Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الأحقاف 46:20 – الفتح 48:29

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الأحقاف 46:20
  2. الأحقاف 46:21
  3. الأحقاف 46:22
  4. الأحقاف 46:23
  5. الأحقاف 46:24
  6. الأحقاف 46:25
  7. الأحقاف 46:26
  8. الأحقاف 46:27
  9. الأحقاف 46:28
  10. الأحقاف 46:29
  11. الأحقاف 46:30
  12. الأحقاف 46:31
  13. الأحقاف 46:32
  14. الأحقاف 46:33
  15. الأحقاف 46:34
  16. الأحقاف 46:35
  17. محمد 47:1
  18. محمد 47:2
  19. محمد 47:3
  20. محمد 47:4
  21. محمد 47:5
  22. محمد 47:6
  23. محمد 47:7
  24. محمد 47:8
  25. محمد 47:9
  26. محمد 47:10
  27. محمد 47:11
  28. محمد 47:12
  29. محمد 47:13
  30. محمد 47:14
  31. محمد 47:15
  32. محمد 47:16
  33. محمد 47:17
  34. محمد 47:18
  35. محمد 47:19
  36. محمد 47:20
  37. محمد 47:21
  38. محمد 47:22
  39. محمد 47:23
  40. محمد 47:24
  41. محمد 47:25
  42. محمد 47:26
  43. محمد 47:27
  44. محمد 47:28
  45. محمد 47:29
  46. محمد 47:30
  47. محمد 47:31
  48. محمد 47:32
  49. محمد 47:33
  50. محمد 47:34
  51. محمد 47:35
  52. محمد 47:36
  53. محمد 47:37
  54. محمد 47:38
  55. الفتح 48:1
  56. الفتح 48:2
  57. الفتح 48:3
  58. الفتح 48:4
  59. الفتح 48:5
  60. الفتح 48:6
  61. الفتح 48:7
  62. الفتح 48:8
  63. الفتح 48:9
  64. الفتح 48:10
  65. الفتح 48:11
  66. الفتح 48:12
  67. الفتح 48:13
  68. الفتح 48:14
  69. الفتح 48:15
  70. الفتح 48:16
  71. الفتح 48:17
  72. الفتح 48:18
  73. الفتح 48:19
  74. الفتح 48:20
  75. الفتح 48:21
  76. الفتح 48:22
  77. الفتح 48:23
  78. الفتح 48:24
  79. الفتح 48:25
  80. الفتح 48:26
  81. الفتح 48:27
  82. الفتح 48:28
  83. الفتح 48:29

الأحقاف 46:20

والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔ اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں : اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا جائے گا ، ایک ایک آدمی کو نہیں۔ یہ بات تو اس کو کسی نے بھی نہ کہی تھی کہ ایک ایک آدمی کو یا ایک ایک نسل کو اٹھایا جائے گا۔ یہ کوئی مزاح تو ہے نہیں۔ یہ تو آخری حساب ہوگا اور سب کا ہوگا۔ والدین اس کے منہ سے یہ کفر سنتے ہیں ، اس کی ان باتوں سے پریشان ہوجاتے ہیں ، یہ اللہ کا بھی گستاخ ہے اور ان کے ساتھ بھی گستاخانہ رویہ رکھتا ہے۔ وہ سخت پریشان ہوجاتے ہیں۔ مارے خوف کے کانپ اٹھتے ہیں۔ وھما یستغیثن ۔۔۔۔ اللہ حق (46 : 17) “ ماں اور باپ اللہ کی دہائی دے کر ، کہتے ہیں “ ارے بدنصیب مان جا ، اللہ کا وعدہ سچا ہے ” ۔ ان والدین کی باتوں سے ان کا خوف اور پریشانی ٹپکنی پڑتی ہے ، جبکہ یہ نافرمان بدبخت کفرو انکار پر مصر ہے۔ فیقول ما ۔۔۔۔۔ الاولین (46 : 17) “ مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ باتیں ہیں ” ۔ اور اللہ پھر ایسے لوگوں کے انجام کو جلد ہی ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ ٭٭٭٭٭ اولئک الذین ۔۔۔۔۔ کانوا خسرین (46 : 18) “ یہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے ، ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اسی قماش کے ) ہو گزرے ہیں ، انہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بیشک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں ”۔ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی عدالت سے ان کو خلاف فیصلہ صادر ہوجائے کیونکہ یہ منکر اور جھٹلانے والے ہیں اور اس قسم کے بہت سے لوگ موجود بھی ہیں اور گزر بھی گئے ہیں۔ انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنوں میں سے بھی ہیں۔ اور ان کے بارے میں اللہ نے جو فیصلہ کردیا ہے ، وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ اللہ کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔ انھم کانوا خسرین (46 : 18) “ بیشک یہ لوگ گھاٹے میں رہ جانے والے ہیں ”۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہوگا کہ انسان دنیا میں ایمان ویقین سے محروم ہوجائے اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور جنت سے محروم ہوجانے اور پھر دائمی طور پر عذاب جہنم میں گرفتار ہوجائے۔ ٭٭٭ اوپر جمالاً یہ بتا دیا گیا اہل ہدایت کو جزا ملے گی اور اہل ضلالت کو سزا ، اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ حساب میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوگی۔ ولکل درجت ۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ہر فرد کا اپنا اپنا مقام ہے اور ہر فرد کی اپنی اپنی کمائی ہے۔ اور ہر فرد کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ جن دو نمونوں کا اوپر ذکر ہوا۔ لوگوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں قرآن مجید نے ان کا تعین دو کرداروں اور دو افراد کی طرح کیا ہے اور یہ انداز اچھی طرح ذہن نشین ہوتا ہے۔ یوں گویا ایک متعین مثال کو بیان کیا جا رہا ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات بعض متعین افراد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی صحت کے درجے میں نہیں ہے۔ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں کو دو کرداروں کا بیان یا دو نمونے سمجھا جائے۔ دونوں نمونوں کے بیان کے بعد قرآن کریم نے جو تبصرہ دونوں پر الگ الگ کیا ہے ، وہ عام ہے۔ پہلے نمونے کے بعد وہ یہ تبصرہ آیا ہے۔ اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اور دوسرے کردار پر تبصرہ ہے۔ ولکل درجت ۔۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ان سب سے معلوم ہوتا ہے ان آیات میں دو متعین افراد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ دو عام کرداروں کا تذکرہ ہے جو ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ٭٭٭٭ اب ان کو قیامت کے ایک منظر کے سامنے کھڑا کر کے اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے کہ یہ ہوگا وہ دن جس کا تم انکار کرتے ہو۔ ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ پھر جب یہ کافر ۔۔۔۔ کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ، ان کی پاداش میں آج تم کو موت کا عذاب دیا جائے گا ”۔ یہ اسکرین پر سے بڑی تیزی سے گزر جانے والی ایک جھلک ہے ۔ گو ایک فیصلہ سنا دیا گیا لیکن دیکھنے والا گہرے غوروفکر میں ہوب جاتا ہے۔ یہ منظر اس وقت کا ہے جب آگ میں ڈالے جانے سے قبل وہ جہنم کے اوپر لائے جائیں گے۔ اس وقت ان کو بتا دیا جائے گا جس طرح مجرم کو سزا سے قبل سنا دیا جاتا ہے۔ اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستعتعتم بھا (46 : 20) “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ”۔ دنیا میں ان کو اللہ نے بہت سی پاکیزہ چیزیں دی تھیں لیکن انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت ہی میں سب کچھ لٹا دیا اور آخرت کے لئے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ انہوں نے آخرت کا کوئی خیال نہ رکھا۔ اس طرح دنیا ہی میں چرچگ گئے جس طرح جانور چرچگ جاتے ہیں۔ اور کل کا خیال نہیں کرتے۔ نہ اللہ کا شکر ادا کیا۔ نہ حرام سے بچے اور نہ کوئی نیک کام کیا۔ ان کے اس رویہ کی وجہ سے اللہ نے ان کو دنیا ہی دے دی اور آخرت میں محروم کردیا۔ ان کی بڑی غلطی یہ تھی کہ دنیا کے ان مختصر لمحات کے عیش کے لئے انہوں نے آخرت کی نہ ختم ہونے والی طویل زندگی کو بھلا دیا جس کی طوالت کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا۔ فالیوم تجذون ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ان کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا ” ۔ اس دنیا میں جو شخص بھی تکبر کرتا ہے وہ ناحق ہی کرتا ہے۔ تکبر اور گہرائی صرف اللہ کی چادر ہے۔ بڑائی کا حق اللہ کے بندوں کو نہیں ہے۔ نہ کم نہ زیادہ اور یہ توہین آمیز سزا اسی تکبر کے بدلے میں ہے اور جو لوگ فسق وفجور اختیار کرتے ہیں وہ بھی تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اسی لیے ان کو بھی توہین آمیز سزا دی جائے گی کیونکہ عزت تو اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے مخصوص ہے۔ یہ سبق انسانوں کے یہ دو ماڈل پیش کر کے یہاں ختم ہوتا ہے ، جس میں منکرین آخرت ، بدکاروں اور مستکبرین فی الارض کے لئے توہین آمیز سزا کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگ خدا خوفی پر آمادہ ہو کر سیدھی اور محفوظ راہ لیتے ہیں۔ آیت نمبر 17 تا 20 والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔ اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں : اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا جائے گا ، ایک ایک آدمی کو نہیں۔ یہ بات تو اس کو کسی نے بھی نہ کہی تھی کہ ایک ایک آدمی کو یا ایک ایک نسل کو اٹھایا جائے گا۔ یہ کوئی مزاح تو ہے نہیں۔ یہ تو آخری حساب ہوگا اور سب کا ہوگا۔ والدین اس کے منہ سے یہ کفر سنتے ہیں ، اس کی ان باتوں سے پریشان ہوجاتے ہیں ، یہ اللہ کا بھی گستاخ ہے اور ان کے ساتھ بھی گستاخانہ رویہ رکھتا ہے۔ وہ سخت پریشان ہوجاتے ہیں۔ مارے خوف کے کانپ اٹھتے ہیں۔ وھما یستغیثن ۔۔۔۔ اللہ حق (46 : 17) “ ماں اور باپ اللہ کی دہائی دے کر ، کہتے ہیں “ ارے بدنصیب مان جا ، اللہ کا وعدہ سچا ہے ” ۔ ان والدین کی باتوں سے ان کا خوف اور پریشانی ٹپکنی پڑتی ہے ، جبکہ یہ نافرمان بدبخت کفرو انکار پر مصر ہے۔ فیقول ما ۔۔۔۔۔ الاولین (46 : 17) “ مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ باتیں ہیں ” ۔ اور اللہ پھر ایسے لوگوں کے انجام کو جلد ہی ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ ٭٭٭٭٭ اولئک الذین ۔۔۔۔۔ کانوا خسرین (46 : 18) “ یہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے ، ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اسی قماش کے ) ہو گزرے ہیں ، انہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بیشک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں ”۔ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی عدالت سے ان کو خلاف فیصلہ صادر ہوجائے کیونکہ یہ منکر اور جھٹلانے والے ہیں اور اس قسم کے بہت سے لوگ موجود بھی ہیں اور گزر بھی گئے ہیں۔ انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنوں میں سے بھی ہیں۔ اور ان کے بارے میں اللہ نے جو فیصلہ کردیا ہے ، وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ اللہ کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔ انھم کانوا خسرین (46 : 18) “ بیشک یہ لوگ گھاٹے میں رہ جانے والے ہیں ”۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہوگا کہ انسان دنیا میں ایمان ویقین سے محروم ہوجائے اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور جنت سے محروم ہوجانے اور پھر دائمی طور پر عذاب جہنم میں گرفتار ہوجائے۔ ٭٭٭ اوپر جمالاً یہ بتا دیا گیا اہل ہدایت کو جزا ملے گی اور اہل ضلالت کو سزا ، اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ حساب میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوگی۔ ولکل درجت ۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ہر فرد کا اپنا اپنا مقام ہے اور ہر فرد کی اپنی اپنی کمائی ہے۔ اور ہر فرد کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ جن دو نمونوں کا اوپر ذکر ہوا۔ لوگوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں قرآن مجید نے ان کا تعین دو کرداروں اور دو افراد کی طرح کیا ہے اور یہ انداز اچھی طرح ذہن نشین ہوتا ہے۔ یوں گویا ایک متعین مثال کو بیان کیا جا رہا ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات بعض متعین افراد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی صحت کے درجے میں نہیں ہے۔ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں کو دو کرداروں کا بیان یا دو نمونے سمجھا جائے۔ دونوں نمونوں کے بیان کے بعد قرآن کریم نے جو تبصرہ دونوں پر الگ الگ کیا ہے ، وہ عام ہے۔ پہلے نمونے کے بعد وہ یہ تبصرہ آیا ہے۔ اولئک الذین نتقبل ۔۔۔۔۔ کانوا یوعدون (46 : 16) “ اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔ یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے ”۔ اور دوسرے کردار پر تبصرہ ہے۔ ولکل درجت ۔۔۔۔۔ لا یظلمون (46 : 19) “ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا ”۔ ان سب سے معلوم ہوتا ہے ان آیات میں دو متعین افراد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ دو عام کرداروں کا تذکرہ ہے جو ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ٭٭٭٭ اب ان کو قیامت کے ایک منظر کے سامنے کھڑا کر کے اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے کہ یہ ہوگا وہ دن جس کا تم انکار کرتے ہو۔ ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ پھر جب یہ کافر ۔۔۔۔ کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ، ان کی پاداش میں آج تم کو موت کا عذاب دیا جائے گا ”۔ یہ اسکرین پر سے بڑی تیزی سے گزر جانے والی ایک جھلک ہے ۔ گو ایک فیصلہ سنا دیا گیا لیکن دیکھنے والا گہرے غوروفکر میں ہوب جاتا ہے۔ یہ منظر اس وقت کا ہے جب آگ میں ڈالے جانے سے قبل وہ جہنم کے اوپر لائے جائیں گے۔ اس وقت ان کو بتا دیا جائے گا جس طرح مجرم کو سزا سے قبل سنا دیا جاتا ہے۔ اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستعتعتم بھا (46 : 20) “ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا ”۔ دنیا میں ان کو اللہ نے بہت سی پاکیزہ چیزیں دی تھیں لیکن انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت ہی میں سب کچھ لٹا دیا اور آخرت کے لئے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ انہوں نے آخرت کا کوئی خیال نہ رکھا۔ اس طرح دنیا ہی میں چرچگ گئے جس طرح جانور چرچگ جاتے ہیں۔ اور کل کا خیال نہیں کرتے۔ نہ اللہ کا شکر ادا کیا۔ نہ حرام سے بچے اور نہ کوئی نیک کام کیا۔ ان کے اس رویہ کی وجہ سے اللہ نے ان کو دنیا ہی دے دی اور آخرت میں محروم کردیا۔ ان کی بڑی غلطی یہ تھی کہ دنیا کے ان مختصر لمحات کے عیش کے لئے انہوں نے آخرت کی نہ ختم ہونے والی طویل زندگی کو بھلا دیا جس کی طوالت کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا۔ فالیوم تجذون ۔۔۔۔۔ کنتم تفسقون (46 : 20) “ اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ان کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا ” ۔ اس دنیا میں جو شخص بھی تکبر کرتا ہے وہ ناحق ہی کرتا ہے۔ تکبر اور گہرائی صرف اللہ کی چادر ہے۔ بڑائی کا حق اللہ کے بندوں کو نہیں ہے۔ نہ کم نہ زیادہ اور یہ توہین آمیز سزا اسی تکبر کے بدلے میں ہے اور جو لوگ فسق وفجور اختیار کرتے ہیں وہ بھی تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اسی لیے ان کو بھی توہین آمیز سزا دی جائے گی کیونکہ عزت تو اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے مخصوص ہے۔ یہ سبق انسانوں کے یہ دو ماڈل پیش کر کے یہاں ختم ہوتا ہے ، جس میں منکرین آخرت ، بدکاروں اور مستکبرین فی الارض کے لئے توہین آمیز سزا کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگ خدا خوفی پر آمادہ ہو کر سیدھی اور محفوظ راہ لیتے ہیں۔

الأحقاف 46:21

درس نمبر 239 ایک نظر میں یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود وقیود کے اندر ان کو جوابات دئیے تھے ، لیکن اہل مکہ کو معلوم ہے کہ ان پر اللہ کا کیسا سخت عذاب آیا۔ ان کی قوت اس عذاب کا مقابلہ نہ کرسکی۔ حالانکہ اہل مکہ سے وہ زیادہ قوی الجثہ تھے۔ ان کی دولت اور ثروت ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکی۔ حالانکہ وہ ان سے زیادہ دولت مند تھے۔ وہ انہی کی طرح آنکھیں ، کان اور دل و دماغ رکھتے تھے مگر انہوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ ان کے مقابلے میں وہ ذہنی لحاظ سے بھی اونچے تھے اور انہوں نے جو الہہ بنا رکھے تھے وہ بھی ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے۔ غرض مشرکین مکہ کو خود اپنے اسلاف کے انجام کے سامنے کھڑا کر کے قرآن ان کا نقشہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور بتاتا ہے مکہ رسالت کا یہ ایک ہی سلسلہ اور شجرہ ہے ، ایک ہی دعوت ہے اور سنت الٰہیہ بھی ایک ہے۔ انہوں نے انکار کیا۔ ہلاک ہوئے ، تم انکار کرتے ہو ، ہلاکت کے مستحق بنتے ہو۔ عقیدۂ توحید کوئی نیا گھڑا ہوا عقیدہ نہیں ہے ، یہ دعوت نوح (علیہ السلام) سے ادھر تاریخ میں چلی آرہی ہے۔ زمان و مکان کے اختلاف سے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ درس نمبر 239 تشریح آیات 21 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 28 آیت نمبر 21 تا 28 احقاف ، حقف کی جمع ہے جس کے معنی ریت کے بلند ٹیلے کے ہیں ، اہل عاد کے مکانات جزیرۃ العرب کے جنوب میں حضر موت کے علاقے میں بلند ٹیلوں پر تھے۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی عاد کی کہانی سنائیں اور یہ بتائیں کہ ان کے بھائی ہود نے بھی اسی طرح اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔ یہ اس لیے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں قوم عاد کا رد عمل ایسا ہی تھا جس طرح اہل قریش آپ کی دعوت کی تکذیب کر رہے ہیں جس طرح آپ ان میں سے ہیں اسی طرح حضرت ہود بھی عاد ہی میں سے تھے مگر یہ لوگ ذرا سنبھلیں کہ دعوت حق کی تکذیب کے ویسے ہی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ عاد کا علاقہ قریش کے قریب تھا اور ان کے واقعات سے وہ باخبر بھی تھے۔ عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا ، حضرت ہود بھی رسولوں میں سے کوئی پہلے رسول نہ تھے۔ ان سے پہلے بھی کئی اقوام میں رسول آچکے تھے۔ وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ (46 : 21) “ اور ایسے خبردار کرنے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے ”۔ زمان و مکان کے اعتبار سے ان کے قریب بھی تھے اور ان سے دور بھی تھے۔ کیونکہ لوگوں کو انجام بد سے ڈرانے کا سلسلہ اللہ نے اپنی مخلوق کے لئے جاری رکھا ، دعوت و رسالت زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے۔ یہ کوئی عجیب و غریب اور غیر معمولی بات تو نہ تھی۔ اور ان کو اس چیز اور اس دعوت اور اسی بات سے ڈراؤ جس سے تمام رسول ڈراتے رہے۔ الا تعبدوا ۔۔۔۔۔۔۔ یوم عظیم (46 : 21) “ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ”۔ اللہ کی بندگی کرو ، یعنی عقیدہ بھی توحید کا رکھو اور پوری زندگی میں اطاعت بھی اللہ کے احکام کی کرو ، اور اگر تم اس دعوت کی مخالفت کرو گے تو اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اشارہ یوم عظیم کے عذاب کی طرف ہے۔ یوم عظیم کا اطلاق قرآن مجید میں قیامت پر ہوتا ہے کہ قیامت کی خوفناکیاں عظیم و شدید ہیں۔ توجہ الی اللہ کی اس دعوت اور عذاب الٰہی سے ڈرانے کا انجام کیا ہوا۔ ٭٭٭٭ قالوا اجئتنا ۔۔۔۔ من الصدقین (46 : 22) “ انہوں نے کہا “ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے ؟ اچھا تو لے آ ، اپنا وہ عذاب جس سے ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے ”۔ انہوں نے اپنے بھائی پر بدگمانی کی اور الٹا ان کو چیلنج دے دیا کہ لاؤ وہ عذاب جس سے ڈراتے ہو اور اس کے ساتھ انہوں نے ان کا مذاق بھی اڑایا ۔ اور باطل پر اصرار کیا۔ حضرت ہود ایک نبی کی طرح یہ سب باتیں برداشت کرتے ہیں۔ کوئی بڑا دعویٰ نہیں کرتے اور اپنے حدود میں رہتے ہوئے کہتے ہیں۔ ٭٭٭ قال انما العلم ۔۔۔۔ قوما تجھلون (46 : 23) “ اس نے کہا “ اس کا علم تو اللہ کو ہے ، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ میں تو تمہیں عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں ڈراؤں۔ مجھے کیا معلوم کہ عذاب کب آئے گا اور عذاب کیسا ہوگا۔ ان امور کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو اللہ کی طرف سے صرف پیغام پہنچانے والا ہوں۔ میں اللہ کے ساتھ علم اور قدرت میں شریک نہیں ہوں۔ ولکنی ارکم قوما تجھلون (46 : 23) “ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ بہت ہی کم عقل نظر آرہے ہو ، اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوگی کہ ایک بھائی اور ناصح مشفق ڈرا رہا ہے اور جواب میں وہ چیلنج دیتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان دعوت اسلامی کے سلسلے میں طویل مکالمہ اور مجادلہ ہوا تھا۔ یہاں قرآن کریم اسے مختصر کردیتا ہے کیونکہ یہاں جلد جلد ان کے سامنے انجام بد پیش کرنا ہے ، تا کہ ان کے چیلنج اور جلد بازی کا جواب دیا جاسکے۔ ٭٭٭٭ فلما راوہ عارضا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (24) تدمر کل شیء ۔۔۔۔۔۔ القوم المجرمین (25) (46 : 24- 25) “ پھر جب انہوں نے اس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔۔۔۔ “ نہیں ، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے ، اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ”۔ روایت میں آتا ہے کہ ان کو شدید گرمی نے آلیا ۔ بارش رک گئی اور خشکی اور سخت گرمی کی وجہ سے علاقہ آگ اور دھواں بن گیا ۔ اس کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا آیا۔ یہ لوگ بہت خوش ہوئے اور ان لوگوں نے وادیوں میں نکل کر اس بادل کا استقبال کیا۔ سمجھتے تھے کہ بس اب بارش ہوگی۔ قالوا ھذا عارض ممطرنا (46 : 24) “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔ اور لسان الحال نے ان کو یہ جواب دیا۔ بل ھو ما ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (46 : 24) تدمر کل شیء بامر ربھا (46 : 25) “ نہیں بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے۔ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ یہ نہایت تیز چلنے والی ہوا ہے۔ اور اس قدر سخت اور بےقابو ہے جس طرح کوئی سرکش جابر ہوتا ہے۔ ما تذر ۔۔۔۔۔ کالرمیم (51 : 42) “ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا ”۔ قرآن کی اس آیت میں ہوا کو ایک زندہ مخلوق کی طرح بتایا گیا ہے گویا وہ سنتی ہے اور اسے حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو نیست و نابود کر کے رکھ دو ۔ تدمر کل شییء بامر ربھا (46 : 25) “ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کرنے والی ” یہ ہے وہ کائناتی حقیقت جس کا شعور قرآن کریم بار بار انسانوں کو دیتا ہے۔ یوں کہ یہ کائنات بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح ہم زندہ ہیں۔ اس کی تمام قوتیں شعور رکھتی ہیں۔ یہ تمام اشیاء اللہ کے احکام لیتی ہیں اور بجا لاتی ہیں۔ انسان بھی ان قوتوں میں سے ایک قوت ہے۔ جب وہ ایمان لے آئے اور اس کا قلب معرفت الٰہی کے لئے کھل جائے تو پھر وہ بھی اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات قوتوں سے پیغام لے سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ہمقدم ہو کر چل سکتا ہے۔ اور یہ قوتیں بھی اس کے ساتھ چل سکتی ہیں۔ یہ چیزیں بھی مومن کے ساتھ اس طرح ہمقدم ہو کر چلتی ہیں ، لیکن اس ہم آہنگی کی صورت وہ نہیں ہوتی جو زندہ انسانوں کی ہوتی ہے۔ درحقیقت گو ہر چیز زندہ ہے لیکن اس کی زندگی اس طرح نہیں جس طرح کی زندگی کے ہم عادی ہیں۔ ہم صرف زندگی کی ظاہری صورتیں ہی دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے اگرچہ ہماری یہ آنکھیں ان کو نہیں دیکھ سکتیں۔ بہرحال اس ہوا کو جو حکم دیا گیا اس نے وہ پورا کردیا۔ اس نے ہر چیز کو نیست و نابود کردیا۔ فاصبحوا لا یری الا مسکنھم (46 : 25) “ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا ”۔ رہے وہ ، ان کے مویشی ، ان کے مال و اسباب تو ان میں سے کوئی چیز نہ رہی۔ خالی خولی مکانات و محلات رہ گئے ۔ کوئی زندہ شخص ان میں نہ تھا۔ کذلک نجزی القوم المجرمین (46 : 25) “ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ” ۔ یہ سنت جاریہ ہے اور مجرموں پر نافذ ہونے والی تقدیر الٰہی ہے۔ ٭٭٭ تباہی کے اس نقشے کو دیکھنے والوں کی طرف ایک نکتہ توجہ ! کہ دیکھو حضرت ہود (علیہ السلام) کی طرح تم بھی حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہو۔ ولقد مکنھم فبما ۔۔۔۔۔ بہ یستھزءون (46 : 26) “ ان کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔ ان کو ہم نے کان ، آنکھیں اور دل سب کچھ دے رکھے تھے ، مگر نہ وہ کان ان کے کسی کام آئے ، نہ آنکھیں ، نہ دل۔ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ، اور اسی چیز کے ۔۔۔۔۔ میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ یہ لوگ جن کو اللہ کی قوتوں میں سے ایک معمولی قوت ۔۔۔۔ کردیا ، ان کو ہم نے وہ قوت دی جو اے اہل قریش ، تم کو نہیں دی گئی۔ قوت ، مال ، علم اور سازوسامان میں وہ تم سے زیادہ تھے۔ اسی طرح سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی قوت بھی ان میں تم سے زیادہ تھی۔ قرآن کریم قوت مدرکہ کو کبھی دل کہتا ہے ، کبھی دماغ کہتا ہے اور کبھی عقل کہتا ہے۔ سب سے مراد قوت مدرکہ ہوتی ہے۔ یعنی ان کے یہ حواس بڑے ترقی یافتہ تھے مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ انہوں نے راہ ہدایت دیکھنے میں ان کو معطل کردیا۔ اذ کانوا یجحدون بایت اللہ (46 : 26) “ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ”۔ اور جب انسان آیات الٰہیہ کا انکار کر دے تو اس کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اور اس کا احساس روشنی اور نور اور ادراک ختم ہوجاتا ہے۔ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون (46 : 26) “ اور اسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ” یعنی عذاب الٰہی اور مصیبت۔ اس واقعہ سے قرآن ہر صاحب سمع و بصر اور قلب کو جو سبق دینا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی قوت والا اپنی قوت پر مغرور نہ ہو ، کوئی مالدار شخص اپنے مال پر مغرور نہ ہو ، کوئی صاحب علم اپنے علم پر مغرور نہ ہو۔ اس لیے کہ اللہ کی ان کائناتی قوتوں میں سے یہ ایک ہی قوت تھی جسے اللہ نے ان زبردست قوت والے ، مال والے اور علم والے لوگوں پر مسلط کیا اور انہیں ختم کر کے رکھ دیا۔ اور وہ یوں رہ گئے کہ صرف عالیشان ، مکانات ہی رہ گئے اور بس۔ اور جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہی ہوتا ہے۔ ہوا ایک ایسی قوت ہے جو مسلسل کام کرتی ہے اور یہ اللہ کے کائنات نظام کے مطابق چلتی ہے۔ اللہ جس وقت چاہے اسے بربادی پر مامور کر دے۔ عام طور پر تو وہ تعمیر کا کام کرتی ہے لیکن جب اللہ چاہے تو وہ ہلاک کرنا شروع کردیتی ہے۔ تمام کائناتی قوتیں جو ایک ڈگر پر کام کرتی نظر آتی ہیں ان کا سبب ان کے اندر یہی امر ربی ہے اور جب امر ربی دوسرا حکم دے تو یہ دوسرا کام کرتی ہیں جو کوتاہ نظر انسانوں کو خارق عادت نظر آتا ہے۔ نظام اسباب پیدا کرنے و الا اللہ ہے۔ وہ ہر چیز کو ، ہر حرکت کو ، ہر حادثہ کو ، ہر رحجان کو ، ہر شخص کو اور ہر کام کو اپنے احکام اور اپنے نقشے کے مطابق چلاتا ہے۔ اور جس جگہ بھی وہ کام ہوتا ہے اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمیں وہ کام خارق عادت نظر آئے۔ ہوا بھی دوسری کائناتی قوتوں کی طرح اپنا مقررہ وظیفہ سر انجام دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی قوت اور دوسری کائناتی قوتیں جو انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہیں وہ کائناتی نقشے کے مطابق کام کرتی ہیں۔ جو نہی انسان حرکت میں آتا ہے یہ قوتیں بھی ان کے ہم قدم ہو کر حرکت کرتی ہیں۔ یوں وہ اسکیم اپنا کام کرتی ہے جو اللہ نے اس دنیا کے لئے مقرر کی ہے۔ انسان کو جو ارادے کی آزادی دی گئی ہے تو وہ اس کائنات نظام کے فریم ورک کے اندر ہے۔ جسے اس کائنات کا ناموس کلی کہا جاتا ہے جسے نظام قضا و قدر کہا جاتا ہے ۔ اور جسے سنت الہٰیہ کہا جاتا ہے جس کے اندر کوئی تغیر اور اضطراب نہیں ہوتا۔ ٭٭٭ اب اس سبق کا خاتمہ ایک عام تبصرے پر ہوتا ہے جس میں عاد کے سوا دوسری بستیوں کا بھی ذکر ہے جو مکہ کے ارد گرد زمانہ ما قبل میں ہلاک ہوئیں۔ ولقد اھلکنا ۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (27) فلولا نصرھم ۔۔۔۔۔۔ کانوا یفترون (46 : 28) “ تمہارے گردوپیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ۔ ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے ان کو سمجھایا ، شاید کہ وہ باز آجائیں ۔ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ، اور یہ تھا ان کے جھوٹ اور ان بناؤٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ جزیرۃ العرب میں کئی بستیوں کو ہلاک کیا گیا تھا ، جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ احقات میں عاد ہلاک ہوئے۔ یہ جنوب میں تھے اور ثمود حجر میں ہلاک ہوئے جو شمال میں تھے اور سبا یمن میں ہلاک ہوئے اور اہل مدین شام کی راہ میں تھے۔ اسی طرح ذرا مزید شمال میں لوط کی بستیاں تھیں اور اہل عرب ان کی کہانیوں سے بھی واقف تھے اور ان بستیوں سے گزرتے رہتے تھے۔ ان آیات میں اللہ نے ان کی طرف ان کے انجام کی طرف اشارہ کیا کہ شاید مکہ کے مکذبین باز آجائیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو بار بار سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے۔ اور اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے گئے ۔ تب ان پر ہمارے عذاب آئے ، قسم قسم کے عذاب ۔ ان کے بارے میں بعد کے آنے والے ان کی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ عرب کے موجودہ مشرک بھی ان کو سنتے اور جانتے ہیں اور صبح و شام ان بستیوں میں سے گزرتے رہتے ہیں اور ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں لیکن اے کاش کہ وہ عبرت لیتے۔ یہاں اب قرآن مجید مشرکین مکہ کو ایک حقیقت واقعہ بتاتا ہے۔ اللہ نے ان سے پہلے بھی مشرکین کو ہلاک کیا اور ان کو نیست و نابود کردیا اور ان میں سے ایک شخص بھی زندہ نہ رہا۔ لیکن وہ جن معبودوں کو پکارتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ یہ ان کو اللہ کے قریب تر لاتے ہیں تو ان ہستیوں نے کیوں نہ اللہ کے غصب کو کم کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا۔ فلو لا نصرھم الذین ۔۔۔۔۔۔ قربانا الھۃ (46 : 28) “ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ”۔ نہ صرف یہ کہ ان ہستیوں نے ان کی مدد نہ کی بلکہ بل ضلوا عنھم (46 : 28) “ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ”۔ اور انہوں نے ان لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیا ، اور ان کو ان معبودوں تک بھیجنے کا راستہ بھی معلوم نہ ہوا تا کہ وہ ان کو پکڑیں اور اللہ کے عذاب سے بچنے میں ان کی مدد لیں۔ وذلک افکھم وما کانوا یفترون (46 : 28) “ اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان بنیادی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا یہ انجام ہے ۔ اور یہ ان معبود ان باطل کی حقیقت ہے۔ اور اس شرک اور عبادت کا یہ انجام ہے کہ یہ لوگ نیت و نابود کر دئیے گئے۔ لہٰذا مکہ کے ان مشرکوں کو جو ان معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں خدا کے قریب کریں گے ، اپنے اس فعل کے بارے میں سوچ لینا چاہئے کہ اس کا انجام کیا ہوگا اور ایسے عقائد کا انجام تاریخ میں کیا ہوتا رہا ہے

الأحقاف 46:22

درس نمبر 239 ایک نظر میں یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود وقیود کے اندر ان کو جوابات دئیے تھے ، لیکن اہل مکہ کو معلوم ہے کہ ان پر اللہ کا کیسا سخت عذاب آیا۔ ان کی قوت اس عذاب کا مقابلہ نہ کرسکی۔ حالانکہ اہل مکہ سے وہ زیادہ قوی الجثہ تھے۔ ان کی دولت اور ثروت ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکی۔ حالانکہ وہ ان سے زیادہ دولت مند تھے۔ وہ انہی کی طرح آنکھیں ، کان اور دل و دماغ رکھتے تھے مگر انہوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ ان کے مقابلے میں وہ ذہنی لحاظ سے بھی اونچے تھے اور انہوں نے جو الہہ بنا رکھے تھے وہ بھی ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے۔ غرض مشرکین مکہ کو خود اپنے اسلاف کے انجام کے سامنے کھڑا کر کے قرآن ان کا نقشہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور بتاتا ہے مکہ رسالت کا یہ ایک ہی سلسلہ اور شجرہ ہے ، ایک ہی دعوت ہے اور سنت الٰہیہ بھی ایک ہے۔ انہوں نے انکار کیا۔ ہلاک ہوئے ، تم انکار کرتے ہو ، ہلاکت کے مستحق بنتے ہو۔ عقیدۂ توحید کوئی نیا گھڑا ہوا عقیدہ نہیں ہے ، یہ دعوت نوح (علیہ السلام) سے ادھر تاریخ میں چلی آرہی ہے۔ زمان و مکان کے اختلاف سے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ درس نمبر 239 تشریح آیات 21 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 28 آیت نمبر 21 تا 28 احقاف ، حقف کی جمع ہے جس کے معنی ریت کے بلند ٹیلے کے ہیں ، اہل عاد کے مکانات جزیرۃ العرب کے جنوب میں حضر موت کے علاقے میں بلند ٹیلوں پر تھے۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی عاد کی کہانی سنائیں اور یہ بتائیں کہ ان کے بھائی ہود نے بھی اسی طرح اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔ یہ اس لیے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں قوم عاد کا رد عمل ایسا ہی تھا جس طرح اہل قریش آپ کی دعوت کی تکذیب کر رہے ہیں جس طرح آپ ان میں سے ہیں اسی طرح حضرت ہود بھی عاد ہی میں سے تھے مگر یہ لوگ ذرا سنبھلیں کہ دعوت حق کی تکذیب کے ویسے ہی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ عاد کا علاقہ قریش کے قریب تھا اور ان کے واقعات سے وہ باخبر بھی تھے۔ عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا ، حضرت ہود بھی رسولوں میں سے کوئی پہلے رسول نہ تھے۔ ان سے پہلے بھی کئی اقوام میں رسول آچکے تھے۔ وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ (46 : 21) “ اور ایسے خبردار کرنے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے ”۔ زمان و مکان کے اعتبار سے ان کے قریب بھی تھے اور ان سے دور بھی تھے۔ کیونکہ لوگوں کو انجام بد سے ڈرانے کا سلسلہ اللہ نے اپنی مخلوق کے لئے جاری رکھا ، دعوت و رسالت زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے۔ یہ کوئی عجیب و غریب اور غیر معمولی بات تو نہ تھی۔ اور ان کو اس چیز اور اس دعوت اور اسی بات سے ڈراؤ جس سے تمام رسول ڈراتے رہے۔ الا تعبدوا ۔۔۔۔۔۔۔ یوم عظیم (46 : 21) “ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ”۔ اللہ کی بندگی کرو ، یعنی عقیدہ بھی توحید کا رکھو اور پوری زندگی میں اطاعت بھی اللہ کے احکام کی کرو ، اور اگر تم اس دعوت کی مخالفت کرو گے تو اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اشارہ یوم عظیم کے عذاب کی طرف ہے۔ یوم عظیم کا اطلاق قرآن مجید میں قیامت پر ہوتا ہے کہ قیامت کی خوفناکیاں عظیم و شدید ہیں۔ توجہ الی اللہ کی اس دعوت اور عذاب الٰہی سے ڈرانے کا انجام کیا ہوا۔ ٭٭٭٭ قالوا اجئتنا ۔۔۔۔ من الصدقین (46 : 22) “ انہوں نے کہا “ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے ؟ اچھا تو لے آ ، اپنا وہ عذاب جس سے ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے ”۔ انہوں نے اپنے بھائی پر بدگمانی کی اور الٹا ان کو چیلنج دے دیا کہ لاؤ وہ عذاب جس سے ڈراتے ہو اور اس کے ساتھ انہوں نے ان کا مذاق بھی اڑایا ۔ اور باطل پر اصرار کیا۔ حضرت ہود ایک نبی کی طرح یہ سب باتیں برداشت کرتے ہیں۔ کوئی بڑا دعویٰ نہیں کرتے اور اپنے حدود میں رہتے ہوئے کہتے ہیں۔ ٭٭٭ قال انما العلم ۔۔۔۔ قوما تجھلون (46 : 23) “ اس نے کہا “ اس کا علم تو اللہ کو ہے ، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ میں تو تمہیں عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں ڈراؤں۔ مجھے کیا معلوم کہ عذاب کب آئے گا اور عذاب کیسا ہوگا۔ ان امور کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو اللہ کی طرف سے صرف پیغام پہنچانے والا ہوں۔ میں اللہ کے ساتھ علم اور قدرت میں شریک نہیں ہوں۔ ولکنی ارکم قوما تجھلون (46 : 23) “ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ بہت ہی کم عقل نظر آرہے ہو ، اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوگی کہ ایک بھائی اور ناصح مشفق ڈرا رہا ہے اور جواب میں وہ چیلنج دیتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان دعوت اسلامی کے سلسلے میں طویل مکالمہ اور مجادلہ ہوا تھا۔ یہاں قرآن کریم اسے مختصر کردیتا ہے کیونکہ یہاں جلد جلد ان کے سامنے انجام بد پیش کرنا ہے ، تا کہ ان کے چیلنج اور جلد بازی کا جواب دیا جاسکے۔ ٭٭٭٭ فلما راوہ عارضا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (24) تدمر کل شیء ۔۔۔۔۔۔ القوم المجرمین (25) (46 : 24- 25) “ پھر جب انہوں نے اس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔۔۔۔ “ نہیں ، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے ، اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ”۔ روایت میں آتا ہے کہ ان کو شدید گرمی نے آلیا ۔ بارش رک گئی اور خشکی اور سخت گرمی کی وجہ سے علاقہ آگ اور دھواں بن گیا ۔ اس کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا آیا۔ یہ لوگ بہت خوش ہوئے اور ان لوگوں نے وادیوں میں نکل کر اس بادل کا استقبال کیا۔ سمجھتے تھے کہ بس اب بارش ہوگی۔ قالوا ھذا عارض ممطرنا (46 : 24) “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔ اور لسان الحال نے ان کو یہ جواب دیا۔ بل ھو ما ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (46 : 24) تدمر کل شیء بامر ربھا (46 : 25) “ نہیں بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے۔ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ یہ نہایت تیز چلنے والی ہوا ہے۔ اور اس قدر سخت اور بےقابو ہے جس طرح کوئی سرکش جابر ہوتا ہے۔ ما تذر ۔۔۔۔۔ کالرمیم (51 : 42) “ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا ”۔ قرآن کی اس آیت میں ہوا کو ایک زندہ مخلوق کی طرح بتایا گیا ہے گویا وہ سنتی ہے اور اسے حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو نیست و نابود کر کے رکھ دو ۔ تدمر کل شییء بامر ربھا (46 : 25) “ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کرنے والی ” یہ ہے وہ کائناتی حقیقت جس کا شعور قرآن کریم بار بار انسانوں کو دیتا ہے۔ یوں کہ یہ کائنات بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح ہم زندہ ہیں۔ اس کی تمام قوتیں شعور رکھتی ہیں۔ یہ تمام اشیاء اللہ کے احکام لیتی ہیں اور بجا لاتی ہیں۔ انسان بھی ان قوتوں میں سے ایک قوت ہے۔ جب وہ ایمان لے آئے اور اس کا قلب معرفت الٰہی کے لئے کھل جائے تو پھر وہ بھی اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات قوتوں سے پیغام لے سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ہمقدم ہو کر چل سکتا ہے۔ اور یہ قوتیں بھی اس کے ساتھ چل سکتی ہیں۔ یہ چیزیں بھی مومن کے ساتھ اس طرح ہمقدم ہو کر چلتی ہیں ، لیکن اس ہم آہنگی کی صورت وہ نہیں ہوتی جو زندہ انسانوں کی ہوتی ہے۔ درحقیقت گو ہر چیز زندہ ہے لیکن اس کی زندگی اس طرح نہیں جس طرح کی زندگی کے ہم عادی ہیں۔ ہم صرف زندگی کی ظاہری صورتیں ہی دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے اگرچہ ہماری یہ آنکھیں ان کو نہیں دیکھ سکتیں۔ بہرحال اس ہوا کو جو حکم دیا گیا اس نے وہ پورا کردیا۔ اس نے ہر چیز کو نیست و نابود کردیا۔ فاصبحوا لا یری الا مسکنھم (46 : 25) “ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا ”۔ رہے وہ ، ان کے مویشی ، ان کے مال و اسباب تو ان میں سے کوئی چیز نہ رہی۔ خالی خولی مکانات و محلات رہ گئے ۔ کوئی زندہ شخص ان میں نہ تھا۔ کذلک نجزی القوم المجرمین (46 : 25) “ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ” ۔ یہ سنت جاریہ ہے اور مجرموں پر نافذ ہونے والی تقدیر الٰہی ہے۔ ٭٭٭ تباہی کے اس نقشے کو دیکھنے والوں کی طرف ایک نکتہ توجہ ! کہ دیکھو حضرت ہود (علیہ السلام) کی طرح تم بھی حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہو۔ ولقد مکنھم فبما ۔۔۔۔۔ بہ یستھزءون (46 : 26) “ ان کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔ ان کو ہم نے کان ، آنکھیں اور دل سب کچھ دے رکھے تھے ، مگر نہ وہ کان ان کے کسی کام آئے ، نہ آنکھیں ، نہ دل۔ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ، اور اسی چیز کے ۔۔۔۔۔ میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ یہ لوگ جن کو اللہ کی قوتوں میں سے ایک معمولی قوت ۔۔۔۔ کردیا ، ان کو ہم نے وہ قوت دی جو اے اہل قریش ، تم کو نہیں دی گئی۔ قوت ، مال ، علم اور سازوسامان میں وہ تم سے زیادہ تھے۔ اسی طرح سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی قوت بھی ان میں تم سے زیادہ تھی۔ قرآن کریم قوت مدرکہ کو کبھی دل کہتا ہے ، کبھی دماغ کہتا ہے اور کبھی عقل کہتا ہے۔ سب سے مراد قوت مدرکہ ہوتی ہے۔ یعنی ان کے یہ حواس بڑے ترقی یافتہ تھے مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ انہوں نے راہ ہدایت دیکھنے میں ان کو معطل کردیا۔ اذ کانوا یجحدون بایت اللہ (46 : 26) “ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ”۔ اور جب انسان آیات الٰہیہ کا انکار کر دے تو اس کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اور اس کا احساس روشنی اور نور اور ادراک ختم ہوجاتا ہے۔ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون (46 : 26) “ اور اسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ” یعنی عذاب الٰہی اور مصیبت۔ اس واقعہ سے قرآن ہر صاحب سمع و بصر اور قلب کو جو سبق دینا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی قوت والا اپنی قوت پر مغرور نہ ہو ، کوئی مالدار شخص اپنے مال پر مغرور نہ ہو ، کوئی صاحب علم اپنے علم پر مغرور نہ ہو۔ اس لیے کہ اللہ کی ان کائناتی قوتوں میں سے یہ ایک ہی قوت تھی جسے اللہ نے ان زبردست قوت والے ، مال والے اور علم والے لوگوں پر مسلط کیا اور انہیں ختم کر کے رکھ دیا۔ اور وہ یوں رہ گئے کہ صرف عالیشان ، مکانات ہی رہ گئے اور بس۔ اور جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہی ہوتا ہے۔ ہوا ایک ایسی قوت ہے جو مسلسل کام کرتی ہے اور یہ اللہ کے کائنات نظام کے مطابق چلتی ہے۔ اللہ جس وقت چاہے اسے بربادی پر مامور کر دے۔ عام طور پر تو وہ تعمیر کا کام کرتی ہے لیکن جب اللہ چاہے تو وہ ہلاک کرنا شروع کردیتی ہے۔ تمام کائناتی قوتیں جو ایک ڈگر پر کام کرتی نظر آتی ہیں ان کا سبب ان کے اندر یہی امر ربی ہے اور جب امر ربی دوسرا حکم دے تو یہ دوسرا کام کرتی ہیں جو کوتاہ نظر انسانوں کو خارق عادت نظر آتا ہے۔ نظام اسباب پیدا کرنے و الا اللہ ہے۔ وہ ہر چیز کو ، ہر حرکت کو ، ہر حادثہ کو ، ہر رحجان کو ، ہر شخص کو اور ہر کام کو اپنے احکام اور اپنے نقشے کے مطابق چلاتا ہے۔ اور جس جگہ بھی وہ کام ہوتا ہے اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمیں وہ کام خارق عادت نظر آئے۔ ہوا بھی دوسری کائناتی قوتوں کی طرح اپنا مقررہ وظیفہ سر انجام دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی قوت اور دوسری کائناتی قوتیں جو انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہیں وہ کائناتی نقشے کے مطابق کام کرتی ہیں۔ جو نہی انسان حرکت میں آتا ہے یہ قوتیں بھی ان کے ہم قدم ہو کر حرکت کرتی ہیں۔ یوں وہ اسکیم اپنا کام کرتی ہے جو اللہ نے اس دنیا کے لئے مقرر کی ہے۔ انسان کو جو ارادے کی آزادی دی گئی ہے تو وہ اس کائنات نظام کے فریم ورک کے اندر ہے۔ جسے اس کائنات کا ناموس کلی کہا جاتا ہے جسے نظام قضا و قدر کہا جاتا ہے ۔ اور جسے سنت الہٰیہ کہا جاتا ہے جس کے اندر کوئی تغیر اور اضطراب نہیں ہوتا۔ ٭٭٭ اب اس سبق کا خاتمہ ایک عام تبصرے پر ہوتا ہے جس میں عاد کے سوا دوسری بستیوں کا بھی ذکر ہے جو مکہ کے ارد گرد زمانہ ما قبل میں ہلاک ہوئیں۔ ولقد اھلکنا ۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (27) فلولا نصرھم ۔۔۔۔۔۔ کانوا یفترون (46 : 28) “ تمہارے گردوپیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ۔ ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے ان کو سمجھایا ، شاید کہ وہ باز آجائیں ۔ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ، اور یہ تھا ان کے جھوٹ اور ان بناؤٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ جزیرۃ العرب میں کئی بستیوں کو ہلاک کیا گیا تھا ، جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ احقات میں عاد ہلاک ہوئے۔ یہ جنوب میں تھے اور ثمود حجر میں ہلاک ہوئے جو شمال میں تھے اور سبا یمن میں ہلاک ہوئے اور اہل مدین شام کی راہ میں تھے۔ اسی طرح ذرا مزید شمال میں لوط کی بستیاں تھیں اور اہل عرب ان کی کہانیوں سے بھی واقف تھے اور ان بستیوں سے گزرتے رہتے تھے۔ ان آیات میں اللہ نے ان کی طرف ان کے انجام کی طرف اشارہ کیا کہ شاید مکہ کے مکذبین باز آجائیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو بار بار سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے۔ اور اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے گئے ۔ تب ان پر ہمارے عذاب آئے ، قسم قسم کے عذاب ۔ ان کے بارے میں بعد کے آنے والے ان کی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ عرب کے موجودہ مشرک بھی ان کو سنتے اور جانتے ہیں اور صبح و شام ان بستیوں میں سے گزرتے رہتے ہیں اور ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں لیکن اے کاش کہ وہ عبرت لیتے۔ یہاں اب قرآن مجید مشرکین مکہ کو ایک حقیقت واقعہ بتاتا ہے۔ اللہ نے ان سے پہلے بھی مشرکین کو ہلاک کیا اور ان کو نیست و نابود کردیا اور ان میں سے ایک شخص بھی زندہ نہ رہا۔ لیکن وہ جن معبودوں کو پکارتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ یہ ان کو اللہ کے قریب تر لاتے ہیں تو ان ہستیوں نے کیوں نہ اللہ کے غصب کو کم کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا۔ فلو لا نصرھم الذین ۔۔۔۔۔۔ قربانا الھۃ (46 : 28) “ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ”۔ نہ صرف یہ کہ ان ہستیوں نے ان کی مدد نہ کی بلکہ بل ضلوا عنھم (46 : 28) “ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ”۔ اور انہوں نے ان لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیا ، اور ان کو ان معبودوں تک بھیجنے کا راستہ بھی معلوم نہ ہوا تا کہ وہ ان کو پکڑیں اور اللہ کے عذاب سے بچنے میں ان کی مدد لیں۔ وذلک افکھم وما کانوا یفترون (46 : 28) “ اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان بنیادی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا یہ انجام ہے ۔ اور یہ ان معبود ان باطل کی حقیقت ہے۔ اور اس شرک اور عبادت کا یہ انجام ہے کہ یہ لوگ نیت و نابود کر دئیے گئے۔ لہٰذا مکہ کے ان مشرکوں کو جو ان معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں خدا کے قریب کریں گے ، اپنے اس فعل کے بارے میں سوچ لینا چاہئے کہ اس کا انجام کیا ہوگا اور ایسے عقائد کا انجام تاریخ میں کیا ہوتا رہا ہے

الأحقاف 46:23

درس نمبر 239 ایک نظر میں یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود وقیود کے اندر ان کو جوابات دئیے تھے ، لیکن اہل مکہ کو معلوم ہے کہ ان پر اللہ کا کیسا سخت عذاب آیا۔ ان کی قوت اس عذاب کا مقابلہ نہ کرسکی۔ حالانکہ اہل مکہ سے وہ زیادہ قوی الجثہ تھے۔ ان کی دولت اور ثروت ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکی۔ حالانکہ وہ ان سے زیادہ دولت مند تھے۔ وہ انہی کی طرح آنکھیں ، کان اور دل و دماغ رکھتے تھے مگر انہوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ ان کے مقابلے میں وہ ذہنی لحاظ سے بھی اونچے تھے اور انہوں نے جو الہہ بنا رکھے تھے وہ بھی ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے۔ غرض مشرکین مکہ کو خود اپنے اسلاف کے انجام کے سامنے کھڑا کر کے قرآن ان کا نقشہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور بتاتا ہے مکہ رسالت کا یہ ایک ہی سلسلہ اور شجرہ ہے ، ایک ہی دعوت ہے اور سنت الٰہیہ بھی ایک ہے۔ انہوں نے انکار کیا۔ ہلاک ہوئے ، تم انکار کرتے ہو ، ہلاکت کے مستحق بنتے ہو۔ عقیدۂ توحید کوئی نیا گھڑا ہوا عقیدہ نہیں ہے ، یہ دعوت نوح (علیہ السلام) سے ادھر تاریخ میں چلی آرہی ہے۔ زمان و مکان کے اختلاف سے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ درس نمبر 239 تشریح آیات 21 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 28 آیت نمبر 21 تا 28 احقاف ، حقف کی جمع ہے جس کے معنی ریت کے بلند ٹیلے کے ہیں ، اہل عاد کے مکانات جزیرۃ العرب کے جنوب میں حضر موت کے علاقے میں بلند ٹیلوں پر تھے۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی عاد کی کہانی سنائیں اور یہ بتائیں کہ ان کے بھائی ہود نے بھی اسی طرح اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔ یہ اس لیے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں قوم عاد کا رد عمل ایسا ہی تھا جس طرح اہل قریش آپ کی دعوت کی تکذیب کر رہے ہیں جس طرح آپ ان میں سے ہیں اسی طرح حضرت ہود بھی عاد ہی میں سے تھے مگر یہ لوگ ذرا سنبھلیں کہ دعوت حق کی تکذیب کے ویسے ہی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ عاد کا علاقہ قریش کے قریب تھا اور ان کے واقعات سے وہ باخبر بھی تھے۔ عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا ، حضرت ہود بھی رسولوں میں سے کوئی پہلے رسول نہ تھے۔ ان سے پہلے بھی کئی اقوام میں رسول آچکے تھے۔ وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ (46 : 21) “ اور ایسے خبردار کرنے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے ”۔ زمان و مکان کے اعتبار سے ان کے قریب بھی تھے اور ان سے دور بھی تھے۔ کیونکہ لوگوں کو انجام بد سے ڈرانے کا سلسلہ اللہ نے اپنی مخلوق کے لئے جاری رکھا ، دعوت و رسالت زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے۔ یہ کوئی عجیب و غریب اور غیر معمولی بات تو نہ تھی۔ اور ان کو اس چیز اور اس دعوت اور اسی بات سے ڈراؤ جس سے تمام رسول ڈراتے رہے۔ الا تعبدوا ۔۔۔۔۔۔۔ یوم عظیم (46 : 21) “ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ”۔ اللہ کی بندگی کرو ، یعنی عقیدہ بھی توحید کا رکھو اور پوری زندگی میں اطاعت بھی اللہ کے احکام کی کرو ، اور اگر تم اس دعوت کی مخالفت کرو گے تو اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اشارہ یوم عظیم کے عذاب کی طرف ہے۔ یوم عظیم کا اطلاق قرآن مجید میں قیامت پر ہوتا ہے کہ قیامت کی خوفناکیاں عظیم و شدید ہیں۔ توجہ الی اللہ کی اس دعوت اور عذاب الٰہی سے ڈرانے کا انجام کیا ہوا۔ ٭٭٭٭ قالوا اجئتنا ۔۔۔۔ من الصدقین (46 : 22) “ انہوں نے کہا “ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے ؟ اچھا تو لے آ ، اپنا وہ عذاب جس سے ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے ”۔ انہوں نے اپنے بھائی پر بدگمانی کی اور الٹا ان کو چیلنج دے دیا کہ لاؤ وہ عذاب جس سے ڈراتے ہو اور اس کے ساتھ انہوں نے ان کا مذاق بھی اڑایا ۔ اور باطل پر اصرار کیا۔ حضرت ہود ایک نبی کی طرح یہ سب باتیں برداشت کرتے ہیں۔ کوئی بڑا دعویٰ نہیں کرتے اور اپنے حدود میں رہتے ہوئے کہتے ہیں۔ ٭٭٭ قال انما العلم ۔۔۔۔ قوما تجھلون (46 : 23) “ اس نے کہا “ اس کا علم تو اللہ کو ہے ، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ میں تو تمہیں عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں ڈراؤں۔ مجھے کیا معلوم کہ عذاب کب آئے گا اور عذاب کیسا ہوگا۔ ان امور کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو اللہ کی طرف سے صرف پیغام پہنچانے والا ہوں۔ میں اللہ کے ساتھ علم اور قدرت میں شریک نہیں ہوں۔ ولکنی ارکم قوما تجھلون (46 : 23) “ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ بہت ہی کم عقل نظر آرہے ہو ، اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوگی کہ ایک بھائی اور ناصح مشفق ڈرا رہا ہے اور جواب میں وہ چیلنج دیتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان دعوت اسلامی کے سلسلے میں طویل مکالمہ اور مجادلہ ہوا تھا۔ یہاں قرآن کریم اسے مختصر کردیتا ہے کیونکہ یہاں جلد جلد ان کے سامنے انجام بد پیش کرنا ہے ، تا کہ ان کے چیلنج اور جلد بازی کا جواب دیا جاسکے۔ ٭٭٭٭ فلما راوہ عارضا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (24) تدمر کل شیء ۔۔۔۔۔۔ القوم المجرمین (25) (46 : 24- 25) “ پھر جب انہوں نے اس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔۔۔۔ “ نہیں ، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے ، اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ”۔ روایت میں آتا ہے کہ ان کو شدید گرمی نے آلیا ۔ بارش رک گئی اور خشکی اور سخت گرمی کی وجہ سے علاقہ آگ اور دھواں بن گیا ۔ اس کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا آیا۔ یہ لوگ بہت خوش ہوئے اور ان لوگوں نے وادیوں میں نکل کر اس بادل کا استقبال کیا۔ سمجھتے تھے کہ بس اب بارش ہوگی۔ قالوا ھذا عارض ممطرنا (46 : 24) “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔ اور لسان الحال نے ان کو یہ جواب دیا۔ بل ھو ما ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (46 : 24) تدمر کل شیء بامر ربھا (46 : 25) “ نہیں بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے۔ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ یہ نہایت تیز چلنے والی ہوا ہے۔ اور اس قدر سخت اور بےقابو ہے جس طرح کوئی سرکش جابر ہوتا ہے۔ ما تذر ۔۔۔۔۔ کالرمیم (51 : 42) “ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا ”۔ قرآن کی اس آیت میں ہوا کو ایک زندہ مخلوق کی طرح بتایا گیا ہے گویا وہ سنتی ہے اور اسے حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو نیست و نابود کر کے رکھ دو ۔ تدمر کل شییء بامر ربھا (46 : 25) “ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کرنے والی ” یہ ہے وہ کائناتی حقیقت جس کا شعور قرآن کریم بار بار انسانوں کو دیتا ہے۔ یوں کہ یہ کائنات بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح ہم زندہ ہیں۔ اس کی تمام قوتیں شعور رکھتی ہیں۔ یہ تمام اشیاء اللہ کے احکام لیتی ہیں اور بجا لاتی ہیں۔ انسان بھی ان قوتوں میں سے ایک قوت ہے۔ جب وہ ایمان لے آئے اور اس کا قلب معرفت الٰہی کے لئے کھل جائے تو پھر وہ بھی اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات قوتوں سے پیغام لے سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ہمقدم ہو کر چل سکتا ہے۔ اور یہ قوتیں بھی اس کے ساتھ چل سکتی ہیں۔ یہ چیزیں بھی مومن کے ساتھ اس طرح ہمقدم ہو کر چلتی ہیں ، لیکن اس ہم آہنگی کی صورت وہ نہیں ہوتی جو زندہ انسانوں کی ہوتی ہے۔ درحقیقت گو ہر چیز زندہ ہے لیکن اس کی زندگی اس طرح نہیں جس طرح کی زندگی کے ہم عادی ہیں۔ ہم صرف زندگی کی ظاہری صورتیں ہی دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے اگرچہ ہماری یہ آنکھیں ان کو نہیں دیکھ سکتیں۔ بہرحال اس ہوا کو جو حکم دیا گیا اس نے وہ پورا کردیا۔ اس نے ہر چیز کو نیست و نابود کردیا۔ فاصبحوا لا یری الا مسکنھم (46 : 25) “ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا ”۔ رہے وہ ، ان کے مویشی ، ان کے مال و اسباب تو ان میں سے کوئی چیز نہ رہی۔ خالی خولی مکانات و محلات رہ گئے ۔ کوئی زندہ شخص ان میں نہ تھا۔ کذلک نجزی القوم المجرمین (46 : 25) “ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ” ۔ یہ سنت جاریہ ہے اور مجرموں پر نافذ ہونے والی تقدیر الٰہی ہے۔ ٭٭٭ تباہی کے اس نقشے کو دیکھنے والوں کی طرف ایک نکتہ توجہ ! کہ دیکھو حضرت ہود (علیہ السلام) کی طرح تم بھی حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہو۔ ولقد مکنھم فبما ۔۔۔۔۔ بہ یستھزءون (46 : 26) “ ان کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔ ان کو ہم نے کان ، آنکھیں اور دل سب کچھ دے رکھے تھے ، مگر نہ وہ کان ان کے کسی کام آئے ، نہ آنکھیں ، نہ دل۔ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ، اور اسی چیز کے ۔۔۔۔۔ میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ یہ لوگ جن کو اللہ کی قوتوں میں سے ایک معمولی قوت ۔۔۔۔ کردیا ، ان کو ہم نے وہ قوت دی جو اے اہل قریش ، تم کو نہیں دی گئی۔ قوت ، مال ، علم اور سازوسامان میں وہ تم سے زیادہ تھے۔ اسی طرح سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی قوت بھی ان میں تم سے زیادہ تھی۔ قرآن کریم قوت مدرکہ کو کبھی دل کہتا ہے ، کبھی دماغ کہتا ہے اور کبھی عقل کہتا ہے۔ سب سے مراد قوت مدرکہ ہوتی ہے۔ یعنی ان کے یہ حواس بڑے ترقی یافتہ تھے مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ انہوں نے راہ ہدایت دیکھنے میں ان کو معطل کردیا۔ اذ کانوا یجحدون بایت اللہ (46 : 26) “ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ”۔ اور جب انسان آیات الٰہیہ کا انکار کر دے تو اس کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اور اس کا احساس روشنی اور نور اور ادراک ختم ہوجاتا ہے۔ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون (46 : 26) “ اور اسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ” یعنی عذاب الٰہی اور مصیبت۔ اس واقعہ سے قرآن ہر صاحب سمع و بصر اور قلب کو جو سبق دینا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی قوت والا اپنی قوت پر مغرور نہ ہو ، کوئی مالدار شخص اپنے مال پر مغرور نہ ہو ، کوئی صاحب علم اپنے علم پر مغرور نہ ہو۔ اس لیے کہ اللہ کی ان کائناتی قوتوں میں سے یہ ایک ہی قوت تھی جسے اللہ نے ان زبردست قوت والے ، مال والے اور علم والے لوگوں پر مسلط کیا اور انہیں ختم کر کے رکھ دیا۔ اور وہ یوں رہ گئے کہ صرف عالیشان ، مکانات ہی رہ گئے اور بس۔ اور جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہی ہوتا ہے۔ ہوا ایک ایسی قوت ہے جو مسلسل کام کرتی ہے اور یہ اللہ کے کائنات نظام کے مطابق چلتی ہے۔ اللہ جس وقت چاہے اسے بربادی پر مامور کر دے۔ عام طور پر تو وہ تعمیر کا کام کرتی ہے لیکن جب اللہ چاہے تو وہ ہلاک کرنا شروع کردیتی ہے۔ تمام کائناتی قوتیں جو ایک ڈگر پر کام کرتی نظر آتی ہیں ان کا سبب ان کے اندر یہی امر ربی ہے اور جب امر ربی دوسرا حکم دے تو یہ دوسرا کام کرتی ہیں جو کوتاہ نظر انسانوں کو خارق عادت نظر آتا ہے۔ نظام اسباب پیدا کرنے و الا اللہ ہے۔ وہ ہر چیز کو ، ہر حرکت کو ، ہر حادثہ کو ، ہر رحجان کو ، ہر شخص کو اور ہر کام کو اپنے احکام اور اپنے نقشے کے مطابق چلاتا ہے۔ اور جس جگہ بھی وہ کام ہوتا ہے اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمیں وہ کام خارق عادت نظر آئے۔ ہوا بھی دوسری کائناتی قوتوں کی طرح اپنا مقررہ وظیفہ سر انجام دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی قوت اور دوسری کائناتی قوتیں جو انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہیں وہ کائناتی نقشے کے مطابق کام کرتی ہیں۔ جو نہی انسان حرکت میں آتا ہے یہ قوتیں بھی ان کے ہم قدم ہو کر حرکت کرتی ہیں۔ یوں وہ اسکیم اپنا کام کرتی ہے جو اللہ نے اس دنیا کے لئے مقرر کی ہے۔ انسان کو جو ارادے کی آزادی دی گئی ہے تو وہ اس کائنات نظام کے فریم ورک کے اندر ہے۔ جسے اس کائنات کا ناموس کلی کہا جاتا ہے جسے نظام قضا و قدر کہا جاتا ہے ۔ اور جسے سنت الہٰیہ کہا جاتا ہے جس کے اندر کوئی تغیر اور اضطراب نہیں ہوتا۔ ٭٭٭ اب اس سبق کا خاتمہ ایک عام تبصرے پر ہوتا ہے جس میں عاد کے سوا دوسری بستیوں کا بھی ذکر ہے جو مکہ کے ارد گرد زمانہ ما قبل میں ہلاک ہوئیں۔ ولقد اھلکنا ۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (27) فلولا نصرھم ۔۔۔۔۔۔ کانوا یفترون (46 : 28) “ تمہارے گردوپیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ۔ ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے ان کو سمجھایا ، شاید کہ وہ باز آجائیں ۔ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ، اور یہ تھا ان کے جھوٹ اور ان بناؤٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ جزیرۃ العرب میں کئی بستیوں کو ہلاک کیا گیا تھا ، جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ احقات میں عاد ہلاک ہوئے۔ یہ جنوب میں تھے اور ثمود حجر میں ہلاک ہوئے جو شمال میں تھے اور سبا یمن میں ہلاک ہوئے اور اہل مدین شام کی راہ میں تھے۔ اسی طرح ذرا مزید شمال میں لوط کی بستیاں تھیں اور اہل عرب ان کی کہانیوں سے بھی واقف تھے اور ان بستیوں سے گزرتے رہتے تھے۔ ان آیات میں اللہ نے ان کی طرف ان کے انجام کی طرف اشارہ کیا کہ شاید مکہ کے مکذبین باز آجائیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو بار بار سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے۔ اور اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے گئے ۔ تب ان پر ہمارے عذاب آئے ، قسم قسم کے عذاب ۔ ان کے بارے میں بعد کے آنے والے ان کی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ عرب کے موجودہ مشرک بھی ان کو سنتے اور جانتے ہیں اور صبح و شام ان بستیوں میں سے گزرتے رہتے ہیں اور ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں لیکن اے کاش کہ وہ عبرت لیتے۔ یہاں اب قرآن مجید مشرکین مکہ کو ایک حقیقت واقعہ بتاتا ہے۔ اللہ نے ان سے پہلے بھی مشرکین کو ہلاک کیا اور ان کو نیست و نابود کردیا اور ان میں سے ایک شخص بھی زندہ نہ رہا۔ لیکن وہ جن معبودوں کو پکارتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ یہ ان کو اللہ کے قریب تر لاتے ہیں تو ان ہستیوں نے کیوں نہ اللہ کے غصب کو کم کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا۔ فلو لا نصرھم الذین ۔۔۔۔۔۔ قربانا الھۃ (46 : 28) “ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ”۔ نہ صرف یہ کہ ان ہستیوں نے ان کی مدد نہ کی بلکہ بل ضلوا عنھم (46 : 28) “ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ”۔ اور انہوں نے ان لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیا ، اور ان کو ان معبودوں تک بھیجنے کا راستہ بھی معلوم نہ ہوا تا کہ وہ ان کو پکڑیں اور اللہ کے عذاب سے بچنے میں ان کی مدد لیں۔ وذلک افکھم وما کانوا یفترون (46 : 28) “ اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان بنیادی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا یہ انجام ہے ۔ اور یہ ان معبود ان باطل کی حقیقت ہے۔ اور اس شرک اور عبادت کا یہ انجام ہے کہ یہ لوگ نیت و نابود کر دئیے گئے۔ لہٰذا مکہ کے ان مشرکوں کو جو ان معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں خدا کے قریب کریں گے ، اپنے اس فعل کے بارے میں سوچ لینا چاہئے کہ اس کا انجام کیا ہوگا اور ایسے عقائد کا انجام تاریخ میں کیا ہوتا رہا ہے

