Fi Zilal al-Quran — البلد 90:1 – البينة 98:8
Contents
- البلد 90:1
- البلد 90:2
- البلد 90:3
- البلد 90:4
- البلد 90:5
- البلد 90:6
- البلد 90:7
- البلد 90:8
- البلد 90:9
- البلد 90:10
- البلد 90:11
- البلد 90:12
- البلد 90:13
- البلد 90:14
- البلد 90:15
- البلد 90:16
- البلد 90:17
- البلد 90:18
- البلد 90:19
- البلد 90:20
- الشمس 91:1
- الشمس 91:2
- الشمس 91:3
- الشمس 91:4
- الشمس 91:5
- الشمس 91:6
- الشمس 91:7
- الشمس 91:8
- الشمس 91:9
- الشمس 91:10
- الشمس 91:11
- الشمس 91:12
- الشمس 91:13
- الشمس 91:14
- الشمس 91:15
- الليل 92:1
- الليل 92:2
- الليل 92:3
- الليل 92:4
- الليل 92:5
- الليل 92:6
- الليل 92:7
- الليل 92:8
- الليل 92:9
- الليل 92:10
- الليل 92:11
- الليل 92:12
- الليل 92:13
- الليل 92:14
- الليل 92:15
- الليل 92:16
- الليل 92:17
- الليل 92:18
- الليل 92:19
- الليل 92:20
- الليل 92:21
- الضحى 93:1
- الضحى 93:2
- الضحى 93:3
- الضحى 93:4
- الضحى 93:5
- الضحى 93:6
- الضحى 93:7
- الضحى 93:8
- الضحى 93:9
- الضحى 93:10
- الضحى 93:11
- الشرح 94:1
- الشرح 94:2
- الشرح 94:3
- الشرح 94:4
- الشرح 94:5
- الشرح 94:6
- الشرح 94:7
- الشرح 94:8
- التين 95:1
- التين 95:2
- التين 95:3
- التين 95:4
- التين 95:5
- التين 95:6
- التين 95:7
- التين 95:8
- العلق 96:1
- العلق 96:2
- العلق 96:3
- العلق 96:4
- العلق 96:5
- العلق 96:6
- العلق 96:7
- العلق 96:8
- العلق 96:9
- العلق 96:10
- العلق 96:11
- العلق 96:12
- العلق 96:13
- العلق 96:14
- العلق 96:15
- العلق 96:16
- العلق 96:17
- العلق 96:18
- العلق 96:19
- القدر 97:1
- القدر 97:2
- القدر 97:3
- القدر 97:4
- القدر 97:5
- البينة 98:1
- البينة 98:2
- البينة 98:3
- البينة 98:4
- البينة 98:5
- البينة 98:6
- البينة 98:7
- البينة 98:8
البلد 90:1
لا اقسم .................................... فی کبد
شہر سے مراد مکہ ہے ، جہاں بیت الحرام واقع ہے ، یہ پہلا وہ گھر ہے ، جو صرف اللہ کی عبادت کے لئے اس زمین پر بنایا گیا ہے ، تاکہ یہاں لوگ آزادی سے آجاسکیں اور امن سے رہ سکیں۔ جہاں آکر ، یہ اسلحہ پھینک دیں ، اپنے ذاتی جھگڑے ایک طرف رکھ دیں ، عداوتوں کو بھلادیں اور اس میں نہایت امن سے ملیں۔ جہاں کسی کا کسی پر اسلحہ اٹھانا حرام ہو ، انسان میں نہیں بلکہ یہاں کے پرندوں اور درختوں کو چھیڑنا اور نقصان پہنچانا بھی حرام ہو۔ پھر یہ شہر ابراہیم (علیہ السلام) کا گھر ہے ، جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے والد محترم ہیں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عربوں کے والد اور مسلمانوں کے پیشوا ہیں۔
اللہ نبی ﷺ کو یوں عزت افزائی فرماتا ہے کہ سا شہر کی قسم اس حال میں اٹھاتا ہے کہ آپ اس میں مقیم ہیں ، مطلب یہ کہ آپ کی یہاں موجودگی کی وجہ سے گویا اس شہر کی عزت واحترام میں اور شرف مقام میں اور عظمت واحتشام میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ اشارہ اس مقام پر گہرے اثرات کا حامل ہے ، انحالات میں کہ مشرکین اس گھر کی حرمت کو ان دنوں پامال کررہے تھے ، اس شہر میں جہاں نباتات وحیوانات بھی پرامن تھے مسلمانوں کو اذیت دی جاتی تھی۔ حالانکہ یہ گھر محترم تھا اور نبی کریم کی موجودگی کی وجہ سے اور محترم ہوگیا تھا اور جب اللہ نے اس شہر اور اس میں مقیم شخصیت کی وجہ سے قسم اٹھائی تو اس کی حرمت ، عظمت اور مرتبہ میں مزید اضافہ ہوگیا۔ اس لئے مشرکین مکہ کا یہ موقف کہ وہ اس گھر کے خدمت گار ہیں ، اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں ، بالکل غلط ، متضاد اور جھوٹا موقف ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگلی قسم ۔
ووالد وما ولد (3:90) ” اور قسم ہے باپ کی اولاد کی “۔ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کی طرف خاص اشارہ ہے اور مکہ کی قسم ، اس میں مقیم نبی آخر الزمان کی قسم اور پھر مکہ کے بانیوں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قسم ایک مناسبت رکھتی ہیں ، لیکن اس اشارے اور مناسبت کے باوجود والد اور ولد سے مراد مطلق والد اور مولود بھی ہوسکتے ہیں۔ اور اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ اس آیت میں قسم انسانی پیدائش اور انسان کی نشوونما پر کھالی گئی ہے۔ اس طرح یہ قسم تمہید ہوگی۔ سورت کے اصل موضوع کے لئے جو انسان کی حقیقت ہے۔
استاد محمد عبدہ نے اس مقام پر ایک خاص تفسیر کی ہے اور ایک لطیف نکتہ بیان کی ہے جو ظلال القرآن کی روح سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا یہاں نقل کرنا مناسب ہوگا۔ وہ فرماتے ہیں :
اس کے بعد اللہ نے والد اور مولود کی قسم اٹھائی کہ اس کائنات کے مظاہر میں سے انسانیت کی پیدائش اور نشوونما کا مظہر بہت ہی اہم ہے یعنی نظام تولید اور اس کے اندر جو گہری حکمت پنہاں ہے اور انسان نے حضرت انسان کو کس قدر خوبصورت بنایا۔ پھر یہ کہ والد اور مولود دونوں پیدا ہونے والے کی تکمیل میں کس قدر مشقت اٹھاتے ہیں اور کتنی مشقتوں اور محنتوں سے یہ مولود اپنے مقررہ کمال تک پہنچتا ہے “۔
” یہی صورت ایک بیج کے اگنے اور نشوونما کے ساتھ تمام ادوار سے گزرنے میں بھی پیش آتی ہے۔ اس بیج اور پودے کو فضا کے عوامل کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور یہ پودا مشقت کے ساتھ اپنے ماحول سے اپنے لیے مختلف عناصر اخذ کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ آخر کار ایک درخت بن جاتا ہے۔ جس کا ایک تنا اور ٹہنیاں ہوتی ہیں۔ اور پھر یہ درخت اور مکمل پودا مزید بیج پیدا کرتا ہے اور یہ بیج آگے اپنا کردار ادا کرتے ہیں ، اس طرح یہ زمین ان نباتات کی وجہ سے خوبصورت بنتی ہے۔ اگر تم ان سب امور کو ذہن میں رکھو اور پھر اس سے ذرا اوپر حیوانات پر غور کرو ، تو تمہیں معلوم ہوگا کہ والد اور مولود کی حیاتیات میں جو عجوبے ہیں وہ بہت بڑے ہیں ، اور والد اور مولود دونوں اس نشوونما کے عمل میں جن مشقتوں سے گزرتے ہیں اور جس طرح اس ذریعہ سے بقائے نوع کا انتظام کیا جاتا ہے اور ان کے ذریعے جس طرح اس کائنات کے حسن کو دوبالا کیا جاتا ہے ۔ تو اس عمل میں نہایت بلند اور اہم مظاہر قدرت ہیں “۔
البلد 90:2
لا اقسم .................................... فی کبد
شہر سے مراد مکہ ہے ، جہاں بیت الحرام واقع ہے ، یہ پہلا وہ گھر ہے ، جو صرف اللہ کی عبادت کے لئے اس زمین پر بنایا گیا ہے ، تاکہ یہاں لوگ آزادی سے آجاسکیں اور امن سے رہ سکیں۔ جہاں آکر ، یہ اسلحہ پھینک دیں ، اپنے ذاتی جھگڑے ایک طرف رکھ دیں ، عداوتوں کو بھلادیں اور اس میں نہایت امن سے ملیں۔ جہاں کسی کا کسی پر اسلحہ اٹھانا حرام ہو ، انسان میں نہیں بلکہ یہاں کے پرندوں اور درختوں کو چھیڑنا اور نقصان پہنچانا بھی حرام ہو۔ پھر یہ شہر ابراہیم (علیہ السلام) کا گھر ہے ، جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے والد محترم ہیں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عربوں کے والد اور مسلمانوں کے پیشوا ہیں۔
اللہ نبی ﷺ کو یوں عزت افزائی فرماتا ہے کہ سا شہر کی قسم اس حال میں اٹھاتا ہے کہ آپ اس میں مقیم ہیں ، مطلب یہ کہ آپ کی یہاں موجودگی کی وجہ سے گویا اس شہر کی عزت واحترام میں اور شرف مقام میں اور عظمت واحتشام میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ اشارہ اس مقام پر گہرے اثرات کا حامل ہے ، انحالات میں کہ مشرکین اس گھر کی حرمت کو ان دنوں پامال کررہے تھے ، اس شہر میں جہاں نباتات وحیوانات بھی پرامن تھے مسلمانوں کو اذیت دی جاتی تھی۔ حالانکہ یہ گھر محترم تھا اور نبی کریم کی موجودگی کی وجہ سے اور محترم ہوگیا تھا اور جب اللہ نے اس شہر اور اس میں مقیم شخصیت کی وجہ سے قسم اٹھائی تو اس کی حرمت ، عظمت اور مرتبہ میں مزید اضافہ ہوگیا۔ اس لئے مشرکین مکہ کا یہ موقف کہ وہ اس گھر کے خدمت گار ہیں ، اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں ، بالکل غلط ، متضاد اور جھوٹا موقف ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگلی قسم ۔
ووالد وما ولد (3:90) ” اور قسم ہے باپ کی اولاد کی “۔ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کی طرف خاص اشارہ ہے اور مکہ کی قسم ، اس میں مقیم نبی آخر الزمان کی قسم اور پھر مکہ کے بانیوں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قسم ایک مناسبت رکھتی ہیں ، لیکن اس اشارے اور مناسبت کے باوجود والد اور ولد سے مراد مطلق والد اور مولود بھی ہوسکتے ہیں۔ اور اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ اس آیت میں قسم انسانی پیدائش اور انسان کی نشوونما پر کھالی گئی ہے۔ اس طرح یہ قسم تمہید ہوگی۔ سورت کے اصل موضوع کے لئے جو انسان کی حقیقت ہے۔
استاد محمد عبدہ نے اس مقام پر ایک خاص تفسیر کی ہے اور ایک لطیف نکتہ بیان کی ہے جو ظلال القرآن کی روح سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا یہاں نقل کرنا مناسب ہوگا۔ وہ فرماتے ہیں :
اس کے بعد اللہ نے والد اور مولود کی قسم اٹھائی کہ اس کائنات کے مظاہر میں سے انسانیت کی پیدائش اور نشوونما کا مظہر بہت ہی اہم ہے یعنی نظام تولید اور اس کے اندر جو گہری حکمت پنہاں ہے اور انسان نے حضرت انسان کو کس قدر خوبصورت بنایا۔ پھر یہ کہ والد اور مولود دونوں پیدا ہونے والے کی تکمیل میں کس قدر مشقت اٹھاتے ہیں اور کتنی مشقتوں اور محنتوں سے یہ مولود اپنے مقررہ کمال تک پہنچتا ہے “۔
” یہی صورت ایک بیج کے اگنے اور نشوونما کے ساتھ تمام ادوار سے گزرنے میں بھی پیش آتی ہے۔ اس بیج اور پودے کو فضا کے عوامل کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور یہ پودا مشقت کے ساتھ اپنے ماحول سے اپنے لیے مختلف عناصر اخذ کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ آخر کار ایک درخت بن جاتا ہے۔ جس کا ایک تنا اور ٹہنیاں ہوتی ہیں۔ اور پھر یہ درخت اور مکمل پودا مزید بیج پیدا کرتا ہے اور یہ بیج آگے اپنا کردار ادا کرتے ہیں ، اس طرح یہ زمین ان نباتات کی وجہ سے خوبصورت بنتی ہے۔ اگر تم ان سب امور کو ذہن میں رکھو اور پھر اس سے ذرا اوپر حیوانات پر غور کرو ، تو تمہیں معلوم ہوگا کہ والد اور مولود کی حیاتیات میں جو عجوبے ہیں وہ بہت بڑے ہیں ، اور والد اور مولود دونوں اس نشوونما کے عمل میں جن مشقتوں سے گزرتے ہیں اور جس طرح اس ذریعہ سے بقائے نوع کا انتظام کیا جاتا ہے اور ان کے ذریعے جس طرح اس کائنات کے حسن کو دوبالا کیا جاتا ہے ۔ تو اس عمل میں نہایت بلند اور اہم مظاہر قدرت ہیں “۔
البلد 90:3
لا اقسم .................................... فی کبد
شہر سے مراد مکہ ہے ، جہاں بیت الحرام واقع ہے ، یہ پہلا وہ گھر ہے ، جو صرف اللہ کی عبادت کے لئے اس زمین پر بنایا گیا ہے ، تاکہ یہاں لوگ آزادی سے آجاسکیں اور امن سے رہ سکیں۔ جہاں آکر ، یہ اسلحہ پھینک دیں ، اپنے ذاتی جھگڑے ایک طرف رکھ دیں ، عداوتوں کو بھلادیں اور اس میں نہایت امن سے ملیں۔ جہاں کسی کا کسی پر اسلحہ اٹھانا حرام ہو ، انسان میں نہیں بلکہ یہاں کے پرندوں اور درختوں کو چھیڑنا اور نقصان پہنچانا بھی حرام ہو۔ پھر یہ شہر ابراہیم (علیہ السلام) کا گھر ہے ، جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے والد محترم ہیں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عربوں کے والد اور مسلمانوں کے پیشوا ہیں۔
اللہ نبی ﷺ کو یوں عزت افزائی فرماتا ہے کہ سا شہر کی قسم اس حال میں اٹھاتا ہے کہ آپ اس میں مقیم ہیں ، مطلب یہ کہ آپ کی یہاں موجودگی کی وجہ سے گویا اس شہر کی عزت واحترام میں اور شرف مقام میں اور عظمت واحتشام میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ اشارہ اس مقام پر گہرے اثرات کا حامل ہے ، انحالات میں کہ مشرکین اس گھر کی حرمت کو ان دنوں پامال کررہے تھے ، اس شہر میں جہاں نباتات وحیوانات بھی پرامن تھے مسلمانوں کو اذیت دی جاتی تھی۔ حالانکہ یہ گھر محترم تھا اور نبی کریم کی موجودگی کی وجہ سے اور محترم ہوگیا تھا اور جب اللہ نے اس شہر اور اس میں مقیم شخصیت کی وجہ سے قسم اٹھائی تو اس کی حرمت ، عظمت اور مرتبہ میں مزید اضافہ ہوگیا۔ اس لئے مشرکین مکہ کا یہ موقف کہ وہ اس گھر کے خدمت گار ہیں ، اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں ، بالکل غلط ، متضاد اور جھوٹا موقف ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگلی قسم ۔
ووالد وما ولد (3:90) ” اور قسم ہے باپ کی اولاد کی “۔ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کی طرف خاص اشارہ ہے اور مکہ کی قسم ، اس میں مقیم نبی آخر الزمان کی قسم اور پھر مکہ کے بانیوں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قسم ایک مناسبت رکھتی ہیں ، لیکن اس اشارے اور مناسبت کے باوجود والد اور ولد سے مراد مطلق والد اور مولود بھی ہوسکتے ہیں۔ اور اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ اس آیت میں قسم انسانی پیدائش اور انسان کی نشوونما پر کھالی گئی ہے۔ اس طرح یہ قسم تمہید ہوگی۔ سورت کے اصل موضوع کے لئے جو انسان کی حقیقت ہے۔
استاد محمد عبدہ نے اس مقام پر ایک خاص تفسیر کی ہے اور ایک لطیف نکتہ بیان کی ہے جو ظلال القرآن کی روح سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا یہاں نقل کرنا مناسب ہوگا۔ وہ فرماتے ہیں :
اس کے بعد اللہ نے والد اور مولود کی قسم اٹھائی کہ اس کائنات کے مظاہر میں سے انسانیت کی پیدائش اور نشوونما کا مظہر بہت ہی اہم ہے یعنی نظام تولید اور اس کے اندر جو گہری حکمت پنہاں ہے اور انسان نے حضرت انسان کو کس قدر خوبصورت بنایا۔ پھر یہ کہ والد اور مولود دونوں پیدا ہونے والے کی تکمیل میں کس قدر مشقت اٹھاتے ہیں اور کتنی مشقتوں اور محنتوں سے یہ مولود اپنے مقررہ کمال تک پہنچتا ہے “۔
” یہی صورت ایک بیج کے اگنے اور نشوونما کے ساتھ تمام ادوار سے گزرنے میں بھی پیش آتی ہے۔ اس بیج اور پودے کو فضا کے عوامل کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور یہ پودا مشقت کے ساتھ اپنے ماحول سے اپنے لیے مختلف عناصر اخذ کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ آخر کار ایک درخت بن جاتا ہے۔ جس کا ایک تنا اور ٹہنیاں ہوتی ہیں۔ اور پھر یہ درخت اور مکمل پودا مزید بیج پیدا کرتا ہے اور یہ بیج آگے اپنا کردار ادا کرتے ہیں ، اس طرح یہ زمین ان نباتات کی وجہ سے خوبصورت بنتی ہے۔ اگر تم ان سب امور کو ذہن میں رکھو اور پھر اس سے ذرا اوپر حیوانات پر غور کرو ، تو تمہیں معلوم ہوگا کہ والد اور مولود کی حیاتیات میں جو عجوبے ہیں وہ بہت بڑے ہیں ، اور والد اور مولود دونوں اس نشوونما کے عمل میں جن مشقتوں سے گزرتے ہیں اور جس طرح اس ذریعہ سے بقائے نوع کا انتظام کیا جاتا ہے اور ان کے ذریعے جس طرح اس کائنات کے حسن کو دوبالا کیا جاتا ہے ۔ تو اس عمل میں نہایت بلند اور اہم مظاہر قدرت ہیں “۔
البلد 90:4
اور اس قسم کا جواب کیا ہے ، کس حقیقت کے اظہار کے لئے یہ قسم اٹھالی گئی۔
لقد ................ فی کبد (4:90) ” درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے “۔ سخت جدوجہد اور مشقت میں سخت کشمکش اور مصائب کے مقابلے کی حالت میں پیدا کیا ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔
یایھا ................................ فملقیہ (6:84) ” اے انسان تو سخت مشقت کرتا ہوا اپنے رب کی طرف جارہا ہے اور آخرکار تو اس سے ملنے والا ہے “۔
رحم کے اندر جب ایک خلیہ قرار پکڑتا ہے تو وہ پہلے دن ہی سے جہد ومشقت شروع کردیتا ہے کہ اپنے لئے غذا فراہم کرے اور آنے والی زندگی کے لئے اچھے حالات فراہم کرے ، یہ تمام کام وہ رب تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق کرتا ہے۔ رحم کے اندر یہ اسی طرح جدوجہد میں ہوتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے نکلنے کا وقت آتا ہے تو اپنی ماں کی طرح یہ بھی درد زہ کی تکالیف سہتا ہے ، اس پر رحم مادر سے نکلتے وقت سخت دباﺅ پڑتا ہے ، پھر جب نکلتا ہے اور روشنی دیکھتا ہے تو بھی اس پر دباﺅ ہوتا ہے۔
باہر آتے ہی ایک نئی جدوجہد شروع ہوتی ہے ، جب یہ ہوا کھینچتا ہے اور سانس لینے کا عمل شروع کرتا ہے اور پہلی مرتبہ وہ منہ کھولتا ہے ، تو اس کے پھیپھڑے کام شروع کرتے ہیں تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے اور وہ چلانے لگتا ہے ، اس کا خون دوران شروع کرتا ہے۔ پھر اس کا نظام ہضم کام شروع کرتا ہے اور یہ سب اعمال ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا وہ عادی نہیں ہوتا ، اس کی انتڑیاں فضلات خارج کرنے کی عادی نہیں ہوتیں۔ غرض اس کے بعد اس کا ہر قدم مشقت میں اٹھتا ہے ، ہر حرکت مشقت ہوتی ہے۔ ذرا دیکھئے اب یہ گھٹنوں کے بل چل رہا ہے ، پھر یہ پاﺅں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے اور چلتا ہے ، یہ سب مشقتیں ہیں اور ہر مرحلے پر جدوجہد کرتی ہیں۔
پھر جب دانت نکلتے ہیں تو مشقت ، سیدھا کھڑے ہونے میں مشقت اور جم کر چلنے میں مشقت ، تعلیم حاصل کرنے میں مشقت ، غوروفکر کرنے میں مشقت ، غرض جو جدید تجربہ وہ کرتا ہے ، جس طرح گھٹنوں کے بل چلنے کا تجربہ اس نے کیا یہ سب مشقت اور جدوجہد ہے۔
اب ذرا آگے پڑھئے ، اب ان مشقتوں کی شاخیں نکل آتی ہیں۔ یہ دیکھو ، اپنے عضلات سے مزدوری کرنے کی مشقت کرتا ہے۔ دوسرا اپنی فکر سے مشقت کرتا ہے ، یہ روح کے ساتھ محنت کررہا ہے ، یہ دیکھو ایک لقمہ جویں کے لئے مشقت کررہا ہے ، یہ دوسرے کیڑے کے لئے جدوجہد کررہا ہے ، اور یہ دوسرا ہزار کو دو ہزار بنارہا ہے۔ پھر دس ہزار اور آگے ، یہ دیکھو ایک حکومت اور مرتبے کے لئے جدوجہد کررہا ہے ، ان میں ایک دیکھو اللہ کے راستے میں جدوجہد کررہا ہے ، بعض عیاشیوں اور خواہشات کے بندے ہیں ، بعض جہنم کے لئے محنت کررہے ہیں اور ان کے مقابلے دوسرے جنت کے لئے جدوجہد کررہے ہیں ، ہر شخص اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے جارہا ہے اور بڑی مشقت کے ساتھ رب کے قریب ہورہا ہے ، اور جب میدان حشر میں اللہ کے سامنے سب کھڑے ہوں گے تو پھر بدبختوں کو دائمی مشقت اور مصیبت میں گرفتار ہونا ہوگا اور نیکوکاروں اور نیک بختوں کو عظیم نعمت اور آرام سے ملے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی ایک مشقت ہی ہے ، لیکن اس کی مشقت کی شکلیں مختلف ہیں ، نوعیت کے اختلاف کے باوجود اصل میں یہ زندگی کی مشقت ہی ہے۔ لیکن عظیم خسارہ اٹھانے والا شخص وہ ہے جو اس دنیا کی پوری مشقت اور مسلسل تکلیفات اٹھا کر نہایت ہی دائمی ، تلخ مشقت تک جا پہنچتا ہے اور جہنم رسید ہوتا ہے اور اس جدوجہد میں سب سے زیادہ کامیاب وہ شخص ہوتا ہے جو نہایت ہی تکلیف دہ انداز میں اپنے رب کی طرف بڑھتا ہے اور ایسی کمائی کرکے اس دنیا کی زندگی کا بوجھ اپنے کاندھوں سے اتارتا ہے اور آخر کار دائمی کامیابی حاصل کرتا ہے اور دائمی راحت پاتا ہے۔
ہاں یہ ہے کہ بعض اوقات اس دنیا کی مشقتوں کا بعض انعام اس دنیا میں بھی مل جاتا ہے ، کیونکہ جو شخص کسی اعلیٰ مقصد کے لئے جدوجہد کرتا ہے ، وہ اس شخص کی طرح نہیں ہوتا جو کسی حقیر سے کام کے لئے محنت کرتا ہے ۔ ایک اعلیٰ مقاصد کے لئے جان ومال خرچ کرتا ہے اور دوسرا حقیر مقاصد کے لئے ، دونوں کی خوشی ، اطمینان اور روحانی مسرت یکساں نہیں ہوسکتی۔ جو شخص محنت اور جدوجہد کرتا ہے ، اور اس کے پیش نظر کوئی مادی مقصد نہیں ہے ، یا وہ اس مادیت سے نکلنے کی جدوجہد کررہا ہے ۔ وہ اس شخص کی طرح نہیں ہوتا جو اس مادیت کے لئے اس طرح ہلکان ہوتا جس طرح کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض پیٹ بھرنے کے لئے مشقت کرتے ہیں۔ جو شخص اقامت دین کی جدوجہد کرتا ہے۔ وہ اس شخص کی طرح نہیں ہوتا جو کسی دنیاوی خواہش کے پیچھے مرتا ہے ، دونوں کی مشقت ، شعور احساس برابر نہیں ہوتے۔ زندگی کی حقیقت واضح کرنے کے بعد انسان کے بعض مزعومات ، تصورات اور بعض دعوﺅں اور بعض تصرفات پر ناقدانہ تبصرہ کیا جاتا ہے !
البلد 90:5
ایحسب ان ................................ احد
یہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا اور جو اپنی اس دنیا کی پوری زندگی میں اس مشقت سے چھوٹ نہیں سکتا ، یہ اپنی حقیقت کو بھول جاتا ہے اور اس کا پیدا کرنے والا اسے جو قوت ، طاقت اور وجدان اور سازو سامان دیتا ہے ، تو وہ ان قوتوں میں ایسے تصرفات کرتا ہے جیسا کہ وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہے اور اسے اس جوابدہی کی توقع نہیں ہے اور یہ خوف نہیں ہے کہ ایک بڑی قوت اور قدروالاا سے پکڑ سکتا ہے اور حساب لے سکتا ہے۔ اس لئے یہ انسان دیتا ہے ، پکڑتا ہے ، چھینتا ہے ، لوٹتا ہے ، جمع کرتا ہے ، اضافہ کرتا ہے ، فسق وفجور کرتا ہے ، نہایت بےخوفی اور نہایت بےباکی کے ساتھ ، یہ خدوخال اس انسان کے ہیں جس کا دل ایمان سے خالی ہو۔
پھر جب ایسے مواقع پر جیسے اس سورت میں مذکور ہیں ، اسے راہ خیر میں خرچ کرنے کی دعوت دی جائے تو پھر وہ کہتا ہے۔
الھکت ملا لبدا (6:90) ” میں نے ڈھیروں مال اڑادیا “۔ اور میرے لئے بس یہ کافی ہے کہ میں نے اس قدر مال اڑادیا۔
ایحسب ................ احد (7:90) ” کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اس کو نہیں دیکھا “۔ یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ تو دیکھ رہا ہے ، اللہ کا علم تو دلوں کی باتوں کو بھی گھیرے ہوئے ہے ، اللہ تو وہ سب کچھ کو دیکھ رہا ہے جو اس نے خرچ کیا اور اسے معلوم ہے کہ اس نے کس لئے خرچ کیا۔ لیکن یہ انسان اس حقیقت کو بھی بھول جاتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ شاید وہ اللہ کی نظروں سے اوجھل ہے۔
انسان کے اس غرور اور اس زعم کے مقابلے میں کہ وہ طاقتور ہے اور زور آور ہے اور اس کی کنجوسی اور پھر بھی دعوائے اتفاق کثیر کے مقابلے میں ، قرآن خود اس کے نفس کا آئینہ اس کے سامنے رکھ کر اسے بتلاتا ہے کہ ذرا غور تو کرو کہ اللہ نے خود تمہارے نفس کے اندر اور تمہاری ساخت کے اندر تم پر کس قدر مہربانیاں کی ہیں اور کس قدر صلاحیتیں دی ہیں لیکن اے انسان تم نے تو ایک نعمت وصلاحیت کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔
البلد 90:6
ایحسب ان ................................ احد
یہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا اور جو اپنی اس دنیا کی پوری زندگی میں اس مشقت سے چھوٹ نہیں سکتا ، یہ اپنی حقیقت کو بھول جاتا ہے اور اس کا پیدا کرنے والا اسے جو قوت ، طاقت اور وجدان اور سازو سامان دیتا ہے ، تو وہ ان قوتوں میں ایسے تصرفات کرتا ہے جیسا کہ وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہے اور اسے اس جوابدہی کی توقع نہیں ہے اور یہ خوف نہیں ہے کہ ایک بڑی قوت اور قدروالاا سے پکڑ سکتا ہے اور حساب لے سکتا ہے۔ اس لئے یہ انسان دیتا ہے ، پکڑتا ہے ، چھینتا ہے ، لوٹتا ہے ، جمع کرتا ہے ، اضافہ کرتا ہے ، فسق وفجور کرتا ہے ، نہایت بےخوفی اور نہایت بےباکی کے ساتھ ، یہ خدوخال اس انسان کے ہیں جس کا دل ایمان سے خالی ہو۔
پھر جب ایسے مواقع پر جیسے اس سورت میں مذکور ہیں ، اسے راہ خیر میں خرچ کرنے کی دعوت دی جائے تو پھر وہ کہتا ہے۔
الھکت ملا لبدا (6:90) ” میں نے ڈھیروں مال اڑادیا “۔ اور میرے لئے بس یہ کافی ہے کہ میں نے اس قدر مال اڑادیا۔
ایحسب ................ احد (7:90) ” کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اس کو نہیں دیکھا “۔ یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ تو دیکھ رہا ہے ، اللہ کا علم تو دلوں کی باتوں کو بھی گھیرے ہوئے ہے ، اللہ تو وہ سب کچھ کو دیکھ رہا ہے جو اس نے خرچ کیا اور اسے معلوم ہے کہ اس نے کس لئے خرچ کیا۔ لیکن یہ انسان اس حقیقت کو بھی بھول جاتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ شاید وہ اللہ کی نظروں سے اوجھل ہے۔
انسان کے اس غرور اور اس زعم کے مقابلے میں کہ وہ طاقتور ہے اور زور آور ہے اور اس کی کنجوسی اور پھر بھی دعوائے اتفاق کثیر کے مقابلے میں ، قرآن خود اس کے نفس کا آئینہ اس کے سامنے رکھ کر اسے بتلاتا ہے کہ ذرا غور تو کرو کہ اللہ نے خود تمہارے نفس کے اندر اور تمہاری ساخت کے اندر تم پر کس قدر مہربانیاں کی ہیں اور کس قدر صلاحیتیں دی ہیں لیکن اے انسان تم نے تو ایک نعمت وصلاحیت کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔
البلد 90:7
ایحسب ان ................................ احد
یہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا اور جو اپنی اس دنیا کی پوری زندگی میں اس مشقت سے چھوٹ نہیں سکتا ، یہ اپنی حقیقت کو بھول جاتا ہے اور اس کا پیدا کرنے والا اسے جو قوت ، طاقت اور وجدان اور سازو سامان دیتا ہے ، تو وہ ان قوتوں میں ایسے تصرفات کرتا ہے جیسا کہ وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہے اور اسے اس جوابدہی کی توقع نہیں ہے اور یہ خوف نہیں ہے کہ ایک بڑی قوت اور قدروالاا سے پکڑ سکتا ہے اور حساب لے سکتا ہے۔ اس لئے یہ انسان دیتا ہے ، پکڑتا ہے ، چھینتا ہے ، لوٹتا ہے ، جمع کرتا ہے ، اضافہ کرتا ہے ، فسق وفجور کرتا ہے ، نہایت بےخوفی اور نہایت بےباکی کے ساتھ ، یہ خدوخال اس انسان کے ہیں جس کا دل ایمان سے خالی ہو۔
پھر جب ایسے مواقع پر جیسے اس سورت میں مذکور ہیں ، اسے راہ خیر میں خرچ کرنے کی دعوت دی جائے تو پھر وہ کہتا ہے۔
الھکت ملا لبدا (6:90) ” میں نے ڈھیروں مال اڑادیا “۔ اور میرے لئے بس یہ کافی ہے کہ میں نے اس قدر مال اڑادیا۔
ایحسب ................ احد (7:90) ” کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اس کو نہیں دیکھا “۔ یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ تو دیکھ رہا ہے ، اللہ کا علم تو دلوں کی باتوں کو بھی گھیرے ہوئے ہے ، اللہ تو وہ سب کچھ کو دیکھ رہا ہے جو اس نے خرچ کیا اور اسے معلوم ہے کہ اس نے کس لئے خرچ کیا۔ لیکن یہ انسان اس حقیقت کو بھی بھول جاتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ شاید وہ اللہ کی نظروں سے اوجھل ہے۔
انسان کے اس غرور اور اس زعم کے مقابلے میں کہ وہ طاقتور ہے اور زور آور ہے اور اس کی کنجوسی اور پھر بھی دعوائے اتفاق کثیر کے مقابلے میں ، قرآن خود اس کے نفس کا آئینہ اس کے سامنے رکھ کر اسے بتلاتا ہے کہ ذرا غور تو کرو کہ اللہ نے خود تمہارے نفس کے اندر اور تمہاری ساخت کے اندر تم پر کس قدر مہربانیاں کی ہیں اور کس قدر صلاحیتیں دی ہیں لیکن اے انسان تم نے تو ایک نعمت وصلاحیت کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔
البلد 90:8
الم نجعل .................................... النجدین
انسان اپنی قوت پر ہمیشہ مغرور ہوجاتا ہے ، حالانکہ اس کے پاس جو چھوٹی موٹی قوت ہوتی ہے۔ وہ اسے اللہ نے دی ہوئی ہوتی ہے ، پھر انسان مال کے بارے میں بڑا بخیل واقع ہوا ہے ، حالانکہ یہ مال بھی اللہ ہی نے دیا ہے۔ اس کے باوجود ، نہ وہ ہدایت کی راہ لیتا ہے اور نہ شکر منعم بجالاتا ہے۔ اللہ نے اسے خو اس خمسہ عطا کیے۔ ان کے ذریعہ یہ عالم محسوسات میں کام کرتا ہے ، پھر اس کو آنکھیں دی گئیں اور ان کی ساخت کس قدر دقیق اور پیچیدہ ہے اور جن کے ذریعہ وہ چیزوں کو دیکھتا ہے ، پھر اللہ نے اسے قوت گویائی عطا کی اور آلہ گویائی بھی عجیب ہے ، زبان اور دو ہونٹ۔
البلد 90:9
ولسانا وشفتین (9:90 ) ” ایک زبان اور دو ہونٹ “۔ اس کے بعد اللہ نے انسان کو خیروشر میں تمیز کرنے کا ملکہ دیا۔ ہدایت وضلالت میں اور حق و باطل میں فرق کرنے کے لئے قوت استدلال دی۔
البلد 90:10
وھدینہ النجدین (10:90) ” اور دونوں راستے اسے دکھائے “۔ کہ نیکی وبدی میں سے وہ جس راستے کو چاہے اختیار کرے۔ اس کو ایسی طاقت دی کہ وہ نیکی اور بدی میں سے جس کو چاہے ، اپنائے اور انسان کی تخلیق میں یہ دوہری قوت رکھی گئی اور یہی اللہ کی حکمت تخلیق تھی۔ پھر اللہ نے ہر چیز کو خلقت بخشی اور اس کائنات میں اس کے لئے اس کا فریضہ منصبی آسان کردیا۔
یہ آیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ انسان کی فطرت کیا ہے اور سورة شمس میں اس کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔
ونفس وما سواھا ................................ دسھا (7:90 تا 10) ” قسم ہے نفس انسانی کی اور اس کی ساخت کی۔ اور پھر اسے بتایا کہ فجور کیا ہے اور تقویٰ کیا ہے۔ بیشک کامیاب ہوا وہ شخص جس نے نفس کو پاک کیا اور ناکام ہوا۔ وہ شخص جس نے اسے برباد کیا “۔ ان آیات میں نفس کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر بیان کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات سورة شمس میں بیان کریں گے۔
یہ اللہ کی نعمتیں ہیں جو اللہ نے بنی نوع انسان کو عطا کی ہیں اور ہر انسان کے نفس میں یہ نعمتیں رکھ دی گئی ہیں ، ان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہدایت قبول کرے ، اس کی آنکھوں کا یہ فرض ہے کہ یہ کائنات میں قدرت الٰہیہ کے دلائل مشاہدہ کریں اور اشارات ایمان تلاش کریں اور دلائل قدرت اور اشارات ایمان اس کائنات میں ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔ پھر انسان کی زبان اور اس کے ہونٹ کلام اور بیان کے ذرائع ہیں۔ اور ان دونوں کی وجہ سے انسان اس کرہ ارض پر بہت کچھ کرتا ہے ، بعض اوقات ایک لفظ توار اور بم کا کام کرتا ہے اور کبھی وہ اس کے تلفظ کرنے والے کو آگ میں گرادیا ہے۔ غرض یہ الفاظ ہی ہیں جو انسان کو اٹھاتے اور گراتے ہیں ، یعنی اس آگ میں : ” حضرت معاذ ابن جبل ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ ایک دن میں آپ کے قریب آگیا اور ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔ تو میں نے حضور اکرم سے پوچھا اے رسول خدا ! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے اور دوزخ سے بچائے۔ آپ نے فرمایا تو نے تو بہت بڑی بات پوچھی ، مگر یہ بڑی بات ان لوگوں کے لئے آسان ہے جن کے لئے اللہ آسان کردے۔ وہ یہ کہ تم اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، نماز قائم کرو ، زکوٰة ادا کرو ، رمضان شریف کے روزے رکھو ، بیت اللہ کا حج کرو ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتادوں کہ خیر کے دروازے کیا ہیں ؟ تو میں نے کہا ضرور۔ تو فرمایا : روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے اور رات کے نصف آخر میں نماز نیک لوگوں کا شعار وعلامت ہے۔ اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
تتجافی ........................ المضاجع ” ان کے پہلو رات کو بستروں سے جدا ہوجاتے ہیں “۔ پھر فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاﺅں کہ اس معاملہ (دین) کا سرا کیا ہے ؟ اس کا ستون کیا ہے ؟ اور اس کی بلند ترین چوٹی کیا ہے ؟ تو حضرت معاذ ؓ نے کہا اللہ کے رسول ضرور بتائیے۔ تو فرمایا اس معاملے کا سرا اسلام ہے ، ستون نماز ہے ، اور بلند ترین چوٹی جہاد ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاﺅں کہ ان سب چیزوں کا دارومدار کس چیز پر ہے تو میں نے کہا اللہ کے رسول ضرور بتائیے ، تو فرمایا اس پر (زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) قابو رکھو ، تو میں نے کہا ، اے رسول خدا جو کچھ ہم بولتے ہیں اس پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا ، آپ نے فرمایا : تمہاری ماں تمہیں روئے کہ لوگ اپنی زبان کی کاٹی ہوئی فصل کی وجہ سے منہ کے بل یا فرمایا ناک کے بل جہنم میں گرائے جاتے ہیں “۔ (احمد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ)
البلد 90:11
پھر اللہ نے انسان کو یہ ہدایت دی کہ وہ خیروشر کو سمجھے اور یہ سمجھے کہ جنت کا راستہ کون سا ہے اور جہنم کا راستہ ہے اور اللہ نے اگلی آیات میں اس مشکل گھاٹی کی توضیح فرمادی ہے :
فلا اقتحم ................................ المیمنة
یہ ہے وہ دشوار گزار کھائی جس کو عبور کرنے کی ہمت انسان نہیں کرتا ، الایہ کہ جو لوگ اپنے پختہ ایمان سے مدد لیں۔ یہ گھاٹی انسان اور جنت کے درمیان حائل ہے ، اگر انسان اسے عبور کرلے تو وہ سیدھا جنت میں داخل ہوجائے ۔ یہاں قرآن کریم اس کی تصویر کشی اس طرح کرتا ہے کہ انسان کے دل میں اسے عبور کرنے کا جوش پیدا ہو ، اور یہ تحریک ہو کہ وہ اسے عبور کرلے ، ایک جست لگائے اور اس پار ہو ، اس کی پوری طرح وضاحت کی گئی اور یہ یقین دلادیا گیا کہ یہی تمہارے اور جنت کے درمیان حائل ہے۔
فلا اقتحم العقبة (11:90) ” مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی “۔ لفظ اقتحام استعمال کرکے اس بات پر ابھارا گیا ہے کہ آگے بڑھو ، ایک جست لگا کر اسے عبور کرو ، گھس جاﺅ۔
البلد 90:12
پھر اس گھاٹی کی عظمت اور بڑائی بیان کرنے کے لئے سوال
وما ادرک ما العقبة (12:90) ” تم کیا جانو کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے “۔ یہ سوال اس لئے نہیں ہے کہ وہ گھاٹی کوئی بہت ضخیم ہے اور ناقابل عبور ہے ، مطلب یہ ہے کہ یہ بہت اہم ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کو عبور کرنا ضروری ہے تاکہ انسان جرات کرکے گھس جائے اور جست لگادے۔ اگرچہ اس کی راہ میں مشکلات حائل ہوں ، کیونکہ محنت اور مشقت کے بغیر تو کوئی کام بھی نہیں ہوتا اور اگر کوئی یہ مشقت برداشت کرے گا تو اسے ضرور اس کا ثمرہ مل جائے گا اور اس کی تکالیف کا صلہ اس کے سامنے ہوگا ، اور اس کا کوئی عمل ضائع نہ ہوگا اور یہ کام ہر حال میں ہونے والا ہے۔
یہ دشوارگزار گھاٹی کیا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کی مکہ کی سوسائٹی کو بےحد ضرورت تھی ، جہاں تحریک اسلامی دعوت کا کام کررہی تھی۔ ان غلاموں کو آزادی دلانا جو اس سوسائٹی میں نہایت ہی برے حالات کار میں کام کررہے تھے ، اس خود غرض سوسائٹی میں لوگ نہایت ہی خود غرضی سے مفادات کے پیچھے دوڑ رہے تھے اور نادار لوگ بھوک سے مر رہے تھے۔ اس میں لوگوں کے لئے ابتدائی انسانی ضروریات فراہم کرنا ، یہ باتیں تو مکہ کی سوسائٹی کے پس منظر میں تھیں ، باقی بعض ایسی باتیں جن کا تعلق کسی زمان ومکان سے نہیں ہے اور جن کا تعلق تمام انسانوں کے ساتھ ہے اور جو نجات کے لئے ہمیشہ دشوار گزار گھاٹی کی طرح رہے ہیں مثلاً
ثم کان ............................ بالمرحمة (17:90) ” پھر وہ آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی “۔ روایات میں ہے کہ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانے کا مقصد یہ ہے کہ غلاموں کو آزاد کرنے میں شرکت کرنا ، اور لغوی لحاظ سے عتق کے معنی ہیں کسی کو مکمل آزاد کردینا یعنی ایک شخص کسی کو آزاد کردے۔ کوئی کسی کی آزادی میں شریک ہو یا کسی کو پورا آزاد کردے ، حاصل دونوں کا ایک ہی ہے۔
جب یہ آیات نازل ہوئیں تو مکہ میں لوگوں نے اسلام کو ہر طرف سے گھیررکھا تھا۔ اسلامی حکومت قائم نہ تھی کہ وہ آزادی غلاماں کا قانون پاس کردیتی۔ غلامی جزیرة العرب اور اس کے علاوہ پوری دنیا میں عام تھی اور پوری دنیا میں عورتوں کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک کیا جاتا تھا ، جب بعض غلام مسلمان ہوگئے ، مثلاً عمار ابن یاسر ان کا خاندان ، بلال ابن رباح ، صہیب ؓ وغیرہ۔ تو ان غلاموں کے مالکان نے ان پر سخت تشدد شروع کردیا۔ اور ان پر ایسا تشدد شروع کردیا جو ناقابل برداشت تھا ، مسلمان اس نتیجے پر پہنچے کہ ماسوائے آزادی کے اور کسی طریقے سے ان کی جان نہیں چھوٹ سکتی اور آزادی کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ ان لوگوں کو ، ان کے شقی القلب اور سنگدل مالکان سے خریدا جائے۔ اس میدان میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ مرد اول رہے ، جیسا کہ ان کی عادت تھی کہ وہاسلام کے ہر معاملے میں سب سے پہلے لبیک کہتے ، اور نہایت ثابت قدمی سے اور اطمینان سے اور استقامت سے اس راہ پر آگے بڑھتے۔
ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت بلال ، اس سے پہلے بنی جمح کے پیدائشی غلام تھے ، یہ نہایت سچے مسلمان تھے ، نہایت پاک دل تھے۔ امیہ ابن حلف ابن وہب ابن خذافہ ابن جمح تپتی دوپہر میں انہیں نکالتا ، وادی مکہ میں زمین پر پیٹھ کے بل لٹاتا اور حکم دیتا کہ ان کے سینے پر ایک بھاری پتھر رکھ دیا جائے اور ان سے کہتا کہ ” تم اسی طرح رہو گے جب تک تم مر نہیں جاتے یا محمد (ﷺ) کی نبوت کا انکار نہیں کردیتے اور لات وعزیٰ کی عبادت نہیں کرتے ؟ “ اس مصیبت کی حالت میں وہ صرف یہی کہتے “ احد .... احد “۔
ایک دن حضرت ابوبکر صدیق ؓ پاس سے گزرے اور یہ لوگ اس وقت ان پر اس طرح تشدد کررہے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ کا گھر محلہ بنی جمح میں تھا ۔ آپ نے امیہ ابن خلف سے کہا : ” کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے کب تک تم یہ ظلم کرتے رہو گے ؟ “ اس نے جواب دیا : ” تم ہی نے تو اسے برباد کیا ہے لہٰذا اس عذاب سے تمہی اسے چھڑاﺅ گے “۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا ” اچھا میں کرتا ہوں۔ میرے پاس ایک سیاہ فام غلام ہے اس سے زیادہ قوی اور مضبوط اور وہ تمہارے دین پر ہے۔ میں اسے اس کے بدلے تمہیں دیتا ہوں “۔ امیہ ابن خلف نے کہا : ” میں نے قبول کیا “۔ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسے اپنے غلام کے بدلے خرید لیا اور آزاد کردیا۔
” مدینہ کو ہجرت کرنے سے پہلے ، ان کے ساتھ اور چھ غلام بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آزاد کرائے ، بلال ساتویں تھے۔ عامر ابن فہیرہ ؓ جو بدر میں شریک ہوئے اور ہئر معمونہ میں شہید ہوئے۔ ام عبیں ، زنیرہ ، جب ان کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آزاد کرایا تو ان کی بصارت چلی گئی۔ قریش نے کہا اس سے لات اور عزیٰ کے سوا کسی اور نے نظر نہیں چھین لی۔ اس پر اس نے یہ تبصرہ لیا : ” وہ جھوٹ بولتے ہیں ، بیت اللہ کی قسم لات اور عزیٰ نہ نقصان پہنچاسکتے اور نہ نفع “۔ اس کے بعداللہ نے اس کی نظر کو لوٹا دیا۔ نہدیہ اور اس کی بیٹی ، یہ دونوں بنی عبدالدار کی ایک عورت کی لونڈیاں تھیں۔ اس نے ان کو آٹا دے کر بھیجا اور ساتھ ہی یہ کہا خدا کی قسم میں تمہیں کبھی بھی آزادانہ کروں گی۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ پاس ہی سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے کہا : ام فلاں ، اس قسم کا کفارہ ادا کرکے اس سے نکل آﺅ، اس نے جواب دیا تم اس کا کفارہادا کرو ، تم ہی نے تو ان کو خراب کیا ہے۔ لہٰذا تم ہی انہیں آزاد کرو ، تو حضرت نے فرمایا ، بتاﺅ قیمت ، اس نے کہا یہ ہے قیمت ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا بس میں نے خرید لیا اور یہ آزاد ہوئیں۔ اس کا آٹا اسے لوٹا دو ، انہوں نے کہا ، مناسب نہیں کہ ہم اس سے فارغ ہوجائیں اور پھر اسے لوٹا دیں۔ تو انہوں نے کہا جس طرح تم چاہو۔
اسی طرح ایک بار ایک لونڈی کے پاس سے گزرے ، یہ بنی عدی قبیلے کی شاخ بنی مومل سے تھی اور مسلمان تھی۔ عمرو ابن مہیب اسے سخت سزا دیتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اسلام چھوڑ دو ، اس وقت حضرت عمر ؓ مشرک تھے ، اسے یہ مار رہے تھے۔ جب وہ تھک گئے تو کہا میں معذرت کرتا ہوں کہ میں نے تمہیں محض اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ میں تھک گیا ہوں ورنہ اور ماتا اور وہ کہتی ، اسی طرح اللہ تیرے ساتھ کرے۔ اسے بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خریدا اور آزاد کردیا “۔
ابن اسحاق کہتے ہیں ، محمد ابن عبداللہ ابن ابو عتیق نے بیان کیا ، عامر ابن عبداللہ سے انہوں نے ابن زبیر سے ، انہوں نے ان کے خاندان والوں سے یہ کہ ابو قحافہ نے کہا : ” بیٹے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ضعیف غلاموں کو آزاد کررہے ہو ، اگر تم یہ کام کرتے ہی ہو جو کررہے ہو تو پھر تمہیں چاہیے کہ مضبوط لوگوں کو آزاد کرو ، جو تمہارے حامی ہوں اور جب تم پر مصیبت آئے تو تمہارے آگے کھڑے ہوں “۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : ” اے باپ ، میں جو چاہتا ہوں وہ صرف رضائے الٰہی کے لئے چاہتا ہوں “۔
یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے جو اس مشکل گھاٹی کو عبور کرنے کے لئے گھس رہے تھے ، اور وہ ایسے مصیبت زدہ جن پر تشدد ہورہا تھا ، اور سوسائٹی ایسی تھی جس میں ایسا اقدام نہایت ابتدائی جست شمار ہوتا اور نہایت انقلابی اقدام ہوتا تھا۔ یوں جس طرح کوئی مشکل ترین گھاٹی کو عبور کرے۔
