Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) — ص 38:1 – فصلت 41:54
Contents
- ص 38:1
- ص 38:2
- ص 38:3
- ص 38:4
- ص 38:5
- ص 38:6
- ص 38:7
- ص 38:8
- ص 38:9
- ص 38:10
- ص 38:11
- ص 38:12
- ص 38:13
- ص 38:14
- ص 38:15
- ص 38:16
- ص 38:17
- ص 38:18
- ص 38:19
- ص 38:20
- ص 38:21
- ص 38:22
- ص 38:23
- ص 38:24
- ص 38:25
- ص 38:26
- ص 38:27
- ص 38:28
- ص 38:29
- ص 38:30
- ص 38:31
- ص 38:32
- ص 38:33
- ص 38:34
- ص 38:35
- ص 38:36
- ص 38:37
- ص 38:38
- ص 38:39
- ص 38:40
- ص 38:41
- ص 38:42
- ص 38:43
- ص 38:44
- ص 38:45
- ص 38:46
- ص 38:47
- ص 38:48
- ص 38:49
- ص 38:50
- ص 38:51
- ص 38:52
- ص 38:53
- ص 38:54
- ص 38:55
- ص 38:56
- ص 38:57
- ص 38:58
- ص 38:59
- ص 38:60
- ص 38:61
- ص 38:62
- ص 38:63
- ص 38:64
- ص 38:65
- ص 38:66
- ص 38:67
- ص 38:68
- ص 38:69
- ص 38:70
- ص 38:71
- ص 38:72
- ص 38:73
- ص 38:74
- ص 38:75
- ص 38:76
- ص 38:77
- ص 38:78
- ص 38:79
- ص 38:80
- ص 38:81
- ص 38:82
- ص 38:83
- ص 38:84
- ص 38:85
- ص 38:86
- ص 38:87
- ص 38:88
- الزمر 39:1
- الزمر 39:2
- الزمر 39:3
- الزمر 39:4
- الزمر 39:5
- الزمر 39:6
- الزمر 39:7
- الزمر 39:8
- الزمر 39:9
- الزمر 39:10
- الزمر 39:11
- الزمر 39:12
- الزمر 39:13
- الزمر 39:14
- الزمر 39:15
- الزمر 39:16
- الزمر 39:17
- الزمر 39:18
- الزمر 39:19
- الزمر 39:20
- الزمر 39:21
- الزمر 39:22
- الزمر 39:23
- الزمر 39:24
- الزمر 39:25
- الزمر 39:26
- الزمر 39:27
- الزمر 39:28
- الزمر 39:29
- الزمر 39:30
- الزمر 39:31
- الزمر 39:32
- الزمر 39:33
- الزمر 39:34
- الزمر 39:35
- الزمر 39:36
- الزمر 39:37
- الزمر 39:38
- الزمر 39:39
- الزمر 39:40
- الزمر 39:41
- الزمر 39:42
- الزمر 39:43
- الزمر 39:44
- الزمر 39:45
- الزمر 39:46
- الزمر 39:47
- الزمر 39:48
- الزمر 39:49
- الزمر 39:50
- الزمر 39:51
- الزمر 39:52
- الزمر 39:53
- الزمر 39:54
- الزمر 39:55
- الزمر 39:56
- الزمر 39:57
- الزمر 39:58
- الزمر 39:59
- الزمر 39:60
- الزمر 39:61
- الزمر 39:62
- الزمر 39:63
- الزمر 39:64
- الزمر 39:65
- الزمر 39:66
- الزمر 39:67
- الزمر 39:68
- الزمر 39:69
- الزمر 39:70
- الزمر 39:71
- الزمر 39:72
- الزمر 39:73
- الزمر 39:74
- الزمر 39:75
- غافر 40:1
- غافر 40:2
- غافر 40:3
- غافر 40:4
- غافر 40:5
- غافر 40:6
- غافر 40:7
- غافر 40:8
- غافر 40:9
- غافر 40:10
- غافر 40:11
- غافر 40:12
- غافر 40:13
- غافر 40:14
- غافر 40:15
- غافر 40:16
- غافر 40:17
- غافر 40:18
- غافر 40:19
- غافر 40:20
- غافر 40:21
- غافر 40:22
- غافر 40:23
- غافر 40:24
- غافر 40:25
- غافر 40:26
- غافر 40:27
- غافر 40:28
- غافر 40:29
- غافر 40:30
- غافر 40:31
- غافر 40:32
- غافر 40:33
- غافر 40:34
- غافر 40:35
- غافر 40:36
- غافر 40:37
- غافر 40:38
- غافر 40:39
- غافر 40:40
- غافر 40:41
- غافر 40:42
- غافر 40:43
- غافر 40:44
- غافر 40:45
- غافر 40:46
- غافر 40:47
- غافر 40:48
- غافر 40:49
- غافر 40:50
- غافر 40:51
- غافر 40:52
- غافر 40:53
- غافر 40:54
- غافر 40:55
- غافر 40:56
- غافر 40:57
- غافر 40:58
- غافر 40:59
- غافر 40:60
- غافر 40:61
- غافر 40:62
- غافر 40:63
- غافر 40:64
- غافر 40:65
- غافر 40:66
- غافر 40:67
- غافر 40:68
- غافر 40:69
- غافر 40:70
- غافر 40:71
- غافر 40:72
- غافر 40:73
- غافر 40:74
- غافر 40:75
- غافر 40:76
- غافر 40:77
- غافر 40:78
- غافر 40:79
- غافر 40:80
- غافر 40:81
- غافر 40:82
- غافر 40:83
- غافر 40:84
- غافر 40:85
- فصلت 41:1
- فصلت 41:2
- فصلت 41:3
- فصلت 41:4
- فصلت 41:5
- فصلت 41:6
- فصلت 41:7
- فصلت 41:8
- فصلت 41:9
- فصلت 41:10
- فصلت 41:11
- فصلت 41:12
- فصلت 41:13
- فصلت 41:14
- فصلت 41:15
- فصلت 41:16
- فصلت 41:17
- فصلت 41:18
- فصلت 41:19
- فصلت 41:20
- فصلت 41:21
- فصلت 41:22
- فصلت 41:23
- فصلت 41:24
- فصلت 41:25
- فصلت 41:26
- فصلت 41:27
- فصلت 41:28
- فصلت 41:29
- فصلت 41:30
- فصلت 41:31
- فصلت 41:32
- فصلت 41:33
- فصلت 41:34
- فصلت 41:35
- فصلت 41:36
- فصلت 41:37
- فصلت 41:38
- فصلت 41:39
- فصلت 41:40
- فصلت 41:41
- فصلت 41:42
- فصلت 41:43
- فصلت 41:44
- فصلت 41:45
- فصلت 41:46
- فصلت 41:47
- فصلت 41:48
- فصلت 41:49
- فصلت 41:50
- فصلت 41:51
- فصلت 41:52
- فصلت 41:53
- فصلت 41:54
ص 38:1
’’ذکر‘‘ کے اصل معنی یاد دہانی کے ہیں۔یاد دہانی کسی ایسی چیز کی کرائی جاتی ہے جو بطور واقعہ پہلے سے موجود ہو۔ قرآن کے ذی الذکر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ان حقیقتوں کو ماننے کی دعوت دیتاہے جو انسانی فطرت میں پہلے سے موجود ہیں۔ قرآن کی کوئی بات اب تک خلاف واقعہ یا خلاف فطرت نہیں نکلی۔ یہی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ قرآن سراسر حق ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ قرآن کو نہ مانیں ان کے نہ ماننے کا سبب یقینی طور پر نفسیاتی ہے، نہ کہ عقلی۔ ان کا نہ ماننا کسی دلیل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اس ليے ہے کہ اس کو مان کر ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔
قرآن اُس دعوت توحید کا تسلسل ہے جو پچھلے ہر دور میں مختلف نبیوں کے ذریعہ جاری رہی ہے۔پچھلے زمانوں میںجن لوگوںنے اس دعوت کا انکار کیا وہ ہلاک کردئے گئے۔ حال کے منکرین کو ماضی کے منکرین کے اس انجام سے سبق لینا چاہيے۔
ص 38:2
’’ذکر‘‘ کے اصل معنی یاد دہانی کے ہیں۔یاد دہانی کسی ایسی چیز کی کرائی جاتی ہے جو بطور واقعہ پہلے سے موجود ہو۔ قرآن کے ذی الذکر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ان حقیقتوں کو ماننے کی دعوت دیتاہے جو انسانی فطرت میں پہلے سے موجود ہیں۔ قرآن کی کوئی بات اب تک خلاف واقعہ یا خلاف فطرت نہیں نکلی۔ یہی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ قرآن سراسر حق ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ قرآن کو نہ مانیں ان کے نہ ماننے کا سبب یقینی طور پر نفسیاتی ہے، نہ کہ عقلی۔ ان کا نہ ماننا کسی دلیل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اس ليے ہے کہ اس کو مان کر ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔
قرآن اُس دعوت توحید کا تسلسل ہے جو پچھلے ہر دور میں مختلف نبیوں کے ذریعہ جاری رہی ہے۔پچھلے زمانوں میںجن لوگوںنے اس دعوت کا انکار کیا وہ ہلاک کردئے گئے۔ حال کے منکرین کو ماضی کے منکرین کے اس انجام سے سبق لینا چاہيے۔
ص 38:3
’’ذکر‘‘ کے اصل معنی یاد دہانی کے ہیں۔یاد دہانی کسی ایسی چیز کی کرائی جاتی ہے جو بطور واقعہ پہلے سے موجود ہو۔ قرآن کے ذی الذکر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ان حقیقتوں کو ماننے کی دعوت دیتاہے جو انسانی فطرت میں پہلے سے موجود ہیں۔ قرآن کی کوئی بات اب تک خلاف واقعہ یا خلاف فطرت نہیں نکلی۔ یہی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ قرآن سراسر حق ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ قرآن کو نہ مانیں ان کے نہ ماننے کا سبب یقینی طور پر نفسیاتی ہے، نہ کہ عقلی۔ ان کا نہ ماننا کسی دلیل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اس ليے ہے کہ اس کو مان کر ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔
قرآن اُس دعوت توحید کا تسلسل ہے جو پچھلے ہر دور میں مختلف نبیوں کے ذریعہ جاری رہی ہے۔پچھلے زمانوں میںجن لوگوںنے اس دعوت کا انکار کیا وہ ہلاک کردئے گئے۔ حال کے منکرین کو ماضی کے منکرین کے اس انجام سے سبق لینا چاہيے۔
ص 38:4
’’پیغمبر اسلام‘‘کا نام آج ایک عظیم نام ہے۔ کیوں کہ بعد کی پرعظمت تاریخ نے اس کو عظیم بنادیا ہے۔ مگر ابتدا میں جب آپ نے مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تو لوگوں کو آپ صرف ایک معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ لوگوں کےلیے یہ یقین کرنا مشکل ہوگیا کہ یہی معمولی آدمی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے کلام کا مہبط بننے کےلیے چنا ہے— جب تاریخ بن چکی ہو تو ایک اندھا آدمی بھی پیغمبر کو پہچان لیتاہے۔ مگر تاریخ بننے سے پہلے پیغمبر کو پہچاننے کےلیے جوہر شناسی کی صلاحیت درکار ہے، اور یہ صلاحیت وہ ہے جو ہر دور میں سب سے زیادہ کم پائی گئی ہے۔
قرآن کا غیر معمولی طورپر موثر کلام، قرآن کے مخالفین کو مبہوت کردیتا تھا۔ مگر صاحب قرآن کی معمولی تصویر دوبارہ انھیں شبہ میں ڈال دیتی تھی۔ اس ليے وہ اس کو رد کرنے کےلیے طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ کبھی اس کو جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا بتاتے، کبھی کہتے کہ اس کے پیچھے کوئی مادی غرض شامل ہے، کبھی کہتے کہ ایسا کیوںکر ہوسکتاہے کہ ہمارے بڑے بڑے بزرگوں کی بات صحیح نہ ہو اور اس معمولی آدمی کی بات صحیح ہو۔
’’اپنے معبودوں پر جمے رہو‘‘ کا لفظ بتاتاہے کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنے آپ کو عاجز پا رہے تھے، اس ليے انھوں نے تعصب کے نعرہ پر اپنے لوگوں کو قرآنی سیلاب سے بچانے کی کوشش کی۔
ص 38:5
’’پیغمبر اسلام‘‘کا نام آج ایک عظیم نام ہے۔ کیوں کہ بعد کی پرعظمت تاریخ نے اس کو عظیم بنادیا ہے۔ مگر ابتدا میں جب آپ نے مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تو لوگوں کو آپ صرف ایک معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ لوگوں کےلیے یہ یقین کرنا مشکل ہوگیا کہ یہی معمولی آدمی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے کلام کا مہبط بننے کےلیے چنا ہے— جب تاریخ بن چکی ہو تو ایک اندھا آدمی بھی پیغمبر کو پہچان لیتاہے۔ مگر تاریخ بننے سے پہلے پیغمبر کو پہچاننے کےلیے جوہر شناسی کی صلاحیت درکار ہے، اور یہ صلاحیت وہ ہے جو ہر دور میں سب سے زیادہ کم پائی گئی ہے۔
قرآن کا غیر معمولی طورپر موثر کلام، قرآن کے مخالفین کو مبہوت کردیتا تھا۔ مگر صاحب قرآن کی معمولی تصویر دوبارہ انھیں شبہ میں ڈال دیتی تھی۔ اس ليے وہ اس کو رد کرنے کےلیے طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ کبھی اس کو جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا بتاتے، کبھی کہتے کہ اس کے پیچھے کوئی مادی غرض شامل ہے، کبھی کہتے کہ ایسا کیوںکر ہوسکتاہے کہ ہمارے بڑے بڑے بزرگوں کی بات صحیح نہ ہو اور اس معمولی آدمی کی بات صحیح ہو۔
’’اپنے معبودوں پر جمے رہو‘‘ کا لفظ بتاتاہے کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنے آپ کو عاجز پا رہے تھے، اس ليے انھوں نے تعصب کے نعرہ پر اپنے لوگوں کو قرآنی سیلاب سے بچانے کی کوشش کی۔
ص 38:6
’’پیغمبر اسلام‘‘کا نام آج ایک عظیم نام ہے۔ کیوں کہ بعد کی پرعظمت تاریخ نے اس کو عظیم بنادیا ہے۔ مگر ابتدا میں جب آپ نے مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تو لوگوں کو آپ صرف ایک معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ لوگوں کےلیے یہ یقین کرنا مشکل ہوگیا کہ یہی معمولی آدمی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے کلام کا مہبط بننے کےلیے چنا ہے— جب تاریخ بن چکی ہو تو ایک اندھا آدمی بھی پیغمبر کو پہچان لیتاہے۔ مگر تاریخ بننے سے پہلے پیغمبر کو پہچاننے کےلیے جوہر شناسی کی صلاحیت درکار ہے، اور یہ صلاحیت وہ ہے جو ہر دور میں سب سے زیادہ کم پائی گئی ہے۔
قرآن کا غیر معمولی طورپر موثر کلام، قرآن کے مخالفین کو مبہوت کردیتا تھا۔ مگر صاحب قرآن کی معمولی تصویر دوبارہ انھیں شبہ میں ڈال دیتی تھی۔ اس ليے وہ اس کو رد کرنے کےلیے طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ کبھی اس کو جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا بتاتے، کبھی کہتے کہ اس کے پیچھے کوئی مادی غرض شامل ہے، کبھی کہتے کہ ایسا کیوںکر ہوسکتاہے کہ ہمارے بڑے بڑے بزرگوں کی بات صحیح نہ ہو اور اس معمولی آدمی کی بات صحیح ہو۔
’’اپنے معبودوں پر جمے رہو‘‘ کا لفظ بتاتاہے کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنے آپ کو عاجز پا رہے تھے، اس ليے انھوں نے تعصب کے نعرہ پر اپنے لوگوں کو قرآنی سیلاب سے بچانے کی کوشش کی۔
ص 38:7
’’پیغمبر اسلام‘‘کا نام آج ایک عظیم نام ہے۔ کیوں کہ بعد کی پرعظمت تاریخ نے اس کو عظیم بنادیا ہے۔ مگر ابتدا میں جب آپ نے مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تو لوگوں کو آپ صرف ایک معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ لوگوں کےلیے یہ یقین کرنا مشکل ہوگیا کہ یہی معمولی آدمی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے کلام کا مہبط بننے کےلیے چنا ہے— جب تاریخ بن چکی ہو تو ایک اندھا آدمی بھی پیغمبر کو پہچان لیتاہے۔ مگر تاریخ بننے سے پہلے پیغمبر کو پہچاننے کےلیے جوہر شناسی کی صلاحیت درکار ہے، اور یہ صلاحیت وہ ہے جو ہر دور میں سب سے زیادہ کم پائی گئی ہے۔
قرآن کا غیر معمولی طورپر موثر کلام، قرآن کے مخالفین کو مبہوت کردیتا تھا۔ مگر صاحب قرآن کی معمولی تصویر دوبارہ انھیں شبہ میں ڈال دیتی تھی۔ اس ليے وہ اس کو رد کرنے کےلیے طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ کبھی اس کو جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا بتاتے، کبھی کہتے کہ اس کے پیچھے کوئی مادی غرض شامل ہے، کبھی کہتے کہ ایسا کیوںکر ہوسکتاہے کہ ہمارے بڑے بڑے بزرگوں کی بات صحیح نہ ہو اور اس معمولی آدمی کی بات صحیح ہو۔
’’اپنے معبودوں پر جمے رہو‘‘ کا لفظ بتاتاہے کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنے آپ کو عاجز پا رہے تھے، اس ليے انھوں نے تعصب کے نعرہ پر اپنے لوگوں کو قرآنی سیلاب سے بچانے کی کوشش کی۔
ص 38:8
’’پیغمبر اسلام‘‘کا نام آج ایک عظیم نام ہے۔ کیوں کہ بعد کی پرعظمت تاریخ نے اس کو عظیم بنادیا ہے۔ مگر ابتدا میں جب آپ نے مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تو لوگوں کو آپ صرف ایک معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ لوگوں کےلیے یہ یقین کرنا مشکل ہوگیا کہ یہی معمولی آدمی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے کلام کا مہبط بننے کےلیے چنا ہے— جب تاریخ بن چکی ہو تو ایک اندھا آدمی بھی پیغمبر کو پہچان لیتاہے۔ مگر تاریخ بننے سے پہلے پیغمبر کو پہچاننے کےلیے جوہر شناسی کی صلاحیت درکار ہے، اور یہ صلاحیت وہ ہے جو ہر دور میں سب سے زیادہ کم پائی گئی ہے۔
قرآن کا غیر معمولی طورپر موثر کلام، قرآن کے مخالفین کو مبہوت کردیتا تھا۔ مگر صاحب قرآن کی معمولی تصویر دوبارہ انھیں شبہ میں ڈال دیتی تھی۔ اس ليے وہ اس کو رد کرنے کےلیے طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ کبھی اس کو جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا بتاتے، کبھی کہتے کہ اس کے پیچھے کوئی مادی غرض شامل ہے، کبھی کہتے کہ ایسا کیوںکر ہوسکتاہے کہ ہمارے بڑے بڑے بزرگوں کی بات صحیح نہ ہو اور اس معمولی آدمی کی بات صحیح ہو۔
’’اپنے معبودوں پر جمے رہو‘‘ کا لفظ بتاتاہے کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنے آپ کو عاجز پا رہے تھے، اس ليے انھوں نے تعصب کے نعرہ پر اپنے لوگوں کو قرآنی سیلاب سے بچانے کی کوشش کی۔
ص 38:9
دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔
حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔
ص 38:10
دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔
حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔
ص 38:11
دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔
حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔
ص 38:12
دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔
حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔
ص 38:13
دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔
حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔
ص 38:14
دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔
حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔
ص 38:15
دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔
حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔
ص 38:16
دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔
حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔
ص 38:17
دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔
حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔
ص 38:18
دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔
حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔
ص 38:19
دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔
حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔
ص 38:20
دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔
حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔
ص 38:21
کہا جاتا ہے کہ حضرت داؤد نے تین دن کی باری مقرر کر رکھی تھی۔ ایک دن دربار اور فصل مقدمات کےلیے۔ دوسرے دن اپنے اہل وعیال کے ساتھ رہنے کےلیے۔ تیسرے دن الگ رہ کر خالص خدا کی عبادت کےلیے۔ ایک روز جب کہ ان کا عبادتی دن تھا وہ اپنے محل کے مخصوص حصہ میں اکیلے عبادت میں مشغول تھے کہ دو آدمی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوگئے اور ان کے کمرهٔ عباد ت میں آکر کھڑے ہوگئے۔ یہ ایک غیر معمولی بات تھی اس ليے آپ کچھ گھبرا اٹھے۔ ان دونوں آدمیوں نے اطمینان دلایا اور کہا کہ ہم دو فریق ہیں۔ آپ سے ایک جھگڑے کا فیصلہ لینے کےلیے یہاں حاضر ہوئے ہیں۔
ص 38:22
کہا جاتا ہے کہ حضرت داؤد نے تین دن کی باری مقرر کر رکھی تھی۔ ایک دن دربار اور فصل مقدمات کےلیے۔ دوسرے دن اپنے اہل وعیال کے ساتھ رہنے کےلیے۔ تیسرے دن الگ رہ کر خالص خدا کی عبادت کےلیے۔ ایک روز جب کہ ان کا عبادتی دن تھا وہ اپنے محل کے مخصوص حصہ میں اکیلے عبادت میں مشغول تھے کہ دو آدمی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوگئے اور ان کے کمرهٔ عباد ت میں آکر کھڑے ہوگئے۔ یہ ایک غیر معمولی بات تھی اس ليے آپ کچھ گھبرا اٹھے۔ ان دونوں آدمیوں نے اطمینان دلایا اور کہا کہ ہم دو فریق ہیں۔ آپ سے ایک جھگڑے کا فیصلہ لینے کےلیے یہاں حاضر ہوئے ہیں۔
ص 38:23
آنے والے دونوں آدمیوں نے جو مقدمہ پیش کیا وہ کوئی حقیقی مقدمہ نہ تھا بلکہ تمثیل کی زبان میں خودحضرت داؤد علیہ السلام کی کسی بات پر انھیں متنبہ کرنا تھا۔ چنانچہ مقدمہ کا فیصلہ دیتے دیتے آپ کو اپنا وہ معاملہ یاد آگیا جو مذکورہ مثال سے ملتا جلتا تھا۔ آپ نے فوراً اس سے رجوع کرلیا اور اللہ کے آگے سجدہ میں گر پڑے۔
حضرت داؤد کو اس وقت زبردست اقتدار حاصل تھا۔ مگر انھوں نے آنے والوں کو نہ تو کوئی سزا دی اور نہ انھیں برا بھلا کہا۔یہی اللہ کے سچے بندوں کا طریقہ ہے۔ ان کے اندر کسی معاملہ میں ضد نہیں ہوتی۔ انھیں جب ان کی کسی خامی کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہ فوراً اس کو مان کر اپنی اصلاح کرلیتے ہیں، خواہ وہ بااقتدار حیثیت کے مالک ہوں اور خواہ متوجہ کرنے والے نے انھیں بے ڈھنگے طریقہ سے متوجہ کیا ہو۔
ص 38:24
آنے والے دونوں آدمیوں نے جو مقدمہ پیش کیا وہ کوئی حقیقی مقدمہ نہ تھا بلکہ تمثیل کی زبان میں خودحضرت داؤد علیہ السلام کی کسی بات پر انھیں متنبہ کرنا تھا۔ چنانچہ مقدمہ کا فیصلہ دیتے دیتے آپ کو اپنا وہ معاملہ یاد آگیا جو مذکورہ مثال سے ملتا جلتا تھا۔ آپ نے فوراً اس سے رجوع کرلیا اور اللہ کے آگے سجدہ میں گر پڑے۔
حضرت داؤد کو اس وقت زبردست اقتدار حاصل تھا۔ مگر انھوں نے آنے والوں کو نہ تو کوئی سزا دی اور نہ انھیں برا بھلا کہا۔یہی اللہ کے سچے بندوں کا طریقہ ہے۔ ان کے اندر کسی معاملہ میں ضد نہیں ہوتی۔ انھیں جب ان کی کسی خامی کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہ فوراً اس کو مان کر اپنی اصلاح کرلیتے ہیں، خواہ وہ بااقتدار حیثیت کے مالک ہوں اور خواہ متوجہ کرنے والے نے انھیں بے ڈھنگے طریقہ سے متوجہ کیا ہو۔
ص 38:25
آنے والے دونوں آدمیوں نے جو مقدمہ پیش کیا وہ کوئی حقیقی مقدمہ نہ تھا بلکہ تمثیل کی زبان میں خودحضرت داؤد علیہ السلام کی کسی بات پر انھیں متنبہ کرنا تھا۔ چنانچہ مقدمہ کا فیصلہ دیتے دیتے آپ کو اپنا وہ معاملہ یاد آگیا جو مذکورہ مثال سے ملتا جلتا تھا۔ آپ نے فوراً اس سے رجوع کرلیا اور اللہ کے آگے سجدہ میں گر پڑے۔
حضرت داؤد کو اس وقت زبردست اقتدار حاصل تھا۔ مگر انھوں نے آنے والوں کو نہ تو کوئی سزا دی اور نہ انھیں برا بھلا کہا۔یہی اللہ کے سچے بندوں کا طریقہ ہے۔ ان کے اندر کسی معاملہ میں ضد نہیں ہوتی۔ انھیں جب ان کی کسی خامی کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہ فوراً اس کو مان کر اپنی اصلاح کرلیتے ہیں، خواہ وہ بااقتدار حیثیت کے مالک ہوں اور خواہ متوجہ کرنے والے نے انھیں بے ڈھنگے طریقہ سے متوجہ کیا ہو۔
ص 38:26
ایک حاکم ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتاہے۔ یا تو وہ معاملات کا فیصلہ اپنی چاہت کے مطابق کرے گا یا اصولِ حق کے مطابق۔ جو حاکم معاملات کا فیصلہ اپنی چاہ اور خواہش کے مطابق کرے وہ راہ سے بھٹک گیا۔ خدا کے یہاں اس کی سخت پکڑ ہوگی۔ اس کے برعکس، جو حاکم معاملات کا فیصلہ حق وانصاف کے اصول کا پابند رہ کر کرے وہی راہِ راست پر ہے۔ خدا کے یہاں اس کو بے حساب انعامات دئے جائیں گے۔
یہ ہدایت جس طرح ایک حاکم کےلیے ہے اسی طرح وہ عام انسانوں کےلیے بھی ہے۔ ہر آدمی کو اپنے دائرہ اختیار میں وہی کرنا ہے جو اس آیت میں بااقتدار حاکم کےلیے بتایا گیا ہے۔
ص 38:27
دنیا کی چیزوں پر غور کیجيے تو معلوم ہوتاہے کہ اس کا پورا نظام نہایت حکیمانہ بنیادوں پر قائم ہے حالانکہ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ایک الل ٹپ نظام ہو اور اس میں کوئی بات یقینی نہ ہو۔ دو امکان میں سے ایک مناسب تر امکان کا پایا جانا اس بات کا قرینہ ہے کہ اس دنیا کو پیدا کرنے والے نے اس کو ایک با مقصد منصوبہ کے تحت بنایا ہے۔ پھر جو دنیا اپنی ابتدا میں بامقصد ہو وہ اپنی انتہا میں بے مقصد کیوں کر ہوجائے گی۔
اسی طرح اس دنیا میں ہر آدمی آزاد اور خود مختار ہے۔مشاہدہ دوبارہ بتاتا ہے کہ لوگوں میں کوئی شخص وہ ہے جو حقیقت کا اعتراف کرتاہے اور اپنے اختیار سے اپنے آپ کو سچائی اور انصاف کا پابند بناتاہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا شخص وہ ہے جو حقیقت کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ بے قید ہو کر جو چاہے بولتا ہے اور جس طرح چاہے عمل کرتاہے۔ عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی کہ جب یہاں دو قسم کے انسان ہیں تو ان کا انجام یکساں ہو کر رہ جائے۔
دنیا کی اس صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو زندگی کے متعلق قرآن کا بیان ہی زیادہ مطابق حال نظر آئے گا، نہ کہ ان لوگوں کا بیان جو زندگی کی تشریح اس کے برعکس انداز میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ص 38:28
دنیا کی چیزوں پر غور کیجيے تو معلوم ہوتاہے کہ اس کا پورا نظام نہایت حکیمانہ بنیادوں پر قائم ہے حالانکہ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ایک الل ٹپ نظام ہو اور اس میں کوئی بات یقینی نہ ہو۔ دو امکان میں سے ایک مناسب تر امکان کا پایا جانا اس بات کا قرینہ ہے کہ اس دنیا کو پیدا کرنے والے نے اس کو ایک با مقصد منصوبہ کے تحت بنایا ہے۔ پھر جو دنیا اپنی ابتدا میں بامقصد ہو وہ اپنی انتہا میں بے مقصد کیوں کر ہوجائے گی۔
اسی طرح اس دنیا میں ہر آدمی آزاد اور خود مختار ہے۔مشاہدہ دوبارہ بتاتا ہے کہ لوگوں میں کوئی شخص وہ ہے جو حقیقت کا اعتراف کرتاہے اور اپنے اختیار سے اپنے آپ کو سچائی اور انصاف کا پابند بناتاہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا شخص وہ ہے جو حقیقت کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ بے قید ہو کر جو چاہے بولتا ہے اور جس طرح چاہے عمل کرتاہے۔ عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی کہ جب یہاں دو قسم کے انسان ہیں تو ان کا انجام یکساں ہو کر رہ جائے۔
دنیا کی اس صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو زندگی کے متعلق قرآن کا بیان ہی زیادہ مطابق حال نظر آئے گا، نہ کہ ان لوگوں کا بیان جو زندگی کی تشریح اس کے برعکس انداز میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ص 38:29
دنیا کی چیزوں پر غور کیجيے تو معلوم ہوتاہے کہ اس کا پورا نظام نہایت حکیمانہ بنیادوں پر قائم ہے حالانکہ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ایک الل ٹپ نظام ہو اور اس میں کوئی بات یقینی نہ ہو۔ دو امکان میں سے ایک مناسب تر امکان کا پایا جانا اس بات کا قرینہ ہے کہ اس دنیا کو پیدا کرنے والے نے اس کو ایک با مقصد منصوبہ کے تحت بنایا ہے۔ پھر جو دنیا اپنی ابتدا میں بامقصد ہو وہ اپنی انتہا میں بے مقصد کیوں کر ہوجائے گی۔
اسی طرح اس دنیا میں ہر آدمی آزاد اور خود مختار ہے۔مشاہدہ دوبارہ بتاتا ہے کہ لوگوں میں کوئی شخص وہ ہے جو حقیقت کا اعتراف کرتاہے اور اپنے اختیار سے اپنے آپ کو سچائی اور انصاف کا پابند بناتاہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا شخص وہ ہے جو حقیقت کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ بے قید ہو کر جو چاہے بولتا ہے اور جس طرح چاہے عمل کرتاہے۔ عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی کہ جب یہاں دو قسم کے انسان ہیں تو ان کا انجام یکساں ہو کر رہ جائے۔
دنیا کی اس صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو زندگی کے متعلق قرآن کا بیان ہی زیادہ مطابق حال نظر آئے گا، نہ کہ ان لوگوں کا بیان جو زندگی کی تشریح اس کے برعکس انداز میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ص 38:30
حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام ایک عظیم سلطنت کے حکمراں تھے۔ ایک روز ان کی فوج کے اصیل اور تربیت یافتہ گھوڑے ان کے سامنے لائے گئے۔ پھر ان کی دوڑ ہوئی۔ یہاں تک کہ گھوڑے دوڑتے ہوئے دور کے منظر میں گم ہوگئے۔ اورپھر وہ دوبارہ واپس آئے۔
اس قسم کا منظر ہمیشہ نہایت شان دار ہوتا ہے۔ ان کو دیکھ کر عام انسان فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مگر حضرت سلیمان کا حال یہ ہوا کہ وہ اس پرُ فخر منظر کو دیکھ کر خدا کو یاد کرنے لگے۔ انھوںنے کہا کہ میں نے یہ گھوڑے اپنی شان دکھانے کےلیے پسند نہیں کيے ہیں بلکہ صرف خدا کےلیے پسند کيے ہیں۔ گھوڑے کی شکل میں انھیں خدا کی عظیم کاریگری نظر آئی۔ اور وہ خدا کی عظمت کے اعتراف کے طورپر گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے — مومن ہر چیز میں خدا کی شان دیکھتا ہے اور غیر مومن ہر چیز میں اپنی شان۔
ص 38:31
حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام ایک عظیم سلطنت کے حکمراں تھے۔ ایک روز ان کی فوج کے اصیل اور تربیت یافتہ گھوڑے ان کے سامنے لائے گئے۔ پھر ان کی دوڑ ہوئی۔ یہاں تک کہ گھوڑے دوڑتے ہوئے دور کے منظر میں گم ہوگئے۔ اورپھر وہ دوبارہ واپس آئے۔
اس قسم کا منظر ہمیشہ نہایت شان دار ہوتا ہے۔ ان کو دیکھ کر عام انسان فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مگر حضرت سلیمان کا حال یہ ہوا کہ وہ اس پرُ فخر منظر کو دیکھ کر خدا کو یاد کرنے لگے۔ انھوںنے کہا کہ میں نے یہ گھوڑے اپنی شان دکھانے کےلیے پسند نہیں کيے ہیں بلکہ صرف خدا کےلیے پسند کيے ہیں۔ گھوڑے کی شکل میں انھیں خدا کی عظیم کاریگری نظر آئی۔ اور وہ خدا کی عظمت کے اعتراف کے طورپر گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے — مومن ہر چیز میں خدا کی شان دیکھتا ہے اور غیر مومن ہر چیز میں اپنی شان۔
ص 38:32
حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام ایک عظیم سلطنت کے حکمراں تھے۔ ایک روز ان کی فوج کے اصیل اور تربیت یافتہ گھوڑے ان کے سامنے لائے گئے۔ پھر ان کی دوڑ ہوئی۔ یہاں تک کہ گھوڑے دوڑتے ہوئے دور کے منظر میں گم ہوگئے۔ اورپھر وہ دوبارہ واپس آئے۔
اس قسم کا منظر ہمیشہ نہایت شان دار ہوتا ہے۔ ان کو دیکھ کر عام انسان فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مگر حضرت سلیمان کا حال یہ ہوا کہ وہ اس پرُ فخر منظر کو دیکھ کر خدا کو یاد کرنے لگے۔ انھوںنے کہا کہ میں نے یہ گھوڑے اپنی شان دکھانے کےلیے پسند نہیں کيے ہیں بلکہ صرف خدا کےلیے پسند کيے ہیں۔ گھوڑے کی شکل میں انھیں خدا کی عظیم کاریگری نظر آئی۔ اور وہ خدا کی عظمت کے اعتراف کے طورپر گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے — مومن ہر چیز میں خدا کی شان دیکھتا ہے اور غیر مومن ہر چیز میں اپنی شان۔
ص 38:33
حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام ایک عظیم سلطنت کے حکمراں تھے۔ ایک روز ان کی فوج کے اصیل اور تربیت یافتہ گھوڑے ان کے سامنے لائے گئے۔ پھر ان کی دوڑ ہوئی۔ یہاں تک کہ گھوڑے دوڑتے ہوئے دور کے منظر میں گم ہوگئے۔ اورپھر وہ دوبارہ واپس آئے۔
اس قسم کا منظر ہمیشہ نہایت شان دار ہوتا ہے۔ ان کو دیکھ کر عام انسان فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مگر حضرت سلیمان کا حال یہ ہوا کہ وہ اس پرُ فخر منظر کو دیکھ کر خدا کو یاد کرنے لگے۔ انھوںنے کہا کہ میں نے یہ گھوڑے اپنی شان دکھانے کےلیے پسند نہیں کيے ہیں بلکہ صرف خدا کےلیے پسند کيے ہیں۔ گھوڑے کی شکل میں انھیں خدا کی عظیم کاریگری نظر آئی۔ اور وہ خدا کی عظمت کے اعتراف کے طورپر گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے — مومن ہر چیز میں خدا کی شان دیکھتا ہے اور غیر مومن ہر چیز میں اپنی شان۔
ص 38:34
ہر انسان سے کوتاہی ہوتی ہے۔ مگر خدا کے نیک بندوں کےلیے کوتاہی ایک عظیم بھلائی بن جاتی ہے کیونکہ وہ کوتاہی کے بعد اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور پھر اور زیادہ انعام کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی ایک موقع پر کوئی اجتہادی انداز کی کوتاہی ہوگئی۔ جب آپ پر حقیقت واضح ہوئی تو آپ شدیداِنابت کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے درگزر فرمایا اور مزید یہ انعام کیا کہ آپ کو عظیم سلطنت عطا فرمائی اور آپ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دئے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوئے۔
ص 38:35
ہر انسان سے کوتاہی ہوتی ہے۔ مگر خدا کے نیک بندوں کےلیے کوتاہی ایک عظیم بھلائی بن جاتی ہے کیونکہ وہ کوتاہی کے بعد اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور پھر اور زیادہ انعام کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی ایک موقع پر کوئی اجتہادی انداز کی کوتاہی ہوگئی۔ جب آپ پر حقیقت واضح ہوئی تو آپ شدیداِنابت کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے درگزر فرمایا اور مزید یہ انعام کیا کہ آپ کو عظیم سلطنت عطا فرمائی اور آپ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دئے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوئے۔
ص 38:36
ہر انسان سے کوتاہی ہوتی ہے۔ مگر خدا کے نیک بندوں کےلیے کوتاہی ایک عظیم بھلائی بن جاتی ہے کیونکہ وہ کوتاہی کے بعد اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور پھر اور زیادہ انعام کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی ایک موقع پر کوئی اجتہادی انداز کی کوتاہی ہوگئی۔ جب آپ پر حقیقت واضح ہوئی تو آپ شدیداِنابت کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے درگزر فرمایا اور مزید یہ انعام کیا کہ آپ کو عظیم سلطنت عطا فرمائی اور آپ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دئے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوئے۔
ص 38:37
ہر انسان سے کوتاہی ہوتی ہے۔ مگر خدا کے نیک بندوں کےلیے کوتاہی ایک عظیم بھلائی بن جاتی ہے کیونکہ وہ کوتاہی کے بعد اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور پھر اور زیادہ انعام کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی ایک موقع پر کوئی اجتہادی انداز کی کوتاہی ہوگئی۔ جب آپ پر حقیقت واضح ہوئی تو آپ شدیداِنابت کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے درگزر فرمایا اور مزید یہ انعام کیا کہ آپ کو عظیم سلطنت عطا فرمائی اور آپ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دئے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوئے۔
ص 38:38
ہر انسان سے کوتاہی ہوتی ہے۔ مگر خدا کے نیک بندوں کےلیے کوتاہی ایک عظیم بھلائی بن جاتی ہے کیونکہ وہ کوتاہی کے بعد اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور پھر اور زیادہ انعام کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی ایک موقع پر کوئی اجتہادی انداز کی کوتاہی ہوگئی۔ جب آپ پر حقیقت واضح ہوئی تو آپ شدیداِنابت کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے درگزر فرمایا اور مزید یہ انعام کیا کہ آپ کو عظیم سلطنت عطا فرمائی اور آپ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دئے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوئے۔
ص 38:39
ہر انسان سے کوتاہی ہوتی ہے۔ مگر خدا کے نیک بندوں کےلیے کوتاہی ایک عظیم بھلائی بن جاتی ہے کیونکہ وہ کوتاہی کے بعد اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور پھر اور زیادہ انعام کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی ایک موقع پر کوئی اجتہادی انداز کی کوتاہی ہوگئی۔ جب آپ پر حقیقت واضح ہوئی تو آپ شدیداِنابت کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے درگزر فرمایا اور مزید یہ انعام کیا کہ آپ کو عظیم سلطنت عطا فرمائی اور آپ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دئے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوئے۔
ص 38:40
ہر انسان سے کوتاہی ہوتی ہے۔ مگر خدا کے نیک بندوں کےلیے کوتاہی ایک عظیم بھلائی بن جاتی ہے کیونکہ وہ کوتاہی کے بعد اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور پھر اور زیادہ انعام کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی ایک موقع پر کوئی اجتہادی انداز کی کوتاہی ہوگئی۔ جب آپ پر حقیقت واضح ہوئی تو آپ شدیداِنابت کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے درگزر فرمایا اور مزید یہ انعام کیا کہ آپ کو عظیم سلطنت عطا فرمائی اور آپ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دئے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوئے۔
ص 38:41
حضرت ایوب علیہ السلام بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے تھے۔ ان کا زمانہ غالباً نویں صدی قبل مسیح ہے۔ ان کوکافی مال ودولت حاصل تھی۔ مگر مال ودولت میں گم ہونے کے بجائے وہ خدا کی عبادت کرتے اور لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے تھے۔کچھ غلط قسم کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ایوب کو جب اتنا زیادہ مال ودولت حاصل ہے تو وہ دین دارنہ بنیں گے تو اور کیا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر حجت قائم کرنے کےلیے حضرت ایوب کو مفلس بنادیا۔ مگر وہ بدستور اللہ کے عبادت گزار بنے رہے۔ انھوںنے کہا کہ ’’خداوند نے دیا اور خداوند نے لے لیا۔ خداوند کا نام مبارک ہو‘‘(ايوب 1:21)۔
شریر لوگ اب بھی چپ نہ ہو ئے۔ انھوں نے کہا کہ اصل امتحان تو یہ ہے کہ وہ جسمانی تکلیف میں مبتلا ہوں اور پھر بھی صبر وشکر پر قائم رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ نمونہ بھی دکھایا۔ حضرت ایوب کو سخت جِلدی بیماری لاحق ہوئی اور ان کے تمام جسم پر پھوڑے ہوگئے۔ مگر وہ بدستور صبر وشکر کی تصویر بنے رہے۔ جب لوگوں پر حجت تمام ہوچکی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کےلیے ایک چشمہ جاری کیا جس میں نہانے سے ان کا جسم بالکل تندرست ہوگیا۔ اور مال واولاد بھی دوبارہ مزید اضافہ کے ساتھ عطا فرمائے۔
حضرت ایوب نے بیماری کی حالت میں کسی بات پر قسم کھالی تھی کہ اچھے ہوگئے تو اپنی بیوی کو سو لکڑیاں ماریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کو پورا کرنے کی یہ تدبیر انھیں بتائی کہ ایک جھاڑو لو جس میں ایک سو سینکیں ہو اور اس سے ہلکے طورپر ایک بار اپنی بیوی کو مارو — اس سے معلوم ہوا کہ مخصوص حالات میں حیلہ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ کسی شرعی حکم کو باطل نہ کرتاہو۔خدا جب اپنے دین کےلیے کسی کو استعمال کرے اور وہ شخص کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردے تو خدا اس کو دوبارہ اس سے زیادہ دے دیتاہے جتنا اس سے مذکورہ عمل کے دوران چھنا تھا۔
ص 38:42
حضرت ایوب علیہ السلام بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے تھے۔ ان کا زمانہ غالباً نویں صدی قبل مسیح ہے۔ ان کوکافی مال ودولت حاصل تھی۔ مگر مال ودولت میں گم ہونے کے بجائے وہ خدا کی عبادت کرتے اور لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے تھے۔کچھ غلط قسم کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ایوب کو جب اتنا زیادہ مال ودولت حاصل ہے تو وہ دین دارنہ بنیں گے تو اور کیا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر حجت قائم کرنے کےلیے حضرت ایوب کو مفلس بنادیا۔ مگر وہ بدستور اللہ کے عبادت گزار بنے رہے۔ انھوںنے کہا کہ ’’خداوند نے دیا اور خداوند نے لے لیا۔ خداوند کا نام مبارک ہو‘‘(ايوب 1:21)۔
شریر لوگ اب بھی چپ نہ ہو ئے۔ انھوں نے کہا کہ اصل امتحان تو یہ ہے کہ وہ جسمانی تکلیف میں مبتلا ہوں اور پھر بھی صبر وشکر پر قائم رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ نمونہ بھی دکھایا۔ حضرت ایوب کو سخت جِلدی بیماری لاحق ہوئی اور ان کے تمام جسم پر پھوڑے ہوگئے۔ مگر وہ بدستور صبر وشکر کی تصویر بنے رہے۔ جب لوگوں پر حجت تمام ہوچکی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کےلیے ایک چشمہ جاری کیا جس میں نہانے سے ان کا جسم بالکل تندرست ہوگیا۔ اور مال واولاد بھی دوبارہ مزید اضافہ کے ساتھ عطا فرمائے۔
حضرت ایوب نے بیماری کی حالت میں کسی بات پر قسم کھالی تھی کہ اچھے ہوگئے تو اپنی بیوی کو سو لکڑیاں ماریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کو پورا کرنے کی یہ تدبیر انھیں بتائی کہ ایک جھاڑو لو جس میں ایک سو سینکیں ہو اور اس سے ہلکے طورپر ایک بار اپنی بیوی کو مارو — اس سے معلوم ہوا کہ مخصوص حالات میں حیلہ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ کسی شرعی حکم کو باطل نہ کرتاہو۔خدا جب اپنے دین کےلیے کسی کو استعمال کرے اور وہ شخص کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردے تو خدا اس کو دوبارہ اس سے زیادہ دے دیتاہے جتنا اس سے مذکورہ عمل کے دوران چھنا تھا۔
ص 38:43
حضرت ایوب علیہ السلام بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے تھے۔ ان کا زمانہ غالباً نویں صدی قبل مسیح ہے۔ ان کوکافی مال ودولت حاصل تھی۔ مگر مال ودولت میں گم ہونے کے بجائے وہ خدا کی عبادت کرتے اور لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے تھے۔کچھ غلط قسم کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ایوب کو جب اتنا زیادہ مال ودولت حاصل ہے تو وہ دین دارنہ بنیں گے تو اور کیا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر حجت قائم کرنے کےلیے حضرت ایوب کو مفلس بنادیا۔ مگر وہ بدستور اللہ کے عبادت گزار بنے رہے۔ انھوںنے کہا کہ ’’خداوند نے دیا اور خداوند نے لے لیا۔ خداوند کا نام مبارک ہو‘‘(ايوب 1:21)۔
شریر لوگ اب بھی چپ نہ ہو ئے۔ انھوں نے کہا کہ اصل امتحان تو یہ ہے کہ وہ جسمانی تکلیف میں مبتلا ہوں اور پھر بھی صبر وشکر پر قائم رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ نمونہ بھی دکھایا۔ حضرت ایوب کو سخت جِلدی بیماری لاحق ہوئی اور ان کے تمام جسم پر پھوڑے ہوگئے۔ مگر وہ بدستور صبر وشکر کی تصویر بنے رہے۔ جب لوگوں پر حجت تمام ہوچکی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کےلیے ایک چشمہ جاری کیا جس میں نہانے سے ان کا جسم بالکل تندرست ہوگیا۔ اور مال واولاد بھی دوبارہ مزید اضافہ کے ساتھ عطا فرمائے۔
حضرت ایوب نے بیماری کی حالت میں کسی بات پر قسم کھالی تھی کہ اچھے ہوگئے تو اپنی بیوی کو سو لکڑیاں ماریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کو پورا کرنے کی یہ تدبیر انھیں بتائی کہ ایک جھاڑو لو جس میں ایک سو سینکیں ہو اور اس سے ہلکے طورپر ایک بار اپنی بیوی کو مارو — اس سے معلوم ہوا کہ مخصوص حالات میں حیلہ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ کسی شرعی حکم کو باطل نہ کرتاہو۔خدا جب اپنے دین کےلیے کسی کو استعمال کرے اور وہ شخص کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردے تو خدا اس کو دوبارہ اس سے زیادہ دے دیتاہے جتنا اس سے مذکورہ عمل کے دوران چھنا تھا۔
ص 38:44
حضرت ایوب علیہ السلام بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے تھے۔ ان کا زمانہ غالباً نویں صدی قبل مسیح ہے۔ ان کوکافی مال ودولت حاصل تھی۔ مگر مال ودولت میں گم ہونے کے بجائے وہ خدا کی عبادت کرتے اور لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے تھے۔کچھ غلط قسم کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ایوب کو جب اتنا زیادہ مال ودولت حاصل ہے تو وہ دین دارنہ بنیں گے تو اور کیا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر حجت قائم کرنے کےلیے حضرت ایوب کو مفلس بنادیا۔ مگر وہ بدستور اللہ کے عبادت گزار بنے رہے۔ انھوںنے کہا کہ ’’خداوند نے دیا اور خداوند نے لے لیا۔ خداوند کا نام مبارک ہو‘‘(ايوب 1:21)۔
شریر لوگ اب بھی چپ نہ ہو ئے۔ انھوں نے کہا کہ اصل امتحان تو یہ ہے کہ وہ جسمانی تکلیف میں مبتلا ہوں اور پھر بھی صبر وشکر پر قائم رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ نمونہ بھی دکھایا۔ حضرت ایوب کو سخت جِلدی بیماری لاحق ہوئی اور ان کے تمام جسم پر پھوڑے ہوگئے۔ مگر وہ بدستور صبر وشکر کی تصویر بنے رہے۔ جب لوگوں پر حجت تمام ہوچکی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کےلیے ایک چشمہ جاری کیا جس میں نہانے سے ان کا جسم بالکل تندرست ہوگیا۔ اور مال واولاد بھی دوبارہ مزید اضافہ کے ساتھ عطا فرمائے۔
حضرت ایوب نے بیماری کی حالت میں کسی بات پر قسم کھالی تھی کہ اچھے ہوگئے تو اپنی بیوی کو سو لکڑیاں ماریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کو پورا کرنے کی یہ تدبیر انھیں بتائی کہ ایک جھاڑو لو جس میں ایک سو سینکیں ہو اور اس سے ہلکے طورپر ایک بار اپنی بیوی کو مارو — اس سے معلوم ہوا کہ مخصوص حالات میں حیلہ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ کسی شرعی حکم کو باطل نہ کرتاہو۔خدا جب اپنے دین کےلیے کسی کو استعمال کرے اور وہ شخص کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردے تو خدا اس کو دوبارہ اس سے زیادہ دے دیتاہے جتنا اس سے مذکورہ عمل کے دوران چھنا تھا۔
ص 38:45
یہاں چند پیغمبروں کا ذکر کرکے ارشاد ہوا ہے کہ وہ ہاتھ والے اور آنکھ والے تھے۔ یعنی ان کو جسمانی قوت اور ذہنی بصیرت دونوں اعلیٰ درجہ میں حاصل تھی۔ ایک طرف وہ عملی صلاحیت کے مالک تھے۔ دوسری طرف انھوںنے اس معرفت کا ثبوت دیا کہ وہ چیزوں کو صحیح نظر سے دیکھنے اور معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ خدا نے ان کو اپنے پیغام کی پیغام بری کےلیے چن لیا۔
خدا کا خاص کام کیا ہے جس کےلیے وہ انسانوں میں سے اپنے پیغمبر چنتا ہے۔ وہ ہے آخرت کے گھر کی یاد دہانی۔ پیغمبروں کا خاص مشن ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ انسان کو اس حقیقت سے باخبر کریں کہ انسان کی اصل منزل آخرت ہے۔ اور انسان کو اسی کی تیاری کرنا چاہيے۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے اور اس دنیا میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو اس سنگین مسئلہ سے آگاہ کیا جائے۔
ص 38:46
یہاں چند پیغمبروں کا ذکر کرکے ارشاد ہوا ہے کہ وہ ہاتھ والے اور آنکھ والے تھے۔ یعنی ان کو جسمانی قوت اور ذہنی بصیرت دونوں اعلیٰ درجہ میں حاصل تھی۔ ایک طرف وہ عملی صلاحیت کے مالک تھے۔ دوسری طرف انھوںنے اس معرفت کا ثبوت دیا کہ وہ چیزوں کو صحیح نظر سے دیکھنے اور معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ خدا نے ان کو اپنے پیغام کی پیغام بری کےلیے چن لیا۔
خدا کا خاص کام کیا ہے جس کےلیے وہ انسانوں میں سے اپنے پیغمبر چنتا ہے۔ وہ ہے آخرت کے گھر کی یاد دہانی۔ پیغمبروں کا خاص مشن ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ انسان کو اس حقیقت سے باخبر کریں کہ انسان کی اصل منزل آخرت ہے۔ اور انسان کو اسی کی تیاری کرنا چاہيے۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے اور اس دنیا میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو اس سنگین مسئلہ سے آگاہ کیا جائے۔
ص 38:47
یہاں چند پیغمبروں کا ذکر کرکے ارشاد ہوا ہے کہ وہ ہاتھ والے اور آنکھ والے تھے۔ یعنی ان کو جسمانی قوت اور ذہنی بصیرت دونوں اعلیٰ درجہ میں حاصل تھی۔ ایک طرف وہ عملی صلاحیت کے مالک تھے۔ دوسری طرف انھوںنے اس معرفت کا ثبوت دیا کہ وہ چیزوں کو صحیح نظر سے دیکھنے اور معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ خدا نے ان کو اپنے پیغام کی پیغام بری کےلیے چن لیا۔
خدا کا خاص کام کیا ہے جس کےلیے وہ انسانوں میں سے اپنے پیغمبر چنتا ہے۔ وہ ہے آخرت کے گھر کی یاد دہانی۔ پیغمبروں کا خاص مشن ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ انسان کو اس حقیقت سے باخبر کریں کہ انسان کی اصل منزل آخرت ہے۔ اور انسان کو اسی کی تیاری کرنا چاہيے۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے اور اس دنیا میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو اس سنگین مسئلہ سے آگاہ کیا جائے۔
ص 38:48