الأحقاف 46:24

درس نمبر 239 ایک نظر میں یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود وقیود کے اندر ان کو جوابات دئیے تھے ، لیکن اہل مکہ کو معلوم ہے کہ ان پر اللہ کا کیسا سخت عذاب آیا۔ ان کی قوت اس عذاب کا مقابلہ نہ کرسکی۔ حالانکہ اہل مکہ سے وہ زیادہ قوی الجثہ تھے۔ ان کی دولت اور ثروت ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکی۔ حالانکہ وہ ان سے زیادہ دولت مند تھے۔ وہ انہی کی طرح آنکھیں ، کان اور دل و دماغ رکھتے تھے مگر انہوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ ان کے مقابلے میں وہ ذہنی لحاظ سے بھی اونچے تھے اور انہوں نے جو الہہ بنا رکھے تھے وہ بھی ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے۔ غرض مشرکین مکہ کو خود اپنے اسلاف کے انجام کے سامنے کھڑا کر کے قرآن ان کا نقشہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور بتاتا ہے مکہ رسالت کا یہ ایک ہی سلسلہ اور شجرہ ہے ، ایک ہی دعوت ہے اور سنت الٰہیہ بھی ایک ہے۔ انہوں نے انکار کیا۔ ہلاک ہوئے ، تم انکار کرتے ہو ، ہلاکت کے مستحق بنتے ہو۔ عقیدۂ توحید کوئی نیا گھڑا ہوا عقیدہ نہیں ہے ، یہ دعوت نوح (علیہ السلام) سے ادھر تاریخ میں چلی آرہی ہے۔ زمان و مکان کے اختلاف سے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ درس نمبر 239 تشریح آیات 21 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 28 آیت نمبر 21 تا 28 احقاف ، حقف کی جمع ہے جس کے معنی ریت کے بلند ٹیلے کے ہیں ، اہل عاد کے مکانات جزیرۃ العرب کے جنوب میں حضر موت کے علاقے میں بلند ٹیلوں پر تھے۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی عاد کی کہانی سنائیں اور یہ بتائیں کہ ان کے بھائی ہود نے بھی اسی طرح اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔ یہ اس لیے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں قوم عاد کا رد عمل ایسا ہی تھا جس طرح اہل قریش آپ کی دعوت کی تکذیب کر رہے ہیں جس طرح آپ ان میں سے ہیں اسی طرح حضرت ہود بھی عاد ہی میں سے تھے مگر یہ لوگ ذرا سنبھلیں کہ دعوت حق کی تکذیب کے ویسے ہی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ عاد کا علاقہ قریش کے قریب تھا اور ان کے واقعات سے وہ باخبر بھی تھے۔ عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا ، حضرت ہود بھی رسولوں میں سے کوئی پہلے رسول نہ تھے۔ ان سے پہلے بھی کئی اقوام میں رسول آچکے تھے۔ وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ (46 : 21) “ اور ایسے خبردار کرنے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے ”۔ زمان و مکان کے اعتبار سے ان کے قریب بھی تھے اور ان سے دور بھی تھے۔ کیونکہ لوگوں کو انجام بد سے ڈرانے کا سلسلہ اللہ نے اپنی مخلوق کے لئے جاری رکھا ، دعوت و رسالت زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے۔ یہ کوئی عجیب و غریب اور غیر معمولی بات تو نہ تھی۔ اور ان کو اس چیز اور اس دعوت اور اسی بات سے ڈراؤ جس سے تمام رسول ڈراتے رہے۔ الا تعبدوا ۔۔۔۔۔۔۔ یوم عظیم (46 : 21) “ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ”۔ اللہ کی بندگی کرو ، یعنی عقیدہ بھی توحید کا رکھو اور پوری زندگی میں اطاعت بھی اللہ کے احکام کی کرو ، اور اگر تم اس دعوت کی مخالفت کرو گے تو اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اشارہ یوم عظیم کے عذاب کی طرف ہے۔ یوم عظیم کا اطلاق قرآن مجید میں قیامت پر ہوتا ہے کہ قیامت کی خوفناکیاں عظیم و شدید ہیں۔ توجہ الی اللہ کی اس دعوت اور عذاب الٰہی سے ڈرانے کا انجام کیا ہوا۔ ٭٭٭٭ قالوا اجئتنا ۔۔۔۔ من الصدقین (46 : 22) “ انہوں نے کہا “ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے ؟ اچھا تو لے آ ، اپنا وہ عذاب جس سے ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے ”۔ انہوں نے اپنے بھائی پر بدگمانی کی اور الٹا ان کو چیلنج دے دیا کہ لاؤ وہ عذاب جس سے ڈراتے ہو اور اس کے ساتھ انہوں نے ان کا مذاق بھی اڑایا ۔ اور باطل پر اصرار کیا۔ حضرت ہود ایک نبی کی طرح یہ سب باتیں برداشت کرتے ہیں۔ کوئی بڑا دعویٰ نہیں کرتے اور اپنے حدود میں رہتے ہوئے کہتے ہیں۔ ٭٭٭ قال انما العلم ۔۔۔۔ قوما تجھلون (46 : 23) “ اس نے کہا “ اس کا علم تو اللہ کو ہے ، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ میں تو تمہیں عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں ڈراؤں۔ مجھے کیا معلوم کہ عذاب کب آئے گا اور عذاب کیسا ہوگا۔ ان امور کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو اللہ کی طرف سے صرف پیغام پہنچانے والا ہوں۔ میں اللہ کے ساتھ علم اور قدرت میں شریک نہیں ہوں۔ ولکنی ارکم قوما تجھلون (46 : 23) “ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ بہت ہی کم عقل نظر آرہے ہو ، اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوگی کہ ایک بھائی اور ناصح مشفق ڈرا رہا ہے اور جواب میں وہ چیلنج دیتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان دعوت اسلامی کے سلسلے میں طویل مکالمہ اور مجادلہ ہوا تھا۔ یہاں قرآن کریم اسے مختصر کردیتا ہے کیونکہ یہاں جلد جلد ان کے سامنے انجام بد پیش کرنا ہے ، تا کہ ان کے چیلنج اور جلد بازی کا جواب دیا جاسکے۔ ٭٭٭٭ فلما راوہ عارضا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (24) تدمر کل شیء ۔۔۔۔۔۔ القوم المجرمین (25) (46 : 24- 25) “ پھر جب انہوں نے اس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔۔۔۔ “ نہیں ، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے ، اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ”۔ روایت میں آتا ہے کہ ان کو شدید گرمی نے آلیا ۔ بارش رک گئی اور خشکی اور سخت گرمی کی وجہ سے علاقہ آگ اور دھواں بن گیا ۔ اس کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا آیا۔ یہ لوگ بہت خوش ہوئے اور ان لوگوں نے وادیوں میں نکل کر اس بادل کا استقبال کیا۔ سمجھتے تھے کہ بس اب بارش ہوگی۔ قالوا ھذا عارض ممطرنا (46 : 24) “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔ اور لسان الحال نے ان کو یہ جواب دیا۔ بل ھو ما ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (46 : 24) تدمر کل شیء بامر ربھا (46 : 25) “ نہیں بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے۔ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ یہ نہایت تیز چلنے والی ہوا ہے۔ اور اس قدر سخت اور بےقابو ہے جس طرح کوئی سرکش جابر ہوتا ہے۔ ما تذر ۔۔۔۔۔ کالرمیم (51 : 42) “ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا ”۔ قرآن کی اس آیت میں ہوا کو ایک زندہ مخلوق کی طرح بتایا گیا ہے گویا وہ سنتی ہے اور اسے حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو نیست و نابود کر کے رکھ دو ۔ تدمر کل شییء بامر ربھا (46 : 25) “ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کرنے والی ” یہ ہے وہ کائناتی حقیقت جس کا شعور قرآن کریم بار بار انسانوں کو دیتا ہے۔ یوں کہ یہ کائنات بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح ہم زندہ ہیں۔ اس کی تمام قوتیں شعور رکھتی ہیں۔ یہ تمام اشیاء اللہ کے احکام لیتی ہیں اور بجا لاتی ہیں۔ انسان بھی ان قوتوں میں سے ایک قوت ہے۔ جب وہ ایمان لے آئے اور اس کا قلب معرفت الٰہی کے لئے کھل جائے تو پھر وہ بھی اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات قوتوں سے پیغام لے سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ہمقدم ہو کر چل سکتا ہے۔ اور یہ قوتیں بھی اس کے ساتھ چل سکتی ہیں۔ یہ چیزیں بھی مومن کے ساتھ اس طرح ہمقدم ہو کر چلتی ہیں ، لیکن اس ہم آہنگی کی صورت وہ نہیں ہوتی جو زندہ انسانوں کی ہوتی ہے۔ درحقیقت گو ہر چیز زندہ ہے لیکن اس کی زندگی اس طرح نہیں جس طرح کی زندگی کے ہم عادی ہیں۔ ہم صرف زندگی کی ظاہری صورتیں ہی دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے اگرچہ ہماری یہ آنکھیں ان کو نہیں دیکھ سکتیں۔ بہرحال اس ہوا کو جو حکم دیا گیا اس نے وہ پورا کردیا۔ اس نے ہر چیز کو نیست و نابود کردیا۔ فاصبحوا لا یری الا مسکنھم (46 : 25) “ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا ”۔ رہے وہ ، ان کے مویشی ، ان کے مال و اسباب تو ان میں سے کوئی چیز نہ رہی۔ خالی خولی مکانات و محلات رہ گئے ۔ کوئی زندہ شخص ان میں نہ تھا۔ کذلک نجزی القوم المجرمین (46 : 25) “ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ” ۔ یہ سنت جاریہ ہے اور مجرموں پر نافذ ہونے والی تقدیر الٰہی ہے۔ ٭٭٭ تباہی کے اس نقشے کو دیکھنے والوں کی طرف ایک نکتہ توجہ ! کہ دیکھو حضرت ہود (علیہ السلام) کی طرح تم بھی حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہو۔ ولقد مکنھم فبما ۔۔۔۔۔ بہ یستھزءون (46 : 26) “ ان کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔ ان کو ہم نے کان ، آنکھیں اور دل سب کچھ دے رکھے تھے ، مگر نہ وہ کان ان کے کسی کام آئے ، نہ آنکھیں ، نہ دل۔ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ، اور اسی چیز کے ۔۔۔۔۔ میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ یہ لوگ جن کو اللہ کی قوتوں میں سے ایک معمولی قوت ۔۔۔۔ کردیا ، ان کو ہم نے وہ قوت دی جو اے اہل قریش ، تم کو نہیں دی گئی۔ قوت ، مال ، علم اور سازوسامان میں وہ تم سے زیادہ تھے۔ اسی طرح سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی قوت بھی ان میں تم سے زیادہ تھی۔ قرآن کریم قوت مدرکہ کو کبھی دل کہتا ہے ، کبھی دماغ کہتا ہے اور کبھی عقل کہتا ہے۔ سب سے مراد قوت مدرکہ ہوتی ہے۔ یعنی ان کے یہ حواس بڑے ترقی یافتہ تھے مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ انہوں نے راہ ہدایت دیکھنے میں ان کو معطل کردیا۔ اذ کانوا یجحدون بایت اللہ (46 : 26) “ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ”۔ اور جب انسان آیات الٰہیہ کا انکار کر دے تو اس کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اور اس کا احساس روشنی اور نور اور ادراک ختم ہوجاتا ہے۔ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون (46 : 26) “ اور اسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ” یعنی عذاب الٰہی اور مصیبت۔ اس واقعہ سے قرآن ہر صاحب سمع و بصر اور قلب کو جو سبق دینا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی قوت والا اپنی قوت پر مغرور نہ ہو ، کوئی مالدار شخص اپنے مال پر مغرور نہ ہو ، کوئی صاحب علم اپنے علم پر مغرور نہ ہو۔ اس لیے کہ اللہ کی ان کائناتی قوتوں میں سے یہ ایک ہی قوت تھی جسے اللہ نے ان زبردست قوت والے ، مال والے اور علم والے لوگوں پر مسلط کیا اور انہیں ختم کر کے رکھ دیا۔ اور وہ یوں رہ گئے کہ صرف عالیشان ، مکانات ہی رہ گئے اور بس۔ اور جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہی ہوتا ہے۔ ہوا ایک ایسی قوت ہے جو مسلسل کام کرتی ہے اور یہ اللہ کے کائنات نظام کے مطابق چلتی ہے۔ اللہ جس وقت چاہے اسے بربادی پر مامور کر دے۔ عام طور پر تو وہ تعمیر کا کام کرتی ہے لیکن جب اللہ چاہے تو وہ ہلاک کرنا شروع کردیتی ہے۔ تمام کائناتی قوتیں جو ایک ڈگر پر کام کرتی نظر آتی ہیں ان کا سبب ان کے اندر یہی امر ربی ہے اور جب امر ربی دوسرا حکم دے تو یہ دوسرا کام کرتی ہیں جو کوتاہ نظر انسانوں کو خارق عادت نظر آتا ہے۔ نظام اسباب پیدا کرنے و الا اللہ ہے۔ وہ ہر چیز کو ، ہر حرکت کو ، ہر حادثہ کو ، ہر رحجان کو ، ہر شخص کو اور ہر کام کو اپنے احکام اور اپنے نقشے کے مطابق چلاتا ہے۔ اور جس جگہ بھی وہ کام ہوتا ہے اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمیں وہ کام خارق عادت نظر آئے۔ ہوا بھی دوسری کائناتی قوتوں کی طرح اپنا مقررہ وظیفہ سر انجام دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی قوت اور دوسری کائناتی قوتیں جو انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہیں وہ کائناتی نقشے کے مطابق کام کرتی ہیں۔ جو نہی انسان حرکت میں آتا ہے یہ قوتیں بھی ان کے ہم قدم ہو کر حرکت کرتی ہیں۔ یوں وہ اسکیم اپنا کام کرتی ہے جو اللہ نے اس دنیا کے لئے مقرر کی ہے۔ انسان کو جو ارادے کی آزادی دی گئی ہے تو وہ اس کائنات نظام کے فریم ورک کے اندر ہے۔ جسے اس کائنات کا ناموس کلی کہا جاتا ہے جسے نظام قضا و قدر کہا جاتا ہے ۔ اور جسے سنت الہٰیہ کہا جاتا ہے جس کے اندر کوئی تغیر اور اضطراب نہیں ہوتا۔ ٭٭٭ اب اس سبق کا خاتمہ ایک عام تبصرے پر ہوتا ہے جس میں عاد کے سوا دوسری بستیوں کا بھی ذکر ہے جو مکہ کے ارد گرد زمانہ ما قبل میں ہلاک ہوئیں۔ ولقد اھلکنا ۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (27) فلولا نصرھم ۔۔۔۔۔۔ کانوا یفترون (46 : 28) “ تمہارے گردوپیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ۔ ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے ان کو سمجھایا ، شاید کہ وہ باز آجائیں ۔ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ، اور یہ تھا ان کے جھوٹ اور ان بناؤٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ جزیرۃ العرب میں کئی بستیوں کو ہلاک کیا گیا تھا ، جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ احقات میں عاد ہلاک ہوئے۔ یہ جنوب میں تھے اور ثمود حجر میں ہلاک ہوئے جو شمال میں تھے اور سبا یمن میں ہلاک ہوئے اور اہل مدین شام کی راہ میں تھے۔ اسی طرح ذرا مزید شمال میں لوط کی بستیاں تھیں اور اہل عرب ان کی کہانیوں سے بھی واقف تھے اور ان بستیوں سے گزرتے رہتے تھے۔ ان آیات میں اللہ نے ان کی طرف ان کے انجام کی طرف اشارہ کیا کہ شاید مکہ کے مکذبین باز آجائیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو بار بار سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے۔ اور اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے گئے ۔ تب ان پر ہمارے عذاب آئے ، قسم قسم کے عذاب ۔ ان کے بارے میں بعد کے آنے والے ان کی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ عرب کے موجودہ مشرک بھی ان کو سنتے اور جانتے ہیں اور صبح و شام ان بستیوں میں سے گزرتے رہتے ہیں اور ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں لیکن اے کاش کہ وہ عبرت لیتے۔ یہاں اب قرآن مجید مشرکین مکہ کو ایک حقیقت واقعہ بتاتا ہے۔ اللہ نے ان سے پہلے بھی مشرکین کو ہلاک کیا اور ان کو نیست و نابود کردیا اور ان میں سے ایک شخص بھی زندہ نہ رہا۔ لیکن وہ جن معبودوں کو پکارتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ یہ ان کو اللہ کے قریب تر لاتے ہیں تو ان ہستیوں نے کیوں نہ اللہ کے غصب کو کم کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا۔ فلو لا نصرھم الذین ۔۔۔۔۔۔ قربانا الھۃ (46 : 28) “ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ”۔ نہ صرف یہ کہ ان ہستیوں نے ان کی مدد نہ کی بلکہ بل ضلوا عنھم (46 : 28) “ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ”۔ اور انہوں نے ان لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیا ، اور ان کو ان معبودوں تک بھیجنے کا راستہ بھی معلوم نہ ہوا تا کہ وہ ان کو پکڑیں اور اللہ کے عذاب سے بچنے میں ان کی مدد لیں۔ وذلک افکھم وما کانوا یفترون (46 : 28) “ اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان بنیادی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا یہ انجام ہے ۔ اور یہ ان معبود ان باطل کی حقیقت ہے۔ اور اس شرک اور عبادت کا یہ انجام ہے کہ یہ لوگ نیت و نابود کر دئیے گئے۔ لہٰذا مکہ کے ان مشرکوں کو جو ان معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں خدا کے قریب کریں گے ، اپنے اس فعل کے بارے میں سوچ لینا چاہئے کہ اس کا انجام کیا ہوگا اور ایسے عقائد کا انجام تاریخ میں کیا ہوتا رہا ہے

الأحقاف 46:25

درس نمبر 239 ایک نظر میں یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود وقیود کے اندر ان کو جوابات دئیے تھے ، لیکن اہل مکہ کو معلوم ہے کہ ان پر اللہ کا کیسا سخت عذاب آیا۔ ان کی قوت اس عذاب کا مقابلہ نہ کرسکی۔ حالانکہ اہل مکہ سے وہ زیادہ قوی الجثہ تھے۔ ان کی دولت اور ثروت ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکی۔ حالانکہ وہ ان سے زیادہ دولت مند تھے۔ وہ انہی کی طرح آنکھیں ، کان اور دل و دماغ رکھتے تھے مگر انہوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ ان کے مقابلے میں وہ ذہنی لحاظ سے بھی اونچے تھے اور انہوں نے جو الہہ بنا رکھے تھے وہ بھی ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے۔ غرض مشرکین مکہ کو خود اپنے اسلاف کے انجام کے سامنے کھڑا کر کے قرآن ان کا نقشہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور بتاتا ہے مکہ رسالت کا یہ ایک ہی سلسلہ اور شجرہ ہے ، ایک ہی دعوت ہے اور سنت الٰہیہ بھی ایک ہے۔ انہوں نے انکار کیا۔ ہلاک ہوئے ، تم انکار کرتے ہو ، ہلاکت کے مستحق بنتے ہو۔ عقیدۂ توحید کوئی نیا گھڑا ہوا عقیدہ نہیں ہے ، یہ دعوت نوح (علیہ السلام) سے ادھر تاریخ میں چلی آرہی ہے۔ زمان و مکان کے اختلاف سے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ درس نمبر 239 تشریح آیات 21 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 28 آیت نمبر 21 تا 28 احقاف ، حقف کی جمع ہے جس کے معنی ریت کے بلند ٹیلے کے ہیں ، اہل عاد کے مکانات جزیرۃ العرب کے جنوب میں حضر موت کے علاقے میں بلند ٹیلوں پر تھے۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی عاد کی کہانی سنائیں اور یہ بتائیں کہ ان کے بھائی ہود نے بھی اسی طرح اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔ یہ اس لیے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں قوم عاد کا رد عمل ایسا ہی تھا جس طرح اہل قریش آپ کی دعوت کی تکذیب کر رہے ہیں جس طرح آپ ان میں سے ہیں اسی طرح حضرت ہود بھی عاد ہی میں سے تھے مگر یہ لوگ ذرا سنبھلیں کہ دعوت حق کی تکذیب کے ویسے ہی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ عاد کا علاقہ قریش کے قریب تھا اور ان کے واقعات سے وہ باخبر بھی تھے۔ عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا ، حضرت ہود بھی رسولوں میں سے کوئی پہلے رسول نہ تھے۔ ان سے پہلے بھی کئی اقوام میں رسول آچکے تھے۔ وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ (46 : 21) “ اور ایسے خبردار کرنے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے ”۔ زمان و مکان کے اعتبار سے ان کے قریب بھی تھے اور ان سے دور بھی تھے۔ کیونکہ لوگوں کو انجام بد سے ڈرانے کا سلسلہ اللہ نے اپنی مخلوق کے لئے جاری رکھا ، دعوت و رسالت زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے۔ یہ کوئی عجیب و غریب اور غیر معمولی بات تو نہ تھی۔ اور ان کو اس چیز اور اس دعوت اور اسی بات سے ڈراؤ جس سے تمام رسول ڈراتے رہے۔ الا تعبدوا ۔۔۔۔۔۔۔ یوم عظیم (46 : 21) “ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ”۔ اللہ کی بندگی کرو ، یعنی عقیدہ بھی توحید کا رکھو اور پوری زندگی میں اطاعت بھی اللہ کے احکام کی کرو ، اور اگر تم اس دعوت کی مخالفت کرو گے تو اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اشارہ یوم عظیم کے عذاب کی طرف ہے۔ یوم عظیم کا اطلاق قرآن مجید میں قیامت پر ہوتا ہے کہ قیامت کی خوفناکیاں عظیم و شدید ہیں۔ توجہ الی اللہ کی اس دعوت اور عذاب الٰہی سے ڈرانے کا انجام کیا ہوا۔ ٭٭٭٭ قالوا اجئتنا ۔۔۔۔ من الصدقین (46 : 22) “ انہوں نے کہا “ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے ؟ اچھا تو لے آ ، اپنا وہ عذاب جس سے ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے ”۔ انہوں نے اپنے بھائی پر بدگمانی کی اور الٹا ان کو چیلنج دے دیا کہ لاؤ وہ عذاب جس سے ڈراتے ہو اور اس کے ساتھ انہوں نے ان کا مذاق بھی اڑایا ۔ اور باطل پر اصرار کیا۔ حضرت ہود ایک نبی کی طرح یہ سب باتیں برداشت کرتے ہیں۔ کوئی بڑا دعویٰ نہیں کرتے اور اپنے حدود میں رہتے ہوئے کہتے ہیں۔ ٭٭٭ قال انما العلم ۔۔۔۔ قوما تجھلون (46 : 23) “ اس نے کہا “ اس کا علم تو اللہ کو ہے ، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ میں تو تمہیں عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں ڈراؤں۔ مجھے کیا معلوم کہ عذاب کب آئے گا اور عذاب کیسا ہوگا۔ ان امور کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو اللہ کی طرف سے صرف پیغام پہنچانے والا ہوں۔ میں اللہ کے ساتھ علم اور قدرت میں شریک نہیں ہوں۔ ولکنی ارکم قوما تجھلون (46 : 23) “ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ بہت ہی کم عقل نظر آرہے ہو ، اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوگی کہ ایک بھائی اور ناصح مشفق ڈرا رہا ہے اور جواب میں وہ چیلنج دیتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان دعوت اسلامی کے سلسلے میں طویل مکالمہ اور مجادلہ ہوا تھا۔ یہاں قرآن کریم اسے مختصر کردیتا ہے کیونکہ یہاں جلد جلد ان کے سامنے انجام بد پیش کرنا ہے ، تا کہ ان کے چیلنج اور جلد بازی کا جواب دیا جاسکے۔ ٭٭٭٭ فلما راوہ عارضا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (24) تدمر کل شیء ۔۔۔۔۔۔ القوم المجرمین (25) (46 : 24- 25) “ پھر جب انہوں نے اس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔۔۔۔ “ نہیں ، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے ، اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ”۔ روایت میں آتا ہے کہ ان کو شدید گرمی نے آلیا ۔ بارش رک گئی اور خشکی اور سخت گرمی کی وجہ سے علاقہ آگ اور دھواں بن گیا ۔ اس کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا آیا۔ یہ لوگ بہت خوش ہوئے اور ان لوگوں نے وادیوں میں نکل کر اس بادل کا استقبال کیا۔ سمجھتے تھے کہ بس اب بارش ہوگی۔ قالوا ھذا عارض ممطرنا (46 : 24) “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔ اور لسان الحال نے ان کو یہ جواب دیا۔ بل ھو ما ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (46 : 24) تدمر کل شیء بامر ربھا (46 : 25) “ نہیں بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے۔ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ یہ نہایت تیز چلنے والی ہوا ہے۔ اور اس قدر سخت اور بےقابو ہے جس طرح کوئی سرکش جابر ہوتا ہے۔ ما تذر ۔۔۔۔۔ کالرمیم (51 : 42) “ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا ”۔ قرآن کی اس آیت میں ہوا کو ایک زندہ مخلوق کی طرح بتایا گیا ہے گویا وہ سنتی ہے اور اسے حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو نیست و نابود کر کے رکھ دو ۔ تدمر کل شییء بامر ربھا (46 : 25) “ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کرنے والی ” یہ ہے وہ کائناتی حقیقت جس کا شعور قرآن کریم بار بار انسانوں کو دیتا ہے۔ یوں کہ یہ کائنات بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح ہم زندہ ہیں۔ اس کی تمام قوتیں شعور رکھتی ہیں۔ یہ تمام اشیاء اللہ کے احکام لیتی ہیں اور بجا لاتی ہیں۔ انسان بھی ان قوتوں میں سے ایک قوت ہے۔ جب وہ ایمان لے آئے اور اس کا قلب معرفت الٰہی کے لئے کھل جائے تو پھر وہ بھی اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات قوتوں سے پیغام لے سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ہمقدم ہو کر چل سکتا ہے۔ اور یہ قوتیں بھی اس کے ساتھ چل سکتی ہیں۔ یہ چیزیں بھی مومن کے ساتھ اس طرح ہمقدم ہو کر چلتی ہیں ، لیکن اس ہم آہنگی کی صورت وہ نہیں ہوتی جو زندہ انسانوں کی ہوتی ہے۔ درحقیقت گو ہر چیز زندہ ہے لیکن اس کی زندگی اس طرح نہیں جس طرح کی زندگی کے ہم عادی ہیں۔ ہم صرف زندگی کی ظاہری صورتیں ہی دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے اگرچہ ہماری یہ آنکھیں ان کو نہیں دیکھ سکتیں۔ بہرحال اس ہوا کو جو حکم دیا گیا اس نے وہ پورا کردیا۔ اس نے ہر چیز کو نیست و نابود کردیا۔ فاصبحوا لا یری الا مسکنھم (46 : 25) “ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا ”۔ رہے وہ ، ان کے مویشی ، ان کے مال و اسباب تو ان میں سے کوئی چیز نہ رہی۔ خالی خولی مکانات و محلات رہ گئے ۔ کوئی زندہ شخص ان میں نہ تھا۔ کذلک نجزی القوم المجرمین (46 : 25) “ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ” ۔ یہ سنت جاریہ ہے اور مجرموں پر نافذ ہونے والی تقدیر الٰہی ہے۔ ٭٭٭ تباہی کے اس نقشے کو دیکھنے والوں کی طرف ایک نکتہ توجہ ! کہ دیکھو حضرت ہود (علیہ السلام) کی طرح تم بھی حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہو۔ ولقد مکنھم فبما ۔۔۔۔۔ بہ یستھزءون (46 : 26) “ ان کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔ ان کو ہم نے کان ، آنکھیں اور دل سب کچھ دے رکھے تھے ، مگر نہ وہ کان ان کے کسی کام آئے ، نہ آنکھیں ، نہ دل۔ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ، اور اسی چیز کے ۔۔۔۔۔ میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ یہ لوگ جن کو اللہ کی قوتوں میں سے ایک معمولی قوت ۔۔۔۔ کردیا ، ان کو ہم نے وہ قوت دی جو اے اہل قریش ، تم کو نہیں دی گئی۔ قوت ، مال ، علم اور سازوسامان میں وہ تم سے زیادہ تھے۔ اسی طرح سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی قوت بھی ان میں تم سے زیادہ تھی۔ قرآن کریم قوت مدرکہ کو کبھی دل کہتا ہے ، کبھی دماغ کہتا ہے اور کبھی عقل کہتا ہے۔ سب سے مراد قوت مدرکہ ہوتی ہے۔ یعنی ان کے یہ حواس بڑے ترقی یافتہ تھے مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ انہوں نے راہ ہدایت دیکھنے میں ان کو معطل کردیا۔ اذ کانوا یجحدون بایت اللہ (46 : 26) “ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ”۔ اور جب انسان آیات الٰہیہ کا انکار کر دے تو اس کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اور اس کا احساس روشنی اور نور اور ادراک ختم ہوجاتا ہے۔ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون (46 : 26) “ اور اسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ” یعنی عذاب الٰہی اور مصیبت۔ اس واقعہ سے قرآن ہر صاحب سمع و بصر اور قلب کو جو سبق دینا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی قوت والا اپنی قوت پر مغرور نہ ہو ، کوئی مالدار شخص اپنے مال پر مغرور نہ ہو ، کوئی صاحب علم اپنے علم پر مغرور نہ ہو۔ اس لیے کہ اللہ کی ان کائناتی قوتوں میں سے یہ ایک ہی قوت تھی جسے اللہ نے ان زبردست قوت والے ، مال والے اور علم والے لوگوں پر مسلط کیا اور انہیں ختم کر کے رکھ دیا۔ اور وہ یوں رہ گئے کہ صرف عالیشان ، مکانات ہی رہ گئے اور بس۔ اور جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہی ہوتا ہے۔ ہوا ایک ایسی قوت ہے جو مسلسل کام کرتی ہے اور یہ اللہ کے کائنات نظام کے مطابق چلتی ہے۔ اللہ جس وقت چاہے اسے بربادی پر مامور کر دے۔ عام طور پر تو وہ تعمیر کا کام کرتی ہے لیکن جب اللہ چاہے تو وہ ہلاک کرنا شروع کردیتی ہے۔ تمام کائناتی قوتیں جو ایک ڈگر پر کام کرتی نظر آتی ہیں ان کا سبب ان کے اندر یہی امر ربی ہے اور جب امر ربی دوسرا حکم دے تو یہ دوسرا کام کرتی ہیں جو کوتاہ نظر انسانوں کو خارق عادت نظر آتا ہے۔ نظام اسباب پیدا کرنے و الا اللہ ہے۔ وہ ہر چیز کو ، ہر حرکت کو ، ہر حادثہ کو ، ہر رحجان کو ، ہر شخص کو اور ہر کام کو اپنے احکام اور اپنے نقشے کے مطابق چلاتا ہے۔ اور جس جگہ بھی وہ کام ہوتا ہے اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمیں وہ کام خارق عادت نظر آئے۔ ہوا بھی دوسری کائناتی قوتوں کی طرح اپنا مقررہ وظیفہ سر انجام دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی قوت اور دوسری کائناتی قوتیں جو انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہیں وہ کائناتی نقشے کے مطابق کام کرتی ہیں۔ جو نہی انسان حرکت میں آتا ہے یہ قوتیں بھی ان کے ہم قدم ہو کر حرکت کرتی ہیں۔ یوں وہ اسکیم اپنا کام کرتی ہے جو اللہ نے اس دنیا کے لئے مقرر کی ہے۔ انسان کو جو ارادے کی آزادی دی گئی ہے تو وہ اس کائنات نظام کے فریم ورک کے اندر ہے۔ جسے اس کائنات کا ناموس کلی کہا جاتا ہے جسے نظام قضا و قدر کہا جاتا ہے ۔ اور جسے سنت الہٰیہ کہا جاتا ہے جس کے اندر کوئی تغیر اور اضطراب نہیں ہوتا۔ ٭٭٭ اب اس سبق کا خاتمہ ایک عام تبصرے پر ہوتا ہے جس میں عاد کے سوا دوسری بستیوں کا بھی ذکر ہے جو مکہ کے ارد گرد زمانہ ما قبل میں ہلاک ہوئیں۔ ولقد اھلکنا ۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (27) فلولا نصرھم ۔۔۔۔۔۔ کانوا یفترون (46 : 28) “ تمہارے گردوپیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ۔ ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے ان کو سمجھایا ، شاید کہ وہ باز آجائیں ۔ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ، اور یہ تھا ان کے جھوٹ اور ان بناؤٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ جزیرۃ العرب میں کئی بستیوں کو ہلاک کیا گیا تھا ، جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ احقات میں عاد ہلاک ہوئے۔ یہ جنوب میں تھے اور ثمود حجر میں ہلاک ہوئے جو شمال میں تھے اور سبا یمن میں ہلاک ہوئے اور اہل مدین شام کی راہ میں تھے۔ اسی طرح ذرا مزید شمال میں لوط کی بستیاں تھیں اور اہل عرب ان کی کہانیوں سے بھی واقف تھے اور ان بستیوں سے گزرتے رہتے تھے۔ ان آیات میں اللہ نے ان کی طرف ان کے انجام کی طرف اشارہ کیا کہ شاید مکہ کے مکذبین باز آجائیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو بار بار سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے۔ اور اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے گئے ۔ تب ان پر ہمارے عذاب آئے ، قسم قسم کے عذاب ۔ ان کے بارے میں بعد کے آنے والے ان کی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ عرب کے موجودہ مشرک بھی ان کو سنتے اور جانتے ہیں اور صبح و شام ان بستیوں میں سے گزرتے رہتے ہیں اور ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں لیکن اے کاش کہ وہ عبرت لیتے۔ یہاں اب قرآن مجید مشرکین مکہ کو ایک حقیقت واقعہ بتاتا ہے۔ اللہ نے ان سے پہلے بھی مشرکین کو ہلاک کیا اور ان کو نیست و نابود کردیا اور ان میں سے ایک شخص بھی زندہ نہ رہا۔ لیکن وہ جن معبودوں کو پکارتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ یہ ان کو اللہ کے قریب تر لاتے ہیں تو ان ہستیوں نے کیوں نہ اللہ کے غصب کو کم کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا۔ فلو لا نصرھم الذین ۔۔۔۔۔۔ قربانا الھۃ (46 : 28) “ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ”۔ نہ صرف یہ کہ ان ہستیوں نے ان کی مدد نہ کی بلکہ بل ضلوا عنھم (46 : 28) “ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ”۔ اور انہوں نے ان لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیا ، اور ان کو ان معبودوں تک بھیجنے کا راستہ بھی معلوم نہ ہوا تا کہ وہ ان کو پکڑیں اور اللہ کے عذاب سے بچنے میں ان کی مدد لیں۔ وذلک افکھم وما کانوا یفترون (46 : 28) “ اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان بنیادی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا یہ انجام ہے ۔ اور یہ ان معبود ان باطل کی حقیقت ہے۔ اور اس شرک اور عبادت کا یہ انجام ہے کہ یہ لوگ نیت و نابود کر دئیے گئے۔ لہٰذا مکہ کے ان مشرکوں کو جو ان معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں خدا کے قریب کریں گے ، اپنے اس فعل کے بارے میں سوچ لینا چاہئے کہ اس کا انجام کیا ہوگا اور ایسے عقائد کا انجام تاریخ میں کیا ہوتا رہا ہے

الأحقاف 46:26

درس نمبر 239 ایک نظر میں یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود وقیود کے اندر ان کو جوابات دئیے تھے ، لیکن اہل مکہ کو معلوم ہے کہ ان پر اللہ کا کیسا سخت عذاب آیا۔ ان کی قوت اس عذاب کا مقابلہ نہ کرسکی۔ حالانکہ اہل مکہ سے وہ زیادہ قوی الجثہ تھے۔ ان کی دولت اور ثروت ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکی۔ حالانکہ وہ ان سے زیادہ دولت مند تھے۔ وہ انہی کی طرح آنکھیں ، کان اور دل و دماغ رکھتے تھے مگر انہوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ ان کے مقابلے میں وہ ذہنی لحاظ سے بھی اونچے تھے اور انہوں نے جو الہہ بنا رکھے تھے وہ بھی ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے۔ غرض مشرکین مکہ کو خود اپنے اسلاف کے انجام کے سامنے کھڑا کر کے قرآن ان کا نقشہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور بتاتا ہے مکہ رسالت کا یہ ایک ہی سلسلہ اور شجرہ ہے ، ایک ہی دعوت ہے اور سنت الٰہیہ بھی ایک ہے۔ انہوں نے انکار کیا۔ ہلاک ہوئے ، تم انکار کرتے ہو ، ہلاکت کے مستحق بنتے ہو۔ عقیدۂ توحید کوئی نیا گھڑا ہوا عقیدہ نہیں ہے ، یہ دعوت نوح (علیہ السلام) سے ادھر تاریخ میں چلی آرہی ہے۔ زمان و مکان کے اختلاف سے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ درس نمبر 239 تشریح آیات 21 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 28 آیت نمبر 21 تا 28 احقاف ، حقف کی جمع ہے جس کے معنی ریت کے بلند ٹیلے کے ہیں ، اہل عاد کے مکانات جزیرۃ العرب کے جنوب میں حضر موت کے علاقے میں بلند ٹیلوں پر تھے۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی عاد کی کہانی سنائیں اور یہ بتائیں کہ ان کے بھائی ہود نے بھی اسی طرح اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔ یہ اس لیے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں قوم عاد کا رد عمل ایسا ہی تھا جس طرح اہل قریش آپ کی دعوت کی تکذیب کر رہے ہیں جس طرح آپ ان میں سے ہیں اسی طرح حضرت ہود بھی عاد ہی میں سے تھے مگر یہ لوگ ذرا سنبھلیں کہ دعوت حق کی تکذیب کے ویسے ہی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ عاد کا علاقہ قریش کے قریب تھا اور ان کے واقعات سے وہ باخبر بھی تھے۔ عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا ، حضرت ہود بھی رسولوں میں سے کوئی پہلے رسول نہ تھے۔ ان سے پہلے بھی کئی اقوام میں رسول آچکے تھے۔ وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ (46 : 21) “ اور ایسے خبردار کرنے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے ”۔ زمان و مکان کے اعتبار سے ان کے قریب بھی تھے اور ان سے دور بھی تھے۔ کیونکہ لوگوں کو انجام بد سے ڈرانے کا سلسلہ اللہ نے اپنی مخلوق کے لئے جاری رکھا ، دعوت و رسالت زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے۔ یہ کوئی عجیب و غریب اور غیر معمولی بات تو نہ تھی۔ اور ان کو اس چیز اور اس دعوت اور اسی بات سے ڈراؤ جس سے تمام رسول ڈراتے رہے۔ الا تعبدوا ۔۔۔۔۔۔۔ یوم عظیم (46 : 21) “ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ”۔ اللہ کی بندگی کرو ، یعنی عقیدہ بھی توحید کا رکھو اور پوری زندگی میں اطاعت بھی اللہ کے احکام کی کرو ، اور اگر تم اس دعوت کی مخالفت کرو گے تو اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اشارہ یوم عظیم کے عذاب کی طرف ہے۔ یوم عظیم کا اطلاق قرآن مجید میں قیامت پر ہوتا ہے کہ قیامت کی خوفناکیاں عظیم و شدید ہیں۔ توجہ الی اللہ کی اس دعوت اور عذاب الٰہی سے ڈرانے کا انجام کیا ہوا۔ ٭٭٭٭ قالوا اجئتنا ۔۔۔۔ من الصدقین (46 : 22) “ انہوں نے کہا “ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے ؟ اچھا تو لے آ ، اپنا وہ عذاب جس سے ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے ”۔ انہوں نے اپنے بھائی پر بدگمانی کی اور الٹا ان کو چیلنج دے دیا کہ لاؤ وہ عذاب جس سے ڈراتے ہو اور اس کے ساتھ انہوں نے ان کا مذاق بھی اڑایا ۔ اور باطل پر اصرار کیا۔ حضرت ہود ایک نبی کی طرح یہ سب باتیں برداشت کرتے ہیں۔ کوئی بڑا دعویٰ نہیں کرتے اور اپنے حدود میں رہتے ہوئے کہتے ہیں۔ ٭٭٭ قال انما العلم ۔۔۔۔ قوما تجھلون (46 : 23) “ اس نے کہا “ اس کا علم تو اللہ کو ہے ، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ میں تو تمہیں عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں ڈراؤں۔ مجھے کیا معلوم کہ عذاب کب آئے گا اور عذاب کیسا ہوگا۔ ان امور کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو اللہ کی طرف سے صرف پیغام پہنچانے والا ہوں۔ میں اللہ کے ساتھ علم اور قدرت میں شریک نہیں ہوں۔ ولکنی ارکم قوما تجھلون (46 : 23) “ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ بہت ہی کم عقل نظر آرہے ہو ، اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوگی کہ ایک بھائی اور ناصح مشفق ڈرا رہا ہے اور جواب میں وہ چیلنج دیتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان دعوت اسلامی کے سلسلے میں طویل مکالمہ اور مجادلہ ہوا تھا۔ یہاں قرآن کریم اسے مختصر کردیتا ہے کیونکہ یہاں جلد جلد ان کے سامنے انجام بد پیش کرنا ہے ، تا کہ ان کے چیلنج اور جلد بازی کا جواب دیا جاسکے۔ ٭٭٭٭ فلما راوہ عارضا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (24) تدمر کل شیء ۔۔۔۔۔۔ القوم المجرمین (25) (46 : 24- 25) “ پھر جب انہوں نے اس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔۔۔۔ “ نہیں ، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے ، اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ”۔ روایت میں آتا ہے کہ ان کو شدید گرمی نے آلیا ۔ بارش رک گئی اور خشکی اور سخت گرمی کی وجہ سے علاقہ آگ اور دھواں بن گیا ۔ اس کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا آیا۔ یہ لوگ بہت خوش ہوئے اور ان لوگوں نے وادیوں میں نکل کر اس بادل کا استقبال کیا۔ سمجھتے تھے کہ بس اب بارش ہوگی۔ قالوا ھذا عارض ممطرنا (46 : 24) “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔ اور لسان الحال نے ان کو یہ جواب دیا۔ بل ھو ما ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (46 : 24) تدمر کل شیء بامر ربھا (46 : 25) “ نہیں بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے۔ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ یہ نہایت تیز چلنے والی ہوا ہے۔ اور اس قدر سخت اور بےقابو ہے جس طرح کوئی سرکش جابر ہوتا ہے۔ ما تذر ۔۔۔۔۔ کالرمیم (51 : 42) “ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا ”۔ قرآن کی اس آیت میں ہوا کو ایک زندہ مخلوق کی طرح بتایا گیا ہے گویا وہ سنتی ہے اور اسے حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو نیست و نابود کر کے رکھ دو ۔ تدمر کل شییء بامر ربھا (46 : 25) “ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کرنے والی ” یہ ہے وہ کائناتی حقیقت جس کا شعور قرآن کریم بار بار انسانوں کو دیتا ہے۔ یوں کہ یہ کائنات بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح ہم زندہ ہیں۔ اس کی تمام قوتیں شعور رکھتی ہیں۔ یہ تمام اشیاء اللہ کے احکام لیتی ہیں اور بجا لاتی ہیں۔ انسان بھی ان قوتوں میں سے ایک قوت ہے۔ جب وہ ایمان لے آئے اور اس کا قلب معرفت الٰہی کے لئے کھل جائے تو پھر وہ بھی اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات قوتوں سے پیغام لے سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ہمقدم ہو کر چل سکتا ہے۔ اور یہ قوتیں بھی اس کے ساتھ چل سکتی ہیں۔ یہ چیزیں بھی مومن کے ساتھ اس طرح ہمقدم ہو کر چلتی ہیں ، لیکن اس ہم آہنگی کی صورت وہ نہیں ہوتی جو زندہ انسانوں کی ہوتی ہے۔ درحقیقت گو ہر چیز زندہ ہے لیکن اس کی زندگی اس طرح نہیں جس طرح کی زندگی کے ہم عادی ہیں۔ ہم صرف زندگی کی ظاہری صورتیں ہی دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے اگرچہ ہماری یہ آنکھیں ان کو نہیں دیکھ سکتیں۔ بہرحال اس ہوا کو جو حکم دیا گیا اس نے وہ پورا کردیا۔ اس نے ہر چیز کو نیست و نابود کردیا۔ فاصبحوا لا یری الا مسکنھم (46 : 25) “ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا ”۔ رہے وہ ، ان کے مویشی ، ان کے مال و اسباب تو ان میں سے کوئی چیز نہ رہی۔ خالی خولی مکانات و محلات رہ گئے ۔ کوئی زندہ شخص ان میں نہ تھا۔ کذلک نجزی القوم المجرمین (46 : 25) “ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ” ۔ یہ سنت جاریہ ہے اور مجرموں پر نافذ ہونے والی تقدیر الٰہی ہے۔ ٭٭٭ تباہی کے اس نقشے کو دیکھنے والوں کی طرف ایک نکتہ توجہ ! کہ دیکھو حضرت ہود (علیہ السلام) کی طرح تم بھی حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہو۔ ولقد مکنھم فبما ۔۔۔۔۔ بہ یستھزءون (46 : 26) “ ان کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔ ان کو ہم نے کان ، آنکھیں اور دل سب کچھ دے رکھے تھے ، مگر نہ وہ کان ان کے کسی کام آئے ، نہ آنکھیں ، نہ دل۔ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ، اور اسی چیز کے ۔۔۔۔۔ میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ یہ لوگ جن کو اللہ کی قوتوں میں سے ایک معمولی قوت ۔۔۔۔ کردیا ، ان کو ہم نے وہ قوت دی جو اے اہل قریش ، تم کو نہیں دی گئی۔ قوت ، مال ، علم اور سازوسامان میں وہ تم سے زیادہ تھے۔ اسی طرح سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی قوت بھی ان میں تم سے زیادہ تھی۔ قرآن کریم قوت مدرکہ کو کبھی دل کہتا ہے ، کبھی دماغ کہتا ہے اور کبھی عقل کہتا ہے۔ سب سے مراد قوت مدرکہ ہوتی ہے۔ یعنی ان کے یہ حواس بڑے ترقی یافتہ تھے مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ انہوں نے راہ ہدایت دیکھنے میں ان کو معطل کردیا۔ اذ کانوا یجحدون بایت اللہ (46 : 26) “ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ”۔ اور جب انسان آیات الٰہیہ کا انکار کر دے تو اس کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اور اس کا احساس روشنی اور نور اور ادراک ختم ہوجاتا ہے۔ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون (46 : 26) “ اور اسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ” یعنی عذاب الٰہی اور مصیبت۔ اس واقعہ سے قرآن ہر صاحب سمع و بصر اور قلب کو جو سبق دینا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی قوت والا اپنی قوت پر مغرور نہ ہو ، کوئی مالدار شخص اپنے مال پر مغرور نہ ہو ، کوئی صاحب علم اپنے علم پر مغرور نہ ہو۔ اس لیے کہ اللہ کی ان کائناتی قوتوں میں سے یہ ایک ہی قوت تھی جسے اللہ نے ان زبردست قوت والے ، مال والے اور علم والے لوگوں پر مسلط کیا اور انہیں ختم کر کے رکھ دیا۔ اور وہ یوں رہ گئے کہ صرف عالیشان ، مکانات ہی رہ گئے اور بس۔ اور جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہی ہوتا ہے۔ ہوا ایک ایسی قوت ہے جو مسلسل کام کرتی ہے اور یہ اللہ کے کائنات نظام کے مطابق چلتی ہے۔ اللہ جس وقت چاہے اسے بربادی پر مامور کر دے۔ عام طور پر تو وہ تعمیر کا کام کرتی ہے لیکن جب اللہ چاہے تو وہ ہلاک کرنا شروع کردیتی ہے۔ تمام کائناتی قوتیں جو ایک ڈگر پر کام کرتی نظر آتی ہیں ان کا سبب ان کے اندر یہی امر ربی ہے اور جب امر ربی دوسرا حکم دے تو یہ دوسرا کام کرتی ہیں جو کوتاہ نظر انسانوں کو خارق عادت نظر آتا ہے۔ نظام اسباب پیدا کرنے و الا اللہ ہے۔ وہ ہر چیز کو ، ہر حرکت کو ، ہر حادثہ کو ، ہر رحجان کو ، ہر شخص کو اور ہر کام کو اپنے احکام اور اپنے نقشے کے مطابق چلاتا ہے۔ اور جس جگہ بھی وہ کام ہوتا ہے اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمیں وہ کام خارق عادت نظر آئے۔ ہوا بھی دوسری کائناتی قوتوں کی طرح اپنا مقررہ وظیفہ سر انجام دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی قوت اور دوسری کائناتی قوتیں جو انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہیں وہ کائناتی نقشے کے مطابق کام کرتی ہیں۔ جو نہی انسان حرکت میں آتا ہے یہ قوتیں بھی ان کے ہم قدم ہو کر حرکت کرتی ہیں۔ یوں وہ اسکیم اپنا کام کرتی ہے جو اللہ نے اس دنیا کے لئے مقرر کی ہے۔ انسان کو جو ارادے کی آزادی دی گئی ہے تو وہ اس کائنات نظام کے فریم ورک کے اندر ہے۔ جسے اس کائنات کا ناموس کلی کہا جاتا ہے جسے نظام قضا و قدر کہا جاتا ہے ۔ اور جسے سنت الہٰیہ کہا جاتا ہے جس کے اندر کوئی تغیر اور اضطراب نہیں ہوتا۔ ٭٭٭ اب اس سبق کا خاتمہ ایک عام تبصرے پر ہوتا ہے جس میں عاد کے سوا دوسری بستیوں کا بھی ذکر ہے جو مکہ کے ارد گرد زمانہ ما قبل میں ہلاک ہوئیں۔ ولقد اھلکنا ۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (27) فلولا نصرھم ۔۔۔۔۔۔ کانوا یفترون (46 : 28) “ تمہارے گردوپیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ۔ ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے ان کو سمجھایا ، شاید کہ وہ باز آجائیں ۔ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ، اور یہ تھا ان کے جھوٹ اور ان بناؤٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ جزیرۃ العرب میں کئی بستیوں کو ہلاک کیا گیا تھا ، جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ احقات میں عاد ہلاک ہوئے۔ یہ جنوب میں تھے اور ثمود حجر میں ہلاک ہوئے جو شمال میں تھے اور سبا یمن میں ہلاک ہوئے اور اہل مدین شام کی راہ میں تھے۔ اسی طرح ذرا مزید شمال میں لوط کی بستیاں تھیں اور اہل عرب ان کی کہانیوں سے بھی واقف تھے اور ان بستیوں سے گزرتے رہتے تھے۔ ان آیات میں اللہ نے ان کی طرف ان کے انجام کی طرف اشارہ کیا کہ شاید مکہ کے مکذبین باز آجائیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو بار بار سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے۔ اور اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے گئے ۔ تب ان پر ہمارے عذاب آئے ، قسم قسم کے عذاب ۔ ان کے بارے میں بعد کے آنے والے ان کی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ عرب کے موجودہ مشرک بھی ان کو سنتے اور جانتے ہیں اور صبح و شام ان بستیوں میں سے گزرتے رہتے ہیں اور ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں لیکن اے کاش کہ وہ عبرت لیتے۔ یہاں اب قرآن مجید مشرکین مکہ کو ایک حقیقت واقعہ بتاتا ہے۔ اللہ نے ان سے پہلے بھی مشرکین کو ہلاک کیا اور ان کو نیست و نابود کردیا اور ان میں سے ایک شخص بھی زندہ نہ رہا۔ لیکن وہ جن معبودوں کو پکارتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ یہ ان کو اللہ کے قریب تر لاتے ہیں تو ان ہستیوں نے کیوں نہ اللہ کے غصب کو کم کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا۔ فلو لا نصرھم الذین ۔۔۔۔۔۔ قربانا الھۃ (46 : 28) “ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ”۔ نہ صرف یہ کہ ان ہستیوں نے ان کی مدد نہ کی بلکہ بل ضلوا عنھم (46 : 28) “ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ”۔ اور انہوں نے ان لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیا ، اور ان کو ان معبودوں تک بھیجنے کا راستہ بھی معلوم نہ ہوا تا کہ وہ ان کو پکڑیں اور اللہ کے عذاب سے بچنے میں ان کی مدد لیں۔ وذلک افکھم وما کانوا یفترون (46 : 28) “ اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان بنیادی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا یہ انجام ہے ۔ اور یہ ان معبود ان باطل کی حقیقت ہے۔ اور اس شرک اور عبادت کا یہ انجام ہے کہ یہ لوگ نیت و نابود کر دئیے گئے۔ لہٰذا مکہ کے ان مشرکوں کو جو ان معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں خدا کے قریب کریں گے ، اپنے اس فعل کے بارے میں سوچ لینا چاہئے کہ اس کا انجام کیا ہوگا اور ایسے عقائد کا انجام تاریخ میں کیا ہوتا رہا ہے