البلد 90:13
پھر اس گھاٹی کی عظمت اور بڑائی بیان کرنے کے لئے سوال
وما ادرک ما العقبة (12:90) ” تم کیا جانو کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے “۔ یہ سوال اس لئے نہیں ہے کہ وہ گھاٹی کوئی بہت ضخیم ہے اور ناقابل عبور ہے ، مطلب یہ ہے کہ یہ بہت اہم ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کو عبور کرنا ضروری ہے تاکہ انسان جرات کرکے گھس جائے اور جست لگادے۔ اگرچہ اس کی راہ میں مشکلات حائل ہوں ، کیونکہ محنت اور مشقت کے بغیر تو کوئی کام بھی نہیں ہوتا اور اگر کوئی یہ مشقت برداشت کرے گا تو اسے ضرور اس کا ثمرہ مل جائے گا اور اس کی تکالیف کا صلہ اس کے سامنے ہوگا ، اور اس کا کوئی عمل ضائع نہ ہوگا اور یہ کام ہر حال میں ہونے والا ہے۔
یہ دشوارگزار گھاٹی کیا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کی مکہ کی سوسائٹی کو بےحد ضرورت تھی ، جہاں تحریک اسلامی دعوت کا کام کررہی تھی۔ ان غلاموں کو آزادی دلانا جو اس سوسائٹی میں نہایت ہی برے حالات کار میں کام کررہے تھے ، اس خود غرض سوسائٹی میں لوگ نہایت ہی خود غرضی سے مفادات کے پیچھے دوڑ رہے تھے اور نادار لوگ بھوک سے مر رہے تھے۔ اس میں لوگوں کے لئے ابتدائی انسانی ضروریات فراہم کرنا ، یہ باتیں تو مکہ کی سوسائٹی کے پس منظر میں تھیں ، باقی بعض ایسی باتیں جن کا تعلق کسی زمان ومکان سے نہیں ہے اور جن کا تعلق تمام انسانوں کے ساتھ ہے اور جو نجات کے لئے ہمیشہ دشوار گزار گھاٹی کی طرح رہے ہیں مثلاً
ثم کان ............................ بالمرحمة (17:90) ” پھر وہ آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی “۔ روایات میں ہے کہ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانے کا مقصد یہ ہے کہ غلاموں کو آزاد کرنے میں شرکت کرنا ، اور لغوی لحاظ سے عتق کے معنی ہیں کسی کو مکمل آزاد کردینا یعنی ایک شخص کسی کو آزاد کردے۔ کوئی کسی کی آزادی میں شریک ہو یا کسی کو پورا آزاد کردے ، حاصل دونوں کا ایک ہی ہے۔
جب یہ آیات نازل ہوئیں تو مکہ میں لوگوں نے اسلام کو ہر طرف سے گھیررکھا تھا۔ اسلامی حکومت قائم نہ تھی کہ وہ آزادی غلاماں کا قانون پاس کردیتی۔ غلامی جزیرة العرب اور اس کے علاوہ پوری دنیا میں عام تھی اور پوری دنیا میں عورتوں کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک کیا جاتا تھا ، جب بعض غلام مسلمان ہوگئے ، مثلاً عمار ابن یاسر ان کا خاندان ، بلال ابن رباح ، صہیب ؓ وغیرہ۔ تو ان غلاموں کے مالکان نے ان پر سخت تشدد شروع کردیا۔ اور ان پر ایسا تشدد شروع کردیا جو ناقابل برداشت تھا ، مسلمان اس نتیجے پر پہنچے کہ ماسوائے آزادی کے اور کسی طریقے سے ان کی جان نہیں چھوٹ سکتی اور آزادی کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ ان لوگوں کو ، ان کے شقی القلب اور سنگدل مالکان سے خریدا جائے۔ اس میدان میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ مرد اول رہے ، جیسا کہ ان کی عادت تھی کہ وہاسلام کے ہر معاملے میں سب سے پہلے لبیک کہتے ، اور نہایت ثابت قدمی سے اور اطمینان سے اور استقامت سے اس راہ پر آگے بڑھتے۔
ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت بلال ، اس سے پہلے بنی جمح کے پیدائشی غلام تھے ، یہ نہایت سچے مسلمان تھے ، نہایت پاک دل تھے۔ امیہ ابن حلف ابن وہب ابن خذافہ ابن جمح تپتی دوپہر میں انہیں نکالتا ، وادی مکہ میں زمین پر پیٹھ کے بل لٹاتا اور حکم دیتا کہ ان کے سینے پر ایک بھاری پتھر رکھ دیا جائے اور ان سے کہتا کہ ” تم اسی طرح رہو گے جب تک تم مر نہیں جاتے یا محمد (ﷺ) کی نبوت کا انکار نہیں کردیتے اور لات وعزیٰ کی عبادت نہیں کرتے ؟ “ اس مصیبت کی حالت میں وہ صرف یہی کہتے “ احد .... احد “۔
ایک دن حضرت ابوبکر صدیق ؓ پاس سے گزرے اور یہ لوگ اس وقت ان پر اس طرح تشدد کررہے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ کا گھر محلہ بنی جمح میں تھا ۔ آپ نے امیہ ابن خلف سے کہا : ” کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے کب تک تم یہ ظلم کرتے رہو گے ؟ “ اس نے جواب دیا : ” تم ہی نے تو اسے برباد کیا ہے لہٰذا اس عذاب سے تمہی اسے چھڑاﺅ گے “۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا ” اچھا میں کرتا ہوں۔ میرے پاس ایک سیاہ فام غلام ہے اس سے زیادہ قوی اور مضبوط اور وہ تمہارے دین پر ہے۔ میں اسے اس کے بدلے تمہیں دیتا ہوں “۔ امیہ ابن خلف نے کہا : ” میں نے قبول کیا “۔ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسے اپنے غلام کے بدلے خرید لیا اور آزاد کردیا۔
” مدینہ کو ہجرت کرنے سے پہلے ، ان کے ساتھ اور چھ غلام بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آزاد کرائے ، بلال ساتویں تھے۔ عامر ابن فہیرہ ؓ جو بدر میں شریک ہوئے اور ہئر معمونہ میں شہید ہوئے۔ ام عبیں ، زنیرہ ، جب ان کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آزاد کرایا تو ان کی بصارت چلی گئی۔ قریش نے کہا اس سے لات اور عزیٰ کے سوا کسی اور نے نظر نہیں چھین لی۔ اس پر اس نے یہ تبصرہ لیا : ” وہ جھوٹ بولتے ہیں ، بیت اللہ کی قسم لات اور عزیٰ نہ نقصان پہنچاسکتے اور نہ نفع “۔ اس کے بعداللہ نے اس کی نظر کو لوٹا دیا۔ نہدیہ اور اس کی بیٹی ، یہ دونوں بنی عبدالدار کی ایک عورت کی لونڈیاں تھیں۔ اس نے ان کو آٹا دے کر بھیجا اور ساتھ ہی یہ کہا خدا کی قسم میں تمہیں کبھی بھی آزادانہ کروں گی۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ پاس ہی سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے کہا : ام فلاں ، اس قسم کا کفارہ ادا کرکے اس سے نکل آﺅ، اس نے جواب دیا تم اس کا کفارہادا کرو ، تم ہی نے تو ان کو خراب کیا ہے۔ لہٰذا تم ہی انہیں آزاد کرو ، تو حضرت نے فرمایا ، بتاﺅ قیمت ، اس نے کہا یہ ہے قیمت ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا بس میں نے خرید لیا اور یہ آزاد ہوئیں۔ اس کا آٹا اسے لوٹا دو ، انہوں نے کہا ، مناسب نہیں کہ ہم اس سے فارغ ہوجائیں اور پھر اسے لوٹا دیں۔ تو انہوں نے کہا جس طرح تم چاہو۔
اسی طرح ایک بار ایک لونڈی کے پاس سے گزرے ، یہ بنی عدی قبیلے کی شاخ بنی مومل سے تھی اور مسلمان تھی۔ عمرو ابن مہیب اسے سخت سزا دیتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اسلام چھوڑ دو ، اس وقت حضرت عمر ؓ مشرک تھے ، اسے یہ مار رہے تھے۔ جب وہ تھک گئے تو کہا میں معذرت کرتا ہوں کہ میں نے تمہیں محض اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ میں تھک گیا ہوں ورنہ اور ماتا اور وہ کہتی ، اسی طرح اللہ تیرے ساتھ کرے۔ اسے بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خریدا اور آزاد کردیا “۔
ابن اسحاق کہتے ہیں ، محمد ابن عبداللہ ابن ابو عتیق نے بیان کیا ، عامر ابن عبداللہ سے انہوں نے ابن زبیر سے ، انہوں نے ان کے خاندان والوں سے یہ کہ ابو قحافہ نے کہا : ” بیٹے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ضعیف غلاموں کو آزاد کررہے ہو ، اگر تم یہ کام کرتے ہی ہو جو کررہے ہو تو پھر تمہیں چاہیے کہ مضبوط لوگوں کو آزاد کرو ، جو تمہارے حامی ہوں اور جب تم پر مصیبت آئے تو تمہارے آگے کھڑے ہوں “۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : ” اے باپ ، میں جو چاہتا ہوں وہ صرف رضائے الٰہی کے لئے چاہتا ہوں “۔
یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے جو اس مشکل گھاٹی کو عبور کرنے کے لئے گھس رہے تھے ، اور وہ ایسے مصیبت زدہ جن پر تشدد ہورہا تھا ، اور سوسائٹی ایسی تھی جس میں ایسا اقدام نہایت ابتدائی جست شمار ہوتا اور نہایت انقلابی اقدام ہوتا تھا۔ یوں جس طرح کوئی مشکل ترین گھاٹی کو عبور کرے۔
البلد 90:14
پھر اس گھاٹی کی عظمت اور بڑائی بیان کرنے کے لئے سوال
وما ادرک ما العقبة (12:90) ” تم کیا جانو کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے “۔ یہ سوال اس لئے نہیں ہے کہ وہ گھاٹی کوئی بہت ضخیم ہے اور ناقابل عبور ہے ، مطلب یہ ہے کہ یہ بہت اہم ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کو عبور کرنا ضروری ہے تاکہ انسان جرات کرکے گھس جائے اور جست لگادے۔ اگرچہ اس کی راہ میں مشکلات حائل ہوں ، کیونکہ محنت اور مشقت کے بغیر تو کوئی کام بھی نہیں ہوتا اور اگر کوئی یہ مشقت برداشت کرے گا تو اسے ضرور اس کا ثمرہ مل جائے گا اور اس کی تکالیف کا صلہ اس کے سامنے ہوگا ، اور اس کا کوئی عمل ضائع نہ ہوگا اور یہ کام ہر حال میں ہونے والا ہے۔
یہ دشوارگزار گھاٹی کیا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کی مکہ کی سوسائٹی کو بےحد ضرورت تھی ، جہاں تحریک اسلامی دعوت کا کام کررہی تھی۔ ان غلاموں کو آزادی دلانا جو اس سوسائٹی میں نہایت ہی برے حالات کار میں کام کررہے تھے ، اس خود غرض سوسائٹی میں لوگ نہایت ہی خود غرضی سے مفادات کے پیچھے دوڑ رہے تھے اور نادار لوگ بھوک سے مر رہے تھے۔ اس میں لوگوں کے لئے ابتدائی انسانی ضروریات فراہم کرنا ، یہ باتیں تو مکہ کی سوسائٹی کے پس منظر میں تھیں ، باقی بعض ایسی باتیں جن کا تعلق کسی زمان ومکان سے نہیں ہے اور جن کا تعلق تمام انسانوں کے ساتھ ہے اور جو نجات کے لئے ہمیشہ دشوار گزار گھاٹی کی طرح رہے ہیں مثلاً
ثم کان ............................ بالمرحمة (17:90) ” پھر وہ آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی “۔ روایات میں ہے کہ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانے کا مقصد یہ ہے کہ غلاموں کو آزاد کرنے میں شرکت کرنا ، اور لغوی لحاظ سے عتق کے معنی ہیں کسی کو مکمل آزاد کردینا یعنی ایک شخص کسی کو آزاد کردے۔ کوئی کسی کی آزادی میں شریک ہو یا کسی کو پورا آزاد کردے ، حاصل دونوں کا ایک ہی ہے۔
جب یہ آیات نازل ہوئیں تو مکہ میں لوگوں نے اسلام کو ہر طرف سے گھیررکھا تھا۔ اسلامی حکومت قائم نہ تھی کہ وہ آزادی غلاماں کا قانون پاس کردیتی۔ غلامی جزیرة العرب اور اس کے علاوہ پوری دنیا میں عام تھی اور پوری دنیا میں عورتوں کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک کیا جاتا تھا ، جب بعض غلام مسلمان ہوگئے ، مثلاً عمار ابن یاسر ان کا خاندان ، بلال ابن رباح ، صہیب ؓ وغیرہ۔ تو ان غلاموں کے مالکان نے ان پر سخت تشدد شروع کردیا۔ اور ان پر ایسا تشدد شروع کردیا جو ناقابل برداشت تھا ، مسلمان اس نتیجے پر پہنچے کہ ماسوائے آزادی کے اور کسی طریقے سے ان کی جان نہیں چھوٹ سکتی اور آزادی کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ ان لوگوں کو ، ان کے شقی القلب اور سنگدل مالکان سے خریدا جائے۔ اس میدان میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ مرد اول رہے ، جیسا کہ ان کی عادت تھی کہ وہاسلام کے ہر معاملے میں سب سے پہلے لبیک کہتے ، اور نہایت ثابت قدمی سے اور اطمینان سے اور استقامت سے اس راہ پر آگے بڑھتے۔
ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت بلال ، اس سے پہلے بنی جمح کے پیدائشی غلام تھے ، یہ نہایت سچے مسلمان تھے ، نہایت پاک دل تھے۔ امیہ ابن حلف ابن وہب ابن خذافہ ابن جمح تپتی دوپہر میں انہیں نکالتا ، وادی مکہ میں زمین پر پیٹھ کے بل لٹاتا اور حکم دیتا کہ ان کے سینے پر ایک بھاری پتھر رکھ دیا جائے اور ان سے کہتا کہ ” تم اسی طرح رہو گے جب تک تم مر نہیں جاتے یا محمد (ﷺ) کی نبوت کا انکار نہیں کردیتے اور لات وعزیٰ کی عبادت نہیں کرتے ؟ “ اس مصیبت کی حالت میں وہ صرف یہی کہتے “ احد .... احد “۔
ایک دن حضرت ابوبکر صدیق ؓ پاس سے گزرے اور یہ لوگ اس وقت ان پر اس طرح تشدد کررہے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ کا گھر محلہ بنی جمح میں تھا ۔ آپ نے امیہ ابن خلف سے کہا : ” کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے کب تک تم یہ ظلم کرتے رہو گے ؟ “ اس نے جواب دیا : ” تم ہی نے تو اسے برباد کیا ہے لہٰذا اس عذاب سے تمہی اسے چھڑاﺅ گے “۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا ” اچھا میں کرتا ہوں۔ میرے پاس ایک سیاہ فام غلام ہے اس سے زیادہ قوی اور مضبوط اور وہ تمہارے دین پر ہے۔ میں اسے اس کے بدلے تمہیں دیتا ہوں “۔ امیہ ابن خلف نے کہا : ” میں نے قبول کیا “۔ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسے اپنے غلام کے بدلے خرید لیا اور آزاد کردیا۔
” مدینہ کو ہجرت کرنے سے پہلے ، ان کے ساتھ اور چھ غلام بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آزاد کرائے ، بلال ساتویں تھے۔ عامر ابن فہیرہ ؓ جو بدر میں شریک ہوئے اور ہئر معمونہ میں شہید ہوئے۔ ام عبیں ، زنیرہ ، جب ان کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آزاد کرایا تو ان کی بصارت چلی گئی۔ قریش نے کہا اس سے لات اور عزیٰ کے سوا کسی اور نے نظر نہیں چھین لی۔ اس پر اس نے یہ تبصرہ لیا : ” وہ جھوٹ بولتے ہیں ، بیت اللہ کی قسم لات اور عزیٰ نہ نقصان پہنچاسکتے اور نہ نفع “۔ اس کے بعداللہ نے اس کی نظر کو لوٹا دیا۔ نہدیہ اور اس کی بیٹی ، یہ دونوں بنی عبدالدار کی ایک عورت کی لونڈیاں تھیں۔ اس نے ان کو آٹا دے کر بھیجا اور ساتھ ہی یہ کہا خدا کی قسم میں تمہیں کبھی بھی آزادانہ کروں گی۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ پاس ہی سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے کہا : ام فلاں ، اس قسم کا کفارہ ادا کرکے اس سے نکل آﺅ، اس نے جواب دیا تم اس کا کفارہادا کرو ، تم ہی نے تو ان کو خراب کیا ہے۔ لہٰذا تم ہی انہیں آزاد کرو ، تو حضرت نے فرمایا ، بتاﺅ قیمت ، اس نے کہا یہ ہے قیمت ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا بس میں نے خرید لیا اور یہ آزاد ہوئیں۔ اس کا آٹا اسے لوٹا دو ، انہوں نے کہا ، مناسب نہیں کہ ہم اس سے فارغ ہوجائیں اور پھر اسے لوٹا دیں۔ تو انہوں نے کہا جس طرح تم چاہو۔
اسی طرح ایک بار ایک لونڈی کے پاس سے گزرے ، یہ بنی عدی قبیلے کی شاخ بنی مومل سے تھی اور مسلمان تھی۔ عمرو ابن مہیب اسے سخت سزا دیتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اسلام چھوڑ دو ، اس وقت حضرت عمر ؓ مشرک تھے ، اسے یہ مار رہے تھے۔ جب وہ تھک گئے تو کہا میں معذرت کرتا ہوں کہ میں نے تمہیں محض اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ میں تھک گیا ہوں ورنہ اور ماتا اور وہ کہتی ، اسی طرح اللہ تیرے ساتھ کرے۔ اسے بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خریدا اور آزاد کردیا “۔
ابن اسحاق کہتے ہیں ، محمد ابن عبداللہ ابن ابو عتیق نے بیان کیا ، عامر ابن عبداللہ سے انہوں نے ابن زبیر سے ، انہوں نے ان کے خاندان والوں سے یہ کہ ابو قحافہ نے کہا : ” بیٹے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ضعیف غلاموں کو آزاد کررہے ہو ، اگر تم یہ کام کرتے ہی ہو جو کررہے ہو تو پھر تمہیں چاہیے کہ مضبوط لوگوں کو آزاد کرو ، جو تمہارے حامی ہوں اور جب تم پر مصیبت آئے تو تمہارے آگے کھڑے ہوں “۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : ” اے باپ ، میں جو چاہتا ہوں وہ صرف رضائے الٰہی کے لئے چاہتا ہوں “۔
یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے جو اس مشکل گھاٹی کو عبور کرنے کے لئے گھس رہے تھے ، اور وہ ایسے مصیبت زدہ جن پر تشدد ہورہا تھا ، اور سوسائٹی ایسی تھی جس میں ایسا اقدام نہایت ابتدائی جست شمار ہوتا اور نہایت انقلابی اقدام ہوتا تھا۔ یوں جس طرح کوئی مشکل ترین گھاٹی کو عبور کرے۔
البلد 90:15
پھر اس گھاٹی کی عظمت اور بڑائی بیان کرنے کے لئے سوال
وما ادرک ما العقبة (12:90) ” تم کیا جانو کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے “۔ یہ سوال اس لئے نہیں ہے کہ وہ گھاٹی کوئی بہت ضخیم ہے اور ناقابل عبور ہے ، مطلب یہ ہے کہ یہ بہت اہم ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کو عبور کرنا ضروری ہے تاکہ انسان جرات کرکے گھس جائے اور جست لگادے۔ اگرچہ اس کی راہ میں مشکلات حائل ہوں ، کیونکہ محنت اور مشقت کے بغیر تو کوئی کام بھی نہیں ہوتا اور اگر کوئی یہ مشقت برداشت کرے گا تو اسے ضرور اس کا ثمرہ مل جائے گا اور اس کی تکالیف کا صلہ اس کے سامنے ہوگا ، اور اس کا کوئی عمل ضائع نہ ہوگا اور یہ کام ہر حال میں ہونے والا ہے۔
یہ دشوارگزار گھاٹی کیا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کی مکہ کی سوسائٹی کو بےحد ضرورت تھی ، جہاں تحریک اسلامی دعوت کا کام کررہی تھی۔ ان غلاموں کو آزادی دلانا جو اس سوسائٹی میں نہایت ہی برے حالات کار میں کام کررہے تھے ، اس خود غرض سوسائٹی میں لوگ نہایت ہی خود غرضی سے مفادات کے پیچھے دوڑ رہے تھے اور نادار لوگ بھوک سے مر رہے تھے۔ اس میں لوگوں کے لئے ابتدائی انسانی ضروریات فراہم کرنا ، یہ باتیں تو مکہ کی سوسائٹی کے پس منظر میں تھیں ، باقی بعض ایسی باتیں جن کا تعلق کسی زمان ومکان سے نہیں ہے اور جن کا تعلق تمام انسانوں کے ساتھ ہے اور جو نجات کے لئے ہمیشہ دشوار گزار گھاٹی کی طرح رہے ہیں مثلاً
ثم کان ............................ بالمرحمة (17:90) ” پھر وہ آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی “۔ روایات میں ہے کہ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانے کا مقصد یہ ہے کہ غلاموں کو آزاد کرنے میں شرکت کرنا ، اور لغوی لحاظ سے عتق کے معنی ہیں کسی کو مکمل آزاد کردینا یعنی ایک شخص کسی کو آزاد کردے۔ کوئی کسی کی آزادی میں شریک ہو یا کسی کو پورا آزاد کردے ، حاصل دونوں کا ایک ہی ہے۔
جب یہ آیات نازل ہوئیں تو مکہ میں لوگوں نے اسلام کو ہر طرف سے گھیررکھا تھا۔ اسلامی حکومت قائم نہ تھی کہ وہ آزادی غلاماں کا قانون پاس کردیتی۔ غلامی جزیرة العرب اور اس کے علاوہ پوری دنیا میں عام تھی اور پوری دنیا میں عورتوں کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک کیا جاتا تھا ، جب بعض غلام مسلمان ہوگئے ، مثلاً عمار ابن یاسر ان کا خاندان ، بلال ابن رباح ، صہیب ؓ وغیرہ۔ تو ان غلاموں کے مالکان نے ان پر سخت تشدد شروع کردیا۔ اور ان پر ایسا تشدد شروع کردیا جو ناقابل برداشت تھا ، مسلمان اس نتیجے پر پہنچے کہ ماسوائے آزادی کے اور کسی طریقے سے ان کی جان نہیں چھوٹ سکتی اور آزادی کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ ان لوگوں کو ، ان کے شقی القلب اور سنگدل مالکان سے خریدا جائے۔ اس میدان میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ مرد اول رہے ، جیسا کہ ان کی عادت تھی کہ وہاسلام کے ہر معاملے میں سب سے پہلے لبیک کہتے ، اور نہایت ثابت قدمی سے اور اطمینان سے اور استقامت سے اس راہ پر آگے بڑھتے۔
ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت بلال ، اس سے پہلے بنی جمح کے پیدائشی غلام تھے ، یہ نہایت سچے مسلمان تھے ، نہایت پاک دل تھے۔ امیہ ابن حلف ابن وہب ابن خذافہ ابن جمح تپتی دوپہر میں انہیں نکالتا ، وادی مکہ میں زمین پر پیٹھ کے بل لٹاتا اور حکم دیتا کہ ان کے سینے پر ایک بھاری پتھر رکھ دیا جائے اور ان سے کہتا کہ ” تم اسی طرح رہو گے جب تک تم مر نہیں جاتے یا محمد (ﷺ) کی نبوت کا انکار نہیں کردیتے اور لات وعزیٰ کی عبادت نہیں کرتے ؟ “ اس مصیبت کی حالت میں وہ صرف یہی کہتے “ احد .... احد “۔
ایک دن حضرت ابوبکر صدیق ؓ پاس سے گزرے اور یہ لوگ اس وقت ان پر اس طرح تشدد کررہے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ کا گھر محلہ بنی جمح میں تھا ۔ آپ نے امیہ ابن خلف سے کہا : ” کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے کب تک تم یہ ظلم کرتے رہو گے ؟ “ اس نے جواب دیا : ” تم ہی نے تو اسے برباد کیا ہے لہٰذا اس عذاب سے تمہی اسے چھڑاﺅ گے “۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا ” اچھا میں کرتا ہوں۔ میرے پاس ایک سیاہ فام غلام ہے اس سے زیادہ قوی اور مضبوط اور وہ تمہارے دین پر ہے۔ میں اسے اس کے بدلے تمہیں دیتا ہوں “۔ امیہ ابن خلف نے کہا : ” میں نے قبول کیا “۔ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسے اپنے غلام کے بدلے خرید لیا اور آزاد کردیا۔
” مدینہ کو ہجرت کرنے سے پہلے ، ان کے ساتھ اور چھ غلام بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آزاد کرائے ، بلال ساتویں تھے۔ عامر ابن فہیرہ ؓ جو بدر میں شریک ہوئے اور ہئر معمونہ میں شہید ہوئے۔ ام عبیں ، زنیرہ ، جب ان کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آزاد کرایا تو ان کی بصارت چلی گئی۔ قریش نے کہا اس سے لات اور عزیٰ کے سوا کسی اور نے نظر نہیں چھین لی۔ اس پر اس نے یہ تبصرہ لیا : ” وہ جھوٹ بولتے ہیں ، بیت اللہ کی قسم لات اور عزیٰ نہ نقصان پہنچاسکتے اور نہ نفع “۔ اس کے بعداللہ نے اس کی نظر کو لوٹا دیا۔ نہدیہ اور اس کی بیٹی ، یہ دونوں بنی عبدالدار کی ایک عورت کی لونڈیاں تھیں۔ اس نے ان کو آٹا دے کر بھیجا اور ساتھ ہی یہ کہا خدا کی قسم میں تمہیں کبھی بھی آزادانہ کروں گی۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ پاس ہی سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے کہا : ام فلاں ، اس قسم کا کفارہ ادا کرکے اس سے نکل آﺅ، اس نے جواب دیا تم اس کا کفارہادا کرو ، تم ہی نے تو ان کو خراب کیا ہے۔ لہٰذا تم ہی انہیں آزاد کرو ، تو حضرت نے فرمایا ، بتاﺅ قیمت ، اس نے کہا یہ ہے قیمت ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا بس میں نے خرید لیا اور یہ آزاد ہوئیں۔ اس کا آٹا اسے لوٹا دو ، انہوں نے کہا ، مناسب نہیں کہ ہم اس سے فارغ ہوجائیں اور پھر اسے لوٹا دیں۔ تو انہوں نے کہا جس طرح تم چاہو۔
اسی طرح ایک بار ایک لونڈی کے پاس سے گزرے ، یہ بنی عدی قبیلے کی شاخ بنی مومل سے تھی اور مسلمان تھی۔ عمرو ابن مہیب اسے سخت سزا دیتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اسلام چھوڑ دو ، اس وقت حضرت عمر ؓ مشرک تھے ، اسے یہ مار رہے تھے۔ جب وہ تھک گئے تو کہا میں معذرت کرتا ہوں کہ میں نے تمہیں محض اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ میں تھک گیا ہوں ورنہ اور ماتا اور وہ کہتی ، اسی طرح اللہ تیرے ساتھ کرے۔ اسے بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خریدا اور آزاد کردیا “۔
ابن اسحاق کہتے ہیں ، محمد ابن عبداللہ ابن ابو عتیق نے بیان کیا ، عامر ابن عبداللہ سے انہوں نے ابن زبیر سے ، انہوں نے ان کے خاندان والوں سے یہ کہ ابو قحافہ نے کہا : ” بیٹے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ضعیف غلاموں کو آزاد کررہے ہو ، اگر تم یہ کام کرتے ہی ہو جو کررہے ہو تو پھر تمہیں چاہیے کہ مضبوط لوگوں کو آزاد کرو ، جو تمہارے حامی ہوں اور جب تم پر مصیبت آئے تو تمہارے آگے کھڑے ہوں “۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : ” اے باپ ، میں جو چاہتا ہوں وہ صرف رضائے الٰہی کے لئے چاہتا ہوں “۔
یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے جو اس مشکل گھاٹی کو عبور کرنے کے لئے گھس رہے تھے ، اور وہ ایسے مصیبت زدہ جن پر تشدد ہورہا تھا ، اور سوسائٹی ایسی تھی جس میں ایسا اقدام نہایت ابتدائی جست شمار ہوتا اور نہایت انقلابی اقدام ہوتا تھا۔ یوں جس طرح کوئی مشکل ترین گھاٹی کو عبور کرے۔
البلد 90:16
اواطعم ............................ ذا متربة (14:90 تا 16) ” یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یاخاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا “۔ مسفبہ کے معنی ہیں بھوک کے۔ قحط کے دنوں میں چونکہ کھانا مہنگا ہوتا ہے ، اس لئے ان دنوں غریبوں کو کھانا کھلانا ، ایمان کے لئے معیار بن جاتا ہے۔ اس وقت کی جاہلی سوسائٹی میں یتیموں کی حالت تو یہ تھی کہ ان کے حقوق ہر طرف پامال ہوتے تھے ، ان کے مال کو غبن کیا جاتا تھا اور اس رطح سے اڑالیا جاتا تھا کہ گویا زمین اسے کھاگئی۔ اگرچہ یتیم قریبی رشتہ دار ہوتا۔ اس لئے کہ اس جاہلی سوسائٹی میں لوگ دولت کے پیچھے کتوں کی طرح ہلکان ہورہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو یتیم کے مال کی حفاظت کے لئے بار بار وصیت کرنی پڑی ، کیونکہ اس معاشرے میں یتیموں پر حکم عام تھا۔ اس لئے یہ ہدایات قرآن حکیم میں جاری رہیں اور مدنی سورتوں میں یہ دی گئیں۔ مثلاً میراث ، وصیت اور نکاح کے قوانین کے ضمن میں۔ ہم نے سورة بقرہ اور نساء میں اس موضوع پر مفصل بات کی ہے۔ خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا۔
او مسکینا ذا متربة (16:90) ” اس لئے کہا گیا ہے کہ اپنی بدحالی کی وجہ سے وہ خاک آلود ہے یہاں یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے سے قبل قیدلگا دی۔
فی یوم ذی مسغبة (14:90) ” فاقے کے دن کسی یتیم اور مسکین کو کھانا کھلانا “۔ یہ اس لئے کہ اس گھاٹی کو مشکل گھاٹی کہا گیا ہے اور یہ گھاٹی معیار ہے ایمانی شعور ، رحمدلی ، ایثار اور اسلامی سوسائٹی کے نظام تکافل کے لئے۔ لوگ اللہ کے اہل و عیال ہیں اور اللہ کے عیال کا خیال رکھنا ایمانی تقاضا ہے خصوصاً قحط سالی اور فاقوں کے دنوں میں۔ اور دونوں کام ، غلاموں کو آزاد کرنا اور غریبوں کو کھلانا ، مکہ کی سوسائٹی میں نہایت ہی اہم تھے۔ اگرچہ یہ دونوں کام اسلام کے عمومی مقاصد میں بھی داخل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ان کو ایمان سے بھی مقدم ذکر کیا۔ حالانکہ ایمان لانا ایک بنیادی قاعدہ ہے۔ اس کے بعد پھر عمومی اور بنیادی اصول کا ذکر کیا گیا۔
البلد 90:17
ثم کان ............................ بالمرحمة (17:90) ؟ ؟ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کی “۔ لفظ تم یہاں ” پھر “ کے معنی میں نہیں ہے ، کہ پہلے یہ دوکام ہیں اور بعد میں اسلام ہے ، بلکہ معنی یہ ہے کہ یہ دوجزوی کام بھی ضروری ہیں لیکن ان سے پہلے ایمان لانا ضروری ہے ، اور یہ ضروری اور عام اصول ہے۔ اور اعلیٰ مقام و مرتبہ ہے ، اگر ایمان نہیں ہے تو پھر غلاموں کو آزاد کرنا ، اور لوگوں کو کھانا کھلانا مفید ہی نہیں ہے۔ ہر اچھے عمل سے قبل ایمان لانا ضروری ہے۔ اللہ کے ہاں کسی بھی عمل صالح میں وزن صرف ایمان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ایمان ہی اعمال کو ایک منہاج مسلسل منہاج کی لڑی میں پرودیتا ہے۔ ایمان کی وجہ سے عمل صالح مسلسل اور دائمی نوعیت اختیار کرلیتا ہے اور ایمان کے بغیر اگر کوئی نیکی کرتا ہے تو وہ محض ایک عارضی جوش ہوتا ہے۔ بدلتے ہوئے مزاجوں کے ساتھ بدل جاتا ہے ، یا کسی مصلحت کی وجہ سے کوئی نیکی کرتا ہے یا تعریف سننے کے لئے۔
اب معنی یوں ہوا کہ مشکل گھاٹی یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کردے ، یا کسی یتیم ومسکین کو فاقے کے دن کھانا کھلائے لیکن سب سے اول یہ کہ وہ اہل ایمان میں سے ہو اور ایک دوسرے کو صبر اور رحم کرنے کی نصیحت کرنے والوں میں سے ہو۔” ثم “ کا لفظ گویا یہاں ” پھر “ کے معنی میں نہیں بلکہ ” سب سے بڑی بات یہ کہ “ کا مفہوم دیتا ہے۔
صبر کی وصیت اس لئے ضروری ہے کہ ایمان کے تقاضوں میں سے بالعموم اہم تقاضا صبر ہے۔ اور دشوار گزار گھاٹی کو عبور کرنے کے لئے بالخصوص صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر ایک دوسرے کو صبر کی وصیت بھی کرنا یہ صبر سے بھی ایک اونچا درجہ ہے۔ یعنی اسلامی جماعت ایسے درجے پر ہوتی ہے کہ اس کے افراد اور کارکن باہم ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں اور اس طرح وہ ایمان کے تقاضے پورے کرنے میں ایک دوسرے کے لے ممدومعاون ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کے احساسات ایک دوسرے کے ساتھ ہم رنگ ہوتے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ قدم ملا کر چلتے ہیں ، اور یہ سمجھتے ہیں کہ زمین کے اوپر ایمانی نظام کے قیام کا فریضہ صبر اور مصابرت ہی سے ادا ہوسکتا ہے۔ اس لئے وہ اس کا گراں کے سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات پر ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے ثابت قدمی کا باعث بنتے ہیں۔ ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے ہیں ، ایک دوسرے کو قوت دیتے ہیں۔ یہ صبر اور تواصی بالصبر انفرادی صبر سے آگے ایک بلند درجہ ہے۔ اگرچہ یہ صبر بھی انفرادی صبر ہی پر قائم ہوتا ہے لیکن تواصی بالصبر سے اشارہ اس طرف سے ہی کہ مومنین اجتماعی صبر ہی کریں۔ اور یہ کہ وہ ایک دوسرے کے لئے ہمت توڑنے کا باعث نہ بنیں بلکہ ہمت بڑھانے کا باعث ہوں۔ ہزیمت کا باعث نہ بنیں بلکہ اقتحام اور مشکلات کو انگیز کرنے کا باعث بنیں۔ جزع فزع کا باعث بنیں بلکہ ایک دوسرے کے اطمینان کا باعث بنیں۔
اسی طرح خلق خدا پر رحم کرنا ایک بات ہے اور ایک دوسرے کو لوگوں پر رحم کرنے کی تلقین کرنا ایک دوسرا فعل ہے۔ جو رحم کی تلقین کرنے پر ایک زیادہ بات ہے۔ اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ صفت جماعت مسلمہ کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو رحم کی وصیت کریں اور اس فعل پر ایک دوسرے کو اکسائیں اور اسے ایک انفرادی اور اجتماعی فریضہ سمجھیں ، کہ افراد جماعت کا یہ شعار ہو اور نکتہ تعاون ہو۔
صبر اور تواصی صبر ، رحم او تواصی رحم کے اندر سے یہ ہدایت نکلتی ہے کہ اسلام ایک اجتماعی دین ہے جس کے قیام کے لئے جماعت ضروری ہے ، کیونکہ یہ ایک جماعت ایک سوسائٹی کا دین ہے اور اس کے قیام سے ایک امت وجود میں آتی ہے ، لیکن یہ ایسا اجتماعی دین نہیں ہے کہ اس میں انفرادی ذمہ داری ہو ، یہ گویا انفرادی ذمہ داری کی بنا پر اجتماعی دین ہے۔ انفرادی ذمہ داری اس میں بہت واضح ہے۔
البلد 90:18
یہ لوگ جو اس مشکل گھاٹی کو عبور کرتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا۔
اولئک ........................ المیمنة (18:90) ” یہ لوگ دائیں بازو والے ہیں “۔ ان کو دوسری جگہ اصحاب الیمین کہا گیا ہے۔ یہ دائیں بازو والے اور سعادت مندی کی صفت والے ہیں۔ دونوں معانی ایمانی مفہوم سے پیوست ہیں۔
البلد 90:19
والذین ........................ موصدة
” بائیں بازو والے فریق کے بیان میں دوسری صفات کو ترک کردیا گیا ہے۔
والذین ................ بایتنا (19:90) ” اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا “۔ کیونکہ جب کافر ہوگئے تو بات ختم ہوگئی۔ کفر کے ساتھ کوئی نیکی جمع ہی نہیں ہوسکتی اور نہ کسی برائی کا علیحدہ اعتبار ہوتا ہے اس لئے کہ ہر برائی کفر کے اندر ہی ہوتی ہے اور یہ کفر اسے ڈھانپ لیتا ہے ، لہٰذا اب اس بات کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ یہ لوگ غلاموں کو آزاد نہیں کرتے ، اور کھانا نہیں کھلاتے ، پھر ان لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کردیا اور کافر ہوگئے تو پھر کوئی نیکی ان کے لئے مفید ہی نہیں ہے۔
یہ بائیں ہاتھ کے لوگ ہیں یا بدبخت لوگ ، دونوں مفہوم مراد ہوسکتے ہیں ، وہ بائیں ہاتھ والے بھی ، اور منحوس بھی ہیں اور یہی دونوں مفہوم یعنی دائیں جانب اور نیک بخت ایمانی مفہوم میں بھی یکجا ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں نے جرات کرکے دشوار گزار گھاٹی کو عبور نہ کیا۔
علیھم ................ موصدة (20:90) ” ان پر آگ چھائی ہوئی ہے “۔ یعنی آگ کے دروازے ان پر بند ہیں یعنی حقیقی معنی میں کہ اندر کرکے ان پر جہنم کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں اور یا اس معنی میں کہ آگ کا عذاب ان پر چھایا ہوا ہے۔ یہ لازمی معنی ہے کہ وہ اس سے خارج نہ ہوسکیں گے۔ جب آگ کہ ہٹانہ سکیں گے تو وہ ان پر بند ہے۔ یہ دونوں مفہوم لازم وملزوم ہیں۔
یہ بنیادی حقائق جو اس انسان کی زندگی کا بنیادی امور ہیں ، ایمانی عقیدے کے اساسیات ہیں ، سب کے سب اس چند سطری سورت میں سمودیئے گئے ہیں اور نہایت وضاحت اور زور دار انداز سے بیان کیے گئے ہیں۔ یہ ہے ممتاز خصوصیت قرآن کے انداز بیان کی۔
البلد 90:20
والذین ........................ موصدة
” بائیں بازو والے فریق کے بیان میں دوسری صفات کو ترک کردیا گیا ہے۔
والذین ................ بایتنا (19:90) ” اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا “۔ کیونکہ جب کافر ہوگئے تو بات ختم ہوگئی۔ کفر کے ساتھ کوئی نیکی جمع ہی نہیں ہوسکتی اور نہ کسی برائی کا علیحدہ اعتبار ہوتا ہے اس لئے کہ ہر برائی کفر کے اندر ہی ہوتی ہے اور یہ کفر اسے ڈھانپ لیتا ہے ، لہٰذا اب اس بات کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ یہ لوگ غلاموں کو آزاد نہیں کرتے ، اور کھانا نہیں کھلاتے ، پھر ان لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کردیا اور کافر ہوگئے تو پھر کوئی نیکی ان کے لئے مفید ہی نہیں ہے۔
یہ بائیں ہاتھ کے لوگ ہیں یا بدبخت لوگ ، دونوں مفہوم مراد ہوسکتے ہیں ، وہ بائیں ہاتھ والے بھی ، اور منحوس بھی ہیں اور یہی دونوں مفہوم یعنی دائیں جانب اور نیک بخت ایمانی مفہوم میں بھی یکجا ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں نے جرات کرکے دشوار گزار گھاٹی کو عبور نہ کیا۔
علیھم ................ موصدة (20:90) ” ان پر آگ چھائی ہوئی ہے “۔ یعنی آگ کے دروازے ان پر بند ہیں یعنی حقیقی معنی میں کہ اندر کرکے ان پر جہنم کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں اور یا اس معنی میں کہ آگ کا عذاب ان پر چھایا ہوا ہے۔ یہ لازمی معنی ہے کہ وہ اس سے خارج نہ ہوسکیں گے۔ جب آگ کہ ہٹانہ سکیں گے تو وہ ان پر بند ہے۔ یہ دونوں مفہوم لازم وملزوم ہیں۔
یہ بنیادی حقائق جو اس انسان کی زندگی کا بنیادی امور ہیں ، ایمانی عقیدے کے اساسیات ہیں ، سب کے سب اس چند سطری سورت میں سمودیئے گئے ہیں اور نہایت وضاحت اور زور دار انداز سے بیان کیے گئے ہیں۔ یہ ہے ممتاز خصوصیت قرآن کے انداز بیان کی۔
الشمس 91:1
والشمس وضحہا .................................... من دسھا
یہاں اللہ تعالیٰ جس طرح بعض کائناتی مخلوق اور بعض مظاہر کی قسم اٹھاتا ہے ، اسی طرح نفس انسانی کی تخلیق اور متناسب بنانے اور اسے اچھی طرح ہموار کرنے اور نیک وبد کے الہام کی قسم اٹھاتا ہے۔ اور اس قسم اٹھانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ مخلوقات خدا اہم بن جائیں ، لوگ ان کو اہمیت دیں اور ان چیزوں پر غور وفکر کرکے معلوم کرلیں کہ ان کی اہمیت اور قدر و قیمت کیا ہے اور ان چیزوں کے اشارات کیا ہیں ، ان میں نشانات قدرت کیا ہیں تاکہ وہ یہ بات سمجھ لیں کہ کن وجوہات سے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم کھائی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ انسان کے دل اور ان مناظر فطرت کے درمیان ایک مکالمہ ہوتا ہے ، ان دونوں کے درمیا ایک خاص خفیہ زبان ہے ، یہ زبان گہرے انسانی شعور اور انسانی فطرت کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ ان مناظر کے درمیان ، خواہ وہ جیسے بھی ہوں ، اور انسانی فطرت اور شعور کے درمیان ایک گہری ہم آہنگی بھی ہے ، دونوں کے درمیان مکالمہ ہوتا رہتا ہے ، بغیر اس کے کہ کوئی آواز نکلے یا ریکارڈ پر کوئی سوئی لگائی جائے ۔ یہ مناظر دل سے بات کرتے ہیں اور انسانی روح کی طرف ان کے اشارات ہوتے ہیں ، اور ان کے اندر ایک ایسی زندگی رواں دواں ہے ، جو ایک زندہ انسان کے ساتھ مانوس اور ہمکلام ہے۔ جب بھی ایک زندہ انسان ان مناظر سے دوچار ہو ، تو ان مناظر میں اپنے لئے محبت اور انس کے جذبات جانے گا اور یہ مناظر نہایت ہی ہم آہنگی کے ساتھ اس کے ہمقدم ہوں گے اور اپنا پیغام اسے اپنی مخصوص زبان میں سگنل کردیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید بڑی کثرت سے ، مختلف اسالیب کے ذریعہ کائناتی مشاہد کی طرف انسان کی توجہ مبذول کراتا ہے اور اس سلسلے میں کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ، کبھی تو قرآن مجید براہ راست یہ ہدایت دیتا ہے کہ ان مناظر فطرت پر غور کرو اور کبھی ضمنی اشارات کے ذریعہ جیسا کہ یہاں بعض تخلیقات اور بعض مناظر کی قسم اٹھا کر ان کی طرف یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ مناظر بھی آنے والے حقائق کے فریم ورک کے اندر ہی ہیں اور اس آخری پارے میں ہم نے اس بات کو بار بار نوٹ کیا ہے کہ اس قسم کی ہدایات اور اشارات بہت زیادہ ہیں۔ کوئی ایسی سورت نہیں ہے جس میں یہ ہدایت اور یہ اشارہ نہ ہو کہ ذرا کتاب کائنات کو پڑھو اور اس کائنات میں ہم آہنگی اور اشارات تلاش کرو ، اور اس کائنات کے ساتھ اس کی مخصوص زبان میں مکالمہ کرو اور اس کے استدلال کو سنو۔
والشمس وضحھا (1:91) ” سورج اور اس کی دھوپ کی قسم “۔ یہاں سورج اور اس کے وقت ضحی اور چاشت اور دھوپ نکلنے کی قسم کھائی گئی ہے۔ جب سورج نکلتا ہے اور اس کی دھوپ مکمل پھیل جاتی ہے تو اس وقت وہ نہایت ہی خوبصورت اور نہایت ہی اچھا بلکہ خوشگوار اور میٹھا ہوتا ہے اور سردیوں میں تو لوگ اس وقت دھوپ میں گرمی حاصل کرتے ہیں اور یہ وقت نہایت خوشگواری کا ہوتا ہے ، اور گرمیوں میں بھی یہ اشراق کا وقت ہوتا ہے ، خوبصورت ہوتا ہے اور دوپہر کی سخت گرمی سے قبل کا وقت ہوتا ہے ، غرض چاشت کے وقت سورج اپنے مکمل حسن کے ساتھ جلوہ افروز ہوتا ہے ۔ بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ یہاں چاشت کے وقت سے مراد پورا دن ہے ، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ” ضحی “ کے وقت اور لفظی مفہوم سے آگے بڑھ کر ہم کیوں پورا دن مراد لیں ، کیونکہ چاشت کے وقت میں حسن اور خوشگواری کے زیادہ اشارات ہیں ، جیسا کہ ہم نے پہلے کہا۔
الشمس 91:2
والقمر اذا تلھا (2:91) ” اور چاند کی قسم جب کہ وہ اس کے پیچھے آتا ہے “۔ یعنی یہ سورج کے بعد آتا ہے ، جب سورج غروب ہو تو پھر اس کا لطیف ، شفاف ، خوبصورت اور صاف نور نمودار ہوتا ہے ۔ انسانی قلب اور چان کے درمیان قدیم رشتہ محبت ہے ، اور یہ رشتہ انسانیات میں دور تک گہرائیوں میں چلا گیا ہے ، انسانی نفسیات وضمیر میں ، انسانی قلب و شعور میں یہ زندہ اور چمک دار نظر آتا ہے ، پھر چاند انسانی قلب کے ساتھ خوشگوار اور محبت آمیز مکالمہ بھی کرتا ہے ، اور محبت بھرے اشارات بھی دیتا ہے ، اور اس میں خالق کی حمدوثنا بھی ہے۔ قریب ہے کہ ایک سننے والا انسان ، روشن چاند کی حمدوثنا کو سنے ، بعض اوقات جب ایک حساس دل چاندنی رات میں سوچتا ہے تو وہ چاند کے اس گہرے نور اللہ کی ذات اور فیوض کو محسوس کرتا ہے ، اور ان نورانی موجوں میں یہ شعور کی میل دور کرتا ہے ، اپنی پیاس بجھاتا ہے اور اس نور سے سینہ لگا کر وہ اللہ کے اس نور میں ڈوب جاتا ہے۔
الشمس 91:3
والنھار اذا جلھا (3:91) ” اور دن کی قسم جب کہ وہ (سورج کو) نمایاں کردیتا ہے “۔ اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ (ضحھا) سے مراد ایک محدود وقت ہے ، پورا دن نہیں ہے اور جلا کی ضمیر شمس کی طرف راجع ہے جو اس سیاق کلام میں مذکور ہے۔ لیکن یہاں سیاق کلام میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ مراد ” زمین ‘ ہے۔ قرآن کریم میں اس قسم کا بسلوب بارہا اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی ضمیر کسی ایسی چیز کی طرح راجع ہو ، جو اگرچہ سیاق میں مذکور نہ ہو ، لیکن معہود فی الذہن ہو اور انسانی شعور میں ہر وقت حاضر ہو ، یہاں سیاق کلام کا تقاضا یہ ہے کہ اس ضمیر کا مرجع زمین ہو۔ چناچہ دن اس زمین کو روشن کردیتا ہے اور لوگ اسے اچھی طرح دیکھتے ہیں۔ انسانی زندگی میں دن کا جو کردار ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ انسان کی حالت یہ ہے کہ دن اور رات کے مزے مسلسل لے لے کر وہ اس کا ذوق ہی بھول گیا ہے۔ چناچہ یہاں گردش لیل ونہار کی ایک جھلک دکھا کر اس کی رعنائیوں کو قلب انسانی میں تازہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ انسان کے احساسات کو زندہ کرکے اور تیز کرکے اس کو اس منظر سے لطف اندوز کیا جائے۔
الشمس 91:4
والیل اذا یغشھا (4:91) ” اور رات کی قسم جبکہ وہ ڈھانک لیتی ہے “۔ یہاں لفظ یغشیٰ ” ڈھانک لینا “ بمقابلہ جلی ” نمایا کرنا ، روشن کرنا “ استعمال ہوا ہے ، اس لئے کہ رات تمام چیزوں کو اپنے سینے سے لگا کر ڈھانپ لیتی ہے اور چھپا لیتی ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسان کے دل کو بےحد متاثر کرتا ہے ، اور انسانی زندگی پر جس طرح دن کے اثرات ہوتے ہیں ، اسی طرح رات کے اثرات بھی ہوتے ہیں۔
