Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الدخان 44:54 – الأحقاف 46:19

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الدخان 44:54
  2. الدخان 44:55
  3. الدخان 44:56
  4. الدخان 44:57
  5. الدخان 44:58
  6. الدخان 44:59
  7. الجاثية 45:1
  8. الجاثية 45:2
  9. الجاثية 45:3
  10. الجاثية 45:4
  11. الجاثية 45:5
  12. الجاثية 45:6
  13. الجاثية 45:7
  14. الجاثية 45:8
  15. الجاثية 45:9
  16. الجاثية 45:10
  17. الجاثية 45:11
  18. الجاثية 45:12
  19. الجاثية 45:13
  20. الجاثية 45:14
  21. الجاثية 45:15
  22. الجاثية 45:16
  23. الجاثية 45:17
  24. الجاثية 45:18
  25. الجاثية 45:19
  26. الجاثية 45:20
  27. الجاثية 45:21
  28. الجاثية 45:22
  29. الجاثية 45:23
  30. الجاثية 45:24
  31. الجاثية 45:25
  32. الجاثية 45:26
  33. الجاثية 45:27
  34. الجاثية 45:28
  35. الجاثية 45:29
  36. الجاثية 45:30
  37. الجاثية 45:31
  38. الجاثية 45:32
  39. الجاثية 45:33
  40. الجاثية 45:34
  41. الجاثية 45:35
  42. الجاثية 45:36
  43. الجاثية 45:37
  44. الأحقاف 46:1
  45. الأحقاف 46:2
  46. الأحقاف 46:3
  47. الأحقاف 46:4
  48. الأحقاف 46:5
  49. الأحقاف 46:6
  50. الأحقاف 46:7
  51. الأحقاف 46:8
  52. الأحقاف 46:9
  53. الأحقاف 46:10
  54. الأحقاف 46:11
  55. الأحقاف 46:12
  56. الأحقاف 46:13
  57. الأحقاف 46:14
  58. الأحقاف 46:15
  59. الأحقاف 46:16
  60. الأحقاف 46:17
  61. الأحقاف 46:18
  62. الأحقاف 46:19

الدخان 44:54

آیت نمبر 43 تا 57 یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔ خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت بےدردی کے ساتھ۔ کس کر باندھو اسے اور پھر رگیدتے ہوئے جہنم کی طرف لے جاؤ، کوئی نرمی اور کوئی باعزت گرفتاری نہ ہو۔ اور ان کے سروں پر اس قدر سخت گرم پانی انڈیل دو کہ ان کو بھون کر رکھ دے ، اس سختی ، کھینچنے ، دھکیلنے ، رگید نے گرم پانی سے جلانے اور داغ دینے کے ساتھ جہنم کے اندر گراؤ اور پھر یہ بھی کہہ دو : ذق انک انت العزیز الکریم (44 : 49) ” چکھ اس کا مزا ، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو “۔ جو لوگ عزت اور شرافت کے بغیر عزیز وکریم بنتے ہیں ان کی سزا ویسی ہی ہے ۔ تم اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں یہی کچھ کرتے تھے۔ تم اس دن میں شک کرتے تھے اور مذاق اڑاتے تھے اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اس منظر میں ایک طرف تو پکڑ دھکڑ ، باندھنا اور داغنا ہے اور گرم پانی گرانا ہے اور دوسری طرف وہ حقیقی شریف و کریم لوگ ہیں جو متقین تھے ، جو ہر وقت اس دن سے ڈرتے تھے۔ یہ لوگ نہایت ہی امن کے مقام میں کھڑے ہیں ، نہ در ہے اور فریاد و فغاں ہے نہ کھینچا تانی ہے اور نہ دھکم پیل ہے ، اور نہ ان پر سختی اور گرم پانی گرانا ہے۔ بلکہ وہ نہایت ہی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ باغات میں جہاں ہر طرف چشمے بہہ رہے ہیں۔ یہ نرم و باریک ریشم اور موٹے ریشم کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے کے بالمقابل تکیوں پر بیٹھے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ شریک محفل ہیں۔ پھر ان کو وہاں ایسی بیویاں دی جائیں گی جو نہایت ہی خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔ یوں یہ نعمت اور فرحت تمام ہوگی اور وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مقیم ہوں گے جو بھی وہاں چاہیں گے ، ملے گا۔ یدعون فیکھا بکل فاکھۃ امنین (44 : 55) ” وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے “۔ یعنی ان کو ان نعمتوں کے ختم ہونے کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا ، نہ موت ہوگی جبکہ ایک بار وہ مرچکے ۔ اور اس کے سوا کوئی اور موت ہوگی ہی نہیں۔ مشرکین تو یہ کہتے تھے کہ یہی پہلی موت ہے اور حشر و نشر نہ ہوگا ، اس کے جواب میں ہے کہ ٹھیک ہے یہی پہلی موت ہے لیکن حشر ونشر ہوگیا ، اب کوئی موت نہیں ، اگرچہ تم موت چاہتے ہو۔ اور اللہ نے اہل ایمان کو جہنم سے بچا لیا ، محض اپنے فضل وکرم سے کیونکہ نجات تو اللہ کے فضل وکرم سے موقوف ہے۔ فضلا من ربک ذلک ھو الفوز العظیم (44 : 57) ” اور اللہ اپنے فضل سے ان کو موت سے بچائے گا ، یہی بڑی کامیابی ہے “۔ اور نہایت ہی عظیم کامیابی ! اس شدید منظر کے بعد اب سورت کا خاتمہ اسی بات پر ہوتا ہے جس سے اس کا آغاز ہوا تھا کہ یہ قرآن اور یہ رسالت اللہ کی طرف سے نعمت عظمیٰ ہے اور اس نعمت کا انکار اور رسول کی تکذیب کے نتائج سے متنبہ کیا جاتا ۔

الدخان 44:55

آیت نمبر 43 تا 57 یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔ خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت بےدردی کے ساتھ۔ کس کر باندھو اسے اور پھر رگیدتے ہوئے جہنم کی طرف لے جاؤ، کوئی نرمی اور کوئی باعزت گرفتاری نہ ہو۔ اور ان کے سروں پر اس قدر سخت گرم پانی انڈیل دو کہ ان کو بھون کر رکھ دے ، اس سختی ، کھینچنے ، دھکیلنے ، رگید نے گرم پانی سے جلانے اور داغ دینے کے ساتھ جہنم کے اندر گراؤ اور پھر یہ بھی کہہ دو : ذق انک انت العزیز الکریم (44 : 49) ” چکھ اس کا مزا ، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو “۔ جو لوگ عزت اور شرافت کے بغیر عزیز وکریم بنتے ہیں ان کی سزا ویسی ہی ہے ۔ تم اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں یہی کچھ کرتے تھے۔ تم اس دن میں شک کرتے تھے اور مذاق اڑاتے تھے اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اس منظر میں ایک طرف تو پکڑ دھکڑ ، باندھنا اور داغنا ہے اور گرم پانی گرانا ہے اور دوسری طرف وہ حقیقی شریف و کریم لوگ ہیں جو متقین تھے ، جو ہر وقت اس دن سے ڈرتے تھے۔ یہ لوگ نہایت ہی امن کے مقام میں کھڑے ہیں ، نہ در ہے اور فریاد و فغاں ہے نہ کھینچا تانی ہے اور نہ دھکم پیل ہے ، اور نہ ان پر سختی اور گرم پانی گرانا ہے۔ بلکہ وہ نہایت ہی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ باغات میں جہاں ہر طرف چشمے بہہ رہے ہیں۔ یہ نرم و باریک ریشم اور موٹے ریشم کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے کے بالمقابل تکیوں پر بیٹھے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ شریک محفل ہیں۔ پھر ان کو وہاں ایسی بیویاں دی جائیں گی جو نہایت ہی خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔ یوں یہ نعمت اور فرحت تمام ہوگی اور وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مقیم ہوں گے جو بھی وہاں چاہیں گے ، ملے گا۔ یدعون فیکھا بکل فاکھۃ امنین (44 : 55) ” وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے “۔ یعنی ان کو ان نعمتوں کے ختم ہونے کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا ، نہ موت ہوگی جبکہ ایک بار وہ مرچکے ۔ اور اس کے سوا کوئی اور موت ہوگی ہی نہیں۔ مشرکین تو یہ کہتے تھے کہ یہی پہلی موت ہے اور حشر و نشر نہ ہوگا ، اس کے جواب میں ہے کہ ٹھیک ہے یہی پہلی موت ہے لیکن حشر ونشر ہوگیا ، اب کوئی موت نہیں ، اگرچہ تم موت چاہتے ہو۔ اور اللہ نے اہل ایمان کو جہنم سے بچا لیا ، محض اپنے فضل وکرم سے کیونکہ نجات تو اللہ کے فضل وکرم سے موقوف ہے۔ فضلا من ربک ذلک ھو الفوز العظیم (44 : 57) ” اور اللہ اپنے فضل سے ان کو موت سے بچائے گا ، یہی بڑی کامیابی ہے “۔ اور نہایت ہی عظیم کامیابی ! اس شدید منظر کے بعد اب سورت کا خاتمہ اسی بات پر ہوتا ہے جس سے اس کا آغاز ہوا تھا کہ یہ قرآن اور یہ رسالت اللہ کی طرف سے نعمت عظمیٰ ہے اور اس نعمت کا انکار اور رسول کی تکذیب کے نتائج سے متنبہ کیا جاتا ۔

الدخان 44:56

آیت نمبر 43 تا 57 یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔ خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت بےدردی کے ساتھ۔ کس کر باندھو اسے اور پھر رگیدتے ہوئے جہنم کی طرف لے جاؤ، کوئی نرمی اور کوئی باعزت گرفتاری نہ ہو۔ اور ان کے سروں پر اس قدر سخت گرم پانی انڈیل دو کہ ان کو بھون کر رکھ دے ، اس سختی ، کھینچنے ، دھکیلنے ، رگید نے گرم پانی سے جلانے اور داغ دینے کے ساتھ جہنم کے اندر گراؤ اور پھر یہ بھی کہہ دو : ذق انک انت العزیز الکریم (44 : 49) ” چکھ اس کا مزا ، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو “۔ جو لوگ عزت اور شرافت کے بغیر عزیز وکریم بنتے ہیں ان کی سزا ویسی ہی ہے ۔ تم اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں یہی کچھ کرتے تھے۔ تم اس دن میں شک کرتے تھے اور مذاق اڑاتے تھے اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اس منظر میں ایک طرف تو پکڑ دھکڑ ، باندھنا اور داغنا ہے اور گرم پانی گرانا ہے اور دوسری طرف وہ حقیقی شریف و کریم لوگ ہیں جو متقین تھے ، جو ہر وقت اس دن سے ڈرتے تھے۔ یہ لوگ نہایت ہی امن کے مقام میں کھڑے ہیں ، نہ در ہے اور فریاد و فغاں ہے نہ کھینچا تانی ہے اور نہ دھکم پیل ہے ، اور نہ ان پر سختی اور گرم پانی گرانا ہے۔ بلکہ وہ نہایت ہی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ باغات میں جہاں ہر طرف چشمے بہہ رہے ہیں۔ یہ نرم و باریک ریشم اور موٹے ریشم کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے کے بالمقابل تکیوں پر بیٹھے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ شریک محفل ہیں۔ پھر ان کو وہاں ایسی بیویاں دی جائیں گی جو نہایت ہی خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔ یوں یہ نعمت اور فرحت تمام ہوگی اور وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مقیم ہوں گے جو بھی وہاں چاہیں گے ، ملے گا۔ یدعون فیکھا بکل فاکھۃ امنین (44 : 55) ” وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے “۔ یعنی ان کو ان نعمتوں کے ختم ہونے کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا ، نہ موت ہوگی جبکہ ایک بار وہ مرچکے ۔ اور اس کے سوا کوئی اور موت ہوگی ہی نہیں۔ مشرکین تو یہ کہتے تھے کہ یہی پہلی موت ہے اور حشر و نشر نہ ہوگا ، اس کے جواب میں ہے کہ ٹھیک ہے یہی پہلی موت ہے لیکن حشر ونشر ہوگیا ، اب کوئی موت نہیں ، اگرچہ تم موت چاہتے ہو۔ اور اللہ نے اہل ایمان کو جہنم سے بچا لیا ، محض اپنے فضل وکرم سے کیونکہ نجات تو اللہ کے فضل وکرم سے موقوف ہے۔ فضلا من ربک ذلک ھو الفوز العظیم (44 : 57) ” اور اللہ اپنے فضل سے ان کو موت سے بچائے گا ، یہی بڑی کامیابی ہے “۔ اور نہایت ہی عظیم کامیابی ! اس شدید منظر کے بعد اب سورت کا خاتمہ اسی بات پر ہوتا ہے جس سے اس کا آغاز ہوا تھا کہ یہ قرآن اور یہ رسالت اللہ کی طرف سے نعمت عظمیٰ ہے اور اس نعمت کا انکار اور رسول کی تکذیب کے نتائج سے متنبہ کیا جاتا ۔

الدخان 44:57

آیت نمبر 43 تا 57 یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔ خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت بےدردی کے ساتھ۔ کس کر باندھو اسے اور پھر رگیدتے ہوئے جہنم کی طرف لے جاؤ، کوئی نرمی اور کوئی باعزت گرفتاری نہ ہو۔ اور ان کے سروں پر اس قدر سخت گرم پانی انڈیل دو کہ ان کو بھون کر رکھ دے ، اس سختی ، کھینچنے ، دھکیلنے ، رگید نے گرم پانی سے جلانے اور داغ دینے کے ساتھ جہنم کے اندر گراؤ اور پھر یہ بھی کہہ دو : ذق انک انت العزیز الکریم (44 : 49) ” چکھ اس کا مزا ، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو “۔ جو لوگ عزت اور شرافت کے بغیر عزیز وکریم بنتے ہیں ان کی سزا ویسی ہی ہے ۔ تم اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں یہی کچھ کرتے تھے۔ تم اس دن میں شک کرتے تھے اور مذاق اڑاتے تھے اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اس منظر میں ایک طرف تو پکڑ دھکڑ ، باندھنا اور داغنا ہے اور گرم پانی گرانا ہے اور دوسری طرف وہ حقیقی شریف و کریم لوگ ہیں جو متقین تھے ، جو ہر وقت اس دن سے ڈرتے تھے۔ یہ لوگ نہایت ہی امن کے مقام میں کھڑے ہیں ، نہ در ہے اور فریاد و فغاں ہے نہ کھینچا تانی ہے اور نہ دھکم پیل ہے ، اور نہ ان پر سختی اور گرم پانی گرانا ہے۔ بلکہ وہ نہایت ہی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ باغات میں جہاں ہر طرف چشمے بہہ رہے ہیں۔ یہ نرم و باریک ریشم اور موٹے ریشم کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے کے بالمقابل تکیوں پر بیٹھے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ شریک محفل ہیں۔ پھر ان کو وہاں ایسی بیویاں دی جائیں گی جو نہایت ہی خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔ یوں یہ نعمت اور فرحت تمام ہوگی اور وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مقیم ہوں گے جو بھی وہاں چاہیں گے ، ملے گا۔ یدعون فیکھا بکل فاکھۃ امنین (44 : 55) ” وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے “۔ یعنی ان کو ان نعمتوں کے ختم ہونے کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا ، نہ موت ہوگی جبکہ ایک بار وہ مرچکے ۔ اور اس کے سوا کوئی اور موت ہوگی ہی نہیں۔ مشرکین تو یہ کہتے تھے کہ یہی پہلی موت ہے اور حشر و نشر نہ ہوگا ، اس کے جواب میں ہے کہ ٹھیک ہے یہی پہلی موت ہے لیکن حشر ونشر ہوگیا ، اب کوئی موت نہیں ، اگرچہ تم موت چاہتے ہو۔ اور اللہ نے اہل ایمان کو جہنم سے بچا لیا ، محض اپنے فضل وکرم سے کیونکہ نجات تو اللہ کے فضل وکرم سے موقوف ہے۔ فضلا من ربک ذلک ھو الفوز العظیم (44 : 57) ” اور اللہ اپنے فضل سے ان کو موت سے بچائے گا ، یہی بڑی کامیابی ہے “۔ اور نہایت ہی عظیم کامیابی ! اس شدید منظر کے بعد اب سورت کا خاتمہ اسی بات پر ہوتا ہے جس سے اس کا آغاز ہوا تھا کہ یہ قرآن اور یہ رسالت اللہ کی طرف سے نعمت عظمیٰ ہے اور اس نعمت کا انکار اور رسول کی تکذیب کے نتائج سے متنبہ کیا جاتا ۔

الدخان 44:58

آیت نمبر 58 تا 59 یہ اس سورت کا خاتمہ ہے ، اس میں اس پوری سورت کی فضا اور اس کے موضوع بحث کا خلاصہ پیش کردیا گیا ہے۔ یہ خاتمہ اس کے آغاز اور اس میں بحث کی جو لائن اختیار کی گئی ہے اس کے مطابق ہے۔ آغاز ذکر کتاب ، نزول کتاب اور غرض نزول یعنی ڈرانے اور نصیحت کرنے سے ہوا تھا۔ اور اس کے سیاق میں اس عذاب کی تصریح کی گئی تھی۔ جو ان مکذبین کے انتظار میں ہے۔ یوم نبطش البطشۃ الکبری انا منتقمون (44 : 16) ” جس دن یہ بڑی ضرب لگائیں گے ، وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے “۔ اب یہ خاتمہ یوں ہے کہ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زبانی قرآن مجید تمہارے لیے آسان کردیا گیا ہے جو عربی زبان میں ایک عربی بولنے والے رسول پر نازل کیا گیا ہے۔ تم اس کو سمجھ سکتے ہو ، وہ آپ کو سمجھا سکتے ہیں ، اگر تم نے اسے تسلیم نہ کیا تو ایک نہایت ہی خوفناک انجام تمہارے انتظار میں ہے۔ فارتقب انھم مرتقبون (44 : 59) ” تم بھی انتظار کرو ، یہ بھی منتظر ہیں “۔ ٭٭٭٭٭٭

الدخان 44:59

آیت نمبر 58 تا 59 یہ اس سورت کا خاتمہ ہے ، اس میں اس پوری سورت کی فضا اور اس کے موضوع بحث کا خلاصہ پیش کردیا گیا ہے۔ یہ خاتمہ اس کے آغاز اور اس میں بحث کی جو لائن اختیار کی گئی ہے اس کے مطابق ہے۔ آغاز ذکر کتاب ، نزول کتاب اور غرض نزول یعنی ڈرانے اور نصیحت کرنے سے ہوا تھا۔ اور اس کے سیاق میں اس عذاب کی تصریح کی گئی تھی۔ جو ان مکذبین کے انتظار میں ہے۔ یوم نبطش البطشۃ الکبری انا منتقمون (44 : 16) ” جس دن یہ بڑی ضرب لگائیں گے ، وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے “۔ اب یہ خاتمہ یوں ہے کہ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زبانی قرآن مجید تمہارے لیے آسان کردیا گیا ہے جو عربی زبان میں ایک عربی بولنے والے رسول پر نازل کیا گیا ہے۔ تم اس کو سمجھ سکتے ہو ، وہ آپ کو سمجھا سکتے ہیں ، اگر تم نے اسے تسلیم نہ کیا تو ایک نہایت ہی خوفناک انجام تمہارے انتظار میں ہے۔ فارتقب انھم مرتقبون (44 : 59) ” تم بھی انتظار کرو ، یہ بھی منتظر ہیں “۔ ٭٭٭٭٭٭

الجاثية 45:1

درس نمبر 235 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 23 آیت نمبر 1 تا 5 حا۔ میم کے بعد ، یہ آتا ہے کہ یہ کتاب اللہ عزیز اور حکیم کی طرف سے ہے اور اس کتاب کا مصدر اور فبع اللہ کی ذات ہے اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ یہ معجزہ کتاب انہی حروف سے بنائی گئی ہے۔ جیسا کہ حروف مقطعات کے بارے میں ہماری رائے ہے اور یہ کہ یہ چیلنج ہے ان کو کہ تم ان حروف سے ایسی کتاب نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا حا میم دلیل ہے تنزیل الکتب پر کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ زبردست قدرت والا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور حکیم ہے جس نے اس پوری کائنات کو حکمت سے بنایا اور تمام معاملات اس ذات کے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تبصرہ ہے جو سورت کی فضا کے ساتھ مناسب ہے ، جس میں طرح طرح کے نفوس اور ان کی ذہنیت دکھائی گئی ہے۔ قبل اس کے کہ لوگوں کے سامنے ، اس کتاب کے حوالے سے ان کا موقف رکھاجائے ، ان کو ان آیات و نشانات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اس کائنات میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ آیات اور یہ نشانیاں اس بات کے لئے کافی تھیں کہ یہ لوگ ایمان لاتے اور یہ لوگ اپنے دلوں کو اگر ان کی طرف متوجہ کرتے تو ان کے دل کھل جاتے اور اس کتاب کے نازل کرنے والے عظیم اللہ کی طرف ان کا احساس تیز ہوجاتا جو اس کائنات کا ایک عظیم خالق ہے۔ ان فی السموت والارض لایت للمومنین (45 : 3) “ حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بیشمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ”۔ اور وہ نشانیاں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ کسی چیز تک محدود نہیں ہیں ، کسی حال تک محدود نہیں ہیں ، اس کائنات کی جس چیز کو بھی انسان دیکھے اور مطالعہ کرے تو دل گواہی دیتا ہے کہ یہی پہلو ایک معجزہ ہے گویا “ جا اینجا است ”۔ سوال یہ نہیں ہے کہ نشانی کہاں ہے ، سوال یہ ہے کہ کون سی چیز نشانی نہیں ہے ؟ ذرا دیکھو ان آسمانوں اور ان کے اندر تیرنے والے عظیم الجثہ اجرام فلکی کو ، پھر اس کی طویل و عریض وسعتوں کو ، یہ اس طرح پھیلے ہوئے ہیں جس طرح ذرات اور رائی کے دانے ، بمقابلہ اس فضا اور خوفناک حد تک عریض و طویل فضا کے نیز یہ نہایت ہی خوبصورت ہیں۔ پھر ذرا اس بات کو دیکھو کہ ان اجرام کی گردش اپنے اپنے مدار میں کس قدر تسلسل کے ساتھ قائم ہے۔ نہایت ہی خوبصورت ہم آہنگی کے ساتھ ، انسان یہ چاہتا ہے کہ دیکھتا ہی رہ جائے اور اس کے ملاحظے سے جی بھرتا ہی نہیں۔ بعض گردشیں کروڑوں سالوں میں مکمل ہوتی ہیں اور ایک سیکنڈ کا فرق نہیں پڑتا۔ اور یہ زمین جسے انسان بہت ہی طویل و عریض سمجھتا ہے ، یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا ذرہ ہے ، بمقابلہ ان بڑے ستاروں کے (صرف مشتری اس سے ایک ہزار گنا زیادہ بڑا ستا ہے ) پھر یہ ذرہ یعنی زمین ، اس وسیع فضائے کائنات کے اندر تیر رہی ہے۔ اگر اللہ کی قدرت نہ ہوتی جس نے اسے تھام رکھا ہے اور اپنے مدار میں بند کر رکھا ہے تو یہ اس فضائے بسیط میں اپنی راہ گم کردیتی لیکن اللہ کی قدرت کا یہ کمال ہے کہ اس کائنات کا ذرہ بھی یہاں گم نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ سازوسامان جو اللہ نے اس زمین میں ، اس کے ایک خاص مقام اور نظام کی وجہ سے ودیعت کیا اور جس کی وجہ سے اس کے اوپر زندگی ممکن ہوئی ، اس کا تو ہر ہر پہلو ایک نشانی ہے۔ اس سازو سامان کی ہر چیز کے اپنے اپنے خواص ، نہایت باریک بینی کے ساتھ ، بڑی کثرت اور ہم آہنگی کے ساتھ یہاں جمع کئے گئے ہیں۔ اگر کسی ایک چیز کی خاصیت و ماہیت شمہ برابر بدل جائے تو زندگی کا پورا نظام خلل پذیر ہوجائے یا سرے سے ختم ہوجائے۔ غرض اس زمین کی ہر زندہ شے ایک علیحدہ نشانی ہے۔ ہر چیز کا ایک ایک جزء اور ایک ایک عضو ایک الگ نشانی ہے۔ اس معاملے میں عظیم الجثہ اشیاء اور ذرہ برابر کی اشیاء نشانی ہیں۔ ایک عظیم درخت سے ایک چھوٹا سا پتہ اٹھا لو ، اس کائنات کی پہنائیوں میں ایک چھوٹا سا نباتاتی پودا لے لو اور تجریہ کرو ، اپنے حکم اور اپنی شکل کے اعتبار سے یہ ایک نشانی ہے۔ رنگ میں بھی اور چھوٹے پن میں بھی ۔ اپنے مقاصد کے لئے بھی نشانی اور اپنے جسم میں بھی نشانی۔ انسان یا حیوان کے جسم کا ایک بال ہی لے لو ، یہ بھی ایک نشانی ہے ، اس کی ترکیب ، اس کا رنگ نشانی ہے ، ہر پرندے کا ہر پر ایک نشانی ہے ، اس کا مادہ ترکیب ، اس کے مقاصد ، اور اس کی ہم آہنگی۔ اگر انسان اس زمین و آسمان میں چشم بصیرت کے ساتھ دیکھے تو اسے نشانات الٰہیہ کا اژدہام نظر آئے اور انسان اعلان کر دے کہ اس کی فکر و نظر سے یہ تمام نشانات و راء ہیں۔ لیکن یہ نشانیاں کس کے لئے ہیں ؟ خود یہ آیات بنا دیتی ہے ، یہ نشانیاں کس کے سامنے پردہ افگند ہوتی ہیں ۔ ان کا احساس کس کو ہو سکتا ہے لقوم یوقنون (45 : 4) “ ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں ”۔ جو مومن ہیں اور مومن ہی نور ربی سے دیکھتا ہے۔ پس ایمان ہی وہ قوت ہے جو دلوں کے دروازے کھولتا ہے ، پھر انسان پکار سنتا ہے ، کوئی روشنی دلوں کو اندر آکر منور کرسکتی ہے ، کوئی تازہ باد نسیم کے جھونکے دنیائے دل پر ترو تازگی بکھیر سکتے ہیں اور ایمان ہی کی وجہ سے انسان ، اس کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی نشانیاں دیکھ سکتا ہے ، یہ ایمان ہی ہے جو دلوں کو ایسی فرحت بخش تازگی عطا کرتا ہے اور ان کے اندر رقت اور لطاقت پیدا کرتا ہے ، جس کے نتیجے میں یہ دل وہ اشارات وصول کرتے ہیں جو اس کائنات میں سے ہر طرف سے آرہے ہیں ، جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ اشارے دست قدرت کی طرف سے ہیں اور دست قدرت جن جن چیزوں کو بناتی ہے ان کے اندر یہ اشارات موجود ہوتے ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ ہر چیز معجز ہے اور مخلوق اس کی نقل بھی نہیں کرسکتی۔ اب اس کائنات کی طویل اور دور دراز وادیوں سے واپس لا کر انسان کو اس کی اپنی ذات کی طرف لایا جاتا ہے ، جو اس کے قریب ہے۔ اور وہ جانور جو انسان کے قریب ہیں ان پر غوروفکر کی دعوت ! وفی خلقکم ۔۔۔۔۔ یوقنون (45 : 4) “ اور تمہاری اپنی پیدائش میں اور ان حیوانات میں جن کو اللہ زمین میں پھیلا رہا ہے بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں ”۔ انسان کو یہ عجیب ساخت عطا کرنا ، پھر اسے ایسی عجیب خصوصیات عطا کرنا ، اور نہایت ہی گہرے ، لطیف اور پیچیدہ فرائض اس کے حوالے کرنا جن میں سے ہر ایک معجزانہ ہے۔ جسم انسانی کے ایسے اندرونی معجزات ہیں کہ رات اور دن دیکھتے دیکھتے وہ ہمارے لئے عجوبے ہی نہیں ہرے۔ اس لیے کہ ہمارے اندر اور ہمارے قریب ہیں لیکن صرف ایک عضو کا تجربہ کیا جائے تو انسان کا سر چکرا جاتا ہے اور انسان اس پیچیدہ ترکیب کی ہولناکیوں سے مبہوت رہ جاتا ہے۔ زندگی ، چاہے وہ اپنی سادہ ترین صورت میں کیوں نہ ہو وہ تو ایک معجزہ ہے۔ امیبا جس کا ایک ہی خلیہ ہوتا ہے اور امیبا سے بھی چھوٹی زندگی بھی معجزہ ہے۔ رہا انسان تو اس کی زندگی تو بہت ہی پیچیدہ اور سخت اور عجیب و غریب ہے۔ نفسیاتی لحاظ سے بھی وہ نہایت ہی پیچیدہ اور معجزاتی ہے۔ عضوی ترکیب سے اس کی نفسیات زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اور وہ مخلوقات جو اس زمین پر ہر طرف رینگتی ہے ، اور جس کی لاتعداد انواع و اقسام ہیں ، بیشمار جسم اور اشکال ہیں جن کی تعداد اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس زندگی میں سے چھوٹی سے چھوٹی چیز اور بڑی سے بڑی چیز سب اپنی اپنی جگہ معجزاتی ہیں ، یہ اپنی عمر اور جنس کے اعتبار سے بھی معجزاتی شان رکھتی ہیں۔ اور یہ قدرتی طور پر اپنی نوع کی حفاظت کرتی ہیں اور کوئی نوع دوسری انواع کو فنا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اور دست قدرت نے ان انواع و اقسام کی تعداد اپنے پاس رکھی ہوئی ہے کسی میں کمی کرتا ہے اور کسی میں اضافہ ۔ اور ہر ایک کو اس کے خصائص دیتا ہے اور قوت وصلاحیت دیتا ہے۔ اس طرح حیوانات کے تمام انواع و اقسام کی آبادی کے اندر ایک توازن قائم رہتا ہے۔ گدھ اور باز جارح اور مضر پرندے ہیں اور ان کی عمر بھی لمبی ہے لیکن ان کی آبادی بہت کم ہے اور بہت کم انڈے دیتے ہیں ۔ اگر گدھ اور باز چڑیوں کی طرح ہوتے تو ذرا سوچ لیں کہ اس دنیا میں شاید چھوٹے بڑے کسی پرندے کی نسل نہ ہوتی۔ حیوانات میں سے شیر درندہ جانور ہیں ، اگر ان کی نسل ہر نوں اور بھیڑ بکریوں کی طرح زیادہ ہوتی تو وہ جنگلات میں کوئی حیوانی مواد نہ چھوڑتا۔ لیکن یہ قدرت ہے جس نے اس کی نسل کو محدود رکھا ہے اور وہ مطلوبہ تعداد ہی میں ہوتے ہیں جبکہ ہرن اور بھیڑ اور بکریاں زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ قدرت کو معلوم ہے کہ ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ ایک مکھی ایک ہی زندگی میں لاکھوں انڈے دیتی ہے لیکن اس کی زندگی زیادہ سے زیادہ دو ہفتے ہوتی ہے۔ اگر ایک مکھی کی عمر طبیعی کئی ماہ یا سال ہوتی تو تمام انسانی جسموں کو ڈھانپ دیتیں ، آنکھوں کو کھا جاتیں لیکن دست قدرت نے ان پر ایک قدرتی بند بھی رکھا ہے اور اس کی عمر کو محدود کردیا ہے۔ یونہی ، ہر چیز اور ہر نوع کی یہ حالت ہے ۔ اللہ کی تدبیر اور تقدیر انسانوں اور حیوانات میں اپنا کام کرتی ہے اور ہر چیز کے اندر ایک قسم کی نشانی ہے۔ اور یہ نشانی پکار پکار کہتی ہے کہ اللہ کی آیات میں غورو و تدبر کرو اور یہ آیات لقوم یوقنون (45 : 4) “ ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں ”۔ یقین ایسی حالت ہے جو دلوں کو تیار اور مائل اور متاثر کرنے والی حالت ہے ، تا کہ وہ احساس کریں ، متاثر ہوں اور اللہ کی طرف مائل ہوں۔ ایمان و یقین دلوں کو ثابت ، برقرار اور مطمئن کردیتا ہے ۔ ایسے دل بڑے ٹھہراؤ سے اس کائنات پر غور کرتے ہیں اور اس سے حقائق اخذ کرتے ہیں۔ ان میں سے بےچینی ، پریشانی ، بےثباتی ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے دلوں کو اگر اس دنیا میں کم کچھ ملے تب بھی وہ اس سے بڑے نتائج اور آثار حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد اپنی ذات اور اپنے اردگرد کے حیوانات سے انہیں اس پوری کائنات کے مظاہر کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس کائنات سے ان کے لئے اور دوسرے زندوں کے لئے جو اسباب حیات پیدا کئے جاتے ہیں اور فراہم کئے گئے ہیں ذرا ان پر بھی غور کرو۔ واختلاف الیل ۔۔۔۔۔ لقوم یعقلون (45 : 5) “ اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں اور اس رزق میں جسے اللہ آسمانوں سے نازل فرماتا ہے۔ پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جلا اٹھاتا ہے ، ہواؤں کی گردش میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں ”۔ گردش لیل و نہار وہ منظر ہے جس کے باربار کی تکرار کی وجہ سے اس کی جدت انسانوں کے ذہن سے محو ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی پہلی مرتبہ ان کو دیکھے یا پہلی مرتبہ رات کو دیکھے تو یہ ایک عجیب منظر ہے جو دل شاعرانہ احساس رکھتے ہیں وہ اس جدت کو سمجھتے ہیں اور گردش لیل ونہار کو اس کائنات کا ایک حیران کن نظام سمجھتے ہیں۔ انسانوں کے علم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کائنات کے بعض مظاہر کے بارے میں تو اب انسانوں نے وسیع معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اب انسان جانتے ہیں کہ گردش لیل و نہار دراصل زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتی ہے جو یہ سورج کے سامنے کرتی ہے اور یہ گردش چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہوتی ہے لیکن اس علم کے مطابق بھی یہ انوکھا منظر اور عجوبہ ابھی ختم نہیں ہے کیونکہ یہ کرۂ زمین ہوا کے اندر معلق ہے اور ایک خاص رفتار کے ساتھ چل رہا ہے اور وہ کسی چیز کا سہارا نہیں لے رہا ہے۔ اللہ نے اسے تھام رکھا ہے اور وہ ایک سیکنڈ بھی اپنی رفتار کم نہیں کرتا ۔ اور یہ رفتار ایسی ہے کہ تمام زندہ مخلوقات اس کے اوپر بڑے آرام سے رہ رہی ہے اور یہ مخلوق اس فضا میں معلق گولے کے اوپر ٹکی ہوئی ہے جو فضا میں گردش پر ہے۔ اب انسان کا علم قدرے اور وسعت اختیار کرتا ہے کہ اس گردش محوری کے اثرات اس زمین کے اوپر اور تمام زندہ مخلوقات پر کیا ہیں۔ انسان نے معلوم کیا کہ ان اوقات کو اس طرح رات اور دن میں تقسیم کرنے ہی سے اس کرۂ ارض پر زندگی ممکن بنائی گئی ہے۔ اگر گردش لیل و نہار نہ ہوتے یا اس اندازے اور اس نظام اور رفتار سے نہ ہوتے تو اس زمین کی سطح پر موجود ہر چیز بدل جاتی اور خصوصاً انسانی زندگی ختم ہوجاتی۔ چناچہ یوں اس علم کے بعد معلوم ہوا کہ گردش لیل و نہار اللہ کی نشانیوں میں سے اہم نشانی ہے۔ وما انزل اللہ ۔۔۔۔۔۔ بعد موتھا (45 : 5) “ اور اس رزق میں جسے اللہ آسمانوں سے نازل فرماتا ہے۔ پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمینوں کو جلا اٹھاتا ہے ”۔ رزق سے بھی تو پانی مراد ہوتا ہے جو آسمانوں سے آتا ہے جس طرح قدیم مفسرین نے اس سے یہی سمجھا ہے لیکن آسمانوں سے آنے والا صرف پانی بہت وسیع ہے۔ آسمانوں سے جو شعاعیں نکلتی ہیں وہ زمین کو زندہ کرنے میں پانی سے کوئی کم موثر نہیں ہیں بلکہ ان شعاعوں ہی کے اثر سے حکم الٰہی سے پانی پیدا ہوتا ہے۔ سورج کی حرارت ہی پانی کو بخارات میں بدلتی ہے۔ اور یہ بخارات کثیف ہو کر بارش کی شکل اختیار کرتے ہیں اور نہریں اور چشمے بہتے ہیں۔ اور اس سے زمین مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوجاتی ہے ، پانی سے بھی اور حرارت سے بھی۔ وتصریف الریح (45 : 5) “ اور ہواؤں کی گردش میں ”۔ یہ ہوائیں شمالاً و جنوباً چلتی ہیں ، شرقاً اور غرباً چلتی ہیں ، سیدھی اور ٹیٹرھی چلتی ہیں ، گرم اور سرد چلتی ہیں۔ اس نہایت ہی پیچیدہ نظام کے مطابق جو دست قدرت نے اس کائنات کی تخلیق کے اندر رکھ دیا ہے اور اس کی ہر چیز کو حساب و مقدار سے رکھا ہے اور اس میں کوئی چیز اتفاق اور مصارفت پر نہیں چھوڑا ، پھر ہواؤں کے چلنے کا زمین کی گردش محوری سے گہرا تعلق ہے۔ اور ان کا تعلق گردش لیل و نہار سے بھی ہے اور اس رزق سے بھی ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتا ہے۔ غرض حرارت ، ہوا وار رات اور دن کا نظام سب مل کر یہاں کام کرتے ہیں اور ان میں آیات و نشانات ہیں۔ لقوم یعقلون (45 : 5) “ ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں ”۔ کیونکہ اس میدان میں عقل ہی کام کرسکتی ہے۔ ٭٭٭ یہ تو ہیں اس کائنات کی بعض نشانیاں جن کی طرف اشارہ کیا گیا ، ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے لئے جو یقین کرتے ہیں اور پھر ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ یہ آیات ان کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ اشارات دلوں کو چھوتے ہیں ، ان کو جگاتے ہیں اور یہ آیات الٰہیہ انسانی فطرت سے براہ راست مخاطب ہوتی ہیں کیونکہ فطرت انسانی اور اس کائنات کے درمیان براہ راست فطری رابطہ ہے۔ اور اس رابطے کو قرآن کا طرز استدلال ہی زندہ اور تازہ کرسکتا ہے۔ جو لوگ ان آیات فطرت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان سے کوئی توقع نہیں ہے کہ وہ کسی اور چیز کو تسلیم کریں گے جن لوگوں کو قرآن کریم کے یہ اشارات اور آیات نہیں جگا سکتیں ، ان کو کوئی اور آواز نہیں جگا سکتی خواہ وہ جس قدر تیز آواز ہو۔ ذرا سنئے :

الجاثية 45:2

درس نمبر 235 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 23 آیت نمبر 1 تا 5 حا۔ میم کے بعد ، یہ آتا ہے کہ یہ کتاب اللہ عزیز اور حکیم کی طرف سے ہے اور اس کتاب کا مصدر اور فبع اللہ کی ذات ہے اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ یہ معجزہ کتاب انہی حروف سے بنائی گئی ہے۔ جیسا کہ حروف مقطعات کے بارے میں ہماری رائے ہے اور یہ کہ یہ چیلنج ہے ان کو کہ تم ان حروف سے ایسی کتاب نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا حا میم دلیل ہے تنزیل الکتب پر کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ زبردست قدرت والا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور حکیم ہے جس نے اس پوری کائنات کو حکمت سے بنایا اور تمام معاملات اس ذات کے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تبصرہ ہے جو سورت کی فضا کے ساتھ مناسب ہے ، جس میں طرح طرح کے نفوس اور ان کی ذہنیت دکھائی گئی ہے۔ قبل اس کے کہ لوگوں کے سامنے ، اس کتاب کے حوالے سے ان کا موقف رکھاجائے ، ان کو ان آیات و نشانات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اس کائنات میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ آیات اور یہ نشانیاں اس بات کے لئے کافی تھیں کہ یہ لوگ ایمان لاتے اور یہ لوگ اپنے دلوں کو اگر ان کی طرف متوجہ کرتے تو ان کے دل کھل جاتے اور اس کتاب کے نازل کرنے والے عظیم اللہ کی طرف ان کا احساس تیز ہوجاتا جو اس کائنات کا ایک عظیم خالق ہے۔ ان فی السموت والارض لایت للمومنین (45 : 3) “ حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بیشمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ”۔ اور وہ نشانیاں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ کسی چیز تک محدود نہیں ہیں ، کسی حال تک محدود نہیں ہیں ، اس کائنات کی جس چیز کو بھی انسان دیکھے اور مطالعہ کرے تو دل گواہی دیتا ہے کہ یہی پہلو ایک معجزہ ہے گویا “ جا اینجا است ”۔ سوال یہ نہیں ہے کہ نشانی کہاں ہے ، سوال یہ ہے کہ کون سی چیز نشانی نہیں ہے ؟ ذرا دیکھو ان آسمانوں اور ان کے اندر تیرنے والے عظیم الجثہ اجرام فلکی کو ، پھر اس کی طویل و عریض وسعتوں کو ، یہ اس طرح پھیلے ہوئے ہیں جس طرح ذرات اور رائی کے دانے ، بمقابلہ اس فضا اور خوفناک حد تک عریض و طویل فضا کے نیز یہ نہایت ہی خوبصورت ہیں۔ پھر ذرا اس بات کو دیکھو کہ ان اجرام کی گردش اپنے اپنے مدار میں کس قدر تسلسل کے ساتھ قائم ہے۔ نہایت ہی خوبصورت ہم آہنگی کے ساتھ ، انسان یہ چاہتا ہے کہ دیکھتا ہی رہ جائے اور اس کے ملاحظے سے جی بھرتا ہی نہیں۔ بعض گردشیں کروڑوں سالوں میں مکمل ہوتی ہیں اور ایک سیکنڈ کا فرق نہیں پڑتا۔ اور یہ زمین جسے انسان بہت ہی طویل و عریض سمجھتا ہے ، یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا ذرہ ہے ، بمقابلہ ان بڑے ستاروں کے (صرف مشتری اس سے ایک ہزار گنا زیادہ بڑا ستا ہے ) پھر یہ ذرہ یعنی زمین ، اس وسیع فضائے کائنات کے اندر تیر رہی ہے۔ اگر اللہ کی قدرت نہ ہوتی جس نے اسے تھام رکھا ہے اور اپنے مدار میں بند کر رکھا ہے تو یہ اس فضائے بسیط میں اپنی راہ گم کردیتی لیکن اللہ کی قدرت کا یہ کمال ہے کہ اس کائنات کا ذرہ بھی یہاں گم نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ سازوسامان جو اللہ نے اس زمین میں ، اس کے ایک خاص مقام اور نظام کی وجہ سے ودیعت کیا اور جس کی وجہ سے اس کے اوپر زندگی ممکن ہوئی ، اس کا تو ہر ہر پہلو ایک نشانی ہے۔ اس سازو سامان کی ہر چیز کے اپنے اپنے خواص ، نہایت باریک بینی کے ساتھ ، بڑی کثرت اور ہم آہنگی کے ساتھ یہاں جمع کئے گئے ہیں۔ اگر کسی ایک چیز کی خاصیت و ماہیت شمہ برابر بدل جائے تو زندگی کا پورا نظام خلل پذیر ہوجائے یا سرے سے ختم ہوجائے۔ غرض اس زمین کی ہر زندہ شے ایک علیحدہ نشانی ہے۔ ہر چیز کا ایک ایک جزء اور ایک ایک عضو ایک الگ نشانی ہے۔ اس معاملے میں عظیم الجثہ اشیاء اور ذرہ برابر کی اشیاء نشانی ہیں۔ ایک عظیم درخت سے ایک چھوٹا سا پتہ اٹھا لو ، اس کائنات کی پہنائیوں میں ایک چھوٹا سا نباتاتی پودا لے لو اور تجریہ کرو ، اپنے حکم اور اپنی شکل کے اعتبار سے یہ ایک نشانی ہے۔ رنگ میں بھی اور چھوٹے پن میں بھی ۔ اپنے مقاصد کے لئے بھی نشانی اور اپنے جسم میں بھی نشانی۔ انسان یا حیوان کے جسم کا ایک بال ہی لے لو ، یہ بھی ایک نشانی ہے ، اس کی ترکیب ، اس کا رنگ نشانی ہے ، ہر پرندے کا ہر پر ایک نشانی ہے ، اس کا مادہ ترکیب ، اس کے مقاصد ، اور اس کی ہم آہنگی۔ اگر انسان اس زمین و آسمان میں چشم بصیرت کے ساتھ دیکھے تو اسے نشانات الٰہیہ کا اژدہام نظر آئے اور انسان اعلان کر دے کہ اس کی فکر و نظر سے یہ تمام نشانات و راء ہیں۔ لیکن یہ نشانیاں کس کے لئے ہیں ؟ خود یہ آیات بنا دیتی ہے ، یہ نشانیاں کس کے سامنے پردہ افگند ہوتی ہیں ۔ ان کا احساس کس کو ہو سکتا ہے لقوم یوقنون (45 : 4) “ ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں ”۔ جو مومن ہیں اور مومن ہی نور ربی سے دیکھتا ہے۔ پس ایمان ہی وہ قوت ہے جو دلوں کے دروازے کھولتا ہے ، پھر انسان پکار سنتا ہے ، کوئی روشنی دلوں کو اندر آکر منور کرسکتی ہے ، کوئی تازہ باد نسیم کے جھونکے دنیائے دل پر ترو تازگی بکھیر سکتے ہیں اور ایمان ہی کی وجہ سے انسان ، اس کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی نشانیاں دیکھ سکتا ہے ، یہ ایمان ہی ہے جو دلوں کو ایسی فرحت بخش تازگی عطا کرتا ہے اور ان کے اندر رقت اور لطاقت پیدا کرتا ہے ، جس کے نتیجے میں یہ دل وہ اشارات وصول کرتے ہیں جو اس کائنات میں سے ہر طرف سے آرہے ہیں ، جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ اشارے دست قدرت کی طرف سے ہیں اور دست قدرت جن جن چیزوں کو بناتی ہے ان کے اندر یہ اشارات موجود ہوتے ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ ہر چیز معجز ہے اور مخلوق اس کی نقل بھی نہیں کرسکتی۔ اب اس کائنات کی طویل اور دور دراز وادیوں سے واپس لا کر انسان کو اس کی اپنی ذات کی طرف لایا جاتا ہے ، جو اس کے قریب ہے۔ اور وہ جانور جو انسان کے قریب ہیں ان پر غوروفکر کی دعوت ! وفی خلقکم ۔۔۔۔۔ یوقنون (45 : 4) “ اور تمہاری اپنی پیدائش میں اور ان حیوانات میں جن کو اللہ زمین میں پھیلا رہا ہے بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں ”۔ انسان کو یہ عجیب ساخت عطا کرنا ، پھر اسے ایسی عجیب خصوصیات عطا کرنا ، اور نہایت ہی گہرے ، لطیف اور پیچیدہ فرائض اس کے حوالے کرنا جن میں سے ہر ایک معجزانہ ہے۔ جسم انسانی کے ایسے اندرونی معجزات ہیں کہ رات اور دن دیکھتے دیکھتے وہ ہمارے لئے عجوبے ہی نہیں ہرے۔ اس لیے کہ ہمارے اندر اور ہمارے قریب ہیں لیکن صرف ایک عضو کا تجربہ کیا جائے تو انسان کا سر چکرا جاتا ہے اور انسان اس پیچیدہ ترکیب کی ہولناکیوں سے مبہوت رہ جاتا ہے۔ زندگی ، چاہے وہ اپنی سادہ ترین صورت میں کیوں نہ ہو وہ تو ایک معجزہ ہے۔ امیبا جس کا ایک ہی خلیہ ہوتا ہے اور امیبا سے بھی چھوٹی زندگی بھی معجزہ ہے۔ رہا انسان تو اس کی زندگی تو بہت ہی پیچیدہ اور سخت اور عجیب و غریب ہے۔ نفسیاتی لحاظ سے بھی وہ نہایت ہی پیچیدہ اور معجزاتی ہے۔ عضوی ترکیب سے اس کی نفسیات زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اور وہ مخلوقات جو اس زمین پر ہر طرف رینگتی ہے ، اور جس کی لاتعداد انواع و اقسام ہیں ، بیشمار جسم اور اشکال ہیں جن کی تعداد اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس زندگی میں سے چھوٹی سے چھوٹی چیز اور بڑی سے بڑی چیز سب اپنی اپنی جگہ معجزاتی ہیں ، یہ اپنی عمر اور جنس کے اعتبار سے بھی معجزاتی شان رکھتی ہیں۔ اور یہ قدرتی طور پر اپنی نوع کی حفاظت کرتی ہیں اور کوئی نوع دوسری انواع کو فنا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اور دست قدرت نے ان انواع و اقسام کی تعداد اپنے پاس رکھی ہوئی ہے کسی میں کمی کرتا ہے اور کسی میں اضافہ ۔ اور ہر ایک کو اس کے خصائص دیتا ہے اور قوت وصلاحیت دیتا ہے۔ اس طرح حیوانات کے تمام انواع و اقسام کی آبادی کے اندر ایک توازن قائم رہتا ہے۔ گدھ اور باز جارح اور مضر پرندے ہیں اور ان کی عمر بھی لمبی ہے لیکن ان کی آبادی بہت کم ہے اور بہت کم انڈے دیتے ہیں ۔ اگر گدھ اور باز چڑیوں کی طرح ہوتے تو ذرا سوچ لیں کہ اس دنیا میں شاید چھوٹے بڑے کسی پرندے کی نسل نہ ہوتی۔ حیوانات میں سے شیر درندہ جانور ہیں ، اگر ان کی نسل ہر نوں اور بھیڑ بکریوں کی طرح زیادہ ہوتی تو وہ جنگلات میں کوئی حیوانی مواد نہ چھوڑتا۔ لیکن یہ قدرت ہے جس نے اس کی نسل کو محدود رکھا ہے اور وہ مطلوبہ تعداد ہی میں ہوتے ہیں جبکہ ہرن اور بھیڑ اور بکریاں زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ قدرت کو معلوم ہے کہ ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ ایک مکھی ایک ہی زندگی میں لاکھوں انڈے دیتی ہے لیکن اس کی زندگی زیادہ سے زیادہ دو ہفتے ہوتی ہے۔ اگر ایک مکھی کی عمر طبیعی کئی ماہ یا سال ہوتی تو تمام انسانی جسموں کو ڈھانپ دیتیں ، آنکھوں کو کھا جاتیں لیکن دست قدرت نے ان پر ایک قدرتی بند بھی رکھا ہے اور اس کی عمر کو محدود کردیا ہے۔ یونہی ، ہر چیز اور ہر نوع کی یہ حالت ہے ۔ اللہ کی تدبیر اور تقدیر انسانوں اور حیوانات میں اپنا کام کرتی ہے اور ہر چیز کے اندر ایک قسم کی نشانی ہے۔ اور یہ نشانی پکار پکار کہتی ہے کہ اللہ کی آیات میں غورو و تدبر کرو اور یہ آیات لقوم یوقنون (45 : 4) “ ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں ”۔ یقین ایسی حالت ہے جو دلوں کو تیار اور مائل اور متاثر کرنے والی حالت ہے ، تا کہ وہ احساس کریں ، متاثر ہوں اور اللہ کی طرف مائل ہوں۔ ایمان و یقین دلوں کو ثابت ، برقرار اور مطمئن کردیتا ہے ۔ ایسے دل بڑے ٹھہراؤ سے اس کائنات پر غور کرتے ہیں اور اس سے حقائق اخذ کرتے ہیں۔ ان میں سے بےچینی ، پریشانی ، بےثباتی ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے دلوں کو اگر اس دنیا میں کم کچھ ملے تب بھی وہ اس سے بڑے نتائج اور آثار حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد اپنی ذات اور اپنے اردگرد کے حیوانات سے انہیں اس پوری کائنات کے مظاہر کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس کائنات سے ان کے لئے اور دوسرے زندوں کے لئے جو اسباب حیات پیدا کئے جاتے ہیں اور فراہم کئے گئے ہیں ذرا ان پر بھی غور کرو۔ واختلاف الیل ۔۔۔۔۔ لقوم یعقلون (45 : 5) “ اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں اور اس رزق میں جسے اللہ آسمانوں سے نازل فرماتا ہے۔ پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جلا اٹھاتا ہے ، ہواؤں کی گردش میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں ”۔ گردش لیل و نہار وہ منظر ہے جس کے باربار کی تکرار کی وجہ سے اس کی جدت انسانوں کے ذہن سے محو ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی پہلی مرتبہ ان کو دیکھے یا پہلی مرتبہ رات کو دیکھے تو یہ ایک عجیب منظر ہے جو دل شاعرانہ احساس رکھتے ہیں وہ اس جدت کو سمجھتے ہیں اور گردش لیل ونہار کو اس کائنات کا ایک حیران کن نظام سمجھتے ہیں۔ انسانوں کے علم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کائنات کے بعض مظاہر کے بارے میں تو اب انسانوں نے وسیع معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اب انسان جانتے ہیں کہ گردش لیل و نہار دراصل زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتی ہے جو یہ سورج کے سامنے کرتی ہے اور یہ گردش چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہوتی ہے لیکن اس علم کے مطابق بھی یہ انوکھا منظر اور عجوبہ ابھی ختم نہیں ہے کیونکہ یہ کرۂ زمین ہوا کے اندر معلق ہے اور ایک خاص رفتار کے ساتھ چل رہا ہے اور وہ کسی چیز کا سہارا نہیں لے رہا ہے۔ اللہ نے اسے تھام رکھا ہے اور وہ ایک سیکنڈ بھی اپنی رفتار کم نہیں کرتا ۔ اور یہ رفتار ایسی ہے کہ تمام زندہ مخلوقات اس کے اوپر بڑے آرام سے رہ رہی ہے اور یہ مخلوق اس فضا میں معلق گولے کے اوپر ٹکی ہوئی ہے جو فضا میں گردش پر ہے۔ اب انسان کا علم قدرے اور وسعت اختیار کرتا ہے کہ اس گردش محوری کے اثرات اس زمین کے اوپر اور تمام زندہ مخلوقات پر کیا ہیں۔ انسان نے معلوم کیا کہ ان اوقات کو اس طرح رات اور دن میں تقسیم کرنے ہی سے اس کرۂ ارض پر زندگی ممکن بنائی گئی ہے۔ اگر گردش لیل و نہار نہ ہوتے یا اس اندازے اور اس نظام اور رفتار سے نہ ہوتے تو اس زمین کی سطح پر موجود ہر چیز بدل جاتی اور خصوصاً انسانی زندگی ختم ہوجاتی۔ چناچہ یوں اس علم کے بعد معلوم ہوا کہ گردش لیل و نہار اللہ کی نشانیوں میں سے اہم نشانی ہے۔ وما انزل اللہ ۔۔۔۔۔۔ بعد موتھا (45 : 5) “ اور اس رزق میں جسے اللہ آسمانوں سے نازل فرماتا ہے۔ پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمینوں کو جلا اٹھاتا ہے ”۔ رزق سے بھی تو پانی مراد ہوتا ہے جو آسمانوں سے آتا ہے جس طرح قدیم مفسرین نے اس سے یہی سمجھا ہے لیکن آسمانوں سے آنے والا صرف پانی بہت وسیع ہے۔ آسمانوں سے جو شعاعیں نکلتی ہیں وہ زمین کو زندہ کرنے میں پانی سے کوئی کم موثر نہیں ہیں بلکہ ان شعاعوں ہی کے اثر سے حکم الٰہی سے پانی پیدا ہوتا ہے۔ سورج کی حرارت ہی پانی کو بخارات میں بدلتی ہے۔ اور یہ بخارات کثیف ہو کر بارش کی شکل اختیار کرتے ہیں اور نہریں اور چشمے بہتے ہیں۔ اور اس سے زمین مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوجاتی ہے ، پانی سے بھی اور حرارت سے بھی۔ وتصریف الریح (45 : 5) “ اور ہواؤں کی گردش میں ”۔ یہ ہوائیں شمالاً و جنوباً چلتی ہیں ، شرقاً اور غرباً چلتی ہیں ، سیدھی اور ٹیٹرھی چلتی ہیں ، گرم اور سرد چلتی ہیں۔ اس نہایت ہی پیچیدہ نظام کے مطابق جو دست قدرت نے اس کائنات کی تخلیق کے اندر رکھ دیا ہے اور اس کی ہر چیز کو حساب و مقدار سے رکھا ہے اور اس میں کوئی چیز اتفاق اور مصارفت پر نہیں چھوڑا ، پھر ہواؤں کے چلنے کا زمین کی گردش محوری سے گہرا تعلق ہے۔ اور ان کا تعلق گردش لیل و نہار سے بھی ہے اور اس رزق سے بھی ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتا ہے۔ غرض حرارت ، ہوا وار رات اور دن کا نظام سب مل کر یہاں کام کرتے ہیں اور ان میں آیات و نشانات ہیں۔ لقوم یعقلون (45 : 5) “ ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں ”۔ کیونکہ اس میدان میں عقل ہی کام کرسکتی ہے۔ ٭٭٭ یہ تو ہیں اس کائنات کی بعض نشانیاں جن کی طرف اشارہ کیا گیا ، ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے لئے جو یقین کرتے ہیں اور پھر ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ یہ آیات ان کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ اشارات دلوں کو چھوتے ہیں ، ان کو جگاتے ہیں اور یہ آیات الٰہیہ انسانی فطرت سے براہ راست مخاطب ہوتی ہیں کیونکہ فطرت انسانی اور اس کائنات کے درمیان براہ راست فطری رابطہ ہے۔ اور اس رابطے کو قرآن کا طرز استدلال ہی زندہ اور تازہ کرسکتا ہے۔ جو لوگ ان آیات فطرت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان سے کوئی توقع نہیں ہے کہ وہ کسی اور چیز کو تسلیم کریں گے جن لوگوں کو قرآن کریم کے یہ اشارات اور آیات نہیں جگا سکتیں ، ان کو کوئی اور آواز نہیں جگا سکتی خواہ وہ جس قدر تیز آواز ہو۔ ذرا سنئے :

الجاثية 45:3

درس نمبر 235 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 23 آیت نمبر 1 تا 5 حا۔ میم کے بعد ، یہ آتا ہے کہ یہ کتاب اللہ عزیز اور حکیم کی طرف سے ہے اور اس کتاب کا مصدر اور فبع اللہ کی ذات ہے اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ یہ معجزہ کتاب انہی حروف سے بنائی گئی ہے۔ جیسا کہ حروف مقطعات کے بارے میں ہماری رائے ہے اور یہ کہ یہ چیلنج ہے ان کو کہ تم ان حروف سے ایسی کتاب نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا حا میم دلیل ہے تنزیل الکتب پر کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ زبردست قدرت والا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور حکیم ہے جس نے اس پوری کائنات کو حکمت سے بنایا اور تمام معاملات اس ذات کے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تبصرہ ہے جو سورت کی فضا کے ساتھ مناسب ہے ، جس میں طرح طرح کے نفوس اور ان کی ذہنیت دکھائی گئی ہے۔ قبل اس کے کہ لوگوں کے سامنے ، اس کتاب کے حوالے سے ان کا موقف رکھاجائے ، ان کو ان آیات و نشانات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اس کائنات میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ آیات اور یہ نشانیاں اس بات کے لئے کافی تھیں کہ یہ لوگ ایمان لاتے اور یہ لوگ اپنے دلوں کو اگر ان کی طرف متوجہ کرتے تو ان کے دل کھل جاتے اور اس کتاب کے نازل کرنے والے عظیم اللہ کی طرف ان کا احساس تیز ہوجاتا جو اس کائنات کا ایک عظیم خالق ہے۔ ان فی السموت والارض لایت للمومنین (45 : 3) “ حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بیشمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ”۔ اور وہ نشانیاں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ کسی چیز تک محدود نہیں ہیں ، کسی حال تک محدود نہیں ہیں ، اس کائنات کی جس چیز کو بھی انسان دیکھے اور مطالعہ کرے تو دل گواہی دیتا ہے کہ یہی پہلو ایک معجزہ ہے گویا “ جا اینجا است ”۔ سوال یہ نہیں ہے کہ نشانی کہاں ہے ، سوال یہ ہے کہ کون سی چیز نشانی نہیں ہے ؟ ذرا دیکھو ان آسمانوں اور ان کے اندر تیرنے والے عظیم الجثہ اجرام فلکی کو ، پھر اس کی طویل و عریض وسعتوں کو ، یہ اس طرح پھیلے ہوئے ہیں جس طرح ذرات اور رائی کے دانے ، بمقابلہ اس فضا اور خوفناک حد تک عریض و طویل فضا کے نیز یہ نہایت ہی خوبصورت ہیں۔ پھر ذرا اس بات کو دیکھو کہ ان اجرام کی گردش اپنے اپنے مدار میں کس قدر تسلسل کے ساتھ قائم ہے۔ نہایت ہی خوبصورت ہم آہنگی کے ساتھ ، انسان یہ چاہتا ہے کہ دیکھتا ہی رہ جائے اور اس کے ملاحظے سے جی بھرتا ہی نہیں۔ بعض گردشیں کروڑوں سالوں میں مکمل ہوتی ہیں اور ایک سیکنڈ کا فرق نہیں پڑتا۔ اور یہ زمین جسے انسان بہت ہی طویل و عریض سمجھتا ہے ، یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا ذرہ ہے ، بمقابلہ ان بڑے ستاروں کے (صرف مشتری اس سے ایک ہزار گنا زیادہ بڑا ستا ہے ) پھر یہ ذرہ یعنی زمین ، اس وسیع فضائے کائنات کے اندر تیر رہی ہے۔ اگر اللہ کی قدرت نہ ہوتی جس نے اسے تھام رکھا ہے اور اپنے مدار میں بند کر رکھا ہے تو یہ اس فضائے بسیط میں اپنی راہ گم کردیتی لیکن اللہ کی قدرت کا یہ کمال ہے کہ اس کائنات کا ذرہ بھی یہاں گم نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ سازوسامان جو اللہ نے اس زمین میں ، اس کے ایک خاص مقام اور نظام کی وجہ سے ودیعت کیا اور جس کی وجہ سے اس کے اوپر زندگی ممکن ہوئی ، اس کا تو ہر ہر پہلو ایک نشانی ہے۔ اس سازو سامان کی ہر چیز کے اپنے اپنے خواص ، نہایت باریک بینی کے ساتھ ، بڑی کثرت اور ہم آہنگی کے ساتھ یہاں جمع کئے گئے ہیں۔ اگر کسی ایک چیز کی خاصیت و ماہیت شمہ برابر بدل جائے تو زندگی کا پورا نظام خلل پذیر ہوجائے یا سرے سے ختم ہوجائے۔ غرض اس زمین کی ہر زندہ شے ایک علیحدہ نشانی ہے۔ ہر چیز کا ایک ایک جزء اور ایک ایک عضو ایک الگ نشانی ہے۔ اس معاملے میں عظیم الجثہ اشیاء اور ذرہ برابر کی اشیاء نشانی ہیں۔ ایک عظیم درخت سے ایک چھوٹا سا پتہ اٹھا لو ، اس کائنات کی پہنائیوں میں ایک چھوٹا سا نباتاتی پودا لے لو اور تجریہ کرو ، اپنے حکم اور اپنی شکل کے اعتبار سے یہ ایک نشانی ہے۔ رنگ میں بھی اور چھوٹے پن میں بھی ۔ اپنے مقاصد کے لئے بھی نشانی اور اپنے جسم میں بھی نشانی۔ انسان یا حیوان کے جسم کا ایک بال ہی لے لو ، یہ بھی ایک نشانی ہے ، اس کی ترکیب ، اس کا رنگ نشانی ہے ، ہر پرندے کا ہر پر ایک نشانی ہے ، اس کا مادہ ترکیب ، اس کے مقاصد ، اور اس کی ہم آہنگی۔ اگر انسان اس زمین و آسمان میں چشم بصیرت کے ساتھ دیکھے تو اسے نشانات الٰہیہ کا اژدہام نظر آئے اور انسان اعلان کر دے کہ اس کی فکر و نظر سے یہ تمام نشانات و راء ہیں۔ لیکن یہ نشانیاں کس کے لئے ہیں ؟ خود یہ آیات بنا دیتی ہے ، یہ نشانیاں کس کے سامنے پردہ افگند ہوتی ہیں ۔ ان کا احساس کس کو ہو سکتا ہے لقوم یوقنون (45 : 4) “ ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں ”۔ جو مومن ہیں اور مومن ہی نور ربی سے دیکھتا ہے۔ پس ایمان ہی وہ قوت ہے جو دلوں کے دروازے کھولتا ہے ، پھر انسان پکار سنتا ہے ، کوئی روشنی دلوں کو اندر آکر منور کرسکتی ہے ، کوئی تازہ باد نسیم کے جھونکے دنیائے دل پر ترو تازگی بکھیر سکتے ہیں اور ایمان ہی کی وجہ سے انسان ، اس کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی نشانیاں دیکھ سکتا ہے ، یہ ایمان ہی ہے جو دلوں کو ایسی فرحت بخش تازگی عطا کرتا ہے اور ان کے اندر رقت اور لطاقت پیدا کرتا ہے ، جس کے نتیجے میں یہ دل وہ اشارات وصول کرتے ہیں جو اس کائنات میں سے ہر طرف سے آرہے ہیں ، جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ اشارے دست قدرت کی طرف سے ہیں اور دست قدرت جن جن چیزوں کو بناتی ہے ان کے اندر یہ اشارات موجود ہوتے ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ ہر چیز معجز ہے اور مخلوق اس کی نقل بھی نہیں کرسکتی۔ اب اس کائنات کی طویل اور دور دراز وادیوں سے واپس لا کر انسان کو اس کی اپنی ذات کی طرف لایا جاتا ہے ، جو اس کے قریب ہے۔ اور وہ جانور جو انسان کے قریب ہیں ان پر غوروفکر کی دعوت ! وفی خلقکم ۔۔۔۔۔ یوقنون (45 : 4) “ اور تمہاری اپنی پیدائش میں اور ان حیوانات میں جن کو اللہ زمین میں پھیلا رہا ہے بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں ”۔ انسان کو یہ عجیب ساخت عطا کرنا ، پھر اسے ایسی عجیب خصوصیات عطا کرنا ، اور نہایت ہی گہرے ، لطیف اور پیچیدہ فرائض اس کے حوالے کرنا جن میں سے ہر ایک معجزانہ ہے۔ جسم انسانی کے ایسے اندرونی معجزات ہیں کہ رات اور دن دیکھتے دیکھتے وہ ہمارے لئے عجوبے ہی نہیں ہرے۔ اس لیے کہ ہمارے اندر اور ہمارے قریب ہیں لیکن صرف ایک عضو کا تجربہ کیا جائے تو انسان کا سر چکرا جاتا ہے اور انسان اس پیچیدہ ترکیب کی ہولناکیوں سے مبہوت رہ جاتا ہے۔ زندگی ، چاہے وہ اپنی سادہ ترین صورت میں کیوں نہ ہو وہ تو ایک معجزہ ہے۔ امیبا جس کا ایک ہی خلیہ ہوتا ہے اور امیبا سے بھی چھوٹی زندگی بھی معجزہ ہے۔ رہا انسان تو اس کی زندگی تو بہت ہی پیچیدہ اور سخت اور عجیب و غریب ہے۔ نفسیاتی لحاظ سے بھی وہ نہایت ہی پیچیدہ اور معجزاتی ہے۔ عضوی ترکیب سے اس کی نفسیات زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اور وہ مخلوقات جو اس زمین پر ہر طرف رینگتی ہے ، اور جس کی لاتعداد انواع و اقسام ہیں ، بیشمار جسم اور اشکال ہیں جن کی تعداد اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس زندگی میں سے چھوٹی سے چھوٹی چیز اور بڑی سے بڑی چیز سب اپنی اپنی جگہ معجزاتی ہیں ، یہ اپنی عمر اور جنس کے اعتبار سے بھی معجزاتی شان رکھتی ہیں۔ اور یہ قدرتی طور پر اپنی نوع کی حفاظت کرتی ہیں اور کوئی نوع دوسری انواع کو فنا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اور دست قدرت نے ان انواع و اقسام کی تعداد اپنے پاس رکھی ہوئی ہے کسی میں کمی کرتا ہے اور کسی میں اضافہ ۔ اور ہر ایک کو اس کے خصائص دیتا ہے اور قوت وصلاحیت دیتا ہے۔ اس طرح حیوانات کے تمام انواع و اقسام کی آبادی کے اندر ایک توازن قائم رہتا ہے۔ گدھ اور باز جارح اور مضر پرندے ہیں اور ان کی عمر بھی لمبی ہے لیکن ان کی آبادی بہت کم ہے اور بہت کم انڈے دیتے ہیں ۔ اگر گدھ اور باز چڑیوں کی طرح ہوتے تو ذرا سوچ لیں کہ اس دنیا میں شاید چھوٹے بڑے کسی پرندے کی نسل نہ ہوتی۔ حیوانات میں سے شیر درندہ جانور ہیں ، اگر ان کی نسل ہر نوں اور بھیڑ بکریوں کی طرح زیادہ ہوتی تو وہ جنگلات میں کوئی حیوانی مواد نہ چھوڑتا۔ لیکن یہ قدرت ہے جس نے اس کی نسل کو محدود رکھا ہے اور وہ مطلوبہ تعداد ہی میں ہوتے ہیں جبکہ ہرن اور بھیڑ اور بکریاں زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ قدرت کو معلوم ہے کہ ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ ایک مکھی ایک ہی زندگی میں لاکھوں انڈے دیتی ہے لیکن اس کی زندگی زیادہ سے زیادہ دو ہفتے ہوتی ہے۔ اگر ایک مکھی کی عمر طبیعی کئی ماہ یا سال ہوتی تو تمام انسانی جسموں کو ڈھانپ دیتیں ، آنکھوں کو کھا جاتیں لیکن دست قدرت نے ان پر ایک قدرتی بند بھی رکھا ہے اور اس کی عمر کو محدود کردیا ہے۔ یونہی ، ہر چیز اور ہر نوع کی یہ حالت ہے ۔ اللہ کی تدبیر اور تقدیر انسانوں اور حیوانات میں اپنا کام کرتی ہے اور ہر چیز کے اندر ایک قسم کی نشانی ہے۔ اور یہ نشانی پکار پکار کہتی ہے کہ اللہ کی آیات میں غورو و تدبر کرو اور یہ آیات لقوم یوقنون (45 : 4) “ ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں ”۔ یقین ایسی حالت ہے جو دلوں کو تیار اور مائل اور متاثر کرنے والی حالت ہے ، تا کہ وہ احساس کریں ، متاثر ہوں اور اللہ کی طرف مائل ہوں۔ ایمان و یقین دلوں کو ثابت ، برقرار اور مطمئن کردیتا ہے ۔ ایسے دل بڑے ٹھہراؤ سے اس کائنات پر غور کرتے ہیں اور اس سے حقائق اخذ کرتے ہیں۔ ان میں سے بےچینی ، پریشانی ، بےثباتی ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے دلوں کو اگر اس دنیا میں کم کچھ ملے تب بھی وہ اس سے بڑے نتائج اور آثار حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد اپنی ذات اور اپنے اردگرد کے حیوانات سے انہیں اس پوری کائنات کے مظاہر کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس کائنات سے ان کے لئے اور دوسرے زندوں کے لئے جو اسباب حیات پیدا کئے جاتے ہیں اور فراہم کئے گئے ہیں ذرا ان پر بھی غور کرو۔ واختلاف الیل ۔۔۔۔۔ لقوم یعقلون (45 : 5) “ اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں اور اس رزق میں جسے اللہ آسمانوں سے نازل فرماتا ہے۔ پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جلا اٹھاتا ہے ، ہواؤں کی گردش میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں ”۔ گردش لیل و نہار وہ منظر ہے جس کے باربار کی تکرار کی وجہ سے اس کی جدت انسانوں کے ذہن سے محو ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی پہلی مرتبہ ان کو دیکھے یا پہلی مرتبہ رات کو دیکھے تو یہ ایک عجیب منظر ہے جو دل شاعرانہ احساس رکھتے ہیں وہ اس جدت کو سمجھتے ہیں اور گردش لیل ونہار کو اس کائنات کا ایک حیران کن نظام سمجھتے ہیں۔ انسانوں کے علم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کائنات کے بعض مظاہر کے بارے میں تو اب انسانوں نے وسیع معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اب انسان جانتے ہیں کہ گردش لیل و نہار دراصل زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتی ہے جو یہ سورج کے سامنے کرتی ہے اور یہ گردش چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہوتی ہے لیکن اس علم کے مطابق بھی یہ انوکھا منظر اور عجوبہ ابھی ختم نہیں ہے کیونکہ یہ کرۂ زمین ہوا کے اندر معلق ہے اور ایک خاص رفتار کے ساتھ چل رہا ہے اور وہ کسی چیز کا سہارا نہیں لے رہا ہے۔ اللہ نے اسے تھام رکھا ہے اور وہ ایک سیکنڈ بھی اپنی رفتار کم نہیں کرتا ۔ اور یہ رفتار ایسی ہے کہ تمام زندہ مخلوقات اس کے اوپر بڑے آرام سے رہ رہی ہے اور یہ مخلوق اس فضا میں معلق گولے کے اوپر ٹکی ہوئی ہے جو فضا میں گردش پر ہے۔ اب انسان کا علم قدرے اور وسعت اختیار کرتا ہے کہ اس گردش محوری کے اثرات اس زمین کے اوپر اور تمام زندہ مخلوقات پر کیا ہیں۔ انسان نے معلوم کیا کہ ان اوقات کو اس طرح رات اور دن میں تقسیم کرنے ہی سے اس کرۂ ارض پر زندگی ممکن بنائی گئی ہے۔ اگر گردش لیل و نہار نہ ہوتے یا اس اندازے اور اس نظام اور رفتار سے نہ ہوتے تو اس زمین کی سطح پر موجود ہر چیز بدل جاتی اور خصوصاً انسانی زندگی ختم ہوجاتی۔ چناچہ یوں اس علم کے بعد معلوم ہوا کہ گردش لیل و نہار اللہ کی نشانیوں میں سے اہم نشانی ہے۔ وما انزل اللہ ۔۔۔۔۔۔ بعد موتھا (45 : 5) “ اور اس رزق میں جسے اللہ آسمانوں سے نازل فرماتا ہے۔ پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمینوں کو جلا اٹھاتا ہے ”۔ رزق سے بھی تو پانی مراد ہوتا ہے جو آسمانوں سے آتا ہے جس طرح قدیم مفسرین نے اس سے یہی سمجھا ہے لیکن آسمانوں سے آنے والا صرف پانی بہت وسیع ہے۔ آسمانوں سے جو شعاعیں نکلتی ہیں وہ زمین کو زندہ کرنے میں پانی سے کوئی کم موثر نہیں ہیں بلکہ ان شعاعوں ہی کے اثر سے حکم الٰہی سے پانی پیدا ہوتا ہے۔ سورج کی حرارت ہی پانی کو بخارات میں بدلتی ہے۔ اور یہ بخارات کثیف ہو کر بارش کی شکل اختیار کرتے ہیں اور نہریں اور چشمے بہتے ہیں۔ اور اس سے زمین مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوجاتی ہے ، پانی سے بھی اور حرارت سے بھی۔ وتصریف الریح (45 : 5) “ اور ہواؤں کی گردش میں ”۔ یہ ہوائیں شمالاً و جنوباً چلتی ہیں ، شرقاً اور غرباً چلتی ہیں ، سیدھی اور ٹیٹرھی چلتی ہیں ، گرم اور سرد چلتی ہیں۔ اس نہایت ہی پیچیدہ نظام کے مطابق جو دست قدرت نے اس کائنات کی تخلیق کے اندر رکھ دیا ہے اور اس کی ہر چیز کو حساب و مقدار سے رکھا ہے اور اس میں کوئی چیز اتفاق اور مصارفت پر نہیں چھوڑا ، پھر ہواؤں کے چلنے کا زمین کی گردش محوری سے گہرا تعلق ہے۔ اور ان کا تعلق گردش لیل و نہار سے بھی ہے اور اس رزق سے بھی ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتا ہے۔ غرض حرارت ، ہوا وار رات اور دن کا نظام سب مل کر یہاں کام کرتے ہیں اور ان میں آیات و نشانات ہیں۔ لقوم یعقلون (45 : 5) “ ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں ”۔ کیونکہ اس میدان میں عقل ہی کام کرسکتی ہے۔ ٭٭٭ یہ تو ہیں اس کائنات کی بعض نشانیاں جن کی طرف اشارہ کیا گیا ، ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے لئے جو یقین کرتے ہیں اور پھر ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ یہ آیات ان کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ اشارات دلوں کو چھوتے ہیں ، ان کو جگاتے ہیں اور یہ آیات الٰہیہ انسانی فطرت سے براہ راست مخاطب ہوتی ہیں کیونکہ فطرت انسانی اور اس کائنات کے درمیان براہ راست فطری رابطہ ہے۔ اور اس رابطے کو قرآن کا طرز استدلال ہی زندہ اور تازہ کرسکتا ہے۔ جو لوگ ان آیات فطرت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان سے کوئی توقع نہیں ہے کہ وہ کسی اور چیز کو تسلیم کریں گے جن لوگوں کو قرآن کریم کے یہ اشارات اور آیات نہیں جگا سکتیں ، ان کو کوئی اور آواز نہیں جگا سکتی خواہ وہ جس قدر تیز آواز ہو۔ ذرا سنئے :

