور یہ زندگی ان کے دائرے کے اندر ہی حرکت کرتی ہے۔ وہ اس کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتی۔ جن لوگوں کو بدلتے ہوئے حالات اس طرف سے اندھا کردیتے ہیں کہ وہ زندگی کی ان مستقل قدروں کو دیکھ سکیں ، وہ اللہ کے اس مستقل معاشی اصول اور معاشی کلیہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ (انہدام روس کے بعد سمجھ لیا ہے ) اسلامی نظام دراصل ثبات اور تغیر کے درمیان ایک حسین امتزاج ہے۔ اس کے معاشی نظام میں بدلنے والے اصول بھی ہیں اور ناقابل تغیر بھی ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ، وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ زندگی کی ترقی میں تغیر و تبدل ہی اصل چیز ہے۔ یہ تغیر اور انقلاب اشیاء کی حقیقت میں بھی آتا ہے اور شکل میں بھی آتا ہے اور ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ اس تغیر اور تبدیلی کے ساتھ مستقل اور ثابت اصول نہیں چل سکتے۔ یہ لوگ اس بات کے منکر ہیں کہ تبدل و تغیر کے سوا اور کوئی مستقل قانون معیشت بھی ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ یہ لوگ صرف تغیر کے قانون کو تسلیم کرتے ہیں۔ رہے ہم مسلمان تو ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس پوری کائنات میں ثبات اور تغیر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اور اس دنیا کی بعض چیزوں میں ثبات بطور ایک مستقل قدر موجود ہے اور اس کی بڑی مثال تو یہی مسئلہ موضوع بحث ہے۔ لوگوں کے درمیان تقسیم رزق میں تفاوت ایک مستقل اصول ہے اور نسبت تفاوت میں فرق و امتیاز بہرحال ہوتا ہی رہتا ہے۔ یہ نسبت ہر ملک اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں بدل سکتی ہے۔ خود موضوع زیر بحث میں دونوں مثالیں موجود ہیں کہ ثبات و تغیر تقسیم معیشت میں موجود ہے۔ اور تفاوت مستقل ہے اور نسبت تفاوت متغیر ہے۔
٭٭٭
جب یہ بیان کردیا گیا کہ اللہ کے نزدیک اس دنیا کا مال و متاع کوئی چیز نہیں ہے اور یہ ایک حقیر سامان چند روزہ ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ فساق و فجار کو جو دولت دی جاتی ہے یہ ان کی کرامت اور شرافت کی دلیل نہیں ہے۔ اور آخرت کے تمام مزے متقین کے لئے ہیں۔ تو یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں دولت دی گئی اور وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے اور وہ ان عبادات سے منہ پھیرے ہیں جن کے نتیجے میں آخرت میں نعمتیں ملیں گی تو ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوگا۔
الزخرف 43:33
آیت نمبر 29 تا 35
اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔
بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو خوب سامان زندگی دیا گیا ، ان کو طویل مہلت دی گئی ، یہاں تک کہ وہ سچائی اس قرآن کی شکل میں آئی اور اس کے ساتھ ایک نہایت ہی کھول کر بات سمجھانے والا رسول بھی آگیا جو ان پر یہ سچائی پیش کرتا ہے اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
ولما جاءھم الحق قالوا ھذا سحر وانا بہ کفرون (43 : 30) “ مگر جب وہ حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جادو میں سچائی کا شائبہ تک نہیں ہوتا ، یہ بات بالکل واضح ہے۔ یہ تو ان کا محض ایک دعویٰ اور الزام تھا اور اس کے بارے میں سب سے پہلے خود ان کو یقین تھا کہ یہ الزام غلط ہے۔ کیونکہ کبراء قریش اس حد تک جہاندیدہ تھے کہ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی کہ قرآن کریم کلام حق ہے ، یہ جو الزامات وہ لگاتے تھے۔ وہ جمہور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے وہ ایسا کرتے تھے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے اور اس کے بعد یہ جو اعلان کرتے تھے کہ ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ بات کو پکی کرنے کے لئے اعلان کرتے تھے۔
انہ بہ کفرون (43 : 30) “ اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ جمہور عوام کو وہ اس سے یہ تاثر دیتے تھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا انہیں پورا پورا یقین ہے۔ اس طرح وہ ان کو یہ اشارہ دیتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلتے رہو اور ہمارے مطیع فرمان رہو اور ہر قوم سے سردار جمہور عوام کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں ، یہ نہ ہو کہ وہ ان کے دائرہ اختیار سے نکل جائیں اور کلمہ توحید کو قبول کرلیں ۔ کیونکہ جب کلمہ توحید کا اقتدار قائم ہوتا ہے ، تمام گردن کش گرجاتے ہیں۔ پھر تو صرف اللہ کی بندگی ہوتی ہے اور لوگ اللہ ہی سے ڈرتے ہیں۔
اس کے بعد قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان کس طرح ملاوٹ کردی ہے۔ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو ہی منتخب کیا ہے کہ وہ یہ پیغام پہنچائیں۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟” دو گاؤں سے ان کی مراد مکہ اور طائف ہے۔ حضرت محمد ﷺ قریش کی ایک شاخ سے تھے۔ پھر بنی ہاشم کی ایک شاخ کے فرد تھے۔ اور یہ لوگ عربوں میں سے برتر لوگ تھے جبکہ آپ کی ذات بھی اخلاق عالیہ کے لحاظ سے ممتاز تھی۔ بعثت سے پہلے آپ صادق و امین اور اعلیٰ اخلاق کے مالک انسان کے طور پر مشہور تھے۔ لیکن آپ اپنے قبیلے کے سر براہ نہ تھے ۔ نہ کسی خاندان کے رئیس تھے اور اس دور میں لوگ انہی چیزوں پر فخر کرتے تھے کہ کوئی قبیلے یا کسی شاخ کا سربراہ ہو۔ معترضین کا اعتراض یہی تھا۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قران ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر نازل کیوں نہ کیا گیا ”۔ حالانکہ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی رسالت اور دعوت کے لئے کون موزوں ہے اور یہ منصب کس کو دیا جائے۔ لہٰذا ! اللہ نے اہل ترین شخص کا انتخاب کرلیا۔ اللہ کا منشا یہ نہ تھا کہ اس رسالت کو خارجی اسباب میں سے کوئی سہارا ملے ، اس کی قوت اس کے خارج سے نہ ہو بلکہ اس کے اندر سے ہو۔ لہٰذا اس نے اس کے لئے ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جس کی بڑی خصوصیت اس کے اخلاق تھے۔ اس دعوت کا مزاج ہی یہ ہے اور یہ اس کی بالکل ممتاز خصوصیت ہے۔ اس لیے کسی قبیلے کے سردار کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ نہ کسی خاندان کے سر براہ کو اس کے لئے منتخب کیا گیا۔ نہ کسی صاحب جاہ مرتبہ کا انتخاب ہوا۔ نہ ایک بہت بڑے مالدار کا یوں انتخاب ہوا تا کہ آسمانوں پر سے نازل ہونے والی اس دعوت کی اصل اقدار کسی ایسی قدر سے ملتبس نہ ہوجائیں جس کا تعلق اس دنیا پرستی سے ہو اور اس دعوت کے اندر دنیا پرستی کے خلیات میں سے کوئی خلیہ داخل نہ ہوجائے جو اس دعوت کی حقیقت کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں رکھتا۔ اور دعوت اسلامی کی ذاتی قوت کے سوا کوئی اور خارجی سبب اس پر اثر انداز نہ ہو۔ نہ کوئی طالع آزما اس کے قریب آئے اور نہ کوئی پاکباز اس سے دور ہو۔
لیکن اس قوم پر دنیا پرستی کا غلبہ تھا ، اس لیے جو لوگ آسمانی دعوت کی نوعیت کو سمجھتے نہ تھے۔ وہ اس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ”۔
لہٰذا قرآن نے اللہ کی اس عظیم رحمت پر ان کے اس سطحی اعتراض کو رد فرما دیا ، یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی رحمت کے لئے جو چاہے ، اختیار کرلے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے انہوں نے دنیا پرستی اور جاہلیت کی اقدار اور اللہ کی آسمانی قدروں کو ملا دیا ہے۔ اور وہ اپنی دنیا پرستی کی آنکھوں سے اس دعوت اسلامی کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ دعوت خدا پرستی اور آخرت کے حساب سے دی جارہی ہے۔
اھم یقسمون رحمت ۔۔۔۔۔۔ خیر مما یجمعون (43 : 32) “ کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ سمیٹ رہے ہیں ”۔ یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب نبوت بھی خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو اللہ کی رحمت اور نبوت سے واسطہ کیا ہے ؟ اصل پوزیشن ان کی یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، خود اپنے رزق کے بھی یہ مالک نہیں ہیں ، یعنی اس دنیا کی مختصر زندگی کے لئے بھی ان کا رزق ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ بھی ہم ان پر تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ہم اپنی حکمت اور تدبیر سے تقسیم کرتے ہیں اور یہ ہماری تقسیم اس زمین کی تعمیر و ترقی کے لئے ہے۔
اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے رزق لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق دیا جاتا ہے۔ زندگی کے حالات کے مطابق دیا جاتا ہے اور معاشرے کے افراد کے باہم تعلقات کے مطابق دیا جاتا ہے۔ مختلف عوامل کے مطابق افراد معاشرہ کے درمیان اس کی تقسیم ہوتی ہے۔ ہر معاشرے میں نظام تقسیم رزق مختلف ہوتا ہے۔ ہر زمانے میں اس کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہر سوسائٹی دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ اور اس میں عمومی حالات اور افراد معاشرہ کے باہم تعلقات پر دارومدار ہوتا ہے۔ لیکن ہر دور اور ہر معاشرے میں تقسیم رزق میں جو بات موجود ہو رہی ہے ، وہ یہ رہی ہے کہ رزق کی تقسیم میں فرق رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مصنوعی معاشروں میں بھی تقسیم رزق میں فرق ہے ، جن کا مقصد ہی پیداوار بڑھانا اور مساویانہ تقسیم کرنا ہے۔
تفاوت رزق کے اسباب مختلف معاشروں میں مختلف رہے ہیں۔ لیکن مقدار رزق کے اختلافات میں اختلاف ناپید کبھی نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ جن مصنوعی معاشروں کے اندر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مکمل مساوات ہے وہاں بھی رزق مختلف ہوتا ہے اور ورفعنا بعضھم فوق بعض (43 : 32) “ اور کچھ لوگ کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے ”۔
اور تمام معاشروں میں فرق مراتب رزق کے اسباب تو مختلف رہے ہیں لیکن حکمت یہی رہی ہے۔
درجت لیتخذ بعضھم سخریا (43 : 32) “ یا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں ”۔ یعنی بعض لوگ دوسروں کو اپنا ماتحت کر کے ان سے خدمات لیں ، اس دنیا میں جب معیشت کی گاڑی چلتی ہے تو بعض لوگ خدمات فروخت کرتے ہیں اور بعض خریدتے ہیں۔ یوں بعض بعض کے لئے مسخر ہوجاتے ہیں ، یہاں تسخیر کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک طبعہ برتر ہو اور دوسرا کم تر ہو یا ایک فرد دوسرے کا غلام ہو۔ اگر یہ لیا جائے تو یہ اس لفظ کا بہت ہی سادہ مفہوم ہوگا۔ یہ اللہ کے دائمی اور بلند کلام کی سطح تک نہیں پہنچتا۔ اللہ کے فرمان کا مفہوم کسی تغیر سے بالا ہے ، اگرچہ انسانی سوسائٹی کے حالات میں جس قدر تبدیلی واقع ہوجائے ، یہ ایسا مفہوم نہیں ہے کہ جانے والے حالات میں اور ہو اور آنے والے حالات میں اور ہو۔ حقیقی مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں اور زندگی اور معیشت کا چکر سب کو گھماتا ہے۔ اور ہر حال اور ہر صورت میں لوگ ایک دوسرے کے محتاج و مجبور ہیں۔ ہر ایک کے وسائل رزق متعین ہیں ، کسی کے ذرائع ، کشادہ ہیں اور کسی کے محدود ہیں۔ کوئی اس کام میں لگا ہوا کہ دولت جمع کرے ، اس سے خود بھی کھائے اور وہ دوسروں کو بھی دے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں۔ اور دونوں کے وسائل رزق میں جو فرق ہے اس نے دونوں کو ایک دوسرے کے لئے محتاج اور مسخر بنا دیا ہے۔ اور زندگی خصوصاً معاشی زندگی کے چکر میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ، مزدور انجینئر کا محتاج ہے اور انجینئر مالک کا محتاج ہے۔ انجینئر اور مزدور دونوں مالک کے محتاج ہیں ، مالک انجینئر اور مزدور دونوں کا محتاج ہے۔ اور ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کے پورا کرنے میں لگا ہوا ہے اور مسخر ہے۔ اور یہ سب نظام رزق میں تعاون کی وجہ سے قائم ہوا ہے۔ کسی کو خدمات درکار ہیں اور کسی نے بیچنی ہیں۔
بعض ایسے لوگ جو خود ساختہ نظریات کے داعی ہیں وہ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر اسلام اور اسلام کے اقتصادی نظام پر بہت سے اعتراضات کرتے ہیں اور پھر بعض مسلمان اس آیت کے سامنے شف شف کرتے ہیں اور ان کا اندازیوں ہوتا ہے کہ وہ گویا اسلام پر یہ ایک الزام ہے اور وہ اس کا رد کرتے ہیں کہ اسلام رزق کے معاملے میں فرق مراتب کا قائل نہیں ہے اور یہ کہ رزق میں فرق مراتب اسلام پر تہمت ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اہل اسلام ، اسلام کے بارے بالکل کھل کر اور صاف صاف بات کریں۔ وہ ان خود ساختہ نظریات سے متاثر ہوئے بغیر اور دفاعی انداز اختیار کئے بغیر صاف صاف کہہ دیں کہ رزق میں فرق مراتب ایک حقیقت ہے جسے اسلام روا رکھتا ہے اور لوگ ہمیشہ وسائل رزق کے معاملے میں مختلف ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی حالت طبیعی اور حالت نفسی اسی تفاوت پر قائم ہے۔ لوگوں کو خالق کائنات کی طرف سے مختلف درجوں کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرسکتا ہے اور یہ تفاوت اور فرق مراتب اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہر شخص نے اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کی ادائیگی میں بالکل ایک جدا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر سب لوگ اس طرح پیدا کئے گئے ہوتے جس طرح پریس سے ایک اشتہار چھپتا ہے یا کتاب کا ایک نسخہ تیار ہوتا ہے تو اس دنیا میں زندگی کی یہ اجتماعی صورت نہ ہوتی اور کئی ضروری کام یونہی رہ جاتے جن کے سر انجام دینے کے لئے کوئی قابل آدمی نہ ہوتا کیونکہ ان کے لئے کوئی قابل آدمی ہی نہ ملتا۔ جس اللہ نے زندگی پیدا کی ہے اور اس کے لئے بقا کا انتظام فرمایا ہے اس نے ہر شخص کے لئے ایک کردار رکھا ہے اور ہر عمل کے لئے ایک شخص ، ہر کسے رابہر کارے ساختد ، پھر ہر شخص کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے رزق میں بھی فرق ہوتا ہے ، گر فرق مراتب نہ کئی زندیقی ، یہ ہے اصل قاعدہ ۔ رہا یہ کہ مختلف اہلیت کے لوگوں کے رزق کے اندر کس قدر فرق ہو تو یہ ہر نظام ، ہر معاشرے اور ہر ملک کے اپنے حالات پر موقوف ہوتا ہے ۔ لیکن یہ فطری اصول کسی جگہ رد نہیں کیا جاسکتا کہ فرق مراتب ہو اور اس طرح زندگی نشوونما پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے مصنوعی نظامہائے معیشت کے پیروکاروں نے جنہوں نے مساوات کے بلند بانگ دعوے کئے ، مزدور ، انجینئر اور منیجر کی تنخواہوں کے اندر مساوات قائم نہ کی اور نہ کرسکے ۔ حالانکہ انہوں نے اپنے نظام کو بروئے کار لانے کے لئے بڑے سے بڑا تشدد کیا لیکن آخر کار یہ لوگ اللہ کے ابدی اصول کے سامنے شکست کھا گئے۔ کیونکہ اللہ کا قانون اس کائنات کے اندر موجود نہایت ہی مستحکم ناموس زندگی پر مبنی ہے (سید قطب ، اے کاش آپ زندہ ہوتے اور ان مصنوعی مذاہب کو روس میں دھڑام سے گرتے دیکھتے ! ) اور جس نظام کی نشاندہی اللہ نے اس دنیا کی زندگی کے لئے کی ہے اسی میں اللہ کی رحمت ہے۔
و رحمت ربک خیر مما یجمعون (43 : 32) “ تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ جمع کرتے ہیں ” اور یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس رحمت کے لئے جس کو چاہے ، چن لے ، کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس منصب کے لئے کون اہل ہے۔ پھر اللہ کی رحمت کا تعلق اس دنیا میں پائے جانے والے نظام معیشت کی اہلیت پر نہیں ہے۔ یہ تو دنیاوی اقدار ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ کوئی بہت بڑا کمال نہیں ہے کہ کوئی بہت بڑی دولت جمع کر دے کیونکہ دولت کے جمع کرنے میں نیکو کاروں اور بدکاروں کے لئے برابر کے مواقع ہیں اور اچھوں اور بروں کے لئے اس میں برابر مواقع ہیں لیکن اللہ کی رحمت (نبوت) کے لئے تو بہت ہی ممتاز ترین لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور اس کام کو اللہ ہی جانتا ہے۔
اللہ کے نزدیک یہ دنیا اور اس کی دولت اس قدر حقیر اور اس قدر بےوقعت ہے کہ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سب لوگ کافر ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ یہاں کافروں پر دولت کی بارش کردیتا۔ لیکن اندیشہ یہ تھا کہ یہ دولت لوگوں کے لئے فتنہ بن جائے گی اور انہیں ایمان کی راہ سے روک دے گی۔