اس کے بعد آسمان اور آسمان کی ساخت اور اس کی تعمیر پر قسم کھائی جاتی ہے۔
الشمس 91:5
والسماءوما بنھا (5:91) ” اور آسمان کی قسم اور اس ذات کی قسم “۔ ما یہاں عربی گرامر کے لحاظ سے اپنے مابعد آنے والے فعل کو مصدر بنادیتی ہے۔ آسمان سے ہم کچھ سمجھتے وہ ایک نیلگوں قبہ ہے جو ہمارے سروں پر ہے اور اس قبے کو جب ہم دیکھتے ہیں تو اس کے اندر ستارے اور سیارے بکھرے پڑے ہیں ، اور سیارے اس کی فضاﺅں اور مداروں میں پھرتے ہیں۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ تو اصل حقیقت ہم نہیں جانتے ، ہم اپنے سروں پر جو چیز دیکھ رہے ہیں یہ ایک ایسی چیز ہے جس طرح ایک عظیم الشان عمارت ہو ، باہم پیوستہ اور نہایت مضبوط۔ یہ عظیم ہال کس طرح بنا ہوا ہے اور اس کے اجزاء کس طرح باہم پیوست ہیں اور وہ بکھر نہیں رہے۔ اور ایک ایسی فضا میں تیر رہے ہیں جس کے نہ آغاز کا ہمیں علم ہے اور نہ انجام کا ہمیں علم ہے۔ یہی وہ چیز ہے ، جس کی حقیقت ہم نہیں جانتے۔ اس آسمان کے بارے میں آج تک اہل علم نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ نظریات ہی ہیں اور وہ ترمیم اور رد قبول کرتے ہیں۔ یہ نظریات کسی دور میں بھی اپنے پاﺅں پر کھڑے نہیں رہے اور ہمیشہ قرار وثبات سے محروم رہے ہیں۔ ہمارا نظریہ اور ایمان سب سے مضبوط ہے کہ دست قدرت نے انہیں تھام رکھا ہے۔
ان اللہ ........................................ من بعدہ (41:35) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو ڈھلکنے سے روک رکھا ہے۔ اگر وہ ہٹ جائیں تو پھر اللہ کے سوا کوئی انہیں اپنی جگہ قائم نہ کرسکے “۔ یہی وہ علم ہے جو نہایت مستحکم ہے ، اس کے سوا یقینی بات کوئی اور نہیں ہے۔
اس کے بعد زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم ہے۔
الشمس 91:6
والارض وما طحھا (6:91) ” اور زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم “۔ طحی الطحو سے ہے جس کے معنی بچھانے کے ہیں ، جس طرح الدحو کا مفہوم ہے بچھانا ، اور زندگی کے لئے ہموار کرنا۔ اور یہ ایک عظیم اور نمایاں حقیقت ہے جس کے اوپر انسانوں اور تمام حیوانوں کی زندگی کا دارومدار ہے۔ آسمان و زمین کے اندر اللہ نے جو ہم آہنگی پیدا فرمائی ہے ، یہ اسی کی برکت ہے جس کی وجہ سے یہاں زندگی ممکن ہوئی اور یہ سب کام صرف اللہ کے تدبیر اور اندازوں کی وجہ سے ہوا ۔ ہمارے لئے یہی واضح اور ظاہری حقیقت کافی ہے کہ اگر ان خصائص اور ہم آہنگیوں میں سے کوئی چیز بھی خلل پذیر ہوجائے تو نہ اس زمین میں زندگی کا وجود ہوتا اور نہ یہ زندگی اس انداز پر چلتی۔ زمین کا ” الطحو “ جو یہاں استعمال ہوا ہے یا ” الدحو “ جو سورة نازعات (31'30) میں استعمال ہوا ہے۔
والارض ................................ ومرعھا (31:79) ” زمین کو اس کے بعد بچھایا اور اس کا پانی اور اس میں سے نباتات نکالی “۔ دونوں مفہوم بچھانا ہے اور یہ بچھانا ان خصائص اور ہم آہنگیوں میں سے بڑی ہم آہنگی ہے۔ اور یہ صرت دست قدرت کا کارنامہ ہے۔ یہاں اس بچھانے کا ذکر کرکے اشارہ قدرت الٰہیہ کی طرف ہے اور قلب انسانی کو اس بات پر اکسایا جاتا ہے کہ ذرا اس پر غور کرے اور نصیحت حاصل کرے۔
ان قسموں اور ان کے اندر پائے جانے والے مظاہر کائنات اور مناظر فطرت کے بعد اب نفس انسانی کے عظیم حقائق پیش کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ اس کائنات کے عجائبات میں یہ عظیم ترعجوبہ ہے۔ جو اس زمین و آسمان کی ان ہم آہنگیوں کی وجہ سے قائم ہے۔
الشمس 91:7
ونفس وما ............................ من دسھا (7:91 تا 10) ” اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا ، پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کردی ، یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا “۔ ان چار آیات میں اسلام کا نظریہ نفس بیان کیا گیا ہے۔ اس کی طرف سورة ماقبل ، سورة البلد میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
وھدینہ الندین (10:90) ” اور ہم نے اسے دورا ہیں دکھادیں “۔ نیز سورة دھر میں بھی اسی نکتہ کی طرف اشارہ ہے۔
انا ھدینہ ........................ کفورا (3:76) ” ہم نے اسے راہ دکھادی۔ اب وہ یا تو شکر گزار بنے گا یا ناشکرا “۔ اس نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نفس انسانی میں ازروئے فطرت دو صلاحیتیں ہیں جیسا کہ سورة ص میں کہا گیا ہے۔
اذقال ................................ سجدین (71:38 ۔ 72) ” اور اس بات کو یاد کرو کہ جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک بشر کو مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اسے مکمل بنادوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ ریز ہوجاﺅ“۔ مذکورہ بالا آیات میں نفس انسانی کے متعلق جو کچھ کہا گیا ، یہ امور اسلام کے نظریہ فردی ذمہ داری سے بھی مربوط ہے جیسا کہ سورة المدثر میں کہا گیا ہے۔
کل نفس ........................ رھینة ” ہر نفس اپنی کمائی اور عمل کا ذمہ دار ہے “۔ اور یہ موضوع اس آیت سے بھی متعلق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کا معاملہ ہر انسان کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ سورة الرعد میں صراحت سے کہا گیا۔
ان اللہ ........................ بانفسھم ” اللہ کی کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں “۔ ان تمام آیات میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے بارے میں اسلام اور قرآن کا نقطہ نظر کیا ہے اور انسان کے خودخال کیا ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ مخلوق اپنے اندر دو پہلو رکھتی ہے۔ اس کی صلاحیتیں بھی دو رخ رکھتی ہیں ، اس کی ذات کے اندر دو صلاحیتیں ہیں۔ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس کی تخلیق کا ایک رخ مادی ہے یعنی وہ خاک جس سے اسے بنایا گیا اور دوسرا رخ اس روح کا ہے جو اس کے اندر پھونکی گئی ہے اور یہ روح اللہ کی روح ہے۔ چناچہ خاک کی صلاحیت شر کی طرف جاتی ہے اور روح کی صلاحیت اسے خیر کی طرف لے جاتی ہے۔ اپنی تخلیق کے اعتبار سے یہ خیر وشر اور ہدایت وضلالت دونوں کی طرف جاسکتا ہے اور خیر وشر کی تمیز کا ملکہ بھی اسے دیا گیا ہے اور اسے یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ اپنے نفس کو خیر کی طرف موڑدے یا شر کی طرف موڑ دے۔ یہ طاقت ، اختیار اور صلاحیت ازروئے تخلیق اس کے اندر موجود ہے۔ اس کی طرف قرآن نے کبھی تو الہام کے لفظ سے اشارہ کیا ہے۔
ونفس وما .................... وتقواھا (8:91) اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا ، پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کردی “۔ اور کبھی اس کی طرف لفظ ہدایت اشارہ کیا گیا ہے۔
وھدینہ النجدین (10:90) ” ہم نے اسے دوراہوں کی ہدایت کردی “۔ تو یہ صلاحیت اس مخلوق کی ذات میں ازروائے تخلیق رکھ دی گئی ہے۔ تمام رسولوں کی جدوجہد ، تمام اچھے لوگوں کی ہدایت اور تمام خارجی موثرات اور عوامل دراصل اس صلاحیت کو جگاتے ہیں ، اسے ایک رخ اور سمت دیتے ہیں ، اسے تیز یا کند کرتے ہیں ، خارجی عوامل اس صلاحیت کی تخلیق نہیں کرتے کیونکہ یہ صلاحیت دو رخی صلاحیت ، ازروئے فطرت تخلیق ، ازروئے طبیعت ، ازروئے الہام الٰہی بشر کے اندر موجود ہے۔
الشمس 91:8
ونفس وما ............................ من دسھا (7:91 تا 10) ” اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا ، پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کردی ، یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا “۔ ان چار آیات میں اسلام کا نظریہ نفس بیان کیا گیا ہے۔ اس کی طرف سورة ماقبل ، سورة البلد میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
وھدینہ الندین (10:90) ” اور ہم نے اسے دورا ہیں دکھادیں “۔ نیز سورة دھر میں بھی اسی نکتہ کی طرف اشارہ ہے۔
انا ھدینہ ........................ کفورا (3:76) ” ہم نے اسے راہ دکھادی۔ اب وہ یا تو شکر گزار بنے گا یا ناشکرا “۔ اس نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نفس انسانی میں ازروئے فطرت دو صلاحیتیں ہیں جیسا کہ سورة ص میں کہا گیا ہے۔
اذقال ................................ سجدین (71:38 ۔ 72) ” اور اس بات کو یاد کرو کہ جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک بشر کو مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اسے مکمل بنادوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ ریز ہوجاﺅ“۔ مذکورہ بالا آیات میں نفس انسانی کے متعلق جو کچھ کہا گیا ، یہ امور اسلام کے نظریہ فردی ذمہ داری سے بھی مربوط ہے جیسا کہ سورة المدثر میں کہا گیا ہے۔
کل نفس ........................ رھینة ” ہر نفس اپنی کمائی اور عمل کا ذمہ دار ہے “۔ اور یہ موضوع اس آیت سے بھی متعلق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کا معاملہ ہر انسان کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ سورة الرعد میں صراحت سے کہا گیا۔
ان اللہ ........................ بانفسھم ” اللہ کی کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں “۔ ان تمام آیات میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے بارے میں اسلام اور قرآن کا نقطہ نظر کیا ہے اور انسان کے خودخال کیا ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ مخلوق اپنے اندر دو پہلو رکھتی ہے۔ اس کی صلاحیتیں بھی دو رخ رکھتی ہیں ، اس کی ذات کے اندر دو صلاحیتیں ہیں۔ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس کی تخلیق کا ایک رخ مادی ہے یعنی وہ خاک جس سے اسے بنایا گیا اور دوسرا رخ اس روح کا ہے جو اس کے اندر پھونکی گئی ہے اور یہ روح اللہ کی روح ہے۔ چناچہ خاک کی صلاحیت شر کی طرف جاتی ہے اور روح کی صلاحیت اسے خیر کی طرف لے جاتی ہے۔ اپنی تخلیق کے اعتبار سے یہ خیر وشر اور ہدایت وضلالت دونوں کی طرف جاسکتا ہے اور خیر وشر کی تمیز کا ملکہ بھی اسے دیا گیا ہے اور اسے یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ اپنے نفس کو خیر کی طرف موڑدے یا شر کی طرف موڑ دے۔ یہ طاقت ، اختیار اور صلاحیت ازروئے تخلیق اس کے اندر موجود ہے۔ اس کی طرف قرآن نے کبھی تو الہام کے لفظ سے اشارہ کیا ہے۔
ونفس وما .................... وتقواھا (8:91) اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا ، پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کردی “۔ اور کبھی اس کی طرف لفظ ہدایت اشارہ کیا گیا ہے۔
وھدینہ النجدین (10:90) ” ہم نے اسے دوراہوں کی ہدایت کردی “۔ تو یہ صلاحیت اس مخلوق کی ذات میں ازروائے تخلیق رکھ دی گئی ہے۔ تمام رسولوں کی جدوجہد ، تمام اچھے لوگوں کی ہدایت اور تمام خارجی موثرات اور عوامل دراصل اس صلاحیت کو جگاتے ہیں ، اسے ایک رخ اور سمت دیتے ہیں ، اسے تیز یا کند کرتے ہیں ، خارجی عوامل اس صلاحیت کی تخلیق نہیں کرتے کیونکہ یہ صلاحیت دو رخی صلاحیت ، ازروئے فطرت تخلیق ، ازروئے طبیعت ، ازروئے الہام الٰہی بشر کے اندر موجود ہے۔
الشمس 91:9
قد افلح ........................ دسھا (10:91) ” یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا “۔ مطلب یہ ہے کہ ان فطری قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ انسان کے اندر ایک قوت مدرکہ ہے اور اس قوت مدرکہ کی وجہ سے انسان ایک ذمہ دار مخلوق بنایا گیا ہے۔ اس قوت مدرکہ کو جس شخص نے نفس کی تطہیر کے لئے اور اس کے اندر بھلائی کی استعداد کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا اور خیر کی صلاحیت کو شریر غالب کردیا تو یہ شخص کامیاب ہوگیا ، اور جس شخص نے اپنی قوت عقلیہ کو تاریک کردیا اور اس کو چھپا کر دبا کر کمزور کردیا تو وہ ناکام ہوا۔
غرض انسان کی مسﺅلیت اس وجہ سے ہے کہ وہ قوت عقلیہ اور قوت مدرکہ رکھتا ہے ، اور اپنی اس قوت کی وجہ سے نفس کے اندر موجود خیروشر کی صلاحیتوں کو ایک رخ دے سکتا ہے۔ ان صلاحیتوں کو خیر کے میدان میں ڈال کر پروان چڑھا سکتا ہے اور شر کے میدان میں ڈال کر شر کو پروان چڑھا سکتا ہے۔ اس آزادی واختیار کے نتیجے میں انسان پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ اس کی قوت پر فرض عائد ہوا۔ یہ انعام لھا جس کے جواب میں اس پر فرائض عائد ہوئے۔
لیکن اللہ نہایت رحیم ہے۔ انسان کو محض فطری استعداد ، عقلی قوت مدرکہ اور فطری الہام وہدایت کے حوالے ہی نہیں کردیا گیا ، بلکہ آدم (علیہ السلام) سے حضرت محمد ﷺ تک اس ہدایت کے لئے رسول بھیجے گئے جو ان کے لئے مستقل قدریں وضع کرتے رہے۔ انسان کو ایمان کی بنیادی باتیں بتاتے رہے ، ایمان وہدایت کے دلائل سمجھاتے رہے۔ نفس انسانی کے اندر موجود دلائل اور اس کائنات کے آفاق کے اندر موجود اشارات ایمان بھی سمجھاتے رہے۔ انسان کی آنکھوں پر سے ضلالت کے پردے اتارتے رہے تاکہ اسے راہ ہدایت صحیح نظر آئے۔ اور یہ راہ واضح ، صاف اور بغیر کسی التباس کے انسان کو معلوم ہو ، ہر طرف سنگ ہائے میل نصب کردیئے تاکہ وہ انسان منزل مقصود تک پہنچے اور جس راہ پر اس نے جانا ہے ، علی وجہ البصیرت جائے۔ جس کو بھی وہ اختیار کرے اس پر چلے۔
یہ تھی مختصراً انسان کے بارے میں اللہ کی اسکیم اور مشیت جو کام بھی ہوتا ہے۔ اس کے دائرے کے اندر ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے اور اللہ کی مکمل تقدیری نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوتا ہے۔
انسان کی حیثیت اور مقام انسانیت کے بارے میں یہ اجمالی اور مختصر تبصرہ اپنے اندر نہایت ہی قیمتی نکات رکھتا ہے جو انسان کی تہذیب اور تربیت کے لئے نہایت مفید ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے حضرت انسان کو نہایت معزز اور مکرم مخلوق قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح کہ اسے اپنے معاملات کا خود مختار اور ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ یہ اختیار اور ذمہ داری اگرچہ اللہ کے وسیع تر نظام مشیت اور تقدیر کے اندر ہے ، کیونکہ یہ حریت اور اختیار اللہ کی مشیت ہی نے اسے عطا کیا ، لیکن اس سے بہرحال اس مقام و مرتبہ کا تعین ہوتا ہے اور وہ آزاد اور خود مختار مخلوق قرار پاتا ہے۔ یوں اس کائنات میں انسان ایک نہایت ہی بلندو برتر مقام رکھتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسی مخلوق ہے جسے اللہ نے نہایت اہتمام سے تیار کیا ، پھر اس میں اپنی روح پھونکی اور اس جہاں کے بہت سے اور بیشترمخلوقات پر اسے فضیلت دی۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ان آیات میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ انسان اپنے انجام کا خود ذمہ دار ہے۔ سارا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ (دائرہ مشیت الہیہ کے اندر اندر جیسا کہ ہم نے وضاحت کی) اس ذمہ داری سے اس کے شعور میں احتیاط اور تقویٰ کا رنگ پیدا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ کی تقدیر اس کی ذات میں اس طرح کام کرے گی جس طرح وہ اپنے تصرفات اور سرگرمیوں کو رخ دے گا۔
ان اللہ ........................ بانفسھم ” اللہ کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت بدلتے نہیں “۔ فی الحقیقت یہ نہایت ہی عظیم ذمہ داری ہے۔ کوئی ذی شعور شخص اس سے غافل اور لاپرواہ نہیں رہ سکتا۔
تیسری بات یہ ہے کہ یہ انسانی سوچ کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ وہ راہ راست پر ثابت قدم رہنے کے لئے اللہ کے مستقل پیمانوں اور دائمی قدروں کی طرف رجوع کرے تاکہ وہ یقین پر ہو کہ اس سے کی خواہشات نے کہیں غلط راہوں پر تو نہیں ڈال دیا ہے ، دھوکہ تو نہیں دے دیا تاکہ خواہشات نفس اسے ہلاکت کے راستے پر نہ ڈال دیں۔ اور یہ نہ ہو کہ تقدیر الٰہی کے نتیجے میں وہ کہیں اپنی خواہش کو الٰہ بنا چکا ہو۔ یہی وجہ ہے ، اس طرح وہ مطیع شریعت ہونے کے سبب اللہ کے راستوں سے کبھی نہ بھٹکے گا۔ وہ اللہ کی ہدایات کے مطابق چل رہا ہوگا ، اور اسی نور سے روشنی حاصل کرے گا جو دنیا کی ان تاریک راہوں پر چلنے کے لئے ، اللہ نے اسے عنایت کیا۔
چناچہ انسان کو اللہ نے اپنی ذات تک پہنچنے کے لئے تزکیہ نفس اور تطہیر ذات کے لئے بیشمار وسائل عطا کیے ہی ، اس کے ارد گرد نور کے دریا بہہ رہے ہیں ، وہ ان میں ہر وقت غسل کرسکتا ہے اور اس کائنات میں معرفت کردگار کے جو سرچشمے رواں دواں ہیں وہ ان میں اپنی ذات کی تطہیر وقت کرسکتا ہے۔
اس کے بعد ایک زندہ تاریخی مثال سے اس بات کو واضح کیا جاتا ہے کہ کس طرح انسان اپنے نفس کو دنیا کی آلودگیوں میں دفن کردیتا ہے۔ اور پھر اسے راہ ہدایت سے محروم کردیتا ہے۔ یہ مثال قوم ثمود ہے ، جو اللہ کے غصب کے مستحق ہوئے اور جن پر سخت عذاب ٹوٹ پڑا اور ہلاک کردیئے گئے۔
الشمس 91:10
قد افلح ........................ دسھا (10:91) ” یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا “۔ مطلب یہ ہے کہ ان فطری قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ انسان کے اندر ایک قوت مدرکہ ہے اور اس قوت مدرکہ کی وجہ سے انسان ایک ذمہ دار مخلوق بنایا گیا ہے۔ اس قوت مدرکہ کو جس شخص نے نفس کی تطہیر کے لئے اور اس کے اندر بھلائی کی استعداد کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا اور خیر کی صلاحیت کو شریر غالب کردیا تو یہ شخص کامیاب ہوگیا ، اور جس شخص نے اپنی قوت عقلیہ کو تاریک کردیا اور اس کو چھپا کر دبا کر کمزور کردیا تو وہ ناکام ہوا۔
غرض انسان کی مسﺅلیت اس وجہ سے ہے کہ وہ قوت عقلیہ اور قوت مدرکہ رکھتا ہے ، اور اپنی اس قوت کی وجہ سے نفس کے اندر موجود خیروشر کی صلاحیتوں کو ایک رخ دے سکتا ہے۔ ان صلاحیتوں کو خیر کے میدان میں ڈال کر پروان چڑھا سکتا ہے اور شر کے میدان میں ڈال کر شر کو پروان چڑھا سکتا ہے۔ اس آزادی واختیار کے نتیجے میں انسان پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ اس کی قوت پر فرض عائد ہوا۔ یہ انعام لھا جس کے جواب میں اس پر فرائض عائد ہوئے۔
لیکن اللہ نہایت رحیم ہے۔ انسان کو محض فطری استعداد ، عقلی قوت مدرکہ اور فطری الہام وہدایت کے حوالے ہی نہیں کردیا گیا ، بلکہ آدم (علیہ السلام) سے حضرت محمد ﷺ تک اس ہدایت کے لئے رسول بھیجے گئے جو ان کے لئے مستقل قدریں وضع کرتے رہے۔ انسان کو ایمان کی بنیادی باتیں بتاتے رہے ، ایمان وہدایت کے دلائل سمجھاتے رہے۔ نفس انسانی کے اندر موجود دلائل اور اس کائنات کے آفاق کے اندر موجود اشارات ایمان بھی سمجھاتے رہے۔ انسان کی آنکھوں پر سے ضلالت کے پردے اتارتے رہے تاکہ اسے راہ ہدایت صحیح نظر آئے۔ اور یہ راہ واضح ، صاف اور بغیر کسی التباس کے انسان کو معلوم ہو ، ہر طرف سنگ ہائے میل نصب کردیئے تاکہ وہ انسان منزل مقصود تک پہنچے اور جس راہ پر اس نے جانا ہے ، علی وجہ البصیرت جائے۔ جس کو بھی وہ اختیار کرے اس پر چلے۔
یہ تھی مختصراً انسان کے بارے میں اللہ کی اسکیم اور مشیت جو کام بھی ہوتا ہے۔ اس کے دائرے کے اندر ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے اور اللہ کی مکمل تقدیری نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوتا ہے۔
انسان کی حیثیت اور مقام انسانیت کے بارے میں یہ اجمالی اور مختصر تبصرہ اپنے اندر نہایت ہی قیمتی نکات رکھتا ہے جو انسان کی تہذیب اور تربیت کے لئے نہایت مفید ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے حضرت انسان کو نہایت معزز اور مکرم مخلوق قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح کہ اسے اپنے معاملات کا خود مختار اور ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ یہ اختیار اور ذمہ داری اگرچہ اللہ کے وسیع تر نظام مشیت اور تقدیر کے اندر ہے ، کیونکہ یہ حریت اور اختیار اللہ کی مشیت ہی نے اسے عطا کیا ، لیکن اس سے بہرحال اس مقام و مرتبہ کا تعین ہوتا ہے اور وہ آزاد اور خود مختار مخلوق قرار پاتا ہے۔ یوں اس کائنات میں انسان ایک نہایت ہی بلندو برتر مقام رکھتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسی مخلوق ہے جسے اللہ نے نہایت اہتمام سے تیار کیا ، پھر اس میں اپنی روح پھونکی اور اس جہاں کے بہت سے اور بیشترمخلوقات پر اسے فضیلت دی۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ان آیات میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ انسان اپنے انجام کا خود ذمہ دار ہے۔ سارا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ (دائرہ مشیت الہیہ کے اندر اندر جیسا کہ ہم نے وضاحت کی) اس ذمہ داری سے اس کے شعور میں احتیاط اور تقویٰ کا رنگ پیدا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ کی تقدیر اس کی ذات میں اس طرح کام کرے گی جس طرح وہ اپنے تصرفات اور سرگرمیوں کو رخ دے گا۔
ان اللہ ........................ بانفسھم ” اللہ کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت بدلتے نہیں “۔ فی الحقیقت یہ نہایت ہی عظیم ذمہ داری ہے۔ کوئی ذی شعور شخص اس سے غافل اور لاپرواہ نہیں رہ سکتا۔
تیسری بات یہ ہے کہ یہ انسانی سوچ کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ وہ راہ راست پر ثابت قدم رہنے کے لئے اللہ کے مستقل پیمانوں اور دائمی قدروں کی طرف رجوع کرے تاکہ وہ یقین پر ہو کہ اس سے کی خواہشات نے کہیں غلط راہوں پر تو نہیں ڈال دیا ہے ، دھوکہ تو نہیں دے دیا تاکہ خواہشات نفس اسے ہلاکت کے راستے پر نہ ڈال دیں۔ اور یہ نہ ہو کہ تقدیر الٰہی کے نتیجے میں وہ کہیں اپنی خواہش کو الٰہ بنا چکا ہو۔ یہی وجہ ہے ، اس طرح وہ مطیع شریعت ہونے کے سبب اللہ کے راستوں سے کبھی نہ بھٹکے گا۔ وہ اللہ کی ہدایات کے مطابق چل رہا ہوگا ، اور اسی نور سے روشنی حاصل کرے گا جو دنیا کی ان تاریک راہوں پر چلنے کے لئے ، اللہ نے اسے عنایت کیا۔
چناچہ انسان کو اللہ نے اپنی ذات تک پہنچنے کے لئے تزکیہ نفس اور تطہیر ذات کے لئے بیشمار وسائل عطا کیے ہی ، اس کے ارد گرد نور کے دریا بہہ رہے ہیں ، وہ ان میں ہر وقت غسل کرسکتا ہے اور اس کائنات میں معرفت کردگار کے جو سرچشمے رواں دواں ہیں وہ ان میں اپنی ذات کی تطہیر وقت کرسکتا ہے۔
اس کے بعد ایک زندہ تاریخی مثال سے اس بات کو واضح کیا جاتا ہے کہ کس طرح انسان اپنے نفس کو دنیا کی آلودگیوں میں دفن کردیتا ہے۔ اور پھر اسے راہ ہدایت سے محروم کردیتا ہے۔ یہ مثال قوم ثمود ہے ، جو اللہ کے غصب کے مستحق ہوئے اور جن پر سخت عذاب ٹوٹ پڑا اور ہلاک کردیئے گئے۔
الشمس 91:11
کذبت ثمود ................................ عقبھا
قوم ثمود اور ان کے نبی حضرت صالح علہی السلام کی کہانی قرآن مجید میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ ہر مقام پر ہم نے اس پر بات کی ہے اور ابھی سورة الفجر میں ، اسی پارے میں یہ کہانی گزری ہے۔ تفصیلات ان مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ قوم ثمود نے صرف اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ اور اس سرکشی کے سوا کوئی اور جواز اس کے لئے نہ تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ان میں سے ایک نہایت ہی شقی القلب شخص اٹھا اور اس نے ناقتہ اللہ کو قتل کردیا۔ یہ شخص ان میں نہایت سنگدل اور سرکش تھا کہ وہ اس قدر عظیم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہوگیا۔ حالانکہ ان کے نبی نے واضح الفاظ میں ان کو متنبہ کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ اس ناقہ کو کوئی گزندنہ پہنچانا ، نہ اس پانی میں مداخلت کرنا جس کو اللہ نے تمہارے اور ناقہ کے درمیان تقسیم کردیا ہے کہ ایک دن تمہارے لئے اور ایک دن اس ناقہ کے لئے ہے اور یہ تقسیم اس لئے ہوئی تھی کہ انہوں نے اللہ کے نبی سے معجزے کا مطالبہ کردیا تھا تو اللہ نے اس ناقعہ کو معجزہ قرار دیا۔ اس ناقہ کی کوئی نہ کوئی معجزانہ شان تو بہرحال ہوگی۔ یہاں ہم اس کی تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لئے کہ خود اللہ نے اس شان اعجاز کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ بہرحال انہوں نے اپنی سرکشی کی وجہ سے اللہ کی جانب سے ڈرانے والے کی تکذیب کی اور ناقہ کو قتل کردیا۔ اور جس شخص نے عملاً یہ فعل اپنے ذمہ دیا۔ وہ ان میں سے بہت زیادہ بدبخت اور شقی تھا۔ لیکن ذمہ داری سب نے لی۔ اور سب ہی ذمہ دار اس لئے قرار پائے کہ انہوں نے اس شخص کو اس برے فعل سے نہ روکا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اسلام کے اصولوں میں سے یہ بنیادی اصول ہے کہ دنیا کی اجتماعی زندگی میں ذمہ داری بھی اجتماعی ہوتی ہے اور یہ اجتماعی ذمہ داری کا قانون اسلام کے انفرادی ذمہ داری کے اصول کے خلاف نہیں ہے۔ یعنی آخرت میں کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہوگا جو اس نے کمایا ، کیونکہ اسلام میں یہ بھی گناہ کبیرہ ہے کہ کوئی دوسروں کو نصیحت کرنا چھوڑ دے ، دوسروں کی اصلاح ، ان کی کفالت ، سے دسکش ہوجائے اور نیکی کرنے اور ظالم کا ہتھ پکڑنے پر لوگوں کو نہ ابھارے۔
جب انہوں نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا تو پھر دست قدرت حرکت میں آیا۔
فدمدم علیھم ............................ فسوھا (14:91) ” آخر کار ان کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوندخاک کردیا “۔” دمدمہ “ کے معنی غضب کے ہوتے ہیں اور غضب کے نتیجے میں جو انتفام اور عذاب آتا ہے۔ لفظ ” دمدم “ کا تلفظ ہی بناتا ہے کہ وہ عذاب کس قدر سخت ہوگا ۔ اس لفظ کا تلفظ اور ترنم ہی ایک خوفناک منظر کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اللہ نے ان کی زمین کو اوپر نیچے کردیا اور برابر کردیا۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے جس سے نہایت ہی ہمہ گیر بربادی کا اظہار ہوتا ہے۔
ولا یخاف عقبھا (15:91) ” اور اسے اس کے کسی برے نتیجے کا خوف نہیں ہے “۔ وہ تو ہر کمزوری سے پاک ہے ، وہ کس سے خوف کرسکتا ہے ؟ کہاں خوف کھاسکتا ہے اور کب خائف ہوسکتا ہے ؟ “۔
دراصل اس انداز تعبیر سے ایک لازمی مفہوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ کی گرفت نہایت سخت ہوتی ہے ، اس لئے کہ دنیا کا جو شخص بھی اگر کسی انجام سے نہ ڈرتا ہو تو وہ سخت ترین مظالم ڈھاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی پکڑ سخت ہوگی کیونکہ اللہ سے کوئی پوچھنے والا ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ
ان بطش .................... لشدید ” بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت شدید ہوتی ہے “۔ اس لئے یہ کہہ کر کہ وہ اپنے کسی فعل کے برے نتیجے سے نویں ڈرتا ، یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کی پکڑ بہت شدید ہوگی۔
یوں نفس انسانی کو اس کائنات کے عظیم حقائق کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور اس کائنات کے مشاہد اور مناظر کے ساتھ نفس انسانی کو متعلق کیا جاتا ہے۔ پھر نفس انسانی اور مشاہد کائنات دونوں کو اللہ کی اس سنت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے جو اس نے سرکشوں اور تکذیب کرنے والوں کی گرفت کے لئے وضع کی ہے۔ یہ سب واقعات اللہ کی تقدیر کے حدود کے اندر ہوتے ہیں۔ جس کے نظام میں اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہے ۔ ہر حادثہ کا ایو وقت طے شدہ ہے۔ ہر واقعہ کا ایک مقصد ہوتا ہے اور اس تدقر کے نظام میں ہر ہر قدم پر حکمت ربانی کار فرما ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نفس کا بھی رب ہے۔ اس کائنات کا بھی رب ہے اور نظام قضا وقدر کا بھی وہی منتظم ہے۔ لہٰذا یہ سب اس کی وسیع تر اسکیم مشیت کے دائرے میں ہیں۔
الشمس 91:12
کذبت ثمود ................................ عقبھا
قوم ثمود اور ان کے نبی حضرت صالح علہی السلام کی کہانی قرآن مجید میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ ہر مقام پر ہم نے اس پر بات کی ہے اور ابھی سورة الفجر میں ، اسی پارے میں یہ کہانی گزری ہے۔ تفصیلات ان مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ قوم ثمود نے صرف اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ اور اس سرکشی کے سوا کوئی اور جواز اس کے لئے نہ تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ان میں سے ایک نہایت ہی شقی القلب شخص اٹھا اور اس نے ناقتہ اللہ کو قتل کردیا۔ یہ شخص ان میں نہایت سنگدل اور سرکش تھا کہ وہ اس قدر عظیم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہوگیا۔ حالانکہ ان کے نبی نے واضح الفاظ میں ان کو متنبہ کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ اس ناقہ کو کوئی گزندنہ پہنچانا ، نہ اس پانی میں مداخلت کرنا جس کو اللہ نے تمہارے اور ناقہ کے درمیان تقسیم کردیا ہے کہ ایک دن تمہارے لئے اور ایک دن اس ناقہ کے لئے ہے اور یہ تقسیم اس لئے ہوئی تھی کہ انہوں نے اللہ کے نبی سے معجزے کا مطالبہ کردیا تھا تو اللہ نے اس ناقعہ کو معجزہ قرار دیا۔ اس ناقہ کی کوئی نہ کوئی معجزانہ شان تو بہرحال ہوگی۔ یہاں ہم اس کی تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لئے کہ خود اللہ نے اس شان اعجاز کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ بہرحال انہوں نے اپنی سرکشی کی وجہ سے اللہ کی جانب سے ڈرانے والے کی تکذیب کی اور ناقہ کو قتل کردیا۔ اور جس شخص نے عملاً یہ فعل اپنے ذمہ دیا۔ وہ ان میں سے بہت زیادہ بدبخت اور شقی تھا۔ لیکن ذمہ داری سب نے لی۔ اور سب ہی ذمہ دار اس لئے قرار پائے کہ انہوں نے اس شخص کو اس برے فعل سے نہ روکا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اسلام کے اصولوں میں سے یہ بنیادی اصول ہے کہ دنیا کی اجتماعی زندگی میں ذمہ داری بھی اجتماعی ہوتی ہے اور یہ اجتماعی ذمہ داری کا قانون اسلام کے انفرادی ذمہ داری کے اصول کے خلاف نہیں ہے۔ یعنی آخرت میں کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہوگا جو اس نے کمایا ، کیونکہ اسلام میں یہ بھی گناہ کبیرہ ہے کہ کوئی دوسروں کو نصیحت کرنا چھوڑ دے ، دوسروں کی اصلاح ، ان کی کفالت ، سے دسکش ہوجائے اور نیکی کرنے اور ظالم کا ہتھ پکڑنے پر لوگوں کو نہ ابھارے۔
جب انہوں نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا تو پھر دست قدرت حرکت میں آیا۔
فدمدم علیھم ............................ فسوھا (14:91) ” آخر کار ان کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوندخاک کردیا “۔” دمدمہ “ کے معنی غضب کے ہوتے ہیں اور غضب کے نتیجے میں جو انتفام اور عذاب آتا ہے۔ لفظ ” دمدم “ کا تلفظ ہی بناتا ہے کہ وہ عذاب کس قدر سخت ہوگا ۔ اس لفظ کا تلفظ اور ترنم ہی ایک خوفناک منظر کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اللہ نے ان کی زمین کو اوپر نیچے کردیا اور برابر کردیا۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے جس سے نہایت ہی ہمہ گیر بربادی کا اظہار ہوتا ہے۔
ولا یخاف عقبھا (15:91) ” اور اسے اس کے کسی برے نتیجے کا خوف نہیں ہے “۔ وہ تو ہر کمزوری سے پاک ہے ، وہ کس سے خوف کرسکتا ہے ؟ کہاں خوف کھاسکتا ہے اور کب خائف ہوسکتا ہے ؟ “۔
دراصل اس انداز تعبیر سے ایک لازمی مفہوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ کی گرفت نہایت سخت ہوتی ہے ، اس لئے کہ دنیا کا جو شخص بھی اگر کسی انجام سے نہ ڈرتا ہو تو وہ سخت ترین مظالم ڈھاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی پکڑ سخت ہوگی کیونکہ اللہ سے کوئی پوچھنے والا ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ
ان بطش .................... لشدید ” بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت شدید ہوتی ہے “۔ اس لئے یہ کہہ کر کہ وہ اپنے کسی فعل کے برے نتیجے سے نویں ڈرتا ، یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کی پکڑ بہت شدید ہوگی۔
یوں نفس انسانی کو اس کائنات کے عظیم حقائق کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور اس کائنات کے مشاہد اور مناظر کے ساتھ نفس انسانی کو متعلق کیا جاتا ہے۔ پھر نفس انسانی اور مشاہد کائنات دونوں کو اللہ کی اس سنت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے جو اس نے سرکشوں اور تکذیب کرنے والوں کی گرفت کے لئے وضع کی ہے۔ یہ سب واقعات اللہ کی تقدیر کے حدود کے اندر ہوتے ہیں۔ جس کے نظام میں اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہے ۔ ہر حادثہ کا ایو وقت طے شدہ ہے۔ ہر واقعہ کا ایک مقصد ہوتا ہے اور اس تدقر کے نظام میں ہر ہر قدم پر حکمت ربانی کار فرما ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نفس کا بھی رب ہے۔ اس کائنات کا بھی رب ہے اور نظام قضا وقدر کا بھی وہی منتظم ہے۔ لہٰذا یہ سب اس کی وسیع تر اسکیم مشیت کے دائرے میں ہیں۔
الشمس 91:13
کذبت ثمود ................................ عقبھا
قوم ثمود اور ان کے نبی حضرت صالح علہی السلام کی کہانی قرآن مجید میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ ہر مقام پر ہم نے اس پر بات کی ہے اور ابھی سورة الفجر میں ، اسی پارے میں یہ کہانی گزری ہے۔ تفصیلات ان مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ قوم ثمود نے صرف اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ اور اس سرکشی کے سوا کوئی اور جواز اس کے لئے نہ تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ان میں سے ایک نہایت ہی شقی القلب شخص اٹھا اور اس نے ناقتہ اللہ کو قتل کردیا۔ یہ شخص ان میں نہایت سنگدل اور سرکش تھا کہ وہ اس قدر عظیم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہوگیا۔ حالانکہ ان کے نبی نے واضح الفاظ میں ان کو متنبہ کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ اس ناقہ کو کوئی گزندنہ پہنچانا ، نہ اس پانی میں مداخلت کرنا جس کو اللہ نے تمہارے اور ناقہ کے درمیان تقسیم کردیا ہے کہ ایک دن تمہارے لئے اور ایک دن اس ناقہ کے لئے ہے اور یہ تقسیم اس لئے ہوئی تھی کہ انہوں نے اللہ کے نبی سے معجزے کا مطالبہ کردیا تھا تو اللہ نے اس ناقعہ کو معجزہ قرار دیا۔ اس ناقہ کی کوئی نہ کوئی معجزانہ شان تو بہرحال ہوگی۔ یہاں ہم اس کی تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لئے کہ خود اللہ نے اس شان اعجاز کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ بہرحال انہوں نے اپنی سرکشی کی وجہ سے اللہ کی جانب سے ڈرانے والے کی تکذیب کی اور ناقہ کو قتل کردیا۔ اور جس شخص نے عملاً یہ فعل اپنے ذمہ دیا۔ وہ ان میں سے بہت زیادہ بدبخت اور شقی تھا۔ لیکن ذمہ داری سب نے لی۔ اور سب ہی ذمہ دار اس لئے قرار پائے کہ انہوں نے اس شخص کو اس برے فعل سے نہ روکا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اسلام کے اصولوں میں سے یہ بنیادی اصول ہے کہ دنیا کی اجتماعی زندگی میں ذمہ داری بھی اجتماعی ہوتی ہے اور یہ اجتماعی ذمہ داری کا قانون اسلام کے انفرادی ذمہ داری کے اصول کے خلاف نہیں ہے۔ یعنی آخرت میں کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہوگا جو اس نے کمایا ، کیونکہ اسلام میں یہ بھی گناہ کبیرہ ہے کہ کوئی دوسروں کو نصیحت کرنا چھوڑ دے ، دوسروں کی اصلاح ، ان کی کفالت ، سے دسکش ہوجائے اور نیکی کرنے اور ظالم کا ہتھ پکڑنے پر لوگوں کو نہ ابھارے۔
جب انہوں نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا تو پھر دست قدرت حرکت میں آیا۔
فدمدم علیھم ............................ فسوھا (14:91) ” آخر کار ان کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوندخاک کردیا “۔” دمدمہ “ کے معنی غضب کے ہوتے ہیں اور غضب کے نتیجے میں جو انتفام اور عذاب آتا ہے۔ لفظ ” دمدم “ کا تلفظ ہی بناتا ہے کہ وہ عذاب کس قدر سخت ہوگا ۔ اس لفظ کا تلفظ اور ترنم ہی ایک خوفناک منظر کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اللہ نے ان کی زمین کو اوپر نیچے کردیا اور برابر کردیا۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے جس سے نہایت ہی ہمہ گیر بربادی کا اظہار ہوتا ہے۔
ولا یخاف عقبھا (15:91) ” اور اسے اس کے کسی برے نتیجے کا خوف نہیں ہے “۔ وہ تو ہر کمزوری سے پاک ہے ، وہ کس سے خوف کرسکتا ہے ؟ کہاں خوف کھاسکتا ہے اور کب خائف ہوسکتا ہے ؟ “۔
دراصل اس انداز تعبیر سے ایک لازمی مفہوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ کی گرفت نہایت سخت ہوتی ہے ، اس لئے کہ دنیا کا جو شخص بھی اگر کسی انجام سے نہ ڈرتا ہو تو وہ سخت ترین مظالم ڈھاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی پکڑ سخت ہوگی کیونکہ اللہ سے کوئی پوچھنے والا ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ
ان بطش .................... لشدید ” بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت شدید ہوتی ہے “۔ اس لئے یہ کہہ کر کہ وہ اپنے کسی فعل کے برے نتیجے سے نویں ڈرتا ، یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کی پکڑ بہت شدید ہوگی۔
یوں نفس انسانی کو اس کائنات کے عظیم حقائق کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور اس کائنات کے مشاہد اور مناظر کے ساتھ نفس انسانی کو متعلق کیا جاتا ہے۔ پھر نفس انسانی اور مشاہد کائنات دونوں کو اللہ کی اس سنت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے جو اس نے سرکشوں اور تکذیب کرنے والوں کی گرفت کے لئے وضع کی ہے۔ یہ سب واقعات اللہ کی تقدیر کے حدود کے اندر ہوتے ہیں۔ جس کے نظام میں اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہے ۔ ہر حادثہ کا ایو وقت طے شدہ ہے۔ ہر واقعہ کا ایک مقصد ہوتا ہے اور اس تدقر کے نظام میں ہر ہر قدم پر حکمت ربانی کار فرما ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نفس کا بھی رب ہے۔ اس کائنات کا بھی رب ہے اور نظام قضا وقدر کا بھی وہی منتظم ہے۔ لہٰذا یہ سب اس کی وسیع تر اسکیم مشیت کے دائرے میں ہیں۔
الشمس 91:14
کذبت ثمود ................................ عقبھا
قوم ثمود اور ان کے نبی حضرت صالح علہی السلام کی کہانی قرآن مجید میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ ہر مقام پر ہم نے اس پر بات کی ہے اور ابھی سورة الفجر میں ، اسی پارے میں یہ کہانی گزری ہے۔ تفصیلات ان مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ قوم ثمود نے صرف اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ اور اس سرکشی کے سوا کوئی اور جواز اس کے لئے نہ تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ان میں سے ایک نہایت ہی شقی القلب شخص اٹھا اور اس نے ناقتہ اللہ کو قتل کردیا۔ یہ شخص ان میں نہایت سنگدل اور سرکش تھا کہ وہ اس قدر عظیم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہوگیا۔ حالانکہ ان کے نبی نے واضح الفاظ میں ان کو متنبہ کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ اس ناقہ کو کوئی گزندنہ پہنچانا ، نہ اس پانی میں مداخلت کرنا جس کو اللہ نے تمہارے اور ناقہ کے درمیان تقسیم کردیا ہے کہ ایک دن تمہارے لئے اور ایک دن اس ناقہ کے لئے ہے اور یہ تقسیم اس لئے ہوئی تھی کہ انہوں نے اللہ کے نبی سے معجزے کا مطالبہ کردیا تھا تو اللہ نے اس ناقعہ کو معجزہ قرار دیا۔ اس ناقہ کی کوئی نہ کوئی معجزانہ شان تو بہرحال ہوگی۔ یہاں ہم اس کی تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لئے کہ خود اللہ نے اس شان اعجاز کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ بہرحال انہوں نے اپنی سرکشی کی وجہ سے اللہ کی جانب سے ڈرانے والے کی تکذیب کی اور ناقہ کو قتل کردیا۔ اور جس شخص نے عملاً یہ فعل اپنے ذمہ دیا۔ وہ ان میں سے بہت زیادہ بدبخت اور شقی تھا۔ لیکن ذمہ داری سب نے لی۔ اور سب ہی ذمہ دار اس لئے قرار پائے کہ انہوں نے اس شخص کو اس برے فعل سے نہ روکا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اسلام کے اصولوں میں سے یہ بنیادی اصول ہے کہ دنیا کی اجتماعی زندگی میں ذمہ داری بھی اجتماعی ہوتی ہے اور یہ اجتماعی ذمہ داری کا قانون اسلام کے انفرادی ذمہ داری کے اصول کے خلاف نہیں ہے۔ یعنی آخرت میں کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہوگا جو اس نے کمایا ، کیونکہ اسلام میں یہ بھی گناہ کبیرہ ہے کہ کوئی دوسروں کو نصیحت کرنا چھوڑ دے ، دوسروں کی اصلاح ، ان کی کفالت ، سے دسکش ہوجائے اور نیکی کرنے اور ظالم کا ہتھ پکڑنے پر لوگوں کو نہ ابھارے۔