یہاں چند پیغمبروں کا ذکر کرکے ارشاد ہوا ہے کہ وہ ہاتھ والے اور آنکھ والے تھے۔ یعنی ان کو جسمانی قوت اور ذہنی بصیرت دونوں اعلیٰ درجہ میں حاصل تھی۔ ایک طرف وہ عملی صلاحیت کے مالک تھے۔ دوسری طرف انھوںنے اس معرفت کا ثبوت دیا کہ وہ چیزوں کو صحیح نظر سے دیکھنے اور معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ خدا نے ان کو اپنے پیغام کی پیغام بری کےلیے چن لیا۔
خدا کا خاص کام کیا ہے جس کےلیے وہ انسانوں میں سے اپنے پیغمبر چنتا ہے۔ وہ ہے آخرت کے گھر کی یاد دہانی۔ پیغمبروں کا خاص مشن ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ انسان کو اس حقیقت سے باخبر کریں کہ انسان کی اصل منزل آخرت ہے۔ اور انسان کو اسی کی تیاری کرنا چاہيے۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے اور اس دنیا میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو اس سنگین مسئلہ سے آگاہ کیا جائے۔
ص 38:49
جنت کے دروازے ان لوگوں کےلیے کھولے جاتے ہیں جو اپنے دل کے دروازے نصیحت کےلیے کھولیں۔ جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے حصہ دار ہوں گے۔
قرآن میں آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر ہے وہ سب وہی ہیں جو دنیا میں بھی انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ مگر دونوں میں زبردست فرق ہے۔ وہ یہ کہ دنیا میں یہ نعمتیں وقتی اور ابتدائی شکل میں دی گئی ہیں اور آخرت میں یہ نعمتیں ابدی اور انتہائی شکل میں دی جائیں گی۔ مزید یہ کہ ان اعلیٰ نعمتوں کے ساتھ ہر قسم کے خوف اور اندیشہ کو حذف کردیا جائے گا جن کا حذف ہونا موجودہ دنیامیں کسی طرح ممکن نہیں۔
ص 38:50
جنت کے دروازے ان لوگوں کےلیے کھولے جاتے ہیں جو اپنے دل کے دروازے نصیحت کےلیے کھولیں۔ جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے حصہ دار ہوں گے۔
قرآن میں آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر ہے وہ سب وہی ہیں جو دنیا میں بھی انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ مگر دونوں میں زبردست فرق ہے۔ وہ یہ کہ دنیا میں یہ نعمتیں وقتی اور ابتدائی شکل میں دی گئی ہیں اور آخرت میں یہ نعمتیں ابدی اور انتہائی شکل میں دی جائیں گی۔ مزید یہ کہ ان اعلیٰ نعمتوں کے ساتھ ہر قسم کے خوف اور اندیشہ کو حذف کردیا جائے گا جن کا حذف ہونا موجودہ دنیامیں کسی طرح ممکن نہیں۔
ص 38:51
جنت کے دروازے ان لوگوں کےلیے کھولے جاتے ہیں جو اپنے دل کے دروازے نصیحت کےلیے کھولیں۔ جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے حصہ دار ہوں گے۔
قرآن میں آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر ہے وہ سب وہی ہیں جو دنیا میں بھی انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ مگر دونوں میں زبردست فرق ہے۔ وہ یہ کہ دنیا میں یہ نعمتیں وقتی اور ابتدائی شکل میں دی گئی ہیں اور آخرت میں یہ نعمتیں ابدی اور انتہائی شکل میں دی جائیں گی۔ مزید یہ کہ ان اعلیٰ نعمتوں کے ساتھ ہر قسم کے خوف اور اندیشہ کو حذف کردیا جائے گا جن کا حذف ہونا موجودہ دنیامیں کسی طرح ممکن نہیں۔
ص 38:52
جنت کے دروازے ان لوگوں کےلیے کھولے جاتے ہیں جو اپنے دل کے دروازے نصیحت کےلیے کھولیں۔ جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے حصہ دار ہوں گے۔
قرآن میں آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر ہے وہ سب وہی ہیں جو دنیا میں بھی انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ مگر دونوں میں زبردست فرق ہے۔ وہ یہ کہ دنیا میں یہ نعمتیں وقتی اور ابتدائی شکل میں دی گئی ہیں اور آخرت میں یہ نعمتیں ابدی اور انتہائی شکل میں دی جائیں گی۔ مزید یہ کہ ان اعلیٰ نعمتوں کے ساتھ ہر قسم کے خوف اور اندیشہ کو حذف کردیا جائے گا جن کا حذف ہونا موجودہ دنیامیں کسی طرح ممکن نہیں۔
ص 38:53
جنت کے دروازے ان لوگوں کےلیے کھولے جاتے ہیں جو اپنے دل کے دروازے نصیحت کےلیے کھولیں۔ جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے حصہ دار ہوں گے۔
قرآن میں آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر ہے وہ سب وہی ہیں جو دنیا میں بھی انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ مگر دونوں میں زبردست فرق ہے۔ وہ یہ کہ دنیا میں یہ نعمتیں وقتی اور ابتدائی شکل میں دی گئی ہیں اور آخرت میں یہ نعمتیں ابدی اور انتہائی شکل میں دی جائیں گی۔ مزید یہ کہ ان اعلیٰ نعمتوں کے ساتھ ہر قسم کے خوف اور اندیشہ کو حذف کردیا جائے گا جن کا حذف ہونا موجودہ دنیامیں کسی طرح ممکن نہیں۔
ص 38:54
جنت کے دروازے ان لوگوں کےلیے کھولے جاتے ہیں جو اپنے دل کے دروازے نصیحت کےلیے کھولیں۔ جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے حصہ دار ہوں گے۔
قرآن میں آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر ہے وہ سب وہی ہیں جو دنیا میں بھی انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ مگر دونوں میں زبردست فرق ہے۔ وہ یہ کہ دنیا میں یہ نعمتیں وقتی اور ابتدائی شکل میں دی گئی ہیں اور آخرت میں یہ نعمتیں ابدی اور انتہائی شکل میں دی جائیں گی۔ مزید یہ کہ ان اعلیٰ نعمتوں کے ساتھ ہر قسم کے خوف اور اندیشہ کو حذف کردیا جائے گا جن کا حذف ہونا موجودہ دنیامیں کسی طرح ممکن نہیں۔
ص 38:55
جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔
سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔
ص 38:56
جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔
سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔
ص 38:57
جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔
سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔
ص 38:58
جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔
سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔
ص 38:59
جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔
سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔
ص 38:60
جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔
سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔
ص 38:61
جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔
سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔
ص 38:62
جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔
سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔
ص 38:63
جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔
سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔
ص 38:64
جہنم ان تکلیفوں کی ابدی اورانتہائی شکل ہے جن کا موجودہ دنیا میں کوئی شخص تصور کرسکتاہے۔ دنیا میں سرکشی کرنے والے اور سچائی کو جھٹلانے والے لوگ جب جہنم میں اكٹھاہوں گے تو ان کے لیڈر اور پیرو كار آپس میں تکرار کریں گے۔ وہ پیرو كار جو اپنے لیڈروں کی عظمت پر فخر کرتے تھے وہ وہاں اپنا انجام دیکھ کر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس کا ایک نقشہ ان آیات میں دکھایا گیا ہے۔
سچائی کا انکار کرنے والے جب آخرت میں اپنا برا انجام دیکھیں گے تو وہاں وہ ان لوگوں کو یاد کریں گے جنھوں نے سچائی کا ساتھ دیا تھا اور اس بنا پر وہ اپنے ماحول میں حقیر بن گئے تھے۔ ان کے متعلق منکرین کہتے تھے کہ یہ اکابر کی توہین کرنے والے ہیں۔ یہ آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہیں۔ انھوںنے ملت سے الگ اپنا راستہ بنایا ہے۔یہ منکرین اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کو ناحق پر۔ مگر آخرت میں معاملہ بالکل برعکس ہوجائے گا۔ اس وقت ان پر کھلے گا کہ جن کو حقیر سمجھ کر وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہی آخرت کی سرفرازی میں سب سے آگے درجہ پائے ہوئے ہیں۔
ص 38:65
یہاں جس اختصام (تکرار) کا ذکر ہے وہ وہی ہے جو اگلی آیت میں منقول ہے یعنی آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس کا بحث وتکرار کرنا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان پہلے روز سے آدم کا دشمن بن گیا ہے۔ وہ پرفریب باتوں کے ذریعہ اولاد آدم کو سیدھے راستہ سے بھٹکاتا ہے۔ اس ليے انسان کو چاہيے کہ وہ ہوشیار رہے اور اس سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلہ میں آدمی کی پیدائش کے وقت جو اختصام ہوا اور اس کو قرآن میں بیان کیا گیا وہ سراسر وحی تھا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ملأ اعلیٰ میں موجود نہ تھے کہ ذاتی واقفیت کی بنیاد پر اس کو بیان کرسکتے۔
سب سے اہم خبر انسان کےلیے یہ ہے کہ اس کو زندگی کی اس نوعیت سے آگاہ کیا جائے کہ شیطان ہر لمحہ اس کے پیچھے لگا ہوا ہے، وہ اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں داخل ہو کر اس کو گمراہ کررہا ہے۔ انسان کو چاہيے کہ وہ اس خطرے سے اپنے آپ کو بچائے۔ پیغمبر ایک اعتبار سے اسی ليے آئے کہ انسان کو اس نازک خطرہ سے آگاہ کردیں۔
ص 38:66
یہاں جس اختصام (تکرار) کا ذکر ہے وہ وہی ہے جو اگلی آیت میں منقول ہے یعنی آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس کا بحث وتکرار کرنا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان پہلے روز سے آدم کا دشمن بن گیا ہے۔ وہ پرفریب باتوں کے ذریعہ اولاد آدم کو سیدھے راستہ سے بھٹکاتا ہے۔ اس ليے انسان کو چاہيے کہ وہ ہوشیار رہے اور اس سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلہ میں آدمی کی پیدائش کے وقت جو اختصام ہوا اور اس کو قرآن میں بیان کیا گیا وہ سراسر وحی تھا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ملأ اعلیٰ میں موجود نہ تھے کہ ذاتی واقفیت کی بنیاد پر اس کو بیان کرسکتے۔
سب سے اہم خبر انسان کےلیے یہ ہے کہ اس کو زندگی کی اس نوعیت سے آگاہ کیا جائے کہ شیطان ہر لمحہ اس کے پیچھے لگا ہوا ہے، وہ اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں داخل ہو کر اس کو گمراہ کررہا ہے۔ انسان کو چاہيے کہ وہ اس خطرے سے اپنے آپ کو بچائے۔ پیغمبر ایک اعتبار سے اسی ليے آئے کہ انسان کو اس نازک خطرہ سے آگاہ کردیں۔
ص 38:67
یہاں جس اختصام (تکرار) کا ذکر ہے وہ وہی ہے جو اگلی آیت میں منقول ہے یعنی آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس کا بحث وتکرار کرنا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان پہلے روز سے آدم کا دشمن بن گیا ہے۔ وہ پرفریب باتوں کے ذریعہ اولاد آدم کو سیدھے راستہ سے بھٹکاتا ہے۔ اس ليے انسان کو چاہيے کہ وہ ہوشیار رہے اور اس سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلہ میں آدمی کی پیدائش کے وقت جو اختصام ہوا اور اس کو قرآن میں بیان کیا گیا وہ سراسر وحی تھا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ملأ اعلیٰ میں موجود نہ تھے کہ ذاتی واقفیت کی بنیاد پر اس کو بیان کرسکتے۔
سب سے اہم خبر انسان کےلیے یہ ہے کہ اس کو زندگی کی اس نوعیت سے آگاہ کیا جائے کہ شیطان ہر لمحہ اس کے پیچھے لگا ہوا ہے، وہ اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں داخل ہو کر اس کو گمراہ کررہا ہے۔ انسان کو چاہيے کہ وہ اس خطرے سے اپنے آپ کو بچائے۔ پیغمبر ایک اعتبار سے اسی ليے آئے کہ انسان کو اس نازک خطرہ سے آگاہ کردیں۔
ص 38:68
یہاں جس اختصام (تکرار) کا ذکر ہے وہ وہی ہے جو اگلی آیت میں منقول ہے یعنی آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس کا بحث وتکرار کرنا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان پہلے روز سے آدم کا دشمن بن گیا ہے۔ وہ پرفریب باتوں کے ذریعہ اولاد آدم کو سیدھے راستہ سے بھٹکاتا ہے۔ اس ليے انسان کو چاہيے کہ وہ ہوشیار رہے اور اس سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلہ میں آدمی کی پیدائش کے وقت جو اختصام ہوا اور اس کو قرآن میں بیان کیا گیا وہ سراسر وحی تھا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ملأ اعلیٰ میں موجود نہ تھے کہ ذاتی واقفیت کی بنیاد پر اس کو بیان کرسکتے۔
سب سے اہم خبر انسان کےلیے یہ ہے کہ اس کو زندگی کی اس نوعیت سے آگاہ کیا جائے کہ شیطان ہر لمحہ اس کے پیچھے لگا ہوا ہے، وہ اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں داخل ہو کر اس کو گمراہ کررہا ہے۔ انسان کو چاہيے کہ وہ اس خطرے سے اپنے آپ کو بچائے۔ پیغمبر ایک اعتبار سے اسی ليے آئے کہ انسان کو اس نازک خطرہ سے آگاہ کردیں۔
ص 38:69
یہاں جس اختصام (تکرار) کا ذکر ہے وہ وہی ہے جو اگلی آیت میں منقول ہے یعنی آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس کا بحث وتکرار کرنا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان پہلے روز سے آدم کا دشمن بن گیا ہے۔ وہ پرفریب باتوں کے ذریعہ اولاد آدم کو سیدھے راستہ سے بھٹکاتا ہے۔ اس ليے انسان کو چاہيے کہ وہ ہوشیار رہے اور اس سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلہ میں آدمی کی پیدائش کے وقت جو اختصام ہوا اور اس کو قرآن میں بیان کیا گیا وہ سراسر وحی تھا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ملأ اعلیٰ میں موجود نہ تھے کہ ذاتی واقفیت کی بنیاد پر اس کو بیان کرسکتے۔
سب سے اہم خبر انسان کےلیے یہ ہے کہ اس کو زندگی کی اس نوعیت سے آگاہ کیا جائے کہ شیطان ہر لمحہ اس کے پیچھے لگا ہوا ہے، وہ اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں داخل ہو کر اس کو گمراہ کررہا ہے۔ انسان کو چاہيے کہ وہ اس خطرے سے اپنے آپ کو بچائے۔ پیغمبر ایک اعتبار سے اسی ليے آئے کہ انسان کو اس نازک خطرہ سے آگاہ کردیں۔
ص 38:70
یہاں جس اختصام (تکرار) کا ذکر ہے وہ وہی ہے جو اگلی آیت میں منقول ہے یعنی آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس کا بحث وتکرار کرنا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان پہلے روز سے آدم کا دشمن بن گیا ہے۔ وہ پرفریب باتوں کے ذریعہ اولاد آدم کو سیدھے راستہ سے بھٹکاتا ہے۔ اس ليے انسان کو چاہيے کہ وہ ہوشیار رہے اور اس سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلہ میں آدمی کی پیدائش کے وقت جو اختصام ہوا اور اس کو قرآن میں بیان کیا گیا وہ سراسر وحی تھا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ملأ اعلیٰ میں موجود نہ تھے کہ ذاتی واقفیت کی بنیاد پر اس کو بیان کرسکتے۔
سب سے اہم خبر انسان کےلیے یہ ہے کہ اس کو زندگی کی اس نوعیت سے آگاہ کیا جائے کہ شیطان ہر لمحہ اس کے پیچھے لگا ہوا ہے، وہ اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں داخل ہو کر اس کو گمراہ کررہا ہے۔ انسان کو چاہيے کہ وہ اس خطرے سے اپنے آپ کو بچائے۔ پیغمبر ایک اعتبار سے اسی ليے آئے کہ انسان کو اس نازک خطرہ سے آگاہ کردیں۔
ص 38:71
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی اعلیٰ مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ اور اس کی علامت کے طور پر فرشتوں اور جنوں کو حکم دیاکہ وہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کے بعد جب ایسا ہوا کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو وہ ہمیشہ کےلیے ملعون قرار پاگیا۔ مگر اس سنگین واقعہ کی اہمیت صرف ابلیس کے اعتبار سے نہ تھی بلکہ خود آدم کےلیے بھی اس کی بے حد اہمیت تھی۔
آدم کے آگے جھکنے سے انکار کرکے ابلیس ابدی طور پر نسلِ آدم کا حریف بن گیا۔ اس طرح انسانی تاریخ اول روز سے ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اس واقعہ نے طے کر دیا کہ انسان کےلیے زندگی کا سفر کوئی سادہ سفر نہیں ہوگا بلکہ شدید مزاحمت کا سفر ہوگا۔ اس کو ابلیس کے بہکاؤں اور اس کی پرفریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح راستہ پر قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔
انسان اور جنت کے درمیان شیطان کی فریب کاریاں حائل ہیں۔ جو شخص شیطان کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچائے وہی جنت کے ابدی باغوں میں داخل ہوگا۔ اور جو لوگ شیطان کی فریب کاریوں کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت سے محروم رہ گئے۔
ص 38:72
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی اعلیٰ مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ اور اس کی علامت کے طور پر فرشتوں اور جنوں کو حکم دیاکہ وہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کے بعد جب ایسا ہوا کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو وہ ہمیشہ کےلیے ملعون قرار پاگیا۔ مگر اس سنگین واقعہ کی اہمیت صرف ابلیس کے اعتبار سے نہ تھی بلکہ خود آدم کےلیے بھی اس کی بے حد اہمیت تھی۔
آدم کے آگے جھکنے سے انکار کرکے ابلیس ابدی طور پر نسلِ آدم کا حریف بن گیا۔ اس طرح انسانی تاریخ اول روز سے ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اس واقعہ نے طے کر دیا کہ انسان کےلیے زندگی کا سفر کوئی سادہ سفر نہیں ہوگا بلکہ شدید مزاحمت کا سفر ہوگا۔ اس کو ابلیس کے بہکاؤں اور اس کی پرفریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح راستہ پر قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔
انسان اور جنت کے درمیان شیطان کی فریب کاریاں حائل ہیں۔ جو شخص شیطان کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچائے وہی جنت کے ابدی باغوں میں داخل ہوگا۔ اور جو لوگ شیطان کی فریب کاریوں کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت سے محروم رہ گئے۔
ص 38:73
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی اعلیٰ مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ اور اس کی علامت کے طور پر فرشتوں اور جنوں کو حکم دیاکہ وہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کے بعد جب ایسا ہوا کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو وہ ہمیشہ کےلیے ملعون قرار پاگیا۔ مگر اس سنگین واقعہ کی اہمیت صرف ابلیس کے اعتبار سے نہ تھی بلکہ خود آدم کےلیے بھی اس کی بے حد اہمیت تھی۔
آدم کے آگے جھکنے سے انکار کرکے ابلیس ابدی طور پر نسلِ آدم کا حریف بن گیا۔ اس طرح انسانی تاریخ اول روز سے ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اس واقعہ نے طے کر دیا کہ انسان کےلیے زندگی کا سفر کوئی سادہ سفر نہیں ہوگا بلکہ شدید مزاحمت کا سفر ہوگا۔ اس کو ابلیس کے بہکاؤں اور اس کی پرفریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح راستہ پر قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔
انسان اور جنت کے درمیان شیطان کی فریب کاریاں حائل ہیں۔ جو شخص شیطان کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچائے وہی جنت کے ابدی باغوں میں داخل ہوگا۔ اور جو لوگ شیطان کی فریب کاریوں کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت سے محروم رہ گئے۔
ص 38:74
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی اعلیٰ مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ اور اس کی علامت کے طور پر فرشتوں اور جنوں کو حکم دیاکہ وہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کے بعد جب ایسا ہوا کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو وہ ہمیشہ کےلیے ملعون قرار پاگیا۔ مگر اس سنگین واقعہ کی اہمیت صرف ابلیس کے اعتبار سے نہ تھی بلکہ خود آدم کےلیے بھی اس کی بے حد اہمیت تھی۔
آدم کے آگے جھکنے سے انکار کرکے ابلیس ابدی طور پر نسلِ آدم کا حریف بن گیا۔ اس طرح انسانی تاریخ اول روز سے ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اس واقعہ نے طے کر دیا کہ انسان کےلیے زندگی کا سفر کوئی سادہ سفر نہیں ہوگا بلکہ شدید مزاحمت کا سفر ہوگا۔ اس کو ابلیس کے بہکاؤں اور اس کی پرفریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح راستہ پر قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔
انسان اور جنت کے درمیان شیطان کی فریب کاریاں حائل ہیں۔ جو شخص شیطان کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچائے وہی جنت کے ابدی باغوں میں داخل ہوگا۔ اور جو لوگ شیطان کی فریب کاریوں کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت سے محروم رہ گئے۔
ص 38:75
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی اعلیٰ مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ اور اس کی علامت کے طور پر فرشتوں اور جنوں کو حکم دیاکہ وہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کے بعد جب ایسا ہوا کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو وہ ہمیشہ کےلیے ملعون قرار پاگیا۔ مگر اس سنگین واقعہ کی اہمیت صرف ابلیس کے اعتبار سے نہ تھی بلکہ خود آدم کےلیے بھی اس کی بے حد اہمیت تھی۔
آدم کے آگے جھکنے سے انکار کرکے ابلیس ابدی طور پر نسلِ آدم کا حریف بن گیا۔ اس طرح انسانی تاریخ اول روز سے ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اس واقعہ نے طے کر دیا کہ انسان کےلیے زندگی کا سفر کوئی سادہ سفر نہیں ہوگا بلکہ شدید مزاحمت کا سفر ہوگا۔ اس کو ابلیس کے بہکاؤں اور اس کی پرفریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح راستہ پر قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔
انسان اور جنت کے درمیان شیطان کی فریب کاریاں حائل ہیں۔ جو شخص شیطان کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچائے وہی جنت کے ابدی باغوں میں داخل ہوگا۔ اور جو لوگ شیطان کی فریب کاریوں کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت سے محروم رہ گئے۔
ص 38:76
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی اعلیٰ مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ اور اس کی علامت کے طور پر فرشتوں اور جنوں کو حکم دیاکہ وہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کے بعد جب ایسا ہوا کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو وہ ہمیشہ کےلیے ملعون قرار پاگیا۔ مگر اس سنگین واقعہ کی اہمیت صرف ابلیس کے اعتبار سے نہ تھی بلکہ خود آدم کےلیے بھی اس کی بے حد اہمیت تھی۔
آدم کے آگے جھکنے سے انکار کرکے ابلیس ابدی طور پر نسلِ آدم کا حریف بن گیا۔ اس طرح انسانی تاریخ اول روز سے ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اس واقعہ نے طے کر دیا کہ انسان کےلیے زندگی کا سفر کوئی سادہ سفر نہیں ہوگا بلکہ شدید مزاحمت کا سفر ہوگا۔ اس کو ابلیس کے بہکاؤں اور اس کی پرفریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح راستہ پر قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔
انسان اور جنت کے درمیان شیطان کی فریب کاریاں حائل ہیں۔ جو شخص شیطان کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچائے وہی جنت کے ابدی باغوں میں داخل ہوگا۔ اور جو لوگ شیطان کی فریب کاریوں کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت سے محروم رہ گئے۔
ص 38:77
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی اعلیٰ مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ اور اس کی علامت کے طور پر فرشتوں اور جنوں کو حکم دیاکہ وہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کے بعد جب ایسا ہوا کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو وہ ہمیشہ کےلیے ملعون قرار پاگیا۔ مگر اس سنگین واقعہ کی اہمیت صرف ابلیس کے اعتبار سے نہ تھی بلکہ خود آدم کےلیے بھی اس کی بے حد اہمیت تھی۔
آدم کے آگے جھکنے سے انکار کرکے ابلیس ابدی طور پر نسلِ آدم کا حریف بن گیا۔ اس طرح انسانی تاریخ اول روز سے ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اس واقعہ نے طے کر دیا کہ انسان کےلیے زندگی کا سفر کوئی سادہ سفر نہیں ہوگا بلکہ شدید مزاحمت کا سفر ہوگا۔ اس کو ابلیس کے بہکاؤں اور اس کی پرفریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح راستہ پر قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔
انسان اور جنت کے درمیان شیطان کی فریب کاریاں حائل ہیں۔ جو شخص شیطان کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچائے وہی جنت کے ابدی باغوں میں داخل ہوگا۔ اور جو لوگ شیطان کی فریب کاریوں کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت سے محروم رہ گئے۔
ص 38:78
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی اعلیٰ مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ اور اس کی علامت کے طور پر فرشتوں اور جنوں کو حکم دیاکہ وہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کے بعد جب ایسا ہوا کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو وہ ہمیشہ کےلیے ملعون قرار پاگیا۔ مگر اس سنگین واقعہ کی اہمیت صرف ابلیس کے اعتبار سے نہ تھی بلکہ خود آدم کےلیے بھی اس کی بے حد اہمیت تھی۔
آدم کے آگے جھکنے سے انکار کرکے ابلیس ابدی طور پر نسلِ آدم کا حریف بن گیا۔ اس طرح انسانی تاریخ اول روز سے ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اس واقعہ نے طے کر دیا کہ انسان کےلیے زندگی کا سفر کوئی سادہ سفر نہیں ہوگا بلکہ شدید مزاحمت کا سفر ہوگا۔ اس کو ابلیس کے بہکاؤں اور اس کی پرفریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح راستہ پر قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔
انسان اور جنت کے درمیان شیطان کی فریب کاریاں حائل ہیں۔ جو شخص شیطان کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچائے وہی جنت کے ابدی باغوں میں داخل ہوگا۔ اور جو لوگ شیطان کی فریب کاریوں کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت سے محروم رہ گئے۔
ص 38:79
موجودہ امتحان کی دنیا میں شیطان کو پورا موقع دیا گیا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔مگر شیطان اسی وقت تک بہکا سکتاہے جب تک حقیقت غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ قیامت جب غیب کا پردہ پھاڑے گی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد نہ کوئی بہکانے والا باقی رہے گا اور نہ کوئی بہکنے والا۔
مخلص کا مطلب ہے کھوٹ سے خالی ہونا۔ عبد مخلص وہ ہے جو نفسیاتی بیماریوں سے پاک ہو۔ شیطان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو کوئی عملی زور حاصل نہیں۔ وہ ہمیشہ تزئین کے ذریعہ انسانوں کو بہکاتا ہے۔ یعنی باطل کو حق کے روپ میں دکھانا۔ بے اصل باتوں کو خوبصورت الفاظ میں پیش کرنا۔ سیدھی بات میں شوشہ نکال کر لوگوں کو اس کی طرف سے مشتبہ کردینا۔ تاہم شیطان کی اس تزئین سے وہی لوگ فریب کھاتے ہیں جو اپنے اندر نفسیاتی کھوٹ ليے ہوئے ہوں۔ اور جو لوگ اپنی نفسیات کو اس کی فطری حالت پر باقی رکھیں اور اپنی عقل کو کھلے طورپر استعمال کریں وہ فوراً شیطانی فریب کو پہچان لیتے ہیں۔ وہ کبھی اس کی تزئین سے گمراہ نہیں ہوتے۔
ص 38:80
موجودہ امتحان کی دنیا میں شیطان کو پورا موقع دیا گیا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔مگر شیطان اسی وقت تک بہکا سکتاہے جب تک حقیقت غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ قیامت جب غیب کا پردہ پھاڑے گی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد نہ کوئی بہکانے والا باقی رہے گا اور نہ کوئی بہکنے والا۔
مخلص کا مطلب ہے کھوٹ سے خالی ہونا۔ عبد مخلص وہ ہے جو نفسیاتی بیماریوں سے پاک ہو۔ شیطان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو کوئی عملی زور حاصل نہیں۔ وہ ہمیشہ تزئین کے ذریعہ انسانوں کو بہکاتا ہے۔ یعنی باطل کو حق کے روپ میں دکھانا۔ بے اصل باتوں کو خوبصورت الفاظ میں پیش کرنا۔ سیدھی بات میں شوشہ نکال کر لوگوں کو اس کی طرف سے مشتبہ کردینا۔ تاہم شیطان کی اس تزئین سے وہی لوگ فریب کھاتے ہیں جو اپنے اندر نفسیاتی کھوٹ ليے ہوئے ہوں۔ اور جو لوگ اپنی نفسیات کو اس کی فطری حالت پر باقی رکھیں اور اپنی عقل کو کھلے طورپر استعمال کریں وہ فوراً شیطانی فریب کو پہچان لیتے ہیں۔ وہ کبھی اس کی تزئین سے گمراہ نہیں ہوتے۔
ص 38:81
موجودہ امتحان کی دنیا میں شیطان کو پورا موقع دیا گیا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔مگر شیطان اسی وقت تک بہکا سکتاہے جب تک حقیقت غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ قیامت جب غیب کا پردہ پھاڑے گی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد نہ کوئی بہکانے والا باقی رہے گا اور نہ کوئی بہکنے والا۔
مخلص کا مطلب ہے کھوٹ سے خالی ہونا۔ عبد مخلص وہ ہے جو نفسیاتی بیماریوں سے پاک ہو۔ شیطان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو کوئی عملی زور حاصل نہیں۔ وہ ہمیشہ تزئین کے ذریعہ انسانوں کو بہکاتا ہے۔ یعنی باطل کو حق کے روپ میں دکھانا۔ بے اصل باتوں کو خوبصورت الفاظ میں پیش کرنا۔ سیدھی بات میں شوشہ نکال کر لوگوں کو اس کی طرف سے مشتبہ کردینا۔ تاہم شیطان کی اس تزئین سے وہی لوگ فریب کھاتے ہیں جو اپنے اندر نفسیاتی کھوٹ ليے ہوئے ہوں۔ اور جو لوگ اپنی نفسیات کو اس کی فطری حالت پر باقی رکھیں اور اپنی عقل کو کھلے طورپر استعمال کریں وہ فوراً شیطانی فریب کو پہچان لیتے ہیں۔ وہ کبھی اس کی تزئین سے گمراہ نہیں ہوتے۔
ص 38:82
موجودہ امتحان کی دنیا میں شیطان کو پورا موقع دیا گیا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔مگر شیطان اسی وقت تک بہکا سکتاہے جب تک حقیقت غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ قیامت جب غیب کا پردہ پھاڑے گی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد نہ کوئی بہکانے والا باقی رہے گا اور نہ کوئی بہکنے والا۔
مخلص کا مطلب ہے کھوٹ سے خالی ہونا۔ عبد مخلص وہ ہے جو نفسیاتی بیماریوں سے پاک ہو۔ شیطان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو کوئی عملی زور حاصل نہیں۔ وہ ہمیشہ تزئین کے ذریعہ انسانوں کو بہکاتا ہے۔ یعنی باطل کو حق کے روپ میں دکھانا۔ بے اصل باتوں کو خوبصورت الفاظ میں پیش کرنا۔ سیدھی بات میں شوشہ نکال کر لوگوں کو اس کی طرف سے مشتبہ کردینا۔ تاہم شیطان کی اس تزئین سے وہی لوگ فریب کھاتے ہیں جو اپنے اندر نفسیاتی کھوٹ ليے ہوئے ہوں۔ اور جو لوگ اپنی نفسیات کو اس کی فطری حالت پر باقی رکھیں اور اپنی عقل کو کھلے طورپر استعمال کریں وہ فوراً شیطانی فریب کو پہچان لیتے ہیں۔ وہ کبھی اس کی تزئین سے گمراہ نہیں ہوتے۔
ص 38:83
موجودہ امتحان کی دنیا میں شیطان کو پورا موقع دیا گیا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔مگر شیطان اسی وقت تک بہکا سکتاہے جب تک حقیقت غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ قیامت جب غیب کا پردہ پھاڑے گی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد نہ کوئی بہکانے والا باقی رہے گا اور نہ کوئی بہکنے والا۔
مخلص کا مطلب ہے کھوٹ سے خالی ہونا۔ عبد مخلص وہ ہے جو نفسیاتی بیماریوں سے پاک ہو۔ شیطان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو کوئی عملی زور حاصل نہیں۔ وہ ہمیشہ تزئین کے ذریعہ انسانوں کو بہکاتا ہے۔ یعنی باطل کو حق کے روپ میں دکھانا۔ بے اصل باتوں کو خوبصورت الفاظ میں پیش کرنا۔ سیدھی بات میں شوشہ نکال کر لوگوں کو اس کی طرف سے مشتبہ کردینا۔ تاہم شیطان کی اس تزئین سے وہی لوگ فریب کھاتے ہیں جو اپنے اندر نفسیاتی کھوٹ ليے ہوئے ہوں۔ اور جو لوگ اپنی نفسیات کو اس کی فطری حالت پر باقی رکھیں اور اپنی عقل کو کھلے طورپر استعمال کریں وہ فوراً شیطانی فریب کو پہچان لیتے ہیں۔ وہ کبھی اس کی تزئین سے گمراہ نہیں ہوتے۔
ص 38:84
موجودہ امتحان کی دنیا میں شیطان کو پورا موقع دیا گیا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔مگر شیطان اسی وقت تک بہکا سکتاہے جب تک حقیقت غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ قیامت جب غیب کا پردہ پھاڑے گی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد نہ کوئی بہکانے والا باقی رہے گا اور نہ کوئی بہکنے والا۔
مخلص کا مطلب ہے کھوٹ سے خالی ہونا۔ عبد مخلص وہ ہے جو نفسیاتی بیماریوں سے پاک ہو۔ شیطان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو کوئی عملی زور حاصل نہیں۔ وہ ہمیشہ تزئین کے ذریعہ انسانوں کو بہکاتا ہے۔ یعنی باطل کو حق کے روپ میں دکھانا۔ بے اصل باتوں کو خوبصورت الفاظ میں پیش کرنا۔ سیدھی بات میں شوشہ نکال کر لوگوں کو اس کی طرف سے مشتبہ کردینا۔ تاہم شیطان کی اس تزئین سے وہی لوگ فریب کھاتے ہیں جو اپنے اندر نفسیاتی کھوٹ ليے ہوئے ہوں۔ اور جو لوگ اپنی نفسیات کو اس کی فطری حالت پر باقی رکھیں اور اپنی عقل کو کھلے طورپر استعمال کریں وہ فوراً شیطانی فریب کو پہچان لیتے ہیں۔ وہ کبھی اس کی تزئین سے گمراہ نہیں ہوتے۔
ص 38:85
موجودہ امتحان کی دنیا میں شیطان کو پورا موقع دیا گیا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔مگر شیطان اسی وقت تک بہکا سکتاہے جب تک حقیقت غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ قیامت جب غیب کا پردہ پھاڑے گی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد نہ کوئی بہکانے والا باقی رہے گا اور نہ کوئی بہکنے والا۔
مخلص کا مطلب ہے کھوٹ سے خالی ہونا۔ عبد مخلص وہ ہے جو نفسیاتی بیماریوں سے پاک ہو۔ شیطان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو کوئی عملی زور حاصل نہیں۔ وہ ہمیشہ تزئین کے ذریعہ انسانوں کو بہکاتا ہے۔ یعنی باطل کو حق کے روپ میں دکھانا۔ بے اصل باتوں کو خوبصورت الفاظ میں پیش کرنا۔ سیدھی بات میں شوشہ نکال کر لوگوں کو اس کی طرف سے مشتبہ کردینا۔ تاہم شیطان کی اس تزئین سے وہی لوگ فریب کھاتے ہیں جو اپنے اندر نفسیاتی کھوٹ ليے ہوئے ہوں۔ اور جو لوگ اپنی نفسیات کو اس کی فطری حالت پر باقی رکھیں اور اپنی عقل کو کھلے طورپر استعمال کریں وہ فوراً شیطانی فریب کو پہچان لیتے ہیں۔ وہ کبھی اس کی تزئین سے گمراہ نہیں ہوتے۔
ص 38:86
داعی کی ایک لازمی صفت یہ ہے کہ وہ مدعو سے اجر کا طالب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان کوئی مادی جھگڑا نہیں کھڑا کرتا۔ قرآن کی دعوت آخرت کی دعوت ہے۔ اس ليے جو شخص ایسا کرے کہ وہ ایک طرف قرآن کی دعوتِ آخرت کا علم بردار ہو، اور اسی کے ساتھ مدعو قوم سے مادی مطالبات کی مہم بھی چلائے وہ مدعو کی نظر میں ایک غیر سنجیدہ آدمی ہے۔ اور جو آدمی خود اپنی غیرسنجیدگی ثابت کردے اس کی بات پر کون دھیان دے گا۔
اسی طرح داعی اپنی طرف سے بنا کر کوئی بات نہیں کہتا۔ وہ بس وہی کہتا ہے جو خدا کی طرف سے اس کو ملا ہے۔ مسروق تابعی کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انھوںنے کہا کہ اے لوگو، جو شخص کچھ جانتا ہو تو اس کو چاہيے کہ بولے۔ اور جو شخص نہ جانتا ہو تو ا س کو یہ کہنا چاہيے کہ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ یہ علم کی بات ہے کہ آدمی جس چیز کو نہ جانے اس کے بارہ میں کہہ دے کہ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ کیونکہ اللہ عزو جل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ کہو کہ میں اس پر تم سے اجر نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4809)۔
اسی طرح داعی کی یہ صفت ہے کہ وہ دعوت کو نصیحت کے روپ میں پیش کرے۔ اس کا کلام خیر خواہانہ کلام ہو، نہ کہ مناظرانہ کلام۔
ص 38:87
داعی کی ایک لازمی صفت یہ ہے کہ وہ مدعو سے اجر کا طالب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان کوئی مادی جھگڑا نہیں کھڑا کرتا۔ قرآن کی دعوت آخرت کی دعوت ہے۔ اس ليے جو شخص ایسا کرے کہ وہ ایک طرف قرآن کی دعوتِ آخرت کا علم بردار ہو، اور اسی کے ساتھ مدعو قوم سے مادی مطالبات کی مہم بھی چلائے وہ مدعو کی نظر میں ایک غیر سنجیدہ آدمی ہے۔ اور جو آدمی خود اپنی غیرسنجیدگی ثابت کردے اس کی بات پر کون دھیان دے گا۔
اسی طرح داعی اپنی طرف سے بنا کر کوئی بات نہیں کہتا۔ وہ بس وہی کہتا ہے جو خدا کی طرف سے اس کو ملا ہے۔ مسروق تابعی کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انھوںنے کہا کہ اے لوگو، جو شخص کچھ جانتا ہو تو اس کو چاہيے کہ بولے۔ اور جو شخص نہ جانتا ہو تو ا س کو یہ کہنا چاہيے کہ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ یہ علم کی بات ہے کہ آدمی جس چیز کو نہ جانے اس کے بارہ میں کہہ دے کہ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ کیونکہ اللہ عزو جل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ کہو کہ میں اس پر تم سے اجر نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4809)۔
اسی طرح داعی کی یہ صفت ہے کہ وہ دعوت کو نصیحت کے روپ میں پیش کرے۔ اس کا کلام خیر خواہانہ کلام ہو، نہ کہ مناظرانہ کلام۔
ص 38:88
داعی کی ایک لازمی صفت یہ ہے کہ وہ مدعو سے اجر کا طالب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان کوئی مادی جھگڑا نہیں کھڑا کرتا۔ قرآن کی دعوت آخرت کی دعوت ہے۔ اس ليے جو شخص ایسا کرے کہ وہ ایک طرف قرآن کی دعوتِ آخرت کا علم بردار ہو، اور اسی کے ساتھ مدعو قوم سے مادی مطالبات کی مہم بھی چلائے وہ مدعو کی نظر میں ایک غیر سنجیدہ آدمی ہے۔ اور جو آدمی خود اپنی غیرسنجیدگی ثابت کردے اس کی بات پر کون دھیان دے گا۔
اسی طرح داعی اپنی طرف سے بنا کر کوئی بات نہیں کہتا۔ وہ بس وہی کہتا ہے جو خدا کی طرف سے اس کو ملا ہے۔ مسروق تابعی کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انھوںنے کہا کہ اے لوگو، جو شخص کچھ جانتا ہو تو اس کو چاہيے کہ بولے۔ اور جو شخص نہ جانتا ہو تو ا س کو یہ کہنا چاہيے کہ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ یہ علم کی بات ہے کہ آدمی جس چیز کو نہ جانے اس کے بارہ میں کہہ دے کہ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ کیونکہ اللہ عزو جل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ کہو کہ میں اس پر تم سے اجر نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4809)۔
اسی طرح داعی کی یہ صفت ہے کہ وہ دعوت کو نصیحت کے روپ میں پیش کرے۔ اس کا کلام خیر خواہانہ کلام ہو، نہ کہ مناظرانہ کلام۔
الزمر 39:1
قرآن حقیقتِ واقعہ کا خدائی بیان ہے۔ اس کا حکیمانہ اسلوب اور ا س کے غیر معمولی طورپر پختہ مضامین اس بات کا داخلی ثبوت ہیں کہ یہ واقعۃً خدا ہی کی طرف سے ہے۔ کوئی انسان اس قسم کا غیر معمولی کلام پیش کرنے پر قادر نہیں۔
دین کو اللہ کےلیے خالص کرنے کا مطلب ہے عبادت کو اللہ کےلیے خالص کرنا۔ یعنی یہ کہ تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو، اپنی عبادت کو اسی کےلیے خالص کرتے ہوئے (ای فاعبد اللہ وحدہ مخلصاً لہ فی عبادتک)، صفوۃ التفاسیر، جلد 3، صفحہ 64 ۔
ہر انسان کے اندر پر اسرار طور پر عبادت کا جذبہ موجود ہے۔ یعنی کسی کو بڑا تصور کرکے اس کےلیے استعجاب (Awe)کا احساس پیدا ہونا جس ہستی کے بارے میں آدمی کے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے اس کو وہ سب سے زیادہ مقدس سمجھتا ہے۔ اس کے آگے اس کی پوری ہستی جھک جاتی ہے۔ اس کی جناب میں وہ غیر معمولی قسم کے احترام وآداب کا اظہار کرتاہے۔ اس سے وہ سب سے زیادہ ڈرتاہے اور اسی سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ اس کی یاد سے اس کی روح کو لذت ملتی ہے۔ وہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا بن جاتاہے۔
اسی کانام عبادت (یا پرستش) ہے۔ اور یہ عبادت صرف ایک خدا کا حق ہے۔ مگر انسان ایسا کرتاہے کہ وہ خدا کو مانتے ہوئے عبادت میں غیر خدا کو شریک کرتاہے۔ وہ غیر خدا کےلیے عبادتی افعال انجام دیتاہے۔ یہی انسان کی اصل گمراہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح خدائی ناقابل تقسیم ہے اسی طرح عبادت کی بھی تقسیم نہیں کی جاسکتی۔
الزمر 39:2
قرآن حقیقتِ واقعہ کا خدائی بیان ہے۔ اس کا حکیمانہ اسلوب اور ا س کے غیر معمولی طورپر پختہ مضامین اس بات کا داخلی ثبوت ہیں کہ یہ واقعۃً خدا ہی کی طرف سے ہے۔ کوئی انسان اس قسم کا غیر معمولی کلام پیش کرنے پر قادر نہیں۔
دین کو اللہ کےلیے خالص کرنے کا مطلب ہے عبادت کو اللہ کےلیے خالص کرنا۔ یعنی یہ کہ تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو، اپنی عبادت کو اسی کےلیے خالص کرتے ہوئے (ای فاعبد اللہ وحدہ مخلصاً لہ فی عبادتک)، صفوۃ التفاسیر، جلد 3، صفحہ 64 ۔
ہر انسان کے اندر پر اسرار طور پر عبادت کا جذبہ موجود ہے۔ یعنی کسی کو بڑا تصور کرکے اس کےلیے استعجاب (Awe)کا احساس پیدا ہونا جس ہستی کے بارے میں آدمی کے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے اس کو وہ سب سے زیادہ مقدس سمجھتا ہے۔ اس کے آگے اس کی پوری ہستی جھک جاتی ہے۔ اس کی جناب میں وہ غیر معمولی قسم کے احترام وآداب کا اظہار کرتاہے۔ اس سے وہ سب سے زیادہ ڈرتاہے اور اسی سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ اس کی یاد سے اس کی روح کو لذت ملتی ہے۔ وہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا بن جاتاہے۔
اسی کانام عبادت (یا پرستش) ہے۔ اور یہ عبادت صرف ایک خدا کا حق ہے۔ مگر انسان ایسا کرتاہے کہ وہ خدا کو مانتے ہوئے عبادت میں غیر خدا کو شریک کرتاہے۔ وہ غیر خدا کےلیے عبادتی افعال انجام دیتاہے۔ یہی انسان کی اصل گمراہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح خدائی ناقابل تقسیم ہے اسی طرح عبادت کی بھی تقسیم نہیں کی جاسکتی۔
الزمر 39:3
قرآن حقیقتِ واقعہ کا خدائی بیان ہے۔ اس کا حکیمانہ اسلوب اور ا س کے غیر معمولی طورپر پختہ مضامین اس بات کا داخلی ثبوت ہیں کہ یہ واقعۃً خدا ہی کی طرف سے ہے۔ کوئی انسان اس قسم کا غیر معمولی کلام پیش کرنے پر قادر نہیں۔
دین کو اللہ کےلیے خالص کرنے کا مطلب ہے عبادت کو اللہ کےلیے خالص کرنا۔ یعنی یہ کہ تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو، اپنی عبادت کو اسی کےلیے خالص کرتے ہوئے (ای فاعبد اللہ وحدہ مخلصاً لہ فی عبادتک)، صفوۃ التفاسیر، جلد 3، صفحہ 64 ۔
ہر انسان کے اندر پر اسرار طور پر عبادت کا جذبہ موجود ہے۔ یعنی کسی کو بڑا تصور کرکے اس کےلیے استعجاب (Awe)کا احساس پیدا ہونا جس ہستی کے بارے میں آدمی کے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے اس کو وہ سب سے زیادہ مقدس سمجھتا ہے۔ اس کے آگے اس کی پوری ہستی جھک جاتی ہے۔ اس کی جناب میں وہ غیر معمولی قسم کے احترام وآداب کا اظہار کرتاہے۔ اس سے وہ سب سے زیادہ ڈرتاہے اور اسی سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ اس کی یاد سے اس کی روح کو لذت ملتی ہے۔ وہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا بن جاتاہے۔
اسی کانام عبادت (یا پرستش) ہے۔ اور یہ عبادت صرف ایک خدا کا حق ہے۔ مگر انسان ایسا کرتاہے کہ وہ خدا کو مانتے ہوئے عبادت میں غیر خدا کو شریک کرتاہے۔ وہ غیر خدا کےلیے عبادتی افعال انجام دیتاہے۔ یہی انسان کی اصل گمراہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح خدائی ناقابل تقسیم ہے اسی طرح عبادت کی بھی تقسیم نہیں کی جاسکتی۔
الزمر 39:4
آدمی کے اندر فطری طورپر یہ جذبہ ہے کہ وہ خدا کی طرف لپکے، وہ خدا کی پرستش کرے۔شیطان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس جذبہ کو خدا کی طرف سے ہٹا کر دوسری طرف موڑ دے۔ اس کےلیے وہ لوگوں کے ذہن میں ڈالتاہے کہ خدا کی بارگاہ اونچی ہے، تم براہ راست خدا تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس ليے تم کو بزرگوں کے وسیلہ سے خدا تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہيے۔ اسی طرح وہ لوگوں کے ذہن میں یہ عقیدہ بٹھاتا ہے کہ جس طرح انسانوں کی اولاد ہوتی ہے اسی طرح خدا کی بھی اولاد ہے۔ اور خدا کو خوش رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ تم خدا کی اولاد کو خوش رکھو۔ جدید مادہ پرستی بھی اسی کی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے جس نے آدمی کے جذبہ پرستش کو خالق سے ہٹا کر مخلوق کی طرف کردیا ہے۔
اس قسم کی تمام باتیں خدا کی تصغیر ہیں۔ جو خدا شمسی نظام کو چلا رہا ہے اور جس نے عظیم کائنات کو سنبھال رکھا ہے وہ یقینا اس سے بلند ہے کہ اس کے یہاں کسی کی سفارش چلے یا اس کے بیٹے بیٹیاں ہوں۔
الزمر 39:5
آدمی کے اندر فطری طورپر یہ جذبہ ہے کہ وہ خدا کی طرف لپکے، وہ خدا کی پرستش کرے۔شیطان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس جذبہ کو خدا کی طرف سے ہٹا کر دوسری طرف موڑ دے۔ اس کےلیے وہ لوگوں کے ذہن میں ڈالتاہے کہ خدا کی بارگاہ اونچی ہے، تم براہ راست خدا تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس ليے تم کو بزرگوں کے وسیلہ سے خدا تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہيے۔ اسی طرح وہ لوگوں کے ذہن میں یہ عقیدہ بٹھاتا ہے کہ جس طرح انسانوں کی اولاد ہوتی ہے اسی طرح خدا کی بھی اولاد ہے۔ اور خدا کو خوش رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ تم خدا کی اولاد کو خوش رکھو۔ جدید مادہ پرستی بھی اسی کی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے جس نے آدمی کے جذبہ پرستش کو خالق سے ہٹا کر مخلوق کی طرف کردیا ہے۔
اس قسم کی تمام باتیں خدا کی تصغیر ہیں۔ جو خدا شمسی نظام کو چلا رہا ہے اور جس نے عظیم کائنات کو سنبھال رکھا ہے وہ یقینا اس سے بلند ہے کہ اس کے یہاں کسی کی سفارش چلے یا اس کے بیٹے بیٹیاں ہوں۔
الزمر 39:6
اولاً ایک انسان وجود میں آیا۔ پھر عین اس کے مطابق اس کا ایک جوڑا نکالا گیا۔ اس طرح ابتدائی مرد وعورت کے ذریعہ انسانی نسل چلی۔ پھر انسان کی ضرورت کےلیے اس سے باہر اللہ تعالیٰ نے بے شمار چیزيں بنائیں۔ بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے (نرومادہ کو ملا کر آٹھ قسمیں) تہذیب کے ابتدائی دور میں ہزاروں سال تک انسان کی معیشت کا ذریعہ بنی رہیں۔ پھر جب تہذیب اگلے مرحلہ میں پہنچی تو دوسری بے شمار چیزوں کو انسان نے استعمال کرنا شروع کیا جن کو خدا نے اول روز سے ایسا بنا رکھا تھا کہ انسان ان کو اپنے کام میں لاسکے۔ جس طرح پالتو جانور طبیعی طورپر انسان کےلیے مسخر ہیں۔ اسی طرح گیسیں اور معدنیات بھی مسخر کی ہوئی ہیں۔ ورنہ انسان ان کو استعمال نہ کرسکے۔ مذکورہ آٹھ قسموں کی مثال بطور علامت ہے، نہ کہ بطور حصر۔
انسان کی پیدائش کے سلسلہ میں یہاں جن تین تاریکيوں کا ذکر ہے اس سے مراد تین پردے ہیں۔ اولاً پیٹ کی دیوار، پھر رحم مادر کا پردہ، اور پھر جنین کی بیرونی جھلّی
The mother’s abdominal wall, the wall of the uterus, and the amniochorionic membrance.
