Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) — الشورى 42:1 – الأحقاف 46:35
Contents
- الشورى 42:1
- الشورى 42:2
- الشورى 42:3
- الشورى 42:4
- الشورى 42:5
- الشورى 42:6
- الشورى 42:7
- الشورى 42:8
- الشورى 42:9
- الشورى 42:10
- الشورى 42:11
- الشورى 42:12
- الشورى 42:13
- الشورى 42:14
- الشورى 42:15
- الشورى 42:16
- الشورى 42:17
- الشورى 42:18
- الشورى 42:19
- الشورى 42:20
- الشورى 42:21
- الشورى 42:22
- الشورى 42:23
- الشورى 42:24
- الشورى 42:25
- الشورى 42:26
- الشورى 42:27
- الشورى 42:28
- الشورى 42:29
- الشورى 42:30
- الشورى 42:31
- الشورى 42:32
- الشورى 42:33
- الشورى 42:34
- الشورى 42:35
- الشورى 42:36
- الشورى 42:37
- الشورى 42:38
- الشورى 42:39
- الشورى 42:40
- الشورى 42:41
- الشورى 42:42
- الشورى 42:43
- الشورى 42:44
- الشورى 42:45
- الشورى 42:46
- الشورى 42:47
- الشورى 42:48
- الشورى 42:49
- الشورى 42:50
- الشورى 42:51
- الشورى 42:52
- الشورى 42:53
- الزخرف 43:1
- الزخرف 43:2
- الزخرف 43:3
- الزخرف 43:4
- الزخرف 43:5
- الزخرف 43:6
- الزخرف 43:7
- الزخرف 43:8
- الزخرف 43:9
- الزخرف 43:10
- الزخرف 43:11
- الزخرف 43:12
- الزخرف 43:13
- الزخرف 43:14
- الزخرف 43:15
- الزخرف 43:16
- الزخرف 43:17
- الزخرف 43:18
- الزخرف 43:19
- الزخرف 43:20
- الزخرف 43:21
- الزخرف 43:22
- الزخرف 43:23
- الزخرف 43:24
- الزخرف 43:25
- الزخرف 43:26
- الزخرف 43:27
- الزخرف 43:28
- الزخرف 43:29
- الزخرف 43:30
- الزخرف 43:31
- الزخرف 43:32
- الزخرف 43:33
- الزخرف 43:34
- الزخرف 43:35
- الزخرف 43:36
- الزخرف 43:37
- الزخرف 43:38
- الزخرف 43:39
- الزخرف 43:40
- الزخرف 43:41
- الزخرف 43:42
- الزخرف 43:43
- الزخرف 43:44
- الزخرف 43:45
- الزخرف 43:46
- الزخرف 43:47
- الزخرف 43:48
- الزخرف 43:49
- الزخرف 43:50
- الزخرف 43:51
- الزخرف 43:52
- الزخرف 43:53
- الزخرف 43:54
- الزخرف 43:55
- الزخرف 43:56
- الزخرف 43:57
- الزخرف 43:58
- الزخرف 43:59
- الزخرف 43:60
- الزخرف 43:61
- الزخرف 43:62
- الزخرف 43:63
- الزخرف 43:64
- الزخرف 43:65
- الزخرف 43:66
- الزخرف 43:67
- الزخرف 43:68
- الزخرف 43:69
- الزخرف 43:70
- الزخرف 43:71
- الزخرف 43:72
- الزخرف 43:73
- الزخرف 43:74
- الزخرف 43:75
- الزخرف 43:76
- الزخرف 43:77
- الزخرف 43:78
- الزخرف 43:79
- الزخرف 43:80
- الزخرف 43:81
- الزخرف 43:82
- الزخرف 43:83
- الزخرف 43:84
- الزخرف 43:85
- الزخرف 43:86
- الزخرف 43:87
- الزخرف 43:88
- الزخرف 43:89
- الدخان 44:1
- الدخان 44:2
- الدخان 44:3
- الدخان 44:4
- الدخان 44:5
- الدخان 44:6
- الدخان 44:7
- الدخان 44:8
- الدخان 44:9
- الدخان 44:10
- الدخان 44:11
- الدخان 44:12
- الدخان 44:13
- الدخان 44:14
- الدخان 44:15
- الدخان 44:16
- الدخان 44:17
- الدخان 44:18
- الدخان 44:19
- الدخان 44:20
- الدخان 44:21
- الدخان 44:22
- الدخان 44:23
- الدخان 44:24
- الدخان 44:25
- الدخان 44:26
- الدخان 44:27
- الدخان 44:28
- الدخان 44:29
- الدخان 44:30
- الدخان 44:31
- الدخان 44:32
- الدخان 44:33
- الدخان 44:34
- الدخان 44:35
- الدخان 44:36
- الدخان 44:37
- الدخان 44:38
- الدخان 44:39
- الدخان 44:40
- الدخان 44:41
- الدخان 44:42
- الدخان 44:43
- الدخان 44:44
- الدخان 44:45
- الدخان 44:46
- الدخان 44:47
- الدخان 44:48
- الدخان 44:49
- الدخان 44:50
- الدخان 44:51
- الدخان 44:52
- الدخان 44:53
- الدخان 44:54
- الدخان 44:55
- الدخان 44:56
- الدخان 44:57
- الدخان 44:58
- الدخان 44:59
- الجاثية 45:1
- الجاثية 45:2
- الجاثية 45:3
- الجاثية 45:4
- الجاثية 45:5
- الجاثية 45:6
- الجاثية 45:7
- الجاثية 45:8
- الجاثية 45:9
- الجاثية 45:10
- الجاثية 45:11
- الجاثية 45:12
- الجاثية 45:13
- الجاثية 45:14
- الجاثية 45:15
- الجاثية 45:16
- الجاثية 45:17
- الجاثية 45:18
- الجاثية 45:19
- الجاثية 45:20
- الجاثية 45:21
- الجاثية 45:22
- الجاثية 45:23
- الجاثية 45:24
- الجاثية 45:25
- الجاثية 45:26
- الجاثية 45:27
- الجاثية 45:28
- الجاثية 45:29
- الجاثية 45:30
- الجاثية 45:31
- الجاثية 45:32
- الجاثية 45:33
- الجاثية 45:34
- الجاثية 45:35
- الجاثية 45:36
- الجاثية 45:37
- الأحقاف 46:1
- الأحقاف 46:2
- الأحقاف 46:3
- الأحقاف 46:4
- الأحقاف 46:5
- الأحقاف 46:6
- الأحقاف 46:7
- الأحقاف 46:8
- الأحقاف 46:9
- الأحقاف 46:10
- الأحقاف 46:11
- الأحقاف 46:12
- الأحقاف 46:13
- الأحقاف 46:14
- الأحقاف 46:15
- الأحقاف 46:16
- الأحقاف 46:17
- الأحقاف 46:18
- الأحقاف 46:19
- الأحقاف 46:20
- الأحقاف 46:21
- الأحقاف 46:22
- الأحقاف 46:23
- الأحقاف 46:24
- الأحقاف 46:25
- الأحقاف 46:26
- الأحقاف 46:27
- الأحقاف 46:28
- الأحقاف 46:29
- الأحقاف 46:30
- الأحقاف 46:31
- الأحقاف 46:32
- الأحقاف 46:33
- الأحقاف 46:34
- الأحقاف 46:35
الشورى 42:1
اگر آدمي كو لامحدود نگاه حاصل هوجائے تو وه ديكھے گا كه يهاں ايك خدا هے جو سارے زمين وآسمان كا مالك هے۔ اس كي طاقت اتني زبردست هے كه كائنات اس كي هيبت سے گويا پھٹي جارهي هے۔ فرشتے جو براهِ راست خدا كي خدائي سے باخبر هيں وه هر آن خشيت ميں ڈوبے هوئے اس كي حمد وتسبيح كررهے هيں۔ پھر وه ديكھے گا كه خدا اپني قدرت خاص سے انسانوں ميں سے بعض افراد كو چنتا هے اور انھيں بالواسطه انداز ميں اپنا كلام پهنچاتا هے تاكه وه تمام انسانوں كو حقيقتِ واقعه سے باخبر كرديں۔انسان اگرچه ان حقيقتوں كو براهِ راست طورپر نهيں ديكھتا مگر وه عقل كے ذريعه بالواسطه طور پر ان كا ادراك كرسكتا هے۔ يهي آدمي كا اصل امتحان هے ۔ انسان كي يه ذمه داري هے كه وه بصارت سے دكھائي نه دينے والي چيزوں كو بصيرت كي نظر سے ديكھے۔ وه پيغمبروں كے كلام ميں خدا كي آواز سنے اور اس كے آگے اپنے آپ كو جھكا دے ۔ وه ديكھے بغير اس طرح مان لے گويا كه وه اپني آنكھوں سے سب كچھ ديكھ رها هے۔
قيامت كے دن كسي كے لیے يه بات عذر نه بن سكے گي كه اس نے حقيقت كو براهِ راست نه ديكھا تھا۔ كيوں كه موجوده امتحان كي دنيا ميں حقيقت كو براهِ راست دكھانا مطلوب هي نهيں۔ اگراصل پيغام كسي شخص تك پوري طرح پهنچ جائے تو اس كے بعد خدا كے نزديك اس پر حجت قائم هوجاتي هے۔ حقيقت كا دليل كي زبان ميں ظاهر هوجانا هي كافي هےكہ اس كو انكار حق كا مجرم قرار دے كر وه سزا دي جائے جو منكرينِ حق كے لیے مقدر هے۔
الشورى 42:2
اگر آدمي كو لامحدود نگاه حاصل هوجائے تو وه ديكھے گا كه يهاں ايك خدا هے جو سارے زمين وآسمان كا مالك هے۔ اس كي طاقت اتني زبردست هے كه كائنات اس كي هيبت سے گويا پھٹي جارهي هے۔ فرشتے جو براهِ راست خدا كي خدائي سے باخبر هيں وه هر آن خشيت ميں ڈوبے هوئے اس كي حمد وتسبيح كررهے هيں۔ پھر وه ديكھے گا كه خدا اپني قدرت خاص سے انسانوں ميں سے بعض افراد كو چنتا هے اور انھيں بالواسطه انداز ميں اپنا كلام پهنچاتا هے تاكه وه تمام انسانوں كو حقيقتِ واقعه سے باخبر كرديں۔انسان اگرچه ان حقيقتوں كو براهِ راست طورپر نهيں ديكھتا مگر وه عقل كے ذريعه بالواسطه طور پر ان كا ادراك كرسكتا هے۔ يهي آدمي كا اصل امتحان هے ۔ انسان كي يه ذمه داري هے كه وه بصارت سے دكھائي نه دينے والي چيزوں كو بصيرت كي نظر سے ديكھے۔ وه پيغمبروں كے كلام ميں خدا كي آواز سنے اور اس كے آگے اپنے آپ كو جھكا دے ۔ وه ديكھے بغير اس طرح مان لے گويا كه وه اپني آنكھوں سے سب كچھ ديكھ رها هے۔
قيامت كے دن كسي كے لیے يه بات عذر نه بن سكے گي كه اس نے حقيقت كو براهِ راست نه ديكھا تھا۔ كيوں كه موجوده امتحان كي دنيا ميں حقيقت كو براهِ راست دكھانا مطلوب هي نهيں۔ اگراصل پيغام كسي شخص تك پوري طرح پهنچ جائے تو اس كے بعد خدا كے نزديك اس پر حجت قائم هوجاتي هے۔ حقيقت كا دليل كي زبان ميں ظاهر هوجانا هي كافي هےكہ اس كو انكار حق كا مجرم قرار دے كر وه سزا دي جائے جو منكرينِ حق كے لیے مقدر هے۔
الشورى 42:3
اگر آدمي كو لامحدود نگاه حاصل هوجائے تو وه ديكھے گا كه يهاں ايك خدا هے جو سارے زمين وآسمان كا مالك هے۔ اس كي طاقت اتني زبردست هے كه كائنات اس كي هيبت سے گويا پھٹي جارهي هے۔ فرشتے جو براهِ راست خدا كي خدائي سے باخبر هيں وه هر آن خشيت ميں ڈوبے هوئے اس كي حمد وتسبيح كررهے هيں۔ پھر وه ديكھے گا كه خدا اپني قدرت خاص سے انسانوں ميں سے بعض افراد كو چنتا هے اور انھيں بالواسطه انداز ميں اپنا كلام پهنچاتا هے تاكه وه تمام انسانوں كو حقيقتِ واقعه سے باخبر كرديں۔انسان اگرچه ان حقيقتوں كو براهِ راست طورپر نهيں ديكھتا مگر وه عقل كے ذريعه بالواسطه طور پر ان كا ادراك كرسكتا هے۔ يهي آدمي كا اصل امتحان هے ۔ انسان كي يه ذمه داري هے كه وه بصارت سے دكھائي نه دينے والي چيزوں كو بصيرت كي نظر سے ديكھے۔ وه پيغمبروں كے كلام ميں خدا كي آواز سنے اور اس كے آگے اپنے آپ كو جھكا دے ۔ وه ديكھے بغير اس طرح مان لے گويا كه وه اپني آنكھوں سے سب كچھ ديكھ رها هے۔
قيامت كے دن كسي كے لیے يه بات عذر نه بن سكے گي كه اس نے حقيقت كو براهِ راست نه ديكھا تھا۔ كيوں كه موجوده امتحان كي دنيا ميں حقيقت كو براهِ راست دكھانا مطلوب هي نهيں۔ اگراصل پيغام كسي شخص تك پوري طرح پهنچ جائے تو اس كے بعد خدا كے نزديك اس پر حجت قائم هوجاتي هے۔ حقيقت كا دليل كي زبان ميں ظاهر هوجانا هي كافي هےكہ اس كو انكار حق كا مجرم قرار دے كر وه سزا دي جائے جو منكرينِ حق كے لیے مقدر هے۔
الشورى 42:4
اگر آدمي كو لامحدود نگاه حاصل هوجائے تو وه ديكھے گا كه يهاں ايك خدا هے جو سارے زمين وآسمان كا مالك هے۔ اس كي طاقت اتني زبردست هے كه كائنات اس كي هيبت سے گويا پھٹي جارهي هے۔ فرشتے جو براهِ راست خدا كي خدائي سے باخبر هيں وه هر آن خشيت ميں ڈوبے هوئے اس كي حمد وتسبيح كررهے هيں۔ پھر وه ديكھے گا كه خدا اپني قدرت خاص سے انسانوں ميں سے بعض افراد كو چنتا هے اور انھيں بالواسطه انداز ميں اپنا كلام پهنچاتا هے تاكه وه تمام انسانوں كو حقيقتِ واقعه سے باخبر كرديں۔انسان اگرچه ان حقيقتوں كو براهِ راست طورپر نهيں ديكھتا مگر وه عقل كے ذريعه بالواسطه طور پر ان كا ادراك كرسكتا هے۔ يهي آدمي كا اصل امتحان هے ۔ انسان كي يه ذمه داري هے كه وه بصارت سے دكھائي نه دينے والي چيزوں كو بصيرت كي نظر سے ديكھے۔ وه پيغمبروں كے كلام ميں خدا كي آواز سنے اور اس كے آگے اپنے آپ كو جھكا دے ۔ وه ديكھے بغير اس طرح مان لے گويا كه وه اپني آنكھوں سے سب كچھ ديكھ رها هے۔
قيامت كے دن كسي كے لیے يه بات عذر نه بن سكے گي كه اس نے حقيقت كو براهِ راست نه ديكھا تھا۔ كيوں كه موجوده امتحان كي دنيا ميں حقيقت كو براهِ راست دكھانا مطلوب هي نهيں۔ اگراصل پيغام كسي شخص تك پوري طرح پهنچ جائے تو اس كے بعد خدا كے نزديك اس پر حجت قائم هوجاتي هے۔ حقيقت كا دليل كي زبان ميں ظاهر هوجانا هي كافي هےكہ اس كو انكار حق كا مجرم قرار دے كر وه سزا دي جائے جو منكرينِ حق كے لیے مقدر هے۔
الشورى 42:5
اگر آدمي كو لامحدود نگاه حاصل هوجائے تو وه ديكھے گا كه يهاں ايك خدا هے جو سارے زمين وآسمان كا مالك هے۔ اس كي طاقت اتني زبردست هے كه كائنات اس كي هيبت سے گويا پھٹي جارهي هے۔ فرشتے جو براهِ راست خدا كي خدائي سے باخبر هيں وه هر آن خشيت ميں ڈوبے هوئے اس كي حمد وتسبيح كررهے هيں۔ پھر وه ديكھے گا كه خدا اپني قدرت خاص سے انسانوں ميں سے بعض افراد كو چنتا هے اور انھيں بالواسطه انداز ميں اپنا كلام پهنچاتا هے تاكه وه تمام انسانوں كو حقيقتِ واقعه سے باخبر كرديں۔انسان اگرچه ان حقيقتوں كو براهِ راست طورپر نهيں ديكھتا مگر وه عقل كے ذريعه بالواسطه طور پر ان كا ادراك كرسكتا هے۔ يهي آدمي كا اصل امتحان هے ۔ انسان كي يه ذمه داري هے كه وه بصارت سے دكھائي نه دينے والي چيزوں كو بصيرت كي نظر سے ديكھے۔ وه پيغمبروں كے كلام ميں خدا كي آواز سنے اور اس كے آگے اپنے آپ كو جھكا دے ۔ وه ديكھے بغير اس طرح مان لے گويا كه وه اپني آنكھوں سے سب كچھ ديكھ رها هے۔
قيامت كے دن كسي كے لیے يه بات عذر نه بن سكے گي كه اس نے حقيقت كو براهِ راست نه ديكھا تھا۔ كيوں كه موجوده امتحان كي دنيا ميں حقيقت كو براهِ راست دكھانا مطلوب هي نهيں۔ اگراصل پيغام كسي شخص تك پوري طرح پهنچ جائے تو اس كے بعد خدا كے نزديك اس پر حجت قائم هوجاتي هے۔ حقيقت كا دليل كي زبان ميں ظاهر هوجانا هي كافي هےكہ اس كو انكار حق كا مجرم قرار دے كر وه سزا دي جائے جو منكرينِ حق كے لیے مقدر هے۔
الشورى 42:6
اگر آدمي كو لامحدود نگاه حاصل هوجائے تو وه ديكھے گا كه يهاں ايك خدا هے جو سارے زمين وآسمان كا مالك هے۔ اس كي طاقت اتني زبردست هے كه كائنات اس كي هيبت سے گويا پھٹي جارهي هے۔ فرشتے جو براهِ راست خدا كي خدائي سے باخبر هيں وه هر آن خشيت ميں ڈوبے هوئے اس كي حمد وتسبيح كررهے هيں۔ پھر وه ديكھے گا كه خدا اپني قدرت خاص سے انسانوں ميں سے بعض افراد كو چنتا هے اور انھيں بالواسطه انداز ميں اپنا كلام پهنچاتا هے تاكه وه تمام انسانوں كو حقيقتِ واقعه سے باخبر كرديں۔انسان اگرچه ان حقيقتوں كو براهِ راست طورپر نهيں ديكھتا مگر وه عقل كے ذريعه بالواسطه طور پر ان كا ادراك كرسكتا هے۔ يهي آدمي كا اصل امتحان هے ۔ انسان كي يه ذمه داري هے كه وه بصارت سے دكھائي نه دينے والي چيزوں كو بصيرت كي نظر سے ديكھے۔ وه پيغمبروں كے كلام ميں خدا كي آواز سنے اور اس كے آگے اپنے آپ كو جھكا دے ۔ وه ديكھے بغير اس طرح مان لے گويا كه وه اپني آنكھوں سے سب كچھ ديكھ رها هے۔
قيامت كے دن كسي كے لیے يه بات عذر نه بن سكے گي كه اس نے حقيقت كو براهِ راست نه ديكھا تھا۔ كيوں كه موجوده امتحان كي دنيا ميں حقيقت كو براهِ راست دكھانا مطلوب هي نهيں۔ اگراصل پيغام كسي شخص تك پوري طرح پهنچ جائے تو اس كے بعد خدا كے نزديك اس پر حجت قائم هوجاتي هے۔ حقيقت كا دليل كي زبان ميں ظاهر هوجانا هي كافي هےكہ اس كو انكار حق كا مجرم قرار دے كر وه سزا دي جائے جو منكرينِ حق كے لیے مقدر هے۔
الشورى 42:7
پيغمبر كي دعوت كا اصل نشانه يه هوتا هے كه لوگوں كو اس حقيقت سے آگاه كرديا جائے كه آخر كار وه خدا كے سامنے حاضر كيے جانے والے هيں۔ اس كے بعد لوگوں كے عمل كے مطابق كسي كے لیے ابدي جنت كا فيصله هوگا اور كسي كے ليے ابدي جهنم كا۔
رسول الله صلي الله عليه وسلم اسي حقيقت سے آگاه كرنے كے ليے آئے۔ آپ كي بعثت كے دودور هيں ايك براهِ راست دوسرا بالواسطه ۔ آپ كي براهِ راست بعثت مكه اور اطرافِ مكه كے ليے تھي۔ اس كي تكميل آپ نے خود اپني زندگي ميں فرمادي۔آپ كي بالواسطه بعثت بواسطهٔ امت تمام عالم كے لیے هے۔ آپ كي يه دوسري بعثت جاري هے اور قيامت تك جاري رهے گي۔
رسول الله صلي الله عليه وسلم نے اهلِ عرب كے سامنے عربي زبان ميں اپنا پيغام پهنچايا۔ آپ كے بعد آپ كي امت كو بھي آپ كي نيابت ميں اسي اصول پر اپنا دعوتي فريضه انجام دينا هے۔ اس كو هر قوم كے سامنے اس كي اپني زبان ميں حق كا پيغام پهنچانا هے۔ جب تك كسي قوم كو اس كي اپني زبان ميں پيغام نه پهنچايا جائے اس پر پيغام رساني كا حق ادا نه هوگا۔
الشورى 42:8
زمين وآسمان كي صورت ميں جو واقعه همارے سامنے هے وه اتنا عظيم واقعه هے كه يه ناقابل قياس هے كه ان معبودوں ميں سے كسي معبود نے ان كو وجود عطا كيا هو جن كی لوگ خدا كے سوا تعظيم وتقديس كرتے هيں۔ اِسي طرح انسانوں اور جانوروں كے اندروني نظام ميں ان كي نسل كي بقا كا انتظام اتنا پيچيده هے كه اس كو حقيقي طورپر نه كسي انسان كي طرف منسوب كيا جاسكتا اور نه خدا كے سوا معبودوں ميں سے كسي معبود كي طرف۔يه سب كام اتنے غير معمولي هيں كه بے مثل خدا هي كي طرف انھيں جائز طورپر منسوب كياجاسكتا هے۔
خالق كي جو صفات اس كي مخلوقات كے مشاهده كے ذريعه همارے علم ميں آتي هيں وهي يه ثابت كرنے كے لیے كافي هيں كه يه خالق كس قدر عظيم هے۔ وه سميع وبصير هے۔ وه هر قسم كے اعلي اختيارات كا مالك هے۔ كسي كو جو كچھ ملتا هے اسي كے دئے سے ملتا هے اور كسي سے جو كچھ چھنتا هے اسي كے چھيننے سے چھنتا هے۔ وه اپني مثال آپ هے، اس كے جيسا كوئي اور نهيں۔
الشورى 42:9
زمين وآسمان كي صورت ميں جو واقعه همارے سامنے هے وه اتنا عظيم واقعه هے كه يه ناقابل قياس هے كه ان معبودوں ميں سے كسي معبود نے ان كو وجود عطا كيا هو جن كی لوگ خدا كے سوا تعظيم وتقديس كرتے هيں۔ اِسي طرح انسانوں اور جانوروں كے اندروني نظام ميں ان كي نسل كي بقا كا انتظام اتنا پيچيده هے كه اس كو حقيقي طورپر نه كسي انسان كي طرف منسوب كيا جاسكتا اور نه خدا كے سوا معبودوں ميں سے كسي معبود كي طرف۔يه سب كام اتنے غير معمولي هيں كه بے مثل خدا هي كي طرف انھيں جائز طورپر منسوب كياجاسكتا هے۔
خالق كي جو صفات اس كي مخلوقات كے مشاهده كے ذريعه همارے علم ميں آتي هيں وهي يه ثابت كرنے كے لیے كافي هيں كه يه خالق كس قدر عظيم هے۔ وه سميع وبصير هے۔ وه هر قسم كے اعلي اختيارات كا مالك هے۔ كسي كو جو كچھ ملتا هے اسي كے دئے سے ملتا هے اور كسي سے جو كچھ چھنتا هے اسي كے چھيننے سے چھنتا هے۔ وه اپني مثال آپ هے، اس كے جيسا كوئي اور نهيں۔
الشورى 42:10
زمين وآسمان كي صورت ميں جو واقعه همارے سامنے هے وه اتنا عظيم واقعه هے كه يه ناقابل قياس هے كه ان معبودوں ميں سے كسي معبود نے ان كو وجود عطا كيا هو جن كی لوگ خدا كے سوا تعظيم وتقديس كرتے هيں۔ اِسي طرح انسانوں اور جانوروں كے اندروني نظام ميں ان كي نسل كي بقا كا انتظام اتنا پيچيده هے كه اس كو حقيقي طورپر نه كسي انسان كي طرف منسوب كيا جاسكتا اور نه خدا كے سوا معبودوں ميں سے كسي معبود كي طرف۔يه سب كام اتنے غير معمولي هيں كه بے مثل خدا هي كي طرف انھيں جائز طورپر منسوب كياجاسكتا هے۔
خالق كي جو صفات اس كي مخلوقات كے مشاهده كے ذريعه همارے علم ميں آتي هيں وهي يه ثابت كرنے كے لیے كافي هيں كه يه خالق كس قدر عظيم هے۔ وه سميع وبصير هے۔ وه هر قسم كے اعلي اختيارات كا مالك هے۔ كسي كو جو كچھ ملتا هے اسي كے دئے سے ملتا هے اور كسي سے جو كچھ چھنتا هے اسي كے چھيننے سے چھنتا هے۔ وه اپني مثال آپ هے، اس كے جيسا كوئي اور نهيں۔
الشورى 42:11
زمين وآسمان كي صورت ميں جو واقعه همارے سامنے هے وه اتنا عظيم واقعه هے كه يه ناقابل قياس هے كه ان معبودوں ميں سے كسي معبود نے ان كو وجود عطا كيا هو جن كی لوگ خدا كے سوا تعظيم وتقديس كرتے هيں۔ اِسي طرح انسانوں اور جانوروں كے اندروني نظام ميں ان كي نسل كي بقا كا انتظام اتنا پيچيده هے كه اس كو حقيقي طورپر نه كسي انسان كي طرف منسوب كيا جاسكتا اور نه خدا كے سوا معبودوں ميں سے كسي معبود كي طرف۔يه سب كام اتنے غير معمولي هيں كه بے مثل خدا هي كي طرف انھيں جائز طورپر منسوب كياجاسكتا هے۔
خالق كي جو صفات اس كي مخلوقات كے مشاهده كے ذريعه همارے علم ميں آتي هيں وهي يه ثابت كرنے كے لیے كافي هيں كه يه خالق كس قدر عظيم هے۔ وه سميع وبصير هے۔ وه هر قسم كے اعلي اختيارات كا مالك هے۔ كسي كو جو كچھ ملتا هے اسي كے دئے سے ملتا هے اور كسي سے جو كچھ چھنتا هے اسي كے چھيننے سے چھنتا هے۔ وه اپني مثال آپ هے، اس كے جيسا كوئي اور نهيں۔
الشورى 42:12
زمين وآسمان كي صورت ميں جو واقعه همارے سامنے هے وه اتنا عظيم واقعه هے كه يه ناقابل قياس هے كه ان معبودوں ميں سے كسي معبود نے ان كو وجود عطا كيا هو جن كی لوگ خدا كے سوا تعظيم وتقديس كرتے هيں۔ اِسي طرح انسانوں اور جانوروں كے اندروني نظام ميں ان كي نسل كي بقا كا انتظام اتنا پيچيده هے كه اس كو حقيقي طورپر نه كسي انسان كي طرف منسوب كيا جاسكتا اور نه خدا كے سوا معبودوں ميں سے كسي معبود كي طرف۔يه سب كام اتنے غير معمولي هيں كه بے مثل خدا هي كي طرف انھيں جائز طورپر منسوب كياجاسكتا هے۔
خالق كي جو صفات اس كي مخلوقات كے مشاهده كے ذريعه همارے علم ميں آتي هيں وهي يه ثابت كرنے كے لیے كافي هيں كه يه خالق كس قدر عظيم هے۔ وه سميع وبصير هے۔ وه هر قسم كے اعلي اختيارات كا مالك هے۔ كسي كو جو كچھ ملتا هے اسي كے دئے سے ملتا هے اور كسي سے جو كچھ چھنتا هے اسي كے چھيننے سے چھنتا هے۔ وه اپني مثال آپ هے، اس كے جيسا كوئي اور نهيں۔
الشورى 42:13
تمام پيغمبر ايك هي دين لے كر آئے۔ اور وه دينِ توحيد هے۔ مگر ان پيغمبروں كے ماننے والے بعد كو الگ الگ ديني فرقوں ميں تقسيم هوگئے۔ اس كي وجه مركز توجه ميں تبديلي تھي۔ پيغمبروں كے اصل دين ميں مركز توجه تمام تر خدا تھا۔ هر ايك كي تعليم يه تھي كه صرف ايك خدا كے پرستار بنو۔ مگر ان كي امتوں نے بعد كو اپنا مركز توجه تبديل كرديا۔ وه خدا كے بجائے غير خدا كے پرستاربن گئے۔
قديم عرب كے لوگ ابتداء ً حضرت ابراهيم كي امت تھے۔ مگر بعد كو اپنے كچھ بزرگوں كي عظمت ان كے ذهنوں پر اس قدر چھائي كه انھيں كو انھوں نے اپنا مركز توجه بنا ليا۔ حتي كه ان كے بت بنا كر وه ا ن كو پوجنے لگے۔ يهود حضرت موسي كي امت تھے۔ مگر انھوں نے اپني نسل كو مخصوص نسل سمجھ ليا۔ ان كي توجهات اپني نسل كي طرف اتنا زياده مائل هوئيں كه بالآخر خدائي دين ان كے يهاں نسلي دين بن كر ره گيا۔ وه پيغمبر آخر الزماں كے صرف اس ليے منكر هوگئے كه وه ان كي اپني نسل ميں پيدا نهيں هوا تھا۔ اِسي طرح عيسائي حضرت عيسيٰ كي امت تھے۔ انھوں نے حضرت عيسيٰ كو خدا كا پيغمبر ماننے كے بجائے ان كو خدا كا بيٹا فرض كرليا۔ اس طرح بعد كو انھوں نے جو دين بنايا اس ميں ابنيت مسيح نے سب سے زياده اهميت حاصل كرلي۔
خدا كو اپنے بندوں سے جو دين مطلوب هے وه يه هے كه وه خالص توحيد پر قائم هوں۔ صرف ايك خدا ان كي تمام توجهات كا مركز بن جائے۔ يهي اقامتِ دين هے۔ اس مركز توجه ميں تبديلي كا دوسرا نام شرك هے۔ اور جب لوگوں ميں شرك آتا هے تو فوراً تفريق اور اختلاف شروع هوجاتا هے۔ كيوں كه توحيد كي صورت ميں مركز توجه ايك رهتا هے، جبكه شرك كي صورت ميں مركز توجه كئي بن جاتے هيں۔
پيغمبر عربي صلي الله عليه وسلم كا دين اگرچه اپنے متن كے اعتبار سے محفوظ دين هے۔ مگر آپ كي امت محفوظ امت نهيں۔ امت كے لوگوں كے لیے بدستور يه امكان كھلا هوا هے كه وه نئي نئي چيزوں كو اپنا مركز توجه بنائيں۔ وه خود ساخته تشريح وتعبير كے ذريعه اصل دين ميں تبديلياںکریں اور پھر ايك دين كو عملاً كئي دين بنا كر ركھ ديں۔
الشورى 42:14
علم آنے كے بعد متفرق هونے كا مطلب يه هے كه دين حق كي دعوت بلند هو اور پھر بھي آدمي اس سے الگ رهے۔ يا اس كا مخالف بن كر كھڑا هوجائے۔ رسول الله صلي الله عليه وسلم كے ذريعه الله تعالي نے دين كو اس كے خالص انداز ميں كھولا۔ اب چاهئے تھا كه تمام وه لوگ جو خدا كے طالب هيں وه آپ كے ساتھ جڑ جائيں۔ مگر وه آپ كے ساتھ جڑنے كے لیے تيار نهيں هوئے۔ پچھلے نبيوں كے ساتھ اپنے آپ كو منسوب كركے وه لوگوں كے درميان دين داري كا مقام حاصل كئے هوئے تھے۔ انھوں نے سمجھا كه يهي ان كے لیے كافي هے حالانكه جب دين صحيح كي دعوت بلند هو تو تمام لوگوں كے لیے لازم هوجاتا هے كه وه اپنے گھروندوں كو ڈھا ديں اور دين صحيح كے ساتھ اپنے آپ كو وابسته كريں۔ جو لوگ ايسا نه كريں وه خدا كے نزديك مجرم هيں ، خواه وه غير دين دار هوں يا بظاهر دين دار۔
دينِ حق كي دعوت جب اٹھتي هے تو كچھ لوگ ’’بغي‘‘ كي بنياد پر اس كے منكر بن جاتے هيں۔ اور كچھ لوگ شك كي بنياد پر اس سے دور رهتے هيں۔ بغي سے مراد حسد اور تكبر هے۔ يه ان لوگوں كا معامله هے جو ماحول ميں بڑائي كا مقام حاصل كيے هوئے هوں۔ حق كو ماننے ميں انھيں بڑائي كے مقام سے نيچے اترنا پڑتا هے۔ چونكه وه اپنے آپ كو چھوٹا كرنے پر راضي نهيں هوتے اس ليے وه حق كي دعوت كو چھوٹا كرنے ميں سرگرم هوجاتے هيں تاكه اپنے موقف كو جائز ثابت كرسكيں۔
شك اور تردد كا معامله اكثر عوام الناس كے ساتھ پيش آتا هے۔ داعي كي بات انھيں دليل كي سطح پر وزني معلوم هوتي هے۔مگر ان اكابر كو چھوڑنا بھي ان كے لیے مشكل هوتا هے جن كي عظمت ان كے ذهن پر پهلے سے قائم هوچكي هو۔ يه دو طرفه تقاضے ان كے لیے آخري فيصله تك پهنچنے ميں ركاوٹ بن جاتے هيں۔ پهلے گروه نے اگر تكبر كي نفسيات كے تحت حق كو نظر انداز كيا تھا تو دوسرا گروه شك كي نفسيات كے تحت اس كو اختيار نهيں كرپاتا۔ حق كو قبول كرنے سے يه بھي محروم رهتا هے اور وه بھي ۔
الشورى 42:15
يهاں ’’كتاب‘‘ سے مراد وه اصل دين هے جو پيغمبروں كے ذريعه بھيجا گيا۔ ’’اهواء‘‘ سے مراد وه خود ساخته اضافے هيں جو انسانوں نے خود اپني طرف سے دين حق ميں كيے۔ پيغمبر كو حكم دياگيا كه تم بس اصل دين پر جمے رهو۔حتي كه دعوتي مصلحت كي بناپر بھي تم كو ايسا نهيں كرنا هےكه لوگوں كے خود ساخته دين كے ساتھ رعايت كرنے لگو۔ تمھاراكام عدل كرنا هے۔ يعني مذهبي اختلافات كا فيصله كركے يه بتانا كه حق كيا هے اور باطل كيا۔ كون سا حصه وه هےجو خدا كي طرف سے هے اور كون سا حصه انساني آميزش كے تحت دين ميں شامل كرليا گيا هے۔
’’همارے اور تمھارے درميان كوئي جھگڑا نهيں‘‘ كا مطلب يه هے كه تمھارے جھگڑنے كے باوجود هم ايسا نهيں كريں گے كه هم بھي تم سے جھگڑنے لگيں۔ تم منفي رويه اختيار كرو تب بھي هم يك طرفه طورپر اپنے مثبت رويه پر قائم رهيں گے۔ داعي كي ذمه داري صرف حق كا پيغام پهنچانے كي هے۔ اس كے علاوه جو چيزيں هيں ان كو وه خدا كے حواله كرديتا هے۔
جو لوگ حق كو قبول كرليں ان كو تنگ كرنا اور ان كو بے كار بحثوں ميں الجھانا نهايت ظالمانه كام هے۔ ايسا كرنے والے اپنے آپ كو اس خطره ميں مبتلا كررهے هيں كه آخرت ميں ان پر خدا كا غضب هو اور ان كو سخت عذاب ميں ڈال ديا جائے۔
الشورى 42:16
يهاں ’’كتاب‘‘ سے مراد وه اصل دين هے جو پيغمبروں كے ذريعه بھيجا گيا۔ ’’اهواء‘‘ سے مراد وه خود ساخته اضافے هيں جو انسانوں نے خود اپني طرف سے دين حق ميں كيے۔ پيغمبر كو حكم دياگيا كه تم بس اصل دين پر جمے رهو۔حتي كه دعوتي مصلحت كي بناپر بھي تم كو ايسا نهيں كرنا هےكه لوگوں كے خود ساخته دين كے ساتھ رعايت كرنے لگو۔ تمھاراكام عدل كرنا هے۔ يعني مذهبي اختلافات كا فيصله كركے يه بتانا كه حق كيا هے اور باطل كيا۔ كون سا حصه وه هےجو خدا كي طرف سے هے اور كون سا حصه انساني آميزش كے تحت دين ميں شامل كرليا گيا هے۔
’’همارے اور تمھارے درميان كوئي جھگڑا نهيں‘‘ كا مطلب يه هے كه تمھارے جھگڑنے كے باوجود هم ايسا نهيں كريں گے كه هم بھي تم سے جھگڑنے لگيں۔ تم منفي رويه اختيار كرو تب بھي هم يك طرفه طورپر اپنے مثبت رويه پر قائم رهيں گے۔ داعي كي ذمه داري صرف حق كا پيغام پهنچانے كي هے۔ اس كے علاوه جو چيزيں هيں ان كو وه خدا كے حواله كرديتا هے۔
جو لوگ حق كو قبول كرليں ان كو تنگ كرنا اور ان كو بے كار بحثوں ميں الجھانا نهايت ظالمانه كام هے۔ ايسا كرنے والے اپنے آپ كو اس خطره ميں مبتلا كررهے هيں كه آخرت ميں ان پر خدا كا غضب هو اور ان كو سخت عذاب ميں ڈال ديا جائے۔
الشورى 42:17
جس طرح مادي چيزوں كو تولنے كے لیے ترازو هوتي هے اسي طرح معنوي حقيقتوں كو تولنے كے لیے خدانے اپني كتاب اتاري هے۔ خدا كي كتاب حق اور باطل كو ايك دوسرے سے الگ كرنے كي كسوٹي هے۔ هر دوسري چيز كو خدا كي كتاب پر جانچا جائے گا، نه يه كه خدا كي كتاب كو دوسري چيزوں پر جانچا جانے لگے۔
پيغمبركے زمانه ميں جو لوگ آپ كي مخالفت كررهے تھے ان كي غلطي يه تھي كه ان كي قومي روايات اور ان كے اكابر كے اقوال واعمال سے ان كے يهاں جو دين بنا تھا اس كو معيار مان كر اسي كي روشني ميں وه خدا كي كتاب كو ديكھتے تھے۔ حالانكه ان كے لیے صحيح بات يه تھي كه وه قومي روايات اور بزرگوں كے اقوال وافعال كو خدا كي كتاب كي روشني ميں ديكھيں۔ جو چيز خدا كي كتاب كے معيار پر پوري اترے اس كو ليں اور جو چيز خدا كي كتاب كے معيار پر پوري نه اترے اس كو چھوڑ ديں۔
جانچنے كا يه كام موجوده دنيا ميں آدمي كو خود كرنا هے۔ آخرت ميں يه كام خدا كي طرف سے انجام ديا جائےگا۔ عقل مند وه هے جو قيامت ميں تولے جانے سے پهلے اپنے آپ كو تول لے۔كيونكه قيامت كي تول آخري فيصله كے لیے هوگي، نه كه عمل كي مهلت دينے كے ليے۔
الشورى 42:18
جس طرح مادي چيزوں كو تولنے كے لیے ترازو هوتي هے اسي طرح معنوي حقيقتوں كو تولنے كے لیے خدانے اپني كتاب اتاري هے۔ خدا كي كتاب حق اور باطل كو ايك دوسرے سے الگ كرنے كي كسوٹي هے۔ هر دوسري چيز كو خدا كي كتاب پر جانچا جائے گا، نه يه كه خدا كي كتاب كو دوسري چيزوں پر جانچا جانے لگے۔
پيغمبركے زمانه ميں جو لوگ آپ كي مخالفت كررهے تھے ان كي غلطي يه تھي كه ان كي قومي روايات اور ان كے اكابر كے اقوال واعمال سے ان كے يهاں جو دين بنا تھا اس كو معيار مان كر اسي كي روشني ميں وه خدا كي كتاب كو ديكھتے تھے۔ حالانكه ان كے لیے صحيح بات يه تھي كه وه قومي روايات اور بزرگوں كے اقوال وافعال كو خدا كي كتاب كي روشني ميں ديكھيں۔ جو چيز خدا كي كتاب كے معيار پر پوري اترے اس كو ليں اور جو چيز خدا كي كتاب كے معيار پر پوري نه اترے اس كو چھوڑ ديں۔
جانچنے كا يه كام موجوده دنيا ميں آدمي كو خود كرنا هے۔ آخرت ميں يه كام خدا كي طرف سے انجام ديا جائےگا۔ عقل مند وه هے جو قيامت ميں تولے جانے سے پهلے اپنے آپ كو تول لے۔كيونكه قيامت كي تول آخري فيصله كے لیے هوگي، نه كه عمل كي مهلت دينے كے ليے۔
الشورى 42:19
دنيا كي زندگي امتحان كے لیے هے۔ يهاں هر آدمي كو بقدر امتحان ضروري اسباب دئے جاتے هيں۔ اب جو شخص آخرت پسند هو وه موجوده دنيا كے اسباب كو آخرت كي تعمير كے لیے استعمال كرے گا اور اس كے نتيجه ميں آخرت ميں مزيد اضافه كے ساتھ اپنا انعام پائے گا۔
اس كے برعكس، جو شخص دنيا پسند هو وه صرف موجوده دنيا كے پيش نظر عمل كرےگا۔ ايسا شخص يقيناً موجوده دنيا ميں اپنا پھل پاسكتا هے۔ مگر آخرت ميں وه سراسر محروم رهے گا۔ جب اس نے آخرت كے ليے كچھ كيا هي نه تھا تو كيسے ممكن هے كه آخرت ميں اس كو كچھ ديا جائے۔
الشورى 42:20
دنيا كي زندگي امتحان كے لیے هے۔ يهاں هر آدمي كو بقدر امتحان ضروري اسباب دئے جاتے هيں۔ اب جو شخص آخرت پسند هو وه موجوده دنيا كے اسباب كو آخرت كي تعمير كے لیے استعمال كرے گا اور اس كے نتيجه ميں آخرت ميں مزيد اضافه كے ساتھ اپنا انعام پائے گا۔
اس كے برعكس، جو شخص دنيا پسند هو وه صرف موجوده دنيا كے پيش نظر عمل كرےگا۔ ايسا شخص يقيناً موجوده دنيا ميں اپنا پھل پاسكتا هے۔ مگر آخرت ميں وه سراسر محروم رهے گا۔ جب اس نے آخرت كے ليے كچھ كيا هي نه تھا تو كيسے ممكن هے كه آخرت ميں اس كو كچھ ديا جائے۔
الشورى 42:21
جب ايك بات خدا كي كتاب سے ثابت نه هو، اس كے باوجود آدمي اس كے حق هونے پر اصرار كرے تو اس كا مطلب يه هے كه وه دوسروں كو خدا كے برابر ٹھهرارها هے۔ وه خدا كے سوا دوسروں كو يه حق دے رها هے كه وه انسان كے لیے اس كا دين وضع كريں۔يه ايك بے حد سنگين بات هے۔ حقيقت يه هے كه ’’دين‘‘ كي نوعيت كي كوئي چيز مقرر كرنے كا حق صرف ايك خدا كو هے۔ خدا كے سوا كسي اور كو يه حق دينا كھلا هوا شرك هے۔ اور شرك ايك ايسا جرم هے جو خدا كے يهاں كسي طرح معاف هونے والا نهيں۔
’’ميں تم سے كوئي بدله نهيں چاهتا مگر يه كه قرابت داري كي محبت‘‘ —يه بات پيغمبر كي زبان سے اس وقت كهلائي گئي جب كه آپ كے قبيله قريش كے لوگ آپ كي دعوت كي راه ميں سخت ترين ركا وٹيں ڈال رهے تھے۔ ان حالات ميں اس كا مطلب يه تھا كه اگر تم ميرا دين قبول نهيں كرتے تو نه كرو مگر كم از كم قرابت داري كا لحاظ كرتے هوئے اذيت رساني سے تو باز رهو۔ بالفاظ ديگر، اگر تم كو مجھ سے مذهبي اختلاف هے تو اپنے اختلاف ميں تم اخلاق اور شرافت كي سطح سے نه گر جاؤ۔ اس طرح گويا بالواسطه انداز ميں يه بتايا گيا كه آپ كي دعوت كے مخالفين صرف مخالفين نهيں هيںبلكه وه اخلاقي مجرم بھي هيں۔ وه اپنے آپ كو اخلاق كي سطح پر غلط ثابت كررهے هيں جس كي اهميت خود ان كے نزديك بھي مسلم هے۔
الشورى 42:22
جب ايك بات خدا كي كتاب سے ثابت نه هو، اس كے باوجود آدمي اس كے حق هونے پر اصرار كرے تو اس كا مطلب يه هے كه وه دوسروں كو خدا كے برابر ٹھهرارها هے۔ وه خدا كے سوا دوسروں كو يه حق دے رها هے كه وه انسان كے لیے اس كا دين وضع كريں۔يه ايك بے حد سنگين بات هے۔ حقيقت يه هے كه ’’دين‘‘ كي نوعيت كي كوئي چيز مقرر كرنے كا حق صرف ايك خدا كو هے۔ خدا كے سوا كسي اور كو يه حق دينا كھلا هوا شرك هے۔ اور شرك ايك ايسا جرم هے جو خدا كے يهاں كسي طرح معاف هونے والا نهيں۔
’’ميں تم سے كوئي بدله نهيں چاهتا مگر يه كه قرابت داري كي محبت‘‘ —يه بات پيغمبر كي زبان سے اس وقت كهلائي گئي جب كه آپ كے قبيله قريش كے لوگ آپ كي دعوت كي راه ميں سخت ترين ركا وٹيں ڈال رهے تھے۔ ان حالات ميں اس كا مطلب يه تھا كه اگر تم ميرا دين قبول نهيں كرتے تو نه كرو مگر كم از كم قرابت داري كا لحاظ كرتے هوئے اذيت رساني سے تو باز رهو۔ بالفاظ ديگر، اگر تم كو مجھ سے مذهبي اختلاف هے تو اپنے اختلاف ميں تم اخلاق اور شرافت كي سطح سے نه گر جاؤ۔ اس طرح گويا بالواسطه انداز ميں يه بتايا گيا كه آپ كي دعوت كے مخالفين صرف مخالفين نهيں هيںبلكه وه اخلاقي مجرم بھي هيں۔ وه اپنے آپ كو اخلاق كي سطح پر غلط ثابت كررهے هيں جس كي اهميت خود ان كے نزديك بھي مسلم هے۔
الشورى 42:23
جب ايك بات خدا كي كتاب سے ثابت نه هو، اس كے باوجود آدمي اس كے حق هونے پر اصرار كرے تو اس كا مطلب يه هے كه وه دوسروں كو خدا كے برابر ٹھهرارها هے۔ وه خدا كے سوا دوسروں كو يه حق دے رها هے كه وه انسان كے لیے اس كا دين وضع كريں۔يه ايك بے حد سنگين بات هے۔ حقيقت يه هے كه ’’دين‘‘ كي نوعيت كي كوئي چيز مقرر كرنے كا حق صرف ايك خدا كو هے۔ خدا كے سوا كسي اور كو يه حق دينا كھلا هوا شرك هے۔ اور شرك ايك ايسا جرم هے جو خدا كے يهاں كسي طرح معاف هونے والا نهيں۔