الجاثية 45:4

درس نمبر 235 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 23 آیت نمبر 1 تا 5 حا۔ میم کے بعد ، یہ آتا ہے کہ یہ کتاب اللہ عزیز اور حکیم کی طرف سے ہے اور اس کتاب کا مصدر اور فبع اللہ کی ذات ہے اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ یہ معجزہ کتاب انہی حروف سے بنائی گئی ہے۔ جیسا کہ حروف مقطعات کے بارے میں ہماری رائے ہے اور یہ کہ یہ چیلنج ہے ان کو کہ تم ان حروف سے ایسی کتاب نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا حا میم دلیل ہے تنزیل الکتب پر کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ زبردست قدرت والا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور حکیم ہے جس نے اس پوری کائنات کو حکمت سے بنایا اور تمام معاملات اس ذات کے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تبصرہ ہے جو سورت کی فضا کے ساتھ مناسب ہے ، جس میں طرح طرح کے نفوس اور ان کی ذہنیت دکھائی گئی ہے۔ قبل اس کے کہ لوگوں کے سامنے ، اس کتاب کے حوالے سے ان کا موقف رکھاجائے ، ان کو ان آیات و نشانات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اس کائنات میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ آیات اور یہ نشانیاں اس بات کے لئے کافی تھیں کہ یہ لوگ ایمان لاتے اور یہ لوگ اپنے دلوں کو اگر ان کی طرف متوجہ کرتے تو ان کے دل کھل جاتے اور اس کتاب کے نازل کرنے والے عظیم اللہ کی طرف ان کا احساس تیز ہوجاتا جو اس کائنات کا ایک عظیم خالق ہے۔ ان فی السموت والارض لایت للمومنین (45 : 3) “ حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بیشمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ”۔ اور وہ نشانیاں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ کسی چیز تک محدود نہیں ہیں ، کسی حال تک محدود نہیں ہیں ، اس کائنات کی جس چیز کو بھی انسان دیکھے اور مطالعہ کرے تو دل گواہی دیتا ہے کہ یہی پہلو ایک معجزہ ہے گویا “ جا اینجا است ”۔ سوال یہ نہیں ہے کہ نشانی کہاں ہے ، سوال یہ ہے کہ کون سی چیز نشانی نہیں ہے ؟ ذرا دیکھو ان آسمانوں اور ان کے اندر تیرنے والے عظیم الجثہ اجرام فلکی کو ، پھر اس کی طویل و عریض وسعتوں کو ، یہ اس طرح پھیلے ہوئے ہیں جس طرح ذرات اور رائی کے دانے ، بمقابلہ اس فضا اور خوفناک حد تک عریض و طویل فضا کے نیز یہ نہایت ہی خوبصورت ہیں۔ پھر ذرا اس بات کو دیکھو کہ ان اجرام کی گردش اپنے اپنے مدار میں کس قدر تسلسل کے ساتھ قائم ہے۔ نہایت ہی خوبصورت ہم آہنگی کے ساتھ ، انسان یہ چاہتا ہے کہ دیکھتا ہی رہ جائے اور اس کے ملاحظے سے جی بھرتا ہی نہیں۔ بعض گردشیں کروڑوں سالوں میں مکمل ہوتی ہیں اور ایک سیکنڈ کا فرق نہیں پڑتا۔ اور یہ زمین جسے انسان بہت ہی طویل و عریض سمجھتا ہے ، یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا ذرہ ہے ، بمقابلہ ان بڑے ستاروں کے (صرف مشتری اس سے ایک ہزار گنا زیادہ بڑا ستا ہے ) پھر یہ ذرہ یعنی زمین ، اس وسیع فضائے کائنات کے اندر تیر رہی ہے۔ اگر اللہ کی قدرت نہ ہوتی جس نے اسے تھام رکھا ہے اور اپنے مدار میں بند کر رکھا ہے تو یہ اس فضائے بسیط میں اپنی راہ گم کردیتی لیکن اللہ کی قدرت کا یہ کمال ہے کہ اس کائنات کا ذرہ بھی یہاں گم نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ سازوسامان جو اللہ نے اس زمین میں ، اس کے ایک خاص مقام اور نظام کی وجہ سے ودیعت کیا اور جس کی وجہ سے اس کے اوپر زندگی ممکن ہوئی ، اس کا تو ہر ہر پہلو ایک نشانی ہے۔ اس سازو سامان کی ہر چیز کے اپنے اپنے خواص ، نہایت باریک بینی کے ساتھ ، بڑی کثرت اور ہم آہنگی کے ساتھ یہاں جمع کئے گئے ہیں۔ اگر کسی ایک چیز کی خاصیت و ماہیت شمہ برابر بدل جائے تو زندگی کا پورا نظام خلل پذیر ہوجائے یا سرے سے ختم ہوجائے۔ غرض اس زمین کی ہر زندہ شے ایک علیحدہ نشانی ہے۔ ہر چیز کا ایک ایک جزء اور ایک ایک عضو ایک الگ نشانی ہے۔ اس معاملے میں عظیم الجثہ اشیاء اور ذرہ برابر کی اشیاء نشانی ہیں۔ ایک عظیم درخت سے ایک چھوٹا سا پتہ اٹھا لو ، اس کائنات کی پہنائیوں میں ایک چھوٹا سا نباتاتی پودا لے لو اور تجریہ کرو ، اپنے حکم اور اپنی شکل کے اعتبار سے یہ ایک نشانی ہے۔ رنگ میں بھی اور چھوٹے پن میں بھی ۔ اپنے مقاصد کے لئے بھی نشانی اور اپنے جسم میں بھی نشانی۔ انسان یا حیوان کے جسم کا ایک بال ہی لے لو ، یہ بھی ایک نشانی ہے ، اس کی ترکیب ، اس کا رنگ نشانی ہے ، ہر پرندے کا ہر پر ایک نشانی ہے ، اس کا مادہ ترکیب ، اس کے مقاصد ، اور اس کی ہم آہنگی۔ اگر انسان اس زمین و آسمان میں چشم بصیرت کے ساتھ دیکھے تو اسے نشانات الٰہیہ کا اژدہام نظر آئے اور انسان اعلان کر دے کہ اس کی فکر و نظر سے یہ تمام نشانات و راء ہیں۔ لیکن یہ نشانیاں کس کے لئے ہیں ؟ خود یہ آیات بنا دیتی ہے ، یہ نشانیاں کس کے سامنے پردہ افگند ہوتی ہیں ۔ ان کا احساس کس کو ہو سکتا ہے لقوم یوقنون (45 : 4) “ ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں ”۔ جو مومن ہیں اور مومن ہی نور ربی سے دیکھتا ہے۔ پس ایمان ہی وہ قوت ہے جو دلوں کے دروازے کھولتا ہے ، پھر انسان پکار سنتا ہے ، کوئی روشنی دلوں کو اندر آکر منور کرسکتی ہے ، کوئی تازہ باد نسیم کے جھونکے دنیائے دل پر ترو تازگی بکھیر سکتے ہیں اور ایمان ہی کی وجہ سے انسان ، اس کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی نشانیاں دیکھ سکتا ہے ، یہ ایمان ہی ہے جو دلوں کو ایسی فرحت بخش تازگی عطا کرتا ہے اور ان کے اندر رقت اور لطاقت پیدا کرتا ہے ، جس کے نتیجے میں یہ دل وہ اشارات وصول کرتے ہیں جو اس کائنات میں سے ہر طرف سے آرہے ہیں ، جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ اشارے دست قدرت کی طرف سے ہیں اور دست قدرت جن جن چیزوں کو بناتی ہے ان کے اندر یہ اشارات موجود ہوتے ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ ہر چیز معجز ہے اور مخلوق اس کی نقل بھی نہیں کرسکتی۔ اب اس کائنات کی طویل اور دور دراز وادیوں سے واپس لا کر انسان کو اس کی اپنی ذات کی طرف لایا جاتا ہے ، جو اس کے قریب ہے۔ اور وہ جانور جو انسان کے قریب ہیں ان پر غوروفکر کی دعوت ! وفی خلقکم ۔۔۔۔۔ یوقنون (45 : 4) “ اور تمہاری اپنی پیدائش میں اور ان حیوانات میں جن کو اللہ زمین میں پھیلا رہا ہے بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں ”۔ انسان کو یہ عجیب ساخت عطا کرنا ، پھر اسے ایسی عجیب خصوصیات عطا کرنا ، اور نہایت ہی گہرے ، لطیف اور پیچیدہ فرائض اس کے حوالے کرنا جن میں سے ہر ایک معجزانہ ہے۔ جسم انسانی کے ایسے اندرونی معجزات ہیں کہ رات اور دن دیکھتے دیکھتے وہ ہمارے لئے عجوبے ہی نہیں ہرے۔ اس لیے کہ ہمارے اندر اور ہمارے قریب ہیں لیکن صرف ایک عضو کا تجربہ کیا جائے تو انسان کا سر چکرا جاتا ہے اور انسان اس پیچیدہ ترکیب کی ہولناکیوں سے مبہوت رہ جاتا ہے۔ زندگی ، چاہے وہ اپنی سادہ ترین صورت میں کیوں نہ ہو وہ تو ایک معجزہ ہے۔ امیبا جس کا ایک ہی خلیہ ہوتا ہے اور امیبا سے بھی چھوٹی زندگی بھی معجزہ ہے۔ رہا انسان تو اس کی زندگی تو بہت ہی پیچیدہ اور سخت اور عجیب و غریب ہے۔ نفسیاتی لحاظ سے بھی وہ نہایت ہی پیچیدہ اور معجزاتی ہے۔ عضوی ترکیب سے اس کی نفسیات زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اور وہ مخلوقات جو اس زمین پر ہر طرف رینگتی ہے ، اور جس کی لاتعداد انواع و اقسام ہیں ، بیشمار جسم اور اشکال ہیں جن کی تعداد اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس زندگی میں سے چھوٹی سے چھوٹی چیز اور بڑی سے بڑی چیز سب اپنی اپنی جگہ معجزاتی ہیں ، یہ اپنی عمر اور جنس کے اعتبار سے بھی معجزاتی شان رکھتی ہیں۔ اور یہ قدرتی طور پر اپنی نوع کی حفاظت کرتی ہیں اور کوئی نوع دوسری انواع کو فنا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اور دست قدرت نے ان انواع و اقسام کی تعداد اپنے پاس رکھی ہوئی ہے کسی میں کمی کرتا ہے اور کسی میں اضافہ ۔ اور ہر ایک کو اس کے خصائص دیتا ہے اور قوت وصلاحیت دیتا ہے۔ اس طرح حیوانات کے تمام انواع و اقسام کی آبادی کے اندر ایک توازن قائم رہتا ہے۔ گدھ اور باز جارح اور مضر پرندے ہیں اور ان کی عمر بھی لمبی ہے لیکن ان کی آبادی بہت کم ہے اور بہت کم انڈے دیتے ہیں ۔ اگر گدھ اور باز چڑیوں کی طرح ہوتے تو ذرا سوچ لیں کہ اس دنیا میں شاید چھوٹے بڑے کسی پرندے کی نسل نہ ہوتی۔ حیوانات میں سے شیر درندہ جانور ہیں ، اگر ان کی نسل ہر نوں اور بھیڑ بکریوں کی طرح زیادہ ہوتی تو وہ جنگلات میں کوئی حیوانی مواد نہ چھوڑتا۔ لیکن یہ قدرت ہے جس نے اس کی نسل کو محدود رکھا ہے اور وہ مطلوبہ تعداد ہی میں ہوتے ہیں جبکہ ہرن اور بھیڑ اور بکریاں زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ قدرت کو معلوم ہے کہ ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ ایک مکھی ایک ہی زندگی میں لاکھوں انڈے دیتی ہے لیکن اس کی زندگی زیادہ سے زیادہ دو ہفتے ہوتی ہے۔ اگر ایک مکھی کی عمر طبیعی کئی ماہ یا سال ہوتی تو تمام انسانی جسموں کو ڈھانپ دیتیں ، آنکھوں کو کھا جاتیں لیکن دست قدرت نے ان پر ایک قدرتی بند بھی رکھا ہے اور اس کی عمر کو محدود کردیا ہے۔ یونہی ، ہر چیز اور ہر نوع کی یہ حالت ہے ۔ اللہ کی تدبیر اور تقدیر انسانوں اور حیوانات میں اپنا کام کرتی ہے اور ہر چیز کے اندر ایک قسم کی نشانی ہے۔ اور یہ نشانی پکار پکار کہتی ہے کہ اللہ کی آیات میں غورو و تدبر کرو اور یہ آیات لقوم یوقنون (45 : 4) “ ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں ”۔ یقین ایسی حالت ہے جو دلوں کو تیار اور مائل اور متاثر کرنے والی حالت ہے ، تا کہ وہ احساس کریں ، متاثر ہوں اور اللہ کی طرف مائل ہوں۔ ایمان و یقین دلوں کو ثابت ، برقرار اور مطمئن کردیتا ہے ۔ ایسے دل بڑے ٹھہراؤ سے اس کائنات پر غور کرتے ہیں اور اس سے حقائق اخذ کرتے ہیں۔ ان میں سے بےچینی ، پریشانی ، بےثباتی ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے دلوں کو اگر اس دنیا میں کم کچھ ملے تب بھی وہ اس سے بڑے نتائج اور آثار حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد اپنی ذات اور اپنے اردگرد کے حیوانات سے انہیں اس پوری کائنات کے مظاہر کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس کائنات سے ان کے لئے اور دوسرے زندوں کے لئے جو اسباب حیات پیدا کئے جاتے ہیں اور فراہم کئے گئے ہیں ذرا ان پر بھی غور کرو۔ واختلاف الیل ۔۔۔۔۔ لقوم یعقلون (45 : 5) “ اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں اور اس رزق میں جسے اللہ آسمانوں سے نازل فرماتا ہے۔ پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جلا اٹھاتا ہے ، ہواؤں کی گردش میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں ”۔ گردش لیل و نہار وہ منظر ہے جس کے باربار کی تکرار کی وجہ سے اس کی جدت انسانوں کے ذہن سے محو ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی پہلی مرتبہ ان کو دیکھے یا پہلی مرتبہ رات کو دیکھے تو یہ ایک عجیب منظر ہے جو دل شاعرانہ احساس رکھتے ہیں وہ اس جدت کو سمجھتے ہیں اور گردش لیل ونہار کو اس کائنات کا ایک حیران کن نظام سمجھتے ہیں۔ انسانوں کے علم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کائنات کے بعض مظاہر کے بارے میں تو اب انسانوں نے وسیع معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اب انسان جانتے ہیں کہ گردش لیل و نہار دراصل زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتی ہے جو یہ سورج کے سامنے کرتی ہے اور یہ گردش چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہوتی ہے لیکن اس علم کے مطابق بھی یہ انوکھا منظر اور عجوبہ ابھی ختم نہیں ہے کیونکہ یہ کرۂ زمین ہوا کے اندر معلق ہے اور ایک خاص رفتار کے ساتھ چل رہا ہے اور وہ کسی چیز کا سہارا نہیں لے رہا ہے۔ اللہ نے اسے تھام رکھا ہے اور وہ ایک سیکنڈ بھی اپنی رفتار کم نہیں کرتا ۔ اور یہ رفتار ایسی ہے کہ تمام زندہ مخلوقات اس کے اوپر بڑے آرام سے رہ رہی ہے اور یہ مخلوق اس فضا میں معلق گولے کے اوپر ٹکی ہوئی ہے جو فضا میں گردش پر ہے۔ اب انسان کا علم قدرے اور وسعت اختیار کرتا ہے کہ اس گردش محوری کے اثرات اس زمین کے اوپر اور تمام زندہ مخلوقات پر کیا ہیں۔ انسان نے معلوم کیا کہ ان اوقات کو اس طرح رات اور دن میں تقسیم کرنے ہی سے اس کرۂ ارض پر زندگی ممکن بنائی گئی ہے۔ اگر گردش لیل و نہار نہ ہوتے یا اس اندازے اور اس نظام اور رفتار سے نہ ہوتے تو اس زمین کی سطح پر موجود ہر چیز بدل جاتی اور خصوصاً انسانی زندگی ختم ہوجاتی۔ چناچہ یوں اس علم کے بعد معلوم ہوا کہ گردش لیل و نہار اللہ کی نشانیوں میں سے اہم نشانی ہے۔ وما انزل اللہ ۔۔۔۔۔۔ بعد موتھا (45 : 5) “ اور اس رزق میں جسے اللہ آسمانوں سے نازل فرماتا ہے۔ پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمینوں کو جلا اٹھاتا ہے ”۔ رزق سے بھی تو پانی مراد ہوتا ہے جو آسمانوں سے آتا ہے جس طرح قدیم مفسرین نے اس سے یہی سمجھا ہے لیکن آسمانوں سے آنے والا صرف پانی بہت وسیع ہے۔ آسمانوں سے جو شعاعیں نکلتی ہیں وہ زمین کو زندہ کرنے میں پانی سے کوئی کم موثر نہیں ہیں بلکہ ان شعاعوں ہی کے اثر سے حکم الٰہی سے پانی پیدا ہوتا ہے۔ سورج کی حرارت ہی پانی کو بخارات میں بدلتی ہے۔ اور یہ بخارات کثیف ہو کر بارش کی شکل اختیار کرتے ہیں اور نہریں اور چشمے بہتے ہیں۔ اور اس سے زمین مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوجاتی ہے ، پانی سے بھی اور حرارت سے بھی۔ وتصریف الریح (45 : 5) “ اور ہواؤں کی گردش میں ”۔ یہ ہوائیں شمالاً و جنوباً چلتی ہیں ، شرقاً اور غرباً چلتی ہیں ، سیدھی اور ٹیٹرھی چلتی ہیں ، گرم اور سرد چلتی ہیں۔ اس نہایت ہی پیچیدہ نظام کے مطابق جو دست قدرت نے اس کائنات کی تخلیق کے اندر رکھ دیا ہے اور اس کی ہر چیز کو حساب و مقدار سے رکھا ہے اور اس میں کوئی چیز اتفاق اور مصارفت پر نہیں چھوڑا ، پھر ہواؤں کے چلنے کا زمین کی گردش محوری سے گہرا تعلق ہے۔ اور ان کا تعلق گردش لیل و نہار سے بھی ہے اور اس رزق سے بھی ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتا ہے۔ غرض حرارت ، ہوا وار رات اور دن کا نظام سب مل کر یہاں کام کرتے ہیں اور ان میں آیات و نشانات ہیں۔ لقوم یعقلون (45 : 5) “ ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں ”۔ کیونکہ اس میدان میں عقل ہی کام کرسکتی ہے۔ ٭٭٭ یہ تو ہیں اس کائنات کی بعض نشانیاں جن کی طرف اشارہ کیا گیا ، ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے لئے جو یقین کرتے ہیں اور پھر ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ یہ آیات ان کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ اشارات دلوں کو چھوتے ہیں ، ان کو جگاتے ہیں اور یہ آیات الٰہیہ انسانی فطرت سے براہ راست مخاطب ہوتی ہیں کیونکہ فطرت انسانی اور اس کائنات کے درمیان براہ راست فطری رابطہ ہے۔ اور اس رابطے کو قرآن کا طرز استدلال ہی زندہ اور تازہ کرسکتا ہے۔ جو لوگ ان آیات فطرت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان سے کوئی توقع نہیں ہے کہ وہ کسی اور چیز کو تسلیم کریں گے جن لوگوں کو قرآن کریم کے یہ اشارات اور آیات نہیں جگا سکتیں ، ان کو کوئی اور آواز نہیں جگا سکتی خواہ وہ جس قدر تیز آواز ہو۔ ذرا سنئے :

الجاثية 45:5

درس نمبر 235 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 23 آیت نمبر 1 تا 5 حا۔ میم کے بعد ، یہ آتا ہے کہ یہ کتاب اللہ عزیز اور حکیم کی طرف سے ہے اور اس کتاب کا مصدر اور فبع اللہ کی ذات ہے اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ یہ معجزہ کتاب انہی حروف سے بنائی گئی ہے۔ جیسا کہ حروف مقطعات کے بارے میں ہماری رائے ہے اور یہ کہ یہ چیلنج ہے ان کو کہ تم ان حروف سے ایسی کتاب نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا حا میم دلیل ہے تنزیل الکتب پر کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ زبردست قدرت والا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور حکیم ہے جس نے اس پوری کائنات کو حکمت سے بنایا اور تمام معاملات اس ذات کے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تبصرہ ہے جو سورت کی فضا کے ساتھ مناسب ہے ، جس میں طرح طرح کے نفوس اور ان کی ذہنیت دکھائی گئی ہے۔ قبل اس کے کہ لوگوں کے سامنے ، اس کتاب کے حوالے سے ان کا موقف رکھاجائے ، ان کو ان آیات و نشانات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اس کائنات میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ آیات اور یہ نشانیاں اس بات کے لئے کافی تھیں کہ یہ لوگ ایمان لاتے اور یہ لوگ اپنے دلوں کو اگر ان کی طرف متوجہ کرتے تو ان کے دل کھل جاتے اور اس کتاب کے نازل کرنے والے عظیم اللہ کی طرف ان کا احساس تیز ہوجاتا جو اس کائنات کا ایک عظیم خالق ہے۔ ان فی السموت والارض لایت للمومنین (45 : 3) “ حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بیشمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ”۔ اور وہ نشانیاں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ کسی چیز تک محدود نہیں ہیں ، کسی حال تک محدود نہیں ہیں ، اس کائنات کی جس چیز کو بھی انسان دیکھے اور مطالعہ کرے تو دل گواہی دیتا ہے کہ یہی پہلو ایک معجزہ ہے گویا “ جا اینجا است ”۔ سوال یہ نہیں ہے کہ نشانی کہاں ہے ، سوال یہ ہے کہ کون سی چیز نشانی نہیں ہے ؟ ذرا دیکھو ان آسمانوں اور ان کے اندر تیرنے والے عظیم الجثہ اجرام فلکی کو ، پھر اس کی طویل و عریض وسعتوں کو ، یہ اس طرح پھیلے ہوئے ہیں جس طرح ذرات اور رائی کے دانے ، بمقابلہ اس فضا اور خوفناک حد تک عریض و طویل فضا کے نیز یہ نہایت ہی خوبصورت ہیں۔ پھر ذرا اس بات کو دیکھو کہ ان اجرام کی گردش اپنے اپنے مدار میں کس قدر تسلسل کے ساتھ قائم ہے۔ نہایت ہی خوبصورت ہم آہنگی کے ساتھ ، انسان یہ چاہتا ہے کہ دیکھتا ہی رہ جائے اور اس کے ملاحظے سے جی بھرتا ہی نہیں۔ بعض گردشیں کروڑوں سالوں میں مکمل ہوتی ہیں اور ایک سیکنڈ کا فرق نہیں پڑتا۔ اور یہ زمین جسے انسان بہت ہی طویل و عریض سمجھتا ہے ، یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا ذرہ ہے ، بمقابلہ ان بڑے ستاروں کے (صرف مشتری اس سے ایک ہزار گنا زیادہ بڑا ستا ہے ) پھر یہ ذرہ یعنی زمین ، اس وسیع فضائے کائنات کے اندر تیر رہی ہے۔ اگر اللہ کی قدرت نہ ہوتی جس نے اسے تھام رکھا ہے اور اپنے مدار میں بند کر رکھا ہے تو یہ اس فضائے بسیط میں اپنی راہ گم کردیتی لیکن اللہ کی قدرت کا یہ کمال ہے کہ اس کائنات کا ذرہ بھی یہاں گم نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ سازوسامان جو اللہ نے اس زمین میں ، اس کے ایک خاص مقام اور نظام کی وجہ سے ودیعت کیا اور جس کی وجہ سے اس کے اوپر زندگی ممکن ہوئی ، اس کا تو ہر ہر پہلو ایک نشانی ہے۔ اس سازو سامان کی ہر چیز کے اپنے اپنے خواص ، نہایت باریک بینی کے ساتھ ، بڑی کثرت اور ہم آہنگی کے ساتھ یہاں جمع کئے گئے ہیں۔ اگر کسی ایک چیز کی خاصیت و ماہیت شمہ برابر بدل جائے تو زندگی کا پورا نظام خلل پذیر ہوجائے یا سرے سے ختم ہوجائے۔ غرض اس زمین کی ہر زندہ شے ایک علیحدہ نشانی ہے۔ ہر چیز کا ایک ایک جزء اور ایک ایک عضو ایک الگ نشانی ہے۔ اس معاملے میں عظیم الجثہ اشیاء اور ذرہ برابر کی اشیاء نشانی ہیں۔ ایک عظیم درخت سے ایک چھوٹا سا پتہ اٹھا لو ، اس کائنات کی پہنائیوں میں ایک چھوٹا سا نباتاتی پودا لے لو اور تجریہ کرو ، اپنے حکم اور اپنی شکل کے اعتبار سے یہ ایک نشانی ہے۔ رنگ میں بھی اور چھوٹے پن میں بھی ۔ اپنے مقاصد کے لئے بھی نشانی اور اپنے جسم میں بھی نشانی۔ انسان یا حیوان کے جسم کا ایک بال ہی لے لو ، یہ بھی ایک نشانی ہے ، اس کی ترکیب ، اس کا رنگ نشانی ہے ، ہر پرندے کا ہر پر ایک نشانی ہے ، اس کا مادہ ترکیب ، اس کے مقاصد ، اور اس کی ہم آہنگی۔ اگر انسان اس زمین و آسمان میں چشم بصیرت کے ساتھ دیکھے تو اسے نشانات الٰہیہ کا اژدہام نظر آئے اور انسان اعلان کر دے کہ اس کی فکر و نظر سے یہ تمام نشانات و راء ہیں۔ لیکن یہ نشانیاں کس کے لئے ہیں ؟ خود یہ آیات بنا دیتی ہے ، یہ نشانیاں کس کے سامنے پردہ افگند ہوتی ہیں ۔ ان کا احساس کس کو ہو سکتا ہے لقوم یوقنون (45 : 4) “ ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں ”۔ جو مومن ہیں اور مومن ہی نور ربی سے دیکھتا ہے۔ پس ایمان ہی وہ قوت ہے جو دلوں کے دروازے کھولتا ہے ، پھر انسان پکار سنتا ہے ، کوئی روشنی دلوں کو اندر آکر منور کرسکتی ہے ، کوئی تازہ باد نسیم کے جھونکے دنیائے دل پر ترو تازگی بکھیر سکتے ہیں اور ایمان ہی کی وجہ سے انسان ، اس کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی نشانیاں دیکھ سکتا ہے ، یہ ایمان ہی ہے جو دلوں کو ایسی فرحت بخش تازگی عطا کرتا ہے اور ان کے اندر رقت اور لطاقت پیدا کرتا ہے ، جس کے نتیجے میں یہ دل وہ اشارات وصول کرتے ہیں جو اس کائنات میں سے ہر طرف سے آرہے ہیں ، جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ اشارے دست قدرت کی طرف سے ہیں اور دست قدرت جن جن چیزوں کو بناتی ہے ان کے اندر یہ اشارات موجود ہوتے ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ ہر چیز معجز ہے اور مخلوق اس کی نقل بھی نہیں کرسکتی۔ اب اس کائنات کی طویل اور دور دراز وادیوں سے واپس لا کر انسان کو اس کی اپنی ذات کی طرف لایا جاتا ہے ، جو اس کے قریب ہے۔ اور وہ جانور جو انسان کے قریب ہیں ان پر غوروفکر کی دعوت ! وفی خلقکم ۔۔۔۔۔ یوقنون (45 : 4) “ اور تمہاری اپنی پیدائش میں اور ان حیوانات میں جن کو اللہ زمین میں پھیلا رہا ہے بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں ”۔ انسان کو یہ عجیب ساخت عطا کرنا ، پھر اسے ایسی عجیب خصوصیات عطا کرنا ، اور نہایت ہی گہرے ، لطیف اور پیچیدہ فرائض اس کے حوالے کرنا جن میں سے ہر ایک معجزانہ ہے۔ جسم انسانی کے ایسے اندرونی معجزات ہیں کہ رات اور دن دیکھتے دیکھتے وہ ہمارے لئے عجوبے ہی نہیں ہرے۔ اس لیے کہ ہمارے اندر اور ہمارے قریب ہیں لیکن صرف ایک عضو کا تجربہ کیا جائے تو انسان کا سر چکرا جاتا ہے اور انسان اس پیچیدہ ترکیب کی ہولناکیوں سے مبہوت رہ جاتا ہے۔ زندگی ، چاہے وہ اپنی سادہ ترین صورت میں کیوں نہ ہو وہ تو ایک معجزہ ہے۔ امیبا جس کا ایک ہی خلیہ ہوتا ہے اور امیبا سے بھی چھوٹی زندگی بھی معجزہ ہے۔ رہا انسان تو اس کی زندگی تو بہت ہی پیچیدہ اور سخت اور عجیب و غریب ہے۔ نفسیاتی لحاظ سے بھی وہ نہایت ہی پیچیدہ اور معجزاتی ہے۔ عضوی ترکیب سے اس کی نفسیات زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اور وہ مخلوقات جو اس زمین پر ہر طرف رینگتی ہے ، اور جس کی لاتعداد انواع و اقسام ہیں ، بیشمار جسم اور اشکال ہیں جن کی تعداد اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس زندگی میں سے چھوٹی سے چھوٹی چیز اور بڑی سے بڑی چیز سب اپنی اپنی جگہ معجزاتی ہیں ، یہ اپنی عمر اور جنس کے اعتبار سے بھی معجزاتی شان رکھتی ہیں۔ اور یہ قدرتی طور پر اپنی نوع کی حفاظت کرتی ہیں اور کوئی نوع دوسری انواع کو فنا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اور دست قدرت نے ان انواع و اقسام کی تعداد اپنے پاس رکھی ہوئی ہے کسی میں کمی کرتا ہے اور کسی میں اضافہ ۔ اور ہر ایک کو اس کے خصائص دیتا ہے اور قوت وصلاحیت دیتا ہے۔ اس طرح حیوانات کے تمام انواع و اقسام کی آبادی کے اندر ایک توازن قائم رہتا ہے۔ گدھ اور باز جارح اور مضر پرندے ہیں اور ان کی عمر بھی لمبی ہے لیکن ان کی آبادی بہت کم ہے اور بہت کم انڈے دیتے ہیں ۔ اگر گدھ اور باز چڑیوں کی طرح ہوتے تو ذرا سوچ لیں کہ اس دنیا میں شاید چھوٹے بڑے کسی پرندے کی نسل نہ ہوتی۔ حیوانات میں سے شیر درندہ جانور ہیں ، اگر ان کی نسل ہر نوں اور بھیڑ بکریوں کی طرح زیادہ ہوتی تو وہ جنگلات میں کوئی حیوانی مواد نہ چھوڑتا۔ لیکن یہ قدرت ہے جس نے اس کی نسل کو محدود رکھا ہے اور وہ مطلوبہ تعداد ہی میں ہوتے ہیں جبکہ ہرن اور بھیڑ اور بکریاں زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ قدرت کو معلوم ہے کہ ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ ایک مکھی ایک ہی زندگی میں لاکھوں انڈے دیتی ہے لیکن اس کی زندگی زیادہ سے زیادہ دو ہفتے ہوتی ہے۔ اگر ایک مکھی کی عمر طبیعی کئی ماہ یا سال ہوتی تو تمام انسانی جسموں کو ڈھانپ دیتیں ، آنکھوں کو کھا جاتیں لیکن دست قدرت نے ان پر ایک قدرتی بند بھی رکھا ہے اور اس کی عمر کو محدود کردیا ہے۔ یونہی ، ہر چیز اور ہر نوع کی یہ حالت ہے ۔ اللہ کی تدبیر اور تقدیر انسانوں اور حیوانات میں اپنا کام کرتی ہے اور ہر چیز کے اندر ایک قسم کی نشانی ہے۔ اور یہ نشانی پکار پکار کہتی ہے کہ اللہ کی آیات میں غورو و تدبر کرو اور یہ آیات لقوم یوقنون (45 : 4) “ ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے والے ہیں ”۔ یقین ایسی حالت ہے جو دلوں کو تیار اور مائل اور متاثر کرنے والی حالت ہے ، تا کہ وہ احساس کریں ، متاثر ہوں اور اللہ کی طرف مائل ہوں۔ ایمان و یقین دلوں کو ثابت ، برقرار اور مطمئن کردیتا ہے ۔ ایسے دل بڑے ٹھہراؤ سے اس کائنات پر غور کرتے ہیں اور اس سے حقائق اخذ کرتے ہیں۔ ان میں سے بےچینی ، پریشانی ، بےثباتی ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے دلوں کو اگر اس دنیا میں کم کچھ ملے تب بھی وہ اس سے بڑے نتائج اور آثار حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد اپنی ذات اور اپنے اردگرد کے حیوانات سے انہیں اس پوری کائنات کے مظاہر کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس کائنات سے ان کے لئے اور دوسرے زندوں کے لئے جو اسباب حیات پیدا کئے جاتے ہیں اور فراہم کئے گئے ہیں ذرا ان پر بھی غور کرو۔ واختلاف الیل ۔۔۔۔۔ لقوم یعقلون (45 : 5) “ اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں اور اس رزق میں جسے اللہ آسمانوں سے نازل فرماتا ہے۔ پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جلا اٹھاتا ہے ، ہواؤں کی گردش میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں ”۔ گردش لیل و نہار وہ منظر ہے جس کے باربار کی تکرار کی وجہ سے اس کی جدت انسانوں کے ذہن سے محو ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی پہلی مرتبہ ان کو دیکھے یا پہلی مرتبہ رات کو دیکھے تو یہ ایک عجیب منظر ہے جو دل شاعرانہ احساس رکھتے ہیں وہ اس جدت کو سمجھتے ہیں اور گردش لیل ونہار کو اس کائنات کا ایک حیران کن نظام سمجھتے ہیں۔ انسانوں کے علم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کائنات کے بعض مظاہر کے بارے میں تو اب انسانوں نے وسیع معلومات حاصل کرلی ہیں۔ اب انسان جانتے ہیں کہ گردش لیل و نہار دراصل زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتی ہے جو یہ سورج کے سامنے کرتی ہے اور یہ گردش چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہوتی ہے لیکن اس علم کے مطابق بھی یہ انوکھا منظر اور عجوبہ ابھی ختم نہیں ہے کیونکہ یہ کرۂ زمین ہوا کے اندر معلق ہے اور ایک خاص رفتار کے ساتھ چل رہا ہے اور وہ کسی چیز کا سہارا نہیں لے رہا ہے۔ اللہ نے اسے تھام رکھا ہے اور وہ ایک سیکنڈ بھی اپنی رفتار کم نہیں کرتا ۔ اور یہ رفتار ایسی ہے کہ تمام زندہ مخلوقات اس کے اوپر بڑے آرام سے رہ رہی ہے اور یہ مخلوق اس فضا میں معلق گولے کے اوپر ٹکی ہوئی ہے جو فضا میں گردش پر ہے۔ اب انسان کا علم قدرے اور وسعت اختیار کرتا ہے کہ اس گردش محوری کے اثرات اس زمین کے اوپر اور تمام زندہ مخلوقات پر کیا ہیں۔ انسان نے معلوم کیا کہ ان اوقات کو اس طرح رات اور دن میں تقسیم کرنے ہی سے اس کرۂ ارض پر زندگی ممکن بنائی گئی ہے۔ اگر گردش لیل و نہار نہ ہوتے یا اس اندازے اور اس نظام اور رفتار سے نہ ہوتے تو اس زمین کی سطح پر موجود ہر چیز بدل جاتی اور خصوصاً انسانی زندگی ختم ہوجاتی۔ چناچہ یوں اس علم کے بعد معلوم ہوا کہ گردش لیل و نہار اللہ کی نشانیوں میں سے اہم نشانی ہے۔ وما انزل اللہ ۔۔۔۔۔۔ بعد موتھا (45 : 5) “ اور اس رزق میں جسے اللہ آسمانوں سے نازل فرماتا ہے۔ پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمینوں کو جلا اٹھاتا ہے ”۔ رزق سے بھی تو پانی مراد ہوتا ہے جو آسمانوں سے آتا ہے جس طرح قدیم مفسرین نے اس سے یہی سمجھا ہے لیکن آسمانوں سے آنے والا صرف پانی بہت وسیع ہے۔ آسمانوں سے جو شعاعیں نکلتی ہیں وہ زمین کو زندہ کرنے میں پانی سے کوئی کم موثر نہیں ہیں بلکہ ان شعاعوں ہی کے اثر سے حکم الٰہی سے پانی پیدا ہوتا ہے۔ سورج کی حرارت ہی پانی کو بخارات میں بدلتی ہے۔ اور یہ بخارات کثیف ہو کر بارش کی شکل اختیار کرتے ہیں اور نہریں اور چشمے بہتے ہیں۔ اور اس سے زمین مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوجاتی ہے ، پانی سے بھی اور حرارت سے بھی۔ وتصریف الریح (45 : 5) “ اور ہواؤں کی گردش میں ”۔ یہ ہوائیں شمالاً و جنوباً چلتی ہیں ، شرقاً اور غرباً چلتی ہیں ، سیدھی اور ٹیٹرھی چلتی ہیں ، گرم اور سرد چلتی ہیں۔ اس نہایت ہی پیچیدہ نظام کے مطابق جو دست قدرت نے اس کائنات کی تخلیق کے اندر رکھ دیا ہے اور اس کی ہر چیز کو حساب و مقدار سے رکھا ہے اور اس میں کوئی چیز اتفاق اور مصارفت پر نہیں چھوڑا ، پھر ہواؤں کے چلنے کا زمین کی گردش محوری سے گہرا تعلق ہے۔ اور ان کا تعلق گردش لیل و نہار سے بھی ہے اور اس رزق سے بھی ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتا ہے۔ غرض حرارت ، ہوا وار رات اور دن کا نظام سب مل کر یہاں کام کرتے ہیں اور ان میں آیات و نشانات ہیں۔ لقوم یعقلون (45 : 5) “ ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں ”۔ کیونکہ اس میدان میں عقل ہی کام کرسکتی ہے۔ ٭٭٭ یہ تو ہیں اس کائنات کی بعض نشانیاں جن کی طرف اشارہ کیا گیا ، ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے لئے جو یقین کرتے ہیں اور پھر ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ یہ آیات ان کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ اشارات دلوں کو چھوتے ہیں ، ان کو جگاتے ہیں اور یہ آیات الٰہیہ انسانی فطرت سے براہ راست مخاطب ہوتی ہیں کیونکہ فطرت انسانی اور اس کائنات کے درمیان براہ راست فطری رابطہ ہے۔ اور اس رابطے کو قرآن کا طرز استدلال ہی زندہ اور تازہ کرسکتا ہے۔ جو لوگ ان آیات فطرت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان سے کوئی توقع نہیں ہے کہ وہ کسی اور چیز کو تسلیم کریں گے جن لوگوں کو قرآن کریم کے یہ اشارات اور آیات نہیں جگا سکتیں ، ان کو کوئی اور آواز نہیں جگا سکتی خواہ وہ جس قدر تیز آواز ہو۔ ذرا سنئے :

الجاثية 45:6

آیت نمبر 6 کوئی کلام ، کلام الٰہی کی طرح فصیح نہیں اور کوئی تخلیق مخلوقات الٰہیہ کی طرح بدیع نہیں ہے۔ کوئی حقیقت بھی وجود باری کی طرح ثابت نہیں ہے۔ پس ان دلائل واقیہ کے بعد وجود باری واضح اور یقینی ہے۔ لہٰذا ان دلائل کے بعد بھی اگر کوئی ایمان نہیں لاتا تو اسے دھکمی دینے اور خبردار کرنے کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے۔

الجاثية 45:7

آیت نمبر 7 تا 10 جیسا کہ ہم نے اس سورت کے مقدمے میں بھی وضاحت کی کہ مکہ میں مشرکین نے جس طرح دعوت اسلامی کا استقبال کیا ، اس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے باطل موقف پر اصرار کیا۔ ایسی سچی دعوت کا ایک لفظ بھی سننے سے انکار کیا جو حق پر مبنی تھی اور جو اپنی ذات میں واضح تھی۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب تھی۔ انہوں نے اس حقیقت کے ماننے میں اس قدر ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ یوں نظر آتا تھا کہ گویا یہ دعوت ان کے ہاں اذہان تک پہنچی ہی نہیں ہے بلکہ الٹا وہ اللہ کے معاملے میں گستاخ ہوگئے۔ اور قرآن کی جو آیات ان تک پہنچی ان سے منہ موڑنے لگے قرآن کریم نے ان کے اس رویے کی نہایت شدید مذمت کی ہے۔ اور سخت دھمکی دی ہے ان کے لئے سخت بربادی ہے اور ان کو شدید توہین آمیز اور دردناک عذاب سے دوچار ہونا ہوگا۔ ویل لکل افاک اثیم (45 : 7) “ تباہی ہے ہر اس جھوٹے بد اعمال شخص کے لئے ”۔ ویل ، یعنی ہلاک ہے۔ افاک ، بہت بڑا جھوٹا جو جھوٹ باندھنے میں مہارت رکھتا ہو۔ بہت زیادہ گناہ کاریاں اور بدکاریاں سمیٹنے والا۔ یہ دھمکی ہر اس شخص کے لئے ہے جس میں یہ صفات موجود ہیں۔ یہ اللہ قہار و جبار کی دھمکی ہے جو ہلاک کرنے اور برباد کرنے پر قدرت رکھتا ہے جس کی دھمکی اور ڈراوا اور تہدید بالکل سچی ہوتی ہے۔ اس لیے اس فقرے میں جو دھمکی دی گئی ، وہ بہت ہی خوفناک ہے۔ ایسے افاک جھوٹے اور بداعمال اور بدکار کی صفت و علامت کیا ہے ؟ یہ کہ وہ باطل پر اصرار کرتا ہے ، سچائی کے مقابلے میں جھکنے کی بجائے اور اکڑتا ہے ، اللہ کی نشانیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے منہ موڑتا ہے اور شریفانہ رویہ اختیار نہیں کرتا بلکہ گستاخی کرتا ہے۔ یسمع ایت اللہ ۔۔۔۔۔ لم یسمعھا (45 : 8) “ جس کے سامنے اللہ کی آیات بڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتا ہے پھر پورے غرور کے ساتھ اپنے کفر پر اڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں ”۔ یہ نہایت ہی قابل نفرت تصویر ہے۔ اگرچہ یہ مشرکین مکہ کے ایک گروہ کی تصویر ہے جو اس وقت ایسا تھا ، مگر ہر نظام جاہلیت میں یہ تصویر اسی طرح دہرائی جاتی ہے۔ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی۔ اس زمین پر کتنے ہی ایسے لوگ ہیں اور نام نہاد مسلمانوں میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتے ہیں مگر اپنے موقف پر اڑ جاتے ہیں اور غرور میں منہ موڑ لیتے ہیں کیونکہ وہ ان کی خواہشات کے موافق اور ان کے مالوفات سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں اور یہ آیات باطل پر تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں اور یہ اس شر کی تائید نہیں کرتیں جس پر وہ مصر ہوتے ہیں اور یہ آیات اس سمت پر نہ خود چلتی ہیں اور نہ لوگوں کو چلاتی ہیں جس سمت پر وہ جارہے ہیں۔ فبشرہ بعذاب الیم (45 : 8) “ ایسے شخص کو دردناک عذاب کا مژدہ سنا دو ”۔ خوشخبری تو کسی اچھے کام پر ہوتی ہے۔ یہاں ان کے لئے بطور استہزاء خوشخبری کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اگر کوئی ڈرانے والے اور متنبہ کرنے والے کی بات نہیں مانتا تو پھر اگر ہلاکت آتی ہے تو آنے دو ، وہ خود ہلاکت طلب کرتا ہے۔ واذا علم من ایتنا شیئا اتخذھا ھزوا (45 : 9) “ ہماری آیات میں سے جب کوئی چیز اس کے علم میں آتی ہے ، تو وہ ان کا مذاق بنا لیتا ہے ”۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ اللہ کی آیات اور ان کا سرچشمہ ذات باری ہے۔ یہ رویہ اس کی جانب سے شدید جسارت ہے۔ یہ تصویر بھی جس طرح جاہلیت اولیٰ میں تھی اسی طرح آج بھی موجود ہے۔ اور بیشمار لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، ان میں سے بھی ایسے لوگ ہیں جو آیات الٰہیہ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور وہ ان آیات اور ان پر ایمان لانے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو بھی جو عوام الناس کی زندگیوں کو ان آیات کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ اولئک لھم عذاب مھین (45 : 9) “ ان سب لوگوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے ”۔ اہانت ان کے لئے موزوں سزا ہے کیونکہ یہ بھی تو اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات الٰہیہ ہیں۔ یہ قیامت کا توہین آمیز عذاب حاضر ہے ، اگرچہ قیامت کا برپا ہونا قدرے بعد میں ہے۔ من ورائھم جھنم (45 : 10) “ ان کے پیچھے جہنم ہے ”۔ لفظ “ ان کے پیچھے جہنم ہے ” کا ایک خاص مقصد ہے یعنی یہ اسے دیکھ نہیں سکتے کہ انہوں نے قیامت کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اس سے ڈرتے اور بچتے اس لیے نہیں کہ یہ غافل ہیں اور اس لیے وہ اس کے اندر گرنے والے ہیں۔ ولا یغنی عنھم ۔۔۔۔۔۔ اولیاء (45 : 10) “ جو کچھ انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس میں سے کوئی چیز ان کے کسی کام نہ آئے گی ، نہ ان کے وہ سرپرست ہی ان کے لئے کچھ کرسکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے ”۔ یعنی دنیا میں انہوں نے جو کام کئے یا جو ان کی ملکیت تھی ، وہ انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گی۔ ان کے اعمال اگرچہ اچھے ہوں وہ تو اکارت جائیں گے۔ کیونکہ ایمان کے بغیر عمل مقبول ہی نہیں۔ اور قیامت میں ان کی ملکیت زائل ہوجائے گی کوئی نہ ان کے پاس ہوگی اور نہ فائدہ دے گی۔ اور ان کے دوست اور یار یا معبود ، جو اللہ کے سوا انہوں نے بنا رکھے تھے ، وہ وہاں ان کے لئے نہ نقصان پہنچا سکیں گے اور نہ نفع۔ نہ کسی کو سفارش کی اجازت ہوگی۔ ولھم عذاب عظیم (45 : 10) “ ان کے لئے بڑا عذاب ہے ”۔ یہ عذاب توہین آمیز بھی ہوگا جیسا کہ پہلے کہا گیا اور عظیم بھی ہوگا۔ توہین آمیز اس لیے کہ یہ آیات کا مذاق اڑاتے تھے ، اور عظیم اس لیے کہ جرم بڑا ہے۔ یہ پیراگراف یہاں ختم ہوتا ہے جس میں آیات الٰہیہ ساتھ مذاق کرنے کی مذمت وارد ہے۔ ان کے مقابلے میں استکبار کرنے کا ذکر ، ان آیات سے لوگوں کو روکنے کا ذکر ہے۔ خاتمہ پر ان آیات کی حقیقت بیان کی جاتی ہے اور ان کے منکرین کی سزا کا دوبارہ ذکر کردیا جاتا ہے۔

الجاثية 45:8

آیت نمبر 7 تا 10 جیسا کہ ہم نے اس سورت کے مقدمے میں بھی وضاحت کی کہ مکہ میں مشرکین نے جس طرح دعوت اسلامی کا استقبال کیا ، اس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے باطل موقف پر اصرار کیا۔ ایسی سچی دعوت کا ایک لفظ بھی سننے سے انکار کیا جو حق پر مبنی تھی اور جو اپنی ذات میں واضح تھی۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب تھی۔ انہوں نے اس حقیقت کے ماننے میں اس قدر ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ یوں نظر آتا تھا کہ گویا یہ دعوت ان کے ہاں اذہان تک پہنچی ہی نہیں ہے بلکہ الٹا وہ اللہ کے معاملے میں گستاخ ہوگئے۔ اور قرآن کی جو آیات ان تک پہنچی ان سے منہ موڑنے لگے قرآن کریم نے ان کے اس رویے کی نہایت شدید مذمت کی ہے۔ اور سخت دھمکی دی ہے ان کے لئے سخت بربادی ہے اور ان کو شدید توہین آمیز اور دردناک عذاب سے دوچار ہونا ہوگا۔ ویل لکل افاک اثیم (45 : 7) “ تباہی ہے ہر اس جھوٹے بد اعمال شخص کے لئے ”۔ ویل ، یعنی ہلاک ہے۔ افاک ، بہت بڑا جھوٹا جو جھوٹ باندھنے میں مہارت رکھتا ہو۔ بہت زیادہ گناہ کاریاں اور بدکاریاں سمیٹنے والا۔ یہ دھمکی ہر اس شخص کے لئے ہے جس میں یہ صفات موجود ہیں۔ یہ اللہ قہار و جبار کی دھمکی ہے جو ہلاک کرنے اور برباد کرنے پر قدرت رکھتا ہے جس کی دھمکی اور ڈراوا اور تہدید بالکل سچی ہوتی ہے۔ اس لیے اس فقرے میں جو دھمکی دی گئی ، وہ بہت ہی خوفناک ہے۔ ایسے افاک جھوٹے اور بداعمال اور بدکار کی صفت و علامت کیا ہے ؟ یہ کہ وہ باطل پر اصرار کرتا ہے ، سچائی کے مقابلے میں جھکنے کی بجائے اور اکڑتا ہے ، اللہ کی نشانیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے منہ موڑتا ہے اور شریفانہ رویہ اختیار نہیں کرتا بلکہ گستاخی کرتا ہے۔ یسمع ایت اللہ ۔۔۔۔۔ لم یسمعھا (45 : 8) “ جس کے سامنے اللہ کی آیات بڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتا ہے پھر پورے غرور کے ساتھ اپنے کفر پر اڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں ”۔ یہ نہایت ہی قابل نفرت تصویر ہے۔ اگرچہ یہ مشرکین مکہ کے ایک گروہ کی تصویر ہے جو اس وقت ایسا تھا ، مگر ہر نظام جاہلیت میں یہ تصویر اسی طرح دہرائی جاتی ہے۔ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی۔ اس زمین پر کتنے ہی ایسے لوگ ہیں اور نام نہاد مسلمانوں میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتے ہیں مگر اپنے موقف پر اڑ جاتے ہیں اور غرور میں منہ موڑ لیتے ہیں کیونکہ وہ ان کی خواہشات کے موافق اور ان کے مالوفات سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں اور یہ آیات باطل پر تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں اور یہ اس شر کی تائید نہیں کرتیں جس پر وہ مصر ہوتے ہیں اور یہ آیات اس سمت پر نہ خود چلتی ہیں اور نہ لوگوں کو چلاتی ہیں جس سمت پر وہ جارہے ہیں۔ فبشرہ بعذاب الیم (45 : 8) “ ایسے شخص کو دردناک عذاب کا مژدہ سنا دو ”۔ خوشخبری تو کسی اچھے کام پر ہوتی ہے۔ یہاں ان کے لئے بطور استہزاء خوشخبری کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اگر کوئی ڈرانے والے اور متنبہ کرنے والے کی بات نہیں مانتا تو پھر اگر ہلاکت آتی ہے تو آنے دو ، وہ خود ہلاکت طلب کرتا ہے۔ واذا علم من ایتنا شیئا اتخذھا ھزوا (45 : 9) “ ہماری آیات میں سے جب کوئی چیز اس کے علم میں آتی ہے ، تو وہ ان کا مذاق بنا لیتا ہے ”۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ اللہ کی آیات اور ان کا سرچشمہ ذات باری ہے۔ یہ رویہ اس کی جانب سے شدید جسارت ہے۔ یہ تصویر بھی جس طرح جاہلیت اولیٰ میں تھی اسی طرح آج بھی موجود ہے۔ اور بیشمار لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، ان میں سے بھی ایسے لوگ ہیں جو آیات الٰہیہ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور وہ ان آیات اور ان پر ایمان لانے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو بھی جو عوام الناس کی زندگیوں کو ان آیات کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ اولئک لھم عذاب مھین (45 : 9) “ ان سب لوگوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے ”۔ اہانت ان کے لئے موزوں سزا ہے کیونکہ یہ بھی تو اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات الٰہیہ ہیں۔ یہ قیامت کا توہین آمیز عذاب حاضر ہے ، اگرچہ قیامت کا برپا ہونا قدرے بعد میں ہے۔ من ورائھم جھنم (45 : 10) “ ان کے پیچھے جہنم ہے ”۔ لفظ “ ان کے پیچھے جہنم ہے ” کا ایک خاص مقصد ہے یعنی یہ اسے دیکھ نہیں سکتے کہ انہوں نے قیامت کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اس سے ڈرتے اور بچتے اس لیے نہیں کہ یہ غافل ہیں اور اس لیے وہ اس کے اندر گرنے والے ہیں۔ ولا یغنی عنھم ۔۔۔۔۔۔ اولیاء (45 : 10) “ جو کچھ انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس میں سے کوئی چیز ان کے کسی کام نہ آئے گی ، نہ ان کے وہ سرپرست ہی ان کے لئے کچھ کرسکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے ”۔ یعنی دنیا میں انہوں نے جو کام کئے یا جو ان کی ملکیت تھی ، وہ انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گی۔ ان کے اعمال اگرچہ اچھے ہوں وہ تو اکارت جائیں گے۔ کیونکہ ایمان کے بغیر عمل مقبول ہی نہیں۔ اور قیامت میں ان کی ملکیت زائل ہوجائے گی کوئی نہ ان کے پاس ہوگی اور نہ فائدہ دے گی۔ اور ان کے دوست اور یار یا معبود ، جو اللہ کے سوا انہوں نے بنا رکھے تھے ، وہ وہاں ان کے لئے نہ نقصان پہنچا سکیں گے اور نہ نفع۔ نہ کسی کو سفارش کی اجازت ہوگی۔ ولھم عذاب عظیم (45 : 10) “ ان کے لئے بڑا عذاب ہے ”۔ یہ عذاب توہین آمیز بھی ہوگا جیسا کہ پہلے کہا گیا اور عظیم بھی ہوگا۔ توہین آمیز اس لیے کہ یہ آیات کا مذاق اڑاتے تھے ، اور عظیم اس لیے کہ جرم بڑا ہے۔ یہ پیراگراف یہاں ختم ہوتا ہے جس میں آیات الٰہیہ ساتھ مذاق کرنے کی مذمت وارد ہے۔ ان کے مقابلے میں استکبار کرنے کا ذکر ، ان آیات سے لوگوں کو روکنے کا ذکر ہے۔ خاتمہ پر ان آیات کی حقیقت بیان کی جاتی ہے اور ان کے منکرین کی سزا کا دوبارہ ذکر کردیا جاتا ہے۔

الجاثية 45:9

آیت نمبر 7 تا 10 جیسا کہ ہم نے اس سورت کے مقدمے میں بھی وضاحت کی کہ مکہ میں مشرکین نے جس طرح دعوت اسلامی کا استقبال کیا ، اس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے باطل موقف پر اصرار کیا۔ ایسی سچی دعوت کا ایک لفظ بھی سننے سے انکار کیا جو حق پر مبنی تھی اور جو اپنی ذات میں واضح تھی۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب تھی۔ انہوں نے اس حقیقت کے ماننے میں اس قدر ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ یوں نظر آتا تھا کہ گویا یہ دعوت ان کے ہاں اذہان تک پہنچی ہی نہیں ہے بلکہ الٹا وہ اللہ کے معاملے میں گستاخ ہوگئے۔ اور قرآن کی جو آیات ان تک پہنچی ان سے منہ موڑنے لگے قرآن کریم نے ان کے اس رویے کی نہایت شدید مذمت کی ہے۔ اور سخت دھمکی دی ہے ان کے لئے سخت بربادی ہے اور ان کو شدید توہین آمیز اور دردناک عذاب سے دوچار ہونا ہوگا۔ ویل لکل افاک اثیم (45 : 7) “ تباہی ہے ہر اس جھوٹے بد اعمال شخص کے لئے ”۔ ویل ، یعنی ہلاک ہے۔ افاک ، بہت بڑا جھوٹا جو جھوٹ باندھنے میں مہارت رکھتا ہو۔ بہت زیادہ گناہ کاریاں اور بدکاریاں سمیٹنے والا۔ یہ دھمکی ہر اس شخص کے لئے ہے جس میں یہ صفات موجود ہیں۔ یہ اللہ قہار و جبار کی دھمکی ہے جو ہلاک کرنے اور برباد کرنے پر قدرت رکھتا ہے جس کی دھمکی اور ڈراوا اور تہدید بالکل سچی ہوتی ہے۔ اس لیے اس فقرے میں جو دھمکی دی گئی ، وہ بہت ہی خوفناک ہے۔ ایسے افاک جھوٹے اور بداعمال اور بدکار کی صفت و علامت کیا ہے ؟ یہ کہ وہ باطل پر اصرار کرتا ہے ، سچائی کے مقابلے میں جھکنے کی بجائے اور اکڑتا ہے ، اللہ کی نشانیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے منہ موڑتا ہے اور شریفانہ رویہ اختیار نہیں کرتا بلکہ گستاخی کرتا ہے۔ یسمع ایت اللہ ۔۔۔۔۔ لم یسمعھا (45 : 8) “ جس کے سامنے اللہ کی آیات بڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتا ہے پھر پورے غرور کے ساتھ اپنے کفر پر اڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں ”۔ یہ نہایت ہی قابل نفرت تصویر ہے۔ اگرچہ یہ مشرکین مکہ کے ایک گروہ کی تصویر ہے جو اس وقت ایسا تھا ، مگر ہر نظام جاہلیت میں یہ تصویر اسی طرح دہرائی جاتی ہے۔ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی۔ اس زمین پر کتنے ہی ایسے لوگ ہیں اور نام نہاد مسلمانوں میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتے ہیں مگر اپنے موقف پر اڑ جاتے ہیں اور غرور میں منہ موڑ لیتے ہیں کیونکہ وہ ان کی خواہشات کے موافق اور ان کے مالوفات سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں اور یہ آیات باطل پر تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں اور یہ اس شر کی تائید نہیں کرتیں جس پر وہ مصر ہوتے ہیں اور یہ آیات اس سمت پر نہ خود چلتی ہیں اور نہ لوگوں کو چلاتی ہیں جس سمت پر وہ جارہے ہیں۔ فبشرہ بعذاب الیم (45 : 8) “ ایسے شخص کو دردناک عذاب کا مژدہ سنا دو ”۔ خوشخبری تو کسی اچھے کام پر ہوتی ہے۔ یہاں ان کے لئے بطور استہزاء خوشخبری کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اگر کوئی ڈرانے والے اور متنبہ کرنے والے کی بات نہیں مانتا تو پھر اگر ہلاکت آتی ہے تو آنے دو ، وہ خود ہلاکت طلب کرتا ہے۔ واذا علم من ایتنا شیئا اتخذھا ھزوا (45 : 9) “ ہماری آیات میں سے جب کوئی چیز اس کے علم میں آتی ہے ، تو وہ ان کا مذاق بنا لیتا ہے ”۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ اللہ کی آیات اور ان کا سرچشمہ ذات باری ہے۔ یہ رویہ اس کی جانب سے شدید جسارت ہے۔ یہ تصویر بھی جس طرح جاہلیت اولیٰ میں تھی اسی طرح آج بھی موجود ہے۔ اور بیشمار لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، ان میں سے بھی ایسے لوگ ہیں جو آیات الٰہیہ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور وہ ان آیات اور ان پر ایمان لانے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو بھی جو عوام الناس کی زندگیوں کو ان آیات کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ اولئک لھم عذاب مھین (45 : 9) “ ان سب لوگوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے ”۔ اہانت ان کے لئے موزوں سزا ہے کیونکہ یہ بھی تو اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات الٰہیہ ہیں۔ یہ قیامت کا توہین آمیز عذاب حاضر ہے ، اگرچہ قیامت کا برپا ہونا قدرے بعد میں ہے۔ من ورائھم جھنم (45 : 10) “ ان کے پیچھے جہنم ہے ”۔ لفظ “ ان کے پیچھے جہنم ہے ” کا ایک خاص مقصد ہے یعنی یہ اسے دیکھ نہیں سکتے کہ انہوں نے قیامت کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اس سے ڈرتے اور بچتے اس لیے نہیں کہ یہ غافل ہیں اور اس لیے وہ اس کے اندر گرنے والے ہیں۔ ولا یغنی عنھم ۔۔۔۔۔۔ اولیاء (45 : 10) “ جو کچھ انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس میں سے کوئی چیز ان کے کسی کام نہ آئے گی ، نہ ان کے وہ سرپرست ہی ان کے لئے کچھ کرسکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے ”۔ یعنی دنیا میں انہوں نے جو کام کئے یا جو ان کی ملکیت تھی ، وہ انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گی۔ ان کے اعمال اگرچہ اچھے ہوں وہ تو اکارت جائیں گے۔ کیونکہ ایمان کے بغیر عمل مقبول ہی نہیں۔ اور قیامت میں ان کی ملکیت زائل ہوجائے گی کوئی نہ ان کے پاس ہوگی اور نہ فائدہ دے گی۔ اور ان کے دوست اور یار یا معبود ، جو اللہ کے سوا انہوں نے بنا رکھے تھے ، وہ وہاں ان کے لئے نہ نقصان پہنچا سکیں گے اور نہ نفع۔ نہ کسی کو سفارش کی اجازت ہوگی۔ ولھم عذاب عظیم (45 : 10) “ ان کے لئے بڑا عذاب ہے ”۔ یہ عذاب توہین آمیز بھی ہوگا جیسا کہ پہلے کہا گیا اور عظیم بھی ہوگا۔ توہین آمیز اس لیے کہ یہ آیات کا مذاق اڑاتے تھے ، اور عظیم اس لیے کہ جرم بڑا ہے۔ یہ پیراگراف یہاں ختم ہوتا ہے جس میں آیات الٰہیہ ساتھ مذاق کرنے کی مذمت وارد ہے۔ ان کے مقابلے میں استکبار کرنے کا ذکر ، ان آیات سے لوگوں کو روکنے کا ذکر ہے۔ خاتمہ پر ان آیات کی حقیقت بیان کی جاتی ہے اور ان کے منکرین کی سزا کا دوبارہ ذکر کردیا جاتا ہے۔