یہ سارا نظام اتنا حیرت ناک حد تک پیچیدہ اور عظیم ہے کہ خالق کائنات کے سوا کوئی اور ان کو ظہور میں نہیں لا سکتا۔ پھر اس کے سوا کون اس قابل ہے کہ اس کو معبود کا درجہ دیا جائے۔
الزمر 39:7
خدا کو ماننااور اس کا شکر گزار بننا خود انسانی عقل کا تقاضا ہے۔ کیونکہ یہ حقیقت ِ واقعہ کا اعتراف ہے اور حقیقت ِ واقعہ کا اعتراف بلا شبہ سب سے بڑا عقلی تقاضا ہے۔
آخرت عدلِ کامل کا ظہور ہے اور یہ ناممکن ہے کہ عدل کامل کی دنیا میں وہ ناقص صورت حال جاری رہے جو موجودہ دنیا میں نظر آتی ہے۔ عدل کا تقاضا ہے کہ ہر آدمی عین وہی ثابت ہو جو کہ فی الواقع وہ ہے، اور عین وہی پائے جس کا وہ حقیقۃً مستحق تھا۔ موجودہ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ آخرت اس ليے آئے گی کہ وہ دنیا کی اس کمی کو دور کرے، وہ ناقص دنیا کو آخری حد تک کامل دنیا بنادے۔
الزمر 39:8
ہر آدمی پر ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتاہے۔ وہ جن چیزوں کو اپنا سہارا سمجھ رہا تھا وہ بھی اس نازک لمحہ میں اس کے مدد گار نہیں بنتے۔ اس وقت آدمی سب کچھ بھول کر خدا کو پکارنے لگتاہے۔ اس طرح مصیبت کی گھڑیوں میں ہر آدمی جان لیتاہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مگر مصیبت دور ہوتے ہی وہ دوبارہ پہلے کی طرح بن جاتاہے۔
انسان کی مزید سرکشی یہ ہے کہ وہ اپنی نجات کو خدا کے سوا دوسری چیزوں کی طرف منسوب کرنے لگتاہے۔ کچھ لوگ اس کو اسباب کا کرشمہ بتاتے ہیں اور کچھ لوگ فرضی معبودوں کا کرشمہ۔ آدمی اگر غلطی کرکے خاموش رہے تو یہ صرف ایک شخص کا گمراہ ہونا ہے۔ مگر جب وہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کےلیے اس کی جھوٹی توجیہ کرنے لگے تو وہ گمراہ ہونے کے ساتھ گمراہ کرنے والا بھی بنا۔
ایک انسان وہ ہے جس کو صرف مادی غم بے قرار کرے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کو خدا کی یاد بے قرار کردیتی ہو۔ یہی دوسرا انسان دراصل خدا والا انسان ہے۔ اس کا اقرارِ خدا حالات کی پیداوار نہیں ہوتا، وہ اس کی شعوری دریافت ہوتا ہے۔ وہ خدا کو ایک ایسی برتر ہستی کی حیثیت سے پاتا ہے کہ اس کی امیدیں اور اس کے اندیشے سب ایک خدا کی ذات کے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں۔ اس کی بے قراریاں رات کے لمحات میں بھی ا س کو بستر سے جدا کردیتی ہیں۔ اس کی تنہائی غفلت کی تنہائی نہیں ہوتی بلکہ خدا کی یاد کی تنہائی بن جاتی ہے۔
علم والا وہ ہے جس کی نفسیات میں خدا کی یاد سے ہلچل پیدا ہوتی ہو،اور بے علم والا وہ ہے جس کی نفسیات کو صرف مادی حالات بیدار کریں۔ وہ مادی جھٹکوں سے جاگے اور اس کے بعد دوبارہ غفلت کی نیند سو جائے۔
الزمر 39:9
ہر آدمی پر ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتاہے۔ وہ جن چیزوں کو اپنا سہارا سمجھ رہا تھا وہ بھی اس نازک لمحہ میں اس کے مدد گار نہیں بنتے۔ اس وقت آدمی سب کچھ بھول کر خدا کو پکارنے لگتاہے۔ اس طرح مصیبت کی گھڑیوں میں ہر آدمی جان لیتاہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مگر مصیبت دور ہوتے ہی وہ دوبارہ پہلے کی طرح بن جاتاہے۔
انسان کی مزید سرکشی یہ ہے کہ وہ اپنی نجات کو خدا کے سوا دوسری چیزوں کی طرف منسوب کرنے لگتاہے۔ کچھ لوگ اس کو اسباب کا کرشمہ بتاتے ہیں اور کچھ لوگ فرضی معبودوں کا کرشمہ۔ آدمی اگر غلطی کرکے خاموش رہے تو یہ صرف ایک شخص کا گمراہ ہونا ہے۔ مگر جب وہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کےلیے اس کی جھوٹی توجیہ کرنے لگے تو وہ گمراہ ہونے کے ساتھ گمراہ کرنے والا بھی بنا۔
ایک انسان وہ ہے جس کو صرف مادی غم بے قرار کرے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کو خدا کی یاد بے قرار کردیتی ہو۔ یہی دوسرا انسان دراصل خدا والا انسان ہے۔ اس کا اقرارِ خدا حالات کی پیداوار نہیں ہوتا، وہ اس کی شعوری دریافت ہوتا ہے۔ وہ خدا کو ایک ایسی برتر ہستی کی حیثیت سے پاتا ہے کہ اس کی امیدیں اور اس کے اندیشے سب ایک خدا کی ذات کے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں۔ اس کی بے قراریاں رات کے لمحات میں بھی ا س کو بستر سے جدا کردیتی ہیں۔ اس کی تنہائی غفلت کی تنہائی نہیں ہوتی بلکہ خدا کی یاد کی تنہائی بن جاتی ہے۔
علم والا وہ ہے جس کی نفسیات میں خدا کی یاد سے ہلچل پیدا ہوتی ہو،اور بے علم والا وہ ہے جس کی نفسیات کو صرف مادی حالات بیدار کریں۔ وہ مادی جھٹکوں سے جاگے اور اس کے بعد دوبارہ غفلت کی نیند سو جائے۔
الزمر 39:10
آدمی کو جب اللہ کی گہری معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کالازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ اللہ سے ڈرنے والا بن جاتاہے۔ اللہ کی عظمتوں کا ادراک اس کو اللہ کے آگے پست کردیتاہے۔ اس کی عملی زندگی اللہ کے احکام کی پابندی میں گزرنے لگتی ہے۔ وہ اس معاملہ میں اس حد تک سنجیدہ ہوجاتا ہے کہ وه سب کچھ چھوڑ دے مگر اللہ کو نہ چھوڑے۔
ایمان کے اوپر زندگی کی تعمیر کرنا آدمی کےلیے زبردست امتحان ہے۔ اس امتحان میں وہی لوگ پورے اترتے ہیں جن کےلیے ایمان اتنی قیمتی دولت ہو کہ اس کی خاطر وہ ہر دوسری چیز پر صبر کرنے کےلیے راضی ہوجائیں۔ ایمانی زندگی عمل کے اعتبار سے صبر والی زندگی کا دوسرا نام ہے۔ جو لوگ صبر کی قیمت پر مومن بننے کےلیے تیار ہوں وہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے اعلیٰ انعامات میں حصہ دار بنائے جائیں گے۔
الزمر 39:11
پیغمبر کی اصل دعوت یہ ہوتی ہے کہ لوگ صرف ایک خدا کے پرستار بنیں۔ اس کے سوا دوسری تمام چیزوں کی پرستاری چھوڑدیں۔ پیغمبر کےلیے یہ معروف معنوں میں صرف قیادتی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کا ذاتی مسئلہ ہوتا ہے۔ اس ليے وہ سب سے پہلے خود اس پر قائم ہوتاہے۔ پیغمبر کو یقین ہوتا ہے کہ آدمی کے نفع اور نقصان کا اصل فیصلہ آخرت میں ہونے والا ہے۔ اس ليے وہ خود اپنی زندگی کو آخرت کی راہ میں لگاتا ہے اور دوسروں کو اس کی طرف لگنے کی دعوت دیتا ہے۔
پیغمبر کے کام کی یہ نوعیت داعی کے کام کی نوعیت کو بتا رہی ہے۔ حق کا داعی وہی شخص ہے جس کےلیے حق اس کا ذاتی مسئلہ بن جائے۔ جس کی دعوت اس کی اندرونی حالت کا ایک بے تابانہ اظہار ہو، نہ کہ لاؤڈاسپیکر کی طرح صرف ایک خارجی پکار۔
الزمر 39:12
پیغمبر کی اصل دعوت یہ ہوتی ہے کہ لوگ صرف ایک خدا کے پرستار بنیں۔ اس کے سوا دوسری تمام چیزوں کی پرستاری چھوڑدیں۔ پیغمبر کےلیے یہ معروف معنوں میں صرف قیادتی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کا ذاتی مسئلہ ہوتا ہے۔ اس ليے وہ سب سے پہلے خود اس پر قائم ہوتاہے۔ پیغمبر کو یقین ہوتا ہے کہ آدمی کے نفع اور نقصان کا اصل فیصلہ آخرت میں ہونے والا ہے۔ اس ليے وہ خود اپنی زندگی کو آخرت کی راہ میں لگاتا ہے اور دوسروں کو اس کی طرف لگنے کی دعوت دیتا ہے۔
پیغمبر کے کام کی یہ نوعیت داعی کے کام کی نوعیت کو بتا رہی ہے۔ حق کا داعی وہی شخص ہے جس کےلیے حق اس کا ذاتی مسئلہ بن جائے۔ جس کی دعوت اس کی اندرونی حالت کا ایک بے تابانہ اظہار ہو، نہ کہ لاؤڈاسپیکر کی طرح صرف ایک خارجی پکار۔
الزمر 39:13
پیغمبر کی اصل دعوت یہ ہوتی ہے کہ لوگ صرف ایک خدا کے پرستار بنیں۔ اس کے سوا دوسری تمام چیزوں کی پرستاری چھوڑدیں۔ پیغمبر کےلیے یہ معروف معنوں میں صرف قیادتی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کا ذاتی مسئلہ ہوتا ہے۔ اس ليے وہ سب سے پہلے خود اس پر قائم ہوتاہے۔ پیغمبر کو یقین ہوتا ہے کہ آدمی کے نفع اور نقصان کا اصل فیصلہ آخرت میں ہونے والا ہے۔ اس ليے وہ خود اپنی زندگی کو آخرت کی راہ میں لگاتا ہے اور دوسروں کو اس کی طرف لگنے کی دعوت دیتا ہے۔
پیغمبر کے کام کی یہ نوعیت داعی کے کام کی نوعیت کو بتا رہی ہے۔ حق کا داعی وہی شخص ہے جس کےلیے حق اس کا ذاتی مسئلہ بن جائے۔ جس کی دعوت اس کی اندرونی حالت کا ایک بے تابانہ اظہار ہو، نہ کہ لاؤڈاسپیکر کی طرح صرف ایک خارجی پکار۔
الزمر 39:14
پیغمبر کی اصل دعوت یہ ہوتی ہے کہ لوگ صرف ایک خدا کے پرستار بنیں۔ اس کے سوا دوسری تمام چیزوں کی پرستاری چھوڑدیں۔ پیغمبر کےلیے یہ معروف معنوں میں صرف قیادتی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کا ذاتی مسئلہ ہوتا ہے۔ اس ليے وہ سب سے پہلے خود اس پر قائم ہوتاہے۔ پیغمبر کو یقین ہوتا ہے کہ آدمی کے نفع اور نقصان کا اصل فیصلہ آخرت میں ہونے والا ہے۔ اس ليے وہ خود اپنی زندگی کو آخرت کی راہ میں لگاتا ہے اور دوسروں کو اس کی طرف لگنے کی دعوت دیتا ہے۔
پیغمبر کے کام کی یہ نوعیت داعی کے کام کی نوعیت کو بتا رہی ہے۔ حق کا داعی وہی شخص ہے جس کےلیے حق اس کا ذاتی مسئلہ بن جائے۔ جس کی دعوت اس کی اندرونی حالت کا ایک بے تابانہ اظہار ہو، نہ کہ لاؤڈاسپیکر کی طرح صرف ایک خارجی پکار۔
الزمر 39:15
پیغمبر کی اصل دعوت یہ ہوتی ہے کہ لوگ صرف ایک خدا کے پرستار بنیں۔ اس کے سوا دوسری تمام چیزوں کی پرستاری چھوڑدیں۔ پیغمبر کےلیے یہ معروف معنوں میں صرف قیادتی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کا ذاتی مسئلہ ہوتا ہے۔ اس ليے وہ سب سے پہلے خود اس پر قائم ہوتاہے۔ پیغمبر کو یقین ہوتا ہے کہ آدمی کے نفع اور نقصان کا اصل فیصلہ آخرت میں ہونے والا ہے۔ اس ليے وہ خود اپنی زندگی کو آخرت کی راہ میں لگاتا ہے اور دوسروں کو اس کی طرف لگنے کی دعوت دیتا ہے۔
پیغمبر کے کام کی یہ نوعیت داعی کے کام کی نوعیت کو بتا رہی ہے۔ حق کا داعی وہی شخص ہے جس کےلیے حق اس کا ذاتی مسئلہ بن جائے۔ جس کی دعوت اس کی اندرونی حالت کا ایک بے تابانہ اظہار ہو، نہ کہ لاؤڈاسپیکر کی طرح صرف ایک خارجی پکار۔
الزمر 39:16
پیغمبر کی اصل دعوت یہ ہوتی ہے کہ لوگ صرف ایک خدا کے پرستار بنیں۔ اس کے سوا دوسری تمام چیزوں کی پرستاری چھوڑدیں۔ پیغمبر کےلیے یہ معروف معنوں میں صرف قیادتی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کا ذاتی مسئلہ ہوتا ہے۔ اس ليے وہ سب سے پہلے خود اس پر قائم ہوتاہے۔ پیغمبر کو یقین ہوتا ہے کہ آدمی کے نفع اور نقصان کا اصل فیصلہ آخرت میں ہونے والا ہے۔ اس ليے وہ خود اپنی زندگی کو آخرت کی راہ میں لگاتا ہے اور دوسروں کو اس کی طرف لگنے کی دعوت دیتا ہے۔
پیغمبر کے کام کی یہ نوعیت داعی کے کام کی نوعیت کو بتا رہی ہے۔ حق کا داعی وہی شخص ہے جس کےلیے حق اس کا ذاتی مسئلہ بن جائے۔ جس کی دعوت اس کی اندرونی حالت کا ایک بے تابانہ اظہار ہو، نہ کہ لاؤڈاسپیکر کی طرح صرف ایک خارجی پکار۔
الزمر 39:17
موجودہ دنیا فتنہ کی دنیا ہے۔ یہاں حقیقتیں اپنی آخری بے نقاب شکل میں ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر بات کو غلط معنی پہنایا جاسکتاہے۔ شیطان اسی امکان کو استعمال کرکے لوگوں کو راہ راست سے بھٹکاتا ہے۔
جب بھی کوئی حق سامنے آتا ہے تو شیطان اس کو غلط معنی پہنا کر لوگوں کے ذہن کو پھیرنے کی کوشش کرتاہے۔ وہ قول کے احسن پہلو سے ہٹا کر قول کے غیر احسن پہلو کو لوگوں کے سامنے لاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ آدمی کو اس عقل کا ثبوت دینا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرے۔ وہ شیطانی فریب کاپردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت دیں وہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو خدائی سچائی کو پائیں گے اور جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت دینے میں ناکام رہیں، ان کےلیے اس دنیا میں اس کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں کہ وہ قول کے غیر احسن پہلوؤں میں الجھے رہیں اور خدا کے یہاں شیطان کے پرستار کی حیثیت سے اٹھائے جائیں۔
الزمر 39:18
موجودہ دنیا فتنہ کی دنیا ہے۔ یہاں حقیقتیں اپنی آخری بے نقاب شکل میں ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر بات کو غلط معنی پہنایا جاسکتاہے۔ شیطان اسی امکان کو استعمال کرکے لوگوں کو راہ راست سے بھٹکاتا ہے۔
جب بھی کوئی حق سامنے آتا ہے تو شیطان اس کو غلط معنی پہنا کر لوگوں کے ذہن کو پھیرنے کی کوشش کرتاہے۔ وہ قول کے احسن پہلو سے ہٹا کر قول کے غیر احسن پہلو کو لوگوں کے سامنے لاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ آدمی کو اس عقل کا ثبوت دینا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرے۔ وہ شیطانی فریب کاپردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت دیں وہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو خدائی سچائی کو پائیں گے اور جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت دینے میں ناکام رہیں، ان کےلیے اس دنیا میں اس کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں کہ وہ قول کے غیر احسن پہلوؤں میں الجھے رہیں اور خدا کے یہاں شیطان کے پرستار کی حیثیت سے اٹھائے جائیں۔
الزمر 39:19
ہر آدمی اپنے اعمال کے انجام کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ جنت والے کو جنتی فضا گھیرے ہوئے ہے اور جہنم والے کو جہنمی فضا گھیرے ہوئے ہے۔ غیر مرئی حقیقتوں کو دیکھنے والی نگاہ ہو تو لوگ جنت والے انسان کو اسی دنیا میں جنت میں دیکھیں اور جہنم والے انسان کو اسی دنیا میں جہنم میں گھرا ہوا پائیں۔
جنت آرزوؤں کی اس دنیا کی آخری معیاری صورت ہے جس کو آدمی دنیا میں حاصل کرنا چاہتا ہے مگر وہ اس کو حاصل نہیں کرپاتا۔ اس جنت کی قیمت اللہ کا تقویٰ ہے۔ جو لوگ دنیا میں خوفِ خدا کا ثبوت دیں گے وہی جنت کی بے خوف زندگی کے مالک بنیں گے۔
الزمر 39:20
ہر آدمی اپنے اعمال کے انجام کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ جنت والے کو جنتی فضا گھیرے ہوئے ہے اور جہنم والے کو جہنمی فضا گھیرے ہوئے ہے۔ غیر مرئی حقیقتوں کو دیکھنے والی نگاہ ہو تو لوگ جنت والے انسان کو اسی دنیا میں جنت میں دیکھیں اور جہنم والے انسان کو اسی دنیا میں جہنم میں گھرا ہوا پائیں۔
جنت آرزوؤں کی اس دنیا کی آخری معیاری صورت ہے جس کو آدمی دنیا میں حاصل کرنا چاہتا ہے مگر وہ اس کو حاصل نہیں کرپاتا۔ اس جنت کی قیمت اللہ کا تقویٰ ہے۔ جو لوگ دنیا میں خوفِ خدا کا ثبوت دیں گے وہی جنت کی بے خوف زندگی کے مالک بنیں گے۔
الزمر 39:21
زمین پر بارش کا حیرت انگیز نظام، پھر اس سے سبزہ کا اگنا، پھر فصل کی تیاری، ان مادی واقعات میں بے شمار معنوی نصیحتیں ہیں۔ مگر ان نصیحتوں کو وہی لوگ پاتے ہیں جو باتوں کی گہرائی میں اترنے کا مزاج رکھتے ہوں۔
ایک طرف اللہ نے خارجی دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا کہ اس کی ہر چیز حقیقتِ اعلیٰ کی نشانی بن گئی۔ دوسری طرف انسان کے اندر ایسی صلاحیتیں رکھ دیں کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھے او ران کو سمجھ سکے۔ اب جو لوگ اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ رکھیں اور ان سے کام لے کر دنیا کی چیزوں پر غور کریں، ان کے سینے میں معرفت کے دروازے کھل جائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ نہ رکھ سکیں وہ نصیحتوں کے ہجوم میں بھی نصیحت لینے سے محروم رہیںگے۔ وہ دیکھ کر بھی کچھ نہ دیکھیں گے اور سن کر بھی کچھ نہ سنیںگے۔
الزمر 39:22
زمین پر بارش کا حیرت انگیز نظام، پھر اس سے سبزہ کا اگنا، پھر فصل کی تیاری، ان مادی واقعات میں بے شمار معنوی نصیحتیں ہیں۔ مگر ان نصیحتوں کو وہی لوگ پاتے ہیں جو باتوں کی گہرائی میں اترنے کا مزاج رکھتے ہوں۔
ایک طرف اللہ نے خارجی دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا کہ اس کی ہر چیز حقیقتِ اعلیٰ کی نشانی بن گئی۔ دوسری طرف انسان کے اندر ایسی صلاحیتیں رکھ دیں کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھے او ران کو سمجھ سکے۔ اب جو لوگ اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ رکھیں اور ان سے کام لے کر دنیا کی چیزوں پر غور کریں، ان کے سینے میں معرفت کے دروازے کھل جائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ نہ رکھ سکیں وہ نصیحتوں کے ہجوم میں بھی نصیحت لینے سے محروم رہیںگے۔ وہ دیکھ کر بھی کچھ نہ دیکھیں گے اور سن کر بھی کچھ نہ سنیںگے۔
الزمر 39:23
قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہترین کتاب انسان کو عطا کی ہے۔ اس کی دو خاص صفتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ متشابہ (ملتی جلتی) ہے۔ یعنی وہ ایک بے تضاد کتاب ہے۔ اس کے ایک جزء اور اس کے دوسرے جزء میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ قرآن کی یہ صفت بتاتی ہے کہ یہ کتاب بیانِ حقیقت پر مبنی ہے۔ اگر اس کے بیانات عین حقیقت نہ ہوتے تو ضرور اس کے مختلف اجزاء کے درمیان اختلاف اور عدم یکسانیت (inconsistency) پیدا ہوجاتی۔
قرآن کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ مثانی (دہرائی ہوئی) کتاب ہے یعنی اس کے مضامین بار بار مختلف پیرایوں سے دہرائے گئے ہیں۔ قرآن کی یہ صفت اس کے کتابِ نصیحت ہونے کو بتاتی ہے۔ نصیحت کرنے والا ہمیشہ یہ چاہتاہے کہ اس کی بات سننے والے کے ذہن میں بیٹھ جائے۔ اس مقصد کےلیے وہ اپنی بات کو مختلف انداز سے بیان کرتاہے۔ یہی حکمت اعلیٰ ترین انداز میں قرآن میں بھی ہے۔
انسان کے اندر یہ خصوصیت ہے کہ جب وہ کوئی دہشت ناک خبر سنتاہے تو اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کے وجود میں ایک قسم کی عاجزانہ نرمی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی حال سنجیدہ انسان کا قرآن کو پڑھ کر ہوتاہے۔ قرآن میں زندگی کی سنگین حقیقتوں کو انتہائی موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس ليے انسان جیسی مخلوق اگر واقعۃً اس کو سمجھ کر پڑھے تو اس کے جسم کے اوپر وہی کیفیت طاری ہوگی جو کسی سنگین خبر کو سن کر فطری طورپر اس کے اوپر طاری ہونا چاہيے۔
الزمر 39:24
آدمی کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے چہرہ کو چوٹ سے بچائے۔ مگر قیامت کا عذاب آدمی کو اس طرح گھیرے ہوئے ہوگا کہ وہاں یہ ممکن نه ہوگا کہ آدمی اپنے جسم کے کسی حصہ کو اس کی زد میں آنے سے روک سکے۔ وہ ناقابلِ دفاع عذاب کے سامنے اس طرح کھڑا ہوا ہوگا گویا وہ خود اپنے چہرہ کو اس کے مقابلہ میں سپر بنائے ہوئے ہے۔
اللہ کی نظر میں سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ آدمی کے سامنے حق آئے اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ ایسے لوگ کسی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔
الزمر 39:25
آدمی کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے چہرہ کو چوٹ سے بچائے۔ مگر قیامت کا عذاب آدمی کو اس طرح گھیرے ہوئے ہوگا کہ وہاں یہ ممکن نه ہوگا کہ آدمی اپنے جسم کے کسی حصہ کو اس کی زد میں آنے سے روک سکے۔ وہ ناقابلِ دفاع عذاب کے سامنے اس طرح کھڑا ہوا ہوگا گویا وہ خود اپنے چہرہ کو اس کے مقابلہ میں سپر بنائے ہوئے ہے۔
اللہ کی نظر میں سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ آدمی کے سامنے حق آئے اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ ایسے لوگ کسی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔
الزمر 39:26
آدمی کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے چہرہ کو چوٹ سے بچائے۔ مگر قیامت کا عذاب آدمی کو اس طرح گھیرے ہوئے ہوگا کہ وہاں یہ ممکن نه ہوگا کہ آدمی اپنے جسم کے کسی حصہ کو اس کی زد میں آنے سے روک سکے۔ وہ ناقابلِ دفاع عذاب کے سامنے اس طرح کھڑا ہوا ہوگا گویا وہ خود اپنے چہرہ کو اس کے مقابلہ میں سپر بنائے ہوئے ہے۔
اللہ کی نظر میں سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ آدمی کے سامنے حق آئے اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ ایسے لوگ کسی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔
الزمر 39:27
قرآن کے بیانات انسان کی معلوم زبان اور انسان کے معلوم دائرہ کے اندر ہوتے ہیں تاکہ کسی کےلیے اس کا سمجھنا مشکل نہ ہو۔
یہاں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ شرک کے مقابلہ میں توحید کا اصول زیادہ معقول اور زیادہ مطابقِ فطرت ہے۔ ایک طرف خارجی کائنات بتاتی ہے کہ یہاں ایک ہی ارادہ کی کارفرمائی ہے۔ اگر یہاں کئی ارادوں کی کارفرمائی ہوتی تو کائنات کا نظام اس قدر ہم آہنگی کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا۔ دوسری طرف انسان کی ساخت بھی ایسی ہے جو وفاداری میں وحدت کو پسند کرتی ہے۔ یہ بات انسانی ساخت کے سراسر خلاف ہے کہ ایک انسان پر بیک وقت کئی مختلف قسم کی وفاداریوں کی ذمہ داری ہو اور نتیجۃً وہ ایک کو بھی نباہ نہ سکے۔
تمام دلائل وقرائن یہی بتاتے ہیں کہ صرف ایک خدا ہے جو انسان کا خالق اور اس کا معبود ہے۔ موجودہ دنیا میں یہ حقیقت اپنے جیسے انسان کی زبان سے سنائی جاتی ہے۔ قیامت میں خود خالق کائنات اس حقیقت کا اعلان فرمائے گا۔ اس وقت کسی شخص کےلیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اس امر کا انکار کرسکے۔
الزمر 39:28
قرآن کے بیانات انسان کی معلوم زبان اور انسان کے معلوم دائرہ کے اندر ہوتے ہیں تاکہ کسی کےلیے اس کا سمجھنا مشکل نہ ہو۔
یہاں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ شرک کے مقابلہ میں توحید کا اصول زیادہ معقول اور زیادہ مطابقِ فطرت ہے۔ ایک طرف خارجی کائنات بتاتی ہے کہ یہاں ایک ہی ارادہ کی کارفرمائی ہے۔ اگر یہاں کئی ارادوں کی کارفرمائی ہوتی تو کائنات کا نظام اس قدر ہم آہنگی کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا۔ دوسری طرف انسان کی ساخت بھی ایسی ہے جو وفاداری میں وحدت کو پسند کرتی ہے۔ یہ بات انسانی ساخت کے سراسر خلاف ہے کہ ایک انسان پر بیک وقت کئی مختلف قسم کی وفاداریوں کی ذمہ داری ہو اور نتیجۃً وہ ایک کو بھی نباہ نہ سکے۔
تمام دلائل وقرائن یہی بتاتے ہیں کہ صرف ایک خدا ہے جو انسان کا خالق اور اس کا معبود ہے۔ موجودہ دنیا میں یہ حقیقت اپنے جیسے انسان کی زبان سے سنائی جاتی ہے۔ قیامت میں خود خالق کائنات اس حقیقت کا اعلان فرمائے گا۔ اس وقت کسی شخص کےلیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اس امر کا انکار کرسکے۔
الزمر 39:29
قرآن کے بیانات انسان کی معلوم زبان اور انسان کے معلوم دائرہ کے اندر ہوتے ہیں تاکہ کسی کےلیے اس کا سمجھنا مشکل نہ ہو۔
یہاں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ شرک کے مقابلہ میں توحید کا اصول زیادہ معقول اور زیادہ مطابقِ فطرت ہے۔ ایک طرف خارجی کائنات بتاتی ہے کہ یہاں ایک ہی ارادہ کی کارفرمائی ہے۔ اگر یہاں کئی ارادوں کی کارفرمائی ہوتی تو کائنات کا نظام اس قدر ہم آہنگی کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا۔ دوسری طرف انسان کی ساخت بھی ایسی ہے جو وفاداری میں وحدت کو پسند کرتی ہے۔ یہ بات انسانی ساخت کے سراسر خلاف ہے کہ ایک انسان پر بیک وقت کئی مختلف قسم کی وفاداریوں کی ذمہ داری ہو اور نتیجۃً وہ ایک کو بھی نباہ نہ سکے۔
تمام دلائل وقرائن یہی بتاتے ہیں کہ صرف ایک خدا ہے جو انسان کا خالق اور اس کا معبود ہے۔ موجودہ دنیا میں یہ حقیقت اپنے جیسے انسان کی زبان سے سنائی جاتی ہے۔ قیامت میں خود خالق کائنات اس حقیقت کا اعلان فرمائے گا۔ اس وقت کسی شخص کےلیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اس امر کا انکار کرسکے۔
الزمر 39:30
قرآن کے بیانات انسان کی معلوم زبان اور انسان کے معلوم دائرہ کے اندر ہوتے ہیں تاکہ کسی کےلیے اس کا سمجھنا مشکل نہ ہو۔
یہاں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ شرک کے مقابلہ میں توحید کا اصول زیادہ معقول اور زیادہ مطابقِ فطرت ہے۔ ایک طرف خارجی کائنات بتاتی ہے کہ یہاں ایک ہی ارادہ کی کارفرمائی ہے۔ اگر یہاں کئی ارادوں کی کارفرمائی ہوتی تو کائنات کا نظام اس قدر ہم آہنگی کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا۔ دوسری طرف انسان کی ساخت بھی ایسی ہے جو وفاداری میں وحدت کو پسند کرتی ہے۔ یہ بات انسانی ساخت کے سراسر خلاف ہے کہ ایک انسان پر بیک وقت کئی مختلف قسم کی وفاداریوں کی ذمہ داری ہو اور نتیجۃً وہ ایک کو بھی نباہ نہ سکے۔
تمام دلائل وقرائن یہی بتاتے ہیں کہ صرف ایک خدا ہے جو انسان کا خالق اور اس کا معبود ہے۔ موجودہ دنیا میں یہ حقیقت اپنے جیسے انسان کی زبان سے سنائی جاتی ہے۔ قیامت میں خود خالق کائنات اس حقیقت کا اعلان فرمائے گا۔ اس وقت کسی شخص کےلیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اس امر کا انکار کرسکے۔
الزمر 39:31
قرآن کے بیانات انسان کی معلوم زبان اور انسان کے معلوم دائرہ کے اندر ہوتے ہیں تاکہ کسی کےلیے اس کا سمجھنا مشکل نہ ہو۔
یہاں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ شرک کے مقابلہ میں توحید کا اصول زیادہ معقول اور زیادہ مطابقِ فطرت ہے۔ ایک طرف خارجی کائنات بتاتی ہے کہ یہاں ایک ہی ارادہ کی کارفرمائی ہے۔ اگر یہاں کئی ارادوں کی کارفرمائی ہوتی تو کائنات کا نظام اس قدر ہم آہنگی کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا۔ دوسری طرف انسان کی ساخت بھی ایسی ہے جو وفاداری میں وحدت کو پسند کرتی ہے۔ یہ بات انسانی ساخت کے سراسر خلاف ہے کہ ایک انسان پر بیک وقت کئی مختلف قسم کی وفاداریوں کی ذمہ داری ہو اور نتیجۃً وہ ایک کو بھی نباہ نہ سکے۔
تمام دلائل وقرائن یہی بتاتے ہیں کہ صرف ایک خدا ہے جو انسان کا خالق اور اس کا معبود ہے۔ موجودہ دنیا میں یہ حقیقت اپنے جیسے انسان کی زبان سے سنائی جاتی ہے۔ قیامت میں خود خالق کائنات اس حقیقت کا اعلان فرمائے گا۔ اس وقت کسی شخص کےلیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اس امر کا انکار کرسکے۔
الزمر 39:32
ہر وہ نظریہ جومطابقِ حقیقت نہ ہو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ ہر دور میں لوگ اسی قسم کے جھوٹ پر جی رہے ہوتے ہیں۔ اللہ کا داعی اس ليے اٹھتا ہے کہ وہ ایسے جھوٹ کا جھوٹ ہونا ثابت کرے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ اپنے جھوٹ پر قائم رہیں وہ ڈھٹائی کرنے والے لوگ ہیں۔ وہ جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ اور جو لوگ رجوع کرکے حق کے ساتھی بن جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ثابت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی برائیوں کو ان کے اعمال سے حذف کردے گا اور ان کے نیک اعمال کی بناپر ان کی قدر دانی فرمائے گا۔
الزمر 39:33
ہر وہ نظریہ جومطابقِ حقیقت نہ ہو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ ہر دور میں لوگ اسی قسم کے جھوٹ پر جی رہے ہوتے ہیں۔ اللہ کا داعی اس ليے اٹھتا ہے کہ وہ ایسے جھوٹ کا جھوٹ ہونا ثابت کرے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ اپنے جھوٹ پر قائم رہیں وہ ڈھٹائی کرنے والے لوگ ہیں۔ وہ جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ اور جو لوگ رجوع کرکے حق کے ساتھی بن جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ثابت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی برائیوں کو ان کے اعمال سے حذف کردے گا اور ان کے نیک اعمال کی بناپر ان کی قدر دانی فرمائے گا۔
الزمر 39:34
ہر وہ نظریہ جومطابقِ حقیقت نہ ہو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ ہر دور میں لوگ اسی قسم کے جھوٹ پر جی رہے ہوتے ہیں۔ اللہ کا داعی اس ليے اٹھتا ہے کہ وہ ایسے جھوٹ کا جھوٹ ہونا ثابت کرے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ اپنے جھوٹ پر قائم رہیں وہ ڈھٹائی کرنے والے لوگ ہیں۔ وہ جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ اور جو لوگ رجوع کرکے حق کے ساتھی بن جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ثابت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی برائیوں کو ان کے اعمال سے حذف کردے گا اور ان کے نیک اعمال کی بناپر ان کی قدر دانی فرمائے گا۔
الزمر 39:35
ہر وہ نظریہ جومطابقِ حقیقت نہ ہو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ ہر دور میں لوگ اسی قسم کے جھوٹ پر جی رہے ہوتے ہیں۔ اللہ کا داعی اس ليے اٹھتا ہے کہ وہ ایسے جھوٹ کا جھوٹ ہونا ثابت کرے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ اپنے جھوٹ پر قائم رہیں وہ ڈھٹائی کرنے والے لوگ ہیں۔ وہ جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ اور جو لوگ رجوع کرکے حق کے ساتھی بن جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ثابت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی برائیوں کو ان کے اعمال سے حذف کردے گا اور ان کے نیک اعمال کی بناپر ان کی قدر دانی فرمائے گا۔
الزمر 39:36
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم توحید کے داعی تھے۔ مگر آپ کا طریقہ یہ نہ تھا کہ ’’خدا ایک ہے‘‘کے مثبت اعلان پر اکتفافرمائیں۔ اسی کے ساتھ آپ ان غیر خدائی ہستیوں کی تردید بھی فرماتے تھے جن کو لوگوں نے بطور خود معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ آپ کی دعوت کا یہی دوسرا جزء لوگوں کےلیے ناقابل برداشت بن گیا۔
یہ غیر خدائی ہستیاں دراصل ان کے قومی اکابر تھے۔ صدیوں سے وہ ان کی کرامت کی مبالغہ آمیز داستانیں سنتے آرہے تھے۔ ان کے ذہن پر ان ہستیوں کی عظمت اس طرح چھا گئی تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تقدس کی تردید فرمائی تو ان کی سمجھ میں کسی طرح نہ آیا کہ وہ غیر مقدس کیسے ہوسکتے ہیں۔ انھوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو ورنہ تم تباہ ہوجاؤ گے۔ یا تم کو جنون ہو جائے گا (لَتَكُفَّنَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا أَوْ لَيُصِيبَنَّكَ مِنْهُمْ خَبَلٌ أَوْ جُنُونٌ) تفسیرالبغوی، جلد4، صفحہ 90۔
مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ اس قسم کی باتوں کی پروا نہ کرے۔ وہ اللہ کے بھروسے پر اثباتِ توحید اور تردیدِ شرک کا دو گونہ کام جاری رکھے۔ کیوں کہ اس کے بغیر امر حق پوری طرح واضح نہیں ہوسکتا۔
الزمر 39:37
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم توحید کے داعی تھے۔ مگر آپ کا طریقہ یہ نہ تھا کہ ’’خدا ایک ہے‘‘کے مثبت اعلان پر اکتفافرمائیں۔ اسی کے ساتھ آپ ان غیر خدائی ہستیوں کی تردید بھی فرماتے تھے جن کو لوگوں نے بطور خود معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ آپ کی دعوت کا یہی دوسرا جزء لوگوں کےلیے ناقابل برداشت بن گیا۔
یہ غیر خدائی ہستیاں دراصل ان کے قومی اکابر تھے۔ صدیوں سے وہ ان کی کرامت کی مبالغہ آمیز داستانیں سنتے آرہے تھے۔ ان کے ذہن پر ان ہستیوں کی عظمت اس طرح چھا گئی تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تقدس کی تردید فرمائی تو ان کی سمجھ میں کسی طرح نہ آیا کہ وہ غیر مقدس کیسے ہوسکتے ہیں۔ انھوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو ورنہ تم تباہ ہوجاؤ گے۔ یا تم کو جنون ہو جائے گا (لَتَكُفَّنَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا أَوْ لَيُصِيبَنَّكَ مِنْهُمْ خَبَلٌ أَوْ جُنُونٌ) تفسیرالبغوی، جلد4، صفحہ 90۔
مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ اس قسم کی باتوں کی پروا نہ کرے۔ وہ اللہ کے بھروسے پر اثباتِ توحید اور تردیدِ شرک کا دو گونہ کام جاری رکھے۔ کیوں کہ اس کے بغیر امر حق پوری طرح واضح نہیں ہوسکتا۔
الزمر 39:38
انسان ہر دور میں غیر اللہ کی عبادت کرتا رہا ہے۔ مگر کوئی شخص یہ کہنے کی ہمت نہیں کرتا کہ اس کی انھیں پسندیدہ ہستیوں نے زمین وآسمان کو بنایا ہے۔ یا تکلیف اور آرام کے واقعات کے حقیقی اسباب ان کے اختیار میں ہیں۔ اس بے یقینی کے باوجود لوگوں کا یہ یقین بڑا عجیب ہے کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔
جب داعی کی دلیلیں مدعو پر بے اثر ثابت ہوں تو اس وقت اس کے پاس کہنے کی جو بات ہوتی ہے وہ یہ کہ — تم جو چاہے کرو، جب آخری فیصلے کا دن آئے گا تو وہ بتادے گا کہ کون حق پر تھا اور کون ناحق پر۔ یہ دلیل کے بعد یقین کا اظہار ہے، اور داعی کا آخری کلمه ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔
الزمر 39:39
انسان ہر دور میں غیر اللہ کی عبادت کرتا رہا ہے۔ مگر کوئی شخص یہ کہنے کی ہمت نہیں کرتا کہ اس کی انھیں پسندیدہ ہستیوں نے زمین وآسمان کو بنایا ہے۔ یا تکلیف اور آرام کے واقعات کے حقیقی اسباب ان کے اختیار میں ہیں۔ اس بے یقینی کے باوجود لوگوں کا یہ یقین بڑا عجیب ہے کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔
جب داعی کی دلیلیں مدعو پر بے اثر ثابت ہوں تو اس وقت اس کے پاس کہنے کی جو بات ہوتی ہے وہ یہ کہ — تم جو چاہے کرو، جب آخری فیصلے کا دن آئے گا تو وہ بتادے گا کہ کون حق پر تھا اور کون ناحق پر۔ یہ دلیل کے بعد یقین کا اظہار ہے، اور داعی کا آخری کلمه ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔
الزمر 39:40
انسان ہر دور میں غیر اللہ کی عبادت کرتا رہا ہے۔ مگر کوئی شخص یہ کہنے کی ہمت نہیں کرتا کہ اس کی انھیں پسندیدہ ہستیوں نے زمین وآسمان کو بنایا ہے۔ یا تکلیف اور آرام کے واقعات کے حقیقی اسباب ان کے اختیار میں ہیں۔ اس بے یقینی کے باوجود لوگوں کا یہ یقین بڑا عجیب ہے کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔
جب داعی کی دلیلیں مدعو پر بے اثر ثابت ہوں تو اس وقت اس کے پاس کہنے کی جو بات ہوتی ہے وہ یہ کہ — تم جو چاہے کرو، جب آخری فیصلے کا دن آئے گا تو وہ بتادے گا کہ کون حق پر تھا اور کون ناحق پر۔ یہ دلیل کے بعد یقین کا اظہار ہے، اور داعی کا آخری کلمه ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔
الزمر 39:41
انسان ہر دور میں غیر اللہ کی عبادت کرتا رہا ہے۔ مگر کوئی شخص یہ کہنے کی ہمت نہیں کرتا کہ اس کی انھیں پسندیدہ ہستیوں نے زمین وآسمان کو بنایا ہے۔ یا تکلیف اور آرام کے واقعات کے حقیقی اسباب ان کے اختیار میں ہیں۔ اس بے یقینی کے باوجود لوگوں کا یہ یقین بڑا عجیب ہے کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔
جب داعی کی دلیلیں مدعو پر بے اثر ثابت ہوں تو اس وقت اس کے پاس کہنے کی جو بات ہوتی ہے وہ یہ کہ — تم جو چاہے کرو، جب آخری فیصلے کا دن آئے گا تو وہ بتادے گا کہ کون حق پر تھا اور کون ناحق پر۔ یہ دلیل کے بعد یقین کا اظہار ہے، اور داعی کا آخری کلمه ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔
الزمر 39:42
نیند کے وقت آدمی پر بے خبری کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔ اس اعتبار سے نیند گویا موت کے مشابہ ہے۔ پھر جب آدمی سو کر اٹھتا ہے تو دوبارہ وہ ہوش کی حالت میں آجاتا ہے۔ یہ گویا موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی تصویر ہے۔
اس قانونِ فطرت کے تحت ہر آدمی کو آج ہی ابتدائی سطح پر دکھایا جارہا ہے کہ وہ کس طرح مرے گا اور کس طرح وہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوگا۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ اسی دنیوی واقعہ میں اپنے ليے آخرت کا سبق پالے گا۔
الزمر 39:43
عرب کے مشرکین جن کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ خدا کے یہاں وہ ان کی شفاعت کرنے والے بن جائیں گے وہ حقیقۃً پتھر کے بت نہ تھے۔ یہ وہ بزرگ ہستیاں تھیں جن کی علامت کے طور پر انھوںنے پتھر کے بت بنا رکھے تھے۔ ان کے شفعاء دراصل ان کے قومی اکابر تھے جن کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ ان کا دامن پکڑے رہو، وہ خدا کے یہاں تمھارے ليے کافی ہوجائیںگے۔
جو لوگ غیر اللہ کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ بنائیں، دھیرے دھیرے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ ان کی ساری عقیدتیں اور شیفتگیاں ان ہی غیر خدائی شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہیں۔ ان شخصیتوں کی بڑائی کا چرچا کیا جائے تو اس کو سن کر وہ خوب خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ایک خدا کی بڑائی بیان کی جائے تو ان کی روح کو اس سے کوئی غذا نہیں ملتی۔
ایسے لوگوں کے سامنے خواہ کتنے ہی طاقت وردلائل کے ساتھ توحید خالص کو بیان کیا جائے وہ اس کو ماننے والے نہیں بنتے۔ ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلتی ہے جب کہ قیامت کا پردہ پھاڑ کر خدا کا جلال بے نقاب ہوجائے۔ آج آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اعتراف کے الفاظ دینے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا مگر جب وہ وقت آئے گا تو وہ چاہے گا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب اس سے بچنے کےلیے فدیہ میں دے ڈالے۔ مگر وہاں آدمی کے اپنے اعمال کے سوا کوئی چیز نہ ہوگی جو اس کے کام آسکے۔