جب انہوں نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا تو پھر دست قدرت حرکت میں آیا۔
فدمدم علیھم ............................ فسوھا (14:91) ” آخر کار ان کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوندخاک کردیا “۔” دمدمہ “ کے معنی غضب کے ہوتے ہیں اور غضب کے نتیجے میں جو انتفام اور عذاب آتا ہے۔ لفظ ” دمدم “ کا تلفظ ہی بناتا ہے کہ وہ عذاب کس قدر سخت ہوگا ۔ اس لفظ کا تلفظ اور ترنم ہی ایک خوفناک منظر کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اللہ نے ان کی زمین کو اوپر نیچے کردیا اور برابر کردیا۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے جس سے نہایت ہی ہمہ گیر بربادی کا اظہار ہوتا ہے۔
ولا یخاف عقبھا (15:91) ” اور اسے اس کے کسی برے نتیجے کا خوف نہیں ہے “۔ وہ تو ہر کمزوری سے پاک ہے ، وہ کس سے خوف کرسکتا ہے ؟ کہاں خوف کھاسکتا ہے اور کب خائف ہوسکتا ہے ؟ “۔
دراصل اس انداز تعبیر سے ایک لازمی مفہوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ کی گرفت نہایت سخت ہوتی ہے ، اس لئے کہ دنیا کا جو شخص بھی اگر کسی انجام سے نہ ڈرتا ہو تو وہ سخت ترین مظالم ڈھاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی پکڑ سخت ہوگی کیونکہ اللہ سے کوئی پوچھنے والا ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ
ان بطش .................... لشدید ” بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت شدید ہوتی ہے “۔ اس لئے یہ کہہ کر کہ وہ اپنے کسی فعل کے برے نتیجے سے نویں ڈرتا ، یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کی پکڑ بہت شدید ہوگی۔
یوں نفس انسانی کو اس کائنات کے عظیم حقائق کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور اس کائنات کے مشاہد اور مناظر کے ساتھ نفس انسانی کو متعلق کیا جاتا ہے۔ پھر نفس انسانی اور مشاہد کائنات دونوں کو اللہ کی اس سنت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے جو اس نے سرکشوں اور تکذیب کرنے والوں کی گرفت کے لئے وضع کی ہے۔ یہ سب واقعات اللہ کی تقدیر کے حدود کے اندر ہوتے ہیں۔ جس کے نظام میں اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہے ۔ ہر حادثہ کا ایو وقت طے شدہ ہے۔ ہر واقعہ کا ایک مقصد ہوتا ہے اور اس تدقر کے نظام میں ہر ہر قدم پر حکمت ربانی کار فرما ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نفس کا بھی رب ہے۔ اس کائنات کا بھی رب ہے اور نظام قضا وقدر کا بھی وہی منتظم ہے۔ لہٰذا یہ سب اس کی وسیع تر اسکیم مشیت کے دائرے میں ہیں۔
الشمس 91:15
کذبت ثمود ................................ عقبھا
قوم ثمود اور ان کے نبی حضرت صالح علہی السلام کی کہانی قرآن مجید میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ ہر مقام پر ہم نے اس پر بات کی ہے اور ابھی سورة الفجر میں ، اسی پارے میں یہ کہانی گزری ہے۔ تفصیلات ان مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ قوم ثمود نے صرف اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ اور اس سرکشی کے سوا کوئی اور جواز اس کے لئے نہ تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ان میں سے ایک نہایت ہی شقی القلب شخص اٹھا اور اس نے ناقتہ اللہ کو قتل کردیا۔ یہ شخص ان میں نہایت سنگدل اور سرکش تھا کہ وہ اس قدر عظیم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہوگیا۔ حالانکہ ان کے نبی نے واضح الفاظ میں ان کو متنبہ کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ اس ناقہ کو کوئی گزندنہ پہنچانا ، نہ اس پانی میں مداخلت کرنا جس کو اللہ نے تمہارے اور ناقہ کے درمیان تقسیم کردیا ہے کہ ایک دن تمہارے لئے اور ایک دن اس ناقہ کے لئے ہے اور یہ تقسیم اس لئے ہوئی تھی کہ انہوں نے اللہ کے نبی سے معجزے کا مطالبہ کردیا تھا تو اللہ نے اس ناقعہ کو معجزہ قرار دیا۔ اس ناقہ کی کوئی نہ کوئی معجزانہ شان تو بہرحال ہوگی۔ یہاں ہم اس کی تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لئے کہ خود اللہ نے اس شان اعجاز کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ بہرحال انہوں نے اپنی سرکشی کی وجہ سے اللہ کی جانب سے ڈرانے والے کی تکذیب کی اور ناقہ کو قتل کردیا۔ اور جس شخص نے عملاً یہ فعل اپنے ذمہ دیا۔ وہ ان میں سے بہت زیادہ بدبخت اور شقی تھا۔ لیکن ذمہ داری سب نے لی۔ اور سب ہی ذمہ دار اس لئے قرار پائے کہ انہوں نے اس شخص کو اس برے فعل سے نہ روکا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اسلام کے اصولوں میں سے یہ بنیادی اصول ہے کہ دنیا کی اجتماعی زندگی میں ذمہ داری بھی اجتماعی ہوتی ہے اور یہ اجتماعی ذمہ داری کا قانون اسلام کے انفرادی ذمہ داری کے اصول کے خلاف نہیں ہے۔ یعنی آخرت میں کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہوگا جو اس نے کمایا ، کیونکہ اسلام میں یہ بھی گناہ کبیرہ ہے کہ کوئی دوسروں کو نصیحت کرنا چھوڑ دے ، دوسروں کی اصلاح ، ان کی کفالت ، سے دسکش ہوجائے اور نیکی کرنے اور ظالم کا ہتھ پکڑنے پر لوگوں کو نہ ابھارے۔
جب انہوں نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا تو پھر دست قدرت حرکت میں آیا۔
فدمدم علیھم ............................ فسوھا (14:91) ” آخر کار ان کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوندخاک کردیا “۔” دمدمہ “ کے معنی غضب کے ہوتے ہیں اور غضب کے نتیجے میں جو انتفام اور عذاب آتا ہے۔ لفظ ” دمدم “ کا تلفظ ہی بناتا ہے کہ وہ عذاب کس قدر سخت ہوگا ۔ اس لفظ کا تلفظ اور ترنم ہی ایک خوفناک منظر کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اللہ نے ان کی زمین کو اوپر نیچے کردیا اور برابر کردیا۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے جس سے نہایت ہی ہمہ گیر بربادی کا اظہار ہوتا ہے۔
ولا یخاف عقبھا (15:91) ” اور اسے اس کے کسی برے نتیجے کا خوف نہیں ہے “۔ وہ تو ہر کمزوری سے پاک ہے ، وہ کس سے خوف کرسکتا ہے ؟ کہاں خوف کھاسکتا ہے اور کب خائف ہوسکتا ہے ؟ “۔
دراصل اس انداز تعبیر سے ایک لازمی مفہوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ کی گرفت نہایت سخت ہوتی ہے ، اس لئے کہ دنیا کا جو شخص بھی اگر کسی انجام سے نہ ڈرتا ہو تو وہ سخت ترین مظالم ڈھاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی پکڑ سخت ہوگی کیونکہ اللہ سے کوئی پوچھنے والا ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ
ان بطش .................... لشدید ” بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت شدید ہوتی ہے “۔ اس لئے یہ کہہ کر کہ وہ اپنے کسی فعل کے برے نتیجے سے نویں ڈرتا ، یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کی پکڑ بہت شدید ہوگی۔
یوں نفس انسانی کو اس کائنات کے عظیم حقائق کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور اس کائنات کے مشاہد اور مناظر کے ساتھ نفس انسانی کو متعلق کیا جاتا ہے۔ پھر نفس انسانی اور مشاہد کائنات دونوں کو اللہ کی اس سنت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے جو اس نے سرکشوں اور تکذیب کرنے والوں کی گرفت کے لئے وضع کی ہے۔ یہ سب واقعات اللہ کی تقدیر کے حدود کے اندر ہوتے ہیں۔ جس کے نظام میں اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہے ۔ ہر حادثہ کا ایو وقت طے شدہ ہے۔ ہر واقعہ کا ایک مقصد ہوتا ہے اور اس تدقر کے نظام میں ہر ہر قدم پر حکمت ربانی کار فرما ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نفس کا بھی رب ہے۔ اس کائنات کا بھی رب ہے اور نظام قضا وقدر کا بھی وہی منتظم ہے۔ لہٰذا یہ سب اس کی وسیع تر اسکیم مشیت کے دائرے میں ہیں۔
الليل 92:1
کذبت ثمود ................................ عقبھا
قوم ثمود اور ان کے نبی حضرت صالح علہی السلام کی کہانی قرآن مجید میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ ہر مقام پر ہم نے اس پر بات کی ہے اور ابھی سورة الفجر میں ، اسی پارے میں یہ کہانی گزری ہے۔ تفصیلات ان مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ قوم ثمود نے صرف اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ اور اس سرکشی کے سوا کوئی اور جواز اس کے لئے نہ تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ان میں سے ایک نہایت ہی شقی القلب شخص اٹھا اور اس نے ناقتہ اللہ کو قتل کردیا۔ یہ شخص ان میں نہایت سنگدل اور سرکش تھا کہ وہ اس قدر عظیم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہوگیا۔ حالانکہ ان کے نبی نے واضح الفاظ میں ان کو متنبہ کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ اس ناقہ کو کوئی گزندنہ پہنچانا ، نہ اس پانی میں مداخلت کرنا جس کو اللہ نے تمہارے اور ناقہ کے درمیان تقسیم کردیا ہے کہ ایک دن تمہارے لئے اور ایک دن اس ناقہ کے لئے ہے اور یہ تقسیم اس لئے ہوئی تھی کہ انہوں نے اللہ کے نبی سے معجزے کا مطالبہ کردیا تھا تو اللہ نے اس ناقعہ کو معجزہ قرار دیا۔ اس ناقہ کی کوئی نہ کوئی معجزانہ شان تو بہرحال ہوگی۔ یہاں ہم اس کی تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لئے کہ خود اللہ نے اس شان اعجاز کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ بہرحال انہوں نے اپنی سرکشی کی وجہ سے اللہ کی جانب سے ڈرانے والے کی تکذیب کی اور ناقہ کو قتل کردیا۔ اور جس شخص نے عملاً یہ فعل اپنے ذمہ دیا۔ وہ ان میں سے بہت زیادہ بدبخت اور شقی تھا۔ لیکن ذمہ داری سب نے لی۔ اور سب ہی ذمہ دار اس لئے قرار پائے کہ انہوں نے اس شخص کو اس برے فعل سے نہ روکا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اسلام کے اصولوں میں سے یہ بنیادی اصول ہے کہ دنیا کی اجتماعی زندگی میں ذمہ داری بھی اجتماعی ہوتی ہے اور یہ اجتماعی ذمہ داری کا قانون اسلام کے انفرادی ذمہ داری کے اصول کے خلاف نہیں ہے۔ یعنی آخرت میں کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہوگا جو اس نے کمایا ، کیونکہ اسلام میں یہ بھی گناہ کبیرہ ہے کہ کوئی دوسروں کو نصیحت کرنا چھوڑ دے ، دوسروں کی اصلاح ، ان کی کفالت ، سے دسکش ہوجائے اور نیکی کرنے اور ظالم کا ہتھ پکڑنے پر لوگوں کو نہ ابھارے۔
جب انہوں نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا تو پھر دست قدرت حرکت میں آیا۔
فدمدم علیھم ............................ فسوھا (14:91) ” آخر کار ان کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوندخاک کردیا “۔” دمدمہ “ کے معنی غضب کے ہوتے ہیں اور غضب کے نتیجے میں جو انتفام اور عذاب آتا ہے۔ لفظ ” دمدم “ کا تلفظ ہی بناتا ہے کہ وہ عذاب کس قدر سخت ہوگا ۔ اس لفظ کا تلفظ اور ترنم ہی ایک خوفناک منظر کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اللہ نے ان کی زمین کو اوپر نیچے کردیا اور برابر کردیا۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے جس سے نہایت ہی ہمہ گیر بربادی کا اظہار ہوتا ہے۔
ولا یخاف عقبھا (15:91) ” اور اسے اس کے کسی برے نتیجے کا خوف نہیں ہے “۔ وہ تو ہر کمزوری سے پاک ہے ، وہ کس سے خوف کرسکتا ہے ؟ کہاں خوف کھاسکتا ہے اور کب خائف ہوسکتا ہے ؟ “۔
دراصل اس انداز تعبیر سے ایک لازمی مفہوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ کی گرفت نہایت سخت ہوتی ہے ، اس لئے کہ دنیا کا جو شخص بھی اگر کسی انجام سے نہ ڈرتا ہو تو وہ سخت ترین مظالم ڈھاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی پکڑ سخت ہوگی کیونکہ اللہ سے کوئی پوچھنے والا ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ
ان بطش .................... لشدید ” بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت شدید ہوتی ہے “۔ اس لئے یہ کہہ کر کہ وہ اپنے کسی فعل کے برے نتیجے سے نویں ڈرتا ، یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کی پکڑ بہت شدید ہوگی۔
یوں نفس انسانی کو اس کائنات کے عظیم حقائق کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور اس کائنات کے مشاہد اور مناظر کے ساتھ نفس انسانی کو متعلق کیا جاتا ہے۔ پھر نفس انسانی اور مشاہد کائنات دونوں کو اللہ کی اس سنت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے جو اس نے سرکشوں اور تکذیب کرنے والوں کی گرفت کے لئے وضع کی ہے۔ یہ سب واقعات اللہ کی تقدیر کے حدود کے اندر ہوتے ہیں۔ جس کے نظام میں اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہے ۔ ہر حادثہ کا ایو وقت طے شدہ ہے۔ ہر واقعہ کا ایک مقصد ہوتا ہے اور اس تدقر کے نظام میں ہر ہر قدم پر حکمت ربانی کار فرما ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نفس کا بھی رب ہے۔ اس کائنات کا بھی رب ہے اور نظام قضا وقدر کا بھی وہی منتظم ہے۔ لہٰذا یہ سب اس کی وسیع تر اسکیم مشیت کے دائرے میں ہیں۔
الليل 92:2
کذبت ثمود ................................ عقبھا
قوم ثمود اور ان کے نبی حضرت صالح علہی السلام کی کہانی قرآن مجید میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ ہر مقام پر ہم نے اس پر بات کی ہے اور ابھی سورة الفجر میں ، اسی پارے میں یہ کہانی گزری ہے۔ تفصیلات ان مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ قوم ثمود نے صرف اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ اور اس سرکشی کے سوا کوئی اور جواز اس کے لئے نہ تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ان میں سے ایک نہایت ہی شقی القلب شخص اٹھا اور اس نے ناقتہ اللہ کو قتل کردیا۔ یہ شخص ان میں نہایت سنگدل اور سرکش تھا کہ وہ اس قدر عظیم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہوگیا۔ حالانکہ ان کے نبی نے واضح الفاظ میں ان کو متنبہ کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ اس ناقہ کو کوئی گزندنہ پہنچانا ، نہ اس پانی میں مداخلت کرنا جس کو اللہ نے تمہارے اور ناقہ کے درمیان تقسیم کردیا ہے کہ ایک دن تمہارے لئے اور ایک دن اس ناقہ کے لئے ہے اور یہ تقسیم اس لئے ہوئی تھی کہ انہوں نے اللہ کے نبی سے معجزے کا مطالبہ کردیا تھا تو اللہ نے اس ناقعہ کو معجزہ قرار دیا۔ اس ناقہ کی کوئی نہ کوئی معجزانہ شان تو بہرحال ہوگی۔ یہاں ہم اس کی تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لئے کہ خود اللہ نے اس شان اعجاز کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ بہرحال انہوں نے اپنی سرکشی کی وجہ سے اللہ کی جانب سے ڈرانے والے کی تکذیب کی اور ناقہ کو قتل کردیا۔ اور جس شخص نے عملاً یہ فعل اپنے ذمہ دیا۔ وہ ان میں سے بہت زیادہ بدبخت اور شقی تھا۔ لیکن ذمہ داری سب نے لی۔ اور سب ہی ذمہ دار اس لئے قرار پائے کہ انہوں نے اس شخص کو اس برے فعل سے نہ روکا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اسلام کے اصولوں میں سے یہ بنیادی اصول ہے کہ دنیا کی اجتماعی زندگی میں ذمہ داری بھی اجتماعی ہوتی ہے اور یہ اجتماعی ذمہ داری کا قانون اسلام کے انفرادی ذمہ داری کے اصول کے خلاف نہیں ہے۔ یعنی آخرت میں کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہوگا جو اس نے کمایا ، کیونکہ اسلام میں یہ بھی گناہ کبیرہ ہے کہ کوئی دوسروں کو نصیحت کرنا چھوڑ دے ، دوسروں کی اصلاح ، ان کی کفالت ، سے دسکش ہوجائے اور نیکی کرنے اور ظالم کا ہتھ پکڑنے پر لوگوں کو نہ ابھارے۔
جب انہوں نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا تو پھر دست قدرت حرکت میں آیا۔
فدمدم علیھم ............................ فسوھا (14:91) ” آخر کار ان کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوندخاک کردیا “۔” دمدمہ “ کے معنی غضب کے ہوتے ہیں اور غضب کے نتیجے میں جو انتفام اور عذاب آتا ہے۔ لفظ ” دمدم “ کا تلفظ ہی بناتا ہے کہ وہ عذاب کس قدر سخت ہوگا ۔ اس لفظ کا تلفظ اور ترنم ہی ایک خوفناک منظر کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اللہ نے ان کی زمین کو اوپر نیچے کردیا اور برابر کردیا۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے جس سے نہایت ہی ہمہ گیر بربادی کا اظہار ہوتا ہے۔
ولا یخاف عقبھا (15:91) ” اور اسے اس کے کسی برے نتیجے کا خوف نہیں ہے “۔ وہ تو ہر کمزوری سے پاک ہے ، وہ کس سے خوف کرسکتا ہے ؟ کہاں خوف کھاسکتا ہے اور کب خائف ہوسکتا ہے ؟ “۔
دراصل اس انداز تعبیر سے ایک لازمی مفہوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ کی گرفت نہایت سخت ہوتی ہے ، اس لئے کہ دنیا کا جو شخص بھی اگر کسی انجام سے نہ ڈرتا ہو تو وہ سخت ترین مظالم ڈھاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی پکڑ سخت ہوگی کیونکہ اللہ سے کوئی پوچھنے والا ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ
ان بطش .................... لشدید ” بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت شدید ہوتی ہے “۔ اس لئے یہ کہہ کر کہ وہ اپنے کسی فعل کے برے نتیجے سے نویں ڈرتا ، یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کی پکڑ بہت شدید ہوگی۔
یوں نفس انسانی کو اس کائنات کے عظیم حقائق کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور اس کائنات کے مشاہد اور مناظر کے ساتھ نفس انسانی کو متعلق کیا جاتا ہے۔ پھر نفس انسانی اور مشاہد کائنات دونوں کو اللہ کی اس سنت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے جو اس نے سرکشوں اور تکذیب کرنے والوں کی گرفت کے لئے وضع کی ہے۔ یہ سب واقعات اللہ کی تقدیر کے حدود کے اندر ہوتے ہیں۔ جس کے نظام میں اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہے ۔ ہر حادثہ کا ایو وقت طے شدہ ہے۔ ہر واقعہ کا ایک مقصد ہوتا ہے اور اس تدقر کے نظام میں ہر ہر قدم پر حکمت ربانی کار فرما ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نفس کا بھی رب ہے۔ اس کائنات کا بھی رب ہے اور نظام قضا وقدر کا بھی وہی منتظم ہے۔ لہٰذا یہ سب اس کی وسیع تر اسکیم مشیت کے دائرے میں ہیں۔
الليل 92:3
کذبت ثمود ................................ عقبھا
قوم ثمود اور ان کے نبی حضرت صالح علہی السلام کی کہانی قرآن مجید میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ ہر مقام پر ہم نے اس پر بات کی ہے اور ابھی سورة الفجر میں ، اسی پارے میں یہ کہانی گزری ہے۔ تفصیلات ان مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ قوم ثمود نے صرف اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ اور اس سرکشی کے سوا کوئی اور جواز اس کے لئے نہ تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ان میں سے ایک نہایت ہی شقی القلب شخص اٹھا اور اس نے ناقتہ اللہ کو قتل کردیا۔ یہ شخص ان میں نہایت سنگدل اور سرکش تھا کہ وہ اس قدر عظیم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہوگیا۔ حالانکہ ان کے نبی نے واضح الفاظ میں ان کو متنبہ کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ اس ناقہ کو کوئی گزندنہ پہنچانا ، نہ اس پانی میں مداخلت کرنا جس کو اللہ نے تمہارے اور ناقہ کے درمیان تقسیم کردیا ہے کہ ایک دن تمہارے لئے اور ایک دن اس ناقہ کے لئے ہے اور یہ تقسیم اس لئے ہوئی تھی کہ انہوں نے اللہ کے نبی سے معجزے کا مطالبہ کردیا تھا تو اللہ نے اس ناقعہ کو معجزہ قرار دیا۔ اس ناقہ کی کوئی نہ کوئی معجزانہ شان تو بہرحال ہوگی۔ یہاں ہم اس کی تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لئے کہ خود اللہ نے اس شان اعجاز کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ بہرحال انہوں نے اپنی سرکشی کی وجہ سے اللہ کی جانب سے ڈرانے والے کی تکذیب کی اور ناقہ کو قتل کردیا۔ اور جس شخص نے عملاً یہ فعل اپنے ذمہ دیا۔ وہ ان میں سے بہت زیادہ بدبخت اور شقی تھا۔ لیکن ذمہ داری سب نے لی۔ اور سب ہی ذمہ دار اس لئے قرار پائے کہ انہوں نے اس شخص کو اس برے فعل سے نہ روکا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اسلام کے اصولوں میں سے یہ بنیادی اصول ہے کہ دنیا کی اجتماعی زندگی میں ذمہ داری بھی اجتماعی ہوتی ہے اور یہ اجتماعی ذمہ داری کا قانون اسلام کے انفرادی ذمہ داری کے اصول کے خلاف نہیں ہے۔ یعنی آخرت میں کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہوگا جو اس نے کمایا ، کیونکہ اسلام میں یہ بھی گناہ کبیرہ ہے کہ کوئی دوسروں کو نصیحت کرنا چھوڑ دے ، دوسروں کی اصلاح ، ان کی کفالت ، سے دسکش ہوجائے اور نیکی کرنے اور ظالم کا ہتھ پکڑنے پر لوگوں کو نہ ابھارے۔
جب انہوں نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا تو پھر دست قدرت حرکت میں آیا۔
فدمدم علیھم ............................ فسوھا (14:91) ” آخر کار ان کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوندخاک کردیا “۔” دمدمہ “ کے معنی غضب کے ہوتے ہیں اور غضب کے نتیجے میں جو انتفام اور عذاب آتا ہے۔ لفظ ” دمدم “ کا تلفظ ہی بناتا ہے کہ وہ عذاب کس قدر سخت ہوگا ۔ اس لفظ کا تلفظ اور ترنم ہی ایک خوفناک منظر کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اللہ نے ان کی زمین کو اوپر نیچے کردیا اور برابر کردیا۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے جس سے نہایت ہی ہمہ گیر بربادی کا اظہار ہوتا ہے۔
ولا یخاف عقبھا (15:91) ” اور اسے اس کے کسی برے نتیجے کا خوف نہیں ہے “۔ وہ تو ہر کمزوری سے پاک ہے ، وہ کس سے خوف کرسکتا ہے ؟ کہاں خوف کھاسکتا ہے اور کب خائف ہوسکتا ہے ؟ “۔
دراصل اس انداز تعبیر سے ایک لازمی مفہوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ کی گرفت نہایت سخت ہوتی ہے ، اس لئے کہ دنیا کا جو شخص بھی اگر کسی انجام سے نہ ڈرتا ہو تو وہ سخت ترین مظالم ڈھاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی پکڑ سخت ہوگی کیونکہ اللہ سے کوئی پوچھنے والا ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ
ان بطش .................... لشدید ” بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت شدید ہوتی ہے “۔ اس لئے یہ کہہ کر کہ وہ اپنے کسی فعل کے برے نتیجے سے نویں ڈرتا ، یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کی پکڑ بہت شدید ہوگی۔
یوں نفس انسانی کو اس کائنات کے عظیم حقائق کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور اس کائنات کے مشاہد اور مناظر کے ساتھ نفس انسانی کو متعلق کیا جاتا ہے۔ پھر نفس انسانی اور مشاہد کائنات دونوں کو اللہ کی اس سنت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے جو اس نے سرکشوں اور تکذیب کرنے والوں کی گرفت کے لئے وضع کی ہے۔ یہ سب واقعات اللہ کی تقدیر کے حدود کے اندر ہوتے ہیں۔ جس کے نظام میں اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہے ۔ ہر حادثہ کا ایو وقت طے شدہ ہے۔ ہر واقعہ کا ایک مقصد ہوتا ہے اور اس تدقر کے نظام میں ہر ہر قدم پر حکمت ربانی کار فرما ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نفس کا بھی رب ہے۔ اس کائنات کا بھی رب ہے اور نظام قضا وقدر کا بھی وہی منتظم ہے۔ لہٰذا یہ سب اس کی وسیع تر اسکیم مشیت کے دائرے میں ہیں۔
الليل 92:4
ان سعیکم .................................... تردی
تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنے اسباب اور محرکات کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں ، اپنے رخ اور سمت کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور نتائج کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں۔ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کے مزاج بھی مختلف ہیں۔ ان کے تصورات و افکار بھی مختلف ہیں ، ان کے ذوق اور مشرب بھی مختلف ہیں ، اس کی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ اور لوگوں کی حالت یوں لگتی ہے کہ گویا ان میں سے ہر شخص شاید ایک علیحدہ سیارے کا باشندہ ہے۔
یہ تو ہے ایک حقیقت ، لیکن ایک دوسری حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے ، وہ یہ کہ ان تمام افراد بشریت کے درمیان ایک قدر مشرک بھی ہے جو انہیں باہم جوڑے ہوئے ہے۔ اور ان تمام اختلافات کے درمیان مابہ الاشتراک بھی ہے۔ یہ اشتراک انہیں دوگروہوں میں رکھتا ہے۔ دوصفوں میں اور دو جھنڈوں کے تلے قائم رکھتا ہے جو ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ کیا ہے ۔
فاما ............................ بالحسنی (6:82) ” تو جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور بھلائی کو سچ مانا “۔ ایک تو یہ صف ہے اور دوسری صف۔
من بخل ............................ بالحسنی (9:92) ” جس نے بخل کیا اور بےنیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا “۔
ایک گروہ ہے جو جان بھی کھپاتا ہے ، مال بھی کھپاتا ہے۔ اللہ کے عذاب اور اللہ کے غضب سے ڈرتا ہے اور سچائی کو مانتا ہے اور سچائی کا نام کیا ہے الحسنیٰ ، اس کا علم کیا ہے الحسنیٰ ۔ یہ دو قسم کے لوگ ہیں جو دو صفوں میں کھڑے ہیں ، مختلف المزاج لوگ ، مختلف قسم کی مساعی ، مختلف قسم کے طریقہ ہائے کار ، مختلف قسم کے مقاصد۔ ان دوصفوں میں صف آرا ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں ، ہر ایک کا اپنا نظام اور منہاج کار ہے اور ہر ایک کو الگ الگ توفیق بخشی گئی ہے اور طریقہ دیا گیا ہے۔
فاما ........................................ للیسری (5:95 تا 7) ” تو جس نے دیا ، اور پرہیزگاری اختیار کی اور بھلائی کو سچ مانا اس کہ ہم آسان راستے کے لئے سہولت دیں گے “۔ اس لئے کہ جو شخص مال دے ، تقویٰ اختیار کرے اور سچائی کی تصدیق کردے تو گویا اس کے پاس جو کچھ تھا اس نے حاضر کردیا اور اپنے نفس کو پاک کرنے اور راہ راست پر لگانے کے لئے حتیٰ المقدور سعی کرلی۔ اب وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ کی نصرت اس کی دستگیری کرے۔ اور اس کو بھلائی کی توفیق دے کیونکہ اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ جس شخص نے اچھا ارادہ کیا ، اسے سہولیات فراہم کرے کیونکہ اللہ کی توفیق اور مشیت کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔
اور جس کو اللہ نیکی کی سہولیات فراہم کردے تو گویا وہ منزل مقصود تک پہنچ گیا۔ نہایت آسانی اور سکون و اطمینان کے ساتھ وہ پہنچ گیا۔ وہ زمین پر ہوتے ہوئے بھی عالم بالا تک پہنچ گیا ، وہ نہایت آسانی سے اس جہاں میں رہتا ہے ، اس کا ماحول ، اور اس کے ارد گرد رہنے والے سب اس کے لئے سازگار ہوجاتے ہیں ، ان کے قدم سہولت سے اٹھتے ہیں ، اس کی راہ آسان ہوجاتی ہے ، وہ بڑی آسانی کے ساتھ معاملات سے نمٹ لیتا ہے ، غرض تمام کلیات وجزئیات میں اسے سہولیات حاصل ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مقام و مرتبہ ہے جس کے دائرے میں سب کچھ آجاتا ہے۔ اور اس مرتبہ ومقام کو پانے والا رسول اللہ کے ساتھ حسب وعدہ رہی بڑی سہولیات پاتا ہے۔
فسنیسرہ للیسری (7:92) ” ہم اسے آسان راستے کی طرف سہولت دیں گے “۔
الليل 92:5
ان سعیکم .................................... تردی
تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنے اسباب اور محرکات کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں ، اپنے رخ اور سمت کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور نتائج کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں۔ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کے مزاج بھی مختلف ہیں۔ ان کے تصورات و افکار بھی مختلف ہیں ، ان کے ذوق اور مشرب بھی مختلف ہیں ، اس کی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ اور لوگوں کی حالت یوں لگتی ہے کہ گویا ان میں سے ہر شخص شاید ایک علیحدہ سیارے کا باشندہ ہے۔
یہ تو ہے ایک حقیقت ، لیکن ایک دوسری حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے ، وہ یہ کہ ان تمام افراد بشریت کے درمیان ایک قدر مشرک بھی ہے جو انہیں باہم جوڑے ہوئے ہے۔ اور ان تمام اختلافات کے درمیان مابہ الاشتراک بھی ہے۔ یہ اشتراک انہیں دوگروہوں میں رکھتا ہے۔ دوصفوں میں اور دو جھنڈوں کے تلے قائم رکھتا ہے جو ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ کیا ہے ۔
فاما ............................ بالحسنی (6:82) ” تو جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور بھلائی کو سچ مانا “۔ ایک تو یہ صف ہے اور دوسری صف۔
من بخل ............................ بالحسنی (9:92) ” جس نے بخل کیا اور بےنیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا “۔
ایک گروہ ہے جو جان بھی کھپاتا ہے ، مال بھی کھپاتا ہے۔ اللہ کے عذاب اور اللہ کے غضب سے ڈرتا ہے اور سچائی کو مانتا ہے اور سچائی کا نام کیا ہے الحسنیٰ ، اس کا علم کیا ہے الحسنیٰ ۔ یہ دو قسم کے لوگ ہیں جو دو صفوں میں کھڑے ہیں ، مختلف المزاج لوگ ، مختلف قسم کی مساعی ، مختلف قسم کے طریقہ ہائے کار ، مختلف قسم کے مقاصد۔ ان دوصفوں میں صف آرا ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں ، ہر ایک کا اپنا نظام اور منہاج کار ہے اور ہر ایک کو الگ الگ توفیق بخشی گئی ہے اور طریقہ دیا گیا ہے۔
فاما ........................................ للیسری (5:95 تا 7) ” تو جس نے دیا ، اور پرہیزگاری اختیار کی اور بھلائی کو سچ مانا اس کہ ہم آسان راستے کے لئے سہولت دیں گے “۔ اس لئے کہ جو شخص مال دے ، تقویٰ اختیار کرے اور سچائی کی تصدیق کردے تو گویا اس کے پاس جو کچھ تھا اس نے حاضر کردیا اور اپنے نفس کو پاک کرنے اور راہ راست پر لگانے کے لئے حتیٰ المقدور سعی کرلی۔ اب وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ کی نصرت اس کی دستگیری کرے۔ اور اس کو بھلائی کی توفیق دے کیونکہ اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ جس شخص نے اچھا ارادہ کیا ، اسے سہولیات فراہم کرے کیونکہ اللہ کی توفیق اور مشیت کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔
اور جس کو اللہ نیکی کی سہولیات فراہم کردے تو گویا وہ منزل مقصود تک پہنچ گیا۔ نہایت آسانی اور سکون و اطمینان کے ساتھ وہ پہنچ گیا۔ وہ زمین پر ہوتے ہوئے بھی عالم بالا تک پہنچ گیا ، وہ نہایت آسانی سے اس جہاں میں رہتا ہے ، اس کا ماحول ، اور اس کے ارد گرد رہنے والے سب اس کے لئے سازگار ہوجاتے ہیں ، ان کے قدم سہولت سے اٹھتے ہیں ، اس کی راہ آسان ہوجاتی ہے ، وہ بڑی آسانی کے ساتھ معاملات سے نمٹ لیتا ہے ، غرض تمام کلیات وجزئیات میں اسے سہولیات حاصل ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مقام و مرتبہ ہے جس کے دائرے میں سب کچھ آجاتا ہے۔ اور اس مرتبہ ومقام کو پانے والا رسول اللہ کے ساتھ حسب وعدہ رہی بڑی سہولیات پاتا ہے۔
فسنیسرہ للیسری (7:92) ” ہم اسے آسان راستے کی طرف سہولت دیں گے “۔
الليل 92:6
ان سعیکم .................................... تردی
تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنے اسباب اور محرکات کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں ، اپنے رخ اور سمت کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور نتائج کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں۔ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کے مزاج بھی مختلف ہیں۔ ان کے تصورات و افکار بھی مختلف ہیں ، ان کے ذوق اور مشرب بھی مختلف ہیں ، اس کی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ اور لوگوں کی حالت یوں لگتی ہے کہ گویا ان میں سے ہر شخص شاید ایک علیحدہ سیارے کا باشندہ ہے۔
یہ تو ہے ایک حقیقت ، لیکن ایک دوسری حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے ، وہ یہ کہ ان تمام افراد بشریت کے درمیان ایک قدر مشرک بھی ہے جو انہیں باہم جوڑے ہوئے ہے۔ اور ان تمام اختلافات کے درمیان مابہ الاشتراک بھی ہے۔ یہ اشتراک انہیں دوگروہوں میں رکھتا ہے۔ دوصفوں میں اور دو جھنڈوں کے تلے قائم رکھتا ہے جو ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ کیا ہے ۔
فاما ............................ بالحسنی (6:82) ” تو جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور بھلائی کو سچ مانا “۔ ایک تو یہ صف ہے اور دوسری صف۔
من بخل ............................ بالحسنی (9:92) ” جس نے بخل کیا اور بےنیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا “۔
ایک گروہ ہے جو جان بھی کھپاتا ہے ، مال بھی کھپاتا ہے۔ اللہ کے عذاب اور اللہ کے غضب سے ڈرتا ہے اور سچائی کو مانتا ہے اور سچائی کا نام کیا ہے الحسنیٰ ، اس کا علم کیا ہے الحسنیٰ ۔ یہ دو قسم کے لوگ ہیں جو دو صفوں میں کھڑے ہیں ، مختلف المزاج لوگ ، مختلف قسم کی مساعی ، مختلف قسم کے طریقہ ہائے کار ، مختلف قسم کے مقاصد۔ ان دوصفوں میں صف آرا ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں ، ہر ایک کا اپنا نظام اور منہاج کار ہے اور ہر ایک کو الگ الگ توفیق بخشی گئی ہے اور طریقہ دیا گیا ہے۔
فاما ........................................ للیسری (5:95 تا 7) ” تو جس نے دیا ، اور پرہیزگاری اختیار کی اور بھلائی کو سچ مانا اس کہ ہم آسان راستے کے لئے سہولت دیں گے “۔ اس لئے کہ جو شخص مال دے ، تقویٰ اختیار کرے اور سچائی کی تصدیق کردے تو گویا اس کے پاس جو کچھ تھا اس نے حاضر کردیا اور اپنے نفس کو پاک کرنے اور راہ راست پر لگانے کے لئے حتیٰ المقدور سعی کرلی۔ اب وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ کی نصرت اس کی دستگیری کرے۔ اور اس کو بھلائی کی توفیق دے کیونکہ اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ جس شخص نے اچھا ارادہ کیا ، اسے سہولیات فراہم کرے کیونکہ اللہ کی توفیق اور مشیت کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔
اور جس کو اللہ نیکی کی سہولیات فراہم کردے تو گویا وہ منزل مقصود تک پہنچ گیا۔ نہایت آسانی اور سکون و اطمینان کے ساتھ وہ پہنچ گیا۔ وہ زمین پر ہوتے ہوئے بھی عالم بالا تک پہنچ گیا ، وہ نہایت آسانی سے اس جہاں میں رہتا ہے ، اس کا ماحول ، اور اس کے ارد گرد رہنے والے سب اس کے لئے سازگار ہوجاتے ہیں ، ان کے قدم سہولت سے اٹھتے ہیں ، اس کی راہ آسان ہوجاتی ہے ، وہ بڑی آسانی کے ساتھ معاملات سے نمٹ لیتا ہے ، غرض تمام کلیات وجزئیات میں اسے سہولیات حاصل ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مقام و مرتبہ ہے جس کے دائرے میں سب کچھ آجاتا ہے۔ اور اس مرتبہ ومقام کو پانے والا رسول اللہ کے ساتھ حسب وعدہ رہی بڑی سہولیات پاتا ہے۔
فسنیسرہ للیسری (7:92) ” ہم اسے آسان راستے کی طرف سہولت دیں گے “۔
الليل 92:7
ان سعیکم .................................... تردی
تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنے اسباب اور محرکات کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں ، اپنے رخ اور سمت کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور نتائج کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں۔ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کے مزاج بھی مختلف ہیں۔ ان کے تصورات و افکار بھی مختلف ہیں ، ان کے ذوق اور مشرب بھی مختلف ہیں ، اس کی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ اور لوگوں کی حالت یوں لگتی ہے کہ گویا ان میں سے ہر شخص شاید ایک علیحدہ سیارے کا باشندہ ہے۔
یہ تو ہے ایک حقیقت ، لیکن ایک دوسری حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے ، وہ یہ کہ ان تمام افراد بشریت کے درمیان ایک قدر مشرک بھی ہے جو انہیں باہم جوڑے ہوئے ہے۔ اور ان تمام اختلافات کے درمیان مابہ الاشتراک بھی ہے۔ یہ اشتراک انہیں دوگروہوں میں رکھتا ہے۔ دوصفوں میں اور دو جھنڈوں کے تلے قائم رکھتا ہے جو ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ کیا ہے ۔
فاما ............................ بالحسنی (6:82) ” تو جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور بھلائی کو سچ مانا “۔ ایک تو یہ صف ہے اور دوسری صف۔
من بخل ............................ بالحسنی (9:92) ” جس نے بخل کیا اور بےنیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا “۔
ایک گروہ ہے جو جان بھی کھپاتا ہے ، مال بھی کھپاتا ہے۔ اللہ کے عذاب اور اللہ کے غضب سے ڈرتا ہے اور سچائی کو مانتا ہے اور سچائی کا نام کیا ہے الحسنیٰ ، اس کا علم کیا ہے الحسنیٰ ۔ یہ دو قسم کے لوگ ہیں جو دو صفوں میں کھڑے ہیں ، مختلف المزاج لوگ ، مختلف قسم کی مساعی ، مختلف قسم کے طریقہ ہائے کار ، مختلف قسم کے مقاصد۔ ان دوصفوں میں صف آرا ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں ، ہر ایک کا اپنا نظام اور منہاج کار ہے اور ہر ایک کو الگ الگ توفیق بخشی گئی ہے اور طریقہ دیا گیا ہے۔
فاما ........................................ للیسری (5:95 تا 7) ” تو جس نے دیا ، اور پرہیزگاری اختیار کی اور بھلائی کو سچ مانا اس کہ ہم آسان راستے کے لئے سہولت دیں گے “۔ اس لئے کہ جو شخص مال دے ، تقویٰ اختیار کرے اور سچائی کی تصدیق کردے تو گویا اس کے پاس جو کچھ تھا اس نے حاضر کردیا اور اپنے نفس کو پاک کرنے اور راہ راست پر لگانے کے لئے حتیٰ المقدور سعی کرلی۔ اب وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ کی نصرت اس کی دستگیری کرے۔ اور اس کو بھلائی کی توفیق دے کیونکہ اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ جس شخص نے اچھا ارادہ کیا ، اسے سہولیات فراہم کرے کیونکہ اللہ کی توفیق اور مشیت کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔
اور جس کو اللہ نیکی کی سہولیات فراہم کردے تو گویا وہ منزل مقصود تک پہنچ گیا۔ نہایت آسانی اور سکون و اطمینان کے ساتھ وہ پہنچ گیا۔ وہ زمین پر ہوتے ہوئے بھی عالم بالا تک پہنچ گیا ، وہ نہایت آسانی سے اس جہاں میں رہتا ہے ، اس کا ماحول ، اور اس کے ارد گرد رہنے والے سب اس کے لئے سازگار ہوجاتے ہیں ، ان کے قدم سہولت سے اٹھتے ہیں ، اس کی راہ آسان ہوجاتی ہے ، وہ بڑی آسانی کے ساتھ معاملات سے نمٹ لیتا ہے ، غرض تمام کلیات وجزئیات میں اسے سہولیات حاصل ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مقام و مرتبہ ہے جس کے دائرے میں سب کچھ آجاتا ہے۔ اور اس مرتبہ ومقام کو پانے والا رسول اللہ کے ساتھ حسب وعدہ رہی بڑی سہولیات پاتا ہے۔
فسنیسرہ للیسری (7:92) ” ہم اسے آسان راستے کی طرف سہولت دیں گے “۔
الليل 92:8
واما من .................... اذاتردی (8:92 تا 11) ” اور جس نے بخل اختیار کیا اور اللہ سے بےنیازی اختیار کی اور بھلائی کو جھٹلایا ، اس کو ہم سخت راستے کی طرف سہولت دیں گے ، اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔
وہ شخص جو اپنے نفس اور مال میں بخل اختیار کرتا ہے اور اللہ کریم سے بےنیازی اختیار کرتا ہے ، اور اس کی ہدایات سے غافل ہوتا ہے اور اللہ کے دین اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتا ہے ، تو وہ اپنے نفس کو انتہائی شروفساد کے لئے تیار کرتا ہے ، اور پرلے درجے کے بگاڑ سے اس کو دوچار کرتا ہے ، تو وہ اس بات کے مستحق ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے ہر چیز مشکل کردے اور اسے سخت راستوں کی سہولیات فراہم کی جائیں اور اسے توفیق دی جائے کہ وہ ہر قدم پر مشکلات سے دوچار ہو ، اس پر آسانیوں کا دروازہ بند کردیا جائے ، اور اسے قدم قدم پر مشکلات درپیش ہوں ، جو اسے راہ راست اور صراط مستقیم سے دور ہی لے جائیں۔ اور یہ شخص بدبختی کے راستے پر ہی آگے بڑھے۔ اگرچہ وہ بظاہر یہ محسوس کرے کہ وہ کامیابی کی راہ پر جارہا ہے۔ حالانکہ وہ تو ٹھوکر کھاتا جاتا ہے اور وہ اپنی ایک ٹھوکر سے بچنے کے لئے دوسری ٹھوکر کھاتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ سیدھی راہ سے اور دور ہوجاتا ہے تاکہ وہ اللہ کی رضا سے محروم ہوجائے۔ اور جب وہ ٹھوکروں سے بھرے ہوئے اس منحرف راہ پر آگے بڑھتا ہے اور آخرکار ہلاکت کے گڑھے میں گرتا ہے تو اس وقت پھر اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا ، حالانکہ یہ مال ہی تھا جس نے اسے اللہ سے بےنیاز کردیا تھا۔ اب یہ مفید نہیں ہے۔
