Tafsir As-Saadi - Urdu — آل عمران 3:51 – آل عمران 3:121
Contents
- آل عمران 3:51
- آل عمران 3:52
- آل عمران 3:53
- آل عمران 3:54
- آل عمران 3:55
- آل عمران 3:56
- آل عمران 3:57
- آل عمران 3:58
- آل عمران 3:59
- آل عمران 3:60
- آل عمران 3:61
- آل عمران 3:62
- آل عمران 3:63
- آل عمران 3:64
- آل عمران 3:65
- آل عمران 3:66
- آل عمران 3:67
- آل عمران 3:68
- آل عمران 3:69
- آل عمران 3:70
- آل عمران 3:71
- آل عمران 3:72
- آل عمران 3:73
- آل عمران 3:74
- آل عمران 3:75
- آل عمران 3:76
- آل عمران 3:77
- آل عمران 3:78
- آل عمران 3:79
- آل عمران 3:80
- آل عمران 3:81
- آل عمران 3:82
- آل عمران 3:83
- آل عمران 3:84
- آل عمران 3:85
- آل عمران 3:86
- آل عمران 3:87
- آل عمران 3:88
- آل عمران 3:89
- آل عمران 3:90
- آل عمران 3:91
- آل عمران 3:92
- آل عمران 3:93
- آل عمران 3:94
- آل عمران 3:95
- آل عمران 3:96
- آل عمران 3:97
- آل عمران 3:98
- آل عمران 3:99
- آل عمران 3:100
- آل عمران 3:101
- آل عمران 3:102
- آل عمران 3:103
- آل عمران 3:104
- آل عمران 3:105
- آل عمران 3:106
- آل عمران 3:107
- آل عمران 3:108
- آل عمران 3:109
- آل عمران 3:110
- آل عمران 3:111
- آل عمران 3:112
- آل عمران 3:113
- آل عمران 3:114
- آل عمران 3:115
- آل عمران 3:116
- آل عمران 3:117
- آل عمران 3:118
- آل عمران 3:119
- آل عمران 3:120
- آل عمران 3:121
آل عمران 3:51
بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں، بلاشبہ اس میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن (49) اور تصدیق کرنے والا ہوں واسطے اس کے جو مجھ سے پہلے (نازل شدہ) ہے تورات، اور تاکہ حلال کر دوں میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں جو حرام کر دی گئی تھیں تم پر،اور آیا ہوں تمھارے پاس نشانی لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری(50) بے شک اللہ ہے رب میرا اور رب تمھارا، پس تم عبادت کرو اسی کی، یہی ہے راستہ سیدھا(51) پھر جب محسو س کیا عیسیٰ نے ان میں کفر، تو کہا، کون ہے مددگار میرا اللہ کے لیے ؟ کہا حواریوں نے، ہم ہیں مددگار اللہ (کے دین) کے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے،اور تو گواہ رہ اس بات کا کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں(52) اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ساتھ اس چیز کے جو تونے نازل کی، اور اتباع کیا ہم نے رسول کا، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ گواہوں کے(53) اور انھوں نے تدبیر کی اور اللہ نے(بھی) تدبیر کی، اور اللہ بہتر ہے سب تدبیر کرنے والوں سے(54)(یاد کرو) جب کہا اللہ نے، اے عیسیٰ! بلاشبہ میں پورا پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھے اپنی طرف، اورپاک کرنے والا ہوں تجھے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا،اور کرنے والا ہوں ان کو جنھوں نے اتباع کیا تیرا، اوپر ان کے جنھوں نے کفر کیا، روز قیامت تک، پھر میری ہی طرف ہے لوٹ کر آنا تمھارا، پس فیصلہ کروں گا میں تمھارے درمیان ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے(55)
[55-33] اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدمuکا انتخاب فرمایا۔ انھیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا کرکے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کریں، انھیں جنت میں ٹھہرایا۔ انھیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے، اس لیے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا﴾(بنیٓ اسرائیل:17؍70)’’یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں، اور انھیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں، اور اپنی بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی۔‘‘اللہ نے نوحuکو منتخب فرمایا اور انھیں اس وقت رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا، جب بتوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ آپ کو ہر وقت صبر، برداشت، شکر اور تبلیغ کی وہ توفیق بخشی جس کی وجہ سے وہ منتخب قرار دیے جانے کے لائق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کی دعا کے نتیجے میں زمین کے تمام باشندوں کو غرق کردیا۔ آپ کو آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے سے نجات بخشی، آپ کی نسل کو قیامت تک باقی رکھا۔ ہر زمانے میں لوگ آپ کی تعریف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ جن میں خود ابراہیمuبھی شامل ہیں جن کو اللہ نے خاص طورپر اپنی خلت سے نواز کر خلیل الرحمن کے لقب سے مشرف فرمایا۔ جنھوں نے اپنی ذات کو آگ کے حوالے کردیا، بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کردیا اور مال مہمانوں کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ آپ نے رات دن، چھپ چھپ کر اور علانیہ لوگوں کو رب کی طرف بلایا۔ اللہ نے آپ کو اسوہ (نمونہ) قرار دیا کہ بعد کے سب لوگ اس کی اتباع کریں۔ نبوت اور آسمانی کتابیں آپ کی اولاد کے لیے خاص کردیں۔ آل ابراہیم میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جو آپ کے بعد مبعوث ہوئے، کیونکہ وہ سب آپ کی نسل سے تھے۔ اللہ نے ان حضرات کو ایسے ایسے فضائل سے نوازا کہ وہ جہانوں میں افضل ترین افراد بن گئے۔ ابراہیم ہی کی آل میں سے تمام اولاد کے سردار، ہمارے نبی جناب محمدﷺبھی تشریف لائے۔ جن میں اللہ نے وہ تمام خوبیاں جمع فرمادیں جو دوسرے انبیاء کرام میں انفرادی طورپر موجود تھیں۔ چنانچہ آپ گزشتہ اور آئندہ تمام انسانوں سے بلند تر ہوئے۔ آپ رسولوں کے سردار ہوئے، جنھیں آل ابراہیم میں سے منتخب فرد (مصطفی) ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران کی آل کو بھی منتخب قرار دیا۔ عمران حضرت مریمiکے والد ماجد کا نام ہے۔ حضرت موسیٰuکے والد کا نام بھی عمران تھا۔ یہ گھرانے، جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یہ جہان والوں سے اس کے منتخب افراد کے گھرانے تھے۔ ان کی اولادوں کے ذریعے سے اصلاح اور توفیق کا تسلسل قائم رہا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں‘‘ ان میں باہمی مناسبت اور مشابہت تخلیق کے لحاظ سے بھی ہے اور اخلاق حسنہ کے لحاظ سے بھی۔ جس طرح اللہ نے ان خاندانوں کے دوسرے انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ١ۚ وَاجۡتَبَيۡنٰهُمۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾(الأنعام:6؍87)’’اور ان کے کچھ آباء و اجدادکو، اور کچھ اولاد کو، اور کچھ بھائیوں کو۔ اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سنتا جانتا ہے‘‘ یعنی کون اس قابل ہے کہ اسے چنا جائے اور کون نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے انھیں اس لیے منتخب فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان میں ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انھیں انتخاب کے قابل بناتی ہیں۔ یہ بھی اللہ کا فضل و کرم تھا۔ان بلند مرتبت حضرات کے واقعات ہمیں سنانے کا فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ ہم ان سے محبت رکھیں ، ان کی اقتدا کریں، اللہ سے سوال کریں کہ جس طرح ان کو توفیق دی تھی۔ ہمیں بھی ویسے نیک اعمال کی توفیق بخشے۔ ان کے پیچھے رہ جانے اور ویسی صفات سے متصف نہ ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو حقیر سمجھتے رہیں (یعنی اپنے اعمال پر فخر نہ کریں) علاوہ ازیں اس بیان میں ان پر مہربانی ہے، اولین و آخرین میں ان کی تعریف کا اظہار ہے۔ اور ان کے شرف و عظمت کا اعلان ہے۔ اللہ کا جودوکرم کتنا عظیم ہے، اگر کوئی اور شرف نہ بھی ہوتا تو ان کے لیے یہی شرف کافی تھا کہ ان کا ذکر اور ان کی خوبیوں کا بیان دوام پا گیا ہے۔ان معزز گھرانوں کا ذکرکرکے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰuکی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کی تربیت اور نشوونما میں کس طرح اللہ کا خاص لطف و کرم شامل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے:﴿ اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ ﴾ ’’جب عمران کی بیوی نے کہا‘‘ یعنی مریم علیہا السلام کی والدہ نے حمل قرار پاجانے پر فرمایا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِيۡ بَطۡنِيۡ مُحَرَّرًا﴾ ’’اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانی‘‘ یعنی تیری رضا کے حصول کے لیے میں نے تیرے گھر کی خدمت کے لیے آزاد کردیا۔ ﴿ فَتَقَبَّلۡ مِنِّيۡ ﴾ ’’پس تو میری طرف سے (یہ مبارک عمل) قبول فرما‘‘ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ ’’یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے‘‘ تو میری دعا سن رہا ہے، اور میری نیت اور ارادے سے باخبر ہے، یہ دعا انھوں نے اس وقت کی تھی جب مریم ان کے پیٹ میں تھیں، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ ﴿ فَلَمَّؔا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّيۡ وَضَعۡتُهَاۤ اُنۡثٰى ﴾ ’’جب بچی کو جنا تو کہنے لگی: پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی‘‘ جبکہ انھیں شوق تھا کہ لڑکا پیدا ہو، جو اللہ کے گھر میں خدمت اچھے طریقے سے کرسکے۔ اس کلام سے گویا ایک قسم کی معذرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ﴾ ’’اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی‘‘ اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اس وقت بھی علم تھا جب ان کی والدہ کو بھی علم نہیں تھا۔ ﴿ وَلَيۡسَ الذَّكَرُ كَالۡاُنۡثٰى١ۚ وَاِنِّيۡ سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں، میں نے اس کا نام مریم رکھا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی سے افضل ہے۔ اور پیدائش کے وقت نام رکھنا جائز ہے۔ اور ماں اپنے بچے کا نام رکھ سکتی ہے بشرطیکہ باپ کو یہ بات ناپسند نہ ہو۔ ﴿ وَاِنِّيۡۤ اُعِيۡذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيۡطٰنِ الرَّجِيۡمِ ﴾ ’’اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘ انھوں نے مریم کے لیے او رمریم کی اولاد کے لیے دعا کی کہ انھیں اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ ﴾ ’’پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا‘‘ یعنی انھیں نذر کے طورپر قبول فرمایا۔ اور انھیں اور ان کی اولاد کو شیطان سے محفوظ فرمایا۔ ﴿ وَّاَنۢۡـبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ﴾یعنی ان کی جسمانی اور اخلاقی تربیت بہت اچھی ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے زکریاuکو متعین فرمایا۔﴿ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ﴾ ’’اور ان کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا‘‘ کہ اللہ کی مہربانی تھی کہ ان کی تربیت کامل ترین حال میں ہو۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کرتے کرتے ان کی عمر بڑھی، اور دوسری عورتوں سے فائق ہوگئیں۔ وہ اپنے رب کی عبادت کے لیے وقف ہوگئیں اور اپنی محراب یعنی نماز کی جگہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگیں۔ ﴿ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا الۡمِحۡرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنۡدَهَا رِزۡقًا ﴾ ’’جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئے پاتے‘‘ جس میں ان کی محنت و مشقت شامل نہیں تھی۔ بلکہ یہ رزق انھیں اللہ نے کرامت کے طورپر عطا فرمایا۔ زکریاuنے فرمایا ﴿ اَنّٰى لَكِ هٰؔذَا ﴾ ’’یہ روزی تمھارے پاس کہاں سے آئی‘‘ ﴿ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ جواب دیتیں، یہ اللہ کے پاس سے ہے‘‘ یہ اس کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’بے شک اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے‘‘ یعنی جہاں سے بندے کو گمان بھی نہ ہو اور بغیر محنت کھانے کا بندوبست فرمادے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مَخۡرَجًاۙ۰۰وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ ﴾(الطلاق:65؍2، 3)’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے خلاصی کی صورت بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔‘‘ علاوہ ازیں اس آیت سے اولیائے کرام کی خرق عادت کرامات کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ثابت ہیں، اس لیے جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف درست نہیں۔جب زکریاuنے مریم [ پر اللہ کا یہ احسان ملاحظہ فرمایا، اور انھیں بغیر کوشش اور محنت کے، بہترین رزق ملنے کی کرامت دیکھی تو آپ کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔زکریاuنے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انھیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے، یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی ﴿ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰu)کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔‘‘ ﴿ وَسَيِّدًا ﴾ ’’اور سردار‘‘ یعنی آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے۔ اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لیے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ ﴿ وَّحَصُوۡرًا ﴾ ’’اور ضابط نفس‘‘یعنی عورتوں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔ رب کی خدمت و اطاعت میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ کے دل میں عورتوں کی خواہش پیدانھیں ہوگی۔ ﴿ وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾’’اور نبی نیک لوگوں میں سے‘‘ کتنی عظیم بشارت ہے۔ اس سے بڑی خوش خبری کیا ہوسکتی ہے۔ اس میں بیٹا ملنے کی خوش خبری بھی ہے، اور اس کی کامل صفات والا ہونے کی بھی، اور اس کے نبی ہونے کی بھی! زکریاuانتہائی خوشی کی حالت میں پکار اٹھے۔﴿ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّقَدۡ بَلَغَنِيَ الۡكِبَرُ وَ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرٌ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔‘‘ ان میں سے ایک سبب بھی ہوتا تو اولاد نہ ہوتی۔ اب تو دونوں جمع ہیں۔ اللہ نے بتایا کہ یہ پیدائش معجزانہ شان کی حامل ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اسی طرح اللہ جو چاہے کرتا ہے‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اولاد کی موجودگی کو اسباب مثلاً توالد و تناسل کے ساتھ متعلق کردیا ہے اسی طرح اگر وہ بغیر اسباب کے اولاد دینا چاہے تو دے سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔ زکریاuنے اس بشارت کے جلدی پورا ہونے کی امید میں اور مکمل اطمینان حاصل ہونے کی غرض سے فرمایا: ﴿ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً ﴾ ’’پروردگار! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے‘‘ جو اس بچے کے وجود میں آجانے کی علامت ہو۔ ﴿قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾ ’’فرمایا: نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، مگر اشارے سے‘‘ یعنی آپ کی زبان بغیر کسی مرض یا آفت کے کلام سے رک جائے گی، آپ صرف اشارے سے بات کرسکیں گے۔ کلام نہ کرسکنا ایک عظیم علامت ہے۔ اس میں ایک عجیب مناسبت ہے یعنی جس طرح اسباب موجود ہوتے ہوئے اللہ ان کو کام کرنے سے روک سکتا ہے۔ اسی طرح اسباب کے بغیر پیدا کرسکتا ہے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام اسباب اللہ کی قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنا شکر کرنے اور صبح شام کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ جب آپ حجرے سے باہر تشریف لائے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾(مريم:19؍11)’’تو لوگوں کو اشارے سے فرمایا کہ صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہنا۔‘‘اللہ عزوجل حضرت مریم [ کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انھیں براہ راست مخاطب کرکے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ ﴾ ’’اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا‘‘ ﴿ وَطَهَّرَكِ ﴾ ’’اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا‘‘ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ ﴿ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ا ور سارے جہاں کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا‘‘ پہلے (اِصْطَفَاء) ’’انتخاب اور برگزیدہ کرنے‘‘ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے۔ اور دوسرے (اِصْطَفَاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں سے افضل قرار دینا مقصود ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے چند خواتین یعنی جناب خدیجہ، جناب عائشہ اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہن کا اس شرف میں شریک ہونا مریم کے اصطفاء کے منافی نہیں۔ جب فرشتوں نے آپ کو اللہ کی منتخب بندی ہونے اور پاک کرنے کی خوشخبری دی تو یہ ایک عظیم نعمت اور اللہ کا عظیم احسان تھا، جس کا شکر کرنا ضروری تھا، اس لیے فرشتوں نے کہا:﴿ يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ ﴾ ’’اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر‘‘ قنوت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت پر مسلسل قائم رہنا ہے۔ ﴿ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾ ’’اور سجدہ کر، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‘‘ عبادت میں رکوع اور سجدہ کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام دوسری عبادتوں سے افضل ہے۔ اور ان سے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ مریم نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے اطاعت کے جذبہ سے اس حکم کی تعمیل کی۔ جب اللہ نے اپنے نبی کو مریم کے بارے میں یہ باتیں بتائیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق کن حالات سے گزریں، تو یہ غیبی معاملات تھے جن کا علم وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ غیب کی خبروںمیں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ يُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَهُمۡ اَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس نہ تھے، جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا۔‘‘ جب مریم کی والدہ انھیں بیت المقدس کے ذمہ دار افراد کے پاس لے گئیں تو ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوئی کہ وہ مریم کی دیکھ بھال کا شرف حاصل کرے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی، وہ اس طرح کہ اپنے قلم دریا میں ڈال دیے کہ جس کا قلم پانی کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی مریم کا سرپرست قرار پائے گا۔ یہ شرف حضرت زکریاuکو حاصل ہوا جو ان کے نبی اور معزز ترین فرد تھے۔ اے محمد(ﷺ)آپ ان لوگوں کو یہ واقعات بتاتے ہیں جن کے بارے میں نہ انھیں معلوم تھا، نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ آپ کی اطاعت قبول کریں او ر آپ کے احکام کی تعمیل کریں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾(قصص:28؍44) ’’اور طور کے مغربی جانب، جبکہ ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو آپ موجود تھے، اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰuہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لیے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبریلuکو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ انھوں نے آپ کی قمیص کے گریبان میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم علیہا السلام کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے، اس لیے آپ کو روح اللہ (اللہ کی روح) کہا گیا۔ ﴿ وَجِيۡهًا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ ’’جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے‘‘ یعنی انھیں دنیا میں ایک معزز مقام حاصل ہے کہ آپ کو اللہ نے ان اولو العزم رسولوں میں شامل کیا، جو بڑی شریعتوں کے حامل تھے، اور انھیں کثیر تعداد میں متبعین نصیب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ شہرت بخشی جو مشرق اور مغرب میں پھیل گئی۔ وہ آخرت میں بھی اللہ کے ہاں، عزت والے ہوں گے۔ دوسرے انبیاء اور رسولوں کی طرح آپ بھی شفاعت کریں گے، جس سے آپ کا بلند مقام جہاں والوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا، اس لیے وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں، اپنے رب سے انتہائی قریب ہیں۔ بلکہ آپ مقربین کے سرداروں میں سے ہیں۔ ﴿ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا﴾ ’’اور وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا، اور ادھیڑ عمر میں بھی‘‘ یہ عام بات چیت سے ممتاز کلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرے گا جس میں ان کی بھلائی او رکامیابی ہے۔ اور ایسا کلام رسولوں کا ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ رسول ہوگا جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے گا۔ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا اللہ کی ایک عظیم نشانی ہوگی جس سے مومنوں کو فائدہ ہوگا، اور وہ دشمنوں کے خلاف حجت ہوگی۔ جس سے ثابت ہوگا کہ وہ رب العالمین کے رسول اور اللہ کے بندے ہیں۔ یہ کلام آپ کی والدہ کے لیے بھی نعمت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے سے ان پر لگنے والے الزام کی تردید ہوجائے گی۔ ﴿ وَّمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا‘‘ یعنی اللہ اس پر یہ احسان بھی فرمائے گا کہ اسے نیکی عطا فرما کر نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔ اس میں مریم [کے لیے کئی بشارتیں ہیں اور مسیحuکے بلند مقام کا اظہار بھی ہے۔ ﴿ قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ ﴾ ’’کہنے لگیں: الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘ اور اللہ کا عام قانون یہی ہے کہ مرد سے تعلق کیے بغیر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ بات مریم [نے تعجب کے طورپر فرمائی۔ اللہ کی قدرت پر شک کرتے ہوئے نہیں فرمائی۔ ﴿ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’فرشتے نے کہا: اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے مریم کو بتایا کہ یہ خرق عادت معاملہ ہے۔ اسے پیدا کرنے والا وہ اللہ ہے جو کسی بھی کام کو کہتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ جو اس چیز پر یقین کرلے اس کا تعجب ختم ہوجائے گا۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے عجیب کے بعد زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے حضرت یحییٰuکی ولادت کا ذکر فرمایا جن کے والد انتہائی بوڑھے اور والدہ بانجھ تھیں۔ پھر زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا یعنی عیسیٰuکا کسی والد کے بغیر صرف والدہ سے پیدا ہونا۔ تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے۔ جو کچھ وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuپر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا ﴿ وَيُعَلِّمُهُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا‘‘ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طورپر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف وافضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لیے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طورپر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انھیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَۚ۰۰ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ۰۰ اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ۰۰الَّذِيۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰﴾(العلق:96؍1۔4) ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ‘‘ اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم، اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰuپر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انھیں لکھنا سکھایا اور علم و حکمت سے نوازا۔ یہ انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والا کمال ہے۔ پھر ایک اور کمال ذکر فرمایا: جو آپ کو حاصل ہونے والے دوسرے فضائل سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَرَسُوۡلًا اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا‘‘ اللہ نے آپ کو اس عظیم قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو اپنے زمانے کی افضل ترین قوم تھی۔ آپ نے انھیں اللہ کی طرف بلایا۔ اور اللہ نے آپ کو وہ معجزات عطا فرمائے جن سے ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کے سچے نبی ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ اَنِّيۡ قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ١ۙ اَنِّيۡۤ اَخۡلُقُ لَكُمۡ مِّنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’کہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمھارے لیے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔‘‘ ﴿ فَاَنۡفُخُ فِيۡهِ فَيَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔‘‘ یعنی اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑ جاتی ہے اور وہ اڑنے لگتا ہے۔ ﴿ وَاُبۡرِئُ الۡاَؔكۡمَهَ وَالۡاَبۡرَصَ ﴾ ’’اور میں (اللہ کے حکم سے )مادر زاد اندھے اور ابرص کو اچھا کردیتا ہوں‘‘ ﴿ وَاُحۡيِ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِ اللّٰهِ١ۚ وَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا تَاۡكُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ١ۙ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ اور جو کچھ تم کھاؤ، اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمھیں بتا دیتا ہوں‘‘ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس میں تمھارے لیے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان دار ہو‘‘ اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ بے جان مٹی زندہ جانور بن جائے، ایسے بیمار تندرست ہوجائیں جن کا علاج کرنے سے تمام معالج عاجز تھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اور غیبی امور کی خبریں دی جائیں۔ ان میں سے اگر کوئی نشانی اکیلی بھی ظاہر ہوتی تو بہت بڑا معجزہ ہوتی۔ تو پھر جب یہ سب نشانیاں ظاہر ہوں اور ایک دوسری کی تائید کریں تو یقیناً یقین حاصل ہوگا، اور ایمان لانا ضروری ہوگا۔ ﴿ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے‘‘ یعنی میں ویسی ہی تعلیمات لے کر آیا ہوں جیسی موسیٰuلائے تھے اور جو تورات میں موجود تھیں۔ سچے آدمی کی علامت یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی باتیں دوسرے سچے افراد کے بیانات کے مطابق ہوں۔ وہ سچی خبریں دے اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرے ۔اس کی باتوں میں تناقض اور اختلاف نہ ہو۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ بالخصوص جو سب سے بڑا دعویٰ یعنی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر اس کا دعویٰ جھوٹ ہے تو اس کا جھوٹ ہر کسی کے سامنے ظاہر ہوکر رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سچے لوگوں کی باتوں کے خلاف اور جھوٹے لوگوں کی باتوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ کیونکہ نبوت کے دعویٰ میں سچے اور جھوٹے میں ہرگز اشتباہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض چھوٹے موٹے جزوی معاملات میں سچا اور جھوٹا ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ نبوت پر تو مخلوق کی ہدایت و ضلالت اور نجات و ہلاکت کا دارومدار ہے۔ اس کا سچا دعویٰ کرنے والا کامل ترین انسان ہی ہوسکتا ہے اور اس کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے حقیر، سب سے بڑھ کر جھوٹا اور سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ان دونوں میں ایسے واضح فرق موجود ہوں جنھیں عقل رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکے۔اس کے بعد عیسیٰuنے بتایا کہ انجیل کی شریعت میں آسانی اور نرمی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے تورات کے اکثر احکام منسوخ نہیں کیے، بلکہ ان کی تکمیل کی ہے اور انھیں برقرار رکھا ہے۔ ﴿ وَجِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں سچا ہوں اور میری پیروی واجب ہے۔ اس سے مراد وہی معجزات ہیں، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ ’’تم اللہ سے ڈرو‘‘ اس کے احکام کی تعمیل کرو، اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’یقین مانو، میرا اور تمھارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو۔‘‘ توحید ربوبیت (یعنی اللہ کے خالق ہونے) کا اقرار سب کو ہے۔ جناب عیسیٰuنے اس کو توحید الوہیت (یعنی صرف اللہ کے معبود برحق ہونے) کی دلیل بنایا جسے مشرکین نہیں مانتے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارا خالق، رازق اور ہمیں تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں دینے والا صرف اللہ ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہمارا معبود صرف اللہ ہے جس سے ہم محبت رکھیں ، اس سے ڈریں، اس سے امیدیں رکھیں ، اس سے دعائیں کریں، اس سے مدد مانگیں، اور عبادت کی دوسری تمام صورتیں بھی اس کے لیے مخصوص کردیں۔ اس سے نصاریٰ کی تردید ہوتی ہے جو عیسیٰuکو معبود مانتے ہیں۔ یااللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق، اللہ کے بندے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔ جیسے انھوں نے فرمایا تھا:﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾(مریم:19؍30) ’’میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116۔117) ’’اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تونے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے، اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔ میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا، مگر صرف وہی جو تونے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے۔‘‘ ﴿ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾’’یہی سیدھی راہ ہے‘‘ یعنی اللہ کی عبادت، اس کا تقویٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی سیدھی راہ ہے جو اللہ تک اور اس کی جنت تک پہنچاتی ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ جہنم کی طرف پہنچانے والا ہے۔﴿ فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيۡسٰؔى مِنۡهُمُ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’جب عیسیٰuنے ان کا کفر محسوس کرلیا‘‘ دیکھا کہ وہ آپ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ انھیں جادوگر کہتے ہیں۔ آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی کوشش کررہے ہیں ﴿ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو کہنے لگے: اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟‘‘ یعنی اللہ کے دین کی نصرت کے لیے میرے ساتھ کون تعاون کرے گا؟ ﴿ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾ ’’حواریوں (یعنی آپ کے مددگاروں) نے کہا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں‘‘ یعنی انھوں نے آپ کا ساتھ دیا اور یہ فریضہ نبھایا۔ انھوں نے کہا: ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’ہم اللہ پر ایمان لائے‘‘ ﴿فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے‘‘ یعنی ایسی گواہی جو مفید ہو، اس گواہی سے مراد اللہ کی توحید کا اقرار اور نبیوں کی تصدیق اور اس کے مطابق عمل۔ جب وہ دین کی نصرت کے لیے اور شریعت کو قائم کرنے کے لیے عیسیٰuکے ساتھ ہوگئے تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا۔ اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا۔ ان دونوںمیں جنگ ہوئی تو اللہ نے مومنوں کی مدد کی۔ اور مشرکوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کامیاب ہوگئے، اس لیے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَكَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں (کافروں )نے تدبیر کی‘‘ یعنی اللہ کے نور کو بجھانے کے لیے اللہ کے نبی کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ﴿ وَمَكَرَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی‘‘ اور انھیں ان کے منصوبوں کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا اور وہ خائب و خاسر ہوکر رہ گئے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسٰۤى اِنِّيۡ مُتَوَفِّيۡكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuکو اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالیا، اور کسی اور شخص پر آپ کی مشابہت ڈال دی۔ جس آدمی کو آپ کا ہم شکل بنایا گیا تھا، دشمنوں نے اسے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔ اس طرح وہ ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کی نیت حضرت عیسیٰuکو شہید کرنے کی تھی۔ اور اپنے خیال میں وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ ﴾(النساء:4؍157) ’’نہ تو انھوں نے اسے قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کے لیے وہی صورت بنا دی گئی تھی‘‘ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق سے اوپر ہونا، اور عرش پر حقیقتاً مستوی ہونا ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اہل سنت نے تسلیم کیا ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب قوی اور زبردست ہے۔ جس کا ایک مظہر بنی اسرائیل کا عیسیٰuکو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلینے اور پروگرام بنالینے، اور اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود، اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہنا ہے، جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾(المائدہ:5؍110) ’’اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا، جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کو شبہ میں رکھنے میں بھی اس کی عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ چنانچہ وہ شبہ میں پڑ گئے جیسے ارشاد ہے ﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ١ؕ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ يَقِيۡنًا﴾(النساء:4؍157) ’’یقین جانو، عیسیٰuکے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَجَاعِلُ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور تیرے تابع داروں کو کافروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک‘‘ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کافروں کے خلاف ان کے مومنوں کی مدد فرمائی۔ پھر عیسیٰuسے نسبت رکھنے والے نصاریٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہے، کیونکہ یہود کی نسبت عیسائی عیسیٰuکی اتباع سے قریب تر تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمدﷺکو مبعوث فرمایا تو مسلمان عیسیٰuکے حقیقی متبع بنے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ البتہ کسی کسی زمانے میں عیسائی وغیرہ کافر مسلمانوں پر غالب آتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ مسلمانوں کو نبیﷺکی اتباع سے پہلو تہی کرنے کی سزا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر تم سب کا (یعنی تمام مخلوقات) کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔‘‘ ﴿فَاَحۡكُمُ بَيۡنَؔكُمۡ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس میں ہی تمھارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا‘‘ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے سب غلطی پر ہیں۔ یہ سب دعوے ہیں جنھیں دلیل کی ضرورت ہے۔
آل عمران 3:52
بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں، بلاشبہ اس میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن (49) اور تصدیق کرنے والا ہوں واسطے اس کے جو مجھ سے پہلے (نازل شدہ) ہے تورات، اور تاکہ حلال کر دوں میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں جو حرام کر دی گئی تھیں تم پر،اور آیا ہوں تمھارے پاس نشانی لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری(50) بے شک اللہ ہے رب میرا اور رب تمھارا، پس تم عبادت کرو اسی کی، یہی ہے راستہ سیدھا(51) پھر جب محسو س کیا عیسیٰ نے ان میں کفر، تو کہا، کون ہے مددگار میرا اللہ کے لیے ؟ کہا حواریوں نے، ہم ہیں مددگار اللہ (کے دین) کے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے،اور تو گواہ رہ اس بات کا کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں(52) اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ساتھ اس چیز کے جو تونے نازل کی، اور اتباع کیا ہم نے رسول کا، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ گواہوں کے(53) اور انھوں نے تدبیر کی اور اللہ نے(بھی) تدبیر کی، اور اللہ بہتر ہے سب تدبیر کرنے والوں سے(54)(یاد کرو) جب کہا اللہ نے، اے عیسیٰ! بلاشبہ میں پورا پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھے اپنی طرف، اورپاک کرنے والا ہوں تجھے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا،اور کرنے والا ہوں ان کو جنھوں نے اتباع کیا تیرا، اوپر ان کے جنھوں نے کفر کیا، روز قیامت تک، پھر میری ہی طرف ہے لوٹ کر آنا تمھارا، پس فیصلہ کروں گا میں تمھارے درمیان ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے(55)
