Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الأعلى 87:1 – الفجر 89:30

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الأعلى 87:1
  2. الأعلى 87:2
  3. الأعلى 87:3
  4. الأعلى 87:4
  5. الأعلى 87:5
  6. الأعلى 87:6
  7. الأعلى 87:7
  8. الأعلى 87:8
  9. الأعلى 87:9
  10. الأعلى 87:10
  11. الأعلى 87:11
  12. الأعلى 87:12
  13. الأعلى 87:13
  14. الأعلى 87:14
  15. الأعلى 87:15
  16. الأعلى 87:16
  17. الأعلى 87:17
  18. الأعلى 87:18
  19. الأعلى 87:19
  20. الغاشية 88:1
  21. الغاشية 88:2
  22. الغاشية 88:3
  23. الغاشية 88:4
  24. الغاشية 88:5
  25. الغاشية 88:6
  26. الغاشية 88:7
  27. الغاشية 88:8
  28. الغاشية 88:9
  29. الغاشية 88:10
  30. الغاشية 88:11
  31. الغاشية 88:12
  32. الغاشية 88:13
  33. الغاشية 88:14
  34. الغاشية 88:15
  35. الغاشية 88:16
  36. الغاشية 88:17
  37. الغاشية 88:18
  38. الغاشية 88:19
  39. الغاشية 88:20
  40. الغاشية 88:21
  41. الغاشية 88:22
  42. الغاشية 88:23
  43. الغاشية 88:24
  44. الغاشية 88:25
  45. الغاشية 88:26
  46. الفجر 89:1
  47. الفجر 89:2
  48. الفجر 89:3
  49. الفجر 89:4
  50. الفجر 89:5
  51. الفجر 89:6
  52. الفجر 89:7
  53. الفجر 89:8
  54. الفجر 89:9
  55. الفجر 89:10
  56. الفجر 89:11
  57. الفجر 89:12
  58. الفجر 89:13
  59. الفجر 89:14
  60. الفجر 89:15
  61. الفجر 89:16
  62. الفجر 89:17
  63. الفجر 89:18
  64. الفجر 89:19
  65. الفجر 89:20
  66. الفجر 89:21
  67. الفجر 89:22
  68. الفجر 89:23
  69. الفجر 89:24
  70. الفجر 89:25
  71. الفجر 89:26
  72. الفجر 89:27
  73. الفجر 89:28
  74. الفجر 89:29
  75. الفجر 89:30

الأعلى 87:1

سبح اسم ..................... احوی سورت کا آغاز نہایت ہی نرم اور نہایت لمبے آہنگ سے ہوتا ہے ، اس لمبے ٹون کے ذریعہ فضا میں تسبیح کی خوشگوار اور خوشبودار آواز بکھیر دی گئی ہے۔ اس کے بعد پھر تسبیح کا حکم اور پھر وہ صفات جن کو تسبیح کے بعد لایا گیا ہے۔ سبح اسم……………. احوی (1:87 تا 5) ”(اے نبی ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی ، جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “۔ تاکہ اس تسبیح کے ذریعہ اس پوری کائنات کے اطراف واکناف میں تسبیح کی یہ آوازگونجاٹھے اور پوری کائنات ایک معبد نظر آئے اور ایک عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ پوری کائنات صانع قدرت کی مصنوعات کی نمائش گاہ بھی بن جائے۔ الذی…………فھدی (3:87) ” جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بناکر اسے ہدایت بخشی “۔ تسبیح کے کیا معنی ہیں ۔ اللہ کی برتری ذہن میں بسانا ، اللہ کو ہر عیب سے پاک سمجھنا اور ذہن میں اللہ کی صفات حسنی کا استحضار اور ان چیزوں کی روشنی ، چمک اور نورانیت سے اپنے ذوق ووجدان اور قلب و شعور کو روشن رکھا ، نام ہے تسبیح کا۔ محض زبان سے سبحان اللہ جپنے کو تسبیح نہیں کہتے۔ سبح……………. الاعلیٰ (1:87) ” اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو “۔ یہ الفاظ انسانی وجدان اور شعور پر ایک حالت طاری کردیتے ہیں۔ یہ وجدانی حالت ایسی ہوتی ہے جس کا اظہار الفاظ کے اندر ممکن نہیں ہے۔ یہ تو ایک وجدانی اور ذوقی چیز ہے اور ایک ایسی زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کا تعلق کچھ معانی اور کچھ صفات کے استحضار سے ہے نہ کہ کچھ الفاظ رٹنے سے۔ یہ معانی وصفات کیا ہیں ؟ پہلی صفت ، صفت ربوبیت ہے۔ اور دوسری صفت اعلیٰ ہے ۔ رب کے معنی مربی ، نگران اور پالنے والے کے ہیں۔ ان صفات کے سائے اور پرتو اس سورت کی فضا اور اس کے اندر بیان کی جانے والی خوشخبریوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ، خصوصاً اس کے نرم انداز کے ساتھ۔ صفت اعلیٰ پردہ شعور پر ایسی تصاویر لاتی ہے جن سے علو ، برتری اور غیر متناہی اور غیر محدود وآفاق کا اظہار ہوتا ہے۔ انسانی روح دور تک تسبیحات کرتی ہے اور اس تصور علو سے تسبیح میں پاکی اور عظمت کے ساتھ مناسبت پیدا ہوتی ہے اور تسبیح اپنے بنیادی عناصر کے اعتبار سے تصور علو رب کا نام ہے۔ ابتدائی خطاب ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہے ، اور یہ براہ راست اللہ کی طرف سے آپ کو خطاب ہے۔ حضور اکرم ﷺ جب اس حکم ربی کو پڑھتے تھے۔ سبح ” پاکی بیان کرو “ تو اگلی آیات پڑھنے سے پہلے آپ اس حکم پر عمل کرلیتے اور آپ فرماتے : سبحان ربی الاعلیٰ ” میں اپنے رب اعلیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں “۔ یوں حکم اور جواب حکم یا تعمیل حکم ہوجاتا ۔ امر کی اطاعت ہوجاتی اور اللہ کے ساتھ مناجات اور سوال و جواب ہوجاتا۔ کیونکہ حضور رب کے سامنے کھڑے ہوتے۔ براہ راست یہ کلام رب تعالیٰ سے لے رہے ہوتے تھے اور اس اتصال اور قرب کی حالت میں جواب دے دیتے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور اکرم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ یہ تسبیح سجدے میں پڑھا کرو۔ (اجعلوانی سجودکم) اور اس سے قبل جب یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ فسبح……………. العظیم ” اپنے رب عظیم کے نام کا تسبیح کرو “۔ تو آپ نے حکم دیا کہ اس کو رکوع میں پڑھو چناچہ رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑھنا شروع کیا گیا۔ پس رکوع و سجود کی یہ تسبیح ایک زندہ تسبیح ہے ، محض مردہ کلمات نہیں ، جس طرح ایک زندہ چیز کا جسم حیات اور زندگی سے گرم ہوتا ہے ایسی ہی تسبیح نماز میں مطلوب ہے تاکہ اس تسبیح سے براہ راست حکم خداوندی کی تعمیل ہوجائے یا بالفاظ دیگر اجازت خداوندی کی تعمیل ہو ، کیونکہ اللہ کا اپنے بندوں کو یہ اجازت دینا کہ اس کی حمدوثنا کرو ، یہ بھی اللہ کا فضل وکرم ہے۔ کیونکہ اس طرح انسان کو یہ اجازت ملتی ہے کہ وہ اپنے حد تصور کے مطابق اللہ کے قریب ہوجائے۔ کیونکہ انسان اللہ کی ثنا اللہ کی ذات وصفات میں اپنے محدود تصور کے مطابق ہی کرسکتا ہے۔ اور یہ اللہ کے فضل وکرم کی ایک شکل ہے کہ اللہ اپنی ذات کی معرفت اپنے بندوں کو اپنی صفات کے ذریعہ کرواتا ہے۔ ایسی حدود میں کہ جن کے اندر وہ اللہ کی معرفت کا تصور کرسکتے ہیں۔ اللہ اپنی ذات تک پہنچنے کے لئے اپنے بندوں کو جس شکل و صورت میں بھی اجازت دیتا ہے ، یہ ان پر فضل وکرم کی ایک صورت ہوتی ہے۔ سبح اسم……………. فھدی (1:87 تا 3) ” اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو ، جس نے پیدا کیا ، اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی ، پھر راہ دکھائی “۔ یعنی ہر چیز کو پیدا کیا اور نہایت مناسب شکل میں پیدا کیا اور اس تخلیق کے ہر پہلو کو کامل بنایا۔ اس حد تک کامل کہ کوئی اس میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کی فلاں چیز اس کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اللہ نے تقدیریوں بنائی کہ ہر چیز کے لئے اس کا فرض منصبی مقرر کردیا اور اس کا مقصد تخلیق اور اس مقصد کو پورا کرنے کا طریقہ بھی اسے سمجھا دیا۔ ہر چیز کو عجیب الہامی انداز میں یہ تعلیم دی گئی۔ ہر چیز کو یہ شعور بھی بذریعہ الہام دے دیا کہ اس کی مقررہ زندگی کے لئے اس کو کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے اور اس کائنات کی جس چیز کا تجزیہ کیا جائے اس کے اندر یہ حقیقت موجود ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات کی ہر چیز میں ، خواہ بڑی ہو یا چھوٹی ہو ، اہم ہو یا حقیر ہو ، ہر چیز کی تخلیق میں تسویہ اور تناسب موجود ہے۔ ہر چیز کامل الخلقت ہے اور ہر چیز کی تخلیق کا ایک مقصد ہے اور وہ مقصد اس کی تقدیر ہے ، اور ہر چیز کو اللہ نے اپنا مقصد وجودپورا کرنے کے لئے نہایت ہی آسان طریقہ کار فراہم کردیا ہے۔ غرض اللہ کی ہر مخلوق مکمل اور متناسب ہے۔ اور ہر چیز اپنا انفرادی فریضہ ادا کرتی ہے۔ مثلاً ایٹم ایک اکیلا ایٹم ، پر ٹون اور الیکٹرون کی برقی رفتار کے اندر اسی قدر توازن رکھتا ہے جس طرح ایک کہکشاں اپنے سورج اور اس کے تابع ستاروں کے درمیان توازن رکھتی ہے۔ ایک ایٹم اپنے مقصد اور فریضے کو اسی طرح پورا کرتا ہے جس طرح ایک کہکشاں پورا کرتی ہے۔ دونوں کو انپا مقصد اور طریقہ حصول مقصد معلوم ہوتا ہے۔ ایک منفرد خلیہ ایک مکمل تخلیق ہے۔ اور اس کے اندر اپنا مقصد تخلیق پورا کرنے کی پوری استعداد ہوتی ہے اور وہ اپنا مقصد اسی طرح پورا کرتا ہے جس طرح کوئی اعلیٰ مرکب اور پیچیدہ مخلوق کرتی ہے۔ پھر ایک منفرد ایٹم اور کسی کہکشاں کے درمیانی درجات پر الگ الگ مخلوق ہے۔ جس طرح ایک منفرد خلیہ اور پیچیدہ ترین مخلوقات کے درمیان زندہ مخلوقات کے مختلف درجے اور ان کی تنظیم ہے۔ اور ہر درجے اور ہر تنظیم کی تخلیق میں کمال اور تسویہ ہے اور ہر ایک کے لئے انفرادی فرائض اور اجتماعی مقاصد ہیں۔ دست قدرت الہامی طریقے سے ان سے یہ کام کراتا ہے اور اس گہری حقیقت یعنی تخلیق وتسویہ کا یہ کام پوری کائنات پر شاہد عادل ہے۔ اس حقیقت کو انسانی قلب پاسکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کائنات کے اشارات اخذ کرنے کے لئے تیار ہو اور کھلے دل سے وہ اس کائنات کی موجودات پر غور کرے۔ انسان کا اکتسابی علم جس درجے کا بھی ہو اور وہ ترقی یافتہ معاشرے کافرد ہو یا پسماندہ معاشرے کا فرد ہو وہ کائنات کی ان اشیاء سے یہ الہامی اشارات اخذ کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کے دل و دماغ کے دریچے بھی ان اشارات کو پانے کے لئے تیار ہوں اور کھلے ہوں اور کسی عقل وخرد کے تار اس قابل ہوں کہ وہ مضراب حقیقت کے جواب میں نغمہ بار ہوسکیں۔ اس کے بعد کائنات کا مشاہدہ اور کسی علم آتے ہیں اور انسان مطالعہ فطرت میں پہلی نظر سے جو الہام پاتا ہے ، تمام مشاہدات اس کی تائید کرتے ہیں ، بعض لوگوں نے مشاہدہ کائنات کے ذریعہ ایسے اشارات جمع کیے ہیں جو اس کائنات کے اندر پوشیدہ مجموعی حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ نیویارک کی سائنسی علوم کی اکیڈمی کے صدر کریسی موریسن اپنی کتاب ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “ میں اپنے مشاہدات یوں قلم بند کرتے ہیں۔ ” پرندوں میں وطن لوٹنے کا ایک ملکہ ہوتا ہے ، ایک خاص چڑیا جو دروازوں پر گھونسلے بناتی ہے ، خزاں کے موسم میں جنوب کی طرف ہجرت کرجاتی ہے اور اگلے سال بہار میں اپنے اسی مقام کی طرف لوٹ آتی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں امریکہ کے اکثر پرندے جنوب کی طرف جاتے ہیں اور وہ سمندروں اور صحراﺅں پر سے پرواز کرتے ہوئے ہزاروں میل سفر کرتے ہیں اور کبھی اپنا راستہ نہیں بھولتے۔ اور پیغام رساں کبوتر پنجرے میں طویل سفر کرتے ہیں اور جب ان کو پیغام کر چھوڑا جاتا ہے تو وہ کچھ دیر کے لئے حیران ہوکر چکر لگاتے ہیں اور اس کے بعد وہ سیدھے اپنے وطن کی طرف پرواز کرتے ہیں اور کبھی راہ نہیں بھٹکتے ۔ شہد کی مکھی اگر کسی طرف جائے اور اس کے پیچھے نشانات راہ کسی طوفان کی وجہ سے مٹ جائیں تو بھی وہ راہ نہیں بھولتی اور سیدھی چھتے پر آجاتی ہے۔ البتہ انسان کے اندر یہ جبلت کمزور ہے اور انسان اس کمی کو اپنے آلات اور عقل کے ذریعہ پوری کردیتا ہے۔ باریک کیڑے مکوڑے بھی نہایت ہی چھوٹی اور خوردبینی آنکھیں رکھتے ہیں اور یہ نہایت ہی مکمل آنکھیں ہوتی ہیں۔ باز اور عقاب وغیرہ کی آنکھیں دور بین کی طرح ہوتی ہیں ، انسانی آنکھ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس کمی کو بھی انسانی عقل و تجربہ نے پورا کیا ہے۔ چناچہ ان دوربینوں کے ذریعہ انسانسحابیوں کو دیکھ لیتا ہے اور اس نے ان کو دیکھنے کے لئے انسانی نظر کو بیس لاکھ گنا تیز کیا۔ نیز انسان نے ایسی خورد بینیں ایجاد کیں جن کے ذریعے وہ بیکٹریا اور دوسرے نہ نظر آنے والے کیڑے مکوڑے دیکھتا ہے۔ اب ذرا تم اپنے بوڑھے گھوڑے کو راستہ پر چھوڑدو۔ جس قدر اندھیرا بھی ہو وہ راستہ نہ بھولے گا۔ وہ سخت تاریکی میں بھی دیکھ سکتا ہے اگرچہ بہت واضح نہ سہی۔ وہ راستہ میں اور اس کے دونوں جانب درجہ حرارت کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ یہ درجہ حرارت اس کی آنکھیں انفراریڈ شعاعوں کے ذریعہ معلوم کرلیتی ہیں۔ الو ایک گرم چوہے کو سردگھاس کے نیچے چلتا پھرتا دیکھ لیتا ہے اگرچہ سخت اندھیرا ہو اور انسانوں نے تو بجلی کے قمقموں کے ذریعہ تاریک رات کو دن بنادیا ہے “۔ ” شہد کی مکھیوں کی دنیا بھی عجیب ہے۔ کارکن مکھیاں چھتے میں مختلف قسم کے کمرے بناتی ہیں۔ یہ تربیت کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ چھوٹے کمرے کارکنوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور بڑے کمرے مردوں کے لئے اور ملکہ کے لئے خاص کمرے تیار ہوتے ہیں۔ یہ ملکہ مجھی جب غیر بار آورانڈہ دیتی ہے تو اسے مردوں کے کمرے میں رکھ دیتی ہے اور جب بار آور انڈہ دیتی ہے تو اسے اس کمرے میں رکھ دیتی ہے جس میں مونث کارکن مکھیاں ہوتی ہیں جو آگے جاکر ملکہ مکھی بننے والی ہوتی ہیں اور وہ کارکن مکھیاں جو مزدور ہوتی ہیں جب وہ ایک طویل عرصہ تک نسل تیار کرنے کا کام کرلیتی ہی تو ان کو بدل دیا جاتا ہے۔ یہ کارکن مکھیاں بچوں کے لئے غذا تیار کرنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ یہ شہد اور پھولوں کو چبا کر ہضم کے قابل بناتی ہیں اور بچوں کے اندر نر اور مادے کا ظہور ہوجاتا ہے تو پھر یہ مذکورہ بالا طریقے سے غذاہضم کے لئے تیار کرنے کا عمل ترک کردیتی ہیں۔ اس کے بعد ان کو شہد اور پھولوں کا بور دیا جاتا ہے اور بچوں میں سے جو مونث اس طریقے سے تربیت پاتی ہیں وہ بعد میں کارکن مکھیاں بن جاتی ہیں “۔ جو مونث مکھیاں ملکہ مکھیوں کے حجروں میں ہوتی ہیں ، تو ان کو شہد اور پھولوں کے بورے کو ابتدائی طور پر قابل ہضم بناکر غذا دینے کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے ، اور جن مونث مکھیوں سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے بعد میں وہ ملکہ مکھن بن جاتی ہیں۔ صرف یہ ملکہ ہی ایسے انڈے دیتی ہیں جو پار آور ہوتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے مطابق جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان کے لئے خاص قسم کے حجروں ، ایک خاص قسم کے انڈوں اور ایک خاص قسم کی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور غذا کے اندر تبدیلی کا اثر بھی عجیب ہوتا ہے۔ اس قسم ٹیکنالوجی کے لئے مکھیوں کو ایک طویل عرصہ تک انتظار کی ضرورت پڑی ہوگی جنہوں نے ان اصولوں کے اندرتمیز کرکے ان کو نافذ کیا ہوگا اور غذا کے اثرات معلوم کیے ہوں گے۔ اور ان اثرات معلوم کیے ہوں گے۔ اور ان اثرات کو اجتماعی طور پر نافذ کیا ہوگا جو ان کے وجود کے لئے ضروری ہوگا۔ مکھیوں نے جب اجتماعی زندگی کا آغاز کیا ہوگا تب ان کو یہ اصول معلوم ہوئے ہیں گے ، کیونکہ مکھی کے وجود اور زندگی کی بقا کے لئے ان اصولوں کی دریافت ضروری نہ تھی۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ شہد کی مکھی نے غذا کے اثرات کے سلسلے میں انسان سے زیادہ تحقیق کی ہے “۔ (مغربی فکر میں ڈوبا ہوا مصنف یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اللہ نے جب مکھی کو پیدا کیا تو یہ سب کچھ سکھا دیا۔ ان کے دماغوں پر ڈارون کا فلسفہ ارتقاء ہی بیٹھا ہوا ہے حالانکہ قرآن صاف کہتا ہے وعلم آدم الاسماء کلھا ” اللہ نے آدم کو تمام نام سکھادیئے “ اسی طرح اللہ نے مکھی کو بھی تمام بنیادی تعلیم دے دی تھی (مترجم) ۔ ” کتے کو ایک اضافی ناک دی گئی ہے جس کے ذریعہ وہ تمام جانوروں کی بوسونگھ لیتا ہے جو کسی راستے سے گزرے ہوں ، انسان کی قوت شامہ کتوں کے مقابلے میں کمزور ہے اور آج تک انسان نے کوئی ایسا آلہ بھی ایجاد نہیں کیا جو اس کی قوت شامہ کو ترقی دے ، لیکن ہماری یہ کمزور قوت شامہ بھی اس قدر چھوٹے ذرات کو محسوس کرلیتی ہے جیسے مائیکروسکوپ کے ذریعہ ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ اکثر حیوانات ایسی آوازیں سن لیتے ہیں جو ہمارے کانوں کے پردوں کے اندر ارتعاش پیدا نہیں کرسکتے ، کیونکہ یہ ہماری سماعت کی حد سے بہت ہی دقیق اور باریک ہوتے ہیں۔ انسان نے ایسے آلات ایجاد کرلیے ہیں کہ وہ کئی میل دور اڑنے والی مکھی کے پروں کی آواز بھی سن لے ، اس طرح کہ گویا وہ اس کے کان کے پردے کے اوپر بیٹھی ہے۔ ایسے ہی آلات کے ذریعہ سورج کی شعاعوں کی رفتار کی آواز بھی ریکارڈ کی جارہی ہے “۔ ” پانی کی مکڑیوں کی ایک قسم ایسی ہے جو پانی کے اندر غبارے کی طرح ایک گھونسلہ تیار کرتی ہے ، یہ تار عنکبوت سے بنایا جاتا ہے اور اسے پانی کے نیچے کسی چیز سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعدیہ مکڑی اپنے جسم کے بالوں کے ساتھ پانی کا ایک بلبلہ باندھتی ہے اور اسے لے جاکر اس گھونسلے سے باندھ دیتی ہے یہاں تک کہ گھونسلے کے گرد ہوا کے بلبلوں کا حصار بن جاتا ہے ، اس کے بعد وہ گھونسلے کے اندر بچے دیتی ہے کہ وہ ہوا کے طوفان سے محفوظ رہیں۔ اس گھونسلے کی ساخت میں ایک تو باریک بننے کا عمل ہے ، اس کے بعد دقیق انجینئرنگ اور ہوا بازی کا گہرا ادراک ہے “۔ ” سالمن مچھلی ، جو چھوٹی سی ہوتی ہے اور سمندر میں کئی سال تک گھومتی پھرتی ہے ، اس کے بعد وہ اس دریا کی طرف واپس ہوتی ہے جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔ آخر وہ کیا قوت ہے جو اسے اس کی جائے پیدائش تک رہنمائی کرتی ہے۔ یہ جب اپنی جائے پیدائش کی طرف بڑھتے ہوئے کسی غلط دریا کی طرف چلی جائے تو اسے فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ دریا اس کی جائے پیدائش نہیں ہے۔ چناچہ وہ دریا میں چلتی ہے اور پانی کے بہاﺅ کے بالمقابل چل کر اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔ پانی کے سانپوں کا معاملہ تو بہت ہی عجیب ہے۔ ان کا قصہ سالمن مچھلی کے برعکس ہے۔ اس مخلوق خدا کی عمر جب پوری ہوتی ہے تو یہ مختلف تالابوں اور دریاﺅں سے سفر کرکے گہرے سمندروں کی طرف جاتے ہیں۔ اگر یورپ میں ہوں تو یہ ہزاروں میل کا سفر طے کرکے جنوبی برمودا کی گہرائیوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ وہاں پھر یہ انڈے دے کر مرجاتے ہیں ، اب ان کے جو بچے پیدا ہوجاتے ہیں تو وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ نہایت گہرے پانیوں میں ہیں ، لیکن یہ بچے اسی راستے سے ساحل کی طرف جاتے ہیں جس طرح ان کی ماں ساحل سے پانی کی طرف آئی تھی اور ساحل سے پھر یہ کسی دریا ، یا نہر یا حوض اور تالاب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ چناچہ پانیوں کی ہر قسم بحری سانپوں کے لئے موزوں ہوتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے بڑی بڑی موجیں ، طوفان اور سمندری تلاطم دیکھے ہوئے ہیں اور ان کا مقابلہ کیا ہوا ہوتا ہے ۔ یہ ساحلوں پر چلتے ہیں اور جب یہ مکمل ہوجاتے ہیں تو کوئی خفیہ قانون ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پھر واپسی کا سفر کریں اور گہرے سمندروں میں چلے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ جذبہ ان کے اندر کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی شکاری یا مچھیرے نے یورپی سمندروں میں امریکی بحری سانپ پکڑا ہو ، یا کسی امریکی مچھیرے کے جال میں یورپی سانپ آگیا ہو ، یورپی بحری سانپ کو چونکہ گہرے سرندروں تک لمبا سفر کرنا پڑتا ہے اسی لئے قدرت نے اسے ایک سال کی لمبی عمر عطا کی۔ یا اس سے بھی زیادہ تاکہ وہ مرنے سے قبل اپنی منزل مقصود کو پہنچ سکے۔ کیونکہ یورپی بحری سانپ کو امریکی بحری سانپ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ کون سے ایٹم اور کیا سالمے ہیں ؟ جب بحری سانپ مچھلیوں کی شکل میں جمع ہوئے تو ان کے اندر اس قسم کی قوت ارادی پیدا ہوجاتی ہے جو ایسے دور دراز سفر کراتی ہے ؟ ” جب مادہ پروانہ ہوا کے دباﺅ میں تمہارے کسی روشن دان سے اندر آجاتا ہے تو وہ اپنے نر کو ایک سگنل بھیجتی ہے ، چاہے وہ جتنا بھی دور ہو۔ بعض اوقات وہ بہت دور ہوتا ہے۔ وہ اس اشارے کو وصول کرلیتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ اس کو گمراہ کرنے کی انسان جس قدر کوشش بھی کرے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ غلطی کرے۔ کیا ان کے پاس کوئی ریڈیو اسٹیشن ہے یا اس مرد کے پاس کوئی ریڈیو یا مشین ہے جو اس سے سگنل وصول کرتا ہے۔ ایریل کا ہونا تو بڑی بات ہے کیا اس کے پاس کوئی ایتھر ہے جس کے ذریعہ وہ ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ ٹیلی فون اور ریڈیو ہمارے پاس سریع الحرکت مواصلاتی آلات ہیں لیکن یہ تاروں کے ذریعے ایک جگہ کو دوسری جگہ سے منسلک کرتے ہیں۔ اس طرح تو یہ پروانہ ہم پر فوقیت رکھتا ہے “۔ نباتات اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے کئی چیزوں سے خدمت لیتے ہیں ، بغیر ان کے علم و ارادہ کے۔ مثلاً حشرات پھولوں کا بورا ان کے لئے منتقل کرتے ہی ، ہوا یہی کام کرتی ہے ، وحوش وطیور بھی یہی کام کرتے اور ان کا بورا اور بیج بکھیرتے ہیں۔ سب سے آخر میں ان نباتات نے انسان کو بھی اپنے جال میں پھانس لیا۔ اس نے فطرت کو حسن بخشا اور فطرت نے اسے اس کا اجردیا۔ لیکن انسان بھی تو کسی حد پر رکنے والا نہیں۔ ھل من مزید کا قائل ہے۔ اس نے ہل چلایا ، بیج بویا ، فصل کاٹی ، انبار بھرے ، پھر اس نے فصلوں کو ترقی دی ، شاخ تراشی کی اور خوراک کا بندوبست کیا۔ اگر وہ یہ کام چھوڑ دے تو بھوک سے مرجائے اور دنیا سے تہذیب و تمدن کا خاتمہ ہوجائے اور انسانیت پتھر کے دور میں واپس چلی جائے۔ “ پانی کے بیشمار جانور مثلاً جھینگا مچھلی کا ایک بازو اگر کٹ جائے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے جسم کا ایک حصہ ضائع ہوگیا ہے ، اس کے خلیے اور جینز اس عضو کو دوبارہ بنانا شروع کردیتے ہیں اور جب وہ عضو مکمل ہوجاتا ہے تو خلیے یہ کام بند کردیتے ہیں اور ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کی ڈیوٹی ختم ہے۔ پانی کے وہ کیڑے جن کے کئی پاﺅں ہوتے ہیں ، جب دوٹکڑے ہوجائے تو وہ ان میں سے ایک ٹکڑے کی مدد سے اپنے آپ کو مکمل کرلیتا ہے۔ اگر تم اس کیڑے کا سرکاٹ دو تو وہ دوسرا سر بنالیتا ہے۔ ہم زخموں کو مندمل کرسکتے ہیں لیکن ہمارے سرجن ابھی تک یہ بات نہیں جانتے کہ وہ خلیوں کو متحرک کریں اور وہ ایک نیا بازو بنا ڈالیں یا گوشت پوشت ، ناخن اور اعصاب بنادیں ، اگر ایسا ممکن ہو۔ اور ایک عجوبہ تو یہ ہے کہ اگر کوئی خلیہ ابتدائی ایام ہی میں دو مکمل حصوں میں تقسیم ہوجائے تو اس سے دو مکمل حیوان تیارہوجاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ توام ہم شکل ہوتے ہیں ، اس کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ حمل کے ابتدائی مرحلہ میں خلیہ منقسم ہوگیا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں خلیہ کمل فرد ہوتا ہے۔ اور اسی طرح ایک فرد بھی ہر خلیہ میں ہوتا ہے۔ ایک دوسری فصل میں یہی مصنف لکھتا ہے : شاہ بلوط کا بھورا بیج زمین پر گراتا ہے ، اس کا بھورا چھلکا اسے محفوظ رکھتا ہے ، اور یہ گرتا پڑتا زمین میں کسی دراڑ میں اٹک جاتا ہے۔ موسم بہاں میں اس کے اندر کا جرثومہ جاگتا ہے۔ وہ اس چھلکے کو پھاڑ دیتا ہے اور یہ اس مغز سے خوراک حاصل کرتا ہے جو اس چھلکے کے اندر جمع کردی گئی ہوتی ہے۔ جس کے اندر اس کے موروثی جینز ہوتے ہیں۔ اس کی جڑیں زمین میں جاتی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یہ پودا نمودار ہوتا ہے ، چھوٹا درخت اور پھر کامل درخت بن جاتا ہے۔ اس کے اندر کئی ملین جینز ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اپنی جڑوں ، چھلکے ، پھل اور تنوں اور شاخوں میں بھی اس درخت کے مماثل ہوتا ہے جس سے وہ بیج نکلا۔ کروڑوں سال پہلے جو بلوط کا درخت پیدا ہوا تھا ، اس کے پھل آج تک اپنے ذرات کی ترتیب اس طرح رکھتے ہیں جس طرح پہلے بلوط کے پھل نے رکھا تھا۔ یہی مصنف تیسری فصل میں لکھتا ہے : ” ہر خلیہ جو کسی زندہ مخلوق میں پیدا ہوتا ہے ، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح ڈھالے کہ گوشت کا حصہ ہو یا چمڑے کا حصہ ہو اور فنا ہوجائے ، یا دانت کی چمک بن جائے یا آنکھ کا سیال مادہ بن جائے یا ناک اور کان بن جائے۔ ہر خلیہ اپنے آپ کو ایسی شکل میں ڈھالتا ہے کہ وہ اپنا فرض منصبی پوری طرح ادا کرے۔ یہ بات نہایت ہی مشکل ہے کہ کوئی تعین کرے کہ کون سا خلیہ دائیں ہاتھ ہے یا بائیں ہاتھ کا۔ لیکن ازروئے فطرت یہ بات متعین ہے کہ یہ خلیہ دائیں کان کا ہے اور یہ بائیں کان کا ہے۔ غرض ہزار ہا خلیات چلائے جاتے ہیں کہ وہ ایک صحیح کام کریں ، صحیح وقت پر کریں اور صحیح جگہ پر کریں “۔ چوتھی فصل میں یہ شخص کہتا ہے : ” مختلف قسم کی مخلوقات میں بعض مخلوقات ایسے کام کرتی ہیں جو دانش مندی کے اعلیٰ مرتبہ کے ہیں۔ جن کی کوئی تشریح ہم نہیں کرسکتے۔ مثلاً بھڑ ، ٹڈے کو شکار کرتی ہے ، زمین میں ایک گڑھا کھودتی ہے اور ایک مناسب جگہ اسے دفن کردیتی ہے۔ یہ شکار کرتے وقت اس کے ایسے مخصوص مقام پر ڈنگ مارتی ہے کہ وہ بےہوش ہوجاتا ہے لیکن اس کا گوشت صحیح وسالم زندہ رہتا ہے۔ اب مادہ بھڑ اس کے قریب ایک متعین مقام پر انڈے دیتی ہے۔ اسے شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ جب اس کے بچے پیدا ہوں گے تو اس ٹڈے کا گوشت کھائیں گے۔ لیکن اسے قتل نہ کریں گے کیونکہ یہ گوشت ان کی غذا ہے اور گوشت خراب ہوکر زہریلا بن جائے ۔ لازماً بھڑ نے ابتدا سے یہ کام شروع کیا ہوگا اور ہمیشہ وہ اسے دہراتی ہوگی ورنہ دنیا میں سے بھڑوں کا وجود ہی ختم ہوجاتا۔ سائنس کے پاس ایسی کوئی تشریح نہیں ہے کہ وہ بھڑوں کے اس مسلسل فعل کا سبب بیان کرے اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ یہ کام بھڑیں محض اتفاق سے کرتی ہیں ، کیونکہ مادہ بھڑ تو زمین کے اندر کھودے ہوئے گڑھے کو بھر کر چلی جاتی ہے اور مرجاتی ہے ، نہ وہ اس کے اسلاف یہ جانتے تھے کہ وہ ایسا کیوں کررہی ہے۔ نہ اسے اس کا علم اور مشاہدہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد اس کے بچوں کو کیا پیش آنا ہے بلکہ بھڑ کو تو یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کوئی چیز آنے والی ایسی ہے جسے وہ اپنا بچہ کہتی ہو ، بلکہ اسے یہ تک علم نہیں ہے کہ وہ یہ کام نوع کی حفاظت کے لئے کرتی ہے۔ چیونٹیوں میں سے بعض کی یہ ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ سردیوں کے موسم میں اپنی کالونی کو خوراک مہیا کرنے کے لئے حیوانات جمع کریں۔ پھر وہ ایک سٹور قائم کرتی ہیں جہاں یہ خوراک پیس کر رکھی جاتی ہے۔ پھر بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو قدرت نے پیسنے کی جبڑے دیئے ہوتے ہیں۔ ان کا کام صرف خوراک کو پیسنا ہوتا ہے۔ جب سردیوں کا موسم آتا ہے اور تمام غلہ پیسا جاچکا ہوتا ہے تو اس کی سپلائی یوں ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد کو فائدہ پہنچایا جاسکے تاکہ سپلائی جاری رہ سکے۔ اب چونکہ اگلی نسل میں مزید پیسنے والی چیونٹیاں پیدا ہوں گی۔ اس لئے چیونٹیوں کی فوج ان پیسنے والیوں پر حملہ آور ہوتی ہے اور ان کو قتل کردیتی ہے۔ شاید ان کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے حصے کی خوراک پیسنے کے دوران کھالی ہے کیونکہ انہوں نے اس موپعہ سے ضرور فائدہ اٹھایا ہوگا۔ بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی جبلت یا ان کی عقل ان کو کھانوں کے باغ بنانے پر آمادہ کرتی ہیں اور یہ چیونٹیاں ابتدائی کیڑوں کو اور پودوں کے چھلکوں پر پائے جانے والے کیڑوں کو گرفتار کرلیتی ہیں۔ یہ گویا ان کے لئے گائے اور بکریوں کا کام دیتے ہیں۔ ان کیڑوں سے یہ چیونٹیاں ایسا محلول لیتی ہیں جو شہد کی طرح ہوتا ہے اور یہ چیونٹیوں کی خوراک کا کام دیتا ہے۔ چیونٹیاں بعض دوسری چیونٹیوں کو غلام بھی بنالیتی ہیں ، اور جب یہ اپنے گھونسلے بناتی ہیں تو یہ پتوں کو مناسب حجم میں کاٹتی ہیں۔ جب کارکن چیونٹیاں ان پتوں کو ایک طرف سے پکڑ کر اپنے مقام پر رکھتی ہیں تو اس وقت یہ ان بچوں سے بھی کام لیتی ہیں جو ابھی ارتفائی دور میں ہوتے ہیں لیکن ان کے ریشمی مواد سے یہ پتوں کو جوڑتی ہیں ، یوں یہ بچہ اپنے لئے گھونسلا بنانے سے محروم رہتا ہے لیکن اپنے بنی نوع کے لئے ایک مفید کام کرچکا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس ذروں سے چیونٹی بنتی ہے ان ذروں میں یہ کام کرنے کی صلاحیت کس طرح پیدا ہوجاتی ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ان کا ایک خالق ہے جس نے ان کو اس طرح کرنے کی ہدایت کی “۔ (اقتباسات ختم ہوئے) اس میں شک نہیں ہے کہ ایک خالق ہے جس نے اپنی تمام مخلوقات کو ہدایات دیں ، خواہ وہ بڑی مخلوق ہو یا چھوٹی ہو ، اور یہ وہی خالق ہے جو الاعلیٰ…………فھدی (1:87 تا 3) ” جو برتر ہے ، جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی “۔ ہم نے اوپر جو اقتباسات دیئے ہیں ، یہ تو اصل حقیقت کے ایک معمولی حصے کے مشاہدات ہیں ، جو انسانوں نے نباتات ، حشرات الارض ، پرندوں اور دوسرے حیوانات کے سلسلے میں ریکارڈ کیے ہیں۔ لیکن اس سے آگے علم ومشاہدہ اور بھی جہاں ہیں اور جو کچھ ہمارے علم میں ہے وہ اس قول باری کے مدلول اور مفہوم کا ایک نہایت ہی مختصر حصہ ہے۔ الذی خلق…………فھدی (2:87 تا 3) ” جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی “۔ یہ قابل مشاہدہ کائنات جس کے ایک معمولی حصے کو ہم جانتے ہیں ، اس سے آگے عالم غیب کے جہاں پوشیدہ ہیں۔ ہمیں تو اپنی بشری قوتوں کے مطابق بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ یہ چند اشارات ہیں جو اللہ نے ہماری محدود قوت ادراک کے لئے کردیئے ہیں۔ اس عظیم کائنات کا ایک وسیع صفحہ پیش کرنے اور اس کی وادیوں میں اللہ کی تسبیح وثنا کی گونج پیدا کرنے کے بعد ، اللہ کی اس عظیم تسبیح کو مکمل کرنے کے لئے یہاں نباتات کی دنیا کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہاں اس اشارے کے اندر جہان معانی ہے۔ والذی اخرج…………احوی (5:87) ” جس نے نباتات اگائیں اور پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “ المرعی ، ہر اس چیزکو کہا جاتا ہے جو زمین سے اگتی ہے ، اس لئے کہ ہر اگنے والی چیز کسی نہ کسی مخلوق کے لئے خوراک ہے۔ لہٰذا مرعی کا مفہوم یہاں اس سے کہیں وسیع ہے کہ کوئی چیز ہمارے مویشیوں کے چرنے کی ہے تو مرعی ہے۔ کیونکہ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس زمین کے اوپر چلنے والی ہر مخلوق کے لئے اس کے اندر اس کی خوراک پیدا کی ، چاہے یہ مخلوق زمین کے اوپر چلتی ہو ، یا اندر چھپی رہتی ہو یا اس کی فضاﺅں میں اڑتی ہو۔ نباتات ابتداء میں سبز ہوتے ہیں ، پھر یژمردہ ہوکر سیاہ ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ سبزی کی حالت ہی میں خوراک کے قابل ہوتے ہیں اور بعض اوقات وہ پک کر سیاہ ہوتے ہیں تو خوراک کا کام دیتے ہیں۔ درمیانی حالت میں بھی وہ کسی نہ کسی خوراک کا کام دیتے ہیں۔ بہرحال نباتات کی ہر حالت ، اللہ کی تخلیق اور تسویہ کے مطابق کسی مخلوق کے لئے خوراک بنتی ہے۔ یہاں نباتاتی زندگی کے منظر کو پیش کرکے ایک اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ جس طرح ہر نبات کوڑا کرکٹ بن کر انجام تک پہنچتا ہے۔ اس طرح ہر زندہ مخلوق بھی اس دنیا میں اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔ اور یہ اشارہ ہے اس حیات ودنیا اور حیات اخروی کی طرف کہ حیات دنیا تو نباتات کی طرح ختم ہونے والی ہے اور حیات اخروی باقی اور لازوال ہے۔ بعد میں آتا ہے۔ بل توثرون…………وابقی (17:87) ” مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت سے بہتر اور باقی رہنے والی ہے “۔ دنیا کی زندگی اس کھیت کی طرح ہے جو ختم ہوکر کوڑا کرکٹ بن جاتی ہے اور آخرت باقی و لازوال ہوتی ہے۔ اس مقطع کے ذریعے اس عظیم کائنات کے صفحات کو دور تک پھیلا دیا جاتا ہے اور جن امور کا ذکر ہوتا ہے وہ سورت کے آنے والے حقائق کے ساتھ مناسب ہیں۔ یہ کائنات ان سے ہم آہنگ ہوتی ہے اور یہ حقائق کائنات سے پیوست ہوتے ہیں۔ ایک نہایت ہی وسیع و عریض فریم ورک ہیں۔ اگر گہرا مطالعہ کیا جائے کہ اس سیپارے کے مضامین کو وسیع کائناتی دائرے میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کائناتی دائرہ اس پارے کی فضا اور اس کے اشارات اور مضامین کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔

الأعلى 87:2

سبح اسم ..................... احوی سورت کا آغاز نہایت ہی نرم اور نہایت لمبے آہنگ سے ہوتا ہے ، اس لمبے ٹون کے ذریعہ فضا میں تسبیح کی خوشگوار اور خوشبودار آواز بکھیر دی گئی ہے۔ اس کے بعد پھر تسبیح کا حکم اور پھر وہ صفات جن کو تسبیح کے بعد لایا گیا ہے۔ سبح اسم……………. احوی (1:87 تا 5) ”(اے نبی ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی ، جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “۔ تاکہ اس تسبیح کے ذریعہ اس پوری کائنات کے اطراف واکناف میں تسبیح کی یہ آوازگونجاٹھے اور پوری کائنات ایک معبد نظر آئے اور ایک عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ پوری کائنات صانع قدرت کی مصنوعات کی نمائش گاہ بھی بن جائے۔ الذی…………فھدی (3:87) ” جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بناکر اسے ہدایت بخشی “۔ تسبیح کے کیا معنی ہیں ۔ اللہ کی برتری ذہن میں بسانا ، اللہ کو ہر عیب سے پاک سمجھنا اور ذہن میں اللہ کی صفات حسنی کا استحضار اور ان چیزوں کی روشنی ، چمک اور نورانیت سے اپنے ذوق ووجدان اور قلب و شعور کو روشن رکھا ، نام ہے تسبیح کا۔ محض زبان سے سبحان اللہ جپنے کو تسبیح نہیں کہتے۔ سبح……………. الاعلیٰ (1:87) ” اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو “۔ یہ الفاظ انسانی وجدان اور شعور پر ایک حالت طاری کردیتے ہیں۔ یہ وجدانی حالت ایسی ہوتی ہے جس کا اظہار الفاظ کے اندر ممکن نہیں ہے۔ یہ تو ایک وجدانی اور ذوقی چیز ہے اور ایک ایسی زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کا تعلق کچھ معانی اور کچھ صفات کے استحضار سے ہے نہ کہ کچھ الفاظ رٹنے سے۔ یہ معانی وصفات کیا ہیں ؟ پہلی صفت ، صفت ربوبیت ہے۔ اور دوسری صفت اعلیٰ ہے ۔ رب کے معنی مربی ، نگران اور پالنے والے کے ہیں۔ ان صفات کے سائے اور پرتو اس سورت کی فضا اور اس کے اندر بیان کی جانے والی خوشخبریوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ، خصوصاً اس کے نرم انداز کے ساتھ۔ صفت اعلیٰ پردہ شعور پر ایسی تصاویر لاتی ہے جن سے علو ، برتری اور غیر متناہی اور غیر محدود وآفاق کا اظہار ہوتا ہے۔ انسانی روح دور تک تسبیحات کرتی ہے اور اس تصور علو سے تسبیح میں پاکی اور عظمت کے ساتھ مناسبت پیدا ہوتی ہے اور تسبیح اپنے بنیادی عناصر کے اعتبار سے تصور علو رب کا نام ہے۔ ابتدائی خطاب ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہے ، اور یہ براہ راست اللہ کی طرف سے آپ کو خطاب ہے۔ حضور اکرم ﷺ جب اس حکم ربی کو پڑھتے تھے۔ سبح ” پاکی بیان کرو “ تو اگلی آیات پڑھنے سے پہلے آپ اس حکم پر عمل کرلیتے اور آپ فرماتے : سبحان ربی الاعلیٰ ” میں اپنے رب اعلیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں “۔ یوں حکم اور جواب حکم یا تعمیل حکم ہوجاتا ۔ امر کی اطاعت ہوجاتی اور اللہ کے ساتھ مناجات اور سوال و جواب ہوجاتا۔ کیونکہ حضور رب کے سامنے کھڑے ہوتے۔ براہ راست یہ کلام رب تعالیٰ سے لے رہے ہوتے تھے اور اس اتصال اور قرب کی حالت میں جواب دے دیتے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور اکرم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ یہ تسبیح سجدے میں پڑھا کرو۔ (اجعلوانی سجودکم) اور اس سے قبل جب یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ فسبح……………. العظیم ” اپنے رب عظیم کے نام کا تسبیح کرو “۔ تو آپ نے حکم دیا کہ اس کو رکوع میں پڑھو چناچہ رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑھنا شروع کیا گیا۔ پس رکوع و سجود کی یہ تسبیح ایک زندہ تسبیح ہے ، محض مردہ کلمات نہیں ، جس طرح ایک زندہ چیز کا جسم حیات اور زندگی سے گرم ہوتا ہے ایسی ہی تسبیح نماز میں مطلوب ہے تاکہ اس تسبیح سے براہ راست حکم خداوندی کی تعمیل ہوجائے یا بالفاظ دیگر اجازت خداوندی کی تعمیل ہو ، کیونکہ اللہ کا اپنے بندوں کو یہ اجازت دینا کہ اس کی حمدوثنا کرو ، یہ بھی اللہ کا فضل وکرم ہے۔ کیونکہ اس طرح انسان کو یہ اجازت ملتی ہے کہ وہ اپنے حد تصور کے مطابق اللہ کے قریب ہوجائے۔ کیونکہ انسان اللہ کی ثنا اللہ کی ذات وصفات میں اپنے محدود تصور کے مطابق ہی کرسکتا ہے۔ اور یہ اللہ کے فضل وکرم کی ایک شکل ہے کہ اللہ اپنی ذات کی معرفت اپنے بندوں کو اپنی صفات کے ذریعہ کرواتا ہے۔ ایسی حدود میں کہ جن کے اندر وہ اللہ کی معرفت کا تصور کرسکتے ہیں۔ اللہ اپنی ذات تک پہنچنے کے لئے اپنے بندوں کو جس شکل و صورت میں بھی اجازت دیتا ہے ، یہ ان پر فضل وکرم کی ایک صورت ہوتی ہے۔ سبح اسم……………. فھدی (1:87 تا 3) ” اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو ، جس نے پیدا کیا ، اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی ، پھر راہ دکھائی “۔ یعنی ہر چیز کو پیدا کیا اور نہایت مناسب شکل میں پیدا کیا اور اس تخلیق کے ہر پہلو کو کامل بنایا۔ اس حد تک کامل کہ کوئی اس میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کی فلاں چیز اس کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اللہ نے تقدیریوں بنائی کہ ہر چیز کے لئے اس کا فرض منصبی مقرر کردیا اور اس کا مقصد تخلیق اور اس مقصد کو پورا کرنے کا طریقہ بھی اسے سمجھا دیا۔ ہر چیز کو عجیب الہامی انداز میں یہ تعلیم دی گئی۔ ہر چیز کو یہ شعور بھی بذریعہ الہام دے دیا کہ اس کی مقررہ زندگی کے لئے اس کو کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے اور اس کائنات کی جس چیز کا تجزیہ کیا جائے اس کے اندر یہ حقیقت موجود ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات کی ہر چیز میں ، خواہ بڑی ہو یا چھوٹی ہو ، اہم ہو یا حقیر ہو ، ہر چیز کی تخلیق میں تسویہ اور تناسب موجود ہے۔ ہر چیز کامل الخلقت ہے اور ہر چیز کی تخلیق کا ایک مقصد ہے اور وہ مقصد اس کی تقدیر ہے ، اور ہر چیز کو اللہ نے اپنا مقصد وجودپورا کرنے کے لئے نہایت ہی آسان طریقہ کار فراہم کردیا ہے۔ غرض اللہ کی ہر مخلوق مکمل اور متناسب ہے۔ اور ہر چیز اپنا انفرادی فریضہ ادا کرتی ہے۔ مثلاً ایٹم ایک اکیلا ایٹم ، پر ٹون اور الیکٹرون کی برقی رفتار کے اندر اسی قدر توازن رکھتا ہے جس طرح ایک کہکشاں اپنے سورج اور اس کے تابع ستاروں کے درمیان توازن رکھتی ہے۔ ایک ایٹم اپنے مقصد اور فریضے کو اسی طرح پورا کرتا ہے جس طرح ایک کہکشاں پورا کرتی ہے۔ دونوں کو انپا مقصد اور طریقہ حصول مقصد معلوم ہوتا ہے۔ ایک منفرد خلیہ ایک مکمل تخلیق ہے۔ اور اس کے اندر اپنا مقصد تخلیق پورا کرنے کی پوری استعداد ہوتی ہے اور وہ اپنا مقصد اسی طرح پورا کرتا ہے جس طرح کوئی اعلیٰ مرکب اور پیچیدہ مخلوق کرتی ہے۔ پھر ایک منفرد ایٹم اور کسی کہکشاں کے درمیانی درجات پر الگ الگ مخلوق ہے۔ جس طرح ایک منفرد خلیہ اور پیچیدہ ترین مخلوقات کے درمیان زندہ مخلوقات کے مختلف درجے اور ان کی تنظیم ہے۔ اور ہر درجے اور ہر تنظیم کی تخلیق میں کمال اور تسویہ ہے اور ہر ایک کے لئے انفرادی فرائض اور اجتماعی مقاصد ہیں۔ دست قدرت الہامی طریقے سے ان سے یہ کام کراتا ہے اور اس گہری حقیقت یعنی تخلیق وتسویہ کا یہ کام پوری کائنات پر شاہد عادل ہے۔ اس حقیقت کو انسانی قلب پاسکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کائنات کے اشارات اخذ کرنے کے لئے تیار ہو اور کھلے دل سے وہ اس کائنات کی موجودات پر غور کرے۔ انسان کا اکتسابی علم جس درجے کا بھی ہو اور وہ ترقی یافتہ معاشرے کافرد ہو یا پسماندہ معاشرے کا فرد ہو وہ کائنات کی ان اشیاء سے یہ الہامی اشارات اخذ کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کے دل و دماغ کے دریچے بھی ان اشارات کو پانے کے لئے تیار ہوں اور کھلے ہوں اور کسی عقل وخرد کے تار اس قابل ہوں کہ وہ مضراب حقیقت کے جواب میں نغمہ بار ہوسکیں۔ اس کے بعد کائنات کا مشاہدہ اور کسی علم آتے ہیں اور انسان مطالعہ فطرت میں پہلی نظر سے جو الہام پاتا ہے ، تمام مشاہدات اس کی تائید کرتے ہیں ، بعض لوگوں نے مشاہدہ کائنات کے ذریعہ ایسے اشارات جمع کیے ہیں جو اس کائنات کے اندر پوشیدہ مجموعی حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ نیویارک کی سائنسی علوم کی اکیڈمی کے صدر کریسی موریسن اپنی کتاب ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “ میں اپنے مشاہدات یوں قلم بند کرتے ہیں۔ ” پرندوں میں وطن لوٹنے کا ایک ملکہ ہوتا ہے ، ایک خاص چڑیا جو دروازوں پر گھونسلے بناتی ہے ، خزاں کے موسم میں جنوب کی طرف ہجرت کرجاتی ہے اور اگلے سال بہار میں اپنے اسی مقام کی طرف لوٹ آتی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں امریکہ کے اکثر پرندے جنوب کی طرف جاتے ہیں اور وہ سمندروں اور صحراﺅں پر سے پرواز کرتے ہوئے ہزاروں میل سفر کرتے ہیں اور کبھی اپنا راستہ نہیں بھولتے۔ اور پیغام رساں کبوتر پنجرے میں طویل سفر کرتے ہیں اور جب ان کو پیغام کر چھوڑا جاتا ہے تو وہ کچھ دیر کے لئے حیران ہوکر چکر لگاتے ہیں اور اس کے بعد وہ سیدھے اپنے وطن کی طرف پرواز کرتے ہیں اور کبھی راہ نہیں بھٹکتے ۔ شہد کی مکھی اگر کسی طرف جائے اور اس کے پیچھے نشانات راہ کسی طوفان کی وجہ سے مٹ جائیں تو بھی وہ راہ نہیں بھولتی اور سیدھی چھتے پر آجاتی ہے۔ البتہ انسان کے اندر یہ جبلت کمزور ہے اور انسان اس کمی کو اپنے آلات اور عقل کے ذریعہ پوری کردیتا ہے۔ باریک کیڑے مکوڑے بھی نہایت ہی چھوٹی اور خوردبینی آنکھیں رکھتے ہیں اور یہ نہایت ہی مکمل آنکھیں ہوتی ہیں۔ باز اور عقاب وغیرہ کی آنکھیں دور بین کی طرح ہوتی ہیں ، انسانی آنکھ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس کمی کو بھی انسانی عقل و تجربہ نے پورا کیا ہے۔ چناچہ ان دوربینوں کے ذریعہ انسانسحابیوں کو دیکھ لیتا ہے اور اس نے ان کو دیکھنے کے لئے انسانی نظر کو بیس لاکھ گنا تیز کیا۔ نیز انسان نے ایسی خورد بینیں ایجاد کیں جن کے ذریعے وہ بیکٹریا اور دوسرے نہ نظر آنے والے کیڑے مکوڑے دیکھتا ہے۔ اب ذرا تم اپنے بوڑھے گھوڑے کو راستہ پر چھوڑدو۔ جس قدر اندھیرا بھی ہو وہ راستہ نہ بھولے گا۔ وہ سخت تاریکی میں بھی دیکھ سکتا ہے اگرچہ بہت واضح نہ سہی۔ وہ راستہ میں اور اس کے دونوں جانب درجہ حرارت کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ یہ درجہ حرارت اس کی آنکھیں انفراریڈ شعاعوں کے ذریعہ معلوم کرلیتی ہیں۔ الو ایک گرم چوہے کو سردگھاس کے نیچے چلتا پھرتا دیکھ لیتا ہے اگرچہ سخت اندھیرا ہو اور انسانوں نے تو بجلی کے قمقموں کے ذریعہ تاریک رات کو دن بنادیا ہے “۔ ” شہد کی مکھیوں کی دنیا بھی عجیب ہے۔ کارکن مکھیاں چھتے میں مختلف قسم کے کمرے بناتی ہیں۔ یہ تربیت کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ چھوٹے کمرے کارکنوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور بڑے کمرے مردوں کے لئے اور ملکہ کے لئے خاص کمرے تیار ہوتے ہیں۔ یہ ملکہ مجھی جب غیر بار آورانڈہ دیتی ہے تو اسے مردوں کے کمرے میں رکھ دیتی ہے اور جب بار آور انڈہ دیتی ہے تو اسے اس کمرے میں رکھ دیتی ہے جس میں مونث کارکن مکھیاں ہوتی ہیں جو آگے جاکر ملکہ مکھی بننے والی ہوتی ہیں اور وہ کارکن مکھیاں جو مزدور ہوتی ہیں جب وہ ایک طویل عرصہ تک نسل تیار کرنے کا کام کرلیتی ہی تو ان کو بدل دیا جاتا ہے۔ یہ کارکن مکھیاں بچوں کے لئے غذا تیار کرنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ یہ شہد اور پھولوں کو چبا کر ہضم کے قابل بناتی ہیں اور بچوں کے اندر نر اور مادے کا ظہور ہوجاتا ہے تو پھر یہ مذکورہ بالا طریقے سے غذاہضم کے لئے تیار کرنے کا عمل ترک کردیتی ہیں۔ اس کے بعد ان کو شہد اور پھولوں کا بور دیا جاتا ہے اور بچوں میں سے جو مونث اس طریقے سے تربیت پاتی ہیں وہ بعد میں کارکن مکھیاں بن جاتی ہیں “۔ جو مونث مکھیاں ملکہ مکھیوں کے حجروں میں ہوتی ہیں ، تو ان کو شہد اور پھولوں کے بورے کو ابتدائی طور پر قابل ہضم بناکر غذا دینے کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے ، اور جن مونث مکھیوں سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے بعد میں وہ ملکہ مکھن بن جاتی ہیں۔ صرف یہ ملکہ ہی ایسے انڈے دیتی ہیں جو پار آور ہوتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے مطابق جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان کے لئے خاص قسم کے حجروں ، ایک خاص قسم کے انڈوں اور ایک خاص قسم کی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور غذا کے اندر تبدیلی کا اثر بھی عجیب ہوتا ہے۔ اس قسم ٹیکنالوجی کے لئے مکھیوں کو ایک طویل عرصہ تک انتظار کی ضرورت پڑی ہوگی جنہوں نے ان اصولوں کے اندرتمیز کرکے ان کو نافذ کیا ہوگا اور غذا کے اثرات معلوم کیے ہوں گے۔ اور ان اثرات معلوم کیے ہوں گے۔ اور ان اثرات کو اجتماعی طور پر نافذ کیا ہوگا جو ان کے وجود کے لئے ضروری ہوگا۔ مکھیوں نے جب اجتماعی زندگی کا آغاز کیا ہوگا تب ان کو یہ اصول معلوم ہوئے ہیں گے ، کیونکہ مکھی کے وجود اور زندگی کی بقا کے لئے ان اصولوں کی دریافت ضروری نہ تھی۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ شہد کی مکھی نے غذا کے اثرات کے سلسلے میں انسان سے زیادہ تحقیق کی ہے “۔ (مغربی فکر میں ڈوبا ہوا مصنف یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اللہ نے جب مکھی کو پیدا کیا تو یہ سب کچھ سکھا دیا۔ ان کے دماغوں پر ڈارون کا فلسفہ ارتقاء ہی بیٹھا ہوا ہے حالانکہ قرآن صاف کہتا ہے وعلم آدم الاسماء کلھا ” اللہ نے آدم کو تمام نام سکھادیئے “ اسی طرح اللہ نے مکھی کو بھی تمام بنیادی تعلیم دے دی تھی (مترجم) ۔ ” کتے کو ایک اضافی ناک دی گئی ہے جس کے ذریعہ وہ تمام جانوروں کی بوسونگھ لیتا ہے جو کسی راستے سے گزرے ہوں ، انسان کی قوت شامہ کتوں کے مقابلے میں کمزور ہے اور آج تک انسان نے کوئی ایسا آلہ بھی ایجاد نہیں کیا جو اس کی قوت شامہ کو ترقی دے ، لیکن ہماری یہ کمزور قوت شامہ بھی اس قدر چھوٹے ذرات کو محسوس کرلیتی ہے جیسے مائیکروسکوپ کے ذریعہ ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ اکثر حیوانات ایسی آوازیں سن لیتے ہیں جو ہمارے کانوں کے پردوں کے اندر ارتعاش پیدا نہیں کرسکتے ، کیونکہ یہ ہماری سماعت کی حد سے بہت ہی دقیق اور باریک ہوتے ہیں۔ انسان نے ایسے آلات ایجاد کرلیے ہیں کہ وہ کئی میل دور اڑنے والی مکھی کے پروں کی آواز بھی سن لے ، اس طرح کہ گویا وہ اس کے کان کے پردے کے اوپر بیٹھی ہے۔ ایسے ہی آلات کے ذریعہ سورج کی شعاعوں کی رفتار کی آواز بھی ریکارڈ کی جارہی ہے “۔ ” پانی کی مکڑیوں کی ایک قسم ایسی ہے جو پانی کے اندر غبارے کی طرح ایک گھونسلہ تیار کرتی ہے ، یہ تار عنکبوت سے بنایا جاتا ہے اور اسے پانی کے نیچے کسی چیز سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعدیہ مکڑی اپنے جسم کے بالوں کے ساتھ پانی کا ایک بلبلہ باندھتی ہے اور اسے لے جاکر اس گھونسلے سے باندھ دیتی ہے یہاں تک کہ گھونسلے کے گرد ہوا کے بلبلوں کا حصار بن جاتا ہے ، اس کے بعد وہ گھونسلے کے اندر بچے دیتی ہے کہ وہ ہوا کے طوفان سے محفوظ رہیں۔ اس گھونسلے کی ساخت میں ایک تو باریک بننے کا عمل ہے ، اس کے بعد دقیق انجینئرنگ اور ہوا بازی کا گہرا ادراک ہے “۔ ” سالمن مچھلی ، جو چھوٹی سی ہوتی ہے اور سمندر میں کئی سال تک گھومتی پھرتی ہے ، اس کے بعد وہ اس دریا کی طرف واپس ہوتی ہے جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔ آخر وہ کیا قوت ہے جو اسے اس کی جائے پیدائش تک رہنمائی کرتی ہے۔ یہ جب اپنی جائے پیدائش کی طرف بڑھتے ہوئے کسی غلط دریا کی طرف چلی جائے تو اسے فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ دریا اس کی جائے پیدائش نہیں ہے۔ چناچہ وہ دریا میں چلتی ہے اور پانی کے بہاﺅ کے بالمقابل چل کر اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔ پانی کے سانپوں کا معاملہ تو بہت ہی عجیب ہے۔ ان کا قصہ سالمن مچھلی کے برعکس ہے۔ اس مخلوق خدا کی عمر جب پوری ہوتی ہے تو یہ مختلف تالابوں اور دریاﺅں سے سفر کرکے گہرے سمندروں کی طرف جاتے ہیں۔ اگر یورپ میں ہوں تو یہ ہزاروں میل کا سفر طے کرکے جنوبی برمودا کی گہرائیوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ وہاں پھر یہ انڈے دے کر مرجاتے ہیں ، اب ان کے جو بچے پیدا ہوجاتے ہیں تو وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ نہایت گہرے پانیوں میں ہیں ، لیکن یہ بچے اسی راستے سے ساحل کی طرف جاتے ہیں جس طرح ان کی ماں ساحل سے پانی کی طرف آئی تھی اور ساحل سے پھر یہ کسی دریا ، یا نہر یا حوض اور تالاب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ چناچہ پانیوں کی ہر قسم بحری سانپوں کے لئے موزوں ہوتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے بڑی بڑی موجیں ، طوفان اور سمندری تلاطم دیکھے ہوئے ہیں اور ان کا مقابلہ کیا ہوا ہوتا ہے ۔ یہ ساحلوں پر چلتے ہیں اور جب یہ مکمل ہوجاتے ہیں تو کوئی خفیہ قانون ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پھر واپسی کا سفر کریں اور گہرے سمندروں میں چلے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ جذبہ ان کے اندر کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی شکاری یا مچھیرے نے یورپی سمندروں میں امریکی بحری سانپ پکڑا ہو ، یا کسی امریکی مچھیرے کے جال میں یورپی سانپ آگیا ہو ، یورپی بحری سانپ کو چونکہ گہرے سرندروں تک لمبا سفر کرنا پڑتا ہے اسی لئے قدرت نے اسے ایک سال کی لمبی عمر عطا کی۔ یا اس سے بھی زیادہ تاکہ وہ مرنے سے قبل اپنی منزل مقصود کو پہنچ سکے۔ کیونکہ یورپی بحری سانپ کو امریکی بحری سانپ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ کون سے ایٹم اور کیا سالمے ہیں ؟ جب بحری سانپ مچھلیوں کی شکل میں جمع ہوئے تو ان کے اندر اس قسم کی قوت ارادی پیدا ہوجاتی ہے جو ایسے دور دراز سفر کراتی ہے ؟ ” جب مادہ پروانہ ہوا کے دباﺅ میں تمہارے کسی روشن دان سے اندر آجاتا ہے تو وہ اپنے نر کو ایک سگنل بھیجتی ہے ، چاہے وہ جتنا بھی دور ہو۔ بعض اوقات وہ بہت دور ہوتا ہے۔ وہ اس اشارے کو وصول کرلیتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ اس کو گمراہ کرنے کی انسان جس قدر کوشش بھی کرے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ غلطی کرے۔ کیا ان کے پاس کوئی ریڈیو اسٹیشن ہے یا اس مرد کے پاس کوئی ریڈیو یا مشین ہے جو اس سے سگنل وصول کرتا ہے۔ ایریل کا ہونا تو بڑی بات ہے کیا اس کے پاس کوئی ایتھر ہے جس کے ذریعہ وہ ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ ٹیلی فون اور ریڈیو ہمارے پاس سریع الحرکت مواصلاتی آلات ہیں لیکن یہ تاروں کے ذریعے ایک جگہ کو دوسری جگہ سے منسلک کرتے ہیں۔ اس طرح تو یہ پروانہ ہم پر فوقیت رکھتا ہے “۔ نباتات اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے کئی چیزوں سے خدمت لیتے ہیں ، بغیر ان کے علم و ارادہ کے۔ مثلاً حشرات پھولوں کا بورا ان کے لئے منتقل کرتے ہی ، ہوا یہی کام کرتی ہے ، وحوش وطیور بھی یہی کام کرتے اور ان کا بورا اور بیج بکھیرتے ہیں۔ سب سے آخر میں ان نباتات نے انسان کو بھی اپنے جال میں پھانس لیا۔ اس نے فطرت کو حسن بخشا اور فطرت نے اسے اس کا اجردیا۔ لیکن انسان بھی تو کسی حد پر رکنے والا نہیں۔ ھل من مزید کا قائل ہے۔ اس نے ہل چلایا ، بیج بویا ، فصل کاٹی ، انبار بھرے ، پھر اس نے فصلوں کو ترقی دی ، شاخ تراشی کی اور خوراک کا بندوبست کیا۔ اگر وہ یہ کام چھوڑ دے تو بھوک سے مرجائے اور دنیا سے تہذیب و تمدن کا خاتمہ ہوجائے اور انسانیت پتھر کے دور میں واپس چلی جائے۔ “ پانی کے بیشمار جانور مثلاً جھینگا مچھلی کا ایک بازو اگر کٹ جائے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے جسم کا ایک حصہ ضائع ہوگیا ہے ، اس کے خلیے اور جینز اس عضو کو دوبارہ بنانا شروع کردیتے ہیں اور جب وہ عضو مکمل ہوجاتا ہے تو خلیے یہ کام بند کردیتے ہیں اور ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کی ڈیوٹی ختم ہے۔ پانی کے وہ کیڑے جن کے کئی پاﺅں ہوتے ہیں ، جب دوٹکڑے ہوجائے تو وہ ان میں سے ایک ٹکڑے کی مدد سے اپنے آپ کو مکمل کرلیتا ہے۔ اگر تم اس کیڑے کا سرکاٹ دو تو وہ دوسرا سر بنالیتا ہے۔ ہم زخموں کو مندمل کرسکتے ہیں لیکن ہمارے سرجن ابھی تک یہ بات نہیں جانتے کہ وہ خلیوں کو متحرک کریں اور وہ ایک نیا بازو بنا ڈالیں یا گوشت پوشت ، ناخن اور اعصاب بنادیں ، اگر ایسا ممکن ہو۔ اور ایک عجوبہ تو یہ ہے کہ اگر کوئی خلیہ ابتدائی ایام ہی میں دو مکمل حصوں میں تقسیم ہوجائے تو اس سے دو مکمل حیوان تیارہوجاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ توام ہم شکل ہوتے ہیں ، اس کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ حمل کے ابتدائی مرحلہ میں خلیہ منقسم ہوگیا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں خلیہ کمل فرد ہوتا ہے۔ اور اسی طرح ایک فرد بھی ہر خلیہ میں ہوتا ہے۔ ایک دوسری فصل میں یہی مصنف لکھتا ہے : شاہ بلوط کا بھورا بیج زمین پر گراتا ہے ، اس کا بھورا چھلکا اسے محفوظ رکھتا ہے ، اور یہ گرتا پڑتا زمین میں کسی دراڑ میں اٹک جاتا ہے۔ موسم بہاں میں اس کے اندر کا جرثومہ جاگتا ہے۔ وہ اس چھلکے کو پھاڑ دیتا ہے اور یہ اس مغز سے خوراک حاصل کرتا ہے جو اس چھلکے کے اندر جمع کردی گئی ہوتی ہے۔ جس کے اندر اس کے موروثی جینز ہوتے ہیں۔ اس کی جڑیں زمین میں جاتی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یہ پودا نمودار ہوتا ہے ، چھوٹا درخت اور پھر کامل درخت بن جاتا ہے۔ اس کے اندر کئی ملین جینز ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اپنی جڑوں ، چھلکے ، پھل اور تنوں اور شاخوں میں بھی اس درخت کے مماثل ہوتا ہے جس سے وہ بیج نکلا۔ کروڑوں سال پہلے جو بلوط کا درخت پیدا ہوا تھا ، اس کے پھل آج تک اپنے ذرات کی ترتیب اس طرح رکھتے ہیں جس طرح پہلے بلوط کے پھل نے رکھا تھا۔ یہی مصنف تیسری فصل میں لکھتا ہے : ” ہر خلیہ جو کسی زندہ مخلوق میں پیدا ہوتا ہے ، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح ڈھالے کہ گوشت کا حصہ ہو یا چمڑے کا حصہ ہو اور فنا ہوجائے ، یا دانت کی چمک بن جائے یا آنکھ کا سیال مادہ بن جائے یا ناک اور کان بن جائے۔ ہر خلیہ اپنے آپ کو ایسی شکل میں ڈھالتا ہے کہ وہ اپنا فرض منصبی پوری طرح ادا کرے۔ یہ بات نہایت ہی مشکل ہے کہ کوئی تعین کرے کہ کون سا خلیہ دائیں ہاتھ ہے یا بائیں ہاتھ کا۔ لیکن ازروئے فطرت یہ بات متعین ہے کہ یہ خلیہ دائیں کان کا ہے اور یہ بائیں کان کا ہے۔ غرض ہزار ہا خلیات چلائے جاتے ہیں کہ وہ ایک صحیح کام کریں ، صحیح وقت پر کریں اور صحیح جگہ پر کریں “۔ چوتھی فصل میں یہ شخص کہتا ہے : ” مختلف قسم کی مخلوقات میں بعض مخلوقات ایسے کام کرتی ہیں جو دانش مندی کے اعلیٰ مرتبہ کے ہیں۔ جن کی کوئی تشریح ہم نہیں کرسکتے۔ مثلاً بھڑ ، ٹڈے کو شکار کرتی ہے ، زمین میں ایک گڑھا کھودتی ہے اور ایک مناسب جگہ اسے دفن کردیتی ہے۔ یہ شکار کرتے وقت اس کے ایسے مخصوص مقام پر ڈنگ مارتی ہے کہ وہ بےہوش ہوجاتا ہے لیکن اس کا گوشت صحیح وسالم زندہ رہتا ہے۔ اب مادہ بھڑ اس کے قریب ایک متعین مقام پر انڈے دیتی ہے۔ اسے شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ جب اس کے بچے پیدا ہوں گے تو اس ٹڈے کا گوشت کھائیں گے۔ لیکن اسے قتل نہ کریں گے کیونکہ یہ گوشت ان کی غذا ہے اور گوشت خراب ہوکر زہریلا بن جائے ۔ لازماً بھڑ نے ابتدا سے یہ کام شروع کیا ہوگا اور ہمیشہ وہ اسے دہراتی ہوگی ورنہ دنیا میں سے بھڑوں کا وجود ہی ختم ہوجاتا۔ سائنس کے پاس ایسی کوئی تشریح نہیں ہے کہ وہ بھڑوں کے اس مسلسل فعل کا سبب بیان کرے اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ یہ کام بھڑیں محض اتفاق سے کرتی ہیں ، کیونکہ مادہ بھڑ تو زمین کے اندر کھودے ہوئے گڑھے کو بھر کر چلی جاتی ہے اور مرجاتی ہے ، نہ وہ اس کے اسلاف یہ جانتے تھے کہ وہ ایسا کیوں کررہی ہے۔ نہ اسے اس کا علم اور مشاہدہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد اس کے بچوں کو کیا پیش آنا ہے بلکہ بھڑ کو تو یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کوئی چیز آنے والی ایسی ہے جسے وہ اپنا بچہ کہتی ہو ، بلکہ اسے یہ تک علم نہیں ہے کہ وہ یہ کام نوع کی حفاظت کے لئے کرتی ہے۔ چیونٹیوں میں سے بعض کی یہ ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ سردیوں کے موسم میں اپنی کالونی کو خوراک مہیا کرنے کے لئے حیوانات جمع کریں۔ پھر وہ ایک سٹور قائم کرتی ہیں جہاں یہ خوراک پیس کر رکھی جاتی ہے۔ پھر بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو قدرت نے پیسنے کی جبڑے دیئے ہوتے ہیں۔ ان کا کام صرف خوراک کو پیسنا ہوتا ہے۔ جب سردیوں کا موسم آتا ہے اور تمام غلہ پیسا جاچکا ہوتا ہے تو اس کی سپلائی یوں ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد کو فائدہ پہنچایا جاسکے تاکہ سپلائی جاری رہ سکے۔ اب چونکہ اگلی نسل میں مزید پیسنے والی چیونٹیاں پیدا ہوں گی۔ اس لئے چیونٹیوں کی فوج ان پیسنے والیوں پر حملہ آور ہوتی ہے اور ان کو قتل کردیتی ہے۔ شاید ان کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے حصے کی خوراک پیسنے کے دوران کھالی ہے کیونکہ انہوں نے اس موپعہ سے ضرور فائدہ اٹھایا ہوگا۔ بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی جبلت یا ان کی عقل ان کو کھانوں کے باغ بنانے پر آمادہ کرتی ہیں اور یہ چیونٹیاں ابتدائی کیڑوں کو اور پودوں کے چھلکوں پر پائے جانے والے کیڑوں کو گرفتار کرلیتی ہیں۔ یہ گویا ان کے لئے گائے اور بکریوں کا کام دیتے ہیں۔ ان کیڑوں سے یہ چیونٹیاں ایسا محلول لیتی ہیں جو شہد کی طرح ہوتا ہے اور یہ چیونٹیوں کی خوراک کا کام دیتا ہے۔ چیونٹیاں بعض دوسری چیونٹیوں کو غلام بھی بنالیتی ہیں ، اور جب یہ اپنے گھونسلے بناتی ہیں تو یہ پتوں کو مناسب حجم میں کاٹتی ہیں۔ جب کارکن چیونٹیاں ان پتوں کو ایک طرف سے پکڑ کر اپنے مقام پر رکھتی ہیں تو اس وقت یہ ان بچوں سے بھی کام لیتی ہیں جو ابھی ارتفائی دور میں ہوتے ہیں لیکن ان کے ریشمی مواد سے یہ پتوں کو جوڑتی ہیں ، یوں یہ بچہ اپنے لئے گھونسلا بنانے سے محروم رہتا ہے لیکن اپنے بنی نوع کے لئے ایک مفید کام کرچکا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس ذروں سے چیونٹی بنتی ہے ان ذروں میں یہ کام کرنے کی صلاحیت کس طرح پیدا ہوجاتی ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ان کا ایک خالق ہے جس نے ان کو اس طرح کرنے کی ہدایت کی “۔ (اقتباسات ختم ہوئے) اس میں شک نہیں ہے کہ ایک خالق ہے جس نے اپنی تمام مخلوقات کو ہدایات دیں ، خواہ وہ بڑی مخلوق ہو یا چھوٹی ہو ، اور یہ وہی خالق ہے جو الاعلیٰ…………فھدی (1:87 تا 3) ” جو برتر ہے ، جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی “۔ ہم نے اوپر جو اقتباسات دیئے ہیں ، یہ تو اصل حقیقت کے ایک معمولی حصے کے مشاہدات ہیں ، جو انسانوں نے نباتات ، حشرات الارض ، پرندوں اور دوسرے حیوانات کے سلسلے میں ریکارڈ کیے ہیں۔ لیکن اس سے آگے علم ومشاہدہ اور بھی جہاں ہیں اور جو کچھ ہمارے علم میں ہے وہ اس قول باری کے مدلول اور مفہوم کا ایک نہایت ہی مختصر حصہ ہے۔ الذی خلق…………فھدی (2:87 تا 3) ” جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی “۔ یہ قابل مشاہدہ کائنات جس کے ایک معمولی حصے کو ہم جانتے ہیں ، اس سے آگے عالم غیب کے جہاں پوشیدہ ہیں۔ ہمیں تو اپنی بشری قوتوں کے مطابق بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ یہ چند اشارات ہیں جو اللہ نے ہماری محدود قوت ادراک کے لئے کردیئے ہیں۔ اس عظیم کائنات کا ایک وسیع صفحہ پیش کرنے اور اس کی وادیوں میں اللہ کی تسبیح وثنا کی گونج پیدا کرنے کے بعد ، اللہ کی اس عظیم تسبیح کو مکمل کرنے کے لئے یہاں نباتات کی دنیا کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہاں اس اشارے کے اندر جہان معانی ہے۔ والذی اخرج…………احوی (5:87) ” جس نے نباتات اگائیں اور پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “ المرعی ، ہر اس چیزکو کہا جاتا ہے جو زمین سے اگتی ہے ، اس لئے کہ ہر اگنے والی چیز کسی نہ کسی مخلوق کے لئے خوراک ہے۔ لہٰذا مرعی کا مفہوم یہاں اس سے کہیں وسیع ہے کہ کوئی چیز ہمارے مویشیوں کے چرنے کی ہے تو مرعی ہے۔ کیونکہ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس زمین کے اوپر چلنے والی ہر مخلوق کے لئے اس کے اندر اس کی خوراک پیدا کی ، چاہے یہ مخلوق زمین کے اوپر چلتی ہو ، یا اندر چھپی رہتی ہو یا اس کی فضاﺅں میں اڑتی ہو۔ نباتات ابتداء میں سبز ہوتے ہیں ، پھر یژمردہ ہوکر سیاہ ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ سبزی کی حالت ہی میں خوراک کے قابل ہوتے ہیں اور بعض اوقات وہ پک کر سیاہ ہوتے ہیں تو خوراک کا کام دیتے ہیں۔ درمیانی حالت میں بھی وہ کسی نہ کسی خوراک کا کام دیتے ہیں۔ بہرحال نباتات کی ہر حالت ، اللہ کی تخلیق اور تسویہ کے مطابق کسی مخلوق کے لئے خوراک بنتی ہے۔ یہاں نباتاتی زندگی کے منظر کو پیش کرکے ایک اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ جس طرح ہر نبات کوڑا کرکٹ بن کر انجام تک پہنچتا ہے۔ اس طرح ہر زندہ مخلوق بھی اس دنیا میں اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔ اور یہ اشارہ ہے اس حیات ودنیا اور حیات اخروی کی طرف کہ حیات دنیا تو نباتات کی طرح ختم ہونے والی ہے اور حیات اخروی باقی اور لازوال ہے۔ بعد میں آتا ہے۔ بل توثرون…………وابقی (17:87) ” مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت سے بہتر اور باقی رہنے والی ہے “۔ دنیا کی زندگی اس کھیت کی طرح ہے جو ختم ہوکر کوڑا کرکٹ بن جاتی ہے اور آخرت باقی و لازوال ہوتی ہے۔ اس مقطع کے ذریعے اس عظیم کائنات کے صفحات کو دور تک پھیلا دیا جاتا ہے اور جن امور کا ذکر ہوتا ہے وہ سورت کے آنے والے حقائق کے ساتھ مناسب ہیں۔ یہ کائنات ان سے ہم آہنگ ہوتی ہے اور یہ حقائق کائنات سے پیوست ہوتے ہیں۔ ایک نہایت ہی وسیع و عریض فریم ورک ہیں۔ اگر گہرا مطالعہ کیا جائے کہ اس سیپارے کے مضامین کو وسیع کائناتی دائرے میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کائناتی دائرہ اس پارے کی فضا اور اس کے اشارات اور مضامین کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔

الأعلى 87:3

سبح اسم ..................... احوی سورت کا آغاز نہایت ہی نرم اور نہایت لمبے آہنگ سے ہوتا ہے ، اس لمبے ٹون کے ذریعہ فضا میں تسبیح کی خوشگوار اور خوشبودار آواز بکھیر دی گئی ہے۔ اس کے بعد پھر تسبیح کا حکم اور پھر وہ صفات جن کو تسبیح کے بعد لایا گیا ہے۔ سبح اسم……………. احوی (1:87 تا 5) ”(اے نبی ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی ، جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “۔ تاکہ اس تسبیح کے ذریعہ اس پوری کائنات کے اطراف واکناف میں تسبیح کی یہ آوازگونجاٹھے اور پوری کائنات ایک معبد نظر آئے اور ایک عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ پوری کائنات صانع قدرت کی مصنوعات کی نمائش گاہ بھی بن جائے۔ الذی…………فھدی (3:87) ” جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بناکر اسے ہدایت بخشی “۔ تسبیح کے کیا معنی ہیں ۔ اللہ کی برتری ذہن میں بسانا ، اللہ کو ہر عیب سے پاک سمجھنا اور ذہن میں اللہ کی صفات حسنی کا استحضار اور ان چیزوں کی روشنی ، چمک اور نورانیت سے اپنے ذوق ووجدان اور قلب و شعور کو روشن رکھا ، نام ہے تسبیح کا۔ محض زبان سے سبحان اللہ جپنے کو تسبیح نہیں کہتے۔ سبح……………. الاعلیٰ (1:87) ” اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو “۔ یہ الفاظ انسانی وجدان اور شعور پر ایک حالت طاری کردیتے ہیں۔ یہ وجدانی حالت ایسی ہوتی ہے جس کا اظہار الفاظ کے اندر ممکن نہیں ہے۔ یہ تو ایک وجدانی اور ذوقی چیز ہے اور ایک ایسی زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کا تعلق کچھ معانی اور کچھ صفات کے استحضار سے ہے نہ کہ کچھ الفاظ رٹنے سے۔ یہ معانی وصفات کیا ہیں ؟ پہلی صفت ، صفت ربوبیت ہے۔ اور دوسری صفت اعلیٰ ہے ۔ رب کے معنی مربی ، نگران اور پالنے والے کے ہیں۔ ان صفات کے سائے اور پرتو اس سورت کی فضا اور اس کے اندر بیان کی جانے والی خوشخبریوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ، خصوصاً اس کے نرم انداز کے ساتھ۔ صفت اعلیٰ پردہ شعور پر ایسی تصاویر لاتی ہے جن سے علو ، برتری اور غیر متناہی اور غیر محدود وآفاق کا اظہار ہوتا ہے۔ انسانی روح دور تک تسبیحات کرتی ہے اور اس تصور علو سے تسبیح میں پاکی اور عظمت کے ساتھ مناسبت پیدا ہوتی ہے اور تسبیح اپنے بنیادی عناصر کے اعتبار سے تصور علو رب کا نام ہے۔ ابتدائی خطاب ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہے ، اور یہ براہ راست اللہ کی طرف سے آپ کو خطاب ہے۔ حضور اکرم ﷺ جب اس حکم ربی کو پڑھتے تھے۔ سبح ” پاکی بیان کرو “ تو اگلی آیات پڑھنے سے پہلے آپ اس حکم پر عمل کرلیتے اور آپ فرماتے : سبحان ربی الاعلیٰ ” میں اپنے رب اعلیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں “۔ یوں حکم اور جواب حکم یا تعمیل حکم ہوجاتا ۔ امر کی اطاعت ہوجاتی اور اللہ کے ساتھ مناجات اور سوال و جواب ہوجاتا۔ کیونکہ حضور رب کے سامنے کھڑے ہوتے۔ براہ راست یہ کلام رب تعالیٰ سے لے رہے ہوتے تھے اور اس اتصال اور قرب کی حالت میں جواب دے دیتے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور اکرم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ یہ تسبیح سجدے میں پڑھا کرو۔ (اجعلوانی سجودکم) اور اس سے قبل جب یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ فسبح……………. العظیم ” اپنے رب عظیم کے نام کا تسبیح کرو “۔ تو آپ نے حکم دیا کہ اس کو رکوع میں پڑھو چناچہ رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑھنا شروع کیا گیا۔ پس رکوع و سجود کی یہ تسبیح ایک زندہ تسبیح ہے ، محض مردہ کلمات نہیں ، جس طرح ایک زندہ چیز کا جسم حیات اور زندگی سے گرم ہوتا ہے ایسی ہی تسبیح نماز میں مطلوب ہے تاکہ اس تسبیح سے براہ راست حکم خداوندی کی تعمیل ہوجائے یا بالفاظ دیگر اجازت خداوندی کی تعمیل ہو ، کیونکہ اللہ کا اپنے بندوں کو یہ اجازت دینا کہ اس کی حمدوثنا کرو ، یہ بھی اللہ کا فضل وکرم ہے۔ کیونکہ اس طرح انسان کو یہ اجازت ملتی ہے کہ وہ اپنے حد تصور کے مطابق اللہ کے قریب ہوجائے۔ کیونکہ انسان اللہ کی ثنا اللہ کی ذات وصفات میں اپنے محدود تصور کے مطابق ہی کرسکتا ہے۔ اور یہ اللہ کے فضل وکرم کی ایک شکل ہے کہ اللہ اپنی ذات کی معرفت اپنے بندوں کو اپنی صفات کے ذریعہ کرواتا ہے۔ ایسی حدود میں کہ جن کے اندر وہ اللہ کی معرفت کا تصور کرسکتے ہیں۔ اللہ اپنی ذات تک پہنچنے کے لئے اپنے بندوں کو جس شکل و صورت میں بھی اجازت دیتا ہے ، یہ ان پر فضل وکرم کی ایک صورت ہوتی ہے۔ سبح اسم……………. فھدی (1:87 تا 3) ” اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو ، جس نے پیدا کیا ، اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی ، پھر راہ دکھائی “۔ یعنی ہر چیز کو پیدا کیا اور نہایت مناسب شکل میں پیدا کیا اور اس تخلیق کے ہر پہلو کو کامل بنایا۔ اس حد تک کامل کہ کوئی اس میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کی فلاں چیز اس کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اللہ نے تقدیریوں بنائی کہ ہر چیز کے لئے اس کا فرض منصبی مقرر کردیا اور اس کا مقصد تخلیق اور اس مقصد کو پورا کرنے کا طریقہ بھی اسے سمجھا دیا۔ ہر چیز کو عجیب الہامی انداز میں یہ تعلیم دی گئی۔ ہر چیز کو یہ شعور بھی بذریعہ الہام دے دیا کہ اس کی مقررہ زندگی کے لئے اس کو کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے اور اس کائنات کی جس چیز کا تجزیہ کیا جائے اس کے اندر یہ حقیقت موجود ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات کی ہر چیز میں ، خواہ بڑی ہو یا چھوٹی ہو ، اہم ہو یا حقیر ہو ، ہر چیز کی تخلیق میں تسویہ اور تناسب موجود ہے۔ ہر چیز کامل الخلقت ہے اور ہر چیز کی تخلیق کا ایک مقصد ہے اور وہ مقصد اس کی تقدیر ہے ، اور ہر چیز کو اللہ نے اپنا مقصد وجودپورا کرنے کے لئے نہایت ہی آسان طریقہ کار فراہم کردیا ہے۔ غرض اللہ کی ہر مخلوق مکمل اور متناسب ہے۔ اور ہر چیز اپنا انفرادی فریضہ ادا کرتی ہے۔ مثلاً ایٹم ایک اکیلا ایٹم ، پر ٹون اور الیکٹرون کی برقی رفتار کے اندر اسی قدر توازن رکھتا ہے جس طرح ایک کہکشاں اپنے سورج اور اس کے تابع ستاروں کے درمیان توازن رکھتی ہے۔ ایک ایٹم اپنے مقصد اور فریضے کو اسی طرح پورا کرتا ہے جس طرح ایک کہکشاں پورا کرتی ہے۔ دونوں کو انپا مقصد اور طریقہ حصول مقصد معلوم ہوتا ہے۔ ایک منفرد خلیہ ایک مکمل تخلیق ہے۔ اور اس کے اندر اپنا مقصد تخلیق پورا کرنے کی پوری استعداد ہوتی ہے اور وہ اپنا مقصد اسی طرح پورا کرتا ہے جس طرح کوئی اعلیٰ مرکب اور پیچیدہ مخلوق کرتی ہے۔ پھر ایک منفرد ایٹم اور کسی کہکشاں کے درمیانی درجات پر الگ الگ مخلوق ہے۔ جس طرح ایک منفرد خلیہ اور پیچیدہ ترین مخلوقات کے درمیان زندہ مخلوقات کے مختلف درجے اور ان کی تنظیم ہے۔ اور ہر درجے اور ہر تنظیم کی تخلیق میں کمال اور تسویہ ہے اور ہر ایک کے لئے انفرادی فرائض اور اجتماعی مقاصد ہیں۔ دست قدرت الہامی طریقے سے ان سے یہ کام کراتا ہے اور اس گہری حقیقت یعنی تخلیق وتسویہ کا یہ کام پوری کائنات پر شاہد عادل ہے۔ اس حقیقت کو انسانی قلب پاسکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کائنات کے اشارات اخذ کرنے کے لئے تیار ہو اور کھلے دل سے وہ اس کائنات کی موجودات پر غور کرے۔ انسان کا اکتسابی علم جس درجے کا بھی ہو اور وہ ترقی یافتہ معاشرے کافرد ہو یا پسماندہ معاشرے کا فرد ہو وہ کائنات کی ان اشیاء سے یہ الہامی اشارات اخذ کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کے دل و دماغ کے دریچے بھی ان اشارات کو پانے کے لئے تیار ہوں اور کھلے ہوں اور کسی عقل وخرد کے تار اس قابل ہوں کہ وہ مضراب حقیقت کے جواب میں نغمہ بار ہوسکیں۔ اس کے بعد کائنات کا مشاہدہ اور کسی علم آتے ہیں اور انسان مطالعہ فطرت میں پہلی نظر سے جو الہام پاتا ہے ، تمام مشاہدات اس کی تائید کرتے ہیں ، بعض لوگوں نے مشاہدہ کائنات کے ذریعہ ایسے اشارات جمع کیے ہیں جو اس کائنات کے اندر پوشیدہ مجموعی حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ نیویارک کی سائنسی علوم کی اکیڈمی کے صدر کریسی موریسن اپنی کتاب ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “ میں اپنے مشاہدات یوں قلم بند کرتے ہیں۔ ” پرندوں میں وطن لوٹنے کا ایک ملکہ ہوتا ہے ، ایک خاص چڑیا جو دروازوں پر گھونسلے بناتی ہے ، خزاں کے موسم میں جنوب کی طرف ہجرت کرجاتی ہے اور اگلے سال بہار میں اپنے اسی مقام کی طرف لوٹ آتی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں امریکہ کے اکثر پرندے جنوب کی طرف جاتے ہیں اور وہ سمندروں اور صحراﺅں پر سے پرواز کرتے ہوئے ہزاروں میل سفر کرتے ہیں اور کبھی اپنا راستہ نہیں بھولتے۔ اور پیغام رساں کبوتر پنجرے میں طویل سفر کرتے ہیں اور جب ان کو پیغام کر چھوڑا جاتا ہے تو وہ کچھ دیر کے لئے حیران ہوکر چکر لگاتے ہیں اور اس کے بعد وہ سیدھے اپنے وطن کی طرف پرواز کرتے ہیں اور کبھی راہ نہیں بھٹکتے ۔ شہد کی مکھی اگر کسی طرف جائے اور اس کے پیچھے نشانات راہ کسی طوفان کی وجہ سے مٹ جائیں تو بھی وہ راہ نہیں بھولتی اور سیدھی چھتے پر آجاتی ہے۔ البتہ انسان کے اندر یہ جبلت کمزور ہے اور انسان اس کمی کو اپنے آلات اور عقل کے ذریعہ پوری کردیتا ہے۔ باریک کیڑے مکوڑے بھی نہایت ہی چھوٹی اور خوردبینی آنکھیں رکھتے ہیں اور یہ نہایت ہی مکمل آنکھیں ہوتی ہیں۔ باز اور عقاب وغیرہ کی آنکھیں دور بین کی طرح ہوتی ہیں ، انسانی آنکھ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس کمی کو بھی انسانی عقل و تجربہ نے پورا کیا ہے۔ چناچہ ان دوربینوں کے ذریعہ انسانسحابیوں کو دیکھ لیتا ہے اور اس نے ان کو دیکھنے کے لئے انسانی نظر کو بیس لاکھ گنا تیز کیا۔ نیز انسان نے ایسی خورد بینیں ایجاد کیں جن کے ذریعے وہ بیکٹریا اور دوسرے نہ نظر آنے والے کیڑے مکوڑے دیکھتا ہے۔ اب ذرا تم اپنے بوڑھے گھوڑے کو راستہ پر چھوڑدو۔ جس قدر اندھیرا بھی ہو وہ راستہ نہ بھولے گا۔ وہ سخت تاریکی میں بھی دیکھ سکتا ہے اگرچہ بہت واضح نہ سہی۔ وہ راستہ میں اور اس کے دونوں جانب درجہ حرارت کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ یہ درجہ حرارت اس کی آنکھیں انفراریڈ شعاعوں کے ذریعہ معلوم کرلیتی ہیں۔ الو ایک گرم چوہے کو سردگھاس کے نیچے چلتا پھرتا دیکھ لیتا ہے اگرچہ سخت اندھیرا ہو اور انسانوں نے تو بجلی کے قمقموں کے ذریعہ تاریک رات کو دن بنادیا ہے “۔ ” شہد کی مکھیوں کی دنیا بھی عجیب ہے۔ کارکن مکھیاں چھتے میں مختلف قسم کے کمرے بناتی ہیں۔ یہ تربیت کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ چھوٹے کمرے کارکنوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور بڑے کمرے مردوں کے لئے اور ملکہ کے لئے خاص کمرے تیار ہوتے ہیں۔ یہ ملکہ مجھی جب غیر بار آورانڈہ دیتی ہے تو اسے مردوں کے کمرے میں رکھ دیتی ہے اور جب بار آور انڈہ دیتی ہے تو اسے اس کمرے میں رکھ دیتی ہے جس میں مونث کارکن مکھیاں ہوتی ہیں جو آگے جاکر ملکہ مکھی بننے والی ہوتی ہیں اور وہ کارکن مکھیاں جو مزدور ہوتی ہیں جب وہ ایک طویل عرصہ تک نسل تیار کرنے کا کام کرلیتی ہی تو ان کو بدل دیا جاتا ہے۔ یہ کارکن مکھیاں بچوں کے لئے غذا تیار کرنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ یہ شہد اور پھولوں کو چبا کر ہضم کے قابل بناتی ہیں اور بچوں کے اندر نر اور مادے کا ظہور ہوجاتا ہے تو پھر یہ مذکورہ بالا طریقے سے غذاہضم کے لئے تیار کرنے کا عمل ترک کردیتی ہیں۔ اس کے بعد ان کو شہد اور پھولوں کا بور دیا جاتا ہے اور بچوں میں سے جو مونث اس طریقے سے تربیت پاتی ہیں وہ بعد میں کارکن مکھیاں بن جاتی ہیں “۔ جو مونث مکھیاں ملکہ مکھیوں کے حجروں میں ہوتی ہیں ، تو ان کو شہد اور پھولوں کے بورے کو ابتدائی طور پر قابل ہضم بناکر غذا دینے کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے ، اور جن مونث مکھیوں سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے بعد میں وہ ملکہ مکھن بن جاتی ہیں۔ صرف یہ ملکہ ہی ایسے انڈے دیتی ہیں جو پار آور ہوتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے مطابق جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان کے لئے خاص قسم کے حجروں ، ایک خاص قسم کے انڈوں اور ایک خاص قسم کی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور غذا کے اندر تبدیلی کا اثر بھی عجیب ہوتا ہے۔ اس قسم ٹیکنالوجی کے لئے مکھیوں کو ایک طویل عرصہ تک انتظار کی ضرورت پڑی ہوگی جنہوں نے ان اصولوں کے اندرتمیز کرکے ان کو نافذ کیا ہوگا اور غذا کے اثرات معلوم کیے ہوں گے۔ اور ان اثرات معلوم کیے ہوں گے۔ اور ان اثرات کو اجتماعی طور پر نافذ کیا ہوگا جو ان کے وجود کے لئے ضروری ہوگا۔ مکھیوں نے جب اجتماعی زندگی کا آغاز کیا ہوگا تب ان کو یہ اصول معلوم ہوئے ہیں گے ، کیونکہ مکھی کے وجود اور زندگی کی بقا کے لئے ان اصولوں کی دریافت ضروری نہ تھی۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ شہد کی مکھی نے غذا کے اثرات کے سلسلے میں انسان سے زیادہ تحقیق کی ہے “۔ (مغربی فکر میں ڈوبا ہوا مصنف یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اللہ نے جب مکھی کو پیدا کیا تو یہ سب کچھ سکھا دیا۔ ان کے دماغوں پر ڈارون کا فلسفہ ارتقاء ہی بیٹھا ہوا ہے حالانکہ قرآن صاف کہتا ہے وعلم آدم الاسماء کلھا ” اللہ نے آدم کو تمام نام سکھادیئے “ اسی طرح اللہ نے مکھی کو بھی تمام بنیادی تعلیم دے دی تھی (مترجم) ۔ ” کتے کو ایک اضافی ناک دی گئی ہے جس کے ذریعہ وہ تمام جانوروں کی بوسونگھ لیتا ہے جو کسی راستے سے گزرے ہوں ، انسان کی قوت شامہ کتوں کے مقابلے میں کمزور ہے اور آج تک انسان نے کوئی ایسا آلہ بھی ایجاد نہیں کیا جو اس کی قوت شامہ کو ترقی دے ، لیکن ہماری یہ کمزور قوت شامہ بھی اس قدر چھوٹے ذرات کو محسوس کرلیتی ہے جیسے مائیکروسکوپ کے ذریعہ ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ اکثر حیوانات ایسی آوازیں سن لیتے ہیں جو ہمارے کانوں کے پردوں کے اندر ارتعاش پیدا نہیں کرسکتے ، کیونکہ یہ ہماری سماعت کی حد سے بہت ہی دقیق اور باریک ہوتے ہیں۔ انسان نے ایسے آلات ایجاد کرلیے ہیں کہ وہ کئی میل دور اڑنے والی مکھی کے پروں کی آواز بھی سن لے ، اس طرح کہ گویا وہ اس کے کان کے پردے کے اوپر بیٹھی ہے۔ ایسے ہی آلات کے ذریعہ سورج کی شعاعوں کی رفتار کی آواز بھی ریکارڈ کی جارہی ہے “۔ ” پانی کی مکڑیوں کی ایک قسم ایسی ہے جو پانی کے اندر غبارے کی طرح ایک گھونسلہ تیار کرتی ہے ، یہ تار عنکبوت سے بنایا جاتا ہے اور اسے پانی کے نیچے کسی چیز سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعدیہ مکڑی اپنے جسم کے بالوں کے ساتھ پانی کا ایک بلبلہ باندھتی ہے اور اسے لے جاکر اس گھونسلے سے باندھ دیتی ہے یہاں تک کہ گھونسلے کے گرد ہوا کے بلبلوں کا حصار بن جاتا ہے ، اس کے بعد وہ گھونسلے کے اندر بچے دیتی ہے کہ وہ ہوا کے طوفان سے محفوظ رہیں۔ اس گھونسلے کی ساخت میں ایک تو باریک بننے کا عمل ہے ، اس کے بعد دقیق انجینئرنگ اور ہوا بازی کا گہرا ادراک ہے “۔ ” سالمن مچھلی ، جو چھوٹی سی ہوتی ہے اور سمندر میں کئی سال تک گھومتی پھرتی ہے ، اس کے بعد وہ اس دریا کی طرف واپس ہوتی ہے جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔ آخر وہ کیا قوت ہے جو اسے اس کی جائے پیدائش تک رہنمائی کرتی ہے۔ یہ جب اپنی جائے پیدائش کی طرف بڑھتے ہوئے کسی غلط دریا کی طرف چلی جائے تو اسے فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ دریا اس کی جائے پیدائش نہیں ہے۔ چناچہ وہ دریا میں چلتی ہے اور پانی کے بہاﺅ کے بالمقابل چل کر اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔ پانی کے سانپوں کا معاملہ تو بہت ہی عجیب ہے۔ ان کا قصہ سالمن مچھلی کے برعکس ہے۔ اس مخلوق خدا کی عمر جب پوری ہوتی ہے تو یہ مختلف تالابوں اور دریاﺅں سے سفر کرکے گہرے سمندروں کی طرف جاتے ہیں۔ اگر یورپ میں ہوں تو یہ ہزاروں میل کا سفر طے کرکے جنوبی برمودا کی گہرائیوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ وہاں پھر یہ انڈے دے کر مرجاتے ہیں ، اب ان کے جو بچے پیدا ہوجاتے ہیں تو وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ نہایت گہرے پانیوں میں ہیں ، لیکن یہ بچے اسی راستے سے ساحل کی طرف جاتے ہیں جس طرح ان کی ماں ساحل سے پانی کی طرف آئی تھی اور ساحل سے پھر یہ کسی دریا ، یا نہر یا حوض اور تالاب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ چناچہ پانیوں کی ہر قسم بحری سانپوں کے لئے موزوں ہوتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے بڑی بڑی موجیں ، طوفان اور سمندری تلاطم دیکھے ہوئے ہیں اور ان کا مقابلہ کیا ہوا ہوتا ہے ۔ یہ ساحلوں پر چلتے ہیں اور جب یہ مکمل ہوجاتے ہیں تو کوئی خفیہ قانون ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پھر واپسی کا سفر کریں اور گہرے سمندروں میں چلے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ جذبہ ان کے اندر کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی شکاری یا مچھیرے نے یورپی سمندروں میں امریکی بحری سانپ پکڑا ہو ، یا کسی امریکی مچھیرے کے جال میں یورپی سانپ آگیا ہو ، یورپی بحری سانپ کو چونکہ گہرے سرندروں تک لمبا سفر کرنا پڑتا ہے اسی لئے قدرت نے اسے ایک سال کی لمبی عمر عطا کی۔ یا اس سے بھی زیادہ تاکہ وہ مرنے سے قبل اپنی منزل مقصود کو پہنچ سکے۔ کیونکہ یورپی بحری سانپ کو امریکی بحری سانپ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ کون سے ایٹم اور کیا سالمے ہیں ؟ جب بحری سانپ مچھلیوں کی شکل میں جمع ہوئے تو ان کے اندر اس قسم کی قوت ارادی پیدا ہوجاتی ہے جو ایسے دور دراز سفر کراتی ہے ؟ ” جب مادہ پروانہ ہوا کے دباﺅ میں تمہارے کسی روشن دان سے اندر آجاتا ہے تو وہ اپنے نر کو ایک سگنل بھیجتی ہے ، چاہے وہ جتنا بھی دور ہو۔ بعض اوقات وہ بہت دور ہوتا ہے۔ وہ اس اشارے کو وصول کرلیتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ اس کو گمراہ کرنے کی انسان جس قدر کوشش بھی کرے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ غلطی کرے۔ کیا ان کے پاس کوئی ریڈیو اسٹیشن ہے یا اس مرد کے پاس کوئی ریڈیو یا مشین ہے جو اس سے سگنل وصول کرتا ہے۔ ایریل کا ہونا تو بڑی بات ہے کیا اس کے پاس کوئی ایتھر ہے جس کے ذریعہ وہ ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ ٹیلی فون اور ریڈیو ہمارے پاس سریع الحرکت مواصلاتی آلات ہیں لیکن یہ تاروں کے ذریعے ایک جگہ کو دوسری جگہ سے منسلک کرتے ہیں۔ اس طرح تو یہ پروانہ ہم پر فوقیت رکھتا ہے “۔ نباتات اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے کئی چیزوں سے خدمت لیتے ہیں ، بغیر ان کے علم و ارادہ کے۔ مثلاً حشرات پھولوں کا بورا ان کے لئے منتقل کرتے ہی ، ہوا یہی کام کرتی ہے ، وحوش وطیور بھی یہی کام کرتے اور ان کا بورا اور بیج بکھیرتے ہیں۔ سب سے آخر میں ان نباتات نے انسان کو بھی اپنے جال میں پھانس لیا۔ اس نے فطرت کو حسن بخشا اور فطرت نے اسے اس کا اجردیا۔ لیکن انسان بھی تو کسی حد پر رکنے والا نہیں۔ ھل من مزید کا قائل ہے۔ اس نے ہل چلایا ، بیج بویا ، فصل کاٹی ، انبار بھرے ، پھر اس نے فصلوں کو ترقی دی ، شاخ تراشی کی اور خوراک کا بندوبست کیا۔ اگر وہ یہ کام چھوڑ دے تو بھوک سے مرجائے اور دنیا سے تہذیب و تمدن کا خاتمہ ہوجائے اور انسانیت پتھر کے دور میں واپس چلی جائے۔ “ پانی کے بیشمار جانور مثلاً جھینگا مچھلی کا ایک بازو اگر کٹ جائے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے جسم کا ایک حصہ ضائع ہوگیا ہے ، اس کے خلیے اور جینز اس عضو کو دوبارہ بنانا شروع کردیتے ہیں اور جب وہ عضو مکمل ہوجاتا ہے تو خلیے یہ کام بند کردیتے ہیں اور ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کی ڈیوٹی ختم ہے۔ پانی کے وہ کیڑے جن کے کئی پاﺅں ہوتے ہیں ، جب دوٹکڑے ہوجائے تو وہ ان میں سے ایک ٹکڑے کی مدد سے اپنے آپ کو مکمل کرلیتا ہے۔ اگر تم اس کیڑے کا سرکاٹ دو تو وہ دوسرا سر بنالیتا ہے۔ ہم زخموں کو مندمل کرسکتے ہیں لیکن ہمارے سرجن ابھی تک یہ بات نہیں جانتے کہ وہ خلیوں کو متحرک کریں اور وہ ایک نیا بازو بنا ڈالیں یا گوشت پوشت ، ناخن اور اعصاب بنادیں ، اگر ایسا ممکن ہو۔ اور ایک عجوبہ تو یہ ہے کہ اگر کوئی خلیہ ابتدائی ایام ہی میں دو مکمل حصوں میں تقسیم ہوجائے تو اس سے دو مکمل حیوان تیارہوجاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ توام ہم شکل ہوتے ہیں ، اس کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ حمل کے ابتدائی مرحلہ میں خلیہ منقسم ہوگیا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں خلیہ کمل فرد ہوتا ہے۔ اور اسی طرح ایک فرد بھی ہر خلیہ میں ہوتا ہے۔ ایک دوسری فصل میں یہی مصنف لکھتا ہے : شاہ بلوط کا بھورا بیج زمین پر گراتا ہے ، اس کا بھورا چھلکا اسے محفوظ رکھتا ہے ، اور یہ گرتا پڑتا زمین میں کسی دراڑ میں اٹک جاتا ہے۔ موسم بہاں میں اس کے اندر کا جرثومہ جاگتا ہے۔ وہ اس چھلکے کو پھاڑ دیتا ہے اور یہ اس مغز سے خوراک حاصل کرتا ہے جو اس چھلکے کے اندر جمع کردی گئی ہوتی ہے۔ جس کے اندر اس کے موروثی جینز ہوتے ہیں۔ اس کی جڑیں زمین میں جاتی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یہ پودا نمودار ہوتا ہے ، چھوٹا درخت اور پھر کامل درخت بن جاتا ہے۔ اس کے اندر کئی ملین جینز ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اپنی جڑوں ، چھلکے ، پھل اور تنوں اور شاخوں میں بھی اس درخت کے مماثل ہوتا ہے جس سے وہ بیج نکلا۔ کروڑوں سال پہلے جو بلوط کا درخت پیدا ہوا تھا ، اس کے پھل آج تک اپنے ذرات کی ترتیب اس طرح رکھتے ہیں جس طرح پہلے بلوط کے پھل نے رکھا تھا۔ یہی مصنف تیسری فصل میں لکھتا ہے : ” ہر خلیہ جو کسی زندہ مخلوق میں پیدا ہوتا ہے ، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح ڈھالے کہ گوشت کا حصہ ہو یا چمڑے کا حصہ ہو اور فنا ہوجائے ، یا دانت کی چمک بن جائے یا آنکھ کا سیال مادہ بن جائے یا ناک اور کان بن جائے۔ ہر خلیہ اپنے آپ کو ایسی شکل میں ڈھالتا ہے کہ وہ اپنا فرض منصبی پوری طرح ادا کرے۔ یہ بات نہایت ہی مشکل ہے کہ کوئی تعین کرے کہ کون سا خلیہ دائیں ہاتھ ہے یا بائیں ہاتھ کا۔ لیکن ازروئے فطرت یہ بات متعین ہے کہ یہ خلیہ دائیں کان کا ہے اور یہ بائیں کان کا ہے۔ غرض ہزار ہا خلیات چلائے جاتے ہیں کہ وہ ایک صحیح کام کریں ، صحیح وقت پر کریں اور صحیح جگہ پر کریں “۔ چوتھی فصل میں یہ شخص کہتا ہے : ” مختلف قسم کی مخلوقات میں بعض مخلوقات ایسے کام کرتی ہیں جو دانش مندی کے اعلیٰ مرتبہ کے ہیں۔ جن کی کوئی تشریح ہم نہیں کرسکتے۔ مثلاً بھڑ ، ٹڈے کو شکار کرتی ہے ، زمین میں ایک گڑھا کھودتی ہے اور ایک مناسب جگہ اسے دفن کردیتی ہے۔ یہ شکار کرتے وقت اس کے ایسے مخصوص مقام پر ڈنگ مارتی ہے کہ وہ بےہوش ہوجاتا ہے لیکن اس کا گوشت صحیح وسالم زندہ رہتا ہے۔ اب مادہ بھڑ اس کے قریب ایک متعین مقام پر انڈے دیتی ہے۔ اسے شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ جب اس کے بچے پیدا ہوں گے تو اس ٹڈے کا گوشت کھائیں گے۔ لیکن اسے قتل نہ کریں گے کیونکہ یہ گوشت ان کی غذا ہے اور گوشت خراب ہوکر زہریلا بن جائے ۔ لازماً بھڑ نے ابتدا سے یہ کام شروع کیا ہوگا اور ہمیشہ وہ اسے دہراتی ہوگی ورنہ دنیا میں سے بھڑوں کا وجود ہی ختم ہوجاتا۔ سائنس کے پاس ایسی کوئی تشریح نہیں ہے کہ وہ بھڑوں کے اس مسلسل فعل کا سبب بیان کرے اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ یہ کام بھڑیں محض اتفاق سے کرتی ہیں ، کیونکہ مادہ بھڑ تو زمین کے اندر کھودے ہوئے گڑھے کو بھر کر چلی جاتی ہے اور مرجاتی ہے ، نہ وہ اس کے اسلاف یہ جانتے تھے کہ وہ ایسا کیوں کررہی ہے۔ نہ اسے اس کا علم اور مشاہدہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد اس کے بچوں کو کیا پیش آنا ہے بلکہ بھڑ کو تو یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کوئی چیز آنے والی ایسی ہے جسے وہ اپنا بچہ کہتی ہو ، بلکہ اسے یہ تک علم نہیں ہے کہ وہ یہ کام نوع کی حفاظت کے لئے کرتی ہے۔ چیونٹیوں میں سے بعض کی یہ ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ سردیوں کے موسم میں اپنی کالونی کو خوراک مہیا کرنے کے لئے حیوانات جمع کریں۔ پھر وہ ایک سٹور قائم کرتی ہیں جہاں یہ خوراک پیس کر رکھی جاتی ہے۔ پھر بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو قدرت نے پیسنے کی جبڑے دیئے ہوتے ہیں۔ ان کا کام صرف خوراک کو پیسنا ہوتا ہے۔ جب سردیوں کا موسم آتا ہے اور تمام غلہ پیسا جاچکا ہوتا ہے تو اس کی سپلائی یوں ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد کو فائدہ پہنچایا جاسکے تاکہ سپلائی جاری رہ سکے۔ اب چونکہ اگلی نسل میں مزید پیسنے والی چیونٹیاں پیدا ہوں گی۔ اس لئے چیونٹیوں کی فوج ان پیسنے والیوں پر حملہ آور ہوتی ہے اور ان کو قتل کردیتی ہے۔ شاید ان کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے حصے کی خوراک پیسنے کے دوران کھالی ہے کیونکہ انہوں نے اس موپعہ سے ضرور فائدہ اٹھایا ہوگا۔ بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی جبلت یا ان کی عقل ان کو کھانوں کے باغ بنانے پر آمادہ کرتی ہیں اور یہ چیونٹیاں ابتدائی کیڑوں کو اور پودوں کے چھلکوں پر پائے جانے والے کیڑوں کو گرفتار کرلیتی ہیں۔ یہ گویا ان کے لئے گائے اور بکریوں کا کام دیتے ہیں۔ ان کیڑوں سے یہ چیونٹیاں ایسا محلول لیتی ہیں جو شہد کی طرح ہوتا ہے اور یہ چیونٹیوں کی خوراک کا کام دیتا ہے۔ چیونٹیاں بعض دوسری چیونٹیوں کو غلام بھی بنالیتی ہیں ، اور جب یہ اپنے گھونسلے بناتی ہیں تو یہ پتوں کو مناسب حجم میں کاٹتی ہیں۔ جب کارکن چیونٹیاں ان پتوں کو ایک طرف سے پکڑ کر اپنے مقام پر رکھتی ہیں تو اس وقت یہ ان بچوں سے بھی کام لیتی ہیں جو ابھی ارتفائی دور میں ہوتے ہیں لیکن ان کے ریشمی مواد سے یہ پتوں کو جوڑتی ہیں ، یوں یہ بچہ اپنے لئے گھونسلا بنانے سے محروم رہتا ہے لیکن اپنے بنی نوع کے لئے ایک مفید کام کرچکا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس ذروں سے چیونٹی بنتی ہے ان ذروں میں یہ کام کرنے کی صلاحیت کس طرح پیدا ہوجاتی ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ان کا ایک خالق ہے جس نے ان کو اس طرح کرنے کی ہدایت کی “۔ (اقتباسات ختم ہوئے) اس میں شک نہیں ہے کہ ایک خالق ہے جس نے اپنی تمام مخلوقات کو ہدایات دیں ، خواہ وہ بڑی مخلوق ہو یا چھوٹی ہو ، اور یہ وہی خالق ہے جو الاعلیٰ…………فھدی (1:87 تا 3) ” جو برتر ہے ، جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی “۔ ہم نے اوپر جو اقتباسات دیئے ہیں ، یہ تو اصل حقیقت کے ایک معمولی حصے کے مشاہدات ہیں ، جو انسانوں نے نباتات ، حشرات الارض ، پرندوں اور دوسرے حیوانات کے سلسلے میں ریکارڈ کیے ہیں۔ لیکن اس سے آگے علم ومشاہدہ اور بھی جہاں ہیں اور جو کچھ ہمارے علم میں ہے وہ اس قول باری کے مدلول اور مفہوم کا ایک نہایت ہی مختصر حصہ ہے۔ الذی خلق…………فھدی (2:87 تا 3) ” جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی “۔ یہ قابل مشاہدہ کائنات جس کے ایک معمولی حصے کو ہم جانتے ہیں ، اس سے آگے عالم غیب کے جہاں پوشیدہ ہیں۔ ہمیں تو اپنی بشری قوتوں کے مطابق بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ یہ چند اشارات ہیں جو اللہ نے ہماری محدود قوت ادراک کے لئے کردیئے ہیں۔ اس عظیم کائنات کا ایک وسیع صفحہ پیش کرنے اور اس کی وادیوں میں اللہ کی تسبیح وثنا کی گونج پیدا کرنے کے بعد ، اللہ کی اس عظیم تسبیح کو مکمل کرنے کے لئے یہاں نباتات کی دنیا کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہاں اس اشارے کے اندر جہان معانی ہے۔ والذی اخرج…………احوی (5:87) ” جس نے نباتات اگائیں اور پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “ المرعی ، ہر اس چیزکو کہا جاتا ہے جو زمین سے اگتی ہے ، اس لئے کہ ہر اگنے والی چیز کسی نہ کسی مخلوق کے لئے خوراک ہے۔ لہٰذا مرعی کا مفہوم یہاں اس سے کہیں وسیع ہے کہ کوئی چیز ہمارے مویشیوں کے چرنے کی ہے تو مرعی ہے۔ کیونکہ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس زمین کے اوپر چلنے والی ہر مخلوق کے لئے اس کے اندر اس کی خوراک پیدا کی ، چاہے یہ مخلوق زمین کے اوپر چلتی ہو ، یا اندر چھپی رہتی ہو یا اس کی فضاﺅں میں اڑتی ہو۔ نباتات ابتداء میں سبز ہوتے ہیں ، پھر یژمردہ ہوکر سیاہ ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ سبزی کی حالت ہی میں خوراک کے قابل ہوتے ہیں اور بعض اوقات وہ پک کر سیاہ ہوتے ہیں تو خوراک کا کام دیتے ہیں۔ درمیانی حالت میں بھی وہ کسی نہ کسی خوراک کا کام دیتے ہیں۔ بہرحال نباتات کی ہر حالت ، اللہ کی تخلیق اور تسویہ کے مطابق کسی مخلوق کے لئے خوراک بنتی ہے۔ یہاں نباتاتی زندگی کے منظر کو پیش کرکے ایک اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ جس طرح ہر نبات کوڑا کرکٹ بن کر انجام تک پہنچتا ہے۔ اس طرح ہر زندہ مخلوق بھی اس دنیا میں اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔ اور یہ اشارہ ہے اس حیات ودنیا اور حیات اخروی کی طرف کہ حیات دنیا تو نباتات کی طرح ختم ہونے والی ہے اور حیات اخروی باقی اور لازوال ہے۔ بعد میں آتا ہے۔ بل توثرون…………وابقی (17:87) ” مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت سے بہتر اور باقی رہنے والی ہے “۔ دنیا کی زندگی اس کھیت کی طرح ہے جو ختم ہوکر کوڑا کرکٹ بن جاتی ہے اور آخرت باقی و لازوال ہوتی ہے۔ اس مقطع کے ذریعے اس عظیم کائنات کے صفحات کو دور تک پھیلا دیا جاتا ہے اور جن امور کا ذکر ہوتا ہے وہ سورت کے آنے والے حقائق کے ساتھ مناسب ہیں۔ یہ کائنات ان سے ہم آہنگ ہوتی ہے اور یہ حقائق کائنات سے پیوست ہوتے ہیں۔ ایک نہایت ہی وسیع و عریض فریم ورک ہیں۔ اگر گہرا مطالعہ کیا جائے کہ اس سیپارے کے مضامین کو وسیع کائناتی دائرے میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کائناتی دائرہ اس پارے کی فضا اور اس کے اشارات اور مضامین کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔

الأعلى 87:4

سبح اسم ..................... احوی سورت کا آغاز نہایت ہی نرم اور نہایت لمبے آہنگ سے ہوتا ہے ، اس لمبے ٹون کے ذریعہ فضا میں تسبیح کی خوشگوار اور خوشبودار آواز بکھیر دی گئی ہے۔ اس کے بعد پھر تسبیح کا حکم اور پھر وہ صفات جن کو تسبیح کے بعد لایا گیا ہے۔ سبح اسم……………. احوی (1:87 تا 5) ”(اے نبی ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی ، جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “۔ تاکہ اس تسبیح کے ذریعہ اس پوری کائنات کے اطراف واکناف میں تسبیح کی یہ آوازگونجاٹھے اور پوری کائنات ایک معبد نظر آئے اور ایک عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ پوری کائنات صانع قدرت کی مصنوعات کی نمائش گاہ بھی بن جائے۔ الذی…………فھدی (3:87) ” جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بناکر اسے ہدایت بخشی “۔ تسبیح کے کیا معنی ہیں ۔ اللہ کی برتری ذہن میں بسانا ، اللہ کو ہر عیب سے پاک سمجھنا اور ذہن میں اللہ کی صفات حسنی کا استحضار اور ان چیزوں کی روشنی ، چمک اور نورانیت سے اپنے ذوق ووجدان اور قلب و شعور کو روشن رکھا ، نام ہے تسبیح کا۔ محض زبان سے سبحان اللہ جپنے کو تسبیح نہیں کہتے۔ سبح……………. الاعلیٰ (1:87) ” اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو “۔ یہ الفاظ انسانی وجدان اور شعور پر ایک حالت طاری کردیتے ہیں۔ یہ وجدانی حالت ایسی ہوتی ہے جس کا اظہار الفاظ کے اندر ممکن نہیں ہے۔ یہ تو ایک وجدانی اور ذوقی چیز ہے اور ایک ایسی زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کا تعلق کچھ معانی اور کچھ صفات کے استحضار سے ہے نہ کہ کچھ الفاظ رٹنے سے۔ یہ معانی وصفات کیا ہیں ؟ پہلی صفت ، صفت ربوبیت ہے۔ اور دوسری صفت اعلیٰ ہے ۔ رب کے معنی مربی ، نگران اور پالنے والے کے ہیں۔ ان صفات کے سائے اور پرتو اس سورت کی فضا اور اس کے اندر بیان کی جانے والی خوشخبریوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ، خصوصاً اس کے نرم انداز کے ساتھ۔ صفت اعلیٰ پردہ شعور پر ایسی تصاویر لاتی ہے جن سے علو ، برتری اور غیر متناہی اور غیر محدود وآفاق کا اظہار ہوتا ہے۔ انسانی روح دور تک تسبیحات کرتی ہے اور اس تصور علو سے تسبیح میں پاکی اور عظمت کے ساتھ مناسبت پیدا ہوتی ہے اور تسبیح اپنے بنیادی عناصر کے اعتبار سے تصور علو رب کا نام ہے۔ ابتدائی خطاب ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہے ، اور یہ براہ راست اللہ کی طرف سے آپ کو خطاب ہے۔ حضور اکرم ﷺ جب اس حکم ربی کو پڑھتے تھے۔ سبح ” پاکی بیان کرو “ تو اگلی آیات پڑھنے سے پہلے آپ اس حکم پر عمل کرلیتے اور آپ فرماتے : سبحان ربی الاعلیٰ ” میں اپنے رب اعلیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں “۔ یوں حکم اور جواب حکم یا تعمیل حکم ہوجاتا ۔ امر کی اطاعت ہوجاتی اور اللہ کے ساتھ مناجات اور سوال و جواب ہوجاتا۔ کیونکہ حضور رب کے سامنے کھڑے ہوتے۔ براہ راست یہ کلام رب تعالیٰ سے لے رہے ہوتے تھے اور اس اتصال اور قرب کی حالت میں جواب دے دیتے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور اکرم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ یہ تسبیح سجدے میں پڑھا کرو۔ (اجعلوانی سجودکم) اور اس سے قبل جب یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ فسبح……………. العظیم ” اپنے رب عظیم کے نام کا تسبیح کرو “۔ تو آپ نے حکم دیا کہ اس کو رکوع میں پڑھو چناچہ رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑھنا شروع کیا گیا۔ پس رکوع و سجود کی یہ تسبیح ایک زندہ تسبیح ہے ، محض مردہ کلمات نہیں ، جس طرح ایک زندہ چیز کا جسم حیات اور زندگی سے گرم ہوتا ہے ایسی ہی تسبیح نماز میں مطلوب ہے تاکہ اس تسبیح سے براہ راست حکم خداوندی کی تعمیل ہوجائے یا بالفاظ دیگر اجازت خداوندی کی تعمیل ہو ، کیونکہ اللہ کا اپنے بندوں کو یہ اجازت دینا کہ اس کی حمدوثنا کرو ، یہ بھی اللہ کا فضل وکرم ہے۔ کیونکہ اس طرح انسان کو یہ اجازت ملتی ہے کہ وہ اپنے حد تصور کے مطابق اللہ کے قریب ہوجائے۔ کیونکہ انسان اللہ کی ثنا اللہ کی ذات وصفات میں اپنے محدود تصور کے مطابق ہی کرسکتا ہے۔ اور یہ اللہ کے فضل وکرم کی ایک شکل ہے کہ اللہ اپنی ذات کی معرفت اپنے بندوں کو اپنی صفات کے ذریعہ کرواتا ہے۔ ایسی حدود میں کہ جن کے اندر وہ اللہ کی معرفت کا تصور کرسکتے ہیں۔ اللہ اپنی ذات تک پہنچنے کے لئے اپنے بندوں کو جس شکل و صورت میں بھی اجازت دیتا ہے ، یہ ان پر فضل وکرم کی ایک صورت ہوتی ہے۔ سبح اسم……………. فھدی (1:87 تا 3) ” اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو ، جس نے پیدا کیا ، اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی ، پھر راہ دکھائی “۔ یعنی ہر چیز کو پیدا کیا اور نہایت مناسب شکل میں پیدا کیا اور اس تخلیق کے ہر پہلو کو کامل بنایا۔ اس حد تک کامل کہ کوئی اس میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کی فلاں چیز اس کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اللہ نے تقدیریوں بنائی کہ ہر چیز کے لئے اس کا فرض منصبی مقرر کردیا اور اس کا مقصد تخلیق اور اس مقصد کو پورا کرنے کا طریقہ بھی اسے سمجھا دیا۔ ہر چیز کو عجیب الہامی انداز میں یہ تعلیم دی گئی۔ ہر چیز کو یہ شعور بھی بذریعہ الہام دے دیا کہ اس کی مقررہ زندگی کے لئے اس کو کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے اور اس کائنات کی جس چیز کا تجزیہ کیا جائے اس کے اندر یہ حقیقت موجود ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات کی ہر چیز میں ، خواہ بڑی ہو یا چھوٹی ہو ، اہم ہو یا حقیر ہو ، ہر چیز کی تخلیق میں تسویہ اور تناسب موجود ہے۔ ہر چیز کامل الخلقت ہے اور ہر چیز کی تخلیق کا ایک مقصد ہے اور وہ مقصد اس کی تقدیر ہے ، اور ہر چیز کو اللہ نے اپنا مقصد وجودپورا کرنے کے لئے نہایت ہی آسان طریقہ کار فراہم کردیا ہے۔ غرض اللہ کی ہر مخلوق مکمل اور متناسب ہے۔ اور ہر چیز اپنا انفرادی فریضہ ادا کرتی ہے۔ مثلاً ایٹم ایک اکیلا ایٹم ، پر ٹون اور الیکٹرون کی برقی رفتار کے اندر اسی قدر توازن رکھتا ہے جس طرح ایک کہکشاں اپنے سورج اور اس کے تابع ستاروں کے درمیان توازن رکھتی ہے۔ ایک ایٹم اپنے مقصد اور فریضے کو اسی طرح پورا کرتا ہے جس طرح ایک کہکشاں پورا کرتی ہے۔ دونوں کو انپا مقصد اور طریقہ حصول مقصد معلوم ہوتا ہے۔ ایک منفرد خلیہ ایک مکمل تخلیق ہے۔ اور اس کے اندر اپنا مقصد تخلیق پورا کرنے کی پوری استعداد ہوتی ہے اور وہ اپنا مقصد اسی طرح پورا کرتا ہے جس طرح کوئی اعلیٰ مرکب اور پیچیدہ مخلوق کرتی ہے۔ پھر ایک منفرد ایٹم اور کسی کہکشاں کے درمیانی درجات پر الگ الگ مخلوق ہے۔ جس طرح ایک منفرد خلیہ اور پیچیدہ ترین مخلوقات کے درمیان زندہ مخلوقات کے مختلف درجے اور ان کی تنظیم ہے۔ اور ہر درجے اور ہر تنظیم کی تخلیق میں کمال اور تسویہ ہے اور ہر ایک کے لئے انفرادی فرائض اور اجتماعی مقاصد ہیں۔ دست قدرت الہامی طریقے سے ان سے یہ کام کراتا ہے اور اس گہری حقیقت یعنی تخلیق وتسویہ کا یہ کام پوری کائنات پر شاہد عادل ہے۔ اس حقیقت کو انسانی قلب پاسکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کائنات کے اشارات اخذ کرنے کے لئے تیار ہو اور کھلے دل سے وہ اس کائنات کی موجودات پر غور کرے۔ انسان کا اکتسابی علم جس درجے کا بھی ہو اور وہ ترقی یافتہ معاشرے کافرد ہو یا پسماندہ معاشرے کا فرد ہو وہ کائنات کی ان اشیاء سے یہ الہامی اشارات اخذ کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کے دل و دماغ کے دریچے بھی ان اشارات کو پانے کے لئے تیار ہوں اور کھلے ہوں اور کسی عقل وخرد کے تار اس قابل ہوں کہ وہ مضراب حقیقت کے جواب میں نغمہ بار ہوسکیں۔ اس کے بعد کائنات کا مشاہدہ اور کسی علم آتے ہیں اور انسان مطالعہ فطرت میں پہلی نظر سے جو الہام پاتا ہے ، تمام مشاہدات اس کی تائید کرتے ہیں ، بعض لوگوں نے مشاہدہ کائنات کے ذریعہ ایسے اشارات جمع کیے ہیں جو اس کائنات کے اندر پوشیدہ مجموعی حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ نیویارک کی سائنسی علوم کی اکیڈمی کے صدر کریسی موریسن اپنی کتاب ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “ میں اپنے مشاہدات یوں قلم بند کرتے ہیں۔ ” پرندوں میں وطن لوٹنے کا ایک ملکہ ہوتا ہے ، ایک خاص چڑیا جو دروازوں پر گھونسلے بناتی ہے ، خزاں کے موسم میں جنوب کی طرف ہجرت کرجاتی ہے اور اگلے سال بہار میں اپنے اسی مقام کی طرف لوٹ آتی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں امریکہ کے اکثر پرندے جنوب کی طرف جاتے ہیں اور وہ سمندروں اور صحراﺅں پر سے پرواز کرتے ہوئے ہزاروں میل سفر کرتے ہیں اور کبھی اپنا راستہ نہیں بھولتے۔ اور پیغام رساں کبوتر پنجرے میں طویل سفر کرتے ہیں اور جب ان کو پیغام کر چھوڑا جاتا ہے تو وہ کچھ دیر کے لئے حیران ہوکر چکر لگاتے ہیں اور اس کے بعد وہ سیدھے اپنے وطن کی طرف پرواز کرتے ہیں اور کبھی راہ نہیں بھٹکتے ۔ شہد کی مکھی اگر کسی طرف جائے اور اس کے پیچھے نشانات راہ کسی طوفان کی وجہ سے مٹ جائیں تو بھی وہ راہ نہیں بھولتی اور سیدھی چھتے پر آجاتی ہے۔ البتہ انسان کے اندر یہ جبلت کمزور ہے اور انسان اس کمی کو اپنے آلات اور عقل کے ذریعہ پوری کردیتا ہے۔ باریک کیڑے مکوڑے بھی نہایت ہی چھوٹی اور خوردبینی آنکھیں رکھتے ہیں اور یہ نہایت ہی مکمل آنکھیں ہوتی ہیں۔ باز اور عقاب وغیرہ کی آنکھیں دور بین کی طرح ہوتی ہیں ، انسانی آنکھ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس کمی کو بھی انسانی عقل و تجربہ نے پورا کیا ہے۔ چناچہ ان دوربینوں کے ذریعہ انسانسحابیوں کو دیکھ لیتا ہے اور اس نے ان کو دیکھنے کے لئے انسانی نظر کو بیس لاکھ گنا تیز کیا۔ نیز انسان نے ایسی خورد بینیں ایجاد کیں جن کے ذریعے وہ بیکٹریا اور دوسرے نہ نظر آنے والے کیڑے مکوڑے دیکھتا ہے۔ اب ذرا تم اپنے بوڑھے گھوڑے کو راستہ پر چھوڑدو۔ جس قدر اندھیرا بھی ہو وہ راستہ نہ بھولے گا۔ وہ سخت تاریکی میں بھی دیکھ سکتا ہے اگرچہ بہت واضح نہ سہی۔ وہ راستہ میں اور اس کے دونوں جانب درجہ حرارت کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ یہ درجہ حرارت اس کی آنکھیں انفراریڈ شعاعوں کے ذریعہ معلوم کرلیتی ہیں۔ الو ایک گرم چوہے کو سردگھاس کے نیچے چلتا پھرتا دیکھ لیتا ہے اگرچہ سخت اندھیرا ہو اور انسانوں نے تو بجلی کے قمقموں کے ذریعہ تاریک رات کو دن بنادیا ہے “۔ ” شہد کی مکھیوں کی دنیا بھی عجیب ہے۔ کارکن مکھیاں چھتے میں مختلف قسم کے کمرے بناتی ہیں۔ یہ تربیت کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ چھوٹے کمرے کارکنوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور بڑے کمرے مردوں کے لئے اور ملکہ کے لئے خاص کمرے تیار ہوتے ہیں۔ یہ ملکہ مجھی جب غیر بار آورانڈہ دیتی ہے تو اسے مردوں کے کمرے میں رکھ دیتی ہے اور جب بار آور انڈہ دیتی ہے تو اسے اس کمرے میں رکھ دیتی ہے جس میں مونث کارکن مکھیاں ہوتی ہیں جو آگے جاکر ملکہ مکھی بننے والی ہوتی ہیں اور وہ کارکن مکھیاں جو مزدور ہوتی ہیں جب وہ ایک طویل عرصہ تک نسل تیار کرنے کا کام کرلیتی ہی تو ان کو بدل دیا جاتا ہے۔ یہ کارکن مکھیاں بچوں کے لئے غذا تیار کرنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ یہ شہد اور پھولوں کو چبا کر ہضم کے قابل بناتی ہیں اور بچوں کے اندر نر اور مادے کا ظہور ہوجاتا ہے تو پھر یہ مذکورہ بالا طریقے سے غذاہضم کے لئے تیار کرنے کا عمل ترک کردیتی ہیں۔ اس کے بعد ان کو شہد اور پھولوں کا بور دیا جاتا ہے اور بچوں میں سے جو مونث اس طریقے سے تربیت پاتی ہیں وہ بعد میں کارکن مکھیاں بن جاتی ہیں “۔ جو مونث مکھیاں ملکہ مکھیوں کے حجروں میں ہوتی ہیں ، تو ان کو شہد اور پھولوں کے بورے کو ابتدائی طور پر قابل ہضم بناکر غذا دینے کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے ، اور جن مونث مکھیوں سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے بعد میں وہ ملکہ مکھن بن جاتی ہیں۔ صرف یہ ملکہ ہی ایسے انڈے دیتی ہیں جو پار آور ہوتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے مطابق جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان کے لئے خاص قسم کے حجروں ، ایک خاص قسم کے انڈوں اور ایک خاص قسم کی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور غذا کے اندر تبدیلی کا اثر بھی عجیب ہوتا ہے۔ اس قسم ٹیکنالوجی کے لئے مکھیوں کو ایک طویل عرصہ تک انتظار کی ضرورت پڑی ہوگی جنہوں نے ان اصولوں کے اندرتمیز کرکے ان کو نافذ کیا ہوگا اور غذا کے اثرات معلوم کیے ہوں گے۔ اور ان اثرات معلوم کیے ہوں گے۔ اور ان اثرات کو اجتماعی طور پر نافذ کیا ہوگا جو ان کے وجود کے لئے ضروری ہوگا۔ مکھیوں نے جب اجتماعی زندگی کا آغاز کیا ہوگا تب ان کو یہ اصول معلوم ہوئے ہیں گے ، کیونکہ مکھی کے وجود اور زندگی کی بقا کے لئے ان اصولوں کی دریافت ضروری نہ تھی۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ شہد کی مکھی نے غذا کے اثرات کے سلسلے میں انسان سے زیادہ تحقیق کی ہے “۔ (مغربی فکر میں ڈوبا ہوا مصنف یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اللہ نے جب مکھی کو پیدا کیا تو یہ سب کچھ سکھا دیا۔ ان کے دماغوں پر ڈارون کا فلسفہ ارتقاء ہی بیٹھا ہوا ہے حالانکہ قرآن صاف کہتا ہے وعلم آدم الاسماء کلھا ” اللہ نے آدم کو تمام نام سکھادیئے “ اسی طرح اللہ نے مکھی کو بھی تمام بنیادی تعلیم دے دی تھی (مترجم) ۔ ” کتے کو ایک اضافی ناک دی گئی ہے جس کے ذریعہ وہ تمام جانوروں کی بوسونگھ لیتا ہے جو کسی راستے سے گزرے ہوں ، انسان کی قوت شامہ کتوں کے مقابلے میں کمزور ہے اور آج تک انسان نے کوئی ایسا آلہ بھی ایجاد نہیں کیا جو اس کی قوت شامہ کو ترقی دے ، لیکن ہماری یہ کمزور قوت شامہ بھی اس قدر چھوٹے ذرات کو محسوس کرلیتی ہے جیسے مائیکروسکوپ کے ذریعہ ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ اکثر حیوانات ایسی آوازیں سن لیتے ہیں جو ہمارے کانوں کے پردوں کے اندر ارتعاش پیدا نہیں کرسکتے ، کیونکہ یہ ہماری سماعت کی حد سے بہت ہی دقیق اور باریک ہوتے ہیں۔ انسان نے ایسے آلات ایجاد کرلیے ہیں کہ وہ کئی میل دور اڑنے والی مکھی کے پروں کی آواز بھی سن لے ، اس طرح کہ گویا وہ اس کے کان کے پردے کے اوپر بیٹھی ہے۔ ایسے ہی آلات کے ذریعہ سورج کی شعاعوں کی رفتار کی آواز بھی ریکارڈ کی جارہی ہے “۔ ” پانی کی مکڑیوں کی ایک قسم ایسی ہے جو پانی کے اندر غبارے کی طرح ایک گھونسلہ تیار کرتی ہے ، یہ تار عنکبوت سے بنایا جاتا ہے اور اسے پانی کے نیچے کسی چیز سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعدیہ مکڑی اپنے جسم کے بالوں کے ساتھ پانی کا ایک بلبلہ باندھتی ہے اور اسے لے جاکر اس گھونسلے سے باندھ دیتی ہے یہاں تک کہ گھونسلے کے گرد ہوا کے بلبلوں کا حصار بن جاتا ہے ، اس کے بعد وہ گھونسلے کے اندر بچے دیتی ہے کہ وہ ہوا کے طوفان سے محفوظ رہیں۔ اس گھونسلے کی ساخت میں ایک تو باریک بننے کا عمل ہے ، اس کے بعد دقیق انجینئرنگ اور ہوا بازی کا گہرا ادراک ہے “۔ ” سالمن مچھلی ، جو چھوٹی سی ہوتی ہے اور سمندر میں کئی سال تک گھومتی پھرتی ہے ، اس کے بعد وہ اس دریا کی طرف واپس ہوتی ہے جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔ آخر وہ کیا قوت ہے جو اسے اس کی جائے پیدائش تک رہنمائی کرتی ہے۔ یہ جب اپنی جائے پیدائش کی طرف بڑھتے ہوئے کسی غلط دریا کی طرف چلی جائے تو اسے فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ دریا اس کی جائے پیدائش نہیں ہے۔ چناچہ وہ دریا میں چلتی ہے اور پانی کے بہاﺅ کے بالمقابل چل کر اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔ پانی کے سانپوں کا معاملہ تو بہت ہی عجیب ہے۔ ان کا قصہ سالمن مچھلی کے برعکس ہے۔ اس مخلوق خدا کی عمر جب پوری ہوتی ہے تو یہ مختلف تالابوں اور دریاﺅں سے سفر کرکے گہرے سمندروں کی طرف جاتے ہیں۔ اگر یورپ میں ہوں تو یہ ہزاروں میل کا سفر طے کرکے جنوبی برمودا کی گہرائیوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ وہاں پھر یہ انڈے دے کر مرجاتے ہیں ، اب ان کے جو بچے پیدا ہوجاتے ہیں تو وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ نہایت گہرے پانیوں میں ہیں ، لیکن یہ بچے اسی راستے سے ساحل کی طرف جاتے ہیں جس طرح ان کی ماں ساحل سے پانی کی طرف آئی تھی اور ساحل سے پھر یہ کسی دریا ، یا نہر یا حوض اور تالاب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ چناچہ پانیوں کی ہر قسم بحری سانپوں کے لئے موزوں ہوتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے بڑی بڑی موجیں ، طوفان اور سمندری تلاطم دیکھے ہوئے ہیں اور ان کا مقابلہ کیا ہوا ہوتا ہے ۔ یہ ساحلوں پر چلتے ہیں اور جب یہ مکمل ہوجاتے ہیں تو کوئی خفیہ قانون ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پھر واپسی کا سفر کریں اور گہرے سمندروں میں چلے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ جذبہ ان کے اندر کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی شکاری یا مچھیرے نے یورپی سمندروں میں امریکی بحری سانپ پکڑا ہو ، یا کسی امریکی مچھیرے کے جال میں یورپی سانپ آگیا ہو ، یورپی بحری سانپ کو چونکہ گہرے سرندروں تک لمبا سفر کرنا پڑتا ہے اسی لئے قدرت نے اسے ایک سال کی لمبی عمر عطا کی۔ یا اس سے بھی زیادہ تاکہ وہ مرنے سے قبل اپنی منزل مقصود کو پہنچ سکے۔ کیونکہ یورپی بحری سانپ کو امریکی بحری سانپ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ کون سے ایٹم اور کیا سالمے ہیں ؟ جب بحری سانپ مچھلیوں کی شکل میں جمع ہوئے تو ان کے اندر اس قسم کی قوت ارادی پیدا ہوجاتی ہے جو ایسے دور دراز سفر کراتی ہے ؟ ” جب مادہ پروانہ ہوا کے دباﺅ میں تمہارے کسی روشن دان سے اندر آجاتا ہے تو وہ اپنے نر کو ایک سگنل بھیجتی ہے ، چاہے وہ جتنا بھی دور ہو۔ بعض اوقات وہ بہت دور ہوتا ہے۔ وہ اس اشارے کو وصول کرلیتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ اس کو گمراہ کرنے کی انسان جس قدر کوشش بھی کرے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ غلطی کرے۔ کیا ان کے پاس کوئی ریڈیو اسٹیشن ہے یا اس مرد کے پاس کوئی ریڈیو یا مشین ہے جو اس سے سگنل وصول کرتا ہے۔ ایریل کا ہونا تو بڑی بات ہے کیا اس کے پاس کوئی ایتھر ہے جس کے ذریعہ وہ ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ ٹیلی فون اور ریڈیو ہمارے پاس سریع الحرکت مواصلاتی آلات ہیں لیکن یہ تاروں کے ذریعے ایک جگہ کو دوسری جگہ سے منسلک کرتے ہیں۔ اس طرح تو یہ پروانہ ہم پر فوقیت رکھتا ہے “۔ نباتات اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے کئی چیزوں سے خدمت لیتے ہیں ، بغیر ان کے علم و ارادہ کے۔ مثلاً حشرات پھولوں کا بورا ان کے لئے منتقل کرتے ہی ، ہوا یہی کام کرتی ہے ، وحوش وطیور بھی یہی کام کرتے اور ان کا بورا اور بیج بکھیرتے ہیں۔ سب سے آخر میں ان نباتات نے انسان کو بھی اپنے جال میں پھانس لیا۔ اس نے فطرت کو حسن بخشا اور فطرت نے اسے اس کا اجردیا۔ لیکن انسان بھی تو کسی حد پر رکنے والا نہیں۔ ھل من مزید کا قائل ہے۔ اس نے ہل چلایا ، بیج بویا ، فصل کاٹی ، انبار بھرے ، پھر اس نے فصلوں کو ترقی دی ، شاخ تراشی کی اور خوراک کا بندوبست کیا۔ اگر وہ یہ کام چھوڑ دے تو بھوک سے مرجائے اور دنیا سے تہذیب و تمدن کا خاتمہ ہوجائے اور انسانیت پتھر کے دور میں واپس چلی جائے۔ “ پانی کے بیشمار جانور مثلاً جھینگا مچھلی کا ایک بازو اگر کٹ جائے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے جسم کا ایک حصہ ضائع ہوگیا ہے ، اس کے خلیے اور جینز اس عضو کو دوبارہ بنانا شروع کردیتے ہیں اور جب وہ عضو مکمل ہوجاتا ہے تو خلیے یہ کام بند کردیتے ہیں اور ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کی ڈیوٹی ختم ہے۔ پانی کے وہ کیڑے جن کے کئی پاﺅں ہوتے ہیں ، جب دوٹکڑے ہوجائے تو وہ ان میں سے ایک ٹکڑے کی مدد سے اپنے آپ کو مکمل کرلیتا ہے۔ اگر تم اس کیڑے کا سرکاٹ دو تو وہ دوسرا سر بنالیتا ہے۔ ہم زخموں کو مندمل کرسکتے ہیں لیکن ہمارے سرجن ابھی تک یہ بات نہیں جانتے کہ وہ خلیوں کو متحرک کریں اور وہ ایک نیا بازو بنا ڈالیں یا گوشت پوشت ، ناخن اور اعصاب بنادیں ، اگر ایسا ممکن ہو۔ اور ایک عجوبہ تو یہ ہے کہ اگر کوئی خلیہ ابتدائی ایام ہی میں دو مکمل حصوں میں تقسیم ہوجائے تو اس سے دو مکمل حیوان تیارہوجاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ توام ہم شکل ہوتے ہیں ، اس کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ حمل کے ابتدائی مرحلہ میں خلیہ منقسم ہوگیا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں خلیہ کمل فرد ہوتا ہے۔ اور اسی طرح ایک فرد بھی ہر خلیہ میں ہوتا ہے۔ ایک دوسری فصل میں یہی مصنف لکھتا ہے : شاہ بلوط کا بھورا بیج زمین پر گراتا ہے ، اس کا بھورا چھلکا اسے محفوظ رکھتا ہے ، اور یہ گرتا پڑتا زمین میں کسی دراڑ میں اٹک جاتا ہے۔ موسم بہاں میں اس کے اندر کا جرثومہ جاگتا ہے۔ وہ اس چھلکے کو پھاڑ دیتا ہے اور یہ اس مغز سے خوراک حاصل کرتا ہے جو اس چھلکے کے اندر جمع کردی گئی ہوتی ہے۔ جس کے اندر اس کے موروثی جینز ہوتے ہیں۔ اس کی جڑیں زمین میں جاتی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یہ پودا نمودار ہوتا ہے ، چھوٹا درخت اور پھر کامل درخت بن جاتا ہے۔ اس کے اندر کئی ملین جینز ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اپنی جڑوں ، چھلکے ، پھل اور تنوں اور شاخوں میں بھی اس درخت کے مماثل ہوتا ہے جس سے وہ بیج نکلا۔ کروڑوں سال پہلے جو بلوط کا درخت پیدا ہوا تھا ، اس کے پھل آج تک اپنے ذرات کی ترتیب اس طرح رکھتے ہیں جس طرح پہلے بلوط کے پھل نے رکھا تھا۔ یہی مصنف تیسری فصل میں لکھتا ہے : ” ہر خلیہ جو کسی زندہ مخلوق میں پیدا ہوتا ہے ، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح ڈھالے کہ گوشت کا حصہ ہو یا چمڑے کا حصہ ہو اور فنا ہوجائے ، یا دانت کی چمک بن جائے یا آنکھ کا سیال مادہ بن جائے یا ناک اور کان بن جائے۔ ہر خلیہ اپنے آپ کو ایسی شکل میں ڈھالتا ہے کہ وہ اپنا فرض منصبی پوری طرح ادا کرے۔ یہ بات نہایت ہی مشکل ہے کہ کوئی تعین کرے کہ کون سا خلیہ دائیں ہاتھ ہے یا بائیں ہاتھ کا۔ لیکن ازروئے فطرت یہ بات متعین ہے کہ یہ خلیہ دائیں کان کا ہے اور یہ بائیں کان کا ہے۔ غرض ہزار ہا خلیات چلائے جاتے ہیں کہ وہ ایک صحیح کام کریں ، صحیح وقت پر کریں اور صحیح جگہ پر کریں “۔ چوتھی فصل میں یہ شخص کہتا ہے : ” مختلف قسم کی مخلوقات میں بعض مخلوقات ایسے کام کرتی ہیں جو دانش مندی کے اعلیٰ مرتبہ کے ہیں۔ جن کی کوئی تشریح ہم نہیں کرسکتے۔ مثلاً بھڑ ، ٹڈے کو شکار کرتی ہے ، زمین میں ایک گڑھا کھودتی ہے اور ایک مناسب جگہ اسے دفن کردیتی ہے۔ یہ شکار کرتے وقت اس کے ایسے مخصوص مقام پر ڈنگ مارتی ہے کہ وہ بےہوش ہوجاتا ہے لیکن اس کا گوشت صحیح وسالم زندہ رہتا ہے۔ اب مادہ بھڑ اس کے قریب ایک متعین مقام پر انڈے دیتی ہے۔ اسے شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ جب اس کے بچے پیدا ہوں گے تو اس ٹڈے کا گوشت کھائیں گے۔ لیکن اسے قتل نہ کریں گے کیونکہ یہ گوشت ان کی غذا ہے اور گوشت خراب ہوکر زہریلا بن جائے ۔ لازماً بھڑ نے ابتدا سے یہ کام شروع کیا ہوگا اور ہمیشہ وہ اسے دہراتی ہوگی ورنہ دنیا میں سے بھڑوں کا وجود ہی ختم ہوجاتا۔ سائنس کے پاس ایسی کوئی تشریح نہیں ہے کہ وہ بھڑوں کے اس مسلسل فعل کا سبب بیان کرے اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ یہ کام بھڑیں محض اتفاق سے کرتی ہیں ، کیونکہ مادہ بھڑ تو زمین کے اندر کھودے ہوئے گڑھے کو بھر کر چلی جاتی ہے اور مرجاتی ہے ، نہ وہ اس کے اسلاف یہ جانتے تھے کہ وہ ایسا کیوں کررہی ہے۔ نہ اسے اس کا علم اور مشاہدہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد اس کے بچوں کو کیا پیش آنا ہے بلکہ بھڑ کو تو یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کوئی چیز آنے والی ایسی ہے جسے وہ اپنا بچہ کہتی ہو ، بلکہ اسے یہ تک علم نہیں ہے کہ وہ یہ کام نوع کی حفاظت کے لئے کرتی ہے۔ چیونٹیوں میں سے بعض کی یہ ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ سردیوں کے موسم میں اپنی کالونی کو خوراک مہیا کرنے کے لئے حیوانات جمع کریں۔ پھر وہ ایک سٹور قائم کرتی ہیں جہاں یہ خوراک پیس کر رکھی جاتی ہے۔ پھر بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو قدرت نے پیسنے کی جبڑے دیئے ہوتے ہیں۔ ان کا کام صرف خوراک کو پیسنا ہوتا ہے۔ جب سردیوں کا موسم آتا ہے اور تمام غلہ پیسا جاچکا ہوتا ہے تو اس کی سپلائی یوں ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد کو فائدہ پہنچایا جاسکے تاکہ سپلائی جاری رہ سکے۔ اب چونکہ اگلی نسل میں مزید پیسنے والی چیونٹیاں پیدا ہوں گی۔ اس لئے چیونٹیوں کی فوج ان پیسنے والیوں پر حملہ آور ہوتی ہے اور ان کو قتل کردیتی ہے۔ شاید ان کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے حصے کی خوراک پیسنے کے دوران کھالی ہے کیونکہ انہوں نے اس موپعہ سے ضرور فائدہ اٹھایا ہوگا۔ بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی جبلت یا ان کی عقل ان کو کھانوں کے باغ بنانے پر آمادہ کرتی ہیں اور یہ چیونٹیاں ابتدائی کیڑوں کو اور پودوں کے چھلکوں پر پائے جانے والے کیڑوں کو گرفتار کرلیتی ہیں۔ یہ گویا ان کے لئے گائے اور بکریوں کا کام دیتے ہیں۔ ان کیڑوں سے یہ چیونٹیاں ایسا محلول لیتی ہیں جو شہد کی طرح ہوتا ہے اور یہ چیونٹیوں کی خوراک کا کام دیتا ہے۔ چیونٹیاں بعض دوسری چیونٹیوں کو غلام بھی بنالیتی ہیں ، اور جب یہ اپنے گھونسلے بناتی ہیں تو یہ پتوں کو مناسب حجم میں کاٹتی ہیں۔ جب کارکن چیونٹیاں ان پتوں کو ایک طرف سے پکڑ کر اپنے مقام پر رکھتی ہیں تو اس وقت یہ ان بچوں سے بھی کام لیتی ہیں جو ابھی ارتفائی دور میں ہوتے ہیں لیکن ان کے ریشمی مواد سے یہ پتوں کو جوڑتی ہیں ، یوں یہ بچہ اپنے لئے گھونسلا بنانے سے محروم رہتا ہے لیکن اپنے بنی نوع کے لئے ایک مفید کام کرچکا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس ذروں سے چیونٹی بنتی ہے ان ذروں میں یہ کام کرنے کی صلاحیت کس طرح پیدا ہوجاتی ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ان کا ایک خالق ہے جس نے ان کو اس طرح کرنے کی ہدایت کی “۔ (اقتباسات ختم ہوئے) اس میں شک نہیں ہے کہ ایک خالق ہے جس نے اپنی تمام مخلوقات کو ہدایات دیں ، خواہ وہ بڑی مخلوق ہو یا چھوٹی ہو ، اور یہ وہی خالق ہے جو الاعلیٰ…………فھدی (1:87 تا 3) ” جو برتر ہے ، جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی “۔ ہم نے اوپر جو اقتباسات دیئے ہیں ، یہ تو اصل حقیقت کے ایک معمولی حصے کے مشاہدات ہیں ، جو انسانوں نے نباتات ، حشرات الارض ، پرندوں اور دوسرے حیوانات کے سلسلے میں ریکارڈ کیے ہیں۔ لیکن اس سے آگے علم ومشاہدہ اور بھی جہاں ہیں اور جو کچھ ہمارے علم میں ہے وہ اس قول باری کے مدلول اور مفہوم کا ایک نہایت ہی مختصر حصہ ہے۔ الذی خلق…………فھدی (2:87 تا 3) ” جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی “۔ یہ قابل مشاہدہ کائنات جس کے ایک معمولی حصے کو ہم جانتے ہیں ، اس سے آگے عالم غیب کے جہاں پوشیدہ ہیں۔ ہمیں تو اپنی بشری قوتوں کے مطابق بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ یہ چند اشارات ہیں جو اللہ نے ہماری محدود قوت ادراک کے لئے کردیئے ہیں۔ اس عظیم کائنات کا ایک وسیع صفحہ پیش کرنے اور اس کی وادیوں میں اللہ کی تسبیح وثنا کی گونج پیدا کرنے کے بعد ، اللہ کی اس عظیم تسبیح کو مکمل کرنے کے لئے یہاں نباتات کی دنیا کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہاں اس اشارے کے اندر جہان معانی ہے۔ والذی اخرج…………احوی (5:87) ” جس نے نباتات اگائیں اور پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “ المرعی ، ہر اس چیزکو کہا جاتا ہے جو زمین سے اگتی ہے ، اس لئے کہ ہر اگنے والی چیز کسی نہ کسی مخلوق کے لئے خوراک ہے۔ لہٰذا مرعی کا مفہوم یہاں اس سے کہیں وسیع ہے کہ کوئی چیز ہمارے مویشیوں کے چرنے کی ہے تو مرعی ہے۔ کیونکہ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس زمین کے اوپر چلنے والی ہر مخلوق کے لئے اس کے اندر اس کی خوراک پیدا کی ، چاہے یہ مخلوق زمین کے اوپر چلتی ہو ، یا اندر چھپی رہتی ہو یا اس کی فضاﺅں میں اڑتی ہو۔ نباتات ابتداء میں سبز ہوتے ہیں ، پھر یژمردہ ہوکر سیاہ ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ سبزی کی حالت ہی میں خوراک کے قابل ہوتے ہیں اور بعض اوقات وہ پک کر سیاہ ہوتے ہیں تو خوراک کا کام دیتے ہیں۔ درمیانی حالت میں بھی وہ کسی نہ کسی خوراک کا کام دیتے ہیں۔ بہرحال نباتات کی ہر حالت ، اللہ کی تخلیق اور تسویہ کے مطابق کسی مخلوق کے لئے خوراک بنتی ہے۔ یہاں نباتاتی زندگی کے منظر کو پیش کرکے ایک اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ جس طرح ہر نبات کوڑا کرکٹ بن کر انجام تک پہنچتا ہے۔ اس طرح ہر زندہ مخلوق بھی اس دنیا میں اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔ اور یہ اشارہ ہے اس حیات ودنیا اور حیات اخروی کی طرف کہ حیات دنیا تو نباتات کی طرح ختم ہونے والی ہے اور حیات اخروی باقی اور لازوال ہے۔ بعد میں آتا ہے۔ بل توثرون…………وابقی (17:87) ” مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت سے بہتر اور باقی رہنے والی ہے “۔ دنیا کی زندگی اس کھیت کی طرح ہے جو ختم ہوکر کوڑا کرکٹ بن جاتی ہے اور آخرت باقی و لازوال ہوتی ہے۔ اس مقطع کے ذریعے اس عظیم کائنات کے صفحات کو دور تک پھیلا دیا جاتا ہے اور جن امور کا ذکر ہوتا ہے وہ سورت کے آنے والے حقائق کے ساتھ مناسب ہیں۔ یہ کائنات ان سے ہم آہنگ ہوتی ہے اور یہ حقائق کائنات سے پیوست ہوتے ہیں۔ ایک نہایت ہی وسیع و عریض فریم ورک ہیں۔ اگر گہرا مطالعہ کیا جائے کہ اس سیپارے کے مضامین کو وسیع کائناتی دائرے میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کائناتی دائرہ اس پارے کی فضا اور اس کے اشارات اور مضامین کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔

الأعلى 87:5

سبح اسم ..................... احوی سورت کا آغاز نہایت ہی نرم اور نہایت لمبے آہنگ سے ہوتا ہے ، اس لمبے ٹون کے ذریعہ فضا میں تسبیح کی خوشگوار اور خوشبودار آواز بکھیر دی گئی ہے۔ اس کے بعد پھر تسبیح کا حکم اور پھر وہ صفات جن کو تسبیح کے بعد لایا گیا ہے۔ سبح اسم……………. احوی (1:87 تا 5) ”(اے نبی ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی ، جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “۔ تاکہ اس تسبیح کے ذریعہ اس پوری کائنات کے اطراف واکناف میں تسبیح کی یہ آوازگونجاٹھے اور پوری کائنات ایک معبد نظر آئے اور ایک عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ پوری کائنات صانع قدرت کی مصنوعات کی نمائش گاہ بھی بن جائے۔ الذی…………فھدی (3:87) ” جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بناکر اسے ہدایت بخشی “۔ تسبیح کے کیا معنی ہیں ۔ اللہ کی برتری ذہن میں بسانا ، اللہ کو ہر عیب سے پاک سمجھنا اور ذہن میں اللہ کی صفات حسنی کا استحضار اور ان چیزوں کی روشنی ، چمک اور نورانیت سے اپنے ذوق ووجدان اور قلب و شعور کو روشن رکھا ، نام ہے تسبیح کا۔ محض زبان سے سبحان اللہ جپنے کو تسبیح نہیں کہتے۔ سبح……………. الاعلیٰ (1:87) ” اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو “۔ یہ الفاظ انسانی وجدان اور شعور پر ایک حالت طاری کردیتے ہیں۔ یہ وجدانی حالت ایسی ہوتی ہے جس کا اظہار الفاظ کے اندر ممکن نہیں ہے۔ یہ تو ایک وجدانی اور ذوقی چیز ہے اور ایک ایسی زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کا تعلق کچھ معانی اور کچھ صفات کے استحضار سے ہے نہ کہ کچھ الفاظ رٹنے سے۔ یہ معانی وصفات کیا ہیں ؟ پہلی صفت ، صفت ربوبیت ہے۔ اور دوسری صفت اعلیٰ ہے ۔ رب کے معنی مربی ، نگران اور پالنے والے کے ہیں۔ ان صفات کے سائے اور پرتو اس سورت کی فضا اور اس کے اندر بیان کی جانے والی خوشخبریوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ، خصوصاً اس کے نرم انداز کے ساتھ۔ صفت اعلیٰ پردہ شعور پر ایسی تصاویر لاتی ہے جن سے علو ، برتری اور غیر متناہی اور غیر محدود وآفاق کا اظہار ہوتا ہے۔ انسانی روح دور تک تسبیحات کرتی ہے اور اس تصور علو سے تسبیح میں پاکی اور عظمت کے ساتھ مناسبت پیدا ہوتی ہے اور تسبیح اپنے بنیادی عناصر کے اعتبار سے تصور علو رب کا نام ہے۔ ابتدائی خطاب ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہے ، اور یہ براہ راست اللہ کی طرف سے آپ کو خطاب ہے۔ حضور اکرم ﷺ جب اس حکم ربی کو پڑھتے تھے۔ سبح ” پاکی بیان کرو “ تو اگلی آیات پڑھنے سے پہلے آپ اس حکم پر عمل کرلیتے اور آپ فرماتے : سبحان ربی الاعلیٰ ” میں اپنے رب اعلیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں “۔ یوں حکم اور جواب حکم یا تعمیل حکم ہوجاتا ۔ امر کی اطاعت ہوجاتی اور اللہ کے ساتھ مناجات اور سوال و جواب ہوجاتا۔ کیونکہ حضور رب کے سامنے کھڑے ہوتے۔ براہ راست یہ کلام رب تعالیٰ سے لے رہے ہوتے تھے اور اس اتصال اور قرب کی حالت میں جواب دے دیتے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور اکرم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ یہ تسبیح سجدے میں پڑھا کرو۔ (اجعلوانی سجودکم) اور اس سے قبل جب یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ فسبح……………. العظیم ” اپنے رب عظیم کے نام کا تسبیح کرو “۔ تو آپ نے حکم دیا کہ اس کو رکوع میں پڑھو چناچہ رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑھنا شروع کیا گیا۔ پس رکوع و سجود کی یہ تسبیح ایک زندہ تسبیح ہے ، محض مردہ کلمات نہیں ، جس طرح ایک زندہ چیز کا جسم حیات اور زندگی سے گرم ہوتا ہے ایسی ہی تسبیح نماز میں مطلوب ہے تاکہ اس تسبیح سے براہ راست حکم خداوندی کی تعمیل ہوجائے یا بالفاظ دیگر اجازت خداوندی کی تعمیل ہو ، کیونکہ اللہ کا اپنے بندوں کو یہ اجازت دینا کہ اس کی حمدوثنا کرو ، یہ بھی اللہ کا فضل وکرم ہے۔ کیونکہ اس طرح انسان کو یہ اجازت ملتی ہے کہ وہ اپنے حد تصور کے مطابق اللہ کے قریب ہوجائے۔ کیونکہ انسان اللہ کی ثنا اللہ کی ذات وصفات میں اپنے محدود تصور کے مطابق ہی کرسکتا ہے۔ اور یہ اللہ کے فضل وکرم کی ایک شکل ہے کہ اللہ اپنی ذات کی معرفت اپنے بندوں کو اپنی صفات کے ذریعہ کرواتا ہے۔ ایسی حدود میں کہ جن کے اندر وہ اللہ کی معرفت کا تصور کرسکتے ہیں۔ اللہ اپنی ذات تک پہنچنے کے لئے اپنے بندوں کو جس شکل و صورت میں بھی اجازت دیتا ہے ، یہ ان پر فضل وکرم کی ایک صورت ہوتی ہے۔ سبح اسم……………. فھدی (1:87 تا 3) ” اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو ، جس نے پیدا کیا ، اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی ، پھر راہ دکھائی “۔ یعنی ہر چیز کو پیدا کیا اور نہایت مناسب شکل میں پیدا کیا اور اس تخلیق کے ہر پہلو کو کامل بنایا۔ اس حد تک کامل کہ کوئی اس میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کی فلاں چیز اس کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اللہ نے تقدیریوں بنائی کہ ہر چیز کے لئے اس کا فرض منصبی مقرر کردیا اور اس کا مقصد تخلیق اور اس مقصد کو پورا کرنے کا طریقہ بھی اسے سمجھا دیا۔ ہر چیز کو عجیب الہامی انداز میں یہ تعلیم دی گئی۔ ہر چیز کو یہ شعور بھی بذریعہ الہام دے دیا کہ اس کی مقررہ زندگی کے لئے اس کو کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے اور اس کائنات کی جس چیز کا تجزیہ کیا جائے اس کے اندر یہ حقیقت موجود ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات کی ہر چیز میں ، خواہ بڑی ہو یا چھوٹی ہو ، اہم ہو یا حقیر ہو ، ہر چیز کی تخلیق میں تسویہ اور تناسب موجود ہے۔ ہر چیز کامل الخلقت ہے اور ہر چیز کی تخلیق کا ایک مقصد ہے اور وہ مقصد اس کی تقدیر ہے ، اور ہر چیز کو اللہ نے اپنا مقصد وجودپورا کرنے کے لئے نہایت ہی آسان طریقہ کار فراہم کردیا ہے۔ غرض اللہ کی ہر مخلوق مکمل اور متناسب ہے۔ اور ہر چیز اپنا انفرادی فریضہ ادا کرتی ہے۔ مثلاً ایٹم ایک اکیلا ایٹم ، پر ٹون اور الیکٹرون کی برقی رفتار کے اندر اسی قدر توازن رکھتا ہے جس طرح ایک کہکشاں اپنے سورج اور اس کے تابع ستاروں کے درمیان توازن رکھتی ہے۔ ایک ایٹم اپنے مقصد اور فریضے کو اسی طرح پورا کرتا ہے جس طرح ایک کہکشاں پورا کرتی ہے۔ دونوں کو انپا مقصد اور طریقہ حصول مقصد معلوم ہوتا ہے۔ ایک منفرد خلیہ ایک مکمل تخلیق ہے۔ اور اس کے اندر اپنا مقصد تخلیق پورا کرنے کی پوری استعداد ہوتی ہے اور وہ اپنا مقصد اسی طرح پورا کرتا ہے جس طرح کوئی اعلیٰ مرکب اور پیچیدہ مخلوق کرتی ہے۔ پھر ایک منفرد ایٹم اور کسی کہکشاں کے درمیانی درجات پر الگ الگ مخلوق ہے۔ جس طرح ایک منفرد خلیہ اور پیچیدہ ترین مخلوقات کے درمیان زندہ مخلوقات کے مختلف درجے اور ان کی تنظیم ہے۔ اور ہر درجے اور ہر تنظیم کی تخلیق میں کمال اور تسویہ ہے اور ہر ایک کے لئے انفرادی فرائض اور اجتماعی مقاصد ہیں۔ دست قدرت الہامی طریقے سے ان سے یہ کام کراتا ہے اور اس گہری حقیقت یعنی تخلیق وتسویہ کا یہ کام پوری کائنات پر شاہد عادل ہے۔ اس حقیقت کو انسانی قلب پاسکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کائنات کے اشارات اخذ کرنے کے لئے تیار ہو اور کھلے دل سے وہ اس کائنات کی موجودات پر غور کرے۔ انسان کا اکتسابی علم جس درجے کا بھی ہو اور وہ ترقی یافتہ معاشرے کافرد ہو یا پسماندہ معاشرے کا فرد ہو وہ کائنات کی ان اشیاء سے یہ الہامی اشارات اخذ کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کے دل و دماغ کے دریچے بھی ان اشارات کو پانے کے لئے تیار ہوں اور کھلے ہوں اور کسی عقل وخرد کے تار اس قابل ہوں کہ وہ مضراب حقیقت کے جواب میں نغمہ بار ہوسکیں۔ اس کے بعد کائنات کا مشاہدہ اور کسی علم آتے ہیں اور انسان مطالعہ فطرت میں پہلی نظر سے جو الہام پاتا ہے ، تمام مشاہدات اس کی تائید کرتے ہیں ، بعض لوگوں نے مشاہدہ کائنات کے ذریعہ ایسے اشارات جمع کیے ہیں جو اس کائنات کے اندر پوشیدہ مجموعی حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ نیویارک کی سائنسی علوم کی اکیڈمی کے صدر کریسی موریسن اپنی کتاب ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “ میں اپنے مشاہدات یوں قلم بند کرتے ہیں۔ ” پرندوں میں وطن لوٹنے کا ایک ملکہ ہوتا ہے ، ایک خاص چڑیا جو دروازوں پر گھونسلے بناتی ہے ، خزاں کے موسم میں جنوب کی طرف ہجرت کرجاتی ہے اور اگلے سال بہار میں اپنے اسی مقام کی طرف لوٹ آتی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں امریکہ کے اکثر پرندے جنوب کی طرف جاتے ہیں اور وہ سمندروں اور صحراﺅں پر سے پرواز کرتے ہوئے ہزاروں میل سفر کرتے ہیں اور کبھی اپنا راستہ نہیں بھولتے۔ اور پیغام رساں کبوتر پنجرے میں طویل سفر کرتے ہیں اور جب ان کو پیغام کر چھوڑا جاتا ہے تو وہ کچھ دیر کے لئے حیران ہوکر چکر لگاتے ہیں اور اس کے بعد وہ سیدھے اپنے وطن کی طرف پرواز کرتے ہیں اور کبھی راہ نہیں بھٹکتے ۔ شہد کی مکھی اگر کسی طرف جائے اور اس کے پیچھے نشانات راہ کسی طوفان کی وجہ سے مٹ جائیں تو بھی وہ راہ نہیں بھولتی اور سیدھی چھتے پر آجاتی ہے۔ البتہ انسان کے اندر یہ جبلت کمزور ہے اور انسان اس کمی کو اپنے آلات اور عقل کے ذریعہ پوری کردیتا ہے۔ باریک کیڑے مکوڑے بھی نہایت ہی چھوٹی اور خوردبینی آنکھیں رکھتے ہیں اور یہ نہایت ہی مکمل آنکھیں ہوتی ہیں۔ باز اور عقاب وغیرہ کی آنکھیں دور بین کی طرح ہوتی ہیں ، انسانی آنکھ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس کمی کو بھی انسانی عقل و تجربہ نے پورا کیا ہے۔ چناچہ ان دوربینوں کے ذریعہ انسانسحابیوں کو دیکھ لیتا ہے اور اس نے ان کو دیکھنے کے لئے انسانی نظر کو بیس لاکھ گنا تیز کیا۔ نیز انسان نے ایسی خورد بینیں ایجاد کیں جن کے ذریعے وہ بیکٹریا اور دوسرے نہ نظر آنے والے کیڑے مکوڑے دیکھتا ہے۔ اب ذرا تم اپنے بوڑھے گھوڑے کو راستہ پر چھوڑدو۔ جس قدر اندھیرا بھی ہو وہ راستہ نہ بھولے گا۔ وہ سخت تاریکی میں بھی دیکھ سکتا ہے اگرچہ بہت واضح نہ سہی۔ وہ راستہ میں اور اس کے دونوں جانب درجہ حرارت کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ یہ درجہ حرارت اس کی آنکھیں انفراریڈ شعاعوں کے ذریعہ معلوم کرلیتی ہیں۔ الو ایک گرم چوہے کو سردگھاس کے نیچے چلتا پھرتا دیکھ لیتا ہے اگرچہ سخت اندھیرا ہو اور انسانوں نے تو بجلی کے قمقموں کے ذریعہ تاریک رات کو دن بنادیا ہے “۔ ” شہد کی مکھیوں کی دنیا بھی عجیب ہے۔ کارکن مکھیاں چھتے میں مختلف قسم کے کمرے بناتی ہیں۔ یہ تربیت کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ چھوٹے کمرے کارکنوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور بڑے کمرے مردوں کے لئے اور ملکہ کے لئے خاص کمرے تیار ہوتے ہیں۔ یہ ملکہ مجھی جب غیر بار آورانڈہ دیتی ہے تو اسے مردوں کے کمرے میں رکھ دیتی ہے اور جب بار آور انڈہ دیتی ہے تو اسے اس کمرے میں رکھ دیتی ہے جس میں مونث کارکن مکھیاں ہوتی ہیں جو آگے جاکر ملکہ مکھی بننے والی ہوتی ہیں اور وہ کارکن مکھیاں جو مزدور ہوتی ہیں جب وہ ایک طویل عرصہ تک نسل تیار کرنے کا کام کرلیتی ہی تو ان کو بدل دیا جاتا ہے۔ یہ کارکن مکھیاں بچوں کے لئے غذا تیار کرنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ یہ شہد اور پھولوں کو چبا کر ہضم کے قابل بناتی ہیں اور بچوں کے اندر نر اور مادے کا ظہور ہوجاتا ہے تو پھر یہ مذکورہ بالا طریقے سے غذاہضم کے لئے تیار کرنے کا عمل ترک کردیتی ہیں۔ اس کے بعد ان کو شہد اور پھولوں کا بور دیا جاتا ہے اور بچوں میں سے جو مونث اس طریقے سے تربیت پاتی ہیں وہ بعد میں کارکن مکھیاں بن جاتی ہیں “۔ جو مونث مکھیاں ملکہ مکھیوں کے حجروں میں ہوتی ہیں ، تو ان کو شہد اور پھولوں کے بورے کو ابتدائی طور پر قابل ہضم بناکر غذا دینے کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے ، اور جن مونث مکھیوں سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے بعد میں وہ ملکہ مکھن بن جاتی ہیں۔ صرف یہ ملکہ ہی ایسے انڈے دیتی ہیں جو پار آور ہوتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے مطابق جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان کے لئے خاص قسم کے حجروں ، ایک خاص قسم کے انڈوں اور ایک خاص قسم کی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور غذا کے اندر تبدیلی کا اثر بھی عجیب ہوتا ہے۔ اس قسم ٹیکنالوجی کے لئے مکھیوں کو ایک طویل عرصہ تک انتظار کی ضرورت پڑی ہوگی جنہوں نے ان اصولوں کے اندرتمیز کرکے ان کو نافذ کیا ہوگا اور غذا کے اثرات معلوم کیے ہوں گے۔ اور ان اثرات معلوم کیے ہوں گے۔ اور ان اثرات کو اجتماعی طور پر نافذ کیا ہوگا جو ان کے وجود کے لئے ضروری ہوگا۔ مکھیوں نے جب اجتماعی زندگی کا آغاز کیا ہوگا تب ان کو یہ اصول معلوم ہوئے ہیں گے ، کیونکہ مکھی کے وجود اور زندگی کی بقا کے لئے ان اصولوں کی دریافت ضروری نہ تھی۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ شہد کی مکھی نے غذا کے اثرات کے سلسلے میں انسان سے زیادہ تحقیق کی ہے “۔ (مغربی فکر میں ڈوبا ہوا مصنف یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اللہ نے جب مکھی کو پیدا کیا تو یہ سب کچھ سکھا دیا۔ ان کے دماغوں پر ڈارون کا فلسفہ ارتقاء ہی بیٹھا ہوا ہے حالانکہ قرآن صاف کہتا ہے وعلم آدم الاسماء کلھا ” اللہ نے آدم کو تمام نام سکھادیئے “ اسی طرح اللہ نے مکھی کو بھی تمام بنیادی تعلیم دے دی تھی (مترجم) ۔ ” کتے کو ایک اضافی ناک دی گئی ہے جس کے ذریعہ وہ تمام جانوروں کی بوسونگھ لیتا ہے جو کسی راستے سے گزرے ہوں ، انسان کی قوت شامہ کتوں کے مقابلے میں کمزور ہے اور آج تک انسان نے کوئی ایسا آلہ بھی ایجاد نہیں کیا جو اس کی قوت شامہ کو ترقی دے ، لیکن ہماری یہ کمزور قوت شامہ بھی اس قدر چھوٹے ذرات کو محسوس کرلیتی ہے جیسے مائیکروسکوپ کے ذریعہ ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ اکثر حیوانات ایسی آوازیں سن لیتے ہیں جو ہمارے کانوں کے پردوں کے اندر ارتعاش پیدا نہیں کرسکتے ، کیونکہ یہ ہماری سماعت کی حد سے بہت ہی دقیق اور باریک ہوتے ہیں۔ انسان نے ایسے آلات ایجاد کرلیے ہیں کہ وہ کئی میل دور اڑنے والی مکھی کے پروں کی آواز بھی سن لے ، اس طرح کہ گویا وہ اس کے کان کے پردے کے اوپر بیٹھی ہے۔ ایسے ہی آلات کے ذریعہ سورج کی شعاعوں کی رفتار کی آواز بھی ریکارڈ کی جارہی ہے “۔ ” پانی کی مکڑیوں کی ایک قسم ایسی ہے جو پانی کے اندر غبارے کی طرح ایک گھونسلہ تیار کرتی ہے ، یہ تار عنکبوت سے بنایا جاتا ہے اور اسے پانی کے نیچے کسی چیز سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعدیہ مکڑی اپنے جسم کے بالوں کے ساتھ پانی کا ایک بلبلہ باندھتی ہے اور اسے لے جاکر اس گھونسلے سے باندھ دیتی ہے یہاں تک کہ گھونسلے کے گرد ہوا کے بلبلوں کا حصار بن جاتا ہے ، اس کے بعد وہ گھونسلے کے اندر بچے دیتی ہے کہ وہ ہوا کے طوفان سے محفوظ رہیں۔ اس گھونسلے کی ساخت میں ایک تو باریک بننے کا عمل ہے ، اس کے بعد دقیق انجینئرنگ اور ہوا بازی کا گہرا ادراک ہے “۔ ” سالمن مچھلی ، جو چھوٹی سی ہوتی ہے اور سمندر میں کئی سال تک گھومتی پھرتی ہے ، اس کے بعد وہ اس دریا کی طرف واپس ہوتی ہے جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔ آخر وہ کیا قوت ہے جو اسے اس کی جائے پیدائش تک رہنمائی کرتی ہے۔ یہ جب اپنی جائے پیدائش کی طرف بڑھتے ہوئے کسی غلط دریا کی طرف چلی جائے تو اسے فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ دریا اس کی جائے پیدائش نہیں ہے۔ چناچہ وہ دریا میں چلتی ہے اور پانی کے بہاﺅ کے بالمقابل چل کر اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔ پانی کے سانپوں کا معاملہ تو بہت ہی عجیب ہے۔ ان کا قصہ سالمن مچھلی کے برعکس ہے۔ اس مخلوق خدا کی عمر جب پوری ہوتی ہے تو یہ مختلف تالابوں اور دریاﺅں سے سفر کرکے گہرے سمندروں کی طرف جاتے ہیں۔ اگر یورپ میں ہوں تو یہ ہزاروں میل کا سفر طے کرکے جنوبی برمودا کی گہرائیوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ وہاں پھر یہ انڈے دے کر مرجاتے ہیں ، اب ان کے جو بچے پیدا ہوجاتے ہیں تو وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ نہایت گہرے پانیوں میں ہیں ، لیکن یہ بچے اسی راستے سے ساحل کی طرف جاتے ہیں جس طرح ان کی ماں ساحل سے پانی کی طرف آئی تھی اور ساحل سے پھر یہ کسی دریا ، یا نہر یا حوض اور تالاب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ چناچہ پانیوں کی ہر قسم بحری سانپوں کے لئے موزوں ہوتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے بڑی بڑی موجیں ، طوفان اور سمندری تلاطم دیکھے ہوئے ہیں اور ان کا مقابلہ کیا ہوا ہوتا ہے ۔ یہ ساحلوں پر چلتے ہیں اور جب یہ مکمل ہوجاتے ہیں تو کوئی خفیہ قانون ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پھر واپسی کا سفر کریں اور گہرے سمندروں میں چلے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ جذبہ ان کے اندر کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی شکاری یا مچھیرے نے یورپی سمندروں میں امریکی بحری سانپ پکڑا ہو ، یا کسی امریکی مچھیرے کے جال میں یورپی سانپ آگیا ہو ، یورپی بحری سانپ کو چونکہ گہرے سرندروں تک لمبا سفر کرنا پڑتا ہے اسی لئے قدرت نے اسے ایک سال کی لمبی عمر عطا کی۔ یا اس سے بھی زیادہ تاکہ وہ مرنے سے قبل اپنی منزل مقصود کو پہنچ سکے۔ کیونکہ یورپی بحری سانپ کو امریکی بحری سانپ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ کون سے ایٹم اور کیا سالمے ہیں ؟ جب بحری سانپ مچھلیوں کی شکل میں جمع ہوئے تو ان کے اندر اس قسم کی قوت ارادی پیدا ہوجاتی ہے جو ایسے دور دراز سفر کراتی ہے ؟ ” جب مادہ پروانہ ہوا کے دباﺅ میں تمہارے کسی روشن دان سے اندر آجاتا ہے تو وہ اپنے نر کو ایک سگنل بھیجتی ہے ، چاہے وہ جتنا بھی دور ہو۔ بعض اوقات وہ بہت دور ہوتا ہے۔ وہ اس اشارے کو وصول کرلیتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ اس کو گمراہ کرنے کی انسان جس قدر کوشش بھی کرے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ غلطی کرے۔ کیا ان کے پاس کوئی ریڈیو اسٹیشن ہے یا اس مرد کے پاس کوئی ریڈیو یا مشین ہے جو اس سے سگنل وصول کرتا ہے۔ ایریل کا ہونا تو بڑی بات ہے کیا اس کے پاس کوئی ایتھر ہے جس کے ذریعہ وہ ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ ٹیلی فون اور ریڈیو ہمارے پاس سریع الحرکت مواصلاتی آلات ہیں لیکن یہ تاروں کے ذریعے ایک جگہ کو دوسری جگہ سے منسلک کرتے ہیں۔ اس طرح تو یہ پروانہ ہم پر فوقیت رکھتا ہے “۔ نباتات اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے کئی چیزوں سے خدمت لیتے ہیں ، بغیر ان کے علم و ارادہ کے۔ مثلاً حشرات پھولوں کا بورا ان کے لئے منتقل کرتے ہی ، ہوا یہی کام کرتی ہے ، وحوش وطیور بھی یہی کام کرتے اور ان کا بورا اور بیج بکھیرتے ہیں۔ سب سے آخر میں ان نباتات نے انسان کو بھی اپنے جال میں پھانس لیا۔ اس نے فطرت کو حسن بخشا اور فطرت نے اسے اس کا اجردیا۔ لیکن انسان بھی تو کسی حد پر رکنے والا نہیں۔ ھل من مزید کا قائل ہے۔ اس نے ہل چلایا ، بیج بویا ، فصل کاٹی ، انبار بھرے ، پھر اس نے فصلوں کو ترقی دی ، شاخ تراشی کی اور خوراک کا بندوبست کیا۔ اگر وہ یہ کام چھوڑ دے تو بھوک سے مرجائے اور دنیا سے تہذیب و تمدن کا خاتمہ ہوجائے اور انسانیت پتھر کے دور میں واپس چلی جائے۔ “ پانی کے بیشمار جانور مثلاً جھینگا مچھلی کا ایک بازو اگر کٹ جائے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے جسم کا ایک حصہ ضائع ہوگیا ہے ، اس کے خلیے اور جینز اس عضو کو دوبارہ بنانا شروع کردیتے ہیں اور جب وہ عضو مکمل ہوجاتا ہے تو خلیے یہ کام بند کردیتے ہیں اور ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کی ڈیوٹی ختم ہے۔ پانی کے وہ کیڑے جن کے کئی پاﺅں ہوتے ہیں ، جب دوٹکڑے ہوجائے تو وہ ان میں سے ایک ٹکڑے کی مدد سے اپنے آپ کو مکمل کرلیتا ہے۔ اگر تم اس کیڑے کا سرکاٹ دو تو وہ دوسرا سر بنالیتا ہے۔ ہم زخموں کو مندمل کرسکتے ہیں لیکن ہمارے سرجن ابھی تک یہ بات نہیں جانتے کہ وہ خلیوں کو متحرک کریں اور وہ ایک نیا بازو بنا ڈالیں یا گوشت پوشت ، ناخن اور اعصاب بنادیں ، اگر ایسا ممکن ہو۔ اور ایک عجوبہ تو یہ ہے کہ اگر کوئی خلیہ ابتدائی ایام ہی میں دو مکمل حصوں میں تقسیم ہوجائے تو اس سے دو مکمل حیوان تیارہوجاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ توام ہم شکل ہوتے ہیں ، اس کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ حمل کے ابتدائی مرحلہ میں خلیہ منقسم ہوگیا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں خلیہ کمل فرد ہوتا ہے۔ اور اسی طرح ایک فرد بھی ہر خلیہ میں ہوتا ہے۔ ایک دوسری فصل میں یہی مصنف لکھتا ہے : شاہ بلوط کا بھورا بیج زمین پر گراتا ہے ، اس کا بھورا چھلکا اسے محفوظ رکھتا ہے ، اور یہ گرتا پڑتا زمین میں کسی دراڑ میں اٹک جاتا ہے۔ موسم بہاں میں اس کے اندر کا جرثومہ جاگتا ہے۔ وہ اس چھلکے کو پھاڑ دیتا ہے اور یہ اس مغز سے خوراک حاصل کرتا ہے جو اس چھلکے کے اندر جمع کردی گئی ہوتی ہے۔ جس کے اندر اس کے موروثی جینز ہوتے ہیں۔ اس کی جڑیں زمین میں جاتی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یہ پودا نمودار ہوتا ہے ، چھوٹا درخت اور پھر کامل درخت بن جاتا ہے۔ اس کے اندر کئی ملین جینز ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اپنی جڑوں ، چھلکے ، پھل اور تنوں اور شاخوں میں بھی اس درخت کے مماثل ہوتا ہے جس سے وہ بیج نکلا۔ کروڑوں سال پہلے جو بلوط کا درخت پیدا ہوا تھا ، اس کے پھل آج تک اپنے ذرات کی ترتیب اس طرح رکھتے ہیں جس طرح پہلے بلوط کے پھل نے رکھا تھا۔ یہی مصنف تیسری فصل میں لکھتا ہے : ” ہر خلیہ جو کسی زندہ مخلوق میں پیدا ہوتا ہے ، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح ڈھالے کہ گوشت کا حصہ ہو یا چمڑے کا حصہ ہو اور فنا ہوجائے ، یا دانت کی چمک بن جائے یا آنکھ کا سیال مادہ بن جائے یا ناک اور کان بن جائے۔ ہر خلیہ اپنے آپ کو ایسی شکل میں ڈھالتا ہے کہ وہ اپنا فرض منصبی پوری طرح ادا کرے۔ یہ بات نہایت ہی مشکل ہے کہ کوئی تعین کرے کہ کون سا خلیہ دائیں ہاتھ ہے یا بائیں ہاتھ کا۔ لیکن ازروئے فطرت یہ بات متعین ہے کہ یہ خلیہ دائیں کان کا ہے اور یہ بائیں کان کا ہے۔ غرض ہزار ہا خلیات چلائے جاتے ہیں کہ وہ ایک صحیح کام کریں ، صحیح وقت پر کریں اور صحیح جگہ پر کریں “۔ چوتھی فصل میں یہ شخص کہتا ہے : ” مختلف قسم کی مخلوقات میں بعض مخلوقات ایسے کام کرتی ہیں جو دانش مندی کے اعلیٰ مرتبہ کے ہیں۔ جن کی کوئی تشریح ہم نہیں کرسکتے۔ مثلاً بھڑ ، ٹڈے کو شکار کرتی ہے ، زمین میں ایک گڑھا کھودتی ہے اور ایک مناسب جگہ اسے دفن کردیتی ہے۔ یہ شکار کرتے وقت اس کے ایسے مخصوص مقام پر ڈنگ مارتی ہے کہ وہ بےہوش ہوجاتا ہے لیکن اس کا گوشت صحیح وسالم زندہ رہتا ہے۔ اب مادہ بھڑ اس کے قریب ایک متعین مقام پر انڈے دیتی ہے۔ اسے شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ جب اس کے بچے پیدا ہوں گے تو اس ٹڈے کا گوشت کھائیں گے۔ لیکن اسے قتل نہ کریں گے کیونکہ یہ گوشت ان کی غذا ہے اور گوشت خراب ہوکر زہریلا بن جائے ۔ لازماً بھڑ نے ابتدا سے یہ کام شروع کیا ہوگا اور ہمیشہ وہ اسے دہراتی ہوگی ورنہ دنیا میں سے بھڑوں کا وجود ہی ختم ہوجاتا۔ سائنس کے پاس ایسی کوئی تشریح نہیں ہے کہ وہ بھڑوں کے اس مسلسل فعل کا سبب بیان کرے اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ یہ کام بھڑیں محض اتفاق سے کرتی ہیں ، کیونکہ مادہ بھڑ تو زمین کے اندر کھودے ہوئے گڑھے کو بھر کر چلی جاتی ہے اور مرجاتی ہے ، نہ وہ اس کے اسلاف یہ جانتے تھے کہ وہ ایسا کیوں کررہی ہے۔ نہ اسے اس کا علم اور مشاہدہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد اس کے بچوں کو کیا پیش آنا ہے بلکہ بھڑ کو تو یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کوئی چیز آنے والی ایسی ہے جسے وہ اپنا بچہ کہتی ہو ، بلکہ اسے یہ تک علم نہیں ہے کہ وہ یہ کام نوع کی حفاظت کے لئے کرتی ہے۔ چیونٹیوں میں سے بعض کی یہ ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ سردیوں کے موسم میں اپنی کالونی کو خوراک مہیا کرنے کے لئے حیوانات جمع کریں۔ پھر وہ ایک سٹور قائم کرتی ہیں جہاں یہ خوراک پیس کر رکھی جاتی ہے۔ پھر بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو قدرت نے پیسنے کی جبڑے دیئے ہوتے ہیں۔ ان کا کام صرف خوراک کو پیسنا ہوتا ہے۔ جب سردیوں کا موسم آتا ہے اور تمام غلہ پیسا جاچکا ہوتا ہے تو اس کی سپلائی یوں ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد کو فائدہ پہنچایا جاسکے تاکہ سپلائی جاری رہ سکے۔ اب چونکہ اگلی نسل میں مزید پیسنے والی چیونٹیاں پیدا ہوں گی۔ اس لئے چیونٹیوں کی فوج ان پیسنے والیوں پر حملہ آور ہوتی ہے اور ان کو قتل کردیتی ہے۔ شاید ان کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے حصے کی خوراک پیسنے کے دوران کھالی ہے کیونکہ انہوں نے اس موپعہ سے ضرور فائدہ اٹھایا ہوگا۔ بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی جبلت یا ان کی عقل ان کو کھانوں کے باغ بنانے پر آمادہ کرتی ہیں اور یہ چیونٹیاں ابتدائی کیڑوں کو اور پودوں کے چھلکوں پر پائے جانے والے کیڑوں کو گرفتار کرلیتی ہیں۔ یہ گویا ان کے لئے گائے اور بکریوں کا کام دیتے ہیں۔ ان کیڑوں سے یہ چیونٹیاں ایسا محلول لیتی ہیں جو شہد کی طرح ہوتا ہے اور یہ چیونٹیوں کی خوراک کا کام دیتا ہے۔ چیونٹیاں بعض دوسری چیونٹیوں کو غلام بھی بنالیتی ہیں ، اور جب یہ اپنے گھونسلے بناتی ہیں تو یہ پتوں کو مناسب حجم میں کاٹتی ہیں۔ جب کارکن چیونٹیاں ان پتوں کو ایک طرف سے پکڑ کر اپنے مقام پر رکھتی ہیں تو اس وقت یہ ان بچوں سے بھی کام لیتی ہیں جو ابھی ارتفائی دور میں ہوتے ہیں لیکن ان کے ریشمی مواد سے یہ پتوں کو جوڑتی ہیں ، یوں یہ بچہ اپنے لئے گھونسلا بنانے سے محروم رہتا ہے لیکن اپنے بنی نوع کے لئے ایک مفید کام کرچکا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس ذروں سے چیونٹی بنتی ہے ان ذروں میں یہ کام کرنے کی صلاحیت کس طرح پیدا ہوجاتی ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ان کا ایک خالق ہے جس نے ان کو اس طرح کرنے کی ہدایت کی “۔ (اقتباسات ختم ہوئے) اس میں شک نہیں ہے کہ ایک خالق ہے جس نے اپنی تمام مخلوقات کو ہدایات دیں ، خواہ وہ بڑی مخلوق ہو یا چھوٹی ہو ، اور یہ وہی خالق ہے جو الاعلیٰ…………فھدی (1:87 تا 3) ” جو برتر ہے ، جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی “۔ ہم نے اوپر جو اقتباسات دیئے ہیں ، یہ تو اصل حقیقت کے ایک معمولی حصے کے مشاہدات ہیں ، جو انسانوں نے نباتات ، حشرات الارض ، پرندوں اور دوسرے حیوانات کے سلسلے میں ریکارڈ کیے ہیں۔ لیکن اس سے آگے علم ومشاہدہ اور بھی جہاں ہیں اور جو کچھ ہمارے علم میں ہے وہ اس قول باری کے مدلول اور مفہوم کا ایک نہایت ہی مختصر حصہ ہے۔ الذی خلق…………فھدی (2:87 تا 3) ” جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی “۔ یہ قابل مشاہدہ کائنات جس کے ایک معمولی حصے کو ہم جانتے ہیں ، اس سے آگے عالم غیب کے جہاں پوشیدہ ہیں۔ ہمیں تو اپنی بشری قوتوں کے مطابق بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ یہ چند اشارات ہیں جو اللہ نے ہماری محدود قوت ادراک کے لئے کردیئے ہیں۔ اس عظیم کائنات کا ایک وسیع صفحہ پیش کرنے اور اس کی وادیوں میں اللہ کی تسبیح وثنا کی گونج پیدا کرنے کے بعد ، اللہ کی اس عظیم تسبیح کو مکمل کرنے کے لئے یہاں نباتات کی دنیا کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہاں اس اشارے کے اندر جہان معانی ہے۔ والذی اخرج…………احوی (5:87) ” جس نے نباتات اگائیں اور پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “ المرعی ، ہر اس چیزکو کہا جاتا ہے جو زمین سے اگتی ہے ، اس لئے کہ ہر اگنے والی چیز کسی نہ کسی مخلوق کے لئے خوراک ہے۔ لہٰذا مرعی کا مفہوم یہاں اس سے کہیں وسیع ہے کہ کوئی چیز ہمارے مویشیوں کے چرنے کی ہے تو مرعی ہے۔ کیونکہ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس زمین کے اوپر چلنے والی ہر مخلوق کے لئے اس کے اندر اس کی خوراک پیدا کی ، چاہے یہ مخلوق زمین کے اوپر چلتی ہو ، یا اندر چھپی رہتی ہو یا اس کی فضاﺅں میں اڑتی ہو۔ نباتات ابتداء میں سبز ہوتے ہیں ، پھر یژمردہ ہوکر سیاہ ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ سبزی کی حالت ہی میں خوراک کے قابل ہوتے ہیں اور بعض اوقات وہ پک کر سیاہ ہوتے ہیں تو خوراک کا کام دیتے ہیں۔ درمیانی حالت میں بھی وہ کسی نہ کسی خوراک کا کام دیتے ہیں۔ بہرحال نباتات کی ہر حالت ، اللہ کی تخلیق اور تسویہ کے مطابق کسی مخلوق کے لئے خوراک بنتی ہے۔ یہاں نباتاتی زندگی کے منظر کو پیش کرکے ایک اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ جس طرح ہر نبات کوڑا کرکٹ بن کر انجام تک پہنچتا ہے۔ اس طرح ہر زندہ مخلوق بھی اس دنیا میں اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔ اور یہ اشارہ ہے اس حیات ودنیا اور حیات اخروی کی طرف کہ حیات دنیا تو نباتات کی طرح ختم ہونے والی ہے اور حیات اخروی باقی اور لازوال ہے۔ بعد میں آتا ہے۔ بل توثرون…………وابقی (17:87) ” مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت سے بہتر اور باقی رہنے والی ہے “۔ دنیا کی زندگی اس کھیت کی طرح ہے جو ختم ہوکر کوڑا کرکٹ بن جاتی ہے اور آخرت باقی و لازوال ہوتی ہے۔ اس مقطع کے ذریعے اس عظیم کائنات کے صفحات کو دور تک پھیلا دیا جاتا ہے اور جن امور کا ذکر ہوتا ہے وہ سورت کے آنے والے حقائق کے ساتھ مناسب ہیں۔ یہ کائنات ان سے ہم آہنگ ہوتی ہے اور یہ حقائق کائنات سے پیوست ہوتے ہیں۔ ایک نہایت ہی وسیع و عریض فریم ورک ہیں۔ اگر گہرا مطالعہ کیا جائے کہ اس سیپارے کے مضامین کو وسیع کائناتی دائرے میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کائناتی دائرہ اس پارے کی فضا اور اس کے اشارات اور مضامین کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔

الأعلى 87:6

اب وہ خوشخبری آتی ہے جو آپ کے لئے ہے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے ہے۔ سنقرنک .................................... الذکری اس عظیم خوشخبری کا آغاز ہوتا ہے کہ قرآن کے حفظ کرنے اور اسے باقی رکھنے کی ذمہ داری نبی ﷺ کے کاندھوں سے اتار دی جاتی ہے۔ سنقرءک فلا تنسی (6:87) ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے ، پھر تم نہیں بھولوگے “۔ لہٰذا آپ اپنے رب سے یہ کلام لیں اور بس۔ اس کو یاد کرادینا اللہ کا کام ہے۔ یہ بات فی الواقعہ نبی ﷺ کے لئے بڑی خوشخبری تھی۔ آپ حفظ قرآن کے لئے فکر مند ہوتے تھے۔ اب تو اس کی حفاظت کی جانب سے مطمئن کردیا گیا کیونکہ قرآن کریم ایک نہایت ہی عظیم کلام اور آپ اسے بہت ہی محبوب رکھتے تھے۔ آپ دل وجان سے قرآن پر فدا تھے۔ اور اس کی حفاظت کا بہت ہی خیال رکھتے تھے۔ اس پر حریص تھے اور اپنی عظیم اور بھاری ذمہ داری سمجھتے تھے۔ آپ ایک ایک آیت دہراتے تھے۔ جب جبرائیل (علیہ السلام) اسے لاتے تو آپ سننے کے ساتھ ساتھ تکرار کرتے اور زبان کو دہرانے میں لگادیتے یہاں تک کہ یہ بشارت آگئی اور آپ کو مطمئن کردیا گیا۔ پھر یہ آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے بھی ایک خوشخبری ہے۔ امت بھی مطمئن ہوجاتی ہے کہ اس عقیدے کا اصل سرچشمہ ذات باری ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل اور ذمہ دار بھی اللہ ہے۔ نبی کے دل میں بٹھانے کا ذمہ دار بھی اور بعد کے زمانے میں حفاظت کی ذمہ داری بھی۔ یہ اللہ کی بڑی مہربانی ہے اور اس دین کی عظمت سے اور اللہ کے ہاں اس کی اہمیت کا ثبوت ہے۔ اس موقعہ پر اور ایسے تمام مواقع پر ایک اٹل بات ضرور سامنے آتی ہے ۔ یہ ایک اٹل اور دائمی قانون ہے وہ یہ کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے اور اللہ کی مشیت پر کوئی پابندی نہیں۔ آپ نہیں بھولیں گے الایہ کہ اللہ کچھ بھلانا چاہے۔ اگرچہ یہ پابندی خود اللہ کی طرف سے ہو ، لہٰذا اللہ کی مشیت بےقید اور اس پر کوئی قانونی قید ہے نہ کوئی وعدہ اسے پابند کرتا ہے۔ قرآن اس اصول کو پوری طرح محفوظ رکھتا ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم ظلال القرآن میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ یہاں بھی اس اصول کو قائم رکھا گیا۔ الا ماشاء اللہ (7:87) ” سوائے اس کے جو اللہ چاہے “۔ اگرچہ یہ وعدہ سچا ہے کہ حضور نہ بھولیں گے مگر اللہ کی مشیت بھی بےقید ہے ، اگر اللہ چاہے تو ایسا ہوسکتا ہے تاکہ تمام معاملات اللہ کی مشیت کے دائرے میں رہیں اور لوگ اللہ کی مشیت ہی پر نگاہ رکھیں۔ اگرچہ کسی معاملے میں سچا وعدہ کیا گیا ہو۔ انسانی دل و دماغ کو اللہ کی مشیت کے ساتھ ہی لٹکے رہنا چاہئے۔ انہ یعلم .................... وما یخفی (7:87) ” وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ پوشیدہ ہے اس کو بھی جانتا ہے “۔ یہ ہے اشارہ کہ اللہ پڑھائے گا ، حفظ کرائے گا اور نسیان نہ ہوگا الایہ کو وہ کچھ اور چاہے کیونکہ یہ تمام امور اللہ کی مخفی حکمت پر مبنی ہیں جو ظاہر اور خفیہ سب کو جانتا ہے اور معاملات کو ان کے تمام پہلوﺅں سے جانتا ہے اس لئے وہ تمام معاملات میں ایسے فیصلے کرتا ہے جس میں حکمت ہوتی ہے اور یہ حکمت اللہ کے بھرپور علم پر مبنی ہوتی ہے۔ اللہ کا علم کامل علم ہوتا ہے۔ اب دوسری خوشخبری ونیسرک للیسری (8:87) ” اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں “۔ یہ خوشخبری بھی رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے لئے ہے۔ اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے بھی ہے۔ اور اس سے اس دین کا مزاج بھی معلوم ہوتا ہے۔ دعوت اسلامی کی حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ انسانی زندگی میں کیا کردار ادا کرتی ہے اور اس کائنات میں اسلامی نظام زندگی کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔ بظاہر تو یہ دولفظ ہیں۔ ونیسرک للیسری (8:87) لیکن ان کے اندر جو حقیقت بیان کی گئی وہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام اور شریعت کی ایک عظیم حقیقت ہے ، نیز وہ اس پوری کائنات کا بھی خلاصہ اور روح ہے۔ یہ حقیقت رسول اللہ کے مزاج کو ، اس کائنات کے مزاج اور اس دین کے مزاج سے ملادیتی ہے۔ یہ پوری کائنات دست قدرت نے بڑی آسانی سے بنادی ہے۔ یہ کائنات نہایت آسانی سے چل رہی ہے ، جس رخ پر اسے ڈال دیا گیا ہے وہ نہایت آرام اور سکون اور سہولت سے اسی رخ اور سمت پر چل رہی ہے۔ غرض یہ نور سے نکلی ہے اور ایسے حقائق کی طرف اشارہ کررہی ہے جو حدود وقیود سے ماوراء ہے۔ جس ذات کو اللہ آسانیاں میسر کردے وہ اپنی زندگی کی راہوں پر بسہولت چلتا ہے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ چلتا ہے جس کا وجود اور جس کی ترتیب باہم متناسب ، جس کی حرکت متوازن اور جس کا رخ ایک طرف ہے یعنی اللہ کی طرف۔ ایسا شخص صرف ان قوتوں سے ٹکراتا ہے ، جو اس عظیم کائنات کے خطوط سے منحرف ہوں۔ ایسے لوگوں کا موازنہ اگر اس پوری کائنات سے کای جائے تو ان کا کوئی وزن نہیں رہتا۔ ایسا شخص جب چلتا ہے تو اس کی حرکت آسان ، لطیف اور نرم ہوتی ہے۔ اس کائنات کے ہم آہنگ دنیا کے واقعات سے ہم آہنگ ، دنیا کی چیزوں اور اشخاص کے ساتھ ہم آہنگ۔ اس کے ہاتھوں میں آسانی ہوتی ہے ، اس کی زبان میں یسر ہوتا ہے ، اس کے اقدامات آسان ہوتے ہیں ، اس کا عمل یسر ہوتا ہے۔ اس کے خیالات آسان ہوتے ہیں ، اس کی فکر آسان ہوتی ہے جو معاملات کو آسانی سے لیتا ہے ، معاملات کو نہایت آسانی سے لیتا ہے ، اپنے نفس کے لئے بھی آسان ہوتا ہے دوسروں کے لئے بھی آسان ہوتا ہے۔ یہ تھے رسول اللہ ﷺ ، اپنے تمام امور میں یسر ہی یسر۔ حضور اکرم ﷺ جب دوکاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے تو آسان کو لیتے۔ یہ ہے روایت حضرت عائشہ ؓ کی۔ (بخاری ومسلم) اور آپ ؓ ہی سے روایت ہے ” حضور اکرم ﷺ جب اپنے گھر میں تنہا ہوتے تو آپ تمام لوگوں سے نرم مزاج ہوتے ، مسکراتے ہوئے اور ہنستے ہوئے “۔ اور صحیح بخاری کی ایک روایت ہے : ” ایک لونڈی بھی رسول اللہ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی “۔ لباس ، طعام ، بچھونے وغیرہ میں آپ کی جو سیرت تھی اس پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ سادی ، آسانی اور بےتکلفی کو پسند فرماتے تھے۔ ابو عبداللہ شمس الدین محمد ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب زاد المعاد میں لباس کے سلسلے میں آپ کی سیرت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ کی ایک پگڑی تھی جسے ” السحاب “ کہا جاتا تھا۔ یہ آپ نے حضرت علی ؓ کو دے دی تھی ، آپ پگڑی باندھتے اور اسے کے نیچے ٹوپی پہنتے ، کبھی آپ ٹوپی بغیر عمامہ کے پہنتے ، کبھی عمامہ بغیر ٹوپی کے بھی باندھتے۔ آپ جب عمامہ باندھتے تو اس کے شملے کو دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکادیتے ، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں ہے۔ حضرت عمر ابن حریث سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا اور آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا اور آپ نے اس کا ایک طرف دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا۔ اور مسلم میں حضرت جابر سے یہ بھی ہے ، بالوں کی لٹ کی طرح۔ اس سے معلوم ہوا کہ شملہ ہمیشہ کاندھوں کے درمیان سے نہ لٹکاتے تھے۔ کہا جاتا ہے آپ مکہ میں داخل ہوئے ، آپ نے جنگی لباس پہنا ہوا تھا اور آپ کے سر پر خود تھا۔ لہٰذا ہر موقعہ کی مناسبت سے لباس پہنتے تھے۔ ایک دوسری فصل میں وہ فرماتے ہیں کہ بہترین طریقہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہے جو طریقہ آپ نے رائج فرمایا اور جس کا حکم دیا اور جس کی ترغیب دی اور اس پر مداومت کی۔ لباس میں آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جو لباس میسر ہوتا آپ وہ پہنتے کبھی اونی ، کبھی روئی ، کبھی کتان کا۔ آپ نے یمنی چادر بھی پہنی ، سبزچادر بھی پہنی ، حلہ ، قبا اور قمیص بھی زیت تن فرمائی۔ پاجامہ ، ازار اور چادر بھی پہنی۔ چمڑے کے موزے اور جوتے۔ یہ سب چیزیں آپ نے استعمال فرمائیں اور عمامہ کا شملہ کبھی آپ نے پیچھے سے لٹکایا اور کبھی نہ لٹکایا “۔ اور کھانے کے بارے میں آپ کی سیرت یہ تھی کہ آپ کسی موجود کھانے کو رد نہ فرماتے اور نہ غیر موجود کے بارے میں تکلف فرماتے ، پاکیزہ چیزوں میں سے جو بھی آپ کو پیش کی گئی آپ نے اسے تناول فرمایا۔ الایہ کہ کسی چیز کو آپ کی طبیعت نہ چاہتی ہو تو آپ نے بغیر حرام قرار دینے کے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے کسی کھانے میں کبھی عیب نہیں نکالا۔ اگر چاہت ہوتی تو تناول فرماتے ورنہ چھوڑ دیتے ، جس طرح آپ نے گوہ کو تناول نہ فرمایا کیونکہ آپ اس کے کھانے کے عادی نہ تھے لیکن امت پر اسے حرام بھی قرار نہیں دیا ، بلکہ اسے آپ کے دستر خوان پر آپ کے دیکھتے ہوئے کھایا گیا۔ آپ نے حلوی اور شہد تناول فرمایا۔ ان کو آپ بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ نے تازہ اور خشک کھجوروں کو تناول فرمایا۔ آپ نے خالص دودھ بھی پیا اور ملا ہوا بھی۔ آپ نے شہد اور ستو پانی کے ساتھ تناول فرمائے۔ آپ نے کھجوروں کا صاف پانی پیا ، آپ نے حریرہ استعمال کیا۔ یہ ایک قسم کی کھیر ہے جو دودھ اور آٹے سے بنتی ہے۔ آپ نے تروتازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھائی ، پنیر تناول فرمایا ، کھجور کے ساتھ روٹی کھائی ، سر کے ساتھ روٹی کھائی۔ آپ نے پکا ہوا کدو کھایا اور اس کو آپ بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ نے ابالا ہوا کدو بھی کھایا ، گھی کے ساتھ ثرید کھایا ، پنیر کھایا۔ تیل کے ساتھ روٹی کھائی ، خربوزوں کو تازہ کھجوروں کے ساتھ اور کھجوروں کو مکھن کے ساتھ کھایا اور یہ آپ کو بہت پسند تھا۔ کسی پاکیزہ چیز کو آپ ردنہ کرتے اور نہ بتکلف خواہش کرتے بلکہ آپ کا طریقہ یہ تھا جو میسر ہو وہ تناول فرماتے ، اگر کوئی چیز نہ ملتی تو صبر کرتے “۔ سونے اور بیدار ہونے کے بارے میں آپ کی سنت یہ تھی۔ کبھی اپنے بستر پر سوتے ، کبھی کھال پر ، کبھی چٹائی پر ، کبھی زمین پر ، کبھی تخت پر ، کبھی سیاہ کمبل پر سوتے “۔ آپ کے فرامین سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام امور میں نرمی سے کام لیاجائے ، جن میں اسلامی نظریہ حیات اور اسکے تقاضے بھی آتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کی ہدایات بہت زیادہ ہیں ، سب کو یہاں لانا مشکل ہے ، چند پیش خدمت ہیں : ” یہ دین آسان ہے ، جو شخص اس دین کے ساتھ کشتی کرے گا وہ شکست کھاجائے گا “ (بخاری) ۔ ” اپنے نفسوں پر سختی مت کرو ، تم پر سختی کی جائے گی ، ایک قوم نے اپنے آپ کو سختیوں میں ڈالا تو اس پر سختی کی گئی “ (ابوداﺅد) ۔ ” جو شخص اپنی سواری پر سختی کرتا ہے ، وہ نہ تو سفر طے کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کی سواری زندہ رہتی ہے “ (بخاری۔ ” آسانیاں کرو سختی نہ کرو “ (بخاری ومسلم) ۔ اور معاملات کے بارے میں آپ کی ہدایات یہ ہیں :” اللہ رحم کرے ، اس شخص پر جو فروخت کرے تو نرمی اور فراغ دلی سے ، خریدے تو نرمی اور فراخ دلی سے اور تقاضا کرے تو بھی نرمی اور فراخ دلی سے “ (بخاری) ۔” مومن آسان اور نرم ہوتا ہے “ (بیہقی) ۔” مومن لوگوں سے مانوس ہوتا ہے اور لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں “ (دارقطنی) ۔” اللہ کے ہاں مبغوض ترین شخص وہ ہے جو جھگڑالو اور لڑنے والا ہو “ (بخاری ومسلم) ۔ آپ کی سیرت میں اس بات کی روشن مثالیں ملتی ہیں کہ آپ سختی اور مشکل کو پسند نہ فرماتے تھے ، یہاں تک کہ نام اور چہرے کے خدوخال میں بھی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مزاج کیسا تھا ، اور آپ کے ساتھ اللہ کا سلوک کیسا تھا ، اور کس طرح اللہ نے آپ کو آپ کی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے سہل پسند بنایا تھا اور اس کی طرف آپ کی رہنمائی فرمائی تھی۔ سعید ابن مسیب اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے ، تو حضور ﷺ نے دریافت فرمایا تمہارا نام کیا ہے۔ والد نے کہا میرا نام حزن ہے (یعنی سخت دشوار) تو آپ نے فرمایا نہیں آپ ” سہل “ ہیں۔ تو انہوں نے کہا میں اس نام کو نہیں بدلوں گا جو میرے باپ نے رکھا ہے۔ ابن مسیب کہتے ہیں اس کے بعد ہمارے خاندان میں برابر سختی رہی “ (بخاری) ۔ ” حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے عاصیہ کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا “ (مسلم) ۔ اور آپ کی مشہور حدیث ہے ” یہ بات نیکی کا حصہ ہے کہ تم اپنے بھائی سے ہنس مکھ ہوکر ملو “ (ترمذی) ۔ غرض آپ اس قدر حساس تھے کہ آپ کو ناموں ، چہرے کے خدوخال میں بھی درشتی پسند نہ تھی اور آپ نرمی اور آسانی کی طرف مائل ہوتے تھے۔ چناچہ آپ کی پوری سیرت نرمی ، یسر ، سہولت ، اور سہل برتاﺅ پر مشتمل ہے۔ آپنے ہمیشہ معاملات اور لین دین میں نرمی سے کام لیا۔ ایک مثال سے واضح ہوتا ہے کہ آپ اپنے برتاﺅ کی وجہ سے لوگوں کی اصلاح کس طرح کرتے تھے۔ ” ایک دن آپ کے پاس ایک دیہاتی آیا ، وہ کوئی چیز مانگ رہا تھا۔ آپ نے اسے دے دی تو آپ نے اس سے پوچھا : کیا میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ؟ تو اس نے کہا : نہیں ! تم نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ مسلمانوں کو سخت غصہ آیا ، اور وہ اس کی طرف لپکے۔ آپ نے اشارہ فرمایا کہ کچھ نہ کہو۔ آپ پھر گھر میں داخل ہوئے اور کچھ مزید دیا اور پھر پوچھا : کیا میں نے اچھا سلو کیا ؟ تو اس نے کہا : ” ہاں “۔ اللہ آپ کو جزادے۔ آپ اچھے خاندان کے ہیں۔ اس کو نبی ﷺ نے فرمایا تم پہلے جو بات کی وہ تمہیں معلوم ہے جس کی وجہ سے میرے ساتھی خفا ہوئے اور ان کے دل صاف نہیں۔ تو اگر تم پسند کرو تو یہ باتیں جو تم نے میرے سامنے کی ہیں ان کے سامنے بھی کرو ، تاکہ ان کے دلوں میں تم پر جو غصہ ہے ، وہ دور ہوجائے۔ تو اس نے کہا ” اچھا “۔ دوسرے دن وہ پھر آیا۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس دیہاتی نے کل جو کچھ کہا وہ تمہیں معلوم ہے ، ہم نے اسے مزید کچھ دیا۔ اب اس کا خیال ہے کہ وہ راضی ہوگیا ہے۔ بتاﺅ بھائی کیا یہ درست ہے ؟ تو دیہاتی نے کہا : ” ہاں اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ اچھے خاندان سے ہیں “۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ” میری مثال اور اس دیہاتی کی مثال اس طرح ہے کہ اس شخص کی اونٹنی بگڑ گئی۔ لوگوں نے اس کا پیچھا کیا تو وہ اور بھاگنے لگی۔ تو مالک نے لوگوں کو چلا کر کہا : ” میری ناقہ کو اور مجھے چھوڑ دو میں اس کے ساتھ زیادہ نرم سلوک کرتا ہوں اور اس کے مزاج کو اچھی طرح جانتا ہوں “۔ چناچہ اس کا مالک اس کے سامنے سے آیا۔ اور زمین سے کچھ گھاس پھونس جمع کرکے اس کے لئے لے آیا۔ اور اسے آہستہ آہستہ واپس لایا ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مقام پر آکر بیٹھ گئی۔ اس نے اس کجاوا کسا اور سوار ہوگیا۔ جب اس شخص نے جو کچھ کہا تھا اور تم اس پر لپکے تھے تو میں اگر تمہیں چھوڑ دیتا اور تم اسے قتل کردیتے تو وہ جہنم میں چلا جاتا “۔ یہ تھا حضور ﷺ کا طرز عمل ان لوگوں کے ساتھ جو نہایت ہی سخت اور بدکنے والے تھے ، اس قدر سادگی اور آسانی کے ساتھ اور اللہ کی ایسی توفیق کے ساتھ ، آپ ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے۔ اس قسم کے بیشمار نمونے آپ کی سیرت میں موجود ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو اس آیت میں بطور خوشخبری آپ کو کہی گئی ہے اور آپ کو اپنی پوری زندگی میں ، آپ کو دعوت میں اور آپ کے معاملات میں اس کی آپ کو توفیق دی گئی۔ ونیسرک للیسری (8:87) ” ہم آسان دین پرچلنے کو آپ کے لئے آسان کردیں گے “۔ آپ کی ذات گرامی جو محبوب خلائق اور بلند اخلاق کی مالک تھی اور جسے ایک آسان دین کی طرف آسانی سے رہنمائی کی گئی تھی تو آپ نے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی برتاﺅ کیا۔ اور اسی انداز سے انسانیت کو دعوت دی ، آپ کا مزاج ہی اس طرح بن گیا ، اور آپ کی ماہیت ہی دین سہل میں بدل گئی اور آپ اسی امانت کبریٰ کے اٹھانے کے قابل ہوگئے ، یہ امانت تو بہت بڑی اور بھاری تھی مگر اللہ نے اس ذمہ داری کی توفیق آپ کو دی اور آپ اس بھاری ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہوگئے۔ آپ نے پسندیدہ طریقے سے کام کیا اور اچھے انداز سے محنت کی۔ اور خوشی اور شرح صدر سے کام کیا۔ حضور اکرم ﷺ کی تعریف میں اور آپ کے کام کی نوعیت کی تشریح کے بارے میں قرآن کریم میں کئی آیات بھی نازل ہوئی ہیں۔ وما ارسلنک .................... للعلمین (الانبیائ :108) ” اور ہم نے تمہیں اہل جہاں کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے “۔ الذین ........................................ علیھم (157:7) ” وہ لوگ جو اس نبی امی کی پیروی کرتے ہیں ، جسے وہ اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ، انہیں وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ، برائی سے روکتے ہیں ، پاکیزہ چیزیں ان کے لئے حلال کرتے ہیں ، ناپاک چیزیں ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ، اور ان کے وہ بوجھ اور طوق جو ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے ہیں ، ان سے اتارتے ہیں “۔ لہٰذا رسول خدا ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لئے رحمت تھی۔ آپ تشریف لائے اور آپ نے لوگوں کے کاندھوں سے بوجھ اتارے اور ان کے گلوں سے وہ طوق اتارے جو انہوں نے ڈال رکھے تھے اور یہ اس لئے کہ انہوں نے دین میں سختی کی تو اللہ کی طرف سے بھی ان پر سختی کی گئی۔ آپ جو دین اور جو دعوت لے کر آئے اس کے بارے میں بھی قرآن کہتا ہے : ولقد یسرنا ........................ من مد کر (22:54) ” اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان بنایا ہے ، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا “۔ اور ایک دوسری جگہ ہے۔ وماجعل .................... من حرج (78:22) ” اور اللہ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی “۔ اور سورة بقرہ میں ہے۔ لا یکلف .................... وسعھا (286:2) ” اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتا “۔ اور مائدہ میں ہے۔ مایرید ............................ لیطھرکم (6:5) ” اللہ تعالیٰ دین کے سلسلے میں تم پر کوئی تنگی نہیں کرنا چاہتا ، وہ تو تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے “ غرض یہ آخری رسالت سہل ہے اور انسانی طاقت کی حدود میں ہے۔ اللہ نے لوگوں کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا۔ نہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ لوگوں کی مشقت میں ڈالا جائے ، اسلام کی روح میں بھی سہولت ہے اور اسلام کے احکام میں بھی سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ غرض یہ ایک فطری دین ہے۔ سورة روم میں ہے۔ فطرت .................... علیھا (30:30) ” جس فطرت پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے ، یہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے “۔ اور جب انسان اس عقیدے کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہے تو وہ اس کو بہت آسان پاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس میں انسانی قوت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس میں انسان کے مختلف حالات کی رعایت بھی کی گئی ہے۔ اس میں ان حالات کا بھی خیال رکھا گیا ہے جو مختلف قسم کے معاشروں میں انسان کو پیش آتے ہیں۔ اسلامی عقیدہ بذات خود نہایت ہی سہل اور قابل فہم ہے۔ بس ایک الٰہ کا عقیدہ ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ تمام مخلوقات کو اسی الٰہ نے بنایا ہے اور اسی الٰہ نے ان کو ان کی پیدائش کا مقصد بھی بتایا ہے۔ پھر اس نے رسول بھیجے ہیں اور ان رسولوں نے لوگوں کو ان کا مقصد وجود بتایا ہے۔ رسولوں نے لوگوں کو اپنے خلق کی طرف لوٹایا۔ اس کے بعد جو فرائض بھی ان پر عائد کیے گئے وہ اسی نظریہ سے نکلتے ہیں ، نہایت سیدھے سادھے طریقے سے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ اور لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ ان میں سے جن احکام پر بھی عمل کرسکتے ہیں بغیر سختی اور مشقت کے عمل کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ” جب میں تمہیں حکم دوں تو اس حکم کی تعمیل اس قدر کرو جس قدر تمہاری طاقت ہو اور جس کام سے میں روکوں ، رک جاﺅ“ (بخاری ومسلم) ۔ اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ، ان میں سے بھی حالت اضطرار مستثنیٰ ہے۔ الاما .................... الیہ (119:6) ” الایہ کہ تم ان کے لئے مضطرہوجاﺅ“۔ یوں رسول آخرالزمان ﷺ کا مزاج ان کی رسالت اور دعوت کے ساتھ گھل مل گیا ہے ، اور اس دعوت اور داعی کی حقیقت ایک ہوگئی ، خصوصاً اس بنیادی صفت اور اس ممتاز رنگ میں ۔ اسی طرح اس امت کو بھی امت وسط اور سہل کہا گیا جس کے پاس رسول خدا یہ پیغام لے کر آئے تھے۔ یہ ایسی امت تھی جس پر رحمت ہوئی اور یہ رحمت اور محبت کا پیغام لے کر نہایت آسان اور سیدھا راستہ لوگوں کو بتانے کے لئے اٹھی۔ اس طرح کہ اس امت کا مراج آفاقی اور کائناتی مزاج بن گیا۔ اور اس کے مزاج اور اس وسیع کائنات کے مزاج کے اندر گہری ہم آہنگی پیدا ہوگئی۔ پھر ذرا اس کائنات کا مطالعہ کرو ، اس کی حرکت کا بہاﺅ کس قدر سہل ، رواں دواں ہے اور اس میں کوئی ٹکراﺅ اور تصادم نہیں ہے۔ اربوں کھربوں اجرام فلکی اس کائناتی فضا میں تیرتے پھرتے ہیں۔ نہایت ہم آہنگی کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں بہتے چلے جارہے ہیں ، نہایت تناسق ، خوشگوار کشش کے ساتھ جس کے اندر کوئی اضطراب نہیں۔ کوئی ایک بھی اپنے مدار سے ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ اربوں کھربوں زندہ مخلوقات اس کرہ ارض پر زندگی بسر کررہی ہے اور اپنے قریبی دور کے مقاصد پورے کررہی ہے اور یہ زندگی نہایت پختگی اور زبردست انتظام کے ساتھ گزر رہی ہے۔ اور ہر چیز اپنا مقصد تخلیق نہایت ہی سہولت سے پورا کررہی ہے ، اور اپنی متعین راہ پر اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔ اس کائنات میں اربوں کھربوں حرکات واقعات ، اور حالات چل رہے ہیں ، مجتمع بھی اور متفرق بھی۔ اور یہ سب ایک راہ پر جارہے ہیں جس طرح سازوں کا ایک گروپ اپنے اپنے آلہ سے بالکل مختلف آواز نکال رہا ہوتا ہے اور یہ سب مختلف آوازیں ایک ہی راگ تشکیل کرکے ایک طویل نغمہ بناتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کے وجود ، اسلامی نظام زندگی اور سیرت رسول ﷺ کے درمیان اور امت مسلمہ کے مزاج کے درمیان ایک زبردست ہم آہنگی ہے ، کیونکہ یہ اللہ کی صنعت ہے ، اللہ کی بتائی ہوئی فطرت ہے ، اور اللہ کا راگ ہے ، اور وہ نہایت ہی حکیم صنعت کار ہے۔ فذکر .................... الذکری (9:87) لہٰذا نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو “۔ اللہ نے نبی ﷺ کو پڑھایا تو ضمانت دی کہ آپ نہ بھولیں گے ، الا ماشاء اللہ۔ پھر اللہ نے نبی ﷺ کو بسہولت آسان طریقے پر چلنے کی سہولت فراہم کی تاکہ آپ اس عظیم امانت کا بار آسانی سے اٹھائیں اور لوگوں کو یاددہانی کرائیں۔ اسی لئے آپ کو تیار فرمایا اور خوشخبری دی گئی اور کہا کہ جب بھی موقعہ ملے یاددہانی کرائیں ، جب بھی آپ دلوں کے اندر بات اتارنے کی راہ پائیں ، اور تبلیغ کے ذرائع میسر ہوں۔ یہاں کہا گیا ہے۔ ان نفعت الذکری (9:87) ” اگر نصیحت فائدہ دے “۔ جب بھی یاددہانی کرائیں فائدہ ہی ہوتا رہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا ہے کہ نصیحت سے کسی کو کم یا زیادہ فائدہ نہ ہو ، کبھی کوئی نسل استفادہ کرنے والوں سے خالی نہیں ہوئی۔ اگرچہ زمانہ کے اندر فساد عام ہو ، دلوں پر زنگ آگیا ہو ، اور ان پر پردے پڑگئے ہوں بہرحال تذکیر سے فائدہ ہوتا ہی ہے۔ جب ہم ان آیا کی اس ترتب پر غور کرتے ہیں تو ہمیں رسالت کی عظمت کا پتہ چلتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ امانت کس قدر عظیم اور اہم ہے۔ کہ اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے اللہ نے آسان طریقے کی رہنمائی فرمائی اور آسانیاں بہم پہنچائیں ، پہلے یاد کروایا ، پھر اس پیغام کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی تاکہ رسول خدا اطمینان سے یاددہانی کا فریضہ سرانجام دیں اور پھر حکم دیا کہ آپ یاددہانی کرائیں اگر مفید ہو ، یہ سب سہولیات دے کہ آپ کو کام پر لگایا اور یہ دراصل عظیم زاد راہ تھا۔ جب رسول خدا ﷺ نے اپنا یہ فریضہ پورا کردیا ، تو آپ کی ڈیوٹی ختم ہوگئی۔ پھر لوگ جانیں اور ان کا کام۔ تبلیغ وتذکیر کے بعد لوگوں کے مسالک ، ان کے اہداف اور انجام مختلف ہوجاتے ہیں۔ اور یہ اللہ ہے جو کسی کو ایک انجام تک پہنچاتا ہے اور کسی کو دوسرے تک ۔ جس طرح انہوں نے رویہ اختیار کیا ، قبول کرنے کا یارد کرنے کا۔