الأحقاف 46:27

درس نمبر 239 ایک نظر میں یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود وقیود کے اندر ان کو جوابات دئیے تھے ، لیکن اہل مکہ کو معلوم ہے کہ ان پر اللہ کا کیسا سخت عذاب آیا۔ ان کی قوت اس عذاب کا مقابلہ نہ کرسکی۔ حالانکہ اہل مکہ سے وہ زیادہ قوی الجثہ تھے۔ ان کی دولت اور ثروت ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکی۔ حالانکہ وہ ان سے زیادہ دولت مند تھے۔ وہ انہی کی طرح آنکھیں ، کان اور دل و دماغ رکھتے تھے مگر انہوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ ان کے مقابلے میں وہ ذہنی لحاظ سے بھی اونچے تھے اور انہوں نے جو الہہ بنا رکھے تھے وہ بھی ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے۔ غرض مشرکین مکہ کو خود اپنے اسلاف کے انجام کے سامنے کھڑا کر کے قرآن ان کا نقشہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور بتاتا ہے مکہ رسالت کا یہ ایک ہی سلسلہ اور شجرہ ہے ، ایک ہی دعوت ہے اور سنت الٰہیہ بھی ایک ہے۔ انہوں نے انکار کیا۔ ہلاک ہوئے ، تم انکار کرتے ہو ، ہلاکت کے مستحق بنتے ہو۔ عقیدۂ توحید کوئی نیا گھڑا ہوا عقیدہ نہیں ہے ، یہ دعوت نوح (علیہ السلام) سے ادھر تاریخ میں چلی آرہی ہے۔ زمان و مکان کے اختلاف سے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ درس نمبر 239 تشریح آیات 21 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 28 آیت نمبر 21 تا 28 احقاف ، حقف کی جمع ہے جس کے معنی ریت کے بلند ٹیلے کے ہیں ، اہل عاد کے مکانات جزیرۃ العرب کے جنوب میں حضر موت کے علاقے میں بلند ٹیلوں پر تھے۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی عاد کی کہانی سنائیں اور یہ بتائیں کہ ان کے بھائی ہود نے بھی اسی طرح اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔ یہ اس لیے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں قوم عاد کا رد عمل ایسا ہی تھا جس طرح اہل قریش آپ کی دعوت کی تکذیب کر رہے ہیں جس طرح آپ ان میں سے ہیں اسی طرح حضرت ہود بھی عاد ہی میں سے تھے مگر یہ لوگ ذرا سنبھلیں کہ دعوت حق کی تکذیب کے ویسے ہی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ عاد کا علاقہ قریش کے قریب تھا اور ان کے واقعات سے وہ باخبر بھی تھے۔ عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا ، حضرت ہود بھی رسولوں میں سے کوئی پہلے رسول نہ تھے۔ ان سے پہلے بھی کئی اقوام میں رسول آچکے تھے۔ وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ (46 : 21) “ اور ایسے خبردار کرنے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے ”۔ زمان و مکان کے اعتبار سے ان کے قریب بھی تھے اور ان سے دور بھی تھے۔ کیونکہ لوگوں کو انجام بد سے ڈرانے کا سلسلہ اللہ نے اپنی مخلوق کے لئے جاری رکھا ، دعوت و رسالت زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے۔ یہ کوئی عجیب و غریب اور غیر معمولی بات تو نہ تھی۔ اور ان کو اس چیز اور اس دعوت اور اسی بات سے ڈراؤ جس سے تمام رسول ڈراتے رہے۔ الا تعبدوا ۔۔۔۔۔۔۔ یوم عظیم (46 : 21) “ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ”۔ اللہ کی بندگی کرو ، یعنی عقیدہ بھی توحید کا رکھو اور پوری زندگی میں اطاعت بھی اللہ کے احکام کی کرو ، اور اگر تم اس دعوت کی مخالفت کرو گے تو اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اشارہ یوم عظیم کے عذاب کی طرف ہے۔ یوم عظیم کا اطلاق قرآن مجید میں قیامت پر ہوتا ہے کہ قیامت کی خوفناکیاں عظیم و شدید ہیں۔ توجہ الی اللہ کی اس دعوت اور عذاب الٰہی سے ڈرانے کا انجام کیا ہوا۔ ٭٭٭٭ قالوا اجئتنا ۔۔۔۔ من الصدقین (46 : 22) “ انہوں نے کہا “ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے ؟ اچھا تو لے آ ، اپنا وہ عذاب جس سے ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے ”۔ انہوں نے اپنے بھائی پر بدگمانی کی اور الٹا ان کو چیلنج دے دیا کہ لاؤ وہ عذاب جس سے ڈراتے ہو اور اس کے ساتھ انہوں نے ان کا مذاق بھی اڑایا ۔ اور باطل پر اصرار کیا۔ حضرت ہود ایک نبی کی طرح یہ سب باتیں برداشت کرتے ہیں۔ کوئی بڑا دعویٰ نہیں کرتے اور اپنے حدود میں رہتے ہوئے کہتے ہیں۔ ٭٭٭ قال انما العلم ۔۔۔۔ قوما تجھلون (46 : 23) “ اس نے کہا “ اس کا علم تو اللہ کو ہے ، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ میں تو تمہیں عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں ڈراؤں۔ مجھے کیا معلوم کہ عذاب کب آئے گا اور عذاب کیسا ہوگا۔ ان امور کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو اللہ کی طرف سے صرف پیغام پہنچانے والا ہوں۔ میں اللہ کے ساتھ علم اور قدرت میں شریک نہیں ہوں۔ ولکنی ارکم قوما تجھلون (46 : 23) “ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ بہت ہی کم عقل نظر آرہے ہو ، اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوگی کہ ایک بھائی اور ناصح مشفق ڈرا رہا ہے اور جواب میں وہ چیلنج دیتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان دعوت اسلامی کے سلسلے میں طویل مکالمہ اور مجادلہ ہوا تھا۔ یہاں قرآن کریم اسے مختصر کردیتا ہے کیونکہ یہاں جلد جلد ان کے سامنے انجام بد پیش کرنا ہے ، تا کہ ان کے چیلنج اور جلد بازی کا جواب دیا جاسکے۔ ٭٭٭٭ فلما راوہ عارضا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (24) تدمر کل شیء ۔۔۔۔۔۔ القوم المجرمین (25) (46 : 24- 25) “ پھر جب انہوں نے اس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔۔۔۔ “ نہیں ، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے ، اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ”۔ روایت میں آتا ہے کہ ان کو شدید گرمی نے آلیا ۔ بارش رک گئی اور خشکی اور سخت گرمی کی وجہ سے علاقہ آگ اور دھواں بن گیا ۔ اس کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا آیا۔ یہ لوگ بہت خوش ہوئے اور ان لوگوں نے وادیوں میں نکل کر اس بادل کا استقبال کیا۔ سمجھتے تھے کہ بس اب بارش ہوگی۔ قالوا ھذا عارض ممطرنا (46 : 24) “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔ اور لسان الحال نے ان کو یہ جواب دیا۔ بل ھو ما ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (46 : 24) تدمر کل شیء بامر ربھا (46 : 25) “ نہیں بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے۔ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ یہ نہایت تیز چلنے والی ہوا ہے۔ اور اس قدر سخت اور بےقابو ہے جس طرح کوئی سرکش جابر ہوتا ہے۔ ما تذر ۔۔۔۔۔ کالرمیم (51 : 42) “ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا ”۔ قرآن کی اس آیت میں ہوا کو ایک زندہ مخلوق کی طرح بتایا گیا ہے گویا وہ سنتی ہے اور اسے حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو نیست و نابود کر کے رکھ دو ۔ تدمر کل شییء بامر ربھا (46 : 25) “ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کرنے والی ” یہ ہے وہ کائناتی حقیقت جس کا شعور قرآن کریم بار بار انسانوں کو دیتا ہے۔ یوں کہ یہ کائنات بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح ہم زندہ ہیں۔ اس کی تمام قوتیں شعور رکھتی ہیں۔ یہ تمام اشیاء اللہ کے احکام لیتی ہیں اور بجا لاتی ہیں۔ انسان بھی ان قوتوں میں سے ایک قوت ہے۔ جب وہ ایمان لے آئے اور اس کا قلب معرفت الٰہی کے لئے کھل جائے تو پھر وہ بھی اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات قوتوں سے پیغام لے سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ہمقدم ہو کر چل سکتا ہے۔ اور یہ قوتیں بھی اس کے ساتھ چل سکتی ہیں۔ یہ چیزیں بھی مومن کے ساتھ اس طرح ہمقدم ہو کر چلتی ہیں ، لیکن اس ہم آہنگی کی صورت وہ نہیں ہوتی جو زندہ انسانوں کی ہوتی ہے۔ درحقیقت گو ہر چیز زندہ ہے لیکن اس کی زندگی اس طرح نہیں جس طرح کی زندگی کے ہم عادی ہیں۔ ہم صرف زندگی کی ظاہری صورتیں ہی دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے اگرچہ ہماری یہ آنکھیں ان کو نہیں دیکھ سکتیں۔ بہرحال اس ہوا کو جو حکم دیا گیا اس نے وہ پورا کردیا۔ اس نے ہر چیز کو نیست و نابود کردیا۔ فاصبحوا لا یری الا مسکنھم (46 : 25) “ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا ”۔ رہے وہ ، ان کے مویشی ، ان کے مال و اسباب تو ان میں سے کوئی چیز نہ رہی۔ خالی خولی مکانات و محلات رہ گئے ۔ کوئی زندہ شخص ان میں نہ تھا۔ کذلک نجزی القوم المجرمین (46 : 25) “ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ” ۔ یہ سنت جاریہ ہے اور مجرموں پر نافذ ہونے والی تقدیر الٰہی ہے۔ ٭٭٭ تباہی کے اس نقشے کو دیکھنے والوں کی طرف ایک نکتہ توجہ ! کہ دیکھو حضرت ہود (علیہ السلام) کی طرح تم بھی حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہو۔ ولقد مکنھم فبما ۔۔۔۔۔ بہ یستھزءون (46 : 26) “ ان کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔ ان کو ہم نے کان ، آنکھیں اور دل سب کچھ دے رکھے تھے ، مگر نہ وہ کان ان کے کسی کام آئے ، نہ آنکھیں ، نہ دل۔ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ، اور اسی چیز کے ۔۔۔۔۔ میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ یہ لوگ جن کو اللہ کی قوتوں میں سے ایک معمولی قوت ۔۔۔۔ کردیا ، ان کو ہم نے وہ قوت دی جو اے اہل قریش ، تم کو نہیں دی گئی۔ قوت ، مال ، علم اور سازوسامان میں وہ تم سے زیادہ تھے۔ اسی طرح سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی قوت بھی ان میں تم سے زیادہ تھی۔ قرآن کریم قوت مدرکہ کو کبھی دل کہتا ہے ، کبھی دماغ کہتا ہے اور کبھی عقل کہتا ہے۔ سب سے مراد قوت مدرکہ ہوتی ہے۔ یعنی ان کے یہ حواس بڑے ترقی یافتہ تھے مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ انہوں نے راہ ہدایت دیکھنے میں ان کو معطل کردیا۔ اذ کانوا یجحدون بایت اللہ (46 : 26) “ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ”۔ اور جب انسان آیات الٰہیہ کا انکار کر دے تو اس کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اور اس کا احساس روشنی اور نور اور ادراک ختم ہوجاتا ہے۔ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون (46 : 26) “ اور اسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ” یعنی عذاب الٰہی اور مصیبت۔ اس واقعہ سے قرآن ہر صاحب سمع و بصر اور قلب کو جو سبق دینا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی قوت والا اپنی قوت پر مغرور نہ ہو ، کوئی مالدار شخص اپنے مال پر مغرور نہ ہو ، کوئی صاحب علم اپنے علم پر مغرور نہ ہو۔ اس لیے کہ اللہ کی ان کائناتی قوتوں میں سے یہ ایک ہی قوت تھی جسے اللہ نے ان زبردست قوت والے ، مال والے اور علم والے لوگوں پر مسلط کیا اور انہیں ختم کر کے رکھ دیا۔ اور وہ یوں رہ گئے کہ صرف عالیشان ، مکانات ہی رہ گئے اور بس۔ اور جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہی ہوتا ہے۔ ہوا ایک ایسی قوت ہے جو مسلسل کام کرتی ہے اور یہ اللہ کے کائنات نظام کے مطابق چلتی ہے۔ اللہ جس وقت چاہے اسے بربادی پر مامور کر دے۔ عام طور پر تو وہ تعمیر کا کام کرتی ہے لیکن جب اللہ چاہے تو وہ ہلاک کرنا شروع کردیتی ہے۔ تمام کائناتی قوتیں جو ایک ڈگر پر کام کرتی نظر آتی ہیں ان کا سبب ان کے اندر یہی امر ربی ہے اور جب امر ربی دوسرا حکم دے تو یہ دوسرا کام کرتی ہیں جو کوتاہ نظر انسانوں کو خارق عادت نظر آتا ہے۔ نظام اسباب پیدا کرنے و الا اللہ ہے۔ وہ ہر چیز کو ، ہر حرکت کو ، ہر حادثہ کو ، ہر رحجان کو ، ہر شخص کو اور ہر کام کو اپنے احکام اور اپنے نقشے کے مطابق چلاتا ہے۔ اور جس جگہ بھی وہ کام ہوتا ہے اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمیں وہ کام خارق عادت نظر آئے۔ ہوا بھی دوسری کائناتی قوتوں کی طرح اپنا مقررہ وظیفہ سر انجام دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی قوت اور دوسری کائناتی قوتیں جو انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہیں وہ کائناتی نقشے کے مطابق کام کرتی ہیں۔ جو نہی انسان حرکت میں آتا ہے یہ قوتیں بھی ان کے ہم قدم ہو کر حرکت کرتی ہیں۔ یوں وہ اسکیم اپنا کام کرتی ہے جو اللہ نے اس دنیا کے لئے مقرر کی ہے۔ انسان کو جو ارادے کی آزادی دی گئی ہے تو وہ اس کائنات نظام کے فریم ورک کے اندر ہے۔ جسے اس کائنات کا ناموس کلی کہا جاتا ہے جسے نظام قضا و قدر کہا جاتا ہے ۔ اور جسے سنت الہٰیہ کہا جاتا ہے جس کے اندر کوئی تغیر اور اضطراب نہیں ہوتا۔ ٭٭٭ اب اس سبق کا خاتمہ ایک عام تبصرے پر ہوتا ہے جس میں عاد کے سوا دوسری بستیوں کا بھی ذکر ہے جو مکہ کے ارد گرد زمانہ ما قبل میں ہلاک ہوئیں۔ ولقد اھلکنا ۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (27) فلولا نصرھم ۔۔۔۔۔۔ کانوا یفترون (46 : 28) “ تمہارے گردوپیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ۔ ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے ان کو سمجھایا ، شاید کہ وہ باز آجائیں ۔ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ، اور یہ تھا ان کے جھوٹ اور ان بناؤٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ جزیرۃ العرب میں کئی بستیوں کو ہلاک کیا گیا تھا ، جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ احقات میں عاد ہلاک ہوئے۔ یہ جنوب میں تھے اور ثمود حجر میں ہلاک ہوئے جو شمال میں تھے اور سبا یمن میں ہلاک ہوئے اور اہل مدین شام کی راہ میں تھے۔ اسی طرح ذرا مزید شمال میں لوط کی بستیاں تھیں اور اہل عرب ان کی کہانیوں سے بھی واقف تھے اور ان بستیوں سے گزرتے رہتے تھے۔ ان آیات میں اللہ نے ان کی طرف ان کے انجام کی طرف اشارہ کیا کہ شاید مکہ کے مکذبین باز آجائیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو بار بار سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے۔ اور اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے گئے ۔ تب ان پر ہمارے عذاب آئے ، قسم قسم کے عذاب ۔ ان کے بارے میں بعد کے آنے والے ان کی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ عرب کے موجودہ مشرک بھی ان کو سنتے اور جانتے ہیں اور صبح و شام ان بستیوں میں سے گزرتے رہتے ہیں اور ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں لیکن اے کاش کہ وہ عبرت لیتے۔ یہاں اب قرآن مجید مشرکین مکہ کو ایک حقیقت واقعہ بتاتا ہے۔ اللہ نے ان سے پہلے بھی مشرکین کو ہلاک کیا اور ان کو نیست و نابود کردیا اور ان میں سے ایک شخص بھی زندہ نہ رہا۔ لیکن وہ جن معبودوں کو پکارتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ یہ ان کو اللہ کے قریب تر لاتے ہیں تو ان ہستیوں نے کیوں نہ اللہ کے غصب کو کم کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا۔ فلو لا نصرھم الذین ۔۔۔۔۔۔ قربانا الھۃ (46 : 28) “ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ”۔ نہ صرف یہ کہ ان ہستیوں نے ان کی مدد نہ کی بلکہ بل ضلوا عنھم (46 : 28) “ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ”۔ اور انہوں نے ان لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیا ، اور ان کو ان معبودوں تک بھیجنے کا راستہ بھی معلوم نہ ہوا تا کہ وہ ان کو پکڑیں اور اللہ کے عذاب سے بچنے میں ان کی مدد لیں۔ وذلک افکھم وما کانوا یفترون (46 : 28) “ اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان بنیادی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا یہ انجام ہے ۔ اور یہ ان معبود ان باطل کی حقیقت ہے۔ اور اس شرک اور عبادت کا یہ انجام ہے کہ یہ لوگ نیت و نابود کر دئیے گئے۔ لہٰذا مکہ کے ان مشرکوں کو جو ان معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں خدا کے قریب کریں گے ، اپنے اس فعل کے بارے میں سوچ لینا چاہئے کہ اس کا انجام کیا ہوگا اور ایسے عقائد کا انجام تاریخ میں کیا ہوتا رہا ہے

الأحقاف 46:28

درس نمبر 239 ایک نظر میں یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود وقیود کے اندر ان کو جوابات دئیے تھے ، لیکن اہل مکہ کو معلوم ہے کہ ان پر اللہ کا کیسا سخت عذاب آیا۔ ان کی قوت اس عذاب کا مقابلہ نہ کرسکی۔ حالانکہ اہل مکہ سے وہ زیادہ قوی الجثہ تھے۔ ان کی دولت اور ثروت ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکی۔ حالانکہ وہ ان سے زیادہ دولت مند تھے۔ وہ انہی کی طرح آنکھیں ، کان اور دل و دماغ رکھتے تھے مگر انہوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ ان کے مقابلے میں وہ ذہنی لحاظ سے بھی اونچے تھے اور انہوں نے جو الہہ بنا رکھے تھے وہ بھی ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے۔ غرض مشرکین مکہ کو خود اپنے اسلاف کے انجام کے سامنے کھڑا کر کے قرآن ان کا نقشہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور بتاتا ہے مکہ رسالت کا یہ ایک ہی سلسلہ اور شجرہ ہے ، ایک ہی دعوت ہے اور سنت الٰہیہ بھی ایک ہے۔ انہوں نے انکار کیا۔ ہلاک ہوئے ، تم انکار کرتے ہو ، ہلاکت کے مستحق بنتے ہو۔ عقیدۂ توحید کوئی نیا گھڑا ہوا عقیدہ نہیں ہے ، یہ دعوت نوح (علیہ السلام) سے ادھر تاریخ میں چلی آرہی ہے۔ زمان و مکان کے اختلاف سے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ درس نمبر 239 تشریح آیات 21 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 28 آیت نمبر 21 تا 28 احقاف ، حقف کی جمع ہے جس کے معنی ریت کے بلند ٹیلے کے ہیں ، اہل عاد کے مکانات جزیرۃ العرب کے جنوب میں حضر موت کے علاقے میں بلند ٹیلوں پر تھے۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی عاد کی کہانی سنائیں اور یہ بتائیں کہ ان کے بھائی ہود نے بھی اسی طرح اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔ یہ اس لیے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں قوم عاد کا رد عمل ایسا ہی تھا جس طرح اہل قریش آپ کی دعوت کی تکذیب کر رہے ہیں جس طرح آپ ان میں سے ہیں اسی طرح حضرت ہود بھی عاد ہی میں سے تھے مگر یہ لوگ ذرا سنبھلیں کہ دعوت حق کی تکذیب کے ویسے ہی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ عاد کا علاقہ قریش کے قریب تھا اور ان کے واقعات سے وہ باخبر بھی تھے۔ عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا ، حضرت ہود بھی رسولوں میں سے کوئی پہلے رسول نہ تھے۔ ان سے پہلے بھی کئی اقوام میں رسول آچکے تھے۔ وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ (46 : 21) “ اور ایسے خبردار کرنے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے ”۔ زمان و مکان کے اعتبار سے ان کے قریب بھی تھے اور ان سے دور بھی تھے۔ کیونکہ لوگوں کو انجام بد سے ڈرانے کا سلسلہ اللہ نے اپنی مخلوق کے لئے جاری رکھا ، دعوت و رسالت زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے۔ یہ کوئی عجیب و غریب اور غیر معمولی بات تو نہ تھی۔ اور ان کو اس چیز اور اس دعوت اور اسی بات سے ڈراؤ جس سے تمام رسول ڈراتے رہے۔ الا تعبدوا ۔۔۔۔۔۔۔ یوم عظیم (46 : 21) “ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ”۔ اللہ کی بندگی کرو ، یعنی عقیدہ بھی توحید کا رکھو اور پوری زندگی میں اطاعت بھی اللہ کے احکام کی کرو ، اور اگر تم اس دعوت کی مخالفت کرو گے تو اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اشارہ یوم عظیم کے عذاب کی طرف ہے۔ یوم عظیم کا اطلاق قرآن مجید میں قیامت پر ہوتا ہے کہ قیامت کی خوفناکیاں عظیم و شدید ہیں۔ توجہ الی اللہ کی اس دعوت اور عذاب الٰہی سے ڈرانے کا انجام کیا ہوا۔ ٭٭٭٭ قالوا اجئتنا ۔۔۔۔ من الصدقین (46 : 22) “ انہوں نے کہا “ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے ؟ اچھا تو لے آ ، اپنا وہ عذاب جس سے ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے ”۔ انہوں نے اپنے بھائی پر بدگمانی کی اور الٹا ان کو چیلنج دے دیا کہ لاؤ وہ عذاب جس سے ڈراتے ہو اور اس کے ساتھ انہوں نے ان کا مذاق بھی اڑایا ۔ اور باطل پر اصرار کیا۔ حضرت ہود ایک نبی کی طرح یہ سب باتیں برداشت کرتے ہیں۔ کوئی بڑا دعویٰ نہیں کرتے اور اپنے حدود میں رہتے ہوئے کہتے ہیں۔ ٭٭٭ قال انما العلم ۔۔۔۔ قوما تجھلون (46 : 23) “ اس نے کہا “ اس کا علم تو اللہ کو ہے ، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ میں تو تمہیں عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں ڈراؤں۔ مجھے کیا معلوم کہ عذاب کب آئے گا اور عذاب کیسا ہوگا۔ ان امور کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو اللہ کی طرف سے صرف پیغام پہنچانے والا ہوں۔ میں اللہ کے ساتھ علم اور قدرت میں شریک نہیں ہوں۔ ولکنی ارکم قوما تجھلون (46 : 23) “ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ”۔ بہت ہی کم عقل نظر آرہے ہو ، اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوگی کہ ایک بھائی اور ناصح مشفق ڈرا رہا ہے اور جواب میں وہ چیلنج دیتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان دعوت اسلامی کے سلسلے میں طویل مکالمہ اور مجادلہ ہوا تھا۔ یہاں قرآن کریم اسے مختصر کردیتا ہے کیونکہ یہاں جلد جلد ان کے سامنے انجام بد پیش کرنا ہے ، تا کہ ان کے چیلنج اور جلد بازی کا جواب دیا جاسکے۔ ٭٭٭٭ فلما راوہ عارضا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (24) تدمر کل شیء ۔۔۔۔۔۔ القوم المجرمین (25) (46 : 24- 25) “ پھر جب انہوں نے اس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔۔۔۔ “ نہیں ، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے ، اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ”۔ روایت میں آتا ہے کہ ان کو شدید گرمی نے آلیا ۔ بارش رک گئی اور خشکی اور سخت گرمی کی وجہ سے علاقہ آگ اور دھواں بن گیا ۔ اس کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا آیا۔ یہ لوگ بہت خوش ہوئے اور ان لوگوں نے وادیوں میں نکل کر اس بادل کا استقبال کیا۔ سمجھتے تھے کہ بس اب بارش ہوگی۔ قالوا ھذا عارض ممطرنا (46 : 24) “ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا ”۔ اور لسان الحال نے ان کو یہ جواب دیا۔ بل ھو ما ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (46 : 24) تدمر کل شیء بامر ربھا (46 : 25) “ نہیں بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے۔ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ”۔ یہ نہایت تیز چلنے والی ہوا ہے۔ اور اس قدر سخت اور بےقابو ہے جس طرح کوئی سرکش جابر ہوتا ہے۔ ما تذر ۔۔۔۔۔ کالرمیم (51 : 42) “ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا ”۔ قرآن کی اس آیت میں ہوا کو ایک زندہ مخلوق کی طرح بتایا گیا ہے گویا وہ سنتی ہے اور اسے حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو نیست و نابود کر کے رکھ دو ۔ تدمر کل شییء بامر ربھا (46 : 25) “ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کرنے والی ” یہ ہے وہ کائناتی حقیقت جس کا شعور قرآن کریم بار بار انسانوں کو دیتا ہے۔ یوں کہ یہ کائنات بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح ہم زندہ ہیں۔ اس کی تمام قوتیں شعور رکھتی ہیں۔ یہ تمام اشیاء اللہ کے احکام لیتی ہیں اور بجا لاتی ہیں۔ انسان بھی ان قوتوں میں سے ایک قوت ہے۔ جب وہ ایمان لے آئے اور اس کا قلب معرفت الٰہی کے لئے کھل جائے تو پھر وہ بھی اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات قوتوں سے پیغام لے سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ہمقدم ہو کر چل سکتا ہے۔ اور یہ قوتیں بھی اس کے ساتھ چل سکتی ہیں۔ یہ چیزیں بھی مومن کے ساتھ اس طرح ہمقدم ہو کر چلتی ہیں ، لیکن اس ہم آہنگی کی صورت وہ نہیں ہوتی جو زندہ انسانوں کی ہوتی ہے۔ درحقیقت گو ہر چیز زندہ ہے لیکن اس کی زندگی اس طرح نہیں جس طرح کی زندگی کے ہم عادی ہیں۔ ہم صرف زندگی کی ظاہری صورتیں ہی دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں اور اس ظاہر بینی کی وجہ سے باطن صورتیں ہم نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی چشم بصیرت کھل جاتی ہے۔ وہ دیکھ سکتے اگرچہ ہماری یہ آنکھیں ان کو نہیں دیکھ سکتیں۔ بہرحال اس ہوا کو جو حکم دیا گیا اس نے وہ پورا کردیا۔ اس نے ہر چیز کو نیست و نابود کردیا۔ فاصبحوا لا یری الا مسکنھم (46 : 25) “ آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا ”۔ رہے وہ ، ان کے مویشی ، ان کے مال و اسباب تو ان میں سے کوئی چیز نہ رہی۔ خالی خولی مکانات و محلات رہ گئے ۔ کوئی زندہ شخص ان میں نہ تھا۔ کذلک نجزی القوم المجرمین (46 : 25) “ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ” ۔ یہ سنت جاریہ ہے اور مجرموں پر نافذ ہونے والی تقدیر الٰہی ہے۔ ٭٭٭ تباہی کے اس نقشے کو دیکھنے والوں کی طرف ایک نکتہ توجہ ! کہ دیکھو حضرت ہود (علیہ السلام) کی طرح تم بھی حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہو۔ ولقد مکنھم فبما ۔۔۔۔۔ بہ یستھزءون (46 : 26) “ ان کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔ ان کو ہم نے کان ، آنکھیں اور دل سب کچھ دے رکھے تھے ، مگر نہ وہ کان ان کے کسی کام آئے ، نہ آنکھیں ، نہ دل۔ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ، اور اسی چیز کے ۔۔۔۔۔ میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ یہ لوگ جن کو اللہ کی قوتوں میں سے ایک معمولی قوت ۔۔۔۔ کردیا ، ان کو ہم نے وہ قوت دی جو اے اہل قریش ، تم کو نہیں دی گئی۔ قوت ، مال ، علم اور سازوسامان میں وہ تم سے زیادہ تھے۔ اسی طرح سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی قوت بھی ان میں تم سے زیادہ تھی۔ قرآن کریم قوت مدرکہ کو کبھی دل کہتا ہے ، کبھی دماغ کہتا ہے اور کبھی عقل کہتا ہے۔ سب سے مراد قوت مدرکہ ہوتی ہے۔ یعنی ان کے یہ حواس بڑے ترقی یافتہ تھے مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ انہوں نے راہ ہدایت دیکھنے میں ان کو معطل کردیا۔ اذ کانوا یجحدون بایت اللہ (46 : 26) “ کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ”۔ اور جب انسان آیات الٰہیہ کا انکار کر دے تو اس کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اور اس کا احساس روشنی اور نور اور ادراک ختم ہوجاتا ہے۔ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون (46 : 26) “ اور اسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ” یعنی عذاب الٰہی اور مصیبت۔ اس واقعہ سے قرآن ہر صاحب سمع و بصر اور قلب کو جو سبق دینا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی قوت والا اپنی قوت پر مغرور نہ ہو ، کوئی مالدار شخص اپنے مال پر مغرور نہ ہو ، کوئی صاحب علم اپنے علم پر مغرور نہ ہو۔ اس لیے کہ اللہ کی ان کائناتی قوتوں میں سے یہ ایک ہی قوت تھی جسے اللہ نے ان زبردست قوت والے ، مال والے اور علم والے لوگوں پر مسلط کیا اور انہیں ختم کر کے رکھ دیا۔ اور وہ یوں رہ گئے کہ صرف عالیشان ، مکانات ہی رہ گئے اور بس۔ اور جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہی ہوتا ہے۔ ہوا ایک ایسی قوت ہے جو مسلسل کام کرتی ہے اور یہ اللہ کے کائنات نظام کے مطابق چلتی ہے۔ اللہ جس وقت چاہے اسے بربادی پر مامور کر دے۔ عام طور پر تو وہ تعمیر کا کام کرتی ہے لیکن جب اللہ چاہے تو وہ ہلاک کرنا شروع کردیتی ہے۔ تمام کائناتی قوتیں جو ایک ڈگر پر کام کرتی نظر آتی ہیں ان کا سبب ان کے اندر یہی امر ربی ہے اور جب امر ربی دوسرا حکم دے تو یہ دوسرا کام کرتی ہیں جو کوتاہ نظر انسانوں کو خارق عادت نظر آتا ہے۔ نظام اسباب پیدا کرنے و الا اللہ ہے۔ وہ ہر چیز کو ، ہر حرکت کو ، ہر حادثہ کو ، ہر رحجان کو ، ہر شخص کو اور ہر کام کو اپنے احکام اور اپنے نقشے کے مطابق چلاتا ہے۔ اور جس جگہ بھی وہ کام ہوتا ہے اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمیں وہ کام خارق عادت نظر آئے۔ ہوا بھی دوسری کائناتی قوتوں کی طرح اپنا مقررہ وظیفہ سر انجام دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی قوت اور دوسری کائناتی قوتیں جو انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہیں وہ کائناتی نقشے کے مطابق کام کرتی ہیں۔ جو نہی انسان حرکت میں آتا ہے یہ قوتیں بھی ان کے ہم قدم ہو کر حرکت کرتی ہیں۔ یوں وہ اسکیم اپنا کام کرتی ہے جو اللہ نے اس دنیا کے لئے مقرر کی ہے۔ انسان کو جو ارادے کی آزادی دی گئی ہے تو وہ اس کائنات نظام کے فریم ورک کے اندر ہے۔ جسے اس کائنات کا ناموس کلی کہا جاتا ہے جسے نظام قضا و قدر کہا جاتا ہے ۔ اور جسے سنت الہٰیہ کہا جاتا ہے جس کے اندر کوئی تغیر اور اضطراب نہیں ہوتا۔ ٭٭٭ اب اس سبق کا خاتمہ ایک عام تبصرے پر ہوتا ہے جس میں عاد کے سوا دوسری بستیوں کا بھی ذکر ہے جو مکہ کے ارد گرد زمانہ ما قبل میں ہلاک ہوئیں۔ ولقد اھلکنا ۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (27) فلولا نصرھم ۔۔۔۔۔۔ کانوا یفترون (46 : 28) “ تمہارے گردوپیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ۔ ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے ان کو سمجھایا ، شاید کہ وہ باز آجائیں ۔ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ، اور یہ تھا ان کے جھوٹ اور ان بناؤٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ جزیرۃ العرب میں کئی بستیوں کو ہلاک کیا گیا تھا ، جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ احقات میں عاد ہلاک ہوئے۔ یہ جنوب میں تھے اور ثمود حجر میں ہلاک ہوئے جو شمال میں تھے اور سبا یمن میں ہلاک ہوئے اور اہل مدین شام کی راہ میں تھے۔ اسی طرح ذرا مزید شمال میں لوط کی بستیاں تھیں اور اہل عرب ان کی کہانیوں سے بھی واقف تھے اور ان بستیوں سے گزرتے رہتے تھے۔ ان آیات میں اللہ نے ان کی طرف ان کے انجام کی طرف اشارہ کیا کہ شاید مکہ کے مکذبین باز آجائیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو بار بار سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے۔ اور اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے گئے ۔ تب ان پر ہمارے عذاب آئے ، قسم قسم کے عذاب ۔ ان کے بارے میں بعد کے آنے والے ان کی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ عرب کے موجودہ مشرک بھی ان کو سنتے اور جانتے ہیں اور صبح و شام ان بستیوں میں سے گزرتے رہتے ہیں اور ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں لیکن اے کاش کہ وہ عبرت لیتے۔ یہاں اب قرآن مجید مشرکین مکہ کو ایک حقیقت واقعہ بتاتا ہے۔ اللہ نے ان سے پہلے بھی مشرکین کو ہلاک کیا اور ان کو نیست و نابود کردیا اور ان میں سے ایک شخص بھی زندہ نہ رہا۔ لیکن وہ جن معبودوں کو پکارتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ یہ ان کو اللہ کے قریب تر لاتے ہیں تو ان ہستیوں نے کیوں نہ اللہ کے غصب کو کم کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا۔ فلو لا نصرھم الذین ۔۔۔۔۔۔ قربانا الھۃ (46 : 28) “ پھر کیوں نہ ان ہستیوں نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا ”۔ نہ صرف یہ کہ ان ہستیوں نے ان کی مدد نہ کی بلکہ بل ضلوا عنھم (46 : 28) “ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ”۔ اور انہوں نے ان لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیا ، اور ان کو ان معبودوں تک بھیجنے کا راستہ بھی معلوم نہ ہوا تا کہ وہ ان کو پکڑیں اور اللہ کے عذاب سے بچنے میں ان کی مدد لیں۔ وذلک افکھم وما کانوا یفترون (46 : 28) “ اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان بنیادی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے ”۔ یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا یہ انجام ہے ۔ اور یہ ان معبود ان باطل کی حقیقت ہے۔ اور اس شرک اور عبادت کا یہ انجام ہے کہ یہ لوگ نیت و نابود کر دئیے گئے۔ لہٰذا مکہ کے ان مشرکوں کو جو ان معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں خدا کے قریب کریں گے ، اپنے اس فعل کے بارے میں سوچ لینا چاہئے کہ اس کا انجام کیا ہوگا اور ایسے عقائد کا انجام تاریخ میں کیا ہوتا رہا ہے

الأحقاف 46:29

درس نمبر 240 ایک نظر میں اس سورت کا یہ آخری سبق ہے اس سورت کے موضوع کی وضاحت کے لئے یہ ایک نئی وادی میں سفر ہے۔ ایک واقعہ کہ جنوں نے قرآن کی دعوت کو سنا۔ تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ خاموشی سے سنو۔ اور سن کر یہ طے کیا کہ ہم ایمان لاتے ہیں۔ وہ ایمان لائے اور اپنی قوم میں جا کر انہوں نے دعوت دین کے کام کا آغاز کردیا۔ اپنی قوم کو عذاب جہنم سے ڈرانا اور جنت کی خوشخبری دینا شروع کردیا۔ اور انہوں نے اپنی قوم کو متنبہ کیا کہ اگر تم نے منہ موڑا اور گمراہی اختیار کی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے جنوں کی خبر کو یہاں اس انداز سے پیش کرنا اور یہ دکھانا کہ قرآن مجید کا ان کے دلوں پر کس طرح اثر ہوا اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا خاموش ہو کر سنو ، پھر جس گہرے تاثر کے ساتھ انہوں نے قرآن مجید کی تعلیمات کو اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ یہ سب امور انسانی دلوں کو متاثر کرنے والے ہیں کیونکہ اصل میں تو قرآن انسانوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ جنوں کے تاثرات جس طرح قرآن نے قلم بند کئے ہیں ، وہ بہت ہی پر تاثیر انداز ہے۔ خصوصاً جبکہ جن بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ٹھیک موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہ تعلیمات آرہی ہیں۔ قرآن کا اشارہ یہ ہے کہ اس حقیقت کو جنوں نے تو پالیا مگر انسان اس سے غافل ہیں کہ قرآن جو دعوت دے رہا ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد پہلی دعوت ہے۔ چناچہ یہ بات پوری سورت کے مضمون کے ساتھ گہرا ربط اور مناسبت رکھتی ہے۔ پھر جنوں نے بھی اس کائنات کی کھلی کتاب کی نشانیوں کی طرف اشارہ کیا ہے کہ تعلیمات قرآن کی تصدیق خلق سموات وارض سے ہو سکتی ہے۔ اور یہی تخلیق کائنات دوبارہ تخلیق پر بھی شاہد عادل ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس پر انسانوں نے ہمیشہ بحث اور جدال کیا ہے۔ ویوم یعرض الذین کفروا علی النار (46 : 34) “ جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے ”۔ آخر میں نبی ﷺ کو وصیت کی جاتی ہے کہ ان کی ایذا رسانیوں پر صبر کریں اور ان پر عذاب لانے کے لئے جلدی نہ فرمائیں اور ان کو چھوڑ دیں۔ قیامت کی گھڑی قریب ہے۔ اور جس دن برپا ہوگی تو وہ کہیں گے ہم تو دنیا میں ایک گھڑی بھر ہی رہے ، بس ہلاکت سے قبل تبلیغ ہی کی گئی۔ جنوں نے نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ قرآن کو سنا اور اس کے بعد انہوں نے جو تبصرہ کیا اور قرآن نے یہاں اسے نقل کیا ، اس میں اسلامی نظریہ حیات کی تمام بنیادی باتیں آگئی ہیں۔ یعنی وحی الٰہی کی تصدیق ، تو رات اور قرآن کے تصورات میں وحدت ، یہ اعتراف کہ ہم ایمان لاتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں ، اور آخرت پر ایمان اور ان اعمال کی تصدیق جو جنت کو لے جانے والے ہیں اور ان اعمال کی تصدیق جو جہنم کو لے جانے والے ہیں اور ان اعمال کی تصدیق جو جہنم کو لے جانے والے ہیں۔ یہ اعتراف کہ اللہ پوری کائنات کا خالق ہے ، وہی مخلوقات کا ولی ہے۔ اور یہ کہ تخلیق کائنات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ یہی وہ مضامین ہیں جو اس پوری سورت میں لیے گئے ہیں اور سورت کے تمام اسباق کا موضوع ہیں۔ اور یہی موضوعات جنوں کی زبانی ، جو انسانوں کے مقابلے میں ایک الگ مخلوق ہے ، دوبارہ لائے گئے۔ ان آیات کی تشریح سے پہلے دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے ، یہ کہ جن کیا ہیں اور یہ کہ یہ واقعہ کہاں اور کب ہوا۔ قرآن مجید کی طرف سے یہ ذکر کرنا کہ جنوں کے کچھ لوگوں نے قرآن کو سنا اور اس کے بعد یہ کہا اور یہ کیا ، جنوں کے وجود کے لئے بس یہی کافی شافی دلیل ہے۔ اور نہ اس واقعہ کے بارے میں کچھ مزید کہنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ثابت ہونے کے بعد کہ جن اس قابل ہیں کہ رسول خدا کی زبانی عربی قرآن کو سنیں اور عربی زبان کو سمجھیں۔ اور یہ کہ وہ ایک مخلوق ہیں جو ایمان اور کفر کے قابل ہیں ، ہدایت اور ضلالت کے قابل ہیں ، جنوں کی حقیقت اور انہیں ایک مخلوق ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب اللہ ایک حقیقت کی تصدیق کردے تو اس کے بعد اس مخلوق کی حقیقت کو مزید ثابت کرنا ایک بےمعنی حرکت ہے۔ لیکن یہاں کلام کرنے کا ہمارا مقصد یہ ہے کہ انسانی تصور میں اس کی وضاحت ہوجائے۔ ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی اس کائنات میں ، رازوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ اس کے اندر ایسی مخلوقات موجود ہیں جن کی حقیقت ، صفات اور اثرات سے ہم بالکل واقف نہیں ۔ اور ہم جن قوتوں اور رازوں کے اندر رہتے ہیں۔ ان میں سے صرف چند رازوں اور بھیدوں سے ابھی تک ہم واقف ہوئے ہیں۔ بہرحال آئے دن ہم ان بھیدوں کے انکشافات کرتے رہتے ہیں۔ اور اللہ کی مخلوقات میں سے بعض مخلوق کے بارے میں دریافت کرلیتے ہیں۔ بعض کی ذات معلوم کرلیتے ہیں۔ بعض کی صفات ہمیں معلوم ہوجاتی ہے۔ اور بعض چیزوں کے تو صرف ہمارے اردگرد آثار ہی پائے جاتے ہیں۔ ابھی تک ہم نے اس کائنات کی شاہراہ پر ، جس کے اندر ہم رہتے ہیں ، اس کے رازوں کو معلوم کرنے کے سلسلے میں چند قدم ہی لئے ہیں۔ اس کائنات میں ہمارے آباء و اجداد رہ کر چلے گئے اور ہماری اولاد ان کی اولاد آنے والی ہے۔ ان سب لوگوں کو اس کائنات کے ایک چھوٹے سے ڈرے کے اوپر رہنا ہے۔ اگر اس پوری کائنات کے حجم اور وزن کا تصور کیا جائے تو اس حجم اور وزن میں اس زمین کی حیثیت ایک ذرے کے برابر بھی نہیں ہے۔ آج تک جو معلومات ہم فراہم کرسکے ہیں ، اگر ان معلومات کو آج سے صرف پانچ سو سال پہلے کی حالت کے مقابلے میں دیکھا جائے تو ہم جنوں سے بھی زیادہ بڑے بڑے عجائبات دریافت کرسکے ہیں۔ آج ہم ایٹم کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں۔ اگر آج سے پانچ سو سال پہلے کوئی ایسی باتیں کرتا تو لوگ کہتے کہ یہ مجنون ہے۔ یا کم از کم اسے جنات کے مقابلے میں زیادہ عجیب و غریب بات سمجھا جاتا۔ ہمارا علم و ادراک ہمارے انسانی حدود ادراک کے محدود دائرے کے اندر ہے اور ادراک کی یہ قوت ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس زمین پر وہ مقاصد پورے کرنے کے لئے دی گئی ہے جن کو ہم نے زمین کے اوپر منصب خلافت کے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں یہاں حاصل کرنا تھا۔ صرف اس محدود دائرے میں کہ زمین کی قوتیں ہمارے لیے مسخر ہوں ، ہمارے تابع ہوں تا کہ وہ فرائض ہم بحسن و خوبی ادا کرسکیں۔ ہمارے جس قدر انکشافات ہیں وہ اس دائرہ فرائض کے اندر ہیں اور ہم جس قدر بھی آگے بڑھ جائیں ہم اسی دائرے کے اندر ہی رہیں گے۔ یعنی اس دائرے کے اندر ہی رہیں گے جو اللہ نے ہمارے یہاں قیام اور خلافت ارضی کے لئے مقرر اور مقدر کردیا ہے۔ نہ اس سے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت ہے۔ مستقبل میں ہم مزید انکشافات کریں گے۔ ہم بہت کچھ جانیں گے ، اس قدر ہمارے علوم میں اضافہ ہوگا کہ ایٹم کے راز ہمارے لیے بچوں کا کھیل بن جائے گا۔ لیکن ان انکشافات کے باوجود ہم اس محدود دائرے کے اندر ہی رہیں گے جو اللہ نے ہمارے لئے مقدر کردیا ہے۔ انسانی دائرے کے اندر رہیں گے۔ جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا : وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً “ اور تمہیں جو علم دیا گیا ہے وہ بہت ہی قلیل ہے ”۔ یعنی ان اسرار اور محقیات کے مقابلے میں جو تمہارے علم سے باہر ہیں۔ صرف خالق کائنات ہی ان غائب باتوں کو جانتا ہے۔ کیونکہ اللہ کا علم غیر محدود ہے۔ اور انسانوں کا علم اور اس کے ذرائع علم محدود ہیں۔ ولو ان ما فی الارض ۔۔۔۔۔۔ کلمات اللہ “ اگر زمین میں جس قدر درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر کو سات اور سمندر سیاہی بن کر مدد کے لئے آپہنچیں تو اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں ”۔ اگر بمقابلہ علم الٰہی ہماری حالت یہ ہے تو ہم صرف اپنی لا علمی کی بنا پر بالجزم نہ کسی بات کی نفی کرسکتے ہیں اور ۔۔۔۔ نہ ان کا تصور کرسکتے ہیں اور نہ عدم تصور۔ یہ بہرحال اللہ کی کائنات کے غائب علاقوں کی باتیں ہیں اور کائنات کی ان قوتوں اور ان اسرار میں سے ہیں جن کا ہمیں علم نہیں ہے۔ اس بنا پر ایسی کسی شے کے بارے میں ہم کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں جو ہمارے علم سے باہر ہے۔ جبکہ ابھی تک ہمیں خود اپنی ذات سے متعلق مکمل اسرار و رموز کا پتہ نہیں ہے کہ ہماری روح اور ہماری قوت مدرکہ کے حالات کیا ہیں۔ حقیقت جن تو بڑی بات ہے۔ بعض ایسے راز بھی ہو سکتے ہیں جن کا ہمارے لیے انکشاف مقدر ہی نہ کیا گیا ہو۔ مثلاً وہ تمام حقائق جن کے وجود کی قرآن نے اطلاع دی ہے ، یا آثار بتائے ہیں کیونکہ ان حقائق کا جاننا ہمارے لیے ضروری نہیں ہے اس لیے کہ اس زمین پر انسان نے جو فریضہ ادا کرنا ہے اس کے لئے اس کی کوئی افادیت نہیں ہے۔ اگر اللہ نے اپنے کلام کے ذریعہ ہمیں کچھ اسرار بتا دئیے ہیں ، اور ان تک ہم اپنے تجربات کے ذریعے نہیں پہنچے تو ہمارا فرض یہ ہے کہ جس قدر علم اللہ نے دے دیا ہے (بذریعہ اطلاع) ہم شکر اور تسلیم و رضا کے ساتھ اسے قبول کرلیں۔ ہم اس کے بارے میں اسی قدر عقیدہ رکھیں جس قدر اللہ نے بتا دیا ہے۔ نہ اس میں کمی کریں اور نہ اس میں اضافہ کریں۔ اور یہ کہیں کہ اس سلسلے میں حقیقت جاننے والے نے ہمیں اسی قدر بتایا ہے ، اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا۔ دوسرا کوئی ذریعہ علم بھی نہیں ہے اور اس میدان میں ہمارا تجربہ بھی نہیں ہے۔ قرآن کریم کی ان آیات سے اور سورت جن کی آیات سے (اور راجح بات یہ ہے کہ سورت جن بھی اسی واقعہ کے بارے میں ہے) اور ان نصوص سے جو قرآن کریم میں جگہ جگہ جنوں کے بارے میں وارد ہیں اور ان احادیث سے جو جنوں کے بارے میں وارد ہیں اور صحیح ہیں۔ ہمیں جو حقائق معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مخلوق ہے جسے جن کہا جاتا ہے۔ یہ مخلوق آگ سے پیدا شدہ ہے۔ کیونکہ قرآن نے ابلیس کے بارے میں یہ کہا ہے۔ انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین “ میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے ”۔ اور یہ بھی قرآن بتاتا ہے کہ ابلیس جنوں میں سے تھا۔ الا ابلیس کان من الجن ففسق عن امر ربہ “ ماسوائے ابلیس کے یہ جنوں سے تھا۔ تو اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی ”۔ غرض ابلیس کی ماہیت جنوں سے ہے۔ اس مخلوق کی خصوصیات انسانوں سے مختلف ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ آگ سے ہی ہے۔ یہ کہ وہ لوگ کو دیکھتے ہیں اور لوگ انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ انہ یراکم ھو و قبیلہ من حیث لا ترونھم “ بیشک وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں دیکھتا ہے ، جبکہ تم ان کو نہیں دیکھ رہے ”۔ اور یہ کہ انسانوں کی طرح ان کی بھی سوسائٹیاں اور قبیلے ہیں۔ جس طرح آیت سابقہ میں قبیلے کا ذکر ہوا۔ اور یہ کہ یہ جن اسی زمین پر بستے ہیں اور بس سکتے ہیں۔ لیکن ان کی آبادیاں کہاں ہیں۔ اس کا ہمیں علم نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ نے جب آدم اور ابلیس سے کہا کہ تم جنت سے نکلو اور زمین پر جاؤ تو الفاظ یہ تھے : اھبطوا بعضکم لبعض۔۔۔۔۔۔ الی حین “ اترو ، تم میں سے بعض ، بعض دوسروں کے دشمن ہیں اور تمہیں حق ہوگا کہ زمین میں ٹھہرو اور ایک وقت تک متاع حیات کا بھی ”۔ وہ جن جو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کر دئیے گئے تھے ، وہ آپ کے لئے کام بھی کرتے تھے ، یہاں ان کو زندہ رہنے کی قدرت بھی دی گئی ہوگی تب ہی وہ کام کرتے ہوں گے۔ یہ کہ جن اس کرۂ ارض سے باہر بھی رہ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں کی یہ بات نقل کی ہے۔ وانا لمسنا ۔۔۔۔ شدیداً وشھبا (8) وانا کنا نقعد ۔۔۔۔۔ شھابا رصدا (9) (72 : 8- 9) “ اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہریداروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے ، اور یہ کہ پہلے ہم سن گن لینے کے لئے آسمانوں میں بیٹھنے کی جگہ پا لیتے تھے مگر اب جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے ایک شہاب ثاقب لگا ہوا پاتا ہے ”۔ یہ کہ یہ جن انسانوں کو متاثر کر کے گمراہ کرسکتے ہیں اور مسلمانوں میں سے اللہ کے بندوں پر تو ان کا اثر نہیں ہوتا۔ البتہ گمراہ لوگوں پر وہ اثرات ڈال سکتے ہیں کیونکہ : قال فبعزتک ۔۔۔۔۔ منھم المخلصین “ اس نے کہا بس تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا ، ماسوائے ان میں ، تیرے مخلص بندوں کے ”۔ اس قسم کی تمام دوسری آیات سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں ، البتہ یہ معلوم نہیں ہے کہ شیطانوں اور جنوں کی وسوسہ اندازہ کس طرح ہوتی ہے ۔ اور یہ کہ یہ جن انسانوں کی آواز سنتے ہیں۔ ان کی زبان کو سمجھتے ہیں کیونکہ جنوں کے ایک گروہ نے قرآن سنا ، اس کو سمجھا اور اس سے متاثر ہوئے۔ اور یہ کہ انسانوں کی طرح جن بھی ہدایت اور گمراہی کے قابل ہیں۔ کیونکہ جنوں نے خود یہ اعتراف کیا۔ وانا منا المسلمون ۔۔۔۔۔ تحروا رشدا (14) واما القسطون فکانوا لجھنم حطبا (14) (72 : 14- 15) “ اور یہ کہ ہم میں سے کچھ مسلم ہیں اور کچھ حق سے منحرف تو جنہوں نے اسلام اختیار کرلیا۔ انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈ لی اور جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں ”۔ اور یہ کہ پھر وہ اپنی قوم کی طرف گئے اور ان کو ڈرانے لگے اور ان کو دعوت ایمان دینے لگے۔ جبکہ انہوں نے خود ایمان قبول کرلیا۔ اور ان کو معلوم ہوگیا کہ ان کی قوم دولت ایماں سے محروم ہے۔ یہ باتیں تو جنوں کے بارے میں یقینی ہیں۔ اور یہی ان کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اور اس پر ہم جو اضافہ کریں گے اس پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی۔ رہا وہ واقعہ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے۔ جس کی طرف راجح روایات کے مطابق سورت جن بھی اشارہ کر رہی ہے۔ تو اس بارے میں متعدد روایات وارد ہیں۔ امام بخاری نے مسدد سے ، مسلم نے شیبان ابن فرح سے انہوں نے ابو عوانہ سے اور امام احمد نے اپنی سند میں کہا : عفان سے انہوں نے ابو عوانہ سے ، ابوبکر بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں ابو الحسن علی ابن احمد ابن عیدان سے انہوں نے احمد ابن عبید الصفار سے انہوں نے اسماعیل قاضی سے ، انہوں نے مسدد سے انہوں نے ابو عوانہ سے انہوں نے ابو بشر سے انہوں نے سعید ابن جبیر سے کہ ابن عباس سے فرماتے ہیں : “ رسول اللہ ﷺ نے جنوں پر کلام الٰہی نہیں پڑھا۔ اور نہ ان کو دیکھا ہے۔ حضور ﷺ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ عکاظ کی طرف جا رہے تھے۔ اس وقت شیاطین اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی اور ان پر شہاب ثاقب کی بارش کردی گئی۔ تو شیاطین اپنی قوم کی طرف واپس آگئے قوم نے کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تو انہوں نے کہا ، ہمارے اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی ہے۔ اور ہم پر شہاب ثاقب چھوڑے گئے ۔ تو انہوں نے کہا کہ تمہارے اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان جو رکاوٹ ڈال دی گئی ہے اس کی کوئی وجہ ہوگی تو چاہئے کہ زمین کے مشرق و مغرب میں پھیل گئے یعنی اطراف عالم میں ، وہ معلوم کرنے لگے کہ وہ کیا سبب ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان پابندی لگ گئی۔ تو وہ گروہ جو تہامہ کی طرف جا رہا تھا ، وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس وقت آپ نخلہ میں تھے اور عکاظ کے بازار کی طرف جا رہے تھے۔ حضور ﷺ اس وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے۔ جب ان جنوں نے قرآن سنا تو متوجہ ہو کر سننے لگے۔ تو انہوں نے کہا خدا کی قسم یہ ہے وہ حقیقی سبب جس کی وجہ سے تم پر آسمانوں کی خبریں لینے پر پابندی لگ گئی ہے۔ جب یہ لوگ اپنی قوم کی طرف لوٹے تو انہوں نے یہ رپورٹ دی۔ فقالوا انا سمعنا قرانا عجبا (1) یھدی الی الرشد فامنا بہ ولن نشرک بربنا احدا (2) (72 : 1- 2) “ اے ہماری قوم کے لوگو ، ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے ”۔ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی گئی۔ قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن (72 : 1) “ اے نبی ﷺ کہو میری طرف وحی بھیجی گئی کہ جنوں کے ایک گروہ نے قرآن کو غور سے سنا ”۔ حضور ﷺ کی طرف دراصل جنوں کے اقوال وحی کئے گئے۔ امام مسلم ، ابو داؤد اور ترمذی نے علقمہ سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا میں نے حضرت ابن مسعود سے پوچھا کہ جنوں کی رات تم میں سے کوئی حضور ﷺ کے ساتھ تھا۔ انہوں نے کہا : رات ہم میں سے کوئی بھی حضور ﷺ کے ساتھ نہ تھا۔ ہوا یوں کہ ایک رات ہم حضور ﷺ کے ساتھ تھے کہ حضور ﷺ غائب ہوگئے۔ تو ہم نے پہاڑیوں اور وادیوں میں آپ ﷺ کو تلاش کرنا شروع کیا۔ ہم نے کہا کہ حضور ﷺ کو کوئی چیز لے اڑی یا آپ ﷺ کو اچک لیا گیا۔ ہم نے یہ رات بہت ہی بری طرح گزاری۔ جب صبح ہوئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضور ﷺ حرا کی طرف سے چلے آرہے ہیں۔ ہم نے کہا حضور ﷺ ہم نے رات کو آپ ﷺ کو تلاش اور آپ ﷺ کو نہ پایا ۔ اس وجہ سے ہم نے یہ رات اس قدر تکلیف میں گزاری جس قدر کوئی تکلیف سے کوئی رات گزار سکتا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس جنوں کا ایک شخص دعوت لے کر آیا تھا۔ میں اس کے ساتھ چلا گیا۔ میں نے ان پر قرآن پڑھا تو یہ سن کر ہم نے کہا حضور ﷺ ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں اور ہمیں ان کے آثار بتائیں اور ان کی آگ کے آثار بتائیں۔ اور جنوں نے آپ ﷺ سے اپنی خوراک کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : “ ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو جو تمہارے ہاتھ آئے اور جس پر زیادہ گوشت ہو وہ تمہاری خوراک ہے۔ اور ہر مینگنی یا لید تمہارے جانوروں کے لئے ہے ”۔ اس کے حضور ﷺ نے فرمایا “ لہٰذا ان دونوں چیزوں کے ساتھ استنجا نہ کرو ، کہ یہ تمہارے بھائیوں کی خوراک ہے ”۔ ابن اسحاق اور ابن ہشام نے جنوں کے واقعہ کو حضور ﷺ کے سفر طائف کے بعد نقل کیا ہے۔ حضور ﷺ نے طائف جا کر بنی ثقیف سے مدد چاہی۔ یہ آپ کے چچا ابو طالب کی موت کے بعد کا واقعہ ہے۔ اس وقت آپ ﷺ پر اور مسلمانوں پر مکہ میں بہت ہی تشدد ہو رہا تھا۔ بنی ثقیف نے آپ ﷺ کی دعوت کو برے انداز میں رد کردیا اور جب آپ ﷺ واپس ہونے لگے تو بچوں اور نادانوں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دونوں پاؤں مبارک پتھروں سے لہولہان ہوگئے۔ اور آپ ﷺ نے اس موقعہ پر یہ گہری اور موثر دعا فرمائی۔ “ اے اللہ میں تجھ ہی سے اپنی قوت کی کمزوری کی شکایت کرتا ہوں ، اپنی قلت تدبیر کی شکایت کرتا ہوں ، اور لوگوں پر اپنی کمزوری کی شکایت کرتا ہوں ، اے ارحم الراحمین ، تو کمزوروں کا رب ہے ، اور میرا رب ہے ، تو مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے ؟ کسی ایسے شخص کے جو مجھ پر حملہ آور ہو ؟ تو نے میرا معاملہ کسی دشمن کے حوالے کردیا ہے ؟ لیکن اے اللہ ، اگر تو ناراض نہیں ہے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ لیکن تیرا دامن تو میرے لیے بہت وسیع ہے۔ میں تیرے چہرے کی روشنی میں پناہ لیتا ہوں جس نے تمام تاریکیوں کو روشن کردیا ہے۔ اور اس نور کی وجہ سے دنیا وآخرت اچھی ہوجاتی ہے۔ اس بات سے کہ مجھ پر تیرا غصب ہو یا مجھ پر تیرا عذاب آجائے۔ تجھے اختیار ہے کہ تو مجھے مشقت میں ڈالے جب تک تو راضی نہ ہو۔ تیرے سوا کوئی قوت اور جائے پناہ نہیں ہے۔ کہتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ مکہ کی طرف لوٹنے لگے۔ جب آپ بنی ثقیف کی طرف سے کسی بھلائی سے مایوس ہوگئے۔ جب رات آپ ﷺ نخہ میں آئے تو رات کو آپ نماز کے لئے اٹھے تو اس وقت جنوں کا ایک گروہ آپ ﷺ کے پاس سے گزرا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ حضور ﷺ نے ان کی تعداد سات بتائی جو دوحصوں میں بٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کی بات توجہ سے سنی۔ جب حضور ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو یہ جن اپنی قوم کی طرف چلے گئے اور ان کو ڈرانے لگے۔ یہ خود ایمان لائے تھے اور جو کچھ انہوں نے سنا ، اسے قبول کرچکے تھے۔ اللہ نے یہ کہانی حضور ﷺ پر نازل فرمائی۔ واذ صرفنا الیک نفرا من الجن یستمعون القران (46 : 29) “ اور جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تا کہ قرآن سنیں ”۔ ویجرکم من عذاب الیم (46 : 31) “ اور تمہیں عذاب الیم سے بچائے گا ”۔ اور سورة جن میں فرمایا قل اوحی الی انہ ۔۔۔۔ الی اخرہ (72 : 1) علامہ ابن کثیر نے روایت ابن اسحاق پر یوں تبصرہ کیا ہے “ یہ تو صحیح ہے لیکن ان کا کہنا کہ جنوں کے ساتھ خطاب بھی اسی رات کو ہوا۔ یہ بات قابل بحث ہے کیونکہ جنوں کا قرآن مجید سننا آغاز وحی کے زمانے میں تھا جس طرح حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے۔ اور حضور ﷺ کا سفر طائف تو اس وقت ہوا جب آپ کے چچا محترم حضرت ابو طالب فوت ہوگئے تھے۔ اور یہ وفات ہجرت سے ایک یا دو سال قبل ہوئی تھی۔ واللہ اعلم ! ان کے علاوہ اور بھی بہت سی روایات ہیں ، ہم سمجھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کی روایت سب سے زیادہ قابل اعتماد ہے۔ کیونکہ یہ روایت پوری طرح نصوص قرآن کے ساتھ متفق ہے۔ قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن (72 : 1) “ اے پیغمبر ﷺ کہہ دے کہ میری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جنوں میں سے کچھ لوگوں نے قرآن کو غور سے سنا ”۔ یہ آیت قطعاً بتاتی ہے کہ اس واقعہ کا علم حضور اکرم ﷺ کو اس طرح ہوا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل فرمائی۔ اور یہ کہ آپ ﷺ نے جنوں کو دیکھا نہ تھا۔ اور نہ آپ ﷺ کو یہ احساس ہوا کہ جن سن رہے ہیں۔ پھر اسناد کے اعتبار سے بھی یہ روایت سب سے قوی ہے۔ اور ابن اسحاق کی روایت بھی اس کے ساتھ متفق ہے۔ جس طرح قرآن مجید نے ہمیں جنوں کی صفات میں بتایا کہ انہ یراکم ھو وقبیلہ من حیث لا ترونھم “ یہ اور اس کا قبیلہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے جبکہ تم انہیں نہیں دیکھ رہے ”۔ میں سمجھتا ہوں اس حادثہ کی تحقیق میں اس قدر بات کافی ہے۔ واذ صرفنا الیک نفرا ۔۔۔۔۔ قومھم منذرین (46 : 29) “ اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تا کہ قرآن سنیں۔ جب وہ اس جگہ پہنچے تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجاؤ۔ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے ”۔ یہ اللہ کی ایک خاص تدبیر تھی کہ اس نے جنوں کو قرآن کی طرف موڑ دیا۔ محض کوئی انفاقی بات نہ تھی۔ ان کی تقدیر میں یہ تھا کہ جن بھی نبی آخر الزمان کی رسالت سے اسی طرح خبردار ہوجائیں جس طرح وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت سے خبردار تھے اور ان میں سے ایک فریق آگ سے بچ جائے جسے شیطان اور جنوں کے لئے تیار کیا گیا ہے اور انسانی شیاطین کے لئے بھی۔ قرآن کریم نے ان کی تعداد کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سننے والے جنوں کی تعداد تین سے دس تک تھی اور قرآن نے یہ بھی بتا دیا کہ ان کے پردہ احساس پر قرآن کے کیا اثرات بیٹھے یعنی خوشی ، اچھا تاثر ، خضوع اور خشوع۔ فلما حضروہ قالوا نصتوا (46 : 29) “ اب وہ اس جگہ پہنچے ( جہاں تم پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجاؤ ”۔ یوں اس پورے عرصے میں وہ بڑی خاموشی سے سنتے رہے۔ فلما قضی ولوا الی قومھم منذرین (46 : 29) “ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے ”۔ یہ اثر بھی ان پر اس لیے ہوا کہ انہوں نے قرآن کو نہایت غور سے سنا تھا۔ خاموش ہو کر سنا اور آخر تک سنتے رہے۔ جب تلاوت ختم ہوئی تو وہ فوراً اپنی قوم کے پاس گئے اور ان کے شعور نے وہ بات اپنا لی تھی جو اگر کسی کے شعور میں داخل ہوجائے تو وہ خاموش نہیں ہو سکتا۔ اور نہ اس کی تبلیغ اور لوگوں کے ڈرانے کے کام میں شف شف کرسکتا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے کہ جب کسی شخص کے احساس میں ایک نئی بات بیٹھ گئی ہو۔ اور اس کے احساسات کو ایک نہایت ہی موثر ، غالب اور چھا جانے والے نظریہ نے اپنی گرفت میں لے لیا ہو ، تو وہ فوراً حرکت میں آجاتا ہے ، ہر جگہ اسی کی بات کرتا ہے اور بڑے اہتمام کے ساتھ دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔

الأحقاف 46:30

قالوا یقومنا انا ۔۔۔۔۔ طریق مستقیم (46 : 30) “ اور انہوں نے جا کر کہا ، اے ہمارے قوم کے لوگو ، ہم نے ایک کتاب سنی ہے ، جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے۔ تصدیق کرنے والے ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی ، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف ”۔ وہ بڑی جلدی سے اپنی قوم کی طرف لوٹے ، اور جاتے ہی انہوں نے ان کے سامنے تقریر شروع کردی کہ برادران قوم ہم نے ایک نئی کتاب سنی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اور اپنے اصولوں میں یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کتب سماوی سے واقف تھے ، کیونکہ قرآن آیات اور بنیادی تعلیمات سنتے ہی ان کو معلوم ہوگیا تھا کہ دونوں کی تعلیمات ایک ہیں انہوں نے قرآن کا جو حصہ سنا تھا ضروری نہیں ہے کہ اس میں کتاب موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات ہوں۔ البتہ انہوں نے یہ معلوم کرلیا تھا کہ دونوں کتابوں کا مزاج اور سرچشمہ ایک ہے۔ یہ جنوں کی شہادت جو انسانی تعصبات اور موثرات سے دور ہیں اور قرآن کا کچھ حصہ سننے پر انہوں نے یہ تبصرہ کردیا ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ایک برحق کتاب ہے ۔ اور کتب سابقہ کی مصدق ہے۔ یہ ایک اہم شہادت ہے۔ قرآن سننے کے بعد ان کے شعور میں جو بات بیٹھ گئی اور ان کے دل و دماغ نے جس حقیقت کو پا لیا وہ یہ تھی کہ یھدی الی الحق والی طریق مستقیم (46 : 30) “ یہ حق اور راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے ”۔ یہ نہایت ہی اہم بات ہے جو انہوں نے کہی کیونکہ قرآن سے پہلا تاثر یہی ملتا ہے کہ یہ کتاب برحق ہے اور دوسرا یہی ملتا ہے کہ یہ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ جو شخص بھی بصیرت رکھتا ہو وہ قرآن کو پڑھ کر یہ دونوں باتیں محسوس کرتا ہے۔ اگر اس کی روح بغض وعناد ، کبر اور خواہشات نفسانیہ کی رسیوں میں جکڑی ہوئی نہ ہو۔ چناچہ قرآن کریم کا ایک حصہ سنتے ہی ان لوگوں نے اس راز کو پالیا اور اپنی قوم کے سامنے پہلی تقریر میں یہی حقیقت بیان کردی جو ان کے احساسات کی سچی تعبیر تھی۔ اس کے بعد انہوں نے جو باتیں اپنی قوم سے کہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس دعوت پر مطمئن ہوگئے ہیں اور اب ان پر فرض ہے کہ وہ ایک ایک فرد تک اس دعوت کو پہنچا دیں۔