الزمر 39:44
عرب کے مشرکین جن کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ خدا کے یہاں وہ ان کی شفاعت کرنے والے بن جائیں گے وہ حقیقۃً پتھر کے بت نہ تھے۔ یہ وہ بزرگ ہستیاں تھیں جن کی علامت کے طور پر انھوںنے پتھر کے بت بنا رکھے تھے۔ ان کے شفعاء دراصل ان کے قومی اکابر تھے جن کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ ان کا دامن پکڑے رہو، وہ خدا کے یہاں تمھارے ليے کافی ہوجائیںگے۔
جو لوگ غیر اللہ کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ بنائیں، دھیرے دھیرے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ ان کی ساری عقیدتیں اور شیفتگیاں ان ہی غیر خدائی شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہیں۔ ان شخصیتوں کی بڑائی کا چرچا کیا جائے تو اس کو سن کر وہ خوب خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ایک خدا کی بڑائی بیان کی جائے تو ان کی روح کو اس سے کوئی غذا نہیں ملتی۔
ایسے لوگوں کے سامنے خواہ کتنے ہی طاقت وردلائل کے ساتھ توحید خالص کو بیان کیا جائے وہ اس کو ماننے والے نہیں بنتے۔ ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلتی ہے جب کہ قیامت کا پردہ پھاڑ کر خدا کا جلال بے نقاب ہوجائے۔ آج آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اعتراف کے الفاظ دینے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا مگر جب وہ وقت آئے گا تو وہ چاہے گا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب اس سے بچنے کےلیے فدیہ میں دے ڈالے۔ مگر وہاں آدمی کے اپنے اعمال کے سوا کوئی چیز نہ ہوگی جو اس کے کام آسکے۔
الزمر 39:45
عرب کے مشرکین جن کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ خدا کے یہاں وہ ان کی شفاعت کرنے والے بن جائیں گے وہ حقیقۃً پتھر کے بت نہ تھے۔ یہ وہ بزرگ ہستیاں تھیں جن کی علامت کے طور پر انھوںنے پتھر کے بت بنا رکھے تھے۔ ان کے شفعاء دراصل ان کے قومی اکابر تھے جن کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ ان کا دامن پکڑے رہو، وہ خدا کے یہاں تمھارے ليے کافی ہوجائیںگے۔
جو لوگ غیر اللہ کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ بنائیں، دھیرے دھیرے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ ان کی ساری عقیدتیں اور شیفتگیاں ان ہی غیر خدائی شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہیں۔ ان شخصیتوں کی بڑائی کا چرچا کیا جائے تو اس کو سن کر وہ خوب خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ایک خدا کی بڑائی بیان کی جائے تو ان کی روح کو اس سے کوئی غذا نہیں ملتی۔
ایسے لوگوں کے سامنے خواہ کتنے ہی طاقت وردلائل کے ساتھ توحید خالص کو بیان کیا جائے وہ اس کو ماننے والے نہیں بنتے۔ ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلتی ہے جب کہ قیامت کا پردہ پھاڑ کر خدا کا جلال بے نقاب ہوجائے۔ آج آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اعتراف کے الفاظ دینے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا مگر جب وہ وقت آئے گا تو وہ چاہے گا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب اس سے بچنے کےلیے فدیہ میں دے ڈالے۔ مگر وہاں آدمی کے اپنے اعمال کے سوا کوئی چیز نہ ہوگی جو اس کے کام آسکے۔
الزمر 39:46
عرب کے مشرکین جن کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ خدا کے یہاں وہ ان کی شفاعت کرنے والے بن جائیں گے وہ حقیقۃً پتھر کے بت نہ تھے۔ یہ وہ بزرگ ہستیاں تھیں جن کی علامت کے طور پر انھوںنے پتھر کے بت بنا رکھے تھے۔ ان کے شفعاء دراصل ان کے قومی اکابر تھے جن کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ ان کا دامن پکڑے رہو، وہ خدا کے یہاں تمھارے ليے کافی ہوجائیںگے۔
جو لوگ غیر اللہ کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ بنائیں، دھیرے دھیرے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ ان کی ساری عقیدتیں اور شیفتگیاں ان ہی غیر خدائی شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہیں۔ ان شخصیتوں کی بڑائی کا چرچا کیا جائے تو اس کو سن کر وہ خوب خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ایک خدا کی بڑائی بیان کی جائے تو ان کی روح کو اس سے کوئی غذا نہیں ملتی۔
ایسے لوگوں کے سامنے خواہ کتنے ہی طاقت وردلائل کے ساتھ توحید خالص کو بیان کیا جائے وہ اس کو ماننے والے نہیں بنتے۔ ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلتی ہے جب کہ قیامت کا پردہ پھاڑ کر خدا کا جلال بے نقاب ہوجائے۔ آج آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اعتراف کے الفاظ دینے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا مگر جب وہ وقت آئے گا تو وہ چاہے گا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب اس سے بچنے کےلیے فدیہ میں دے ڈالے۔ مگر وہاں آدمی کے اپنے اعمال کے سوا کوئی چیز نہ ہوگی جو اس کے کام آسکے۔
الزمر 39:47
عرب کے مشرکین جن کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ خدا کے یہاں وہ ان کی شفاعت کرنے والے بن جائیں گے وہ حقیقۃً پتھر کے بت نہ تھے۔ یہ وہ بزرگ ہستیاں تھیں جن کی علامت کے طور پر انھوںنے پتھر کے بت بنا رکھے تھے۔ ان کے شفعاء دراصل ان کے قومی اکابر تھے جن کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ ان کا دامن پکڑے رہو، وہ خدا کے یہاں تمھارے ليے کافی ہوجائیںگے۔
جو لوگ غیر اللہ کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ بنائیں، دھیرے دھیرے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ ان کی ساری عقیدتیں اور شیفتگیاں ان ہی غیر خدائی شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہیں۔ ان شخصیتوں کی بڑائی کا چرچا کیا جائے تو اس کو سن کر وہ خوب خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ایک خدا کی بڑائی بیان کی جائے تو ان کی روح کو اس سے کوئی غذا نہیں ملتی۔
ایسے لوگوں کے سامنے خواہ کتنے ہی طاقت وردلائل کے ساتھ توحید خالص کو بیان کیا جائے وہ اس کو ماننے والے نہیں بنتے۔ ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلتی ہے جب کہ قیامت کا پردہ پھاڑ کر خدا کا جلال بے نقاب ہوجائے۔ آج آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اعتراف کے الفاظ دینے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا مگر جب وہ وقت آئے گا تو وہ چاہے گا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب اس سے بچنے کےلیے فدیہ میں دے ڈالے۔ مگر وہاں آدمی کے اپنے اعمال کے سوا کوئی چیز نہ ہوگی جو اس کے کام آسکے۔
الزمر 39:48
عرب کے مشرکین جن کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ خدا کے یہاں وہ ان کی شفاعت کرنے والے بن جائیں گے وہ حقیقۃً پتھر کے بت نہ تھے۔ یہ وہ بزرگ ہستیاں تھیں جن کی علامت کے طور پر انھوںنے پتھر کے بت بنا رکھے تھے۔ ان کے شفعاء دراصل ان کے قومی اکابر تھے جن کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ ان کا دامن پکڑے رہو، وہ خدا کے یہاں تمھارے ليے کافی ہوجائیںگے۔
جو لوگ غیر اللہ کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ بنائیں، دھیرے دھیرے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ ان کی ساری عقیدتیں اور شیفتگیاں ان ہی غیر خدائی شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہیں۔ ان شخصیتوں کی بڑائی کا چرچا کیا جائے تو اس کو سن کر وہ خوب خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ایک خدا کی بڑائی بیان کی جائے تو ان کی روح کو اس سے کوئی غذا نہیں ملتی۔
ایسے لوگوں کے سامنے خواہ کتنے ہی طاقت وردلائل کے ساتھ توحید خالص کو بیان کیا جائے وہ اس کو ماننے والے نہیں بنتے۔ ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلتی ہے جب کہ قیامت کا پردہ پھاڑ کر خدا کا جلال بے نقاب ہوجائے۔ آج آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اعتراف کے الفاظ دینے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا مگر جب وہ وقت آئے گا تو وہ چاہے گا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب اس سے بچنے کےلیے فدیہ میں دے ڈالے۔ مگر وہاں آدمی کے اپنے اعمال کے سوا کوئی چیز نہ ہوگی جو اس کے کام آسکے۔
الزمر 39:49
دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ اس کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر خوش ہوتاہے۔ حالاں کہ دنیا کی چیزیں آزمائش کا سامان ہیں، نہ کہ لیاقت کا انعام۔ اسی حقیقت کو جاننا سب سے بڑا علم ہے۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ لے تو اس سے اس کے اندر فخر اور گھمنڈ کی نفسیات ابھرے گی۔ اس کے برعکس، جب آدمی ان کو آزمائش کا سامان سمجھتاہے تو اس کے اندر شکر اور تواضع کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
رزقِ دنیا کی کمی یا زیادتی تمام تر انسانی اختیار سے باہر کی چیز ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے باہر کوئی قوت ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس کو زیادہ ملے اور کس کو کم دیا جائے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رزق کا فیصلہ شخصی لیاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ اس کا فیصلہ کسی اور بنیاد پر ہوتا ہے۔ وہ بنیاد یہی ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، نہ کہ انعام کی جگہ۔ اس ليے یہاں کسی کو جو کچھ ملتاہے وہ اس کے امتحان کا پرچہ ہوتا ہے۔ امتحان لینے والا اپنے فیصلہ کے تحت کسی کو کوئی پرچہ دیتاہے اور کسی کو کوئی پرچہ۔ کسی کو ایک قسم کے حالات میں آزماتا ہے اور کسی کو دوسرے قسم کے حالات میں۔
الزمر 39:50
دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ اس کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر خوش ہوتاہے۔ حالاں کہ دنیا کی چیزیں آزمائش کا سامان ہیں، نہ کہ لیاقت کا انعام۔ اسی حقیقت کو جاننا سب سے بڑا علم ہے۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ لے تو اس سے اس کے اندر فخر اور گھمنڈ کی نفسیات ابھرے گی۔ اس کے برعکس، جب آدمی ان کو آزمائش کا سامان سمجھتاہے تو اس کے اندر شکر اور تواضع کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
رزقِ دنیا کی کمی یا زیادتی تمام تر انسانی اختیار سے باہر کی چیز ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے باہر کوئی قوت ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس کو زیادہ ملے اور کس کو کم دیا جائے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رزق کا فیصلہ شخصی لیاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ اس کا فیصلہ کسی اور بنیاد پر ہوتا ہے۔ وہ بنیاد یہی ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، نہ کہ انعام کی جگہ۔ اس ليے یہاں کسی کو جو کچھ ملتاہے وہ اس کے امتحان کا پرچہ ہوتا ہے۔ امتحان لینے والا اپنے فیصلہ کے تحت کسی کو کوئی پرچہ دیتاہے اور کسی کو کوئی پرچہ۔ کسی کو ایک قسم کے حالات میں آزماتا ہے اور کسی کو دوسرے قسم کے حالات میں۔
الزمر 39:51
دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ اس کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر خوش ہوتاہے۔ حالاں کہ دنیا کی چیزیں آزمائش کا سامان ہیں، نہ کہ لیاقت کا انعام۔ اسی حقیقت کو جاننا سب سے بڑا علم ہے۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ لے تو اس سے اس کے اندر فخر اور گھمنڈ کی نفسیات ابھرے گی۔ اس کے برعکس، جب آدمی ان کو آزمائش کا سامان سمجھتاہے تو اس کے اندر شکر اور تواضع کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
رزقِ دنیا کی کمی یا زیادتی تمام تر انسانی اختیار سے باہر کی چیز ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے باہر کوئی قوت ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس کو زیادہ ملے اور کس کو کم دیا جائے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رزق کا فیصلہ شخصی لیاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ اس کا فیصلہ کسی اور بنیاد پر ہوتا ہے۔ وہ بنیاد یہی ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، نہ کہ انعام کی جگہ۔ اس ليے یہاں کسی کو جو کچھ ملتاہے وہ اس کے امتحان کا پرچہ ہوتا ہے۔ امتحان لینے والا اپنے فیصلہ کے تحت کسی کو کوئی پرچہ دیتاہے اور کسی کو کوئی پرچہ۔ کسی کو ایک قسم کے حالات میں آزماتا ہے اور کسی کو دوسرے قسم کے حالات میں۔
الزمر 39:52
دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ اس کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر خوش ہوتاہے۔ حالاں کہ دنیا کی چیزیں آزمائش کا سامان ہیں، نہ کہ لیاقت کا انعام۔ اسی حقیقت کو جاننا سب سے بڑا علم ہے۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ لے تو اس سے اس کے اندر فخر اور گھمنڈ کی نفسیات ابھرے گی۔ اس کے برعکس، جب آدمی ان کو آزمائش کا سامان سمجھتاہے تو اس کے اندر شکر اور تواضع کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
رزقِ دنیا کی کمی یا زیادتی تمام تر انسانی اختیار سے باہر کی چیز ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے باہر کوئی قوت ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس کو زیادہ ملے اور کس کو کم دیا جائے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رزق کا فیصلہ شخصی لیاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ اس کا فیصلہ کسی اور بنیاد پر ہوتا ہے۔ وہ بنیاد یہی ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، نہ کہ انعام کی جگہ۔ اس ليے یہاں کسی کو جو کچھ ملتاہے وہ اس کے امتحان کا پرچہ ہوتا ہے۔ امتحان لینے والا اپنے فیصلہ کے تحت کسی کو کوئی پرچہ دیتاہے اور کسی کو کوئی پرچہ۔ کسی کو ایک قسم کے حالات میں آزماتا ہے اور کسی کو دوسرے قسم کے حالات میں۔
الزمر 39:53
جن لوگوں کے سینے میں حساس دل ہے ان کو جب خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو ان کو یہ خیال ستانے لگتا ہے کہ اب تک ان سے جو گناہ ہوئے ہیں ان کا معاملہ کیا ہوگا۔ اسی طرح خدا پرستانہ زندگی اختیار کرنے کے بعد بھی آدمی سے بار بار کوتاہیاں ہوتی ہیں اور اس کی حساسیت دوبارہ اس کو ستانے لگی ہے۔ حتی کہ یہ احساس بعض لوگوں کو مایوسی کی حد تک پہنچادیتاہے۔
ایسے لوگوں کےلیے اللہ نے اپنی کتاب میں یہ اعلان فرمایا کہ انھیں یقین کرنا چاہيے کہ ان کا معاملہ ایک ایسے خدا سے ہے جو غفور ورحیم ہے۔ وہ آدمی کے ماضی کو نہیں بلکہ اس کے حال کو دیکھتاہے۔ وہ آدمی کے ظاہر کو نہیں بلکہ اس کے باطن کو دیکھتا ہے۔ وہ آدمی سے وسعت کا معاملہ فرماتاہے ،نہ کہ خوردہ گیری کا معاملہ۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جب اس کی طرف رجوع کرتاہے تو وہ ازسرِنو اس کو اپنی رحمت کے سایہ میں لے لیتاہے ، خواہ اس سے کتنا ہی بڑا قصور کیوں نہ ہوگیا ہو۔
الزمر 39:54
جن لوگوں کے سینے میں حساس دل ہے ان کو جب خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو ان کو یہ خیال ستانے لگتا ہے کہ اب تک ان سے جو گناہ ہوئے ہیں ان کا معاملہ کیا ہوگا۔ اسی طرح خدا پرستانہ زندگی اختیار کرنے کے بعد بھی آدمی سے بار بار کوتاہیاں ہوتی ہیں اور اس کی حساسیت دوبارہ اس کو ستانے لگی ہے۔ حتی کہ یہ احساس بعض لوگوں کو مایوسی کی حد تک پہنچادیتاہے۔
ایسے لوگوں کےلیے اللہ نے اپنی کتاب میں یہ اعلان فرمایا کہ انھیں یقین کرنا چاہيے کہ ان کا معاملہ ایک ایسے خدا سے ہے جو غفور ورحیم ہے۔ وہ آدمی کے ماضی کو نہیں بلکہ اس کے حال کو دیکھتاہے۔ وہ آدمی کے ظاہر کو نہیں بلکہ اس کے باطن کو دیکھتا ہے۔ وہ آدمی سے وسعت کا معاملہ فرماتاہے ،نہ کہ خوردہ گیری کا معاملہ۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جب اس کی طرف رجوع کرتاہے تو وہ ازسرِنو اس کو اپنی رحمت کے سایہ میں لے لیتاہے ، خواہ اس سے کتنا ہی بڑا قصور کیوں نہ ہوگیا ہو۔
الزمر 39:55
خدا کے کلام میں بہتر اور غیر بہتر کی تقسیم نہیں۔ نہ قرآن میں ایسا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں بہتر ہیں اور کچھ آیتیں غیر بہتر اور نہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں یہ فرق ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب باعتبار حقیقت بہتر ہے اور کوئی کتاب غیر بہتر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں اس کے لیے یہ موقع ہے کہ ایک کلام کو خواہ سیدھے رخ سے لے یا الٹے رخ سے۔ وہ چاہے کلام کے اصل مدعا پر دھیان دے یا اس میں بے جا شوشے نکالے اور اس کو غلط معنی پہنائے۔ کلام الٰہی کا مذاق اڑانا اسی کی ایک مثال ہے۔ آدمی ایک آیت کو لے کر اس میں الٹا مفہوم نکالتاہے اور پھر اس خود ساختہ مفہوم کی بنا پر اس کا مذاق اڑانے لگتاہے۔
دنیا میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہے۔ وہ محض تکبر کی بنیاد پر حق کو نہیں مانتا اور ایسے الفاظ بولتا ہے گویا کہ وہ اصول کی بنیاد پر اس کا انکار کررہا ہے۔ مگر قیامت کے دن آدمی کا چہرہ اس کی اندرونی حالت کا مظہر بن جائے گا۔ اس وقت آدمی کا اپنا چہرہ بتائے گا کہ وہ جس حق میں ’’غیر بہتر‘‘ پہلو نکال کر اس کا منکر بنا رہا وہ صرف اس کے جھوٹے الفاظ تھے۔ ورنہ حق بذات خود بالکل صاف اور واضح تھا۔ اس وقت وہ افسوس کرے گا مگر اس وقت کا افسوس کرنا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
الزمر 39:56
خدا کے کلام میں بہتر اور غیر بہتر کی تقسیم نہیں۔ نہ قرآن میں ایسا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں بہتر ہیں اور کچھ آیتیں غیر بہتر اور نہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں یہ فرق ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب باعتبار حقیقت بہتر ہے اور کوئی کتاب غیر بہتر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں اس کے لیے یہ موقع ہے کہ ایک کلام کو خواہ سیدھے رخ سے لے یا الٹے رخ سے۔ وہ چاہے کلام کے اصل مدعا پر دھیان دے یا اس میں بے جا شوشے نکالے اور اس کو غلط معنی پہنائے۔ کلام الٰہی کا مذاق اڑانا اسی کی ایک مثال ہے۔ آدمی ایک آیت کو لے کر اس میں الٹا مفہوم نکالتاہے اور پھر اس خود ساختہ مفہوم کی بنا پر اس کا مذاق اڑانے لگتاہے۔
دنیا میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہے۔ وہ محض تکبر کی بنیاد پر حق کو نہیں مانتا اور ایسے الفاظ بولتا ہے گویا کہ وہ اصول کی بنیاد پر اس کا انکار کررہا ہے۔ مگر قیامت کے دن آدمی کا چہرہ اس کی اندرونی حالت کا مظہر بن جائے گا۔ اس وقت آدمی کا اپنا چہرہ بتائے گا کہ وہ جس حق میں ’’غیر بہتر‘‘ پہلو نکال کر اس کا منکر بنا رہا وہ صرف اس کے جھوٹے الفاظ تھے۔ ورنہ حق بذات خود بالکل صاف اور واضح تھا۔ اس وقت وہ افسوس کرے گا مگر اس وقت کا افسوس کرنا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
الزمر 39:57
خدا کے کلام میں بہتر اور غیر بہتر کی تقسیم نہیں۔ نہ قرآن میں ایسا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں بہتر ہیں اور کچھ آیتیں غیر بہتر اور نہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں یہ فرق ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب باعتبار حقیقت بہتر ہے اور کوئی کتاب غیر بہتر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں اس کے لیے یہ موقع ہے کہ ایک کلام کو خواہ سیدھے رخ سے لے یا الٹے رخ سے۔ وہ چاہے کلام کے اصل مدعا پر دھیان دے یا اس میں بے جا شوشے نکالے اور اس کو غلط معنی پہنائے۔ کلام الٰہی کا مذاق اڑانا اسی کی ایک مثال ہے۔ آدمی ایک آیت کو لے کر اس میں الٹا مفہوم نکالتاہے اور پھر اس خود ساختہ مفہوم کی بنا پر اس کا مذاق اڑانے لگتاہے۔
دنیا میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہے۔ وہ محض تکبر کی بنیاد پر حق کو نہیں مانتا اور ایسے الفاظ بولتا ہے گویا کہ وہ اصول کی بنیاد پر اس کا انکار کررہا ہے۔ مگر قیامت کے دن آدمی کا چہرہ اس کی اندرونی حالت کا مظہر بن جائے گا۔ اس وقت آدمی کا اپنا چہرہ بتائے گا کہ وہ جس حق میں ’’غیر بہتر‘‘ پہلو نکال کر اس کا منکر بنا رہا وہ صرف اس کے جھوٹے الفاظ تھے۔ ورنہ حق بذات خود بالکل صاف اور واضح تھا۔ اس وقت وہ افسوس کرے گا مگر اس وقت کا افسوس کرنا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
الزمر 39:58
خدا کے کلام میں بہتر اور غیر بہتر کی تقسیم نہیں۔ نہ قرآن میں ایسا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں بہتر ہیں اور کچھ آیتیں غیر بہتر اور نہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں یہ فرق ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب باعتبار حقیقت بہتر ہے اور کوئی کتاب غیر بہتر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں اس کے لیے یہ موقع ہے کہ ایک کلام کو خواہ سیدھے رخ سے لے یا الٹے رخ سے۔ وہ چاہے کلام کے اصل مدعا پر دھیان دے یا اس میں بے جا شوشے نکالے اور اس کو غلط معنی پہنائے۔ کلام الٰہی کا مذاق اڑانا اسی کی ایک مثال ہے۔ آدمی ایک آیت کو لے کر اس میں الٹا مفہوم نکالتاہے اور پھر اس خود ساختہ مفہوم کی بنا پر اس کا مذاق اڑانے لگتاہے۔
دنیا میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہے۔ وہ محض تکبر کی بنیاد پر حق کو نہیں مانتا اور ایسے الفاظ بولتا ہے گویا کہ وہ اصول کی بنیاد پر اس کا انکار کررہا ہے۔ مگر قیامت کے دن آدمی کا چہرہ اس کی اندرونی حالت کا مظہر بن جائے گا۔ اس وقت آدمی کا اپنا چہرہ بتائے گا کہ وہ جس حق میں ’’غیر بہتر‘‘ پہلو نکال کر اس کا منکر بنا رہا وہ صرف اس کے جھوٹے الفاظ تھے۔ ورنہ حق بذات خود بالکل صاف اور واضح تھا۔ اس وقت وہ افسوس کرے گا مگر اس وقت کا افسوس کرنا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
الزمر 39:59
خدا کے کلام میں بہتر اور غیر بہتر کی تقسیم نہیں۔ نہ قرآن میں ایسا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں بہتر ہیں اور کچھ آیتیں غیر بہتر اور نہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں یہ فرق ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب باعتبار حقیقت بہتر ہے اور کوئی کتاب غیر بہتر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں اس کے لیے یہ موقع ہے کہ ایک کلام کو خواہ سیدھے رخ سے لے یا الٹے رخ سے۔ وہ چاہے کلام کے اصل مدعا پر دھیان دے یا اس میں بے جا شوشے نکالے اور اس کو غلط معنی پہنائے۔ کلام الٰہی کا مذاق اڑانا اسی کی ایک مثال ہے۔ آدمی ایک آیت کو لے کر اس میں الٹا مفہوم نکالتاہے اور پھر اس خود ساختہ مفہوم کی بنا پر اس کا مذاق اڑانے لگتاہے۔
دنیا میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہے۔ وہ محض تکبر کی بنیاد پر حق کو نہیں مانتا اور ایسے الفاظ بولتا ہے گویا کہ وہ اصول کی بنیاد پر اس کا انکار کررہا ہے۔ مگر قیامت کے دن آدمی کا چہرہ اس کی اندرونی حالت کا مظہر بن جائے گا۔ اس وقت آدمی کا اپنا چہرہ بتائے گا کہ وہ جس حق میں ’’غیر بہتر‘‘ پہلو نکال کر اس کا منکر بنا رہا وہ صرف اس کے جھوٹے الفاظ تھے۔ ورنہ حق بذات خود بالکل صاف اور واضح تھا۔ اس وقت وہ افسوس کرے گا مگر اس وقت کا افسوس کرنا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
الزمر 39:60
خدا کے کلام میں بہتر اور غیر بہتر کی تقسیم نہیں۔ نہ قرآن میں ایسا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں بہتر ہیں اور کچھ آیتیں غیر بہتر اور نہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں یہ فرق ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب باعتبار حقیقت بہتر ہے اور کوئی کتاب غیر بہتر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں اس کے لیے یہ موقع ہے کہ ایک کلام کو خواہ سیدھے رخ سے لے یا الٹے رخ سے۔ وہ چاہے کلام کے اصل مدعا پر دھیان دے یا اس میں بے جا شوشے نکالے اور اس کو غلط معنی پہنائے۔ کلام الٰہی کا مذاق اڑانا اسی کی ایک مثال ہے۔ آدمی ایک آیت کو لے کر اس میں الٹا مفہوم نکالتاہے اور پھر اس خود ساختہ مفہوم کی بنا پر اس کا مذاق اڑانے لگتاہے۔
دنیا میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہے۔ وہ محض تکبر کی بنیاد پر حق کو نہیں مانتا اور ایسے الفاظ بولتا ہے گویا کہ وہ اصول کی بنیاد پر اس کا انکار کررہا ہے۔ مگر قیامت کے دن آدمی کا چہرہ اس کی اندرونی حالت کا مظہر بن جائے گا۔ اس وقت آدمی کا اپنا چہرہ بتائے گا کہ وہ جس حق میں ’’غیر بہتر‘‘ پہلو نکال کر اس کا منکر بنا رہا وہ صرف اس کے جھوٹے الفاظ تھے۔ ورنہ حق بذات خود بالکل صاف اور واضح تھا۔ اس وقت وہ افسوس کرے گا مگر اس وقت کا افسوس کرنا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
الزمر 39:61
خدا کے کلام میں بہتر اور غیر بہتر کی تقسیم نہیں۔ نہ قرآن میں ایسا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں بہتر ہیں اور کچھ آیتیں غیر بہتر اور نہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں یہ فرق ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب باعتبار حقیقت بہتر ہے اور کوئی کتاب غیر بہتر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں اس کے لیے یہ موقع ہے کہ ایک کلام کو خواہ سیدھے رخ سے لے یا الٹے رخ سے۔ وہ چاہے کلام کے اصل مدعا پر دھیان دے یا اس میں بے جا شوشے نکالے اور اس کو غلط معنی پہنائے۔ کلام الٰہی کا مذاق اڑانا اسی کی ایک مثال ہے۔ آدمی ایک آیت کو لے کر اس میں الٹا مفہوم نکالتاہے اور پھر اس خود ساختہ مفہوم کی بنا پر اس کا مذاق اڑانے لگتاہے۔
دنیا میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہے۔ وہ محض تکبر کی بنیاد پر حق کو نہیں مانتا اور ایسے الفاظ بولتا ہے گویا کہ وہ اصول کی بنیاد پر اس کا انکار کررہا ہے۔ مگر قیامت کے دن آدمی کا چہرہ اس کی اندرونی حالت کا مظہر بن جائے گا۔ اس وقت آدمی کا اپنا چہرہ بتائے گا کہ وہ جس حق میں ’’غیر بہتر‘‘ پہلو نکال کر اس کا منکر بنا رہا وہ صرف اس کے جھوٹے الفاظ تھے۔ ورنہ حق بذات خود بالکل صاف اور واضح تھا۔ اس وقت وہ افسوس کرے گا مگر اس وقت کا افسوس کرنا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
الزمر 39:62
کائنات کی موجودگی اس کے خالق کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح کائنات جتنے با معنی اور جس قدر منظم طور پر چل رہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے کہ ہر آن ایک نگرانی کرنے والا اس کی نگرانی کررہا ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ کائنات میں اس کے خالق کی نشانی پالے گا اور اسی طرح اس کے ناظم اور مدبر کی نشانی بھی۔
ایسی حالت میں جو لوگ ایک خدا کے سوا دوسری ہستیوں کے عبادت گزار بنتے ہیں وہ ایک ایسا عمل کررہے ہیں جس کی موجودہ کائنات میں کوئی قیمت نہیں۔ کیوں کہ خالق اور وکیل جب صرف ایک ہے تو اسی کی عبادت آدمی کو نفع دے سکتی ہے۔ اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا گویا ایسے معبود کو پکارنا ہے جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔
الزمر 39:63
کائنات کی موجودگی اس کے خالق کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح کائنات جتنے با معنی اور جس قدر منظم طور پر چل رہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے کہ ہر آن ایک نگرانی کرنے والا اس کی نگرانی کررہا ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ کائنات میں اس کے خالق کی نشانی پالے گا اور اسی طرح اس کے ناظم اور مدبر کی نشانی بھی۔
ایسی حالت میں جو لوگ ایک خدا کے سوا دوسری ہستیوں کے عبادت گزار بنتے ہیں وہ ایک ایسا عمل کررہے ہیں جس کی موجودہ کائنات میں کوئی قیمت نہیں۔ کیوں کہ خالق اور وکیل جب صرف ایک ہے تو اسی کی عبادت آدمی کو نفع دے سکتی ہے۔ اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا گویا ایسے معبود کو پکارنا ہے جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔
الزمر 39:64
کائنات کی موجودگی اس کے خالق کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح کائنات جتنے با معنی اور جس قدر منظم طور پر چل رہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے کہ ہر آن ایک نگرانی کرنے والا اس کی نگرانی کررہا ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ کائنات میں اس کے خالق کی نشانی پالے گا اور اسی طرح اس کے ناظم اور مدبر کی نشانی بھی۔
ایسی حالت میں جو لوگ ایک خدا کے سوا دوسری ہستیوں کے عبادت گزار بنتے ہیں وہ ایک ایسا عمل کررہے ہیں جس کی موجودہ کائنات میں کوئی قیمت نہیں۔ کیوں کہ خالق اور وکیل جب صرف ایک ہے تو اسی کی عبادت آدمی کو نفع دے سکتی ہے۔ اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا گویا ایسے معبود کو پکارنا ہے جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔
الزمر 39:65
کائنات کی موجودگی اس کے خالق کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح کائنات جتنے با معنی اور جس قدر منظم طور پر چل رہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے کہ ہر آن ایک نگرانی کرنے والا اس کی نگرانی کررہا ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ کائنات میں اس کے خالق کی نشانی پالے گا اور اسی طرح اس کے ناظم اور مدبر کی نشانی بھی۔
ایسی حالت میں جو لوگ ایک خدا کے سوا دوسری ہستیوں کے عبادت گزار بنتے ہیں وہ ایک ایسا عمل کررہے ہیں جس کی موجودہ کائنات میں کوئی قیمت نہیں۔ کیوں کہ خالق اور وکیل جب صرف ایک ہے تو اسی کی عبادت آدمی کو نفع دے سکتی ہے۔ اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا گویا ایسے معبود کو پکارنا ہے جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔
الزمر 39:66
کائنات کی موجودگی اس کے خالق کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح کائنات جتنے با معنی اور جس قدر منظم طور پر چل رہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے کہ ہر آن ایک نگرانی کرنے والا اس کی نگرانی کررہا ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ کائنات میں اس کے خالق کی نشانی پالے گا اور اسی طرح اس کے ناظم اور مدبر کی نشانی بھی۔
ایسی حالت میں جو لوگ ایک خدا کے سوا دوسری ہستیوں کے عبادت گزار بنتے ہیں وہ ایک ایسا عمل کررہے ہیں جس کی موجودہ کائنات میں کوئی قیمت نہیں۔ کیوں کہ خالق اور وکیل جب صرف ایک ہے تو اسی کی عبادت آدمی کو نفع دے سکتی ہے۔ اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا گویا ایسے معبود کو پکارنا ہے جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔
الزمر 39:67
اکثر گمراہیوں کی جڑ خدا کا کمتر اندازہ ہے۔آدمی دوسری عظمتوں میں اس ليے گم ہوتاہے کہ اس کو خدا کی اتھاہ عظمت کا پتہ نہیں۔ وہ اپنے اکابر سے وابستگی کو نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے تو اسی ليے سمجھتا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ خدا اس سے زیادہ بڑا ہے کہ وہاں کوئی شخص اپنی زبان کھولنے کی جرأت کرسکے۔ قیامت جب لوگوں کی آنکھ کا پردہ ہٹائے گی تو ان کو معلوم ہوگا کہ خدا تو اتنا عظیم تھا جیسے کہ زمین ایک چھوٹے سکہ کی طرح اس کی مٹھی میں ہو اور آسمان ایک معمولی کاغذ کی طرح اس کے ہاتھ میں لپٹا ہوا ہو۔
جس طرح امتحان ہال میں امتحان کے ختم ہونے پر اَلارم بجتاہے اسی طرح موجودہ دنیا کی مدت ختم ہونے پر صور پھونکا جائے گا۔اس کے بعد سارا نظام بدل جائے گا۔ اس کے بعد ایک نئی دنیا بنے گی۔ ہماری موجودہ دنیا سورج کی روشنی سے روشن ہوتی ہے۔ جو صرف محسوس مادی اشیاء کو ہمیں دکھا پاتی ہے۔ آخرت کی دنیا براہِ راست خدا کے نور سے روشن ہوگی۔ اس ليے وہاں یہ ممکن ہوگا کہ معنوی حقیقتوں کو بھی کھلی آنکھ سے دیکھا جاسکے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کی عدالت میں حاضر کيے جائیں گے۔ دنیا میں لوگوں نے پیغمبروں کو اور ان کی تبعيت میںاٹھنے والے داعیوں کو نظر انداز کیا تھا۔ مگر آخرت میں لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیںگے کہ لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ وہاں اسی بنیاد پر کیا جارہا ہے کہ کس نے ان کا ساتھ دیا اور کس نے ان کا انکار کردیا۔
الزمر 39:68
اکثر گمراہیوں کی جڑ خدا کا کمتر اندازہ ہے۔آدمی دوسری عظمتوں میں اس ليے گم ہوتاہے کہ اس کو خدا کی اتھاہ عظمت کا پتہ نہیں۔ وہ اپنے اکابر سے وابستگی کو نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے تو اسی ليے سمجھتا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ خدا اس سے زیادہ بڑا ہے کہ وہاں کوئی شخص اپنی زبان کھولنے کی جرأت کرسکے۔ قیامت جب لوگوں کی آنکھ کا پردہ ہٹائے گی تو ان کو معلوم ہوگا کہ خدا تو اتنا عظیم تھا جیسے کہ زمین ایک چھوٹے سکہ کی طرح اس کی مٹھی میں ہو اور آسمان ایک معمولی کاغذ کی طرح اس کے ہاتھ میں لپٹا ہوا ہو۔
جس طرح امتحان ہال میں امتحان کے ختم ہونے پر اَلارم بجتاہے اسی طرح موجودہ دنیا کی مدت ختم ہونے پر صور پھونکا جائے گا۔اس کے بعد سارا نظام بدل جائے گا۔ اس کے بعد ایک نئی دنیا بنے گی۔ ہماری موجودہ دنیا سورج کی روشنی سے روشن ہوتی ہے۔ جو صرف محسوس مادی اشیاء کو ہمیں دکھا پاتی ہے۔ آخرت کی دنیا براہِ راست خدا کے نور سے روشن ہوگی۔ اس ليے وہاں یہ ممکن ہوگا کہ معنوی حقیقتوں کو بھی کھلی آنکھ سے دیکھا جاسکے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کی عدالت میں حاضر کيے جائیں گے۔ دنیا میں لوگوں نے پیغمبروں کو اور ان کی تبعيت میںاٹھنے والے داعیوں کو نظر انداز کیا تھا۔ مگر آخرت میں لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیںگے کہ لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ وہاں اسی بنیاد پر کیا جارہا ہے کہ کس نے ان کا ساتھ دیا اور کس نے ان کا انکار کردیا۔
الزمر 39:69
اکثر گمراہیوں کی جڑ خدا کا کمتر اندازہ ہے۔آدمی دوسری عظمتوں میں اس ليے گم ہوتاہے کہ اس کو خدا کی اتھاہ عظمت کا پتہ نہیں۔ وہ اپنے اکابر سے وابستگی کو نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے تو اسی ليے سمجھتا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ خدا اس سے زیادہ بڑا ہے کہ وہاں کوئی شخص اپنی زبان کھولنے کی جرأت کرسکے۔ قیامت جب لوگوں کی آنکھ کا پردہ ہٹائے گی تو ان کو معلوم ہوگا کہ خدا تو اتنا عظیم تھا جیسے کہ زمین ایک چھوٹے سکہ کی طرح اس کی مٹھی میں ہو اور آسمان ایک معمولی کاغذ کی طرح اس کے ہاتھ میں لپٹا ہوا ہو۔
جس طرح امتحان ہال میں امتحان کے ختم ہونے پر اَلارم بجتاہے اسی طرح موجودہ دنیا کی مدت ختم ہونے پر صور پھونکا جائے گا۔اس کے بعد سارا نظام بدل جائے گا۔ اس کے بعد ایک نئی دنیا بنے گی۔ ہماری موجودہ دنیا سورج کی روشنی سے روشن ہوتی ہے۔ جو صرف محسوس مادی اشیاء کو ہمیں دکھا پاتی ہے۔ آخرت کی دنیا براہِ راست خدا کے نور سے روشن ہوگی۔ اس ليے وہاں یہ ممکن ہوگا کہ معنوی حقیقتوں کو بھی کھلی آنکھ سے دیکھا جاسکے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کی عدالت میں حاضر کيے جائیں گے۔ دنیا میں لوگوں نے پیغمبروں کو اور ان کی تبعيت میںاٹھنے والے داعیوں کو نظر انداز کیا تھا۔ مگر آخرت میں لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیںگے کہ لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ وہاں اسی بنیاد پر کیا جارہا ہے کہ کس نے ان کا ساتھ دیا اور کس نے ان کا انکار کردیا۔
الزمر 39:70
اکثر گمراہیوں کی جڑ خدا کا کمتر اندازہ ہے۔آدمی دوسری عظمتوں میں اس ليے گم ہوتاہے کہ اس کو خدا کی اتھاہ عظمت کا پتہ نہیں۔ وہ اپنے اکابر سے وابستگی کو نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے تو اسی ليے سمجھتا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ خدا اس سے زیادہ بڑا ہے کہ وہاں کوئی شخص اپنی زبان کھولنے کی جرأت کرسکے۔ قیامت جب لوگوں کی آنکھ کا پردہ ہٹائے گی تو ان کو معلوم ہوگا کہ خدا تو اتنا عظیم تھا جیسے کہ زمین ایک چھوٹے سکہ کی طرح اس کی مٹھی میں ہو اور آسمان ایک معمولی کاغذ کی طرح اس کے ہاتھ میں لپٹا ہوا ہو۔