الجاثية 45:10

آیت نمبر 7 تا 10 جیسا کہ ہم نے اس سورت کے مقدمے میں بھی وضاحت کی کہ مکہ میں مشرکین نے جس طرح دعوت اسلامی کا استقبال کیا ، اس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے باطل موقف پر اصرار کیا۔ ایسی سچی دعوت کا ایک لفظ بھی سننے سے انکار کیا جو حق پر مبنی تھی اور جو اپنی ذات میں واضح تھی۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب تھی۔ انہوں نے اس حقیقت کے ماننے میں اس قدر ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ یوں نظر آتا تھا کہ گویا یہ دعوت ان کے ہاں اذہان تک پہنچی ہی نہیں ہے بلکہ الٹا وہ اللہ کے معاملے میں گستاخ ہوگئے۔ اور قرآن کی جو آیات ان تک پہنچی ان سے منہ موڑنے لگے قرآن کریم نے ان کے اس رویے کی نہایت شدید مذمت کی ہے۔ اور سخت دھمکی دی ہے ان کے لئے سخت بربادی ہے اور ان کو شدید توہین آمیز اور دردناک عذاب سے دوچار ہونا ہوگا۔ ویل لکل افاک اثیم (45 : 7) “ تباہی ہے ہر اس جھوٹے بد اعمال شخص کے لئے ”۔ ویل ، یعنی ہلاک ہے۔ افاک ، بہت بڑا جھوٹا جو جھوٹ باندھنے میں مہارت رکھتا ہو۔ بہت زیادہ گناہ کاریاں اور بدکاریاں سمیٹنے والا۔ یہ دھمکی ہر اس شخص کے لئے ہے جس میں یہ صفات موجود ہیں۔ یہ اللہ قہار و جبار کی دھمکی ہے جو ہلاک کرنے اور برباد کرنے پر قدرت رکھتا ہے جس کی دھمکی اور ڈراوا اور تہدید بالکل سچی ہوتی ہے۔ اس لیے اس فقرے میں جو دھمکی دی گئی ، وہ بہت ہی خوفناک ہے۔ ایسے افاک جھوٹے اور بداعمال اور بدکار کی صفت و علامت کیا ہے ؟ یہ کہ وہ باطل پر اصرار کرتا ہے ، سچائی کے مقابلے میں جھکنے کی بجائے اور اکڑتا ہے ، اللہ کی نشانیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے منہ موڑتا ہے اور شریفانہ رویہ اختیار نہیں کرتا بلکہ گستاخی کرتا ہے۔ یسمع ایت اللہ ۔۔۔۔۔ لم یسمعھا (45 : 8) “ جس کے سامنے اللہ کی آیات بڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتا ہے پھر پورے غرور کے ساتھ اپنے کفر پر اڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں ”۔ یہ نہایت ہی قابل نفرت تصویر ہے۔ اگرچہ یہ مشرکین مکہ کے ایک گروہ کی تصویر ہے جو اس وقت ایسا تھا ، مگر ہر نظام جاہلیت میں یہ تصویر اسی طرح دہرائی جاتی ہے۔ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی۔ اس زمین پر کتنے ہی ایسے لوگ ہیں اور نام نہاد مسلمانوں میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتے ہیں مگر اپنے موقف پر اڑ جاتے ہیں اور غرور میں منہ موڑ لیتے ہیں کیونکہ وہ ان کی خواہشات کے موافق اور ان کے مالوفات سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں اور یہ آیات باطل پر تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں اور یہ اس شر کی تائید نہیں کرتیں جس پر وہ مصر ہوتے ہیں اور یہ آیات اس سمت پر نہ خود چلتی ہیں اور نہ لوگوں کو چلاتی ہیں جس سمت پر وہ جارہے ہیں۔ فبشرہ بعذاب الیم (45 : 8) “ ایسے شخص کو دردناک عذاب کا مژدہ سنا دو ”۔ خوشخبری تو کسی اچھے کام پر ہوتی ہے۔ یہاں ان کے لئے بطور استہزاء خوشخبری کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اگر کوئی ڈرانے والے اور متنبہ کرنے والے کی بات نہیں مانتا تو پھر اگر ہلاکت آتی ہے تو آنے دو ، وہ خود ہلاکت طلب کرتا ہے۔ واذا علم من ایتنا شیئا اتخذھا ھزوا (45 : 9) “ ہماری آیات میں سے جب کوئی چیز اس کے علم میں آتی ہے ، تو وہ ان کا مذاق بنا لیتا ہے ”۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ اللہ کی آیات اور ان کا سرچشمہ ذات باری ہے۔ یہ رویہ اس کی جانب سے شدید جسارت ہے۔ یہ تصویر بھی جس طرح جاہلیت اولیٰ میں تھی اسی طرح آج بھی موجود ہے۔ اور بیشمار لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، ان میں سے بھی ایسے لوگ ہیں جو آیات الٰہیہ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور وہ ان آیات اور ان پر ایمان لانے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو بھی جو عوام الناس کی زندگیوں کو ان آیات کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ اولئک لھم عذاب مھین (45 : 9) “ ان سب لوگوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے ”۔ اہانت ان کے لئے موزوں سزا ہے کیونکہ یہ بھی تو اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات الٰہیہ ہیں۔ یہ قیامت کا توہین آمیز عذاب حاضر ہے ، اگرچہ قیامت کا برپا ہونا قدرے بعد میں ہے۔ من ورائھم جھنم (45 : 10) “ ان کے پیچھے جہنم ہے ”۔ لفظ “ ان کے پیچھے جہنم ہے ” کا ایک خاص مقصد ہے یعنی یہ اسے دیکھ نہیں سکتے کہ انہوں نے قیامت کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اس سے ڈرتے اور بچتے اس لیے نہیں کہ یہ غافل ہیں اور اس لیے وہ اس کے اندر گرنے والے ہیں۔ ولا یغنی عنھم ۔۔۔۔۔۔ اولیاء (45 : 10) “ جو کچھ انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس میں سے کوئی چیز ان کے کسی کام نہ آئے گی ، نہ ان کے وہ سرپرست ہی ان کے لئے کچھ کرسکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے ”۔ یعنی دنیا میں انہوں نے جو کام کئے یا جو ان کی ملکیت تھی ، وہ انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گی۔ ان کے اعمال اگرچہ اچھے ہوں وہ تو اکارت جائیں گے۔ کیونکہ ایمان کے بغیر عمل مقبول ہی نہیں۔ اور قیامت میں ان کی ملکیت زائل ہوجائے گی کوئی نہ ان کے پاس ہوگی اور نہ فائدہ دے گی۔ اور ان کے دوست اور یار یا معبود ، جو اللہ کے سوا انہوں نے بنا رکھے تھے ، وہ وہاں ان کے لئے نہ نقصان پہنچا سکیں گے اور نہ نفع۔ نہ کسی کو سفارش کی اجازت ہوگی۔ ولھم عذاب عظیم (45 : 10) “ ان کے لئے بڑا عذاب ہے ”۔ یہ عذاب توہین آمیز بھی ہوگا جیسا کہ پہلے کہا گیا اور عظیم بھی ہوگا۔ توہین آمیز اس لیے کہ یہ آیات کا مذاق اڑاتے تھے ، اور عظیم اس لیے کہ جرم بڑا ہے۔ یہ پیراگراف یہاں ختم ہوتا ہے جس میں آیات الٰہیہ ساتھ مذاق کرنے کی مذمت وارد ہے۔ ان کے مقابلے میں استکبار کرنے کا ذکر ، ان آیات سے لوگوں کو روکنے کا ذکر ہے۔ خاتمہ پر ان آیات کی حقیقت بیان کی جاتی ہے اور ان کے منکرین کی سزا کا دوبارہ ذکر کردیا جاتا ہے۔

الجاثية 45:11

آیت نمبر 11 اس قرآن کی حقیقت بس یہ ہے کہ یہ ایک رہنمائی ہے۔ خالص ہدایت ، صاف صاف ہدایت ۔ ایسی ہدایت جس میں ضلالت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ اس لیے اس قسم کی آیات کا جو لوگ انکار کرتے ہیں ، وہ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ ان کو دردناک عذاب سے دوچار کردیا جائے۔ الیم کے معنی میں شدت الم اور ایذا رسانی کے معنی ظاہر ہیں۔ رجز کے معنی ہیں عذاب شدید۔ اور جس عذاب کی انہیں دھمکی دی جارہی ہے ، وہ الیم بھی ہے اور شدید بھی ۔ یعنی اس کی شدت اور اس کا الم دونوں مکررو مشدد ہیں۔ تاکید بعد تاکید ہے اور جو لوگ واضح خالص اور صریح ہدایت کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے ایسا عذاب ہی ہونا چاہئے۔ ٭٭٭٭٭ اس شدید دھمکی اور سخت ڈراوے کے بعد اب پھر ان کے دلوں کو باد نسیم کی طرح نرم بات سے راہ راست لانے کی کوشش کی جاتی ہے اور وہ انعامات دوبارہ یاد دلائے جاتے ہیں جو اس کائنات میں ان کے لئے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔

الجاثية 45:12

آیت نمبر 12 تا 13 اللہ کی یہ چھوٹی سی مخلوق انسان پر اللہ کے بڑے کرم ہیں کہ اس نے اس کے لئے اس کائنات کی عظیم مخلوقات کو مسخر کردیا ہے۔ اور ان مخلوقات سے یہ مختلف طریقوں سے فائدہ اٹھا تا ہے اور اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ سمجھایا ہے کہ اس کائنات کا قانون فطرت کیا ہے ؟ جس کے مطابق یہ کائنات چلتی ہے اور اس کے خلاف نہیں جاسکتی۔ اگر اللہ کی جانب سے انسان کو اس قدر علمی صلاحیت نہ دی گئی ہوتی تو اس کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ ان کائناتی قوتوں کو اس طرح مسخر کر کے ان سے اس طرح استفادہ کرتا بلکہ اس کے لئے ان قوتوں کے اندر زندہ رہنا بھی مشکل ہوجاتا کیونکہ انسان ایک چھوٹا سا کیڑا ہے اور فطرت کی قوتیں نہایت ہی عظیم القوت ، عظیم الجثہ اور بڑے بڑے افلاک ہیں۔ سمندر ان بڑی قوتوں میں سے ایک ہے جسے انسان نے مسخر کرلیا ہے۔ انسان کو اللہ نے اس کی ساخت اور خصوصیات کا علم دیا اور انسان نے معلوم کیا کہ کشتی اس عظیم اور سرکش سمندر کے اوپر چل سکتی ہے اور اس کی بھپری ہوئی جبار موجوں کے ساتھ ٹکرا سکتی ہے اور اسے ان سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ لتجری الفلک فیہ بامرہ (45 : 12) “ تا کہ اس کے حکم سے کشتیاں اس میں چلیں ”۔ اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو یہ خصوصیات دیں اور کشتی کے مواد کو تیرنے کی خصوصیات دیں۔ فضا کے دباؤ، ہواؤں کی تیزی اور زمین کی کشش کی خصوصیات پیدا کیں اور وہ دوسرے خصائص اس میں رکھے جن کی وجہ سے بحری سفر آسان ہوا اور انسان کو اس کام کا علم دیا کہ وہ سمندر مخلوق سے نفع اٹھائے اور دوسرے فوائد بھی حاصل کرے۔ ولتبتغوا من فضلہ (45 : 12) “ اور تم اس کا فضل تلاش کرو ”۔ مثلاً سمندر میں شکار ، زیب وزینت کا سامان ، تجارت ، معلوماتی سفر ، تجربات ، مشقیں ، ورزش اور تفریح وغیرہ۔ غرض وہ سارے فوائد جو یہ چھوٹا سا انسان سمندروں سے حاصل کرتا ہے۔ غرض اللہ نے انسان کے لئے کشتی اور سمندر دونوں کو مسخر کیا کہ وہ اللہ کے فضل کی تلاش کرے۔ پھر اللہ کا شکر کرے کہ اللہ نے یہ فضل و کرم ، یہ انعامات اور یہ تسخیر اور یہ علم اسے دیا۔ ولعلم تشکرون (45 : 12) “ اور تم شکر گزار بنو ”۔ اللہ تعالیٰ پھر اس قرآن کے ذریعہ انسان کو ہدایت کرتا ہے کہ اس ذات باری کی وفاداری کرو ، اس سے تعلق قائم کرو ، اور یہ بات معلوم کرو کہ تمہارے اور اس کائنات کے درمیان ایک تعلق ہے اور وہ یہ کہ تم اس کا حصہ ہو اور ایک ناموس فطرت کے تحت چل رہے ہو اور تم دونوں کا رخ اللہ ہی کی طرف ہے۔ سمندروں کی تسخیر کے خصوصی ذکر کے ساتھ یہ پوری کائنات بھی بالعموم تمہارے لیے مسخر کردی گئی ہے۔ زمین اور آسمانوں کے درمیان پائے جانے والی تمام قوتیں ، نعمتیں اور مفید چیزیں جو اس کے لئے فرائض منصب خلافت کی ادائیگی میں مفید و معاون ہیں۔ وسخر لکم ۔۔۔۔۔۔ جمیعا منہ (45 : 13) “ اس نے زمین اور آسمان کی ساری ہی چیزیں تمہارے لیے مسخر کردیں ، سب کچھ اپنے پاس سے ”۔ اس کائنات میں جتنی چیزیں بھی ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہیں اور اسی کی ہیں۔ وہی ان کا پیدا کرنے والا اور مدبر ہے۔ اس نے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ اور ان پر اس چھوٹی سی مخلوق کو مسلط کردیا ہے۔ انسان جسے اللہ نے اس کائنات کے مزاج اور اس کے قوانین کو سمجھنے کی قوت دی اور وہ اپنی قوت اور طاقت سے کہیں بڑی قوتوں کو مسخر کرتا ہے۔ یہ سب کام اللہ کا فضل و کرم ہے۔ اس انسان پر اور جو لوگ تفکر اور تدبر سے کام لیتے ہیں ان کے لئے اس میں آیات و نشانات ہیں بشرطیکہ وہ اپنی اس عقل سے یہ فائدہ بھی اٹھائیں کہ اس کائنات اور اس انسان کا ایک پیدا کرنے والا بھی ہے جس نے اسے یہ سب کچھ دیا ہے اپنے کرم خاص سے : ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (45 : 13) “ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر کرنے والے ہیں ”۔ یہ فکر اور یہ تدبر اس وقت تک صحیح ، جامع اور گہرا نہ ہو سکے گا جب تک وہ ان قوتوں ، مسخر شدہ قوتوں کے پیچھے اس بڑی قوت کی طرف جھانکنے کی کوشش نہ کرے گا ، جس نے ان تمام قوتوں کو پیدا کیا اور جس نے انسان کو پیدا کیا اور پھر انسان کو ان رازوں سے آگاہ کیا کہ ان کا راز یہ ہے اور ان کا قانون قدرت یہ ہے اور فطرت کائنات اور فطرت انسان ایک ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان یہ تعلق ہے۔ اس تعلق کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان کو علم حاصل ہوا ، اسے قوت اور کنٹرول حاصل ہوا ، اس نے ان قوتوں کو مسخر کر کے اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا۔ اگر یہ تعلق نہ ہوتا تو انسان کو ان چیزوں سے کچھ بھی حاصل نہ ہوتا۔ ٭٭٭ جب بات یہاں تک پہنچی ہے اور ایک مومن اس کائنات کے قلب تک جا پہنچتا ہے۔ اسے شعور حاصل ہوجاتا ہے کہ قوت کا حقیقی سرچشمہ کیا ہے ، یہ کہ اس کائنات کے اسرار و رموز کی آگاہی دراصل قوت کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ اب مومنین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ شرافت ، اخلاق عالیہ ، وسعت قلبی اور رواداری اختیار کریں اور جو ضعیف ، ناتواں اور جاہل لوگ اس خزانے اور اس بھرپور خزانہ علم و معرفت سے محروم ہیں ، ان پر رحم کریں ، ان کے ساتھ ہمدردی کریں کہ یہ لوگ ان عظیم حقائق سے محروم ہیں۔ جو اللہ کے نوامیس فطرت کو نہیں دیکھتے ، جو تاریخ میں سنن الٰہیہ کو تلاش نہیں کرتے جو اس کائنات کے اسر اور موز سے واقف نہیں اور اس لیے وہ اس خالق کی عظمت سے بھی بیخبر ہیں۔

الجاثية 45:13

آیت نمبر 12 تا 13 اللہ کی یہ چھوٹی سی مخلوق انسان پر اللہ کے بڑے کرم ہیں کہ اس نے اس کے لئے اس کائنات کی عظیم مخلوقات کو مسخر کردیا ہے۔ اور ان مخلوقات سے یہ مختلف طریقوں سے فائدہ اٹھا تا ہے اور اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ سمجھایا ہے کہ اس کائنات کا قانون فطرت کیا ہے ؟ جس کے مطابق یہ کائنات چلتی ہے اور اس کے خلاف نہیں جاسکتی۔ اگر اللہ کی جانب سے انسان کو اس قدر علمی صلاحیت نہ دی گئی ہوتی تو اس کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ ان کائناتی قوتوں کو اس طرح مسخر کر کے ان سے اس طرح استفادہ کرتا بلکہ اس کے لئے ان قوتوں کے اندر زندہ رہنا بھی مشکل ہوجاتا کیونکہ انسان ایک چھوٹا سا کیڑا ہے اور فطرت کی قوتیں نہایت ہی عظیم القوت ، عظیم الجثہ اور بڑے بڑے افلاک ہیں۔ سمندر ان بڑی قوتوں میں سے ایک ہے جسے انسان نے مسخر کرلیا ہے۔ انسان کو اللہ نے اس کی ساخت اور خصوصیات کا علم دیا اور انسان نے معلوم کیا کہ کشتی اس عظیم اور سرکش سمندر کے اوپر چل سکتی ہے اور اس کی بھپری ہوئی جبار موجوں کے ساتھ ٹکرا سکتی ہے اور اسے ان سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ لتجری الفلک فیہ بامرہ (45 : 12) “ تا کہ اس کے حکم سے کشتیاں اس میں چلیں ”۔ اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو یہ خصوصیات دیں اور کشتی کے مواد کو تیرنے کی خصوصیات دیں۔ فضا کے دباؤ، ہواؤں کی تیزی اور زمین کی کشش کی خصوصیات پیدا کیں اور وہ دوسرے خصائص اس میں رکھے جن کی وجہ سے بحری سفر آسان ہوا اور انسان کو اس کام کا علم دیا کہ وہ سمندر مخلوق سے نفع اٹھائے اور دوسرے فوائد بھی حاصل کرے۔ ولتبتغوا من فضلہ (45 : 12) “ اور تم اس کا فضل تلاش کرو ”۔ مثلاً سمندر میں شکار ، زیب وزینت کا سامان ، تجارت ، معلوماتی سفر ، تجربات ، مشقیں ، ورزش اور تفریح وغیرہ۔ غرض وہ سارے فوائد جو یہ چھوٹا سا انسان سمندروں سے حاصل کرتا ہے۔ غرض اللہ نے انسان کے لئے کشتی اور سمندر دونوں کو مسخر کیا کہ وہ اللہ کے فضل کی تلاش کرے۔ پھر اللہ کا شکر کرے کہ اللہ نے یہ فضل و کرم ، یہ انعامات اور یہ تسخیر اور یہ علم اسے دیا۔ ولعلم تشکرون (45 : 12) “ اور تم شکر گزار بنو ”۔ اللہ تعالیٰ پھر اس قرآن کے ذریعہ انسان کو ہدایت کرتا ہے کہ اس ذات باری کی وفاداری کرو ، اس سے تعلق قائم کرو ، اور یہ بات معلوم کرو کہ تمہارے اور اس کائنات کے درمیان ایک تعلق ہے اور وہ یہ کہ تم اس کا حصہ ہو اور ایک ناموس فطرت کے تحت چل رہے ہو اور تم دونوں کا رخ اللہ ہی کی طرف ہے۔ سمندروں کی تسخیر کے خصوصی ذکر کے ساتھ یہ پوری کائنات بھی بالعموم تمہارے لیے مسخر کردی گئی ہے۔ زمین اور آسمانوں کے درمیان پائے جانے والی تمام قوتیں ، نعمتیں اور مفید چیزیں جو اس کے لئے فرائض منصب خلافت کی ادائیگی میں مفید و معاون ہیں۔ وسخر لکم ۔۔۔۔۔۔ جمیعا منہ (45 : 13) “ اس نے زمین اور آسمان کی ساری ہی چیزیں تمہارے لیے مسخر کردیں ، سب کچھ اپنے پاس سے ”۔ اس کائنات میں جتنی چیزیں بھی ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہیں اور اسی کی ہیں۔ وہی ان کا پیدا کرنے والا اور مدبر ہے۔ اس نے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ اور ان پر اس چھوٹی سی مخلوق کو مسلط کردیا ہے۔ انسان جسے اللہ نے اس کائنات کے مزاج اور اس کے قوانین کو سمجھنے کی قوت دی اور وہ اپنی قوت اور طاقت سے کہیں بڑی قوتوں کو مسخر کرتا ہے۔ یہ سب کام اللہ کا فضل و کرم ہے۔ اس انسان پر اور جو لوگ تفکر اور تدبر سے کام لیتے ہیں ان کے لئے اس میں آیات و نشانات ہیں بشرطیکہ وہ اپنی اس عقل سے یہ فائدہ بھی اٹھائیں کہ اس کائنات اور اس انسان کا ایک پیدا کرنے والا بھی ہے جس نے اسے یہ سب کچھ دیا ہے اپنے کرم خاص سے : ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (45 : 13) “ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر کرنے والے ہیں ”۔ یہ فکر اور یہ تدبر اس وقت تک صحیح ، جامع اور گہرا نہ ہو سکے گا جب تک وہ ان قوتوں ، مسخر شدہ قوتوں کے پیچھے اس بڑی قوت کی طرف جھانکنے کی کوشش نہ کرے گا ، جس نے ان تمام قوتوں کو پیدا کیا اور جس نے انسان کو پیدا کیا اور پھر انسان کو ان رازوں سے آگاہ کیا کہ ان کا راز یہ ہے اور ان کا قانون قدرت یہ ہے اور فطرت کائنات اور فطرت انسان ایک ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان یہ تعلق ہے۔ اس تعلق کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان کو علم حاصل ہوا ، اسے قوت اور کنٹرول حاصل ہوا ، اس نے ان قوتوں کو مسخر کر کے اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا۔ اگر یہ تعلق نہ ہوتا تو انسان کو ان چیزوں سے کچھ بھی حاصل نہ ہوتا۔ ٭٭٭ جب بات یہاں تک پہنچی ہے اور ایک مومن اس کائنات کے قلب تک جا پہنچتا ہے۔ اسے شعور حاصل ہوجاتا ہے کہ قوت کا حقیقی سرچشمہ کیا ہے ، یہ کہ اس کائنات کے اسرار و رموز کی آگاہی دراصل قوت کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ اب مومنین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ شرافت ، اخلاق عالیہ ، وسعت قلبی اور رواداری اختیار کریں اور جو ضعیف ، ناتواں اور جاہل لوگ اس خزانے اور اس بھرپور خزانہ علم و معرفت سے محروم ہیں ، ان پر رحم کریں ، ان کے ساتھ ہمدردی کریں کہ یہ لوگ ان عظیم حقائق سے محروم ہیں۔ جو اللہ کے نوامیس فطرت کو نہیں دیکھتے ، جو تاریخ میں سنن الٰہیہ کو تلاش نہیں کرتے جو اس کائنات کے اسر اور موز سے واقف نہیں اور اس لیے وہ اس خالق کی عظمت سے بھی بیخبر ہیں۔

الجاثية 45:14

آیت نمبر 14 تا 15 اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرے ، ان سے درگزر کرو اور ان کے ساتھ دشمنی کی بجائے ہمدردی کا رویہ اختیار کرو۔ اور شریفانہ اور اخلاق عالیہ کا رویہ اختیار کرو۔ درگزر کرو اور ان پر رحم کرو کہ وہ مساکین ہیں۔ وہ علم و ہدایت اور قوت اور رحمت کے اصل سرچشمے سے محروم ہیں۔ یہ ایمان ہی کا سرچشمہ ہے جو انسان کو غنی ، قوی اور رحیم و کریم بنا دیتا ہے۔ انسان اسی پر بھروسہ کرتا ہے ، مطنئن ہوتا ہے اور مشکل اوقات میں اس کے سامنے سربسجود ہوتا ہے اور اس کے سہارے آہ و فغاں کرتا ہے۔ پھر یہ لوگ ان قوانین فطرت اور سنن الہٰیہ سے بھی ناواقف ہیں جن کے نتیجے میں انسان کو ہر قسم کی قوت حاصل ہوتی ہے۔ اہل ایمان چونکہ ایمان کے خزانے تک رسائی حاصل کرچکے ہیں اور اس کے ذریعہ ان کو مادی اور روحانی اطمینان حاصل ہے اور وہ ایک برتر پوزیشن ہیں اس لیے ان کے شایان شان یہ ہے کہ وہ عفو و درگزر سے کام لیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس درگزر کے نتیجے میں اہل ایمان کا رویہ ہوگا کہ وہ تمام معاملات اللہ کے حوالے کردیں گے جو محسن کو اس کے احسان کی جزاء دے گا اور بدکار کو اس کی بدکاریوں پر سزا دے گا۔ عفو و درگزر کی بجائے اگر اہل ایمان ان بیچاروں کے ساتھ سختی کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو وہ اس نیکی سے محروم ہوجائیں گے بشرطیکہ اس عفو و درگزر کی پالیسی کے نتیجے میں امن وامان کو خطرہ لاحق نہیں ہوتا ، اور لوگ حدود اللہ پر دست درازی میں جری نہیں ہوجاتے ہوں۔ لیجزی قوما بما کانوا یکسبون (45 : 14) “ تا کہ اللہ خود ایک گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے ”، اور اس کے بعد یہ بھی تصریح کردی جاتی ہے کہ جزاء و سزا میں ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو اللہ کے سامنے حاضری دینے کے وقت کی فکر کرنی چاہئے۔ من عمل صالحا ۔۔۔۔۔۔۔ ترجعون (45 : 15) “ جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا اور جو برائی کرے گا وہ آپ ہی اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ پھرجانا تو سب کو اپنے رب ہی کی طرف ہے ”۔ یوں ایک مومن کا سینہ فراخ ہوتا ہے۔ اس کی سوچ بلند ہوتی ہے۔ وہ انفرادی مشکلات بھی برداشت کرتا ہے اور احمقوں کی حماقتیں بھی برداشت کرتا ہے اور اندھے اور محروم لوگوں کے طرز عمل کو بھی برداشت کرتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ کمزور ہوتا ہے اور اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دے سکتا۔ یہ برداشت وہ تنگ دلی سے نہیں بلکہ وسعت قلبی سے کرتا ہے۔ کیونکہ وہ مضبوط کردار اور کھلے دل کا مالک ہوتا ہے۔ اور اس نے ان محروم لوگوں کے لئے بھی ہدایت کی مشعل اٹھا رکھی ہوتی ہے۔ اس نے بیماروں کے لئے شفایابی کا تریاق اتھا رکھا ہوتا ہے۔ اور وہ اس پر اجر کا طالب صرف اللہ سے ہوتا ہے اور آخرت میں ہوتا ہے۔ اور آخر کار تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ بھی اللہ ہی ہے۔ اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ ٭٭٭٭ اب انسانیت کے لئے مومن قیادت کے کردار کے موضوع پر بات ہوتی ہے۔ یہ قیادت اب اسلامی جماعت کی شکل میں وجود میں لائی گئی ہے۔ اس سے پہلے یہ بنی اسرائیل کے ہاتھ میں تھی۔ ان کو کتاب دی گئی۔ حکومت دی گئی ، نبوت دی گئی مگر انہوں نے اختلافات شروع کر دئیے۔ اور ان سے یہ قیادت اور منصب لے کر اے محمد ﷺ اب آپ کو دے دیا گیا ہے۔ اس وقت آپ مکہ میں تھے۔ اور دعوت اسلامی نہایت ہی مشکل دور سے گزر رہی تھی لیکن آدم (علیہ السلام) سے ادھر اس کا مزاج ، اس کی نوعیت اور مقاصد اور مہم ایک ہی رہی ہے۔

الجاثية 45:15

آیت نمبر 14 تا 15 اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرے ، ان سے درگزر کرو اور ان کے ساتھ دشمنی کی بجائے ہمدردی کا رویہ اختیار کرو۔ اور شریفانہ اور اخلاق عالیہ کا رویہ اختیار کرو۔ درگزر کرو اور ان پر رحم کرو کہ وہ مساکین ہیں۔ وہ علم و ہدایت اور قوت اور رحمت کے اصل سرچشمے سے محروم ہیں۔ یہ ایمان ہی کا سرچشمہ ہے جو انسان کو غنی ، قوی اور رحیم و کریم بنا دیتا ہے۔ انسان اسی پر بھروسہ کرتا ہے ، مطنئن ہوتا ہے اور مشکل اوقات میں اس کے سامنے سربسجود ہوتا ہے اور اس کے سہارے آہ و فغاں کرتا ہے۔ پھر یہ لوگ ان قوانین فطرت اور سنن الہٰیہ سے بھی ناواقف ہیں جن کے نتیجے میں انسان کو ہر قسم کی قوت حاصل ہوتی ہے۔ اہل ایمان چونکہ ایمان کے خزانے تک رسائی حاصل کرچکے ہیں اور اس کے ذریعہ ان کو مادی اور روحانی اطمینان حاصل ہے اور وہ ایک برتر پوزیشن ہیں اس لیے ان کے شایان شان یہ ہے کہ وہ عفو و درگزر سے کام لیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس درگزر کے نتیجے میں اہل ایمان کا رویہ ہوگا کہ وہ تمام معاملات اللہ کے حوالے کردیں گے جو محسن کو اس کے احسان کی جزاء دے گا اور بدکار کو اس کی بدکاریوں پر سزا دے گا۔ عفو و درگزر کی بجائے اگر اہل ایمان ان بیچاروں کے ساتھ سختی کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو وہ اس نیکی سے محروم ہوجائیں گے بشرطیکہ اس عفو و درگزر کی پالیسی کے نتیجے میں امن وامان کو خطرہ لاحق نہیں ہوتا ، اور لوگ حدود اللہ پر دست درازی میں جری نہیں ہوجاتے ہوں۔ لیجزی قوما بما کانوا یکسبون (45 : 14) “ تا کہ اللہ خود ایک گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے ”، اور اس کے بعد یہ بھی تصریح کردی جاتی ہے کہ جزاء و سزا میں ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو اللہ کے سامنے حاضری دینے کے وقت کی فکر کرنی چاہئے۔ من عمل صالحا ۔۔۔۔۔۔۔ ترجعون (45 : 15) “ جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا اور جو برائی کرے گا وہ آپ ہی اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ پھرجانا تو سب کو اپنے رب ہی کی طرف ہے ”۔ یوں ایک مومن کا سینہ فراخ ہوتا ہے۔ اس کی سوچ بلند ہوتی ہے۔ وہ انفرادی مشکلات بھی برداشت کرتا ہے اور احمقوں کی حماقتیں بھی برداشت کرتا ہے اور اندھے اور محروم لوگوں کے طرز عمل کو بھی برداشت کرتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ کمزور ہوتا ہے اور اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دے سکتا۔ یہ برداشت وہ تنگ دلی سے نہیں بلکہ وسعت قلبی سے کرتا ہے۔ کیونکہ وہ مضبوط کردار اور کھلے دل کا مالک ہوتا ہے۔ اور اس نے ان محروم لوگوں کے لئے بھی ہدایت کی مشعل اٹھا رکھی ہوتی ہے۔ اس نے بیماروں کے لئے شفایابی کا تریاق اتھا رکھا ہوتا ہے۔ اور وہ اس پر اجر کا طالب صرف اللہ سے ہوتا ہے اور آخرت میں ہوتا ہے۔ اور آخر کار تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ بھی اللہ ہی ہے۔ اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ ٭٭٭٭ اب انسانیت کے لئے مومن قیادت کے کردار کے موضوع پر بات ہوتی ہے۔ یہ قیادت اب اسلامی جماعت کی شکل میں وجود میں لائی گئی ہے۔ اس سے پہلے یہ بنی اسرائیل کے ہاتھ میں تھی۔ ان کو کتاب دی گئی۔ حکومت دی گئی ، نبوت دی گئی مگر انہوں نے اختلافات شروع کر دئیے۔ اور ان سے یہ قیادت اور منصب لے کر اے محمد ﷺ اب آپ کو دے دیا گیا ہے۔ اس وقت آپ مکہ میں تھے۔ اور دعوت اسلامی نہایت ہی مشکل دور سے گزر رہی تھی لیکن آدم (علیہ السلام) سے ادھر اس کا مزاج ، اس کی نوعیت اور مقاصد اور مہم ایک ہی رہی ہے۔

الجاثية 45:16

آیت نمبر 16 تا 20 اسلام سے قبل تحریک اسلامی کی قیادت بنی اسرائیل کے پاس تھی۔ آسمانی ہدایت اور عقیدہ کے حامل یہی تھے۔ اور اللہ نے اس دور کے لئے یہ مشن ان کے سپرد کردیا تھا ۔ کیونکہ انسانیت کے لئے ہر دور میں آسمانی رہنمائی کی ضرورت رہی ہے۔ اس لیے کہ زمین کے اندر جو بھی قائدین رہے ہیں وہ خواہشات نفسانیہ کے پیروکار ، جاہل اور تقصیرات سے پر رہے ہیں اس لیے وہ انسانوں کے لئے جو قانون اور شریعت بناتے رہے ہیں۔ وہ ایسی ہی تقصیر رہی۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اس لیے اللہ کی شریعت ہی ایسی ہو سکتی ہے جو جہل ، ذاتی خواہشات اور تقصیرات سے پاک ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ سب لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کسی کا حامی اور کسی کا مخالف نہیں ہے۔ اور اللہ جہل قصور اور خواہشات سے پاک ہے۔ وہ زیادہ جانتا ہے اور لطیف وخبیر ہے۔ ولقد اتینا ۔۔۔۔۔۔ والنبوۃ (45 : 16) “ اس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب ، حکم اور نبوت عطا کی تھی ”۔ تورات ان کو دی گئی جس میں اللہ کی شریعت تھی۔ اور اس میں یہ احکام تھے کہ شریعت کو قائم کرو اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھی نبوت اور حکومت ان میں جاری رہی کہ شریعت کو قائم کرو اور ان کے اندر دوسری اقوام کے مقابلے میں بیشمار نبی بھیجے گئے۔ ورزقنھم من الطیبت (45 : 16) “ ان کو ہم نے عمدہ سامان زیست سے نوازا ”۔ ان کی حکومتیں اور ان کی نبوتیں ارض مقدس تک محدود رہیں۔ یہ سر زمین فرات اور نیل کے درمیان ایک پاک سرزمین تھی۔ وفضلنھم علی العلمین (45 : 16) “ اور دنیا بھر کے لوگوں پر ان کو ہم نے فضیلت عطا کی ”۔ اس مرکزی مقام پر ربانی ہدایت کے حامل ہونے کے ناتے اس وقت یہ تمام عالم پر برتر قوم تھے اور ان کی افضیلت کی بڑی دلیل یہ تھی کہ وہ حاملین شریعت تھے اور ان کو حکومت اور نبوت دی گئی تھی۔ واتینھم بیت من الارمر (45 : 17) “ اور دین کے معاملے میں انہیں واضح ہدایات دے دیں ”۔ جو شریعت انہیں دی گئی وہ دو ٹوک اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی تھی۔ اس میں کوئی بات ناقابل فہم ، پیچیدہ ، ٹیٹرھی اور صحیح راہ سے منحرف نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے اس شریعت کو جو اختلافات کئے اور فرقے بنے اس کا کوئی جواز نہ تھا۔ انہوں نے جو تفرقہ کیا اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ شریعت اور دین سمجھے نہ تھے یا یہ کہ وہ جاہل تھے اور انہیں صحیح بات اور حق معلوم نہ تھا۔ فما اختلفوا الا من بعد ما جاءھم العلم (45 : 17) “ پھر جو اختلافات ان کے درمیان واقع ہوئے وہ جانتے ہوئے کئے گئے۔ ان کے درمیان حد درجہ حسد اور بغض پیدا ہوگیا تھا۔ اور باہم نزاع اور ایک دوسرے پر مظالم ڈھاتے ہوئے یہ اختلافات کئے گئے ، باوجود اس بات کے کہ وہ صحیح بات جانتے تھے ”۔ بغیابینھم (45 : 17) “ اس بنا پر ہوا کہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے ”۔ یوں زمین پر ان کی قیادت ختم ہوگئی اور اللہ نے ان کو جو خلافت ارضی عطا کی تھی ان سے چھین لی گئی اور اختلافات کا آخری فیصلہ تو اللہ کرے گا۔ ان ربک یقضی۔۔۔۔۔ فیہ یختلفون (45 : 17) “ اللہ قیامت کے روز ان معاملات کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلافات کرتے رہے ہیں ”۔ اس کے بعد اللہ نے رسالت جدیدہ کو خلافت ارضی کا مقام عطا فرمایا ، جو قوم کو اللہ کی شریعت کی طرف لوٹائے گی اور تمام معاملات میں اللہ کی قیادت اور برتری قائم کرے گی۔ اور دنیا میں اللہ کی شریعت کے مطابق نظام قائم کرے گی ، بندوں کی خواہشات کے مطابق نہیں۔ ثم جعلنک علی ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (45 : 18) “ اس کے بعد اب اے نبی ﷺ ، ہم نے تم دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ پر قائم کیا لہٰذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، جو علم نہیں رکھتے ”۔ یوں یہ معاملہ بالکل صاف ہوجاتا ہے یا تو اللہ کی شریعت ہوگی یا ان لوگوں کی خواہشات ہوں گی جو نہیں جانتے۔ تیسری کوئی صورت نہیں ہے۔ یا تو سیدھی اور مستقیم شریعت اور شاہراہ ہے اور یا پھر لوگوں کی بدلتی ہوئی خواہشات ہیں۔ اور ان کے درمیان تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جو قوم شریعت کو چھوڑتی ہے ، وہ اپنی خواہشات کی پوجا کرتی ہے کیونکہ شریعت کے سوا جو بھی ہے وہ ان لوگوں کی ہوا وہوس ہے جو نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو اس بات سے ڈراتا ہے کہ آپ ان لوگوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کریں جو نہیں جانتے۔ اگر آپ نے یہ کام کیا تو یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کو کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے۔ یہ لوگ تو ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کرتے ہیں۔ اگر اللہ کے دین اور شریعت کو نہ ماننے والے یہ لوگ ایک دوسرے کے جگری دوست بھی بن جائیں اور ایکا بھی کرلیں تو بھی یہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ اے پیغمبر آپ کے مولیٰ تو اللہ ہے۔ انھم لن یغنوا ۔۔۔۔۔۔۔ ولی المتقین (45 : 19) “ اس کے بعد اے نبی ہم نے تم دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا تم اس پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے ۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے ”۔ یعنی ایک طرف شریعت ہے جو علم و حکمت پر مبنی ہے اور دوسری جانب خواہشات نفسانیہ ہیں جو جہالت پر مبنی ہیں اور جاہلیت ہیں۔ ایک داعی کو چاہئے کہ وہ شریعت کا اتباع کرے اور ساری ذاتی خواہشات کو چھوڑ دے۔ داعی کا فرض ہے کہ وہ شریعت سے ادھر ادھر نہ ہو کیونکہ ذاتی خواہشات رکھنے والے لوگ اللہ کے مقابلے میں کوئی مدد نہیں دے سکتے۔ وہ تو داعی کے مخالف ہوتے ہیں اور سب مل کر مخالفت کرتے ہیں اور وہ شریعت کی مخالفت میں ایک دوسرے کے ممدو معاون ہوتے ہیں ، لہٰذا داعی کو ظالموں اور جاہلوں سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ پھر یہ کہ یہ ظالم کسی داعی کی مدد بھی نہیں کرسکتے کیونکہ یہ تو ان کی خواہشات کے خلاف ہے لیکن وہ اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ وہ سچے داعی کو نقصان بھی نہیں پہنچا سکتے۔ کیونکہ داعی کا والی وارث اللہ ہوتا ہے اور جس کا والی وارث اللہ ہو ، اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ اور انسان ضعیف کمزور ہوتے ہیں ، جن کی کوئی قوت نہیں ہوتی جبکہ اللہ کے دوست مسلمان ہوتے ہیں اور وہ قوی ہوتے ہیں۔ اس فیصلہ کن بیان پر مزید تبصرہ یہ ہے کہ قرآن دو ٹوک اور فیصلہ کن باتیں کرتا ہے اور قرآن کی ان دوٹوک باتوں سے یقین نصیب ہوتا ہے جو انسان کو بصیرت اور ہدایت دیتا ہے۔ ھذا بصائر ۔۔۔۔۔ لقوم یوقنون (45 : 20) “ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لئے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے جو یقین لائیں ”۔ قرآن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ لوگوں کے لئے بصیرت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کے اندر گہری بصیرت ہے اور روشنی ہے۔ قرآن بذات خود بصیرت اور رونی ہے جس طرح بصیرت اور روشنی انسانوں کے لئے دیکھنے اور سمجھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں تو قرآن بذات خود بصیرت وہدایت ہے اور یہ بذات خود رحمت ہے ، لیکن قرآن کے اندر یہ صفات تب نظر آئیں گی اور اس سے یہ فوائد تب حاصل ہوں گے جب کسی کے اندر ذوق یقین پیدا ہو۔ انسان کے اندر اس قدر یقین ہوجائے جس کے اندر شک کا شبہ ہی نہ ہو۔ اس کے اندر کوئی بےچینی نہ ہو ، اور دل میں کوئی خلش نہ ہو۔ جب قلب کو یقین حاصل ہوجائے اور اسے پورا وثوق حاصل ہوجائے تو ان کے اندر پھر کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔ وہ پھر شف شف نہیں کرتا۔ ادھر ادھر نہیں ڈولتا ، اس کی راہ پھر واضح ہوجاتی ہے۔ اسے اپنی منزل دور افق پر بلند نظر آتی ہے ۔ اس کا مقصد متعین ہوجاتا ہے۔ طریق کار متعین اور استوار ہوجاتا ہے۔ اب پھر قرآن اس کے لئے نور بصیرت بن جاتا ہے ، ہدایت بن جاتا ہے اور رحمت بن جاتا ہے بشرطیکہ یقین محکم ہو۔ اس بیان کے بعد کہ ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ متقین کے ولی ہیں۔ اور یہ کہ قرآن مجید کے لئے نور بصیرت ہے اور یقین کرنے والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور جو لوگ نیک کام کرتے ہیں ، یعنی مومن ان کے درمیان بنیادی فرق ہے اور اللہ کے ہاں دونوں کا ایک مقام نہیں ہو سکتا۔ نہ دونوں کا ایک جیسا فیصلہ ہو سکتا ہے ۔ اللہ کے ترازو میں دونوں کے درمیان فرق ہے۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کے اس نظام کو حق اور عدل پر قائم کر رکھا ہے۔ اور اس کائنات کے نقشے میں سچائی بنیادی اور اساسی عنصر ہے۔

الجاثية 45:17

آیت نمبر 16 تا 20 اسلام سے قبل تحریک اسلامی کی قیادت بنی اسرائیل کے پاس تھی۔ آسمانی ہدایت اور عقیدہ کے حامل یہی تھے۔ اور اللہ نے اس دور کے لئے یہ مشن ان کے سپرد کردیا تھا ۔ کیونکہ انسانیت کے لئے ہر دور میں آسمانی رہنمائی کی ضرورت رہی ہے۔ اس لیے کہ زمین کے اندر جو بھی قائدین رہے ہیں وہ خواہشات نفسانیہ کے پیروکار ، جاہل اور تقصیرات سے پر رہے ہیں اس لیے وہ انسانوں کے لئے جو قانون اور شریعت بناتے رہے ہیں۔ وہ ایسی ہی تقصیر رہی۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اس لیے اللہ کی شریعت ہی ایسی ہو سکتی ہے جو جہل ، ذاتی خواہشات اور تقصیرات سے پاک ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ سب لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کسی کا حامی اور کسی کا مخالف نہیں ہے۔ اور اللہ جہل قصور اور خواہشات سے پاک ہے۔ وہ زیادہ جانتا ہے اور لطیف وخبیر ہے۔ ولقد اتینا ۔۔۔۔۔۔ والنبوۃ (45 : 16) “ اس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب ، حکم اور نبوت عطا کی تھی ”۔ تورات ان کو دی گئی جس میں اللہ کی شریعت تھی۔ اور اس میں یہ احکام تھے کہ شریعت کو قائم کرو اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھی نبوت اور حکومت ان میں جاری رہی کہ شریعت کو قائم کرو اور ان کے اندر دوسری اقوام کے مقابلے میں بیشمار نبی بھیجے گئے۔ ورزقنھم من الطیبت (45 : 16) “ ان کو ہم نے عمدہ سامان زیست سے نوازا ”۔ ان کی حکومتیں اور ان کی نبوتیں ارض مقدس تک محدود رہیں۔ یہ سر زمین فرات اور نیل کے درمیان ایک پاک سرزمین تھی۔ وفضلنھم علی العلمین (45 : 16) “ اور دنیا بھر کے لوگوں پر ان کو ہم نے فضیلت عطا کی ”۔ اس مرکزی مقام پر ربانی ہدایت کے حامل ہونے کے ناتے اس وقت یہ تمام عالم پر برتر قوم تھے اور ان کی افضیلت کی بڑی دلیل یہ تھی کہ وہ حاملین شریعت تھے اور ان کو حکومت اور نبوت دی گئی تھی۔ واتینھم بیت من الارمر (45 : 17) “ اور دین کے معاملے میں انہیں واضح ہدایات دے دیں ”۔ جو شریعت انہیں دی گئی وہ دو ٹوک اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی تھی۔ اس میں کوئی بات ناقابل فہم ، پیچیدہ ، ٹیٹرھی اور صحیح راہ سے منحرف نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے اس شریعت کو جو اختلافات کئے اور فرقے بنے اس کا کوئی جواز نہ تھا۔ انہوں نے جو تفرقہ کیا اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ شریعت اور دین سمجھے نہ تھے یا یہ کہ وہ جاہل تھے اور انہیں صحیح بات اور حق معلوم نہ تھا۔ فما اختلفوا الا من بعد ما جاءھم العلم (45 : 17) “ پھر جو اختلافات ان کے درمیان واقع ہوئے وہ جانتے ہوئے کئے گئے۔ ان کے درمیان حد درجہ حسد اور بغض پیدا ہوگیا تھا۔ اور باہم نزاع اور ایک دوسرے پر مظالم ڈھاتے ہوئے یہ اختلافات کئے گئے ، باوجود اس بات کے کہ وہ صحیح بات جانتے تھے ”۔ بغیابینھم (45 : 17) “ اس بنا پر ہوا کہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے ”۔ یوں زمین پر ان کی قیادت ختم ہوگئی اور اللہ نے ان کو جو خلافت ارضی عطا کی تھی ان سے چھین لی گئی اور اختلافات کا آخری فیصلہ تو اللہ کرے گا۔ ان ربک یقضی۔۔۔۔۔ فیہ یختلفون (45 : 17) “ اللہ قیامت کے روز ان معاملات کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلافات کرتے رہے ہیں ”۔ اس کے بعد اللہ نے رسالت جدیدہ کو خلافت ارضی کا مقام عطا فرمایا ، جو قوم کو اللہ کی شریعت کی طرف لوٹائے گی اور تمام معاملات میں اللہ کی قیادت اور برتری قائم کرے گی۔ اور دنیا میں اللہ کی شریعت کے مطابق نظام قائم کرے گی ، بندوں کی خواہشات کے مطابق نہیں۔ ثم جعلنک علی ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (45 : 18) “ اس کے بعد اب اے نبی ﷺ ، ہم نے تم دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ پر قائم کیا لہٰذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، جو علم نہیں رکھتے ”۔ یوں یہ معاملہ بالکل صاف ہوجاتا ہے یا تو اللہ کی شریعت ہوگی یا ان لوگوں کی خواہشات ہوں گی جو نہیں جانتے۔ تیسری کوئی صورت نہیں ہے۔ یا تو سیدھی اور مستقیم شریعت اور شاہراہ ہے اور یا پھر لوگوں کی بدلتی ہوئی خواہشات ہیں۔ اور ان کے درمیان تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جو قوم شریعت کو چھوڑتی ہے ، وہ اپنی خواہشات کی پوجا کرتی ہے کیونکہ شریعت کے سوا جو بھی ہے وہ ان لوگوں کی ہوا وہوس ہے جو نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو اس بات سے ڈراتا ہے کہ آپ ان لوگوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کریں جو نہیں جانتے۔ اگر آپ نے یہ کام کیا تو یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کو کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے۔ یہ لوگ تو ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کرتے ہیں۔ اگر اللہ کے دین اور شریعت کو نہ ماننے والے یہ لوگ ایک دوسرے کے جگری دوست بھی بن جائیں اور ایکا بھی کرلیں تو بھی یہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ اے پیغمبر آپ کے مولیٰ تو اللہ ہے۔ انھم لن یغنوا ۔۔۔۔۔۔۔ ولی المتقین (45 : 19) “ اس کے بعد اے نبی ہم نے تم دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا تم اس پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے ۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے ”۔ یعنی ایک طرف شریعت ہے جو علم و حکمت پر مبنی ہے اور دوسری جانب خواہشات نفسانیہ ہیں جو جہالت پر مبنی ہیں اور جاہلیت ہیں۔ ایک داعی کو چاہئے کہ وہ شریعت کا اتباع کرے اور ساری ذاتی خواہشات کو چھوڑ دے۔ داعی کا فرض ہے کہ وہ شریعت سے ادھر ادھر نہ ہو کیونکہ ذاتی خواہشات رکھنے والے لوگ اللہ کے مقابلے میں کوئی مدد نہیں دے سکتے۔ وہ تو داعی کے مخالف ہوتے ہیں اور سب مل کر مخالفت کرتے ہیں اور وہ شریعت کی مخالفت میں ایک دوسرے کے ممدو معاون ہوتے ہیں ، لہٰذا داعی کو ظالموں اور جاہلوں سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ پھر یہ کہ یہ ظالم کسی داعی کی مدد بھی نہیں کرسکتے کیونکہ یہ تو ان کی خواہشات کے خلاف ہے لیکن وہ اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ وہ سچے داعی کو نقصان بھی نہیں پہنچا سکتے۔ کیونکہ داعی کا والی وارث اللہ ہوتا ہے اور جس کا والی وارث اللہ ہو ، اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ اور انسان ضعیف کمزور ہوتے ہیں ، جن کی کوئی قوت نہیں ہوتی جبکہ اللہ کے دوست مسلمان ہوتے ہیں اور وہ قوی ہوتے ہیں۔ اس فیصلہ کن بیان پر مزید تبصرہ یہ ہے کہ قرآن دو ٹوک اور فیصلہ کن باتیں کرتا ہے اور قرآن کی ان دوٹوک باتوں سے یقین نصیب ہوتا ہے جو انسان کو بصیرت اور ہدایت دیتا ہے۔ ھذا بصائر ۔۔۔۔۔ لقوم یوقنون (45 : 20) “ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لئے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے جو یقین لائیں ”۔ قرآن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ لوگوں کے لئے بصیرت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کے اندر گہری بصیرت ہے اور روشنی ہے۔ قرآن بذات خود بصیرت اور رونی ہے جس طرح بصیرت اور روشنی انسانوں کے لئے دیکھنے اور سمجھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں تو قرآن بذات خود بصیرت وہدایت ہے اور یہ بذات خود رحمت ہے ، لیکن قرآن کے اندر یہ صفات تب نظر آئیں گی اور اس سے یہ فوائد تب حاصل ہوں گے جب کسی کے اندر ذوق یقین پیدا ہو۔ انسان کے اندر اس قدر یقین ہوجائے جس کے اندر شک کا شبہ ہی نہ ہو۔ اس کے اندر کوئی بےچینی نہ ہو ، اور دل میں کوئی خلش نہ ہو۔ جب قلب کو یقین حاصل ہوجائے اور اسے پورا وثوق حاصل ہوجائے تو ان کے اندر پھر کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔ وہ پھر شف شف نہیں کرتا۔ ادھر ادھر نہیں ڈولتا ، اس کی راہ پھر واضح ہوجاتی ہے۔ اسے اپنی منزل دور افق پر بلند نظر آتی ہے ۔ اس کا مقصد متعین ہوجاتا ہے۔ طریق کار متعین اور استوار ہوجاتا ہے۔ اب پھر قرآن اس کے لئے نور بصیرت بن جاتا ہے ، ہدایت بن جاتا ہے اور رحمت بن جاتا ہے بشرطیکہ یقین محکم ہو۔ اس بیان کے بعد کہ ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ متقین کے ولی ہیں۔ اور یہ کہ قرآن مجید کے لئے نور بصیرت ہے اور یقین کرنے والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور جو لوگ نیک کام کرتے ہیں ، یعنی مومن ان کے درمیان بنیادی فرق ہے اور اللہ کے ہاں دونوں کا ایک مقام نہیں ہو سکتا۔ نہ دونوں کا ایک جیسا فیصلہ ہو سکتا ہے ۔ اللہ کے ترازو میں دونوں کے درمیان فرق ہے۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کے اس نظام کو حق اور عدل پر قائم کر رکھا ہے۔ اور اس کائنات کے نقشے میں سچائی بنیادی اور اساسی عنصر ہے۔

الجاثية 45:18

آیت نمبر 16 تا 20 اسلام سے قبل تحریک اسلامی کی قیادت بنی اسرائیل کے پاس تھی۔ آسمانی ہدایت اور عقیدہ کے حامل یہی تھے۔ اور اللہ نے اس دور کے لئے یہ مشن ان کے سپرد کردیا تھا ۔ کیونکہ انسانیت کے لئے ہر دور میں آسمانی رہنمائی کی ضرورت رہی ہے۔ اس لیے کہ زمین کے اندر جو بھی قائدین رہے ہیں وہ خواہشات نفسانیہ کے پیروکار ، جاہل اور تقصیرات سے پر رہے ہیں اس لیے وہ انسانوں کے لئے جو قانون اور شریعت بناتے رہے ہیں۔ وہ ایسی ہی تقصیر رہی۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اس لیے اللہ کی شریعت ہی ایسی ہو سکتی ہے جو جہل ، ذاتی خواہشات اور تقصیرات سے پاک ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ سب لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کسی کا حامی اور کسی کا مخالف نہیں ہے۔ اور اللہ جہل قصور اور خواہشات سے پاک ہے۔ وہ زیادہ جانتا ہے اور لطیف وخبیر ہے۔ ولقد اتینا ۔۔۔۔۔۔ والنبوۃ (45 : 16) “ اس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب ، حکم اور نبوت عطا کی تھی ”۔ تورات ان کو دی گئی جس میں اللہ کی شریعت تھی۔ اور اس میں یہ احکام تھے کہ شریعت کو قائم کرو اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھی نبوت اور حکومت ان میں جاری رہی کہ شریعت کو قائم کرو اور ان کے اندر دوسری اقوام کے مقابلے میں بیشمار نبی بھیجے گئے۔ ورزقنھم من الطیبت (45 : 16) “ ان کو ہم نے عمدہ سامان زیست سے نوازا ”۔ ان کی حکومتیں اور ان کی نبوتیں ارض مقدس تک محدود رہیں۔ یہ سر زمین فرات اور نیل کے درمیان ایک پاک سرزمین تھی۔ وفضلنھم علی العلمین (45 : 16) “ اور دنیا بھر کے لوگوں پر ان کو ہم نے فضیلت عطا کی ”۔ اس مرکزی مقام پر ربانی ہدایت کے حامل ہونے کے ناتے اس وقت یہ تمام عالم پر برتر قوم تھے اور ان کی افضیلت کی بڑی دلیل یہ تھی کہ وہ حاملین شریعت تھے اور ان کو حکومت اور نبوت دی گئی تھی۔ واتینھم بیت من الارمر (45 : 17) “ اور دین کے معاملے میں انہیں واضح ہدایات دے دیں ”۔ جو شریعت انہیں دی گئی وہ دو ٹوک اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی تھی۔ اس میں کوئی بات ناقابل فہم ، پیچیدہ ، ٹیٹرھی اور صحیح راہ سے منحرف نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے اس شریعت کو جو اختلافات کئے اور فرقے بنے اس کا کوئی جواز نہ تھا۔ انہوں نے جو تفرقہ کیا اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ شریعت اور دین سمجھے نہ تھے یا یہ کہ وہ جاہل تھے اور انہیں صحیح بات اور حق معلوم نہ تھا۔ فما اختلفوا الا من بعد ما جاءھم العلم (45 : 17) “ پھر جو اختلافات ان کے درمیان واقع ہوئے وہ جانتے ہوئے کئے گئے۔ ان کے درمیان حد درجہ حسد اور بغض پیدا ہوگیا تھا۔ اور باہم نزاع اور ایک دوسرے پر مظالم ڈھاتے ہوئے یہ اختلافات کئے گئے ، باوجود اس بات کے کہ وہ صحیح بات جانتے تھے ”۔ بغیابینھم (45 : 17) “ اس بنا پر ہوا کہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے ”۔ یوں زمین پر ان کی قیادت ختم ہوگئی اور اللہ نے ان کو جو خلافت ارضی عطا کی تھی ان سے چھین لی گئی اور اختلافات کا آخری فیصلہ تو اللہ کرے گا۔ ان ربک یقضی۔۔۔۔۔ فیہ یختلفون (45 : 17) “ اللہ قیامت کے روز ان معاملات کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلافات کرتے رہے ہیں ”۔ اس کے بعد اللہ نے رسالت جدیدہ کو خلافت ارضی کا مقام عطا فرمایا ، جو قوم کو اللہ کی شریعت کی طرف لوٹائے گی اور تمام معاملات میں اللہ کی قیادت اور برتری قائم کرے گی۔ اور دنیا میں اللہ کی شریعت کے مطابق نظام قائم کرے گی ، بندوں کی خواہشات کے مطابق نہیں۔ ثم جعلنک علی ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (45 : 18) “ اس کے بعد اب اے نبی ﷺ ، ہم نے تم دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ پر قائم کیا لہٰذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، جو علم نہیں رکھتے ”۔ یوں یہ معاملہ بالکل صاف ہوجاتا ہے یا تو اللہ کی شریعت ہوگی یا ان لوگوں کی خواہشات ہوں گی جو نہیں جانتے۔ تیسری کوئی صورت نہیں ہے۔ یا تو سیدھی اور مستقیم شریعت اور شاہراہ ہے اور یا پھر لوگوں کی بدلتی ہوئی خواہشات ہیں۔ اور ان کے درمیان تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جو قوم شریعت کو چھوڑتی ہے ، وہ اپنی خواہشات کی پوجا کرتی ہے کیونکہ شریعت کے سوا جو بھی ہے وہ ان لوگوں کی ہوا وہوس ہے جو نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو اس بات سے ڈراتا ہے کہ آپ ان لوگوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کریں جو نہیں جانتے۔ اگر آپ نے یہ کام کیا تو یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کو کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے۔ یہ لوگ تو ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کرتے ہیں۔ اگر اللہ کے دین اور شریعت کو نہ ماننے والے یہ لوگ ایک دوسرے کے جگری دوست بھی بن جائیں اور ایکا بھی کرلیں تو بھی یہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ اے پیغمبر آپ کے مولیٰ تو اللہ ہے۔ انھم لن یغنوا ۔۔۔۔۔۔۔ ولی المتقین (45 : 19) “ اس کے بعد اے نبی ہم نے تم دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا تم اس پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے ۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے ”۔ یعنی ایک طرف شریعت ہے جو علم و حکمت پر مبنی ہے اور دوسری جانب خواہشات نفسانیہ ہیں جو جہالت پر مبنی ہیں اور جاہلیت ہیں۔ ایک داعی کو چاہئے کہ وہ شریعت کا اتباع کرے اور ساری ذاتی خواہشات کو چھوڑ دے۔ داعی کا فرض ہے کہ وہ شریعت سے ادھر ادھر نہ ہو کیونکہ ذاتی خواہشات رکھنے والے لوگ اللہ کے مقابلے میں کوئی مدد نہیں دے سکتے۔ وہ تو داعی کے مخالف ہوتے ہیں اور سب مل کر مخالفت کرتے ہیں اور وہ شریعت کی مخالفت میں ایک دوسرے کے ممدو معاون ہوتے ہیں ، لہٰذا داعی کو ظالموں اور جاہلوں سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ پھر یہ کہ یہ ظالم کسی داعی کی مدد بھی نہیں کرسکتے کیونکہ یہ تو ان کی خواہشات کے خلاف ہے لیکن وہ اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ وہ سچے داعی کو نقصان بھی نہیں پہنچا سکتے۔ کیونکہ داعی کا والی وارث اللہ ہوتا ہے اور جس کا والی وارث اللہ ہو ، اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ اور انسان ضعیف کمزور ہوتے ہیں ، جن کی کوئی قوت نہیں ہوتی جبکہ اللہ کے دوست مسلمان ہوتے ہیں اور وہ قوی ہوتے ہیں۔ اس فیصلہ کن بیان پر مزید تبصرہ یہ ہے کہ قرآن دو ٹوک اور فیصلہ کن باتیں کرتا ہے اور قرآن کی ان دوٹوک باتوں سے یقین نصیب ہوتا ہے جو انسان کو بصیرت اور ہدایت دیتا ہے۔ ھذا بصائر ۔۔۔۔۔ لقوم یوقنون (45 : 20) “ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لئے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے جو یقین لائیں ”۔ قرآن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ لوگوں کے لئے بصیرت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کے اندر گہری بصیرت ہے اور روشنی ہے۔ قرآن بذات خود بصیرت اور رونی ہے جس طرح بصیرت اور روشنی انسانوں کے لئے دیکھنے اور سمجھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں تو قرآن بذات خود بصیرت وہدایت ہے اور یہ بذات خود رحمت ہے ، لیکن قرآن کے اندر یہ صفات تب نظر آئیں گی اور اس سے یہ فوائد تب حاصل ہوں گے جب کسی کے اندر ذوق یقین پیدا ہو۔ انسان کے اندر اس قدر یقین ہوجائے جس کے اندر شک کا شبہ ہی نہ ہو۔ اس کے اندر کوئی بےچینی نہ ہو ، اور دل میں کوئی خلش نہ ہو۔ جب قلب کو یقین حاصل ہوجائے اور اسے پورا وثوق حاصل ہوجائے تو ان کے اندر پھر کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔ وہ پھر شف شف نہیں کرتا۔ ادھر ادھر نہیں ڈولتا ، اس کی راہ پھر واضح ہوجاتی ہے۔ اسے اپنی منزل دور افق پر بلند نظر آتی ہے ۔ اس کا مقصد متعین ہوجاتا ہے۔ طریق کار متعین اور استوار ہوجاتا ہے۔ اب پھر قرآن اس کے لئے نور بصیرت بن جاتا ہے ، ہدایت بن جاتا ہے اور رحمت بن جاتا ہے بشرطیکہ یقین محکم ہو۔ اس بیان کے بعد کہ ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ متقین کے ولی ہیں۔ اور یہ کہ قرآن مجید کے لئے نور بصیرت ہے اور یقین کرنے والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور جو لوگ نیک کام کرتے ہیں ، یعنی مومن ان کے درمیان بنیادی فرق ہے اور اللہ کے ہاں دونوں کا ایک مقام نہیں ہو سکتا۔ نہ دونوں کا ایک جیسا فیصلہ ہو سکتا ہے ۔ اللہ کے ترازو میں دونوں کے درمیان فرق ہے۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کے اس نظام کو حق اور عدل پر قائم کر رکھا ہے۔ اور اس کائنات کے نقشے میں سچائی بنیادی اور اساسی عنصر ہے۔

الجاثية 45:19

آیت نمبر 16 تا 20 اسلام سے قبل تحریک اسلامی کی قیادت بنی اسرائیل کے پاس تھی۔ آسمانی ہدایت اور عقیدہ کے حامل یہی تھے۔ اور اللہ نے اس دور کے لئے یہ مشن ان کے سپرد کردیا تھا ۔ کیونکہ انسانیت کے لئے ہر دور میں آسمانی رہنمائی کی ضرورت رہی ہے۔ اس لیے کہ زمین کے اندر جو بھی قائدین رہے ہیں وہ خواہشات نفسانیہ کے پیروکار ، جاہل اور تقصیرات سے پر رہے ہیں اس لیے وہ انسانوں کے لئے جو قانون اور شریعت بناتے رہے ہیں۔ وہ ایسی ہی تقصیر رہی۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اس لیے اللہ کی شریعت ہی ایسی ہو سکتی ہے جو جہل ، ذاتی خواہشات اور تقصیرات سے پاک ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ سب لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کسی کا حامی اور کسی کا مخالف نہیں ہے۔ اور اللہ جہل قصور اور خواہشات سے پاک ہے۔ وہ زیادہ جانتا ہے اور لطیف وخبیر ہے۔ ولقد اتینا ۔۔۔۔۔۔ والنبوۃ (45 : 16) “ اس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب ، حکم اور نبوت عطا کی تھی ”۔ تورات ان کو دی گئی جس میں اللہ کی شریعت تھی۔ اور اس میں یہ احکام تھے کہ شریعت کو قائم کرو اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھی نبوت اور حکومت ان میں جاری رہی کہ شریعت کو قائم کرو اور ان کے اندر دوسری اقوام کے مقابلے میں بیشمار نبی بھیجے گئے۔ ورزقنھم من الطیبت (45 : 16) “ ان کو ہم نے عمدہ سامان زیست سے نوازا ”۔ ان کی حکومتیں اور ان کی نبوتیں ارض مقدس تک محدود رہیں۔ یہ سر زمین فرات اور نیل کے درمیان ایک پاک سرزمین تھی۔ وفضلنھم علی العلمین (45 : 16) “ اور دنیا بھر کے لوگوں پر ان کو ہم نے فضیلت عطا کی ”۔ اس مرکزی مقام پر ربانی ہدایت کے حامل ہونے کے ناتے اس وقت یہ تمام عالم پر برتر قوم تھے اور ان کی افضیلت کی بڑی دلیل یہ تھی کہ وہ حاملین شریعت تھے اور ان کو حکومت اور نبوت دی گئی تھی۔ واتینھم بیت من الارمر (45 : 17) “ اور دین کے معاملے میں انہیں واضح ہدایات دے دیں ”۔ جو شریعت انہیں دی گئی وہ دو ٹوک اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی تھی۔ اس میں کوئی بات ناقابل فہم ، پیچیدہ ، ٹیٹرھی اور صحیح راہ سے منحرف نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے اس شریعت کو جو اختلافات کئے اور فرقے بنے اس کا کوئی جواز نہ تھا۔ انہوں نے جو تفرقہ کیا اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ شریعت اور دین سمجھے نہ تھے یا یہ کہ وہ جاہل تھے اور انہیں صحیح بات اور حق معلوم نہ تھا۔ فما اختلفوا الا من بعد ما جاءھم العلم (45 : 17) “ پھر جو اختلافات ان کے درمیان واقع ہوئے وہ جانتے ہوئے کئے گئے۔ ان کے درمیان حد درجہ حسد اور بغض پیدا ہوگیا تھا۔ اور باہم نزاع اور ایک دوسرے پر مظالم ڈھاتے ہوئے یہ اختلافات کئے گئے ، باوجود اس بات کے کہ وہ صحیح بات جانتے تھے ”۔ بغیابینھم (45 : 17) “ اس بنا پر ہوا کہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے ”۔ یوں زمین پر ان کی قیادت ختم ہوگئی اور اللہ نے ان کو جو خلافت ارضی عطا کی تھی ان سے چھین لی گئی اور اختلافات کا آخری فیصلہ تو اللہ کرے گا۔ ان ربک یقضی۔۔۔۔۔ فیہ یختلفون (45 : 17) “ اللہ قیامت کے روز ان معاملات کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلافات کرتے رہے ہیں ”۔ اس کے بعد اللہ نے رسالت جدیدہ کو خلافت ارضی کا مقام عطا فرمایا ، جو قوم کو اللہ کی شریعت کی طرف لوٹائے گی اور تمام معاملات میں اللہ کی قیادت اور برتری قائم کرے گی۔ اور دنیا میں اللہ کی شریعت کے مطابق نظام قائم کرے گی ، بندوں کی خواہشات کے مطابق نہیں۔ ثم جعلنک علی ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (45 : 18) “ اس کے بعد اب اے نبی ﷺ ، ہم نے تم دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ پر قائم کیا لہٰذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، جو علم نہیں رکھتے ”۔ یوں یہ معاملہ بالکل صاف ہوجاتا ہے یا تو اللہ کی شریعت ہوگی یا ان لوگوں کی خواہشات ہوں گی جو نہیں جانتے۔ تیسری کوئی صورت نہیں ہے۔ یا تو سیدھی اور مستقیم شریعت اور شاہراہ ہے اور یا پھر لوگوں کی بدلتی ہوئی خواہشات ہیں۔ اور ان کے درمیان تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جو قوم شریعت کو چھوڑتی ہے ، وہ اپنی خواہشات کی پوجا کرتی ہے کیونکہ شریعت کے سوا جو بھی ہے وہ ان لوگوں کی ہوا وہوس ہے جو نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو اس بات سے ڈراتا ہے کہ آپ ان لوگوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کریں جو نہیں جانتے۔ اگر آپ نے یہ کام کیا تو یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کو کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے۔ یہ لوگ تو ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کرتے ہیں۔ اگر اللہ کے دین اور شریعت کو نہ ماننے والے یہ لوگ ایک دوسرے کے جگری دوست بھی بن جائیں اور ایکا بھی کرلیں تو بھی یہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ اے پیغمبر آپ کے مولیٰ تو اللہ ہے۔ انھم لن یغنوا ۔۔۔۔۔۔۔ ولی المتقین (45 : 19) “ اس کے بعد اے نبی ہم نے تم دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا تم اس پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے ۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے ”۔ یعنی ایک طرف شریعت ہے جو علم و حکمت پر مبنی ہے اور دوسری جانب خواہشات نفسانیہ ہیں جو جہالت پر مبنی ہیں اور جاہلیت ہیں۔ ایک داعی کو چاہئے کہ وہ شریعت کا اتباع کرے اور ساری ذاتی خواہشات کو چھوڑ دے۔ داعی کا فرض ہے کہ وہ شریعت سے ادھر ادھر نہ ہو کیونکہ ذاتی خواہشات رکھنے والے لوگ اللہ کے مقابلے میں کوئی مدد نہیں دے سکتے۔ وہ تو داعی کے مخالف ہوتے ہیں اور سب مل کر مخالفت کرتے ہیں اور وہ شریعت کی مخالفت میں ایک دوسرے کے ممدو معاون ہوتے ہیں ، لہٰذا داعی کو ظالموں اور جاہلوں سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ پھر یہ کہ یہ ظالم کسی داعی کی مدد بھی نہیں کرسکتے کیونکہ یہ تو ان کی خواہشات کے خلاف ہے لیکن وہ اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ وہ سچے داعی کو نقصان بھی نہیں پہنچا سکتے۔ کیونکہ داعی کا والی وارث اللہ ہوتا ہے اور جس کا والی وارث اللہ ہو ، اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ اور انسان ضعیف کمزور ہوتے ہیں ، جن کی کوئی قوت نہیں ہوتی جبکہ اللہ کے دوست مسلمان ہوتے ہیں اور وہ قوی ہوتے ہیں۔ اس فیصلہ کن بیان پر مزید تبصرہ یہ ہے کہ قرآن دو ٹوک اور فیصلہ کن باتیں کرتا ہے اور قرآن کی ان دوٹوک باتوں سے یقین نصیب ہوتا ہے جو انسان کو بصیرت اور ہدایت دیتا ہے۔ ھذا بصائر ۔۔۔۔۔ لقوم یوقنون (45 : 20) “ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لئے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے جو یقین لائیں ”۔ قرآن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ لوگوں کے لئے بصیرت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کے اندر گہری بصیرت ہے اور روشنی ہے۔ قرآن بذات خود بصیرت اور رونی ہے جس طرح بصیرت اور روشنی انسانوں کے لئے دیکھنے اور سمجھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں تو قرآن بذات خود بصیرت وہدایت ہے اور یہ بذات خود رحمت ہے ، لیکن قرآن کے اندر یہ صفات تب نظر آئیں گی اور اس سے یہ فوائد تب حاصل ہوں گے جب کسی کے اندر ذوق یقین پیدا ہو۔ انسان کے اندر اس قدر یقین ہوجائے جس کے اندر شک کا شبہ ہی نہ ہو۔ اس کے اندر کوئی بےچینی نہ ہو ، اور دل میں کوئی خلش نہ ہو۔ جب قلب کو یقین حاصل ہوجائے اور اسے پورا وثوق حاصل ہوجائے تو ان کے اندر پھر کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔ وہ پھر شف شف نہیں کرتا۔ ادھر ادھر نہیں ڈولتا ، اس کی راہ پھر واضح ہوجاتی ہے۔ اسے اپنی منزل دور افق پر بلند نظر آتی ہے ۔ اس کا مقصد متعین ہوجاتا ہے۔ طریق کار متعین اور استوار ہوجاتا ہے۔ اب پھر قرآن اس کے لئے نور بصیرت بن جاتا ہے ، ہدایت بن جاتا ہے اور رحمت بن جاتا ہے بشرطیکہ یقین محکم ہو۔ اس بیان کے بعد کہ ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ متقین کے ولی ہیں۔ اور یہ کہ قرآن مجید کے لئے نور بصیرت ہے اور یقین کرنے والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور جو لوگ نیک کام کرتے ہیں ، یعنی مومن ان کے درمیان بنیادی فرق ہے اور اللہ کے ہاں دونوں کا ایک مقام نہیں ہو سکتا۔ نہ دونوں کا ایک جیسا فیصلہ ہو سکتا ہے ۔ اللہ کے ترازو میں دونوں کے درمیان فرق ہے۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کے اس نظام کو حق اور عدل پر قائم کر رکھا ہے۔ اور اس کائنات کے نقشے میں سچائی بنیادی اور اساسی عنصر ہے۔