الأحقاف 46:31

یقومنا اجیبوا داعی اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (46 : 31) “ اے ہماری قوم کے لوگو ، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرلو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچائے گا ” ۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ کتاب جو نازل کی گئی ہے ، اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ جن و انس دونوں کے لئے دعوت ہے اور اسے پوری زمین کے لوگوں تک پہنچنا چاہئے۔ اور اس کتاب کو سنتے ہی انہوں نے اس بات کو پالیا کہ حضرت محمد ﷺ داعی الی اللہ ہیں۔ اس لیے انہوں نے یہ بھی معلوم کرلیا کہ ایمان اور عمل صالح کے نتیجے میں بخشش نصیب ہوتی ہے اور اللہ کے عذاب سے بچا جاسکتا ہے۔ چناچہ انہوں نے جو کچھ سمجھا اس کی تعلیم دے دی۔ ابن اسحاق کی روایت یہ ہے کہ اس پر جنوں کی بات ختم ہوگئی ہے لیکن سیاق کلام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلی دو آیات بھی جنوں کے کلام کا حصہ ہیں۔ خصوصاً یہ آیت :

الأحقاف 46:32

ومن لا یحب داعی اللہ ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (46 : 32) “ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زج کر دے اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی اور سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچا لیں۔ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ”۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان جنوں کے ڈراوے کا یہ ایک قدرتی حصہ ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دیا کیونکہ انہوں نے ان کو دعوت ایمان اور قبولیت حق دی۔ لہٰذا ڈراوے کا بعد قوی احتمال اس کا ہے کہ وہ اپنی قوم کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر انہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا تو انجام کیا ہوگا۔ اور جو قبول نہ کرے گا وہ اللہ کو عاجز نہ کرسکے گا کہ اللہ اس پر سزا وجزاء کا نظام نافذ کرے ۔ اور اسے عذاب الیم دے۔ اور پھر قیامت میں ایسا شخص کوئی دوست و یار ایسا نہ پائے گا جو اس کی مدد کرسکے۔ اور یہ کہ نہ ماننے والے گمراہی کے راستے میں پھر بہت دور تک چلے جائیں گے۔ اسی طرح کی آیت میں بھی زیادہ احتمال یہ نظر آتا ہے کہ یہ بھی کلام جن ہے۔ یہ ان لوگوں پر تعجب ہے جو اللہ کی اس دعوت کو قبول نہیں کرتے۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ قیامت سے بچ جائیں گے اور یہ کہ نہ قیامت ہے اور نہ جزاو سزا ہے۔

الأحقاف 46:33

اولم یروا ۔۔۔۔۔ کل شیء قدیر (46 : 33) “ اور کیا ان لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کئے اور ان کو بناتے ہوئے وہ نہ تھکا ، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مردوں کو جلا اٹھائے ؟ کیوں نہیں ، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے ”۔ یہ ایک طرح توجہ دلانا ہے اس کائنات کی کھلی کتاب کے مطالعہ کی طرف ، جس کا تذکرہ سورت کے آغاز میں بھی ہوا تھا۔ بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک نکتہ قرآن مجید میں براہ راست بھی ہوتا ہے۔ پھر وہی بات ایک قصے میں بھی آجاتی ہے ، اس طرح بتا دیا جاتا ہے کہ یہ قصہ اس لیے لایا گیا اور سیاق کلام میں مناسبت آجاتی ہے۔ یہ کتاب پہلے تو یہ بتاتی ہے کہ یہ عظیم کائنات ، جس کے تصور سے سر چکرا جاتا ہے اس کا کوئی نہ کوئی خالق ضرور ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی۔۔۔۔ یہ آسمان اور زمین اور ان کے اندر رنگا رنگ مخلوقات جو دیکھتے ہی بتا دیتی ہیں کہ اللہ کے لئے تمام مخلوقات کو دوبارہ پیدا کردینا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ اور یہ کہ اللہ کی یہ کائنات اسکیم یہ بتاتی ہے کہ دوبارہ حشر ہوگا۔ اور یہاں بات کو بطور استفہام لانے سے تاکید مزید ہوجاتی ہے اور استفہام کا جواب ہاں میں ہے۔ اس لیے آخر میں یہ فقرہ آتا ہے۔ انہ علی کل شیء قدیر (46 : 33) ” یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے “۔ لہٰذا اللہ دوسری قدرتوں کے ساتھ تمام مخلوقات کو دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے ۔ اور آخر میں دوبارہ اٹھائے جانے کے اصل مقصد کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ حساب و کتاب یوں ہوگا۔

الأحقاف 46:34

ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تکفرون (46 : 34) ” جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے ، اس وقت ان سے پوچھا جائے گا ” کیا یہ حق نہیں ہے ؟ “ یہ کہیں گے ” ہاں ، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے) “۔ اللہ فرمائے گا ” اچھا تو اب عذاب کا مزہ چکھو اپنے اس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے “۔ ویوم یعرض الذین کفروا علی النار (46 : 34) ” جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے “۔ یہ الفاظ آتے ہی قاری سوچتا ہے کہ اگلا لفظ کیا ہوگا ، کیا قصہ ہوگا ، قصہ نہیں آتا اور اسکرین پر مکالمہ آجا تا ہے۔ الیس ھذا بالحق (46 : 34) ” کیا یہ حق نہیں ؟ “ اچانک اس سوال سے گویا ان لوگوں پر برق ناگہانی گر جاتی ہے جو قیامت کا مذاق اڑاتے تھے اور قیامت کے جلدی لانے کا مطالبہ ہر پیغمبر سے کرتے تھے۔ آج ان کی گردن حق کے سامنے جھک گئی ہے جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ نہایت شرمندگی سے جواب دیتے ہیں۔ قالوا بلی وربنا (46 : 34) ” ہاں ، اور ہمارے رب کی قسم “ اب تو بڑی شرافت سے قسم ربی اٹھاتے ہیں۔ لیکن دنیا میں اللہ کو رب ہی تو نہ مانتے تھے۔ نبیوں کو نہ مانتے تھے۔ آج تو رب کے نام کو قسم کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس پر جواب نہیں دیا جاتا ، کوئی تبصرہ نہیں ہوتا ، حقارت آمیز انداز میں فیصلہ ان پر پھینک کر گفتگو ختم کردی جاتی ہے۔ قال فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون (46 : 34) اللہ فرمائے گا ” اچھا تو عذاب کا مزہ چکھو اپنے اس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے تھے “۔ اختصار کے ساتھ۔ جیسا کہ کوئی عدالت مختصر سی آرڈر شیٹ لکھتی ہے۔ ” جرم ظاہر ہے ملزم معترف ہے ، جہنم میں جاوے “۔ یہاں اس منظر کو تیزی سے گزارنا بھی مقصود ہے ، کیونکہ بات فیصلہ کن ہے۔ بحث و مباحثہ کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے منکر تھے اب معترف ہیں لہٰذا مزا چکھیں جہنم کا۔

الأحقاف 46:35

جن لوگوں نے کفر کیا ، ان کے فیصلے ، دوٹوک فیصلے کے اس منظر اور اہل ایمان ، جنات کے منظر کے بعد ، اور اس سورت کے آخر میں جس کافروں نے نبی ﷺ کے بارے بہت کچھ کہا ، اور قرآن کریم کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا ، اب حضور اکرم ﷺ کو آخری ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں ، جلد بازی نہ کریں۔ آپ نے تو اس سورت کے مناظر میں دیکھ لیا کہ ان کا کیا انجام ہونے والا ہے اور یہ بہت ہی قریب ہے۔ فاصبر کما صبرا ۔۔۔۔۔۔۔ القوم الفسقون (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ ، صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے ، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو۔ جس روز یہ لوگ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہوگا کہ جیسے دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ بات پہنچا دی گئی ، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا ؟ “ اس آیت کا ہر لفظ ہمارے لئے زاد راہ ہے۔ ہر کلمے اور ہر لفظ کے پیچھے تصاویر ، چھاؤں ، معانی ، اشارات اور فیصلوں اور قدروں کا ایک ذخیرہ ہے۔ فاصبر کما صبرا ۔۔۔۔۔۔ تستعجل لھم (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو “۔ یہ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت ہو رہی ہے اس دور میں آپ پر ظلم اور زیادتیوں کے پہاڑ توڑے جار ہے تھے۔ پوری قوم آپ ﷺ کے اور مسلمانوں کے خلاف تشدد میں لگی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے بطور یتیم نشوونما پائی تھی اور ابتدائی دور ہی میں ایک ایک کر کے حامیوں اور اولیاء سے محروم کر دئیے گئے تھے۔ باپ گئے ، ماں گئیں ، دادا گئے اور آخر میں چچا گئے۔ پھر آپ ﷺ کی وفا دار بیوی گئیں اور آپ ﷺ اللہ اور اللہ کی دعوت کے لئے فارغ ہوگئے۔ اس طرح اللہ کے سوا ہر سہارے سے محروم ہوگئے۔ آپ ﷺ کو بمقابلہ اجنبیوں کے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ اذیت ملی۔ آپ ﷺ نے ایک ایک فرد سے ملاقات کی ، ایک ایک قبیلے سے ملاقات کی کہ میری مدد کرو ، لیکن ہر بار آپ ﷺ منفی جواب کے ساتھ لوٹے۔ بعض لوگوں نے تو مذاق اڑایا۔ بعض نے تو آپ ﷺ کے پیچھے اوباش لگادئیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاؤں لہولہان ہوگئے۔ لیکن آپ ﷺ نے مذکورہ بالا دعا سے زیادہ کچھ نہ کہا۔ اس لیے یہاں آپ ﷺ کو رب ذوالجلال کی طرف سے تسلی کی ضرورت تھی ۔ فاصبر کما صبرا۔۔۔۔۔۔ تستعجل لھم (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ صبر کرو جس طرح اولوا لعزم رسولوں نے صبر کیا ہے اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کرو “۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بہت ہی دشوار گزار راستہ ہے ۔ دعوت اسلامی کا راستہ بہت ہی مشکل اور بہت ہی تلخ ہے۔ اس کے لئے تو ذات محمدی کی ضرورت ہے۔ جو ہر طرف سے کٹ جائے ، دعوت کے لی کے یکسو ہوجائے۔ پختگی اور ثبات ، باطن کی صفائی اور شفافی میں رب کی ہدایت پر چلے۔ اللہ کے احکام کے مطابق صبرو ثبات کا مظاہرہ کرے اور دعوت کے مخالفین سے انتقام یا ان کے انجام بد کے لئے شتابی نہ کرے۔ لیکن راستے کی مشقتوں اور زخموں کے لئے مرہم کی بھی ضرورت ہے۔ مشکلات کے لئے صبر ایوبی چاہئے۔ تلخیوں کے لئے ایک میٹھا گھونٹ بھی چاہئے اور یہ میٹھا گھونٹ اللہ کی سربند رحمت کا۔ فاصبر کما صبرا۔۔۔۔۔۔ تستعجل لھم (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ صبر کرو جس طرح اولوا لعزم رسولوں نے صبر کیا ہے اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کر “۔ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے جس طرح ایک دن کا ایک گھٹنہ یا گھڑی بھر۔ آخرت سے پہلے تمام زمانہ بھی دراصل ایک گھڑی ہی ہے۔ اس پورے مکان و زمان کے نقوش انسانی ذہن کے پردے پر اتنے بھی نہ رہیں گے جس طرح دن کے چند لمحات کے نقوش ، پھر یہ اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں یہ ابدی دنیا کے دورازے پر ہیں۔ صرف اس قدر وقت ہے کہ ہلاکت سے قبل ان تک پیغام پہنچ جائے۔ بلغ فھل یھلک الا القوم الفسقون (46 : 35) ” بات پہنچا دی گئی ! اب نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا “۔ نہیں ، کیونکہ اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ لہٰذا ہر داعی کو صبر کرنا چاہئے اور یہ صبر ایک مختصر وقت کے لئے ہے۔ پھر اللہ کے وعدے کے مطابق ہی فیصلہ ہوگا کہ فاسق ہی ہلاک ہوں گے۔

محمد 47:1

سورت کا افتتاح یوں ہے جس طرح کوئی فوج حملہ آور ہوجاتی ہے ، کوئی مقدمہ نہیں ، کوئی تمہیں نہیں۔ اعلان ہوجاتا ہے کہ کافر بظاہر جو اچھے کام کر رہے ہیں وہ کالعدم ہیں جنہوں نے کفر کیا ہے ، اللہ کی راہ پر چلنے سے رکے ہیں اور دوسروں کو روکا ہے۔ اعلان ہوتا ہے کہ ان کے یہ اعمال کالعدم (void) ہیں ۔ لیکن یہ اعلان نہایت ہی موثر ، عام فہم اور مشخص انداز میں ہے۔ ان کے اعمال راستہ گم کر گئے ہیں اور اس وجہ سے ہلاک اور ضائع ہوگئے ، یوں کہ گویا یہ زندہ انسان یا حیوان ہیں اور انہوں نے راستہ گم کردیا ہے ، بہت دور نکل گئے ہیں اور ہلاک ہوگئے ہیں ، یہ مفہوم اور یہ نقشہ بتاتا ہے کہ گویا یہ اعمال لوگوں سے یا مویشیوں کے گلے سے الگ ہوگئے اور لوگ ان اعمال سے الگ ہوگئے اور دونوں کا انجام ہلاکت پر ہوا۔ یہ جن اعمال کے گم ہونے کا اعلان ایک فوجی فرمان کی شکل میں ہوا ہے۔ ان سے مراد وہ اعمال خیر یہ ہیں جو ایمان ، جہاد کے رنگ سے محروم ہیں اور کرنے والوں کی غرض نیکی ہے لہٰذا اعمال صالحہ کی قدروقیمت ایمان اور نظریہ جہاد کے سوا کچھ نہیں ، کیونکہ اس قسم کے اعمال جو بظاہر نیکی کے اعمال ہوتے ہیں لیکن ان کی تہہ میں داعیہ نیکی کا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات داعیہ بھی نیکی کا ہوتا ہے لیکن ایمان پر مبنی نہیں ہوتا۔ اس طرح بغیر ایمان کے ایک عارضی ، سر سری جذبہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے کچھ اعمال صادر تو ہوجاتے ہیں لیکن ثبات و دوام سے محروم ہوتے ہیں ، وہ کسی مضبوط اور واضح منہاج اور نظریہ پر مبنی نہیں ہوتے ۔ اور زندگی کے طویل منصوبے سے باہر ہوتے ہیں۔ اس کائنات کے اندر پوشیدہ و ناموس الٰہی سے مربوط نہیں ہوتے ۔ اس لیے باطل ہوتے ہیں۔ لہٰذا اعمال کے لئے ایمان ضروری ہے تا کہ یہ اعمال اس سے بندھے ہوئے ایک صحیح رخ پر جا رہے ہوں اور عمل کرنے والا اس ایمانی داعیہ سے عمل کر رہا ہو اور یہ عمل اس کائناتی نظام سے بھی مربوط ہو ، جو انسان کو اس کائنات سے جوڑتا ہے۔ اور اس طرح اس کائنات میں ہر عمل کا ایک مقصد اور ایک اثر ہوتا ہے۔ اور وہ ایک منزل تک جاتا ہے۔

محمد 47:2

اور دوسری طرف : والذین امنوا ۔۔۔۔۔ من ربھم (47 : 2) “ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور اس چیز کو مان لیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ اور ہے وہ سراسر حق ان کے رب کی طرف سے ”۔ والذین امنوا (47 : 2) میں محمد ﷺ پر ایمان لانا شامل ہے لیکن یہاں اس کا ذکر علیحدہ بطور تاکید کیا گیا ہے تا کہ اس کی صفت میں یہ جملہ لایا جائے۔ وھو الحق من ربھم (47 : 2) اور سابق ایمان کی تاکید مزید ہوجائے اور عمل صالح کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ایمان زندہ ہے ، موجود ہے اور فعال ہے۔ کفر عنھم سیاتھم (47 : 2) “ اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کر دیں ”۔ یہ خبر ہے الذین کی۔ اور کفار کے اعمال کو ضائع کردیا گیا تھا۔ اگرچہ وہ اعمال بظاہر خیر یہ تھے۔ اور ایمان نہ ہونے اور کفر کے وجود نے ان کو ضائع کردیا جبکہ مومنین کے سیئات کو بھی دور کردیا گیا اور وہ بخش دئیے گئے۔ یہ مکمل مقابلہ ہے کہ کفر سے نیک اعمال ضائع ہونے اور ایمان سے برے اعمال فنا ہوتے ہیں۔ یہ ہے اہمیت ایمان کی۔ واصلح بالھم (47 : 2) “ اور ان کا حال درست کر دیا ”۔ کسی کا حال درست کردینا ، ایک بڑی نعمت ہے جو ایمان کے نیتجے اور اثر میں کیا جاتا ہے۔ خوشحال اور فارغ البال ہونا اطمینان ، آرام ، اللہ کی سلامتی اور رضا مندی کا مظہر ہوتا ہے۔ جب انسان اندر سے مطمئن ہو تو اس کا شعور ، اس کی سوچ اور اس کا قلب اور ضمیر اور اس کے افکار اور اعصاب اور اس کا پورا نفس نہایت اچھی طرح کام کرتے ہیں۔ اور وہ امن و سلامتی کی زندگی بسر کرتا ہے۔ قلبی اطمینان سے اور کوئی بڑی نعمت نہیں ہے۔ یہ ایک افق ہے ، جو نہایت روشن ہے اور صاف و شفاف ہے اور یہاں تک رسائی صرف اہل ایمان کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ کہ کافروں کے اعمال ضائع کر دئیے اور مومنین کی برائیاں معاف کردیں یہ کسی دوستی یا رشتہ داری کی بناء پر نہیں ، محض اتفاق کے طور پر بھی نہیں بلکہ ایک موثر اور متعین اصول کے مطابق ایسا کیا گیا۔ اس ناموس فطرت کے مطابق جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ یہ ناموس حق ہے جو اساس تخلیق ہے اور جس کے مطابق اللہ نے زمین و آسمان بنائے ہیں۔

محمد 47:3

ذلک بان الذین ۔۔۔۔۔ من ربھم (47 : 3) “ اور یہ اس لیے کہ کفر کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان لانے والوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا ”۔ جہاں تک باطل کا تعلق ہے اس کی جڑیں اس کائنات کے اندر دور تک نہیں ہوتیں ، اس لیے وہ تباہ ہوجاتا ہے اور جو شخص بھی باطل کا پیرو ہوتا ہے یا باطل کا نتیجہ ہوتا ہے وہ ضائع ہونے والا ہوتا ہے اور کافر چونکہ باطل کے پیروکار ہوتے ہیں اس لیے ان کے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں اور ان میں سے کوئی مفید چیز باقی نہیں رہتی۔ اور حق چونکہ مستقل ہوتا ہے ، آسمان و زمین بھی اس پر قائم ہیں ، اس کی جڑیں اس کائنات میں بہت دور تک چلی جاتی ہیں۔ اس لیے وہ باقی ہوتا ہے اور مومن چونکہ اس کے پیرو کار ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کو بھی دوام حاصل ہوتا ہے اور اللہ ان کی کوتاہیوں کو معاف کرتا ہے اور ان کی اصلاح حال فرماتا ہے۔ یہ ایک واضح اور طے شدہ معاملہ ہے اور متعین اصولوں پر اور متعین اسباب پر قائم ہے لہٰذا اس میں کوئی اتفاقی امر نہیں ہے یا محض تک پر مبنی نہیں ہے۔ کذلک یضرب اللہ الناس امثالھم (47 : 3) “ اسی طرح اللہ لوگوں کو اس کی ٹھیک ٹھیک حیثیت بتا دیتا ہے ”۔ یعنی ایسے اصول اللہ بتا دیتا ہے جس کے مطابق وہ اپنے نفس اور اعمال کو تولتے ہیں اور وہ ان معیاروں کو جانچتے ہیں جن کے مطابق وہ اپنے معاملات چلاتے ہیں اور قیاس اور پیمانوں میں خود مختار نہیں ہیں۔ یہ اصول تو پہلی آیت میں طے کردیا گیا ، اس کے بعد اہل ایمان کو ہدایت کردی گئی کہ وہ جنگ کے لئے تیار ہوجائیں کیونکہ وہ حق کے پیروکار ہیں اور اس حق کا قیام اور غلبہ اس کرۂ ارض پر ضروری ہے۔ حق کی فطرت میں غلبہ ہے۔ اس نے لوگوں کی زندگی کے پیمانے طے کرنے ہیں ، لوگوں کی زندگی کو حق کے اصولوں کے مطابق ڈھالنا ہے ، اور کافر چونکہ باطل پر ہیں ، اس لیے باطل اور اہل باطل دونوں کے آثار کا مٹنا ضروری ہے۔

محمد 47:4

اس آیت میں کافروں کے ساتھ ملاقات سے مراد جنگ کا آمنا سامنا ہے۔ محض ملاقات نہیں ہے۔ اس سورت کے نزول تک جزیرۃ العرب میں بعض لوگ مسلمانوں کے ساتھ برسر جنگ تھے اور بعض کے ساتھ صلح کا معاہدہ تھا ۔ سورة برات ابھی نازل نہ ہوئی تھی جس کے نیتجے میں مشرکین کے ساتھ معاہدے ختم کر دئیے گئے تھے۔ اس طرح کہ جو معاہدے متعین وقت کے لئے تھے ان کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ وہ اپنے وقت تک رہیں گے اور جن کے اندر کوئی وقت متعین نہ تھا ، ان کے معاہدین کو چار ماہ کا عرصہ دے دیا گیا۔ اور یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ اس کے بعد جزیرۃ العرب میں جہاں بھی کوئی مشرک پایا جائے گا اسے قتل کردیا جائے گا۔ کیونکہ جزیرۃ العرب اسلام کا مرکز تھا اور اسے صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص کرنا ضروری تھا۔ جزیرۃ العرب کے اندر مشرکین ۔۔۔۔ تو اسلام قبول کرنا تھا یا ملک بدر ہونا تھا۔ اور یہ اصول دوسرے علاقوں کے لئے نہیں ہے ، دوسرے اسلامی علاقوں میں مشرکین بطور اقلیت جزیہ دے کر رہ سکتے ہیں۔ نیز گردنیں مارنے کا حکم بھی اس وقت ہے جب وہ اسلام قبول نہ کریں۔ گردنیں اڑانیں کا حکم قتل کی عملی صورت ہے اور یہ اس سورت کی فضا کے ساتھ مناسب لفظ ہے۔ حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق (47 : 4) “ یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو ”۔ اثخان کے معنی ہیں شدید قتل یعنی کچل دینا۔ یعنی دشمن کی قوت کو ختم کر کے رکھ دینا۔ قوت کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا کہ آئندہ اس میں حملے کی طاقت نہ رہے۔ جب وہ اس پوزیشن میں چلا جائے تب قیدیوں کو گرفتار کرنا شروع کیا جائے ۔ لیکن اگر دشمن کا سر کچلا نہ گیا ہو تو دشمن کو قید کرنا شروع نہ کیا جائے۔ اس تفسیر کے مطابق اس آیت اور انفال کی اس آیت کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہوگا جس میں حضور اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو سرزنش کی گئی تھی کہ انہوں نے غزوۂ بدر میں بہت سے لوگوں کو قیدی بنا لیا حالانکہ مناسب تھا کہ انہیں قتل کردیا جاتا ، جیسا کہ بعض مفسرین نے سمجھا ہے۔ سورة انفال میں کہا گیا۔ ما کان لنبی ۔۔۔۔ واللہ عزیز حکیم (67) لو لا کتب ۔۔۔۔۔ عذاب عظیم (68) (8 : 67 تا 68) “ کسی نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ تم لوگ دنیا کا فائدہ چاہتے ہو ، حالانکہ اللہ کے پیش نظر آخرت ہے اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ اگر اللہ کا نوشتہ پہلے لکھا نہ جا چکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا ہے اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزا دی جاتی ”۔ لہٰذا دشمن کی قوت کو کچلنا تو سب سے پہلے ہے تا کہ دشمن آئندہ اسلامی مملکت پر حملہ نہ کرسکے اور اس کے بعد قید کا معاملہ ہوگا۔ کیونکہ جنگ کا مقصد ہی یہ ہے کہ اسلامی ریاست پر حملہ آور ہونے والی قوت کو ختم کردیا جائے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ مسلمانوں کی قوت افرادی اعتبار سے کم ہو اور مشرکین تعداد میں زیادہ ہوں۔ اس دور کے جنگی حالات میں دشمن کے سپاہی کو ختم کردینا جنگ کی حکمت عملی میں بہت ہی اہم تھا۔ اور یہی حکم اب بھی رہے گا اگر یہ مقصد اس پر موقوف ہو کہ دشمن کی قوت کو کچلنا قتل شدید کے بغیر ممکن نہ ہو اور اس کے بغیر اسے دوبارہ حملے سے روکا نہ جاسکتا ہو۔ اس کے بعد لوگوں کو قید کرنے کا حکم پھر یہ ہے اور یہ واحد نص ہے جو قیدیوں کے ضابطے کا تعین کرتی ہے۔ فاما منا بعد واما فداء (47 : 4) “ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کرو ”۔ یعنی بعد میں جنگی قیدیوں کا مصرف یہ ہے کہ یا تو ان قیدیوں کو بطور احسان چھوڑ دو ، یا فدیے کا معاملہ کرو یعنی مسلمان قیدیوں کے بدلے میں چھوڑ دو یا کوئی مالی تاوان جنگ لے کر چھوڑ دو ، یا کوئی اور اجرت عمل لے لو۔ جیسا کہ بدر کے قیدیوں سے کچھ کام لیے گئے۔ اس آیت میں قیدیوں کے مصرف کے لئے کوئی تیسری صورت نہیں۔ یعنی قیدیوں کو قتل کرنا یا غلام بنانا یعنی مشرکین کے قیدیوں کے معاملے میں ۔ لیکن اس کے بعد عملاً یوں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اور خلفاء نے بعض قیدیوں کو غلام بنا یا اور بعض کو متعین حالات میں قتل کیا۔ میں اس آیت کی تشریح کے بارے میں امام جصاص حنفی کی تشریح نقل کرتا ہوں ، درمیان میں جہاں مجھے کچھ کہنا ہے ، کہوں گا اور اس کے بعد وہ مطلب بیان کروں گا جو میرے خیال میں درست ہے۔ جصاص کہتے ہیں : “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب (48 : 4) “ پس جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو گردنیں مارتا ہے ”۔ آیت کا ظاہری مفہوم متقاضی ہے کہ کفار کے ساتھ کوئی دوسرا معاملہ تب جائز ہے جب ان کی قوت کو اچھی طرح کچل دیا جائے اور اس کے مما ثل حکم دوسری جگہ ہے۔ ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض (8 : 67) “ نبی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں حتیٰ کہ وہ زمین میں دشمن کی قوت کو کچل دے ”۔ (اور یہ بات درست ہے کیونکہ دونوں آیات کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے (قطب) ۔ روایت بیان کی محمد ابن جعفر محمد ابن حکم نے جعفر ابن محمد ابن یمان سے انہوں نے ابو عبید سے انہوں نے عبد اللہ ابن صالح سے انہوں نے معاویہ ابن صالح سے انہوں نے علی ابن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے کہ آیت۔ ما کان لنبی ۔۔۔۔۔ فی الارض (8 : 67) یوم بدر کے بارے میں ہے۔ اس وقت مسلمان قلیل تھے۔ جب وہ زیادہ ہوگئے اور ان کی قوت زیادہ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت نازل کی۔ فاما منا بعد واما فداء (48 : 4) “ اللہ نے نبی اور مسلمانوں کو اختیار دے دیا کہ اگر چاہیں تو قتل کردیں ، چاہیں تو غلام بنا لیں ، چاہیں تو فدیہ لے لیں۔ ابو عبید نے ان الفاظ میں شک کیا ہے (اگر چاہیں تو غلام بنا لیں) (غلام بنانا چونکہ خود حضرت ابن عباس سے نقل ہونے میں بھی مشکوک ہے۔ اس لیے ہم اسے تو ترک کرتے ہیں۔ رہا قتل کرنا تو اس آیت سے جواز معلوم نہیں ہوتا کیونکہ آیت احسان کرنے یا فدیہ لے کر چھوڑ دینے کے بارے میں منصوص ہے۔ روایت کی ہے جعفر ابن محمد نے ابو عبید نے انہوں نے ابو مہدی اور حجاج سے ، دونوں نے سفیان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سدی سے سنا کہ وہ اس آیت کی تفسیر یہ بیان کرتے تھے : فاء ۔۔۔۔ فداء (48 : 4) “ اس کے بعد احسان کرو یا فدیہ کا معاملہ کرو ”۔ کہ یہ آیت منسوخ ہوگئی ہے اور اس کو سورة توبہ کی آیت۔ فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم (9 : 5) “ مشرکین کو قتل کرو جہاں ان کو پاؤ ” نے منسوخ کردیا ہے ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت ۔ فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب (48 : 4) اور آیت۔ ما کان لنبی ۔۔۔۔ فی الارض (8 : 67) اور آیت۔ فاما تثقفنھم فی الحرب فشرد بھم من خلفھم (8 : 57) یہ سب احکام ثابت اور موجود ہو سکتے ہیں اور منسوخ نہ ہوں گے۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ مشرکین کو خوب قتل کرو اور قیدی نہ بناؤ۔ الا یہ کہ وہ خوب ذلیل ہوجائیں اور ان کی قوت ٹوٹ جائے۔ یہ اس وقت تھا جب مسلمانوں کی تعداد کم تھی۔ لہٰذا مناسب یہ ہے کہ یہ حکم قائم رہے اور ایسے حالات میں اس پر عمل کیا جائے جس طرح آغاز اسلام میں مسلمانوں کی حالت تھی۔ (میرا خیال یہ ہے کہ مشرکین جہاں ملیں ان کو قتل کرو۔ یہ حکم صرف جزیرۃ العرب کے مشرکین کے لئے تھا ، جبکہ یہ آیت عام ہے ، یعنی آیت زیر بحث ۔ جب دشمن کی قوت کو کچل دیا جائے تو پھر قیدی بنانا جائز ہوگا۔ اس پر خلفاء نے رسول اللہ ﷺ کے بعد عمل کیا اور سورة برات کے نزول کے بعد بھی عمل ہوا۔ انہوں نے بعض مخصوص حالات کے سوا کسی قیدی کو قتل نہیں کیا۔ رہی یہ آیت : فاما منا بعد واما فداء (48 : 4) “ اس کے بعد احسان کرو یا فدیہ لو ”۔ بظاہر عبارت کا مفہوم یہی ہے کہ دو میں سے ایک چیز کرسکتے ہو یعنی یا احسان کرو اور قیدیوں کو رہا کردو اور یا پھر فدیہ لے کر چھوڑ دو ۔ اس سے قیدیوں کے قتل کے جواز کی نفی ہوتی ہے اور ملف صالحین کے درمیان اختلاف ہوا ہے ۔ روایت ہے حجاج ابن مبارک ابن فضالہ سے انہوں نے حسن سے روایت کی کہ انہوں نے قیدی کے قتل کر مکروہ سمجھا اور ۔۔۔۔ اس پر احسان کردیا فدیہ کا معاملہ کرو۔ حدیث بیان کی جعفر نے ابو عبید سے انہوں نے ہیشم سے انہوں نے اشعث سے ، کہ میں نے عطا سے پوچھا قیدی کے قتل کا کیا مسئلہ ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ یا احسان کر کے چھوڑ دو یا فدیہ کا معاملہ کرو۔ یہی بات میں نے حسن سے پوچھی تو انہوں نے کہا اس کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو حضور ﷺ نے بدر کے قیدیوں سے فرمایا کہ یا تو احسان کر کے چھوڑ دیا یا فدیہ لیا۔ حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ عظمائے اصطخر کا ایک رئیس قیدی ان کے حوالے کیا گیا کہ اسے قتل کردیں ، تو انہوں نے اسے قتل کرنے سے انکار کردیا۔ اور یہ آیت پڑھی۔ فاما منا بعد واما فداء (48 : 4) اسی طرح مجاہد اور محمد ابن سیرین سے بھی یہی روایت ہے کہ انہوں نے قیدیوں کے قتل کو ناپسند کیا۔ سدی سے یہ روایت آئی ہے کہ یہ آیت۔ فاما منا بعد واما فداء (48 : 4) منسوخ ہے فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم (9 : 5) نے اسے منسوخ کردیا ہے۔ اسی قسم کی روایت ابن جریج سے بھی منقول ہے ۔ روایت کی جعفر نے ، ابو عبید سے انہوں نے حجاج سے اور انہوں نے ابن جریج سے ، انہوں نے کہا کہ یہ آیت منسوخ ہے۔ حضور ﷺ نے عقبہ ابن ابو معیط کو بدر کے دن باندھ کر قتل کیا۔ نضر ابن حارث کو بھی بدر کے دن قتل کیا گیا۔ اور احد کے دن ابو عزہ شاعر۔ قید کئے جانے کے بعد قتل ہوا اور بنو قریظہ کو قتل کیا گیا جب وہ سعد ابن معاد کے فیصلے پر ہتھیار ڈال کر سیر ہوگئے تو سعد ابن معاذ نے فیصلہ دیا کہ ان کو قتل کردیا جائے اور ان کی اولاد کو غلام بنا لیا جائے۔ ان میں سے صرف زبیر ابن باطا پر احسان کیا گیا اور خیبر کا بعض علاقہ تو مصالحت سے فتح ہوا اور بعض علاقہ بزور شمشیر فتح ہوا اور ابو الحقیق کے ساتھ یہ شرط طے ہوئی کہ کچھ چھپائے گا نہیں۔ جب اس کی خیانت ظاہر ہوگئی کہ اس نے چھپایا ہے تو اسے قتل کردیا گیا۔ حضور ﷺ نے مکہ کو فتح کیا اور حکم دیا کہ بلال ابن فطل ، متیس ابن حبابہ اور عبد اللہ ابن ابو السرح اور دوسروں کو قتل کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا : “ یہ اگر کعبہ کے پردوں کے ساتھ بھی لٹک رہے ہوں تو انہوں قتل کرو ”۔ اہل مکہ پر احسان کیا۔ ان کے اموال کو مال غنیمت نہ بنایا۔ صالح ابن کیسان سے روایت ہے انہوں نے محمد ابن عبد الرحمٰن سے ، انہوں نے اپنے والد عبد الرحمٰن ابن عوف سے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر الصدیق کو یہ کہتے سنا : “ کاش فجاء ۃ جب میرے پاس لایا گیا تو میں اسے نہ جلاتا تو اسے آزادانہ قتل کردیتا یا اسے کامیابی سے رہا کرتا ” ابو موسیٰ نے السوس کے ایک زمیندار کو پناہ دینے کے بعد قتل کردیا۔ ہوا یوں کہ اسے امان دے دی گئی کہ فلاں فلاں لوگوں کو قتل نہ کیا جائے گا لیکن اس معاہدے میں وہ اپنا نام لکھنا بھول گیا۔ یوں وہ قتل ہوگیا۔ یہ احادیث و آثار ہیں جو حضور اکرم ﷺ سے اور صحابہ سے تواتر کے ساتھ آئے ہیں کہ قیدیوں کو رکھا بھی جاسکتا ہے اور قتل بھی کیا جاسکتا ہے اور اس پر بڑے شہروں کے فقہاء کا اتفاق ہے۔ (اس قتل کا جواز آیت سے نہیں لیا جاتا ، صرف رسول اللہ ﷺ کے عمل اور بعض صحابہ کے عمل سے لیا جاتا ہے۔ لیکن جن حالات میں قیدیوں کو قتل کیا گیا ہے ، ان کا مفصل مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ قتل ہوئے ، ان کے قتل کی مخصوص وجوہات تھیں۔ یہ وجوہات جنگ اور قیدی بن جانے کے علاوہ تھیں۔ نضر ابن حارث اور عقبہ ابن ابو معیط مکہ میں حضور اکرم ﷺ کی ہجو کرتے تھے۔ اور آپ کو اور دعوت اسلامی کے حاملین کو اذیت دیتے تھے۔ یہی مسئلہ ابو عزہ شاعر کا تھا۔ بنو قریظہ نے تو حضرت سعد ابن معاذ کا فیصلہ پیشگی قبول کرلیا تھا۔ غرض تمام حالات میں متعین اسباب نظر آتے ہیں۔ اس لیے ان حالات میں اس آیت سے ہٹ کر عمل کیا گیا۔ یعنی آیت من اور فداء سے) اور قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے میں بھی اختلاف ہوا۔ ہمارے ساتھیوں (احناف) سب کی رائے یہ ہے کہ قیدیوں کو مال کے بدلے نہ چھوڑ اجائے گا اور نہ ہی قیدی غلاموں کو دارالحرب میں کسی کے ہاتھ فروخت کیا جائے گا کہ وہ دوبارہ اسلام کے خلاف جنگ کریں۔ امام ابوحنیفہ کی رائے تو یہ ہے کہ ایسے قیدیوں کو مسلمان قیدیوں کے بدلے بھی رہا نہ کیا جائے تا کہ وہ اسلام کے خلاف کبھی جنگ نہ کرسکیں۔ امام یوسف اور محمد فرماتے ہیں کہ مسلمان قیدیوں سے مشرکین قیدیوں کا تبادلہ ہو سکتا ہے۔ امام ثوری ، امام اوزاعی کا بھی یہی قول ہے ۔ امام اوزاعی نے کہا ہے کہ عورتوں اور بچوں کو بھی اہل دارالحرب کے ہاتھوں فروخت کیا جاسکتا ہے۔ ہاں غلام مردوں کو فروخت نہ کیا جائے گا۔ امام مزنی نے امام شافعی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ امام کو اختیار ہے کہ بطور احسان چھوڑ دے یا فدیہ کے بدلے چھوڑ دے۔ جو لوگ مال یا مسلمان قیدیوں کے بدلے کافر قیدیوں کی رہائی کے جواز کے قائل نہیں ان کی دلیل یہ ہے۔ فاما منا بعد واما فداء (48 : 4) آیت کے ظاہری الفاظ یہی مفہوم دیتے ہیں کہ مال کے بدلے یا مسلم قیدیوں کے بدلے رہائی جائز ہے۔ حضور ﷺ نے بدریوں کو مال کے بدلے رہا فرمایا۔ اور مال کے بدلے رہائی پر دلیل اس حدیث سے دی جاتی ہے جو ابن مبارک نے معمر سے روایت کی ہے ، انہوں نے ایوب سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے ، انہوں نے ابو المہذب سے ، اور انہوں نے حضرت عمران ابن حصین سے کہ قبیلہ ثقیف نے نبی ﷺ کے دو ساتھیوں کو قید کرلیا تھا۔ اور مسلمانوں نے۔۔۔ بنی عامر ابن ضعصہ قبیلے سے ایک شخص کو قید کرلیا تھا۔ اس قیدی کے پاس سے حضور ﷺ گزرے ۔ یہ بندھا ہوا تھا۔ اس نے حضور ﷺ کو پکارا کہ میرا قصور کیا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا تمہارے ساتھیوں کے جرم کی وجہ سے تم پکڑے گئے ہو۔ قیدی نے کہا کہ میں تو مسلم ہوں یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ بات تم اس وقت کہتے جب آزاد تھے تو تم پوری طرح کامیاب ہوتے۔ اس کے بعد حضور ﷺ چلے گئے۔ اس نے دوبارہ پکارا۔ حضور ﷺ متوجہ ہوئے۔ اس نے کہا میں بھوکا ہوں۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا ہاں یہ تمہاری ضرورت ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے اس کو ان دو مسلمانوں کے بدلے رہا کردیا ۔ جن کو ثقیف نے قید کرلیا تھا۔ (ہمارے خیال میں جو لوگ فدیہ کے طور پر قیدیوں کو رہا کرنے کے قائل ہیں ان کے دلائل مضبوط ہیں ، بمقابلہ ان دلائل کے جو امام جصاص نے فدیہ بالمال یا مسلمان قیدیوں کے تبادلہ کے خلاف دئیے ہیں۔ امام جصاص نے حنفیہ کی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے بات ختم کی ہے۔ یہ کہ آیت زیر بحث میں احسان اور فدیے کا ذکر ہے تو یہ آیت درج ذیل آیت سے منسوخ ہے۔ فاقتلوا المشرکین حیث۔۔۔۔۔۔ فخلوا سبیلھم (9 : 5) “ مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ، اور انہیں پکڑو ، اور گھیرو ، اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کے لئے بیٹھو ، پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو ”۔ اور یہی روایت ہم نے سدی ، ابن جریج سے نقل کی ہیں۔ اور اللہ کا قول۔ قاتلوا الذین لا یومنون ۔۔۔۔۔ ھم صغرون (9 : 29) “ جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا۔ اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں ”۔ دونوں آیات کا حکم یہ ہے کہ کفار سے جنگ کرو ، یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اور مالی اور غیر مالی فدیہ اس کے منافی ہے۔ اہل تفسیر اور تابعین آثار اس بات پر متفق ہیں کہ سورة توبہ سورة محمد کے بعد نازل ہوئی ہے۔ لہٰذا سورة توبہ کا حکم اس حکم کا ناسخ ہوگا جو سورة محمد میں ہے۔ (اس سے قبل ہم کہہ چکے ہیں کہ مشرکین قتل ہوں گے یا اسلام لائیں گے یہ حکم صرف مشرکین مکہ کا ہے ۔ یہ ان کے ساتھ مخصوص حکم ہے۔ رہے غیر مشرکین عرب تو ان سے جزیہ قبول کرنا بھی جائز ہے۔ جس طرح اہل کتاب سے ، اور جزیہ قبول کرنے سے پہلے یہ لوگ مسلمانوں کے ہاتھ میں قید ہو سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب جزیہ قبول کرنے سے پہلے قید ہو سکتے ہیں تو ان قیدیوں کے احکام کیا ہوں گے ؟ ہم کہتے ہیں ان پر امام احسان بھی کرسکتا ہے ، فدیہ مال بھی لے سکتا ہے اور قیدیوں کے ساتھ تبادلہ بھی ہو سکتا ہے ، اگر ان کی قوم بدستور قوی ہو اور وہ جزیہ تسلیم نہ کرے ، اگر جزیہ قبول کرلیں تو پھر وہ رہا ہوں گے۔ یہ تو دوسری حالت ہے۔ لہٰذا جب تک کفار جزیہ تسلیم نہیں کرتے ، اس وقت تک آیت زیر بحث کا حکم جاری رہے گا) ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ واحد قرآن آیت ہے جو قیدیوں کا حکم بتاتی ہے ۔ اور دوسری آیت کا تعلق اس موضوع سے نہیں ہے۔ لہٰذا قیدیوں کے مسئلے میں اصل ماخذ قانون یہی آیت تصور ہوگی اور اس کے خلاف جو واقعات ہوئے ہیں وہ مخصوص حالات میں ہوئے ، جو وقتی حالات تھے۔ بعض قیدیوں کو ان کے دیگر انفرادی جرائم کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ اور اس قسم کی صورت پیش آنے کے آئندہ بھی امکانات ہو سکتے ہیں۔ ان کو ان اعمال اور جرائم کی وجہ سے پکڑا گیا تھا جو قید سے بھی پہلے کے تھے۔ محض برسر پیکار ہونے اور قیدی ہونے کی وجہ سے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص جاسوسی میں پکڑا جاتا ہے تو وہ جنگی قیدی تصور نہ ہوگا ، جاسوس تصور ہوگا۔ یہ قید تو مجرم کو قبضے میں رکھنے کے لئے ہے۔ رہا قیدی کو غلام بنانے کا مسئلہ تو وہ اس وقت ایک عالمی مسئلہ تھا۔ اس کے بارے میں ہم نے ظلال القرآن میں بارہا بحث کی ہے۔ یہ اس وقت کی ایک عام جنگی حکمت عملی تھی۔ اس لیے اسلام اس وقت ہر حالت میں یک طرفہ طور پر اس پر عمل کرسکتا تھا۔ یعنی فاما منا بعد واما فداء (48 : 4) پر۔ جبکہ اسلام کے دشمن مسلمانوں کو قید کر کے غلام بنا رہے تھے۔ اس لیے حضور ﷺ نے بعض حالات میں جنگی قیدیوں کو غلام بنایا ، بعض حالات میں احسان کر کے قیدیوں کو چھوڑ دیا ، بعض کو فدیہ میں تبادلہ کردیا۔ بعض سے مالی تاوان وصول کیا اور بعض حالات میں جنگی قیدیوں کو غلام بھی بنایا گیا کیونکہ یہ فیصلے اور اقدامات اس وقت کے بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوتے تھے اور ضروری تھے۔ اگر کہیں ایسا ہوگیا (اور ہمارے دور میں ہوگیا ہے) کہ تمام بین الاقوامی نے قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا فیصلہ کرلیا تو اس وقت اسلام بھی اس مثبت قاعدے کی طرف رجوع کرے گا اور وہ یہ ہے۔ فاما منا بعد واما فداء (48 : 4) کہ یا بطور احسان قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے یا بطور فدیہ تا کہ وہ حالات ختم کردیئے جائیں جن میں قیدیوں کو غلام بنایا جاتا تھا کیونکہ اسلام میں غلامی کا ادارہ ضروری نہیں ہے اور نہ کوئی بنیادی اصول ہے۔ یہ وہ رائے ہے جو نص قرآنی سے قطعی طور پر معلوم ہوتا ہے اور ان تمام حالات اور واقعات سے بھی یہی معلوم ہوتی ہے جو اسلام کے ابتدائی دور میں نمودار ہوئے۔ اور صحیح رائے وہی ہوتی ہے جس کی طرف اللہ کسی کو توفیق دے۔ لیکن یہ بات ذہن میں اچھی طرح رکھنا چاہئے کہ نصوص قرآنی سے یہ رائے بادی النظر میں ثابت ہوتی ہے اور قرون اولیٰ میں جو واقعات پیش آئے اور جو حالات تھے ان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے ، یہ بات نہیں ہے کہ اسلام پر ادارۂ غلامی کو جائز رکھنے کا کسی نے الزام لگایا ہے اور میں اس کی نفی کرتا ہوں اور اسلام کا دفاع کرتا ہوں۔ میں اس قسم کے دفاع کا قائل نہیں ہوں۔ اگر میرا خیال یہ ہوتا کہ اسلام غلامی کو جائز سمجھتا ہے تو میں اعلان کردیتا کہ یہ درست ہے اور انسانیت کی بھلائی اسی میں ہے کہ غلامی کے ادارے کو جائز رکھا جائے اور کوئی انسان جو انسان ہو اور اس کے اندر اسلام آداب کا ذرا سا شعور بھی ہو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ قرآن تو یہ کہتا ہے لیکن میری رائے یہ ہے۔ اور میری رائے قرآن سے زیادہ معقول ہے۔ یہ قوانین وہدایات یعنی قتال ، گردنیں اڑانا ، سختی سے قیدیوں کو باندھنا ، اور قیدیوں کے لئے یہ اصول ، اس وقت تک ہیں۔ حتی تضع الحرب اوزارھا (48 : 4) “ تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے ”۔ اور اسلام اور اس کے دشمنوں کے درمیان جنگ ختم ہوجائے۔ یہ کلی قاعدہ ہے اور جہاد قیامت تک کے لئے چلنے والا ادارہ ہے۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حتی تکون کلمۃ اللہ ھی العلیا جب تک اللہ کا کلمہ بلند نہیں ہوجاتا۔ ٭٭٭ اللہ نے یہ جہاد اس لیے نہیں فرض کیا کہ وہ لوگوں سے کافروں کے مقابلے میں کوئی مدد لینا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کفار کو تو براہ راست ہی ختم کرسکتا ہے۔ یہ نظام تو اس لیے تجویز ہوا ہے کہ اللہ اپنے بعض بندوں کو دوسروں کے مقابلے میں آزمانا چاہتا ہے۔ اس آزمائش ہی پر ان کے درجات کا آخرت میں فیصلہ ہوگا ۔ ذلک ولو یشاء اللہ ۔۔۔۔۔۔ یضل اعمالھم (4) سیھدیھم ویصلح بالھم (5) ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم (48 : 6) “ یہ ہے تمہارے کرنے کا کام۔ اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے نمت لیتا ، مگر (یہ طریقہ اس نے اس لیے اختیار کیا ہے) تا کہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزمائے۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے۔ اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا۔ وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا ، ان کا حال درست کر دے گا اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس سے وہ ان کو واقف کرا چکا ہے ”۔ یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکا ، اس قسم کے لوگ ہر زمان و مکان میں پائے جاتے ہیں ، خدا کے دین کے باغی ، سرکش اور مفسدین جو ظلم اور تکبر کے جامہ میں سامنے آتے ہیں اور اپنے آپ کو اور اپنے متبعین کو بہت قوت والے دکھاتے ہیں۔ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ لوگ اس چھوٹے سے ذرے کے اوپر رہتے ہیں جسے عرف عام میں زمین کہا جاتا ہے۔ جو اس کائنات کے عظیم کروں ، دیو ہیکل اجسام ، ستاروں اور سیاروں کے درمیان فی الواقع ایک ذرہ ہی ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے جہاں بیشمار کہکشاں اور بلیک ہول ہیں جن کی تعداد صرف اللہ ہی جانتا ہے اور جو اس وسیع اور ہولناک کائنات میں تیرتے پھرتے ہیں اور بکھرتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں یہ زمین ایک ذرہ ایک چھوٹا سا رائی کا دانہ ہی تو ہے۔ ان تمام جہانوں کے اندر یہ ہولناک نظم و نسق اور جمع و تفریق صرف اللہ نے قائم کر رکھی ہے۔ اس لئے قوتوں کا مالک تو اللہ ہی ہے۔ دنیا کے یہ ڈکٹیٹر اور ان کے متبعین بلکہ یہ پوری زمین اور اس کی پوری آبادی ، اس کائنات کی نسبت میں اس طرح ہیں جس طرح اہل زمین کی نسبت نہایت ہی چھوٹے قسم کی چیونٹیوں کا دس بارہ ارب کا چھتا بلکہ یہ نسبت اگر تناسب کے حسابی قاعدے سے ظاہر کی جائے تو (زمین : کائنات = زمین : ذرہ) بھی نہیں ہے۔ پوری زمین اور اس کی آبادی کائنات کے مقابلے میں ذرے سے بھی کم ہے۔ اور اللہ کی قوتیں تو کائنات سے بھی وسیع ہیں۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ ! اللہ تعالیٰ مومنین کو حکم دیتا ہے کہ ان دشمنان اسلام کی گردنیں اڑاؤ اور اچھی طرح کچل کر ان کو خوب باندھو۔ یہ احکام اس لیے دئیے گئے ہیں کہ مومنین دست قدرت کے لئے آلہ بن جائیں۔ اگر اللہ چاہتا تو براہ راست اور علانیہ کافروں سے انتقام لے لیتا ہے۔ جس طرح اللہ نے بعض اقوام کو طوفان ، کڑک دار آواز اور نیست و نابود کردینے والی ہواؤں وغیرہ کے ذریعہ تباہ کیا ، بلکہ اللہ تو کن فیکون کے ذریعہ بغیر ان اسباب کے بھی انتقام لے سکتا ہے۔ لیکن اللہ اپنے مومن بندوں کے لئے بہتری چاہتا ہے۔ ان کو آزماتا ہے۔ ان کو تربیت دیتا ہے۔ ان کی اصلاح کرتا ہے۔ اور ان کے لئے نیکیوں کے اسباب فراہم کرتا ہے۔ اللہ مومنین کو آزماتا ہے اور اس آزمائش میں مومنوں کے قلوب میں بہترین جذبات کو ابھارتا ہے اور اس سے اچھا جذبہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ کسی انسان کے لئے وہ عقیدہ اس کی جان سے عزیز ہوجائے جس پہ وہ ایمان لایا ہے۔ اور انسان اپنے اس عزیز عقیدے کے لئے جہاد کرے ، مارے اور مارا جائے۔ اور اس کی حالت یہ ہو کہ وہ دین کے معاملے میں کوئی مسالمت اور رواداری نہ کرے۔ دین کے بغیر زندہ نہ رہ سکے اور اس دین کے سوا کسی اور طریقے کے مطابق زندگی نہ گزار سکے۔ اور اللہ تعالیٰ مومنین کی تربیت یوں فرماتا ہے کہ ان کے دلوں سے اس فانی دنیا کی تمام خواہشات اور تمام رغبتیں نکال دیتا ہے ، حالانکہ انسان کے لئے ایسی خواہشات کو دل سے نکال دینا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اس طرح ان کے دلوں سے کمزوری دور ہوجاتی ہے ، نقص کمال میں بدل جاتا ہے۔ ہر قسم کا کھوٹ نکل جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ان کی تمام خواہشات ترازو کے ایک پلڑے میں ہوں اور دوسرے پلڑے میں صرف دعوت جہاد ہو اور اللہ کی رضا مندی کی طلب ہو تو اللہ کی رضا مندی اور جہاد کا پلڑا بھاری نکلتا ہے۔ اللہ اس بات کو ظاہر کردیتا ہے کہ ان نفوس کو اختیار دیا گیا تو انہوں نے دین کو اختیار کیا ، ان کو تربیت دی گئی تو انہوں نے حق کو جان لیا ، وہ بغیر سوچے سمجھے کوئی قدم نہیں اٹھاتے بلکہ خوب سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے ہیں۔ اور اللہ مومنین کی اصلاح کرنا چاہتا ہے ، جہاد فی سبیل اللہ اللہ کی تکالیف اور موت سے بار بار آنکھیں ملانے کی وجہ سے ان کے ذہن سے موت کا خوف ہی دور ہوجاتا ہے۔ حالانکہ موت کا ڈر لوگ اپنے نفوس سے اور اپنے اخلاق اور اپنی اقدار سے بڑے تکلفات کے بعد نکالتے ہیں اور بڑی مشقتیں اٹھا کر وہ اپنے دل سے موت کا ڈر نکالتے ہیں لیکن جو شخص ، مجاہد فی سبیل اللہ ہو وہ ہر وقت موت آنکھیں ملاتا رہتا ہے اور وہ اس کا عادی ہوجاتا ہے۔ وہ موت سے دو چار ہوگیا یا بچ گیا۔ اور اللہ کی راہ میں مرنے کی ہر بار فکر کرنا ، ارادہ کرنا ، خصوصاً شدید خطرات کے لمحات میں انسانی جسم کے اندر بجلی کی ایک لہر دوڑا دیتا ہے اور جو شخص ایسے مراحل سے بچ کر نکل آئے تو وہ بالکل ایک جدید روح اور پاک و صاف شخصیت لے کر آتا ہے۔ جہاد میں شریک ہونے والے شخص یعنی غازی کی شخصیت ہی نرالی ہوتی ہے۔ پھر یہ جہاد پوری انسانی جماعت کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ جب انسانوں کی قیادت ان مجاہدین کے ہاتھ آجاتی ہے جن کے نفوس تمام دنیاوی آلائشوں اور آلودگیوں سے پاک ہوتے ہیں۔ اور جن کی نظروں میں دنیا کی سب چمک دار چیزیں ہیچ ہوتی ہیں بلکہ خود دنیا کی اس پوری زندگی کو بھی وہ حقیر سمجھتے ہیں جبکہ وہ موت کے کنوؤں میں کود جاتے ہیں۔ اور دنیا کی کوئی چیز بھی ، کوئی دل فریبی بھی ان کی نظروں کو اپنی طرف نہیں کھینچ سکتی اور وہ صرف رضائے الٰہی کے طالب ہوتے ہیں۔ جب دنیا کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو ، تو لوگوں کی اصلاح بھی ہوجاتی ہے اور دنیا کی بھی۔ اور شر و فساد ختم ہو کر دنیا امن وامان کے دامن میں پناہ لیتی ہے ، اس لیے کہ انہوں نے یہ بلند مقاصد اپنے خون کی قیمت پر حاصل کئے ہیں اور یہ ذاتی مفادات کے لئے نہیں بلکہ رضائے الٰہی کے لئے حاصل کئے ہیں۔ پھر یہ اللہ کی توفیق اور سہولت ہوتی ہے ، جسے وہ جس خوش قسمت کو چاہے ، مہیا کردیتا ہے تا کہ وہ اللہ کی رحمتوں کو بغیر حساب کے لپیٹے۔ اور جو ازلی بدبخت ہوتے ہیں ان کو بھی اللہ کی طرف سے ایک راہ میسر ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں انہیں اللہ کا غضب اور عذاب ملتا ہے ، ہر کسے رابہر کارے ما ۔۔ ، اور جس نیک بخت کو یہ حصہ مل گیا اور اللہ اسی کو دیتا ہے جس کا اندرون اس کے لئے تیار ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں مرنے مارنے والوں کا انجام کیا ہے۔ والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم (48 : 4) “ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے ، اللہ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہ کرے گا ”۔

محمد 47:5

سیھدیھم ویصلح بالھم (48 : 5) ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم (48 : 6) “ وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا ان کا حال درست کرے گا اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس سے وہ ان کو واقف کرا چکا ہے ”۔ ان کے اعمال ضائع نہ کرے گا ۔ یہ اس بات کے بالمقابل ہے جو کفار کے معاملے میں کہی گئی کہ ان کے اعمال ضائع ہوں گے۔ اس لیے کہ مومنین کے اعمال مضبوط اور اصل درخت سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ درخت ہے سچائی کا درخت۔ یہ اعمال اس حق اور سچائی سے صادر ہوتے ہیں۔ یہ اعمال حق کی حمایت میں ہوتے ہیں۔ حق کی سمت میں ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ باقی ہوتے ہیں اور دوام کی صفت رکھتے ہیں کیونکہ حق لازوال ہے۔ شہداء کی حقیقت قابل غور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے دوسری جگہ میں فیصلہ دے دیا ہے۔ ولا تقولوا لمن ۔۔۔۔۔۔ لا تشعرون “ اور جو اللہ کے راستے میں قتل ہوتے ہیں ان کو مردہ نہ کہو ، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ”۔ لیکن یہاں ان کو ایک دوسرے پہلو سے پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے جس راستے میں متاع حیات قربان کی اس راستے میں وہ مسلسل آگے ہی بڑھ رہے ہیں۔ وہ ہدایت خلوص ، صفائی اور اطاعت کی راہ ہے۔ سیھدیھم ویصلح بالھم (47 : 5) “ اللہ ان کی رہنمائی فرمائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا ”۔ وہ اپنے رب اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں ، وہ اب بھی ان کی رہنمائی کر رہا ہے۔ یعنی شہادت کے بعد بھی وہ درجات عالیہ طے کر رہے ہیں اور ان کے حالات درست کئے جا رہے ہیں اور ان کی روح زمین کی آلودگیوں سے پاک ہو رہی ہے۔ ان کو ملاء اعلیٰ میں جو مقام حاصل ہے ، اس مقام کی مناسبت سے ان کو مزید تربیت دی جارہی ہے۔ اور وہ صاف و شفاف بنائے جارہے ہیں۔ یہ ایک مسلسل زندگی ہے۔ صرف اہل زمین کی نظروں میں یہ منقطع ہوگئی ہے۔ اہل زمین شہادت کے درجات کو دیکھ نہیں پاتے اس زاویے سے اندھے ہیں ، جب کہ یہ شہداء حضرات عالم بالا میں بدستور درجات بلند کے مدارج طے کر رہے ہیں۔ ہدایت ، صفائی ، اشراق اور شفافی میں مزید انوار ربی حاصل کر رہے ہیں۔۔۔۔ اور سب سے آخر میں !