[55-33] اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدمuکا انتخاب فرمایا۔ انھیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا کرکے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کریں، انھیں جنت میں ٹھہرایا۔ انھیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے، اس لیے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا﴾(بنیٓ اسرائیل:17؍70)’’یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں، اور انھیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں، اور اپنی بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی۔‘‘اللہ نے نوحuکو منتخب فرمایا اور انھیں اس وقت رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا، جب بتوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ آپ کو ہر وقت صبر، برداشت، شکر اور تبلیغ کی وہ توفیق بخشی جس کی وجہ سے وہ منتخب قرار دیے جانے کے لائق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کی دعا کے نتیجے میں زمین کے تمام باشندوں کو غرق کردیا۔ آپ کو آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے سے نجات بخشی، آپ کی نسل کو قیامت تک باقی رکھا۔ ہر زمانے میں لوگ آپ کی تعریف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ جن میں خود ابراہیمuبھی شامل ہیں جن کو اللہ نے خاص طورپر اپنی خلت سے نواز کر خلیل الرحمن کے لقب سے مشرف فرمایا۔ جنھوں نے اپنی ذات کو آگ کے حوالے کردیا، بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کردیا اور مال مہمانوں کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ آپ نے رات دن، چھپ چھپ کر اور علانیہ لوگوں کو رب کی طرف بلایا۔ اللہ نے آپ کو اسوہ (نمونہ) قرار دیا کہ بعد کے سب لوگ اس کی اتباع کریں۔ نبوت اور آسمانی کتابیں آپ کی اولاد کے لیے خاص کردیں۔ آل ابراہیم میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جو آپ کے بعد مبعوث ہوئے، کیونکہ وہ سب آپ کی نسل سے تھے۔ اللہ نے ان حضرات کو ایسے ایسے فضائل سے نوازا کہ وہ جہانوں میں افضل ترین افراد بن گئے۔ ابراہیم ہی کی آل میں سے تمام اولاد کے سردار، ہمارے نبی جناب محمدﷺبھی تشریف لائے۔ جن میں اللہ نے وہ تمام خوبیاں جمع فرمادیں جو دوسرے انبیاء کرام میں انفرادی طورپر موجود تھیں۔ چنانچہ آپ گزشتہ اور آئندہ تمام انسانوں سے بلند تر ہوئے۔ آپ رسولوں کے سردار ہوئے، جنھیں آل ابراہیم میں سے منتخب فرد (مصطفی) ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران کی آل کو بھی منتخب قرار دیا۔ عمران حضرت مریمiکے والد ماجد کا نام ہے۔ حضرت موسیٰuکے والد کا نام بھی عمران تھا۔ یہ گھرانے، جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یہ جہان والوں سے اس کے منتخب افراد کے گھرانے تھے۔ ان کی اولادوں کے ذریعے سے اصلاح اور توفیق کا تسلسل قائم رہا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں‘‘ ان میں باہمی مناسبت اور مشابہت تخلیق کے لحاظ سے بھی ہے اور اخلاق حسنہ کے لحاظ سے بھی۔ جس طرح اللہ نے ان خاندانوں کے دوسرے انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ١ۚ وَاجۡتَبَيۡنٰهُمۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾(الأنعام:6؍87)’’اور ان کے کچھ آباء و اجدادکو، اور کچھ اولاد کو، اور کچھ بھائیوں کو۔ اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سنتا جانتا ہے‘‘ یعنی کون اس قابل ہے کہ اسے چنا جائے اور کون نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے انھیں اس لیے منتخب فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان میں ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انھیں انتخاب کے قابل بناتی ہیں۔ یہ بھی اللہ کا فضل و کرم تھا۔ان بلند مرتبت حضرات کے واقعات ہمیں سنانے کا فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ ہم ان سے محبت رکھیں ، ان کی اقتدا کریں، اللہ سے سوال کریں کہ جس طرح ان کو توفیق دی تھی۔ ہمیں بھی ویسے نیک اعمال کی توفیق بخشے۔ ان کے پیچھے رہ جانے اور ویسی صفات سے متصف نہ ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو حقیر سمجھتے رہیں (یعنی اپنے اعمال پر فخر نہ کریں) علاوہ ازیں اس بیان میں ان پر مہربانی ہے، اولین و آخرین میں ان کی تعریف کا اظہار ہے۔ اور ان کے شرف و عظمت کا اعلان ہے۔ اللہ کا جودوکرم کتنا عظیم ہے، اگر کوئی اور شرف نہ بھی ہوتا تو ان کے لیے یہی شرف کافی تھا کہ ان کا ذکر اور ان کی خوبیوں کا بیان دوام پا گیا ہے۔ان معزز گھرانوں کا ذکرکرکے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰuکی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کی تربیت اور نشوونما میں کس طرح اللہ کا خاص لطف و کرم شامل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے:﴿ اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ ﴾ ’’جب عمران کی بیوی نے کہا‘‘ یعنی مریم علیہا السلام کی والدہ نے حمل قرار پاجانے پر فرمایا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِيۡ بَطۡنِيۡ مُحَرَّرًا﴾ ’’اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانی‘‘ یعنی تیری رضا کے حصول کے لیے میں نے تیرے گھر کی خدمت کے لیے آزاد کردیا۔ ﴿ فَتَقَبَّلۡ مِنِّيۡ ﴾ ’’پس تو میری طرف سے (یہ مبارک عمل) قبول فرما‘‘ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ ’’یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے‘‘ تو میری دعا سن رہا ہے، اور میری نیت اور ارادے سے باخبر ہے، یہ دعا انھوں نے اس وقت کی تھی جب مریم ان کے پیٹ میں تھیں، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ ﴿ فَلَمَّؔا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّيۡ وَضَعۡتُهَاۤ اُنۡثٰى ﴾ ’’جب بچی کو جنا تو کہنے لگی: پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی‘‘ جبکہ انھیں شوق تھا کہ لڑکا پیدا ہو، جو اللہ کے گھر میں خدمت اچھے طریقے سے کرسکے۔ اس کلام سے گویا ایک قسم کی معذرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ﴾ ’’اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی‘‘ اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اس وقت بھی علم تھا جب ان کی والدہ کو بھی علم نہیں تھا۔ ﴿ وَلَيۡسَ الذَّكَرُ كَالۡاُنۡثٰى١ۚ وَاِنِّيۡ سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں، میں نے اس کا نام مریم رکھا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی سے افضل ہے۔ اور پیدائش کے وقت نام رکھنا جائز ہے۔ اور ماں اپنے بچے کا نام رکھ سکتی ہے بشرطیکہ باپ کو یہ بات ناپسند نہ ہو۔ ﴿ وَاِنِّيۡۤ اُعِيۡذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيۡطٰنِ الرَّجِيۡمِ ﴾ ’’اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘ انھوں نے مریم کے لیے او رمریم کی اولاد کے لیے دعا کی کہ انھیں اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ ﴾ ’’پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا‘‘ یعنی انھیں نذر کے طورپر قبول فرمایا۔ اور انھیں اور ان کی اولاد کو شیطان سے محفوظ فرمایا۔ ﴿ وَّاَنۢۡـبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ﴾یعنی ان کی جسمانی اور اخلاقی تربیت بہت اچھی ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے زکریاuکو متعین فرمایا۔﴿ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ﴾ ’’اور ان کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا‘‘ کہ اللہ کی مہربانی تھی کہ ان کی تربیت کامل ترین حال میں ہو۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کرتے کرتے ان کی عمر بڑھی، اور دوسری عورتوں سے فائق ہوگئیں۔ وہ اپنے رب کی عبادت کے لیے وقف ہوگئیں اور اپنی محراب یعنی نماز کی جگہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگیں۔ ﴿ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا الۡمِحۡرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنۡدَهَا رِزۡقًا ﴾ ’’جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئے پاتے‘‘ جس میں ان کی محنت و مشقت شامل نہیں تھی۔ بلکہ یہ رزق انھیں اللہ نے کرامت کے طورپر عطا فرمایا۔ زکریاuنے فرمایا ﴿ اَنّٰى لَكِ هٰؔذَا ﴾ ’’یہ روزی تمھارے پاس کہاں سے آئی‘‘ ﴿ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ جواب دیتیں، یہ اللہ کے پاس سے ہے‘‘ یہ اس کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’بے شک اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے‘‘ یعنی جہاں سے بندے کو گمان بھی نہ ہو اور بغیر محنت کھانے کا بندوبست فرمادے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مَخۡرَجًاۙ۰۰وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ ﴾(الطلاق:65؍2، 3)’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے خلاصی کی صورت بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔‘‘ علاوہ ازیں اس آیت سے اولیائے کرام کی خرق عادت کرامات کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ثابت ہیں، اس لیے جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف درست نہیں۔جب زکریاuنے مریم [ پر اللہ کا یہ احسان ملاحظہ فرمایا، اور انھیں بغیر کوشش اور محنت کے، بہترین رزق ملنے کی کرامت دیکھی تو آپ کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔زکریاuنے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انھیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے، یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی ﴿ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰu)کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔‘‘ ﴿ وَسَيِّدًا ﴾ ’’اور سردار‘‘ یعنی آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے۔ اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لیے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ ﴿ وَّحَصُوۡرًا ﴾ ’’اور ضابط نفس‘‘یعنی عورتوں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔ رب کی خدمت و اطاعت میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ کے دل میں عورتوں کی خواہش پیدانھیں ہوگی۔ ﴿ وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾’’اور نبی نیک لوگوں میں سے‘‘ کتنی عظیم بشارت ہے۔ اس سے بڑی خوش خبری کیا ہوسکتی ہے۔ اس میں بیٹا ملنے کی خوش خبری بھی ہے، اور اس کی کامل صفات والا ہونے کی بھی، اور اس کے نبی ہونے کی بھی! زکریاuانتہائی خوشی کی حالت میں پکار اٹھے۔﴿ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّقَدۡ بَلَغَنِيَ الۡكِبَرُ وَ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرٌ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔‘‘ ان میں سے ایک سبب بھی ہوتا تو اولاد نہ ہوتی۔ اب تو دونوں جمع ہیں۔ اللہ نے بتایا کہ یہ پیدائش معجزانہ شان کی حامل ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اسی طرح اللہ جو چاہے کرتا ہے‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اولاد کی موجودگی کو اسباب مثلاً توالد و تناسل کے ساتھ متعلق کردیا ہے اسی طرح اگر وہ بغیر اسباب کے اولاد دینا چاہے تو دے سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔ زکریاuنے اس بشارت کے جلدی پورا ہونے کی امید میں اور مکمل اطمینان حاصل ہونے کی غرض سے فرمایا: ﴿ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً ﴾ ’’پروردگار! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے‘‘ جو اس بچے کے وجود میں آجانے کی علامت ہو۔ ﴿قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾ ’’فرمایا: نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، مگر اشارے سے‘‘ یعنی آپ کی زبان بغیر کسی مرض یا آفت کے کلام سے رک جائے گی، آپ صرف اشارے سے بات کرسکیں گے۔ کلام نہ کرسکنا ایک عظیم علامت ہے۔ اس میں ایک عجیب مناسبت ہے یعنی جس طرح اسباب موجود ہوتے ہوئے اللہ ان کو کام کرنے سے روک سکتا ہے۔ اسی طرح اسباب کے بغیر پیدا کرسکتا ہے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام اسباب اللہ کی قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنا شکر کرنے اور صبح شام کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ جب آپ حجرے سے باہر تشریف لائے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾(مريم:19؍11)’’تو لوگوں کو اشارے سے فرمایا کہ صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہنا۔‘‘اللہ عزوجل حضرت مریم [ کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انھیں براہ راست مخاطب کرکے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ ﴾ ’’اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا‘‘ ﴿ وَطَهَّرَكِ ﴾ ’’اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا‘‘ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ ﴿ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ا ور سارے جہاں کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا‘‘ پہلے (اِصْطَفَاء) ’’انتخاب اور برگزیدہ کرنے‘‘ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے۔ اور دوسرے (اِصْطَفَاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں سے افضل قرار دینا مقصود ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے چند خواتین یعنی جناب خدیجہ، جناب عائشہ اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہن کا اس شرف میں شریک ہونا مریم کے اصطفاء کے منافی نہیں۔ جب فرشتوں نے آپ کو اللہ کی منتخب بندی ہونے اور پاک کرنے کی خوشخبری دی تو یہ ایک عظیم نعمت اور اللہ کا عظیم احسان تھا، جس کا شکر کرنا ضروری تھا، اس لیے فرشتوں نے کہا:﴿ يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ ﴾ ’’اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر‘‘ قنوت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت پر مسلسل قائم رہنا ہے۔ ﴿ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾ ’’اور سجدہ کر، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‘‘ عبادت میں رکوع اور سجدہ کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام دوسری عبادتوں سے افضل ہے۔ اور ان سے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ مریم نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے اطاعت کے جذبہ سے اس حکم کی تعمیل کی۔ جب اللہ نے اپنے نبی کو مریم کے بارے میں یہ باتیں بتائیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق کن حالات سے گزریں، تو یہ غیبی معاملات تھے جن کا علم وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ غیب کی خبروںمیں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ يُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَهُمۡ اَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس نہ تھے، جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا۔‘‘ جب مریم کی والدہ انھیں بیت المقدس کے ذمہ دار افراد کے پاس لے گئیں تو ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوئی کہ وہ مریم کی دیکھ بھال کا شرف حاصل کرے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی، وہ اس طرح کہ اپنے قلم دریا میں ڈال دیے کہ جس کا قلم پانی کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی مریم کا سرپرست قرار پائے گا۔ یہ شرف حضرت زکریاuکو حاصل ہوا جو ان کے نبی اور معزز ترین فرد تھے۔ اے محمد(ﷺ)آپ ان لوگوں کو یہ واقعات بتاتے ہیں جن کے بارے میں نہ انھیں معلوم تھا، نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ آپ کی اطاعت قبول کریں او ر آپ کے احکام کی تعمیل کریں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾(قصص:28؍44) ’’اور طور کے مغربی جانب، جبکہ ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو آپ موجود تھے، اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰuہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لیے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبریلuکو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ انھوں نے آپ کی قمیص کے گریبان میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم علیہا السلام کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے، اس لیے آپ کو روح اللہ (اللہ کی روح) کہا گیا۔ ﴿ وَجِيۡهًا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ ’’جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے‘‘ یعنی انھیں دنیا میں ایک معزز مقام حاصل ہے کہ آپ کو اللہ نے ان اولو العزم رسولوں میں شامل کیا، جو بڑی شریعتوں کے حامل تھے، اور انھیں کثیر تعداد میں متبعین نصیب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ شہرت بخشی جو مشرق اور مغرب میں پھیل گئی۔ وہ آخرت میں بھی اللہ کے ہاں، عزت والے ہوں گے۔ دوسرے انبیاء اور رسولوں کی طرح آپ بھی شفاعت کریں گے، جس سے آپ کا بلند مقام جہاں والوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا، اس لیے وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں، اپنے رب سے انتہائی قریب ہیں۔ بلکہ آپ مقربین کے سرداروں میں سے ہیں۔ ﴿ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا﴾ ’’اور وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا، اور ادھیڑ عمر میں بھی‘‘ یہ عام بات چیت سے ممتاز کلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرے گا جس میں ان کی بھلائی او رکامیابی ہے۔ اور ایسا کلام رسولوں کا ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ رسول ہوگا جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے گا۔ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا اللہ کی ایک عظیم نشانی ہوگی جس سے مومنوں کو فائدہ ہوگا، اور وہ دشمنوں کے خلاف حجت ہوگی۔ جس سے ثابت ہوگا کہ وہ رب العالمین کے رسول اور اللہ کے بندے ہیں۔ یہ کلام آپ کی والدہ کے لیے بھی نعمت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے سے ان پر لگنے والے الزام کی تردید ہوجائے گی۔ ﴿ وَّمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا‘‘ یعنی اللہ اس پر یہ احسان بھی فرمائے گا کہ اسے نیکی عطا فرما کر نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔ اس میں مریم [کے لیے کئی بشارتیں ہیں اور مسیحuکے بلند مقام کا اظہار بھی ہے۔ ﴿ قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ ﴾ ’’کہنے لگیں: الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘ اور اللہ کا عام قانون یہی ہے کہ مرد سے تعلق کیے بغیر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ بات مریم [نے تعجب کے طورپر فرمائی۔ اللہ کی قدرت پر شک کرتے ہوئے نہیں فرمائی۔ ﴿ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’فرشتے نے کہا: اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے مریم کو بتایا کہ یہ خرق عادت معاملہ ہے۔ اسے پیدا کرنے والا وہ اللہ ہے جو کسی بھی کام کو کہتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ جو اس چیز پر یقین کرلے اس کا تعجب ختم ہوجائے گا۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے عجیب کے بعد زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے حضرت یحییٰuکی ولادت کا ذکر فرمایا جن کے والد انتہائی بوڑھے اور والدہ بانجھ تھیں۔ پھر زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا یعنی عیسیٰuکا کسی والد کے بغیر صرف والدہ سے پیدا ہونا۔ تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے۔ جو کچھ وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuپر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا ﴿ وَيُعَلِّمُهُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا‘‘ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طورپر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف وافضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لیے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طورپر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انھیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَۚ۰۰ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ۰۰ اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ۰۰الَّذِيۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰﴾(العلق:96؍1۔4) ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ‘‘ اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم، اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰuپر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انھیں لکھنا سکھایا اور علم و حکمت سے نوازا۔ یہ انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والا کمال ہے۔ پھر ایک اور کمال ذکر فرمایا: جو آپ کو حاصل ہونے والے دوسرے فضائل سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَرَسُوۡلًا اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا‘‘ اللہ نے آپ کو اس عظیم قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو اپنے زمانے کی افضل ترین قوم تھی۔ آپ نے انھیں اللہ کی طرف بلایا۔ اور اللہ نے آپ کو وہ معجزات عطا فرمائے جن سے ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کے سچے نبی ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ اَنِّيۡ قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ١ۙ اَنِّيۡۤ اَخۡلُقُ لَكُمۡ مِّنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’کہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمھارے لیے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔‘‘ ﴿ فَاَنۡفُخُ فِيۡهِ فَيَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔‘‘ یعنی اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑ جاتی ہے اور وہ اڑنے لگتا ہے۔ ﴿ وَاُبۡرِئُ الۡاَؔكۡمَهَ وَالۡاَبۡرَصَ ﴾ ’’اور میں (اللہ کے حکم سے )مادر زاد اندھے اور ابرص کو اچھا کردیتا ہوں‘‘ ﴿ وَاُحۡيِ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِ اللّٰهِ١ۚ وَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا تَاۡكُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ١ۙ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ اور جو کچھ تم کھاؤ، اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمھیں بتا دیتا ہوں‘‘ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس میں تمھارے لیے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان دار ہو‘‘ اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ بے جان مٹی زندہ جانور بن جائے، ایسے بیمار تندرست ہوجائیں جن کا علاج کرنے سے تمام معالج عاجز تھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اور غیبی امور کی خبریں دی جائیں۔ ان میں سے اگر کوئی نشانی اکیلی بھی ظاہر ہوتی تو بہت بڑا معجزہ ہوتی۔ تو پھر جب یہ سب نشانیاں ظاہر ہوں اور ایک دوسری کی تائید کریں تو یقیناً یقین حاصل ہوگا، اور ایمان لانا ضروری ہوگا۔ ﴿ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے‘‘ یعنی میں ویسی ہی تعلیمات لے کر آیا ہوں جیسی موسیٰuلائے تھے اور جو تورات میں موجود تھیں۔ سچے آدمی کی علامت یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی باتیں دوسرے سچے افراد کے بیانات کے مطابق ہوں۔ وہ سچی خبریں دے اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرے ۔اس کی باتوں میں تناقض اور اختلاف نہ ہو۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ بالخصوص جو سب سے بڑا دعویٰ یعنی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر اس کا دعویٰ جھوٹ ہے تو اس کا جھوٹ ہر کسی کے سامنے ظاہر ہوکر رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سچے لوگوں کی باتوں کے خلاف اور جھوٹے لوگوں کی باتوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ کیونکہ نبوت کے دعویٰ میں سچے اور جھوٹے میں ہرگز اشتباہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض چھوٹے موٹے جزوی معاملات میں سچا اور جھوٹا ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ نبوت پر تو مخلوق کی ہدایت و ضلالت اور نجات و ہلاکت کا دارومدار ہے۔ اس کا سچا دعویٰ کرنے والا کامل ترین انسان ہی ہوسکتا ہے اور اس کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے حقیر، سب سے بڑھ کر جھوٹا اور سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ان دونوں میں ایسے واضح فرق موجود ہوں جنھیں عقل رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکے۔اس کے بعد عیسیٰuنے بتایا کہ انجیل کی شریعت میں آسانی اور نرمی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے تورات کے اکثر احکام منسوخ نہیں کیے، بلکہ ان کی تکمیل کی ہے اور انھیں برقرار رکھا ہے۔ ﴿ وَجِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں سچا ہوں اور میری پیروی واجب ہے۔ اس سے مراد وہی معجزات ہیں، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ ’’تم اللہ سے ڈرو‘‘ اس کے احکام کی تعمیل کرو، اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’یقین مانو، میرا اور تمھارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو۔‘‘ توحید ربوبیت (یعنی اللہ کے خالق ہونے) کا اقرار سب کو ہے۔ جناب عیسیٰuنے اس کو توحید الوہیت (یعنی صرف اللہ کے معبود برحق ہونے) کی دلیل بنایا جسے مشرکین نہیں مانتے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارا خالق، رازق اور ہمیں تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں دینے والا صرف اللہ ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہمارا معبود صرف اللہ ہے جس سے ہم محبت رکھیں ، اس سے ڈریں، اس سے امیدیں رکھیں ، اس سے دعائیں کریں، اس سے مدد مانگیں، اور عبادت کی دوسری تمام صورتیں بھی اس کے لیے مخصوص کردیں۔ اس سے نصاریٰ کی تردید ہوتی ہے جو عیسیٰuکو معبود مانتے ہیں۔ یااللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق، اللہ کے بندے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔ جیسے انھوں نے فرمایا تھا:﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾(مریم:19؍30) ’’میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116۔117) ’’اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تونے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے، اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔ میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا، مگر صرف وہی جو تونے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے۔‘‘ ﴿ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾’’یہی سیدھی راہ ہے‘‘ یعنی اللہ کی عبادت، اس کا تقویٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی سیدھی راہ ہے جو اللہ تک اور اس کی جنت تک پہنچاتی ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ جہنم کی طرف پہنچانے والا ہے۔﴿ فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيۡسٰؔى مِنۡهُمُ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’جب عیسیٰuنے ان کا کفر محسوس کرلیا‘‘ دیکھا کہ وہ آپ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ انھیں جادوگر کہتے ہیں۔ آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی کوشش کررہے ہیں ﴿ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو کہنے لگے: اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟‘‘ یعنی اللہ کے دین کی نصرت کے لیے میرے ساتھ کون تعاون کرے گا؟ ﴿ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾ ’’حواریوں (یعنی آپ کے مددگاروں) نے کہا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں‘‘ یعنی انھوں نے آپ کا ساتھ دیا اور یہ فریضہ نبھایا۔ انھوں نے کہا: ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’ہم اللہ پر ایمان لائے‘‘ ﴿فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے‘‘ یعنی ایسی گواہی جو مفید ہو، اس گواہی سے مراد اللہ کی توحید کا اقرار اور نبیوں کی تصدیق اور اس کے مطابق عمل۔ جب وہ دین کی نصرت کے لیے اور شریعت کو قائم کرنے کے لیے عیسیٰuکے ساتھ ہوگئے تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا۔ اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا۔ ان دونوںمیں جنگ ہوئی تو اللہ نے مومنوں کی مدد کی۔ اور مشرکوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کامیاب ہوگئے، اس لیے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَكَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں (کافروں )نے تدبیر کی‘‘ یعنی اللہ کے نور کو بجھانے کے لیے اللہ کے نبی کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ﴿ وَمَكَرَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی‘‘ اور انھیں ان کے منصوبوں کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا اور وہ خائب و خاسر ہوکر رہ گئے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسٰۤى اِنِّيۡ مُتَوَفِّيۡكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuکو اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالیا، اور کسی اور شخص پر آپ کی مشابہت ڈال دی۔ جس آدمی کو آپ کا ہم شکل بنایا گیا تھا، دشمنوں نے اسے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔ اس طرح وہ ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کی نیت حضرت عیسیٰuکو شہید کرنے کی تھی۔ اور اپنے خیال میں وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ ﴾(النساء:4؍157) ’’نہ تو انھوں نے اسے قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کے لیے وہی صورت بنا دی گئی تھی‘‘ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق سے اوپر ہونا، اور عرش پر حقیقتاً مستوی ہونا ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اہل سنت نے تسلیم کیا ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب قوی اور زبردست ہے۔ جس کا ایک مظہر بنی اسرائیل کا عیسیٰuکو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلینے اور پروگرام بنالینے، اور اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود، اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہنا ہے، جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾(المائدہ:5؍110) ’’اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا، جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کو شبہ میں رکھنے میں بھی اس کی عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ چنانچہ وہ شبہ میں پڑ گئے جیسے ارشاد ہے ﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ١ؕ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ يَقِيۡنًا﴾(النساء:4؍157) ’’یقین جانو، عیسیٰuکے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَجَاعِلُ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور تیرے تابع داروں کو کافروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک‘‘ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کافروں کے خلاف ان کے مومنوں کی مدد فرمائی۔ پھر عیسیٰuسے نسبت رکھنے والے نصاریٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہے، کیونکہ یہود کی نسبت عیسائی عیسیٰuکی اتباع سے قریب تر تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمدﷺکو مبعوث فرمایا تو مسلمان عیسیٰuکے حقیقی متبع بنے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ البتہ کسی کسی زمانے میں عیسائی وغیرہ کافر مسلمانوں پر غالب آتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ مسلمانوں کو نبیﷺکی اتباع سے پہلو تہی کرنے کی سزا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر تم سب کا (یعنی تمام مخلوقات) کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔‘‘ ﴿فَاَحۡكُمُ بَيۡنَؔكُمۡ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس میں ہی تمھارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا‘‘ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے سب غلطی پر ہیں۔ یہ سب دعوے ہیں جنھیں دلیل کی ضرورت ہے۔
آل عمران 3:53
بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں، بلاشبہ اس میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن (49) اور تصدیق کرنے والا ہوں واسطے اس کے جو مجھ سے پہلے (نازل شدہ) ہے تورات، اور تاکہ حلال کر دوں میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں جو حرام کر دی گئی تھیں تم پر،اور آیا ہوں تمھارے پاس نشانی لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری(50) بے شک اللہ ہے رب میرا اور رب تمھارا، پس تم عبادت کرو اسی کی، یہی ہے راستہ سیدھا(51) پھر جب محسو س کیا عیسیٰ نے ان میں کفر، تو کہا، کون ہے مددگار میرا اللہ کے لیے ؟ کہا حواریوں نے، ہم ہیں مددگار اللہ (کے دین) کے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے،اور تو گواہ رہ اس بات کا کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں(52) اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ساتھ اس چیز کے جو تونے نازل کی، اور اتباع کیا ہم نے رسول کا، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ گواہوں کے(53) اور انھوں نے تدبیر کی اور اللہ نے(بھی) تدبیر کی، اور اللہ بہتر ہے سب تدبیر کرنے والوں سے(54)(یاد کرو) جب کہا اللہ نے، اے عیسیٰ! بلاشبہ میں پورا پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھے اپنی طرف، اورپاک کرنے والا ہوں تجھے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا،اور کرنے والا ہوں ان کو جنھوں نے اتباع کیا تیرا، اوپر ان کے جنھوں نے کفر کیا، روز قیامت تک، پھر میری ہی طرف ہے لوٹ کر آنا تمھارا، پس فیصلہ کروں گا میں تمھارے درمیان ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے(55)
[55-33] اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدمuکا انتخاب فرمایا۔ انھیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا کرکے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کریں، انھیں جنت میں ٹھہرایا۔ انھیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے، اس لیے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا﴾(بنیٓ اسرائیل:17؍70)’’یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں، اور انھیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں، اور اپنی بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی۔‘‘اللہ نے نوحuکو منتخب فرمایا اور انھیں اس وقت رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا، جب بتوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ آپ کو ہر وقت صبر، برداشت، شکر اور تبلیغ کی وہ توفیق بخشی جس کی وجہ سے وہ منتخب قرار دیے جانے کے لائق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کی دعا کے نتیجے میں زمین کے تمام باشندوں کو غرق کردیا۔ آپ کو آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے سے نجات بخشی، آپ کی نسل کو قیامت تک باقی رکھا۔ ہر زمانے میں لوگ آپ کی تعریف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ جن میں خود ابراہیمuبھی شامل ہیں جن کو اللہ نے خاص طورپر اپنی خلت سے نواز کر خلیل الرحمن کے لقب سے مشرف فرمایا۔ جنھوں نے اپنی ذات کو آگ کے حوالے کردیا، بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کردیا اور مال مہمانوں کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ آپ نے رات دن، چھپ چھپ کر اور علانیہ لوگوں کو رب کی طرف بلایا۔ اللہ نے آپ کو اسوہ (نمونہ) قرار دیا کہ بعد کے سب لوگ اس کی اتباع کریں۔ نبوت اور آسمانی کتابیں آپ کی اولاد کے لیے خاص کردیں۔ آل ابراہیم میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جو آپ کے بعد مبعوث ہوئے، کیونکہ وہ سب آپ کی نسل سے تھے۔ اللہ نے ان حضرات کو ایسے ایسے فضائل سے نوازا کہ وہ جہانوں میں افضل ترین افراد بن گئے۔ ابراہیم ہی کی آل میں سے تمام اولاد کے سردار، ہمارے نبی جناب محمدﷺبھی تشریف لائے۔ جن میں اللہ نے وہ تمام خوبیاں جمع فرمادیں جو دوسرے انبیاء کرام میں انفرادی طورپر موجود تھیں۔ چنانچہ آپ گزشتہ اور آئندہ تمام انسانوں سے بلند تر ہوئے۔ آپ رسولوں کے سردار ہوئے، جنھیں آل ابراہیم میں سے منتخب فرد (مصطفی) ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران کی آل کو بھی منتخب قرار دیا۔ عمران حضرت مریمiکے والد ماجد کا نام ہے۔ حضرت موسیٰuکے والد کا نام بھی عمران تھا۔ یہ گھرانے، جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یہ جہان والوں سے اس کے منتخب افراد کے گھرانے تھے۔ ان کی اولادوں کے ذریعے سے اصلاح اور توفیق کا تسلسل قائم رہا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں‘‘ ان میں باہمی مناسبت اور مشابہت تخلیق کے لحاظ سے بھی ہے اور اخلاق حسنہ کے لحاظ سے بھی۔ جس طرح اللہ نے ان خاندانوں کے دوسرے انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ١ۚ وَاجۡتَبَيۡنٰهُمۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾(الأنعام:6؍87)’’اور ان کے کچھ آباء و اجدادکو، اور کچھ اولاد کو، اور کچھ بھائیوں کو۔ اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سنتا جانتا ہے‘‘ یعنی کون اس قابل ہے کہ اسے چنا جائے اور کون نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے انھیں اس لیے منتخب فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان میں ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انھیں انتخاب کے قابل بناتی ہیں۔ یہ بھی اللہ کا فضل و کرم تھا۔ان بلند مرتبت حضرات کے واقعات ہمیں سنانے کا فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ ہم ان سے محبت رکھیں ، ان کی اقتدا کریں، اللہ سے سوال کریں کہ جس طرح ان کو توفیق دی تھی۔ ہمیں بھی ویسے نیک اعمال کی توفیق بخشے۔ ان کے پیچھے رہ جانے اور ویسی صفات سے متصف نہ ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو حقیر سمجھتے رہیں (یعنی اپنے اعمال پر فخر نہ کریں) علاوہ ازیں اس بیان میں ان پر مہربانی ہے، اولین و آخرین میں ان کی تعریف کا اظہار ہے۔ اور ان کے شرف و عظمت کا اعلان ہے۔ اللہ کا جودوکرم کتنا عظیم ہے، اگر کوئی اور شرف نہ بھی ہوتا تو ان کے لیے یہی شرف کافی تھا کہ ان کا ذکر اور ان کی خوبیوں کا بیان دوام پا گیا ہے۔ان معزز گھرانوں کا ذکرکرکے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰuکی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کی تربیت اور نشوونما میں کس طرح اللہ کا خاص لطف و کرم شامل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے:﴿ اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ ﴾ ’’جب عمران کی بیوی نے کہا‘‘ یعنی مریم علیہا السلام کی والدہ نے حمل قرار پاجانے پر فرمایا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِيۡ بَطۡنِيۡ مُحَرَّرًا﴾ ’’اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانی‘‘ یعنی تیری رضا کے حصول کے لیے میں نے تیرے گھر کی خدمت کے لیے آزاد کردیا۔ ﴿ فَتَقَبَّلۡ مِنِّيۡ ﴾ ’’پس تو میری طرف سے (یہ مبارک عمل) قبول فرما‘‘ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ ’’یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے‘‘ تو میری دعا سن رہا ہے، اور میری نیت اور ارادے سے باخبر ہے، یہ دعا انھوں نے اس وقت کی تھی جب مریم ان کے پیٹ میں تھیں، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ ﴿ فَلَمَّؔا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّيۡ وَضَعۡتُهَاۤ اُنۡثٰى ﴾ ’’جب بچی کو جنا تو کہنے لگی: پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی‘‘ جبکہ انھیں شوق تھا کہ لڑکا پیدا ہو، جو اللہ کے گھر میں خدمت اچھے طریقے سے کرسکے۔ اس کلام سے گویا ایک قسم کی معذرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ﴾ ’’اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی‘‘ اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اس وقت بھی علم تھا جب ان کی والدہ کو بھی علم نہیں تھا۔ ﴿ وَلَيۡسَ الذَّكَرُ كَالۡاُنۡثٰى١ۚ وَاِنِّيۡ سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں، میں نے اس کا نام مریم رکھا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی سے افضل ہے۔ اور پیدائش کے وقت نام رکھنا جائز ہے۔ اور ماں اپنے بچے کا نام رکھ سکتی ہے بشرطیکہ باپ کو یہ بات ناپسند نہ ہو۔ ﴿ وَاِنِّيۡۤ اُعِيۡذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيۡطٰنِ الرَّجِيۡمِ ﴾ ’’اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘ انھوں نے مریم کے لیے او رمریم کی اولاد کے لیے دعا کی کہ انھیں اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ ﴾ ’’پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا‘‘ یعنی انھیں نذر کے طورپر قبول فرمایا۔ اور انھیں اور ان کی اولاد کو شیطان سے محفوظ فرمایا۔ ﴿ وَّاَنۢۡـبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ﴾یعنی ان کی جسمانی اور اخلاقی تربیت بہت اچھی ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے زکریاuکو متعین فرمایا۔﴿ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ﴾ ’’اور ان کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا‘‘ کہ اللہ کی مہربانی تھی کہ ان کی تربیت کامل ترین حال میں ہو۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کرتے کرتے ان کی عمر بڑھی، اور دوسری عورتوں سے فائق ہوگئیں۔ وہ اپنے رب کی عبادت کے لیے وقف ہوگئیں اور اپنی محراب یعنی نماز کی جگہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگیں۔ ﴿ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا الۡمِحۡرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنۡدَهَا رِزۡقًا ﴾ ’’جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئے پاتے‘‘ جس میں ان کی محنت و مشقت شامل نہیں تھی۔ بلکہ یہ رزق انھیں اللہ نے کرامت کے طورپر عطا فرمایا۔ زکریاuنے فرمایا ﴿ اَنّٰى لَكِ هٰؔذَا ﴾ ’’یہ روزی تمھارے پاس کہاں سے آئی‘‘ ﴿ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ جواب دیتیں، یہ اللہ کے پاس سے ہے‘‘ یہ اس کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’بے شک اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے‘‘ یعنی جہاں سے بندے کو گمان بھی نہ ہو اور بغیر محنت کھانے کا بندوبست فرمادے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مَخۡرَجًاۙ۰۰وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ ﴾(الطلاق:65؍2، 3)’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے خلاصی کی صورت بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔‘‘ علاوہ ازیں اس آیت سے اولیائے کرام کی خرق عادت کرامات کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ثابت ہیں، اس لیے جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف درست نہیں۔جب زکریاuنے مریم [ پر اللہ کا یہ احسان ملاحظہ فرمایا، اور انھیں بغیر کوشش اور محنت کے، بہترین رزق ملنے کی کرامت دیکھی تو آپ کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔زکریاuنے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انھیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے، یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی ﴿ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰu)کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔‘‘ ﴿ وَسَيِّدًا ﴾ ’’اور سردار‘‘ یعنی آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے۔ اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لیے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ ﴿ وَّحَصُوۡرًا ﴾ ’’اور ضابط نفس‘‘یعنی عورتوں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔ رب کی خدمت و اطاعت میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ کے دل میں عورتوں کی خواہش پیدانھیں ہوگی۔ ﴿ وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾’’اور نبی نیک لوگوں میں سے‘‘ کتنی عظیم بشارت ہے۔ اس سے بڑی خوش خبری کیا ہوسکتی ہے۔ اس میں بیٹا ملنے کی خوش خبری بھی ہے، اور اس کی کامل صفات والا ہونے کی بھی، اور اس کے نبی ہونے کی بھی! زکریاuانتہائی خوشی کی حالت میں پکار اٹھے۔﴿ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّقَدۡ بَلَغَنِيَ الۡكِبَرُ وَ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرٌ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔‘‘ ان میں سے ایک سبب بھی ہوتا تو اولاد نہ ہوتی۔ اب تو دونوں جمع ہیں۔ اللہ نے بتایا کہ یہ پیدائش معجزانہ شان کی حامل ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اسی طرح اللہ جو چاہے کرتا ہے‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اولاد کی موجودگی کو اسباب مثلاً توالد و تناسل کے ساتھ متعلق کردیا ہے اسی طرح اگر وہ بغیر اسباب کے اولاد دینا چاہے تو دے سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔ زکریاuنے اس بشارت کے جلدی پورا ہونے کی امید میں اور مکمل اطمینان حاصل ہونے کی غرض سے فرمایا: ﴿ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً ﴾ ’’پروردگار! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے‘‘ جو اس بچے کے وجود میں آجانے کی علامت ہو۔ ﴿قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾ ’’فرمایا: نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، مگر اشارے سے‘‘ یعنی آپ کی زبان بغیر کسی مرض یا آفت کے کلام سے رک جائے گی، آپ صرف اشارے سے بات کرسکیں گے۔ کلام نہ کرسکنا ایک عظیم علامت ہے۔ اس میں ایک عجیب مناسبت ہے یعنی جس طرح اسباب موجود ہوتے ہوئے اللہ ان کو کام کرنے سے روک سکتا ہے۔ اسی طرح اسباب کے بغیر پیدا کرسکتا ہے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام اسباب اللہ کی قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنا شکر کرنے اور صبح شام کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ جب آپ حجرے سے باہر تشریف لائے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾(مريم:19؍11)’’تو لوگوں کو اشارے سے فرمایا کہ صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہنا۔‘‘اللہ عزوجل حضرت مریم [ کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انھیں براہ راست مخاطب کرکے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ ﴾ ’’اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا‘‘ ﴿ وَطَهَّرَكِ ﴾ ’’اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا‘‘ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ ﴿ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ا ور سارے جہاں کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا‘‘ پہلے (اِصْطَفَاء) ’’انتخاب اور برگزیدہ کرنے‘‘ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے۔ اور دوسرے (اِصْطَفَاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں سے افضل قرار دینا مقصود ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے چند خواتین یعنی جناب خدیجہ، جناب عائشہ اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہن کا اس شرف میں شریک ہونا مریم کے اصطفاء کے منافی نہیں۔ جب فرشتوں نے آپ کو اللہ کی منتخب بندی ہونے اور پاک کرنے کی خوشخبری دی تو یہ ایک عظیم نعمت اور اللہ کا عظیم احسان تھا، جس کا شکر کرنا ضروری تھا، اس لیے فرشتوں نے کہا:﴿ يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ ﴾ ’’اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر‘‘ قنوت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت پر مسلسل قائم رہنا ہے۔ ﴿ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾ ’’اور سجدہ کر، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‘‘ عبادت میں رکوع اور سجدہ کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام دوسری عبادتوں سے افضل ہے۔ اور ان سے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ مریم نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے اطاعت کے جذبہ سے اس حکم کی تعمیل کی۔ جب اللہ نے اپنے نبی کو مریم کے بارے میں یہ باتیں بتائیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق کن حالات سے گزریں، تو یہ غیبی معاملات تھے جن کا علم وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ غیب کی خبروںمیں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ يُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَهُمۡ اَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس نہ تھے، جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا۔‘‘ جب مریم کی والدہ انھیں بیت المقدس کے ذمہ دار افراد کے پاس لے گئیں تو ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوئی کہ وہ مریم کی دیکھ بھال کا شرف حاصل کرے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی، وہ اس طرح کہ اپنے قلم دریا میں ڈال دیے کہ جس کا قلم پانی کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی مریم کا سرپرست قرار پائے گا۔ یہ شرف حضرت زکریاuکو حاصل ہوا جو ان کے نبی اور معزز ترین فرد تھے۔ اے محمد(ﷺ)آپ ان لوگوں کو یہ واقعات بتاتے ہیں جن کے بارے میں نہ انھیں معلوم تھا، نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ آپ کی اطاعت قبول کریں او ر آپ کے احکام کی تعمیل کریں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾(قصص:28؍44) ’’اور طور کے مغربی جانب، جبکہ ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو آپ موجود تھے، اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰuہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لیے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبریلuکو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ انھوں نے آپ کی قمیص کے گریبان میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم علیہا السلام کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے، اس لیے آپ کو روح اللہ (اللہ کی روح) کہا گیا۔ ﴿ وَجِيۡهًا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ ’’جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے‘‘ یعنی انھیں دنیا میں ایک معزز مقام حاصل ہے کہ آپ کو اللہ نے ان اولو العزم رسولوں میں شامل کیا، جو بڑی شریعتوں کے حامل تھے، اور انھیں کثیر تعداد میں متبعین نصیب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ شہرت بخشی جو مشرق اور مغرب میں پھیل گئی۔ وہ آخرت میں بھی اللہ کے ہاں، عزت والے ہوں گے۔ دوسرے انبیاء اور رسولوں کی طرح آپ بھی شفاعت کریں گے، جس سے آپ کا بلند مقام جہاں والوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا، اس لیے وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں، اپنے رب سے انتہائی قریب ہیں۔ بلکہ آپ مقربین کے سرداروں میں سے ہیں۔ ﴿ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا﴾ ’’اور وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا، اور ادھیڑ عمر میں بھی‘‘ یہ عام بات چیت سے ممتاز کلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرے گا جس میں ان کی بھلائی او رکامیابی ہے۔ اور ایسا کلام رسولوں کا ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ رسول ہوگا جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے گا۔ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا اللہ کی ایک عظیم نشانی ہوگی جس سے مومنوں کو فائدہ ہوگا، اور وہ دشمنوں کے خلاف حجت ہوگی۔ جس سے ثابت ہوگا کہ وہ رب العالمین کے رسول اور اللہ کے بندے ہیں۔ یہ کلام آپ کی والدہ کے لیے بھی نعمت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے سے ان پر لگنے والے الزام کی تردید ہوجائے گی۔ ﴿ وَّمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا‘‘ یعنی اللہ اس پر یہ احسان بھی فرمائے گا کہ اسے نیکی عطا فرما کر نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔ اس میں مریم [کے لیے کئی بشارتیں ہیں اور مسیحuکے بلند مقام کا اظہار بھی ہے۔ ﴿ قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ ﴾ ’’کہنے لگیں: الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘ اور اللہ کا عام قانون یہی ہے کہ مرد سے تعلق کیے بغیر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ بات مریم [نے تعجب کے طورپر فرمائی۔ اللہ کی قدرت پر شک کرتے ہوئے نہیں فرمائی۔ ﴿ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’فرشتے نے کہا: اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے مریم کو بتایا کہ یہ خرق عادت معاملہ ہے۔ اسے پیدا کرنے والا وہ اللہ ہے جو کسی بھی کام کو کہتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ جو اس چیز پر یقین کرلے اس کا تعجب ختم ہوجائے گا۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے عجیب کے بعد زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے حضرت یحییٰuکی ولادت کا ذکر فرمایا جن کے والد انتہائی بوڑھے اور والدہ بانجھ تھیں۔ پھر زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا یعنی عیسیٰuکا کسی والد کے بغیر صرف والدہ سے پیدا ہونا۔ تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے۔ جو کچھ وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuپر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا ﴿ وَيُعَلِّمُهُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا‘‘ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طورپر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف وافضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لیے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طورپر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انھیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَۚ۰۰ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ۰۰ اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ۰۰الَّذِيۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰﴾(العلق:96؍1۔4) ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ‘‘ اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم، اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰuپر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انھیں لکھنا سکھایا اور علم و حکمت سے نوازا۔ یہ انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والا کمال ہے۔ پھر ایک اور کمال ذکر فرمایا: جو آپ کو حاصل ہونے والے دوسرے فضائل سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَرَسُوۡلًا اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا‘‘ اللہ نے آپ کو اس عظیم قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو اپنے زمانے کی افضل ترین قوم تھی۔ آپ نے انھیں اللہ کی طرف بلایا۔ اور اللہ نے آپ کو وہ معجزات عطا فرمائے جن سے ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کے سچے نبی ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ اَنِّيۡ قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ١ۙ اَنِّيۡۤ اَخۡلُقُ لَكُمۡ مِّنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’کہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمھارے لیے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔‘‘ ﴿ فَاَنۡفُخُ فِيۡهِ فَيَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔‘‘ یعنی اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑ جاتی ہے اور وہ اڑنے لگتا ہے۔ ﴿ وَاُبۡرِئُ الۡاَؔكۡمَهَ وَالۡاَبۡرَصَ ﴾ ’’اور میں (اللہ کے حکم سے )مادر زاد اندھے اور ابرص کو اچھا کردیتا ہوں‘‘ ﴿ وَاُحۡيِ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِ اللّٰهِ١ۚ وَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا تَاۡكُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ١ۙ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ اور جو کچھ تم کھاؤ، اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمھیں بتا دیتا ہوں‘‘ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس میں تمھارے لیے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان دار ہو‘‘ اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ بے جان مٹی زندہ جانور بن جائے، ایسے بیمار تندرست ہوجائیں جن کا علاج کرنے سے تمام معالج عاجز تھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اور غیبی امور کی خبریں دی جائیں۔ ان میں سے اگر کوئی نشانی اکیلی بھی ظاہر ہوتی تو بہت بڑا معجزہ ہوتی۔ تو پھر جب یہ سب نشانیاں ظاہر ہوں اور ایک دوسری کی تائید کریں تو یقیناً یقین حاصل ہوگا، اور ایمان لانا ضروری ہوگا۔ ﴿ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے‘‘ یعنی میں ویسی ہی تعلیمات لے کر آیا ہوں جیسی موسیٰuلائے تھے اور جو تورات میں موجود تھیں۔ سچے آدمی کی علامت یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی باتیں دوسرے سچے افراد کے بیانات کے مطابق ہوں۔ وہ سچی خبریں دے اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرے ۔اس کی باتوں میں تناقض اور اختلاف نہ ہو۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ بالخصوص جو سب سے بڑا دعویٰ یعنی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر اس کا دعویٰ جھوٹ ہے تو اس کا جھوٹ ہر کسی کے سامنے ظاہر ہوکر رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سچے لوگوں کی باتوں کے خلاف اور جھوٹے لوگوں کی باتوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ کیونکہ نبوت کے دعویٰ میں سچے اور جھوٹے میں ہرگز اشتباہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض چھوٹے موٹے جزوی معاملات میں سچا اور جھوٹا ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ نبوت پر تو مخلوق کی ہدایت و ضلالت اور نجات و ہلاکت کا دارومدار ہے۔ اس کا سچا دعویٰ کرنے والا کامل ترین انسان ہی ہوسکتا ہے اور اس کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے حقیر، سب سے بڑھ کر جھوٹا اور سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ان دونوں میں ایسے واضح فرق موجود ہوں جنھیں عقل رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکے۔اس کے بعد عیسیٰuنے بتایا کہ انجیل کی شریعت میں آسانی اور نرمی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے تورات کے اکثر احکام منسوخ نہیں کیے، بلکہ ان کی تکمیل کی ہے اور انھیں برقرار رکھا ہے۔ ﴿ وَجِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں سچا ہوں اور میری پیروی واجب ہے۔ اس سے مراد وہی معجزات ہیں، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ ’’تم اللہ سے ڈرو‘‘ اس کے احکام کی تعمیل کرو، اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’یقین مانو، میرا اور تمھارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو۔‘‘ توحید ربوبیت (یعنی اللہ کے خالق ہونے) کا اقرار سب کو ہے۔ جناب عیسیٰuنے اس کو توحید الوہیت (یعنی صرف اللہ کے معبود برحق ہونے) کی دلیل بنایا جسے مشرکین نہیں مانتے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارا خالق، رازق اور ہمیں تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں دینے والا صرف اللہ ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہمارا معبود صرف اللہ ہے جس سے ہم محبت رکھیں ، اس سے ڈریں، اس سے امیدیں رکھیں ، اس سے دعائیں کریں، اس سے مدد مانگیں، اور عبادت کی دوسری تمام صورتیں بھی اس کے لیے مخصوص کردیں۔ اس سے نصاریٰ کی تردید ہوتی ہے جو عیسیٰuکو معبود مانتے ہیں۔ یااللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق، اللہ کے بندے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔ جیسے انھوں نے فرمایا تھا:﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾(مریم:19؍30) ’’میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116۔117) ’’اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تونے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے، اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔ میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا، مگر صرف وہی جو تونے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے۔‘‘ ﴿ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾’’یہی سیدھی راہ ہے‘‘ یعنی اللہ کی عبادت، اس کا تقویٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی سیدھی راہ ہے جو اللہ تک اور اس کی جنت تک پہنچاتی ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ جہنم کی طرف پہنچانے والا ہے۔﴿ فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيۡسٰؔى مِنۡهُمُ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’جب عیسیٰuنے ان کا کفر محسوس کرلیا‘‘ دیکھا کہ وہ آپ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ انھیں جادوگر کہتے ہیں۔ آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی کوشش کررہے ہیں ﴿ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو کہنے لگے: اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟‘‘ یعنی اللہ کے دین کی نصرت کے لیے میرے ساتھ کون تعاون کرے گا؟ ﴿ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾ ’’حواریوں (یعنی آپ کے مددگاروں) نے کہا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں‘‘ یعنی انھوں نے آپ کا ساتھ دیا اور یہ فریضہ نبھایا۔ انھوں نے کہا: ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’ہم اللہ پر ایمان لائے‘‘ ﴿فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے‘‘ یعنی ایسی گواہی جو مفید ہو، اس گواہی سے مراد اللہ کی توحید کا اقرار اور نبیوں کی تصدیق اور اس کے مطابق عمل۔ جب وہ دین کی نصرت کے لیے اور شریعت کو قائم کرنے کے لیے عیسیٰuکے ساتھ ہوگئے تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا۔ اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا۔ ان دونوںمیں جنگ ہوئی تو اللہ نے مومنوں کی مدد کی۔ اور مشرکوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کامیاب ہوگئے، اس لیے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَكَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں (کافروں )نے تدبیر کی‘‘ یعنی اللہ کے نور کو بجھانے کے لیے اللہ کے نبی کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ﴿ وَمَكَرَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی‘‘ اور انھیں ان کے منصوبوں کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا اور وہ خائب و خاسر ہوکر رہ گئے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسٰۤى اِنِّيۡ مُتَوَفِّيۡكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuکو اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالیا، اور کسی اور شخص پر آپ کی مشابہت ڈال دی۔ جس آدمی کو آپ کا ہم شکل بنایا گیا تھا، دشمنوں نے اسے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔ اس طرح وہ ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کی نیت حضرت عیسیٰuکو شہید کرنے کی تھی۔ اور اپنے خیال میں وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ ﴾(النساء:4؍157) ’’نہ تو انھوں نے اسے قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کے لیے وہی صورت بنا دی گئی تھی‘‘ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق سے اوپر ہونا، اور عرش پر حقیقتاً مستوی ہونا ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اہل سنت نے تسلیم کیا ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب قوی اور زبردست ہے۔ جس کا ایک مظہر بنی اسرائیل کا عیسیٰuکو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلینے اور پروگرام بنالینے، اور اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود، اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہنا ہے، جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾(المائدہ:5؍110) ’’اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا، جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کو شبہ میں رکھنے میں بھی اس کی عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ چنانچہ وہ شبہ میں پڑ گئے جیسے ارشاد ہے ﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ١ؕ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ يَقِيۡنًا﴾(النساء:4؍157) ’’یقین جانو، عیسیٰuکے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَجَاعِلُ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور تیرے تابع داروں کو کافروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک‘‘ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کافروں کے خلاف ان کے مومنوں کی مدد فرمائی۔ پھر عیسیٰuسے نسبت رکھنے والے نصاریٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہے، کیونکہ یہود کی نسبت عیسائی عیسیٰuکی اتباع سے قریب تر تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمدﷺکو مبعوث فرمایا تو مسلمان عیسیٰuکے حقیقی متبع بنے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ البتہ کسی کسی زمانے میں عیسائی وغیرہ کافر مسلمانوں پر غالب آتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ مسلمانوں کو نبیﷺکی اتباع سے پہلو تہی کرنے کی سزا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر تم سب کا (یعنی تمام مخلوقات) کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔‘‘ ﴿فَاَحۡكُمُ بَيۡنَؔكُمۡ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس میں ہی تمھارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا‘‘ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے سب غلطی پر ہیں۔ یہ سب دعوے ہیں جنھیں دلیل کی ضرورت ہے۔
آل عمران 3:54
بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں، بلاشبہ اس میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن (49) اور تصدیق کرنے والا ہوں واسطے اس کے جو مجھ سے پہلے (نازل شدہ) ہے تورات، اور تاکہ حلال کر دوں میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں جو حرام کر دی گئی تھیں تم پر،اور آیا ہوں تمھارے پاس نشانی لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری(50) بے شک اللہ ہے رب میرا اور رب تمھارا، پس تم عبادت کرو اسی کی، یہی ہے راستہ سیدھا(51) پھر جب محسو س کیا عیسیٰ نے ان میں کفر، تو کہا، کون ہے مددگار میرا اللہ کے لیے ؟ کہا حواریوں نے، ہم ہیں مددگار اللہ (کے دین) کے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے،اور تو گواہ رہ اس بات کا کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں(52) اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ساتھ اس چیز کے جو تونے نازل کی، اور اتباع کیا ہم نے رسول کا، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ گواہوں کے(53) اور انھوں نے تدبیر کی اور اللہ نے(بھی) تدبیر کی، اور اللہ بہتر ہے سب تدبیر کرنے والوں سے(54)(یاد کرو) جب کہا اللہ نے، اے عیسیٰ! بلاشبہ میں پورا پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھے اپنی طرف، اورپاک کرنے والا ہوں تجھے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا،اور کرنے والا ہوں ان کو جنھوں نے اتباع کیا تیرا، اوپر ان کے جنھوں نے کفر کیا، روز قیامت تک، پھر میری ہی طرف ہے لوٹ کر آنا تمھارا، پس فیصلہ کروں گا میں تمھارے درمیان ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے(55)
[55-33] اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدمuکا انتخاب فرمایا۔ انھیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا کرکے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کریں، انھیں جنت میں ٹھہرایا۔ انھیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے، اس لیے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا﴾(بنیٓ اسرائیل:17؍70)’’یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں، اور انھیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں، اور اپنی بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی۔‘‘اللہ نے نوحuکو منتخب فرمایا اور انھیں اس وقت رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا، جب بتوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ آپ کو ہر وقت صبر، برداشت، شکر اور تبلیغ کی وہ توفیق بخشی جس کی وجہ سے وہ منتخب قرار دیے جانے کے لائق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کی دعا کے نتیجے میں زمین کے تمام باشندوں کو غرق کردیا۔ آپ کو آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے سے نجات بخشی، آپ کی نسل کو قیامت تک باقی رکھا۔ ہر زمانے میں لوگ آپ کی تعریف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ جن میں خود ابراہیمuبھی شامل ہیں جن کو اللہ نے خاص طورپر اپنی خلت سے نواز کر خلیل الرحمن کے لقب سے مشرف فرمایا۔ جنھوں نے اپنی ذات کو آگ کے حوالے کردیا، بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کردیا اور مال مہمانوں کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ آپ نے رات دن، چھپ چھپ کر اور علانیہ لوگوں کو رب کی طرف بلایا۔ اللہ نے آپ کو اسوہ (نمونہ) قرار دیا کہ بعد کے سب لوگ اس کی اتباع کریں۔ نبوت اور آسمانی کتابیں آپ کی اولاد کے لیے خاص کردیں۔ آل ابراہیم میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جو آپ کے بعد مبعوث ہوئے، کیونکہ وہ سب آپ کی نسل سے تھے۔ اللہ نے ان حضرات کو ایسے ایسے فضائل سے نوازا کہ وہ جہانوں میں افضل ترین افراد بن گئے۔ ابراہیم ہی کی آل میں سے تمام اولاد کے سردار، ہمارے نبی جناب محمدﷺبھی تشریف لائے۔ جن میں اللہ نے وہ تمام خوبیاں جمع فرمادیں جو دوسرے انبیاء کرام میں انفرادی طورپر موجود تھیں۔ چنانچہ آپ گزشتہ اور آئندہ تمام انسانوں سے بلند تر ہوئے۔ آپ رسولوں کے سردار ہوئے، جنھیں آل ابراہیم میں سے منتخب فرد (مصطفی) ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران کی آل کو بھی منتخب قرار دیا۔ عمران حضرت مریمiکے والد ماجد کا نام ہے۔ حضرت موسیٰuکے والد کا نام بھی عمران تھا۔ یہ گھرانے، جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یہ جہان والوں سے اس کے منتخب افراد کے گھرانے تھے۔ ان کی اولادوں کے ذریعے سے اصلاح اور توفیق کا تسلسل قائم رہا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں‘‘ ان میں باہمی مناسبت اور مشابہت تخلیق کے لحاظ سے بھی ہے اور اخلاق حسنہ کے لحاظ سے بھی۔ جس طرح اللہ نے ان خاندانوں کے دوسرے انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ١ۚ وَاجۡتَبَيۡنٰهُمۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾(الأنعام:6؍87)’’اور ان کے کچھ آباء و اجدادکو، اور کچھ اولاد کو، اور کچھ بھائیوں کو۔ اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سنتا جانتا ہے‘‘ یعنی کون اس قابل ہے کہ اسے چنا جائے اور کون نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے انھیں اس لیے منتخب فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان میں ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انھیں انتخاب کے قابل بناتی ہیں۔ یہ بھی اللہ کا فضل و کرم تھا۔ان بلند مرتبت حضرات کے واقعات ہمیں سنانے کا فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ ہم ان سے محبت رکھیں ، ان کی اقتدا کریں، اللہ سے سوال کریں کہ جس طرح ان کو توفیق دی تھی۔ ہمیں بھی ویسے نیک اعمال کی توفیق بخشے۔ ان کے پیچھے رہ جانے اور ویسی صفات سے متصف نہ ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو حقیر سمجھتے رہیں (یعنی اپنے اعمال پر فخر نہ کریں) علاوہ ازیں اس بیان میں ان پر مہربانی ہے، اولین و آخرین میں ان کی تعریف کا اظہار ہے۔ اور ان کے شرف و عظمت کا اعلان ہے۔ اللہ کا جودوکرم کتنا عظیم ہے، اگر کوئی اور شرف نہ بھی ہوتا تو ان کے لیے یہی شرف کافی تھا کہ ان کا ذکر اور ان کی خوبیوں کا بیان دوام پا گیا ہے۔ان معزز گھرانوں کا ذکرکرکے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰuکی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کی تربیت اور نشوونما میں کس طرح اللہ کا خاص لطف و کرم شامل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے:﴿ اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ ﴾ ’’جب عمران کی بیوی نے کہا‘‘ یعنی مریم علیہا السلام کی والدہ نے حمل قرار پاجانے پر فرمایا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِيۡ بَطۡنِيۡ مُحَرَّرًا﴾ ’’اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانی‘‘ یعنی تیری رضا کے حصول کے لیے میں نے تیرے گھر کی خدمت کے لیے آزاد کردیا۔ ﴿ فَتَقَبَّلۡ مِنِّيۡ ﴾ ’’پس تو میری طرف سے (یہ مبارک عمل) قبول فرما‘‘ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ ’’یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے‘‘ تو میری دعا سن رہا ہے، اور میری نیت اور ارادے سے باخبر ہے، یہ دعا انھوں نے اس وقت کی تھی جب مریم ان کے پیٹ میں تھیں، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ ﴿ فَلَمَّؔا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّيۡ وَضَعۡتُهَاۤ اُنۡثٰى ﴾ ’’جب بچی کو جنا تو کہنے لگی: پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی‘‘ جبکہ انھیں شوق تھا کہ لڑکا پیدا ہو، جو اللہ کے گھر میں خدمت اچھے طریقے سے کرسکے۔ اس کلام سے گویا ایک قسم کی معذرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ﴾ ’’اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی‘‘ اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اس وقت بھی علم تھا جب ان کی والدہ کو بھی علم نہیں تھا۔ ﴿ وَلَيۡسَ الذَّكَرُ كَالۡاُنۡثٰى١ۚ وَاِنِّيۡ سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں، میں نے اس کا نام مریم رکھا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی سے افضل ہے۔ اور پیدائش کے وقت نام رکھنا جائز ہے۔ اور ماں اپنے بچے کا نام رکھ سکتی ہے بشرطیکہ باپ کو یہ بات ناپسند نہ ہو۔ ﴿ وَاِنِّيۡۤ اُعِيۡذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيۡطٰنِ الرَّجِيۡمِ ﴾ ’’اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘ انھوں نے مریم کے لیے او رمریم کی اولاد کے لیے دعا کی کہ انھیں اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ ﴾ ’’پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا‘‘ یعنی انھیں نذر کے طورپر قبول فرمایا۔ اور انھیں اور ان کی اولاد کو شیطان سے محفوظ فرمایا۔ ﴿ وَّاَنۢۡـبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ﴾یعنی ان کی جسمانی اور اخلاقی تربیت بہت اچھی ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے زکریاuکو متعین فرمایا۔﴿ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ﴾ ’’اور ان کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا‘‘ کہ اللہ کی مہربانی تھی کہ ان کی تربیت کامل ترین حال میں ہو۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کرتے کرتے ان کی عمر بڑھی، اور دوسری عورتوں سے فائق ہوگئیں۔ وہ اپنے رب کی عبادت کے لیے وقف ہوگئیں اور اپنی محراب یعنی نماز کی جگہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگیں۔ ﴿ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا الۡمِحۡرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنۡدَهَا رِزۡقًا ﴾ ’’جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئے پاتے‘‘ جس میں ان کی محنت و مشقت شامل نہیں تھی۔ بلکہ یہ رزق انھیں اللہ نے کرامت کے طورپر عطا فرمایا۔ زکریاuنے فرمایا ﴿ اَنّٰى لَكِ هٰؔذَا ﴾ ’’یہ روزی تمھارے پاس کہاں سے آئی‘‘ ﴿ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ جواب دیتیں، یہ اللہ کے پاس سے ہے‘‘ یہ اس کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’بے شک اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے‘‘ یعنی جہاں سے بندے کو گمان بھی نہ ہو اور بغیر محنت کھانے کا بندوبست فرمادے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مَخۡرَجًاۙ۰۰وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ ﴾(الطلاق:65؍2، 3)’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے خلاصی کی صورت بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔‘‘ علاوہ ازیں اس آیت سے اولیائے کرام کی خرق عادت کرامات کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ثابت ہیں، اس لیے جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف درست نہیں۔جب زکریاuنے مریم [ پر اللہ کا یہ احسان ملاحظہ فرمایا، اور انھیں بغیر کوشش اور محنت کے، بہترین رزق ملنے کی کرامت دیکھی تو آپ کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔زکریاuنے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انھیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے، یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی ﴿ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰu)کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔‘‘ ﴿ وَسَيِّدًا ﴾ ’’اور سردار‘‘ یعنی آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے۔ اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لیے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ ﴿ وَّحَصُوۡرًا ﴾ ’’اور ضابط نفس‘‘یعنی عورتوں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔ رب کی خدمت و اطاعت میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ کے دل میں عورتوں کی خواہش پیدانھیں ہوگی۔ ﴿ وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾’’اور نبی نیک لوگوں میں سے‘‘ کتنی عظیم بشارت ہے۔ اس سے بڑی خوش خبری کیا ہوسکتی ہے۔ اس میں بیٹا ملنے کی خوش خبری بھی ہے، اور اس کی کامل صفات والا ہونے کی بھی، اور اس کے نبی ہونے کی بھی! زکریاuانتہائی خوشی کی حالت میں پکار اٹھے۔﴿ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّقَدۡ بَلَغَنِيَ الۡكِبَرُ وَ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرٌ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔‘‘ ان میں سے ایک سبب بھی ہوتا تو اولاد نہ ہوتی۔ اب تو دونوں جمع ہیں۔ اللہ نے بتایا کہ یہ پیدائش معجزانہ شان کی حامل ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اسی طرح اللہ جو چاہے کرتا ہے‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اولاد کی موجودگی کو اسباب مثلاً توالد و تناسل کے ساتھ متعلق کردیا ہے اسی طرح اگر وہ بغیر اسباب کے اولاد دینا چاہے تو دے سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔ زکریاuنے اس بشارت کے جلدی پورا ہونے کی امید میں اور مکمل اطمینان حاصل ہونے کی غرض سے فرمایا: ﴿ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً ﴾ ’’پروردگار! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے‘‘ جو اس بچے کے وجود میں آجانے کی علامت ہو۔ ﴿قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾ ’’فرمایا: نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، مگر اشارے سے‘‘ یعنی آپ کی زبان بغیر کسی مرض یا آفت کے کلام سے رک جائے گی، آپ صرف اشارے سے بات کرسکیں گے۔ کلام نہ کرسکنا ایک عظیم علامت ہے۔ اس میں ایک عجیب مناسبت ہے یعنی جس طرح اسباب موجود ہوتے ہوئے اللہ ان کو کام کرنے سے روک سکتا ہے۔ اسی طرح اسباب کے بغیر پیدا کرسکتا ہے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام اسباب اللہ کی قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنا شکر کرنے اور صبح شام کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ جب آپ حجرے سے باہر تشریف لائے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾(مريم:19؍11)’’تو لوگوں کو اشارے سے فرمایا کہ صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہنا۔‘‘اللہ عزوجل حضرت مریم [ کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انھیں براہ راست مخاطب کرکے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ ﴾ ’’اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا‘‘ ﴿ وَطَهَّرَكِ ﴾ ’’اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا‘‘ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ ﴿ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ا ور سارے جہاں کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا‘‘ پہلے (اِصْطَفَاء) ’’انتخاب اور برگزیدہ کرنے‘‘ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے۔ اور دوسرے (اِصْطَفَاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں سے افضل قرار دینا مقصود ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے چند خواتین یعنی جناب خدیجہ، جناب عائشہ اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہن کا اس شرف میں شریک ہونا مریم کے اصطفاء کے منافی نہیں۔ جب فرشتوں نے آپ کو اللہ کی منتخب بندی ہونے اور پاک کرنے کی خوشخبری دی تو یہ ایک عظیم نعمت اور اللہ کا عظیم احسان تھا، جس کا شکر کرنا ضروری تھا، اس لیے فرشتوں نے کہا:﴿ يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ ﴾ ’’اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر‘‘ قنوت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت پر مسلسل قائم رہنا ہے۔ ﴿ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾ ’’اور سجدہ کر، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‘‘ عبادت میں رکوع اور سجدہ کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام دوسری عبادتوں سے افضل ہے۔ اور ان سے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ مریم نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے اطاعت کے جذبہ سے اس حکم کی تعمیل کی۔ جب اللہ نے اپنے نبی کو مریم کے بارے میں یہ باتیں بتائیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق کن حالات سے گزریں، تو یہ غیبی معاملات تھے جن کا علم وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ غیب کی خبروںمیں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ يُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَهُمۡ اَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس نہ تھے، جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا۔‘‘ جب مریم کی والدہ انھیں بیت المقدس کے ذمہ دار افراد کے پاس لے گئیں تو ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوئی کہ وہ مریم کی دیکھ بھال کا شرف حاصل کرے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی، وہ اس طرح کہ اپنے قلم دریا میں ڈال دیے کہ جس کا قلم پانی کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی مریم کا سرپرست قرار پائے گا۔ یہ شرف حضرت زکریاuکو حاصل ہوا جو ان کے نبی اور معزز ترین فرد تھے۔ اے محمد(ﷺ)آپ ان لوگوں کو یہ واقعات بتاتے ہیں جن کے بارے میں نہ انھیں معلوم تھا، نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ آپ کی اطاعت قبول کریں او ر آپ کے احکام کی تعمیل کریں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾(قصص:28؍44) ’’اور طور کے مغربی جانب، جبکہ ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو آپ موجود تھے، اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰuہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لیے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبریلuکو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ انھوں نے آپ کی قمیص کے گریبان میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم علیہا السلام کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے، اس لیے آپ کو روح اللہ (اللہ کی روح) کہا گیا۔ ﴿ وَجِيۡهًا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ ’’جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے‘‘ یعنی انھیں دنیا میں ایک معزز مقام حاصل ہے کہ آپ کو اللہ نے ان اولو العزم رسولوں میں شامل کیا، جو بڑی شریعتوں کے حامل تھے، اور انھیں کثیر تعداد میں متبعین نصیب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ شہرت بخشی جو مشرق اور مغرب میں پھیل گئی۔ وہ آخرت میں بھی اللہ کے ہاں، عزت والے ہوں گے۔ دوسرے انبیاء اور رسولوں کی طرح آپ بھی شفاعت کریں گے، جس سے آپ کا بلند مقام جہاں والوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا، اس لیے وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں، اپنے رب سے انتہائی قریب ہیں۔ بلکہ آپ مقربین کے سرداروں میں سے ہیں۔ ﴿ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا﴾ ’’اور وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا، اور ادھیڑ عمر میں بھی‘‘ یہ عام بات چیت سے ممتاز کلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرے گا جس میں ان کی بھلائی او رکامیابی ہے۔ اور ایسا کلام رسولوں کا ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ رسول ہوگا جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے گا۔ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا اللہ کی ایک عظیم نشانی ہوگی جس سے مومنوں کو فائدہ ہوگا، اور وہ دشمنوں کے خلاف حجت ہوگی۔ جس سے ثابت ہوگا کہ وہ رب العالمین کے رسول اور اللہ کے بندے ہیں۔ یہ کلام آپ کی والدہ کے لیے بھی نعمت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے سے ان پر لگنے والے الزام کی تردید ہوجائے گی۔ ﴿ وَّمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا‘‘ یعنی اللہ اس پر یہ احسان بھی فرمائے گا کہ اسے نیکی عطا فرما کر نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔ اس میں مریم [کے لیے کئی بشارتیں ہیں اور مسیحuکے بلند مقام کا اظہار بھی ہے۔ ﴿ قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ ﴾ ’’کہنے لگیں: الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘ اور اللہ کا عام قانون یہی ہے کہ مرد سے تعلق کیے بغیر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ بات مریم [نے تعجب کے طورپر فرمائی۔ اللہ کی قدرت پر شک کرتے ہوئے نہیں فرمائی۔ ﴿ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’فرشتے نے کہا: اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے مریم کو بتایا کہ یہ خرق عادت معاملہ ہے۔ اسے پیدا کرنے والا وہ اللہ ہے جو کسی بھی کام کو کہتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ جو اس چیز پر یقین کرلے اس کا تعجب ختم ہوجائے گا۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے عجیب کے بعد زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے حضرت یحییٰuکی ولادت کا ذکر فرمایا جن کے والد انتہائی بوڑھے اور والدہ بانجھ تھیں۔ پھر زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا یعنی عیسیٰuکا کسی والد کے بغیر صرف والدہ سے پیدا ہونا۔ تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے۔ جو کچھ وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuپر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا ﴿ وَيُعَلِّمُهُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا‘‘ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طورپر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف وافضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لیے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طورپر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انھیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَۚ۰۰ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ۰۰ اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ۰۰الَّذِيۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰﴾(العلق:96؍1۔4) ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ‘‘ اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم، اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰuپر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انھیں لکھنا سکھایا اور علم و حکمت سے نوازا۔ یہ انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والا کمال ہے۔ پھر ایک اور کمال ذکر فرمایا: جو آپ کو حاصل ہونے والے دوسرے فضائل سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَرَسُوۡلًا اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا‘‘ اللہ نے آپ کو اس عظیم قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو اپنے زمانے کی افضل ترین قوم تھی۔ آپ نے انھیں اللہ کی طرف بلایا۔ اور اللہ نے آپ کو وہ معجزات عطا فرمائے جن سے ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کے سچے نبی ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ اَنِّيۡ قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ١ۙ اَنِّيۡۤ اَخۡلُقُ لَكُمۡ مِّنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’کہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمھارے لیے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔‘‘ ﴿ فَاَنۡفُخُ فِيۡهِ فَيَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔‘‘ یعنی اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑ جاتی ہے اور وہ اڑنے لگتا ہے۔ ﴿ وَاُبۡرِئُ الۡاَؔكۡمَهَ وَالۡاَبۡرَصَ ﴾ ’’اور میں (اللہ کے حکم سے )مادر زاد اندھے اور ابرص کو اچھا کردیتا ہوں‘‘ ﴿ وَاُحۡيِ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِ اللّٰهِ١ۚ وَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا تَاۡكُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ١ۙ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ اور جو کچھ تم کھاؤ، اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمھیں بتا دیتا ہوں‘‘ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس میں تمھارے لیے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان دار ہو‘‘ اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ بے جان مٹی زندہ جانور بن جائے، ایسے بیمار تندرست ہوجائیں جن کا علاج کرنے سے تمام معالج عاجز تھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اور غیبی امور کی خبریں دی جائیں۔ ان میں سے اگر کوئی نشانی اکیلی بھی ظاہر ہوتی تو بہت بڑا معجزہ ہوتی۔ تو پھر جب یہ سب نشانیاں ظاہر ہوں اور ایک دوسری کی تائید کریں تو یقیناً یقین حاصل ہوگا، اور ایمان لانا ضروری ہوگا۔ ﴿ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے‘‘ یعنی میں ویسی ہی تعلیمات لے کر آیا ہوں جیسی موسیٰuلائے تھے اور جو تورات میں موجود تھیں۔ سچے آدمی کی علامت یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی باتیں دوسرے سچے افراد کے بیانات کے مطابق ہوں۔ وہ سچی خبریں دے اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرے ۔اس کی باتوں میں تناقض اور اختلاف نہ ہو۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ بالخصوص جو سب سے بڑا دعویٰ یعنی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر اس کا دعویٰ جھوٹ ہے تو اس کا جھوٹ ہر کسی کے سامنے ظاہر ہوکر رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سچے لوگوں کی باتوں کے خلاف اور جھوٹے لوگوں کی باتوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ کیونکہ نبوت کے دعویٰ میں سچے اور جھوٹے میں ہرگز اشتباہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض چھوٹے موٹے جزوی معاملات میں سچا اور جھوٹا ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ نبوت پر تو مخلوق کی ہدایت و ضلالت اور نجات و ہلاکت کا دارومدار ہے۔ اس کا سچا دعویٰ کرنے والا کامل ترین انسان ہی ہوسکتا ہے اور اس کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے حقیر، سب سے بڑھ کر جھوٹا اور سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ان دونوں میں ایسے واضح فرق موجود ہوں جنھیں عقل رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکے۔اس کے بعد عیسیٰuنے بتایا کہ انجیل کی شریعت میں آسانی اور نرمی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے تورات کے اکثر احکام منسوخ نہیں کیے، بلکہ ان کی تکمیل کی ہے اور انھیں برقرار رکھا ہے۔ ﴿ وَجِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں سچا ہوں اور میری پیروی واجب ہے۔ اس سے مراد وہی معجزات ہیں، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ ’’تم اللہ سے ڈرو‘‘ اس کے احکام کی تعمیل کرو، اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’یقین مانو، میرا اور تمھارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو۔‘‘ توحید ربوبیت (یعنی اللہ کے خالق ہونے) کا اقرار سب کو ہے۔ جناب عیسیٰuنے اس کو توحید الوہیت (یعنی صرف اللہ کے معبود برحق ہونے) کی دلیل بنایا جسے مشرکین نہیں مانتے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارا خالق، رازق اور ہمیں تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں دینے والا صرف اللہ ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہمارا معبود صرف اللہ ہے جس سے ہم محبت رکھیں ، اس سے ڈریں، اس سے امیدیں رکھیں ، اس سے دعائیں کریں، اس سے مدد مانگیں، اور عبادت کی دوسری تمام صورتیں بھی اس کے لیے مخصوص کردیں۔ اس سے نصاریٰ کی تردید ہوتی ہے جو عیسیٰuکو معبود مانتے ہیں۔ یااللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق، اللہ کے بندے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔ جیسے انھوں نے فرمایا تھا:﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾(مریم:19؍30) ’’میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116۔117) ’’اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تونے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے، اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔ میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا، مگر صرف وہی جو تونے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے۔‘‘ ﴿ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾’’یہی سیدھی راہ ہے‘‘ یعنی اللہ کی عبادت، اس کا تقویٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی سیدھی راہ ہے جو اللہ تک اور اس کی جنت تک پہنچاتی ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ جہنم کی طرف پہنچانے والا ہے۔﴿ فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيۡسٰؔى مِنۡهُمُ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’جب عیسیٰuنے ان کا کفر محسوس کرلیا‘‘ دیکھا کہ وہ آپ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ انھیں جادوگر کہتے ہیں۔ آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی کوشش کررہے ہیں ﴿ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو کہنے لگے: اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟‘‘ یعنی اللہ کے دین کی نصرت کے لیے میرے ساتھ کون تعاون کرے گا؟ ﴿ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾ ’’حواریوں (یعنی آپ کے مددگاروں) نے کہا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں‘‘ یعنی انھوں نے آپ کا ساتھ دیا اور یہ فریضہ نبھایا۔ انھوں نے کہا: ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’ہم اللہ پر ایمان لائے‘‘ ﴿فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے‘‘ یعنی ایسی گواہی جو مفید ہو، اس گواہی سے مراد اللہ کی توحید کا اقرار اور نبیوں کی تصدیق اور اس کے مطابق عمل۔ جب وہ دین کی نصرت کے لیے اور شریعت کو قائم کرنے کے لیے عیسیٰuکے ساتھ ہوگئے تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا۔ اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا۔ ان دونوںمیں جنگ ہوئی تو اللہ نے مومنوں کی مدد کی۔ اور مشرکوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کامیاب ہوگئے، اس لیے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَكَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں (کافروں )نے تدبیر کی‘‘ یعنی اللہ کے نور کو بجھانے کے لیے اللہ کے نبی کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ﴿ وَمَكَرَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی‘‘ اور انھیں ان کے منصوبوں کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا اور وہ خائب و خاسر ہوکر رہ گئے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسٰۤى اِنِّيۡ مُتَوَفِّيۡكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuکو اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالیا، اور کسی اور شخص پر آپ کی مشابہت ڈال دی۔ جس آدمی کو آپ کا ہم شکل بنایا گیا تھا، دشمنوں نے اسے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔ اس طرح وہ ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کی نیت حضرت عیسیٰuکو شہید کرنے کی تھی۔ اور اپنے خیال میں وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ ﴾(النساء:4؍157) ’’نہ تو انھوں نے اسے قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کے لیے وہی صورت بنا دی گئی تھی‘‘ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق سے اوپر ہونا، اور عرش پر حقیقتاً مستوی ہونا ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اہل سنت نے تسلیم کیا ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب قوی اور زبردست ہے۔ جس کا ایک مظہر بنی اسرائیل کا عیسیٰuکو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلینے اور پروگرام بنالینے، اور اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود، اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہنا ہے، جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾(المائدہ:5؍110) ’’اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا، جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کو شبہ میں رکھنے میں بھی اس کی عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ چنانچہ وہ شبہ میں پڑ گئے جیسے ارشاد ہے ﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ١ؕ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ يَقِيۡنًا﴾(النساء:4؍157) ’’یقین جانو، عیسیٰuکے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَجَاعِلُ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور تیرے تابع داروں کو کافروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک‘‘ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کافروں کے خلاف ان کے مومنوں کی مدد فرمائی۔ پھر عیسیٰuسے نسبت رکھنے والے نصاریٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہے، کیونکہ یہود کی نسبت عیسائی عیسیٰuکی اتباع سے قریب تر تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمدﷺکو مبعوث فرمایا تو مسلمان عیسیٰuکے حقیقی متبع بنے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ البتہ کسی کسی زمانے میں عیسائی وغیرہ کافر مسلمانوں پر غالب آتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ مسلمانوں کو نبیﷺکی اتباع سے پہلو تہی کرنے کی سزا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر تم سب کا (یعنی تمام مخلوقات) کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔‘‘ ﴿فَاَحۡكُمُ بَيۡنَؔكُمۡ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس میں ہی تمھارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا‘‘ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے سب غلطی پر ہیں۔ یہ سب دعوے ہیں جنھیں دلیل کی ضرورت ہے۔
