Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) — محمد 47:1 – النجم 53:62
Contents
- محمد 47:1
- محمد 47:2
- محمد 47:3
- محمد 47:4
- محمد 47:5
- محمد 47:6
- محمد 47:7
- محمد 47:8
- محمد 47:9
- محمد 47:10
- محمد 47:11
- محمد 47:12
- محمد 47:13
- محمد 47:14
- محمد 47:15
- محمد 47:16
- محمد 47:17
- محمد 47:18
- محمد 47:19
- محمد 47:20
- محمد 47:21
- محمد 47:22
- محمد 47:23
- محمد 47:24
- محمد 47:25
- محمد 47:26
- محمد 47:27
- محمد 47:28
- محمد 47:29
- محمد 47:30
- محمد 47:31
- محمد 47:32
- محمد 47:33
- محمد 47:34
- محمد 47:35
- محمد 47:36
- محمد 47:37
- محمد 47:38
- الفتح 48:1
- الفتح 48:2
- الفتح 48:3
- الفتح 48:4
- الفتح 48:5
- الفتح 48:6
- الفتح 48:7
- الفتح 48:8
- الفتح 48:9
- الفتح 48:10
- الفتح 48:11
- الفتح 48:12
- الفتح 48:13
- الفتح 48:14
- الفتح 48:15
- الفتح 48:16
- الفتح 48:17
- الفتح 48:18
- الفتح 48:19
- الفتح 48:20
- الفتح 48:21
- الفتح 48:22
- الفتح 48:23
- الفتح 48:24
- الفتح 48:25
- الفتح 48:26
- الفتح 48:27
- الفتح 48:28
- الفتح 48:29
- الحجرات 49:1
- الحجرات 49:2
- الحجرات 49:3
- الحجرات 49:4
- الحجرات 49:5
- الحجرات 49:6
- الحجرات 49:7
- الحجرات 49:8
- الحجرات 49:9
- الحجرات 49:10
- الحجرات 49:11
- الحجرات 49:12
- الحجرات 49:13
- الحجرات 49:14
- الحجرات 49:15
- الحجرات 49:16
- الحجرات 49:17
- الحجرات 49:18
- ق 50:1
- ق 50:2
- ق 50:3
- ق 50:4
- ق 50:5
- ق 50:6
- ق 50:7
- ق 50:8
- ق 50:9
- ق 50:10
- ق 50:11
- ق 50:12
- ق 50:13
- ق 50:14
- ق 50:15
- ق 50:16
- ق 50:17
- ق 50:18
- ق 50:19
- ق 50:20
- ق 50:21
- ق 50:22
- ق 50:23
- ق 50:24
- ق 50:25
- ق 50:26
- ق 50:27
- ق 50:28
- ق 50:29
- ق 50:30
- ق 50:31
- ق 50:32
- ق 50:33
- ق 50:34
- ق 50:35
- ق 50:36
- ق 50:37
- ق 50:38
- ق 50:39
- ق 50:40
- ق 50:41
- ق 50:42
- ق 50:43
- ق 50:44
- ق 50:45
- الذاريات 51:1
- الذاريات 51:2
- الذاريات 51:3
- الذاريات 51:4
- الذاريات 51:5
- الذاريات 51:6
- الذاريات 51:7
- الذاريات 51:8
- الذاريات 51:9
- الذاريات 51:10
- الذاريات 51:11
- الذاريات 51:12
- الذاريات 51:13
- الذاريات 51:14
- الذاريات 51:15
- الذاريات 51:16
- الذاريات 51:17
- الذاريات 51:18
- الذاريات 51:19
- الذاريات 51:20
- الذاريات 51:21
- الذاريات 51:22
- الذاريات 51:23
- الذاريات 51:24
- الذاريات 51:25
- الذاريات 51:26
- الذاريات 51:27
- الذاريات 51:28
- الذاريات 51:29
- الذاريات 51:30
- الذاريات 51:31
- الذاريات 51:32
- الذاريات 51:33
- الذاريات 51:34
- الذاريات 51:35
- الذاريات 51:36
- الذاريات 51:37
- الذاريات 51:38
- الذاريات 51:39
- الذاريات 51:40
- الذاريات 51:41
- الذاريات 51:42
- الذاريات 51:43
- الذاريات 51:44
- الذاريات 51:45
- الذاريات 51:46
- الذاريات 51:47
- الذاريات 51:48
- الذاريات 51:49
- الذاريات 51:50
- الذاريات 51:51
- الذاريات 51:52
- الذاريات 51:53
- الذاريات 51:54
- الذاريات 51:55
- الذاريات 51:56
- الذاريات 51:57
- الذاريات 51:58
- الذاريات 51:59
- الذاريات 51:60
- الطور 52:1
- الطور 52:2
- الطور 52:3
- الطور 52:4
- الطور 52:5
- الطور 52:6
- الطور 52:7
- الطور 52:8
- الطور 52:9
- الطور 52:10
- الطور 52:11
- الطور 52:12
- الطور 52:13
- الطور 52:14
- الطور 52:15
- الطور 52:16
- الطور 52:17
- الطور 52:18
- الطور 52:19
- الطور 52:20
- الطور 52:21
- الطور 52:22
- الطور 52:23
- الطور 52:24
- الطور 52:25
- الطور 52:26
- الطور 52:27
- الطور 52:28
- الطور 52:29
- الطور 52:30
- الطور 52:31
- الطور 52:32
- الطور 52:33
- الطور 52:34
- الطور 52:35
- الطور 52:36
- الطور 52:37
- الطور 52:38
- الطور 52:39
- الطور 52:40
- الطور 52:41
- الطور 52:42
- الطور 52:43
- الطور 52:44
- الطور 52:45
- الطور 52:46
- الطور 52:47
- الطور 52:48
- الطور 52:49
- النجم 53:1
- النجم 53:2
- النجم 53:3
- النجم 53:4
- النجم 53:5
- النجم 53:6
- النجم 53:7
- النجم 53:8
- النجم 53:9
- النجم 53:10
- النجم 53:11
- النجم 53:12
- النجم 53:13
- النجم 53:14
- النجم 53:15
- النجم 53:16
- النجم 53:17
- النجم 53:18
- النجم 53:19
- النجم 53:20
- النجم 53:21
- النجم 53:22
- النجم 53:23
- النجم 53:24
- النجم 53:25
- النجم 53:26
- النجم 53:27
- النجم 53:28
- النجم 53:29
- النجم 53:30
- النجم 53:31
- النجم 53:32
- النجم 53:33
- النجم 53:34
- النجم 53:35
- النجم 53:36
- النجم 53:37
- النجم 53:38
- النجم 53:39
- النجم 53:40
- النجم 53:41
- النجم 53:42
- النجم 53:43
- النجم 53:44
- النجم 53:45
- النجم 53:46
- النجم 53:47
- النجم 53:48
- النجم 53:49
- النجم 53:50
- النجم 53:51
- النجم 53:52
- النجم 53:53
- النجم 53:54
- النجم 53:55
- النجم 53:56
- النجم 53:57
- النجم 53:58
- النجم 53:59
- النجم 53:60
- النجم 53:61
- النجم 53:62
محمد 47:1
قدیم عرب میں جن لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا اور آپ کی مخالفت کی ان کے اعمال ضائع ہوگئے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ انہوں نے چوں کہ شعوری سطح پر دین داری کا ثبوت نہیں دیا اس لیے ان کے وہ اعمال بھی بے قیمت قرار پائے جو وہ روایتی دینداری کی سطح پر انجام دے رہے تھے۔
قدیم عرب کے لوگ اپنے آپ کو ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی امت سمجھتے تھے۔ انہیں خانہ کعبہ کا منتظم ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ ان کے یہاں کسی نہ کسی شکل میں نماز، روزہ، حج کا رواج بھی موجود تھا۔ حاجیوں کی خدمت، رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک، مہمانوں کی تواضع کا بھی ان کے یہاں چرچا تھا۔ یہ سب کام اگرچہ وہ بظاہر کر رہے تھے مگر وہ ان کی شعوری دینداری کا حصہ نہ تھے۔ وہ محض روایتی طور پر ان کی زندگی کا جزء بنے ہوئے تھے۔ ان اعمال کو وہ اس لیے کر رہے تھے کہ وہ صدیوں سے ان کے درمیان رائج چلے آ رہے تھے۔
مگر وقت کے پیغمبر کو پہچاننے کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے شعور کو متحرک کریں۔ وہ ذاتی معرفت کی سطح پر اسے پائیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت قدیم روایات کا زور شامل نہ تھا اس لیے آپ کو وہی شخص پہچان سکتا تھا جو ذاتی شعور کی سطح پر حقیقت کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جب انہوں نے وقت کے پیغمبر کا انکار کیا تو یہ ثابت ہوگیا کہ ان کی دینداری محض روایت کے تحت ہے، نہ کہ شعور کے تحت۔ اور اللہ کو شعوری دین داری مطلوب ہے، نہ کہ محض روایتی دینداری۔
اس کے برعکس، جو لوگ وقت کے پیغمبر پر ایمان لائے ۔ انہوں نے یہ ثبوت دیا کہ وہ شعور کی سطح پر دین دار بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ خدا کے یہاں قابل قبول اور قابل انعام قرار پائے۔ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ ماضی کے زور پر ماننے والے لوگ حال کی معرفت کے امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کی نظر سے دیکھنے والے اپنی نظر سے دیکھنے میں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔
محمد 47:2
قدیم عرب میں جن لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا اور آپ کی مخالفت کی ان کے اعمال ضائع ہوگئے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ انہوں نے چوں کہ شعوری سطح پر دین داری کا ثبوت نہیں دیا اس لیے ان کے وہ اعمال بھی بے قیمت قرار پائے جو وہ روایتی دینداری کی سطح پر انجام دے رہے تھے۔
قدیم عرب کے لوگ اپنے آپ کو ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی امت سمجھتے تھے۔ انہیں خانہ کعبہ کا منتظم ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ ان کے یہاں کسی نہ کسی شکل میں نماز، روزہ، حج کا رواج بھی موجود تھا۔ حاجیوں کی خدمت، رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک، مہمانوں کی تواضع کا بھی ان کے یہاں چرچا تھا۔ یہ سب کام اگرچہ وہ بظاہر کر رہے تھے مگر وہ ان کی شعوری دینداری کا حصہ نہ تھے۔ وہ محض روایتی طور پر ان کی زندگی کا جزء بنے ہوئے تھے۔ ان اعمال کو وہ اس لیے کر رہے تھے کہ وہ صدیوں سے ان کے درمیان رائج چلے آ رہے تھے۔
مگر وقت کے پیغمبر کو پہچاننے کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے شعور کو متحرک کریں۔ وہ ذاتی معرفت کی سطح پر اسے پائیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت قدیم روایات کا زور شامل نہ تھا اس لیے آپ کو وہی شخص پہچان سکتا تھا جو ذاتی شعور کی سطح پر حقیقت کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جب انہوں نے وقت کے پیغمبر کا انکار کیا تو یہ ثابت ہوگیا کہ ان کی دینداری محض روایت کے تحت ہے، نہ کہ شعور کے تحت۔ اور اللہ کو شعوری دین داری مطلوب ہے، نہ کہ محض روایتی دینداری۔
اس کے برعکس، جو لوگ وقت کے پیغمبر پر ایمان لائے ۔ انہوں نے یہ ثبوت دیا کہ وہ شعور کی سطح پر دین دار بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ خدا کے یہاں قابل قبول اور قابل انعام قرار پائے۔ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ ماضی کے زور پر ماننے والے لوگ حال کی معرفت کے امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کی نظر سے دیکھنے والے اپنی نظر سے دیکھنے میں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔
محمد 47:3
قدیم عرب میں جن لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا اور آپ کی مخالفت کی ان کے اعمال ضائع ہوگئے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ انہوں نے چوں کہ شعوری سطح پر دین داری کا ثبوت نہیں دیا اس لیے ان کے وہ اعمال بھی بے قیمت قرار پائے جو وہ روایتی دینداری کی سطح پر انجام دے رہے تھے۔
قدیم عرب کے لوگ اپنے آپ کو ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی امت سمجھتے تھے۔ انہیں خانہ کعبہ کا منتظم ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ ان کے یہاں کسی نہ کسی شکل میں نماز، روزہ، حج کا رواج بھی موجود تھا۔ حاجیوں کی خدمت، رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک، مہمانوں کی تواضع کا بھی ان کے یہاں چرچا تھا۔ یہ سب کام اگرچہ وہ بظاہر کر رہے تھے مگر وہ ان کی شعوری دینداری کا حصہ نہ تھے۔ وہ محض روایتی طور پر ان کی زندگی کا جزء بنے ہوئے تھے۔ ان اعمال کو وہ اس لیے کر رہے تھے کہ وہ صدیوں سے ان کے درمیان رائج چلے آ رہے تھے۔
مگر وقت کے پیغمبر کو پہچاننے کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے شعور کو متحرک کریں۔ وہ ذاتی معرفت کی سطح پر اسے پائیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت قدیم روایات کا زور شامل نہ تھا اس لیے آپ کو وہی شخص پہچان سکتا تھا جو ذاتی شعور کی سطح پر حقیقت کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جب انہوں نے وقت کے پیغمبر کا انکار کیا تو یہ ثابت ہوگیا کہ ان کی دینداری محض روایت کے تحت ہے، نہ کہ شعور کے تحت۔ اور اللہ کو شعوری دین داری مطلوب ہے، نہ کہ محض روایتی دینداری۔
اس کے برعکس، جو لوگ وقت کے پیغمبر پر ایمان لائے ۔ انہوں نے یہ ثبوت دیا کہ وہ شعور کی سطح پر دین دار بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ خدا کے یہاں قابل قبول اور قابل انعام قرار پائے۔ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ ماضی کے زور پر ماننے والے لوگ حال کی معرفت کے امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کی نظر سے دیکھنے والے اپنی نظر سے دیکھنے میں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔
محمد 47:4
یہاں انکار کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اتمام حجت کے باوجود ایمان نہیں لائے اور مزید یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ دی اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفاعی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم دیا گیا کہ جب ان سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو ان سے لڑ کر ان کا زور توڑ دو، تاکہ وہ آئندہ دعوت حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون رہا ہے کہ جن قوموں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا وہ اتمام حجت کے بعد ہلاک کردی گئیں۔ مگر پیغمبر آخر الزماں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ شرک کا دور ختم کیا جائے اور توحید کی بنیاد پر ایک نئی تاریخ وجود میں لائی جائے۔ ایسے تاریخ ساز انسانوں کا انتخاب سخت ترین حالات ہی میں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ مخالفین کی طرف سے چھیڑی ہوئی جنگ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھیوں کو داخل کرکے یہی فائدہ حاصل کیا گیا۔
جنت مومن کی ایک انتہائی معلوم چیز ہے۔ وہ نہ صرف پیغمبر سے اس کی خبر سنتا ہے بلکہ اپنی بڑھی ہوئی معرفت کے ذریعہ وہ اس کا تصوراتی ادراک بھی کرلیتا ہے۔ غیب میں چھپی ہوئی جنت کا یہی گہرا ادراک ہے جو آدمی کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ قربانی کی قیمت پر اس کا طالب بن سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کوئی شخص آج کی دنیا کو قربان کرکے کل کی جنت کا امیدوار نہ بنے۔
محمد 47:5
یہاں انکار کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اتمام حجت کے باوجود ایمان نہیں لائے اور مزید یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ دی اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفاعی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم دیا گیا کہ جب ان سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو ان سے لڑ کر ان کا زور توڑ دو، تاکہ وہ آئندہ دعوت حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون رہا ہے کہ جن قوموں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا وہ اتمام حجت کے بعد ہلاک کردی گئیں۔ مگر پیغمبر آخر الزماں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ شرک کا دور ختم کیا جائے اور توحید کی بنیاد پر ایک نئی تاریخ وجود میں لائی جائے۔ ایسے تاریخ ساز انسانوں کا انتخاب سخت ترین حالات ہی میں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ مخالفین کی طرف سے چھیڑی ہوئی جنگ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھیوں کو داخل کرکے یہی فائدہ حاصل کیا گیا۔
جنت مومن کی ایک انتہائی معلوم چیز ہے۔ وہ نہ صرف پیغمبر سے اس کی خبر سنتا ہے بلکہ اپنی بڑھی ہوئی معرفت کے ذریعہ وہ اس کا تصوراتی ادراک بھی کرلیتا ہے۔ غیب میں چھپی ہوئی جنت کا یہی گہرا ادراک ہے جو آدمی کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ قربانی کی قیمت پر اس کا طالب بن سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کوئی شخص آج کی دنیا کو قربان کرکے کل کی جنت کا امیدوار نہ بنے۔
محمد 47:6
یہاں انکار کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اتمام حجت کے باوجود ایمان نہیں لائے اور مزید یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ دی اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفاعی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم دیا گیا کہ جب ان سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو ان سے لڑ کر ان کا زور توڑ دو، تاکہ وہ آئندہ دعوت حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون رہا ہے کہ جن قوموں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا وہ اتمام حجت کے بعد ہلاک کردی گئیں۔ مگر پیغمبر آخر الزماں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ شرک کا دور ختم کیا جائے اور توحید کی بنیاد پر ایک نئی تاریخ وجود میں لائی جائے۔ ایسے تاریخ ساز انسانوں کا انتخاب سخت ترین حالات ہی میں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ مخالفین کی طرف سے چھیڑی ہوئی جنگ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھیوں کو داخل کرکے یہی فائدہ حاصل کیا گیا۔
جنت مومن کی ایک انتہائی معلوم چیز ہے۔ وہ نہ صرف پیغمبر سے اس کی خبر سنتا ہے بلکہ اپنی بڑھی ہوئی معرفت کے ذریعہ وہ اس کا تصوراتی ادراک بھی کرلیتا ہے۔ غیب میں چھپی ہوئی جنت کا یہی گہرا ادراک ہے جو آدمی کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ قربانی کی قیمت پر اس کا طالب بن سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کوئی شخص آج کی دنیا کو قربان کرکے کل کی جنت کا امیدوار نہ بنے۔
محمد 47:7
عرب میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا ان کو آپ نے یہ پیشگی خبر دی کہ تم جو کھاپی رہے ہو تو یہ مت سمجھو کہ تم آزاد ہو تم پوری طرح خدا کی گرفت میں ہو۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر تم اپنے انکار پر قائم رہے تو خدا کے قانون کے مطابق تم تباہ کردیے جاؤگے۔
یہ واقعہ عین پیشین گوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔ توحید کے علم بردار غالب آئے اور جو لوگ شرک کے علم بردار بنے ہوئے تھے وہ ہمیشہ کے لیے نابود ہوگئے۔
محمد 47:8
عرب میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا ان کو آپ نے یہ پیشگی خبر دی کہ تم جو کھاپی رہے ہو تو یہ مت سمجھو کہ تم آزاد ہو تم پوری طرح خدا کی گرفت میں ہو۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر تم اپنے انکار پر قائم رہے تو خدا کے قانون کے مطابق تم تباہ کردیے جاؤگے۔