الجاثية 45:20

آیت نمبر 16 تا 20 اسلام سے قبل تحریک اسلامی کی قیادت بنی اسرائیل کے پاس تھی۔ آسمانی ہدایت اور عقیدہ کے حامل یہی تھے۔ اور اللہ نے اس دور کے لئے یہ مشن ان کے سپرد کردیا تھا ۔ کیونکہ انسانیت کے لئے ہر دور میں آسمانی رہنمائی کی ضرورت رہی ہے۔ اس لیے کہ زمین کے اندر جو بھی قائدین رہے ہیں وہ خواہشات نفسانیہ کے پیروکار ، جاہل اور تقصیرات سے پر رہے ہیں اس لیے وہ انسانوں کے لئے جو قانون اور شریعت بناتے رہے ہیں۔ وہ ایسی ہی تقصیر رہی۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اس لیے اللہ کی شریعت ہی ایسی ہو سکتی ہے جو جہل ، ذاتی خواہشات اور تقصیرات سے پاک ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ سب لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کسی کا حامی اور کسی کا مخالف نہیں ہے۔ اور اللہ جہل قصور اور خواہشات سے پاک ہے۔ وہ زیادہ جانتا ہے اور لطیف وخبیر ہے۔ ولقد اتینا ۔۔۔۔۔۔ والنبوۃ (45 : 16) “ اس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب ، حکم اور نبوت عطا کی تھی ”۔ تورات ان کو دی گئی جس میں اللہ کی شریعت تھی۔ اور اس میں یہ احکام تھے کہ شریعت کو قائم کرو اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھی نبوت اور حکومت ان میں جاری رہی کہ شریعت کو قائم کرو اور ان کے اندر دوسری اقوام کے مقابلے میں بیشمار نبی بھیجے گئے۔ ورزقنھم من الطیبت (45 : 16) “ ان کو ہم نے عمدہ سامان زیست سے نوازا ”۔ ان کی حکومتیں اور ان کی نبوتیں ارض مقدس تک محدود رہیں۔ یہ سر زمین فرات اور نیل کے درمیان ایک پاک سرزمین تھی۔ وفضلنھم علی العلمین (45 : 16) “ اور دنیا بھر کے لوگوں پر ان کو ہم نے فضیلت عطا کی ”۔ اس مرکزی مقام پر ربانی ہدایت کے حامل ہونے کے ناتے اس وقت یہ تمام عالم پر برتر قوم تھے اور ان کی افضیلت کی بڑی دلیل یہ تھی کہ وہ حاملین شریعت تھے اور ان کو حکومت اور نبوت دی گئی تھی۔ واتینھم بیت من الارمر (45 : 17) “ اور دین کے معاملے میں انہیں واضح ہدایات دے دیں ”۔ جو شریعت انہیں دی گئی وہ دو ٹوک اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی تھی۔ اس میں کوئی بات ناقابل فہم ، پیچیدہ ، ٹیٹرھی اور صحیح راہ سے منحرف نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے اس شریعت کو جو اختلافات کئے اور فرقے بنے اس کا کوئی جواز نہ تھا۔ انہوں نے جو تفرقہ کیا اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ شریعت اور دین سمجھے نہ تھے یا یہ کہ وہ جاہل تھے اور انہیں صحیح بات اور حق معلوم نہ تھا۔ فما اختلفوا الا من بعد ما جاءھم العلم (45 : 17) “ پھر جو اختلافات ان کے درمیان واقع ہوئے وہ جانتے ہوئے کئے گئے۔ ان کے درمیان حد درجہ حسد اور بغض پیدا ہوگیا تھا۔ اور باہم نزاع اور ایک دوسرے پر مظالم ڈھاتے ہوئے یہ اختلافات کئے گئے ، باوجود اس بات کے کہ وہ صحیح بات جانتے تھے ”۔ بغیابینھم (45 : 17) “ اس بنا پر ہوا کہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے ”۔ یوں زمین پر ان کی قیادت ختم ہوگئی اور اللہ نے ان کو جو خلافت ارضی عطا کی تھی ان سے چھین لی گئی اور اختلافات کا آخری فیصلہ تو اللہ کرے گا۔ ان ربک یقضی۔۔۔۔۔ فیہ یختلفون (45 : 17) “ اللہ قیامت کے روز ان معاملات کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلافات کرتے رہے ہیں ”۔ اس کے بعد اللہ نے رسالت جدیدہ کو خلافت ارضی کا مقام عطا فرمایا ، جو قوم کو اللہ کی شریعت کی طرف لوٹائے گی اور تمام معاملات میں اللہ کی قیادت اور برتری قائم کرے گی۔ اور دنیا میں اللہ کی شریعت کے مطابق نظام قائم کرے گی ، بندوں کی خواہشات کے مطابق نہیں۔ ثم جعلنک علی ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (45 : 18) “ اس کے بعد اب اے نبی ﷺ ، ہم نے تم دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ پر قائم کیا لہٰذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، جو علم نہیں رکھتے ”۔ یوں یہ معاملہ بالکل صاف ہوجاتا ہے یا تو اللہ کی شریعت ہوگی یا ان لوگوں کی خواہشات ہوں گی جو نہیں جانتے۔ تیسری کوئی صورت نہیں ہے۔ یا تو سیدھی اور مستقیم شریعت اور شاہراہ ہے اور یا پھر لوگوں کی بدلتی ہوئی خواہشات ہیں۔ اور ان کے درمیان تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جو قوم شریعت کو چھوڑتی ہے ، وہ اپنی خواہشات کی پوجا کرتی ہے کیونکہ شریعت کے سوا جو بھی ہے وہ ان لوگوں کی ہوا وہوس ہے جو نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو اس بات سے ڈراتا ہے کہ آپ ان لوگوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کریں جو نہیں جانتے۔ اگر آپ نے یہ کام کیا تو یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کو کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے۔ یہ لوگ تو ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کرتے ہیں۔ اگر اللہ کے دین اور شریعت کو نہ ماننے والے یہ لوگ ایک دوسرے کے جگری دوست بھی بن جائیں اور ایکا بھی کرلیں تو بھی یہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ اے پیغمبر آپ کے مولیٰ تو اللہ ہے۔ انھم لن یغنوا ۔۔۔۔۔۔۔ ولی المتقین (45 : 19) “ اس کے بعد اے نبی ہم نے تم دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا تم اس پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے ۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے ”۔ یعنی ایک طرف شریعت ہے جو علم و حکمت پر مبنی ہے اور دوسری جانب خواہشات نفسانیہ ہیں جو جہالت پر مبنی ہیں اور جاہلیت ہیں۔ ایک داعی کو چاہئے کہ وہ شریعت کا اتباع کرے اور ساری ذاتی خواہشات کو چھوڑ دے۔ داعی کا فرض ہے کہ وہ شریعت سے ادھر ادھر نہ ہو کیونکہ ذاتی خواہشات رکھنے والے لوگ اللہ کے مقابلے میں کوئی مدد نہیں دے سکتے۔ وہ تو داعی کے مخالف ہوتے ہیں اور سب مل کر مخالفت کرتے ہیں اور وہ شریعت کی مخالفت میں ایک دوسرے کے ممدو معاون ہوتے ہیں ، لہٰذا داعی کو ظالموں اور جاہلوں سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ پھر یہ کہ یہ ظالم کسی داعی کی مدد بھی نہیں کرسکتے کیونکہ یہ تو ان کی خواہشات کے خلاف ہے لیکن وہ اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ وہ سچے داعی کو نقصان بھی نہیں پہنچا سکتے۔ کیونکہ داعی کا والی وارث اللہ ہوتا ہے اور جس کا والی وارث اللہ ہو ، اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ اور انسان ضعیف کمزور ہوتے ہیں ، جن کی کوئی قوت نہیں ہوتی جبکہ اللہ کے دوست مسلمان ہوتے ہیں اور وہ قوی ہوتے ہیں۔ اس فیصلہ کن بیان پر مزید تبصرہ یہ ہے کہ قرآن دو ٹوک اور فیصلہ کن باتیں کرتا ہے اور قرآن کی ان دوٹوک باتوں سے یقین نصیب ہوتا ہے جو انسان کو بصیرت اور ہدایت دیتا ہے۔ ھذا بصائر ۔۔۔۔۔ لقوم یوقنون (45 : 20) “ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لئے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے جو یقین لائیں ”۔ قرآن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ لوگوں کے لئے بصیرت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کے اندر گہری بصیرت ہے اور روشنی ہے۔ قرآن بذات خود بصیرت اور رونی ہے جس طرح بصیرت اور روشنی انسانوں کے لئے دیکھنے اور سمجھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں تو قرآن بذات خود بصیرت وہدایت ہے اور یہ بذات خود رحمت ہے ، لیکن قرآن کے اندر یہ صفات تب نظر آئیں گی اور اس سے یہ فوائد تب حاصل ہوں گے جب کسی کے اندر ذوق یقین پیدا ہو۔ انسان کے اندر اس قدر یقین ہوجائے جس کے اندر شک کا شبہ ہی نہ ہو۔ اس کے اندر کوئی بےچینی نہ ہو ، اور دل میں کوئی خلش نہ ہو۔ جب قلب کو یقین حاصل ہوجائے اور اسے پورا وثوق حاصل ہوجائے تو ان کے اندر پھر کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔ وہ پھر شف شف نہیں کرتا۔ ادھر ادھر نہیں ڈولتا ، اس کی راہ پھر واضح ہوجاتی ہے۔ اسے اپنی منزل دور افق پر بلند نظر آتی ہے ۔ اس کا مقصد متعین ہوجاتا ہے۔ طریق کار متعین اور استوار ہوجاتا ہے۔ اب پھر قرآن اس کے لئے نور بصیرت بن جاتا ہے ، ہدایت بن جاتا ہے اور رحمت بن جاتا ہے بشرطیکہ یقین محکم ہو۔ اس بیان کے بعد کہ ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ متقین کے ولی ہیں۔ اور یہ کہ قرآن مجید کے لئے نور بصیرت ہے اور یقین کرنے والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور جو لوگ نیک کام کرتے ہیں ، یعنی مومن ان کے درمیان بنیادی فرق ہے اور اللہ کے ہاں دونوں کا ایک مقام نہیں ہو سکتا۔ نہ دونوں کا ایک جیسا فیصلہ ہو سکتا ہے ۔ اللہ کے ترازو میں دونوں کے درمیان فرق ہے۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کے اس نظام کو حق اور عدل پر قائم کر رکھا ہے۔ اور اس کائنات کے نقشے میں سچائی بنیادی اور اساسی عنصر ہے۔

الجاثية 45:21

آیت نمبر 21 تا 22 ہو سکتا ہے کہ یہاں بدکاروں سے مراد اہل کتاب ہوں جنہوں نے اپنی کتاب سے روگردانی کی اور برائیوں کا ارتکاب کیا۔ اور سمجھتے یہی رہے کہ وہ حقیقی مومن ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو اہل ایمان کے برابر سمجھتے ہیں جبکہ وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور مومنین نیکیوں کے کام کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں گروہ اللہ کے ہاں برابر ہو سکتے ہیں ، خواہ اس دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا موازنہ ہو ؟ اور اس سے مراد عام اصول بیان کرنا بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ کے پیمانوں کے مطابق نیک کام کرنے والے برے کام کرنے والے آپس میں برابر نہیں ہو سکتے ، نہ اس دنیا میں نہ آخرت کے حساب و کتاب میں۔ مومنین کا پلڑا یہاں بھی بھاری ہوگا اور آخرت میں بھی بھاری ہوگا۔ اور یہ اصول اللہ کی اس کائنات کے نقشے میں ریڑھ کی ہڈی کا مقام رکھتا ہے۔ اس پوری کائنات کی تخلیق حق پر ہوتی ہے۔ شریعت کی تشکیل بھی حق پر ہوتی ہے۔ جس چیز کے ساتھ یہ کائنات قائم ہے ، وہ توازن اور اعتدال ہے اور اسی اصول پر انسانی زندگی بھی قائم ہے یعنی عدل و انصاف جس کا اظہار اچھے کام کرنے والوں اور برے کام کرنے والوں کے درمیان فرق کر کے کیا گیا ہے۔ اور ہر شخص کو اس کے کئے کی جزاء و سزادی گئی اگر وہ نیک ہوا یا گمراہ ہوا ۔ تا کہ تمام لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جاسکے۔ وھم لا یظلمون (45 : 22) “ اور لوگوں پر ہرگز ظلم نہ کیا جائے گا ”۔ یہ مفہوم کہ اس کائنات کی تخلیق کے اصل نقشے میں حق بنیادی چیز ہے۔ اور یہ کہ جس طرح کائنات کے اندر حق ہے ، اسی طرح شریعت کے اندر حق ہے اور یہ کہ یوم الحساب میں اسی حق پر حساب و کتاب ہوگا۔ یہ مفہوم اور مضمون قرآن میں بار بار آتا ہے کیونکہ یہ اسلامی تصور حیات کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ تمام شاخیں اس اصول پر مبنی ہیں۔ انسانی نفس ، آفاق کائنات اور اسلامی شریعت سب اس سچائی پر مبنی ہیں۔ یہی ہے “ کائنات ، حیات اور انسان اور انسان اسلام کی نظر میں ” میری الگ کتاب کا موضوع۔ یہ انشاء اللہ جلد پیش ہوگی۔ ٭٭٭٭ اب اس عظیم اصول کے بالمقابل اور شریعت کے بالمقابل لوگوں کی خواہشات ہوتی ہیں جو بدلتی رہتی ہیں۔ ان خواہشات کو لوگ اپنا لیتے ہیں ، ایسے لوگ گمراہی میں اس قدر دور چلے جاتے ہیں کہ ان کی ہدایت کے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں۔

الجاثية 45:22

آیت نمبر 21 تا 22 ہو سکتا ہے کہ یہاں بدکاروں سے مراد اہل کتاب ہوں جنہوں نے اپنی کتاب سے روگردانی کی اور برائیوں کا ارتکاب کیا۔ اور سمجھتے یہی رہے کہ وہ حقیقی مومن ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو اہل ایمان کے برابر سمجھتے ہیں جبکہ وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور مومنین نیکیوں کے کام کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں گروہ اللہ کے ہاں برابر ہو سکتے ہیں ، خواہ اس دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا موازنہ ہو ؟ اور اس سے مراد عام اصول بیان کرنا بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ کے پیمانوں کے مطابق نیک کام کرنے والے برے کام کرنے والے آپس میں برابر نہیں ہو سکتے ، نہ اس دنیا میں نہ آخرت کے حساب و کتاب میں۔ مومنین کا پلڑا یہاں بھی بھاری ہوگا اور آخرت میں بھی بھاری ہوگا۔ اور یہ اصول اللہ کی اس کائنات کے نقشے میں ریڑھ کی ہڈی کا مقام رکھتا ہے۔ اس پوری کائنات کی تخلیق حق پر ہوتی ہے۔ شریعت کی تشکیل بھی حق پر ہوتی ہے۔ جس چیز کے ساتھ یہ کائنات قائم ہے ، وہ توازن اور اعتدال ہے اور اسی اصول پر انسانی زندگی بھی قائم ہے یعنی عدل و انصاف جس کا اظہار اچھے کام کرنے والوں اور برے کام کرنے والوں کے درمیان فرق کر کے کیا گیا ہے۔ اور ہر شخص کو اس کے کئے کی جزاء و سزادی گئی اگر وہ نیک ہوا یا گمراہ ہوا ۔ تا کہ تمام لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جاسکے۔ وھم لا یظلمون (45 : 22) “ اور لوگوں پر ہرگز ظلم نہ کیا جائے گا ”۔ یہ مفہوم کہ اس کائنات کی تخلیق کے اصل نقشے میں حق بنیادی چیز ہے۔ اور یہ کہ جس طرح کائنات کے اندر حق ہے ، اسی طرح شریعت کے اندر حق ہے اور یہ کہ یوم الحساب میں اسی حق پر حساب و کتاب ہوگا۔ یہ مفہوم اور مضمون قرآن میں بار بار آتا ہے کیونکہ یہ اسلامی تصور حیات کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ تمام شاخیں اس اصول پر مبنی ہیں۔ انسانی نفس ، آفاق کائنات اور اسلامی شریعت سب اس سچائی پر مبنی ہیں۔ یہی ہے “ کائنات ، حیات اور انسان اور انسان اسلام کی نظر میں ” میری الگ کتاب کا موضوع۔ یہ انشاء اللہ جلد پیش ہوگی۔ ٭٭٭٭ اب اس عظیم اصول کے بالمقابل اور شریعت کے بالمقابل لوگوں کی خواہشات ہوتی ہیں جو بدلتی رہتی ہیں۔ ان خواہشات کو لوگ اپنا لیتے ہیں ، ایسے لوگ گمراہی میں اس قدر دور چلے جاتے ہیں کہ ان کی ہدایت کے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں۔

الجاثية 45:23

آیت نمبر 23 انسان جب اسلام کا عظیم اصول اتباع شریعت ترک کرد یتا ہے تو پھر اس کی جو حالت ہوتی ہے قرآن کریم اس خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ یہ شخص اپنی بدلتی ہوئی خواہشات کے تابع ہے۔ یہ اپنی خواہشات کے سامنے سجدہ ریز ہے اور ان کا مطیع فرمان ہے۔ اس کے تصورات ، اس کے احکام ، اس کی سوچ اور اس کی حرکات ، اس کی خواہشات کے زاویہ سے ہوتی ہیں۔ یہ ان کو اس طرح پوجتا ہے جس طرح کوئی کسی بت کو پوجتا ہے۔ یہ خواہشات کے اشارات کے پیچھے دوڑتا ہے۔ قرآن ایسے لوگوں کی یہ تصویر کشی بڑی ناپسندیدگی سے کرتا ہے۔ افر ءیت من اتخذ الھہ ھوہ (45 : 23) “ پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ”۔ کیا تم نے ایسے شخص کو دیکھا ہے ؟ یہ شخص ایک ایسی عجیب مخلوق ہے جو تماشا کے قابل ہے کہ اس کا تماشا دیکھا جائے۔ یہ شخص اللہ کے سامنے اپنے آپ کو ضلالت کا مستحق ثابت کردیتا ہے۔ اب اللہ ایسے شخص پر ہدایت کی رحمت نازل ہی نہیں کرتا ۔ کیونکہ اس کے دل میں ہدایت کی جگہ ہی باقی نہیں رہی ہے اس لیے کہ وہ اپنی خواہش کو بروقت پوجتا رہتا ہے۔ واضلہ اللہ علی علم ( 45 : 23) “ اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا ہے ” ۔ اس کے دو معنی ہیں : ایک یہ کہ اللہ نے علم کے مطابق جانتے ہوئے اسے ضلالت میں پھینک دیا ۔ اس لیے کہ یہ ضلالت کا مستحق ہوگیا تھا۔ یا یہ کہ وہ اپنے طور پر عالم ہونے کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ اور اس کے علم و معرفت نے اس کو اس بات سے نہ روکا کہ وہ اپنی خواہشات کو الٰہ بنائے۔ یوں پھر اللہ نے اسے بھی ڈھیل دے دی اور گمراہی میں پھینک دیا۔ وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشوۃ (45 : 23) “ اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ”۔ لہٰذا وہ تمام روشن دان بند ہوگئے جن سے روشنی اندر آتی تھی اور وہ مدرکات بےکار ہوگئے جن کے ذریعہ سے ہدایت کسی شخص کے دل و دماغ میں داخل ہو سکتی تھی۔ اور انسان نے خواہشات نفسانیہ کو اس طرح قبول کرنا شروع کردیا کہ حصول ہدایت کے تمام راستے مسدود ہوگئے۔ فمن یھدیہ من بعد اللہ (45 : 23) “ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اسے ہدایت دے ” ۔ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اللہ کے سوا اور تو کوئی کسی کی ہدایت اور ضلالت کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یہ تو اللہ کا خصوصی اختیار ہے اس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اللہ کے مختار رسولوں کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کو ہدایت دے دیں۔ افلا تذکرون (45 : 23) “ کیا تم لوگ سبق نہیں لیتے ”۔ جس نے سبق لیا وہ ہوشمند رہا اور متنبہ ہوگیا۔ اور ہوائے نفس کے پھندے سے آزاد ہوگیا اور ایک واضح اور مستقل منہاج پر گامزن ہوگیا جس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوئے۔

الجاثية 45:24

درس نمبر 236 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری پیراگراف ہے۔ اس میں آخرت کے حساب و کتاب اور حشر ونشر کے بارے میں مشرکین کے عقائد و خیالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس پر تردید کے لئے خود ان کے وجود کو پیش کیا گیا ہے کہ آخر تم موجود ہو اور کوئی تمہیں اٹھائے ہوئے ہے۔ اس سے تو تم انکار نہیں کرسکتے ہو۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے کہ قیام قیامت کا وقت تو اگرچہ معلوم نہیں ہے لیکن وہاں تمہارے ساتھ یہ کچھ ہونے والا ہے اور یہ منظر نہایت ہی موثر کلمات میں پیش کیا جاتا ہے۔ سورت کا خاتمہ الحمد للہ پر ہوتا ہے کہ اللہ واحد ہے ، وہ رب ہے ، تمام جہان والوں کا رب ہے۔ اس کی عظمت اور اس کی کبریائی بہت ہی بڑی ہے اور تمام آسمانوں اور زمینوں میں وہ منفرد ہے۔ کوئی اس کے مقابل کھڑا نہیں ہو سکتا۔ کوئی اس کی بادشاہت میں دست درازی نہیں کرسکتا اور وہ عزیز و حکیم ہے۔ ٭٭٭٭ درس نمبر 236 تشریح آیات 24 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 37 آیت نمبر 24 تا 26 قیامت کے بارے میں ان کا نظریہ اس قدر کوتاہ بینی پر مبنی تھا کہ ان کے نزدیک زندگی بس یہی تھی جسے وہ اس زمین پر گزرتی دیکھ سکتے تھے۔ ایک نسل ہے جو پیدا ہوتی ہے اور گزرتی چلی جاتی ہے۔ بظاہر موت کوئی چیز نہیں ہے سوائے اس کے کہ وقت گزرتا ہے اور ہم مرنتے ہیں اور زمانہ لپیٹتا چلا جاتا ہے۔ گویا یہ زمانہ ہے جو تمام فیصلے کرتا ہے اور ان پر موت طاری کرتا ہے اور وہ مر جاتے ہیں۔ یہ ایک سطحی نظریہ تھا۔ صرف ظاہری حالات کو دیکھ کر اسے اختیار کیا گیا ہے ، زندگی کے پیچھے جو اسر اور موز تھے ان کو تلاش کرنے کی اس میں کوشش ہی نہیں کی گئی تھی۔ سوال یہ تھا کہ زندگی کہاں سے آگئی ؟ اور کون ہے جو زندگی واپس لے لیتا ہے۔ موت کچھ متعین دنوں کے بعد تو نہیں آجاتی کہ انہوں نے زمانے کے ساتھ موت کو وابستہ کردیا۔ بچے بھی بوڑھوں کی طرح مرتے ہیں اور صحت مند لوگ بھی تو مرتے ہیں۔ جس طرح بیمار لوگ مرتے ہیں۔ ضعیف لوگوں کی طرح ہٹے کٹے بھی مرتے ہیں۔ لہٰذا اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو زمانے کا تعلق موت وحیات سے نہیں ہے۔ بشرطیکہ کوئی موت کی حقیقت کو جاننا چاہئے ۔ چناچہ کہا گیا : وما لھم بذلک من علم ان ھم الا یظنون ) 45 : 24) “ در حقیقت اس معاملے میں ان کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بنا پر باتیں کرتے ہیں ”۔ یہ محض ظن وتخمین کے پائے چوبین پر چل رہے ہیں۔ ان کے خیالات بجھے ہوئے ہیں اور ان کے نفوش دھندلے ہیں۔ گہرے غوروفکر پر مبنی نہیں ہیں ، نہ کسی علم پر مبنی ہیں۔ اس کائنات کے حقائق کا ادراک ان کو نہیں ۔ موت وحیات کے جو حالات انسان پر طاری ہوتے ہیں ، یہ ان کے صرف سطحی اسباب دیکھتے ہیں۔ حقیقی اسباب نظروں سے اوجھل ہیں۔ انہوں نے صرف اس قدر معلوم کیا ہے کہ زیادہ دن گزر نے کے بعد انسان کمزور ہوتا ہے اور مرجاتا ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (45 : 25) “ اور جب ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو ”۔ ان کی یہ بات بھی نہایت سطحی سوچ پر مبنی ہے اور اس سے پہلے انہوں نے اس کائنات کے قوانین فطرت کا مطالعہ نہیں کیا۔ اس دنیا میں اللہ نے حیات و ممات کے لئے جو نظام تحریر کیا ہے اور ان کے جو اسرار و رموز مقررہ کئے ہیں ، ان پر انہوں نے گہرے انداز میں نہیں سوچا۔ اس کے اندر گہری حکمت کارفرما ہے۔ لوگ اس جہاں میں آتے ہیں اور آتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ کے نظام میں ان کو یہاں فرصت عمل مہیا کی جا رہی ہے۔ مرنے کے بعد ان کو ایک مقررہ وقت پر دوبارہ اٹھایا جائے گا اور یہاں انہوں نے جو کچھ کیا ، اس پر ان کا حساب و کتاب دینا ہوگا۔ لہٰذا حشر و نشر سے پہلے اللہ کے نظام کے مطابق انہیں یہاں نہیں اٹھایا جاسکتا۔ قیامت کے مقررہ دن سے پہلے یہاں ان کا اٹھانا حکمت آزمائش کے خلاف ہے۔ بعض لوگ یہ تجویز کرتے ہیں کہ ہر پرچہ قبل از وقت آؤٹ کر دیاجائے۔ لیکن اللہ کا اپنا کام اور نظام ہے اور اس کی اپنی حکمت اور اسکیم ہے۔ جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ لہٰذا اس احمقانہ تجویز کے مطابق اللہ کی پوری اسکیم کو نہیں بدلا جاسکتا۔ یہ قرآن استدلال کا کوئی معقول جواب دینے کی بجائے بس یہ کہتے ہیں : ائتوا بابائنا ان کنتم صدقین ) 45 : 25) “ کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو ”۔ سوال یہ ہے کہ اللہ وقت مقررہ سے پہلے ان کے باپ دادا کو کیوں اٹھا لائے۔ اس میعاد سے قبل جو اس نے اس پوری کائنات کے لئے مقرر کر رکھی ہے ؟ محض اس لیے کہ ان کو یہ یقین آجائے کہ اللہ مردوں کو دوبارہ اٹھا سکتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ اپنی سنت کے مطابق ان کی آنکھوں کے سامنے ہر لمحہ اور ہر لحظہ زندگی کو اٹھا نہیں رہا ہے۔ قل اللہ یحییکم ۔۔۔۔۔ لا ریب فیہ (45 : 26) “ ان سے کہو کہ اللہ تمہیں زندگی بخشتا ہے۔ پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے۔ پھر وہی تم کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے ”۔ یہی تو وہ معجزہ ہے جسے وہ اپنے آباؤ اجداد کو لے آنے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ ان کی آنکھوں کے سامنے واقع نہیں ہو رہا ہے۔ بعینہ وہی معجزہ ۔ اللہ ہی تو ہے جو انسان کو پیدا کئے جا رہا ہے۔ وہی تو ہے جو مارتا ہے۔ آخر میں اس میں کیا انہونی بات ہے کہ اللہ قیامت کے دن دوبارہ جمع کرے گا۔ اس میں آخر کیوں وہ شک میں گرفتار ہو رہے ہیں۔ جس چیز سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے۔ اس کی نظیر خود ان کی زندگی ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (45 : 26) “ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ”۔ اللہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو کنٹرول کرنے والا ہے۔ وہ ہر چیز کو بنانے والا ہے۔ وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے ، اگر اس نے پہلے پیدا کی ہے اور تم مانتے ہو کہ کیا ہے۔ لیکن اللہ ان کے سامنے منطقی دلائل کی بجائے ایک منظر پیش فرماتا ہے :

الجاثية 45:25

درس نمبر 236 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری پیراگراف ہے۔ اس میں آخرت کے حساب و کتاب اور حشر ونشر کے بارے میں مشرکین کے عقائد و خیالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس پر تردید کے لئے خود ان کے وجود کو پیش کیا گیا ہے کہ آخر تم موجود ہو اور کوئی تمہیں اٹھائے ہوئے ہے۔ اس سے تو تم انکار نہیں کرسکتے ہو۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے کہ قیام قیامت کا وقت تو اگرچہ معلوم نہیں ہے لیکن وہاں تمہارے ساتھ یہ کچھ ہونے والا ہے اور یہ منظر نہایت ہی موثر کلمات میں پیش کیا جاتا ہے۔ سورت کا خاتمہ الحمد للہ پر ہوتا ہے کہ اللہ واحد ہے ، وہ رب ہے ، تمام جہان والوں کا رب ہے۔ اس کی عظمت اور اس کی کبریائی بہت ہی بڑی ہے اور تمام آسمانوں اور زمینوں میں وہ منفرد ہے۔ کوئی اس کے مقابل کھڑا نہیں ہو سکتا۔ کوئی اس کی بادشاہت میں دست درازی نہیں کرسکتا اور وہ عزیز و حکیم ہے۔ ٭٭٭٭ درس نمبر 236 تشریح آیات 24 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 37 آیت نمبر 24 تا 26 قیامت کے بارے میں ان کا نظریہ اس قدر کوتاہ بینی پر مبنی تھا کہ ان کے نزدیک زندگی بس یہی تھی جسے وہ اس زمین پر گزرتی دیکھ سکتے تھے۔ ایک نسل ہے جو پیدا ہوتی ہے اور گزرتی چلی جاتی ہے۔ بظاہر موت کوئی چیز نہیں ہے سوائے اس کے کہ وقت گزرتا ہے اور ہم مرنتے ہیں اور زمانہ لپیٹتا چلا جاتا ہے۔ گویا یہ زمانہ ہے جو تمام فیصلے کرتا ہے اور ان پر موت طاری کرتا ہے اور وہ مر جاتے ہیں۔ یہ ایک سطحی نظریہ تھا۔ صرف ظاہری حالات کو دیکھ کر اسے اختیار کیا گیا ہے ، زندگی کے پیچھے جو اسر اور موز تھے ان کو تلاش کرنے کی اس میں کوشش ہی نہیں کی گئی تھی۔ سوال یہ تھا کہ زندگی کہاں سے آگئی ؟ اور کون ہے جو زندگی واپس لے لیتا ہے۔ موت کچھ متعین دنوں کے بعد تو نہیں آجاتی کہ انہوں نے زمانے کے ساتھ موت کو وابستہ کردیا۔ بچے بھی بوڑھوں کی طرح مرتے ہیں اور صحت مند لوگ بھی تو مرتے ہیں۔ جس طرح بیمار لوگ مرتے ہیں۔ ضعیف لوگوں کی طرح ہٹے کٹے بھی مرتے ہیں۔ لہٰذا اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو زمانے کا تعلق موت وحیات سے نہیں ہے۔ بشرطیکہ کوئی موت کی حقیقت کو جاننا چاہئے ۔ چناچہ کہا گیا : وما لھم بذلک من علم ان ھم الا یظنون ) 45 : 24) “ در حقیقت اس معاملے میں ان کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بنا پر باتیں کرتے ہیں ”۔ یہ محض ظن وتخمین کے پائے چوبین پر چل رہے ہیں۔ ان کے خیالات بجھے ہوئے ہیں اور ان کے نفوش دھندلے ہیں۔ گہرے غوروفکر پر مبنی نہیں ہیں ، نہ کسی علم پر مبنی ہیں۔ اس کائنات کے حقائق کا ادراک ان کو نہیں ۔ موت وحیات کے جو حالات انسان پر طاری ہوتے ہیں ، یہ ان کے صرف سطحی اسباب دیکھتے ہیں۔ حقیقی اسباب نظروں سے اوجھل ہیں۔ انہوں نے صرف اس قدر معلوم کیا ہے کہ زیادہ دن گزر نے کے بعد انسان کمزور ہوتا ہے اور مرجاتا ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (45 : 25) “ اور جب ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو ”۔ ان کی یہ بات بھی نہایت سطحی سوچ پر مبنی ہے اور اس سے پہلے انہوں نے اس کائنات کے قوانین فطرت کا مطالعہ نہیں کیا۔ اس دنیا میں اللہ نے حیات و ممات کے لئے جو نظام تحریر کیا ہے اور ان کے جو اسرار و رموز مقررہ کئے ہیں ، ان پر انہوں نے گہرے انداز میں نہیں سوچا۔ اس کے اندر گہری حکمت کارفرما ہے۔ لوگ اس جہاں میں آتے ہیں اور آتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ کے نظام میں ان کو یہاں فرصت عمل مہیا کی جا رہی ہے۔ مرنے کے بعد ان کو ایک مقررہ وقت پر دوبارہ اٹھایا جائے گا اور یہاں انہوں نے جو کچھ کیا ، اس پر ان کا حساب و کتاب دینا ہوگا۔ لہٰذا حشر و نشر سے پہلے اللہ کے نظام کے مطابق انہیں یہاں نہیں اٹھایا جاسکتا۔ قیامت کے مقررہ دن سے پہلے یہاں ان کا اٹھانا حکمت آزمائش کے خلاف ہے۔ بعض لوگ یہ تجویز کرتے ہیں کہ ہر پرچہ قبل از وقت آؤٹ کر دیاجائے۔ لیکن اللہ کا اپنا کام اور نظام ہے اور اس کی اپنی حکمت اور اسکیم ہے۔ جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ لہٰذا اس احمقانہ تجویز کے مطابق اللہ کی پوری اسکیم کو نہیں بدلا جاسکتا۔ یہ قرآن استدلال کا کوئی معقول جواب دینے کی بجائے بس یہ کہتے ہیں : ائتوا بابائنا ان کنتم صدقین ) 45 : 25) “ کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو ”۔ سوال یہ ہے کہ اللہ وقت مقررہ سے پہلے ان کے باپ دادا کو کیوں اٹھا لائے۔ اس میعاد سے قبل جو اس نے اس پوری کائنات کے لئے مقرر کر رکھی ہے ؟ محض اس لیے کہ ان کو یہ یقین آجائے کہ اللہ مردوں کو دوبارہ اٹھا سکتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ اپنی سنت کے مطابق ان کی آنکھوں کے سامنے ہر لمحہ اور ہر لحظہ زندگی کو اٹھا نہیں رہا ہے۔ قل اللہ یحییکم ۔۔۔۔۔ لا ریب فیہ (45 : 26) “ ان سے کہو کہ اللہ تمہیں زندگی بخشتا ہے۔ پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے۔ پھر وہی تم کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے ”۔ یہی تو وہ معجزہ ہے جسے وہ اپنے آباؤ اجداد کو لے آنے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ ان کی آنکھوں کے سامنے واقع نہیں ہو رہا ہے۔ بعینہ وہی معجزہ ۔ اللہ ہی تو ہے جو انسان کو پیدا کئے جا رہا ہے۔ وہی تو ہے جو مارتا ہے۔ آخر میں اس میں کیا انہونی بات ہے کہ اللہ قیامت کے دن دوبارہ جمع کرے گا۔ اس میں آخر کیوں وہ شک میں گرفتار ہو رہے ہیں۔ جس چیز سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے۔ اس کی نظیر خود ان کی زندگی ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (45 : 26) “ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ”۔ اللہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو کنٹرول کرنے والا ہے۔ وہ ہر چیز کو بنانے والا ہے۔ وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے ، اگر اس نے پہلے پیدا کی ہے اور تم مانتے ہو کہ کیا ہے۔ لیکن اللہ ان کے سامنے منطقی دلائل کی بجائے ایک منظر پیش فرماتا ہے :

الجاثية 45:26

درس نمبر 236 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری پیراگراف ہے۔ اس میں آخرت کے حساب و کتاب اور حشر ونشر کے بارے میں مشرکین کے عقائد و خیالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس پر تردید کے لئے خود ان کے وجود کو پیش کیا گیا ہے کہ آخر تم موجود ہو اور کوئی تمہیں اٹھائے ہوئے ہے۔ اس سے تو تم انکار نہیں کرسکتے ہو۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے کہ قیام قیامت کا وقت تو اگرچہ معلوم نہیں ہے لیکن وہاں تمہارے ساتھ یہ کچھ ہونے والا ہے اور یہ منظر نہایت ہی موثر کلمات میں پیش کیا جاتا ہے۔ سورت کا خاتمہ الحمد للہ پر ہوتا ہے کہ اللہ واحد ہے ، وہ رب ہے ، تمام جہان والوں کا رب ہے۔ اس کی عظمت اور اس کی کبریائی بہت ہی بڑی ہے اور تمام آسمانوں اور زمینوں میں وہ منفرد ہے۔ کوئی اس کے مقابل کھڑا نہیں ہو سکتا۔ کوئی اس کی بادشاہت میں دست درازی نہیں کرسکتا اور وہ عزیز و حکیم ہے۔ ٭٭٭٭ درس نمبر 236 تشریح آیات 24 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 37 آیت نمبر 24 تا 26 قیامت کے بارے میں ان کا نظریہ اس قدر کوتاہ بینی پر مبنی تھا کہ ان کے نزدیک زندگی بس یہی تھی جسے وہ اس زمین پر گزرتی دیکھ سکتے تھے۔ ایک نسل ہے جو پیدا ہوتی ہے اور گزرتی چلی جاتی ہے۔ بظاہر موت کوئی چیز نہیں ہے سوائے اس کے کہ وقت گزرتا ہے اور ہم مرنتے ہیں اور زمانہ لپیٹتا چلا جاتا ہے۔ گویا یہ زمانہ ہے جو تمام فیصلے کرتا ہے اور ان پر موت طاری کرتا ہے اور وہ مر جاتے ہیں۔ یہ ایک سطحی نظریہ تھا۔ صرف ظاہری حالات کو دیکھ کر اسے اختیار کیا گیا ہے ، زندگی کے پیچھے جو اسر اور موز تھے ان کو تلاش کرنے کی اس میں کوشش ہی نہیں کی گئی تھی۔ سوال یہ تھا کہ زندگی کہاں سے آگئی ؟ اور کون ہے جو زندگی واپس لے لیتا ہے۔ موت کچھ متعین دنوں کے بعد تو نہیں آجاتی کہ انہوں نے زمانے کے ساتھ موت کو وابستہ کردیا۔ بچے بھی بوڑھوں کی طرح مرتے ہیں اور صحت مند لوگ بھی تو مرتے ہیں۔ جس طرح بیمار لوگ مرتے ہیں۔ ضعیف لوگوں کی طرح ہٹے کٹے بھی مرتے ہیں۔ لہٰذا اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو زمانے کا تعلق موت وحیات سے نہیں ہے۔ بشرطیکہ کوئی موت کی حقیقت کو جاننا چاہئے ۔ چناچہ کہا گیا : وما لھم بذلک من علم ان ھم الا یظنون ) 45 : 24) “ در حقیقت اس معاملے میں ان کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بنا پر باتیں کرتے ہیں ”۔ یہ محض ظن وتخمین کے پائے چوبین پر چل رہے ہیں۔ ان کے خیالات بجھے ہوئے ہیں اور ان کے نفوش دھندلے ہیں۔ گہرے غوروفکر پر مبنی نہیں ہیں ، نہ کسی علم پر مبنی ہیں۔ اس کائنات کے حقائق کا ادراک ان کو نہیں ۔ موت وحیات کے جو حالات انسان پر طاری ہوتے ہیں ، یہ ان کے صرف سطحی اسباب دیکھتے ہیں۔ حقیقی اسباب نظروں سے اوجھل ہیں۔ انہوں نے صرف اس قدر معلوم کیا ہے کہ زیادہ دن گزر نے کے بعد انسان کمزور ہوتا ہے اور مرجاتا ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (45 : 25) “ اور جب ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو ”۔ ان کی یہ بات بھی نہایت سطحی سوچ پر مبنی ہے اور اس سے پہلے انہوں نے اس کائنات کے قوانین فطرت کا مطالعہ نہیں کیا۔ اس دنیا میں اللہ نے حیات و ممات کے لئے جو نظام تحریر کیا ہے اور ان کے جو اسرار و رموز مقررہ کئے ہیں ، ان پر انہوں نے گہرے انداز میں نہیں سوچا۔ اس کے اندر گہری حکمت کارفرما ہے۔ لوگ اس جہاں میں آتے ہیں اور آتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ کے نظام میں ان کو یہاں فرصت عمل مہیا کی جا رہی ہے۔ مرنے کے بعد ان کو ایک مقررہ وقت پر دوبارہ اٹھایا جائے گا اور یہاں انہوں نے جو کچھ کیا ، اس پر ان کا حساب و کتاب دینا ہوگا۔ لہٰذا حشر و نشر سے پہلے اللہ کے نظام کے مطابق انہیں یہاں نہیں اٹھایا جاسکتا۔ قیامت کے مقررہ دن سے پہلے یہاں ان کا اٹھانا حکمت آزمائش کے خلاف ہے۔ بعض لوگ یہ تجویز کرتے ہیں کہ ہر پرچہ قبل از وقت آؤٹ کر دیاجائے۔ لیکن اللہ کا اپنا کام اور نظام ہے اور اس کی اپنی حکمت اور اسکیم ہے۔ جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ لہٰذا اس احمقانہ تجویز کے مطابق اللہ کی پوری اسکیم کو نہیں بدلا جاسکتا۔ یہ قرآن استدلال کا کوئی معقول جواب دینے کی بجائے بس یہ کہتے ہیں : ائتوا بابائنا ان کنتم صدقین ) 45 : 25) “ کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو ”۔ سوال یہ ہے کہ اللہ وقت مقررہ سے پہلے ان کے باپ دادا کو کیوں اٹھا لائے۔ اس میعاد سے قبل جو اس نے اس پوری کائنات کے لئے مقرر کر رکھی ہے ؟ محض اس لیے کہ ان کو یہ یقین آجائے کہ اللہ مردوں کو دوبارہ اٹھا سکتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ اپنی سنت کے مطابق ان کی آنکھوں کے سامنے ہر لمحہ اور ہر لحظہ زندگی کو اٹھا نہیں رہا ہے۔ قل اللہ یحییکم ۔۔۔۔۔ لا ریب فیہ (45 : 26) “ ان سے کہو کہ اللہ تمہیں زندگی بخشتا ہے۔ پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے۔ پھر وہی تم کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے ”۔ یہی تو وہ معجزہ ہے جسے وہ اپنے آباؤ اجداد کو لے آنے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ ان کی آنکھوں کے سامنے واقع نہیں ہو رہا ہے۔ بعینہ وہی معجزہ ۔ اللہ ہی تو ہے جو انسان کو پیدا کئے جا رہا ہے۔ وہی تو ہے جو مارتا ہے۔ آخر میں اس میں کیا انہونی بات ہے کہ اللہ قیامت کے دن دوبارہ جمع کرے گا۔ اس میں آخر کیوں وہ شک میں گرفتار ہو رہے ہیں۔ جس چیز سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے۔ اس کی نظیر خود ان کی زندگی ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (45 : 26) “ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ”۔ اللہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو کنٹرول کرنے والا ہے۔ وہ ہر چیز کو بنانے والا ہے۔ وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے ، اگر اس نے پہلے پیدا کی ہے اور تم مانتے ہو کہ کیا ہے۔ لیکن اللہ ان کے سامنے منطقی دلائل کی بجائے ایک منظر پیش فرماتا ہے :

الجاثية 45:27

آیت نمبر 27 تا 28 آیت میں پہلے تو ان کے انجام کا فیصلہ جلدی سے بتا دیا گیا کہ اس دن یہ لوگ عظیم خسارے سے دو چار ہوں گے لیکن فیصلہ سننے کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم اور وسیع و عریض میدان ہے۔ اس میدان میں اولین اور آخرین تمام امتیں جمع ہیں۔ جو شخص کبھی اس کرۂ ارض پر زندہ رہا ہے ۔ تھوڑی عمر ملی ہو یا زیادہ ، یہ سب موجود ہیں۔ مجرمین گھٹنوں کے بل گرے ہیں۔ گروہ در گروہ جمع ہیں۔ اور حساب کی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ منظر بہت ہی خوفناک ہے کہ تمام انسان اگلے اور پچھلے ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے۔ پھر یہ خوفناک اس لیے بھی ہوگا کہ لوگوں کی ہیئت کذائی خوفناک ہوگی کہ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔ پھر یہ خوفناک اس لیے بھی ہوگا کہ سخت حساب و کتاب ہونے والا ہوگا۔ اور پھر یہ اس لیے بھی خوفناک ہوگا کہ اللہ جبار وقہار کا دربار ہوگا۔ جو حقیقی منعم اور فضل و کرم کرنے والا ہے۔ جس کے فضل وکرم کا شکر ادا نہیں کیا گیا اور نہ اس کے فضل وکرم کو لوگوں نے پہچانا ہے۔ اس کے بعد اس بدحال گروہ مجرمین سے کہا جائے گا جن کا منہ خشک ہوگا اور سانس اکھڑ رہی ہوگی :

الجاثية 45:28

آیت نمبر 27 تا 28 آیت میں پہلے تو ان کے انجام کا فیصلہ جلدی سے بتا دیا گیا کہ اس دن یہ لوگ عظیم خسارے سے دو چار ہوں گے لیکن فیصلہ سننے کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم اور وسیع و عریض میدان ہے۔ اس میدان میں اولین اور آخرین تمام امتیں جمع ہیں۔ جو شخص کبھی اس کرۂ ارض پر زندہ رہا ہے ۔ تھوڑی عمر ملی ہو یا زیادہ ، یہ سب موجود ہیں۔ مجرمین گھٹنوں کے بل گرے ہیں۔ گروہ در گروہ جمع ہیں۔ اور حساب کی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ منظر بہت ہی خوفناک ہے کہ تمام انسان اگلے اور پچھلے ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے۔ پھر یہ خوفناک اس لیے بھی ہوگا کہ لوگوں کی ہیئت کذائی خوفناک ہوگی کہ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔ پھر یہ خوفناک اس لیے بھی ہوگا کہ سخت حساب و کتاب ہونے والا ہوگا۔ اور پھر یہ اس لیے بھی خوفناک ہوگا کہ اللہ جبار وقہار کا دربار ہوگا۔ جو حقیقی منعم اور فضل و کرم کرنے والا ہے۔ جس کے فضل وکرم کا شکر ادا نہیں کیا گیا اور نہ اس کے فضل وکرم کو لوگوں نے پہچانا ہے۔ اس کے بعد اس بدحال گروہ مجرمین سے کہا جائے گا جن کا منہ خشک ہوگا اور سانس اکھڑ رہی ہوگی :

الجاثية 45:29

آیت نمبر 29 اب ان کو معلوم ہوگا کہ اس اعمال نامے سے کوئی چھوٹی بڑی شے رہ نہیں گئی۔ اس لیے کہ ہر چیز اللہ کے علم کے مطابق لکھی گئی ہے جس سے کوئی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد ان اقوام و ملل کی تقسیم ہوگی ، مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کو صرف دو حصوں میں بانٹ دیا جائے گا۔ تمام اقوام و ملل کے لوگ اب دو طبقے ہوں گے۔ ایک گروہ اور طبقہ اہل ایمان کا ہوگا اور ایک اہل کفر کا ہوگا۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک صرف دو پارٹیاں ہیں اور دو جھنڈے ہیں۔ حزب اللہ اور حز الشیطان۔ اس کے علاوہ تمام ملتیں ، تمام فرقے اور مذاہب ختم ہوں گے۔ تمام آبادی دو گروہ ہوجائے گی۔

الجاثية 45:30

آیت نمبر 30 اب یہ گروہ اس طویل انتظار سے نجات پائے گا۔ قلق اور اضطراب دور ہوگا۔ آیت میں ان کے انجام کو جلدی سے نہایت سادہ انداز میں بیان کردیا ۔ اور یہ لوگ گئے اپنے اصل مقام کی طرف۔ لیکن ہماری نظریں اچانک کیا دیکھتی ہیں کہ ایک دوسرا گروہ ہمارے سامنے ہے اور ان کو طویل الفاظ میں سرزنش کی جاتی ہے۔ ان کو شرمندہ کیا جاتا ہے اور ان کے برے اعمال ان کو یاد دلائے جاتے ہیں۔

الجاثية 45:31

آیت نمبر 31 تا 32 اب ذرا دیکھو ، کیا حال ہے ؟ اور تمہیں کس قدر یقین آرہا ہے۔ قدرے وقفے کے بعد اب ان کی ذہنی دنیا کے حالات کہ اب ان پر چودہ طبق روشن ہیں :

الجاثية 45:32

آیت نمبر 31 تا 32 اب ذرا دیکھو ، کیا حال ہے ؟ اور تمہیں کس قدر یقین آرہا ہے۔ قدرے وقفے کے بعد اب ان کی ذہنی دنیا کے حالات کہ اب ان پر چودہ طبق روشن ہیں :

الجاثية 45:33

آیت نمبر 33 اس کے بعد دوبارہ ان کو شرمندہ کیا جاتا ہے اور یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اب ان کو پوچھنے والا کوئی بھی نہ ہوگا اور ان کا بہت ہی دردناک انجام ہوگا۔

الجاثية 45:34

آیت نمبر 33 اس کے بعد دوبارہ ان کو شرمندہ کیا جاتا ہے اور یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اب ان کو پوچھنے والا کوئی بھی نہ ہوگا اور ان کا بہت ہی دردناک انجام ہوگا۔

الجاثية 45:35

آیت نمبر 35 (1) اب ان کے آخری انجام کے اعلان پر پردہ گرتا ہے ، جہنم میں ان کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے ، نہ ان سے کوئی عذر طلب کیا جاتا ہے اور نہ معافی کی درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔ آیت نمبر 35 (2) گویا ان الفاظ کے ساتھ ہی ہم کرخت آوازیں سنتے ہیں اور جہنم کے دروازے ان پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ اب یہ منظر یہاں ختم ہوتا ہے اور اس حالت میں کوئی تغیر اور تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اس مقام پر اللہ کی حمد و ثنا کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ اس تمہید اور منظر کے بعد سورت کے آخری کلمات نہایت ہی موثر ہیں۔

الجاثية 45:36

آیت نمبر 36 تا 37 اللہ کی بڑائی اور اللہ کی عظمت کا اعلان ہوتا ہے۔ آسمانوں میں بھی وہ بڑا ہے اور زمین میں بھی وہی بڑا ہے۔ انسانوں کا بھی وہ حاکم ہے اور جنوں کا بھی وہ حاکم ہے۔ وحوش و طیور کا بھی وہی خالق ہے ، غرض جو کچھ اس کائنات میں ہے وہ اللہ کا ہے سب کے سب ایک ہی رب کی نگرانی میں ہیں۔ اللہ ہی ہے جو مدبر کائنات ہے اور رب کائنات ہے۔ اللہ کی ثنا اور کبریائی کی آواز بلند ہوتی ہے۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس کائنات میں بڑائی صرف اللہ ہی کی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہر بڑا چھوٹا ہوجاتا ہے اور ۔۔۔۔ یہاں گھٹنوں کے بل جھکا ہوا ہے۔ ہر سرکش یہاں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے۔ رب مطلق اور اکبر مطلق کے سامنے۔ اس کبریائی ، اس ربوبیت ، اس قدرت اور اس حکمت اور اس تدبیر کے ساتھ غالب قرار پاتا ہے۔ وھو العزیز الحکیم (45 : 37) “ وہ زبردست اور دانا ہے ”۔ الحمد للہ رب العلمین ! ٭٭٭٭

الجاثية 45:37

آیت نمبر 36 تا 37 اللہ کی بڑائی اور اللہ کی عظمت کا اعلان ہوتا ہے۔ آسمانوں میں بھی وہ بڑا ہے اور زمین میں بھی وہی بڑا ہے۔ انسانوں کا بھی وہ حاکم ہے اور جنوں کا بھی وہ حاکم ہے۔ وحوش و طیور کا بھی وہی خالق ہے ، غرض جو کچھ اس کائنات میں ہے وہ اللہ کا ہے سب کے سب ایک ہی رب کی نگرانی میں ہیں۔ اللہ ہی ہے جو مدبر کائنات ہے اور رب کائنات ہے۔ اللہ کی ثنا اور کبریائی کی آواز بلند ہوتی ہے۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس کائنات میں بڑائی صرف اللہ ہی کی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہر بڑا چھوٹا ہوجاتا ہے اور ۔۔۔۔ یہاں گھٹنوں کے بل جھکا ہوا ہے۔ ہر سرکش یہاں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے۔ رب مطلق اور اکبر مطلق کے سامنے۔ اس کبریائی ، اس ربوبیت ، اس قدرت اور اس حکمت اور اس تدبیر کے ساتھ غالب قرار پاتا ہے۔ وھو العزیز الحکیم (45 : 37) “ وہ زبردست اور دانا ہے ”۔ الحمد للہ رب العلمین ! ٭٭٭٭

الأحقاف 46:1

درس نمبر 237 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 14 آیت نمبر 1 تا 3 یہ اس سورت کا پہلا زمزمہ ہے کہ یہی عربی حروف تہجی ہیں جنہیں تم استعمال کرتے ہو اور انہی سے یہ کلام بنا ہے جو عربوں کے مروج اسالیب کلام سے معجز و ممتاز ہے۔ اس لیے یہ کلام الٰہی ہے اور ایک زبردست حکمت والی ذات کا کلام ہے اور اس کتاب میں جو سچائی ہے ، اس سچائی پر یہ کائنات بھی بنی ہے ، جسے تم دیکھتے ہو۔ یہ کلام بھی اس کا بنایا ہوا ہے اور یہ پیچیدہ کائنات بھی اس کی بنی ہوئی ہے۔ یہ کائنات بھی ایک کتاب ہے جسے کھلی آنکھیں اور کھلے دل پڑھ سکتے ہیں۔ دونوں کتابوں کا کلام حق پر مبنی ہے۔ یہ کتاب ایک زبردست اور حکیم ہستی العزیز الحکیم (46 : 2) کا کلام ہے۔ اس لیے یہ کتاب مظہر قدرت الٰہیہ ہے اور مشتمل پر حکمت الٰہیہ ہے۔ اور زمین و آسمان کی تخلیق بھی اسی حق پر ہے۔ ما خلقنا السموت ۔۔۔۔۔ واجل مسمی (46 : 3) “ ہم نے زمین و آسمان کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں ، برحق اور ایک مدت خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے ”۔ اس عرصے میں وہ مقصد پورا ہوگا جو اس مخلوق کے پیدا کرنے سے مطلوب ہے۔ اور اللہ نے اس کائنات اور اس کے اندر پائی جانے والی مخلوقات کے بارے میں جو اندازے رکھے تھے وہ ظاہر ہوں گے۔ یہ دونوں کتابیں کھلی ہیں۔ تمہاری نظروں کے سامنے ہیں ، اللہ کی قدرتوں کی کہانیاں بتا رہی ہیں۔ اللہ کی حکمتوں پر گواہ ہیں ، اور اللہ کی تدبیر اور تقدیر ان سے عیاں ہے اور یہ کائناتی کتاب اس پڑھی جانے والی وحی کی کتاب کی تائید کرتی ہے اور اس میں جو ڈراوا اور جو خوشخبری ہے اس کی بھی تائید یہ کائنات کرتی ہے لیکن۔ والذین کفروا عما انذروا معرضون (46 : 3) “ مگر یہ کافر لوگ اس حقیقت سے منہ موڑ رہے ہیں جس سے ان کو خبردار رکھا گیا ہے ”۔ اور ان کا یہ رویہ قابل تعجب ہے کیونکہ منزل کتاب اور نظارہ دکھانے والی کتاب دونوں کتابیں پکار پکار کر ان کو دعوت دے رہی ہیں۔ یہ کتاب جو نازل کی گئی ہے یہ بتاتی ہے کہ اللہ ایک ہے ، وہ ہر چیز کا رب ہے کیونکہ وہی خالق ہے ، ہر چیز کی تدبیر کرنے والا ہے ، ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کرنے والا ہے اور یہ کتاب کائنات ان سب چیزوں کی تصدیق کررہی ہے۔ اس کائنات کے نظام کا پوری طرح ہم آہنگ ہونا اور اس کی حرکات کا نہایت ہی منضبط ہونا اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا ایک ہی بنانے والا ہے ، چلانے والا اور تدبیر کرنے والا ہے۔ جس نے ہر چیز کو بنایا اور بڑی مہارت سے ہر چیز کو بنایا۔ چناچہ ہر پیدا کردہ چیز اور اس کی ماہیت اور وجود اور اس کی رفتار کی ایک ہی ساخت اور طرز ہے۔ لوگ پھر کس بنیاد پر متعدد الہوں کے قائل ہیں ؟ یہ بات حیرت انگیز ہے۔ آخر ان لوگوں کے الہوں نے کیا بنایا ہے اور وہ کیا کرتے ہیں ؟ یہ کائنات جو اللہ کی بنائی ہوئی ہے یہ تو تمہارے سامنے کھلی کتاب ہے۔ اس میں تمہارے خود ساختہ معبودوں کا کیا حصہ ہے ؟ اس مخلوقات میں سے اگر کوئی ایک قسم کی مخلوق بھی انہوں نے بنائی ہے تو دعویٰ کرو اور بتاؤ !

الأحقاف 46:2

درس نمبر 237 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 14 آیت نمبر 1 تا 3 یہ اس سورت کا پہلا زمزمہ ہے کہ یہی عربی حروف تہجی ہیں جنہیں تم استعمال کرتے ہو اور انہی سے یہ کلام بنا ہے جو عربوں کے مروج اسالیب کلام سے معجز و ممتاز ہے۔ اس لیے یہ کلام الٰہی ہے اور ایک زبردست حکمت والی ذات کا کلام ہے اور اس کتاب میں جو سچائی ہے ، اس سچائی پر یہ کائنات بھی بنی ہے ، جسے تم دیکھتے ہو۔ یہ کلام بھی اس کا بنایا ہوا ہے اور یہ پیچیدہ کائنات بھی اس کی بنی ہوئی ہے۔ یہ کائنات بھی ایک کتاب ہے جسے کھلی آنکھیں اور کھلے دل پڑھ سکتے ہیں۔ دونوں کتابوں کا کلام حق پر مبنی ہے۔ یہ کتاب ایک زبردست اور حکیم ہستی العزیز الحکیم (46 : 2) کا کلام ہے۔ اس لیے یہ کتاب مظہر قدرت الٰہیہ ہے اور مشتمل پر حکمت الٰہیہ ہے۔ اور زمین و آسمان کی تخلیق بھی اسی حق پر ہے۔ ما خلقنا السموت ۔۔۔۔۔ واجل مسمی (46 : 3) “ ہم نے زمین و آسمان کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں ، برحق اور ایک مدت خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے ”۔ اس عرصے میں وہ مقصد پورا ہوگا جو اس مخلوق کے پیدا کرنے سے مطلوب ہے۔ اور اللہ نے اس کائنات اور اس کے اندر پائی جانے والی مخلوقات کے بارے میں جو اندازے رکھے تھے وہ ظاہر ہوں گے۔ یہ دونوں کتابیں کھلی ہیں۔ تمہاری نظروں کے سامنے ہیں ، اللہ کی قدرتوں کی کہانیاں بتا رہی ہیں۔ اللہ کی حکمتوں پر گواہ ہیں ، اور اللہ کی تدبیر اور تقدیر ان سے عیاں ہے اور یہ کائناتی کتاب اس پڑھی جانے والی وحی کی کتاب کی تائید کرتی ہے اور اس میں جو ڈراوا اور جو خوشخبری ہے اس کی بھی تائید یہ کائنات کرتی ہے لیکن۔ والذین کفروا عما انذروا معرضون (46 : 3) “ مگر یہ کافر لوگ اس حقیقت سے منہ موڑ رہے ہیں جس سے ان کو خبردار رکھا گیا ہے ”۔ اور ان کا یہ رویہ قابل تعجب ہے کیونکہ منزل کتاب اور نظارہ دکھانے والی کتاب دونوں کتابیں پکار پکار کر ان کو دعوت دے رہی ہیں۔ یہ کتاب جو نازل کی گئی ہے یہ بتاتی ہے کہ اللہ ایک ہے ، وہ ہر چیز کا رب ہے کیونکہ وہی خالق ہے ، ہر چیز کی تدبیر کرنے والا ہے ، ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کرنے والا ہے اور یہ کتاب کائنات ان سب چیزوں کی تصدیق کررہی ہے۔ اس کائنات کے نظام کا پوری طرح ہم آہنگ ہونا اور اس کی حرکات کا نہایت ہی منضبط ہونا اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا ایک ہی بنانے والا ہے ، چلانے والا اور تدبیر کرنے والا ہے۔ جس نے ہر چیز کو بنایا اور بڑی مہارت سے ہر چیز کو بنایا۔ چناچہ ہر پیدا کردہ چیز اور اس کی ماہیت اور وجود اور اس کی رفتار کی ایک ہی ساخت اور طرز ہے۔ لوگ پھر کس بنیاد پر متعدد الہوں کے قائل ہیں ؟ یہ بات حیرت انگیز ہے۔ آخر ان لوگوں کے الہوں نے کیا بنایا ہے اور وہ کیا کرتے ہیں ؟ یہ کائنات جو اللہ کی بنائی ہوئی ہے یہ تو تمہارے سامنے کھلی کتاب ہے۔ اس میں تمہارے خود ساختہ معبودوں کا کیا حصہ ہے ؟ اس مخلوقات میں سے اگر کوئی ایک قسم کی مخلوق بھی انہوں نے بنائی ہے تو دعویٰ کرو اور بتاؤ !

الأحقاف 46:3

درس نمبر 237 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 14 آیت نمبر 1 تا 3 یہ اس سورت کا پہلا زمزمہ ہے کہ یہی عربی حروف تہجی ہیں جنہیں تم استعمال کرتے ہو اور انہی سے یہ کلام بنا ہے جو عربوں کے مروج اسالیب کلام سے معجز و ممتاز ہے۔ اس لیے یہ کلام الٰہی ہے اور ایک زبردست حکمت والی ذات کا کلام ہے اور اس کتاب میں جو سچائی ہے ، اس سچائی پر یہ کائنات بھی بنی ہے ، جسے تم دیکھتے ہو۔ یہ کلام بھی اس کا بنایا ہوا ہے اور یہ پیچیدہ کائنات بھی اس کی بنی ہوئی ہے۔ یہ کائنات بھی ایک کتاب ہے جسے کھلی آنکھیں اور کھلے دل پڑھ سکتے ہیں۔ دونوں کتابوں کا کلام حق پر مبنی ہے۔ یہ کتاب ایک زبردست اور حکیم ہستی العزیز الحکیم (46 : 2) کا کلام ہے۔ اس لیے یہ کتاب مظہر قدرت الٰہیہ ہے اور مشتمل پر حکمت الٰہیہ ہے۔ اور زمین و آسمان کی تخلیق بھی اسی حق پر ہے۔ ما خلقنا السموت ۔۔۔۔۔ واجل مسمی (46 : 3) “ ہم نے زمین و آسمان کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں ، برحق اور ایک مدت خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے ”۔ اس عرصے میں وہ مقصد پورا ہوگا جو اس مخلوق کے پیدا کرنے سے مطلوب ہے۔ اور اللہ نے اس کائنات اور اس کے اندر پائی جانے والی مخلوقات کے بارے میں جو اندازے رکھے تھے وہ ظاہر ہوں گے۔ یہ دونوں کتابیں کھلی ہیں۔ تمہاری نظروں کے سامنے ہیں ، اللہ کی قدرتوں کی کہانیاں بتا رہی ہیں۔ اللہ کی حکمتوں پر گواہ ہیں ، اور اللہ کی تدبیر اور تقدیر ان سے عیاں ہے اور یہ کائناتی کتاب اس پڑھی جانے والی وحی کی کتاب کی تائید کرتی ہے اور اس میں جو ڈراوا اور جو خوشخبری ہے اس کی بھی تائید یہ کائنات کرتی ہے لیکن۔ والذین کفروا عما انذروا معرضون (46 : 3) “ مگر یہ کافر لوگ اس حقیقت سے منہ موڑ رہے ہیں جس سے ان کو خبردار رکھا گیا ہے ”۔ اور ان کا یہ رویہ قابل تعجب ہے کیونکہ منزل کتاب اور نظارہ دکھانے والی کتاب دونوں کتابیں پکار پکار کر ان کو دعوت دے رہی ہیں۔ یہ کتاب جو نازل کی گئی ہے یہ بتاتی ہے کہ اللہ ایک ہے ، وہ ہر چیز کا رب ہے کیونکہ وہی خالق ہے ، ہر چیز کی تدبیر کرنے والا ہے ، ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کرنے والا ہے اور یہ کتاب کائنات ان سب چیزوں کی تصدیق کررہی ہے۔ اس کائنات کے نظام کا پوری طرح ہم آہنگ ہونا اور اس کی حرکات کا نہایت ہی منضبط ہونا اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا ایک ہی بنانے والا ہے ، چلانے والا اور تدبیر کرنے والا ہے۔ جس نے ہر چیز کو بنایا اور بڑی مہارت سے ہر چیز کو بنایا۔ چناچہ ہر پیدا کردہ چیز اور اس کی ماہیت اور وجود اور اس کی رفتار کی ایک ہی ساخت اور طرز ہے۔ لوگ پھر کس بنیاد پر متعدد الہوں کے قائل ہیں ؟ یہ بات حیرت انگیز ہے۔ آخر ان لوگوں کے الہوں نے کیا بنایا ہے اور وہ کیا کرتے ہیں ؟ یہ کائنات جو اللہ کی بنائی ہوئی ہے یہ تو تمہارے سامنے کھلی کتاب ہے۔ اس میں تمہارے خود ساختہ معبودوں کا کیا حصہ ہے ؟ اس مخلوقات میں سے اگر کوئی ایک قسم کی مخلوق بھی انہوں نے بنائی ہے تو دعویٰ کرو اور بتاؤ !