آل عمران 3:55
بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں، بلاشبہ اس میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن (49) اور تصدیق کرنے والا ہوں واسطے اس کے جو مجھ سے پہلے (نازل شدہ) ہے تورات، اور تاکہ حلال کر دوں میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں جو حرام کر دی گئی تھیں تم پر،اور آیا ہوں تمھارے پاس نشانی لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری(50) بے شک اللہ ہے رب میرا اور رب تمھارا، پس تم عبادت کرو اسی کی، یہی ہے راستہ سیدھا(51) پھر جب محسو س کیا عیسیٰ نے ان میں کفر، تو کہا، کون ہے مددگار میرا اللہ کے لیے ؟ کہا حواریوں نے، ہم ہیں مددگار اللہ (کے دین) کے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے،اور تو گواہ رہ اس بات کا کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں(52) اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ساتھ اس چیز کے جو تونے نازل کی، اور اتباع کیا ہم نے رسول کا، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ گواہوں کے(53) اور انھوں نے تدبیر کی اور اللہ نے(بھی) تدبیر کی، اور اللہ بہتر ہے سب تدبیر کرنے والوں سے(54)(یاد کرو) جب کہا اللہ نے، اے عیسیٰ! بلاشبہ میں پورا پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھے اپنی طرف، اورپاک کرنے والا ہوں تجھے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا،اور کرنے والا ہوں ان کو جنھوں نے اتباع کیا تیرا، اوپر ان کے جنھوں نے کفر کیا، روز قیامت تک، پھر میری ہی طرف ہے لوٹ کر آنا تمھارا، پس فیصلہ کروں گا میں تمھارے درمیان ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے(55)
[55-33] اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدمuکا انتخاب فرمایا۔ انھیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا کرکے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کریں، انھیں جنت میں ٹھہرایا۔ انھیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے، اس لیے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا﴾(بنیٓ اسرائیل:17؍70)’’یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں، اور انھیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں، اور اپنی بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی۔‘‘اللہ نے نوحuکو منتخب فرمایا اور انھیں اس وقت رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا، جب بتوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ آپ کو ہر وقت صبر، برداشت، شکر اور تبلیغ کی وہ توفیق بخشی جس کی وجہ سے وہ منتخب قرار دیے جانے کے لائق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کی دعا کے نتیجے میں زمین کے تمام باشندوں کو غرق کردیا۔ آپ کو آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے سے نجات بخشی، آپ کی نسل کو قیامت تک باقی رکھا۔ ہر زمانے میں لوگ آپ کی تعریف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ جن میں خود ابراہیمuبھی شامل ہیں جن کو اللہ نے خاص طورپر اپنی خلت سے نواز کر خلیل الرحمن کے لقب سے مشرف فرمایا۔ جنھوں نے اپنی ذات کو آگ کے حوالے کردیا، بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کردیا اور مال مہمانوں کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ آپ نے رات دن، چھپ چھپ کر اور علانیہ لوگوں کو رب کی طرف بلایا۔ اللہ نے آپ کو اسوہ (نمونہ) قرار دیا کہ بعد کے سب لوگ اس کی اتباع کریں۔ نبوت اور آسمانی کتابیں آپ کی اولاد کے لیے خاص کردیں۔ آل ابراہیم میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جو آپ کے بعد مبعوث ہوئے، کیونکہ وہ سب آپ کی نسل سے تھے۔ اللہ نے ان حضرات کو ایسے ایسے فضائل سے نوازا کہ وہ جہانوں میں افضل ترین افراد بن گئے۔ ابراہیم ہی کی آل میں سے تمام اولاد کے سردار، ہمارے نبی جناب محمدﷺبھی تشریف لائے۔ جن میں اللہ نے وہ تمام خوبیاں جمع فرمادیں جو دوسرے انبیاء کرام میں انفرادی طورپر موجود تھیں۔ چنانچہ آپ گزشتہ اور آئندہ تمام انسانوں سے بلند تر ہوئے۔ آپ رسولوں کے سردار ہوئے، جنھیں آل ابراہیم میں سے منتخب فرد (مصطفی) ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران کی آل کو بھی منتخب قرار دیا۔ عمران حضرت مریمiکے والد ماجد کا نام ہے۔ حضرت موسیٰuکے والد کا نام بھی عمران تھا۔ یہ گھرانے، جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یہ جہان والوں سے اس کے منتخب افراد کے گھرانے تھے۔ ان کی اولادوں کے ذریعے سے اصلاح اور توفیق کا تسلسل قائم رہا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں‘‘ ان میں باہمی مناسبت اور مشابہت تخلیق کے لحاظ سے بھی ہے اور اخلاق حسنہ کے لحاظ سے بھی۔ جس طرح اللہ نے ان خاندانوں کے دوسرے انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ١ۚ وَاجۡتَبَيۡنٰهُمۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾(الأنعام:6؍87)’’اور ان کے کچھ آباء و اجدادکو، اور کچھ اولاد کو، اور کچھ بھائیوں کو۔ اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سنتا جانتا ہے‘‘ یعنی کون اس قابل ہے کہ اسے چنا جائے اور کون نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے انھیں اس لیے منتخب فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان میں ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انھیں انتخاب کے قابل بناتی ہیں۔ یہ بھی اللہ کا فضل و کرم تھا۔ان بلند مرتبت حضرات کے واقعات ہمیں سنانے کا فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ ہم ان سے محبت رکھیں ، ان کی اقتدا کریں، اللہ سے سوال کریں کہ جس طرح ان کو توفیق دی تھی۔ ہمیں بھی ویسے نیک اعمال کی توفیق بخشے۔ ان کے پیچھے رہ جانے اور ویسی صفات سے متصف نہ ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو حقیر سمجھتے رہیں (یعنی اپنے اعمال پر فخر نہ کریں) علاوہ ازیں اس بیان میں ان پر مہربانی ہے، اولین و آخرین میں ان کی تعریف کا اظہار ہے۔ اور ان کے شرف و عظمت کا اعلان ہے۔ اللہ کا جودوکرم کتنا عظیم ہے، اگر کوئی اور شرف نہ بھی ہوتا تو ان کے لیے یہی شرف کافی تھا کہ ان کا ذکر اور ان کی خوبیوں کا بیان دوام پا گیا ہے۔ان معزز گھرانوں کا ذکرکرکے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰuکی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کی تربیت اور نشوونما میں کس طرح اللہ کا خاص لطف و کرم شامل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے:﴿ اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ ﴾ ’’جب عمران کی بیوی نے کہا‘‘ یعنی مریم علیہا السلام کی والدہ نے حمل قرار پاجانے پر فرمایا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِيۡ بَطۡنِيۡ مُحَرَّرًا﴾ ’’اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانی‘‘ یعنی تیری رضا کے حصول کے لیے میں نے تیرے گھر کی خدمت کے لیے آزاد کردیا۔ ﴿ فَتَقَبَّلۡ مِنِّيۡ ﴾ ’’پس تو میری طرف سے (یہ مبارک عمل) قبول فرما‘‘ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ ’’یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے‘‘ تو میری دعا سن رہا ہے، اور میری نیت اور ارادے سے باخبر ہے، یہ دعا انھوں نے اس وقت کی تھی جب مریم ان کے پیٹ میں تھیں، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ ﴿ فَلَمَّؔا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّيۡ وَضَعۡتُهَاۤ اُنۡثٰى ﴾ ’’جب بچی کو جنا تو کہنے لگی: پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی‘‘ جبکہ انھیں شوق تھا کہ لڑکا پیدا ہو، جو اللہ کے گھر میں خدمت اچھے طریقے سے کرسکے۔ اس کلام سے گویا ایک قسم کی معذرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ﴾ ’’اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی‘‘ اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اس وقت بھی علم تھا جب ان کی والدہ کو بھی علم نہیں تھا۔ ﴿ وَلَيۡسَ الذَّكَرُ كَالۡاُنۡثٰى١ۚ وَاِنِّيۡ سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں، میں نے اس کا نام مریم رکھا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی سے افضل ہے۔ اور پیدائش کے وقت نام رکھنا جائز ہے۔ اور ماں اپنے بچے کا نام رکھ سکتی ہے بشرطیکہ باپ کو یہ بات ناپسند نہ ہو۔ ﴿ وَاِنِّيۡۤ اُعِيۡذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيۡطٰنِ الرَّجِيۡمِ ﴾ ’’اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘ انھوں نے مریم کے لیے او رمریم کی اولاد کے لیے دعا کی کہ انھیں اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ ﴾ ’’پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا‘‘ یعنی انھیں نذر کے طورپر قبول فرمایا۔ اور انھیں اور ان کی اولاد کو شیطان سے محفوظ فرمایا۔ ﴿ وَّاَنۢۡـبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ﴾یعنی ان کی جسمانی اور اخلاقی تربیت بہت اچھی ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے زکریاuکو متعین فرمایا۔﴿ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ﴾ ’’اور ان کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا‘‘ کہ اللہ کی مہربانی تھی کہ ان کی تربیت کامل ترین حال میں ہو۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کرتے کرتے ان کی عمر بڑھی، اور دوسری عورتوں سے فائق ہوگئیں۔ وہ اپنے رب کی عبادت کے لیے وقف ہوگئیں اور اپنی محراب یعنی نماز کی جگہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگیں۔ ﴿ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا الۡمِحۡرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنۡدَهَا رِزۡقًا ﴾ ’’جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئے پاتے‘‘ جس میں ان کی محنت و مشقت شامل نہیں تھی۔ بلکہ یہ رزق انھیں اللہ نے کرامت کے طورپر عطا فرمایا۔ زکریاuنے فرمایا ﴿ اَنّٰى لَكِ هٰؔذَا ﴾ ’’یہ روزی تمھارے پاس کہاں سے آئی‘‘ ﴿ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ جواب دیتیں، یہ اللہ کے پاس سے ہے‘‘ یہ اس کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’بے شک اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے‘‘ یعنی جہاں سے بندے کو گمان بھی نہ ہو اور بغیر محنت کھانے کا بندوبست فرمادے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مَخۡرَجًاۙ۰۰وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ ﴾(الطلاق:65؍2، 3)’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے خلاصی کی صورت بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔‘‘ علاوہ ازیں اس آیت سے اولیائے کرام کی خرق عادت کرامات کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ثابت ہیں، اس لیے جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف درست نہیں۔جب زکریاuنے مریم [ پر اللہ کا یہ احسان ملاحظہ فرمایا، اور انھیں بغیر کوشش اور محنت کے، بہترین رزق ملنے کی کرامت دیکھی تو آپ کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔زکریاuنے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انھیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے، یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی ﴿ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰu)کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔‘‘ ﴿ وَسَيِّدًا ﴾ ’’اور سردار‘‘ یعنی آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے۔ اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لیے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ ﴿ وَّحَصُوۡرًا ﴾ ’’اور ضابط نفس‘‘یعنی عورتوں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔ رب کی خدمت و اطاعت میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ کے دل میں عورتوں کی خواہش پیدانھیں ہوگی۔ ﴿ وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾’’اور نبی نیک لوگوں میں سے‘‘ کتنی عظیم بشارت ہے۔ اس سے بڑی خوش خبری کیا ہوسکتی ہے۔ اس میں بیٹا ملنے کی خوش خبری بھی ہے، اور اس کی کامل صفات والا ہونے کی بھی، اور اس کے نبی ہونے کی بھی! زکریاuانتہائی خوشی کی حالت میں پکار اٹھے۔﴿ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّقَدۡ بَلَغَنِيَ الۡكِبَرُ وَ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرٌ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔‘‘ ان میں سے ایک سبب بھی ہوتا تو اولاد نہ ہوتی۔ اب تو دونوں جمع ہیں۔ اللہ نے بتایا کہ یہ پیدائش معجزانہ شان کی حامل ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اسی طرح اللہ جو چاہے کرتا ہے‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اولاد کی موجودگی کو اسباب مثلاً توالد و تناسل کے ساتھ متعلق کردیا ہے اسی طرح اگر وہ بغیر اسباب کے اولاد دینا چاہے تو دے سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔ زکریاuنے اس بشارت کے جلدی پورا ہونے کی امید میں اور مکمل اطمینان حاصل ہونے کی غرض سے فرمایا: ﴿ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً ﴾ ’’پروردگار! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے‘‘ جو اس بچے کے وجود میں آجانے کی علامت ہو۔ ﴿قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾ ’’فرمایا: نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، مگر اشارے سے‘‘ یعنی آپ کی زبان بغیر کسی مرض یا آفت کے کلام سے رک جائے گی، آپ صرف اشارے سے بات کرسکیں گے۔ کلام نہ کرسکنا ایک عظیم علامت ہے۔ اس میں ایک عجیب مناسبت ہے یعنی جس طرح اسباب موجود ہوتے ہوئے اللہ ان کو کام کرنے سے روک سکتا ہے۔ اسی طرح اسباب کے بغیر پیدا کرسکتا ہے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام اسباب اللہ کی قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنا شکر کرنے اور صبح شام کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ جب آپ حجرے سے باہر تشریف لائے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾(مريم:19؍11)’’تو لوگوں کو اشارے سے فرمایا کہ صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہنا۔‘‘اللہ عزوجل حضرت مریم [ کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انھیں براہ راست مخاطب کرکے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ ﴾ ’’اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا‘‘ ﴿ وَطَهَّرَكِ ﴾ ’’اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا‘‘ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ ﴿ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ا ور سارے جہاں کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا‘‘ پہلے (اِصْطَفَاء) ’’انتخاب اور برگزیدہ کرنے‘‘ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے۔ اور دوسرے (اِصْطَفَاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں سے افضل قرار دینا مقصود ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے چند خواتین یعنی جناب خدیجہ، جناب عائشہ اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہن کا اس شرف میں شریک ہونا مریم کے اصطفاء کے منافی نہیں۔ جب فرشتوں نے آپ کو اللہ کی منتخب بندی ہونے اور پاک کرنے کی خوشخبری دی تو یہ ایک عظیم نعمت اور اللہ کا عظیم احسان تھا، جس کا شکر کرنا ضروری تھا، اس لیے فرشتوں نے کہا:﴿ يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ ﴾ ’’اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر‘‘ قنوت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت پر مسلسل قائم رہنا ہے۔ ﴿ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾ ’’اور سجدہ کر، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‘‘ عبادت میں رکوع اور سجدہ کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام دوسری عبادتوں سے افضل ہے۔ اور ان سے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ مریم نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے اطاعت کے جذبہ سے اس حکم کی تعمیل کی۔ جب اللہ نے اپنے نبی کو مریم کے بارے میں یہ باتیں بتائیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق کن حالات سے گزریں، تو یہ غیبی معاملات تھے جن کا علم وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ غیب کی خبروںمیں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ يُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَهُمۡ اَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس نہ تھے، جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا۔‘‘ جب مریم کی والدہ انھیں بیت المقدس کے ذمہ دار افراد کے پاس لے گئیں تو ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوئی کہ وہ مریم کی دیکھ بھال کا شرف حاصل کرے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی، وہ اس طرح کہ اپنے قلم دریا میں ڈال دیے کہ جس کا قلم پانی کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی مریم کا سرپرست قرار پائے گا۔ یہ شرف حضرت زکریاuکو حاصل ہوا جو ان کے نبی اور معزز ترین فرد تھے۔ اے محمد(ﷺ)آپ ان لوگوں کو یہ واقعات بتاتے ہیں جن کے بارے میں نہ انھیں معلوم تھا، نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ آپ کی اطاعت قبول کریں او ر آپ کے احکام کی تعمیل کریں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾(قصص:28؍44) ’’اور طور کے مغربی جانب، جبکہ ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو آپ موجود تھے، اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰuہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لیے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبریلuکو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ انھوں نے آپ کی قمیص کے گریبان میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم علیہا السلام کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے، اس لیے آپ کو روح اللہ (اللہ کی روح) کہا گیا۔ ﴿ وَجِيۡهًا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ ’’جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے‘‘ یعنی انھیں دنیا میں ایک معزز مقام حاصل ہے کہ آپ کو اللہ نے ان اولو العزم رسولوں میں شامل کیا، جو بڑی شریعتوں کے حامل تھے، اور انھیں کثیر تعداد میں متبعین نصیب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ شہرت بخشی جو مشرق اور مغرب میں پھیل گئی۔ وہ آخرت میں بھی اللہ کے ہاں، عزت والے ہوں گے۔ دوسرے انبیاء اور رسولوں کی طرح آپ بھی شفاعت کریں گے، جس سے آپ کا بلند مقام جہاں والوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا، اس لیے وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں، اپنے رب سے انتہائی قریب ہیں۔ بلکہ آپ مقربین کے سرداروں میں سے ہیں۔ ﴿ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا﴾ ’’اور وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا، اور ادھیڑ عمر میں بھی‘‘ یہ عام بات چیت سے ممتاز کلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرے گا جس میں ان کی بھلائی او رکامیابی ہے۔ اور ایسا کلام رسولوں کا ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ رسول ہوگا جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے گا۔ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا اللہ کی ایک عظیم نشانی ہوگی جس سے مومنوں کو فائدہ ہوگا، اور وہ دشمنوں کے خلاف حجت ہوگی۔ جس سے ثابت ہوگا کہ وہ رب العالمین کے رسول اور اللہ کے بندے ہیں۔ یہ کلام آپ کی والدہ کے لیے بھی نعمت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے سے ان پر لگنے والے الزام کی تردید ہوجائے گی۔ ﴿ وَّمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا‘‘ یعنی اللہ اس پر یہ احسان بھی فرمائے گا کہ اسے نیکی عطا فرما کر نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔ اس میں مریم [کے لیے کئی بشارتیں ہیں اور مسیحuکے بلند مقام کا اظہار بھی ہے۔ ﴿ قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ ﴾ ’’کہنے لگیں: الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘ اور اللہ کا عام قانون یہی ہے کہ مرد سے تعلق کیے بغیر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ بات مریم [نے تعجب کے طورپر فرمائی۔ اللہ کی قدرت پر شک کرتے ہوئے نہیں فرمائی۔ ﴿ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’فرشتے نے کہا: اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے مریم کو بتایا کہ یہ خرق عادت معاملہ ہے۔ اسے پیدا کرنے والا وہ اللہ ہے جو کسی بھی کام کو کہتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ جو اس چیز پر یقین کرلے اس کا تعجب ختم ہوجائے گا۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے عجیب کے بعد زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے حضرت یحییٰuکی ولادت کا ذکر فرمایا جن کے والد انتہائی بوڑھے اور والدہ بانجھ تھیں۔ پھر زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا یعنی عیسیٰuکا کسی والد کے بغیر صرف والدہ سے پیدا ہونا۔ تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے۔ جو کچھ وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuپر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا ﴿ وَيُعَلِّمُهُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا‘‘ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طورپر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف وافضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لیے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طورپر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انھیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَۚ۰۰ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ۰۰ اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ۰۰الَّذِيۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰﴾(العلق:96؍1۔4) ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ‘‘ اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم، اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰuپر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انھیں لکھنا سکھایا اور علم و حکمت سے نوازا۔ یہ انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والا کمال ہے۔ پھر ایک اور کمال ذکر فرمایا: جو آپ کو حاصل ہونے والے دوسرے فضائل سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَرَسُوۡلًا اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا‘‘ اللہ نے آپ کو اس عظیم قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو اپنے زمانے کی افضل ترین قوم تھی۔ آپ نے انھیں اللہ کی طرف بلایا۔ اور اللہ نے آپ کو وہ معجزات عطا فرمائے جن سے ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کے سچے نبی ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ اَنِّيۡ قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ١ۙ اَنِّيۡۤ اَخۡلُقُ لَكُمۡ مِّنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’کہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمھارے لیے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔‘‘ ﴿ فَاَنۡفُخُ فِيۡهِ فَيَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔‘‘ یعنی اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑ جاتی ہے اور وہ اڑنے لگتا ہے۔ ﴿ وَاُبۡرِئُ الۡاَؔكۡمَهَ وَالۡاَبۡرَصَ ﴾ ’’اور میں (اللہ کے حکم سے )مادر زاد اندھے اور ابرص کو اچھا کردیتا ہوں‘‘ ﴿ وَاُحۡيِ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِ اللّٰهِ١ۚ وَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا تَاۡكُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ١ۙ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ اور جو کچھ تم کھاؤ، اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمھیں بتا دیتا ہوں‘‘ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس میں تمھارے لیے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان دار ہو‘‘ اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ بے جان مٹی زندہ جانور بن جائے، ایسے بیمار تندرست ہوجائیں جن کا علاج کرنے سے تمام معالج عاجز تھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اور غیبی امور کی خبریں دی جائیں۔ ان میں سے اگر کوئی نشانی اکیلی بھی ظاہر ہوتی تو بہت بڑا معجزہ ہوتی۔ تو پھر جب یہ سب نشانیاں ظاہر ہوں اور ایک دوسری کی تائید کریں تو یقیناً یقین حاصل ہوگا، اور ایمان لانا ضروری ہوگا۔ ﴿ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے‘‘ یعنی میں ویسی ہی تعلیمات لے کر آیا ہوں جیسی موسیٰuلائے تھے اور جو تورات میں موجود تھیں۔ سچے آدمی کی علامت یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی باتیں دوسرے سچے افراد کے بیانات کے مطابق ہوں۔ وہ سچی خبریں دے اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرے ۔اس کی باتوں میں تناقض اور اختلاف نہ ہو۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ بالخصوص جو سب سے بڑا دعویٰ یعنی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر اس کا دعویٰ جھوٹ ہے تو اس کا جھوٹ ہر کسی کے سامنے ظاہر ہوکر رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سچے لوگوں کی باتوں کے خلاف اور جھوٹے لوگوں کی باتوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ کیونکہ نبوت کے دعویٰ میں سچے اور جھوٹے میں ہرگز اشتباہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض چھوٹے موٹے جزوی معاملات میں سچا اور جھوٹا ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ نبوت پر تو مخلوق کی ہدایت و ضلالت اور نجات و ہلاکت کا دارومدار ہے۔ اس کا سچا دعویٰ کرنے والا کامل ترین انسان ہی ہوسکتا ہے اور اس کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے حقیر، سب سے بڑھ کر جھوٹا اور سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ان دونوں میں ایسے واضح فرق موجود ہوں جنھیں عقل رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکے۔اس کے بعد عیسیٰuنے بتایا کہ انجیل کی شریعت میں آسانی اور نرمی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے تورات کے اکثر احکام منسوخ نہیں کیے، بلکہ ان کی تکمیل کی ہے اور انھیں برقرار رکھا ہے۔ ﴿ وَجِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں سچا ہوں اور میری پیروی واجب ہے۔ اس سے مراد وہی معجزات ہیں، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ ’’تم اللہ سے ڈرو‘‘ اس کے احکام کی تعمیل کرو، اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’یقین مانو، میرا اور تمھارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو۔‘‘ توحید ربوبیت (یعنی اللہ کے خالق ہونے) کا اقرار سب کو ہے۔ جناب عیسیٰuنے اس کو توحید الوہیت (یعنی صرف اللہ کے معبود برحق ہونے) کی دلیل بنایا جسے مشرکین نہیں مانتے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارا خالق، رازق اور ہمیں تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں دینے والا صرف اللہ ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہمارا معبود صرف اللہ ہے جس سے ہم محبت رکھیں ، اس سے ڈریں، اس سے امیدیں رکھیں ، اس سے دعائیں کریں، اس سے مدد مانگیں، اور عبادت کی دوسری تمام صورتیں بھی اس کے لیے مخصوص کردیں۔ اس سے نصاریٰ کی تردید ہوتی ہے جو عیسیٰuکو معبود مانتے ہیں۔ یااللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق، اللہ کے بندے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔ جیسے انھوں نے فرمایا تھا:﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾(مریم:19؍30) ’’میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116۔117) ’’اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تونے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے، اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔ میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا، مگر صرف وہی جو تونے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے۔‘‘ ﴿ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾’’یہی سیدھی راہ ہے‘‘ یعنی اللہ کی عبادت، اس کا تقویٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی سیدھی راہ ہے جو اللہ تک اور اس کی جنت تک پہنچاتی ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ جہنم کی طرف پہنچانے والا ہے۔﴿ فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيۡسٰؔى مِنۡهُمُ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’جب عیسیٰuنے ان کا کفر محسوس کرلیا‘‘ دیکھا کہ وہ آپ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ انھیں جادوگر کہتے ہیں۔ آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی کوشش کررہے ہیں ﴿ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو کہنے لگے: اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟‘‘ یعنی اللہ کے دین کی نصرت کے لیے میرے ساتھ کون تعاون کرے گا؟ ﴿ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾ ’’حواریوں (یعنی آپ کے مددگاروں) نے کہا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں‘‘ یعنی انھوں نے آپ کا ساتھ دیا اور یہ فریضہ نبھایا۔ انھوں نے کہا: ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’ہم اللہ پر ایمان لائے‘‘ ﴿فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے‘‘ یعنی ایسی گواہی جو مفید ہو، اس گواہی سے مراد اللہ کی توحید کا اقرار اور نبیوں کی تصدیق اور اس کے مطابق عمل۔ جب وہ دین کی نصرت کے لیے اور شریعت کو قائم کرنے کے لیے عیسیٰuکے ساتھ ہوگئے تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا۔ اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا۔ ان دونوںمیں جنگ ہوئی تو اللہ نے مومنوں کی مدد کی۔ اور مشرکوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کامیاب ہوگئے، اس لیے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَكَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں (کافروں )نے تدبیر کی‘‘ یعنی اللہ کے نور کو بجھانے کے لیے اللہ کے نبی کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ﴿ وَمَكَرَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی‘‘ اور انھیں ان کے منصوبوں کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا اور وہ خائب و خاسر ہوکر رہ گئے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسٰۤى اِنِّيۡ مُتَوَفِّيۡكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuکو اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالیا، اور کسی اور شخص پر آپ کی مشابہت ڈال دی۔ جس آدمی کو آپ کا ہم شکل بنایا گیا تھا، دشمنوں نے اسے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔ اس طرح وہ ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کی نیت حضرت عیسیٰuکو شہید کرنے کی تھی۔ اور اپنے خیال میں وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ ﴾(النساء:4؍157) ’’نہ تو انھوں نے اسے قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کے لیے وہی صورت بنا دی گئی تھی‘‘ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق سے اوپر ہونا، اور عرش پر حقیقتاً مستوی ہونا ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اہل سنت نے تسلیم کیا ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب قوی اور زبردست ہے۔ جس کا ایک مظہر بنی اسرائیل کا عیسیٰuکو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلینے اور پروگرام بنالینے، اور اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود، اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہنا ہے، جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾(المائدہ:5؍110) ’’اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا، جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کو شبہ میں رکھنے میں بھی اس کی عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ چنانچہ وہ شبہ میں پڑ گئے جیسے ارشاد ہے ﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ١ؕ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ يَقِيۡنًا﴾(النساء:4؍157) ’’یقین جانو، عیسیٰuکے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَجَاعِلُ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور تیرے تابع داروں کو کافروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک‘‘ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کافروں کے خلاف ان کے مومنوں کی مدد فرمائی۔ پھر عیسیٰuسے نسبت رکھنے والے نصاریٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہے، کیونکہ یہود کی نسبت عیسائی عیسیٰuکی اتباع سے قریب تر تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمدﷺکو مبعوث فرمایا تو مسلمان عیسیٰuکے حقیقی متبع بنے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ البتہ کسی کسی زمانے میں عیسائی وغیرہ کافر مسلمانوں پر غالب آتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ مسلمانوں کو نبیﷺکی اتباع سے پہلو تہی کرنے کی سزا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر تم سب کا (یعنی تمام مخلوقات) کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔‘‘ ﴿فَاَحۡكُمُ بَيۡنَؔكُمۡ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس میں ہی تمھارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا‘‘ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے سب غلطی پر ہیں۔ یہ سب دعوے ہیں جنھیں دلیل کی ضرورت ہے۔
آل عمران 3:56
پس لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تو میں عذاب دوں گا ان کو عذاب شدید دنیا میں اور آخرت میں، اور نہیں ہوگا ان کے لیے کوئی مدد گار(56) اور لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، تو اللہ پورے دے گا انھیں اجر ان کے، اور اللہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو(57)
[57,56] چنانچہ اللہ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پھر جنھوں نے انکار کیا‘‘ اللہ کے ساتھ کفر کیا، اس کی آیات کا اور رسولوں کا انکار کیا ﴿ فَاُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پس میں انھیں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا‘‘ دنیا کے عذاب سے مراد ظاہر نظر آنے والی مصیبتیں، سزائیں، قتل ، ذلت وغیرہ ہیں۔ اور آخرت کا عذاب سب سے بڑی آفت اور مصیبت ہے۔ یعنی جہنم کا عذاب، اللہ کی ناراضی، اور نیکی کے ثواب سے محرومی۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ وہ بھی جنھیں وہ اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کرنے والے سمجھتے ہیں، وہ بھی نہیں، جنھیں وہ اللہ کو چھوڑ کر دوست بناتے ہیں، نہ ان کے رفیق نہ رشتے دار، نہ وہ خود اپنی کچھ مدد کرسکیں گے۔ ﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’لیکن جو لوگ ایمان لائے‘‘ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، موت کے بعد کی زندگی پر، اور ان سب امور پرایمان لائے، جن پرایمان لانے کا انھیں حکم دیا گیا ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور نیک اعمال کیے‘‘ دل، زبان اور بدن سے ادا ہونے والے وہ اعمال جنھیں رسولوں نے مشروع اور مطلوب قرار دیا۔ اور ان اعمال سے ان کا مقصد رب العالمین کو خوش کرنا تھا۔ ﴿ فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’پس انھیں وہ (اللہ تعالیٰ) ان کا پورا ثواب دے گا۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں دنیا میں بھی نیکیوں کا ثواب ملے گا، یعنی عزت، احترام، مدد، پاکیزہ زندگی، البتہ مکمل ثواب قیامت کو ملے گا کہ اللہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا ثواب بھی دے گا، اور اپنے فضل و کرم سے مزید انعامات بھی دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہے اور انھیں عذاب دیتا ہے۔
آل عمران 3:57
پس لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تو میں عذاب دوں گا ان کو عذاب شدید دنیا میں اور آخرت میں، اور نہیں ہوگا ان کے لیے کوئی مدد گار(56) اور لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، تو اللہ پورے دے گا انھیں اجر ان کے، اور اللہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو(57)