ولو لا این یکون ۔۔۔۔۔۔ علیھا یظھرون (43 : 33) ولبیوتھم ابوابا ۔۔۔۔۔ یتکئون (43 : 34) وزخرفا وان کل ۔۔۔۔۔ عند ربک للمتقین (43 : 35) “ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں ، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ سے اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے ۔ یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لئے ہے ”۔
اللہ جانتا ہے کہ اس کی مخلوق ضعیف ہے اور وہ دنیا کے مال و دولت سے کس قدر متاثر ہوجاتی ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اپنی اس عظیم رحمت کا انکار کرنے والوں کو اس حقیر و ذلیل دنیا سے مالا مال کردیتا ، ان کے مکانات ، ان کی چھتیں اور ان کے دروازے اور ان کا فرنیچر سب سونے چاندی کے ہوجاتے ۔ ان کے گھروں کے بڑے بڑے گیٹ ہوتے۔ جن تختوں پر وہ بیٹھے ان کے بڑے بڑے تکیے ہوتے اور یہ سونے چاندی اور دوسری قیمتی دھاتوں کے ہوتے۔ یہ دنیائے ونی سب کی سب ان کفار کے حوالے کردی جاتی۔
وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا (43 : 35) “ یہ تو سب حیات دنیا کی متاع ہے ”۔ یعنی زائل ہونے والا سازو سامان ، جو اس دنیا کی حدود سے آگے جاتا ہی نہیں۔ یہ دنیا بھی کم قیمت اور مختصر اور اس پر انسان کی زندگی بھی مختصر۔
والاخرۃ عند ربک للمقتین (43 : 35) “ اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے ”۔ اور یہ لوگ اللہ کے نزدیک اپنے تقویٰ کی وجہ سے مکرم ہیں۔ لہٰذا اس نے ان کے لئے وہ انعامات تیار کر رکھے جو بہت ہی باعزت اور قیمتی ہیں۔ اور وہ اس دنیا کے فانی متاع کے مقابلے میں زیادہ باقی رہنے والے بیش قیمت ہیں۔ اور اللہ ان کو قیامت میں رحمٰن کے کافروں کے مقابلے میں بہت ہی امتیازی شان دے گا اور رہے یہ کافر تو ان کو اللہ متاع حیات اس حساب سے دیتا ہے جس طرح حیوانات کو چارہ دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حیات دنیا کا یہ سازو سامان جس کی مثال اللہ نے یہاں دی ، اس دنیا کے بہت سے لوگوں کی نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے ۔ اور جب اہل ایمان فساق و فجار کے ہاتھ میں یہ مال و دولت دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ہاتھ ان سے خالی ہیں یا وہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ عسرت ، سختی اور تنگی ترشی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ فساق و فجار اپنی دولت کے بل بوتے پر ، قوت و سطوت اور اقتدار پر ہیں تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ فتنہ لوگوں پر بہت اثر کرتا ہے لیکن اللہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ یہ چیزیں نہایت ہی حقیر ، عارضی اور کم قیمت ہیں۔ اور اللہ نے اپنے ہاں متقین کے لئے جو کچھ تیار کر رکھا ، وہ ناقابل تصور ہے۔ یہ نیک لوگوں کے لئے ہے۔ اس طرح قلب مومن اس حالت پر مطمئن ہوجاتا ہے جو اللہ نے ابرار کے لئے اختیار کیا ہے یا فجار کے لئے اختیار کیا ہے۔
ان لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اللہ نے نبوت کے لئے ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے جس کے پاس دولت دنیا نہیں ہے ۔ وہ لوگوں کی قدرو قیمت کا اندازہ ان کے اقتدار ، ان کے مال ، اور ان کے مرتبے سے لگاتے ہیں۔ ان کو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں تو یہ چیزیں حقیر اور فانی ہیں۔ یہ تو اللہ کی شریر ترین مخلوق کے پاس بہت زیادہ ہوتی ہیں اور اللہ کے مبغوض ترین لوگوں کے پاس زیادہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا مال و دولت اللہ کے ہاں قرب ، مرتبہ اور رضائے الٰہی کی دلیل نہیں ہے۔
یوں قرآن کریم ہر چیز کو اپنی جگہ اور صحیح مقام پر رکھتا ہے ۔ اور اللہ کے قوانین بابت تقسیم رزق بیان کرتا ہے کہ اس دنیا میں دولت کی تقسیم کا یہ نظام ہے۔ اور یہ وضاحت کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس سلسلے میں کیا قدریں ہیں اور یہ تمام باتیں اس حوالے سے کی گئیں کہ ان لوگوں کو رسالت محمدی پر اس زاویہ سے اعتراض تھا کہ اللہ نے مکہ اور طائف کے رؤسا کو چھوڑ کر محمد ﷺ کو نبی بنا دیا جو دولت کے اعتبار سے ایک عام آدمی تھے۔
یوں ، اس مناسبت سے امارت اور غربت کے بارے میں ، اسلامی نظام معیشت کے لئے بنیادی اور کلی قواعد وضع کر دئیے گئے ، جن کے اندر کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی تغیر ممکن نہ ہوگا۔ زندگی کی بو قلمونیاں ، نظام کا اختلاف ، نظریات کا اختلاف ، معاشروں اور سوسائٹیوں کا اختلاف کوئی چیز بھی ان قواعد کو متاثر نہ کرے گی۔ کیونکہ زندگی کی بعض مستقل قدریں ہیں اور یہ زندگی ان کے دائرے کے اندر ہی حرکت کرتی ہے۔ وہ اس کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتی۔ جن لوگوں کو بدلتے ہوئے حالات اس طرف سے اندھا کردیتے ہیں کہ وہ زندگی کی ان مستقل قدروں کو دیکھ سکیں ، وہ اللہ کے اس مستقل معاشی اصول اور معاشی کلیہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ (انہدام روس کے بعد سمجھ لیا ہے ) اسلامی نظام دراصل ثبات اور تغیر کے درمیان ایک حسین امتزاج ہے۔ اس کے معاشی نظام میں بدلنے والے اصول بھی ہیں اور ناقابل تغیر بھی ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ، وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ زندگی کی ترقی میں تغیر و تبدل ہی اصل چیز ہے۔ یہ تغیر اور انقلاب اشیاء کی حقیقت میں بھی آتا ہے اور شکل میں بھی آتا ہے اور ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ اس تغیر اور تبدیلی کے ساتھ مستقل اور ثابت اصول نہیں چل سکتے۔ یہ لوگ اس بات کے منکر ہیں کہ تبدل و تغیر کے سوا اور کوئی مستقل قانون معیشت بھی ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ یہ لوگ صرف تغیر کے قانون کو تسلیم کرتے ہیں۔ رہے ہم مسلمان تو ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس پوری کائنات میں ثبات اور تغیر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اور اس دنیا کی بعض چیزوں میں ثبات بطور ایک مستقل قدر موجود ہے اور اس کی بڑی مثال تو یہی مسئلہ موضوع بحث ہے۔ لوگوں کے درمیان تقسیم رزق میں تفاوت ایک مستقل اصول ہے اور نسبت تفاوت میں فرق و امتیاز بہرحال ہوتا ہی رہتا ہے۔ یہ نسبت ہر ملک اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں بدل سکتی ہے۔ خود موضوع زیر بحث میں دونوں مثالیں موجود ہیں کہ ثبات و تغیر تقسیم معیشت میں موجود ہے۔ اور تفاوت مستقل ہے اور نسبت تفاوت متغیر ہے۔
٭٭٭
جب یہ بیان کردیا گیا کہ اللہ کے نزدیک اس دنیا کا مال و متاع کوئی چیز نہیں ہے اور یہ ایک حقیر سامان چند روزہ ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ فساق و فجار کو جو دولت دی جاتی ہے یہ ان کی کرامت اور شرافت کی دلیل نہیں ہے۔ اور آخرت کے تمام مزے متقین کے لئے ہیں۔ تو یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں دولت دی گئی اور وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے اور وہ ان عبادات سے منہ پھیرے ہیں جن کے نتیجے میں آخرت میں نعمتیں ملیں گی تو ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوگا۔
الزخرف 43:34
آیت نمبر 29 تا 35
اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔
بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو خوب سامان زندگی دیا گیا ، ان کو طویل مہلت دی گئی ، یہاں تک کہ وہ سچائی اس قرآن کی شکل میں آئی اور اس کے ساتھ ایک نہایت ہی کھول کر بات سمجھانے والا رسول بھی آگیا جو ان پر یہ سچائی پیش کرتا ہے اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
ولما جاءھم الحق قالوا ھذا سحر وانا بہ کفرون (43 : 30) “ مگر جب وہ حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جادو میں سچائی کا شائبہ تک نہیں ہوتا ، یہ بات بالکل واضح ہے۔ یہ تو ان کا محض ایک دعویٰ اور الزام تھا اور اس کے بارے میں سب سے پہلے خود ان کو یقین تھا کہ یہ الزام غلط ہے۔ کیونکہ کبراء قریش اس حد تک جہاندیدہ تھے کہ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی کہ قرآن کریم کلام حق ہے ، یہ جو الزامات وہ لگاتے تھے۔ وہ جمہور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے وہ ایسا کرتے تھے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے اور اس کے بعد یہ جو اعلان کرتے تھے کہ ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ بات کو پکی کرنے کے لئے اعلان کرتے تھے۔