الأحقاف 46:4

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی نے خواہ وہ پتھر ہوں ، درخت ہوں ، جن ہوں یا فرشتے ، زمین میں سے کوئی حصہ یا کوئی چیز پیدا کی ہے۔ فطری سوچ ، حقیقت واقعہ ، اور ہر چیز بذات خود یہ پکار پکار کہتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ ام لھم شرک فی السموت (46 : 4) “ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ” ۔ کوئی انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان مذکورہ معبودوں کا آسمانوں میں کوئی حصہ یا شرکت ہے۔ آسمانوں کے اندر ایک سطحی نظر بھی بتا دیتی ہے کہ خالق کائنات کس قدر عظیم ہے اور پھر یہ کہ وہ واحد ہے۔ ایک ہی نظر میں ایک معقول انسان تمام گمراہیوں اور انسانوں کو جھٹک کر پھینک دیتا ہے۔ اللہ تو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات پر ایک گہری نظر ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ کائنات کی اس کھلی کتاب پر نگاہ تو ڈالو۔ اس کے نظام پر غور کرو ، اور تمہارے دل و دماغ پر اس کائنات سے جو سگنل آتے ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اس کے بعد بعض نہایت ہی گمراہ درجے کے انسانوں کی راہ بند کرنے کے لئے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک سوال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ گمراہی میں آگے بڑھ کر کوئی یہ زعم بھی کرسکتا ہے کہ ہمارے پاس شرک کی نقلی دلیل ہے یا کوئی اور بہانہ کرسکتا ہے حالانکہ دراصل اس کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اس لیے قرآن مجید ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کے پہلے ہی مطالبہ کردیتا ہے کہ لاؤ اگر کوئی حجت و لیل تمہارے پاس ہے اور پھر قرآن مجید ان کو استدلال کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہوا کرتا ہے۔ ایتونی بکتب ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (46 : 4) “ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو ”۔ یا تو اللہ کی کوئی سچی کتاب پیش کرو۔ یا کتب سماوی میں سے کوئی اثر تمہارے پاس باقی ہو اسے لے آؤ۔ قرآن سے قبل جس قدر کتب سماوی بھی نازل ہوئی ہیں وہ تو قرآن کی تائید میں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ وحدہ خالق ہے اور وہی کائنات کا مدبر ہے اور اس میں تمام چیزوں کو ایک قدر اور انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی متعدد الہہ کے خرافات کو تسلیم نہیں کرتی۔ یا یہ کہ زمین و آسمان میں سے کوئی چیز ان الہوں نے بنائی ہو یا وہ کسی چیز کے بنانے میں شریک ہوں کوئی علم یا اثر یا نص کتب سماوی میں نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اس کائنات کی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔ کائنات کی شہادت تو فیصلہ کن شہادت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید ان کے عقائد کو حجت و دلیل سے محروم کردیتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ بحث و دلیل کا صحیح اندازہ کیا ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ایک ہی آیت میں سکھا دی جاتی ہیں جس کے الفاظ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں لیکن زور دار اور فیصلہ کن ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ان کے سامنے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جن چیزوں کو تم الٰہ بناتے ہو ، اور پھر پکارتے ہو ، ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، یہ تو تمہاری اس پکار کو سنتے ہی نہیں ، اس دنیا میں تم اگر ساری زندگی ان کو پکارتے رہو اور قیامت میں تو بھی وہ صاف صاف انکار کردیں گے۔ لہٰذا اپنی اس حرکت پر ذرا غور تو کرو۔ ومن اضل ممن یدعوا۔۔۔۔۔ غفلون (46 : 5) واذا حشر الناس ۔۔۔۔۔ کفرین (46 : 6) “ آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں ، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ”۔ بعض لوگ ایسے تھے جو بتوں کو بذات الٰہ مانتے تھے۔ اور بعض ان کو فرشتوں یا نیک لوگوں کی شبیہ سمجھتے ہوئے الٰہ مانتے تھے۔ بعض درختوں کو الٰہ مانتے تھے ، بعض فرشتوں اور شیطان کو الٰہ مانتے۔ ان میں سے کوئی بھی پکارنے والے کی پکار کا جواب نہ دے سکتا تھا ، یا اگر پکار سنتا تھا تو کوئی فائدہ نہ دے سکتا تھا ، پتھر اور درخت تو نہ کچھ سن سکتے تھے اور نہ جواب دے سکتے تھے۔ فرشتے بھی مشرکین کی اس حرکت پر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ شیاطین تو بہرحال ان کو مزید گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ اندازیاں کرتے تھے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور لوگ اٹھائے جائیں گے تو یہ تمام الٰہ جو پوجے جاتے تھے ، یہ اپنے گمراہ عبادت گذاروں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، وہ یہ کہے گا۔ وقال الشیطن ۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یوں قرآن مجید ان کو خود اپنے دعویٰ اور اپنے خیالات کے سامنے پیش کرتا ہے کہ ان دعوؤں کا انجام دنیا اور آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ اس سے قبل ان کو کائنات کی نشانیاں بتائی گئیں کہ یہ شرک کے عقائد کا انکار کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک الٰہ العالمین ہے اور خود مشرکین کی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں۔ قرآن مجید یہاں ان بت پرستوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسے بتوں کو پکار رہے تھے جو ان کو کوئی نفع یا نقصان نہ دے سکتے تھے۔ نزول قرآن کے وقت ایسے روایتی زندہ اور مردہ معبود موجود تھے۔ لیکن یہ آیت صرف ان بتوں تک محدود نہیں ہے ، جو ایک خاص زمان ومکان میں ایک خاص شکل میں پکارے جاتے تھے اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ آیت بہت وسیع ہے اور اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جو اللہ کے سوا کسی بھی زمان و مکان میں پائے جائیں گے۔ جن کو عوام پکارتے ہیں اور جن سے امید وابستہ کرتے ہیں اور جو ان کو کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے۔ کیونکہ نفع و نقصان پہنچانے والا تو اللہ ہی ہے۔ غرض شرک اس سادہ صورت اور شکل تک محدود نہیں ہے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اصحاب اقتدار کو شریک کرتے ہیں۔ افسران کو شریک کرتے ہیں ، بڑے بڑے سرمایہ داروں کو شریک کرتے ہیں ، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں ، لیکن یہ سب کے سب بہت ہی عاجز اور کمزور ہیں اور یہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکارنا شرک ہے ، ان سے امیدیں وابستہ کرنا بھی شرک ہے۔ ان سے ڈرنا بھی شرک ہے۔ لیکن یہ شرک ذرا شرک خفی ہے اور اکثر لوگ غیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٭٭٭ اس کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی سچی دعوت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔ شرک کے بارے میں ان کے خیالات کا جائزہ تو خوب لیا گیا ۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وحی اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا موقف کس قدر غلط اور غیر معقول ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ سحر مبین (7) ام یقولون افترہ ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (8) قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔ نذیر مبین (9) قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (10) وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (11) ومن قبلہ کتب ۔۔۔۔ وبشری للمحسنین (12) (46 : 7 تا 12) “ ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ”۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”۔ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور اس کی دعوت ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بڑی واضح ، دل لگتی اور کھلی باتیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قدر ذلیل اور ضدی اور کم بخت ہیں کہ یہ اس سچائی کے بارے میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ : ھذا سحر مبین (46 : 7) “ یہ کھلا جادو ہے ”۔ حالانکہ دعوت اسلامی اور جادو کی نوعیت اور موضوع ہی مختلف ہے۔ ایک نبی اور جادوگر کے مقاصد ہی مختلف ہیں۔ یوں ان کے اس غلط موقف پر حملہ کیا جاتا ہے جس کے لئے نہ دلیل ہے اور نہ وجہ جواب ہے کیونکہ نبی ﷺ کی دعوت بہت ہی واضح ہے اور آیات بینات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اور اللہ کی طرف منسوب ہے اور ایک افترا ہے۔ اس شبی ہے کو قرآن استفہام اور سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ بھی کوئی سوال ہے یا کوئی معقول انسان ایسی بات سوچ سکتا ہے ؟ ام یقولون افترہ (46 : 8) “ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اسے خود گھڑ لیا ہے ”۔ یعنی کیا وہ اس قدر جری ہوگئے ہیں کہ ایسی بات بھی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس طرح دیں جس طرح ایک پیغمبر کی شان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال بہت ہی لا یعنی ہے۔ اس جواب سے اظہار ہو کہ آپ کو اپنے فرائض کا اچھی طرح شعور ہے ، آپ کو اپنے رب کا بھی اچھی طرح شعور ہے۔ آپ کو اس کائنات کی حقیقی قدروں اور حقیقی قوتوں کا پورا احساس ہے ۔ قل ان افتریتہ ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (46 : 8) “ ان سے کہو ، اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ میرے اور تمہارے درمیان و ہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہہ دو میں کیوں افترا باندھوں ؟ کس کے مفاد کے لئے یہ افترا باندھوں ؟ کن مقاصد کے لئے ایسا کروں ؟ کیا اس لیے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو لیکن تم میری کیا مدد کرسکتے ہو ؟ قل ان افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا (46 : 8) “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ”۔ میرے افترا کی وجہ سے وہ لازماً میرا مواخذہ کرے گا۔ لہٰذا اگر تم میرے ساتھ ہو اور مجھ پر ایمان لاؤ تو اس میں مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ افترا پر جب اللہ مجھ سے مواخذہ کرے گا تو تم اس وقت کیا کرسکتے ہو۔ تم تو بہت ہی عاجز اور کمزور ہو۔ میری کیا مدد کرو گے۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو نبی کے شایان شان ہے جو اللہ سے ہدایات لیتا ہے اور جسے اللہ کے سوا اس کائنات میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ اسے صرف اللہ ہی کی قوت نظر آتی ہے ۔ نیز یہ ایک منطقی اور معقول تردید بھی ہے۔ اگر کوئی ذرا اپنی عقل کو کام میں لائے ۔ ان کو جواب دے کر اس پر آپ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ ھو اعلم بما تفیضون فیہ (46 : 8) “ جو باتیں تم بتاتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ” ۔ یعنی جو تم کرتے اور کہتے ہو۔ اور جن باتوں کو اللہ جانتا ہے ان پر وہ ضرور تمہیں سزا دے گا۔ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم (46 : 8) “ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ”۔ اللہ گواہی بھی دے گا اور فیصلہ بھی کر دے گا اور اللہ کی گواہی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔ وھو الغفور الرحیم (46 : 8) “ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ وہ تم پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہیں ہدایت دے دیتا ہے اور تم نے جو گمراہیاں کیں انہیں بخش دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بعد سابقہ اعمال معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی تردید ہے جس میں ان کے لئے دھمکی اور ڈراوا بھی ہے ۔ ان کے لئے حوصلہ افزائی اور ایمان کا لالچ بھی ہے۔ غرض ہر طریقے سے اللہ کی کوشش ہے کہ انسانوں کے دل بدل جائیں۔ انسان کے جسم کی تار تار کو چھیڑا جاتا ہے کہ شاید نغمہ ایمان برآمد ہوجائے۔ سامعین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ لوگ جو احمقانہ باتیں کرتے ہیں یہ محض بچگانہ باتیں ہیں ، محض دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ داعی اعظم کے دل میں جو بات ہے اور جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں وہ بہت ہی عظیم ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت کا ان کو کوئی شعور نہیں۔ وحی پر ان کے اعتراض کا ایک دوسرے زاویہ سے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کہ وحی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ لاکھوں افراد اسے مانتے ہیں۔ آخر اس میں عجوبے کی کیا چیز ہے کہ یہ اسے جادو یا افترا کہتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب و غریب چیز تو نہیں ہے۔ قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔۔ نذیر مبین (46 : 9) “ ان سے کہو میں تو نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں ”۔ حضرت نبی اکرم ﷺ ہی پہلے رسول نہ تھے۔ آپ ﷺ سے پہلے کئی رسول گزرے تھے۔ آپ ﷺ کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے۔ انہوں نے کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا تھا۔ پہلے بھی کئی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون رسالت کے لئے اہل ہے۔ اس کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اور وہ بےکم وکاست پھر تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ یہی ہے رسالت کی حقیقت اور ماہیت ۔ رسول کا جب سرچشمہ رسالت سے مل جاتا ہے تو پھر اللہ سے رسالت کی کوئی دلیل طلب نہیں کرتا اور نہ اپنے لیے کوئی خصوصیت طلب کرتا ہے۔ پیغام ملتے ہی اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ جو بات اس تک پہنچتی ہے اس کی تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ وما ادری ما۔۔۔۔۔ یوحی الی (46 : 9) “ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ کل میرے ساتھ کیا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے ”۔ رسول رسالت کے کام کو اس لیے شروع نہیں کرتا کہ وہ غیب جانتا ہے یا وہ جانتا ہے کہ اس کا ، اس کی قوم کا اور اس کی دعوت کا انجام کیا ہوگا۔ وہ تو اللہ کے اشاروں اور ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ایک ایک قدم اللہ کے حکم سے اٹھاتا ہے لیکن مستقبل اسے معلوم نہیں ہوتا۔ تمام راز اللہ کے ہاں ہوتے ہیں اور رسول مستقبل کے راز معلوم کرنے کے لئے بےچین بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور بارگاہ رب العزت کے آداب میں سے یہ بات بھی ہے کہ وہ اسی علم پر اکتفا کرے جو اسے دے دیا گیا ہو اور مستقبل کے پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔ رسول تو ہمیشہ اپنے فرائض کی حدود پر کھڑا ہوتا ہے۔ وما انا الا نذیر مبین (46 : 9) “ میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ” ۔ اللہ کے دربار میں پہنچنے والوں کے یہی آداب ہوتے ہیں اور عارف باللہ لوگوں کا یہی اطمینان ہوتا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہیں اور دعوت دیتے چلے جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ دعوت کا انجام دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ دعوت کا مستقبل روشن ہوتا ہے ، یا وہ اس کے نتیجے میں چھوٹی یا بڑی کامیابی پاتے ہیں۔ پس وہ اس کام کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہوتا ہے اور بس۔ وہ اپنے رب سے کوئی دلیل بھی نہیں مانگتے کیونکہ دلیل تو ان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کچھ مراعات بھی نہیں مانگتے۔ اس سے بڑی رعایت یا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ وہ اس باریک خط سے سوتر بھر آگے نہیں بڑھتے جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا اور وہ انہی نقوش پر قدم رکھتے ہیں جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی شہادت کی طرف ان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ شہادت اہل کتاب کی ہے ، جو نزول وحی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (46 : 10) “ ان سے کہو ، کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ” یہ ممکن ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہو کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص یا کسی گروہ نے قرآنی تعلیمات کو تورات اور دوسری کتابوں کے مماثل پاتے ہوئے ایمان لے آیا ہو ، کیونکہ کتب سماوی پر ایمان لانے والے لوگ جانتے تھے کہ یہ کتاب وہی بات کرتی ہے جو ان کتابوں میں ہے۔ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ ابن اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کی راہ میں یہ مانع ہے کہ وہ مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے اور یہ سورت مکی ہے۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ یہ عبد اللہ ابن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ مکی ہے اور اس کا عبد اللہ ابن سلام کے واقعہ سے تعلق نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو ، مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایمان لایا ہو اگرچہ یہاں اہل کتاب بہت ہی کم تھے اور مکی حالات میں ان کے ایمان لانے کی بہت سی اہمیت ہو کیونکہ مشرکین امی تھے اور ایسے معاشرے میں اہل کتاب کے ایمان لانے کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی شہادت کی طرف قرآن نے کئی مقامات میں اشارہ کیا ہے اور مشرکین کی تردید کے لئے اسے پیش کیا جو بغیر دلیل اور ثبوت کے اور بغیر علم و ہنر کے اور بغیر کسی کتاب اور سماوی روایات کے قرآن کی تکذیب کرتے تھے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں احتمالی اسلوب استدلال پیش کیا ہے۔ “ تم نے بھی سوچا کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور ۔۔۔۔۔” اس طرز استدلال کی غرض یہ ہے کہ مشرکین کے اصرار کے اندر تزلزل پیدا کیا جائے۔ ان کے اصرار کی شدت کو کم کیا جائے۔ ان کے عناد کو ٹھنڈا کیا جائے۔ ان کے اندر ذرا خوف اور احتیاط پیدا کی جائے کہ اس تکذیب میں اتنا آگے نہ بڑھو۔ اور یہ استدلال کیا جائے کہ تم تو نہیں مانتے لیکن اگر سچ نکلے تو پھر۔۔۔۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ لہٰذا اس فرض اور احتمال ہی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کرو کہ اگر یہ سچ نکلا تو تم پر وہ تمام عذاب آجائیں گے جن سے محمد ﷺ تمہیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا حضور ﷺ کی تکذیب کرنے میں ذرا تامل کرو۔ اور اس دعوت پر غوروفکر کرو ، قبل اس کے کہ تم اس قدر خطرناک انجام سے دوچار ہوجاؤ یا احتمال پیدا ہوجائے ایسے انجام کا خصوصاً ایسے حالات میں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص یا گروہ نے یہ شہادت بھی دے دی ہو کہ اس کتاب کی نوعیت کلام الٰہی جیسی ہے۔ اور اس طرح وہ ایمان لایا۔ اور جب یہ کتاب سب سے پہلے تمہارے لیے آئی ، تمہاری زبان میں آئی ، تمہارے آدمی کے ذریعہ آئی تو تم تکبر کرتے ہو اور انکار کرتے ہو ، یہ واضح ظلم ہے۔ واضح حق کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا ہے اور اس صورت میں تمہارے سب اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (46 : 10) “ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ” ۔ غرض قرآن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مختلف اسالیب کلام اختیار کرتا ہے تا کہ انسانوں کے دلوں کے شکوک دور کرے اور مختلف راستوں سے اپنی دعوت لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ قرآن نے جو مختلف اسالیب اختیار کئے ہیں ، ان میں آنے والے داعیوں کے لئے سامان عبرت اور رہنمائی ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا و رسول ﷺ دونوں کے ہاں یقیناً قرآن حق تھا ، اللہ کا کلام تھا اور اس میں شک اور احتمال کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ اسلوب بھی اپنایا گیا کہ ممکن ہے اسی طرح شدت مخالفت کم ہوجائے۔ آگے مضمون جاری ہے کہ قرآن کے بارے میں اور دین اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں وہ جو کہتے تھے ان کا جائزہ۔ وہ اپنی تکذیب اور کفر کی ایک اور وجہ جواز بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ متکبر اور بزعم خود اونچے درجے کے لوگوں کی بات ہے۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (46 : 12) “ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ آغاز اسلام میں ، اسلام کی طرف فقر اور غلام لپکے تھے۔ اس لئے کبرا اور مستکبرین اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی تھی اور وہ یہ کہتے تھے اگر یہ دین کوئی اچھا دین تھا تو یہ لوگ کیا ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہشیار تھے اور نہ ہمارے مقابلہ میں یہ پہل کرسکتے تھے۔ کیونکہ ہم ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، زیادہ باشعور ہیں اور ان کے مقابلے میں نیک و بد کی زیادہ تمیز رکھتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔ یہ کبراء جو اسلام کو قبول نہ کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ اس میں شک کرتے تھے یا جاہل تھے اور ان کو خبر نہ تھی کہ قرآن مجید سچائی ہی سچائی ہے۔ یا یہ کہ اس میں خبر نہیں ہے بلکہ تکبر کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے اور یہ لوگ قبولیت حق کو اپنے سے فروتر کام سمجھتے تھے۔ پھر وہ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ اجتماعی نظام میں ان کو سوسائٹی میں جو مقام حاصل ہے یہ نہ رہے گا ، جو مفادات ان کو حاصل ہیں وہ نہ رہیں گے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آباؤ اجداد کے طریق کار کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ایک قابل فخر رویہ ہے لیکن جو لوگ اسلام کی طرف پہلی ہی آواز پر لپکے ان کی راہ میں یہ موائع نہ تھے جن کی وجہ سے کبراء رک گئے تھے۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔ کبر اور غرور کی وجہ سے ان کے لئے حق کے سامنے جھکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ فطرت کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ اور وہ حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کبرو غرور ان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے کہ ہٹ دھرمی کرو اور نہ مانو۔ جھوٹے عذرات تراشو۔ باطل سے باطل جھوٹا دعویٰ کرو ، یہ بڑے لوگ کبھی بھی ، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنی ذات کی زندگی کا محور بنانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور جس طرح وہ اپنے موجودہ معاشرے میں محور ہوتے ہیں اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم (46 : 11) “ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے نہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ ہاں ، اگر “ ان ” لوگوں نے ہدایت قبول نہیں کی تو پھر لازماً سچائی میں کوئی نقص ہوگا ۔ کیونکہ بڑے لوگوں سے تو غلطی کا صدور ممکن نہیں ! لیکن یہ لوگ اپنی نظر میں اور جمہور عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو وہ جو باور کراتے تھے کہ وہ ایک معصوم اور غلطی سے پاک قسم کی مخلوق ہیں۔ بہرحال وحی کے سلسلے میں یہ پیراگراف اور مطالعاتی سفر کتاب موسیٰ کی طرف ایک اشارے پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ خصوصاً تو رات اور قرآن کے درمیان گہری مماثلت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مشن تو تورات ہی کا تکملہ تھا۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے ایک گواہ کی طرف بھی اشارہ ہوچکا ہے۔ ومن قبلہ کتب موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ للمحسنین (46 : 12) “ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ قرآن کریم نے سابقہ کتب سماوی کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے خصوصاً تورات کی طرف اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تو اس کا تکملہ تھی اور ان کا مشن تورات ہی کا تسلسل تھا۔ اصل دستور قانون تو تورات ہی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امام اور رحمت کا لقب دیا گیا جب کہ ہر رسالت اس زمین اور اہل زمین کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا (46 : 12) “ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی زبان عربی میں ہے ”۔ یہ تصدیق ان اصل کتابوں اور اصل تعلیمات کی کرتی ہے جن کے اوپر تمام ادیان سماوی قائم ہیں۔ یہ کتاب اس نظام کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام اہل دین چلتے رہے۔ اور یہ کتاب اس صراط مستقیم کی تصدیق کرتی ہے جو انسانوں کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اور عربی کتاب جس طرح وہ تھی ، یہاں اس لیے کہا گیا کہ اہل عرب پر اس احسان کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی زبان میں یہ کتاب اتری۔ اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے۔ اور خاص مہربانی اور عنایت ہوئی ہے کہ تم کو اس دعوت کا حامل بنایا اور تمہاری زبان کو یہ اعزاز بخشا کہ اس میں قرآن عظیم نازل ہوا۔ مقصد صرف زبان نہ تھی بلکہ یہ تھا۔ لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین (46 : 12) “ تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ اس پہلے سبق کے آخر میں محسنین کی جزا کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم تمہارے لیے یہ خوشخبری لاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ توحید مطلق اور ربوبیت کا اعلان کردیں اور پھر اس پر جم جائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں۔

الأحقاف 46:5

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی نے خواہ وہ پتھر ہوں ، درخت ہوں ، جن ہوں یا فرشتے ، زمین میں سے کوئی حصہ یا کوئی چیز پیدا کی ہے۔ فطری سوچ ، حقیقت واقعہ ، اور ہر چیز بذات خود یہ پکار پکار کہتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ ام لھم شرک فی السموت (46 : 4) “ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ” ۔ کوئی انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان مذکورہ معبودوں کا آسمانوں میں کوئی حصہ یا شرکت ہے۔ آسمانوں کے اندر ایک سطحی نظر بھی بتا دیتی ہے کہ خالق کائنات کس قدر عظیم ہے اور پھر یہ کہ وہ واحد ہے۔ ایک ہی نظر میں ایک معقول انسان تمام گمراہیوں اور انسانوں کو جھٹک کر پھینک دیتا ہے۔ اللہ تو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات پر ایک گہری نظر ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ کائنات کی اس کھلی کتاب پر نگاہ تو ڈالو۔ اس کے نظام پر غور کرو ، اور تمہارے دل و دماغ پر اس کائنات سے جو سگنل آتے ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اس کے بعد بعض نہایت ہی گمراہ درجے کے انسانوں کی راہ بند کرنے کے لئے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک سوال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ گمراہی میں آگے بڑھ کر کوئی یہ زعم بھی کرسکتا ہے کہ ہمارے پاس شرک کی نقلی دلیل ہے یا کوئی اور بہانہ کرسکتا ہے حالانکہ دراصل اس کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اس لیے قرآن مجید ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کے پہلے ہی مطالبہ کردیتا ہے کہ لاؤ اگر کوئی حجت و لیل تمہارے پاس ہے اور پھر قرآن مجید ان کو استدلال کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہوا کرتا ہے۔ ایتونی بکتب ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (46 : 4) “ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو ”۔ یا تو اللہ کی کوئی سچی کتاب پیش کرو۔ یا کتب سماوی میں سے کوئی اثر تمہارے پاس باقی ہو اسے لے آؤ۔ قرآن سے قبل جس قدر کتب سماوی بھی نازل ہوئی ہیں وہ تو قرآن کی تائید میں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ وحدہ خالق ہے اور وہی کائنات کا مدبر ہے اور اس میں تمام چیزوں کو ایک قدر اور انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی متعدد الہہ کے خرافات کو تسلیم نہیں کرتی۔ یا یہ کہ زمین و آسمان میں سے کوئی چیز ان الہوں نے بنائی ہو یا وہ کسی چیز کے بنانے میں شریک ہوں کوئی علم یا اثر یا نص کتب سماوی میں نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اس کائنات کی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔ کائنات کی شہادت تو فیصلہ کن شہادت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید ان کے عقائد کو حجت و دلیل سے محروم کردیتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ بحث و دلیل کا صحیح اندازہ کیا ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ایک ہی آیت میں سکھا دی جاتی ہیں جس کے الفاظ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں لیکن زور دار اور فیصلہ کن ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ان کے سامنے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جن چیزوں کو تم الٰہ بناتے ہو ، اور پھر پکارتے ہو ، ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، یہ تو تمہاری اس پکار کو سنتے ہی نہیں ، اس دنیا میں تم اگر ساری زندگی ان کو پکارتے رہو اور قیامت میں تو بھی وہ صاف صاف انکار کردیں گے۔ لہٰذا اپنی اس حرکت پر ذرا غور تو کرو۔ ومن اضل ممن یدعوا۔۔۔۔۔ غفلون (46 : 5) واذا حشر الناس ۔۔۔۔۔ کفرین (46 : 6) “ آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں ، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ”۔ بعض لوگ ایسے تھے جو بتوں کو بذات الٰہ مانتے تھے۔ اور بعض ان کو فرشتوں یا نیک لوگوں کی شبیہ سمجھتے ہوئے الٰہ مانتے تھے۔ بعض درختوں کو الٰہ مانتے تھے ، بعض فرشتوں اور شیطان کو الٰہ مانتے۔ ان میں سے کوئی بھی پکارنے والے کی پکار کا جواب نہ دے سکتا تھا ، یا اگر پکار سنتا تھا تو کوئی فائدہ نہ دے سکتا تھا ، پتھر اور درخت تو نہ کچھ سن سکتے تھے اور نہ جواب دے سکتے تھے۔ فرشتے بھی مشرکین کی اس حرکت پر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ شیاطین تو بہرحال ان کو مزید گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ اندازیاں کرتے تھے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور لوگ اٹھائے جائیں گے تو یہ تمام الٰہ جو پوجے جاتے تھے ، یہ اپنے گمراہ عبادت گذاروں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، وہ یہ کہے گا۔ وقال الشیطن ۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یوں قرآن مجید ان کو خود اپنے دعویٰ اور اپنے خیالات کے سامنے پیش کرتا ہے کہ ان دعوؤں کا انجام دنیا اور آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ اس سے قبل ان کو کائنات کی نشانیاں بتائی گئیں کہ یہ شرک کے عقائد کا انکار کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک الٰہ العالمین ہے اور خود مشرکین کی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں۔ قرآن مجید یہاں ان بت پرستوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسے بتوں کو پکار رہے تھے جو ان کو کوئی نفع یا نقصان نہ دے سکتے تھے۔ نزول قرآن کے وقت ایسے روایتی زندہ اور مردہ معبود موجود تھے۔ لیکن یہ آیت صرف ان بتوں تک محدود نہیں ہے ، جو ایک خاص زمان ومکان میں ایک خاص شکل میں پکارے جاتے تھے اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ آیت بہت وسیع ہے اور اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جو اللہ کے سوا کسی بھی زمان و مکان میں پائے جائیں گے۔ جن کو عوام پکارتے ہیں اور جن سے امید وابستہ کرتے ہیں اور جو ان کو کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے۔ کیونکہ نفع و نقصان پہنچانے والا تو اللہ ہی ہے۔ غرض شرک اس سادہ صورت اور شکل تک محدود نہیں ہے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اصحاب اقتدار کو شریک کرتے ہیں۔ افسران کو شریک کرتے ہیں ، بڑے بڑے سرمایہ داروں کو شریک کرتے ہیں ، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں ، لیکن یہ سب کے سب بہت ہی عاجز اور کمزور ہیں اور یہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکارنا شرک ہے ، ان سے امیدیں وابستہ کرنا بھی شرک ہے۔ ان سے ڈرنا بھی شرک ہے۔ لیکن یہ شرک ذرا شرک خفی ہے اور اکثر لوگ غیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٭٭٭ اس کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی سچی دعوت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔ شرک کے بارے میں ان کے خیالات کا جائزہ تو خوب لیا گیا ۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وحی اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا موقف کس قدر غلط اور غیر معقول ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ سحر مبین (7) ام یقولون افترہ ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (8) قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔ نذیر مبین (9) قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (10) وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (11) ومن قبلہ کتب ۔۔۔۔ وبشری للمحسنین (12) (46 : 7 تا 12) “ ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ”۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”۔ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور اس کی دعوت ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بڑی واضح ، دل لگتی اور کھلی باتیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قدر ذلیل اور ضدی اور کم بخت ہیں کہ یہ اس سچائی کے بارے میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ : ھذا سحر مبین (46 : 7) “ یہ کھلا جادو ہے ”۔ حالانکہ دعوت اسلامی اور جادو کی نوعیت اور موضوع ہی مختلف ہے۔ ایک نبی اور جادوگر کے مقاصد ہی مختلف ہیں۔ یوں ان کے اس غلط موقف پر حملہ کیا جاتا ہے جس کے لئے نہ دلیل ہے اور نہ وجہ جواب ہے کیونکہ نبی ﷺ کی دعوت بہت ہی واضح ہے اور آیات بینات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اور اللہ کی طرف منسوب ہے اور ایک افترا ہے۔ اس شبی ہے کو قرآن استفہام اور سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ بھی کوئی سوال ہے یا کوئی معقول انسان ایسی بات سوچ سکتا ہے ؟ ام یقولون افترہ (46 : 8) “ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اسے خود گھڑ لیا ہے ”۔ یعنی کیا وہ اس قدر جری ہوگئے ہیں کہ ایسی بات بھی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس طرح دیں جس طرح ایک پیغمبر کی شان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال بہت ہی لا یعنی ہے۔ اس جواب سے اظہار ہو کہ آپ کو اپنے فرائض کا اچھی طرح شعور ہے ، آپ کو اپنے رب کا بھی اچھی طرح شعور ہے۔ آپ کو اس کائنات کی حقیقی قدروں اور حقیقی قوتوں کا پورا احساس ہے ۔ قل ان افتریتہ ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (46 : 8) “ ان سے کہو ، اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ میرے اور تمہارے درمیان و ہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہہ دو میں کیوں افترا باندھوں ؟ کس کے مفاد کے لئے یہ افترا باندھوں ؟ کن مقاصد کے لئے ایسا کروں ؟ کیا اس لیے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو لیکن تم میری کیا مدد کرسکتے ہو ؟ قل ان افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا (46 : 8) “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ”۔ میرے افترا کی وجہ سے وہ لازماً میرا مواخذہ کرے گا۔ لہٰذا اگر تم میرے ساتھ ہو اور مجھ پر ایمان لاؤ تو اس میں مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ افترا پر جب اللہ مجھ سے مواخذہ کرے گا تو تم اس وقت کیا کرسکتے ہو۔ تم تو بہت ہی عاجز اور کمزور ہو۔ میری کیا مدد کرو گے۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو نبی کے شایان شان ہے جو اللہ سے ہدایات لیتا ہے اور جسے اللہ کے سوا اس کائنات میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ اسے صرف اللہ ہی کی قوت نظر آتی ہے ۔ نیز یہ ایک منطقی اور معقول تردید بھی ہے۔ اگر کوئی ذرا اپنی عقل کو کام میں لائے ۔ ان کو جواب دے کر اس پر آپ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ ھو اعلم بما تفیضون فیہ (46 : 8) “ جو باتیں تم بتاتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ” ۔ یعنی جو تم کرتے اور کہتے ہو۔ اور جن باتوں کو اللہ جانتا ہے ان پر وہ ضرور تمہیں سزا دے گا۔ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم (46 : 8) “ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ”۔ اللہ گواہی بھی دے گا اور فیصلہ بھی کر دے گا اور اللہ کی گواہی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔ وھو الغفور الرحیم (46 : 8) “ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ وہ تم پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہیں ہدایت دے دیتا ہے اور تم نے جو گمراہیاں کیں انہیں بخش دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بعد سابقہ اعمال معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی تردید ہے جس میں ان کے لئے دھمکی اور ڈراوا بھی ہے ۔ ان کے لئے حوصلہ افزائی اور ایمان کا لالچ بھی ہے۔ غرض ہر طریقے سے اللہ کی کوشش ہے کہ انسانوں کے دل بدل جائیں۔ انسان کے جسم کی تار تار کو چھیڑا جاتا ہے کہ شاید نغمہ ایمان برآمد ہوجائے۔ سامعین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ لوگ جو احمقانہ باتیں کرتے ہیں یہ محض بچگانہ باتیں ہیں ، محض دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ داعی اعظم کے دل میں جو بات ہے اور جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں وہ بہت ہی عظیم ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت کا ان کو کوئی شعور نہیں۔ وحی پر ان کے اعتراض کا ایک دوسرے زاویہ سے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کہ وحی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ لاکھوں افراد اسے مانتے ہیں۔ آخر اس میں عجوبے کی کیا چیز ہے کہ یہ اسے جادو یا افترا کہتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب و غریب چیز تو نہیں ہے۔ قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔۔ نذیر مبین (46 : 9) “ ان سے کہو میں تو نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں ”۔ حضرت نبی اکرم ﷺ ہی پہلے رسول نہ تھے۔ آپ ﷺ سے پہلے کئی رسول گزرے تھے۔ آپ ﷺ کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے۔ انہوں نے کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا تھا۔ پہلے بھی کئی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون رسالت کے لئے اہل ہے۔ اس کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اور وہ بےکم وکاست پھر تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ یہی ہے رسالت کی حقیقت اور ماہیت ۔ رسول کا جب سرچشمہ رسالت سے مل جاتا ہے تو پھر اللہ سے رسالت کی کوئی دلیل طلب نہیں کرتا اور نہ اپنے لیے کوئی خصوصیت طلب کرتا ہے۔ پیغام ملتے ہی اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ جو بات اس تک پہنچتی ہے اس کی تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ وما ادری ما۔۔۔۔۔ یوحی الی (46 : 9) “ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ کل میرے ساتھ کیا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے ”۔ رسول رسالت کے کام کو اس لیے شروع نہیں کرتا کہ وہ غیب جانتا ہے یا وہ جانتا ہے کہ اس کا ، اس کی قوم کا اور اس کی دعوت کا انجام کیا ہوگا۔ وہ تو اللہ کے اشاروں اور ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ایک ایک قدم اللہ کے حکم سے اٹھاتا ہے لیکن مستقبل اسے معلوم نہیں ہوتا۔ تمام راز اللہ کے ہاں ہوتے ہیں اور رسول مستقبل کے راز معلوم کرنے کے لئے بےچین بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور بارگاہ رب العزت کے آداب میں سے یہ بات بھی ہے کہ وہ اسی علم پر اکتفا کرے جو اسے دے دیا گیا ہو اور مستقبل کے پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔ رسول تو ہمیشہ اپنے فرائض کی حدود پر کھڑا ہوتا ہے۔ وما انا الا نذیر مبین (46 : 9) “ میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ” ۔ اللہ کے دربار میں پہنچنے والوں کے یہی آداب ہوتے ہیں اور عارف باللہ لوگوں کا یہی اطمینان ہوتا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہیں اور دعوت دیتے چلے جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ دعوت کا انجام دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ دعوت کا مستقبل روشن ہوتا ہے ، یا وہ اس کے نتیجے میں چھوٹی یا بڑی کامیابی پاتے ہیں۔ پس وہ اس کام کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہوتا ہے اور بس۔ وہ اپنے رب سے کوئی دلیل بھی نہیں مانگتے کیونکہ دلیل تو ان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کچھ مراعات بھی نہیں مانگتے۔ اس سے بڑی رعایت یا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ وہ اس باریک خط سے سوتر بھر آگے نہیں بڑھتے جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا اور وہ انہی نقوش پر قدم رکھتے ہیں جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی شہادت کی طرف ان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ شہادت اہل کتاب کی ہے ، جو نزول وحی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (46 : 10) “ ان سے کہو ، کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ” یہ ممکن ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہو کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص یا کسی گروہ نے قرآنی تعلیمات کو تورات اور دوسری کتابوں کے مماثل پاتے ہوئے ایمان لے آیا ہو ، کیونکہ کتب سماوی پر ایمان لانے والے لوگ جانتے تھے کہ یہ کتاب وہی بات کرتی ہے جو ان کتابوں میں ہے۔ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ ابن اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کی راہ میں یہ مانع ہے کہ وہ مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے اور یہ سورت مکی ہے۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ یہ عبد اللہ ابن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ مکی ہے اور اس کا عبد اللہ ابن سلام کے واقعہ سے تعلق نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو ، مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایمان لایا ہو اگرچہ یہاں اہل کتاب بہت ہی کم تھے اور مکی حالات میں ان کے ایمان لانے کی بہت سی اہمیت ہو کیونکہ مشرکین امی تھے اور ایسے معاشرے میں اہل کتاب کے ایمان لانے کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی شہادت کی طرف قرآن نے کئی مقامات میں اشارہ کیا ہے اور مشرکین کی تردید کے لئے اسے پیش کیا جو بغیر دلیل اور ثبوت کے اور بغیر علم و ہنر کے اور بغیر کسی کتاب اور سماوی روایات کے قرآن کی تکذیب کرتے تھے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں احتمالی اسلوب استدلال پیش کیا ہے۔ “ تم نے بھی سوچا کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور ۔۔۔۔۔” اس طرز استدلال کی غرض یہ ہے کہ مشرکین کے اصرار کے اندر تزلزل پیدا کیا جائے۔ ان کے اصرار کی شدت کو کم کیا جائے۔ ان کے عناد کو ٹھنڈا کیا جائے۔ ان کے اندر ذرا خوف اور احتیاط پیدا کی جائے کہ اس تکذیب میں اتنا آگے نہ بڑھو۔ اور یہ استدلال کیا جائے کہ تم تو نہیں مانتے لیکن اگر سچ نکلے تو پھر۔۔۔۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ لہٰذا اس فرض اور احتمال ہی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کرو کہ اگر یہ سچ نکلا تو تم پر وہ تمام عذاب آجائیں گے جن سے محمد ﷺ تمہیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا حضور ﷺ کی تکذیب کرنے میں ذرا تامل کرو۔ اور اس دعوت پر غوروفکر کرو ، قبل اس کے کہ تم اس قدر خطرناک انجام سے دوچار ہوجاؤ یا احتمال پیدا ہوجائے ایسے انجام کا خصوصاً ایسے حالات میں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص یا گروہ نے یہ شہادت بھی دے دی ہو کہ اس کتاب کی نوعیت کلام الٰہی جیسی ہے۔ اور اس طرح وہ ایمان لایا۔ اور جب یہ کتاب سب سے پہلے تمہارے لیے آئی ، تمہاری زبان میں آئی ، تمہارے آدمی کے ذریعہ آئی تو تم تکبر کرتے ہو اور انکار کرتے ہو ، یہ واضح ظلم ہے۔ واضح حق کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا ہے اور اس صورت میں تمہارے سب اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (46 : 10) “ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ” ۔ غرض قرآن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مختلف اسالیب کلام اختیار کرتا ہے تا کہ انسانوں کے دلوں کے شکوک دور کرے اور مختلف راستوں سے اپنی دعوت لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ قرآن نے جو مختلف اسالیب اختیار کئے ہیں ، ان میں آنے والے داعیوں کے لئے سامان عبرت اور رہنمائی ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا و رسول ﷺ دونوں کے ہاں یقیناً قرآن حق تھا ، اللہ کا کلام تھا اور اس میں شک اور احتمال کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ اسلوب بھی اپنایا گیا کہ ممکن ہے اسی طرح شدت مخالفت کم ہوجائے۔ آگے مضمون جاری ہے کہ قرآن کے بارے میں اور دین اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں وہ جو کہتے تھے ان کا جائزہ۔ وہ اپنی تکذیب اور کفر کی ایک اور وجہ جواز بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ متکبر اور بزعم خود اونچے درجے کے لوگوں کی بات ہے۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (46 : 12) “ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ آغاز اسلام میں ، اسلام کی طرف فقر اور غلام لپکے تھے۔ اس لئے کبرا اور مستکبرین اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی تھی اور وہ یہ کہتے تھے اگر یہ دین کوئی اچھا دین تھا تو یہ لوگ کیا ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہشیار تھے اور نہ ہمارے مقابلہ میں یہ پہل کرسکتے تھے۔ کیونکہ ہم ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، زیادہ باشعور ہیں اور ان کے مقابلے میں نیک و بد کی زیادہ تمیز رکھتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔ یہ کبراء جو اسلام کو قبول نہ کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ اس میں شک کرتے تھے یا جاہل تھے اور ان کو خبر نہ تھی کہ قرآن مجید سچائی ہی سچائی ہے۔ یا یہ کہ اس میں خبر نہیں ہے بلکہ تکبر کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے اور یہ لوگ قبولیت حق کو اپنے سے فروتر کام سمجھتے تھے۔ پھر وہ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ اجتماعی نظام میں ان کو سوسائٹی میں جو مقام حاصل ہے یہ نہ رہے گا ، جو مفادات ان کو حاصل ہیں وہ نہ رہیں گے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آباؤ اجداد کے طریق کار کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ایک قابل فخر رویہ ہے لیکن جو لوگ اسلام کی طرف پہلی ہی آواز پر لپکے ان کی راہ میں یہ موائع نہ تھے جن کی وجہ سے کبراء رک گئے تھے۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔ کبر اور غرور کی وجہ سے ان کے لئے حق کے سامنے جھکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ فطرت کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ اور وہ حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کبرو غرور ان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے کہ ہٹ دھرمی کرو اور نہ مانو۔ جھوٹے عذرات تراشو۔ باطل سے باطل جھوٹا دعویٰ کرو ، یہ بڑے لوگ کبھی بھی ، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنی ذات کی زندگی کا محور بنانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور جس طرح وہ اپنے موجودہ معاشرے میں محور ہوتے ہیں اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم (46 : 11) “ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے نہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ ہاں ، اگر “ ان ” لوگوں نے ہدایت قبول نہیں کی تو پھر لازماً سچائی میں کوئی نقص ہوگا ۔ کیونکہ بڑے لوگوں سے تو غلطی کا صدور ممکن نہیں ! لیکن یہ لوگ اپنی نظر میں اور جمہور عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو وہ جو باور کراتے تھے کہ وہ ایک معصوم اور غلطی سے پاک قسم کی مخلوق ہیں۔ بہرحال وحی کے سلسلے میں یہ پیراگراف اور مطالعاتی سفر کتاب موسیٰ کی طرف ایک اشارے پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ خصوصاً تو رات اور قرآن کے درمیان گہری مماثلت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مشن تو تورات ہی کا تکملہ تھا۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے ایک گواہ کی طرف بھی اشارہ ہوچکا ہے۔ ومن قبلہ کتب موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ للمحسنین (46 : 12) “ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ قرآن کریم نے سابقہ کتب سماوی کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے خصوصاً تورات کی طرف اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تو اس کا تکملہ تھی اور ان کا مشن تورات ہی کا تسلسل تھا۔ اصل دستور قانون تو تورات ہی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امام اور رحمت کا لقب دیا گیا جب کہ ہر رسالت اس زمین اور اہل زمین کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا (46 : 12) “ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی زبان عربی میں ہے ”۔ یہ تصدیق ان اصل کتابوں اور اصل تعلیمات کی کرتی ہے جن کے اوپر تمام ادیان سماوی قائم ہیں۔ یہ کتاب اس نظام کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام اہل دین چلتے رہے۔ اور یہ کتاب اس صراط مستقیم کی تصدیق کرتی ہے جو انسانوں کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اور عربی کتاب جس طرح وہ تھی ، یہاں اس لیے کہا گیا کہ اہل عرب پر اس احسان کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی زبان میں یہ کتاب اتری۔ اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے۔ اور خاص مہربانی اور عنایت ہوئی ہے کہ تم کو اس دعوت کا حامل بنایا اور تمہاری زبان کو یہ اعزاز بخشا کہ اس میں قرآن عظیم نازل ہوا۔ مقصد صرف زبان نہ تھی بلکہ یہ تھا۔ لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین (46 : 12) “ تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ اس پہلے سبق کے آخر میں محسنین کی جزا کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم تمہارے لیے یہ خوشخبری لاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ توحید مطلق اور ربوبیت کا اعلان کردیں اور پھر اس پر جم جائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں۔

الأحقاف 46:6

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی نے خواہ وہ پتھر ہوں ، درخت ہوں ، جن ہوں یا فرشتے ، زمین میں سے کوئی حصہ یا کوئی چیز پیدا کی ہے۔ فطری سوچ ، حقیقت واقعہ ، اور ہر چیز بذات خود یہ پکار پکار کہتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ ام لھم شرک فی السموت (46 : 4) “ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ” ۔ کوئی انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان مذکورہ معبودوں کا آسمانوں میں کوئی حصہ یا شرکت ہے۔ آسمانوں کے اندر ایک سطحی نظر بھی بتا دیتی ہے کہ خالق کائنات کس قدر عظیم ہے اور پھر یہ کہ وہ واحد ہے۔ ایک ہی نظر میں ایک معقول انسان تمام گمراہیوں اور انسانوں کو جھٹک کر پھینک دیتا ہے۔ اللہ تو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات پر ایک گہری نظر ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ کائنات کی اس کھلی کتاب پر نگاہ تو ڈالو۔ اس کے نظام پر غور کرو ، اور تمہارے دل و دماغ پر اس کائنات سے جو سگنل آتے ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اس کے بعد بعض نہایت ہی گمراہ درجے کے انسانوں کی راہ بند کرنے کے لئے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک سوال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ گمراہی میں آگے بڑھ کر کوئی یہ زعم بھی کرسکتا ہے کہ ہمارے پاس شرک کی نقلی دلیل ہے یا کوئی اور بہانہ کرسکتا ہے حالانکہ دراصل اس کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اس لیے قرآن مجید ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کے پہلے ہی مطالبہ کردیتا ہے کہ لاؤ اگر کوئی حجت و لیل تمہارے پاس ہے اور پھر قرآن مجید ان کو استدلال کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہوا کرتا ہے۔ ایتونی بکتب ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (46 : 4) “ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو ”۔ یا تو اللہ کی کوئی سچی کتاب پیش کرو۔ یا کتب سماوی میں سے کوئی اثر تمہارے پاس باقی ہو اسے لے آؤ۔ قرآن سے قبل جس قدر کتب سماوی بھی نازل ہوئی ہیں وہ تو قرآن کی تائید میں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ وحدہ خالق ہے اور وہی کائنات کا مدبر ہے اور اس میں تمام چیزوں کو ایک قدر اور انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی متعدد الہہ کے خرافات کو تسلیم نہیں کرتی۔ یا یہ کہ زمین و آسمان میں سے کوئی چیز ان الہوں نے بنائی ہو یا وہ کسی چیز کے بنانے میں شریک ہوں کوئی علم یا اثر یا نص کتب سماوی میں نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اس کائنات کی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔ کائنات کی شہادت تو فیصلہ کن شہادت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید ان کے عقائد کو حجت و دلیل سے محروم کردیتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ بحث و دلیل کا صحیح اندازہ کیا ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ایک ہی آیت میں سکھا دی جاتی ہیں جس کے الفاظ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں لیکن زور دار اور فیصلہ کن ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ان کے سامنے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جن چیزوں کو تم الٰہ بناتے ہو ، اور پھر پکارتے ہو ، ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، یہ تو تمہاری اس پکار کو سنتے ہی نہیں ، اس دنیا میں تم اگر ساری زندگی ان کو پکارتے رہو اور قیامت میں تو بھی وہ صاف صاف انکار کردیں گے۔ لہٰذا اپنی اس حرکت پر ذرا غور تو کرو۔ ومن اضل ممن یدعوا۔۔۔۔۔ غفلون (46 : 5) واذا حشر الناس ۔۔۔۔۔ کفرین (46 : 6) “ آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں ، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ”۔ بعض لوگ ایسے تھے جو بتوں کو بذات الٰہ مانتے تھے۔ اور بعض ان کو فرشتوں یا نیک لوگوں کی شبیہ سمجھتے ہوئے الٰہ مانتے تھے۔ بعض درختوں کو الٰہ مانتے تھے ، بعض فرشتوں اور شیطان کو الٰہ مانتے۔ ان میں سے کوئی بھی پکارنے والے کی پکار کا جواب نہ دے سکتا تھا ، یا اگر پکار سنتا تھا تو کوئی فائدہ نہ دے سکتا تھا ، پتھر اور درخت تو نہ کچھ سن سکتے تھے اور نہ جواب دے سکتے تھے۔ فرشتے بھی مشرکین کی اس حرکت پر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ شیاطین تو بہرحال ان کو مزید گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ اندازیاں کرتے تھے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور لوگ اٹھائے جائیں گے تو یہ تمام الٰہ جو پوجے جاتے تھے ، یہ اپنے گمراہ عبادت گذاروں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، وہ یہ کہے گا۔ وقال الشیطن ۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یوں قرآن مجید ان کو خود اپنے دعویٰ اور اپنے خیالات کے سامنے پیش کرتا ہے کہ ان دعوؤں کا انجام دنیا اور آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ اس سے قبل ان کو کائنات کی نشانیاں بتائی گئیں کہ یہ شرک کے عقائد کا انکار کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک الٰہ العالمین ہے اور خود مشرکین کی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں۔ قرآن مجید یہاں ان بت پرستوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسے بتوں کو پکار رہے تھے جو ان کو کوئی نفع یا نقصان نہ دے سکتے تھے۔ نزول قرآن کے وقت ایسے روایتی زندہ اور مردہ معبود موجود تھے۔ لیکن یہ آیت صرف ان بتوں تک محدود نہیں ہے ، جو ایک خاص زمان ومکان میں ایک خاص شکل میں پکارے جاتے تھے اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ آیت بہت وسیع ہے اور اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جو اللہ کے سوا کسی بھی زمان و مکان میں پائے جائیں گے۔ جن کو عوام پکارتے ہیں اور جن سے امید وابستہ کرتے ہیں اور جو ان کو کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے۔ کیونکہ نفع و نقصان پہنچانے والا تو اللہ ہی ہے۔ غرض شرک اس سادہ صورت اور شکل تک محدود نہیں ہے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اصحاب اقتدار کو شریک کرتے ہیں۔ افسران کو شریک کرتے ہیں ، بڑے بڑے سرمایہ داروں کو شریک کرتے ہیں ، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں ، لیکن یہ سب کے سب بہت ہی عاجز اور کمزور ہیں اور یہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکارنا شرک ہے ، ان سے امیدیں وابستہ کرنا بھی شرک ہے۔ ان سے ڈرنا بھی شرک ہے۔ لیکن یہ شرک ذرا شرک خفی ہے اور اکثر لوگ غیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٭٭٭ اس کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی سچی دعوت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔ شرک کے بارے میں ان کے خیالات کا جائزہ تو خوب لیا گیا ۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وحی اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا موقف کس قدر غلط اور غیر معقول ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ سحر مبین (7) ام یقولون افترہ ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (8) قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔ نذیر مبین (9) قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (10) وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (11) ومن قبلہ کتب ۔۔۔۔ وبشری للمحسنین (12) (46 : 7 تا 12) “ ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ”۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”۔ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور اس کی دعوت ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بڑی واضح ، دل لگتی اور کھلی باتیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قدر ذلیل اور ضدی اور کم بخت ہیں کہ یہ اس سچائی کے بارے میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ : ھذا سحر مبین (46 : 7) “ یہ کھلا جادو ہے ”۔ حالانکہ دعوت اسلامی اور جادو کی نوعیت اور موضوع ہی مختلف ہے۔ ایک نبی اور جادوگر کے مقاصد ہی مختلف ہیں۔ یوں ان کے اس غلط موقف پر حملہ کیا جاتا ہے جس کے لئے نہ دلیل ہے اور نہ وجہ جواب ہے کیونکہ نبی ﷺ کی دعوت بہت ہی واضح ہے اور آیات بینات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اور اللہ کی طرف منسوب ہے اور ایک افترا ہے۔ اس شبی ہے کو قرآن استفہام اور سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ بھی کوئی سوال ہے یا کوئی معقول انسان ایسی بات سوچ سکتا ہے ؟ ام یقولون افترہ (46 : 8) “ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اسے خود گھڑ لیا ہے ”۔ یعنی کیا وہ اس قدر جری ہوگئے ہیں کہ ایسی بات بھی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس طرح دیں جس طرح ایک پیغمبر کی شان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال بہت ہی لا یعنی ہے۔ اس جواب سے اظہار ہو کہ آپ کو اپنے فرائض کا اچھی طرح شعور ہے ، آپ کو اپنے رب کا بھی اچھی طرح شعور ہے۔ آپ کو اس کائنات کی حقیقی قدروں اور حقیقی قوتوں کا پورا احساس ہے ۔ قل ان افتریتہ ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (46 : 8) “ ان سے کہو ، اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ میرے اور تمہارے درمیان و ہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہہ دو میں کیوں افترا باندھوں ؟ کس کے مفاد کے لئے یہ افترا باندھوں ؟ کن مقاصد کے لئے ایسا کروں ؟ کیا اس لیے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو لیکن تم میری کیا مدد کرسکتے ہو ؟ قل ان افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا (46 : 8) “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ”۔ میرے افترا کی وجہ سے وہ لازماً میرا مواخذہ کرے گا۔ لہٰذا اگر تم میرے ساتھ ہو اور مجھ پر ایمان لاؤ تو اس میں مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ افترا پر جب اللہ مجھ سے مواخذہ کرے گا تو تم اس وقت کیا کرسکتے ہو۔ تم تو بہت ہی عاجز اور کمزور ہو۔ میری کیا مدد کرو گے۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو نبی کے شایان شان ہے جو اللہ سے ہدایات لیتا ہے اور جسے اللہ کے سوا اس کائنات میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ اسے صرف اللہ ہی کی قوت نظر آتی ہے ۔ نیز یہ ایک منطقی اور معقول تردید بھی ہے۔ اگر کوئی ذرا اپنی عقل کو کام میں لائے ۔ ان کو جواب دے کر اس پر آپ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ ھو اعلم بما تفیضون فیہ (46 : 8) “ جو باتیں تم بتاتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ” ۔ یعنی جو تم کرتے اور کہتے ہو۔ اور جن باتوں کو اللہ جانتا ہے ان پر وہ ضرور تمہیں سزا دے گا۔ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم (46 : 8) “ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ”۔ اللہ گواہی بھی دے گا اور فیصلہ بھی کر دے گا اور اللہ کی گواہی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔ وھو الغفور الرحیم (46 : 8) “ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ وہ تم پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہیں ہدایت دے دیتا ہے اور تم نے جو گمراہیاں کیں انہیں بخش دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بعد سابقہ اعمال معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی تردید ہے جس میں ان کے لئے دھمکی اور ڈراوا بھی ہے ۔ ان کے لئے حوصلہ افزائی اور ایمان کا لالچ بھی ہے۔ غرض ہر طریقے سے اللہ کی کوشش ہے کہ انسانوں کے دل بدل جائیں۔ انسان کے جسم کی تار تار کو چھیڑا جاتا ہے کہ شاید نغمہ ایمان برآمد ہوجائے۔ سامعین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ لوگ جو احمقانہ باتیں کرتے ہیں یہ محض بچگانہ باتیں ہیں ، محض دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ داعی اعظم کے دل میں جو بات ہے اور جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں وہ بہت ہی عظیم ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت کا ان کو کوئی شعور نہیں۔ وحی پر ان کے اعتراض کا ایک دوسرے زاویہ سے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کہ وحی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ لاکھوں افراد اسے مانتے ہیں۔ آخر اس میں عجوبے کی کیا چیز ہے کہ یہ اسے جادو یا افترا کہتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب و غریب چیز تو نہیں ہے۔ قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔۔ نذیر مبین (46 : 9) “ ان سے کہو میں تو نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں ”۔ حضرت نبی اکرم ﷺ ہی پہلے رسول نہ تھے۔ آپ ﷺ سے پہلے کئی رسول گزرے تھے۔ آپ ﷺ کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے۔ انہوں نے کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا تھا۔ پہلے بھی کئی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون رسالت کے لئے اہل ہے۔ اس کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اور وہ بےکم وکاست پھر تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ یہی ہے رسالت کی حقیقت اور ماہیت ۔ رسول کا جب سرچشمہ رسالت سے مل جاتا ہے تو پھر اللہ سے رسالت کی کوئی دلیل طلب نہیں کرتا اور نہ اپنے لیے کوئی خصوصیت طلب کرتا ہے۔ پیغام ملتے ہی اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ جو بات اس تک پہنچتی ہے اس کی تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ وما ادری ما۔۔۔۔۔ یوحی الی (46 : 9) “ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ کل میرے ساتھ کیا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے ”۔ رسول رسالت کے کام کو اس لیے شروع نہیں کرتا کہ وہ غیب جانتا ہے یا وہ جانتا ہے کہ اس کا ، اس کی قوم کا اور اس کی دعوت کا انجام کیا ہوگا۔ وہ تو اللہ کے اشاروں اور ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ایک ایک قدم اللہ کے حکم سے اٹھاتا ہے لیکن مستقبل اسے معلوم نہیں ہوتا۔ تمام راز اللہ کے ہاں ہوتے ہیں اور رسول مستقبل کے راز معلوم کرنے کے لئے بےچین بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور بارگاہ رب العزت کے آداب میں سے یہ بات بھی ہے کہ وہ اسی علم پر اکتفا کرے جو اسے دے دیا گیا ہو اور مستقبل کے پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔ رسول تو ہمیشہ اپنے فرائض کی حدود پر کھڑا ہوتا ہے۔ وما انا الا نذیر مبین (46 : 9) “ میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ” ۔ اللہ کے دربار میں پہنچنے والوں کے یہی آداب ہوتے ہیں اور عارف باللہ لوگوں کا یہی اطمینان ہوتا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہیں اور دعوت دیتے چلے جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ دعوت کا انجام دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ دعوت کا مستقبل روشن ہوتا ہے ، یا وہ اس کے نتیجے میں چھوٹی یا بڑی کامیابی پاتے ہیں۔ پس وہ اس کام کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہوتا ہے اور بس۔ وہ اپنے رب سے کوئی دلیل بھی نہیں مانگتے کیونکہ دلیل تو ان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کچھ مراعات بھی نہیں مانگتے۔ اس سے بڑی رعایت یا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ وہ اس باریک خط سے سوتر بھر آگے نہیں بڑھتے جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا اور وہ انہی نقوش پر قدم رکھتے ہیں جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی شہادت کی طرف ان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ شہادت اہل کتاب کی ہے ، جو نزول وحی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (46 : 10) “ ان سے کہو ، کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ” یہ ممکن ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہو کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص یا کسی گروہ نے قرآنی تعلیمات کو تورات اور دوسری کتابوں کے مماثل پاتے ہوئے ایمان لے آیا ہو ، کیونکہ کتب سماوی پر ایمان لانے والے لوگ جانتے تھے کہ یہ کتاب وہی بات کرتی ہے جو ان کتابوں میں ہے۔ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ ابن اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کی راہ میں یہ مانع ہے کہ وہ مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے اور یہ سورت مکی ہے۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ یہ عبد اللہ ابن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ مکی ہے اور اس کا عبد اللہ ابن سلام کے واقعہ سے تعلق نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو ، مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایمان لایا ہو اگرچہ یہاں اہل کتاب بہت ہی کم تھے اور مکی حالات میں ان کے ایمان لانے کی بہت سی اہمیت ہو کیونکہ مشرکین امی تھے اور ایسے معاشرے میں اہل کتاب کے ایمان لانے کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی شہادت کی طرف قرآن نے کئی مقامات میں اشارہ کیا ہے اور مشرکین کی تردید کے لئے اسے پیش کیا جو بغیر دلیل اور ثبوت کے اور بغیر علم و ہنر کے اور بغیر کسی کتاب اور سماوی روایات کے قرآن کی تکذیب کرتے تھے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں احتمالی اسلوب استدلال پیش کیا ہے۔ “ تم نے بھی سوچا کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور ۔۔۔۔۔” اس طرز استدلال کی غرض یہ ہے کہ مشرکین کے اصرار کے اندر تزلزل پیدا کیا جائے۔ ان کے اصرار کی شدت کو کم کیا جائے۔ ان کے عناد کو ٹھنڈا کیا جائے۔ ان کے اندر ذرا خوف اور احتیاط پیدا کی جائے کہ اس تکذیب میں اتنا آگے نہ بڑھو۔ اور یہ استدلال کیا جائے کہ تم تو نہیں مانتے لیکن اگر سچ نکلے تو پھر۔۔۔۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ لہٰذا اس فرض اور احتمال ہی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کرو کہ اگر یہ سچ نکلا تو تم پر وہ تمام عذاب آجائیں گے جن سے محمد ﷺ تمہیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا حضور ﷺ کی تکذیب کرنے میں ذرا تامل کرو۔ اور اس دعوت پر غوروفکر کرو ، قبل اس کے کہ تم اس قدر خطرناک انجام سے دوچار ہوجاؤ یا احتمال پیدا ہوجائے ایسے انجام کا خصوصاً ایسے حالات میں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص یا گروہ نے یہ شہادت بھی دے دی ہو کہ اس کتاب کی نوعیت کلام الٰہی جیسی ہے۔ اور اس طرح وہ ایمان لایا۔ اور جب یہ کتاب سب سے پہلے تمہارے لیے آئی ، تمہاری زبان میں آئی ، تمہارے آدمی کے ذریعہ آئی تو تم تکبر کرتے ہو اور انکار کرتے ہو ، یہ واضح ظلم ہے۔ واضح حق کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا ہے اور اس صورت میں تمہارے سب اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (46 : 10) “ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ” ۔ غرض قرآن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مختلف اسالیب کلام اختیار کرتا ہے تا کہ انسانوں کے دلوں کے شکوک دور کرے اور مختلف راستوں سے اپنی دعوت لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ قرآن نے جو مختلف اسالیب اختیار کئے ہیں ، ان میں آنے والے داعیوں کے لئے سامان عبرت اور رہنمائی ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا و رسول ﷺ دونوں کے ہاں یقیناً قرآن حق تھا ، اللہ کا کلام تھا اور اس میں شک اور احتمال کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ اسلوب بھی اپنایا گیا کہ ممکن ہے اسی طرح شدت مخالفت کم ہوجائے۔ آگے مضمون جاری ہے کہ قرآن کے بارے میں اور دین اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں وہ جو کہتے تھے ان کا جائزہ۔ وہ اپنی تکذیب اور کفر کی ایک اور وجہ جواز بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ متکبر اور بزعم خود اونچے درجے کے لوگوں کی بات ہے۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (46 : 12) “ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ آغاز اسلام میں ، اسلام کی طرف فقر اور غلام لپکے تھے۔ اس لئے کبرا اور مستکبرین اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی تھی اور وہ یہ کہتے تھے اگر یہ دین کوئی اچھا دین تھا تو یہ لوگ کیا ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہشیار تھے اور نہ ہمارے مقابلہ میں یہ پہل کرسکتے تھے۔ کیونکہ ہم ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، زیادہ باشعور ہیں اور ان کے مقابلے میں نیک و بد کی زیادہ تمیز رکھتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔ یہ کبراء جو اسلام کو قبول نہ کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ اس میں شک کرتے تھے یا جاہل تھے اور ان کو خبر نہ تھی کہ قرآن مجید سچائی ہی سچائی ہے۔ یا یہ کہ اس میں خبر نہیں ہے بلکہ تکبر کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے اور یہ لوگ قبولیت حق کو اپنے سے فروتر کام سمجھتے تھے۔ پھر وہ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ اجتماعی نظام میں ان کو سوسائٹی میں جو مقام حاصل ہے یہ نہ رہے گا ، جو مفادات ان کو حاصل ہیں وہ نہ رہیں گے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آباؤ اجداد کے طریق کار کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ایک قابل فخر رویہ ہے لیکن جو لوگ اسلام کی طرف پہلی ہی آواز پر لپکے ان کی راہ میں یہ موائع نہ تھے جن کی وجہ سے کبراء رک گئے تھے۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔ کبر اور غرور کی وجہ سے ان کے لئے حق کے سامنے جھکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ فطرت کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ اور وہ حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کبرو غرور ان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے کہ ہٹ دھرمی کرو اور نہ مانو۔ جھوٹے عذرات تراشو۔ باطل سے باطل جھوٹا دعویٰ کرو ، یہ بڑے لوگ کبھی بھی ، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنی ذات کی زندگی کا محور بنانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور جس طرح وہ اپنے موجودہ معاشرے میں محور ہوتے ہیں اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم (46 : 11) “ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے نہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ ہاں ، اگر “ ان ” لوگوں نے ہدایت قبول نہیں کی تو پھر لازماً سچائی میں کوئی نقص ہوگا ۔ کیونکہ بڑے لوگوں سے تو غلطی کا صدور ممکن نہیں ! لیکن یہ لوگ اپنی نظر میں اور جمہور عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو وہ جو باور کراتے تھے کہ وہ ایک معصوم اور غلطی سے پاک قسم کی مخلوق ہیں۔ بہرحال وحی کے سلسلے میں یہ پیراگراف اور مطالعاتی سفر کتاب موسیٰ کی طرف ایک اشارے پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ خصوصاً تو رات اور قرآن کے درمیان گہری مماثلت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مشن تو تورات ہی کا تکملہ تھا۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے ایک گواہ کی طرف بھی اشارہ ہوچکا ہے۔ ومن قبلہ کتب موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ للمحسنین (46 : 12) “ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ قرآن کریم نے سابقہ کتب سماوی کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے خصوصاً تورات کی طرف اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تو اس کا تکملہ تھی اور ان کا مشن تورات ہی کا تسلسل تھا۔ اصل دستور قانون تو تورات ہی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امام اور رحمت کا لقب دیا گیا جب کہ ہر رسالت اس زمین اور اہل زمین کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا (46 : 12) “ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی زبان عربی میں ہے ”۔ یہ تصدیق ان اصل کتابوں اور اصل تعلیمات کی کرتی ہے جن کے اوپر تمام ادیان سماوی قائم ہیں۔ یہ کتاب اس نظام کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام اہل دین چلتے رہے۔ اور یہ کتاب اس صراط مستقیم کی تصدیق کرتی ہے جو انسانوں کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اور عربی کتاب جس طرح وہ تھی ، یہاں اس لیے کہا گیا کہ اہل عرب پر اس احسان کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی زبان میں یہ کتاب اتری۔ اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے۔ اور خاص مہربانی اور عنایت ہوئی ہے کہ تم کو اس دعوت کا حامل بنایا اور تمہاری زبان کو یہ اعزاز بخشا کہ اس میں قرآن عظیم نازل ہوا۔ مقصد صرف زبان نہ تھی بلکہ یہ تھا۔ لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین (46 : 12) “ تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ اس پہلے سبق کے آخر میں محسنین کی جزا کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم تمہارے لیے یہ خوشخبری لاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ توحید مطلق اور ربوبیت کا اعلان کردیں اور پھر اس پر جم جائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں۔