جس طرح امتحان ہال میں امتحان کے ختم ہونے پر اَلارم بجتاہے اسی طرح موجودہ دنیا کی مدت ختم ہونے پر صور پھونکا جائے گا۔اس کے بعد سارا نظام بدل جائے گا۔ اس کے بعد ایک نئی دنیا بنے گی۔ ہماری موجودہ دنیا سورج کی روشنی سے روشن ہوتی ہے۔ جو صرف محسوس مادی اشیاء کو ہمیں دکھا پاتی ہے۔ آخرت کی دنیا براہِ راست خدا کے نور سے روشن ہوگی۔ اس ليے وہاں یہ ممکن ہوگا کہ معنوی حقیقتوں کو بھی کھلی آنکھ سے دیکھا جاسکے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کی عدالت میں حاضر کيے جائیں گے۔ دنیا میں لوگوں نے پیغمبروں کو اور ان کی تبعيت میںاٹھنے والے داعیوں کو نظر انداز کیا تھا۔ مگر آخرت میں لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیںگے کہ لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ وہاں اسی بنیاد پر کیا جارہا ہے کہ کس نے ان کا ساتھ دیا اور کس نے ان کا انکار کردیا۔
الزمر 39:71
حق سے اعراض وانکارکرنے کے درجے ہیں۔ اسی لحاظ سے جہنم والوں کے بھی درجے ہیں۔ آخرت میں ان کو ان کے درجات کے لحاظ سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا اور پھر ہر گروہ کو جہنم کے اس طبقہ میں ڈال دیا جائے گا جس کا وہ مستحق ہے۔ اس موقع پر جہنم کی نگرانی کرنے والے فرشتوں کی گفتگو سے اس منظر کی تصویر کشی ہورہی ہے جو لوگوں کے جہنم میں داخل ہونے کے وقت پیش آئے گی۔
جو لوگ موجودہ دنیا میں حق کو نہیں مانتے ان کے نہ ماننے کی اصل وجہ ہمیشہ تکبر ہوتاہے۔ تاہم ان کا تکبر حقیقۃً حق کے مقابلہ میں نہیں ہوتا بلکہ وہ حق کو پیش کرنے والے شخص کے مقابلہ میں ہوتاہے۔ حق کو پیش کرنے والا بظاہر ایک آدمی کو اپنے سے چھوٹا دکھائی دیتا ہے اس ليے وہ آدمی حق کو بھی چھوٹا سمجھ لیتاہے۔ اور اس کو حقارت کے ساتھ نظر انداز کردیتاہے۔
الزمر 39:72
حق سے اعراض وانکارکرنے کے درجے ہیں۔ اسی لحاظ سے جہنم والوں کے بھی درجے ہیں۔ آخرت میں ان کو ان کے درجات کے لحاظ سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا اور پھر ہر گروہ کو جہنم کے اس طبقہ میں ڈال دیا جائے گا جس کا وہ مستحق ہے۔ اس موقع پر جہنم کی نگرانی کرنے والے فرشتوں کی گفتگو سے اس منظر کی تصویر کشی ہورہی ہے جو لوگوں کے جہنم میں داخل ہونے کے وقت پیش آئے گی۔
جو لوگ موجودہ دنیا میں حق کو نہیں مانتے ان کے نہ ماننے کی اصل وجہ ہمیشہ تکبر ہوتاہے۔ تاہم ان کا تکبر حقیقۃً حق کے مقابلہ میں نہیں ہوتا بلکہ وہ حق کو پیش کرنے والے شخص کے مقابلہ میں ہوتاہے۔ حق کو پیش کرنے والا بظاہر ایک آدمی کو اپنے سے چھوٹا دکھائی دیتا ہے اس ليے وہ آدمی حق کو بھی چھوٹا سمجھ لیتاہے۔ اور اس کو حقارت کے ساتھ نظر انداز کردیتاہے۔
الزمر 39:73
جنت میں جانے والے وہ لوگ ہیں جن میں تقویٰ کی صفت پائی جائے۔ جب آدمی خدا کی بڑائی کو اس طرح پائے کہ اس کے اندر سے اپنی بڑائی کا احساس ختم ہوجائے تو اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ خدا سے ڈرنے لگتاہے۔ اپنے عجز اور خدا کی قدرت کا احساس اس کو اندیشہ ناک بنا دیتاہے۔ وہ خدا کے معاملہ میں حد درجہ محتاج ہوجاتا ہے۔ اس کو ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتاہے کہ آخرت میں اس کا خدا اس کے ساتھ کیا معاملہ فرمائے گا۔ جن لوگوں نے دنیا میں اسی طرح خوف کیا وہی آخرت کی بے خوف زندگی کے وارث قرار دئے جائیں گے۔
اہل جنت کے ساتھ آخرت میں وہ معاملہ کیا جائے گا جو دنیا میں شاہی مہمانوں کے ساتھ کیا جاتاہے۔ ان کو کمال اعزاز واکرام کے ساتھ ان کی قیام گاہوں کی طرف لے جایا جائے گا۔ جب وہ جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو بے اختیار ان کی زبان پر حمد اور شکر کے کلمات جاری ہوجائیں گے۔ جنت میں ان کےلیے نہ صرف اعلیٰ قیام گاہیں ہوں گی بلکہ وہاں سیر اور ملاقات کےلیے آنے جانے پر کوئی روک نہ ہوگی۔ سفر اور مواصلات کی اعلیٰ ترین سہولتیں وافر مقدار میں حاصل ہوں گی۔
حمد کی مستحق صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں اس کا ظہور نہیں ہوتا۔آخرت حمد الٰہی کے کامل ظہور کا دن ہوگا۔ اس وقت تمام تر زبانیں اور سارا ماحول حمد خداوندی کے نغمہ سے معمورہوجائے گا۔ تمام جھوٹی بڑائیاں ختم ہوجائیں گی۔ وہاں صرف ایک بستی ہوگی جس کا آدمی نام لے۔ وہاں صرف ایک بڑائی ہوگی جس کی بڑائی سے سرشار ہو کر وہ اس کی حمد کرے۔
الزمر 39:74
جنت میں جانے والے وہ لوگ ہیں جن میں تقویٰ کی صفت پائی جائے۔ جب آدمی خدا کی بڑائی کو اس طرح پائے کہ اس کے اندر سے اپنی بڑائی کا احساس ختم ہوجائے تو اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ خدا سے ڈرنے لگتاہے۔ اپنے عجز اور خدا کی قدرت کا احساس اس کو اندیشہ ناک بنا دیتاہے۔ وہ خدا کے معاملہ میں حد درجہ محتاج ہوجاتا ہے۔ اس کو ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتاہے کہ آخرت میں اس کا خدا اس کے ساتھ کیا معاملہ فرمائے گا۔ جن لوگوں نے دنیا میں اسی طرح خوف کیا وہی آخرت کی بے خوف زندگی کے وارث قرار دئے جائیں گے۔
اہل جنت کے ساتھ آخرت میں وہ معاملہ کیا جائے گا جو دنیا میں شاہی مہمانوں کے ساتھ کیا جاتاہے۔ ان کو کمال اعزاز واکرام کے ساتھ ان کی قیام گاہوں کی طرف لے جایا جائے گا۔ جب وہ جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو بے اختیار ان کی زبان پر حمد اور شکر کے کلمات جاری ہوجائیں گے۔ جنت میں ان کےلیے نہ صرف اعلیٰ قیام گاہیں ہوں گی بلکہ وہاں سیر اور ملاقات کےلیے آنے جانے پر کوئی روک نہ ہوگی۔ سفر اور مواصلات کی اعلیٰ ترین سہولتیں وافر مقدار میں حاصل ہوں گی۔
حمد کی مستحق صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں اس کا ظہور نہیں ہوتا۔آخرت حمد الٰہی کے کامل ظہور کا دن ہوگا۔ اس وقت تمام تر زبانیں اور سارا ماحول حمد خداوندی کے نغمہ سے معمورہوجائے گا۔ تمام جھوٹی بڑائیاں ختم ہوجائیں گی۔ وہاں صرف ایک بستی ہوگی جس کا آدمی نام لے۔ وہاں صرف ایک بڑائی ہوگی جس کی بڑائی سے سرشار ہو کر وہ اس کی حمد کرے۔
الزمر 39:75
جنت میں جانے والے وہ لوگ ہیں جن میں تقویٰ کی صفت پائی جائے۔ جب آدمی خدا کی بڑائی کو اس طرح پائے کہ اس کے اندر سے اپنی بڑائی کا احساس ختم ہوجائے تو اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ خدا سے ڈرنے لگتاہے۔ اپنے عجز اور خدا کی قدرت کا احساس اس کو اندیشہ ناک بنا دیتاہے۔ وہ خدا کے معاملہ میں حد درجہ محتاج ہوجاتا ہے۔ اس کو ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتاہے کہ آخرت میں اس کا خدا اس کے ساتھ کیا معاملہ فرمائے گا۔ جن لوگوں نے دنیا میں اسی طرح خوف کیا وہی آخرت کی بے خوف زندگی کے وارث قرار دئے جائیں گے۔
اہل جنت کے ساتھ آخرت میں وہ معاملہ کیا جائے گا جو دنیا میں شاہی مہمانوں کے ساتھ کیا جاتاہے۔ ان کو کمال اعزاز واکرام کے ساتھ ان کی قیام گاہوں کی طرف لے جایا جائے گا۔ جب وہ جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو بے اختیار ان کی زبان پر حمد اور شکر کے کلمات جاری ہوجائیں گے۔ جنت میں ان کےلیے نہ صرف اعلیٰ قیام گاہیں ہوں گی بلکہ وہاں سیر اور ملاقات کےلیے آنے جانے پر کوئی روک نہ ہوگی۔ سفر اور مواصلات کی اعلیٰ ترین سہولتیں وافر مقدار میں حاصل ہوں گی۔
حمد کی مستحق صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں اس کا ظہور نہیں ہوتا۔آخرت حمد الٰہی کے کامل ظہور کا دن ہوگا۔ اس وقت تمام تر زبانیں اور سارا ماحول حمد خداوندی کے نغمہ سے معمورہوجائے گا۔ تمام جھوٹی بڑائیاں ختم ہوجائیں گی۔ وہاں صرف ایک بستی ہوگی جس کا آدمی نام لے۔ وہاں صرف ایک بڑائی ہوگی جس کی بڑائی سے سرشار ہو کر وہ اس کی حمد کرے۔
غافر 40:1
’’عزیز وعلیم‘‘ کے الفاظ یہاں قرآن کے حق میں بطور دلیل استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن کے اترنے کے وقت ایک پیشین گوئی تھی، آج یہ ایک ثابت شدہ واقعہ ہے۔
قرآن دور سائنس سے پہلے انتہائی ناموافق حالات میں اترا۔ مگر عین اپنے دعوے کے مطابق اس نے اپنے مخالفوں کے اوپر غلبہ حاصل کیا۔ عرب کے مشرکین او ر یہود اور عظیم رومی اور ایرانی سلطنتیں سب کی سب اس کی دشمن تھیں مگر اس نے بہت تھوڑے عرصہ میں سب کو مغلوب کرلیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدائے عزیز وغالب کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔
قرآن کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ کامل طور پر ایک صحیح کتاب ہے۔ ڈیڑھ ہزار برس بعد بھی قرآن کی کوئی بات حقیقتِ واقعہ کے خلاف نہیں نکلی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا نازل کرنے والا علیم وخبیر ہے اس سے زمین وآسمان کی کوئی بات مخفی نہیں۔ وہ ماضی، حال اورمستقبل سے یکساں طورپر باخبر ہے۔
یہی خدا انسان کا حقیقی معبود ہے۔ اس کی قدرت اور اس کے علم کا یہ تقاضا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو جمع کرکے ان کا حساب لے۔ پھر پورے عدل کے ساتھ ہر ایک کا فیصلہ کرے۔ جو لوگ خدا کی طرف رجوع ہوئے ان کو معاف کردے اور جنھوں نے سرکشی کی انھیں ان کے برے اعمال کی سزا دے۔
غافر 40:2
’’عزیز وعلیم‘‘ کے الفاظ یہاں قرآن کے حق میں بطور دلیل استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن کے اترنے کے وقت ایک پیشین گوئی تھی، آج یہ ایک ثابت شدہ واقعہ ہے۔
قرآن دور سائنس سے پہلے انتہائی ناموافق حالات میں اترا۔ مگر عین اپنے دعوے کے مطابق اس نے اپنے مخالفوں کے اوپر غلبہ حاصل کیا۔ عرب کے مشرکین او ر یہود اور عظیم رومی اور ایرانی سلطنتیں سب کی سب اس کی دشمن تھیں مگر اس نے بہت تھوڑے عرصہ میں سب کو مغلوب کرلیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدائے عزیز وغالب کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔
قرآن کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ کامل طور پر ایک صحیح کتاب ہے۔ ڈیڑھ ہزار برس بعد بھی قرآن کی کوئی بات حقیقتِ واقعہ کے خلاف نہیں نکلی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا نازل کرنے والا علیم وخبیر ہے اس سے زمین وآسمان کی کوئی بات مخفی نہیں۔ وہ ماضی، حال اورمستقبل سے یکساں طورپر باخبر ہے۔
یہی خدا انسان کا حقیقی معبود ہے۔ اس کی قدرت اور اس کے علم کا یہ تقاضا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو جمع کرکے ان کا حساب لے۔ پھر پورے عدل کے ساتھ ہر ایک کا فیصلہ کرے۔ جو لوگ خدا کی طرف رجوع ہوئے ان کو معاف کردے اور جنھوں نے سرکشی کی انھیں ان کے برے اعمال کی سزا دے۔
غافر 40:3
’’عزیز وعلیم‘‘ کے الفاظ یہاں قرآن کے حق میں بطور دلیل استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن کے اترنے کے وقت ایک پیشین گوئی تھی، آج یہ ایک ثابت شدہ واقعہ ہے۔
قرآن دور سائنس سے پہلے انتہائی ناموافق حالات میں اترا۔ مگر عین اپنے دعوے کے مطابق اس نے اپنے مخالفوں کے اوپر غلبہ حاصل کیا۔ عرب کے مشرکین او ر یہود اور عظیم رومی اور ایرانی سلطنتیں سب کی سب اس کی دشمن تھیں مگر اس نے بہت تھوڑے عرصہ میں سب کو مغلوب کرلیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدائے عزیز وغالب کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔
قرآن کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ کامل طور پر ایک صحیح کتاب ہے۔ ڈیڑھ ہزار برس بعد بھی قرآن کی کوئی بات حقیقتِ واقعہ کے خلاف نہیں نکلی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا نازل کرنے والا علیم وخبیر ہے اس سے زمین وآسمان کی کوئی بات مخفی نہیں۔ وہ ماضی، حال اورمستقبل سے یکساں طورپر باخبر ہے۔
یہی خدا انسان کا حقیقی معبود ہے۔ اس کی قدرت اور اس کے علم کا یہ تقاضا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو جمع کرکے ان کا حساب لے۔ پھر پورے عدل کے ساتھ ہر ایک کا فیصلہ کرے۔ جو لوگ خدا کی طرف رجوع ہوئے ان کو معاف کردے اور جنھوں نے سرکشی کی انھیں ان کے برے اعمال کی سزا دے۔
غافر 40:4
یہاں آیات اللہ سے مرادوہ دلائل ہیں جو دعوت حق کو ثابت کرنے کےلیے پیش کيے گئے ہوں۔ جو لوگ خدا کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ ان دلائل میں غیر متعلق بحثیں پیدا کرکے لوگوں کو اس شبہ میں ڈالتے ہیں کہ یہ دعوت حق کی دعوت نہیں ہے بلکہ محض ایک شخص (داعی) کی ذہنی اپج ہے۔
اس قسم کا جھوٹا مجادلہ بہت بڑا جرم ہے۔ تاہم موجودہ امتحان کی دنیا میں ایسے لوگوں کو ایک مقرر مدت تک مہلت حاصل رہتی ہے۔ اس کے بعد ان کےلیے وہی برا انجام مقدر ہے جو قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود وغیرہ کا ہوا۔ جن لوگوں نے اپنے کو بڑا سمجھا تھا وہ چھوٹے کردئے گئے۔ اور جن لوگوں کو چھوٹا سمجھ لیا گیا تھا وہ اللہ کے نزدیک بڑے قرار پائے۔
غافر 40:5
یہاں آیات اللہ سے مرادوہ دلائل ہیں جو دعوت حق کو ثابت کرنے کےلیے پیش کيے گئے ہوں۔ جو لوگ خدا کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ ان دلائل میں غیر متعلق بحثیں پیدا کرکے لوگوں کو اس شبہ میں ڈالتے ہیں کہ یہ دعوت حق کی دعوت نہیں ہے بلکہ محض ایک شخص (داعی) کی ذہنی اپج ہے۔
اس قسم کا جھوٹا مجادلہ بہت بڑا جرم ہے۔ تاہم موجودہ امتحان کی دنیا میں ایسے لوگوں کو ایک مقرر مدت تک مہلت حاصل رہتی ہے۔ اس کے بعد ان کےلیے وہی برا انجام مقدر ہے جو قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود وغیرہ کا ہوا۔ جن لوگوں نے اپنے کو بڑا سمجھا تھا وہ چھوٹے کردئے گئے۔ اور جن لوگوں کو چھوٹا سمجھ لیا گیا تھا وہ اللہ کے نزدیک بڑے قرار پائے۔
غافر 40:6
یہاں آیات اللہ سے مرادوہ دلائل ہیں جو دعوت حق کو ثابت کرنے کےلیے پیش کيے گئے ہوں۔ جو لوگ خدا کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ ان دلائل میں غیر متعلق بحثیں پیدا کرکے لوگوں کو اس شبہ میں ڈالتے ہیں کہ یہ دعوت حق کی دعوت نہیں ہے بلکہ محض ایک شخص (داعی) کی ذہنی اپج ہے۔
اس قسم کا جھوٹا مجادلہ بہت بڑا جرم ہے۔ تاہم موجودہ امتحان کی دنیا میں ایسے لوگوں کو ایک مقرر مدت تک مہلت حاصل رہتی ہے۔ اس کے بعد ان کےلیے وہی برا انجام مقدر ہے جو قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود وغیرہ کا ہوا۔ جن لوگوں نے اپنے کو بڑا سمجھا تھا وہ چھوٹے کردئے گئے۔ اور جن لوگوں کو چھوٹا سمجھ لیا گیا تھا وہ اللہ کے نزدیک بڑے قرار پائے۔
غافر 40:7
جو اللہ کے بندے بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھتے ہیں ان کو ہمیشہ ستایا جاتا ہے۔ ان کو ماحول میں حقیر بنادیا جاتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ ظاہر پرست انسانوں کے درمیان ان کا یہ حال ہوتا ہے، عین اسی وقت زمین و آسمان ان کے برسرِ حق ہونے کی تصدیق کررہے ہوتے ہیں۔ کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتے ان کے حسنِ انجام کے منتظر ہوتے ہیں۔ وقتی دنیا میں ناقابلِ تذکرہ سمجھے جانے والے لوگ ابدی دنیا میں اس مقام عزت پر ہوتے ہیں کہ اللہ کے مقرب ترین فرشتے بھی ان کے حق میں دعائیں کررہے ہیں۔
غافر 40:8
جو اللہ کے بندے بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھتے ہیں ان کو ہمیشہ ستایا جاتا ہے۔ ان کو ماحول میں حقیر بنادیا جاتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ ظاہر پرست انسانوں کے درمیان ان کا یہ حال ہوتا ہے، عین اسی وقت زمین و آسمان ان کے برسرِ حق ہونے کی تصدیق کررہے ہوتے ہیں۔ کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتے ان کے حسنِ انجام کے منتظر ہوتے ہیں۔ وقتی دنیا میں ناقابلِ تذکرہ سمجھے جانے والے لوگ ابدی دنیا میں اس مقام عزت پر ہوتے ہیں کہ اللہ کے مقرب ترین فرشتے بھی ان کے حق میں دعائیں کررہے ہیں۔
غافر 40:9
جو اللہ کے بندے بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھتے ہیں ان کو ہمیشہ ستایا جاتا ہے۔ ان کو ماحول میں حقیر بنادیا جاتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ ظاہر پرست انسانوں کے درمیان ان کا یہ حال ہوتا ہے، عین اسی وقت زمین و آسمان ان کے برسرِ حق ہونے کی تصدیق کررہے ہوتے ہیں۔ کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتے ان کے حسنِ انجام کے منتظر ہوتے ہیں۔ وقتی دنیا میں ناقابلِ تذکرہ سمجھے جانے والے لوگ ابدی دنیا میں اس مقام عزت پر ہوتے ہیں کہ اللہ کے مقرب ترین فرشتے بھی ان کے حق میں دعائیں کررہے ہیں۔
غافر 40:10
موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی شکل میں اپنی رحمت بھیجی۔ مگر لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا۔ اس کا انجام آخرت میں یہ سامنے آئے گا کہ اس قسم کے لوگ اللہ کی رحمت سے بالکل محروم کردئے جائیںگے۔ دنیا میں انھوں نے خدا کی رحمت کو نظر انداز کیا تھا، آخرت میں خدا کی رحمت انھیں نظر انداز کردے گی۔
اس وقت انکار کرنے والے لوگ کہیں گے کہ خدایا، تو نے ہم کو مٹی سے پیدا کیا۔ گویا کہ ہم مُردہ تھے پھر تو نے ہمارے اندر جان ڈالی۔ اس کے بعد اپنی عمر پوری کرکے دوسری بار ہم پر موت آئی۔ اور اب ہم دوبارہ آخرت کی دنیا میں اٹھائے گئے ہیں۔ اس طرح تو ہم کو دوبارموت اور دوبار زندگی دے چکا ہے۔ اب اگر تو ہم کو تیسرا موقع دے اور پھر ہم کو دنیا میں بھیج دے کہ ہم وہاں رہیں اور پھر مر کر عالم آخرت میں حاضر ہوں تو ہم وہاں تیری سچائی کا اعتراف کریں گے اور نیک عمل کی زندگی گزاریں گے۔
مگر ان کی یہ درخواست سنی نہیں جائے گی۔ کیوں کہ انھوں نے اپنے بارے میں یہ ثبوت دیا کہ وہ سچائی کا ادراک اس وقت نہیں کرسکتے جب کہ سچائی ابھی غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ وہ صرف ظاہری خداؤں کو پہچان سکتے ہیں، وہ غیبی خدا کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اور خدا کے یہاں ایسے ظاہر پرستوں کی کوئی قیمت نہیں۔
غافر 40:11
موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی شکل میں اپنی رحمت بھیجی۔ مگر لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا۔ اس کا انجام آخرت میں یہ سامنے آئے گا کہ اس قسم کے لوگ اللہ کی رحمت سے بالکل محروم کردئے جائیںگے۔ دنیا میں انھوں نے خدا کی رحمت کو نظر انداز کیا تھا، آخرت میں خدا کی رحمت انھیں نظر انداز کردے گی۔
اس وقت انکار کرنے والے لوگ کہیں گے کہ خدایا، تو نے ہم کو مٹی سے پیدا کیا۔ گویا کہ ہم مُردہ تھے پھر تو نے ہمارے اندر جان ڈالی۔ اس کے بعد اپنی عمر پوری کرکے دوسری بار ہم پر موت آئی۔ اور اب ہم دوبارہ آخرت کی دنیا میں اٹھائے گئے ہیں۔ اس طرح تو ہم کو دوبارموت اور دوبار زندگی دے چکا ہے۔ اب اگر تو ہم کو تیسرا موقع دے اور پھر ہم کو دنیا میں بھیج دے کہ ہم وہاں رہیں اور پھر مر کر عالم آخرت میں حاضر ہوں تو ہم وہاں تیری سچائی کا اعتراف کریں گے اور نیک عمل کی زندگی گزاریں گے۔
مگر ان کی یہ درخواست سنی نہیں جائے گی۔ کیوں کہ انھوں نے اپنے بارے میں یہ ثبوت دیا کہ وہ سچائی کا ادراک اس وقت نہیں کرسکتے جب کہ سچائی ابھی غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ وہ صرف ظاہری خداؤں کو پہچان سکتے ہیں، وہ غیبی خدا کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اور خدا کے یہاں ایسے ظاہر پرستوں کی کوئی قیمت نہیں۔
غافر 40:12
موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی شکل میں اپنی رحمت بھیجی۔ مگر لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا۔ اس کا انجام آخرت میں یہ سامنے آئے گا کہ اس قسم کے لوگ اللہ کی رحمت سے بالکل محروم کردئے جائیںگے۔ دنیا میں انھوں نے خدا کی رحمت کو نظر انداز کیا تھا، آخرت میں خدا کی رحمت انھیں نظر انداز کردے گی۔
اس وقت انکار کرنے والے لوگ کہیں گے کہ خدایا، تو نے ہم کو مٹی سے پیدا کیا۔ گویا کہ ہم مُردہ تھے پھر تو نے ہمارے اندر جان ڈالی۔ اس کے بعد اپنی عمر پوری کرکے دوسری بار ہم پر موت آئی۔ اور اب ہم دوبارہ آخرت کی دنیا میں اٹھائے گئے ہیں۔ اس طرح تو ہم کو دوبارموت اور دوبار زندگی دے چکا ہے۔ اب اگر تو ہم کو تیسرا موقع دے اور پھر ہم کو دنیا میں بھیج دے کہ ہم وہاں رہیں اور پھر مر کر عالم آخرت میں حاضر ہوں تو ہم وہاں تیری سچائی کا اعتراف کریں گے اور نیک عمل کی زندگی گزاریں گے۔
مگر ان کی یہ درخواست سنی نہیں جائے گی۔ کیوں کہ انھوں نے اپنے بارے میں یہ ثبوت دیا کہ وہ سچائی کا ادراک اس وقت نہیں کرسکتے جب کہ سچائی ابھی غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ وہ صرف ظاہری خداؤں کو پہچان سکتے ہیں، وہ غیبی خدا کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اور خدا کے یہاں ایسے ظاہر پرستوں کی کوئی قیمت نہیں۔
غافر 40:13
کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو تمثیل کی زبان میں حقیقت کا درس دے رہی ہيں۔ انھیں میں سے ایک نشانی بارش کا نظام ہے۔ یہ مادّی واقعہ وحی کے معنوی معاملہ کو ممثل کررہا ہے۔ جس طرح بارش زرخیز زمین کےلیے مفید ہے اور بنجر زمین کےلیے غیر مفید، اسی طرح وحی بھی خدا کی معنوی بارش ہے۔ جن لوگوں نے اپنے سینے کھلے رکھے ہوں ان کے اندر یہ بارش داخل ہو کر ان کے وجود کو سرسبز وشاداب کردیتی ہے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے دل غیر خدائی بڑائیوں سے بھرے ہوئے ہوں وہ گویا بنجر زمین ہیں۔ وہ وحی کے فائدوں سے محروم رہیں گے۔
اللہ اپنے بند وں سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ جس بندہ کو اہل پاتا ہے اس کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چن لیتاہے۔ اس پیغام کا خاص نشانہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو آنے والے دن سے آگاہ کیا جائے جب کہ وہ بادشاہ کائنات کے سامنے کھڑے کيے جائیںگے جس سے کسی کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ اور نہ کوئی ہے جو اس کے فیصلہ پر اثر اندازہوسکے۔
غافر 40:14
کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو تمثیل کی زبان میں حقیقت کا درس دے رہی ہيں۔ انھیں میں سے ایک نشانی بارش کا نظام ہے۔ یہ مادّی واقعہ وحی کے معنوی معاملہ کو ممثل کررہا ہے۔ جس طرح بارش زرخیز زمین کےلیے مفید ہے اور بنجر زمین کےلیے غیر مفید، اسی طرح وحی بھی خدا کی معنوی بارش ہے۔ جن لوگوں نے اپنے سینے کھلے رکھے ہوں ان کے اندر یہ بارش داخل ہو کر ان کے وجود کو سرسبز وشاداب کردیتی ہے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے دل غیر خدائی بڑائیوں سے بھرے ہوئے ہوں وہ گویا بنجر زمین ہیں۔ وہ وحی کے فائدوں سے محروم رہیں گے۔
اللہ اپنے بند وں سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ جس بندہ کو اہل پاتا ہے اس کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چن لیتاہے۔ اس پیغام کا خاص نشانہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو آنے والے دن سے آگاہ کیا جائے جب کہ وہ بادشاہ کائنات کے سامنے کھڑے کيے جائیںگے جس سے کسی کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ اور نہ کوئی ہے جو اس کے فیصلہ پر اثر اندازہوسکے۔
غافر 40:15
کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو تمثیل کی زبان میں حقیقت کا درس دے رہی ہيں۔ انھیں میں سے ایک نشانی بارش کا نظام ہے۔ یہ مادّی واقعہ وحی کے معنوی معاملہ کو ممثل کررہا ہے۔ جس طرح بارش زرخیز زمین کےلیے مفید ہے اور بنجر زمین کےلیے غیر مفید، اسی طرح وحی بھی خدا کی معنوی بارش ہے۔ جن لوگوں نے اپنے سینے کھلے رکھے ہوں ان کے اندر یہ بارش داخل ہو کر ان کے وجود کو سرسبز وشاداب کردیتی ہے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے دل غیر خدائی بڑائیوں سے بھرے ہوئے ہوں وہ گویا بنجر زمین ہیں۔ وہ وحی کے فائدوں سے محروم رہیں گے۔
اللہ اپنے بند وں سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ جس بندہ کو اہل پاتا ہے اس کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چن لیتاہے۔ اس پیغام کا خاص نشانہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو آنے والے دن سے آگاہ کیا جائے جب کہ وہ بادشاہ کائنات کے سامنے کھڑے کيے جائیںگے جس سے کسی کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ اور نہ کوئی ہے جو اس کے فیصلہ پر اثر اندازہوسکے۔
غافر 40:16
کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو تمثیل کی زبان میں حقیقت کا درس دے رہی ہيں۔ انھیں میں سے ایک نشانی بارش کا نظام ہے۔ یہ مادّی واقعہ وحی کے معنوی معاملہ کو ممثل کررہا ہے۔ جس طرح بارش زرخیز زمین کےلیے مفید ہے اور بنجر زمین کےلیے غیر مفید، اسی طرح وحی بھی خدا کی معنوی بارش ہے۔ جن لوگوں نے اپنے سینے کھلے رکھے ہوں ان کے اندر یہ بارش داخل ہو کر ان کے وجود کو سرسبز وشاداب کردیتی ہے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے دل غیر خدائی بڑائیوں سے بھرے ہوئے ہوں وہ گویا بنجر زمین ہیں۔ وہ وحی کے فائدوں سے محروم رہیں گے۔
اللہ اپنے بند وں سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ جس بندہ کو اہل پاتا ہے اس کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چن لیتاہے۔ اس پیغام کا خاص نشانہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو آنے والے دن سے آگاہ کیا جائے جب کہ وہ بادشاہ کائنات کے سامنے کھڑے کيے جائیںگے جس سے کسی کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ اور نہ کوئی ہے جو اس کے فیصلہ پر اثر اندازہوسکے۔
غافر 40:17
کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو تمثیل کی زبان میں حقیقت کا درس دے رہی ہيں۔ انھیں میں سے ایک نشانی بارش کا نظام ہے۔ یہ مادّی واقعہ وحی کے معنوی معاملہ کو ممثل کررہا ہے۔ جس طرح بارش زرخیز زمین کےلیے مفید ہے اور بنجر زمین کےلیے غیر مفید، اسی طرح وحی بھی خدا کی معنوی بارش ہے۔ جن لوگوں نے اپنے سینے کھلے رکھے ہوں ان کے اندر یہ بارش داخل ہو کر ان کے وجود کو سرسبز وشاداب کردیتی ہے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے دل غیر خدائی بڑائیوں سے بھرے ہوئے ہوں وہ گویا بنجر زمین ہیں۔ وہ وحی کے فائدوں سے محروم رہیں گے۔
اللہ اپنے بند وں سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ جس بندہ کو اہل پاتا ہے اس کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چن لیتاہے۔ اس پیغام کا خاص نشانہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو آنے والے دن سے آگاہ کیا جائے جب کہ وہ بادشاہ کائنات کے سامنے کھڑے کيے جائیںگے جس سے کسی کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ اور نہ کوئی ہے جو اس کے فیصلہ پر اثر اندازہوسکے۔
غافر 40:18
موجودہ دنیا میں انسان کو ہر طرح کے مواقع حاصل ہیں۔ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس سے آدمی غلط فہمی میں پڑجاتاہے۔ وہ اپنی موجودہ عارضی حالت کو مستقل حالت سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ یہ مواقع جو انسان کو ملے ہیں وہ بطور امتحان ہیں نہ کہ بطور استحقاق۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی موجودہ تمام مواقع اس سے چھن جائیں گے۔ اس وقت انسان کو معلوم ہوگا کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہیں جس کے سہارے وہ کھڑا ہوسکے۔
آدمی چاہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے۔ اسی مزاج کی وجہ سے آدمی غیر خدا کو بطور خود خدائی میں شریک بناتا ہے تاکہ ان کے نام پر وہ اپنی بے راہ روی کو جائز ثابت کرسکے۔ مگر قیامت میں جب حقیقت بے پردہ ہوکر سامنے آئے گی تو آدمی جان لے گا کہ یہاں خدا کے سوا کوئی نہ تھا جس کو کسی قسم کا اختیار حاصل ہو۔
غافر 40:19
موجودہ دنیا میں انسان کو ہر طرح کے مواقع حاصل ہیں۔ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس سے آدمی غلط فہمی میں پڑجاتاہے۔ وہ اپنی موجودہ عارضی حالت کو مستقل حالت سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ یہ مواقع جو انسان کو ملے ہیں وہ بطور امتحان ہیں نہ کہ بطور استحقاق۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی موجودہ تمام مواقع اس سے چھن جائیں گے۔ اس وقت انسان کو معلوم ہوگا کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہیں جس کے سہارے وہ کھڑا ہوسکے۔
آدمی چاہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے۔ اسی مزاج کی وجہ سے آدمی غیر خدا کو بطور خود خدائی میں شریک بناتا ہے تاکہ ان کے نام پر وہ اپنی بے راہ روی کو جائز ثابت کرسکے۔ مگر قیامت میں جب حقیقت بے پردہ ہوکر سامنے آئے گی تو آدمی جان لے گا کہ یہاں خدا کے سوا کوئی نہ تھا جس کو کسی قسم کا اختیار حاصل ہو۔
غافر 40:20
موجودہ دنیا میں انسان کو ہر طرح کے مواقع حاصل ہیں۔ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس سے آدمی غلط فہمی میں پڑجاتاہے۔ وہ اپنی موجودہ عارضی حالت کو مستقل حالت سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ یہ مواقع جو انسان کو ملے ہیں وہ بطور امتحان ہیں نہ کہ بطور استحقاق۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی موجودہ تمام مواقع اس سے چھن جائیں گے۔ اس وقت انسان کو معلوم ہوگا کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہیں جس کے سہارے وہ کھڑا ہوسکے۔
آدمی چاہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے۔ اسی مزاج کی وجہ سے آدمی غیر خدا کو بطور خود خدائی میں شریک بناتا ہے تاکہ ان کے نام پر وہ اپنی بے راہ روی کو جائز ثابت کرسکے۔ مگر قیامت میں جب حقیقت بے پردہ ہوکر سامنے آئے گی تو آدمی جان لے گا کہ یہاں خدا کے سوا کوئی نہ تھا جس کو کسی قسم کا اختیار حاصل ہو۔
غافر 40:21
دنیا کی تاریخ میں کثرت سے ایسے واقعات ہیں کہ ایک قوم ابھری اور پھر مٹ گئی۔ ایک قوم جس نے زمین پر شاندار تمدن کھڑا کیا، آج اس کا تمدن کھنڈر کی صورت میں زمین کے نیچے دبا ہوا پڑا ہے۔ ایک قوم جس کو کسی وقت ایک زندہ واقعہ کی حیثیت حاصل تھی، آج وہ صرف ایک تاریخی واقعہ کے طورپر قابل ذکر سمجھی جاتی ہے۔
اس قسم کے واقعات لوگوں کےلیے معلوم واقعات ہیں مگر لوگوں نے ان واقعات کو ارضی حوادث یا سیاسی انقلاب کے خانہ میں ڈال رکھا ہے۔لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ سب خدائی فیصلے تھے جو سچائی کے انکار کے نتیجے میںان قوموں پر نازل ہوئے۔ اگرہم کو وہ نگاہ حاصل ہو جس سے ہم معنوی حقیقتوں کو دیکھ سکیں تو ہم کو نظر آئے گا کہ ہر واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ انجام پارہا تھا، اگر چہ بظاہر دیکھنے والوں کو وہ دنیوی اسباب کے تحت ہوتا ہوا دکھائی دیا۔
غافر 40:22
دنیا کی تاریخ میں کثرت سے ایسے واقعات ہیں کہ ایک قوم ابھری اور پھر مٹ گئی۔ ایک قوم جس نے زمین پر شاندار تمدن کھڑا کیا، آج اس کا تمدن کھنڈر کی صورت میں زمین کے نیچے دبا ہوا پڑا ہے۔ ایک قوم جس کو کسی وقت ایک زندہ واقعہ کی حیثیت حاصل تھی، آج وہ صرف ایک تاریخی واقعہ کے طورپر قابل ذکر سمجھی جاتی ہے۔
اس قسم کے واقعات لوگوں کےلیے معلوم واقعات ہیں مگر لوگوں نے ان واقعات کو ارضی حوادث یا سیاسی انقلاب کے خانہ میں ڈال رکھا ہے۔لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ سب خدائی فیصلے تھے جو سچائی کے انکار کے نتیجے میںان قوموں پر نازل ہوئے۔ اگرہم کو وہ نگاہ حاصل ہو جس سے ہم معنوی حقیقتوں کو دیکھ سکیں تو ہم کو نظر آئے گا کہ ہر واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ انجام پارہا تھا، اگر چہ بظاہر دیکھنے والوں کو وہ دنیوی اسباب کے تحت ہوتا ہوا دکھائی دیا۔
غافر 40:23
پیغمبروں کو عام دلائل کے ساتھ مزید ایسی معجزاتی تائید حاصل رہتی ہے جو ان کے فرستادۂ خدا ہونے کا انتہائی واضح ثبوت ہوتی ہے۔ مگر حق کو ماننا ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے جو بلاشبہ کسی انسان کےلیے مشکل ترین قربانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل کے باوجود فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کی نبوت کا اقرار نہیںکیا۔
اس کے بجائے انھوں نے ایک طرف عوام کو یہ تاثر دینا شروع کیا کہ موسیٰ کا دعویٰ بے حقیقت ہے اور ان کے معجزے محض جادو کا کرشمہ ہیں۔دوسری طرف انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل کی تعداد کو گھٹانے کےلیے اپنی سابقہ پالیسی کو مزید شدت کے ساتھ جاری کردیا جائے۔ تاکہ موسیٰ اپنی قوم (بنی اسرائیل) کے اندر اپنے ليے مضبوط بنیاد نہ پاسکیں۔ مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ اپنی یہ تدبیر موسیٰ کے مقابلہ میں نہیں بلکہ خدا کے مقابلہ میں کررہے ہیں اور خدا کے مقابلہ میں کسی کي کوئی تدبیر کبھی کار گر نہیں ہوتی۔
غافر 40:24
پیغمبروں کو عام دلائل کے ساتھ مزید ایسی معجزاتی تائید حاصل رہتی ہے جو ان کے فرستادۂ خدا ہونے کا انتہائی واضح ثبوت ہوتی ہے۔ مگر حق کو ماننا ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے جو بلاشبہ کسی انسان کےلیے مشکل ترین قربانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل کے باوجود فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کی نبوت کا اقرار نہیںکیا۔
اس کے بجائے انھوں نے ایک طرف عوام کو یہ تاثر دینا شروع کیا کہ موسیٰ کا دعویٰ بے حقیقت ہے اور ان کے معجزے محض جادو کا کرشمہ ہیں۔دوسری طرف انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل کی تعداد کو گھٹانے کےلیے اپنی سابقہ پالیسی کو مزید شدت کے ساتھ جاری کردیا جائے۔ تاکہ موسیٰ اپنی قوم (بنی اسرائیل) کے اندر اپنے ليے مضبوط بنیاد نہ پاسکیں۔ مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ اپنی یہ تدبیر موسیٰ کے مقابلہ میں نہیں بلکہ خدا کے مقابلہ میں کررہے ہیں اور خدا کے مقابلہ میں کسی کي کوئی تدبیر کبھی کار گر نہیں ہوتی۔
غافر 40:25
پیغمبروں کو عام دلائل کے ساتھ مزید ایسی معجزاتی تائید حاصل رہتی ہے جو ان کے فرستادۂ خدا ہونے کا انتہائی واضح ثبوت ہوتی ہے۔ مگر حق کو ماننا ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے جو بلاشبہ کسی انسان کےلیے مشکل ترین قربانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل کے باوجود فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کی نبوت کا اقرار نہیںکیا۔
اس کے بجائے انھوں نے ایک طرف عوام کو یہ تاثر دینا شروع کیا کہ موسیٰ کا دعویٰ بے حقیقت ہے اور ان کے معجزے محض جادو کا کرشمہ ہیں۔دوسری طرف انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل کی تعداد کو گھٹانے کےلیے اپنی سابقہ پالیسی کو مزید شدت کے ساتھ جاری کردیا جائے۔ تاکہ موسیٰ اپنی قوم (بنی اسرائیل) کے اندر اپنے ليے مضبوط بنیاد نہ پاسکیں۔ مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ اپنی یہ تدبیر موسیٰ کے مقابلہ میں نہیں بلکہ خدا کے مقابلہ میں کررہے ہیں اور خدا کے مقابلہ میں کسی کي کوئی تدبیر کبھی کار گر نہیں ہوتی۔
غافر 40:26
’’تمھارا دین بدل ڈالے‘‘ کا مطلب ہے تمھارامذہب بدل ڈالے۔ یعنی تم جس مذہبی طریقہ پر ہو اور جو تمھارے اکابر سے چلا آرہا ہے، وہ ختم ہوجائے اور لوگوں کے درمیان نیا مذہب رائج ہوجائے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہندستان میںكچھ انتہا پسند لوگ کہتے ہیں کہ مذہب کی تبلیغ کو قانونی طورپر بند کرو، ورنہ دوسرے مذہب والے اپنی تبلیغ سے دیش کے دھرم کو بدل ڈالیں گے۔
فساد سے مراد بد امنی ہے۔ یعنی موسیٰ کو اپنے ہم قوموں میں ساتھ دینے والے مل جائیں گے۔ اور ان کو لے کر وہ ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس ليے ہم کو چاہيے کہ ہم شروع ہی میں انھیں قتل کردیں۔
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ آدمی کی متکبرانہ نفسیات ہوتی ہے۔ وہ اپنے کو اونچا رکھنے کی خاطر حق کو نیچا کردینا چاہتا ہے۔ مگر حق کا مددگار اللہ رب العالمین ہے۔ ابتداء ًخواہ اس کے مخالفین بظاہر اس کو دبالیں مگر اللہ کی مدد اس بات کی ضمانت ہے کہ آخری کامیابی بہر حال حق کو حاصل ہوگی۔
غافر 40:27
’’تمھارا دین بدل ڈالے‘‘ کا مطلب ہے تمھارامذہب بدل ڈالے۔ یعنی تم جس مذہبی طریقہ پر ہو اور جو تمھارے اکابر سے چلا آرہا ہے، وہ ختم ہوجائے اور لوگوں کے درمیان نیا مذہب رائج ہوجائے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہندستان میںكچھ انتہا پسند لوگ کہتے ہیں کہ مذہب کی تبلیغ کو قانونی طورپر بند کرو، ورنہ دوسرے مذہب والے اپنی تبلیغ سے دیش کے دھرم کو بدل ڈالیں گے۔
فساد سے مراد بد امنی ہے۔ یعنی موسیٰ کو اپنے ہم قوموں میں ساتھ دینے والے مل جائیں گے۔ اور ان کو لے کر وہ ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس ليے ہم کو چاہيے کہ ہم شروع ہی میں انھیں قتل کردیں۔
حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ آدمی کی متکبرانہ نفسیات ہوتی ہے۔ وہ اپنے کو اونچا رکھنے کی خاطر حق کو نیچا کردینا چاہتا ہے۔ مگر حق کا مددگار اللہ رب العالمین ہے۔ ابتداء ًخواہ اس کے مخالفین بظاہر اس کو دبالیں مگر اللہ کی مدد اس بات کی ضمانت ہے کہ آخری کامیابی بہر حال حق کو حاصل ہوگی۔
غافر 40:28
یہاں جس رجل مومن کا ذکر ہے وہ فرعون کے شاہی خاندان کا ایک فرد تھا اورغالباً وہ دربار کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے تھا۔ یہ بزرگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوتِ توحید سے متاثر ہوئے۔ تاہم وہ ایمان چھپائے ہوئے تھے۔ مگر جب انھوںنے دیکھا کہ فرعون حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کررہا ہے تو وہ کھل کر حضرت موسیٰ کی حمایت پر آگئے۔ انھوںنے نہایت مؤثر اور نہایت حکیمانہ انداز میں حضرت موسیٰ کی مدافعت فرمائی۔
اس واقعہ میں ایک نصیحت یہ ہے کہ تبلیغ ایک ایسی طاقت ہے کہ خود دشمن کی صفوں میں اپنے ہمدرد اور ساتھی پیدا کرلیتی ہے، خواہ وہ دشمن خاندان فرعون جیسا ظالم اور متکبر کیوں نہ ہو۔
غافر 40:29
یہاں جس رجل مومن کا ذکر ہے وہ فرعون کے شاہی خاندان کا ایک فرد تھا اورغالباً وہ دربار کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے تھا۔ یہ بزرگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوتِ توحید سے متاثر ہوئے۔ تاہم وہ ایمان چھپائے ہوئے تھے۔ مگر جب انھوںنے دیکھا کہ فرعون حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کررہا ہے تو وہ کھل کر حضرت موسیٰ کی حمایت پر آگئے۔ انھوںنے نہایت مؤثر اور نہایت حکیمانہ انداز میں حضرت موسیٰ کی مدافعت فرمائی۔
اس واقعہ میں ایک نصیحت یہ ہے کہ تبلیغ ایک ایسی طاقت ہے کہ خود دشمن کی صفوں میں اپنے ہمدرد اور ساتھی پیدا کرلیتی ہے، خواہ وہ دشمن خاندان فرعون جیسا ظالم اور متکبر کیوں نہ ہو۔
غافر 40:30
فرعون نے حضرت موسیٰ کو دنیاکی سزا سے ڈرایا تھا، اس کے جواب میں رَجُل مومن نے فرعون کو آخرت کی سزا سے ڈرایا۔ حق کے داعی کا طریقہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی فکر کرتے ہیں، داعی آخرت کےلیے فکر مند ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی اصطلاحوں میں بولتے ہیں، داعی آخرت کی اصطلاحوں میں کلام کرتاہے۔ لوگ دنیا کے مسائل کو سب سے زیادہ قابل ذکر سمجھتے ہیں، داعی کے نزدیک سب سے زیادہ قابل ذکر مسئلہ وہ ہوتا ہے جس کا تعلق آخرت سے ہو۔
غافر 40:31
فرعون نے حضرت موسیٰ کو دنیاکی سزا سے ڈرایا تھا، اس کے جواب میں رَجُل مومن نے فرعون کو آخرت کی سزا سے ڈرایا۔ حق کے داعی کا طریقہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی فکر کرتے ہیں، داعی آخرت کےلیے فکر مند ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی اصطلاحوں میں بولتے ہیں، داعی آخرت کی اصطلاحوں میں کلام کرتاہے۔ لوگ دنیا کے مسائل کو سب سے زیادہ قابل ذکر سمجھتے ہیں، داعی کے نزدیک سب سے زیادہ قابل ذکر مسئلہ وہ ہوتا ہے جس کا تعلق آخرت سے ہو۔
غافر 40:32
فرعون نے حضرت موسیٰ کو دنیاکی سزا سے ڈرایا تھا، اس کے جواب میں رَجُل مومن نے فرعون کو آخرت کی سزا سے ڈرایا۔ حق کے داعی کا طریقہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی فکر کرتے ہیں، داعی آخرت کےلیے فکر مند ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی اصطلاحوں میں بولتے ہیں، داعی آخرت کی اصطلاحوں میں کلام کرتاہے۔ لوگ دنیا کے مسائل کو سب سے زیادہ قابل ذکر سمجھتے ہیں، داعی کے نزدیک سب سے زیادہ قابل ذکر مسئلہ وہ ہوتا ہے جس کا تعلق آخرت سے ہو۔
غافر 40:33
فرعون نے حضرت موسیٰ کو دنیاکی سزا سے ڈرایا تھا، اس کے جواب میں رَجُل مومن نے فرعون کو آخرت کی سزا سے ڈرایا۔ حق کے داعی کا طریقہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی فکر کرتے ہیں، داعی آخرت کےلیے فکر مند ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی اصطلاحوں میں بولتے ہیں، داعی آخرت کی اصطلاحوں میں کلام کرتاہے۔ لوگ دنیا کے مسائل کو سب سے زیادہ قابل ذکر سمجھتے ہیں، داعی کے نزدیک سب سے زیادہ قابل ذکر مسئلہ وہ ہوتا ہے جس کا تعلق آخرت سے ہو۔
غافر 40:34
حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں مصر کے لوگوں کی اکثریت آپ کی نبوت کی قائل نهيں ہوئی۔ مگر آپ کی وفات کے بعد جب ملکی سلطنت کا نظام بگڑنے لگا تو مصریوں کو آپ کی عظمت کا احساس ہوا۔ اب وہ کہنے لگے کہ یوسف کا وجود مصر کےلیے بہت بابرکت تھا۔ ایسا رسول اب کہاں آئے گا۔ حضرت یوسف اگرچہ خدا کے پیغمبر تھے مگر اسی کے ساتھ وہ ایک انسان بھی تھے۔ اس بنا پر لوگوںکےلیے یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ — ’’کیا ضروری ہے کہ یوسف کے کمالات پیغمبري کی بنا پر ہوں، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ ایک ذہین انسان ہوں اور ا س بنا پر انھوں نے کمالات ظاہر کيے ہوں‘‘۔ اسی طرح کی باتیں تھیں جن کو لے کر مصر کے لوگ آپ کے بارے میں شک میں مبتلا ہوگئے۔
حق خواہ کتنا ہی واضح ہو، موجودہ امتحان کی دنیا میں ہمیشہ اس کا امکان باقی رہتا ہے کہ آدمی کوئی شبہ کا پہلو نکال کر اس کا منکر بن جائے۔ اب جو لوگ اپنے اندر سرکشی اور گھمنڈ کا مزاج ليے ہوئے ہوں ۔ جو یہ سمجھتے ہوں کہ حق کو مان کر وہ اپنی بڑائی کھو دیں گے۔ وہ عین اپنے مزاج کے تحت انھیں شبہات میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ وہ ان شبہات کو اتنا بڑھاتے ہیں کہ وہی ان کے دل ودماغ پر چھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ حق کے معاملہ میں سیدھے اندازسے سوچ نہیں پاتے۔ وہ ہمیشہ اس کے منکر بنے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتے ہیں۔
غافر 40:35
حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں مصر کے لوگوں کی اکثریت آپ کی نبوت کی قائل نهيں ہوئی۔ مگر آپ کی وفات کے بعد جب ملکی سلطنت کا نظام بگڑنے لگا تو مصریوں کو آپ کی عظمت کا احساس ہوا۔ اب وہ کہنے لگے کہ یوسف کا وجود مصر کےلیے بہت بابرکت تھا۔ ایسا رسول اب کہاں آئے گا۔ حضرت یوسف اگرچہ خدا کے پیغمبر تھے مگر اسی کے ساتھ وہ ایک انسان بھی تھے۔ اس بنا پر لوگوںکےلیے یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ — ’’کیا ضروری ہے کہ یوسف کے کمالات پیغمبري کی بنا پر ہوں، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ ایک ذہین انسان ہوں اور ا س بنا پر انھوں نے کمالات ظاہر کيے ہوں‘‘۔ اسی طرح کی باتیں تھیں جن کو لے کر مصر کے لوگ آپ کے بارے میں شک میں مبتلا ہوگئے۔
حق خواہ کتنا ہی واضح ہو، موجودہ امتحان کی دنیا میں ہمیشہ اس کا امکان باقی رہتا ہے کہ آدمی کوئی شبہ کا پہلو نکال کر اس کا منکر بن جائے۔ اب جو لوگ اپنے اندر سرکشی اور گھمنڈ کا مزاج ليے ہوئے ہوں ۔ جو یہ سمجھتے ہوں کہ حق کو مان کر وہ اپنی بڑائی کھو دیں گے۔ وہ عین اپنے مزاج کے تحت انھیں شبہات میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ وہ ان شبہات کو اتنا بڑھاتے ہیں کہ وہی ان کے دل ودماغ پر چھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ حق کے معاملہ میں سیدھے اندازسے سوچ نہیں پاتے۔ وہ ہمیشہ اس کے منکر بنے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتے ہیں۔
غافر 40:36
فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے جو بات کہی وہ کوئی سنجیدہ بات نہیں تھی بلکہ محض ایک وقتی تدبیر (کید) کے طور پر تھی۔ اس نے دیکھا کہ رجل مومن کی معقول اور مدلّل تقریر سے دربار کے لوگ متاثر ہورہے ہیں، اس ليے اس نے چاہا کہ ایک شوشہ کی بات نکالے تاکہ حضرت موسیٰ کی دعوت سنجیدہ بحث کا موضوع نہ بنے بلکہ مذاق کا موضوع بن کر رہ جائے۔
’’بدعملی کا خوشنما بننا‘‘ یہ ہے کہ آدمی کچھ خوش نما الفاظ بول کر حق کو رد کردے۔ یہی آدمی کی گمراہی کی اصل جڑ ہے۔ یعنی حقیقی دلائل کے مقابلہ میں شوشہ کی بات کو اہمیت دینا، کھلی بے راہ روی کو جھوٹی توجیہات میں چھپانے کی کوشش کرنا وغیرہ۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ جو حق محکم دلیل کے اوپر کھڑا ہوا ہو اس کو بےبنیاد شوشے نکال کر مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔
غافر 40:37
فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے جو بات کہی وہ کوئی سنجیدہ بات نہیں تھی بلکہ محض ایک وقتی تدبیر (کید) کے طور پر تھی۔ اس نے دیکھا کہ رجل مومن کی معقول اور مدلّل تقریر سے دربار کے لوگ متاثر ہورہے ہیں، اس ليے اس نے چاہا کہ ایک شوشہ کی بات نکالے تاکہ حضرت موسیٰ کی دعوت سنجیدہ بحث کا موضوع نہ بنے بلکہ مذاق کا موضوع بن کر رہ جائے۔
’’بدعملی کا خوشنما بننا‘‘ یہ ہے کہ آدمی کچھ خوش نما الفاظ بول کر حق کو رد کردے۔ یہی آدمی کی گمراہی کی اصل جڑ ہے۔ یعنی حقیقی دلائل کے مقابلہ میں شوشہ کی بات کو اہمیت دینا، کھلی بے راہ روی کو جھوٹی توجیہات میں چھپانے کی کوشش کرنا وغیرہ۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ جو حق محکم دلیل کے اوپر کھڑا ہوا ہو اس کو بےبنیاد شوشے نکال کر مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔
غافر 40:38
دربارِ فرعون کے مومن کی یہ تقریر نہایت واضح ہے۔ نیز وہ ایک نمونہ کی تقریر ہے جو یہ بتاتی ہے کہ حق کے داعی کا اندازِ خطاب کیا ہونا چاہیے اور یہ کہ دعوت حق کا اصل نکتہ کیا ہے۔
’’میں تم کو خداوند عالم کی طرف بلاتا ہوں۔ اور تم جس کی طرف مجھے بلا رہے ہو اس کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں‘‘— یہ فقرہ رجل مومن کی پوری تقریر کا خلاصہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ فرعون کے دربار میں جو چیز زیر بحث تھی وہ کیا تھی۔ وہ یہ تھی کہ خدا کو پکارا جائے یا انسان کے بنائے ہوئے بتوں کو پکارا جائے۔ رجل مومن نے کہا کہ خدا تو ایک زندہ اور غالب حقیقت ہے، اس کو پکارنا ایک حقیقی معبود کو پکارنا ہے۔ مگر تمھارے اصنام صرف تمھارے وہم کی ایجاد ہیں۔ وہ نہ دنیا میں تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے اور نہ آخرت میں۔ جب ان کا کوئی حقیقی وجود ہی نہیں تو ان سے کوئی حقیقی فائدہ کیسے مل سکتا ہے (الْوَثَنَ لَا يَنْفَعُ وَلَا يَضُرُّ)تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 145
غافر 40:39
دربارِ فرعون کے مومن کی یہ تقریر نہایت واضح ہے۔ نیز وہ ایک نمونہ کی تقریر ہے جو یہ بتاتی ہے کہ حق کے داعی کا اندازِ خطاب کیا ہونا چاہیے اور یہ کہ دعوت حق کا اصل نکتہ کیا ہے۔
’’میں تم کو خداوند عالم کی طرف بلاتا ہوں۔ اور تم جس کی طرف مجھے بلا رہے ہو اس کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں‘‘— یہ فقرہ رجل مومن کی پوری تقریر کا خلاصہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ فرعون کے دربار میں جو چیز زیر بحث تھی وہ کیا تھی۔ وہ یہ تھی کہ خدا کو پکارا جائے یا انسان کے بنائے ہوئے بتوں کو پکارا جائے۔ رجل مومن نے کہا کہ خدا تو ایک زندہ اور غالب حقیقت ہے، اس کو پکارنا ایک حقیقی معبود کو پکارنا ہے۔ مگر تمھارے اصنام صرف تمھارے وہم کی ایجاد ہیں۔ وہ نہ دنیا میں تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے اور نہ آخرت میں۔ جب ان کا کوئی حقیقی وجود ہی نہیں تو ان سے کوئی حقیقی فائدہ کیسے مل سکتا ہے (الْوَثَنَ لَا يَنْفَعُ وَلَا يَضُرُّ)تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 145
غافر 40:40
دربارِ فرعون کے مومن کی یہ تقریر نہایت واضح ہے۔ نیز وہ ایک نمونہ کی تقریر ہے جو یہ بتاتی ہے کہ حق کے داعی کا اندازِ خطاب کیا ہونا چاہیے اور یہ کہ دعوت حق کا اصل نکتہ کیا ہے۔
’’میں تم کو خداوند عالم کی طرف بلاتا ہوں۔ اور تم جس کی طرف مجھے بلا رہے ہو اس کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں‘‘— یہ فقرہ رجل مومن کی پوری تقریر کا خلاصہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ فرعون کے دربار میں جو چیز زیر بحث تھی وہ کیا تھی۔ وہ یہ تھی کہ خدا کو پکارا جائے یا انسان کے بنائے ہوئے بتوں کو پکارا جائے۔ رجل مومن نے کہا کہ خدا تو ایک زندہ اور غالب حقیقت ہے، اس کو پکارنا ایک حقیقی معبود کو پکارنا ہے۔ مگر تمھارے اصنام صرف تمھارے وہم کی ایجاد ہیں۔ وہ نہ دنیا میں تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے اور نہ آخرت میں۔ جب ان کا کوئی حقیقی وجود ہی نہیں تو ان سے کوئی حقیقی فائدہ کیسے مل سکتا ہے (الْوَثَنَ لَا يَنْفَعُ وَلَا يَضُرُّ)تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 145
غافر 40:41
دربارِ فرعون کے مومن کی یہ تقریر نہایت واضح ہے۔ نیز وہ ایک نمونہ کی تقریر ہے جو یہ بتاتی ہے کہ حق کے داعی کا اندازِ خطاب کیا ہونا چاہیے اور یہ کہ دعوت حق کا اصل نکتہ کیا ہے۔
’’میں تم کو خداوند عالم کی طرف بلاتا ہوں۔ اور تم جس کی طرف مجھے بلا رہے ہو اس کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں‘‘— یہ فقرہ رجل مومن کی پوری تقریر کا خلاصہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ فرعون کے دربار میں جو چیز زیر بحث تھی وہ کیا تھی۔ وہ یہ تھی کہ خدا کو پکارا جائے یا انسان کے بنائے ہوئے بتوں کو پکارا جائے۔ رجل مومن نے کہا کہ خدا تو ایک زندہ اور غالب حقیقت ہے، اس کو پکارنا ایک حقیقی معبود کو پکارنا ہے۔ مگر تمھارے اصنام صرف تمھارے وہم کی ایجاد ہیں۔ وہ نہ دنیا میں تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے اور نہ آخرت میں۔ جب ان کا کوئی حقیقی وجود ہی نہیں تو ان سے کوئی حقیقی فائدہ کیسے مل سکتا ہے (الْوَثَنَ لَا يَنْفَعُ وَلَا يَضُرُّ)تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 145
غافر 40:42
دربارِ فرعون کے مومن کی یہ تقریر نہایت واضح ہے۔ نیز وہ ایک نمونہ کی تقریر ہے جو یہ بتاتی ہے کہ حق کے داعی کا اندازِ خطاب کیا ہونا چاہیے اور یہ کہ دعوت حق کا اصل نکتہ کیا ہے۔
’’میں تم کو خداوند عالم کی طرف بلاتا ہوں۔ اور تم جس کی طرف مجھے بلا رہے ہو اس کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں‘‘— یہ فقرہ رجل مومن کی پوری تقریر کا خلاصہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ فرعون کے دربار میں جو چیز زیر بحث تھی وہ کیا تھی۔ وہ یہ تھی کہ خدا کو پکارا جائے یا انسان کے بنائے ہوئے بتوں کو پکارا جائے۔ رجل مومن نے کہا کہ خدا تو ایک زندہ اور غالب حقیقت ہے، اس کو پکارنا ایک حقیقی معبود کو پکارنا ہے۔ مگر تمھارے اصنام صرف تمھارے وہم کی ایجاد ہیں۔ وہ نہ دنیا میں تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے اور نہ آخرت میں۔ جب ان کا کوئی حقیقی وجود ہی نہیں تو ان سے کوئی حقیقی فائدہ کیسے مل سکتا ہے (الْوَثَنَ لَا يَنْفَعُ وَلَا يَضُرُّ)تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 145
غافر 40:43
دربارِ فرعون کے مومن کی یہ تقریر نہایت واضح ہے۔ نیز وہ ایک نمونہ کی تقریر ہے جو یہ بتاتی ہے کہ حق کے داعی کا اندازِ خطاب کیا ہونا چاہیے اور یہ کہ دعوت حق کا اصل نکتہ کیا ہے۔
’’میں تم کو خداوند عالم کی طرف بلاتا ہوں۔ اور تم جس کی طرف مجھے بلا رہے ہو اس کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں‘‘— یہ فقرہ رجل مومن کی پوری تقریر کا خلاصہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ فرعون کے دربار میں جو چیز زیر بحث تھی وہ کیا تھی۔ وہ یہ تھی کہ خدا کو پکارا جائے یا انسان کے بنائے ہوئے بتوں کو پکارا جائے۔ رجل مومن نے کہا کہ خدا تو ایک زندہ اور غالب حقیقت ہے، اس کو پکارنا ایک حقیقی معبود کو پکارنا ہے۔ مگر تمھارے اصنام صرف تمھارے وہم کی ایجاد ہیں۔ وہ نہ دنیا میں تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے اور نہ آخرت میں۔ جب ان کا کوئی حقیقی وجود ہی نہیں تو ان سے کوئی حقیقی فائدہ کیسے مل سکتا ہے (الْوَثَنَ لَا يَنْفَعُ وَلَا يَضُرُّ)تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 145
غافر 40:44
دربارِ فرعون کے مومن کی یہ تقریر نہایت واضح ہے۔ نیز وہ ایک نمونہ کی تقریر ہے جو یہ بتاتی ہے کہ حق کے داعی کا اندازِ خطاب کیا ہونا چاہیے اور یہ کہ دعوت حق کا اصل نکتہ کیا ہے۔
’’میں تم کو خداوند عالم کی طرف بلاتا ہوں۔ اور تم جس کی طرف مجھے بلا رہے ہو اس کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں‘‘— یہ فقرہ رجل مومن کی پوری تقریر کا خلاصہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ فرعون کے دربار میں جو چیز زیر بحث تھی وہ کیا تھی۔ وہ یہ تھی کہ خدا کو پکارا جائے یا انسان کے بنائے ہوئے بتوں کو پکارا جائے۔ رجل مومن نے کہا کہ خدا تو ایک زندہ اور غالب حقیقت ہے، اس کو پکارنا ایک حقیقی معبود کو پکارنا ہے۔ مگر تمھارے اصنام صرف تمھارے وہم کی ایجاد ہیں۔ وہ نہ دنیا میں تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے اور نہ آخرت میں۔ جب ان کا کوئی حقیقی وجود ہی نہیں تو ان سے کوئی حقیقی فائدہ کیسے مل سکتا ہے (الْوَثَنَ لَا يَنْفَعُ وَلَا يَضُرُّ)تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 145
غافر 40:45
فرعون کے دربار کا رجل مومن پیغمبر نہیں تھا۔ مگر تنہا ہونے کے باوجود اللہ نے ا س کو فرعون کے ظالمانہ منصوبوں سے بچالیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر انبیاء کو بھی حمایتِ حق کی وہ نصرت ملتی ہے جس کا وعدہ انبیاء سے کیاگیا ہے۔
انسانوں کے اخروی انجام کا باقاعدہ فیصلہ اگرچہ قیامت میں ہوگا، مگر موت کے بعد جب آدمی اگلی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو فوراً ہی اس پر کھل جاتا ہے کہ وہ پچھلی دنیا میں کیا کرکے یہاںآیا ہے اور اب اس کےلیے کون سا انجام مقدر ہے۔ اس طرح شعور کی سطح پر وہ موت کے بعد ہی اپنے انجام سے دوچار ہوجاتاہے۔ اور جسمانی سطح پر وہ قیامت میں خدا کی عدالت قائم ہونے کے بعداس سے دوچار ہوگا۔
غافر 40:46
فرعون کے دربار کا رجل مومن پیغمبر نہیں تھا۔ مگر تنہا ہونے کے باوجود اللہ نے ا س کو فرعون کے ظالمانہ منصوبوں سے بچالیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر انبیاء کو بھی حمایتِ حق کی وہ نصرت ملتی ہے جس کا وعدہ انبیاء سے کیاگیا ہے۔
انسانوں کے اخروی انجام کا باقاعدہ فیصلہ اگرچہ قیامت میں ہوگا، مگر موت کے بعد جب آدمی اگلی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو فوراً ہی اس پر کھل جاتا ہے کہ وہ پچھلی دنیا میں کیا کرکے یہاںآیا ہے اور اب اس کےلیے کون سا انجام مقدر ہے۔ اس طرح شعور کی سطح پر وہ موت کے بعد ہی اپنے انجام سے دوچار ہوجاتاہے۔ اور جسمانی سطح پر وہ قیامت میں خدا کی عدالت قائم ہونے کے بعداس سے دوچار ہوگا۔
غافر 40:47
اِن آیتوں میں جہنم کا ایک منظر دکھایا گیا ہے۔ دنیا میں جو لوگ بڑے بنے ہوئے تھے وہ وہاں اپنی ساری بڑائی بھول جائیں گے۔ وہ عوام جو یہاںاپنے بڑوں پر فخرکرتے تھے وہ وہاں اپنے بڑوں سے بیزاری کا اظہار کریںگے۔ دنیا میںجو لوگ حق کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے وہ وہاں عاجزانہ طورپر حق کے آگے جھک جائیں گے۔ مگرآخرت کا جھکنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔
غافر 40:48
اِن آیتوں میں جہنم کا ایک منظر دکھایا گیا ہے۔ دنیا میں جو لوگ بڑے بنے ہوئے تھے وہ وہاں اپنی ساری بڑائی بھول جائیں گے۔ وہ عوام جو یہاںاپنے بڑوں پر فخرکرتے تھے وہ وہاں اپنے بڑوں سے بیزاری کا اظہار کریںگے۔ دنیا میںجو لوگ حق کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے وہ وہاں عاجزانہ طورپر حق کے آگے جھک جائیں گے۔ مگرآخرت کا جھکنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔
غافر 40:49
اِن آیتوں میں جہنم کا ایک منظر دکھایا گیا ہے۔ دنیا میں جو لوگ بڑے بنے ہوئے تھے وہ وہاں اپنی ساری بڑائی بھول جائیں گے۔ وہ عوام جو یہاںاپنے بڑوں پر فخرکرتے تھے وہ وہاں اپنے بڑوں سے بیزاری کا اظہار کریںگے۔ دنیا میںجو لوگ حق کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے وہ وہاں عاجزانہ طورپر حق کے آگے جھک جائیں گے۔ مگرآخرت کا جھکنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔
غافر 40:50
اِن آیتوں میں جہنم کا ایک منظر دکھایا گیا ہے۔ دنیا میں جو لوگ بڑے بنے ہوئے تھے وہ وہاں اپنی ساری بڑائی بھول جائیں گے۔ وہ عوام جو یہاںاپنے بڑوں پر فخرکرتے تھے وہ وہاں اپنے بڑوں سے بیزاری کا اظہار کریںگے۔ دنیا میںجو لوگ حق کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے وہ وہاں عاجزانہ طورپر حق کے آگے جھک جائیں گے۔ مگرآخرت کا جھکنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔
غافر 40:51
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔
اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔
خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
غافر 40:52
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔
اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔
خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
غافر 40:53
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔
اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔
خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
غافر 40:54
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔
اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔
خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
غافر 40:55
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔
اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔
خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
غافر 40:56
حق اتنا واضح اور اتنا مدلّل ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کےلیے بھی مشکل نہیں۔ مگر جب بھی حق ظاہر ہوتاہے تو وہ کسی ’’انسان‘‘ کے ذریعہ ظاہر ہوتاہے۔ اس ليے حق کا اعتراف عملاً حامل حق کے اعتراف کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ حق کو ماننے پر راضی نہیں ہوتے جو اپنے اندر بڑائی کی نفسیات ليے ہوئے ہوں۔
ایسے لوگوں کو ڈر ہوتاہے کہ حق کا اعتراف کرتے ہی وہ حامل حق کے مقابلہ میں اپنی برتری کھودیں گے۔ اپنی اسی نفسیات کی وجہ سے وہ اس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ مگر خدا نے اپنی دنیا کےلیے مقدر کردیا ہے کہ ایسے لوگ کبھی کامیاب نہ ہوں۔
غافر 40:57
کائنات کی عظمت اپنے خالق کی عظمت کا تعارف ہے۔ یہ عظمت اتنی بے پناہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں انسان کو دوبارہ پیدا کرنا نسبتاً ایک بہت زیادہ آسان کام ہے۔ اس طرح کائنات کی موجودہ تخلیق انسان کے تخلیقِ ثانی کے امکان کو ثابت کررہی ہے۔
اس کے بعد انسانی سماج کو دیکھا جائے تو آخرت کی دنیا کا آنا ایک اخلاقی ضرورت معلوم ہونے لگتا ہے۔ سماج میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقت کو دیکھنے والی بصیرت کا ثبوت دیتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقت کے مقابلہ میں بالکل اندھے بنے ہوں۔ اسی طرح سماج میںایسے لوگ بھی ہیںجو ہر حال میںانصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ایسے لوگ بھی جو انصاف سے ہٹ جاتے ہیں اور معاملات میں ظالمانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ انسان کا اخلاقی احساس کہتا ہے کہ ان دونوں قسم کے انسانوں کا انجام یکساں نهيں ہونا چاہيے۔
ان باتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگاکہ آخرت کا ظہور عقلی طور پر ممکن بھی ہے اور اخلاقی طورپر ضروری بھی۔
غافر 40:58
کائنات کی عظمت اپنے خالق کی عظمت کا تعارف ہے۔ یہ عظمت اتنی بے پناہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں انسان کو دوبارہ پیدا کرنا نسبتاً ایک بہت زیادہ آسان کام ہے۔ اس طرح کائنات کی موجودہ تخلیق انسان کے تخلیقِ ثانی کے امکان کو ثابت کررہی ہے۔
اس کے بعد انسانی سماج کو دیکھا جائے تو آخرت کی دنیا کا آنا ایک اخلاقی ضرورت معلوم ہونے لگتا ہے۔ سماج میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقت کو دیکھنے والی بصیرت کا ثبوت دیتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقت کے مقابلہ میں بالکل اندھے بنے ہوں۔ اسی طرح سماج میںایسے لوگ بھی ہیںجو ہر حال میںانصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ایسے لوگ بھی جو انصاف سے ہٹ جاتے ہیں اور معاملات میں ظالمانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ انسان کا اخلاقی احساس کہتا ہے کہ ان دونوں قسم کے انسانوں کا انجام یکساں نهيں ہونا چاہيے۔
ان باتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگاکہ آخرت کا ظہور عقلی طور پر ممکن بھی ہے اور اخلاقی طورپر ضروری بھی۔
غافر 40:59
کائنات کی عظمت اپنے خالق کی عظمت کا تعارف ہے۔ یہ عظمت اتنی بے پناہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں انسان کو دوبارہ پیدا کرنا نسبتاً ایک بہت زیادہ آسان کام ہے۔ اس طرح کائنات کی موجودہ تخلیق انسان کے تخلیقِ ثانی کے امکان کو ثابت کررہی ہے۔
اس کے بعد انسانی سماج کو دیکھا جائے تو آخرت کی دنیا کا آنا ایک اخلاقی ضرورت معلوم ہونے لگتا ہے۔ سماج میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقت کو دیکھنے والی بصیرت کا ثبوت دیتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقت کے مقابلہ میں بالکل اندھے بنے ہوں۔ اسی طرح سماج میںایسے لوگ بھی ہیںجو ہر حال میںانصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ایسے لوگ بھی جو انصاف سے ہٹ جاتے ہیں اور معاملات میں ظالمانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ انسان کا اخلاقی احساس کہتا ہے کہ ان دونوں قسم کے انسانوں کا انجام یکساں نهيں ہونا چاہيے۔
ان باتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگاکہ آخرت کا ظہور عقلی طور پر ممکن بھی ہے اور اخلاقی طورپر ضروری بھی۔
غافر 40:60
زمین پر رات اوردن کا باقاعدہ نظام اور اس طرح کے دوسرے حیات بخش واقعات اس سے زیادہ بڑے ہیں کہ کوئی انسان یا تمام مخلوقات مل کر بھی ان کو ظہور میں لاسکیں۔ یہ ایک کھلا ہوا قرینہ ہے جو بتاتا ہے کہ جو خالق ہے وہی اس لائق ہے کہ اس کو معبود بنایا جائے۔ آدمی کو چاہيے کہ اسی کے آگے جھکے اوراسی سے امیدیں قائم کرے۔
مگر آدمی خالقِ کائنات سے عبادت اور دعا کا حقیقی تعلق قائم نہیں کرپاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر خالق میں اٹکا ہوا ہوتاہے۔ کچھ لوگ زندہ یا مردہ بتوں میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جس کو شرک کہا جاتا ہے۔ اور کچھ لوگ خود اپنی ذات میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جس کا دوسرا نام کبر ہے۔ خدا بار بار ایسے دلائل ظاہر کرتا ہے جو اس فریب کی تردید کرنے والے ہوں۔ مگر انسان کوئی نہ کوئی جھوٹی توجیہ کرکے انھیں نظر انداز کردیتاہے۔
اس قسم کا ہر رویہ خالق کائنات کی ناقدری ہے۔ اور جو لوگ خالق کائنات کی ناقدری کریں وہ جہنم کے سوا کہیں اور جگہ نہیں پاسکتے۔
غافر 40:61
زمین پر رات اوردن کا باقاعدہ نظام اور اس طرح کے دوسرے حیات بخش واقعات اس سے زیادہ بڑے ہیں کہ کوئی انسان یا تمام مخلوقات مل کر بھی ان کو ظہور میں لاسکیں۔ یہ ایک کھلا ہوا قرینہ ہے جو بتاتا ہے کہ جو خالق ہے وہی اس لائق ہے کہ اس کو معبود بنایا جائے۔ آدمی کو چاہيے کہ اسی کے آگے جھکے اوراسی سے امیدیں قائم کرے۔
مگر آدمی خالقِ کائنات سے عبادت اور دعا کا حقیقی تعلق قائم نہیں کرپاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر خالق میں اٹکا ہوا ہوتاہے۔ کچھ لوگ زندہ یا مردہ بتوں میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جس کو شرک کہا جاتا ہے۔ اور کچھ لوگ خود اپنی ذات میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جس کا دوسرا نام کبر ہے۔ خدا بار بار ایسے دلائل ظاہر کرتا ہے جو اس فریب کی تردید کرنے والے ہوں۔ مگر انسان کوئی نہ کوئی جھوٹی توجیہ کرکے انھیں نظر انداز کردیتاہے۔
اس قسم کا ہر رویہ خالق کائنات کی ناقدری ہے۔ اور جو لوگ خالق کائنات کی ناقدری کریں وہ جہنم کے سوا کہیں اور جگہ نہیں پاسکتے۔
غافر 40:62
زمین پر رات اوردن کا باقاعدہ نظام اور اس طرح کے دوسرے حیات بخش واقعات اس سے زیادہ بڑے ہیں کہ کوئی انسان یا تمام مخلوقات مل کر بھی ان کو ظہور میں لاسکیں۔ یہ ایک کھلا ہوا قرینہ ہے جو بتاتا ہے کہ جو خالق ہے وہی اس لائق ہے کہ اس کو معبود بنایا جائے۔ آدمی کو چاہيے کہ اسی کے آگے جھکے اوراسی سے امیدیں قائم کرے۔
مگر آدمی خالقِ کائنات سے عبادت اور دعا کا حقیقی تعلق قائم نہیں کرپاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر خالق میں اٹکا ہوا ہوتاہے۔ کچھ لوگ زندہ یا مردہ بتوں میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جس کو شرک کہا جاتا ہے۔ اور کچھ لوگ خود اپنی ذات میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جس کا دوسرا نام کبر ہے۔ خدا بار بار ایسے دلائل ظاہر کرتا ہے جو اس فریب کی تردید کرنے والے ہوں۔ مگر انسان کوئی نہ کوئی جھوٹی توجیہ کرکے انھیں نظر انداز کردیتاہے۔
اس قسم کا ہر رویہ خالق کائنات کی ناقدری ہے۔ اور جو لوگ خالق کائنات کی ناقدری کریں وہ جہنم کے سوا کہیں اور جگہ نہیں پاسکتے۔
غافر 40:63
زمین پر رات اوردن کا باقاعدہ نظام اور اس طرح کے دوسرے حیات بخش واقعات اس سے زیادہ بڑے ہیں کہ کوئی انسان یا تمام مخلوقات مل کر بھی ان کو ظہور میں لاسکیں۔ یہ ایک کھلا ہوا قرینہ ہے جو بتاتا ہے کہ جو خالق ہے وہی اس لائق ہے کہ اس کو معبود بنایا جائے۔ آدمی کو چاہيے کہ اسی کے آگے جھکے اوراسی سے امیدیں قائم کرے۔
مگر آدمی خالقِ کائنات سے عبادت اور دعا کا حقیقی تعلق قائم نہیں کرپاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر خالق میں اٹکا ہوا ہوتاہے۔ کچھ لوگ زندہ یا مردہ بتوں میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جس کو شرک کہا جاتا ہے۔ اور کچھ لوگ خود اپنی ذات میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جس کا دوسرا نام کبر ہے۔ خدا بار بار ایسے دلائل ظاہر کرتا ہے جو اس فریب کی تردید کرنے والے ہوں۔ مگر انسان کوئی نہ کوئی جھوٹی توجیہ کرکے انھیں نظر انداز کردیتاہے۔
اس قسم کا ہر رویہ خالق کائنات کی ناقدری ہے۔ اور جو لوگ خالق کائنات کی ناقدری کریں وہ جہنم کے سوا کہیں اور جگہ نہیں پاسکتے۔
غافر 40:64
زمین پر ان گنت اسباب جمع کيے گئے ہیں۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا ہے کہ انسان جیسی مخلوق اس کے اوپر تمدن کی تعمیر کرسکے۔ اسی طرح زمین کے اوپر جو فضا ہے ا س میں بھی بے شمار موافق انتظامات ہیں جن میں اگر معمولی فرق بھی پیدا ہوجائے تو انسانی زندگی کا نظام درہم برہم ہوجائے۔ پھر انسان کی بناوٹ اتنے اعلیٰ انداز میں ہوئی ہے کہ وہ ذہنی اور جسمانی اعتبار سے اس دنیا کی سب سے برتر مخلوق بن گیا ہے— جس خالق نے یہ سب کیا ہے اس کے سواکون اس قابل ہوسکتاہے کہ انسان اس کا پرستار بنے۔
خدا کےلیے دين کو خالص کرکے اسے پکارنا یہ ہے کہ دینی ومذہبی نوعیت کا تعلق صرف ایک اللہ سے ہو۔ اللہ کے سوا کسی سے دینی ومذہبی قسم کا لگاؤ باقی نہ رہے۔
غافر 40:65
زمین پر ان گنت اسباب جمع کيے گئے ہیں۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا ہے کہ انسان جیسی مخلوق اس کے اوپر تمدن کی تعمیر کرسکے۔ اسی طرح زمین کے اوپر جو فضا ہے ا س میں بھی بے شمار موافق انتظامات ہیں جن میں اگر معمولی فرق بھی پیدا ہوجائے تو انسانی زندگی کا نظام درہم برہم ہوجائے۔ پھر انسان کی بناوٹ اتنے اعلیٰ انداز میں ہوئی ہے کہ وہ ذہنی اور جسمانی اعتبار سے اس دنیا کی سب سے برتر مخلوق بن گیا ہے— جس خالق نے یہ سب کیا ہے اس کے سواکون اس قابل ہوسکتاہے کہ انسان اس کا پرستار بنے۔
خدا کےلیے دين کو خالص کرکے اسے پکارنا یہ ہے کہ دینی ومذہبی نوعیت کا تعلق صرف ایک اللہ سے ہو۔ اللہ کے سوا کسی سے دینی ومذہبی قسم کا لگاؤ باقی نہ رہے۔
غافر 40:66
ان آیات میں فطرت کے کچھ واقعات کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ہے ’’یہ اس ليے ہے تاکہ تم غورکرو‘‘— گویا فطرت کے یہ مادی واقعات اپنے اندر کچھ معنوی سبق ليے ہوئے ہیں۔ اور انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ غور کرکے اس چھپے ہوئے سبق تک پہنچے۔
فطرت کے جن واقعات کا یہاں ذکر کیاگیا ہے وہ ہیں— بے جان مادہ کا تبدیل ہوکر جان دار چیز بن جانا، انسان کا تدریجی انداز میں نشوو نما پانا۔جوانی تک پہنچ کر پھر آدمی پر بڑھاپا طاری ہونا، زندہ انسان کا دوبارہ مرجانا، کبھی کم عمری میں اور کبھی زیادہ عمر میں، یہ واقعات خالق کی مختلف صفات کا تعارف ہیں۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس کائنات کا وجود میں لانے والا ایک ایسا خداہے جو قادر اور حکیم ہے، وہ سب پر غالب اور بالادست ہے۔
اگر آدمی ان واقعات سے حقیقی سبق لے تو ا س کا ذہن پکار اٹھے گا کہ ایک خدا ہی اس کا سزاوار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کو اپنا آخری مطلوب سمجھا جائے۔ عالم کا یہ نقشہ بزبان حال ان تمام معبودوں کی تردید کررہا ہے جو ایک خدا کو چھوڑ کر بنائے گئے ہوں۔
غافر 40:67
ان آیات میں فطرت کے کچھ واقعات کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ہے ’’یہ اس ليے ہے تاکہ تم غورکرو‘‘— گویا فطرت کے یہ مادی واقعات اپنے اندر کچھ معنوی سبق ليے ہوئے ہیں۔ اور انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ غور کرکے اس چھپے ہوئے سبق تک پہنچے۔
فطرت کے جن واقعات کا یہاں ذکر کیاگیا ہے وہ ہیں— بے جان مادہ کا تبدیل ہوکر جان دار چیز بن جانا، انسان کا تدریجی انداز میں نشوو نما پانا۔جوانی تک پہنچ کر پھر آدمی پر بڑھاپا طاری ہونا، زندہ انسان کا دوبارہ مرجانا، کبھی کم عمری میں اور کبھی زیادہ عمر میں، یہ واقعات خالق کی مختلف صفات کا تعارف ہیں۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس کائنات کا وجود میں لانے والا ایک ایسا خداہے جو قادر اور حکیم ہے، وہ سب پر غالب اور بالادست ہے۔
اگر آدمی ان واقعات سے حقیقی سبق لے تو ا س کا ذہن پکار اٹھے گا کہ ایک خدا ہی اس کا سزاوار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کو اپنا آخری مطلوب سمجھا جائے۔ عالم کا یہ نقشہ بزبان حال ان تمام معبودوں کی تردید کررہا ہے جو ایک خدا کو چھوڑ کر بنائے گئے ہوں۔
غافر 40:68
ان آیات میں فطرت کے کچھ واقعات کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ہے ’’یہ اس ليے ہے تاکہ تم غورکرو‘‘— گویا فطرت کے یہ مادی واقعات اپنے اندر کچھ معنوی سبق ليے ہوئے ہیں۔ اور انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ غور کرکے اس چھپے ہوئے سبق تک پہنچے۔
فطرت کے جن واقعات کا یہاں ذکر کیاگیا ہے وہ ہیں— بے جان مادہ کا تبدیل ہوکر جان دار چیز بن جانا، انسان کا تدریجی انداز میں نشوو نما پانا۔جوانی تک پہنچ کر پھر آدمی پر بڑھاپا طاری ہونا، زندہ انسان کا دوبارہ مرجانا، کبھی کم عمری میں اور کبھی زیادہ عمر میں، یہ واقعات خالق کی مختلف صفات کا تعارف ہیں۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس کائنات کا وجود میں لانے والا ایک ایسا خداہے جو قادر اور حکیم ہے، وہ سب پر غالب اور بالادست ہے۔
اگر آدمی ان واقعات سے حقیقی سبق لے تو ا س کا ذہن پکار اٹھے گا کہ ایک خدا ہی اس کا سزاوار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کو اپنا آخری مطلوب سمجھا جائے۔ عالم کا یہ نقشہ بزبان حال ان تمام معبودوں کی تردید کررہا ہے جو ایک خدا کو چھوڑ کر بنائے گئے ہوں۔
غافر 40:69
ناحق پر خوش ہونے والے اور گھمنڈ کرنے والے کون تھے، یہ وقت کے بڑے لوگ تھے۔ ان کو کچھ دنیا کا سامان اور دنیا کی بڑائی مل گئی۔ اس کی وجہ سے وہ ناز اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے۔ ان کی مادی کا میابی نے ان کے اندر غلط طورپر یہ احساس پیدا کردیا کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف محروم لوگ تھے۔