وما یغنی ............................ تردی (11:92) ” اور اس کا مال اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔ کسی کو شر اور فساد کے لئے سہولیات فراہم کرنا اور اسے معصیت کی توفیق دینا دراصل اسے سخت کام اور سخت راستے کی طرف موڑنا ہے۔ اگرچہ ایسا شخص اس دنیا میں کامیاب نظر آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہنم سے کوئی مشکل منزل اور مشکل جائے قیام نہیں ہے اور العسریٰ سے یہاں مراد جہنم ہی ہے۔
یوں اس سورت کا پہلا پیراگراف ختم ہوتا ہے اور اس میں تمام انسانی سوسائٹیوں کے لئے دوراستے ، دو طریقے اور دو نظام متعین کردیئے جاتے ہیں اور یہ دوراستے ہر زمان ومکان کے لئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دراصل یہ دوبادشاہ اور دو جھنڈے ہیں ، اگرچہ ان کی شکل اور رنگ مختلف ہوں۔ اور یہ کہ ہر انسان مختار ہے ، کہ اپنے لئے جو راستہ چاہے اختیار کرے اور جو طریقہ چاہے اپنائے۔ اللہ ہر کسی کو وہی سہولت دیتا ہے جو وہ چاہتا ہے ، یا سہولت کا راستہ اور یا سختی کا راستہ۔
رہا اگلا پیراگراف تو اس میں ان دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کا انجام بنایا گیا ہے۔ یہ دکھایا گیا کہ وہ شخص دوڑتے بھاگتے کہاں تک پہنچ جائے گا۔ جس کو آسان راستوں کی سہولت دی گئی اور اس کی گاڑی کہاں جاکر رکے گی جس کو سخت راستوں پر چلایا گیا اور اس پیراگراف میں بتایا جاتا ہے کہ جس فریق کا جو انجام ہوگا وہ حق ہوگا اور نہایت منصفانہ ہوگا اور ایسا ہی ہوتا ہے اور یقینا ہوتا ہے۔ کیونکہ الہل نے لوگوں کو صحیح راستہ بھی بتلایا اور اگر وہ برے راستوں پر چلیں تو ان کو دہکتی ہوئی آگ سے بھی ڈرایا۔
الليل 92:9
واما من .................... اذاتردی (8:92 تا 11) ” اور جس نے بخل اختیار کیا اور اللہ سے بےنیازی اختیار کی اور بھلائی کو جھٹلایا ، اس کو ہم سخت راستے کی طرف سہولت دیں گے ، اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔
وہ شخص جو اپنے نفس اور مال میں بخل اختیار کرتا ہے اور اللہ کریم سے بےنیازی اختیار کرتا ہے ، اور اس کی ہدایات سے غافل ہوتا ہے اور اللہ کے دین اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتا ہے ، تو وہ اپنے نفس کو انتہائی شروفساد کے لئے تیار کرتا ہے ، اور پرلے درجے کے بگاڑ سے اس کو دوچار کرتا ہے ، تو وہ اس بات کے مستحق ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے ہر چیز مشکل کردے اور اسے سخت راستوں کی سہولیات فراہم کی جائیں اور اسے توفیق دی جائے کہ وہ ہر قدم پر مشکلات سے دوچار ہو ، اس پر آسانیوں کا دروازہ بند کردیا جائے ، اور اسے قدم قدم پر مشکلات درپیش ہوں ، جو اسے راہ راست اور صراط مستقیم سے دور ہی لے جائیں۔ اور یہ شخص بدبختی کے راستے پر ہی آگے بڑھے۔ اگرچہ وہ بظاہر یہ محسوس کرے کہ وہ کامیابی کی راہ پر جارہا ہے۔ حالانکہ وہ تو ٹھوکر کھاتا جاتا ہے اور وہ اپنی ایک ٹھوکر سے بچنے کے لئے دوسری ٹھوکر کھاتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ سیدھی راہ سے اور دور ہوجاتا ہے تاکہ وہ اللہ کی رضا سے محروم ہوجائے۔ اور جب وہ ٹھوکروں سے بھرے ہوئے اس منحرف راہ پر آگے بڑھتا ہے اور آخرکار ہلاکت کے گڑھے میں گرتا ہے تو اس وقت پھر اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا ، حالانکہ یہ مال ہی تھا جس نے اسے اللہ سے بےنیاز کردیا تھا۔ اب یہ مفید نہیں ہے۔
وما یغنی ............................ تردی (11:92) ” اور اس کا مال اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔ کسی کو شر اور فساد کے لئے سہولیات فراہم کرنا اور اسے معصیت کی توفیق دینا دراصل اسے سخت کام اور سخت راستے کی طرف موڑنا ہے۔ اگرچہ ایسا شخص اس دنیا میں کامیاب نظر آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہنم سے کوئی مشکل منزل اور مشکل جائے قیام نہیں ہے اور العسریٰ سے یہاں مراد جہنم ہی ہے۔
یوں اس سورت کا پہلا پیراگراف ختم ہوتا ہے اور اس میں تمام انسانی سوسائٹیوں کے لئے دوراستے ، دو طریقے اور دو نظام متعین کردیئے جاتے ہیں اور یہ دوراستے ہر زمان ومکان کے لئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دراصل یہ دوبادشاہ اور دو جھنڈے ہیں ، اگرچہ ان کی شکل اور رنگ مختلف ہوں۔ اور یہ کہ ہر انسان مختار ہے ، کہ اپنے لئے جو راستہ چاہے اختیار کرے اور جو طریقہ چاہے اپنائے۔ اللہ ہر کسی کو وہی سہولت دیتا ہے جو وہ چاہتا ہے ، یا سہولت کا راستہ اور یا سختی کا راستہ۔
رہا اگلا پیراگراف تو اس میں ان دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کا انجام بنایا گیا ہے۔ یہ دکھایا گیا کہ وہ شخص دوڑتے بھاگتے کہاں تک پہنچ جائے گا۔ جس کو آسان راستوں کی سہولت دی گئی اور اس کی گاڑی کہاں جاکر رکے گی جس کو سخت راستوں پر چلایا گیا اور اس پیراگراف میں بتایا جاتا ہے کہ جس فریق کا جو انجام ہوگا وہ حق ہوگا اور نہایت منصفانہ ہوگا اور ایسا ہی ہوتا ہے اور یقینا ہوتا ہے۔ کیونکہ الہل نے لوگوں کو صحیح راستہ بھی بتلایا اور اگر وہ برے راستوں پر چلیں تو ان کو دہکتی ہوئی آگ سے بھی ڈرایا۔
الليل 92:10
واما من .................... اذاتردی (8:92 تا 11) ” اور جس نے بخل اختیار کیا اور اللہ سے بےنیازی اختیار کی اور بھلائی کو جھٹلایا ، اس کو ہم سخت راستے کی طرف سہولت دیں گے ، اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔
وہ شخص جو اپنے نفس اور مال میں بخل اختیار کرتا ہے اور اللہ کریم سے بےنیازی اختیار کرتا ہے ، اور اس کی ہدایات سے غافل ہوتا ہے اور اللہ کے دین اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتا ہے ، تو وہ اپنے نفس کو انتہائی شروفساد کے لئے تیار کرتا ہے ، اور پرلے درجے کے بگاڑ سے اس کو دوچار کرتا ہے ، تو وہ اس بات کے مستحق ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے ہر چیز مشکل کردے اور اسے سخت راستوں کی سہولیات فراہم کی جائیں اور اسے توفیق دی جائے کہ وہ ہر قدم پر مشکلات سے دوچار ہو ، اس پر آسانیوں کا دروازہ بند کردیا جائے ، اور اسے قدم قدم پر مشکلات درپیش ہوں ، جو اسے راہ راست اور صراط مستقیم سے دور ہی لے جائیں۔ اور یہ شخص بدبختی کے راستے پر ہی آگے بڑھے۔ اگرچہ وہ بظاہر یہ محسوس کرے کہ وہ کامیابی کی راہ پر جارہا ہے۔ حالانکہ وہ تو ٹھوکر کھاتا جاتا ہے اور وہ اپنی ایک ٹھوکر سے بچنے کے لئے دوسری ٹھوکر کھاتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ سیدھی راہ سے اور دور ہوجاتا ہے تاکہ وہ اللہ کی رضا سے محروم ہوجائے۔ اور جب وہ ٹھوکروں سے بھرے ہوئے اس منحرف راہ پر آگے بڑھتا ہے اور آخرکار ہلاکت کے گڑھے میں گرتا ہے تو اس وقت پھر اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا ، حالانکہ یہ مال ہی تھا جس نے اسے اللہ سے بےنیاز کردیا تھا۔ اب یہ مفید نہیں ہے۔
وما یغنی ............................ تردی (11:92) ” اور اس کا مال اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔ کسی کو شر اور فساد کے لئے سہولیات فراہم کرنا اور اسے معصیت کی توفیق دینا دراصل اسے سخت کام اور سخت راستے کی طرف موڑنا ہے۔ اگرچہ ایسا شخص اس دنیا میں کامیاب نظر آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہنم سے کوئی مشکل منزل اور مشکل جائے قیام نہیں ہے اور العسریٰ سے یہاں مراد جہنم ہی ہے۔
یوں اس سورت کا پہلا پیراگراف ختم ہوتا ہے اور اس میں تمام انسانی سوسائٹیوں کے لئے دوراستے ، دو طریقے اور دو نظام متعین کردیئے جاتے ہیں اور یہ دوراستے ہر زمان ومکان کے لئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دراصل یہ دوبادشاہ اور دو جھنڈے ہیں ، اگرچہ ان کی شکل اور رنگ مختلف ہوں۔ اور یہ کہ ہر انسان مختار ہے ، کہ اپنے لئے جو راستہ چاہے اختیار کرے اور جو طریقہ چاہے اپنائے۔ اللہ ہر کسی کو وہی سہولت دیتا ہے جو وہ چاہتا ہے ، یا سہولت کا راستہ اور یا سختی کا راستہ۔
رہا اگلا پیراگراف تو اس میں ان دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کا انجام بنایا گیا ہے۔ یہ دکھایا گیا کہ وہ شخص دوڑتے بھاگتے کہاں تک پہنچ جائے گا۔ جس کو آسان راستوں کی سہولت دی گئی اور اس کی گاڑی کہاں جاکر رکے گی جس کو سخت راستوں پر چلایا گیا اور اس پیراگراف میں بتایا جاتا ہے کہ جس فریق کا جو انجام ہوگا وہ حق ہوگا اور نہایت منصفانہ ہوگا اور ایسا ہی ہوتا ہے اور یقینا ہوتا ہے۔ کیونکہ الہل نے لوگوں کو صحیح راستہ بھی بتلایا اور اگر وہ برے راستوں پر چلیں تو ان کو دہکتی ہوئی آگ سے بھی ڈرایا۔
الليل 92:11
واما من .................... اذاتردی (8:92 تا 11) ” اور جس نے بخل اختیار کیا اور اللہ سے بےنیازی اختیار کی اور بھلائی کو جھٹلایا ، اس کو ہم سخت راستے کی طرف سہولت دیں گے ، اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔
وہ شخص جو اپنے نفس اور مال میں بخل اختیار کرتا ہے اور اللہ کریم سے بےنیازی اختیار کرتا ہے ، اور اس کی ہدایات سے غافل ہوتا ہے اور اللہ کے دین اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتا ہے ، تو وہ اپنے نفس کو انتہائی شروفساد کے لئے تیار کرتا ہے ، اور پرلے درجے کے بگاڑ سے اس کو دوچار کرتا ہے ، تو وہ اس بات کے مستحق ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے ہر چیز مشکل کردے اور اسے سخت راستوں کی سہولیات فراہم کی جائیں اور اسے توفیق دی جائے کہ وہ ہر قدم پر مشکلات سے دوچار ہو ، اس پر آسانیوں کا دروازہ بند کردیا جائے ، اور اسے قدم قدم پر مشکلات درپیش ہوں ، جو اسے راہ راست اور صراط مستقیم سے دور ہی لے جائیں۔ اور یہ شخص بدبختی کے راستے پر ہی آگے بڑھے۔ اگرچہ وہ بظاہر یہ محسوس کرے کہ وہ کامیابی کی راہ پر جارہا ہے۔ حالانکہ وہ تو ٹھوکر کھاتا جاتا ہے اور وہ اپنی ایک ٹھوکر سے بچنے کے لئے دوسری ٹھوکر کھاتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ سیدھی راہ سے اور دور ہوجاتا ہے تاکہ وہ اللہ کی رضا سے محروم ہوجائے۔ اور جب وہ ٹھوکروں سے بھرے ہوئے اس منحرف راہ پر آگے بڑھتا ہے اور آخرکار ہلاکت کے گڑھے میں گرتا ہے تو اس وقت پھر اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا ، حالانکہ یہ مال ہی تھا جس نے اسے اللہ سے بےنیاز کردیا تھا۔ اب یہ مفید نہیں ہے۔
وما یغنی ............................ تردی (11:92) ” اور اس کا مال اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔ کسی کو شر اور فساد کے لئے سہولیات فراہم کرنا اور اسے معصیت کی توفیق دینا دراصل اسے سخت کام اور سخت راستے کی طرف موڑنا ہے۔ اگرچہ ایسا شخص اس دنیا میں کامیاب نظر آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہنم سے کوئی مشکل منزل اور مشکل جائے قیام نہیں ہے اور العسریٰ سے یہاں مراد جہنم ہی ہے۔
یوں اس سورت کا پہلا پیراگراف ختم ہوتا ہے اور اس میں تمام انسانی سوسائٹیوں کے لئے دوراستے ، دو طریقے اور دو نظام متعین کردیئے جاتے ہیں اور یہ دوراستے ہر زمان ومکان کے لئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دراصل یہ دوبادشاہ اور دو جھنڈے ہیں ، اگرچہ ان کی شکل اور رنگ مختلف ہوں۔ اور یہ کہ ہر انسان مختار ہے ، کہ اپنے لئے جو راستہ چاہے اختیار کرے اور جو طریقہ چاہے اپنائے۔ اللہ ہر کسی کو وہی سہولت دیتا ہے جو وہ چاہتا ہے ، یا سہولت کا راستہ اور یا سختی کا راستہ۔
رہا اگلا پیراگراف تو اس میں ان دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کا انجام بنایا گیا ہے۔ یہ دکھایا گیا کہ وہ شخص دوڑتے بھاگتے کہاں تک پہنچ جائے گا۔ جس کو آسان راستوں کی سہولت دی گئی اور اس کی گاڑی کہاں جاکر رکے گی جس کو سخت راستوں پر چلایا گیا اور اس پیراگراف میں بتایا جاتا ہے کہ جس فریق کا جو انجام ہوگا وہ حق ہوگا اور نہایت منصفانہ ہوگا اور ایسا ہی ہوتا ہے اور یقینا ہوتا ہے۔ کیونکہ الہل نے لوگوں کو صحیح راستہ بھی بتلایا اور اگر وہ برے راستوں پر چلیں تو ان کو دہکتی ہوئی آگ سے بھی ڈرایا۔
الليل 92:12
ان علینا .................................... یرضی
اللہ نے محض اپنے فضل وکرم کی وجہ سے اپنے اوپر یہ بات فرض کردی کہ لوگوں کی اس فطرت کے سامنے اور لوگوں کو دی ہوئی قوت مدرکہ کے سامنے ہدایت کا راستہ واضح طور پر بیان فرمادیں۔ اسی طرح تمام رسولوں کا بھی یہ فرض قرار دیا گیا کہ وہ دعوت اسلامی کی تشریح کریں اور تمام دعوتی تحریکات اور تمام کتب سماوی اور معجزات بھی اس غرض کے لئے لائے گئے تاکہ کسی کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے اور نہ کسی کے اوپر کوئی ظلم ہو۔
ان علینا للھدی (12:92) ” بیشک راستہ بتانا ہماری ذمہ داری ہے “۔ یہ تو تھی پہلی حقیقت۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک قوت قاہرہ ہے ، جس نے تمام لوگوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ اس قوت کے مقابلے میں لوگوں کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
الليل 92:13
وان ................ والاولی (13:92) ” اور بیشک آخرت اور دنیا ، دونوں کے ہم مالک ہیں “۔ لہٰذا جو شخص اللہ سے دور ہونا چاہتا ہے وہ کہاں جاسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تو کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
ان دونوں حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ راستہ بتانا اللہ نے اپنے ذمہ فرض قرار دیا ہے اور پھر سب لوگوں کو اللہ کے سامنے آنا ہے اور اللہ کے مقابلے میں ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ آغاز و انجام کا مالک اللہ ہے ، تو اللہ نے انسانوں کو خبردار کردیا کہ تم بھڑکتی ہوئی آگ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔
الليل 92:14
فانذرتکم نارا تلظی (14:92) ” پس میں نے تم کو خبردار کردیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے “۔ اور یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہر کسی کے لئے نہیں ہے ، بلکہ یہ تو بھڑکائی گئی ہے۔
الليل 92:15
لا یصلھا الا الا شقی (15:92) ” اس میں نہیں جھلسے گا مگر وہ انتہائی بدبخت “۔ اور یہ انتہائی بدبخت وہ ہوگا جس کا نصیبہ تمام انسانوں میں برا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ آگ میں جھلس جانے کے بعد پھر وہ کہاں جائے گا اور اس بدبخت کی مزید تشریح۔
الليل 92:16
الذی ............ وتولی (16:92) ” جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا “۔ یعنی اس کے سامنے دعوت اسلامی پیش کی گئی اور اس نے تکذیب بھی کی اور منہ بھی پھیرا ، حالانکہ اللہ نے حسب وعدہ اسے راستہ دکھانے کے لئے اس کے سامنے دعوت پیش کی تھی اور یہ وعدہ کیا تھا کہ جو شخص بھی دلی خواہش سے اللہ کی طرف آئے گا ، وہ اسے راستہ دکھائے گا۔
الليل 92:17
وسیجنبھا الاتقی (17:92) ” اور اس سے دور رکھا جائے گا وہ نہایت پرہیز گار ہوگا “۔ اور یہ متقی شخص ہی نیک بخت ہے بمقابلہ بدبخت (اشقی) کے ۔ اور اس کی مزید تشریح۔
الليل 92:18
الذی ........................ یتزکی (18:92) ” جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے “۔ یعنی وہ اپنا مال خرچ کرتا ہے تاکہ اس انفاق سے وہ پاک ہوجائے ، مال خرچ کرنے کا مقصد مال کی پاکیزگی ہے ، دکھاوا یا بڑائی حاصل کرنا نہیں ہے۔ وہ خوشی سے خرچ کرتا ہے اور اس لئے خرچ نہیں کرتا کہ کسی کا اس پر احسان تھا اور وہ اس کا بدلہ چکانا چاہتا تھا ، نہ اس لئے کہ لوگ اس کا شکر ادا کریں ، یہ خالص لو جو اللہ خرچ کرتا ہے ، جو اس کا اعلیٰ رب ہے۔
الليل 92:19
وما لاحد ............................ الاعلی (20:92) ” اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے ، جس کا بدلہ اسے دینا ہو وہ تو صرف اپنے رب برتر کی رضاجوئی کے لئے یہ کام کررہا ہے “۔
ایسے شخص کو کیا انعام ملنے والا ہے ؟ جو متقی ہے ، جو اپنے مال کو محض پاک کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے ، اور رب برتر کی خوشنوی کے لئے خرچ کرتا ہے۔ وہ جزاء اور وہ انجام جو ان صالح ارواح کو یہاں دکھائی جاتی ہے۔ بہت عجیب جزاء وانعام ہے۔ مروج طریقے سے ہٹ کر یہاں بالکل ایک نئے انعام کا اعلان کیا جاتا ہے۔
الليل 92:20
وما لاحد ............................ الاعلی (20:92) ” اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے ، جس کا بدلہ اسے دینا ہو وہ تو صرف اپنے رب برتر کی رضاجوئی کے لئے یہ کام کررہا ہے “۔
ایسے شخص کو کیا انعام ملنے والا ہے ؟ جو متقی ہے ، جو اپنے مال کو محض پاک کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے ، اور رب برتر کی خوشنوی کے لئے خرچ کرتا ہے۔ وہ جزاء اور وہ انجام جو ان صالح ارواح کو یہاں دکھائی جاتی ہے۔ بہت عجیب جزاء وانعام ہے۔ مروج طریقے سے ہٹ کر یہاں بالکل ایک نئے انعام کا اعلان کیا جاتا ہے۔
الليل 92:21
ولسوف یرضیٰ (21:92) ” اور ضرور وہ خوش ہوگا “۔ اس متقی کے کاسہ دل کو رضا سے بھر دیا جائے گا ، اس کی روح رضا سے بھر جائے گی ، اس کے تمام اعضاء راضی برضا ہوجائیں گے ، اس کے وجود کے روئیں روئیں میں رضامندی سرایت کرجائے گی اور اس کی پوری زندگی تروتازہ ہوجائے گی۔ کیا ہی خوب جزاء ہے اور کیا ہی خوب اور عظیم نعمت ہے یہ !
ولسوف یرضی (21:92) ” اور ضرور وہ خوش ہوگا “۔ اپنے دین پر خوش ہوگا ، اپنے رب سے راضی ہوگا ، اپنی تقدیر پر راضی ہوگا ، اپنے نصیبے پر راضی ہوگا۔ خوشی اور غم دونوں پر راضی ہوگا ، مالداری اور ناداری دونوں پر راضی ہوگا ، آسانی اور مشکل دونوں پر راضی ہوگا۔ نرمی اور سختی دونوں پر راضی ہوگا ، وہ قلق و اضطراب سے دور ہوگا۔ تنگدستی ، جلدبازی ، بوجھل پن اور مایوسی سے دور ہوگا۔ غرض یہ رضامندی وہ انعام ہوگا جس سے بڑا انعام اور کوئی نہ ہے اور نہ ہوگا۔ یہ ایسا انعام ہے جس کے لئے کوئی مال اور جان دونوں خرچ کرسکتا ہے۔ جو اپنے مال کو خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا رب اس سے راضی ہو۔
یہ وہ انعام ہے جو اللہ ہی دے سکتا ہے اور یہ جزاء ان دلوں میں بھردی جاتی ہے جو خالص اللہ کے ہوجاتے ہیں ، جن کو اللہ کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔
ولسوف یرضیٰ (21:92) اور وہ عنقریب راضی ہوگا “۔ وہ راضی ہوگا ، خوش ہوگا اس نے معمولی قیمت دے دی اور اس کے بدلے اسے بہت کچھ دے دیا گیا۔
غرض اس مقام پر یہ اچانک خوشخبری ہے ، البتہ ان لوگوں کے دلوں میں اس کی توقع ضرور ہے جو اپنے مال کو پاک کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں ، ایسی صورت میں خرچ کرتے ہیں کہ کسی کا ان کے اوپر کوئی احسان نہیں ہے ، پھر بھی خرچ کرتے ہیں۔ محض رضائے ربانی کے لئے خرچ کرتے ہیں ، تو ” ایسا شخص لازماً خوش ہوگا “۔ ولسوف یرضی (21:92) ۔
الضحى 93:1
والضحیٰ............................ فترضیٰ
اللہ تعالیٰ ان دو خوبصورت اوقات کی قسم اٹھاتا ہے جن میں غوروفکر کے بہتر اور زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔ یہ اوقات ہی اپنے اندر اشارات رکھتے ہیں۔ یوں اس کائنات کے مظاہر اور نفس انسانی کے درمیان ایک ربط پیدا کردیا جاتا ہے ، اور قلب بشری کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ یہ خوبصورت کائنات ایک روح رکھتی ہے ، جو نفس انسانی کے ساتھ ہمقدم ہوکر چلتی ہے ، اور یہ ورح ہر زندہ مخلوق کے ساتھ ایک گونہ محبت رکھتی ہے ، اس طرح ہر زندہ دل ، اس کائنات کے اندر نہایت ہی انس و محبت کے ساتھ زندہ رہتا ہے ، وہ اس میں اجنبی نہیں ہوتا اور نہ پریشان ہوتا ہے۔ اور اس سورت میں اس کائنات کے ساتھ انس وہم آہنگی کا ایک گہرا اثر بھی ہے۔ اس سورت میں انس و محبت کی پینگیں بڑھانا مقصود ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ اللہ نے تو آپ کے ماحول میں محبت کا نور پھیلا دیا ہے ، یہ پوری کائنات انسان کے ساتھ زمزمہ خواں ہے ، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ اس جہاں میں اکیلے اور پریشان حال ہوں۔
قسم کے اس کائناتی اشارہ کے بعد اب بصراحت تاکید آتی ہے۔
الضحى 93:2
والضحیٰ............................ فترضیٰ
اللہ تعالیٰ ان دو خوبصورت اوقات کی قسم اٹھاتا ہے جن میں غوروفکر کے بہتر اور زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔ یہ اوقات ہی اپنے اندر اشارات رکھتے ہیں۔ یوں اس کائنات کے مظاہر اور نفس انسانی کے درمیان ایک ربط پیدا کردیا جاتا ہے ، اور قلب بشری کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ یہ خوبصورت کائنات ایک روح رکھتی ہے ، جو نفس انسانی کے ساتھ ہمقدم ہوکر چلتی ہے ، اور یہ ورح ہر زندہ مخلوق کے ساتھ ایک گونہ محبت رکھتی ہے ، اس طرح ہر زندہ دل ، اس کائنات کے اندر نہایت ہی انس و محبت کے ساتھ زندہ رہتا ہے ، وہ اس میں اجنبی نہیں ہوتا اور نہ پریشان ہوتا ہے۔ اور اس سورت میں اس کائنات کے ساتھ انس وہم آہنگی کا ایک گہرا اثر بھی ہے۔ اس سورت میں انس و محبت کی پینگیں بڑھانا مقصود ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ اللہ نے تو آپ کے ماحول میں محبت کا نور پھیلا دیا ہے ، یہ پوری کائنات انسان کے ساتھ زمزمہ خواں ہے ، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ اس جہاں میں اکیلے اور پریشان حال ہوں۔
قسم کے اس کائناتی اشارہ کے بعد اب بصراحت تاکید آتی ہے۔
الضحى 93:3
ما ودعک .................... ومام قلی (3:93) ” تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا ، اور نہ وہ ناراض ہوا “۔ نہ اللہ نے آپ کو چھوڑا دیا ہے اور نہ آپ سے ناراض ہوا ہے۔ ان لوگوں کو غلط فہمی ہے جو آپ کی روح کو اذیت دیتے ہیں ، جو آپ کے قلبی اطمینان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور جو آپ کے لئے غبار خاطر بنتے ہیں۔ اللہ تو ” تمہارا رب “ ہے اور آپ اس کے ہیں۔ اس کی ربوبیت میں ہیں۔ لہٰذا وہ آپ کا نگراں اور کفیل ہے۔
اللہ کے فضل وکرم کے سوتے خشک نہیں ہوگئے ، اور اس کے فیوض وکرم رک نہیں گئے۔ آپ کے لئے آخرت میں وہ کچھ ہے جو اس جہاں کی ہر قسم کی دادودہش سے بہتر ہے۔
الضحى 93:4
وللاخرة .................... الاولی (4:93) ” آخرت تمہارے لئے اس جہاں سے بہتر ہے “۔ وہ تو پہلے بھی اچھی ہے اور انجام کار بھی اچھا ہے۔
دعوت اسلامی کا مستقبل روشن ہے ، تمہارے راستے سے تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں گی ، تمہارا نظام زندگی غالب ہوگا ، اور جس سچائی کے تم حامل ہو ، وہ غالب ہوکر رہے گی۔ یہی باتیں تو آپ کو پریشان کررہی تھیں کہ لوگ آپ سے عناد رکھتے تھے ، جھٹلاتے تھے ، پھر اذیت دیتے تھے ، پھر سازشیں کرتے تھے ، پھر آپ کے ساتھ ہر وقت مذاق کرتے تھے لیکن۔
الضحى 93:5
ولسوف ............................ فترضیٰ (5:93) ” عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہوجاﺅ گے “۔ اب اس سورت کا سیاق آگے بڑھتے ہوئے نبی ﷺ کو یاد دلاتا ہے کہ آپ کے ساتھ رب تعالیٰ کا سلوک تو روزاول ہی سے نہایت اچھا رہا ہے تاکہ آپ کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ رب تعالیٰ آپ پر مہربان رہا ہے۔ آپ کے ساتھ محبت کرتا ہے اور آپ پر رحم وکرم کرتا ہے اور اس سے قبل بھی کئی مواقع پر آپ پر فضل وکرم کرتا رہا ہے ، محبت اور انس کا سلوک کرتا رہا ہے اور آپ کے ساتھ اس حسن سلوک کو نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔
الضحى 93:6
الم یجدک .................... فاغنی
ذرا اپنے عملی حالات پر غور کرو ، ماضی قریب پر نگاہ ڈالو ، کیا تمہارا ماضی یہ بتاتا ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور تم سے ناراض ہوگیا ہے ، یا کچھ اور بتاتا ہے ۔ آپ پر تو نبوت سے پہلے بھی رب کا فضل رہا ہے ، جب آپ یتیم تھے تو آپ کی نگرانی کون کررہا تھا ، جب آپ حیران تھے اور راستہ معلوم نہ تھا تو آپ کو کس نے راستہ بتلایا۔ پھر آپ نادار تھے ، آپ کو کس نے مالدار بنا دیا ........ آپ یتیم پیدا ہوئے تھے ، اللہ نے آپ کو پناہ دی ، لوگوں کے دل آپ پر مائل ہوگئے ، اور ابوطالب آپ پر مہربان ہوگئے حالانکہ انہوں نے آپ کے دین کو قبول نہ کیا تھا۔ آپ فقیر تھے۔ اللہ نے آپ کو یوں غنی بنایا کہ آپ کو دلی قناعت نصیب فرمائی۔ پھر آپ نے تجارت فرمائی اور گھر والوں کی دولت آپ کے ہاتھ میں رہی تو آپ سے فقر کا احساس ہی جاتارہا۔ اور ماحول میں جو لوگ اہل ثروت تھے ان کی دولت کی طرف آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے۔
آپ ایک ایسی سوسائٹی میں رہتے تھے جو جاہلی سوسائٹی تھی ، جس کی قدریں مضطرب تھیں ، عقائد و تصورات ڈانواڈول تھے۔ طرز عمل اور رسم و رواج گھناﺅنے تھے۔ آپ کی روح اس سوسائٹی میں مضطرب تھی ، آپ مطمئن نہ تھے مگر آپ کو اس سے نکلنے یا اسے بدلنے کا راستہ بھی معلوم نہ تھا ، نہ اس جاہلی سوسائٹی سے آپ مطمئن تھے ، نہ دین موسیٰ کے ماننے والوں سے مطمئن تھے۔ نہ دین عیسیٰ کے ماننے والوں سے مطمئن تھے۔ پس اللہ نے آپ کی طرف وحی بھیجی اور ایک نظام زندگی آپ کو عطا کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی گمراہی بڑی گمراہی ہوتی ہے اور افکار ونظریات کے اعتبار سے درست ہونا ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ اگر کسی پر ہوجائے تو بڑا احسان ہے۔ یہ راحت بھی ہے اور اطمینان بھی ہے۔ اور نظریاتی گمراہی اس قدر عظیم ذہنی قلق ہوتا ہے۔ جس کے مقابلے میں کوئی قلق اور اذیت نہیں ہوتی۔ اس سے ذہنی تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں حضور اکرم ﷺ اس قسم کی ذہنی اذیت میں مبتلا تھے کیونکہ وحی رک گئی تھی ، مشرکین ہنس رہے تھے ، اور وحی الٰہی اور مکالمہ الٰہی جیسے محبوب امر سے آپ جدائی محسوس کررہے تھے۔ ایسے مواقع پر یہ تذکرہ اور اطمینان آگیا کہ تمہارے رب نے ہرگز تمہیں نہیں چھوڑا بلکہ آغاز وحی سے قبل بھی اللہ نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا کہ آپ حیران وپریشان اور سرگرداں پھریں۔
اس حوالے سے کہ یتیمی کی حالت میں آپ کو تحفظ دیا گیا اور حیرانی کی حالت میں راستہ بتلایا گیا ، آپ کو اور آپ کے بعد اہل ایمان کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے تمام یتیموں کی کفالت کرو ، تمام سائلوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اللہ نے آپ پر جو عظیم فضل کیا ہے ، اس پر تحدیث نعمت کرو ، اور لوگوں کو دین کی طرف بلاﺅ۔
الضحى 93:7
الم یجدک .................... فاغنی
ذرا اپنے عملی حالات پر غور کرو ، ماضی قریب پر نگاہ ڈالو ، کیا تمہارا ماضی یہ بتاتا ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور تم سے ناراض ہوگیا ہے ، یا کچھ اور بتاتا ہے ۔ آپ پر تو نبوت سے پہلے بھی رب کا فضل رہا ہے ، جب آپ یتیم تھے تو آپ کی نگرانی کون کررہا تھا ، جب آپ حیران تھے اور راستہ معلوم نہ تھا تو آپ کو کس نے راستہ بتلایا۔ پھر آپ نادار تھے ، آپ کو کس نے مالدار بنا دیا ........ آپ یتیم پیدا ہوئے تھے ، اللہ نے آپ کو پناہ دی ، لوگوں کے دل آپ پر مائل ہوگئے ، اور ابوطالب آپ پر مہربان ہوگئے حالانکہ انہوں نے آپ کے دین کو قبول نہ کیا تھا۔ آپ فقیر تھے۔ اللہ نے آپ کو یوں غنی بنایا کہ آپ کو دلی قناعت نصیب فرمائی۔ پھر آپ نے تجارت فرمائی اور گھر والوں کی دولت آپ کے ہاتھ میں رہی تو آپ سے فقر کا احساس ہی جاتارہا۔ اور ماحول میں جو لوگ اہل ثروت تھے ان کی دولت کی طرف آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے۔
آپ ایک ایسی سوسائٹی میں رہتے تھے جو جاہلی سوسائٹی تھی ، جس کی قدریں مضطرب تھیں ، عقائد و تصورات ڈانواڈول تھے۔ طرز عمل اور رسم و رواج گھناﺅنے تھے۔ آپ کی روح اس سوسائٹی میں مضطرب تھی ، آپ مطمئن نہ تھے مگر آپ کو اس سے نکلنے یا اسے بدلنے کا راستہ بھی معلوم نہ تھا ، نہ اس جاہلی سوسائٹی سے آپ مطمئن تھے ، نہ دین موسیٰ کے ماننے والوں سے مطمئن تھے۔ نہ دین عیسیٰ کے ماننے والوں سے مطمئن تھے۔ پس اللہ نے آپ کی طرف وحی بھیجی اور ایک نظام زندگی آپ کو عطا کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی گمراہی بڑی گمراہی ہوتی ہے اور افکار ونظریات کے اعتبار سے درست ہونا ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ اگر کسی پر ہوجائے تو بڑا احسان ہے۔ یہ راحت بھی ہے اور اطمینان بھی ہے۔ اور نظریاتی گمراہی اس قدر عظیم ذہنی قلق ہوتا ہے۔ جس کے مقابلے میں کوئی قلق اور اذیت نہیں ہوتی۔ اس سے ذہنی تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں حضور اکرم ﷺ اس قسم کی ذہنی اذیت میں مبتلا تھے کیونکہ وحی رک گئی تھی ، مشرکین ہنس رہے تھے ، اور وحی الٰہی اور مکالمہ الٰہی جیسے محبوب امر سے آپ جدائی محسوس کررہے تھے۔ ایسے مواقع پر یہ تذکرہ اور اطمینان آگیا کہ تمہارے رب نے ہرگز تمہیں نہیں چھوڑا بلکہ آغاز وحی سے قبل بھی اللہ نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا کہ آپ حیران وپریشان اور سرگرداں پھریں۔
اس حوالے سے کہ یتیمی کی حالت میں آپ کو تحفظ دیا گیا اور حیرانی کی حالت میں راستہ بتلایا گیا ، آپ کو اور آپ کے بعد اہل ایمان کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے تمام یتیموں کی کفالت کرو ، تمام سائلوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اللہ نے آپ پر جو عظیم فضل کیا ہے ، اس پر تحدیث نعمت کرو ، اور لوگوں کو دین کی طرف بلاﺅ۔
الضحى 93:8
الم یجدک .................... فاغنی
ذرا اپنے عملی حالات پر غور کرو ، ماضی قریب پر نگاہ ڈالو ، کیا تمہارا ماضی یہ بتاتا ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور تم سے ناراض ہوگیا ہے ، یا کچھ اور بتاتا ہے ۔ آپ پر تو نبوت سے پہلے بھی رب کا فضل رہا ہے ، جب آپ یتیم تھے تو آپ کی نگرانی کون کررہا تھا ، جب آپ حیران تھے اور راستہ معلوم نہ تھا تو آپ کو کس نے راستہ بتلایا۔ پھر آپ نادار تھے ، آپ کو کس نے مالدار بنا دیا ........ آپ یتیم پیدا ہوئے تھے ، اللہ نے آپ کو پناہ دی ، لوگوں کے دل آپ پر مائل ہوگئے ، اور ابوطالب آپ پر مہربان ہوگئے حالانکہ انہوں نے آپ کے دین کو قبول نہ کیا تھا۔ آپ فقیر تھے۔ اللہ نے آپ کو یوں غنی بنایا کہ آپ کو دلی قناعت نصیب فرمائی۔ پھر آپ نے تجارت فرمائی اور گھر والوں کی دولت آپ کے ہاتھ میں رہی تو آپ سے فقر کا احساس ہی جاتارہا۔ اور ماحول میں جو لوگ اہل ثروت تھے ان کی دولت کی طرف آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے۔
آپ ایک ایسی سوسائٹی میں رہتے تھے جو جاہلی سوسائٹی تھی ، جس کی قدریں مضطرب تھیں ، عقائد و تصورات ڈانواڈول تھے۔ طرز عمل اور رسم و رواج گھناﺅنے تھے۔ آپ کی روح اس سوسائٹی میں مضطرب تھی ، آپ مطمئن نہ تھے مگر آپ کو اس سے نکلنے یا اسے بدلنے کا راستہ بھی معلوم نہ تھا ، نہ اس جاہلی سوسائٹی سے آپ مطمئن تھے ، نہ دین موسیٰ کے ماننے والوں سے مطمئن تھے۔ نہ دین عیسیٰ کے ماننے والوں سے مطمئن تھے۔ پس اللہ نے آپ کی طرف وحی بھیجی اور ایک نظام زندگی آپ کو عطا کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی گمراہی بڑی گمراہی ہوتی ہے اور افکار ونظریات کے اعتبار سے درست ہونا ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ اگر کسی پر ہوجائے تو بڑا احسان ہے۔ یہ راحت بھی ہے اور اطمینان بھی ہے۔ اور نظریاتی گمراہی اس قدر عظیم ذہنی قلق ہوتا ہے۔ جس کے مقابلے میں کوئی قلق اور اذیت نہیں ہوتی۔ اس سے ذہنی تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں حضور اکرم ﷺ اس قسم کی ذہنی اذیت میں مبتلا تھے کیونکہ وحی رک گئی تھی ، مشرکین ہنس رہے تھے ، اور وحی الٰہی اور مکالمہ الٰہی جیسے محبوب امر سے آپ جدائی محسوس کررہے تھے۔ ایسے مواقع پر یہ تذکرہ اور اطمینان آگیا کہ تمہارے رب نے ہرگز تمہیں نہیں چھوڑا بلکہ آغاز وحی سے قبل بھی اللہ نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا کہ آپ حیران وپریشان اور سرگرداں پھریں۔
اس حوالے سے کہ یتیمی کی حالت میں آپ کو تحفظ دیا گیا اور حیرانی کی حالت میں راستہ بتلایا گیا ، آپ کو اور آپ کے بعد اہل ایمان کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے تمام یتیموں کی کفالت کرو ، تمام سائلوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اللہ نے آپ پر جو عظیم فضل کیا ہے ، اس پر تحدیث نعمت کرو ، اور لوگوں کو دین کی طرف بلاﺅ۔
الضحى 93:9
فاما ........................................ فحدث
یہ ہدایات کہ یتیم کا اکرام کرو ، اس پر سختی نہ کرو ، اس کی دل شکنی نہ کرو ، سائل کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو ، سائل کی عزت کرو۔ یہ ہدایات مکہ کی نہایت ہی منکر حق اور دولت پرست ، سوسائٹی میں بہت ضروری تھیں ، جس میں ضعیف اور قوت نہ رکھنے والا شخص اپناحق حاصل نہ کرسکتا تھا ، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تھا ، لیکن جب اسلامی نظام نافذ ہوا تو اسلامی شریعت نے اس سوسائٹی کو حق پرست اور عدالت گستر سوسائٹی بنا دیا ، لوگ نہایت محتاط ہوگئے ، اللہ کے حدود پر رکنے لگے۔ اور وہ ایک طرف حدود اللہ کو قائم کرنے لگے اور دوسری طرف حقوق العباد کے محافظ ہوگئے ، خصوصاً ایسے لوگوں کے حقوق کے محافظ ہوگئے جن کے پاس قوت نہ تھی ، جو تلوار کے ذریعہ اپنا حق نہیں لے سکتے تھے۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ احسان کرنے سے نعمت کا شکر ادا ہوتا ہے اور اس سے نعمت پاک بھی ہوتی ہے اور عملاً شکر کی ادائیگی بھی ہوتی ہے۔ اور خاموش گفتگو اور شریفانہ گفتگو بھی شکرالٰہی ہوتا ہے۔
الضحى 93:10
فاما ........................................ فحدث
یہ ہدایات کہ یتیم کا اکرام کرو ، اس پر سختی نہ کرو ، اس کی دل شکنی نہ کرو ، سائل کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو ، سائل کی عزت کرو۔ یہ ہدایات مکہ کی نہایت ہی منکر حق اور دولت پرست ، سوسائٹی میں بہت ضروری تھیں ، جس میں ضعیف اور قوت نہ رکھنے والا شخص اپناحق حاصل نہ کرسکتا تھا ، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تھا ، لیکن جب اسلامی نظام نافذ ہوا تو اسلامی شریعت نے اس سوسائٹی کو حق پرست اور عدالت گستر سوسائٹی بنا دیا ، لوگ نہایت محتاط ہوگئے ، اللہ کے حدود پر رکنے لگے۔ اور وہ ایک طرف حدود اللہ کو قائم کرنے لگے اور دوسری طرف حقوق العباد کے محافظ ہوگئے ، خصوصاً ایسے لوگوں کے حقوق کے محافظ ہوگئے جن کے پاس قوت نہ تھی ، جو تلوار کے ذریعہ اپنا حق نہیں لے سکتے تھے۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ احسان کرنے سے نعمت کا شکر ادا ہوتا ہے اور اس سے نعمت پاک بھی ہوتی ہے اور عملاً شکر کی ادائیگی بھی ہوتی ہے۔ اور خاموش گفتگو اور شریفانہ گفتگو بھی شکرالٰہی ہوتا ہے۔
الضحى 93:11
فاما ........................................ فحدث
یہ ہدایات کہ یتیم کا اکرام کرو ، اس پر سختی نہ کرو ، اس کی دل شکنی نہ کرو ، سائل کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو ، سائل کی عزت کرو۔ یہ ہدایات مکہ کی نہایت ہی منکر حق اور دولت پرست ، سوسائٹی میں بہت ضروری تھیں ، جس میں ضعیف اور قوت نہ رکھنے والا شخص اپناحق حاصل نہ کرسکتا تھا ، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تھا ، لیکن جب اسلامی نظام نافذ ہوا تو اسلامی شریعت نے اس سوسائٹی کو حق پرست اور عدالت گستر سوسائٹی بنا دیا ، لوگ نہایت محتاط ہوگئے ، اللہ کے حدود پر رکنے لگے۔ اور وہ ایک طرف حدود اللہ کو قائم کرنے لگے اور دوسری طرف حقوق العباد کے محافظ ہوگئے ، خصوصاً ایسے لوگوں کے حقوق کے محافظ ہوگئے جن کے پاس قوت نہ تھی ، جو تلوار کے ذریعہ اپنا حق نہیں لے سکتے تھے۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ احسان کرنے سے نعمت کا شکر ادا ہوتا ہے اور اس سے نعمت پاک بھی ہوتی ہے اور عملاً شکر کی ادائیگی بھی ہوتی ہے۔ اور خاموش گفتگو اور شریفانہ گفتگو بھی شکرالٰہی ہوتا ہے۔
الشرح 94:1
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی روح میں کوئی تنگی تھی اور آپ دعوت اسلامی کے سلسلے میں کچھ مشکلات محسوس فرماتے تھے۔ آپ پریشان تھے کیونکہ آپ کے خلاف سازشیں ہورہی تھیں اور آپ کے دل پر ان کے اثرات پڑ رہے تھے اور آپ سمجھتے تھے کہ یہ ذمہ داریاں بہت بھاری ہیں اور یہ کہ آپ کو اللہ کی امداد نصرت اور خصوصی زادراہ کی ضرورت ہے۔
چناچہ اس موقعہ پر آپ کے ساتھ یہ بیٹھا مکالمہ ہوا۔ انداز گفتگو ایسا ہے کہ بات محبتوں سے بھری ہے۔
الم نشرح .................... صدرک (1:94) ”(اے نبی) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول نہیں دیا “۔ آپک کا سینہ دعوت اسلامی کے کام کے لئے کھل گیا ، اور آپ کے لئے اس ذمہ داری کا اٹھانا ہم نے آسان کردیا۔ یہ ذمہ داری ہم نے آپ کے لئے محبوب بنادی اور راستہ ہم نے صاف کردیا اور ہم نے آپ کو اسی راستے پر لگا دیا یہاں تک کہ آپ کو اس کا انجام نہایت خوبی سے نظر آنے لگا جو سعادتوں سے پر تھا۔
ذرا اپنے سینے کو ٹٹولیے ، کیا آپ اس میں کشادگی ، خوشی اور ایک چمک نہیں پاتے۔ کیا اللہ کے اس دین کا ذوق واضح طور پر نہیں پاتے۔ بتائیے تو سہی کیا ہر مشکل اور مشقت میں آپ یہ بات نہیں پاتے ، کیا ہر تھکاوٹ میں آپ کو خوشی نہیں ہوتی ، کیا ہر مشکل آپ کو آسان نہیں لگتی ، کیا ہر محرومی پہ آپ راضی نہیں ہیں ؟
الشرح 94:2
ووضعنا ............................ ظھرک (3:94) ” اور تم پر سے وہ باری بوجھ اتاردیا جو تمہاری کمر توڑے ڈال رہا تھا “۔ یعنی دعوت اسلامی کا بوجھ اس قدر بھاری ہوگیا کہ قریب تھا کہ آپ کی کمر ہی توڑ دے۔ ہم نے آپ کو شرح صدر عطا کیا اور یہ بوجھ ہلکا ہوگیا ، آپ کو کام کرنے کی توفیق دی ، آپ کے لئے دعوت کا کام آسان کردیا اور یہ لوگوں کے دلوں تک پہنچنے لگی۔ وحی کا سلسلہ جاری ہوگیا اور بذریعہ وحی حقائق کا انکشاف ہونے لگا۔ اور یوں یہ دعوت دلوں میں اترنے لگی۔ اور بذریعہ وحی یہ کام نہایت آسانی ، نرمی اور سکون سے ہونے لگا۔ کیا آپ اس تبدیلی کو اس بوجھ میں محسوس نہیں کرتے جس نے آپ کی کمر توڑ دی اور اب یہ ہلکا ہوگیا ہے۔ شرح صدر کے بعد اب آپ پر نہ بوجھ ہے اور نہ تنگی دل۔
الشرح 94:3
ووضعنا ............................ ظھرک (3:94) ” اور تم پر سے وہ باری بوجھ اتاردیا جو تمہاری کمر توڑے ڈال رہا تھا “۔ یعنی دعوت اسلامی کا بوجھ اس قدر بھاری ہوگیا کہ قریب تھا کہ آپ کی کمر ہی توڑ دے۔ ہم نے آپ کو شرح صدر عطا کیا اور یہ بوجھ ہلکا ہوگیا ، آپ کو کام کرنے کی توفیق دی ، آپ کے لئے دعوت کا کام آسان کردیا اور یہ لوگوں کے دلوں تک پہنچنے لگی۔ وحی کا سلسلہ جاری ہوگیا اور بذریعہ وحی حقائق کا انکشاف ہونے لگا۔ اور یوں یہ دعوت دلوں میں اترنے لگی۔ اور بذریعہ وحی یہ کام نہایت آسانی ، نرمی اور سکون سے ہونے لگا۔ کیا آپ اس تبدیلی کو اس بوجھ میں محسوس نہیں کرتے جس نے آپ کی کمر توڑ دی اور اب یہ ہلکا ہوگیا ہے۔ شرح صدر کے بعد اب آپ پر نہ بوجھ ہے اور نہ تنگی دل۔
الشرح 94:4
ورفعنا ................ ذکرک ( 4:94) ” اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آواز بلند کردیا “۔ آپ کا ذکر عالم بالا میں بلند ہونے لگا ، پوری زمین میں آپ کی دعوت کا غلغلہ بلندہوگیا۔ اس پوری کائنات میں آپ کا نام بلند ہوگیا اور پھر کلمہ طیبہ میں آپ کا نام اللہ کے نام کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔
لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہ جب بھی کوئی کلمہ پڑھے گا آپ کا نام بلند ہوگا ، اس کے بعد آخر اور کیا مقام و مرتبہ ہوسکتا ہے ؟ یہ تو آپ کا ایک منفرد مقام ہے اور تمام مخلوقات کے مقابلے میں آپ کے لئے مخصوص ہے۔