الأحقاف 46:7

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی نے خواہ وہ پتھر ہوں ، درخت ہوں ، جن ہوں یا فرشتے ، زمین میں سے کوئی حصہ یا کوئی چیز پیدا کی ہے۔ فطری سوچ ، حقیقت واقعہ ، اور ہر چیز بذات خود یہ پکار پکار کہتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ ام لھم شرک فی السموت (46 : 4) “ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ” ۔ کوئی انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان مذکورہ معبودوں کا آسمانوں میں کوئی حصہ یا شرکت ہے۔ آسمانوں کے اندر ایک سطحی نظر بھی بتا دیتی ہے کہ خالق کائنات کس قدر عظیم ہے اور پھر یہ کہ وہ واحد ہے۔ ایک ہی نظر میں ایک معقول انسان تمام گمراہیوں اور انسانوں کو جھٹک کر پھینک دیتا ہے۔ اللہ تو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات پر ایک گہری نظر ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ کائنات کی اس کھلی کتاب پر نگاہ تو ڈالو۔ اس کے نظام پر غور کرو ، اور تمہارے دل و دماغ پر اس کائنات سے جو سگنل آتے ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اس کے بعد بعض نہایت ہی گمراہ درجے کے انسانوں کی راہ بند کرنے کے لئے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک سوال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ گمراہی میں آگے بڑھ کر کوئی یہ زعم بھی کرسکتا ہے کہ ہمارے پاس شرک کی نقلی دلیل ہے یا کوئی اور بہانہ کرسکتا ہے حالانکہ دراصل اس کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اس لیے قرآن مجید ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کے پہلے ہی مطالبہ کردیتا ہے کہ لاؤ اگر کوئی حجت و لیل تمہارے پاس ہے اور پھر قرآن مجید ان کو استدلال کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہوا کرتا ہے۔ ایتونی بکتب ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (46 : 4) “ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو ”۔ یا تو اللہ کی کوئی سچی کتاب پیش کرو۔ یا کتب سماوی میں سے کوئی اثر تمہارے پاس باقی ہو اسے لے آؤ۔ قرآن سے قبل جس قدر کتب سماوی بھی نازل ہوئی ہیں وہ تو قرآن کی تائید میں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ وحدہ خالق ہے اور وہی کائنات کا مدبر ہے اور اس میں تمام چیزوں کو ایک قدر اور انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی متعدد الہہ کے خرافات کو تسلیم نہیں کرتی۔ یا یہ کہ زمین و آسمان میں سے کوئی چیز ان الہوں نے بنائی ہو یا وہ کسی چیز کے بنانے میں شریک ہوں کوئی علم یا اثر یا نص کتب سماوی میں نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اس کائنات کی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔ کائنات کی شہادت تو فیصلہ کن شہادت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید ان کے عقائد کو حجت و دلیل سے محروم کردیتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ بحث و دلیل کا صحیح اندازہ کیا ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ایک ہی آیت میں سکھا دی جاتی ہیں جس کے الفاظ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں لیکن زور دار اور فیصلہ کن ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ان کے سامنے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جن چیزوں کو تم الٰہ بناتے ہو ، اور پھر پکارتے ہو ، ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، یہ تو تمہاری اس پکار کو سنتے ہی نہیں ، اس دنیا میں تم اگر ساری زندگی ان کو پکارتے رہو اور قیامت میں تو بھی وہ صاف صاف انکار کردیں گے۔ لہٰذا اپنی اس حرکت پر ذرا غور تو کرو۔ ومن اضل ممن یدعوا۔۔۔۔۔ غفلون (46 : 5) واذا حشر الناس ۔۔۔۔۔ کفرین (46 : 6) “ آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں ، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ”۔ بعض لوگ ایسے تھے جو بتوں کو بذات الٰہ مانتے تھے۔ اور بعض ان کو فرشتوں یا نیک لوگوں کی شبیہ سمجھتے ہوئے الٰہ مانتے تھے۔ بعض درختوں کو الٰہ مانتے تھے ، بعض فرشتوں اور شیطان کو الٰہ مانتے۔ ان میں سے کوئی بھی پکارنے والے کی پکار کا جواب نہ دے سکتا تھا ، یا اگر پکار سنتا تھا تو کوئی فائدہ نہ دے سکتا تھا ، پتھر اور درخت تو نہ کچھ سن سکتے تھے اور نہ جواب دے سکتے تھے۔ فرشتے بھی مشرکین کی اس حرکت پر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ شیاطین تو بہرحال ان کو مزید گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ اندازیاں کرتے تھے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور لوگ اٹھائے جائیں گے تو یہ تمام الٰہ جو پوجے جاتے تھے ، یہ اپنے گمراہ عبادت گذاروں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، وہ یہ کہے گا۔ وقال الشیطن ۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یوں قرآن مجید ان کو خود اپنے دعویٰ اور اپنے خیالات کے سامنے پیش کرتا ہے کہ ان دعوؤں کا انجام دنیا اور آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ اس سے قبل ان کو کائنات کی نشانیاں بتائی گئیں کہ یہ شرک کے عقائد کا انکار کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک الٰہ العالمین ہے اور خود مشرکین کی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں۔ قرآن مجید یہاں ان بت پرستوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسے بتوں کو پکار رہے تھے جو ان کو کوئی نفع یا نقصان نہ دے سکتے تھے۔ نزول قرآن کے وقت ایسے روایتی زندہ اور مردہ معبود موجود تھے۔ لیکن یہ آیت صرف ان بتوں تک محدود نہیں ہے ، جو ایک خاص زمان ومکان میں ایک خاص شکل میں پکارے جاتے تھے اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ آیت بہت وسیع ہے اور اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جو اللہ کے سوا کسی بھی زمان و مکان میں پائے جائیں گے۔ جن کو عوام پکارتے ہیں اور جن سے امید وابستہ کرتے ہیں اور جو ان کو کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے۔ کیونکہ نفع و نقصان پہنچانے والا تو اللہ ہی ہے۔ غرض شرک اس سادہ صورت اور شکل تک محدود نہیں ہے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اصحاب اقتدار کو شریک کرتے ہیں۔ افسران کو شریک کرتے ہیں ، بڑے بڑے سرمایہ داروں کو شریک کرتے ہیں ، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں ، لیکن یہ سب کے سب بہت ہی عاجز اور کمزور ہیں اور یہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکارنا شرک ہے ، ان سے امیدیں وابستہ کرنا بھی شرک ہے۔ ان سے ڈرنا بھی شرک ہے۔ لیکن یہ شرک ذرا شرک خفی ہے اور اکثر لوگ غیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٭٭٭ اس کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی سچی دعوت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔ شرک کے بارے میں ان کے خیالات کا جائزہ تو خوب لیا گیا ۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وحی اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا موقف کس قدر غلط اور غیر معقول ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ سحر مبین (7) ام یقولون افترہ ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (8) قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔ نذیر مبین (9) قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (10) وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (11) ومن قبلہ کتب ۔۔۔۔ وبشری للمحسنین (12) (46 : 7 تا 12) “ ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ”۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”۔ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور اس کی دعوت ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بڑی واضح ، دل لگتی اور کھلی باتیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قدر ذلیل اور ضدی اور کم بخت ہیں کہ یہ اس سچائی کے بارے میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ : ھذا سحر مبین (46 : 7) “ یہ کھلا جادو ہے ”۔ حالانکہ دعوت اسلامی اور جادو کی نوعیت اور موضوع ہی مختلف ہے۔ ایک نبی اور جادوگر کے مقاصد ہی مختلف ہیں۔ یوں ان کے اس غلط موقف پر حملہ کیا جاتا ہے جس کے لئے نہ دلیل ہے اور نہ وجہ جواب ہے کیونکہ نبی ﷺ کی دعوت بہت ہی واضح ہے اور آیات بینات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اور اللہ کی طرف منسوب ہے اور ایک افترا ہے۔ اس شبی ہے کو قرآن استفہام اور سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ بھی کوئی سوال ہے یا کوئی معقول انسان ایسی بات سوچ سکتا ہے ؟ ام یقولون افترہ (46 : 8) “ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اسے خود گھڑ لیا ہے ”۔ یعنی کیا وہ اس قدر جری ہوگئے ہیں کہ ایسی بات بھی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس طرح دیں جس طرح ایک پیغمبر کی شان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال بہت ہی لا یعنی ہے۔ اس جواب سے اظہار ہو کہ آپ کو اپنے فرائض کا اچھی طرح شعور ہے ، آپ کو اپنے رب کا بھی اچھی طرح شعور ہے۔ آپ کو اس کائنات کی حقیقی قدروں اور حقیقی قوتوں کا پورا احساس ہے ۔ قل ان افتریتہ ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (46 : 8) “ ان سے کہو ، اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ میرے اور تمہارے درمیان و ہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہہ دو میں کیوں افترا باندھوں ؟ کس کے مفاد کے لئے یہ افترا باندھوں ؟ کن مقاصد کے لئے ایسا کروں ؟ کیا اس لیے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو لیکن تم میری کیا مدد کرسکتے ہو ؟ قل ان افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا (46 : 8) “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ”۔ میرے افترا کی وجہ سے وہ لازماً میرا مواخذہ کرے گا۔ لہٰذا اگر تم میرے ساتھ ہو اور مجھ پر ایمان لاؤ تو اس میں مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ افترا پر جب اللہ مجھ سے مواخذہ کرے گا تو تم اس وقت کیا کرسکتے ہو۔ تم تو بہت ہی عاجز اور کمزور ہو۔ میری کیا مدد کرو گے۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو نبی کے شایان شان ہے جو اللہ سے ہدایات لیتا ہے اور جسے اللہ کے سوا اس کائنات میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ اسے صرف اللہ ہی کی قوت نظر آتی ہے ۔ نیز یہ ایک منطقی اور معقول تردید بھی ہے۔ اگر کوئی ذرا اپنی عقل کو کام میں لائے ۔ ان کو جواب دے کر اس پر آپ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ ھو اعلم بما تفیضون فیہ (46 : 8) “ جو باتیں تم بتاتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ” ۔ یعنی جو تم کرتے اور کہتے ہو۔ اور جن باتوں کو اللہ جانتا ہے ان پر وہ ضرور تمہیں سزا دے گا۔ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم (46 : 8) “ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ”۔ اللہ گواہی بھی دے گا اور فیصلہ بھی کر دے گا اور اللہ کی گواہی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔ وھو الغفور الرحیم (46 : 8) “ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ وہ تم پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہیں ہدایت دے دیتا ہے اور تم نے جو گمراہیاں کیں انہیں بخش دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بعد سابقہ اعمال معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی تردید ہے جس میں ان کے لئے دھمکی اور ڈراوا بھی ہے ۔ ان کے لئے حوصلہ افزائی اور ایمان کا لالچ بھی ہے۔ غرض ہر طریقے سے اللہ کی کوشش ہے کہ انسانوں کے دل بدل جائیں۔ انسان کے جسم کی تار تار کو چھیڑا جاتا ہے کہ شاید نغمہ ایمان برآمد ہوجائے۔ سامعین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ لوگ جو احمقانہ باتیں کرتے ہیں یہ محض بچگانہ باتیں ہیں ، محض دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ داعی اعظم کے دل میں جو بات ہے اور جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں وہ بہت ہی عظیم ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت کا ان کو کوئی شعور نہیں۔ وحی پر ان کے اعتراض کا ایک دوسرے زاویہ سے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کہ وحی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ لاکھوں افراد اسے مانتے ہیں۔ آخر اس میں عجوبے کی کیا چیز ہے کہ یہ اسے جادو یا افترا کہتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب و غریب چیز تو نہیں ہے۔ قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔۔ نذیر مبین (46 : 9) “ ان سے کہو میں تو نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں ”۔ حضرت نبی اکرم ﷺ ہی پہلے رسول نہ تھے۔ آپ ﷺ سے پہلے کئی رسول گزرے تھے۔ آپ ﷺ کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے۔ انہوں نے کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا تھا۔ پہلے بھی کئی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون رسالت کے لئے اہل ہے۔ اس کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اور وہ بےکم وکاست پھر تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ یہی ہے رسالت کی حقیقت اور ماہیت ۔ رسول کا جب سرچشمہ رسالت سے مل جاتا ہے تو پھر اللہ سے رسالت کی کوئی دلیل طلب نہیں کرتا اور نہ اپنے لیے کوئی خصوصیت طلب کرتا ہے۔ پیغام ملتے ہی اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ جو بات اس تک پہنچتی ہے اس کی تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ وما ادری ما۔۔۔۔۔ یوحی الی (46 : 9) “ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ کل میرے ساتھ کیا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے ”۔ رسول رسالت کے کام کو اس لیے شروع نہیں کرتا کہ وہ غیب جانتا ہے یا وہ جانتا ہے کہ اس کا ، اس کی قوم کا اور اس کی دعوت کا انجام کیا ہوگا۔ وہ تو اللہ کے اشاروں اور ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ایک ایک قدم اللہ کے حکم سے اٹھاتا ہے لیکن مستقبل اسے معلوم نہیں ہوتا۔ تمام راز اللہ کے ہاں ہوتے ہیں اور رسول مستقبل کے راز معلوم کرنے کے لئے بےچین بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور بارگاہ رب العزت کے آداب میں سے یہ بات بھی ہے کہ وہ اسی علم پر اکتفا کرے جو اسے دے دیا گیا ہو اور مستقبل کے پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔ رسول تو ہمیشہ اپنے فرائض کی حدود پر کھڑا ہوتا ہے۔ وما انا الا نذیر مبین (46 : 9) “ میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ” ۔ اللہ کے دربار میں پہنچنے والوں کے یہی آداب ہوتے ہیں اور عارف باللہ لوگوں کا یہی اطمینان ہوتا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہیں اور دعوت دیتے چلے جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ دعوت کا انجام دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ دعوت کا مستقبل روشن ہوتا ہے ، یا وہ اس کے نتیجے میں چھوٹی یا بڑی کامیابی پاتے ہیں۔ پس وہ اس کام کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہوتا ہے اور بس۔ وہ اپنے رب سے کوئی دلیل بھی نہیں مانگتے کیونکہ دلیل تو ان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کچھ مراعات بھی نہیں مانگتے۔ اس سے بڑی رعایت یا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ وہ اس باریک خط سے سوتر بھر آگے نہیں بڑھتے جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا اور وہ انہی نقوش پر قدم رکھتے ہیں جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی شہادت کی طرف ان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ شہادت اہل کتاب کی ہے ، جو نزول وحی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (46 : 10) “ ان سے کہو ، کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ” یہ ممکن ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہو کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص یا کسی گروہ نے قرآنی تعلیمات کو تورات اور دوسری کتابوں کے مماثل پاتے ہوئے ایمان لے آیا ہو ، کیونکہ کتب سماوی پر ایمان لانے والے لوگ جانتے تھے کہ یہ کتاب وہی بات کرتی ہے جو ان کتابوں میں ہے۔ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ ابن اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کی راہ میں یہ مانع ہے کہ وہ مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے اور یہ سورت مکی ہے۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ یہ عبد اللہ ابن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ مکی ہے اور اس کا عبد اللہ ابن سلام کے واقعہ سے تعلق نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو ، مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایمان لایا ہو اگرچہ یہاں اہل کتاب بہت ہی کم تھے اور مکی حالات میں ان کے ایمان لانے کی بہت سی اہمیت ہو کیونکہ مشرکین امی تھے اور ایسے معاشرے میں اہل کتاب کے ایمان لانے کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی شہادت کی طرف قرآن نے کئی مقامات میں اشارہ کیا ہے اور مشرکین کی تردید کے لئے اسے پیش کیا جو بغیر دلیل اور ثبوت کے اور بغیر علم و ہنر کے اور بغیر کسی کتاب اور سماوی روایات کے قرآن کی تکذیب کرتے تھے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں احتمالی اسلوب استدلال پیش کیا ہے۔ “ تم نے بھی سوچا کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور ۔۔۔۔۔” اس طرز استدلال کی غرض یہ ہے کہ مشرکین کے اصرار کے اندر تزلزل پیدا کیا جائے۔ ان کے اصرار کی شدت کو کم کیا جائے۔ ان کے عناد کو ٹھنڈا کیا جائے۔ ان کے اندر ذرا خوف اور احتیاط پیدا کی جائے کہ اس تکذیب میں اتنا آگے نہ بڑھو۔ اور یہ استدلال کیا جائے کہ تم تو نہیں مانتے لیکن اگر سچ نکلے تو پھر۔۔۔۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ لہٰذا اس فرض اور احتمال ہی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کرو کہ اگر یہ سچ نکلا تو تم پر وہ تمام عذاب آجائیں گے جن سے محمد ﷺ تمہیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا حضور ﷺ کی تکذیب کرنے میں ذرا تامل کرو۔ اور اس دعوت پر غوروفکر کرو ، قبل اس کے کہ تم اس قدر خطرناک انجام سے دوچار ہوجاؤ یا احتمال پیدا ہوجائے ایسے انجام کا خصوصاً ایسے حالات میں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص یا گروہ نے یہ شہادت بھی دے دی ہو کہ اس کتاب کی نوعیت کلام الٰہی جیسی ہے۔ اور اس طرح وہ ایمان لایا۔ اور جب یہ کتاب سب سے پہلے تمہارے لیے آئی ، تمہاری زبان میں آئی ، تمہارے آدمی کے ذریعہ آئی تو تم تکبر کرتے ہو اور انکار کرتے ہو ، یہ واضح ظلم ہے۔ واضح حق کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا ہے اور اس صورت میں تمہارے سب اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (46 : 10) “ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ” ۔ غرض قرآن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مختلف اسالیب کلام اختیار کرتا ہے تا کہ انسانوں کے دلوں کے شکوک دور کرے اور مختلف راستوں سے اپنی دعوت لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ قرآن نے جو مختلف اسالیب اختیار کئے ہیں ، ان میں آنے والے داعیوں کے لئے سامان عبرت اور رہنمائی ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا و رسول ﷺ دونوں کے ہاں یقیناً قرآن حق تھا ، اللہ کا کلام تھا اور اس میں شک اور احتمال کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ اسلوب بھی اپنایا گیا کہ ممکن ہے اسی طرح شدت مخالفت کم ہوجائے۔ آگے مضمون جاری ہے کہ قرآن کے بارے میں اور دین اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں وہ جو کہتے تھے ان کا جائزہ۔ وہ اپنی تکذیب اور کفر کی ایک اور وجہ جواز بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ متکبر اور بزعم خود اونچے درجے کے لوگوں کی بات ہے۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (46 : 12) “ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ آغاز اسلام میں ، اسلام کی طرف فقر اور غلام لپکے تھے۔ اس لئے کبرا اور مستکبرین اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی تھی اور وہ یہ کہتے تھے اگر یہ دین کوئی اچھا دین تھا تو یہ لوگ کیا ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہشیار تھے اور نہ ہمارے مقابلہ میں یہ پہل کرسکتے تھے۔ کیونکہ ہم ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، زیادہ باشعور ہیں اور ان کے مقابلے میں نیک و بد کی زیادہ تمیز رکھتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔ یہ کبراء جو اسلام کو قبول نہ کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ اس میں شک کرتے تھے یا جاہل تھے اور ان کو خبر نہ تھی کہ قرآن مجید سچائی ہی سچائی ہے۔ یا یہ کہ اس میں خبر نہیں ہے بلکہ تکبر کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے اور یہ لوگ قبولیت حق کو اپنے سے فروتر کام سمجھتے تھے۔ پھر وہ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ اجتماعی نظام میں ان کو سوسائٹی میں جو مقام حاصل ہے یہ نہ رہے گا ، جو مفادات ان کو حاصل ہیں وہ نہ رہیں گے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آباؤ اجداد کے طریق کار کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ایک قابل فخر رویہ ہے لیکن جو لوگ اسلام کی طرف پہلی ہی آواز پر لپکے ان کی راہ میں یہ موائع نہ تھے جن کی وجہ سے کبراء رک گئے تھے۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔ کبر اور غرور کی وجہ سے ان کے لئے حق کے سامنے جھکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ فطرت کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ اور وہ حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کبرو غرور ان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے کہ ہٹ دھرمی کرو اور نہ مانو۔ جھوٹے عذرات تراشو۔ باطل سے باطل جھوٹا دعویٰ کرو ، یہ بڑے لوگ کبھی بھی ، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنی ذات کی زندگی کا محور بنانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور جس طرح وہ اپنے موجودہ معاشرے میں محور ہوتے ہیں اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم (46 : 11) “ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے نہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ ہاں ، اگر “ ان ” لوگوں نے ہدایت قبول نہیں کی تو پھر لازماً سچائی میں کوئی نقص ہوگا ۔ کیونکہ بڑے لوگوں سے تو غلطی کا صدور ممکن نہیں ! لیکن یہ لوگ اپنی نظر میں اور جمہور عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو وہ جو باور کراتے تھے کہ وہ ایک معصوم اور غلطی سے پاک قسم کی مخلوق ہیں۔ بہرحال وحی کے سلسلے میں یہ پیراگراف اور مطالعاتی سفر کتاب موسیٰ کی طرف ایک اشارے پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ خصوصاً تو رات اور قرآن کے درمیان گہری مماثلت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مشن تو تورات ہی کا تکملہ تھا۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے ایک گواہ کی طرف بھی اشارہ ہوچکا ہے۔ ومن قبلہ کتب موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ للمحسنین (46 : 12) “ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ قرآن کریم نے سابقہ کتب سماوی کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے خصوصاً تورات کی طرف اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تو اس کا تکملہ تھی اور ان کا مشن تورات ہی کا تسلسل تھا۔ اصل دستور قانون تو تورات ہی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امام اور رحمت کا لقب دیا گیا جب کہ ہر رسالت اس زمین اور اہل زمین کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا (46 : 12) “ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی زبان عربی میں ہے ”۔ یہ تصدیق ان اصل کتابوں اور اصل تعلیمات کی کرتی ہے جن کے اوپر تمام ادیان سماوی قائم ہیں۔ یہ کتاب اس نظام کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام اہل دین چلتے رہے۔ اور یہ کتاب اس صراط مستقیم کی تصدیق کرتی ہے جو انسانوں کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اور عربی کتاب جس طرح وہ تھی ، یہاں اس لیے کہا گیا کہ اہل عرب پر اس احسان کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی زبان میں یہ کتاب اتری۔ اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے۔ اور خاص مہربانی اور عنایت ہوئی ہے کہ تم کو اس دعوت کا حامل بنایا اور تمہاری زبان کو یہ اعزاز بخشا کہ اس میں قرآن عظیم نازل ہوا۔ مقصد صرف زبان نہ تھی بلکہ یہ تھا۔ لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین (46 : 12) “ تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ اس پہلے سبق کے آخر میں محسنین کی جزا کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم تمہارے لیے یہ خوشخبری لاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ توحید مطلق اور ربوبیت کا اعلان کردیں اور پھر اس پر جم جائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں۔

الأحقاف 46:8

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی نے خواہ وہ پتھر ہوں ، درخت ہوں ، جن ہوں یا فرشتے ، زمین میں سے کوئی حصہ یا کوئی چیز پیدا کی ہے۔ فطری سوچ ، حقیقت واقعہ ، اور ہر چیز بذات خود یہ پکار پکار کہتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ ام لھم شرک فی السموت (46 : 4) “ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ” ۔ کوئی انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان مذکورہ معبودوں کا آسمانوں میں کوئی حصہ یا شرکت ہے۔ آسمانوں کے اندر ایک سطحی نظر بھی بتا دیتی ہے کہ خالق کائنات کس قدر عظیم ہے اور پھر یہ کہ وہ واحد ہے۔ ایک ہی نظر میں ایک معقول انسان تمام گمراہیوں اور انسانوں کو جھٹک کر پھینک دیتا ہے۔ اللہ تو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات پر ایک گہری نظر ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ کائنات کی اس کھلی کتاب پر نگاہ تو ڈالو۔ اس کے نظام پر غور کرو ، اور تمہارے دل و دماغ پر اس کائنات سے جو سگنل آتے ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اس کے بعد بعض نہایت ہی گمراہ درجے کے انسانوں کی راہ بند کرنے کے لئے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک سوال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ گمراہی میں آگے بڑھ کر کوئی یہ زعم بھی کرسکتا ہے کہ ہمارے پاس شرک کی نقلی دلیل ہے یا کوئی اور بہانہ کرسکتا ہے حالانکہ دراصل اس کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اس لیے قرآن مجید ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کے پہلے ہی مطالبہ کردیتا ہے کہ لاؤ اگر کوئی حجت و لیل تمہارے پاس ہے اور پھر قرآن مجید ان کو استدلال کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہوا کرتا ہے۔ ایتونی بکتب ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (46 : 4) “ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو ”۔ یا تو اللہ کی کوئی سچی کتاب پیش کرو۔ یا کتب سماوی میں سے کوئی اثر تمہارے پاس باقی ہو اسے لے آؤ۔ قرآن سے قبل جس قدر کتب سماوی بھی نازل ہوئی ہیں وہ تو قرآن کی تائید میں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ وحدہ خالق ہے اور وہی کائنات کا مدبر ہے اور اس میں تمام چیزوں کو ایک قدر اور انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی متعدد الہہ کے خرافات کو تسلیم نہیں کرتی۔ یا یہ کہ زمین و آسمان میں سے کوئی چیز ان الہوں نے بنائی ہو یا وہ کسی چیز کے بنانے میں شریک ہوں کوئی علم یا اثر یا نص کتب سماوی میں نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اس کائنات کی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔ کائنات کی شہادت تو فیصلہ کن شہادت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید ان کے عقائد کو حجت و دلیل سے محروم کردیتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ بحث و دلیل کا صحیح اندازہ کیا ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ایک ہی آیت میں سکھا دی جاتی ہیں جس کے الفاظ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں لیکن زور دار اور فیصلہ کن ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ان کے سامنے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جن چیزوں کو تم الٰہ بناتے ہو ، اور پھر پکارتے ہو ، ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، یہ تو تمہاری اس پکار کو سنتے ہی نہیں ، اس دنیا میں تم اگر ساری زندگی ان کو پکارتے رہو اور قیامت میں تو بھی وہ صاف صاف انکار کردیں گے۔ لہٰذا اپنی اس حرکت پر ذرا غور تو کرو۔ ومن اضل ممن یدعوا۔۔۔۔۔ غفلون (46 : 5) واذا حشر الناس ۔۔۔۔۔ کفرین (46 : 6) “ آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں ، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ”۔ بعض لوگ ایسے تھے جو بتوں کو بذات الٰہ مانتے تھے۔ اور بعض ان کو فرشتوں یا نیک لوگوں کی شبیہ سمجھتے ہوئے الٰہ مانتے تھے۔ بعض درختوں کو الٰہ مانتے تھے ، بعض فرشتوں اور شیطان کو الٰہ مانتے۔ ان میں سے کوئی بھی پکارنے والے کی پکار کا جواب نہ دے سکتا تھا ، یا اگر پکار سنتا تھا تو کوئی فائدہ نہ دے سکتا تھا ، پتھر اور درخت تو نہ کچھ سن سکتے تھے اور نہ جواب دے سکتے تھے۔ فرشتے بھی مشرکین کی اس حرکت پر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ شیاطین تو بہرحال ان کو مزید گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ اندازیاں کرتے تھے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور لوگ اٹھائے جائیں گے تو یہ تمام الٰہ جو پوجے جاتے تھے ، یہ اپنے گمراہ عبادت گذاروں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، وہ یہ کہے گا۔ وقال الشیطن ۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یوں قرآن مجید ان کو خود اپنے دعویٰ اور اپنے خیالات کے سامنے پیش کرتا ہے کہ ان دعوؤں کا انجام دنیا اور آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ اس سے قبل ان کو کائنات کی نشانیاں بتائی گئیں کہ یہ شرک کے عقائد کا انکار کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک الٰہ العالمین ہے اور خود مشرکین کی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں۔ قرآن مجید یہاں ان بت پرستوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسے بتوں کو پکار رہے تھے جو ان کو کوئی نفع یا نقصان نہ دے سکتے تھے۔ نزول قرآن کے وقت ایسے روایتی زندہ اور مردہ معبود موجود تھے۔ لیکن یہ آیت صرف ان بتوں تک محدود نہیں ہے ، جو ایک خاص زمان ومکان میں ایک خاص شکل میں پکارے جاتے تھے اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ آیت بہت وسیع ہے اور اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جو اللہ کے سوا کسی بھی زمان و مکان میں پائے جائیں گے۔ جن کو عوام پکارتے ہیں اور جن سے امید وابستہ کرتے ہیں اور جو ان کو کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے۔ کیونکہ نفع و نقصان پہنچانے والا تو اللہ ہی ہے۔ غرض شرک اس سادہ صورت اور شکل تک محدود نہیں ہے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اصحاب اقتدار کو شریک کرتے ہیں۔ افسران کو شریک کرتے ہیں ، بڑے بڑے سرمایہ داروں کو شریک کرتے ہیں ، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں ، لیکن یہ سب کے سب بہت ہی عاجز اور کمزور ہیں اور یہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکارنا شرک ہے ، ان سے امیدیں وابستہ کرنا بھی شرک ہے۔ ان سے ڈرنا بھی شرک ہے۔ لیکن یہ شرک ذرا شرک خفی ہے اور اکثر لوگ غیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٭٭٭ اس کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی سچی دعوت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔ شرک کے بارے میں ان کے خیالات کا جائزہ تو خوب لیا گیا ۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وحی اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا موقف کس قدر غلط اور غیر معقول ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ سحر مبین (7) ام یقولون افترہ ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (8) قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔ نذیر مبین (9) قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (10) وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (11) ومن قبلہ کتب ۔۔۔۔ وبشری للمحسنین (12) (46 : 7 تا 12) “ ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ”۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”۔ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور اس کی دعوت ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بڑی واضح ، دل لگتی اور کھلی باتیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قدر ذلیل اور ضدی اور کم بخت ہیں کہ یہ اس سچائی کے بارے میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ : ھذا سحر مبین (46 : 7) “ یہ کھلا جادو ہے ”۔ حالانکہ دعوت اسلامی اور جادو کی نوعیت اور موضوع ہی مختلف ہے۔ ایک نبی اور جادوگر کے مقاصد ہی مختلف ہیں۔ یوں ان کے اس غلط موقف پر حملہ کیا جاتا ہے جس کے لئے نہ دلیل ہے اور نہ وجہ جواب ہے کیونکہ نبی ﷺ کی دعوت بہت ہی واضح ہے اور آیات بینات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اور اللہ کی طرف منسوب ہے اور ایک افترا ہے۔ اس شبی ہے کو قرآن استفہام اور سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ بھی کوئی سوال ہے یا کوئی معقول انسان ایسی بات سوچ سکتا ہے ؟ ام یقولون افترہ (46 : 8) “ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اسے خود گھڑ لیا ہے ”۔ یعنی کیا وہ اس قدر جری ہوگئے ہیں کہ ایسی بات بھی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس طرح دیں جس طرح ایک پیغمبر کی شان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال بہت ہی لا یعنی ہے۔ اس جواب سے اظہار ہو کہ آپ کو اپنے فرائض کا اچھی طرح شعور ہے ، آپ کو اپنے رب کا بھی اچھی طرح شعور ہے۔ آپ کو اس کائنات کی حقیقی قدروں اور حقیقی قوتوں کا پورا احساس ہے ۔ قل ان افتریتہ ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (46 : 8) “ ان سے کہو ، اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ میرے اور تمہارے درمیان و ہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہہ دو میں کیوں افترا باندھوں ؟ کس کے مفاد کے لئے یہ افترا باندھوں ؟ کن مقاصد کے لئے ایسا کروں ؟ کیا اس لیے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو لیکن تم میری کیا مدد کرسکتے ہو ؟ قل ان افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا (46 : 8) “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ”۔ میرے افترا کی وجہ سے وہ لازماً میرا مواخذہ کرے گا۔ لہٰذا اگر تم میرے ساتھ ہو اور مجھ پر ایمان لاؤ تو اس میں مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ افترا پر جب اللہ مجھ سے مواخذہ کرے گا تو تم اس وقت کیا کرسکتے ہو۔ تم تو بہت ہی عاجز اور کمزور ہو۔ میری کیا مدد کرو گے۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو نبی کے شایان شان ہے جو اللہ سے ہدایات لیتا ہے اور جسے اللہ کے سوا اس کائنات میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ اسے صرف اللہ ہی کی قوت نظر آتی ہے ۔ نیز یہ ایک منطقی اور معقول تردید بھی ہے۔ اگر کوئی ذرا اپنی عقل کو کام میں لائے ۔ ان کو جواب دے کر اس پر آپ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ ھو اعلم بما تفیضون فیہ (46 : 8) “ جو باتیں تم بتاتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ” ۔ یعنی جو تم کرتے اور کہتے ہو۔ اور جن باتوں کو اللہ جانتا ہے ان پر وہ ضرور تمہیں سزا دے گا۔ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم (46 : 8) “ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ”۔ اللہ گواہی بھی دے گا اور فیصلہ بھی کر دے گا اور اللہ کی گواہی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔ وھو الغفور الرحیم (46 : 8) “ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ وہ تم پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہیں ہدایت دے دیتا ہے اور تم نے جو گمراہیاں کیں انہیں بخش دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بعد سابقہ اعمال معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی تردید ہے جس میں ان کے لئے دھمکی اور ڈراوا بھی ہے ۔ ان کے لئے حوصلہ افزائی اور ایمان کا لالچ بھی ہے۔ غرض ہر طریقے سے اللہ کی کوشش ہے کہ انسانوں کے دل بدل جائیں۔ انسان کے جسم کی تار تار کو چھیڑا جاتا ہے کہ شاید نغمہ ایمان برآمد ہوجائے۔ سامعین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ لوگ جو احمقانہ باتیں کرتے ہیں یہ محض بچگانہ باتیں ہیں ، محض دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ داعی اعظم کے دل میں جو بات ہے اور جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں وہ بہت ہی عظیم ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت کا ان کو کوئی شعور نہیں۔ وحی پر ان کے اعتراض کا ایک دوسرے زاویہ سے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کہ وحی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ لاکھوں افراد اسے مانتے ہیں۔ آخر اس میں عجوبے کی کیا چیز ہے کہ یہ اسے جادو یا افترا کہتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب و غریب چیز تو نہیں ہے۔ قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔۔ نذیر مبین (46 : 9) “ ان سے کہو میں تو نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں ”۔ حضرت نبی اکرم ﷺ ہی پہلے رسول نہ تھے۔ آپ ﷺ سے پہلے کئی رسول گزرے تھے۔ آپ ﷺ کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے۔ انہوں نے کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا تھا۔ پہلے بھی کئی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون رسالت کے لئے اہل ہے۔ اس کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اور وہ بےکم وکاست پھر تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ یہی ہے رسالت کی حقیقت اور ماہیت ۔ رسول کا جب سرچشمہ رسالت سے مل جاتا ہے تو پھر اللہ سے رسالت کی کوئی دلیل طلب نہیں کرتا اور نہ اپنے لیے کوئی خصوصیت طلب کرتا ہے۔ پیغام ملتے ہی اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ جو بات اس تک پہنچتی ہے اس کی تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ وما ادری ما۔۔۔۔۔ یوحی الی (46 : 9) “ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ کل میرے ساتھ کیا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے ”۔ رسول رسالت کے کام کو اس لیے شروع نہیں کرتا کہ وہ غیب جانتا ہے یا وہ جانتا ہے کہ اس کا ، اس کی قوم کا اور اس کی دعوت کا انجام کیا ہوگا۔ وہ تو اللہ کے اشاروں اور ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ایک ایک قدم اللہ کے حکم سے اٹھاتا ہے لیکن مستقبل اسے معلوم نہیں ہوتا۔ تمام راز اللہ کے ہاں ہوتے ہیں اور رسول مستقبل کے راز معلوم کرنے کے لئے بےچین بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور بارگاہ رب العزت کے آداب میں سے یہ بات بھی ہے کہ وہ اسی علم پر اکتفا کرے جو اسے دے دیا گیا ہو اور مستقبل کے پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔ رسول تو ہمیشہ اپنے فرائض کی حدود پر کھڑا ہوتا ہے۔ وما انا الا نذیر مبین (46 : 9) “ میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ” ۔ اللہ کے دربار میں پہنچنے والوں کے یہی آداب ہوتے ہیں اور عارف باللہ لوگوں کا یہی اطمینان ہوتا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہیں اور دعوت دیتے چلے جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ دعوت کا انجام دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ دعوت کا مستقبل روشن ہوتا ہے ، یا وہ اس کے نتیجے میں چھوٹی یا بڑی کامیابی پاتے ہیں۔ پس وہ اس کام کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہوتا ہے اور بس۔ وہ اپنے رب سے کوئی دلیل بھی نہیں مانگتے کیونکہ دلیل تو ان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کچھ مراعات بھی نہیں مانگتے۔ اس سے بڑی رعایت یا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ وہ اس باریک خط سے سوتر بھر آگے نہیں بڑھتے جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا اور وہ انہی نقوش پر قدم رکھتے ہیں جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی شہادت کی طرف ان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ شہادت اہل کتاب کی ہے ، جو نزول وحی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (46 : 10) “ ان سے کہو ، کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ” یہ ممکن ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہو کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص یا کسی گروہ نے قرآنی تعلیمات کو تورات اور دوسری کتابوں کے مماثل پاتے ہوئے ایمان لے آیا ہو ، کیونکہ کتب سماوی پر ایمان لانے والے لوگ جانتے تھے کہ یہ کتاب وہی بات کرتی ہے جو ان کتابوں میں ہے۔ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ ابن اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کی راہ میں یہ مانع ہے کہ وہ مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے اور یہ سورت مکی ہے۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ یہ عبد اللہ ابن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ مکی ہے اور اس کا عبد اللہ ابن سلام کے واقعہ سے تعلق نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو ، مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایمان لایا ہو اگرچہ یہاں اہل کتاب بہت ہی کم تھے اور مکی حالات میں ان کے ایمان لانے کی بہت سی اہمیت ہو کیونکہ مشرکین امی تھے اور ایسے معاشرے میں اہل کتاب کے ایمان لانے کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی شہادت کی طرف قرآن نے کئی مقامات میں اشارہ کیا ہے اور مشرکین کی تردید کے لئے اسے پیش کیا جو بغیر دلیل اور ثبوت کے اور بغیر علم و ہنر کے اور بغیر کسی کتاب اور سماوی روایات کے قرآن کی تکذیب کرتے تھے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں احتمالی اسلوب استدلال پیش کیا ہے۔ “ تم نے بھی سوچا کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور ۔۔۔۔۔” اس طرز استدلال کی غرض یہ ہے کہ مشرکین کے اصرار کے اندر تزلزل پیدا کیا جائے۔ ان کے اصرار کی شدت کو کم کیا جائے۔ ان کے عناد کو ٹھنڈا کیا جائے۔ ان کے اندر ذرا خوف اور احتیاط پیدا کی جائے کہ اس تکذیب میں اتنا آگے نہ بڑھو۔ اور یہ استدلال کیا جائے کہ تم تو نہیں مانتے لیکن اگر سچ نکلے تو پھر۔۔۔۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ لہٰذا اس فرض اور احتمال ہی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کرو کہ اگر یہ سچ نکلا تو تم پر وہ تمام عذاب آجائیں گے جن سے محمد ﷺ تمہیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا حضور ﷺ کی تکذیب کرنے میں ذرا تامل کرو۔ اور اس دعوت پر غوروفکر کرو ، قبل اس کے کہ تم اس قدر خطرناک انجام سے دوچار ہوجاؤ یا احتمال پیدا ہوجائے ایسے انجام کا خصوصاً ایسے حالات میں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص یا گروہ نے یہ شہادت بھی دے دی ہو کہ اس کتاب کی نوعیت کلام الٰہی جیسی ہے۔ اور اس طرح وہ ایمان لایا۔ اور جب یہ کتاب سب سے پہلے تمہارے لیے آئی ، تمہاری زبان میں آئی ، تمہارے آدمی کے ذریعہ آئی تو تم تکبر کرتے ہو اور انکار کرتے ہو ، یہ واضح ظلم ہے۔ واضح حق کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا ہے اور اس صورت میں تمہارے سب اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (46 : 10) “ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ” ۔ غرض قرآن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مختلف اسالیب کلام اختیار کرتا ہے تا کہ انسانوں کے دلوں کے شکوک دور کرے اور مختلف راستوں سے اپنی دعوت لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ قرآن نے جو مختلف اسالیب اختیار کئے ہیں ، ان میں آنے والے داعیوں کے لئے سامان عبرت اور رہنمائی ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا و رسول ﷺ دونوں کے ہاں یقیناً قرآن حق تھا ، اللہ کا کلام تھا اور اس میں شک اور احتمال کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ اسلوب بھی اپنایا گیا کہ ممکن ہے اسی طرح شدت مخالفت کم ہوجائے۔ آگے مضمون جاری ہے کہ قرآن کے بارے میں اور دین اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں وہ جو کہتے تھے ان کا جائزہ۔ وہ اپنی تکذیب اور کفر کی ایک اور وجہ جواز بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ متکبر اور بزعم خود اونچے درجے کے لوگوں کی بات ہے۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (46 : 12) “ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ آغاز اسلام میں ، اسلام کی طرف فقر اور غلام لپکے تھے۔ اس لئے کبرا اور مستکبرین اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی تھی اور وہ یہ کہتے تھے اگر یہ دین کوئی اچھا دین تھا تو یہ لوگ کیا ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہشیار تھے اور نہ ہمارے مقابلہ میں یہ پہل کرسکتے تھے۔ کیونکہ ہم ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، زیادہ باشعور ہیں اور ان کے مقابلے میں نیک و بد کی زیادہ تمیز رکھتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔ یہ کبراء جو اسلام کو قبول نہ کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ اس میں شک کرتے تھے یا جاہل تھے اور ان کو خبر نہ تھی کہ قرآن مجید سچائی ہی سچائی ہے۔ یا یہ کہ اس میں خبر نہیں ہے بلکہ تکبر کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے اور یہ لوگ قبولیت حق کو اپنے سے فروتر کام سمجھتے تھے۔ پھر وہ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ اجتماعی نظام میں ان کو سوسائٹی میں جو مقام حاصل ہے یہ نہ رہے گا ، جو مفادات ان کو حاصل ہیں وہ نہ رہیں گے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آباؤ اجداد کے طریق کار کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ایک قابل فخر رویہ ہے لیکن جو لوگ اسلام کی طرف پہلی ہی آواز پر لپکے ان کی راہ میں یہ موائع نہ تھے جن کی وجہ سے کبراء رک گئے تھے۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔ کبر اور غرور کی وجہ سے ان کے لئے حق کے سامنے جھکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ فطرت کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ اور وہ حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کبرو غرور ان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے کہ ہٹ دھرمی کرو اور نہ مانو۔ جھوٹے عذرات تراشو۔ باطل سے باطل جھوٹا دعویٰ کرو ، یہ بڑے لوگ کبھی بھی ، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنی ذات کی زندگی کا محور بنانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور جس طرح وہ اپنے موجودہ معاشرے میں محور ہوتے ہیں اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم (46 : 11) “ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے نہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ ہاں ، اگر “ ان ” لوگوں نے ہدایت قبول نہیں کی تو پھر لازماً سچائی میں کوئی نقص ہوگا ۔ کیونکہ بڑے لوگوں سے تو غلطی کا صدور ممکن نہیں ! لیکن یہ لوگ اپنی نظر میں اور جمہور عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو وہ جو باور کراتے تھے کہ وہ ایک معصوم اور غلطی سے پاک قسم کی مخلوق ہیں۔ بہرحال وحی کے سلسلے میں یہ پیراگراف اور مطالعاتی سفر کتاب موسیٰ کی طرف ایک اشارے پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ خصوصاً تو رات اور قرآن کے درمیان گہری مماثلت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مشن تو تورات ہی کا تکملہ تھا۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے ایک گواہ کی طرف بھی اشارہ ہوچکا ہے۔ ومن قبلہ کتب موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ للمحسنین (46 : 12) “ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ قرآن کریم نے سابقہ کتب سماوی کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے خصوصاً تورات کی طرف اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تو اس کا تکملہ تھی اور ان کا مشن تورات ہی کا تسلسل تھا۔ اصل دستور قانون تو تورات ہی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امام اور رحمت کا لقب دیا گیا جب کہ ہر رسالت اس زمین اور اہل زمین کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا (46 : 12) “ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی زبان عربی میں ہے ”۔ یہ تصدیق ان اصل کتابوں اور اصل تعلیمات کی کرتی ہے جن کے اوپر تمام ادیان سماوی قائم ہیں۔ یہ کتاب اس نظام کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام اہل دین چلتے رہے۔ اور یہ کتاب اس صراط مستقیم کی تصدیق کرتی ہے جو انسانوں کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اور عربی کتاب جس طرح وہ تھی ، یہاں اس لیے کہا گیا کہ اہل عرب پر اس احسان کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی زبان میں یہ کتاب اتری۔ اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے۔ اور خاص مہربانی اور عنایت ہوئی ہے کہ تم کو اس دعوت کا حامل بنایا اور تمہاری زبان کو یہ اعزاز بخشا کہ اس میں قرآن عظیم نازل ہوا۔ مقصد صرف زبان نہ تھی بلکہ یہ تھا۔ لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین (46 : 12) “ تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ اس پہلے سبق کے آخر میں محسنین کی جزا کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم تمہارے لیے یہ خوشخبری لاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ توحید مطلق اور ربوبیت کا اعلان کردیں اور پھر اس پر جم جائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں۔

الأحقاف 46:9

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی نے خواہ وہ پتھر ہوں ، درخت ہوں ، جن ہوں یا فرشتے ، زمین میں سے کوئی حصہ یا کوئی چیز پیدا کی ہے۔ فطری سوچ ، حقیقت واقعہ ، اور ہر چیز بذات خود یہ پکار پکار کہتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ ام لھم شرک فی السموت (46 : 4) “ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ” ۔ کوئی انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان مذکورہ معبودوں کا آسمانوں میں کوئی حصہ یا شرکت ہے۔ آسمانوں کے اندر ایک سطحی نظر بھی بتا دیتی ہے کہ خالق کائنات کس قدر عظیم ہے اور پھر یہ کہ وہ واحد ہے۔ ایک ہی نظر میں ایک معقول انسان تمام گمراہیوں اور انسانوں کو جھٹک کر پھینک دیتا ہے۔ اللہ تو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات پر ایک گہری نظر ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ کائنات کی اس کھلی کتاب پر نگاہ تو ڈالو۔ اس کے نظام پر غور کرو ، اور تمہارے دل و دماغ پر اس کائنات سے جو سگنل آتے ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اس کے بعد بعض نہایت ہی گمراہ درجے کے انسانوں کی راہ بند کرنے کے لئے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک سوال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ گمراہی میں آگے بڑھ کر کوئی یہ زعم بھی کرسکتا ہے کہ ہمارے پاس شرک کی نقلی دلیل ہے یا کوئی اور بہانہ کرسکتا ہے حالانکہ دراصل اس کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اس لیے قرآن مجید ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کے پہلے ہی مطالبہ کردیتا ہے کہ لاؤ اگر کوئی حجت و لیل تمہارے پاس ہے اور پھر قرآن مجید ان کو استدلال کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہوا کرتا ہے۔ ایتونی بکتب ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (46 : 4) “ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو ”۔ یا تو اللہ کی کوئی سچی کتاب پیش کرو۔ یا کتب سماوی میں سے کوئی اثر تمہارے پاس باقی ہو اسے لے آؤ۔ قرآن سے قبل جس قدر کتب سماوی بھی نازل ہوئی ہیں وہ تو قرآن کی تائید میں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ وحدہ خالق ہے اور وہی کائنات کا مدبر ہے اور اس میں تمام چیزوں کو ایک قدر اور انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی متعدد الہہ کے خرافات کو تسلیم نہیں کرتی۔ یا یہ کہ زمین و آسمان میں سے کوئی چیز ان الہوں نے بنائی ہو یا وہ کسی چیز کے بنانے میں شریک ہوں کوئی علم یا اثر یا نص کتب سماوی میں نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اس کائنات کی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔ کائنات کی شہادت تو فیصلہ کن شہادت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید ان کے عقائد کو حجت و دلیل سے محروم کردیتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ بحث و دلیل کا صحیح اندازہ کیا ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ایک ہی آیت میں سکھا دی جاتی ہیں جس کے الفاظ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں لیکن زور دار اور فیصلہ کن ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ان کے سامنے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جن چیزوں کو تم الٰہ بناتے ہو ، اور پھر پکارتے ہو ، ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، یہ تو تمہاری اس پکار کو سنتے ہی نہیں ، اس دنیا میں تم اگر ساری زندگی ان کو پکارتے رہو اور قیامت میں تو بھی وہ صاف صاف انکار کردیں گے۔ لہٰذا اپنی اس حرکت پر ذرا غور تو کرو۔ ومن اضل ممن یدعوا۔۔۔۔۔ غفلون (46 : 5) واذا حشر الناس ۔۔۔۔۔ کفرین (46 : 6) “ آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں ، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ”۔ بعض لوگ ایسے تھے جو بتوں کو بذات الٰہ مانتے تھے۔ اور بعض ان کو فرشتوں یا نیک لوگوں کی شبیہ سمجھتے ہوئے الٰہ مانتے تھے۔ بعض درختوں کو الٰہ مانتے تھے ، بعض فرشتوں اور شیطان کو الٰہ مانتے۔ ان میں سے کوئی بھی پکارنے والے کی پکار کا جواب نہ دے سکتا تھا ، یا اگر پکار سنتا تھا تو کوئی فائدہ نہ دے سکتا تھا ، پتھر اور درخت تو نہ کچھ سن سکتے تھے اور نہ جواب دے سکتے تھے۔ فرشتے بھی مشرکین کی اس حرکت پر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ شیاطین تو بہرحال ان کو مزید گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ اندازیاں کرتے تھے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور لوگ اٹھائے جائیں گے تو یہ تمام الٰہ جو پوجے جاتے تھے ، یہ اپنے گمراہ عبادت گذاروں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، وہ یہ کہے گا۔ وقال الشیطن ۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یوں قرآن مجید ان کو خود اپنے دعویٰ اور اپنے خیالات کے سامنے پیش کرتا ہے کہ ان دعوؤں کا انجام دنیا اور آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ اس سے قبل ان کو کائنات کی نشانیاں بتائی گئیں کہ یہ شرک کے عقائد کا انکار کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک الٰہ العالمین ہے اور خود مشرکین کی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں۔ قرآن مجید یہاں ان بت پرستوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسے بتوں کو پکار رہے تھے جو ان کو کوئی نفع یا نقصان نہ دے سکتے تھے۔ نزول قرآن کے وقت ایسے روایتی زندہ اور مردہ معبود موجود تھے۔ لیکن یہ آیت صرف ان بتوں تک محدود نہیں ہے ، جو ایک خاص زمان ومکان میں ایک خاص شکل میں پکارے جاتے تھے اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ آیت بہت وسیع ہے اور اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جو اللہ کے سوا کسی بھی زمان و مکان میں پائے جائیں گے۔ جن کو عوام پکارتے ہیں اور جن سے امید وابستہ کرتے ہیں اور جو ان کو کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے۔ کیونکہ نفع و نقصان پہنچانے والا تو اللہ ہی ہے۔ غرض شرک اس سادہ صورت اور شکل تک محدود نہیں ہے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اصحاب اقتدار کو شریک کرتے ہیں۔ افسران کو شریک کرتے ہیں ، بڑے بڑے سرمایہ داروں کو شریک کرتے ہیں ، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں ، لیکن یہ سب کے سب بہت ہی عاجز اور کمزور ہیں اور یہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکارنا شرک ہے ، ان سے امیدیں وابستہ کرنا بھی شرک ہے۔ ان سے ڈرنا بھی شرک ہے۔ لیکن یہ شرک ذرا شرک خفی ہے اور اکثر لوگ غیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٭٭٭ اس کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی سچی دعوت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔ شرک کے بارے میں ان کے خیالات کا جائزہ تو خوب لیا گیا ۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وحی اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا موقف کس قدر غلط اور غیر معقول ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ سحر مبین (7) ام یقولون افترہ ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (8) قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔ نذیر مبین (9) قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (10) وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (11) ومن قبلہ کتب ۔۔۔۔ وبشری للمحسنین (12) (46 : 7 تا 12) “ ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ”۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”۔ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور اس کی دعوت ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بڑی واضح ، دل لگتی اور کھلی باتیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قدر ذلیل اور ضدی اور کم بخت ہیں کہ یہ اس سچائی کے بارے میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ : ھذا سحر مبین (46 : 7) “ یہ کھلا جادو ہے ”۔ حالانکہ دعوت اسلامی اور جادو کی نوعیت اور موضوع ہی مختلف ہے۔ ایک نبی اور جادوگر کے مقاصد ہی مختلف ہیں۔ یوں ان کے اس غلط موقف پر حملہ کیا جاتا ہے جس کے لئے نہ دلیل ہے اور نہ وجہ جواب ہے کیونکہ نبی ﷺ کی دعوت بہت ہی واضح ہے اور آیات بینات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اور اللہ کی طرف منسوب ہے اور ایک افترا ہے۔ اس شبی ہے کو قرآن استفہام اور سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ بھی کوئی سوال ہے یا کوئی معقول انسان ایسی بات سوچ سکتا ہے ؟ ام یقولون افترہ (46 : 8) “ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اسے خود گھڑ لیا ہے ”۔ یعنی کیا وہ اس قدر جری ہوگئے ہیں کہ ایسی بات بھی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس طرح دیں جس طرح ایک پیغمبر کی شان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال بہت ہی لا یعنی ہے۔ اس جواب سے اظہار ہو کہ آپ کو اپنے فرائض کا اچھی طرح شعور ہے ، آپ کو اپنے رب کا بھی اچھی طرح شعور ہے۔ آپ کو اس کائنات کی حقیقی قدروں اور حقیقی قوتوں کا پورا احساس ہے ۔ قل ان افتریتہ ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (46 : 8) “ ان سے کہو ، اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ میرے اور تمہارے درمیان و ہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہہ دو میں کیوں افترا باندھوں ؟ کس کے مفاد کے لئے یہ افترا باندھوں ؟ کن مقاصد کے لئے ایسا کروں ؟ کیا اس لیے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو لیکن تم میری کیا مدد کرسکتے ہو ؟ قل ان افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا (46 : 8) “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ”۔ میرے افترا کی وجہ سے وہ لازماً میرا مواخذہ کرے گا۔ لہٰذا اگر تم میرے ساتھ ہو اور مجھ پر ایمان لاؤ تو اس میں مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ افترا پر جب اللہ مجھ سے مواخذہ کرے گا تو تم اس وقت کیا کرسکتے ہو۔ تم تو بہت ہی عاجز اور کمزور ہو۔ میری کیا مدد کرو گے۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو نبی کے شایان شان ہے جو اللہ سے ہدایات لیتا ہے اور جسے اللہ کے سوا اس کائنات میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ اسے صرف اللہ ہی کی قوت نظر آتی ہے ۔ نیز یہ ایک منطقی اور معقول تردید بھی ہے۔ اگر کوئی ذرا اپنی عقل کو کام میں لائے ۔ ان کو جواب دے کر اس پر آپ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ ھو اعلم بما تفیضون فیہ (46 : 8) “ جو باتیں تم بتاتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ” ۔ یعنی جو تم کرتے اور کہتے ہو۔ اور جن باتوں کو اللہ جانتا ہے ان پر وہ ضرور تمہیں سزا دے گا۔ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم (46 : 8) “ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ”۔ اللہ گواہی بھی دے گا اور فیصلہ بھی کر دے گا اور اللہ کی گواہی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔ وھو الغفور الرحیم (46 : 8) “ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ وہ تم پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہیں ہدایت دے دیتا ہے اور تم نے جو گمراہیاں کیں انہیں بخش دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بعد سابقہ اعمال معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی تردید ہے جس میں ان کے لئے دھمکی اور ڈراوا بھی ہے ۔ ان کے لئے حوصلہ افزائی اور ایمان کا لالچ بھی ہے۔ غرض ہر طریقے سے اللہ کی کوشش ہے کہ انسانوں کے دل بدل جائیں۔ انسان کے جسم کی تار تار کو چھیڑا جاتا ہے کہ شاید نغمہ ایمان برآمد ہوجائے۔ سامعین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ لوگ جو احمقانہ باتیں کرتے ہیں یہ محض بچگانہ باتیں ہیں ، محض دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ داعی اعظم کے دل میں جو بات ہے اور جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں وہ بہت ہی عظیم ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت کا ان کو کوئی شعور نہیں۔ وحی پر ان کے اعتراض کا ایک دوسرے زاویہ سے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کہ وحی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ لاکھوں افراد اسے مانتے ہیں۔ آخر اس میں عجوبے کی کیا چیز ہے کہ یہ اسے جادو یا افترا کہتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب و غریب چیز تو نہیں ہے۔ قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔۔ نذیر مبین (46 : 9) “ ان سے کہو میں تو نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں ”۔ حضرت نبی اکرم ﷺ ہی پہلے رسول نہ تھے۔ آپ ﷺ سے پہلے کئی رسول گزرے تھے۔ آپ ﷺ کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے۔ انہوں نے کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا تھا۔ پہلے بھی کئی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون رسالت کے لئے اہل ہے۔ اس کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اور وہ بےکم وکاست پھر تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ یہی ہے رسالت کی حقیقت اور ماہیت ۔ رسول کا جب سرچشمہ رسالت سے مل جاتا ہے تو پھر اللہ سے رسالت کی کوئی دلیل طلب نہیں کرتا اور نہ اپنے لیے کوئی خصوصیت طلب کرتا ہے۔ پیغام ملتے ہی اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ جو بات اس تک پہنچتی ہے اس کی تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ وما ادری ما۔۔۔۔۔ یوحی الی (46 : 9) “ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ کل میرے ساتھ کیا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے ”۔ رسول رسالت کے کام کو اس لیے شروع نہیں کرتا کہ وہ غیب جانتا ہے یا وہ جانتا ہے کہ اس کا ، اس کی قوم کا اور اس کی دعوت کا انجام کیا ہوگا۔ وہ تو اللہ کے اشاروں اور ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ایک ایک قدم اللہ کے حکم سے اٹھاتا ہے لیکن مستقبل اسے معلوم نہیں ہوتا۔ تمام راز اللہ کے ہاں ہوتے ہیں اور رسول مستقبل کے راز معلوم کرنے کے لئے بےچین بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور بارگاہ رب العزت کے آداب میں سے یہ بات بھی ہے کہ وہ اسی علم پر اکتفا کرے جو اسے دے دیا گیا ہو اور مستقبل کے پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔ رسول تو ہمیشہ اپنے فرائض کی حدود پر کھڑا ہوتا ہے۔ وما انا الا نذیر مبین (46 : 9) “ میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ” ۔ اللہ کے دربار میں پہنچنے والوں کے یہی آداب ہوتے ہیں اور عارف باللہ لوگوں کا یہی اطمینان ہوتا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہیں اور دعوت دیتے چلے جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ دعوت کا انجام دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ دعوت کا مستقبل روشن ہوتا ہے ، یا وہ اس کے نتیجے میں چھوٹی یا بڑی کامیابی پاتے ہیں۔ پس وہ اس کام کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہوتا ہے اور بس۔ وہ اپنے رب سے کوئی دلیل بھی نہیں مانگتے کیونکہ دلیل تو ان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کچھ مراعات بھی نہیں مانگتے۔ اس سے بڑی رعایت یا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ وہ اس باریک خط سے سوتر بھر آگے نہیں بڑھتے جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا اور وہ انہی نقوش پر قدم رکھتے ہیں جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی شہادت کی طرف ان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ شہادت اہل کتاب کی ہے ، جو نزول وحی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (46 : 10) “ ان سے کہو ، کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ” یہ ممکن ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہو کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص یا کسی گروہ نے قرآنی تعلیمات کو تورات اور دوسری کتابوں کے مماثل پاتے ہوئے ایمان لے آیا ہو ، کیونکہ کتب سماوی پر ایمان لانے والے لوگ جانتے تھے کہ یہ کتاب وہی بات کرتی ہے جو ان کتابوں میں ہے۔ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ ابن اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کی راہ میں یہ مانع ہے کہ وہ مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے اور یہ سورت مکی ہے۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ یہ عبد اللہ ابن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ مکی ہے اور اس کا عبد اللہ ابن سلام کے واقعہ سے تعلق نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو ، مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایمان لایا ہو اگرچہ یہاں اہل کتاب بہت ہی کم تھے اور مکی حالات میں ان کے ایمان لانے کی بہت سی اہمیت ہو کیونکہ مشرکین امی تھے اور ایسے معاشرے میں اہل کتاب کے ایمان لانے کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی شہادت کی طرف قرآن نے کئی مقامات میں اشارہ کیا ہے اور مشرکین کی تردید کے لئے اسے پیش کیا جو بغیر دلیل اور ثبوت کے اور بغیر علم و ہنر کے اور بغیر کسی کتاب اور سماوی روایات کے قرآن کی تکذیب کرتے تھے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں احتمالی اسلوب استدلال پیش کیا ہے۔ “ تم نے بھی سوچا کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور ۔۔۔۔۔” اس طرز استدلال کی غرض یہ ہے کہ مشرکین کے اصرار کے اندر تزلزل پیدا کیا جائے۔ ان کے اصرار کی شدت کو کم کیا جائے۔ ان کے عناد کو ٹھنڈا کیا جائے۔ ان کے اندر ذرا خوف اور احتیاط پیدا کی جائے کہ اس تکذیب میں اتنا آگے نہ بڑھو۔ اور یہ استدلال کیا جائے کہ تم تو نہیں مانتے لیکن اگر سچ نکلے تو پھر۔۔۔۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ لہٰذا اس فرض اور احتمال ہی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کرو کہ اگر یہ سچ نکلا تو تم پر وہ تمام عذاب آجائیں گے جن سے محمد ﷺ تمہیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا حضور ﷺ کی تکذیب کرنے میں ذرا تامل کرو۔ اور اس دعوت پر غوروفکر کرو ، قبل اس کے کہ تم اس قدر خطرناک انجام سے دوچار ہوجاؤ یا احتمال پیدا ہوجائے ایسے انجام کا خصوصاً ایسے حالات میں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص یا گروہ نے یہ شہادت بھی دے دی ہو کہ اس کتاب کی نوعیت کلام الٰہی جیسی ہے۔ اور اس طرح وہ ایمان لایا۔ اور جب یہ کتاب سب سے پہلے تمہارے لیے آئی ، تمہاری زبان میں آئی ، تمہارے آدمی کے ذریعہ آئی تو تم تکبر کرتے ہو اور انکار کرتے ہو ، یہ واضح ظلم ہے۔ واضح حق کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا ہے اور اس صورت میں تمہارے سب اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (46 : 10) “ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ” ۔ غرض قرآن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مختلف اسالیب کلام اختیار کرتا ہے تا کہ انسانوں کے دلوں کے شکوک دور کرے اور مختلف راستوں سے اپنی دعوت لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ قرآن نے جو مختلف اسالیب اختیار کئے ہیں ، ان میں آنے والے داعیوں کے لئے سامان عبرت اور رہنمائی ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا و رسول ﷺ دونوں کے ہاں یقیناً قرآن حق تھا ، اللہ کا کلام تھا اور اس میں شک اور احتمال کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ اسلوب بھی اپنایا گیا کہ ممکن ہے اسی طرح شدت مخالفت کم ہوجائے۔ آگے مضمون جاری ہے کہ قرآن کے بارے میں اور دین اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں وہ جو کہتے تھے ان کا جائزہ۔ وہ اپنی تکذیب اور کفر کی ایک اور وجہ جواز بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ متکبر اور بزعم خود اونچے درجے کے لوگوں کی بات ہے۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (46 : 12) “ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ آغاز اسلام میں ، اسلام کی طرف فقر اور غلام لپکے تھے۔ اس لئے کبرا اور مستکبرین اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی تھی اور وہ یہ کہتے تھے اگر یہ دین کوئی اچھا دین تھا تو یہ لوگ کیا ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہشیار تھے اور نہ ہمارے مقابلہ میں یہ پہل کرسکتے تھے۔ کیونکہ ہم ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، زیادہ باشعور ہیں اور ان کے مقابلے میں نیک و بد کی زیادہ تمیز رکھتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔ یہ کبراء جو اسلام کو قبول نہ کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ اس میں شک کرتے تھے یا جاہل تھے اور ان کو خبر نہ تھی کہ قرآن مجید سچائی ہی سچائی ہے۔ یا یہ کہ اس میں خبر نہیں ہے بلکہ تکبر کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے اور یہ لوگ قبولیت حق کو اپنے سے فروتر کام سمجھتے تھے۔ پھر وہ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ اجتماعی نظام میں ان کو سوسائٹی میں جو مقام حاصل ہے یہ نہ رہے گا ، جو مفادات ان کو حاصل ہیں وہ نہ رہیں گے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آباؤ اجداد کے طریق کار کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ایک قابل فخر رویہ ہے لیکن جو لوگ اسلام کی طرف پہلی ہی آواز پر لپکے ان کی راہ میں یہ موائع نہ تھے جن کی وجہ سے کبراء رک گئے تھے۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔ کبر اور غرور کی وجہ سے ان کے لئے حق کے سامنے جھکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ فطرت کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ اور وہ حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کبرو غرور ان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے کہ ہٹ دھرمی کرو اور نہ مانو۔ جھوٹے عذرات تراشو۔ باطل سے باطل جھوٹا دعویٰ کرو ، یہ بڑے لوگ کبھی بھی ، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنی ذات کی زندگی کا محور بنانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور جس طرح وہ اپنے موجودہ معاشرے میں محور ہوتے ہیں اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم (46 : 11) “ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے نہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ ہاں ، اگر “ ان ” لوگوں نے ہدایت قبول نہیں کی تو پھر لازماً سچائی میں کوئی نقص ہوگا ۔ کیونکہ بڑے لوگوں سے تو غلطی کا صدور ممکن نہیں ! لیکن یہ لوگ اپنی نظر میں اور جمہور عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو وہ جو باور کراتے تھے کہ وہ ایک معصوم اور غلطی سے پاک قسم کی مخلوق ہیں۔ بہرحال وحی کے سلسلے میں یہ پیراگراف اور مطالعاتی سفر کتاب موسیٰ کی طرف ایک اشارے پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ خصوصاً تو رات اور قرآن کے درمیان گہری مماثلت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مشن تو تورات ہی کا تکملہ تھا۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے ایک گواہ کی طرف بھی اشارہ ہوچکا ہے۔ ومن قبلہ کتب موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ للمحسنین (46 : 12) “ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ قرآن کریم نے سابقہ کتب سماوی کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے خصوصاً تورات کی طرف اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تو اس کا تکملہ تھی اور ان کا مشن تورات ہی کا تسلسل تھا۔ اصل دستور قانون تو تورات ہی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امام اور رحمت کا لقب دیا گیا جب کہ ہر رسالت اس زمین اور اہل زمین کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا (46 : 12) “ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی زبان عربی میں ہے ”۔ یہ تصدیق ان اصل کتابوں اور اصل تعلیمات کی کرتی ہے جن کے اوپر تمام ادیان سماوی قائم ہیں۔ یہ کتاب اس نظام کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام اہل دین چلتے رہے۔ اور یہ کتاب اس صراط مستقیم کی تصدیق کرتی ہے جو انسانوں کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اور عربی کتاب جس طرح وہ تھی ، یہاں اس لیے کہا گیا کہ اہل عرب پر اس احسان کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی زبان میں یہ کتاب اتری۔ اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے۔ اور خاص مہربانی اور عنایت ہوئی ہے کہ تم کو اس دعوت کا حامل بنایا اور تمہاری زبان کو یہ اعزاز بخشا کہ اس میں قرآن عظیم نازل ہوا۔ مقصد صرف زبان نہ تھی بلکہ یہ تھا۔ لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین (46 : 12) “ تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ اس پہلے سبق کے آخر میں محسنین کی جزا کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم تمہارے لیے یہ خوشخبری لاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ توحید مطلق اور ربوبیت کا اعلان کردیں اور پھر اس پر جم جائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں۔

الأحقاف 46:10

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی نے خواہ وہ پتھر ہوں ، درخت ہوں ، جن ہوں یا فرشتے ، زمین میں سے کوئی حصہ یا کوئی چیز پیدا کی ہے۔ فطری سوچ ، حقیقت واقعہ ، اور ہر چیز بذات خود یہ پکار پکار کہتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ ام لھم شرک فی السموت (46 : 4) “ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ” ۔ کوئی انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان مذکورہ معبودوں کا آسمانوں میں کوئی حصہ یا شرکت ہے۔ آسمانوں کے اندر ایک سطحی نظر بھی بتا دیتی ہے کہ خالق کائنات کس قدر عظیم ہے اور پھر یہ کہ وہ واحد ہے۔ ایک ہی نظر میں ایک معقول انسان تمام گمراہیوں اور انسانوں کو جھٹک کر پھینک دیتا ہے۔ اللہ تو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات پر ایک گہری نظر ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ کائنات کی اس کھلی کتاب پر نگاہ تو ڈالو۔ اس کے نظام پر غور کرو ، اور تمہارے دل و دماغ پر اس کائنات سے جو سگنل آتے ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اس کے بعد بعض نہایت ہی گمراہ درجے کے انسانوں کی راہ بند کرنے کے لئے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک سوال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ گمراہی میں آگے بڑھ کر کوئی یہ زعم بھی کرسکتا ہے کہ ہمارے پاس شرک کی نقلی دلیل ہے یا کوئی اور بہانہ کرسکتا ہے حالانکہ دراصل اس کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اس لیے قرآن مجید ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کے پہلے ہی مطالبہ کردیتا ہے کہ لاؤ اگر کوئی حجت و لیل تمہارے پاس ہے اور پھر قرآن مجید ان کو استدلال کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہوا کرتا ہے۔ ایتونی بکتب ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (46 : 4) “ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو ”۔ یا تو اللہ کی کوئی سچی کتاب پیش کرو۔ یا کتب سماوی میں سے کوئی اثر تمہارے پاس باقی ہو اسے لے آؤ۔ قرآن سے قبل جس قدر کتب سماوی بھی نازل ہوئی ہیں وہ تو قرآن کی تائید میں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ وحدہ خالق ہے اور وہی کائنات کا مدبر ہے اور اس میں تمام چیزوں کو ایک قدر اور انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی متعدد الہہ کے خرافات کو تسلیم نہیں کرتی۔ یا یہ کہ زمین و آسمان میں سے کوئی چیز ان الہوں نے بنائی ہو یا وہ کسی چیز کے بنانے میں شریک ہوں کوئی علم یا اثر یا نص کتب سماوی میں نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اس کائنات کی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔ کائنات کی شہادت تو فیصلہ کن شہادت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید ان کے عقائد کو حجت و دلیل سے محروم کردیتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ بحث و دلیل کا صحیح اندازہ کیا ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ایک ہی آیت میں سکھا دی جاتی ہیں جس کے الفاظ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں لیکن زور دار اور فیصلہ کن ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ان کے سامنے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جن چیزوں کو تم الٰہ بناتے ہو ، اور پھر پکارتے ہو ، ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، یہ تو تمہاری اس پکار کو سنتے ہی نہیں ، اس دنیا میں تم اگر ساری زندگی ان کو پکارتے رہو اور قیامت میں تو بھی وہ صاف صاف انکار کردیں گے۔ لہٰذا اپنی اس حرکت پر ذرا غور تو کرو۔ ومن اضل ممن یدعوا۔۔۔۔۔ غفلون (46 : 5) واذا حشر الناس ۔۔۔۔۔ کفرین (46 : 6) “ آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں ، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ”۔ بعض لوگ ایسے تھے جو بتوں کو بذات الٰہ مانتے تھے۔ اور بعض ان کو فرشتوں یا نیک لوگوں کی شبیہ سمجھتے ہوئے الٰہ مانتے تھے۔ بعض درختوں کو الٰہ مانتے تھے ، بعض فرشتوں اور شیطان کو الٰہ مانتے۔ ان میں سے کوئی بھی پکارنے والے کی پکار کا جواب نہ دے سکتا تھا ، یا اگر پکار سنتا تھا تو کوئی فائدہ نہ دے سکتا تھا ، پتھر اور درخت تو نہ کچھ سن سکتے تھے اور نہ جواب دے سکتے تھے۔ فرشتے بھی مشرکین کی اس حرکت پر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ شیاطین تو بہرحال ان کو مزید گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ اندازیاں کرتے تھے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور لوگ اٹھائے جائیں گے تو یہ تمام الٰہ جو پوجے جاتے تھے ، یہ اپنے گمراہ عبادت گذاروں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، وہ یہ کہے گا۔ وقال الشیطن ۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یوں قرآن مجید ان کو خود اپنے دعویٰ اور اپنے خیالات کے سامنے پیش کرتا ہے کہ ان دعوؤں کا انجام دنیا اور آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ اس سے قبل ان کو کائنات کی نشانیاں بتائی گئیں کہ یہ شرک کے عقائد کا انکار کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک الٰہ العالمین ہے اور خود مشرکین کی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں۔ قرآن مجید یہاں ان بت پرستوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسے بتوں کو پکار رہے تھے جو ان کو کوئی نفع یا نقصان نہ دے سکتے تھے۔ نزول قرآن کے وقت ایسے روایتی زندہ اور مردہ معبود موجود تھے۔ لیکن یہ آیت صرف ان بتوں تک محدود نہیں ہے ، جو ایک خاص زمان ومکان میں ایک خاص شکل میں پکارے جاتے تھے اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ آیت بہت وسیع ہے اور اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جو اللہ کے سوا کسی بھی زمان و مکان میں پائے جائیں گے۔ جن کو عوام پکارتے ہیں اور جن سے امید وابستہ کرتے ہیں اور جو ان کو کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے۔ کیونکہ نفع و نقصان پہنچانے والا تو اللہ ہی ہے۔ غرض شرک اس سادہ صورت اور شکل تک محدود نہیں ہے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اصحاب اقتدار کو شریک کرتے ہیں۔ افسران کو شریک کرتے ہیں ، بڑے بڑے سرمایہ داروں کو شریک کرتے ہیں ، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں ، لیکن یہ سب کے سب بہت ہی عاجز اور کمزور ہیں اور یہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکارنا شرک ہے ، ان سے امیدیں وابستہ کرنا بھی شرک ہے۔ ان سے ڈرنا بھی شرک ہے۔ لیکن یہ شرک ذرا شرک خفی ہے اور اکثر لوگ غیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٭٭٭ اس کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی سچی دعوت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔ شرک کے بارے میں ان کے خیالات کا جائزہ تو خوب لیا گیا ۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وحی اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا موقف کس قدر غلط اور غیر معقول ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ سحر مبین (7) ام یقولون افترہ ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (8) قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔ نذیر مبین (9) قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (10) وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (11) ومن قبلہ کتب ۔۔۔۔ وبشری للمحسنین (12) (46 : 7 تا 12) “ ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ”۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”۔ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور اس کی دعوت ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بڑی واضح ، دل لگتی اور کھلی باتیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قدر ذلیل اور ضدی اور کم بخت ہیں کہ یہ اس سچائی کے بارے میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ : ھذا سحر مبین (46 : 7) “ یہ کھلا جادو ہے ”۔ حالانکہ دعوت اسلامی اور جادو کی نوعیت اور موضوع ہی مختلف ہے۔ ایک نبی اور جادوگر کے مقاصد ہی مختلف ہیں۔ یوں ان کے اس غلط موقف پر حملہ کیا جاتا ہے جس کے لئے نہ دلیل ہے اور نہ وجہ جواب ہے کیونکہ نبی ﷺ کی دعوت بہت ہی واضح ہے اور آیات بینات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اور اللہ کی طرف منسوب ہے اور ایک افترا ہے۔ اس شبی ہے کو قرآن استفہام اور سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ بھی کوئی سوال ہے یا کوئی معقول انسان ایسی بات سوچ سکتا ہے ؟ ام یقولون افترہ (46 : 8) “ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اسے خود گھڑ لیا ہے ”۔ یعنی کیا وہ اس قدر جری ہوگئے ہیں کہ ایسی بات بھی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس طرح دیں جس طرح ایک پیغمبر کی شان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال بہت ہی لا یعنی ہے۔ اس جواب سے اظہار ہو کہ آپ کو اپنے فرائض کا اچھی طرح شعور ہے ، آپ کو اپنے رب کا بھی اچھی طرح شعور ہے۔ آپ کو اس کائنات کی حقیقی قدروں اور حقیقی قوتوں کا پورا احساس ہے ۔ قل ان افتریتہ ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (46 : 8) “ ان سے کہو ، اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ میرے اور تمہارے درمیان و ہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہہ دو میں کیوں افترا باندھوں ؟ کس کے مفاد کے لئے یہ افترا باندھوں ؟ کن مقاصد کے لئے ایسا کروں ؟ کیا اس لیے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو لیکن تم میری کیا مدد کرسکتے ہو ؟ قل ان افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا (46 : 8) “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ”۔ میرے افترا کی وجہ سے وہ لازماً میرا مواخذہ کرے گا۔ لہٰذا اگر تم میرے ساتھ ہو اور مجھ پر ایمان لاؤ تو اس میں مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ افترا پر جب اللہ مجھ سے مواخذہ کرے گا تو تم اس وقت کیا کرسکتے ہو۔ تم تو بہت ہی عاجز اور کمزور ہو۔ میری کیا مدد کرو گے۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو نبی کے شایان شان ہے جو اللہ سے ہدایات لیتا ہے اور جسے اللہ کے سوا اس کائنات میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ اسے صرف اللہ ہی کی قوت نظر آتی ہے ۔ نیز یہ ایک منطقی اور معقول تردید بھی ہے۔ اگر کوئی ذرا اپنی عقل کو کام میں لائے ۔ ان کو جواب دے کر اس پر آپ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ ھو اعلم بما تفیضون فیہ (46 : 8) “ جو باتیں تم بتاتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ” ۔ یعنی جو تم کرتے اور کہتے ہو۔ اور جن باتوں کو اللہ جانتا ہے ان پر وہ ضرور تمہیں سزا دے گا۔ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم (46 : 8) “ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ”۔ اللہ گواہی بھی دے گا اور فیصلہ بھی کر دے گا اور اللہ کی گواہی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔ وھو الغفور الرحیم (46 : 8) “ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ وہ تم پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہیں ہدایت دے دیتا ہے اور تم نے جو گمراہیاں کیں انہیں بخش دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بعد سابقہ اعمال معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی تردید ہے جس میں ان کے لئے دھمکی اور ڈراوا بھی ہے ۔ ان کے لئے حوصلہ افزائی اور ایمان کا لالچ بھی ہے۔ غرض ہر طریقے سے اللہ کی کوشش ہے کہ انسانوں کے دل بدل جائیں۔ انسان کے جسم کی تار تار کو چھیڑا جاتا ہے کہ شاید نغمہ ایمان برآمد ہوجائے۔ سامعین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ لوگ جو احمقانہ باتیں کرتے ہیں یہ محض بچگانہ باتیں ہیں ، محض دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ داعی اعظم کے دل میں جو بات ہے اور جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں وہ بہت ہی عظیم ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت کا ان کو کوئی شعور نہیں۔ وحی پر ان کے اعتراض کا ایک دوسرے زاویہ سے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کہ وحی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ لاکھوں افراد اسے مانتے ہیں۔ آخر اس میں عجوبے کی کیا چیز ہے کہ یہ اسے جادو یا افترا کہتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب و غریب چیز تو نہیں ہے۔ قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔۔ نذیر مبین (46 : 9) “ ان سے کہو میں تو نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں ”۔ حضرت نبی اکرم ﷺ ہی پہلے رسول نہ تھے۔ آپ ﷺ سے پہلے کئی رسول گزرے تھے۔ آپ ﷺ کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے۔ انہوں نے کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا تھا۔ پہلے بھی کئی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون رسالت کے لئے اہل ہے۔ اس کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اور وہ بےکم وکاست پھر تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ یہی ہے رسالت کی حقیقت اور ماہیت ۔ رسول کا جب سرچشمہ رسالت سے مل جاتا ہے تو پھر اللہ سے رسالت کی کوئی دلیل طلب نہیں کرتا اور نہ اپنے لیے کوئی خصوصیت طلب کرتا ہے۔ پیغام ملتے ہی اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ جو بات اس تک پہنچتی ہے اس کی تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ وما ادری ما۔۔۔۔۔ یوحی الی (46 : 9) “ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ کل میرے ساتھ کیا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے ”۔ رسول رسالت کے کام کو اس لیے شروع نہیں کرتا کہ وہ غیب جانتا ہے یا وہ جانتا ہے کہ اس کا ، اس کی قوم کا اور اس کی دعوت کا انجام کیا ہوگا۔ وہ تو اللہ کے اشاروں اور ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ایک ایک قدم اللہ کے حکم سے اٹھاتا ہے لیکن مستقبل اسے معلوم نہیں ہوتا۔ تمام راز اللہ کے ہاں ہوتے ہیں اور رسول مستقبل کے راز معلوم کرنے کے لئے بےچین بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور بارگاہ رب العزت کے آداب میں سے یہ بات بھی ہے کہ وہ اسی علم پر اکتفا کرے جو اسے دے دیا گیا ہو اور مستقبل کے پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔ رسول تو ہمیشہ اپنے فرائض کی حدود پر کھڑا ہوتا ہے۔ وما انا الا نذیر مبین (46 : 9) “ میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ” ۔ اللہ کے دربار میں پہنچنے والوں کے یہی آداب ہوتے ہیں اور عارف باللہ لوگوں کا یہی اطمینان ہوتا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہیں اور دعوت دیتے چلے جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ دعوت کا انجام دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ دعوت کا مستقبل روشن ہوتا ہے ، یا وہ اس کے نتیجے میں چھوٹی یا بڑی کامیابی پاتے ہیں۔ پس وہ اس کام کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہوتا ہے اور بس۔ وہ اپنے رب سے کوئی دلیل بھی نہیں مانگتے کیونکہ دلیل تو ان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کچھ مراعات بھی نہیں مانگتے۔ اس سے بڑی رعایت یا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ وہ اس باریک خط سے سوتر بھر آگے نہیں بڑھتے جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا اور وہ انہی نقوش پر قدم رکھتے ہیں جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی شہادت کی طرف ان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ شہادت اہل کتاب کی ہے ، جو نزول وحی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (46 : 10) “ ان سے کہو ، کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ” یہ ممکن ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہو کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص یا کسی گروہ نے قرآنی تعلیمات کو تورات اور دوسری کتابوں کے مماثل پاتے ہوئے ایمان لے آیا ہو ، کیونکہ کتب سماوی پر ایمان لانے والے لوگ جانتے تھے کہ یہ کتاب وہی بات کرتی ہے جو ان کتابوں میں ہے۔ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ ابن اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کی راہ میں یہ مانع ہے کہ وہ مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے اور یہ سورت مکی ہے۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ یہ عبد اللہ ابن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ مکی ہے اور اس کا عبد اللہ ابن سلام کے واقعہ سے تعلق نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو ، مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایمان لایا ہو اگرچہ یہاں اہل کتاب بہت ہی کم تھے اور مکی حالات میں ان کے ایمان لانے کی بہت سی اہمیت ہو کیونکہ مشرکین امی تھے اور ایسے معاشرے میں اہل کتاب کے ایمان لانے کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی شہادت کی طرف قرآن نے کئی مقامات میں اشارہ کیا ہے اور مشرکین کی تردید کے لئے اسے پیش کیا جو بغیر دلیل اور ثبوت کے اور بغیر علم و ہنر کے اور بغیر کسی کتاب اور سماوی روایات کے قرآن کی تکذیب کرتے تھے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں احتمالی اسلوب استدلال پیش کیا ہے۔ “ تم نے بھی سوچا کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور ۔۔۔۔۔” اس طرز استدلال کی غرض یہ ہے کہ مشرکین کے اصرار کے اندر تزلزل پیدا کیا جائے۔ ان کے اصرار کی شدت کو کم کیا جائے۔ ان کے عناد کو ٹھنڈا کیا جائے۔ ان کے اندر ذرا خوف اور احتیاط پیدا کی جائے کہ اس تکذیب میں اتنا آگے نہ بڑھو۔ اور یہ استدلال کیا جائے کہ تم تو نہیں مانتے لیکن اگر سچ نکلے تو پھر۔۔۔۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ لہٰذا اس فرض اور احتمال ہی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کرو کہ اگر یہ سچ نکلا تو تم پر وہ تمام عذاب آجائیں گے جن سے محمد ﷺ تمہیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا حضور ﷺ کی تکذیب کرنے میں ذرا تامل کرو۔ اور اس دعوت پر غوروفکر کرو ، قبل اس کے کہ تم اس قدر خطرناک انجام سے دوچار ہوجاؤ یا احتمال پیدا ہوجائے ایسے انجام کا خصوصاً ایسے حالات میں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص یا گروہ نے یہ شہادت بھی دے دی ہو کہ اس کتاب کی نوعیت کلام الٰہی جیسی ہے۔ اور اس طرح وہ ایمان لایا۔ اور جب یہ کتاب سب سے پہلے تمہارے لیے آئی ، تمہاری زبان میں آئی ، تمہارے آدمی کے ذریعہ آئی تو تم تکبر کرتے ہو اور انکار کرتے ہو ، یہ واضح ظلم ہے۔ واضح حق کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا ہے اور اس صورت میں تمہارے سب اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (46 : 10) “ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ” ۔ غرض قرآن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مختلف اسالیب کلام اختیار کرتا ہے تا کہ انسانوں کے دلوں کے شکوک دور کرے اور مختلف راستوں سے اپنی دعوت لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ قرآن نے جو مختلف اسالیب اختیار کئے ہیں ، ان میں آنے والے داعیوں کے لئے سامان عبرت اور رہنمائی ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا و رسول ﷺ دونوں کے ہاں یقیناً قرآن حق تھا ، اللہ کا کلام تھا اور اس میں شک اور احتمال کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ اسلوب بھی اپنایا گیا کہ ممکن ہے اسی طرح شدت مخالفت کم ہوجائے۔ آگے مضمون جاری ہے کہ قرآن کے بارے میں اور دین اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں وہ جو کہتے تھے ان کا جائزہ۔ وہ اپنی تکذیب اور کفر کی ایک اور وجہ جواز بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ متکبر اور بزعم خود اونچے درجے کے لوگوں کی بات ہے۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (46 : 12) “ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ آغاز اسلام میں ، اسلام کی طرف فقر اور غلام لپکے تھے۔ اس لئے کبرا اور مستکبرین اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی تھی اور وہ یہ کہتے تھے اگر یہ دین کوئی اچھا دین تھا تو یہ لوگ کیا ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہشیار تھے اور نہ ہمارے مقابلہ میں یہ پہل کرسکتے تھے۔ کیونکہ ہم ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، زیادہ باشعور ہیں اور ان کے مقابلے میں نیک و بد کی زیادہ تمیز رکھتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔ یہ کبراء جو اسلام کو قبول نہ کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ اس میں شک کرتے تھے یا جاہل تھے اور ان کو خبر نہ تھی کہ قرآن مجید سچائی ہی سچائی ہے۔ یا یہ کہ اس میں خبر نہیں ہے بلکہ تکبر کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے اور یہ لوگ قبولیت حق کو اپنے سے فروتر کام سمجھتے تھے۔ پھر وہ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ اجتماعی نظام میں ان کو سوسائٹی میں جو مقام حاصل ہے یہ نہ رہے گا ، جو مفادات ان کو حاصل ہیں وہ نہ رہیں گے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آباؤ اجداد کے طریق کار کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ایک قابل فخر رویہ ہے لیکن جو لوگ اسلام کی طرف پہلی ہی آواز پر لپکے ان کی راہ میں یہ موائع نہ تھے جن کی وجہ سے کبراء رک گئے تھے۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔ کبر اور غرور کی وجہ سے ان کے لئے حق کے سامنے جھکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ فطرت کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ اور وہ حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کبرو غرور ان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے کہ ہٹ دھرمی کرو اور نہ مانو۔ جھوٹے عذرات تراشو۔ باطل سے باطل جھوٹا دعویٰ کرو ، یہ بڑے لوگ کبھی بھی ، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنی ذات کی زندگی کا محور بنانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور جس طرح وہ اپنے موجودہ معاشرے میں محور ہوتے ہیں اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم (46 : 11) “ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے نہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ ہاں ، اگر “ ان ” لوگوں نے ہدایت قبول نہیں کی تو پھر لازماً سچائی میں کوئی نقص ہوگا ۔ کیونکہ بڑے لوگوں سے تو غلطی کا صدور ممکن نہیں ! لیکن یہ لوگ اپنی نظر میں اور جمہور عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو وہ جو باور کراتے تھے کہ وہ ایک معصوم اور غلطی سے پاک قسم کی مخلوق ہیں۔ بہرحال وحی کے سلسلے میں یہ پیراگراف اور مطالعاتی سفر کتاب موسیٰ کی طرف ایک اشارے پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ خصوصاً تو رات اور قرآن کے درمیان گہری مماثلت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مشن تو تورات ہی کا تکملہ تھا۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے ایک گواہ کی طرف بھی اشارہ ہوچکا ہے۔ ومن قبلہ کتب موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ للمحسنین (46 : 12) “ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ قرآن کریم نے سابقہ کتب سماوی کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے خصوصاً تورات کی طرف اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تو اس کا تکملہ تھی اور ان کا مشن تورات ہی کا تسلسل تھا۔ اصل دستور قانون تو تورات ہی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امام اور رحمت کا لقب دیا گیا جب کہ ہر رسالت اس زمین اور اہل زمین کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا (46 : 12) “ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی زبان عربی میں ہے ”۔ یہ تصدیق ان اصل کتابوں اور اصل تعلیمات کی کرتی ہے جن کے اوپر تمام ادیان سماوی قائم ہیں۔ یہ کتاب اس نظام کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام اہل دین چلتے رہے۔ اور یہ کتاب اس صراط مستقیم کی تصدیق کرتی ہے جو انسانوں کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اور عربی کتاب جس طرح وہ تھی ، یہاں اس لیے کہا گیا کہ اہل عرب پر اس احسان کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی زبان میں یہ کتاب اتری۔ اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے۔ اور خاص مہربانی اور عنایت ہوئی ہے کہ تم کو اس دعوت کا حامل بنایا اور تمہاری زبان کو یہ اعزاز بخشا کہ اس میں قرآن عظیم نازل ہوا۔ مقصد صرف زبان نہ تھی بلکہ یہ تھا۔ لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین (46 : 12) “ تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ اس پہلے سبق کے آخر میں محسنین کی جزا کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم تمہارے لیے یہ خوشخبری لاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ توحید مطلق اور ربوبیت کا اعلان کردیں اور پھر اس پر جم جائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں۔