’’ميں تم سے كوئي بدله نهيں چاهتا مگر يه كه قرابت داري كي محبت‘‘ —يه بات پيغمبر كي زبان سے اس وقت كهلائي گئي جب كه آپ كے قبيله قريش كے لوگ آپ كي دعوت كي راه ميں سخت ترين ركا وٹيں ڈال رهے تھے۔ ان حالات ميں اس كا مطلب يه تھا كه اگر تم ميرا دين قبول نهيں كرتے تو نه كرو مگر كم از كم قرابت داري كا لحاظ كرتے هوئے اذيت رساني سے تو باز رهو۔ بالفاظ ديگر، اگر تم كو مجھ سے مذهبي اختلاف هے تو اپنے اختلاف ميں تم اخلاق اور شرافت كي سطح سے نه گر جاؤ۔ اس طرح گويا بالواسطه انداز ميں يه بتايا گيا كه آپ كي دعوت كے مخالفين صرف مخالفين نهيں هيںبلكه وه اخلاقي مجرم بھي هيں۔ وه اپنے آپ كو اخلاق كي سطح پر غلط ثابت كررهے هيں جس كي اهميت خود ان كے نزديك بھي مسلم هے۔
الشورى 42:24
اس دنيا كے ليے خدا كا قانون يه هے كه يهاں حق حق كے روپ ميں سامنے آتا هے اور باطل باطل كے روپ ميں نماياں هوتا هے۔ اگر ايك جھوٹي روح هے تو اس سے كبھي سچا كلام ظاهر نهيں هوسكتا۔ يهي وجه هے كه يهاں كسي غير پيغمبر كے ليے ممكن نهيں كه وه پيغمبر كي زبان ميں كلام كرسكے۔ ايك شخص پيغمبر نه هواور جھوٹ بول كر اپنے كو پيغمبر بتائے تو اس كے كلام ميں لازماً جھوٹے پيغمبر كا انداز پيدا هوجائے گا۔ كوئي شخص مصنوعي طور پر كبھي سچے پيغمبر كے انداز ميں نهيں بول سكتا۔
’’اگر الله چاهے تو وه تمھارے دل پر مهر لگا دے‘‘— اس كا مطلب بدلے هوئے الفاظ ميں يه هے كه اگر تم الله پر جھوٹ باندھتے تو اس وقت مشيت خداوندي كے تحت تمھارے دل پر مهر لگ جاتي۔ايسي حالت ميں خود قانون قدرت كے تحت يه هوتا كه تمھاري زبان اس پاكيزه رباني كلام كے اظهار سے عاجز هوجاتي جس كا كھلا هوا نمونه تمھارے كلام ميں نظر آتا هے۔ حقيقت يه هے كه پيغمبر كا اعلي كلام خود اس كے پيغمبر خدا هونے كا ثبوت هے۔ اگر وه واقعي خدا كا پيغمبر نه هوتا تو اس كي زبان سے كبھي ايسا اعلي كلام ظاهر نهيں هوسكتا تھا۔
جو لوگ حق كي مخالفت كرتے هيں وه اپنے دل كي آواز كے تحت ايسا نهيں كرتے، بلكه محض ضد اور عناد كے تحت اس كے مخالف بن كر كھڑے هوجاتے هيں۔ ايسے لوگ گويا خوداپنے ضمير كي عدالت كے سامنے مجرم بن رهے هيں، ان كے اوپر خدا كي حجت تمام هوچكي هے، اِلاّ يه كه آدمي توبه كرے اور الله سے معافي كا خواستگار هو۔
الشورى 42:25
اس دنيا كے ليے خدا كا قانون يه هے كه يهاں حق حق كے روپ ميں سامنے آتا هے اور باطل باطل كے روپ ميں نماياں هوتا هے۔ اگر ايك جھوٹي روح هے تو اس سے كبھي سچا كلام ظاهر نهيں هوسكتا۔ يهي وجه هے كه يهاں كسي غير پيغمبر كے ليے ممكن نهيں كه وه پيغمبر كي زبان ميں كلام كرسكے۔ ايك شخص پيغمبر نه هواور جھوٹ بول كر اپنے كو پيغمبر بتائے تو اس كے كلام ميں لازماً جھوٹے پيغمبر كا انداز پيدا هوجائے گا۔ كوئي شخص مصنوعي طور پر كبھي سچے پيغمبر كے انداز ميں نهيں بول سكتا۔
’’اگر الله چاهے تو وه تمھارے دل پر مهر لگا دے‘‘— اس كا مطلب بدلے هوئے الفاظ ميں يه هے كه اگر تم الله پر جھوٹ باندھتے تو اس وقت مشيت خداوندي كے تحت تمھارے دل پر مهر لگ جاتي۔ايسي حالت ميں خود قانون قدرت كے تحت يه هوتا كه تمھاري زبان اس پاكيزه رباني كلام كے اظهار سے عاجز هوجاتي جس كا كھلا هوا نمونه تمھارے كلام ميں نظر آتا هے۔ حقيقت يه هے كه پيغمبر كا اعلي كلام خود اس كے پيغمبر خدا هونے كا ثبوت هے۔ اگر وه واقعي خدا كا پيغمبر نه هوتا تو اس كي زبان سے كبھي ايسا اعلي كلام ظاهر نهيں هوسكتا تھا۔
جو لوگ حق كي مخالفت كرتے هيں وه اپنے دل كي آواز كے تحت ايسا نهيں كرتے، بلكه محض ضد اور عناد كے تحت اس كے مخالف بن كر كھڑے هوجاتے هيں۔ ايسے لوگ گويا خوداپنے ضمير كي عدالت كے سامنے مجرم بن رهے هيں، ان كے اوپر خدا كي حجت تمام هوچكي هے، اِلاّ يه كه آدمي توبه كرے اور الله سے معافي كا خواستگار هو۔
الشورى 42:26
اس دنيا كے ليے خدا كا قانون يه هے كه يهاں حق حق كے روپ ميں سامنے آتا هے اور باطل باطل كے روپ ميں نماياں هوتا هے۔ اگر ايك جھوٹي روح هے تو اس سے كبھي سچا كلام ظاهر نهيں هوسكتا۔ يهي وجه هے كه يهاں كسي غير پيغمبر كے ليے ممكن نهيں كه وه پيغمبر كي زبان ميں كلام كرسكے۔ ايك شخص پيغمبر نه هواور جھوٹ بول كر اپنے كو پيغمبر بتائے تو اس كے كلام ميں لازماً جھوٹے پيغمبر كا انداز پيدا هوجائے گا۔ كوئي شخص مصنوعي طور پر كبھي سچے پيغمبر كے انداز ميں نهيں بول سكتا۔
’’اگر الله چاهے تو وه تمھارے دل پر مهر لگا دے‘‘— اس كا مطلب بدلے هوئے الفاظ ميں يه هے كه اگر تم الله پر جھوٹ باندھتے تو اس وقت مشيت خداوندي كے تحت تمھارے دل پر مهر لگ جاتي۔ايسي حالت ميں خود قانون قدرت كے تحت يه هوتا كه تمھاري زبان اس پاكيزه رباني كلام كے اظهار سے عاجز هوجاتي جس كا كھلا هوا نمونه تمھارے كلام ميں نظر آتا هے۔ حقيقت يه هے كه پيغمبر كا اعلي كلام خود اس كے پيغمبر خدا هونے كا ثبوت هے۔ اگر وه واقعي خدا كا پيغمبر نه هوتا تو اس كي زبان سے كبھي ايسا اعلي كلام ظاهر نهيں هوسكتا تھا۔
جو لوگ حق كي مخالفت كرتے هيں وه اپنے دل كي آواز كے تحت ايسا نهيں كرتے، بلكه محض ضد اور عناد كے تحت اس كے مخالف بن كر كھڑے هوجاتے هيں۔ ايسے لوگ گويا خوداپنے ضمير كي عدالت كے سامنے مجرم بن رهے هيں، ان كے اوپر خدا كي حجت تمام هوچكي هے، اِلاّ يه كه آدمي توبه كرے اور الله سے معافي كا خواستگار هو۔
الشورى 42:27
زمين پر انساني زندگي كا انحصار پاني پر هے۔ مگر پاني تمام تر خداكے اختيار ميں هے۔ خدا اگر پاني فراهم نه كرے تو انسان خود سے پاني حاصل نهيں كرسكتا۔ اسي طرح رزق كي تقسيم بھي خدا كي طرف سے هوتي هے۔ اس تقسيم ميں خدا آدمي كے ظرف كو ديكھتا هے۔ اور هر ايك كو اس كے ظرف كے بقدر عطا كرتا هے۔ اگر لوگوں كو ان كے ظرف سے زياده ديا جانے لگے تو لوگ سركش بن جائيں اور زمين ميں هر طرف ظلم وفساد پھيل جائے۔
هم ديكھتے هيں كه ايك كسان جب دانے كو بكھيرتا هے تو وه اس كو سميٹنے پر بھي قادر هوتا هے۔ يه انساني مشاهده اس بات كا قرينه هے كه خدا بھي اسي طرح اپني بكھري هوئي مخلوقات كو سميٹ كر اپني عدالت ميں لاسكتا هے۔ جهاں يكجائي طورپر لوگوں كے مستقبل كا فيصله كيا جائے۔ جس خالق كے لیے پيدا كركے بكھيرنا ممكن تھا اس كے لیے موت كے بعد دوباره سميٹنا كيوں ناممكن هوجائے گا۔
الشورى 42:28
زمين پر انساني زندگي كا انحصار پاني پر هے۔ مگر پاني تمام تر خداكے اختيار ميں هے۔ خدا اگر پاني فراهم نه كرے تو انسان خود سے پاني حاصل نهيں كرسكتا۔ اسي طرح رزق كي تقسيم بھي خدا كي طرف سے هوتي هے۔ اس تقسيم ميں خدا آدمي كے ظرف كو ديكھتا هے۔ اور هر ايك كو اس كے ظرف كے بقدر عطا كرتا هے۔ اگر لوگوں كو ان كے ظرف سے زياده ديا جانے لگے تو لوگ سركش بن جائيں اور زمين ميں هر طرف ظلم وفساد پھيل جائے۔
هم ديكھتے هيں كه ايك كسان جب دانے كو بكھيرتا هے تو وه اس كو سميٹنے پر بھي قادر هوتا هے۔ يه انساني مشاهده اس بات كا قرينه هے كه خدا بھي اسي طرح اپني بكھري هوئي مخلوقات كو سميٹ كر اپني عدالت ميں لاسكتا هے۔ جهاں يكجائي طورپر لوگوں كے مستقبل كا فيصله كيا جائے۔ جس خالق كے لیے پيدا كركے بكھيرنا ممكن تھا اس كے لیے موت كے بعد دوباره سميٹنا كيوں ناممكن هوجائے گا۔
الشورى 42:29
زمين پر انساني زندگي كا انحصار پاني پر هے۔ مگر پاني تمام تر خداكے اختيار ميں هے۔ خدا اگر پاني فراهم نه كرے تو انسان خود سے پاني حاصل نهيں كرسكتا۔ اسي طرح رزق كي تقسيم بھي خدا كي طرف سے هوتي هے۔ اس تقسيم ميں خدا آدمي كے ظرف كو ديكھتا هے۔ اور هر ايك كو اس كے ظرف كے بقدر عطا كرتا هے۔ اگر لوگوں كو ان كے ظرف سے زياده ديا جانے لگے تو لوگ سركش بن جائيں اور زمين ميں هر طرف ظلم وفساد پھيل جائے۔
هم ديكھتے هيں كه ايك كسان جب دانے كو بكھيرتا هے تو وه اس كو سميٹنے پر بھي قادر هوتا هے۔ يه انساني مشاهده اس بات كا قرينه هے كه خدا بھي اسي طرح اپني بكھري هوئي مخلوقات كو سميٹ كر اپني عدالت ميں لاسكتا هے۔ جهاں يكجائي طورپر لوگوں كے مستقبل كا فيصله كيا جائے۔ جس خالق كے لیے پيدا كركے بكھيرنا ممكن تھا اس كے لیے موت كے بعد دوباره سميٹنا كيوں ناممكن هوجائے گا۔
الشورى 42:30
موجوده دنيا كو اسباب كے قانون كے تحت بنايا گيا هے۔ يهاں آدمي پر جب كوئي مصيبت آتي هے تو وه واضح طورپر اس كي اپني هي كوتاهي كا نتيجه هوتي هے۔ اور كبھي ايسا هوتا هے كه ايك شخص كو تاهي كرتا هے مگر وه اس كے بُرے انجام سے بچ جاتا هے۔
دنيا كے يه واقعا ت اس ليے هيں كه آدمي ان سے سبق لے۔ جب وه ديكھےكه لوگ جو كچھ پارهے هيں وه اپنے عمل كے بقدر پارهے هيں تو اس سے وه يه نصيحت لے كه آخرت ميں بھي اسي طرح هر شخص اپنے عمل كے مطابق انجام پائے گا۔ اسي طرح جب وه ديكھے كه آدمي نے ايك كوتاهي كي مگر وه اس كے انجام سے بچ گيا تو وه اس سے يه سبق حاصل كرے كه خدا نهايت مهربان هے۔ اگر آدمي اس كي طرف رجوع هو تو وه اپني رحمتِ خاص سے اس كو اس كي كوتاهيوں كے انجام سے بچا سكتا هے۔ ايمان جب گهرا هو تو آدمي كا يهي حال هوجاتا هے۔ وه دنيا كے واقعات ميں آخرت كي تصوير ديكھنے لگتا هے۔
الشورى 42:31
موجوده دنيا كو اسباب كے قانون كے تحت بنايا گيا هے۔ يهاں آدمي پر جب كوئي مصيبت آتي هے تو وه واضح طورپر اس كي اپني هي كوتاهي كا نتيجه هوتي هے۔ اور كبھي ايسا هوتا هے كه ايك شخص كو تاهي كرتا هے مگر وه اس كے بُرے انجام سے بچ جاتا هے۔
دنيا كے يه واقعا ت اس ليے هيں كه آدمي ان سے سبق لے۔ جب وه ديكھےكه لوگ جو كچھ پارهے هيں وه اپنے عمل كے بقدر پارهے هيں تو اس سے وه يه نصيحت لے كه آخرت ميں بھي اسي طرح هر شخص اپنے عمل كے مطابق انجام پائے گا۔ اسي طرح جب وه ديكھے كه آدمي نے ايك كوتاهي كي مگر وه اس كے انجام سے بچ گيا تو وه اس سے يه سبق حاصل كرے كه خدا نهايت مهربان هے۔ اگر آدمي اس كي طرف رجوع هو تو وه اپني رحمتِ خاص سے اس كو اس كي كوتاهيوں كے انجام سے بچا سكتا هے۔ ايمان جب گهرا هو تو آدمي كا يهي حال هوجاتا هے۔ وه دنيا كے واقعات ميں آخرت كي تصوير ديكھنے لگتا هے۔
الشورى 42:32
انسان سمندر ميں اپني كشتي دوڑاتاهے اور فضا ميں اپنے جهاز اڑاتاهے۔ يه صرف اس ليے ممكن هوتاهے كه خدا نے فطرت كے قانون كو همارے ليے سازگار بنا ركھا هے۔ فطرت كے قوانين اگر هم سے سازگاري نه كريں تو نه هماري كشتياں سمندروں ميں دوڑيں اور نه همارے جهاز هواؤں ميں اڑيں۔
زندگي كے هر واقعه ميں نصيحت هے مگر واقعات سے نصيحت كي خوراك لينے كے لیے صبر وشكر كا مزاج ضروري هے۔ زندگي ميں كبھي تكليف پيش آتي هے اور كبھي آرام۔ تكليف كے وقت آدمي كو ظاهري حالات سے اوپر اٹھنا پڑتاهے تاكه وه واقعه كو دوسرے رخ سے ديكھ سكے۔ اور يه چيز صبر كے بغير ممكن نهيں۔ اِسي طرح آرام كے وقت اس كي ضرورت هوتي هے كه بظاهر اپني كوششوں سے ملنے والي چيز كو خدا كي طرف سے ملنے والي چيز سمجھا جائے۔ اور يه وهي شخص كرسكتا هے جس كے اندر وه اعلي شعور پيدا هوچكا هو جس كو شكر كهاجاتاهے۔
نشانيوں ميں جھگڑنا يه هے كه جب كسي واقعه ميں خدائي نصيحت كے پهلو كي نشاندهي كي جائے تو آدمي اس كو نه مانے اور واقعه كو دوسرے دوسرے معني پهنانے كي كوشش كرے۔ ايسے لوگ خدا كي نظر ميں سركش هيں اور كسي كي سركشي صرف موجوده دنيا ميں چل سكتي هے، وه آخرت ميں هر گز چلنے والي نهيں۔
الشورى 42:33
انسان سمندر ميں اپني كشتي دوڑاتاهے اور فضا ميں اپنے جهاز اڑاتاهے۔ يه صرف اس ليے ممكن هوتاهے كه خدا نے فطرت كے قانون كو همارے ليے سازگار بنا ركھا هے۔ فطرت كے قوانين اگر هم سے سازگاري نه كريں تو نه هماري كشتياں سمندروں ميں دوڑيں اور نه همارے جهاز هواؤں ميں اڑيں۔
زندگي كے هر واقعه ميں نصيحت هے مگر واقعات سے نصيحت كي خوراك لينے كے لیے صبر وشكر كا مزاج ضروري هے۔ زندگي ميں كبھي تكليف پيش آتي هے اور كبھي آرام۔ تكليف كے وقت آدمي كو ظاهري حالات سے اوپر اٹھنا پڑتاهے تاكه وه واقعه كو دوسرے رخ سے ديكھ سكے۔ اور يه چيز صبر كے بغير ممكن نهيں۔ اِسي طرح آرام كے وقت اس كي ضرورت هوتي هے كه بظاهر اپني كوششوں سے ملنے والي چيز كو خدا كي طرف سے ملنے والي چيز سمجھا جائے۔ اور يه وهي شخص كرسكتا هے جس كے اندر وه اعلي شعور پيدا هوچكا هو جس كو شكر كهاجاتاهے۔
نشانيوں ميں جھگڑنا يه هے كه جب كسي واقعه ميں خدائي نصيحت كے پهلو كي نشاندهي كي جائے تو آدمي اس كو نه مانے اور واقعه كو دوسرے دوسرے معني پهنانے كي كوشش كرے۔ ايسے لوگ خدا كي نظر ميں سركش هيں اور كسي كي سركشي صرف موجوده دنيا ميں چل سكتي هے، وه آخرت ميں هر گز چلنے والي نهيں۔
الشورى 42:34
انسان سمندر ميں اپني كشتي دوڑاتاهے اور فضا ميں اپنے جهاز اڑاتاهے۔ يه صرف اس ليے ممكن هوتاهے كه خدا نے فطرت كے قانون كو همارے ليے سازگار بنا ركھا هے۔ فطرت كے قوانين اگر هم سے سازگاري نه كريں تو نه هماري كشتياں سمندروں ميں دوڑيں اور نه همارے جهاز هواؤں ميں اڑيں۔
زندگي كے هر واقعه ميں نصيحت هے مگر واقعات سے نصيحت كي خوراك لينے كے لیے صبر وشكر كا مزاج ضروري هے۔ زندگي ميں كبھي تكليف پيش آتي هے اور كبھي آرام۔ تكليف كے وقت آدمي كو ظاهري حالات سے اوپر اٹھنا پڑتاهے تاكه وه واقعه كو دوسرے رخ سے ديكھ سكے۔ اور يه چيز صبر كے بغير ممكن نهيں۔ اِسي طرح آرام كے وقت اس كي ضرورت هوتي هے كه بظاهر اپني كوششوں سے ملنے والي چيز كو خدا كي طرف سے ملنے والي چيز سمجھا جائے۔ اور يه وهي شخص كرسكتا هے جس كے اندر وه اعلي شعور پيدا هوچكا هو جس كو شكر كهاجاتاهے۔
نشانيوں ميں جھگڑنا يه هے كه جب كسي واقعه ميں خدائي نصيحت كے پهلو كي نشاندهي كي جائے تو آدمي اس كو نه مانے اور واقعه كو دوسرے دوسرے معني پهنانے كي كوشش كرے۔ ايسے لوگ خدا كي نظر ميں سركش هيں اور كسي كي سركشي صرف موجوده دنيا ميں چل سكتي هے، وه آخرت ميں هر گز چلنے والي نهيں۔
الشورى 42:35
انسان سمندر ميں اپني كشتي دوڑاتاهے اور فضا ميں اپنے جهاز اڑاتاهے۔ يه صرف اس ليے ممكن هوتاهے كه خدا نے فطرت كے قانون كو همارے ليے سازگار بنا ركھا هے۔ فطرت كے قوانين اگر هم سے سازگاري نه كريں تو نه هماري كشتياں سمندروں ميں دوڑيں اور نه همارے جهاز هواؤں ميں اڑيں۔
زندگي كے هر واقعه ميں نصيحت هے مگر واقعات سے نصيحت كي خوراك لينے كے لیے صبر وشكر كا مزاج ضروري هے۔ زندگي ميں كبھي تكليف پيش آتي هے اور كبھي آرام۔ تكليف كے وقت آدمي كو ظاهري حالات سے اوپر اٹھنا پڑتاهے تاكه وه واقعه كو دوسرے رخ سے ديكھ سكے۔ اور يه چيز صبر كے بغير ممكن نهيں۔ اِسي طرح آرام كے وقت اس كي ضرورت هوتي هے كه بظاهر اپني كوششوں سے ملنے والي چيز كو خدا كي طرف سے ملنے والي چيز سمجھا جائے۔ اور يه وهي شخص كرسكتا هے جس كے اندر وه اعلي شعور پيدا هوچكا هو جس كو شكر كهاجاتاهے۔
نشانيوں ميں جھگڑنا يه هے كه جب كسي واقعه ميں خدائي نصيحت كے پهلو كي نشاندهي كي جائے تو آدمي اس كو نه مانے اور واقعه كو دوسرے دوسرے معني پهنانے كي كوشش كرے۔ ايسے لوگ خدا كي نظر ميں سركش هيں اور كسي كي سركشي صرف موجوده دنيا ميں چل سكتي هے، وه آخرت ميں هر گز چلنے والي نهيں۔
الشورى 42:36
آخرت كا چاهنے والا وهي بن سكتاهے جو الله پر بھروسه كرنے والا هو۔ جب بھي آدمي آخرت كي طرف بڑھتا هے تو دنيا كے فائدے اس كو خطرے ميںنظر آنے لگتے هيں۔ دنيا كي مصلحتيں اس كوچھوٹتي هوئي دكھائي ديتي هيں۔ايسي حالت ميں جو چيز آدمي كو آخرت كے راسته پر ثابت قدم ركھتي هے وه صرف يه كه اس كو خدا كے وعدوں پر بھروسه هو اس كو يقين هو، كه خدا كي خاطر وه دنيا ميں جتنا كھوئے گا اس سے بهت زياده وه آخرت ميں خدا كي طرف سے پائے گا۔
دنيا كي هر نعمت وقتي هے اور آخرت كي نعمتيں ابدي هيں جوكبھي ختم هونے والي نهيں۔ اور ابدي نعمت كے مقابله ميں وقتي نعمت كي كوئي حقيقت نهيں۔
الشورى 42:37
ايمان جب حقيقي معنوں ميں كسي كو حاصل هوتا هے تو وه اس كے اندر انقلاب پيداكرتا هے۔ اس كے اندر ايك نئي شخصيت ابھرتي هے۔ يهاں ايك بندهٔ خدا كي جن خصوصيات كا ذكر هے وه سب وهي هيں جو اس ايماني شخصيت كے نتيجے ميں كسي كے اندر ظاهر هوتي هيں۔
ايسے شخص كے اندر حقيقتِ واقعه كے اعتراف كا مزاج پيداهوتا هے۔ وه خدا كے خدا هونے اور اپنے بنده هونے كي حيثيت كا اعتراف كرتے هوئے اس كے آگے جھك جاتا هے۔ خدا كي ايك پكار بلند هو تو اس كے ليے ناممكن هوجاتاهے كه وه اس پر لبيك نه كهے۔ ايمانی شعور اس كو صحيح اور غلط كے بارے ميں حساس بنا ديتا هے۔ وه وهي كرتا هے جو كرنا چاهئے اور وه نهيں كرتا جو نهيں كرنا چاهئے۔
اپني حيثيت واقعي كا اعتراف اس كے اندر تواضع پيدا كرتا هے جو اس سے غصه، ظلم اور سركشي كا مزاج چھين ليتا هے،يهي تواضع اس كو مجبور كرتا هے كه اجتماعي معاملات ميں وه دوسروں كے مشوره سے فائده اٹھائے وه محض اپني ذاتي رائے كي بنياد پر اقدام سے پرهيز كرے۔ دوسروں كے ساتھ اس كا رشته خير خواهي كا هوتاهے، نه كه ضد اور استحصال كا۔ايسا آدمي دوسروں كے خلاف كبھي جارحيت نهيں كرتا۔ دوسروں كے خلاف وه جب بھي اقدام كرتا هے تو دفاع كے طورپر كرتاهے اور اتنا هي كرتا هے جتنا ان كے ظلم كو روكنے كے ليے ضروري هو۔ وه عين اشتعال انگيز حالات ميں بھي اس كے لیے تيار رهتاهے كه لوگوں كو معاف كردے اور انھوں نے اس كےساتھ جو برائي كي هے اس كو بھول جائے۔
بندهٔ مومن يه سارے كام اپنے جذبهٔ ايمان كے تحت كرتاهے تاهم الله اس كي قدرداني اس طرح فرماتاهے كه اس كو اهلِ همت اور اولوالعزم كے خطاب سے نوازتا هے،اور اس كو ابدي نعمتوں كے باغ ميں داخل كرديتاهے۔
الشورى 42:38
ايمان جب حقيقي معنوں ميں كسي كو حاصل هوتا هے تو وه اس كے اندر انقلاب پيداكرتا هے۔ اس كے اندر ايك نئي شخصيت ابھرتي هے۔ يهاں ايك بندهٔ خدا كي جن خصوصيات كا ذكر هے وه سب وهي هيں جو اس ايماني شخصيت كے نتيجے ميں كسي كے اندر ظاهر هوتي هيں۔
ايسے شخص كے اندر حقيقتِ واقعه كے اعتراف كا مزاج پيداهوتا هے۔ وه خدا كے خدا هونے اور اپنے بنده هونے كي حيثيت كا اعتراف كرتے هوئے اس كے آگے جھك جاتا هے۔ خدا كي ايك پكار بلند هو تو اس كے ليے ناممكن هوجاتاهے كه وه اس پر لبيك نه كهے۔ ايمانی شعور اس كو صحيح اور غلط كے بارے ميں حساس بنا ديتا هے۔ وه وهي كرتا هے جو كرنا چاهئے اور وه نهيں كرتا جو نهيں كرنا چاهئے۔
اپني حيثيت واقعي كا اعتراف اس كے اندر تواضع پيدا كرتا هے جو اس سے غصه، ظلم اور سركشي كا مزاج چھين ليتا هے،يهي تواضع اس كو مجبور كرتا هے كه اجتماعي معاملات ميں وه دوسروں كے مشوره سے فائده اٹھائے وه محض اپني ذاتي رائے كي بنياد پر اقدام سے پرهيز كرے۔ دوسروں كے ساتھ اس كا رشته خير خواهي كا هوتاهے، نه كه ضد اور استحصال كا۔ايسا آدمي دوسروں كے خلاف كبھي جارحيت نهيں كرتا۔ دوسروں كے خلاف وه جب بھي اقدام كرتا هے تو دفاع كے طورپر كرتاهے اور اتنا هي كرتا هے جتنا ان كے ظلم كو روكنے كے ليے ضروري هو۔ وه عين اشتعال انگيز حالات ميں بھي اس كے لیے تيار رهتاهے كه لوگوں كو معاف كردے اور انھوں نے اس كےساتھ جو برائي كي هے اس كو بھول جائے۔
بندهٔ مومن يه سارے كام اپنے جذبهٔ ايمان كے تحت كرتاهے تاهم الله اس كي قدرداني اس طرح فرماتاهے كه اس كو اهلِ همت اور اولوالعزم كے خطاب سے نوازتا هے،اور اس كو ابدي نعمتوں كے باغ ميں داخل كرديتاهے۔
الشورى 42:39
ايمان جب حقيقي معنوں ميں كسي كو حاصل هوتا هے تو وه اس كے اندر انقلاب پيداكرتا هے۔ اس كے اندر ايك نئي شخصيت ابھرتي هے۔ يهاں ايك بندهٔ خدا كي جن خصوصيات كا ذكر هے وه سب وهي هيں جو اس ايماني شخصيت كے نتيجے ميں كسي كے اندر ظاهر هوتي هيں۔
ايسے شخص كے اندر حقيقتِ واقعه كے اعتراف كا مزاج پيداهوتا هے۔ وه خدا كے خدا هونے اور اپنے بنده هونے كي حيثيت كا اعتراف كرتے هوئے اس كے آگے جھك جاتا هے۔ خدا كي ايك پكار بلند هو تو اس كے ليے ناممكن هوجاتاهے كه وه اس پر لبيك نه كهے۔ ايمانی شعور اس كو صحيح اور غلط كے بارے ميں حساس بنا ديتا هے۔ وه وهي كرتا هے جو كرنا چاهئے اور وه نهيں كرتا جو نهيں كرنا چاهئے۔
اپني حيثيت واقعي كا اعتراف اس كے اندر تواضع پيدا كرتا هے جو اس سے غصه، ظلم اور سركشي كا مزاج چھين ليتا هے،يهي تواضع اس كو مجبور كرتا هے كه اجتماعي معاملات ميں وه دوسروں كے مشوره سے فائده اٹھائے وه محض اپني ذاتي رائے كي بنياد پر اقدام سے پرهيز كرے۔ دوسروں كے ساتھ اس كا رشته خير خواهي كا هوتاهے، نه كه ضد اور استحصال كا۔ايسا آدمي دوسروں كے خلاف كبھي جارحيت نهيں كرتا۔ دوسروں كے خلاف وه جب بھي اقدام كرتا هے تو دفاع كے طورپر كرتاهے اور اتنا هي كرتا هے جتنا ان كے ظلم كو روكنے كے ليے ضروري هو۔ وه عين اشتعال انگيز حالات ميں بھي اس كے لیے تيار رهتاهے كه لوگوں كو معاف كردے اور انھوں نے اس كےساتھ جو برائي كي هے اس كو بھول جائے۔
بندهٔ مومن يه سارے كام اپنے جذبهٔ ايمان كے تحت كرتاهے تاهم الله اس كي قدرداني اس طرح فرماتاهے كه اس كو اهلِ همت اور اولوالعزم كے خطاب سے نوازتا هے،اور اس كو ابدي نعمتوں كے باغ ميں داخل كرديتاهے۔
الشورى 42:40
ايمان جب حقيقي معنوں ميں كسي كو حاصل هوتا هے تو وه اس كے اندر انقلاب پيداكرتا هے۔ اس كے اندر ايك نئي شخصيت ابھرتي هے۔ يهاں ايك بندهٔ خدا كي جن خصوصيات كا ذكر هے وه سب وهي هيں جو اس ايماني شخصيت كے نتيجے ميں كسي كے اندر ظاهر هوتي هيں۔
ايسے شخص كے اندر حقيقتِ واقعه كے اعتراف كا مزاج پيداهوتا هے۔ وه خدا كے خدا هونے اور اپنے بنده هونے كي حيثيت كا اعتراف كرتے هوئے اس كے آگے جھك جاتا هے۔ خدا كي ايك پكار بلند هو تو اس كے ليے ناممكن هوجاتاهے كه وه اس پر لبيك نه كهے۔ ايمانی شعور اس كو صحيح اور غلط كے بارے ميں حساس بنا ديتا هے۔ وه وهي كرتا هے جو كرنا چاهئے اور وه نهيں كرتا جو نهيں كرنا چاهئے۔
اپني حيثيت واقعي كا اعتراف اس كے اندر تواضع پيدا كرتا هے جو اس سے غصه، ظلم اور سركشي كا مزاج چھين ليتا هے،يهي تواضع اس كو مجبور كرتا هے كه اجتماعي معاملات ميں وه دوسروں كے مشوره سے فائده اٹھائے وه محض اپني ذاتي رائے كي بنياد پر اقدام سے پرهيز كرے۔ دوسروں كے ساتھ اس كا رشته خير خواهي كا هوتاهے، نه كه ضد اور استحصال كا۔ايسا آدمي دوسروں كے خلاف كبھي جارحيت نهيں كرتا۔ دوسروں كے خلاف وه جب بھي اقدام كرتا هے تو دفاع كے طورپر كرتاهے اور اتنا هي كرتا هے جتنا ان كے ظلم كو روكنے كے ليے ضروري هو۔ وه عين اشتعال انگيز حالات ميں بھي اس كے لیے تيار رهتاهے كه لوگوں كو معاف كردے اور انھوں نے اس كےساتھ جو برائي كي هے اس كو بھول جائے۔
بندهٔ مومن يه سارے كام اپنے جذبهٔ ايمان كے تحت كرتاهے تاهم الله اس كي قدرداني اس طرح فرماتاهے كه اس كو اهلِ همت اور اولوالعزم كے خطاب سے نوازتا هے،اور اس كو ابدي نعمتوں كے باغ ميں داخل كرديتاهے۔
الشورى 42:41
ايمان جب حقيقي معنوں ميں كسي كو حاصل هوتا هے تو وه اس كے اندر انقلاب پيداكرتا هے۔ اس كے اندر ايك نئي شخصيت ابھرتي هے۔ يهاں ايك بندهٔ خدا كي جن خصوصيات كا ذكر هے وه سب وهي هيں جو اس ايماني شخصيت كے نتيجے ميں كسي كے اندر ظاهر هوتي هيں۔
ايسے شخص كے اندر حقيقتِ واقعه كے اعتراف كا مزاج پيداهوتا هے۔ وه خدا كے خدا هونے اور اپنے بنده هونے كي حيثيت كا اعتراف كرتے هوئے اس كے آگے جھك جاتا هے۔ خدا كي ايك پكار بلند هو تو اس كے ليے ناممكن هوجاتاهے كه وه اس پر لبيك نه كهے۔ ايمانی شعور اس كو صحيح اور غلط كے بارے ميں حساس بنا ديتا هے۔ وه وهي كرتا هے جو كرنا چاهئے اور وه نهيں كرتا جو نهيں كرنا چاهئے۔
اپني حيثيت واقعي كا اعتراف اس كے اندر تواضع پيدا كرتا هے جو اس سے غصه، ظلم اور سركشي كا مزاج چھين ليتا هے،يهي تواضع اس كو مجبور كرتا هے كه اجتماعي معاملات ميں وه دوسروں كے مشوره سے فائده اٹھائے وه محض اپني ذاتي رائے كي بنياد پر اقدام سے پرهيز كرے۔ دوسروں كے ساتھ اس كا رشته خير خواهي كا هوتاهے، نه كه ضد اور استحصال كا۔ايسا آدمي دوسروں كے خلاف كبھي جارحيت نهيں كرتا۔ دوسروں كے خلاف وه جب بھي اقدام كرتا هے تو دفاع كے طورپر كرتاهے اور اتنا هي كرتا هے جتنا ان كے ظلم كو روكنے كے ليے ضروري هو۔ وه عين اشتعال انگيز حالات ميں بھي اس كے لیے تيار رهتاهے كه لوگوں كو معاف كردے اور انھوں نے اس كےساتھ جو برائي كي هے اس كو بھول جائے۔
بندهٔ مومن يه سارے كام اپنے جذبهٔ ايمان كے تحت كرتاهے تاهم الله اس كي قدرداني اس طرح فرماتاهے كه اس كو اهلِ همت اور اولوالعزم كے خطاب سے نوازتا هے،اور اس كو ابدي نعمتوں كے باغ ميں داخل كرديتاهے۔
الشورى 42:42
ايمان جب حقيقي معنوں ميں كسي كو حاصل هوتا هے تو وه اس كے اندر انقلاب پيداكرتا هے۔ اس كے اندر ايك نئي شخصيت ابھرتي هے۔ يهاں ايك بندهٔ خدا كي جن خصوصيات كا ذكر هے وه سب وهي هيں جو اس ايماني شخصيت كے نتيجے ميں كسي كے اندر ظاهر هوتي هيں۔
ايسے شخص كے اندر حقيقتِ واقعه كے اعتراف كا مزاج پيداهوتا هے۔ وه خدا كے خدا هونے اور اپنے بنده هونے كي حيثيت كا اعتراف كرتے هوئے اس كے آگے جھك جاتا هے۔ خدا كي ايك پكار بلند هو تو اس كے ليے ناممكن هوجاتاهے كه وه اس پر لبيك نه كهے۔ ايمانی شعور اس كو صحيح اور غلط كے بارے ميں حساس بنا ديتا هے۔ وه وهي كرتا هے جو كرنا چاهئے اور وه نهيں كرتا جو نهيں كرنا چاهئے۔
اپني حيثيت واقعي كا اعتراف اس كے اندر تواضع پيدا كرتا هے جو اس سے غصه، ظلم اور سركشي كا مزاج چھين ليتا هے،يهي تواضع اس كو مجبور كرتا هے كه اجتماعي معاملات ميں وه دوسروں كے مشوره سے فائده اٹھائے وه محض اپني ذاتي رائے كي بنياد پر اقدام سے پرهيز كرے۔ دوسروں كے ساتھ اس كا رشته خير خواهي كا هوتاهے، نه كه ضد اور استحصال كا۔ايسا آدمي دوسروں كے خلاف كبھي جارحيت نهيں كرتا۔ دوسروں كے خلاف وه جب بھي اقدام كرتا هے تو دفاع كے طورپر كرتاهے اور اتنا هي كرتا هے جتنا ان كے ظلم كو روكنے كے ليے ضروري هو۔ وه عين اشتعال انگيز حالات ميں بھي اس كے لیے تيار رهتاهے كه لوگوں كو معاف كردے اور انھوں نے اس كےساتھ جو برائي كي هے اس كو بھول جائے۔
بندهٔ مومن يه سارے كام اپنے جذبهٔ ايمان كے تحت كرتاهے تاهم الله اس كي قدرداني اس طرح فرماتاهے كه اس كو اهلِ همت اور اولوالعزم كے خطاب سے نوازتا هے،اور اس كو ابدي نعمتوں كے باغ ميں داخل كرديتاهے۔
الشورى 42:43
ايمان جب حقيقي معنوں ميں كسي كو حاصل هوتا هے تو وه اس كے اندر انقلاب پيداكرتا هے۔ اس كے اندر ايك نئي شخصيت ابھرتي هے۔ يهاں ايك بندهٔ خدا كي جن خصوصيات كا ذكر هے وه سب وهي هيں جو اس ايماني شخصيت كے نتيجے ميں كسي كے اندر ظاهر هوتي هيں۔
ايسے شخص كے اندر حقيقتِ واقعه كے اعتراف كا مزاج پيداهوتا هے۔ وه خدا كے خدا هونے اور اپنے بنده هونے كي حيثيت كا اعتراف كرتے هوئے اس كے آگے جھك جاتا هے۔ خدا كي ايك پكار بلند هو تو اس كے ليے ناممكن هوجاتاهے كه وه اس پر لبيك نه كهے۔ ايمانی شعور اس كو صحيح اور غلط كے بارے ميں حساس بنا ديتا هے۔ وه وهي كرتا هے جو كرنا چاهئے اور وه نهيں كرتا جو نهيں كرنا چاهئے۔
اپني حيثيت واقعي كا اعتراف اس كے اندر تواضع پيدا كرتا هے جو اس سے غصه، ظلم اور سركشي كا مزاج چھين ليتا هے،يهي تواضع اس كو مجبور كرتا هے كه اجتماعي معاملات ميں وه دوسروں كے مشوره سے فائده اٹھائے وه محض اپني ذاتي رائے كي بنياد پر اقدام سے پرهيز كرے۔ دوسروں كے ساتھ اس كا رشته خير خواهي كا هوتاهے، نه كه ضد اور استحصال كا۔ايسا آدمي دوسروں كے خلاف كبھي جارحيت نهيں كرتا۔ دوسروں كے خلاف وه جب بھي اقدام كرتا هے تو دفاع كے طورپر كرتاهے اور اتنا هي كرتا هے جتنا ان كے ظلم كو روكنے كے ليے ضروري هو۔ وه عين اشتعال انگيز حالات ميں بھي اس كے لیے تيار رهتاهے كه لوگوں كو معاف كردے اور انھوں نے اس كےساتھ جو برائي كي هے اس كو بھول جائے۔
بندهٔ مومن يه سارے كام اپنے جذبهٔ ايمان كے تحت كرتاهے تاهم الله اس كي قدرداني اس طرح فرماتاهے كه اس كو اهلِ همت اور اولوالعزم كے خطاب سے نوازتا هے،اور اس كو ابدي نعمتوں كے باغ ميں داخل كرديتاهے۔
الشورى 42:44
اِس دنيا ميں هدايت كو دليل كے ذريعه كھولا جاتا هے۔ يهي اس دنيا كے لیے خدا كا قانون هے۔ اس كا مطلب يه هے كه اس دنيا ميں صرف وه شخص هدايت پاتا هے جو اس صلاحيت كا ثبوت دے كه وه دليل كي زبان ميں بات كو سمجھ سكتا هے۔ دليل كے ذريعه كسي بات كا ثابت هوجانا اس كے لیے كافي هے كه وه اس كے آگے جھك جائے جو لوگ دليل سے نه مانيں ان كو اس دنيا ميں كبھي هدايت نهيں مل سكتي۔
جو شخص موجوده دنيا ميں دليل كے آگے نهيں جھكتا وه اپنے آپ كو اس خطره ميں ڈالتا هے كه قيامت ميں اس كو خدائي طاقت كے آگے جھكا يا جائے۔ مگر قيامت كا جھكناكسي كے كچھ كام نه آئے گا۔ كيوں كه وه آدمي كو ذليل كرنے كے لیے هوگا، نه كه اس كو انعام كا مستحق بنانے كے ليے۔
الشورى 42:45
اِس دنيا ميں هدايت كو دليل كے ذريعه كھولا جاتا هے۔ يهي اس دنيا كے لیے خدا كا قانون هے۔ اس كا مطلب يه هے كه اس دنيا ميں صرف وه شخص هدايت پاتا هے جو اس صلاحيت كا ثبوت دے كه وه دليل كي زبان ميں بات كو سمجھ سكتا هے۔ دليل كے ذريعه كسي بات كا ثابت هوجانا اس كے لیے كافي هے كه وه اس كے آگے جھك جائے جو لوگ دليل سے نه مانيں ان كو اس دنيا ميں كبھي هدايت نهيں مل سكتي۔
جو شخص موجوده دنيا ميں دليل كے آگے نهيں جھكتا وه اپنے آپ كو اس خطره ميں ڈالتا هے كه قيامت ميں اس كو خدائي طاقت كے آگے جھكا يا جائے۔ مگر قيامت كا جھكناكسي كے كچھ كام نه آئے گا۔ كيوں كه وه آدمي كو ذليل كرنے كے لیے هوگا، نه كه اس كو انعام كا مستحق بنانے كے ليے۔
الشورى 42:46
اِس دنيا ميں هدايت كو دليل كے ذريعه كھولا جاتا هے۔ يهي اس دنيا كے لیے خدا كا قانون هے۔ اس كا مطلب يه هے كه اس دنيا ميں صرف وه شخص هدايت پاتا هے جو اس صلاحيت كا ثبوت دے كه وه دليل كي زبان ميں بات كو سمجھ سكتا هے۔ دليل كے ذريعه كسي بات كا ثابت هوجانا اس كے لیے كافي هے كه وه اس كے آگے جھك جائے جو لوگ دليل سے نه مانيں ان كو اس دنيا ميں كبھي هدايت نهيں مل سكتي۔
جو شخص موجوده دنيا ميں دليل كے آگے نهيں جھكتا وه اپنے آپ كو اس خطره ميں ڈالتا هے كه قيامت ميں اس كو خدائي طاقت كے آگے جھكا يا جائے۔ مگر قيامت كا جھكناكسي كے كچھ كام نه آئے گا۔ كيوں كه وه آدمي كو ذليل كرنے كے لیے هوگا، نه كه اس كو انعام كا مستحق بنانے كے ليے۔
الشورى 42:47
موجوده دنيا ميں آدمي كا اصل امتحان يه هے كه جو صورت حال بھي اس كے سامنے آئے، وه اس ميں صحيح ردعمل پيش كرے۔ مگر انسان ايسا نهيں كرتا۔ اس كو جب كوئي كاميابي ملتي هے تو وه فخر وناز كي نفسيات ميں مبتلا هوجاتا هے۔ اورجب وه كسي مصيبت ميں پڑتا هے تو وه منفي جذبات كا اظهار كرنے لگتا هے۔
يهي وه لوگ هيں جو دعوت حق كے مقابله ميں صحيح رد عمل پيش نهيں كرپاتے۔ ان كا غير حقيقت پسندانه مزاج يهاں بھي ان كو غير حقيقت پسند بناديتاهے۔ دعوت حق كا صحيح رد عمل يه هے كه آدمي فوراً اس كي حقانيت كا اعتراف كرلے۔ مگر آدمي يه كرتاهے كه وه اس كو اپني ساكھ كا مسئله بنا ليتا هے۔ وه سمجھتا هے كه دعوت كو مان كر ميں اس كو پيش كرنے والے كے سامنے چھوٹا هوجاؤں گا۔ يه احساس اس كے ليے حق كو قبول كرنے كي راه ميں ركاوٹ بن جاتا هے۔ وه اس كي صداقت پر يقين كرنے كے باوجود اپني ذاتي مصلحتوں كي بنا پر اس كو نظر انداز كرديتا هے۔
الشورى 42:48
موجوده دنيا ميں آدمي كا اصل امتحان يه هے كه جو صورت حال بھي اس كے سامنے آئے، وه اس ميں صحيح ردعمل پيش كرے۔ مگر انسان ايسا نهيں كرتا۔ اس كو جب كوئي كاميابي ملتي هے تو وه فخر وناز كي نفسيات ميں مبتلا هوجاتا هے۔ اورجب وه كسي مصيبت ميں پڑتا هے تو وه منفي جذبات كا اظهار كرنے لگتا هے۔
يهي وه لوگ هيں جو دعوت حق كے مقابله ميں صحيح رد عمل پيش نهيں كرپاتے۔ ان كا غير حقيقت پسندانه مزاج يهاں بھي ان كو غير حقيقت پسند بناديتاهے۔ دعوت حق كا صحيح رد عمل يه هے كه آدمي فوراً اس كي حقانيت كا اعتراف كرلے۔ مگر آدمي يه كرتاهے كه وه اس كو اپني ساكھ كا مسئله بنا ليتا هے۔ وه سمجھتا هے كه دعوت كو مان كر ميں اس كو پيش كرنے والے كے سامنے چھوٹا هوجاؤں گا۔ يه احساس اس كے ليے حق كو قبول كرنے كي راه ميں ركاوٹ بن جاتا هے۔ وه اس كي صداقت پر يقين كرنے كے باوجود اپني ذاتي مصلحتوں كي بنا پر اس كو نظر انداز كرديتا هے۔
الشورى 42:49
دين كي اساس اس تصور پر قائم هے كه اس كائنات ميں هر قسم كا اختيار صرف ايك خدا كو حاصل هے۔ اس كے سوا كسي كے پاس كوئي اختيار نهيں، خواه وه زمين وآسمان كے نظام كو چلانا هو يا ايك انسان كو اولاد عطا كرنا۔ آدمي جو كچھ پاتا هے خدا كے دئے سے پاتاهے اور وهي جب چاهتا هے اس كو اس سے چھين ليتا هے۔
خداكے بارے ميں يه عقيده هي آدمي کے اندر وہ صحیح احساس پیدا کرتا ہے جس کو ’’ عبدیت‘‘ کہا جاتا ہے اور خداكے بارے ميں يه عقيده هي آدمي كو مجبور كرتاهے كه وه اپني زندگي ميں اس روش كو اپنائے جس كا الٰهي شريعت ميں حكم دياگيا هے۔
الشورى 42:50
دين كي اساس اس تصور پر قائم هے كه اس كائنات ميں هر قسم كا اختيار صرف ايك خدا كو حاصل هے۔ اس كے سوا كسي كے پاس كوئي اختيار نهيں، خواه وه زمين وآسمان كے نظام كو چلانا هو يا ايك انسان كو اولاد عطا كرنا۔ آدمي جو كچھ پاتا هے خدا كے دئے سے پاتاهے اور وهي جب چاهتا هے اس كو اس سے چھين ليتا هے۔
خداكے بارے ميں يه عقيده هي آدمي کے اندر وہ صحیح احساس پیدا کرتا ہے جس کو ’’ عبدیت‘‘ کہا جاتا ہے اور خداكے بارے ميں يه عقيده هي آدمي كو مجبور كرتاهے كه وه اپني زندگي ميں اس روش كو اپنائے جس كا الٰهي شريعت ميں حكم دياگيا هے۔
الشورى 42:51
موجوده دنيا ميں كوئي انسان براهِ راست خدا سے هم كلام نهيں هوسكتا۔ انسان كا عجز اس قسم كے كلام ميں مانع هے۔ چنانچه پيغمبروں پر خدا كا جو كلام اترا وه بالواسطه انداز ميں اترا۔ بالواسطه خطاب كے كئي طريقے هيں ان كي مثاليں مختلف پيغمبروں كي زندگي ميں پائي جاتي هيں۔
ايك عالم جب كوئي كتاب لكھتاهے يا ايك مفكر جب كوئي كلام پيش كرتاهے تو اس كے ماضي ميں ايسے اسباب موجود هوتے هيں جو اس كے علمي اور فكري كارنامه كي توجيهه كرسكيں۔ مگر پيغمبر كا معامله اس سے بالكل مختلف هے۔ پيغمبر كي نبوت كے بعد كي زندگي اس كي نبوت سے پهلے كي زندگی سے سراسر مختلف هوتي هے۔ غير پيغمبر كا حال كا كلام اس كي ماضي كي زندگي كا تسلسل نظر آتا هے۔ مگر پيغمبر كي زبان سے بعد از نبوت جو كلام جاري هوتا هے وه اس كے قبل از نبوت كلام سے اتنا زياده ممتاز هوتا هے كه پيغمبر كے ماضي سے اس كي توجيهه نهيں كي جاسكتي۔ يه ايك واضح قرينه هے جو يه ثابت كرتاهے كه پيغمبر كا كلام خدائي كلام هے، نه كه عام انسانی كلام۔