الأعلى 87:7

اب وہ خوشخبری آتی ہے جو آپ کے لئے ہے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے ہے۔ سنقرنک .................................... الذکری اس عظیم خوشخبری کا آغاز ہوتا ہے کہ قرآن کے حفظ کرنے اور اسے باقی رکھنے کی ذمہ داری نبی ﷺ کے کاندھوں سے اتار دی جاتی ہے۔ سنقرءک فلا تنسی (6:87) ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے ، پھر تم نہیں بھولوگے “۔ لہٰذا آپ اپنے رب سے یہ کلام لیں اور بس۔ اس کو یاد کرادینا اللہ کا کام ہے۔ یہ بات فی الواقعہ نبی ﷺ کے لئے بڑی خوشخبری تھی۔ آپ حفظ قرآن کے لئے فکر مند ہوتے تھے۔ اب تو اس کی حفاظت کی جانب سے مطمئن کردیا گیا کیونکہ قرآن کریم ایک نہایت ہی عظیم کلام اور آپ اسے بہت ہی محبوب رکھتے تھے۔ آپ دل وجان سے قرآن پر فدا تھے۔ اور اس کی حفاظت کا بہت ہی خیال رکھتے تھے۔ اس پر حریص تھے اور اپنی عظیم اور بھاری ذمہ داری سمجھتے تھے۔ آپ ایک ایک آیت دہراتے تھے۔ جب جبرائیل (علیہ السلام) اسے لاتے تو آپ سننے کے ساتھ ساتھ تکرار کرتے اور زبان کو دہرانے میں لگادیتے یہاں تک کہ یہ بشارت آگئی اور آپ کو مطمئن کردیا گیا۔ پھر یہ آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے بھی ایک خوشخبری ہے۔ امت بھی مطمئن ہوجاتی ہے کہ اس عقیدے کا اصل سرچشمہ ذات باری ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل اور ذمہ دار بھی اللہ ہے۔ نبی کے دل میں بٹھانے کا ذمہ دار بھی اور بعد کے زمانے میں حفاظت کی ذمہ داری بھی۔ یہ اللہ کی بڑی مہربانی ہے اور اس دین کی عظمت سے اور اللہ کے ہاں اس کی اہمیت کا ثبوت ہے۔ اس موقعہ پر اور ایسے تمام مواقع پر ایک اٹل بات ضرور سامنے آتی ہے ۔ یہ ایک اٹل اور دائمی قانون ہے وہ یہ کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے اور اللہ کی مشیت پر کوئی پابندی نہیں۔ آپ نہیں بھولیں گے الایہ کہ اللہ کچھ بھلانا چاہے۔ اگرچہ یہ پابندی خود اللہ کی طرف سے ہو ، لہٰذا اللہ کی مشیت بےقید اور اس پر کوئی قانونی قید ہے نہ کوئی وعدہ اسے پابند کرتا ہے۔ قرآن اس اصول کو پوری طرح محفوظ رکھتا ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم ظلال القرآن میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ یہاں بھی اس اصول کو قائم رکھا گیا۔ الا ماشاء اللہ (7:87) ” سوائے اس کے جو اللہ چاہے “۔ اگرچہ یہ وعدہ سچا ہے کہ حضور نہ بھولیں گے مگر اللہ کی مشیت بھی بےقید ہے ، اگر اللہ چاہے تو ایسا ہوسکتا ہے تاکہ تمام معاملات اللہ کی مشیت کے دائرے میں رہیں اور لوگ اللہ کی مشیت ہی پر نگاہ رکھیں۔ اگرچہ کسی معاملے میں سچا وعدہ کیا گیا ہو۔ انسانی دل و دماغ کو اللہ کی مشیت کے ساتھ ہی لٹکے رہنا چاہئے۔ انہ یعلم .................... وما یخفی (7:87) ” وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ پوشیدہ ہے اس کو بھی جانتا ہے “۔ یہ ہے اشارہ کہ اللہ پڑھائے گا ، حفظ کرائے گا اور نسیان نہ ہوگا الایہ کو وہ کچھ اور چاہے کیونکہ یہ تمام امور اللہ کی مخفی حکمت پر مبنی ہیں جو ظاہر اور خفیہ سب کو جانتا ہے اور معاملات کو ان کے تمام پہلوﺅں سے جانتا ہے اس لئے وہ تمام معاملات میں ایسے فیصلے کرتا ہے جس میں حکمت ہوتی ہے اور یہ حکمت اللہ کے بھرپور علم پر مبنی ہوتی ہے۔ اللہ کا علم کامل علم ہوتا ہے۔ اب دوسری خوشخبری ونیسرک للیسری (8:87) ” اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں “۔ یہ خوشخبری بھی رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے لئے ہے۔ اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے بھی ہے۔ اور اس سے اس دین کا مزاج بھی معلوم ہوتا ہے۔ دعوت اسلامی کی حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ انسانی زندگی میں کیا کردار ادا کرتی ہے اور اس کائنات میں اسلامی نظام زندگی کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔ بظاہر تو یہ دولفظ ہیں۔ ونیسرک للیسری (8:87) لیکن ان کے اندر جو حقیقت بیان کی گئی وہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام اور شریعت کی ایک عظیم حقیقت ہے ، نیز وہ اس پوری کائنات کا بھی خلاصہ اور روح ہے۔ یہ حقیقت رسول اللہ کے مزاج کو ، اس کائنات کے مزاج اور اس دین کے مزاج سے ملادیتی ہے۔ یہ پوری کائنات دست قدرت نے بڑی آسانی سے بنادی ہے۔ یہ کائنات نہایت آسانی سے چل رہی ہے ، جس رخ پر اسے ڈال دیا گیا ہے وہ نہایت آرام اور سکون اور سہولت سے اسی رخ اور سمت پر چل رہی ہے۔ غرض یہ نور سے نکلی ہے اور ایسے حقائق کی طرف اشارہ کررہی ہے جو حدود وقیود سے ماوراء ہے۔ جس ذات کو اللہ آسانیاں میسر کردے وہ اپنی زندگی کی راہوں پر بسہولت چلتا ہے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ چلتا ہے جس کا وجود اور جس کی ترتیب باہم متناسب ، جس کی حرکت متوازن اور جس کا رخ ایک طرف ہے یعنی اللہ کی طرف۔ ایسا شخص صرف ان قوتوں سے ٹکراتا ہے ، جو اس عظیم کائنات کے خطوط سے منحرف ہوں۔ ایسے لوگوں کا موازنہ اگر اس پوری کائنات سے کای جائے تو ان کا کوئی وزن نہیں رہتا۔ ایسا شخص جب چلتا ہے تو اس کی حرکت آسان ، لطیف اور نرم ہوتی ہے۔ اس کائنات کے ہم آہنگ دنیا کے واقعات سے ہم آہنگ ، دنیا کی چیزوں اور اشخاص کے ساتھ ہم آہنگ۔ اس کے ہاتھوں میں آسانی ہوتی ہے ، اس کی زبان میں یسر ہوتا ہے ، اس کے اقدامات آسان ہوتے ہیں ، اس کا عمل یسر ہوتا ہے۔ اس کے خیالات آسان ہوتے ہیں ، اس کی فکر آسان ہوتی ہے جو معاملات کو آسانی سے لیتا ہے ، معاملات کو نہایت آسانی سے لیتا ہے ، اپنے نفس کے لئے بھی آسان ہوتا ہے دوسروں کے لئے بھی آسان ہوتا ہے۔ یہ تھے رسول اللہ ﷺ ، اپنے تمام امور میں یسر ہی یسر۔ حضور اکرم ﷺ جب دوکاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے تو آسان کو لیتے۔ یہ ہے روایت حضرت عائشہ ؓ کی۔ (بخاری ومسلم) اور آپ ؓ ہی سے روایت ہے ” حضور اکرم ﷺ جب اپنے گھر میں تنہا ہوتے تو آپ تمام لوگوں سے نرم مزاج ہوتے ، مسکراتے ہوئے اور ہنستے ہوئے “۔ اور صحیح بخاری کی ایک روایت ہے : ” ایک لونڈی بھی رسول اللہ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی “۔ لباس ، طعام ، بچھونے وغیرہ میں آپ کی جو سیرت تھی اس پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ سادی ، آسانی اور بےتکلفی کو پسند فرماتے تھے۔ ابو عبداللہ شمس الدین محمد ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب زاد المعاد میں لباس کے سلسلے میں آپ کی سیرت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ کی ایک پگڑی تھی جسے ” السحاب “ کہا جاتا تھا۔ یہ آپ نے حضرت علی ؓ کو دے دی تھی ، آپ پگڑی باندھتے اور اسے کے نیچے ٹوپی پہنتے ، کبھی آپ ٹوپی بغیر عمامہ کے پہنتے ، کبھی عمامہ بغیر ٹوپی کے بھی باندھتے۔ آپ جب عمامہ باندھتے تو اس کے شملے کو دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکادیتے ، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں ہے۔ حضرت عمر ابن حریث سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا اور آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا اور آپ نے اس کا ایک طرف دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا۔ اور مسلم میں حضرت جابر سے یہ بھی ہے ، بالوں کی لٹ کی طرح۔ اس سے معلوم ہوا کہ شملہ ہمیشہ کاندھوں کے درمیان سے نہ لٹکاتے تھے۔ کہا جاتا ہے آپ مکہ میں داخل ہوئے ، آپ نے جنگی لباس پہنا ہوا تھا اور آپ کے سر پر خود تھا۔ لہٰذا ہر موقعہ کی مناسبت سے لباس پہنتے تھے۔ ایک دوسری فصل میں وہ فرماتے ہیں کہ بہترین طریقہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہے جو طریقہ آپ نے رائج فرمایا اور جس کا حکم دیا اور جس کی ترغیب دی اور اس پر مداومت کی۔ لباس میں آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جو لباس میسر ہوتا آپ وہ پہنتے کبھی اونی ، کبھی روئی ، کبھی کتان کا۔ آپ نے یمنی چادر بھی پہنی ، سبزچادر بھی پہنی ، حلہ ، قبا اور قمیص بھی زیت تن فرمائی۔ پاجامہ ، ازار اور چادر بھی پہنی۔ چمڑے کے موزے اور جوتے۔ یہ سب چیزیں آپ نے استعمال فرمائیں اور عمامہ کا شملہ کبھی آپ نے پیچھے سے لٹکایا اور کبھی نہ لٹکایا “۔ اور کھانے کے بارے میں آپ کی سیرت یہ تھی کہ آپ کسی موجود کھانے کو رد نہ فرماتے اور نہ غیر موجود کے بارے میں تکلف فرماتے ، پاکیزہ چیزوں میں سے جو بھی آپ کو پیش کی گئی آپ نے اسے تناول فرمایا۔ الایہ کہ کسی چیز کو آپ کی طبیعت نہ چاہتی ہو تو آپ نے بغیر حرام قرار دینے کے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے کسی کھانے میں کبھی عیب نہیں نکالا۔ اگر چاہت ہوتی تو تناول فرماتے ورنہ چھوڑ دیتے ، جس طرح آپ نے گوہ کو تناول نہ فرمایا کیونکہ آپ اس کے کھانے کے عادی نہ تھے لیکن امت پر اسے حرام بھی قرار نہیں دیا ، بلکہ اسے آپ کے دستر خوان پر آپ کے دیکھتے ہوئے کھایا گیا۔ آپ نے حلوی اور شہد تناول فرمایا۔ ان کو آپ بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ نے تازہ اور خشک کھجوروں کو تناول فرمایا۔ آپ نے خالص دودھ بھی پیا اور ملا ہوا بھی۔ آپ نے شہد اور ستو پانی کے ساتھ تناول فرمائے۔ آپ نے کھجوروں کا صاف پانی پیا ، آپ نے حریرہ استعمال کیا۔ یہ ایک قسم کی کھیر ہے جو دودھ اور آٹے سے بنتی ہے۔ آپ نے تروتازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھائی ، پنیر تناول فرمایا ، کھجور کے ساتھ روٹی کھائی ، سر کے ساتھ روٹی کھائی۔ آپ نے پکا ہوا کدو کھایا اور اس کو آپ بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ نے ابالا ہوا کدو بھی کھایا ، گھی کے ساتھ ثرید کھایا ، پنیر کھایا۔ تیل کے ساتھ روٹی کھائی ، خربوزوں کو تازہ کھجوروں کے ساتھ اور کھجوروں کو مکھن کے ساتھ کھایا اور یہ آپ کو بہت پسند تھا۔ کسی پاکیزہ چیز کو آپ ردنہ کرتے اور نہ بتکلف خواہش کرتے بلکہ آپ کا طریقہ یہ تھا جو میسر ہو وہ تناول فرماتے ، اگر کوئی چیز نہ ملتی تو صبر کرتے “۔ سونے اور بیدار ہونے کے بارے میں آپ کی سنت یہ تھی۔ کبھی اپنے بستر پر سوتے ، کبھی کھال پر ، کبھی چٹائی پر ، کبھی زمین پر ، کبھی تخت پر ، کبھی سیاہ کمبل پر سوتے “۔ آپ کے فرامین سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام امور میں نرمی سے کام لیاجائے ، جن میں اسلامی نظریہ حیات اور اسکے تقاضے بھی آتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کی ہدایات بہت زیادہ ہیں ، سب کو یہاں لانا مشکل ہے ، چند پیش خدمت ہیں : ” یہ دین آسان ہے ، جو شخص اس دین کے ساتھ کشتی کرے گا وہ شکست کھاجائے گا “ (بخاری) ۔ ” اپنے نفسوں پر سختی مت کرو ، تم پر سختی کی جائے گی ، ایک قوم نے اپنے آپ کو سختیوں میں ڈالا تو اس پر سختی کی گئی “ (ابوداﺅد) ۔ ” جو شخص اپنی سواری پر سختی کرتا ہے ، وہ نہ تو سفر طے کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کی سواری زندہ رہتی ہے “ (بخاری۔ ” آسانیاں کرو سختی نہ کرو “ (بخاری ومسلم) ۔ اور معاملات کے بارے میں آپ کی ہدایات یہ ہیں :” اللہ رحم کرے ، اس شخص پر جو فروخت کرے تو نرمی اور فراغ دلی سے ، خریدے تو نرمی اور فراخ دلی سے اور تقاضا کرے تو بھی نرمی اور فراخ دلی سے “ (بخاری) ۔” مومن آسان اور نرم ہوتا ہے “ (بیہقی) ۔” مومن لوگوں سے مانوس ہوتا ہے اور لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں “ (دارقطنی) ۔” اللہ کے ہاں مبغوض ترین شخص وہ ہے جو جھگڑالو اور لڑنے والا ہو “ (بخاری ومسلم) ۔ آپ کی سیرت میں اس بات کی روشن مثالیں ملتی ہیں کہ آپ سختی اور مشکل کو پسند نہ فرماتے تھے ، یہاں تک کہ نام اور چہرے کے خدوخال میں بھی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مزاج کیسا تھا ، اور آپ کے ساتھ اللہ کا سلوک کیسا تھا ، اور کس طرح اللہ نے آپ کو آپ کی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے سہل پسند بنایا تھا اور اس کی طرف آپ کی رہنمائی فرمائی تھی۔ سعید ابن مسیب اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے ، تو حضور ﷺ نے دریافت فرمایا تمہارا نام کیا ہے۔ والد نے کہا میرا نام حزن ہے (یعنی سخت دشوار) تو آپ نے فرمایا نہیں آپ ” سہل “ ہیں۔ تو انہوں نے کہا میں اس نام کو نہیں بدلوں گا جو میرے باپ نے رکھا ہے۔ ابن مسیب کہتے ہیں اس کے بعد ہمارے خاندان میں برابر سختی رہی “ (بخاری) ۔ ” حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے عاصیہ کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا “ (مسلم) ۔ اور آپ کی مشہور حدیث ہے ” یہ بات نیکی کا حصہ ہے کہ تم اپنے بھائی سے ہنس مکھ ہوکر ملو “ (ترمذی) ۔ غرض آپ اس قدر حساس تھے کہ آپ کو ناموں ، چہرے کے خدوخال میں بھی درشتی پسند نہ تھی اور آپ نرمی اور آسانی کی طرف مائل ہوتے تھے۔ چناچہ آپ کی پوری سیرت نرمی ، یسر ، سہولت ، اور سہل برتاﺅ پر مشتمل ہے۔ آپنے ہمیشہ معاملات اور لین دین میں نرمی سے کام لیا۔ ایک مثال سے واضح ہوتا ہے کہ آپ اپنے برتاﺅ کی وجہ سے لوگوں کی اصلاح کس طرح کرتے تھے۔ ” ایک دن آپ کے پاس ایک دیہاتی آیا ، وہ کوئی چیز مانگ رہا تھا۔ آپ نے اسے دے دی تو آپ نے اس سے پوچھا : کیا میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ؟ تو اس نے کہا : نہیں ! تم نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ مسلمانوں کو سخت غصہ آیا ، اور وہ اس کی طرف لپکے۔ آپ نے اشارہ فرمایا کہ کچھ نہ کہو۔ آپ پھر گھر میں داخل ہوئے اور کچھ مزید دیا اور پھر پوچھا : کیا میں نے اچھا سلو کیا ؟ تو اس نے کہا : ” ہاں “۔ اللہ آپ کو جزادے۔ آپ اچھے خاندان کے ہیں۔ اس کو نبی ﷺ نے فرمایا تم پہلے جو بات کی وہ تمہیں معلوم ہے جس کی وجہ سے میرے ساتھی خفا ہوئے اور ان کے دل صاف نہیں۔ تو اگر تم پسند کرو تو یہ باتیں جو تم نے میرے سامنے کی ہیں ان کے سامنے بھی کرو ، تاکہ ان کے دلوں میں تم پر جو غصہ ہے ، وہ دور ہوجائے۔ تو اس نے کہا ” اچھا “۔ دوسرے دن وہ پھر آیا۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس دیہاتی نے کل جو کچھ کہا وہ تمہیں معلوم ہے ، ہم نے اسے مزید کچھ دیا۔ اب اس کا خیال ہے کہ وہ راضی ہوگیا ہے۔ بتاﺅ بھائی کیا یہ درست ہے ؟ تو دیہاتی نے کہا : ” ہاں اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ اچھے خاندان سے ہیں “۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ” میری مثال اور اس دیہاتی کی مثال اس طرح ہے کہ اس شخص کی اونٹنی بگڑ گئی۔ لوگوں نے اس کا پیچھا کیا تو وہ اور بھاگنے لگی۔ تو مالک نے لوگوں کو چلا کر کہا : ” میری ناقہ کو اور مجھے چھوڑ دو میں اس کے ساتھ زیادہ نرم سلوک کرتا ہوں اور اس کے مزاج کو اچھی طرح جانتا ہوں “۔ چناچہ اس کا مالک اس کے سامنے سے آیا۔ اور زمین سے کچھ گھاس پھونس جمع کرکے اس کے لئے لے آیا۔ اور اسے آہستہ آہستہ واپس لایا ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مقام پر آکر بیٹھ گئی۔ اس نے اس کجاوا کسا اور سوار ہوگیا۔ جب اس شخص نے جو کچھ کہا تھا اور تم اس پر لپکے تھے تو میں اگر تمہیں چھوڑ دیتا اور تم اسے قتل کردیتے تو وہ جہنم میں چلا جاتا “۔ یہ تھا حضور ﷺ کا طرز عمل ان لوگوں کے ساتھ جو نہایت ہی سخت اور بدکنے والے تھے ، اس قدر سادگی اور آسانی کے ساتھ اور اللہ کی ایسی توفیق کے ساتھ ، آپ ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے۔ اس قسم کے بیشمار نمونے آپ کی سیرت میں موجود ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو اس آیت میں بطور خوشخبری آپ کو کہی گئی ہے اور آپ کو اپنی پوری زندگی میں ، آپ کو دعوت میں اور آپ کے معاملات میں اس کی آپ کو توفیق دی گئی۔ ونیسرک للیسری (8:87) ” ہم آسان دین پرچلنے کو آپ کے لئے آسان کردیں گے “۔ آپ کی ذات گرامی جو محبوب خلائق اور بلند اخلاق کی مالک تھی اور جسے ایک آسان دین کی طرف آسانی سے رہنمائی کی گئی تھی تو آپ نے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی برتاﺅ کیا۔ اور اسی انداز سے انسانیت کو دعوت دی ، آپ کا مزاج ہی اس طرح بن گیا ، اور آپ کی ماہیت ہی دین سہل میں بدل گئی اور آپ اسی امانت کبریٰ کے اٹھانے کے قابل ہوگئے ، یہ امانت تو بہت بڑی اور بھاری تھی مگر اللہ نے اس ذمہ داری کی توفیق آپ کو دی اور آپ اس بھاری ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہوگئے۔ آپ نے پسندیدہ طریقے سے کام کیا اور اچھے انداز سے محنت کی۔ اور خوشی اور شرح صدر سے کام کیا۔ حضور اکرم ﷺ کی تعریف میں اور آپ کے کام کی نوعیت کی تشریح کے بارے میں قرآن کریم میں کئی آیات بھی نازل ہوئی ہیں۔ وما ارسلنک .................... للعلمین (الانبیائ :108) ” اور ہم نے تمہیں اہل جہاں کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے “۔ الذین ........................................ علیھم (157:7) ” وہ لوگ جو اس نبی امی کی پیروی کرتے ہیں ، جسے وہ اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ، انہیں وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ، برائی سے روکتے ہیں ، پاکیزہ چیزیں ان کے لئے حلال کرتے ہیں ، ناپاک چیزیں ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ، اور ان کے وہ بوجھ اور طوق جو ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے ہیں ، ان سے اتارتے ہیں “۔ لہٰذا رسول خدا ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لئے رحمت تھی۔ آپ تشریف لائے اور آپ نے لوگوں کے کاندھوں سے بوجھ اتارے اور ان کے گلوں سے وہ طوق اتارے جو انہوں نے ڈال رکھے تھے اور یہ اس لئے کہ انہوں نے دین میں سختی کی تو اللہ کی طرف سے بھی ان پر سختی کی گئی۔ آپ جو دین اور جو دعوت لے کر آئے اس کے بارے میں بھی قرآن کہتا ہے : ولقد یسرنا ........................ من مد کر (22:54) ” اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان بنایا ہے ، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا “۔ اور ایک دوسری جگہ ہے۔ وماجعل .................... من حرج (78:22) ” اور اللہ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی “۔ اور سورة بقرہ میں ہے۔ لا یکلف .................... وسعھا (286:2) ” اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتا “۔ اور مائدہ میں ہے۔ مایرید ............................ لیطھرکم (6:5) ” اللہ تعالیٰ دین کے سلسلے میں تم پر کوئی تنگی نہیں کرنا چاہتا ، وہ تو تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے “ غرض یہ آخری رسالت سہل ہے اور انسانی طاقت کی حدود میں ہے۔ اللہ نے لوگوں کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا۔ نہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ لوگوں کی مشقت میں ڈالا جائے ، اسلام کی روح میں بھی سہولت ہے اور اسلام کے احکام میں بھی سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ غرض یہ ایک فطری دین ہے۔ سورة روم میں ہے۔ فطرت .................... علیھا (30:30) ” جس فطرت پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے ، یہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے “۔ اور جب انسان اس عقیدے کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہے تو وہ اس کو بہت آسان پاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس میں انسانی قوت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس میں انسان کے مختلف حالات کی رعایت بھی کی گئی ہے۔ اس میں ان حالات کا بھی خیال رکھا گیا ہے جو مختلف قسم کے معاشروں میں انسان کو پیش آتے ہیں۔ اسلامی عقیدہ بذات خود نہایت ہی سہل اور قابل فہم ہے۔ بس ایک الٰہ کا عقیدہ ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ تمام مخلوقات کو اسی الٰہ نے بنایا ہے اور اسی الٰہ نے ان کو ان کی پیدائش کا مقصد بھی بتایا ہے۔ پھر اس نے رسول بھیجے ہیں اور ان رسولوں نے لوگوں کو ان کا مقصد وجود بتایا ہے۔ رسولوں نے لوگوں کو اپنے خلق کی طرف لوٹایا۔ اس کے بعد جو فرائض بھی ان پر عائد کیے گئے وہ اسی نظریہ سے نکلتے ہیں ، نہایت سیدھے سادھے طریقے سے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ اور لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ ان میں سے جن احکام پر بھی عمل کرسکتے ہیں بغیر سختی اور مشقت کے عمل کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ” جب میں تمہیں حکم دوں تو اس حکم کی تعمیل اس قدر کرو جس قدر تمہاری طاقت ہو اور جس کام سے میں روکوں ، رک جاﺅ“ (بخاری ومسلم) ۔ اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ، ان میں سے بھی حالت اضطرار مستثنیٰ ہے۔ الاما .................... الیہ (119:6) ” الایہ کہ تم ان کے لئے مضطرہوجاﺅ“۔ یوں رسول آخرالزمان ﷺ کا مزاج ان کی رسالت اور دعوت کے ساتھ گھل مل گیا ہے ، اور اس دعوت اور داعی کی حقیقت ایک ہوگئی ، خصوصاً اس بنیادی صفت اور اس ممتاز رنگ میں ۔ اسی طرح اس امت کو بھی امت وسط اور سہل کہا گیا جس کے پاس رسول خدا یہ پیغام لے کر آئے تھے۔ یہ ایسی امت تھی جس پر رحمت ہوئی اور یہ رحمت اور محبت کا پیغام لے کر نہایت آسان اور سیدھا راستہ لوگوں کو بتانے کے لئے اٹھی۔ اس طرح کہ اس امت کا مراج آفاقی اور کائناتی مزاج بن گیا۔ اور اس کے مزاج اور اس وسیع کائنات کے مزاج کے اندر گہری ہم آہنگی پیدا ہوگئی۔ پھر ذرا اس کائنات کا مطالعہ کرو ، اس کی حرکت کا بہاﺅ کس قدر سہل ، رواں دواں ہے اور اس میں کوئی ٹکراﺅ اور تصادم نہیں ہے۔ اربوں کھربوں اجرام فلکی اس کائناتی فضا میں تیرتے پھرتے ہیں۔ نہایت ہم آہنگی کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں بہتے چلے جارہے ہیں ، نہایت تناسق ، خوشگوار کشش کے ساتھ جس کے اندر کوئی اضطراب نہیں۔ کوئی ایک بھی اپنے مدار سے ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ اربوں کھربوں زندہ مخلوقات اس کرہ ارض پر زندگی بسر کررہی ہے اور اپنے قریبی دور کے مقاصد پورے کررہی ہے اور یہ زندگی نہایت پختگی اور زبردست انتظام کے ساتھ گزر رہی ہے۔ اور ہر چیز اپنا مقصد تخلیق نہایت ہی سہولت سے پورا کررہی ہے ، اور اپنی متعین راہ پر اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔ اس کائنات میں اربوں کھربوں حرکات واقعات ، اور حالات چل رہے ہیں ، مجتمع بھی اور متفرق بھی۔ اور یہ سب ایک راہ پر جارہے ہیں جس طرح سازوں کا ایک گروپ اپنے اپنے آلہ سے بالکل مختلف آواز نکال رہا ہوتا ہے اور یہ سب مختلف آوازیں ایک ہی راگ تشکیل کرکے ایک طویل نغمہ بناتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کے وجود ، اسلامی نظام زندگی اور سیرت رسول ﷺ کے درمیان اور امت مسلمہ کے مزاج کے درمیان ایک زبردست ہم آہنگی ہے ، کیونکہ یہ اللہ کی صنعت ہے ، اللہ کی بتائی ہوئی فطرت ہے ، اور اللہ کا راگ ہے ، اور وہ نہایت ہی حکیم صنعت کار ہے۔ فذکر .................... الذکری (9:87) لہٰذا نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو “۔ اللہ نے نبی ﷺ کو پڑھایا تو ضمانت دی کہ آپ نہ بھولیں گے ، الا ماشاء اللہ۔ پھر اللہ نے نبی ﷺ کو بسہولت آسان طریقے پر چلنے کی سہولت فراہم کی تاکہ آپ اس عظیم امانت کا بار آسانی سے اٹھائیں اور لوگوں کو یاددہانی کرائیں۔ اسی لئے آپ کو تیار فرمایا اور خوشخبری دی گئی اور کہا کہ جب بھی موقعہ ملے یاددہانی کرائیں ، جب بھی آپ دلوں کے اندر بات اتارنے کی راہ پائیں ، اور تبلیغ کے ذرائع میسر ہوں۔ یہاں کہا گیا ہے۔ ان نفعت الذکری (9:87) ” اگر نصیحت فائدہ دے “۔ جب بھی یاددہانی کرائیں فائدہ ہی ہوتا رہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا ہے کہ نصیحت سے کسی کو کم یا زیادہ فائدہ نہ ہو ، کبھی کوئی نسل استفادہ کرنے والوں سے خالی نہیں ہوئی۔ اگرچہ زمانہ کے اندر فساد عام ہو ، دلوں پر زنگ آگیا ہو ، اور ان پر پردے پڑگئے ہوں بہرحال تذکیر سے فائدہ ہوتا ہی ہے۔ جب ہم ان آیا کی اس ترتب پر غور کرتے ہیں تو ہمیں رسالت کی عظمت کا پتہ چلتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ امانت کس قدر عظیم اور اہم ہے۔ کہ اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے اللہ نے آسان طریقے کی رہنمائی فرمائی اور آسانیاں بہم پہنچائیں ، پہلے یاد کروایا ، پھر اس پیغام کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی تاکہ رسول خدا اطمینان سے یاددہانی کا فریضہ سرانجام دیں اور پھر حکم دیا کہ آپ یاددہانی کرائیں اگر مفید ہو ، یہ سب سہولیات دے کہ آپ کو کام پر لگایا اور یہ دراصل عظیم زاد راہ تھا۔ جب رسول خدا ﷺ نے اپنا یہ فریضہ پورا کردیا ، تو آپ کی ڈیوٹی ختم ہوگئی۔ پھر لوگ جانیں اور ان کا کام۔ تبلیغ وتذکیر کے بعد لوگوں کے مسالک ، ان کے اہداف اور انجام مختلف ہوجاتے ہیں۔ اور یہ اللہ ہے جو کسی کو ایک انجام تک پہنچاتا ہے اور کسی کو دوسرے تک ۔ جس طرح انہوں نے رویہ اختیار کیا ، قبول کرنے کا یارد کرنے کا۔

الأعلى 87:8

اب وہ خوشخبری آتی ہے جو آپ کے لئے ہے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے ہے۔ سنقرنک .................................... الذکری اس عظیم خوشخبری کا آغاز ہوتا ہے کہ قرآن کے حفظ کرنے اور اسے باقی رکھنے کی ذمہ داری نبی ﷺ کے کاندھوں سے اتار دی جاتی ہے۔ سنقرءک فلا تنسی (6:87) ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے ، پھر تم نہیں بھولوگے “۔ لہٰذا آپ اپنے رب سے یہ کلام لیں اور بس۔ اس کو یاد کرادینا اللہ کا کام ہے۔ یہ بات فی الواقعہ نبی ﷺ کے لئے بڑی خوشخبری تھی۔ آپ حفظ قرآن کے لئے فکر مند ہوتے تھے۔ اب تو اس کی حفاظت کی جانب سے مطمئن کردیا گیا کیونکہ قرآن کریم ایک نہایت ہی عظیم کلام اور آپ اسے بہت ہی محبوب رکھتے تھے۔ آپ دل وجان سے قرآن پر فدا تھے۔ اور اس کی حفاظت کا بہت ہی خیال رکھتے تھے۔ اس پر حریص تھے اور اپنی عظیم اور بھاری ذمہ داری سمجھتے تھے۔ آپ ایک ایک آیت دہراتے تھے۔ جب جبرائیل (علیہ السلام) اسے لاتے تو آپ سننے کے ساتھ ساتھ تکرار کرتے اور زبان کو دہرانے میں لگادیتے یہاں تک کہ یہ بشارت آگئی اور آپ کو مطمئن کردیا گیا۔ پھر یہ آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے بھی ایک خوشخبری ہے۔ امت بھی مطمئن ہوجاتی ہے کہ اس عقیدے کا اصل سرچشمہ ذات باری ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل اور ذمہ دار بھی اللہ ہے۔ نبی کے دل میں بٹھانے کا ذمہ دار بھی اور بعد کے زمانے میں حفاظت کی ذمہ داری بھی۔ یہ اللہ کی بڑی مہربانی ہے اور اس دین کی عظمت سے اور اللہ کے ہاں اس کی اہمیت کا ثبوت ہے۔ اس موقعہ پر اور ایسے تمام مواقع پر ایک اٹل بات ضرور سامنے آتی ہے ۔ یہ ایک اٹل اور دائمی قانون ہے وہ یہ کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے اور اللہ کی مشیت پر کوئی پابندی نہیں۔ آپ نہیں بھولیں گے الایہ کہ اللہ کچھ بھلانا چاہے۔ اگرچہ یہ پابندی خود اللہ کی طرف سے ہو ، لہٰذا اللہ کی مشیت بےقید اور اس پر کوئی قانونی قید ہے نہ کوئی وعدہ اسے پابند کرتا ہے۔ قرآن اس اصول کو پوری طرح محفوظ رکھتا ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم ظلال القرآن میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ یہاں بھی اس اصول کو قائم رکھا گیا۔ الا ماشاء اللہ (7:87) ” سوائے اس کے جو اللہ چاہے “۔ اگرچہ یہ وعدہ سچا ہے کہ حضور نہ بھولیں گے مگر اللہ کی مشیت بھی بےقید ہے ، اگر اللہ چاہے تو ایسا ہوسکتا ہے تاکہ تمام معاملات اللہ کی مشیت کے دائرے میں رہیں اور لوگ اللہ کی مشیت ہی پر نگاہ رکھیں۔ اگرچہ کسی معاملے میں سچا وعدہ کیا گیا ہو۔ انسانی دل و دماغ کو اللہ کی مشیت کے ساتھ ہی لٹکے رہنا چاہئے۔ انہ یعلم .................... وما یخفی (7:87) ” وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ پوشیدہ ہے اس کو بھی جانتا ہے “۔ یہ ہے اشارہ کہ اللہ پڑھائے گا ، حفظ کرائے گا اور نسیان نہ ہوگا الایہ کو وہ کچھ اور چاہے کیونکہ یہ تمام امور اللہ کی مخفی حکمت پر مبنی ہیں جو ظاہر اور خفیہ سب کو جانتا ہے اور معاملات کو ان کے تمام پہلوﺅں سے جانتا ہے اس لئے وہ تمام معاملات میں ایسے فیصلے کرتا ہے جس میں حکمت ہوتی ہے اور یہ حکمت اللہ کے بھرپور علم پر مبنی ہوتی ہے۔ اللہ کا علم کامل علم ہوتا ہے۔ اب دوسری خوشخبری ونیسرک للیسری (8:87) ” اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں “۔ یہ خوشخبری بھی رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے لئے ہے۔ اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے بھی ہے۔ اور اس سے اس دین کا مزاج بھی معلوم ہوتا ہے۔ دعوت اسلامی کی حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ انسانی زندگی میں کیا کردار ادا کرتی ہے اور اس کائنات میں اسلامی نظام زندگی کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔ بظاہر تو یہ دولفظ ہیں۔ ونیسرک للیسری (8:87) لیکن ان کے اندر جو حقیقت بیان کی گئی وہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام اور شریعت کی ایک عظیم حقیقت ہے ، نیز وہ اس پوری کائنات کا بھی خلاصہ اور روح ہے۔ یہ حقیقت رسول اللہ کے مزاج کو ، اس کائنات کے مزاج اور اس دین کے مزاج سے ملادیتی ہے۔ یہ پوری کائنات دست قدرت نے بڑی آسانی سے بنادی ہے۔ یہ کائنات نہایت آسانی سے چل رہی ہے ، جس رخ پر اسے ڈال دیا گیا ہے وہ نہایت آرام اور سکون اور سہولت سے اسی رخ اور سمت پر چل رہی ہے۔ غرض یہ نور سے نکلی ہے اور ایسے حقائق کی طرف اشارہ کررہی ہے جو حدود وقیود سے ماوراء ہے۔ جس ذات کو اللہ آسانیاں میسر کردے وہ اپنی زندگی کی راہوں پر بسہولت چلتا ہے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ چلتا ہے جس کا وجود اور جس کی ترتیب باہم متناسب ، جس کی حرکت متوازن اور جس کا رخ ایک طرف ہے یعنی اللہ کی طرف۔ ایسا شخص صرف ان قوتوں سے ٹکراتا ہے ، جو اس عظیم کائنات کے خطوط سے منحرف ہوں۔ ایسے لوگوں کا موازنہ اگر اس پوری کائنات سے کای جائے تو ان کا کوئی وزن نہیں رہتا۔ ایسا شخص جب چلتا ہے تو اس کی حرکت آسان ، لطیف اور نرم ہوتی ہے۔ اس کائنات کے ہم آہنگ دنیا کے واقعات سے ہم آہنگ ، دنیا کی چیزوں اور اشخاص کے ساتھ ہم آہنگ۔ اس کے ہاتھوں میں آسانی ہوتی ہے ، اس کی زبان میں یسر ہوتا ہے ، اس کے اقدامات آسان ہوتے ہیں ، اس کا عمل یسر ہوتا ہے۔ اس کے خیالات آسان ہوتے ہیں ، اس کی فکر آسان ہوتی ہے جو معاملات کو آسانی سے لیتا ہے ، معاملات کو نہایت آسانی سے لیتا ہے ، اپنے نفس کے لئے بھی آسان ہوتا ہے دوسروں کے لئے بھی آسان ہوتا ہے۔ یہ تھے رسول اللہ ﷺ ، اپنے تمام امور میں یسر ہی یسر۔ حضور اکرم ﷺ جب دوکاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے تو آسان کو لیتے۔ یہ ہے روایت حضرت عائشہ ؓ کی۔ (بخاری ومسلم) اور آپ ؓ ہی سے روایت ہے ” حضور اکرم ﷺ جب اپنے گھر میں تنہا ہوتے تو آپ تمام لوگوں سے نرم مزاج ہوتے ، مسکراتے ہوئے اور ہنستے ہوئے “۔ اور صحیح بخاری کی ایک روایت ہے : ” ایک لونڈی بھی رسول اللہ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی “۔ لباس ، طعام ، بچھونے وغیرہ میں آپ کی جو سیرت تھی اس پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ سادی ، آسانی اور بےتکلفی کو پسند فرماتے تھے۔ ابو عبداللہ شمس الدین محمد ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب زاد المعاد میں لباس کے سلسلے میں آپ کی سیرت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ کی ایک پگڑی تھی جسے ” السحاب “ کہا جاتا تھا۔ یہ آپ نے حضرت علی ؓ کو دے دی تھی ، آپ پگڑی باندھتے اور اسے کے نیچے ٹوپی پہنتے ، کبھی آپ ٹوپی بغیر عمامہ کے پہنتے ، کبھی عمامہ بغیر ٹوپی کے بھی باندھتے۔ آپ جب عمامہ باندھتے تو اس کے شملے کو دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکادیتے ، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں ہے۔ حضرت عمر ابن حریث سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا اور آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا اور آپ نے اس کا ایک طرف دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا۔ اور مسلم میں حضرت جابر سے یہ بھی ہے ، بالوں کی لٹ کی طرح۔ اس سے معلوم ہوا کہ شملہ ہمیشہ کاندھوں کے درمیان سے نہ لٹکاتے تھے۔ کہا جاتا ہے آپ مکہ میں داخل ہوئے ، آپ نے جنگی لباس پہنا ہوا تھا اور آپ کے سر پر خود تھا۔ لہٰذا ہر موقعہ کی مناسبت سے لباس پہنتے تھے۔ ایک دوسری فصل میں وہ فرماتے ہیں کہ بہترین طریقہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہے جو طریقہ آپ نے رائج فرمایا اور جس کا حکم دیا اور جس کی ترغیب دی اور اس پر مداومت کی۔ لباس میں آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جو لباس میسر ہوتا آپ وہ پہنتے کبھی اونی ، کبھی روئی ، کبھی کتان کا۔ آپ نے یمنی چادر بھی پہنی ، سبزچادر بھی پہنی ، حلہ ، قبا اور قمیص بھی زیت تن فرمائی۔ پاجامہ ، ازار اور چادر بھی پہنی۔ چمڑے کے موزے اور جوتے۔ یہ سب چیزیں آپ نے استعمال فرمائیں اور عمامہ کا شملہ کبھی آپ نے پیچھے سے لٹکایا اور کبھی نہ لٹکایا “۔ اور کھانے کے بارے میں آپ کی سیرت یہ تھی کہ آپ کسی موجود کھانے کو رد نہ فرماتے اور نہ غیر موجود کے بارے میں تکلف فرماتے ، پاکیزہ چیزوں میں سے جو بھی آپ کو پیش کی گئی آپ نے اسے تناول فرمایا۔ الایہ کہ کسی چیز کو آپ کی طبیعت نہ چاہتی ہو تو آپ نے بغیر حرام قرار دینے کے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے کسی کھانے میں کبھی عیب نہیں نکالا۔ اگر چاہت ہوتی تو تناول فرماتے ورنہ چھوڑ دیتے ، جس طرح آپ نے گوہ کو تناول نہ فرمایا کیونکہ آپ اس کے کھانے کے عادی نہ تھے لیکن امت پر اسے حرام بھی قرار نہیں دیا ، بلکہ اسے آپ کے دستر خوان پر آپ کے دیکھتے ہوئے کھایا گیا۔ آپ نے حلوی اور شہد تناول فرمایا۔ ان کو آپ بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ نے تازہ اور خشک کھجوروں کو تناول فرمایا۔ آپ نے خالص دودھ بھی پیا اور ملا ہوا بھی۔ آپ نے شہد اور ستو پانی کے ساتھ تناول فرمائے۔ آپ نے کھجوروں کا صاف پانی پیا ، آپ نے حریرہ استعمال کیا۔ یہ ایک قسم کی کھیر ہے جو دودھ اور آٹے سے بنتی ہے۔ آپ نے تروتازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھائی ، پنیر تناول فرمایا ، کھجور کے ساتھ روٹی کھائی ، سر کے ساتھ روٹی کھائی۔ آپ نے پکا ہوا کدو کھایا اور اس کو آپ بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ نے ابالا ہوا کدو بھی کھایا ، گھی کے ساتھ ثرید کھایا ، پنیر کھایا۔ تیل کے ساتھ روٹی کھائی ، خربوزوں کو تازہ کھجوروں کے ساتھ اور کھجوروں کو مکھن کے ساتھ کھایا اور یہ آپ کو بہت پسند تھا۔ کسی پاکیزہ چیز کو آپ ردنہ کرتے اور نہ بتکلف خواہش کرتے بلکہ آپ کا طریقہ یہ تھا جو میسر ہو وہ تناول فرماتے ، اگر کوئی چیز نہ ملتی تو صبر کرتے “۔ سونے اور بیدار ہونے کے بارے میں آپ کی سنت یہ تھی۔ کبھی اپنے بستر پر سوتے ، کبھی کھال پر ، کبھی چٹائی پر ، کبھی زمین پر ، کبھی تخت پر ، کبھی سیاہ کمبل پر سوتے “۔ آپ کے فرامین سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام امور میں نرمی سے کام لیاجائے ، جن میں اسلامی نظریہ حیات اور اسکے تقاضے بھی آتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کی ہدایات بہت زیادہ ہیں ، سب کو یہاں لانا مشکل ہے ، چند پیش خدمت ہیں : ” یہ دین آسان ہے ، جو شخص اس دین کے ساتھ کشتی کرے گا وہ شکست کھاجائے گا “ (بخاری) ۔ ” اپنے نفسوں پر سختی مت کرو ، تم پر سختی کی جائے گی ، ایک قوم نے اپنے آپ کو سختیوں میں ڈالا تو اس پر سختی کی گئی “ (ابوداﺅد) ۔ ” جو شخص اپنی سواری پر سختی کرتا ہے ، وہ نہ تو سفر طے کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کی سواری زندہ رہتی ہے “ (بخاری۔ ” آسانیاں کرو سختی نہ کرو “ (بخاری ومسلم) ۔ اور معاملات کے بارے میں آپ کی ہدایات یہ ہیں :” اللہ رحم کرے ، اس شخص پر جو فروخت کرے تو نرمی اور فراغ دلی سے ، خریدے تو نرمی اور فراخ دلی سے اور تقاضا کرے تو بھی نرمی اور فراخ دلی سے “ (بخاری) ۔” مومن آسان اور نرم ہوتا ہے “ (بیہقی) ۔” مومن لوگوں سے مانوس ہوتا ہے اور لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں “ (دارقطنی) ۔” اللہ کے ہاں مبغوض ترین شخص وہ ہے جو جھگڑالو اور لڑنے والا ہو “ (بخاری ومسلم) ۔ آپ کی سیرت میں اس بات کی روشن مثالیں ملتی ہیں کہ آپ سختی اور مشکل کو پسند نہ فرماتے تھے ، یہاں تک کہ نام اور چہرے کے خدوخال میں بھی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مزاج کیسا تھا ، اور آپ کے ساتھ اللہ کا سلوک کیسا تھا ، اور کس طرح اللہ نے آپ کو آپ کی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے سہل پسند بنایا تھا اور اس کی طرف آپ کی رہنمائی فرمائی تھی۔ سعید ابن مسیب اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے ، تو حضور ﷺ نے دریافت فرمایا تمہارا نام کیا ہے۔ والد نے کہا میرا نام حزن ہے (یعنی سخت دشوار) تو آپ نے فرمایا نہیں آپ ” سہل “ ہیں۔ تو انہوں نے کہا میں اس نام کو نہیں بدلوں گا جو میرے باپ نے رکھا ہے۔ ابن مسیب کہتے ہیں اس کے بعد ہمارے خاندان میں برابر سختی رہی “ (بخاری) ۔ ” حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے عاصیہ کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا “ (مسلم) ۔ اور آپ کی مشہور حدیث ہے ” یہ بات نیکی کا حصہ ہے کہ تم اپنے بھائی سے ہنس مکھ ہوکر ملو “ (ترمذی) ۔ غرض آپ اس قدر حساس تھے کہ آپ کو ناموں ، چہرے کے خدوخال میں بھی درشتی پسند نہ تھی اور آپ نرمی اور آسانی کی طرف مائل ہوتے تھے۔ چناچہ آپ کی پوری سیرت نرمی ، یسر ، سہولت ، اور سہل برتاﺅ پر مشتمل ہے۔ آپنے ہمیشہ معاملات اور لین دین میں نرمی سے کام لیا۔ ایک مثال سے واضح ہوتا ہے کہ آپ اپنے برتاﺅ کی وجہ سے لوگوں کی اصلاح کس طرح کرتے تھے۔ ” ایک دن آپ کے پاس ایک دیہاتی آیا ، وہ کوئی چیز مانگ رہا تھا۔ آپ نے اسے دے دی تو آپ نے اس سے پوچھا : کیا میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ؟ تو اس نے کہا : نہیں ! تم نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ مسلمانوں کو سخت غصہ آیا ، اور وہ اس کی طرف لپکے۔ آپ نے اشارہ فرمایا کہ کچھ نہ کہو۔ آپ پھر گھر میں داخل ہوئے اور کچھ مزید دیا اور پھر پوچھا : کیا میں نے اچھا سلو کیا ؟ تو اس نے کہا : ” ہاں “۔ اللہ آپ کو جزادے۔ آپ اچھے خاندان کے ہیں۔ اس کو نبی ﷺ نے فرمایا تم پہلے جو بات کی وہ تمہیں معلوم ہے جس کی وجہ سے میرے ساتھی خفا ہوئے اور ان کے دل صاف نہیں۔ تو اگر تم پسند کرو تو یہ باتیں جو تم نے میرے سامنے کی ہیں ان کے سامنے بھی کرو ، تاکہ ان کے دلوں میں تم پر جو غصہ ہے ، وہ دور ہوجائے۔ تو اس نے کہا ” اچھا “۔ دوسرے دن وہ پھر آیا۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس دیہاتی نے کل جو کچھ کہا وہ تمہیں معلوم ہے ، ہم نے اسے مزید کچھ دیا۔ اب اس کا خیال ہے کہ وہ راضی ہوگیا ہے۔ بتاﺅ بھائی کیا یہ درست ہے ؟ تو دیہاتی نے کہا : ” ہاں اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ اچھے خاندان سے ہیں “۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ” میری مثال اور اس دیہاتی کی مثال اس طرح ہے کہ اس شخص کی اونٹنی بگڑ گئی۔ لوگوں نے اس کا پیچھا کیا تو وہ اور بھاگنے لگی۔ تو مالک نے لوگوں کو چلا کر کہا : ” میری ناقہ کو اور مجھے چھوڑ دو میں اس کے ساتھ زیادہ نرم سلوک کرتا ہوں اور اس کے مزاج کو اچھی طرح جانتا ہوں “۔ چناچہ اس کا مالک اس کے سامنے سے آیا۔ اور زمین سے کچھ گھاس پھونس جمع کرکے اس کے لئے لے آیا۔ اور اسے آہستہ آہستہ واپس لایا ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مقام پر آکر بیٹھ گئی۔ اس نے اس کجاوا کسا اور سوار ہوگیا۔ جب اس شخص نے جو کچھ کہا تھا اور تم اس پر لپکے تھے تو میں اگر تمہیں چھوڑ دیتا اور تم اسے قتل کردیتے تو وہ جہنم میں چلا جاتا “۔ یہ تھا حضور ﷺ کا طرز عمل ان لوگوں کے ساتھ جو نہایت ہی سخت اور بدکنے والے تھے ، اس قدر سادگی اور آسانی کے ساتھ اور اللہ کی ایسی توفیق کے ساتھ ، آپ ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے۔ اس قسم کے بیشمار نمونے آپ کی سیرت میں موجود ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو اس آیت میں بطور خوشخبری آپ کو کہی گئی ہے اور آپ کو اپنی پوری زندگی میں ، آپ کو دعوت میں اور آپ کے معاملات میں اس کی آپ کو توفیق دی گئی۔ ونیسرک للیسری (8:87) ” ہم آسان دین پرچلنے کو آپ کے لئے آسان کردیں گے “۔ آپ کی ذات گرامی جو محبوب خلائق اور بلند اخلاق کی مالک تھی اور جسے ایک آسان دین کی طرف آسانی سے رہنمائی کی گئی تھی تو آپ نے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی برتاﺅ کیا۔ اور اسی انداز سے انسانیت کو دعوت دی ، آپ کا مزاج ہی اس طرح بن گیا ، اور آپ کی ماہیت ہی دین سہل میں بدل گئی اور آپ اسی امانت کبریٰ کے اٹھانے کے قابل ہوگئے ، یہ امانت تو بہت بڑی اور بھاری تھی مگر اللہ نے اس ذمہ داری کی توفیق آپ کو دی اور آپ اس بھاری ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہوگئے۔ آپ نے پسندیدہ طریقے سے کام کیا اور اچھے انداز سے محنت کی۔ اور خوشی اور شرح صدر سے کام کیا۔ حضور اکرم ﷺ کی تعریف میں اور آپ کے کام کی نوعیت کی تشریح کے بارے میں قرآن کریم میں کئی آیات بھی نازل ہوئی ہیں۔ وما ارسلنک .................... للعلمین (الانبیائ :108) ” اور ہم نے تمہیں اہل جہاں کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے “۔ الذین ........................................ علیھم (157:7) ” وہ لوگ جو اس نبی امی کی پیروی کرتے ہیں ، جسے وہ اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ، انہیں وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ، برائی سے روکتے ہیں ، پاکیزہ چیزیں ان کے لئے حلال کرتے ہیں ، ناپاک چیزیں ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ، اور ان کے وہ بوجھ اور طوق جو ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے ہیں ، ان سے اتارتے ہیں “۔ لہٰذا رسول خدا ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لئے رحمت تھی۔ آپ تشریف لائے اور آپ نے لوگوں کے کاندھوں سے بوجھ اتارے اور ان کے گلوں سے وہ طوق اتارے جو انہوں نے ڈال رکھے تھے اور یہ اس لئے کہ انہوں نے دین میں سختی کی تو اللہ کی طرف سے بھی ان پر سختی کی گئی۔ آپ جو دین اور جو دعوت لے کر آئے اس کے بارے میں بھی قرآن کہتا ہے : ولقد یسرنا ........................ من مد کر (22:54) ” اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان بنایا ہے ، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا “۔ اور ایک دوسری جگہ ہے۔ وماجعل .................... من حرج (78:22) ” اور اللہ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی “۔ اور سورة بقرہ میں ہے۔ لا یکلف .................... وسعھا (286:2) ” اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتا “۔ اور مائدہ میں ہے۔ مایرید ............................ لیطھرکم (6:5) ” اللہ تعالیٰ دین کے سلسلے میں تم پر کوئی تنگی نہیں کرنا چاہتا ، وہ تو تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے “ غرض یہ آخری رسالت سہل ہے اور انسانی طاقت کی حدود میں ہے۔ اللہ نے لوگوں کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا۔ نہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ لوگوں کی مشقت میں ڈالا جائے ، اسلام کی روح میں بھی سہولت ہے اور اسلام کے احکام میں بھی سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ غرض یہ ایک فطری دین ہے۔ سورة روم میں ہے۔ فطرت .................... علیھا (30:30) ” جس فطرت پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے ، یہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے “۔ اور جب انسان اس عقیدے کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہے تو وہ اس کو بہت آسان پاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس میں انسانی قوت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس میں انسان کے مختلف حالات کی رعایت بھی کی گئی ہے۔ اس میں ان حالات کا بھی خیال رکھا گیا ہے جو مختلف قسم کے معاشروں میں انسان کو پیش آتے ہیں۔ اسلامی عقیدہ بذات خود نہایت ہی سہل اور قابل فہم ہے۔ بس ایک الٰہ کا عقیدہ ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ تمام مخلوقات کو اسی الٰہ نے بنایا ہے اور اسی الٰہ نے ان کو ان کی پیدائش کا مقصد بھی بتایا ہے۔ پھر اس نے رسول بھیجے ہیں اور ان رسولوں نے لوگوں کو ان کا مقصد وجود بتایا ہے۔ رسولوں نے لوگوں کو اپنے خلق کی طرف لوٹایا۔ اس کے بعد جو فرائض بھی ان پر عائد کیے گئے وہ اسی نظریہ سے نکلتے ہیں ، نہایت سیدھے سادھے طریقے سے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ اور لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ ان میں سے جن احکام پر بھی عمل کرسکتے ہیں بغیر سختی اور مشقت کے عمل کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ” جب میں تمہیں حکم دوں تو اس حکم کی تعمیل اس قدر کرو جس قدر تمہاری طاقت ہو اور جس کام سے میں روکوں ، رک جاﺅ“ (بخاری ومسلم) ۔ اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ، ان میں سے بھی حالت اضطرار مستثنیٰ ہے۔ الاما .................... الیہ (119:6) ” الایہ کہ تم ان کے لئے مضطرہوجاﺅ“۔ یوں رسول آخرالزمان ﷺ کا مزاج ان کی رسالت اور دعوت کے ساتھ گھل مل گیا ہے ، اور اس دعوت اور داعی کی حقیقت ایک ہوگئی ، خصوصاً اس بنیادی صفت اور اس ممتاز رنگ میں ۔ اسی طرح اس امت کو بھی امت وسط اور سہل کہا گیا جس کے پاس رسول خدا یہ پیغام لے کر آئے تھے۔ یہ ایسی امت تھی جس پر رحمت ہوئی اور یہ رحمت اور محبت کا پیغام لے کر نہایت آسان اور سیدھا راستہ لوگوں کو بتانے کے لئے اٹھی۔ اس طرح کہ اس امت کا مراج آفاقی اور کائناتی مزاج بن گیا۔ اور اس کے مزاج اور اس وسیع کائنات کے مزاج کے اندر گہری ہم آہنگی پیدا ہوگئی۔ پھر ذرا اس کائنات کا مطالعہ کرو ، اس کی حرکت کا بہاﺅ کس قدر سہل ، رواں دواں ہے اور اس میں کوئی ٹکراﺅ اور تصادم نہیں ہے۔ اربوں کھربوں اجرام فلکی اس کائناتی فضا میں تیرتے پھرتے ہیں۔ نہایت ہم آہنگی کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں بہتے چلے جارہے ہیں ، نہایت تناسق ، خوشگوار کشش کے ساتھ جس کے اندر کوئی اضطراب نہیں۔ کوئی ایک بھی اپنے مدار سے ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ اربوں کھربوں زندہ مخلوقات اس کرہ ارض پر زندگی بسر کررہی ہے اور اپنے قریبی دور کے مقاصد پورے کررہی ہے اور یہ زندگی نہایت پختگی اور زبردست انتظام کے ساتھ گزر رہی ہے۔ اور ہر چیز اپنا مقصد تخلیق نہایت ہی سہولت سے پورا کررہی ہے ، اور اپنی متعین راہ پر اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔ اس کائنات میں اربوں کھربوں حرکات واقعات ، اور حالات چل رہے ہیں ، مجتمع بھی اور متفرق بھی۔ اور یہ سب ایک راہ پر جارہے ہیں جس طرح سازوں کا ایک گروپ اپنے اپنے آلہ سے بالکل مختلف آواز نکال رہا ہوتا ہے اور یہ سب مختلف آوازیں ایک ہی راگ تشکیل کرکے ایک طویل نغمہ بناتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کے وجود ، اسلامی نظام زندگی اور سیرت رسول ﷺ کے درمیان اور امت مسلمہ کے مزاج کے درمیان ایک زبردست ہم آہنگی ہے ، کیونکہ یہ اللہ کی صنعت ہے ، اللہ کی بتائی ہوئی فطرت ہے ، اور اللہ کا راگ ہے ، اور وہ نہایت ہی حکیم صنعت کار ہے۔ فذکر .................... الذکری (9:87) لہٰذا نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو “۔ اللہ نے نبی ﷺ کو پڑھایا تو ضمانت دی کہ آپ نہ بھولیں گے ، الا ماشاء اللہ۔ پھر اللہ نے نبی ﷺ کو بسہولت آسان طریقے پر چلنے کی سہولت فراہم کی تاکہ آپ اس عظیم امانت کا بار آسانی سے اٹھائیں اور لوگوں کو یاددہانی کرائیں۔ اسی لئے آپ کو تیار فرمایا اور خوشخبری دی گئی اور کہا کہ جب بھی موقعہ ملے یاددہانی کرائیں ، جب بھی آپ دلوں کے اندر بات اتارنے کی راہ پائیں ، اور تبلیغ کے ذرائع میسر ہوں۔ یہاں کہا گیا ہے۔ ان نفعت الذکری (9:87) ” اگر نصیحت فائدہ دے “۔ جب بھی یاددہانی کرائیں فائدہ ہی ہوتا رہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا ہے کہ نصیحت سے کسی کو کم یا زیادہ فائدہ نہ ہو ، کبھی کوئی نسل استفادہ کرنے والوں سے خالی نہیں ہوئی۔ اگرچہ زمانہ کے اندر فساد عام ہو ، دلوں پر زنگ آگیا ہو ، اور ان پر پردے پڑگئے ہوں بہرحال تذکیر سے فائدہ ہوتا ہی ہے۔ جب ہم ان آیا کی اس ترتب پر غور کرتے ہیں تو ہمیں رسالت کی عظمت کا پتہ چلتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ امانت کس قدر عظیم اور اہم ہے۔ کہ اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے اللہ نے آسان طریقے کی رہنمائی فرمائی اور آسانیاں بہم پہنچائیں ، پہلے یاد کروایا ، پھر اس پیغام کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی تاکہ رسول خدا اطمینان سے یاددہانی کا فریضہ سرانجام دیں اور پھر حکم دیا کہ آپ یاددہانی کرائیں اگر مفید ہو ، یہ سب سہولیات دے کہ آپ کو کام پر لگایا اور یہ دراصل عظیم زاد راہ تھا۔ جب رسول خدا ﷺ نے اپنا یہ فریضہ پورا کردیا ، تو آپ کی ڈیوٹی ختم ہوگئی۔ پھر لوگ جانیں اور ان کا کام۔ تبلیغ وتذکیر کے بعد لوگوں کے مسالک ، ان کے اہداف اور انجام مختلف ہوجاتے ہیں۔ اور یہ اللہ ہے جو کسی کو ایک انجام تک پہنچاتا ہے اور کسی کو دوسرے تک ۔ جس طرح انہوں نے رویہ اختیار کیا ، قبول کرنے کا یارد کرنے کا۔