انہ بہ کفرون (43 : 30) “ اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ جمہور عوام کو وہ اس سے یہ تاثر دیتے تھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا انہیں پورا پورا یقین ہے۔ اس طرح وہ ان کو یہ اشارہ دیتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلتے رہو اور ہمارے مطیع فرمان رہو اور ہر قوم سے سردار جمہور عوام کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں ، یہ نہ ہو کہ وہ ان کے دائرہ اختیار سے نکل جائیں اور کلمہ توحید کو قبول کرلیں ۔ کیونکہ جب کلمہ توحید کا اقتدار قائم ہوتا ہے ، تمام گردن کش گرجاتے ہیں۔ پھر تو صرف اللہ کی بندگی ہوتی ہے اور لوگ اللہ ہی سے ڈرتے ہیں۔
اس کے بعد قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان کس طرح ملاوٹ کردی ہے۔ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو ہی منتخب کیا ہے کہ وہ یہ پیغام پہنچائیں۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟” دو گاؤں سے ان کی مراد مکہ اور طائف ہے۔ حضرت محمد ﷺ قریش کی ایک شاخ سے تھے۔ پھر بنی ہاشم کی ایک شاخ کے فرد تھے۔ اور یہ لوگ عربوں میں سے برتر لوگ تھے جبکہ آپ کی ذات بھی اخلاق عالیہ کے لحاظ سے ممتاز تھی۔ بعثت سے پہلے آپ صادق و امین اور اعلیٰ اخلاق کے مالک انسان کے طور پر مشہور تھے۔ لیکن آپ اپنے قبیلے کے سر براہ نہ تھے ۔ نہ کسی خاندان کے رئیس تھے اور اس دور میں لوگ انہی چیزوں پر فخر کرتے تھے کہ کوئی قبیلے یا کسی شاخ کا سربراہ ہو۔ معترضین کا اعتراض یہی تھا۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قران ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر نازل کیوں نہ کیا گیا ”۔ حالانکہ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی رسالت اور دعوت کے لئے کون موزوں ہے اور یہ منصب کس کو دیا جائے۔ لہٰذا ! اللہ نے اہل ترین شخص کا انتخاب کرلیا۔ اللہ کا منشا یہ نہ تھا کہ اس رسالت کو خارجی اسباب میں سے کوئی سہارا ملے ، اس کی قوت اس کے خارج سے نہ ہو بلکہ اس کے اندر سے ہو۔ لہٰذا اس نے اس کے لئے ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جس کی بڑی خصوصیت اس کے اخلاق تھے۔ اس دعوت کا مزاج ہی یہ ہے اور یہ اس کی بالکل ممتاز خصوصیت ہے۔ اس لیے کسی قبیلے کے سردار کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ نہ کسی خاندان کے سر براہ کو اس کے لئے منتخب کیا گیا۔ نہ کسی صاحب جاہ مرتبہ کا انتخاب ہوا۔ نہ ایک بہت بڑے مالدار کا یوں انتخاب ہوا تا کہ آسمانوں پر سے نازل ہونے والی اس دعوت کی اصل اقدار کسی ایسی قدر سے ملتبس نہ ہوجائیں جس کا تعلق اس دنیا پرستی سے ہو اور اس دعوت کے اندر دنیا پرستی کے خلیات میں سے کوئی خلیہ داخل نہ ہوجائے جو اس دعوت کی حقیقت کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں رکھتا۔ اور دعوت اسلامی کی ذاتی قوت کے سوا کوئی اور خارجی سبب اس پر اثر انداز نہ ہو۔ نہ کوئی طالع آزما اس کے قریب آئے اور نہ کوئی پاکباز اس سے دور ہو۔
لیکن اس قوم پر دنیا پرستی کا غلبہ تھا ، اس لیے جو لوگ آسمانی دعوت کی نوعیت کو سمجھتے نہ تھے۔ وہ اس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ”۔
لہٰذا قرآن نے اللہ کی اس عظیم رحمت پر ان کے اس سطحی اعتراض کو رد فرما دیا ، یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی رحمت کے لئے جو چاہے ، اختیار کرلے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے انہوں نے دنیا پرستی اور جاہلیت کی اقدار اور اللہ کی آسمانی قدروں کو ملا دیا ہے۔ اور وہ اپنی دنیا پرستی کی آنکھوں سے اس دعوت اسلامی کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ دعوت خدا پرستی اور آخرت کے حساب سے دی جارہی ہے۔
اھم یقسمون رحمت ۔۔۔۔۔۔ خیر مما یجمعون (43 : 32) “ کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ سمیٹ رہے ہیں ”۔ یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب نبوت بھی خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو اللہ کی رحمت اور نبوت سے واسطہ کیا ہے ؟ اصل پوزیشن ان کی یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، خود اپنے رزق کے بھی یہ مالک نہیں ہیں ، یعنی اس دنیا کی مختصر زندگی کے لئے بھی ان کا رزق ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ بھی ہم ان پر تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ہم اپنی حکمت اور تدبیر سے تقسیم کرتے ہیں اور یہ ہماری تقسیم اس زمین کی تعمیر و ترقی کے لئے ہے۔
اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے رزق لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق دیا جاتا ہے۔ زندگی کے حالات کے مطابق دیا جاتا ہے اور معاشرے کے افراد کے باہم تعلقات کے مطابق دیا جاتا ہے۔ مختلف عوامل کے مطابق افراد معاشرہ کے درمیان اس کی تقسیم ہوتی ہے۔ ہر معاشرے میں نظام تقسیم رزق مختلف ہوتا ہے۔ ہر زمانے میں اس کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہر سوسائٹی دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ اور اس میں عمومی حالات اور افراد معاشرہ کے باہم تعلقات پر دارومدار ہوتا ہے۔ لیکن ہر دور اور ہر معاشرے میں تقسیم رزق میں جو بات موجود ہو رہی ہے ، وہ یہ رہی ہے کہ رزق کی تقسیم میں فرق رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مصنوعی معاشروں میں بھی تقسیم رزق میں فرق ہے ، جن کا مقصد ہی پیداوار بڑھانا اور مساویانہ تقسیم کرنا ہے۔
تفاوت رزق کے اسباب مختلف معاشروں میں مختلف رہے ہیں۔ لیکن مقدار رزق کے اختلافات میں اختلاف ناپید کبھی نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ جن مصنوعی معاشروں کے اندر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مکمل مساوات ہے وہاں بھی رزق مختلف ہوتا ہے اور ورفعنا بعضھم فوق بعض (43 : 32) “ اور کچھ لوگ کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے ”۔
اور تمام معاشروں میں فرق مراتب رزق کے اسباب تو مختلف رہے ہیں لیکن حکمت یہی رہی ہے۔
درجت لیتخذ بعضھم سخریا (43 : 32) “ یا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں ”۔ یعنی بعض لوگ دوسروں کو اپنا ماتحت کر کے ان سے خدمات لیں ، اس دنیا میں جب معیشت کی گاڑی چلتی ہے تو بعض لوگ خدمات فروخت کرتے ہیں اور بعض خریدتے ہیں۔ یوں بعض بعض کے لئے مسخر ہوجاتے ہیں ، یہاں تسخیر کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک طبعہ برتر ہو اور دوسرا کم تر ہو یا ایک فرد دوسرے کا غلام ہو۔ اگر یہ لیا جائے تو یہ اس لفظ کا بہت ہی سادہ مفہوم ہوگا۔ یہ اللہ کے دائمی اور بلند کلام کی سطح تک نہیں پہنچتا۔ اللہ کے فرمان کا مفہوم کسی تغیر سے بالا ہے ، اگرچہ انسانی سوسائٹی کے حالات میں جس قدر تبدیلی واقع ہوجائے ، یہ ایسا مفہوم نہیں ہے کہ جانے والے حالات میں اور ہو اور آنے والے حالات میں اور ہو۔ حقیقی مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں اور زندگی اور معیشت کا چکر سب کو گھماتا ہے۔ اور ہر حال اور ہر صورت میں لوگ ایک دوسرے کے محتاج و مجبور ہیں۔ ہر ایک کے وسائل رزق متعین ہیں ، کسی کے ذرائع ، کشادہ ہیں اور کسی کے محدود ہیں۔ کوئی اس کام میں لگا ہوا کہ دولت جمع کرے ، اس سے خود بھی کھائے اور وہ دوسروں کو بھی دے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں۔ اور دونوں کے وسائل رزق میں جو فرق ہے اس نے دونوں کو ایک دوسرے کے لئے محتاج اور مسخر بنا دیا ہے۔ اور زندگی خصوصاً معاشی زندگی کے چکر میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ، مزدور انجینئر کا محتاج ہے اور انجینئر مالک کا محتاج ہے۔ انجینئر اور مزدور دونوں مالک کے محتاج ہیں ، مالک انجینئر اور مزدور دونوں کا محتاج ہے۔ اور ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کے پورا کرنے میں لگا ہوا ہے اور مسخر ہے۔ اور یہ سب نظام رزق میں تعاون کی وجہ سے قائم ہوا ہے۔ کسی کو خدمات درکار ہیں اور کسی نے بیچنی ہیں۔