پيغمبر اسلام صلي الله عليه وسلم كو يه خصوصيت حاصل ہے كه آپ كا دياهوا قرآن اور آپ كي اپني زبان سے نكلا هوا كلام، دونوںآج بھي اپني اصل حالت ميں موجود هيں۔ كوئي شخص جو عربي زبان جانتا هو اور وه ان دونوں كو تقابلي طورپر ديكھے تو وه دونوں كے درميان كھلا هوا فرق پائے گا۔ حديث كي زبان واضح طورپر محمد بن عبد الله كي زبان هے اور قرآن كي زبان واضح طورپر خدا كي زبان۔
الشورى 42:52
موجوده دنيا ميں كوئي انسان براهِ راست خدا سے هم كلام نهيں هوسكتا۔ انسان كا عجز اس قسم كے كلام ميں مانع هے۔ چنانچه پيغمبروں پر خدا كا جو كلام اترا وه بالواسطه انداز ميں اترا۔ بالواسطه خطاب كے كئي طريقے هيں ان كي مثاليں مختلف پيغمبروں كي زندگي ميں پائي جاتي هيں۔
ايك عالم جب كوئي كتاب لكھتاهے يا ايك مفكر جب كوئي كلام پيش كرتاهے تو اس كے ماضي ميں ايسے اسباب موجود هوتے هيں جو اس كے علمي اور فكري كارنامه كي توجيهه كرسكيں۔ مگر پيغمبر كا معامله اس سے بالكل مختلف هے۔ پيغمبر كي نبوت كے بعد كي زندگي اس كي نبوت سے پهلے كي زندگی سے سراسر مختلف هوتي هے۔ غير پيغمبر كا حال كا كلام اس كي ماضي كي زندگي كا تسلسل نظر آتا هے۔ مگر پيغمبر كي زبان سے بعد از نبوت جو كلام جاري هوتا هے وه اس كے قبل از نبوت كلام سے اتنا زياده ممتاز هوتا هے كه پيغمبر كے ماضي سے اس كي توجيهه نهيں كي جاسكتي۔ يه ايك واضح قرينه هے جو يه ثابت كرتاهے كه پيغمبر كا كلام خدائي كلام هے، نه كه عام انسانی كلام۔
پيغمبر اسلام صلي الله عليه وسلم كو يه خصوصيت حاصل ہے كه آپ كا دياهوا قرآن اور آپ كي اپني زبان سے نكلا هوا كلام، دونوںآج بھي اپني اصل حالت ميں موجود هيں۔ كوئي شخص جو عربي زبان جانتا هو اور وه ان دونوں كو تقابلي طورپر ديكھے تو وه دونوں كے درميان كھلا هوا فرق پائے گا۔ حديث كي زبان واضح طورپر محمد بن عبد الله كي زبان هے اور قرآن كي زبان واضح طورپر خدا كي زبان۔
الشورى 42:53
موجوده دنيا ميں كوئي انسان براهِ راست خدا سے هم كلام نهيں هوسكتا۔ انسان كا عجز اس قسم كے كلام ميں مانع هے۔ چنانچه پيغمبروں پر خدا كا جو كلام اترا وه بالواسطه انداز ميں اترا۔ بالواسطه خطاب كے كئي طريقے هيں ان كي مثاليں مختلف پيغمبروں كي زندگي ميں پائي جاتي هيں۔
ايك عالم جب كوئي كتاب لكھتاهے يا ايك مفكر جب كوئي كلام پيش كرتاهے تو اس كے ماضي ميں ايسے اسباب موجود هوتے هيں جو اس كے علمي اور فكري كارنامه كي توجيهه كرسكيں۔ مگر پيغمبر كا معامله اس سے بالكل مختلف هے۔ پيغمبر كي نبوت كے بعد كي زندگي اس كي نبوت سے پهلے كي زندگی سے سراسر مختلف هوتي هے۔ غير پيغمبر كا حال كا كلام اس كي ماضي كي زندگي كا تسلسل نظر آتا هے۔ مگر پيغمبر كي زبان سے بعد از نبوت جو كلام جاري هوتا هے وه اس كے قبل از نبوت كلام سے اتنا زياده ممتاز هوتا هے كه پيغمبر كے ماضي سے اس كي توجيهه نهيں كي جاسكتي۔ يه ايك واضح قرينه هے جو يه ثابت كرتاهے كه پيغمبر كا كلام خدائي كلام هے، نه كه عام انسانی كلام۔
پيغمبر اسلام صلي الله عليه وسلم كو يه خصوصيت حاصل ہے كه آپ كا دياهوا قرآن اور آپ كي اپني زبان سے نكلا هوا كلام، دونوںآج بھي اپني اصل حالت ميں موجود هيں۔ كوئي شخص جو عربي زبان جانتا هو اور وه ان دونوں كو تقابلي طورپر ديكھے تو وه دونوں كے درميان كھلا هوا فرق پائے گا۔ حديث كي زبان واضح طورپر محمد بن عبد الله كي زبان هے اور قرآن كي زبان واضح طورپر خدا كي زبان۔
الزخرف 43:1
اُمّ الكتاب سے مراد لوح محفوظ هے جو الله كے پاس هے۔ لوح محفوظ ميں الله تعالي نے اس اصل دين كو ثبت كرركھا هے جو اس كو انسانوں سے مطلوب هے۔ يهي اصل دين مختلف زبانوںميں مختلف پيغمبروں پر اترا۔ اور وه پيغمبر آخر الزماں پر عربي زبان ميں اتارا گيا۔اب عربي قرآن هي موجوده دنيا ميں اصل دينِ خداوندي كا نمائنده هے۔ حاملينِ قرآن كي يه ذمه داري هے كه وه اس كو هر زبان ميں منتقل كركے اسے تمام قوموں تك پهنچائيںتاكه اس دين كو جس طرح عربوں نے سمجھا اسي طرح دوسرے لوگ بھي اس كو سمجھ سكيں۔
قرآن كا بلند اور پر حكمت هونا اس كے كتاب الهي هونے كا ثبوت هے۔ قرآن كي زبان اور اس كے مضامين خدائي عظمت كے هم سطح هيں، اور يهي اس بات كا ثبوت هے كه وه خداكي كتاب هے۔ قرآن اگر انساني كلام هوتا تو اس ميں وه غير معمولي عظمت نه پائي جاتي جو اب اس ميں پائي جارهي هے۔
الزخرف 43:2
اُمّ الكتاب سے مراد لوح محفوظ هے جو الله كے پاس هے۔ لوح محفوظ ميں الله تعالي نے اس اصل دين كو ثبت كرركھا هے جو اس كو انسانوں سے مطلوب هے۔ يهي اصل دين مختلف زبانوںميں مختلف پيغمبروں پر اترا۔ اور وه پيغمبر آخر الزماں پر عربي زبان ميں اتارا گيا۔اب عربي قرآن هي موجوده دنيا ميں اصل دينِ خداوندي كا نمائنده هے۔ حاملينِ قرآن كي يه ذمه داري هے كه وه اس كو هر زبان ميں منتقل كركے اسے تمام قوموں تك پهنچائيںتاكه اس دين كو جس طرح عربوں نے سمجھا اسي طرح دوسرے لوگ بھي اس كو سمجھ سكيں۔
قرآن كا بلند اور پر حكمت هونا اس كے كتاب الهي هونے كا ثبوت هے۔ قرآن كي زبان اور اس كے مضامين خدائي عظمت كے هم سطح هيں، اور يهي اس بات كا ثبوت هے كه وه خداكي كتاب هے۔ قرآن اگر انساني كلام هوتا تو اس ميں وه غير معمولي عظمت نه پائي جاتي جو اب اس ميں پائي جارهي هے۔
الزخرف 43:3
اُمّ الكتاب سے مراد لوح محفوظ هے جو الله كے پاس هے۔ لوح محفوظ ميں الله تعالي نے اس اصل دين كو ثبت كرركھا هے جو اس كو انسانوں سے مطلوب هے۔ يهي اصل دين مختلف زبانوںميں مختلف پيغمبروں پر اترا۔ اور وه پيغمبر آخر الزماں پر عربي زبان ميں اتارا گيا۔اب عربي قرآن هي موجوده دنيا ميں اصل دينِ خداوندي كا نمائنده هے۔ حاملينِ قرآن كي يه ذمه داري هے كه وه اس كو هر زبان ميں منتقل كركے اسے تمام قوموں تك پهنچائيںتاكه اس دين كو جس طرح عربوں نے سمجھا اسي طرح دوسرے لوگ بھي اس كو سمجھ سكيں۔
قرآن كا بلند اور پر حكمت هونا اس كے كتاب الهي هونے كا ثبوت هے۔ قرآن كي زبان اور اس كے مضامين خدائي عظمت كے هم سطح هيں، اور يهي اس بات كا ثبوت هے كه وه خداكي كتاب هے۔ قرآن اگر انساني كلام هوتا تو اس ميں وه غير معمولي عظمت نه پائي جاتي جو اب اس ميں پائي جارهي هے۔
الزخرف 43:4
اُمّ الكتاب سے مراد لوح محفوظ هے جو الله كے پاس هے۔ لوح محفوظ ميں الله تعالي نے اس اصل دين كو ثبت كرركھا هے جو اس كو انسانوں سے مطلوب هے۔ يهي اصل دين مختلف زبانوںميں مختلف پيغمبروں پر اترا۔ اور وه پيغمبر آخر الزماں پر عربي زبان ميں اتارا گيا۔اب عربي قرآن هي موجوده دنيا ميں اصل دينِ خداوندي كا نمائنده هے۔ حاملينِ قرآن كي يه ذمه داري هے كه وه اس كو هر زبان ميں منتقل كركے اسے تمام قوموں تك پهنچائيںتاكه اس دين كو جس طرح عربوں نے سمجھا اسي طرح دوسرے لوگ بھي اس كو سمجھ سكيں۔
قرآن كا بلند اور پر حكمت هونا اس كے كتاب الهي هونے كا ثبوت هے۔ قرآن كي زبان اور اس كے مضامين خدائي عظمت كے هم سطح هيں، اور يهي اس بات كا ثبوت هے كه وه خداكي كتاب هے۔ قرآن اگر انساني كلام هوتا تو اس ميں وه غير معمولي عظمت نه پائي جاتي جو اب اس ميں پائي جارهي هے۔
الزخرف 43:5
آج دنيا ميں بے شمار ايسے لوگ پائے جاتے هیں جو پچھلے پيغمبروں كا نام عزت كے ساتھ ليتے هيں۔ ايسي حالت ميں يه بات بڑي عجيب معلوم هوتي هے كه ان پيغمبروں كا (بشمول پيغمبر اسلام) ان كے هم زمانه لوگوں نے مذاق كيوں اڑايا۔
اس كي وجه يه نهيں هے كه پچھلے لوگ وحشي تھے اور آج كے لوگ مهذب هيں۔ يه صرف زمانه كا فرق هے۔ آج لمبي مدت گزرنے كے بعد هر پيغمبر كے ساتھ تاريخي عظمت كا زور شامل هوچكا هے۔ اس ليے آج هر ظاهربیں پيغمبر كو پهچان ليتاهے۔ مگر پيغمبر اپنے زمانه كے لوگوں كو صرف ايك عام انسان نظر آتا تھا۔ اس وقت پيغمبر كي پيغمبرانه حيثيت كو پهچاننے كے لیے حقيقت بيں نگاه دركار تھي۔ اور بلا شبه حقيقت بيں نگاه دنيا ميں هميشه سب سے كم پائي گئي هے۔
دعوت حق كے مخاطبين خواه كتنا هي زياده غلط رويه اختيار كريں، داعي يك طرفه طورپر صبر كرتے هوئے اپنے دعوتي عمل كو جاري ركھتا هے۔ تاآنكه وه وقت آجائے جب كه خدا اپني طرف سے كوئي فيصله فرمادے۔
الزخرف 43:6
آج دنيا ميں بے شمار ايسے لوگ پائے جاتے هیں جو پچھلے پيغمبروں كا نام عزت كے ساتھ ليتے هيں۔ ايسي حالت ميں يه بات بڑي عجيب معلوم هوتي هے كه ان پيغمبروں كا (بشمول پيغمبر اسلام) ان كے هم زمانه لوگوں نے مذاق كيوں اڑايا۔
اس كي وجه يه نهيں هے كه پچھلے لوگ وحشي تھے اور آج كے لوگ مهذب هيں۔ يه صرف زمانه كا فرق هے۔ آج لمبي مدت گزرنے كے بعد هر پيغمبر كے ساتھ تاريخي عظمت كا زور شامل هوچكا هے۔ اس ليے آج هر ظاهربیں پيغمبر كو پهچان ليتاهے۔ مگر پيغمبر اپنے زمانه كے لوگوں كو صرف ايك عام انسان نظر آتا تھا۔ اس وقت پيغمبر كي پيغمبرانه حيثيت كو پهچاننے كے لیے حقيقت بيں نگاه دركار تھي۔ اور بلا شبه حقيقت بيں نگاه دنيا ميں هميشه سب سے كم پائي گئي هے۔
دعوت حق كے مخاطبين خواه كتنا هي زياده غلط رويه اختيار كريں، داعي يك طرفه طورپر صبر كرتے هوئے اپنے دعوتي عمل كو جاري ركھتا هے۔ تاآنكه وه وقت آجائے جب كه خدا اپني طرف سے كوئي فيصله فرمادے۔
الزخرف 43:7
آج دنيا ميں بے شمار ايسے لوگ پائے جاتے هیں جو پچھلے پيغمبروں كا نام عزت كے ساتھ ليتے هيں۔ ايسي حالت ميں يه بات بڑي عجيب معلوم هوتي هے كه ان پيغمبروں كا (بشمول پيغمبر اسلام) ان كے هم زمانه لوگوں نے مذاق كيوں اڑايا۔
اس كي وجه يه نهيں هے كه پچھلے لوگ وحشي تھے اور آج كے لوگ مهذب هيں۔ يه صرف زمانه كا فرق هے۔ آج لمبي مدت گزرنے كے بعد هر پيغمبر كے ساتھ تاريخي عظمت كا زور شامل هوچكا هے۔ اس ليے آج هر ظاهربیں پيغمبر كو پهچان ليتاهے۔ مگر پيغمبر اپنے زمانه كے لوگوں كو صرف ايك عام انسان نظر آتا تھا۔ اس وقت پيغمبر كي پيغمبرانه حيثيت كو پهچاننے كے لیے حقيقت بيں نگاه دركار تھي۔ اور بلا شبه حقيقت بيں نگاه دنيا ميں هميشه سب سے كم پائي گئي هے۔
دعوت حق كے مخاطبين خواه كتنا هي زياده غلط رويه اختيار كريں، داعي يك طرفه طورپر صبر كرتے هوئے اپنے دعوتي عمل كو جاري ركھتا هے۔ تاآنكه وه وقت آجائے جب كه خدا اپني طرف سے كوئي فيصله فرمادے۔
الزخرف 43:8
آج دنيا ميں بے شمار ايسے لوگ پائے جاتے هیں جو پچھلے پيغمبروں كا نام عزت كے ساتھ ليتے هيں۔ ايسي حالت ميں يه بات بڑي عجيب معلوم هوتي هے كه ان پيغمبروں كا (بشمول پيغمبر اسلام) ان كے هم زمانه لوگوں نے مذاق كيوں اڑايا۔
اس كي وجه يه نهيں هے كه پچھلے لوگ وحشي تھے اور آج كے لوگ مهذب هيں۔ يه صرف زمانه كا فرق هے۔ آج لمبي مدت گزرنے كے بعد هر پيغمبر كے ساتھ تاريخي عظمت كا زور شامل هوچكا هے۔ اس ليے آج هر ظاهربیں پيغمبر كو پهچان ليتاهے۔ مگر پيغمبر اپنے زمانه كے لوگوں كو صرف ايك عام انسان نظر آتا تھا۔ اس وقت پيغمبر كي پيغمبرانه حيثيت كو پهچاننے كے لیے حقيقت بيں نگاه دركار تھي۔ اور بلا شبه حقيقت بيں نگاه دنيا ميں هميشه سب سے كم پائي گئي هے۔
دعوت حق كے مخاطبين خواه كتنا هي زياده غلط رويه اختيار كريں، داعي يك طرفه طورپر صبر كرتے هوئے اپنے دعوتي عمل كو جاري ركھتا هے۔ تاآنكه وه وقت آجائے جب كه خدا اپني طرف سے كوئي فيصله فرمادے۔
الزخرف 43:9
خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي تشريح كرتا هے۔ اس قسم كے تمام عقيدے محض بے بنياد مفروضے هيں۔ ان كے حق ميں كوئي بھي حقيقي دليل موجود نهيں۔
يهاں عورت كي صنفي خصوصيات كو دو جامع لفظ ميں بيان كردياگيا هے۔ ايك يه كه وه طبعاً آرائش پسند هوتي هے۔ دوسرے يه كه وه مقابله كے وقت پُرزور انداز ميں كلام نهيں كرپاتي۔ عورت كے اندر يه صنفي كمي ايك حقيقت هے اور اسي بنا پر اسلام ميں يه تقسيم كي گئي هے كه مرد بيروني كام كا ذمه دار هے اور عورت اندروني كام كي ذمه دار۔
الزخرف 43:10
خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي تشريح كرتا هے۔ اس قسم كے تمام عقيدے محض بے بنياد مفروضے هيں۔ ان كے حق ميں كوئي بھي حقيقي دليل موجود نهيں۔
يهاں عورت كي صنفي خصوصيات كو دو جامع لفظ ميں بيان كردياگيا هے۔ ايك يه كه وه طبعاً آرائش پسند هوتي هے۔ دوسرے يه كه وه مقابله كے وقت پُرزور انداز ميں كلام نهيں كرپاتي۔ عورت كے اندر يه صنفي كمي ايك حقيقت هے اور اسي بنا پر اسلام ميں يه تقسيم كي گئي هے كه مرد بيروني كام كا ذمه دار هے اور عورت اندروني كام كي ذمه دار۔
الزخرف 43:11
خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي تشريح كرتا هے۔ اس قسم كے تمام عقيدے محض بے بنياد مفروضے هيں۔ ان كے حق ميں كوئي بھي حقيقي دليل موجود نهيں۔
يهاں عورت كي صنفي خصوصيات كو دو جامع لفظ ميں بيان كردياگيا هے۔ ايك يه كه وه طبعاً آرائش پسند هوتي هے۔ دوسرے يه كه وه مقابله كے وقت پُرزور انداز ميں كلام نهيں كرپاتي۔ عورت كے اندر يه صنفي كمي ايك حقيقت هے اور اسي بنا پر اسلام ميں يه تقسيم كي گئي هے كه مرد بيروني كام كا ذمه دار هے اور عورت اندروني كام كي ذمه دار۔
الزخرف 43:12
خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي تشريح كرتا هے۔ اس قسم كے تمام عقيدے محض بے بنياد مفروضے هيں۔ ان كے حق ميں كوئي بھي حقيقي دليل موجود نهيں۔
يهاں عورت كي صنفي خصوصيات كو دو جامع لفظ ميں بيان كردياگيا هے۔ ايك يه كه وه طبعاً آرائش پسند هوتي هے۔ دوسرے يه كه وه مقابله كے وقت پُرزور انداز ميں كلام نهيں كرپاتي۔ عورت كے اندر يه صنفي كمي ايك حقيقت هے اور اسي بنا پر اسلام ميں يه تقسيم كي گئي هے كه مرد بيروني كام كا ذمه دار هے اور عورت اندروني كام كي ذمه دار۔
الزخرف 43:13
خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي تشريح كرتا هے۔ اس قسم كے تمام عقيدے محض بے بنياد مفروضے هيں۔ ان كے حق ميں كوئي بھي حقيقي دليل موجود نهيں۔
يهاں عورت كي صنفي خصوصيات كو دو جامع لفظ ميں بيان كردياگيا هے۔ ايك يه كه وه طبعاً آرائش پسند هوتي هے۔ دوسرے يه كه وه مقابله كے وقت پُرزور انداز ميں كلام نهيں كرپاتي۔ عورت كے اندر يه صنفي كمي ايك حقيقت هے اور اسي بنا پر اسلام ميں يه تقسيم كي گئي هے كه مرد بيروني كام كا ذمه دار هے اور عورت اندروني كام كي ذمه دار۔
الزخرف 43:14
خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي تشريح كرتا هے۔ اس قسم كے تمام عقيدے محض بے بنياد مفروضے هيں۔ ان كے حق ميں كوئي بھي حقيقي دليل موجود نهيں۔
يهاں عورت كي صنفي خصوصيات كو دو جامع لفظ ميں بيان كردياگيا هے۔ ايك يه كه وه طبعاً آرائش پسند هوتي هے۔ دوسرے يه كه وه مقابله كے وقت پُرزور انداز ميں كلام نهيں كرپاتي۔ عورت كے اندر يه صنفي كمي ايك حقيقت هے اور اسي بنا پر اسلام ميں يه تقسيم كي گئي هے كه مرد بيروني كام كا ذمه دار هے اور عورت اندروني كام كي ذمه دار۔
الزخرف 43:15
خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي تشريح كرتا هے۔ اس قسم كے تمام عقيدے محض بے بنياد مفروضے هيں۔ ان كے حق ميں كوئي بھي حقيقي دليل موجود نهيں۔
يهاں عورت كي صنفي خصوصيات كو دو جامع لفظ ميں بيان كردياگيا هے۔ ايك يه كه وه طبعاً آرائش پسند هوتي هے۔ دوسرے يه كه وه مقابله كے وقت پُرزور انداز ميں كلام نهيں كرپاتي۔ عورت كے اندر يه صنفي كمي ايك حقيقت هے اور اسي بنا پر اسلام ميں يه تقسيم كي گئي هے كه مرد بيروني كام كا ذمه دار هے اور عورت اندروني كام كي ذمه دار۔
الزخرف 43:16
خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي تشريح كرتا هے۔ اس قسم كے تمام عقيدے محض بے بنياد مفروضے هيں۔ ان كے حق ميں كوئي بھي حقيقي دليل موجود نهيں۔
يهاں عورت كي صنفي خصوصيات كو دو جامع لفظ ميں بيان كردياگيا هے۔ ايك يه كه وه طبعاً آرائش پسند هوتي هے۔ دوسرے يه كه وه مقابله كے وقت پُرزور انداز ميں كلام نهيں كرپاتي۔ عورت كے اندر يه صنفي كمي ايك حقيقت هے اور اسي بنا پر اسلام ميں يه تقسيم كي گئي هے كه مرد بيروني كام كا ذمه دار هے اور عورت اندروني كام كي ذمه دار۔
الزخرف 43:17
خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي تشريح كرتا هے۔ اس قسم كے تمام عقيدے محض بے بنياد مفروضے هيں۔ ان كے حق ميں كوئي بھي حقيقي دليل موجود نهيں۔
يهاں عورت كي صنفي خصوصيات كو دو جامع لفظ ميں بيان كردياگيا هے۔ ايك يه كه وه طبعاً آرائش پسند هوتي هے۔ دوسرے يه كه وه مقابله كے وقت پُرزور انداز ميں كلام نهيں كرپاتي۔ عورت كے اندر يه صنفي كمي ايك حقيقت هے اور اسي بنا پر اسلام ميں يه تقسيم كي گئي هے كه مرد بيروني كام كا ذمه دار هے اور عورت اندروني كام كي ذمه دار۔
الزخرف 43:18
خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي تشريح كرتا هے۔ اس قسم كے تمام عقيدے محض بے بنياد مفروضے هيں۔ ان كے حق ميں كوئي بھي حقيقي دليل موجود نهيں۔
يهاں عورت كي صنفي خصوصيات كو دو جامع لفظ ميں بيان كردياگيا هے۔ ايك يه كه وه طبعاً آرائش پسند هوتي هے۔ دوسرے يه كه وه مقابله كے وقت پُرزور انداز ميں كلام نهيں كرپاتي۔ عورت كے اندر يه صنفي كمي ايك حقيقت هے اور اسي بنا پر اسلام ميں يه تقسيم كي گئي هے كه مرد بيروني كام كا ذمه دار هے اور عورت اندروني كام كي ذمه دار۔
الزخرف 43:19
خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي تشريح كرتا هے۔ اس قسم كے تمام عقيدے محض بے بنياد مفروضے هيں۔ ان كے حق ميں كوئي بھي حقيقي دليل موجود نهيں۔
يهاں عورت كي صنفي خصوصيات كو دو جامع لفظ ميں بيان كردياگيا هے۔ ايك يه كه وه طبعاً آرائش پسند هوتي هے۔ دوسرے يه كه وه مقابله كے وقت پُرزور انداز ميں كلام نهيں كرپاتي۔ عورت كے اندر يه صنفي كمي ايك حقيقت هے اور اسي بنا پر اسلام ميں يه تقسيم كي گئي هے كه مرد بيروني كام كا ذمه دار هے اور عورت اندروني كام كي ذمه دار۔
الزخرف 43:20
موجوده دنيا ميں انسان جو بھي كام كرنا چاهتا هے وه اس كے مواقع پاليتا هے۔ اس سے اكثر لوگ اس غلط فهمي ميں پڑ جاتے هيں كه وه جو كچھ كررهے هيں صحيح كررهے هيں۔ اگر وه غلطي پر هوتے تو وه اپنے طريقه كو چلانے ميں كامياب نه هوتے۔ اس قسم كي باتيں اكثر وه لوگ كرتے هيں جن كو خوش حال طبقه كهاجاتا هے ۔
مگر يه زبردست غلط فهمي هے۔ موجوده دنيا ميں هر طريقه كا چل پڑنا اس ليے هے كه يهاں امتحان كي آزادي هے۔ آخرت کی دنيا ميں امتحان كي مدت ختم هوجائے گي۔ اس ليے وهاں كسي كے ليے يه موقع بھي باقي نه رهے گا۔
هر دور ميں پيغمبروں كے دين كا مقابله سب سے زياده آبائي دين سے پيش آيا هے۔ ’’آباء‘‘ قوموں كي نظر ميں اكابر كا درجه حاصل كرچكے هوتے هيں۔ اس كے مقابله ميں وقت كا پيغمبر انھيں اصاغر ميں سے نظر آتا هے اس بنا پر ان كے لیے ناممكن هوجاتا هے كه وه بڑوں كے دين كوچھوڑ كر چھوٹے كے دين كو اختيار كرليں۔ مگر انھيں ’’چھوٹوں‘‘ كي تكذيب پر ان قوموں پر وه عذاب آيا جس كے متعلق ان كا گمان تھا كه وه صرف ’’بڑوں‘‘ كي تكذيب پر آسكتا هے۔
الزخرف 43:21
موجوده دنيا ميں انسان جو بھي كام كرنا چاهتا هے وه اس كے مواقع پاليتا هے۔ اس سے اكثر لوگ اس غلط فهمي ميں پڑ جاتے هيں كه وه جو كچھ كررهے هيں صحيح كررهے هيں۔ اگر وه غلطي پر هوتے تو وه اپنے طريقه كو چلانے ميں كامياب نه هوتے۔ اس قسم كي باتيں اكثر وه لوگ كرتے هيں جن كو خوش حال طبقه كهاجاتا هے ۔
مگر يه زبردست غلط فهمي هے۔ موجوده دنيا ميں هر طريقه كا چل پڑنا اس ليے هے كه يهاں امتحان كي آزادي هے۔ آخرت کی دنيا ميں امتحان كي مدت ختم هوجائے گي۔ اس ليے وهاں كسي كے ليے يه موقع بھي باقي نه رهے گا۔
هر دور ميں پيغمبروں كے دين كا مقابله سب سے زياده آبائي دين سے پيش آيا هے۔ ’’آباء‘‘ قوموں كي نظر ميں اكابر كا درجه حاصل كرچكے هوتے هيں۔ اس كے مقابله ميں وقت كا پيغمبر انھيں اصاغر ميں سے نظر آتا هے اس بنا پر ان كے لیے ناممكن هوجاتا هے كه وه بڑوں كے دين كوچھوڑ كر چھوٹے كے دين كو اختيار كرليں۔ مگر انھيں ’’چھوٹوں‘‘ كي تكذيب پر ان قوموں پر وه عذاب آيا جس كے متعلق ان كا گمان تھا كه وه صرف ’’بڑوں‘‘ كي تكذيب پر آسكتا هے۔
الزخرف 43:22
موجوده دنيا ميں انسان جو بھي كام كرنا چاهتا هے وه اس كے مواقع پاليتا هے۔ اس سے اكثر لوگ اس غلط فهمي ميں پڑ جاتے هيں كه وه جو كچھ كررهے هيں صحيح كررهے هيں۔ اگر وه غلطي پر هوتے تو وه اپنے طريقه كو چلانے ميں كامياب نه هوتے۔ اس قسم كي باتيں اكثر وه لوگ كرتے هيں جن كو خوش حال طبقه كهاجاتا هے ۔
مگر يه زبردست غلط فهمي هے۔ موجوده دنيا ميں هر طريقه كا چل پڑنا اس ليے هے كه يهاں امتحان كي آزادي هے۔ آخرت کی دنيا ميں امتحان كي مدت ختم هوجائے گي۔ اس ليے وهاں كسي كے ليے يه موقع بھي باقي نه رهے گا۔
هر دور ميں پيغمبروں كے دين كا مقابله سب سے زياده آبائي دين سے پيش آيا هے۔ ’’آباء‘‘ قوموں كي نظر ميں اكابر كا درجه حاصل كرچكے هوتے هيں۔ اس كے مقابله ميں وقت كا پيغمبر انھيں اصاغر ميں سے نظر آتا هے اس بنا پر ان كے لیے ناممكن هوجاتا هے كه وه بڑوں كے دين كوچھوڑ كر چھوٹے كے دين كو اختيار كرليں۔ مگر انھيں ’’چھوٹوں‘‘ كي تكذيب پر ان قوموں پر وه عذاب آيا جس كے متعلق ان كا گمان تھا كه وه صرف ’’بڑوں‘‘ كي تكذيب پر آسكتا هے۔
الزخرف 43:23
موجوده دنيا ميں انسان جو بھي كام كرنا چاهتا هے وه اس كے مواقع پاليتا هے۔ اس سے اكثر لوگ اس غلط فهمي ميں پڑ جاتے هيں كه وه جو كچھ كررهے هيں صحيح كررهے هيں۔ اگر وه غلطي پر هوتے تو وه اپنے طريقه كو چلانے ميں كامياب نه هوتے۔ اس قسم كي باتيں اكثر وه لوگ كرتے هيں جن كو خوش حال طبقه كهاجاتا هے ۔
مگر يه زبردست غلط فهمي هے۔ موجوده دنيا ميں هر طريقه كا چل پڑنا اس ليے هے كه يهاں امتحان كي آزادي هے۔ آخرت کی دنيا ميں امتحان كي مدت ختم هوجائے گي۔ اس ليے وهاں كسي كے ليے يه موقع بھي باقي نه رهے گا۔
هر دور ميں پيغمبروں كے دين كا مقابله سب سے زياده آبائي دين سے پيش آيا هے۔ ’’آباء‘‘ قوموں كي نظر ميں اكابر كا درجه حاصل كرچكے هوتے هيں۔ اس كے مقابله ميں وقت كا پيغمبر انھيں اصاغر ميں سے نظر آتا هے اس بنا پر ان كے لیے ناممكن هوجاتا هے كه وه بڑوں كے دين كوچھوڑ كر چھوٹے كے دين كو اختيار كرليں۔ مگر انھيں ’’چھوٹوں‘‘ كي تكذيب پر ان قوموں پر وه عذاب آيا جس كے متعلق ان كا گمان تھا كه وه صرف ’’بڑوں‘‘ كي تكذيب پر آسكتا هے۔
الزخرف 43:24
موجوده دنيا ميں انسان جو بھي كام كرنا چاهتا هے وه اس كے مواقع پاليتا هے۔ اس سے اكثر لوگ اس غلط فهمي ميں پڑ جاتے هيں كه وه جو كچھ كررهے هيں صحيح كررهے هيں۔ اگر وه غلطي پر هوتے تو وه اپنے طريقه كو چلانے ميں كامياب نه هوتے۔ اس قسم كي باتيں اكثر وه لوگ كرتے هيں جن كو خوش حال طبقه كهاجاتا هے ۔
مگر يه زبردست غلط فهمي هے۔ موجوده دنيا ميں هر طريقه كا چل پڑنا اس ليے هے كه يهاں امتحان كي آزادي هے۔ آخرت کی دنيا ميں امتحان كي مدت ختم هوجائے گي۔ اس ليے وهاں كسي كے ليے يه موقع بھي باقي نه رهے گا۔
هر دور ميں پيغمبروں كے دين كا مقابله سب سے زياده آبائي دين سے پيش آيا هے۔ ’’آباء‘‘ قوموں كي نظر ميں اكابر كا درجه حاصل كرچكے هوتے هيں۔ اس كے مقابله ميں وقت كا پيغمبر انھيں اصاغر ميں سے نظر آتا هے اس بنا پر ان كے لیے ناممكن هوجاتا هے كه وه بڑوں كے دين كوچھوڑ كر چھوٹے كے دين كو اختيار كرليں۔ مگر انھيں ’’چھوٹوں‘‘ كي تكذيب پر ان قوموں پر وه عذاب آيا جس كے متعلق ان كا گمان تھا كه وه صرف ’’بڑوں‘‘ كي تكذيب پر آسكتا هے۔
الزخرف 43:25
موجوده دنيا ميں انسان جو بھي كام كرنا چاهتا هے وه اس كے مواقع پاليتا هے۔ اس سے اكثر لوگ اس غلط فهمي ميں پڑ جاتے هيں كه وه جو كچھ كررهے هيں صحيح كررهے هيں۔ اگر وه غلطي پر هوتے تو وه اپنے طريقه كو چلانے ميں كامياب نه هوتے۔ اس قسم كي باتيں اكثر وه لوگ كرتے هيں جن كو خوش حال طبقه كهاجاتا هے ۔
مگر يه زبردست غلط فهمي هے۔ موجوده دنيا ميں هر طريقه كا چل پڑنا اس ليے هے كه يهاں امتحان كي آزادي هے۔ آخرت کی دنيا ميں امتحان كي مدت ختم هوجائے گي۔ اس ليے وهاں كسي كے ليے يه موقع بھي باقي نه رهے گا۔
هر دور ميں پيغمبروں كے دين كا مقابله سب سے زياده آبائي دين سے پيش آيا هے۔ ’’آباء‘‘ قوموں كي نظر ميں اكابر كا درجه حاصل كرچكے هوتے هيں۔ اس كے مقابله ميں وقت كا پيغمبر انھيں اصاغر ميں سے نظر آتا هے اس بنا پر ان كے لیے ناممكن هوجاتا هے كه وه بڑوں كے دين كوچھوڑ كر چھوٹے كے دين كو اختيار كرليں۔ مگر انھيں ’’چھوٹوں‘‘ كي تكذيب پر ان قوموں پر وه عذاب آيا جس كے متعلق ان كا گمان تھا كه وه صرف ’’بڑوں‘‘ كي تكذيب پر آسكتا هے۔
الزخرف 43:26
يهاں حضرت ابراهيم عليه السلام كے جس كلمهٔ توحيد كا ذكر هے وه ان كي دعوتي زندگي كے آخري دور ميں نكلا تھا۔ يه كلمه محض چند الفاظ كا مجموعه نه تھا ۔ وه ايك عظيم تاريخ كا خلاصه تھا۔ حضرت ابراهيم جب سن شعور كو پهنچے تو انھيں يه دريافت هوئي كه انسان كا معبود صرف ايك هے۔ اس كے سوا تمام معبود باطل اور بے حقيقت هيں۔ انھوںنے اپني زندگي كي تعمير اسي عقيده پر كي۔ خاندان اور قوم كے اندر اسي كي تبليغ كي۔ وه كسي مصلحت كا لحاظ كيے بغير لمبي مدّت تك اس پر قائم رهے۔ يهاں تك كه ان كا موحد هونا هي ان كي حيثيتِ عرفي بن گيا۔ اس طرح كي ايك لمبي زندگي گزارنے كے بعد جب وه مذكوره كلمه كهه كر اپنے وطن سے روانه هوئے تو ان كا كلمه قدرتي طورپر كلمهٔ باقيه بن گيا۔ وه ايك ايسا واقعه تھا كه حضرت ابراهيم كا ذكر آتے ہی وه لوگوں كو ياد آجاتاتھا۔
حضرت ابراهيم كي اس طاقت ور روايت كوان كے بعد كي نسل ميں نشانِ راه كا كام دينا چاهئے تھا۔ مگر دنيا كي دلچسپيوں نے بعد كے لوگوں كو اس سے غافل كرديا۔ حتي كه وه اس معاملے ميں اتنے بے شعور هوگئے كه بعد كے زمانه ميں جب خدا كا ايك بنده انھيں ان كا ماضي كا سبق ياد دلانے كے ليے اٹھا تو انھوں نے اس كا انكار كرديا۔
الزخرف 43:27
يهاں حضرت ابراهيم عليه السلام كے جس كلمهٔ توحيد كا ذكر هے وه ان كي دعوتي زندگي كے آخري دور ميں نكلا تھا۔ يه كلمه محض چند الفاظ كا مجموعه نه تھا ۔ وه ايك عظيم تاريخ كا خلاصه تھا۔ حضرت ابراهيم جب سن شعور كو پهنچے تو انھيں يه دريافت هوئي كه انسان كا معبود صرف ايك هے۔ اس كے سوا تمام معبود باطل اور بے حقيقت هيں۔ انھوںنے اپني زندگي كي تعمير اسي عقيده پر كي۔ خاندان اور قوم كے اندر اسي كي تبليغ كي۔ وه كسي مصلحت كا لحاظ كيے بغير لمبي مدّت تك اس پر قائم رهے۔ يهاں تك كه ان كا موحد هونا هي ان كي حيثيتِ عرفي بن گيا۔ اس طرح كي ايك لمبي زندگي گزارنے كے بعد جب وه مذكوره كلمه كهه كر اپنے وطن سے روانه هوئے تو ان كا كلمه قدرتي طورپر كلمهٔ باقيه بن گيا۔ وه ايك ايسا واقعه تھا كه حضرت ابراهيم كا ذكر آتے ہی وه لوگوں كو ياد آجاتاتھا۔
حضرت ابراهيم كي اس طاقت ور روايت كوان كے بعد كي نسل ميں نشانِ راه كا كام دينا چاهئے تھا۔ مگر دنيا كي دلچسپيوں نے بعد كے لوگوں كو اس سے غافل كرديا۔ حتي كه وه اس معاملے ميں اتنے بے شعور هوگئے كه بعد كے زمانه ميں جب خدا كا ايك بنده انھيں ان كا ماضي كا سبق ياد دلانے كے ليے اٹھا تو انھوں نے اس كا انكار كرديا۔
الزخرف 43:28
يهاں حضرت ابراهيم عليه السلام كے جس كلمهٔ توحيد كا ذكر هے وه ان كي دعوتي زندگي كے آخري دور ميں نكلا تھا۔ يه كلمه محض چند الفاظ كا مجموعه نه تھا ۔ وه ايك عظيم تاريخ كا خلاصه تھا۔ حضرت ابراهيم جب سن شعور كو پهنچے تو انھيں يه دريافت هوئي كه انسان كا معبود صرف ايك هے۔ اس كے سوا تمام معبود باطل اور بے حقيقت هيں۔ انھوںنے اپني زندگي كي تعمير اسي عقيده پر كي۔ خاندان اور قوم كے اندر اسي كي تبليغ كي۔ وه كسي مصلحت كا لحاظ كيے بغير لمبي مدّت تك اس پر قائم رهے۔ يهاں تك كه ان كا موحد هونا هي ان كي حيثيتِ عرفي بن گيا۔ اس طرح كي ايك لمبي زندگي گزارنے كے بعد جب وه مذكوره كلمه كهه كر اپنے وطن سے روانه هوئے تو ان كا كلمه قدرتي طورپر كلمهٔ باقيه بن گيا۔ وه ايك ايسا واقعه تھا كه حضرت ابراهيم كا ذكر آتے ہی وه لوگوں كو ياد آجاتاتھا۔
حضرت ابراهيم كي اس طاقت ور روايت كوان كے بعد كي نسل ميں نشانِ راه كا كام دينا چاهئے تھا۔ مگر دنيا كي دلچسپيوں نے بعد كے لوگوں كو اس سے غافل كرديا۔ حتي كه وه اس معاملے ميں اتنے بے شعور هوگئے كه بعد كے زمانه ميں جب خدا كا ايك بنده انھيں ان كا ماضي كا سبق ياد دلانے كے ليے اٹھا تو انھوں نے اس كا انكار كرديا۔
الزخرف 43:29
يهاں حضرت ابراهيم عليه السلام كے جس كلمهٔ توحيد كا ذكر هے وه ان كي دعوتي زندگي كے آخري دور ميں نكلا تھا۔ يه كلمه محض چند الفاظ كا مجموعه نه تھا ۔ وه ايك عظيم تاريخ كا خلاصه تھا۔ حضرت ابراهيم جب سن شعور كو پهنچے تو انھيں يه دريافت هوئي كه انسان كا معبود صرف ايك هے۔ اس كے سوا تمام معبود باطل اور بے حقيقت هيں۔ انھوںنے اپني زندگي كي تعمير اسي عقيده پر كي۔ خاندان اور قوم كے اندر اسي كي تبليغ كي۔ وه كسي مصلحت كا لحاظ كيے بغير لمبي مدّت تك اس پر قائم رهے۔ يهاں تك كه ان كا موحد هونا هي ان كي حيثيتِ عرفي بن گيا۔ اس طرح كي ايك لمبي زندگي گزارنے كے بعد جب وه مذكوره كلمه كهه كر اپنے وطن سے روانه هوئے تو ان كا كلمه قدرتي طورپر كلمهٔ باقيه بن گيا۔ وه ايك ايسا واقعه تھا كه حضرت ابراهيم كا ذكر آتے ہی وه لوگوں كو ياد آجاتاتھا۔
حضرت ابراهيم كي اس طاقت ور روايت كوان كے بعد كي نسل ميں نشانِ راه كا كام دينا چاهئے تھا۔ مگر دنيا كي دلچسپيوں نے بعد كے لوگوں كو اس سے غافل كرديا۔ حتي كه وه اس معاملے ميں اتنے بے شعور هوگئے كه بعد كے زمانه ميں جب خدا كا ايك بنده انھيں ان كا ماضي كا سبق ياد دلانے كے ليے اٹھا تو انھوں نے اس كا انكار كرديا۔
الزخرف 43:30
يهاں حضرت ابراهيم عليه السلام كے جس كلمهٔ توحيد كا ذكر هے وه ان كي دعوتي زندگي كے آخري دور ميں نكلا تھا۔ يه كلمه محض چند الفاظ كا مجموعه نه تھا ۔ وه ايك عظيم تاريخ كا خلاصه تھا۔ حضرت ابراهيم جب سن شعور كو پهنچے تو انھيں يه دريافت هوئي كه انسان كا معبود صرف ايك هے۔ اس كے سوا تمام معبود باطل اور بے حقيقت هيں۔ انھوںنے اپني زندگي كي تعمير اسي عقيده پر كي۔ خاندان اور قوم كے اندر اسي كي تبليغ كي۔ وه كسي مصلحت كا لحاظ كيے بغير لمبي مدّت تك اس پر قائم رهے۔ يهاں تك كه ان كا موحد هونا هي ان كي حيثيتِ عرفي بن گيا۔ اس طرح كي ايك لمبي زندگي گزارنے كے بعد جب وه مذكوره كلمه كهه كر اپنے وطن سے روانه هوئے تو ان كا كلمه قدرتي طورپر كلمهٔ باقيه بن گيا۔ وه ايك ايسا واقعه تھا كه حضرت ابراهيم كا ذكر آتے ہی وه لوگوں كو ياد آجاتاتھا۔
حضرت ابراهيم كي اس طاقت ور روايت كوان كے بعد كي نسل ميں نشانِ راه كا كام دينا چاهئے تھا۔ مگر دنيا كي دلچسپيوں نے بعد كے لوگوں كو اس سے غافل كرديا۔ حتي كه وه اس معاملے ميں اتنے بے شعور هوگئے كه بعد كے زمانه ميں جب خدا كا ايك بنده انھيں ان كا ماضي كا سبق ياد دلانے كے ليے اٹھا تو انھوں نے اس كا انكار كرديا۔
الزخرف 43:31
پيغمبر اسلام جب مكه ميں ظاهر هوئے تو اس وقت وه لوگوں كو ايك معمولي انسان نظر آتے تھے۔ لوگوں نے كها كه خدا كو اگر اپنا كوئي نمائنده هماري هدايت كے لیے بھيجنا تھا تو اس نے عرب كي مركزي بستيوں (مكه اور طائف) كي كسي عظيم شخصيت كو اس كے ليے كيوں نهيں چنا۔ مگر يه ان كي نظر كي كوتاهي تھي۔ انسان صرف حال كو ديكھ پاتا هے جب كه پيغمبر اسلام كي عظمت كو سمجھنے كے لیے مستقبل كو ديكھنے والي نظر دركار تھي۔ چونكه لوگوں كو اس قسم كي دوربيں نظر حاصل نه تھي، وه پيغمبر اسلام كي عظمت كو سمجھنے ميں ناكام رهے۔
پيغمبر اسلام كو كم سمجھنے كي وجه يه تھي كه آپ كي زندگي ميں مادي چيزوں كي رونق لوگوں كو دكھائي نه ديتي تھي۔ مگر ان مادي چيزوں كي خداكي نظر ميں كوئي اهميت نهيں۔ حقيقت يه هے كه يه چيزيں خدا كي نظر ميں اتني غير اهم هيں كه وه چاهے تو لوگوں كو سونے چاندي كا ڈھير دے دے۔ مگر خدا نے ايسا اس ليے نهيں كيا كه لوگ انھيں چيزوں ميں اٹك كر ره جائيں گے۔ وه اس سے آگے بڑھ كر حقيقت كو نه پاسكيں گے۔
الزخرف 43:32
پيغمبر اسلام جب مكه ميں ظاهر هوئے تو اس وقت وه لوگوں كو ايك معمولي انسان نظر آتے تھے۔ لوگوں نے كها كه خدا كو اگر اپنا كوئي نمائنده هماري هدايت كے لیے بھيجنا تھا تو اس نے عرب كي مركزي بستيوں (مكه اور طائف) كي كسي عظيم شخصيت كو اس كے ليے كيوں نهيں چنا۔ مگر يه ان كي نظر كي كوتاهي تھي۔ انسان صرف حال كو ديكھ پاتا هے جب كه پيغمبر اسلام كي عظمت كو سمجھنے كے لیے مستقبل كو ديكھنے والي نظر دركار تھي۔ چونكه لوگوں كو اس قسم كي دوربيں نظر حاصل نه تھي، وه پيغمبر اسلام كي عظمت كو سمجھنے ميں ناكام رهے۔
پيغمبر اسلام كو كم سمجھنے كي وجه يه تھي كه آپ كي زندگي ميں مادي چيزوں كي رونق لوگوں كو دكھائي نه ديتي تھي۔ مگر ان مادي چيزوں كي خداكي نظر ميں كوئي اهميت نهيں۔ حقيقت يه هے كه يه چيزيں خدا كي نظر ميں اتني غير اهم هيں كه وه چاهے تو لوگوں كو سونے چاندي كا ڈھير دے دے۔ مگر خدا نے ايسا اس ليے نهيں كيا كه لوگ انھيں چيزوں ميں اٹك كر ره جائيں گے۔ وه اس سے آگے بڑھ كر حقيقت كو نه پاسكيں گے۔
الزخرف 43:33
پيغمبر اسلام جب مكه ميں ظاهر هوئے تو اس وقت وه لوگوں كو ايك معمولي انسان نظر آتے تھے۔ لوگوں نے كها كه خدا كو اگر اپنا كوئي نمائنده هماري هدايت كے لیے بھيجنا تھا تو اس نے عرب كي مركزي بستيوں (مكه اور طائف) كي كسي عظيم شخصيت كو اس كے ليے كيوں نهيں چنا۔ مگر يه ان كي نظر كي كوتاهي تھي۔ انسان صرف حال كو ديكھ پاتا هے جب كه پيغمبر اسلام كي عظمت كو سمجھنے كے لیے مستقبل كو ديكھنے والي نظر دركار تھي۔ چونكه لوگوں كو اس قسم كي دوربيں نظر حاصل نه تھي، وه پيغمبر اسلام كي عظمت كو سمجھنے ميں ناكام رهے۔
پيغمبر اسلام كو كم سمجھنے كي وجه يه تھي كه آپ كي زندگي ميں مادي چيزوں كي رونق لوگوں كو دكھائي نه ديتي تھي۔ مگر ان مادي چيزوں كي خداكي نظر ميں كوئي اهميت نهيں۔ حقيقت يه هے كه يه چيزيں خدا كي نظر ميں اتني غير اهم هيں كه وه چاهے تو لوگوں كو سونے چاندي كا ڈھير دے دے۔ مگر خدا نے ايسا اس ليے نهيں كيا كه لوگ انھيں چيزوں ميں اٹك كر ره جائيں گے۔ وه اس سے آگے بڑھ كر حقيقت كو نه پاسكيں گے۔
الزخرف 43:34