محمد 47:6

ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم (48 : 6) “ وہ ان کو اس جنت میں داخل کر دے گا جس سے وہ ان کو واقف کرچکا ہے ”۔ احادیث میں شہداء کے بارے میں آتا ہے کہ ان کو جنت میں ان کی جائے قیام دکھائی جاتی ہے۔ امام احمد نے روایت فرمائی ہے ، زید ابن نمرد مشفی سے انہوں نے ابو ثوبان سے ، انہوں نے اپنے والد ثوبان سے انہوں نے مکحو سے انہوں نے کثیر ابن مرہ سے انہوں نے قیس جذامی اور انہوں نے ایک ایسے شخص سے جسے نبی ﷺ سے محبت حاصل تھی وہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : شہید کا خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے چھ درجات حاصل ہوجاتے ہیں ، اس کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ، وہ دیکھ لیتا ہے کہ جنت میں اس کی جائے قیام کیا ہے ، خوبصورت آنکھوں والی حوریں اس کے نکاح میں دے دی جاتی ہیں۔ وہ قیامت کے عظیم خوف سے محفوظ ہوگا۔ عذاب قبر سے مامون ہوگا۔ اور اسے ایمان کا جامہ پہنایا جائے گا۔ یہ حدیث صرف امام احمد نے نقل کی ہے۔ ایک دوسری حدیث اسی مفہوم کی بھی مروی ہے۔ اس میں بھی تصریح ہے کہ شہید اپنی جائے قیام کو پہلے ہی دیکھ لے گا (ترمذی) ۔ یہ ہے اہل جنت کے لئے ان کی جائے قیام کی معرفت اور یہی ان کے لئے رہنمائی ہے اور یہی ان کا اصلاح حال ہے۔ اس جہاں کو چھوڑ کر وہ نہایت ہی بلند زندگی گزارتے ہیں۔

محمد 47:7

جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کے اس اعزاز ، ان سے اللہ کی رضامندی ، ان کی اس نگہبانی اور بلند مقامات کی اس فضا میں اہل ایمان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے لئے یکسو ہوجائیں اور اسلامی نظام کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ ان سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے گا اور اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں کے لئے تو ہلاکت ہی مقدر ہے۔ یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ اقدامکم (7) والذین کفروا ۔۔۔۔۔ اعمالھم (8) ذلک بانھم کرھوا۔۔۔۔ اعمالھم (9) (47 : 7 تا 9) “ اے لوگوں ، جو ایمان لائے ہو ، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے تو ان کے لئے ہلاکت ہے اور اللہ نے ان کے اعمال کو بھٹکا دیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جسے اللہ نے نازل کیا ہے ، لہٰذا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ”۔ مومن اللہ کی مدد کسی طرح کرتے ہیں ؟ تا کہ وہ اپنی شرط پوری کردیں اور اللہ جواب میں ان کی نصرت کرے اور ان کو ثابت قدم کر دے۔ اللہ کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے لئے مخلص ہوجائیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ، نہ ظاہری شرک اور نہ خفی شرک ۔ اور وہ اللہ کے مقابلے میں کسی شخص پر اور کسی شے پر بھروسہ نہ کریں اور اللہ ان کے لئے ان کی ذات اور تمام محبوب چیزوں سے محبوب ہوجائے اور انسان کی خواہشات ، میلانات ، مرغوبات ، اس کی حرکات و سکنات ، اس کے خلجانات اور اس کی تمام سرگرمیوں میں اللہ حاکم ہوجائے۔ یہ ہے نفوس انسانی کی طرف سے اللہ کی نصرت۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے انسانی زندگی کے لئے ایک شریعت اور نظام زندگی تجویز کیا ہے اور یہ نظام اس زندگی اور اس کائنات کے لئے ایک خاص تصور پر تشکیل پایا ہے۔ اللہ کی نصرت یوں ہوتی ہے کہ اس کے نظام کی نصرت کی جائے اور پوری زندگی میں انسان اس نظام کو نافذ کر دے۔ یہ ہے اللہ کی نصرت ہماری حقیقی زندگی میں۔ یہاں دو فقرے بہت ہی اہم ہیں ، ان پر غور ضروری ہے۔ والذین قتلوا فی سبیل اللہ “ جو اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ”۔ دوسرا یہ کہ ان تنصروا اللہ “ اگر تم اللہ کی مدد کرو ”۔ ان دونوں حالات میں ، یعنی قتل ہونے میں اور نصرت میں یہ ضروری ہے کہ یہ اللہ کی راہ میں ہو۔ یہ ایک نہایت ہی واضح قابل توجہ نکتہ ہے لیکن جب کسی نظریہ پر صدیاں گزر جاتی ہیں تو اس کی اصل صورت مسخ ہوجاتی ہے۔ لوگ شہادت اور جہاد کے الفاظ تو بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا حقیقی مفہوم اور شرائط ان کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ کوئی جہاد نہیں ہے ، کوئی جنت نہیں ہے ، کوئی شہادت نہیں ہے۔ مگر صرف اس وقت کہ وہ صرف اللہ کے لئے ہو۔ اللہ کی راہ میں ہو۔ صرف اللہ کے لئے رکا وہ ، اللہ کے نظام کی مدد کے لئے مرتا ہو ، اور اس نظام کو اپنی ذات اور اپنے منہاج حیات میں نافذ کرنا ہو۔ کوئی جہاد ، کوئی شہادت اور کوئی جنت نہیں ، الا یہ کہ یہ سب کچھ اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے ہو اور اس لیے کہ اللہ کا نظام لوگوں کی زندگیوں میں غالب ہو۔ ان کے اخلاق و طرز عمل میں نافذ ہو ، ان کے احوال اور قوانین اور دستور میں نافذ ہو۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ہے روایت ہے کہ حضور ﷺ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو نمائش شجاعت کے لئے لڑتا ہے ، یا حمیت جاہلیہ کے لئے لڑتا ہے یا ریا کاری کے لئے لڑتا ہے۔ کیا یہ فی سبیل اللہ ہیں۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے جنگ کی محض اس لیے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو تو صرف وہ فی سبیل اللہ ہے ” (شیخین و ترمذی اور نسائی) ۔ اسلامی جہاد کا نہ کوئی اور جھنڈا ہے ، نہ کوئی اور مقصد ہے۔ اللہ کے لئے جو لڑتا ہے وہ بس اللہ ہی کے لئے لڑتا ہے۔ اس لیے جو شہید ہوتا ہے ، وہ وہی ہے جو اسی کے لئے شہید ہوتا ہے۔ صرف ایسے شہداء کے لئے جنت کا وعدہ ہے۔ صرف یہی جھنڈا اور یہی مقصد مقبول ہے۔ وہ نہیں جو صدیاں گزرجانے کے بعد کوئی نئے جھنڈے بن گئے ، کچھ نئے مقاصد سامنے آگئے اور کچھ نئے نام رکھ لیے گئے ! داعیاں حق کو اس اس واضح بات کو سمجھ لینا چاہئے اور ہمارے معاشروں کے اندر جہاد و قتال کے تصور میں جو انحراف واقع ہوگیا ہے اس کا خیال رکھنا اور اسے درست کرنا چاہئے ۔ نئے بتوں اور ان کے نئے جھنڈوں کے لئے بھی جہاد کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے عقیدے اور جہاد کے مفہوم کو واضح اور شفاف رکھیں۔ میں دوبارہ کہتا ہوں کہ جہاد صرف وہی ہے جو اللہ کے کلمے کے بلند کرنے کے لئے ہو۔ انسانی نفس میں کلمے کی بلندی ، انسانی ضمیر میں اس کلمے کی بلندی اخلاق اور طرز عمل میں اس کلمے کی بلندی ، نظم مملکت اور اداروں میں کلمے کی بلندی ، تعلقات اور روابط میں اللہ کے کلمے کی بلندی اور زندگی کے ہر موڑ اور ہر رخ میں کلمۃ اللہ کی بلندی اور سر بلندی ۔ اس کے سوا جو نعرہ ہے وہ اللہ نہیں ہے ، وہ شیطان کے لئے ہے۔ اس کے سوا کسی مقصد کے لئے نہ شہادت ہے ، نہ جنت ہے ، نہ اللہ کی نصرت ہے ، نہ ثابت قدمی ہے۔ محض دھوکہ اور فریب ہے۔ بچئے دور جدید کی بت گری سے اور آزدی سے۔ اگر دوسرے لوگوں کے لئے جو داعی الی اللہ نہیں اس قسم کا صاف ستھرا تصور جہاد و قتال مشکل ہے ، تو داعیان حق کو تو اپنے خیالات اور اپنا شعور ، ان غلط تصورات سے صاف کرنا چاہئے۔ داعیان اسلام کو تو دور جدید کے نعروں سے دور رہنا چاہئے جو ہدایتہ فی سبیل اللہ نہیں ہیں۔ ۔۔۔ تو یہ تو اللہ کی طرف سے ایک شرط ہے اپنے بندوں پر ، جسے اللہ کی جانب سے لازم کیا ہے ، تو اس کے مقابلے میں اللہ نے ۔۔۔۔ یہ لازم کیا ہے کہ وہ ایسے بندوں کی مدد کرے گا۔ وہ ان کے قدم مضبوط کر دے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور وہ اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا۔ اگر کچھ عرصے کے لئے بظاہر نصرت خدا وندی آتی ہوئی نظر نہ آئے تو اس کے بھی کچھ دوسرے اسباب ہوتے ہیں۔ نصرت اور قدم جمانے سے قبل ان کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ (مزید دیکھئے تفسیر ان اللہ یدافع ( سورة حج کی تشریح ) یہ اللہ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا اس کے بندوں نے شرط پوری کردی ہے یا نہیں۔ اب میں چاہتا ہوں کہ ہم جواب شرط کے کلمات پر بھی غور کرلیں۔ ینصرکم ویثبت اقدامکم “ وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا ”۔ سب سے پہلے تو انسان کی سوچ ادھر جاتی ہے کہ نصرت سے پہلے ہی قدم جما دئیے جاتے ہیں۔ اور قدم جمانے کے بعد ہی نصرت آتی ہے اور یہ صحیح بھی ہے۔ لیکن یہاں نصرت آنے کے بعد قدم جمانے میں ایک دوسری حالت اور ایک دوسرے مفہوم کی طرف بھی اشارہ ہے۔ یعنی جب اللہ کی نصرت آجائے اور مومنین غالب ہوجائیں تو اس کے بعد قدم جمانا مطلب ہے۔ اور یہ بہت ہی مشکل کام ہے۔ کفرو ایمان کا معرکہ اللہ کی نصرت اور فتح آجانے کے بعد ختم نہیں ہوجاتا۔ حق و باطل کی کشمکش پھر بھی جاری رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی ذات اور عملی زندگی میں نصرت کی الگ ذمہ داریاں ہیں۔ کبرو غرور سے اجتناب ، سستی ، اور وھن (کمزوری) سے اجتناب بہت سے لوگ مشکلات برداشت کرتے ہیں لیکن نصرت اور فتح کے بعد کم لوگ قدم جما سکتے ہیں۔ اور یہاں شاید اسی کی طرف اشارہ ہے۔ واللہ اعلم !

محمد 47:8

والذین کفروا فتعسالھم واضل اعمالھم (47 : 8) “ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ، تو ان کے لئے ہلاکت ہے ، اور اللہ نے ان کے اعمال کو بھٹکا دیا ہے ”۔ یہ نصرت اور ثابت قدمی کے بالکل متضاد حالت ہے۔ اللہ کی طرف سے بدبختی کی دعا دراصل ہلاکت ہے ، اور ناکامی اور نامرادی کا اعلان ہے اور اعمال کے ضائع ہونے کا مطلب ہے ، ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔

محمد 47:9

ذلک بانھم ۔۔۔۔ اعمالھم (47 : 9) “ کیونکہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جسے اللہ نے نازل کیا ہے۔ لہٰذا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ”۔ اس سے اس بات کی بہت اچھی تصویر کشی ہوتی ہے کہ ان کے دلوں میں قرآن کریم کے بارے میں کس قدر کراہت ہے۔ اور اللہ کی شریعت اور نظام کو وہ کس قدر ناپسند کرتے ہیں اور یہی کراہت ہی ان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ کفر کریں ، مسلمانوں سے دشمنی رکھیں اور جنگ وجدال اور تنازعات رکھیں۔ درحقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگوں کی اسلام کے بارے میں ذہنی حالت یہی ہوتی ہے۔ وہ اسلام کو نہایت ہی مکروہ سمجھتے ہیں اور اس سے متصادم ہوتے ہیں اگرچہ یہ بہترین اور مستحکم نظام ہے ، لیکن ان لوگوں کو پسند نہیں ہوتا۔ یہ اس قسم کے لوگ ہیں جو ہر زمان و مکان میں پائے جاتے ہیں۔ اور آپ ان سے مل سکتے ہیں۔ جب آپ ایسے لوگوں سے ملیں گے تو ان کے منہ اور رویہ سے اسلام کے خلاف نفرت کا لاوا پھوٹ رہا ہوگا۔ بعض لوگوں کو تو اس قدر الرجی ہوتی ہے کہ محض اسلام کے ذکر ہی سے ان کو بچھو کاٹنے شروع کردیتے ہیں۔ اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی معاملے میں اور کسی مکالمے میں اسلام کا ذکر ہی نہ آئے۔ آج ہمارے دور کی ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں اور ان کا یہ طرز عمل کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی سزا کیا ہے ؟ یہ کہ اللہ نے ان کے تمام اعمال کو باطل کردیا اور اعمال کے لئے حبط کے لفظ کا استعمال قرآن مجید کا مخصوص انداز ہے جس میں وہ کسی مفہوم کو نہایت ہی حسی انداز دے دیتا ہے۔ “ حیوط ” کا لفظی معنی ہے کسی جانور کا زہریلی گھاس کھا کر پھول جانا ، اس پھولنے سے جانور گھنٹوں میں ہلاک ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کفار کے اعمال بھی پھول جاتے ہیں ، بظاہر وہ بہت ہی بڑے بڑے نظر آتے ہیں لیکن انجام ہلاکت و بربادی ہوتا ہے۔ یہ ایک تصویر ہے ، ایک حرکت ہے جس میں ان لوگوں کی حالت کو بتایا گیا ہے جو اسلام سے نفرت کرتے ہیں اور اپنے بڑے بڑے کاموں پر مغرور ہوتے ہیں اور یہ اعمال پھولے ہوئے ہوتے ہیں جس طرح جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے۔

محمد 47:10

اس کے بعد انہیں اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ ذرا پیچھے مڑکر تاریخ کو پڑھیں اور غور کریں۔ یہ بات ذرا شدت سے کہی جاتی ہے۔ افلم یسیروا فی الارض۔۔۔۔ امثالھا (47 : 10) “ کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہ تھے کہ ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ؟ اللہ نے ان کا سب کچھ ان پر الٹ دیا ، اور ایسے نتائض ان کافروں کے لئے مقدر ہیں ”۔ یہ ایک خوفناک اور خشمگیں نظر ہے۔ اس میں نہات ہی ہیجان اور شروفضاں ہے۔ ان لوگوں کا منظر جن کو چشم زدن میں نیست و نابود کر کے رکھ دیا گیا۔ ان کے تمام آثار مٹا دئیے گئے۔ ملبے کے ڈھیر لگا دئیے گئے ہیں اور وہ ملبے کے ان ڈھیروں کے نیچے کراہ رہے ہیں۔ یہ منظر جسے اس انداز سے پیش کیا گیا ہے ۔ یہاں اس کا اس طرح پیش کرنا ہی مقصود ہے ۔ انداز بیان سے ان اقوام کی تباہی ، بستیوں کا ملبہ بن جانا اور توڑ پھوڑ کا اظہار ہوتا ہے۔ اس قسم کے خوفناک منظر کو پیش کر کے اور الفاظ کے ذریعہ اسکرین پر توڑ پھوڑ دکھا کر حاضرین کو کہا جاتا ہے کہ تمہارا جو رویہ ہے اس کے نتیجے میں کچھ ایسا ہی منظر تمہارے انتظار میں ہے۔ وللکفرین امثالھا (47 : 10) “ ایسے ہی نتائج ان کافروں کے لئے مقدر ہیں ”۔ اس قسم کے نتائج کفار کے انتظار میں کیوں ہیں ؟ اور اہل ایمان کی نصرت اس انداز میں کیوں ہے ؟ یہ اللہ کا دائمی اصول ہے۔

محمد 47:11

ذلک بان اللہ ۔۔۔۔۔ مولیٰ لھم (47 : 11) “ یہ اس لیے کہ ایمان لانے والوں کا حامی و ناصر اللہ ہے اور کافروں کا حامی و ناصر کوئی نہیں ”۔ جس کا آقا اللہ ہو اور وہ اس کا مددگار ہو تو وہ اس کے لئے کافی ہے۔ یہ شخص کسی کا محتاج نہ ہوگا ، ہر کسی سے بےنیاز ہوجائے گا۔ ایسے شخص پر اگر مشکل حالات بھی آتے ہیں تو اسے سمجھنا چاہئے کہ اس کی آزمائش ہو رہی ہے ۔ اور اس آزمائش کے بعد خیر ہی خیر ہے۔ یہ آزمائش اور یہ مشکلات اس لئے نہیں کہ اللہ نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے بھی نہیں کہ اللہ نے اپنے بندوں کی مدد کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ بلکہ یہ ایک بندۂ مومن کی آزمائش ہوتی ہے۔ اور جس کا آقا اللہ نہ ہو تو اس کا کوئی آقا مراد ہوتا ہے اگرچہ وہ تمام جنوں اور تمام انسانوں کو آقا بنالے۔ آخر کار انسانوں پر بھروسہ کرنے والا نامراد ہوتا ہے اگرچہ دنیا کی تمام قوتیں اس کی حمایت پر مرکوز ہوں۔ اب ان لوگوں کے سازوسامان جنہوں نے ایمان قبول کیا اور ان لوگوں کے سازوسامان کے درمیان موازنہ کیا جاتا ہے جنہوں نے کفر کیا۔ یہ دونوں گروہ جو اس وقت باہم برسر پیکار ہیں ان کے درمیان فرق کیا ہے ؟ اور ان کے سازو سامان کے درمیان فرق کیا ہے ؟

محمد 47:12

وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے بعض اوقات اس زمین پر بھی بہت اچھا کھاتے پیتے ہیں لیکن اللہ مومنین کے اس حصے کے درمیان جو ان کی جنت کی صورت میں ملنے والا ہے اور کافروں کے اس تمام سروسامان کے درمیان موازنہ کرتا ہے جو ان کی اس دنیا اور آخرت دونوں میں ملنے والا ہے۔ مومنین کا حصہ رسدی یہ ہے کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور ان کو یہ مقام عزت اللہ عطا کرے گا۔ لہٰذا مومنین کا یہ سازو سامان اور یہ اکرام بہت ہی بڑا ہے۔ یہ بارگاہ عزت میں ہے۔ یہ اللہ کے ہاں ان کا مقام ہے اور یہ ایمان وتقویٰ اور عمل و صلاح کی بنا پر ہے۔ یہ اونچی جنتوں میں اونچے رب تعالیٰ کی طرف سے بلند ایمان اور اعلیٰ اعمال کے بدلے ہوگا سب کچھ بلند ! اس کے مقابلے میں کافروں کا سازو سامان یوں ہے جس طرح مویشی چرچگ رہے ہیں۔ ویاکلون کما تاکل الانعام (47 : 12) “ جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں ”۔ یہ ان کی بہت ہی خستہ اور گری ہوئی حالت ہے ، اس کے اندر انسانیت کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں ہے۔ اس میں یوں نظر آرہا ہے کہ کچھ حیوان ہیں جو منہ مار رہے ہیں اور حیوانی اور سخت قسم کی خوراک کھا رہے ہیں اور اس میں پاک و صاف اور اچھے اور برے کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ پس یہ ایک چارہ ہے جو یہ کھا رہے ہیں۔ اس کے لئے کوئی ضابطہ حلال و حرام نہیں۔ اس میں خدا کے خوف کی کوئی بات نہیں۔ نہ عدالت ضمیر سے کوئی پابندی عائد ہے۔ حیوانات کا خاصہ صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ کھائے اور پئے۔ اگرچہ کھانے پینے میں حیوانوں نے نہایت ہی اعلیٰ ذوق بنا لیا اور مختلف قسم کے استعمال کی اشیاء میں بہت ترقی کرلی ہو۔ جیسا کہ آج کل کے بہت سے نودولتے اس کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات مقصود نہیں ہے۔ اصل انسانی خصوصیت یہ ہے کہ انسان ایک ارادے کا مالک ہو ، اس کی زندگی گزارنے کی کچھ قدیریں ہوں ، اللہ کے ہاں جو طیب اور پاک خوراک ہو یعنی رزق حلال وہ اسے اختیار کرے۔ وہ ایسے ارادے کا مالک ہو جس کے اوپر انسانی شہوات کا دباؤ نہ ہو۔ اور نہ ہی وہ مقصد پیش نظر ہو کہ “ بابربعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ”۔ اور وہ اس زندگی کو مویشیوں کی طرح صرف دسترخوان ہی نہ سمجھتا ہو۔ اور عیش و عشرت ہی اس کے نزدیک زندگی نہ ہو۔ جو جائز و ناجائز کے حدود وقیود سے پاک ہو۔ بلکہ انسان اور حیوان کے درمیان تو فرق ہی یہ ہے کہ انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق ہے۔ اس کا اس جہاں میں ایک خاص مقصد ہے اور ایک خاص شعور حیات ہے جو غیر مبہم اصولوں پر قائم ہے اور یہ اصول اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ اگر انسان ان باتوں کو گم کر دے تو گویا اس نے مقام انسانیت کو گم کردیا ہے۔ اور وہ صرف حیوان رہ گیا ہے۔ کیونکہ انسانی خصوصیات میں سے اعلیٰ خصوصیات اس نے گم کردی ہے۔

محمد 47:13

اب ایک موازنہ ان بستیوں کے درمیان جو ہلاک ہوئیں اور اس بستی کے درمیان جس نے رسول اللہ ﷺ کو نکال دیا۔ وکاین من قریۃ ۔۔۔۔۔۔۔ فلا ناصر لھم (47 : 13) “ اے نبی ﷺ ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے۔ انہیں ہم نے اس طرح ہلاک کردیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا ”۔ یہ وہ آیت ہے جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان اس وقت نازل ہوئی جب آپ ہجرت کا سفر فرما رہے تھے اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے ۔ کیونکہ اپنا ملک ہمیشہ کے لئے چھوڑنا ایک مشکل کام ہے اور اس میں تسلی دی گئی کہ بظاہر تو یہ لوگ بڑے جبار نظر آتے ہیں ، دعوت اسلامی کی راہ روکے ہوئے ہیں ، اہل ایمان پر تشدد کرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے ان کو اپنے گھروں سے نکل جانے پر مجبور کردیا ہے اور وہ دولت ایماں لے کر جا رہے ہیں لیکن دراصل یہ جبار بہت ہی کمزور ہیں۔ ٭٭٭ اب دونوں فریقوں کے درمیان مزید موازنہ کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ مومنین کو جنتیں عطا کرے گا ، جہاں نہریں بہتی ہیں ، اس دنیا میں ان کو نصرت اور عزت بخشے گا ، اور کفار کا کوئی آقا نہیں ہے ، ان کا کوئی ناصر نہیں ہے وہ دنیا میں ہلاک ہوں گے اور آخرت میں خوار ہوں گے ، اور ہمیشہ جہنم میں ہوں گے۔ یہ کیوں ؟ افمن کان علی ۔۔۔۔۔ اھواء ھم (47 : 14) “ بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف وصریح ہدایت پر ہو ، وہ ان لوگوں کی طرح ہوجائے جن کے لئے ان کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو بن گئے ہیں ”۔ یہ ہے وہ فرق دونوں گروہوں کے درمیان ،۔۔۔۔ زندگی اور مقصد زندگی دونوں میں فرق ہے۔ جو اہل ایمان ہیں وہ : علی بینۃ من ربہ (47 : 14) “ اپنے رب کی طرف سے صاف ہدایت پر ہیں ”۔ وہ حق کو جانتے ہیں اور انہوں نے اسے پہچان لیا ہے۔ وہ حق کے سرچشمے تک پہنچ گئے ہیں اور ان کے پاس جو حق آرہا ہے وہ اس پر جمے ہوئے ہیں۔ وہ کسی دھوکے میں ہیں اور نہ گمراہی میں۔ اور کفار ایک بڑے دھوکے میں پڑے ہیں۔ شیطان نے ان کو لیے ان کے برے اعمال خوشنما بنا دئیے ہیں۔ پھر ان کے اعمال کے بارے میں ان کو کوئی یقین بھی نہیں ہے کہ وہ کہاں سے ہدایات لیتے ہیں۔ واتبعوا اھواءھم (47 : 14) “ وہ اپنی خواہشات کے پیروکار ہیں ”۔ کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ کوئی اصول نہیں ہے جس پر جائز و ناجائز کا تعین ہو ، اور کوئی روشنی ان کے پاس نہیں جس کے ذریعہ وہ حق و باطل کی تمیز کریں۔

محمد 47:14

اب ایک موازنہ ان بستیوں کے درمیان جو ہلاک ہوئیں اور اس بستی کے درمیان جس نے رسول اللہ ﷺ کو نکال دیا۔ وکاین من قریۃ ۔۔۔۔۔۔۔ فلا ناصر لھم (47 : 13) “ اے نبی ﷺ ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے۔ انہیں ہم نے اس طرح ہلاک کردیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا ”۔ یہ وہ آیت ہے جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان اس وقت نازل ہوئی جب آپ ہجرت کا سفر فرما رہے تھے اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے ۔ کیونکہ اپنا ملک ہمیشہ کے لئے چھوڑنا ایک مشکل کام ہے اور اس میں تسلی دی گئی کہ بظاہر تو یہ لوگ بڑے جبار نظر آتے ہیں ، دعوت اسلامی کی راہ روکے ہوئے ہیں ، اہل ایمان پر تشدد کرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے ان کو اپنے گھروں سے نکل جانے پر مجبور کردیا ہے اور وہ دولت ایماں لے کر جا رہے ہیں لیکن دراصل یہ جبار بہت ہی کمزور ہیں۔ ٭٭٭ اب دونوں فریقوں کے درمیان مزید موازنہ کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ مومنین کو جنتیں عطا کرے گا ، جہاں نہریں بہتی ہیں ، اس دنیا میں ان کو نصرت اور عزت بخشے گا ، اور کفار کا کوئی آقا نہیں ہے ، ان کا کوئی ناصر نہیں ہے وہ دنیا میں ہلاک ہوں گے اور آخرت میں خوار ہوں گے ، اور ہمیشہ جہنم میں ہوں گے۔ یہ کیوں ؟ افمن کان علی ۔۔۔۔۔ اھواء ھم (47 : 14) “ بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف وصریح ہدایت پر ہو ، وہ ان لوگوں کی طرح ہوجائے جن کے لئے ان کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو بن گئے ہیں ”۔ یہ ہے وہ فرق دونوں گروہوں کے درمیان ،۔۔۔۔ زندگی اور مقصد زندگی دونوں میں فرق ہے۔ جو اہل ایمان ہیں وہ : علی بینۃ من ربہ (47 : 14) “ اپنے رب کی طرف سے صاف ہدایت پر ہیں ”۔ وہ حق کو جانتے ہیں اور انہوں نے اسے پہچان لیا ہے۔ وہ حق کے سرچشمے تک پہنچ گئے ہیں اور ان کے پاس جو حق آرہا ہے وہ اس پر جمے ہوئے ہیں۔ وہ کسی دھوکے میں ہیں اور نہ گمراہی میں۔ اور کفار ایک بڑے دھوکے میں پڑے ہیں۔ شیطان نے ان کو لیے ان کے برے اعمال خوشنما بنا دئیے ہیں۔ پھر ان کے اعمال کے بارے میں ان کو کوئی یقین بھی نہیں ہے کہ وہ کہاں سے ہدایات لیتے ہیں۔ واتبعوا اھواءھم (47 : 14) “ وہ اپنی خواہشات کے پیروکار ہیں ”۔ کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ کوئی اصول نہیں ہے جس پر جائز و ناجائز کا تعین ہو ، اور کوئی روشنی ان کے پاس نہیں جس کے ذریعہ وہ حق و باطل کی تمیز کریں۔

محمد 47:15

یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں ؟ ان کے حالات ، طرز زندگی اور سمت سفر سب جدا ہیں۔ اس لیے ممکن نہیں کہ وہ ایک پیمانے کے مطابق ناپے اور تولے جاسکیں۔ اور دونوں کا ایک ہی انجام ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے درمیان فرق و امتیاز ہے۔ دونوں کا انجام بھی مختلف ہے۔ مثل الجنۃ التی ۔۔۔۔۔ حمیماً فقطع امعاء ھم (47 : 15) “ پرہیز گار لوگوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ، نتھرے ہوئے پانی کی ، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہوگا ، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہوگی ، نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی۔ اس میں ان کے لئے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے بخشش۔ (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے ) ان لوگوں کی طرح ہوسکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا ؟ ”۔ جنت کی خوشیوں اور جہنم کے عذاب کی یہ نہایت ہی محسوس تصویر اور منظر قرآن کریم میں بار بار آتا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ کبھی معنوی اور مجرد خالص خوشیوں کا ذکر بھی آتا ہے۔ کئی جگہ اس قسم کی خوشیوں کا ذکر بھی ہے جن کے اندر حسبات کا حصہ کم ہے ۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ وہ انسان کو خوب جانتا ہے۔ “ من خوب می ثناسم پیران پارسارا ”۔ اللہ کو معلوم ہے اور سب سے زیادہ معلوم ہے کہ انسان کے دلوں پر زیادہ اثر کس چیز کا ہوتا ہے ۔ ان کی تربیت کس طرح ممکن ہے۔ ان کے لئے کون سی نعمتیں بہتر ہیں اور ان کے لئے کون سی مناسب ہیں۔ پھر انسانوں کے بھی کئی مدارج ہیں ، نفوس انسانی کے بھی کئی رنگ ہیں۔ مختلف مزاج ہیں۔ یہ سب انسان ہیں۔ انسانیت میں برابر ہوتے ہوئے بھی رنگ ، مزاج اور خواہشات میں اختلاف ہے۔ اس لیے اللہ نے اپنے فضل و کرم اور انعامات میں بھی تنوع رکھا ہے۔ اور ہر کسی کو اس کی خواہش کے مطابق دیا ہے اور دے گا۔ وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ انسانوں میں سے ایسے بھی ہیں جن کی اصلاح کے لئے نتھرے ہوئے پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں جن کا ذائقہ بدلا ہوا نہ ہو۔ عسل مصفی کی نہریں ، اور لذیذ شراب کی نہریں مناسب ہیں ، یہی ان کی خواہش ہے۔ پھر یہ لوگ اس قسم کے پھل کو پسند کرتے ہیں ، پھر رب کی مغفرت ، لہٰذا اللہ نے ایسے ہی لوگوں کی تربیت کے لئے ان کی خواہشات کے مطابق یہ انعامات رکھے ہیں۔ اور انہیں کے بارے میں ہے۔ لھم فبھا ما یشاءون “ یہی ان کے لئے مناسب ہیں۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کی بندگی ان انعامات کے شکر کی وجہ سے کرتے ہیں جو لا تعداد ہیں ، بعض ایسے ہیں جو اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اللہ کی بندگی کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں ، یا پھر وہ اس بات سے شرم محسوس کرتے ہیں کہ اللہ ان کو ایسی حالت میں دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ کی بندگی پر جنت کی لالچ نہیں رکھتے۔ اور دوزخ کے ڈر سے نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو انعامات کی پرواہ نہیں ہوتی۔ نہ سزا کا خوف ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی تربیت اور جزاء کے لئے بھی اللہ نے ایک معیار رکھا ہے۔ ان الذین امنوا ۔۔۔۔۔ الرحمن ودا “ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ان کے لئے خدائے رحمٰن محبت پیدا کردے گا ”۔ اور ان کو یہ یقین بھی ہوگا۔ فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر “ یہ سچائی کے مقام پر صاحب اقتدار بادشاہ کے پاس ” کرسی نشین ہوں گے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ اس قدر نماز پڑھتے تھے کہ پاؤں مبارک سوچ جاتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آپ اس قدر عبادت کرتے ہیں حالانکہ آپ کے تو اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دئیے گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا “ عائشہ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ”۔ (مسلم) رابعہ عدویہ فرماتی ہیں ، اگر نہ جنت ہوتی اور نہ آگ ہوتی تو کیا کوئی اللہ کی عبادت نہ کرتا اور کوئی اللہ سے نہ ڈرتا ؟ انہی سے سفیان ثوری نے ان کے ایمان کی حقیقت پوچھی تو انہوں نے جواب دیا “ میں نے اللہ کی بندگی اس کی آگ کی ڈر کی وجہ سے نہیں کی اور نہ اس کی جنت کی لالچ کی وجہ سے کی کہ میں ایک برے مزدور کی طرح بن جاؤں کہ محض لالچ میں کام کروں ”۔ بہرحال انسانوں میں سے بعض کا یہ رنگ ہے اور بعض کا وہ رنگ۔ اور اللہ نے دونوں کے لئے مایشاؤن کے مطابق انعامات رکھے ہوئے ہیں۔ جو ان کے مزاج کے مطابق ہیں۔ اور جن سے ان کی تربیت ہوتی ہے۔ یہ بات نظر آتی ہے کہ قرآن نے مسلمانوں کی جوں جوں تربیت کی ، اس کی ساتھ ساتھ وسائل تربیت بھی زیادہ لطیف ہوتے گئے اور مسلمانوں کے بدلتے ہوئے ذوق کے مطابق تبدیل ہوتے رہے کیونکہ انسان اپنی تاریخ میں انسانیت کے مختلف مدارج پر رہا ہے۔ بہرحال جزاء کی بھی دو قسمیں ہیں۔ یہ نہریں قسما قسم کے پھلوں کے ساتھ اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی کے ساتھ اور دوسری قسم : کمن ھو خالد فی ۔۔۔۔۔ امعاء ھم (47 : 15) “ ان لوگوں کی طرح جو جہنم میں رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا ”۔ عذاب کی یہ صورت نہایت ہی حسی اور سخت ہے۔ یہ صورت اس سورت کی فضا کے ساتھ بہت ہی مناسب ہے۔ یہ اس دنیا میں بھی اس قدر مگن ہے کہ ماسوائے کھانے پینے کے اس کے سامنے کوئی اور اونچا نصب العین نہیں ہے۔ فضا ایسی ہے کہ سامان معیشت بھی حسی ہے۔ اس قوم کا مزاج بھی جانوروں کی طرح حسیات ہی کو دیکھتا ہے۔ اس لیے ان کے لئے سزا بھی ایسی ہی سخت ہے۔ گرم ترین پانی ان کو اس طرح پلایا جائے گا کہ نہ صرف یہ کہ منہ جل جائے گا بلکہ آنتیں تک کٹ جائیں گی اور دنیا میں یہ لوگ تھے بھی جانوروں کی طرح سخت۔ کس طرح یہ لوگ ایمان والوں کی طرح ہو سکتے جو نہایت مہذب ہیں۔ یہاں یہ پہلا مطالعہ ختم ہوتا ہے۔ جو سورت شروع ہوتے ہی ان لوگوں پر ایک تنقیدی حملے کی شکل میں شروع ہوا تھا۔ اور یہ اس طرح جاری رہا جس طرح دو کیمپوں کے درمیان جنگ جاری ہوتی ہے۔ آخر تک یہ کشمکش سخت الفاظ میں ہوتی رہی ہے۔

محمد 47:16

درس نمبر 242 ایک نظر میں یہ سبق منافقین کے بارے میں ہے ، اس میں بتایا گیا ہے کہ ان کا موقف رسول اللہ ﷺ کی ذات کے بارے میں کیا تھا ؟ قرآن کے بارے میں کیا تھا ؟ پھر مسلمانوں پر جہاد فرض ہوگیا تھا۔ اس کے بارے میں وہ کیا سوچتے تھے ؟ یاد رہے کہ یہ جہاد صرف اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لئے تھا ؟ پھر یہ کہ مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے مخالف اسلام یہودی قبائل کے ساتھ ان کے خفیہ تعلقات ان مقاصد کے لئے تھے۔ یہ کہ ان خفیہ سازشوں کی وجہ سے یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے۔ تحریک نفاق مدینہ کی پیدا وار ہے۔ مکہ میں اس کا وجود ہی نہ تھا کیونکہ مکہ میں ایسے حالات ہی نہ تھے جن میں کسی کو منافق بننے کی ضرورت پیش آتی مکہ میں مسلمان دبے ہوئے تھے۔ لہٰذا کسی کو منافق بننے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ جب اللہ نے مدینہ میں اوس اور خزرج کے ذریعہ اسلام کو عزت بخشی اور مدینہ کے اکثر خاندانوں میں اسلام پھیل گیا۔ اکثر لوگ مسلمان ہوگئے تو بعض ایسے لوگ بھی دیکھا دیکھی مسلمان ہوگئے جو حضرت محمد ﷺ کو پسند نہ کرتے تھے کہ آپ اور اسلام یہاں قوت پکڑیں۔ یہ لوگ مسلمان تو ہوگئے لیکن ان کے دل اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی دشمنی سے بھرے ہوئے تھے۔ اور وہ اس آرزو میں بیٹھ گئے تھے کہ حالات گردش میں آئیں اور اس نئی قوت پر ضرب لگائی جائے۔ ان کا سربراہ عبد اللہ ابی بن سلول تھا۔ یہ مشہور زمانہ منافق تھا۔ مدنی دور کے آغاز میں یہودی مدینہ میں ایک زبردست فوجی ، اقتصادی اور تنظیمی قوت رکھتے تھے۔ یہ لوگ بھی حضرت محمد ﷺ کے غلبے کو پسند نہ کرتے تھے۔ نہ آپ کے دین اور آپ کے متبعین کو پسند کرتے تھے۔ یہودیوں کا یہاں اس پوزیشن میں موجود ہونا بھی منافقین کے لئے ایک سہارا تھا۔ اور اس مشترکہ دشمنی نے ان کو جلد ہی ایک دوسرے بنا دیا۔ لہٰذا یہ دونوں قوتیں ہر موقعہ پر مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیار کرتیں۔ اگر مسلمانوں پر مشکل حالات ہوتے تو یہ اپنی منافقت اور بغض و عداوت کا اظہار کردیتے۔ اور اگر مسلمان اچھی حالت میں ہوتے تو یہ خفیہ اور اندھیروں میں ان کے خلاف سازشوں کا تانا بانا تیار کرتے۔ مدینہ کے دس سال عہد حکومت میں پانچ سالوں تک یہ اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ بنے رہے۔ مدینہ میں جس قدر سورتیں نازل ہوئی ہیں ان میں تواتر کے ساتھ منافقین کی سازشوں ، عداوتوں اور ان کے نفاق کا ذکر ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ یہ لوگ یہودیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اور ان سے ہدایات لیتے ہیں اور بعض سازشوں میں شریک ہیں۔ یہ سبق ان میں سے ایک ہے جس میں یہودیوں اور منافقین کے اشتراک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ منھم (ان میں سے) کا اشارہ کافروں کی طرف بھی ہو سکتا ہے کیونکہ درس سابق میں کافروں سے بحث تھی اور درحقیقت منافقین بھی کافر ہی تھے۔ اگرچہ چھپے ہوئے کافر تھے۔ اللہ نے یہاں ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کو کافروں میں شمار کیا ہے کہ ان کافروں میں سے بعض منافقین ہیں۔ اور یہ اشارہ مسلمانوں کی طرف بھی ہو سکتا ہے یعنی مسلمانوں میں سے بعض منافقین ہیں۔ کیونکہ منافقین باقاعدہ نماز بھی پڑھتے تھے اور اسلام بظاہر ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے ساتھ معاملہ کرتا تھا ۔ لیکن دونوں صورتوں میں یہ منافق ہی تھے۔ آیت میں ان کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ ان میں تھیں اور یہ پورا سبق ان کے بارے میں ہے۔ یہ لوگ مجلس میں ہوں بیٹھے ہوئے کہ گویا ہمہ تن گوش ہیں اور اچھی طرح بات سن رہے ہیں لیکن در حقیقت یہ سن نہیں رہے ہوتے تھے۔ بلکہ “ برزبان تسبیح و در دل گا ؤخر ” کا مصداق ہوتے اور اگر سنتے بھی تو ان کے دل کو بات لگتی ہی نہ تھی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اہل علم سے طنزاً پوچھتے ہوں کہ بتائیے جناب ابھی کیا کہا صاحب نے۔ یعنی ہمارے پلے تو کوئی بات پڑی نہیں ہے۔ اس سے ان کی مراد یہ اشارہ بھی تھا کہ ہم تو ان باتوں کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں کرتے لیکن اہل علم حضرت کی باتوں کا ایک ایک لفظ یاد کرتے ہیں۔ الفاظ بھی اور معانی بھی ۔ صحابی کرام کا طریقہ بھی یہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کے الفاظ اور معانی دونوں کو یاد کرتے تھے۔ اور یہ لوگ یعنی منافقین ان الفاظ اور معانی کو بطور مزاح دہراتے تھے۔ ان سب باتوں سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ نہایت بدفطرت ، اسلام کے معاند ، اندھے اور اسلام کے ترقی پذیر حالات میں جل بھن گئے تھے۔ اولئک الذین ۔۔۔۔۔ اھوائھم (47 : 16) “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ”۔ یہ تو تھا منافقین کا حال ۔ رہا اہل ہدایت کا حال تو وہ اس کے برعکس تھا۔

محمد 47:17

والذین اھتدوا زادھم ھدی واتھم تقوھم (47 : 17) “ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ہے ، اللہ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور انہیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا فرماتا ہے ”۔ اس آیت میں واقعات کی جو ترتیب ہے ، وہ قابل توجہ ہے ۔ جو ہدایت پر ہیں وہ خود ہدایت کی راہ لیتے ہیں تو اللہ ان کو مزید ہدایت کی توفیق دیتا ہے اور ان کو ہدایت میں مزید گہرائی بخشتا ہے۔ واتھم تقوھم (47 : 17) “ اور انہیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا کرتا ہے ”۔ تقویٰ ایک قلبی حالت کا نام ہے جس کے نتیجے میں انسان ہر وقت اللہ سے ڈرتا رہتا ہے۔ اس کو شعور ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے۔ اللہ کے غضب سے انسان ڈرتا ہے۔ اللہ کی رضا کا متلاشی ہوتا ہے۔ اور اس بات سے وہ اپنے آپ کو بچاتا ہے کہ اللہ اسے بری حالت میں دیکھے۔ یہ تیز احساس ہی تقویٰ ہے۔ یہ اللہ اس شخص کو عطا کرتا ہے جس سے اللہ راضی ہو اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان راہ ہدایت لینے میں رغبت رکھتا ہے۔ تو اللہ مزید ہدایت دے کر اسے تقویٰ کا مقام دیتا ہے غرض ہدایت کی خواہش ، پھر اللہ کی طرف سے مزید ہدایت اور پھر اللہ کا تقویٰ اور ڈر وہ مدارج ہیں جو نفاق ، غفلت اور خواہشات نفس کی پیروی کے بالمقابل ہیں۔

محمد 47:18

اب بات ان لوگوں کی طرف آتی ہے جو منافق ہیں ، اندھے ہیں ، غافل ہیں ، جو مجلس رسول سے ایسی حالت میں نکلتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے سنا اس سے کوئی نفع نہیں اٹھایا۔ ہدایت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ان کے دلوں کے اندر خدا کا کوئی خوف پیدا نہ ہوا۔ چناچہ یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ حساب و کتاب کا دن بہت ہی جلدی آنے والا ہے۔ فھل ینظرون الا الساعۃ ۔۔۔۔۔ ذکرھم (47 : 18) “ اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے ؟ اس کی علامات تو آچکی ہیں۔ جب وہ خود آجائے گی تو ان کے لئے نصیحت قبول کرنے کا کون سا موقع باقی رہ جائے گا ؟” ان آیات میں منافقین کو ایک زبردست جھٹکے کے ساتھ جگایا جاتا ہے اور گریبان سے پکڑ کر ان کو اس طرح جھنجھوڑا جاتا ہے جس طرح کسی نشے میں دھت شخص کو کھینچا جاتا ہے ۔ یعنی یہ غافل لوگ جو رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں جاتے ہیں اور وہاں سے کچھ ہدایت لیے بغیر ، کچھ یاد کئے بغیر ، کچھ نصیحت پکڑے بغیر ، کورے کے کورے واپس ہوئے۔ یہ بدبخت اب کس چیز کا انتظام کرتے ہیں۔ فھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ (47 : 18) “ کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ اچانک آجائے ”۔ اور ان کے حالات یہ ہوں کہ یہ غفلت اور لاپرواہی میں ، اور فسق و فجور میں غرق ہوں۔ اگر یہ لوگ قیامت ہی چاہتے ہیں تو : فقد جاء اشراطھا (47 : 18) “ اس کی علامات تو آچکی ہیں ”۔ یہ آخری رسالت قیامت کی بڑی نشانی ہے۔ یہ رسالت دراصل اعلان ہے کہ اب قیامت جلد ہی آنے والی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : بعثت انا والساعۃ ۔۔۔۔ “ میں اور قیامت ان دو کی طرح مبعوث ہوئے ہیں ”۔ آپ نے اپنی دو انگلیوں سبابہ اور درمیان انگلی کو جوڑ کر اشارہ فرمایا (متفق علیہ) ۔ حضور اکرم ﷺ سے ادھر اگر زمانہ لوگوں کو زیادہ طویل ہوتا ہوا نظر آتا ہے تو اللہ کے ایام ہمارے ایام کے مقابلے میں بہت ہی طویل ہوتے ہیں۔ اللہ کے حساب میں قیامت کی نشانی آگئی ہے۔ اور بڑی نشانی یہ آخری رسالت ہے۔ اور یہ کسی عقلمند شخص کی روش نہیں ہو سکتی کہ مصیبت آئے اور وہ سویا ہوا ہو۔ اور وہ پھر بچاؤ کی کوئی تدبیر نہ کرسکے۔ فانی لھم اذا جاءتھم ذکرھم (47 : 18) “ جب وہ آجائے گی تو ان کے لئے نصیحت قبول کرنے کا کون سا موقعہ باقی رہ جائے گا ”۔ یہ نہایت ہی قوت سے جھنجھوڑنے کے متراد ہے کہ جاگو ، خطرہ سر پر ہے اور سختی کے ساتھ گریبان سے پکڑ کر ہلانا ، اس سورت کے سخت انداز کے بھی مناسب ہے۔

محمد 47:19

اب روئے سخن حضور اکرم ﷺ اور آپ کے ہدایت یافتہ ، متقی اور متلاشیان ہدایت ساتھیوں کی طرف پھرجاتا ہے کہ وہ ہدایت کے لئے ایک دوسری راہ بھی اپنائیں۔ علم ومعرفت ، توبہ و استغفار ، اللہ کا خوف اور خشیت اختیار کریں اور آخری وقت کا انتظار کریں۔ اللہ تمہاری دنیا و آخرت کے انجام اچھی طرح واقف ہے۔ فاعلم انہ لا الہ ۔۔۔۔۔ ومثوکم (47 : 19) “ پس اے نبی ﷺ خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لئے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لئے بھی۔ اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سبے بھی واقف ہے ”۔ یہاں آپ کو اور مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تمہاری ملت جس نظریہ پر قائم ہے اس کو سمجھو وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ، معبود اور حاکم نہیں ہے۔ فاعلم انہ لا الہ الا اللہ (47 : 19) “ پس اے نبی ﷺ خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی اور عبادت کے مستحق نہیں ”۔ اس حقیقت کو ذہن میں تازہ کرتے ہوئے پھر دوسری ہدایات یہ ہیں۔ واستغفر لذنبک (47 : 19) “ اپنے قصور کے لئے معافی مانگو ”۔ حالانکہ حضور ﷺ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف تھے ؟ لیکن ایک باشعور ، متقی اور حساس بندے کی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت اپنی مساعی کو کمزور سمجھتا ہے۔ اگرچہ وہ اطاعت الٰہی میں بہت جدو جہد کرتا ہو۔ حضور ﷺ جانتے تھے کہ استغفار اور ذکر ، شکر ہے اور اللہ کی مغفرت کا مزید شکر ہے۔ اور پھر آپ کے منصب و مقام پر بعد میں جو لوگ آنے والے تھے ، ان کے لئے یہ ہدایت ہے اور عام مسلمانوں کے لئے یہ رہنمائی ہے کہ جب حبیب خدا کو یہ ہدایت ہے کہ مغفرت طلب کرو ، جبکہ وہ بخش دئیے گئے ہیں تو دوسروں کو تو ہر وقت استغفار کرنا چاہئے۔ نیز حضور ﷺ اپنے لیے اور مومنین و مومنات کے لئے استغفار کرتے تھے۔ اس لیے مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول کا شعور تازہ رہنا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی وجہ سے ان پر اللہ کی رحمت ہو رہی ہے۔ اور حضور اکرم ﷺ مومنین اور مومنات کے لئے مغفرت طلب کر رہے ہیں۔ پھر ان ہدایات کے سلسلے کی آخری بات۔ واللہ یعلم متقلبکم ومثوکم (47 : 19) “ اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے ”۔ اس سے دل مومن کو اطمینان بھی نصیب ہوتا ہے اور اس کے دل میں یہ تصور بھی پیدا ہوتا ہے کہ اللہ ہماری چلت پھرت سے بھی واقف ہے اور انجام سے بھی واقف۔ اطمینان یہ کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے اور خوف یہ کہ اللہ ہر حالت میں ہم کو جانتا ہے ، اس سے چھپ کر ہم کوئی نافرمانی نہیں کرسکتے۔ یہ ہے اسلامی تربیت کہ اللہ کے بارے میں تیز احساس رکھو ، ہر وقت اس سے ڈرتے رہو اور ہر وقت انتظار میں رہو کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے۔

محمد 47:20

اب روئے سخن ایک نہایت ہی حساس موقف کی طرف آتا ہے۔ اس وقت تک پالیسی یہ تھی کہ جہاد و قتال سے رکو لیکن اب اللہ نے جہاد کا حکم دے دیا۔ یہ منافقین پر ایک ضرب تھی۔ وہ سخت دہشت زدہ ہوگئے کیونکہ اب تو ان کے لئے چھپ کر رہنا مشکل ہوگیا تھا۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ اب اگر وہ نفاق پر رہے اور اخلاص کے ساتھ اسلام قبول نہ کیا تو ان کا اندرون ظاہر ہوجائے گا ۔ کیونکہ جب جہاد کا فیصلہ ہوگا تو جنگ میں جانا ہوگا یا پیچھے رہنا ہوگا۔ ویقول الذین امنوا لو لا ۔۔۔۔۔۔ فاولی لھم (20) طاعۃ وقول معروف ۔۔۔۔۔۔ خیرا لھم (21) فھل عسیتم ۔۔۔۔۔ ارحامکم (22) اولئک الذین لعنھم ۔۔۔۔۔ ابصارھم (23) افلا یتدبرون ۔۔۔۔۔۔ اقفالھا (24) ( 47 : 20 – 24) “ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی جاتی (جس میں جنگ کا حکم دیا جائے) مگر جب ایک پختہ سورت نازل کردی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو۔ ان کے لئے بہتر یہ ہے کہ اطاعت کریں اور صحیح باتیں کریں۔ مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سچے نکلتے تو انہی کے لئے اچھا تھا۔ اب کیا تم لوگوں سے اس کے سوا کچھ اور توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھرگئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے ؟ یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرہ بنا دیا۔ کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا ، یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ؟ ” اہل ایمان ، کسی نئی سورت کے نزول کا مطالبہ کرتے تھے ، یا تو اس لئے کہ ان کے دلوں میں ہر وقت یہ شوق رہتا تھا کہ وہ نئی نئی ہدایات لیتے رہیں۔ کیونکہ ان کو قرآن سے بےحد محبت تھی۔ وہ ہر نئی سورت میں علم و انس کا ایک نیا سامان اپنے لیے پاتے تھے۔ اور اس سے سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ نئے حالات میں مسلمان جہاد فی سبیل اللہ کی ہدایات اور اجازت چاہتے تھے کہ اسلام کے لئے لڑ مرنے کی ہدایات ان کو دی جائیں۔ لو لا نزلت سورة (47 : 20) “ کوئی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی ”۔ فاذا انزلت سورة محکمۃ (47 : 20) “ جس میں جنگ کا ذکر کیا گیا ”۔ جس میں پھر کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں تھی اور جو لوگ قتال سے پیچھے رہتے ہیں ، یا جہاد کاموں میں پیچھے رہتے ہیں ، ان کی مذمت بھی کردی گئی تو بیمار دلوں والے لوگ یعنی منافقین کی حالت غیر ہونے لگی اور وہ پردے کرنے لگے جن کے پیچھے چھپ کر یہ سازشیں کرتے تھے۔ ان کی جزع و فزع ، شور وفغاں اور سہمے اور ڈرے ہوئے ہونا یہاں تک کہ مارے خوف کے ان پر غشی کا طاری ہونا قابل دید تھا۔ قرآن کریم نے یہاں ان لوگوں کی تصویر یوں کھینچی ہے کہ گویا وہ ہیں سامنے اسکرین پر ۔ رایت الذین فی ۔۔۔۔۔۔ من الموت (47 : 20) “ تو تم نے دیکھا کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو ”۔ یہ اس قدر خوبصورت انداز تعبیر ہے کہ انسان اس کی نقل نہیں اتار سکتا۔ نہ کسی اور عبارت میں نہ کسی اور زبان میں اس طرز تعبیر کو اپنا سکتا ہے۔ خوف و ہراس کی یہ ایسی تصویر ہے کہ کپکی اور خوف سے بھی آگ بڑھ کر ان لوگوں پر گویا غشی کی حالت طاری ہو رہی ہے ۔ اور خیال میں ان لوگوں کی پھر عجیب و غریب حرکات سامنے آتی ہیں۔ اور وہ تمام نفوس و شخصیات کی تصاویر ذہن میں آجاتی ہیں جن کو پختہ ایمان نصیب نہ ہو ، جس کی فطرت سچی نہ ہو اور جن کے اندر اس قدر جذبہ جہاد نہ ہو جس کی وجہ سے وہ خطرے کا مقابلہ کرسکیں۔ یہ لوگ مریض اور منافق ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس قدر ذلت ، گراوٹ اور شخصیت کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں کہ دوبارہ ان کو ایمان کی دعوت از سر نو دی جاتی کہ ایمان ہی حقیقی زاد راہ سے جس سے ارادے جواں ہوتے ہیں اور جس سے پاؤں مضبوط ہوتے ہیں۔ فاولی لھم (47 : 20) طاعۃ وقول ۔۔۔۔۔ خیرا لھم (47 : 21) “ ان کے لئے بہت یہ ہے کہ اطاعت کریں اور صحیح باتیں کریں۔ مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سچے نکلتے تو انہی کے لئے اچھا تھا ”۔ ہاں جس شرمندگی میں وہ مبتلا ہیں اس کے مقابلے میں ان کے لئے یہی اچھا تھا۔ وہ حیران ہیں کہ کیا کریں۔ پریشان ہیں کہ کیا ہوگا۔ اب ان کا نفاق تو چھپ نہ سکے گا۔ ان کے لئے بہتر پالیسی اب یہ ہے ۔

محمد 47:21

طاعۃ وقول معروف (47 : 21) “ وہ اطاعت کریں اور سیدھا رویہ اختیار کر کے بات کریں ”۔ اللہ کے احکام کو اب نفاق کے بجائے دل سے قبول کرلیں۔ اور اللہ پر یقین کر کے اس کے احکام کو مان لیں ۔ اور اس قسم کی باتیں کریں جو بچی ہوں اور سچے دل سے ہوں۔ اور پختہ ضمیر کے مطابق ہوں اور یہ ان کے لئے اب نئے حالات میں زیادہ مفید ہوگا جبکہ اب احکام قطعی ہوگئے ہیں۔ اب تو انہوں نے یا جہاد میں جانا ہے یا پیچھے رہنا ہے۔ لہٰذا عزیمت اور شعور کے ساتھ جہاد کرو۔ اس طرح ان کے دل مضبوط ہوں گے ، ان کا عزم پختہ ہوجائے گا۔ قدم مضبوط ہوں گے ، جہاد ان کو مشقت اور بیگار نہ نظر آئے گا۔ اور جنگ ان کے لئے ایک ایسی بلائے نا گہانی نہ ہوگی جس نے منہ کھولا ہوا ہے۔ جنگ میں گئے کہ اس بلا کے منہ میں پڑے نہیں۔ اگر سچے دل سے جہاد کریں گے تو دو بھلائیوں میں ایک بھلائی تو بہرحال ملے گی۔ یا تو خطرے سے نجات اور فتح ملے گی اور یا شہادت اور جنت ملے گی۔ اور یہ دوسری صورت زیادہ بہتر ہوگی ۔ یہ ہے وہ زاد راہ یعنی حقیقی ایمان جس کے نتیجے میں عزائم جوان اور پاؤں مضبوط اور جزع و فزع مفقود ہوجاتے ہیں اور انسان کو اطمینان اور قرار ثبات ملتا ہے۔ اب ان کو نہایت سختی سے جہاد سے پیچھے رہنے کا انجام بتا یا جاتا ہے کہ اگر انہوں نے اسلام سے منہ موڑ لیا تو انہیں معلوم ہے کہ اسلام سے قبل ان کی حالت کی تھی ۔ تم نے نفاق کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اس میں کتنے فائدے ہیں ؟

محمد 47:22

فھل عسیتم ۔۔۔۔۔ ارحامکم (47 : 22) “ اب کیا تم لوگوں سے اس کے سوا اور کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ تم الٹے منہ پھرو گے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے ”۔ یعنی تم سے تو یہی توقع ہے۔ ذرا سابقہ حالات کی روشنی میں دیکھو کہ اگر اسلام سے منہ موڑو گے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ کر ایک دوسرے کے اور اپنے ہی بھائیوں کے گلے کاٹو گے جس طرح اسلام سے قبل تھے۔ اسلام سے روگردانی سے ڈرانے کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی حقیقی صورت حال کیا ہے ، اگر یہ اپنی موجودہ پوزیشن پر ہی ڈٹے رہے جس طرح کہ نظر آتا ہے۔

محمد 47:23

اولئک الذین ۔۔۔۔ ابصارھم (47 : 23) افلا یتدبرون ۔۔۔۔۔ اقفالھا (47 : 24) “ یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرہ بنا دیا۔ کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا ، یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ؟ ” یہ لوگ نفاق کی بیماری میں بدستور مبتلا ہیں۔ درحقیقت وہ اس دعوت سے حقیقتاً منہ موڑ رہے ہیں جس میں وہ بظاہر داخل ہوچکے ہیں اور اس پر ان کا یقین بھی نہیں ہے۔ اس لئے۔ فاصمھم واعمی ابصارھم (47 : 23) “ اللہ نے ان کو بہرا اور اندھا بنا دیا ہے ”۔ ان کی قوت سماعت تو موجود ہے اور قوت باصرہ بھی موجود ہے لیکن انہوں نے کانوں اور آنکھوں کو معطل کردیا ہے یا سمع و بصر کے نتیجے میں جو ادراک حاصل ہوتا ہے اس کو معطل کردیا ہے۔ گویا ان کے یہ حواس اپنا فریضہ منصبی ادا نہیں کررہے۔

محمد 47:24

قرآن نہایت ہی سرزنش کے انداز میں پوچھتا ہے۔ افلا یتدبرون القران (48 : 24) “ کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے ”۔ یوں کہ ان کی آنکھوں کے پردے زائل ہوجائیں کان سننے لگیں اور ان تک قرآن کے نور کی رسائی ہو ، ان کے پردۂ شعور پر ارتعاش ہو ، ان کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا ہو ، ۔۔۔ ۔ کا ضمیر مخلص ہوجائے اور ان کے اندر ایک ایسی زندگی آجائے جو قرآن کے نور سے منور ہو ، اور وہ اس سے ہدایت اخذ کریں۔ ام علی قلوب اقفالھا (47 : 24) “ یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ”۔ یہ قفل ان کے دلوں تک قرآن کے نور کو جانے نہیں دیتے۔ ان کے دل اس طرح بند ہیں جس طرح دروازے بند ہونے کی صورت میں انسان ، ہوا یا کوئی چیز اندر نہیں جاسکتی اور نہ روشنی جاسکتی ہے۔ منافقین کے حالات ابھی جاری ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد ان کے منہ موڑنے کے اسباب کیا ہیں ؟ ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ یہودی سازش میں شریک ہوگئے ہیں اور انہوں نے ان کو ساتھ وعدہ کرلیا ہے کہ وہ جو سازش تیار کریں گے یہ ان کی اطاعت کریں گے۔

محمد 47:25

قرآن نہایت ہی سرزنش کے انداز میں پوچھتا ہے۔ افلا یتدبرون القران (48 : 24) “ کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے ”۔ یوں کہ ان کی آنکھوں کے پردے زائل ہوجائیں کان سننے لگیں اور ان تک قرآن کے نور کی رسائی ہو ، ان کے پردۂ شعور پر ارتعاش ہو ، ان کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا ہو ، ۔۔۔ ۔ کا ضمیر مخلص ہوجائے اور ان کے اندر ایک ایسی زندگی آجائے جو قرآن کے نور سے منور ہو ، اور وہ اس سے ہدایت اخذ کریں۔ ام علی قلوب اقفالھا (47 : 24) “ یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ”۔ یہ قفل ان کے دلوں تک قرآن کے نور کو جانے نہیں دیتے۔ ان کے دل اس طرح بند ہیں جس طرح دروازے بند ہونے کی صورت میں انسان ، ہوا یا کوئی چیز اندر نہیں جاسکتی اور نہ روشنی جاسکتی ہے۔ منافقین کے حالات ابھی جاری ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد ان کے منہ موڑنے کے اسباب کیا ہیں ؟ ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ یہودی سازش میں شریک ہوگئے ہیں اور انہوں نے ان کو ساتھ وعدہ کرلیا ہے کہ وہ جو سازش تیار کریں گے یہ ان کی اطاعت کریں گے۔

محمد 47:26

قرآن کریم نے ایمان لانے اور ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد ان کی جانب سے ایمان کو ترک کرنے کے عمل کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کیا ہے۔ یعنی واپسی اور الٹے پاؤں پھرنے کا عمل ، اور اس کے اسباب یہ بتائے ہیں کہ شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کی اور ان کے لئے اس برے کام کو خوبصورت بنا دیا یعنی ظاہری حرکت کہ ایک شخص الٹے پاؤں پھر رہا ہے اور معنوی حرکت اس انداز تعبیر میں دونوں نظر آتی ہیں جبکہ یہ منافق اپنی جانب سے اپنے ان اعمال کو اچھی طرح چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شیطان ان پر کس طرح مسلط ہوگیا اور کس طرح وہ ان کو مرتد بنانے میں کامیاب ہوگیا حالانکہ آغاز میں یہ لوگ ایمان لا چکے تھے ، تو وجہ یہ تھی : ذلک بانھم ۔۔۔۔۔ بعض الامر (47 : 26) “ اسی لیے انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے ” ۔ مدینہ میں یہودی تھے اور وہ نزول قرآن کے پہلے مخالف تھے کیونکہ ان کو توقع تھی کہ آخری رسول بھی یہودی ہوگا۔ رسالت کا خاتمہ ان پر ہوگا۔ یہ لوگ کافروں پر مکمل فتح کی توقع اس رسول کے دور میں کرتے تھے اور کافروں کو اس امر سے ڈراتے بھی تھے کہ جب نبی آخر الزمان آئے گا تو وہ پوری دنیا پر غالب ہوگا۔ اور پوری دنیا مین ان کو غلبہ حاصل ہوگا۔ اور پھر یہودیوں کی مملکت قائم ہوگی۔ لیکن اللہ نے آخری رسول ابراہیم (علیہ السلام) کی اس نسل سے بھیجا جو یہودی نہ تھی اور حضور اکرم ﷺ جب مدینہ ہجرت کر کے آئے تو انہوں نے اس ہجرت کو بھی پسند نہ کیا کیونکہ اس کی وجہ سے ان کا رہا سہا اثر رسوخ بھی ختم ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اول روز سے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے خلاف جمع ہوگئے تھے اور آپ ﷺ کے خلاف خفیہ سازشوں کی جنگ شروع کردی تھی۔ کیونکہ بظاہر وہ میدان جنگ میں تو حضور اکرم ﷺ کے خلاف نہ جنگ کرسکتے تھے اور نہ اس کا کوئی جواز تھا۔ اس طرح یہودیوں کے ساتھ ہر وہ شخص شامل ہوگیا جو حضور ﷺ سے دشمنی رکھتا تھا۔ تمام منافقین ان سازشوں میں شریک ہوگئے اور یہ جنگ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان چلتی رہی اور آخر کار حضور اکرم ﷺ نے ان کو جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردیا۔ یہ منافقین جو ہدایت پانے کے بعد منافق ہوگئے تھے انہوں نے یہودیوں کو یہ یقین دہائی کرائی کہ۔ سنطیعکم فی بعض الامر (47 : 26) “ بعض معاملات میں ہم تمہاری اطاعت کریں گے ”۔ اور راجح بات یہ ہے کہ یہ یقین دہانی خفیہ سازشوں کے سلسلے میں تھی جو وہ اسلام اور رسول اللہ کے خلاف تیار کرتے رہتے تھے۔ واللہ یعلم اسرارھم (47 : 26) “ اللہ ان کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے ”۔ یہ نہایت ہی دھمکی آمیز تبصرہ ہے بلکہ دھکمی ہے کہ کریں یہ اپنی سازشیں ، ہم جانتے ہیں ان کا سب کچھ۔ اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور اللہ کی قوت کے مقابلے کی کوئی قوت نہیں۔

محمد 47:27

یہ زندگی مختصر ہے اور آخر کار ہمارا لشکر جب پہنچے گا اور ان سے امانت حیات وصول کرے گا تو : فکیف اذا توفتھم الملئکۃ یضربون وجوھھم وادبارھم (47 : 27) “ پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے ؟ ” یہ نہایت ہی خوفزدہ کرنے والا اور توہین آمیز منظر ہے۔ جب ان کی موت کا قت ہوگا یہ بےبس ہوں گے۔ اس زمین پر سے رخصت ہو رہے ہوں گے اور دوسری حیات کا آغاز ہو رہا ہوگا۔ اور اس نئی زندگی کا آغاز یوں ہو رہا ہے کہ فرشتے ان کے منہ پر بڑی بےدردی سے تھپڑ مار رہے ہیں اور چوتڑوں پر ڈنڈے رسید کر رہے ہیں۔ حالانکہ بذات خود موت کا وقت نہایت ہی درد ناک ہوتا ہے۔ خوف اور کرب کا وقت ہوتا ہے۔ لیکن یہ چونکہ الٹے پاؤں پھرے ہیں اس لیے ان کو چوتڑوں پر سزا مل رہی ہے۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔

محمد 47:28

ذلک بانھم اتبعوا ۔۔۔۔۔۔۔ اعمالھم (47 : 28) “ یہ اسی لیے تو ہوگا کہ انہوں نے اس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور اس کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا۔ اسی بنا پر اس نے ان کے سب اعمال ضائع کر دئیے ”۔ یعنی انہوں نے خود اپنے لیے یہ انجام پسند کیا ہے ۔ انہوں نے خود اس طریقے کو اپنا یا جو اللہ کو ناراض کرنے والا طریقہ ہے۔ یعنی نفاق ، معصیت اور اللہ کے دشمنوں اور اللہ کے دین کے دشمنوں اور اللہ کے رسول کے دشمنوں کے ساتھ مل کر سازشیں کرنا۔ انہوں نے خود اللہ کی رضا مندی کو ناپسند کیا۔ اور اس کے حصول کی کوشش نہ کی بلکہ انہوں نے وہ کام کیا جس سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور غضب میں آتا ہے یوں اللہ نے ان کے تمام اعمال کو (حبط) کردیا۔ جن پر وہ مست تھے اور جن کو وہ ناپسند کرتے تھے اور اپنے ان اعمال کے بارے میں وہ کہتے تھے کہ ہم ان کے بہت ہی ماہرین ہیں۔ یہ مومنین کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور یوں بظاہر ان کی یہ سازشیں غبارے کی طرح پھولی ہوئی ہوتیں اور طوفان کی طرح آتیں لیکن چشم زدن میں ختم ہوجاتیں۔

محمد 47:29

آخر میں کہا جاتا ہے کہ اللہ ستار ہے ، لیکن تم جو کچھ کر رہے ہو کہ اپنے اوپر اسلام کا جھوٹا لبادہ اوڑھے ہوئے ہو ، اس کو اللہ اتار سکتا ہے اس لیے اب بھی باز آجاؤ۔ ام حسب ۔۔۔۔ اللہ اضغانھم (29) ولو نشاء لا ۔۔۔۔۔ یعلم اعمالکم (30) ولنبلونکم حتی ۔۔۔۔۔۔ اخبارکم (31) (47 : 29 تا 31) “ کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے ، یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا ؟” ہم چاہیں تو انہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیں اور ان کے چہروں سے تم ان کو پہچان لو۔ مگر ان کے انداز کلام سے تو تم ان کو جان ہی لوگے۔ اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے۔ ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تا کہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہیں ”۔

محمد 47:30

منافقین کو اپنی فنی مہارت پر پورا اعتماد تھا۔ اور وہ بالعموم اپنی سازشوں کو مسلمانوں سے چھپانے میں کامیاب رہتے تھے۔ قرآن مجید ان کو بتا تا ہے کہ یہ ان کی بہت ہی احمقانہ سوچ ہے۔ آخر خدا ہر چیز کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے تمام بھیدوں کو کھول سکتا ہے۔ اور مسلمانوں کو بتا سکتا ہے کہ تمہارے دلوں میں ان کے خلاف کس قدر بغض بھرا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ولو نشاء لا رینکھم فلعرفتھم بسیمھم (47 : 30) “ ہم چاہیں تو انہوں تم کو آنکھوں دکھا دیں اور ان کے چہروں سے تم ان کو پہچان لو ”۔ اگر ہم چاہیں تو ان کی ایک ایک شخصیت تم کو بتا دیں ، یہاں تک کہ تم ایک ایک کو ان کی علامات سے پہچان لو۔ یہ آیت اس سے پہلے کی ہے جب اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کے نام بھی نبی کریم ﷺ کو بتا دئیے تھے لیکن بہرحال ان کے لہجے ، چالاکی ، پیچ دار باتوں اور آپ کے خطاب سے غلط استدلال کرنے کی عادت کی وجہ سے آپ ان کو جانتے تھے۔ ولتعرفنھم فی لحن القول (47 : 30) “ مگر ان کے انداز کلام سے تو تم جان ہی لوگے ”۔ بات اب صرف اللہ کے علم پر آ کر رکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اعمال کو بھی جانتا ہے اور ان کے محرکات کو بھی جانتا ہے۔ واللہ یعلم اعمالکم (47 : 30) “ اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے ”۔ اس سے کوئی بات مخفی نہیں رہتی۔ اب اللہ اسلامی سوسائٹی کو صاف کرنے لئے آزمائش کا اعلان فرماتا ہے۔ یہ آزمائش پوری امت کی ہوگی۔ اس آزمائش کے نتیجے میں صابر اور مجاہد جدا ہو کر ایک طرف آجائیں گے اور ان کی خبریں عام ہوجائیں گی اور اسلامی صف میں کوئی مشکوک آدمی نہ رہے گا اور منافقین اپنی منافقت نہ چھپا سکیں گے۔ وہ تو بہت ہی ضعیف لوگ ہیں۔

محمد 47:31

ولنبلوا نکم حتی ۔۔۔۔۔۔۔ اخبارکم (47 : 31) “ ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تا کہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں اور تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہے ”۔ اللہ تو تمام نفوس کے خفیہ خزانوں سے بھی واقف ہے۔ اور زیر زمین مع دنیا سے بھی واقف ہے۔ اور انسانوں کی خفیہ اور چھپائی ہوئی باتوں کو بھی جاننے والا ہے۔ اور جو معاملات ہونے والے ہیں ، ان کو اس طرح جانتا ہے جس طرح وہ عملاً ہوچکے ہوں۔ اب اللہ مزید مجاہدین اور صابرین کو کس طرح جاننا چاہتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسانوں کے ساتھ اتنا ہی معاملہ کرتا ہے جس قدر ان کی قوت ، ان کی طبیعت اور ان کی استعداد کے مطابق کیا جاسکتا ہے۔ انسان اس طرح نہیں جانتے جس طرح اللہ جانتا ہے۔ لہٰذا یہ علم اور ظہور انسانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ جانیں کہ مجاہدین اور صابرین کون ہیں ؟ اور پھر ان کو اس علم و ظہور سے نفع ہو۔ آزمائش خواہ مشکلات میں ہو یا خوشحالی میں ، نعمتوں میں ہو یا مشقتوں میں ہو ، ہاتھ کھلے کرنے میں ہو یا معیشت کی تنگی میں ہو ، خوشی میں ہو یا غم میں ہو ، اس آزمائش کی وجہ سے نفوس کے اندر کی خفیہ صلاحیتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔ آزمائش کی وجہ سے لوگوں پر صلاحیتوں کا اظہار ہوجاتا ہے۔ یہاں اللہ کے علم سے مراد وہ ظہور ہے جو لوگوں کو ابتلا میں ڈالنے سے ہوجاتا ہے۔ اور لوگوں کی صلاحتیں ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔ (اللہ کے لئے یہ کوئی نیا علم نہیں ہوتا ، لوگوں کے لئے نیا ہوتا ہے) اور اسے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ ابتلا کے بعد لوگوں کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آجاتی ہیں ۔ (اللہ کے لئے یہ کوئی نیا علم نہیں ہوتا ، لوگوں کے لئے نیا ہوتا ہے ) اور اسے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ ابتلا کے بعد لوگوں کی قابلیت کا معلوم ہوجانا ، جسے لوگ سمجھ سکیں ، لوگوں کے شعور اور ان کی شخصیت پر اس کا اثر ہوتا ہے اور یوں اللہ کی حکمت اپنا کام کرتی ہے۔ لیکن اللہ کا حکم یہی ہے کہ انسان آزمائش طلب نہ کرے اور یہ دعا کرے کہ اللہ اپنی آزمائشوں سے بچائے اور عافیت اور رحمت میں رکھے۔ لیکن اگر آزمائش آجائے تو صبر کرے اور اس کو معلوم ہو کہ اس میں اللہ کی حکمت کام کر رہی ہے اور انسان اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی مشیت کے حوالے کر دے اور اللہ پر بھروسہ کرے کہ آزمائش کے بعد اللہ کی رحمت اور عافیت نصیب ہوگی۔ ایک بڑے عابد اور صوفی حضرت فضیل (رح) سے روایت ہے کہ جب ان پر یہ آیت پڑھی جاتی تھی تو وہ روتے تھے اور یہ دعا کرتے تھے۔ الھم لا تبلنا فانک ان بلوتنا فضحتنا وھنکت استارنا وعذبتنا “ اے اللہ ، ہمیں آزمائش میں نہ ڈال ، اگر تو نے ہمیں آزمائش میں ڈالا تو ہمیں شرمندہ کر دے گا ، ہماری پردہ دری کر دے گا اور ہمیں عذاب میں مبتلا کر دے گا ”۔

محمد 47:32

درس نمبر 243 ایک نظر میں یہ سبق اس سورت کا آخری سبق ہے۔ اس کا آغاز ہوتا ہے اس آیت سے : ان الذین کفروا وصدوا ۔۔۔۔۔۔۔ لھم الھدی (47 : 32) “ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا جبکہ ان پر راہ راست واضح ہوچکی تھی۔۔۔۔ ” یہ کون لوگ ہیں ؟ زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے متعلق اس سورت کے آغاز میں بھی اسی انداز سے بات کی گئی تھی یعنی مشرکین مکہ ، کیونکہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے دعوت اسلامی کے مقابلے میں متکبرانہ رویہ اختیار کیا ، رسول اللہ ﷺ سے جھگڑتے ہوئے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے آخر تک روکتے رہے۔ البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد عام کفار ہوں اور اس عتاب میں ہر وہ شخص آتا ہے جو کافر ہے اور یہ رویہ اپنائے ہوئے ہے ، خواہ وہ مشرک ہے ، یہودی ہے یا منافق ۔ ظاہراً یہ کام کر رہا ہے یا خفیہ کر رہا ہے ۔ سب کو یہ دھمکی دی گئی ہے کہ تم کچھ بھی نہ کرسکو گے لیکن پہلا مفہوم زیادہ مناسب ہے۔ بہرحال اس دوسرے اور آخری سبق میں باقی باتوں کے مخاطب مسلمان ہیں۔ ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کو جاری رکھیں۔ اور اس میں کوئی دیر نہ کریں اور یہ تجویز بھی نہ دیں کہ کفار کے ساتھ امن و سالمیت کا رویہ مزید اختیار کیا جائے۔ کیونکہ کفر نے ظلم کی انتہا کردی ہے۔ اور یہ مصالحت کسی بھی مصلحت کے پیش نظر نہیں ہونی چاہئے۔ کسی کمزوری کی وجہ سے ، کسی رشتہ داری کی وجہ سے ، کسی مفاد کی وجہ سے ، کسی مالی تاوان کے ڈر کی وجہ سے ۔ جہاں تک مالی تاوان کا تعلق ہے اللہ اسی قدر مال کا مطالبہ فرماتا ہے جس قدر انسان کی استطاعت میں ہو۔ اللہ نے انسان کے فطری بخل کو اس سلسلے میں مدنظر رکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر وہ اس دعوت کی ذمہ داریاں نہ ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال دے گا۔ اور کوئی دوسری جماعت اٹھا دے گا۔ جو یہ ذمہ داریاں بحسن و خوبی ادا کریں گے۔ اور جو اس کی اہمیت کو سمجھیں گے۔ یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھکمی ہے اور اس سورت کے مضامین اور فضا کے ساتھ لگا کھاتی ہے ۔ اور اس وقت مومنین کے صفوں میں جو حالات پائے جاتے تھے ، یہ دھمکی ان کا بہترین علاج بھی تھی۔ کیونکہ اس وقت منافقین کے علاوہ بھی ایسے لوگ تھے جو عافیت پسند تھے جبکہ مسلمانوں کی اکثریت فدائی ، مخلص ، بہادر اور مشہور تھی اس بات میں روایت بھری پڑی ہیں۔ اجازت قتال کے وقت چونکہ ہر قسم کے لوگ موجود تھے اور قرآن کریم ان کی تربیت کر کے ان کو اعلیٰ مراتب تک لے جا رہا تھا اس لیے یہاں یہ انداز تعبیر اختیار کیا گیا۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے ۔ نہایت ہی تاکیدی فیصلہ ۔ اللہ کا وعدہ ہے جو واقع ہونے والا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، اسلام کی راہ روک کر کھڑے ہوگئے۔ سچائی کے راستے میں وہ جم کر بیٹھ گئے کہ لوگوں تک یہ سچ بات پہنچنے نہ پائے۔ اپنی قوت ، اپنا مال اور اپنے تمام وسائل اس میں جھونک دئیے کہ اسلام پھیلنے نہ پائے۔ پھر وہ ہر مقام پر رسول اللہ جھگڑنے لگے۔ آپ کی زندگی میں آپ کی مخالفت کی۔ آپ کے لائے ہوئے نظام زندگی کی مخالفت کی اور آپ کی صفوں کی مخالف صفوں میں کھڑے ہوگئے یا جنہوں نے حضور ﷺ کی وفات کے بعد دین اسلام کی مخالفت کی۔ اسلامی نظام زندگی اور نظام شریعت کی مخالفت کی۔ اور سنت نبوی ﷺ اور دعوت اسلامی پر قائم لوگوں کی مخالفت کی۔ اور یہ انہوں نے اس حال میں کی۔ من بعد ما تبین لھم الھدی (47 : 32) “ جبکہ ان پر راہ راست واضح ہوچکی تھی ”۔ اور ان کو معلوم ہوگیا تھا کہ یہ حق ہے۔ لیکن یہ لوگ ہوائے نفس اور عناد کی وجہ سے اندھے ہوگئے۔ اور مفادات اور مصلحتوں نے ان کو آخرت کے مفاد کے مقابلے میں دنیا کے مفادات کی طرف مائل کردیا۔ اللہ کا تاکیدی فیصلہ ان لوگوں کے بارے میں یہ ہے اور یہ فیصلہ یقیناً نافذ ہونے والا ہے کہ۔ لن یضروا اللہ شیئا (47 : 32) “ درحقیقت یہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتے ”۔ یہ لوگ اس قدر کمزور اور حقیر ہیں کہ یہ اللہ کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہی نہیں ، لہٰذا مقصود اس کی نفی کرنا نہیں ہے۔ مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دین ، اللہ کے نظام شریعت اور اللہ کے داعیوں کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ وہ اللہ قوانین قدرت اور نظام فطرت میں بھی کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ اگرچہ وہ بہت ہی زور آور ہوں۔ اگرچہ وہ ایک وقت تک بعض کمزور مسلمانوں کو ایذا دیتے رہے ہوں۔ انجام ان کا کیا ہوگا ؟ وسیحبط اعمالھم (47 : 32) “ بلکہ اللہ ہی ان کا سب کیا کرایا غارت کر دے گا ”۔ یوں ان کی تمام سازشیں ختم ہو کر رہ جائیں گی اور نیست و نابود ہوں گی ، جس طرح ایک ہٹا کٹا بیل زہریلی گھاس چرنے کے بعد پھول جاتا ہے اور پھر ڈھیر ہوجاتا ہے۔ اس فضا میں جس کے اندر ان لوگوں کو دھمکی دی گئی جنہوں نے کفر کیا ، اسلام کی راہ روکی اور رسول اللہ ﷺ اور دین کے داعیوں کے ساتھ دشمنی کی ، خود مسلمانوں کو بھی متنبہ کیا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں اور اپنے اعمال کافروں کی طرح ضائع نہ کریں۔

محمد 47:33

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ اعمالکم (47 : 33) “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کر لو ”۔ اس سخت ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے اندر بھی ایسے لوگ تھے جو مکمل اطاعت سے گریزاں تھے یا یہ کہ ان پر مکمل اطاعت ذرا بھاری تھی اور بعض قربانیاں ان کو حد سے زیادہ لگ رہی تھیں لیکن اس وقت ایک قوی دشمن کے مقابلے میں یہ ضروری تھیں جس نے اسلام کی راہ روک رکھی تھی۔ اور یہ قوتیں اس وقت ہر طرف سے اسلام پر حملہ آور تھیں۔ اور ان مسلمانوں کے ان قوتوں کے ساتھ تجارتی ، برادری اور رشتہ داری کے تعلقات بھی تھے۔ اور اس وقت ان سب تعلقات کو کاٹ دینا ان کو مشکل معلوم ہوتا تھا۔ جس طرح اسلامی دعوت اور نظریہ کا تقاضا تھا کہ اب یہ تمام تعلقات کٹ جائیں۔ سچے مسلمانوں پر ان ہدایات کا بڑا شدید اثر ہوا تھا ۔ وہ ایک بار تو ان دھمکیوں کے نتیجے میں کانپ اٹھے تھے اور وہ بروقت ڈرتے تھے کہ شاید ان سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہوجائے جس سے ان کے اعمال ہی اکارت جائیں۔ امام احمد ابن نصر المروزی نے کتاب الصلوٰۃ میں روایت کی ہے۔ ابو قدامہ سے ، انہوں نے وکیع سے ، انہوں نے ابو جعفر رازی سے انہوں نے ربیع ابن انس سے ، اور انہوں نے ابو العالیہ سے ، جو کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے رفقاء یہ خیال کرتے تھے کہ لا الٰہ الا اللہ پڑھ لینے کے بعد کوئی گناہ مضر نہیں ہے جبکہ شرک کے ساتھ کوئی عمل مفید نہیں ہے۔ اس پر یہ آیت ناز ہوئی۔ اطیعوا اللہ ۔۔۔۔ اعمالکم (47 : 33) “ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو ”۔ اس کے بعد وہ ڈرنے لگے کہ کوئی گناہ دوسرے اعمال کو برباد نہ کر دے۔ حضرت عبد اللہ بن المبارک سے منقول ہے کہ ، بکر بن معروف نے ، مقاتل ابن حیان سے ، انہوں نے نافع سے ، اور انہوں نے حضرت ابن عمر سے ، روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں : “ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھی یہ خیال کرتے تھے نیکیاں سب کی سب مقبول ہوں گی ، یہاں تک کہ آیت۔ اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ولا تبطلوا اعمالکم (47 : 33) “ اطاعت کرو اللہ کی ، اور اطاعت کرو رسول اللہ ﷺ کی اور اپنے اعمال ضائع نہ کرو ” ۔ نازل ہوئی ، تو ہم نے سوچا کہ وہ کیا چیز ہے جو ہمارے اعمال کو ضائع کر دے گی۔ تو ہم نے کہا کہ کبائر اور موجبات اور فواحش ہوں گے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ ان اللہ لا یغفر ۔۔۔۔۔۔ لمن یشاء “ اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کے سوا کسی کے جو گناہ چاہے ، معاف کر دے ”۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم نے ایسا کہنا چھوڑ دیا تاہم کبائر گناہوں کے ارتکاب کرنے والوں کے انجام سے ڈرتے تھے۔ فواحش کے مرتکبین سے ڈرتے تھے اور جو ان سے بچتا ہو ، اس کے انجام کے بارے میں پر امید تھے۔ ان نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ سچے مسلمان ان نصوص کو کس طرح لیتے تھے۔ وہ کس طرح مضطرب اور چوکنے ہوجاتے تھے۔ وہ کس طرح کانپ اٹھتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے ، وہ کس طرح محتاط رہتے کہ وہ کہیں ان کی زد میں نہ آجائیں۔ وہ کس طرح ہر وقت سوچتے رہتے تھے کہ ان کی زندگی نصوص الٰہی کے مطابق ہو ، اور وہ اس تیز احساس کے ساتھ آیات الٰہیہ کو لیتے تھے ، اس لیے وہ اس انداز کے مسلمان تھے۔

محمد 47:34

اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے دشمنی کرتے ہیں اور آپ کی اطاعت سے دور ہوجاتے ہیں اور ایسے رویے پر اصرار کرتے ہیں اور اس دنیا سے کافر ہو کر مرجاتے ہیں ان کا انجام کیا ہوگا۔ ان الذین کفروا ۔۔۔۔۔ یغفر اللہ لھم (47 : 34) “ کفر کرنے والوں اور راہ خدا سے روکنے والوں اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہنے والوں کو تو اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا ”۔ مغفرت کے لئے اس دنیا میں ہر کسی کو مہلت دے دی گئی ہے۔ اور توبہ کا دروازہ کافروں اور گناہگاروں پر اس وقت تک کھلا ہے جب تک سکرات موت شروع نہیں ہوجائے۔ جب روح حلقوم تک آن پہنچے تو اس وقت خالص آخری لمحات میں تو بہ کا دروازہ بند ہوتا ہے اور اس وقت موقعہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتا ہے۔

محمد 47:35

اس قسم کی آیات جس طرح کافروں اور منافقین کو خطاب کر رہی ہیں۔ اس طرح خود مسلمانوں کو بھی دعوت دے رہی ہیں۔ یہ آیات کا فروں کو متنبہ کرتی ہیں کہ کوتاہیوں کا تدارک کرو ، توبہ کرو قبل اس کے کہ سکرات شروع ہوجائیں اور مسلمانوں کو ان آیات کا خطاب یوں ہے۔ کہ تم ان اسباب اور ان راہوں سے دور رہو جو تمہیں اس انجام تک پہنچا سکتی ہیں۔ اس آیت میں مسلمانوں اور کافروں دونوں کو خطاب یوں ہے کہ اگلی آیت میں دعوت اور جہاد میں سستی کو اس آیت پر مرتب کیا گیا ہے کہ اس انجام سے بچو اور سستی نہ کرو۔ فلا تھنوا وتدعوا ۔۔۔۔۔۔ اعمالکم (47 : 35) “ پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو۔ تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو وہ ہرگز ضائع نہ کرے گا ”۔ یہ ہے وہ بات جس سے مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے ۔ ان کے سامنے ان کافروں کا انجام رکھا جاتا ہے۔ جو رسول اللہ ﷺ سے جھگڑتے تھے تا کہ مسلمان اس کے تصور سے بھی ڈریں ۔ اس ڈراوے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود تھے جو جہاد کی مسلسل مشقتوں کو ایک بھاری حکم سمجھتے تھے۔ اور ان کے عزم میں کمزوری تھی۔ اور یہ لوگ امن و عافیت چاہتے تھے تا کہ جنگ کی مشقتوں سے آرام میں رہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں میں سے بعض کی مشرکین کے ساتھ رشتہ داریاں بھی ہوں یا ان کے ساتھ مالی معاملات میں شراکت ہو ، اس زاویہ سے یہ لوگ امن اور صلح کو پسند کرتے ہوں کیونکہ انسان ہمیشہ انسان رہا ہے اور قرآن کریم ان بشری اور فطری کمزوریوں کا علاج اپنے انداز سے کر رہا ہے۔ اور قرآن مجید نے اس طرح جو تربیت جاری رکھی تو اس کے نتیجے میں دور اول میں ایک معجزانہ گروہ تیا رہو گیا۔ لیکن اس مساعی اور کامیابیوں کے باوجود اس بات کی نفی نہیں کی جاسکتی کہ جماعت مسلمہ کی صفوں میں کمزور لوگ ہوں۔ خصوصاً ایسے ابتدائی مدنی دور میں چناچہ اس آیت میں بعض ایسی ہی کمزوریوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ قرآن کریم کس طرح لوگوں کو لیتا تھا۔ ہمیں بھی چاہئے کہ قرآنی انداز کے مطابق دور جدید کے لوگوں کی تربیت کریں۔ فلا تھنوا وتدعوا ۔۔۔۔۔۔ اعمالکم (47 : 35) “ پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو۔ تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو وہ ہرگز ضائع نہ کرے گا ”۔ تم چونکہ غالب ہو اس لیے صلح کی درخواست نہ کرو ، تم اعتقاد اور تصور حیات کے اعتبار سے بلند ہو ، تم خدا سے تعلق کے زاویہ سے بھی بلند ہو ، تمہارا آقا بلند ہے ، نظام زندگی ، مقاصد زندگی اور مقصود زندگی کے اعتبار سے بھی تم بلند ہو ، شعور ، اخلاق اور طرز عمل کے اعتبار سے تم بلند ہو۔ قوت ، مرتبے اور ذریعہ نصرت سے اعتبار سے بھی تم بلند ہو۔ تمہاری پشت پر بہت بڑی قوت ہے واللہ معکم۔ تمہارے ساتھ تو اللہ ہے۔ تم اکیلے تو نہیں ہو ، تم ایک نہایت ہی بلند اور جبار اللہ تعالیٰ کے زیر تربیت ہو جو قادر مطلق ہے۔ وہ تمہارا مددگار ہے اور ہر وقت حاضر و ناظر ہے اور تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہاری مدافعت کرتا ہے تمہارے اعداء کی حیثیت کیا ہے ، جب کہ تمہارے ساتھ اللہ ہے۔ تم جو کچھ خرچ کرتے ہو ، اور جو کچھ کرتے ہو اور تمہیں جو مشقتین پہنچتی ہیں۔ ان کا حساب رکھا جا رہا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک چیز بھی ضائع نہیں ہوتی۔ ولکن یترکم اعمالکم (47 : 35) “ اور تمہارے اعمال کو ہو ہرگز ضائع نہ کرے گا ” ۔ اللہ تمہارے اعمال میں کوئی کٹوتی نہ کرے گا کہ اس سے تمہیں کوئی فائدہ نہ ہو اور اس کا معاوضہ تمہیں نہ ملے۔ نیز کمزوری دکھانے اور صلح چاہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم اعلیٰ ہو ، وہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کا ایک ذرہ بھی ضائع نہ ہوگا لہٰذا تم مکرم ، ماجور اور منصور ہو۔

محمد 47:36

یہ تو ہے پہلا ٹچ اور دوسرا یہ کہ ان کو بتا دیا جاتا ہے کہ امن و عافیت تم جس دنیا کے لئے طلب کرتے ہو ، اس کی حیثیت کیا ہے ؟ ٹھیک ہے اس میں تمہیں بعض قربانیاں تو دینی ہوں گی ، لیکن آخرت میں کامل اجر تمہیں ملیں گے اور تم سے تمہارے مال بھی طلب نہ کرے گا۔ انما الحیوۃ الدنیا ۔۔۔۔۔۔ اموالکم (47 : 36) “ یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔ اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا ”۔ اگر ہماری اس دنیاوی زندگی کے پیچھے کوئی اعلیٰ اور ارفع مقصد نہ ہو تو وہ یقیناً لہو و لعب ہے۔ اگر اس دنیا میں اسلام کے اعلیٰ مقاصد اور اسلامی نظام کے قیام کے ارفع مقاصد نہ ہوں تو پھر کچھ بھی نہیں ہے۔ اسلام کا مقصد زندگی اس دنیا کو آخرت کی کھیتی بنا دیتا ہے۔ اور اس میں اللہ کی خلافت کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرنا ہی قیامت میں اچھے نتائج پیدا کرتا ہے۔ آیت کا دوسرا فقرہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وان تومنوا وتتقوا یوتکم اجورکم (47 : 36) ” اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا “۔ اس دنیا میں ایمان لانا اور تقویٰ اختیار کرنا ہی اس کو لہو و لعب کے دائرے سے نکال دیتا ہے ۔ اور اسے ایک سنجیدہ مقام عطا کرتا ہے اور اسے حیوانی سامان تعیش سے ذرا بلند مقام دیتا ہے۔ دنیا کا نظام پھر نظام خلافت راشدہ بن جاتا ہے اور یہ عالم بالا کے ساتھ پیوستہ ہوتا ہے ۔ جب اسلامی نظام اور قانون شریعت نافذ کردیا جائے تو پھر مومن کی اس دنیا کی زندگی بھی لہو و لعب کے دائرے سے نکل کر ایک عبادت بن جاتی ہے اور مومن کو اس کی تمام سر گرمیوں پر آخرت میں اجر ملتا ہے۔ لیکن باوجود اس کے اللہ لوگوں سے یہ مطالبہ نہیں فرماتا کہ وہ اپنے تمام اموال خرچ کردیں ۔ اسلام دوسرے فرائض اور واجبات میں بھی لوگوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ انسان فطرتاً تھڑولا ہے۔ اس لیے اللہ نے لوگوں پر ان کی طاقت کے مطابق بوجھ ڈالا ہے۔ اس لیے اللہ نے لوگوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں یہ حکم نہیں دیا کہ وہ سب مال خرچ کردیں ورنہ ان کے دل کا کھوٹ ظاہر ہوجاتا۔

محمد 47:37

ان یسئلکموھا فیحفکم تبخلوا ویخرج اصغانکم (47 : 37) ” اگر کہیں وہ تمہارے مال تم سے مانگ لے اور سب کے سب تم سے طلب کرلے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کھوٹ ابھار لائے گا “۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے احکام کس قدر حکیمانہ ہیں ، جس طرح اس سے اللہ کی رحمت اور مہربانیوں کا اظہار ہوتا ہے کہ دین اسلام میں جو فرائض و واجبات مقرر کئے گئے ہیں وہ فطرت کے عین مطابق ہیں اور اس میں انسانوں کی بشری کمزوریوں اور انسانی استعداد کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس لیے کہ اسلام ایک ربانی نظام زندگی ہے۔ اور یہ انسانوں کے لئے ایک ربانی نظام تجویز کرتا ہے۔ یہ نظام ایک ربانی نظام اس زاویہ سے ہے کہ اس کے قواعد اللہ نے بنائے ہیں اور یہ انسانی اس لحاظ سے ہے۔ کہ اس میں انسان کی استعداد ، قوت اور ماحول کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور اللہ ہی ہے جو ان کے لئے نظام تجویز کرتا ہے کیونکہ وہ اپنی مخلوق سے اچھی طرح واقف ہے اور وہ لطیف وخبیر ہے۔

محمد 47:38

آخر میں ان کی واقعی صورت حالات ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے کہ ان حالات میں انفاق فی سبیل اللہ کی ضرورت ہے۔ قرآن اپنے خوبصورت انداز میں ان کے دلوں کے بخل کا علاج کرتا ہے ۔ جس طرح قرآن نے جانی قربانی کے سلسلے میں ان کی تربیت کی۔ ھانتم ھولاء ۔۔۔۔ یکونوا امثالکم (47 : 38) ” دیکھو ، تم لوگوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو۔ اس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل کر رہے ہیں ، حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے۔ اللہ تو غنی ہے ، تم ہی اس کے محتاج ہو۔ اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے “۔ قرآن کریم اس وقت کے معاشرے کا نقشہ نہایت ہی خوبصورتی سے کھینچا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ ہر معاشرے میں مالی انفاق کی دعوت کے سلسلے میں بعض لوگوں کا طرز عمل دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ بعض مالی اعتبار سے بخل کرتے ہیں ، بعض ایسے ہوتے ہیں جو فیاض ہوتے ہیں۔ یہی صورت حالات ابتدائی اسلامی معاشرے کی تھی جس کو روایات میں اچھی طرح قلم بند کیا گیا ہے اور قرآن کریم نے بھی دوسرے مقامات پر تفصیلات دی ہیں۔ اسلام نے اس میدان میں معجزانہ مثالیں پیش کی ہیں۔ لوگوں نے جو دوستی اور جوانمردی میں بےپناہ قربانیاں دیں لیکن ان مثالوں کے باوجود مالی لحاظ سے بخل پایا جاتا ہوگا ، بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جو جان تو دیتے ہوں گے لیکن ان کے لئے مال دینا مشکل ہوگا۔ یہی وہ کنجوسی ہے جس کا علاج قرآن مجید اس آیت میں کر رہا ہے۔ ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ (47 : 38) ” حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے “۔ کیونکہ اللہ کی راہ میں جو لوگ خرچ کر رہے ہیں وہ دراصل خود انہی کے بینک میں جمع ہو رہا ہے۔ اور یہ بچت دراصل ان کو اس وقت کام آئے گی جہاں پر کچھ بھی آمدن نہ ہوگی۔ جب ان کو زمین سے اٹھایا جائے گا اور ان کے پاس ان کی مملوکات میں سے کچھ بھی نہ ہوگا۔ لہٰذا وہاں یہی کمائی اور بچت ان کے کام آئے گی۔ اس لیے آج اگر وہ اس مد میں خرچ کرنے سے بخل کرتے ہیں تو یہ بخل وہ خود اپنے خلاف کر رہے ہیں۔ وہ اپنی بچتوں میں کمی کر رہے ہیں اور خود اپنا مال کم کر رہے ہیں اور خود اپنے آپ کو محروم کر رہے ہیں۔ اور اللہ جو ان سے انفاق فی سبیل اللہ کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ بھی خود ان کی بھلائی کے لئے ہوتا ہے ۔ یہ انہی کے لئے زیادہ بچت ہوتی ہے انہی کا خزانہ اور ذخیرہ بڑھتا ہے۔ اللہ کو اس مال سے کچھ فائدہ نہیں ہے اور نہ اللہ کو ایسے کسی مال کی ضرورت ہے۔ اس لیے بخل اور کنجوسی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ تمہارے پاس جو دولت ہے وہ بھی اسی کی دی ہوئی ہے اور آخرت میں وہ جو اجر دے گا وہ بھی اس کا فضل ہوگا۔ اس لئے تم جو خرچ کرتے ہو وہ بھی اللہ ہی کا فضل ہے۔ اور آخر اور دو ٹوک بات کہ اللہ نے جو تمہیں اپنی دعوت کے لئے چنا ہے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور تمہارے لیے یہ بہت اعزاز ہے۔ اگر تم نے اپنے آپ کو اس کا اہل نہ بنایا اور اس کی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو اللہ تمہارے انتخاب کو واپس لے لے گا۔ اور کسی دوسری قوم کو اس کام کے لئے منتخب کردے گا۔ اور یہ اس قوم پر اللہ کا احسان ہوگا اور وہ اس انتخاب کی قدر کریں گے ! وان تتولوا یستبدل ۔۔۔۔۔۔ امثالکم (47 : 38) ” اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے “۔ جن لوگوں نے ایمان کا مزہ چکھا ہے ، ان کے لئے تو یہ بہت خوفناک دھمکی ہے کہ تمہیں ہٹا کر کسی دوسری قوم کے لئے آیا جائے گا۔ اس شخص کے لئے یہ بہت بڑی دھمکی ہے جس کو احساس ہو کہ دعوت اسلامی اور خیر امت کی ذمہ داری سپرد کر کے اللہ نے ان کو بہت بڑا اعزاز بخشا ہے کیونکہ جو شخص اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اسے اللہ نے عظیم امانت سپرد کی ہے۔ وہ اس زمین پر اللہ کی سند اور سہارے سے چلتا ہے۔ اس کے وجود میں اللہ کا نور ہے۔ وہ آتا ہے اور جاتا ہے اور اس پر اپنے آقا کی علامات ہیں۔ اگر کسی نے ایمان کی مٹھاس کو چکھ لیا ہو اور پھر اس سے سلب کرلیا جائے تو یہ خسارہ وہی محسوس کرسکتا ہے ، یہ بےعزتی وہی محسوس کرسکتا ہے جس نے دریار کبریائی میں باریابی پائی ہو ، اعزاز پایا ہو اور پھر اسے دھتکار دیا جائے اور اس کے پیچھے دروازے بند کر دئیے جائیں۔ بلکہ ایسے واصلین حق کی زندگی تو جہنم بن جاتی ہے جو حق تعالیٰ تک پہنچ چکے ہوں اور پھر دور ہوجائیں گے اور ان کے سامنے پردے حائل ہوجائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک بہت بڑی عطا ہے۔ اس کی قیمت کی کوئی چیز اس کائنات میں نہیں ہے۔ اور یہ پوری انسانی زندگی اور پوری زمین کی دولت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے جب ترازو کے ایک پلڑے میں ایمان ہو اور دوسرے میں یہ پوری کائنات ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک بہت بڑی عطا ہے۔ اس کی قیمت کی کوئی چیز اس کائنات میں نہیں ہے ۔ اور یہ پوری انسانی زندگی اور پوری زمین کی دولت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے جب ترازو کے ایک پلڑے میں ایمان ہو اور دوسرے میں یہ پوری کائنات ہو۔ اس لیے یہ دھمکی اتنی بڑی دھمکی ہے جو مومن کو دی جاسکتی ہے اور یہ دھمکی ، ذرا غور کیجئے ، اللہ کی طرف سے ہے !

الفتح 48:1

اس سورت کا آغاز نبی ﷺ کے اوپر ایک فضل و کرم کے ذکر سے ہوتا ہے۔ کہ آپ ﷺ کو فتح مبین بھی عطا کردیا گیا ہے اور آپ کے اگلے اور پچھلے سب ذنوب معاف کر دئیے گئے۔ آپ ﷺ پر اپنی نعمتیں تمام ہوگئیں ، آپ ﷺ کو مستقل ہدایت نامہ دے دیا گیا اور ایک زبردست نصرت اور فتح بھی دے دی گئی۔ اور یہ ہے صلہ اس گہرے اطمینان اور صبر کا جن کے ساتھ آپ نے ہدایات الٰہیہ پر عمل کیا۔ اور اس بات کا کہ آپ نے اللہ کی جانب سے وحی اور الہامات و ہدایات پر پورا پورا عمل کیا۔ اپنی تمام خواہشات اور ارادوں کو ترک کردیا اور اللہ کی نگرانی پر پورا پورا بھروسہ کیا۔ آپ نے ایک خواب دیکھا ، اس کے مطابق آپ حرکت میں آگئے ۔ آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی اور لوگ چیخے کہ “ قصواء ” نے چلنے سے انکار کردیا۔ اڑ گئی۔ لیکن آپ ﷺ نے اس سے کوئی اور اشارہ لیا۔ “ قصواء اڑ نہیں گئی اور نہ اس کی یہ عادت ہے لیکن اسے اس ذات نے روک لیا ہے جس نے مکہ سے ہاتھی کو روکا تھا ۔ اگر قریش آج کوئی بھی ایسا منصوبہ مجھے دیں جس میں صلہ رحمی کی درخواست ہو تو میں منظور کر دوں گا ”۔ حضرت عمر ابن الخطاب آپ سے نہایت ہی جوش میں پوچھتے ہیں “ کیا ہمیں اپنے دین میں ذلت نہیں دی جارہی ہے ؟” آپ ﷺ جواب دیتے ہیں “ میں اللہ کا بندہ ہوں ، رسول ہوں ، میں اس کے حکم کی مخالفت نہیں کرسکتا اور انشاء اللہ وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا ”۔ یہ تو رہی صلح کی بات لیکن جب اطلاع آتی ہے کہ حضرت عثمان ؓ قتل ہوگئے تو آپ ﷺ فرماتے ہیں “ ہم اس وقت تک ڈٹے رہیں گے جب تک قوم سے انتقام نہ لے لیں ”۔ لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا جاتا ہے۔ یہ بیعت ، بیعت الرضوان قرار پاتی ہے اور اس سے ان لوگوں کو بھلائی نصیب ہوتی ہے اور یہ ان کے لئے رتبہ بلند تھا جنہوں نے اس میں حصہ لیا ۔ یہ سورت دراصل فتح عظیم تھی۔ اور صلح حدیبیہ بھی دراصل فتح عظیم تھی ، کیونکہ اس کے نتیجے میں بیشمار فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔ یہ دعوت اسلامی کے زاویہ بھی فتح تھی۔ امام زہری کہتے ہیں اس سے قبل اسلام کو جو فتوحات ملی تھیں یہ ان سے بڑی فتح تھی۔ اس سے قبل یہ تھا کہ لوگ جہاں بھی ملتے جنگ ہوتی۔ جب صلح ہوگئی اور حالت جنگ ختم ہوگئی اور لوگوں کو ایک دوسرے کی جانب سے امن نصیب ہوگیا ، ملنا جلنا آزاد ہوگیا تو انہوں نے اسلام کے موضوع پر بحث و مکالمہ شروع کردیا۔ اسلام کے بارے میں جس شخص نے معقول گفتگو کی وہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ صلح حدیبیہ اور فتح کے درمیان دو سالوں میں اس قدر لوگ مسلمان ہوگئے کہ ان کی تعداد سابقہ تمام عرصے کے مسلمانوں کے برابر تھی یا زیادہ تھی۔ ابن ہشام کہتے ہیں کہ زہری کی بات پر دلیل یہ ہے کہ جابر بن عبد اللہ کے قول کے مطابق حضور اکرم ﷺ حدیبیہ کی مہم پر چودہ سو افراد لے کر نکلے تھے لیکن ٹھیک دو سال بعد جب مکہ پر حملہ ہوا تو آپ کے ہم رکاب دس ہزار زائد افراد تھے۔ اور اس عرصہ میں خالد ابن ولید اور عمر ابن العاص ؓ مسلمان ہوئے۔ زمین پر یہ فتح یوں تھی کہ مسلمان قریش کے شر سے محفوظ ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کو موقعہ مل گیا کہ جزیرۃ العرب کو یہودیوں کے باقی خطرات سے پاک فرما دیں۔ بنی قینقاع ، بنی النضیر اور بنو قریظہ کو اس سے قبل ختم کردیا گیا تھا۔ یہ خطرہ اب خیبر کے محفوظ قلعوں میں موجود تھا۔ کیونکہ خیبر کے یہ قلعے شام کے راستے میں واقع تھے۔ چناچہ حدیبیہ کے بعد اللہ نے خیبر کا علاقہ بھی مسلمانوں کو دے دیا ۔ اور نبی ﷺ نے خیبر کے علاقے اور غنائم کو صرف ان لوگوں میں تقسیم کیا جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے ان کے علاوہ کسی کو کچھ نہ دیا۔ یہ مدینہ کے مسلمانوں اور مکہ کے قریش کی طویل جنگ میں مسلمانوں کی فتح تھی۔ استاذ محمد دروزہ اپنی کتاب سیرۃ الرسول میں فرماتے ہیں : “ اس میں شک نہیں کہ یہ صلح جسے قرآن کریم نے فتح قرار دیا اسے ہر مفہوم میں مسلمانوں کی فتح سمجھنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسے سیرۃ النبی کے فیصلہ کن واقعات میں شمار کرنا چاہئے۔ یہ واقعہ اسلام کی تاریخ میں اسلام کی قوت اور استحکام کا سبب بنا۔ ایک بڑا مفید واقعہ تو وہ بہرحال تھا ہی۔ اس صلح کے ذریعہ قریش نے پہلی مرتبہ اسلامی حکومت اور نبی ﷺ کی حیثیت کو تسلیم کیا اور مسلمانوں کو انہوں نے اپنے برابر کی قوت تسلیم کیا بلکہ قریش نے اسلامی حکومت کا دفاع کیا۔ اس سے پہلے دو سالوں میں قریش نے دو مرتبہ مدینہ پر حملہ کیا اور جنگ احزاب تو حدیبیہ سے ایک سال قبل ہوتی تھی جس میں قریش بیشمار احزاب کو لے کر مدینہ پر چڑھ آئے تھے تا کہ مومنین اور اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اور غزوۂ احزاب کے درمیان اہل ایمان کی صفوں میں بےحد اضطراب پیدا ہوگیا تھا اور ایک عام بےچینی سی پیدا ہوگئی تھی کیونکہ مدینہ پر حملہ کرنے والوں کی تعداد بہت ہی زیادہ تھی اور جنگ احزاب کا پورے عالم عرب پر اثر تھا کیونکہ تمام عرب اہل قریش کی پیروی کرتے تھے اور وہ قریش کے سخت موقف سے متاثر ہوتے تھے۔ اگر یہ دیکھا جائے کہ مدینہ کے اردگرد کے دیہاتی اور منافق یہ پیشن گوئیاں کرتے تھے کہ اس جنگ سے مسلمان کسی صورت میں صحیح سالم اپس نہ آسکیں گے اور وہ ہر قسم کا سوئے ظن رکھتے تھے۔ تو اس صورت میں اس فتح کی اہمیت اور ظاہر ہوجاتی ہے اور اس کے اثرت دوررس ثابت ہوتے ہیں ”۔ “ بعد کے واقعات نے یہ ثابت کردیا کہ نبی ﷺ کا جو الہام تھا ، وہ درست تھا اور یہ کہ قرآن کریم نے بھی اس کی تائید کردی۔ اور اس صلح کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت ہی عظیم مادی معنوی اور دعوتی فوائد حاصل ہوئے۔ نیز جنگی اور سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کی پوزیشن بہت ہی مضبوط ہوگئی۔ قبائل کی نظروں میں مسلمان ایک مضبوط قوت بن گئے اور واپس ہوتے ہی مدینہ کے گرد کے جو قبائل پیچھے رہ گئے تھے وہ آکر عذرات پیش کرنے لگے۔ مدینہ کے اندر منافقین کی آواز دبنے لگی اور وہ کمزور ہوگئے۔ اور ہر طرف سے عرب وفود نبی ﷺ کی خدمت میں آنا شروع ہوگئے اور یہودیوں کی قوت کو خیبر اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے ہٹا دیا گیا۔ یہ لوگ شام کے راستے پر پھیلے ہوئے تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے لئے ممکن ہوگیا کہ آپ نجد ، یمن اور بلقا جیسے دور دراز علاقوں میں فوجی مہمات ارسال کریں۔ اور ٹھیک دو سال بعد حضور ﷺ نے مکہ کو دس ہزار کے لشکر کے ساتھ فتح کیا۔ یہ فیصلہ کن فتح تھی کہ جب اللہ کی مدد آئی اور فتح مکمل ہوئی اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگے ”۔ میں یہ کہتا ہوں کہ ان تمام پہلوؤں کے سوا ایک دوسرا پہلو ہے جس کے زاویہ سے یہ فتح عظیم تھی۔ اس سے اسلام کے لئے لوگوں کے دل و دماغ فتح ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں بیعت الرضوان کا واقعہ پیش آیا جس میں مسلمانوں نے موت اور عدم فرار پر بیعت کی اور اللہ نے اعلان کردیا کہ درخت کے نیچے جن لوگوں نے بیعت کی ان سے اللہ راضی ہوگیا ہے۔ اور قرآن میں اس اعلان کا اندارج ہوگیا اور پھر محمد ﷺ کی انقلابی لیڈر شپ اور انقلابی جماعت کے خدو خال اور اوصاف کو اس سورت میں اس فتح کے نتیجے میں قلم بند کردیا گیا۔ محمد رسول اللہ ۔۔۔۔۔ واجرا عظیماً (48 : 29) “ محمد ، اللہ کے رسول ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب میں پاؤ گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں۔ جن سے الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی۔ پھر اس کو تقویت دی پھر وہ گدرائی پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ اس گروہ کے لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ، اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ”۔ میں کہتا ہوں اسلامی دعوت کی تاریخ میں یہ بہت ہی بڑی فتح ہے جو کسی جماعت کو حاصل ہوئی۔ اس کے آثار کافی دیر تک اسلامی تاریخ میں نکلتے رہے۔ پھر اس کے نتیجے میں سورت فتح نازل ہوئی۔ جس پر حضور اکرم ﷺ بہت ہی خوش تھے۔ حضور ﷺ پر اللہ کی رحمتوں کی بارش یوں ہوئی کہ اگلے پچھلے قصور معاف ہوئے اور آپ ﷺ کے ساتھی مومنین پر یہ فیض ہوا کہ اللہ ان سے راضی ہوا۔ حضور ﷺ کو مکمل ہدایت دی گئی اور عظیم نصرت دی گئی اور پھر جماعت اہل ایمان کو تورات ، انجیل اور قرآن کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا “ گزشتہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی جو اس تمام دولت سے زیادہ قیمتی ہے جس پر کبھی سورج طلوع ہوا ہے ”۔ اور آپ نے رب تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان نعمتوں پر آپ ﷺ اور طویل ترین نمازیں پڑھتے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ نماز پڑھنے کے لئے اٹھتے تو آپ کے پاؤں سوج جاتے۔ حضرت عائشہ ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں تو آپ ﷺ کیوں اس قدر تکلیف کرتے ہیں اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : “ اے عائشہ ! کیا میں گزار بندہ نہ بنوں ”۔ یہ افتتاح تو حضور ﷺ کا حصہ تھا۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اس فتح کے ذریعے مسلمانوں پر کس قدر انعامات کئے گئے اور اللہ نے اپنے دست قدرت سے کس طرح ان کے دلوں پر سکینہ اتارا۔ اور آخرت میں ان کے لئے یہ بخشش اور فوز عظیم کے انعامات ہوں گے۔

الفتح 48:2

اس سورت کا آغاز نبی ﷺ کے اوپر ایک فضل و کرم کے ذکر سے ہوتا ہے۔ کہ آپ ﷺ کو فتح مبین بھی عطا کردیا گیا ہے اور آپ کے اگلے اور پچھلے سب ذنوب معاف کر دئیے گئے۔ آپ ﷺ پر اپنی نعمتیں تمام ہوگئیں ، آپ ﷺ کو مستقل ہدایت نامہ دے دیا گیا اور ایک زبردست نصرت اور فتح بھی دے دی گئی۔ اور یہ ہے صلہ اس گہرے اطمینان اور صبر کا جن کے ساتھ آپ نے ہدایات الٰہیہ پر عمل کیا۔ اور اس بات کا کہ آپ نے اللہ کی جانب سے وحی اور الہامات و ہدایات پر پورا پورا عمل کیا۔ اپنی تمام خواہشات اور ارادوں کو ترک کردیا اور اللہ کی نگرانی پر پورا پورا بھروسہ کیا۔ آپ نے ایک خواب دیکھا ، اس کے مطابق آپ حرکت میں آگئے ۔ آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی اور لوگ چیخے کہ “ قصواء ” نے چلنے سے انکار کردیا۔ اڑ گئی۔ لیکن آپ ﷺ نے اس سے کوئی اور اشارہ لیا۔ “ قصواء اڑ نہیں گئی اور نہ اس کی یہ عادت ہے لیکن اسے اس ذات نے روک لیا ہے جس نے مکہ سے ہاتھی کو روکا تھا ۔ اگر قریش آج کوئی بھی ایسا منصوبہ مجھے دیں جس میں صلہ رحمی کی درخواست ہو تو میں منظور کر دوں گا ”۔ حضرت عمر ابن الخطاب آپ سے نہایت ہی جوش میں پوچھتے ہیں “ کیا ہمیں اپنے دین میں ذلت نہیں دی جارہی ہے ؟” آپ ﷺ جواب دیتے ہیں “ میں اللہ کا بندہ ہوں ، رسول ہوں ، میں اس کے حکم کی مخالفت نہیں کرسکتا اور انشاء اللہ وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا ”۔ یہ تو رہی صلح کی بات لیکن جب اطلاع آتی ہے کہ حضرت عثمان ؓ قتل ہوگئے تو آپ ﷺ فرماتے ہیں “ ہم اس وقت تک ڈٹے رہیں گے جب تک قوم سے انتقام نہ لے لیں ”۔ لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا جاتا ہے۔ یہ بیعت ، بیعت الرضوان قرار پاتی ہے اور اس سے ان لوگوں کو بھلائی نصیب ہوتی ہے اور یہ ان کے لئے رتبہ بلند تھا جنہوں نے اس میں حصہ لیا ۔ یہ سورت دراصل فتح عظیم تھی۔ اور صلح حدیبیہ بھی دراصل فتح عظیم تھی ، کیونکہ اس کے نتیجے میں بیشمار فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔ یہ دعوت اسلامی کے زاویہ بھی فتح تھی۔ امام زہری کہتے ہیں اس سے قبل اسلام کو جو فتوحات ملی تھیں یہ ان سے بڑی فتح تھی۔ اس سے قبل یہ تھا کہ لوگ جہاں بھی ملتے جنگ ہوتی۔ جب صلح ہوگئی اور حالت جنگ ختم ہوگئی اور لوگوں کو ایک دوسرے کی جانب سے امن نصیب ہوگیا ، ملنا جلنا آزاد ہوگیا تو انہوں نے اسلام کے موضوع پر بحث و مکالمہ شروع کردیا۔ اسلام کے بارے میں جس شخص نے معقول گفتگو کی وہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ صلح حدیبیہ اور فتح کے درمیان دو سالوں میں اس قدر لوگ مسلمان ہوگئے کہ ان کی تعداد سابقہ تمام عرصے کے مسلمانوں کے برابر تھی یا زیادہ تھی۔ ابن ہشام کہتے ہیں کہ زہری کی بات پر دلیل یہ ہے کہ جابر بن عبد اللہ کے قول کے مطابق حضور اکرم ﷺ حدیبیہ کی مہم پر چودہ سو افراد لے کر نکلے تھے لیکن ٹھیک دو سال بعد جب مکہ پر حملہ ہوا تو آپ کے ہم رکاب دس ہزار زائد افراد تھے۔ اور اس عرصہ میں خالد ابن ولید اور عمر ابن العاص ؓ مسلمان ہوئے۔ زمین پر یہ فتح یوں تھی کہ مسلمان قریش کے شر سے محفوظ ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کو موقعہ مل گیا کہ جزیرۃ العرب کو یہودیوں کے باقی خطرات سے پاک فرما دیں۔ بنی قینقاع ، بنی النضیر اور بنو قریظہ کو اس سے قبل ختم کردیا گیا تھا۔ یہ خطرہ اب خیبر کے محفوظ قلعوں میں موجود تھا۔ کیونکہ خیبر کے یہ قلعے شام کے راستے میں واقع تھے۔ چناچہ حدیبیہ کے بعد اللہ نے خیبر کا علاقہ بھی مسلمانوں کو دے دیا ۔ اور نبی ﷺ نے خیبر کے علاقے اور غنائم کو صرف ان لوگوں میں تقسیم کیا جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے ان کے علاوہ کسی کو کچھ نہ دیا۔ یہ مدینہ کے مسلمانوں اور مکہ کے قریش کی طویل جنگ میں مسلمانوں کی فتح تھی۔ استاذ محمد دروزہ اپنی کتاب سیرۃ الرسول میں فرماتے ہیں : “ اس میں شک نہیں کہ یہ صلح جسے قرآن کریم نے فتح قرار دیا اسے ہر مفہوم میں مسلمانوں کی فتح سمجھنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسے سیرۃ النبی کے فیصلہ کن واقعات میں شمار کرنا چاہئے۔ یہ واقعہ اسلام کی تاریخ میں اسلام کی قوت اور استحکام کا سبب بنا۔ ایک بڑا مفید واقعہ تو وہ بہرحال تھا ہی۔ اس صلح کے ذریعہ قریش نے پہلی مرتبہ اسلامی حکومت اور نبی ﷺ کی حیثیت کو تسلیم کیا اور مسلمانوں کو انہوں نے اپنے برابر کی قوت تسلیم کیا بلکہ قریش نے اسلامی حکومت کا دفاع کیا۔ اس سے پہلے دو سالوں میں قریش نے دو مرتبہ مدینہ پر حملہ کیا اور جنگ احزاب تو حدیبیہ سے ایک سال قبل ہوتی تھی جس میں قریش بیشمار احزاب کو لے کر مدینہ پر چڑھ آئے تھے تا کہ مومنین اور اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اور غزوۂ احزاب کے درمیان اہل ایمان کی صفوں میں بےحد اضطراب پیدا ہوگیا تھا اور ایک عام بےچینی سی پیدا ہوگئی تھی کیونکہ مدینہ پر حملہ کرنے والوں کی تعداد بہت ہی زیادہ تھی اور جنگ احزاب کا پورے عالم عرب پر اثر تھا کیونکہ تمام عرب اہل قریش کی پیروی کرتے تھے اور وہ قریش کے سخت موقف سے متاثر ہوتے تھے۔ اگر یہ دیکھا جائے کہ مدینہ کے اردگرد کے دیہاتی اور منافق یہ پیشن گوئیاں کرتے تھے کہ اس جنگ سے مسلمان کسی صورت میں صحیح سالم اپس نہ آسکیں گے اور وہ ہر قسم کا سوئے ظن رکھتے تھے۔ تو اس صورت میں اس فتح کی اہمیت اور ظاہر ہوجاتی ہے اور اس کے اثرت دوررس ثابت ہوتے ہیں ”۔ “ بعد کے واقعات نے یہ ثابت کردیا کہ نبی ﷺ کا جو الہام تھا ، وہ درست تھا اور یہ کہ قرآن کریم نے بھی اس کی تائید کردی۔ اور اس صلح کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت ہی عظیم مادی معنوی اور دعوتی فوائد حاصل ہوئے۔ نیز جنگی اور سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کی پوزیشن بہت ہی مضبوط ہوگئی۔ قبائل کی نظروں میں مسلمان ایک مضبوط قوت بن گئے اور واپس ہوتے ہی مدینہ کے گرد کے جو قبائل پیچھے رہ گئے تھے وہ آکر عذرات پیش کرنے لگے۔ مدینہ کے اندر منافقین کی آواز دبنے لگی اور وہ کمزور ہوگئے۔ اور ہر طرف سے عرب وفود نبی ﷺ کی خدمت میں آنا شروع ہوگئے اور یہودیوں کی قوت کو خیبر اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے ہٹا دیا گیا۔ یہ لوگ شام کے راستے پر پھیلے ہوئے تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے لئے ممکن ہوگیا کہ آپ نجد ، یمن اور بلقا جیسے دور دراز علاقوں میں فوجی مہمات ارسال کریں۔ اور ٹھیک دو سال بعد حضور ﷺ نے مکہ کو دس ہزار کے لشکر کے ساتھ فتح کیا۔ یہ فیصلہ کن فتح تھی کہ جب اللہ کی مدد آئی اور فتح مکمل ہوئی اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگے ”۔ میں یہ کہتا ہوں کہ ان تمام پہلوؤں کے سوا ایک دوسرا پہلو ہے جس کے زاویہ سے یہ فتح عظیم تھی۔ اس سے اسلام کے لئے لوگوں کے دل و دماغ فتح ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں بیعت الرضوان کا واقعہ پیش آیا جس میں مسلمانوں نے موت اور عدم فرار پر بیعت کی اور اللہ نے اعلان کردیا کہ درخت کے نیچے جن لوگوں نے بیعت کی ان سے اللہ راضی ہوگیا ہے۔ اور قرآن میں اس اعلان کا اندارج ہوگیا اور پھر محمد ﷺ کی انقلابی لیڈر شپ اور انقلابی جماعت کے خدو خال اور اوصاف کو اس سورت میں اس فتح کے نتیجے میں قلم بند کردیا گیا۔ محمد رسول اللہ ۔۔۔۔۔ واجرا عظیماً (48 : 29) “ محمد ، اللہ کے رسول ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب میں پاؤ گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں۔ جن سے الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی۔ پھر اس کو تقویت دی پھر وہ گدرائی پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ اس گروہ کے لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ، اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ”۔ میں کہتا ہوں اسلامی دعوت کی تاریخ میں یہ بہت ہی بڑی فتح ہے جو کسی جماعت کو حاصل ہوئی۔ اس کے آثار کافی دیر تک اسلامی تاریخ میں نکلتے رہے۔ پھر اس کے نتیجے میں سورت فتح نازل ہوئی۔ جس پر حضور اکرم ﷺ بہت ہی خوش تھے۔ حضور ﷺ پر اللہ کی رحمتوں کی بارش یوں ہوئی کہ اگلے پچھلے قصور معاف ہوئے اور آپ ﷺ کے ساتھی مومنین پر یہ فیض ہوا کہ اللہ ان سے راضی ہوا۔ حضور ﷺ کو مکمل ہدایت دی گئی اور عظیم نصرت دی گئی اور پھر جماعت اہل ایمان کو تورات ، انجیل اور قرآن کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا “ گزشتہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی جو اس تمام دولت سے زیادہ قیمتی ہے جس پر کبھی سورج طلوع ہوا ہے ”۔ اور آپ نے رب تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان نعمتوں پر آپ ﷺ اور طویل ترین نمازیں پڑھتے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ نماز پڑھنے کے لئے اٹھتے تو آپ کے پاؤں سوج جاتے۔ حضرت عائشہ ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں تو آپ ﷺ کیوں اس قدر تکلیف کرتے ہیں اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : “ اے عائشہ ! کیا میں گزار بندہ نہ بنوں ”۔ یہ افتتاح تو حضور ﷺ کا حصہ تھا۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اس فتح کے ذریعے مسلمانوں پر کس قدر انعامات کئے گئے اور اللہ نے اپنے دست قدرت سے کس طرح ان کے دلوں پر سکینہ اتارا۔ اور آخرت میں ان کے لئے یہ بخشش اور فوز عظیم کے انعامات ہوں گے۔