وقت کے یہ بڑے اولاً حق کے منکر بنتے ہیں۔ پھر ان کی پیروی میں عوام بھی حق کا انکار کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں اگلی دنیا کا وہ منظر دکھایا گیا ہے جب کہ یہ لوگ اپنی متکبرانہ روش کی سزا پانے کےلیے جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ ان کی جھوٹی بڑائی آخر کار انھیں جہاں پہنچائے گی وہ صرف ابدی ذلّت ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت ان کےلیے نہ ہوگی۔
غافر 40:70
ناحق پر خوش ہونے والے اور گھمنڈ کرنے والے کون تھے، یہ وقت کے بڑے لوگ تھے۔ ان کو کچھ دنیا کا سامان اور دنیا کی بڑائی مل گئی۔ اس کی وجہ سے وہ ناز اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے۔ ان کی مادی کا میابی نے ان کے اندر غلط طورپر یہ احساس پیدا کردیا کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف محروم لوگ تھے۔
وقت کے یہ بڑے اولاً حق کے منکر بنتے ہیں۔ پھر ان کی پیروی میں عوام بھی حق کا انکار کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں اگلی دنیا کا وہ منظر دکھایا گیا ہے جب کہ یہ لوگ اپنی متکبرانہ روش کی سزا پانے کےلیے جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ ان کی جھوٹی بڑائی آخر کار انھیں جہاں پہنچائے گی وہ صرف ابدی ذلّت ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت ان کےلیے نہ ہوگی۔
غافر 40:71
ناحق پر خوش ہونے والے اور گھمنڈ کرنے والے کون تھے، یہ وقت کے بڑے لوگ تھے۔ ان کو کچھ دنیا کا سامان اور دنیا کی بڑائی مل گئی۔ اس کی وجہ سے وہ ناز اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے۔ ان کی مادی کا میابی نے ان کے اندر غلط طورپر یہ احساس پیدا کردیا کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف محروم لوگ تھے۔
وقت کے یہ بڑے اولاً حق کے منکر بنتے ہیں۔ پھر ان کی پیروی میں عوام بھی حق کا انکار کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں اگلی دنیا کا وہ منظر دکھایا گیا ہے جب کہ یہ لوگ اپنی متکبرانہ روش کی سزا پانے کےلیے جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ ان کی جھوٹی بڑائی آخر کار انھیں جہاں پہنچائے گی وہ صرف ابدی ذلّت ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت ان کےلیے نہ ہوگی۔
غافر 40:72
ناحق پر خوش ہونے والے اور گھمنڈ کرنے والے کون تھے، یہ وقت کے بڑے لوگ تھے۔ ان کو کچھ دنیا کا سامان اور دنیا کی بڑائی مل گئی۔ اس کی وجہ سے وہ ناز اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے۔ ان کی مادی کا میابی نے ان کے اندر غلط طورپر یہ احساس پیدا کردیا کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف محروم لوگ تھے۔
وقت کے یہ بڑے اولاً حق کے منکر بنتے ہیں۔ پھر ان کی پیروی میں عوام بھی حق کا انکار کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں اگلی دنیا کا وہ منظر دکھایا گیا ہے جب کہ یہ لوگ اپنی متکبرانہ روش کی سزا پانے کےلیے جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ ان کی جھوٹی بڑائی آخر کار انھیں جہاں پہنچائے گی وہ صرف ابدی ذلّت ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت ان کےلیے نہ ہوگی۔
غافر 40:73
ناحق پر خوش ہونے والے اور گھمنڈ کرنے والے کون تھے، یہ وقت کے بڑے لوگ تھے۔ ان کو کچھ دنیا کا سامان اور دنیا کی بڑائی مل گئی۔ اس کی وجہ سے وہ ناز اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے۔ ان کی مادی کا میابی نے ان کے اندر غلط طورپر یہ احساس پیدا کردیا کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف محروم لوگ تھے۔
وقت کے یہ بڑے اولاً حق کے منکر بنتے ہیں۔ پھر ان کی پیروی میں عوام بھی حق کا انکار کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں اگلی دنیا کا وہ منظر دکھایا گیا ہے جب کہ یہ لوگ اپنی متکبرانہ روش کی سزا پانے کےلیے جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ ان کی جھوٹی بڑائی آخر کار انھیں جہاں پہنچائے گی وہ صرف ابدی ذلّت ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت ان کےلیے نہ ہوگی۔
غافر 40:74
ناحق پر خوش ہونے والے اور گھمنڈ کرنے والے کون تھے، یہ وقت کے بڑے لوگ تھے۔ ان کو کچھ دنیا کا سامان اور دنیا کی بڑائی مل گئی۔ اس کی وجہ سے وہ ناز اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے۔ ان کی مادی کا میابی نے ان کے اندر غلط طورپر یہ احساس پیدا کردیا کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف محروم لوگ تھے۔
وقت کے یہ بڑے اولاً حق کے منکر بنتے ہیں۔ پھر ان کی پیروی میں عوام بھی حق کا انکار کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں اگلی دنیا کا وہ منظر دکھایا گیا ہے جب کہ یہ لوگ اپنی متکبرانہ روش کی سزا پانے کےلیے جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ ان کی جھوٹی بڑائی آخر کار انھیں جہاں پہنچائے گی وہ صرف ابدی ذلّت ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت ان کےلیے نہ ہوگی۔
غافر 40:75
ناحق پر خوش ہونے والے اور گھمنڈ کرنے والے کون تھے، یہ وقت کے بڑے لوگ تھے۔ ان کو کچھ دنیا کا سامان اور دنیا کی بڑائی مل گئی۔ اس کی وجہ سے وہ ناز اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے۔ ان کی مادی کا میابی نے ان کے اندر غلط طورپر یہ احساس پیدا کردیا کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف محروم لوگ تھے۔
وقت کے یہ بڑے اولاً حق کے منکر بنتے ہیں۔ پھر ان کی پیروی میں عوام بھی حق کا انکار کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں اگلی دنیا کا وہ منظر دکھایا گیا ہے جب کہ یہ لوگ اپنی متکبرانہ روش کی سزا پانے کےلیے جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ ان کی جھوٹی بڑائی آخر کار انھیں جہاں پہنچائے گی وہ صرف ابدی ذلّت ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت ان کےلیے نہ ہوگی۔
غافر 40:76
ناحق پر خوش ہونے والے اور گھمنڈ کرنے والے کون تھے، یہ وقت کے بڑے لوگ تھے۔ ان کو کچھ دنیا کا سامان اور دنیا کی بڑائی مل گئی۔ اس کی وجہ سے وہ ناز اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے۔ ان کی مادی کا میابی نے ان کے اندر غلط طورپر یہ احساس پیدا کردیا کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف محروم لوگ تھے۔
وقت کے یہ بڑے اولاً حق کے منکر بنتے ہیں۔ پھر ان کی پیروی میں عوام بھی حق کا انکار کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں اگلی دنیا کا وہ منظر دکھایا گیا ہے جب کہ یہ لوگ اپنی متکبرانہ روش کی سزا پانے کےلیے جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ ان کی جھوٹی بڑائی آخر کار انھیں جہاں پہنچائے گی وہ صرف ابدی ذلّت ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت ان کےلیے نہ ہوگی۔
غافر 40:77
یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ حق کے داعیوں کی مدد کرے گا اور حق کے مخالفین کو مغلوب کرے گا۔ مگر اس وعدہ کا تحقق صبر کے بعد ہوتا ہے۔ داعی کو یک طرفہ طورپر فریق ثانی کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ خدا کی سنت کے مطابق اس کے وعدہ کے ظہور کا وقت آجائے۔
مخالفین حق کی اصل سزا وہ ہے جو انھیں آخرت میں ملے گی۔ تاہم موجودہ دنیا میں انھیں اس کا ابتدائی تجربہ کرایا جاتاہے، اگر چہ ہمیشہ ایسا کیا جانا ضروری نہیں۔
غافر 40:78
قرآن میں رسولوں کے احوال بطور تاریخ نہیںبیان ہوئے ہیں بلکہ بطور نصیحت بیان ہوئے ہیں۔ اس ليے قرآن میں رسولوں کے احوال محدود طورپر صرف اتنا ہی بتائے گئے ہیں جتنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نصیحت کےلیے ضروری تھے۔
رسول کا اصل کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا کا پیغام اس کے تمام ضروری آداب اور تقاضوں کے ساتھ لوگوں تک پہنچا دے۔ اس کے بعد جہاں تک معجزہ کا تعلق ہے وہ تمام تر اللہ کے اختیا رمیں ہے۔ وہ اپنی مصلحت کے تحت کبھی انھیں ظاہر کرتا ہے اور کبھی ظاہر نہیں کرتا۔
معجزے زیادہ تر ان قوموں کو دکھائے گئے ہیں جن کی سرکشی کی بنا پر خدا کا فیصلہ تھا کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔ اس ليے آخری طورپر اتمام حجت کےلیے انھیں معجزہ بھی دکھایا گیا۔ مگر پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا معاملہ یہ تھا کہ اس کا بڑا حصہ بالآخر مومن بننے والا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو امکانی طورپر یہ صلاحیت رکھتے تھے کہ وہ تاریخ کے پہلے گروہ بنیں جس نے محض دلیل کی بنیاد پر حق کا اعتراف کیا اور اپنے آزاد ا رادہ سے اپنے آپ کو اس کے حوالے کردیا۔ اس ليے ان لوگوں کے مطالبہ کو نادانی پر محمول کرتے ہوئے انھیں خارق عادت معجزے نہیں دکھائے گئے۔
غافر 40:79
انسان کو اپنی زندگی اور تمدن کےلیے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔ مثلاً غذا، سواری، مختلف قسم کی صنعتیں، سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا۔ یہ سب چیزیں موجودہ دنیا میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ خدا نے دنیا کی چیزوں کو اس طرح بنایا ہے وہ ہمیشہ انسان کے تابع رہیں اور انسان ان کو اپنی ضرورتوں کےلیے جس طرح چاہے استعمال کرسکے۔
یہ تمام چیزیں گویا خدا کی نشانیاں ہیں۔ وہ غیبی حقیقتوں کا مادی زبان میں اعلان کررہی ہیں۔ یہ اعلان اگرچہ بالواسطہ زبان میں ہے مگر انسان کا بھلا اسی میں ہے کہ وہ بالواسطہ زبان میں کہی ہوئی بات کو سمجھے۔ کیوں کہ خدا جب براہِ راست زبان میں کلام کرے تو وہ مہلتِ عمل کے ختم ہونے کا اعلان ہوتا ہے، نہ کہ عمل شروع کرنے کا۔
غافر 40:80
انسان کو اپنی زندگی اور تمدن کےلیے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔ مثلاً غذا، سواری، مختلف قسم کی صنعتیں، سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا۔ یہ سب چیزیں موجودہ دنیا میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ خدا نے دنیا کی چیزوں کو اس طرح بنایا ہے وہ ہمیشہ انسان کے تابع رہیں اور انسان ان کو اپنی ضرورتوں کےلیے جس طرح چاہے استعمال کرسکے۔
یہ تمام چیزیں گویا خدا کی نشانیاں ہیں۔ وہ غیبی حقیقتوں کا مادی زبان میں اعلان کررہی ہیں۔ یہ اعلان اگرچہ بالواسطہ زبان میں ہے مگر انسان کا بھلا اسی میں ہے کہ وہ بالواسطہ زبان میں کہی ہوئی بات کو سمجھے۔ کیوں کہ خدا جب براہِ راست زبان میں کلام کرے تو وہ مہلتِ عمل کے ختم ہونے کا اعلان ہوتا ہے، نہ کہ عمل شروع کرنے کا۔
غافر 40:81
انسان کو اپنی زندگی اور تمدن کےلیے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔ مثلاً غذا، سواری، مختلف قسم کی صنعتیں، سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا۔ یہ سب چیزیں موجودہ دنیا میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ خدا نے دنیا کی چیزوں کو اس طرح بنایا ہے وہ ہمیشہ انسان کے تابع رہیں اور انسان ان کو اپنی ضرورتوں کےلیے جس طرح چاہے استعمال کرسکے۔
یہ تمام چیزیں گویا خدا کی نشانیاں ہیں۔ وہ غیبی حقیقتوں کا مادی زبان میں اعلان کررہی ہیں۔ یہ اعلان اگرچہ بالواسطہ زبان میں ہے مگر انسان کا بھلا اسی میں ہے کہ وہ بالواسطہ زبان میں کہی ہوئی بات کو سمجھے۔ کیوں کہ خدا جب براہِ راست زبان میں کلام کرے تو وہ مہلتِ عمل کے ختم ہونے کا اعلان ہوتا ہے، نہ کہ عمل شروع کرنے کا۔
غافر 40:82
علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ علم جس سے دنیا کی ترقیاں حاصل ہوتی ہیں۔ دوسرا علم وہ ہے جو آخرت کی کامیابی کا راستہ بتاتا ہے۔ جن لوگوںکے پاس دنیا کا علم ہو ان کے علم کا شاندار نتیجہ فوری طور پر دنیا کی ترقیوں کی صورت میں سامنے آجاتاہے۔ اس کے برعکس، جس شخص کے پاس آخرت کا علم ہو اس کے علم کے نتائج فوری طور پر محسوس شکل میں سامنے نہیں آتے۔
یہ فرق ان لوگوں کے اندر برتری کی نفسیات پیدا کردیتاہے جو دنیا کا علم رکھتے ہوں۔ چنانچہ ایسی قوموں کے پاس جب ان کے پیغمبر آئے تو انھوںنے اپنے کو زیادہ سمجھا اور پیغمبر کو کم خیال کیا۔ حتی کہ وہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔ مگر اللہ نے ان قوموں کو ان کی تمام قوتوں اور شاندار ترقیوں کے باوجود ہلاک کردیا۔ اب ان کے تاریخی آثار یا تو کھنڈر کی شکل میں ہیں یا زمین کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کےلیے ایک تاریخی مثال قائم کردی کہ — مستقل کامیابی کا راز علم آخرت میں ہے، نہ کہ علم دنیا میں۔
ان قوموں نے ابتداء ً اپنے پیغمبروں کا انکار کیا۔ پیغمبروں کے پاس دلیل کی قوت تھی۔ مگر یہ قومیں دلیل کی قوت کے آگے جھکنے کےلیے تیار نہ ہوئیں۔ آخر کارخدا نے عذاب کی زبان میں انھیں امر واقعی سے آگاہ کیا۔ اس وقت وہ لوگ جھک کر اقرار کرنے لگے۔ مگر یہ اقرار ان کے کام نہ آیا۔ کیوں کہ اقرار وہ مطلوب ہے جو دلیل کی بنیاد پر ہو۔ اس اقرار کی کوئی قیمت نہیں جو عذاب کو دیکھ کر کیا جائے۔
غافر 40:83
علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ علم جس سے دنیا کی ترقیاں حاصل ہوتی ہیں۔ دوسرا علم وہ ہے جو آخرت کی کامیابی کا راستہ بتاتا ہے۔ جن لوگوںکے پاس دنیا کا علم ہو ان کے علم کا شاندار نتیجہ فوری طور پر دنیا کی ترقیوں کی صورت میں سامنے آجاتاہے۔ اس کے برعکس، جس شخص کے پاس آخرت کا علم ہو اس کے علم کے نتائج فوری طور پر محسوس شکل میں سامنے نہیں آتے۔
یہ فرق ان لوگوں کے اندر برتری کی نفسیات پیدا کردیتاہے جو دنیا کا علم رکھتے ہوں۔ چنانچہ ایسی قوموں کے پاس جب ان کے پیغمبر آئے تو انھوںنے اپنے کو زیادہ سمجھا اور پیغمبر کو کم خیال کیا۔ حتی کہ وہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔ مگر اللہ نے ان قوموں کو ان کی تمام قوتوں اور شاندار ترقیوں کے باوجود ہلاک کردیا۔ اب ان کے تاریخی آثار یا تو کھنڈر کی شکل میں ہیں یا زمین کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کےلیے ایک تاریخی مثال قائم کردی کہ — مستقل کامیابی کا راز علم آخرت میں ہے، نہ کہ علم دنیا میں۔
ان قوموں نے ابتداء ً اپنے پیغمبروں کا انکار کیا۔ پیغمبروں کے پاس دلیل کی قوت تھی۔ مگر یہ قومیں دلیل کی قوت کے آگے جھکنے کےلیے تیار نہ ہوئیں۔ آخر کارخدا نے عذاب کی زبان میں انھیں امر واقعی سے آگاہ کیا۔ اس وقت وہ لوگ جھک کر اقرار کرنے لگے۔ مگر یہ اقرار ان کے کام نہ آیا۔ کیوں کہ اقرار وہ مطلوب ہے جو دلیل کی بنیاد پر ہو۔ اس اقرار کی کوئی قیمت نہیں جو عذاب کو دیکھ کر کیا جائے۔
غافر 40:84
علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ علم جس سے دنیا کی ترقیاں حاصل ہوتی ہیں۔ دوسرا علم وہ ہے جو آخرت کی کامیابی کا راستہ بتاتا ہے۔ جن لوگوںکے پاس دنیا کا علم ہو ان کے علم کا شاندار نتیجہ فوری طور پر دنیا کی ترقیوں کی صورت میں سامنے آجاتاہے۔ اس کے برعکس، جس شخص کے پاس آخرت کا علم ہو اس کے علم کے نتائج فوری طور پر محسوس شکل میں سامنے نہیں آتے۔
یہ فرق ان لوگوں کے اندر برتری کی نفسیات پیدا کردیتاہے جو دنیا کا علم رکھتے ہوں۔ چنانچہ ایسی قوموں کے پاس جب ان کے پیغمبر آئے تو انھوںنے اپنے کو زیادہ سمجھا اور پیغمبر کو کم خیال کیا۔ حتی کہ وہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔ مگر اللہ نے ان قوموں کو ان کی تمام قوتوں اور شاندار ترقیوں کے باوجود ہلاک کردیا۔ اب ان کے تاریخی آثار یا تو کھنڈر کی شکل میں ہیں یا زمین کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کےلیے ایک تاریخی مثال قائم کردی کہ — مستقل کامیابی کا راز علم آخرت میں ہے، نہ کہ علم دنیا میں۔
ان قوموں نے ابتداء ً اپنے پیغمبروں کا انکار کیا۔ پیغمبروں کے پاس دلیل کی قوت تھی۔ مگر یہ قومیں دلیل کی قوت کے آگے جھکنے کےلیے تیار نہ ہوئیں۔ آخر کارخدا نے عذاب کی زبان میں انھیں امر واقعی سے آگاہ کیا۔ اس وقت وہ لوگ جھک کر اقرار کرنے لگے۔ مگر یہ اقرار ان کے کام نہ آیا۔ کیوں کہ اقرار وہ مطلوب ہے جو دلیل کی بنیاد پر ہو۔ اس اقرار کی کوئی قیمت نہیں جو عذاب کو دیکھ کر کیا جائے۔
غافر 40:85
علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ علم جس سے دنیا کی ترقیاں حاصل ہوتی ہیں۔ دوسرا علم وہ ہے جو آخرت کی کامیابی کا راستہ بتاتا ہے۔ جن لوگوںکے پاس دنیا کا علم ہو ان کے علم کا شاندار نتیجہ فوری طور پر دنیا کی ترقیوں کی صورت میں سامنے آجاتاہے۔ اس کے برعکس، جس شخص کے پاس آخرت کا علم ہو اس کے علم کے نتائج فوری طور پر محسوس شکل میں سامنے نہیں آتے۔
یہ فرق ان لوگوں کے اندر برتری کی نفسیات پیدا کردیتاہے جو دنیا کا علم رکھتے ہوں۔ چنانچہ ایسی قوموں کے پاس جب ان کے پیغمبر آئے تو انھوںنے اپنے کو زیادہ سمجھا اور پیغمبر کو کم خیال کیا۔ حتی کہ وہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔ مگر اللہ نے ان قوموں کو ان کی تمام قوتوں اور شاندار ترقیوں کے باوجود ہلاک کردیا۔ اب ان کے تاریخی آثار یا تو کھنڈر کی شکل میں ہیں یا زمین کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کےلیے ایک تاریخی مثال قائم کردی کہ — مستقل کامیابی کا راز علم آخرت میں ہے، نہ کہ علم دنیا میں۔
ان قوموں نے ابتداء ً اپنے پیغمبروں کا انکار کیا۔ پیغمبروں کے پاس دلیل کی قوت تھی۔ مگر یہ قومیں دلیل کی قوت کے آگے جھکنے کےلیے تیار نہ ہوئیں۔ آخر کارخدا نے عذاب کی زبان میں انھیں امر واقعی سے آگاہ کیا۔ اس وقت وہ لوگ جھک کر اقرار کرنے لگے۔ مگر یہ اقرار ان کے کام نہ آیا۔ کیوں کہ اقرار وہ مطلوب ہے جو دلیل کی بنیاد پر ہو۔ اس اقرار کی کوئی قیمت نہیں جو عذاب کو دیکھ کر کیا جائے۔
فصلت 41:1
پیغمبر کی دعوت بے آمیز دین کی دعوت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس لوگوں کا حال یہ ہے کہ اکثر وہ اپنے اکابر کے دین پر ہوتے ہیں۔ ان کے اوپر ان کی قومی روایات اور زمانی افکار کا غلبہ ہوتاہے۔ اس بنا پر پیغمبر کا بے آمیز دین ان کے فکری ڈھانچہ میں نہیں بیٹھتا۔ وہ ان کو اجنبی دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق پیغمبر اور لوگوں کے درمیان ایک ذہنی دیوار کی طرح حائل ہوجاتا ہے۔ لوگ پیغمبر کی دعوت کو اس کے اصل روپ میں دیکھ نہیں پاتے۔ اس ليے وہ اس کو ماننے پر بھی تیار نہیں ہوتے۔
پیغمبر کی دعوت بجائے خود انتہائی مدلّل ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے ۔ مگر مذکورہ ذہنی دیوار اتنی طاقت ور ثابت ہوتی ہے کہ انسان اس سے نکل کر پیغمبر کی دعوت کو دیکھ نہیں پاتا۔ خدا انسان کےلیے اپنی رحمت کے دروازے کھولتا ہے مگر انسان اس کے اندر داخل نہیں ہوتا۔
فصلت 41:2
پیغمبر کی دعوت بے آمیز دین کی دعوت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس لوگوں کا حال یہ ہے کہ اکثر وہ اپنے اکابر کے دین پر ہوتے ہیں۔ ان کے اوپر ان کی قومی روایات اور زمانی افکار کا غلبہ ہوتاہے۔ اس بنا پر پیغمبر کا بے آمیز دین ان کے فکری ڈھانچہ میں نہیں بیٹھتا۔ وہ ان کو اجنبی دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق پیغمبر اور لوگوں کے درمیان ایک ذہنی دیوار کی طرح حائل ہوجاتا ہے۔ لوگ پیغمبر کی دعوت کو اس کے اصل روپ میں دیکھ نہیں پاتے۔ اس ليے وہ اس کو ماننے پر بھی تیار نہیں ہوتے۔
پیغمبر کی دعوت بجائے خود انتہائی مدلّل ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے ۔ مگر مذکورہ ذہنی دیوار اتنی طاقت ور ثابت ہوتی ہے کہ انسان اس سے نکل کر پیغمبر کی دعوت کو دیکھ نہیں پاتا۔ خدا انسان کےلیے اپنی رحمت کے دروازے کھولتا ہے مگر انسان اس کے اندر داخل نہیں ہوتا۔
فصلت 41:3
پیغمبر کی دعوت بے آمیز دین کی دعوت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس لوگوں کا حال یہ ہے کہ اکثر وہ اپنے اکابر کے دین پر ہوتے ہیں۔ ان کے اوپر ان کی قومی روایات اور زمانی افکار کا غلبہ ہوتاہے۔ اس بنا پر پیغمبر کا بے آمیز دین ان کے فکری ڈھانچہ میں نہیں بیٹھتا۔ وہ ان کو اجنبی دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق پیغمبر اور لوگوں کے درمیان ایک ذہنی دیوار کی طرح حائل ہوجاتا ہے۔ لوگ پیغمبر کی دعوت کو اس کے اصل روپ میں دیکھ نہیں پاتے۔ اس ليے وہ اس کو ماننے پر بھی تیار نہیں ہوتے۔
پیغمبر کی دعوت بجائے خود انتہائی مدلّل ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے ۔ مگر مذکورہ ذہنی دیوار اتنی طاقت ور ثابت ہوتی ہے کہ انسان اس سے نکل کر پیغمبر کی دعوت کو دیکھ نہیں پاتا۔ خدا انسان کےلیے اپنی رحمت کے دروازے کھولتا ہے مگر انسان اس کے اندر داخل نہیں ہوتا۔
فصلت 41:4
پیغمبر کی دعوت بے آمیز دین کی دعوت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس لوگوں کا حال یہ ہے کہ اکثر وہ اپنے اکابر کے دین پر ہوتے ہیں۔ ان کے اوپر ان کی قومی روایات اور زمانی افکار کا غلبہ ہوتاہے۔ اس بنا پر پیغمبر کا بے آمیز دین ان کے فکری ڈھانچہ میں نہیں بیٹھتا۔ وہ ان کو اجنبی دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق پیغمبر اور لوگوں کے درمیان ایک ذہنی دیوار کی طرح حائل ہوجاتا ہے۔ لوگ پیغمبر کی دعوت کو اس کے اصل روپ میں دیکھ نہیں پاتے۔ اس ليے وہ اس کو ماننے پر بھی تیار نہیں ہوتے۔
پیغمبر کی دعوت بجائے خود انتہائی مدلّل ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے ۔ مگر مذکورہ ذہنی دیوار اتنی طاقت ور ثابت ہوتی ہے کہ انسان اس سے نکل کر پیغمبر کی دعوت کو دیکھ نہیں پاتا۔ خدا انسان کےلیے اپنی رحمت کے دروازے کھولتا ہے مگر انسان اس کے اندر داخل نہیں ہوتا۔
فصلت 41:5
پیغمبر کی دعوت بے آمیز دین کی دعوت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس لوگوں کا حال یہ ہے کہ اکثر وہ اپنے اکابر کے دین پر ہوتے ہیں۔ ان کے اوپر ان کی قومی روایات اور زمانی افکار کا غلبہ ہوتاہے۔ اس بنا پر پیغمبر کا بے آمیز دین ان کے فکری ڈھانچہ میں نہیں بیٹھتا۔ وہ ان کو اجنبی دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق پیغمبر اور لوگوں کے درمیان ایک ذہنی دیوار کی طرح حائل ہوجاتا ہے۔ لوگ پیغمبر کی دعوت کو اس کے اصل روپ میں دیکھ نہیں پاتے۔ اس ليے وہ اس کو ماننے پر بھی تیار نہیں ہوتے۔
پیغمبر کی دعوت بجائے خود انتہائی مدلّل ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے ۔ مگر مذکورہ ذہنی دیوار اتنی طاقت ور ثابت ہوتی ہے کہ انسان اس سے نکل کر پیغمبر کی دعوت کو دیکھ نہیں پاتا۔ خدا انسان کےلیے اپنی رحمت کے دروازے کھولتا ہے مگر انسان اس کے اندر داخل نہیں ہوتا۔
فصلت 41:6
حق کی دعوت جب اٹھتی ہے ’’بشر‘‘ کی سطح پراٹھتی ہے۔ لوگوںکی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بشر خدا کی زبان میں کلام کرے۔ اس ليے وہ اس کے منکر بن جاتے ہیں مگر خدا کی سنّت یہی ہے کہ وہ بشر کی زبان سے اپنی بات کا اعلان کرائے۔ جو شخص داعی کی بشریت سے گزر کر اس کے الٰہی کلام کو نہ پہچان سکے وہ موجودہ امتحان کی دنیا میں ہدایت سے محروم رہے گا۔
آخرت کو ماننا وہی معتبر ہے جس کے ساتھ کامل توحید اور انفاق فی سبیل اللہ پایا جائے۔ جو شخص اللہ کو حقیقی طورپر پالے وہ کسی اور عظمت میں اٹکا ہوا نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح جو شخص اللہ کو حقیقی طورپر پالے وہ اپنے مال کو خدا سے بچا کر نہیں رکھ سکتا۔
فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِکا مطلب ہے أَخْلِصُوا لَهُ الْعِبَادَةَ (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 164 )یعنی، تمہاری ساری توجہ صرف اللہ کی طرف ہو تمھاری دعا اور عبادت کا مرجع صرف ایک اللہ ہو۔ تمھاری سوچ تمام تر خدا رخی سوچ بن جائے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا کے ابدی انعامات دئے جائیں گے۔
فصلت 41:7
حق کی دعوت جب اٹھتی ہے ’’بشر‘‘ کی سطح پراٹھتی ہے۔ لوگوںکی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بشر خدا کی زبان میں کلام کرے۔ اس ليے وہ اس کے منکر بن جاتے ہیں مگر خدا کی سنّت یہی ہے کہ وہ بشر کی زبان سے اپنی بات کا اعلان کرائے۔ جو شخص داعی کی بشریت سے گزر کر اس کے الٰہی کلام کو نہ پہچان سکے وہ موجودہ امتحان کی دنیا میں ہدایت سے محروم رہے گا۔
آخرت کو ماننا وہی معتبر ہے جس کے ساتھ کامل توحید اور انفاق فی سبیل اللہ پایا جائے۔ جو شخص اللہ کو حقیقی طورپر پالے وہ کسی اور عظمت میں اٹکا ہوا نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح جو شخص اللہ کو حقیقی طورپر پالے وہ اپنے مال کو خدا سے بچا کر نہیں رکھ سکتا۔
فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِکا مطلب ہے أَخْلِصُوا لَهُ الْعِبَادَةَ (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 164 )یعنی، تمہاری ساری توجہ صرف اللہ کی طرف ہو تمھاری دعا اور عبادت کا مرجع صرف ایک اللہ ہو۔ تمھاری سوچ تمام تر خدا رخی سوچ بن جائے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا کے ابدی انعامات دئے جائیں گے۔
فصلت 41:8
حق کی دعوت جب اٹھتی ہے ’’بشر‘‘ کی سطح پراٹھتی ہے۔ لوگوںکی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بشر خدا کی زبان میں کلام کرے۔ اس ليے وہ اس کے منکر بن جاتے ہیں مگر خدا کی سنّت یہی ہے کہ وہ بشر کی زبان سے اپنی بات کا اعلان کرائے۔ جو شخص داعی کی بشریت سے گزر کر اس کے الٰہی کلام کو نہ پہچان سکے وہ موجودہ امتحان کی دنیا میں ہدایت سے محروم رہے گا۔
آخرت کو ماننا وہی معتبر ہے جس کے ساتھ کامل توحید اور انفاق فی سبیل اللہ پایا جائے۔ جو شخص اللہ کو حقیقی طورپر پالے وہ کسی اور عظمت میں اٹکا ہوا نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح جو شخص اللہ کو حقیقی طورپر پالے وہ اپنے مال کو خدا سے بچا کر نہیں رکھ سکتا۔
فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِکا مطلب ہے أَخْلِصُوا لَهُ الْعِبَادَةَ (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 164 )یعنی، تمہاری ساری توجہ صرف اللہ کی طرف ہو تمھاری دعا اور عبادت کا مرجع صرف ایک اللہ ہو۔ تمھاری سوچ تمام تر خدا رخی سوچ بن جائے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا کے ابدی انعامات دئے جائیں گے۔
فصلت 41:9
دعوت حق کا انکار خدا کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ انکار اگر پیغمبر کی دعوت کے مقابلہ میں ہو تو اس کی سزا اسی موجودہ دنیا سے شروع ہوجاتی ہے، جیسا کہ عاد و ثمود وغیرہ قوموں کے ساتھ پیش آیا۔اور اگر عام داعیوں کا معاملہ ہو تو ان کے انکار کا انجام آخرت میں سامنے آئے گا۔
دعوت حق کا اصل نکتہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ انسان خدا کا عبادت گزار بنے۔ وہ غیراللہ کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ سے اپنے خوف و محبت کے جذبات وابستہ کرے۔ مگر ہر دور میں ایسا ہو ا کہ پیغمبر کی شخصیت ان کے معاصرین کو اس سے کم نظر آئی کہ خدا انہیں اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چنے۔ اس ليے انھوں نے پیغمبروں کو ماننے سے انکار کردیا۔
فصلت 41:10
دعوت حق کا انکار خدا کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ انکار اگر پیغمبر کی دعوت کے مقابلہ میں ہو تو اس کی سزا اسی موجودہ دنیا سے شروع ہوجاتی ہے، جیسا کہ عاد و ثمود وغیرہ قوموں کے ساتھ پیش آیا۔اور اگر عام داعیوں کا معاملہ ہو تو ان کے انکار کا انجام آخرت میں سامنے آئے گا۔
دعوت حق کا اصل نکتہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ انسان خدا کا عبادت گزار بنے۔ وہ غیراللہ کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ سے اپنے خوف و محبت کے جذبات وابستہ کرے۔ مگر ہر دور میں ایسا ہو ا کہ پیغمبر کی شخصیت ان کے معاصرین کو اس سے کم نظر آئی کہ خدا انہیں اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چنے۔ اس ليے انھوں نے پیغمبروں کو ماننے سے انکار کردیا۔
فصلت 41:11
دعوت حق کا انکار خدا کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ انکار اگر پیغمبر کی دعوت کے مقابلہ میں ہو تو اس کی سزا اسی موجودہ دنیا سے شروع ہوجاتی ہے، جیسا کہ عاد و ثمود وغیرہ قوموں کے ساتھ پیش آیا۔اور اگر عام داعیوں کا معاملہ ہو تو ان کے انکار کا انجام آخرت میں سامنے آئے گا۔
دعوت حق کا اصل نکتہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ انسان خدا کا عبادت گزار بنے۔ وہ غیراللہ کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ سے اپنے خوف و محبت کے جذبات وابستہ کرے۔ مگر ہر دور میں ایسا ہو ا کہ پیغمبر کی شخصیت ان کے معاصرین کو اس سے کم نظر آئی کہ خدا انہیں اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چنے۔ اس ليے انھوں نے پیغمبروں کو ماننے سے انکار کردیا۔
فصلت 41:12
دعوت حق کا انکار خدا کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ انکار اگر پیغمبر کی دعوت کے مقابلہ میں ہو تو اس کی سزا اسی موجودہ دنیا سے شروع ہوجاتی ہے، جیسا کہ عاد و ثمود وغیرہ قوموں کے ساتھ پیش آیا۔اور اگر عام داعیوں کا معاملہ ہو تو ان کے انکار کا انجام آخرت میں سامنے آئے گا۔
دعوت حق کا اصل نکتہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ انسان خدا کا عبادت گزار بنے۔ وہ غیراللہ کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ سے اپنے خوف و محبت کے جذبات وابستہ کرے۔ مگر ہر دور میں ایسا ہو ا کہ پیغمبر کی شخصیت ان کے معاصرین کو اس سے کم نظر آئی کہ خدا انہیں اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چنے۔ اس ليے انھوں نے پیغمبروں کو ماننے سے انکار کردیا۔
فصلت 41:13
دعوت حق کا انکار خدا کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ انکار اگر پیغمبر کی دعوت کے مقابلہ میں ہو تو اس کی سزا اسی موجودہ دنیا سے شروع ہوجاتی ہے، جیسا کہ عاد و ثمود وغیرہ قوموں کے ساتھ پیش آیا۔اور اگر عام داعیوں کا معاملہ ہو تو ان کے انکار کا انجام آخرت میں سامنے آئے گا۔
دعوت حق کا اصل نکتہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ انسان خدا کا عبادت گزار بنے۔ وہ غیراللہ کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ سے اپنے خوف و محبت کے جذبات وابستہ کرے۔ مگر ہر دور میں ایسا ہو ا کہ پیغمبر کی شخصیت ان کے معاصرین کو اس سے کم نظر آئی کہ خدا انہیں اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چنے۔ اس ليے انھوں نے پیغمبروں کو ماننے سے انکار کردیا۔
فصلت 41:14
دعوت حق کا انکار خدا کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ انکار اگر پیغمبر کی دعوت کے مقابلہ میں ہو تو اس کی سزا اسی موجودہ دنیا سے شروع ہوجاتی ہے، جیسا کہ عاد و ثمود وغیرہ قوموں کے ساتھ پیش آیا۔اور اگر عام داعیوں کا معاملہ ہو تو ان کے انکار کا انجام آخرت میں سامنے آئے گا۔
دعوت حق کا اصل نکتہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ انسان خدا کا عبادت گزار بنے۔ وہ غیراللہ کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ سے اپنے خوف و محبت کے جذبات وابستہ کرے۔ مگر ہر دور میں ایسا ہو ا کہ پیغمبر کی شخصیت ان کے معاصرین کو اس سے کم نظر آئی کہ خدا انہیں اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چنے۔ اس ليے انھوں نے پیغمبروں کو ماننے سے انکار کردیا۔
فصلت 41:15
آدمی ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں زمین وآسمان کی عظمتیں اس کی بڑائی کی نفی کررہی ہیں۔ جہاں موت کا واقعہ ہر روز انسان کو حقیر اور بے زور ثابت کررہا ہے۔ اس کے باوجود آدمی بڑا بنتا ہے۔ پھر بھی وہ اس گمان میں رہتا ہے کہ وہ زور والا ہے۔
خدابار بار حقیقت کا اعلان کراتا ہے۔ وہ بار بار انسان کی بڑائی کے دعوے کو باطل ثابت کررہا ہے۔ مگر کوئی اس وقت تک نصیحت نہیں لیتا جب تک اسے مٹا نہ دیا جائے۔ عاد وثمود اور دوسری قوموں کے کھنڈر اسی کی مثال ہیں۔ انھوں نے جن دنوں کو اپنے ليے مبارک سمجھ رکھا تھا وہی دن خدا کے حکم سے ان کےلیے منحوس دن بن کررہ گئے۔
فصلت 41:16
آدمی ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں زمین وآسمان کی عظمتیں اس کی بڑائی کی نفی کررہی ہیں۔ جہاں موت کا واقعہ ہر روز انسان کو حقیر اور بے زور ثابت کررہا ہے۔ اس کے باوجود آدمی بڑا بنتا ہے۔ پھر بھی وہ اس گمان میں رہتا ہے کہ وہ زور والا ہے۔
خدابار بار حقیقت کا اعلان کراتا ہے۔ وہ بار بار انسان کی بڑائی کے دعوے کو باطل ثابت کررہا ہے۔ مگر کوئی اس وقت تک نصیحت نہیں لیتا جب تک اسے مٹا نہ دیا جائے۔ عاد وثمود اور دوسری قوموں کے کھنڈر اسی کی مثال ہیں۔ انھوں نے جن دنوں کو اپنے ليے مبارک سمجھ رکھا تھا وہی دن خدا کے حکم سے ان کےلیے منحوس دن بن کررہ گئے۔
فصلت 41:17
آدمی ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں زمین وآسمان کی عظمتیں اس کی بڑائی کی نفی کررہی ہیں۔ جہاں موت کا واقعہ ہر روز انسان کو حقیر اور بے زور ثابت کررہا ہے۔ اس کے باوجود آدمی بڑا بنتا ہے۔ پھر بھی وہ اس گمان میں رہتا ہے کہ وہ زور والا ہے۔
خدابار بار حقیقت کا اعلان کراتا ہے۔ وہ بار بار انسان کی بڑائی کے دعوے کو باطل ثابت کررہا ہے۔ مگر کوئی اس وقت تک نصیحت نہیں لیتا جب تک اسے مٹا نہ دیا جائے۔ عاد وثمود اور دوسری قوموں کے کھنڈر اسی کی مثال ہیں۔ انھوں نے جن دنوں کو اپنے ليے مبارک سمجھ رکھا تھا وہی دن خدا کے حکم سے ان کےلیے منحوس دن بن کررہ گئے۔
فصلت 41:18
آدمی ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں زمین وآسمان کی عظمتیں اس کی بڑائی کی نفی کررہی ہیں۔ جہاں موت کا واقعہ ہر روز انسان کو حقیر اور بے زور ثابت کررہا ہے۔ اس کے باوجود آدمی بڑا بنتا ہے۔ پھر بھی وہ اس گمان میں رہتا ہے کہ وہ زور والا ہے۔
خدابار بار حقیقت کا اعلان کراتا ہے۔ وہ بار بار انسان کی بڑائی کے دعوے کو باطل ثابت کررہا ہے۔ مگر کوئی اس وقت تک نصیحت نہیں لیتا جب تک اسے مٹا نہ دیا جائے۔ عاد وثمود اور دوسری قوموں کے کھنڈر اسی کی مثال ہیں۔ انھوں نے جن دنوں کو اپنے ليے مبارک سمجھ رکھا تھا وہی دن خدا کے حکم سے ان کےلیے منحوس دن بن کررہ گئے۔
فصلت 41:19
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن انسان کی کھال اور اس کے اعضاء اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ موجودہ زمانہ میں نطقِ جلدی (skin speech) کے نظریے نے اس کو عملی طور پر ثابت کردیاہے۔ اب یہ معلوم کیاگیا ہے کہ انسان کا ہر بول اس کے جسم کی کھال پر مرتسم ہوتا رہتا ہے۔ اور اس کو دوبارہ اسی طرح سنا جاسکتا ہے جس طرح مشینی طورپر ریکارڈ کی ہوئی آواز کو دوبارہ سنا جاتاہے۔خدا چونکہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا اس ليے انسان سمجھتا ہے کہ خدا اس کو دیکھتا نہیں ہے۔ یہی غلط فہمی آدمی کے اندر سرکشی پیدا کرتی ہے۔ اگر آدمی جان لے کہ خدا ہر لمحہ اس کو دیکھ رہا ہے تو اس کا سارا رویہ بالکل بدل جائے۔آخرت میں خدا کے سامنے آنے کے بعد آدمی اطاعت کا اظہار کرے گا۔ مگر وہ اس کےلیے بے فائدہ ہوگا۔ کیونکہ اطاعت حالت غیب میں قابل اعتبار ہے، نہ کہ حالت شہود میں۔
فصلت 41:20
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن انسان کی کھال اور اس کے اعضاء اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ موجودہ زمانہ میں نطقِ جلدی (skin speech) کے نظریے نے اس کو عملی طور پر ثابت کردیاہے۔ اب یہ معلوم کیاگیا ہے کہ انسان کا ہر بول اس کے جسم کی کھال پر مرتسم ہوتا رہتا ہے۔ اور اس کو دوبارہ اسی طرح سنا جاسکتا ہے جس طرح مشینی طورپر ریکارڈ کی ہوئی آواز کو دوبارہ سنا جاتاہے۔خدا چونکہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا اس ليے انسان سمجھتا ہے کہ خدا اس کو دیکھتا نہیں ہے۔ یہی غلط فہمی آدمی کے اندر سرکشی پیدا کرتی ہے۔ اگر آدمی جان لے کہ خدا ہر لمحہ اس کو دیکھ رہا ہے تو اس کا سارا رویہ بالکل بدل جائے۔آخرت میں خدا کے سامنے آنے کے بعد آدمی اطاعت کا اظہار کرے گا۔ مگر وہ اس کےلیے بے فائدہ ہوگا۔ کیونکہ اطاعت حالت غیب میں قابل اعتبار ہے، نہ کہ حالت شہود میں۔
فصلت 41:21
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن انسان کی کھال اور اس کے اعضاء اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ موجودہ زمانہ میں نطقِ جلدی (skin speech) کے نظریے نے اس کو عملی طور پر ثابت کردیاہے۔ اب یہ معلوم کیاگیا ہے کہ انسان کا ہر بول اس کے جسم کی کھال پر مرتسم ہوتا رہتا ہے۔ اور اس کو دوبارہ اسی طرح سنا جاسکتا ہے جس طرح مشینی طورپر ریکارڈ کی ہوئی آواز کو دوبارہ سنا جاتاہے۔خدا چونکہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا اس ليے انسان سمجھتا ہے کہ خدا اس کو دیکھتا نہیں ہے۔ یہی غلط فہمی آدمی کے اندر سرکشی پیدا کرتی ہے۔ اگر آدمی جان لے کہ خدا ہر لمحہ اس کو دیکھ رہا ہے تو اس کا سارا رویہ بالکل بدل جائے۔آخرت میں خدا کے سامنے آنے کے بعد آدمی اطاعت کا اظہار کرے گا۔ مگر وہ اس کےلیے بے فائدہ ہوگا۔ کیونکہ اطاعت حالت غیب میں قابل اعتبار ہے، نہ کہ حالت شہود میں۔