پيغمبر اسلام جب مكه ميں ظاهر هوئے تو اس وقت وه لوگوں كو ايك معمولي انسان نظر آتے تھے۔ لوگوں نے كها كه خدا كو اگر اپنا كوئي نمائنده هماري هدايت كے لیے بھيجنا تھا تو اس نے عرب كي مركزي بستيوں (مكه اور طائف) كي كسي عظيم شخصيت كو اس كے ليے كيوں نهيں چنا۔ مگر يه ان كي نظر كي كوتاهي تھي۔ انسان صرف حال كو ديكھ پاتا هے جب كه پيغمبر اسلام كي عظمت كو سمجھنے كے لیے مستقبل كو ديكھنے والي نظر دركار تھي۔ چونكه لوگوں كو اس قسم كي دوربيں نظر حاصل نه تھي، وه پيغمبر اسلام كي عظمت كو سمجھنے ميں ناكام رهے۔
پيغمبر اسلام كو كم سمجھنے كي وجه يه تھي كه آپ كي زندگي ميں مادي چيزوں كي رونق لوگوں كو دكھائي نه ديتي تھي۔ مگر ان مادي چيزوں كي خداكي نظر ميں كوئي اهميت نهيں۔ حقيقت يه هے كه يه چيزيں خدا كي نظر ميں اتني غير اهم هيں كه وه چاهے تو لوگوں كو سونے چاندي كا ڈھير دے دے۔ مگر خدا نے ايسا اس ليے نهيں كيا كه لوگ انھيں چيزوں ميں اٹك كر ره جائيں گے۔ وه اس سے آگے بڑھ كر حقيقت كو نه پاسكيں گے۔
الزخرف 43:35
پيغمبر اسلام جب مكه ميں ظاهر هوئے تو اس وقت وه لوگوں كو ايك معمولي انسان نظر آتے تھے۔ لوگوں نے كها كه خدا كو اگر اپنا كوئي نمائنده هماري هدايت كے لیے بھيجنا تھا تو اس نے عرب كي مركزي بستيوں (مكه اور طائف) كي كسي عظيم شخصيت كو اس كے ليے كيوں نهيں چنا۔ مگر يه ان كي نظر كي كوتاهي تھي۔ انسان صرف حال كو ديكھ پاتا هے جب كه پيغمبر اسلام كي عظمت كو سمجھنے كے لیے مستقبل كو ديكھنے والي نظر دركار تھي۔ چونكه لوگوں كو اس قسم كي دوربيں نظر حاصل نه تھي، وه پيغمبر اسلام كي عظمت كو سمجھنے ميں ناكام رهے۔
پيغمبر اسلام كو كم سمجھنے كي وجه يه تھي كه آپ كي زندگي ميں مادي چيزوں كي رونق لوگوں كو دكھائي نه ديتي تھي۔ مگر ان مادي چيزوں كي خداكي نظر ميں كوئي اهميت نهيں۔ حقيقت يه هے كه يه چيزيں خدا كي نظر ميں اتني غير اهم هيں كه وه چاهے تو لوگوں كو سونے چاندي كا ڈھير دے دے۔ مگر خدا نے ايسا اس ليے نهيں كيا كه لوگ انھيں چيزوں ميں اٹك كر ره جائيں گے۔ وه اس سے آگے بڑھ كر حقيقت كو نه پاسكيں گے۔
الزخرف 43:36
نصيحت سے اعراض كرنا يه هے كه آدمي حقيقت كا اعتراف نه كرے۔ خدائي حقيقت اس كے سامنے ايسے دلائل كے ساتھ آئے جس كا وه انكار نه كرسكتا هو مگر وه اپني مصلحتوں كے تحفظ كي خاطر اس كو نظر انداز كردے۔
ايسا شخص اپنے موقف كو درست ثابت كرنے كے لیے اس كے خلاف جھوٹي باتيں كرتاهے۔ يهي وه وقت هے جب كه شيطان كو يه موقع مل جاتا هے كه وه اس كے اوپر مسلط هوجائے، وه اس كي عقل كو غلط رخ پر دوڑانے لگے۔ فرضي توجيهات ميں مشغول كركے شيطان اس كو يقين دلاتا رهتا هے كه تم حق پر هو۔ يه فريب صرف اس وقت ٹوٹتا هے جب كه آدمي كي موت آتي هے اور وه خدا كے سامنے آخري حساب كے لیے كھڑا كرديا جاتا هے۔
دنيا ميں آدمي كا حال يه هے كه وه اس كو اپنا دوست اور ساتھي بنا ليتاهے جو اس كے جھوٹ كي تائيد كرے۔ مگر آخرت ميں وه ايسے تمام ساتھيوں پر لعنت كرے گا۔ وه چاهے گا كه وه اس سے اتنا دور هوجائيں كه وه نه ان كي شكل ديكھے اور نه ان كي آواز سنے۔
الزخرف 43:37
نصيحت سے اعراض كرنا يه هے كه آدمي حقيقت كا اعتراف نه كرے۔ خدائي حقيقت اس كے سامنے ايسے دلائل كے ساتھ آئے جس كا وه انكار نه كرسكتا هو مگر وه اپني مصلحتوں كے تحفظ كي خاطر اس كو نظر انداز كردے۔
ايسا شخص اپنے موقف كو درست ثابت كرنے كے لیے اس كے خلاف جھوٹي باتيں كرتاهے۔ يهي وه وقت هے جب كه شيطان كو يه موقع مل جاتا هے كه وه اس كے اوپر مسلط هوجائے، وه اس كي عقل كو غلط رخ پر دوڑانے لگے۔ فرضي توجيهات ميں مشغول كركے شيطان اس كو يقين دلاتا رهتا هے كه تم حق پر هو۔ يه فريب صرف اس وقت ٹوٹتا هے جب كه آدمي كي موت آتي هے اور وه خدا كے سامنے آخري حساب كے لیے كھڑا كرديا جاتا هے۔
دنيا ميں آدمي كا حال يه هے كه وه اس كو اپنا دوست اور ساتھي بنا ليتاهے جو اس كے جھوٹ كي تائيد كرے۔ مگر آخرت ميں وه ايسے تمام ساتھيوں پر لعنت كرے گا۔ وه چاهے گا كه وه اس سے اتنا دور هوجائيں كه وه نه ان كي شكل ديكھے اور نه ان كي آواز سنے۔
الزخرف 43:38
نصيحت سے اعراض كرنا يه هے كه آدمي حقيقت كا اعتراف نه كرے۔ خدائي حقيقت اس كے سامنے ايسے دلائل كے ساتھ آئے جس كا وه انكار نه كرسكتا هو مگر وه اپني مصلحتوں كے تحفظ كي خاطر اس كو نظر انداز كردے۔
ايسا شخص اپنے موقف كو درست ثابت كرنے كے لیے اس كے خلاف جھوٹي باتيں كرتاهے۔ يهي وه وقت هے جب كه شيطان كو يه موقع مل جاتا هے كه وه اس كے اوپر مسلط هوجائے، وه اس كي عقل كو غلط رخ پر دوڑانے لگے۔ فرضي توجيهات ميں مشغول كركے شيطان اس كو يقين دلاتا رهتا هے كه تم حق پر هو۔ يه فريب صرف اس وقت ٹوٹتا هے جب كه آدمي كي موت آتي هے اور وه خدا كے سامنے آخري حساب كے لیے كھڑا كرديا جاتا هے۔
دنيا ميں آدمي كا حال يه هے كه وه اس كو اپنا دوست اور ساتھي بنا ليتاهے جو اس كے جھوٹ كي تائيد كرے۔ مگر آخرت ميں وه ايسے تمام ساتھيوں پر لعنت كرے گا۔ وه چاهے گا كه وه اس سے اتنا دور هوجائيں كه وه نه ان كي شكل ديكھے اور نه ان كي آواز سنے۔
الزخرف 43:39
نصيحت سے اعراض كرنا يه هے كه آدمي حقيقت كا اعتراف نه كرے۔ خدائي حقيقت اس كے سامنے ايسے دلائل كے ساتھ آئے جس كا وه انكار نه كرسكتا هو مگر وه اپني مصلحتوں كے تحفظ كي خاطر اس كو نظر انداز كردے۔
ايسا شخص اپنے موقف كو درست ثابت كرنے كے لیے اس كے خلاف جھوٹي باتيں كرتاهے۔ يهي وه وقت هے جب كه شيطان كو يه موقع مل جاتا هے كه وه اس كے اوپر مسلط هوجائے، وه اس كي عقل كو غلط رخ پر دوڑانے لگے۔ فرضي توجيهات ميں مشغول كركے شيطان اس كو يقين دلاتا رهتا هے كه تم حق پر هو۔ يه فريب صرف اس وقت ٹوٹتا هے جب كه آدمي كي موت آتي هے اور وه خدا كے سامنے آخري حساب كے لیے كھڑا كرديا جاتا هے۔
دنيا ميں آدمي كا حال يه هے كه وه اس كو اپنا دوست اور ساتھي بنا ليتاهے جو اس كے جھوٹ كي تائيد كرے۔ مگر آخرت ميں وه ايسے تمام ساتھيوں پر لعنت كرے گا۔ وه چاهے گا كه وه اس سے اتنا دور هوجائيں كه وه نه ان كي شكل ديكھے اور نه ان كي آواز سنے۔
الزخرف 43:40
آنكھ والا اپني آنكھ كو بند كرلے تو اس كو كچھ دكھائي نهيں دے گا۔ كان والا اپنے كان كو بند كرلے تو اس كو كچھ سنائي نهيں دے گا۔ اسي طرح جو شخص اپني عقل كو استعمال نه كرے، وه عقل كو معطل كركے اپني خواهش كے رخ پر چلنے لگے تو ايسے شخص كو سمجھانا بجھانا بالكل بے كار هوتاهے۔ سمجھنے كا كام عقل كے ذريعه هوتاهے اور اپني عقل كے اوپر اس نے اپني خواهشات كا پرده ڈال ركھا هے۔ تاهم مدعو كا رويه خواه كچھ بھي هو، داعي كو اپنا دعوتي كام هر حال ميں جاري ركھنا هے، يهاں تك كه اتمام حجت كے مرحلے تك پهنچ جائے۔
حق كا داعي اگر چه ايك انسان هوتا هے مگر حق كا معامله خدا كا معامله هے۔ آدمي حق كے داعي كا انكار كركے سمجھتا هے كه وه حق كي زد سے بچ گيا۔ حالانكه عين اسي وقت وه خداكي زد ميں آجاتا هے۔ آدمي اگر اس راز كو جانے تو وه حق كے داعي كو نظر انداز كرتے هوئے كانپ اٹھے گا۔ كيونكه وه جانے گا كه حق كے داعي كو نظر انداز كرنا خود حق كو نظر انداز كرنا هے اور حق كو نظر انداز كرنا خدا كو نظر انداز كرنا هے۔
الزخرف 43:41
آنكھ والا اپني آنكھ كو بند كرلے تو اس كو كچھ دكھائي نهيں دے گا۔ كان والا اپنے كان كو بند كرلے تو اس كو كچھ سنائي نهيں دے گا۔ اسي طرح جو شخص اپني عقل كو استعمال نه كرے، وه عقل كو معطل كركے اپني خواهش كے رخ پر چلنے لگے تو ايسے شخص كو سمجھانا بجھانا بالكل بے كار هوتاهے۔ سمجھنے كا كام عقل كے ذريعه هوتاهے اور اپني عقل كے اوپر اس نے اپني خواهشات كا پرده ڈال ركھا هے۔ تاهم مدعو كا رويه خواه كچھ بھي هو، داعي كو اپنا دعوتي كام هر حال ميں جاري ركھنا هے، يهاں تك كه اتمام حجت كے مرحلے تك پهنچ جائے۔
حق كا داعي اگر چه ايك انسان هوتا هے مگر حق كا معامله خدا كا معامله هے۔ آدمي حق كے داعي كا انكار كركے سمجھتا هے كه وه حق كي زد سے بچ گيا۔ حالانكه عين اسي وقت وه خداكي زد ميں آجاتا هے۔ آدمي اگر اس راز كو جانے تو وه حق كے داعي كو نظر انداز كرتے هوئے كانپ اٹھے گا۔ كيونكه وه جانے گا كه حق كے داعي كو نظر انداز كرنا خود حق كو نظر انداز كرنا هے اور حق كو نظر انداز كرنا خدا كو نظر انداز كرنا هے۔
الزخرف 43:42
آنكھ والا اپني آنكھ كو بند كرلے تو اس كو كچھ دكھائي نهيں دے گا۔ كان والا اپنے كان كو بند كرلے تو اس كو كچھ سنائي نهيں دے گا۔ اسي طرح جو شخص اپني عقل كو استعمال نه كرے، وه عقل كو معطل كركے اپني خواهش كے رخ پر چلنے لگے تو ايسے شخص كو سمجھانا بجھانا بالكل بے كار هوتاهے۔ سمجھنے كا كام عقل كے ذريعه هوتاهے اور اپني عقل كے اوپر اس نے اپني خواهشات كا پرده ڈال ركھا هے۔ تاهم مدعو كا رويه خواه كچھ بھي هو، داعي كو اپنا دعوتي كام هر حال ميں جاري ركھنا هے، يهاں تك كه اتمام حجت كے مرحلے تك پهنچ جائے۔
حق كا داعي اگر چه ايك انسان هوتا هے مگر حق كا معامله خدا كا معامله هے۔ آدمي حق كے داعي كا انكار كركے سمجھتا هے كه وه حق كي زد سے بچ گيا۔ حالانكه عين اسي وقت وه خداكي زد ميں آجاتا هے۔ آدمي اگر اس راز كو جانے تو وه حق كے داعي كو نظر انداز كرتے هوئے كانپ اٹھے گا۔ كيونكه وه جانے گا كه حق كے داعي كو نظر انداز كرنا خود حق كو نظر انداز كرنا هے اور حق كو نظر انداز كرنا خدا كو نظر انداز كرنا هے۔
الزخرف 43:43
آنكھ والا اپني آنكھ كو بند كرلے تو اس كو كچھ دكھائي نهيں دے گا۔ كان والا اپنے كان كو بند كرلے تو اس كو كچھ سنائي نهيں دے گا۔ اسي طرح جو شخص اپني عقل كو استعمال نه كرے، وه عقل كو معطل كركے اپني خواهش كے رخ پر چلنے لگے تو ايسے شخص كو سمجھانا بجھانا بالكل بے كار هوتاهے۔ سمجھنے كا كام عقل كے ذريعه هوتاهے اور اپني عقل كے اوپر اس نے اپني خواهشات كا پرده ڈال ركھا هے۔ تاهم مدعو كا رويه خواه كچھ بھي هو، داعي كو اپنا دعوتي كام هر حال ميں جاري ركھنا هے، يهاں تك كه اتمام حجت كے مرحلے تك پهنچ جائے۔
حق كا داعي اگر چه ايك انسان هوتا هے مگر حق كا معامله خدا كا معامله هے۔ آدمي حق كے داعي كا انكار كركے سمجھتا هے كه وه حق كي زد سے بچ گيا۔ حالانكه عين اسي وقت وه خداكي زد ميں آجاتا هے۔ آدمي اگر اس راز كو جانے تو وه حق كے داعي كو نظر انداز كرتے هوئے كانپ اٹھے گا۔ كيونكه وه جانے گا كه حق كے داعي كو نظر انداز كرنا خود حق كو نظر انداز كرنا هے اور حق كو نظر انداز كرنا خدا كو نظر انداز كرنا هے۔
الزخرف 43:44
آنكھ والا اپني آنكھ كو بند كرلے تو اس كو كچھ دكھائي نهيں دے گا۔ كان والا اپنے كان كو بند كرلے تو اس كو كچھ سنائي نهيں دے گا۔ اسي طرح جو شخص اپني عقل كو استعمال نه كرے، وه عقل كو معطل كركے اپني خواهش كے رخ پر چلنے لگے تو ايسے شخص كو سمجھانا بجھانا بالكل بے كار هوتاهے۔ سمجھنے كا كام عقل كے ذريعه هوتاهے اور اپني عقل كے اوپر اس نے اپني خواهشات كا پرده ڈال ركھا هے۔ تاهم مدعو كا رويه خواه كچھ بھي هو، داعي كو اپنا دعوتي كام هر حال ميں جاري ركھنا هے، يهاں تك كه اتمام حجت كے مرحلے تك پهنچ جائے۔
حق كا داعي اگر چه ايك انسان هوتا هے مگر حق كا معامله خدا كا معامله هے۔ آدمي حق كے داعي كا انكار كركے سمجھتا هے كه وه حق كي زد سے بچ گيا۔ حالانكه عين اسي وقت وه خداكي زد ميں آجاتا هے۔ آدمي اگر اس راز كو جانے تو وه حق كے داعي كو نظر انداز كرتے هوئے كانپ اٹھے گا۔ كيونكه وه جانے گا كه حق كے داعي كو نظر انداز كرنا خود حق كو نظر انداز كرنا هے اور حق كو نظر انداز كرنا خدا كو نظر انداز كرنا هے۔
الزخرف 43:45
آنكھ والا اپني آنكھ كو بند كرلے تو اس كو كچھ دكھائي نهيں دے گا۔ كان والا اپنے كان كو بند كرلے تو اس كو كچھ سنائي نهيں دے گا۔ اسي طرح جو شخص اپني عقل كو استعمال نه كرے، وه عقل كو معطل كركے اپني خواهش كے رخ پر چلنے لگے تو ايسے شخص كو سمجھانا بجھانا بالكل بے كار هوتاهے۔ سمجھنے كا كام عقل كے ذريعه هوتاهے اور اپني عقل كے اوپر اس نے اپني خواهشات كا پرده ڈال ركھا هے۔ تاهم مدعو كا رويه خواه كچھ بھي هو، داعي كو اپنا دعوتي كام هر حال ميں جاري ركھنا هے، يهاں تك كه اتمام حجت كے مرحلے تك پهنچ جائے۔
حق كا داعي اگر چه ايك انسان هوتا هے مگر حق كا معامله خدا كا معامله هے۔ آدمي حق كے داعي كا انكار كركے سمجھتا هے كه وه حق كي زد سے بچ گيا۔ حالانكه عين اسي وقت وه خداكي زد ميں آجاتا هے۔ آدمي اگر اس راز كو جانے تو وه حق كے داعي كو نظر انداز كرتے هوئے كانپ اٹھے گا۔ كيونكه وه جانے گا كه حق كے داعي كو نظر انداز كرنا خود حق كو نظر انداز كرنا هے اور حق كو نظر انداز كرنا خدا كو نظر انداز كرنا هے۔
الزخرف 43:46
حضرت موسيٰ نے فرعون كے سامنے توحيد كي دعوت پيش كي اور عصا اور يدِ بيضا كا معجزه دكھايا۔ اس كو ديكھ كر فرعون اور اس كے درباري هنسنے لگے۔ اس كي وجه يه تھي كه انھوں نے موسيٰ كو ان كي دعوت ميں نهيں ديكھا بلكه ان كي شخصيت ميں ديكھا۔ انھيں نظر آيا كه موسيٰ كي شخصيت بظاهر ان كي اپني شخصيت سے كم هے۔ اسي طرح معجزه كے متعلق انھوں نے خيال كيا كه يه محض جادو هے، اور ايسا جادو ملك كے دوسرے جادوگر بھي دكھا سكتے هيں۔
حق كي دعوت كے سلسلے ميں هميشه يهي هوتاهے۔ لوگ داعي كي شخصيت كو ديكھ كر دعوت كو رد كرديتے هيں۔ وه نشانيوں كو عام واقعات پر قياس كركے اسے نظر انداز كرديتے هيں۔
فرعون اور اس كے ساتھيوں نے جب حضرت موسيٰ كا انكار كيا تو الله تعالي نے ان پر بهت سے تنبيهي عذاب بھيجے تاكه وه دوباره رجوع كريں۔ ان تنبيهي عذابوں كا ذكر سورهٔ اعراف (133-35) ميں موجود هے۔ يه تمام عذاب حضرت موسيٰ كي دعا پر آئے اور حضرت موسيٰ كي دعا پر ختم هوئے۔ يه ايك مزيد سبب تھا كه ان كے اندر رجوع كي كيفيت پيدا هو۔ مگر وه رجوع نه هوئے۔ حقيقت يه هے كه جو لوگ دليل سے نه مانيں وه تنبيهه سے بھي نهيں مانتے، اِلاّ يه كه آخرت كا نه لوٹنے والا عذاب انھيں آخري طورپر اپنے گھيرے ميں لے لے۔
الزخرف 43:47
حضرت موسيٰ نے فرعون كے سامنے توحيد كي دعوت پيش كي اور عصا اور يدِ بيضا كا معجزه دكھايا۔ اس كو ديكھ كر فرعون اور اس كے درباري هنسنے لگے۔ اس كي وجه يه تھي كه انھوں نے موسيٰ كو ان كي دعوت ميں نهيں ديكھا بلكه ان كي شخصيت ميں ديكھا۔ انھيں نظر آيا كه موسيٰ كي شخصيت بظاهر ان كي اپني شخصيت سے كم هے۔ اسي طرح معجزه كے متعلق انھوں نے خيال كيا كه يه محض جادو هے، اور ايسا جادو ملك كے دوسرے جادوگر بھي دكھا سكتے هيں۔
حق كي دعوت كے سلسلے ميں هميشه يهي هوتاهے۔ لوگ داعي كي شخصيت كو ديكھ كر دعوت كو رد كرديتے هيں۔ وه نشانيوں كو عام واقعات پر قياس كركے اسے نظر انداز كرديتے هيں۔
فرعون اور اس كے ساتھيوں نے جب حضرت موسيٰ كا انكار كيا تو الله تعالي نے ان پر بهت سے تنبيهي عذاب بھيجے تاكه وه دوباره رجوع كريں۔ ان تنبيهي عذابوں كا ذكر سورهٔ اعراف (133-35) ميں موجود هے۔ يه تمام عذاب حضرت موسيٰ كي دعا پر آئے اور حضرت موسيٰ كي دعا پر ختم هوئے۔ يه ايك مزيد سبب تھا كه ان كے اندر رجوع كي كيفيت پيدا هو۔ مگر وه رجوع نه هوئے۔ حقيقت يه هے كه جو لوگ دليل سے نه مانيں وه تنبيهه سے بھي نهيں مانتے، اِلاّ يه كه آخرت كا نه لوٹنے والا عذاب انھيں آخري طورپر اپنے گھيرے ميں لے لے۔
الزخرف 43:48
حضرت موسيٰ نے فرعون كے سامنے توحيد كي دعوت پيش كي اور عصا اور يدِ بيضا كا معجزه دكھايا۔ اس كو ديكھ كر فرعون اور اس كے درباري هنسنے لگے۔ اس كي وجه يه تھي كه انھوں نے موسيٰ كو ان كي دعوت ميں نهيں ديكھا بلكه ان كي شخصيت ميں ديكھا۔ انھيں نظر آيا كه موسيٰ كي شخصيت بظاهر ان كي اپني شخصيت سے كم هے۔ اسي طرح معجزه كے متعلق انھوں نے خيال كيا كه يه محض جادو هے، اور ايسا جادو ملك كے دوسرے جادوگر بھي دكھا سكتے هيں۔
حق كي دعوت كے سلسلے ميں هميشه يهي هوتاهے۔ لوگ داعي كي شخصيت كو ديكھ كر دعوت كو رد كرديتے هيں۔ وه نشانيوں كو عام واقعات پر قياس كركے اسے نظر انداز كرديتے هيں۔
فرعون اور اس كے ساتھيوں نے جب حضرت موسيٰ كا انكار كيا تو الله تعالي نے ان پر بهت سے تنبيهي عذاب بھيجے تاكه وه دوباره رجوع كريں۔ ان تنبيهي عذابوں كا ذكر سورهٔ اعراف (133-35) ميں موجود هے۔ يه تمام عذاب حضرت موسيٰ كي دعا پر آئے اور حضرت موسيٰ كي دعا پر ختم هوئے۔ يه ايك مزيد سبب تھا كه ان كے اندر رجوع كي كيفيت پيدا هو۔ مگر وه رجوع نه هوئے۔ حقيقت يه هے كه جو لوگ دليل سے نه مانيں وه تنبيهه سے بھي نهيں مانتے، اِلاّ يه كه آخرت كا نه لوٹنے والا عذاب انھيں آخري طورپر اپنے گھيرے ميں لے لے۔
الزخرف 43:49
حضرت موسيٰ نے فرعون كے سامنے توحيد كي دعوت پيش كي اور عصا اور يدِ بيضا كا معجزه دكھايا۔ اس كو ديكھ كر فرعون اور اس كے درباري هنسنے لگے۔ اس كي وجه يه تھي كه انھوں نے موسيٰ كو ان كي دعوت ميں نهيں ديكھا بلكه ان كي شخصيت ميں ديكھا۔ انھيں نظر آيا كه موسيٰ كي شخصيت بظاهر ان كي اپني شخصيت سے كم هے۔ اسي طرح معجزه كے متعلق انھوں نے خيال كيا كه يه محض جادو هے، اور ايسا جادو ملك كے دوسرے جادوگر بھي دكھا سكتے هيں۔
حق كي دعوت كے سلسلے ميں هميشه يهي هوتاهے۔ لوگ داعي كي شخصيت كو ديكھ كر دعوت كو رد كرديتے هيں۔ وه نشانيوں كو عام واقعات پر قياس كركے اسے نظر انداز كرديتے هيں۔
فرعون اور اس كے ساتھيوں نے جب حضرت موسيٰ كا انكار كيا تو الله تعالي نے ان پر بهت سے تنبيهي عذاب بھيجے تاكه وه دوباره رجوع كريں۔ ان تنبيهي عذابوں كا ذكر سورهٔ اعراف (133-35) ميں موجود هے۔ يه تمام عذاب حضرت موسيٰ كي دعا پر آئے اور حضرت موسيٰ كي دعا پر ختم هوئے۔ يه ايك مزيد سبب تھا كه ان كے اندر رجوع كي كيفيت پيدا هو۔ مگر وه رجوع نه هوئے۔ حقيقت يه هے كه جو لوگ دليل سے نه مانيں وه تنبيهه سے بھي نهيں مانتے، اِلاّ يه كه آخرت كا نه لوٹنے والا عذاب انھيں آخري طورپر اپنے گھيرے ميں لے لے۔
الزخرف 43:50
حضرت موسيٰ نے فرعون كے سامنے توحيد كي دعوت پيش كي اور عصا اور يدِ بيضا كا معجزه دكھايا۔ اس كو ديكھ كر فرعون اور اس كے درباري هنسنے لگے۔ اس كي وجه يه تھي كه انھوں نے موسيٰ كو ان كي دعوت ميں نهيں ديكھا بلكه ان كي شخصيت ميں ديكھا۔ انھيں نظر آيا كه موسيٰ كي شخصيت بظاهر ان كي اپني شخصيت سے كم هے۔ اسي طرح معجزه كے متعلق انھوں نے خيال كيا كه يه محض جادو هے، اور ايسا جادو ملك كے دوسرے جادوگر بھي دكھا سكتے هيں۔
حق كي دعوت كے سلسلے ميں هميشه يهي هوتاهے۔ لوگ داعي كي شخصيت كو ديكھ كر دعوت كو رد كرديتے هيں۔ وه نشانيوں كو عام واقعات پر قياس كركے اسے نظر انداز كرديتے هيں۔
فرعون اور اس كے ساتھيوں نے جب حضرت موسيٰ كا انكار كيا تو الله تعالي نے ان پر بهت سے تنبيهي عذاب بھيجے تاكه وه دوباره رجوع كريں۔ ان تنبيهي عذابوں كا ذكر سورهٔ اعراف (133-35) ميں موجود هے۔ يه تمام عذاب حضرت موسيٰ كي دعا پر آئے اور حضرت موسيٰ كي دعا پر ختم هوئے۔ يه ايك مزيد سبب تھا كه ان كے اندر رجوع كي كيفيت پيدا هو۔ مگر وه رجوع نه هوئے۔ حقيقت يه هے كه جو لوگ دليل سے نه مانيں وه تنبيهه سے بھي نهيں مانتے، اِلاّ يه كه آخرت كا نه لوٹنے والا عذاب انھيں آخري طورپر اپنے گھيرے ميں لے لے۔
الزخرف 43:51
حق كا انكار كرنے والوں نے هميشه حق كے داعي كي معمولي حيثيت كو ديكھ كر حق كا انكار كيا هے۔ مصر ميں فرعون كي حيثيت يه تھي كه وه ملك كا حكمراں تھا۔ دريائے نيل سے نكلي هوئي نهريں اس كے حكم سے جاري تھيں۔ عزت كے تمام سروسامان اس كے گرد جمع تھے۔ اس كے مقابله ميں حضرت موسي بظاهر ايك معمولي انسان دكھائي ديتے تھے۔ اسي فرق كو پيش كركے فرعون نے اپني قوم كو بهكايا۔ حضرت موسي كا انكار كرنے ميں قوم اس كے ساتھ هوگئي۔
بظاهر اسي قسم كے دلائل كي بنياد پر فرعون كي قوم نے فرعون كا ساتھ ديا۔ مگر حقيقت يه هے كه اس كي وجه قوم كي اپني كمزوري تھي، نه كه فرعون كے دلائل كي مضبوطي۔ اس وقت حضرت موسي كا ساتھ دينا اپني زندگي كے بنے بنائے نقشه كو توڑنا تھا۔ اور بهت كم آدمي ايسے هوتے هيں جو اپنے بنے هوئے نقشه كو توڑ كر حق كا ساتھ دينے كي جرأت كريں۔ چنانچه فرعون پر جب انكار حق كے نتيجه ميں خدا كا عذاب آيا تو اس كي قوم بھي اسي كے ساتھ عذاب الٰهي كي زد ميں آگئي۔
الزخرف 43:52
حق كا انكار كرنے والوں نے هميشه حق كے داعي كي معمولي حيثيت كو ديكھ كر حق كا انكار كيا هے۔ مصر ميں فرعون كي حيثيت يه تھي كه وه ملك كا حكمراں تھا۔ دريائے نيل سے نكلي هوئي نهريں اس كے حكم سے جاري تھيں۔ عزت كے تمام سروسامان اس كے گرد جمع تھے۔ اس كے مقابله ميں حضرت موسي بظاهر ايك معمولي انسان دكھائي ديتے تھے۔ اسي فرق كو پيش كركے فرعون نے اپني قوم كو بهكايا۔ حضرت موسي كا انكار كرنے ميں قوم اس كے ساتھ هوگئي۔
بظاهر اسي قسم كے دلائل كي بنياد پر فرعون كي قوم نے فرعون كا ساتھ ديا۔ مگر حقيقت يه هے كه اس كي وجه قوم كي اپني كمزوري تھي، نه كه فرعون كے دلائل كي مضبوطي۔ اس وقت حضرت موسي كا ساتھ دينا اپني زندگي كے بنے بنائے نقشه كو توڑنا تھا۔ اور بهت كم آدمي ايسے هوتے هيں جو اپنے بنے هوئے نقشه كو توڑ كر حق كا ساتھ دينے كي جرأت كريں۔ چنانچه فرعون پر جب انكار حق كے نتيجه ميں خدا كا عذاب آيا تو اس كي قوم بھي اسي كے ساتھ عذاب الٰهي كي زد ميں آگئي۔
الزخرف 43:53
حق كا انكار كرنے والوں نے هميشه حق كے داعي كي معمولي حيثيت كو ديكھ كر حق كا انكار كيا هے۔ مصر ميں فرعون كي حيثيت يه تھي كه وه ملك كا حكمراں تھا۔ دريائے نيل سے نكلي هوئي نهريں اس كے حكم سے جاري تھيں۔ عزت كے تمام سروسامان اس كے گرد جمع تھے۔ اس كے مقابله ميں حضرت موسي بظاهر ايك معمولي انسان دكھائي ديتے تھے۔ اسي فرق كو پيش كركے فرعون نے اپني قوم كو بهكايا۔ حضرت موسي كا انكار كرنے ميں قوم اس كے ساتھ هوگئي۔
بظاهر اسي قسم كے دلائل كي بنياد پر فرعون كي قوم نے فرعون كا ساتھ ديا۔ مگر حقيقت يه هے كه اس كي وجه قوم كي اپني كمزوري تھي، نه كه فرعون كے دلائل كي مضبوطي۔ اس وقت حضرت موسي كا ساتھ دينا اپني زندگي كے بنے بنائے نقشه كو توڑنا تھا۔ اور بهت كم آدمي ايسے هوتے هيں جو اپنے بنے هوئے نقشه كو توڑ كر حق كا ساتھ دينے كي جرأت كريں۔ چنانچه فرعون پر جب انكار حق كے نتيجه ميں خدا كا عذاب آيا تو اس كي قوم بھي اسي كے ساتھ عذاب الٰهي كي زد ميں آگئي۔
الزخرف 43:54
حق كا انكار كرنے والوں نے هميشه حق كے داعي كي معمولي حيثيت كو ديكھ كر حق كا انكار كيا هے۔ مصر ميں فرعون كي حيثيت يه تھي كه وه ملك كا حكمراں تھا۔ دريائے نيل سے نكلي هوئي نهريں اس كے حكم سے جاري تھيں۔ عزت كے تمام سروسامان اس كے گرد جمع تھے۔ اس كے مقابله ميں حضرت موسي بظاهر ايك معمولي انسان دكھائي ديتے تھے۔ اسي فرق كو پيش كركے فرعون نے اپني قوم كو بهكايا۔ حضرت موسي كا انكار كرنے ميں قوم اس كے ساتھ هوگئي۔
بظاهر اسي قسم كے دلائل كي بنياد پر فرعون كي قوم نے فرعون كا ساتھ ديا۔ مگر حقيقت يه هے كه اس كي وجه قوم كي اپني كمزوري تھي، نه كه فرعون كے دلائل كي مضبوطي۔ اس وقت حضرت موسي كا ساتھ دينا اپني زندگي كے بنے بنائے نقشه كو توڑنا تھا۔ اور بهت كم آدمي ايسے هوتے هيں جو اپنے بنے هوئے نقشه كو توڑ كر حق كا ساتھ دينے كي جرأت كريں۔ چنانچه فرعون پر جب انكار حق كے نتيجه ميں خدا كا عذاب آيا تو اس كي قوم بھي اسي كے ساتھ عذاب الٰهي كي زد ميں آگئي۔
الزخرف 43:55
حق كا انكار كرنے والوں نے هميشه حق كے داعي كي معمولي حيثيت كو ديكھ كر حق كا انكار كيا هے۔ مصر ميں فرعون كي حيثيت يه تھي كه وه ملك كا حكمراں تھا۔ دريائے نيل سے نكلي هوئي نهريں اس كے حكم سے جاري تھيں۔ عزت كے تمام سروسامان اس كے گرد جمع تھے۔ اس كے مقابله ميں حضرت موسي بظاهر ايك معمولي انسان دكھائي ديتے تھے۔ اسي فرق كو پيش كركے فرعون نے اپني قوم كو بهكايا۔ حضرت موسي كا انكار كرنے ميں قوم اس كے ساتھ هوگئي۔
بظاهر اسي قسم كے دلائل كي بنياد پر فرعون كي قوم نے فرعون كا ساتھ ديا۔ مگر حقيقت يه هے كه اس كي وجه قوم كي اپني كمزوري تھي، نه كه فرعون كے دلائل كي مضبوطي۔ اس وقت حضرت موسي كا ساتھ دينا اپني زندگي كے بنے بنائے نقشه كو توڑنا تھا۔ اور بهت كم آدمي ايسے هوتے هيں جو اپنے بنے هوئے نقشه كو توڑ كر حق كا ساتھ دينے كي جرأت كريں۔ چنانچه فرعون پر جب انكار حق كے نتيجه ميں خدا كا عذاب آيا تو اس كي قوم بھي اسي كے ساتھ عذاب الٰهي كي زد ميں آگئي۔
الزخرف 43:56
حق كا انكار كرنے والوں نے هميشه حق كے داعي كي معمولي حيثيت كو ديكھ كر حق كا انكار كيا هے۔ مصر ميں فرعون كي حيثيت يه تھي كه وه ملك كا حكمراں تھا۔ دريائے نيل سے نكلي هوئي نهريں اس كے حكم سے جاري تھيں۔ عزت كے تمام سروسامان اس كے گرد جمع تھے۔ اس كے مقابله ميں حضرت موسي بظاهر ايك معمولي انسان دكھائي ديتے تھے۔ اسي فرق كو پيش كركے فرعون نے اپني قوم كو بهكايا۔ حضرت موسي كا انكار كرنے ميں قوم اس كے ساتھ هوگئي۔
بظاهر اسي قسم كے دلائل كي بنياد پر فرعون كي قوم نے فرعون كا ساتھ ديا۔ مگر حقيقت يه هے كه اس كي وجه قوم كي اپني كمزوري تھي، نه كه فرعون كے دلائل كي مضبوطي۔ اس وقت حضرت موسي كا ساتھ دينا اپني زندگي كے بنے بنائے نقشه كو توڑنا تھا۔ اور بهت كم آدمي ايسے هوتے هيں جو اپنے بنے هوئے نقشه كو توڑ كر حق كا ساتھ دينے كي جرأت كريں۔ چنانچه فرعون پر جب انكار حق كے نتيجه ميں خدا كا عذاب آيا تو اس كي قوم بھي اسي كے ساتھ عذاب الٰهي كي زد ميں آگئي۔
الزخرف 43:57
موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن كر مخالفين نے كها كه عيسائي لوگ مسيح كو پوجتے هيں پھر کیا مسیح میں کوئی خیر نہیں(مسند احمد، حدیث نمبر 2918)۔ ظاهر هے كه يه محض ايك شوشه تھا۔ كيوں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے جو بات فرمائي تھي وه عابد كي نسبت سے تھي نه كه معبود كي نسبت سے، اور اگر اس كو معبود كي نسبت سے مانا جائے تب بھي واضح طورپر اس سے مراد وه غير معبود تھے جو اپنے معبود بنائے جانے پر راضي هوں۔ آدمي اگر بات كو اس كے صحيح رخ سے نه لے تو هر بات كو وه الٹے معني پهنا سكتا هے، خواه وه كتني هي درست بات كيوں نه هو۔
حضرت عيسي عليه السلام كي شخصيت ايك اعتبار سے فرشتوں كے مشابه تھي۔ اس پر آنجناب كو بهت سے لوگوں نے معبود بناليا۔مگر حضرت مسيح كي ملكوتي تخليق خدا كي قدرت كي مثال تھي نه كه خود حضرت مسيح كي ذاتي قدرت كي مثال۔ حقيقت يه هے كه الله كے لیے اس قسم كي تخليق كچھ بھي مشكل نهیں۔ وه چاهے تو زمين كي تمام آبادي كو فرشتوں كي آبادي بنا دے۔ پھر بھي يه فرشتے فرشتے هي رهيں گے، وه معبود نهيں هوجائیںگے۔
حضرت مسيح كو يه معجزه دياگيا كه وه مُرده كو زنده كرديتے تھے۔ مٹي كے پتلے ميں پھونك مار كر اسے جاندار بنا ديتے تھے۔ يه دراصل ايك خدائي نشاني تھي جو زندگي بعد موت كے امكان كو بتانے كے لیے ظاهر كي گئي تھي۔ مگر لوگوں نے اس سے اصل سبق تو نهيں ليا۔ البته حضرت مسيح كو فوق البشر سمجھ كر انھيں پوجنے لگے۔ اسي طرح خدائي نشانياں هميشه مختلف شكلوں ميں ظاهر هوتي هيں۔ ان كو اگر نشاني سمجھا جائے تو ان سے زبردست نصيحت ملتي هے۔ اور اگر انھيں نشاني كے بجائے كچھ اور سمجھ ليا جائے تو وه آدمي كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔
شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔
الزخرف 43:58
موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن كر مخالفين نے كها كه عيسائي لوگ مسيح كو پوجتے هيں پھر کیا مسیح میں کوئی خیر نہیں(مسند احمد، حدیث نمبر 2918)۔ ظاهر هے كه يه محض ايك شوشه تھا۔ كيوں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے جو بات فرمائي تھي وه عابد كي نسبت سے تھي نه كه معبود كي نسبت سے، اور اگر اس كو معبود كي نسبت سے مانا جائے تب بھي واضح طورپر اس سے مراد وه غير معبود تھے جو اپنے معبود بنائے جانے پر راضي هوں۔ آدمي اگر بات كو اس كے صحيح رخ سے نه لے تو هر بات كو وه الٹے معني پهنا سكتا هے، خواه وه كتني هي درست بات كيوں نه هو۔
حضرت عيسي عليه السلام كي شخصيت ايك اعتبار سے فرشتوں كے مشابه تھي۔ اس پر آنجناب كو بهت سے لوگوں نے معبود بناليا۔مگر حضرت مسيح كي ملكوتي تخليق خدا كي قدرت كي مثال تھي نه كه خود حضرت مسيح كي ذاتي قدرت كي مثال۔ حقيقت يه هے كه الله كے لیے اس قسم كي تخليق كچھ بھي مشكل نهیں۔ وه چاهے تو زمين كي تمام آبادي كو فرشتوں كي آبادي بنا دے۔ پھر بھي يه فرشتے فرشتے هي رهيں گے، وه معبود نهيں هوجائیںگے۔
حضرت مسيح كو يه معجزه دياگيا كه وه مُرده كو زنده كرديتے تھے۔ مٹي كے پتلے ميں پھونك مار كر اسے جاندار بنا ديتے تھے۔ يه دراصل ايك خدائي نشاني تھي جو زندگي بعد موت كے امكان كو بتانے كے لیے ظاهر كي گئي تھي۔ مگر لوگوں نے اس سے اصل سبق تو نهيں ليا۔ البته حضرت مسيح كو فوق البشر سمجھ كر انھيں پوجنے لگے۔ اسي طرح خدائي نشانياں هميشه مختلف شكلوں ميں ظاهر هوتي هيں۔ ان كو اگر نشاني سمجھا جائے تو ان سے زبردست نصيحت ملتي هے۔ اور اگر انھيں نشاني كے بجائے كچھ اور سمجھ ليا جائے تو وه آدمي كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔
شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔
الزخرف 43:59
موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن كر مخالفين نے كها كه عيسائي لوگ مسيح كو پوجتے هيں پھر کیا مسیح میں کوئی خیر نہیں(مسند احمد، حدیث نمبر 2918)۔ ظاهر هے كه يه محض ايك شوشه تھا۔ كيوں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے جو بات فرمائي تھي وه عابد كي نسبت سے تھي نه كه معبود كي نسبت سے، اور اگر اس كو معبود كي نسبت سے مانا جائے تب بھي واضح طورپر اس سے مراد وه غير معبود تھے جو اپنے معبود بنائے جانے پر راضي هوں۔ آدمي اگر بات كو اس كے صحيح رخ سے نه لے تو هر بات كو وه الٹے معني پهنا سكتا هے، خواه وه كتني هي درست بات كيوں نه هو۔
حضرت عيسي عليه السلام كي شخصيت ايك اعتبار سے فرشتوں كے مشابه تھي۔ اس پر آنجناب كو بهت سے لوگوں نے معبود بناليا۔مگر حضرت مسيح كي ملكوتي تخليق خدا كي قدرت كي مثال تھي نه كه خود حضرت مسيح كي ذاتي قدرت كي مثال۔ حقيقت يه هے كه الله كے لیے اس قسم كي تخليق كچھ بھي مشكل نهیں۔ وه چاهے تو زمين كي تمام آبادي كو فرشتوں كي آبادي بنا دے۔ پھر بھي يه فرشتے فرشتے هي رهيں گے، وه معبود نهيں هوجائیںگے۔
حضرت مسيح كو يه معجزه دياگيا كه وه مُرده كو زنده كرديتے تھے۔ مٹي كے پتلے ميں پھونك مار كر اسے جاندار بنا ديتے تھے۔ يه دراصل ايك خدائي نشاني تھي جو زندگي بعد موت كے امكان كو بتانے كے لیے ظاهر كي گئي تھي۔ مگر لوگوں نے اس سے اصل سبق تو نهيں ليا۔ البته حضرت مسيح كو فوق البشر سمجھ كر انھيں پوجنے لگے۔ اسي طرح خدائي نشانياں هميشه مختلف شكلوں ميں ظاهر هوتي هيں۔ ان كو اگر نشاني سمجھا جائے تو ان سے زبردست نصيحت ملتي هے۔ اور اگر انھيں نشاني كے بجائے كچھ اور سمجھ ليا جائے تو وه آدمي كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔
شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔
الزخرف 43:60
موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن كر مخالفين نے كها كه عيسائي لوگ مسيح كو پوجتے هيں پھر کیا مسیح میں کوئی خیر نہیں(مسند احمد، حدیث نمبر 2918)۔ ظاهر هے كه يه محض ايك شوشه تھا۔ كيوں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے جو بات فرمائي تھي وه عابد كي نسبت سے تھي نه كه معبود كي نسبت سے، اور اگر اس كو معبود كي نسبت سے مانا جائے تب بھي واضح طورپر اس سے مراد وه غير معبود تھے جو اپنے معبود بنائے جانے پر راضي هوں۔ آدمي اگر بات كو اس كے صحيح رخ سے نه لے تو هر بات كو وه الٹے معني پهنا سكتا هے، خواه وه كتني هي درست بات كيوں نه هو۔
حضرت عيسي عليه السلام كي شخصيت ايك اعتبار سے فرشتوں كے مشابه تھي۔ اس پر آنجناب كو بهت سے لوگوں نے معبود بناليا۔مگر حضرت مسيح كي ملكوتي تخليق خدا كي قدرت كي مثال تھي نه كه خود حضرت مسيح كي ذاتي قدرت كي مثال۔ حقيقت يه هے كه الله كے لیے اس قسم كي تخليق كچھ بھي مشكل نهیں۔ وه چاهے تو زمين كي تمام آبادي كو فرشتوں كي آبادي بنا دے۔ پھر بھي يه فرشتے فرشتے هي رهيں گے، وه معبود نهيں هوجائیںگے۔
حضرت مسيح كو يه معجزه دياگيا كه وه مُرده كو زنده كرديتے تھے۔ مٹي كے پتلے ميں پھونك مار كر اسے جاندار بنا ديتے تھے۔ يه دراصل ايك خدائي نشاني تھي جو زندگي بعد موت كے امكان كو بتانے كے لیے ظاهر كي گئي تھي۔ مگر لوگوں نے اس سے اصل سبق تو نهيں ليا۔ البته حضرت مسيح كو فوق البشر سمجھ كر انھيں پوجنے لگے۔ اسي طرح خدائي نشانياں هميشه مختلف شكلوں ميں ظاهر هوتي هيں۔ ان كو اگر نشاني سمجھا جائے تو ان سے زبردست نصيحت ملتي هے۔ اور اگر انھيں نشاني كے بجائے كچھ اور سمجھ ليا جائے تو وه آدمي كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔
شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔
الزخرف 43:61
موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن كر مخالفين نے كها كه عيسائي لوگ مسيح كو پوجتے هيں پھر کیا مسیح میں کوئی خیر نہیں(مسند احمد، حدیث نمبر 2918)۔ ظاهر هے كه يه محض ايك شوشه تھا۔ كيوں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے جو بات فرمائي تھي وه عابد كي نسبت سے تھي نه كه معبود كي نسبت سے، اور اگر اس كو معبود كي نسبت سے مانا جائے تب بھي واضح طورپر اس سے مراد وه غير معبود تھے جو اپنے معبود بنائے جانے پر راضي هوں۔ آدمي اگر بات كو اس كے صحيح رخ سے نه لے تو هر بات كو وه الٹے معني پهنا سكتا هے، خواه وه كتني هي درست بات كيوں نه هو۔
حضرت عيسي عليه السلام كي شخصيت ايك اعتبار سے فرشتوں كے مشابه تھي۔ اس پر آنجناب كو بهت سے لوگوں نے معبود بناليا۔مگر حضرت مسيح كي ملكوتي تخليق خدا كي قدرت كي مثال تھي نه كه خود حضرت مسيح كي ذاتي قدرت كي مثال۔ حقيقت يه هے كه الله كے لیے اس قسم كي تخليق كچھ بھي مشكل نهیں۔ وه چاهے تو زمين كي تمام آبادي كو فرشتوں كي آبادي بنا دے۔ پھر بھي يه فرشتے فرشتے هي رهيں گے، وه معبود نهيں هوجائیںگے۔
حضرت مسيح كو يه معجزه دياگيا كه وه مُرده كو زنده كرديتے تھے۔ مٹي كے پتلے ميں پھونك مار كر اسے جاندار بنا ديتے تھے۔ يه دراصل ايك خدائي نشاني تھي جو زندگي بعد موت كے امكان كو بتانے كے لیے ظاهر كي گئي تھي۔ مگر لوگوں نے اس سے اصل سبق تو نهيں ليا۔ البته حضرت مسيح كو فوق البشر سمجھ كر انھيں پوجنے لگے۔ اسي طرح خدائي نشانياں هميشه مختلف شكلوں ميں ظاهر هوتي هيں۔ ان كو اگر نشاني سمجھا جائے تو ان سے زبردست نصيحت ملتي هے۔ اور اگر انھيں نشاني كے بجائے كچھ اور سمجھ ليا جائے تو وه آدمي كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔
شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔
الزخرف 43:62
موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن كر مخالفين نے كها كه عيسائي لوگ مسيح كو پوجتے هيں پھر کیا مسیح میں کوئی خیر نہیں(مسند احمد، حدیث نمبر 2918)۔ ظاهر هے كه يه محض ايك شوشه تھا۔ كيوں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے جو بات فرمائي تھي وه عابد كي نسبت سے تھي نه كه معبود كي نسبت سے، اور اگر اس كو معبود كي نسبت سے مانا جائے تب بھي واضح طورپر اس سے مراد وه غير معبود تھے جو اپنے معبود بنائے جانے پر راضي هوں۔ آدمي اگر بات كو اس كے صحيح رخ سے نه لے تو هر بات كو وه الٹے معني پهنا سكتا هے، خواه وه كتني هي درست بات كيوں نه هو۔
حضرت عيسي عليه السلام كي شخصيت ايك اعتبار سے فرشتوں كے مشابه تھي۔ اس پر آنجناب كو بهت سے لوگوں نے معبود بناليا۔مگر حضرت مسيح كي ملكوتي تخليق خدا كي قدرت كي مثال تھي نه كه خود حضرت مسيح كي ذاتي قدرت كي مثال۔ حقيقت يه هے كه الله كے لیے اس قسم كي تخليق كچھ بھي مشكل نهیں۔ وه چاهے تو زمين كي تمام آبادي كو فرشتوں كي آبادي بنا دے۔ پھر بھي يه فرشتے فرشتے هي رهيں گے، وه معبود نهيں هوجائیںگے۔
حضرت مسيح كو يه معجزه دياگيا كه وه مُرده كو زنده كرديتے تھے۔ مٹي كے پتلے ميں پھونك مار كر اسے جاندار بنا ديتے تھے۔ يه دراصل ايك خدائي نشاني تھي جو زندگي بعد موت كے امكان كو بتانے كے لیے ظاهر كي گئي تھي۔ مگر لوگوں نے اس سے اصل سبق تو نهيں ليا۔ البته حضرت مسيح كو فوق البشر سمجھ كر انھيں پوجنے لگے۔ اسي طرح خدائي نشانياں هميشه مختلف شكلوں ميں ظاهر هوتي هيں۔ ان كو اگر نشاني سمجھا جائے تو ان سے زبردست نصيحت ملتي هے۔ اور اگر انھيں نشاني كے بجائے كچھ اور سمجھ ليا جائے تو وه آدمي كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔
شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔
الزخرف 43:63
يهاں حكمت سے مراد دين كي روح هے اور صراط مستقيم سے مراد وهي چيز هے جس كو آيت ميں خدا كا خوف، اس كي عبادت اور رسول كي اطاعت كهاگيا هے۔ يهي اصل دين هے۔ يهود نے بعد كو يه كيا كه انھوں نے روح دين كھودي اور دين کے بنيادي احكام ميں موشگافيوں كے ذريعے بے شمار نئے نئے مسائل پيدا كيے۔ يه مسائل آج بھي يهود كي كتابوں ميں موجود هيں۔
انھيں خود ساخته اضافوں كي وجه سے ان كے اندر اختلافي فرقے بنے۔ كسي نے ايك اختلافي مسئله پر زور ديا، كسي نے دوسرے اختلافي مسئله پر۔ اس طرح ان كے يهاں ايك دين كئي دين بن گيا۔ حضرت مسيح اس ليے آئے كه وه يهود كو بتائيں كه دين ميں اصل اهميت روح كي هے، نه كه ظواهر كي۔ اور يه كه آدمي كو نجات جس چيز پر ملے گي وه اس دين كي پيروي پر ملے گي جو خدا نے بھيجا هے، نه كه اس دين پر جو تم لوگوں نے بطور خود وضع كرركھا هے۔
حضرت مسيح نے بتايا كه اصل دين يه هے كه تم الله سے ڈرو۔ صرف ايك الله كے عبادت گزار بنو۔زندگي كے معاملات ميں رسول كے نمونه كي پيروي كرو۔ اس كے سوا تم نے اپني بحثوں اور موشگافيوں سے جو بے شمار مسائل بنا ركھے هيں وه تمھارے اپنے اضافے هيں۔ ان اضافوں كو چھوڑ كر اصل دين پر قائم هوجاؤ — حضرت مسيح كي يه باتيں آج بھي انجيلوں ميں موجود هيں۔
الزخرف 43:64
يهاں حكمت سے مراد دين كي روح هے اور صراط مستقيم سے مراد وهي چيز هے جس كو آيت ميں خدا كا خوف، اس كي عبادت اور رسول كي اطاعت كهاگيا هے۔ يهي اصل دين هے۔ يهود نے بعد كو يه كيا كه انھوں نے روح دين كھودي اور دين کے بنيادي احكام ميں موشگافيوں كے ذريعے بے شمار نئے نئے مسائل پيدا كيے۔ يه مسائل آج بھي يهود كي كتابوں ميں موجود هيں۔
انھيں خود ساخته اضافوں كي وجه سے ان كے اندر اختلافي فرقے بنے۔ كسي نے ايك اختلافي مسئله پر زور ديا، كسي نے دوسرے اختلافي مسئله پر۔ اس طرح ان كے يهاں ايك دين كئي دين بن گيا۔ حضرت مسيح اس ليے آئے كه وه يهود كو بتائيں كه دين ميں اصل اهميت روح كي هے، نه كه ظواهر كي۔ اور يه كه آدمي كو نجات جس چيز پر ملے گي وه اس دين كي پيروي پر ملے گي جو خدا نے بھيجا هے، نه كه اس دين پر جو تم لوگوں نے بطور خود وضع كرركھا هے۔
حضرت مسيح نے بتايا كه اصل دين يه هے كه تم الله سے ڈرو۔ صرف ايك الله كے عبادت گزار بنو۔زندگي كے معاملات ميں رسول كے نمونه كي پيروي كرو۔ اس كے سوا تم نے اپني بحثوں اور موشگافيوں سے جو بے شمار مسائل بنا ركھے هيں وه تمھارے اپنے اضافے هيں۔ ان اضافوں كو چھوڑ كر اصل دين پر قائم هوجاؤ — حضرت مسيح كي يه باتيں آج بھي انجيلوں ميں موجود هيں۔
الزخرف 43:65
يهاں حكمت سے مراد دين كي روح هے اور صراط مستقيم سے مراد وهي چيز هے جس كو آيت ميں خدا كا خوف، اس كي عبادت اور رسول كي اطاعت كهاگيا هے۔ يهي اصل دين هے۔ يهود نے بعد كو يه كيا كه انھوں نے روح دين كھودي اور دين کے بنيادي احكام ميں موشگافيوں كے ذريعے بے شمار نئے نئے مسائل پيدا كيے۔ يه مسائل آج بھي يهود كي كتابوں ميں موجود هيں۔
انھيں خود ساخته اضافوں كي وجه سے ان كے اندر اختلافي فرقے بنے۔ كسي نے ايك اختلافي مسئله پر زور ديا، كسي نے دوسرے اختلافي مسئله پر۔ اس طرح ان كے يهاں ايك دين كئي دين بن گيا۔ حضرت مسيح اس ليے آئے كه وه يهود كو بتائيں كه دين ميں اصل اهميت روح كي هے، نه كه ظواهر كي۔ اور يه كه آدمي كو نجات جس چيز پر ملے گي وه اس دين كي پيروي پر ملے گي جو خدا نے بھيجا هے، نه كه اس دين پر جو تم لوگوں نے بطور خود وضع كرركھا هے۔
حضرت مسيح نے بتايا كه اصل دين يه هے كه تم الله سے ڈرو۔ صرف ايك الله كے عبادت گزار بنو۔زندگي كے معاملات ميں رسول كے نمونه كي پيروي كرو۔ اس كے سوا تم نے اپني بحثوں اور موشگافيوں سے جو بے شمار مسائل بنا ركھے هيں وه تمھارے اپنے اضافے هيں۔ ان اضافوں كو چھوڑ كر اصل دين پر قائم هوجاؤ — حضرت مسيح كي يه باتيں آج بھي انجيلوں ميں موجود هيں۔
الزخرف 43:66
انسان آزاد نهيں هے۔ اس كو بهر حال حقيقت كے آگے جھكنا هے۔ اگر وه داعي كي دليل كے آگے نهيں جھكتا تو اس كو خدائي طاقت كے آگے جھكنا پڑے گا۔ مگر خدائي طاقت فيصله كے ليے ظاهر هوتي هے۔ اس ليے اس وقت كا جھكنا كسي كے كچھ كام آنے والا نهيں۔
دنيا ميں آدمي جب حق كے خلاف رويه اختيا ركرتا هے تو اس كو بهت سے دوست مل جاتے هيں جو اس كا ساتھ ديتے هيں۔ آدمي ان دوستوں كے بل پر ڈھيٹ بنتا چلا جاتاهے۔ مگر يه سارے دوست قيامت ميں اس كا ساتھ چھوڑ ديں گے۔ قيامت ميں صرف وه دوستي باقي رهے گي جو الله كے خوف كي بنياد پر قائم هوئي هو۔
دنيا ميں حق پرستي كي زندگي خطرات ميں گھري هوئي هوتي هے۔ مگر آخرت ميں اس كا بدله اس شان دار صورت ميں ملے گا كه آدمي وهاں هر قسم كے انديشے اور تكليف سے هميشه كے ليے نجات حاصل كرلے گا۔ اس خدائي وعده پر جو لوگ يقين كريں وهي موجوده دنيا ميں حق پر قائم ره سكيں گے۔ خدا آخرت ميں انھيں وه سب كچھ مزيد اضافه كے ساتھ دے دے گا جو انھوں نے دنيا ميں خدا كي خاطر كھويا تھا۔
الزخرف 43:67
انسان آزاد نهيں هے۔ اس كو بهر حال حقيقت كے آگے جھكنا هے۔ اگر وه داعي كي دليل كے آگے نهيں جھكتا تو اس كو خدائي طاقت كے آگے جھكنا پڑے گا۔ مگر خدائي طاقت فيصله كے ليے ظاهر هوتي هے۔ اس ليے اس وقت كا جھكنا كسي كے كچھ كام آنے والا نهيں۔
دنيا ميں آدمي جب حق كے خلاف رويه اختيا ركرتا هے تو اس كو بهت سے دوست مل جاتے هيں جو اس كا ساتھ ديتے هيں۔ آدمي ان دوستوں كے بل پر ڈھيٹ بنتا چلا جاتاهے۔ مگر يه سارے دوست قيامت ميں اس كا ساتھ چھوڑ ديں گے۔ قيامت ميں صرف وه دوستي باقي رهے گي جو الله كے خوف كي بنياد پر قائم هوئي هو۔
دنيا ميں حق پرستي كي زندگي خطرات ميں گھري هوئي هوتي هے۔ مگر آخرت ميں اس كا بدله اس شان دار صورت ميں ملے گا كه آدمي وهاں هر قسم كے انديشے اور تكليف سے هميشه كے ليے نجات حاصل كرلے گا۔ اس خدائي وعده پر جو لوگ يقين كريں وهي موجوده دنيا ميں حق پر قائم ره سكيں گے۔ خدا آخرت ميں انھيں وه سب كچھ مزيد اضافه كے ساتھ دے دے گا جو انھوں نے دنيا ميں خدا كي خاطر كھويا تھا۔
الزخرف 43:68
انسان آزاد نهيں هے۔ اس كو بهر حال حقيقت كے آگے جھكنا هے۔ اگر وه داعي كي دليل كے آگے نهيں جھكتا تو اس كو خدائي طاقت كے آگے جھكنا پڑے گا۔ مگر خدائي طاقت فيصله كے ليے ظاهر هوتي هے۔ اس ليے اس وقت كا جھكنا كسي كے كچھ كام آنے والا نهيں۔
دنيا ميں آدمي جب حق كے خلاف رويه اختيا ركرتا هے تو اس كو بهت سے دوست مل جاتے هيں جو اس كا ساتھ ديتے هيں۔ آدمي ان دوستوں كے بل پر ڈھيٹ بنتا چلا جاتاهے۔ مگر يه سارے دوست قيامت ميں اس كا ساتھ چھوڑ ديں گے۔ قيامت ميں صرف وه دوستي باقي رهے گي جو الله كے خوف كي بنياد پر قائم هوئي هو۔
دنيا ميں حق پرستي كي زندگي خطرات ميں گھري هوئي هوتي هے۔ مگر آخرت ميں اس كا بدله اس شان دار صورت ميں ملے گا كه آدمي وهاں هر قسم كے انديشے اور تكليف سے هميشه كے ليے نجات حاصل كرلے گا۔ اس خدائي وعده پر جو لوگ يقين كريں وهي موجوده دنيا ميں حق پر قائم ره سكيں گے۔ خدا آخرت ميں انھيں وه سب كچھ مزيد اضافه كے ساتھ دے دے گا جو انھوں نے دنيا ميں خدا كي خاطر كھويا تھا۔
الزخرف 43:69
انسان آزاد نهيں هے۔ اس كو بهر حال حقيقت كے آگے جھكنا هے۔ اگر وه داعي كي دليل كے آگے نهيں جھكتا تو اس كو خدائي طاقت كے آگے جھكنا پڑے گا۔ مگر خدائي طاقت فيصله كے ليے ظاهر هوتي هے۔ اس ليے اس وقت كا جھكنا كسي كے كچھ كام آنے والا نهيں۔
دنيا ميں آدمي جب حق كے خلاف رويه اختيا ركرتا هے تو اس كو بهت سے دوست مل جاتے هيں جو اس كا ساتھ ديتے هيں۔ آدمي ان دوستوں كے بل پر ڈھيٹ بنتا چلا جاتاهے۔ مگر يه سارے دوست قيامت ميں اس كا ساتھ چھوڑ ديں گے۔ قيامت ميں صرف وه دوستي باقي رهے گي جو الله كے خوف كي بنياد پر قائم هوئي هو۔
دنيا ميں حق پرستي كي زندگي خطرات ميں گھري هوئي هوتي هے۔ مگر آخرت ميں اس كا بدله اس شان دار صورت ميں ملے گا كه آدمي وهاں هر قسم كے انديشے اور تكليف سے هميشه كے ليے نجات حاصل كرلے گا۔ اس خدائي وعده پر جو لوگ يقين كريں وهي موجوده دنيا ميں حق پر قائم ره سكيں گے۔ خدا آخرت ميں انھيں وه سب كچھ مزيد اضافه كے ساتھ دے دے گا جو انھوں نے دنيا ميں خدا كي خاطر كھويا تھا۔
الزخرف 43:70
انسان آزاد نهيں هے۔ اس كو بهر حال حقيقت كے آگے جھكنا هے۔ اگر وه داعي كي دليل كے آگے نهيں جھكتا تو اس كو خدائي طاقت كے آگے جھكنا پڑے گا۔ مگر خدائي طاقت فيصله كے ليے ظاهر هوتي هے۔ اس ليے اس وقت كا جھكنا كسي كے كچھ كام آنے والا نهيں۔
دنيا ميں آدمي جب حق كے خلاف رويه اختيا ركرتا هے تو اس كو بهت سے دوست مل جاتے هيں جو اس كا ساتھ ديتے هيں۔ آدمي ان دوستوں كے بل پر ڈھيٹ بنتا چلا جاتاهے۔ مگر يه سارے دوست قيامت ميں اس كا ساتھ چھوڑ ديں گے۔ قيامت ميں صرف وه دوستي باقي رهے گي جو الله كے خوف كي بنياد پر قائم هوئي هو۔
دنيا ميں حق پرستي كي زندگي خطرات ميں گھري هوئي هوتي هے۔ مگر آخرت ميں اس كا بدله اس شان دار صورت ميں ملے گا كه آدمي وهاں هر قسم كے انديشے اور تكليف سے هميشه كے ليے نجات حاصل كرلے گا۔ اس خدائي وعده پر جو لوگ يقين كريں وهي موجوده دنيا ميں حق پر قائم ره سكيں گے۔ خدا آخرت ميں انھيں وه سب كچھ مزيد اضافه كے ساتھ دے دے گا جو انھوں نے دنيا ميں خدا كي خاطر كھويا تھا۔
الزخرف 43:71
انسان آزاد نهيں هے۔ اس كو بهر حال حقيقت كے آگے جھكنا هے۔ اگر وه داعي كي دليل كے آگے نهيں جھكتا تو اس كو خدائي طاقت كے آگے جھكنا پڑے گا۔ مگر خدائي طاقت فيصله كے ليے ظاهر هوتي هے۔ اس ليے اس وقت كا جھكنا كسي كے كچھ كام آنے والا نهيں۔
دنيا ميں آدمي جب حق كے خلاف رويه اختيا ركرتا هے تو اس كو بهت سے دوست مل جاتے هيں جو اس كا ساتھ ديتے هيں۔ آدمي ان دوستوں كے بل پر ڈھيٹ بنتا چلا جاتاهے۔ مگر يه سارے دوست قيامت ميں اس كا ساتھ چھوڑ ديں گے۔ قيامت ميں صرف وه دوستي باقي رهے گي جو الله كے خوف كي بنياد پر قائم هوئي هو۔
دنيا ميں حق پرستي كي زندگي خطرات ميں گھري هوئي هوتي هے۔ مگر آخرت ميں اس كا بدله اس شان دار صورت ميں ملے گا كه آدمي وهاں هر قسم كے انديشے اور تكليف سے هميشه كے ليے نجات حاصل كرلے گا۔ اس خدائي وعده پر جو لوگ يقين كريں وهي موجوده دنيا ميں حق پر قائم ره سكيں گے۔ خدا آخرت ميں انھيں وه سب كچھ مزيد اضافه كے ساتھ دے دے گا جو انھوں نے دنيا ميں خدا كي خاطر كھويا تھا۔
الزخرف 43:72
انسان آزاد نهيں هے۔ اس كو بهر حال حقيقت كے آگے جھكنا هے۔ اگر وه داعي كي دليل كے آگے نهيں جھكتا تو اس كو خدائي طاقت كے آگے جھكنا پڑے گا۔ مگر خدائي طاقت فيصله كے ليے ظاهر هوتي هے۔ اس ليے اس وقت كا جھكنا كسي كے كچھ كام آنے والا نهيں۔
دنيا ميں آدمي جب حق كے خلاف رويه اختيا ركرتا هے تو اس كو بهت سے دوست مل جاتے هيں جو اس كا ساتھ ديتے هيں۔ آدمي ان دوستوں كے بل پر ڈھيٹ بنتا چلا جاتاهے۔ مگر يه سارے دوست قيامت ميں اس كا ساتھ چھوڑ ديں گے۔ قيامت ميں صرف وه دوستي باقي رهے گي جو الله كے خوف كي بنياد پر قائم هوئي هو۔
دنيا ميں حق پرستي كي زندگي خطرات ميں گھري هوئي هوتي هے۔ مگر آخرت ميں اس كا بدله اس شان دار صورت ميں ملے گا كه آدمي وهاں هر قسم كے انديشے اور تكليف سے هميشه كے ليے نجات حاصل كرلے گا۔ اس خدائي وعده پر جو لوگ يقين كريں وهي موجوده دنيا ميں حق پر قائم ره سكيں گے۔ خدا آخرت ميں انھيں وه سب كچھ مزيد اضافه كے ساتھ دے دے گا جو انھوں نے دنيا ميں خدا كي خاطر كھويا تھا۔
الزخرف 43:73
انسان آزاد نهيں هے۔ اس كو بهر حال حقيقت كے آگے جھكنا هے۔ اگر وه داعي كي دليل كے آگے نهيں جھكتا تو اس كو خدائي طاقت كے آگے جھكنا پڑے گا۔ مگر خدائي طاقت فيصله كے ليے ظاهر هوتي هے۔ اس ليے اس وقت كا جھكنا كسي كے كچھ كام آنے والا نهيں۔
دنيا ميں آدمي جب حق كے خلاف رويه اختيا ركرتا هے تو اس كو بهت سے دوست مل جاتے هيں جو اس كا ساتھ ديتے هيں۔ آدمي ان دوستوں كے بل پر ڈھيٹ بنتا چلا جاتاهے۔ مگر يه سارے دوست قيامت ميں اس كا ساتھ چھوڑ ديں گے۔ قيامت ميں صرف وه دوستي باقي رهے گي جو الله كے خوف كي بنياد پر قائم هوئي هو۔
دنيا ميں حق پرستي كي زندگي خطرات ميں گھري هوئي هوتي هے۔ مگر آخرت ميں اس كا بدله اس شان دار صورت ميں ملے گا كه آدمي وهاں هر قسم كے انديشے اور تكليف سے هميشه كے ليے نجات حاصل كرلے گا۔ اس خدائي وعده پر جو لوگ يقين كريں وهي موجوده دنيا ميں حق پر قائم ره سكيں گے۔ خدا آخرت ميں انھيں وه سب كچھ مزيد اضافه كے ساتھ دے دے گا جو انھوں نے دنيا ميں خدا كي خاطر كھويا تھا۔
الزخرف 43:74
اميد هميشه تكليف كے احساس كو كم كرديتي هے۔ آدمي كسي تكليف ميں مبتلا هو اور اسي كے ساتھ اس كو يه اميد هو كه يه تكليف ايك روز ختم هوجائے گي تو آدمي كے اندر اس كو سهنے كي طاقت پيدا هو جاتي هے۔ مگر جهنم كي تكليف وه تكليف هے جس سے نكلنے كي كوئي اميد انسان كے ليے نه هوگي۔ جهنم ميں فرشتوں كو مدد كے لیے پكارنا جهنم والوں كي بے بسي كا بے تابانه اظهار هوگا۔ ورنه پكارنے والا خود جانتا هوگا كه خدا كا فيصله آخري طور پر هوچكا هے۔ اب وه كسي طرح ٹلنے والا نهيں۔
جهنم ميں كسي كا داخل هونا سراسر اپني كوتاهي كا نتيجه هوگا۔ انسان كو الله تعالي نے اعلي درجه كي سمجھ دي۔ اس كے سامنے حق كي راهيں كھوليں۔ مگر انسان نے جانتے بوجھتے حق كو نظر انداز كيا۔ اس كي سركشي يهاںتك پهنچي كه وه حق كے داعي كو مٹانے اور برباد كرنے كے درپے هوگیا۔ ايسي حالت ميں اس كا انجام اس كے سوا اور كيا هوسكتا تھا كه اس كو دائمي طورپر عذاب ميں ڈال ديا جائے۔
الزخرف 43:75
اميد هميشه تكليف كے احساس كو كم كرديتي هے۔ آدمي كسي تكليف ميں مبتلا هو اور اسي كے ساتھ اس كو يه اميد هو كه يه تكليف ايك روز ختم هوجائے گي تو آدمي كے اندر اس كو سهنے كي طاقت پيدا هو جاتي هے۔ مگر جهنم كي تكليف وه تكليف هے جس سے نكلنے كي كوئي اميد انسان كے ليے نه هوگي۔ جهنم ميں فرشتوں كو مدد كے لیے پكارنا جهنم والوں كي بے بسي كا بے تابانه اظهار هوگا۔ ورنه پكارنے والا خود جانتا هوگا كه خدا كا فيصله آخري طور پر هوچكا هے۔ اب وه كسي طرح ٹلنے والا نهيں۔
جهنم ميں كسي كا داخل هونا سراسر اپني كوتاهي كا نتيجه هوگا۔ انسان كو الله تعالي نے اعلي درجه كي سمجھ دي۔ اس كے سامنے حق كي راهيں كھوليں۔ مگر انسان نے جانتے بوجھتے حق كو نظر انداز كيا۔ اس كي سركشي يهاںتك پهنچي كه وه حق كے داعي كو مٹانے اور برباد كرنے كے درپے هوگیا۔ ايسي حالت ميں اس كا انجام اس كے سوا اور كيا هوسكتا تھا كه اس كو دائمي طورپر عذاب ميں ڈال ديا جائے۔
الزخرف 43:76
اميد هميشه تكليف كے احساس كو كم كرديتي هے۔ آدمي كسي تكليف ميں مبتلا هو اور اسي كے ساتھ اس كو يه اميد هو كه يه تكليف ايك روز ختم هوجائے گي تو آدمي كے اندر اس كو سهنے كي طاقت پيدا هو جاتي هے۔ مگر جهنم كي تكليف وه تكليف هے جس سے نكلنے كي كوئي اميد انسان كے ليے نه هوگي۔ جهنم ميں فرشتوں كو مدد كے لیے پكارنا جهنم والوں كي بے بسي كا بے تابانه اظهار هوگا۔ ورنه پكارنے والا خود جانتا هوگا كه خدا كا فيصله آخري طور پر هوچكا هے۔ اب وه كسي طرح ٹلنے والا نهيں۔
جهنم ميں كسي كا داخل هونا سراسر اپني كوتاهي كا نتيجه هوگا۔ انسان كو الله تعالي نے اعلي درجه كي سمجھ دي۔ اس كے سامنے حق كي راهيں كھوليں۔ مگر انسان نے جانتے بوجھتے حق كو نظر انداز كيا۔ اس كي سركشي يهاںتك پهنچي كه وه حق كے داعي كو مٹانے اور برباد كرنے كے درپے هوگیا۔ ايسي حالت ميں اس كا انجام اس كے سوا اور كيا هوسكتا تھا كه اس كو دائمي طورپر عذاب ميں ڈال ديا جائے۔
الزخرف 43:77
اميد هميشه تكليف كے احساس كو كم كرديتي هے۔ آدمي كسي تكليف ميں مبتلا هو اور اسي كے ساتھ اس كو يه اميد هو كه يه تكليف ايك روز ختم هوجائے گي تو آدمي كے اندر اس كو سهنے كي طاقت پيدا هو جاتي هے۔ مگر جهنم كي تكليف وه تكليف هے جس سے نكلنے كي كوئي اميد انسان كے ليے نه هوگي۔ جهنم ميں فرشتوں كو مدد كے لیے پكارنا جهنم والوں كي بے بسي كا بے تابانه اظهار هوگا۔ ورنه پكارنے والا خود جانتا هوگا كه خدا كا فيصله آخري طور پر هوچكا هے۔ اب وه كسي طرح ٹلنے والا نهيں۔
جهنم ميں كسي كا داخل هونا سراسر اپني كوتاهي كا نتيجه هوگا۔ انسان كو الله تعالي نے اعلي درجه كي سمجھ دي۔ اس كے سامنے حق كي راهيں كھوليں۔ مگر انسان نے جانتے بوجھتے حق كو نظر انداز كيا۔ اس كي سركشي يهاںتك پهنچي كه وه حق كے داعي كو مٹانے اور برباد كرنے كے درپے هوگیا۔ ايسي حالت ميں اس كا انجام اس كے سوا اور كيا هوسكتا تھا كه اس كو دائمي طورپر عذاب ميں ڈال ديا جائے۔
الزخرف 43:78
اميد هميشه تكليف كے احساس كو كم كرديتي هے۔ آدمي كسي تكليف ميں مبتلا هو اور اسي كے ساتھ اس كو يه اميد هو كه يه تكليف ايك روز ختم هوجائے گي تو آدمي كے اندر اس كو سهنے كي طاقت پيدا هو جاتي هے۔ مگر جهنم كي تكليف وه تكليف هے جس سے نكلنے كي كوئي اميد انسان كے ليے نه هوگي۔ جهنم ميں فرشتوں كو مدد كے لیے پكارنا جهنم والوں كي بے بسي كا بے تابانه اظهار هوگا۔ ورنه پكارنے والا خود جانتا هوگا كه خدا كا فيصله آخري طور پر هوچكا هے۔ اب وه كسي طرح ٹلنے والا نهيں۔
جهنم ميں كسي كا داخل هونا سراسر اپني كوتاهي كا نتيجه هوگا۔ انسان كو الله تعالي نے اعلي درجه كي سمجھ دي۔ اس كے سامنے حق كي راهيں كھوليں۔ مگر انسان نے جانتے بوجھتے حق كو نظر انداز كيا۔ اس كي سركشي يهاںتك پهنچي كه وه حق كے داعي كو مٹانے اور برباد كرنے كے درپے هوگیا۔ ايسي حالت ميں اس كا انجام اس كے سوا اور كيا هوسكتا تھا كه اس كو دائمي طورپر عذاب ميں ڈال ديا جائے۔
الزخرف 43:79
اميد هميشه تكليف كے احساس كو كم كرديتي هے۔ آدمي كسي تكليف ميں مبتلا هو اور اسي كے ساتھ اس كو يه اميد هو كه يه تكليف ايك روز ختم هوجائے گي تو آدمي كے اندر اس كو سهنے كي طاقت پيدا هو جاتي هے۔ مگر جهنم كي تكليف وه تكليف هے جس سے نكلنے كي كوئي اميد انسان كے ليے نه هوگي۔ جهنم ميں فرشتوں كو مدد كے لیے پكارنا جهنم والوں كي بے بسي كا بے تابانه اظهار هوگا۔ ورنه پكارنے والا خود جانتا هوگا كه خدا كا فيصله آخري طور پر هوچكا هے۔ اب وه كسي طرح ٹلنے والا نهيں۔
جهنم ميں كسي كا داخل هونا سراسر اپني كوتاهي كا نتيجه هوگا۔ انسان كو الله تعالي نے اعلي درجه كي سمجھ دي۔ اس كے سامنے حق كي راهيں كھوليں۔ مگر انسان نے جانتے بوجھتے حق كو نظر انداز كيا۔ اس كي سركشي يهاںتك پهنچي كه وه حق كے داعي كو مٹانے اور برباد كرنے كے درپے هوگیا۔ ايسي حالت ميں اس كا انجام اس كے سوا اور كيا هوسكتا تھا كه اس كو دائمي طورپر عذاب ميں ڈال ديا جائے۔
الزخرف 43:80
اميد هميشه تكليف كے احساس كو كم كرديتي هے۔ آدمي كسي تكليف ميں مبتلا هو اور اسي كے ساتھ اس كو يه اميد هو كه يه تكليف ايك روز ختم هوجائے گي تو آدمي كے اندر اس كو سهنے كي طاقت پيدا هو جاتي هے۔ مگر جهنم كي تكليف وه تكليف هے جس سے نكلنے كي كوئي اميد انسان كے ليے نه هوگي۔ جهنم ميں فرشتوں كو مدد كے لیے پكارنا جهنم والوں كي بے بسي كا بے تابانه اظهار هوگا۔ ورنه پكارنے والا خود جانتا هوگا كه خدا كا فيصله آخري طور پر هوچكا هے۔ اب وه كسي طرح ٹلنے والا نهيں۔
جهنم ميں كسي كا داخل هونا سراسر اپني كوتاهي كا نتيجه هوگا۔ انسان كو الله تعالي نے اعلي درجه كي سمجھ دي۔ اس كے سامنے حق كي راهيں كھوليں۔ مگر انسان نے جانتے بوجھتے حق كو نظر انداز كيا۔ اس كي سركشي يهاںتك پهنچي كه وه حق كے داعي كو مٹانے اور برباد كرنے كے درپے هوگیا۔ ايسي حالت ميں اس كا انجام اس كے سوا اور كيا هوسكتا تھا كه اس كو دائمي طورپر عذاب ميں ڈال ديا جائے۔
الزخرف 43:81
’’اگر خدا كي اولاد هو تو ميں سب سے پهلے اس كي عبادت كروں‘‘ —يه جمله بتاتا هے كه پيغمبر جس عقيده كا اعلان كررها هے وه اسي كو عين حقيقت سمجھتاهے۔ وه قومي تقليد اور گروهي تعصب كي زمين پر نهيں كھڑا هوا هے بلكه دليل كي زمين پر كھڑا هوا هے۔ وه اس عقيده كا داعي اس ليے هے كه تمام حقائق اس كي صداقت كي تائيد كرتے هيں۔ اس سے انداز هوتا هے كه داعي كا معامله شعور حقيقت كا معامله هوتاهے، نه كه قومي تقليد كا معامله۔
خدا كا تخليقی كارخانه جو زمين وآسمان كي صورت ميں پھيلا هوا هے وه بتاتا هے كه اس كا خدا صرف ايك خدا هے۔ كائنات اپنے وسيع نظام كے ساتھ اس سے انكار كرتي هے كه اس كا خدا ايك سے زياده هوسكتاهے۔
الزخرف 43:82
’’اگر خدا كي اولاد هو تو ميں سب سے پهلے اس كي عبادت كروں‘‘ —يه جمله بتاتا هے كه پيغمبر جس عقيده كا اعلان كررها هے وه اسي كو عين حقيقت سمجھتاهے۔ وه قومي تقليد اور گروهي تعصب كي زمين پر نهيں كھڑا هوا هے بلكه دليل كي زمين پر كھڑا هوا هے۔ وه اس عقيده كا داعي اس ليے هے كه تمام حقائق اس كي صداقت كي تائيد كرتے هيں۔ اس سے انداز هوتا هے كه داعي كا معامله شعور حقيقت كا معامله هوتاهے، نه كه قومي تقليد كا معامله۔
خدا كا تخليقی كارخانه جو زمين وآسمان كي صورت ميں پھيلا هوا هے وه بتاتا هے كه اس كا خدا صرف ايك خدا هے۔ كائنات اپنے وسيع نظام كے ساتھ اس سے انكار كرتي هے كه اس كا خدا ايك سے زياده هوسكتاهے۔
الزخرف 43:83
’’اگر خدا كي اولاد هو تو ميں سب سے پهلے اس كي عبادت كروں‘‘ —يه جمله بتاتا هے كه پيغمبر جس عقيده كا اعلان كررها هے وه اسي كو عين حقيقت سمجھتاهے۔ وه قومي تقليد اور گروهي تعصب كي زمين پر نهيں كھڑا هوا هے بلكه دليل كي زمين پر كھڑا هوا هے۔ وه اس عقيده كا داعي اس ليے هے كه تمام حقائق اس كي صداقت كي تائيد كرتے هيں۔ اس سے انداز هوتا هے كه داعي كا معامله شعور حقيقت كا معامله هوتاهے، نه كه قومي تقليد كا معامله۔
خدا كا تخليقی كارخانه جو زمين وآسمان كي صورت ميں پھيلا هوا هے وه بتاتا هے كه اس كا خدا صرف ايك خدا هے۔ كائنات اپنے وسيع نظام كے ساتھ اس سے انكار كرتي هے كه اس كا خدا ايك سے زياده هوسكتاهے۔
الزخرف 43:84
زمين وآسمان نهايت هم آهنگي كے ساتھ مسلسل عمل كررهے هيں۔ ان كے اندر كامل طورپر واحد حكمت اور واحد علم پايا جاتا هے۔ يه اس بات كا ثبوت هے كه يهاں ايك هي خدا هے جو زمين و آسمان دونوں كا نظام تنها چلا رها هے۔
كائنات بيك وقت خدا كي بے پناه قدرت كا بھي تعارف كراتي هے اور اسي كے ساتھ خدا كي بے پناه رحمت كا بھي۔ اس كا تقاضا هے كه آدمي سب سے زياده خدا سے ڈرے، وه سب سے زياده اسي سے اميد ركھے۔ جو لوگ دنيا ميں اس شعور اور اس كردار كا ثبوت ديں وهي وه لوگ هيں كه جب وه خدا كے يهاں پهنچيں گے تو خدا ان كو اپني بے پاياں رحمتوں سے نوازے گا۔
الزخرف 43:85
زمين وآسمان نهايت هم آهنگي كے ساتھ مسلسل عمل كررهے هيں۔ ان كے اندر كامل طورپر واحد حكمت اور واحد علم پايا جاتا هے۔ يه اس بات كا ثبوت هے كه يهاں ايك هي خدا هے جو زمين و آسمان دونوں كا نظام تنها چلا رها هے۔
كائنات بيك وقت خدا كي بے پناه قدرت كا بھي تعارف كراتي هے اور اسي كے ساتھ خدا كي بے پناه رحمت كا بھي۔ اس كا تقاضا هے كه آدمي سب سے زياده خدا سے ڈرے، وه سب سے زياده اسي سے اميد ركھے۔ جو لوگ دنيا ميں اس شعور اور اس كردار كا ثبوت ديں وهي وه لوگ هيں كه جب وه خدا كے يهاں پهنچيں گے تو خدا ان كو اپني بے پاياں رحمتوں سے نوازے گا۔
الزخرف 43:86
قيامت ميں پيغمبر اور داعيانِ حق جو شفاعت كريں گے وه حقيقتاً شفاعت نهيں هے بلكه شهادت هے۔ يعني ايسي بات كي گواهي دينا جس كو آدمي ذاتي طور پر جانتا هو۔ آخرت ميں جب لوگوں كا مقدمہ پيش هوگا تو سارے علم كے باوجود الله مزيد تائيد كے طور پر ان لوگو ں كو كھڑا كرے گا جو قوموں كے هم عصر تھے۔ انھوںنے ان كے سامنے حق كا پيغام پيش كيا۔ پھر كسي نے مانااور كسي نے نهيں مانا۔ كسي نے حق كا ساتھ ديا اور كوئي حق كا مخالف بن كر كھڑا هوگيا۔ يهي تجربه جوان صالحين پر براهِ راست گزرا اس كو وه خدا كے سامنے پيش كريںگے۔ يه ايسا هي هوگا جيسے كه كوئي گواه عدالت ميں اپنے مشاهدے كي بنياد پر ايك سچا بيان دے۔ اس كے سوا كسي كو قيامت ميں يه اختيار حاصل نه هوگا كه وه كسي مجرم كا شافع بن كر كھڑا هو اور اس كے بارے ميں اس خدائي فيصله كو بدل دے جو از روئے واقعه اس كے بارے ميں هونے والا تھا۔ خدا اس سے بهت بلند هے كه اس كے حضور كوئي شخص ايسا كرنے كي كوشش كرے۔
دعوت حق كا كام سراسر نصيحت كا كام هے۔ آخري مرحله ميں جب كه داعي پر يه واضح هوجائے كه لوگ كسي طرح ماننے والے نهيں هيں اس وقت بھي داعي لوگوں كے لیے خدا سے دعا كرتا هے۔ لوگوں كي ايذارساني پر صبر كرتے هوئے وه لوگوں كا خير خواه بنا رهتا هے۔
الزخرف 43:87
قيامت ميں پيغمبر اور داعيانِ حق جو شفاعت كريں گے وه حقيقتاً شفاعت نهيں هے بلكه شهادت هے۔ يعني ايسي بات كي گواهي دينا جس كو آدمي ذاتي طور پر جانتا هو۔ آخرت ميں جب لوگوں كا مقدمہ پيش هوگا تو سارے علم كے باوجود الله مزيد تائيد كے طور پر ان لوگو ں كو كھڑا كرے گا جو قوموں كے هم عصر تھے۔ انھوںنے ان كے سامنے حق كا پيغام پيش كيا۔ پھر كسي نے مانااور كسي نے نهيں مانا۔ كسي نے حق كا ساتھ ديا اور كوئي حق كا مخالف بن كر كھڑا هوگيا۔ يهي تجربه جوان صالحين پر براهِ راست گزرا اس كو وه خدا كے سامنے پيش كريںگے۔ يه ايسا هي هوگا جيسے كه كوئي گواه عدالت ميں اپنے مشاهدے كي بنياد پر ايك سچا بيان دے۔ اس كے سوا كسي كو قيامت ميں يه اختيار حاصل نه هوگا كه وه كسي مجرم كا شافع بن كر كھڑا هو اور اس كے بارے ميں اس خدائي فيصله كو بدل دے جو از روئے واقعه اس كے بارے ميں هونے والا تھا۔ خدا اس سے بهت بلند هے كه اس كے حضور كوئي شخص ايسا كرنے كي كوشش كرے۔
دعوت حق كا كام سراسر نصيحت كا كام هے۔ آخري مرحله ميں جب كه داعي پر يه واضح هوجائے كه لوگ كسي طرح ماننے والے نهيں هيں اس وقت بھي داعي لوگوں كے لیے خدا سے دعا كرتا هے۔ لوگوں كي ايذارساني پر صبر كرتے هوئے وه لوگوں كا خير خواه بنا رهتا هے۔
الزخرف 43:88
قيامت ميں پيغمبر اور داعيانِ حق جو شفاعت كريں گے وه حقيقتاً شفاعت نهيں هے بلكه شهادت هے۔ يعني ايسي بات كي گواهي دينا جس كو آدمي ذاتي طور پر جانتا هو۔ آخرت ميں جب لوگوں كا مقدمہ پيش هوگا تو سارے علم كے باوجود الله مزيد تائيد كے طور پر ان لوگو ں كو كھڑا كرے گا جو قوموں كے هم عصر تھے۔ انھوںنے ان كے سامنے حق كا پيغام پيش كيا۔ پھر كسي نے مانااور كسي نے نهيں مانا۔ كسي نے حق كا ساتھ ديا اور كوئي حق كا مخالف بن كر كھڑا هوگيا۔ يهي تجربه جوان صالحين پر براهِ راست گزرا اس كو وه خدا كے سامنے پيش كريںگے۔ يه ايسا هي هوگا جيسے كه كوئي گواه عدالت ميں اپنے مشاهدے كي بنياد پر ايك سچا بيان دے۔ اس كے سوا كسي كو قيامت ميں يه اختيار حاصل نه هوگا كه وه كسي مجرم كا شافع بن كر كھڑا هو اور اس كے بارے ميں اس خدائي فيصله كو بدل دے جو از روئے واقعه اس كے بارے ميں هونے والا تھا۔ خدا اس سے بهت بلند هے كه اس كے حضور كوئي شخص ايسا كرنے كي كوشش كرے۔
دعوت حق كا كام سراسر نصيحت كا كام هے۔ آخري مرحله ميں جب كه داعي پر يه واضح هوجائے كه لوگ كسي طرح ماننے والے نهيں هيں اس وقت بھي داعي لوگوں كے لیے خدا سے دعا كرتا هے۔ لوگوں كي ايذارساني پر صبر كرتے هوئے وه لوگوں كا خير خواه بنا رهتا هے۔
الزخرف 43:89
قيامت ميں پيغمبر اور داعيانِ حق جو شفاعت كريں گے وه حقيقتاً شفاعت نهيں هے بلكه شهادت هے۔ يعني ايسي بات كي گواهي دينا جس كو آدمي ذاتي طور پر جانتا هو۔ آخرت ميں جب لوگوں كا مقدمہ پيش هوگا تو سارے علم كے باوجود الله مزيد تائيد كے طور پر ان لوگو ں كو كھڑا كرے گا جو قوموں كے هم عصر تھے۔ انھوںنے ان كے سامنے حق كا پيغام پيش كيا۔ پھر كسي نے مانااور كسي نے نهيں مانا۔ كسي نے حق كا ساتھ ديا اور كوئي حق كا مخالف بن كر كھڑا هوگيا۔ يهي تجربه جوان صالحين پر براهِ راست گزرا اس كو وه خدا كے سامنے پيش كريںگے۔ يه ايسا هي هوگا جيسے كه كوئي گواه عدالت ميں اپنے مشاهدے كي بنياد پر ايك سچا بيان دے۔ اس كے سوا كسي كو قيامت ميں يه اختيار حاصل نه هوگا كه وه كسي مجرم كا شافع بن كر كھڑا هو اور اس كے بارے ميں اس خدائي فيصله كو بدل دے جو از روئے واقعه اس كے بارے ميں هونے والا تھا۔ خدا اس سے بهت بلند هے كه اس كے حضور كوئي شخص ايسا كرنے كي كوشش كرے۔
دعوت حق كا كام سراسر نصيحت كا كام هے۔ آخري مرحله ميں جب كه داعي پر يه واضح هوجائے كه لوگ كسي طرح ماننے والے نهيں هيں اس وقت بھي داعي لوگوں كے لیے خدا سے دعا كرتا هے۔ لوگوں كي ايذارساني پر صبر كرتے هوئے وه لوگوں كا خير خواه بنا رهتا هے۔
الدخان 44:1
قرآن كا كتاب مبين هونا خود اس بات كي دليل هے كه وه خدا كي كتاب هے۔ اور جب وه خدا كي كتاب هے تو اس كي خبريں اور پيشين گوئياں بھي قطعي هيں، ان كے باره ميں شک كي كوئي گنجائش نهيں۔
قرآن كے نزول كا آغاز ايك خاص رات كو هوا۔ يه رات اهم خدائي فيصلوں كے ليے مقرر هے۔ قرآن كا نزول كوئي ساده واقعه نه تھا۔ يه ايك نئي تاريخ كے ظهور كا فيصله تھا۔ يهي وجه هے كه ا س كو فيصله كي رات ميں نازل كياگيا۔ قرآن اولاً حق كا اعلان تھا۔ وه شرك كو باطل اور توحيد كو برحق بتانے كے لیے آيا۔ پھر وه اسي بنياد پر قوموں كے درميان فرق كرنے والا تھا۔ چنانچه يه فرق عملاً كياگيا۔ يهاں تك كه تاريخ ميں پهلي بار شرك كا دور ختم هوكر توحيد كا دور شروع هوگيا۔
الدخان 44:2
قرآن كا كتاب مبين هونا خود اس بات كي دليل هے كه وه خدا كي كتاب هے۔ اور جب وه خدا كي كتاب هے تو اس كي خبريں اور پيشين گوئياں بھي قطعي هيں، ان كے باره ميں شک كي كوئي گنجائش نهيں۔
قرآن كے نزول كا آغاز ايك خاص رات كو هوا۔ يه رات اهم خدائي فيصلوں كے ليے مقرر هے۔ قرآن كا نزول كوئي ساده واقعه نه تھا۔ يه ايك نئي تاريخ كے ظهور كا فيصله تھا۔ يهي وجه هے كه ا س كو فيصله كي رات ميں نازل كياگيا۔ قرآن اولاً حق كا اعلان تھا۔ وه شرك كو باطل اور توحيد كو برحق بتانے كے لیے آيا۔ پھر وه اسي بنياد پر قوموں كے درميان فرق كرنے والا تھا۔ چنانچه يه فرق عملاً كياگيا۔ يهاں تك كه تاريخ ميں پهلي بار شرك كا دور ختم هوكر توحيد كا دور شروع هوگيا۔
الدخان 44:3
قرآن كا كتاب مبين هونا خود اس بات كي دليل هے كه وه خدا كي كتاب هے۔ اور جب وه خدا كي كتاب هے تو اس كي خبريں اور پيشين گوئياں بھي قطعي هيں، ان كے باره ميں شک كي كوئي گنجائش نهيں۔
قرآن كے نزول كا آغاز ايك خاص رات كو هوا۔ يه رات اهم خدائي فيصلوں كے ليے مقرر هے۔ قرآن كا نزول كوئي ساده واقعه نه تھا۔ يه ايك نئي تاريخ كے ظهور كا فيصله تھا۔ يهي وجه هے كه ا س كو فيصله كي رات ميں نازل كياگيا۔ قرآن اولاً حق كا اعلان تھا۔ وه شرك كو باطل اور توحيد كو برحق بتانے كے لیے آيا۔ پھر وه اسي بنياد پر قوموں كے درميان فرق كرنے والا تھا۔ چنانچه يه فرق عملاً كياگيا۔ يهاں تك كه تاريخ ميں پهلي بار شرك كا دور ختم هوكر توحيد كا دور شروع هوگيا۔
الدخان 44:4
قرآن كا كتاب مبين هونا خود اس بات كي دليل هے كه وه خدا كي كتاب هے۔ اور جب وه خدا كي كتاب هے تو اس كي خبريں اور پيشين گوئياں بھي قطعي هيں، ان كے باره ميں شک كي كوئي گنجائش نهيں۔
قرآن كے نزول كا آغاز ايك خاص رات كو هوا۔ يه رات اهم خدائي فيصلوں كے ليے مقرر هے۔ قرآن كا نزول كوئي ساده واقعه نه تھا۔ يه ايك نئي تاريخ كے ظهور كا فيصله تھا۔ يهي وجه هے كه ا س كو فيصله كي رات ميں نازل كياگيا۔ قرآن اولاً حق كا اعلان تھا۔ وه شرك كو باطل اور توحيد كو برحق بتانے كے لیے آيا۔ پھر وه اسي بنياد پر قوموں كے درميان فرق كرنے والا تھا۔ چنانچه يه فرق عملاً كياگيا۔ يهاں تك كه تاريخ ميں پهلي بار شرك كا دور ختم هوكر توحيد كا دور شروع هوگيا۔
الدخان 44:5
قرآن كا كتاب مبين هونا خود اس بات كي دليل هے كه وه خدا كي كتاب هے۔ اور جب وه خدا كي كتاب هے تو اس كي خبريں اور پيشين گوئياں بھي قطعي هيں، ان كے باره ميں شک كي كوئي گنجائش نهيں۔