الأعلى 87:9

اب وہ خوشخبری آتی ہے جو آپ کے لئے ہے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے ہے۔ سنقرنک .................................... الذکری اس عظیم خوشخبری کا آغاز ہوتا ہے کہ قرآن کے حفظ کرنے اور اسے باقی رکھنے کی ذمہ داری نبی ﷺ کے کاندھوں سے اتار دی جاتی ہے۔ سنقرءک فلا تنسی (6:87) ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے ، پھر تم نہیں بھولوگے “۔ لہٰذا آپ اپنے رب سے یہ کلام لیں اور بس۔ اس کو یاد کرادینا اللہ کا کام ہے۔ یہ بات فی الواقعہ نبی ﷺ کے لئے بڑی خوشخبری تھی۔ آپ حفظ قرآن کے لئے فکر مند ہوتے تھے۔ اب تو اس کی حفاظت کی جانب سے مطمئن کردیا گیا کیونکہ قرآن کریم ایک نہایت ہی عظیم کلام اور آپ اسے بہت ہی محبوب رکھتے تھے۔ آپ دل وجان سے قرآن پر فدا تھے۔ اور اس کی حفاظت کا بہت ہی خیال رکھتے تھے۔ اس پر حریص تھے اور اپنی عظیم اور بھاری ذمہ داری سمجھتے تھے۔ آپ ایک ایک آیت دہراتے تھے۔ جب جبرائیل (علیہ السلام) اسے لاتے تو آپ سننے کے ساتھ ساتھ تکرار کرتے اور زبان کو دہرانے میں لگادیتے یہاں تک کہ یہ بشارت آگئی اور آپ کو مطمئن کردیا گیا۔ پھر یہ آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے بھی ایک خوشخبری ہے۔ امت بھی مطمئن ہوجاتی ہے کہ اس عقیدے کا اصل سرچشمہ ذات باری ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل اور ذمہ دار بھی اللہ ہے۔ نبی کے دل میں بٹھانے کا ذمہ دار بھی اور بعد کے زمانے میں حفاظت کی ذمہ داری بھی۔ یہ اللہ کی بڑی مہربانی ہے اور اس دین کی عظمت سے اور اللہ کے ہاں اس کی اہمیت کا ثبوت ہے۔ اس موقعہ پر اور ایسے تمام مواقع پر ایک اٹل بات ضرور سامنے آتی ہے ۔ یہ ایک اٹل اور دائمی قانون ہے وہ یہ کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے اور اللہ کی مشیت پر کوئی پابندی نہیں۔ آپ نہیں بھولیں گے الایہ کہ اللہ کچھ بھلانا چاہے۔ اگرچہ یہ پابندی خود اللہ کی طرف سے ہو ، لہٰذا اللہ کی مشیت بےقید اور اس پر کوئی قانونی قید ہے نہ کوئی وعدہ اسے پابند کرتا ہے۔ قرآن اس اصول کو پوری طرح محفوظ رکھتا ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم ظلال القرآن میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ یہاں بھی اس اصول کو قائم رکھا گیا۔ الا ماشاء اللہ (7:87) ” سوائے اس کے جو اللہ چاہے “۔ اگرچہ یہ وعدہ سچا ہے کہ حضور نہ بھولیں گے مگر اللہ کی مشیت بھی بےقید ہے ، اگر اللہ چاہے تو ایسا ہوسکتا ہے تاکہ تمام معاملات اللہ کی مشیت کے دائرے میں رہیں اور لوگ اللہ کی مشیت ہی پر نگاہ رکھیں۔ اگرچہ کسی معاملے میں سچا وعدہ کیا گیا ہو۔ انسانی دل و دماغ کو اللہ کی مشیت کے ساتھ ہی لٹکے رہنا چاہئے۔ انہ یعلم .................... وما یخفی (7:87) ” وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ پوشیدہ ہے اس کو بھی جانتا ہے “۔ یہ ہے اشارہ کہ اللہ پڑھائے گا ، حفظ کرائے گا اور نسیان نہ ہوگا الایہ کو وہ کچھ اور چاہے کیونکہ یہ تمام امور اللہ کی مخفی حکمت پر مبنی ہیں جو ظاہر اور خفیہ سب کو جانتا ہے اور معاملات کو ان کے تمام پہلوﺅں سے جانتا ہے اس لئے وہ تمام معاملات میں ایسے فیصلے کرتا ہے جس میں حکمت ہوتی ہے اور یہ حکمت اللہ کے بھرپور علم پر مبنی ہوتی ہے۔ اللہ کا علم کامل علم ہوتا ہے۔ اب دوسری خوشخبری ونیسرک للیسری (8:87) ” اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں “۔ یہ خوشخبری بھی رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے لئے ہے۔ اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے بھی ہے۔ اور اس سے اس دین کا مزاج بھی معلوم ہوتا ہے۔ دعوت اسلامی کی حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ انسانی زندگی میں کیا کردار ادا کرتی ہے اور اس کائنات میں اسلامی نظام زندگی کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔ بظاہر تو یہ دولفظ ہیں۔ ونیسرک للیسری (8:87) لیکن ان کے اندر جو حقیقت بیان کی گئی وہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام اور شریعت کی ایک عظیم حقیقت ہے ، نیز وہ اس پوری کائنات کا بھی خلاصہ اور روح ہے۔ یہ حقیقت رسول اللہ کے مزاج کو ، اس کائنات کے مزاج اور اس دین کے مزاج سے ملادیتی ہے۔ یہ پوری کائنات دست قدرت نے بڑی آسانی سے بنادی ہے۔ یہ کائنات نہایت آسانی سے چل رہی ہے ، جس رخ پر اسے ڈال دیا گیا ہے وہ نہایت آرام اور سکون اور سہولت سے اسی رخ اور سمت پر چل رہی ہے۔ غرض یہ نور سے نکلی ہے اور ایسے حقائق کی طرف اشارہ کررہی ہے جو حدود وقیود سے ماوراء ہے۔ جس ذات کو اللہ آسانیاں میسر کردے وہ اپنی زندگی کی راہوں پر بسہولت چلتا ہے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ چلتا ہے جس کا وجود اور جس کی ترتیب باہم متناسب ، جس کی حرکت متوازن اور جس کا رخ ایک طرف ہے یعنی اللہ کی طرف۔ ایسا شخص صرف ان قوتوں سے ٹکراتا ہے ، جو اس عظیم کائنات کے خطوط سے منحرف ہوں۔ ایسے لوگوں کا موازنہ اگر اس پوری کائنات سے کای جائے تو ان کا کوئی وزن نہیں رہتا۔ ایسا شخص جب چلتا ہے تو اس کی حرکت آسان ، لطیف اور نرم ہوتی ہے۔ اس کائنات کے ہم آہنگ دنیا کے واقعات سے ہم آہنگ ، دنیا کی چیزوں اور اشخاص کے ساتھ ہم آہنگ۔ اس کے ہاتھوں میں آسانی ہوتی ہے ، اس کی زبان میں یسر ہوتا ہے ، اس کے اقدامات آسان ہوتے ہیں ، اس کا عمل یسر ہوتا ہے۔ اس کے خیالات آسان ہوتے ہیں ، اس کی فکر آسان ہوتی ہے جو معاملات کو آسانی سے لیتا ہے ، معاملات کو نہایت آسانی سے لیتا ہے ، اپنے نفس کے لئے بھی آسان ہوتا ہے دوسروں کے لئے بھی آسان ہوتا ہے۔ یہ تھے رسول اللہ ﷺ ، اپنے تمام امور میں یسر ہی یسر۔ حضور اکرم ﷺ جب دوکاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے تو آسان کو لیتے۔ یہ ہے روایت حضرت عائشہ ؓ کی۔ (بخاری ومسلم) اور آپ ؓ ہی سے روایت ہے ” حضور اکرم ﷺ جب اپنے گھر میں تنہا ہوتے تو آپ تمام لوگوں سے نرم مزاج ہوتے ، مسکراتے ہوئے اور ہنستے ہوئے “۔ اور صحیح بخاری کی ایک روایت ہے : ” ایک لونڈی بھی رسول اللہ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی “۔ لباس ، طعام ، بچھونے وغیرہ میں آپ کی جو سیرت تھی اس پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ سادی ، آسانی اور بےتکلفی کو پسند فرماتے تھے۔ ابو عبداللہ شمس الدین محمد ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب زاد المعاد میں لباس کے سلسلے میں آپ کی سیرت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ کی ایک پگڑی تھی جسے ” السحاب “ کہا جاتا تھا۔ یہ آپ نے حضرت علی ؓ کو دے دی تھی ، آپ پگڑی باندھتے اور اسے کے نیچے ٹوپی پہنتے ، کبھی آپ ٹوپی بغیر عمامہ کے پہنتے ، کبھی عمامہ بغیر ٹوپی کے بھی باندھتے۔ آپ جب عمامہ باندھتے تو اس کے شملے کو دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکادیتے ، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں ہے۔ حضرت عمر ابن حریث سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا اور آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا اور آپ نے اس کا ایک طرف دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا۔ اور مسلم میں حضرت جابر سے یہ بھی ہے ، بالوں کی لٹ کی طرح۔ اس سے معلوم ہوا کہ شملہ ہمیشہ کاندھوں کے درمیان سے نہ لٹکاتے تھے۔ کہا جاتا ہے آپ مکہ میں داخل ہوئے ، آپ نے جنگی لباس پہنا ہوا تھا اور آپ کے سر پر خود تھا۔ لہٰذا ہر موقعہ کی مناسبت سے لباس پہنتے تھے۔ ایک دوسری فصل میں وہ فرماتے ہیں کہ بہترین طریقہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہے جو طریقہ آپ نے رائج فرمایا اور جس کا حکم دیا اور جس کی ترغیب دی اور اس پر مداومت کی۔ لباس میں آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جو لباس میسر ہوتا آپ وہ پہنتے کبھی اونی ، کبھی روئی ، کبھی کتان کا۔ آپ نے یمنی چادر بھی پہنی ، سبزچادر بھی پہنی ، حلہ ، قبا اور قمیص بھی زیت تن فرمائی۔ پاجامہ ، ازار اور چادر بھی پہنی۔ چمڑے کے موزے اور جوتے۔ یہ سب چیزیں آپ نے استعمال فرمائیں اور عمامہ کا شملہ کبھی آپ نے پیچھے سے لٹکایا اور کبھی نہ لٹکایا “۔ اور کھانے کے بارے میں آپ کی سیرت یہ تھی کہ آپ کسی موجود کھانے کو رد نہ فرماتے اور نہ غیر موجود کے بارے میں تکلف فرماتے ، پاکیزہ چیزوں میں سے جو بھی آپ کو پیش کی گئی آپ نے اسے تناول فرمایا۔ الایہ کہ کسی چیز کو آپ کی طبیعت نہ چاہتی ہو تو آپ نے بغیر حرام قرار دینے کے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے کسی کھانے میں کبھی عیب نہیں نکالا۔ اگر چاہت ہوتی تو تناول فرماتے ورنہ چھوڑ دیتے ، جس طرح آپ نے گوہ کو تناول نہ فرمایا کیونکہ آپ اس کے کھانے کے عادی نہ تھے لیکن امت پر اسے حرام بھی قرار نہیں دیا ، بلکہ اسے آپ کے دستر خوان پر آپ کے دیکھتے ہوئے کھایا گیا۔ آپ نے حلوی اور شہد تناول فرمایا۔ ان کو آپ بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ نے تازہ اور خشک کھجوروں کو تناول فرمایا۔ آپ نے خالص دودھ بھی پیا اور ملا ہوا بھی۔ آپ نے شہد اور ستو پانی کے ساتھ تناول فرمائے۔ آپ نے کھجوروں کا صاف پانی پیا ، آپ نے حریرہ استعمال کیا۔ یہ ایک قسم کی کھیر ہے جو دودھ اور آٹے سے بنتی ہے۔ آپ نے تروتازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھائی ، پنیر تناول فرمایا ، کھجور کے ساتھ روٹی کھائی ، سر کے ساتھ روٹی کھائی۔ آپ نے پکا ہوا کدو کھایا اور اس کو آپ بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ نے ابالا ہوا کدو بھی کھایا ، گھی کے ساتھ ثرید کھایا ، پنیر کھایا۔ تیل کے ساتھ روٹی کھائی ، خربوزوں کو تازہ کھجوروں کے ساتھ اور کھجوروں کو مکھن کے ساتھ کھایا اور یہ آپ کو بہت پسند تھا۔ کسی پاکیزہ چیز کو آپ ردنہ کرتے اور نہ بتکلف خواہش کرتے بلکہ آپ کا طریقہ یہ تھا جو میسر ہو وہ تناول فرماتے ، اگر کوئی چیز نہ ملتی تو صبر کرتے “۔ سونے اور بیدار ہونے کے بارے میں آپ کی سنت یہ تھی۔ کبھی اپنے بستر پر سوتے ، کبھی کھال پر ، کبھی چٹائی پر ، کبھی زمین پر ، کبھی تخت پر ، کبھی سیاہ کمبل پر سوتے “۔ آپ کے فرامین سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام امور میں نرمی سے کام لیاجائے ، جن میں اسلامی نظریہ حیات اور اسکے تقاضے بھی آتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کی ہدایات بہت زیادہ ہیں ، سب کو یہاں لانا مشکل ہے ، چند پیش خدمت ہیں : ” یہ دین آسان ہے ، جو شخص اس دین کے ساتھ کشتی کرے گا وہ شکست کھاجائے گا “ (بخاری) ۔ ” اپنے نفسوں پر سختی مت کرو ، تم پر سختی کی جائے گی ، ایک قوم نے اپنے آپ کو سختیوں میں ڈالا تو اس پر سختی کی گئی “ (ابوداﺅد) ۔ ” جو شخص اپنی سواری پر سختی کرتا ہے ، وہ نہ تو سفر طے کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کی سواری زندہ رہتی ہے “ (بخاری۔ ” آسانیاں کرو سختی نہ کرو “ (بخاری ومسلم) ۔ اور معاملات کے بارے میں آپ کی ہدایات یہ ہیں :” اللہ رحم کرے ، اس شخص پر جو فروخت کرے تو نرمی اور فراغ دلی سے ، خریدے تو نرمی اور فراخ دلی سے اور تقاضا کرے تو بھی نرمی اور فراخ دلی سے “ (بخاری) ۔” مومن آسان اور نرم ہوتا ہے “ (بیہقی) ۔” مومن لوگوں سے مانوس ہوتا ہے اور لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں “ (دارقطنی) ۔” اللہ کے ہاں مبغوض ترین شخص وہ ہے جو جھگڑالو اور لڑنے والا ہو “ (بخاری ومسلم) ۔ آپ کی سیرت میں اس بات کی روشن مثالیں ملتی ہیں کہ آپ سختی اور مشکل کو پسند نہ فرماتے تھے ، یہاں تک کہ نام اور چہرے کے خدوخال میں بھی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مزاج کیسا تھا ، اور آپ کے ساتھ اللہ کا سلوک کیسا تھا ، اور کس طرح اللہ نے آپ کو آپ کی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے سہل پسند بنایا تھا اور اس کی طرف آپ کی رہنمائی فرمائی تھی۔ سعید ابن مسیب اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے ، تو حضور ﷺ نے دریافت فرمایا تمہارا نام کیا ہے۔ والد نے کہا میرا نام حزن ہے (یعنی سخت دشوار) تو آپ نے فرمایا نہیں آپ ” سہل “ ہیں۔ تو انہوں نے کہا میں اس نام کو نہیں بدلوں گا جو میرے باپ نے رکھا ہے۔ ابن مسیب کہتے ہیں اس کے بعد ہمارے خاندان میں برابر سختی رہی “ (بخاری) ۔ ” حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے عاصیہ کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا “ (مسلم) ۔ اور آپ کی مشہور حدیث ہے ” یہ بات نیکی کا حصہ ہے کہ تم اپنے بھائی سے ہنس مکھ ہوکر ملو “ (ترمذی) ۔ غرض آپ اس قدر حساس تھے کہ آپ کو ناموں ، چہرے کے خدوخال میں بھی درشتی پسند نہ تھی اور آپ نرمی اور آسانی کی طرف مائل ہوتے تھے۔ چناچہ آپ کی پوری سیرت نرمی ، یسر ، سہولت ، اور سہل برتاﺅ پر مشتمل ہے۔ آپنے ہمیشہ معاملات اور لین دین میں نرمی سے کام لیا۔ ایک مثال سے واضح ہوتا ہے کہ آپ اپنے برتاﺅ کی وجہ سے لوگوں کی اصلاح کس طرح کرتے تھے۔ ” ایک دن آپ کے پاس ایک دیہاتی آیا ، وہ کوئی چیز مانگ رہا تھا۔ آپ نے اسے دے دی تو آپ نے اس سے پوچھا : کیا میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ؟ تو اس نے کہا : نہیں ! تم نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ مسلمانوں کو سخت غصہ آیا ، اور وہ اس کی طرف لپکے۔ آپ نے اشارہ فرمایا کہ کچھ نہ کہو۔ آپ پھر گھر میں داخل ہوئے اور کچھ مزید دیا اور پھر پوچھا : کیا میں نے اچھا سلو کیا ؟ تو اس نے کہا : ” ہاں “۔ اللہ آپ کو جزادے۔ آپ اچھے خاندان کے ہیں۔ اس کو نبی ﷺ نے فرمایا تم پہلے جو بات کی وہ تمہیں معلوم ہے جس کی وجہ سے میرے ساتھی خفا ہوئے اور ان کے دل صاف نہیں۔ تو اگر تم پسند کرو تو یہ باتیں جو تم نے میرے سامنے کی ہیں ان کے سامنے بھی کرو ، تاکہ ان کے دلوں میں تم پر جو غصہ ہے ، وہ دور ہوجائے۔ تو اس نے کہا ” اچھا “۔ دوسرے دن وہ پھر آیا۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس دیہاتی نے کل جو کچھ کہا وہ تمہیں معلوم ہے ، ہم نے اسے مزید کچھ دیا۔ اب اس کا خیال ہے کہ وہ راضی ہوگیا ہے۔ بتاﺅ بھائی کیا یہ درست ہے ؟ تو دیہاتی نے کہا : ” ہاں اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ اچھے خاندان سے ہیں “۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ” میری مثال اور اس دیہاتی کی مثال اس طرح ہے کہ اس شخص کی اونٹنی بگڑ گئی۔ لوگوں نے اس کا پیچھا کیا تو وہ اور بھاگنے لگی۔ تو مالک نے لوگوں کو چلا کر کہا : ” میری ناقہ کو اور مجھے چھوڑ دو میں اس کے ساتھ زیادہ نرم سلوک کرتا ہوں اور اس کے مزاج کو اچھی طرح جانتا ہوں “۔ چناچہ اس کا مالک اس کے سامنے سے آیا۔ اور زمین سے کچھ گھاس پھونس جمع کرکے اس کے لئے لے آیا۔ اور اسے آہستہ آہستہ واپس لایا ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مقام پر آکر بیٹھ گئی۔ اس نے اس کجاوا کسا اور سوار ہوگیا۔ جب اس شخص نے جو کچھ کہا تھا اور تم اس پر لپکے تھے تو میں اگر تمہیں چھوڑ دیتا اور تم اسے قتل کردیتے تو وہ جہنم میں چلا جاتا “۔ یہ تھا حضور ﷺ کا طرز عمل ان لوگوں کے ساتھ جو نہایت ہی سخت اور بدکنے والے تھے ، اس قدر سادگی اور آسانی کے ساتھ اور اللہ کی ایسی توفیق کے ساتھ ، آپ ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے۔ اس قسم کے بیشمار نمونے آپ کی سیرت میں موجود ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو اس آیت میں بطور خوشخبری آپ کو کہی گئی ہے اور آپ کو اپنی پوری زندگی میں ، آپ کو دعوت میں اور آپ کے معاملات میں اس کی آپ کو توفیق دی گئی۔ ونیسرک للیسری (8:87) ” ہم آسان دین پرچلنے کو آپ کے لئے آسان کردیں گے “۔ آپ کی ذات گرامی جو محبوب خلائق اور بلند اخلاق کی مالک تھی اور جسے ایک آسان دین کی طرف آسانی سے رہنمائی کی گئی تھی تو آپ نے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی برتاﺅ کیا۔ اور اسی انداز سے انسانیت کو دعوت دی ، آپ کا مزاج ہی اس طرح بن گیا ، اور آپ کی ماہیت ہی دین سہل میں بدل گئی اور آپ اسی امانت کبریٰ کے اٹھانے کے قابل ہوگئے ، یہ امانت تو بہت بڑی اور بھاری تھی مگر اللہ نے اس ذمہ داری کی توفیق آپ کو دی اور آپ اس بھاری ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہوگئے۔ آپ نے پسندیدہ طریقے سے کام کیا اور اچھے انداز سے محنت کی۔ اور خوشی اور شرح صدر سے کام کیا۔ حضور اکرم ﷺ کی تعریف میں اور آپ کے کام کی نوعیت کی تشریح کے بارے میں قرآن کریم میں کئی آیات بھی نازل ہوئی ہیں۔ وما ارسلنک .................... للعلمین (الانبیائ :108) ” اور ہم نے تمہیں اہل جہاں کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے “۔ الذین ........................................ علیھم (157:7) ” وہ لوگ جو اس نبی امی کی پیروی کرتے ہیں ، جسے وہ اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ، انہیں وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ، برائی سے روکتے ہیں ، پاکیزہ چیزیں ان کے لئے حلال کرتے ہیں ، ناپاک چیزیں ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ، اور ان کے وہ بوجھ اور طوق جو ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے ہیں ، ان سے اتارتے ہیں “۔ لہٰذا رسول خدا ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لئے رحمت تھی۔ آپ تشریف لائے اور آپ نے لوگوں کے کاندھوں سے بوجھ اتارے اور ان کے گلوں سے وہ طوق اتارے جو انہوں نے ڈال رکھے تھے اور یہ اس لئے کہ انہوں نے دین میں سختی کی تو اللہ کی طرف سے بھی ان پر سختی کی گئی۔ آپ جو دین اور جو دعوت لے کر آئے اس کے بارے میں بھی قرآن کہتا ہے : ولقد یسرنا ........................ من مد کر (22:54) ” اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان بنایا ہے ، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا “۔ اور ایک دوسری جگہ ہے۔ وماجعل .................... من حرج (78:22) ” اور اللہ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی “۔ اور سورة بقرہ میں ہے۔ لا یکلف .................... وسعھا (286:2) ” اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتا “۔ اور مائدہ میں ہے۔ مایرید ............................ لیطھرکم (6:5) ” اللہ تعالیٰ دین کے سلسلے میں تم پر کوئی تنگی نہیں کرنا چاہتا ، وہ تو تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے “ غرض یہ آخری رسالت سہل ہے اور انسانی طاقت کی حدود میں ہے۔ اللہ نے لوگوں کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا۔ نہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ لوگوں کی مشقت میں ڈالا جائے ، اسلام کی روح میں بھی سہولت ہے اور اسلام کے احکام میں بھی سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ غرض یہ ایک فطری دین ہے۔ سورة روم میں ہے۔ فطرت .................... علیھا (30:30) ” جس فطرت پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے ، یہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے “۔ اور جب انسان اس عقیدے کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہے تو وہ اس کو بہت آسان پاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس میں انسانی قوت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس میں انسان کے مختلف حالات کی رعایت بھی کی گئی ہے۔ اس میں ان حالات کا بھی خیال رکھا گیا ہے جو مختلف قسم کے معاشروں میں انسان کو پیش آتے ہیں۔ اسلامی عقیدہ بذات خود نہایت ہی سہل اور قابل فہم ہے۔ بس ایک الٰہ کا عقیدہ ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ تمام مخلوقات کو اسی الٰہ نے بنایا ہے اور اسی الٰہ نے ان کو ان کی پیدائش کا مقصد بھی بتایا ہے۔ پھر اس نے رسول بھیجے ہیں اور ان رسولوں نے لوگوں کو ان کا مقصد وجود بتایا ہے۔ رسولوں نے لوگوں کو اپنے خلق کی طرف لوٹایا۔ اس کے بعد جو فرائض بھی ان پر عائد کیے گئے وہ اسی نظریہ سے نکلتے ہیں ، نہایت سیدھے سادھے طریقے سے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ اور لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ ان میں سے جن احکام پر بھی عمل کرسکتے ہیں بغیر سختی اور مشقت کے عمل کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ” جب میں تمہیں حکم دوں تو اس حکم کی تعمیل اس قدر کرو جس قدر تمہاری طاقت ہو اور جس کام سے میں روکوں ، رک جاﺅ“ (بخاری ومسلم) ۔ اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ، ان میں سے بھی حالت اضطرار مستثنیٰ ہے۔ الاما .................... الیہ (119:6) ” الایہ کہ تم ان کے لئے مضطرہوجاﺅ“۔ یوں رسول آخرالزمان ﷺ کا مزاج ان کی رسالت اور دعوت کے ساتھ گھل مل گیا ہے ، اور اس دعوت اور داعی کی حقیقت ایک ہوگئی ، خصوصاً اس بنیادی صفت اور اس ممتاز رنگ میں ۔ اسی طرح اس امت کو بھی امت وسط اور سہل کہا گیا جس کے پاس رسول خدا یہ پیغام لے کر آئے تھے۔ یہ ایسی امت تھی جس پر رحمت ہوئی اور یہ رحمت اور محبت کا پیغام لے کر نہایت آسان اور سیدھا راستہ لوگوں کو بتانے کے لئے اٹھی۔ اس طرح کہ اس امت کا مراج آفاقی اور کائناتی مزاج بن گیا۔ اور اس کے مزاج اور اس وسیع کائنات کے مزاج کے اندر گہری ہم آہنگی پیدا ہوگئی۔ پھر ذرا اس کائنات کا مطالعہ کرو ، اس کی حرکت کا بہاﺅ کس قدر سہل ، رواں دواں ہے اور اس میں کوئی ٹکراﺅ اور تصادم نہیں ہے۔ اربوں کھربوں اجرام فلکی اس کائناتی فضا میں تیرتے پھرتے ہیں۔ نہایت ہم آہنگی کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں بہتے چلے جارہے ہیں ، نہایت تناسق ، خوشگوار کشش کے ساتھ جس کے اندر کوئی اضطراب نہیں۔ کوئی ایک بھی اپنے مدار سے ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ اربوں کھربوں زندہ مخلوقات اس کرہ ارض پر زندگی بسر کررہی ہے اور اپنے قریبی دور کے مقاصد پورے کررہی ہے اور یہ زندگی نہایت پختگی اور زبردست انتظام کے ساتھ گزر رہی ہے۔ اور ہر چیز اپنا مقصد تخلیق نہایت ہی سہولت سے پورا کررہی ہے ، اور اپنی متعین راہ پر اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔ اس کائنات میں اربوں کھربوں حرکات واقعات ، اور حالات چل رہے ہیں ، مجتمع بھی اور متفرق بھی۔ اور یہ سب ایک راہ پر جارہے ہیں جس طرح سازوں کا ایک گروپ اپنے اپنے آلہ سے بالکل مختلف آواز نکال رہا ہوتا ہے اور یہ سب مختلف آوازیں ایک ہی راگ تشکیل کرکے ایک طویل نغمہ بناتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کے وجود ، اسلامی نظام زندگی اور سیرت رسول ﷺ کے درمیان اور امت مسلمہ کے مزاج کے درمیان ایک زبردست ہم آہنگی ہے ، کیونکہ یہ اللہ کی صنعت ہے ، اللہ کی بتائی ہوئی فطرت ہے ، اور اللہ کا راگ ہے ، اور وہ نہایت ہی حکیم صنعت کار ہے۔ فذکر .................... الذکری (9:87) لہٰذا نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو “۔ اللہ نے نبی ﷺ کو پڑھایا تو ضمانت دی کہ آپ نہ بھولیں گے ، الا ماشاء اللہ۔ پھر اللہ نے نبی ﷺ کو بسہولت آسان طریقے پر چلنے کی سہولت فراہم کی تاکہ آپ اس عظیم امانت کا بار آسانی سے اٹھائیں اور لوگوں کو یاددہانی کرائیں۔ اسی لئے آپ کو تیار فرمایا اور خوشخبری دی گئی اور کہا کہ جب بھی موقعہ ملے یاددہانی کرائیں ، جب بھی آپ دلوں کے اندر بات اتارنے کی راہ پائیں ، اور تبلیغ کے ذرائع میسر ہوں۔ یہاں کہا گیا ہے۔ ان نفعت الذکری (9:87) ” اگر نصیحت فائدہ دے “۔ جب بھی یاددہانی کرائیں فائدہ ہی ہوتا رہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا ہے کہ نصیحت سے کسی کو کم یا زیادہ فائدہ نہ ہو ، کبھی کوئی نسل استفادہ کرنے والوں سے خالی نہیں ہوئی۔ اگرچہ زمانہ کے اندر فساد عام ہو ، دلوں پر زنگ آگیا ہو ، اور ان پر پردے پڑگئے ہوں بہرحال تذکیر سے فائدہ ہوتا ہی ہے۔ جب ہم ان آیا کی اس ترتب پر غور کرتے ہیں تو ہمیں رسالت کی عظمت کا پتہ چلتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ امانت کس قدر عظیم اور اہم ہے۔ کہ اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے اللہ نے آسان طریقے کی رہنمائی فرمائی اور آسانیاں بہم پہنچائیں ، پہلے یاد کروایا ، پھر اس پیغام کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی تاکہ رسول خدا اطمینان سے یاددہانی کا فریضہ سرانجام دیں اور پھر حکم دیا کہ آپ یاددہانی کرائیں اگر مفید ہو ، یہ سب سہولیات دے کہ آپ کو کام پر لگایا اور یہ دراصل عظیم زاد راہ تھا۔ جب رسول خدا ﷺ نے اپنا یہ فریضہ پورا کردیا ، تو آپ کی ڈیوٹی ختم ہوگئی۔ پھر لوگ جانیں اور ان کا کام۔ تبلیغ وتذکیر کے بعد لوگوں کے مسالک ، ان کے اہداف اور انجام مختلف ہوجاتے ہیں۔ اور یہ اللہ ہے جو کسی کو ایک انجام تک پہنچاتا ہے اور کسی کو دوسرے تک ۔ جس طرح انہوں نے رویہ اختیار کیا ، قبول کرنے کا یارد کرنے کا۔

الأعلى 87:10

سیذکر ................................ فصلی آپ یاد دہانی کرائیں اور اس یاد دہانی سے استفادہ وہی شخص کرے گا جو ڈرتا ہو۔ من یخشیٰ (10:87) جس کے دل میں خدا کا خوف ہو ، اور جو خدا کے غضب اور خدا کے عذاب سے ڈرتا ہے ، اور وہی شخص ڈرتا ہے اور محتاط رہتا ہے جو زندہ ہو۔ اور یہ شخص جانتا ہو کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے ، جس نے اس جہاں کو پیدا کرکے اسے نہایت متوازن بنایا ہے ، تقدیر مقرر کی اور لوگوں کو راہ راست کی ہدایت کی۔ اس نے لوگوں کو ویسا ہی شتر بےمہار بناکر نہیں چھوڑ دیا اور نہ مہمل پیدا کیا ہے۔ لہٰذا خیروشر کے سلسلے میں اللہ حساب لینے والا ہے اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والا ہے۔ تو ایسا شخص اللہ سے ڈرتا ہے اور جب اسے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت لیتا ہے ، اسے بصیرت دی جاتی ہے تو قبول کرتا ہے اور جب اسے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ عبرت حاصل کرتا ہے۔

الأعلى 87:11

ویتجنبھا الا شقی (11:87) ” اور اس سے گریز کرے گا انتہائی بدبخت “۔ جو شخص بدنصیب ہوگا وہ نصیحت سے دور ہوگا۔ لہٰذا ایسا شخص نہ نصیحت کی بات سنے گا اور نہ اس سے استفادہ کرے گا وہ بدنصیب ہوگا۔ مطلق بدنصیب۔ جس کے اندر بدبختی اعلیٰ درجے پر ہو ، یعنی انتہائی بدبخت۔ اپنی گری ہوئی روح کی وجہ سے بدبخت ، اس کائنات کے حقائق کا احساس نہ کرنے کی وجہ سے بدبخت۔ اس کائنات کے اندر پائے جانے والے شواہد کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بدبخت ، اشارات کائنات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بدنصیب ، جو نہایت حرص سے اس دنیا کے خقیر مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہو ، اس کے لئے ہلکان ہورہا ہو ، اور آخرت کا بدبخت کہ وہاں اس کے نصیب میں دائمی جہنم ہوگی جس کے زمانوں کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔

الأعلى 87:12

الذی .................... ولا یحی (13:87) ” جو بڑی آگ میں جائے گا اور نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا “۔ یہ بڑی آگ کیا ہے ؟ جہنم کی آگ۔ جس کی شدت بڑی ہوگی ، جس کے زمانے بڑے ہوں گے ، جس کی ضخامت بڑی ہوگی جس میں رہائش طویل ہوگی۔ اس میں نہ مرمٹ سکے گا کہ احساس عذاب نہ رہے اور نہ زندہ رہے گا کہ آرام سے ہو بلکہ دائمی عذاب ہوگا اور وہاں لوگ موت کو اس طرح چاہیں گے جس طرح یہاں بڑی بڑی خواہشات کے پیچھے مرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں نجات ہے ، فلاح ہے ، پاکیزگی اور نصیحت ہے۔

الأعلى 87:13

الذی .................... ولا یحی (13:87) ” جو بڑی آگ میں جائے گا اور نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا “۔ یہ بڑی آگ کیا ہے ؟ جہنم کی آگ۔ جس کی شدت بڑی ہوگی ، جس کے زمانے بڑے ہوں گے ، جس کی ضخامت بڑی ہوگی جس میں رہائش طویل ہوگی۔ اس میں نہ مرمٹ سکے گا کہ احساس عذاب نہ رہے اور نہ زندہ رہے گا کہ آرام سے ہو بلکہ دائمی عذاب ہوگا اور وہاں لوگ موت کو اس طرح چاہیں گے جس طرح یہاں بڑی بڑی خواہشات کے پیچھے مرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں نجات ہے ، فلاح ہے ، پاکیزگی اور نصیحت ہے۔

الأعلى 87:14

قد افلح ................................ فصلی (15:87) ” فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی “۔ تزکی کے معنی ہیں ہر گندگی اور ہر گناہ سے پاکیزگی اختیار کی۔ اس آیت میں اللہ فیصلہ فرماتا ہے کہ جو پاکیزگی اختیار کرے اور اپنے دل میں رب کا جلال بسائے اور پھر نماز پڑھے یا اللہ سے ڈرے اور اطاعت کرے۔ دونوں معنوں سے اللہ کی یاد تازہ ہوتی ہے اور جلال دل میں بیٹھتا ہے اور ضمیر میں اللہ کی ہیبت پیدا ہوتی ہے۔ تو فیصلہ یہ ہے کہ وہ شخص فلاح پائے گا۔ دنیا میں بھی وہ فلاح پائے گا کہ اس کا دل اللہ سے جڑا ہوا ہوگا ، زندہ ہوگا ، اللہ کے ذکر میں وہ مٹھاس محسوس کرے گا اور اس کو باری تعالیٰ سے انس ہوگا اور آخرت میں بھی فلاح پائے گا۔ وہاں بڑی آگ سے بچے گا اور جنتوں میں نعیم مقیم میں ہوگا۔ دونوں کا انجام دے دیا گیا اور دونوں کے انجام میں بعد المشرقین ہے۔ اس خوفناک منظر میں ، جس میں نار کبریٰ دکھائی گئی ہے اور اس کے بالمقابل نجات کا منظر دکھایا گیا ہے ان لوگوں کے لئے جو پاکیزگی اختیار کرتے ہیں۔ ان مناظر کے بعد بتایا جاتا ہے لوگ بدبختی کے چنگل میں کیوں پھنس جاتے ہیں اور ان کی غفلت کا اصل سبب کیا ہے اور عبرت آموزی ، تطہیر اور فلاح ونجات سے ان کو کیا چیز روکتی ہے۔ اور وہ کیا چیز ہے جو انہیں جہنم رسید کرتی ہے اور بدبخت بنادیتی ہے۔

الأعلى 87:15

قد افلح ................................ فصلی (15:87) ” فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی “۔ تزکی کے معنی ہیں ہر گندگی اور ہر گناہ سے پاکیزگی اختیار کی۔ اس آیت میں اللہ فیصلہ فرماتا ہے کہ جو پاکیزگی اختیار کرے اور اپنے دل میں رب کا جلال بسائے اور پھر نماز پڑھے یا اللہ سے ڈرے اور اطاعت کرے۔ دونوں معنوں سے اللہ کی یاد تازہ ہوتی ہے اور جلال دل میں بیٹھتا ہے اور ضمیر میں اللہ کی ہیبت پیدا ہوتی ہے۔ تو فیصلہ یہ ہے کہ وہ شخص فلاح پائے گا۔ دنیا میں بھی وہ فلاح پائے گا کہ اس کا دل اللہ سے جڑا ہوا ہوگا ، زندہ ہوگا ، اللہ کے ذکر میں وہ مٹھاس محسوس کرے گا اور اس کو باری تعالیٰ سے انس ہوگا اور آخرت میں بھی فلاح پائے گا۔ وہاں بڑی آگ سے بچے گا اور جنتوں میں نعیم مقیم میں ہوگا۔ دونوں کا انجام دے دیا گیا اور دونوں کے انجام میں بعد المشرقین ہے۔ اس خوفناک منظر میں ، جس میں نار کبریٰ دکھائی گئی ہے اور اس کے بالمقابل نجات کا منظر دکھایا گیا ہے ان لوگوں کے لئے جو پاکیزگی اختیار کرتے ہیں۔ ان مناظر کے بعد بتایا جاتا ہے لوگ بدبختی کے چنگل میں کیوں پھنس جاتے ہیں اور ان کی غفلت کا اصل سبب کیا ہے اور عبرت آموزی ، تطہیر اور فلاح ونجات سے ان کو کیا چیز روکتی ہے۔ اور وہ کیا چیز ہے جو انہیں جہنم رسید کرتی ہے اور بدبخت بنادیتی ہے۔

الأعلى 87:16

بل توثرون ............................ وابقی حقیقت یہ ہے کہ دنیا پرستی ہی ہر مصیبت کی جڑ ہے۔ اسی وجہ سے انسان نصیحت سے منہ موڑتا ہے کیونکہ آخرت کا مطالبہ یہ ہوتا ہے اس کی فکر کرو اور آخرت کو ترجیح دو ۔ اور لوگ ہیں کہ دنیا کے طالب ہیں اور اس کو اولیت دیتے ہیں۔ اور اس دنیا کو دنیا ویسے نہیں کہا گیا ، بلکہ یہ دنیائے دنی ہے ، قریبی ہے اور جلد مٹنے والی ہے اور اس کے مقابلے میں آخرت اچھی اور بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ والاخرة ........................ وابقی (17:87) ” یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے باقی رہنے والی اور اچھی اور ابدالا باد تک مسلسل ہونے والی ہے۔ لہٰذا جو لوگ آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں وہ بڑی حماقت کا ارتکاب کررہے ہیں اور ان کا انداز غلط ہے۔ کسی عاقل اور بصیر کا یہ کام نہیں ہے۔ آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کوئی نئی دعوت نہیں ہے ، اس کی طویل تاریخ ہے۔ آغاز کائنات سے اور وجود انسانیت سے یہ دعوت چل رہی ہے اور اس کے اصول زمان ومکان کے قیود سے ماوراء ہیں۔

الأعلى 87:17

بل توثرون ............................ وابقی حقیقت یہ ہے کہ دنیا پرستی ہی ہر مصیبت کی جڑ ہے۔ اسی وجہ سے انسان نصیحت سے منہ موڑتا ہے کیونکہ آخرت کا مطالبہ یہ ہوتا ہے اس کی فکر کرو اور آخرت کو ترجیح دو ۔ اور لوگ ہیں کہ دنیا کے طالب ہیں اور اس کو اولیت دیتے ہیں۔ اور اس دنیا کو دنیا ویسے نہیں کہا گیا ، بلکہ یہ دنیائے دنی ہے ، قریبی ہے اور جلد مٹنے والی ہے اور اس کے مقابلے میں آخرت اچھی اور بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ والاخرة ........................ وابقی (17:87) ” یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے باقی رہنے والی اور اچھی اور ابدالا باد تک مسلسل ہونے والی ہے۔ لہٰذا جو لوگ آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں وہ بڑی حماقت کا ارتکاب کررہے ہیں اور ان کا انداز غلط ہے۔ کسی عاقل اور بصیر کا یہ کام نہیں ہے۔ آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کوئی نئی دعوت نہیں ہے ، اس کی طویل تاریخ ہے۔ آغاز کائنات سے اور وجود انسانیت سے یہ دعوت چل رہی ہے اور اس کے اصول زمان ومکان کے قیود سے ماوراء ہیں۔

الأعلى 87:18

ان ھذا ............................ موسیٰ اس سورت میں جو مضامین آئے ہیں وہ اس عظیم عقیدہ کے بنیادی اصول ہیں اور یہ وہی بنیادی اصول دعوت ہیں اور اصول دین ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کتابوں اور صحیفوں میں مذکور ہوئے تھے۔ یہ کہ سچائی ایک ہے ، عقیدہ ایک ہے ، اصول دین ایک ہے یہ اس بات کی شہادت ہے کہ یہ سب ادیان ایک اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ ایک ہی ارادہ اور مشیت ہے جس نے ابراہیم اور مولیٰ (علیہما السلام) کو اور پھر حضرت محمد ﷺ کی بعثت کا ارادہ کیا ہے۔ سچائی ایک ہے ، تو اس کا سرچشمہ بھی ایک ہے۔ ہاں ادیان میں فروعی اختلاف ہیں لیکن وہ اس لئے کہ شریعت و قانون میں اللہ نے وقت کے حالات اور تقاضوں کے مطابق تبدیلی فرمائی۔ البتہ تمام شرائع کی اصل ایک ہے اور ایک ہی سرچشمہ سے تمام شریعتیں نکلیں یعنی اسی رب اعلیٰ کی طرف سے آئیں جس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے متناسب بنایا اور جس نے ہر چیز کو مقدر کیا ، تقدیر بنائی اور ہر چیز کو ہدایت دی۔

الأعلى 87:19

ان ھذا ............................ موسیٰ اس سورت میں جو مضامین آئے ہیں وہ اس عظیم عقیدہ کے بنیادی اصول ہیں اور یہ وہی بنیادی اصول دعوت ہیں اور اصول دین ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کتابوں اور صحیفوں میں مذکور ہوئے تھے۔ یہ کہ سچائی ایک ہے ، عقیدہ ایک ہے ، اصول دین ایک ہے یہ اس بات کی شہادت ہے کہ یہ سب ادیان ایک اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ ایک ہی ارادہ اور مشیت ہے جس نے ابراہیم اور مولیٰ (علیہما السلام) کو اور پھر حضرت محمد ﷺ کی بعثت کا ارادہ کیا ہے۔ سچائی ایک ہے ، تو اس کا سرچشمہ بھی ایک ہے۔ ہاں ادیان میں فروعی اختلاف ہیں لیکن وہ اس لئے کہ شریعت و قانون میں اللہ نے وقت کے حالات اور تقاضوں کے مطابق تبدیلی فرمائی۔ البتہ تمام شرائع کی اصل ایک ہے اور ایک ہی سرچشمہ سے تمام شریعتیں نکلیں یعنی اسی رب اعلیٰ کی طرف سے آئیں جس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے متناسب بنایا اور جس نے ہر چیز کو مقدر کیا ، تقدیر بنائی اور ہر چیز کو ہدایت دی۔