[57,56] چنانچہ اللہ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پھر جنھوں نے انکار کیا‘‘ اللہ کے ساتھ کفر کیا، اس کی آیات کا اور رسولوں کا انکار کیا ﴿ فَاُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پس میں انھیں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا‘‘ دنیا کے عذاب سے مراد ظاہر نظر آنے والی مصیبتیں، سزائیں، قتل ، ذلت وغیرہ ہیں۔ اور آخرت کا عذاب سب سے بڑی آفت اور مصیبت ہے۔ یعنی جہنم کا عذاب، اللہ کی ناراضی، اور نیکی کے ثواب سے محرومی۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ وہ بھی جنھیں وہ اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کرنے والے سمجھتے ہیں، وہ بھی نہیں، جنھیں وہ اللہ کو چھوڑ کر دوست بناتے ہیں، نہ ان کے رفیق نہ رشتے دار، نہ وہ خود اپنی کچھ مدد کرسکیں گے۔ ﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’لیکن جو لوگ ایمان لائے‘‘ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، موت کے بعد کی زندگی پر، اور ان سب امور پرایمان لائے، جن پرایمان لانے کا انھیں حکم دیا گیا ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور نیک اعمال کیے‘‘ دل، زبان اور بدن سے ادا ہونے والے وہ اعمال جنھیں رسولوں نے مشروع اور مطلوب قرار دیا۔ اور ان اعمال سے ان کا مقصد رب العالمین کو خوش کرنا تھا۔ ﴿ فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’پس انھیں وہ (اللہ تعالیٰ) ان کا پورا ثواب دے گا۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں دنیا میں بھی نیکیوں کا ثواب ملے گا، یعنی عزت، احترام، مدد، پاکیزہ زندگی، البتہ مکمل ثواب قیامت کو ملے گا کہ اللہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا ثواب بھی دے گا، اور اپنے فضل و کرم سے مزید انعامات بھی دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہے اور انھیں عذاب دیتا ہے۔
آل عمران 3:58
یہ (واقعات) کہ پڑھتے ہیں ہم ان کو آپ پر، نشانیوں میں سے ہیں اور ذکر حکمت والا(58)
[58]﴿ذٰلِكَ نَتۡلُوۡهُ عَلَيۡكَ مِنَ الۡاٰيٰتِ وَالذِّكۡرِ الۡحَؔكِيۡمِ ﴾ ’’یہ جسے ہم تیرے سامنے پڑھ رہے ہیں، آیتیں ہیں اور حکمت والی نصیحت ہے۔‘‘ یہ محمدﷺپر اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ ان پر یہ حکمت والا قرآن نازل کیا جو محکم اور پختہ ہے۔ تمام احکام، حلال و حرام، گزشتہ انبیائے کرام کے واقعات اور ان کے ہاتھوں ظاہر ہونے والے واضح معجزات بیان کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن وہ تمام احکام و قصص بیان کرتا ہے جو ہمارے لیے مفید ہیں۔ ہمیں اس سے علم، عبرت، ثابت قدمی اور اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے جو رب کی عظیم ترین نعمت ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
آل عمران 3:59
بے شک مثال عیسیٰ کی نزدیک اللہ کے مانند مثال آدم کی ہے، اللہ نے پیدا کیا اس کو مٹی سے، پھر کہا واسطے اس کے ہو جا، تو ہوگیا وہ (انسان)(59)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(60)پھر جو کوئی جھگڑا کرے آپ سے اس (عیسیٰ) کے بارے میں، بعد اس کے کہ آگیا آپ کے پاس (صحیح) علم سے، تو آپ کہہ دیں، آؤ بلاتے ہیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تمھارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمھاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمھاری جانوں کو، پھر ہم گڑگڑا کر دعا مانگیں ا ور کریں لعنت اللہ کی جھوٹوں پر(61) بے شک یہی ہے بیان سچا،اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے،اور بے شک اللہ ہی ہے غالب خوب حکمت والا(62) پس اگر وہ (اب بھی) روگردانی کریں، تو اللہ خوب جاننے والا ہے فساد کرنے والوں کو(63)
[63-59] عیسائی عیسیٰuکے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں جو درست نہیں، ان کے پاس اس کی کوئی قوی یا ضعیف دلیل بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کا کوئی والد نہیں، اس لیے وہ حق رکھتے ہیں کہ انھیں اللہ کا بیٹا اور شریک تسلیم کیا جائے۔ یہ بات دلیل تو درکنار، شبہ بننے کے بھی قابل نہیں۔ کیونکہ عیسیٰu کو اس طرح پیدا کرنے سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی تخلیق و تدبیر کا مالک ہے، اور تمام اسباب اس کی مشیت و ارادہ کے تابع ہیں۔ چنانچہ اس سے ان کے قول کی تردید ہی ہوتی ہے تائید نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کا کوئی فرد اللہ کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے شریک بننے کا مستحق نہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آدمuکو بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا کیا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ عیسائی آدمuکے بارے میں بھی وہی عقیدہ رکھیں جو عیسیٰuکے بارے میں رکھتے ہیں۔ اگر مسیحuکو بغیر باپ کے پیدا کرنے کی وجہ سے اللہ کا بیٹا اور معبود قرار دیا جاسکتا ہے تو آدمuکے ماں اورباپ دونوں کے بغیر پیدا ہونے کی وجہ سے ان کے معبود ہونے کا بالاولیٰ دعویٰ کرنا چاہیے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰؔى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ۰۰ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی ہم نے عیسیٰuکے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے حق اور اعلیٰ ترین سچائی ہے۔ کیونکہ یہ (رب)’’پالنے والے‘‘ کی طرف سے ہے، آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے خصوصی تربیت میں اس کے بیان کردہ یہ انبیاء کرام کے واقعات بھی ہیں۔﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ شک کرنے والوںمیں سے نہ ہوں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ بتایا ہے اس میں شک نہ کیجیے گا۔ اس میں اور اس کے بعد والی آیت سے ایک اہم قاعدہ و قانون ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ عقیدہ یا عمل سے تعلق رکھنے والا جو مسئلہ دلائل سے ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف ہر قول کے بارے میں یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ باطل ہے۔ اس پر جو بھی شبہ وارد کیا جائے، وہ غلط ہے۔ خواہ بندہ اس کا جواب تلاش کرسکے یا نہ کرسکے۔ شبہ کا جواب نہ دے سکنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ یقینی بات قابل تنقید ہے۔ کیونکہ حق کے خلاف ہر بات باطل ہی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ﴾(یونس:10؍32) ’’حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں‘‘ اس شرعی قاعدہ کی مدد سے انسان کے وہ بہت سے اشکال حل ہوجاتے ہیں جو اہل کلام اور اہل منطق کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی انسان ان کا جواب دے سکتا ہے تو وہ ایک زائد نیکی ہوگی۔ ورنہ اس کا اصل فرض یہی ہے کہ دلائل کے ساتھ حق کو واضح کرے اور اس کی طرف دعوت دے۔آیات کا مطلب یہ ہے ﴿ فَمَنۡ حَآجَّكَ ﴾ کہ اے محمد(ﷺ)جو شخص عیسیٰuکے بارے میں آپ سے بحث کرتا ہے اور انھیں ان کے اصل مقام سے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا مقام عبودیت کے مقام سے بلند تر ہے۔ حالانکہ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ ﴾ آپ کے پاس یقینی علم آچکا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور آپ نے ایسے شخص کے لیے دلائل کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ عیسیٰuاللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کی اتباع کرکے ایسے یقینی علم کو نہ ماننے والا عناد میں مبتلا ہے۔ لہٰذا اس سے بحث و مباحثہ کرنے میں نہ آپ کو کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، نہ اس کو۔ کیونکہ حق واضح ہوچکا ہے۔ لہٰذا اس کی بحث محض اللہ اور رسول کی مخالفت اور ضد کی بنا پر ہے۔ اس کا مقصد اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے چلنا ہے، حق کی اتباع نہیں ۔ ایسے شخص کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے نبیﷺکو حکم دیا کہ اس سے مباہلہ اور ملاعنہ کریں۔ یعنی دونوں فریق اللہ کے سامنے عجز و نیاز کے ساتھ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے فریق پر اپنی لعنت اور عذاب نازل کرے۔ اس میں فریقین خود بھی، اور ان کے سب سے پیارے افراد یعنی بیویاں اور اولاد وغیرہ بھی شریک ہوں۔ نبیﷺنے انھیں اس کی دعوت دی تو انھوں نے یہ چیلنج قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ اگر مباہلہ کیا تو انھیں فوری سزا ملے گی اور ان کے اہل و عیال ہلاک ہوجائیں گے۔ وہ اپنے دین پر قائم رہے حالانکہ انھیں معلوم تھا کہ یہ باطل ہے۔ یہ انتہائی درجے کا عناد اور فساد ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ ہی صحیح طورپر فسادیوں کو جاننے والا ہے‘‘ وہ انھیں سخت ترین سزا دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ﴾ ’’یقینا ًصرف یہی سچابیان ہے‘‘ یعنی جو کچھ اللہ نے بیان کیا ہے وہی حق ہے۔ اس کے خلاف ہر چیز باطل ہے۔ ﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ ’’اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے‘‘ اس کے سوا کسی کی عبادت درست نہیں، کوئی اور ذرہ برابر عبادت کا بھی حق نہیں رکھتا۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے‘‘ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے۔ وہ حکمت والا ہے جو ہر چیز کو صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ کافروں کے ذریعے سے مومنوں کی آزمائش میں بھی اس کی حکمت کاملہ موجود ہے۔ جن سے مومن قولی اور عملی طورپر جہاد اور قتال کرتے رہتے ہیں۔
آل عمران 3:60
بے شک مثال عیسیٰ کی نزدیک اللہ کے مانند مثال آدم کی ہے، اللہ نے پیدا کیا اس کو مٹی سے، پھر کہا واسطے اس کے ہو جا، تو ہوگیا وہ (انسان)(59)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(60)پھر جو کوئی جھگڑا کرے آپ سے اس (عیسیٰ) کے بارے میں، بعد اس کے کہ آگیا آپ کے پاس (صحیح) علم سے، تو آپ کہہ دیں، آؤ بلاتے ہیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تمھارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمھاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمھاری جانوں کو، پھر ہم گڑگڑا کر دعا مانگیں ا ور کریں لعنت اللہ کی جھوٹوں پر(61) بے شک یہی ہے بیان سچا،اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے،اور بے شک اللہ ہی ہے غالب خوب حکمت والا(62) پس اگر وہ (اب بھی) روگردانی کریں، تو اللہ خوب جاننے والا ہے فساد کرنے والوں کو(63)
[63-59] عیسائی عیسیٰuکے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں جو درست نہیں، ان کے پاس اس کی کوئی قوی یا ضعیف دلیل بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کا کوئی والد نہیں، اس لیے وہ حق رکھتے ہیں کہ انھیں اللہ کا بیٹا اور شریک تسلیم کیا جائے۔ یہ بات دلیل تو درکنار، شبہ بننے کے بھی قابل نہیں۔ کیونکہ عیسیٰu کو اس طرح پیدا کرنے سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی تخلیق و تدبیر کا مالک ہے، اور تمام اسباب اس کی مشیت و ارادہ کے تابع ہیں۔ چنانچہ اس سے ان کے قول کی تردید ہی ہوتی ہے تائید نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کا کوئی فرد اللہ کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے شریک بننے کا مستحق نہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آدمuکو بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا کیا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ عیسائی آدمuکے بارے میں بھی وہی عقیدہ رکھیں جو عیسیٰuکے بارے میں رکھتے ہیں۔ اگر مسیحuکو بغیر باپ کے پیدا کرنے کی وجہ سے اللہ کا بیٹا اور معبود قرار دیا جاسکتا ہے تو آدمuکے ماں اورباپ دونوں کے بغیر پیدا ہونے کی وجہ سے ان کے معبود ہونے کا بالاولیٰ دعویٰ کرنا چاہیے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰؔى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ۰۰ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی ہم نے عیسیٰuکے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے حق اور اعلیٰ ترین سچائی ہے۔ کیونکہ یہ (رب)’’پالنے والے‘‘ کی طرف سے ہے، آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے خصوصی تربیت میں اس کے بیان کردہ یہ انبیاء کرام کے واقعات بھی ہیں۔﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ شک کرنے والوںمیں سے نہ ہوں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ بتایا ہے اس میں شک نہ کیجیے گا۔ اس میں اور اس کے بعد والی آیت سے ایک اہم قاعدہ و قانون ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ عقیدہ یا عمل سے تعلق رکھنے والا جو مسئلہ دلائل سے ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف ہر قول کے بارے میں یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ باطل ہے۔ اس پر جو بھی شبہ وارد کیا جائے، وہ غلط ہے۔ خواہ بندہ اس کا جواب تلاش کرسکے یا نہ کرسکے۔ شبہ کا جواب نہ دے سکنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ یقینی بات قابل تنقید ہے۔ کیونکہ حق کے خلاف ہر بات باطل ہی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ﴾(یونس:10؍32) ’’حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں‘‘ اس شرعی قاعدہ کی مدد سے انسان کے وہ بہت سے اشکال حل ہوجاتے ہیں جو اہل کلام اور اہل منطق کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی انسان ان کا جواب دے سکتا ہے تو وہ ایک زائد نیکی ہوگی۔ ورنہ اس کا اصل فرض یہی ہے کہ دلائل کے ساتھ حق کو واضح کرے اور اس کی طرف دعوت دے۔آیات کا مطلب یہ ہے ﴿ فَمَنۡ حَآجَّكَ ﴾ کہ اے محمد(ﷺ)جو شخص عیسیٰuکے بارے میں آپ سے بحث کرتا ہے اور انھیں ان کے اصل مقام سے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا مقام عبودیت کے مقام سے بلند تر ہے۔ حالانکہ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ ﴾ آپ کے پاس یقینی علم آچکا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور آپ نے ایسے شخص کے لیے دلائل کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ عیسیٰuاللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کی اتباع کرکے ایسے یقینی علم کو نہ ماننے والا عناد میں مبتلا ہے۔ لہٰذا اس سے بحث و مباحثہ کرنے میں نہ آپ کو کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، نہ اس کو۔ کیونکہ حق واضح ہوچکا ہے۔ لہٰذا اس کی بحث محض اللہ اور رسول کی مخالفت اور ضد کی بنا پر ہے۔ اس کا مقصد اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے چلنا ہے، حق کی اتباع نہیں ۔ ایسے شخص کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے نبیﷺکو حکم دیا کہ اس سے مباہلہ اور ملاعنہ کریں۔ یعنی دونوں فریق اللہ کے سامنے عجز و نیاز کے ساتھ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے فریق پر اپنی لعنت اور عذاب نازل کرے۔ اس میں فریقین خود بھی، اور ان کے سب سے پیارے افراد یعنی بیویاں اور اولاد وغیرہ بھی شریک ہوں۔ نبیﷺنے انھیں اس کی دعوت دی تو انھوں نے یہ چیلنج قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ اگر مباہلہ کیا تو انھیں فوری سزا ملے گی اور ان کے اہل و عیال ہلاک ہوجائیں گے۔ وہ اپنے دین پر قائم رہے حالانکہ انھیں معلوم تھا کہ یہ باطل ہے۔ یہ انتہائی درجے کا عناد اور فساد ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ ہی صحیح طورپر فسادیوں کو جاننے والا ہے‘‘ وہ انھیں سخت ترین سزا دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ﴾ ’’یقینا ًصرف یہی سچابیان ہے‘‘ یعنی جو کچھ اللہ نے بیان کیا ہے وہی حق ہے۔ اس کے خلاف ہر چیز باطل ہے۔ ﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ ’’اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے‘‘ اس کے سوا کسی کی عبادت درست نہیں، کوئی اور ذرہ برابر عبادت کا بھی حق نہیں رکھتا۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے‘‘ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے۔ وہ حکمت والا ہے جو ہر چیز کو صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ کافروں کے ذریعے سے مومنوں کی آزمائش میں بھی اس کی حکمت کاملہ موجود ہے۔ جن سے مومن قولی اور عملی طورپر جہاد اور قتال کرتے رہتے ہیں۔
آل عمران 3:61
بے شک مثال عیسیٰ کی نزدیک اللہ کے مانند مثال آدم کی ہے، اللہ نے پیدا کیا اس کو مٹی سے، پھر کہا واسطے اس کے ہو جا، تو ہوگیا وہ (انسان)(59)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(60)پھر جو کوئی جھگڑا کرے آپ سے اس (عیسیٰ) کے بارے میں، بعد اس کے کہ آگیا آپ کے پاس (صحیح) علم سے، تو آپ کہہ دیں، آؤ بلاتے ہیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تمھارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمھاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمھاری جانوں کو، پھر ہم گڑگڑا کر دعا مانگیں ا ور کریں لعنت اللہ کی جھوٹوں پر(61) بے شک یہی ہے بیان سچا،اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے،اور بے شک اللہ ہی ہے غالب خوب حکمت والا(62) پس اگر وہ (اب بھی) روگردانی کریں، تو اللہ خوب جاننے والا ہے فساد کرنے والوں کو(63)
[63-59] عیسائی عیسیٰuکے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں جو درست نہیں، ان کے پاس اس کی کوئی قوی یا ضعیف دلیل بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کا کوئی والد نہیں، اس لیے وہ حق رکھتے ہیں کہ انھیں اللہ کا بیٹا اور شریک تسلیم کیا جائے۔ یہ بات دلیل تو درکنار، شبہ بننے کے بھی قابل نہیں۔ کیونکہ عیسیٰu کو اس طرح پیدا کرنے سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی تخلیق و تدبیر کا مالک ہے، اور تمام اسباب اس کی مشیت و ارادہ کے تابع ہیں۔ چنانچہ اس سے ان کے قول کی تردید ہی ہوتی ہے تائید نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کا کوئی فرد اللہ کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے شریک بننے کا مستحق نہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آدمuکو بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا کیا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ عیسائی آدمuکے بارے میں بھی وہی عقیدہ رکھیں جو عیسیٰuکے بارے میں رکھتے ہیں۔ اگر مسیحuکو بغیر باپ کے پیدا کرنے کی وجہ سے اللہ کا بیٹا اور معبود قرار دیا جاسکتا ہے تو آدمuکے ماں اورباپ دونوں کے بغیر پیدا ہونے کی وجہ سے ان کے معبود ہونے کا بالاولیٰ دعویٰ کرنا چاہیے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰؔى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ۰۰ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی ہم نے عیسیٰuکے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے حق اور اعلیٰ ترین سچائی ہے۔ کیونکہ یہ (رب)’’پالنے والے‘‘ کی طرف سے ہے، آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے خصوصی تربیت میں اس کے بیان کردہ یہ انبیاء کرام کے واقعات بھی ہیں۔﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ شک کرنے والوںمیں سے نہ ہوں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ بتایا ہے اس میں شک نہ کیجیے گا۔ اس میں اور اس کے بعد والی آیت سے ایک اہم قاعدہ و قانون ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ عقیدہ یا عمل سے تعلق رکھنے والا جو مسئلہ دلائل سے ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف ہر قول کے بارے میں یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ باطل ہے۔ اس پر جو بھی شبہ وارد کیا جائے، وہ غلط ہے۔ خواہ بندہ اس کا جواب تلاش کرسکے یا نہ کرسکے۔ شبہ کا جواب نہ دے سکنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ یقینی بات قابل تنقید ہے۔ کیونکہ حق کے خلاف ہر بات باطل ہی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ﴾(یونس:10؍32) ’’حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں‘‘ اس شرعی قاعدہ کی مدد سے انسان کے وہ بہت سے اشکال حل ہوجاتے ہیں جو اہل کلام اور اہل منطق کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی انسان ان کا جواب دے سکتا ہے تو وہ ایک زائد نیکی ہوگی۔ ورنہ اس کا اصل فرض یہی ہے کہ دلائل کے ساتھ حق کو واضح کرے اور اس کی طرف دعوت دے۔آیات کا مطلب یہ ہے ﴿ فَمَنۡ حَآجَّكَ ﴾ کہ اے محمد(ﷺ)جو شخص عیسیٰuکے بارے میں آپ سے بحث کرتا ہے اور انھیں ان کے اصل مقام سے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا مقام عبودیت کے مقام سے بلند تر ہے۔ حالانکہ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ ﴾ آپ کے پاس یقینی علم آچکا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور آپ نے ایسے شخص کے لیے دلائل کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ عیسیٰuاللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کی اتباع کرکے ایسے یقینی علم کو نہ ماننے والا عناد میں مبتلا ہے۔ لہٰذا اس سے بحث و مباحثہ کرنے میں نہ آپ کو کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، نہ اس کو۔ کیونکہ حق واضح ہوچکا ہے۔ لہٰذا اس کی بحث محض اللہ اور رسول کی مخالفت اور ضد کی بنا پر ہے۔ اس کا مقصد اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے چلنا ہے، حق کی اتباع نہیں ۔ ایسے شخص کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے نبیﷺکو حکم دیا کہ اس سے مباہلہ اور ملاعنہ کریں۔ یعنی دونوں فریق اللہ کے سامنے عجز و نیاز کے ساتھ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے فریق پر اپنی لعنت اور عذاب نازل کرے۔ اس میں فریقین خود بھی، اور ان کے سب سے پیارے افراد یعنی بیویاں اور اولاد وغیرہ بھی شریک ہوں۔ نبیﷺنے انھیں اس کی دعوت دی تو انھوں نے یہ چیلنج قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ اگر مباہلہ کیا تو انھیں فوری سزا ملے گی اور ان کے اہل و عیال ہلاک ہوجائیں گے۔ وہ اپنے دین پر قائم رہے حالانکہ انھیں معلوم تھا کہ یہ باطل ہے۔ یہ انتہائی درجے کا عناد اور فساد ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ ہی صحیح طورپر فسادیوں کو جاننے والا ہے‘‘ وہ انھیں سخت ترین سزا دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ﴾ ’’یقینا ًصرف یہی سچابیان ہے‘‘ یعنی جو کچھ اللہ نے بیان کیا ہے وہی حق ہے۔ اس کے خلاف ہر چیز باطل ہے۔ ﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ ’’اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے‘‘ اس کے سوا کسی کی عبادت درست نہیں، کوئی اور ذرہ برابر عبادت کا بھی حق نہیں رکھتا۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے‘‘ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے۔ وہ حکمت والا ہے جو ہر چیز کو صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ کافروں کے ذریعے سے مومنوں کی آزمائش میں بھی اس کی حکمت کاملہ موجود ہے۔ جن سے مومن قولی اور عملی طورپر جہاد اور قتال کرتے رہتے ہیں۔
آل عمران 3:62
بے شک مثال عیسیٰ کی نزدیک اللہ کے مانند مثال آدم کی ہے، اللہ نے پیدا کیا اس کو مٹی سے، پھر کہا واسطے اس کے ہو جا، تو ہوگیا وہ (انسان)(59)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(60)پھر جو کوئی جھگڑا کرے آپ سے اس (عیسیٰ) کے بارے میں، بعد اس کے کہ آگیا آپ کے پاس (صحیح) علم سے، تو آپ کہہ دیں، آؤ بلاتے ہیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تمھارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمھاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمھاری جانوں کو، پھر ہم گڑگڑا کر دعا مانگیں ا ور کریں لعنت اللہ کی جھوٹوں پر(61) بے شک یہی ہے بیان سچا،اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے،اور بے شک اللہ ہی ہے غالب خوب حکمت والا(62) پس اگر وہ (اب بھی) روگردانی کریں، تو اللہ خوب جاننے والا ہے فساد کرنے والوں کو(63)
[63-59] عیسائی عیسیٰuکے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں جو درست نہیں، ان کے پاس اس کی کوئی قوی یا ضعیف دلیل بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کا کوئی والد نہیں، اس لیے وہ حق رکھتے ہیں کہ انھیں اللہ کا بیٹا اور شریک تسلیم کیا جائے۔ یہ بات دلیل تو درکنار، شبہ بننے کے بھی قابل نہیں۔ کیونکہ عیسیٰu کو اس طرح پیدا کرنے سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی تخلیق و تدبیر کا مالک ہے، اور تمام اسباب اس کی مشیت و ارادہ کے تابع ہیں۔ چنانچہ اس سے ان کے قول کی تردید ہی ہوتی ہے تائید نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کا کوئی فرد اللہ کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے شریک بننے کا مستحق نہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آدمuکو بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا کیا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ عیسائی آدمuکے بارے میں بھی وہی عقیدہ رکھیں جو عیسیٰuکے بارے میں رکھتے ہیں۔ اگر مسیحuکو بغیر باپ کے پیدا کرنے کی وجہ سے اللہ کا بیٹا اور معبود قرار دیا جاسکتا ہے تو آدمuکے ماں اورباپ دونوں کے بغیر پیدا ہونے کی وجہ سے ان کے معبود ہونے کا بالاولیٰ دعویٰ کرنا چاہیے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰؔى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ۰۰ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی ہم نے عیسیٰuکے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے حق اور اعلیٰ ترین سچائی ہے۔ کیونکہ یہ (رب)’’پالنے والے‘‘ کی طرف سے ہے، آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے خصوصی تربیت میں اس کے بیان کردہ یہ انبیاء کرام کے واقعات بھی ہیں۔﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ شک کرنے والوںمیں سے نہ ہوں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ بتایا ہے اس میں شک نہ کیجیے گا۔ اس میں اور اس کے بعد والی آیت سے ایک اہم قاعدہ و قانون ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ عقیدہ یا عمل سے تعلق رکھنے والا جو مسئلہ دلائل سے ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف ہر قول کے بارے میں یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ باطل ہے۔ اس پر جو بھی شبہ وارد کیا جائے، وہ غلط ہے۔ خواہ بندہ اس کا جواب تلاش کرسکے یا نہ کرسکے۔ شبہ کا جواب نہ دے سکنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ یقینی بات قابل تنقید ہے۔ کیونکہ حق کے خلاف ہر بات باطل ہی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ﴾(یونس:10؍32) ’’حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں‘‘ اس شرعی قاعدہ کی مدد سے انسان کے وہ بہت سے اشکال حل ہوجاتے ہیں جو اہل کلام اور اہل منطق کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی انسان ان کا جواب دے سکتا ہے تو وہ ایک زائد نیکی ہوگی۔ ورنہ اس کا اصل فرض یہی ہے کہ دلائل کے ساتھ حق کو واضح کرے اور اس کی طرف دعوت دے۔آیات کا مطلب یہ ہے ﴿ فَمَنۡ حَآجَّكَ ﴾ کہ اے محمد(ﷺ)جو شخص عیسیٰuکے بارے میں آپ سے بحث کرتا ہے اور انھیں ان کے اصل مقام سے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا مقام عبودیت کے مقام سے بلند تر ہے۔ حالانکہ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ ﴾ آپ کے پاس یقینی علم آچکا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور آپ نے ایسے شخص کے لیے دلائل کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ عیسیٰuاللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کی اتباع کرکے ایسے یقینی علم کو نہ ماننے والا عناد میں مبتلا ہے۔ لہٰذا اس سے بحث و مباحثہ کرنے میں نہ آپ کو کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، نہ اس کو۔ کیونکہ حق واضح ہوچکا ہے۔ لہٰذا اس کی بحث محض اللہ اور رسول کی مخالفت اور ضد کی بنا پر ہے۔ اس کا مقصد اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے چلنا ہے، حق کی اتباع نہیں ۔ ایسے شخص کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے نبیﷺکو حکم دیا کہ اس سے مباہلہ اور ملاعنہ کریں۔ یعنی دونوں فریق اللہ کے سامنے عجز و نیاز کے ساتھ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے فریق پر اپنی لعنت اور عذاب نازل کرے۔ اس میں فریقین خود بھی، اور ان کے سب سے پیارے افراد یعنی بیویاں اور اولاد وغیرہ بھی شریک ہوں۔ نبیﷺنے انھیں اس کی دعوت دی تو انھوں نے یہ چیلنج قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ اگر مباہلہ کیا تو انھیں فوری سزا ملے گی اور ان کے اہل و عیال ہلاک ہوجائیں گے۔ وہ اپنے دین پر قائم رہے حالانکہ انھیں معلوم تھا کہ یہ باطل ہے۔ یہ انتہائی درجے کا عناد اور فساد ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ ہی صحیح طورپر فسادیوں کو جاننے والا ہے‘‘ وہ انھیں سخت ترین سزا دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ﴾ ’’یقینا ًصرف یہی سچابیان ہے‘‘ یعنی جو کچھ اللہ نے بیان کیا ہے وہی حق ہے۔ اس کے خلاف ہر چیز باطل ہے۔ ﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ ’’اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے‘‘ اس کے سوا کسی کی عبادت درست نہیں، کوئی اور ذرہ برابر عبادت کا بھی حق نہیں رکھتا۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے‘‘ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے۔ وہ حکمت والا ہے جو ہر چیز کو صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ کافروں کے ذریعے سے مومنوں کی آزمائش میں بھی اس کی حکمت کاملہ موجود ہے۔ جن سے مومن قولی اور عملی طورپر جہاد اور قتال کرتے رہتے ہیں۔
آل عمران 3:63
بے شک مثال عیسیٰ کی نزدیک اللہ کے مانند مثال آدم کی ہے، اللہ نے پیدا کیا اس کو مٹی سے، پھر کہا واسطے اس کے ہو جا، تو ہوگیا وہ (انسان)(59)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(60)پھر جو کوئی جھگڑا کرے آپ سے اس (عیسیٰ) کے بارے میں، بعد اس کے کہ آگیا آپ کے پاس (صحیح) علم سے، تو آپ کہہ دیں، آؤ بلاتے ہیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تمھارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمھاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمھاری جانوں کو، پھر ہم گڑگڑا کر دعا مانگیں ا ور کریں لعنت اللہ کی جھوٹوں پر(61) بے شک یہی ہے بیان سچا،اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے،اور بے شک اللہ ہی ہے غالب خوب حکمت والا(62) پس اگر وہ (اب بھی) روگردانی کریں، تو اللہ خوب جاننے والا ہے فساد کرنے والوں کو(63)
[63-59] عیسائی عیسیٰuکے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں جو درست نہیں، ان کے پاس اس کی کوئی قوی یا ضعیف دلیل بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کا کوئی والد نہیں، اس لیے وہ حق رکھتے ہیں کہ انھیں اللہ کا بیٹا اور شریک تسلیم کیا جائے۔ یہ بات دلیل تو درکنار، شبہ بننے کے بھی قابل نہیں۔ کیونکہ عیسیٰu کو اس طرح پیدا کرنے سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی تخلیق و تدبیر کا مالک ہے، اور تمام اسباب اس کی مشیت و ارادہ کے تابع ہیں۔ چنانچہ اس سے ان کے قول کی تردید ہی ہوتی ہے تائید نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کا کوئی فرد اللہ کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے شریک بننے کا مستحق نہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آدمuکو بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا کیا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ عیسائی آدمuکے بارے میں بھی وہی عقیدہ رکھیں جو عیسیٰuکے بارے میں رکھتے ہیں۔ اگر مسیحuکو بغیر باپ کے پیدا کرنے کی وجہ سے اللہ کا بیٹا اور معبود قرار دیا جاسکتا ہے تو آدمuکے ماں اورباپ دونوں کے بغیر پیدا ہونے کی وجہ سے ان کے معبود ہونے کا بالاولیٰ دعویٰ کرنا چاہیے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰؔى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ۰۰ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی ہم نے عیسیٰuکے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے حق اور اعلیٰ ترین سچائی ہے۔ کیونکہ یہ (رب)’’پالنے والے‘‘ کی طرف سے ہے، آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے خصوصی تربیت میں اس کے بیان کردہ یہ انبیاء کرام کے واقعات بھی ہیں۔﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ شک کرنے والوںمیں سے نہ ہوں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ بتایا ہے اس میں شک نہ کیجیے گا۔ اس میں اور اس کے بعد والی آیت سے ایک اہم قاعدہ و قانون ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ عقیدہ یا عمل سے تعلق رکھنے والا جو مسئلہ دلائل سے ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف ہر قول کے بارے میں یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ باطل ہے۔ اس پر جو بھی شبہ وارد کیا جائے، وہ غلط ہے۔ خواہ بندہ اس کا جواب تلاش کرسکے یا نہ کرسکے۔ شبہ کا جواب نہ دے سکنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ یقینی بات قابل تنقید ہے۔ کیونکہ حق کے خلاف ہر بات باطل ہی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ﴾(یونس:10؍32) ’’حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں‘‘ اس شرعی قاعدہ کی مدد سے انسان کے وہ بہت سے اشکال حل ہوجاتے ہیں جو اہل کلام اور اہل منطق کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی انسان ان کا جواب دے سکتا ہے تو وہ ایک زائد نیکی ہوگی۔ ورنہ اس کا اصل فرض یہی ہے کہ دلائل کے ساتھ حق کو واضح کرے اور اس کی طرف دعوت دے۔آیات کا مطلب یہ ہے ﴿ فَمَنۡ حَآجَّكَ ﴾ کہ اے محمد(ﷺ)جو شخص عیسیٰuکے بارے میں آپ سے بحث کرتا ہے اور انھیں ان کے اصل مقام سے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا مقام عبودیت کے مقام سے بلند تر ہے۔ حالانکہ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ ﴾ آپ کے پاس یقینی علم آچکا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور آپ نے ایسے شخص کے لیے دلائل کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ عیسیٰuاللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کی اتباع کرکے ایسے یقینی علم کو نہ ماننے والا عناد میں مبتلا ہے۔ لہٰذا اس سے بحث و مباحثہ کرنے میں نہ آپ کو کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، نہ اس کو۔ کیونکہ حق واضح ہوچکا ہے۔ لہٰذا اس کی بحث محض اللہ اور رسول کی مخالفت اور ضد کی بنا پر ہے۔ اس کا مقصد اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے چلنا ہے، حق کی اتباع نہیں ۔ ایسے شخص کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے نبیﷺکو حکم دیا کہ اس سے مباہلہ اور ملاعنہ کریں۔ یعنی دونوں فریق اللہ کے سامنے عجز و نیاز کے ساتھ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے فریق پر اپنی لعنت اور عذاب نازل کرے۔ اس میں فریقین خود بھی، اور ان کے سب سے پیارے افراد یعنی بیویاں اور اولاد وغیرہ بھی شریک ہوں۔ نبیﷺنے انھیں اس کی دعوت دی تو انھوں نے یہ چیلنج قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ اگر مباہلہ کیا تو انھیں فوری سزا ملے گی اور ان کے اہل و عیال ہلاک ہوجائیں گے۔ وہ اپنے دین پر قائم رہے حالانکہ انھیں معلوم تھا کہ یہ باطل ہے۔ یہ انتہائی درجے کا عناد اور فساد ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ ہی صحیح طورپر فسادیوں کو جاننے والا ہے‘‘ وہ انھیں سخت ترین سزا دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ﴾ ’’یقینا ًصرف یہی سچابیان ہے‘‘ یعنی جو کچھ اللہ نے بیان کیا ہے وہی حق ہے۔ اس کے خلاف ہر چیز باطل ہے۔ ﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ ’’اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے‘‘ اس کے سوا کسی کی عبادت درست نہیں، کوئی اور ذرہ برابر عبادت کا بھی حق نہیں رکھتا۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے‘‘ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے۔ وہ حکمت والا ہے جو ہر چیز کو صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ کافروں کے ذریعے سے مومنوں کی آزمائش میں بھی اس کی حکمت کاملہ موجود ہے۔ جن سے مومن قولی اور عملی طورپر جہاد اور قتال کرتے رہتے ہیں۔
آل عمران 3:64
کہہ دیجیے، اے اہل کتاب! آؤ طرف ایسی بات کی جو برابر ہے ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان، یہ کہ نہ عبادت کریں ہم مگر اللہ ہی کی، اور نہ شریک ٹھہرائیں ہم اس کے ساتھ کسی چیز کواور نہ بنائے بعض ہمارا بعض کو رب سوائے اللہ کے، پس اگر وہ روگردانی کریں تو تم کہہ دو، گواہ رہو اس بات کے کہ بے شک ہم تو (اللہ کے) فرماں بردار ہیں(64)
[64] اللہ تعالیٰ نبیﷺسے فرماتا ہے کہ آپ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے کہہ دیجیے کہ ﴿ تَعَالَوۡا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَؔآءٍۭ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے‘‘ یعنی ہم اس کی بنیاد پر متحد ہوجائیں، اس سے مراد وہ بات ہے جس پر تمام انبیاء و رسل کا اتفاق ہے۔ جس کی مخالفت سوائے گمراہ اور ضدی لوگوں کے کسی نے نہیں کی ہے اور وہ بات فریقین میں سے کسی ایک کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ دونوں میں مشترک ہے۔ یہ اختلاف کے موقع پر انصاف والی بات ہے۔ پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهٖ شَيۡـًٔا ﴾ ’’کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک بنائیں۔‘‘ اکیلے اللہ کی عبادت کریں۔ محبت، خوف اور امید کا تعلق صرف اسی سے رکھیں ۔ اس کے ساتھ نہ کسی نبی کو شریک کریں نہ ولی کو، نہ صنم کو نہ وثن کو، نہ حیوان کو نہ جمادات کو، ﴿ وَّلَا يَتَّؔخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہ اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب بنائیں‘‘ بلکہ صرف اللہ کی اور اس کے رسولوں کی اطاعت کریں۔ ہم کسی مخلوق کی بات مان کر خالق کی نافرمانی نہ کریں۔ کیونکہ یہ کام مخلوق کو خالق کامقام دینے کے مترادف ہے۔ جب اہل کتاب یا دوسرے غیرمسلموں کو اس بات کی دعوت دی جائے اور وہ تسلیم کرلیں تو وہ دوسرے مسلمانوں کے برابر ہوجائیں گے۔ ان کے حقوق و فرائض دوسرے مسلمانوں کے برابر ہوں گے۔ اگر وہ تسلیم نہ کریں تو ثابت ہوجائے گا کہ وہ اپنی خواہش نفس کے پیروکار اور معاند ہیں تو انھیں گواہ بنا کر کہہ دو کہ ہم تو مسلمان ہیں۔ اس کا فائدہ غالباً یہ ہے کہ جب تم انھیں یہ بات کہو گے اور حقیقی اہل علم تم ہی ہو، تو یہ بات ان پر مزید حجت قائم کردے گی۔ علاوہ ازیں جب تم ایمان لاکر اسلام میں داخل ہوچکے ہو تو اللہ کو دوسروں کے غیر مسلم رہنے کی پروا نہیں، کیونکہ وہ پاک نہیں، بلکہ ان کی فطرت ناپاک ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل:17؍107) ’’کہہ دیجیے! تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، جنھیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان کے پاس تو جب بھی اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔‘‘ علاوہ ازیں ایمان والے عقیدے پر شبہات وارد ہونے سے مومن پر یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کی تجدید کرے اور اپنے اسلام کا اعلان کرے۔ اور اس طرح اپنے یقین کی خبر دے اور اپنے رب کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرے۔
آل عمران 3:65
اے اہل کتاب! کیوں جھگڑتے ہو تم ابراہیم کے بارے میں؟ حالانکہ نہیں نازل کی گئی تورات اور انجیل مگر بعد اس کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟(65) سنو! آگاہ رہو! تم وہی لوگ تو ہو کہ جھگڑا کیا تم نے اس بات میں جس کا تمھیں کچھ علم تھا تو (اب) کیوں جھگڑتے ہو تم اس چیز کی بابت کہ نہیں ہے واسطے تمھارے اس چیز کا کوئی علم؟ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(66) نہیں تھے ابراہیم یہودی اور نہ نصرانی لیکن تھے وہ صرف حق کے پرستار، مسلمان اور نہیں تھے وہ مشرکین میں سے(67) بے شک سب سے زیادہ قریب تمام لوگوں میں سے ابراہیم کے، البتہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اتباع کیا ان کا اور یہ نبی(محمدﷺ) ہیں اور وہ لوگ ہیں جو (ان پر) ایمان لائےاور اللہ دوست ہے مومنوں کا(68)
[68-65] یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ابراہیمuیہودی تھے۔ اور عیسائی کہتے تھے کہ آپ عیسائی تھے۔ اس بارے میں وہ جھگڑتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث و جدال کا تین طریقوں سے جواب دیا ہے۔ اولاً: ابراہیمuکے بارے میں ان کا جھگڑا، ایسے معاملے میں ہے جس کے بارے میں انھیں علم حاصل نہیں۔ لہٰذا انھیں اس موضوع پر بحث ہی نہیں کرنی چاہیے جس سے ان کا تعلق ہی نہیں۔ تورات و انجیل کے مسائل کے بارے میں تو انھوں نے بحث و مجادلہ کیا، خواہ ان کا موقف صحیح تھا یا غلط۔ لیکن ابراہیمuکے بارے میں بحث کرنے کا انھیں کوئی حق حاصل نہیں۔ ثانیاً: یہود تورات کے احکام و مسائل کی طرف منسوب ہیں اور نصاریٰ کا تعلق انجیل کے احکام و مسائل سے ہے۔ اور یہ دونوں کتابیں ابراہیمuکے دنیا سے چلے جانے کے بہت بعد نازل ہوئی ہیں۔ پھر وہ لوگ ابراہیمuکو اپنے ساتھ کیوں ملاتے ہیں حالانکہ وہ ان سے بہت پہلے تھے۔ کیا یہ معقول بات ہے؟ اس لیے فرمایا:﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے‘‘ یعنی اگر تم خود اپنی بات کو سمجھ سکتے ہوتے تو یہ بات نہ کہتے۔ ثالثاً: اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیلuکا یہود، نصاریٰ اور مشرکین سے کوئی بھی تعلق ہونے سے انکار فرمایا ہے۔ انھیں خالص مسلمان قرار دیا ہے۔ آپ سے تعلق ان کا ہے جو آپ پر ایمان لاکر آپ کی امت بنے، ان کے بعد ابراہیمuسے تعلق محمدﷺکا، اور آپ پر ایمان رکھنے والوں کا ہے۔ یہی اصل میں آپ کے متبع ہیں۔ لہٰذا دوسروں کی نسبت ان ہی کا تعلق ابراہیمuسے ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی ان کا مددگار اور موید ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے ابراہیمuکے دین کو پس پشت ڈال دیا، جیسے یہود، نصاریٰ اور مشرکین، ان کا ابراہیمuسے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ابراہیمuکا ان سے کوئی تعلق ہے۔ انھیں اس خالی نسبت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان آیات میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ بغیر علم کے بحث کرنا منع ہے۔ جو ایسی بات کرتا ہے، اسے اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان میں علم تاریخ حاصل کرنے کی ترغیب بھی ہے۔ اس کے ذریعے سے بہت سے غلط اقوال اور غلط عقائد کی تردید کی جاسکتی ہے، جو تاریخ کے معلوم واقعات کے مخالف ہوں۔
آل عمران 3:66
اے اہل کتاب! کیوں جھگڑتے ہو تم ابراہیم کے بارے میں؟ حالانکہ نہیں نازل کی گئی تورات اور انجیل مگر بعد اس کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟(65) سنو! آگاہ رہو! تم وہی لوگ تو ہو کہ جھگڑا کیا تم نے اس بات میں جس کا تمھیں کچھ علم تھا تو (اب) کیوں جھگڑتے ہو تم اس چیز کی بابت کہ نہیں ہے واسطے تمھارے اس چیز کا کوئی علم؟ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(66) نہیں تھے ابراہیم یہودی اور نہ نصرانی لیکن تھے وہ صرف حق کے پرستار، مسلمان اور نہیں تھے وہ مشرکین میں سے(67) بے شک سب سے زیادہ قریب تمام لوگوں میں سے ابراہیم کے، البتہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اتباع کیا ان کا اور یہ نبی(محمدﷺ) ہیں اور وہ لوگ ہیں جو (ان پر) ایمان لائےاور اللہ دوست ہے مومنوں کا(68)