قرآن كے نزول كا آغاز ايك خاص رات كو هوا۔ يه رات اهم خدائي فيصلوں كے ليے مقرر هے۔ قرآن كا نزول كوئي ساده واقعه نه تھا۔ يه ايك نئي تاريخ كے ظهور كا فيصله تھا۔ يهي وجه هے كه ا س كو فيصله كي رات ميں نازل كياگيا۔ قرآن اولاً حق كا اعلان تھا۔ وه شرك كو باطل اور توحيد كو برحق بتانے كے لیے آيا۔ پھر وه اسي بنياد پر قوموں كے درميان فرق كرنے والا تھا۔ چنانچه يه فرق عملاً كياگيا۔ يهاں تك كه تاريخ ميں پهلي بار شرك كا دور ختم هوكر توحيد كا دور شروع هوگيا۔
الدخان 44:6
قرآن كا كتاب مبين هونا خود اس بات كي دليل هے كه وه خدا كي كتاب هے۔ اور جب وه خدا كي كتاب هے تو اس كي خبريں اور پيشين گوئياں بھي قطعي هيں، ان كے باره ميں شک كي كوئي گنجائش نهيں۔
قرآن كے نزول كا آغاز ايك خاص رات كو هوا۔ يه رات اهم خدائي فيصلوں كے ليے مقرر هے۔ قرآن كا نزول كوئي ساده واقعه نه تھا۔ يه ايك نئي تاريخ كے ظهور كا فيصله تھا۔ يهي وجه هے كه ا س كو فيصله كي رات ميں نازل كياگيا۔ قرآن اولاً حق كا اعلان تھا۔ وه شرك كو باطل اور توحيد كو برحق بتانے كے لیے آيا۔ پھر وه اسي بنياد پر قوموں كے درميان فرق كرنے والا تھا۔ چنانچه يه فرق عملاً كياگيا۔ يهاں تك كه تاريخ ميں پهلي بار شرك كا دور ختم هوكر توحيد كا دور شروع هوگيا۔
الدخان 44:7
قرآن كا كتاب مبين هونا خود اس بات كي دليل هے كه وه خدا كي كتاب هے۔ اور جب وه خدا كي كتاب هے تو اس كي خبريں اور پيشين گوئياں بھي قطعي هيں، ان كے باره ميں شک كي كوئي گنجائش نهيں۔
قرآن كے نزول كا آغاز ايك خاص رات كو هوا۔ يه رات اهم خدائي فيصلوں كے ليے مقرر هے۔ قرآن كا نزول كوئي ساده واقعه نه تھا۔ يه ايك نئي تاريخ كے ظهور كا فيصله تھا۔ يهي وجه هے كه ا س كو فيصله كي رات ميں نازل كياگيا۔ قرآن اولاً حق كا اعلان تھا۔ وه شرك كو باطل اور توحيد كو برحق بتانے كے لیے آيا۔ پھر وه اسي بنياد پر قوموں كے درميان فرق كرنے والا تھا۔ چنانچه يه فرق عملاً كياگيا۔ يهاں تك كه تاريخ ميں پهلي بار شرك كا دور ختم هوكر توحيد كا دور شروع هوگيا۔
الدخان 44:8
قرآن كا كتاب مبين هونا خود اس بات كي دليل هے كه وه خدا كي كتاب هے۔ اور جب وه خدا كي كتاب هے تو اس كي خبريں اور پيشين گوئياں بھي قطعي هيں، ان كے باره ميں شک كي كوئي گنجائش نهيں۔
قرآن كے نزول كا آغاز ايك خاص رات كو هوا۔ يه رات اهم خدائي فيصلوں كے ليے مقرر هے۔ قرآن كا نزول كوئي ساده واقعه نه تھا۔ يه ايك نئي تاريخ كے ظهور كا فيصله تھا۔ يهي وجه هے كه ا س كو فيصله كي رات ميں نازل كياگيا۔ قرآن اولاً حق كا اعلان تھا۔ وه شرك كو باطل اور توحيد كو برحق بتانے كے لیے آيا۔ پھر وه اسي بنياد پر قوموں كے درميان فرق كرنے والا تھا۔ چنانچه يه فرق عملاً كياگيا۔ يهاں تك كه تاريخ ميں پهلي بار شرك كا دور ختم هوكر توحيد كا دور شروع هوگيا۔
الدخان 44:9
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:10
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:11
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:12
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:13
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:14
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:15
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:16
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:17
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:18
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:19
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:20
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:21
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:22
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:23
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:24
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:25
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:26
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:27
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:28
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:29
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
الدخان 44:30
دنيا ميں ايك قوم كا گرنا اور دوسري قوم كا ابھرنا اتفاقی طورپر نهيں هوتا۔ اور نه اس كا مطلب يه هے كه ايك ظالم قوم اپني ظالمانه كارروائيوں سے دوسري قوم پر غالب آگئي۔ يه تمام تر خدا كے فيصلے كے مطابق هوتا هے۔ يه خدا هے جو اپنے فيصله كے تحت ايك كے ليے مغلوبيت كا اور دوسرے كے لیے غلبه كا فيصله كرتاهے۔ اور وه جو كچھ فيصله كرتاهے اپنے علم كي بنا پر كرتا هے، نه كه اَلل ٹپ طور پر۔
علم الهي كے مطابق فيصله هونے كا مطلب دوسرے لفظوں ميں يه هے كه جو كچھ هوتا هے بربنائے استحقاق هوتا هے۔ خدا اپنے كلي علم كے تحت قوموں كو ديكھتا هے۔ پھر وه جس كو بااستحقاق پاتا هے اس كے حق ميں غلبه كا فيصله كرتاهے اور جس كو بے استحقاق ديكھتا هے اس كو مغلوب ومعزول كرديتاهے۔
اقوام كي زندگي ميں ايسي نشانياں ظاهر هوتي هيں جو يه بتاتي هيں كه ان كے ساتھ جو فيصله هوا هے وه خدا كي طرف سے هوا هے۔ اگر آدمي كي بصيرت زنده هو تو وه ان نشانيوں ميں ان اسباب كي جھلك پالے گا جس كے تحت خدا نے قوموں كے حق ميں اپنا فيصله صادر فرمايا هے۔
الدخان 44:31
دنيا ميں ايك قوم كا گرنا اور دوسري قوم كا ابھرنا اتفاقی طورپر نهيں هوتا۔ اور نه اس كا مطلب يه هے كه ايك ظالم قوم اپني ظالمانه كارروائيوں سے دوسري قوم پر غالب آگئي۔ يه تمام تر خدا كے فيصلے كے مطابق هوتا هے۔ يه خدا هے جو اپنے فيصله كے تحت ايك كے ليے مغلوبيت كا اور دوسرے كے لیے غلبه كا فيصله كرتاهے۔ اور وه جو كچھ فيصله كرتاهے اپنے علم كي بنا پر كرتا هے، نه كه اَلل ٹپ طور پر۔
علم الهي كے مطابق فيصله هونے كا مطلب دوسرے لفظوں ميں يه هے كه جو كچھ هوتا هے بربنائے استحقاق هوتا هے۔ خدا اپنے كلي علم كے تحت قوموں كو ديكھتا هے۔ پھر وه جس كو بااستحقاق پاتا هے اس كے حق ميں غلبه كا فيصله كرتاهے اور جس كو بے استحقاق ديكھتا هے اس كو مغلوب ومعزول كرديتاهے۔
اقوام كي زندگي ميں ايسي نشانياں ظاهر هوتي هيں جو يه بتاتي هيں كه ان كے ساتھ جو فيصله هوا هے وه خدا كي طرف سے هوا هے۔ اگر آدمي كي بصيرت زنده هو تو وه ان نشانيوں ميں ان اسباب كي جھلك پالے گا جس كے تحت خدا نے قوموں كے حق ميں اپنا فيصله صادر فرمايا هے۔
الدخان 44:32
دنيا ميں ايك قوم كا گرنا اور دوسري قوم كا ابھرنا اتفاقی طورپر نهيں هوتا۔ اور نه اس كا مطلب يه هے كه ايك ظالم قوم اپني ظالمانه كارروائيوں سے دوسري قوم پر غالب آگئي۔ يه تمام تر خدا كے فيصلے كے مطابق هوتا هے۔ يه خدا هے جو اپنے فيصله كے تحت ايك كے ليے مغلوبيت كا اور دوسرے كے لیے غلبه كا فيصله كرتاهے۔ اور وه جو كچھ فيصله كرتاهے اپنے علم كي بنا پر كرتا هے، نه كه اَلل ٹپ طور پر۔
علم الهي كے مطابق فيصله هونے كا مطلب دوسرے لفظوں ميں يه هے كه جو كچھ هوتا هے بربنائے استحقاق هوتا هے۔ خدا اپنے كلي علم كے تحت قوموں كو ديكھتا هے۔ پھر وه جس كو بااستحقاق پاتا هے اس كے حق ميں غلبه كا فيصله كرتاهے اور جس كو بے استحقاق ديكھتا هے اس كو مغلوب ومعزول كرديتاهے۔
اقوام كي زندگي ميں ايسي نشانياں ظاهر هوتي هيں جو يه بتاتي هيں كه ان كے ساتھ جو فيصله هوا هے وه خدا كي طرف سے هوا هے۔ اگر آدمي كي بصيرت زنده هو تو وه ان نشانيوں ميں ان اسباب كي جھلك پالے گا جس كے تحت خدا نے قوموں كے حق ميں اپنا فيصله صادر فرمايا هے۔
الدخان 44:33
دنيا ميں ايك قوم كا گرنا اور دوسري قوم كا ابھرنا اتفاقی طورپر نهيں هوتا۔ اور نه اس كا مطلب يه هے كه ايك ظالم قوم اپني ظالمانه كارروائيوں سے دوسري قوم پر غالب آگئي۔ يه تمام تر خدا كے فيصلے كے مطابق هوتا هے۔ يه خدا هے جو اپنے فيصله كے تحت ايك كے ليے مغلوبيت كا اور دوسرے كے لیے غلبه كا فيصله كرتاهے۔ اور وه جو كچھ فيصله كرتاهے اپنے علم كي بنا پر كرتا هے، نه كه اَلل ٹپ طور پر۔
علم الهي كے مطابق فيصله هونے كا مطلب دوسرے لفظوں ميں يه هے كه جو كچھ هوتا هے بربنائے استحقاق هوتا هے۔ خدا اپنے كلي علم كے تحت قوموں كو ديكھتا هے۔ پھر وه جس كو بااستحقاق پاتا هے اس كے حق ميں غلبه كا فيصله كرتاهے اور جس كو بے استحقاق ديكھتا هے اس كو مغلوب ومعزول كرديتاهے۔
اقوام كي زندگي ميں ايسي نشانياں ظاهر هوتي هيں جو يه بتاتي هيں كه ان كے ساتھ جو فيصله هوا هے وه خدا كي طرف سے هوا هے۔ اگر آدمي كي بصيرت زنده هو تو وه ان نشانيوں ميں ان اسباب كي جھلك پالے گا جس كے تحت خدا نے قوموں كے حق ميں اپنا فيصله صادر فرمايا هے۔
الدخان 44:34
هردور ميں انسان كي گمراهي كي جڑ يه رهي هے كه اس نے موت كے بعد زندگي ميں اپنا يقين كھوديا۔ كچھ لوگوں كي بے يقيني كا اظهار ان كي زبان سے بھي هوجاتا هے، اور كچھ لوگ زبان سے نهيں كهتے۔ مگر ان كا دل اس يقين سے خالي هوتا هے كه انھيں مركر دوباره اٹھنا هے اور الله كے سامنے اپنے اعمال كا حساب ديناهے۔
اس غلط فهمي كا نفسياتي سبب اكثر يه هوتا هے كه دنيا ميں اپني مضبوط حيثيت كو ديكھ كر آدمي گمان كرليتا هے كه وه كبھي بے حيثيت هونے والا نهيں۔ حالانكه پچھلي قوموں كے واقعات اس فريب كي ترديد كرنے كے ليے كافي هيں۔
تبع قديم يمن كے حمير قبيله كے بادشاهوں كا لقب تھا۔ 300 قبل مسيح سے 115 قبل مسيح تك ان كو عروج حاصل رها۔ قديم عرب ميں ان كي عظمت كا بڑا چرچا تھا۔ قرآن كے ابتدائي مخاطبين (قريش) كے ليے قوم تبع كا ابھرنا اور گرنا ايك معلوم اور مشهور بات تھي۔ يه ان كے ليے اس بات كا ثبوت تھاكه اس دنيا ميں مجازات كا قانون جاري هے۔ اسي طرح تمام لوگوں كے لیے كوئي نه كوئي ’’قوم تبع‘‘ هے جو اپنے انجام سے ان كو سبق دے رهي هے۔ مگر انسان هميشه يه كرتا هے كه اس طرح كے واقعات كو عادت كے مطابق هونے والا واقعه سمجھ ليتاهے۔ اس كا نتيجه يه هوتا هے كه وه ان سے وه سبق نهيںلے پاتا جو ان كےاندر خدا نے چھپا ركھا تھا۔
الدخان 44:35
هردور ميں انسان كي گمراهي كي جڑ يه رهي هے كه اس نے موت كے بعد زندگي ميں اپنا يقين كھوديا۔ كچھ لوگوں كي بے يقيني كا اظهار ان كي زبان سے بھي هوجاتا هے، اور كچھ لوگ زبان سے نهيں كهتے۔ مگر ان كا دل اس يقين سے خالي هوتا هے كه انھيں مركر دوباره اٹھنا هے اور الله كے سامنے اپنے اعمال كا حساب ديناهے۔
اس غلط فهمي كا نفسياتي سبب اكثر يه هوتا هے كه دنيا ميں اپني مضبوط حيثيت كو ديكھ كر آدمي گمان كرليتا هے كه وه كبھي بے حيثيت هونے والا نهيں۔ حالانكه پچھلي قوموں كے واقعات اس فريب كي ترديد كرنے كے ليے كافي هيں۔
تبع قديم يمن كے حمير قبيله كے بادشاهوں كا لقب تھا۔ 300 قبل مسيح سے 115 قبل مسيح تك ان كو عروج حاصل رها۔ قديم عرب ميں ان كي عظمت كا بڑا چرچا تھا۔ قرآن كے ابتدائي مخاطبين (قريش) كے ليے قوم تبع كا ابھرنا اور گرنا ايك معلوم اور مشهور بات تھي۔ يه ان كے ليے اس بات كا ثبوت تھاكه اس دنيا ميں مجازات كا قانون جاري هے۔ اسي طرح تمام لوگوں كے لیے كوئي نه كوئي ’’قوم تبع‘‘ هے جو اپنے انجام سے ان كو سبق دے رهي هے۔ مگر انسان هميشه يه كرتا هے كه اس طرح كے واقعات كو عادت كے مطابق هونے والا واقعه سمجھ ليتاهے۔ اس كا نتيجه يه هوتا هے كه وه ان سے وه سبق نهيںلے پاتا جو ان كےاندر خدا نے چھپا ركھا تھا۔
الدخان 44:36
هردور ميں انسان كي گمراهي كي جڑ يه رهي هے كه اس نے موت كے بعد زندگي ميں اپنا يقين كھوديا۔ كچھ لوگوں كي بے يقيني كا اظهار ان كي زبان سے بھي هوجاتا هے، اور كچھ لوگ زبان سے نهيں كهتے۔ مگر ان كا دل اس يقين سے خالي هوتا هے كه انھيں مركر دوباره اٹھنا هے اور الله كے سامنے اپنے اعمال كا حساب ديناهے۔
اس غلط فهمي كا نفسياتي سبب اكثر يه هوتا هے كه دنيا ميں اپني مضبوط حيثيت كو ديكھ كر آدمي گمان كرليتا هے كه وه كبھي بے حيثيت هونے والا نهيں۔ حالانكه پچھلي قوموں كے واقعات اس فريب كي ترديد كرنے كے ليے كافي هيں۔
تبع قديم يمن كے حمير قبيله كے بادشاهوں كا لقب تھا۔ 300 قبل مسيح سے 115 قبل مسيح تك ان كو عروج حاصل رها۔ قديم عرب ميں ان كي عظمت كا بڑا چرچا تھا۔ قرآن كے ابتدائي مخاطبين (قريش) كے ليے قوم تبع كا ابھرنا اور گرنا ايك معلوم اور مشهور بات تھي۔ يه ان كے ليے اس بات كا ثبوت تھاكه اس دنيا ميں مجازات كا قانون جاري هے۔ اسي طرح تمام لوگوں كے لیے كوئي نه كوئي ’’قوم تبع‘‘ هے جو اپنے انجام سے ان كو سبق دے رهي هے۔ مگر انسان هميشه يه كرتا هے كه اس طرح كے واقعات كو عادت كے مطابق هونے والا واقعه سمجھ ليتاهے۔ اس كا نتيجه يه هوتا هے كه وه ان سے وه سبق نهيںلے پاتا جو ان كےاندر خدا نے چھپا ركھا تھا۔
الدخان 44:37
هردور ميں انسان كي گمراهي كي جڑ يه رهي هے كه اس نے موت كے بعد زندگي ميں اپنا يقين كھوديا۔ كچھ لوگوں كي بے يقيني كا اظهار ان كي زبان سے بھي هوجاتا هے، اور كچھ لوگ زبان سے نهيں كهتے۔ مگر ان كا دل اس يقين سے خالي هوتا هے كه انھيں مركر دوباره اٹھنا هے اور الله كے سامنے اپنے اعمال كا حساب ديناهے۔
اس غلط فهمي كا نفسياتي سبب اكثر يه هوتا هے كه دنيا ميں اپني مضبوط حيثيت كو ديكھ كر آدمي گمان كرليتا هے كه وه كبھي بے حيثيت هونے والا نهيں۔ حالانكه پچھلي قوموں كے واقعات اس فريب كي ترديد كرنے كے ليے كافي هيں۔
تبع قديم يمن كے حمير قبيله كے بادشاهوں كا لقب تھا۔ 300 قبل مسيح سے 115 قبل مسيح تك ان كو عروج حاصل رها۔ قديم عرب ميں ان كي عظمت كا بڑا چرچا تھا۔ قرآن كے ابتدائي مخاطبين (قريش) كے ليے قوم تبع كا ابھرنا اور گرنا ايك معلوم اور مشهور بات تھي۔ يه ان كے ليے اس بات كا ثبوت تھاكه اس دنيا ميں مجازات كا قانون جاري هے۔ اسي طرح تمام لوگوں كے لیے كوئي نه كوئي ’’قوم تبع‘‘ هے جو اپنے انجام سے ان كو سبق دے رهي هے۔ مگر انسان هميشه يه كرتا هے كه اس طرح كے واقعات كو عادت كے مطابق هونے والا واقعه سمجھ ليتاهے۔ اس كا نتيجه يه هوتا هے كه وه ان سے وه سبق نهيںلے پاتا جو ان كےاندر خدا نے چھپا ركھا تھا۔
الدخان 44:38
زمين وآسمان كے نظام پر غور كيا جائے تو معلوم هوتا هے كه اس كي تخليق نهايت با معني انداز ميں هوئي هے۔ پوري كائنات ايك مقصد كے تحت عمل كرتي هے۔ اگر ايسا نه هو تو اس دنيا ميں انسان كے لیے شاندار تمدن كي تعميرناممكن هوجائے۔
آخرت كا عقيده اسي كائناتي معنويت كي توسيع هے۔ جو كائنات اتنے بامعني انداز ميں بنائي گئي هو، ناممكن هے كه وه سراسر بے معني طورپر ختم هوجائے۔ كائنات كي موجوده معنويت اس بات كا قرينه هے كه وه ايك بامعني اور با مقصد انجام پر ختم هونے والي هے۔ آخرت اسي بامعني ا ور با مقصد انجام كا دوسرا نام هے۔
دنيا كا موجوده مرحله آزمائش كا مرحله هے۔ اس ليے آج دنيا كي معنويت ميں هر آدمي اپنا حصه پارها هے۔ مگر جب آخرت آئے گي تو اس وقت دنيا كي معنويت ميں صرف ان لوگوں كو حصه ملے گا جو خداكے نزديك في الواقع اس كے مستحق قرار پائيں۔
الدخان 44:39
زمين وآسمان كے نظام پر غور كيا جائے تو معلوم هوتا هے كه اس كي تخليق نهايت با معني انداز ميں هوئي هے۔ پوري كائنات ايك مقصد كے تحت عمل كرتي هے۔ اگر ايسا نه هو تو اس دنيا ميں انسان كے لیے شاندار تمدن كي تعميرناممكن هوجائے۔
آخرت كا عقيده اسي كائناتي معنويت كي توسيع هے۔ جو كائنات اتنے بامعني انداز ميں بنائي گئي هو، ناممكن هے كه وه سراسر بے معني طورپر ختم هوجائے۔ كائنات كي موجوده معنويت اس بات كا قرينه هے كه وه ايك بامعني اور با مقصد انجام پر ختم هونے والي هے۔ آخرت اسي بامعني ا ور با مقصد انجام كا دوسرا نام هے۔
دنيا كا موجوده مرحله آزمائش كا مرحله هے۔ اس ليے آج دنيا كي معنويت ميں هر آدمي اپنا حصه پارها هے۔ مگر جب آخرت آئے گي تو اس وقت دنيا كي معنويت ميں صرف ان لوگوں كو حصه ملے گا جو خداكے نزديك في الواقع اس كے مستحق قرار پائيں۔
الدخان 44:40
زمين وآسمان كے نظام پر غور كيا جائے تو معلوم هوتا هے كه اس كي تخليق نهايت با معني انداز ميں هوئي هے۔ پوري كائنات ايك مقصد كے تحت عمل كرتي هے۔ اگر ايسا نه هو تو اس دنيا ميں انسان كے لیے شاندار تمدن كي تعميرناممكن هوجائے۔
آخرت كا عقيده اسي كائناتي معنويت كي توسيع هے۔ جو كائنات اتنے بامعني انداز ميں بنائي گئي هو، ناممكن هے كه وه سراسر بے معني طورپر ختم هوجائے۔ كائنات كي موجوده معنويت اس بات كا قرينه هے كه وه ايك بامعني اور با مقصد انجام پر ختم هونے والي هے۔ آخرت اسي بامعني ا ور با مقصد انجام كا دوسرا نام هے۔
دنيا كا موجوده مرحله آزمائش كا مرحله هے۔ اس ليے آج دنيا كي معنويت ميں هر آدمي اپنا حصه پارها هے۔ مگر جب آخرت آئے گي تو اس وقت دنيا كي معنويت ميں صرف ان لوگوں كو حصه ملے گا جو خداكے نزديك في الواقع اس كے مستحق قرار پائيں۔
الدخان 44:41
زمين وآسمان كے نظام پر غور كيا جائے تو معلوم هوتا هے كه اس كي تخليق نهايت با معني انداز ميں هوئي هے۔ پوري كائنات ايك مقصد كے تحت عمل كرتي هے۔ اگر ايسا نه هو تو اس دنيا ميں انسان كے لیے شاندار تمدن كي تعميرناممكن هوجائے۔
آخرت كا عقيده اسي كائناتي معنويت كي توسيع هے۔ جو كائنات اتنے بامعني انداز ميں بنائي گئي هو، ناممكن هے كه وه سراسر بے معني طورپر ختم هوجائے۔ كائنات كي موجوده معنويت اس بات كا قرينه هے كه وه ايك بامعني اور با مقصد انجام پر ختم هونے والي هے۔ آخرت اسي بامعني ا ور با مقصد انجام كا دوسرا نام هے۔
دنيا كا موجوده مرحله آزمائش كا مرحله هے۔ اس ليے آج دنيا كي معنويت ميں هر آدمي اپنا حصه پارها هے۔ مگر جب آخرت آئے گي تو اس وقت دنيا كي معنويت ميں صرف ان لوگوں كو حصه ملے گا جو خداكے نزديك في الواقع اس كے مستحق قرار پائيں۔
الدخان 44:42
زمين وآسمان كے نظام پر غور كيا جائے تو معلوم هوتا هے كه اس كي تخليق نهايت با معني انداز ميں هوئي هے۔ پوري كائنات ايك مقصد كے تحت عمل كرتي هے۔ اگر ايسا نه هو تو اس دنيا ميں انسان كے لیے شاندار تمدن كي تعميرناممكن هوجائے۔
آخرت كا عقيده اسي كائناتي معنويت كي توسيع هے۔ جو كائنات اتنے بامعني انداز ميں بنائي گئي هو، ناممكن هے كه وه سراسر بے معني طورپر ختم هوجائے۔ كائنات كي موجوده معنويت اس بات كا قرينه هے كه وه ايك بامعني اور با مقصد انجام پر ختم هونے والي هے۔ آخرت اسي بامعني ا ور با مقصد انجام كا دوسرا نام هے۔
دنيا كا موجوده مرحله آزمائش كا مرحله هے۔ اس ليے آج دنيا كي معنويت ميں هر آدمي اپنا حصه پارها هے۔ مگر جب آخرت آئے گي تو اس وقت دنيا كي معنويت ميں صرف ان لوگوں كو حصه ملے گا جو خداكے نزديك في الواقع اس كے مستحق قرار پائيں۔
الدخان 44:43
يهاں اور دوسرے مقامات پر جهنم كي جو تصوير قرآن ميں پيش كي گئي هے وه هر زنده شخص كو تڑپا دينے كے لیے كافي هے۔ جو شخص بھي اپنے مستقبل كے بارے ميں سنجيده هو ا س كو يه الفاظ هلاكر ركھ ديں گے۔ وه جهنمي راستے كو چھوڑ كر جنتي راستے كي طرف دوڑ پڑے گا۔
مگر جو لوگ حقيقتوں كے بارے ميں سنجيده نه هوں، جو صرف اپني خواهشات كو جانتے هوں اور ان كي اپني خواهشات كے باهر حقائق كي جو دنيا هے اس كے بارے ميں وه غور كرنے كي ضرورت محسوس نه كرتےهوں، وه اس خبر كو سنيں گے اور اس كو نظر انداز كرديں گے۔ ايسے لوگوں كے ليےيه الفاظ ايسے هي هيں جيسے پتھر پر پاني ڈالا جائے اور وه اس كے اندرون كو تركيے بغير بهه جائے۔
الدخان 44:44
يهاں اور دوسرے مقامات پر جهنم كي جو تصوير قرآن ميں پيش كي گئي هے وه هر زنده شخص كو تڑپا دينے كے لیے كافي هے۔ جو شخص بھي اپنے مستقبل كے بارے ميں سنجيده هو ا س كو يه الفاظ هلاكر ركھ ديں گے۔ وه جهنمي راستے كو چھوڑ كر جنتي راستے كي طرف دوڑ پڑے گا۔
مگر جو لوگ حقيقتوں كے بارے ميں سنجيده نه هوں، جو صرف اپني خواهشات كو جانتے هوں اور ان كي اپني خواهشات كے باهر حقائق كي جو دنيا هے اس كے بارے ميں وه غور كرنے كي ضرورت محسوس نه كرتےهوں، وه اس خبر كو سنيں گے اور اس كو نظر انداز كرديں گے۔ ايسے لوگوں كے ليےيه الفاظ ايسے هي هيں جيسے پتھر پر پاني ڈالا جائے اور وه اس كے اندرون كو تركيے بغير بهه جائے۔
الدخان 44:45
يهاں اور دوسرے مقامات پر جهنم كي جو تصوير قرآن ميں پيش كي گئي هے وه هر زنده شخص كو تڑپا دينے كے لیے كافي هے۔ جو شخص بھي اپنے مستقبل كے بارے ميں سنجيده هو ا س كو يه الفاظ هلاكر ركھ ديں گے۔ وه جهنمي راستے كو چھوڑ كر جنتي راستے كي طرف دوڑ پڑے گا۔
مگر جو لوگ حقيقتوں كے بارے ميں سنجيده نه هوں، جو صرف اپني خواهشات كو جانتے هوں اور ان كي اپني خواهشات كے باهر حقائق كي جو دنيا هے اس كے بارے ميں وه غور كرنے كي ضرورت محسوس نه كرتےهوں، وه اس خبر كو سنيں گے اور اس كو نظر انداز كرديں گے۔ ايسے لوگوں كے ليےيه الفاظ ايسے هي هيں جيسے پتھر پر پاني ڈالا جائے اور وه اس كے اندرون كو تركيے بغير بهه جائے۔
الدخان 44:46
يهاں اور دوسرے مقامات پر جهنم كي جو تصوير قرآن ميں پيش كي گئي هے وه هر زنده شخص كو تڑپا دينے كے لیے كافي هے۔ جو شخص بھي اپنے مستقبل كے بارے ميں سنجيده هو ا س كو يه الفاظ هلاكر ركھ ديں گے۔ وه جهنمي راستے كو چھوڑ كر جنتي راستے كي طرف دوڑ پڑے گا۔
مگر جو لوگ حقيقتوں كے بارے ميں سنجيده نه هوں، جو صرف اپني خواهشات كو جانتے هوں اور ان كي اپني خواهشات كے باهر حقائق كي جو دنيا هے اس كے بارے ميں وه غور كرنے كي ضرورت محسوس نه كرتےهوں، وه اس خبر كو سنيں گے اور اس كو نظر انداز كرديں گے۔ ايسے لوگوں كے ليےيه الفاظ ايسے هي هيں جيسے پتھر پر پاني ڈالا جائے اور وه اس كے اندرون كو تركيے بغير بهه جائے۔
الدخان 44:47
يهاں اور دوسرے مقامات پر جهنم كي جو تصوير قرآن ميں پيش كي گئي هے وه هر زنده شخص كو تڑپا دينے كے لیے كافي هے۔ جو شخص بھي اپنے مستقبل كے بارے ميں سنجيده هو ا س كو يه الفاظ هلاكر ركھ ديں گے۔ وه جهنمي راستے كو چھوڑ كر جنتي راستے كي طرف دوڑ پڑے گا۔
مگر جو لوگ حقيقتوں كے بارے ميں سنجيده نه هوں، جو صرف اپني خواهشات كو جانتے هوں اور ان كي اپني خواهشات كے باهر حقائق كي جو دنيا هے اس كے بارے ميں وه غور كرنے كي ضرورت محسوس نه كرتےهوں، وه اس خبر كو سنيں گے اور اس كو نظر انداز كرديں گے۔ ايسے لوگوں كے ليےيه الفاظ ايسے هي هيں جيسے پتھر پر پاني ڈالا جائے اور وه اس كے اندرون كو تركيے بغير بهه جائے۔
الدخان 44:48
يهاں اور دوسرے مقامات پر جهنم كي جو تصوير قرآن ميں پيش كي گئي هے وه هر زنده شخص كو تڑپا دينے كے لیے كافي هے۔ جو شخص بھي اپنے مستقبل كے بارے ميں سنجيده هو ا س كو يه الفاظ هلاكر ركھ ديں گے۔ وه جهنمي راستے كو چھوڑ كر جنتي راستے كي طرف دوڑ پڑے گا۔
مگر جو لوگ حقيقتوں كے بارے ميں سنجيده نه هوں، جو صرف اپني خواهشات كو جانتے هوں اور ان كي اپني خواهشات كے باهر حقائق كي جو دنيا هے اس كے بارے ميں وه غور كرنے كي ضرورت محسوس نه كرتےهوں، وه اس خبر كو سنيں گے اور اس كو نظر انداز كرديں گے۔ ايسے لوگوں كے ليےيه الفاظ ايسے هي هيں جيسے پتھر پر پاني ڈالا جائے اور وه اس كے اندرون كو تركيے بغير بهه جائے۔
الدخان 44:49
يهاں اور دوسرے مقامات پر جهنم كي جو تصوير قرآن ميں پيش كي گئي هے وه هر زنده شخص كو تڑپا دينے كے لیے كافي هے۔ جو شخص بھي اپنے مستقبل كے بارے ميں سنجيده هو ا س كو يه الفاظ هلاكر ركھ ديں گے۔ وه جهنمي راستے كو چھوڑ كر جنتي راستے كي طرف دوڑ پڑے گا۔
مگر جو لوگ حقيقتوں كے بارے ميں سنجيده نه هوں، جو صرف اپني خواهشات كو جانتے هوں اور ان كي اپني خواهشات كے باهر حقائق كي جو دنيا هے اس كے بارے ميں وه غور كرنے كي ضرورت محسوس نه كرتےهوں، وه اس خبر كو سنيں گے اور اس كو نظر انداز كرديں گے۔ ايسے لوگوں كے ليےيه الفاظ ايسے هي هيں جيسے پتھر پر پاني ڈالا جائے اور وه اس كے اندرون كو تركيے بغير بهه جائے۔
الدخان 44:50
يهاں اور دوسرے مقامات پر جهنم كي جو تصوير قرآن ميں پيش كي گئي هے وه هر زنده شخص كو تڑپا دينے كے لیے كافي هے۔ جو شخص بھي اپنے مستقبل كے بارے ميں سنجيده هو ا س كو يه الفاظ هلاكر ركھ ديں گے۔ وه جهنمي راستے كو چھوڑ كر جنتي راستے كي طرف دوڑ پڑے گا۔
مگر جو لوگ حقيقتوں كے بارے ميں سنجيده نه هوں، جو صرف اپني خواهشات كو جانتے هوں اور ان كي اپني خواهشات كے باهر حقائق كي جو دنيا هے اس كے بارے ميں وه غور كرنے كي ضرورت محسوس نه كرتےهوں، وه اس خبر كو سنيں گے اور اس كو نظر انداز كرديں گے۔ ايسے لوگوں كے ليےيه الفاظ ايسے هي هيں جيسے پتھر پر پاني ڈالا جائے اور وه اس كے اندرون كو تركيے بغير بهه جائے۔
الدخان 44:51
ان الفاظ ميں انسان كي پسند كي اس دنيا كي تصوير هے جو اس كے خوابوں ميں بسي هوئي هے۔ هر آدمي اپني پسند كي اس دنيا كو پانا چاهتا هے۔ مگر موجوده دنيا ميں وه اس كو حاصل نهيں كرپاتا ۔ يه خوابوں كي دنيا مزيد اضافه كے ساتھ اس كو جنت ميں حاصل هوجائے گي۔
هر قسم كے ڈر سے خالي يه دنيا ان لوگوں كو ملے گي جو دنيا ميں الله سے ڈرے تھے۔ ابدي نعمتوں سے بھري هوئي يه زندگي ان كا حصه هوگي جنھوںنے اس كي خاطر دنيا كي وقتي نعمتوں كو قربان كيا تھا۔ آخرت كي اس عظيم كاميابي ميں وه لوگ داخل هوں گے جنھوں نے اس كو پانے كے ليے اپني دنيا كي كاميابي كو خطره ميں ڈالنے كاحوصله كيا تھا۔
الدخان 44:52
ان الفاظ ميں انسان كي پسند كي اس دنيا كي تصوير هے جو اس كے خوابوں ميں بسي هوئي هے۔ هر آدمي اپني پسند كي اس دنيا كو پانا چاهتا هے۔ مگر موجوده دنيا ميں وه اس كو حاصل نهيں كرپاتا ۔ يه خوابوں كي دنيا مزيد اضافه كے ساتھ اس كو جنت ميں حاصل هوجائے گي۔
هر قسم كے ڈر سے خالي يه دنيا ان لوگوں كو ملے گي جو دنيا ميں الله سے ڈرے تھے۔ ابدي نعمتوں سے بھري هوئي يه زندگي ان كا حصه هوگي جنھوںنے اس كي خاطر دنيا كي وقتي نعمتوں كو قربان كيا تھا۔ آخرت كي اس عظيم كاميابي ميں وه لوگ داخل هوں گے جنھوں نے اس كو پانے كے ليے اپني دنيا كي كاميابي كو خطره ميں ڈالنے كاحوصله كيا تھا۔
الدخان 44:53
ان الفاظ ميں انسان كي پسند كي اس دنيا كي تصوير هے جو اس كے خوابوں ميں بسي هوئي هے۔ هر آدمي اپني پسند كي اس دنيا كو پانا چاهتا هے۔ مگر موجوده دنيا ميں وه اس كو حاصل نهيں كرپاتا ۔ يه خوابوں كي دنيا مزيد اضافه كے ساتھ اس كو جنت ميں حاصل هوجائے گي۔
هر قسم كے ڈر سے خالي يه دنيا ان لوگوں كو ملے گي جو دنيا ميں الله سے ڈرے تھے۔ ابدي نعمتوں سے بھري هوئي يه زندگي ان كا حصه هوگي جنھوںنے اس كي خاطر دنيا كي وقتي نعمتوں كو قربان كيا تھا۔ آخرت كي اس عظيم كاميابي ميں وه لوگ داخل هوں گے جنھوں نے اس كو پانے كے ليے اپني دنيا كي كاميابي كو خطره ميں ڈالنے كاحوصله كيا تھا۔
الدخان 44:54
ان الفاظ ميں انسان كي پسند كي اس دنيا كي تصوير هے جو اس كے خوابوں ميں بسي هوئي هے۔ هر آدمي اپني پسند كي اس دنيا كو پانا چاهتا هے۔ مگر موجوده دنيا ميں وه اس كو حاصل نهيں كرپاتا ۔ يه خوابوں كي دنيا مزيد اضافه كے ساتھ اس كو جنت ميں حاصل هوجائے گي۔
هر قسم كے ڈر سے خالي يه دنيا ان لوگوں كو ملے گي جو دنيا ميں الله سے ڈرے تھے۔ ابدي نعمتوں سے بھري هوئي يه زندگي ان كا حصه هوگي جنھوںنے اس كي خاطر دنيا كي وقتي نعمتوں كو قربان كيا تھا۔ آخرت كي اس عظيم كاميابي ميں وه لوگ داخل هوں گے جنھوں نے اس كو پانے كے ليے اپني دنيا كي كاميابي كو خطره ميں ڈالنے كاحوصله كيا تھا۔
الدخان 44:55
ان الفاظ ميں انسان كي پسند كي اس دنيا كي تصوير هے جو اس كے خوابوں ميں بسي هوئي هے۔ هر آدمي اپني پسند كي اس دنيا كو پانا چاهتا هے۔ مگر موجوده دنيا ميں وه اس كو حاصل نهيں كرپاتا ۔ يه خوابوں كي دنيا مزيد اضافه كے ساتھ اس كو جنت ميں حاصل هوجائے گي۔
هر قسم كے ڈر سے خالي يه دنيا ان لوگوں كو ملے گي جو دنيا ميں الله سے ڈرے تھے۔ ابدي نعمتوں سے بھري هوئي يه زندگي ان كا حصه هوگي جنھوںنے اس كي خاطر دنيا كي وقتي نعمتوں كو قربان كيا تھا۔ آخرت كي اس عظيم كاميابي ميں وه لوگ داخل هوں گے جنھوں نے اس كو پانے كے ليے اپني دنيا كي كاميابي كو خطره ميں ڈالنے كاحوصله كيا تھا۔
الدخان 44:56
ان الفاظ ميں انسان كي پسند كي اس دنيا كي تصوير هے جو اس كے خوابوں ميں بسي هوئي هے۔ هر آدمي اپني پسند كي اس دنيا كو پانا چاهتا هے۔ مگر موجوده دنيا ميں وه اس كو حاصل نهيں كرپاتا ۔ يه خوابوں كي دنيا مزيد اضافه كے ساتھ اس كو جنت ميں حاصل هوجائے گي۔
هر قسم كے ڈر سے خالي يه دنيا ان لوگوں كو ملے گي جو دنيا ميں الله سے ڈرے تھے۔ ابدي نعمتوں سے بھري هوئي يه زندگي ان كا حصه هوگي جنھوںنے اس كي خاطر دنيا كي وقتي نعمتوں كو قربان كيا تھا۔ آخرت كي اس عظيم كاميابي ميں وه لوگ داخل هوں گے جنھوں نے اس كو پانے كے ليے اپني دنيا كي كاميابي كو خطره ميں ڈالنے كاحوصله كيا تھا۔
الدخان 44:57
ان الفاظ ميں انسان كي پسند كي اس دنيا كي تصوير هے جو اس كے خوابوں ميں بسي هوئي هے۔ هر آدمي اپني پسند كي اس دنيا كو پانا چاهتا هے۔ مگر موجوده دنيا ميں وه اس كو حاصل نهيں كرپاتا ۔ يه خوابوں كي دنيا مزيد اضافه كے ساتھ اس كو جنت ميں حاصل هوجائے گي۔
هر قسم كے ڈر سے خالي يه دنيا ان لوگوں كو ملے گي جو دنيا ميں الله سے ڈرے تھے۔ ابدي نعمتوں سے بھري هوئي يه زندگي ان كا حصه هوگي جنھوںنے اس كي خاطر دنيا كي وقتي نعمتوں كو قربان كيا تھا۔ آخرت كي اس عظيم كاميابي ميں وه لوگ داخل هوں گے جنھوں نے اس كو پانے كے ليے اپني دنيا كي كاميابي كو خطره ميں ڈالنے كاحوصله كيا تھا۔
الدخان 44:58
قرآن بلا شبه ايك عظيم كتاب هے۔ اسي كے ساتھ يه بھي ايك حقيقت هےكه وه نهايت آسان كتاب هے مگر اس كا آسان هونا نصيحت كے اعتبار سے هے۔ يعني جو شخص اس سے حق كو جاننا چاهتا هے وه اس كو اپنے ليے نهايت آسان پائے گا۔ مگر جو شخص تلاش حق كے معامله ميں سنجيده نه هو اس كے ليے قرآن ميں كوئي آساني نهيں۔
موجوده دنيا میں آدمي كے سنجيده هونے كي ايك شرط يه هے كه وه ’’انتظار‘‘ كي نفسيات نه ركھتا هو۔ يعني حقيقت كا دليل كي سطح پر ظاهر هونا هي اس كے ليے كافي هوجائےكه وه ا س كو مان لے۔ جو شخص دليل كي سطح پر ثابت شده هوجانے كے بعد اس كو نه مانے وه گويا كه اس بات كا انتظار كررها هے كه حقيقت برهنه هو كر اس كے سامنے آجائے۔ مگر جب حقيقت برهنه هو كر سامنے آتي هے تو منوانے كے لیے نهيں بلكه اس ليے آتي هے كه اعتراف كرنے والوں كي قدر داني كرے اور جنھوں نے اس سے پهلے اعتراف نهيں كيا تھا انھيں هميشه كے ليے اندھے پن كے غار ميں ڈال دے۔
الدخان 44:59
قرآن بلا شبه ايك عظيم كتاب هے۔ اسي كے ساتھ يه بھي ايك حقيقت هےكه وه نهايت آسان كتاب هے مگر اس كا آسان هونا نصيحت كے اعتبار سے هے۔ يعني جو شخص اس سے حق كو جاننا چاهتا هے وه اس كو اپنے ليے نهايت آسان پائے گا۔ مگر جو شخص تلاش حق كے معامله ميں سنجيده نه هو اس كے ليے قرآن ميں كوئي آساني نهيں۔
موجوده دنيا میں آدمي كے سنجيده هونے كي ايك شرط يه هے كه وه ’’انتظار‘‘ كي نفسيات نه ركھتا هو۔ يعني حقيقت كا دليل كي سطح پر ظاهر هونا هي اس كے ليے كافي هوجائےكه وه ا س كو مان لے۔ جو شخص دليل كي سطح پر ثابت شده هوجانے كے بعد اس كو نه مانے وه گويا كه اس بات كا انتظار كررها هے كه حقيقت برهنه هو كر اس كے سامنے آجائے۔ مگر جب حقيقت برهنه هو كر سامنے آتي هے تو منوانے كے لیے نهيں بلكه اس ليے آتي هے كه اعتراف كرنے والوں كي قدر داني كرے اور جنھوں نے اس سے پهلے اعتراف نهيں كيا تھا انھيں هميشه كے ليے اندھے پن كے غار ميں ڈال دے۔
الجاثية 45:1
يه كهنا كه قرآن عزيز وحكيم خداكي طرف سے اترا هے، گويا خود اپني طرف سے ايك ايسا قطعي معيار دينا هے جس پر اس كي صداقت كو جانچا جاسكے۔ خدائے عزيز كي طرف سے اس كے اترنے كا مطلب يه هے كه كوئي اس كتاب كو زير نه كرسكے گا۔ قرآن هر حال ميں اپنے مخالفين پر غالب آكر رهے گا۔
يه بات مكي دور ميں كهي گئي تھي۔ اس وقت حالات سراسر قرآن كے خلاف تھے۔ مگر بعد كي تاريخ نے حيرت انگيز طورپر اس كي تصديق كي ۔ قرآن كي دعوت كو تاريخ كي سب سے بڑي كاميابي حاصل هوئي۔
اسي طرح خدائے حكيم كي طرف سے اترنے كا تقاضا يه هے كه اس كے مضامين سب كے سب عقل ودانش پر مبني هوں۔ يه بات بھي ڈيڑھ هزار سال سے مسلسل درست ثابت هوتي جارهي هے۔ قرآن دورِ سائنس سے پهلے اترا۔ مگر دورِ سائنس ميں بھي قرآن كي كوئي بات عقل كے خلاف ثابت نه هوسكي۔
اس كے علاوه جو كائنات انسان كے چاروں طرف پھيلي هوئي هے، اس كي تمام چيزيں قرآن كے پيغام كي تصديق بن گئي هيں۔ تاهم يه تصديق صرف ان لوگوں كے لیے تصديق بنے گي جن كے اندر يقين كرنے كا ذهن هو جو نشانيوں كي زبان ميں ظاهر كي جانے والي بات كو پانے كي استعداد ركھتے هوں۔
الجاثية 45:2
يه كهنا كه قرآن عزيز وحكيم خداكي طرف سے اترا هے، گويا خود اپني طرف سے ايك ايسا قطعي معيار دينا هے جس پر اس كي صداقت كو جانچا جاسكے۔ خدائے عزيز كي طرف سے اس كے اترنے كا مطلب يه هے كه كوئي اس كتاب كو زير نه كرسكے گا۔ قرآن هر حال ميں اپنے مخالفين پر غالب آكر رهے گا۔
يه بات مكي دور ميں كهي گئي تھي۔ اس وقت حالات سراسر قرآن كے خلاف تھے۔ مگر بعد كي تاريخ نے حيرت انگيز طورپر اس كي تصديق كي ۔ قرآن كي دعوت كو تاريخ كي سب سے بڑي كاميابي حاصل هوئي۔
اسي طرح خدائے حكيم كي طرف سے اترنے كا تقاضا يه هے كه اس كے مضامين سب كے سب عقل ودانش پر مبني هوں۔ يه بات بھي ڈيڑھ هزار سال سے مسلسل درست ثابت هوتي جارهي هے۔ قرآن دورِ سائنس سے پهلے اترا۔ مگر دورِ سائنس ميں بھي قرآن كي كوئي بات عقل كے خلاف ثابت نه هوسكي۔
اس كے علاوه جو كائنات انسان كے چاروں طرف پھيلي هوئي هے، اس كي تمام چيزيں قرآن كے پيغام كي تصديق بن گئي هيں۔ تاهم يه تصديق صرف ان لوگوں كے لیے تصديق بنے گي جن كے اندر يقين كرنے كا ذهن هو جو نشانيوں كي زبان ميں ظاهر كي جانے والي بات كو پانے كي استعداد ركھتے هوں۔
الجاثية 45:3
يه كهنا كه قرآن عزيز وحكيم خداكي طرف سے اترا هے، گويا خود اپني طرف سے ايك ايسا قطعي معيار دينا هے جس پر اس كي صداقت كو جانچا جاسكے۔ خدائے عزيز كي طرف سے اس كے اترنے كا مطلب يه هے كه كوئي اس كتاب كو زير نه كرسكے گا۔ قرآن هر حال ميں اپنے مخالفين پر غالب آكر رهے گا۔
يه بات مكي دور ميں كهي گئي تھي۔ اس وقت حالات سراسر قرآن كے خلاف تھے۔ مگر بعد كي تاريخ نے حيرت انگيز طورپر اس كي تصديق كي ۔ قرآن كي دعوت كو تاريخ كي سب سے بڑي كاميابي حاصل هوئي۔