فصلت 41:22
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن انسان کی کھال اور اس کے اعضاء اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ موجودہ زمانہ میں نطقِ جلدی (skin speech) کے نظریے نے اس کو عملی طور پر ثابت کردیاہے۔ اب یہ معلوم کیاگیا ہے کہ انسان کا ہر بول اس کے جسم کی کھال پر مرتسم ہوتا رہتا ہے۔ اور اس کو دوبارہ اسی طرح سنا جاسکتا ہے جس طرح مشینی طورپر ریکارڈ کی ہوئی آواز کو دوبارہ سنا جاتاہے۔خدا چونکہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا اس ليے انسان سمجھتا ہے کہ خدا اس کو دیکھتا نہیں ہے۔ یہی غلط فہمی آدمی کے اندر سرکشی پیدا کرتی ہے۔ اگر آدمی جان لے کہ خدا ہر لمحہ اس کو دیکھ رہا ہے تو اس کا سارا رویہ بالکل بدل جائے۔آخرت میں خدا کے سامنے آنے کے بعد آدمی اطاعت کا اظہار کرے گا۔ مگر وہ اس کےلیے بے فائدہ ہوگا۔ کیونکہ اطاعت حالت غیب میں قابل اعتبار ہے، نہ کہ حالت شہود میں۔
فصلت 41:23
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن انسان کی کھال اور اس کے اعضاء اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ موجودہ زمانہ میں نطقِ جلدی (skin speech) کے نظریے نے اس کو عملی طور پر ثابت کردیاہے۔ اب یہ معلوم کیاگیا ہے کہ انسان کا ہر بول اس کے جسم کی کھال پر مرتسم ہوتا رہتا ہے۔ اور اس کو دوبارہ اسی طرح سنا جاسکتا ہے جس طرح مشینی طورپر ریکارڈ کی ہوئی آواز کو دوبارہ سنا جاتاہے۔خدا چونکہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا اس ليے انسان سمجھتا ہے کہ خدا اس کو دیکھتا نہیں ہے۔ یہی غلط فہمی آدمی کے اندر سرکشی پیدا کرتی ہے۔ اگر آدمی جان لے کہ خدا ہر لمحہ اس کو دیکھ رہا ہے تو اس کا سارا رویہ بالکل بدل جائے۔آخرت میں خدا کے سامنے آنے کے بعد آدمی اطاعت کا اظہار کرے گا۔ مگر وہ اس کےلیے بے فائدہ ہوگا۔ کیونکہ اطاعت حالت غیب میں قابل اعتبار ہے، نہ کہ حالت شہود میں۔
فصلت 41:24
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن انسان کی کھال اور اس کے اعضاء اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ موجودہ زمانہ میں نطقِ جلدی (skin speech) کے نظریے نے اس کو عملی طور پر ثابت کردیاہے۔ اب یہ معلوم کیاگیا ہے کہ انسان کا ہر بول اس کے جسم کی کھال پر مرتسم ہوتا رہتا ہے۔ اور اس کو دوبارہ اسی طرح سنا جاسکتا ہے جس طرح مشینی طورپر ریکارڈ کی ہوئی آواز کو دوبارہ سنا جاتاہے۔خدا چونکہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا اس ليے انسان سمجھتا ہے کہ خدا اس کو دیکھتا نہیں ہے۔ یہی غلط فہمی آدمی کے اندر سرکشی پیدا کرتی ہے۔ اگر آدمی جان لے کہ خدا ہر لمحہ اس کو دیکھ رہا ہے تو اس کا سارا رویہ بالکل بدل جائے۔آخرت میں خدا کے سامنے آنے کے بعد آدمی اطاعت کا اظہار کرے گا۔ مگر وہ اس کےلیے بے فائدہ ہوگا۔ کیونکہ اطاعت حالت غیب میں قابل اعتبار ہے، نہ کہ حالت شہود میں۔
فصلت 41:25
موجودہ دنیامیں ایک طرف خدا کے داعی ہیں جو انسان کو حق کی نصیحت کرتے ہیں۔ دوسری طرف استحصال پسند لیڈر ہیں جو خوشنما باتیں کرکے انسان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتے ہیں جو لوگ خدا کی نصیحت پر توجہ نہ دیں وہ ان لیڈروں کی باتوں میں آکر غیر حقیقی راستوں میں دوڑ پڑتے ہیں۔
یہ استحصال پسند لیڈر لوگوں کو ان کے ماضی کا حسین خواب دکھاتے ہیں۔ وہ ان کے سامنے ان کے مستقبل کا خوبصورت نقشہ پیش کرتے ہیں۔ جو لوگ ایسے لیڈروں کے جھوٹے الفاظ سے دھوکا کھا کر ان کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں ان کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ ہمیشہ کے لیے تباہ ہو کر رہ جائیں۔
فصلت 41:26
وَٱلْغَوْا۟ فِيهِ کی تشریح حضرت عبد اللہ بن عباس نے عَيِّبُوهُ (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 174 )کے لفظ سے کی ہے۔ یعنی قرآن اور صاحب قرآن میں عیب لگاؤ اور اس طرح لوگوں کو اس سے دور کردو۔
کسی بات یا کسی شخص کے بارے میں اظہار رائے کے دو طریقے ہیں۔ ایک تنقید، دوسرا تعییب۔ تنقید کا مطلب ہے حقائق کی بنیاد پر زیر بحث امر کا تجزیہ کرنا۔ اس کے برعکس، تعییب یہ ہے کہ آدمی زیر بحث مسئلہ پر دلائل پیش نہ کرے۔ وہ صرف اس میں عیب نکالے وہ اس پر الزام لگا کر اس کو مطعون کرے۔
تنقید کا طریقہ سراسر جائز طریقہ ہے۔ مگر تعییب کا طریقہ اہلِ کفر کا طریقہ ہے۔ مزید یہ کہ تعییب کا طریقہ خدا کی نشانیوں کا انکار ہے۔ کیوں کہ ہر سچی دلیل خدا کی ایک نشانی ہے۔ جو لوگ دلیل کے آگے نہ جھکیں اور عیب جوئی اور الزام تراشی کا طریقہ اختیار کرکے اس کو دبانا چاہیں وہ گویا خدا کی نشانی کا انکار کررہے ہیں۔ ایسے لوگ آخرت میں نہایت سخت سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
فصلت 41:27
وَٱلْغَوْا۟ فِيهِ کی تشریح حضرت عبد اللہ بن عباس نے عَيِّبُوهُ (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 174 )کے لفظ سے کی ہے۔ یعنی قرآن اور صاحب قرآن میں عیب لگاؤ اور اس طرح لوگوں کو اس سے دور کردو۔
کسی بات یا کسی شخص کے بارے میں اظہار رائے کے دو طریقے ہیں۔ ایک تنقید، دوسرا تعییب۔ تنقید کا مطلب ہے حقائق کی بنیاد پر زیر بحث امر کا تجزیہ کرنا۔ اس کے برعکس، تعییب یہ ہے کہ آدمی زیر بحث مسئلہ پر دلائل پیش نہ کرے۔ وہ صرف اس میں عیب نکالے وہ اس پر الزام لگا کر اس کو مطعون کرے۔
تنقید کا طریقہ سراسر جائز طریقہ ہے۔ مگر تعییب کا طریقہ اہلِ کفر کا طریقہ ہے۔ مزید یہ کہ تعییب کا طریقہ خدا کی نشانیوں کا انکار ہے۔ کیوں کہ ہر سچی دلیل خدا کی ایک نشانی ہے۔ جو لوگ دلیل کے آگے نہ جھکیں اور عیب جوئی اور الزام تراشی کا طریقہ اختیار کرکے اس کو دبانا چاہیں وہ گویا خدا کی نشانی کا انکار کررہے ہیں۔ ایسے لوگ آخرت میں نہایت سخت سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
فصلت 41:28
وَٱلْغَوْا۟ فِيهِ کی تشریح حضرت عبد اللہ بن عباس نے عَيِّبُوهُ (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 174 )کے لفظ سے کی ہے۔ یعنی قرآن اور صاحب قرآن میں عیب لگاؤ اور اس طرح لوگوں کو اس سے دور کردو۔
کسی بات یا کسی شخص کے بارے میں اظہار رائے کے دو طریقے ہیں۔ ایک تنقید، دوسرا تعییب۔ تنقید کا مطلب ہے حقائق کی بنیاد پر زیر بحث امر کا تجزیہ کرنا۔ اس کے برعکس، تعییب یہ ہے کہ آدمی زیر بحث مسئلہ پر دلائل پیش نہ کرے۔ وہ صرف اس میں عیب نکالے وہ اس پر الزام لگا کر اس کو مطعون کرے۔
تنقید کا طریقہ سراسر جائز طریقہ ہے۔ مگر تعییب کا طریقہ اہلِ کفر کا طریقہ ہے۔ مزید یہ کہ تعییب کا طریقہ خدا کی نشانیوں کا انکار ہے۔ کیوں کہ ہر سچی دلیل خدا کی ایک نشانی ہے۔ جو لوگ دلیل کے آگے نہ جھکیں اور عیب جوئی اور الزام تراشی کا طریقہ اختیار کرکے اس کو دبانا چاہیں وہ گویا خدا کی نشانی کا انکار کررہے ہیں۔ ایسے لوگ آخرت میں نہایت سخت سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
فصلت 41:29
انسانوں میں دو قسم کے انسان ہیں۔ ایک وہ جو شیطانوں اور جھوٹے لیڈروں کو اپنا رہنما بناتے ہیں۔ یہ لوگ دنیا میں خوب ایک دوسرے سے دوستی رکھتے ہیں۔ مگر آخرت میں صورت حال بالکل برعکس ہوگی۔ وہاں پیروی کرنے والے لوگ جب دیکھیں گے کہ ان کے جھوٹے رہنماؤں نے ان کو صرف جہنم میں پہنچایا ہے تو وہ ان سے سخت متنفر ہوجائیں گے۔ اور چاہیں گے کہ انھیں حقیر وذلیل کرکے اپنے دل کی تسکین حاصل کریں۔
دوسرے انسان وہ ہیں جو خدا کے فرشتوں کو اپنا ساتھی بنائیں۔ ایسے لوگ دنیا سے لے کر آخرت تک فرشتوں کو اپنا ہم نشین پاتے ہیں۔ فرشتے ان کے دل پر ربانی احساسات اتارتے ہیں۔ وہ مشکل حالات میں ان کو قلبی سکون عطا کرتے ہیں۔ وہ لطیف تجربات کے ذریعہ انھیں خدا کی بشارتیں سناتے ہیں۔ پھر یہی فرشتے آخرت میں ان کا استقبال کرکے ان کو جنت کے باغات میں داخل کریں گے۔
فصلت 41:30
انسانوں میں دو قسم کے انسان ہیں۔ ایک وہ جو شیطانوں اور جھوٹے لیڈروں کو اپنا رہنما بناتے ہیں۔ یہ لوگ دنیا میں خوب ایک دوسرے سے دوستی رکھتے ہیں۔ مگر آخرت میں صورت حال بالکل برعکس ہوگی۔ وہاں پیروی کرنے والے لوگ جب دیکھیں گے کہ ان کے جھوٹے رہنماؤں نے ان کو صرف جہنم میں پہنچایا ہے تو وہ ان سے سخت متنفر ہوجائیں گے۔ اور چاہیں گے کہ انھیں حقیر وذلیل کرکے اپنے دل کی تسکین حاصل کریں۔
دوسرے انسان وہ ہیں جو خدا کے فرشتوں کو اپنا ساتھی بنائیں۔ ایسے لوگ دنیا سے لے کر آخرت تک فرشتوں کو اپنا ہم نشین پاتے ہیں۔ فرشتے ان کے دل پر ربانی احساسات اتارتے ہیں۔ وہ مشکل حالات میں ان کو قلبی سکون عطا کرتے ہیں۔ وہ لطیف تجربات کے ذریعہ انھیں خدا کی بشارتیں سناتے ہیں۔ پھر یہی فرشتے آخرت میں ان کا استقبال کرکے ان کو جنت کے باغات میں داخل کریں گے۔
فصلت 41:31
انسانوں میں دو قسم کے انسان ہیں۔ ایک وہ جو شیطانوں اور جھوٹے لیڈروں کو اپنا رہنما بناتے ہیں۔ یہ لوگ دنیا میں خوب ایک دوسرے سے دوستی رکھتے ہیں۔ مگر آخرت میں صورت حال بالکل برعکس ہوگی۔ وہاں پیروی کرنے والے لوگ جب دیکھیں گے کہ ان کے جھوٹے رہنماؤں نے ان کو صرف جہنم میں پہنچایا ہے تو وہ ان سے سخت متنفر ہوجائیں گے۔ اور چاہیں گے کہ انھیں حقیر وذلیل کرکے اپنے دل کی تسکین حاصل کریں۔
دوسرے انسان وہ ہیں جو خدا کے فرشتوں کو اپنا ساتھی بنائیں۔ ایسے لوگ دنیا سے لے کر آخرت تک فرشتوں کو اپنا ہم نشین پاتے ہیں۔ فرشتے ان کے دل پر ربانی احساسات اتارتے ہیں۔ وہ مشکل حالات میں ان کو قلبی سکون عطا کرتے ہیں۔ وہ لطیف تجربات کے ذریعہ انھیں خدا کی بشارتیں سناتے ہیں۔ پھر یہی فرشتے آخرت میں ان کا استقبال کرکے ان کو جنت کے باغات میں داخل کریں گے۔
فصلت 41:32
انسانوں میں دو قسم کے انسان ہیں۔ ایک وہ جو شیطانوں اور جھوٹے لیڈروں کو اپنا رہنما بناتے ہیں۔ یہ لوگ دنیا میں خوب ایک دوسرے سے دوستی رکھتے ہیں۔ مگر آخرت میں صورت حال بالکل برعکس ہوگی۔ وہاں پیروی کرنے والے لوگ جب دیکھیں گے کہ ان کے جھوٹے رہنماؤں نے ان کو صرف جہنم میں پہنچایا ہے تو وہ ان سے سخت متنفر ہوجائیں گے۔ اور چاہیں گے کہ انھیں حقیر وذلیل کرکے اپنے دل کی تسکین حاصل کریں۔
دوسرے انسان وہ ہیں جو خدا کے فرشتوں کو اپنا ساتھی بنائیں۔ ایسے لوگ دنیا سے لے کر آخرت تک فرشتوں کو اپنا ہم نشین پاتے ہیں۔ فرشتے ان کے دل پر ربانی احساسات اتارتے ہیں۔ وہ مشکل حالات میں ان کو قلبی سکون عطا کرتے ہیں۔ وہ لطیف تجربات کے ذریعہ انھیں خدا کی بشارتیں سناتے ہیں۔ پھر یہی فرشتے آخرت میں ان کا استقبال کرکے ان کو جنت کے باغات میں داخل کریں گے۔
فصلت 41:33
قرآن کی دعوت اللہ کی طرف بلانے کی دعوت ہے۔ انسان کو اس کے رب سے جوڑنا، انسان کو خدا کی یاد میں جینے والا بنانا، انسان کے اندر یہ شعور ابھارنا کہ وہ ایک خدا کو اپنا مرکز توجہ بنالے۔ یہی قرآنی دعوت کا اصل نشانہ ہے۔ اور بلاشبہ اس پکارسےبہتر کوئی پکار نہیں۔
مگر خدا کا داعی صرف وہ شخص بنتا ہے جو اپنی دعوت میں اس حد تک سنجیدہ ہو کہ جو کچھ دوسروں سے منوانا چاہتا ہے اس کو وہ خود سب سے پہلے مان چکا ہو، وہ دوسروں سے جو کچھ کرنے کےلیے کہہ رہا ہے، خود سب سے پہلے اس کا کرنے والا بن جائے۔
داعی کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کرے۔ دوسرے لوگ برائی کریں تب بھی وہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرے۔ وہ اشتعال کے مقابلہ میں اعراض اور اذیت رسانی کے مقابلہ میں صبر کا طریقہ اختیار کرے۔ یک طرفہ حسن سلوک میں اللہ تعالیٰ نے زبردست تسخیری طاقت رکھی ہے۔ خدا کا داعی خدا کی بنائی ہوئی اس فطرت کو جانتا ہے اور اس کو آخری حد تک استعمال کرتا ہے، خواہ اس کےلیے اس کو اپنے جذبات کو کچلنا پڑے، خواہ اس کی خاطر اپنے اندر پیدا ہونے والے رد عمل کو ذبح کرنے کی نوبت آجائے۔
جب بھی داعی کے اندر اس قسم کا خیال آئے کہ فلاں بات کا جواب دینا ضروری ہے، فلاں ظلم کے خلاف ضرور کارروائی كي جاني چاہيے ورنہ دشمن دلیر ہو کر اور زیادہ زیادتیاں کرے گا تو سمجھ لینا چاہيے کہ یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے۔ مومن اور داعی کا فرض ہے کہ وہ ایسے خیال سے خدا کی پناہ مانگے، نہ کہ اس کے پیچھے دوڑنا شروع کردے۔
فصلت 41:34
قرآن کی دعوت اللہ کی طرف بلانے کی دعوت ہے۔ انسان کو اس کے رب سے جوڑنا، انسان کو خدا کی یاد میں جینے والا بنانا، انسان کے اندر یہ شعور ابھارنا کہ وہ ایک خدا کو اپنا مرکز توجہ بنالے۔ یہی قرآنی دعوت کا اصل نشانہ ہے۔ اور بلاشبہ اس پکارسےبہتر کوئی پکار نہیں۔
مگر خدا کا داعی صرف وہ شخص بنتا ہے جو اپنی دعوت میں اس حد تک سنجیدہ ہو کہ جو کچھ دوسروں سے منوانا چاہتا ہے اس کو وہ خود سب سے پہلے مان چکا ہو، وہ دوسروں سے جو کچھ کرنے کےلیے کہہ رہا ہے، خود سب سے پہلے اس کا کرنے والا بن جائے۔
داعی کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کرے۔ دوسرے لوگ برائی کریں تب بھی وہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرے۔ وہ اشتعال کے مقابلہ میں اعراض اور اذیت رسانی کے مقابلہ میں صبر کا طریقہ اختیار کرے۔ یک طرفہ حسن سلوک میں اللہ تعالیٰ نے زبردست تسخیری طاقت رکھی ہے۔ خدا کا داعی خدا کی بنائی ہوئی اس فطرت کو جانتا ہے اور اس کو آخری حد تک استعمال کرتا ہے، خواہ اس کےلیے اس کو اپنے جذبات کو کچلنا پڑے، خواہ اس کی خاطر اپنے اندر پیدا ہونے والے رد عمل کو ذبح کرنے کی نوبت آجائے۔
جب بھی داعی کے اندر اس قسم کا خیال آئے کہ فلاں بات کا جواب دینا ضروری ہے، فلاں ظلم کے خلاف ضرور کارروائی كي جاني چاہيے ورنہ دشمن دلیر ہو کر اور زیادہ زیادتیاں کرے گا تو سمجھ لینا چاہيے کہ یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے۔ مومن اور داعی کا فرض ہے کہ وہ ایسے خیال سے خدا کی پناہ مانگے، نہ کہ اس کے پیچھے دوڑنا شروع کردے۔
فصلت 41:35
قرآن کی دعوت اللہ کی طرف بلانے کی دعوت ہے۔ انسان کو اس کے رب سے جوڑنا، انسان کو خدا کی یاد میں جینے والا بنانا، انسان کے اندر یہ شعور ابھارنا کہ وہ ایک خدا کو اپنا مرکز توجہ بنالے۔ یہی قرآنی دعوت کا اصل نشانہ ہے۔ اور بلاشبہ اس پکارسےبہتر کوئی پکار نہیں۔
مگر خدا کا داعی صرف وہ شخص بنتا ہے جو اپنی دعوت میں اس حد تک سنجیدہ ہو کہ جو کچھ دوسروں سے منوانا چاہتا ہے اس کو وہ خود سب سے پہلے مان چکا ہو، وہ دوسروں سے جو کچھ کرنے کےلیے کہہ رہا ہے، خود سب سے پہلے اس کا کرنے والا بن جائے۔
داعی کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کرے۔ دوسرے لوگ برائی کریں تب بھی وہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرے۔ وہ اشتعال کے مقابلہ میں اعراض اور اذیت رسانی کے مقابلہ میں صبر کا طریقہ اختیار کرے۔ یک طرفہ حسن سلوک میں اللہ تعالیٰ نے زبردست تسخیری طاقت رکھی ہے۔ خدا کا داعی خدا کی بنائی ہوئی اس فطرت کو جانتا ہے اور اس کو آخری حد تک استعمال کرتا ہے، خواہ اس کےلیے اس کو اپنے جذبات کو کچلنا پڑے، خواہ اس کی خاطر اپنے اندر پیدا ہونے والے رد عمل کو ذبح کرنے کی نوبت آجائے۔
جب بھی داعی کے اندر اس قسم کا خیال آئے کہ فلاں بات کا جواب دینا ضروری ہے، فلاں ظلم کے خلاف ضرور کارروائی كي جاني چاہيے ورنہ دشمن دلیر ہو کر اور زیادہ زیادتیاں کرے گا تو سمجھ لینا چاہيے کہ یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے۔ مومن اور داعی کا فرض ہے کہ وہ ایسے خیال سے خدا کی پناہ مانگے، نہ کہ اس کے پیچھے دوڑنا شروع کردے۔
فصلت 41:36
قرآن کی دعوت اللہ کی طرف بلانے کی دعوت ہے۔ انسان کو اس کے رب سے جوڑنا، انسان کو خدا کی یاد میں جینے والا بنانا، انسان کے اندر یہ شعور ابھارنا کہ وہ ایک خدا کو اپنا مرکز توجہ بنالے۔ یہی قرآنی دعوت کا اصل نشانہ ہے۔ اور بلاشبہ اس پکارسےبہتر کوئی پکار نہیں۔
مگر خدا کا داعی صرف وہ شخص بنتا ہے جو اپنی دعوت میں اس حد تک سنجیدہ ہو کہ جو کچھ دوسروں سے منوانا چاہتا ہے اس کو وہ خود سب سے پہلے مان چکا ہو، وہ دوسروں سے جو کچھ کرنے کےلیے کہہ رہا ہے، خود سب سے پہلے اس کا کرنے والا بن جائے۔
داعی کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کرے۔ دوسرے لوگ برائی کریں تب بھی وہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرے۔ وہ اشتعال کے مقابلہ میں اعراض اور اذیت رسانی کے مقابلہ میں صبر کا طریقہ اختیار کرے۔ یک طرفہ حسن سلوک میں اللہ تعالیٰ نے زبردست تسخیری طاقت رکھی ہے۔ خدا کا داعی خدا کی بنائی ہوئی اس فطرت کو جانتا ہے اور اس کو آخری حد تک استعمال کرتا ہے، خواہ اس کےلیے اس کو اپنے جذبات کو کچلنا پڑے، خواہ اس کی خاطر اپنے اندر پیدا ہونے والے رد عمل کو ذبح کرنے کی نوبت آجائے۔
جب بھی داعی کے اندر اس قسم کا خیال آئے کہ فلاں بات کا جواب دینا ضروری ہے، فلاں ظلم کے خلاف ضرور کارروائی كي جاني چاہيے ورنہ دشمن دلیر ہو کر اور زیادہ زیادتیاں کرے گا تو سمجھ لینا چاہيے کہ یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے۔ مومن اور داعی کا فرض ہے کہ وہ ایسے خیال سے خدا کی پناہ مانگے، نہ کہ اس کے پیچھے دوڑنا شروع کردے۔
فصلت 41:37
انسان کی سب سے بڑی گمراہی اس کی ظاہر پرستی ہے۔ قدیم زمانہ کے انسان کو سورج اور چاند اور ستارے سب سے زیادہ نمایاں نظر آئے ۔ اس لیے اس نے ان مظاہر کو خدا سمجھ لیا اور ان کو پوجنا شروع کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں مادی تہذیب کی جگمگاہٹ لوگوں کو نمایاں دکھائی دے رہی ہے ۔اس لیے اب مادی تہذیب کو وہ مقام دے دیا گیا ہے جو قدیم زمانہ میں سورج اور چاند کو حاصل تھا۔ حالانکہ خواہ سورج اور چاند ہوں یا دوسرے مظاہر سب کے سب خدا کی مخلوق ہیں۔انسان کو چاہیے کہ وہ خالق کا پرستار رہے نہ کہ اس کی مخلوقات کا۔ تکبر کرنے والوں کا تکبر دعوت کے مقابلے میں نہیں ہوتا، بلکہ ہمیشہ داعی کے مقابلے میں ہوتا ہے ۔ وقت کے بڑوں کو بظاہر داعی اپنے سے چھوٹا نظر آتا ہے ۔اس لیے وہ اس کو چھوٹا سمجھ لیتے ہیں اور اسی کے ساتھ اس کی طرف سے پیش کئے جانے والے پیغام کو بھی ۔
فصلت 41:38
انسان کی سب سے بڑی گمراہی اس کی ظاہر پرستی ہے۔ قدیم زمانہ کے انسان کو سورج اور چاند اور ستارے سب سے زیادہ نمایاں نظر آئے ۔ اس لیے اس نے ان مظاہر کو خدا سمجھ لیا اور ان کو پوجنا شروع کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں مادی تہذیب کی جگمگاہٹ لوگوں کو نمایاں دکھائی دے رہی ہے ۔اس لیے اب مادی تہذیب کو وہ مقام دے دیا گیا ہے جو قدیم زمانہ میں سورج اور چاند کو حاصل تھا۔ حالانکہ خواہ سورج اور چاند ہوں یا دوسرے مظاہر سب کے سب خدا کی مخلوق ہیں۔انسان کو چاہیے کہ وہ خالق کا پرستار رہے نہ کہ اس کی مخلوقات کا۔ تکبر کرنے والوں کا تکبر دعوت کے مقابلے میں نہیں ہوتا، بلکہ ہمیشہ داعی کے مقابلے میں ہوتا ہے ۔ وقت کے بڑوں کو بظاہر داعی اپنے سے چھوٹا نظر آتا ہے ۔اس لیے وہ اس کو چھوٹا سمجھ لیتے ہیں اور اسی کے ساتھ اس کی طرف سے پیش کئے جانے والے پیغام کو بھی ۔
فصلت 41:39
سوكھي زمين ميں بارش كا برسنا اور اس سے سبزه كا اگنا ايك ايسا مظهر هے جو هر آدمي كے سامنے بار بار آتا هے۔ يه ايك معنوي حقيقت كي مادي تمثيل هے۔ اس طرح انسان كو بتايا جاتا هے كه خدا نے يهاں اس كے خشك وجود كو سرسبز وشاداب كرنے كا وسيع انتظام كرركھا هے۔ زمين كي مٹي پاني كو اپنے اندر داخل هونے ديتي هے اس وقت يه ممكن هوتا هے كه بارش اس كو سرسبز وشاداب كرنے كا ذريعه بنے۔ اِسي طرح انسان اگر خدا كي هدايت كو اپنے اندر اترنے دے تو اس كا وجود بھي هدايت پاكر لهلها اٹھے گا۔
خدا كي هدايت سے فيض ياب نه هونے كي سب سے بڑي وجه يه هوتي هے كه انسان خدا كي باتوں ميں الحاد (انحراف) كرتا هے۔ خدا كي رهنمائي اس كے سامنے آتي هے تو وه اس كو سيدھے مفهوم ميں نهيں ليتا۔بلكه اس ميں ٹيڑھ نكال كر اس كو منحرف كرديتاهے۔ اس طرح خدا كي رهنمائي اس كے ذهن كا جزء نهيں بنتي۔ وه اس كي روح كو غذا دينے والي ثابت نهيں هوتي۔
خدا كي رهنمائي كو سيدھي طرح قبول كرنے والوں كے ليے جنت كا انعام هے، اور خدا كي رهنمائي ميں ٹيڑھا مفهوم نكالنے والوں كے لیے جهنم كا عذاب۔
فصلت 41:40
سوكھي زمين ميں بارش كا برسنا اور اس سے سبزه كا اگنا ايك ايسا مظهر هے جو هر آدمي كے سامنے بار بار آتا هے۔ يه ايك معنوي حقيقت كي مادي تمثيل هے۔ اس طرح انسان كو بتايا جاتا هے كه خدا نے يهاں اس كے خشك وجود كو سرسبز وشاداب كرنے كا وسيع انتظام كرركھا هے۔ زمين كي مٹي پاني كو اپنے اندر داخل هونے ديتي هے اس وقت يه ممكن هوتا هے كه بارش اس كو سرسبز وشاداب كرنے كا ذريعه بنے۔ اِسي طرح انسان اگر خدا كي هدايت كو اپنے اندر اترنے دے تو اس كا وجود بھي هدايت پاكر لهلها اٹھے گا۔
خدا كي هدايت سے فيض ياب نه هونے كي سب سے بڑي وجه يه هوتي هے كه انسان خدا كي باتوں ميں الحاد (انحراف) كرتا هے۔ خدا كي رهنمائي اس كے سامنے آتي هے تو وه اس كو سيدھے مفهوم ميں نهيں ليتا۔بلكه اس ميں ٹيڑھ نكال كر اس كو منحرف كرديتاهے۔ اس طرح خدا كي رهنمائي اس كے ذهن كا جزء نهيں بنتي۔ وه اس كي روح كو غذا دينے والي ثابت نهيں هوتي۔
خدا كي رهنمائي كو سيدھي طرح قبول كرنے والوں كے ليے جنت كا انعام هے، اور خدا كي رهنمائي ميں ٹيڑھا مفهوم نكالنے والوں كے لیے جهنم كا عذاب۔
فصلت 41:41
قرآن ايك زبردست كتاب هے اور اس كے زبردست هونے كا ثبوت يه هے كه باطل نه آگے سے اس ميں آسكتا هے اور نه پيچھے سے۔ يعني اس ميں كسي طرف سے دخل اندازي كا كوئي امكان نهيں، نه براهِ راست اس ميں كوئي بگاڑ پيدا كيا جاسكتا هے اور نه بالواسطه۔
يه ايك انتهائي غير معمولي پيشين گوئي هے۔ اس عالم اسباب ميں اس پيشين گوئي كے پورا هونے كے ليے ضروري هے كه قرآن كي حامل ايك طاقتور قوم مستقل طورپر موجود رهے۔ پچھلے نبيوں كي تعليمات سے اس كي عدم مطابقت ظاهر نه هوسكے۔ كوئي شخص كبھي قرآن كا جواب لكھنے پر قادر نه هو۔ علوم كا ارتقا اس كي كسي بات كو كبھي غلط ثابت نه كرے۔ تاريخ كا اتار چڑھاؤ كبھي اس پر اثرانداز نه هونے پائے۔ قرآن كي زبان (عربي) هميشه ايك زنده زبان كے طورپر باقي رهے۔
قرآن كے نزول كے بعد كي لمبي تاريخ بتاتي هے كه يه تمام اسباب حيرت انگيز طور پر اس كے حق ميں جمع رهے هيں۔ ان تمام واقعات كي يكجائي اس قدر غير معمولي هے كه قرآن كے سوا كوئي بھي دوسري كتاب نهيں جس كے حق ميں وه ڈيڑھ هزار برس كي مدت تك مسلسل جمع رهے هوں۔ يهي اس بات كي كافي دليل هے كه قرآن خدا كي كتاب هے۔
قرآن كي عظمت كو دليل كي سطح پر پانا مطلوب هے،نه كه طاقت كي سطح پر۔ طاقت كي سطح پر اس كي عظمت قيامت ميں ظاهر هوگي۔ مگر يه ظهور صرف اس ليے هوگا كه جن لوگوں نے دليل كي سطح پر خدا كي سچائي كو نهيں مانا تھا انھيں ذليل كركے خدا كي سچائي كو ماننے پر مجبور كيا جائے۔
فصلت 41:42
قرآن ايك زبردست كتاب هے اور اس كے زبردست هونے كا ثبوت يه هے كه باطل نه آگے سے اس ميں آسكتا هے اور نه پيچھے سے۔ يعني اس ميں كسي طرف سے دخل اندازي كا كوئي امكان نهيں، نه براهِ راست اس ميں كوئي بگاڑ پيدا كيا جاسكتا هے اور نه بالواسطه۔
يه ايك انتهائي غير معمولي پيشين گوئي هے۔ اس عالم اسباب ميں اس پيشين گوئي كے پورا هونے كے ليے ضروري هے كه قرآن كي حامل ايك طاقتور قوم مستقل طورپر موجود رهے۔ پچھلے نبيوں كي تعليمات سے اس كي عدم مطابقت ظاهر نه هوسكے۔ كوئي شخص كبھي قرآن كا جواب لكھنے پر قادر نه هو۔ علوم كا ارتقا اس كي كسي بات كو كبھي غلط ثابت نه كرے۔ تاريخ كا اتار چڑھاؤ كبھي اس پر اثرانداز نه هونے پائے۔ قرآن كي زبان (عربي) هميشه ايك زنده زبان كے طورپر باقي رهے۔
قرآن كے نزول كے بعد كي لمبي تاريخ بتاتي هے كه يه تمام اسباب حيرت انگيز طور پر اس كے حق ميں جمع رهے هيں۔ ان تمام واقعات كي يكجائي اس قدر غير معمولي هے كه قرآن كے سوا كوئي بھي دوسري كتاب نهيں جس كے حق ميں وه ڈيڑھ هزار برس كي مدت تك مسلسل جمع رهے هوں۔ يهي اس بات كي كافي دليل هے كه قرآن خدا كي كتاب هے۔
قرآن كي عظمت كو دليل كي سطح پر پانا مطلوب هے،نه كه طاقت كي سطح پر۔ طاقت كي سطح پر اس كي عظمت قيامت ميں ظاهر هوگي۔ مگر يه ظهور صرف اس ليے هوگا كه جن لوگوں نے دليل كي سطح پر خدا كي سچائي كو نهيں مانا تھا انھيں ذليل كركے خدا كي سچائي كو ماننے پر مجبور كيا جائے۔
فصلت 41:43
قرآن ايك زبردست كتاب هے اور اس كے زبردست هونے كا ثبوت يه هے كه باطل نه آگے سے اس ميں آسكتا هے اور نه پيچھے سے۔ يعني اس ميں كسي طرف سے دخل اندازي كا كوئي امكان نهيں، نه براهِ راست اس ميں كوئي بگاڑ پيدا كيا جاسكتا هے اور نه بالواسطه۔
يه ايك انتهائي غير معمولي پيشين گوئي هے۔ اس عالم اسباب ميں اس پيشين گوئي كے پورا هونے كے ليے ضروري هے كه قرآن كي حامل ايك طاقتور قوم مستقل طورپر موجود رهے۔ پچھلے نبيوں كي تعليمات سے اس كي عدم مطابقت ظاهر نه هوسكے۔ كوئي شخص كبھي قرآن كا جواب لكھنے پر قادر نه هو۔ علوم كا ارتقا اس كي كسي بات كو كبھي غلط ثابت نه كرے۔ تاريخ كا اتار چڑھاؤ كبھي اس پر اثرانداز نه هونے پائے۔ قرآن كي زبان (عربي) هميشه ايك زنده زبان كے طورپر باقي رهے۔
قرآن كے نزول كے بعد كي لمبي تاريخ بتاتي هے كه يه تمام اسباب حيرت انگيز طور پر اس كے حق ميں جمع رهے هيں۔ ان تمام واقعات كي يكجائي اس قدر غير معمولي هے كه قرآن كے سوا كوئي بھي دوسري كتاب نهيں جس كے حق ميں وه ڈيڑھ هزار برس كي مدت تك مسلسل جمع رهے هوں۔ يهي اس بات كي كافي دليل هے كه قرآن خدا كي كتاب هے۔
قرآن كي عظمت كو دليل كي سطح پر پانا مطلوب هے،نه كه طاقت كي سطح پر۔ طاقت كي سطح پر اس كي عظمت قيامت ميں ظاهر هوگي۔ مگر يه ظهور صرف اس ليے هوگا كه جن لوگوں نے دليل كي سطح پر خدا كي سچائي كو نهيں مانا تھا انھيں ذليل كركے خدا كي سچائي كو ماننے پر مجبور كيا جائے۔
فصلت 41:44
قرآن عربي زبان ميں اتراتو مخالفين نےكها يه تو محمد كي اپني مادري زبان هے، عربي ميں كوئي كتاب بنا كر پيش كردينا ان كے ليے كيا مشكل هے۔ اگر وه واقعي پيغمبر هوتے تو خدا كي مدد سے وه اچانك كسي اجنبي زبان ميں كلام كرنے لگتے۔
اس طرح كي بات هميشه غير سنجيده لوگ كرتے هيں۔ اور جو لوگ غير سنجيده هوں ان كي زبان كبھي بند نهيں كي جاسكتي۔ مثلاً اگر ايسا هو كه پيغمبر آكر عرب كے لوگوں سے يوناني يا سُرياني يا فارسي زبان ميں كلام كرنے لگے تو اس وقت لوگوں كو كهنے کے ليے يه الفاظ مل جائيں گے— كيسا عجيب هے يه پيغمبر۔ اس كا كهنا هے كه وه لوگوں كي هدايت كے ليے آيا هے۔ مگر وه ايسي زبان ميں بولتا هے جس كو اس كے مخاطبين سمجھ هي نه سكتے هوں۔
حقيقت يه هے كه حق كو صرف وه لوگ قبول كرپاتے هيں جو حق كے معامله ميں سنجيده هوں۔ جو لوگ حق كے معامله ميں سنجيده نه هوں وه واضح ترين بات كو بھي سمجھ نهيں سكتے۔ ان كي مثال ايسي هي هے جيسے كسي كو بهت دور سے پكار اجائے۔ ايسا شخص كچھ آواز تو سنے گا مگر وه اصل بات كو سمجھنے سے محروم رهے گا۔
فصلت 41:45
پچھلے پيغمبروں كے ذريعه جب خدائي سچائي منكشف كي گئي تو كچھ لوگوں نے اس کو مانا اور کچھ لوگوں نے نهيں مانا۔ يهي معامله اس وقت بھي پيش آيا جب كه پيغمبر آخر الزماں كي بعثت هوئي۔
خدائي سچائي كے ساتھ يه اختلافي معامله انسان كيوں كرتا هے۔ اس كي وجه موجوده امتحاني حالت هے۔ موجوده امتحان كي دنيا ميں سچائي جب بھي ظاهر هوتي هے تو اس كے ساتھ ايك پرده بھي لگا رهتا هے۔ لوگ اسي پرده ميں اٹك كر ره جاتے هيں۔ جس پرده كو انھيں پھاڑناتھا اس كو وه اپنے ليے شك و شبه كا سبب بنا ليتے هيں۔
مگر يه شك قيامت ميں كسي كے لیے عذر نهيں بن سكتا۔ كيونكه يه صرف اس بات كا ثبوت هے كه انسان حق كے معامله ميں سنجيده نهيں تھا۔ انسان اپنے دنيا كے مفاد كے معامله ميں پوري طرح سنجيده هوتا هے۔ اس ليے وه تمام پردوں كو پھاڑ كر اس كي حقيقت تك پهنچ جاتا هے۔ اسي طرح اگر وه اپنے آخرت كے مفاد كے بارے ميں سنجيده هوجائے تو وه شك كے تمام پردوں كو پھاڑ كر حقيقت كو اس كي بے نقاب صورت ميں ديكھ لے۔
فصلت 41:46
پچھلے پيغمبروں كے ذريعه جب خدائي سچائي منكشف كي گئي تو كچھ لوگوں نے اس کو مانا اور کچھ لوگوں نے نهيں مانا۔ يهي معامله اس وقت بھي پيش آيا جب كه پيغمبر آخر الزماں كي بعثت هوئي۔
خدائي سچائي كے ساتھ يه اختلافي معامله انسان كيوں كرتا هے۔ اس كي وجه موجوده امتحاني حالت هے۔ موجوده امتحان كي دنيا ميں سچائي جب بھي ظاهر هوتي هے تو اس كے ساتھ ايك پرده بھي لگا رهتا هے۔ لوگ اسي پرده ميں اٹك كر ره جاتے هيں۔ جس پرده كو انھيں پھاڑناتھا اس كو وه اپنے ليے شك و شبه كا سبب بنا ليتے هيں۔
مگر يه شك قيامت ميں كسي كے لیے عذر نهيں بن سكتا۔ كيونكه يه صرف اس بات كا ثبوت هے كه انسان حق كے معامله ميں سنجيده نهيں تھا۔ انسان اپنے دنيا كے مفاد كے معامله ميں پوري طرح سنجيده هوتا هے۔ اس ليے وه تمام پردوں كو پھاڑ كر اس كي حقيقت تك پهنچ جاتا هے۔ اسي طرح اگر وه اپنے آخرت كے مفاد كے بارے ميں سنجيده هوجائے تو وه شك كے تمام پردوں كو پھاڑ كر حقيقت كو اس كي بے نقاب صورت ميں ديكھ لے۔
فصلت 41:47
درخت سے ايك پھل كا نكلنا يا ماں كے پيٹ سے ايك زنده وجود كا پيدا هونا اپني نوعيت كے اعتبار سے ويسا هي واقعه هے جيسا موجوده دنيا كے اندر سے آخرت كي دنيا كا برآمد هونا۔
پھل كيا هے، وه بے پھل كا پھل ميں تبديل هونا هے۔ انسان كيا هے، وه بے انسان كا انسان كي صورت اختيار كرنا هے۔ يهي آخرت كا معامله بھي هے۔ آخرت بھي دراصل غير آخرت كا آخرت ميں تبديل هونے كا دوسرا نام هے۔ پهلي قسم كي تبديلي هر روز همارے سامنے واقعه بن رهي هے۔ پھر اسي نوعيت كے ايك اور واقعه (موجوده دنيا كا آخرت ميں تبديل هونا) ناقابل قياس كيوں هو۔
آخرت كا دن حقيقتوں كے آخري ظهور كا دن هوگا۔ جب وه دن آئے گا تو تمام جھوٹي بنياديں ڈھ پڑيں گي جن پر لوگوں نے موجوده دنيا ميں اپني زندگيوں كو كھڑا كرركھا تھا۔
فصلت 41:48
درخت سے ايك پھل كا نكلنا يا ماں كے پيٹ سے ايك زنده وجود كا پيدا هونا اپني نوعيت كے اعتبار سے ويسا هي واقعه هے جيسا موجوده دنيا كے اندر سے آخرت كي دنيا كا برآمد هونا۔
پھل كيا هے، وه بے پھل كا پھل ميں تبديل هونا هے۔ انسان كيا هے، وه بے انسان كا انسان كي صورت اختيار كرنا هے۔ يهي آخرت كا معامله بھي هے۔ آخرت بھي دراصل غير آخرت كا آخرت ميں تبديل هونے كا دوسرا نام هے۔ پهلي قسم كي تبديلي هر روز همارے سامنے واقعه بن رهي هے۔ پھر اسي نوعيت كے ايك اور واقعه (موجوده دنيا كا آخرت ميں تبديل هونا) ناقابل قياس كيوں هو۔
آخرت كا دن حقيقتوں كے آخري ظهور كا دن هوگا۔ جب وه دن آئے گا تو تمام جھوٹي بنياديں ڈھ پڑيں گي جن پر لوگوں نے موجوده دنيا ميں اپني زندگيوں كو كھڑا كرركھا تھا۔
فصلت 41:49
مصيبت كا لمحه انسان كے ليے اپني دريافت كا لمحه هوتا هے۔ چنانچه جب مصيبت پڑتي هے تو وه خودسري كو بھول كر خدا كو ياد كرنے لگتا هے۔ اس وقت وه جان ليتا هے كه وه عبد هے اور خدا اس كا معبود۔
مگر جب خدا اس كي مصيبت كو اس سے دور كرديتا هے اور اس كو آسائش كا سامان عطا كرتا هےتو اس كے بعد وه فوراً اپني سابقه حالت كو بھول جاتا هے۔ وه ملي هوئي نعمت كو اسباب كے ساتھ جوڑ ديتاهے اور اِس كو اپني تدبير اور لياقت كا نتيجه سمجھنے لگتا هے۔ اس كي نفسيات ايسي هوجاتي هے گويا كه زندگي بس اسي دنيا كي زندگي هے۔ اس كے بعد نه دوباره اٹھنا هے اور نه خدا كي عدالت ميں كھڑا هونا هے۔ مزيد يه كه اس كي آسوده حالي اس كو اس غلط فهمي ميں ڈال ديتي هے كه يهاں جب ميرا حال اچھا هے تو اگلي دنيا ميں بھي ضرورميرا حال اچھا هوگا۔
فصلت 41:50
مصيبت كا لمحه انسان كے ليے اپني دريافت كا لمحه هوتا هے۔ چنانچه جب مصيبت پڑتي هے تو وه خودسري كو بھول كر خدا كو ياد كرنے لگتا هے۔ اس وقت وه جان ليتا هے كه وه عبد هے اور خدا اس كا معبود۔
مگر جب خدا اس كي مصيبت كو اس سے دور كرديتا هے اور اس كو آسائش كا سامان عطا كرتا هےتو اس كے بعد وه فوراً اپني سابقه حالت كو بھول جاتا هے۔ وه ملي هوئي نعمت كو اسباب كے ساتھ جوڑ ديتاهے اور اِس كو اپني تدبير اور لياقت كا نتيجه سمجھنے لگتا هے۔ اس كي نفسيات ايسي هوجاتي هے گويا كه زندگي بس اسي دنيا كي زندگي هے۔ اس كے بعد نه دوباره اٹھنا هے اور نه خدا كي عدالت ميں كھڑا هونا هے۔ مزيد يه كه اس كي آسوده حالي اس كو اس غلط فهمي ميں ڈال ديتي هے كه يهاں جب ميرا حال اچھا هے تو اگلي دنيا ميں بھي ضرورميرا حال اچھا هوگا۔
فصلت 41:51
انسان كو نعمت اس ليے دي جاتي هے كه وه اس كو خدا كا عطيه قرار دے كر اس كا شكر ادا كرے۔ مگر انسان کا حال يه هے كه وه نعمت پاكر سركش بن جاتا هے۔ البته جب انسان پر كوئي تكليف پڑتي هے تو اس وقت وه خدا كو پكارنے لگتا هے۔ مگر مجبورانه پكار كي خدا كے يهاں كوئي قيمت نهيں۔ انسان كي خوبي يه هے كه وه نعمت كے وقت بھي خدا كے آگے جھكے اور تكليف كے وقت بھي۔
انسان كي يهي نفسيات هے جو اس كو حق كے انكار پر آماده كرتي هے۔ حق كسي كو مجبور نهيں كرتا، وه اختيارانه جھكاؤ كا طالب هوتا هے۔ چنانچه جن لوگوں كے اندر اختيارانه جھكاؤ كا ماده نهيں هوتا وه ايسے حق كو نظر انداز كرديتے هيں جس كو نظر انداز كردينے سے بظاهر ان كے اوپر كوئي آفت ٹوٹ پڑنے والي نه هو۔
فصلت 41:52
انسان كو نعمت اس ليے دي جاتي هے كه وه اس كو خدا كا عطيه قرار دے كر اس كا شكر ادا كرے۔ مگر انسان کا حال يه هے كه وه نعمت پاكر سركش بن جاتا هے۔ البته جب انسان پر كوئي تكليف پڑتي هے تو اس وقت وه خدا كو پكارنے لگتا هے۔ مگر مجبورانه پكار كي خدا كے يهاں كوئي قيمت نهيں۔ انسان كي خوبي يه هے كه وه نعمت كے وقت بھي خدا كے آگے جھكے اور تكليف كے وقت بھي۔
انسان كي يهي نفسيات هے جو اس كو حق كے انكار پر آماده كرتي هے۔ حق كسي كو مجبور نهيں كرتا، وه اختيارانه جھكاؤ كا طالب هوتا هے۔ چنانچه جن لوگوں كے اندر اختيارانه جھكاؤ كا ماده نهيں هوتا وه ايسے حق كو نظر انداز كرديتے هيں جس كو نظر انداز كردينے سے بظاهر ان كے اوپر كوئي آفت ٹوٹ پڑنے والي نه هو۔
فصلت 41:53
دنيا ميں جتنے لوگ بھي اٹھے هيں سب كي كهاني حال كي كهاني هے، كسي كي كهاني مستقبل كي كهاني نهيں۔ كيونكه كسي كا مستقبل بھي اس كے حال كي تصديق كرنے والا نه بن سكا۔ ايسي دنيا ميں ڈيڑھ هزار سال پهلے يه پيشين گوئي كي گئي كه قرآن كے بعد ظاهر هونے والے واقعات وحقائق قرآن كي تصديق كرتے چلے جائيں گے۔ قرآن آئنده آنے والے تمام زمانوں ميں اپني صداقت كو نه صرف باقي ركھے گا بلكه مزيد واضح اور مدلل كرتا چلا جائے گا۔ قرآن هميشه وقت كي كتاب رهے گا۔
يه بات حيرت انگيز طورپر صد في صد درست ثابت هوئي هے۔ علمي تحقيقات، تاريخي واقعات، زماني انقلابات سب قرآن كے حق ميں جمع هوتے چلے گئے۔ حتي كه آج غير مسلم محققين بھي گواهي دے رهے هيں كه قرآن اپني نادر خصوصيات كي بنا پر خود اس بات كا ثبوت هے كه وه خدا كي كتاب هے۔ كسي انساني تصنيف ميں ايسي ابدي خصوصيات پائي نهيں جاسكتيں۔تفصيل كے ليے ديكھيے ’’عظمتِ قرآن‘‘۔
اس كھلي هوئي حقيقت كے باوجود جو لوگ قرآن كي صداقت كے آگے نه جھكيں وه صرف يه ثابت كررهے هيں كه ان كي بے خوفي كي نفسيات نے ان كو غير سنجيده بنا ديا هے۔ كيوں كه غير سنجيده انسان هي سے اس قسم كي غير معقول روش ظاهر هوسكتي هے كه وه كھلے كھلے شواهد كو ديكھے اور اس كے باوجود اس كا اقرار نه كرے۔
فصلت 41:54
دنيا ميں جتنے لوگ بھي اٹھے هيں سب كي كهاني حال كي كهاني هے، كسي كي كهاني مستقبل كي كهاني نهيں۔ كيونكه كسي كا مستقبل بھي اس كے حال كي تصديق كرنے والا نه بن سكا۔ ايسي دنيا ميں ڈيڑھ هزار سال پهلے يه پيشين گوئي كي گئي كه قرآن كے بعد ظاهر هونے والے واقعات وحقائق قرآن كي تصديق كرتے چلے جائيں گے۔ قرآن آئنده آنے والے تمام زمانوں ميں اپني صداقت كو نه صرف باقي ركھے گا بلكه مزيد واضح اور مدلل كرتا چلا جائے گا۔ قرآن هميشه وقت كي كتاب رهے گا۔
يه بات حيرت انگيز طورپر صد في صد درست ثابت هوئي هے۔ علمي تحقيقات، تاريخي واقعات، زماني انقلابات سب قرآن كے حق ميں جمع هوتے چلے گئے۔ حتي كه آج غير مسلم محققين بھي گواهي دے رهے هيں كه قرآن اپني نادر خصوصيات كي بنا پر خود اس بات كا ثبوت هے كه وه خدا كي كتاب هے۔ كسي انساني تصنيف ميں ايسي ابدي خصوصيات پائي نهيں جاسكتيں۔تفصيل كے ليے ديكھيے ’’عظمتِ قرآن‘‘۔
اس كھلي هوئي حقيقت كے باوجود جو لوگ قرآن كي صداقت كے آگے نه جھكيں وه صرف يه ثابت كررهے هيں كه ان كي بے خوفي كي نفسيات نے ان كو غير سنجيده بنا ديا هے۔ كيوں كه غير سنجيده انسان هي سے اس قسم كي غير معقول روش ظاهر هوسكتي هے كه وه كھلے كھلے شواهد كو ديكھے اور اس كے باوجود اس كا اقرار نه كرے۔