الفتح 48:3

اس سورت کا آغاز نبی ﷺ کے اوپر ایک فضل و کرم کے ذکر سے ہوتا ہے۔ کہ آپ ﷺ کو فتح مبین بھی عطا کردیا گیا ہے اور آپ کے اگلے اور پچھلے سب ذنوب معاف کر دئیے گئے۔ آپ ﷺ پر اپنی نعمتیں تمام ہوگئیں ، آپ ﷺ کو مستقل ہدایت نامہ دے دیا گیا اور ایک زبردست نصرت اور فتح بھی دے دی گئی۔ اور یہ ہے صلہ اس گہرے اطمینان اور صبر کا جن کے ساتھ آپ نے ہدایات الٰہیہ پر عمل کیا۔ اور اس بات کا کہ آپ نے اللہ کی جانب سے وحی اور الہامات و ہدایات پر پورا پورا عمل کیا۔ اپنی تمام خواہشات اور ارادوں کو ترک کردیا اور اللہ کی نگرانی پر پورا پورا بھروسہ کیا۔ آپ نے ایک خواب دیکھا ، اس کے مطابق آپ حرکت میں آگئے ۔ آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی اور لوگ چیخے کہ “ قصواء ” نے چلنے سے انکار کردیا۔ اڑ گئی۔ لیکن آپ ﷺ نے اس سے کوئی اور اشارہ لیا۔ “ قصواء اڑ نہیں گئی اور نہ اس کی یہ عادت ہے لیکن اسے اس ذات نے روک لیا ہے جس نے مکہ سے ہاتھی کو روکا تھا ۔ اگر قریش آج کوئی بھی ایسا منصوبہ مجھے دیں جس میں صلہ رحمی کی درخواست ہو تو میں منظور کر دوں گا ”۔ حضرت عمر ابن الخطاب آپ سے نہایت ہی جوش میں پوچھتے ہیں “ کیا ہمیں اپنے دین میں ذلت نہیں دی جارہی ہے ؟” آپ ﷺ جواب دیتے ہیں “ میں اللہ کا بندہ ہوں ، رسول ہوں ، میں اس کے حکم کی مخالفت نہیں کرسکتا اور انشاء اللہ وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا ”۔ یہ تو رہی صلح کی بات لیکن جب اطلاع آتی ہے کہ حضرت عثمان ؓ قتل ہوگئے تو آپ ﷺ فرماتے ہیں “ ہم اس وقت تک ڈٹے رہیں گے جب تک قوم سے انتقام نہ لے لیں ”۔ لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا جاتا ہے۔ یہ بیعت ، بیعت الرضوان قرار پاتی ہے اور اس سے ان لوگوں کو بھلائی نصیب ہوتی ہے اور یہ ان کے لئے رتبہ بلند تھا جنہوں نے اس میں حصہ لیا ۔ یہ سورت دراصل فتح عظیم تھی۔ اور صلح حدیبیہ بھی دراصل فتح عظیم تھی ، کیونکہ اس کے نتیجے میں بیشمار فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔ یہ دعوت اسلامی کے زاویہ بھی فتح تھی۔ امام زہری کہتے ہیں اس سے قبل اسلام کو جو فتوحات ملی تھیں یہ ان سے بڑی فتح تھی۔ اس سے قبل یہ تھا کہ لوگ جہاں بھی ملتے جنگ ہوتی۔ جب صلح ہوگئی اور حالت جنگ ختم ہوگئی اور لوگوں کو ایک دوسرے کی جانب سے امن نصیب ہوگیا ، ملنا جلنا آزاد ہوگیا تو انہوں نے اسلام کے موضوع پر بحث و مکالمہ شروع کردیا۔ اسلام کے بارے میں جس شخص نے معقول گفتگو کی وہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ صلح حدیبیہ اور فتح کے درمیان دو سالوں میں اس قدر لوگ مسلمان ہوگئے کہ ان کی تعداد سابقہ تمام عرصے کے مسلمانوں کے برابر تھی یا زیادہ تھی۔ ابن ہشام کہتے ہیں کہ زہری کی بات پر دلیل یہ ہے کہ جابر بن عبد اللہ کے قول کے مطابق حضور اکرم ﷺ حدیبیہ کی مہم پر چودہ سو افراد لے کر نکلے تھے لیکن ٹھیک دو سال بعد جب مکہ پر حملہ ہوا تو آپ کے ہم رکاب دس ہزار زائد افراد تھے۔ اور اس عرصہ میں خالد ابن ولید اور عمر ابن العاص ؓ مسلمان ہوئے۔ زمین پر یہ فتح یوں تھی کہ مسلمان قریش کے شر سے محفوظ ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کو موقعہ مل گیا کہ جزیرۃ العرب کو یہودیوں کے باقی خطرات سے پاک فرما دیں۔ بنی قینقاع ، بنی النضیر اور بنو قریظہ کو اس سے قبل ختم کردیا گیا تھا۔ یہ خطرہ اب خیبر کے محفوظ قلعوں میں موجود تھا۔ کیونکہ خیبر کے یہ قلعے شام کے راستے میں واقع تھے۔ چناچہ حدیبیہ کے بعد اللہ نے خیبر کا علاقہ بھی مسلمانوں کو دے دیا ۔ اور نبی ﷺ نے خیبر کے علاقے اور غنائم کو صرف ان لوگوں میں تقسیم کیا جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے ان کے علاوہ کسی کو کچھ نہ دیا۔ یہ مدینہ کے مسلمانوں اور مکہ کے قریش کی طویل جنگ میں مسلمانوں کی فتح تھی۔ استاذ محمد دروزہ اپنی کتاب سیرۃ الرسول میں فرماتے ہیں : “ اس میں شک نہیں کہ یہ صلح جسے قرآن کریم نے فتح قرار دیا اسے ہر مفہوم میں مسلمانوں کی فتح سمجھنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسے سیرۃ النبی کے فیصلہ کن واقعات میں شمار کرنا چاہئے۔ یہ واقعہ اسلام کی تاریخ میں اسلام کی قوت اور استحکام کا سبب بنا۔ ایک بڑا مفید واقعہ تو وہ بہرحال تھا ہی۔ اس صلح کے ذریعہ قریش نے پہلی مرتبہ اسلامی حکومت اور نبی ﷺ کی حیثیت کو تسلیم کیا اور مسلمانوں کو انہوں نے اپنے برابر کی قوت تسلیم کیا بلکہ قریش نے اسلامی حکومت کا دفاع کیا۔ اس سے پہلے دو سالوں میں قریش نے دو مرتبہ مدینہ پر حملہ کیا اور جنگ احزاب تو حدیبیہ سے ایک سال قبل ہوتی تھی جس میں قریش بیشمار احزاب کو لے کر مدینہ پر چڑھ آئے تھے تا کہ مومنین اور اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اور غزوۂ احزاب کے درمیان اہل ایمان کی صفوں میں بےحد اضطراب پیدا ہوگیا تھا اور ایک عام بےچینی سی پیدا ہوگئی تھی کیونکہ مدینہ پر حملہ کرنے والوں کی تعداد بہت ہی زیادہ تھی اور جنگ احزاب کا پورے عالم عرب پر اثر تھا کیونکہ تمام عرب اہل قریش کی پیروی کرتے تھے اور وہ قریش کے سخت موقف سے متاثر ہوتے تھے۔ اگر یہ دیکھا جائے کہ مدینہ کے اردگرد کے دیہاتی اور منافق یہ پیشن گوئیاں کرتے تھے کہ اس جنگ سے مسلمان کسی صورت میں صحیح سالم اپس نہ آسکیں گے اور وہ ہر قسم کا سوئے ظن رکھتے تھے۔ تو اس صورت میں اس فتح کی اہمیت اور ظاہر ہوجاتی ہے اور اس کے اثرت دوررس ثابت ہوتے ہیں ”۔ “ بعد کے واقعات نے یہ ثابت کردیا کہ نبی ﷺ کا جو الہام تھا ، وہ درست تھا اور یہ کہ قرآن کریم نے بھی اس کی تائید کردی۔ اور اس صلح کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت ہی عظیم مادی معنوی اور دعوتی فوائد حاصل ہوئے۔ نیز جنگی اور سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کی پوزیشن بہت ہی مضبوط ہوگئی۔ قبائل کی نظروں میں مسلمان ایک مضبوط قوت بن گئے اور واپس ہوتے ہی مدینہ کے گرد کے جو قبائل پیچھے رہ گئے تھے وہ آکر عذرات پیش کرنے لگے۔ مدینہ کے اندر منافقین کی آواز دبنے لگی اور وہ کمزور ہوگئے۔ اور ہر طرف سے عرب وفود نبی ﷺ کی خدمت میں آنا شروع ہوگئے اور یہودیوں کی قوت کو خیبر اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے ہٹا دیا گیا۔ یہ لوگ شام کے راستے پر پھیلے ہوئے تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے لئے ممکن ہوگیا کہ آپ نجد ، یمن اور بلقا جیسے دور دراز علاقوں میں فوجی مہمات ارسال کریں۔ اور ٹھیک دو سال بعد حضور ﷺ نے مکہ کو دس ہزار کے لشکر کے ساتھ فتح کیا۔ یہ فیصلہ کن فتح تھی کہ جب اللہ کی مدد آئی اور فتح مکمل ہوئی اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگے ”۔ میں یہ کہتا ہوں کہ ان تمام پہلوؤں کے سوا ایک دوسرا پہلو ہے جس کے زاویہ سے یہ فتح عظیم تھی۔ اس سے اسلام کے لئے لوگوں کے دل و دماغ فتح ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں بیعت الرضوان کا واقعہ پیش آیا جس میں مسلمانوں نے موت اور عدم فرار پر بیعت کی اور اللہ نے اعلان کردیا کہ درخت کے نیچے جن لوگوں نے بیعت کی ان سے اللہ راضی ہوگیا ہے۔ اور قرآن میں اس اعلان کا اندارج ہوگیا اور پھر محمد ﷺ کی انقلابی لیڈر شپ اور انقلابی جماعت کے خدو خال اور اوصاف کو اس سورت میں اس فتح کے نتیجے میں قلم بند کردیا گیا۔ محمد رسول اللہ ۔۔۔۔۔ واجرا عظیماً (48 : 29) “ محمد ، اللہ کے رسول ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب میں پاؤ گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں۔ جن سے الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی۔ پھر اس کو تقویت دی پھر وہ گدرائی پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ اس گروہ کے لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ، اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ”۔ میں کہتا ہوں اسلامی دعوت کی تاریخ میں یہ بہت ہی بڑی فتح ہے جو کسی جماعت کو حاصل ہوئی۔ اس کے آثار کافی دیر تک اسلامی تاریخ میں نکلتے رہے۔ پھر اس کے نتیجے میں سورت فتح نازل ہوئی۔ جس پر حضور اکرم ﷺ بہت ہی خوش تھے۔ حضور ﷺ پر اللہ کی رحمتوں کی بارش یوں ہوئی کہ اگلے پچھلے قصور معاف ہوئے اور آپ ﷺ کے ساتھی مومنین پر یہ فیض ہوا کہ اللہ ان سے راضی ہوا۔ حضور ﷺ کو مکمل ہدایت دی گئی اور عظیم نصرت دی گئی اور پھر جماعت اہل ایمان کو تورات ، انجیل اور قرآن کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا “ گزشتہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی جو اس تمام دولت سے زیادہ قیمتی ہے جس پر کبھی سورج طلوع ہوا ہے ”۔ اور آپ نے رب تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان نعمتوں پر آپ ﷺ اور طویل ترین نمازیں پڑھتے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ نماز پڑھنے کے لئے اٹھتے تو آپ کے پاؤں سوج جاتے۔ حضرت عائشہ ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں تو آپ ﷺ کیوں اس قدر تکلیف کرتے ہیں اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : “ اے عائشہ ! کیا میں گزار بندہ نہ بنوں ”۔ یہ افتتاح تو حضور ﷺ کا حصہ تھا۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اس فتح کے ذریعے مسلمانوں پر کس قدر انعامات کئے گئے اور اللہ نے اپنے دست قدرت سے کس طرح ان کے دلوں پر سکینہ اتارا۔ اور آخرت میں ان کے لئے یہ بخشش اور فوز عظیم کے انعامات ہوں گے۔

الفتح 48:4

سکینہ کا لفظ ایک معنوی تعبیر اور تصویر اور پرتو پر دلالت کرتا ہے۔ جب کسی قلب پر سکینہ نازل ہو تو وہ مطمین ، خوش ، اور پروقار ہوتا ہے۔ اسے یقین ، بھروسہ اور ثبات حاصل ہوتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں وہ سر تسلیم خم کردیتا ہے۔ اور اللہ کے ہر حکم پر راضی ہوتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر نہایت باوقار ہوتا ہے۔ اس واقعہ پر مسلمانوں کے دل کئی وجوہات سے جوش میں آجاتے تھے اور ان پر مختلف قسم کے تاثرات کا دباؤ تھا۔ ایک تو لوگوں نے نبی ﷺ کے خواب کی تعبیر یہ کر رکھی تھی کہ آپ مسجد حرام میں اسی سال داخل ہوں گے۔ پھر یہ کہ قریش نے یہ شرط رکھ دی کہ آپ ﷺ اس سال واپس ہوجائیں اور اگلے سال عمرہ کریں اور حضور ﷺ نے اس شرط کو قبول کرلیا۔ حالانکہ انہوں نے احرام باندھ لیا تھا اور ہدی کے جانوروں کے گلے میں شعار باندھ لیا تھا۔ اور یہ امور ایسے تھے جو بعض جذباتی لوگوں کے لئے ناقابل برداشت تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ ، حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئے اور وہ اس وقت سخت جوش میں تھے کہ آیا ہمیں یہ نہ بتایا گیا تھا کہ ہم بیت اللہ کو جائیں گے اور طواف کریں گے۔ ابوبکر ؓ جن کا دل حضور اکرم ﷺ کے ساتھ دھڑکتا تھا ، نے فرمایا کیا آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ اسی سال تم عمرہ کرو گے ؟ تو انہوں نے کہا اس سال کا تو نہیں کہا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : ” پس تم آؤ گے اور طواف کرو گے “۔ چناچہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ کو چھوڑا اور حضور اکرم ﷺ کے پاس پہنچے اور حضور ﷺ سے کہا : ” کیا آپ نے نہ بتایا تھا کہ ہم بیت اللہ کو جائیں گے اور طواف کریں گے ؟ “ حضور ﷺ نے فرمایا ” درست ، لیکن کیا میں نے یہ کہا تھا کہ تم اسی سال عمرہ کرو گے ؟ “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا ” نہیں “۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” بیشک تم آؤ گے اور طواف کرو گے “۔ یہ باتیں تھیں جو دلوں میں لاوے کی طرح ابل رہی تھیں۔ پھر مومنین قریش کی شرائط پر بھی سخت برہم تھے۔ یہ کہ اگر کوئی مسلمان اپنے ولی کی اجازت سے محمد ﷺ کے پاس آجاتا ہے تو اسے واپس کردیا جائے گا لیکن اگر کوئی مسلمان ، مسلمانوں کی اجازت کے بغیر مکہ چلا جاتا ہے تو اسے واپس نہ کیا جائے گا۔ پھر انہوں نے اپنی جاہلیت کی وجہ سے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا نام کٹوا کر بسمک اللھم کردیا۔ پھر انہوں نے ، آپ کے نام سے رسول اللہ کا لفظ کٹوا دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت علی ؓ نے سہیل کے کہنے کے مطابق (رسول اللہ) کا لفظ کاٹنے سے انکار کردیا۔ رسول اللہ نے نے اسے خود محو کردیا اور کہا ” اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں رسول ہوں “۔ مسلمانوں کی بہادری ، دینی حمیت اور جذبہ جہاد اور مشرکین کے ساتھ لڑنے کا جذبہ تو اس اجتماعی بیعت سے ظاہر ہے جو انہوں نے کی۔ لیکن معاملہ چونکہ اچانک صلح ، امن اور واپسی پر منتج ہوگیا اس لیے مسلمان اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہ کرسکتے تھے۔ اس لیے ان کی طرف سے جذبات کا اظہار ہوا۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے باوجود انہوں نے قربانیاں نہ کیں ، سر نہ منڈوائے ، باوجود اس کے کہ حضور ﷺ نے تین مرتبہ احکام صادر فرمائے۔ حالانکہ وہ حضور ﷺ کے احکام پر مر مٹنے والے تھے۔ عروہ ابن مسعود ثقفی نے قریش کو جو رپورٹ دی اس سے مسلمانوں کی حالت ظاہر تھی اور اب حالت یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نے قربانی ذبح کردی اور سر منڈوا لیا تب جا کر انہوں نے جانور ذبح کئے اور سر منڈوائے۔ غرض ان کو اس واقعہ نے سخت ہلا مارا تھا۔ اب جب کہ وہ اطاعت کی طرف آگئے تو پھر بھی دہشت زدہ تھے۔ یہ لوگ مدینہ سے عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ جنگ لڑنے کا تو ارادہ ہی نہ تھے۔ نہ نفسیاتی لحاظ سے اور نہ مادی لحاظ سے وہ جنگ کے لئے تیار تھے۔ لیکن جب قریش نے سخت موقف اختیار کیا ، پھر یہ خبر آئی کہ حضرت عثمان ؓ قتل کر دئیے گئے ہیں ۔ پھر قریش نے کچھ لوگ بھیجے جنہوں نے مسلمانوں کے لشکر پر تیر اور پتھر پھینکے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے جنگ پر بیعت چاہی تو وہ تہہ دل سے تیار ہوگئے۔ لیکن اس بیعت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسلمانوں کے اندر جنگی حالت اچانک نہ آئی تھی۔ یہ جنگی حالت بالکل اچانک تھی یہ لوگ جنگ کے لئے نکلے نہ تھے۔ اس وجہ سے بھی مسلمانوں کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا ہوگیا تھا۔ یہ چودہ سو تھے۔ اور قریش اپنے گھروں میں تھے اور ان کے ساتھ اطراف مکہ کے مشرکین بھی معاون و مدد گار تھے۔ جب انسان ان تمام حالات کو پیش نظر رکھ کر اس آیت پر غور کرتا ہے۔ ھو الذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین (48 : 4) ” وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر سکینت نازل کی “ تو انسان لفظ اور مفہوم دونوں کی خوبصورتی اور مٹھاس کو محسوس کرتا ہے اور اس وقت جو صورت حالات تھی وہ بھی پوری طرح ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور اچھی طرح محسوس ہوتی ہے کہ اس کی سکینت کی ٹھنڈک نے کس طرح جلنے والے دلوں کو فوراً سکون بخشا ہوگا اور کس طرح ان کو بحال کردیا ہوگا۔ چونکہ اللہ کو معلوم تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کی حالت کیا ہے ؟ اور کیوں ہے ؟ جو جوش ہے وہ جوش ایمان ہے ، جو محبت اور غیرت ہے وہ حمیت اسلامی اور غیرت ایمانی ہے۔ کسی مفاد یا جاہلیت کے لئے نہیں ہے۔ اس لیے اللہ نے یہ سکینت نازل کی۔ لیزدادوا ایمانا مع ایمانھم (48 : 4) ” تا کہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں “۔ طمانیت وہ درجہ ہے جو ایمان کے جوش و خروش کے بعد آتا ہے۔ اس میں بھر پور اعتماد ہوتا ہے۔ کوئی بےچینی نہیں ہوتی ، ایسی رضا مندی ہوتی ہے جو اعتماد و یقین پر مبنی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بات کو نمایاں کیا جاتا ہے کہ نصرت اور غلبہ نہ تو ناممکن ہے۔ اور نہ ہی مشکل ہے۔ اگر اللہ کی حکمت کا تقاضا ہوتا تو یہ اللہ کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے ، یہی اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ اللہ کی افواج لاتعداد ہیں ، ان پر کوئی قوت غالب نہیں آسکتی۔ لیکن اللہ نے غلبے کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ وللہ جنود السموت والارض وکان اللہ علیما حکیما (48 : 4) ” زمین اور آسمانوں کے لشکر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے “۔ یہ اللہ کی حکمت ہے اور اس کا علم ہے جو معاملات کو اپنی مرضی سے چلاتے ہیں۔ اور اس علم اور حکمت ہی کا تقاضا تھا کہ۔ انزل السکینۃ فی قلوب المومنین (48 : 4) لیزدادو ایمانا مع ایمانھم (48 : 4) ” جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل کی تا کہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں “۔ تا کہ ان کے لئے اللہ نے جو بڑی کامیابی مقدر رکھی ہے ، وہ پوری ہوجائے۔ لیدخل المومنین ۔۔۔۔۔ فوزا عظیما (48 : 5) ” تا کہ مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لئے ایسی جنتوں میں داخل فرنائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور ان کی برائیاں ان سے دور کر دے۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے “۔ اگر اس بات کو اللہ فوز عظیم قرار دیتا ہے تو یہ فی الواقع فوز عظیم ہے۔ اپنی حقیقت میں فوز عظیم ہے۔ یہ ایک عظیم کامیابی ہے ، ان لوگوں کے خیال میں جن کو وہ ملی ہے ، اللہ کی تقدیر کے مطابق اور اللہ کے پیمانوں کے مطابق۔ اس وقت مسلمان بہت خوش تھے ان فتوحات پر جو اللہ نے ان کے لئے لکھ دی تھیں۔ جب انہوں نے اس سورت کا یہ آغاز سنا تو وہ ان فتوحات کی امید کرتے تھے۔ ان کے انتظار میں تھے اور ان کو علم ہوگیا تھا کہ اللہ رسول اللہ ﷺ پر کیا کیا مہربانیاں کرنے والا ہے۔ اور اس میں ان کو جو حصہ ہے اس کے لئے وہ انتظار میں تھے۔ اور آپ سے پوچھتے رہتے تھے اور جب انہوں نے سنا اور جانا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

الفتح 48:5

سکینہ کا لفظ ایک معنوی تعبیر اور تصویر اور پرتو پر دلالت کرتا ہے۔ جب کسی قلب پر سکینہ نازل ہو تو وہ مطمین ، خوش ، اور پروقار ہوتا ہے۔ اسے یقین ، بھروسہ اور ثبات حاصل ہوتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں وہ سر تسلیم خم کردیتا ہے۔ اور اللہ کے ہر حکم پر راضی ہوتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر نہایت باوقار ہوتا ہے۔ اس واقعہ پر مسلمانوں کے دل کئی وجوہات سے جوش میں آجاتے تھے اور ان پر مختلف قسم کے تاثرات کا دباؤ تھا۔ ایک تو لوگوں نے نبی ﷺ کے خواب کی تعبیر یہ کر رکھی تھی کہ آپ مسجد حرام میں اسی سال داخل ہوں گے۔ پھر یہ کہ قریش نے یہ شرط رکھ دی کہ آپ ﷺ اس سال واپس ہوجائیں اور اگلے سال عمرہ کریں اور حضور ﷺ نے اس شرط کو قبول کرلیا۔ حالانکہ انہوں نے احرام باندھ لیا تھا اور ہدی کے جانوروں کے گلے میں شعار باندھ لیا تھا۔ اور یہ امور ایسے تھے جو بعض جذباتی لوگوں کے لئے ناقابل برداشت تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ ، حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئے اور وہ اس وقت سخت جوش میں تھے کہ آیا ہمیں یہ نہ بتایا گیا تھا کہ ہم بیت اللہ کو جائیں گے اور طواف کریں گے۔ ابوبکر ؓ جن کا دل حضور اکرم ﷺ کے ساتھ دھڑکتا تھا ، نے فرمایا کیا آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ اسی سال تم عمرہ کرو گے ؟ تو انہوں نے کہا اس سال کا تو نہیں کہا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : ” پس تم آؤ گے اور طواف کرو گے “۔ چناچہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ کو چھوڑا اور حضور اکرم ﷺ کے پاس پہنچے اور حضور ﷺ سے کہا : ” کیا آپ نے نہ بتایا تھا کہ ہم بیت اللہ کو جائیں گے اور طواف کریں گے ؟ “ حضور ﷺ نے فرمایا ” درست ، لیکن کیا میں نے یہ کہا تھا کہ تم اسی سال عمرہ کرو گے ؟ “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا ” نہیں “۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” بیشک تم آؤ گے اور طواف کرو گے “۔ یہ باتیں تھیں جو دلوں میں لاوے کی طرح ابل رہی تھیں۔ پھر مومنین قریش کی شرائط پر بھی سخت برہم تھے۔ یہ کہ اگر کوئی مسلمان اپنے ولی کی اجازت سے محمد ﷺ کے پاس آجاتا ہے تو اسے واپس کردیا جائے گا لیکن اگر کوئی مسلمان ، مسلمانوں کی اجازت کے بغیر مکہ چلا جاتا ہے تو اسے واپس نہ کیا جائے گا۔ پھر انہوں نے اپنی جاہلیت کی وجہ سے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا نام کٹوا کر بسمک اللھم کردیا۔ پھر انہوں نے ، آپ کے نام سے رسول اللہ کا لفظ کٹوا دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت علی ؓ نے سہیل کے کہنے کے مطابق (رسول اللہ) کا لفظ کاٹنے سے انکار کردیا۔ رسول اللہ نے نے اسے خود محو کردیا اور کہا ” اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں رسول ہوں “۔ مسلمانوں کی بہادری ، دینی حمیت اور جذبہ جہاد اور مشرکین کے ساتھ لڑنے کا جذبہ تو اس اجتماعی بیعت سے ظاہر ہے جو انہوں نے کی۔ لیکن معاملہ چونکہ اچانک صلح ، امن اور واپسی پر منتج ہوگیا اس لیے مسلمان اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہ کرسکتے تھے۔ اس لیے ان کی طرف سے جذبات کا اظہار ہوا۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے باوجود انہوں نے قربانیاں نہ کیں ، سر نہ منڈوائے ، باوجود اس کے کہ حضور ﷺ نے تین مرتبہ احکام صادر فرمائے۔ حالانکہ وہ حضور ﷺ کے احکام پر مر مٹنے والے تھے۔ عروہ ابن مسعود ثقفی نے قریش کو جو رپورٹ دی اس سے مسلمانوں کی حالت ظاہر تھی اور اب حالت یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نے قربانی ذبح کردی اور سر منڈوا لیا تب جا کر انہوں نے جانور ذبح کئے اور سر منڈوائے۔ غرض ان کو اس واقعہ نے سخت ہلا مارا تھا۔ اب جب کہ وہ اطاعت کی طرف آگئے تو پھر بھی دہشت زدہ تھے۔ یہ لوگ مدینہ سے عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ جنگ لڑنے کا تو ارادہ ہی نہ تھے۔ نہ نفسیاتی لحاظ سے اور نہ مادی لحاظ سے وہ جنگ کے لئے تیار تھے۔ لیکن جب قریش نے سخت موقف اختیار کیا ، پھر یہ خبر آئی کہ حضرت عثمان ؓ قتل کر دئیے گئے ہیں ۔ پھر قریش نے کچھ لوگ بھیجے جنہوں نے مسلمانوں کے لشکر پر تیر اور پتھر پھینکے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے جنگ پر بیعت چاہی تو وہ تہہ دل سے تیار ہوگئے۔ لیکن اس بیعت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسلمانوں کے اندر جنگی حالت اچانک نہ آئی تھی۔ یہ جنگی حالت بالکل اچانک تھی یہ لوگ جنگ کے لئے نکلے نہ تھے۔ اس وجہ سے بھی مسلمانوں کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا ہوگیا تھا۔ یہ چودہ سو تھے۔ اور قریش اپنے گھروں میں تھے اور ان کے ساتھ اطراف مکہ کے مشرکین بھی معاون و مدد گار تھے۔ جب انسان ان تمام حالات کو پیش نظر رکھ کر اس آیت پر غور کرتا ہے۔ ھو الذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین (48 : 4) ” وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر سکینت نازل کی “ تو انسان لفظ اور مفہوم دونوں کی خوبصورتی اور مٹھاس کو محسوس کرتا ہے اور اس وقت جو صورت حالات تھی وہ بھی پوری طرح ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور اچھی طرح محسوس ہوتی ہے کہ اس کی سکینت کی ٹھنڈک نے کس طرح جلنے والے دلوں کو فوراً سکون بخشا ہوگا اور کس طرح ان کو بحال کردیا ہوگا۔ چونکہ اللہ کو معلوم تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کی حالت کیا ہے ؟ اور کیوں ہے ؟ جو جوش ہے وہ جوش ایمان ہے ، جو محبت اور غیرت ہے وہ حمیت اسلامی اور غیرت ایمانی ہے۔ کسی مفاد یا جاہلیت کے لئے نہیں ہے۔ اس لیے اللہ نے یہ سکینت نازل کی۔ لیزدادوا ایمانا مع ایمانھم (48 : 4) ” تا کہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں “۔ طمانیت وہ درجہ ہے جو ایمان کے جوش و خروش کے بعد آتا ہے۔ اس میں بھر پور اعتماد ہوتا ہے۔ کوئی بےچینی نہیں ہوتی ، ایسی رضا مندی ہوتی ہے جو اعتماد و یقین پر مبنی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بات کو نمایاں کیا جاتا ہے کہ نصرت اور غلبہ نہ تو ناممکن ہے۔ اور نہ ہی مشکل ہے۔ اگر اللہ کی حکمت کا تقاضا ہوتا تو یہ اللہ کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے ، یہی اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ اللہ کی افواج لاتعداد ہیں ، ان پر کوئی قوت غالب نہیں آسکتی۔ لیکن اللہ نے غلبے کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ وللہ جنود السموت والارض وکان اللہ علیما حکیما (48 : 4) ” زمین اور آسمانوں کے لشکر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے “۔ یہ اللہ کی حکمت ہے اور اس کا علم ہے جو معاملات کو اپنی مرضی سے چلاتے ہیں۔ اور اس علم اور حکمت ہی کا تقاضا تھا کہ۔ انزل السکینۃ فی قلوب المومنین (48 : 4) لیزدادو ایمانا مع ایمانھم (48 : 4) ” جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل کی تا کہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں “۔ تا کہ ان کے لئے اللہ نے جو بڑی کامیابی مقدر رکھی ہے ، وہ پوری ہوجائے۔ لیدخل المومنین ۔۔۔۔۔ فوزا عظیما (48 : 5) ” تا کہ مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لئے ایسی جنتوں میں داخل فرنائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور ان کی برائیاں ان سے دور کر دے۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے “۔ اگر اس بات کو اللہ فوز عظیم قرار دیتا ہے تو یہ فی الواقع فوز عظیم ہے۔ اپنی حقیقت میں فوز عظیم ہے۔ یہ ایک عظیم کامیابی ہے ، ان لوگوں کے خیال میں جن کو وہ ملی ہے ، اللہ کی تقدیر کے مطابق اور اللہ کے پیمانوں کے مطابق۔ اس وقت مسلمان بہت خوش تھے ان فتوحات پر جو اللہ نے ان کے لئے لکھ دی تھیں۔ جب انہوں نے اس سورت کا یہ آغاز سنا تو وہ ان فتوحات کی امید کرتے تھے۔ ان کے انتظار میں تھے اور ان کو علم ہوگیا تھا کہ اللہ رسول اللہ ﷺ پر کیا کیا مہربانیاں کرنے والا ہے۔ اور اس میں ان کو جو حصہ ہے اس کے لئے وہ انتظار میں تھے۔ اور آپ سے پوچھتے رہتے تھے اور جب انہوں نے سنا اور جانا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

الفتح 48:6

اس کے بعد اللہ کی حکمت کا ایک دوسرا پہلو سامنے آتا ہے ، جو اللہ نے اس واقعہ میں رکھا ہوا تھا یہ کہ منافقین اور منافقات کو سزا دے اور مشرکین اور مشرکات سے ایسے کاموں کا صدور ہو اور وہ سزاؤں کے مستحق ہوجائیں۔ ویعذب المنفقین والمنقت ۔۔۔۔۔۔۔ وساءت مصیرا (6) واللہ جنود ۔۔۔۔۔ عزیز حکیما (48 : 7) ” اور ان منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں۔ برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آگئے ، اللہ کا غضب ان پر ہو اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لئے جہنم مہیا کردی جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ زمین اور آسمان کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ اس آیت میں اللہ نے مشرکین اور مشرکات ، منافقات اور منافقین کو صفت سوء ظن میں شریک کیا ہے اور اس صفت میں کہ ان کو یقین نہ تھا کہ اللہ مومنین کی امداد کرے گا۔ اس لیے اللہ نے ان کو اس سزا میں بھی شریک رکھا کہ ان پر برائی کا پھیر آگیا اور یہ خود ہی گھیرے گئے۔ اور یہ برائی ان پر پڑنے والی ہے ۔ اور ان سب پر اللہ کا غضب ہے اور سب پر اللہ کی لعنت ہے اور ان سب کا انجام بھی برا ہے اور یہ اس میں شریک ہیں۔ یہ اس لیے کہ نفاق ایک بہت ہی ذلیل حرکت ہے۔ یہ شرک کے برابر ہے بلکہ شرک سے بھی بری ہے اور گری ہوئی حرکت ہے۔ اور مسلمانوں کو اذیت دینے میں ان منافقین اور منافقات کا کردار مشرکین اور مشرکات سے کم نہیں ہے۔ اگرچہ دونوں کی اذیتوں کا دائرہ اور نوعیت مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کی اہم صفت یہ قرا ردی ہے کہ یہ اللہ کے بارے میں بدگمانیاں کرتے ہیں۔ ایک مومن اپنے رب کے ساتھ حن ظن رکھتا ہے اور ہمیشہ اللہ سے خیر چاہتا ہے۔ اور خیر کی توقع کرتا ہے خواہ اس کے حالات اچھے ہوں یا وہ مشکلات میں ہو۔ وہ اپنے ایمان کو مضبوط کرتا ہے کہ دونوں حالات میں اللہ سے بھلائی چاہتا ہے۔ اس لیے کہ اس کا دل اللہ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ بھلائی کے چشمہ کو کبھی بند نہیں فرماتا۔ جب انسان کا قلب واصل باللہ ہو تو وہ اس حقیقت کو محسوس کرتا ہے اور براہ راست اس کا ذائقہ محسوس کرتا ہے۔ رہے منافق اور مشرک تو ان کو تعلق باللہ کی نعمت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ اس حقیقت کو محسوس نہیں کرتے اور نہ اسے اپنے اندر پاتے ہیں۔ پس وہ اللہ کے ساتھ سوء ظن کرتے ہیں اور صرف ظاہری امور کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں اور اپنے احکام کو ظاہری امور پر مبنی کرتے ہیں۔ جب کوئی ظاہری علامات ان کو نظر آتی ہیں تو وہ توقع کرتے ہیں کہ ان پر بھی مصیبت آگئی اور مسلمانوں پر بھی۔ ان کو اللہ کی تقدیر اور تدبیر پر کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ حالانکہ اللہ کی تقدیر اور تدبیر بعض اوقات نظروں سے اوجھل ہو کر کام کرتی ہیں۔ اس آیت میں اللہ نے اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مختلف انواع و اقسام کو جمع کیا ، ان کا حال بیان کیا اور بتایا کہ ان کے لئے کس قدر برا انجام ہے اور آخر میں بتایا کہ ان کا سوء ظن غلط ہے۔ اللہ کی قدرت وسیع اور حکمت دور رس ہے۔ وللہ جنود السموت والارض وکان اللہ عزیز حکیما (48 : 7) ” زمین و آسمان کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست و حکیم ہے “۔ لہٰذا ان دشمنان اسلام کی کوئی بات اللہ کو عاجز نہیں کرسکتی ، ان کی کوئی سرگرمی اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو زمین و آسمان کی قوتوں کا مالک ہے اور عزیز و حکیم ہے۔ اس کے بعدنبی ﷺ کی طرف رخ کیا جاتا ہے کہ آپ کا فرض منصبی کیا ہے۔ اور اس سلسلے میں اہل ایمان کے فرائض کیا ہیں۔ آپ نے ان تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ وہ ایمان لا چکے ، بیعت الرضوان میں براہ راست اللہ سے بیعت بھی کرچکے ۔ یہ عہد انہوں نے براہ راست اللہ سے کیا ہے۔ اس لیے یہ نہایت ہی عظیم مقام ہے جس تک وہ پہنچ گئے ہیں۔ یاد رکھیں کہ اس بیعت اور عقد کی ذمہ داریاں بھی عظیم ہیں۔

الفتح 48:7

اس کے بعد اللہ کی حکمت کا ایک دوسرا پہلو سامنے آتا ہے ، جو اللہ نے اس واقعہ میں رکھا ہوا تھا یہ کہ منافقین اور منافقات کو سزا دے اور مشرکین اور مشرکات سے ایسے کاموں کا صدور ہو اور وہ سزاؤں کے مستحق ہوجائیں۔ ویعذب المنفقین والمنقت ۔۔۔۔۔۔۔ وساءت مصیرا (6) واللہ جنود ۔۔۔۔۔ عزیز حکیما (48 : 7) ” اور ان منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں۔ برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آگئے ، اللہ کا غضب ان پر ہو اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لئے جہنم مہیا کردی جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ زمین اور آسمان کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ اس آیت میں اللہ نے مشرکین اور مشرکات ، منافقات اور منافقین کو صفت سوء ظن میں شریک کیا ہے اور اس صفت میں کہ ان کو یقین نہ تھا کہ اللہ مومنین کی امداد کرے گا۔ اس لیے اللہ نے ان کو اس سزا میں بھی شریک رکھا کہ ان پر برائی کا پھیر آگیا اور یہ خود ہی گھیرے گئے۔ اور یہ برائی ان پر پڑنے والی ہے ۔ اور ان سب پر اللہ کا غضب ہے اور سب پر اللہ کی لعنت ہے اور ان سب کا انجام بھی برا ہے اور یہ اس میں شریک ہیں۔ یہ اس لیے کہ نفاق ایک بہت ہی ذلیل حرکت ہے۔ یہ شرک کے برابر ہے بلکہ شرک سے بھی بری ہے اور گری ہوئی حرکت ہے۔ اور مسلمانوں کو اذیت دینے میں ان منافقین اور منافقات کا کردار مشرکین اور مشرکات سے کم نہیں ہے۔ اگرچہ دونوں کی اذیتوں کا دائرہ اور نوعیت مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کی اہم صفت یہ قرا ردی ہے کہ یہ اللہ کے بارے میں بدگمانیاں کرتے ہیں۔ ایک مومن اپنے رب کے ساتھ حن ظن رکھتا ہے اور ہمیشہ اللہ سے خیر چاہتا ہے۔ اور خیر کی توقع کرتا ہے خواہ اس کے حالات اچھے ہوں یا وہ مشکلات میں ہو۔ وہ اپنے ایمان کو مضبوط کرتا ہے کہ دونوں حالات میں اللہ سے بھلائی چاہتا ہے۔ اس لیے کہ اس کا دل اللہ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ بھلائی کے چشمہ کو کبھی بند نہیں فرماتا۔ جب انسان کا قلب واصل باللہ ہو تو وہ اس حقیقت کو محسوس کرتا ہے اور براہ راست اس کا ذائقہ محسوس کرتا ہے۔ رہے منافق اور مشرک تو ان کو تعلق باللہ کی نعمت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ اس حقیقت کو محسوس نہیں کرتے اور نہ اسے اپنے اندر پاتے ہیں۔ پس وہ اللہ کے ساتھ سوء ظن کرتے ہیں اور صرف ظاہری امور کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں اور اپنے احکام کو ظاہری امور پر مبنی کرتے ہیں۔ جب کوئی ظاہری علامات ان کو نظر آتی ہیں تو وہ توقع کرتے ہیں کہ ان پر بھی مصیبت آگئی اور مسلمانوں پر بھی۔ ان کو اللہ کی تقدیر اور تدبیر پر کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ حالانکہ اللہ کی تقدیر اور تدبیر بعض اوقات نظروں سے اوجھل ہو کر کام کرتی ہیں۔ اس آیت میں اللہ نے اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مختلف انواع و اقسام کو جمع کیا ، ان کا حال بیان کیا اور بتایا کہ ان کے لئے کس قدر برا انجام ہے اور آخر میں بتایا کہ ان کا سوء ظن غلط ہے۔ اللہ کی قدرت وسیع اور حکمت دور رس ہے۔ وللہ جنود السموت والارض وکان اللہ عزیز حکیما (48 : 7) ” زمین و آسمان کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست و حکیم ہے “۔ لہٰذا ان دشمنان اسلام کی کوئی بات اللہ کو عاجز نہیں کرسکتی ، ان کی کوئی سرگرمی اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو زمین و آسمان کی قوتوں کا مالک ہے اور عزیز و حکیم ہے۔ اس کے بعدنبی ﷺ کی طرف رخ کیا جاتا ہے کہ آپ کا فرض منصبی کیا ہے۔ اور اس سلسلے میں اہل ایمان کے فرائض کیا ہیں۔ آپ نے ان تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ وہ ایمان لا چکے ، بیعت الرضوان میں براہ راست اللہ سے بیعت بھی کرچکے ۔ یہ عہد انہوں نے براہ راست اللہ سے کیا ہے۔ اس لیے یہ نہایت ہی عظیم مقام ہے جس تک وہ پہنچ گئے ہیں۔ یاد رکھیں کہ اس بیعت اور عقد کی ذمہ داریاں بھی عظیم ہیں۔

الفتح 48:8

اے نبی ﷺ ، جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ اب جو اس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا ، اور جو اس عہد کو وفا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے ، اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا “۔ رسول اللہ ﷺ ان تمام لوگوں پر گواہ ہیں جن کی طرف آپ کو بھیجا گیا ہے۔ آپ شہادت دیں گے کہ جو پیغام آپ کو دے کر بھیجا گیا تھا آپ نے وہ لوگوں تک پہنچا دیا ہے اور یہ کہ لوگوں کا رد عمل یہ رہا ہے۔ اور ان میں سے بعض مومن ہوئے۔ بعض نے کفر اختیار کیا اور بعض نے منافقت کا رویہ اختیار کیا۔ بعض لوگوں نے اصلاح قبول کی اور بعض بدستور مفسد رہے تو حضور ﷺ نے جس طرح رسالت کا حق ادا کیا اور پیغام پہنچایا اسی طرح حضور ﷺ شہادت بھی دیں گے کیونکہ حضور ﷺ مبشر ہیں ، خوش خبری دینے والے ہیں ، اچھے انجام اور اللہ کی مغفرت کی اور اچھے انجام کی ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اطاعت کی اور ڈرانے والے ہیں کافروں ، منافقوں اور مفسد نافرمانوں کو کہ ان کا انجام برا ہوگا۔ ان پر اللہ کا غضب ہوگا ، لعنت ہوگی اور سخت سزا ہوگی۔ یہ تو ہے رسول اللہ ﷺ کا فرض منصبی۔ اس کے بعد مومنین سے خطاب ہے کہ رسالت کے حوالے سے تمہارے فرائض کیا ہیں ؟ یہ کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ، اس کے بعد ایمان کے تقاضے پورے کرو ، اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں اللہ اور رسول ﷺ کی مدد کرو ، رسول اللہ ﷺ کا غایت درجہ احترام کرو ، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح و تمجید کرو ، یعنی پورے دن اللہ کی بندگی کرو کیونکہ دن کے دونوں اطراف کا ذکر کر کے اس سے مراد پورا دن لیا گیا ہے۔ یعنی ہر وقت اللہ سے جڑے رہو۔ یہ ہے ایمان کا ثمرہ اور پھل جس کی ہر مومن سے توقع کی جاتی ہے اور رسول کو شاہد ، مبشر اور نذیر اسی لیے بنا کر بھیجا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے آنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ آپ لوگوں کے لو اور اللہ کے درمیان رابطہ قائم کر کے ایسی بیعت اور ایسا معاہدہ کرا دیں کہ آپ ﷺ کے چلے جانے کے بعد بھی یہ رابطہ قائم رہے۔ جب لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کریں تو گویا انہوں نے اللہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی۔

الفتح 48:9

اے نبی ﷺ ، جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ اب جو اس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا ، اور جو اس عہد کو وفا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے ، اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا “۔ رسول اللہ ﷺ ان تمام لوگوں پر گواہ ہیں جن کی طرف آپ کو بھیجا گیا ہے۔ آپ شہادت دیں گے کہ جو پیغام آپ کو دے کر بھیجا گیا تھا آپ نے وہ لوگوں تک پہنچا دیا ہے اور یہ کہ لوگوں کا رد عمل یہ رہا ہے۔ اور ان میں سے بعض مومن ہوئے۔ بعض نے کفر اختیار کیا اور بعض نے منافقت کا رویہ اختیار کیا۔ بعض لوگوں نے اصلاح قبول کی اور بعض بدستور مفسد رہے تو حضور ﷺ نے جس طرح رسالت کا حق ادا کیا اور پیغام پہنچایا اسی طرح حضور ﷺ شہادت بھی دیں گے کیونکہ حضور ﷺ مبشر ہیں ، خوش خبری دینے والے ہیں ، اچھے انجام اور اللہ کی مغفرت کی اور اچھے انجام کی ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اطاعت کی اور ڈرانے والے ہیں کافروں ، منافقوں اور مفسد نافرمانوں کو کہ ان کا انجام برا ہوگا۔ ان پر اللہ کا غضب ہوگا ، لعنت ہوگی اور سخت سزا ہوگی۔ یہ تو ہے رسول اللہ ﷺ کا فرض منصبی۔ اس کے بعد مومنین سے خطاب ہے کہ رسالت کے حوالے سے تمہارے فرائض کیا ہیں ؟ یہ کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ، اس کے بعد ایمان کے تقاضے پورے کرو ، اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں اللہ اور رسول ﷺ کی مدد کرو ، رسول اللہ ﷺ کا غایت درجہ احترام کرو ، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح و تمجید کرو ، یعنی پورے دن اللہ کی بندگی کرو کیونکہ دن کے دونوں اطراف کا ذکر کر کے اس سے مراد پورا دن لیا گیا ہے۔ یعنی ہر وقت اللہ سے جڑے رہو۔ یہ ہے ایمان کا ثمرہ اور پھل جس کی ہر مومن سے توقع کی جاتی ہے اور رسول کو شاہد ، مبشر اور نذیر اسی لیے بنا کر بھیجا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے آنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ آپ لوگوں کے لو اور اللہ کے درمیان رابطہ قائم کر کے ایسی بیعت اور ایسا معاہدہ کرا دیں کہ آپ ﷺ کے چلے جانے کے بعد بھی یہ رابطہ قائم رہے۔ جب لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کریں تو گویا انہوں نے اللہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی۔

الفتح 48:10

ان الذین یبایعونک ۔۔۔۔ فوق ایدیھم (48 : 10) ” اے نبی ﷺ جو تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے ، ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا “۔ یہ بات مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ہونے والی بیعت کو بہت ہی نازل اور ذمہ دارانہ بناتی ہے کہ لوگوں کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ ہے اس عقد میں اللہ کا بھی ہاتھ تھا۔ اللہ یہ بیعت لینے والا تھا اور بیعت کرنے والوں کے ہاتھ کے اوپر اللہ کا ہاتھ تھا اور اللہ کی ذات ! کس قدر عظیم ذات ہے اللہ ، اللہ جو صاحب جلال و اکرام ہے ! اس کا ہاتھ ! اس شعور اور تصور سے انسان کے دل سے اس عہد کو توڑنے کا خیال ہی نکل جاتا ہے۔ چاہے رسول اللہ اس دنیا سے اٹھ ہی کیوں نہ جائیں۔ اللہ تو بہرحال حاضر ہے۔ وہی تو اس عہد کا اصلی فریق ہے اور وہی نگران ہے۔ فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ (48 : 10) “ جو شخص اس عہد کو توڑے گا ، اس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ذات پر ہوگا ”۔ اسی کو خسارہ ہوگا۔ اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان جو سودا ہوا ہے۔ اس میں فائے میں رہنے والی پارٹی تو وہ خود ہے۔ اللہ تو دونوں جہانوں سے بےنیاز ہے۔ لہٰذا اگر یہ عہد توڑے گا تو نقصان اسی کو ہوگا۔ یہ اللہ کے غضب اور اللہ کی سزا کا مستحق ہوگا۔ کیونکہ اللہ نقص عہد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ، اللہ تو وفا۔ عہد کرنے والوں اور وفاداروں کو پسند کرتا ہے۔ ومن اوفی ۔۔۔۔۔۔۔ اجرا عظیما (48 : 10) “ اور جو اس عہد کو وفا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا ”۔ علی الاطلاق اجر عظیم ہوگا۔ تفصیلات کے سوا ہی۔ کیونکہ اللہ عظیم ہے جو یہ عہد کر رہا ہے۔ لہٰذا اس کا اجر بھی عظیم ہے۔ یہ اللہ کے حساب سے عظیم ہے۔ انسان تو اس اجر اور اس اجر کے عطا کرنے والے کی عظمت کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ انسان نہ اللہ کی عظمت کا تصور کرسکتا ہے نہ اللہ کے عظیم پیمانوں کا تصور کرسکتا ہے کیونکہ انسان خود بھی چھوٹا ہے اور اس کا تصور بھی چھوٹا ہے۔ جب بات بیعت کی حقیقت پر ہو رہی تھی اور وفاداری اور بےوفائی تک پہنچی تو ان لوگوں کا ذکر شروع ہوا ، جنہوں نے اس موقعہ پر بےوفائی کی۔ یعنی مدینہ کے اردگرد دیہات میں رہنے والے لوگ ۔ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر حدیبیہ میں نکلنے سے اس لیے انکار کیا کہ ان کو اللہ کے ساتھ بدظنی تھی اور اس موقعہ پر جو مومنین جارہے تھے ان کے بارے میں ان کو توقع تھی کہ وہ مصیبت میں گرفتار ہوں گے اور نقصان اٹھائیں گے جو قریش کے پاس ان کے گھروں کو جا رہے تھے۔ اس سے قبل یہ قریش مسلسل دو سال مدینہ میں جا کر مسلمانوں کے ساتھ لڑتے رہے تھے۔ ان کے بارے میں اس سورت میں حضور ﷺ کو پیشگی اطلاع کردی گئی ہے کہ جب آپ اور آپ کے رفقاء صحیح سلامت مدینہ پہنچیں گے تو ان لوگوں کے عذرات کیا ہوں گے۔ ان کا خیال تو یہ تھا کہ مسلمان واپس ہی نہ ہوں گے حالانکہ قریش نے مسلمانوں کے ساتھ دس سالہ صلح کرلی۔ اگرچہ شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں ۔ لیکن دراصل قریش نے اپنے موقف سے پسپائی اختیار کی۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو اپنے مساوی تسلیم کیا ، صلح کر کے دشمنی سے اپنے آپ کو چھڑایا۔ بہرحال یہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے عدم خروج کے اصل اسباب بھی بتا دیتا ہے اور ان لوگوں کو حضور اکرم ﷺ اور مسلمانوں کے سامنے عریاں کر کے رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس جنگ میں آپ کے ساتھ ، جو نکلے ہیں ، ان کے لئے اچھا مستقبل ہے۔ وہ یہ کہ مستقبل میں ان کو ہی نہایت ہی وافر مقدار میں اموال غنیمت ، فتوحات اور کامیابیاں ملیں گی اور یہ لوگ جو اس مہم سے پیچھے رہ گئے تھے یہ ان سے محروم ہوں گے۔ مستقبل کی آسان مہمات میں یہ اعراب چاہیں گے کہ آپ کے ساتھ جنگ کے لئے نکلیں تا کہ اموال غنیمت میں اپنا حصہ پائیں۔ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ آسان مہمات میں اب ان کی پیشکش کو قبول نہ فرمائیں۔ اور ان آنے والی مہمات میں صرف ان لوگوں کو لے جائیں جو حدیبیہ میں شریک تھے۔ یہاں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر تم سچے طور پر جہاد کرنے والے ہو تو تمہیں سخت طاقتور دشمن کے ساتھ لڑنے کے لئے موقعہ دیا جائے گا ۔ اگر فی الواقع تم جنگ کرنا چاہتے ہو اس وقت پھر نکلنا۔ وہاں اللہ تمہارا جو حصہ ہوگا ، دے گا۔ اگر انہوں نے اس وقت اطاعت کی تو اجر عظیم کے مستحق ہوں گے

الفتح 48:11

سیقول لک المخلفون ۔۔۔۔۔ بما تعملون خبیرا (11) بل ظننتم ان لن ۔۔۔۔۔۔ قوما بورا (12) ومن لم یومن باللہ ۔۔۔۔۔ سعیرا (13) وللہ ملک السموت ۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (14) سیقول المخلفون ۔۔۔۔۔۔ الا قلیلا (15) قل للمخلفین من الاعراب ۔۔۔۔۔ عذابا الیما (16) (48 : 11 تا 16) “ اے نبی ﷺ بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دئیے گئے تھے اب وہ آکر ضرور تم سے کہیں گے کہ “ ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کر رکھا تھا ، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں ”۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ ان سے کہنا “ اچھا ، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے۔ اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے ؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے۔ (مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو ) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کئے اور تم سخت بدباطن لوگ ہو۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگی مہیا کر رکھی ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے ، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے ، اور وہ غفور ورحیم ہے۔ جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لئے جانے لگو تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔ ان سے صاف کہہ دینا کہ “ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے ”۔ یہ کہیں گے کہ “ نہیں ، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو ”۔ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں۔ ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ “ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لئے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے ۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا ، اور اگر تم پھر اسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا ”۔ قرآن کریم نے یہاں صرف ان لوگوں کے اقوال نقل کر کے ان کی تردید پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ اس بہترین موقعہ پر ان کی گہری نفسیات کو لیا ہے۔ ان کے دلوں کے اندر اٹھنے والے وساوس اور خیالات کو لیا ہے ۔ اور پھر اس کے لئے علاج تجویز کیا ہے۔ ان کے اندر جو اخلاقی بیماریاں تھیں ، یہاں ان کی تشخیص کی گئی تا کہ ان کا مناسب علاج کیا جائے۔ جو حقائق ہیں وہ باقی رہیں اور اسلامی تصور حیات کے اصل الاصول واضح کر کے باقی رکھے جائیں۔ مدینہ کے اردگرد کے جو دیہاتی ، باوجود دعوت کے ، حدیبیہ کے موقعہ پر رہ گئے تھے وہ قبائل غفار ، مزینہ اشجع اور اسلم وغیرہ تھے۔ قرآن کہتا ہے ان کا عذر یہ ہوگا۔ شغلتنا اموالنا واھلونا (48 : 11) “ ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول رکھا ”۔ اور یہ تو کوئی عذر نہیں ہے۔ ہمیشہ ہر کسی کا مال اور اولاد اور اہل و عیال تو ہوتے ہی ہیں ، اگر ایسے عذرات مقبول ہوں تو پھر کوئی شخص بھی نظریاتی کام اور اپنے عقیدے اور دعوت اسلامی کی ذمہ داریوں کے لئے کوئی وقت نہ پائے گا۔ اور دوسری بات وہ یہ کہیں گے۔ فاستغفرلنا (48 : 11) “ آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں ”۔ لیکن پھر اس میں بھی سچ نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے۔ یقولون بالسنتھم ما لیس فی قلوبھم (48 : 11) “ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو دلوں میں نہیں ہوتیں ”۔ اس موقعہ پر ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا ایک نظام قضا و قدر ہے اور اسے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔ جنگ سے پیچھے رہ جانا تقدیر کو نہیں روک سکتا۔ نہ کسی اقدام کو روکا جاسکتا ہے۔ اللہ کی قدرت کے اندر تم لوگ گھرے ہوئے ہو۔ وہ جس طرح چاہتا ہے ، تصرف کرتا ہے اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے۔ وہ علم کے مطابق تصرفات کرتا ہے۔ قل فمن یملک ۔۔۔۔۔ تعملون خبیرا (48 : 11) “ ان سے کہنا “ اچھا ، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھنا ہے۔ اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے ؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے ”۔ اس سوال ہی میں بتا دیا کہ ایک سچے مومن کا رویہ کیا ہونا چاہئے ، اسے چاہئے کہ وہ اللہ کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ اللہ کے احکام کی فوراً تعمیل کرے اور اس میں لیت و لعل نہ کرے۔ کیونکہ توقف کرنے اور لیت و لعل کرنے سے نہ کوئی نقصان رفع ہو سکتا ہے اور نہ نفع موخر ہو سکتا ہے۔ اور عذرات گھڑنا اس سے مخفی نہیں ہے۔ اللہ جزاء و سزا اپنے علم کے مطابق دیتا ہے۔ اس لیے عذرات گھڑنے سے اس کے ہاں کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ نہایت ہی بروقت ہدایت ہے۔ مناسب فضا میں ہے اور یہی قرآن کا طریقہ ہے کہ وہ نہایت ہی مناسب وقت پر ٹوک دیتا ہے۔

الفتح 48:12

بل ظننتم ان لن ۔۔۔۔۔۔ قوما بورا (48 : 12) “ بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دل کو بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کئے اور تم سخت بدباطن لوگ ہو ”۔ یوں اللہ ان لوگوں کو عریاں کر کے چھوڑ دیتا ہے۔ ان کی نیت اور دلوں کا حال ان کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے جو اندازے لگا رکھے تھے وہ بھی ان کو بتا دئیے گئے ۔ اللہ کے بارے میں ان کے دلوں میں جو سوئے ظن تھا وہ بھی بتا دیا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ رسول اللہ اپنے ساتھیوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں ۔ لہٰذا مدینہ کو واپس آنے والے نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ ان لوگوں کے منہ میں جا رہے ہیں جنہوں نے ان کے گھر میں آکر ان سے جنگ کی ہے اور انہوں نے مدینہ میں آکر رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کو قتل کیا ہے۔ ان کا اشارہ احد اور احزاب کی طرف تھا۔ ان لوگوں نے اللہ کی قوتوں اور اللہ کی مہربانیوں کا حساب نہ لگایا تھا کہ اللہ اپنے مخلص بندوں پر کیا کیا کرم کرتا ہے۔ نیز انہوں نے معاملات کو سیکولر طریقے سے سوچا تھا اور ان کے دل اسلامی نظریہ حیات سے خالی تھے ، ان کے نزدیک فرض اور ڈیوٹی تو کوئی چیز ہی نہ تھی۔ حالانکہ اسلامی نظریہ کے کچھ تقاضے تھے اور ان کے لئے ہر قربانی ہیچ سمجھی جانی چاہئے تھی۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور آپ کی معیت کو نفع و ضرر ، نفع و نقصان کے حساب و کتاب سے برتر ہونا چاہئے تھا۔ یہ تو وہ فریضہ تھا جسے نتائج کی پرواہ کئے بغیر ان کو ادا کرنے چاہئے تھا۔ بہرحال انہوں نے بدگمانیاں کیں اور بدظنی اور بدگمانی ان کے لئے خوشنما بنا دی گئی۔ ان کو اس بدگمانی کے علاوہ کچھ نظر ہی نہ آتا تھا۔ انہوں نے اس بدظنی کے سوا کسی دوسرے واقعہ یا کسی دوسرے رخ کے بارے میں سوچا ہی نہیں ، اور یہی ان کی جانب سے سوء ظن تھا۔ یہ اس لیے پیدا ہوا تھا کہ ان کے دل برے تھے۔ ان کو یہاں “ قوم بور ” کہا گیا ہے۔ یہ عجیب انداز تعبیر ہے۔ “ بور ” اس زمین کو کہتے ہیں جو بنجر ہو اور اس میں کوئی روئیدگی نہ ہو۔ نہ کوئی درخت اور پھل ہوں ، نہ کوئی سنہری فصل ہو۔ جس دل میں حسن ظن کی سر سبزی نہ ہو ، پھر اللہ کے بارے میں پرامید نہ ہو اور اس کے اندر کوئی حسن ظن نہ ہو ، تو وہ بنجر ہے ، وہ مردہ ہے اور آخر کار اس نے برباد اور تباہ ہونا ہے۔ جماعت مومنہ کے بارے میں آج بھی بعض لوگ اس انداز سے سوچتے ہیں ، اس قسم کے لوگ جس طرح مدینہ کے اردگرد بستے تھے ، جن کے دل خشک تھے اور ان میں زندگی کی روح نہ تھی۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ باطل پرستوں کا پلڑا بھاری ہے اور دنیا کی زیادہ قوتیں اہل شر اور اہل باطن کے ساتھ ہیں۔ نیک لوگ تعداد میں بہت کم ہیں ، یا وسائل کے لحاظ سے غریب ہیں ، یا مرتبہ اور مال و دولت کے اعتبار سے کم ہیں۔ یہ دیہاتی ، بدوی اور اس قسم کے لوگ ہر زمان و مکان میں یہی کچھ سوچتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی سوچ کچھ یوں ہوتی ہے کہ اہل ایمان یا اسلام کے چاہنے والوں کا مقابلہ چونکہ بڑی قوتوں سے ہے اور یہ قوتیں بظاہر بہت ہی پھولی ہوئی ہیں لہٰذا ان مٹھی بھر اسلام والوں کی خیر نہیں ہے۔ لہٰذا مناسب یہی ہے کہ ان سے دور رہا جائے۔ ایسے لوگ ہر وقت یہ توقع رکھتے ہیں کہ آج یا کل ان کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا۔ اور یہ دعوت ہی ختم ہوجائے گی۔ اس لیے وہ بطور احتیاط اس راہ سے جدا دوسرے راستے پر چلتے ہیں۔ لیکن اللہ اس قسم کے لوگوں کے سوء ظن کو ہمیشہ ناکام بنا دیتا ہے اور اللہ اپنے فضل و کرم کے حالات کو تبدیل فرماتا ہے اور اپنی تدابیر سے اپنے بندوں کے لئے راہ ہموار کردیتا ہے۔ اللہ اپنے پیمانوں سے ناپتا ہے ، جو حقیقی پیمانے ہیں۔ اور جو اللہ کے قوی ہاتھ میں ہیں۔ وہ بعض لوگوں کو گراتا ہے اور بعض کو اٹھاتا ہے اور کافرین ، منافقین اور اللہ کے بارے میں سوئے ظن رکھنے والوں کو اس کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ اور اس قسم کے لوگ ہر دور اور ہر زمانے میں ہوتے ہیں۔ اصل ترازو ایمان کا ترازو ہے۔ اللہ تعالیٰ ان بدوی مسلمانوں کو کہتا ہے کہ اس ترازو سے تولو ، اور اس ترازو کے مطابق ہی اعمال کی جزاء تجویز فرماتا ہے ، اللہ کی رحمت اس ترازو کے ساتھ ہے۔ فرصت کے لمحات قلیل ہیں ، اللہ کی رحمت اور مغفرت کو حاصل کرو اور فائدہ اٹھاؤ !