الغاشية 88:1

ھل اتک .................... الغاشیة ” اس آغاز کے ذریعہ یہ سورت دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہے اور اس کائنات میں جو نشانات الٰہیہ موجود ہیں ان کی طرف متوجہ کرتی ہے اور یہ بتاتای ہے کہ انسان نے قیامت میں حساب دینا ہے اور جزاء وسزا سے دوچار ہونا ہے۔ اور یہ یقینی امر ہے۔ استفہامی تاکیدی یا تقریری کے ذریعہ اس بات کو نہایت تاکید سے بیان کیا جاتا ہے۔ اس استفہامی انداز میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اس سورت سے قبل اس امر کی بار بار تاکید اور تذکیر کی گئی ہے۔ اس لئے یہاں قیامت کو ایک نیا نام دیا گیا ہے۔ الغاشیہ (چھاجانے والی) یعنی ایک ایسی مصیبت جس کی ہولناکیاں لوگوں پر چھاجائیں گی۔ یہ ایک نیا نام ہے لیکن اس نام کے ذریعہ قیامت کی خوفناکی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس بارے میں قیامت کے لئے کئی نام آئے ہیں۔ الطامہ ، الصاخہ ، الغاشیہ اور القارعہ اور یہ سب نام اسی پارے کے مضامین کے ساتھ مناسب ہیں۔ یہ سوال کہ کیا غاشیہ کی کچھ خبریں آپ کو ملی ہیں ، تو حضور اکرم ﷺ یہ سمجھتے تھے کہ سب سے پہلے یہ سوال ان سے کیا گیا ہے۔ جب بھی حضور اکرم ﷺ اس سورت کو پڑھتے یا سنتے تو یوں محسوس ہوتا کہ شاید حضور اکرم ﷺ نے اسے پہلی مرتبہ سنا ہے اور ابھی یہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہورہی ہے۔ آپ اللہ کے اس خطاب کو سن کر چوکنے ہوجاتے اور یہ خیال کرتے کہ یہ اللہ کا خطاب ہے ، اور آپ کے احساسات یہ ہوتے کہ ابھی یہ خطاب انہوں نے پایا اور سنا۔ ابن ابوحاتم روایت کرتے ہیں ابن محمد طنافسی سے ، وہ ابوبکر ابن عباس سے ، وہ ابواسحاق سے ، وہ عمر ابن میمون سے کہ حضور اکرم ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو پڑھ رہی تھی۔ ھل اتک .................... الغاشیة (1:88) ” کیا آپ تک الغاشیہ کی بات پہنچی ہے ؟ “ تو آپ کھڑے ہوگئے اور آپ نے فرمایا ” ہاں میرے پاس بات آئی ہے “۔ اس کے باوجود خطاب ہر اس شخص کو ہے جو قرآن مجید سنتا ہے یا پڑھتا ہے کیونکہ الغاشیہ کی بات قرآن کی بات ہے جو بار بار قیامت کا ذکر کرتا ہے۔ قرآن کریم قیامت کی یاد دہانی کرا کے لوگوں کو ڈراتا ہے اور خوشخبری دیتا ہے اور ڈرنے والے حساس اور متقی دلوں کے اندر عمل اور احتیاط کے کذبات ابھارتا ہے۔ ڈر اور احتیاط کے ساتھ ساتھ قرآن مجید امید اور فلاح کا انتظار بھی سکھاتا ہے تاکہ انسانی ضمیر غافل ہو کر مرہی نہ جائے۔ اور یہ کہنے کے بعد ، کہ ” کیا تمہیں اس چھاجانے والی آفت کی خبر پہنچی ؟ “ اس خبر کی ہیڈ لائن دی جاتی ہیں۔

الغاشية 88:2

وجوہ یومئذ .................................... من جوع یہاں نعمتوں کے منظر سے قبل عذاب کا منظر دکھایا گیا کیونکہ سوال قیامت کی ہولناکیوں سے متعلق تھا ، بتایا جاتا ہے کہ لوگ سخت خوف کی حالت میں ہوں گے ، تھکے ہارے اور ڈر سے سہمے ہوں گے ۔ انہوں نے پوری زندگی جدوجہد میں گزاری ، تھک اور ہار گئے لیکن ان کے اعمال کھوٹے نکلے اور کسی نے بھی ان کو قبول نہ کیا ، عاقبت بھی خراب ہوئی اور مصیبت اور خسارے کے سوا کچھ نہ ملا۔ چناچہ ان کی تھکاوٹ اور پریشانی اور درماندگی میں اضافہ ہی ہوا۔

الغاشية 88:3

عاملة ناصبة (3:88) ” سخت مشقت کر رے ہوں گے ، تھکے جاتے ہوں گے “۔ دنیا میں وہ صرف اپنے نفس اور اپنی اولاد کے لئے جدوجہد کررہے ہوں گے ، دنیا اور دنیا کی طمع اور آز کے لئے تھکے ہوں گے۔ پھر آج انجام ان کے سامنے ہے کہ دنیا میں ان کو مل گیا جو ملنا تھا ، مگر آخرت میں تاریکی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اب یہ آخرت کا سامنا ذلیل ہوکر کررہے ہیں ، تنگ ہیں ، خائب و خاسر ہیں اور مایوس ہیں۔ اور اس ذلت اور خواری کے ساتھ پھر درد ناک عذاب۔ تصلی ................ حامیة (4:88) ” شدید آگ میں جھلس رہے ہوں گے “۔ یہ اس کا مزہ چکھیں گے اور مشقتیں برداشت کریں گے۔

الغاشية 88:4

عاملة ناصبة (3:88) ” سخت مشقت کر رے ہوں گے ، تھکے جاتے ہوں گے “۔ دنیا میں وہ صرف اپنے نفس اور اپنی اولاد کے لئے جدوجہد کررہے ہوں گے ، دنیا اور دنیا کی طمع اور آز کے لئے تھکے ہوں گے۔ پھر آج انجام ان کے سامنے ہے کہ دنیا میں ان کو مل گیا جو ملنا تھا ، مگر آخرت میں تاریکی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اب یہ آخرت کا سامنا ذلیل ہوکر کررہے ہیں ، تنگ ہیں ، خائب و خاسر ہیں اور مایوس ہیں۔ اور اس ذلت اور خواری کے ساتھ پھر درد ناک عذاب۔ تصلی ................ حامیة (4:88) ” شدید آگ میں جھلس رہے ہوں گے “۔ یہ اس کا مزہ چکھیں گے اور مشقتیں برداشت کریں گے۔

الغاشية 88:5

تسقی .................... انیة (5:88) ” کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا “۔ ان یہ کے معنی انتہائی گرم ، کھولتا ہوا۔

الغاشية 88:6

لیس لھم ............................ من جوع (7:88) ” خاردار سوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا ان کے لئے نہ ہوگا جو نہ موٹا کرے نہ بھوک مٹائے۔ “” ضریع “ کے معنی کے بارے میں دوقول ہیں ، ایک یہ کہ یہ ایک درخت ہوگا جو جہنم کے اندر ہی پیدا ہوگا جیسا کہ خود قرآن مجید میں زقوم آیا ہے کہ وہ ایک درخت ہے ، جو جہنم کی تہہ میں پیدا ہوگا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جو زمین کے ساتھ چپکی ہوئی ہوتی ہے ، اور جب یہ سبز ہوتی ہے تو اسے شبرق کہتے ہیں اور جب اسے کاٹ لیا جائے اور خشک ہو تو ضریع کہتے ہیں ، اسے اونٹ چرتے ہیں۔ جب یہ خشک ہو تو اونٹ بھی اسے کھا نہیں سکتے کیونکہ اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ غرض جو معنی بھی ہوں ، یہ اس طرح کی خوراک ہے جس طرح پانی کے بارے میں آیا ہے کہ وہ غسلین یا غساق پئیں گے اور جو خوراک بھی وہاں ہوگی وہ نہ ان کو موٹا کرے گی اور نہ بھوک مٹائے گی۔ آخرت کا یہ عذاب کیسا ہوگا ؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ہم اس کا تصور نہیں کرسکتے۔ یہاں اس کی ایسی صفات دی جاتی ہیں تاکہ ہم بدترین سزا کا تصور کرسکیں۔ جس می ذلت ، کمزوری ، نامرادی ، گرم ترین آگ کی جلن ، زمہریر یعنی بہت سرد ، پینے کے لئے سخت گرم پانی ، اور اس قسم کا کھانا کہ اسے اونٹ بھی نہ کھا سکیں اور اگر کھائیں بھی تو ان کو کوئی نفع نہ دے ۔ ان اوصاف سے ہمارے احساسات میں جو چیز بیٹھتی ہے وہ حد درجہ کا رنج والم ہے۔ لیکن آخرت کا عذاب ہمارے تصورات سے شدید تر ہے۔ اور وہ کیا ہوگا ، یہ وہی بتا سکتا ہے جو اس میں مبتلا ہوگا۔ العیاذ باللہ ! اور دوسری طرف اہل ایمان :

الغاشية 88:7

لیس لھم ............................ من جوع (7:88) ” خاردار سوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا ان کے لئے نہ ہوگا جو نہ موٹا کرے نہ بھوک مٹائے۔ “” ضریع “ کے معنی کے بارے میں دوقول ہیں ، ایک یہ کہ یہ ایک درخت ہوگا جو جہنم کے اندر ہی پیدا ہوگا جیسا کہ خود قرآن مجید میں زقوم آیا ہے کہ وہ ایک درخت ہے ، جو جہنم کی تہہ میں پیدا ہوگا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جو زمین کے ساتھ چپکی ہوئی ہوتی ہے ، اور جب یہ سبز ہوتی ہے تو اسے شبرق کہتے ہیں اور جب اسے کاٹ لیا جائے اور خشک ہو تو ضریع کہتے ہیں ، اسے اونٹ چرتے ہیں۔ جب یہ خشک ہو تو اونٹ بھی اسے کھا نہیں سکتے کیونکہ اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ غرض جو معنی بھی ہوں ، یہ اس طرح کی خوراک ہے جس طرح پانی کے بارے میں آیا ہے کہ وہ غسلین یا غساق پئیں گے اور جو خوراک بھی وہاں ہوگی وہ نہ ان کو موٹا کرے گی اور نہ بھوک مٹائے گی۔ آخرت کا یہ عذاب کیسا ہوگا ؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ہم اس کا تصور نہیں کرسکتے۔ یہاں اس کی ایسی صفات دی جاتی ہیں تاکہ ہم بدترین سزا کا تصور کرسکیں۔ جس می ذلت ، کمزوری ، نامرادی ، گرم ترین آگ کی جلن ، زمہریر یعنی بہت سرد ، پینے کے لئے سخت گرم پانی ، اور اس قسم کا کھانا کہ اسے اونٹ بھی نہ کھا سکیں اور اگر کھائیں بھی تو ان کو کوئی نفع نہ دے ۔ ان اوصاف سے ہمارے احساسات میں جو چیز بیٹھتی ہے وہ حد درجہ کا رنج والم ہے۔ لیکن آخرت کا عذاب ہمارے تصورات سے شدید تر ہے۔ اور وہ کیا ہوگا ، یہ وہی بتا سکتا ہے جو اس میں مبتلا ہوگا۔ العیاذ باللہ ! اور دوسری طرف اہل ایمان :

الغاشية 88:8

وجوہ یومئذ ........................................ مبثوثة اہل جنت کے چہروں سے معلوم ہوگا کہ یہ کھاتے پیتے لوگ ہیں۔ وہ رضائے الٰہی کی وجہ سے بےحد مطمئن ہوں گے۔ نعمتوں میں بس رہے ہوں گے۔ ان کے اعمال کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جائے گا ، تعریف کی جائے گی اور انعامات پائیں گے۔ اس کے علاوہ ان کو بلند روحانی شعور حاصل ہوگا کہ اللہ ان کے اعمال سے راضی ہے۔ اور ان کو نظرآئے گا کہ اللہ راضی ہے۔ اس سے زیادہ روحانی سکون کسی کو نہیں مل سکتا کہ کوئی بھلائی کے کاموں پر مطمئن ہوجائے ، اور اس کا انجام اچھا ہو ، اور پھر وہ دیکھے گا کہ اس کا مالک اس سے راضی ہے اور جنتوں میں داخل ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم رضائے الٰہی اور روحانی خوشی کا ذکر جنتوں کی مادی نعمتوں سے پہلے کرتا ہے اور اس کے بعد جنتوں میں ان کے مقامات کا ذکر کیا جاتا ہے۔

الغاشية 88:9

وجوہ یومئذ ........................................ مبثوثة اہل جنت کے چہروں سے معلوم ہوگا کہ یہ کھاتے پیتے لوگ ہیں۔ وہ رضائے الٰہی کی وجہ سے بےحد مطمئن ہوں گے۔ نعمتوں میں بس رہے ہوں گے۔ ان کے اعمال کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جائے گا ، تعریف کی جائے گی اور انعامات پائیں گے۔ اس کے علاوہ ان کو بلند روحانی شعور حاصل ہوگا کہ اللہ ان کے اعمال سے راضی ہے۔ اور ان کو نظرآئے گا کہ اللہ راضی ہے۔ اس سے زیادہ روحانی سکون کسی کو نہیں مل سکتا کہ کوئی بھلائی کے کاموں پر مطمئن ہوجائے ، اور اس کا انجام اچھا ہو ، اور پھر وہ دیکھے گا کہ اس کا مالک اس سے راضی ہے اور جنتوں میں داخل ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم رضائے الٰہی اور روحانی خوشی کا ذکر جنتوں کی مادی نعمتوں سے پہلے کرتا ہے اور اس کے بعد جنتوں میں ان کے مقامات کا ذکر کیا جاتا ہے۔

الغاشية 88:10

فی جنة عالیة (10:88) ” عالی مقام جنت میں ہوں گے “۔ ذاتی اعتبار سے بھی یہ بلندہوں گے ، عزت کے اعتبار سے بھی بلند ہوں گے ، درجات رہائش بھی بلند ہوں گے ، مقامات بھی بلندیوں پر ہوں گے۔ غرض ان کے احساسات پر علو چھایا ہوا ہوگا۔

الغاشية 88:11

لا تسمع .................... لاغیة (11:88) ” کوئی بیہودہ بات وہ وہاں نہ سنیں گے “۔ اس کی تعبیر میں ایک فضا اور اک جہان معانی سمو دیا گیا ہے۔ آرام ہوگا ، سکون ہوگا ، اطمینان اور سلامتی ہوگی ، محبت اور رضامندی ہوگی ، دوستوں کی محفلیں ہوں گی ، آل اولاد جمع ہوں گے ، طہارت و پاکیزگی ہوگی ، ہر لغو بات سے وہ دورہوں گے۔ کوئی ایسی بات نہ ہوگی جس میں ان کے لئے خیروعافیت نہ ہو۔ اور ایسی فضا اپنی جگہ ایک نعمت ہوتی ہے ، یہ صورت حال خود نیک بختی ہے اور سعادت مندی ہے۔ جب انسان اس دنیا کی زندگی کی مشکلات اور تلخیوں کا تصور کرے کہ یہاں کس قدر لغو ، لڑائیاں جھگڑے ، تو تو میں میں ، شورو شغب ، مذمت وملامت ، جھوٹ اور فریب ، اور فتنہ و فساد ہے اور اسکے بعد جنت کی فضا کا تصور کرے جو پرسکون ، پرامن ، پر محبت ، تروتازہ ہے اور پھر قرآن کی یہ تعبیر جامع تعبیر۔ لا تسمع ................ لاغیة (11:88) ” وہاں کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے “۔ یہ الفاظ ہی ایسے ہیں جن کے اندر نرمی ، آسانی اور تروتازگی ہے۔ ان کا تلفظ بھی پر ترنم ہے۔ نرم اور آسان ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کی زندگی اس جہاں میں ، خصوصاً تحریک اسلامی کے کارکنوں کی زندگی بھی۔ دراصل جنت کا ایک نمونہ ہوگی جو لغو ، فحش باتوں سے ، جدل وجدال سے دور ہوتے ہیں۔ یہ گویا جنت کی زندگی کی تیاری ہوتی ہے۔ یوں جنت کے حال احوال سے یہ روشن اور بلند مفہوم پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد پھر جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے جو انسانی حواس کے لئے باعث تسکین ہوتی ہیں ، اور یہ اس صورت میں مذکور ہیں جس کا انسان تصور کرسکتا ہے ، لیکن جنت میں یہ چیزیں اس شکل میں ہوگی جس تک اہل جنت کے نفوس ترقی کرچکے ہوں گے ، اور وہ کیا صورت ہوگی ؟ جس کی معرفت انہی لوگوں کو ہوگی جنہوں نے ان کو برتا۔

الغاشية 88:12

فیھا ................ جاریة (12:88) ” اس میں چشمے رواں ہوں گے “۔ چشمہ جاری وہ چشمہ ہوتا ہے جس سے پانی ال رہا ہوتا ہے ، جاری چشموں میں خوبصورتی ، پانی کی روانی اور پیاس بجھانے کا سامان ہی خوبصورت ہیں۔ آپ رواں ، ایک قسم کی حیات کا مظہر ہوتا ہے اور وہ انسانی روح کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔ جو رواں اور متحرک ہوتی ہے۔ اس منظر اور اس کا یہ معنوی حسن دونوں انسانی احساس کی گہرائیوں تک اترتے ہیں۔

الغاشية 88:13

فیھا ........................ مرفوعة (13:88) ” اس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی “۔ بلندی نظافت اور طہارت دونوں کی طرف اشارہ کررہی ہے۔

الغاشية 88:14

واکواب موضوعة (14:88) ” ساغررکھے ہوئے ہوں گے “۔ یہ لائن پر رکھے ہوں گے تاکہ ان میں شراب صافی نوش کی جائے اور اہل جنت کو طلب کی ضرورت نہ ہوگی ، ہر چیز ان کے لئے تیار ہوگی۔

الغاشية 88:15

ونمارق مصفوقة (15:88) ” گاﺅ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی “۔ یعنی وہ تکیے جو نرم مواد سے بھرے ہوں گے اور جنہیں انسان آرام اور خوشی کے وقت استعمال کرتا ہے۔

الغاشية 88:16

وزرابی مبثوثة (16:88) ” اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے “۔ وہ فرش جو پشم دار ہو ، یہ جگہ جگہ زینت اور آرام کے لئے بچھے ہوں گے۔ یہ وہ سہولیات ہیں جن کی نظیر دنیا میں ہم دیکھتے ہیں اور یہاں ان اصطلاحات میں جنت کی سہولیات کا ذکر ہمارے سمجھانے کے لئے ہے لیکن وہاں سہولیات کیسی ہوں گی ، اس کا تعلق وہاں استعمال کرنے سے ہے۔ یہ وہی لوگ بتاسکیں گے جن کی قسمت میں جنت لکھی ہے۔ یہ بحث فضول ہے کہ ہم یہاں جنت کی سہولیات کی نوعیت اور کیفیت کا ذکر کریں یا قیامت کے عذاب کی کیفیات کا ذکر کریں اس لئے کہ اشیاء اور مدکارت کی نوعیت کا اظہار اس طرح ہوسکتا ہے کہ ان کے بارے میں انسانی ادراک مکمل ہو ، اہل زمین کی قوت مدرکہ اس زمینی حواس کے محدود دائرے میں کام کرتی ہے۔ جب یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کی قوت مدرکہ پر سے تمام حدود وقیود اٹھ جائیں گے اور وہاں ان کی روح اور احساس اور ادراک سب بہت ترقی کریں گے۔ جس طرح وہاں قوت مدرکہ ترقی کرلے گی ، اس طرح وہاں الفاظ کے معانی بھی وسیع تر ہوجائیں گے اور وہاں ہمارے ذوق وشوق اور فہم وادراک کا عالم ہی اور ہوگا لہٰذا اس کی کیفیت یہاں ہم قلم بند نہیں کرسکتے۔ ہم یہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہذہن میں لذت ، عیش کوشی اور مٹھاس اور ذوق کا اعلیٰ ترین تصوریوں ہوگا اور یہ ہم اپنے تجربے کے مطابق ہی کہہ سکتے ہیں۔ اصل حقیقت ہمارے علم میں تب آئے گی جب اللہ جل شانہ ہمیں وہاں یہ اعزاز بخش دے گا۔ یہاں آکر عالم آخرت کا مطالعاتی سفر ختم ہوتا ہے اور ہم اس ظاہری کائنات کی طرف لوٹتے ہیں جو ہمارے سامنے کھڑی ہے اور جس کے اندر قادر مطلق کی تدبیر ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ جس میں اللہ کی صنعت ممتاز ہے ، جس میں اللہ کی بنائی ہوئی چیزیں ممتاز نظر آتی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زندگی کے بعد اس سے ایک برتر زندگی ہے ، اس زمین سے ایک برتر ترجہان ہے اور اس موت پر ہی خاتمہ نہیں ہے بلکہ لوگوں کا انجام کچھ اور ہے۔

الغاشية 88:17

افلا ینظرون ................................ سطحت یہ مختصر چار آیات ہیں لیکن ان کے اندر قرآن کریم کے پہلے مخاطب عرب سوسائٹی کے ماحول کی پوری طرح تصویر کھینچ دی گئی ہے ، اور اس کے ساتھ ساتھ پوری کائنات کا نقشہ بھی۔ آسمان ، زمین ، پہاڑ اور زمین کے اوپر حیوانی خوبصورتی اونٹ کی صورت میں ، کیونکہ اونٹ کی تخلیق نہایت پیچیدہ ہے اور عربوں کے لئے اس کی اہمیت مسلم ہے۔ انسان جہاں بھی ہو ، یہ مناظر اس کے سامنے ہوتے ہیں۔ آسمان ، پہاڑ ، ہموار زمین اور اس کے اوپر قسم قسم کے حیوانات۔ انسان علم ومعرفت کے جس مقام پر بھی ہو ، یہ مناظر اس کے علم ادراک اور دلچسپی کا مرکز ہوتے ہیں۔ اگر انسان ان چیزوں کی ساخت پر غور کرے تو اس میں اسے وہ دلائل و شواہد مل سکتے ہیں جو اس کی رہنمائی اس کائنات کی پشت پر کار فرما قوت کی طرف کرسکتے ہیں۔ ان سب مناظر کی ایک معجزانہ شان ہے۔ ان کے اندر خالق کی صنعت کاری کے ایسے پہلو نمایاں ہیں جن کی کوئی مثال انسان کی دریافت میں نہیں ہے۔ یہ چیزیں اس بات کے لئے بالکل کافی ہیں کہ انسان اپنے ذہن میں ایک ابتدائی صحیح عقیدہ اور صحیح تصور جمالے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ افلا ینظرون ........................ خلقت (17:88) ” کیا یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے “۔ قرآن کو پہلے مخاطب ایک عرب کے ہاں اونٹ کی اہمیت یہ تھی کہ وہ اس کے اوپر سفر کرتا تھا ، اس کا دودھ پیتا تھا ، اور اس کا گوشت کھاتا تھا ، اور اس کے بالوں اور چمڑے سے لباس اور بچھونا بناتا تھا گویا اس کی زندگی کے لئے سپلائی کا یہ بڑا ذریعہ تھا اور زندگی کا ایک بڑا اثاثہ تھا۔ پھر اونٹ دوسرے حیوانات کے مقابلے میں کچھ منفرد خصوصیات بھی رکھتا تھا۔ ایک خصوصیت یہ تھی کہ اپنی ضخامت ، قوت اور عظیم جثہ کے باوجود اس قدر شریف جانور ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی اسے چلائے تو بڑی فرماں برداری سے اطاعت کرتا ہے۔ پھر اس سے انسانوں کو جس قدر منافع زیادہ ہیں ، اسی نسبت اس کا سنبھالنا آسان تر ہے۔ اس کے کھانے اور چرنے کی چیزیں آسان ہیں اور اس کی خوراک کے لئے انسان کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔ جس قدر خانگی جانور ہیں ان میں سے یہ سب سے زیادہ بھوک ، پیاس ، مشقت اور برے حالات برداشت کرتا ہے۔ پھر اللہ نے جس سیاق میں اسے یہاں پیش فرمایا ہے اس میں اس کی ساخت نہایت موزوں تھی۔ اس کی تفصیلات آرہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اپنے مخاطبین سے کہا ذرا اونٹ کی تخلیق پر غور کرو ، یہ تو ہر وقت تمہارے سامنے رہتا ہے۔ کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ، اس پر غور کرنے کے لئے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں ہے۔ افلا ینظرون .................... خلقت (17:88) کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے “۔ ان کی ساخت اور ان کی تخلیق پر غور نہیں کرتے۔ اور پھر غور نہیں کرتے کہ اس کی ساخت اس کے مقاصد تخلیق کے ساتھ کس قدر ہم آہنگ ہے۔ اور وہ کس طرح اچھے طریقے سے مقصد تخلیق کو پورا کرتے ہیں۔ یہ عرب معاشرے اور عرب ماحول میں اپنے فرائض کس اچھے انداز میں پورے کرتے ہیں۔ کیا اونٹوں کو کسی انسان نے بنایا ہے ، کیا اونٹ خود بخود بن گئے ، اگر یہ دونوں صورتیں نہیں تو لازماً ایک خالق ہے ، جب خالق ہے تو پھر وہ نہایت ہی حکیم ہے کہ اس نے ایسی عجیب اور مفید مخلوق بنائی۔

الغاشية 88:18

والی السماء کیف رفعت (18:88) ” اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھایا گیا “۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ آسمانوں کی طرف غور کی نگاہ سے دیکھیں اور صحرا کے باشندوں کو تو بہت زیادہ آسمان کی طرف دیکھنا چاہئے اور غور کرنا چاہئے ، جہاں کے باشندے ہر وقت آسمان کے ساتھ ایک پر لطف ذوق اور اشارات رکھتے ہیں گویا آسمان تو ہے ہی ان کے لئے۔ اور آسمان ہوتا ہی صحراﺅں پر ہے۔ آسمان اپنی تما رعنائیوں کے ساتھ صحرا کے اوپر موجود ہے۔ اس کے روشن اور کھلے دن ، آسمان کا ساحرانہ خوبصورت وقت زوال آفات غروب آفات کا منفرد ، جس میں جہان معانی پوشیدہ ہوتا ہے ، آسمان اپنی وسیع راتوں کے ساتھ ، اور اپنے چمکدار ستاروں اور خوبصورت کہانیوں کے ساتھ اور پھر اس کے خوبصورت اور روشن طلوع کے مناظر کے ساتھ تمہارے سامنے موجود ہے۔ یہ آسمان اور صحراﺅں کی وسعتوں کے اوپر ، کیا یہ لوگ اس کی طرف نہیں دیکھتے ، کہ اسے کس طرح بلند کھڑا کیا گیا ہے۔ بغیر ستونوں کے یہ رفعتیں کس طرح قائم ہیں ؟ اس کے اندر اربوں کھربوں ستارے بکھیر دیئے گئے ہیں اور اس کے اندر اس قدر خوبصورتی ، اس قدر حسن اور اس قدر اشارات رکھ دیئے گئے ہیں۔ نہ انسانوں نے اسے بلند کیا اور نہ یہ خود بخود بلند ہوگیا۔ لہٰذا اسے یوں بلند کھڑا کرنے والا ضرور ہے ، جس نے اسے وجود بخشا۔ یہ مشاہدہ ایسا ہے اور یہ غور وفکر ایسا ہے جس کے لئے کسی وسیع اور گہرے علم کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف ایک بصیرت والی نظر کی ضرورت ہے۔

الغاشية 88:19

والی الجبال ................ نصیبت (19:88) ” اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے “۔ ایک عرب کے نزدیک پہاڑ بہت اہم تھے ، پہاڑوں ہی میں عرب مشکل اوقات میں پناہ لیتے تھے۔ شکل مراحل میں پہاڑ ہی ان کے انیس اور دوست ہوا کرتے تھے۔ پہاڑوں کے مناظر جب انسان دیکھتا ہے تو ان سے اس کو گہرے نفسیاتی اشارات ملتے ہیں۔ یہ پہاڑوں کے نظام میں ایک عظمت نظر آتی ہے۔ ایک جمال نظر آتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو کم تر سمجھ کر ان کے اندر پناہ لیتا ہے۔ پہاڑوں کے دامن میں سکون حاصل کرتا ہے اور اس فطری ماحول میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ان اونچے پہاڑوں میں انسان یہ سوچتا ہے کہ وہ اللہ کے زیادہ قریب ہے۔ یوں بلند پہاڑوں کے دامن میں وہ زمین کے شور وشغب اور حقیر سرگرمیوں سے قدرے بلند ہوجاتا ہے۔ یہ بات نہ کوئی عبث بات تھی اور نہ کوئی اتفاقی فعل تھا کہ نبوت سے قبل حضور اکرم ﷺ جبل ثور کے غار حرا میں علیحدگی اختیار فرماتے تھے ، لہٰذا جو لوگ لافانی بالیدگی چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ ان کی روح ایک عرصہ کے لئے دنیاوی آلودگیوں سے دور ہوجائے۔ پہاڑوں کے بارے میں یہاں جو الفاظ غور کے لئے آئے ہیں وہ ہیں۔ کیف نصبت (19:88) ” یعنی وہ زمین کے اوپر کس طرح جمائے گئے ہیں ، یہ الفاظ منظر کے ماحول کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں۔

الغاشية 88:20

والی الارض ................ سطحت (20:88) ” اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی “۔ یہ بچھی ہوئی زمین تو ہمارے سامنے ہے۔ یہ زندگی گزارنے کے لئے ، اس پر چلنے کے لئے ، اور اس پر کام کرنے کے لئے آسان بنادی گئی ہے۔ کیا اسے لوگوں نے بچھایا ہے ، ظاہر کہ انہوں نہیں بچھایا ، انسانوں کی پیدائش سے تو زمین پہلے تھی۔ کیا یہ اس پر غور نہیں کرتے۔ ان کے ذہنوں میں یہ سوال کیوں نہیں اٹھتا کہ کون ہے اس کو بچھانے والا ؟ اور کون ہے اسے اس طرح درست کرنے والا کہ زندگی گزارنے کے قابل ہوجائے۔ یہ مناظر قلب انسانی کی طرف اہم اشارات کرتے ہیں ، محض تامل اور غوروفکر سے انسان یہ اشارات پاتا ہے اور یہ اشارات وجدان کے ابھارنے اور انسانی ضمیر کو بیدار کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ان اشارات سے انسان اپنے موجد ، خالق اور اس پوری کائنات کے خالق کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ اس کائناتی منظر کی منظر کشی میں جس توازن اور ہم آہنگی کو ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ اس پر قدرے غور کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم ہو کہ قرآن انسانوں سے کس خوبصورت زبان میں مخاطب ہوتا ہے۔ اور اس میں فنی خوبیوں کو کس قدر ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اور ایک باشعور مومن کے احساسات میں یہ دونوں چیزیں کس طرح پیوست ہوتی ہیں۔ اس منظر میں بلند آسمان اور بچھائی ہوئی زمین کو دکھایا گیا ہے۔ لیکن پہاڑوں کی بلندی افقی نہیں ہے اور نہ ہی وہ زمین پر گرے ہوئے ہیں ، بلکہ وہ نصب کردہ ہیں۔ اس طرح نصب ہیں جس طرح اونٹ کے اوپر کوہان ہوتی ہے۔ اس منظر میں دو افقی خط ہیں اور دوراسی خط ہیں۔ لیکن باہم متناسب ہیں اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز ہے جس کے مطابق وہ مناظر کو پیش کرتا ہے۔ انداز تعبیر مجمل ہوتا ہے لیکن مصور ہوتا ہے۔ پہلا سفر تو تھا عالم آخرت میں ، دوسرا مشاہدتی سفر تھا ۔ اس کائنات کے مناظر میں ، جو ہمارے سامنے تھے ، اب روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو اپنے واجبات وفرائض کے حدود کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کے فرائض کی نوعیت کیا ہے۔ اسی طرح لوگوں کے احساسات کو آخری چٹکی دی جاتی ہے تاکہ دعوت اسلامی کے حوالے سے سوئے ہوئے دلوں کو جگایا جائے۔

الغاشية 88:21

فذکر ........................ حسابھم ان کو آخرت کے واقعات کی یاددہانی کرائیں اور اس کائنات کے شواہد بھی بتایں۔ آپ کو بڑا فریضہ یہ ہے کہ یاد دہانی کرائیں۔ اور یہ ایک متعین اور مقدر فریضہ ہے۔ دعوت اسلامی کے معاملے میں آپ کا کردار بس اسی قدر ہے کہ آپ دعوت پہنچادیں۔ اس کے بعد نہ آپ کا حق ہے کہ کچھ مزید کریں اور نہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ کا فریضہ یہ ہے کہ آپ دعوت پہنچائیں اس سے آگے آپ کسی اسلام پر مجبور کرنے کے مکلف نہیں ہیں۔

الغاشية 88:22

لست ................ بمصیطر (22:88) آپ ان جبر کرنے والے نہیں ہیں “۔ کیونکہ دلوں کا مالک تو اللہ ہے۔ آپ جبر کرکے ان کے دلوں کو نہیں پھیر سکتے۔ دل تو اللہ کی انگلیوں کے درمیان ہیں۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ جس دل کو چاہے ایمان کی طرف پھیر دے۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ اگر پیغمبر ﷺ کا فریضہ صرف تبلیغ تھا تو پھر جہاد کیوں فرض کیا گیا ؟ جہاڈ اس لئے نہیں فرض ہوا کہ لوگوں کو مومن بنایا جائے بلکہ اس لئے کہ تبلیغ کے راستے میں رکاوٹیں دور کی جائیں۔ یہ نہ ہو کہ لوگوں تک دین کی بات ہی نہ پہنچے اور یہ بھی نہ ہو کہ اگر کوئی دین اسلام کو قبول کرلے تو اس پر تشدد ہو۔ جہاد کا مقصد یہ تھا کہ تبلیغ دین کے راستے میں سیاسی رکاوٹیں دور کی جائیں۔ رسول کا اصل فریضہ بہرحال دعوت دین ہے۔ یہ اشارات وہدایات کہ رسول اللہ کی ڈیوٹی صرف تبلیغ ہے۔ اس کو قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلا سبب یہ ہے کہ تبلیغ کرنے کے بعد اگر لوگ نہیں مانتے تو رسول خدا پریشان نہ ہوں ، ان کو تسلی ہوجائے کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ وہ مطمئن ہوجائیں اور لوگوں کو تقدیر الٰہی کے حوالے کردیں کہ وہ جو چاہے کرے۔ کیونکہ انسانوں بالخصوص دعوت اسلامی کا کام کرنے والوں کے دلوں میں اس بات کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ ان کا مشن کامیاب ہو اور غالب ہو۔ تمام لوگ اس کو قبول کرلیں اس لئے اللہ نے بار بار اس کی تاکید کی کہ داعی کا کام دعوت دینا ہے اور اسے اس قدر اخلاص سے کام کرنا چاہیے کہ ذاتی خواہش اور ذاتی پسند کو دعوت کے کھاتے سے نکال دے۔ اور دعوت کا کام جاری رکھے۔ آگے انجام کیا ہوتا ہے۔ یہ اللہ پر چھوڑ دے۔ اسے کیا ہے کہ کوئی مومن بنتا ہے یا کافر بنتا ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جب کسی معاشرے میں دعوت اسلامی کے لئے حالات سازگار نہ ہوں ۔ لوگ دین سے دور ہوں اور دین کی راہ میں مادی وسیاسی رکاوٹیں ہوں تو داعی کو پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بات کہ دعوت اسلامی ایک خیر محض ہے اور ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ لوگ اس میں داخل ہوجائیں۔ اس خواہش کی شدت کا اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے بار بار یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ کا کام صرف تبلیغ ہے۔ آپ کسی پر جبر نہیں کرسکتے۔ حالانکہ رسول اللہ خدا کے پیغمبر تھے۔ آپ اپنی ڈیوٹی کے حدود وقیود سے اچھی طرح واقف تھے۔ اللہ کے نظام فضاوقدرے سے بھی واقف اور تربیت یافتہ تھے۔ اس لئے بھی اس نکتے کو قرآن نے بار بار مکرر کرکے بیان کیا ہے ۔ لیکن اگر رسول اللہ ﷺ کا فریضہ تبلیغ پر ختم ہوجاتا ہے ، تو انکار کرنے والوں کا معاملہ بہرحال ختم نہیں ہوتا۔ اور نہ تکذیب کرنے والے چھوٹ جاتے ہیں اور صحیح سالم گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ اللہ موجود ہے اور تمام امور اللہ کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔

الغاشية 88:23

الا من ............................................ الاکبر (23:88 تا 24) ” البتہ جو شخص منہ موڑے گا ، اور انکار کرے گا تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا “۔ اس لئے کہ وہ صرف اللہ ہی کے سامنے لوٹنے والے ہیں اور وہ یقینا ان کو جزادینے والا ہے ، یہ اس سورت کا آخری اعلان ہے اور حتمی اور دوٹوک اعلان ہے۔

الغاشية 88:24

الا من ............................................ الاکبر (23:88 تا 24) ” البتہ جو شخص منہ موڑے گا ، اور انکار کرے گا تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا “۔ اس لئے کہ وہ صرف اللہ ہی کے سامنے لوٹنے والے ہیں اور وہ یقینا ان کو جزادینے والا ہے ، یہ اس سورت کا آخری اعلان ہے اور حتمی اور دوٹوک اعلان ہے۔

الغاشية 88:25

ان الینا ........................... حسابھم (26:88) ” ان لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے ، پھر ان کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے “۔ یوں دعوت اسلامی میں رسول ﷺ کے کردار پر بھی حدود وقیود عائد کردیئے جاتے ہیں۔ اور آپ کے بعد بھی ہر داعی پر صرف دعوت دینا فرض ہے۔ یہ کہ ہر داعی کا کام یہ ہے کہ وہ یاد دہانی کراتا رہے اور حسب لینا اللہ ذمہ داری ہے۔ اللہ سے وہ کہیں بھاگ نہیں سکتے ، نہ وہ اللہ کے محاسبے سے بچ سکتے ہیں۔ ہاں داعیان حق کی یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ انہوں نے دعوت اسلامی کے راستے میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہے تاکہ لوگوں تک دعوت آزادانہ پہنچ سکے۔ اور رکاوٹیں دور کرنے کا کام فریضہ جہاد سے پورا ہوتا ہے جس طرح قرآن اور سیرت الرسول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسلام کے نظریہ جہاد کو کسی کمی اور بیشی کے سوا سمجھنا چاہیے۔ یہ بھی نہ ہو کہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ موجود ہو ، اور جہاد نہ کیا جائے۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ تبلیغ کے راستے کھلے ہوں اور لوگوں کو تلوار کے زور سے مسلمان کیا جائے۔

الغاشية 88:26

ان الینا ........................... حسابھم (26:88) ” ان لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے ، پھر ان کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے “۔ یوں دعوت اسلامی میں رسول ﷺ کے کردار پر بھی حدود وقیود عائد کردیئے جاتے ہیں۔ اور آپ کے بعد بھی ہر داعی پر صرف دعوت دینا فرض ہے۔ یہ کہ ہر داعی کا کام یہ ہے کہ وہ یاد دہانی کراتا رہے اور حسب لینا اللہ ذمہ داری ہے۔ اللہ سے وہ کہیں بھاگ نہیں سکتے ، نہ وہ اللہ کے محاسبے سے بچ سکتے ہیں۔ ہاں داعیان حق کی یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ انہوں نے دعوت اسلامی کے راستے میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہے تاکہ لوگوں تک دعوت آزادانہ پہنچ سکے۔ اور رکاوٹیں دور کرنے کا کام فریضہ جہاد سے پورا ہوتا ہے جس طرح قرآن اور سیرت الرسول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسلام کے نظریہ جہاد کو کسی کمی اور بیشی کے سوا سمجھنا چاہیے۔ یہ بھی نہ ہو کہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ موجود ہو ، اور جہاد نہ کیا جائے۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ تبلیغ کے راستے کھلے ہوں اور لوگوں کو تلوار کے زور سے مسلمان کیا جائے۔

الفجر 89:1

والفجر ............................................ لذی حجر اس سور تکے آغاز میں قسم اٹھانے کے لئے ایسے مناظر اور مخلوقات کا انتخاب کیا گیا ہے جو انسانوں کے مانوس مناظر ہیں اور ایک لطیف روح رکھتے ہیں اور صاف و شفاف ہیں۔ ” الفجر “ ایک ایسا وقت ہے جس میں زندگی نہایت خوشگوار موڈ میں سانس لیتی ہے۔ نہایت خوشی ، تبسم ، محبت اور تروتازہ لگاﺅ کے جذبات میں یہ پوری کائنات انگڑائی لیتی ہے۔ فجر کے یہ سانس گویا مناجات الٰہیہ کے انفاس ہیں۔ اور فجر کے وقت ہر چیز کھلی کھلی ہوتی ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ کلیاں خوشی کی وجہ سے کھل رہی ہیں۔

الفجر 89:2

ولیال عشر (2:89) ” دس راتوں کی قسم “۔ ان دس راتوں کو قرآن نے مطلق چھوڑا ہے ، ان کی تفسیر میں اقوال وروایات وارد ہیں ، بعض میں ذوالحجہ کی دس راتیں ، بعض میں محرم کی دس راتیں ، اور بعض میں رمضان کی دس راتوں کا ذکر آیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں ان کو اسی طرح مطلق اور عام ہی رہنے دینا چاہئے اور یہی زیادہ خوشگوار ہے۔ یہ دس راتیں جن کو اللہ ہی جانتا ہے اور اللہ کے ہاں جن کی ایک منزلت واہمیت ہے ، سیاق کلام میں ان دس راتوں پر یوں روشنی پڑتی ہے کہ شاید یہ ایک شخصیت اور ایک ذی روح راتیں ہیں ، جس طرح زندہ ذی روح مخلوق ہوتی ہے ۔ یہ راتیں ہم سے محبت کرتی ہیں ، اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں ، اس قرآنی تعبیر کے آئینے میں۔

الفجر 89:3

والشفع والوتر (3:89) ” اور جفت اور طاق کی قسم “۔ اس مانوس اور محبوب فضائے صبح گا ہی میں اور قابل قدر دس راتوں میں شفع ووتر روح صلوٰة ہیں۔ حدیث شریف کے الفاظ ہیں : ” نماز میں شفع بھی ہے اور وتر (ترمذی) ۔ ان آیات میں جو فضا پائی جاتی ہے اس میں یہی مفہوم زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس چھاجانے والی کائنات کی روح کے ساتھ عبادت گزار روح کا اتصال ہی موزوں مفہوم ہے ، جس طرح ایک عبادت گزار روح اللہ کی پسندیدہ دس راتوں میں روح کے ساتھ وصال پاتی ہے اور پھر یہ راتیں اور یہ روشن نمود صبح سب باہم ملتے ہیں۔

الفجر 89:4

والیل اذا یسر (4:89) ” اور رات کی قسم جب رخصت ہورہی ہو “۔ یہ رات ہے یا کوئی زندہ مخلوق ہے جو اس کائنات میں چلتی پھرتی ہے ، گویا وہ عاشق زار ہے جو راتوں کو سرگرداں ہے ، یا مسافر ہے جو دور دراز منزل کی طرف رات کو رواں دواں ہے۔ کیا ہی خوبصورت انداز بیان ہے ! منظر کس قدر مانوس ہے ؟ الفاظ کا ترنم کس قدر خوشگوار ہے۔ فجر ، لیالی عشر اور الشفع والوتر میں الفاظ ، ترنم اور معانی کی ہم آہنگی قابل دید ہے۔ الفاظ وعبارات نہیں بلکہ نمود صبح کے خوشگوار اور گرم سانس ہیں ، خوشبودار آوازیں ، قلب حزیں پر محبت مکالمات ہیں یا روح کی لطیف سرگوشیاں ہیں یا انسانی ضمیر کی بیداری کے اشارات ولمحات ہیں۔ ذرا خوبصورتی کو دیکھیں ، پر محبت سرگوشیوں سے بھر پور حسن ، آزاد شاعرانہ حسن اس کا پاسنگ بھی نہیں۔ یہ تو معجزانہ تخلیق حسن ہے اور حسن و جمال کے ساتھ حقائق پر مشتمل بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان قسموں کے بعد متصلایہ کہا جاتا ہے۔

الفجر 89:5

ھل فی .................... حجر (5:89) ” کیا اس میں صاحب عقل کے لئے کوئی قسم ہے ؟ “ یہ ایک تقریری سوال ہے جس کا جواب ہے “۔ بیشک اس میں قسم ہے ایک عقلمند آدمی کے لئے ” ہاں “ اس میں ہر صاحب عقل وخرد کے لئے تسلی وتشفی ہے “۔ اس اثبات کے لئے استفہام کا انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ یہ انداز نرم اور سرگوشی کے انداز کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ، جو ان قسموں میں پایا جاتا ہے۔ یہاں اس بات کو سیاق کلام میں لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے جس پر قسم اٹھائی گئی تاکہ تجسس قائم رہے اور بعد کا مضمون اس کی تشریح کردے۔ بعد کا موضوع ہے سرکشی ، فساد اور ظلم اور حد سے تجاوز کا۔ اور ایسے لگوں کے ساتھ دست قدرت کے رویے کا۔ یہ کہ ایسے لوگوں سے لازماً اللہ انتقام لیتا ہے اور اسی پر اللہ قسم اٹھاتا ہے اور قسم بھی نہایت ہی نرم ، اشاراتی اور اجمالی انداز میں اٹھائی گئی۔

الفجر 89:6

الم ترکیف .................................... المرصاد اس قسم کے مطابق سیاق کلام میں استفہام کا صیغہ پرکشش ہوتا ہے اور وہ سامعین کو زیادہ متوجہ کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ ابتداً یہ خطاب تو نبی ﷺ کو ہے لیکن بعدہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو ان اقوام کے عبرت آموز واقعات سے سبق لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس زمانے میں یہ آیات اتریں ، مخاطبین کے درمیان ان اقوام کے قصے معروف ومشہور تھے۔ اس علاقے میں جو آثار قدیمہ ابھی تک باقی ہیں اور جو قصے ابھی تک زبان زدعام ہیں ، ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان اقوام کے بارے میں عرب اچھی طرح جانتے تھے۔ یہاں فعل کا فاعل ” ربک “ کو لایا گیا ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ اور اس وقت کے مٹھی بھر مسلمانوں کے لئے سامان اطمینان ہے۔ اس وقت مکہ کے مسلمان قریش کے سرکشوں کے ہاتھوں مظالم جھیل رہے تھے اور ان کے خلاف یہ لوگ ہر محاذ پر راہ روکے کھڑے تھے۔ اس پیرا یہ اظہار سے ان کے دلوں میں راحت اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ ان مختصر آیات میں اللہ نے تاریخ انسانی کے سرکردہ جباروں کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک مشہور قوم عادارم ہے جسے عاد اولیٰ بھی کہا گیا ہے۔ یہ ان عربوں میں سے تھے جو ابتدائی ادوار میں خالص عرب تھے (عاربہ) یا ان عربوں میں سے تھے جن کی نسل ختم ہوگئی ہے (بائدہ) یہ لوگ احقاف میں رہتے تھے ، احقاف ریت کے ٹیلوں کو کہتے ہیں۔ جنوب عرب میں یمن اور حضرت موت کے درمیان ان کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ یہ بدوی لوگ تھے اور ایسے خیموں میں رہے تھے جو ستوتوں پر قائم ہوتے تھے۔ قرآن کریم میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ بڑے قوی تھے اور سخت گرفت کی طاقت رکھتے تھے۔ اپنے وقت پر یہ قوی تر قوم تھی اور اقوام میں زیادہ ممتاز تھی۔ التی لم ........................ فی البلاد (8:89) ” جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی “۔ یعنی اس وقت تک۔

الفجر 89:7

الم ترکیف .................................... المرصاد اس قسم کے مطابق سیاق کلام میں استفہام کا صیغہ پرکشش ہوتا ہے اور وہ سامعین کو زیادہ متوجہ کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ ابتداً یہ خطاب تو نبی ﷺ کو ہے لیکن بعدہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو ان اقوام کے عبرت آموز واقعات سے سبق لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس زمانے میں یہ آیات اتریں ، مخاطبین کے درمیان ان اقوام کے قصے معروف ومشہور تھے۔ اس علاقے میں جو آثار قدیمہ ابھی تک باقی ہیں اور جو قصے ابھی تک زبان زدعام ہیں ، ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان اقوام کے بارے میں عرب اچھی طرح جانتے تھے۔ یہاں فعل کا فاعل ” ربک “ کو لایا گیا ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ اور اس وقت کے مٹھی بھر مسلمانوں کے لئے سامان اطمینان ہے۔ اس وقت مکہ کے مسلمان قریش کے سرکشوں کے ہاتھوں مظالم جھیل رہے تھے اور ان کے خلاف یہ لوگ ہر محاذ پر راہ روکے کھڑے تھے۔ اس پیرا یہ اظہار سے ان کے دلوں میں راحت اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ ان مختصر آیات میں اللہ نے تاریخ انسانی کے سرکردہ جباروں کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک مشہور قوم عادارم ہے جسے عاد اولیٰ بھی کہا گیا ہے۔ یہ ان عربوں میں سے تھے جو ابتدائی ادوار میں خالص عرب تھے (عاربہ) یا ان عربوں میں سے تھے جن کی نسل ختم ہوگئی ہے (بائدہ) یہ لوگ احقاف میں رہتے تھے ، احقاف ریت کے ٹیلوں کو کہتے ہیں۔ جنوب عرب میں یمن اور حضرت موت کے درمیان ان کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ یہ بدوی لوگ تھے اور ایسے خیموں میں رہے تھے جو ستوتوں پر قائم ہوتے تھے۔ قرآن کریم میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ بڑے قوی تھے اور سخت گرفت کی طاقت رکھتے تھے۔ اپنے وقت پر یہ قوی تر قوم تھی اور اقوام میں زیادہ ممتاز تھی۔ التی لم ........................ فی البلاد (8:89) ” جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی “۔ یعنی اس وقت تک۔

الفجر 89:8

الم ترکیف .................................... المرصاد اس قسم کے مطابق سیاق کلام میں استفہام کا صیغہ پرکشش ہوتا ہے اور وہ سامعین کو زیادہ متوجہ کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ ابتداً یہ خطاب تو نبی ﷺ کو ہے لیکن بعدہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو ان اقوام کے عبرت آموز واقعات سے سبق لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس زمانے میں یہ آیات اتریں ، مخاطبین کے درمیان ان اقوام کے قصے معروف ومشہور تھے۔ اس علاقے میں جو آثار قدیمہ ابھی تک باقی ہیں اور جو قصے ابھی تک زبان زدعام ہیں ، ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان اقوام کے بارے میں عرب اچھی طرح جانتے تھے۔ یہاں فعل کا فاعل ” ربک “ کو لایا گیا ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ اور اس وقت کے مٹھی بھر مسلمانوں کے لئے سامان اطمینان ہے۔ اس وقت مکہ کے مسلمان قریش کے سرکشوں کے ہاتھوں مظالم جھیل رہے تھے اور ان کے خلاف یہ لوگ ہر محاذ پر راہ روکے کھڑے تھے۔ اس پیرا یہ اظہار سے ان کے دلوں میں راحت اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ ان مختصر آیات میں اللہ نے تاریخ انسانی کے سرکردہ جباروں کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک مشہور قوم عادارم ہے جسے عاد اولیٰ بھی کہا گیا ہے۔ یہ ان عربوں میں سے تھے جو ابتدائی ادوار میں خالص عرب تھے (عاربہ) یا ان عربوں میں سے تھے جن کی نسل ختم ہوگئی ہے (بائدہ) یہ لوگ احقاف میں رہتے تھے ، احقاف ریت کے ٹیلوں کو کہتے ہیں۔ جنوب عرب میں یمن اور حضرت موت کے درمیان ان کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ یہ بدوی لوگ تھے اور ایسے خیموں میں رہے تھے جو ستوتوں پر قائم ہوتے تھے۔ قرآن کریم میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ بڑے قوی تھے اور سخت گرفت کی طاقت رکھتے تھے۔ اپنے وقت پر یہ قوی تر قوم تھی اور اقوام میں زیادہ ممتاز تھی۔ التی لم ........................ فی البلاد (8:89) ” جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی “۔ یعنی اس وقت تک۔

الفجر 89:9

وثمود ............................ بالواد (9:89) ” اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں “۔ ثمود حجر میں رہتے تھے۔ یہ جزیرة العرب کے شمال میں ہے۔ مدینہ اور شام کے درمیان وادی حجر ہے۔ انہوں نے چٹانیں کاٹ کر بڑے بڑے محلات بنارکھے تھے اور پہاڑوں کے اندر قلعے اور غار بنا رکھے تھے۔ وفرعون ................ الاوتاذ (10:89) ” اور میخوں والے فرعون کے ساتھ “۔ راجح بات یہ ہے کہ اوتاد سے مراد اہرام ہیں جو میخوں کی طرح زمین میں نصب ہیں۔ اور نہایت پختہ بنیادوں پر ہیں۔ جس فرعون کی طرف یہاں اشارہ ہے وہ فرعون موسیٰ ہے جو بہت سرکش تھا اور جبار تھا۔

الفجر 89:10

وثمود ............................ بالواد (9:89) ” اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں “۔ ثمود حجر میں رہتے تھے۔ یہ جزیرة العرب کے شمال میں ہے۔ مدینہ اور شام کے درمیان وادی حجر ہے۔ انہوں نے چٹانیں کاٹ کر بڑے بڑے محلات بنارکھے تھے اور پہاڑوں کے اندر قلعے اور غار بنا رکھے تھے۔ وفرعون ................ الاوتاذ (10:89) ” اور میخوں والے فرعون کے ساتھ “۔ راجح بات یہ ہے کہ اوتاد سے مراد اہرام ہیں جو میخوں کی طرح زمین میں نصب ہیں۔ اور نہایت پختہ بنیادوں پر ہیں۔ جس فرعون کی طرف یہاں اشارہ ہے وہ فرعون موسیٰ ہے جو بہت سرکش تھا اور جبار تھا۔

الفجر 89:11

الذین ............................................ الفساد (12:89) ” یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں فساد پھیلایا تھا “۔ سرکشی کے بعد فساد ہی ہوتا ہے کیونکہ سرکشی ، سرکش شخص کو خراب کردیتی ہے۔ اسی طرح جو لوگ سرکشی اور ظلم کا شکار ہوتے ہیں وہ بھی فساد میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے اندر اخلاقی بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد اجتماعی زندگی کا ہر پہلو فساد کی زد میں آجاتا ہے اور زندگی اپنی صحت مند تعمیری اور پاکیزہ راستے سے ہٹ جاتی ہے اور ایسے راستوں پر پڑجاتی ہے جو انسان کی خلیفہ اللہ فی الارض ہونے کی ذمہ داری کے خلاف ہوتی ہے۔ طغیانی اور سرکشی کی وجہ سے عوام الناس غلام اور ذلیل ہوجاتے ہیں ، ان کے اندر ایک خفیہ بغض اور حسد پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ غصہ اور حسد کو ہر وقت سینوں میں دبائے رکھتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کی شخصیت سے عزت نفس اور اعلیٰ انسانی شعور مٹ جاتا ہے ، اور ان میں سے تخلیقی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ تخلیقی عمل کے لئے آزادفضا کا ہونا ضروری ہے۔ اور جس سوسائٹی کو کوئی ڈکٹیٹر ذلیل کرکے رکھتا ہے وہ متعفن ہوجاتی ہے۔ اور ایک سڑی ہوئی سوسائٹی ہوتی ہے۔ اس میں لوگ اس طرح گری ہوئی زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح کیڑے مکوڑے ۔ زیادہ سے زیادہ وہ گری ہوئی عادتوں اور عیاشیوں کے رسیا ہوجاتے ہیں۔ ان کی قوائے عقل وخرد ماند پڑجاتی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں ایسے لوگوں کے اندرجرائم پیدا ہوجاتے ہیں۔ ان کو قوائے عقل وخردماند پڑجاتی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں ایسے لوگوں کے اندر جرائم پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے اندرخودداری ہمت ، بلندعزائم ، بلند نگاہی جیسی اعلیٰ صفات ختم ہوجاتی ہیں اور یہ ہے بہت عظیم بگاڑ۔ ڈکٹیٹر اور جبار ہمیشہ اعلیٰ قدروں اور سیدھی سوچ کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیتے ہیں۔ اس لئے اعلیٰ اقدار اور سیدھی سوچ کے نتیجے میں ان کے باطل اقتدار کو خطرہ ہوتا ہے۔ اس لئے جبار ہمیشہ لوگوں کے لئے کھوٹی قدریں وضع کرتے اور معاشروں میں فاسد پیمانے رائج کرتے ہیں اور غلط افکار و تصورات کو رائج کرکے خوشنما بناتے ہیں تاکہ لوگ ان کے عدوان اور قہاری وجباری کو قبول کریں۔ اور اسے ایک پاپولر اور مقبول اور مروج نظریہ سمجھیں۔ اور یہ ہے وہ بڑا فساد جس سے اور کوئی بڑا فساد نہیں ہے۔ اور جب یہ لوگ زمین کے اندر ہمہ جہت فساد پھیلادیتے ہیں ، اس لئے زمین کی تطہیر ضروری ہوجاتی ہے۔