[68-65] یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ابراہیمuیہودی تھے۔ اور عیسائی کہتے تھے کہ آپ عیسائی تھے۔ اس بارے میں وہ جھگڑتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث و جدال کا تین طریقوں سے جواب دیا ہے۔ اولاً: ابراہیمuکے بارے میں ان کا جھگڑا، ایسے معاملے میں ہے جس کے بارے میں انھیں علم حاصل نہیں۔ لہٰذا انھیں اس موضوع پر بحث ہی نہیں کرنی چاہیے جس سے ان کا تعلق ہی نہیں۔ تورات و انجیل کے مسائل کے بارے میں تو انھوں نے بحث و مجادلہ کیا، خواہ ان کا موقف صحیح تھا یا غلط۔ لیکن ابراہیمuکے بارے میں بحث کرنے کا انھیں کوئی حق حاصل نہیں۔ ثانیاً: یہود تورات کے احکام و مسائل کی طرف منسوب ہیں اور نصاریٰ کا تعلق انجیل کے احکام و مسائل سے ہے۔ اور یہ دونوں کتابیں ابراہیمuکے دنیا سے چلے جانے کے بہت بعد نازل ہوئی ہیں۔ پھر وہ لوگ ابراہیمuکو اپنے ساتھ کیوں ملاتے ہیں حالانکہ وہ ان سے بہت پہلے تھے۔ کیا یہ معقول بات ہے؟ اس لیے فرمایا:﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے‘‘ یعنی اگر تم خود اپنی بات کو سمجھ سکتے ہوتے تو یہ بات نہ کہتے۔ ثالثاً: اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیلuکا یہود، نصاریٰ اور مشرکین سے کوئی بھی تعلق ہونے سے انکار فرمایا ہے۔ انھیں خالص مسلمان قرار دیا ہے۔ آپ سے تعلق ان کا ہے جو آپ پر ایمان لاکر آپ کی امت بنے، ان کے بعد ابراہیمuسے تعلق محمدﷺکا، اور آپ پر ایمان رکھنے والوں کا ہے۔ یہی اصل میں آپ کے متبع ہیں۔ لہٰذا دوسروں کی نسبت ان ہی کا تعلق ابراہیمuسے ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی ان کا مددگار اور موید ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے ابراہیمuکے دین کو پس پشت ڈال دیا، جیسے یہود، نصاریٰ اور مشرکین، ان کا ابراہیمuسے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ابراہیمuکا ان سے کوئی تعلق ہے۔ انھیں اس خالی نسبت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان آیات میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ بغیر علم کے بحث کرنا منع ہے۔ جو ایسی بات کرتا ہے، اسے اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان میں علم تاریخ حاصل کرنے کی ترغیب بھی ہے۔ اس کے ذریعے سے بہت سے غلط اقوال اور غلط عقائد کی تردید کی جاسکتی ہے، جو تاریخ کے معلوم واقعات کے مخالف ہوں۔
آل عمران 3:67
اے اہل کتاب! کیوں جھگڑتے ہو تم ابراہیم کے بارے میں؟ حالانکہ نہیں نازل کی گئی تورات اور انجیل مگر بعد اس کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟(65) سنو! آگاہ رہو! تم وہی لوگ تو ہو کہ جھگڑا کیا تم نے اس بات میں جس کا تمھیں کچھ علم تھا تو (اب) کیوں جھگڑتے ہو تم اس چیز کی بابت کہ نہیں ہے واسطے تمھارے اس چیز کا کوئی علم؟ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(66) نہیں تھے ابراہیم یہودی اور نہ نصرانی لیکن تھے وہ صرف حق کے پرستار، مسلمان اور نہیں تھے وہ مشرکین میں سے(67) بے شک سب سے زیادہ قریب تمام لوگوں میں سے ابراہیم کے، البتہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اتباع کیا ان کا اور یہ نبی(محمدﷺ) ہیں اور وہ لوگ ہیں جو (ان پر) ایمان لائےاور اللہ دوست ہے مومنوں کا(68)
[68-65] یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ابراہیمuیہودی تھے۔ اور عیسائی کہتے تھے کہ آپ عیسائی تھے۔ اس بارے میں وہ جھگڑتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث و جدال کا تین طریقوں سے جواب دیا ہے۔ اولاً: ابراہیمuکے بارے میں ان کا جھگڑا، ایسے معاملے میں ہے جس کے بارے میں انھیں علم حاصل نہیں۔ لہٰذا انھیں اس موضوع پر بحث ہی نہیں کرنی چاہیے جس سے ان کا تعلق ہی نہیں۔ تورات و انجیل کے مسائل کے بارے میں تو انھوں نے بحث و مجادلہ کیا، خواہ ان کا موقف صحیح تھا یا غلط۔ لیکن ابراہیمuکے بارے میں بحث کرنے کا انھیں کوئی حق حاصل نہیں۔ ثانیاً: یہود تورات کے احکام و مسائل کی طرف منسوب ہیں اور نصاریٰ کا تعلق انجیل کے احکام و مسائل سے ہے۔ اور یہ دونوں کتابیں ابراہیمuکے دنیا سے چلے جانے کے بہت بعد نازل ہوئی ہیں۔ پھر وہ لوگ ابراہیمuکو اپنے ساتھ کیوں ملاتے ہیں حالانکہ وہ ان سے بہت پہلے تھے۔ کیا یہ معقول بات ہے؟ اس لیے فرمایا:﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے‘‘ یعنی اگر تم خود اپنی بات کو سمجھ سکتے ہوتے تو یہ بات نہ کہتے۔ ثالثاً: اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیلuکا یہود، نصاریٰ اور مشرکین سے کوئی بھی تعلق ہونے سے انکار فرمایا ہے۔ انھیں خالص مسلمان قرار دیا ہے۔ آپ سے تعلق ان کا ہے جو آپ پر ایمان لاکر آپ کی امت بنے، ان کے بعد ابراہیمuسے تعلق محمدﷺکا، اور آپ پر ایمان رکھنے والوں کا ہے۔ یہی اصل میں آپ کے متبع ہیں۔ لہٰذا دوسروں کی نسبت ان ہی کا تعلق ابراہیمuسے ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی ان کا مددگار اور موید ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے ابراہیمuکے دین کو پس پشت ڈال دیا، جیسے یہود، نصاریٰ اور مشرکین، ان کا ابراہیمuسے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ابراہیمuکا ان سے کوئی تعلق ہے۔ انھیں اس خالی نسبت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان آیات میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ بغیر علم کے بحث کرنا منع ہے۔ جو ایسی بات کرتا ہے، اسے اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان میں علم تاریخ حاصل کرنے کی ترغیب بھی ہے۔ اس کے ذریعے سے بہت سے غلط اقوال اور غلط عقائد کی تردید کی جاسکتی ہے، جو تاریخ کے معلوم واقعات کے مخالف ہوں۔
آل عمران 3:68
اے اہل کتاب! کیوں جھگڑتے ہو تم ابراہیم کے بارے میں؟ حالانکہ نہیں نازل کی گئی تورات اور انجیل مگر بعد اس کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟(65) سنو! آگاہ رہو! تم وہی لوگ تو ہو کہ جھگڑا کیا تم نے اس بات میں جس کا تمھیں کچھ علم تھا تو (اب) کیوں جھگڑتے ہو تم اس چیز کی بابت کہ نہیں ہے واسطے تمھارے اس چیز کا کوئی علم؟ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(66) نہیں تھے ابراہیم یہودی اور نہ نصرانی لیکن تھے وہ صرف حق کے پرستار، مسلمان اور نہیں تھے وہ مشرکین میں سے(67) بے شک سب سے زیادہ قریب تمام لوگوں میں سے ابراہیم کے، البتہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اتباع کیا ان کا اور یہ نبی(محمدﷺ) ہیں اور وہ لوگ ہیں جو (ان پر) ایمان لائےاور اللہ دوست ہے مومنوں کا(68)
[68-65] یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ابراہیمuیہودی تھے۔ اور عیسائی کہتے تھے کہ آپ عیسائی تھے۔ اس بارے میں وہ جھگڑتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث و جدال کا تین طریقوں سے جواب دیا ہے۔ اولاً: ابراہیمuکے بارے میں ان کا جھگڑا، ایسے معاملے میں ہے جس کے بارے میں انھیں علم حاصل نہیں۔ لہٰذا انھیں اس موضوع پر بحث ہی نہیں کرنی چاہیے جس سے ان کا تعلق ہی نہیں۔ تورات و انجیل کے مسائل کے بارے میں تو انھوں نے بحث و مجادلہ کیا، خواہ ان کا موقف صحیح تھا یا غلط۔ لیکن ابراہیمuکے بارے میں بحث کرنے کا انھیں کوئی حق حاصل نہیں۔ ثانیاً: یہود تورات کے احکام و مسائل کی طرف منسوب ہیں اور نصاریٰ کا تعلق انجیل کے احکام و مسائل سے ہے۔ اور یہ دونوں کتابیں ابراہیمuکے دنیا سے چلے جانے کے بہت بعد نازل ہوئی ہیں۔ پھر وہ لوگ ابراہیمuکو اپنے ساتھ کیوں ملاتے ہیں حالانکہ وہ ان سے بہت پہلے تھے۔ کیا یہ معقول بات ہے؟ اس لیے فرمایا:﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے‘‘ یعنی اگر تم خود اپنی بات کو سمجھ سکتے ہوتے تو یہ بات نہ کہتے۔ ثالثاً: اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیلuکا یہود، نصاریٰ اور مشرکین سے کوئی بھی تعلق ہونے سے انکار فرمایا ہے۔ انھیں خالص مسلمان قرار دیا ہے۔ آپ سے تعلق ان کا ہے جو آپ پر ایمان لاکر آپ کی امت بنے، ان کے بعد ابراہیمuسے تعلق محمدﷺکا، اور آپ پر ایمان رکھنے والوں کا ہے۔ یہی اصل میں آپ کے متبع ہیں۔ لہٰذا دوسروں کی نسبت ان ہی کا تعلق ابراہیمuسے ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی ان کا مددگار اور موید ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے ابراہیمuکے دین کو پس پشت ڈال دیا، جیسے یہود، نصاریٰ اور مشرکین، ان کا ابراہیمuسے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ابراہیمuکا ان سے کوئی تعلق ہے۔ انھیں اس خالی نسبت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان آیات میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ بغیر علم کے بحث کرنا منع ہے۔ جو ایسی بات کرتا ہے، اسے اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان میں علم تاریخ حاصل کرنے کی ترغیب بھی ہے۔ اس کے ذریعے سے بہت سے غلط اقوال اور غلط عقائد کی تردید کی جاسکتی ہے، جو تاریخ کے معلوم واقعات کے مخالف ہوں۔
آل عمران 3:69
چاہتا ہے ایک گروہ اہل کتاب میں سے کاش کہ وہ گمراہ کر دیں تمھیں، اور نہیں گمراہ کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں شعور رکھتے وہ(69) اے اہل کتاب! کیوں کفر کرتے ہو تم ساتھ اللہ کی آیتوں کے؟ حالانکہ تم (اس کی سچائی کی) گواہی دیتے ہو(70) اے اہل کتاب! کیوں خلط ملط کرتے ہو تم حق کو باطل کے ساتھ اور چھپاتے ہو تم حق کو حالانکہ تم جانتے ہو؟(71) اور کہا ایک گروہ نے اہل کتاب میں سے (اپنے لوگوں کو) ایمان لاؤ ساتھ اس چیز کے جو نازل کی گئی ہے اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائے، شروع دن میں اور کفر کرو دن کے آخری حصے میں، شاید کہ وہ (مسلمان بھی) پھر جائیں(72) اور نہ یقین کرو تم مگر اسی کا جو پیروکار ہے تمھارے دین کا، کہہ دیجیے، بلاشبہ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے، (اور نہ یہ مانو) کہ دیا جائے کوئی مثل اس کے جو تم دیے گئے یا (یہ کہ) وہ جھگڑیں گے تم سے (اور غالب آجائیں گے) تمھارے رب کے پاس، کہہ دیجیے، بے شک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جس کو چاہتا ہےاور اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے(73) خاص کرتا ہے وہ ساتھ اپنی رحمت کے جس کو چاہتا ہےاور اللہ صاحب فضل عظیم ہے(74)
[74-69] اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمھیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿وَدَّؔ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا ﴾(البقرۃ:2؍109) ’’اہل کتاب کے اکثر لوگ تمھیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں‘‘ اور جسے کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتاہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لیے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں‘‘ مومنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش خود ان کی گمراہی اور عذاب میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل:16؍88) ’’جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم ان کے عذاب میں عذاب کا اضافہ کردیں گے، کیونکہ وہ فساد کرتے تھے‘‘ ﴿ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور سمجھتے نہیں‘‘ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی کوشش خود انھی کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور وہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑ رہے۔﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَاَنۡتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ ﴾ ’’اے اہل کتاب! تم باوجود قائل ہونے کے پھر بھی اللہ کی آیات سے کیوں کفر کررہے ہو؟‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی آیات کا انکار کرنے پر کون سی چیز مجبور کرتی ہے حالانکہ تمھیں معلوم ہے کہ جس مذہب پر تم کاربند ہو، وہ باطل ہے اور محمدﷺجو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے، خود تمھیں بھی اس میں شک نہیں بلکہ تم اس کی گواہی دیتے ہو اور بعض اوقات ایک دوسرے کو خفیہ طورپر یہ بات بتا بھی دیتے ہو۔ اس طرح اللہ نے انھیں اس گمراہی سے روکا ہے۔ پھر دوسروں کو گمراہ کرنے پر انھیں زجروتوبیخ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کرتے ہو؟ اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟‘‘ اللہ نے انھیں حق و باطل کو خلط ملط کرنے اور حق کو چھپانے پر توبیخ کی ہے۔ کیونکہ ان دو طریقوں سے وہ اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جب علماء حق و باطل میں امتیاز نہ کریں، بلکہ معاملہ مبہم رہنے دیں، اور جس کو ظاہر کرنا ان کا فرض ہے، اسے چھپالیں، تو اس کا نتیجہ بہت برا نکلے گا کہ حق چھپ جائے گا اور باطل عام ہوجائے گا۔ اور جو عوام حق کے متلاشی ہوں گے، انھیں ہدایت نہیں ملے گی۔ حالانکہ اہل علم سے تو یہ مطلوب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق ظاہر کریں۔ اس کا اعلان کریں، حق کو باطل سے اور پاک کو ناپاک سے الگ کرکے واضح کردیں۔ حلال و حرام اور صحیح و غلط عقائد کو الگ الگ کردیں، تاکہ ہدایت یافتہ لوگ ہدایت پر قائم رہیں اور گمراہ حق کی طرف پلٹ آئیں او ر عناد کی وجہ سے انکار کرنے والوں پر اتمام حجت ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ۠ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُوۡنَهٗ١ٞ فَنَبَذُوۡهُ وَرَؔآءَؔ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾(آل عمران:3؍187) ’’جب اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ لیا جنھیں کتاب دی گئی تھی کہ اسے لوگوں کے لیے بیان کریں گے، اور چھپائیں گے نہیں، تو انھوں نے اس وعدے کو پس پشت ڈال دیا۔‘‘اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس خبیث جماعت کے ارادوں، اور مومنوں کے خلاف سازش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ ﴾ ’’اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا: جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیاہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ‘‘ یعنی صبح کے وقت مکر اور دھوکا کرتے ہوئے ایمان کا اظہار کرو۔ اور جب شام ہو تو اسلام سے نکل جاؤ۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ بھی (اپنے دین سے) پلٹ جائیں۔‘‘ پس وہ سوچیں گے اگر یہ دین صحیح ہوتا تو اہل کتاب جو اہل علم ہیں وہ اس سے نہ نکلتے۔ انھوں نے یہ چاہا، اپنے آپ کو اچھا سمجھتے اور یہ گمان کرتے ہوئے کہ لوگ ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے ان کے ہر قول و عمل میں ان کی پیروی کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کرکے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا۔ ﴿لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِـعَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’سوائے تمھارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو۔‘‘ یعنی تم صرف اپنے ہم مذہب افراد پر اعتماد کرنا، دوسروں سے اس بات کو چھپا کر رکھنا۔ اگر تم نے دوسرے مذہب والوں کو بتا دیا تو جو علم تمھیں حاصل ہے انھیں بھی حاصل ہوجائے گا، تو وہ تمھارے جیسے ہوجائیں گے یا قیامت کے دن تم سے بحث کریں گے اور رب کے پاس تمھارے خلاف گواہی دیں گے کہ تم پر حجت قائم ہوچکی تھی۔ اور تمھیں ہدایت معلوم ہوچکی تھی، لیکن تم نے اس کی اتباع نہیں کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم مومنوں کو نہیں بتائیں گے تو انھیں اس سازش کا بالکل علم نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ ان کے خیال میں علم صرف انھی کے پاس ہوسکتا ہے جس سے ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّ الۡهُدٰؔى هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے‘‘ لہٰذا ہر ہدایت یافتہ کو ہدایت اللہ ہی سے ملتی ہے۔ علم میں یا تو حق کو جاننا شامل ہے یا اسے اختیار کرنا۔ علم صرف وہی ہے جو اللہ کے رسول لائے ہیں اور توفیق صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ اہل کتاب کو علم بہت کم ملا ہے۔ اور توفیق سے وہ بالکل محروم ہیں کیونکہ ان کی نیتیں اور ارادے غلط ہیں۔ اس کے برعکس اس امت کو اللہ کی ہدایت کی وجہ سے علوم و معارف بھی حاصل ہوئے ہیں اور ان پر عمل کی توفیق بھی۔ اس وجہ سے وہ دوسروں سے افضل ہوگئے۔ لہٰذا وہی رہنما قرار پائے جو اللہ کے حکم کے مطابق ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ امت پر اللہ کا عظیم فضل و احسان ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، فضل تو اللہ ہی كے ہاتھ میں ہے۔‘‘ وہی اپنے بندوں پر ہر قسم کا احسان فرماتا ہے۔ ﴿يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ جسے چاہے اسے دے‘‘ جو اس کے اسباب اختیار کرے گا، اللہ اس کو اپنا فضل دے گا، ﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اوراللہ وسعت والا علم والا ہے‘‘ اس کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔ وہ جانتا ہے کون احسان کے قابل ہے، اسے وہ عطا فرماتا ہے اور کون اس کا مستحق نہیں، چنانچہ اسے محروم رکھتا ہے۔ ﴿ يَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کرلے‘‘ یعنی اس کی وہ مطلق رحمت جو دنیا میں ہوتی ہے اور آخرت سے متصل ہے۔ اس سے مراد دین کی نعمت اور اس کی تکمیل کرنے والی چیزیں ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘ اس کے فضل کی وسعت بیان نہیں کی جاسکتی، بلکہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آسکتا۔ اس کا فضل و احسان وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک اس کا علم پہنچتا ہے۔ اے ہمارے رب! تیری رحمت اور تیرا علم ہر شے کو محیط ہے۔
آل عمران 3:70
چاہتا ہے ایک گروہ اہل کتاب میں سے کاش کہ وہ گمراہ کر دیں تمھیں، اور نہیں گمراہ کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں شعور رکھتے وہ(69) اے اہل کتاب! کیوں کفر کرتے ہو تم ساتھ اللہ کی آیتوں کے؟ حالانکہ تم (اس کی سچائی کی) گواہی دیتے ہو(70) اے اہل کتاب! کیوں خلط ملط کرتے ہو تم حق کو باطل کے ساتھ اور چھپاتے ہو تم حق کو حالانکہ تم جانتے ہو؟(71) اور کہا ایک گروہ نے اہل کتاب میں سے (اپنے لوگوں کو) ایمان لاؤ ساتھ اس چیز کے جو نازل کی گئی ہے اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائے، شروع دن میں اور کفر کرو دن کے آخری حصے میں، شاید کہ وہ (مسلمان بھی) پھر جائیں(72) اور نہ یقین کرو تم مگر اسی کا جو پیروکار ہے تمھارے دین کا، کہہ دیجیے، بلاشبہ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے، (اور نہ یہ مانو) کہ دیا جائے کوئی مثل اس کے جو تم دیے گئے یا (یہ کہ) وہ جھگڑیں گے تم سے (اور غالب آجائیں گے) تمھارے رب کے پاس، کہہ دیجیے، بے شک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جس کو چاہتا ہےاور اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے(73) خاص کرتا ہے وہ ساتھ اپنی رحمت کے جس کو چاہتا ہےاور اللہ صاحب فضل عظیم ہے(74)
[74-69] اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمھیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿وَدَّؔ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا ﴾(البقرۃ:2؍109) ’’اہل کتاب کے اکثر لوگ تمھیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں‘‘ اور جسے کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتاہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لیے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں‘‘ مومنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش خود ان کی گمراہی اور عذاب میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل:16؍88) ’’جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم ان کے عذاب میں عذاب کا اضافہ کردیں گے، کیونکہ وہ فساد کرتے تھے‘‘ ﴿ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور سمجھتے نہیں‘‘ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی کوشش خود انھی کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور وہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑ رہے۔﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَاَنۡتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ ﴾ ’’اے اہل کتاب! تم باوجود قائل ہونے کے پھر بھی اللہ کی آیات سے کیوں کفر کررہے ہو؟‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی آیات کا انکار کرنے پر کون سی چیز مجبور کرتی ہے حالانکہ تمھیں معلوم ہے کہ جس مذہب پر تم کاربند ہو، وہ باطل ہے اور محمدﷺجو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے، خود تمھیں بھی اس میں شک نہیں بلکہ تم اس کی گواہی دیتے ہو اور بعض اوقات ایک دوسرے کو خفیہ طورپر یہ بات بتا بھی دیتے ہو۔ اس طرح اللہ نے انھیں اس گمراہی سے روکا ہے۔ پھر دوسروں کو گمراہ کرنے پر انھیں زجروتوبیخ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کرتے ہو؟ اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟‘‘ اللہ نے انھیں حق و باطل کو خلط ملط کرنے اور حق کو چھپانے پر توبیخ کی ہے۔ کیونکہ ان دو طریقوں سے وہ اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جب علماء حق و باطل میں امتیاز نہ کریں، بلکہ معاملہ مبہم رہنے دیں، اور جس کو ظاہر کرنا ان کا فرض ہے، اسے چھپالیں، تو اس کا نتیجہ بہت برا نکلے گا کہ حق چھپ جائے گا اور باطل عام ہوجائے گا۔ اور جو عوام حق کے متلاشی ہوں گے، انھیں ہدایت نہیں ملے گی۔ حالانکہ اہل علم سے تو یہ مطلوب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق ظاہر کریں۔ اس کا اعلان کریں، حق کو باطل سے اور پاک کو ناپاک سے الگ کرکے واضح کردیں۔ حلال و حرام اور صحیح و غلط عقائد کو الگ الگ کردیں، تاکہ ہدایت یافتہ لوگ ہدایت پر قائم رہیں اور گمراہ حق کی طرف پلٹ آئیں او ر عناد کی وجہ سے انکار کرنے والوں پر اتمام حجت ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ۠ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُوۡنَهٗ١ٞ فَنَبَذُوۡهُ وَرَؔآءَؔ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾(آل عمران:3؍187) ’’جب اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ لیا جنھیں کتاب دی گئی تھی کہ اسے لوگوں کے لیے بیان کریں گے، اور چھپائیں گے نہیں، تو انھوں نے اس وعدے کو پس پشت ڈال دیا۔‘‘اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس خبیث جماعت کے ارادوں، اور مومنوں کے خلاف سازش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ ﴾ ’’اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا: جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیاہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ‘‘ یعنی صبح کے وقت مکر اور دھوکا کرتے ہوئے ایمان کا اظہار کرو۔ اور جب شام ہو تو اسلام سے نکل جاؤ۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ بھی (اپنے دین سے) پلٹ جائیں۔‘‘ پس وہ سوچیں گے اگر یہ دین صحیح ہوتا تو اہل کتاب جو اہل علم ہیں وہ اس سے نہ نکلتے۔ انھوں نے یہ چاہا، اپنے آپ کو اچھا سمجھتے اور یہ گمان کرتے ہوئے کہ لوگ ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے ان کے ہر قول و عمل میں ان کی پیروی کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کرکے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا۔ ﴿لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِـعَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’سوائے تمھارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو۔‘‘ یعنی تم صرف اپنے ہم مذہب افراد پر اعتماد کرنا، دوسروں سے اس بات کو چھپا کر رکھنا۔ اگر تم نے دوسرے مذہب والوں کو بتا دیا تو جو علم تمھیں حاصل ہے انھیں بھی حاصل ہوجائے گا، تو وہ تمھارے جیسے ہوجائیں گے یا قیامت کے دن تم سے بحث کریں گے اور رب کے پاس تمھارے خلاف گواہی دیں گے کہ تم پر حجت قائم ہوچکی تھی۔ اور تمھیں ہدایت معلوم ہوچکی تھی، لیکن تم نے اس کی اتباع نہیں کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم مومنوں کو نہیں بتائیں گے تو انھیں اس سازش کا بالکل علم نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ ان کے خیال میں علم صرف انھی کے پاس ہوسکتا ہے جس سے ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّ الۡهُدٰؔى هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے‘‘ لہٰذا ہر ہدایت یافتہ کو ہدایت اللہ ہی سے ملتی ہے۔ علم میں یا تو حق کو جاننا شامل ہے یا اسے اختیار کرنا۔ علم صرف وہی ہے جو اللہ کے رسول لائے ہیں اور توفیق صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ اہل کتاب کو علم بہت کم ملا ہے۔ اور توفیق سے وہ بالکل محروم ہیں کیونکہ ان کی نیتیں اور ارادے غلط ہیں۔ اس کے برعکس اس امت کو اللہ کی ہدایت کی وجہ سے علوم و معارف بھی حاصل ہوئے ہیں اور ان پر عمل کی توفیق بھی۔ اس وجہ سے وہ دوسروں سے افضل ہوگئے۔ لہٰذا وہی رہنما قرار پائے جو اللہ کے حکم کے مطابق ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ امت پر اللہ کا عظیم فضل و احسان ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، فضل تو اللہ ہی كے ہاتھ میں ہے۔‘‘ وہی اپنے بندوں پر ہر قسم کا احسان فرماتا ہے۔ ﴿يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ جسے چاہے اسے دے‘‘ جو اس کے اسباب اختیار کرے گا، اللہ اس کو اپنا فضل دے گا، ﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اوراللہ وسعت والا علم والا ہے‘‘ اس کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔ وہ جانتا ہے کون احسان کے قابل ہے، اسے وہ عطا فرماتا ہے اور کون اس کا مستحق نہیں، چنانچہ اسے محروم رکھتا ہے۔ ﴿ يَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کرلے‘‘ یعنی اس کی وہ مطلق رحمت جو دنیا میں ہوتی ہے اور آخرت سے متصل ہے۔ اس سے مراد دین کی نعمت اور اس کی تکمیل کرنے والی چیزیں ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘ اس کے فضل کی وسعت بیان نہیں کی جاسکتی، بلکہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آسکتا۔ اس کا فضل و احسان وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک اس کا علم پہنچتا ہے۔ اے ہمارے رب! تیری رحمت اور تیرا علم ہر شے کو محیط ہے۔
آل عمران 3:71
چاہتا ہے ایک گروہ اہل کتاب میں سے کاش کہ وہ گمراہ کر دیں تمھیں، اور نہیں گمراہ کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں شعور رکھتے وہ(69) اے اہل کتاب! کیوں کفر کرتے ہو تم ساتھ اللہ کی آیتوں کے؟ حالانکہ تم (اس کی سچائی کی) گواہی دیتے ہو(70) اے اہل کتاب! کیوں خلط ملط کرتے ہو تم حق کو باطل کے ساتھ اور چھپاتے ہو تم حق کو حالانکہ تم جانتے ہو؟(71) اور کہا ایک گروہ نے اہل کتاب میں سے (اپنے لوگوں کو) ایمان لاؤ ساتھ اس چیز کے جو نازل کی گئی ہے اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائے، شروع دن میں اور کفر کرو دن کے آخری حصے میں، شاید کہ وہ (مسلمان بھی) پھر جائیں(72) اور نہ یقین کرو تم مگر اسی کا جو پیروکار ہے تمھارے دین کا، کہہ دیجیے، بلاشبہ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے، (اور نہ یہ مانو) کہ دیا جائے کوئی مثل اس کے جو تم دیے گئے یا (یہ کہ) وہ جھگڑیں گے تم سے (اور غالب آجائیں گے) تمھارے رب کے پاس، کہہ دیجیے، بے شک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جس کو چاہتا ہےاور اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے(73) خاص کرتا ہے وہ ساتھ اپنی رحمت کے جس کو چاہتا ہےاور اللہ صاحب فضل عظیم ہے(74)
[74-69] اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمھیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿وَدَّؔ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا ﴾(البقرۃ:2؍109) ’’اہل کتاب کے اکثر لوگ تمھیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں‘‘ اور جسے کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتاہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لیے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں‘‘ مومنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش خود ان کی گمراہی اور عذاب میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل:16؍88) ’’جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم ان کے عذاب میں عذاب کا اضافہ کردیں گے، کیونکہ وہ فساد کرتے تھے‘‘ ﴿ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور سمجھتے نہیں‘‘ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی کوشش خود انھی کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور وہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑ رہے۔﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَاَنۡتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ ﴾ ’’اے اہل کتاب! تم باوجود قائل ہونے کے پھر بھی اللہ کی آیات سے کیوں کفر کررہے ہو؟‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی آیات کا انکار کرنے پر کون سی چیز مجبور کرتی ہے حالانکہ تمھیں معلوم ہے کہ جس مذہب پر تم کاربند ہو، وہ باطل ہے اور محمدﷺجو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے، خود تمھیں بھی اس میں شک نہیں بلکہ تم اس کی گواہی دیتے ہو اور بعض اوقات ایک دوسرے کو خفیہ طورپر یہ بات بتا بھی دیتے ہو۔ اس طرح اللہ نے انھیں اس گمراہی سے روکا ہے۔ پھر دوسروں کو گمراہ کرنے پر انھیں زجروتوبیخ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کرتے ہو؟ اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟‘‘ اللہ نے انھیں حق و باطل کو خلط ملط کرنے اور حق کو چھپانے پر توبیخ کی ہے۔ کیونکہ ان دو طریقوں سے وہ اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جب علماء حق و باطل میں امتیاز نہ کریں، بلکہ معاملہ مبہم رہنے دیں، اور جس کو ظاہر کرنا ان کا فرض ہے، اسے چھپالیں، تو اس کا نتیجہ بہت برا نکلے گا کہ حق چھپ جائے گا اور باطل عام ہوجائے گا۔ اور جو عوام حق کے متلاشی ہوں گے، انھیں ہدایت نہیں ملے گی۔ حالانکہ اہل علم سے تو یہ مطلوب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق ظاہر کریں۔ اس کا اعلان کریں، حق کو باطل سے اور پاک کو ناپاک سے الگ کرکے واضح کردیں۔ حلال و حرام اور صحیح و غلط عقائد کو الگ الگ کردیں، تاکہ ہدایت یافتہ لوگ ہدایت پر قائم رہیں اور گمراہ حق کی طرف پلٹ آئیں او ر عناد کی وجہ سے انکار کرنے والوں پر اتمام حجت ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ۠ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُوۡنَهٗ١ٞ فَنَبَذُوۡهُ وَرَؔآءَؔ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾(آل عمران:3؍187) ’’جب اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ لیا جنھیں کتاب دی گئی تھی کہ اسے لوگوں کے لیے بیان کریں گے، اور چھپائیں گے نہیں، تو انھوں نے اس وعدے کو پس پشت ڈال دیا۔‘‘اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس خبیث جماعت کے ارادوں، اور مومنوں کے خلاف سازش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ ﴾ ’’اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا: جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیاہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ‘‘ یعنی صبح کے وقت مکر اور دھوکا کرتے ہوئے ایمان کا اظہار کرو۔ اور جب شام ہو تو اسلام سے نکل جاؤ۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ بھی (اپنے دین سے) پلٹ جائیں۔‘‘ پس وہ سوچیں گے اگر یہ دین صحیح ہوتا تو اہل کتاب جو اہل علم ہیں وہ اس سے نہ نکلتے۔ انھوں نے یہ چاہا، اپنے آپ کو اچھا سمجھتے اور یہ گمان کرتے ہوئے کہ لوگ ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے ان کے ہر قول و عمل میں ان کی پیروی کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کرکے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا۔ ﴿لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِـعَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’سوائے تمھارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو۔‘‘ یعنی تم صرف اپنے ہم مذہب افراد پر اعتماد کرنا، دوسروں سے اس بات کو چھپا کر رکھنا۔ اگر تم نے دوسرے مذہب والوں کو بتا دیا تو جو علم تمھیں حاصل ہے انھیں بھی حاصل ہوجائے گا، تو وہ تمھارے جیسے ہوجائیں گے یا قیامت کے دن تم سے بحث کریں گے اور رب کے پاس تمھارے خلاف گواہی دیں گے کہ تم پر حجت قائم ہوچکی تھی۔ اور تمھیں ہدایت معلوم ہوچکی تھی، لیکن تم نے اس کی اتباع نہیں کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم مومنوں کو نہیں بتائیں گے تو انھیں اس سازش کا بالکل علم نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ ان کے خیال میں علم صرف انھی کے پاس ہوسکتا ہے جس سے ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّ الۡهُدٰؔى هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے‘‘ لہٰذا ہر ہدایت یافتہ کو ہدایت اللہ ہی سے ملتی ہے۔ علم میں یا تو حق کو جاننا شامل ہے یا اسے اختیار کرنا۔ علم صرف وہی ہے جو اللہ کے رسول لائے ہیں اور توفیق صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ اہل کتاب کو علم بہت کم ملا ہے۔ اور توفیق سے وہ بالکل محروم ہیں کیونکہ ان کی نیتیں اور ارادے غلط ہیں۔ اس کے برعکس اس امت کو اللہ کی ہدایت کی وجہ سے علوم و معارف بھی حاصل ہوئے ہیں اور ان پر عمل کی توفیق بھی۔ اس وجہ سے وہ دوسروں سے افضل ہوگئے۔ لہٰذا وہی رہنما قرار پائے جو اللہ کے حکم کے مطابق ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ امت پر اللہ کا عظیم فضل و احسان ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، فضل تو اللہ ہی كے ہاتھ میں ہے۔‘‘ وہی اپنے بندوں پر ہر قسم کا احسان فرماتا ہے۔ ﴿يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ جسے چاہے اسے دے‘‘ جو اس کے اسباب اختیار کرے گا، اللہ اس کو اپنا فضل دے گا، ﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اوراللہ وسعت والا علم والا ہے‘‘ اس کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔ وہ جانتا ہے کون احسان کے قابل ہے، اسے وہ عطا فرماتا ہے اور کون اس کا مستحق نہیں، چنانچہ اسے محروم رکھتا ہے۔ ﴿ يَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کرلے‘‘ یعنی اس کی وہ مطلق رحمت جو دنیا میں ہوتی ہے اور آخرت سے متصل ہے۔ اس سے مراد دین کی نعمت اور اس کی تکمیل کرنے والی چیزیں ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘ اس کے فضل کی وسعت بیان نہیں کی جاسکتی، بلکہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آسکتا۔ اس کا فضل و احسان وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک اس کا علم پہنچتا ہے۔ اے ہمارے رب! تیری رحمت اور تیرا علم ہر شے کو محیط ہے۔
آل عمران 3:72
چاہتا ہے ایک گروہ اہل کتاب میں سے کاش کہ وہ گمراہ کر دیں تمھیں، اور نہیں گمراہ کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں شعور رکھتے وہ(69) اے اہل کتاب! کیوں کفر کرتے ہو تم ساتھ اللہ کی آیتوں کے؟ حالانکہ تم (اس کی سچائی کی) گواہی دیتے ہو(70) اے اہل کتاب! کیوں خلط ملط کرتے ہو تم حق کو باطل کے ساتھ اور چھپاتے ہو تم حق کو حالانکہ تم جانتے ہو؟(71) اور کہا ایک گروہ نے اہل کتاب میں سے (اپنے لوگوں کو) ایمان لاؤ ساتھ اس چیز کے جو نازل کی گئی ہے اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائے، شروع دن میں اور کفر کرو دن کے آخری حصے میں، شاید کہ وہ (مسلمان بھی) پھر جائیں(72) اور نہ یقین کرو تم مگر اسی کا جو پیروکار ہے تمھارے دین کا، کہہ دیجیے، بلاشبہ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے، (اور نہ یہ مانو) کہ دیا جائے کوئی مثل اس کے جو تم دیے گئے یا (یہ کہ) وہ جھگڑیں گے تم سے (اور غالب آجائیں گے) تمھارے رب کے پاس، کہہ دیجیے، بے شک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جس کو چاہتا ہےاور اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے(73) خاص کرتا ہے وہ ساتھ اپنی رحمت کے جس کو چاہتا ہےاور اللہ صاحب فضل عظیم ہے(74)
[74-69] اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمھیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿وَدَّؔ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا ﴾(البقرۃ:2؍109) ’’اہل کتاب کے اکثر لوگ تمھیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں‘‘ اور جسے کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتاہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لیے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں‘‘ مومنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش خود ان کی گمراہی اور عذاب میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل:16؍88) ’’جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم ان کے عذاب میں عذاب کا اضافہ کردیں گے، کیونکہ وہ فساد کرتے تھے‘‘ ﴿ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور سمجھتے نہیں‘‘ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی کوشش خود انھی کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور وہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑ رہے۔﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَاَنۡتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ ﴾ ’’اے اہل کتاب! تم باوجود قائل ہونے کے پھر بھی اللہ کی آیات سے کیوں کفر کررہے ہو؟‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی آیات کا انکار کرنے پر کون سی چیز مجبور کرتی ہے حالانکہ تمھیں معلوم ہے کہ جس مذہب پر تم کاربند ہو، وہ باطل ہے اور محمدﷺجو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے، خود تمھیں بھی اس میں شک نہیں بلکہ تم اس کی گواہی دیتے ہو اور بعض اوقات ایک دوسرے کو خفیہ طورپر یہ بات بتا بھی دیتے ہو۔ اس طرح اللہ نے انھیں اس گمراہی سے روکا ہے۔ پھر دوسروں کو گمراہ کرنے پر انھیں زجروتوبیخ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کرتے ہو؟ اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟‘‘ اللہ نے انھیں حق و باطل کو خلط ملط کرنے اور حق کو چھپانے پر توبیخ کی ہے۔ کیونکہ ان دو طریقوں سے وہ اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جب علماء حق و باطل میں امتیاز نہ کریں، بلکہ معاملہ مبہم رہنے دیں، اور جس کو ظاہر کرنا ان کا فرض ہے، اسے چھپالیں، تو اس کا نتیجہ بہت برا نکلے گا کہ حق چھپ جائے گا اور باطل عام ہوجائے گا۔ اور جو عوام حق کے متلاشی ہوں گے، انھیں ہدایت نہیں ملے گی۔ حالانکہ اہل علم سے تو یہ مطلوب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق ظاہر کریں۔ اس کا اعلان کریں، حق کو باطل سے اور پاک کو ناپاک سے الگ کرکے واضح کردیں۔ حلال و حرام اور صحیح و غلط عقائد کو الگ الگ کردیں، تاکہ ہدایت یافتہ لوگ ہدایت پر قائم رہیں اور گمراہ حق کی طرف پلٹ آئیں او ر عناد کی وجہ سے انکار کرنے والوں پر اتمام حجت ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ۠ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُوۡنَهٗ١ٞ فَنَبَذُوۡهُ وَرَؔآءَؔ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾(آل عمران:3؍187) ’’جب اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ لیا جنھیں کتاب دی گئی تھی کہ اسے لوگوں کے لیے بیان کریں گے، اور چھپائیں گے نہیں، تو انھوں نے اس وعدے کو پس پشت ڈال دیا۔‘‘اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس خبیث جماعت کے ارادوں، اور مومنوں کے خلاف سازش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ ﴾ ’’اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا: جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیاہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ‘‘ یعنی صبح کے وقت مکر اور دھوکا کرتے ہوئے ایمان کا اظہار کرو۔ اور جب شام ہو تو اسلام سے نکل جاؤ۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ بھی (اپنے دین سے) پلٹ جائیں۔‘‘ پس وہ سوچیں گے اگر یہ دین صحیح ہوتا تو اہل کتاب جو اہل علم ہیں وہ اس سے نہ نکلتے۔ انھوں نے یہ چاہا، اپنے آپ کو اچھا سمجھتے اور یہ گمان کرتے ہوئے کہ لوگ ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے ان کے ہر قول و عمل میں ان کی پیروی کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کرکے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا۔ ﴿لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِـعَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’سوائے تمھارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو۔‘‘ یعنی تم صرف اپنے ہم مذہب افراد پر اعتماد کرنا، دوسروں سے اس بات کو چھپا کر رکھنا۔ اگر تم نے دوسرے مذہب والوں کو بتا دیا تو جو علم تمھیں حاصل ہے انھیں بھی حاصل ہوجائے گا، تو وہ تمھارے جیسے ہوجائیں گے یا قیامت کے دن تم سے بحث کریں گے اور رب کے پاس تمھارے خلاف گواہی دیں گے کہ تم پر حجت قائم ہوچکی تھی۔ اور تمھیں ہدایت معلوم ہوچکی تھی، لیکن تم نے اس کی اتباع نہیں کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم مومنوں کو نہیں بتائیں گے تو انھیں اس سازش کا بالکل علم نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ ان کے خیال میں علم صرف انھی کے پاس ہوسکتا ہے جس سے ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّ الۡهُدٰؔى هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے‘‘ لہٰذا ہر ہدایت یافتہ کو ہدایت اللہ ہی سے ملتی ہے۔ علم میں یا تو حق کو جاننا شامل ہے یا اسے اختیار کرنا۔ علم صرف وہی ہے جو اللہ کے رسول لائے ہیں اور توفیق صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ اہل کتاب کو علم بہت کم ملا ہے۔ اور توفیق سے وہ بالکل محروم ہیں کیونکہ ان کی نیتیں اور ارادے غلط ہیں۔ اس کے برعکس اس امت کو اللہ کی ہدایت کی وجہ سے علوم و معارف بھی حاصل ہوئے ہیں اور ان پر عمل کی توفیق بھی۔ اس وجہ سے وہ دوسروں سے افضل ہوگئے۔ لہٰذا وہی رہنما قرار پائے جو اللہ کے حکم کے مطابق ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ امت پر اللہ کا عظیم فضل و احسان ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، فضل تو اللہ ہی كے ہاتھ میں ہے۔‘‘ وہی اپنے بندوں پر ہر قسم کا احسان فرماتا ہے۔ ﴿يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ جسے چاہے اسے دے‘‘ جو اس کے اسباب اختیار کرے گا، اللہ اس کو اپنا فضل دے گا، ﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اوراللہ وسعت والا علم والا ہے‘‘ اس کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔ وہ جانتا ہے کون احسان کے قابل ہے، اسے وہ عطا فرماتا ہے اور کون اس کا مستحق نہیں، چنانچہ اسے محروم رکھتا ہے۔ ﴿ يَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کرلے‘‘ یعنی اس کی وہ مطلق رحمت جو دنیا میں ہوتی ہے اور آخرت سے متصل ہے۔ اس سے مراد دین کی نعمت اور اس کی تکمیل کرنے والی چیزیں ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘ اس کے فضل کی وسعت بیان نہیں کی جاسکتی، بلکہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آسکتا۔ اس کا فضل و احسان وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک اس کا علم پہنچتا ہے۔ اے ہمارے رب! تیری رحمت اور تیرا علم ہر شے کو محیط ہے۔
آل عمران 3:73
چاہتا ہے ایک گروہ اہل کتاب میں سے کاش کہ وہ گمراہ کر دیں تمھیں، اور نہیں گمراہ کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں شعور رکھتے وہ(69) اے اہل کتاب! کیوں کفر کرتے ہو تم ساتھ اللہ کی آیتوں کے؟ حالانکہ تم (اس کی سچائی کی) گواہی دیتے ہو(70) اے اہل کتاب! کیوں خلط ملط کرتے ہو تم حق کو باطل کے ساتھ اور چھپاتے ہو تم حق کو حالانکہ تم جانتے ہو؟(71) اور کہا ایک گروہ نے اہل کتاب میں سے (اپنے لوگوں کو) ایمان لاؤ ساتھ اس چیز کے جو نازل کی گئی ہے اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائے، شروع دن میں اور کفر کرو دن کے آخری حصے میں، شاید کہ وہ (مسلمان بھی) پھر جائیں(72) اور نہ یقین کرو تم مگر اسی کا جو پیروکار ہے تمھارے دین کا، کہہ دیجیے، بلاشبہ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے، (اور نہ یہ مانو) کہ دیا جائے کوئی مثل اس کے جو تم دیے گئے یا (یہ کہ) وہ جھگڑیں گے تم سے (اور غالب آجائیں گے) تمھارے رب کے پاس، کہہ دیجیے، بے شک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جس کو چاہتا ہےاور اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے(73) خاص کرتا ہے وہ ساتھ اپنی رحمت کے جس کو چاہتا ہےاور اللہ صاحب فضل عظیم ہے(74)