الفتح 48:13

ومن لم یومن ۔۔۔۔ للکفرین سعیرا (48 : 13) وللہ ملک السموت ۔۔۔۔ غفورا رحیما (48 : 14) “ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے ، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے ، اور وہ غفور و رحیم ہے ” ۔ یہ لوگ اپنے اموال اور اہل و اولاد کا عذر پیش کرتے تھے۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ جہنم جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہوئی ہے ، اس میں مال و اولاد کیا فائدہ دیں گے ، اگر وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائے۔ غرض ترازو کے دو پلڑے ہیں۔ ایک ایمان کا دوسرا کفر و نفاق اور سوء ظن کا ، ان میں ان کو ایک کو قبول کرلینا چاہئے۔ اللہ جو تمہیں ڈراتا ہے وہ آسمانوں اور زمین کی قوتوں کا مالک ہے۔ وہ عذاب بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی کرسکتا ہے۔ اللہ لوگوں کو جزا یا سزا ان کے اعمال پر دیتا ہے۔ لیکن اس کی مشیت مطلق و آزاد ہے۔ اس پر کوئی قید نہیں ہے۔ یہ بات یہاں اس لیے بتا دی گئی کہ لوگوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اعمال پر جزاء بھی اسی نے طے کی ہے۔ اللہ کی رحمت اور مغفرت سب کے لئے قریب ہے۔ مناسب ہے کہ لوگ اسے طلب کریں۔ قبل اس کے کہ اللہ کے عذاب کا فیصلہ صادر ہوجائے ، اور یہ فیصلہ ظاہر ہے انہی لوگوں کے لئے ہوگا جو اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائیں گے۔ اس کے بعد اللہ ان اموال غنیمت کی طرف اشارہ فرماتا ہے جو مومنین کے لئے مقدر ہوچکے ہیں۔ اور یہ ان لوگوں کی بدگمانیوں کے بالکل متضاد صورت حالات ہوگی اور انداز کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات بہت ہی قریب وقت میں رونما ہونے والے ہیں۔

الفتح 48:14

ومن لم یومن ۔۔۔۔ للکفرین سعیرا (48 : 13) وللہ ملک السموت ۔۔۔۔ غفورا رحیما (48 : 14) “ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے ، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے ، اور وہ غفور و رحیم ہے ” ۔ یہ لوگ اپنے اموال اور اہل و اولاد کا عذر پیش کرتے تھے۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ جہنم جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہوئی ہے ، اس میں مال و اولاد کیا فائدہ دیں گے ، اگر وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائے۔ غرض ترازو کے دو پلڑے ہیں۔ ایک ایمان کا دوسرا کفر و نفاق اور سوء ظن کا ، ان میں ان کو ایک کو قبول کرلینا چاہئے۔ اللہ جو تمہیں ڈراتا ہے وہ آسمانوں اور زمین کی قوتوں کا مالک ہے۔ وہ عذاب بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی کرسکتا ہے۔ اللہ لوگوں کو جزا یا سزا ان کے اعمال پر دیتا ہے۔ لیکن اس کی مشیت مطلق و آزاد ہے۔ اس پر کوئی قید نہیں ہے۔ یہ بات یہاں اس لیے بتا دی گئی کہ لوگوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اعمال پر جزاء بھی اسی نے طے کی ہے۔ اللہ کی رحمت اور مغفرت سب کے لئے قریب ہے۔ مناسب ہے کہ لوگ اسے طلب کریں۔ قبل اس کے کہ اللہ کے عذاب کا فیصلہ صادر ہوجائے ، اور یہ فیصلہ ظاہر ہے انہی لوگوں کے لئے ہوگا جو اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائیں گے۔ اس کے بعد اللہ ان اموال غنیمت کی طرف اشارہ فرماتا ہے جو مومنین کے لئے مقدر ہوچکے ہیں۔ اور یہ ان لوگوں کی بدگمانیوں کے بالکل متضاد صورت حالات ہوگی اور انداز کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات بہت ہی قریب وقت میں رونما ہونے والے ہیں۔

الفتح 48:15

سیقول المخلفون ۔۔۔۔۔۔ یفقھون الا قلیلا (48 : 15) “ جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لئے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔ ان سے صاف کہہ دینا کہ “ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے ”۔ یہ کہیں گے کہ “ نہیں ، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو ”۔ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں ”۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد فتح خیبر ہے۔ ممکن ہے فتح خیبر ہی ہو۔ اگر مراد خیبر نہ بھی ہو لیکن مراد یہی ہے کہ عنقریب مسلمان کسی مہم پر جائیں گے اور یہ لوگ کہیں گے کہ ہمیں بھی جانے دو ۔ مفسرین نے خیبر کا نام اس لئے لیا ہے کہ خیبر کا واقعہ صلح حدیبیہ کے متصلا بعد میں ہوا۔ کیونکہ فتح خیبر محرم 7 ہجری میں ہوا۔ یعنی صلح حدیبیہ کے دو ماہ بعد۔ اور اس میں اموال غنیمت بھی بہت ملے تھے اور خیبر کے قلعے جزیرۃ العرب میں سے خارج کردیا گیا تھا۔ مفسرین نے یہ بات تواتر سے کہی ہے کہ حدیبیہ کی مہم پر جانے والوں کے ساتھ اللہ کا عہد تھا کہ خیبر کے اموال غنیمت میں ان کے ساتھ کوئی شریک نہ ہوگا۔ لیکن اس بارے میں کوئی نص وارد نہیں ہے۔ شاید وہ عملی واقعات سے یہ اصول اخذ کررہے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ان کو اہل حدیبیہ کے لئے مخصوص کردیا تھا۔ اور اس مہم میں آپ نے کسی اور کو ساتھ نہ لیا تھا۔ بہرحال اللہ نے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ ﷺ پیچھے رہنے والے اعراب کی اس پیشکش کو رد کردیں جب وہ آپ ﷺ کے ساتھ قریب کے آسان اموال غنیمت کے لئے جانا چاہیں۔ اور یہ فیصلہ دے دیا کہ ان کا نکلنا اللہ کے حکم کے خلاف ہے اور پیشگی اطلاع دے دی کہ جب آپ ﷺ ان کی پیشکش کو رد کریں گے تو وہ الزام لگائیں گے کہ تم ہمارے ساتھ حسد کرتے ہو۔ بل تحسدوننا “ بلکہ تم حسد کرتے ہو ”۔ تم اس مہم میں اس لیے نہیں لے جاتے کہ تم ہمیں اموال غنیمت نہیں دینا چاہتے۔ ساتھ ہی پھر فوراً یہ کہہ دیا کہ یہ لوگ اللہ کی حکمت کو نہیں جانتے ، یہ کم فہم ہیں ۔ اللہ کی حکمت یہ ہے کہ پیچھے رہنے والوں کو ذرا محرومیت سے دوچار کیا جائے اور مطیع فرمان بندوں کو ذرا انعامات دئیے جائیں تا کہ ان کی اطاعت شعاری کا انعام انہیں ملے۔ کیونکہ انہوں نے ایسے حالات میں اطاعت کی جب سامنے موت ہی موت نظر آرہی تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے کہتا ہے کہ ان پیچھے رہ جانے والوں سے کہہ دیں کہ تمہارے لئے ایک اور امتحان کا مقام ابھی باقی ہے۔ عنقریب ایک مہم ایک زبردست قوم کے خلاف بھیجی جائے گی اور تمہیں اس میں بلایا جائے گا۔ اور یہ لوگ اسلام کی وجہ سے تمہارے ساتھ لڑیں گے۔ اگر اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تو تمہارے لیے بھی اجر ہوگا۔ اگر اس آخری امتحان میں بھی تم معصیت پر جمے رہے تو پھر تم ہمیشہ کے لئے عذاب الیم کے مستحق ہوجاؤ گے۔

الفتح 48:16

قل للمخلفین من الاعراب ۔۔۔۔۔۔ یعذبکم عذابا الیما (48 : 16) “ ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ “ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لئے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے ۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا ، اور اگر تم پھر اسی طرح نہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا ”۔ اس کی تفسیر میں بھی اختلاف ہے کہ یہ لوگ کون ہیں جن کو اولی باس شدید “ بڑے زور آور ہیں ” کہا گیا ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھے یا خلفاء راشدین کے زمانے میں تھے۔ قریب بات یہ ہے کہ یہ رسول اللہ ہی کے دور میں تھے اور مقصد یہ تھا کہ مدینہ کے ماحول میں جو بدوی عرب تھے ، ان کے ایمان کو آزمایا جائے۔ اہم بات یہ نہیں ہے کہ یہ کون تھے اہم یہ ہے کہ قرآن کا انداز تربیت کیا ہے ؟ قرآن بیمار دلوں کا علاج کس طرح کرتا ہے۔ کس طرح قرآن ہدایات دیتا ہے ، کس طرح عملاً آزماتا ہے۔ یہ بات اس سے معلوم ہوتی ہے کہ پکے مسلمانوں کے سامنے ان بدوی لوگوں کی فکری حالت کو ظاہر کیا جاتا ہے کہ خود ان پر بھی اور مسلمانوں پر ان کی حالت کھل جائے۔ اور پھر ان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ایمان اور عمل میں ٹھوس رویہ اختیار کرو ، اور اعلیٰ قدروں کو اپناؤ۔ چونکہ معاملہ آزمائش کا تھا اس لیے اللہ نے تمام مسلمانوں کے لئے خروج لازمی کردیا۔ اور ان لوگوں کو متعین کر کے بتا دیا کہ حقیقی عذر کیا ہے۔ اگر اس کے مطابق کوئی جہاد سے رہ گیا تو اسے کوئی سزا نہ ہوگی نہ گناہ ہوگا۔

الفتح 48:17

اندھا اور لنگڑا تو دائمی اعتبار سے معذور ہیں اور وہ جہاد کے لئے نہیں نکل سکتے اور بیمار وقتی طور پر معذور ہوتا ہے ۔ جب تک کہ وہ تندرست نہیں ہوتا ، وہ معذور رہتا ہے۔ اصل اور لنگڑا تو دائمی اعتبار سے معذور ہیں اور وہ جہاد کے لئے نہیں نکل سکتے اور بیمار وقتی طور پر معذور ہوتا ہے۔ جب تک کہ وہ تندرست نہیں ہوتا ، وہ معذور رہتا ہے۔ اصل بات تو اطاعت اور معصیت کی ہے اور جذبہ اطاعت اور نیت معصیت ایسے امور ہیں جن کا تعلق دل اور نفسیات سے ہے۔ ظاہری اشکال اور ظاہری عذرات سے نہیں ہے۔ جو شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے اس کی جزاء جنت ہے اور جو منہ پھیرے گا اسے یاد رکھنا چاہئے کہ عذاب الیم اس کے انتظار میں ہے۔ ہر کسی کو چاہئے کہ وہ جہاد اور اس کی مشقتوں کو ، جہاد کے اجر کو پیچھے بیٹھے رہنے کو اور اس کی راحتوں کو تولے ، ان کا باہم موازنہ کرے اور اسے ان میں سے جو بات پسند ہو ، اسے اختیار کرے۔

الفتح 48:18

درس نمبر 245 ایک نظر میں یہ پورا سبق مومنین کی باتوں پر مشتمل ہے۔ مومنین کے ساتھ مکالمہ ہے۔ اس مجموعے کے ساتھ مکالمہ جس نے درخت کے نیچے حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ، اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اللہ حاضر تھا اور اس کا گواہ تھا ، اور اس بیعت کی تصدیق و توثیق کرنے والا تھا اور بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ صحابہ کرام ؓ کا وہ گروہ جنہوں نے اپنے کانوں سے سنا کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو یہ فر ما رہا ہے : لقد ؓ ۔۔۔۔۔۔ فتحا قریبا (48 : 18) “ اللہ ان مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں کا حال اس کو معلوم تھا ، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی ”۔ یہ ان مومنین کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ہے اور ان کے ساتھ مکالمہ ہے۔ اور ان کی خوشخبری ہے کہ اللہ نے ان کے لئے بہت ہی قیمتی غنائم جمع کر رکھے ہیں۔ بہت سی فتوحات ان کو نصیب ہونے والی ہیں اور اس سفر میں بھی ان کا حامی و مدد گار رہا اور آئندہ بھی رہے گا۔ اور اللہ نے اپنی سنت کے مطابق ان کے لئے مسلسل فتوحات رکھی ہوئی ہیں اور اللہ کی سنت کبھی بدلتی نہیں ہے۔ اس میں کفار پر تنقید بھی ہے اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے کیوں اس موقعہ پر صلح کو ترجیح دی اور یہ کہ رسول ﷺ نے جو خواب دیکھا تھا وہ سچا تھا کہ مسلمان مسجد حرام میں داخل ہوں گے۔ اور یہ نہایت ہی پرامن انداز میں داخل ہوں گے اور ان کا دین بہرحال غالب ہو کر رہے گا۔ یہ سبق اور یہ سورت اس ممتاز اور منفرد جماعت صحابہ کے خدو خال پر ختم ہوتی ہے۔ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب انقلابی کام کیا۔ اور تورات اور انجیل کے حوالے سے ان کے اوصاف بیان ہوئے اور آخر میں اعلان ہوا کہ وہ مغفرت اور اجر کریم کے مستحق ہوگئے ہیں۔ میں آج چودہ سو سال بعد اسلامی تاریخ کے افق پر ، ان مقدس لمحات کو دیکھ رہا ہوں جن میں یہ پوری کائنات دیکھ رہی ہے کہ عالم بالا سے نبی کریم ﷺ کی طرف یہ اطلاع آرہی ہے۔ اور مسلمانوں کو یہ باتیں بتائی جارہی ہیں۔ میں کوشش کر رہا ہوں کہ اس کائنات کے ان صفحات کو پڑھ سکوں اور اس کائنات کے ضمیر میں ان لمحات کے اندر جو کچھ پوشیدہ تھا اسے دیکھ سکوں۔ کیونکہ یہ پوری کائنات اس وقت اللہ کے اس قول کے ساتھ ہم قدم تھی کہ یہ متعین لوگ جو اس وقت زمین کے اس متعین ٹکڑے پر موجود ہیں اور درخت کے نیچے بیعت کر رہے ہیں ، یہ زمین کا نمک ہیں۔ میں اپنی چشم بصیرت کے ساتھ ان سعادت مندان زمین کے حالات کو دیکھنا چاہتا ہوں ، جنہوں نے اپنے کانوں کے ساتھ اور ذاتی طور پر اپنی شخصیت کے ساتھ ، یہ بات سنی کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتا ہے کہ “ میں ان سے راضی ہو گیا ”۔ پھر اس مقام کا بھی تعین کردیا جاتا ہے جہاں وہ تھے ، درخت کے نیچے اور اس بیعت کا بھی تعین کردیا جاتا ہے۔ اذ یبایعونک تحت الشجرۃ (48 : 18) “ جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے ”۔ یہ آیات انہوں نے اپنے سچے نبی کی زبان سے خود سنیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو مژدہ سنایا گیا۔ یا اللہ ! ان مقدس ہستیوں نے ان لمحات کو کس طرح گزارا ، اور ان ارشادات کو کس طرح سنا ، جن میں ذات باری بذات خود ہر شخص کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اے فلاں اے فلاں ، تم میں سے راضی ہوں ، تم ہو جس نے درخت کے نیچے بیعت کی۔ تمہارے دل کی بات میں جانتا تھا۔ میں نے تم پر پھر سکینت نازل کی۔ ہم میں سے ایک شخص یہ آیت پڑھتا ہے۔ اللہ ولی الذین امنوا “ اللہ ولی اور دوست ہے ، ان لوگوں کا جو ایمان لائے ” ۔ تو وہ اپنے آپ کو سعادت مند سمجھتا ہے۔ وہ اپنے دل میں امید کرتا ہے کہ میں بھی انشاء اللہ اس آیت کے عمومی مفہوم میں شامل ہوں یا پھر کوئی پڑھتا ہے یا سنتا ہے۔ ان اللہ مع الصابرین “ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ”۔ اس لیے وہ مطمئن ہوجاتا ہے اور اپنے دل میں کہتا ہے۔ انشاء اللہ میں بھی ان صبر کرنے والوں میں سے ہوں ، لیکن وہ لوگ خود سن رہے ہیں اور خدا کے پیغمبر انہیں سنا رہے ہیں ، ایک ایک سن رہا ہے کہ اللہ کی مراد اس سے ہے ، اور وہ اس سے بات کر رہا ہے۔ اس تک پیغام بھیج رہا ہے کہ وہ اس سے راضی ہوگیا ہے۔ اس کے نفس میں جو کچھ تھا ، اسے جانتے ہوئے بھی اس سے راضی ہوگیا۔ یا اللہ کس قدر عظیم اعزاز ہے یہ ! لقد ؓ عن المومنین ۔۔۔۔۔ فتحا قریبا (48 : 18) “ اللہ مومنوں سے راضی ہوگیا ، جب وہ درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے ، ان کے دلوں کا حال اللہ کو معلوم تھا ، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی۔ ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی ”۔ اللہ نے جان لیا کہ ان کے دل میں ، اس کے دین کے لئے جوش و خروش ہے ، اپنی ذات کے لئے نہیں ہے۔ وہ جانتا تھا کہ وہ سچے دل سے بیعت کر رہے تھے۔ اللہ جانتا تھا کہ ان کے دلوں کے اندر جنگ کے سلسلے میں جو خیالات اٹھتے ہیں وہ ان کو پی رہے ہیں اور ضبط کر کے رسول اللہ ﷺ کے احکام کی تعمیل کر رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ایک مطیع فرمان مسلم کی طرح کھڑے ہوں گے۔ فانزل السکینۃ علیھم (48 : 18) “ اللہ نے ان پر سکینت نازل کر دی ”۔ یہ ایک عجیب لفظ اور انداز ہے۔ سکینہ نازل ہو رہا ہے۔ سکون ، ٹھہراؤ، وقار اور ثابت قدمی یہ ان پر نازل ہو رہے تھے۔ اس وقت ایسے حالات میں دور دھوپ ، گرمی ، غیرت اور دوسرے تاثرت کی وجہ سے لوگوں کے اندر بےچینی ہوگی ، جسے ٹھنڈک ، اطمینان اور مسرت سے بدل دیا گیا۔ واثابھم فتحا قریبا (48 : 18) “ اور ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی ”۔ یہ صلح بذات خود فتح تھی ، اس سے کئی دوسری فتوحات کا آغاز ہوا۔ فتح خیبر تو فوراً ہی ہوئی اور مفسرین کی یہ اغلب رائے ہے کہ اس سے مراد فتح خیبر ہے۔

الفتح 48:19

ومغانم کثیرۃ یاخذونھا (48 : 19) “ اور بہت سا مال غنیمت انہیں عطا کردیا جسے وہ عنقریب حاصل کریں گے ” یا تو فتح کے ساتھ یہ اموال ملے اگر مراد فتح خیبر ہو ، یا فتح کے بعد ملنے والے اموال غنیمت ۔ اگر ہم خود اس صلح ہی کو فتح قرار دیں کیونکہ اس مصالحت کی وجہ سے مسلمان کئی دوسری فتوحات کے لئے فارغ ہوگئے۔ وکاین اللہ عزیزا حکیما (48 : 19) “ اور اللہ زبردست اور حکیم ہے ”۔ یہ تمام آیات کا نتیجہ ہے یعنی اللہ کی رضا ، فتح اور بیشمار اموال غنیمت کے وعدے میں اللہ کی قوت ، قدرت اور حکمت و تدبیر کار فرما ہے۔ اور قوت اور حکمت ہی سے اللہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے۔ اس اعلان کے بعد کہ اللہ کی ذات ان بیعت کرنے والوں سے راضی ہوگئی ہے ، اب بات کا رخ خود مومنین کی طرف مڑ جاتا ہے ، اب وہ مخاطب ہیں۔ صلح ، فتح ، ہدایت اور غنیمت ہر بات کی جاتی ہے جو انہیں دی جارہی ہے :

الفتح 48:20

یہ ایک صریح خوشخبری ہے اللہ کی طرف سے ، اس کو مومنین نے سنا ، اس پر انہوں نے خوب یقین کیا اور انہوں نے جان لیا کہ ان کے لئے بہت کچھ تیار کرلیا گیا ہے اور اس کے بعد وہ زندہ رہے اور ان آیات کا مصداق بچشم سر دیکھتے رہے۔ کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ تھا اور اللہ کے وعدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی ۔ یہاں اللہ فرماتا ہے کہ فوری طور پر تو یہ فتح تمہیں عطا کردی ۔ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہو سکتی ہے ، جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حدیبیہ ہی فتح اور غنیمت تھی اور جیسا کہ پہلے ہم نے بیان کیا صلح حدیبیہ درحقیقت فتح تھی اور جن حالات میں یہ فتح ہوئی ، انہوں نے بھی اس کو مسلمانوں ہی کی فتح بنایا اور اس سے مراد فتح خیبر بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ مجاہد سے مروی ہے کیونکہ حدیبیہ کے بعد یہ قریب ترین مال غنیمت تھا جو مسلمانوں کو ملا۔ زیادہ راجح بات یہ ہے کہ خود صلح حدیبیہ کو فتح کہا گیا ہے۔ اللہ نے بتایا کہ تم پر اللہ کا یہ بہت ہی بڑا احسان ہے کہ اس نے لوگوں کو روک دیا کہ وہ تم پر ہاتھ ڈالیں۔ ان میں مشرکین مکہ تھی تھے اور دوسرے لوگ بھی تھے جو بروقت اس انتظار میں تھے کہ مسلمان کسی چکر میں پھنس جائیں اور ہم بھی حملہ کردیں۔ اس وقت بہرحال مسلمان قلیل تعداد میں تھے۔ اور دوسرے لوگ بہت زیادہ تھے لیکن انہوں نے اپنی بیعت کو پورا کردیا اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کیا۔ اس لیے اللہ نے ان سے لوگوں کے ہاتھ روکے اور انہیں امن میں رکھا۔ ولتکون ایۃ للمومنین (48 : 20) “ اور تاکہ یہ مومنوں کے لئے ایک نشانی بن جائے ”۔ یہ واقعہ جسے آغاز میں انہوں نے بہت ہی ناپسند کیا تھا اور ان کے دلوں پر وہ بھاری پتھر کی طرح تھا ، اللہ بتاتا ہے کہ یہ ان کے لئے ایک معجزہ ہوگا۔ آنے والے دنوں میں وہ اس کے نتائج دیکھیں گے اور ان لوگوں نے جو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اور سر تسلیم خم کیا ، ناپسند کرتے ہوئے بھی ، تو اس کی انہیں جزاء ملے گی وہ جان لیں گے کہ یہ تو بہت یہ عظیم واقعہ تھا۔ اور جو جزاء ملے گی وہ بہت ہی بڑی ہوگی اور ان کے دلوں میں سکون ، اطمینان اور یقین انڈیل دیا جائے گا۔ ویھدیکم صراطا مستقیما (48 : 20) “ اور اللہ سیدھے راستے کی طرف تمہیں ہدایت بخشے گا ”۔ تمہاری اطاعت ، تمہاری فرمانبرداری اور تمہارے صدق نیت کی وجہ سے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جامع انعام کا اعلان کردیا۔ انہیں مال غنیمت بھی ملے گا اور انہیں ہدایت بھی نصیب ہوگی۔ لہٰذا ہر طرف سے ان کے لئے خیر ہی خیر ہوگی۔ اور یہ بھلائی اور خیر اس معاملے میں ہوگی جسے وہ پسند ہی نہ کرتے تھے۔ اور ایک بھاری پتھر سمجھتے تھے۔ یوں ان کو پیشگی اطلاع دی جاتی ہے کہ اللہ نے ان کے لئے جو پسند کیا ہے وہی اصل پسند ہے۔ اس طرح ان کو تربیت دی جاتی ہے کہ ہر حال میں اطاعت اور حکم کی بجا آوری کرو۔ ان انعامات و مفادات کے علاوہ کچھ دوسرے مفادات کا بھی یہاں اعلان کیا جاتا ہے اور یہ مفادات وہ اپنے قوت بازو سے حاصل نہ کرسکے تھے لیکن اللہ نے اپنی قدرت اور تدبیر سے وہ چیزیں انہیں عطا کردیں۔

الفتح 48:21

واخری لم تقدروا ۔۔۔۔ کل شیء قدیرا (48 : 21) “ اس کے علاوہ دوسری اور غنیمتوں کا بھی وہ تم سے وعدہ کرتا ہے جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے۔ اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ اس کے “ علاوہ ” کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے ؟ یا فتح خیبر ہے ؟ یا قیصرو کسریٰ کی مملکتوں کی فتوحات ہیں ؟ یا اس سے وہ تمام فتوحات مراد ہیں جو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو نصیب ہوتی رہیں ؟ زیادہ مناسب یہی ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہو کیونکہ یہ صلح حدیبیہ کے بعد ہوا اور اس فتح کے اسباب صلح حدیبیہ ہی نے فراہم کئے۔ یہ صلح صرف دو سال تک جاری رہ سکی۔ اس کے بعد مشرکین مکہ نے اس عہد کو توڑ دیا۔ اس طرح اللہ نے اس فتح کی راہ ہموار کردی اور مکہ مکرمہ بغیر جنگ کے فتح ہوگیا۔ یہ مکہ ہی تھا جو مسلمانوں کے خلاف لشکر کشی کیا کرتا تھا اور مسلمانوں کے گھر کے اندر آکر لڑتا تھا اور حدیبیہ کے وقت بھی اسی نے مسلمانوں کو بغیر عمرہ واپس کردیا۔ اللہ نے اسے گھیر لیا اور بغیر جنگ کے یہ قبضے میں آگیا۔ وکاین اللہ علی کل شیء قدیرا (48 : 21) “ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ یہ بھی دراصل ایک در پردہ خوشخبری تھی ۔ اس وقت اللہ نے اسے ظاہر نہیں کیا تھا اور ان غیبی امور میں سے تھا جو ابھی ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ یہاں اس کی طرف اشارہ کردیا گیا تا کہ لوگ مطمئن اور پر امید ہوں اور خوش ہوں۔

الفتح 48:22

یہاں تک اللہ نے ان کو موجودہ غنیمت کے لئے بھی خوشخبری دے دی اور اس کے بعد کی آنے والی غنیمتوں کی خوشخبری بھی دے دی گئی اور مسلمان ان کا انتظار کرنے لگے ، ان خوشخبریوں کے ساتھ ساتھ ایک بڑی خوشخبری یہ بھی دے دی گئی کہ اب انشاء اللہ مسلمان فتح مند اور کامران رہیں گے۔ اس سال جو صلح طے کرائی گئی ، وہ اس لئے نہیں کرائی گئی کہ مسلمان کمزور تھے یا یہ کہ مشرکین بہت قوی تھے لیکن بعض حکمتوں کی وجہ سے یہ صلح طے کرائی گئی اگر اس بار بھی اہل مکہ سے جھڑپ ہوجاتی تو بھی یہ ہزیمت اٹھاتے ، کیونکہ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ جب مسلم اور کافر کا کسی فیصلہ کن مقام پر مقابلہ ہوجائے تو مسلم فتح یاب ہوں۔ ولو قتلکم الذین ۔۔۔۔۔ ولا نصیرا (22) سنۃ اللہ التی ۔۔۔۔ لسنۃ اللہ تبدیلا (23) (48 : 22 تا 23) “ یہ کافر لوگ اگر اس وقت تم سے لڑ گئے ہوتے تو یقیناً پیٹھ پھیر جاتے اور کوئی حامی و مددگار نہ پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔ جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ”۔ یوں مومنین کی فتح اور کفار کی شکست کو اللہ اس سنت کے مربوط فرماتا ہے جو اس کائنات میں جاری ہے جس کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوا کرتا ۔ کس قدر عظیم سکینت ہے یہ ؟ کس قدر عظیم بھروسہ ہے یہ ؟ کس قدر ثابت قدمی ان مومنین کو دی جا رہی تھی کہ وہ اللہ کے کلام میں اس کے نبی کی زبانی اپنی فتح اور کفار کی شکست کی خوشخبریاں سن رہے ہیں۔ اللہ کی سنت تو کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ ہاں اس کی سنت کے مطابق فتح میں دیر ضرور ہو سکتی ہے۔ کیونکہ فتح کے اسباب کا تعلق مومنین کی تیار اور تربیت سے ہوتا ہے اور ان کی تیاری اور اچھی طرح تربیت کا علم اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ یا ان حالات کی آمد پر ہوتا ہے جن میں مومنین کے لئے نصرت اور فتح کے اسباب و حالات فراہم ہوجائیں اور کافروں کی ہزیمت یقینی ہوجائے تا کہ فتح کی اہمیت اور اثر وسیع ہوجائے ، یا دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جن کو اللہ جانتا ہے۔ بہرحال سنت الہٰیہ کے مطابق فتح حق کی ہوتی ہے اور اللہ کی سنت کبھی بدلتی نہیں۔

الفتح 48:23

ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا (48 : 23) “ اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ”۔ اب اللہ فرماتا ہے کہ یہی حکمت تھی کہ وادی مکہ میں اللہ نے کافروں کو توفیق نہ دی کہ وہ مسلمانوں پر ہاتھ ڈالیں اور مسلمانوں کو بھی توفیق نہ دی کہ وہ مشرکین مکہ پر اس وقت ہاتھ ڈالیں جب وہ ان کے قابو میں آگئے تھے۔ یہ ان چالیس آدمیوں کی طرف اشارہ ہے۔ چالیس ہوں یا کم و بیش ۔ جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے آئے تھے۔ یہ پکڑے گئے اور رسول اللہ ﷺ نے معاف کردیا۔

الفتح 48:24

یہ ایک واقعہ تھا جو ہوچکا تھا اور سامعین اسے خوب جانتے تھے ۔ اللہ اس انداز میں اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ بتائیں کہ جو واقعات بھی ہوئے ان میں اللہ کی تدبیر اور تقدیر کام کر رہی تھی ، اور اس سے قرآن مجید ان کے دلوں میں اس احساس کو گہرا کر رہا تھا کہ اللہ کا ہاتھ ان کے لئے تدبیر کر رہا ہے ، ان کی قیادت اللہ کے رسول کے ذریعہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اور اللہ ان کے میلانات کو بھی کنٹرول کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کے لئے ہوجائیں۔ اپنے نفوس کو اللہ کے سپرد کردیں اور انہیں احکام الٰہی میں کوئی تردد نہ رہے۔ بالکل ادھر ادھر نہ دیکھیں اور پوری طرح اسلام میں داخل ہوجائیں۔ اپنے احساسات ، اپنے جذبات ، اپنا رخ اور اپنی سرگرمیاں اللہ کے حوالے کردیں اور یہ یقین کرلیں کہ تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور یہ کہ خیر وہی ہے جسے اللہ اختیار کرے اور یہ کہ وہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے مطابق چل رہے ہیں۔ چاہے وہ کوئی بات اختیار کریں یا اسے رد کردیں اور اللہ بہرحال مسلمانوں کی بھلائی چاہتا ہے ، تو اب اگر وہ اللہ کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کردیں تو یہ بھلائی بڑی آسانی کے ساتھ حاصل ہوجائے گی۔ اللہ علیم وبصیر ہے۔ ظاہر اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے وہ علم و بصیرت کے ساتھ ان کے لئے راہ تجویز کرتا ہے۔ وہ ان کو ہرگز برباد ہونے نہیں دیتا۔ نہ اللہ کسی ایسی چیز کو ان سے روکتا ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔ وکان اللہ بما تعملون بصیرا (48 : 24) “ اور جو کچھ تم کر رہے ہو ، اللہ اسے دیکھ رہا ہے ”۔

الفتح 48:25

اب اللہ مسلمانوں کے مخالف کیمپ پر تبصرہ فرماتا ہے کہ اللہ کے پیمانے کے مطابق ان کے شب و روز کیا ہیں ؟ اور اللہ ان کی کاروائیوں کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے ؟ وہ مومنین کو مسجد حرام سے روک رہے ہیں اور یہ کہ اللہ مسلمانوں کو کس نگاہ سے دیکھ رہا ہے اور ان کے دشمنوں کو کس نگاہ سے ! ھم الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ کفروا منھم عذابا الیما (25) اذ جعل الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ بکل شیء علیما (26) (48 : 25 تا 26) “ وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور ہدی کے اونٹوں کو ان کی قربانی کی جگہ نہ پہنچے دیا۔ اگر (مکہ میں) ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے ، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انہیں پامال کر دو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی۔ روکی وہ اس لیے گئی) تا کہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ وہ مومن الگ ہوگئے ہوتے تو ( اہل مکہ میں ) جو کافر تھے ان کو ہم ضرور سخت سزا دیتے ۔ (یہی وجہ ہے کہ ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھالی تو اللہ نے اپنے رسول ﷺ اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی اور مومنوں کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔ اللہ کے پیمانوں کے مطابق وہ بلاشک کافر ہیں ، اس لیے وہ اس مکروہ لقب کے مستحق ہیں۔ ھم الذین کفروا (48 : 25) “ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ”۔ اللہ تعالیٰ یہ لقب ان کو عطا کرتا ہے کہ گویا کافر یہی اہل مکہ ہیں۔ چونکہ یہ صفت کفر میں کانوں تک غرق ہیں ، اس لیے یہ لوگ اللہ کے ہاں مکروہ ترین مخلوق ہیں ، اس لیے کہ اللہ کفر کو نہایت ہی مکروہ سمجھتا ہے۔ پھر دوسرا برا فعل جو یہ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ اہل ایمان کو مسجد حرام سے روک رہے ہیں اور قربانی کے جانوروں کو بھی روک رہے ہیں کہ ان کو اپنے محل ذبح تک لے جایا جائے۔ وصدوکم عن المسجد الحرام والھدی معکوفا ان یبلغ محلہ (48 : 25) “ تم کو مسجد حرام سے روکا اور ہدی کے اونٹوں کو ان کی قربانی کی جگہ نہ پہنچنے دیا ”۔ یہ کام اسلام میں بھی گناہ کبیرہ ہے اور جاہلیت میں بھی گناہ تھا۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جزیرۃ العرب میں جس قدر ادیان بھی گزرے ان سب میں یہ گناہ کبیرہ افعال تھے۔ ان کے عرف ، ان کے عقیدہ اور مسلمانوں کے دین کے مطابق یہ مکروہ کام تھے۔ اس لیے اللہ نے مسلمانوں کو ان پر حملہ کرے سے اس لیے نہیں روکا کہ ان کے یہ جرائم کہیں چھوٹے تھے ، ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کی کوئی اور حکمت تھی۔ اللہ مہربانی فرماتے ہوئے اس حکمت کا انکشاف فرماتا ہے۔ ولو لا رجال ۔۔۔۔۔۔ بغیر علم (48 : 25) “ اگر ( مکہ میں ) ایسے مومن مردو عورت نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم پامال کردو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی ) مکہ میں بعض ضعیف اور کمزور مسلمان رہ گئے تھے جنہوں نے ابھی تک ہجرت نہ کی تھی۔ اور انہوں نے مشرکین کے درمیان رہتے ہوئے اپنے اسلام کو خوف کے مارے چھپا رکھا تھا۔ اگر جنگ شروع ہوجاتی اور مسلمان مکہ پر حملہ آور ہوجاتے اور وہ نہ جانتے کہ کون مسلم ہے اور کون کافر ہے ، ممکن تھا کہ یہ مسلمان ان ضعیف مسلمانوں کو روند کر قتل کردیتے ۔ اور پھر کافر یہ کہتے کہ مسلمانوں کو بھی معاف نہ کیا۔ یوں مسلمانوں کو ان مسلمانوں کی دیت دینا پڑتی جن کو انہوں نے خطا کے طور پر قتل کردیا تھا۔ پھر ایک حکمت یہ بھی تھی کہ آج جو کافر مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے اور ہدی کے جانوروں کو جائے ذبح روک رہے ہیں ، انہی میں سے بعض لوگ عظیم مسلمان بننے والے ہیں۔ اور اللہ کی رحمتوں میں داخل ہونے والے ہیں اور اللہ ان سب کو جانتا تھا۔ اگرچہ اس وقت یہ لوگ جدا ہوتے تو اللہ ضرور اجازت دے دیتا لیکن ابھی تک اللہ نے ان کو جدانہ کیا تھا۔ اس لیے اللہ نے اس موقعہ پر کافروں کو اس مار سے بچا لیا۔ لیدخل اللہ فی رحمتہ ۔۔۔۔۔ عذابا الیما (48 : 25) “ جنگ (روکی اس لیے گئی ) تا کہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ وہ مومن الگ ہوگئے ہوتے تو (اہل مکہ سے) جو کافر تھے ان کو ہم ضرورت سخت سزا دیتے ”۔ یوں اللہ اس منفرد جماعت مسلمہ کو اپنی حکمتوں کے بعض پہلو بتاتا ہے ، جو اللہ کی تدبیر ، تقدیر اور ہدایات کی پشت پر ہیں۔ ان لوگوں کی ظاہری حالت جنہوں نے کفر کیا ، اور ان کے ظاہری اعمال بتانے کے بعد اب ان نفوس کی اندرونی حالت کا تذکرہ ۔

الفتح 48:26

اذ جعل الذین کفروا ۔۔۔۔۔ الجاھلیۃ (48 : 26) “ یہی وجہ ہے کہ جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھا لی ”۔ وہ کسی نظریہ یا کسی نظام کے لئے نہیں لڑ رہے تھے بلکہ یہ کبر ، فخر ، سرکشی اور ہٹ دھرمی کے پرجوش حامی تھے۔ اس حمیت ہی کی وجہ سے یہ رسول اللہ ﷺ کا مقابلہ کر رہے تھے۔ آپ کو مسجد حرام کی زیارت سے بھی روک رہے تھے اور قربانی کے جانوروں کو بھی انہوں نے روکے رکھا جن کو آپ اس مقصد کے لئے لائے تھے تا کہ وہ قربانی کی جگہ تک جائیں اور وہاں قربان کئے جائیں اور یہ حرکت کر کے یہ لوگ ہر عقیدے اور ہر رواج کو پامال کر رہے تھے۔ محض اس لیے کہ عرب یہ نہ کہیں کہ حضرت محمد ﷺ زبردستی مکہ میں داخل ہوگئے۔ محض اس جاہلی غرور کی خاطر وہ اس قدر مکروہ فعل کا ارتکاب کر رہے تھے جو خود ان کے ہاں بھی نہایت ہی مکروہ فعل تھے۔ پھر یہ خود بیت اللہ کی حرمت کو پامال کر رہے تھے جو خود ان کے ہاں بھی نہایت ہی مکروہ فعل تھے۔ پھر یہ خود بیت اللہ کی حرمت کو پامال کر رہے تھے اور جس پر ان کی پوری معیشت کا دارومدار تھا۔ نیز ان لوگوں نے اشہر الحرام کا احترام بھی توڑ دیا جو ان کے ہاں بھی محترم تھے اور اسلام میں بھی محترم تھے۔ یہی حمیت تھی جس کی وجہ سے یہ لوگ ان تمام لوگوں کو برا بھلا کہتے رہے جنہوں نے ان کو مشورہ دیا کہ محمد ﷺ کو عمرہ کرنے سے نہ روکو۔ پھر اسی حمیت جاہلیہ کی وجہ سے سہیل ابن عمر نے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحم کی جگہ بسمک اللھم لکھو۔ اور پھر اس نے لفظ رسول اللہ ﷺ کٹوا کر محمد ابن عبد اللہ لکھوایا۔ یہ سب امور اسی سرکش اور پر غرور جاہلیت کے سر چشمے سے نکل رہے تھے۔ اللہ نے ان کے نفوس کے اندر یہ جاہلی حمیت اس لیے رکھ دی تھی کیونکہ اللہ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ بہت ہی کرخت اور سرکش ہیں۔ مسلمانوں کو اللہ نے اس حمیت جاہلیت سے بچایا اور اس کی جگہ سکینہ اور خدا خوفی نے لے لی۔ فانزل اللہ سکینتہ ۔۔۔۔۔ بھا واھلا (48 : 26) “ اور مومنوں پر سکینت نازل کی اور مومنوں کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے ”۔ سکینہ وقار اور ٹھہراؤ کی حالت کو کہا جاتا ہے جس طرح تقویٰ کے معنی محتاط اور متواضع انداز کے ہیں۔ اور یہ دونوں صفات اس مومن میں پائی جاتی ہیں جو اپنے رب سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ اور اس تعلق پر مطمئن ہوتا ہے اور وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اپنی ہر حرکت میں اللہ سے ڈرتا ہے۔ اس لیے وہ تکبر اور سرکشی سے دور رہتا ہے۔ اور جب اللہ حکم دے کہ ذرا رک جاؤ، ٹھنڈے ہوجاؤ تو وہ اطاعت کرتا ہے۔ نہایت رضا مندی اور اطمینان کے ساتھ۔ یہی وجہ ہے کہ مومنین اس بات کے مستحق تھے کہ وہ اہل تقویٰ کی بات کریں۔ اور وہ اس کے مستحق بھی تھے اور یہ مومنین کی ایک نئی تعریف ہے جبکہ اس سے قبل جو کہا گیا کہ ان پر سکینت نازل کی گئی ، یہ بھی ان کے لئے ایک اعزاز تھا۔ کیونکہ سکینت کے اندر وقار اور تقویٰ دونوں شامل ہیں۔ تو یہ اس لیے نازل ہوا کہ وہ اللہ کے پیمانوں کے مطابق اس کے وہ اہل تھے۔ اور اس کی شہادت خود اللہ دیتا ہے۔ مسلمانوں پر اللہ کی طرف سے گواہی کہ وہ اس بات کے مستحق ہیں ایک دوسرا اعزاز ہے اور یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ وکان اللہ بکل شیء علیما (48 : 26) “ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔

الفتح 48:27

یہ بات پہلے گزر گئی ہے کہ بعض مومنین جو مدینہ سے رسول اللہ ﷺ کا خواب سن کر نکلے تھے ان پر اس امر کا بہت برا اثر ہوا تھا کہ وہ اس سال مسجد حرام میں داخل نہ ہو سکے۔ اور انہیں مسجد حرام سے لوٹا دیا گیا۔ یہاں اس خواب کی صداقت کی تصدیق کی جاتی ہے کہ یہ خواب اللہ کی طرف سے تھا اور یہ سچا تھا۔ اور یہ واقع ہونے والا ہے بلکہ اس سے بڑا واقعہ پیش آنے والا ہے۔ رہی یہ بشارت کہ یہ مسجد حرام میں پرامن داخل ہوں گے اور سر منڈوائیں گے اور بال ترشوائیں گے اور بےخوف و خطر عمرہ ادا کریں گے تو یہ ایک سال بعد ہوگیا تھا۔ اور صلح حدیبیہ کے دو سال بعد تو بطریق اکمل ہوگیا تھا جب مکہ ہی فتح ہوگیا اور پورے مکہ میں اللہ کا دین اور اسلامی نظام نافذ ہوگیا۔ لیکن اللہ اہل ایمان کو اسلامی آداب بھی سکھاتا ہے اور یوں فرماتا ہے کہ : لتدخلن المسجد الحرام انشاء اللہ (48 : 27) “ کہ انشاء اللہ تم مسجد حرام میں داخل ہوگے ”۔ مسجد حرام میں داخل ہونا تو حتمی ہے کیونکہ اللہ نے اطلاع دے دی ہے لیکن مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی مشیت کو اپنے شعور کا حصہ بنا لیں اور اسے بےقید سمجھیں تا کہ یہ بات ان کے دلوں میں بیٹھ جائے کہ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ۔ اور اسے اہل ایمان اپنی سوچ کا حصہ بنا دیں۔ قرآن بھی باربار اس کا ذکر کرتا ہے اور تمام فیصلوں کو اللہ کی مشیت کے تابع قرار دیتا ہے ۔ یہاں تک کہ جہاں اللہ کے وعدے مذکور ہیں وہاں بھی وہ مشیت الٰہیہ کے ساتھ مشروط ہیں۔ حالانکہ اللہ کبھی اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا لیکن اللہ کی مشیت ہر قید سے آزاد ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دل میں اس حقیقت کو بٹھا لیں تا کہ ان کی فکر کی اساس انشاء اللہ پر ہو۔ اب یہ وعدہ کس طرح حقیقت بنا۔ روایات میں آتا ہے کہ جب سن سات ہجری میں ذوالقعدہ کا مہینہ آیا یعنی صلح حدیبیہ کے بعد تو حضور اکرم ﷺ مکہ کی طرف عمرے کے لئے نکلے ۔ آپ کے ساتھ سب اہل حدیبیہ تھے۔ ذوالحلیفہ سے آپ نے احرام باندھا ۔ ہدی کے جانور ساتھ لیے۔ جس طرح پہلے سال یہاں سے ہی آپ احرام باندھا تھا اور جانور ساتھ لیے تھے اور آپ اور آپ کے صحابہ کرام تلبیہ کرتے ہوئے چل پڑے۔ جب حضور اکرم ﷺ ،۔۔۔۔ ان کے قریب ہوئے تو محمد ابن مسلمہ کو گھوڑوں اور اسلحہ کے ساتھ آگے بھیج دیا۔ جب مشرکین نے انہیں دیکھا تو وہ بہت ہی مرعوب ہوگئے۔ ان کا خیال یہ ہوا کہ شاید رسول اللہ ﷺ ان سے لڑنا چاہتے ہیں۔ اور آپ نے ان کے درمیان ہونے والے عہد کو توڑ دیا جو یہ تھا کہ دس سال تک جنگ نہ ہوگی۔ یہ لوگ گئے اور اہل مکہ کو خبردار کردیا جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور مرالظہران میں اترے۔ تو تمام اسلحہ ، تیر ، نیزے بطن ماجج کی طرف بھیج دئیے اور وہاں سے مکہ کی طرف اس حال میں روانہ ہوئے کہ تلواریں نیام میں تھیں۔ جس طرح ان کے ساتھ طے ہوا تھا۔ جب آپ راستے میں تھے تو قریش نے مکرز ابن حفص کو بھیجا اس نے آکر حضور ﷺ سے کہا کہ ہم نے تو آپ کے بارے میں یہ نہیں سنا کہ آپ نے کبھی عہد توڑا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا ، آپ کا مطلب کیا ہے۔ تو اس نے کہا آپ اسلحہ لے کر آئے ہیں۔ نیزے ، تیر وغیرہ تو آپ نے فرمایا یہ بات نہیں ہے وہ تو ہم نے ماجج کی طرف بھیج دئیے ہیں تو اس نے کہا درست ہے آپ کے بارے میں ہماری معلومات یہی ہیں کہ آپ نیک اور متقی ہیں نیز وفائے عہد کرنے والے ہیں۔ کفار کے رؤساء مکہ سے نکل گئے تا کہ ان کی نظریں رسول اللہ ﷺ پر نہ پڑیں۔ وہ آپ کو دیکھنا بھی گوارا نہ کرسکتے تھے۔ رہے عام اہل مکہ مرد اور عورتیں اور بچے تو وہ راستوں اور کوٹھوں پر بیٹھ گئے اور رسول اللہ ﷺ اور آپ ؐ کے ساتھیوں کو دیکھتے رہے۔ حضور ﷺ مکہ میں داخل ہوئے ، آپ کے رفقاء آپ ﷺ کے آگے آگے تھے ، سب تلبیہ پڑھ رہے تھے ، جس قدر جانور تھے ان کو ذی طوی بھیج دیا گیا۔ حضور ﷺ اپنی ناقہ قصواء پر سوار تھے جس پر آپ ﷺ حدیبیہ کے دن بھی سوار تھے۔ عبد اللہ ابن رواحہ انصار نے زمام تھام رکھی تھی اور ناقہ کو چلا رہے تھے۔

الفتح 48:28

یوں آپ ﷺ کا خواب سچا ہوئی۔ اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور اگلے سال فتح مکہ بھی ہوگیا اور اللہ کا دین مکہ پر بھی غالب ہوگیا۔ اور اس کے بعد پورے جزیرہ العرب میں غالب ہوگیا اور اب آخری خوشخبری یوں پوری ہوئی : ھو الذی ارسل ۔۔۔۔۔ باللہ شھیدا (48 : 28) “ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے سا تھ بھیجا ہے تا کہ اس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے ”۔ دین اسلام صرف جزیرۃ العرب ہی میں غالب نہ ہوا بلکہ پوری دنیا میں غالب ہوا۔ اور یہ عمل صرف نصف صدی کے اندر اندر پورا ہوگیا۔ یہ دین کسریٰ کی پوری مملکت پر غالب ہوگیا اور قیصر کی مملکت کے بھی بڑے حصے کو فتح کرلیا۔ ہند اور چین میں بھی غالب ہوگیا ۔ پھر جنوبی ایشیاں اور ملایا میں غالب ہوا اور انڈونیشیا میں غالب ہوا اور یہی دنیا تھی جو اس دور میں آباد تھی۔ یعنی چھٹی صدی اور ساتویں صدی عیسوی میں۔ لیکن اللہ کا دین آج تک تمام ادیان پر غالب ہے۔ اگرچہ دنیا کے ان حصوں میں جہاں مسلمانوں کو سیاسی غلبہ حاصل تھا ، مسلمان پسپا ہوگئے۔ خصوصاً یورپ اور بحر ابیض کے جزائر سے۔ اور مسلمان مشرق و مغرب میں اٹھنے والی نئی قوتوں کے مقابلے میں پسپا ہوگئے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ دین حق یعنی دین اسلام بحیثیت دین آج بھی تمام ادیان پر غالب ہے۔ یہ دین اپنی ذات ، اپنی ماہیت اور اپنی ذاتی صلاحیتوں اور خوبیوں کی وجہ اپنے ماننے والوں کی مدافعت بغیر تلوار کے کرتا ہے اور بغیر کسی سیاسی قوت کی پشت پناہی کے یہ دن آگے بڑھ رہا ہے ۔ کیونکہ اس دین کی فطرت میں نوامیس فطرت کے ساتھ ہم رنگی ہے اور قوانین فطرت اس کائنات میں اللہ کے ودیعت کردہ حقیقی اصول ہیں۔ پھر اس دین میں عقل ، روح اور جسم سب کی ضروریات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ انسانی تعمیر و ترقی ، سوسائٹی کی ضرورت ، فرد کی ضروریات سب کو مد نظر رکھا گیا ہے ۔ ایک جھونپڑی کے باشندے اور ایک محل اور کوٹھی کے باشندے سب کی ضرورت کو اس دین میں پورا کیا گیا ہے۔ دوسرے مذاہب کے پیرو کار اگر اس دین پر تعصب سے پاک نظروں کے ساتھ غور کریں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ بہت بڑی قوت والا دین ہے۔ اور یہ آج بھی انسانیت کی صحیح رہنمائی کرسکتا ہے اور اس ترقی یافتہ دور میں کسی بھی ترقی سوسائٹی کی ضروریات کو یہ دین نہایت ہی استقامت کے ساتھ پوری کرسکتا ہے۔ وکفی باللہ شھیدا (48 : 28) ” اور اس پر اللہ کی گواہی کافی ہے “۔ غرض بعث نبی کے بعد ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ اللہ کا یہ وعدہ سیاسی لحاظ سے سچا ثابت ہوگیا اور یہ دین تمام دنیا پر غالب ہوگیا اور اپنی ذات کے اعتبار سے یہ اب بھی تمام ادیان پر غالب ہے۔ بلکہ تمام دوسرے ادیان دنیا سے ختم ہوگئے اور یہی ایک دین ہے جو اپنی ذاتی صلاحیت کی وجہ سے قائم و دائم ہے اور اپنی عملیت کے لحاظ سے یہ ہر وقت قابل عمل ہے۔ آج صرف اس دین کے ماننے والے اس حقیقت کے ادراک سے محروم ہیں کہ یہ دین اسلام اپنی ذات کے اعتبار سے غالب ہے۔ جبکہ اس دین کے دشمن اس بات کو جانتے ہیں اور اس سے بہت ڈرتے ہیں اور اپنی سیاسی پالیسی میں دین اسلام کی اس خطرناکی کو پیش نظر رکھتے ہیں۔

الفتح 48:29

اب ہم اس سورت کے خاتمہ کی طرف آرہے ہیں۔ اس میں قرآن نے صحابہ کرام کی وہ تصویر کشی کی ہے جو اس وقت عملاً موجود تھی اور یہ جماعت محترمہ جس کے بارے میں پہلے آچکا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور اس جماعت کے ایک ایک فرد تک اللہ کی خوشنودی کی اطلاع کردی گئی ، یہ کون لوگ تھے ؟ تو سنئے ! محمد رسول اللہ والذین ۔۔۔۔۔۔ مغفرۃ واجرا عظیما (48 : 29) ” محمد ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود ، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ ۔۔۔۔۔ ہے جس نے پہلے کونپل نکالی ، پھر اس کو تقویت دی ، پھر وہ گدرائی ، پر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں ، اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے “۔ یہ ایک زبردست تصویر ہے ۔ قرآن کریم نہایت ہی انوکھے انداز میں یہ تصویر کشی کرتا ہے۔ اس جماعت کی نمایاں جھلکیاں یہاں دی گئی ہیں۔ ان کے ظاہری حالات ، ان کے پوشیدہ روحانی حالات ، ان کے باہم تعلقات ، ان کے کفار کے ساتھ تعلقات ،۔ اشداء علی الکفار رحماء بینھم (48 : 29) ” کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں “ ۔ اور اللہ کی بندگی اور پرستش کرتے ہوئے۔ ترھم رکعا سجدا (48 : 29) ” تم دیکھو گے انہیں رکوع و سجود میں “۔ اور ان کی قلبی حالت اور خواہش اور فکر کیسی ہے۔ ان کی دلچسپیاں کیا ہیں۔ یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا (48 : 29) ” اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول ہیں “۔ اور ان کے ظاہری خدو خال اور نشانات کیا ہیں ، چہرے ہرے کیسے ہیں۔ سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود (48 : 29) ” سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں “۔ اور تورات و انجیل میں بھی ان کی یہی صفات بتائی گئی ہیں۔ (1) کزرع اخرج شعلتہ (48 : 29) ” ایک کھیتی کی طرح جس نے پہلے کونپل نکالی “۔ (2) فازرہ (48 : 29) ” پھر اسے تقویت دی “۔ (3) فاستغلظ (48 : 29) ” پھر وہ گدرائی “۔ (4) فاستوی علی سوقہ (48 : 29) ” پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی “۔ (5) یعجب الزراع (48 : 29) ” کاشت کرنے والے کو وہ خوش کرتی ہے “۔ (6) لیغیظ بھم الکفار (48 : 29) ” تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر چلیں “۔ یہاں سب سے پہلے اس صفت محمد کو ثابت اور موکد کیا جاتا ہے جس کا انکار سہیل ابن عمرو نے کیا تھا کہ آپ ﷺ کے نام کے ساتھ رسول اللہ کا لفظ نہ لکھیں یعنی محمد رسول اللہ ﷺ (محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ) اور اس کے بعد صحابہ کرام کی یہ انوکھی اور عجیب تصویر شروع ہوجاتی ہے ، نہایت ہی انوکھے انداز میں۔ مومنین کے حالات تو مختلف ہوتے ہیں لیکن ان جھلکیوں میں جو صفات دی گئی ہیں یہ تمام مومنین کی زندگی میں ہوتی ہیں اور یہ ان کی زندگی کے بنیادی نکات ہیں۔ انہی نکات سے اس تصویر کے خطوط ابھرتے ہیں جو نہایت ہی خوبصورت اور چمک دار ہیں۔ یہاں اللہ نے جو جھلکیاں دی ہیں ، ان میں ان باتوں کو بہت نمایاں کیا گیا ہے جن سے اس جماعت کی عزت افزائی ہو۔ لہٰذا وہ نکات اور وہ خطوط یہاں نمایاں ہیں جن کے ذریعہ عالم بالا میں انہیں اعزاز ملا ہے۔ ان کے معزز اور مکرم ہونے کی پہلی جھلکی اور رنگ یہ ہے کہ یہ لوگ۔ اشداء علی الکفار رحماء بینھم (48 : 29) ” کافروں پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں “۔ یہ کافروں پر بہت ہی سخت ہیں حالانکہ اس وقت کافروں میں ان کے آباء ، بھائی ، قریبی رشتہ دار اور دوست موجود تھے۔ لیکن انہوں نے ایسے تمام رشتوں کو یکدم کاٹ کر رکھ دیا۔ اور وہ آپس میں رحم دل ہیں حالانکہ ان کے درمیان صرف دینی اخوت ہے۔ لہٰذا ان کی شدت بھی اللہ کے لئے ہے اور ان کی نرمی بھی اللہ کے لئے ہے۔ یہ ہے نظریاتی حمیت ، اسلامی حمیت ، دینی غیرت۔ لہٰذا وہ اپنے نفس کے لئے کچھ نہیں چاہتے ۔ اور نہ ان کے نفوس کے لئے اس دین میں کچھ ہے۔ یوں وہ اپنے جذبات اور اپنی محبتوں کو اپنے تعلقات اور طرز عمل کو اپنے نظریات اور عقائد کی اساس پر استوار اور تعمیر کر رہے ہیں۔ وہ نظریاتی دشمنوں پر سخت اور نظریاتی دوستوں کے لئے ریشم کی طرح نرم ہیں۔ وہ انانیت اور خواہشات نفسانیہ سے مجرد ہوگئے ہیں۔ اللہ کے سوا کسی اور کے لئے کسی اور تعلق کے لئے وہ مشتعل ہی نہیں ہوتے۔ اب دوسری جھلکی ، ان کے تکریم اور ان کا شرف ان کی رکوع و سجود میں ہے۔ جب وہ عبادت کرتے ہیں تو رکوع و سجود میں ہوتے ہیں اور تم انہیں ہمیشہ اس حالت میں پاؤ گے ، گویا یہ صفت ان کی دائمی صفت ہے اور عبادت میں رکوع و سجود مکمل حالت ہے ، اور ان کے ذہنوں میں بھی یہی حالت ہے اور ان کے جسم بھی بروقت رکوع و سجود میں ہیں گویا ان کی پوری زندگی اور پورا وقت اسی کام میں گزرتا ہے۔ ان کی جو تیسری جھلکی دکھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی باطنی ، ان کی روحانی اور ان کی نفسیات کی حالت کیا ہے۔ یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا (48 : 29) ” تم ان کو اللہ کے فضل اور خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے “۔ یہ ان کے شعور کی دائمی حالت ہے۔ ان کا دل جن باتوں میں ہر وقت مشغول رہتا ہے ، ان کے اندر ہر وقت جو شوق اٹھتے ہیں وہ یہی ہیں کہ کسی طرح اللہ راضی ہوجائے ، اللہ کی رضا اور اس کے فضل کی طلب کے سوا ان کا اور کوئی مشغلہ اور دلچسپی ہی نہیں ہے۔ اور چوتھی خوبی یہ کہ ان کی عبادات ان کے فیچرز اور ان کے خدوخال میں ظاہری طور پر نظر آتی ہیں۔ سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود (48 : 29) ” ان کے سجود کے اثرات ان کے چہروں میں موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں “۔ یعنی ان کے چہرے میں نور ، روشنی اور چمک نظر آئے گی۔ اور ان کا چہرا صاف و شفاف ہوگا۔ اور یہ ان کی صاف ، زندہ اور روح پرور عبادت کی وجہ سے۔ اس سیماھم سے مراد وہ معروف نشان (محراب) نہیں ہے جو بعض لوگوں کے ماتھے پر پڑجاتا ہے (جب وہ سجدے میں ماتھا رگڑتے ہیں ) من اثر السجود (48 : 29) کے لفظ سے ذہن میں یہ نشانی آجاتی ہے۔ اثر السجود سے مراد اثر العبادہ ہے۔ کیونکہ سجدہ عبادت اور بندگی اور اطاعت کا درجہ کمال ہوتا ہے اور اس میں انسان عاجزی اور اطاعت کی کمال حالت میں ہوتا ہے۔ اس حالت کا اثر انسان کے چہرے پر بھی ظاہر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ عبادت گزاروں کے چہروں پر سے کبرو غرور اور مستی دور ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ شریفانہ تواضع ، صاف و شفاف طرز عمل ، پروقار نور اور تقویٰ کا دھیما پن آجاتا ہے جس سے مومن کا چہرہ نہایت یہ خوبصورت نظر آتا ہے جبکہ اس کے چہرے پر مایوسی بالکل نہیں ہوتی اور وہ خوش اور مطمئن نظر آتا ہے۔ یہ روشن تصویر جو ان جھلکیوں میں نظر آتی ہے یہ کوئی نئی تصویر نہیں ہے۔ یہ ان کے لئے نظام قضا و قدر میں لکھی ہوئی ہے۔ لوح محفوظ میں درج ہے۔ اور اسی وجہ سے اس کا تذکرہ توریت میں بھی آیا ہے اور انسانوں کو ان کے بارے میں خوشخبری دی گئی ہے۔ قبل اس کے وہ اس زمین پر پیدا ہوں۔ ذلک مثلھم فی التورۃ ومثلھم فی الانجیل (48 : 29) ” یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے ” اللہ نے ان دوسابقہ کتابوں میں حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے رفقاء کی تعریف یوں کی ہے کہ وہ : کزرع اخرج شطئہ (48 : 29) ” ایک کھیتی کی طرح ہیں جس نے پہلے کونپل نکالی “۔ وہ اس طرح بڑھے جس طرح فصل ابتداء میں کونپلیں نکالتی ہے ، تروتازہ ہوتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ بڑھتی اور قوی ہوتی ہے۔ فازرہ (48 : 29) ” پھر اس کو تقویت دی “۔ یعنی اس کو نپل نے اسے مضبوط کیا۔ یا نال نے اس کو مضبوط کیا۔ فاستغلظ (48 : 29) ” پھر وہ مضبوط سے مضبوط ہوگئی “ یعنی وہ نال اور فصل ۔ فاستوی علی سوقہ (48 : 29) ” پھر وہ تنے پر کھڑی ہوگئی “۔ یعنی وہ فصل اپنی نال ، تنے یا ڈنڈی پر کھڑی ہوگئی ، اب اس میں نہ کمزوری ہے اور نہ جھکاؤ ، مضبوط ہے اور سیدھی ہے۔ یہ تو ہے فصل کی ذاتی صورت حالات۔ لیکن کسان کے نفس پر اس کے کیا اثرات ہیں۔ ماہرین پر اس کے کیا اثرات ہیں جو بڑھنے والے کو بھی جانتے ہیں اور مرجھانے والے کو بھی جانتے ہیں۔ پھلدار کو بھی جانتے اور بےپھل کو بھی۔ تو ایسے لوگوں کے دل میں مسرت دوڑ جاتی ہے۔ یعجب الزراع (48 : 29) ” کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے “۔ اور بعض قراتوں میں الزراع کی جگہ الزارع (بونے والا) آیا ہے ۔ اور مراد ہے رسول اللہ ﷺ سے جو اس بڑھنے والی ، قوی ، تروتازہ اور فرحت بخش فصل کے کسان ہیں۔ پھر کفار کے دلوں پر اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں ؟ وہ غصہ اور جھنجھلاہٹ ۔ لیغیظ بھم الکفار (48 : 29) ” تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں “۔ آخر میں کفار کے غصے کا ذکر کر کے قرآن نے اشارہ کردیا کہ کہیں اس کو لوگوں کی فصل پر ہی چسپاں نہ کرو۔ اس سے مراد اللہ والوں کی فصل ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی فصل ہے اور یہ ان لوگوں کی فصل ہے جو دست قدرت کے آلات ہیں اور کفار کے لئے پریشانی کا باعث ۔ یہ مثال بھی کوئی نئی مثال نہیں ہے کہ کتاب تقدیر کے صفحات میں درج ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا ذکر حضرت محمد ﷺ کے زمین پر آنے اور مبعوث کئے جانے سے بھی پہلے اس کا ذکر تورات اور انجیل میں موجود ہے ۔ اور انجیل میں تو اس کی تصریح موجود ہے کہ محمد اور اس کے ساتھی آئیں گے ۔ یوں اللہ اپنی لازوال کتاب میں اس جماعت کی صفات کو قلم بند فرماتا ہے ۔ یعنی جماعت صحابہ کی۔ یوں اس کائنات کے مرکز میں یہ جماعت قائم ہوتی ہے ۔ پوری کائنات اس کے ساتھ چلتی ہے اور یہ جماعت باری تعالیٰ سے اپنی یہ تعریف سنتی ہے۔ اور پھر آنے والی نسلوں کے لئے ان کی صفت بطور نمونہ ریکارڈ کردی جاتی ہے تا کہ آئندہ کی نسلیں بھی اس معیار کو قائم کرنے کی سعی کریں تا کہ ایمان اپنے اعلیٰ درجات میں قائم ہو۔ جماعت صحابہ کی اس صفت اور تکریم کے بعد پھر اعلان ہوتا ہے کہ ان کے لئے اجر عظیم ہے۔ وعد اللہ الذین ۔۔۔۔ واجرا عظیما (48 : 29) ” اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور اجر کا وعدہ فرمایا ہے “۔ اس جماعت کی صفات کے بعد اب یہ ایک عمومی اعلان ہے اور اس اعلان کے مستفید ہونے والوں میں ظاہر ہے کہ وہ سب سے پہلے داخل ہیں۔ مغفرت اور اجر عظیم۔ یہی ایک اعلان ہی ان کے لئے بڑا اعزاز ہے اور ان کے لئے تو اللہ کی رضا مندی ہی بڑا اجر ہے لیکن اللہ کا فضل و کرم بلا قیود اور بلا حدود ہے اور اللہ کی بخشش بےانتہا و لا محدود ہے۔ میں ایک بار پھر چشم خیال کو کھول کر اس جماعت مکرمہ کو دیکھ رہا ہوں جس کے دل سعید ہیں۔ جو اللہ کے یہ فیوض رحمت اور اعزاز واکرام اور عظیم اجر کے وعدے پار ہے ہیں۔ ان کو سنایا جارہا ہے۔ یہ اعلان کہ اللہ کی کتابوں میں ، اللہ کے پیمانوں میں ، اور اللہ کے ایوانوں میں ان کے لئے یہ ہے ، یہ ہے ۔ حدیبیہ سے یہ واپس ہورہے ہیں اونٹوں کی رفتار کے گردو غبار میں یہ سورت سنتے ہیں ، اب یہ ان کی روح اور ان کی زندگی ہے ۔ ان کے کانوں اور ارواح میں یہ اتر رہی ہے۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور مسکراتے ہیں اور ان کا وجود ہی اللہ کا مجسم فضل و کرم ہے۔۔۔۔ میں چشم تصور سے ان کو دیکھ کر ذرا ان کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں۔ ذرا مجھے بھی ان کے ساتھ چند قدم چلنے دو ، لیکن جو شخص ان کی راہ پر نہیں چلا وہ اس چشن فتح میں کیا شریک ہو سکتا ہے ؟ نہیں وہ دور ہی سے دیکھتا رہے گا۔۔۔۔۔ اللہ ! تو ہی کسی کو یہ اعزاز بخش سکتا ہے کہ وہ دور سے نجات کو نہ دیکھے بلکہ اس جشن میں کود پڑے۔ اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں اس جشن میں کودنے کے لئے بےتاب ہوں !