یہ واقعہ عین پیشین گوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔ توحید کے علم بردار غالب آئے اور جو لوگ شرک کے علم بردار بنے ہوئے تھے وہ ہمیشہ کے لیے نابود ہوگئے۔
محمد 47:9
عرب میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا ان کو آپ نے یہ پیشگی خبر دی کہ تم جو کھاپی رہے ہو تو یہ مت سمجھو کہ تم آزاد ہو تم پوری طرح خدا کی گرفت میں ہو۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر تم اپنے انکار پر قائم رہے تو خدا کے قانون کے مطابق تم تباہ کردیے جاؤگے۔
یہ واقعہ عین پیشین گوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔ توحید کے علم بردار غالب آئے اور جو لوگ شرک کے علم بردار بنے ہوئے تھے وہ ہمیشہ کے لیے نابود ہوگئے۔
محمد 47:10
عرب میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا ان کو آپ نے یہ پیشگی خبر دی کہ تم جو کھاپی رہے ہو تو یہ مت سمجھو کہ تم آزاد ہو تم پوری طرح خدا کی گرفت میں ہو۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر تم اپنے انکار پر قائم رہے تو خدا کے قانون کے مطابق تم تباہ کردیے جاؤگے۔
یہ واقعہ عین پیشین گوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔ توحید کے علم بردار غالب آئے اور جو لوگ شرک کے علم بردار بنے ہوئے تھے وہ ہمیشہ کے لیے نابود ہوگئے۔
محمد 47:11
عرب میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا ان کو آپ نے یہ پیشگی خبر دی کہ تم جو کھاپی رہے ہو تو یہ مت سمجھو کہ تم آزاد ہو تم پوری طرح خدا کی گرفت میں ہو۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر تم اپنے انکار پر قائم رہے تو خدا کے قانون کے مطابق تم تباہ کردیے جاؤگے۔
یہ واقعہ عین پیشین گوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔ توحید کے علم بردار غالب آئے اور جو لوگ شرک کے علم بردار بنے ہوئے تھے وہ ہمیشہ کے لیے نابود ہوگئے۔
محمد 47:12
عرب میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا ان کو آپ نے یہ پیشگی خبر دی کہ تم جو کھاپی رہے ہو تو یہ مت سمجھو کہ تم آزاد ہو تم پوری طرح خدا کی گرفت میں ہو۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر تم اپنے انکار پر قائم رہے تو خدا کے قانون کے مطابق تم تباہ کردیے جاؤگے۔
یہ واقعہ عین پیشین گوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔ توحید کے علم بردار غالب آئے اور جو لوگ شرک کے علم بردار بنے ہوئے تھے وہ ہمیشہ کے لیے نابود ہوگئے۔
محمد 47:13
عرب میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا ان کو آپ نے یہ پیشگی خبر دی کہ تم جو کھاپی رہے ہو تو یہ مت سمجھو کہ تم آزاد ہو تم پوری طرح خدا کی گرفت میں ہو۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر تم اپنے انکار پر قائم رہے تو خدا کے قانون کے مطابق تم تباہ کردیے جاؤگے۔
یہ واقعہ عین پیشین گوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔ توحید کے علم بردار غالب آئے اور جو لوگ شرک کے علم بردار بنے ہوئے تھے وہ ہمیشہ کے لیے نابود ہوگئے۔
محمد 47:14
بینہ (دلیل) پر کھڑا ہونا اپنی زندگی کی تعمیر حقیقت واقعہ کی بنیاد پر کرنا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص اہواء (اپنی خواہشات) پر کھڑا ہوتا ہے وہ حقیقت واقعہ سے انحراف کرتا ہے، وہ خدا کی دنیا میں خدا کی مرضی کے خلاف اپنی دنیا بنانا چاہتا ہے۔
موجودہ امتحان کی دنیا میں دونوں گروہ بظاہر یکساں مواقع پا رہے ہیں۔ مگر آخرت کی حقیقی دنیا میں صرف پہلا گروہ خدا کی ابدی نعمتوں میں سے حصہ پائےگا اور دوسرا گروہ ہمیشہ کے لیے ذلیل و ناکام ہو کر رہ جائے گا۔
محمد 47:15
بینہ (دلیل) پر کھڑا ہونا اپنی زندگی کی تعمیر حقیقت واقعہ کی بنیاد پر کرنا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص اہواء (اپنی خواہشات) پر کھڑا ہوتا ہے وہ حقیقت واقعہ سے انحراف کرتا ہے، وہ خدا کی دنیا میں خدا کی مرضی کے خلاف اپنی دنیا بنانا چاہتا ہے۔
موجودہ امتحان کی دنیا میں دونوں گروہ بظاہر یکساں مواقع پا رہے ہیں۔ مگر آخرت کی حقیقی دنیا میں صرف پہلا گروہ خدا کی ابدی نعمتوں میں سے حصہ پائےگا اور دوسرا گروہ ہمیشہ کے لیے ذلیل و ناکام ہو کر رہ جائے گا۔
محمد 47:16
منافق آدمی کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ سنجیدہ مجلس میں بیٹھتا ہے تو بظاہر بہت با ادب نظر آتا ہے مگر اس کا ذہن دوسری دوسری چیزوں میں لگا رہتا ہے وہ مجلس میں بیٹھ کر بھی مجلس کی بات نہیں سن پاتا۔ چنانچہ جب وہ مجلس سے باہر آتا ہے تو دوسرے اصحاب علم سے پوچھتا ہے کہ ’’حضرت نے کیا فرمایا‘‘۔
یہ وہ قیمت ہے جو اپنی خواہش پرستی کی بنا پر انہیں ادا کرنی پڑتی ہے۔ وہ اپنے اوپر اپنی خواہش کو غالب کرلیتے ہیں۔ وہ دلیل کی پیروی کرنے کے بجائے اپنی خواہش کی پیروی کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے ان کے احساسات کند ہوجاتے ہیں۔ ان کی عقل اس قابل نہیں رہتی کہ وہ بلند حقیقتوں کا ادراک کرسکے۔
اس کے برعکس، جو لوگ حقیقتوں کو اہمیت دیں، جو سچی دلیل کے آگے جھک جائیں، وہ اس عمل سے اپنی فکری صلاحیت کو زندہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی معرفت میں دن بدن اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ان کو ابدی طور پر جمود سے نا آشنا ایمان حاصل ہوجاتا ہے۔
محمد 47:17
منافق آدمی کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ سنجیدہ مجلس میں بیٹھتا ہے تو بظاہر بہت با ادب نظر آتا ہے مگر اس کا ذہن دوسری دوسری چیزوں میں لگا رہتا ہے وہ مجلس میں بیٹھ کر بھی مجلس کی بات نہیں سن پاتا۔ چنانچہ جب وہ مجلس سے باہر آتا ہے تو دوسرے اصحاب علم سے پوچھتا ہے کہ ’’حضرت نے کیا فرمایا‘‘۔
یہ وہ قیمت ہے جو اپنی خواہش پرستی کی بنا پر انہیں ادا کرنی پڑتی ہے۔ وہ اپنے اوپر اپنی خواہش کو غالب کرلیتے ہیں۔ وہ دلیل کی پیروی کرنے کے بجائے اپنی خواہش کی پیروی کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے ان کے احساسات کند ہوجاتے ہیں۔ ان کی عقل اس قابل نہیں رہتی کہ وہ بلند حقیقتوں کا ادراک کرسکے۔
اس کے برعکس، جو لوگ حقیقتوں کو اہمیت دیں، جو سچی دلیل کے آگے جھک جائیں، وہ اس عمل سے اپنی فکری صلاحیت کو زندہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی معرفت میں دن بدن اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ان کو ابدی طور پر جمود سے نا آشنا ایمان حاصل ہوجاتا ہے۔
محمد 47:18
زلزلہ کے آنے کی پیشگی اطلاع سے جو شخص چوکنّا نہ ہو وہ گویا زلزلہ کے آنے کا منتظر ہے۔ کیوں کہ ہر اگلا لمحہ زلزلہ کو اس کے قریب لا رہا ہے۔ اسی طرح قیامت کی چیتاونی سے آدمی متنبہ نہیں ہوتا مگر جب قیامت اس کے سر پر ٹوٹ پڑے گی تو وہ اعتراف کرنے لگے گا۔ مگر اس وقت کا اعتراف اسے فائدہ نہ دے گا۔ کیونکہ اعتراف وہ ہے جو پردہ اٹھنے سے پہلے کیا جائے۔ پردہ اٹھنے کے بعد اعتراف کی کوئی قیمت نہیں۔
استغفار در اصل احساس عجز کا ایک اظہار ہے۔ قیامت کی ہولناکی کا یقین اور اللہ کی قدرت اور اس کے ہر چیز سے باخبر ہونے کا احساس آدمی کے اندر جو نفسیاتی ہیجان پیدا کرتا ہے وہ ہر لمحہ لطیف کلمات میں ڈھلتا رہتا ہے۔ انہیں کلمات کو ذکر اور دعا اور استغفار کہا جاتا ہے۔
محمد 47:19
زلزلہ کے آنے کی پیشگی اطلاع سے جو شخص چوکنّا نہ ہو وہ گویا زلزلہ کے آنے کا منتظر ہے۔ کیوں کہ ہر اگلا لمحہ زلزلہ کو اس کے قریب لا رہا ہے۔ اسی طرح قیامت کی چیتاونی سے آدمی متنبہ نہیں ہوتا مگر جب قیامت اس کے سر پر ٹوٹ پڑے گی تو وہ اعتراف کرنے لگے گا۔ مگر اس وقت کا اعتراف اسے فائدہ نہ دے گا۔ کیونکہ اعتراف وہ ہے جو پردہ اٹھنے سے پہلے کیا جائے۔ پردہ اٹھنے کے بعد اعتراف کی کوئی قیمت نہیں۔
استغفار در اصل احساس عجز کا ایک اظہار ہے۔ قیامت کی ہولناکی کا یقین اور اللہ کی قدرت اور اس کے ہر چیز سے باخبر ہونے کا احساس آدمی کے اندر جو نفسیاتی ہیجان پیدا کرتا ہے وہ ہر لمحہ لطیف کلمات میں ڈھلتا رہتا ہے۔ انہیں کلمات کو ذکر اور دعا اور استغفار کہا جاتا ہے۔
محمد 47:20
منافق کی پہچان یہ ہے کہ وہ الفاظ میں سب سے آگے اور عمل میں سب سے پیچھے ہو۔ جہاد سے پہلے وہ جہاد کی باتیں کرے اور جب جہاد واقعۃً پیش آجائے تو وہ اس سے بھاگ کھڑا ہو۔
سچے اہل ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہروقت سننے اور ماننے کے لیے تیار رہے اور جب کسی سخت اقدام کا فیصلہ ہوجائے تو اپنے عمل سے ثابت کردے کہ اس نے خدا کو گواہ بنا کر جو عہد کیا تھا اس عہد میں وہ پورا اترا۔
منافق لوگ جہاد سے بچنے کے لیے بظاہر امن پسندی کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر عملاً صورت حال یہ ہے کہ جہاں انہیں موقع ملتا ہے وہ فوراً شر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ حتی کہ جن مسلمانوں سے ان کی قرابتیں ہیں ان کی مطلق پروا نہ کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کے مددگار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں ملعون ہیں۔ ملعون ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس سے چھن جائے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی نہ دیکھے اور کان رکھتے ہوئے بھی کچھ نہ سنے۔
محمد 47:21
منافق کی پہچان یہ ہے کہ وہ الفاظ میں سب سے آگے اور عمل میں سب سے پیچھے ہو۔ جہاد سے پہلے وہ جہاد کی باتیں کرے اور جب جہاد واقعۃً پیش آجائے تو وہ اس سے بھاگ کھڑا ہو۔
سچے اہل ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہروقت سننے اور ماننے کے لیے تیار رہے اور جب کسی سخت اقدام کا فیصلہ ہوجائے تو اپنے عمل سے ثابت کردے کہ اس نے خدا کو گواہ بنا کر جو عہد کیا تھا اس عہد میں وہ پورا اترا۔
منافق لوگ جہاد سے بچنے کے لیے بظاہر امن پسندی کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر عملاً صورت حال یہ ہے کہ جہاں انہیں موقع ملتا ہے وہ فوراً شر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ حتی کہ جن مسلمانوں سے ان کی قرابتیں ہیں ان کی مطلق پروا نہ کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کے مددگار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں ملعون ہیں۔ ملعون ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس سے چھن جائے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی نہ دیکھے اور کان رکھتے ہوئے بھی کچھ نہ سنے۔
محمد 47:22
منافق کی پہچان یہ ہے کہ وہ الفاظ میں سب سے آگے اور عمل میں سب سے پیچھے ہو۔ جہاد سے پہلے وہ جہاد کی باتیں کرے اور جب جہاد واقعۃً پیش آجائے تو وہ اس سے بھاگ کھڑا ہو۔
سچے اہل ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہروقت سننے اور ماننے کے لیے تیار رہے اور جب کسی سخت اقدام کا فیصلہ ہوجائے تو اپنے عمل سے ثابت کردے کہ اس نے خدا کو گواہ بنا کر جو عہد کیا تھا اس عہد میں وہ پورا اترا۔
منافق لوگ جہاد سے بچنے کے لیے بظاہر امن پسندی کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر عملاً صورت حال یہ ہے کہ جہاں انہیں موقع ملتا ہے وہ فوراً شر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ حتی کہ جن مسلمانوں سے ان کی قرابتیں ہیں ان کی مطلق پروا نہ کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کے مددگار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں ملعون ہیں۔ ملعون ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس سے چھن جائے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی نہ دیکھے اور کان رکھتے ہوئے بھی کچھ نہ سنے۔
محمد 47:23
منافق کی پہچان یہ ہے کہ وہ الفاظ میں سب سے آگے اور عمل میں سب سے پیچھے ہو۔ جہاد سے پہلے وہ جہاد کی باتیں کرے اور جب جہاد واقعۃً پیش آجائے تو وہ اس سے بھاگ کھڑا ہو۔
سچے اہل ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہروقت سننے اور ماننے کے لیے تیار رہے اور جب کسی سخت اقدام کا فیصلہ ہوجائے تو اپنے عمل سے ثابت کردے کہ اس نے خدا کو گواہ بنا کر جو عہد کیا تھا اس عہد میں وہ پورا اترا۔
منافق لوگ جہاد سے بچنے کے لیے بظاہر امن پسندی کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر عملاً صورت حال یہ ہے کہ جہاں انہیں موقع ملتا ہے وہ فوراً شر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ حتی کہ جن مسلمانوں سے ان کی قرابتیں ہیں ان کی مطلق پروا نہ کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کے مددگار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں ملعون ہیں۔ ملعون ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس سے چھن جائے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی نہ دیکھے اور کان رکھتے ہوئے بھی کچھ نہ سنے۔
محمد 47:24
قرآن نصیحت کی کتاب ہے مگر کسی چیز سے نصیحت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر کوئی غلط جذبہ آدمی کے اندر داخل ہو کر اس کو نصیحت کے بارے میں غیر سنجیدہ بنا دے تو وہ کبھی نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، خواہ نصیحت کو کتنا ہی اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہو۔
دین کا کوئی ایسا حکم سامنے آئے جس میں آدمی کو اپنی خواہشات اور مفادات کی قربانی دینی ہو تو شیطان فوراً آدمی کو کوئی جھوٹاعذر سمجھا دیتا ہے۔ اور موجودہ دنیا میں مہلت امتحان کی وجہ سے آدمی کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس جھوٹے عذر کو عملاً بھی اختیار کرلے۔ مگر یہ سب کچھ صرف چند دنوں تک کے لیے ہے۔ موت کا وقت آتے ہی ساری صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔
یہاں نفاق کے لیے ارتداد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر معلوم ہے کہ مدینہ کے ان منافقین کو ارتداد کی مقررہ سزا نہیں دی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتداد ایک فوجداری جرم نہیں ہے، بلکہ وہ ایک فکری جرم ہے، اور فکری انحراف کرنے والا تبلیغ ودعوت کا موضوع ہوتا ہے، نہ کہ سزا کا موضوع۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب حکمتِ اسلام کا مضمون ’’مرتد اور ارتداد‘‘)
محمد 47:25
قرآن نصیحت کی کتاب ہے مگر کسی چیز سے نصیحت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر کوئی غلط جذبہ آدمی کے اندر داخل ہو کر اس کو نصیحت کے بارے میں غیر سنجیدہ بنا دے تو وہ کبھی نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، خواہ نصیحت کو کتنا ہی اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہو۔
دین کا کوئی ایسا حکم سامنے آئے جس میں آدمی کو اپنی خواہشات اور مفادات کی قربانی دینی ہو تو شیطان فوراً آدمی کو کوئی جھوٹاعذر سمجھا دیتا ہے۔ اور موجودہ دنیا میں مہلت امتحان کی وجہ سے آدمی کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس جھوٹے عذر کو عملاً بھی اختیار کرلے۔ مگر یہ سب کچھ صرف چند دنوں تک کے لیے ہے۔ موت کا وقت آتے ہی ساری صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔
یہاں نفاق کے لیے ارتداد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر معلوم ہے کہ مدینہ کے ان منافقین کو ارتداد کی مقررہ سزا نہیں دی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتداد ایک فوجداری جرم نہیں ہے، بلکہ وہ ایک فکری جرم ہے، اور فکری انحراف کرنے والا تبلیغ ودعوت کا موضوع ہوتا ہے، نہ کہ سزا کا موضوع۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب حکمتِ اسلام کا مضمون ’’مرتد اور ارتداد‘‘)
محمد 47:26
قرآن نصیحت کی کتاب ہے مگر کسی چیز سے نصیحت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر کوئی غلط جذبہ آدمی کے اندر داخل ہو کر اس کو نصیحت کے بارے میں غیر سنجیدہ بنا دے تو وہ کبھی نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، خواہ نصیحت کو کتنا ہی اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہو۔
دین کا کوئی ایسا حکم سامنے آئے جس میں آدمی کو اپنی خواہشات اور مفادات کی قربانی دینی ہو تو شیطان فوراً آدمی کو کوئی جھوٹاعذر سمجھا دیتا ہے۔ اور موجودہ دنیا میں مہلت امتحان کی وجہ سے آدمی کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس جھوٹے عذر کو عملاً بھی اختیار کرلے۔ مگر یہ سب کچھ صرف چند دنوں تک کے لیے ہے۔ موت کا وقت آتے ہی ساری صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔
یہاں نفاق کے لیے ارتداد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر معلوم ہے کہ مدینہ کے ان منافقین کو ارتداد کی مقررہ سزا نہیں دی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتداد ایک فوجداری جرم نہیں ہے، بلکہ وہ ایک فکری جرم ہے، اور فکری انحراف کرنے والا تبلیغ ودعوت کا موضوع ہوتا ہے، نہ کہ سزا کا موضوع۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب حکمتِ اسلام کا مضمون ’’مرتد اور ارتداد‘‘)
محمد 47:27
قرآن نصیحت کی کتاب ہے مگر کسی چیز سے نصیحت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر کوئی غلط جذبہ آدمی کے اندر داخل ہو کر اس کو نصیحت کے بارے میں غیر سنجیدہ بنا دے تو وہ کبھی نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، خواہ نصیحت کو کتنا ہی اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہو۔