ہم نے آپ کا ذکر لوح محفوظ میں کردیا کہ زمانے گزر جائیں گے ، نسلیں جائیں گی اور آئیں گی اور کروڑوں ہونٹ آپ کے اسم گرامی کو ادا کرتے رہیں گے۔ صلوٰة وسلام بھیجتے رہیں گے۔ گہری محبت اور عظمت واحترام کا اظہار کرتے رہیں گے۔ آپ کا ذکر یوں بھی بلند ہوا کہ آپ کا نام اسلامی نظام زندگی اور شریعت محمدی کے ساتھ نتھی ہوگیا ۔ صرف آپ کا انتخاب ہی رفع ذکر کا باعث بنا۔ یہ وہ مقام تھا جو نہ کسی کو کبھی نصیب ہوا اور نہ ہوگا۔ لہٰذا اب مشقت کہاں ، تھکاوٹ کہاں ، یہ دین اس قدر عظیم دین ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے ہر قسم کی مشقت اور تھکاوٹ کا احساس ہی جاتا رہتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود اللہ اپنے محبوب مختار کے ساتھ مزید مہربانیاں فرماتا ہے ، آپ کی کلفتیں مزید دور فرماتا ہے ، آپ کو خوش اور مطمئن فرماتا ہے اور یہ اطلاع دیتا ہے کہ بہت بڑی آسانیاں اور فراخیاں آپ کے انتظار میں ہیں۔
الشرح 94:5
” پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے “۔
حقیقت یہ ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی لازمی ہے اور مشکل کے بعد آسانیاں ہوتی ہیں۔ اور اے نبی یہ آپ کے ساتھ بھی لازم رہی ہے۔ جب آپ پر دعوت کا بوجھ بھاری ہوگیا تو ہم نے آپ کا دل کھول دیا ، یوں آپ کا بوجھ ہلکا ہوگیا جس نے آپ کی کمر توڑ دی تھی لہٰذا مشکل کے ساتھ ہی آسانی جڑی رہی اور یہ بھاری بوجھ ہلکا ہوگیا۔
یہ اصول ایک اٹل اصول ہے ، اس لئے اسے انہی الفاظ میں مکرر لایا گیا ہے۔
فان مع ........................ یسرا (6:94) ” پس حقیت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے “۔ یہ تکرار اس بات کا اظہار کررہا ہے کہ جس وقت یہ آیات نازل ہورہی تھیں حضور اکرم ﷺ بےحد مشقت اور تنگی میں تھے۔ اس لئے اللہ نے اس مسئلہ کی طرف اس طرح توجہ فرمائی ، یاددہانی فرمائی ، اللہ نے حضور کی ذات کے حوالے سے اپنی سابقہ مہربانیاں گنوائیں اور اپنے فضل وکرم اور دستگیری کا ذکر کیا اور آئندہ کے لئے بھی اسی اصول کو تاکید مزید کے ساتھ بیان کیا ، تاکہ آپ کو تسلی ہو کہ بہتر دور آنے والا ہے۔ یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضور اکرم جن مشکلات میں گھرے ہوئے تھے وہ کوئی سخت مشکلات تھیں۔
اب بتایا جاتا ہے کہ آپ پر جو بہتر دور آنے والا ہے وہ کس طرح آئے گا اور انشراح صدر کے حقیقی اسباب کیا ہوا کرتے ہیں اور دعوت اسلامی کی طویل راہ میں اور دشوار گزار سفر میں زادراہ کیا ہے ، سیراب ہونے کے ذرائع کیا ہیں۔
الشرح 94:6
” پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے “۔
حقیقت یہ ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی لازمی ہے اور مشکل کے بعد آسانیاں ہوتی ہیں۔ اور اے نبی یہ آپ کے ساتھ بھی لازم رہی ہے۔ جب آپ پر دعوت کا بوجھ بھاری ہوگیا تو ہم نے آپ کا دل کھول دیا ، یوں آپ کا بوجھ ہلکا ہوگیا جس نے آپ کی کمر توڑ دی تھی لہٰذا مشکل کے ساتھ ہی آسانی جڑی رہی اور یہ بھاری بوجھ ہلکا ہوگیا۔
یہ اصول ایک اٹل اصول ہے ، اس لئے اسے انہی الفاظ میں مکرر لایا گیا ہے۔
فان مع ........................ یسرا (6:94) ” پس حقیت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے “۔ یہ تکرار اس بات کا اظہار کررہا ہے کہ جس وقت یہ آیات نازل ہورہی تھیں حضور اکرم ﷺ بےحد مشقت اور تنگی میں تھے۔ اس لئے اللہ نے اس مسئلہ کی طرف اس طرح توجہ فرمائی ، یاددہانی فرمائی ، اللہ نے حضور کی ذات کے حوالے سے اپنی سابقہ مہربانیاں گنوائیں اور اپنے فضل وکرم اور دستگیری کا ذکر کیا اور آئندہ کے لئے بھی اسی اصول کو تاکید مزید کے ساتھ بیان کیا ، تاکہ آپ کو تسلی ہو کہ بہتر دور آنے والا ہے۔ یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضور اکرم جن مشکلات میں گھرے ہوئے تھے وہ کوئی سخت مشکلات تھیں۔
اب بتایا جاتا ہے کہ آپ پر جو بہتر دور آنے والا ہے وہ کس طرح آئے گا اور انشراح صدر کے حقیقی اسباب کیا ہوا کرتے ہیں اور دعوت اسلامی کی طویل راہ میں اور دشوار گزار سفر میں زادراہ کیا ہے ، سیراب ہونے کے ذرائع کیا ہیں۔
الشرح 94:7
بیشک سختی کے بعد آسانی ہے ، تنگی کے بعد فراخی ہے ، اور اس کے اسباب یہ ہیں ، ان پر عمل کیجئے کہ جب آپ لوگوں کے ساتھ اپنی مشغولیات سے فارغ ہوجائیں اور دنیا کے امور سے فارغ ہوجائیں اور زندگی کی سرگرمیوں قدرے رک جائیں ، جب آپ ان امور سے فارغ ہوجائیں تو پھر اس میدان میں اتر جائیں جس میں آپ کو محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے یعنی اللہ کی عبادت ، اللہ کی طرف توجہ۔
والی ربک فارغب (8:94) ” اپنے رب کی طرف راغب ہوجاﺅ“۔ تو پھر آپ صرف رب کی طرف راغب ہوجائیں ، تمام دنیاوی امور چھوڑدیں ، یہاں تک کہ دعوت اسلامی کی سرگرمیاں بھی چھوڑدیں ، یہ ہے زادراہ۔ ہر سفر کے لئے کوئی نہ کوئی سازوسامان ہوتا ہے اور یہ ہے سازو سامان اس سفر کا۔ جہاڈ کے لئے تیاری کی ضرورت ہے اور یہ ہے تیاری اور اس کے نتیجے میں تنگی کی بجائے فراخی آجائے گی۔ مشکل میں کشادگی آجائے گی اور یہی ہے صحیح طریقہ کار۔
اس سورت کا خاتمہ بھی الضحیٰ کی طرح ہوتا ہے ۔ اختتام پر دل میں دو قسم کے احساسات جاگزیں ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کو حضور اکرم کے ساتھ نہایت ہی عظیم محبت ہے اور عالم بالا سے اس محبت کے تازہ بہ تازہ جھونکے دم بدم رہے ہیں ، دوسری یہ بات کہ محبت کے ساتھ ساتھ ذات باری کو حضور اکرم کے ساتھ بےحد شفقت اور ہمدردی ہے۔ اور دونوں سورتوں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت حضور نہایت مشکل دور سے گزر رہے تھے ۔ لہٰذا عالم بالا کی طرف سے اس محبت اور شفقت کے اظہار کی ضرورت تھی ۔ یہ حق کی دعوت کی بھاری ذمہ داری ہے۔ کمر توڑ دینے والا ہے لیکن جو لوگ یہ کام کرتے ہیں ان پر اللہ کا نور اور رحمت ہر وقت چوکس رہتی ہے۔
الشرح 94:8
بیشک سختی کے بعد آسانی ہے ، تنگی کے بعد فراخی ہے ، اور اس کے اسباب یہ ہیں ، ان پر عمل کیجئے کہ جب آپ لوگوں کے ساتھ اپنی مشغولیات سے فارغ ہوجائیں اور دنیا کے امور سے فارغ ہوجائیں اور زندگی کی سرگرمیوں قدرے رک جائیں ، جب آپ ان امور سے فارغ ہوجائیں تو پھر اس میدان میں اتر جائیں جس میں آپ کو محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے یعنی اللہ کی عبادت ، اللہ کی طرف توجہ۔
والی ربک فارغب (8:94) ” اپنے رب کی طرف راغب ہوجاﺅ“۔ تو پھر آپ صرف رب کی طرف راغب ہوجائیں ، تمام دنیاوی امور چھوڑدیں ، یہاں تک کہ دعوت اسلامی کی سرگرمیاں بھی چھوڑدیں ، یہ ہے زادراہ۔ ہر سفر کے لئے کوئی نہ کوئی سازوسامان ہوتا ہے اور یہ ہے سازو سامان اس سفر کا۔ جہاڈ کے لئے تیاری کی ضرورت ہے اور یہ ہے تیاری اور اس کے نتیجے میں تنگی کی بجائے فراخی آجائے گی۔ مشکل میں کشادگی آجائے گی اور یہی ہے صحیح طریقہ کار۔
اس سورت کا خاتمہ بھی الضحیٰ کی طرح ہوتا ہے ۔ اختتام پر دل میں دو قسم کے احساسات جاگزیں ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کو حضور اکرم کے ساتھ نہایت ہی عظیم محبت ہے اور عالم بالا سے اس محبت کے تازہ بہ تازہ جھونکے دم بدم رہے ہیں ، دوسری یہ بات کہ محبت کے ساتھ ساتھ ذات باری کو حضور اکرم کے ساتھ بےحد شفقت اور ہمدردی ہے۔ اور دونوں سورتوں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت حضور نہایت مشکل دور سے گزر رہے تھے ۔ لہٰذا عالم بالا کی طرف سے اس محبت اور شفقت کے اظہار کی ضرورت تھی ۔ یہ حق کی دعوت کی بھاری ذمہ داری ہے۔ کمر توڑ دینے والا ہے لیکن جو لوگ یہ کام کرتے ہیں ان پر اللہ کا نور اور رحمت ہر وقت چوکس رہتی ہے۔
التين 95:1
اللہ انسانی فطرت مستقیمہ پر انجیر ، زیتون ، طور سینا اور پرامن شہر مکہ کی قسم اٹھائی ہے۔ اور یہ قسم دراصل اس حقیقت یعنی فطرت انسان کے لئے ایک موزوں اور مناسبت فریم کا کام دیتی ہے۔ ہم اس سے قبل ثابت کرچکے ہیں کہ جس حقیقت کی تصویر کو فریم کرنے کے لئے جن مناظر قدرت کی قسم اٹھائی جاتی ہے اس حقیقت اور مناظر قدرت کے درمیان ایک خاص مناسبت ہوتی ہے اور یہ کسی جگہ واضح اور کسی جگہ بہت دقیق ولفیف ہوتی ہے۔
طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جس کے دامن میں اللہ اور موسیٰ علیہ اسلام کے درمیان مکالمہ ہوا تھا اور بلد امین سے مراد شہر مکہ ہے۔ ان دونوں مقامات کا دینی حقائق کے ساتھ تعلق بالکل واضح ہے۔ انجیر اور زیتون تو بظاہر ان دونوں کا تعلق واضح نہیں ہے کہ ان کا فطرت انسانی اور تخلیق انسانی یا دینی حقائق کے ساتھ کیا تعلق ہے۔
تین اور زیتون کی تفسیر میں روایات اور اقوال بہت وارد ہیں۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ ” تپن “ سے مراد ” طوتینا “ کا مقام ہے جو دمشق کے قریب ہے .... بعض نے کہا کہ تین سے راد وہ درخت ہے جس کے پتے حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) نے اپنے جسم پر لپیٹے تھے ، جبکہ جنگ میں شیطان کے ورخلانے پر ان کا لباس سے محروم ہونا پڑا تھا۔ اور اس کے بعد یہ دونوں زمین پر اتارے گئے تھے اور انہوں نے یہاں زندگی کا آغاز کیا تھا۔ بعض اقوال میں یہ تفسیر کی گئی ہے کہ اس سے مراد کشتی نوح کے رکنے اور ٹھہرنے والی پہاڑی ہے جس میں انجیر کے درخت زیادہ اگے ہوئے تھے۔
زیتون کے بارے میں بہت سے اقوال وارد ہیں ، بعض کے مطابق اس سے مراد ” طورزیتا “ ہے جو بیت المقدس میں ہے ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد خود بیت المقدس ہے ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد زیتون کی وہ شاخ ہے جو وہ کبوتر لے کر آیا تھا جسے حضرت نوح (علیہ السلام) نے کشتی سے چھوڑا تھا ، تاکہ آپ طوفان کے حالات کا مطالعہ کریں جب یہ کبوتر زیتون کی شاخ لے کر آیا تو آپ نے معلوم کرلیا کہ زمین کے بعض حصوں سے پانی اتر گیا ہے اور وہاں درخت اگ آئے ہیں۔
بعض حضرات اس طرف گئے ہیں کہ تین اور زیتون سے وہی پھل مراد ہیں جو ہم کھاتے ہیں اور جانتے ہیں اور ان سے کوئی اشاراتی مفہوم مراد نہیں ہے۔ یا اگر کوئی ہے تو صرف وہ جگہ ہے جہاں یہ اگتے ہیں۔ یہ تو تھے اقوال۔ جہاں تک زیتون کا تعلق ہے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی اس کا ذکر آیا ہے کہ یہ طور کے پہاڑ میں لگتا ہے۔
وشجرة ............................ للا کلین (20:23) ” اور وہ درخت جو طور سینا سے نکلتا ہے تیل کی پیداوار دیتا ہے اور کھانے والوں کے لئے سالن ہے “ اور سورة عبس میں ہے۔
وزیتونا ونخلا (29:80) ” اور زیتون اور کھجور کے درخت “۔ جبکہ تین کا ذکر پورے قرآن مجید میں صرف اس جگہ آیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ بالا اقوال میں سے کسی ایک کے بارے میں ہم کوئی قطعی بات نہیں کرسکتے ، البتہ پورے قرآن مجید میں قسموں کے معاملے میں قرآن کریم کے انداز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تین اور زیتون سے اشارہ ایسے مقامات یا ایسے واقعات کی طرف ہو جن کا تعلق دین اور ایمان سے ہو ، یا اس بات سے ہو جو جواب قسم کے طور پر آرہی ہے کہ انسان کو ہم نے ایک بہترین انداز پر پیدا کیا۔ شاید جنت کی وہ جگہ مراد ہو جہاں انسان نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تاکہ ان دونوں قسموں کا یہ اشارہ بھی قرآن کریم کے عام انداز کے ساتھ ہم رنگ ہوجائے اور یہ فریم اس تصویر کے ہم آہنگ ہوجائے جو اس میں ہے۔ موضوع کے اعتبار سے سورت میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے :
التين 95:2
اللہ انسانی فطرت مستقیمہ پر انجیر ، زیتون ، طور سینا اور پرامن شہر مکہ کی قسم اٹھائی ہے۔ اور یہ قسم دراصل اس حقیقت یعنی فطرت انسان کے لئے ایک موزوں اور مناسبت فریم کا کام دیتی ہے۔ ہم اس سے قبل ثابت کرچکے ہیں کہ جس حقیقت کی تصویر کو فریم کرنے کے لئے جن مناظر قدرت کی قسم اٹھائی جاتی ہے اس حقیقت اور مناظر قدرت کے درمیان ایک خاص مناسبت ہوتی ہے اور یہ کسی جگہ واضح اور کسی جگہ بہت دقیق ولفیف ہوتی ہے۔
طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جس کے دامن میں اللہ اور موسیٰ علیہ اسلام کے درمیان مکالمہ ہوا تھا اور بلد امین سے مراد شہر مکہ ہے۔ ان دونوں مقامات کا دینی حقائق کے ساتھ تعلق بالکل واضح ہے۔ انجیر اور زیتون تو بظاہر ان دونوں کا تعلق واضح نہیں ہے کہ ان کا فطرت انسانی اور تخلیق انسانی یا دینی حقائق کے ساتھ کیا تعلق ہے۔
تین اور زیتون کی تفسیر میں روایات اور اقوال بہت وارد ہیں۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ ” تپن “ سے مراد ” طوتینا “ کا مقام ہے جو دمشق کے قریب ہے .... بعض نے کہا کہ تین سے راد وہ درخت ہے جس کے پتے حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) نے اپنے جسم پر لپیٹے تھے ، جبکہ جنگ میں شیطان کے ورخلانے پر ان کا لباس سے محروم ہونا پڑا تھا۔ اور اس کے بعد یہ دونوں زمین پر اتارے گئے تھے اور انہوں نے یہاں زندگی کا آغاز کیا تھا۔ بعض اقوال میں یہ تفسیر کی گئی ہے کہ اس سے مراد کشتی نوح کے رکنے اور ٹھہرنے والی پہاڑی ہے جس میں انجیر کے درخت زیادہ اگے ہوئے تھے۔
زیتون کے بارے میں بہت سے اقوال وارد ہیں ، بعض کے مطابق اس سے مراد ” طورزیتا “ ہے جو بیت المقدس میں ہے ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد خود بیت المقدس ہے ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد زیتون کی وہ شاخ ہے جو وہ کبوتر لے کر آیا تھا جسے حضرت نوح (علیہ السلام) نے کشتی سے چھوڑا تھا ، تاکہ آپ طوفان کے حالات کا مطالعہ کریں جب یہ کبوتر زیتون کی شاخ لے کر آیا تو آپ نے معلوم کرلیا کہ زمین کے بعض حصوں سے پانی اتر گیا ہے اور وہاں درخت اگ آئے ہیں۔
بعض حضرات اس طرف گئے ہیں کہ تین اور زیتون سے وہی پھل مراد ہیں جو ہم کھاتے ہیں اور جانتے ہیں اور ان سے کوئی اشاراتی مفہوم مراد نہیں ہے۔ یا اگر کوئی ہے تو صرف وہ جگہ ہے جہاں یہ اگتے ہیں۔ یہ تو تھے اقوال۔ جہاں تک زیتون کا تعلق ہے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی اس کا ذکر آیا ہے کہ یہ طور کے پہاڑ میں لگتا ہے۔
وشجرة ............................ للا کلین (20:23) ” اور وہ درخت جو طور سینا سے نکلتا ہے تیل کی پیداوار دیتا ہے اور کھانے والوں کے لئے سالن ہے “ اور سورة عبس میں ہے۔
وزیتونا ونخلا (29:80) ” اور زیتون اور کھجور کے درخت “۔ جبکہ تین کا ذکر پورے قرآن مجید میں صرف اس جگہ آیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ بالا اقوال میں سے کسی ایک کے بارے میں ہم کوئی قطعی بات نہیں کرسکتے ، البتہ پورے قرآن مجید میں قسموں کے معاملے میں قرآن کریم کے انداز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تین اور زیتون سے اشارہ ایسے مقامات یا ایسے واقعات کی طرف ہو جن کا تعلق دین اور ایمان سے ہو ، یا اس بات سے ہو جو جواب قسم کے طور پر آرہی ہے کہ انسان کو ہم نے ایک بہترین انداز پر پیدا کیا۔ شاید جنت کی وہ جگہ مراد ہو جہاں انسان نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تاکہ ان دونوں قسموں کا یہ اشارہ بھی قرآن کریم کے عام انداز کے ساتھ ہم رنگ ہوجائے اور یہ فریم اس تصویر کے ہم آہنگ ہوجائے جو اس میں ہے۔ موضوع کے اعتبار سے سورت میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے :
التين 95:3
اللہ انسانی فطرت مستقیمہ پر انجیر ، زیتون ، طور سینا اور پرامن شہر مکہ کی قسم اٹھائی ہے۔ اور یہ قسم دراصل اس حقیقت یعنی فطرت انسان کے لئے ایک موزوں اور مناسبت فریم کا کام دیتی ہے۔ ہم اس سے قبل ثابت کرچکے ہیں کہ جس حقیقت کی تصویر کو فریم کرنے کے لئے جن مناظر قدرت کی قسم اٹھائی جاتی ہے اس حقیقت اور مناظر قدرت کے درمیان ایک خاص مناسبت ہوتی ہے اور یہ کسی جگہ واضح اور کسی جگہ بہت دقیق ولفیف ہوتی ہے۔
طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جس کے دامن میں اللہ اور موسیٰ علیہ اسلام کے درمیان مکالمہ ہوا تھا اور بلد امین سے مراد شہر مکہ ہے۔ ان دونوں مقامات کا دینی حقائق کے ساتھ تعلق بالکل واضح ہے۔ انجیر اور زیتون تو بظاہر ان دونوں کا تعلق واضح نہیں ہے کہ ان کا فطرت انسانی اور تخلیق انسانی یا دینی حقائق کے ساتھ کیا تعلق ہے۔
تین اور زیتون کی تفسیر میں روایات اور اقوال بہت وارد ہیں۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ ” تپن “ سے مراد ” طوتینا “ کا مقام ہے جو دمشق کے قریب ہے .... بعض نے کہا کہ تین سے راد وہ درخت ہے جس کے پتے حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) نے اپنے جسم پر لپیٹے تھے ، جبکہ جنگ میں شیطان کے ورخلانے پر ان کا لباس سے محروم ہونا پڑا تھا۔ اور اس کے بعد یہ دونوں زمین پر اتارے گئے تھے اور انہوں نے یہاں زندگی کا آغاز کیا تھا۔ بعض اقوال میں یہ تفسیر کی گئی ہے کہ اس سے مراد کشتی نوح کے رکنے اور ٹھہرنے والی پہاڑی ہے جس میں انجیر کے درخت زیادہ اگے ہوئے تھے۔
زیتون کے بارے میں بہت سے اقوال وارد ہیں ، بعض کے مطابق اس سے مراد ” طورزیتا “ ہے جو بیت المقدس میں ہے ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد خود بیت المقدس ہے ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد زیتون کی وہ شاخ ہے جو وہ کبوتر لے کر آیا تھا جسے حضرت نوح (علیہ السلام) نے کشتی سے چھوڑا تھا ، تاکہ آپ طوفان کے حالات کا مطالعہ کریں جب یہ کبوتر زیتون کی شاخ لے کر آیا تو آپ نے معلوم کرلیا کہ زمین کے بعض حصوں سے پانی اتر گیا ہے اور وہاں درخت اگ آئے ہیں۔
بعض حضرات اس طرف گئے ہیں کہ تین اور زیتون سے وہی پھل مراد ہیں جو ہم کھاتے ہیں اور جانتے ہیں اور ان سے کوئی اشاراتی مفہوم مراد نہیں ہے۔ یا اگر کوئی ہے تو صرف وہ جگہ ہے جہاں یہ اگتے ہیں۔ یہ تو تھے اقوال۔ جہاں تک زیتون کا تعلق ہے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی اس کا ذکر آیا ہے کہ یہ طور کے پہاڑ میں لگتا ہے۔
وشجرة ............................ للا کلین (20:23) ” اور وہ درخت جو طور سینا سے نکلتا ہے تیل کی پیداوار دیتا ہے اور کھانے والوں کے لئے سالن ہے “ اور سورة عبس میں ہے۔
وزیتونا ونخلا (29:80) ” اور زیتون اور کھجور کے درخت “۔ جبکہ تین کا ذکر پورے قرآن مجید میں صرف اس جگہ آیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ بالا اقوال میں سے کسی ایک کے بارے میں ہم کوئی قطعی بات نہیں کرسکتے ، البتہ پورے قرآن مجید میں قسموں کے معاملے میں قرآن کریم کے انداز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تین اور زیتون سے اشارہ ایسے مقامات یا ایسے واقعات کی طرف ہو جن کا تعلق دین اور ایمان سے ہو ، یا اس بات سے ہو جو جواب قسم کے طور پر آرہی ہے کہ انسان کو ہم نے ایک بہترین انداز پر پیدا کیا۔ شاید جنت کی وہ جگہ مراد ہو جہاں انسان نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تاکہ ان دونوں قسموں کا یہ اشارہ بھی قرآن کریم کے عام انداز کے ساتھ ہم رنگ ہوجائے اور یہ فریم اس تصویر کے ہم آہنگ ہوجائے جو اس میں ہے۔ موضوع کے اعتبار سے سورت میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے :
التين 95:4
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے آغاز تخلیق ہی سے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا اور حضرت انسان پر اللہ کی نظر عنایت رہی ہے ، ویسے تو اللہ ہر چیز کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے ، لیکن اس مقام پر اور دوسرے مقامات پر انسانی ساخت کی موزونیت کا ذکر ، اور انسان کے تسویہ اور اس کے اعضا کی تعدیل کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کے ہاں اپنی مخلوقات میں سے انسان کی اہمیت بہت زیادہ ہے ، باوجود اس کے کہ انسان میں بہت سی کمزوریاں ہیں اور یہ کہ وہ راہ راست سے بھٹک جاتا ہے اور فطری راہ کو چھوڑ کر غلط راہوں پر چلتا ہے اور شروفساد میں مبتلا ہوتا ہے۔ پھر بھی اللہ کی طرف سے اس کی طرف یہ توجہ بتاتی ہے کہ اللہ کے ہاں انسان کا ایک مقام و مرتبہ ہے اور یہ مقام و مرتبہ اس پوری کائنات کے نظام میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اس کی ساخت کو نہایت اعلیٰ درجے کا بتایا ہے۔ جسمانی اعتبار سے بھی یہ مخلوق نہایت مکمل اور پیچیدہ نظام رکھتی ہے اور عقلی اعتبار سے بھی یہ تمام مخلوق سے برتر ہے اور روحانی کمالات کے اعتبار سے بھی یہ بہت ممتاز اور باکمال ہے۔
یہاں زیادہ اہمیت انسان کے روحانی پہلوکو دی گئی ہے۔ کیونکہ انسان اگر روحانی پہلو سے راہ فطرت کو چھوڑ دے اور غلط راہوں پر پڑجائے اور ایمان کے بجائے کفر کو اختیار کرے تو بہت گر جاتا ہے۔ تمام مخلوقات سے نیچے چلا جاتا ہے اس لئے کہ انسان اپنی جسمانی ساخت تو نہیں بدل سکتا ، سب سے نیچی سطح پر یہ اگر گرتا ہے ، تو روحانی اعتبار سے گرتا ہے۔
یہ روحانی خصوصیات ہی ہیں جن کی اساس پر انسان تمام دوسری مخلوقات پر فائق ہے۔ انسان ان خصوصیات کی بنا پر اس قابل ہے کہ ملائکہ مقربین سے بھی اونچے مقام تک چلا جائے ، قصہ معراج اس بات پر دلیل ہے کہ ایک مقام تک جبرائیل (علیہ السلام) گئے اور پھر رک گئے اور حضرت محمد ﷺ اس مقام سے آگے چلے گئے ، بہت زیادہ بلندیوں اور رفعتوں تک۔ اور یہی مخلوق انسان اگر گرنے پہ آئے تو یہ اس مقام تک گرتا ہے جس تک دوسری کوئی مخلوق نہیں گرتی۔
التين 95:5
ثم رددنہ ........................ سفلین (5:95) ” پھر اسے الٹا پھیر کر ہم نے نیچوں سے نیچا کردیا “۔ اس قدر نیچے کہ بہائم بھی اس سے بلند نظر آنے لگے ، وہ ایسے انسانوں کے مقابلے میں سیدھی راہ پر نظر آنے لگے کیونکہ وہ فطرت پر قائم ہوتے ہیں ، ان کو اللہ کی تسبیح وتہلیل کا الہام ہوتا ہے اور وہ اس کرہ ارض پر جس مقصد کے لئے پیدا کیے گئے ہیں اسے پورا کرتے رہتے ہیں حالانکہ اس انسان کو دوسرے بہائم کے مقابلے میں نہایت ہی اچھی ساخت پر پیدا کیا گیا تھا ، لیکن یہ رب تعالیٰ کا انکار کرنے لگا اور ایسے گہرے گڑھے میں گرا کہ اس سے زیادہ اور کوئی گہرائی اور گراوٹ نہ رہی۔
لقد خلقنا ........................ تقویم (4:95) ” ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا “۔ یعنی اپنی فطرت اور اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے وہ بہترین تھا۔
ثم رددنہ .................... سفلین (5:95) ” پھر اسے الٹا پھیر کر ہم نے نیچوں سے نیچا کردیا “۔ جب اس نے اپنی فطرت کو اس سطح سے گرادیا جو اس کے لئے رب تعالیٰ نے مقرر کی تھی اور یہ تشریح کردی تھی کہ اس خط سے نیچے گراوٹ ہے اور اوپر انسانیت اور فطرت ہے۔
التين 95:6
الاالذین ............................ الصلحت (6:95) ” سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے “۔ تو یہ وہ لوگ ہیں جو فطرت کی راہ پر سیدھے قائم رہتے ہیں اور ایمان اور عمل صالح کے ساتھ اپنی فطرت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور پھر اس کمال تک پہنچتے ہیں جو ان کے لئے مقدر کردیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اکمل الکاملین بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے۔
فلھم .................... ممنون (6:95) ” ان کے لئے نہ ختم ہونے والا اجر ہے “۔ یعنی دائمی اور نہ رکنے اور نہ کٹنے والا۔ وہ لوگ جو اپنی فطرت کو نیچے سے نیچے گرالیتے ہیں ، تو وہ نیچے ہی گرتے چلے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ جہنم کے بھی سب سے نچلے مرتبے میں ہوتے ہیں جہاں ان کی انسانیت کی آخری علامت بھی ختم ہوجاتی ہے اور وہ مجسم گراوٹ بن جاتے ہیں۔
اعلیٰ علین اور اسفل سافلین دراصل دوانتہائی مقامات ہیں اور دونوں کا آغاز مقام فطرت کے خط مستقیم سے ہوتا ہے۔ مقام فطرت سے انسان ایمان وعمل صالح سے اٹھتارہتا ہے اور اٹھتے اٹھتے اپنے مقام مقرر جنت نعیم تک پہنچ جاتا ہے۔ اور اگر انسان فطرت سے انحراف کرلے اور نیچے کی طرف کرتا رہے اور روحانیت سے اپنا رشتہ کاٹ لے تو جہنم تک پہنچ کر اس کے بھی نچلے درجے میں جاگرتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں ایمان کی قدروقیمت کیا ہے۔ یہ وہ نور ہے جس کی روشنی میں انسان مقام بلند تک پہنچتا ہے۔ ایمان وہ رسی ہے جو انسانی فطرت اور اس کے خالق کے درمیان رابطے کا کام دیتی ہے۔ اور یہ وہ روشنی ہے جس کے نور میں یہ اس مقام تک قدم بقدم بڑھتا ہے جو نہایت مکرم لوگوں کے لئے تیار کیا گیا ہے۔
جب یہ رابطہ ٹوٹ جاتا ہے جب یہ چراغ بجھ جاتا ہے ، تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانیت نہایت ہی گہرے گڑھے میں گر جاتی ہے اور گرتی چلی جاتی ہے ، آدمیت حیوانات سے بھی نیچے چلی جاتی ہے۔ اور انسان مٹی کا ایک بت رہ جاتا ہے اور پھر یہ پتھر کی طرح جہنم کا ایندھن بن جاتا ہے۔ اس فضا اور ماحول میں انسان کے نام ایک کال آتی ہے :
التين 95:7
“ اے نبی ان حقائق کے ہوتے ہوئے کیا کوئی معقول شخص عقیدہ آخرت کے بارے میں آپ کو کوئی جھٹلا سکتا ہے ، خصوصاً جب کہ انسانیت کی قدروقیمت ایمان کا بڑا مقام ہے اور یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کا انجام کس قدر گھناﺅنا ہے جو نور سے محروم ہوتے ہیں اور جن کے ہاتھوں سے اللہ کی مضبوط رسی چھوٹ چکی ہوتی ہے۔
الیس اللہ ................ الحکمین (8:95) ” کیا اللہ سب حاکموں میں سے بڑا حاکم نہیں ہے “۔ کہ وہ سب سے بڑا منصف نہیں ہے ، جبکہ وہ لوگوں کے درمیان یوں انصاف کررہا ہے۔ کیا مومنین کا انجام اور کافرین کا یہ انجام حکمت بالغہ پر مبنی نہیں ہے ؟ انصاف واضح ہے ، حکمت نہایت بلند ہے ، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوع حدیث روایت ہے کہ جب تم میں سے کسی نے سورة تین اور زیتون کو پڑھا اور وہ آخر تک پڑھ چکا اور اس نے پڑھا۔
الیس اللہ ................ الحکمین (8:95) ” تو اسے کہنا چاہئے ” ہاں اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں “۔
التين 95:8
“ اے نبی ان حقائق کے ہوتے ہوئے کیا کوئی معقول شخص عقیدہ آخرت کے بارے میں آپ کو کوئی جھٹلا سکتا ہے ، خصوصاً جب کہ انسانیت کی قدروقیمت ایمان کا بڑا مقام ہے اور یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کا انجام کس قدر گھناﺅنا ہے جو نور سے محروم ہوتے ہیں اور جن کے ہاتھوں سے اللہ کی مضبوط رسی چھوٹ چکی ہوتی ہے۔
الیس اللہ ................ الحکمین (8:95) ” کیا اللہ سب حاکموں میں سے بڑا حاکم نہیں ہے “۔ کہ وہ سب سے بڑا منصف نہیں ہے ، جبکہ وہ لوگوں کے درمیان یوں انصاف کررہا ہے۔ کیا مومنین کا انجام اور کافرین کا یہ انجام حکمت بالغہ پر مبنی نہیں ہے ؟ انصاف واضح ہے ، حکمت نہایت بلند ہے ، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوع حدیث روایت ہے کہ جب تم میں سے کسی نے سورة تین اور زیتون کو پڑھا اور وہ آخر تک پڑھ چکا اور اس نے پڑھا۔
الیس اللہ ................ الحکمین (8:95) ” تو اسے کہنا چاہئے ” ہاں اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں “۔
العلق 96:1
اقرا باسم .................................... علم بالقلم (1:96 تا 4) ” پڑھو (اے نبی) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو ، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا ، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا “۔
اس وحی کو لے کر حضور ﷺ واپس آئے اور حال یہ تھا کہ آپ کانپ رہے تھے۔ آپ حضرت خدیجہ ؓ کے پاس پہنچے اور ان سے کہا ” مجھے چادراوڑھاﺅ“ مجھے چادر اوڑھاﺅ“۔ تو انہوں نے آپ کو چادر اوڑھادی۔ یہاں تک کہ آپ کا خوف دور ہوا۔ پھر آپ نے حضرت خدیجہ ؓ سے کہا مجھے کیا ہوگیا ہے اور پھر آپ نے ان کو پوری کہانی سنائی اور کہا میں تو ڈر گیا تھا کہ میری جان ہی نہ چلی جائے۔ تو اس پر حضرت خدیجہ ؓ نے کہا : ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ میں آپ کو خوشخبری دیتی ہوں ، خدا کی قسم اللہ کبھی بھی آپ کو بےسہارا نہ چھوڑے گا۔ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں ، سچ بولتے ہیں ، کمزوروں کی مدد کرتے ہیں ، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی مصیبتوں میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر حضرت خدیجہ ؓ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ ابن نوفل ابن اسد ابن عبدالعزی ابن قصی کے پاس لے گئیں۔ ورقہ زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہوگئے تھے اور عبرانی اور عربی میں انجیل لکھتے تھے۔ جس قدر اللہ کی مشیت ہوتی۔ اس وقت وہ بہت بوڑھے اور نابینا تھے۔ حضرت خدیجہ ؓ نے ان سے کہا بھائی ذرا اپنے بھتیجے کا حال سنئے۔ ورقہ نے کہا بھتیجے تمہیں کیا نظرآیا۔ تو رسول اللہ ﷺ کو جو کچھ نظر آیا تھا آپ نے بیان فرمادیا۔ اس پر ورقہ نے کہا یہ تو وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا ، کاش میں جوان ہوتا اور کاش میں اس وقت زندہ ہوتا کہ جب تمہاری قوم تمہیں وطن سے نکال دے گی تو حضور ﷺ نے فرمایا کیا سچ مچ وہ مجھے میرے وطن سے نکال دیں گے۔ ورقہ نے کہا جو تعلیم تم لے کر آئے ہو ، اس طرح کی تعلیم جو بھی لے کر آیا ہے لوگ اس کے دشمن ہوگئے۔ اگر میں نے تمہارا یہ دور پایا تو میں ضرور تمہاری مدد کروں گا۔ زیادہ مدت نہ گزری کہ ورقہ کا انتقال ہوگیا “۔ (بخاری اور مسلم میں یہ حدیث امام زہری سے مروی ہے)
طبری نے حضرت عبداللہ ابن زبیر سے یہ روایت کی ہے ”.... حضرت جبرائیل میرے پاس دیبا کا ایک ٹکڑا لے کر آئے ۔ جب میں سو رہا تھا۔ اس میں ایک کتاب تھی ، انہوں نے مجھ سے کہا پڑھو۔ میں نے کہا میں نہیں پڑھتا تو انہوں مجھے بھینچا ، اس قدر کہ میں سمجھا میری جان نکل گئی ۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو ، تو میں نے کہا میں کیا پڑھوں ؟ یہ بات میں نے اس ڈر سے کہی کہ فرشتہ میرے ساتھ دوبارہ وہ کام نہ کرے جو اس نے کیا۔ تو اس نے کہا :
اقرا باسم ............................ مالم یعلم (1:96 تا 5) فرماتے ہیں اب میں نے اسے پڑھ لیا۔ میں نے آخر تک پڑھ لیا۔ میں نے آخر تک پڑھ لیا۔ اس کے بعد وہ میرے پاس سے چلا گیا اور میں نیند سے بیدار ہوگیا۔ حالت یہ تھی کہ میرے دل میں ایک کتاب لکھ دی گئی تھی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ مخلوق خدا میں سے شاعر اور مجنوں مجھے سب سے برے لگتے تھے۔ میں ان دونوں قسم کے لوگوں کی طرف دیکھ بھی نہ سکتا تھا۔ فرماتے ہیں میں نے سوچا کہ شاعر اور مجنوں سے تو موت ہی بہتر ہے۔ تاکہ قریش میرے بارے میں شاعر اور مجنوں کا لفظ نہ استعمال کرسکیں۔ بہتر ہے کہ میں اونچے پہاڑ پر چلاﺅں ، اپنے آپ کو اس پر سے گراﺅں اور اپنے آپ کو قتل کرکے اس صورت حالات سے نجات پاﺅں۔ چناچہ میں اس ارادے سے نکلا یہاں تک کہ میں پہاڑ کے وسط میں تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی جو یوں تھی ” اے محمد ﷺ تم اللہ کے رسول ہو اور میں جبرائیل ہوں “۔ میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ جبرائیل ایک انسان کی صورت میں آسمان کے افق پر کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں : ” اے محمد ﷺ تم تو رسول اللہ ہو اور میں جبرائیل ہوں “۔ فرماتے ہیں میں کھڑا ہوگیا اور انہیں دیکھتا رہا۔ اور اس منظر نے مجھے اس کام سے روک لیا جو میں کرنا چاہتا تھا۔ میں نے ایک قدم آگے بڑھ رہا تھا اور نہ پیچھے۔ میں نے کوشش کی کہ آسمان کے اطراف میں اس سے منہ پھیر لوں لیکن میں جدھر بھی دیکھتا انہیں وہاں کھڑا پاتا۔ چناچہ میں یونہی کھڑارہا ، نہ ایک قدم آگے بڑھرہا تھا اور نہ ایک قدم پیچھے مڑ رہا تھا۔ یہاں تک کہ خدیجہ ؓ نے اپنے آدمی میری تلاش میں بھیجے۔ یہ لوگ مجھے دیکھ کر مکہ پہنچ گئے اور خدیجہ ؓ کی طرف لوٹ گئے۔ میں وہیں کھڑا رہا۔ اس کے بعد وہ چلے گئے اور میں بھی اپنے اہل و عیال کی طرف مکہ آگیا “۔ ابن اسحاق نے اس روایت کو طویل عبارت میں وھب ابن کیسان سے بھی روایت کیا ہے۔
اس واقعہ پر میں نے بہت غور کیا ، اس پہلے واقعہ کو سیرت کی کتابوں میں تو ہم نے بارہا پڑھا تھا ، کتب تفاسیر میں بھی دیکھا تھا ، لیکن ہم پڑھ کر آگے بڑھ گئے تھے یا قدرے غور کرکے آگے بڑھ گئے تھے۔ لیکن اب غور کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ تو ایک عظیم واقعہ تھا ، اور نہایت ہی عظیم واقعہ تھا۔ ہم اس واقعہ کی عظمت کا جو تصور بھی کریں لیکن اس کے کچھ پہلو پھر بھی ہمارے تصور سے خارج رہیں گے۔ بہرحال یہ واقعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی عظیم ہے اور اپنے مفہوم کے اعتبار سے بھی عظیم ہے۔ انسانوں کی زندگی پر اس کے جو آثار مرتب ہوئے اس کے اعتبار سے بھی عظیم ہے اور وہ لمحات جن میں یہ واقعہ پیش آیا وہ اس زمین کے عظیم اور قیمتی لمحات تھے۔ آغاز نظام کائنات سے لے کر اس کے انجام تک۔
سوال یہ ہے کہ یہ واقعہ کیا تھا اور ان لمحات میں وہ کیا کچھ ہوگیا ؟ اس کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ جل شانہ جو بہت ہی عظیم ، جبار وقہار اور متکبر ہے ، اور مالک الملک ہے ، اس اللہ نے اپنی بلندیوں سے اس حقیقت پر نظر کرم فرمائی جسے عرف عام میں ” السان “ کہتے ہیں ، جو اللہ کی اس عظیم کائنات کے ایک گمنام گوشے میں پڑا ہوا تھا ، جسے عرف عام میں ” زمین “ کہتے ہیں۔ اللہ نے اپنی اس مخلوق انسان کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ الٰہی تجلیات کا مہبط بنے ، اللہ کی حکمت کا امین بنے ، اللہ کے کلام کا منزل بنے اور یوں اللہ کی تقدیر اور تدابیر اس مخلوق کو جس مقام و مرتبہ تک لے جانا چاہتی تھی اس کی مثال بنے۔
یہ ایک عظیم بات ہے ، اس قدر عظیم جس کی عظمتیں لا انتہا ہیں اور اس کی عظمتیں مزید واضح ہوتی ہیں۔ جب انسان اپنی قوتوں کی تنگ دامنی پر نظر ڈالے کہ ایک طرف حقیقت الوہیت ہے جو بےقید ہے ، ازلی اور ابدی ہے جبکہ انسان کی جانب ایک حقیقت ہے جو بندگی کی حقیقت ہے ، محدود ہے ، بدلنے والی اور فنا ہونے والی حقیقت ہے۔ تب انسان کو صحیح شعور ہوتا ہے کہ اس مخلوق پر اللہ کی کس قدر عظیم عنایت تھی۔ تب پھر انسان محسوس کرتا ہے کہ یہ کس قدر عظیم اور خوشگوار حقیقت ہے اور پھر انسان نہایت عاجزی ، خشوع و خضوع اور شکر اور خوشدلی کے ساتھ اسے لیتا ہے۔ پھر وہ اس کائنات کی لاانتہا اطراف میں اللہ کے کلمات کو گونجتا ہوا پاتا ہے کہ یہ کلمات اس ناچیز انسان پر ، اس ناچیز مکان میں نازل ہوتے ہیں ، یہ انسان ایک چیز ذرہ ہے اور یہ زمین ایک حقیر ذرہ ہے۔
پھر اس عظیم واقعہ کے معانی کس قدر دورس ہیں ؟ اللہ کی جانب سے دیکھاجائے تو یہ اس کی جانب سے ایک وسیع فضل وکرم ہے۔ وہ فضل وکرم کرنے والا ہے ، اس کی رحمت میں یہ انسان سرشار ہے ، وہ بہت بڑا کریم ہے ، محبت کرنے والا ہے ، احسان کرنے والا ہے ، وہ جس پر فضل وکرم کرتا ہے تو بغیر سبب وعلت کے کرتا ہے۔ یہ فضل وکرم تو اس کی ذاتی صفات کا پہلو ہے۔
اور اگر انسان کے زاویہ سے دیکھا جائے تو اللہ نے انسان پر اس قدر فضل وکرم کیا ہے جس کا وہ تصور بھی نہ کرسکتا تھا اور اب وہ اس کا شکرادا نہیں کرسکتا۔ صرف اس ایک کرم کا اگر تمام انسان شکر ادا کرنے لگ جائیں تو اگر وہ رات دن رکوع و سجود میں رہیں پھر بھی اس ایک کرم کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کرم کہ اللہ بندے کو یاد کرے ، اس کی طرف نظر کرم کرے ، اس کے ساتھ رابطہ قائم کرے ، اور انسانوں ہی میں سے ایک ذات گرامی کو رسول بنا کر بھیج دے۔ زمین اللہ کے کلمات کا مہیط بن جائے۔ اس رسول کا مقام رہائش بن جائے اور اس زمین کے اطراف واکناف میں ان کلمات کی گونج بلند ہورہی ہو۔
پوری انسانیت کی زندگی میں اس واقعہ کے نتیجے میں کیا تغیر رونما ہوا ، تو بات یہ ہے کہ پہلے لمحے ہی سے انسانیت پر اس کے اثرات شروع ہوئے ، تاریخ کا دھارا بدل گیا ، انسانی ضمیر کے خطوط بدل گئے ، وہ قبلہ متعین ہوگیا جس کی طر انسان نے رخ کرنا تھا اور جس سے انسانوں نے اقدار کے تصورات اور پیمانے اخذ کرنے تھے۔ یہ پیمانے زمینی اور مادی نہ تھے بلکہ یہ آسمانی اور وحی الٰہی کے پیمانے تھے۔
اس وقت سے آج تک وہ لوگ جن کی روح میں یہ بات بیٹھ گئی تھی وہ اللہ کے رحم وکرم میں داخل ہوگئے ، ان پر براہ راست اللہ کا رحم ہونے لگا۔ ان لوگوں کا رویہ ہوگیا کہ وہ ہر معاملے میں براہ راست اللہ کی طرف نظریں اٹھائے رکھتے تھے ، خواہ کوئی چھوٹا سا معاملہ ہو یا بڑا۔ یہ لوگ اللہ کی نظروں کے نیچے حرکت کرتے تھے ، وہ یہ توقع رکھتے تھے کہ اللہ ان کی دستگیری کرے گا ، اور ان کو اپنی منزل تک قدم بقدم چلائے گا۔ ان کو غلط راہ سے روکے گا اور سیدھی راہ کی طرف موڑے دے گا۔ اور وہ ہر وقت اس بات کی توقع رکھتے تھے کہ ابھی اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے اور ان کے دلی رازوں کو کھول دیتی ہے۔ ابھی اللہ کا حکم آتا ہے اور ان کی مشکلات حل ہوجاتی ہیں کہ یہ بات کرو اور اس سے رک جاﺅ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک عجیب زمانہ تھا ، یہ 23 سالہ زمانہ تھا ، ان زمانوں میں انسانوں اور بندوں کے درمیان براہ راست تعلق قائم رہا۔ یہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ اس کی حقیقت کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے تھے ، جو اس میں رہتے تھے۔ جنہوں نے اس زمانے کو محسوس کیا ، جنہوں نے اس کا آغاز اور انجام دیکھا ، جنہوں نے اس براہ راست رابطے کی شیرینی کو دیکھا ، اور انہوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ دست قدرت قدم قدم پر ان کی دستگیری کررہی ہے ، اور انہوں نے دیکھا تھا کہ وہ کہاں سے چلے اور کہاں پہنچے ، یہ ایک ایسی مسافت تھی ، ایسا انقلابی سفر تھا جس کی طوالت کو اس دنیا کے کسی معیار سے نہیں ناپا جاسکتا تھا یہ انسانی ضمیر کا سفر تھا ، جسے کائنات کے فاصلوں کے پیمانوں سے نہیں ناپا جاسکتا۔ یہ دواجرام فلکی کے درمیان کا سفر بھی نہ تھا بلکہ یہ ایک مکمل تبدیلی انقلاب تھا ، اب مادی اور زمینی پیمانوں کے مقابلہ میں آسمانی پیمانے آگئے تھے ، خواہشات سے مدد طلب کرنے کی بجائے اب وحی سے مدد لی جارہی تھی۔ لوگ جاہلیت سے سفر کرکے اسلام میں داخل ہوگئے تھے ، شرک سے چل کر لوگ ربانیت میں داخل ہوگئے تھے۔ یہ طویل سفر تھا ، زمین اور آسمانوں کے درمیان کے فاصلے سے بھی طویل اور بعید۔
یہ لوگ ذوق معرفت رکھتے تھے ، اور اس کی شیرینی اور مٹھاس کو پاتے تھے ، اس کی قدروقیمت کا انہیں شعور تھا ، اور جب رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے تو انہوں نے اس کمی کو محسوس کیا۔ انہوں نے محسوس کرلیا کہ یہ ایک دور تھا جو بیت گیا ، اگر یہ دور عملاً گزرا نہ ہوتا تو عقل اس کا تصور بھی نہ کرسکتی۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا چلو ام ایمن کے پاس چلیں ، ہم ان سے اسی طرح ملاقات کریں جس طرح رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ ملاقات کے لئے جاتے تھے۔ جب وہ اس کے قریب گئے تو وہ رونے لگیں ، انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کے رونے کی وجہ کیا ہے ؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہ اللہ کے ہاں رسول اللہ کا جو مقام ہے جو آپ کے لئے بہتر ہے ۔ انہوں نے کہا ہاں میں جانتی ہوں کہ اللہ کے ہاں رسول اللہ ﷺ کے لئے جو کچھ ہے وہ بہت بہتر ہے ، لیکن میں اس لئے رورہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا آنا رک گیا ہے ، ان کی بات نے ان دونوں کو رلا دیا اور وہ بھی رونے لگے۔ (مسلم)
یہ ایک مبارک گھڑی تھی اور اس کے اثرات اس وقت سے آج تک انسانی زندگی کو متاثر کررہے ہیں اور یہ اثرات اس وقت تک اپنا کام کرتے رہیں گے جب تک اللہ زمین کا وارث نہیں ہوجاتا اور قیامت برپا نہیں ہوجاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس گھڑی کے واقعہ نے انسان کو از سر نو زندگی عطا کی۔ اس طرح کہ اس نے اپنی قدریں زمین سے لینے کی بجائے آسمان سے لینا شروع کردیں اور اپنی زندگی کا نظام وحی سے اخذ کرنے لگے ، خواہشات نفسانیہ سے اخذ نہیں کرتے تھے۔
اس لمحہ میں جو کچھ ہوا اس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ اس سے قبل تاریخ میں کوئی ایسا انقلاب واقع نہ ہوا تھا اور نہ آپ کے بعد اس قسم کا کوئی واقعہ ہوا۔ یہ واقعہ دراصل تاریخ کا دوراہا تھا۔ اس نے تاریخ کا رخ پھیر دیا اور پھر تاریخ میں ایسے نشانات راہ قائم کردیئے گئے جنہیں آج تک مٹایا نہیں جاسکا۔ نہ بعد کے واقعات نے ان نشانات کا رنگ ہلکا کیا۔ انسانی عقائد ونظریات میں اس کائنات ، اس زندگی ، اور اس کی اعلیٰ قدروں کا ایک تصور بٹھادیا گیا۔ ان کو اس رطح واضح کردیا گیا کہ اس سے قبل تاریخ میں ان اعلیٰ قدروں کو اس طرح نہ نکھارا گیا تھا۔ اعلیٰ قدروں کی یہ ایک ایسی تصویر کشی تھی جو جامع تھی ، جو صاف تھی ، جو نہایت ہی مجرد تھی اور دنیا کے رنگوں سے خالی اور پاک تھی ، جبکہ اس کے رنگ واقعی تھے اور انسانی زندگی کے ساتھ اچھی طرح ہم آہنگ تھے ۔ چناچہ اسلامی نظام زندگی کے اصول وقواعد رکھ دیئے گئے ، اور اسلامی نظام کے نشانات اور خطوط وضع کردیئے گئے۔