بعض ایسے لوگ جو خود ساختہ نظریات کے داعی ہیں وہ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر اسلام اور اسلام کے اقتصادی نظام پر بہت سے اعتراضات کرتے ہیں اور پھر بعض مسلمان اس آیت کے سامنے شف شف کرتے ہیں اور ان کا اندازیوں ہوتا ہے کہ وہ گویا اسلام پر یہ ایک الزام ہے اور وہ اس کا رد کرتے ہیں کہ اسلام رزق کے معاملے میں فرق مراتب کا قائل نہیں ہے اور یہ کہ رزق میں فرق مراتب اسلام پر تہمت ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اہل اسلام ، اسلام کے بارے بالکل کھل کر اور صاف صاف بات کریں۔ وہ ان خود ساختہ نظریات سے متاثر ہوئے بغیر اور دفاعی انداز اختیار کئے بغیر صاف صاف کہہ دیں کہ رزق میں فرق مراتب ایک حقیقت ہے جسے اسلام روا رکھتا ہے اور لوگ ہمیشہ وسائل رزق کے معاملے میں مختلف ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی حالت طبیعی اور حالت نفسی اسی تفاوت پر قائم ہے۔ لوگوں کو خالق کائنات کی طرف سے مختلف درجوں کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرسکتا ہے اور یہ تفاوت اور فرق مراتب اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہر شخص نے اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کی ادائیگی میں بالکل ایک جدا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر سب لوگ اس طرح پیدا کئے گئے ہوتے جس طرح پریس سے ایک اشتہار چھپتا ہے یا کتاب کا ایک نسخہ تیار ہوتا ہے تو اس دنیا میں زندگی کی یہ اجتماعی صورت نہ ہوتی اور کئی ضروری کام یونہی رہ جاتے جن کے سر انجام دینے کے لئے کوئی قابل آدمی نہ ہوتا کیونکہ ان کے لئے کوئی قابل آدمی ہی نہ ملتا۔ جس اللہ نے زندگی پیدا کی ہے اور اس کے لئے بقا کا انتظام فرمایا ہے اس نے ہر شخص کے لئے ایک کردار رکھا ہے اور ہر عمل کے لئے ایک شخص ، ہر کسے رابہر کارے ساختد ، پھر ہر شخص کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے رزق میں بھی فرق ہوتا ہے ، گر فرق مراتب نہ کئی زندیقی ، یہ ہے اصل قاعدہ ۔ رہا یہ کہ مختلف اہلیت کے لوگوں کے رزق کے اندر کس قدر فرق ہو تو یہ ہر نظام ، ہر معاشرے اور ہر ملک کے اپنے حالات پر موقوف ہوتا ہے ۔ لیکن یہ فطری اصول کسی جگہ رد نہیں کیا جاسکتا کہ فرق مراتب ہو اور اس طرح زندگی نشوونما پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے مصنوعی نظامہائے معیشت کے پیروکاروں نے جنہوں نے مساوات کے بلند بانگ دعوے کئے ، مزدور ، انجینئر اور منیجر کی تنخواہوں کے اندر مساوات قائم نہ کی اور نہ کرسکے ۔ حالانکہ انہوں نے اپنے نظام کو بروئے کار لانے کے لئے بڑے سے بڑا تشدد کیا لیکن آخر کار یہ لوگ اللہ کے ابدی اصول کے سامنے شکست کھا گئے۔ کیونکہ اللہ کا قانون اس کائنات کے اندر موجود نہایت ہی مستحکم ناموس زندگی پر مبنی ہے (سید قطب ، اے کاش آپ زندہ ہوتے اور ان مصنوعی مذاہب کو روس میں دھڑام سے گرتے دیکھتے ! ) اور جس نظام کی نشاندہی اللہ نے اس دنیا کی زندگی کے لئے کی ہے اسی میں اللہ کی رحمت ہے۔
و رحمت ربک خیر مما یجمعون (43 : 32) “ تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ جمع کرتے ہیں ” اور یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس رحمت کے لئے جس کو چاہے ، چن لے ، کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس منصب کے لئے کون اہل ہے۔ پھر اللہ کی رحمت کا تعلق اس دنیا میں پائے جانے والے نظام معیشت کی اہلیت پر نہیں ہے۔ یہ تو دنیاوی اقدار ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ کوئی بہت بڑا کمال نہیں ہے کہ کوئی بہت بڑی دولت جمع کر دے کیونکہ دولت کے جمع کرنے میں نیکو کاروں اور بدکاروں کے لئے برابر کے مواقع ہیں اور اچھوں اور بروں کے لئے اس میں برابر مواقع ہیں لیکن اللہ کی رحمت (نبوت) کے لئے تو بہت ہی ممتاز ترین لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور اس کام کو اللہ ہی جانتا ہے۔
اللہ کے نزدیک یہ دنیا اور اس کی دولت اس قدر حقیر اور اس قدر بےوقعت ہے کہ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سب لوگ کافر ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ یہاں کافروں پر دولت کی بارش کردیتا۔ لیکن اندیشہ یہ تھا کہ یہ دولت لوگوں کے لئے فتنہ بن جائے گی اور انہیں ایمان کی راہ سے روک دے گی۔
ولو لا این یکون ۔۔۔۔۔۔ علیھا یظھرون (43 : 33) ولبیوتھم ابوابا ۔۔۔۔۔ یتکئون (43 : 34) وزخرفا وان کل ۔۔۔۔۔ عند ربک للمتقین (43 : 35) “ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں ، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ سے اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے ۔ یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لئے ہے ”۔
اللہ جانتا ہے کہ اس کی مخلوق ضعیف ہے اور وہ دنیا کے مال و دولت سے کس قدر متاثر ہوجاتی ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اپنی اس عظیم رحمت کا انکار کرنے والوں کو اس حقیر و ذلیل دنیا سے مالا مال کردیتا ، ان کے مکانات ، ان کی چھتیں اور ان کے دروازے اور ان کا فرنیچر سب سونے چاندی کے ہوجاتے ۔ ان کے گھروں کے بڑے بڑے گیٹ ہوتے۔ جن تختوں پر وہ بیٹھے ان کے بڑے بڑے تکیے ہوتے اور یہ سونے چاندی اور دوسری قیمتی دھاتوں کے ہوتے۔ یہ دنیائے ونی سب کی سب ان کفار کے حوالے کردی جاتی۔
وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا (43 : 35) “ یہ تو سب حیات دنیا کی متاع ہے ”۔ یعنی زائل ہونے والا سازو سامان ، جو اس دنیا کی حدود سے آگے جاتا ہی نہیں۔ یہ دنیا بھی کم قیمت اور مختصر اور اس پر انسان کی زندگی بھی مختصر۔
والاخرۃ عند ربک للمقتین (43 : 35) “ اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے ”۔ اور یہ لوگ اللہ کے نزدیک اپنے تقویٰ کی وجہ سے مکرم ہیں۔ لہٰذا اس نے ان کے لئے وہ انعامات تیار کر رکھے جو بہت ہی باعزت اور قیمتی ہیں۔ اور وہ اس دنیا کے فانی متاع کے مقابلے میں زیادہ باقی رہنے والے بیش قیمت ہیں۔ اور اللہ ان کو قیامت میں رحمٰن کے کافروں کے مقابلے میں بہت ہی امتیازی شان دے گا اور رہے یہ کافر تو ان کو اللہ متاع حیات اس حساب سے دیتا ہے جس طرح حیوانات کو چارہ دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حیات دنیا کا یہ سازو سامان جس کی مثال اللہ نے یہاں دی ، اس دنیا کے بہت سے لوگوں کی نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے ۔ اور جب اہل ایمان فساق و فجار کے ہاتھ میں یہ مال و دولت دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ہاتھ ان سے خالی ہیں یا وہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ عسرت ، سختی اور تنگی ترشی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ فساق و فجار اپنی دولت کے بل بوتے پر ، قوت و سطوت اور اقتدار پر ہیں تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ فتنہ لوگوں پر بہت اثر کرتا ہے لیکن اللہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ یہ چیزیں نہایت ہی حقیر ، عارضی اور کم قیمت ہیں۔ اور اللہ نے اپنے ہاں متقین کے لئے جو کچھ تیار کر رکھا ، وہ ناقابل تصور ہے۔ یہ نیک لوگوں کے لئے ہے۔ اس طرح قلب مومن اس حالت پر مطمئن ہوجاتا ہے جو اللہ نے ابرار کے لئے اختیار کیا ہے یا فجار کے لئے اختیار کیا ہے۔
ان لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اللہ نے نبوت کے لئے ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے جس کے پاس دولت دنیا نہیں ہے ۔ وہ لوگوں کی قدرو قیمت کا اندازہ ان کے اقتدار ، ان کے مال ، اور ان کے مرتبے سے لگاتے ہیں۔ ان کو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں تو یہ چیزیں حقیر اور فانی ہیں۔ یہ تو اللہ کی شریر ترین مخلوق کے پاس بہت زیادہ ہوتی ہیں اور اللہ کے مبغوض ترین لوگوں کے پاس زیادہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا مال و دولت اللہ کے ہاں قرب ، مرتبہ اور رضائے الٰہی کی دلیل نہیں ہے۔