دین کا کوئی ایسا حکم سامنے آئے جس میں آدمی کو اپنی خواہشات اور مفادات کی قربانی دینی ہو تو شیطان فوراً آدمی کو کوئی جھوٹاعذر سمجھا دیتا ہے۔ اور موجودہ دنیا میں مہلت امتحان کی وجہ سے آدمی کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس جھوٹے عذر کو عملاً بھی اختیار کرلے۔ مگر یہ سب کچھ صرف چند دنوں تک کے لیے ہے۔ موت کا وقت آتے ہی ساری صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔
یہاں نفاق کے لیے ارتداد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر معلوم ہے کہ مدینہ کے ان منافقین کو ارتداد کی مقررہ سزا نہیں دی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتداد ایک فوجداری جرم نہیں ہے، بلکہ وہ ایک فکری جرم ہے، اور فکری انحراف کرنے والا تبلیغ ودعوت کا موضوع ہوتا ہے، نہ کہ سزا کا موضوع۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب حکمتِ اسلام کا مضمون ’’مرتد اور ارتداد‘‘)
محمد 47:28
قرآن نصیحت کی کتاب ہے مگر کسی چیز سے نصیحت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر کوئی غلط جذبہ آدمی کے اندر داخل ہو کر اس کو نصیحت کے بارے میں غیر سنجیدہ بنا دے تو وہ کبھی نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، خواہ نصیحت کو کتنا ہی اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہو۔
دین کا کوئی ایسا حکم سامنے آئے جس میں آدمی کو اپنی خواہشات اور مفادات کی قربانی دینی ہو تو شیطان فوراً آدمی کو کوئی جھوٹاعذر سمجھا دیتا ہے۔ اور موجودہ دنیا میں مہلت امتحان کی وجہ سے آدمی کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس جھوٹے عذر کو عملاً بھی اختیار کرلے۔ مگر یہ سب کچھ صرف چند دنوں تک کے لیے ہے۔ موت کا وقت آتے ہی ساری صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔
یہاں نفاق کے لیے ارتداد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر معلوم ہے کہ مدینہ کے ان منافقین کو ارتداد کی مقررہ سزا نہیں دی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتداد ایک فوجداری جرم نہیں ہے، بلکہ وہ ایک فکری جرم ہے، اور فکری انحراف کرنے والا تبلیغ ودعوت کا موضوع ہوتا ہے، نہ کہ سزا کا موضوع۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب حکمتِ اسلام کا مضمون ’’مرتد اور ارتداد‘‘)
محمد 47:29
منافقین کی بیماری یہ تھی کہ ان کے سینوں میں حسد (ضغن) تھا۔ منافق مسلمانوں کو اپنے مخلص برادران دین سے یہ حسد کیوں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام کی ہر ترقی انہیں مخلص مسلمانوں کے حصہ میں جاتی ہوئی نظر آتی تھی۔ یہ چیز منافقین کے لیے بے حد شاق تھی۔ وہ سوچتے تھے کہ ہم ایسی مہم میں اپنا جان و مال کیوں کھپائیں جس میں دوسروں کی حیثیت بڑھے، جس میں دوسروں کو بڑائی حاصل ہوتی ہو۔
منافقین اپنے ظاہری رویہ میں اپنی اس اندرونی حالت کو چھپاتے تھے مگر سمجھ دار لوگوں کے لیے وہ چھپا ہوا نہ تھا۔ منافقین کا مصنوعی لہجہ، ان کی درد سے خالی آواز بتا دیتی تھی کہ اسلام سے ان کا تعلق محض دکھاوے کا تعلق ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں قلبی تعلق۔
محمد 47:30
منافقین کی بیماری یہ تھی کہ ان کے سینوں میں حسد (ضغن) تھا۔ منافق مسلمانوں کو اپنے مخلص برادران دین سے یہ حسد کیوں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام کی ہر ترقی انہیں مخلص مسلمانوں کے حصہ میں جاتی ہوئی نظر آتی تھی۔ یہ چیز منافقین کے لیے بے حد شاق تھی۔ وہ سوچتے تھے کہ ہم ایسی مہم میں اپنا جان و مال کیوں کھپائیں جس میں دوسروں کی حیثیت بڑھے، جس میں دوسروں کو بڑائی حاصل ہوتی ہو۔
منافقین اپنے ظاہری رویہ میں اپنی اس اندرونی حالت کو چھپاتے تھے مگر سمجھ دار لوگوں کے لیے وہ چھپا ہوا نہ تھا۔ منافقین کا مصنوعی لہجہ، ان کی درد سے خالی آواز بتا دیتی تھی کہ اسلام سے ان کا تعلق محض دکھاوے کا تعلق ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں قلبی تعلق۔
محمد 47:31
آدمی جب ایمان کو لے کر کھڑا ہوتا ہے تو اس پر مختلف حالات پیش آتے ہیں۔ یہ حالات اس کے ایمان کا امتحان ہوتے ہیں۔ وہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ قربانی کی قیمت پر اپنے مومن ہونے کا ثبوت دے۔ وہ اپنے نفس کو کچلے۔ وہ اپنے مادی مفادات کو نظر انداز کرے۔ وہ لوگوں کی ایذا رسانی کو برداشت کرے۔ حتیٰ کہ جان و مال کو کھپا کر اپنے ایمان پر قائم رہے۔
مومن کو اس قسم کے حالات میں ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر مومنین کو کھلی آزادی حاصل ہو تاکہ وہ اہل ایمان کے خلاف ہر قسم کی کارروائیاں کرسکیں۔ ان کارروائیوں کے ذریعہ ایک طرف مخالفین کا جرم ثابت شدہ بنتا ہے۔ دوسری طرف ان شدید حالات میں اہل ایمان ثابت قدم رہ کر دکھا دیتے ہیں کہ وہ واقعی مومن ہیں اور اس قابل ہیں کہ خدا کی معیاری دنیا میں بسانے کے لیے ان کا انتخاب کیا جائے۔
محمد 47:32
آدمی جب ایمان کو لے کر کھڑا ہوتا ہے تو اس پر مختلف حالات پیش آتے ہیں۔ یہ حالات اس کے ایمان کا امتحان ہوتے ہیں۔ وہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ قربانی کی قیمت پر اپنے مومن ہونے کا ثبوت دے۔ وہ اپنے نفس کو کچلے۔ وہ اپنے مادی مفادات کو نظر انداز کرے۔ وہ لوگوں کی ایذا رسانی کو برداشت کرے۔ حتیٰ کہ جان و مال کو کھپا کر اپنے ایمان پر قائم رہے۔
مومن کو اس قسم کے حالات میں ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر مومنین کو کھلی آزادی حاصل ہو تاکہ وہ اہل ایمان کے خلاف ہر قسم کی کارروائیاں کرسکیں۔ ان کارروائیوں کے ذریعہ ایک طرف مخالفین کا جرم ثابت شدہ بنتا ہے۔ دوسری طرف ان شدید حالات میں اہل ایمان ثابت قدم رہ کر دکھا دیتے ہیں کہ وہ واقعی مومن ہیں اور اس قابل ہیں کہ خدا کی معیاری دنیا میں بسانے کے لیے ان کا انتخاب کیا جائے۔
محمد 47:33
ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض مسلمانوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اگر وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرلیں تو کوئی گناہ ان کو نقصان نہ پہنچائے گا۔ اس پر یہ آیت 33 اتری۔ اس کی روشنی میں آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو چاہيے کہ وہ ایمان کے ساتھ اطاعت کو جمع کرے۔ وہ نہ صرف بے ضرر احکام کی پیروی کرے بلکہ وہ ان احکام کا بھی پیرو بنے جن کے لیے اپنے نفس کو کچلنا اور اپنے مفاد کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کے سابقہ اعمال اس کو کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔
کمزور مسلمانوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ حق کا ساتھ اس شرط پر دیتے ہیں کہ وقت کے بڑوں کی ناراضگی مول نہ لینی پڑے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ حق کا ساتھ دینا وقت کے بڑوں کو ناراض کرنے کا سبب بن رہا ہے تو وہ ان کی طرف جھک جاتے ہیں، خواہ یہ بڑے حق کے منکر ہوں اور خواہ وہ حق کو روکنے والے بنے ہوئے ہوں۔
جو لوگ حق کا انکار کریں اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوجائیں وہ کبھی اللہ کی رحمت نہیں پا سکتے۔ پھر جو لوگ ایسے منکرین کا ساتھ دیں، ان کا انجام ان سے مختلف کیوں ہوگا۔
اسلام میں جنگ بھی ہے اور صلح بھی۔ مگر وہ جنگ اسلامی جنگ نہیں جو اشتعال کی بنا پر لڑی جائے۔ اسی طرح وہ صلح بھی اسلامی صلح نہیں جس کا محرک بزدلی اور کم ہمتی ہو۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں چیزیں سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت کی جائیں، نہ کہ محض جذباتی رد عمل کے تحت۔
محمد 47:34
ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض مسلمانوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اگر وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرلیں تو کوئی گناہ ان کو نقصان نہ پہنچائے گا۔ اس پر یہ آیت 33 اتری۔ اس کی روشنی میں آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو چاہيے کہ وہ ایمان کے ساتھ اطاعت کو جمع کرے۔ وہ نہ صرف بے ضرر احکام کی پیروی کرے بلکہ وہ ان احکام کا بھی پیرو بنے جن کے لیے اپنے نفس کو کچلنا اور اپنے مفاد کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کے سابقہ اعمال اس کو کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔
کمزور مسلمانوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ حق کا ساتھ اس شرط پر دیتے ہیں کہ وقت کے بڑوں کی ناراضگی مول نہ لینی پڑے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ حق کا ساتھ دینا وقت کے بڑوں کو ناراض کرنے کا سبب بن رہا ہے تو وہ ان کی طرف جھک جاتے ہیں، خواہ یہ بڑے حق کے منکر ہوں اور خواہ وہ حق کو روکنے والے بنے ہوئے ہوں۔
جو لوگ حق کا انکار کریں اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوجائیں وہ کبھی اللہ کی رحمت نہیں پا سکتے۔ پھر جو لوگ ایسے منکرین کا ساتھ دیں، ان کا انجام ان سے مختلف کیوں ہوگا۔
اسلام میں جنگ بھی ہے اور صلح بھی۔ مگر وہ جنگ اسلامی جنگ نہیں جو اشتعال کی بنا پر لڑی جائے۔ اسی طرح وہ صلح بھی اسلامی صلح نہیں جس کا محرک بزدلی اور کم ہمتی ہو۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں چیزیں سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت کی جائیں، نہ کہ محض جذباتی رد عمل کے تحت۔
محمد 47:35
ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض مسلمانوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اگر وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرلیں تو کوئی گناہ ان کو نقصان نہ پہنچائے گا۔ اس پر یہ آیت 33 اتری۔ اس کی روشنی میں آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو چاہيے کہ وہ ایمان کے ساتھ اطاعت کو جمع کرے۔ وہ نہ صرف بے ضرر احکام کی پیروی کرے بلکہ وہ ان احکام کا بھی پیرو بنے جن کے لیے اپنے نفس کو کچلنا اور اپنے مفاد کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کے سابقہ اعمال اس کو کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔
کمزور مسلمانوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ حق کا ساتھ اس شرط پر دیتے ہیں کہ وقت کے بڑوں کی ناراضگی مول نہ لینی پڑے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ حق کا ساتھ دینا وقت کے بڑوں کو ناراض کرنے کا سبب بن رہا ہے تو وہ ان کی طرف جھک جاتے ہیں، خواہ یہ بڑے حق کے منکر ہوں اور خواہ وہ حق کو روکنے والے بنے ہوئے ہوں۔
جو لوگ حق کا انکار کریں اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوجائیں وہ کبھی اللہ کی رحمت نہیں پا سکتے۔ پھر جو لوگ ایسے منکرین کا ساتھ دیں، ان کا انجام ان سے مختلف کیوں ہوگا۔
اسلام میں جنگ بھی ہے اور صلح بھی۔ مگر وہ جنگ اسلامی جنگ نہیں جو اشتعال کی بنا پر لڑی جائے۔ اسی طرح وہ صلح بھی اسلامی صلح نہیں جس کا محرک بزدلی اور کم ہمتی ہو۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں چیزیں سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت کی جائیں، نہ کہ محض جذباتی رد عمل کے تحت۔
محمد 47:36
ایمان اور تقوی کی زندگی اختیار کرنے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ دنیا کے فائدے اور دنیا کی رونقیں ہیں۔ آدمی جانتا ہے کہ وہ کون سا رویہ ہے جو آخرت میں اس کو کامیاب بنانے والا ہے۔ مگر وقتی مصلحتوں کا خیال اس کے اوپر غالب آتا ہے اور وہ بے راہ روی کی طرف چلا جاتا ہے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے حق میں بے حد مہربان ہے۔ وہ کبھی انسان سے اتنا بڑا مطالبہ نہیں کرتا جو اس کے لیے ناقابل برداشت ہو۔ جس کے نتیجہ میں یہ ہو کہ اس کا بھرم کھل جائے اور اس کی چھپی ہوئی بشری کمزوریاں لوگوں کے سامنے آجائیں۔
اسلام خدا کا دین ہے۔ مگر اس کی اشاعت اور حفاظت کا کام اس عالم اسباب میں انسانی گروہ کے ذریعہ انجام پانا ہے۔ مسلمان یہی انسانی گروہ ہیں۔ مسلمان اگر اپنے فریضہ کو انجام دیں تو وہ خدا کی نظر میں باقیمت ٹھہریں گے۔ لیکن اگر وہ اس فریضہ کو انجام دینے میں ناکام رہیں تو اللہ دوسری قوموں کو ایمان کی توفیق دے گا اور ان کے ذریعہ اپنے دین کا تسلسل باقی رکھے گا۔
محمد 47:37
ایمان اور تقوی کی زندگی اختیار کرنے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ دنیا کے فائدے اور دنیا کی رونقیں ہیں۔ آدمی جانتا ہے کہ وہ کون سا رویہ ہے جو آخرت میں اس کو کامیاب بنانے والا ہے۔ مگر وقتی مصلحتوں کا خیال اس کے اوپر غالب آتا ہے اور وہ بے راہ روی کی طرف چلا جاتا ہے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے حق میں بے حد مہربان ہے۔ وہ کبھی انسان سے اتنا بڑا مطالبہ نہیں کرتا جو اس کے لیے ناقابل برداشت ہو۔ جس کے نتیجہ میں یہ ہو کہ اس کا بھرم کھل جائے اور اس کی چھپی ہوئی بشری کمزوریاں لوگوں کے سامنے آجائیں۔
اسلام خدا کا دین ہے۔ مگر اس کی اشاعت اور حفاظت کا کام اس عالم اسباب میں انسانی گروہ کے ذریعہ انجام پانا ہے۔ مسلمان یہی انسانی گروہ ہیں۔ مسلمان اگر اپنے فریضہ کو انجام دیں تو وہ خدا کی نظر میں باقیمت ٹھہریں گے۔ لیکن اگر وہ اس فریضہ کو انجام دینے میں ناکام رہیں تو اللہ دوسری قوموں کو ایمان کی توفیق دے گا اور ان کے ذریعہ اپنے دین کا تسلسل باقی رکھے گا۔
محمد 47:38
ایمان اور تقوی کی زندگی اختیار کرنے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ دنیا کے فائدے اور دنیا کی رونقیں ہیں۔ آدمی جانتا ہے کہ وہ کون سا رویہ ہے جو آخرت میں اس کو کامیاب بنانے والا ہے۔ مگر وقتی مصلحتوں کا خیال اس کے اوپر غالب آتا ہے اور وہ بے راہ روی کی طرف چلا جاتا ہے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے حق میں بے حد مہربان ہے۔ وہ کبھی انسان سے اتنا بڑا مطالبہ نہیں کرتا جو اس کے لیے ناقابل برداشت ہو۔ جس کے نتیجہ میں یہ ہو کہ اس کا بھرم کھل جائے اور اس کی چھپی ہوئی بشری کمزوریاں لوگوں کے سامنے آجائیں۔
اسلام خدا کا دین ہے۔ مگر اس کی اشاعت اور حفاظت کا کام اس عالم اسباب میں انسانی گروہ کے ذریعہ انجام پانا ہے۔ مسلمان یہی انسانی گروہ ہیں۔ مسلمان اگر اپنے فریضہ کو انجام دیں تو وہ خدا کی نظر میں باقیمت ٹھہریں گے۔ لیکن اگر وہ اس فریضہ کو انجام دینے میں ناکام رہیں تو اللہ دوسری قوموں کو ایمان کی توفیق دے گا اور ان کے ذریعہ اپنے دین کا تسلسل باقی رکھے گا۔
الفتح 48:1
6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔
یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔
اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔
الفتح 48:2
6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔
یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔
اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔
الفتح 48:3
6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔
یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔
اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔
الفتح 48:4
یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔
خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔
الفتح 48:5
یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔
خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔
الفتح 48:6
یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔
خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔
الفتح 48:7
یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔
خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔
الفتح 48:8
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔
اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔
ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
الفتح 48:9
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔
اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔
ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
الفتح 48:10
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔
اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔
ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
الفتح 48:11
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔
اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔
ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
الفتح 48:12
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔
اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔
ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
الفتح 48:13
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔
اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔
ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
الفتح 48:14
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔
اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔
ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
الفتح 48:15
صلح حدیبیہ سے پہلے یہود مسلمانوں کی دشمنی میں بہت جری تھے۔ کیوں کہ اس سے پہلے انہیں اس معاملہ میں قریش کا پورا تعاون حاصل تھا۔ حدیبیہ میں قریش سے نا جنگ معاہدہ نے یہود کو قریش سے کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہ اکیلے رہ گئے۔ اس سے خیبر، تیما، فدک وغیرہ کے یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ چنانچہ صلح کے تین مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کی تو وہاں کے یہود نے لڑے بھڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے اور ان کے کثیر اموال مسلمانوں کو غنیمت میں ملے۔