لیھلک ............................ بینة ” تاکہ جو نیست ونابود ہوتا ہے ، وہ دلیل سے نیست ونابود ہو اور جو زندہ رہتا ہے وہ دلیل سے زندہ رہے “۔ ان خطوط میں کوئی اجمال اور ابہام نہ چھوڑا گیا۔ اگر کوئی نہیں مانتا تو پھر وہ جانتے پوچھتے نہ مانے گا ، اب اگر کوئی راہ راست سے بھٹکتا ہے تو وہ ارادة ایسا کرے گا اور اگر کوئی کجی اختیار کرتا ہے ، کو وہ قصداً ایسا کرے گا۔
اس منظر ولمحے میں یہ ایک ممتاز واقعہ تھا ، یہ ایسا کائناتی حادثہ تھا جس نے ایک عہد کو ختم کردیا جو دنیا سے نابود ہوگیا اور ایک عہد کا آغاز کردیا جو ابدالا باد تک رہے گا۔
یہ حادثہ انسانی تاریخ میں ایک فرقان بن گیا۔ یہ انسانی زندی میں فرقان بن گیا۔ صرف کسی امت یا قوم کی زندگی میں نہیں۔ اس حادثہ کی گونج پوری کائنات میں ریکارڈ ہوگئی اور پوری کائنات اس کے ساتھ چلنے لگی۔ یہ حادثہ انسانی ضمیر میں ریکارڈ ہوگیا۔ یہ انسانی ضمیر آج بھی اسے یاد کررہا ہے اس کی یادیں مٹاتا ہے اور کبھی اسے بھولتا نہیں اور انسانی ضمیر اس بات کو پاتا ہے کہ یا واقع ، یا حادثہ دراصل انسانیت کے لئے ایک نیا جنم تھا اور انسانی قدروں میں یہ انقلاب تاریخ میں ایک ہی بار واقعہ ہوا ، اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ہے۔
یہ تھی بات اس سورت کے پہلے پیراگراف کی ۔ رہیں بعد کی آیات اور پیرے تو ظاہر ہے کہ وہ بعد میں نازل ہوئے۔ بعد کی آیات سیرت النبی کے ان واقعات کی طرف اشارہ کررہی ہیں جو بہت ہی بعد کے زمانوں میں پیش آئے جبکہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ علانیہ تبلیغ کریں ، اور اس دور میں پھر آپ کی مخالفت شروع ہوگئی تھی جیسا کہ آتا ہے۔
ارءیت ........................ صلی ” کیا تونے اس شخص کو دیکھا ہے جو اللہ کے بندے کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے “۔ لیکن بعد میں نازل ہونے کے باوجود سورت کے اجزاء میں ایک ربط ہے اور مطلع کے بعد جو حقائق لائے گئے ہیں ان میں مکمل ترتیب ہے۔ چناچہ پوری سورت ایک کامل وحدت اور ایک مکمل مضمون بن جاتی ہے جس کے اجزاء باہم پیوست اور منظم ہیں۔
اقرا باسم ............................ لم یعلم (1:96 تا 5) ” پڑھو (اے نبی) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو ، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا ، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا “۔ یہ قرآن کی پہلی سورت ہے ، رسول خدا کو پہلا حکم کیا دیا جاتا ہے ؟ پہلی ہدایت کیا دی جاتی ہے ؟ ان لمحات میں جب پہلے پہل ان کا عالم بالا کے ساتھ رابطہ قائم ہوا ، جب سب سے پہلے انہیں دعوت اسلامی کی ذمہ داری سپرد کی گئی ، حکم یہ ہوا کہ ” پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدام کیا “۔ اللہ کی صفات میں سے تخلیق کی صفت کو لیا گیا جس کے ذریعہ پوری کائنات کو عدم سے وجود میں لایا گیا۔
العلق 96:2
اس کے بعد اس کائنات میں انسان کی تخلیق اور انسانی دور کے آغاز کی حقیقت کو لیا گیا۔
خلق الانسان من علق (2:96) ” جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی “۔ خون کے ایک نکتے سے ، جو جامد تھا اور رحم کی دیواروں کے ساتھ چیک کیا تھا۔ یہ تھا انسان کی پیدائش کا نقطہ آغاز جس کی ساخت بہت سادہ ہے ، اس انداز تخلیق سے دو باتیں آتی ہیں ، ایک یہ کہ اللہ بڑا کریم ہے اور دوسری یہ اس کی قدرت خود اس کی تخلیق سے عیاں ہے ، کرم یہ ہے کہ اس نے خون کے جمے ہوئے اس نکتے ، خوردبنی نکتے کو انسان کے مقام تک پہنچایا جو پڑھتا پڑھاتا ہے۔
العلق 96:3
اقرا وربک ............................ مالم یعلم (3:96 تا 5) ” پڑھو ، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا ، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا “۔ انسان کی تخلیق کے بعد ، یہ اس میں بہت بڑی تبدیلی تھی لیکن یہ کر کستا ہے ، وہ بڑا کریم ہے ، اس لئے اللہ نے ایک خوردبینی نکتے میں یہ تغیر رونما کردیا کہ وہ کامل انسان کے بعد عالم انسان بن گیا ، یہ اس قدر عظیم تبدیلی ہے کہ اس سے سرچکرا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ان آیات میں اسلام کا نظریہ تعلیم بھی واضح کیا گیا ہے ، رب نے انسان کو تعلیم ” قلم “ کے ساتھ دی۔ کیونکہ اس وقت بھی اور آج بھی انسان کی زندگی میں قلم اہم اور موثرذریعہ تعلیم ہے اور اس حقیقت کو جس طرح ہم آج سمجھتے ہیں نزول قرآن کے وقت اس طرح نہ سمجھتے تھے ، لیکن اللہ تعالیٰ تعلیم اور قلم کی قدروقیمت کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔ لہٰذا آخری رسول کو آخری مشن سپرد کرتے وقت اللہ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا اور قرآن کی پہلی سورت میں یہ اسارہ کردیا گیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ جس رسول کو یہ ہدایت دی گئی وہ خط نہ لکھ سکتے تھے۔ لہٰذا اگر کوئی یہک ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کی تصنیف ہے تو کوئی امی انسان یہ بات نہیں کرسکتا تھا۔ لہٰذا یہ ایک حقیقت ہے جو وحی الٰہی نے بتائی اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ رسول خدا ﷺ کے سچے رسول ہیں۔
اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے ، کہ قرآن کے نظریہ کے مطابق تعلیم کا سرچشمہ کیا ہے۔ یہ سرچشمہ ذات باری ہے۔ انسان نے آج تک جس قدر علم حاصل کیا ہے یا آئندہ کرے گا۔ آج تک انسان پر اس کائنات کے جو اسرار کھلے ہیں وہ اللہ ہی کے فضل وکرم سے کھلے ہیں۔ انسانی زندگی اور انسانی نفس کے بارے میں جو اسرار کھلے ہیں وہ بھی اللہ کے فضل وکرم سے کھلے ہیں۔ اللہ ہی وہ واعد مصدر اور منبع سے جس کے سوا کوئی اور سرچشمہ علم و حکمت نہیں ہے۔
یہ پیراگراف جو ان لمحات کے آغاز میں نازل ہوا ، جن میں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ اور عالم بالا کے درمیان رابطہ قائم ہوا ، اس ایک ہی پیراگراف کے اندر ایمانی تصور حیات کے اساسی اصول بیان کردیئے گئے تاکہ ” ہر حکم ، ہر حرکت ، ہر قدم ، ہر عمل اور ہر کام اللہ کے نام اور اللہ کے احکام کے مطابق ہوگا ، اللہ کے نام سے اقدام ہوگا ، اللہ کے نام سے چلے گا ، اللہ کے رخ ہوجائے گا اور انجام کار اللہ تک پہنچے گا “۔ اس لئے کہ اللہ ہی خالق ہے ، وہی جاننے والا اور جان کاری دینے والا ہے ، اسی سے آغاز ہے ، اسی کی جانب سے نشوونما ہے اور اسی کی طرف سے تعلیم وتربیت ہے ، انسان سیکھتا ہے جو کچھ سیکھتا ہے وہ جانتا ہے جو کچھ بھی جانتا ہے لیکن سب علم وہنر کا سرچشمہ ذات باری ہے جس نے پیدا کیا ، علم کے ذرائع دیئے اور
العلق 96:4
اقرا وربک ............................ مالم یعلم (3:96 تا 5) ” پڑھو ، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا ، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا “۔ انسان کی تخلیق کے بعد ، یہ اس میں بہت بڑی تبدیلی تھی لیکن یہ کر کستا ہے ، وہ بڑا کریم ہے ، اس لئے اللہ نے ایک خوردبینی نکتے میں یہ تغیر رونما کردیا کہ وہ کامل انسان کے بعد عالم انسان بن گیا ، یہ اس قدر عظیم تبدیلی ہے کہ اس سے سرچکرا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ان آیات میں اسلام کا نظریہ تعلیم بھی واضح کیا گیا ہے ، رب نے انسان کو تعلیم ” قلم “ کے ساتھ دی۔ کیونکہ اس وقت بھی اور آج بھی انسان کی زندگی میں قلم اہم اور موثرذریعہ تعلیم ہے اور اس حقیقت کو جس طرح ہم آج سمجھتے ہیں نزول قرآن کے وقت اس طرح نہ سمجھتے تھے ، لیکن اللہ تعالیٰ تعلیم اور قلم کی قدروقیمت کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔ لہٰذا آخری رسول کو آخری مشن سپرد کرتے وقت اللہ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا اور قرآن کی پہلی سورت میں یہ اسارہ کردیا گیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ جس رسول کو یہ ہدایت دی گئی وہ خط نہ لکھ سکتے تھے۔ لہٰذا اگر کوئی یہک ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کی تصنیف ہے تو کوئی امی انسان یہ بات نہیں کرسکتا تھا۔ لہٰذا یہ ایک حقیقت ہے جو وحی الٰہی نے بتائی اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ رسول خدا ﷺ کے سچے رسول ہیں۔
اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے ، کہ قرآن کے نظریہ کے مطابق تعلیم کا سرچشمہ کیا ہے۔ یہ سرچشمہ ذات باری ہے۔ انسان نے آج تک جس قدر علم حاصل کیا ہے یا آئندہ کرے گا۔ آج تک انسان پر اس کائنات کے جو اسرار کھلے ہیں وہ اللہ ہی کے فضل وکرم سے کھلے ہیں۔ انسانی زندگی اور انسانی نفس کے بارے میں جو اسرار کھلے ہیں وہ بھی اللہ کے فضل وکرم سے کھلے ہیں۔ اللہ ہی وہ واعد مصدر اور منبع سے جس کے سوا کوئی اور سرچشمہ علم و حکمت نہیں ہے۔
یہ پیراگراف جو ان لمحات کے آغاز میں نازل ہوا ، جن میں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ اور عالم بالا کے درمیان رابطہ قائم ہوا ، اس ایک ہی پیراگراف کے اندر ایمانی تصور حیات کے اساسی اصول بیان کردیئے گئے تاکہ ” ہر حکم ، ہر حرکت ، ہر قدم ، ہر عمل اور ہر کام اللہ کے نام اور اللہ کے احکام کے مطابق ہوگا ، اللہ کے نام سے اقدام ہوگا ، اللہ کے نام سے چلے گا ، اللہ کے رخ ہوجائے گا اور انجام کار اللہ تک پہنچے گا “۔ اس لئے کہ اللہ ہی خالق ہے ، وہی جاننے والا اور جان کاری دینے والا ہے ، اسی سے آغاز ہے ، اسی کی جانب سے نشوونما ہے اور اسی کی طرف سے تعلیم وتربیت ہے ، انسان سیکھتا ہے جو کچھ سیکھتا ہے وہ جانتا ہے جو کچھ بھی جانتا ہے لیکن سب علم وہنر کا سرچشمہ ذات باری ہے جس نے پیدا کیا ، علم کے ذرائع دیئے اور
العلق 96:5
علم الانسان مالم یعلم (5:96) ” اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو انسان نہ جانتا تھا “۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک نے عالم بالا کے ابتدائی لمحات ہی میں اس حقیقت کو اخذ فرمایا اور آپ کی سوچ ، آپ کے تصرفات ، آپ کے کلام اور آپ کے عمل اور آپ کے رخ پر اور آپکی پوری زندگی میں یہ شعور چھایا رہا۔ کیونکہ یہ ایمان کا پہلا اصول تھا۔
امام شمس الدین ابو عبداللہ محمد ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب ” زادالمعاد فی ہدی خیر العباد “ میں رسول ﷺ کی سیرت کے اہم خدوخال کے بارے میں یوں فرماتے ہیں :
” اللہ کی یاد اور اس کے ذکر کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ ایک نہایت ہی مکمل انسان تھے ، آپ کی گفتگو کا اہم حصہ ذکر الٰہی اور ذات باری کے متعلق مسائل ہی پر مشتمل ہوتا تھا۔ آپ کے احکام آپ کے مناہی ، اسلامی قوانین کی وضاحت ، اور تمام دوسری ہدایات دراصل ذکر الٰہی ہی کے پہلو تھے ، اللہ کے اسماء وصفات بیان کرنا ، اللہ کے احکام اور شریعت کے مسائل بیان کرنا ، انجام بد سے ڈرانا وغیرہ سب باتیں اللہ کا ذکر ہی تھیں ، پھر اللہ کی نعمتوں پر اس کی تعریف ، اس کی برتری ، اس کی حمد ، اس کی تسبیح اللہ کا ذکر ہی تو تھا ، پھر اللہ سے مانگنا ، دعا کرنا ، اللہ کی طرف راغب ہونا ، اللہ سے ڈرنا ، یہ سب ذکر الٰہی کے مختلف انداز ہی تو تھے ، جب آپ خاموش ہوتے تو بھی یاد الٰہی کرتے ، ہر وقت ہر حال میں آپ کے شعور میں ذات باری موجود ہوا کرتی تھی۔ ہر سانس جو اندر جاتا یا باہر آتا ، آپ کھڑے ہوتے یا بیٹھے ہوتے ، چلتے پھرتے یا سوار ہوتے ، سفر میں ہوتے یا حضر میں ، اقامت پذیر ہوتے یا کوچ کی حالت میں ہوتے ، غرض ہر دم اور ہر حال میں اللہ کو یاد فرماتے “۔
آپ جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے۔
الحمدللہ الذی ............................ النشور ” اس ذات کے لئے حمدوثنا ہے جس نے ہمیں موت دینے (نیند) کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف دوبارہ زندہ ہوکر جانا ہے “۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ رات کو جب کبھی ، اچانک بیدار ہوتے تو دس بار ” اللہ اکبر “ کہتے اور دس بار تہلیل کرتے یعنی کہتے۔
لاالہ الا اللہ ” نہیں ہے کوئی حاکم مگر اللہ “۔ اور اس کے بعد دس بار یہ دعا پڑھتے۔
اللھم انی اعوذبک من ضیق الدنیا ومن ضیق یوم القیمة ” اے اللہ میں دنیا کی تنگی اور آخرت کی تنگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں “۔ اس کے بعد آپ نماز شروع کرتے۔ اور انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ حضور ﷺ جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے۔
لا الہ الا انت سبحانک الھم استغفرک لذنبی واسئلک رحمتک اللھم زدنی علما ولا تزع قلبی بعد اذ ھدیتنی وھب لی من لدنک رحمة انک انت الوھاب (ابوداﺅد) ” اے اللہ تیرے سوا کوئی حاکم نہیں ، تو پاک ہے اور برتر ہے۔ اے اللہ میں تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں ، اور تجھ سے تیری رحمت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما اور میرے دل کو ہدایت دینے کے بعد ٹیڑھا نہ کر ، اور مجھے اپنی جانب سے رحمت عطا فرما۔ بیشک تو ہی بخشنے والا ہے “۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو اور کہے۔
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ۔ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر۔ الحمد للہ وسبحان اللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم ” نہیں کوئی حاکم مگر اللہ صرف وہی حاکم ہے ، اسکے ساتھ کوئی شریک نہیں ، بادشاہت اسی کی ہے ، تعریف اسی کی ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ، وہی پاک ہے ، ہر عیب سے ۔ اس کے سوا کوئی حاکم نہیں۔ اللہ ہی بڑا ہے ، کوئی تدبیر اور کوئی قوت نہیں مگر اللہ کے ذریعہ ہی ہے ، جو بلند اور عظیم ہے “۔ اور پھر وہ یہ دعا کرے۔
اللھم اغفرلی ” اے اللہ ، مجھے بخش دے “۔ یا کوئی اور دعا کرے تو یہ دعا قبول ہوگی اور اگر وہ وضو کرکے نماز بھی ادا کرے تو نماز قبول ہوگی (بخاری) ۔
ایک بار حضرت ابن عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس رات گزاری۔ فرماتے ہیں کہ نیند سے بیدار ہوئے تو آپ نے آسمان کی طرف سراٹھایا اور سورة آل عمران کی دس آیات
انا فی خلق السموت سے آخر تک تلاوت کیں اور پھر اللہ کی حمد یوں بیان کی۔
اللھم لک احمد انت نور السموت والارض ومن فیھن۔ لک الحمد انت قیم السموات والارض ومن فیھن۔ ولک الحمد انت الحق وعدک الحق وقولک الحق ولقائک الحق والجنة حق والنار حق والنبیون حق ، ومحمد حق ، والساعة حق اللھم لک اسلمت وبک امنت وعلیک توکلت والیک انبت وبک خاصمت والیک حاکمت فاغفرلی ماقدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت انت الھی لا الہ الا انت ولا حول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم۔
” اے اللہ سب تعریفیں تیرے لئے ہیں ، تو ہی زمین اور آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ، ان کا نور ہے ، سب تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں ، تو زمین و آسمان اور ان کے درمیان سب چیزوں کا قائم رکھنے والا ہے ، حمد تیرے ہی لئے ہے ۔ تو حق ہے تیرا وعدہ حق ہے ، تیری بات حق ہے ، تجھ سے ملناحق ہے ، جنت حق ہے ، آگ حق ہے ، نبی حق ہیں ، محمد حق ہیں ، قیامت حق ہے۔ اے اللہ میں تیرا مطیع فرمان ہوں تیرے اوپر ایمان لانے والا ہوں ، آگ حق ہے ، نبی حق ہیں ، محمد حق ہیں ، قیامت حق ہے۔ اے اللہ میں تیرا مطیع فرمان ہوں تیرے اوپر ایمان لانے والا ہوں ، تجھ پر توکل کرنے والا ہوں ، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں تیری ہی خاطر لڑا ، اور سب معاملات تیرے ہی سامنے پیش کیے۔ اس لئے مجھے معاف کردے۔ میری اگلی اور پچھلی غلطیوں کو معاف کردے ، جو پوشیدہ رکھا اور جو علانیہ کیا ، تو ہی مرا حکم ہے اور تیرے سوا کوئی حاکم نہیں ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی تدبیر اور کوئی قوت نہیں ہے ، جو علی وعظیم ہے “۔
اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہے ، حضور جب رات کو قیام فرماتے تو یہ دعا پڑھتے۔
اللھم رب جبرائیل ومیکائیل واسرافیل فاطر السموات والارض عالم الغبت والشھادة انت منکم بین عباد لئفیما کانوا فیہ یختلفون اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم۔
” اور اللہ ، جبرائیل ، میکائیل اور اسرافیل کے رب ، زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے کھلی اور پوشیدہ ہر چیز کو جاننے والے ، تو فیصلہ کرنے والا ہے ان چیزوں کا جن میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ، حق کی جن باتوں میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے ان کے بارے میں مجھے راہ راست کی طرف ہدایت کر ، بیشک تو جسے چاہتا ہے راہ راست کی طرف ہدایت کرتا ہے “۔ انہوں نے غالباً یہ کہا کہ حضور ﷺ نماز کا آغاز اسی دعا سے کرتے تھے۔
اور جب آپ وتر پڑھتے تھے تو وتر سے فارغ ہونے کے بعد آپ سبحان اللہ القدوس تین بار پڑھتے تھے اور تین بار باآواز بلند پڑھتے تھے ۔ ذرا لمبی آواز کے ساتھ۔
آپ جب اپنے گھر سے نکلتے تھے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔
بسم اللہ توکلت علی اللہ اللھم انی اعوذ بک من ان اضل اواضل اوازل اواظلم اواظلم او اجھل اویجھل علی۔ (حدیث صحیح)
” اللہ کے نام سے شروع کیا ، اللہ پر بھروسہ کیا ، اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں گمراہ ہوجاﺅ، یا گمراہ کردیا جاﺅں یالغزش کروں یا میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے میں کسی سے جھگڑوں یا مجھ سے ناحق جھگڑا کیا جائے “۔
اور حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر سے نکلے وقت یہ دعا پڑھے۔
بسم اللہ توکلت علی اللہ ولا حول ولا قوة الا باللہ۔
” شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے ، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور نہیں ہے کوئی تدبیر اور کوئی قوت مگر اللہ کے ساتھ “۔ تو اللہ کی طرف سے ایسے شخص کو کہا جاتا ہے۔
ھدیت وکفیت ورفیت ” تمہیں راہ راست ملی ، تمہاری حاجت پوری ہوئی اور تمہیں پورا پورا اجر ملا “۔ اور شیطان اس کنارہ کش ہوجائے گا (حدیث حسن)
حضرت ابن عباس ؓ ایک رات آپ کے پاس رہے تو فرماتے ہیں کہ صبح کو جب آپ نماز کے لئے نکلے تو آپ نے یہ دعا پڑھی۔
اللھم اجعل قلبی نوراء واجعل فی لسانی نوراء واجعل فی سمعی نورا ، واجعل فی بصری نورا ، واجعل فی خلفی نورا ، ومن امامی نورا وجعل من فوقی نورا ، واجعل من تحتی نورا اللھم اعظم لی نورا۔
” اے اللہ ، میرے دل میں تو نوردے ، میری زبان کو منور کردے ، میرے کانوں میں نور ڈال دے ، میری آنکھوں میں روشنی کردے ، میرے پیچھے روشنی کردے ، میرے آگے روشنی کردے ، میرے اوپر روشنی کردے ، میرے نیچے روشنی کردے اور میرے نور کو عظیم کردے “۔
فضل ابن مرزوق نے عطیہ عوفی سے روایت کی ہے ، انہوں نے ابوسعید خدری سے ، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص بھی اپنے گھر سے نماز کے لئے نکلے اور یہ دعا پڑھے۔
اللھم انی اسئلک بحق السائلین علیک وبحق ممشائی الیک فائی لم اخراج بطور اولا اشراولا ریاء ولا سمعة وانما خرجت اتقاء سخطک وابتغاء مرضاتک اسئلک ان تنقذنی من النار وان تغفرلی ذنوبی فانہ لایغفرالذنوب الاانت۔
” اے اللہ میں تجھ سے ان سوال کرنے والوں کے حق کے ذریعہ سوال کرتا ہوں ، جو تجھ پر ہے ، پھر میری جانب سے تیری طرف چلنے کے حق سے سوال کرتا ہوں ، کیونکہ میں نہ غرور کرتا ہوا نکلا ہوں اور نہ اکڑتا ہوا نکلا ہوں ، نہ ریاکاری سے اور شہرت کی طلب میں نکلا ہوں۔ تیرے غضب سے بچنے کے لئے نکلا ہوں اور تیری رضاکا طلبگار ہوں ، میرا سوال یہ ہے کہ مجھے آگ سے بچا دے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، گناہ بخشنے والا تو تو ہی ہے “۔ تو اللہ ستر ہزار فرشتے مقرر فرمائے گا جو اس کے لئے بخشش طلب کریں گے اور اللہ اس کی طرف اپنا چہرہ مبارک کرے گا جب تک وہ نماز ادا نہیں کرتا (یہ حدیث سندا ومتنا ضعیف ہے)
امام ابوداﺅد نے روایت کی ہے کہ حضور اکرم ﷺ جب بھی مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے۔
اعوذ باللہ العظیم وبوجھہ الکریم و سلطانہ القدیم من الشیطن الرجیم۔
” میں شیطان رجیم سے اللہ عظیم کی پناہ مانگتا ہوں ، اس کے مکرم چہرے کی پناہ مانگتا ہوں اور اس کے قدیم اقتدار میں پناہ مانگتا ہوں “۔ جب کوئی یہ دعا پڑھتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ اس شخص نے پورے دن کے لئے اپنے آپ کو مجھ سے محفوظ کرلیا۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو ، تو چاہئے کہ وہ مجھ پر صلوٰة وسلام پڑھے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے۔
اللھم افتح لی ابواب رحمتک۔
” اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے “۔ اور جب مسجد سے نکلے تو یہ کہے۔
اللھم انی اسئلک من فضلک۔
” اے اللہ میں تیرے فضل کا سوالی ہوں “۔ اور آپ سے یہ نقول ہے کہ جب بھی آپ مسجد میں داخل ہوتے تو محمد اور آل محمد پہ صلوٰة وسلام بھیجتے اور پھر کہتے۔
اللھم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابواب رحمتک۔
” اے اللہ میرے گناہ بخش دے اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لئے کھول دے اور جب آپ نکلتے تو پھر بھی حضرت محمد اور آل محمد پر صلوٰة وسلام بھیجتے اور پھر کہتے۔
اللھم اغفرلی ذنوبی وافتح لی باب رحمتک۔
” اے اللہ ! میرے گنہ معاف کردے اور میرے لئے اپنے فضل کا دروازہ کھول دے “۔
” حضور اکرم ﷺ کی عادت تھی کہ جب صبح کی نماز پڑھتے تو مصلے پر بیٹھتے اور اللہ کو یاد فرماتے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے۔ جب صبح ہوتی تو آپ فرماتے۔ :
اللھم بک اصبحنا وبک اسینا وبک نحیا وبک نموت والیک النشور (حدیث صحیح)
” اللہ تیرے ہی حکم سے ہم صبح تک پہنچتے ہیں اور تیرے ہی ختم سے ہماری شام ہوتی ہے اور تیرے ہی حکم سے ہم زندہ رہتے ہیں اور تیرے ہی حکم سے ہم مرتے ہیں اور تیرے ہی طرف ہم نے زندہ ہوکراٹھنا ہے “۔ اور آپ یہ کلمات بھی کہا کرتے تھے :
اصبحنا واصبح الملک للہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ وحد لاشریک لہ۔ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر۔ رب اسئلک خیر مافی ھذا الیوم وخیر مابعدہ واعوذبک من شر ھذا الیوم وشرمابعدہ رب اعوذبکمن الکس وسوء الکبر رب اعوذبک من عذاب فی النار و عذاب فی القبر۔
” ہم صبح میں داخل ہوئے اور تمام اقتدار اللہ کے لئے ہے ، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ، اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کی بادشاہت ہے ، اس کی تعریف ہے اور وہ عر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ میں تجھ سے اس دن کی بھلائی مانگتا ہوں اور اس کے بعد کے دن کی بھی اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس دن کے شر سے اور اس کے بعد کے دن کے شر سے اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے بڑھاپے کی کمزوریوں سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ میں آگ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں “۔ اور شام ہوتی تو آپ یہی دعا یوں پڑھتے :
امسینا وامسی الملک بعد ” ہم شام کے وقت تک پہنچے اور بادشاہت اللہ کے لئے ہے تاآخر (مسلم)
اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضور اکرم ﷺ سے پوچھا کہ مجھے ایسے کلمات بتائیے کہ میں صبح وشام کہوں تو آپ نے فرمایا یہ کلمات کہا کریں :
اللھم فاطر السموات والارض عالم الغیب والشھادة رب کل شئی ملیکة ومال کہ اشھد ان لا الہ الاانت۔ اعوذبک من شر نفسی وشر الشیطن وشرکہ وان اقترف علی نفسی سو اور اجرہ الی مسلم ۔
” اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ظاہر اور غیب کے جاننے والے ، ہر چیز کے رب حکمران اور مالک ، میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ میں اپنے نفس اور شیطان کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اور اس سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے نفس کو نقصان پہنچاﺅں یا کسی مسلمان کی طرف نقصان کا رخ کروں “۔ اس کے بعد اس باب میں انہوں نے بہت سی احادیث نقل کیں۔
” اور حضور اکرم ﷺ جب نیا کپڑاپہنتے تھے تو اس کا نام لیتے تھے یعنی پاجامہ ، قمیص اور چادر پھر یہ پڑھتے تھے۔
اللھم لک الحمد انت کسوتنیہ اسئلک خیرہ وخیر ماصنع لہ واعوذبک من شرہ وشرما صنع لہ۔
” اے اللہ ، سب تعریفیں تیرے لئے ہیں۔ یہ تونے مجھے پہنایا ہے۔ میں تجھ ہی سے اس کی بھلائی چاہتا ہوں اور اس مقصد کی بھلائی چاہتا ہوں جس کے لئے یہ بنا اور تجھ ہی سے اس کے شر اور اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کے لئے اسے بنایا گیا “۔ (حدیث صحیح)
” آپ سے یہ بھی منقول ہے کہ جب آپ اپنے گھر کو لوٹتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔
الحمدللہ الذی کفانی واوانی والحمدللہ الذی اطعمنی وسقانی والحمد للہ الذی من علی اسئلک ان تجیرنی من النار۔
” اس خدا کی تعریف جو میرے لئے کافی ہو اور جس نے مجھے ٹھکانا دیا۔ اس خدا کی تعریف جس نے مجھے کھلایا پلایا ، اس خدا کی تعریف جس نے مجھ پر احسان کیا۔ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تم مجھے آگ سے بچا “۔
اور صحیحین میں یہ روایت مروی ہے کہ آپ جب بیت الخلا کو جاتے تھے تو یہ فرماتے۔
اللھم انی اعوذبک میں الخبث والخبائث۔
” اے اللہ میں گندی چیزوں اور گندی باتوں سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں “۔ اور جب آپ بیت الخلاء سے نکلتے تھے فرماتے۔
غفرانک ” اے اللہ میں تیری مغفرت طلب کرتا ہوں “۔ اور یہ بھی آتا کہ آپ یہ الفاظ فرماتے۔
الحمد للہ الذی اذھب عینی الاذی وعافانی۔
” اللہ کا شکر ہے کہ جس نے مجھ سے تکلیف وہ چیز دور کردیا اور عافیت بخشی “۔ (ابن ماجہ)
اور آپ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے اپنا دست مبارک ایک برتن میں ڈالا جس میں پانی تھا اور پھر صحابہ ؓ سے کہا ، اللہ کے نام سے وضوکرو اور آپ سے بھی منقول ہے کہ آپ چاند دیکھتے وقت یہ دعا پڑھتے تھے۔
اللھم اھلہ علینا بالا من والا ایمان والسلامة والاسلام ربی وربک اللہ۔
” اے اللہ ! اس چاند کو ہم پر امن ، ایمان ، سلامتی اور اسلام کے ساتھ نکال۔ اے چاند میرا رب تیرا رب اللہ ہے “۔ (ترمذی)
اور جب آپ کھانے میں ہاتھ ڈالتے تو بسم اللہ پڑھتے اور لوگوں کو حکم دیتے کہ بسم اللہ کہہ کر کھاﺅ، اور فرماتے جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اس پر اللہ کا نام لے ، اگر وہ بھول جائے اور آغاز میں نہ کہہ سکے تو یوں کہے۔
بسم اللہ فی اولہ واخرہ۔
” اللہ کے نام سے آغاز میں بھی اور آخر میں بھی “۔ (صحیح)
یہ تھی حضور ﷺ کی زندگی اور اس پوری زندگی میں آپ اس ہدایت پر عمل پیرا تھے جو آغاز وحی میں کی گئی تھی۔ اور آپ کا ایمان ، آپ کے نظریات اور آپ کے افعال وحرکات میں یہ بات رچ بس گئی تھی۔
اس حقیقت کے تقاضے تو یہ تھے کہ انسان اللہ کی معرفت حاصل کرتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا ، یعنی اس حقیقت پر کہ اللہ نے اسے پیدا کیا ، اس نے علم سکھایا ، اور اسے تمام مخلوقات میں مکرم بنایا ، لیکن انسان نے ایسا نہ کیا بلکہ وہ اس سے بالکل الٹا چلا اور اس کا انحراف اور اس کی خلاف توقع حرکت کا ذکر اگلے پیراگراف میں کیا جاتا ہے۔
العلق 96:6
انسان یہ نہیں سوچتا کہ اسے دینے والا اور غنی کرنے والا تو اللہ ہی ہے۔ اس سے قبل اسے پیدا بھی اللہ نے کیا اور تمام مخلوقات سے مکرم بھی بنایا اور اسے تعلم بھی دی لیکن انسان کا عمومی رویہ یہ ہے کہ جب اسے دیا جاتا ہے اور غنی بنا دیا جاتا ہے تو یہ بالمعموم شکر رب ادا نہیں کرتا الایہ کہ کسی کو اس کا ایمان اس ناشکری سے بچادے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو اس سرچشمے کا احساس بھی نہیں ہوتا جس سے یہ عطا اور غنا آرہی ہوتی ہے ، حالانکہ اس کو دینے والا اور غنی بنانے والا وہی ہوتا ہے جس نے اسے پیدا کیا ، عزت بخشی اور علم دیا۔ لیکن انسان نہ صرف یہ کہ اس منعم کا احساس مند نہیں ہوتا بلکہ وہ نہایت سرکشی اور فسق وفجور کی راہ اختیار کرتا ہے بغاوت کرتا ہے اور تکبر کرتا ہے جبکہ اس کا حق یہ تھا کہ وہ اللہ کے انعامات کو جانتا اور شکر کرتا۔
یہ ایک سرکش انسان کی تصویر کھینچ دی گئی جو اپنی تخلیق کو بھی بھول چکا ہے اور جس کو دوبت مندی نے سخت بگاڑدیا ہے ، تو ایک ملفوف اور بالواسطہ انداز میں اسے دھمکی دی جاتی ہے۔
العلق 96:7
انسان یہ نہیں سوچتا کہ اسے دینے والا اور غنی کرنے والا تو اللہ ہی ہے۔ اس سے قبل اسے پیدا بھی اللہ نے کیا اور تمام مخلوقات سے مکرم بھی بنایا اور اسے تعلم بھی دی لیکن انسان کا عمومی رویہ یہ ہے کہ جب اسے دیا جاتا ہے اور غنی بنا دیا جاتا ہے تو یہ بالمعموم شکر رب ادا نہیں کرتا الایہ کہ کسی کو اس کا ایمان اس ناشکری سے بچادے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو اس سرچشمے کا احساس بھی نہیں ہوتا جس سے یہ عطا اور غنا آرہی ہوتی ہے ، حالانکہ اس کو دینے والا اور غنی بنانے والا وہی ہوتا ہے جس نے اسے پیدا کیا ، عزت بخشی اور علم دیا۔ لیکن انسان نہ صرف یہ کہ اس منعم کا احساس مند نہیں ہوتا بلکہ وہ نہایت سرکشی اور فسق وفجور کی راہ اختیار کرتا ہے بغاوت کرتا ہے اور تکبر کرتا ہے جبکہ اس کا حق یہ تھا کہ وہ اللہ کے انعامات کو جانتا اور شکر کرتا۔
یہ ایک سرکش انسان کی تصویر کھینچ دی گئی جو اپنی تخلیق کو بھی بھول چکا ہے اور جس کو دوبت مندی نے سخت بگاڑدیا ہے ، تو ایک ملفوف اور بالواسطہ انداز میں اسے دھمکی دی جاتی ہے۔
العلق 96:8
ان الی ........................ الرجعی (8:96) ” بیشک پلٹنا تیرے رب کی طرف ہی ہے “۔ آخر یہ غافل اور سرکش بھاگے گا کہاں ، آخر آنا تو اللہ ہی کے سامنے ہے۔
لکن اس تہدید کے ساتھ ساتھ اسلامی تصور حیات کا ایک بنیادی اصول اور نظریہ بھی پیش کردیا جاتا ہے ، یہ کہ سب نے اللہ کے دربار میں حاضر ہونا ہے۔ سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے ، ہر چیز میں ہر بات کے حوالے سے ، ہر نیت و ارادہ میں اور ہر فعل و حرکت میں ، کیونکہ اللہ کے سوا اور کوء یجائے پناہ اور مرجع ہے ہی نہیں۔ اگر کوئی نیک ہے یا بد ہے ، سب نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ اگر کوئی فرمان بردار ہے یا معصیت کیش ہے ، حق پر ہے یا باطل پر ہے ، اچھا ہے ، یا شریر ہے۔ غنی ہے یا فقیر ہے۔ سب نے اللہ ہی کے سامنے جانا ہے۔ یہ شخص جس نے اپنے آپ کو غنی سمجھ کر سرکشی کی یہ بھی اپنے آپ کو اللہ کے سامنے باندھا ہوا پائے گا۔ لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اللہ کے سامنے پیش ہونے کے وقت کے لئے کچھ کرے۔ کیونکہ وہی خالق ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس طرح ان دوپیراگرافوں میں اسلامی نظریات و عقائد کے دونوں سرے لے لئے جاتے ہیں ، یعنی اسلام کا نظریہ آغاز حیات اور نشوونما ، پھر اسلام کا نظریہ تعلیم وتربیت اور تہذیب وشائستگی اور پھر اللہ کی طرف لوٹنا اور عقیدہ وحشر ونشر اور حساب و کتاب کے لئے اللہ کے سامنے جانا ہے اور وہاں سب اختیارات اللہ کے ہوں گے۔
ان الی ربک الرجعی (8:96) ” بیشک تیرے رب ہی کی طرف پلٹنا ہے “۔
اب تیسرا پیراگراف آتا ہے ، سورة بہت ہی مختصر ہے ، لیکن یہاں سرکشی ایک نہیایت واضح اور گھناﺅنی تصویر کشی کی جاتی ہے۔ انسانی انگشت بدنداں رہ جاتا ہے اور ایسے واقعات کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ یہ تصویر کشی قرآن کے منفرد انداز میں ہے۔
العلق 96:9
قرآن اس تصویر کو نہایت ہی گھناﺅنی شکل میں لیکن نہایت ہی واضح انداز میں پیش کرتا ہے۔ انداز قرآن کا اپنا ہے ، جسے کوئی ادیب تحریری انداز نہیں دے سکتا۔ یہ ایک زندہ اور تابندہ تقریری انداز ہے جس میں نہایت ہی مختصر جھلکیوں کی شکل میں ، نہایت آسانی اور ہلک پھلکے انداز میں اور نہایت ہی تیز رفتار فلم کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔
ارءیت ” کیا تم نے دیکھا ؟ “۔ اس قسم کا مکروہ منظر بھی کبھی نظروں سے گزرا ہے۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ یوں بھی ہوسکتا ہے۔
ارءیت ........................ صلی (10:96) ” تم نے دیکھا اس شخص جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھنے سے “۔ تم دیکھتے نہیں کہ یہ کس قدر برا اور شنیع فعل ہے۔ سخت گھناﺅنا فعل ہے کہ ایک شخص خدا کی عبادت کررہا ہے اور دوسرا اسے عبادت کرنے سے روک رہا ہے۔ پھر صورت یہ ہو کہ وہ شخص راہ راست پر ہو ، اور لوگوں کو تقویٰ خدا خوفی اور اچھی باتوں کی ہدیات دے رہا ہو ، اور روکنے والا اسے روک رہاہو۔
پھر اس پر مزید کہ وہ یہ فعل ، نہایت ہی گناﺅنا فعل بھی کررہا ہے اور اس کے ساتھ اس سے بھی برے فعل کا ارتکاب کرہرا ہے۔
العلق 96:10
قرآن اس تصویر کو نہایت ہی گھناﺅنی شکل میں لیکن نہایت ہی واضح انداز میں پیش کرتا ہے۔ انداز قرآن کا اپنا ہے ، جسے کوئی ادیب تحریری انداز نہیں دے سکتا۔ یہ ایک زندہ اور تابندہ تقریری انداز ہے جس میں نہایت ہی مختصر جھلکیوں کی شکل میں ، نہایت آسانی اور ہلک پھلکے انداز میں اور نہایت ہی تیز رفتار فلم کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔
ارءیت ” کیا تم نے دیکھا ؟ “۔ اس قسم کا مکروہ منظر بھی کبھی نظروں سے گزرا ہے۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ یوں بھی ہوسکتا ہے۔
ارءیت ........................ صلی (10:96) ” تم نے دیکھا اس شخص جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھنے سے “۔ تم دیکھتے نہیں کہ یہ کس قدر برا اور شنیع فعل ہے۔ سخت گھناﺅنا فعل ہے کہ ایک شخص خدا کی عبادت کررہا ہے اور دوسرا اسے عبادت کرنے سے روک رہا ہے۔ پھر صورت یہ ہو کہ وہ شخص راہ راست پر ہو ، اور لوگوں کو تقویٰ خدا خوفی اور اچھی باتوں کی ہدیات دے رہا ہو ، اور روکنے والا اسے روک رہاہو۔
پھر اس پر مزید کہ وہ یہ فعل ، نہایت ہی گناﺅنا فعل بھی کررہا ہے اور اس کے ساتھ اس سے بھی برے فعل کا ارتکاب کرہرا ہے۔
العلق 96:11
قرآن اس تصویر کو نہایت ہی گھناﺅنی شکل میں لیکن نہایت ہی واضح انداز میں پیش کرتا ہے۔ انداز قرآن کا اپنا ہے ، جسے کوئی ادیب تحریری انداز نہیں دے سکتا۔ یہ ایک زندہ اور تابندہ تقریری انداز ہے جس میں نہایت ہی مختصر جھلکیوں کی شکل میں ، نہایت آسانی اور ہلک پھلکے انداز میں اور نہایت ہی تیز رفتار فلم کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔
ارءیت ” کیا تم نے دیکھا ؟ “۔ اس قسم کا مکروہ منظر بھی کبھی نظروں سے گزرا ہے۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ یوں بھی ہوسکتا ہے۔
ارءیت ........................ صلی (10:96) ” تم نے دیکھا اس شخص جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھنے سے “۔ تم دیکھتے نہیں کہ یہ کس قدر برا اور شنیع فعل ہے۔ سخت گھناﺅنا فعل ہے کہ ایک شخص خدا کی عبادت کررہا ہے اور دوسرا اسے عبادت کرنے سے روک رہا ہے۔ پھر صورت یہ ہو کہ وہ شخص راہ راست پر ہو ، اور لوگوں کو تقویٰ خدا خوفی اور اچھی باتوں کی ہدیات دے رہا ہو ، اور روکنے والا اسے روک رہاہو۔
پھر اس پر مزید کہ وہ یہ فعل ، نہایت ہی گناﺅنا فعل بھی کررہا ہے اور اس کے ساتھ اس سے بھی برے فعل کا ارتکاب کرہرا ہے۔
العلق 96:12
قرآن اس تصویر کو نہایت ہی گھناﺅنی شکل میں لیکن نہایت ہی واضح انداز میں پیش کرتا ہے۔ انداز قرآن کا اپنا ہے ، جسے کوئی ادیب تحریری انداز نہیں دے سکتا۔ یہ ایک زندہ اور تابندہ تقریری انداز ہے جس میں نہایت ہی مختصر جھلکیوں کی شکل میں ، نہایت آسانی اور ہلک پھلکے انداز میں اور نہایت ہی تیز رفتار فلم کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔
ارءیت ” کیا تم نے دیکھا ؟ “۔ اس قسم کا مکروہ منظر بھی کبھی نظروں سے گزرا ہے۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ یوں بھی ہوسکتا ہے۔
ارءیت ........................ صلی (10:96) ” تم نے دیکھا اس شخص جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھنے سے “۔ تم دیکھتے نہیں کہ یہ کس قدر برا اور شنیع فعل ہے۔ سخت گھناﺅنا فعل ہے کہ ایک شخص خدا کی عبادت کررہا ہے اور دوسرا اسے عبادت کرنے سے روک رہا ہے۔ پھر صورت یہ ہو کہ وہ شخص راہ راست پر ہو ، اور لوگوں کو تقویٰ خدا خوفی اور اچھی باتوں کی ہدیات دے رہا ہو ، اور روکنے والا اسے روک رہاہو۔
پھر اس پر مزید کہ وہ یہ فعل ، نہایت ہی گناﺅنا فعل بھی کررہا ہے اور اس کے ساتھ اس سے بھی برے فعل کا ارتکاب کرہرا ہے۔
العلق 96:13
ارءیت .................... وتولی (13:96) ” تمہارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو “۔ یہاں بھی ایک بالواسطہ اور درپردہ دھمکی دی جاتی ہے جس طرح سابقہ پیرگراف کے آخر میں دی گئی تھی۔
العلق 96:14
الم ........................ یری (14:96) ” کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے “۔ اللہ دیکھ رہا ہے کہ یہ شخص ناحق تکذیب کررہا ہے اور ناحق منہ موڑ رہا ہے اور یہ بندہ مومن نبی ﷺ کو ناحق نماز سے بھی روکتا ہے جبکہ نبی ﷺ ہدایت پر ہیں اور تقویٰ کا حکم دیتے ہیں اور آخرت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
الم ........................ یری (14:96) ” کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے “۔ یہ ایک منظر ہے جس میں ایک شخص دعوت اسلامی کی راہ رو کھڑا ہے ، ایمان کی راہ رو کے ہوئے ہے۔ اطاعت وتقویٰ کی راہ روکے ہوئے ہے۔ ایسے شخص کو اب آخری دھمکی دی جاتی ہے لیکن اس بات پر کھلی دھمکی ہے بغیر لاگ لپیٹ کے۔
العلق 96:15
یہ ایک واضح اور براہ راست دھمکی ہے اور ہے بھی شدید الفاظ میں۔
کلالئن ........................ بالنا صیة (15:96) “” ہرگز نہیں ! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے “۔ یوں
لنسفعاکا تلفظ بھی شدید اور اس کی آواز بھی سختی اس کے مفہوم کی سختی پر دلالت کرتی ہے۔ سفع کے معنی سختی سے پکڑنے کے ہیں۔ ناصیہ کا مفہوم ہے پیشانی۔ پیشانی سرکشوں اور متکبرین کے اظہار کبر کے لئے اونچا مقام ہے۔ ایسے لوگ سر کو بلند رکھتے ہیں اور سر کی بلندی کے وقت پھر پیشانی سے بلند ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسی پیشانی کو پکڑ کر گرانا ہی مناسب ہے۔ کیونکہ
العلق 96:16
ناصیة کاذبة (16:96) ” یہ جھوٹی پیشانی ہے “۔ اور یہ چونکہ پکڑ دھکڑ کا مقام ہے اور ایسے مواقع پر لوگ یاروں مددگاروں کو بلاتے ہیں تو کہہ دیا گیا۔
العلق 96:17
فلیدع نادیہ (17:96) ” وہ بلائے اپنے حامیوں کے ٹولے کو “۔ ہم بھی انتظام کرلیں گے۔
العلق 96:18
سندع الزبانیة (18:96) ” ہم بھی فرشتوں کو بلالیں گے “۔ جو بہت سخت خو اور سخت گرفت والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے معرکے کا انجام ان کی خواری ہی ہوگا۔
یہ سورة ایسے متوقع اور خوفناک منظر پر ختم ہوتی ہے۔ اس منظر پر اہل ایمان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ایمان اور اسلام پر ثابت قدم رہیں اور اللہ کے احکام کی اطاعت کرتے رہیں۔
العلق 96:19
یعنی یہ سرکش جو تمہیں نماز سے روکتا ہے ، اس کی اطاعت نہ کرو ، یہ جو دعوت اسلامی کی راہ روکتا ہے ، اس کی مزاحمت کرو ، رب کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اس کا قرب حاصل کرو۔ انسان صرف عبادت اور اطاعت کے ذریعہ ہی خدا کے قریب ہوتا ہے۔ ایسے سرکشوں کو نظر انداز کردو ، اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی قوتیں اس سے نمٹ لیں۔
روایات صحیحہ میں یہ بات مذکور ہے کہ اس سورت کے پہلے پیراگراف کے علاوہ اگلا پورا حصہ ابوجہل کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ یہ جب خانہ کعبہ میں آیا تو حضور مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ تو اس نے کہا اے محمد کیا میں نے تم کو اس سے روکا نہ تھا ، اس نے رسول اللہ ﷺ کو دھمکی دی اور حضور نے بھی اس کو خوب ڈانٹا۔ اور شاید اس موقعہ پر حضور ﷺ نے اس کو گلے سے پکڑ کر کہا۔