الفجر 89:12

الذین ............................................ الفساد (12:89) ” یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں فساد پھیلایا تھا “۔ سرکشی کے بعد فساد ہی ہوتا ہے کیونکہ سرکشی ، سرکش شخص کو خراب کردیتی ہے۔ اسی طرح جو لوگ سرکشی اور ظلم کا شکار ہوتے ہیں وہ بھی فساد میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے اندر اخلاقی بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد اجتماعی زندگی کا ہر پہلو فساد کی زد میں آجاتا ہے اور زندگی اپنی صحت مند تعمیری اور پاکیزہ راستے سے ہٹ جاتی ہے اور ایسے راستوں پر پڑجاتی ہے جو انسان کی خلیفہ اللہ فی الارض ہونے کی ذمہ داری کے خلاف ہوتی ہے۔ طغیانی اور سرکشی کی وجہ سے عوام الناس غلام اور ذلیل ہوجاتے ہیں ، ان کے اندر ایک خفیہ بغض اور حسد پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ غصہ اور حسد کو ہر وقت سینوں میں دبائے رکھتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کی شخصیت سے عزت نفس اور اعلیٰ انسانی شعور مٹ جاتا ہے ، اور ان میں سے تخلیقی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ تخلیقی عمل کے لئے آزادفضا کا ہونا ضروری ہے۔ اور جس سوسائٹی کو کوئی ڈکٹیٹر ذلیل کرکے رکھتا ہے وہ متعفن ہوجاتی ہے۔ اور ایک سڑی ہوئی سوسائٹی ہوتی ہے۔ اس میں لوگ اس طرح گری ہوئی زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح کیڑے مکوڑے ۔ زیادہ سے زیادہ وہ گری ہوئی عادتوں اور عیاشیوں کے رسیا ہوجاتے ہیں۔ ان کی قوائے عقل وخرد ماند پڑجاتی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں ایسے لوگوں کے اندرجرائم پیدا ہوجاتے ہیں۔ ان کو قوائے عقل وخردماند پڑجاتی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں ایسے لوگوں کے اندر جرائم پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے اندرخودداری ہمت ، بلندعزائم ، بلند نگاہی جیسی اعلیٰ صفات ختم ہوجاتی ہیں اور یہ ہے بہت عظیم بگاڑ۔ ڈکٹیٹر اور جبار ہمیشہ اعلیٰ قدروں اور سیدھی سوچ کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیتے ہیں۔ اس لئے اعلیٰ اقدار اور سیدھی سوچ کے نتیجے میں ان کے باطل اقتدار کو خطرہ ہوتا ہے۔ اس لئے جبار ہمیشہ لوگوں کے لئے کھوٹی قدریں وضع کرتے اور معاشروں میں فاسد پیمانے رائج کرتے ہیں اور غلط افکار و تصورات کو رائج کرکے خوشنما بناتے ہیں تاکہ لوگ ان کے عدوان اور قہاری وجباری کو قبول کریں۔ اور اسے ایک پاپولر اور مقبول اور مروج نظریہ سمجھیں۔ اور یہ ہے وہ بڑا فساد جس سے اور کوئی بڑا فساد نہیں ہے۔ اور جب یہ لوگ زمین کے اندر ہمہ جہت فساد پھیلادیتے ہیں ، اس لئے زمین کی تطہیر ضروری ہوجاتی ہے۔

الفجر 89:13

فصب ................................ صاد (14:89) ” آخر کار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے “۔ تمہارے گھاس میں ہے اور وہ ان کے اعمال کو ریکارڈ کررہا ہے اور جب ان کا فساد حد سے زیادہ ہوگیا تو اللہ کا کوڑا بجنے لگتا ہے اور ان پر اس دنیا ہی میں عذاب الٰہی نازل ہونے کا عمل جاری ہوجاتا ہے۔ عذاب کے کوڑے سے مراد یہاں عذاب کی شدت اور چبھن ہے۔ مراد یہ ہے کہ اللہ کا عذاب بہت عام اور ہمہ گیر ہوتا ہے اور وہ ہر طرف سے ان سرکشوں پر انڈیل دیا جاتا ہے جس کے اندر درد چبھن اور گہرائی ہوتی ہے ، اور یہ ان سرکشوں کو لے ڈوبتا ہے۔ جنہوں نے اپنی سرکشیوں کی وجہ سے زمین کو فساد سے بھر دیا تھا۔ جباروں اور ڈکٹیٹروں کے اس انجام کو دیکھ کر ایسے اہل ایمان اور داعیان حق کے دلوں پر اطمینان کے فیوض نازل ہوجاتے ہیں ، جن کو اس قسم کے ظالموں اور سرکشوں سے واسطہ ہوتا ہے ، چاہے وہ جس زمان ومکان میں ہوں اور پھر قرآن کریم نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں۔

الفجر 89:14

ان ربک ........................ صاد (14:89) ” حقیقت ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے “۔ یعنی تمہارا رب حاضر وناصر ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے اور اس کی نظروں سے کوئی چیز اوجھل نہیں ہوتی۔ وہ نگرانی کررہا ہے اور اس کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ لہٰذا ایمان والوں کو چاہئے کہ وہ مطمئن ہوں ، ان کی مصیبتیں دور ہوں گی اس لئے کہ رب دیکھ رہا ہے اور وہ شر و فساد کا دفعیہ خود کرے گا اور قیامت میں سزا بھی دے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس دنیا میں دعوت اسلامی کو نہایت ہی عجیب طریقوں سے مدد دی جاتی ہے ہر جگہ اصحاب اخدود والا طریقہ پیش نہیں آتا۔ اسی طریقے کے مطابق قرآن دین کے لئے کام کرنے والوں کی اسی انداز سے تربیت کرتا ہے اور مختلف حالات اور مختلف ماحول میں مختلف انداز سے ان کی تربیت اور نصرت ہوتی رہتی ہے اور داعیان حق کے لئے اطمینان کا سامان ہوتا رہتا ہے۔ اہل ایمان دو باتوں کی توقع رکھتے ہیں اور اپنی جدوجہد کے بعد فیصلہ اور انجام اللہ کی مشیت کے حوالے کردیتے ہیں کہ وہ دیکھ رہا ہے۔ تمہارا رب گھات لگائے بیٹھا ہے۔ حاضروناظر ہے ، دیکھ رہا ہے ، حساب و کتاب تیار ہورہا ہے اور نہایت ہی صحیح اعمال نامے کی اساس پر وہ جزاء وسزادے گا۔ جس میں نہ غلطی ہوگی ، نہ ظلم ہوگا اور نہ وہ دنیا کے حساب کی طرح محض ظاہری حالات پر مبنی ہوگا بلکہ وہاں تو تمام امور کا فیصلہ حقائق کے مطابق ہوگا۔ رہا انسان تو دنیا میں اس کے موازنے بھی غلط ہوجاتے ہیں۔ اندازے بھی غلط ہوجاتے ہیں اور شہادتوں میں بھی وہ ظاہر پر فیصلہ کرتا ہے ، الایہ کہ وہ کوئی فیصلہ اللہ کی شریعت کے مطابق کرے اور اسلامی تصور حیات کے مطابق سوچے۔

الفجر 89:15

فاما الاانسان ............................ اھانن یہ تو ہے ، انسان کی سوچ ، ان حالات کے بارے میں جن سے وہ گزرتا ہے۔ کبھی وہ امیر ہوتا ہے ، کبھی غریب ہوتا ہے ، کبھی فراخی نصیب ہوتی ہے اور کبھی تنگی۔ کبھی اللہ اسے نعمتوں اور عزتوں سے آزماتا ہے کبھی جاہ مال سے اس کی آزمائش ہوتی ہے لیکن وہ سمجھ نہیں پاتا کہ یہ تو آزمائش ہورہی ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوا تو اسے جزاء ملے۔ لیکن اس کی سوچ یہ ہے کہ وہ مال ومتال کی فراخی اور عزت وجاہ سے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک اس مقام و مرتبہ کا مستحق ہے اور یہ دولت اور یہ عزت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے وہ آزمائش کو انعام سمجھتا ہے اور امتحان کو نتیجہ سمجھتا ہے۔ اور اللہ کے نزدیک عزت ومقام کو وہ اس دنیا کی عزت اور مقام پر قیاس کرتا ہے۔ اسی طرح ایسا شخص اگر غریب ہوجائے تو یہ سمجھتا ہے شاید اسے سزا دے دی گئی ہے۔ اور وہ آزمائش کو سزا سمجھتا ہے۔ اور اگر اللہ نے اس کے رزق میں کمی کردی ہے تو یہ اسے سزا اور توہین سمجھتا ہے۔ اس کی سوچ یوں ہے کہ اگر یہ توہین آمیز سلوک نہ ہوتا تو اللہ اسے غریب نہ بناتا۔ دونوں حالتوں میں ایسا سوچنے والا شخص غلطی پر ہوتا ہے۔ جس طرح اس کی سوچ غلط ہے اسی طرح اس کا اندازہ بھی غلط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ رزق کی تنگی بھی آزمائش ہے اور کشادگی بھی آزمائش ہے۔ کشادگی یوں آزمائش ہے کہ آیا اس پر وہ شکر ادا کرتا ہے یا دولت کو ظلم وسرکشی کا سبب بناتا ہے اور تنگی کی صورت میں آیا وہ صبر کرتا ہے یا ترش مزاجی کا اظہار کرتا ہے ۔ دونوں حالات میں اس کا جو رد عمل ہوگا اسی کے مطابق جزاء وسزا ہوگی۔ دنیا کا مال اور دنیا کی غربت بذات خود نہ جزاء ہیں اور نہ سزا ہیں۔ اللہ کے بندوں کو ان کی دولت کی بنا پر نہیں تولا جاتا۔ نہ اس دنیا میں اللہ کی طرف نعمت کا عطا ہونا یا منع کیا جانا علامت ہے اللہ کی رضامندی کی یا اللہ کی طرف سے ناراضگی کی۔ اللہ تو نیکوکاروں کو بھی دیتا ہے اور بدکاروں کو بھی دیتا ہے ، اور نیکوکاروں سے منع بھی کرتا ہے اور عطا بھی کرتا ہے۔ انسان کا قلب ایمان سے خالی ہوتا ہے ، تو وہ اللہ کی جانب سے دین یا محروم کرنے کی حکمت کو نہیں سمجھ پاتا۔ اور نہوہ اللہ کے ہاں مقرر کردہ حسن وقبح کے پیمانوں کو سمجھتا ہے اور جب کسی کا دل ایمان سے بھر جاتا ہے تو وہ خدا رسیدہ ہوتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے میزان میں کیا چیزوزن دار ہے۔ اس لئے ایسے شخص کے نزدیک دنیا کی کم قیمت منافع ہلکے ہوجاتے ہیں اور وہ جانتا ہے کہ آزمائش کے نتیجے میں جزاء ملیت ہے تو وہ رزق کی کشادگی اور تنگی دونوں حالتوں میں قیامت کے لئے کام کرتا ہے اور دونوں حالتوں میں تقدیر الٰہی پر مطمئن ہوتا ہے اور دنیا کی ظاہری ٹھاٹھ باٹھ کے بغیر بھی اللہ کے ہاں جو اقدار وزن دار ہیں ان کو سمجھتا ہے اور دنیا کی بےوزن قدریں اسے ہیچ نظر آتی ہیں۔ قرآن کریم کے براہ راست مخاطب مکہ کے لوگو تھے۔ ایسے لوگ ہر سوسائٹی میں پائے جاتے ہیں۔ ان کا قصور یہ ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا سے وسیع تر دنیا اور بڑی دنیا کا تصور نہیں کرپاتے۔ یہ ایسے لوگ تھے جو تنگی رزق اور کشادگی رزق کے بارے میں اور اللہ کے بارے میں یہ تصور رکھتے تھے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ وہ اپنی اس سوچ کے مطابق اس زمین پر لوگوں کی قدروقمیت متعین کرتے تھے۔ خلاصہ یہ کہ ان کے نزدیک مال وجاہ ہی سب کچھ تھا۔ اس سے آگے ان کے نزدیک کوئی پیمانہ نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دولت کے پیچھے مرتے تھے اور مال کی محبت میں حد سے گزر جاتے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ بےحد لالچی اور ہر کسی سے فائدے کی امید اپنے دل میں لئے ہوئے تھے ، اور اس جذبہ کی وجہ سے یہ لوگ سخت لالچی ہوگئے تھے۔ چناچہ اللہ یہاں ان لوگوں کی دلی حالت کو ذرا کھولتا ہے اور بتاتا ہے کہ مال و دولت کی یہ لالچ جو ان کے دلوں میں رچی بسی ہے ، وہ اس وجہ سے کہ مال و دولت کے بارے میں ان کی سوچ غلط ہے۔ یہ نہیں سمجھتے کہ مال و دولت نعمت ہی نہیں بلکہ آزمائش بھی ہے۔ اسی طرح غربت بھی مصیبت ہی نہیں بلکہ آزمائش ہے۔

الفجر 89:16

فاما الاانسان ............................ اھانن یہ تو ہے ، انسان کی سوچ ، ان حالات کے بارے میں جن سے وہ گزرتا ہے۔ کبھی وہ امیر ہوتا ہے ، کبھی غریب ہوتا ہے ، کبھی فراخی نصیب ہوتی ہے اور کبھی تنگی۔ کبھی اللہ اسے نعمتوں اور عزتوں سے آزماتا ہے کبھی جاہ مال سے اس کی آزمائش ہوتی ہے لیکن وہ سمجھ نہیں پاتا کہ یہ تو آزمائش ہورہی ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوا تو اسے جزاء ملے۔ لیکن اس کی سوچ یہ ہے کہ وہ مال ومتال کی فراخی اور عزت وجاہ سے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک اس مقام و مرتبہ کا مستحق ہے اور یہ دولت اور یہ عزت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے وہ آزمائش کو انعام سمجھتا ہے اور امتحان کو نتیجہ سمجھتا ہے۔ اور اللہ کے نزدیک عزت ومقام کو وہ اس دنیا کی عزت اور مقام پر قیاس کرتا ہے۔ اسی طرح ایسا شخص اگر غریب ہوجائے تو یہ سمجھتا ہے شاید اسے سزا دے دی گئی ہے۔ اور وہ آزمائش کو سزا سمجھتا ہے۔ اور اگر اللہ نے اس کے رزق میں کمی کردی ہے تو یہ اسے سزا اور توہین سمجھتا ہے۔ اس کی سوچ یوں ہے کہ اگر یہ توہین آمیز سلوک نہ ہوتا تو اللہ اسے غریب نہ بناتا۔ دونوں حالتوں میں ایسا سوچنے والا شخص غلطی پر ہوتا ہے۔ جس طرح اس کی سوچ غلط ہے اسی طرح اس کا اندازہ بھی غلط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ رزق کی تنگی بھی آزمائش ہے اور کشادگی بھی آزمائش ہے۔ کشادگی یوں آزمائش ہے کہ آیا اس پر وہ شکر ادا کرتا ہے یا دولت کو ظلم وسرکشی کا سبب بناتا ہے اور تنگی کی صورت میں آیا وہ صبر کرتا ہے یا ترش مزاجی کا اظہار کرتا ہے ۔ دونوں حالات میں اس کا جو رد عمل ہوگا اسی کے مطابق جزاء وسزا ہوگی۔ دنیا کا مال اور دنیا کی غربت بذات خود نہ جزاء ہیں اور نہ سزا ہیں۔ اللہ کے بندوں کو ان کی دولت کی بنا پر نہیں تولا جاتا۔ نہ اس دنیا میں اللہ کی طرف نعمت کا عطا ہونا یا منع کیا جانا علامت ہے اللہ کی رضامندی کی یا اللہ کی طرف سے ناراضگی کی۔ اللہ تو نیکوکاروں کو بھی دیتا ہے اور بدکاروں کو بھی دیتا ہے ، اور نیکوکاروں سے منع بھی کرتا ہے اور عطا بھی کرتا ہے۔ انسان کا قلب ایمان سے خالی ہوتا ہے ، تو وہ اللہ کی جانب سے دین یا محروم کرنے کی حکمت کو نہیں سمجھ پاتا۔ اور نہوہ اللہ کے ہاں مقرر کردہ حسن وقبح کے پیمانوں کو سمجھتا ہے اور جب کسی کا دل ایمان سے بھر جاتا ہے تو وہ خدا رسیدہ ہوتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے میزان میں کیا چیزوزن دار ہے۔ اس لئے ایسے شخص کے نزدیک دنیا کی کم قیمت منافع ہلکے ہوجاتے ہیں اور وہ جانتا ہے کہ آزمائش کے نتیجے میں جزاء ملیت ہے تو وہ رزق کی کشادگی اور تنگی دونوں حالتوں میں قیامت کے لئے کام کرتا ہے اور دونوں حالتوں میں تقدیر الٰہی پر مطمئن ہوتا ہے اور دنیا کی ظاہری ٹھاٹھ باٹھ کے بغیر بھی اللہ کے ہاں جو اقدار وزن دار ہیں ان کو سمجھتا ہے اور دنیا کی بےوزن قدریں اسے ہیچ نظر آتی ہیں۔ قرآن کریم کے براہ راست مخاطب مکہ کے لوگو تھے۔ ایسے لوگ ہر سوسائٹی میں پائے جاتے ہیں۔ ان کا قصور یہ ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا سے وسیع تر دنیا اور بڑی دنیا کا تصور نہیں کرپاتے۔ یہ ایسے لوگ تھے جو تنگی رزق اور کشادگی رزق کے بارے میں اور اللہ کے بارے میں یہ تصور رکھتے تھے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ وہ اپنی اس سوچ کے مطابق اس زمین پر لوگوں کی قدروقمیت متعین کرتے تھے۔ خلاصہ یہ کہ ان کے نزدیک مال وجاہ ہی سب کچھ تھا۔ اس سے آگے ان کے نزدیک کوئی پیمانہ نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دولت کے پیچھے مرتے تھے اور مال کی محبت میں حد سے گزر جاتے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ بےحد لالچی اور ہر کسی سے فائدے کی امید اپنے دل میں لئے ہوئے تھے ، اور اس جذبہ کی وجہ سے یہ لوگ سخت لالچی ہوگئے تھے۔ چناچہ اللہ یہاں ان لوگوں کی دلی حالت کو ذرا کھولتا ہے اور بتاتا ہے کہ مال و دولت کی یہ لالچ جو ان کے دلوں میں رچی بسی ہے ، وہ اس وجہ سے کہ مال و دولت کے بارے میں ان کی سوچ غلط ہے۔ یہ نہیں سمجھتے کہ مال و دولت نعمت ہی نہیں بلکہ آزمائش بھی ہے۔ اسی طرح غربت بھی مصیبت ہی نہیں بلکہ آزمائش ہے۔

الفجر 89:17

کلا بل ........................................ حباجما بات یوں نہیں جس طرح ایمان سے خالی انسان سوچتا ہے۔ محض یہ کہ کسی کو کشادہ رزق دیا گیا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک کرامت والی بات نہیں ہے ، اور نہ تنگی رزق اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے شخص کی اللہ کے ہاں کوئی قدر نہیں ہے اور اسے اللہ نے چھوڑ دیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم دولت کا حق ادا نہیں کرتے اور مال سے حقوق نہیں نکالتے۔ تم لوگ یتیم کی کفالت بھی نہیں کرتے ، جو اپنے والدین اور اولیاء اور سرپرستوں سے محروم ہوگیا ہے۔ اسی طرح معاشرے کے اندر موجود ناداروں کی معاشی کفالت کے لئے کوئی بندوبست نہیں کرتے۔ مسکین کے معنی ہیں وہ شخص جو ساکن ہے ، سکون سے بیٹھا ہے اور اور لوگوں سے مانگتا نہیں پھرتا۔ یہاں یہ کہا گیا کہ یتیموں اور مسکینوں کے کھانے یعنی معاشی ضروریات فراہم کرنے کے لئے دوسروں کو نہیں ابھارتا۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسلامی نظام میں ناداروں کی کفالت کے لئے ایک عام تحریک ہوتی ہے ، عام لوگوں کی بھلائی کے لئے لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھتے اور ایک دوسرے کو آمادہ کرتے ہیں۔ ناداروں کی کفالت اسلام کی خصوصیت ہے۔ تم لوگ ابتلا کا مفہوم سمجھتے ہو۔ نہ اس آزمائش میں کامیاب ہونا چاہتے ہو ، حالانکہ اس آزمائش میں کامیابی کی راہ یہ ہے کہ یتیم کی عزت کرو ، ایک دوسرے کو یہ وصیت اور تلقین کرو کہ یتیموں کو کھانا کھلایا جائے بلکہ تم اس کے برعکس صورت اختیار کرتے رہو۔ تم لوگ نہایت لالچ کے ساتھ پوری کی پوری میراث ہڑپ کر جاتے ہو ، اور تم مال کی بھرپور محبت کرتے ہو ، جو کسی حد تک محدود نہیں ہے۔ مال کے معاملے میں تمہارے اندر کوئی خودداری ، کوئی وضع داری نہیں ہے۔ اور تم محتاجوں کی نہ عزت کرتے ہو اور نہ ان کی حاجت براری کرتے ہو۔ جیسا کہ ہم نے اس سے قبل تفصیلات دی ہیں ، مکہ میں ایسی صورت حال تھی کہ لوگ بےحد لالچی اور مفادات کے پیچھے کتوں کی طرح بھاگنے والے تھے ، اور ہر طریقے سے دولت سمیٹتے تھے ، جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں بخل اور سنگدلی پیدا ہوگئی تھی۔ یتیم چونکہ بےسہارا ہوتے تھے اس لئے ان کے مال ہڑپ کرلیے جاتے تھے۔ خصوصاً یتیم عورت کے۔ پھر ان کو میراث سے محروم کردیتے تھے جیسا کہ متعدد مقامات پر ہم نے تفصیلات دی ہیں۔ ان ہتھکنڈوں کے علاوہ سودی کاروبار کے ذریعہ بھی اہل مکہ رات دن دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ یہ بات یہاں نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ دولت کی پرستش ہر جاہلیت کی خصوصیت ہوتی ہے جہاں بھی ہو اور جب بھی ہو۔ ان آیات میں نہ صرف یہ کہ ان کے موقف کو اچھی طرح بیان کیا گیا ہے بلکہ ان کی مذمت بھی کی گئی ہے اور اس صورت حال کو بڑی سختی سے ناقابل برداشت بنایا گیا ہے اور اس کے لئے لفظ ” کلا “ استعمال کیا گیا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ آیات کے انداز بیان اور زودار تعبیر اور الفاظ کے زبردست لہجے سے بھی اس صورت حالات کی مذمت نکلتی ہے۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔

الفجر 89:18

کلا بل ........................................ حباجما بات یوں نہیں جس طرح ایمان سے خالی انسان سوچتا ہے۔ محض یہ کہ کسی کو کشادہ رزق دیا گیا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک کرامت والی بات نہیں ہے ، اور نہ تنگی رزق اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے شخص کی اللہ کے ہاں کوئی قدر نہیں ہے اور اسے اللہ نے چھوڑ دیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم دولت کا حق ادا نہیں کرتے اور مال سے حقوق نہیں نکالتے۔ تم لوگ یتیم کی کفالت بھی نہیں کرتے ، جو اپنے والدین اور اولیاء اور سرپرستوں سے محروم ہوگیا ہے۔ اسی طرح معاشرے کے اندر موجود ناداروں کی معاشی کفالت کے لئے کوئی بندوبست نہیں کرتے۔ مسکین کے معنی ہیں وہ شخص جو ساکن ہے ، سکون سے بیٹھا ہے اور اور لوگوں سے مانگتا نہیں پھرتا۔ یہاں یہ کہا گیا کہ یتیموں اور مسکینوں کے کھانے یعنی معاشی ضروریات فراہم کرنے کے لئے دوسروں کو نہیں ابھارتا۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسلامی نظام میں ناداروں کی کفالت کے لئے ایک عام تحریک ہوتی ہے ، عام لوگوں کی بھلائی کے لئے لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھتے اور ایک دوسرے کو آمادہ کرتے ہیں۔ ناداروں کی کفالت اسلام کی خصوصیت ہے۔ تم لوگ ابتلا کا مفہوم سمجھتے ہو۔ نہ اس آزمائش میں کامیاب ہونا چاہتے ہو ، حالانکہ اس آزمائش میں کامیابی کی راہ یہ ہے کہ یتیم کی عزت کرو ، ایک دوسرے کو یہ وصیت اور تلقین کرو کہ یتیموں کو کھانا کھلایا جائے بلکہ تم اس کے برعکس صورت اختیار کرتے رہو۔ تم لوگ نہایت لالچ کے ساتھ پوری کی پوری میراث ہڑپ کر جاتے ہو ، اور تم مال کی بھرپور محبت کرتے ہو ، جو کسی حد تک محدود نہیں ہے۔ مال کے معاملے میں تمہارے اندر کوئی خودداری ، کوئی وضع داری نہیں ہے۔ اور تم محتاجوں کی نہ عزت کرتے ہو اور نہ ان کی حاجت براری کرتے ہو۔ جیسا کہ ہم نے اس سے قبل تفصیلات دی ہیں ، مکہ میں ایسی صورت حال تھی کہ لوگ بےحد لالچی اور مفادات کے پیچھے کتوں کی طرح بھاگنے والے تھے ، اور ہر طریقے سے دولت سمیٹتے تھے ، جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں بخل اور سنگدلی پیدا ہوگئی تھی۔ یتیم چونکہ بےسہارا ہوتے تھے اس لئے ان کے مال ہڑپ کرلیے جاتے تھے۔ خصوصاً یتیم عورت کے۔ پھر ان کو میراث سے محروم کردیتے تھے جیسا کہ متعدد مقامات پر ہم نے تفصیلات دی ہیں۔ ان ہتھکنڈوں کے علاوہ سودی کاروبار کے ذریعہ بھی اہل مکہ رات دن دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ یہ بات یہاں نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ دولت کی پرستش ہر جاہلیت کی خصوصیت ہوتی ہے جہاں بھی ہو اور جب بھی ہو۔ ان آیات میں نہ صرف یہ کہ ان کے موقف کو اچھی طرح بیان کیا گیا ہے بلکہ ان کی مذمت بھی کی گئی ہے اور اس صورت حال کو بڑی سختی سے ناقابل برداشت بنایا گیا ہے اور اس کے لئے لفظ ” کلا “ استعمال کیا گیا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ آیات کے انداز بیان اور زودار تعبیر اور الفاظ کے زبردست لہجے سے بھی اس صورت حالات کی مذمت نکلتی ہے۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔

الفجر 89:19

وتاکلون ............................ حبا جما (20:89) ” اور میراث کا سرا مال سمیٹ کر کھاجاتے ہو ، اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو “۔ یہاں تک کہ ان کی ناپسندیدہ حالات کی تصویر کشی کردی گئی اور امارت اور غربت کے بارے میں ان کے غلط تصور کی تردید کردی گئی۔ اب ان کو قیامت کی حقیقت اور اس کے مرعوب کن حالات اور آزمائش کے نتائج اور جزاء وسزا اور حساب و کتاب کے مناظر کو نہایت ہی زور دار الفاظ میں لایا جاتا ہے۔

الفجر 89:20

وتاکلون ............................ حبا جما (20:89) ” اور میراث کا سرا مال سمیٹ کر کھاجاتے ہو ، اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو “۔ یہاں تک کہ ان کی ناپسندیدہ حالات کی تصویر کشی کردی گئی اور امارت اور غربت کے بارے میں ان کے غلط تصور کی تردید کردی گئی۔ اب ان کو قیامت کی حقیقت اور اس کے مرعوب کن حالات اور آزمائش کے نتائج اور جزاء وسزا اور حساب و کتاب کے مناظر کو نہایت ہی زور دار الفاظ میں لایا جاتا ہے۔

الفجر 89:21

کلااذا ................................ وثاقہ احد دکت الارض (21:89) زمین کو کاٹا جائے گا “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نشانات مٹا کر اسے برابر کردیاجائے گا۔ یہ ان انقلابات میں سے ایک ہے جو قیامت کے وقوع کے وقت اس کائنات میں برپا ہوں گے رہی یہ بات کہ رب تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا اور فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے تو یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کو اس وقت تک ہم سمجھ نہیں سکتے ، کیونکہ ابھی ہم اس دنیا میں ہیں اور ہماری قوت ادراک محدود ہے۔ البتہ اس انداز تعبیر سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ بہت ہی ہیبت ناک اور خوفناک صورت حال ہوگی۔ اسی طرح جہنم کو لایا جانا پوری طرح ہماری فہم سے دور ہے۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ مجرم اس کے قریب ہوجائیں گے اور وہ اہل جہنم سے قریب ہوجائے گی۔ رہی اصل کیفیت اور صورت حالات تو وہ ایک غیبی امر ہے اور یہ اسی دن اچھی طرح معلوم ہوگی جب برپا ہوگی۔ ان آیات کے ذریعہ ایک ایسی منظر کی تصویر کشی کی گئی ہے جس سے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ آنکھیں سہم کر جھک جاتی ہیں۔ الفاظ کا تلفظ اور ترنم بھی خوفناک ہے اور مناظر کی شدید گرفت ہے۔ زمین کا ریزہ ریزہ کردیا جانا۔ رب تعالیٰ کا نزول و جلال اور فیصلے کرنا فرشتوں کا صف بستہ کھڑے ہونا اور جہنم کا تیار کرکے حاضر کردیاجانا ، ایسے مناظر ہیں جن کی وجہ سے انسان پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔ یومئذ ................ الانسان (23:89) ” اس دن بات انسان کی سمجھ میں آجائے گی “۔ وہ انسان اصل حقیقت کو سمجھ جائے گا جو اس جہاں میں امیری اور غریبی کی حقیقت کو بھی سمجھ نہ پارہا تھا۔ جو میراث کا تمام مال سمیٹ کر کھا جاتا تھا۔ اور یتیموں اور عورتوں کا حق بھی مار لیتا تھا۔ اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار تھا۔ نہ یتیم کا اکرام کرتا تھا اور نہ مساکین کی معیشت کے لئے کوئی دوڑ دھوپ کرتا تھا۔ جو سرکش تھا اور جس نے اپنی دولت اور اقتدار کے بل بوتے پر زمین کو فساد سے بھردیتا تھا۔ ایسا شخص آج سب کچھ سمجھ لے گا اور وہ نصیحت کو اچھی طرح قبول کرلے گا لیکن اب تو وقت جاچکا ہے۔ وانی لہ الذکری (23:89) ” لیکن اس وقت اس کے سمجھنے کا کیا حاصل ؟ “ نصیحت لینے اور عمل کرنے کا وقت تو جاچکا ہے۔ آج نصیحت کیا فائدہ دے گی۔ یہ تو دارالجزاء ہے ۔ اب تو حسرت ہی حسرت ہے۔ تمہارے لئے دارالعمل تو دنیا کی زندگی تھی جہاں تم نہ سمجھے اور نہ عمل کیا۔

الفجر 89:22

کلااذا ................................ وثاقہ احد دکت الارض (21:89) زمین کو کاٹا جائے گا “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نشانات مٹا کر اسے برابر کردیاجائے گا۔ یہ ان انقلابات میں سے ایک ہے جو قیامت کے وقوع کے وقت اس کائنات میں برپا ہوں گے رہی یہ بات کہ رب تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا اور فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے تو یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کو اس وقت تک ہم سمجھ نہیں سکتے ، کیونکہ ابھی ہم اس دنیا میں ہیں اور ہماری قوت ادراک محدود ہے۔ البتہ اس انداز تعبیر سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ بہت ہی ہیبت ناک اور خوفناک صورت حال ہوگی۔ اسی طرح جہنم کو لایا جانا پوری طرح ہماری فہم سے دور ہے۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ مجرم اس کے قریب ہوجائیں گے اور وہ اہل جہنم سے قریب ہوجائے گی۔ رہی اصل کیفیت اور صورت حالات تو وہ ایک غیبی امر ہے اور یہ اسی دن اچھی طرح معلوم ہوگی جب برپا ہوگی۔ ان آیات کے ذریعہ ایک ایسی منظر کی تصویر کشی کی گئی ہے جس سے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ آنکھیں سہم کر جھک جاتی ہیں۔ الفاظ کا تلفظ اور ترنم بھی خوفناک ہے اور مناظر کی شدید گرفت ہے۔ زمین کا ریزہ ریزہ کردیا جانا۔ رب تعالیٰ کا نزول و جلال اور فیصلے کرنا فرشتوں کا صف بستہ کھڑے ہونا اور جہنم کا تیار کرکے حاضر کردیاجانا ، ایسے مناظر ہیں جن کی وجہ سے انسان پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔ یومئذ ................ الانسان (23:89) ” اس دن بات انسان کی سمجھ میں آجائے گی “۔ وہ انسان اصل حقیقت کو سمجھ جائے گا جو اس جہاں میں امیری اور غریبی کی حقیقت کو بھی سمجھ نہ پارہا تھا۔ جو میراث کا تمام مال سمیٹ کر کھا جاتا تھا۔ اور یتیموں اور عورتوں کا حق بھی مار لیتا تھا۔ اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار تھا۔ نہ یتیم کا اکرام کرتا تھا اور نہ مساکین کی معیشت کے لئے کوئی دوڑ دھوپ کرتا تھا۔ جو سرکش تھا اور جس نے اپنی دولت اور اقتدار کے بل بوتے پر زمین کو فساد سے بھردیتا تھا۔ ایسا شخص آج سب کچھ سمجھ لے گا اور وہ نصیحت کو اچھی طرح قبول کرلے گا لیکن اب تو وقت جاچکا ہے۔ وانی لہ الذکری (23:89) ” لیکن اس وقت اس کے سمجھنے کا کیا حاصل ؟ “ نصیحت لینے اور عمل کرنے کا وقت تو جاچکا ہے۔ آج نصیحت کیا فائدہ دے گی۔ یہ تو دارالجزاء ہے ۔ اب تو حسرت ہی حسرت ہے۔ تمہارے لئے دارالعمل تو دنیا کی زندگی تھی جہاں تم نہ سمجھے اور نہ عمل کیا۔

الفجر 89:23

کلااذا ................................ وثاقہ احد دکت الارض (21:89) زمین کو کاٹا جائے گا “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نشانات مٹا کر اسے برابر کردیاجائے گا۔ یہ ان انقلابات میں سے ایک ہے جو قیامت کے وقوع کے وقت اس کائنات میں برپا ہوں گے رہی یہ بات کہ رب تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا اور فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے تو یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کو اس وقت تک ہم سمجھ نہیں سکتے ، کیونکہ ابھی ہم اس دنیا میں ہیں اور ہماری قوت ادراک محدود ہے۔ البتہ اس انداز تعبیر سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ بہت ہی ہیبت ناک اور خوفناک صورت حال ہوگی۔ اسی طرح جہنم کو لایا جانا پوری طرح ہماری فہم سے دور ہے۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ مجرم اس کے قریب ہوجائیں گے اور وہ اہل جہنم سے قریب ہوجائے گی۔ رہی اصل کیفیت اور صورت حالات تو وہ ایک غیبی امر ہے اور یہ اسی دن اچھی طرح معلوم ہوگی جب برپا ہوگی۔ ان آیات کے ذریعہ ایک ایسی منظر کی تصویر کشی کی گئی ہے جس سے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ آنکھیں سہم کر جھک جاتی ہیں۔ الفاظ کا تلفظ اور ترنم بھی خوفناک ہے اور مناظر کی شدید گرفت ہے۔ زمین کا ریزہ ریزہ کردیا جانا۔ رب تعالیٰ کا نزول و جلال اور فیصلے کرنا فرشتوں کا صف بستہ کھڑے ہونا اور جہنم کا تیار کرکے حاضر کردیاجانا ، ایسے مناظر ہیں جن کی وجہ سے انسان پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔ یومئذ ................ الانسان (23:89) ” اس دن بات انسان کی سمجھ میں آجائے گی “۔ وہ انسان اصل حقیقت کو سمجھ جائے گا جو اس جہاں میں امیری اور غریبی کی حقیقت کو بھی سمجھ نہ پارہا تھا۔ جو میراث کا تمام مال سمیٹ کر کھا جاتا تھا۔ اور یتیموں اور عورتوں کا حق بھی مار لیتا تھا۔ اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار تھا۔ نہ یتیم کا اکرام کرتا تھا اور نہ مساکین کی معیشت کے لئے کوئی دوڑ دھوپ کرتا تھا۔ جو سرکش تھا اور جس نے اپنی دولت اور اقتدار کے بل بوتے پر زمین کو فساد سے بھردیتا تھا۔ ایسا شخص آج سب کچھ سمجھ لے گا اور وہ نصیحت کو اچھی طرح قبول کرلے گا لیکن اب تو وقت جاچکا ہے۔ وانی لہ الذکری (23:89) ” لیکن اس وقت اس کے سمجھنے کا کیا حاصل ؟ “ نصیحت لینے اور عمل کرنے کا وقت تو جاچکا ہے۔ آج نصیحت کیا فائدہ دے گی۔ یہ تو دارالجزاء ہے ۔ اب تو حسرت ہی حسرت ہے۔ تمہارے لئے دارالعمل تو دنیا کی زندگی تھی جہاں تم نہ سمجھے اور نہ عمل کیا۔

الفجر 89:24

یقول .................... لحیاتی (24:89) ” وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا “۔ کچھ کمائی کرکے اس جہاں کے لئے جمع کی ہوتی ، حقیقی زندگی تو یہ ہے جسے زندگی کہا جاسکتا ہے۔ تیاریاں اور کمائی اور ذخیرہ تو اس زندگی کے لئے ضروری تھا ، اے کاش کہ میں نے کچھ کیا ہوتا ! یہ ہوگی حسرت ناک تمنا۔ اور وہاں انسان ان حسرتناک تمناﺅں کے سوا اور کر کیا سکے گا۔ ان دل دوز حسرتوں اور بےکار تمناﺅں کے بعد اب اس کا انجام مختصراً یہ ہوگا۔

الفجر 89:25

فیومئذ ............................ احد (26:89) پھر اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں ، اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں “۔ اللہ قہار وجبار ہے۔ وہ اس دن ایسا عذاب دے گا جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اور اس دن اس کے باندھنے کا انداز بھی ایسا ہوگا جیسا انداز یہاں متصور نہیں ہے۔ اور اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب کے مناظر قرآن کریم نے بڑی کثرت ، نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیے ہیں۔ یہاں صرف یہ کہہ دیا گیا ہے کہ وہ عذاب بھی منفرد ہوگا اور وہ گرفتاری بھی منفرد ہوگی اور ایسی ہوگی کہ اس جہاں میں ان کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اور یہ صورت حال ان صورتوں کے بالمقابل ہے جو اس سورت میں عاد ، ثمود اور فرعون کی پکڑ ، ان کے مظالم ، ان کی جباری اور ان کے شروفساد کی بتائی گئی ہیں کہ وہ لوگوں کو پکڑتے تھے اور ظلم کرتے تھے تو اے نبی اور اے اہل ایمان جو لوگ یہاں مسلمانوں مظالم کرتے رہے ہیں یا کر رہرے ہیں اور ان پر تشدد کرتے رہے ہیں ۔ ان کا حال قیامت میں ایسا ہوگا اور اللہ کے ذاب اور پکڑ اور مخلوق کے عذاب اور پکڑ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دنیا کے لوگ جو عذاب دیتے ہیں اور تشدد کرتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں۔ بمقابلہ اس کے جس سے یہ لوگ دوچار ہونے والے ہیں۔ لہٰذا یہ لوگ جو چاہیں ، کریں۔ لیکن یادرکھیں کہ ان کا حشر بہت برا ہونے والا ہے جو ہماری تصور سے بھی بہت بڑا ہے۔ ایسے ہولناک مناظر میں ، شدید پکڑ اور شدید عذاب کے مناظر میں ، جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ، ایک پکار آتی ہے۔ یہ نفس مطمتنہ کے نام ہے اور ملاء اعلیٰ سے ہے۔

الفجر 89:26

فیومئذ ............................ احد (26:89) پھر اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں ، اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں “۔ اللہ قہار وجبار ہے۔ وہ اس دن ایسا عذاب دے گا جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اور اس دن اس کے باندھنے کا انداز بھی ایسا ہوگا جیسا انداز یہاں متصور نہیں ہے۔ اور اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب کے مناظر قرآن کریم نے بڑی کثرت ، نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیے ہیں۔ یہاں صرف یہ کہہ دیا گیا ہے کہ وہ عذاب بھی منفرد ہوگا اور وہ گرفتاری بھی منفرد ہوگی اور ایسی ہوگی کہ اس جہاں میں ان کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اور یہ صورت حال ان صورتوں کے بالمقابل ہے جو اس سورت میں عاد ، ثمود اور فرعون کی پکڑ ، ان کے مظالم ، ان کی جباری اور ان کے شروفساد کی بتائی گئی ہیں کہ وہ لوگوں کو پکڑتے تھے اور ظلم کرتے تھے تو اے نبی اور اے اہل ایمان جو لوگ یہاں مسلمانوں مظالم کرتے رہے ہیں یا کر رہرے ہیں اور ان پر تشدد کرتے رہے ہیں ۔ ان کا حال قیامت میں ایسا ہوگا اور اللہ کے ذاب اور پکڑ اور مخلوق کے عذاب اور پکڑ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دنیا کے لوگ جو عذاب دیتے ہیں اور تشدد کرتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں۔ بمقابلہ اس کے جس سے یہ لوگ دوچار ہونے والے ہیں۔ لہٰذا یہ لوگ جو چاہیں ، کریں۔ لیکن یادرکھیں کہ ان کا حشر بہت برا ہونے والا ہے جو ہماری تصور سے بھی بہت بڑا ہے۔ ایسے ہولناک مناظر میں ، شدید پکڑ اور شدید عذاب کے مناظر میں ، جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ، ایک پکار آتی ہے۔ یہ نفس مطمتنہ کے نام ہے اور ملاء اعلیٰ سے ہے۔

الفجر 89:27

یایتھا ........................................ جنتی کس قدر پر محبت ، مکمل یگانگت اور قرب کا ماحول ہے ! اے نفس مطمنتہ کس قدر روحانیت اور کس قدر تکریم اور عزت افزائی ہے۔ اس پکار میں۔ یایھا ................ المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ جبکہ دوسری طرف بےمثال پکڑ دھکڑ شروع ہے ، بےمثال اور ناقابل تصور عذاب دیا جارہا ہے ، شدید ماحول ہے ، اس شدید ماحول میں ، یہ نرم اور پر محبت پکار ! ارجعی الی ربک (28:89) ” چل اپنے رب کی طرف “۔ چل اپنے اصل سرچشمے کی طرف ، اپنے اصل گہوارے کی طرف ، جو زمین کے اندر دوڑ رہا ہے ، لوٹ اب اپنے رب کی طرف ، تمہارے اور رب کے درمیان ایک خاص تعلق ہے ، ایک خاص نسبت ہے ، ایک خاص شناسائی ہے۔ راضیة مرضیة (28:89) ” تو بھی خوش ہے اور اللہ بھی تجھ سے خوش ہے “۔ ماحول پر اس خوشگوار اعلان سے محبت ورضا کے فیوض طاری ہوجاتے ہیں۔ “ فادخلی فی عبادی (29:89) ” میرے بندوں میں داخل ہوجا “۔ جو میرے قریب ومختار بندے ہیں اور تو بھی یہ قرب پالے۔ وادخلی جنتی (30:89) ” اور میری جنت میں داخل ہوجا ! “۔ میری حمایت میں اور میری رحمت میں۔ ان آیات میں جو محبت و شفقت ہے ، آغاز ہی سے ان میں جنت کی بادنیم محسوس ہوتی ہے۔ یایھا النفس المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ کے الفاظ ہی سے یہ ہوا چلنا شروع ہوتی ہے۔ یہ کون سانفس ہے جو مطمئن ہے ؟ جو رب مطمئن ہے ، جو راہ حق پر مطمئن ہے اور گامزن ہے ، اس راہ پر اسے جو کچھ پیش آئے اس پر مطمئن ہے ، جو امیری میں بھی مطمئن ہے اور غریبی میں بھی۔ وہ دولت یقین سے مطمئن ہے ، اس لئے اپنی راہ نہیں چھوڑتا۔ نہ راستے پر تھک ہار کر رکتا ہے ، جو اس دنیا میں بھی مطمئن ہے اور قیامت کی ہولناکیوں میں بھی مطمئن ہے۔ ان آیات میں جو پکار ہے ان کی فضا خوشنودی ، رضا اور طمانیت پر اللہ کی برکات وفیوض سے بھر پور ہے۔ الفاظ کا ترنم ، معانی کا قرب وسکینت سے بھر پور ہونا اس پکار کی فضا ہے۔ یہ جنت کی فضا ہے۔ اور یہ فضا ان آیات کے الفاظ ومعانی سے چھلکتی اور ٹپکتی ہے۔ اور اس پر خدائے رحمن ورحیم کی تجلیات کا پرتو ہے۔

الفجر 89:28

یایتھا ........................................ جنتی کس قدر پر محبت ، مکمل یگانگت اور قرب کا ماحول ہے ! اے نفس مطمنتہ کس قدر روحانیت اور کس قدر تکریم اور عزت افزائی ہے۔ اس پکار میں۔ یایھا ................ المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ جبکہ دوسری طرف بےمثال پکڑ دھکڑ شروع ہے ، بےمثال اور ناقابل تصور عذاب دیا جارہا ہے ، شدید ماحول ہے ، اس شدید ماحول میں ، یہ نرم اور پر محبت پکار ! ارجعی الی ربک (28:89) ” چل اپنے رب کی طرف “۔ چل اپنے اصل سرچشمے کی طرف ، اپنے اصل گہوارے کی طرف ، جو زمین کے اندر دوڑ رہا ہے ، لوٹ اب اپنے رب کی طرف ، تمہارے اور رب کے درمیان ایک خاص تعلق ہے ، ایک خاص نسبت ہے ، ایک خاص شناسائی ہے۔ راضیة مرضیة (28:89) ” تو بھی خوش ہے اور اللہ بھی تجھ سے خوش ہے “۔ ماحول پر اس خوشگوار اعلان سے محبت ورضا کے فیوض طاری ہوجاتے ہیں۔ “ فادخلی فی عبادی (29:89) ” میرے بندوں میں داخل ہوجا “۔ جو میرے قریب ومختار بندے ہیں اور تو بھی یہ قرب پالے۔ وادخلی جنتی (30:89) ” اور میری جنت میں داخل ہوجا ! “۔ میری حمایت میں اور میری رحمت میں۔ ان آیات میں جو محبت و شفقت ہے ، آغاز ہی سے ان میں جنت کی بادنیم محسوس ہوتی ہے۔ یایھا النفس المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ کے الفاظ ہی سے یہ ہوا چلنا شروع ہوتی ہے۔ یہ کون سانفس ہے جو مطمئن ہے ؟ جو رب مطمئن ہے ، جو راہ حق پر مطمئن ہے اور گامزن ہے ، اس راہ پر اسے جو کچھ پیش آئے اس پر مطمئن ہے ، جو امیری میں بھی مطمئن ہے اور غریبی میں بھی۔ وہ دولت یقین سے مطمئن ہے ، اس لئے اپنی راہ نہیں چھوڑتا۔ نہ راستے پر تھک ہار کر رکتا ہے ، جو اس دنیا میں بھی مطمئن ہے اور قیامت کی ہولناکیوں میں بھی مطمئن ہے۔ ان آیات میں جو پکار ہے ان کی فضا خوشنودی ، رضا اور طمانیت پر اللہ کی برکات وفیوض سے بھر پور ہے۔ الفاظ کا ترنم ، معانی کا قرب وسکینت سے بھر پور ہونا اس پکار کی فضا ہے۔ یہ جنت کی فضا ہے۔ اور یہ فضا ان آیات کے الفاظ ومعانی سے چھلکتی اور ٹپکتی ہے۔ اور اس پر خدائے رحمن ورحیم کی تجلیات کا پرتو ہے۔

الفجر 89:29

یایتھا ........................................ جنتی کس قدر پر محبت ، مکمل یگانگت اور قرب کا ماحول ہے ! اے نفس مطمنتہ کس قدر روحانیت اور کس قدر تکریم اور عزت افزائی ہے۔ اس پکار میں۔ یایھا ................ المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ جبکہ دوسری طرف بےمثال پکڑ دھکڑ شروع ہے ، بےمثال اور ناقابل تصور عذاب دیا جارہا ہے ، شدید ماحول ہے ، اس شدید ماحول میں ، یہ نرم اور پر محبت پکار ! ارجعی الی ربک (28:89) ” چل اپنے رب کی طرف “۔ چل اپنے اصل سرچشمے کی طرف ، اپنے اصل گہوارے کی طرف ، جو زمین کے اندر دوڑ رہا ہے ، لوٹ اب اپنے رب کی طرف ، تمہارے اور رب کے درمیان ایک خاص تعلق ہے ، ایک خاص نسبت ہے ، ایک خاص شناسائی ہے۔ راضیة مرضیة (28:89) ” تو بھی خوش ہے اور اللہ بھی تجھ سے خوش ہے “۔ ماحول پر اس خوشگوار اعلان سے محبت ورضا کے فیوض طاری ہوجاتے ہیں۔ “ فادخلی فی عبادی (29:89) ” میرے بندوں میں داخل ہوجا “۔ جو میرے قریب ومختار بندے ہیں اور تو بھی یہ قرب پالے۔ وادخلی جنتی (30:89) ” اور میری جنت میں داخل ہوجا ! “۔ میری حمایت میں اور میری رحمت میں۔ ان آیات میں جو محبت و شفقت ہے ، آغاز ہی سے ان میں جنت کی بادنیم محسوس ہوتی ہے۔ یایھا النفس المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ کے الفاظ ہی سے یہ ہوا چلنا شروع ہوتی ہے۔ یہ کون سانفس ہے جو مطمئن ہے ؟ جو رب مطمئن ہے ، جو راہ حق پر مطمئن ہے اور گامزن ہے ، اس راہ پر اسے جو کچھ پیش آئے اس پر مطمئن ہے ، جو امیری میں بھی مطمئن ہے اور غریبی میں بھی۔ وہ دولت یقین سے مطمئن ہے ، اس لئے اپنی راہ نہیں چھوڑتا۔ نہ راستے پر تھک ہار کر رکتا ہے ، جو اس دنیا میں بھی مطمئن ہے اور قیامت کی ہولناکیوں میں بھی مطمئن ہے۔ ان آیات میں جو پکار ہے ان کی فضا خوشنودی ، رضا اور طمانیت پر اللہ کی برکات وفیوض سے بھر پور ہے۔ الفاظ کا ترنم ، معانی کا قرب وسکینت سے بھر پور ہونا اس پکار کی فضا ہے۔ یہ جنت کی فضا ہے۔ اور یہ فضا ان آیات کے الفاظ ومعانی سے چھلکتی اور ٹپکتی ہے۔ اور اس پر خدائے رحمن ورحیم کی تجلیات کا پرتو ہے۔

الفجر 89:30

یایتھا ........................................ جنتی کس قدر پر محبت ، مکمل یگانگت اور قرب کا ماحول ہے ! اے نفس مطمنتہ کس قدر روحانیت اور کس قدر تکریم اور عزت افزائی ہے۔ اس پکار میں۔ یایھا ................ المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ جبکہ دوسری طرف بےمثال پکڑ دھکڑ شروع ہے ، بےمثال اور ناقابل تصور عذاب دیا جارہا ہے ، شدید ماحول ہے ، اس شدید ماحول میں ، یہ نرم اور پر محبت پکار ! ارجعی الی ربک (28:89) ” چل اپنے رب کی طرف “۔ چل اپنے اصل سرچشمے کی طرف ، اپنے اصل گہوارے کی طرف ، جو زمین کے اندر دوڑ رہا ہے ، لوٹ اب اپنے رب کی طرف ، تمہارے اور رب کے درمیان ایک خاص تعلق ہے ، ایک خاص نسبت ہے ، ایک خاص شناسائی ہے۔ راضیة مرضیة (28:89) ” تو بھی خوش ہے اور اللہ بھی تجھ سے خوش ہے “۔ ماحول پر اس خوشگوار اعلان سے محبت ورضا کے فیوض طاری ہوجاتے ہیں۔ “ فادخلی فی عبادی (29:89) ” میرے بندوں میں داخل ہوجا “۔ جو میرے قریب ومختار بندے ہیں اور تو بھی یہ قرب پالے۔ وادخلی جنتی (30:89) ” اور میری جنت میں داخل ہوجا ! “۔ میری حمایت میں اور میری رحمت میں۔ ان آیات میں جو محبت و شفقت ہے ، آغاز ہی سے ان میں جنت کی بادنیم محسوس ہوتی ہے۔ یایھا النفس المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ کے الفاظ ہی سے یہ ہوا چلنا شروع ہوتی ہے۔ یہ کون سانفس ہے جو مطمئن ہے ؟ جو رب مطمئن ہے ، جو راہ حق پر مطمئن ہے اور گامزن ہے ، اس راہ پر اسے جو کچھ پیش آئے اس پر مطمئن ہے ، جو امیری میں بھی مطمئن ہے اور غریبی میں بھی۔ وہ دولت یقین سے مطمئن ہے ، اس لئے اپنی راہ نہیں چھوڑتا۔ نہ راستے پر تھک ہار کر رکتا ہے ، جو اس دنیا میں بھی مطمئن ہے اور قیامت کی ہولناکیوں میں بھی مطمئن ہے۔ ان آیات میں جو پکار ہے ان کی فضا خوشنودی ، رضا اور طمانیت پر اللہ کی برکات وفیوض سے بھر پور ہے۔ الفاظ کا ترنم ، معانی کا قرب وسکینت سے بھر پور ہونا اس پکار کی فضا ہے۔ یہ جنت کی فضا ہے۔ اور یہ فضا ان آیات کے الفاظ ومعانی سے چھلکتی اور ٹپکتی ہے۔ اور اس پر خدائے رحمن ورحیم کی تجلیات کا پرتو ہے۔