کمزور ایمان کے لوگ جو حدیبیہ کے سفر کو پر خطر سمجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے، اب انہوں نے چاہا کے وہ یہودیوں کے خلاف کارروائی میں شریک ہوں اور مال غنیمت میں اپنا حصہ حاصل کریں۔ مگر ان کو ساتھ جانے سے روک دیا گیا۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ جو خطرہ مول لے وہ نفع حاصل کرے۔ آدمی جب خطرہ مول لیے بغیر حاصل کرنا چاہے تو گویا وہ قانون الٰہی کو بدل دینا چاہتا ہے۔ مگر اس دنیا میں خدا کے قانون کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔
الفتح 48:16
جن لوگوں نے حدیبیہ (6 ھ) کے موقع پر کمزوری دکھائی تھی وہ اس کے نتیجہ میں ملنے والے انعام سے تو محروم رہے۔ مگر ان کے لیے دروازہ اب بھی بند نہ تھا۔ کیوں کہ توحید کی مہم کو ابھی دوسرے بڑے بڑے معرکے پیش آنے باقی تھے۔ فرمایا گیا کہ اگر تم نے آئندہ پیش آنے والے ان مواقع پر قربانی کا ثبوت دیا تو دوبارہ تم خدا کی رحمتوں کے مستحق ہوجاؤگے۔
اس قسم کا امتحان آدمی کے مومن یا منافق ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی واقعی عذر لاحق ہو۔ مجبورانہ کوتاہی کو اللہ معاف فرما دیتا ہے۔ مگر جو کوتاہی مجبوری کے بغیر کی جائے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی نہیں۔
الفتح 48:17
جن لوگوں نے حدیبیہ (6 ھ) کے موقع پر کمزوری دکھائی تھی وہ اس کے نتیجہ میں ملنے والے انعام سے تو محروم رہے۔ مگر ان کے لیے دروازہ اب بھی بند نہ تھا۔ کیوں کہ توحید کی مہم کو ابھی دوسرے بڑے بڑے معرکے پیش آنے باقی تھے۔ فرمایا گیا کہ اگر تم نے آئندہ پیش آنے والے ان مواقع پر قربانی کا ثبوت دیا تو دوبارہ تم خدا کی رحمتوں کے مستحق ہوجاؤگے۔
اس قسم کا امتحان آدمی کے مومن یا منافق ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی واقعی عذر لاحق ہو۔ مجبورانہ کوتاہی کو اللہ معاف فرما دیتا ہے۔ مگر جو کوتاہی مجبوری کے بغیر کی جائے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی نہیں۔
الفتح 48:18
حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔
یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔
الفتح 48:19
حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔
یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔
الفتح 48:20
حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔
یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔
الفتح 48:21
حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔
یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔
الفتح 48:22
پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے اور وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کے دشمنوں کا خاتمہ کردیتے۔
مگر مشرکین کے سلسلہ میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں کو اسلام کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ناجنگ معاہدہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔
الفتح 48:23
پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے اور وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کے دشمنوں کا خاتمہ کردیتے۔
مگر مشرکین کے سلسلہ میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں کو اسلام کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ناجنگ معاہدہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔
الفتح 48:24
پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے اور وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کے دشمنوں کا خاتمہ کردیتے۔
مگر مشرکین کے سلسلہ میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں کو اسلام کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ناجنگ معاہدہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔
الفتح 48:25
قریش کے سرداروں نے پیغمبر کے خلاف اپنی دشمنانہ حرکتوں سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا لیا تھا اور اس قابل بنا لیا تھا کہ ان سے جنگ کی جائے۔ مگر ایک عظیم تر مصلحت کی خاطر ان سے جنگ کے بجائے صلح کرلی گئی۔ وہ مصلحت یہ تھی کہ اس وقت قریش کی جماعت میں بہت سے دوسرے لوگ بھی تھے جو یا تو اپنے دل میں شرک سے تائب ہو کر توحید پر ایمان لاچکے تھے یا ایسے لوگ تھے جن کی صالحیت کی بنا پر یقینی تھا کہ حالات کے معتدل ہوتے ہی وہ اسلام قبول کرلیں گے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان جنگ نہ ہونے دی۔ تاکہ وہ لوگ مومن بن کر دنیا میں اپنا اسلامی حصہ ادا کریں۔ اور آخرت میں خدا کا انعام حاصل کریں۔ اللہ کی نظر میں ہر دوسری مصلحت کے مقابلہ میں دعوت کی مصلحت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
الفتح 48:26
جس آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے اس کے دل سے ایک اللہ کے سوا ہر دوسری چیز کی اہمیت نکل جاتی ہے۔ وہ صرف ایک اللہ کو ساری اہمیت دینے لگتا ہے۔ حدیبیہ کا موقع صحابہ کے لیے اسی قسم کا ایک شدید امتحان تھا جس میں وہ پورے اترے۔ اس موقع پر فریق ِثانی نے جاہلانہ ضد اور اور قومی عصبیت کا زبردست مظاہرہ کیا۔ مگر صحابہ ہر چیز کو خدا کے خانہ میں ڈالتے چلے گئے۔ ان کے متقیانہ مزاج نے ان کو اس سخت امتحان میں جوابی ضد اور جوابی عصبیت سے بچایا۔ وہ مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود آخر وقت تک مشتعل نہیں ہوئے۔
الفتح 48:27
حدیبیہ کا سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خواب پر ہوا تھا۔ آپ نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ مکہ پہنچ کر عمرہ ادا فرما رہے ہیں۔ اس خواب کو لوگوں نے خدا کی بشارت سمجھا اور مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر حدیبیہ میں قریش نے روکا اور بالآخر عمرہ ادا کیے بغیر لوگوں کو واپس آنا پڑا۔ اس سے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ کیا پیغمبر کا خواب سچا نہ تھا۔ مگر یہ محض شبہ تھا۔ کیونکہ خواب میں یہ صراحت نہ تھی کہ عمرہ اسی سال ہوگا۔ چنانچہ خود معاہدہ کی شرائط کے مطابق اگلے سال ذوالقعدہ 7 ھ میں یہ عمرہ پورے امن و امان کے ساتھ ادا کیا گیا۔ اس عمرہ کو اسلامی تاریخ میں عمرۃ القضاء کہا جاتا ہے۔
اس سال عمرہ کا التوا ایک عظیم مصلحت کی قیمت پر ہوا تھا۔ یہ مصلحت کہ اس کے ذریعہ قریش سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ طے پایا اور نتیجۃً دعوت کے کام کے لیے موافق فضا پیدا ہوئی۔ یہ خود ایک فتح تھی۔ کیوں کہ اس کے ذریعہ سے علم بردارانِ شرک کے اوپر آخری اور کلی فتح کا دروازہ کھلا۔
الفتح 48:28
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو حیثیتیں تھیں۔ ایک یہ کہ آپ پیغمبر تھے اور دوسرے یہ کہ آپ پیغمبر آخر الزماں تھے۔ آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں۔ پہلی حیثیت کے اعتبار سے آپ کو بھی وہی کام کرنا تھا جو تمام پیغمبروں نے کیا، یعنی توحید کا اعلان اور آخرت کا انذار وتبشیر۔
دوسری حیثیت کا معاملہ مختلف تھا۔ دوسری حیثیت کے اعتبار سے آپ کے ذریعہ وہ تاریخی حالات پیدا کرنا مطلوب تھا جو کتابِ الٰہی اور سنت نبوی کی حفاظت کی ضمانت بن جائیں۔ تاکہ دوبارہ وہ خلا پیدا نہ ہو جس کے نتیجہ میں پیغمبر بھیجنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اس دوسرے پہلو کا تقاضا تھا کہ آپ کی دعوت صرف ’’اعلان‘‘ پر ختم نہ ہو بلکہ وہ ’’انقلاب‘‘ تک پہنچے۔ انقلاب سے مراد عالمی تاریخ میں وہ تبدیلی پیدا کرنا ہے، جس کے بعد وہ حالات ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں، جس کی وجہ سے بار بار خدا کی ہدایت معدوم یا محرف ہوگئی اور اس کی ضرورت پیش آئی کہ نیا پیغمبر آ کر دوبارہ ہدایت کو اصلی صورت میں زندہ کرے۔
الفتح 48:29
پیغمبر اسلام کو ایک عظیم تاریخی کردار ادا کرنا تھا جس کو قرآن میں اظہارِ دین کہا گیا ہے۔ اس تاریخی کردار کے لیے آپ کو اعلیٰ انسانوں کی ایک جماعت درکار تھی۔ یہ جماعت حضرت اسماعیل کو عرب کے صحرا میں آباد کر کے ڈھائی ہزار سال کے اندر تیار کی گئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بنو اسماعیل کا یہ گروہ تاریخ کا جاندار ترین گروہ تھا۔ ان کی یہ بالقوہ صلاحیت جب قرآن سے فیض یاب ہوئی تو پروفیسر مارگولیتھ کے الفاظ میں، عرب کی یہ قوم ہیرووں کی ایک قوم (a nation of heroes) میں تبدیل ہوگئی۔ اس گروہ کی اہمیت خدا کی نظر میں اتنی زیادہ تھی کہ ان کے بارے میں اس نے پیشگی طور پر اپنے پیغمبروں کو باخبر کردیا تھا۔ چنانچہ تورات میں ان کی انفرادی خصوصیت درج کردی گئی تھی اور انجیل میں ان کی اجتماعی خصوصیت۔
اس گروہ کے فرد فرد کی یہ خصوصیت بتائی کہ وہ منکروں کے لیے سخت اور مومنوں کے لیے نرم ہیں۔ یعنی ان کا رویہ اصول کے تحت متعین ہوتا ہے، نہ کہ محض خواہشات اور جذبات کے تحت۔ شاہ عبدالقادر صاحب اس کی تشریح میں لکھتے ہیں ’’جوتندی اور نرمی اپنی خو ہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندہی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ‘‘۔ اسی طرح ان کے افراد کا مزاج یہ ہے کہ وہ خدا کے آگے جھکنے والے اور اس کی عبادت اور ذکر میں لگے رہنے والے ہیں۔ خدا کی طرف ان کی توجہ اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ اس کا نشان ان کے چہروں پر نمایاں ہورہا ہے۔ اصحاب رسول کی یہ صفات اس تفصیل کے ساتھ موجودہ محرف تورات میں نہیں ملتیں۔ تاہم کتاب استثناء ( 33:2 ) میں قدسیوں (Saints) کا لفظ ابھی تک موجود ہے۔
البتہ انجیل کی پیشین گوئی آج بھی مرقس ( 4:26-32 )اور متی ( 13:31-32 ) میں موجود ہے۔ یہ تمثیل کی زبان میں اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام کی دعوت ایک پودے کی طرح مکہ سے شروع ہوگی۔ پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک طاقتور درخت بن جائے گی۔ یہاں تک کہ اس کا استحکام اس درجہ کو پہنچ جائے گا کہ اہل حق اس کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور اہل باطل غصه و حسد میں مبتلا ہوں گے کہ وہ چاہنے کے باوجود اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔
الحجرات 49:1
رسول کی رائے سے اپنی رائے کو اوپر کرنا حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی صورت یہ تھی کہ مجلس میں گفتگو کرتے ہوئے کوئی آدمی بڑھ بڑھ کر باتیں کرے، وہ آپ کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا چاہے۔ بعد کے زمانہ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا ورسول کی دی ہوئی ہدایت سے آزاد ہو کر اپنی رائے قائم کرنے لگے۔
اس قسم کی غفلت ہمیشہ اس لیے ہوتی ہے کہ آدمی یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ اس کے اوپر نگراں ہے۔ اگر وہ جانے کہ اس کے منہ سے نکلی ہوئی آواز انسانوں تک پہنچنے سے پہلے اللہ تک پہنچ رہی ہے تو آدمی کی زبان رک جائے، وہ بولنے سے زیادہ چپ رہنے کو اپنے لیے پسند کرنے لگے۔
الحجرات 49:2
اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی بلکہ متکبرانہ ہوتی۔ اس سے انہیں منع کیا گیا۔ رسول دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس طرح کی ناشائستگی خدا کے سامنے ناشائستگی ہے، جو کہ آدمی کو بالکل بے قیمت بنا دینے والی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا میں آپ کی قائم مقام ہے۔ اب اس مقدس ہدایت کے ساتھ وہی تابعداری مطلوب ہے جو تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔
اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔
الحجرات 49:3
اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی بلکہ متکبرانہ ہوتی۔ اس سے انہیں منع کیا گیا۔ رسول دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس طرح کی ناشائستگی خدا کے سامنے ناشائستگی ہے، جو کہ آدمی کو بالکل بے قیمت بنا دینے والی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا میں آپ کی قائم مقام ہے۔ اب اس مقدس ہدایت کے ساتھ وہی تابعداری مطلوب ہے جو تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔
اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔
الحجرات 49:4
اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی بلکہ متکبرانہ ہوتی۔ اس سے انہیں منع کیا گیا۔ رسول دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس طرح کی ناشائستگی خدا کے سامنے ناشائستگی ہے، جو کہ آدمی کو بالکل بے قیمت بنا دینے والی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا میں آپ کی قائم مقام ہے۔ اب اس مقدس ہدایت کے ساتھ وہی تابعداری مطلوب ہے جو تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔
اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔
الحجرات 49:5
اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی بلکہ متکبرانہ ہوتی۔ اس سے انہیں منع کیا گیا۔ رسول دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس طرح کی ناشائستگی خدا کے سامنے ناشائستگی ہے، جو کہ آدمی کو بالکل بے قیمت بنا دینے والی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا میں آپ کی قائم مقام ہے۔ اب اس مقدس ہدایت کے ساتھ وہی تابعداری مطلوب ہے جو تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔
اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔
الحجرات 49:6
کوئی آدمی دوسرے شخص کے بارے میں اگر ایسی خبر دے جس میں اس شخص پر کوئی الزام آتا ہو تو ایسی خبر کو محض سُن کر مان لینا ایمانی احتیاط کے سراسر خلاف ہے۔ سننے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کی ضروری تحقیق کرے، اور جو رائے قائم کرے غیر جانب دارانہ تحقیق کے بعد کرے، نہ کہ تحقیق سے پہلے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب اس قسم کی خبر ایک شخص کو ملتی ہے تو اس کے ساتھی فوراً اس کے خلاف اقدام کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ سخت غیر ذمہ داری کی بات ہے۔ نہ کسی آدمی کو ایسی خبر پر قبل از تحقیق کوئی رائے قائم کرنا چاہيے اور نہ اس کے ساتھیوں کو قبل از تحقیق اقدام کا مشورہ دینا چاہيے۔
جو لوگ واقعی ہدایت کے راستہ پر آجائیں ان کے اندر بالکل مختلف مزاج پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں پر الزام تراشی سے انہیں نفرت ہوجاتی ہے۔ غیر تحقیقی بات پر بولنے سے زیادہ اس پر چپ رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں سے حصہ ملا ہے۔ وہ ایمان فی الواقع ان کی زندگیوں میں اترا ہے جس کا وہ اپنی زبان سے اقرار کر رہے ہیں۔
الحجرات 49:7
کوئی آدمی دوسرے شخص کے بارے میں اگر ایسی خبر دے جس میں اس شخص پر کوئی الزام آتا ہو تو ایسی خبر کو محض سُن کر مان لینا ایمانی احتیاط کے سراسر خلاف ہے۔ سننے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کی ضروری تحقیق کرے، اور جو رائے قائم کرے غیر جانب دارانہ تحقیق کے بعد کرے، نہ کہ تحقیق سے پہلے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب اس قسم کی خبر ایک شخص کو ملتی ہے تو اس کے ساتھی فوراً اس کے خلاف اقدام کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ سخت غیر ذمہ داری کی بات ہے۔ نہ کسی آدمی کو ایسی خبر پر قبل از تحقیق کوئی رائے قائم کرنا چاہيے اور نہ اس کے ساتھیوں کو قبل از تحقیق اقدام کا مشورہ دینا چاہيے۔
جو لوگ واقعی ہدایت کے راستہ پر آجائیں ان کے اندر بالکل مختلف مزاج پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں پر الزام تراشی سے انہیں نفرت ہوجاتی ہے۔ غیر تحقیقی بات پر بولنے سے زیادہ اس پر چپ رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں سے حصہ ملا ہے۔ وہ ایمان فی الواقع ان کی زندگیوں میں اترا ہے جس کا وہ اپنی زبان سے اقرار کر رہے ہیں۔
الحجرات 49:8
کوئی آدمی دوسرے شخص کے بارے میں اگر ایسی خبر دے جس میں اس شخص پر کوئی الزام آتا ہو تو ایسی خبر کو محض سُن کر مان لینا ایمانی احتیاط کے سراسر خلاف ہے۔ سننے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کی ضروری تحقیق کرے، اور جو رائے قائم کرے غیر جانب دارانہ تحقیق کے بعد کرے، نہ کہ تحقیق سے پہلے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب اس قسم کی خبر ایک شخص کو ملتی ہے تو اس کے ساتھی فوراً اس کے خلاف اقدام کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ سخت غیر ذمہ داری کی بات ہے۔ نہ کسی آدمی کو ایسی خبر پر قبل از تحقیق کوئی رائے قائم کرنا چاہيے اور نہ اس کے ساتھیوں کو قبل از تحقیق اقدام کا مشورہ دینا چاہيے۔
جو لوگ واقعی ہدایت کے راستہ پر آجائیں ان کے اندر بالکل مختلف مزاج پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں پر الزام تراشی سے انہیں نفرت ہوجاتی ہے۔ غیر تحقیقی بات پر بولنے سے زیادہ اس پر چپ رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں سے حصہ ملا ہے۔ وہ ایمان فی الواقع ان کی زندگیوں میں اترا ہے جس کا وہ اپنی زبان سے اقرار کر رہے ہیں۔
الحجرات 49:9
ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص کی کوئی بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح اپنے کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے۔ وہ دوسرے کا مذاق اڑاتا ہے، وہ دوسرے پر عیب لگاتا ہے، وہ دوسرے کو برے نام سے یاد کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے بڑائی کے جذبہ کی تسکین حاصل کرے۔