اولی لک فاولی (باز آجاﺅ ورنہ ....) اور اس نے کہا ، اے محمد تم مجھے کس چیز کی دھمکی دیتے ہو ، خدا کی قسم اس وادی میں میرے دوست ویار سب سے زیادہ ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
فلیدع نادیہ (17:96) ” یہ اپنے یارومددگار بلائے “۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر اس وقت یہ اپنے حامیوں کو بلاتا تو عذاب کے فرشتے اسی وقت ان کو دبوچ لیتے۔
لیکن اس سورت کا مفہوم عام ہے۔ ہر مومن اور مطیع فرمان داعی الی اللہ اور ان کے مقابل آنے والے سرکش اور نافرمان پر یہ سورت صادق آتی ہے۔ ہر وہ باغی جو لوگوں کو نماز سے روکتا ہے اور اللہ کی اطاعت شعاری سے منع کرتا ہے اور نیکی کے خلاف سازشیں کرتا ہے ، اس کے لئے یہ دھمکی تیار ہے۔ آخری ہدایت یہ ہے۔
کلا لا ........................ واقترب (19:96) ” ہرگز نہیں اس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو ، اور اللہ کا قرب حاصل کرو “۔ اس تفسیر کے مطابق سورت کے تمام پیراگراف باہم مربوط ہوجاتے ہیں۔
القدر 97:1
انا انزلنہ ............................ القدر (1:97) ” ہم نے اسے لیلة القدر میں اتارا “۔ لیلتہ القدر کے معنی تقدیر اور تدبیر بھی ہوسکتے ہیں ، اور قابل قدر اور بلند مرتبہ کے بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ دونوں معانی اس عظیم الشان کائناتی واقعہ کے ساتھ مناسب ہیں ، یہ واقعہ کہ اس رات میں قرآن کریم نازل ہوا ، یہ آخری رسالت نبی کریم ﷺ کے سپرد ہوئی اور آپ نے دعوت کا کام شروع کیا۔ میں سمجھتا ہوں اس کائنات میں اس سے بڑا کوئی واقعہ نہیں ہے۔ اور انسانوں کی زندگی میں اس سے پر معنی اور زیادہ اہمیت اور قدر و قیمت والا کوئی واقعہ بھی نہیں ہے۔ یہ رات ایک ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ مراد ہزار مہینوں کی تحدید نہیں ہے ، مراد کہ ہزارہا راتوں سے یہ رات زیادہ قیمتی ہے۔ الف شہر سے مراد زیادہ راتیں ہیں۔ مطلب ہے ہزاروں لاکھوں راتوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ یوں کہ ہزاروں لاکھوں کروڑوں راتیں انسانی زندگی کو اس قدر متاثر نہیں کرسکیں۔ جس قدر اس رات نے انسانی زندگی کو متاثر کیا۔ اس رات نے انسانی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔
لیلة القدر .................... الف شھر (3:97) ” شب قدر ایک ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے “۔
القدر 97:2
وما ادرک .................... القدر (2:97) ” اور تم کیا جانو لیلتہ القدر کیا ہے “۔ یہ اس قدر عظیم ہے کہ انسانی فہم وادراک کی حدود سے ماوراء ہے۔ بس یہی ہے اس کا مفہوم اور اس سلسلے میں عامتہ الناس میں جو اوہام و خرافات مشہور ہیں۔ ان کے تذکرے کی یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس یہ ایک نہایت ہی عظیم رات ہے ، اور اس عظمت اس وجہ سے ہے کہ اس کو اللہ نے ایک عظیم کام کے لئے منتخب کیا ہے یعنی نزول قرآن کریم کے لئے اور اس لئے کہ اللہ نے اس رات کو اپنے نور سے پوری کائنات کو بھردیا۔ اور اس رات کو اللہ نے انسانیت کو وہ چیز عطا کی تھی جس کی اسے بےحد ضرورت تھی۔ انسانی روح اور انسانی زندگی کو اس رات یہ عطیہ ملا یعنی عمومی امن وسلامتی اور امن وسلامتی کا پیغام یعنی قرآن دیا۔ جس میں صحیح عقائد و تصورات وضاحت سے بیان ہوئے۔ جس میں ایسے آداب زندگی ثبت ہوئے جن کی وجہ سے انسانی ضمیر اور انسانی ماحول یعنی پوری زمین کو سلامتی ملی۔ اور حضرت روح الامین اس رات کو پیغام لے کر فرشتوں کے جلو میں آئے۔ یہ ایک جشن کا سماں تھا ، انسانیت کو تو بہار مل رہی تھی۔ اس جشن کو قرآن نے نہایت ہی عجیب انداز میں یہاں بیان کیا ہے۔
القدر 97:3
وما ادرک .................... القدر (2:97) ” اور تم کیا جانو لیلتہ القدر کیا ہے “۔ یہ اس قدر عظیم ہے کہ انسانی فہم وادراک کی حدود سے ماوراء ہے۔ بس یہی ہے اس کا مفہوم اور اس سلسلے میں عامتہ الناس میں جو اوہام و خرافات مشہور ہیں۔ ان کے تذکرے کی یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس یہ ایک نہایت ہی عظیم رات ہے ، اور اس عظمت اس وجہ سے ہے کہ اس کو اللہ نے ایک عظیم کام کے لئے منتخب کیا ہے یعنی نزول قرآن کریم کے لئے اور اس لئے کہ اللہ نے اس رات کو اپنے نور سے پوری کائنات کو بھردیا۔ اور اس رات کو اللہ نے انسانیت کو وہ چیز عطا کی تھی جس کی اسے بےحد ضرورت تھی۔ انسانی روح اور انسانی زندگی کو اس رات یہ عطیہ ملا یعنی عمومی امن وسلامتی اور امن وسلامتی کا پیغام یعنی قرآن دیا۔ جس میں صحیح عقائد و تصورات وضاحت سے بیان ہوئے۔ جس میں ایسے آداب زندگی ثبت ہوئے جن کی وجہ سے انسانی ضمیر اور انسانی ماحول یعنی پوری زمین کو سلامتی ملی۔ اور حضرت روح الامین اس رات کو پیغام لے کر فرشتوں کے جلو میں آئے۔ یہ ایک جشن کا سماں تھا ، انسانیت کو تو بہار مل رہی تھی۔ اس جشن کو قرآن نے نہایت ہی عجیب انداز میں یہاں بیان کیا ہے۔
القدر 97:4
تنزل ............................ کل ام (4:97) فرشتے اور روح ، اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں “۔ آج جب ہم صدیوں پیچھے کی طرف نظر دوڑاتے ہیں اور پھر ہماری نگاہ اس بزرگ اور عظیم رات پر پڑتی ہے۔ اور ہم اس جشن پر غور کرتے ہیں جو اس رات دیکھا گیا۔ پھر ہم ان امور کو دیکھتے ہیں جو اس رات میں فیصلہ ہوئے اور مکمل ہوئے اور دیکھتے ہیں کہ انسانی تاریخ نے کیا سفر طے کیا ، کیا واقعات وحادثات رونما ہوئے ، اس رات کے فیصلوں کے نتیجے میں انسانی قلب ونظر میں کیا کیا تبدیلیاں ہوئیں تو ہمیں یقین ہوجاتا ہے کہ یہ ایک عظیم رات تھی اور میں بتایا جانے والا یہ حسن نوبہاراں بھی فی الواقعہ بجا تھا اور آج ہمیں اللہ کا یہ کلام اچھی طرح سمجھ میں آتا ہے۔
وما ادرک .................... القدر (2:97) ” تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے “۔ اور یہ کہ اس رات تمام حکیمانہ امور طے ہوئے ، اس رات اساس دین ، دینی اقدار اور حسن وقبح کے پیمانے طے ہوئے۔ اس رات افراد کے علاوہ حکومتوں ، ملتوں اور اقوام کی قسمتوں کا فیصلہ ہوا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جس اہم چیز کا فیصلہ ہوا وہ یہ ہے کہ حق کا معیار طے ہوا۔ مستقل قدریں طے ہوئیں۔ طریق زندگی اور نظام شریعت طے ہوا اور روحانی اقدار طے ہوئیں۔ سلم ” وہ رات سراسر سلامتی ہے “ ۔ انسانیت نے اپنی جہالت اور بدبختی کی وجہ سے شب قدر کی قدر و قیمت کو بھلا دیا ہے۔ اور اس عظیم واقعہ کی اہمیت کو دل سے محو کردیا ہے ، حالانکہ انسانی تاریخ کا یہ ایک عظیم واقعہ تھا ، اور جب سے انسانیت نے اس عظیم واقعہ کو بھلایا اور اس عظیم پیغام کے حوالے سے غفلت کا مظاہرہ کیا تو انسانیت اللہ کی عظیم ترین رحمت وسعادت سے محروم ہوگئی۔ وہ کیا تھی ؟ حقیقی امن وسلامتی کی سعادت ، انسانی ضمیر ونفسیات میں امن وسلامتی کی سعادت ، انسانی خاندان میں امن وسلامتی کی سعادت ، وہ ہمہ گیر سعادت تھی جس سے اسلام نے دنیا کو مالا مال کردیا تھا۔ یہ درست ہے کہ انسان نے اس عرصہ میں بےپناہ مادی ترقی کی ، دنیاکو خوب آبادوشاداب کیا۔ لیکن اسلام نے جو امن وسلامتی عطا کی ہے اسے انسان نہ پاسکا۔ باوجود مادی ترقی اور بےپناہ پیداوار کے انسانیت بدبخت ہی رہی۔ وہ خوبصورت نور بجھ گیا جس نے کبھی اس کی روح کو روشن کردیا تھا۔ اور وہ روشن خوشی ختم ہوکر رہ گئی جس نے اسے زمین کے بندھنوں سے آزاد کرکے عالم بالا کے ساتھ معلق کردیا تھا ، اور وہ مجموعی سلامتی ختم ہوگئی۔ جس کے فیوض وبرکات انسانی قلب اور ارواح سے سرشار ہوگئے تھے۔ لیکن یہ سب کچھ کھو چکنے کے بعد انسان نے نہ روحانی خوشی پائی ، نہ آسمانی روحانیت ملی اور نہ انسان کو یہ آزادی ملی کہ وہ زمینی بوجھ سے ذرا اٹھ کر آسمانوں تک پہنچے۔
القدر 97:5
ھی حتی ................ الفجر (5:97) ” یہ طلوع فجر تک ہے “۔ ہم اہل ایمان اس بات پر مامور ہیں کہ اس جشن نوبہاراں کو بھی نہ بھلائیں۔ یہ اچھی یادیں ہیں ، اور ان یادوں کو تازہ رکھنے کے لئے ہمارے نبی نے ہمارے لئے بہت ہی سہل طریقے بتائے ہیں تاکہ ہماری روحیں اس سرچشمے سے مربوط ہیں۔ اور وہ عظیم کائناتی واقعہ انہیں یاد رہے جو اس رات میں وقوع پذیر ہوا۔ وہ یوں کہ حضور نے ہمیں تاکید فرمائی کہ ہر سال اس رات کو اللہ کی عبادت میں کھڑے رہو اور رمضان شریف کی آخری دس راتوں میں اسے تلاش کرو ، صحیح حدیث ہے :
تحروالیلة القدر فی العشر الاواخر من رمضان۔
” شب قدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کرو “۔ اور صحیحین ہی کی ایک دوسری روایت میں نبی ﷺ نے فرمایا :
من قام لیلة القدر ایمانا واحتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔
” جس شخص نے شب قدر میں اللہ کی عبادت ایمان اور حسبتہ اللہ کی حالت میں کی اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے “۔
اسلام محض ظاہری رسومات اور اشکال کا نام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عبادت کے سلسلے میں فرمایا :
ایمنا واحتسابا ” یعنی ایمان اور اخلاص کے ساتھ “ تاکہ یہ قیام و عبادت اعلیٰ مقاصد کے لئے ہو جو اس رات میں متعین ہوئے اور احتساب کے طور پر یعنی خالص اللہ کے لئے ان دوشرائط سے انسانی دل میں ایسے حقائق جاگزیں ہوتے ہیں۔ جو انسان کو ان معانی کے ساتھ مربوط کردیتے ہیں جن کے لئے قرآن نازل ہوا۔
اسلامی نظام زندگی کا یہ طریقہ ہے کہ وہ ایمان وعمل ، ضمیر کے اندر موجود معتقدات اور عملی عبادات کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے اور نظام عبادات اس طرح تجویز کرتا ہے جس کے ذریعہ انسان کے ضمیر و شعور میں وہ عقائد اچھی طرح مستحکم ہوجائیں اور زندہ مشکل میں موجود ہوں اور یہ نظریہ و عقائد محض افکار کی حد تک محدود نہ ہوں بلکہ ان کا عملی اور زندہ اظہار بھی ہو۔
یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اسلامی نظام زندگی اور نظام عبادت دراصل ایک بہترین نظام ہے جوان حقائق کو زندہ کرتا ہے اور انسانی ضمیر و شعور میں بھی اور عمل اور طرز عمل میں بھی زندہ اور متحرک کرتا ہے ، ان حقائق کا محض ذہنی ادراک ، بغیر عمل و عبادت کے ، ان عقائد ونظریات کو ثبات وقرار نہیں بخش سکتا۔ عبادات وعمل کے بغیر نہ فرد کی زندگی اور نہ سوسائٹی میں یہ حقائق زندہ اور متحرک ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لیلة القدر کی یہ یاد اور اس میں ایمان اور خلوص کے ساتھ عبادت کرنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ اسلامی نظام زندگی کے منہاج اور طریقہ کار ایک خاص پہلو ہے۔
البينة 98:1
حقیقت یہ ہے کہ زمین کو ایک جدید رسالت کی ضرورت تھی۔ اس زمین میں ہر طرف شروفساد وعام ہوگیا تھا اور مذاہب عالم کا حال تھا کہ ان کی اصلاح ممکن ہی نہ رہی تھی۔ ایک جدید دین اور جدید رسالت کی ضرورت تھی۔ ایک نئی تحریک اور نئے نظام کی ضرورت تھی۔ اہل زمین کے عقائد ونظریات میں کفر سرایت کرچکا تھا ، چاہے وہ اہل کتاب ہوں جن کو صحیح سماوی دین دیئے گئے تھے مگر انہوں نے جاننے کے بعد انہیں بھلادیا تھا اور دین میں مکمل تحریف کردی تھی ، چاہے وہ جزیرة العرب کے مشرک ہوں اور اس سے باہر کے مشرک ہوں۔ دونوں کفر کی حالت میں داخل ہوگئے تھے۔
یہ کفر اور تحریف کے جس مقام پر پہنچ چکے تھے ، وہاں سے ان کی واپس ممکن نہ تھی ، ان کی اصلاح صرف ایک جدید دین ہی کے ذریعہ ہوسکتی تھی ، صرف ایک ایسے رسول کے ذریعہ جو بذات خود ایک بین دلیل ہو ، اور اس کے پاس اپنی کتاب ہو جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہو۔
البينة 98:2
رسول ................................ مطھرة (2:98) ”(یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے “۔ یہ صحیفے شرک اور کفر سے پاک ہوں۔
البينة 98:3
فیھا کتب قیمة (3:98) ” جن میں بالکل راست اور درست تحریریں لکھی ہوئی ہوں “۔ ” کتاب “ کا لفظ موضوع اور مضمون پر بھی بولا جاتا ہے۔ مثلاً کتاب الطہارہ ، کتاب الصلوٰة اور کتاب القدر ۔ کتاب القیامہ ، صحف مطہرہ سے مراد یہ قرآن ہے۔ جس میں راست اور درست کتابیں ہیں یعنی موضوعات ومسائل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ رسالت اور یہ رسول نہایت وقت پر آئے۔ اور یہ صحیفے یہ سورتیں اور یہ موضوعات سخن اور مسائل آئے تاکہ زمین کے اندر ایسی انقلابی اصلاح کریں جس کے سوا اصلاح کی کوئی اور ٹورت ممکن ہی نہ تھی۔ اس دور میں دنیا کو اس رسول اور اس پیغام اور اس کتاب کی ضرورت کیونکر تھی ؟ اس کا جواب میں ایک عظیم اسلامی مفکر سید ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ” انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر “ کے ایک اقتباس سے دوں گا۔ یہ اقتباس نہایت مختصر اور موضوع پر واضح ہے۔ وہ باب اول کے فصل اول میں لکھتے ہیں :
چھٹی صدی عیسوی بلااختلاف تاریخ انسانی کا تاریک ترین اور پست ترین دور تھا ، صدیوں سے انسانیت جس پستی اور نشیب کی طرف جارہی تھی ۔ وہ اپنے آخری نقطے تک پہنچ چکی تھی اور رﺅئے زمین پر اس وقت کوئی طاقت نہ تھی جو گرتی ہوئی انسانیت کا ہاتھ پکڑ سکے اور ہلاکت کے غار میں گرنے سے اسے روک سکے۔ انسانیت کی حالت یہ تھی کہ نشیب کی طرف جاتے ہوئے روز بروز اس کی رفتار تیز ہورہی تھی۔ انسان اس صدی میں خدا فراموش ہوکر ، کامل طور پر خود فراموش بن چکا تھا۔ وہ اپنے انجام سے بالکل بےفکر اور بیخبر اور برے بھلے کی تمیز سے قطعاً محروم ہوچکا تھا۔ پیغمبروں کی دعوت کی آواز ، عرصہ ہوا ، دب چکی تھی۔ جن چراغوں کو یہ حضرات روشن کرگئے تھے وہ ہواﺅں کے طوفان میں یا تو بجھ چکے تھے۔ یا گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اس طرح ٹمٹما رہے تھے جن سے چند خدا شناس دل ہی روشن تھے۔ جہ شہروں کو تو کیا روشن کرتے ، چند گھروں کو بھی پوری طرح روشن نہ کرسکتے تھے۔ دیندار اشخاص دین کی امانت کو اپنے سینے سے لگا کر زندگی کے میدان سے کنارہ کش ہوکر دیر وکلیسا اور صحراﺅں اور غاروں میں تنہائیاں اختیار کرچکے تھے اور زندگی کی کشمکش اس کے مطالبات ، اور اس کی خشک اور تلخ حقیقتوں سے دامن بچا کر دین وسیاست اور روحانیت اور مادیت کے معرکہ میں شکت کھا کر ، اپنے فرائض قیادت سے دسکش ہوگئے تھے اور جو زندگی کے اس طوفان میں رہ گئے تھے ، انہوں نے بادشاہوں اور اہل دنیا سے باز باز کرلی تھی ، اور ان کی ناجائز خواہشات اور ظالمانہ نظام سلطنت اور ظالمانہ نظام معیشت ان کے معاون ہوگئے تھے اور لوگوں کے مال کھانے اور ان کی قوت اور دولت سے ناجائز فائدہ اٹھانے میں ان دنیا داروں کے شریک وسہیم ہوگئے تھے۔ “
” اس دور میں بڑے بڑے مذاہب بازیچہ اطفال بن گئے تھے اور منافقین کے لئے یہ مذاہب تختہ مشق بنے ہوئے تھے۔ ان مذاہب کی ظاہری صورت اور معنوی حقیقتوں کو اس حد تک مسخ کردیا گیا تھا کہ اگر ان کے بانیاں اور داعیان کے لئے اس صدی میں آممکن ہوتا اور دیکھ سکتے کہ ان کے مذاہب کا کیا حشر ہوا ہے تو وہ ہرگز ان مذاہب کو پہچان ہی نہ سکتے۔ تہذیب و تمدن کے گہواروں میں خوسری ، بےراہ روی اور اخلاقی گراوٹ پیدا ہوگئی تھی ، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ تمام اقوام اپنے اندرونی اختلافات ومسائل میں الجھ کر رہ گئی تھیں۔ دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے نہ ان کے پاس کوئی پیغام تھا اور نہ انسانیت کے لئے کوئی دعوت تھی۔ درحقیقت یہ اقوام اور مذاہب اندر سے پوری طرح کھوکھلے اور بودے ہوچکے تھے۔ ان کی زندگی کے سوتے خشک ہوچکتے تھے۔ ان کے پاس نہ دینی ہدایات اور تعلیمات تھیں اور نہ نظام حکومت کے لئے کوئی معقول اصول تھے “۔ (کتاب مذکور ، ص 38'37 وص 40'39)
یہ تیزرفتار جھلک ، بعثت محمدی سے قبل دنیا کے ادیان کی حالت کی نہایت ہی اچھی اور مختصر تصویر دکھاتی ہے۔ اہل کتاب اور مشرکین جن نکات کی وجہ سے کفر کی سرحدوں میں داخل ہوگئے تھے۔ قرآن کریم نے ان کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے ، مثلاً یہودیوں اور نصاریٰ کے بارے میں قرآن نے یہ تصریح کی ہے۔
وقالت ............................ ابن اللہ (30:9) ” یہود نے کہا عزیز اللہ کا بیٹا ہے عیسائیوں نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے “۔ اور دوسرے مقام پر ہے۔
وقالت الیھود ............................ شی ئ (112:2) ” یہود نے کہا نصاریٰ کی کوئی دینی حیثیت نہیں ہے اور نصاریٰ نے کہا یہودیوں کی کوئی دینی بنیاد نہیں ہے “۔
اور یہودیوں کے بارے میں سورة مائدہ آیت 64 میں یہ ہے۔
وقالت ............................ یشائ (64:5) ” یہود کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، ان کے ہاتھ بندھ جائیں اور ان کی اس بات کے سبب ان پر لعنت ہو ، بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ وہ خرچ کرتا ہے جس طرح چاہتا ہے “۔ اور مائدہ 72 میں ہے :
لقد کفر ........................ ابن مریم (72:5) ” یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہے “ اور
لقد کفر ................................ ثلثة (مائدہ :73) ” یقینا کافر ہوئے وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ تین کا تیسرا ہے “۔
اور مشرکین کے بارے سورة الکافرون میں ہے :
قل یایھا ................................ ولی دین (1:109 تا 6) ” کہہ دو اے کافرو ، میں ان کی عبادت نہیں کرتا ، جن کی عبادت تم کرتے ہو ، اور نہ تم عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں ، اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم عبادت کرتے ہو ، اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے “۔ یہ اور دوسری آیات جن میں مشرکین اور دوسرے کفار کی طرف اشارہ ہے۔
اور اس کفر کے نتیجے میں دنیا کے اطراف واکناف میں شروفساد اور تخریب وزوال عام تھا۔ مولانا ندوی کے الفاظ میں : ” خلاصہ یہ کہ ساتویں صدی عیسوی میں روئے زمین پر کوئی قوم ایسی نظر نہ آئی تھی جو مزاج کے اعتبار سے صالح کہی جاسکے اور نہ ایس کوئی سوسائٹی تھی جو شرافت اور اخلاق کی اعلیٰ قدروں کی حامل ہو ، نہ ایسی کوئی حکومت تھی جس کی بنیاد عدل اور انصاف اور رحم پر ہو ، اور نہ کوئی ایسی قیادت تھی جس کے پاس کوئی علم و حکمت ہو ، نہ دنیا میں کوئی ایسا دین تھا جسے صحیح دین انبیاء کہا جاسکتا ہو ، اور ان کی تعلیمات اور خصوصیات کا حامل ہو “۔
یہ وہ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت کا تقاضا ہوا کہ وہ انسانوں کی ہدایت کے لئے ایک ایسا رسول بھیجے ، جو پاکیزہ صحیفے پڑھے ، جن کے اندر نہایت ہی راست اور درست تعلیمات ہوں۔ حقیقت یہ کہ مشرکین اور اہل کتاب کے کفار ، ایک ایسی نئی رسالت اور ایسے دن کے سوا کسی صورت میں بھی اس شروفساد اور اس زوال وگراوٹ سے نکل نہ سکتے تھے۔
یہاں قرآن مجید اس بات کی وضاحت کردیتا ہے کہ اہل کتاب نے جو انحراف کی راہ لی یا باہم اختلافات کیے تو یہ جہالت کی وجہ سے نہ تھے۔ یا اس وجہ سے نہ تھے کہ دین سماوی کی تعلیمات میں کچھ پیچیدگی یا اجمالی تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ صحیح علم ان کے پاس آچکا تھا ، حق کے دلائل ان کے پاس موجود تھے اور اس کے باوجود انہوں نے باہم اختلاف کیا :
البينة 98:4
پہلا اختلاف تو یہودیوں کے درمیان ہوا ، یہ اختلاف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے قبل ہوا۔ یہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور کئی فرقے اور پارٹیاں بن گئے۔ حالانکہ ان کا رسول (علیہ السلام) ایک تھا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی کتاب بھی ایک تھی ۔ یعنی تورات۔ یہ پانچ فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ مثلاً صدوتی ، فریسی ، آسین ، غالی اور سامری۔ ان فرقوں میں سے ہر ایک کے اپنے اپنے عقائد ، خصائص اور اپنا اپنا رخ تھا اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعث ہوئی تو یہودی اور عیسائی تنازعہ شروع ہوگیا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے آخری نبی تھے اور آپ نے تورات کی تصدیق فرمائی۔ یہودی اور مسیحی اختلافات اس قدر بڑھے کہ یہ دشمنی اور عداوت کی شکل اختیار کر گئے۔ اور دونوں فریقوں کے درمیان شدید نفرت پیدا ہوگئی اور اس کے نتیجے میں جو قل عام ہوتارہا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ ایسا قتل عام تھا کو جب انسان ان واقعات کو آج بھی پڑھتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
” چھٹی صدی کے آخر میں یہودیوں اور عیسائیوں کی باہمی رقابت اور منافرت اس حد کو پہنچ گئی تھی کہ ان میں سے کوئی دوسرے فریق کو ذلیل کرنے اور اس سے اپنی قوم کا انتقام لینے اور مفتوح کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتا تھا۔ 610 ء میں یہودیوں نے انطلاکیہ میں عیسائیوں کے خلاف بلوہ کیا ، شہنشاہ موت اس نے اس کی سرکوبی کے لئے مشہور فوجی افسر بنو سوس کو بھیجا۔ اس نے پوری پوری آبادی کا اس طرح خاتمہ کیا کہ ہزاروں کو تلوار سے ، سینکڑوں کو دریا میں غرق کرکے آگ میں جلا کر اور درندوں کے سامنے ڈال کر ہلا کردیا “۔ (دنیا اور مسلمانوں کے عروج وزوال کا ائر ، ص 47)
” مقریزی کی کتاب الخطط میں ہے ، فوق اس روم کے شہنشاہ کے زمانے میں ایران کے شہنشاں کسریٰ نے شام اور مصر پر فوج کشی کی۔ اس فوج نے بیت المقدس ، فلسطین اور شاک کے گرجاﺅں کو مسمار کیا اور شام کے تمام عیسائیوں کو قتل کردیا ۔ پھر وہ عیسائیوں کی تلاش میں مصر آیا ، جہاں اس کی فوج نے عیسائیوں کو بہت بڑی تعداد میں قتل کیا اور بےحد و حساب افراد کو قید کرلیا۔ عیسائیوں کے خلاف اس جنگ میں اور گرجاﺅں کو مسمار کرنے میں یہودیوں نے ایرانیوں کی مدد کی اور وہ طربیہ ، جبل ، الجلیل ، قریہ ، ناصرہ ، صور اور بلادقدس سے ایرانیوں کے پاس آئے اور انہوں نے عیسائیوں سے خوب انتقام لیا اور انہیں اذیت رسانی ، اور قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا۔ قدس میں ان کے دوگرجاﺅں کو مسمار کردیا اور تمام مکانات کو جلاکر خاکستر کردیا۔ مقدس عود صلیب کا ٹکڑا ساتھ لے گئے اور قدس کے پوپ اور ان کے بہت سے ساتھیوں کو قید کرلیا “۔
یہی مصنف قدس مفتوح ہونے کا ذکر یوں کرتا ہے : ” اس اثنا میں یہودیوں نے صور کے شہر میں بغاوت کردی۔ انہوں نے اپنے نمائندوں کو دوسرے شہروں میں بھیجا۔ چناچہ یہودیوں نے عیسائیوں پر شدید حملہ کرنے اور انہیں قتل کر ڈالنے کے عہد وپیماں کیے۔ اس کے بعد دونوں فریقوں میں جنگ چھڑ گئی۔ یہودی بیس ہزار کی تعداد میں مجتمع ہوکر حملہ آور ہوئے اور انہوں نے صور کے باہر کے گرجاﺅں کو مسمار کردیا۔ اس پر عیسائیوں نے کثیر تعداد میں جمع ہوکر یہودیوں پر حملہ کیا۔ یہودیوں کو شکست فاش ہوئی اور ان کی بہت بڑی تعداد مقتول ہوئی۔ اس زمانے میں ہرقل قسطنطنیہ میں روم فرماں روا ہوا۔ اس نے ایک تدبیر سے جو اس نے شاہ ایران کے خلاف کی ایرانیوں کو شکست دے دی اور وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ اس فتح کے بعد ہرقل قسطنطنیہ سے روانہ ہوا تاکہ شام اور مصر کا نظم حکومت درست کرے۔ اور ایرانیوں نے جن مقامات کو تباہ وبرباد کیا ہے ، ان کی تعمیرنو کرے۔ یہودی طربیہ سے آکر ہر قل کے پاس حاضر ہوئے ، اس گراں قدر تحفے دیئے اور اس سے حلفیہ امان طلب کی ۔ ہر قل نے انہیں حلفیہ امان دے دی۔ اس کے بعد ہرقل بیت المقدس پہنچا۔ عیسائیوں نے انجیلوں ، صلیبوں ، بخور اور جلتی ہوئی مشعلوں سے اس کا استقبال کیا۔ ہرقل نے شہر اور اس کے گرجاﺅں کو برباد پایا ، جس سے اسے شدید صدمہ ہوا۔
عیسائیوں نے ہر قل کو بتایا کہ کس طرح یہودی ایرانیوں کے ساتھ مل کر عیسائیوں کے خلاف حملہ آور ہوئے۔ انہیں قتل کیا اور ان کے گرجاﺅں کو مسمار کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قتل و غارت گری میں وہ ایرانیوں سے بھی بدتر تھے اور انہوں نے عیسائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کوئی کمی نہ کی۔ عیسائیوں نے ہرقل کو ابھرا کہ وہ یہودیوں کو بیخ کنی کرے اور اس کے اچھے پہلو اس کے سامنے واضح کیے۔ ہرقل نے معذوری ظاہر کی اور کہا کہ وہ انہیں امان دے چکا ہے اور اس نے ان سے حلفیہ وعدہ کیا ہے۔ عیسائیوں کے پادریوں ، پوپوں اور مشائخ نے فتویٰ دیا کہ یہودیوں کو قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ہر قل سے یہ امان دھوکہ دے کر حاصل کی ہے ، اس لئے کہ ہرقل کو یہ نہیں بتایا گیا کہ عیسائیوں پر کیا کیا مظالم ہوئے۔ انہوں نے کہا وہ ہر قل کے کفارے کے طور پر یہ سال ایک جمعہ کو روزہ رکھا کریں گے۔ یہ روزہ لازمی ہوگا۔ اور تمام عیسائیوں کو اس کا پابند بنائیں گے۔ تب ہر قل نے ان کی بات مان لی اور یہودیوں پر شدید حملہ کیا اور انہیں نیست ونابود کردیا۔ چناچہ مصر وشام کی رومی سلطنت میں کوئی یہودی زندہ نہ بچا۔ سوائے ان کے جو بھاگ کر کہیں چھپ گئے۔
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں قومیں یہودونصاریٰ سنگدل ، انسانی خون بہانے کی ہوس اور دشمن کو تباہ کرنے کے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اسی معاملے میں یہ کس حد پر جاکر نہیں رکتے “۔ ماذا حسر العالم استاد ندوی ص 9 تا 11، طبع اول)
اس کے بعد عیسائیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہونے شروع ہوگئے ، حالانکہ ان کی کتاب بھی ایک تھی ، نبی بھی ایک تھا ، سب سے پہلے ان کے اختلافات بنیادی عقائد میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد وہ فرقے فرقے بن گئے۔ یہ فرقے ایک دوسرے سے سخت نفرت کرتے ، ایک دوسرے کو سخت دشمن بن گئے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ذات اور ماہیت کے بارے میں اختلافات پیدا ہوئے کہ ان کی ماہیت لا ہوتی ہے یا ناسوتی۔ پھر ان کی ماں کی ماہیت کے بارے میں اختلافات رونما ہوئے۔ پھر ٹریینٹی یعنی تثلیث کے مسئلہ پر اختلافات ہوئے۔ ان کے خیال میں خدا تینوں کا ایک تھا۔ قرآن کریم نے ان کے ان عقائد کو نقل کرکے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ لوگ کافر ہوگئے ہیں۔
لقد کفر ............................ ابن مریم (72:5) ” یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تو یہی مسیح ابن مریم ہیں “۔
لقد کفر ............................ ثلثة (مائدہ :73) ’ دیقینا وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں کہا کہ اللہ تین کا تیسرا ہے “۔
واذقال .................................... دون اللہ (مائدہ :116) ” اور اس بات کو یاد کرو جب اللہ قیامت کے دن عیسیٰ ابن مریم سے کہے گا ، کیا تم نے لوگوں سے کیا تھا کہ مجھے اور میری ماں اللہ کے سوا خدا بنالو “۔
ان اختلافات کے نتیجے میں وہ شدید ترین تنازعہ پیدا ہوا جو شام کے عیسائیوں اور روم اور مصر کے عیسائیوں کے درمیان پیدا ہوا۔ اس کا ایک فریق روم اور شام کے ملکانی عیسائی تھے اور دوسرا فریق مصر کا منوفنشی فرقہ تھا۔ ملکانی عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح کی فطرت کے جو اجزاء ہیں ایک ملکوتی اور دسرا ناسوتی جبکہ مصر کے منوفینشی عیسائی کہتے تھے کہ ان کی ایک ہی فطرت ہے جو اس طرح فنا ہوگئی جس طرح سر کے کا ایک قطرہ سمندر میں گر کر فنا ہوجاتا ہے۔ چھٹی اور ساتویں صدی میں یہ اختلاف ان دو فرقوں کے درمیان بہت شدت اختیار کر گیا “۔ اور یوں نظر آنے لگا کہ یہ دو فرقے نہیں بلکہ دو الگ الگ دین و مذہب ہیں۔ جس طرح یہودی اور عیسائی دو الگ الگ اہل مذہب ہیں اور ہر ایک دوسرے کے بارے میں یہ تصور کرتا ہے کہ اس کے مذہب کی کوئی بنیاد نہیں ہے “۔ (مسلمانوں کا عروج وزوال ، ابو الحسن علی ندوی)
” 628 ء میں ہرقل نے ایرانیوں پر فتح پائی ، اس کے بعد اس نے عیسائیوں کے باہم برسرپیکار اور متحارک مسلکوں کو جمع کرنے اور ان کے اندر موافقت اور مصالحت پیدا کرنے کی سعی کی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ لوگ حضرت مسیح کی فطرت کے موضوع پر بحث کرنے سے پرہیز کریں ، کہ ان کی فطرت ایک تھی یا دو تھیں۔ وہ اس بات کا اقرار کریں کہ اللہ کا ارادہ اور فیصلہ ایک ہی ہے۔ 631 ء کے اوائل میں یہ بات طے ہوگئی کہ مینوتھیلین مذہب ہی حکومت اور کلیسا دونوں کا سرکاری مذہب ہوگا۔ ہر قل نے مختلف فرقوں کو ختم کرکے ایک مسلک پر ہونے کی سعی کی اور اس کے لئے ہر حربہ استعمال کیا ، مگر مصر کے قبطیوں نے اس بدعت اور تحریف سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا اور شدید مخالفت کی ، اور اپنے پرانے عقیدے کو جاری رکھنے کے لئے جان کی بازی لگادی۔ یہ لوگ اس کے دشمن ہوگئے۔ ہر قل نے دوبارہ مختلف فرقوں کو ایک کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اس بات پر زور دیا کہ لوگ صرف اس پر متحد ہوجائیں کہ اللہ کا ارادہ ایک ہے۔ رہا یہ کہ اللہ کا ارادہ نافذ کس طرح ہوتا ہے۔ اس پر بحث نہ کی جائے۔ اس نے حکم دیا کہ اس موضوع پر کوئی مناظرہ نہ کیا جائے۔ ایک سرکاری پیغام مرتب کرکے مشرق کے اطراف واکناف میں پھیلایا۔ اس سے بھی مصر کا مذہبی طوفان نہ روک سکا۔ اس پر اسے غصہ آیا اور دس سال تک وہ مصر کے لوگوں پر شدید ترین ظلم اور ستم کرتارہا۔ اس نے جو مظالم کیے ان کی روئید اوپڑھ کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کو اذیت ناک سزا دی جاتی ، پھر انہیں دریا میں غرق کردیا جتا۔ مشعل جلا کر ان کے جسموں پربچھائی جاتی۔ یہاں تک کہ بندن کی چربی پگھل کر زمین پر گرتی۔ ریت کے بوروں میں قیدیوں کو بند کرکے دریا برد کردیا جاتا اور اس طرح کی دوسری لرزہ خیز سزائیں دی جاتیں “۔ (ماذا اخسرالعالم ابوالحسن ندوی ، ص 3 تا 5)
اہل کتاب کے درمیان یہ اختلافات اور یہ عداوتیں اس کے بعد تھیں کہ ان کے پاس دلائل آچکے تھے۔
من بعد .................... البینة (4:98) لیکن یہ علم اور یہ دلائل ان کے لئے مفید نہ تھے ، خواہش نفس اور گمراہی ان کو حق سے دور کرتی چلی جارہی تھی۔ حالانکہ دین اپنی اصلی اور ابتدائی شکل میں بالکل واضح تھا اور دینی عقائد بالکل واضح اور صاف تھے۔
البينة 98:5
یہ اصول تمام ادیان کا اصل الاصول ہے کہ اللہ وحدہ کی عبادت کرو ، دین صرف اللہ کا ہو ، شرک اور اہل شرک سے دور ہو ، نماز قائم کرو ، زکوٰة ادا کرو۔
وذلک دین القیمة (5:98) ” یہی نہایت صحیح اور درست دین ہے “ یعنی انسانی ضمیر و شعور میں عقیدہ خالص ہو۔ صرف اللہ کی بندگی اور غلامی ہو ، جو اس عقیدے پر مبنی ہو ، اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا جائے ، یعنی زکوٰة دی جائے۔ جس شخص نے بھی ان اصولوں کو حقیقت کا روپ دے دیا تو اس کا ایمان قائم ہوگیا ، جس طرح اہل کتاب کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔ اور جس طرح اللہ کے تمام رسولوں کو یہی حکم دیا گیا تھا اور تمام رسولوں اور امتوں کا دین دراصل ایک ہے ، عقیدہ ایک ہے ، جس پر تمام رسولوں کا اجماع رہا ہے اور اس عقیدے اور عمل میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس میں افتراق واختلاف کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ بےحدصاف ستھرا ، سادہ اور آسان ہے۔ لہٰذا اہل کتاب کے ہاں زیر بحث اور زیر جدال عقائد کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ اللہ کے دین میں وہ چیزیں ہیں۔
ان لوگوں کے پاس اس سے قبل ان کے رسولوں کے ذریعہ بھی دلائل آگئے تھے۔ اس کے بعد پھر حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ بھی یہ دلائل آگئے تھے جو پاکیزہ صحیفے پڑھتے ہیں اور انکے سامنے ایسے عقائد پیش کرتے ہیں جو واضح ، سادہ اور آسان ہے لہٰذا صحیح راستہ واضح ہوگیا اور جو لوگ کڑر کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ ان کا انجام بھی واضح ہوگیا۔
البينة 98:6
حضرت محمد ﷺ آخری رسول ہیں اور جو دین لے کر آئے ہیں وہ آخری دین ہے اس سے قبل یوں تھا کہ جب بھی انسانیت گمراہ ہوتی اور راستے سے ہٹ جاتی اللہ رسول بھیج دیتا ، یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا اور لوگوں کو وقفے وقفے سے مہلت ملتی رہی کہ لوگ اپنی اصلاح کرلیں لیکن اللہ کی مشیت کا تقضا یہ ہوا کہ ایک جامع ، مانع اور مکمل دین بھیج کر رسولوں کے اس سلسلے کو ختم کردے۔ یہ آخری مہلت ہے ۔ لوگ اس آخری دین کو قبول کرکے نجات پالیں گے یا انکار کرکے ہلاک وبرباد ہوجائیں گے۔ اس لئے کہ کفر اور شرک شر کے قائم مقام اور شر کی علامت بن جاتی ہے اور شر کی کوئی حد نہیں ہوتی اور ایمان خیر کا قائم مقام ہوجاتا ہے۔ اور ایمان کے نتیجے میں خیر اپنی انتہاﺅں تک پہنچ جاتا ہے۔
ان الذین ........................................ البریة (6:98) ” اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ یقینا جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ، یہ لوگ بدترین خلائق ہیں “۔ یہ ایک قطعی حکم ہے اور اس میں کوئی جدل وجدال نہیں ہے۔ اگرچہ اہل کتاب اور مشرکین کے بعض اعمال اچھے ہوں ، بعض آداب خوب ہوں اور بعض تنظیمات مفید ہوں ۔ جب تک ان لوگوں کو حقیقت ایمان حاصل نہیں ہوتی۔ اور وہ اس آخری دین اور آخری نبی پر ایمان نہیں لاتے۔ اس اٹل حکم میں ہم محض لوگوں کے بعض ظاہری اچھے اعمال کی وجہ سے شک نہیں کرسکتے اس لئے کہ کفار کے اعمال دراصل نیکی اور بھلائی کے اصل سرچشمے سے دور ہوتے ہیں۔ اور وہ ایک مضبوط اور درست نظام زندگی کا حصہ نہیں ہوتے۔
ان الذین ................................ خیر البریة (7:98) ” جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ، وہ یقینا بہترین خلائق ہیں “۔ یہ بھی ایک قطعی حکم ہے جس میں کسی قیل وقال کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی شرط بھی واضح ، صاف اور اٹل ہے۔ یعنی یہ کہ جو ” ایمان “ لے آئیں۔ یہ نہ ہو کہ وہ کسی ایسی سرزمین میں پیدا ہوئے ہوں جو مسلمان سر زمین ہونے کی مدعی ہو ، یا کسی ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے ہوں جس کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ مسلمان گھرانا ہے یا محض یہ کہ کوئی چند کلمات ادا کرتا ہو ، نہیں بلکہ ایسا ایمان جو زندگی کے اندر عملاً نمودار ہوتا ہو۔
وعملوا الصلحت ” اور انہوں نے نیک کام کیے “۔ اور ان کا ایمان اور اقرار ایمان محض الفاظ اور کلمات ہی نہ ہوں ، جو صرف ہونٹوں پر ہوتے ہیں ، صالحات وہ افعال ہیں جن کے کرنے کا اللہ نے حکم دیاہو ، جن میں اخلاق بھی ہوں ، اعمال بھی ہوں اور طرز عمل اور معاملات بھی ہوں اور اعمال میں سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ اللہ کی شریعت کو زمین پر قائم کیا جائے اور لوگوں کے درمیان فیصلے اللہ کی شریعت کے مطابق ہوں۔ جو لوگ یہ کام کریں وہ ہیں بہترین خلائق۔
البينة 98:7
حضرت محمد ﷺ آخری رسول ہیں اور جو دین لے کر آئے ہیں وہ آخری دین ہے اس سے قبل یوں تھا کہ جب بھی انسانیت گمراہ ہوتی اور راستے سے ہٹ جاتی اللہ رسول بھیج دیتا ، یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا اور لوگوں کو وقفے وقفے سے مہلت ملتی رہی کہ لوگ اپنی اصلاح کرلیں لیکن اللہ کی مشیت کا تقضا یہ ہوا کہ ایک جامع ، مانع اور مکمل دین بھیج کر رسولوں کے اس سلسلے کو ختم کردے۔ یہ آخری مہلت ہے ۔ لوگ اس آخری دین کو قبول کرکے نجات پالیں گے یا انکار کرکے ہلاک وبرباد ہوجائیں گے۔ اس لئے کہ کفر اور شرک شر کے قائم مقام اور شر کی علامت بن جاتی ہے اور شر کی کوئی حد نہیں ہوتی اور ایمان خیر کا قائم مقام ہوجاتا ہے۔ اور ایمان کے نتیجے میں خیر اپنی انتہاﺅں تک پہنچ جاتا ہے۔
ان الذین ........................................ البریة (6:98) ” اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ یقینا جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ، یہ لوگ بدترین خلائق ہیں “۔ یہ ایک قطعی حکم ہے اور اس میں کوئی جدل وجدال نہیں ہے۔ اگرچہ اہل کتاب اور مشرکین کے بعض اعمال اچھے ہوں ، بعض آداب خوب ہوں اور بعض تنظیمات مفید ہوں ۔ جب تک ان لوگوں کو حقیقت ایمان حاصل نہیں ہوتی۔ اور وہ اس آخری دین اور آخری نبی پر ایمان نہیں لاتے۔ اس اٹل حکم میں ہم محض لوگوں کے بعض ظاہری اچھے اعمال کی وجہ سے شک نہیں کرسکتے اس لئے کہ کفار کے اعمال دراصل نیکی اور بھلائی کے اصل سرچشمے سے دور ہوتے ہیں۔ اور وہ ایک مضبوط اور درست نظام زندگی کا حصہ نہیں ہوتے۔
ان الذین ................................ خیر البریة (7:98) ” جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ، وہ یقینا بہترین خلائق ہیں “۔ یہ بھی ایک قطعی حکم ہے جس میں کسی قیل وقال کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی شرط بھی واضح ، صاف اور اٹل ہے۔ یعنی یہ کہ جو ” ایمان “ لے آئیں۔ یہ نہ ہو کہ وہ کسی ایسی سرزمین میں پیدا ہوئے ہوں جو مسلمان سر زمین ہونے کی مدعی ہو ، یا کسی ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے ہوں جس کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ مسلمان گھرانا ہے یا محض یہ کہ کوئی چند کلمات ادا کرتا ہو ، نہیں بلکہ ایسا ایمان جو زندگی کے اندر عملاً نمودار ہوتا ہو۔
وعملوا الصلحت ” اور انہوں نے نیک کام کیے “۔ اور ان کا ایمان اور اقرار ایمان محض الفاظ اور کلمات ہی نہ ہوں ، جو صرف ہونٹوں پر ہوتے ہیں ، صالحات وہ افعال ہیں جن کے کرنے کا اللہ نے حکم دیاہو ، جن میں اخلاق بھی ہوں ، اعمال بھی ہوں اور طرز عمل اور معاملات بھی ہوں اور اعمال میں سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ اللہ کی شریعت کو زمین پر قائم کیا جائے اور لوگوں کے درمیان فیصلے اللہ کی شریعت کے مطابق ہوں۔ جو لوگ یہ کام کریں وہ ہیں بہترین خلائق۔
البينة 98:8
جزاءھم ................................ ابدا (8:98) ” ان کی جزا ان کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے “۔ ایسے باغات جن کی نعمتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں مکمل امن ہوگا ۔ اور ان کے فنا ہونے اور رک جانے کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔ فنا ہونے اور امن و اطمینان کا ختم ہوجانا دنیا کی تمام سہولیات اور طیبات کا مزہ خراب کردیتا ہے اور ان تروتازہ باغوں کے نیچے نہروں کا بہنا ، اس طرف اشارہ ہے کہ ان باغات میں تازگی اور بہار دائمی ہوگی اور یہ زندگی اور جمال سے بھرپور ہوں گے۔
اس دائمی نعمت و رحمت کی تصویر کسی میں سیاق کلام دوقدم اور آگے جاتا ہے۔
ؓ ............................ ربہ (8:98) ” اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے “۔ یہ رضامندی اللہ کی جانب سے ہے او یہ تمام نعمتوں سے برتر اور تمام خوشیوں سے تروتازہ ہے۔ خود ان اہل ایمان کے دلوں میں جو رضامندی ہے وہ رب کی رضامندی ہے۔ اور یہ رضامندی ہے کہ ان کے بارے میں تقدیر الٰہی جو فیصلہ کرتی ہے وہ اس پر راضی ہیں۔ اور اللہ نے ان پر جو انعامات کیے ہیں اس پر بھی وہ راضی ہیں اور اپنے اور اللہ کے درمیان پائے جانے والے تعلق پر بھی راضی ہیں۔ یہ ایسی رضامندی ہے کہ اس سے انسان گہری خوشی اور مسرت و اطمینان محسوس کرتا ہے۔ یہ انداز کہ ” اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں “۔ ایک ایسا انداز ہے جس کی تعبیر کیسی دوسرے الفاظ میں نہیں جاسکتی۔
ذلک لمن خشی ربہ (8:98) ” یہ کچھ ہے اس شخص کے لئے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو “۔ یہ آخری تاکید ہے ، یہ کہ یہ سب کچھ اس پر موقوف ہے کہ کسی کا تعلق باللہ کیسا ہے۔ اور اس تعلق کی نوعیت کیسی ہے۔ یاد رہے کہ کسی دل میں جب خدا کے خوف کا شعور پیدا ہوتا ہے تو یہ شعور انسان کو نیکی پر آمادہ کرتا ہے اور ہر قسم کی کج روی سے انسان کو روکتا ہے۔ یہی شعور ہے جو انسان کی آنکھوں کے سامنے سے تمام پردے ہٹا دیتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ واحدوقہار کے سامنے براہ راست کھڑا ہوتا ہے ، اور اس شعور کی وجہ سے انسان کی عبادت اور اس کے اعمال صالح ہر قسم کی شرک ، ریاکاری سے پاک ہوجاتا ہیں۔ اس لئے کہ جو شخص اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ اس کا دل غیر اللہ کے ڈر سے خالی ہوجاتا ہے ، کسی دوسرے کی رو رعایت وہ نہیں کرتا۔ یہ شعور انسان کو یہ یقین دلا دیتا ہے کہ اللہ تمام ایسے اعمال کو رد کردیتا ہے جن میں اس کی رضامندی کے سوا کوئی اور جذبہ بھی ہو ، اللہ غنی بادشاہ ہے ، اس کے لئے تو خالص عمل ہوگا ورنہ وہ اسے رد کردے گا۔
اسی مختصر سی سورت میں یہ چار عظیم حقائق قلم بند کیئے گئے ہیں اور قرآن نے ان حقائق کو اپنے مخصوص اسلوب میں بیان کیا ہے اور یہ اسلوب ان چند سطروں والی سورت میں بہت اچھی طرح نمایاں ہے۔