اسي طرح خدائے حكيم كي طرف سے اترنے كا تقاضا يه هے كه اس كے مضامين سب كے سب عقل ودانش پر مبني هوں۔ يه بات بھي ڈيڑھ هزار سال سے مسلسل درست ثابت هوتي جارهي هے۔ قرآن دورِ سائنس سے پهلے اترا۔ مگر دورِ سائنس ميں بھي قرآن كي كوئي بات عقل كے خلاف ثابت نه هوسكي۔
اس كے علاوه جو كائنات انسان كے چاروں طرف پھيلي هوئي هے، اس كي تمام چيزيں قرآن كے پيغام كي تصديق بن گئي هيں۔ تاهم يه تصديق صرف ان لوگوں كے لیے تصديق بنے گي جن كے اندر يقين كرنے كا ذهن هو جو نشانيوں كي زبان ميں ظاهر كي جانے والي بات كو پانے كي استعداد ركھتے هوں۔
الجاثية 45:4
يه كهنا كه قرآن عزيز وحكيم خداكي طرف سے اترا هے، گويا خود اپني طرف سے ايك ايسا قطعي معيار دينا هے جس پر اس كي صداقت كو جانچا جاسكے۔ خدائے عزيز كي طرف سے اس كے اترنے كا مطلب يه هے كه كوئي اس كتاب كو زير نه كرسكے گا۔ قرآن هر حال ميں اپنے مخالفين پر غالب آكر رهے گا۔
يه بات مكي دور ميں كهي گئي تھي۔ اس وقت حالات سراسر قرآن كے خلاف تھے۔ مگر بعد كي تاريخ نے حيرت انگيز طورپر اس كي تصديق كي ۔ قرآن كي دعوت كو تاريخ كي سب سے بڑي كاميابي حاصل هوئي۔
اسي طرح خدائے حكيم كي طرف سے اترنے كا تقاضا يه هے كه اس كے مضامين سب كے سب عقل ودانش پر مبني هوں۔ يه بات بھي ڈيڑھ هزار سال سے مسلسل درست ثابت هوتي جارهي هے۔ قرآن دورِ سائنس سے پهلے اترا۔ مگر دورِ سائنس ميں بھي قرآن كي كوئي بات عقل كے خلاف ثابت نه هوسكي۔
اس كے علاوه جو كائنات انسان كے چاروں طرف پھيلي هوئي هے، اس كي تمام چيزيں قرآن كے پيغام كي تصديق بن گئي هيں۔ تاهم يه تصديق صرف ان لوگوں كے لیے تصديق بنے گي جن كے اندر يقين كرنے كا ذهن هو جو نشانيوں كي زبان ميں ظاهر كي جانے والي بات كو پانے كي استعداد ركھتے هوں۔
الجاثية 45:5
يه كهنا كه قرآن عزيز وحكيم خداكي طرف سے اترا هے، گويا خود اپني طرف سے ايك ايسا قطعي معيار دينا هے جس پر اس كي صداقت كو جانچا جاسكے۔ خدائے عزيز كي طرف سے اس كے اترنے كا مطلب يه هے كه كوئي اس كتاب كو زير نه كرسكے گا۔ قرآن هر حال ميں اپنے مخالفين پر غالب آكر رهے گا۔
يه بات مكي دور ميں كهي گئي تھي۔ اس وقت حالات سراسر قرآن كے خلاف تھے۔ مگر بعد كي تاريخ نے حيرت انگيز طورپر اس كي تصديق كي ۔ قرآن كي دعوت كو تاريخ كي سب سے بڑي كاميابي حاصل هوئي۔
اسي طرح خدائے حكيم كي طرف سے اترنے كا تقاضا يه هے كه اس كے مضامين سب كے سب عقل ودانش پر مبني هوں۔ يه بات بھي ڈيڑھ هزار سال سے مسلسل درست ثابت هوتي جارهي هے۔ قرآن دورِ سائنس سے پهلے اترا۔ مگر دورِ سائنس ميں بھي قرآن كي كوئي بات عقل كے خلاف ثابت نه هوسكي۔
اس كے علاوه جو كائنات انسان كے چاروں طرف پھيلي هوئي هے، اس كي تمام چيزيں قرآن كے پيغام كي تصديق بن گئي هيں۔ تاهم يه تصديق صرف ان لوگوں كے لیے تصديق بنے گي جن كے اندر يقين كرنے كا ذهن هو جو نشانيوں كي زبان ميں ظاهر كي جانے والي بات كو پانے كي استعداد ركھتے هوں۔
الجاثية 45:6
يه كهنا كه قرآن عزيز وحكيم خداكي طرف سے اترا هے، گويا خود اپني طرف سے ايك ايسا قطعي معيار دينا هے جس پر اس كي صداقت كو جانچا جاسكے۔ خدائے عزيز كي طرف سے اس كے اترنے كا مطلب يه هے كه كوئي اس كتاب كو زير نه كرسكے گا۔ قرآن هر حال ميں اپنے مخالفين پر غالب آكر رهے گا۔
يه بات مكي دور ميں كهي گئي تھي۔ اس وقت حالات سراسر قرآن كے خلاف تھے۔ مگر بعد كي تاريخ نے حيرت انگيز طورپر اس كي تصديق كي ۔ قرآن كي دعوت كو تاريخ كي سب سے بڑي كاميابي حاصل هوئي۔
اسي طرح خدائے حكيم كي طرف سے اترنے كا تقاضا يه هے كه اس كے مضامين سب كے سب عقل ودانش پر مبني هوں۔ يه بات بھي ڈيڑھ هزار سال سے مسلسل درست ثابت هوتي جارهي هے۔ قرآن دورِ سائنس سے پهلے اترا۔ مگر دورِ سائنس ميں بھي قرآن كي كوئي بات عقل كے خلاف ثابت نه هوسكي۔
اس كے علاوه جو كائنات انسان كے چاروں طرف پھيلي هوئي هے، اس كي تمام چيزيں قرآن كے پيغام كي تصديق بن گئي هيں۔ تاهم يه تصديق صرف ان لوگوں كے لیے تصديق بنے گي جن كے اندر يقين كرنے كا ذهن هو جو نشانيوں كي زبان ميں ظاهر كي جانے والي بات كو پانے كي استعداد ركھتے هوں۔
الجاثية 45:7
پاني بظاهر ڈبانے والي چيز هے۔ مگر الله تعالي نے اس كو ايسے قوانين كا پابند بنايا هے كه اتھاه سمندروں كے اوپر بڑے بڑے جهاز ايك طرف سے دوسری طرف چلتے هيں اور بحفاظت اپني منزل پر پهنچ جاتے هيں۔ يهي معامله پوري كائنات كا هے۔ كائنات اس طرح بنائي گئي هے كه وه پوری طرح انسان كے تابع هے۔ انسان جس طرح چاهے اس كو اپنے فائده كے ليے استعمال كرسكتا هے۔ موجوده دنيا كي يهي خصوصيت هے جس كي بنا پر يه ممكن هوا هے كه يهاں انسان اپنے ليے شاندار تمدن كي تعمير كرسكے۔
كائنات كا موجوده ڈھانچه هي اس كا آخري اور واحد ڈھانچه نهيں هے۔ وه دوسرے بے شمار طريقوں سے بھي بن سكتي تھي۔ مگر مختلف امكانات ميں سے وهي ايك امكان واقعه بنا جو همارے ليے مفيد تھا۔ يه ايك نشاني هے جس ميں غور كرنے والے غور كريں تو وه اس ميں اپنے ليے عظيم الشان سبق پاسكتے هيں۔
الجاثية 45:8
پاني بظاهر ڈبانے والي چيز هے۔ مگر الله تعالي نے اس كو ايسے قوانين كا پابند بنايا هے كه اتھاه سمندروں كے اوپر بڑے بڑے جهاز ايك طرف سے دوسری طرف چلتے هيں اور بحفاظت اپني منزل پر پهنچ جاتے هيں۔ يهي معامله پوري كائنات كا هے۔ كائنات اس طرح بنائي گئي هے كه وه پوری طرح انسان كے تابع هے۔ انسان جس طرح چاهے اس كو اپنے فائده كے ليے استعمال كرسكتا هے۔ موجوده دنيا كي يهي خصوصيت هے جس كي بنا پر يه ممكن هوا هے كه يهاں انسان اپنے ليے شاندار تمدن كي تعمير كرسكے۔
كائنات كا موجوده ڈھانچه هي اس كا آخري اور واحد ڈھانچه نهيں هے۔ وه دوسرے بے شمار طريقوں سے بھي بن سكتي تھي۔ مگر مختلف امكانات ميں سے وهي ايك امكان واقعه بنا جو همارے ليے مفيد تھا۔ يه ايك نشاني هے جس ميں غور كرنے والے غور كريں تو وه اس ميں اپنے ليے عظيم الشان سبق پاسكتے هيں۔
الجاثية 45:9
پاني بظاهر ڈبانے والي چيز هے۔ مگر الله تعالي نے اس كو ايسے قوانين كا پابند بنايا هے كه اتھاه سمندروں كے اوپر بڑے بڑے جهاز ايك طرف سے دوسری طرف چلتے هيں اور بحفاظت اپني منزل پر پهنچ جاتے هيں۔ يهي معامله پوري كائنات كا هے۔ كائنات اس طرح بنائي گئي هے كه وه پوری طرح انسان كے تابع هے۔ انسان جس طرح چاهے اس كو اپنے فائده كے ليے استعمال كرسكتا هے۔ موجوده دنيا كي يهي خصوصيت هے جس كي بنا پر يه ممكن هوا هے كه يهاں انسان اپنے ليے شاندار تمدن كي تعمير كرسكے۔
كائنات كا موجوده ڈھانچه هي اس كا آخري اور واحد ڈھانچه نهيں هے۔ وه دوسرے بے شمار طريقوں سے بھي بن سكتي تھي۔ مگر مختلف امكانات ميں سے وهي ايك امكان واقعه بنا جو همارے ليے مفيد تھا۔ يه ايك نشاني هے جس ميں غور كرنے والے غور كريں تو وه اس ميں اپنے ليے عظيم الشان سبق پاسكتے هيں۔
الجاثية 45:10
پاني بظاهر ڈبانے والي چيز هے۔ مگر الله تعالي نے اس كو ايسے قوانين كا پابند بنايا هے كه اتھاه سمندروں كے اوپر بڑے بڑے جهاز ايك طرف سے دوسری طرف چلتے هيں اور بحفاظت اپني منزل پر پهنچ جاتے هيں۔ يهي معامله پوري كائنات كا هے۔ كائنات اس طرح بنائي گئي هے كه وه پوری طرح انسان كے تابع هے۔ انسان جس طرح چاهے اس كو اپنے فائده كے ليے استعمال كرسكتا هے۔ موجوده دنيا كي يهي خصوصيت هے جس كي بنا پر يه ممكن هوا هے كه يهاں انسان اپنے ليے شاندار تمدن كي تعمير كرسكے۔
كائنات كا موجوده ڈھانچه هي اس كا آخري اور واحد ڈھانچه نهيں هے۔ وه دوسرے بے شمار طريقوں سے بھي بن سكتي تھي۔ مگر مختلف امكانات ميں سے وهي ايك امكان واقعه بنا جو همارے ليے مفيد تھا۔ يه ايك نشاني هے جس ميں غور كرنے والے غور كريں تو وه اس ميں اپنے ليے عظيم الشان سبق پاسكتے هيں۔
الجاثية 45:11
پاني بظاهر ڈبانے والي چيز هے۔ مگر الله تعالي نے اس كو ايسے قوانين كا پابند بنايا هے كه اتھاه سمندروں كے اوپر بڑے بڑے جهاز ايك طرف سے دوسری طرف چلتے هيں اور بحفاظت اپني منزل پر پهنچ جاتے هيں۔ يهي معامله پوري كائنات كا هے۔ كائنات اس طرح بنائي گئي هے كه وه پوری طرح انسان كے تابع هے۔ انسان جس طرح چاهے اس كو اپنے فائده كے ليے استعمال كرسكتا هے۔ موجوده دنيا كي يهي خصوصيت هے جس كي بنا پر يه ممكن هوا هے كه يهاں انسان اپنے ليے شاندار تمدن كي تعمير كرسكے۔
كائنات كا موجوده ڈھانچه هي اس كا آخري اور واحد ڈھانچه نهيں هے۔ وه دوسرے بے شمار طريقوں سے بھي بن سكتي تھي۔ مگر مختلف امكانات ميں سے وهي ايك امكان واقعه بنا جو همارے ليے مفيد تھا۔ يه ايك نشاني هے جس ميں غور كرنے والے غور كريں تو وه اس ميں اپنے ليے عظيم الشان سبق پاسكتے هيں۔
الجاثية 45:12
پاني بظاهر ڈبانے والي چيز هے۔ مگر الله تعالي نے اس كو ايسے قوانين كا پابند بنايا هے كه اتھاه سمندروں كے اوپر بڑے بڑے جهاز ايك طرف سے دوسری طرف چلتے هيں اور بحفاظت اپني منزل پر پهنچ جاتے هيں۔ يهي معامله پوري كائنات كا هے۔ كائنات اس طرح بنائي گئي هے كه وه پوری طرح انسان كے تابع هے۔ انسان جس طرح چاهے اس كو اپنے فائده كے ليے استعمال كرسكتا هے۔ موجوده دنيا كي يهي خصوصيت هے جس كي بنا پر يه ممكن هوا هے كه يهاں انسان اپنے ليے شاندار تمدن كي تعمير كرسكے۔
كائنات كا موجوده ڈھانچه هي اس كا آخري اور واحد ڈھانچه نهيں هے۔ وه دوسرے بے شمار طريقوں سے بھي بن سكتي تھي۔ مگر مختلف امكانات ميں سے وهي ايك امكان واقعه بنا جو همارے ليے مفيد تھا۔ يه ايك نشاني هے جس ميں غور كرنے والے غور كريں تو وه اس ميں اپنے ليے عظيم الشان سبق پاسكتے هيں۔
الجاثية 45:13
پاني بظاهر ڈبانے والي چيز هے۔ مگر الله تعالي نے اس كو ايسے قوانين كا پابند بنايا هے كه اتھاه سمندروں كے اوپر بڑے بڑے جهاز ايك طرف سے دوسری طرف چلتے هيں اور بحفاظت اپني منزل پر پهنچ جاتے هيں۔ يهي معامله پوري كائنات كا هے۔ كائنات اس طرح بنائي گئي هے كه وه پوری طرح انسان كے تابع هے۔ انسان جس طرح چاهے اس كو اپنے فائده كے ليے استعمال كرسكتا هے۔ موجوده دنيا كي يهي خصوصيت هے جس كي بنا پر يه ممكن هوا هے كه يهاں انسان اپنے ليے شاندار تمدن كي تعمير كرسكے۔
كائنات كا موجوده ڈھانچه هي اس كا آخري اور واحد ڈھانچه نهيں هے۔ وه دوسرے بے شمار طريقوں سے بھي بن سكتي تھي۔ مگر مختلف امكانات ميں سے وهي ايك امكان واقعه بنا جو همارے ليے مفيد تھا۔ يه ايك نشاني هے جس ميں غور كرنے والے غور كريں تو وه اس ميں اپنے ليے عظيم الشان سبق پاسكتے هيں۔
الجاثية 45:14
جن لوگوں كو يه يقين نه هو كه ان كے اوپر خدائي فيصله كا دن آنے والا هے، وه ظلم كرنے ميں جري هوتے هيں۔ وه حق كے داعي كو هر ممكن طريقے سے ستاتے هيں۔ اس وقت داعي كے دل ميں انتقام كا جذبه پيدا هوتا هے۔ مگر داعي كو چاهيے كه وه آخر وقت تك مدعو سے درگز كرے۔ وه اپني توجه تمام تر دعوت پر لگائے رهے اور لوگوں كو بداعماليوں پر گرفت كے معامله كو خدا كے حواله كردے۔
داعي كي كوشش كي قدر وقيمت اس اعتبار سے متعين نهيں هوتي كه اس نے كتنے لوگوں كو حق كي طرف موڑا۔ اس كي كوشش كي قدر وقيمت خدا كے يهاں اس اعتبار سے متعين هوتي هے كه وه خود كتنا زياده حق پر قائم رها۔ حق كا داعي هونے كے تقاضوں كو خود اس نے كتنا زياده پورا كيا۔
الجاثية 45:15
جن لوگوں كو يه يقين نه هو كه ان كے اوپر خدائي فيصله كا دن آنے والا هے، وه ظلم كرنے ميں جري هوتے هيں۔ وه حق كے داعي كو هر ممكن طريقے سے ستاتے هيں۔ اس وقت داعي كے دل ميں انتقام كا جذبه پيدا هوتا هے۔ مگر داعي كو چاهيے كه وه آخر وقت تك مدعو سے درگز كرے۔ وه اپني توجه تمام تر دعوت پر لگائے رهے اور لوگوں كو بداعماليوں پر گرفت كے معامله كو خدا كے حواله كردے۔
داعي كي كوشش كي قدر وقيمت اس اعتبار سے متعين نهيں هوتي كه اس نے كتنے لوگوں كو حق كي طرف موڑا۔ اس كي كوشش كي قدر وقيمت خدا كے يهاں اس اعتبار سے متعين هوتي هے كه وه خود كتنا زياده حق پر قائم رها۔ حق كا داعي هونے كے تقاضوں كو خود اس نے كتنا زياده پورا كيا۔
الجاثية 45:16
’’بني اسرائيل كو هم نے دنيا والوں پر فضيلت دي‘‘— يه وهي بات هے جو امت محمدي كے ذيل ميں ان الفاظ ميں كهي گئي هے كه’’تم خير امت هو‘‘۔ كسي گروه كو خدا كي كتاب كا حامل بنانا اس كو دوسري قوموں پر هدايت كا ذمه دار بنانا هے۔ يهي اس كا افضل الامم يا خير الامم هونا هے۔
اصولي طور پر بني اسرائيل كي حيثيت بھي اسي طرح عالمي تھي جس طرح امت مسلمه كي حيثيت عالمي هے۔ مگر بني اسرائيل نے اپني كتاب ميں تحريفات كركے هميشه كے لیے اپنا يه استحقاق كھوديا۔
دين كي اصل تعليمات ميں هميشه وحدت هوتي هے۔ مگر علماء كے اضافے اس ميں اختلاف اور تعدد پيدا كردیتے هيں۔ هر عالم اپنے ذوق كے لحاظ سے الگ الگ اضافے كرتا هے۔ اس كے بعد هر عالم اور اس كے متبعين اپنے اضافوں كو صحيح اور دوسرے كے اضافوں كو غلط ثابت كرنے ميں مصروف هوجاتے هيں۔ اس طرح ديني فرقے بننا شروع هوتے هيں اور آخر كار يهاں تك نوبت پهنچتي هے كه ايك دين كئي دينوں ميں تقسيم هوجاتا هے۔
بني اسرائيل نے جب دين منزَّل كو دين محرّف كي حيثيت دے دي اس وقت محمد صلي الله عليه وسلم كے ذريعه الله نے قرآن اتارا۔ چونكه آپ كے بعد كوئي پيغمبرآنے والا نه تھا۔اس ليے الله نے خصوصي اهتمام كے ساتھ قرآن كو محفوظ كرديا تاكه دوباره يه صورت نه پيدا هو كه الله كا دين انساني اضافوں ميں گم هوكر ره جائے۔
الجاثية 45:17
’’بني اسرائيل كو هم نے دنيا والوں پر فضيلت دي‘‘— يه وهي بات هے جو امت محمدي كے ذيل ميں ان الفاظ ميں كهي گئي هے كه’’تم خير امت هو‘‘۔ كسي گروه كو خدا كي كتاب كا حامل بنانا اس كو دوسري قوموں پر هدايت كا ذمه دار بنانا هے۔ يهي اس كا افضل الامم يا خير الامم هونا هے۔
اصولي طور پر بني اسرائيل كي حيثيت بھي اسي طرح عالمي تھي جس طرح امت مسلمه كي حيثيت عالمي هے۔ مگر بني اسرائيل نے اپني كتاب ميں تحريفات كركے هميشه كے لیے اپنا يه استحقاق كھوديا۔
دين كي اصل تعليمات ميں هميشه وحدت هوتي هے۔ مگر علماء كے اضافے اس ميں اختلاف اور تعدد پيدا كردیتے هيں۔ هر عالم اپنے ذوق كے لحاظ سے الگ الگ اضافے كرتا هے۔ اس كے بعد هر عالم اور اس كے متبعين اپنے اضافوں كو صحيح اور دوسرے كے اضافوں كو غلط ثابت كرنے ميں مصروف هوجاتے هيں۔ اس طرح ديني فرقے بننا شروع هوتے هيں اور آخر كار يهاں تك نوبت پهنچتي هے كه ايك دين كئي دينوں ميں تقسيم هوجاتا هے۔
بني اسرائيل نے جب دين منزَّل كو دين محرّف كي حيثيت دے دي اس وقت محمد صلي الله عليه وسلم كے ذريعه الله نے قرآن اتارا۔ چونكه آپ كے بعد كوئي پيغمبرآنے والا نه تھا۔اس ليے الله نے خصوصي اهتمام كے ساتھ قرآن كو محفوظ كرديا تاكه دوباره يه صورت نه پيدا هو كه الله كا دين انساني اضافوں ميں گم هوكر ره جائے۔
الجاثية 45:18
’’بني اسرائيل كو هم نے دنيا والوں پر فضيلت دي‘‘— يه وهي بات هے جو امت محمدي كے ذيل ميں ان الفاظ ميں كهي گئي هے كه’’تم خير امت هو‘‘۔ كسي گروه كو خدا كي كتاب كا حامل بنانا اس كو دوسري قوموں پر هدايت كا ذمه دار بنانا هے۔ يهي اس كا افضل الامم يا خير الامم هونا هے۔
اصولي طور پر بني اسرائيل كي حيثيت بھي اسي طرح عالمي تھي جس طرح امت مسلمه كي حيثيت عالمي هے۔ مگر بني اسرائيل نے اپني كتاب ميں تحريفات كركے هميشه كے لیے اپنا يه استحقاق كھوديا۔
دين كي اصل تعليمات ميں هميشه وحدت هوتي هے۔ مگر علماء كے اضافے اس ميں اختلاف اور تعدد پيدا كردیتے هيں۔ هر عالم اپنے ذوق كے لحاظ سے الگ الگ اضافے كرتا هے۔ اس كے بعد هر عالم اور اس كے متبعين اپنے اضافوں كو صحيح اور دوسرے كے اضافوں كو غلط ثابت كرنے ميں مصروف هوجاتے هيں۔ اس طرح ديني فرقے بننا شروع هوتے هيں اور آخر كار يهاں تك نوبت پهنچتي هے كه ايك دين كئي دينوں ميں تقسيم هوجاتا هے۔
بني اسرائيل نے جب دين منزَّل كو دين محرّف كي حيثيت دے دي اس وقت محمد صلي الله عليه وسلم كے ذريعه الله نے قرآن اتارا۔ چونكه آپ كے بعد كوئي پيغمبرآنے والا نه تھا۔اس ليے الله نے خصوصي اهتمام كے ساتھ قرآن كو محفوظ كرديا تاكه دوباره يه صورت نه پيدا هو كه الله كا دين انساني اضافوں ميں گم هوكر ره جائے۔
الجاثية 45:19
’’بني اسرائيل كو هم نے دنيا والوں پر فضيلت دي‘‘— يه وهي بات هے جو امت محمدي كے ذيل ميں ان الفاظ ميں كهي گئي هے كه’’تم خير امت هو‘‘۔ كسي گروه كو خدا كي كتاب كا حامل بنانا اس كو دوسري قوموں پر هدايت كا ذمه دار بنانا هے۔ يهي اس كا افضل الامم يا خير الامم هونا هے۔
اصولي طور پر بني اسرائيل كي حيثيت بھي اسي طرح عالمي تھي جس طرح امت مسلمه كي حيثيت عالمي هے۔ مگر بني اسرائيل نے اپني كتاب ميں تحريفات كركے هميشه كے لیے اپنا يه استحقاق كھوديا۔
دين كي اصل تعليمات ميں هميشه وحدت هوتي هے۔ مگر علماء كے اضافے اس ميں اختلاف اور تعدد پيدا كردیتے هيں۔ هر عالم اپنے ذوق كے لحاظ سے الگ الگ اضافے كرتا هے۔ اس كے بعد هر عالم اور اس كے متبعين اپنے اضافوں كو صحيح اور دوسرے كے اضافوں كو غلط ثابت كرنے ميں مصروف هوجاتے هيں۔ اس طرح ديني فرقے بننا شروع هوتے هيں اور آخر كار يهاں تك نوبت پهنچتي هے كه ايك دين كئي دينوں ميں تقسيم هوجاتا هے۔
بني اسرائيل نے جب دين منزَّل كو دين محرّف كي حيثيت دے دي اس وقت محمد صلي الله عليه وسلم كے ذريعه الله نے قرآن اتارا۔ چونكه آپ كے بعد كوئي پيغمبرآنے والا نه تھا۔اس ليے الله نے خصوصي اهتمام كے ساتھ قرآن كو محفوظ كرديا تاكه دوباره يه صورت نه پيدا هو كه الله كا دين انساني اضافوں ميں گم هوكر ره جائے۔
الجاثية 45:20
’’بني اسرائيل كو هم نے دنيا والوں پر فضيلت دي‘‘— يه وهي بات هے جو امت محمدي كے ذيل ميں ان الفاظ ميں كهي گئي هے كه’’تم خير امت هو‘‘۔ كسي گروه كو خدا كي كتاب كا حامل بنانا اس كو دوسري قوموں پر هدايت كا ذمه دار بنانا هے۔ يهي اس كا افضل الامم يا خير الامم هونا هے۔
اصولي طور پر بني اسرائيل كي حيثيت بھي اسي طرح عالمي تھي جس طرح امت مسلمه كي حيثيت عالمي هے۔ مگر بني اسرائيل نے اپني كتاب ميں تحريفات كركے هميشه كے لیے اپنا يه استحقاق كھوديا۔
دين كي اصل تعليمات ميں هميشه وحدت هوتي هے۔ مگر علماء كے اضافے اس ميں اختلاف اور تعدد پيدا كردیتے هيں۔ هر عالم اپنے ذوق كے لحاظ سے الگ الگ اضافے كرتا هے۔ اس كے بعد هر عالم اور اس كے متبعين اپنے اضافوں كو صحيح اور دوسرے كے اضافوں كو غلط ثابت كرنے ميں مصروف هوجاتے هيں۔ اس طرح ديني فرقے بننا شروع هوتے هيں اور آخر كار يهاں تك نوبت پهنچتي هے كه ايك دين كئي دينوں ميں تقسيم هوجاتا هے۔
بني اسرائيل نے جب دين منزَّل كو دين محرّف كي حيثيت دے دي اس وقت محمد صلي الله عليه وسلم كے ذريعه الله نے قرآن اتارا۔ چونكه آپ كے بعد كوئي پيغمبرآنے والا نه تھا۔اس ليے الله نے خصوصي اهتمام كے ساتھ قرآن كو محفوظ كرديا تاكه دوباره يه صورت نه پيدا هو كه الله كا دين انساني اضافوں ميں گم هوكر ره جائے۔
الجاثية 45:21
جو شخص يه خيال كرے كه آدمي اچھا بن كر رهے يا برا بن كر، سب برابر هے۔ آخر كار دونوں هي كو مركر مٹ جانا هے، وه نهايت غلط خيال اپنے دماغ ميں قائم كرتا هے۔ ايسا سمجھنا اس شعورِ عدل كے خلاف هے جو هر آدمي كي فطرت ميں پيدائشي طورپر موجود هے۔ نيز يه كائنات كي اس معنويت كا انكار كرنا هےجو اس كے نظام ميں كمال درجه ميں پائي جاتي هے۔ حقيقت يه هے كه انسان كي اندروني فطرت اور اس كے باهر كي وسيع كائنات دونوں اس كو سراسر باطل ثابت كرتے هيں كه زندگي كو ايك ايسي بے مقصد چيز سمجھ ليا جائے جس كا كوئي انجام سامنے آنے والا نهيں۔
الجاثية 45:22
جو شخص يه خيال كرے كه آدمي اچھا بن كر رهے يا برا بن كر، سب برابر هے۔ آخر كار دونوں هي كو مركر مٹ جانا هے، وه نهايت غلط خيال اپنے دماغ ميں قائم كرتا هے۔ ايسا سمجھنا اس شعورِ عدل كے خلاف هے جو هر آدمي كي فطرت ميں پيدائشي طورپر موجود هے۔ نيز يه كائنات كي اس معنويت كا انكار كرنا هےجو اس كے نظام ميں كمال درجه ميں پائي جاتي هے۔ حقيقت يه هے كه انسان كي اندروني فطرت اور اس كے باهر كي وسيع كائنات دونوں اس كو سراسر باطل ثابت كرتے هيں كه زندگي كو ايك ايسي بے مقصد چيز سمجھ ليا جائے جس كا كوئي انجام سامنے آنے والا نهيں۔
الجاثية 45:23
خواهش كو اپنا معبود بنانے كا مطلب خواهش كو اپني زندگي ميں سب سے برتر مقام دينا هے جو شخص اپني خواهش كے تحت سوچے اور اپني خواهش كے تحت عمل كرے وه گويا اپني خواهش هي كو اپنا معبود بنائے هوئے ہے۔
آدمي كي عقل صحيح اور غلط كو پهچاننے كي كامل صلاحيت ركھتي هے۔ مگر جو شخص اپني عقل كو اپني خواهش كا تابع بنالے اس كا حال يه هوجاتا هے كه اس كے سامنے حق كے دلائل آتے هيں مگر وه ان كے وزن كو محسوس نهيں كرپاتا۔ وه هر بات كے جواب ميں ايك جھوٹي توجيهه پيش كركے اسے ردكرديتا هے۔ آدمي كي يه روش آخر كار اس كي عقلي قوتوں كو مسخ كرديتي هے۔ اس كے كان الفاظ سنتے هيں مگر ان كے معاني تك ان كي پهنچ نهيں هوتي۔ اس كي آنكھ حقيقت كو ديكھتي هے مگر وه اس سے سبق نهيں لے پاتي۔ اس كے دل تك ايك بات پهنچتي هے مگر وه اس كے دل كو تڑپانے والي نهيں بنتي۔
عقلي قوتوں كو خدا نے هدايت كے داخله كا دروازه بنايا هے۔ مگر جو شخص اپني خواهش پرستي ميں ان دروازوں كو بند كرلے اس كے اندر هدايت داخل هوگي تو كس راسته سے داخل هوگي۔
الجاثية 45:24
’’هم كو زمانه كي گردش هلاك كرتي هے‘‘ عام لوگوں كا قول نهيں۔ اس طرح كي باتيں هميشه مخصوص افراد كرتے هيں۔ يه وه افراد هيں جو اپني ذهانت كي وجه سے اكثر سماج كے فكري نمائنده كي حيثيت حاصل كرليتے هيں۔ تاهم يه باتيں وه محض قياس كي بنياد پر كهتے هيں۔ وه كسي حقيقي علم كي بنياد پر ايسا نهيں كهتے۔ اس كے مقابله ميں پيغمبر جو بات كهتا هے اس كي بنياد ٹھوس حقيقت پر قائم هے۔
هم روزانه ديكھتے هيں كه ايك شخص نهيں تھا۔ پھر وه پيدا هو كر موجود هوگيا۔ اس كے بعد وه دوباره مرجاتا هے۔ گويا يهاں هر آدمي كو موت كے بعد زندگي ملتي هے اور زندگي كے بعد وه دوباره مرجاتا هے۔ يه اس بات كا قرينه هے كه جس طرح پهلي بار موت كے بعد زندگي هوئي، اسي طرح دوسري بار بھي موت كے بعد زندگي هوگي۔
اس سے واضح طورپر زندگي بعد موت كا ممكن هونا ثابت هوتا هے۔ اس كے بعد يه مطالبه كرنا غلط هے كه جو لوگ كل دوباره پيدا هونے والے هيں ان كو آج پيدا كركے دكھاؤ۔ كيوں كه موجوده دنيا امتحان كے ليے هے۔ اور اگر موجوده دنيا ميں اگلي دنيا كا حال دكھاديا جائے تو امتحان كي مصلحت باقي نهيں ره سكتي۔
الجاثية 45:25
’’هم كو زمانه كي گردش هلاك كرتي هے‘‘ عام لوگوں كا قول نهيں۔ اس طرح كي باتيں هميشه مخصوص افراد كرتے هيں۔ يه وه افراد هيں جو اپني ذهانت كي وجه سے اكثر سماج كے فكري نمائنده كي حيثيت حاصل كرليتے هيں۔ تاهم يه باتيں وه محض قياس كي بنياد پر كهتے هيں۔ وه كسي حقيقي علم كي بنياد پر ايسا نهيں كهتے۔ اس كے مقابله ميں پيغمبر جو بات كهتا هے اس كي بنياد ٹھوس حقيقت پر قائم هے۔
هم روزانه ديكھتے هيں كه ايك شخص نهيں تھا۔ پھر وه پيدا هو كر موجود هوگيا۔ اس كے بعد وه دوباره مرجاتا هے۔ گويا يهاں هر آدمي كو موت كے بعد زندگي ملتي هے اور زندگي كے بعد وه دوباره مرجاتا هے۔ يه اس بات كا قرينه هے كه جس طرح پهلي بار موت كے بعد زندگي هوئي، اسي طرح دوسري بار بھي موت كے بعد زندگي هوگي۔
اس سے واضح طورپر زندگي بعد موت كا ممكن هونا ثابت هوتا هے۔ اس كے بعد يه مطالبه كرنا غلط هے كه جو لوگ كل دوباره پيدا هونے والے هيں ان كو آج پيدا كركے دكھاؤ۔ كيوں كه موجوده دنيا امتحان كے ليے هے۔ اور اگر موجوده دنيا ميں اگلي دنيا كا حال دكھاديا جائے تو امتحان كي مصلحت باقي نهيں ره سكتي۔
الجاثية 45:26
’’هم كو زمانه كي گردش هلاك كرتي هے‘‘ عام لوگوں كا قول نهيں۔ اس طرح كي باتيں هميشه مخصوص افراد كرتے هيں۔ يه وه افراد هيں جو اپني ذهانت كي وجه سے اكثر سماج كے فكري نمائنده كي حيثيت حاصل كرليتے هيں۔ تاهم يه باتيں وه محض قياس كي بنياد پر كهتے هيں۔ وه كسي حقيقي علم كي بنياد پر ايسا نهيں كهتے۔ اس كے مقابله ميں پيغمبر جو بات كهتا هے اس كي بنياد ٹھوس حقيقت پر قائم هے۔
هم روزانه ديكھتے هيں كه ايك شخص نهيں تھا۔ پھر وه پيدا هو كر موجود هوگيا۔ اس كے بعد وه دوباره مرجاتا هے۔ گويا يهاں هر آدمي كو موت كے بعد زندگي ملتي هے اور زندگي كے بعد وه دوباره مرجاتا هے۔ يه اس بات كا قرينه هے كه جس طرح پهلي بار موت كے بعد زندگي هوئي، اسي طرح دوسري بار بھي موت كے بعد زندگي هوگي۔
اس سے واضح طورپر زندگي بعد موت كا ممكن هونا ثابت هوتا هے۔ اس كے بعد يه مطالبه كرنا غلط هے كه جو لوگ كل دوباره پيدا هونے والے هيں ان كو آج پيدا كركے دكھاؤ۔ كيوں كه موجوده دنيا امتحان كے ليے هے۔ اور اگر موجوده دنيا ميں اگلي دنيا كا حال دكھاديا جائے تو امتحان كي مصلحت باقي نهيں ره سكتي۔
الجاثية 45:27
جو لوگ الله كي بنياد پر دنيا ميں كھڑے هوں وه حق كي بنياد پر كھڑے هوتے هيں۔ اور جو لوگ اس كے سوا كسي اور بنياد پر كھڑے هوں وه باطل كي بنياد پر كھڑے هوئے هيں۔ ايسے تمام لوگ آخرت ميں بے زمين هو كر ره جائيں گے۔ كيوں كه انھوں نے جس چيز كو بنياد سمجھ ركھا تھا وه كوئي بنياد هي نه تھي۔ وه محض دھوكا تھا جو حقيقت حال كے كھلتے هي ختم هوگيا۔
اعمال كو لكھوانے سے مراد معروف معنوں ميں قلم سے لكھوانا نهيں هے۔بلكه اعمال كو ريكارڈ كرانا هے۔ انسان كي نيت، اس كا قول اور اس كا عمل سب نهايت صحت كے ساتھ خدائي انتظام كے تحت ريكارڈ هورها هے۔ آخرت ميں انسان كے ساتھ جو معامله كيا جائے گا وه عين اس ريكارڈ كے مطابق هوگا۔ يه ريكارڈ اتنا زياده حقيقي هوگا كه كسي كے ليے ممكن نه هوگا كه اس سے انكار كرسكے۔
الجاثية 45:28
جو لوگ الله كي بنياد پر دنيا ميں كھڑے هوں وه حق كي بنياد پر كھڑے هوتے هيں۔ اور جو لوگ اس كے سوا كسي اور بنياد پر كھڑے هوں وه باطل كي بنياد پر كھڑے هوئے هيں۔ ايسے تمام لوگ آخرت ميں بے زمين هو كر ره جائيں گے۔ كيوں كه انھوں نے جس چيز كو بنياد سمجھ ركھا تھا وه كوئي بنياد هي نه تھي۔ وه محض دھوكا تھا جو حقيقت حال كے كھلتے هي ختم هوگيا۔
اعمال كو لكھوانے سے مراد معروف معنوں ميں قلم سے لكھوانا نهيں هے۔بلكه اعمال كو ريكارڈ كرانا هے۔ انسان كي نيت، اس كا قول اور اس كا عمل سب نهايت صحت كے ساتھ خدائي انتظام كے تحت ريكارڈ هورها هے۔ آخرت ميں انسان كے ساتھ جو معامله كيا جائے گا وه عين اس ريكارڈ كے مطابق هوگا۔ يه ريكارڈ اتنا زياده حقيقي هوگا كه كسي كے ليے ممكن نه هوگا كه اس سے انكار كرسكے۔
الجاثية 45:29
جو لوگ الله كي بنياد پر دنيا ميں كھڑے هوں وه حق كي بنياد پر كھڑے هوتے هيں۔ اور جو لوگ اس كے سوا كسي اور بنياد پر كھڑے هوں وه باطل كي بنياد پر كھڑے هوئے هيں۔ ايسے تمام لوگ آخرت ميں بے زمين هو كر ره جائيں گے۔ كيوں كه انھوں نے جس چيز كو بنياد سمجھ ركھا تھا وه كوئي بنياد هي نه تھي۔ وه محض دھوكا تھا جو حقيقت حال كے كھلتے هي ختم هوگيا۔
اعمال كو لكھوانے سے مراد معروف معنوں ميں قلم سے لكھوانا نهيں هے۔بلكه اعمال كو ريكارڈ كرانا هے۔ انسان كي نيت، اس كا قول اور اس كا عمل سب نهايت صحت كے ساتھ خدائي انتظام كے تحت ريكارڈ هورها هے۔ آخرت ميں انسان كے ساتھ جو معامله كيا جائے گا وه عين اس ريكارڈ كے مطابق هوگا۔ يه ريكارڈ اتنا زياده حقيقي هوگا كه كسي كے ليے ممكن نه هوگا كه اس سے انكار كرسكے۔
الجاثية 45:30
تكبر سے مراد خدا كے مقابله ميں تكبر نهيں هے بلكه خدا كے داعي كے مقابله ميں تكبر هے۔ خدا كي بات كو ماننا موجوده دنيا ميں عملاً خدا كے داعي كي بات كو ماننے كے هم معني هوتا هے۔ اب جو لوگ تكبر ميں مبتلا هوں وه اس كو اپنے مرتبه سے كم تر سمجھتے هيں كه وه اپنے جيسے ايك انسان كي بات مان ليں۔ چنانچه وه اس كو نظر انداز كر ديتے هيں۔ اس كے برعكس، جو لوگ تكبر كي نفسيات سے خالي هوں وه فوراً اس كے آگے جھك جاتے هيں۔ پهلے گروه كے لیے خدا كا غضب هے اور دوسرے گروه كے لیے خدا كي رحمت۔
ايك انسان جب حق كا انكار كرتا هے تو اپنے انكار كو جائز ثابت كرنے كے ليے وه طرح طرح كي باتيں كرتا هے۔ وه كبھي داعي كو ناقابل اعتماد ثابت كرتا هے كبھي داعي كے پيغام ميں شك وشبه كا پهلو نكالتا هے۔مگر قيامت كے دن كھل جائے گا كه يه سب مجرمانه ذهن سے نكلي هوئي باتيں تھيں، نه كه حق پرستانه ذهن سے نكلي هوئي باتيں۔
الجاثية 45:31
تكبر سے مراد خدا كے مقابله ميں تكبر نهيں هے بلكه خدا كے داعي كے مقابله ميں تكبر هے۔ خدا كي بات كو ماننا موجوده دنيا ميں عملاً خدا كے داعي كي بات كو ماننے كے هم معني هوتا هے۔ اب جو لوگ تكبر ميں مبتلا هوں وه اس كو اپنے مرتبه سے كم تر سمجھتے هيں كه وه اپنے جيسے ايك انسان كي بات مان ليں۔ چنانچه وه اس كو نظر انداز كر ديتے هيں۔ اس كے برعكس، جو لوگ تكبر كي نفسيات سے خالي هوں وه فوراً اس كے آگے جھك جاتے هيں۔ پهلے گروه كے لیے خدا كا غضب هے اور دوسرے گروه كے لیے خدا كي رحمت۔
ايك انسان جب حق كا انكار كرتا هے تو اپنے انكار كو جائز ثابت كرنے كے ليے وه طرح طرح كي باتيں كرتا هے۔ وه كبھي داعي كو ناقابل اعتماد ثابت كرتا هے كبھي داعي كے پيغام ميں شك وشبه كا پهلو نكالتا هے۔مگر قيامت كے دن كھل جائے گا كه يه سب مجرمانه ذهن سے نكلي هوئي باتيں تھيں، نه كه حق پرستانه ذهن سے نكلي هوئي باتيں۔
الجاثية 45:32
تكبر سے مراد خدا كے مقابله ميں تكبر نهيں هے بلكه خدا كے داعي كے مقابله ميں تكبر هے۔ خدا كي بات كو ماننا موجوده دنيا ميں عملاً خدا كے داعي كي بات كو ماننے كے هم معني هوتا هے۔ اب جو لوگ تكبر ميں مبتلا هوں وه اس كو اپنے مرتبه سے كم تر سمجھتے هيں كه وه اپنے جيسے ايك انسان كي بات مان ليں۔ چنانچه وه اس كو نظر انداز كر ديتے هيں۔ اس كے برعكس، جو لوگ تكبر كي نفسيات سے خالي هوں وه فوراً اس كے آگے جھك جاتے هيں۔ پهلے گروه كے لیے خدا كا غضب هے اور دوسرے گروه كے لیے خدا كي رحمت۔
ايك انسان جب حق كا انكار كرتا هے تو اپنے انكار كو جائز ثابت كرنے كے ليے وه طرح طرح كي باتيں كرتا هے۔ وه كبھي داعي كو ناقابل اعتماد ثابت كرتا هے كبھي داعي كے پيغام ميں شك وشبه كا پهلو نكالتا هے۔مگر قيامت كے دن كھل جائے گا كه يه سب مجرمانه ذهن سے نكلي هوئي باتيں تھيں، نه كه حق پرستانه ذهن سے نكلي هوئي باتيں۔
الجاثية 45:33
موجوده دنيا ميں آدمي جب برائي كرتا هے تو اس كے برے نتائج فوراً اس كے سامنے نهيں آتے۔ يه چيزاس كو دلير بناديتي هے۔ اس كو جب اس كي بدعملي سے ڈرايا جاتا هے تو وه سنجيدگي كے ساتھ اس كو سننے كے ليے تيار نهيں هوتا۔ مگر آخرت ميں اس كي برائيوں كے نتائج اس كي آنكھوں كے سامنے آجائيں گے۔ وه اپني بداعماليوں ميں پوري طرح گھر چكا هوگا۔ اس وقت وه اس حق كا اقرار كرلے گا جس كو دنيا ميں اس نے اتنا بے قيمت سمجھا تھا كه وه اس كا مذاق اڑاتا رها۔
آخرت ميں انسان اس حق كا اقرار كرے گا جس كو وه دنيا ميں جھٹلاتا رها۔ مگر وهاں اس كو قبول نهيں كيا جائے گا۔ كيوں كه حق كا اقرار غيب كي سطح پر قيمت ركھتا هے، نه كه شهود كي سطح پر۔
الجاثية 45:34
موجوده دنيا ميں آدمي جب برائي كرتا هے تو اس كے برے نتائج فوراً اس كے سامنے نهيں آتے۔ يه چيزاس كو دلير بناديتي هے۔ اس كو جب اس كي بدعملي سے ڈرايا جاتا هے تو وه سنجيدگي كے ساتھ اس كو سننے كے ليے تيار نهيں هوتا۔ مگر آخرت ميں اس كي برائيوں كے نتائج اس كي آنكھوں كے سامنے آجائيں گے۔ وه اپني بداعماليوں ميں پوري طرح گھر چكا هوگا۔ اس وقت وه اس حق كا اقرار كرلے گا جس كو دنيا ميں اس نے اتنا بے قيمت سمجھا تھا كه وه اس كا مذاق اڑاتا رها۔
آخرت ميں انسان اس حق كا اقرار كرے گا جس كو وه دنيا ميں جھٹلاتا رها۔ مگر وهاں اس كو قبول نهيں كيا جائے گا۔ كيوں كه حق كا اقرار غيب كي سطح پر قيمت ركھتا هے، نه كه شهود كي سطح پر۔
الجاثية 45:35
موجوده دنيا ميں آدمي جب برائي كرتا هے تو اس كے برے نتائج فوراً اس كے سامنے نهيں آتے۔ يه چيزاس كو دلير بناديتي هے۔ اس كو جب اس كي بدعملي سے ڈرايا جاتا هے تو وه سنجيدگي كے ساتھ اس كو سننے كے ليے تيار نهيں هوتا۔ مگر آخرت ميں اس كي برائيوں كے نتائج اس كي آنكھوں كے سامنے آجائيں گے۔ وه اپني بداعماليوں ميں پوري طرح گھر چكا هوگا۔ اس وقت وه اس حق كا اقرار كرلے گا جس كو دنيا ميں اس نے اتنا بے قيمت سمجھا تھا كه وه اس كا مذاق اڑاتا رها۔
آخرت ميں انسان اس حق كا اقرار كرے گا جس كو وه دنيا ميں جھٹلاتا رها۔ مگر وهاں اس كو قبول نهيں كيا جائے گا۔ كيوں كه حق كا اقرار غيب كي سطح پر قيمت ركھتا هے، نه كه شهود كي سطح پر۔
الجاثية 45:36
كائنات بے پناه حد تك عظيم هے، اس ليے اس كا خالق ومالك بھي وهي هوسكتا هے جو بے پناه حد تك عظيم هو۔ اور يه عظيم هستي ايك خدا كے سوا كوئي اور نهيں هوسكتي۔ كوئي آدمي سنجيدگي كے ساتھ جرأت نهيں كرسكتا كه وه ايك خدا كے سوا كسي اور كو كائنات كا خالق ومالك قرار دے۔ پھر جب كائنات كا خالق ومالك صرف ايك ہستی هے تو لازم هے كه ساري تعريف بھي اس كي هو۔ انسان اپني ساري توجه اسي كي طرف لگائے، وه اس كو اپنا سب كچھ بنا لے۔
موجوده دنيا ميں انسان كا وهي رويه صحيح رويه هے جو كائنات كي عظمت وحكمت كے مطابق هو۔ جس رويه ميں كائنات كي عظمت وحكمت سے مطابقت نه پائي جائے وه باطل هے۔ ايسا رويه انسان كو كاميابي تك پهنچانے والا نهيں۔
الجاثية 45:37
كائنات بے پناه حد تك عظيم هے، اس ليے اس كا خالق ومالك بھي وهي هوسكتا هے جو بے پناه حد تك عظيم هو۔ اور يه عظيم هستي ايك خدا كے سوا كوئي اور نهيں هوسكتي۔ كوئي آدمي سنجيدگي كے ساتھ جرأت نهيں كرسكتا كه وه ايك خدا كے سوا كسي اور كو كائنات كا خالق ومالك قرار دے۔ پھر جب كائنات كا خالق ومالك صرف ايك ہستی هے تو لازم هے كه ساري تعريف بھي اس كي هو۔ انسان اپني ساري توجه اسي كي طرف لگائے، وه اس كو اپنا سب كچھ بنا لے۔
موجوده دنيا ميں انسان كا وهي رويه صحيح رويه هے جو كائنات كي عظمت وحكمت كے مطابق هو۔ جس رويه ميں كائنات كي عظمت وحكمت سے مطابقت نه پائي جائے وه باطل هے۔ ايسا رويه انسان كو كاميابي تك پهنچانے والا نهيں۔
الأحقاف 46:1
كائنات كا مطالعه بتاتا هے كه اس ميں هر طرف حكمت اور معنويت هے۔ پھر ايك ايسا كارخانه جو اپنے آغاز ميں بامعني هو وه اپنے اختتام ميں بے معني كيسے هوجائے گا۔