مگر اچھا اور برا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو آدمی بطور خود مقرر کرے۔ اچھا در اصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں برا ٹھہرے۔ اگر آدمی کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہوجائے تو اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسرے کا مذاق اڑانا، دوسرے کو طعنہ دینا، دوسرے پر عیب لگانا، دوسرے کو برے لقب سے یاد کرنا، سب اس کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گے۔ کیونکہ وہ جانے گا کہ لوگوں کے درجہ و مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ پھر اگر آج میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔
الحجرات 49:10
ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص کی کوئی بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح اپنے کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے۔ وہ دوسرے کا مذاق اڑاتا ہے، وہ دوسرے پر عیب لگاتا ہے، وہ دوسرے کو برے نام سے یاد کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے بڑائی کے جذبہ کی تسکین حاصل کرے۔
مگر اچھا اور برا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو آدمی بطور خود مقرر کرے۔ اچھا در اصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں برا ٹھہرے۔ اگر آدمی کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہوجائے تو اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسرے کا مذاق اڑانا، دوسرے کو طعنہ دینا، دوسرے پر عیب لگانا، دوسرے کو برے لقب سے یاد کرنا، سب اس کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گے۔ کیونکہ وہ جانے گا کہ لوگوں کے درجہ و مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ پھر اگر آج میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔
الحجرات 49:11
ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص کی کوئی بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح اپنے کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے۔ وہ دوسرے کا مذاق اڑاتا ہے، وہ دوسرے پر عیب لگاتا ہے، وہ دوسرے کو برے نام سے یاد کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے بڑائی کے جذبہ کی تسکین حاصل کرے۔
مگر اچھا اور برا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو آدمی بطور خود مقرر کرے۔ اچھا در اصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں برا ٹھہرے۔ اگر آدمی کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہوجائے تو اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسرے کا مذاق اڑانا، دوسرے کو طعنہ دینا، دوسرے پر عیب لگانا، دوسرے کو برے لقب سے یاد کرنا، سب اس کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گے۔ کیونکہ وہ جانے گا کہ لوگوں کے درجہ و مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ پھر اگر آج میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔
الحجرات 49:12
ایک آدمی کسی شخص کے بارے میں بدگمان ہوجائے تو اس کی ہر بات اس کو غلط معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کے بارے میں اس کا ذہن منفی رخ پر چل پڑتا ہے۔ اس کی خوبیوں سے زیادہ وہ اس کے عیوب تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کی برائیوں کو بیان کرکے اسے بے عزت کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔
اکثر سماجی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی اس معاملہ میں چوکنا رہے۔ وہ بدگمانی کو اپنے ذہن میں داخل نہ ہونے دے۔
آپ کو کسی سے بدگمانی ہوجائے تو آپ اس سے مل کر گفتگو کرسکتے ہیں۔ مگر یہ سخت غیر اخلاقی فعل ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہا جائے جب کہ وہ اپنی صفائی کے لیے وہاں موجود نہ ہو۔ وقتی طور پر کبھی آدمی سے اس قسم کی غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ لیکن اگر وہ اللہ سے ڈرنے والا ہے تو وہ اپنی غلطی پر ڈھيٹ نہیں ہوگا۔ اس کا خوف خدا اس کو فوراً اپنی غلطی پر متنبہہ کرے گا، وہ اپنی روش کو چھوڑ کر اللہ سے معافی کا طالب بن جائے گا۔
الحجرات 49:13
انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے فرق ہوتے ہیں۔ کوئی سفید ہے اور کوئی کالا۔ کوئی ایک نسل سے ہے اور کوئی دوسری نسل سے۔ کوئی ایک جغرافیہ سے تعلق رکھتا ہے اور کوئی دوسرے جغرافیہ سے۔ یہ تمام فرق صرف تعارف کے لیے ہیں، نہ کہ امتیاز کے لیے۔ اکثر خرابیوں کا سبب یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس قسم کے فرق کی بنا پر ایک دوسرے کے درمیان فرق کرنے لگتے ہیں۔ اس سے وہ تفریق اور تعصب وجود میں آتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
انسان اپنے آغاز کے اعتبار سے سب کے سب ایک ہیں۔ ان میں امتیاز کی اگر کوئی بنیاد ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ کون اللہ سے ڈرنے والا ہے اور کون اللہ سے ڈرنے والا نہیں۔ اور اس کا بھی صحیح علم صرف خدا کو ہے، نہ کہ کسی انسان کو۔
الحجرات 49:14
مدینہ کے اطراف میں کئی چھوٹے چھوٹے قبیلے تھے۔ یہ لوگ ہجرت کے بعد اسلام میں داخل ہوگئے مگر ان کا اسلام کسی گہرے ذہنی انقلاب کا نتیجہ نہ تھا۔ اللہ کی نظر میں اسلام پر ایمان لانے والا وہ ہے جو اسلام کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر پائے جو اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے، جو لوگ اس خدا کے دین کو قبول کریں وہ ایک لازوال یقین کو پالیتے ہیں۔ وہ قربانی کی حد تک اس پر قائم رہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
آدمی کوئی اچھا کام کرے تو وہ اس کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا اظہار اس کے عمل کو باطل کردینے والا ہے۔ اچھا عمل حقیقۃً وہ ہے جو اللہ کے لیے کیا جائے۔ پھر اللہ جب خود ہر بات کو جانتا ہے تو اس کے اعلان و اظہار کی کیا ضرورت۔
الحجرات 49:15
مدینہ کے اطراف میں کئی چھوٹے چھوٹے قبیلے تھے۔ یہ لوگ ہجرت کے بعد اسلام میں داخل ہوگئے مگر ان کا اسلام کسی گہرے ذہنی انقلاب کا نتیجہ نہ تھا۔ اللہ کی نظر میں اسلام پر ایمان لانے والا وہ ہے جو اسلام کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر پائے جو اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے، جو لوگ اس خدا کے دین کو قبول کریں وہ ایک لازوال یقین کو پالیتے ہیں۔ وہ قربانی کی حد تک اس پر قائم رہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
آدمی کوئی اچھا کام کرے تو وہ اس کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا اظہار اس کے عمل کو باطل کردینے والا ہے۔ اچھا عمل حقیقۃً وہ ہے جو اللہ کے لیے کیا جائے۔ پھر اللہ جب خود ہر بات کو جانتا ہے تو اس کے اعلان و اظہار کی کیا ضرورت۔
الحجرات 49:16
کوئی شخص اسلام میں داخل ہو یا اس کے ہاتھ سے کوئی اسلامی کام انجام پائے تو اس کو سمجھنا چاہيے کہ یہ اللہ کی مدد سے ہوا ہے۔ ایمان اور عمل سب کا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ اس لیے جب بھی کسی کو کسی خیر کی توفیق ملے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔
اس کے بجائے اگر وہ اپنے ہم مذہبوں پر اس کا احسان جتانے لگے تو گویا وہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ یہ کام میں نے اللہ کو دکھانے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ انسانوں کو دکھانے کے لیے کیا تھا۔ خدا ہر چیز سے براہِ راست واقفیت رکھتا ہے، جو شخص خدا کے لیے عمل کرے اس کو یقين رکھنا چاهيے کہ اس کا خدا اس کے عمل کو بتائے بغیر دیکھ رہا ہے۔
الحجرات 49:17
کوئی شخص اسلام میں داخل ہو یا اس کے ہاتھ سے کوئی اسلامی کام انجام پائے تو اس کو سمجھنا چاہيے کہ یہ اللہ کی مدد سے ہوا ہے۔ ایمان اور عمل سب کا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ اس لیے جب بھی کسی کو کسی خیر کی توفیق ملے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔
اس کے بجائے اگر وہ اپنے ہم مذہبوں پر اس کا احسان جتانے لگے تو گویا وہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ یہ کام میں نے اللہ کو دکھانے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ انسانوں کو دکھانے کے لیے کیا تھا۔ خدا ہر چیز سے براہِ راست واقفیت رکھتا ہے، جو شخص خدا کے لیے عمل کرے اس کو یقين رکھنا چاهيے کہ اس کا خدا اس کے عمل کو بتائے بغیر دیکھ رہا ہے۔
الحجرات 49:18
کوئی شخص اسلام میں داخل ہو یا اس کے ہاتھ سے کوئی اسلامی کام انجام پائے تو اس کو سمجھنا چاہيے کہ یہ اللہ کی مدد سے ہوا ہے۔ ایمان اور عمل سب کا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ اس لیے جب بھی کسی کو کسی خیر کی توفیق ملے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔
اس کے بجائے اگر وہ اپنے ہم مذہبوں پر اس کا احسان جتانے لگے تو گویا وہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ یہ کام میں نے اللہ کو دکھانے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ انسانوں کو دکھانے کے لیے کیا تھا۔ خدا ہر چیز سے براہِ راست واقفیت رکھتا ہے، جو شخص خدا کے لیے عمل کرے اس کو یقين رکھنا چاهيے کہ اس کا خدا اس کے عمل کو بتائے بغیر دیکھ رہا ہے۔
ق 50:1
پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے ہم زمانہ لوگ ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ البتہ جب بعد کا زمانہ آتا ہے تو لوگ آسانی کے ساتھ ان کی پیغمبرانہ حیثیت کو تسلیم کرلیتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اپنے ہم زمانہ لوگوں کو’’اپنے برابر کا ایک شخص‘‘ نظر آتا ہے۔ یہ بات ان کے لیے تعجب خیز بن جاتی ہے کہ جس شخص کو وہ اپنے برابر کا سمجھے ہوئے تھے وہ اچانک بڑا بن کر ان کو نصیحت کرنے لگے۔ مگر بعد کے زمانہ میں پیغمبر کے ساتھ عظمتوں کی تاریخ وابستہ ہوچکی ہوتی ہے۔ اس لیے بعد کے لوگوں کو وہ "اپنے سے برتر شخص" دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر کی پیغمبرانہ حیثیت کو ماننا لوگوں کے لیے مشکل نہیں ہوتا۔ بالفاظ دیگر، ابتدائی دور کے لوگوں کے سامنے پیغمبر ایک نزاعی شخصیت کے روپ میں ہوتا ہے۔ اور بعد کے لوگوں کے سامنے ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں۔ دور اول کے لوگوں کو اپنے اور پیغمبر کے درمیان خلا کو پر کرنے کے لیے شعوری سفر طے کرنا پڑتا ہے، جب کہ بعد کے زمانہ میں یہ خلا خود تاریخ پر کرچکی ہوتی ہے۔
جو لوگ پیغمبر کی پیغمبری پر شبہ کر رہے ہوں ان کی نظر میں پیغمبر کی ہر بات مشتبہ ہوجاتی ہے حتی کہ وہ بات بھی جس کا عقیدہ روایتی طور پر ان کے یہاں موجود ہوتا ہے۔ تاہم یہ باتیں لوگوں کے لیے عذر نہیں بن سکتیں۔ پیغمبر کو نہ ماننے والے اگر اس کی کتاب کی ناقابلِ تقلید ادبی عظمت پر غور کریں تو وہ اس کے لانے والے کو خدا کا پیغمبر ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔
ق 50:2
پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے ہم زمانہ لوگ ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ البتہ جب بعد کا زمانہ آتا ہے تو لوگ آسانی کے ساتھ ان کی پیغمبرانہ حیثیت کو تسلیم کرلیتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اپنے ہم زمانہ لوگوں کو’’اپنے برابر کا ایک شخص‘‘ نظر آتا ہے۔ یہ بات ان کے لیے تعجب خیز بن جاتی ہے کہ جس شخص کو وہ اپنے برابر کا سمجھے ہوئے تھے وہ اچانک بڑا بن کر ان کو نصیحت کرنے لگے۔ مگر بعد کے زمانہ میں پیغمبر کے ساتھ عظمتوں کی تاریخ وابستہ ہوچکی ہوتی ہے۔ اس لیے بعد کے لوگوں کو وہ "اپنے سے برتر شخص" دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر کی پیغمبرانہ حیثیت کو ماننا لوگوں کے لیے مشکل نہیں ہوتا۔ بالفاظ دیگر، ابتدائی دور کے لوگوں کے سامنے پیغمبر ایک نزاعی شخصیت کے روپ میں ہوتا ہے۔ اور بعد کے لوگوں کے سامنے ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں۔ دور اول کے لوگوں کو اپنے اور پیغمبر کے درمیان خلا کو پر کرنے کے لیے شعوری سفر طے کرنا پڑتا ہے، جب کہ بعد کے زمانہ میں یہ خلا خود تاریخ پر کرچکی ہوتی ہے۔
جو لوگ پیغمبر کی پیغمبری پر شبہ کر رہے ہوں ان کی نظر میں پیغمبر کی ہر بات مشتبہ ہوجاتی ہے حتی کہ وہ بات بھی جس کا عقیدہ روایتی طور پر ان کے یہاں موجود ہوتا ہے۔ تاہم یہ باتیں لوگوں کے لیے عذر نہیں بن سکتیں۔ پیغمبر کو نہ ماننے والے اگر اس کی کتاب کی ناقابلِ تقلید ادبی عظمت پر غور کریں تو وہ اس کے لانے والے کو خدا کا پیغمبر ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔
ق 50:3
پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے ہم زمانہ لوگ ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ البتہ جب بعد کا زمانہ آتا ہے تو لوگ آسانی کے ساتھ ان کی پیغمبرانہ حیثیت کو تسلیم کرلیتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اپنے ہم زمانہ لوگوں کو’’اپنے برابر کا ایک شخص‘‘ نظر آتا ہے۔ یہ بات ان کے لیے تعجب خیز بن جاتی ہے کہ جس شخص کو وہ اپنے برابر کا سمجھے ہوئے تھے وہ اچانک بڑا بن کر ان کو نصیحت کرنے لگے۔ مگر بعد کے زمانہ میں پیغمبر کے ساتھ عظمتوں کی تاریخ وابستہ ہوچکی ہوتی ہے۔ اس لیے بعد کے لوگوں کو وہ "اپنے سے برتر شخص" دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر کی پیغمبرانہ حیثیت کو ماننا لوگوں کے لیے مشکل نہیں ہوتا۔ بالفاظ دیگر، ابتدائی دور کے لوگوں کے سامنے پیغمبر ایک نزاعی شخصیت کے روپ میں ہوتا ہے۔ اور بعد کے لوگوں کے سامنے ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں۔ دور اول کے لوگوں کو اپنے اور پیغمبر کے درمیان خلا کو پر کرنے کے لیے شعوری سفر طے کرنا پڑتا ہے، جب کہ بعد کے زمانہ میں یہ خلا خود تاریخ پر کرچکی ہوتی ہے۔
جو لوگ پیغمبر کی پیغمبری پر شبہ کر رہے ہوں ان کی نظر میں پیغمبر کی ہر بات مشتبہ ہوجاتی ہے حتی کہ وہ بات بھی جس کا عقیدہ روایتی طور پر ان کے یہاں موجود ہوتا ہے۔ تاہم یہ باتیں لوگوں کے لیے عذر نہیں بن سکتیں۔ پیغمبر کو نہ ماننے والے اگر اس کی کتاب کی ناقابلِ تقلید ادبی عظمت پر غور کریں تو وہ اس کے لانے والے کو خدا کا پیغمبر ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔
ق 50:4
پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے ہم زمانہ لوگ ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ البتہ جب بعد کا زمانہ آتا ہے تو لوگ آسانی کے ساتھ ان کی پیغمبرانہ حیثیت کو تسلیم کرلیتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اپنے ہم زمانہ لوگوں کو’’اپنے برابر کا ایک شخص‘‘ نظر آتا ہے۔ یہ بات ان کے لیے تعجب خیز بن جاتی ہے کہ جس شخص کو وہ اپنے برابر کا سمجھے ہوئے تھے وہ اچانک بڑا بن کر ان کو نصیحت کرنے لگے۔ مگر بعد کے زمانہ میں پیغمبر کے ساتھ عظمتوں کی تاریخ وابستہ ہوچکی ہوتی ہے۔ اس لیے بعد کے لوگوں کو وہ "اپنے سے برتر شخص" دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر کی پیغمبرانہ حیثیت کو ماننا لوگوں کے لیے مشکل نہیں ہوتا۔ بالفاظ دیگر، ابتدائی دور کے لوگوں کے سامنے پیغمبر ایک نزاعی شخصیت کے روپ میں ہوتا ہے۔ اور بعد کے لوگوں کے سامنے ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں۔ دور اول کے لوگوں کو اپنے اور پیغمبر کے درمیان خلا کو پر کرنے کے لیے شعوری سفر طے کرنا پڑتا ہے، جب کہ بعد کے زمانہ میں یہ خلا خود تاریخ پر کرچکی ہوتی ہے۔
جو لوگ پیغمبر کی پیغمبری پر شبہ کر رہے ہوں ان کی نظر میں پیغمبر کی ہر بات مشتبہ ہوجاتی ہے حتی کہ وہ بات بھی جس کا عقیدہ روایتی طور پر ان کے یہاں موجود ہوتا ہے۔ تاہم یہ باتیں لوگوں کے لیے عذر نہیں بن سکتیں۔ پیغمبر کو نہ ماننے والے اگر اس کی کتاب کی ناقابلِ تقلید ادبی عظمت پر غور کریں تو وہ اس کے لانے والے کو خدا کا پیغمبر ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔
ق 50:5
پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے ہم زمانہ لوگ ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ البتہ جب بعد کا زمانہ آتا ہے تو لوگ آسانی کے ساتھ ان کی پیغمبرانہ حیثیت کو تسلیم کرلیتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اپنے ہم زمانہ لوگوں کو’’اپنے برابر کا ایک شخص‘‘ نظر آتا ہے۔ یہ بات ان کے لیے تعجب خیز بن جاتی ہے کہ جس شخص کو وہ اپنے برابر کا سمجھے ہوئے تھے وہ اچانک بڑا بن کر ان کو نصیحت کرنے لگے۔ مگر بعد کے زمانہ میں پیغمبر کے ساتھ عظمتوں کی تاریخ وابستہ ہوچکی ہوتی ہے۔ اس لیے بعد کے لوگوں کو وہ "اپنے سے برتر شخص" دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر کی پیغمبرانہ حیثیت کو ماننا لوگوں کے لیے مشکل نہیں ہوتا۔ بالفاظ دیگر، ابتدائی دور کے لوگوں کے سامنے پیغمبر ایک نزاعی شخصیت کے روپ میں ہوتا ہے۔ اور بعد کے لوگوں کے سامنے ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں۔ دور اول کے لوگوں کو اپنے اور پیغمبر کے درمیان خلا کو پر کرنے کے لیے شعوری سفر طے کرنا پڑتا ہے، جب کہ بعد کے زمانہ میں یہ خلا خود تاریخ پر کرچکی ہوتی ہے۔
جو لوگ پیغمبر کی پیغمبری پر شبہ کر رہے ہوں ان کی نظر میں پیغمبر کی ہر بات مشتبہ ہوجاتی ہے حتی کہ وہ بات بھی جس کا عقیدہ روایتی طور پر ان کے یہاں موجود ہوتا ہے۔ تاہم یہ باتیں لوگوں کے لیے عذر نہیں بن سکتیں۔ پیغمبر کو نہ ماننے والے اگر اس کی کتاب کی ناقابلِ تقلید ادبی عظمت پر غور کریں تو وہ اس کے لانے والے کو خدا کا پیغمبر ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔
ق 50:6
قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔
دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔
ق 50:7
قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔
دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔
ق 50:8
قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔
دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔
ق 50:9
قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔
دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔
ق 50:10
قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔
دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔
ق 50:11
قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔
دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔
ق 50:12
قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔
دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔
ق 50:13
قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔
دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔
ق 50:14
قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔
دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔
ق 50:15
قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔
دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔
ق 50:16
دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں’’ریکارڈنگ‘‘ کا ناقابلِ خطا نظام موجود ہے۔ انسان کی سوچ اس کے ذہنی پردہ پر ہمیشہ کے لیے نقش ہورہی ہے۔ انسان کا ہر بول ہوائی لہروں کی صورت میں مستقل طور پر باقی رہتا ہے۔ انسان کا عمل حرارتی لہروں کے ذریعہ خارجی دنیا میں اس طرح محفوظ ہوجاتا ہے کہ اس کو کسی بھی وقت دہرایا جا سکے۔ یہ سب آج کی معلوم حقیقتیں ہیں۔ اور یہ معلوم حقیقتیں قرآن کی اس خبر کو قابل فہم بنا رہی ہیں کہ انسان کی نیت، اس کا قول اور اس کا عمل سب کچھ خالق کے علم میں ہے۔ انسان کی ہر چیز فرشتوں کے رجسٹر میں درج کی جا رہی ہے۔
ق 50:17
دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں’’ریکارڈنگ‘‘ کا ناقابلِ خطا نظام موجود ہے۔ انسان کی سوچ اس کے ذہنی پردہ پر ہمیشہ کے لیے نقش ہورہی ہے۔ انسان کا ہر بول ہوائی لہروں کی صورت میں مستقل طور پر باقی رہتا ہے۔ انسان کا عمل حرارتی لہروں کے ذریعہ خارجی دنیا میں اس طرح محفوظ ہوجاتا ہے کہ اس کو کسی بھی وقت دہرایا جا سکے۔ یہ سب آج کی معلوم حقیقتیں ہیں۔ اور یہ معلوم حقیقتیں قرآن کی اس خبر کو قابل فہم بنا رہی ہیں کہ انسان کی نیت، اس کا قول اور اس کا عمل سب کچھ خالق کے علم میں ہے۔ انسان کی ہر چیز فرشتوں کے رجسٹر میں درج کی جا رہی ہے۔
ق 50:18
دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں’’ریکارڈنگ‘‘ کا ناقابلِ خطا نظام موجود ہے۔ انسان کی سوچ اس کے ذہنی پردہ پر ہمیشہ کے لیے نقش ہورہی ہے۔ انسان کا ہر بول ہوائی لہروں کی صورت میں مستقل طور پر باقی رہتا ہے۔ انسان کا عمل حرارتی لہروں کے ذریعہ خارجی دنیا میں اس طرح محفوظ ہوجاتا ہے کہ اس کو کسی بھی وقت دہرایا جا سکے۔ یہ سب آج کی معلوم حقیقتیں ہیں۔ اور یہ معلوم حقیقتیں قرآن کی اس خبر کو قابل فہم بنا رہی ہیں کہ انسان کی نیت، اس کا قول اور اس کا عمل سب کچھ خالق کے علم میں ہے۔ انسان کی ہر چیز فرشتوں کے رجسٹر میں درج کی جا رہی ہے۔
ق 50:19
ان آیات میں موت اور اس کے بعد قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں پر کیا بیتے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے کو آزاد پا کر سرکش بنے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر کشی اتنی بھیانک ہے کہ زندہ آدمی کو تڑپا دینے کے لیے کافی ہے۔
ق 50:20
ان آیات میں موت اور اس کے بعد قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں پر کیا بیتے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے کو آزاد پا کر سرکش بنے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر کشی اتنی بھیانک ہے کہ زندہ آدمی کو تڑپا دینے کے لیے کافی ہے۔
ق 50:21
ان آیات میں موت اور اس کے بعد قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں پر کیا بیتے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے کو آزاد پا کر سرکش بنے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر کشی اتنی بھیانک ہے کہ زندہ آدمی کو تڑپا دینے کے لیے کافی ہے۔
ق 50:22
ان آیات میں موت اور اس کے بعد قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں پر کیا بیتے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے کو آزاد پا کر سرکش بنے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر کشی اتنی بھیانک ہے کہ زندہ آدمی کو تڑپا دینے کے لیے کافی ہے۔
ق 50:23
ان آیات میں موت اور اس کے بعد قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں پر کیا بیتے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے کو آزاد پا کر سرکش بنے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر کشی اتنی بھیانک ہے کہ زندہ آدمی کو تڑپا دینے کے لیے کافی ہے۔
ق 50:24
ان آیات میں موت اور اس کے بعد قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں پر کیا بیتے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے کو آزاد پا کر سرکش بنے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر کشی اتنی بھیانک ہے کہ زندہ آدمی کو تڑپا دینے کے لیے کافی ہے۔
ق 50:25
ان آیات میں موت اور اس کے بعد قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں پر کیا بیتے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے کو آزاد پا کر سرکش بنے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر کشی اتنی بھیانک ہے کہ زندہ آدمی کو تڑپا دینے کے لیے کافی ہے۔
ق 50:26
ان آیات میں موت اور اس کے بعد قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں پر کیا بیتے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے کو آزاد پا کر سرکش بنے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر کشی اتنی بھیانک ہے کہ زندہ آدمی کو تڑپا دینے کے لیے کافی ہے۔
ق 50:27
ان آیات میں موت اور اس کے بعد قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں پر کیا بیتے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے کو آزاد پا کر سرکش بنے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر کشی اتنی بھیانک ہے کہ زندہ آدمی کو تڑپا دینے کے لیے کافی ہے۔
ق 50:28
ان آیات میں موت اور اس کے بعد قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں پر کیا بیتے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے کو آزاد پا کر سرکش بنے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر کشی اتنی بھیانک ہے کہ زندہ آدمی کو تڑپا دینے کے لیے کافی ہے۔
ق 50:29
ان آیات میں موت اور اس کے بعد قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں پر کیا بیتے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے کو آزاد پا کر سرکش بنے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر کشی اتنی بھیانک ہے کہ زندہ آدمی کو تڑپا دینے کے لیے کافی ہے۔
ق 50:30
خدا کی ابدی جنت کے مستحق کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہے۔ جو لوگ بن دیکھے ڈرے وہی وہ لوگ ہیں جو اس دن ڈر اور غم سے محفوظ رہیں گے جب ڈر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر جنت والے اوصاف پیدا کرتا ہے اور اللہ سے بے خوفی جہنم والے اوصاف۔
ق 50:31
خدا کی ابدی جنت کے مستحق کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہے۔ جو لوگ بن دیکھے ڈرے وہی وہ لوگ ہیں جو اس دن ڈر اور غم سے محفوظ رہیں گے جب ڈر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر جنت والے اوصاف پیدا کرتا ہے اور اللہ سے بے خوفی جہنم والے اوصاف۔
ق 50:32
خدا کی ابدی جنت کے مستحق کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہے۔ جو لوگ بن دیکھے ڈرے وہی وہ لوگ ہیں جو اس دن ڈر اور غم سے محفوظ رہیں گے جب ڈر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر جنت والے اوصاف پیدا کرتا ہے اور اللہ سے بے خوفی جہنم والے اوصاف۔
ق 50:33
خدا کی ابدی جنت کے مستحق کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہے۔ جو لوگ بن دیکھے ڈرے وہی وہ لوگ ہیں جو اس دن ڈر اور غم سے محفوظ رہیں گے جب ڈر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر جنت والے اوصاف پیدا کرتا ہے اور اللہ سے بے خوفی جہنم والے اوصاف۔
ق 50:34
خدا کی ابدی جنت کے مستحق کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہے۔ جو لوگ بن دیکھے ڈرے وہی وہ لوگ ہیں جو اس دن ڈر اور غم سے محفوظ رہیں گے جب ڈر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر جنت والے اوصاف پیدا کرتا ہے اور اللہ سے بے خوفی جہنم والے اوصاف۔
ق 50:35
خدا کی ابدی جنت کے مستحق کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہے۔ جو لوگ بن دیکھے ڈرے وہی وہ لوگ ہیں جو اس دن ڈر اور غم سے محفوظ رہیں گے جب ڈر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر جنت والے اوصاف پیدا کرتا ہے اور اللہ سے بے خوفی جہنم والے اوصاف۔
ق 50:36
قومیں ابھرتی ہیں اور عروج کو پہنچ جاتی ہیں مگر جب وہ اپنی بد اعمالی کے نتیجہ میں خدا کی زد میں آتی ہیں تو ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ زمین میں کہیں کوئی جگہ نہیں ہوتی جہاں وہ بھاگ کر پناہ لے سکیں۔ تاریخ کے ان واقعات میں زبردست نصیحت ہے۔ مگر نصیحت وہ شخص لے گا جس کے اندر یا تو سوچنے کی صلاحیت زندہ ہو کہ وہ خود واقعات کے خاموش پیغام کو اخذ کرسکے۔ یا اس کے اندر سننے کی صلاحیت زندہ ہو کہ جب اس کو بتایا جائے تو وہ اس کے اندرون تک بلا روک ٹوک پہنچے۔
ق 50:37
قومیں ابھرتی ہیں اور عروج کو پہنچ جاتی ہیں مگر جب وہ اپنی بد اعمالی کے نتیجہ میں خدا کی زد میں آتی ہیں تو ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ زمین میں کہیں کوئی جگہ نہیں ہوتی جہاں وہ بھاگ کر پناہ لے سکیں۔ تاریخ کے ان واقعات میں زبردست نصیحت ہے۔ مگر نصیحت وہ شخص لے گا جس کے اندر یا تو سوچنے کی صلاحیت زندہ ہو کہ وہ خود واقعات کے خاموش پیغام کو اخذ کرسکے۔ یا اس کے اندر سننے کی صلاحیت زندہ ہو کہ جب اس کو بتایا جائے تو وہ اس کے اندرون تک بلا روک ٹوک پہنچے۔
ق 50:38
زمین و آسمان کو چھ دنوں، بالفاظ دیگر چھ ادوار میں پیدا کرنا بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ تدریجی عمل کا طریقہ ہے۔ اور جب خدا ساری طاقتوں کا مالک ہونے کے باوجود واقعات کو تدریج کے ساتھ لمبی مدت میں ظہور میں لاتا ہے تو انسان کو بھی چاہيے کہ وہ جلد بازی سے بچے، وہ صابرانہ عمل کے ذریعہ نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
دعوت کا عمل شروع سے آخرتک صبر کا عمل ہے۔ اس میں انسان کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو سہنا پڑتا ہے۔ اس میں نتیجہ سامنے دکھائی نہ دینے کے باوجود اپنے عمل کو جاری رکھنا پڑتا ہے۔ اس صبر آزما عمل پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے جس کے صبح و شام ذکر اور عبادت میں گزرتے ہوں، جو انسانوں سے نہ پا کر خدا سے پا رہا ہو، جو سب کچھ کھو کر بھی احساس محرومی کا شکار نہ ہوسکے۔
’’ہم کو تکان نہیں ہوتی‘‘ایک ضمنی فقرہ ہے۔ موجودہ محرف بائبل میں ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا(خروج 20:11 )۔ یہ فقرہ اسی کی تصحیح و تردید ہے۔ آرام وہ کرتا ہے جو تھکے۔ خدا کو تکان نہیں ہوتی اس لیے اس کو آرام کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔
ق 50:39
زمین و آسمان کو چھ دنوں، بالفاظ دیگر چھ ادوار میں پیدا کرنا بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ تدریجی عمل کا طریقہ ہے۔ اور جب خدا ساری طاقتوں کا مالک ہونے کے باوجود واقعات کو تدریج کے ساتھ لمبی مدت میں ظہور میں لاتا ہے تو انسان کو بھی چاہيے کہ وہ جلد بازی سے بچے، وہ صابرانہ عمل کے ذریعہ نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
دعوت کا عمل شروع سے آخرتک صبر کا عمل ہے۔ اس میں انسان کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو سہنا پڑتا ہے۔ اس میں نتیجہ سامنے دکھائی نہ دینے کے باوجود اپنے عمل کو جاری رکھنا پڑتا ہے۔ اس صبر آزما عمل پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے جس کے صبح و شام ذکر اور عبادت میں گزرتے ہوں، جو انسانوں سے نہ پا کر خدا سے پا رہا ہو، جو سب کچھ کھو کر بھی احساس محرومی کا شکار نہ ہوسکے۔
’’ہم کو تکان نہیں ہوتی‘‘ایک ضمنی فقرہ ہے۔ موجودہ محرف بائبل میں ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا(خروج 20:11 )۔ یہ فقرہ اسی کی تصحیح و تردید ہے۔ آرام وہ کرتا ہے جو تھکے۔ خدا کو تکان نہیں ہوتی اس لیے اس کو آرام کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔
ق 50:40
زمین و آسمان کو چھ دنوں، بالفاظ دیگر چھ ادوار میں پیدا کرنا بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ تدریجی عمل کا طریقہ ہے۔ اور جب خدا ساری طاقتوں کا مالک ہونے کے باوجود واقعات کو تدریج کے ساتھ لمبی مدت میں ظہور میں لاتا ہے تو انسان کو بھی چاہيے کہ وہ جلد بازی سے بچے، وہ صابرانہ عمل کے ذریعہ نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
دعوت کا عمل شروع سے آخرتک صبر کا عمل ہے۔ اس میں انسان کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو سہنا پڑتا ہے۔ اس میں نتیجہ سامنے دکھائی نہ دینے کے باوجود اپنے عمل کو جاری رکھنا پڑتا ہے۔ اس صبر آزما عمل پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے جس کے صبح و شام ذکر اور عبادت میں گزرتے ہوں، جو انسانوں سے نہ پا کر خدا سے پا رہا ہو، جو سب کچھ کھو کر بھی احساس محرومی کا شکار نہ ہوسکے۔
’’ہم کو تکان نہیں ہوتی‘‘ایک ضمنی فقرہ ہے۔ موجودہ محرف بائبل میں ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا(خروج 20:11 )۔ یہ فقرہ اسی کی تصحیح و تردید ہے۔ آرام وہ کرتا ہے جو تھکے۔ خدا کو تکان نہیں ہوتی اس لیے اس کو آرام کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔
ق 50:41
قیامت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں۔ کسی بھی وقت اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا اور اسرافیل صور میں پھونک مار کر اس کی اچانک آمد کی اطلاع دے دیں گے۔
جو لوگ خدا سے غافل ہیں وہ قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہیں۔ مگر جو سچا مومن ہے وہ ہر آن اس اندیشہ میں رہتا ہے کہ کب صور پھونک دیا جائے اور کب قیامت آجائے۔ صور پھونکے جانے کے بعد زمین و آسمان کا نقشہ بدل چکا ہوگا اور تمام لوگ ایک نئی دنیا میں جمع کیے جائیں گے تاکہ اپنے اپنے عمل کے مطابق اپنا ابدی انجام پا سکیں۔
ق 50:42
قیامت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں۔ کسی بھی وقت اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا اور اسرافیل صور میں پھونک مار کر اس کی اچانک آمد کی اطلاع دے دیں گے۔
جو لوگ خدا سے غافل ہیں وہ قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہیں۔ مگر جو سچا مومن ہے وہ ہر آن اس اندیشہ میں رہتا ہے کہ کب صور پھونک دیا جائے اور کب قیامت آجائے۔ صور پھونکے جانے کے بعد زمین و آسمان کا نقشہ بدل چکا ہوگا اور تمام لوگ ایک نئی دنیا میں جمع کیے جائیں گے تاکہ اپنے اپنے عمل کے مطابق اپنا ابدی انجام پا سکیں۔
ق 50:43
قیامت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں۔ کسی بھی وقت اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا اور اسرافیل صور میں پھونک مار کر اس کی اچانک آمد کی اطلاع دے دیں گے۔
جو لوگ خدا سے غافل ہیں وہ قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہیں۔ مگر جو سچا مومن ہے وہ ہر آن اس اندیشہ میں رہتا ہے کہ کب صور پھونک دیا جائے اور کب قیامت آجائے۔ صور پھونکے جانے کے بعد زمین و آسمان کا نقشہ بدل چکا ہوگا اور تمام لوگ ایک نئی دنیا میں جمع کیے جائیں گے تاکہ اپنے اپنے عمل کے مطابق اپنا ابدی انجام پا سکیں۔
ق 50:44
قیامت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں۔ کسی بھی وقت اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا اور اسرافیل صور میں پھونک مار کر اس کی اچانک آمد کی اطلاع دے دیں گے۔
جو لوگ خدا سے غافل ہیں وہ قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہیں۔ مگر جو سچا مومن ہے وہ ہر آن اس اندیشہ میں رہتا ہے کہ کب صور پھونک دیا جائے اور کب قیامت آجائے۔ صور پھونکے جانے کے بعد زمین و آسمان کا نقشہ بدل چکا ہوگا اور تمام لوگ ایک نئی دنیا میں جمع کیے جائیں گے تاکہ اپنے اپنے عمل کے مطابق اپنا ابدی انجام پا سکیں۔
ق 50:45
قرآن میں بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ تمہارا کام صرف پہنچا دینا ہے تمہارا کام لوگوں کو بدلنا نہیں ہے۔ دوسری طرف قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ خدا تمہارے ذریعہ سے دین حق کو تمام دینوں پر غالب کرے گا۔