الأحقاف 46:11

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی نے خواہ وہ پتھر ہوں ، درخت ہوں ، جن ہوں یا فرشتے ، زمین میں سے کوئی حصہ یا کوئی چیز پیدا کی ہے۔ فطری سوچ ، حقیقت واقعہ ، اور ہر چیز بذات خود یہ پکار پکار کہتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ ام لھم شرک فی السموت (46 : 4) “ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ” ۔ کوئی انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان مذکورہ معبودوں کا آسمانوں میں کوئی حصہ یا شرکت ہے۔ آسمانوں کے اندر ایک سطحی نظر بھی بتا دیتی ہے کہ خالق کائنات کس قدر عظیم ہے اور پھر یہ کہ وہ واحد ہے۔ ایک ہی نظر میں ایک معقول انسان تمام گمراہیوں اور انسانوں کو جھٹک کر پھینک دیتا ہے۔ اللہ تو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات پر ایک گہری نظر ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ کائنات کی اس کھلی کتاب پر نگاہ تو ڈالو۔ اس کے نظام پر غور کرو ، اور تمہارے دل و دماغ پر اس کائنات سے جو سگنل آتے ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اس کے بعد بعض نہایت ہی گمراہ درجے کے انسانوں کی راہ بند کرنے کے لئے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک سوال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ گمراہی میں آگے بڑھ کر کوئی یہ زعم بھی کرسکتا ہے کہ ہمارے پاس شرک کی نقلی دلیل ہے یا کوئی اور بہانہ کرسکتا ہے حالانکہ دراصل اس کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اس لیے قرآن مجید ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کے پہلے ہی مطالبہ کردیتا ہے کہ لاؤ اگر کوئی حجت و لیل تمہارے پاس ہے اور پھر قرآن مجید ان کو استدلال کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہوا کرتا ہے۔ ایتونی بکتب ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (46 : 4) “ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو ”۔ یا تو اللہ کی کوئی سچی کتاب پیش کرو۔ یا کتب سماوی میں سے کوئی اثر تمہارے پاس باقی ہو اسے لے آؤ۔ قرآن سے قبل جس قدر کتب سماوی بھی نازل ہوئی ہیں وہ تو قرآن کی تائید میں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ وحدہ خالق ہے اور وہی کائنات کا مدبر ہے اور اس میں تمام چیزوں کو ایک قدر اور انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی متعدد الہہ کے خرافات کو تسلیم نہیں کرتی۔ یا یہ کہ زمین و آسمان میں سے کوئی چیز ان الہوں نے بنائی ہو یا وہ کسی چیز کے بنانے میں شریک ہوں کوئی علم یا اثر یا نص کتب سماوی میں نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اس کائنات کی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔ کائنات کی شہادت تو فیصلہ کن شہادت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید ان کے عقائد کو حجت و دلیل سے محروم کردیتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ بحث و دلیل کا صحیح اندازہ کیا ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ایک ہی آیت میں سکھا دی جاتی ہیں جس کے الفاظ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں لیکن زور دار اور فیصلہ کن ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ان کے سامنے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جن چیزوں کو تم الٰہ بناتے ہو ، اور پھر پکارتے ہو ، ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، یہ تو تمہاری اس پکار کو سنتے ہی نہیں ، اس دنیا میں تم اگر ساری زندگی ان کو پکارتے رہو اور قیامت میں تو بھی وہ صاف صاف انکار کردیں گے۔ لہٰذا اپنی اس حرکت پر ذرا غور تو کرو۔ ومن اضل ممن یدعوا۔۔۔۔۔ غفلون (46 : 5) واذا حشر الناس ۔۔۔۔۔ کفرین (46 : 6) “ آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں ، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ”۔ بعض لوگ ایسے تھے جو بتوں کو بذات الٰہ مانتے تھے۔ اور بعض ان کو فرشتوں یا نیک لوگوں کی شبیہ سمجھتے ہوئے الٰہ مانتے تھے۔ بعض درختوں کو الٰہ مانتے تھے ، بعض فرشتوں اور شیطان کو الٰہ مانتے۔ ان میں سے کوئی بھی پکارنے والے کی پکار کا جواب نہ دے سکتا تھا ، یا اگر پکار سنتا تھا تو کوئی فائدہ نہ دے سکتا تھا ، پتھر اور درخت تو نہ کچھ سن سکتے تھے اور نہ جواب دے سکتے تھے۔ فرشتے بھی مشرکین کی اس حرکت پر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ شیاطین تو بہرحال ان کو مزید گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ اندازیاں کرتے تھے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور لوگ اٹھائے جائیں گے تو یہ تمام الٰہ جو پوجے جاتے تھے ، یہ اپنے گمراہ عبادت گذاروں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، وہ یہ کہے گا۔ وقال الشیطن ۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یوں قرآن مجید ان کو خود اپنے دعویٰ اور اپنے خیالات کے سامنے پیش کرتا ہے کہ ان دعوؤں کا انجام دنیا اور آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ اس سے قبل ان کو کائنات کی نشانیاں بتائی گئیں کہ یہ شرک کے عقائد کا انکار کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک الٰہ العالمین ہے اور خود مشرکین کی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں۔ قرآن مجید یہاں ان بت پرستوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسے بتوں کو پکار رہے تھے جو ان کو کوئی نفع یا نقصان نہ دے سکتے تھے۔ نزول قرآن کے وقت ایسے روایتی زندہ اور مردہ معبود موجود تھے۔ لیکن یہ آیت صرف ان بتوں تک محدود نہیں ہے ، جو ایک خاص زمان ومکان میں ایک خاص شکل میں پکارے جاتے تھے اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ آیت بہت وسیع ہے اور اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جو اللہ کے سوا کسی بھی زمان و مکان میں پائے جائیں گے۔ جن کو عوام پکارتے ہیں اور جن سے امید وابستہ کرتے ہیں اور جو ان کو کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے۔ کیونکہ نفع و نقصان پہنچانے والا تو اللہ ہی ہے۔ غرض شرک اس سادہ صورت اور شکل تک محدود نہیں ہے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اصحاب اقتدار کو شریک کرتے ہیں۔ افسران کو شریک کرتے ہیں ، بڑے بڑے سرمایہ داروں کو شریک کرتے ہیں ، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں ، لیکن یہ سب کے سب بہت ہی عاجز اور کمزور ہیں اور یہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکارنا شرک ہے ، ان سے امیدیں وابستہ کرنا بھی شرک ہے۔ ان سے ڈرنا بھی شرک ہے۔ لیکن یہ شرک ذرا شرک خفی ہے اور اکثر لوگ غیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٭٭٭ اس کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی سچی دعوت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔ شرک کے بارے میں ان کے خیالات کا جائزہ تو خوب لیا گیا ۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وحی اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا موقف کس قدر غلط اور غیر معقول ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ سحر مبین (7) ام یقولون افترہ ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (8) قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔ نذیر مبین (9) قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (10) وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (11) ومن قبلہ کتب ۔۔۔۔ وبشری للمحسنین (12) (46 : 7 تا 12) “ ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ”۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”۔ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور اس کی دعوت ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بڑی واضح ، دل لگتی اور کھلی باتیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قدر ذلیل اور ضدی اور کم بخت ہیں کہ یہ اس سچائی کے بارے میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ : ھذا سحر مبین (46 : 7) “ یہ کھلا جادو ہے ”۔ حالانکہ دعوت اسلامی اور جادو کی نوعیت اور موضوع ہی مختلف ہے۔ ایک نبی اور جادوگر کے مقاصد ہی مختلف ہیں۔ یوں ان کے اس غلط موقف پر حملہ کیا جاتا ہے جس کے لئے نہ دلیل ہے اور نہ وجہ جواب ہے کیونکہ نبی ﷺ کی دعوت بہت ہی واضح ہے اور آیات بینات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اور اللہ کی طرف منسوب ہے اور ایک افترا ہے۔ اس شبی ہے کو قرآن استفہام اور سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ بھی کوئی سوال ہے یا کوئی معقول انسان ایسی بات سوچ سکتا ہے ؟ ام یقولون افترہ (46 : 8) “ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اسے خود گھڑ لیا ہے ”۔ یعنی کیا وہ اس قدر جری ہوگئے ہیں کہ ایسی بات بھی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس طرح دیں جس طرح ایک پیغمبر کی شان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال بہت ہی لا یعنی ہے۔ اس جواب سے اظہار ہو کہ آپ کو اپنے فرائض کا اچھی طرح شعور ہے ، آپ کو اپنے رب کا بھی اچھی طرح شعور ہے۔ آپ کو اس کائنات کی حقیقی قدروں اور حقیقی قوتوں کا پورا احساس ہے ۔ قل ان افتریتہ ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (46 : 8) “ ان سے کہو ، اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ میرے اور تمہارے درمیان و ہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہہ دو میں کیوں افترا باندھوں ؟ کس کے مفاد کے لئے یہ افترا باندھوں ؟ کن مقاصد کے لئے ایسا کروں ؟ کیا اس لیے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو لیکن تم میری کیا مدد کرسکتے ہو ؟ قل ان افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا (46 : 8) “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ”۔ میرے افترا کی وجہ سے وہ لازماً میرا مواخذہ کرے گا۔ لہٰذا اگر تم میرے ساتھ ہو اور مجھ پر ایمان لاؤ تو اس میں مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ افترا پر جب اللہ مجھ سے مواخذہ کرے گا تو تم اس وقت کیا کرسکتے ہو۔ تم تو بہت ہی عاجز اور کمزور ہو۔ میری کیا مدد کرو گے۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو نبی کے شایان شان ہے جو اللہ سے ہدایات لیتا ہے اور جسے اللہ کے سوا اس کائنات میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ اسے صرف اللہ ہی کی قوت نظر آتی ہے ۔ نیز یہ ایک منطقی اور معقول تردید بھی ہے۔ اگر کوئی ذرا اپنی عقل کو کام میں لائے ۔ ان کو جواب دے کر اس پر آپ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ ھو اعلم بما تفیضون فیہ (46 : 8) “ جو باتیں تم بتاتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ” ۔ یعنی جو تم کرتے اور کہتے ہو۔ اور جن باتوں کو اللہ جانتا ہے ان پر وہ ضرور تمہیں سزا دے گا۔ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم (46 : 8) “ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ”۔ اللہ گواہی بھی دے گا اور فیصلہ بھی کر دے گا اور اللہ کی گواہی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔ وھو الغفور الرحیم (46 : 8) “ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ وہ تم پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہیں ہدایت دے دیتا ہے اور تم نے جو گمراہیاں کیں انہیں بخش دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بعد سابقہ اعمال معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی تردید ہے جس میں ان کے لئے دھمکی اور ڈراوا بھی ہے ۔ ان کے لئے حوصلہ افزائی اور ایمان کا لالچ بھی ہے۔ غرض ہر طریقے سے اللہ کی کوشش ہے کہ انسانوں کے دل بدل جائیں۔ انسان کے جسم کی تار تار کو چھیڑا جاتا ہے کہ شاید نغمہ ایمان برآمد ہوجائے۔ سامعین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ لوگ جو احمقانہ باتیں کرتے ہیں یہ محض بچگانہ باتیں ہیں ، محض دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ داعی اعظم کے دل میں جو بات ہے اور جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں وہ بہت ہی عظیم ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت کا ان کو کوئی شعور نہیں۔ وحی پر ان کے اعتراض کا ایک دوسرے زاویہ سے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کہ وحی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ لاکھوں افراد اسے مانتے ہیں۔ آخر اس میں عجوبے کی کیا چیز ہے کہ یہ اسے جادو یا افترا کہتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب و غریب چیز تو نہیں ہے۔ قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔۔ نذیر مبین (46 : 9) “ ان سے کہو میں تو نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں ”۔ حضرت نبی اکرم ﷺ ہی پہلے رسول نہ تھے۔ آپ ﷺ سے پہلے کئی رسول گزرے تھے۔ آپ ﷺ کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے۔ انہوں نے کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا تھا۔ پہلے بھی کئی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون رسالت کے لئے اہل ہے۔ اس کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اور وہ بےکم وکاست پھر تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ یہی ہے رسالت کی حقیقت اور ماہیت ۔ رسول کا جب سرچشمہ رسالت سے مل جاتا ہے تو پھر اللہ سے رسالت کی کوئی دلیل طلب نہیں کرتا اور نہ اپنے لیے کوئی خصوصیت طلب کرتا ہے۔ پیغام ملتے ہی اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ جو بات اس تک پہنچتی ہے اس کی تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ وما ادری ما۔۔۔۔۔ یوحی الی (46 : 9) “ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ کل میرے ساتھ کیا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے ”۔ رسول رسالت کے کام کو اس لیے شروع نہیں کرتا کہ وہ غیب جانتا ہے یا وہ جانتا ہے کہ اس کا ، اس کی قوم کا اور اس کی دعوت کا انجام کیا ہوگا۔ وہ تو اللہ کے اشاروں اور ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ایک ایک قدم اللہ کے حکم سے اٹھاتا ہے لیکن مستقبل اسے معلوم نہیں ہوتا۔ تمام راز اللہ کے ہاں ہوتے ہیں اور رسول مستقبل کے راز معلوم کرنے کے لئے بےچین بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور بارگاہ رب العزت کے آداب میں سے یہ بات بھی ہے کہ وہ اسی علم پر اکتفا کرے جو اسے دے دیا گیا ہو اور مستقبل کے پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔ رسول تو ہمیشہ اپنے فرائض کی حدود پر کھڑا ہوتا ہے۔ وما انا الا نذیر مبین (46 : 9) “ میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ” ۔ اللہ کے دربار میں پہنچنے والوں کے یہی آداب ہوتے ہیں اور عارف باللہ لوگوں کا یہی اطمینان ہوتا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہیں اور دعوت دیتے چلے جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ دعوت کا انجام دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ دعوت کا مستقبل روشن ہوتا ہے ، یا وہ اس کے نتیجے میں چھوٹی یا بڑی کامیابی پاتے ہیں۔ پس وہ اس کام کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہوتا ہے اور بس۔ وہ اپنے رب سے کوئی دلیل بھی نہیں مانگتے کیونکہ دلیل تو ان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کچھ مراعات بھی نہیں مانگتے۔ اس سے بڑی رعایت یا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ وہ اس باریک خط سے سوتر بھر آگے نہیں بڑھتے جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا اور وہ انہی نقوش پر قدم رکھتے ہیں جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی شہادت کی طرف ان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ شہادت اہل کتاب کی ہے ، جو نزول وحی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (46 : 10) “ ان سے کہو ، کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ” یہ ممکن ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہو کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص یا کسی گروہ نے قرآنی تعلیمات کو تورات اور دوسری کتابوں کے مماثل پاتے ہوئے ایمان لے آیا ہو ، کیونکہ کتب سماوی پر ایمان لانے والے لوگ جانتے تھے کہ یہ کتاب وہی بات کرتی ہے جو ان کتابوں میں ہے۔ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ ابن اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کی راہ میں یہ مانع ہے کہ وہ مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے اور یہ سورت مکی ہے۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ یہ عبد اللہ ابن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ مکی ہے اور اس کا عبد اللہ ابن سلام کے واقعہ سے تعلق نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو ، مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایمان لایا ہو اگرچہ یہاں اہل کتاب بہت ہی کم تھے اور مکی حالات میں ان کے ایمان لانے کی بہت سی اہمیت ہو کیونکہ مشرکین امی تھے اور ایسے معاشرے میں اہل کتاب کے ایمان لانے کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی شہادت کی طرف قرآن نے کئی مقامات میں اشارہ کیا ہے اور مشرکین کی تردید کے لئے اسے پیش کیا جو بغیر دلیل اور ثبوت کے اور بغیر علم و ہنر کے اور بغیر کسی کتاب اور سماوی روایات کے قرآن کی تکذیب کرتے تھے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں احتمالی اسلوب استدلال پیش کیا ہے۔ “ تم نے بھی سوچا کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور ۔۔۔۔۔” اس طرز استدلال کی غرض یہ ہے کہ مشرکین کے اصرار کے اندر تزلزل پیدا کیا جائے۔ ان کے اصرار کی شدت کو کم کیا جائے۔ ان کے عناد کو ٹھنڈا کیا جائے۔ ان کے اندر ذرا خوف اور احتیاط پیدا کی جائے کہ اس تکذیب میں اتنا آگے نہ بڑھو۔ اور یہ استدلال کیا جائے کہ تم تو نہیں مانتے لیکن اگر سچ نکلے تو پھر۔۔۔۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ لہٰذا اس فرض اور احتمال ہی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کرو کہ اگر یہ سچ نکلا تو تم پر وہ تمام عذاب آجائیں گے جن سے محمد ﷺ تمہیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا حضور ﷺ کی تکذیب کرنے میں ذرا تامل کرو۔ اور اس دعوت پر غوروفکر کرو ، قبل اس کے کہ تم اس قدر خطرناک انجام سے دوچار ہوجاؤ یا احتمال پیدا ہوجائے ایسے انجام کا خصوصاً ایسے حالات میں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص یا گروہ نے یہ شہادت بھی دے دی ہو کہ اس کتاب کی نوعیت کلام الٰہی جیسی ہے۔ اور اس طرح وہ ایمان لایا۔ اور جب یہ کتاب سب سے پہلے تمہارے لیے آئی ، تمہاری زبان میں آئی ، تمہارے آدمی کے ذریعہ آئی تو تم تکبر کرتے ہو اور انکار کرتے ہو ، یہ واضح ظلم ہے۔ واضح حق کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا ہے اور اس صورت میں تمہارے سب اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (46 : 10) “ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ” ۔ غرض قرآن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مختلف اسالیب کلام اختیار کرتا ہے تا کہ انسانوں کے دلوں کے شکوک دور کرے اور مختلف راستوں سے اپنی دعوت لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ قرآن نے جو مختلف اسالیب اختیار کئے ہیں ، ان میں آنے والے داعیوں کے لئے سامان عبرت اور رہنمائی ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا و رسول ﷺ دونوں کے ہاں یقیناً قرآن حق تھا ، اللہ کا کلام تھا اور اس میں شک اور احتمال کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ اسلوب بھی اپنایا گیا کہ ممکن ہے اسی طرح شدت مخالفت کم ہوجائے۔ آگے مضمون جاری ہے کہ قرآن کے بارے میں اور دین اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں وہ جو کہتے تھے ان کا جائزہ۔ وہ اپنی تکذیب اور کفر کی ایک اور وجہ جواز بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ متکبر اور بزعم خود اونچے درجے کے لوگوں کی بات ہے۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (46 : 12) “ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ آغاز اسلام میں ، اسلام کی طرف فقر اور غلام لپکے تھے۔ اس لئے کبرا اور مستکبرین اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی تھی اور وہ یہ کہتے تھے اگر یہ دین کوئی اچھا دین تھا تو یہ لوگ کیا ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہشیار تھے اور نہ ہمارے مقابلہ میں یہ پہل کرسکتے تھے۔ کیونکہ ہم ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، زیادہ باشعور ہیں اور ان کے مقابلے میں نیک و بد کی زیادہ تمیز رکھتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔ یہ کبراء جو اسلام کو قبول نہ کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ اس میں شک کرتے تھے یا جاہل تھے اور ان کو خبر نہ تھی کہ قرآن مجید سچائی ہی سچائی ہے۔ یا یہ کہ اس میں خبر نہیں ہے بلکہ تکبر کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے اور یہ لوگ قبولیت حق کو اپنے سے فروتر کام سمجھتے تھے۔ پھر وہ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ اجتماعی نظام میں ان کو سوسائٹی میں جو مقام حاصل ہے یہ نہ رہے گا ، جو مفادات ان کو حاصل ہیں وہ نہ رہیں گے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آباؤ اجداد کے طریق کار کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ایک قابل فخر رویہ ہے لیکن جو لوگ اسلام کی طرف پہلی ہی آواز پر لپکے ان کی راہ میں یہ موائع نہ تھے جن کی وجہ سے کبراء رک گئے تھے۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔ کبر اور غرور کی وجہ سے ان کے لئے حق کے سامنے جھکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ فطرت کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ اور وہ حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کبرو غرور ان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے کہ ہٹ دھرمی کرو اور نہ مانو۔ جھوٹے عذرات تراشو۔ باطل سے باطل جھوٹا دعویٰ کرو ، یہ بڑے لوگ کبھی بھی ، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنی ذات کی زندگی کا محور بنانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور جس طرح وہ اپنے موجودہ معاشرے میں محور ہوتے ہیں اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم (46 : 11) “ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے نہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ ہاں ، اگر “ ان ” لوگوں نے ہدایت قبول نہیں کی تو پھر لازماً سچائی میں کوئی نقص ہوگا ۔ کیونکہ بڑے لوگوں سے تو غلطی کا صدور ممکن نہیں ! لیکن یہ لوگ اپنی نظر میں اور جمہور عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو وہ جو باور کراتے تھے کہ وہ ایک معصوم اور غلطی سے پاک قسم کی مخلوق ہیں۔ بہرحال وحی کے سلسلے میں یہ پیراگراف اور مطالعاتی سفر کتاب موسیٰ کی طرف ایک اشارے پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ خصوصاً تو رات اور قرآن کے درمیان گہری مماثلت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مشن تو تورات ہی کا تکملہ تھا۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے ایک گواہ کی طرف بھی اشارہ ہوچکا ہے۔ ومن قبلہ کتب موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ للمحسنین (46 : 12) “ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ قرآن کریم نے سابقہ کتب سماوی کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے خصوصاً تورات کی طرف اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تو اس کا تکملہ تھی اور ان کا مشن تورات ہی کا تسلسل تھا۔ اصل دستور قانون تو تورات ہی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امام اور رحمت کا لقب دیا گیا جب کہ ہر رسالت اس زمین اور اہل زمین کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا (46 : 12) “ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی زبان عربی میں ہے ”۔ یہ تصدیق ان اصل کتابوں اور اصل تعلیمات کی کرتی ہے جن کے اوپر تمام ادیان سماوی قائم ہیں۔ یہ کتاب اس نظام کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام اہل دین چلتے رہے۔ اور یہ کتاب اس صراط مستقیم کی تصدیق کرتی ہے جو انسانوں کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اور عربی کتاب جس طرح وہ تھی ، یہاں اس لیے کہا گیا کہ اہل عرب پر اس احسان کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی زبان میں یہ کتاب اتری۔ اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے۔ اور خاص مہربانی اور عنایت ہوئی ہے کہ تم کو اس دعوت کا حامل بنایا اور تمہاری زبان کو یہ اعزاز بخشا کہ اس میں قرآن عظیم نازل ہوا۔ مقصد صرف زبان نہ تھی بلکہ یہ تھا۔ لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین (46 : 12) “ تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ اس پہلے سبق کے آخر میں محسنین کی جزا کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم تمہارے لیے یہ خوشخبری لاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ توحید مطلق اور ربوبیت کا اعلان کردیں اور پھر اس پر جم جائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں۔

الأحقاف 46:12

آیت نمبر 4 تا 12 اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔ ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی نے خواہ وہ پتھر ہوں ، درخت ہوں ، جن ہوں یا فرشتے ، زمین میں سے کوئی حصہ یا کوئی چیز پیدا کی ہے۔ فطری سوچ ، حقیقت واقعہ ، اور ہر چیز بذات خود یہ پکار پکار کہتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ ام لھم شرک فی السموت (46 : 4) “ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ” ۔ کوئی انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان مذکورہ معبودوں کا آسمانوں میں کوئی حصہ یا شرکت ہے۔ آسمانوں کے اندر ایک سطحی نظر بھی بتا دیتی ہے کہ خالق کائنات کس قدر عظیم ہے اور پھر یہ کہ وہ واحد ہے۔ ایک ہی نظر میں ایک معقول انسان تمام گمراہیوں اور انسانوں کو جھٹک کر پھینک دیتا ہے۔ اللہ تو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات پر ایک گہری نظر ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ کائنات کی اس کھلی کتاب پر نگاہ تو ڈالو۔ اس کے نظام پر غور کرو ، اور تمہارے دل و دماغ پر اس کائنات سے جو سگنل آتے ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اس کے بعد بعض نہایت ہی گمراہ درجے کے انسانوں کی راہ بند کرنے کے لئے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک سوال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ گمراہی میں آگے بڑھ کر کوئی یہ زعم بھی کرسکتا ہے کہ ہمارے پاس شرک کی نقلی دلیل ہے یا کوئی اور بہانہ کرسکتا ہے حالانکہ دراصل اس کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اس لیے قرآن مجید ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کے پہلے ہی مطالبہ کردیتا ہے کہ لاؤ اگر کوئی حجت و لیل تمہارے پاس ہے اور پھر قرآن مجید ان کو استدلال کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہوا کرتا ہے۔ ایتونی بکتب ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (46 : 4) “ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو ”۔ یا تو اللہ کی کوئی سچی کتاب پیش کرو۔ یا کتب سماوی میں سے کوئی اثر تمہارے پاس باقی ہو اسے لے آؤ۔ قرآن سے قبل جس قدر کتب سماوی بھی نازل ہوئی ہیں وہ تو قرآن کی تائید میں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ وحدہ خالق ہے اور وہی کائنات کا مدبر ہے اور اس میں تمام چیزوں کو ایک قدر اور انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی متعدد الہہ کے خرافات کو تسلیم نہیں کرتی۔ یا یہ کہ زمین و آسمان میں سے کوئی چیز ان الہوں نے بنائی ہو یا وہ کسی چیز کے بنانے میں شریک ہوں کوئی علم یا اثر یا نص کتب سماوی میں نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اس کائنات کی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔ کائنات کی شہادت تو فیصلہ کن شہادت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید ان کے عقائد کو حجت و دلیل سے محروم کردیتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ بحث و دلیل کا صحیح اندازہ کیا ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ایک ہی آیت میں سکھا دی جاتی ہیں جس کے الفاظ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں لیکن زور دار اور فیصلہ کن ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ان کے سامنے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جن چیزوں کو تم الٰہ بناتے ہو ، اور پھر پکارتے ہو ، ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، یہ تو تمہاری اس پکار کو سنتے ہی نہیں ، اس دنیا میں تم اگر ساری زندگی ان کو پکارتے رہو اور قیامت میں تو بھی وہ صاف صاف انکار کردیں گے۔ لہٰذا اپنی اس حرکت پر ذرا غور تو کرو۔ ومن اضل ممن یدعوا۔۔۔۔۔ غفلون (46 : 5) واذا حشر الناس ۔۔۔۔۔ کفرین (46 : 6) “ آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں ، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ”۔ بعض لوگ ایسے تھے جو بتوں کو بذات الٰہ مانتے تھے۔ اور بعض ان کو فرشتوں یا نیک لوگوں کی شبیہ سمجھتے ہوئے الٰہ مانتے تھے۔ بعض درختوں کو الٰہ مانتے تھے ، بعض فرشتوں اور شیطان کو الٰہ مانتے۔ ان میں سے کوئی بھی پکارنے والے کی پکار کا جواب نہ دے سکتا تھا ، یا اگر پکار سنتا تھا تو کوئی فائدہ نہ دے سکتا تھا ، پتھر اور درخت تو نہ کچھ سن سکتے تھے اور نہ جواب دے سکتے تھے۔ فرشتے بھی مشرکین کی اس حرکت پر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ شیاطین تو بہرحال ان کو مزید گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ اندازیاں کرتے تھے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور لوگ اٹھائے جائیں گے تو یہ تمام الٰہ جو پوجے جاتے تھے ، یہ اپنے گمراہ عبادت گذاروں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، وہ یہ کہے گا۔ وقال الشیطن ۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یوں قرآن مجید ان کو خود اپنے دعویٰ اور اپنے خیالات کے سامنے پیش کرتا ہے کہ ان دعوؤں کا انجام دنیا اور آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ اس سے قبل ان کو کائنات کی نشانیاں بتائی گئیں کہ یہ شرک کے عقائد کا انکار کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک الٰہ العالمین ہے اور خود مشرکین کی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں۔ قرآن مجید یہاں ان بت پرستوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسے بتوں کو پکار رہے تھے جو ان کو کوئی نفع یا نقصان نہ دے سکتے تھے۔ نزول قرآن کے وقت ایسے روایتی زندہ اور مردہ معبود موجود تھے۔ لیکن یہ آیت صرف ان بتوں تک محدود نہیں ہے ، جو ایک خاص زمان ومکان میں ایک خاص شکل میں پکارے جاتے تھے اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ آیت بہت وسیع ہے اور اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جو اللہ کے سوا کسی بھی زمان و مکان میں پائے جائیں گے۔ جن کو عوام پکارتے ہیں اور جن سے امید وابستہ کرتے ہیں اور جو ان کو کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے۔ کیونکہ نفع و نقصان پہنچانے والا تو اللہ ہی ہے۔ غرض شرک اس سادہ صورت اور شکل تک محدود نہیں ہے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اصحاب اقتدار کو شریک کرتے ہیں۔ افسران کو شریک کرتے ہیں ، بڑے بڑے سرمایہ داروں کو شریک کرتے ہیں ، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں ، لیکن یہ سب کے سب بہت ہی عاجز اور کمزور ہیں اور یہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکارنا شرک ہے ، ان سے امیدیں وابستہ کرنا بھی شرک ہے۔ ان سے ڈرنا بھی شرک ہے۔ لیکن یہ شرک ذرا شرک خفی ہے اور اکثر لوگ غیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٭٭٭ اس کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی سچی دعوت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔ شرک کے بارے میں ان کے خیالات کا جائزہ تو خوب لیا گیا ۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وحی اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا موقف کس قدر غلط اور غیر معقول ہے۔ واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ سحر مبین (7) ام یقولون افترہ ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (8) قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔ نذیر مبین (9) قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (10) وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (11) ومن قبلہ کتب ۔۔۔۔ وبشری للمحسنین (12) (46 : 7 تا 12) “ ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ”۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”۔ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور اس کی دعوت ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بڑی واضح ، دل لگتی اور کھلی باتیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قدر ذلیل اور ضدی اور کم بخت ہیں کہ یہ اس سچائی کے بارے میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ : ھذا سحر مبین (46 : 7) “ یہ کھلا جادو ہے ”۔ حالانکہ دعوت اسلامی اور جادو کی نوعیت اور موضوع ہی مختلف ہے۔ ایک نبی اور جادوگر کے مقاصد ہی مختلف ہیں۔ یوں ان کے اس غلط موقف پر حملہ کیا جاتا ہے جس کے لئے نہ دلیل ہے اور نہ وجہ جواب ہے کیونکہ نبی ﷺ کی دعوت بہت ہی واضح ہے اور آیات بینات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اور اللہ کی طرف منسوب ہے اور ایک افترا ہے۔ اس شبی ہے کو قرآن استفہام اور سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ بھی کوئی سوال ہے یا کوئی معقول انسان ایسی بات سوچ سکتا ہے ؟ ام یقولون افترہ (46 : 8) “ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اسے خود گھڑ لیا ہے ”۔ یعنی کیا وہ اس قدر جری ہوگئے ہیں کہ ایسی بات بھی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس طرح دیں جس طرح ایک پیغمبر کی شان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال بہت ہی لا یعنی ہے۔ اس جواب سے اظہار ہو کہ آپ کو اپنے فرائض کا اچھی طرح شعور ہے ، آپ کو اپنے رب کا بھی اچھی طرح شعور ہے۔ آپ کو اس کائنات کی حقیقی قدروں اور حقیقی قوتوں کا پورا احساس ہے ۔ قل ان افتریتہ ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (46 : 8) “ ان سے کہو ، اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ میرے اور تمہارے درمیان و ہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہہ دو میں کیوں افترا باندھوں ؟ کس کے مفاد کے لئے یہ افترا باندھوں ؟ کن مقاصد کے لئے ایسا کروں ؟ کیا اس لیے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو لیکن تم میری کیا مدد کرسکتے ہو ؟ قل ان افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا (46 : 8) “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ”۔ میرے افترا کی وجہ سے وہ لازماً میرا مواخذہ کرے گا۔ لہٰذا اگر تم میرے ساتھ ہو اور مجھ پر ایمان لاؤ تو اس میں مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ افترا پر جب اللہ مجھ سے مواخذہ کرے گا تو تم اس وقت کیا کرسکتے ہو۔ تم تو بہت ہی عاجز اور کمزور ہو۔ میری کیا مدد کرو گے۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو نبی کے شایان شان ہے جو اللہ سے ہدایات لیتا ہے اور جسے اللہ کے سوا اس کائنات میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ اسے صرف اللہ ہی کی قوت نظر آتی ہے ۔ نیز یہ ایک منطقی اور معقول تردید بھی ہے۔ اگر کوئی ذرا اپنی عقل کو کام میں لائے ۔ ان کو جواب دے کر اس پر آپ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ ھو اعلم بما تفیضون فیہ (46 : 8) “ جو باتیں تم بتاتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ” ۔ یعنی جو تم کرتے اور کہتے ہو۔ اور جن باتوں کو اللہ جانتا ہے ان پر وہ ضرور تمہیں سزا دے گا۔ کفی بہ شھیدا بینی وبینکم (46 : 8) “ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ”۔ اللہ گواہی بھی دے گا اور فیصلہ بھی کر دے گا اور اللہ کی گواہی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔ وھو الغفور الرحیم (46 : 8) “ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ وہ تم پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہیں ہدایت دے دیتا ہے اور تم نے جو گمراہیاں کیں انہیں بخش دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بعد سابقہ اعمال معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی تردید ہے جس میں ان کے لئے دھمکی اور ڈراوا بھی ہے ۔ ان کے لئے حوصلہ افزائی اور ایمان کا لالچ بھی ہے۔ غرض ہر طریقے سے اللہ کی کوشش ہے کہ انسانوں کے دل بدل جائیں۔ انسان کے جسم کی تار تار کو چھیڑا جاتا ہے کہ شاید نغمہ ایمان برآمد ہوجائے۔ سامعین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ لوگ جو احمقانہ باتیں کرتے ہیں یہ محض بچگانہ باتیں ہیں ، محض دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ داعی اعظم کے دل میں جو بات ہے اور جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں وہ بہت ہی عظیم ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت کا ان کو کوئی شعور نہیں۔ وحی پر ان کے اعتراض کا ایک دوسرے زاویہ سے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کہ وحی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ لاکھوں افراد اسے مانتے ہیں۔ آخر اس میں عجوبے کی کیا چیز ہے کہ یہ اسے جادو یا افترا کہتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب و غریب چیز تو نہیں ہے۔ قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔۔ نذیر مبین (46 : 9) “ ان سے کہو میں تو نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں ”۔ حضرت نبی اکرم ﷺ ہی پہلے رسول نہ تھے۔ آپ ﷺ سے پہلے کئی رسول گزرے تھے۔ آپ ﷺ کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے۔ انہوں نے کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا تھا۔ پہلے بھی کئی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون رسالت کے لئے اہل ہے۔ اس کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اور وہ بےکم وکاست پھر تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ یہی ہے رسالت کی حقیقت اور ماہیت ۔ رسول کا جب سرچشمہ رسالت سے مل جاتا ہے تو پھر اللہ سے رسالت کی کوئی دلیل طلب نہیں کرتا اور نہ اپنے لیے کوئی خصوصیت طلب کرتا ہے۔ پیغام ملتے ہی اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ جو بات اس تک پہنچتی ہے اس کی تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ وما ادری ما۔۔۔۔۔ یوحی الی (46 : 9) “ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ کل میرے ساتھ کیا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے ”۔ رسول رسالت کے کام کو اس لیے شروع نہیں کرتا کہ وہ غیب جانتا ہے یا وہ جانتا ہے کہ اس کا ، اس کی قوم کا اور اس کی دعوت کا انجام کیا ہوگا۔ وہ تو اللہ کے اشاروں اور ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ایک ایک قدم اللہ کے حکم سے اٹھاتا ہے لیکن مستقبل اسے معلوم نہیں ہوتا۔ تمام راز اللہ کے ہاں ہوتے ہیں اور رسول مستقبل کے راز معلوم کرنے کے لئے بےچین بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور بارگاہ رب العزت کے آداب میں سے یہ بات بھی ہے کہ وہ اسی علم پر اکتفا کرے جو اسے دے دیا گیا ہو اور مستقبل کے پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔ رسول تو ہمیشہ اپنے فرائض کی حدود پر کھڑا ہوتا ہے۔ وما انا الا نذیر مبین (46 : 9) “ میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ” ۔ اللہ کے دربار میں پہنچنے والوں کے یہی آداب ہوتے ہیں اور عارف باللہ لوگوں کا یہی اطمینان ہوتا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہیں اور دعوت دیتے چلے جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ دعوت کا انجام دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ دعوت کا مستقبل روشن ہوتا ہے ، یا وہ اس کے نتیجے میں چھوٹی یا بڑی کامیابی پاتے ہیں۔ پس وہ اس کام کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہوتا ہے اور بس۔ وہ اپنے رب سے کوئی دلیل بھی نہیں مانگتے کیونکہ دلیل تو ان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کچھ مراعات بھی نہیں مانگتے۔ اس سے بڑی رعایت یا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ وہ اس باریک خط سے سوتر بھر آگے نہیں بڑھتے جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا اور وہ انہی نقوش پر قدم رکھتے ہیں جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی شہادت کی طرف ان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ شہادت اہل کتاب کی ہے ، جو نزول وحی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (46 : 10) “ ان سے کہو ، کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ” یہ ممکن ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہو کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص یا کسی گروہ نے قرآنی تعلیمات کو تورات اور دوسری کتابوں کے مماثل پاتے ہوئے ایمان لے آیا ہو ، کیونکہ کتب سماوی پر ایمان لانے والے لوگ جانتے تھے کہ یہ کتاب وہی بات کرتی ہے جو ان کتابوں میں ہے۔ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ ابن اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کی راہ میں یہ مانع ہے کہ وہ مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے اور یہ سورت مکی ہے۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ یہ عبد اللہ ابن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ مکی ہے اور اس کا عبد اللہ ابن سلام کے واقعہ سے تعلق نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو ، مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایمان لایا ہو اگرچہ یہاں اہل کتاب بہت ہی کم تھے اور مکی حالات میں ان کے ایمان لانے کی بہت سی اہمیت ہو کیونکہ مشرکین امی تھے اور ایسے معاشرے میں اہل کتاب کے ایمان لانے کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی شہادت کی طرف قرآن نے کئی مقامات میں اشارہ کیا ہے اور مشرکین کی تردید کے لئے اسے پیش کیا جو بغیر دلیل اور ثبوت کے اور بغیر علم و ہنر کے اور بغیر کسی کتاب اور سماوی روایات کے قرآن کی تکذیب کرتے تھے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں احتمالی اسلوب استدلال پیش کیا ہے۔ “ تم نے بھی سوچا کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور ۔۔۔۔۔” اس طرز استدلال کی غرض یہ ہے کہ مشرکین کے اصرار کے اندر تزلزل پیدا کیا جائے۔ ان کے اصرار کی شدت کو کم کیا جائے۔ ان کے عناد کو ٹھنڈا کیا جائے۔ ان کے اندر ذرا خوف اور احتیاط پیدا کی جائے کہ اس تکذیب میں اتنا آگے نہ بڑھو۔ اور یہ استدلال کیا جائے کہ تم تو نہیں مانتے لیکن اگر سچ نکلے تو پھر۔۔۔۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ لہٰذا اس فرض اور احتمال ہی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کرو کہ اگر یہ سچ نکلا تو تم پر وہ تمام عذاب آجائیں گے جن سے محمد ﷺ تمہیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا حضور ﷺ کی تکذیب کرنے میں ذرا تامل کرو۔ اور اس دعوت پر غوروفکر کرو ، قبل اس کے کہ تم اس قدر خطرناک انجام سے دوچار ہوجاؤ یا احتمال پیدا ہوجائے ایسے انجام کا خصوصاً ایسے حالات میں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص یا گروہ نے یہ شہادت بھی دے دی ہو کہ اس کتاب کی نوعیت کلام الٰہی جیسی ہے۔ اور اس طرح وہ ایمان لایا۔ اور جب یہ کتاب سب سے پہلے تمہارے لیے آئی ، تمہاری زبان میں آئی ، تمہارے آدمی کے ذریعہ آئی تو تم تکبر کرتے ہو اور انکار کرتے ہو ، یہ واضح ظلم ہے۔ واضح حق کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا ہے اور اس صورت میں تمہارے سب اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (46 : 10) “ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ” ۔ غرض قرآن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مختلف اسالیب کلام اختیار کرتا ہے تا کہ انسانوں کے دلوں کے شکوک دور کرے اور مختلف راستوں سے اپنی دعوت لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ قرآن نے جو مختلف اسالیب اختیار کئے ہیں ، ان میں آنے والے داعیوں کے لئے سامان عبرت اور رہنمائی ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا و رسول ﷺ دونوں کے ہاں یقیناً قرآن حق تھا ، اللہ کا کلام تھا اور اس میں شک اور احتمال کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ اسلوب بھی اپنایا گیا کہ ممکن ہے اسی طرح شدت مخالفت کم ہوجائے۔ آگے مضمون جاری ہے کہ قرآن کے بارے میں اور دین اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں وہ جو کہتے تھے ان کا جائزہ۔ وہ اپنی تکذیب اور کفر کی ایک اور وجہ جواز بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ متکبر اور بزعم خود اونچے درجے کے لوگوں کی بات ہے۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (46 : 12) “ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ آغاز اسلام میں ، اسلام کی طرف فقر اور غلام لپکے تھے۔ اس لئے کبرا اور مستکبرین اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی تھی اور وہ یہ کہتے تھے اگر یہ دین کوئی اچھا دین تھا تو یہ لوگ کیا ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہشیار تھے اور نہ ہمارے مقابلہ میں یہ پہل کرسکتے تھے۔ کیونکہ ہم ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، زیادہ باشعور ہیں اور ان کے مقابلے میں نیک و بد کی زیادہ تمیز رکھتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔ یہ کبراء جو اسلام کو قبول نہ کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ اس میں شک کرتے تھے یا جاہل تھے اور ان کو خبر نہ تھی کہ قرآن مجید سچائی ہی سچائی ہے۔ یا یہ کہ اس میں خبر نہیں ہے بلکہ تکبر کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے اور یہ لوگ قبولیت حق کو اپنے سے فروتر کام سمجھتے تھے۔ پھر وہ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ اجتماعی نظام میں ان کو سوسائٹی میں جو مقام حاصل ہے یہ نہ رہے گا ، جو مفادات ان کو حاصل ہیں وہ نہ رہیں گے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آباؤ اجداد کے طریق کار کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ایک قابل فخر رویہ ہے لیکن جو لوگ اسلام کی طرف پہلی ہی آواز پر لپکے ان کی راہ میں یہ موائع نہ تھے جن کی وجہ سے کبراء رک گئے تھے۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔ کبر اور غرور کی وجہ سے ان کے لئے حق کے سامنے جھکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ فطرت کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ اور وہ حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کبرو غرور ان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے کہ ہٹ دھرمی کرو اور نہ مانو۔ جھوٹے عذرات تراشو۔ باطل سے باطل جھوٹا دعویٰ کرو ، یہ بڑے لوگ کبھی بھی ، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنی ذات کی زندگی کا محور بنانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور جس طرح وہ اپنے موجودہ معاشرے میں محور ہوتے ہیں اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم (46 : 11) “ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے نہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ ہاں ، اگر “ ان ” لوگوں نے ہدایت قبول نہیں کی تو پھر لازماً سچائی میں کوئی نقص ہوگا ۔ کیونکہ بڑے لوگوں سے تو غلطی کا صدور ممکن نہیں ! لیکن یہ لوگ اپنی نظر میں اور جمہور عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو وہ جو باور کراتے تھے کہ وہ ایک معصوم اور غلطی سے پاک قسم کی مخلوق ہیں۔ بہرحال وحی کے سلسلے میں یہ پیراگراف اور مطالعاتی سفر کتاب موسیٰ کی طرف ایک اشارے پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ خصوصاً تو رات اور قرآن کے درمیان گہری مماثلت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مشن تو تورات ہی کا تکملہ تھا۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے ایک گواہ کی طرف بھی اشارہ ہوچکا ہے۔ ومن قبلہ کتب موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ للمحسنین (46 : 12) “ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ قرآن کریم نے سابقہ کتب سماوی کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے خصوصاً تورات کی طرف اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تو اس کا تکملہ تھی اور ان کا مشن تورات ہی کا تسلسل تھا۔ اصل دستور قانون تو تورات ہی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امام اور رحمت کا لقب دیا گیا جب کہ ہر رسالت اس زمین اور اہل زمین کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وھذا کتب مصدق لسانا عربیا (46 : 12) “ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی زبان عربی میں ہے ”۔ یہ تصدیق ان اصل کتابوں اور اصل تعلیمات کی کرتی ہے جن کے اوپر تمام ادیان سماوی قائم ہیں۔ یہ کتاب اس نظام کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام اہل دین چلتے رہے۔ اور یہ کتاب اس صراط مستقیم کی تصدیق کرتی ہے جو انسانوں کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اور عربی کتاب جس طرح وہ تھی ، یہاں اس لیے کہا گیا کہ اہل عرب پر اس احسان کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی زبان میں یہ کتاب اتری۔ اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے۔ اور خاص مہربانی اور عنایت ہوئی ہے کہ تم کو اس دعوت کا حامل بنایا اور تمہاری زبان کو یہ اعزاز بخشا کہ اس میں قرآن عظیم نازل ہوا۔ مقصد صرف زبان نہ تھی بلکہ یہ تھا۔ لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین (46 : 12) “ تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ اس پہلے سبق کے آخر میں محسنین کی جزا کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم تمہارے لیے یہ خوشخبری لاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ توحید مطلق اور ربوبیت کا اعلان کردیں اور پھر اس پر جم جائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں۔

الأحقاف 46:13

آیت نمبر 13 تا 14 یہ کہ انہوں نے ربنا اللہ کہہ دیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے جو انہوں نے کہہ دی۔ یہ محض ایک عقیدہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی کا اقرار ہے۔ زندگی کی تمام سرگرمیوں کا نام ہے ربنا اللہ۔ اللہ ہی ہمارا رب ، ہماری سوچ میں بھی ، ہمارے نظریات میں بھی ، ہمارے اعمال میں بھی اور اس دنیا میں ہمارے پورے تعلقات میں بھی۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا ہم اسی کی بندگی کریں گے ، اسی سے ڈریں گے ، اسی پر بھروسہ کریں گے اور اسی کا رخ کریں گے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا تمام وسائل و ذرائع اسی کے ہیں اور اس کے سوا کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ کسی اور سے کوئی طمع و لالچ جائز ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا ہر سرگرمی ، ہر سوچ اور ہر تقدیر اسی کی طرف ہے ، اور ہر چیز میں اسی کی رضا مطلوب ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا فیصلے بھی وہی کرے گا ، شریعت اور قانون بھی اسی کا ہوگا اور ہدایت اور رہنمائی بھی اسی کی ہوگی۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا اس کائنات میں جو لوگ ہیں جو اشیاء ہیں وہ ہمارے ساتھ مربوط ہیں اور ان کے ساتھ ہمارا رابطہ ہے۔ کیونکہ ان کا رب بھی اللہ ہی ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے تو نظام زندگی بھی اسی سے اخذ کریں گے۔ یہ محض الفاظ ہی نہ ہوں گے محض عقیدہ ہی نہ ہوگا ، بلکہ ایک ربانی نظام ہوگا۔ ثم استقاموا (46 : 13) “ اور پھر اس پر جم گئے ”۔ یہ دوسری شرط ہے۔ یہ اس طرح کہ وہ اسلامی نظام کو قبول کرنے کے بعد اس پر جم گئے۔ ان کا دل اور ان کا نفس اس پر مطمئن ہوگیا ، ان کے خیالات اور تصورات اس پر جم گئے ، ہر قسم کا اضطراب اور شک ختم ہوگیا ، تمام دوسری دلچسپیاں اور تمام ۔۔۔۔۔۔ ختم ہوگئیں ، تمام میلانات اور رحجانات ختم ہوگئے۔ یہ بات یاد رہے کہ دنیا کی دلچسپیاں متنوع اور جاذب ہوتی ہے اور کسی نظام اور طریق کار پر جم جانا بڑا ہی مشکل کام ہے ، جگہ جگہ انسانوں کے لئے پھسلنے کے مقامات ہوتے ہیں اور رکاوٹیں ہوتی ہیں اور ہر طرف سے اپنی طرف کھینچنے کے لئے آوازیں اٹھتی ہیں۔ ربنا اللہ (46 : 13) “ اللہ ہی ہمارا رب ہے ” کہنے کے بعد پورا نظام زندگی اپنانا ہوتا ہے اور اس پر جم جانا جاتا ہے اور جن لوگوں کو اللہ نے معرفت حق اور استقامت علی الحق عطا کردی وہ بہت ہی بڑے اور مختار لوگ ہوتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے حق یہ فیصلہ صادر ہوا۔ فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون (46 : 13) “ ان کے لئے نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ”۔ وہ کیوں ڈریں اور کیوں پریشان ہوں۔ جس نظام کو انہوں نے اپنایا ہے وہ اللہ تک پہنچانے والا ہے اور پر جم جانا اللہ کی طرف سے ضمانت ہے۔ اولئک اصحب ۔۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (46 : 14) “ ایسے لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ” ۔ اپنے ان اعمال کے بدلے جو دنیا میں وہ کرتے رہے ”۔ یہاں یعملون کا لفظ ربنا اللہ کی توضیح کرتا ہے۔ اور ۔۔۔۔۔ منہاج پر استقامت کے معنی متعین کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا تمہارے اعمال اور تمہاری استقامت کی وجہ سے ہے۔ یعنی “ اللہ ہی ہمارا ہے ” کے منہاج اور اس پر استقامت سے عمل اور مسلسل عمل سامنے آئے اور وہ اس پر جم جائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین میں اعتقادات اور تصورات محض الفاظ ہی نہیں ہوتے کہ کوئی صرف کلمہ طیبہ کے الفاظ کہہ دے ، بلکہ کلمہ طیبہ ایک طریق زندگی ہے۔ اگر کلمہ محض الفاظ ہی ہوں ایک طرز زندگی نہ بنے تو وہ ارکان اسلام والا کلمہ نہ ہوگا۔ آج لاکھوں لوگ کلمہ طیبہ کی شہادت محض زبانی تو دیتے ہیں مگر یہ کلمہ ان کے ہونٹوں سے آگے نہیں بڑھتا اور یہ کلمہ ان کی زندگی کے اوپر کوئی اثر نہیں ڈالتا ، نہ اس کے اندر کوئی تغیر پیدا کرتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد وہ اسی طرح جاہلانہ زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح دوست بت برست کرتے ہیں ، جبکہ اپنے ہونٹوں سے وہ دن رات یہ کلمہ پڑھتے رہتے ہیں ، یہ الفاظ ہی ہوتے ہیں ، ان کی زندگیوں میں اس کا مفہوم نہیں ہوتا۔ لا الٰہ الا اللہ ، یا ربنا اللہ ، اللہ ہی ہمارا رب ہے ، یا اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ یہ تو دراصل زندگی گزارنے کا ایک طریقہ اور منہاج ہے۔ یہ مفہوم ہر مسلمان کو اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینا چاہئے تا کہ وہ پھر اس نظام کو تلاش کرے جس کی طرف ان کلمات میں اشارہ کیا گیا ہے اور وہ اس نظام پر غور کرے اور اسے قائم کرنے کی فکر کرے۔

الأحقاف 46:14

آیت نمبر 13 تا 14 یہ کہ انہوں نے ربنا اللہ کہہ دیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے جو انہوں نے کہہ دی۔ یہ محض ایک عقیدہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی کا اقرار ہے۔ زندگی کی تمام سرگرمیوں کا نام ہے ربنا اللہ۔ اللہ ہی ہمارا رب ، ہماری سوچ میں بھی ، ہمارے نظریات میں بھی ، ہمارے اعمال میں بھی اور اس دنیا میں ہمارے پورے تعلقات میں بھی۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا ہم اسی کی بندگی کریں گے ، اسی سے ڈریں گے ، اسی پر بھروسہ کریں گے اور اسی کا رخ کریں گے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا تمام وسائل و ذرائع اسی کے ہیں اور اس کے سوا کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ کسی اور سے کوئی طمع و لالچ جائز ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا ہر سرگرمی ، ہر سوچ اور ہر تقدیر اسی کی طرف ہے ، اور ہر چیز میں اسی کی رضا مطلوب ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا فیصلے بھی وہی کرے گا ، شریعت اور قانون بھی اسی کا ہوگا اور ہدایت اور رہنمائی بھی اسی کی ہوگی۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا اس کائنات میں جو لوگ ہیں جو اشیاء ہیں وہ ہمارے ساتھ مربوط ہیں اور ان کے ساتھ ہمارا رابطہ ہے۔ کیونکہ ان کا رب بھی اللہ ہی ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے تو نظام زندگی بھی اسی سے اخذ کریں گے۔ یہ محض الفاظ ہی نہ ہوں گے محض عقیدہ ہی نہ ہوگا ، بلکہ ایک ربانی نظام ہوگا۔ ثم استقاموا (46 : 13) “ اور پھر اس پر جم گئے ”۔ یہ دوسری شرط ہے۔ یہ اس طرح کہ وہ اسلامی نظام کو قبول کرنے کے بعد اس پر جم گئے۔ ان کا دل اور ان کا نفس اس پر مطمئن ہوگیا ، ان کے خیالات اور تصورات اس پر جم گئے ، ہر قسم کا اضطراب اور شک ختم ہوگیا ، تمام دوسری دلچسپیاں اور تمام ۔۔۔۔۔۔ ختم ہوگئیں ، تمام میلانات اور رحجانات ختم ہوگئے۔ یہ بات یاد رہے کہ دنیا کی دلچسپیاں متنوع اور جاذب ہوتی ہے اور کسی نظام اور طریق کار پر جم جانا بڑا ہی مشکل کام ہے ، جگہ جگہ انسانوں کے لئے پھسلنے کے مقامات ہوتے ہیں اور رکاوٹیں ہوتی ہیں اور ہر طرف سے اپنی طرف کھینچنے کے لئے آوازیں اٹھتی ہیں۔ ربنا اللہ (46 : 13) “ اللہ ہی ہمارا رب ہے ” کہنے کے بعد پورا نظام زندگی اپنانا ہوتا ہے اور اس پر جم جانا جاتا ہے اور جن لوگوں کو اللہ نے معرفت حق اور استقامت علی الحق عطا کردی وہ بہت ہی بڑے اور مختار لوگ ہوتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے حق یہ فیصلہ صادر ہوا۔ فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون (46 : 13) “ ان کے لئے نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ”۔ وہ کیوں ڈریں اور کیوں پریشان ہوں۔ جس نظام کو انہوں نے اپنایا ہے وہ اللہ تک پہنچانے والا ہے اور پر جم جانا اللہ کی طرف سے ضمانت ہے۔ اولئک اصحب ۔۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (46 : 14) “ ایسے لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ” ۔ اپنے ان اعمال کے بدلے جو دنیا میں وہ کرتے رہے ”۔ یہاں یعملون کا لفظ ربنا اللہ کی توضیح کرتا ہے۔ اور ۔۔۔۔۔ منہاج پر استقامت کے معنی متعین کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا تمہارے اعمال اور تمہاری استقامت کی وجہ سے ہے۔ یعنی “ اللہ ہی ہمارا ہے ” کے منہاج اور اس پر استقامت سے عمل اور مسلسل عمل سامنے آئے اور وہ اس پر جم جائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین میں اعتقادات اور تصورات محض الفاظ ہی نہیں ہوتے کہ کوئی صرف کلمہ طیبہ کے الفاظ کہہ دے ، بلکہ کلمہ طیبہ ایک طریق زندگی ہے۔ اگر کلمہ محض الفاظ ہی ہوں ایک طرز زندگی نہ بنے تو وہ ارکان اسلام والا کلمہ نہ ہوگا۔ آج لاکھوں لوگ کلمہ طیبہ کی شہادت محض زبانی تو دیتے ہیں مگر یہ کلمہ ان کے ہونٹوں سے آگے نہیں بڑھتا اور یہ کلمہ ان کی زندگی کے اوپر کوئی اثر نہیں ڈالتا ، نہ اس کے اندر کوئی تغیر پیدا کرتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد وہ اسی طرح جاہلانہ زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح دوست بت برست کرتے ہیں ، جبکہ اپنے ہونٹوں سے وہ دن رات یہ کلمہ پڑھتے رہتے ہیں ، یہ الفاظ ہی ہوتے ہیں ، ان کی زندگیوں میں اس کا مفہوم نہیں ہوتا۔ لا الٰہ الا اللہ ، یا ربنا اللہ ، اللہ ہی ہمارا رب ہے ، یا اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ یہ تو دراصل زندگی گزارنے کا ایک طریقہ اور منہاج ہے۔ یہ مفہوم ہر مسلمان کو اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینا چاہئے تا کہ وہ پھر اس نظام کو تلاش کرے جس کی طرف ان کلمات میں اشارہ کیا گیا ہے اور وہ اس نظام پر غور کرے اور اسے قائم کرنے کی فکر کرے۔