یوں قرآن کریم ہر چیز کو اپنی جگہ اور صحیح مقام پر رکھتا ہے ۔ اور اللہ کے قوانین بابت تقسیم رزق بیان کرتا ہے کہ اس دنیا میں دولت کی تقسیم کا یہ نظام ہے۔ اور یہ وضاحت کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس سلسلے میں کیا قدریں ہیں اور یہ تمام باتیں اس حوالے سے کی گئیں کہ ان لوگوں کو رسالت محمدی پر اس زاویہ سے اعتراض تھا کہ اللہ نے مکہ اور طائف کے رؤسا کو چھوڑ کر محمد ﷺ کو نبی بنا دیا جو دولت کے اعتبار سے ایک عام آدمی تھے۔
یوں ، اس مناسبت سے امارت اور غربت کے بارے میں ، اسلامی نظام معیشت کے لئے بنیادی اور کلی قواعد وضع کر دئیے گئے ، جن کے اندر کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی تغیر ممکن نہ ہوگا۔ زندگی کی بو قلمونیاں ، نظام کا اختلاف ، نظریات کا اختلاف ، معاشروں اور سوسائٹیوں کا اختلاف کوئی چیز بھی ان قواعد کو متاثر نہ کرے گی۔ کیونکہ زندگی کی بعض مستقل قدریں ہیں اور یہ زندگی ان کے دائرے کے اندر ہی حرکت کرتی ہے۔ وہ اس کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتی۔ جن لوگوں کو بدلتے ہوئے حالات اس طرف سے اندھا کردیتے ہیں کہ وہ زندگی کی ان مستقل قدروں کو دیکھ سکیں ، وہ اللہ کے اس مستقل معاشی اصول اور معاشی کلیہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ (انہدام روس کے بعد سمجھ لیا ہے ) اسلامی نظام دراصل ثبات اور تغیر کے درمیان ایک حسین امتزاج ہے۔ اس کے معاشی نظام میں بدلنے والے اصول بھی ہیں اور ناقابل تغیر بھی ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ، وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ زندگی کی ترقی میں تغیر و تبدل ہی اصل چیز ہے۔ یہ تغیر اور انقلاب اشیاء کی حقیقت میں بھی آتا ہے اور شکل میں بھی آتا ہے اور ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ اس تغیر اور تبدیلی کے ساتھ مستقل اور ثابت اصول نہیں چل سکتے۔ یہ لوگ اس بات کے منکر ہیں کہ تبدل و تغیر کے سوا اور کوئی مستقل قانون معیشت بھی ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ یہ لوگ صرف تغیر کے قانون کو تسلیم کرتے ہیں۔ رہے ہم مسلمان تو ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس پوری کائنات میں ثبات اور تغیر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اور اس دنیا کی بعض چیزوں میں ثبات بطور ایک مستقل قدر موجود ہے اور اس کی بڑی مثال تو یہی مسئلہ موضوع بحث ہے۔ لوگوں کے درمیان تقسیم رزق میں تفاوت ایک مستقل اصول ہے اور نسبت تفاوت میں فرق و امتیاز بہرحال ہوتا ہی رہتا ہے۔ یہ نسبت ہر ملک اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں بدل سکتی ہے۔ خود موضوع زیر بحث میں دونوں مثالیں موجود ہیں کہ ثبات و تغیر تقسیم معیشت میں موجود ہے۔ اور تفاوت مستقل ہے اور نسبت تفاوت متغیر ہے۔
٭٭٭
جب یہ بیان کردیا گیا کہ اللہ کے نزدیک اس دنیا کا مال و متاع کوئی چیز نہیں ہے اور یہ ایک حقیر سامان چند روزہ ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ فساق و فجار کو جو دولت دی جاتی ہے یہ ان کی کرامت اور شرافت کی دلیل نہیں ہے۔ اور آخرت کے تمام مزے متقین کے لئے ہیں۔ تو یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں دولت دی گئی اور وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے اور وہ ان عبادات سے منہ پھیرے ہیں جن کے نتیجے میں آخرت میں نعمتیں ملیں گی تو ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوگا۔
الزخرف 43:35
آیت نمبر 29 تا 35
اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔
بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو خوب سامان زندگی دیا گیا ، ان کو طویل مہلت دی گئی ، یہاں تک کہ وہ سچائی اس قرآن کی شکل میں آئی اور اس کے ساتھ ایک نہایت ہی کھول کر بات سمجھانے والا رسول بھی آگیا جو ان پر یہ سچائی پیش کرتا ہے اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
ولما جاءھم الحق قالوا ھذا سحر وانا بہ کفرون (43 : 30) “ مگر جب وہ حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جادو میں سچائی کا شائبہ تک نہیں ہوتا ، یہ بات بالکل واضح ہے۔ یہ تو ان کا محض ایک دعویٰ اور الزام تھا اور اس کے بارے میں سب سے پہلے خود ان کو یقین تھا کہ یہ الزام غلط ہے۔ کیونکہ کبراء قریش اس حد تک جہاندیدہ تھے کہ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی کہ قرآن کریم کلام حق ہے ، یہ جو الزامات وہ لگاتے تھے۔ وہ جمہور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے وہ ایسا کرتے تھے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے اور اس کے بعد یہ جو اعلان کرتے تھے کہ ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ بات کو پکی کرنے کے لئے اعلان کرتے تھے۔
انہ بہ کفرون (43 : 30) “ اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ جمہور عوام کو وہ اس سے یہ تاثر دیتے تھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا انہیں پورا پورا یقین ہے۔ اس طرح وہ ان کو یہ اشارہ دیتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلتے رہو اور ہمارے مطیع فرمان رہو اور ہر قوم سے سردار جمہور عوام کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں ، یہ نہ ہو کہ وہ ان کے دائرہ اختیار سے نکل جائیں اور کلمہ توحید کو قبول کرلیں ۔ کیونکہ جب کلمہ توحید کا اقتدار قائم ہوتا ہے ، تمام گردن کش گرجاتے ہیں۔ پھر تو صرف اللہ کی بندگی ہوتی ہے اور لوگ اللہ ہی سے ڈرتے ہیں۔
اس کے بعد قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان کس طرح ملاوٹ کردی ہے۔ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو ہی منتخب کیا ہے کہ وہ یہ پیغام پہنچائیں۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟” دو گاؤں سے ان کی مراد مکہ اور طائف ہے۔ حضرت محمد ﷺ قریش کی ایک شاخ سے تھے۔ پھر بنی ہاشم کی ایک شاخ کے فرد تھے۔ اور یہ لوگ عربوں میں سے برتر لوگ تھے جبکہ آپ کی ذات بھی اخلاق عالیہ کے لحاظ سے ممتاز تھی۔ بعثت سے پہلے آپ صادق و امین اور اعلیٰ اخلاق کے مالک انسان کے طور پر مشہور تھے۔ لیکن آپ اپنے قبیلے کے سر براہ نہ تھے ۔ نہ کسی خاندان کے رئیس تھے اور اس دور میں لوگ انہی چیزوں پر فخر کرتے تھے کہ کوئی قبیلے یا کسی شاخ کا سربراہ ہو۔ معترضین کا اعتراض یہی تھا۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قران ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر نازل کیوں نہ کیا گیا ”۔ حالانکہ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی رسالت اور دعوت کے لئے کون موزوں ہے اور یہ منصب کس کو دیا جائے۔ لہٰذا ! اللہ نے اہل ترین شخص کا انتخاب کرلیا۔ اللہ کا منشا یہ نہ تھا کہ اس رسالت کو خارجی اسباب میں سے کوئی سہارا ملے ، اس کی قوت اس کے خارج سے نہ ہو بلکہ اس کے اندر سے ہو۔ لہٰذا اس نے اس کے لئے ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جس کی بڑی خصوصیت اس کے اخلاق تھے۔ اس دعوت کا مزاج ہی یہ ہے اور یہ اس کی بالکل ممتاز خصوصیت ہے۔ اس لیے کسی قبیلے کے سردار کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ نہ کسی خاندان کے سر براہ کو اس کے لئے منتخب کیا گیا۔ نہ کسی صاحب جاہ مرتبہ کا انتخاب ہوا۔ نہ ایک بہت بڑے مالدار کا یوں انتخاب ہوا تا کہ آسمانوں پر سے نازل ہونے والی اس دعوت کی اصل اقدار کسی ایسی قدر سے ملتبس نہ ہوجائیں جس کا تعلق اس دنیا پرستی سے ہو اور اس دعوت کے اندر دنیا پرستی کے خلیات میں سے کوئی خلیہ داخل نہ ہوجائے جو اس دعوت کی حقیقت کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں رکھتا۔ اور دعوت اسلامی کی ذاتی قوت کے سوا کوئی اور خارجی سبب اس پر اثر انداز نہ ہو۔ نہ کوئی طالع آزما اس کے قریب آئے اور نہ کوئی پاکباز اس سے دور ہو۔
لیکن اس قوم پر دنیا پرستی کا غلبہ تھا ، اس لیے جو لوگ آسمانی دعوت کی نوعیت کو سمجھتے نہ تھے۔ وہ اس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ”۔