حق اپني ذات ميں نهايت محكم چيز هے۔ وه كائنات كي سب سے بڑي طاقت هے۔ اس كے باوجود كيوں ايسا هے كه جب لوگوں كے سامنے حق پيش كيا جاتا هے تو وه اس كا انكار كرديتے هيں۔ اس كي وجه يه هے كه موجوده دنياميں لوگوں كو حق كي صرف خبر دي جارهي هے۔ آخرت ميں يه هوگا كه حق واقعه بن كر لوگوں كے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت وهي لوگ حق كے سامنے ڈھه پڑيں گے جو اس سے پهلے حق كو غير اهم سمجھ كر اس كو نظر انداز كررهے تھے۔
الأحقاف 46:2
كائنات كا مطالعه بتاتا هے كه اس ميں هر طرف حكمت اور معنويت هے۔ پھر ايك ايسا كارخانه جو اپنے آغاز ميں بامعني هو وه اپنے اختتام ميں بے معني كيسے هوجائے گا۔
حق اپني ذات ميں نهايت محكم چيز هے۔ وه كائنات كي سب سے بڑي طاقت هے۔ اس كے باوجود كيوں ايسا هے كه جب لوگوں كے سامنے حق پيش كيا جاتا هے تو وه اس كا انكار كرديتے هيں۔ اس كي وجه يه هے كه موجوده دنياميں لوگوں كو حق كي صرف خبر دي جارهي هے۔ آخرت ميں يه هوگا كه حق واقعه بن كر لوگوں كے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت وهي لوگ حق كے سامنے ڈھه پڑيں گے جو اس سے پهلے حق كو غير اهم سمجھ كر اس كو نظر انداز كررهے تھے۔
الأحقاف 46:3
كائنات كا مطالعه بتاتا هے كه اس ميں هر طرف حكمت اور معنويت هے۔ پھر ايك ايسا كارخانه جو اپنے آغاز ميں بامعني هو وه اپنے اختتام ميں بے معني كيسے هوجائے گا۔
حق اپني ذات ميں نهايت محكم چيز هے۔ وه كائنات كي سب سے بڑي طاقت هے۔ اس كے باوجود كيوں ايسا هے كه جب لوگوں كے سامنے حق پيش كيا جاتا هے تو وه اس كا انكار كرديتے هيں۔ اس كي وجه يه هے كه موجوده دنياميں لوگوں كو حق كي صرف خبر دي جارهي هے۔ آخرت ميں يه هوگا كه حق واقعه بن كر لوگوں كے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت وهي لوگ حق كے سامنے ڈھه پڑيں گے جو اس سے پهلے حق كو غير اهم سمجھ كر اس كو نظر انداز كررهے تھے۔
الأحقاف 46:4
مفسر ابن كثير نے يهاں ’’كتاب‘‘ سے مراد نقلي دليل اور ’’أَثارَةٍ مِنْ عِلْمٍ‘‘ سے مراد عقلي دليل لي هے (أَيْ لَا دَلِيْلَ لَكُمْ لَا نَقْلِيًّا وَلَا عَقْلِيًّا عَلَى ذَلِكَ) تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 252 ۔
علم حقيقةً صرف دو هے۔ ايك الهامي علم (Revealed knowledge)۔ يعني وه علم جو پيغمبروں كے ذريعه سے انسانوں تك پهنچا۔ دوسرا ثابت شده علم (Established knowledge)۔ يعني وه علم جس كا علم هونا انساني تحقيقات اور تجربات سے ثابت هوگيا هو۔ ان دونوں ميں سے كوئي بھي علم يه نهيں بتاتا كه اس كائنات ميں ايك خدا كے سوا كوئي اور هستي هے جو خدائي کے لائق هے۔ اور جب علم كے دو ذريعوں ميں سے كوئي ذريعه شرك كي گواهي نه دے تو مشركانه عقيده انسان كے لیے كيوں كردرست هوسكتا هے۔ جو شخص خدا كو چھوڑ كر كسي اور چيز كو اپنا سهارا بنائے۔ وه سہارا آخرت كے دن اس سے برأت كرے گا، نه كه وه اس كا مددگار بنے ۔
الأحقاف 46:5
مفسر ابن كثير نے يهاں ’’كتاب‘‘ سے مراد نقلي دليل اور ’’أَثارَةٍ مِنْ عِلْمٍ‘‘ سے مراد عقلي دليل لي هے (أَيْ لَا دَلِيْلَ لَكُمْ لَا نَقْلِيًّا وَلَا عَقْلِيًّا عَلَى ذَلِكَ) تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 252 ۔
علم حقيقةً صرف دو هے۔ ايك الهامي علم (Revealed knowledge)۔ يعني وه علم جو پيغمبروں كے ذريعه سے انسانوں تك پهنچا۔ دوسرا ثابت شده علم (Established knowledge)۔ يعني وه علم جس كا علم هونا انساني تحقيقات اور تجربات سے ثابت هوگيا هو۔ ان دونوں ميں سے كوئي بھي علم يه نهيں بتاتا كه اس كائنات ميں ايك خدا كے سوا كوئي اور هستي هے جو خدائي کے لائق هے۔ اور جب علم كے دو ذريعوں ميں سے كوئي ذريعه شرك كي گواهي نه دے تو مشركانه عقيده انسان كے لیے كيوں كردرست هوسكتا هے۔ جو شخص خدا كو چھوڑ كر كسي اور چيز كو اپنا سهارا بنائے۔ وه سہارا آخرت كے دن اس سے برأت كرے گا، نه كه وه اس كا مددگار بنے ۔
الأحقاف 46:6
مفسر ابن كثير نے يهاں ’’كتاب‘‘ سے مراد نقلي دليل اور ’’أَثارَةٍ مِنْ عِلْمٍ‘‘ سے مراد عقلي دليل لي هے (أَيْ لَا دَلِيْلَ لَكُمْ لَا نَقْلِيًّا وَلَا عَقْلِيًّا عَلَى ذَلِكَ) تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 252 ۔
علم حقيقةً صرف دو هے۔ ايك الهامي علم (Revealed knowledge)۔ يعني وه علم جو پيغمبروں كے ذريعه سے انسانوں تك پهنچا۔ دوسرا ثابت شده علم (Established knowledge)۔ يعني وه علم جس كا علم هونا انساني تحقيقات اور تجربات سے ثابت هوگيا هو۔ ان دونوں ميں سے كوئي بھي علم يه نهيں بتاتا كه اس كائنات ميں ايك خدا كے سوا كوئي اور هستي هے جو خدائي کے لائق هے۔ اور جب علم كے دو ذريعوں ميں سے كوئي ذريعه شرك كي گواهي نه دے تو مشركانه عقيده انسان كے لیے كيوں كردرست هوسكتا هے۔ جو شخص خدا كو چھوڑ كر كسي اور چيز كو اپنا سهارا بنائے۔ وه سہارا آخرت كے دن اس سے برأت كرے گا، نه كه وه اس كا مددگار بنے ۔
الأحقاف 46:7
قديم عرب ميں قرآن كے مخاطبين قرآن كے پيغام كو يه كهه كر رد كرديتے تھے كه يه همارے اكابر كے دين كے خلاف هے۔ اور چونكه لوگوں كے اوپر اكابر كي عظمت بيٹھي هوئي تھي وه اس كو مان كر قرآن كے پيغام سے متوحش هوجاتے تھے۔ مگر قرآن كا ايك اور پهلو تھا اور وه اس كا ادبي اعجاز تھا۔ هر عربي داں محسوس كررها تھا كه يه ايك غير معمولي كلام هے۔ اس دوسرے پهلو سے قرآن كي اهميت كو گھٹانے كے ليے انھوں نے كهه ديا كه يه ’’سحر‘‘ هے۔ يعني يه جادو بياني كا كرشمه هے نه كه حقيقت بياني كا كمال۔
يه صحيح هے كه بعض انسانوں كے كلام ميں غير معمولي ادبيت هوتي هے مگر انساني كلام كي ادبيت كي ايك حد هے۔ قرآن كا ادبي اعجاز اس حد سے بهت آگے هے۔ قرآن كي ادبي عظمت اس سے زياده هے كه اس كو انساني دماغ كا كرشمه كهاجاسكے۔
جب فريق ثاني ضد پر اتر آئے تو اس وقت ايك سنجيده انسان يه كرتا هے كه وه يه كهه كر چپ هوجاتا هے كه ميرا اور تمھارا معامله الله كے حوالے هے۔ تاهم يه پسپائي نهيں بلكه ايك اقدامي تدبير هے۔ آدمي جب ايك ضدي كے سامنے چپ هوجائے تو وه اپنے آپ كو اس كے سامنے سے هٹا كر خود اس كو اس كے ضمير كے سامنے كھڑا كرديتا هے تاكه اس كے اندر احساس كا كوئي درجه هو تو وه بیدار هوجائے۔
الأحقاف 46:8
قديم عرب ميں قرآن كے مخاطبين قرآن كے پيغام كو يه كهه كر رد كرديتے تھے كه يه همارے اكابر كے دين كے خلاف هے۔ اور چونكه لوگوں كے اوپر اكابر كي عظمت بيٹھي هوئي تھي وه اس كو مان كر قرآن كے پيغام سے متوحش هوجاتے تھے۔ مگر قرآن كا ايك اور پهلو تھا اور وه اس كا ادبي اعجاز تھا۔ هر عربي داں محسوس كررها تھا كه يه ايك غير معمولي كلام هے۔ اس دوسرے پهلو سے قرآن كي اهميت كو گھٹانے كے ليے انھوں نے كهه ديا كه يه ’’سحر‘‘ هے۔ يعني يه جادو بياني كا كرشمه هے نه كه حقيقت بياني كا كمال۔
يه صحيح هے كه بعض انسانوں كے كلام ميں غير معمولي ادبيت هوتي هے مگر انساني كلام كي ادبيت كي ايك حد هے۔ قرآن كا ادبي اعجاز اس حد سے بهت آگے هے۔ قرآن كي ادبي عظمت اس سے زياده هے كه اس كو انساني دماغ كا كرشمه كهاجاسكے۔
جب فريق ثاني ضد پر اتر آئے تو اس وقت ايك سنجيده انسان يه كرتا هے كه وه يه كهه كر چپ هوجاتا هے كه ميرا اور تمھارا معامله الله كے حوالے هے۔ تاهم يه پسپائي نهيں بلكه ايك اقدامي تدبير هے۔ آدمي جب ايك ضدي كے سامنے چپ هوجائے تو وه اپنے آپ كو اس كے سامنے سے هٹا كر خود اس كو اس كے ضمير كے سامنے كھڑا كرديتا هے تاكه اس كے اندر احساس كا كوئي درجه هو تو وه بیدار هوجائے۔
الأحقاف 46:9
ابتداء ً جو لوگ رسول الله صلي الله عليه وسلم كے ساتھی بنے ان ميں كئي ایسے لوگ تھے جو غريب اور غلام طبقه سے تعلق ركھتے تھے۔ مثلاً بلال ، عمار ، صهيب ، خباب ، وغيره۔ اسي كے ساتھ آپ پر ايمان لانے والوں ميں وه لوگ بھي تھے جو عرب كے معزز خاندانوں سے تعلق ركھتے تھے۔ مثلاً ابو بكر بن أبي قحافه ،عثمان بن عفان، علي ابن ابي طالب، وغيره۔مگر آپ كے مخالفين صرف پهلي قسم كے لوگوں كا ذكر كرتے تھے، وه دوسري قسم كے لوگوں كا ذكر نهيں كرتے تھے۔ اس كي وجه يه هے كه آدمي كو جب كسي سے ضد هوجاتي هے تو وه اس كے بارے ميں يك رخا هوجاتا هے۔ وه اس كے اچھے پهلوؤں كو نظر انداز كرديتا هے اور صرف انھيں پهلوؤں كا ذكر كرتا هے جس كے ذريعه اسے اس كي تحقير كا موقع ملتا هو۔
اسي طرح يه ايك واقعه تھا كه رسول الله صلي الله عليه وسلم كي دعوت وهي تھي جو پچھلے تمام پيغمبروں كي دعوت تھي۔ آپ ايك ابدي صداقت كو لے كر آئے تھے۔اس واقعه كو آپ كے مخالفين ان لفظوں ميں بھي بيان كرسكتے تھے كه ’’يه ايك بهت پرانا سچ هے‘‘۔ مگر انھوں نے يه كهه ديا كه ’’يه ايك بهت پرانا جھوٹ هے‘‘۔ ناانصافي كي يه قسم قديم زمانه كے انسانوں ميں بھي پائي جاتي تھي اور آج بھي وه پوري طرح لوگوںكے اندر پائي جارهي هے۔
الأحقاف 46:10
ابتداء ً جو لوگ رسول الله صلي الله عليه وسلم كے ساتھی بنے ان ميں كئي ایسے لوگ تھے جو غريب اور غلام طبقه سے تعلق ركھتے تھے۔ مثلاً بلال ، عمار ، صهيب ، خباب ، وغيره۔ اسي كے ساتھ آپ پر ايمان لانے والوں ميں وه لوگ بھي تھے جو عرب كے معزز خاندانوں سے تعلق ركھتے تھے۔ مثلاً ابو بكر بن أبي قحافه ،عثمان بن عفان، علي ابن ابي طالب، وغيره۔مگر آپ كے مخالفين صرف پهلي قسم كے لوگوں كا ذكر كرتے تھے، وه دوسري قسم كے لوگوں كا ذكر نهيں كرتے تھے۔ اس كي وجه يه هے كه آدمي كو جب كسي سے ضد هوجاتي هے تو وه اس كے بارے ميں يك رخا هوجاتا هے۔ وه اس كے اچھے پهلوؤں كو نظر انداز كرديتا هے اور صرف انھيں پهلوؤں كا ذكر كرتا هے جس كے ذريعه اسے اس كي تحقير كا موقع ملتا هو۔
اسي طرح يه ايك واقعه تھا كه رسول الله صلي الله عليه وسلم كي دعوت وهي تھي جو پچھلے تمام پيغمبروں كي دعوت تھي۔ آپ ايك ابدي صداقت كو لے كر آئے تھے۔اس واقعه كو آپ كے مخالفين ان لفظوں ميں بھي بيان كرسكتے تھے كه ’’يه ايك بهت پرانا سچ هے‘‘۔ مگر انھوں نے يه كهه ديا كه ’’يه ايك بهت پرانا جھوٹ هے‘‘۔ ناانصافي كي يه قسم قديم زمانه كے انسانوں ميں بھي پائي جاتي تھي اور آج بھي وه پوري طرح لوگوںكے اندر پائي جارهي هے۔
الأحقاف 46:11
ابتداء ً جو لوگ رسول الله صلي الله عليه وسلم كے ساتھی بنے ان ميں كئي ایسے لوگ تھے جو غريب اور غلام طبقه سے تعلق ركھتے تھے۔ مثلاً بلال ، عمار ، صهيب ، خباب ، وغيره۔ اسي كے ساتھ آپ پر ايمان لانے والوں ميں وه لوگ بھي تھے جو عرب كے معزز خاندانوں سے تعلق ركھتے تھے۔ مثلاً ابو بكر بن أبي قحافه ،عثمان بن عفان، علي ابن ابي طالب، وغيره۔مگر آپ كے مخالفين صرف پهلي قسم كے لوگوں كا ذكر كرتے تھے، وه دوسري قسم كے لوگوں كا ذكر نهيں كرتے تھے۔ اس كي وجه يه هے كه آدمي كو جب كسي سے ضد هوجاتي هے تو وه اس كے بارے ميں يك رخا هوجاتا هے۔ وه اس كے اچھے پهلوؤں كو نظر انداز كرديتا هے اور صرف انھيں پهلوؤں كا ذكر كرتا هے جس كے ذريعه اسے اس كي تحقير كا موقع ملتا هو۔
اسي طرح يه ايك واقعه تھا كه رسول الله صلي الله عليه وسلم كي دعوت وهي تھي جو پچھلے تمام پيغمبروں كي دعوت تھي۔ آپ ايك ابدي صداقت كو لے كر آئے تھے۔اس واقعه كو آپ كے مخالفين ان لفظوں ميں بھي بيان كرسكتے تھے كه ’’يه ايك بهت پرانا سچ هے‘‘۔ مگر انھوں نے يه كهه ديا كه ’’يه ايك بهت پرانا جھوٹ هے‘‘۔ ناانصافي كي يه قسم قديم زمانه كے انسانوں ميں بھي پائي جاتي تھي اور آج بھي وه پوري طرح لوگوںكے اندر پائي جارهي هے۔
الأحقاف 46:12
قرآن كي صداقت كي ايك دليل يه هے كه پچھلي آسماني كتابيں اس كي پيشين گوئي كرتي رهي هيں۔ يه پيشين گوئياں آج بھي انجيل اور تورات ميں موجود هيں۔ اس طرح قرآن اپني سابق آسماني پيشين گوئيوں كا مصداق بن كر آيا هے۔ وه ان كي پيشگي اطلاع كو سچ كردكھاتا هے۔ يه ايك واضح قرينه هے جو ثابت كرتا هے كه قرآن، واقعةً ايك خدائي كتاب هے۔ ورنه سيكڑوں اور هزاروں سال پهلے اس كي پيشگي خبر دينا كيسے ممكن هوتا۔
’’قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا‘‘كے سلسله ميں حضرت عبد الله بن عباس سے مروي هے كه اس سے مراد اس كے فرائض كي ادائيگي پر قائم رهنا هے (ثُمَّ اسْتَقامُوا عَلَى أَدَاءِ فَرَائِضِهِ) تفسیر الطبری، جلد 20، صفحہ 425 ۔
ايمان ايك مقدس عهد هے۔ زندگي ميں بار بار ايسے مواقع آتے هيں كه ايك روش آدمي كے عهدِ ايمان كے مطابق هوتي هے اور ايك روش اس كے عهد ايمان كے غير مطابق۔ ايسے مواقع پر جس شخص نے اپنے عهد ايمان كے مطابق عمل كيا اس نےاستقامت دكھائي اور جو شخص اپنے عهد ايمان كے مطابق عمل نه كرسكا وه استقامت دكھانے ميں ناكام رها۔
استقامت کا ثبوت نہ دینے والے لوگ ظالم لوگ ہیں ان کا دعوائے ایمان انھیں کچھ فائدہ نہ دے گا اور جن لوگوں نے استقامت کا ثبوت دیا وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے ابدی باغوں میں بسائے جائیں گے۔
الأحقاف 46:13
قرآن كي صداقت كي ايك دليل يه هے كه پچھلي آسماني كتابيں اس كي پيشين گوئي كرتي رهي هيں۔ يه پيشين گوئياں آج بھي انجيل اور تورات ميں موجود هيں۔ اس طرح قرآن اپني سابق آسماني پيشين گوئيوں كا مصداق بن كر آيا هے۔ وه ان كي پيشگي اطلاع كو سچ كردكھاتا هے۔ يه ايك واضح قرينه هے جو ثابت كرتا هے كه قرآن، واقعةً ايك خدائي كتاب هے۔ ورنه سيكڑوں اور هزاروں سال پهلے اس كي پيشگي خبر دينا كيسے ممكن هوتا۔
’’قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا‘‘كے سلسله ميں حضرت عبد الله بن عباس سے مروي هے كه اس سے مراد اس كے فرائض كي ادائيگي پر قائم رهنا هے (ثُمَّ اسْتَقامُوا عَلَى أَدَاءِ فَرَائِضِهِ) تفسیر الطبری، جلد 20، صفحہ 425 ۔
ايمان ايك مقدس عهد هے۔ زندگي ميں بار بار ايسے مواقع آتے هيں كه ايك روش آدمي كے عهدِ ايمان كے مطابق هوتي هے اور ايك روش اس كے عهد ايمان كے غير مطابق۔ ايسے مواقع پر جس شخص نے اپنے عهد ايمان كے مطابق عمل كيا اس نےاستقامت دكھائي اور جو شخص اپنے عهد ايمان كے مطابق عمل نه كرسكا وه استقامت دكھانے ميں ناكام رها۔
استقامت کا ثبوت نہ دینے والے لوگ ظالم لوگ ہیں ان کا دعوائے ایمان انھیں کچھ فائدہ نہ دے گا اور جن لوگوں نے استقامت کا ثبوت دیا وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے ابدی باغوں میں بسائے جائیں گے۔
الأحقاف 46:14
قرآن كي صداقت كي ايك دليل يه هے كه پچھلي آسماني كتابيں اس كي پيشين گوئي كرتي رهي هيں۔ يه پيشين گوئياں آج بھي انجيل اور تورات ميں موجود هيں۔ اس طرح قرآن اپني سابق آسماني پيشين گوئيوں كا مصداق بن كر آيا هے۔ وه ان كي پيشگي اطلاع كو سچ كردكھاتا هے۔ يه ايك واضح قرينه هے جو ثابت كرتا هے كه قرآن، واقعةً ايك خدائي كتاب هے۔ ورنه سيكڑوں اور هزاروں سال پهلے اس كي پيشگي خبر دينا كيسے ممكن هوتا۔
’’قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا‘‘كے سلسله ميں حضرت عبد الله بن عباس سے مروي هے كه اس سے مراد اس كے فرائض كي ادائيگي پر قائم رهنا هے (ثُمَّ اسْتَقامُوا عَلَى أَدَاءِ فَرَائِضِهِ) تفسیر الطبری، جلد 20، صفحہ 425 ۔
ايمان ايك مقدس عهد هے۔ زندگي ميں بار بار ايسے مواقع آتے هيں كه ايك روش آدمي كے عهدِ ايمان كے مطابق هوتي هے اور ايك روش اس كے عهد ايمان كے غير مطابق۔ ايسے مواقع پر جس شخص نے اپنے عهد ايمان كے مطابق عمل كيا اس نےاستقامت دكھائي اور جو شخص اپنے عهد ايمان كے مطابق عمل نه كرسكا وه استقامت دكھانے ميں ناكام رها۔
استقامت کا ثبوت نہ دینے والے لوگ ظالم لوگ ہیں ان کا دعوائے ایمان انھیں کچھ فائدہ نہ دے گا اور جن لوگوں نے استقامت کا ثبوت دیا وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے ابدی باغوں میں بسائے جائیں گے۔
الأحقاف 46:15
انساني نسل كا طريقه يه هے كه آدمي ايك ماں اور ايك باپ كے ذريعه وجود ميں آتا هے جو اس كي پرورش كركے اس كو بڑا بناتے هيں۔ يه گويا انسان كي تربيت كا فطري نظام هے۔ يه اس ليے هے كه اس كے ذريعے سے انسان كے اندر حقوق وفرائض كا شعور پيدا هو۔اس كے اندر يه جذبه پيدا هو كه اسے اپنے محسن كا احسان ماننا هے اور اس كا حق ادا كرنا هے۔ يه جذبه بيك وقت انسان كو دوسرے انسانوں كے حقوق ادا كرنے كي تعليم ديتا هے اور اسي كے ساتھ خالق ومالك خدا كے عظيم تر حقوق كو ادا كرنے كي تعليم بھي۔
جو لوگ فطرت كے معلم سے سبق ليں۔ جو لوگ اپنے شعور كو اس طرح بيدار كريں كه وه اپنے والدين سے لے كر اپنے خدا تك هر ايك كے حقوق كو پهچانيں اور ان كو ٹھيك ٹھيك ادا كريں، وهي وه لوگ هيں جو آخرت ميں خدا كي ابدي رحمتوں كے مستحق قرار دئے جائيں گے۔
الأحقاف 46:16
انساني نسل كا طريقه يه هے كه آدمي ايك ماں اور ايك باپ كے ذريعه وجود ميں آتا هے جو اس كي پرورش كركے اس كو بڑا بناتے هيں۔ يه گويا انسان كي تربيت كا فطري نظام هے۔ يه اس ليے هے كه اس كے ذريعے سے انسان كے اندر حقوق وفرائض كا شعور پيدا هو۔اس كے اندر يه جذبه پيدا هو كه اسے اپنے محسن كا احسان ماننا هے اور اس كا حق ادا كرنا هے۔ يه جذبه بيك وقت انسان كو دوسرے انسانوں كے حقوق ادا كرنے كي تعليم ديتا هے اور اسي كے ساتھ خالق ومالك خدا كے عظيم تر حقوق كو ادا كرنے كي تعليم بھي۔
جو لوگ فطرت كے معلم سے سبق ليں۔ جو لوگ اپنے شعور كو اس طرح بيدار كريں كه وه اپنے والدين سے لے كر اپنے خدا تك هر ايك كے حقوق كو پهچانيں اور ان كو ٹھيك ٹھيك ادا كريں، وهي وه لوگ هيں جو آخرت ميں خدا كي ابدي رحمتوں كے مستحق قرار دئے جائيں گے۔
الأحقاف 46:17
جو اولاد اپنے والدین كي فرماں بردار هو وه خدا كي بھي فرماں بردار هوتي هے۔ اس كے برعكس، نافرمان اولاد كا حال يه هوتا هے كه وه بڑي عمر كو پهنچتے هي بھول جاتے هيں كه ان كے والدين نے بے شمار مصيبتيں اٹھاكر ان كو اس مقام تك پهنچايا هے۔
كسي شخص كے سب سے زياده خير خواه اس كے والدين هوتے هيں۔ والدين اپني اولاد كو جو مشوره ديتے هيں وه سراسر بے غرضانه خير خواهي پر مبني هوتا هے۔ اس ليے انسان كو چاهيے كه وه اپنے صالح والدين كے مشوروں كا سب سے زياده لحاظ كرے۔ جو شخص اپنے صالح والدين كے مشوروں پر انھيں جھڑك دے وه اپني اس روش سے ظاهر كرتا هے كه وه نهايت سنگ دل انسان هے۔ يهي وه لوگ هيں جو سب سے زياده خساره ميں پڑنے والے هيں۔
الأحقاف 46:18
جو اولاد اپنے والدین كي فرماں بردار هو وه خدا كي بھي فرماں بردار هوتي هے۔ اس كے برعكس، نافرمان اولاد كا حال يه هوتا هے كه وه بڑي عمر كو پهنچتے هي بھول جاتے هيں كه ان كے والدين نے بے شمار مصيبتيں اٹھاكر ان كو اس مقام تك پهنچايا هے۔
كسي شخص كے سب سے زياده خير خواه اس كے والدين هوتے هيں۔ والدين اپني اولاد كو جو مشوره ديتے هيں وه سراسر بے غرضانه خير خواهي پر مبني هوتا هے۔ اس ليے انسان كو چاهيے كه وه اپنے صالح والدين كے مشوروں كا سب سے زياده لحاظ كرے۔ جو شخص اپنے صالح والدين كے مشوروں پر انھيں جھڑك دے وه اپني اس روش سے ظاهر كرتا هے كه وه نهايت سنگ دل انسان هے۔ يهي وه لوگ هيں جو سب سے زياده خساره ميں پڑنے والے هيں۔
الأحقاف 46:19
ايك شخص كے سامنے حق آتا هے اور وه دنيوي مصلحت اور مادي مفاد كي خاطر اس كو اختيار نهيں كرتا۔ اس كا مطلب يه هے كه اس نے آخرت كے مقابله ميں دنيا كو اهميت دي۔ اس نے طيبات آخرت كے مقابله ميں طيبات دنيا كو اپنے ليے پسند كرليا۔
اسي طرح اپني بڑائي كا احساس آدمي كے لیے بے حد لذيذ چيز هے۔ جب ايسا هو كه اپني بڑائي كا گھروندا توڑ كر حق كو قبول كرنا هو اور آدمي اپني بڑائي كو بچانے كے ليے حق كو قبول نه كرے، اس وقت بھي گويا اس نے طيبات دنيا كو ترجيح دي اور طيبات آخرت كو ناقابل لحاظ سمجھ كر چھوڑ ديا۔
ايسے تمام لوگ جنھوں نے دنيا كي طيبات كي خاطر آخرت كي طيبات كو نظر انداز كيا وه آخرت ميں ذلّت كے عذاب سے دوچار هوں گے۔ جس كا عمل جس درجه كا هوگا اسي كے بقدر وه اپنے عمل كا انجام آخرت ميں پائے گا۔
الأحقاف 46:20
ايك شخص كے سامنے حق آتا هے اور وه دنيوي مصلحت اور مادي مفاد كي خاطر اس كو اختيار نهيں كرتا۔ اس كا مطلب يه هے كه اس نے آخرت كے مقابله ميں دنيا كو اهميت دي۔ اس نے طيبات آخرت كے مقابله ميں طيبات دنيا كو اپنے ليے پسند كرليا۔
اسي طرح اپني بڑائي كا احساس آدمي كے لیے بے حد لذيذ چيز هے۔ جب ايسا هو كه اپني بڑائي كا گھروندا توڑ كر حق كو قبول كرنا هو اور آدمي اپني بڑائي كو بچانے كے ليے حق كو قبول نه كرے، اس وقت بھي گويا اس نے طيبات دنيا كو ترجيح دي اور طيبات آخرت كو ناقابل لحاظ سمجھ كر چھوڑ ديا۔
ايسے تمام لوگ جنھوں نے دنيا كي طيبات كي خاطر آخرت كي طيبات كو نظر انداز كيا وه آخرت ميں ذلّت كے عذاب سے دوچار هوں گے۔ جس كا عمل جس درجه كا هوگا اسي كے بقدر وه اپنے عمل كا انجام آخرت ميں پائے گا۔
الأحقاف 46:21
قوم عاد جنوبی عرب کے اس علاقہ میں آباد تھی جس کو اب الربع الخالی کہا جاتا ہے۔ اس قوم نے کافی ترقی کی۔ مگر اس کی ترقیوں نے اس کو غفلت اور سرکشی میں مبتلا کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے ایک فرد حضرت ہود کو پیغمبر بنا کر اس کی طرف بھیجا۔
حضرت ہود نے قوم کو ڈرایا۔ مگر وہ اصلاح قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اس نے اپنے پیغمبر کا استقبال جہالت سے کیا۔ آخر کار وہ خدا کی پکڑ میں آگئی۔ اس پر ایسا سخت عذاب آیا کہ اس کا سرسبز اور شاندارعلاقہ محض ایک خشک صحرا بن کر رہ گیا۔
الأحقاف 46:22
قوم عاد جنوبی عرب کے اس علاقہ میں آباد تھی جس کو اب الربع الخالی کہا جاتا ہے۔ اس قوم نے کافی ترقی کی۔ مگر اس کی ترقیوں نے اس کو غفلت اور سرکشی میں مبتلا کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے ایک فرد حضرت ہود کو پیغمبر بنا کر اس کی طرف بھیجا۔
حضرت ہود نے قوم کو ڈرایا۔ مگر وہ اصلاح قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اس نے اپنے پیغمبر کا استقبال جہالت سے کیا۔ آخر کار وہ خدا کی پکڑ میں آگئی۔ اس پر ایسا سخت عذاب آیا کہ اس کا سرسبز اور شاندارعلاقہ محض ایک خشک صحرا بن کر رہ گیا۔
الأحقاف 46:23
قوم عاد جنوبی عرب کے اس علاقہ میں آباد تھی جس کو اب الربع الخالی کہا جاتا ہے۔ اس قوم نے کافی ترقی کی۔ مگر اس کی ترقیوں نے اس کو غفلت اور سرکشی میں مبتلا کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے ایک فرد حضرت ہود کو پیغمبر بنا کر اس کی طرف بھیجا۔
حضرت ہود نے قوم کو ڈرایا۔ مگر وہ اصلاح قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اس نے اپنے پیغمبر کا استقبال جہالت سے کیا۔ آخر کار وہ خدا کی پکڑ میں آگئی۔ اس پر ایسا سخت عذاب آیا کہ اس کا سرسبز اور شاندارعلاقہ محض ایک خشک صحرا بن کر رہ گیا۔
الأحقاف 46:24
عذاب کے بادل کو عاد کے لوگ بارش کا بادل سمجھے۔ وہ اس کی حقیقت کو صرف اس وقت سمجھ سکے جب کہ عذاب کی آندھی نے ان کی بستیوں میں داخل ہو کر ان کو بالکل کھنڈر بنا دیا، انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ ایک لمحہ پہلے تک بھی حق کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کرتا ہے جب کہ اعتراف کرنے کا موقع اس سے چھین ليا گیا ہو۔
الأحقاف 46:25
عذاب کے بادل کو عاد کے لوگ بارش کا بادل سمجھے۔ وہ اس کی حقیقت کو صرف اس وقت سمجھ سکے جب کہ عذاب کی آندھی نے ان کی بستیوں میں داخل ہو کر ان کو بالکل کھنڈر بنا دیا، انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ ایک لمحہ پہلے تک بھی حق کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کرتا ہے جب کہ اعتراف کرنے کا موقع اس سے چھین ليا گیا ہو۔
الأحقاف 46:26
قریش کے سرداروں کو جو دنیوی مرتبہ حاصل تھا اس نے انہیں سرکش بنا رکھا تھا۔ ان کو یاد دلایا گیا کہ اپنے پڑوس کی قوم عاد کو دیکھو۔ اس کو تمدنی اعتبار سے تم سے بھی زیادہ بڑا درجہ حاصل تھا۔ اس کے باوجودجب خدا کا فیصلہ آیا تو اس کی ساری بڑائی غارت ہو کر رہ گئی۔ ان چیزوں میں سے کوئی چیز اس کا سہارا نہ بن سکی جن کو انہوں نے اپنا سہارا سمجھ رکھا تھا۔
انسان آخر کار خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں چھوٹا ہونے والا ہے۔ مگر دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اسی دنیا میں آدمی کو بار بار دوسروں کے مقابلہ میں چھوٹا ہونا پڑتا ہے۔ اس طرح کے واقعات خدا کی نشانیاں ہیں۔ آدمی اگر ان نشانیوں سے سبق لے تو آخرت کے دن چھوٹا کیے جانے سے پہلے وہ خود اپنے آپ کو چھوٹا کرلے۔ وہ آخرت سے پہلے اسی دنیا میں حقیقت پسند بن جائے۔
انسان کے سامنے مختلف قسم کے واقعات خدائی نشانی بن کر ظاہر ہوتے ہیں ۔ مگر وہ اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔ وہ ان سے سبق لینے کےلیے تیار نہیں ہوتا۔
الأحقاف 46:27
قریش کے سرداروں کو جو دنیوی مرتبہ حاصل تھا اس نے انہیں سرکش بنا رکھا تھا۔ ان کو یاد دلایا گیا کہ اپنے پڑوس کی قوم عاد کو دیکھو۔ اس کو تمدنی اعتبار سے تم سے بھی زیادہ بڑا درجہ حاصل تھا۔ اس کے باوجودجب خدا کا فیصلہ آیا تو اس کی ساری بڑائی غارت ہو کر رہ گئی۔ ان چیزوں میں سے کوئی چیز اس کا سہارا نہ بن سکی جن کو انہوں نے اپنا سہارا سمجھ رکھا تھا۔
انسان آخر کار خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں چھوٹا ہونے والا ہے۔ مگر دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اسی دنیا میں آدمی کو بار بار دوسروں کے مقابلہ میں چھوٹا ہونا پڑتا ہے۔ اس طرح کے واقعات خدا کی نشانیاں ہیں۔ آدمی اگر ان نشانیوں سے سبق لے تو آخرت کے دن چھوٹا کیے جانے سے پہلے وہ خود اپنے آپ کو چھوٹا کرلے۔ وہ آخرت سے پہلے اسی دنیا میں حقیقت پسند بن جائے۔
انسان کے سامنے مختلف قسم کے واقعات خدائی نشانی بن کر ظاہر ہوتے ہیں ۔ مگر وہ اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔ وہ ان سے سبق لینے کےلیے تیار نہیں ہوتا۔
الأحقاف 46:28
قریش کے سرداروں کو جو دنیوی مرتبہ حاصل تھا اس نے انہیں سرکش بنا رکھا تھا۔ ان کو یاد دلایا گیا کہ اپنے پڑوس کی قوم عاد کو دیکھو۔ اس کو تمدنی اعتبار سے تم سے بھی زیادہ بڑا درجہ حاصل تھا۔ اس کے باوجودجب خدا کا فیصلہ آیا تو اس کی ساری بڑائی غارت ہو کر رہ گئی۔ ان چیزوں میں سے کوئی چیز اس کا سہارا نہ بن سکی جن کو انہوں نے اپنا سہارا سمجھ رکھا تھا۔
انسان آخر کار خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں چھوٹا ہونے والا ہے۔ مگر دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اسی دنیا میں آدمی کو بار بار دوسروں کے مقابلہ میں چھوٹا ہونا پڑتا ہے۔ اس طرح کے واقعات خدا کی نشانیاں ہیں۔ آدمی اگر ان نشانیوں سے سبق لے تو آخرت کے دن چھوٹا کیے جانے سے پہلے وہ خود اپنے آپ کو چھوٹا کرلے۔ وہ آخرت سے پہلے اسی دنیا میں حقیقت پسند بن جائے۔
انسان کے سامنے مختلف قسم کے واقعات خدائی نشانی بن کر ظاہر ہوتے ہیں ۔ مگر وہ اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔ وہ ان سے سبق لینے کےلیے تیار نہیں ہوتا۔
الأحقاف 46:29
نبوت کے دسویں سال مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بے حد سخت ہوچکے تھے۔ اس وقت آپ نے مکہ سے طائف کی طرف سفر فرمایا کہ شاید آپ کو کچھ ساتھ دینے والے مل سکیں۔ مگر وہاں کے لوگوں نے آپ کا بہت برُا استقبال کیا۔ واپسی میں آپ رات گزارنے کے لیے نخلہ کے مقام پر ٹھہرے۔ یہاں آپ نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنات کے ایک گروہ نے قرآن کو سنا۔ اور وہ اسی وقت اس کے مومن بن گئے— ایک گروہ قرآن کو رد کر رہا تھا۔ مگر عین اسی وقت دوسرا گروہ قرآن کو قبول کر رہا تھا۔ اور اتنی شدت کے ساتھ قبول کر رہا تھا کہ اسی وقت وہ اس کا مبلغ بن گیا۔
اللہ کے داعی کی بات کو رد کرنا گویا خدا کے منصوبہ کو رد کرنا ہے۔ مگر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے منصوبہ کو رد کرسکے۔ اس لیے ایسی کوشش کرنے والے کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ خود رد ہو کر رہ جاتا ہے۔
الأحقاف 46:30
نبوت کے دسویں سال مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بے حد سخت ہوچکے تھے۔ اس وقت آپ نے مکہ سے طائف کی طرف سفر فرمایا کہ شاید آپ کو کچھ ساتھ دینے والے مل سکیں۔ مگر وہاں کے لوگوں نے آپ کا بہت برُا استقبال کیا۔ واپسی میں آپ رات گزارنے کے لیے نخلہ کے مقام پر ٹھہرے۔ یہاں آپ نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنات کے ایک گروہ نے قرآن کو سنا۔ اور وہ اسی وقت اس کے مومن بن گئے— ایک گروہ قرآن کو رد کر رہا تھا۔ مگر عین اسی وقت دوسرا گروہ قرآن کو قبول کر رہا تھا۔ اور اتنی شدت کے ساتھ قبول کر رہا تھا کہ اسی وقت وہ اس کا مبلغ بن گیا۔
اللہ کے داعی کی بات کو رد کرنا گویا خدا کے منصوبہ کو رد کرنا ہے۔ مگر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے منصوبہ کو رد کرسکے۔ اس لیے ایسی کوشش کرنے والے کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ خود رد ہو کر رہ جاتا ہے۔
الأحقاف 46:31
نبوت کے دسویں سال مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بے حد سخت ہوچکے تھے۔ اس وقت آپ نے مکہ سے طائف کی طرف سفر فرمایا کہ شاید آپ کو کچھ ساتھ دینے والے مل سکیں۔ مگر وہاں کے لوگوں نے آپ کا بہت برُا استقبال کیا۔ واپسی میں آپ رات گزارنے کے لیے نخلہ کے مقام پر ٹھہرے۔ یہاں آپ نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنات کے ایک گروہ نے قرآن کو سنا۔ اور وہ اسی وقت اس کے مومن بن گئے— ایک گروہ قرآن کو رد کر رہا تھا۔ مگر عین اسی وقت دوسرا گروہ قرآن کو قبول کر رہا تھا۔ اور اتنی شدت کے ساتھ قبول کر رہا تھا کہ اسی وقت وہ اس کا مبلغ بن گیا۔
اللہ کے داعی کی بات کو رد کرنا گویا خدا کے منصوبہ کو رد کرنا ہے۔ مگر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے منصوبہ کو رد کرسکے۔ اس لیے ایسی کوشش کرنے والے کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ خود رد ہو کر رہ جاتا ہے۔
الأحقاف 46:32
نبوت کے دسویں سال مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بے حد سخت ہوچکے تھے۔ اس وقت آپ نے مکہ سے طائف کی طرف سفر فرمایا کہ شاید آپ کو کچھ ساتھ دینے والے مل سکیں۔ مگر وہاں کے لوگوں نے آپ کا بہت برُا استقبال کیا۔ واپسی میں آپ رات گزارنے کے لیے نخلہ کے مقام پر ٹھہرے۔ یہاں آپ نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنات کے ایک گروہ نے قرآن کو سنا۔ اور وہ اسی وقت اس کے مومن بن گئے— ایک گروہ قرآن کو رد کر رہا تھا۔ مگر عین اسی وقت دوسرا گروہ قرآن کو قبول کر رہا تھا۔ اور اتنی شدت کے ساتھ قبول کر رہا تھا کہ اسی وقت وہ اس کا مبلغ بن گیا۔
اللہ کے داعی کی بات کو رد کرنا گویا خدا کے منصوبہ کو رد کرنا ہے۔ مگر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے منصوبہ کو رد کرسکے۔ اس لیے ایسی کوشش کرنے والے کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ خود رد ہو کر رہ جاتا ہے۔
الأحقاف 46:33
زمین و آسمان جیسی عظیم کائنات کا وجود میں آنا، اور پھر اربوں سال سے اس کا نہایت صحت اور ہم آہنگی کے ساتھ چلتے رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا عظیم ترین طاقتوں کا مالک ہے۔ نیز یہ کہ اس کائنات کو وجود میں لانا اس کے لیے عجز کا باعث نہیں بنا۔ تخلیق کا عمل اگر اسے تھکا دیتا تو تخلیق کے بعد وہ اتنی صحت کے ساتھ چلتی ہوئی نظر نہ آتی۔
خدا کی عظیم طاقت و قدرت کا مظاہرہ جو کائنات کی سطح پر ہو رہا ہے وہ یہ یقین کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسانی نسل کو دوبارہ زندہ کرنا اور اس سے اس کے اعمال کا حساب لینا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں۔
موجودہ دنیا میں آدمی کے سامنے حقیقت آتی ہے مگر وہ اس کو نہیں مانتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں حقیقت کے انکار کا انجام فوراً سامنے نہیں آتا۔ آخرت میں انکار کا ہولناک انجام ہر آدمی کے سامنے ہوگا۔ اس وقت وہ انتہائی حد تک سنجیدہ ہوجائے گا اور اس حقیقت کا فوراً اقرار کرلے گاجس کو موجودہ دنیا میں وہ ماننے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔
الأحقاف 46:34
زمین و آسمان جیسی عظیم کائنات کا وجود میں آنا، اور پھر اربوں سال سے اس کا نہایت صحت اور ہم آہنگی کے ساتھ چلتے رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا عظیم ترین طاقتوں کا مالک ہے۔ نیز یہ کہ اس کائنات کو وجود میں لانا اس کے لیے عجز کا باعث نہیں بنا۔ تخلیق کا عمل اگر اسے تھکا دیتا تو تخلیق کے بعد وہ اتنی صحت کے ساتھ چلتی ہوئی نظر نہ آتی۔
خدا کی عظیم طاقت و قدرت کا مظاہرہ جو کائنات کی سطح پر ہو رہا ہے وہ یہ یقین کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسانی نسل کو دوبارہ زندہ کرنا اور اس سے اس کے اعمال کا حساب لینا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں۔
موجودہ دنیا میں آدمی کے سامنے حقیقت آتی ہے مگر وہ اس کو نہیں مانتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں حقیقت کے انکار کا انجام فوراً سامنے نہیں آتا۔ آخرت میں انکار کا ہولناک انجام ہر آدمی کے سامنے ہوگا۔ اس وقت وہ انتہائی حد تک سنجیدہ ہوجائے گا اور اس حقیقت کا فوراً اقرار کرلے گاجس کو موجودہ دنیا میں وہ ماننے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔
الأحقاف 46:35
حق کی دعوت دینے والے کو ہمیشہ صبر کی زمین پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ صبر در اصل اس کا نام ہے کہ مدعو کی ایذا رسانیوں کو داعی یک طرفہ طور پر نظر انداز کرے۔ وہ مدعو کے ضد اور انکار کے باوجود مسلسل اس کو دعوت پہنچاتا رہے۔ داعی اپنے مدعو کا ہرحال میں خیر خواہ بنا رہے۔ خواہ مدعو کی طرف سے اس کو کتنی ہی زیادہ ناخوش گواریوں کا تجربہ کیوں نہ ہو رہا ہو۔ یہ یک طرفہ صبر اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر مدعو کے اوپر خدا کی حجت تمام نہیں ہوتی۔
خدا کے تمام پیغمبروں نے ہر زمانہ میں اسی طرح صبر و استقامت کے ساتھ دعوت حق کا کام کیا ہے۔ آئندہ بھی پیغمبروں کی نیابت میں جو لوگ دعوت حق کا کام کریں ان کو اسی نمونہ پر دعوت کا کام کرنا ہے۔ خدا کے یہاں داعی کا مقام صرف انہیں لوگوں کے لیے مقدر ہے جو یک طرفہ برداشت کا حوصلہ دکھا سکیں۔