الأحقاف 46:15

درس نمبر 238 ایک نظر میں یہ سبق انسانی فطرت کے موضوع پر ہے ، کہ جب انسان صحیح فطرت پر ہوتا ہے تو وہ کس طرح ہوتا ہے اور جب اس کی فطرت بگڑجائے تو اس کے شب و روز کیا ہوتے ہیں۔ آغاز اس نصیحت سے کیا جاتا ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ، اسلامی اخلاق و آداب اور خصوصاً والدین کے بارے میں وصیت قرآن کریم میں اسلامی عقیدے کو اپنانے کے ساتھ متصلا آتی ہے۔ اس لیے کہ ایمان کے تعلق کے بعد اسلام والدین اور اولاد کے اچھے تعلق کو اہمیت دیتا ہے۔ ایمان کے بعد ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔ اسلام لانے اور عقیدۂ توحید اپنانے کے بعد فوراً والدین کے ساتھ حسن سلوک کو کیوں لایا جاتا ہے ؟ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام احترام والدین کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اسلام اور قرآن یہ بتانا چاہتے ہیں کہ باپ اور بیٹے کے درمیان جو قوی تعلق ہے۔ یہ سب سے مضبوط تعلق ہے لیکن اسلامی تعلق اور اخوت خونی رشتوں سے بھی برتر ہے۔ اس سبق میں دو نمونے دئیے گئے ہیں ، ایک نمونہ یہ ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان خونی رشتہ بھی ہے اور اس کے بعد نظریاتی رشتہ بھی ہے تو دونوں کے درمیان یہ تعلق ہدایت یافتہ تعلق ہوگا اور دونوں اللہ تک پہنچ کر جنت کے مستحق ہوں گے۔ دوسرے نمونے میں نسب کا رشتہ ایمان کے رشتے سے جدا ہوجاتا ہے۔ یہ آپس میں نہیں ملتے۔ اس صورت میں خون کے رشتے کے باوجود اولاد جہنم کی مستحق ہوتی ہے اور پھر قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر بھی پیش کیا جاتا ہے اور اس میں فسق اور استکبار کا نقشہ پیش کیا جاتا ہے۔ درس نمبر 238 تشریح آیات 15 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 20 آیت نمبر 15 تا 16 یہ وصیت جنس انسان کے لئے ہے۔ اور یہ انسانیت کی بنیاد پر ہے۔ اس وصیت کے لئے انسان کے علاوہ کسی اور صفت کی ضرورت کو نہیں لایا گیا۔ اور احسان کے ساتھ بھی کوئی قید اور شرط نہیں لگائی۔ والد کا محض والد ہونا ہی یہ فرض کردیتا ہے کہ اس کے ساتھ احسان کیا جائے۔ والد ہونے کے ساتھ کوئی اور صفت ضروری نہیں ہے۔ اور یہ وصیت اس اللہ نے فرمائی جو انسان کا خالق ہے اور یہ وصیت شاید صرف انسان ہی کو کی گئی ہے۔ مخلوقات کی دوسری اصناف کو شاید یہ حکم نہیں دیا گیا۔ آج تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ دوسرے حیوانات ، پرندوں اور حشرات الارض کو اس قسم کی کوئی ہدایت ہو۔ ہاں یہ بات حیوانات کی فطرت میں بھی دیکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی پرورش کریں۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ وصیت صرف انسان کو ہے اور یہ ہے بھی خاصہ انسان۔ قرآن کریم میں بھی اس حکم کا تکرار ہے جو بطور وصیت کیا گیا اور احادیث میں بھی اس کی سخت تاکید آتی ہے۔ البتہ والدین کو اپنی اولاد کے بارے میں بہت ہی کم وصیت کی جاتی ہے۔ اگر کوئی ہدایت ہے تو بعض حالات کے بارے میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کی پرورش ، والدین کی فطرت کے اندر ہی رکھ دی گئی ہے۔ والدین خود بچے کی پرورش کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کو اس کام کے لئے ابھارنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ والدین بچوں کے لئے اس قدر قربانیاں دیتے ہیں کہ بعض اوقات والدین بچوں پر اپنی جان بھی قربان کردیتے ہیں۔ رنج و الم تو معمولی بات ہے اور اسی سلسلے میں وہ ان سے کوئی عوض طلب نہیں کرتے۔ نہ ان سے طالب شکر ہوتے ہیں۔ لیکن نوجوان نسل پیچھے کو کم ہی دیکھتی ہے۔ کیونکہ ان سے اس قسم کی قربانی کا ، مطالبہ خود ان کی اولاد کرتی ہے اور یونہی زندگی کی گاڑی چلتی رہتی ہے۔ لیکن اسلام نے اپنی فطری تعلیمات کی رو سے سوسائٹی کی پہلی اکائی خاندان کو مقرر کیا ہے۔ خاندان ہی وہ گہوارہ ہے جس میں ناتواں بچے پرورش پاتے ہیں اور بڑے ہوتے ہیں۔ اس گہوارے سے بچے محبت ، تعاون ، باہم کفالت اور خاندان کی تعمیر و تربیت حاصل کرتے ہیں۔ جس بچے کو کسی خاندان کی تربیت نہیں ملتی وہ اپنی شخصیت کے کسی نہ کسی پہلو سے ناقص ہوتا ہے ۔ اگرچہ خاندان کے دائرہ سے باہر اس کو ضروریات زندگی وافر مقدار میں میسر ہوں۔ اور اس کی تعلیم و تربیت کا اچھا انتظام کیا گیا ہو۔ ایسے بچے میں سب سے بڑی جو کمی ہے وہ محبت کے شعور کی کمی ہوتی ہے۔ یہ بات علمائے نفسیات کے ہاں ثابت ہوچکی ہے کہ ہر بچہ زندگی کے پہلے دو سال صرف اپنی ماں کی گود میں رہنا چاہتا ہے۔ اور وہ اس میں کسی اور کی شرکت نہیں قبول کرنا۔ دنیا میں بچوں کی پرورش کے جو مصنوعی ادارے بنائے گئے ہیں ان میں سب سے پہلے تو ماں مفقود ہوتی ہے۔ کیونکہ وہاں کام کرنے والی عورت یعنی نرس کو تو کئی بچے سنبھالنے پڑتے ہیں۔ ان بچوں کا پھر ایک دوسرے کے ساتھ حسد ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ مصنوعی مشترکہ ماں پر باہم مقابل ہوتے ہیں ، یوں بغض وعناد ان کی ابتدائی زندگی سے ان میں پروان چڑھتا ہے اور جس ننھے دل میں نفرت پیدا ہوجائے۔ اسی میں پھر محبت پیدا نہیں ہوتی۔ پھر بچے کے اوپر ایک عرصے تک ایک ہی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ اس کی شخصیت میں ثبات پیدا ہوجائے۔ اور یہ بات صرف ایک خاندان ہی میں پیدا ہو سکتی ہے۔ رہے بچوں کی پرورش کے مصنوعی ادارے تو ان میں بچہ ایک ہی مضبوط نگراں سے محروم ہوتا ہے کیونکہ مصنوعی ماؤں کی ڈیوٹیاں بھی بدلتی رہتی ہیں۔ اس لیے ان کی شخصیت کے اندر بھی انتشار ہوتا ہے۔ اور وہ مضبوط شخصیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کے اداروں کے جو تجربات سامنے آرہے ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے بچوں کی پرورش کے لئے خاندان کی نرسری کو جو ضروری قرار دیا ہے اس کے اندر بڑی گہری حکمت ہے اور بچوں کی تربیت کا فطری طریقہ وہی ہے جو اسلام نے تجویز کیا ہے ، جو ہر قسم کے نقص سے پاک ہے۔ اور قرآن یہاں اس ماں کے کردار کو قلمبند کرتا ہے۔ ماں کی مشقتیں ، ماں کی محبتیں اور ماں کی جدو جہد اور نہایت ہی کریمانہ انداز اور شریفانہ برتاؤ۔ اللہ نے اولاد کو اپنے والدین کے ساتھ احسان کرنے کی جو وصیت کی ہے ، اس کی تعمیل میں اولاد اگر رات دن لگی رہے تو بھی وہ ماں کے احسان کو پورا نہیں کرسکتی۔ حملتہ امہ کرھا ۔۔۔۔۔۔ ثلون شھرا (46 : 15) “ اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا ، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے ”۔ اللہ نے ماں کی مشقتوں کے لئے جن الفاظ کا انتخاب کیا ہے ان کا تلفظ ہی مشقت کا اظہار کردیتا ہے۔ الفاظ کی آواز اور ترنم ہی سے جہدو مشقت اور تھکاوٹ ظاہر ہوتی ہے۔ حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا (46 : 15) “ ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا ہی اسے جنا ”۔ جس طرح تھکا ماندہ آدمی لمبی لمبی سانس بھرتا ہے۔ مشکل سے سانس لیتا ہے ، تھکا ہوا ہوتا ہے۔ یہی ہوتی ہے حمل کی تصویر خصوصاً آخری دنوں میں اور وضع حمل اور اس کی مشکلات اور اس کے آلام تو ہر کسی کو معلوم ہیں۔ آج کل علم جنین بہت آگے بڑھ گیا ہے اور حمل کے تمام مراحل اور اس کے اندر ہونے والی عملیات سے انسان واقف ہوچکا ہے ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں ان تمام عملیات میں کس قدر مشقت اٹھاتی ہے اور قربانی دیتی ہے۔۔۔۔ عورت کے انڈے کے ساتھ جب مادہ منویہ کا جرثومہ ملتا ہے تو یہ رحم مادر کی دیواروں سے چپکنے کی سعی کرتا ہے اور رحم کی دیوار سے چپکتے ہی اس کی دیوار کو کھانا شروع کردیتا ہے کیونکہ اس کے اندر کھانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ چناچہ یہ رحم کی دیواروں کو دیمک کی طرح چاٹنا شرو کردیتا ہے۔ جس جگہ کو یہ کھانا شروع کرتا ہے ، وہاں ماں کا خون جمع ہوتا ہے اور ایک چھوٹا سا حوض بن جاتا ہے اور یہ انڈا جس کے اندر جرثومہ ہوتا ہے اور یہ جرثومہ دونوں خون کے اس حوض میں ہوتے ہیں اور خون کے اندر ماں کے جسم کا خلاصہ ہوتا ہے۔ اس خون کو یہ چوستا ہے اور بڑھتا رہتا ہے اور رحم کی دیواروں کو یہ چاٹتا رہتا ہے اور خون پیتا رہتا ہے۔ اور مادۂ حیات حاصل کرتا ہے۔ یہ ماں کھانا کھاتی ہے ، پانی پیتی ہے اور خوراک ہضم کر کے اس انڈے اور اس جرثومے کے لئے تازہ خون تیار کرتی ہے اور اس خونخوار جرثومے کو خوراک مہیا کرتی ہے۔ ایک ایسا وقت آتا ہے کہ بچہ کی ہڈیاں بننا شروع ہوتی ہیں اور اس وقت پھر وہ زیادہ خون چوسنا شروع کردیتا ہے۔ ایسے حالات میں بعض اوقات والدہ کو کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس دور میں عورت ہڈیوں کا گودا اس بچے کو فراہم کرتی ہے تا کہ اس بچے کا جسمانی ڈھانچہ تیار ہو ، اس عظیم جدو جہد کا یہ ایک قلیل حصہ ہے۔ پھر وضع حمل کا مرحلہ آتا ہے۔ یہ نہایت ہی پر مشقت اور کربناک عمل ہے۔ لیکن ماں کے اندر جو بےپناہ محبت ہوتی ہے اپنے بچے کے لئے ، اس کی وجہ سے یہ سب کچھ وہ برداشت کرتی ہے کیونکہ یہ تقاضائے فطرت ہے۔ یوں ماں اس چھوٹے بچے کو زندگی دیتی ہے اور خود پگھلتی جاتی ہے۔ اس کے بعد دودھ پلانے اور پھر پالنے پوسنے کا مرحلہ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے گوشت اور خون کا نچوڑ دودھ کی شکل میں اسے دیتی ہے۔ اور اپنے دل ، دماغ اور اعصاب کی پوری قوت صرف کر کے اسے پالتی ہے۔ لیکن ان تمام مشقتوں کو وہ خوشی خوشی قبول کرتی ہے۔ نہایت محبت اور رحیمانہ انداز میں۔ کبھی نہیں تھکتی ، کبھی بچے سے نفرت نہیں کرتی ، ان تمام مشقتوں کا صلہ یہ ماں صرف یہ چاہتی ہے کہ اس کا بچہ صحیح وسالم ہو اور بڑھتا ہی چلا جائے ۔ پس یہی صلہ ہے جو وہ چاہتی ہے۔ اس طویل جدو جہد اور مشقت اور قربانی کا صلہ کوئی ماں کو دے سکتا ہے۔ کوئی خواہ کتنی ہی جدو جہد کرے ، ماں کی خدمت میں ، اس کا صلہ کوئی نہیں دے سکتا۔ اگر کوئی کثیر جدو جہد بھی کرے وہ بھی قلیل ہوگی۔ ایک شخص طواف کرتے ہوئے اپنی ماں کو اٹھائے ہوئے تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آیا تو کہہ دیا کہ حضور ﷺ میں نے اس کا حق ادا کردیا تو آپ ﷺ نے فرمایا “ نہیں صرف ایک بار سانس لینے کے برابر بھی نہیں ”۔ (البزار) اب قرآن مجید اس انسان کو والدین کے ساتھ احسان کی وصیت اور ماں کی بےمثال مشقتوں اور قربانیوں کے مرحلے سے گزارکر اسے سن رشد میں لے جاتا ہے۔ اب یہ مضبوط ، توانا اور دانشمند ہے۔ اور اس کی فطرت درست ہے اور اس کا دل ہدایت یافتہ ہے ، اور یہ ہے قرآن کا انسان مطلوب ۔ حتی اذا بلغ ۔۔۔۔۔۔ من المسلمین (46 : 15) “ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا تو اس نے کہا “ اے میرے رب ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں ، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو ، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سکھ دے ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم) بندوں میں سے ہوں ”۔ انسان سن رشد کو 20 اور 40 کے درمیان پہنچ جاتا ہے ۔ چالیس سال رشدو ہدایت کی انتہا ہوتے ہیں اس میں انسان کی تمام قوتیں مکمل ہوجاتی ہیں اور انسان تدبر اور تفکر میں مکمل ہوجاتا ہے۔ اب یہ تکمیل کے مراحل طے کرجاتا ہے۔ اور اس کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس سن میں پھر وہ مستقیم الفطرت ہو ، وہ اس زندگی سے ذرا بلند ہو کر سوچتا ہے۔ اور پھر وہ پوری انسانیت کے انجام پر بھی غور کرتا ہے۔ قرآن مجید ایک ایسی شخصیت کی ذہنی واردات کو یہاں قلم بند کرتا ہے ، جو فطرت سلیمہ کی مالک ہو ، اس مرحلے میں جہاں انسان عمر کا ایک حصہ پیچھے چھوڑ چکا ہے اور اگلی عمر میں پھر وہ متوجہ الی اللہ ہوتا ہے اگر مستقیم الفطرت ہو۔ رب اوزعنی ۔۔۔۔۔ وعلیٰ والدی (46 : 15) “ اے میرے رب ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں ”۔ یہ ایک ایسے دل کی دعا ہے جو اپنے رب کی نعمتوں کا شعور رکھتا ہے کہ یہ انعامات جو تو نے مجھ پر کئے اور مجھ سے پہلے میرے والدین پر کئے اور مسلسل اگلے وقتوں سے یہ انعامات ہو رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہماری قوت شکر بہت کم ہے۔ اے اللہ آپ ہی ہمیں توفیق دیں اور ضبط دیں کہ ہم یہ شکر بجا لا سکیں۔ یہ نہ ہو کہ میں ادھر ادھر ہو کر انتشار میں اپنی قوتیں ہی ضائع کردوں اور اصل کام یعنی شکر الٰہی بجا لانے کو ایک طرف چھوڑ دوں۔ وان اعمل صالحا ترضہ (46 : 15) “ اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو ”۔ یہ دوسری دعا ہے یہ شخص اللہ کی مدد طلب کرتا ہے کہ وہ عمل صالح کرسکے۔ وہ اپنے کمال اور احسان کو رضائے ربی کے کام میں استعمال کرے کیونکہ رضائے الٰہی اس کا بڑا مقصد ہے۔ رضا ئے الٰہی کے حصول ہی کے لئے تو اس کی پوری جدو جہد ہے۔ واصلح لی فی ذریتی (46 : 15) “ اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سکھ دے ” ۔ یہ تیسری دعاء ہے ۔ ہر صالح آدمی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی صالحیت اس کی اولاد میں بھی منتقل ہو اور اس کا دل مطمئن ہو کہ اس کی اولاد میں ایسے لوگ ہیں جو اس کے بعد اللہ کی بندگی اور اس کی رضا مندی کے طالب ہوں گے۔ نیک اولاد بندۂ صالح کی پہلی تمنا ہوتی ہے اور خزانوں اور دولت کے مقابلے میں وہ نیک اولاد کو ترجیح دیتا ہے۔ زندگی کی ہر آرائش وزیبائش سے زیادہ اسے نیک اولاد پسند ہوتی ہے اور یہ دعا والدین سے اولاد کی طرف جارہی ہے کہ آنے والی نسلوں میں بھی اللہ کی بندگی ہوتی رہے۔ اور یہ جو دعائیں اور درخواستیں وہ کر رہا ہے ان کی منظوری کے لئے اس کے پاس سفارش یہ ہے کہ میں توبہ کرتا ہوں اور سر تسلیم خم کرتا ہوں۔ انی تبت الیک ولی من المسلمین (46 : 15) “ میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں تابع فرمان بندوں میں سے ہوں ” یہ ہیں ایک معیاری بندۂ صالح کی صفات اپنے رب کے حوالے سے جس کی فطرت سیدھی اور سلیم ہو۔ ایسے بندوں کے ساتھ اللہ کا تعلق پھر کیسا ہوتا ہے اس کی وضاحت بھی قرآن نے کردی ہے۔ ٭٭٭٭ اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اللہ کے ہاں جزاء اعمال حسنہ پر ہے اور گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے اور جنت کے اصل مستحقین کے ساتھ ایسے لوگ جاملیں گے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے جو سچا وعدہ ہے۔ یہ وعدہ دنیا میں کیا گیا تھا اور اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ ٭٭٭ اور اس اچھے نمونے کے بالمقابل فسق ، فجور اور گمراہی کا ملال بھی ملاحظہ ہو۔

الأحقاف 46:16

درس نمبر 238 ایک نظر میں یہ سبق انسانی فطرت کے موضوع پر ہے ، کہ جب انسان صحیح فطرت پر ہوتا ہے تو وہ کس طرح ہوتا ہے اور جب اس کی فطرت بگڑجائے تو اس کے شب و روز کیا ہوتے ہیں۔ آغاز اس نصیحت سے کیا جاتا ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ، اسلامی اخلاق و آداب اور خصوصاً والدین کے بارے میں وصیت قرآن کریم میں اسلامی عقیدے کو اپنانے کے ساتھ متصلا آتی ہے۔ اس لیے کہ ایمان کے تعلق کے بعد اسلام والدین اور اولاد کے اچھے تعلق کو اہمیت دیتا ہے۔ ایمان کے بعد ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔ اسلام لانے اور عقیدۂ توحید اپنانے کے بعد فوراً والدین کے ساتھ حسن سلوک کو کیوں لایا جاتا ہے ؟ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام احترام والدین کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اسلام اور قرآن یہ بتانا چاہتے ہیں کہ باپ اور بیٹے کے درمیان جو قوی تعلق ہے۔ یہ سب سے مضبوط تعلق ہے لیکن اسلامی تعلق اور اخوت خونی رشتوں سے بھی برتر ہے۔ اس سبق میں دو نمونے دئیے گئے ہیں ، ایک نمونہ یہ ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان خونی رشتہ بھی ہے اور اس کے بعد نظریاتی رشتہ بھی ہے تو دونوں کے درمیان یہ تعلق ہدایت یافتہ تعلق ہوگا اور دونوں اللہ تک پہنچ کر جنت کے مستحق ہوں گے۔ دوسرے نمونے میں نسب کا رشتہ ایمان کے رشتے سے جدا ہوجاتا ہے۔ یہ آپس میں نہیں ملتے۔ اس صورت میں خون کے رشتے کے باوجود اولاد جہنم کی مستحق ہوتی ہے اور پھر قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر بھی پیش کیا جاتا ہے اور اس میں فسق اور استکبار کا نقشہ پیش کیا جاتا ہے۔ درس نمبر 238 تشریح آیات 15 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 20 آیت نمبر 15 تا 16 یہ وصیت جنس انسان کے لئے ہے۔ اور یہ انسانیت کی بنیاد پر ہے۔ اس وصیت کے لئے انسان کے علاوہ کسی اور صفت کی ضرورت کو نہیں لایا گیا۔ اور احسان کے ساتھ بھی کوئی قید اور شرط نہیں لگائی۔ والد کا محض والد ہونا ہی یہ فرض کردیتا ہے کہ اس کے ساتھ احسان کیا جائے۔ والد ہونے کے ساتھ کوئی اور صفت ضروری نہیں ہے۔ اور یہ وصیت اس اللہ نے فرمائی جو انسان کا خالق ہے اور یہ وصیت شاید صرف انسان ہی کو کی گئی ہے۔ مخلوقات کی دوسری اصناف کو شاید یہ حکم نہیں دیا گیا۔ آج تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ دوسرے حیوانات ، پرندوں اور حشرات الارض کو اس قسم کی کوئی ہدایت ہو۔ ہاں یہ بات حیوانات کی فطرت میں بھی دیکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی پرورش کریں۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ وصیت صرف انسان کو ہے اور یہ ہے بھی خاصہ انسان۔ قرآن کریم میں بھی اس حکم کا تکرار ہے جو بطور وصیت کیا گیا اور احادیث میں بھی اس کی سخت تاکید آتی ہے۔ البتہ والدین کو اپنی اولاد کے بارے میں بہت ہی کم وصیت کی جاتی ہے۔ اگر کوئی ہدایت ہے تو بعض حالات کے بارے میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کی پرورش ، والدین کی فطرت کے اندر ہی رکھ دی گئی ہے۔ والدین خود بچے کی پرورش کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کو اس کام کے لئے ابھارنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ والدین بچوں کے لئے اس قدر قربانیاں دیتے ہیں کہ بعض اوقات والدین بچوں پر اپنی جان بھی قربان کردیتے ہیں۔ رنج و الم تو معمولی بات ہے اور اسی سلسلے میں وہ ان سے کوئی عوض طلب نہیں کرتے۔ نہ ان سے طالب شکر ہوتے ہیں۔ لیکن نوجوان نسل پیچھے کو کم ہی دیکھتی ہے۔ کیونکہ ان سے اس قسم کی قربانی کا ، مطالبہ خود ان کی اولاد کرتی ہے اور یونہی زندگی کی گاڑی چلتی رہتی ہے۔ لیکن اسلام نے اپنی فطری تعلیمات کی رو سے سوسائٹی کی پہلی اکائی خاندان کو مقرر کیا ہے۔ خاندان ہی وہ گہوارہ ہے جس میں ناتواں بچے پرورش پاتے ہیں اور بڑے ہوتے ہیں۔ اس گہوارے سے بچے محبت ، تعاون ، باہم کفالت اور خاندان کی تعمیر و تربیت حاصل کرتے ہیں۔ جس بچے کو کسی خاندان کی تربیت نہیں ملتی وہ اپنی شخصیت کے کسی نہ کسی پہلو سے ناقص ہوتا ہے ۔ اگرچہ خاندان کے دائرہ سے باہر اس کو ضروریات زندگی وافر مقدار میں میسر ہوں۔ اور اس کی تعلیم و تربیت کا اچھا انتظام کیا گیا ہو۔ ایسے بچے میں سب سے بڑی جو کمی ہے وہ محبت کے شعور کی کمی ہوتی ہے۔ یہ بات علمائے نفسیات کے ہاں ثابت ہوچکی ہے کہ ہر بچہ زندگی کے پہلے دو سال صرف اپنی ماں کی گود میں رہنا چاہتا ہے۔ اور وہ اس میں کسی اور کی شرکت نہیں قبول کرنا۔ دنیا میں بچوں کی پرورش کے جو مصنوعی ادارے بنائے گئے ہیں ان میں سب سے پہلے تو ماں مفقود ہوتی ہے۔ کیونکہ وہاں کام کرنے والی عورت یعنی نرس کو تو کئی بچے سنبھالنے پڑتے ہیں۔ ان بچوں کا پھر ایک دوسرے کے ساتھ حسد ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ مصنوعی مشترکہ ماں پر باہم مقابل ہوتے ہیں ، یوں بغض وعناد ان کی ابتدائی زندگی سے ان میں پروان چڑھتا ہے اور جس ننھے دل میں نفرت پیدا ہوجائے۔ اسی میں پھر محبت پیدا نہیں ہوتی۔ پھر بچے کے اوپر ایک عرصے تک ایک ہی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ اس کی شخصیت میں ثبات پیدا ہوجائے۔ اور یہ بات صرف ایک خاندان ہی میں پیدا ہو سکتی ہے۔ رہے بچوں کی پرورش کے مصنوعی ادارے تو ان میں بچہ ایک ہی مضبوط نگراں سے محروم ہوتا ہے کیونکہ مصنوعی ماؤں کی ڈیوٹیاں بھی بدلتی رہتی ہیں۔ اس لیے ان کی شخصیت کے اندر بھی انتشار ہوتا ہے۔ اور وہ مضبوط شخصیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کے اداروں کے جو تجربات سامنے آرہے ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے بچوں کی پرورش کے لئے خاندان کی نرسری کو جو ضروری قرار دیا ہے اس کے اندر بڑی گہری حکمت ہے اور بچوں کی تربیت کا فطری طریقہ وہی ہے جو اسلام نے تجویز کیا ہے ، جو ہر قسم کے نقص سے پاک ہے۔ اور قرآن یہاں اس ماں کے کردار کو قلمبند کرتا ہے۔ ماں کی مشقتیں ، ماں کی محبتیں اور ماں کی جدو جہد اور نہایت ہی کریمانہ انداز اور شریفانہ برتاؤ۔ اللہ نے اولاد کو اپنے والدین کے ساتھ احسان کرنے کی جو وصیت کی ہے ، اس کی تعمیل میں اولاد اگر رات دن لگی رہے تو بھی وہ ماں کے احسان کو پورا نہیں کرسکتی۔ حملتہ امہ کرھا ۔۔۔۔۔۔ ثلون شھرا (46 : 15) “ اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا ، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے ”۔ اللہ نے ماں کی مشقتوں کے لئے جن الفاظ کا انتخاب کیا ہے ان کا تلفظ ہی مشقت کا اظہار کردیتا ہے۔ الفاظ کی آواز اور ترنم ہی سے جہدو مشقت اور تھکاوٹ ظاہر ہوتی ہے۔ حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا (46 : 15) “ ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا ہی اسے جنا ”۔ جس طرح تھکا ماندہ آدمی لمبی لمبی سانس بھرتا ہے۔ مشکل سے سانس لیتا ہے ، تھکا ہوا ہوتا ہے۔ یہی ہوتی ہے حمل کی تصویر خصوصاً آخری دنوں میں اور وضع حمل اور اس کی مشکلات اور اس کے آلام تو ہر کسی کو معلوم ہیں۔ آج کل علم جنین بہت آگے بڑھ گیا ہے اور حمل کے تمام مراحل اور اس کے اندر ہونے والی عملیات سے انسان واقف ہوچکا ہے ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں ان تمام عملیات میں کس قدر مشقت اٹھاتی ہے اور قربانی دیتی ہے۔۔۔۔ عورت کے انڈے کے ساتھ جب مادہ منویہ کا جرثومہ ملتا ہے تو یہ رحم مادر کی دیواروں سے چپکنے کی سعی کرتا ہے اور رحم کی دیوار سے چپکتے ہی اس کی دیوار کو کھانا شروع کردیتا ہے کیونکہ اس کے اندر کھانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ چناچہ یہ رحم کی دیواروں کو دیمک کی طرح چاٹنا شرو کردیتا ہے۔ جس جگہ کو یہ کھانا شروع کرتا ہے ، وہاں ماں کا خون جمع ہوتا ہے اور ایک چھوٹا سا حوض بن جاتا ہے اور یہ انڈا جس کے اندر جرثومہ ہوتا ہے اور یہ جرثومہ دونوں خون کے اس حوض میں ہوتے ہیں اور خون کے اندر ماں کے جسم کا خلاصہ ہوتا ہے۔ اس خون کو یہ چوستا ہے اور بڑھتا رہتا ہے اور رحم کی دیواروں کو یہ چاٹتا رہتا ہے اور خون پیتا رہتا ہے۔ اور مادۂ حیات حاصل کرتا ہے۔ یہ ماں کھانا کھاتی ہے ، پانی پیتی ہے اور خوراک ہضم کر کے اس انڈے اور اس جرثومے کے لئے تازہ خون تیار کرتی ہے اور اس خونخوار جرثومے کو خوراک مہیا کرتی ہے۔ ایک ایسا وقت آتا ہے کہ بچہ کی ہڈیاں بننا شروع ہوتی ہیں اور اس وقت پھر وہ زیادہ خون چوسنا شروع کردیتا ہے۔ ایسے حالات میں بعض اوقات والدہ کو کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس دور میں عورت ہڈیوں کا گودا اس بچے کو فراہم کرتی ہے تا کہ اس بچے کا جسمانی ڈھانچہ تیار ہو ، اس عظیم جدو جہد کا یہ ایک قلیل حصہ ہے۔ پھر وضع حمل کا مرحلہ آتا ہے۔ یہ نہایت ہی پر مشقت اور کربناک عمل ہے۔ لیکن ماں کے اندر جو بےپناہ محبت ہوتی ہے اپنے بچے کے لئے ، اس کی وجہ سے یہ سب کچھ وہ برداشت کرتی ہے کیونکہ یہ تقاضائے فطرت ہے۔ یوں ماں اس چھوٹے بچے کو زندگی دیتی ہے اور خود پگھلتی جاتی ہے۔ اس کے بعد دودھ پلانے اور پھر پالنے پوسنے کا مرحلہ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے گوشت اور خون کا نچوڑ دودھ کی شکل میں اسے دیتی ہے۔ اور اپنے دل ، دماغ اور اعصاب کی پوری قوت صرف کر کے اسے پالتی ہے۔ لیکن ان تمام مشقتوں کو وہ خوشی خوشی قبول کرتی ہے۔ نہایت محبت اور رحیمانہ انداز میں۔ کبھی نہیں تھکتی ، کبھی بچے سے نفرت نہیں کرتی ، ان تمام مشقتوں کا صلہ یہ ماں صرف یہ چاہتی ہے کہ اس کا بچہ صحیح وسالم ہو اور بڑھتا ہی چلا جائے ۔ پس یہی صلہ ہے جو وہ چاہتی ہے۔ اس طویل جدو جہد اور مشقت اور قربانی کا صلہ کوئی ماں کو دے سکتا ہے۔ کوئی خواہ کتنی ہی جدو جہد کرے ، ماں کی خدمت میں ، اس کا صلہ کوئی نہیں دے سکتا۔ اگر کوئی کثیر جدو جہد بھی کرے وہ بھی قلیل ہوگی۔ ایک شخص طواف کرتے ہوئے اپنی ماں کو اٹھائے ہوئے تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آیا تو کہہ دیا کہ حضور ﷺ میں نے اس کا حق ادا کردیا تو آپ ﷺ نے فرمایا “ نہیں صرف ایک بار سانس لینے کے برابر بھی نہیں ”۔ (البزار) اب قرآن مجید اس انسان کو والدین کے ساتھ احسان کی وصیت اور ماں کی بےمثال مشقتوں اور قربانیوں کے مرحلے سے گزارکر اسے سن رشد میں لے جاتا ہے۔ اب یہ مضبوط ، توانا اور دانشمند ہے۔ اور اس کی فطرت درست ہے اور اس کا دل ہدایت یافتہ ہے ، اور یہ ہے قرآن کا انسان مطلوب ۔ حتی اذا بلغ ۔۔۔۔۔۔ من المسلمین (46 : 15) “ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا تو اس نے کہا “ اے میرے رب ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں ، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو ، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سکھ دے ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم) بندوں میں سے ہوں ”۔ انسان سن رشد کو 20 اور 40 کے درمیان پہنچ جاتا ہے ۔ چالیس سال رشدو ہدایت کی انتہا ہوتے ہیں اس میں انسان کی تمام قوتیں مکمل ہوجاتی ہیں اور انسان تدبر اور تفکر میں مکمل ہوجاتا ہے۔ اب یہ تکمیل کے مراحل طے کرجاتا ہے۔ اور اس کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس سن میں پھر وہ مستقیم الفطرت ہو ، وہ اس زندگی سے ذرا بلند ہو کر سوچتا ہے۔ اور پھر وہ پوری انسانیت کے انجام پر بھی غور کرتا ہے۔ قرآن مجید ایک ایسی شخصیت کی ذہنی واردات کو یہاں قلم بند کرتا ہے ، جو فطرت سلیمہ کی مالک ہو ، اس مرحلے میں جہاں انسان عمر کا ایک حصہ پیچھے چھوڑ چکا ہے اور اگلی عمر میں پھر وہ متوجہ الی اللہ ہوتا ہے اگر مستقیم الفطرت ہو۔ رب اوزعنی ۔۔۔۔۔ وعلیٰ والدی (46 : 15) “ اے میرے رب ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں ”۔ یہ ایک ایسے دل کی دعا ہے جو اپنے رب کی نعمتوں کا شعور رکھتا ہے کہ یہ انعامات جو تو نے مجھ پر کئے اور مجھ سے پہلے میرے والدین پر کئے اور مسلسل اگلے وقتوں سے یہ انعامات ہو رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہماری قوت شکر بہت کم ہے۔ اے اللہ آپ ہی ہمیں توفیق دیں اور ضبط دیں کہ ہم یہ شکر بجا لا سکیں۔ یہ نہ ہو کہ میں ادھر ادھر ہو کر انتشار میں اپنی قوتیں ہی ضائع کردوں اور اصل کام یعنی شکر الٰہی بجا لانے کو ایک طرف چھوڑ دوں۔ وان اعمل صالحا ترضہ (46 : 15) “ اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو ”۔ یہ دوسری دعا ہے یہ شخص اللہ کی مدد طلب کرتا ہے کہ وہ عمل صالح کرسکے۔ وہ اپنے کمال اور احسان کو رضائے ربی کے کام میں استعمال کرے کیونکہ رضائے الٰہی اس کا بڑا مقصد ہے۔ رضا ئے الٰہی کے حصول ہی کے لئے تو اس کی پوری جدو جہد ہے۔ واصلح لی فی ذریتی (46 : 15) “ اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سکھ دے ” ۔ یہ تیسری دعاء ہے ۔ ہر صالح آدمی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی صالحیت اس کی اولاد میں بھی منتقل ہو اور اس کا دل مطمئن ہو کہ اس کی اولاد میں ایسے لوگ ہیں جو اس کے بعد اللہ کی بندگی اور اس کی رضا مندی کے طالب ہوں گے۔ نیک اولاد بندۂ صالح کی پہلی تمنا ہوتی ہے اور خزانوں اور دولت کے مقابلے میں وہ نیک اولاد کو ترجیح دیتا ہے۔ زندگی کی ہر آرائش وزیبائش سے زیادہ اسے نیک اولاد پسند ہوتی ہے اور یہ دعا والدین سے اولاد کی طرف جارہی ہے کہ آنے والی نسلوں میں بھی اللہ کی بندگی ہوتی رہے۔ اور یہ جو دعائیں اور درخواستیں وہ کر رہا ہے ان کی منظوری کے لئے اس کے پاس سفارش یہ ہے کہ میں توبہ کرتا ہوں اور سر تسلیم خم کرتا ہوں۔ انی تبت الیک ولی من المسلمین (46 : 15) “ میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں تابع فرمان بندوں میں سے ہوں ” یہ ہیں ایک معیاری بندۂ صالح کی صفات اپنے رب کے حوالے سے جس کی فطرت سیدھی اور سلیم ہو۔ ایسے بندوں کے ساتھ اللہ کا تعلق پھر کیسا ہوتا ہے اس کی وضاحت بھی قرآن نے کردی ہے۔ ٭٭٭٭ اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اللہ کے ہاں جزاء اعمال حسنہ پر ہے اور گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے اور جنت کے اصل مستحقین کے ساتھ ایسے لوگ جاملیں گے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے جو سچا وعدہ ہے۔ یہ وعدہ دنیا میں کیا گیا تھا اور اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ ٭٭٭ اور اس اچھے نمونے کے بالمقابل فسق ، فجور اور گمراہی کا ملال بھی ملاحظہ ہو۔

الأحقاف 46:17

والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔ اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں : اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا جائے گا ، ایک ایک آدمی کو نہیں۔ یہ بات تو اس کو کسی نے بھی نہ کہی تھی کہ ایک ایک آدمی کو یا ایک ایک نسل کو اٹھایا جائے گا۔ یہ کوئی مزاح تو ہے نہیں۔ یہ تو آخری حساب ہوگا اور سب کا ہوگا۔ والدین اس کے منہ سے یہ کفر سنتے ہیں ، اس کی ان باتوں سے پریشان ہوجاتے ہیں ، یہ اللہ کا بھی گستاخ ہے اور ان کے ساتھ بھی گستاخانہ رویہ رکھتا ہے۔ وہ سخت پریشان ہوجاتے ہیں۔ مارے خوف کے کانپ اٹھتے ہیں۔ وھما یستغیثن ۔۔۔۔ اللہ حق (46 : 17) “ ماں اور باپ اللہ کی دہائی دے کر ، کہتے ہیں “ ارے بدنصیب مان جا ، اللہ کا وعدہ سچا ہے ” ۔ ان والدین کی باتوں سے ان کا خوف اور پریشانی ٹپکنی پڑتی ہے ، جبکہ یہ نافرمان بدبخت کفرو انکار پر مصر ہے۔ فیقول ما ۔۔۔۔۔ الاولین (46 : 17) “ مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ باتیں ہیں ” ۔ اور اللہ پھر ایسے لوگوں کے انجام کو جلد ہی ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ ٭٭٭٭٭ اولئک الذین ۔۔۔۔۔ کانوا خسرین (46 : 18) “ یہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے ، ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اسی قماش کے ) ہو گزرے ہیں ، انہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بیشک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں ”۔ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی عدالت سے ان کو خلاف فیصلہ صادر ہوجائے کیونکہ یہ منکر اور جھٹلانے والے ہیں اور اس قسم کے بہت سے لوگ موجود بھی ہیں اور گزر بھی گئے ہیں۔ انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنوں میں سے بھی ہیں۔ اور ان کے بارے میں اللہ نے جو فیصلہ کردیا ہے ، وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ اللہ کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔ انھم کانوا خسرین (46 : 18) “ بیشک یہ لوگ گھاٹے میں رہ جانے والے ہیں ”۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہوگا کہ انسان دنیا میں ایمان ویقین سے محروم ہوجائے اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور جنت سے محروم ہوجانے اور پھر دائمی طور پر عذاب جہنم میں گرفتار ہوجائے۔ ٭٭٭ اوپر جمالاً یہ بتا دیا گیا اہل ہدایت کو جزا ملے گی اور اہل ضلالت کو سزا ، اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ حساب میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوگی۔ ولکل درجت ۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ہر فرد کا اپنا اپنا مقام ہے اور ہر فرد کی اپنی اپنی کمائی ہے۔ اور ہر فرد کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ جن دو نمونوں کا اوپر ذکر ہوا۔ لوگوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں قرآن مجید نے ان کا تعین دو کرداروں اور دو افراد کی طرح کیا ہے اور یہ انداز اچھی طرح ذہن نشین ہوتا ہے۔ یوں گویا ایک متعین مثال کو بیان کیا جا رہا ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات بعض متعین افراد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی صحت کے درجے میں نہیں ہے۔ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں کو دو کرداروں کا بیان یا دو نمونے سمجھا جائے۔ دونوں نمونوں کے بیان کے بعد قرآن کریم نے جو تبصرہ دونوں پر الگ الگ کیا ہے ، وہ عام ہے۔ پہلے نمونے کے بعد وہ یہ تبصرہ آیا ہے۔ اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اور دوسرے کردار پر تبصرہ ہے۔ ولکل درجت ۔۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ان سب سے معلوم ہوتا ہے ان آیات میں دو متعین افراد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ دو عام کرداروں کا تذکرہ ہے جو ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ٭٭٭٭ اب ان کو قیامت کے ایک منظر کے سامنے کھڑا کر کے اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے کہ یہ ہوگا وہ دن جس کا تم انکار کرتے ہو۔ ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ پھر جب یہ کافر ۔۔۔۔ کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ، ان کی پاداش میں آج تم کو موت کا عذاب دیا جائے گا ”۔ یہ اسکرین پر سے بڑی تیزی سے گزر جانے والی ایک جھلک ہے ۔ گو ایک فیصلہ سنا دیا گیا لیکن دیکھنے والا گہرے غوروفکر میں ہوب جاتا ہے۔ یہ منظر اس وقت کا ہے جب آگ میں ڈالے جانے سے قبل وہ جہنم کے اوپر لائے جائیں گے۔ اس وقت ان کو بتا دیا جائے گا جس طرح مجرم کو سزا سے قبل سنا دیا جاتا ہے۔ اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستعتعتم بھا (46 : 20) “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ”۔ دنیا میں ان کو اللہ نے بہت سی پاکیزہ چیزیں دی تھیں لیکن انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت ہی میں سب کچھ لٹا دیا اور آخرت کے لئے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ انہوں نے آخرت کا کوئی خیال نہ رکھا۔ اس طرح دنیا ہی میں چرچگ گئے جس طرح جانور چرچگ جاتے ہیں۔ اور کل کا خیال نہیں کرتے۔ نہ اللہ کا شکر ادا کیا۔ نہ حرام سے بچے اور نہ کوئی نیک کام کیا۔ ان کے اس رویہ کی وجہ سے اللہ نے ان کو دنیا ہی دے دی اور آخرت میں محروم کردیا۔ ان کی بڑی غلطی یہ تھی کہ دنیا کے ان مختصر لمحات کے عیش کے لئے انہوں نے آخرت کی نہ ختم ہونے والی طویل زندگی کو بھلا دیا جس کی طوالت کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا۔ فالیوم تجذون ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ان کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا ” ۔ اس دنیا میں جو شخص بھی تکبر کرتا ہے وہ ناحق ہی کرتا ہے۔ تکبر اور گہرائی صرف اللہ کی چادر ہے۔ بڑائی کا حق اللہ کے بندوں کو نہیں ہے۔ نہ کم نہ زیادہ اور یہ توہین آمیز سزا اسی تکبر کے بدلے میں ہے اور جو لوگ فسق وفجور اختیار کرتے ہیں وہ بھی تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اسی لیے ان کو بھی توہین آمیز سزا دی جائے گی کیونکہ عزت تو اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے مخصوص ہے۔ یہ سبق انسانوں کے یہ دو ماڈل پیش کر کے یہاں ختم ہوتا ہے ، جس میں منکرین آخرت ، بدکاروں اور مستکبرین فی الارض کے لئے توہین آمیز سزا کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگ خدا خوفی پر آمادہ ہو کر سیدھی اور محفوظ راہ لیتے ہیں۔ آیت نمبر 17 تا 20 والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔ اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں : اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا جائے گا ، ایک ایک آدمی کو نہیں۔ یہ بات تو اس کو کسی نے بھی نہ کہی تھی کہ ایک ایک آدمی کو یا ایک ایک نسل کو اٹھایا جائے گا۔ یہ کوئی مزاح تو ہے نہیں۔ یہ تو آخری حساب ہوگا اور سب کا ہوگا۔ والدین اس کے منہ سے یہ کفر سنتے ہیں ، اس کی ان باتوں سے پریشان ہوجاتے ہیں ، یہ اللہ کا بھی گستاخ ہے اور ان کے ساتھ بھی گستاخانہ رویہ رکھتا ہے۔ وہ سخت پریشان ہوجاتے ہیں۔ مارے خوف کے کانپ اٹھتے ہیں۔ وھما یستغیثن ۔۔۔۔ اللہ حق (46 : 17) “ ماں اور باپ اللہ کی دہائی دے کر ، کہتے ہیں “ ارے بدنصیب مان جا ، اللہ کا وعدہ سچا ہے ” ۔ ان والدین کی باتوں سے ان کا خوف اور پریشانی ٹپکنی پڑتی ہے ، جبکہ یہ نافرمان بدبخت کفرو انکار پر مصر ہے۔ فیقول ما ۔۔۔۔۔ الاولین (46 : 17) “ مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ باتیں ہیں ” ۔ اور اللہ پھر ایسے لوگوں کے انجام کو جلد ہی ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ ٭٭٭٭٭ اولئک الذین ۔۔۔۔۔ کانوا خسرین (46 : 18) “ یہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے ، ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اسی قماش کے ) ہو گزرے ہیں ، انہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بیشک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں ”۔ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی عدالت سے ان کو خلاف فیصلہ صادر ہوجائے کیونکہ یہ منکر اور جھٹلانے والے ہیں اور اس قسم کے بہت سے لوگ موجود بھی ہیں اور گزر بھی گئے ہیں۔ انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنوں میں سے بھی ہیں۔ اور ان کے بارے میں اللہ نے جو فیصلہ کردیا ہے ، وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ اللہ کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔ انھم کانوا خسرین (46 : 18) “ بیشک یہ لوگ گھاٹے میں رہ جانے والے ہیں ”۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہوگا کہ انسان دنیا میں ایمان ویقین سے محروم ہوجائے اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور جنت سے محروم ہوجانے اور پھر دائمی طور پر عذاب جہنم میں گرفتار ہوجائے۔ ٭٭٭ اوپر جمالاً یہ بتا دیا گیا اہل ہدایت کو جزا ملے گی اور اہل ضلالت کو سزا ، اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ حساب میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوگی۔ ولکل درجت ۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ہر فرد کا اپنا اپنا مقام ہے اور ہر فرد کی اپنی اپنی کمائی ہے۔ اور ہر فرد کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ جن دو نمونوں کا اوپر ذکر ہوا۔ لوگوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں قرآن مجید نے ان کا تعین دو کرداروں اور دو افراد کی طرح کیا ہے اور یہ انداز اچھی طرح ذہن نشین ہوتا ہے۔ یوں گویا ایک متعین مثال کو بیان کیا جا رہا ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات بعض متعین افراد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی صحت کے درجے میں نہیں ہے۔ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں کو دو کرداروں کا بیان یا دو نمونے سمجھا جائے۔ دونوں نمونوں کے بیان کے بعد قرآن کریم نے جو تبصرہ دونوں پر الگ الگ کیا ہے ، وہ عام ہے۔ پہلے نمونے کے بعد وہ یہ تبصرہ آیا ہے۔ اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اور دوسرے کردار پر تبصرہ ہے۔ ولکل درجت ۔۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ان سب سے معلوم ہوتا ہے ان آیات میں دو متعین افراد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ دو عام کرداروں کا تذکرہ ہے جو ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ٭٭٭٭ اب ان کو قیامت کے ایک منظر کے سامنے کھڑا کر کے اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے کہ یہ ہوگا وہ دن جس کا تم انکار کرتے ہو۔ ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ پھر جب یہ کافر ۔۔۔۔ کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ، ان کی پاداش میں آج تم کو موت کا عذاب دیا جائے گا ”۔ یہ اسکرین پر سے بڑی تیزی سے گزر جانے والی ایک جھلک ہے ۔ گو ایک فیصلہ سنا دیا گیا لیکن دیکھنے والا گہرے غوروفکر میں ہوب جاتا ہے۔ یہ منظر اس وقت کا ہے جب آگ میں ڈالے جانے سے قبل وہ جہنم کے اوپر لائے جائیں گے۔ اس وقت ان کو بتا دیا جائے گا جس طرح مجرم کو سزا سے قبل سنا دیا جاتا ہے۔ اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستعتعتم بھا (46 : 20) “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ”۔ دنیا میں ان کو اللہ نے بہت سی پاکیزہ چیزیں دی تھیں لیکن انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت ہی میں سب کچھ لٹا دیا اور آخرت کے لئے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ انہوں نے آخرت کا کوئی خیال نہ رکھا۔ اس طرح دنیا ہی میں چرچگ گئے جس طرح جانور چرچگ جاتے ہیں۔ اور کل کا خیال نہیں کرتے۔ نہ اللہ کا شکر ادا کیا۔ نہ حرام سے بچے اور نہ کوئی نیک کام کیا۔ ان کے اس رویہ کی وجہ سے اللہ نے ان کو دنیا ہی دے دی اور آخرت میں محروم کردیا۔ ان کی بڑی غلطی یہ تھی کہ دنیا کے ان مختصر لمحات کے عیش کے لئے انہوں نے آخرت کی نہ ختم ہونے والی طویل زندگی کو بھلا دیا جس کی طوالت کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا۔ فالیوم تجذون ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ان کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا ” ۔ اس دنیا میں جو شخص بھی تکبر کرتا ہے وہ ناحق ہی کرتا ہے۔ تکبر اور گہرائی صرف اللہ کی چادر ہے۔ بڑائی کا حق اللہ کے بندوں کو نہیں ہے۔ نہ کم نہ زیادہ اور یہ توہین آمیز سزا اسی تکبر کے بدلے میں ہے اور جو لوگ فسق وفجور اختیار کرتے ہیں وہ بھی تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اسی لیے ان کو بھی توہین آمیز سزا دی جائے گی کیونکہ عزت تو اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے مخصوص ہے۔ یہ سبق انسانوں کے یہ دو ماڈل پیش کر کے یہاں ختم ہوتا ہے ، جس میں منکرین آخرت ، بدکاروں اور مستکبرین فی الارض کے لئے توہین آمیز سزا کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگ خدا خوفی پر آمادہ ہو کر سیدھی اور محفوظ راہ لیتے ہیں۔

الأحقاف 46:18

والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔ اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں : اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا جائے گا ، ایک ایک آدمی کو نہیں۔ یہ بات تو اس کو کسی نے بھی نہ کہی تھی کہ ایک ایک آدمی کو یا ایک ایک نسل کو اٹھایا جائے گا۔ یہ کوئی مزاح تو ہے نہیں۔ یہ تو آخری حساب ہوگا اور سب کا ہوگا۔ والدین اس کے منہ سے یہ کفر سنتے ہیں ، اس کی ان باتوں سے پریشان ہوجاتے ہیں ، یہ اللہ کا بھی گستاخ ہے اور ان کے ساتھ بھی گستاخانہ رویہ رکھتا ہے۔ وہ سخت پریشان ہوجاتے ہیں۔ مارے خوف کے کانپ اٹھتے ہیں۔ وھما یستغیثن ۔۔۔۔ اللہ حق (46 : 17) “ ماں اور باپ اللہ کی دہائی دے کر ، کہتے ہیں “ ارے بدنصیب مان جا ، اللہ کا وعدہ سچا ہے ” ۔ ان والدین کی باتوں سے ان کا خوف اور پریشانی ٹپکنی پڑتی ہے ، جبکہ یہ نافرمان بدبخت کفرو انکار پر مصر ہے۔ فیقول ما ۔۔۔۔۔ الاولین (46 : 17) “ مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ باتیں ہیں ” ۔ اور اللہ پھر ایسے لوگوں کے انجام کو جلد ہی ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ ٭٭٭٭٭ اولئک الذین ۔۔۔۔۔ کانوا خسرین (46 : 18) “ یہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے ، ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اسی قماش کے ) ہو گزرے ہیں ، انہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بیشک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں ”۔ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی عدالت سے ان کو خلاف فیصلہ صادر ہوجائے کیونکہ یہ منکر اور جھٹلانے والے ہیں اور اس قسم کے بہت سے لوگ موجود بھی ہیں اور گزر بھی گئے ہیں۔ انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنوں میں سے بھی ہیں۔ اور ان کے بارے میں اللہ نے جو فیصلہ کردیا ہے ، وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ اللہ کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔ انھم کانوا خسرین (46 : 18) “ بیشک یہ لوگ گھاٹے میں رہ جانے والے ہیں ”۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہوگا کہ انسان دنیا میں ایمان ویقین سے محروم ہوجائے اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور جنت سے محروم ہوجانے اور پھر دائمی طور پر عذاب جہنم میں گرفتار ہوجائے۔ ٭٭٭ اوپر جمالاً یہ بتا دیا گیا اہل ہدایت کو جزا ملے گی اور اہل ضلالت کو سزا ، اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ حساب میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوگی۔ ولکل درجت ۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ہر فرد کا اپنا اپنا مقام ہے اور ہر فرد کی اپنی اپنی کمائی ہے۔ اور ہر فرد کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ جن دو نمونوں کا اوپر ذکر ہوا۔ لوگوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں قرآن مجید نے ان کا تعین دو کرداروں اور دو افراد کی طرح کیا ہے اور یہ انداز اچھی طرح ذہن نشین ہوتا ہے۔ یوں گویا ایک متعین مثال کو بیان کیا جا رہا ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات بعض متعین افراد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی صحت کے درجے میں نہیں ہے۔ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں کو دو کرداروں کا بیان یا دو نمونے سمجھا جائے۔ دونوں نمونوں کے بیان کے بعد قرآن کریم نے جو تبصرہ دونوں پر الگ الگ کیا ہے ، وہ عام ہے۔ پہلے نمونے کے بعد وہ یہ تبصرہ آیا ہے۔ اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اور دوسرے کردار پر تبصرہ ہے۔ ولکل درجت ۔۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ان سب سے معلوم ہوتا ہے ان آیات میں دو متعین افراد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ دو عام کرداروں کا تذکرہ ہے جو ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ٭٭٭٭ اب ان کو قیامت کے ایک منظر کے سامنے کھڑا کر کے اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے کہ یہ ہوگا وہ دن جس کا تم انکار کرتے ہو۔ ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ پھر جب یہ کافر ۔۔۔۔ کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ، ان کی پاداش میں آج تم کو موت کا عذاب دیا جائے گا ”۔ یہ اسکرین پر سے بڑی تیزی سے گزر جانے والی ایک جھلک ہے ۔ گو ایک فیصلہ سنا دیا گیا لیکن دیکھنے والا گہرے غوروفکر میں ہوب جاتا ہے۔ یہ منظر اس وقت کا ہے جب آگ میں ڈالے جانے سے قبل وہ جہنم کے اوپر لائے جائیں گے۔ اس وقت ان کو بتا دیا جائے گا جس طرح مجرم کو سزا سے قبل سنا دیا جاتا ہے۔ اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستعتعتم بھا (46 : 20) “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ”۔ دنیا میں ان کو اللہ نے بہت سی پاکیزہ چیزیں دی تھیں لیکن انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت ہی میں سب کچھ لٹا دیا اور آخرت کے لئے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ انہوں نے آخرت کا کوئی خیال نہ رکھا۔ اس طرح دنیا ہی میں چرچگ گئے جس طرح جانور چرچگ جاتے ہیں۔ اور کل کا خیال نہیں کرتے۔ نہ اللہ کا شکر ادا کیا۔ نہ حرام سے بچے اور نہ کوئی نیک کام کیا۔ ان کے اس رویہ کی وجہ سے اللہ نے ان کو دنیا ہی دے دی اور آخرت میں محروم کردیا۔ ان کی بڑی غلطی یہ تھی کہ دنیا کے ان مختصر لمحات کے عیش کے لئے انہوں نے آخرت کی نہ ختم ہونے والی طویل زندگی کو بھلا دیا جس کی طوالت کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا۔ فالیوم تجذون ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ان کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا ” ۔ اس دنیا میں جو شخص بھی تکبر کرتا ہے وہ ناحق ہی کرتا ہے۔ تکبر اور گہرائی صرف اللہ کی چادر ہے۔ بڑائی کا حق اللہ کے بندوں کو نہیں ہے۔ نہ کم نہ زیادہ اور یہ توہین آمیز سزا اسی تکبر کے بدلے میں ہے اور جو لوگ فسق وفجور اختیار کرتے ہیں وہ بھی تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اسی لیے ان کو بھی توہین آمیز سزا دی جائے گی کیونکہ عزت تو اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے مخصوص ہے۔ یہ سبق انسانوں کے یہ دو ماڈل پیش کر کے یہاں ختم ہوتا ہے ، جس میں منکرین آخرت ، بدکاروں اور مستکبرین فی الارض کے لئے توہین آمیز سزا کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگ خدا خوفی پر آمادہ ہو کر سیدھی اور محفوظ راہ لیتے ہیں۔ آیت نمبر 17 تا 20 والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔ اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں : اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا جائے گا ، ایک ایک آدمی کو نہیں۔ یہ بات تو اس کو کسی نے بھی نہ کہی تھی کہ ایک ایک آدمی کو یا ایک ایک نسل کو اٹھایا جائے گا۔ یہ کوئی مزاح تو ہے نہیں۔ یہ تو آخری حساب ہوگا اور سب کا ہوگا۔ والدین اس کے منہ سے یہ کفر سنتے ہیں ، اس کی ان باتوں سے پریشان ہوجاتے ہیں ، یہ اللہ کا بھی گستاخ ہے اور ان کے ساتھ بھی گستاخانہ رویہ رکھتا ہے۔ وہ سخت پریشان ہوجاتے ہیں۔ مارے خوف کے کانپ اٹھتے ہیں۔ وھما یستغیثن ۔۔۔۔ اللہ حق (46 : 17) “ ماں اور باپ اللہ کی دہائی دے کر ، کہتے ہیں “ ارے بدنصیب مان جا ، اللہ کا وعدہ سچا ہے ” ۔ ان والدین کی باتوں سے ان کا خوف اور پریشانی ٹپکنی پڑتی ہے ، جبکہ یہ نافرمان بدبخت کفرو انکار پر مصر ہے۔ فیقول ما ۔۔۔۔۔ الاولین (46 : 17) “ مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ باتیں ہیں ” ۔ اور اللہ پھر ایسے لوگوں کے انجام کو جلد ہی ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ ٭٭٭٭٭ اولئک الذین ۔۔۔۔۔ کانوا خسرین (46 : 18) “ یہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے ، ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اسی قماش کے ) ہو گزرے ہیں ، انہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بیشک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں ”۔ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی عدالت سے ان کو خلاف فیصلہ صادر ہوجائے کیونکہ یہ منکر اور جھٹلانے والے ہیں اور اس قسم کے بہت سے لوگ موجود بھی ہیں اور گزر بھی گئے ہیں۔ انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنوں میں سے بھی ہیں۔ اور ان کے بارے میں اللہ نے جو فیصلہ کردیا ہے ، وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ اللہ کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔ انھم کانوا خسرین (46 : 18) “ بیشک یہ لوگ گھاٹے میں رہ جانے والے ہیں ”۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہوگا کہ انسان دنیا میں ایمان ویقین سے محروم ہوجائے اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور جنت سے محروم ہوجانے اور پھر دائمی طور پر عذاب جہنم میں گرفتار ہوجائے۔ ٭٭٭ اوپر جمالاً یہ بتا دیا گیا اہل ہدایت کو جزا ملے گی اور اہل ضلالت کو سزا ، اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ حساب میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوگی۔ ولکل درجت ۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ہر فرد کا اپنا اپنا مقام ہے اور ہر فرد کی اپنی اپنی کمائی ہے۔ اور ہر فرد کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ جن دو نمونوں کا اوپر ذکر ہوا۔ لوگوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں قرآن مجید نے ان کا تعین دو کرداروں اور دو افراد کی طرح کیا ہے اور یہ انداز اچھی طرح ذہن نشین ہوتا ہے۔ یوں گویا ایک متعین مثال کو بیان کیا جا رہا ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات بعض متعین افراد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی صحت کے درجے میں نہیں ہے۔ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں کو دو کرداروں کا بیان یا دو نمونے سمجھا جائے۔ دونوں نمونوں کے بیان کے بعد قرآن کریم نے جو تبصرہ دونوں پر الگ الگ کیا ہے ، وہ عام ہے۔ پہلے نمونے کے بعد وہ یہ تبصرہ آیا ہے۔ اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اور دوسرے کردار پر تبصرہ ہے۔ ولکل درجت ۔۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ان سب سے معلوم ہوتا ہے ان آیات میں دو متعین افراد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ دو عام کرداروں کا تذکرہ ہے جو ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ٭٭٭٭ اب ان کو قیامت کے ایک منظر کے سامنے کھڑا کر کے اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے کہ یہ ہوگا وہ دن جس کا تم انکار کرتے ہو۔ ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ پھر جب یہ کافر ۔۔۔۔ کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ، ان کی پاداش میں آج تم کو موت کا عذاب دیا جائے گا ”۔ یہ اسکرین پر سے بڑی تیزی سے گزر جانے والی ایک جھلک ہے ۔ گو ایک فیصلہ سنا دیا گیا لیکن دیکھنے والا گہرے غوروفکر میں ہوب جاتا ہے۔ یہ منظر اس وقت کا ہے جب آگ میں ڈالے جانے سے قبل وہ جہنم کے اوپر لائے جائیں گے۔ اس وقت ان کو بتا دیا جائے گا جس طرح مجرم کو سزا سے قبل سنا دیا جاتا ہے۔ اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستعتعتم بھا (46 : 20) “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ”۔ دنیا میں ان کو اللہ نے بہت سی پاکیزہ چیزیں دی تھیں لیکن انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت ہی میں سب کچھ لٹا دیا اور آخرت کے لئے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ انہوں نے آخرت کا کوئی خیال نہ رکھا۔ اس طرح دنیا ہی میں چرچگ گئے جس طرح جانور چرچگ جاتے ہیں۔ اور کل کا خیال نہیں کرتے۔ نہ اللہ کا شکر ادا کیا۔ نہ حرام سے بچے اور نہ کوئی نیک کام کیا۔ ان کے اس رویہ کی وجہ سے اللہ نے ان کو دنیا ہی دے دی اور آخرت میں محروم کردیا۔ ان کی بڑی غلطی یہ تھی کہ دنیا کے ان مختصر لمحات کے عیش کے لئے انہوں نے آخرت کی نہ ختم ہونے والی طویل زندگی کو بھلا دیا جس کی طوالت کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا۔ فالیوم تجذون ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ان کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا ” ۔ اس دنیا میں جو شخص بھی تکبر کرتا ہے وہ ناحق ہی کرتا ہے۔ تکبر اور گہرائی صرف اللہ کی چادر ہے۔ بڑائی کا حق اللہ کے بندوں کو نہیں ہے۔ نہ کم نہ زیادہ اور یہ توہین آمیز سزا اسی تکبر کے بدلے میں ہے اور جو لوگ فسق وفجور اختیار کرتے ہیں وہ بھی تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اسی لیے ان کو بھی توہین آمیز سزا دی جائے گی کیونکہ عزت تو اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے مخصوص ہے۔ یہ سبق انسانوں کے یہ دو ماڈل پیش کر کے یہاں ختم ہوتا ہے ، جس میں منکرین آخرت ، بدکاروں اور مستکبرین فی الارض کے لئے توہین آمیز سزا کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگ خدا خوفی پر آمادہ ہو کر سیدھی اور محفوظ راہ لیتے ہیں۔

الأحقاف 46:19

والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔ اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں : اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا جائے گا ، ایک ایک آدمی کو نہیں۔ یہ بات تو اس کو کسی نے بھی نہ کہی تھی کہ ایک ایک آدمی کو یا ایک ایک نسل کو اٹھایا جائے گا۔ یہ کوئی مزاح تو ہے نہیں۔ یہ تو آخری حساب ہوگا اور سب کا ہوگا۔ والدین اس کے منہ سے یہ کفر سنتے ہیں ، اس کی ان باتوں سے پریشان ہوجاتے ہیں ، یہ اللہ کا بھی گستاخ ہے اور ان کے ساتھ بھی گستاخانہ رویہ رکھتا ہے۔ وہ سخت پریشان ہوجاتے ہیں۔ مارے خوف کے کانپ اٹھتے ہیں۔ وھما یستغیثن ۔۔۔۔ اللہ حق (46 : 17) “ ماں اور باپ اللہ کی دہائی دے کر ، کہتے ہیں “ ارے بدنصیب مان جا ، اللہ کا وعدہ سچا ہے ” ۔ ان والدین کی باتوں سے ان کا خوف اور پریشانی ٹپکنی پڑتی ہے ، جبکہ یہ نافرمان بدبخت کفرو انکار پر مصر ہے۔ فیقول ما ۔۔۔۔۔ الاولین (46 : 17) “ مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ باتیں ہیں ” ۔ اور اللہ پھر ایسے لوگوں کے انجام کو جلد ہی ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ ٭٭٭٭٭ اولئک الذین ۔۔۔۔۔ کانوا خسرین (46 : 18) “ یہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے ، ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اسی قماش کے ) ہو گزرے ہیں ، انہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بیشک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں ”۔ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی عدالت سے ان کو خلاف فیصلہ صادر ہوجائے کیونکہ یہ منکر اور جھٹلانے والے ہیں اور اس قسم کے بہت سے لوگ موجود بھی ہیں اور گزر بھی گئے ہیں۔ انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنوں میں سے بھی ہیں۔ اور ان کے بارے میں اللہ نے جو فیصلہ کردیا ہے ، وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ اللہ کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔ انھم کانوا خسرین (46 : 18) “ بیشک یہ لوگ گھاٹے میں رہ جانے والے ہیں ”۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہوگا کہ انسان دنیا میں ایمان ویقین سے محروم ہوجائے اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور جنت سے محروم ہوجانے اور پھر دائمی طور پر عذاب جہنم میں گرفتار ہوجائے۔ ٭٭٭ اوپر جمالاً یہ بتا دیا گیا اہل ہدایت کو جزا ملے گی اور اہل ضلالت کو سزا ، اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ حساب میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوگی۔ ولکل درجت ۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ہر فرد کا اپنا اپنا مقام ہے اور ہر فرد کی اپنی اپنی کمائی ہے۔ اور ہر فرد کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ جن دو نمونوں کا اوپر ذکر ہوا۔ لوگوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں قرآن مجید نے ان کا تعین دو کرداروں اور دو افراد کی طرح کیا ہے اور یہ انداز اچھی طرح ذہن نشین ہوتا ہے۔ یوں گویا ایک متعین مثال کو بیان کیا جا رہا ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات بعض متعین افراد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی صحت کے درجے میں نہیں ہے۔ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں کو دو کرداروں کا بیان یا دو نمونے سمجھا جائے۔ دونوں نمونوں کے بیان کے بعد قرآن کریم نے جو تبصرہ دونوں پر الگ الگ کیا ہے ، وہ عام ہے۔ پہلے نمونے کے بعد وہ یہ تبصرہ آیا ہے۔ اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اور دوسرے کردار پر تبصرہ ہے۔ ولکل درجت ۔۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ان سب سے معلوم ہوتا ہے ان آیات میں دو متعین افراد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ دو عام کرداروں کا تذکرہ ہے جو ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ٭٭٭٭ اب ان کو قیامت کے ایک منظر کے سامنے کھڑا کر کے اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے کہ یہ ہوگا وہ دن جس کا تم انکار کرتے ہو۔ ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ پھر جب یہ کافر ۔۔۔۔ کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ، ان کی پاداش میں آج تم کو موت کا عذاب دیا جائے گا ”۔ یہ اسکرین پر سے بڑی تیزی سے گزر جانے والی ایک جھلک ہے ۔ گو ایک فیصلہ سنا دیا گیا لیکن دیکھنے والا گہرے غوروفکر میں ہوب جاتا ہے۔ یہ منظر اس وقت کا ہے جب آگ میں ڈالے جانے سے قبل وہ جہنم کے اوپر لائے جائیں گے۔ اس وقت ان کو بتا دیا جائے گا جس طرح مجرم کو سزا سے قبل سنا دیا جاتا ہے۔ اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستعتعتم بھا (46 : 20) “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ”۔ دنیا میں ان کو اللہ نے بہت سی پاکیزہ چیزیں دی تھیں لیکن انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت ہی میں سب کچھ لٹا دیا اور آخرت کے لئے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ انہوں نے آخرت کا کوئی خیال نہ رکھا۔ اس طرح دنیا ہی میں چرچگ گئے جس طرح جانور چرچگ جاتے ہیں۔ اور کل کا خیال نہیں کرتے۔ نہ اللہ کا شکر ادا کیا۔ نہ حرام سے بچے اور نہ کوئی نیک کام کیا۔ ان کے اس رویہ کی وجہ سے اللہ نے ان کو دنیا ہی دے دی اور آخرت میں محروم کردیا۔ ان کی بڑی غلطی یہ تھی کہ دنیا کے ان مختصر لمحات کے عیش کے لئے انہوں نے آخرت کی نہ ختم ہونے والی طویل زندگی کو بھلا دیا جس کی طوالت کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا۔ فالیوم تجذون ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ان کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا ” ۔ اس دنیا میں جو شخص بھی تکبر کرتا ہے وہ ناحق ہی کرتا ہے۔ تکبر اور گہرائی صرف اللہ کی چادر ہے۔ بڑائی کا حق اللہ کے بندوں کو نہیں ہے۔ نہ کم نہ زیادہ اور یہ توہین آمیز سزا اسی تکبر کے بدلے میں ہے اور جو لوگ فسق وفجور اختیار کرتے ہیں وہ بھی تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اسی لیے ان کو بھی توہین آمیز سزا دی جائے گی کیونکہ عزت تو اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے مخصوص ہے۔ یہ سبق انسانوں کے یہ دو ماڈل پیش کر کے یہاں ختم ہوتا ہے ، جس میں منکرین آخرت ، بدکاروں اور مستکبرین فی الارض کے لئے توہین آمیز سزا کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگ خدا خوفی پر آمادہ ہو کر سیدھی اور محفوظ راہ لیتے ہیں۔ آیت نمبر 17 تا 20 والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔ اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں : اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا جائے گا ، ایک ایک آدمی کو نہیں۔ یہ بات تو اس کو کسی نے بھی نہ کہی تھی کہ ایک ایک آدمی کو یا ایک ایک نسل کو اٹھایا جائے گا۔ یہ کوئی مزاح تو ہے نہیں۔ یہ تو آخری حساب ہوگا اور سب کا ہوگا۔ والدین اس کے منہ سے یہ کفر سنتے ہیں ، اس کی ان باتوں سے پریشان ہوجاتے ہیں ، یہ اللہ کا بھی گستاخ ہے اور ان کے ساتھ بھی گستاخانہ رویہ رکھتا ہے۔ وہ سخت پریشان ہوجاتے ہیں۔ مارے خوف کے کانپ اٹھتے ہیں۔ وھما یستغیثن ۔۔۔۔ اللہ حق (46 : 17) “ ماں اور باپ اللہ کی دہائی دے کر ، کہتے ہیں “ ارے بدنصیب مان جا ، اللہ کا وعدہ سچا ہے ” ۔ ان والدین کی باتوں سے ان کا خوف اور پریشانی ٹپکنی پڑتی ہے ، جبکہ یہ نافرمان بدبخت کفرو انکار پر مصر ہے۔ فیقول ما ۔۔۔۔۔ الاولین (46 : 17) “ مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ باتیں ہیں ” ۔ اور اللہ پھر ایسے لوگوں کے انجام کو جلد ہی ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ ٭٭٭٭٭ اولئک الذین ۔۔۔۔۔ کانوا خسرین (46 : 18) “ یہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے ، ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اسی قماش کے ) ہو گزرے ہیں ، انہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بیشک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں ”۔ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی عدالت سے ان کو خلاف فیصلہ صادر ہوجائے کیونکہ یہ منکر اور جھٹلانے والے ہیں اور اس قسم کے بہت سے لوگ موجود بھی ہیں اور گزر بھی گئے ہیں۔ انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنوں میں سے بھی ہیں۔ اور ان کے بارے میں اللہ نے جو فیصلہ کردیا ہے ، وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ اللہ کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔ انھم کانوا خسرین (46 : 18) “ بیشک یہ لوگ گھاٹے میں رہ جانے والے ہیں ”۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہوگا کہ انسان دنیا میں ایمان ویقین سے محروم ہوجائے اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور جنت سے محروم ہوجانے اور پھر دائمی طور پر عذاب جہنم میں گرفتار ہوجائے۔ ٭٭٭ اوپر جمالاً یہ بتا دیا گیا اہل ہدایت کو جزا ملے گی اور اہل ضلالت کو سزا ، اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ حساب میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوگی۔ ولکل درجت ۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ہر فرد کا اپنا اپنا مقام ہے اور ہر فرد کی اپنی اپنی کمائی ہے۔ اور ہر فرد کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ جن دو نمونوں کا اوپر ذکر ہوا۔ لوگوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں قرآن مجید نے ان کا تعین دو کرداروں اور دو افراد کی طرح کیا ہے اور یہ انداز اچھی طرح ذہن نشین ہوتا ہے۔ یوں گویا ایک متعین مثال کو بیان کیا جا رہا ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات بعض متعین افراد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی صحت کے درجے میں نہیں ہے۔ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں کو دو کرداروں کا بیان یا دو نمونے سمجھا جائے۔ دونوں نمونوں کے بیان کے بعد قرآن کریم نے جو تبصرہ دونوں پر الگ الگ کیا ہے ، وہ عام ہے۔ پہلے نمونے کے بعد وہ یہ تبصرہ آیا ہے۔ اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اور دوسرے کردار پر تبصرہ ہے۔ ولکل درجت ۔۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ان سب سے معلوم ہوتا ہے ان آیات میں دو متعین افراد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ دو عام کرداروں کا تذکرہ ہے جو ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ٭٭٭٭ اب ان کو قیامت کے ایک منظر کے سامنے کھڑا کر کے اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے کہ یہ ہوگا وہ دن جس کا تم انکار کرتے ہو۔ ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ پھر جب یہ کافر ۔۔۔۔ کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ، ان کی پاداش میں آج تم کو موت کا عذاب دیا جائے گا ”۔ یہ اسکرین پر سے بڑی تیزی سے گزر جانے والی ایک جھلک ہے ۔ گو ایک فیصلہ سنا دیا گیا لیکن دیکھنے والا گہرے غوروفکر میں ہوب جاتا ہے۔ یہ منظر اس وقت کا ہے جب آگ میں ڈالے جانے سے قبل وہ جہنم کے اوپر لائے جائیں گے۔ اس وقت ان کو بتا دیا جائے گا جس طرح مجرم کو سزا سے قبل سنا دیا جاتا ہے۔ اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستعتعتم بھا (46 : 20) “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ”۔ دنیا میں ان کو اللہ نے بہت سی پاکیزہ چیزیں دی تھیں لیکن انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت ہی میں سب کچھ لٹا دیا اور آخرت کے لئے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ انہوں نے آخرت کا کوئی خیال نہ رکھا۔ اس طرح دنیا ہی میں چرچگ گئے جس طرح جانور چرچگ جاتے ہیں۔ اور کل کا خیال نہیں کرتے۔ نہ اللہ کا شکر ادا کیا۔ نہ حرام سے بچے اور نہ کوئی نیک کام کیا۔ ان کے اس رویہ کی وجہ سے اللہ نے ان کو دنیا ہی دے دی اور آخرت میں محروم کردیا۔ ان کی بڑی غلطی یہ تھی کہ دنیا کے ان مختصر لمحات کے عیش کے لئے انہوں نے آخرت کی نہ ختم ہونے والی طویل زندگی کو بھلا دیا جس کی طوالت کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا۔ فالیوم تجذون ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ان کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا ” ۔ اس دنیا میں جو شخص بھی تکبر کرتا ہے وہ ناحق ہی کرتا ہے۔ تکبر اور گہرائی صرف اللہ کی چادر ہے۔ بڑائی کا حق اللہ کے بندوں کو نہیں ہے۔ نہ کم نہ زیادہ اور یہ توہین آمیز سزا اسی تکبر کے بدلے میں ہے اور جو لوگ فسق وفجور اختیار کرتے ہیں وہ بھی تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اسی لیے ان کو بھی توہین آمیز سزا دی جائے گی کیونکہ عزت تو اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے مخصوص ہے۔ یہ سبق انسانوں کے یہ دو ماڈل پیش کر کے یہاں ختم ہوتا ہے ، جس میں منکرین آخرت ، بدکاروں اور مستکبرین فی الارض کے لئے توہین آمیز سزا کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگ خدا خوفی پر آمادہ ہو کر سیدھی اور محفوظ راہ لیتے ہیں۔