[74-69] اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمھیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿وَدَّؔ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا ﴾(البقرۃ:2؍109) ’’اہل کتاب کے اکثر لوگ تمھیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں‘‘ اور جسے کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتاہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لیے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں‘‘ مومنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش خود ان کی گمراہی اور عذاب میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل:16؍88) ’’جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم ان کے عذاب میں عذاب کا اضافہ کردیں گے، کیونکہ وہ فساد کرتے تھے‘‘ ﴿ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور سمجھتے نہیں‘‘ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی کوشش خود انھی کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور وہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑ رہے۔﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَاَنۡتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ ﴾ ’’اے اہل کتاب! تم باوجود قائل ہونے کے پھر بھی اللہ کی آیات سے کیوں کفر کررہے ہو؟‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی آیات کا انکار کرنے پر کون سی چیز مجبور کرتی ہے حالانکہ تمھیں معلوم ہے کہ جس مذہب پر تم کاربند ہو، وہ باطل ہے اور محمدﷺجو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے، خود تمھیں بھی اس میں شک نہیں بلکہ تم اس کی گواہی دیتے ہو اور بعض اوقات ایک دوسرے کو خفیہ طورپر یہ بات بتا بھی دیتے ہو۔ اس طرح اللہ نے انھیں اس گمراہی سے روکا ہے۔ پھر دوسروں کو گمراہ کرنے پر انھیں زجروتوبیخ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کرتے ہو؟ اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟‘‘ اللہ نے انھیں حق و باطل کو خلط ملط کرنے اور حق کو چھپانے پر توبیخ کی ہے۔ کیونکہ ان دو طریقوں سے وہ اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جب علماء حق و باطل میں امتیاز نہ کریں، بلکہ معاملہ مبہم رہنے دیں، اور جس کو ظاہر کرنا ان کا فرض ہے، اسے چھپالیں، تو اس کا نتیجہ بہت برا نکلے گا کہ حق چھپ جائے گا اور باطل عام ہوجائے گا۔ اور جو عوام حق کے متلاشی ہوں گے، انھیں ہدایت نہیں ملے گی۔ حالانکہ اہل علم سے تو یہ مطلوب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق ظاہر کریں۔ اس کا اعلان کریں، حق کو باطل سے اور پاک کو ناپاک سے الگ کرکے واضح کردیں۔ حلال و حرام اور صحیح و غلط عقائد کو الگ الگ کردیں، تاکہ ہدایت یافتہ لوگ ہدایت پر قائم رہیں اور گمراہ حق کی طرف پلٹ آئیں او ر عناد کی وجہ سے انکار کرنے والوں پر اتمام حجت ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ۠ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُوۡنَهٗ١ٞ فَنَبَذُوۡهُ وَرَؔآءَؔ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾(آل عمران:3؍187) ’’جب اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ لیا جنھیں کتاب دی گئی تھی کہ اسے لوگوں کے لیے بیان کریں گے، اور چھپائیں گے نہیں، تو انھوں نے اس وعدے کو پس پشت ڈال دیا۔‘‘اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس خبیث جماعت کے ارادوں، اور مومنوں کے خلاف سازش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ ﴾ ’’اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا: جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیاہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ‘‘ یعنی صبح کے وقت مکر اور دھوکا کرتے ہوئے ایمان کا اظہار کرو۔ اور جب شام ہو تو اسلام سے نکل جاؤ۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ بھی (اپنے دین سے) پلٹ جائیں۔‘‘ پس وہ سوچیں گے اگر یہ دین صحیح ہوتا تو اہل کتاب جو اہل علم ہیں وہ اس سے نہ نکلتے۔ انھوں نے یہ چاہا، اپنے آپ کو اچھا سمجھتے اور یہ گمان کرتے ہوئے کہ لوگ ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے ان کے ہر قول و عمل میں ان کی پیروی کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کرکے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا۔ ﴿لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِـعَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’سوائے تمھارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو۔‘‘ یعنی تم صرف اپنے ہم مذہب افراد پر اعتماد کرنا، دوسروں سے اس بات کو چھپا کر رکھنا۔ اگر تم نے دوسرے مذہب والوں کو بتا دیا تو جو علم تمھیں حاصل ہے انھیں بھی حاصل ہوجائے گا، تو وہ تمھارے جیسے ہوجائیں گے یا قیامت کے دن تم سے بحث کریں گے اور رب کے پاس تمھارے خلاف گواہی دیں گے کہ تم پر حجت قائم ہوچکی تھی۔ اور تمھیں ہدایت معلوم ہوچکی تھی، لیکن تم نے اس کی اتباع نہیں کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم مومنوں کو نہیں بتائیں گے تو انھیں اس سازش کا بالکل علم نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ ان کے خیال میں علم صرف انھی کے پاس ہوسکتا ہے جس سے ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّ الۡهُدٰؔى هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے‘‘ لہٰذا ہر ہدایت یافتہ کو ہدایت اللہ ہی سے ملتی ہے۔ علم میں یا تو حق کو جاننا شامل ہے یا اسے اختیار کرنا۔ علم صرف وہی ہے جو اللہ کے رسول لائے ہیں اور توفیق صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ اہل کتاب کو علم بہت کم ملا ہے۔ اور توفیق سے وہ بالکل محروم ہیں کیونکہ ان کی نیتیں اور ارادے غلط ہیں۔ اس کے برعکس اس امت کو اللہ کی ہدایت کی وجہ سے علوم و معارف بھی حاصل ہوئے ہیں اور ان پر عمل کی توفیق بھی۔ اس وجہ سے وہ دوسروں سے افضل ہوگئے۔ لہٰذا وہی رہنما قرار پائے جو اللہ کے حکم کے مطابق ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ امت پر اللہ کا عظیم فضل و احسان ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، فضل تو اللہ ہی كے ہاتھ میں ہے۔‘‘ وہی اپنے بندوں پر ہر قسم کا احسان فرماتا ہے۔ ﴿يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ جسے چاہے اسے دے‘‘ جو اس کے اسباب اختیار کرے گا، اللہ اس کو اپنا فضل دے گا، ﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اوراللہ وسعت والا علم والا ہے‘‘ اس کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔ وہ جانتا ہے کون احسان کے قابل ہے، اسے وہ عطا فرماتا ہے اور کون اس کا مستحق نہیں، چنانچہ اسے محروم رکھتا ہے۔ ﴿ يَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کرلے‘‘ یعنی اس کی وہ مطلق رحمت جو دنیا میں ہوتی ہے اور آخرت سے متصل ہے۔ اس سے مراد دین کی نعمت اور اس کی تکمیل کرنے والی چیزیں ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘ اس کے فضل کی وسعت بیان نہیں کی جاسکتی، بلکہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آسکتا۔ اس کا فضل و احسان وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک اس کا علم پہنچتا ہے۔ اے ہمارے رب! تیری رحمت اور تیرا علم ہر شے کو محیط ہے۔
آل عمران 3:74
چاہتا ہے ایک گروہ اہل کتاب میں سے کاش کہ وہ گمراہ کر دیں تمھیں، اور نہیں گمراہ کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں شعور رکھتے وہ(69) اے اہل کتاب! کیوں کفر کرتے ہو تم ساتھ اللہ کی آیتوں کے؟ حالانکہ تم (اس کی سچائی کی) گواہی دیتے ہو(70) اے اہل کتاب! کیوں خلط ملط کرتے ہو تم حق کو باطل کے ساتھ اور چھپاتے ہو تم حق کو حالانکہ تم جانتے ہو؟(71) اور کہا ایک گروہ نے اہل کتاب میں سے (اپنے لوگوں کو) ایمان لاؤ ساتھ اس چیز کے جو نازل کی گئی ہے اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائے، شروع دن میں اور کفر کرو دن کے آخری حصے میں، شاید کہ وہ (مسلمان بھی) پھر جائیں(72) اور نہ یقین کرو تم مگر اسی کا جو پیروکار ہے تمھارے دین کا، کہہ دیجیے، بلاشبہ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے، (اور نہ یہ مانو) کہ دیا جائے کوئی مثل اس کے جو تم دیے گئے یا (یہ کہ) وہ جھگڑیں گے تم سے (اور غالب آجائیں گے) تمھارے رب کے پاس، کہہ دیجیے، بے شک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جس کو چاہتا ہےاور اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے(73) خاص کرتا ہے وہ ساتھ اپنی رحمت کے جس کو چاہتا ہےاور اللہ صاحب فضل عظیم ہے(74)
[74-69] اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمھیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿وَدَّؔ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا ﴾(البقرۃ:2؍109) ’’اہل کتاب کے اکثر لوگ تمھیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں‘‘ اور جسے کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتاہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لیے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں‘‘ مومنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش خود ان کی گمراہی اور عذاب میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل:16؍88) ’’جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم ان کے عذاب میں عذاب کا اضافہ کردیں گے، کیونکہ وہ فساد کرتے تھے‘‘ ﴿ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور سمجھتے نہیں‘‘ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی کوشش خود انھی کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور وہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑ رہے۔﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَاَنۡتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ ﴾ ’’اے اہل کتاب! تم باوجود قائل ہونے کے پھر بھی اللہ کی آیات سے کیوں کفر کررہے ہو؟‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی آیات کا انکار کرنے پر کون سی چیز مجبور کرتی ہے حالانکہ تمھیں معلوم ہے کہ جس مذہب پر تم کاربند ہو، وہ باطل ہے اور محمدﷺجو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے، خود تمھیں بھی اس میں شک نہیں بلکہ تم اس کی گواہی دیتے ہو اور بعض اوقات ایک دوسرے کو خفیہ طورپر یہ بات بتا بھی دیتے ہو۔ اس طرح اللہ نے انھیں اس گمراہی سے روکا ہے۔ پھر دوسروں کو گمراہ کرنے پر انھیں زجروتوبیخ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کرتے ہو؟ اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟‘‘ اللہ نے انھیں حق و باطل کو خلط ملط کرنے اور حق کو چھپانے پر توبیخ کی ہے۔ کیونکہ ان دو طریقوں سے وہ اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جب علماء حق و باطل میں امتیاز نہ کریں، بلکہ معاملہ مبہم رہنے دیں، اور جس کو ظاہر کرنا ان کا فرض ہے، اسے چھپالیں، تو اس کا نتیجہ بہت برا نکلے گا کہ حق چھپ جائے گا اور باطل عام ہوجائے گا۔ اور جو عوام حق کے متلاشی ہوں گے، انھیں ہدایت نہیں ملے گی۔ حالانکہ اہل علم سے تو یہ مطلوب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق ظاہر کریں۔ اس کا اعلان کریں، حق کو باطل سے اور پاک کو ناپاک سے الگ کرکے واضح کردیں۔ حلال و حرام اور صحیح و غلط عقائد کو الگ الگ کردیں، تاکہ ہدایت یافتہ لوگ ہدایت پر قائم رہیں اور گمراہ حق کی طرف پلٹ آئیں او ر عناد کی وجہ سے انکار کرنے والوں پر اتمام حجت ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ۠ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُوۡنَهٗ١ٞ فَنَبَذُوۡهُ وَرَؔآءَؔ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾(آل عمران:3؍187) ’’جب اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ لیا جنھیں کتاب دی گئی تھی کہ اسے لوگوں کے لیے بیان کریں گے، اور چھپائیں گے نہیں، تو انھوں نے اس وعدے کو پس پشت ڈال دیا۔‘‘اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس خبیث جماعت کے ارادوں، اور مومنوں کے خلاف سازش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ ﴾ ’’اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا: جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیاہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ‘‘ یعنی صبح کے وقت مکر اور دھوکا کرتے ہوئے ایمان کا اظہار کرو۔ اور جب شام ہو تو اسلام سے نکل جاؤ۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ بھی (اپنے دین سے) پلٹ جائیں۔‘‘ پس وہ سوچیں گے اگر یہ دین صحیح ہوتا تو اہل کتاب جو اہل علم ہیں وہ اس سے نہ نکلتے۔ انھوں نے یہ چاہا، اپنے آپ کو اچھا سمجھتے اور یہ گمان کرتے ہوئے کہ لوگ ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے ان کے ہر قول و عمل میں ان کی پیروی کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کرکے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا۔ ﴿لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِـعَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’سوائے تمھارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو۔‘‘ یعنی تم صرف اپنے ہم مذہب افراد پر اعتماد کرنا، دوسروں سے اس بات کو چھپا کر رکھنا۔ اگر تم نے دوسرے مذہب والوں کو بتا دیا تو جو علم تمھیں حاصل ہے انھیں بھی حاصل ہوجائے گا، تو وہ تمھارے جیسے ہوجائیں گے یا قیامت کے دن تم سے بحث کریں گے اور رب کے پاس تمھارے خلاف گواہی دیں گے کہ تم پر حجت قائم ہوچکی تھی۔ اور تمھیں ہدایت معلوم ہوچکی تھی، لیکن تم نے اس کی اتباع نہیں کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم مومنوں کو نہیں بتائیں گے تو انھیں اس سازش کا بالکل علم نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ ان کے خیال میں علم صرف انھی کے پاس ہوسکتا ہے جس سے ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّ الۡهُدٰؔى هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے‘‘ لہٰذا ہر ہدایت یافتہ کو ہدایت اللہ ہی سے ملتی ہے۔ علم میں یا تو حق کو جاننا شامل ہے یا اسے اختیار کرنا۔ علم صرف وہی ہے جو اللہ کے رسول لائے ہیں اور توفیق صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ اہل کتاب کو علم بہت کم ملا ہے۔ اور توفیق سے وہ بالکل محروم ہیں کیونکہ ان کی نیتیں اور ارادے غلط ہیں۔ اس کے برعکس اس امت کو اللہ کی ہدایت کی وجہ سے علوم و معارف بھی حاصل ہوئے ہیں اور ان پر عمل کی توفیق بھی۔ اس وجہ سے وہ دوسروں سے افضل ہوگئے۔ لہٰذا وہی رہنما قرار پائے جو اللہ کے حکم کے مطابق ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ امت پر اللہ کا عظیم فضل و احسان ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، فضل تو اللہ ہی كے ہاتھ میں ہے۔‘‘ وہی اپنے بندوں پر ہر قسم کا احسان فرماتا ہے۔ ﴿يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ جسے چاہے اسے دے‘‘ جو اس کے اسباب اختیار کرے گا، اللہ اس کو اپنا فضل دے گا، ﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اوراللہ وسعت والا علم والا ہے‘‘ اس کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔ وہ جانتا ہے کون احسان کے قابل ہے، اسے وہ عطا فرماتا ہے اور کون اس کا مستحق نہیں، چنانچہ اسے محروم رکھتا ہے۔ ﴿ يَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کرلے‘‘ یعنی اس کی وہ مطلق رحمت جو دنیا میں ہوتی ہے اور آخرت سے متصل ہے۔ اس سے مراد دین کی نعمت اور اس کی تکمیل کرنے والی چیزیں ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘ اس کے فضل کی وسعت بیان نہیں کی جاسکتی، بلکہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آسکتا۔ اس کا فضل و احسان وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک اس کا علم پہنچتا ہے۔ اے ہمارے رب! تیری رحمت اور تیرا علم ہر شے کو محیط ہے۔
آل عمران 3:75
اور بعض اہل کتاب میں سے وہ ہیں کہ اگر آپ امانت رکھیں ان کے پاس ایک ڈھیر(سونے چاندی کا) تو بھی وہ ادا کر دیں گے آپ کو،اور بعض ان میں سے وہ ہیں کہ اگر آپ امانت رکھیں ان کے پاس ایک دینار، تو نہیں ادا کریں گے وہ آپ کو، مگر (یہ کہ) آپ ہمیشہ رہیں ان (کے سر) پر کھڑے، یہ بہ سبب اس کے کہ بے شک انھوں نے کہا، نہیں ہے ہم پر امیوں (عربوں) کے بارے میں کوئی گناہ اور کہتے ہیں وہ اللہ پر جھوٹ اور وہ جانتے ہیں(75) کیوں نہیں؟ جو شخص پورا کرے اپنا عہداور (اللہ سے) ڈرے، تو بلاشبہ اللہ محبت کرتا ہے متقی لوگوں سے(76)
[75] اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے بارے میں بیان فرما رہا ہے کہ مالوں میں ان کی دیانت اور بددیانتی کا کیا حال ہے۔ جب دین کے بارے میں ان کی خیانت، مکر اور حق کو چھپانے کا ذکر فرمایا تو اس کے بعد بتایا کہ ان میں سے خائن بھی ہیں اور دیانت دار بھی۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ ﴿ مَنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡهُ بِقِنۡطَارٍ ﴾ ’’تو اگر انھیں خزانے کا (یعنی بہت زیادہ مال کا) امین بنا دے۔‘‘ ﴿ يُّؤَدِّهٖۤ ﴾ ’’تو بھی وہ تجھے واپس کردیں۔‘‘ اور اس سے کم تر تو بالاولیٰ واپس کریں گے، اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ ﴿مَّنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡهُ بِدِيۡنَارٍ لَّا يُؤَدِّهٖۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اگر تو انھیں ایک دینار بھی امانت دے تو تجھے ادا نہ کریں۔‘‘ اور بڑی رقم ادا کرنے سے تو بالاولیٰ انکار کریں گے۔ انھیں خیانت اور بے وفائی کی عادت اس لیے ہوئی کہ ان کے خیال کے مطابق ﴿ لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِي الۡاُمِّيّٖنَ سَبِيۡلٌ ﴾ ’’ان پر جاہلوں کے حق میں کوئی گناہ نہیں۔‘‘ یعنی اگر وہ (الْاُمِّیّٖنَ) ’’ان پڑھ عربوں‘‘ کے مال واپس نہ کریں تو انھیں گناہ نہیں ہوگا۔ وہ اپنی فاسد رائے کی بنا پر انھیں انتہائی حقیر سمجھتے ہیں اور خود کو انتہائی عظمت والے تصور کرتے ہیں، حالانکہ اصل میں حقیر اور ذلیل وہ خود ہیں۔ پس انھوں نے (الْاُمِّیّٖنَ) کے مال کی حرمت کو نہ سمجھا اور اسے انھوں نے اپنے لیے جائز قرار دے لیا۔ اس طرح وہ دو گناہوں کے مرتکب ہوئے۔ حرام کھانا اور حرام خوری کو حلال سمجھنا۔ یہ عقیدہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ جو عالم حرام اشیاء کو حلال کہتا ہے، وہ گویا لوگوں کو اللہ کا حکم سناتا ہے، اپنی بات نہیں سناتا۔ جب کہ اللہ کا یہ حکم نہیں اور اسی کو جھوٹ کہتے ہیں۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ باوجود جاننے کے اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں‘‘ یہ گناہ بغیر جانے بوجھے اللہ کے بارے میں باتیں بتانے سے بھی بڑا گناہ ہے۔
[76] پھر اللہ نے ان کے غلط خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلٰى ﴾ یعنی حقیقت وہ نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ تمھیں جاہلوں کے حق کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تمھیں اس جرم کا سخت گناہ ہوگا۔ ﴿ مَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ وَاتَّقٰى ﴾ ’’جو شخص اپنا قرار پورا کرے اور پرہیز گاری کرے۔‘‘ اس عہد و قرار میں وہ وعدہ بھی شامل ہے جو بندے اور رب کے درمیان ہے۔ اس میں اللہ کے وہ تمام حق شامل ہیں جو اس نے بندے پر واجب کیے ہیں۔ اور وہ وعدہ بھی شامل ہے جو بندے کا دوسرے بندوں سے ہوتا ہے۔ اس مقام پر عہد و پیمان سے مراد ان گناہوں سے بچنا ہے جو حقوق اللہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سے بھی جو حقوق العباد سے متعلق ہیں۔ جو شخص ان سب گناہوں سے بچتا ہے وہ متقی ہے جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے خواہ وہ (الْاُمِّیّٖنَ)(عرب ان پڑھ لوگوں) میں سے ہو یا دوسروں میں سے ہو اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہمیں جاہلوں کے حق کا کوئی گناہ نہیں، اس نے اللہ کا وعدہ پورا نہیں کیا، اور اللہ سے نہیں ڈرا۔ لہٰذا اسے اللہ کی محبت حاصل نہیں ہوئی، بلکہ اللہ اس سے بغض رکھتا ہے۔ اگر ان پڑھ ایفائے عہد، تقویٰ اور مالی خیانت سے پرہیز سے متصف ہوں گے تو وہی اللہ کے پیارے ہوں گے۔ وہی متقی کہلائیں گے جن کے لیے جنت تیار کی گئی ہے۔ وہ اللہ کی مخلوق میں افضل مقام پر فائز ہوں گے۔
آل عمران 3:76
اور بعض اہل کتاب میں سے وہ ہیں کہ اگر آپ امانت رکھیں ان کے پاس ایک ڈھیر(سونے چاندی کا) تو بھی وہ ادا کر دیں گے آپ کو،اور بعض ان میں سے وہ ہیں کہ اگر آپ امانت رکھیں ان کے پاس ایک دینار، تو نہیں ادا کریں گے وہ آپ کو، مگر (یہ کہ) آپ ہمیشہ رہیں ان (کے سر) پر کھڑے، یہ بہ سبب اس کے کہ بے شک انھوں نے کہا، نہیں ہے ہم پر امیوں (عربوں) کے بارے میں کوئی گناہ اور کہتے ہیں وہ اللہ پر جھوٹ اور وہ جانتے ہیں(75) کیوں نہیں؟ جو شخص پورا کرے اپنا عہداور (اللہ سے) ڈرے، تو بلاشبہ اللہ محبت کرتا ہے متقی لوگوں سے(76)
[75] اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے بارے میں بیان فرما رہا ہے کہ مالوں میں ان کی دیانت اور بددیانتی کا کیا حال ہے۔ جب دین کے بارے میں ان کی خیانت، مکر اور حق کو چھپانے کا ذکر فرمایا تو اس کے بعد بتایا کہ ان میں سے خائن بھی ہیں اور دیانت دار بھی۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ ﴿ مَنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡهُ بِقِنۡطَارٍ ﴾ ’’تو اگر انھیں خزانے کا (یعنی بہت زیادہ مال کا) امین بنا دے۔‘‘ ﴿ يُّؤَدِّهٖۤ ﴾ ’’تو بھی وہ تجھے واپس کردیں۔‘‘ اور اس سے کم تر تو بالاولیٰ واپس کریں گے، اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ ﴿مَّنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡهُ بِدِيۡنَارٍ لَّا يُؤَدِّهٖۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اگر تو انھیں ایک دینار بھی امانت دے تو تجھے ادا نہ کریں۔‘‘ اور بڑی رقم ادا کرنے سے تو بالاولیٰ انکار کریں گے۔ انھیں خیانت اور بے وفائی کی عادت اس لیے ہوئی کہ ان کے خیال کے مطابق ﴿ لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِي الۡاُمِّيّٖنَ سَبِيۡلٌ ﴾ ’’ان پر جاہلوں کے حق میں کوئی گناہ نہیں۔‘‘ یعنی اگر وہ (الْاُمِّیّٖنَ) ’’ان پڑھ عربوں‘‘ کے مال واپس نہ کریں تو انھیں گناہ نہیں ہوگا۔ وہ اپنی فاسد رائے کی بنا پر انھیں انتہائی حقیر سمجھتے ہیں اور خود کو انتہائی عظمت والے تصور کرتے ہیں، حالانکہ اصل میں حقیر اور ذلیل وہ خود ہیں۔ پس انھوں نے (الْاُمِّیّٖنَ) کے مال کی حرمت کو نہ سمجھا اور اسے انھوں نے اپنے لیے جائز قرار دے لیا۔ اس طرح وہ دو گناہوں کے مرتکب ہوئے۔ حرام کھانا اور حرام خوری کو حلال سمجھنا۔ یہ عقیدہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ جو عالم حرام اشیاء کو حلال کہتا ہے، وہ گویا لوگوں کو اللہ کا حکم سناتا ہے، اپنی بات نہیں سناتا۔ جب کہ اللہ کا یہ حکم نہیں اور اسی کو جھوٹ کہتے ہیں۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ باوجود جاننے کے اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں‘‘ یہ گناہ بغیر جانے بوجھے اللہ کے بارے میں باتیں بتانے سے بھی بڑا گناہ ہے۔
[76] پھر اللہ نے ان کے غلط خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلٰى ﴾ یعنی حقیقت وہ نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ تمھیں جاہلوں کے حق کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تمھیں اس جرم کا سخت گناہ ہوگا۔ ﴿ مَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ وَاتَّقٰى ﴾ ’’جو شخص اپنا قرار پورا کرے اور پرہیز گاری کرے۔‘‘ اس عہد و قرار میں وہ وعدہ بھی شامل ہے جو بندے اور رب کے درمیان ہے۔ اس میں اللہ کے وہ تمام حق شامل ہیں جو اس نے بندے پر واجب کیے ہیں۔ اور وہ وعدہ بھی شامل ہے جو بندے کا دوسرے بندوں سے ہوتا ہے۔ اس مقام پر عہد و پیمان سے مراد ان گناہوں سے بچنا ہے جو حقوق اللہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سے بھی جو حقوق العباد سے متعلق ہیں۔ جو شخص ان سب گناہوں سے بچتا ہے وہ متقی ہے جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے خواہ وہ (الْاُمِّیّٖنَ)(عرب ان پڑھ لوگوں) میں سے ہو یا دوسروں میں سے ہو اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہمیں جاہلوں کے حق کا کوئی گناہ نہیں، اس نے اللہ کا وعدہ پورا نہیں کیا، اور اللہ سے نہیں ڈرا۔ لہٰذا اسے اللہ کی محبت حاصل نہیں ہوئی، بلکہ اللہ اس سے بغض رکھتا ہے۔ اگر ان پڑھ ایفائے عہد، تقویٰ اور مالی خیانت سے پرہیز سے متصف ہوں گے تو وہی اللہ کے پیارے ہوں گے۔ وہی متقی کہلائیں گے جن کے لیے جنت تیار کی گئی ہے۔ وہ اللہ کی مخلوق میں افضل مقام پر فائز ہوں گے۔
آل عمران 3:77
بے شک وہ لوگ جو خریدتے (لیتے) ہیں اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض قیمت تھوڑی سی، یہی وہ لوگ ہیں کہ نہیں ہے کوئی حصہ ان کے لیے آخرت میں، اور نہ کلام کرے گا ان سے اللہ اور نہ دیکھے گا ان کی طرف (نظر رحمت سے) دن قیامت کے،اور نہ پاک کرے گا ان کو،اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(77)
[77] لیکن جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں جاہلوں کی حق تلفی کرنے سے گناہ نہیں ہوتا وہ اللہ کے اس قول میں داخل ہوتے ہیں: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَشۡتَرُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ وَاَيۡمَانِهِمۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾ ’’بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں۔‘‘ اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جو اللہ کی یا بندوں کی حق تلفی کرکے اس کے عوض دنیا کی کوئی چیز لیتا ہے۔ اسی طرح جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ناجائز طورپر لے لیتا ہے، وہ بھی اس آیت میں شامل ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں ارشاد ہے:﴿ لَا خَلَاقَ لَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘ یعنی وہاں انھیں کوئی بھلائی اور خیر حاصل نہیں ہوگی۔ ﴿وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اللہ ان سے بات نہیں کرے گا‘‘ یعنی قیامت کے دن ان سے ناراض ہوگا اس لیے ان سے کلام نہیں کرے گا۔ کیونکہ انھوں نے خواہش نفس کو رب کی رضا سے مقدم سمجھا ہے۔ ﴿ وَلَا يُزَؔكِّيۡهِمۡ ﴾ ’’اور نہ انھیں پاک کرے گا‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں گناہوں سے پاک نہیں کرے گا، ان کے عیب زائل نہیں کرے گا۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ جس سے دلوں کو بھی تکلیف ہوگی اور بدنوں کو بھی۔ وہ ہے ناراضی کا عذاب دیدار الٰہی سے محرومی کا عذاب، اور جہنم کا عذاب۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
آل عمران 3:78
اور بے شک ان میں سے ، البتہ ایک گروہ ایسا ہے جو مروڑتے ہیں زبانیں اپنی ساتھ (پڑھنے) کتاب کے تاکہ سمجھو تم اس کو کتاب سے، حالانکہ نہیں ہے وہ کتاب میں سے،اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی جانب سے ہے، حالانکہ نہیں ہے وہ اللہ کی جانب سے،اور کہتے ہیں وہ اللہ پر جھوٹ اور وہ جانتے ہیں(78)
[78] اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان مروڑتا ہے اور اسے اس کے اصل معانی سے ہٹا دیتا ہے۔ اس میں لفظی تحریف بھی شامل ہے اور معنوی تحریف بھی۔ کتاب سے اصل مطلوب یہ ہے کہ اس کے الفاظ کو یاد کیا جائے، ان میں تبدیلی نہ کی جائے، اس کے مفہوم کوسمجھا اور سمجھایا جائے۔ انھوں نے صورت حال برعکس کردی۔ اور وہ بات سمجھائی جو کتاب سے مراد نہیں۔ خواہ اشارتاً ایسا کیا ہو یا صراحتاً۔ اشارتاً کاذکر ان الفاظ میں ہے ﴿ لِتَحۡسَبُوۡهُ مِنَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’تاکہ تم اسے کتاب میں سے خیال کرو۔‘‘ یعنی وہ اپنی زبانوں کو مروڑ کر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ کی کتاب سے یہی مسئلہ مراد ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ مراد نہیں ہوتا۔ صراحتاً کا ذکر ان الفاظ میں ہے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ وَمَا هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ١ۚ وَيَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ دراصل وہ اللہ کی طرف سے نہیں۔ وہ تو دانستہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘ یہ علم کے بغیر اللہ کے ذمے کوئی بات لگانے سے بڑا جرم ہے۔ یہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ اس طرح دو طرح کا جرم کرتے ہیں۔ صحیح مفہوم کی نفی کرتے ہیں اور غلط مفہوم کا اثبات کرتے ہیں۔ اور جو لفظ حق معنی پر دلالت کرتا ہے اس سے باطل معنی مراد لیتے ہیں، حالانکہ وہ حقیقت سے باخبر ہوتے ہیں۔
آل عمران 3:79
نہیں ہے لائق واسطے کسی بشر کے کہ دے اس کو اللہ کتاب اور حکم اور نبوت، پھر کہے وہ واسطے لوگوں کے کہ ہو جاؤ تم بندے میرے، اللہ کو چھوڑ کر، لیکن (وہ تو کہے گا) ہو جاؤ تم رب والے، بوجہ اس کے کہ ہو تم تعلیم دیتے کتاب کی اور بوجہ اس کے کہ ہو تم (خود بھی) پڑھتے(79) اور نہیں حکم دے گا وہ تم کو اس بات کا (بھی) کہ بنا لو تم فرشتوں کو اور نبیوں کو رب، کیا وہ حکم دے گا تمھیں کفر کا، بعد اس کے کہ تم ہو چکے مسلمان؟(80)
[80-79] اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ نبیﷺنے کچھ اہل کتاب کو ایمان لانے اور اطاعت کرنے کی تبلیغ کی تو انھوں نے کہا: ’’محمد(ﷺ)کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ آپ کی بھی عبادت کیا کریں؟‘‘ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا:﴿ مَا كَانَ لِبَشَرٍ ﴾ ’’کسی انسان کو یہ لائق نہیں‘‘ یعنی جس انسان پر اللہ تعالیٰ یہ احسان کرے کہ اس پر کتاب نازل کرے، اسے علم سکھائے اور مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجے، ایسے انسان کے لیے ناممکن اور محال ہے کہ ﴿ يَقُوۡلَ لِلنَّاسِ كُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّيۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔‘‘ ایسی بات کا کسی نبی کی زبان سے ادا ہونا سب سے بڑی محال چیز ہے۔ کیونکہ یہ مطالبہ اتنا قبیح ہے کہ اس سے قبیح کوئی اور حکم نہیں ہوسکتا۔ اور انبیاء کرام کو کمال کا وہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ کمال کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ وہ حکم بھی ایسے کاموں کا دیتے ہیں جو ان کے حالات سے مناسبت رکھتے ہیں۔ وہ اعلیٰ کاموں کا حکم دیتے ہیں۔ اور برے کاموں سے منع کرنے میں بھی کوئی ان سے بڑھ نہیں سکتا، اس لیے فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ كُوۡنُوۡا رَبّٰنِيّٖنَ بِمَا كُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡكِتٰبَ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ﴾ یعنی وہ تو یہی حکم دیں گے کہ لوگ ربانی بن جائیں۔ ربانی کا مطلب یہ ہے کہ وہ عالم ہوں، دانا ہوں، حلم اور بردباری سے موصوف ہوں، لوگوں کو تعلیم دیں اور ان کی تربیت کریں، پہلے علم کے چھوٹے (اور آسان) مسئلے بتائیں۔ پھربڑے (اور پیچیدہ) مسائل سمجھائیں، خود بھی عمل کریں۔ چنانچہ وہ علم و عمل کا حکم دیتے ہیں۔ جس پر سعادت کا دارومدار ہے۔ جس میں کوئی چیز چھوٹ جائے تو نقص و خلل پیدا ہوجاتا ہے۔ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ ﴾ میں ’’با‘‘ سببیہ ہے۔ یعنی تم ربانی بن جاؤ اس سبب سے کہ تم دوسروں کو تعلیم دیتے ہو۔ اس میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ تم خود اہل علم ہو۔ تم اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت پڑھتے ہو۔ اس کے پڑھنے پڑھانے سے علم پختہ ہوتا ہے اور باقی رہتا ہے۔ ﴿ وَلَا يَاۡمُرَؔكُمۡ اَنۡ تَتَّؔخِذُوا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرۡبَابًا ﴾ ’’اور یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ تمھیں فرشتوں اور نبیوں کو رب بنالینے کا حکم دے‘‘ یہ تخصیص کے بعد تعمیم ہے۔ یعنی وہ تمھیں نہ اپنی ذات کی عبادت کا حکم دے گا نہ کسی بھی دوسری مخلوق کی عبادت کا حکم دے گا خواہ وہ فرشتے ہوں یا انبیاء یا کوئی اور ﴿ اَيَاۡمُرُؔكُمۡ بِالۡكُفۡرِ بَعۡدَ اِذۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ﴾ ’’کیا وہ تمھارے مسلمان ہونے کے بعد پھر کفر کا حکم دے گا؟‘‘ یہ نہیں ہوسکتا۔ جس کو نبوت کا شرف حاصل ہو، اس سے کسی ایسی بات کا تصور بھی محال ہے۔ جو شخص کسی نبی کی طرف اس قسم کی کوئی بات منسوب کرتا ہے وہ بہت بڑے گناہ کا بلکہ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔
آل عمران 3:80
نہیں ہے لائق واسطے کسی بشر کے کہ دے اس کو اللہ کتاب اور حکم اور نبوت، پھر کہے وہ واسطے لوگوں کے کہ ہو جاؤ تم بندے میرے، اللہ کو چھوڑ کر، لیکن (وہ تو کہے گا) ہو جاؤ تم رب والے، بوجہ اس کے کہ ہو تم تعلیم دیتے کتاب کی اور بوجہ اس کے کہ ہو تم (خود بھی) پڑھتے(79) اور نہیں حکم دے گا وہ تم کو اس بات کا (بھی) کہ بنا لو تم فرشتوں کو اور نبیوں کو رب، کیا وہ حکم دے گا تمھیں کفر کا، بعد اس کے کہ تم ہو چکے مسلمان؟(80)
[80-79] اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ نبیﷺنے کچھ اہل کتاب کو ایمان لانے اور اطاعت کرنے کی تبلیغ کی تو انھوں نے کہا: ’’محمد(ﷺ)کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ آپ کی بھی عبادت کیا کریں؟‘‘ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا:﴿ مَا كَانَ لِبَشَرٍ ﴾ ’’کسی انسان کو یہ لائق نہیں‘‘ یعنی جس انسان پر اللہ تعالیٰ یہ احسان کرے کہ اس پر کتاب نازل کرے، اسے علم سکھائے اور مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجے، ایسے انسان کے لیے ناممکن اور محال ہے کہ ﴿ يَقُوۡلَ لِلنَّاسِ كُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّيۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔‘‘ ایسی بات کا کسی نبی کی زبان سے ادا ہونا سب سے بڑی محال چیز ہے۔ کیونکہ یہ مطالبہ اتنا قبیح ہے کہ اس سے قبیح کوئی اور حکم نہیں ہوسکتا۔ اور انبیاء کرام کو کمال کا وہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ کمال کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ وہ حکم بھی ایسے کاموں کا دیتے ہیں جو ان کے حالات سے مناسبت رکھتے ہیں۔ وہ اعلیٰ کاموں کا حکم دیتے ہیں۔ اور برے کاموں سے منع کرنے میں بھی کوئی ان سے بڑھ نہیں سکتا، اس لیے فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ كُوۡنُوۡا رَبّٰنِيّٖنَ بِمَا كُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡكِتٰبَ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ﴾ یعنی وہ تو یہی حکم دیں گے کہ لوگ ربانی بن جائیں۔ ربانی کا مطلب یہ ہے کہ وہ عالم ہوں، دانا ہوں، حلم اور بردباری سے موصوف ہوں، لوگوں کو تعلیم دیں اور ان کی تربیت کریں، پہلے علم کے چھوٹے (اور آسان) مسئلے بتائیں۔ پھربڑے (اور پیچیدہ) مسائل سمجھائیں، خود بھی عمل کریں۔ چنانچہ وہ علم و عمل کا حکم دیتے ہیں۔ جس پر سعادت کا دارومدار ہے۔ جس میں کوئی چیز چھوٹ جائے تو نقص و خلل پیدا ہوجاتا ہے۔ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ ﴾ میں ’’با‘‘ سببیہ ہے۔ یعنی تم ربانی بن جاؤ اس سبب سے کہ تم دوسروں کو تعلیم دیتے ہو۔ اس میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ تم خود اہل علم ہو۔ تم اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت پڑھتے ہو۔ اس کے پڑھنے پڑھانے سے علم پختہ ہوتا ہے اور باقی رہتا ہے۔ ﴿ وَلَا يَاۡمُرَؔكُمۡ اَنۡ تَتَّؔخِذُوا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرۡبَابًا ﴾ ’’اور یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ تمھیں فرشتوں اور نبیوں کو رب بنالینے کا حکم دے‘‘ یہ تخصیص کے بعد تعمیم ہے۔ یعنی وہ تمھیں نہ اپنی ذات کی عبادت کا حکم دے گا نہ کسی بھی دوسری مخلوق کی عبادت کا حکم دے گا خواہ وہ فرشتے ہوں یا انبیاء یا کوئی اور ﴿ اَيَاۡمُرُؔكُمۡ بِالۡكُفۡرِ بَعۡدَ اِذۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ﴾ ’’کیا وہ تمھارے مسلمان ہونے کے بعد پھر کفر کا حکم دے گا؟‘‘ یہ نہیں ہوسکتا۔ جس کو نبوت کا شرف حاصل ہو، اس سے کسی ایسی بات کا تصور بھی محال ہے۔ جو شخص کسی نبی کی طرف اس قسم کی کوئی بات منسوب کرتا ہے وہ بہت بڑے گناہ کا بلکہ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔
آل عمران 3:81
اور (یاد کرو) جب لیا اللہ نے عہد (تمام) نبیوں سے ، البتہ جو کچھ دوں میں تمھیں کتاب اور حکمت سے، پھر آئے تمھارے پاس کوئی رسول جو تصدیق کرنے والا ہو اس کی جو تمھارے پاس ہے، تو تم ضرور ایمان لانا ساتھ اس (رسول) کے اور ضرور مدد کرنا اس کی، اللہ نے فرمایا کیا تم اقرار کرتے ہواور قبول کرتے ہو اس پر میرا عہد؟ کہا انھوں نے، اقرار کیا ہم نے، اللہ نے فرمایا تو تم گواہ رہنااور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں(81) پس جو کوئی روگردانی کرے گا بعد اس (عہد) کے، تو وہی لوگ ہیں نافرمان(82)
[82-81] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اس نے نبیوں سے پختہ عہد و پیمان لیا، کیونکہ انھیں کتاب دی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور حکمت دی ہے جو حق و باطل کے درمیان اور ہدایت و گمراہی کے درمیان فرق کرنے والی ہے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی رسول بھیجے جو ان کے پاس آنے والی وحی اور کتاب کو سچا مانے۔ تو تمام نبیوں کو چاہیے کہ اس پر ایمان لائیں۔ اس کی تصدیق کریں اور اپنی امتوں کو بھی اس پر ایمان و تصدیق کا حکم دیں۔ چنانچہ اللہ نے تمام انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام پر واجب کیا ہے کہ ایک دوسرے پرایمان لائیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔ کیونکہ ان کے پاس جو بھی احکام آئے ہیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ اور اللہ کی طرف سے آنے والی ہر چیز پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ وہ سب ایک اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ محمدﷺخاتم النبیین ہیں۔ لہٰذا تمام انبیائے کرام پر واجب ہے کہ جس نبی کو بھی آپuکا زمانہ ملے، وہ آپ پر ایمان لائے۔ آپ کی پیروی کرے اور آپ کی مدد کرے۔ کیونکہ آپ ان کے امام، پیشوا اور متبوع ہیں۔ یہ آیت کریمہ نبیﷺکے بلند مرتبے اور عظمت شان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺتمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور ان کے سردار ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام سے اقرار لیا ﴿ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ﴾ ’’تو سب نے کہا: ہمیں اقرار ہے‘‘ اور اے اللہ! ہم تیرا حکم قبول کرتے اور اسے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ ﴿ قَالَ فَاشۡهَدُوۡا ﴾ اللہ نے انھیں فرمایا: اپنی ذات کی طرف سے بھی اور اپنی امتوں کی طرف سے بھی گواہ رہو۔ ﴿ وَاَنَا مَعَكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں‘‘ ﴿ فَمَنۡ تَوَلّٰى بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس اس (پختہ وعدے اور عہد) کے بعد بھی (جس پر اللہ اور اس کے رسول کی گواہی ہے) جو پلٹ جائیں‘‘ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ یقیناً پورے نافرمان ہیں‘‘ لہٰذا جو شخص بھی یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ وہ انبیائے کرام کا پیروکار ہے۔ یہودی ہو یا عیسائی یا کوئی اور۔ اگر وہ محمدﷺپر ایمان نہیں لایا تو وہ اس پختہ عہد کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اس عہد شکنی کی سزا کے طورپر جہنم میں ہمیشہ رہنے کا مستحق ہوگیا ہے کیونکہ وہ نافرمان ہے۔
آل عمران 3:82
اور (یاد کرو) جب لیا اللہ نے عہد (تمام) نبیوں سے ، البتہ جو کچھ دوں میں تمھیں کتاب اور حکمت سے، پھر آئے تمھارے پاس کوئی رسول جو تصدیق کرنے والا ہو اس کی جو تمھارے پاس ہے، تو تم ضرور ایمان لانا ساتھ اس (رسول) کے اور ضرور مدد کرنا اس کی، اللہ نے فرمایا کیا تم اقرار کرتے ہواور قبول کرتے ہو اس پر میرا عہد؟ کہا انھوں نے، اقرار کیا ہم نے، اللہ نے فرمایا تو تم گواہ رہنااور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں(81) پس جو کوئی روگردانی کرے گا بعد اس (عہد) کے، تو وہی لوگ ہیں نافرمان(82)
[82-81] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اس نے نبیوں سے پختہ عہد و پیمان لیا، کیونکہ انھیں کتاب دی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور حکمت دی ہے جو حق و باطل کے درمیان اور ہدایت و گمراہی کے درمیان فرق کرنے والی ہے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی رسول بھیجے جو ان کے پاس آنے والی وحی اور کتاب کو سچا مانے۔ تو تمام نبیوں کو چاہیے کہ اس پر ایمان لائیں۔ اس کی تصدیق کریں اور اپنی امتوں کو بھی اس پر ایمان و تصدیق کا حکم دیں۔ چنانچہ اللہ نے تمام انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام پر واجب کیا ہے کہ ایک دوسرے پرایمان لائیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔ کیونکہ ان کے پاس جو بھی احکام آئے ہیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ اور اللہ کی طرف سے آنے والی ہر چیز پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ وہ سب ایک اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ محمدﷺخاتم النبیین ہیں۔ لہٰذا تمام انبیائے کرام پر واجب ہے کہ جس نبی کو بھی آپuکا زمانہ ملے، وہ آپ پر ایمان لائے۔ آپ کی پیروی کرے اور آپ کی مدد کرے۔ کیونکہ آپ ان کے امام، پیشوا اور متبوع ہیں۔ یہ آیت کریمہ نبیﷺکے بلند مرتبے اور عظمت شان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺتمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور ان کے سردار ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام سے اقرار لیا ﴿ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ﴾ ’’تو سب نے کہا: ہمیں اقرار ہے‘‘ اور اے اللہ! ہم تیرا حکم قبول کرتے اور اسے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ ﴿ قَالَ فَاشۡهَدُوۡا ﴾ اللہ نے انھیں فرمایا: اپنی ذات کی طرف سے بھی اور اپنی امتوں کی طرف سے بھی گواہ رہو۔ ﴿ وَاَنَا مَعَكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں‘‘ ﴿ فَمَنۡ تَوَلّٰى بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس اس (پختہ وعدے اور عہد) کے بعد بھی (جس پر اللہ اور اس کے رسول کی گواہی ہے) جو پلٹ جائیں‘‘ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ یقیناً پورے نافرمان ہیں‘‘ لہٰذا جو شخص بھی یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ وہ انبیائے کرام کا پیروکار ہے۔ یہودی ہو یا عیسائی یا کوئی اور۔ اگر وہ محمدﷺپر ایمان نہیں لایا تو وہ اس پختہ عہد کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اس عہد شکنی کی سزا کے طورپر جہنم میں ہمیشہ رہنے کا مستحق ہوگیا ہے کیونکہ وہ نافرمان ہے۔
آل عمران 3:83
کیا پس سوائے اللہ کے دین کے یہ (کو ئی اور دین) تلاش کر رہے ہیں؟ حالانکہ اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں جو کوئی بھی ہے آسمانوں اور زمین میں خوشی اور ناخوشی سے اور اسی کی طرف وہ لوٹائے جائیں گے(83) کہہ دیجیے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور ساتھ اس کے جو نازل کیا گیا ہم پر اور جو نازل کیا گیا اوپر ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اوریعقوب اور ان کی اولاد کے،اور جو دیے گئے موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء، اپنے رب کی طرف سے، نہیں فرق کرتے ہم درمیان کسی ایک کے ان میں سے،اور ہم اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں(84) اور جو کوئی تلاش کرے گا سوائے اسلام کے کوئی اور دین، تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا اس سے،اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا(85)