لہٰذا قرآن نے اللہ کی اس عظیم رحمت پر ان کے اس سطحی اعتراض کو رد فرما دیا ، یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی رحمت کے لئے جو چاہے ، اختیار کرلے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے انہوں نے دنیا پرستی اور جاہلیت کی اقدار اور اللہ کی آسمانی قدروں کو ملا دیا ہے۔ اور وہ اپنی دنیا پرستی کی آنکھوں سے اس دعوت اسلامی کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ دعوت خدا پرستی اور آخرت کے حساب سے دی جارہی ہے۔
اھم یقسمون رحمت ۔۔۔۔۔۔ خیر مما یجمعون (43 : 32) “ کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ سمیٹ رہے ہیں ”۔ یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب نبوت بھی خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو اللہ کی رحمت اور نبوت سے واسطہ کیا ہے ؟ اصل پوزیشن ان کی یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، خود اپنے رزق کے بھی یہ مالک نہیں ہیں ، یعنی اس دنیا کی مختصر زندگی کے لئے بھی ان کا رزق ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ بھی ہم ان پر تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ہم اپنی حکمت اور تدبیر سے تقسیم کرتے ہیں اور یہ ہماری تقسیم اس زمین کی تعمیر و ترقی کے لئے ہے۔
اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے رزق لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق دیا جاتا ہے۔ زندگی کے حالات کے مطابق دیا جاتا ہے اور معاشرے کے افراد کے باہم تعلقات کے مطابق دیا جاتا ہے۔ مختلف عوامل کے مطابق افراد معاشرہ کے درمیان اس کی تقسیم ہوتی ہے۔ ہر معاشرے میں نظام تقسیم رزق مختلف ہوتا ہے۔ ہر زمانے میں اس کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہر سوسائٹی دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ اور اس میں عمومی حالات اور افراد معاشرہ کے باہم تعلقات پر دارومدار ہوتا ہے۔ لیکن ہر دور اور ہر معاشرے میں تقسیم رزق میں جو بات موجود ہو رہی ہے ، وہ یہ رہی ہے کہ رزق کی تقسیم میں فرق رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مصنوعی معاشروں میں بھی تقسیم رزق میں فرق ہے ، جن کا مقصد ہی پیداوار بڑھانا اور مساویانہ تقسیم کرنا ہے۔
تفاوت رزق کے اسباب مختلف معاشروں میں مختلف رہے ہیں۔ لیکن مقدار رزق کے اختلافات میں اختلاف ناپید کبھی نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ جن مصنوعی معاشروں کے اندر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مکمل مساوات ہے وہاں بھی رزق مختلف ہوتا ہے اور ورفعنا بعضھم فوق بعض (43 : 32) “ اور کچھ لوگ کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے ”۔
اور تمام معاشروں میں فرق مراتب رزق کے اسباب تو مختلف رہے ہیں لیکن حکمت یہی رہی ہے۔
درجت لیتخذ بعضھم سخریا (43 : 32) “ یا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں ”۔ یعنی بعض لوگ دوسروں کو اپنا ماتحت کر کے ان سے خدمات لیں ، اس دنیا میں جب معیشت کی گاڑی چلتی ہے تو بعض لوگ خدمات فروخت کرتے ہیں اور بعض خریدتے ہیں۔ یوں بعض بعض کے لئے مسخر ہوجاتے ہیں ، یہاں تسخیر کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک طبعہ برتر ہو اور دوسرا کم تر ہو یا ایک فرد دوسرے کا غلام ہو۔ اگر یہ لیا جائے تو یہ اس لفظ کا بہت ہی سادہ مفہوم ہوگا۔ یہ اللہ کے دائمی اور بلند کلام کی سطح تک نہیں پہنچتا۔ اللہ کے فرمان کا مفہوم کسی تغیر سے بالا ہے ، اگرچہ انسانی سوسائٹی کے حالات میں جس قدر تبدیلی واقع ہوجائے ، یہ ایسا مفہوم نہیں ہے کہ جانے والے حالات میں اور ہو اور آنے والے حالات میں اور ہو۔ حقیقی مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں اور زندگی اور معیشت کا چکر سب کو گھماتا ہے۔ اور ہر حال اور ہر صورت میں لوگ ایک دوسرے کے محتاج و مجبور ہیں۔ ہر ایک کے وسائل رزق متعین ہیں ، کسی کے ذرائع ، کشادہ ہیں اور کسی کے محدود ہیں۔ کوئی اس کام میں لگا ہوا کہ دولت جمع کرے ، اس سے خود بھی کھائے اور وہ دوسروں کو بھی دے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں۔ اور دونوں کے وسائل رزق میں جو فرق ہے اس نے دونوں کو ایک دوسرے کے لئے محتاج اور مسخر بنا دیا ہے۔ اور زندگی خصوصاً معاشی زندگی کے چکر میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ، مزدور انجینئر کا محتاج ہے اور انجینئر مالک کا محتاج ہے۔ انجینئر اور مزدور دونوں مالک کے محتاج ہیں ، مالک انجینئر اور مزدور دونوں کا محتاج ہے۔ اور ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کے پورا کرنے میں لگا ہوا ہے اور مسخر ہے۔ اور یہ سب نظام رزق میں تعاون کی وجہ سے قائم ہوا ہے۔ کسی کو خدمات درکار ہیں اور کسی نے بیچنی ہیں۔
بعض ایسے لوگ جو خود ساختہ نظریات کے داعی ہیں وہ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر اسلام اور اسلام کے اقتصادی نظام پر بہت سے اعتراضات کرتے ہیں اور پھر بعض مسلمان اس آیت کے سامنے شف شف کرتے ہیں اور ان کا اندازیوں ہوتا ہے کہ وہ گویا اسلام پر یہ ایک الزام ہے اور وہ اس کا رد کرتے ہیں کہ اسلام رزق کے معاملے میں فرق مراتب کا قائل نہیں ہے اور یہ کہ رزق میں فرق مراتب اسلام پر تہمت ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اہل اسلام ، اسلام کے بارے بالکل کھل کر اور صاف صاف بات کریں۔ وہ ان خود ساختہ نظریات سے متاثر ہوئے بغیر اور دفاعی انداز اختیار کئے بغیر صاف صاف کہہ دیں کہ رزق میں فرق مراتب ایک حقیقت ہے جسے اسلام روا رکھتا ہے اور لوگ ہمیشہ وسائل رزق کے معاملے میں مختلف ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی حالت طبیعی اور حالت نفسی اسی تفاوت پر قائم ہے۔ لوگوں کو خالق کائنات کی طرف سے مختلف درجوں کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرسکتا ہے اور یہ تفاوت اور فرق مراتب اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہر شخص نے اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کی ادائیگی میں بالکل ایک جدا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر سب لوگ اس طرح پیدا کئے گئے ہوتے جس طرح پریس سے ایک اشتہار چھپتا ہے یا کتاب کا ایک نسخہ تیار ہوتا ہے تو اس دنیا میں زندگی کی یہ اجتماعی صورت نہ ہوتی اور کئی ضروری کام یونہی رہ جاتے جن کے سر انجام دینے کے لئے کوئی قابل آدمی نہ ہوتا کیونکہ ان کے لئے کوئی قابل آدمی ہی نہ ملتا۔ جس اللہ نے زندگی پیدا کی ہے اور اس کے لئے بقا کا انتظام فرمایا ہے اس نے ہر شخص کے لئے ایک کردار رکھا ہے اور ہر عمل کے لئے ایک شخص ، ہر کسے رابہر کارے ساختد ، پھر ہر شخص کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے رزق میں بھی فرق ہوتا ہے ، گر فرق مراتب نہ کئی زندیقی ، یہ ہے اصل قاعدہ ۔ رہا یہ کہ مختلف اہلیت کے لوگوں کے رزق کے اندر کس قدر فرق ہو تو یہ ہر نظام ، ہر معاشرے اور ہر ملک کے اپنے حالات پر موقوف ہوتا ہے ۔ لیکن یہ فطری اصول کسی جگہ رد نہیں کیا جاسکتا کہ فرق مراتب ہو اور اس طرح زندگی نشوونما پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے مصنوعی نظامہائے معیشت کے پیروکاروں نے جنہوں نے مساوات کے بلند بانگ دعوے کئے ، مزدور ، انجینئر اور منیجر کی تنخواہوں کے اندر مساوات قائم نہ کی اور نہ کرسکے ۔ حالانکہ انہوں نے اپنے نظام کو بروئے کار لانے کے لئے بڑے سے بڑا تشدد کیا لیکن آخر کار یہ لوگ اللہ کے ابدی اصول کے سامنے شکست کھا گئے۔ کیونکہ اللہ کا قانون اس کائنات کے اندر موجود نہایت ہی مستحکم ناموس زندگی پر مبنی ہے (سید قطب ، اے کاش آپ زندہ ہوتے اور ان مصنوعی مذاہب کو روس میں دھڑام سے گرتے دیکھتے ! ) اور جس نظام کی نشاندہی اللہ نے اس دنیا کی زندگی کے لئے کی ہے اسی میں اللہ کی رحمت ہے۔