یہ دو بات در اصل پیغمبر اسلام کی دو مختلف حیثیتوں کے اعتبار سے ہے۔ آپ ایک اعتبار سے ’’رسول اللہ‘‘تھے۔ دوسرے اعتبار سے آپ ’’خاتم النبیین‘‘ تھے۔ رسول اللہ ہونے کی حیثیت سے آپ کا کام وہی تھا جو تمام پیغمبروں کا تھا۔ یعنی امر حق کو لوگوں تک پوری طرح پہنچا دینا۔ مگر خاتم النبیین ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کو یہ بھی مطلوب تھا کہ آپ کے ذریعہ سے وہ اسباب پیدا کیے جائیں جو ہدایت الٰہی کو مستقل طور پر محفوظ کردیں۔ تاکہ دوبارہ پیغمبر بھیجنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ آپ کی اس دوسری حیثیت کا تقاضا تھا کہ آپ کے ذریعہ سے وہ انقلاب لایا جائے جو شرک کے غلبہ کو ختم کردے اور اسلام کو ایک ایسی غالب قوت کی حیثیت سے قائم کردے جو ہمیشہ کے لیے ہدایت الٰہی کی حفاظت کی ضمانت بن جائے۔
الذاريات 51:1
یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔
آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔
الذاريات 51:2
یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔
آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔
الذاريات 51:3
یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔
آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔
الذاريات 51:4
یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔
آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔
الذاريات 51:5
یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔
آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔
الذاريات 51:6
یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔
آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔
الذاريات 51:7
یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔
آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔
الذاريات 51:8
یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔
آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔
الذاريات 51:9
یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔
آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔
الذاريات 51:10
کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔
سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔
الذاريات 51:11
کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔
سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔
الذاريات 51:12
کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔
سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔
الذاريات 51:13
کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔
سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔
الذاريات 51:14
کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔
سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔
الذاريات 51:15
کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔
سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔
الذاريات 51:16
کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔
سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔
الذاريات 51:17
کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔
سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔
الذاريات 51:18
کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔
سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔
الذاريات 51:19
کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔
سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔
الذاريات 51:20
اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔
حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔
’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔
الذاريات 51:21
اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔
حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔
’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔
الذاريات 51:22
اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔
حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔
’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔
الذاريات 51:23
اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔
حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔
’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔
الذاريات 51:24
ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔
اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔
الذاريات 51:25
ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔
اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔
الذاريات 51:26
ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔
اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔
الذاريات 51:27
ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔
اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔
الذاريات 51:28
ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔
اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔
الذاريات 51:29
ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔
اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔
الذاريات 51:30
ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔
اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔
الذاريات 51:31
حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔
قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔
الذاريات 51:32
حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔
قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔
الذاريات 51:33
حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔
قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔
الذاريات 51:34
حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔
قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔
الذاريات 51:35
حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔
قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔
الذاريات 51:36
حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔
قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔
الذاريات 51:37
حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔
قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔
الذاريات 51:38
فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔
حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔
الذاريات 51:39
فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔
حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔
الذاريات 51:40
فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔
حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔
الذاريات 51:41
فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔
حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔
الذاريات 51:42
فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔
حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔
الذاريات 51:43
فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔
حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔
الذاريات 51:44
فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔
حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔
الذاريات 51:45
فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔
حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔
الذاريات 51:46
فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔
حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔
الذاريات 51:47
’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔
ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔
یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔
الذاريات 51:48
’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔
ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔
یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔
الذاريات 51:49
’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔
ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔
یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔
الذاريات 51:50
’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔
ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔
یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔
الذاريات 51:51
’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔
ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔
یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔
الذاريات 51:52
ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔
یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔
الذاريات 51:53
ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔
یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔
الذاريات 51:54
ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔
یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔
الذاريات 51:55
ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔
یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔
الذاريات 51:56
خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔
اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔
پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔
ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔
الذاريات 51:57
خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔
اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔
پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔
ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔
الذاريات 51:58
خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔
اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔
پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔
ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔
الذاريات 51:59
خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔
اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔
پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔
ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔
الذاريات 51:60
خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔
اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔
پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔
ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔
الطور 52:1
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:2
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:3
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:4
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:5
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:6
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:7
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:8
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:9
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:10
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:11
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:12
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:13
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:14
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:15
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:16
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الطور 52:17
انسان کا سب سے بڑا جرم حق کو جھٹلانا ہے۔ اس سے بقیہ تمام جرائم پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف ہے، تمام دوسری نیکیاں اسی سے بطور نتیجہ ظاہر ہوتی ہیں۔
حق کو ماننے سے آدمی کی بڑائی ٹوٹتی ہے۔ یہ کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس پر وہی لوگ پورے اترتے ہیں جن کو اللہ کے ڈرنے آخری حد تک سنجیدہ بنا دیا ہو۔ جو لوگ اس سب سے بڑی نیکی کا ثبوت دیں وہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے جنت کی ابدی نعمتوں کے دروازے کھول دیے جائیں۔
الطور 52:18
انسان کا سب سے بڑا جرم حق کو جھٹلانا ہے۔ اس سے بقیہ تمام جرائم پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف ہے، تمام دوسری نیکیاں اسی سے بطور نتیجہ ظاہر ہوتی ہیں۔
حق کو ماننے سے آدمی کی بڑائی ٹوٹتی ہے۔ یہ کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس پر وہی لوگ پورے اترتے ہیں جن کو اللہ کے ڈرنے آخری حد تک سنجیدہ بنا دیا ہو۔ جو لوگ اس سب سے بڑی نیکی کا ثبوت دیں وہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے جنت کی ابدی نعمتوں کے دروازے کھول دیے جائیں۔
الطور 52:19
انسان کا سب سے بڑا جرم حق کو جھٹلانا ہے۔ اس سے بقیہ تمام جرائم پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف ہے، تمام دوسری نیکیاں اسی سے بطور نتیجہ ظاہر ہوتی ہیں۔
حق کو ماننے سے آدمی کی بڑائی ٹوٹتی ہے۔ یہ کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس پر وہی لوگ پورے اترتے ہیں جن کو اللہ کے ڈرنے آخری حد تک سنجیدہ بنا دیا ہو۔ جو لوگ اس سب سے بڑی نیکی کا ثبوت دیں وہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے جنت کی ابدی نعمتوں کے دروازے کھول دیے جائیں۔
الطور 52:20
انسان کا سب سے بڑا جرم حق کو جھٹلانا ہے۔ اس سے بقیہ تمام جرائم پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف ہے، تمام دوسری نیکیاں اسی سے بطور نتیجہ ظاہر ہوتی ہیں۔
حق کو ماننے سے آدمی کی بڑائی ٹوٹتی ہے۔ یہ کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس پر وہی لوگ پورے اترتے ہیں جن کو اللہ کے ڈرنے آخری حد تک سنجیدہ بنا دیا ہو۔ جو لوگ اس سب سے بڑی نیکی کا ثبوت دیں وہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے جنت کی ابدی نعمتوں کے دروازے کھول دیے جائیں۔
الطور 52:21
آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
الطور 52:22
آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
الطور 52:23
آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
الطور 52:24
آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
الطور 52:25
آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
الطور 52:26
آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
الطور 52:27
آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
الطور 52:28
آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
الطور 52:29
جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔
مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔
الطور 52:30
جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔
مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔
الطور 52:31
جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔
مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔
الطور 52:32
جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔
مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔
الطور 52:33
جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔
مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔
الطور 52:34
جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔
مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔
الطور 52:35
خدا کی طرف سے جن صداقتوں کا اعلان ہوا ہے وہ سب پوری طرح معقول ہیں۔ آدمی اگر دھیان دے تو وہ بہ آسانی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں ان کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ آخرت کے بارے میں لوگوں کی بے یقینی ہے۔ لوگوں کو زندہ یقین نہیں کہ آخرت میں ان سے حساب لیا جائے گا۔ اس لیے وہ ان امور میں سنجیدہ نہیں۔ اور اسی لیے وہ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر جزائے اعمال کا یقین ہو تو آدمی فوراً ان باتوں کو سمجھ جائے جن کو سمجھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہورہا ہے۔
الطور 52:36
خدا کی طرف سے جن صداقتوں کا اعلان ہوا ہے وہ سب پوری طرح معقول ہیں۔ آدمی اگر دھیان دے تو وہ بہ آسانی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں ان کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ آخرت کے بارے میں لوگوں کی بے یقینی ہے۔ لوگوں کو زندہ یقین نہیں کہ آخرت میں ان سے حساب لیا جائے گا۔ اس لیے وہ ان امور میں سنجیدہ نہیں۔ اور اسی لیے وہ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر جزائے اعمال کا یقین ہو تو آدمی فوراً ان باتوں کو سمجھ جائے جن کو سمجھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہورہا ہے۔
الطور 52:37