و رحمت ربک خیر مما یجمعون (43 : 32) “ تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ جمع کرتے ہیں ” اور یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس رحمت کے لئے جس کو چاہے ، چن لے ، کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس منصب کے لئے کون اہل ہے۔ پھر اللہ کی رحمت کا تعلق اس دنیا میں پائے جانے والے نظام معیشت کی اہلیت پر نہیں ہے۔ یہ تو دنیاوی اقدار ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ کوئی بہت بڑا کمال نہیں ہے کہ کوئی بہت بڑی دولت جمع کر دے کیونکہ دولت کے جمع کرنے میں نیکو کاروں اور بدکاروں کے لئے برابر کے مواقع ہیں اور اچھوں اور بروں کے لئے اس میں برابر مواقع ہیں لیکن اللہ کی رحمت (نبوت) کے لئے تو بہت ہی ممتاز ترین لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور اس کام کو اللہ ہی جانتا ہے۔
اللہ کے نزدیک یہ دنیا اور اس کی دولت اس قدر حقیر اور اس قدر بےوقعت ہے کہ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سب لوگ کافر ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ یہاں کافروں پر دولت کی بارش کردیتا۔ لیکن اندیشہ یہ تھا کہ یہ دولت لوگوں کے لئے فتنہ بن جائے گی اور انہیں ایمان کی راہ سے روک دے گی۔
ولو لا این یکون ۔۔۔۔۔۔ علیھا یظھرون (43 : 33) ولبیوتھم ابوابا ۔۔۔۔۔ یتکئون (43 : 34) وزخرفا وان کل ۔۔۔۔۔ عند ربک للمتقین (43 : 35) “ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں ، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ سے اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے ۔ یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لئے ہے ”۔
اللہ جانتا ہے کہ اس کی مخلوق ضعیف ہے اور وہ دنیا کے مال و دولت سے کس قدر متاثر ہوجاتی ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اپنی اس عظیم رحمت کا انکار کرنے والوں کو اس حقیر و ذلیل دنیا سے مالا مال کردیتا ، ان کے مکانات ، ان کی چھتیں اور ان کے دروازے اور ان کا فرنیچر سب سونے چاندی کے ہوجاتے ۔ ان کے گھروں کے بڑے بڑے گیٹ ہوتے۔ جن تختوں پر وہ بیٹھے ان کے بڑے بڑے تکیے ہوتے اور یہ سونے چاندی اور دوسری قیمتی دھاتوں کے ہوتے۔ یہ دنیائے ونی سب کی سب ان کفار کے حوالے کردی جاتی۔
وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا (43 : 35) “ یہ تو سب حیات دنیا کی متاع ہے ”۔ یعنی زائل ہونے والا سازو سامان ، جو اس دنیا کی حدود سے آگے جاتا ہی نہیں۔ یہ دنیا بھی کم قیمت اور مختصر اور اس پر انسان کی زندگی بھی مختصر۔
والاخرۃ عند ربک للمقتین (43 : 35) “ اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے ”۔ اور یہ لوگ اللہ کے نزدیک اپنے تقویٰ کی وجہ سے مکرم ہیں۔ لہٰذا اس نے ان کے لئے وہ انعامات تیار کر رکھے جو بہت ہی باعزت اور قیمتی ہیں۔ اور وہ اس دنیا کے فانی متاع کے مقابلے میں زیادہ باقی رہنے والے بیش قیمت ہیں۔ اور اللہ ان کو قیامت میں رحمٰن کے کافروں کے مقابلے میں بہت ہی امتیازی شان دے گا اور رہے یہ کافر تو ان کو اللہ متاع حیات اس حساب سے دیتا ہے جس طرح حیوانات کو چارہ دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حیات دنیا کا یہ سازو سامان جس کی مثال اللہ نے یہاں دی ، اس دنیا کے بہت سے لوگوں کی نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے ۔ اور جب اہل ایمان فساق و فجار کے ہاتھ میں یہ مال و دولت دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ہاتھ ان سے خالی ہیں یا وہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ عسرت ، سختی اور تنگی ترشی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ فساق و فجار اپنی دولت کے بل بوتے پر ، قوت و سطوت اور اقتدار پر ہیں تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ فتنہ لوگوں پر بہت اثر کرتا ہے لیکن اللہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ یہ چیزیں نہایت ہی حقیر ، عارضی اور کم قیمت ہیں۔ اور اللہ نے اپنے ہاں متقین کے لئے جو کچھ تیار کر رکھا ، وہ ناقابل تصور ہے۔ یہ نیک لوگوں کے لئے ہے۔ اس طرح قلب مومن اس حالت پر مطمئن ہوجاتا ہے جو اللہ نے ابرار کے لئے اختیار کیا ہے یا فجار کے لئے اختیار کیا ہے۔
ان لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اللہ نے نبوت کے لئے ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے جس کے پاس دولت دنیا نہیں ہے ۔ وہ لوگوں کی قدرو قیمت کا اندازہ ان کے اقتدار ، ان کے مال ، اور ان کے مرتبے سے لگاتے ہیں۔ ان کو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں تو یہ چیزیں حقیر اور فانی ہیں۔ یہ تو اللہ کی شریر ترین مخلوق کے پاس بہت زیادہ ہوتی ہیں اور اللہ کے مبغوض ترین لوگوں کے پاس زیادہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا مال و دولت اللہ کے ہاں قرب ، مرتبہ اور رضائے الٰہی کی دلیل نہیں ہے۔
یوں قرآن کریم ہر چیز کو اپنی جگہ اور صحیح مقام پر رکھتا ہے ۔ اور اللہ کے قوانین بابت تقسیم رزق بیان کرتا ہے کہ اس دنیا میں دولت کی تقسیم کا یہ نظام ہے۔ اور یہ وضاحت کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس سلسلے میں کیا قدریں ہیں اور یہ تمام باتیں اس حوالے سے کی گئیں کہ ان لوگوں کو رسالت محمدی پر اس زاویہ سے اعتراض تھا کہ اللہ نے مکہ اور طائف کے رؤسا کو چھوڑ کر محمد ﷺ کو نبی بنا دیا جو دولت کے اعتبار سے ایک عام آدمی تھے۔
یوں ، اس مناسبت سے امارت اور غربت کے بارے میں ، اسلامی نظام معیشت کے لئے بنیادی اور کلی قواعد وضع کر دئیے گئے ، جن کے اندر کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی تغیر ممکن نہ ہوگا۔ زندگی کی بو قلمونیاں ، نظام کا اختلاف ، نظریات کا اختلاف ، معاشروں اور سوسائٹیوں کا اختلاف کوئی چیز بھی ان قواعد کو متاثر نہ کرے گی۔ کیونکہ زندگی کی بعض مستقل قدریں ہیں اور یہ زندگی ان کے دائرے کے اندر ہی حرکت کرتی ہے۔ وہ اس کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتی۔ جن لوگوں کو بدلتے ہوئے حالات اس طرف سے اندھا کردیتے ہیں کہ وہ زندگی کی ان مستقل قدروں کو دیکھ سکیں ، وہ اللہ کے اس مستقل معاشی اصول اور معاشی کلیہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ (انہدام روس کے بعد سمجھ لیا ہے ) اسلامی نظام دراصل ثبات اور تغیر کے درمیان ایک حسین امتزاج ہے۔ اس کے معاشی نظام میں بدلنے والے اصول بھی ہیں اور ناقابل تغیر بھی ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ، وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ زندگی کی ترقی میں تغیر و تبدل ہی اصل چیز ہے۔ یہ تغیر اور انقلاب اشیاء کی حقیقت میں بھی آتا ہے اور شکل میں بھی آتا ہے اور ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ اس تغیر اور تبدیلی کے ساتھ مستقل اور ثابت اصول نہیں چل سکتے۔ یہ لوگ اس بات کے منکر ہیں کہ تبدل و تغیر کے سوا اور کوئی مستقل قانون معیشت بھی ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ یہ لوگ صرف تغیر کے قانون کو تسلیم کرتے ہیں۔ رہے ہم مسلمان تو ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس پوری کائنات میں ثبات اور تغیر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اور اس دنیا کی بعض چیزوں میں ثبات بطور ایک مستقل قدر موجود ہے اور اس کی بڑی مثال تو یہی مسئلہ موضوع بحث ہے۔ لوگوں کے درمیان تقسیم رزق میں تفاوت ایک مستقل اصول ہے اور نسبت تفاوت میں فرق و امتیاز بہرحال ہوتا ہی رہتا ہے۔ یہ نسبت ہر ملک اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں بدل سکتی ہے۔ خود موضوع زیر بحث میں دونوں مثالیں موجود ہیں کہ ثبات و تغیر تقسیم معیشت میں موجود ہے۔ اور تفاوت مستقل ہے اور نسبت تفاوت متغیر ہے۔
٭٭٭
جب یہ بیان کردیا گیا کہ اللہ کے نزدیک اس دنیا کا مال و متاع کوئی چیز نہیں ہے اور یہ ایک حقیر سامان چند روزہ ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ فساق و فجار کو جو دولت دی جاتی ہے یہ ان کی کرامت اور شرافت کی دلیل نہیں ہے۔ اور آخرت کے تمام مزے متقین کے لئے ہیں۔ تو یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں دولت دی گئی اور وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے اور وہ ان عبادات سے منہ پھیرے ہیں جن کے نتیجے میں آخرت میں نعمتیں ملیں گی تو ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوگا۔