خدا کی طرف سے جن صداقتوں کا اعلان ہوا ہے وہ سب پوری طرح معقول ہیں۔ آدمی اگر دھیان دے تو وہ بہ آسانی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں ان کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ آخرت کے بارے میں لوگوں کی بے یقینی ہے۔ لوگوں کو زندہ یقین نہیں کہ آخرت میں ان سے حساب لیا جائے گا۔ اس لیے وہ ان امور میں سنجیدہ نہیں۔ اور اسی لیے وہ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر جزائے اعمال کا یقین ہو تو آدمی فوراً ان باتوں کو سمجھ جائے جن کو سمجھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہورہا ہے۔
الطور 52:38
خدا کی طرف سے جن صداقتوں کا اعلان ہوا ہے وہ سب پوری طرح معقول ہیں۔ آدمی اگر دھیان دے تو وہ بہ آسانی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں ان کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ آخرت کے بارے میں لوگوں کی بے یقینی ہے۔ لوگوں کو زندہ یقین نہیں کہ آخرت میں ان سے حساب لیا جائے گا۔ اس لیے وہ ان امور میں سنجیدہ نہیں۔ اور اسی لیے وہ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر جزائے اعمال کا یقین ہو تو آدمی فوراً ان باتوں کو سمجھ جائے جن کو سمجھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہورہا ہے۔
الطور 52:39
خدا کی طرف سے جن صداقتوں کا اعلان ہوا ہے وہ سب پوری طرح معقول ہیں۔ آدمی اگر دھیان دے تو وہ بہ آسانی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں ان کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ آخرت کے بارے میں لوگوں کی بے یقینی ہے۔ لوگوں کو زندہ یقین نہیں کہ آخرت میں ان سے حساب لیا جائے گا۔ اس لیے وہ ان امور میں سنجیدہ نہیں۔ اور اسی لیے وہ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر جزائے اعمال کا یقین ہو تو آدمی فوراً ان باتوں کو سمجھ جائے جن کو سمجھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہورہا ہے۔
الطور 52:40
مدعو گروہ ہمیشہ مادہ پرستی کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مدعو کو اگر یہ احساس ہو کہ داعی اس سے اس کی کوئی مادی چیز لینا چاہتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف سے متوحش ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اپنے اور مخاطبین کے درمیان کسی قسم کے مادی مطالبہ کی بات کبھی نہیں آنے دیتا۔ وہ اپنے اور مخاطبین کے درمیان آخر وقت تک بے غرضی کی فضا باقی رکھتا ہے۔ خواہ اس کے لیے اسے یک طرفہ طور پر مادی نقصان برداشت کرنا پڑے۔
داعی جب اپنی دعوت کے حق میں اس حد تک سنجیدگی کا ثبوت دے دے تو اس کے بعد وہ خدا کی اس نصرت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ منکرین کی ہر تدبیر ان کے اوپر الٹی پڑے۔ وہ کسی بھی طرح داعی کو مغلوب کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔
الطور 52:41
مدعو گروہ ہمیشہ مادہ پرستی کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مدعو کو اگر یہ احساس ہو کہ داعی اس سے اس کی کوئی مادی چیز لینا چاہتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف سے متوحش ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اپنے اور مخاطبین کے درمیان کسی قسم کے مادی مطالبہ کی بات کبھی نہیں آنے دیتا۔ وہ اپنے اور مخاطبین کے درمیان آخر وقت تک بے غرضی کی فضا باقی رکھتا ہے۔ خواہ اس کے لیے اسے یک طرفہ طور پر مادی نقصان برداشت کرنا پڑے۔
داعی جب اپنی دعوت کے حق میں اس حد تک سنجیدگی کا ثبوت دے دے تو اس کے بعد وہ خدا کی اس نصرت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ منکرین کی ہر تدبیر ان کے اوپر الٹی پڑے۔ وہ کسی بھی طرح داعی کو مغلوب کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔
الطور 52:42
مدعو گروہ ہمیشہ مادہ پرستی کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مدعو کو اگر یہ احساس ہو کہ داعی اس سے اس کی کوئی مادی چیز لینا چاہتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف سے متوحش ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اپنے اور مخاطبین کے درمیان کسی قسم کے مادی مطالبہ کی بات کبھی نہیں آنے دیتا۔ وہ اپنے اور مخاطبین کے درمیان آخر وقت تک بے غرضی کی فضا باقی رکھتا ہے۔ خواہ اس کے لیے اسے یک طرفہ طور پر مادی نقصان برداشت کرنا پڑے۔
داعی جب اپنی دعوت کے حق میں اس حد تک سنجیدگی کا ثبوت دے دے تو اس کے بعد وہ خدا کی اس نصرت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ منکرین کی ہر تدبیر ان کے اوپر الٹی پڑے۔ وہ کسی بھی طرح داعی کو مغلوب کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔
الطور 52:43
مدعو گروہ ہمیشہ مادہ پرستی کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مدعو کو اگر یہ احساس ہو کہ داعی اس سے اس کی کوئی مادی چیز لینا چاہتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف سے متوحش ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اپنے اور مخاطبین کے درمیان کسی قسم کے مادی مطالبہ کی بات کبھی نہیں آنے دیتا۔ وہ اپنے اور مخاطبین کے درمیان آخر وقت تک بے غرضی کی فضا باقی رکھتا ہے۔ خواہ اس کے لیے اسے یک طرفہ طور پر مادی نقصان برداشت کرنا پڑے۔
داعی جب اپنی دعوت کے حق میں اس حد تک سنجیدگی کا ثبوت دے دے تو اس کے بعد وہ خدا کی اس نصرت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ منکرین کی ہر تدبیر ان کے اوپر الٹی پڑے۔ وہ کسی بھی طرح داعی کو مغلوب کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔
الطور 52:44
قدیم مکہ کے لوگوں کا یہ حال کیوں تھا کہ اگر وہ آسمان سے کوئی عذاب کا ٹکڑا گرتے ہوئے دیکھیں تو کہہ دیں کہ یہ بادل ہے۔ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ خدا کو یا خدائی طاقتوں کو مانتے نہ تھے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ انہیں پیغمبر کے پیغمبر ہونے میں شک تھا۔ انہیں یقین نہ تھا کہ ان کے سامنے بظاہر انہیں جیسا جو ایک شخص ہے اس کا انکار کرنا ایسا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے ہلاکت کا پہاڑ گر پڑے گا۔
پیغمبر اسلام کی شخصیت اپنے زمانہ میں لوگوں کے لیے ایک نزاعی شخصیت تھی۔ وہ اس طرح ایک ثابت شدہ شخصیت نہ تھی،جس طرح آج وہ لوگوں کو نظر آتی ہے۔ مگر اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہی ہے کہ وہ شبہات کے پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھے۔ وہ بظاہر ایک نزاعی شخصیت کو ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں دریافت کرے۔
الطور 52:45
قدیم مکہ کے لوگوں کا یہ حال کیوں تھا کہ اگر وہ آسمان سے کوئی عذاب کا ٹکڑا گرتے ہوئے دیکھیں تو کہہ دیں کہ یہ بادل ہے۔ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ خدا کو یا خدائی طاقتوں کو مانتے نہ تھے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ انہیں پیغمبر کے پیغمبر ہونے میں شک تھا۔ انہیں یقین نہ تھا کہ ان کے سامنے بظاہر انہیں جیسا جو ایک شخص ہے اس کا انکار کرنا ایسا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے ہلاکت کا پہاڑ گر پڑے گا۔
پیغمبر اسلام کی شخصیت اپنے زمانہ میں لوگوں کے لیے ایک نزاعی شخصیت تھی۔ وہ اس طرح ایک ثابت شدہ شخصیت نہ تھی،جس طرح آج وہ لوگوں کو نظر آتی ہے۔ مگر اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہی ہے کہ وہ شبہات کے پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھے۔ وہ بظاہر ایک نزاعی شخصیت کو ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں دریافت کرے۔
الطور 52:46
قدیم مکہ کے لوگوں کا یہ حال کیوں تھا کہ اگر وہ آسمان سے کوئی عذاب کا ٹکڑا گرتے ہوئے دیکھیں تو کہہ دیں کہ یہ بادل ہے۔ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ خدا کو یا خدائی طاقتوں کو مانتے نہ تھے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ انہیں پیغمبر کے پیغمبر ہونے میں شک تھا۔ انہیں یقین نہ تھا کہ ان کے سامنے بظاہر انہیں جیسا جو ایک شخص ہے اس کا انکار کرنا ایسا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے ہلاکت کا پہاڑ گر پڑے گا۔
پیغمبر اسلام کی شخصیت اپنے زمانہ میں لوگوں کے لیے ایک نزاعی شخصیت تھی۔ وہ اس طرح ایک ثابت شدہ شخصیت نہ تھی،جس طرح آج وہ لوگوں کو نظر آتی ہے۔ مگر اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہی ہے کہ وہ شبہات کے پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھے۔ وہ بظاہر ایک نزاعی شخصیت کو ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں دریافت کرے۔
الطور 52:47
قدیم مکہ کے لوگوں کا یہ حال کیوں تھا کہ اگر وہ آسمان سے کوئی عذاب کا ٹکڑا گرتے ہوئے دیکھیں تو کہہ دیں کہ یہ بادل ہے۔ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ خدا کو یا خدائی طاقتوں کو مانتے نہ تھے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ انہیں پیغمبر کے پیغمبر ہونے میں شک تھا۔ انہیں یقین نہ تھا کہ ان کے سامنے بظاہر انہیں جیسا جو ایک شخص ہے اس کا انکار کرنا ایسا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے ہلاکت کا پہاڑ گر پڑے گا۔
پیغمبر اسلام کی شخصیت اپنے زمانہ میں لوگوں کے لیے ایک نزاعی شخصیت تھی۔ وہ اس طرح ایک ثابت شدہ شخصیت نہ تھی،جس طرح آج وہ لوگوں کو نظر آتی ہے۔ مگر اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہی ہے کہ وہ شبہات کے پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھے۔ وہ بظاہر ایک نزاعی شخصیت کو ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں دریافت کرے۔
الطور 52:48
’’ خدا کا فیصلہ آنے تک صبر کرو‘‘ کا مطلب یہ ہے كه مخاطب کی طرف سے ہر قسم کی ناگوار باتوں کے پیش آنے کے باوجود دعوت کا کام اس وقت تک جاری رکھو جب تک خود خدا کے نزدیک اس کی حد نہ آجائے۔ جب یہ حد آتی ہے تو اس وقت خدا کا فیصلہ ظاہر ہو کر حق اور ناحق کے فرق کو عملی طور پر ظاہر کر دیتا ہے جس کواس سے پہلے صرف نظری طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔
اس پوری مدت میں داعی مکمل طور پر خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے ۔ داعی کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ رہے۔ اور یہ یقین رکھے کہ اللہ اس کو ہر آن اپنی حفاظت میں ليے ہوئے ہے۔
الطور 52:49
’’ خدا کا فیصلہ آنے تک صبر کرو‘‘ کا مطلب یہ ہے كه مخاطب کی طرف سے ہر قسم کی ناگوار باتوں کے پیش آنے کے باوجود دعوت کا کام اس وقت تک جاری رکھو جب تک خود خدا کے نزدیک اس کی حد نہ آجائے۔ جب یہ حد آتی ہے تو اس وقت خدا کا فیصلہ ظاہر ہو کر حق اور ناحق کے فرق کو عملی طور پر ظاہر کر دیتا ہے جس کواس سے پہلے صرف نظری طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔
اس پوری مدت میں داعی مکمل طور پر خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے ۔ داعی کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ رہے۔ اور یہ یقین رکھے کہ اللہ اس کو ہر آن اپنی حفاظت میں ليے ہوئے ہے۔
النجم 53:1
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:2
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:3
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:4
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:5
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:6
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:7
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:8
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:9
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:10
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:11
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:12
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:13
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:14
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:15
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:16
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:17
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:18
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:19
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:20
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:21
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:22
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:23
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:24
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:25
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
النجم 53:26
پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔
جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔
النجم 53:27
پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔
جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔
النجم 53:28
پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔
جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔
النجم 53:29
پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔
جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔
النجم 53:30
پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔
جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔
النجم 53:31
کائنات اپنے حد درجہ محکم نظام کے ساتھ بتا رہی ہے کہ اس کا خالق و مالک بے حد طاقت ور ہے۔ یہی واقعہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ وہ انسان کو پکڑے گا اور جب وہ انسان کو پکڑے گا تو کسی بھی شخص کے لیے اس کی پکڑ سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔
انسان کو بشری کمزوریوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے انسان سے فرشتوں جیسی پاکیزگی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پوری طرح بتا دیا ہے کہ اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ تاہم انسان کے لیے ’’لَمَمَ‘‘ کی معافی ہے۔ یعنی وقتی جذبہ کے تحت کسی برائی میں پڑجانا، بشرطیکہ آدمی فوراً بعد ہی اس کو محسوس کرے اور شرمندہ ہو کر اپنے رب سے معافی مانگے۔
النجم 53:32
کائنات اپنے حد درجہ محکم نظام کے ساتھ بتا رہی ہے کہ اس کا خالق و مالک بے حد طاقت ور ہے۔ یہی واقعہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ وہ انسان کو پکڑے گا اور جب وہ انسان کو پکڑے گا تو کسی بھی شخص کے لیے اس کی پکڑ سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔
انسان کو بشری کمزوریوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے انسان سے فرشتوں جیسی پاکیزگی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پوری طرح بتا دیا ہے کہ اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ تاہم انسان کے لیے ’’لَمَمَ‘‘ کی معافی ہے۔ یعنی وقتی جذبہ کے تحت کسی برائی میں پڑجانا، بشرطیکہ آدمی فوراً بعد ہی اس کو محسوس کرے اور شرمندہ ہو کر اپنے رب سے معافی مانگے۔
النجم 53:33
بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
النجم 53:34
بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
النجم 53:35
بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
النجم 53:36
بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
النجم 53:37
بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
النجم 53:38
بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
النجم 53:39
بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
النجم 53:40
بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
النجم 53:41
بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
النجم 53:42
بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
النجم 53:43
دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
النجم 53:44
دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
النجم 53:45
دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
النجم 53:46
دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
النجم 53:47
دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
النجم 53:48
دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
النجم 53:49
دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
النجم 53:50
ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔
النجم 53:51
ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔
النجم 53:52
ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔
النجم 53:53
ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔
النجم 53:54
ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔
النجم 53:55
ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔
النجم 53:56
پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
النجم 53:57
پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
النجم 53:58
پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
النجم 53:59
پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
النجم 53:60
پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
النجم 53:61
پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
النجم 53:62
پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