[85-83] یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے خواہش مند اور طالب ہیں؟ یہ خواہش نہ درست ہے نہ مناسب، اس لیے کہ اللہ کے دین سے بہتر کوئی دین نہیں ﴿ وَلَهٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا ﴾ ’’حالانکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ خوشی سے ہوں یاناخوشی سے‘‘ یعنی تمام مخلوق اس کی محکوم ہے۔ ان میں سے بعض نے اپنی خوشی سے اللہ کی اطاعت قبول کرلی ہے، وہ مومن ہیں جو خوشی سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کچھ مجبوراً اللہ کے فرماں بردار ہیں۔ اس میں باقی تمام مخلوقات شامل ہیں۔ حتیٰ کہ کافر بھی اللہ کی قضاء و قدر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ تمام مخلوق اسی کے پاس واپس جائے گی، وہ ان کے درمیان فیصلے کرے گا اور انھیں جزا و سزا دے گا۔ اور تمام معاملہ، اس کے فضل کا مظہر ہوگا یا اس کے عدل کا۔اس مفہوم کی آیت سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے۔اللہ نے بندوں کے لیے دین اسلام پسند کیا ہے۔ جو شخص اللہ کے اس پسندیدہ دین کے علاوہ کسی اور دین پر چلے گا، اس کا عمل ناقابل قبول ہوگا۔ کیونکہ دین اسلام میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت قبول کرنا اور رسولوں کی فرماں برداری کرنا شامل ہے۔ جب تک یہ کام نہ کرے، اس وقت تک اس نے اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا، اور اللہ کے ثواب کا باعث بننے والا عمل نہیں کیا۔ اور اسلام کے سوا ہر مذہب باطل ہے۔
آل عمران 3:84
کیا پس سوائے اللہ کے دین کے یہ (کو ئی اور دین) تلاش کر رہے ہیں؟ حالانکہ اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں جو کوئی بھی ہے آسمانوں اور زمین میں خوشی اور ناخوشی سے اور اسی کی طرف وہ لوٹائے جائیں گے(83) کہہ دیجیے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور ساتھ اس کے جو نازل کیا گیا ہم پر اور جو نازل کیا گیا اوپر ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اوریعقوب اور ان کی اولاد کے،اور جو دیے گئے موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء، اپنے رب کی طرف سے، نہیں فرق کرتے ہم درمیان کسی ایک کے ان میں سے،اور ہم اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں(84) اور جو کوئی تلاش کرے گا سوائے اسلام کے کوئی اور دین، تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا اس سے،اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا(85)
[85-83] یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے خواہش مند اور طالب ہیں؟ یہ خواہش نہ درست ہے نہ مناسب، اس لیے کہ اللہ کے دین سے بہتر کوئی دین نہیں ﴿ وَلَهٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا ﴾ ’’حالانکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ خوشی سے ہوں یاناخوشی سے‘‘ یعنی تمام مخلوق اس کی محکوم ہے۔ ان میں سے بعض نے اپنی خوشی سے اللہ کی اطاعت قبول کرلی ہے، وہ مومن ہیں جو خوشی سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کچھ مجبوراً اللہ کے فرماں بردار ہیں۔ اس میں باقی تمام مخلوقات شامل ہیں۔ حتیٰ کہ کافر بھی اللہ کی قضاء و قدر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ تمام مخلوق اسی کے پاس واپس جائے گی، وہ ان کے درمیان فیصلے کرے گا اور انھیں جزا و سزا دے گا۔ اور تمام معاملہ، اس کے فضل کا مظہر ہوگا یا اس کے عدل کا۔اس مفہوم کی آیت سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے۔اللہ نے بندوں کے لیے دین اسلام پسند کیا ہے۔ جو شخص اللہ کے اس پسندیدہ دین کے علاوہ کسی اور دین پر چلے گا، اس کا عمل ناقابل قبول ہوگا۔ کیونکہ دین اسلام میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت قبول کرنا اور رسولوں کی فرماں برداری کرنا شامل ہے۔ جب تک یہ کام نہ کرے، اس وقت تک اس نے اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا، اور اللہ کے ثواب کا باعث بننے والا عمل نہیں کیا۔ اور اسلام کے سوا ہر مذہب باطل ہے۔
آل عمران 3:85
کیا پس سوائے اللہ کے دین کے یہ (کو ئی اور دین) تلاش کر رہے ہیں؟ حالانکہ اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں جو کوئی بھی ہے آسمانوں اور زمین میں خوشی اور ناخوشی سے اور اسی کی طرف وہ لوٹائے جائیں گے(83) کہہ دیجیے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور ساتھ اس کے جو نازل کیا گیا ہم پر اور جو نازل کیا گیا اوپر ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اوریعقوب اور ان کی اولاد کے،اور جو دیے گئے موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء، اپنے رب کی طرف سے، نہیں فرق کرتے ہم درمیان کسی ایک کے ان میں سے،اور ہم اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں(84) اور جو کوئی تلاش کرے گا سوائے اسلام کے کوئی اور دین، تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا اس سے،اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا(85)
[85-83] یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے خواہش مند اور طالب ہیں؟ یہ خواہش نہ درست ہے نہ مناسب، اس لیے کہ اللہ کے دین سے بہتر کوئی دین نہیں ﴿ وَلَهٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا ﴾ ’’حالانکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ خوشی سے ہوں یاناخوشی سے‘‘ یعنی تمام مخلوق اس کی محکوم ہے۔ ان میں سے بعض نے اپنی خوشی سے اللہ کی اطاعت قبول کرلی ہے، وہ مومن ہیں جو خوشی سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کچھ مجبوراً اللہ کے فرماں بردار ہیں۔ اس میں باقی تمام مخلوقات شامل ہیں۔ حتیٰ کہ کافر بھی اللہ کی قضاء و قدر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ تمام مخلوق اسی کے پاس واپس جائے گی، وہ ان کے درمیان فیصلے کرے گا اور انھیں جزا و سزا دے گا۔ اور تمام معاملہ، اس کے فضل کا مظہر ہوگا یا اس کے عدل کا۔اس مفہوم کی آیت سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے۔اللہ نے بندوں کے لیے دین اسلام پسند کیا ہے۔ جو شخص اللہ کے اس پسندیدہ دین کے علاوہ کسی اور دین پر چلے گا، اس کا عمل ناقابل قبول ہوگا۔ کیونکہ دین اسلام میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت قبول کرنا اور رسولوں کی فرماں برداری کرنا شامل ہے۔ جب تک یہ کام نہ کرے، اس وقت تک اس نے اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا، اور اللہ کے ثواب کا باعث بننے والا عمل نہیں کیا۔ اور اسلام کے سوا ہر مذہب باطل ہے۔
آل عمران 3:86
کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اس کے کہ) گواہی دی انھوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں، اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(86) یہ لوگ، سزا ان کی (یہ ہے کہ) بے شک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(87) ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں، نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(88) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(89) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان (لانے ) کے، پھر بڑھتے گئے وہ کفر میں، ہرگز نہیں قبول کی جائے گی ان کی توبہ، اور یہی لو گ ہیں گمراہ(90) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مرے وہ ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا کسی ایک سے (بھی) ان میں سے، زمین بھر سونا (بھی)، اگرچہ وہ فدیے میں دے دے اسے، یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہوگا واسطے ان کے کوئی مددگار(91)
[88-86] یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ اَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی‘‘ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔
[91-89] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کوچھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے، اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے‘‘ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طورپر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم ہوچکی ہو، اور اللہ نے اس کے لیے دلائل و براہین کو واضح کردیا ہو۔ کیونکہ اس نے خود رب کی رحمت کے اسباب کو منقطع کرنے کی کوشش کی، اور اپنے لیے توبہ کا دروازہ خود ہی بند کرلیا، لہٰذا گمراہی ایسے ہی لوگوں میں محصور ہوگئی ہے۔ اللہ نے فرمایا:﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ گمراہ ہیں‘‘ اس سے بڑی گمراہی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان آنکھوں سے دیکھ کر سیدھی راہ کو ترک کردے۔ یہ کافر اگر موت تک اپنے کفر پر قائم رہیں تو ان کے لیے ہلاکت اور ابدی بدنصیبی یقینی ہے، انھیں کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوگا۔ ایسا شخص اگر زمین بھر سونا فدیہ دے کر اللہ کے عتاب سے بچنا چاہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ ہمیشہ دردناک عذاب میں پڑا رہے گا۔ نہ کوئی اس کی سفارش کرے گا، نہ مدد۔ نہ کوئی اس کی فریاد سنے گا، نہ کوئی اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ ان کے لیے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اللہ ہمیں ان کے حال سے محفوظ رکھے۔
آل عمران 3:87
کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اس کے کہ) گواہی دی انھوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں، اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(86) یہ لوگ، سزا ان کی (یہ ہے کہ) بے شک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(87) ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں، نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(88) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(89) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان (لانے ) کے، پھر بڑھتے گئے وہ کفر میں، ہرگز نہیں قبول کی جائے گی ان کی توبہ، اور یہی لو گ ہیں گمراہ(90) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مرے وہ ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا کسی ایک سے (بھی) ان میں سے، زمین بھر سونا (بھی)، اگرچہ وہ فدیے میں دے دے اسے، یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہوگا واسطے ان کے کوئی مددگار(91)
[88-86] یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ اَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی‘‘ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔
[91-89] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کوچھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے، اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے‘‘ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طورپر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم ہوچکی ہو، اور اللہ نے اس کے لیے دلائل و براہین کو واضح کردیا ہو۔ کیونکہ اس نے خود رب کی رحمت کے اسباب کو منقطع کرنے کی کوشش کی، اور اپنے لیے توبہ کا دروازہ خود ہی بند کرلیا، لہٰذا گمراہی ایسے ہی لوگوں میں محصور ہوگئی ہے۔ اللہ نے فرمایا:﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ گمراہ ہیں‘‘ اس سے بڑی گمراہی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان آنکھوں سے دیکھ کر سیدھی راہ کو ترک کردے۔ یہ کافر اگر موت تک اپنے کفر پر قائم رہیں تو ان کے لیے ہلاکت اور ابدی بدنصیبی یقینی ہے، انھیں کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوگا۔ ایسا شخص اگر زمین بھر سونا فدیہ دے کر اللہ کے عتاب سے بچنا چاہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ ہمیشہ دردناک عذاب میں پڑا رہے گا۔ نہ کوئی اس کی سفارش کرے گا، نہ مدد۔ نہ کوئی اس کی فریاد سنے گا، نہ کوئی اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ ان کے لیے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اللہ ہمیں ان کے حال سے محفوظ رکھے۔
آل عمران 3:88
کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اس کے کہ) گواہی دی انھوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں، اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(86) یہ لوگ، سزا ان کی (یہ ہے کہ) بے شک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(87) ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں، نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(88) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(89) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان (لانے ) کے، پھر بڑھتے گئے وہ کفر میں، ہرگز نہیں قبول کی جائے گی ان کی توبہ، اور یہی لو گ ہیں گمراہ(90) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مرے وہ ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا کسی ایک سے (بھی) ان میں سے، زمین بھر سونا (بھی)، اگرچہ وہ فدیے میں دے دے اسے، یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہوگا واسطے ان کے کوئی مددگار(91)
[88-86] یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ اَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی‘‘ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔
[91-89] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کوچھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے، اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے‘‘ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طورپر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم ہوچکی ہو، اور اللہ نے اس کے لیے دلائل و براہین کو واضح کردیا ہو۔ کیونکہ اس نے خود رب کی رحمت کے اسباب کو منقطع کرنے کی کوشش کی، اور اپنے لیے توبہ کا دروازہ خود ہی بند کرلیا، لہٰذا گمراہی ایسے ہی لوگوں میں محصور ہوگئی ہے۔ اللہ نے فرمایا:﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ گمراہ ہیں‘‘ اس سے بڑی گمراہی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان آنکھوں سے دیکھ کر سیدھی راہ کو ترک کردے۔ یہ کافر اگر موت تک اپنے کفر پر قائم رہیں تو ان کے لیے ہلاکت اور ابدی بدنصیبی یقینی ہے، انھیں کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوگا۔ ایسا شخص اگر زمین بھر سونا فدیہ دے کر اللہ کے عتاب سے بچنا چاہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ ہمیشہ دردناک عذاب میں پڑا رہے گا۔ نہ کوئی اس کی سفارش کرے گا، نہ مدد۔ نہ کوئی اس کی فریاد سنے گا، نہ کوئی اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ ان کے لیے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اللہ ہمیں ان کے حال سے محفوظ رکھے۔
آل عمران 3:89
کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اس کے کہ) گواہی دی انھوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں، اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(86) یہ لوگ، سزا ان کی (یہ ہے کہ) بے شک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(87) ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں، نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(88) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(89) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان (لانے ) کے، پھر بڑھتے گئے وہ کفر میں، ہرگز نہیں قبول کی جائے گی ان کی توبہ، اور یہی لو گ ہیں گمراہ(90) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مرے وہ ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا کسی ایک سے (بھی) ان میں سے، زمین بھر سونا (بھی)، اگرچہ وہ فدیے میں دے دے اسے، یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہوگا واسطے ان کے کوئی مددگار(91)
[88-86] یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ اَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی‘‘ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔
[91-89] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کوچھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے، اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے‘‘ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طورپر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم ہوچکی ہو، اور اللہ نے اس کے لیے دلائل و براہین کو واضح کردیا ہو۔ کیونکہ اس نے خود رب کی رحمت کے اسباب کو منقطع کرنے کی کوشش کی، اور اپنے لیے توبہ کا دروازہ خود ہی بند کرلیا، لہٰذا گمراہی ایسے ہی لوگوں میں محصور ہوگئی ہے۔ اللہ نے فرمایا:﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ گمراہ ہیں‘‘ اس سے بڑی گمراہی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان آنکھوں سے دیکھ کر سیدھی راہ کو ترک کردے۔ یہ کافر اگر موت تک اپنے کفر پر قائم رہیں تو ان کے لیے ہلاکت اور ابدی بدنصیبی یقینی ہے، انھیں کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوگا۔ ایسا شخص اگر زمین بھر سونا فدیہ دے کر اللہ کے عتاب سے بچنا چاہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ ہمیشہ دردناک عذاب میں پڑا رہے گا۔ نہ کوئی اس کی سفارش کرے گا، نہ مدد۔ نہ کوئی اس کی فریاد سنے گا، نہ کوئی اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ ان کے لیے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اللہ ہمیں ان کے حال سے محفوظ رکھے۔
آل عمران 3:90
کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اس کے کہ) گواہی دی انھوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں، اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(86) یہ لوگ، سزا ان کی (یہ ہے کہ) بے شک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(87) ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں، نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(88) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(89) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان (لانے ) کے، پھر بڑھتے گئے وہ کفر میں، ہرگز نہیں قبول کی جائے گی ان کی توبہ، اور یہی لو گ ہیں گمراہ(90) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مرے وہ ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا کسی ایک سے (بھی) ان میں سے، زمین بھر سونا (بھی)، اگرچہ وہ فدیے میں دے دے اسے، یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہوگا واسطے ان کے کوئی مددگار(91)
[88-86] یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ اَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی‘‘ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔
[91-89] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کوچھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے، اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے‘‘ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طورپر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم ہوچکی ہو، اور اللہ نے اس کے لیے دلائل و براہین کو واضح کردیا ہو۔ کیونکہ اس نے خود رب کی رحمت کے اسباب کو منقطع کرنے کی کوشش کی، اور اپنے لیے توبہ کا دروازہ خود ہی بند کرلیا، لہٰذا گمراہی ایسے ہی لوگوں میں محصور ہوگئی ہے۔ اللہ نے فرمایا:﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ گمراہ ہیں‘‘ اس سے بڑی گمراہی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان آنکھوں سے دیکھ کر سیدھی راہ کو ترک کردے۔ یہ کافر اگر موت تک اپنے کفر پر قائم رہیں تو ان کے لیے ہلاکت اور ابدی بدنصیبی یقینی ہے، انھیں کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوگا۔ ایسا شخص اگر زمین بھر سونا فدیہ دے کر اللہ کے عتاب سے بچنا چاہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ ہمیشہ دردناک عذاب میں پڑا رہے گا۔ نہ کوئی اس کی سفارش کرے گا، نہ مدد۔ نہ کوئی اس کی فریاد سنے گا، نہ کوئی اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ ان کے لیے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اللہ ہمیں ان کے حال سے محفوظ رکھے۔
آل عمران 3:91
کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اس کے کہ) گواہی دی انھوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں، اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(86) یہ لوگ، سزا ان کی (یہ ہے کہ) بے شک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(87) ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں، نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(88) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(89) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان (لانے ) کے، پھر بڑھتے گئے وہ کفر میں، ہرگز نہیں قبول کی جائے گی ان کی توبہ، اور یہی لو گ ہیں گمراہ(90) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مرے وہ ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا کسی ایک سے (بھی) ان میں سے، زمین بھر سونا (بھی)، اگرچہ وہ فدیے میں دے دے اسے، یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہوگا واسطے ان کے کوئی مددگار(91)
[88-86] یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ اَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی‘‘ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔
[91-89] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کوچھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے، اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے‘‘ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طورپر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم ہوچکی ہو، اور اللہ نے اس کے لیے دلائل و براہین کو واضح کردیا ہو۔ کیونکہ اس نے خود رب کی رحمت کے اسباب کو منقطع کرنے کی کوشش کی، اور اپنے لیے توبہ کا دروازہ خود ہی بند کرلیا، لہٰذا گمراہی ایسے ہی لوگوں میں محصور ہوگئی ہے۔ اللہ نے فرمایا:﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ گمراہ ہیں‘‘ اس سے بڑی گمراہی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان آنکھوں سے دیکھ کر سیدھی راہ کو ترک کردے۔ یہ کافر اگر موت تک اپنے کفر پر قائم رہیں تو ان کے لیے ہلاکت اور ابدی بدنصیبی یقینی ہے، انھیں کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوگا۔ ایسا شخص اگر زمین بھر سونا فدیہ دے کر اللہ کے عتاب سے بچنا چاہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ ہمیشہ دردناک عذاب میں پڑا رہے گا۔ نہ کوئی اس کی سفارش کرے گا، نہ مدد۔ نہ کوئی اس کی فریاد سنے گا، نہ کوئی اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ ان کے لیے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اللہ ہمیں ان کے حال سے محفوظ رکھے۔
آل عمران 3:92
ہرگز نہ حاصل کر سکو گے تم نیکی، یہاں تک کہ خرچ کرو تم ان (چیزوں) سے جن کو تم پسند کرتے ہو اور جو خرچ کرو گے تم کسی چیز سے تو بلاشبہ اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے(92)
[92] اس میں اللہ کی طرف سے بندوں کو ترغیب ہے کہ وہ نیکی کے کاموں میں خرچ کریں، چنانچہ فرمایا:﴿لَنۡ تَنَالُوا الۡـبِرَّ﴾ ’’تم ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے‘‘ یعنی تم کبھی ’’بر‘‘ حاصل نہیں کرسکو گے۔ ’’بر‘‘ میں ہر قسم کے نیکی اور ثواب کے کام شامل ہیں۔ جو کرنے والے کو جنت میں پہنچاتے ہیں۔ ﴿حَتّٰى تُنۡفِقُوۡا مِمَّؔا تُحِبُّوۡنَ﴾ ’’جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (اللہ کی راہ میں) صرف نہ کرو گے۔‘‘ یعنی جب تم مال کی محبت پر اللہ کی محبت کو ترجیح دیتے ہوئے اللہ کی رضامندی کے کاموں میں مال خرچ کرو گے تو اس سے ثابت ہوگا کہ تمھارا یمان سچا ہے اور تمھارے دلوں میں نیکی اور تقویٰ موجود ہے۔ اس میں عمدہ اشیاء خرچ کرنا بھی شامل ہے، اور خود ضرورت مند ہوتے ہوئے ضرورت کی چیز اللہ کی راہ میں دے دینا بھی اور صحت کی حالت میں خرچ کرنا بھی۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی نیکی کا معیار دل پسند اشیاء اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ جس قدر یہ خوبی کم ہوگی اتنا ہی اس کے نیک ہونے میں نقص ہوگا۔ چونکہ بندوں کو ہر انداز سے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے، کم ہو یا زیادہ، دل پسند چیز ہو یا نہ ہو۔ اور ﴿لَنۡ تَنَالُوا الۡـبِرَّ حَتّٰى تُنۡفِقُوۡا مِمَّؔا تُحِبُّوۡنَ﴾ سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز سے دلی محبت نہ ہو اسے خرچ کرنے پر ثواب نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا: ﴿وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَيۡءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم خرچ کرو، اللہ اسے بخوبی جانتا ہے۔‘‘ اللہ تمھیں تنگی میں نہیں ڈالتا، بلکہ تمھاری نیت اور چیز کے فائدے کے مطابق تمھیں اس کا ثواب دے دیتا ہے۔
آل عمران 3:93
تمام کھانا تھا حلال واسطے بنواسرائیل کے، مگر وہ جو حرام کر لیا تھا یعقوب نے اپنے نفس پر، پہلے اس سے کہ نازل کی جائے تورات، کہہ دیجیے! پس لاؤ تم تورات اور پڑھو اسے، اگر ہو تم سچے(93) پس جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ، اس کے بعد، تو یہی لوگ ہیں ظالم(94)
[94,93] یہ یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید ہے کہ احکام کامنسوخ ہونا جائز نہیں، اس لیے انھوں نے حضرت عیسیٰuاور حضرت محمدﷺکی نبوت کا انکار کیا، کیونکہ ان دونوں حضرات نے حلال و حرام کے بعض ایسے مسائل بیان فرمائے جو تورات کے احکام کے خلاف تھے۔ بحث میں انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف خود ان کی مسلمہ کتاب تورات سے دلیل پیش کی گئی ہے کہ کھانے کی تمام چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں۔ ﴿اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسۡرَآءِيۡلُ﴾ ’’سوائے اس کے جس چیز کو اسرائیل یعنی یعقوبuنے‘‘ ﴿عَلٰى نَفۡسِهٖ﴾ ’’اپنے اوپر حرام کرلیا تھا‘‘ یہ چیزیں اللہ نے حرام نہیں کی تھیں، آپ کو عرق النساء کی بیماری ہوگئی تو آپ نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے شفا عطا فرمائی تو وہ سب سے پسندیدہ غذا اپنے آپ پر حرام کرلیں گے۔ اللہ نے شفا دے دی تو مشہور قول کے مطابق انھوں نے اونٹ کا گوشت اور اونٹنی کا دودھ اپنے آپ پر حرام کرلیا۔ آپ کی اولاد نے بھی (آپ کے احترام میں) اس سے اجتناب کیا، یہ واقعہ تورات کے نزول سے بہت پہلے کا ہے۔ پھر تورات میں یعقوبuکی حرام کردہ اشیاء کے علاوہ بعض دوسری حلال اور پاک اشیاء کی حرمت کا حکم نازل ہوا۔ جیسے اللہ نے فرمایا ہے:﴿فَبِظُلۡمٍ مِّنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ طَيِّبٰؔتٍ اُحِلَّتۡ لَهُمۡ﴾(النساء:4؍160) ’’یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر کئی پاک چیزیں حرام کردیں جو ان کے لیے حلال تھیں‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ اگر یہودی اس حقیقت کا انکار کریں تو تورات پیش کرنے کا حکم دیجیے۔ لیکن وہ اس کے بعد بھی ظلم و عناد کی روش پر قائم رہے، اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَمَنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اس کے بعد بھی جو لوگ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھیں، وہی ظالم ہیں‘‘ اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ ایک آدمی کو اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے اور وہ عناد، تکبر اور سرکشی کی بنا پر اس سے انکار کردیتا ہے۔ یہ بہت بڑی دلیل ہے کہ محمدﷺکی نبوت حق ہے۔ آپ کی اور آپ کو خبریں دینے والے کی سچائی پر طرح طرح کی واضح دلیلیں موجود ہیں، جس (اللہ) نے آپ کو وہ خبریں دیں، جن کا علم آپ کو اللہ کے بتائے بغیر نہیں ہوسکتا۔
آل عمران 3:94
تمام کھانا تھا حلال واسطے بنواسرائیل کے، مگر وہ جو حرام کر لیا تھا یعقوب نے اپنے نفس پر، پہلے اس سے کہ نازل کی جائے تورات، کہہ دیجیے! پس لاؤ تم تورات اور پڑھو اسے، اگر ہو تم سچے(93) پس جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ، اس کے بعد، تو یہی لوگ ہیں ظالم(94)
[94,93] یہ یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید ہے کہ احکام کامنسوخ ہونا جائز نہیں، اس لیے انھوں نے حضرت عیسیٰuاور حضرت محمدﷺکی نبوت کا انکار کیا، کیونکہ ان دونوں حضرات نے حلال و حرام کے بعض ایسے مسائل بیان فرمائے جو تورات کے احکام کے خلاف تھے۔ بحث میں انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف خود ان کی مسلمہ کتاب تورات سے دلیل پیش کی گئی ہے کہ کھانے کی تمام چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں۔ ﴿اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسۡرَآءِيۡلُ﴾ ’’سوائے اس کے جس چیز کو اسرائیل یعنی یعقوبuنے‘‘ ﴿عَلٰى نَفۡسِهٖ﴾ ’’اپنے اوپر حرام کرلیا تھا‘‘ یہ چیزیں اللہ نے حرام نہیں کی تھیں، آپ کو عرق النساء کی بیماری ہوگئی تو آپ نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے شفا عطا فرمائی تو وہ سب سے پسندیدہ غذا اپنے آپ پر حرام کرلیں گے۔ اللہ نے شفا دے دی تو مشہور قول کے مطابق انھوں نے اونٹ کا گوشت اور اونٹنی کا دودھ اپنے آپ پر حرام کرلیا۔ آپ کی اولاد نے بھی (آپ کے احترام میں) اس سے اجتناب کیا، یہ واقعہ تورات کے نزول سے بہت پہلے کا ہے۔ پھر تورات میں یعقوبuکی حرام کردہ اشیاء کے علاوہ بعض دوسری حلال اور پاک اشیاء کی حرمت کا حکم نازل ہوا۔ جیسے اللہ نے فرمایا ہے:﴿فَبِظُلۡمٍ مِّنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ طَيِّبٰؔتٍ اُحِلَّتۡ لَهُمۡ﴾(النساء:4؍160) ’’یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر کئی پاک چیزیں حرام کردیں جو ان کے لیے حلال تھیں‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ اگر یہودی اس حقیقت کا انکار کریں تو تورات پیش کرنے کا حکم دیجیے۔ لیکن وہ اس کے بعد بھی ظلم و عناد کی روش پر قائم رہے، اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَمَنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اس کے بعد بھی جو لوگ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھیں، وہی ظالم ہیں‘‘ اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ ایک آدمی کو اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے اور وہ عناد، تکبر اور سرکشی کی بنا پر اس سے انکار کردیتا ہے۔ یہ بہت بڑی دلیل ہے کہ محمدﷺکی نبوت حق ہے۔ آپ کی اور آپ کو خبریں دینے والے کی سچائی پر طرح طرح کی واضح دلیلیں موجود ہیں، جس (اللہ) نے آپ کو وہ خبریں دیں، جن کا علم آپ کو اللہ کے بتائے بغیر نہیں ہوسکتا۔
آل عمران 3:95
کہہ دیجیے! سچ کہا اللہ نے، پس اتباع کرو تم ملت ابراہیم کا، جو حق پرست تھا اور نہیں تھا وہ شرک کرنے والوں میں سے(95)
[95] اس لیے فرمایا: ﴿قُلۡ صَدَقَ اللّٰهُ﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ سچا ہے‘‘ ان خبروں میں بھی جو اس نے بتائی ہیں اور ان احکام میں بھی جو اس نے نازل کیے ہیں۔ اللہ کی طرف سے رسول کو اور اس کے رسول کے متبعین کو حکم ہے کہ زبان سے بھی کہیں ’’اللہ سچا ہے‘‘ اور ان یقینی دلائل کی بنیاد پر دل میں بھی یہ عقیدہ رکھیں ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو سمعی اور عقلی تفصیلی دلائل کا علم زیادہ ہوتا ہے، اس کا اللہ کے سچا ہونے پر زیادہ یقین ہوتا ہے۔ پھر حکم دیا کہ اپنے جد امجد حضرت ابراہیمuکے طریقے کی پیروی کرتے ہوئے توحید اختیار کریں اور شرک سے اجتناب کریں۔ کیونکہ سعادت و خوش نصیبی کا دارومدار توحید کو اختیار کرنے اور شرک سے پرہیز کرنے پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہودی وغیرہ جو ابراہیمuکے طریقے پر نہیں، وہ مشرک ہیں موحد نہیں۔ جب ابراہیمuکے اس طریقے کی پیروی کا حکم دیا گیا کہ توحید اختیار کریں اور شرک سے بچیں، تو اس کے بعد یہ حکم دیا گیا کہ ابراہیمuکے طریقے کی پیروی کرتے ہوئے بیت اللہ کا بھی احترام کریں یعنی حج اور عمرہ وغیرہ ادا کریں۔ چنانچہ ارشاد ہے:
آل عمران 3:96
بلاشبہ پہلا گھر جو مقرر کیا گیا واسطے لوگوں کے، ، البتہ وہ ہے جو مکہ میں ہے، بڑی برکت والا اور ہدایت واسطے جہانوں کے(96) اس میں نشانیاں ہیں واضح، مقام ابراہیم (وغیرہ) اور جو اس میں داخل ہوا، ہو گیا وہ امن والا،اور اللہ ہی کے لیے ہے اوپر لوگوں کے حج کرنا بیت اللہ کا، جو طاقت رکھے اس کی طرف راستے کی اور جس نے کفر کیا تو بلاشبہ اللہ بے پروا ہے سارے جہانوں سے(97)
[97,96] اللہ تعالیٰ کعبہ شریف کا شرف بیان فرما رہا ہے کہ یہ پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے اس مقصد کے لیے مقرر کیا ہے کہ وہ اس میں اپنے رب کی عبادت کریں اور ان کے گناہ معاف ہوں۔ اور انھیں وہ نیکیاں حاصل ہوں جن کی وجہ سے انھیں رب کی رضا حاصل ہو، اور وہ ثواب حاصل کرکے اللہ کے عذاب سے بچ جائیں، اس لیے فرمایا:﴿مُبٰرَؔكًا﴾ ’’برکت والا ہے‘‘ اس میں بہت سی برکتیں، اور دینی و دنیوی فوائد موجود ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾(الحج:22؍28) ’’تاکہ وہ اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں، اور ان مقررہ دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام یاد کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں‘‘ ﴿وَّهُدًى لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور ہدایت ہے جہان والوں کے لیے‘‘ ہدایت کی دو قسمیں ہیں:علمی ہدایت اور عملی ہدایت۔ عملی ہدایت تو ظاہر ہے کہ اللہ نے ایسی عبادتیں مقرر کی ہیں جو اس مقدس گھر کے ساتھ مخصوص ہیں۔ علمی ہدایت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے حق کا علم حاصل ہوتاہے کیونکہ اس میں آیات بینات موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فِيۡهِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ﴾ ’’اس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں‘‘ یعنی مختلف علوم الٰہی اور بلند مطالب پر واضح دلائل اور قطعی براہین موجود ہیں۔ مثلاً اللہ کی توحید کے دلائل، اس کی رحمت، حکمت، عظمت، جلالت، اس کے کامل علم اوربے حد و حساب جودوسخا کے دلائل، اور انبیاء و اولیاء پر ہونے والے اللہ کے احسانات کی نشانیاں۔ ان نشانیوں میں سے ایک ﴿مَّقَامُ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ بھی ہے۔ اس سے وہ پتھربھی مراد ہوسکتا ہے جس پر کھڑے ہوکر ابراہیمuکعبہ کی عمارت بناتے رہے تھے۔ پہلے یہ کعبہ کی دیوار سے متصل تھا۔ حضرت عمرtنے اپنے دور خلافت میں اسے موجودہ مقام پر منتقل کیا۔ اس پتھر میں نشان سے مراد ایک قول کے مطابق حضرت ابراہیمuکے قدموں کے نشان ہیں کہ سخت چٹان میں نشان پڑگئے جو امت محمدیہ کے ابتدائی زمانے تک باقی رہے۔ یہ ایک خرق عادت معجزہ ہے۔ دوسرے قول کے مطابق نشان سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت، شرف اور احترام کے جذبات رکھ دیے ہیں۔ ’’مقام ابراہیم‘‘ کی دوسری تشریح یہ ہوسکتی ہے کہ یہ لفظ مفرد ہے جسے ابراہیم کی طرف مضاف کیا گیا ہے، اس لیے اس سے مراد وہ تمام مقامات ہیں جن سے آپ کا تعلق ہے یعنی وہ تمام مقامات جہاں حج کے مناسک ادا ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے حج کے تمام مناسک بھی ’’آیَاتِ بَیِّنَات‘‘ میں شامل ہیں، مثلاً طواف، سعی اور ان کے مقامات، عرفات اور مزدلفہ میں ٹھہرنا، رمی کرنا اور دوسرے شعائر۔ اس میں نشانی یہ ہے کہ اللہ نے لوگوں کے دلوں میں ان کی عظمت و احترام نقش کردیا ہے۔ لوگ یہاں تک پہنچنے کے لیے مال و دولت خرچ کرتے اور ہر قسم کی مشقت برداشت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں عجیب و غریب اسرار اور اعلیٰ معنویات پوشیدہ ہیں۔ اس کے افعال میں وہ حکمتیں اورمصلحتیں ہیں کہ مخلوق ان میں سے تھوڑی سی حکمتیں شمار کرنے سے بھی عاجز ہے۔ اس کی کھلی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں داخل ہونے والے کو اللہ تعالیٰ امن عطا فرماتا ہے۔ اور اسے شرعی حکم بھی قرار دے دیا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے پیغمبر ابراہیمuنے، پھر محمدﷺنے اس کے احترام کا حکم دیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ جو اس میں داخل ہوجائے، اسے امن حاصل ہوجاتا ہے۔ اسے وہاں سے نکالا نہیں جاسکتا۔ یہ حرمت حرم کے شکار، درختوں اور نباتات کو بھی حاصل ہے۔ اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص حدود حرم سے باہر کوئی جرم کرلے، پھر حرم میں آجائے تو اسے بھی امن حاصل ہوگا۔ جب تک وہ اس سے باہر نہیں آتا اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔ اللہ کے قضا و قدر کے فیصلے کے مطابق اس مقام کے امن ہونے کی وضاحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دلوں میں، حتیٰ کہ مشرکوں اور کافروں کے دلوں میں بھی اس کا احترام ڈال دیا۔ مشرکین عرب انتہائی لڑاکا طبیعت والے، غیرت والے اور کسی کا طعنہ برداشت نہ کرنے والے تھے۔ اس کے باوجود اگر کسی کو اپنے باپ کا قاتل بھی حرم کی حدود میں مل جاتا تھا تو وہ اسے کچھ نہیں کہتا تھا۔ اس کے حرم ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو اسے نقصان پہنچانا چاہے اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے۔ جیسے ہاتھی والوں کے ساتھ ہوا۔اس موضوع پر میں نے ابن قیم رحمہ اللہ کا بہت اچھا بیان پڑھا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اسے یہاں ذکر کردوں، کیونکہ اس کا معلوم ہونا بہت ضروری ہے۔ امام صاحب aفرماتے ہیں:فائدہ: ﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الۡبَيۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَيۡهِ سَبِيۡلًا﴾ اس آیت میں (حِجُّ الْبَیْتِ) مبتدا ہے۔ اس کی خبر اس سے پہلے دو جارو مجرور میں سے کوئی ایک ہوسکتا ہے۔ معنی کے لحاظ سے (عَلَى النَّاسِ) کو خبر بنانا بہتر ہے کیونکہ یہ وجوب کے لیے ہے۔ اور وجوب کے لیے (عَلَى) ہونا چاہیے۔ ممکن ہے لِلّٰہِ خبر ہو۔ کیونکہ اس میں وجوب اور استحقاق کا مفہوم ہے۔ اس قول کو اس امر سے بھی ترجیح حاصل ہوتی ہے کہ فائدہ کا اصل مقام خبر ہے۔ اس مقام میں اس کو لفظاً مقدم کیا گیا ہے لیکن معنی کے لحاظ سے وہ موخر ہے۔ اس وجہ سے (وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ) کہنا بہتر ہوا۔ پہلے قول کی تائید میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وجوب کے لیے (حِجُّ الْبَیْتِ عَلَی النَّاسِ) ’’بیت اللہ کا حج لوگوں پر واجب ہے‘‘ کا انداز زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ بہ نسبت یوں کہنے کہ ﴿حِجُّ الۡبَيۡتِ لِلهِ﴾ ’’بیت اللہ کا حج اللہ کا حق ہے۔‘‘اس تشریح کے مطابق پہلے مجرور کو مقدم کرنا، حالانکہ وہ خبر نہیں، دو فوائد کا حامل ہے:پہلا فائدہ: یہ حج کو واجب کرنے والے (اللہ)کا نام ہے۔ لہٰذا وجوب کے ذکر سے پہلے اس کا ذکر کرنا زیادہ حق رکھتا ہے۔ یعنی آیت میں تین اشیا کا ذکر ہے جو وقوع کے لحاظ سے بالترتیب ذکر ہوئی ہیں:(۱)اس فریضہ کو واجب کرنے والا۔ اس کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا ہے۔ (۲) واجب کو ادا کرنے والا، جس پر وہ فرض عائد ہوتا ہے۔ وہ ہیں لوگ (۳) وہ حق جس کے ساتھ اللہ کا تعلق واجب کرنے کا اور بندوں کا تعلق واجب ہونے اور ادا کرنے کا ہے، وہ ہے حج۔دوسرا فائدہ: مجرور اللہ تعالیٰ کا نام مبارک ہونے کی وجہ سے اہمیت کا مستحق ہے۔ لہٰذا اس کے واجب کیے ہوئے فریضہ کے احترام کی عظمت کا لحاظ رکھے ہوئے، اس فریضہ کو ضائع کرنے سے منع کرنے کے لیے اسے پہلے ذکر کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ کا واجب کیا ہوا کام کسی اور کے واجب کیے ہوئے کی طرح نہیں، بلکہ زیادہ اہم اور لازم ہے۔لفظ ’’ مَنْ ‘‘ بدل ہے۔ بعض لوگوں نے اسے مصدر کا فاعل قرار دینا پسند کیا ہے گویا آیت کا مفہوم یوں ہے: أَنْ یَّحُجَّ الْبَیْتَ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِيْلًا ’’کہ جو شخص اس کی طرف راستے کی طاقت رکھتا ہے وہ بیت اللہ کا حج کرے‘‘ یہ قول کئی وجہ سے ضعیف ہے۔ (۱)حج فرض عین ہے۔ اگر آیت کا مفہوم یہ ہوتا جو ان لوگوں نے بیان کیا ہے تو اس سے حج کا فریضہ فرض کفایہ ہوتا۔ یعنی جب استطاعت والوں نے حج کرلیا تو دوسروں کے ذمہ سے ساقط ہوگیا۔ اس صورت میں معنی یوں بن جاتا ہے وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتَ مُسْتَطِیعِہِمْ ’’لوگوں کے ذمے اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج فرض ہے استطاعت رکھنے والے کے لیے‘‘ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب استطاعت رکھنے والوں نے ادا کرلیا تو استطاعت نہ رکھنے والوں پر واجب نہیں رہا۔ حالانکہ صحیح صورت حال یہ نہیں۔ بلکہ حج ہر شخص پر فرض عین ہے۔ طاقت والا حج کرے یا نہ کرے وہ اس کے ذمے ہے۔ لیکن طاقت نہ رکھنے والے کو اللہ نے معذور قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس سے مواخذہ نہیں کرے گا، نہ اس سے ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ جب وہ حج کرے گا تو خود اس کا اپنا فرض ادا ہوگا۔ ایسا نہیں ہے کہ طاقت رکھنے والوں کے حج کرنے کی وجہ سے طاقت نہ رکھنے والوں سے فرضیت ساقط ہوجاتی ہو۔ اس کی مزید وضاحت اس مثال سے ہوتی ہے کہ جب کوئی کہے (وَاجِبٌ عَلٰی أَہْلِ ہٰذِہِ النَّاحِیَۃِ أَنْ یُّجَاہِدَ مِنْہُمُ الطَّائِفَۃُ الْمُسْتَطِیعُونَ لِلْجِہَادِ) ’’اس علاقے والوں کا فرض ہے کہ ان میں سے جہاد کی طاقت رکھنے والی جماعت ضرور جہاد کرے‘‘ تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جب طاقت رکھنے و الے جہاد کریں تو دوسرے لوگوں سے وجوب کا تعلق ختم ہوجائے گا۔ لیکن اگر یوں کہا جائے (واجب علی الناس کلہم ان یجاہد منہم المستطیع) ’’سب لوگوں کا فرض ہے کہ ان میں سے طاقت رکھنے والا جہاد کرے‘‘ تو وجوب کا تعلق تو ہر فرد سے ہوگا، لیکن طاقت نہ رکھنے والے معذور سمجھے جائیں گے۔ لہٰذا (للہ حج البیت علی المستطیعین) کے بجائے آیت مبارکہ کے انداز سے ارشاد فرمانے میں یہ نادر نکتہ ہے۔ لہٰذا اسے غور کرکے سمجھنا چاہیے۔دوسری وجہ: جملہ میں فاعل کی موجودگی میں مصدر کی اضافت فاعل کی طرف کرنا مفعول کی طرف اضافت کرنے کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اس اصول سے گریز صرف کسی منقول دلیل کی بنیاد پر ہی کیا جاسکتا ہے۔ آیت مبارکہ میں اگر مَنْ کو فاعل تسلیم کیا جائے تو اس کا تقاضا ہے کہ مصدر کو اس کی طرف مضاف کرکے یوں کہا جائے: وللہ علی الناس حِجُّ مَنِ اسْتَطَاعَ اسے (یُعْجِبُنِیْ ضَرْبُ زیدٍ عَمْرًا) جیسی مثال پر یا مصدر اور اس کے مضاف الیہ فاعل کے درمیان مفعول یا ظرف کے فاصلے کی صورت پر محمول کرنا گویا مکتوب پر محمول کرنا ہے جو مرجوح ہے۔ جیسے ابن عامر کی یہ قراء ت مرجوح ہے (کذلک زُیِّن لکثیر من المشرکین قَتْلُ اولادھم شرکاۂم۔) لہٰذا یہ قول درست نہیں ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ من استطاع میں ’’من‘‘ بدل بعض ہے تو ضروری ہے کہ کلام میں کوئی ضمیر موجود ہو جو ’’الناس‘‘ کی طرف راجع ہو۔ یعنی عبارت گویا یوں ہے ’’من استطاع منہم‘‘ اکثر مقامات پر اس ضمیر کا حذف کرنا بہتر نہیں ہوتا۔ البتہ یہاں اس کا حذف کرنا اچھا ہے۔ اس کے کئی وجوہ ہیں: (۱)’’من‘‘ کا لفظ اس کے مبدل منہ کی طرح غیر عاقل پر واقع ہوا ہے، اس لیے اس سے ربط قائم ہوگیا ہے۔ (۲)یہ اسم موصول ہے جس کا صلہ اس سے اخص ہے۔ اگر صلہ اعم ہوتا تو ضمیر حذف کرنا قبیح ہوتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب آپ کہیں: (رأیت إخوتک من ذہب إلی السوق منہم) ’’میں نے تیرے بھائیوں کو، ان میں سے جو بازار گیا، دیکھا‘‘ تو یہ قبیح ہوگا۔ کیونکہ (ذاھب الی السوق) اعم ہے اخوۃ سے ۔اسی طرح اگر یوں کہا جائے: البس الثیاب ماحسن ’’کپڑے پہن جو اچھے ہیں‘‘ مطلب یہ ہو گا کہ (ماحسن منہا) ’’ان میں سے جو اچھے ہیں‘‘ تو ضمیر ذکر نہ کرنا زیادہ غلط ہوگا۔ کیونکہ لفظ ’’ما‘‘ میں ’’الثیاب‘‘ کی نسبت عموم پایا جاتا ہے۔ اور بدل بعض کو مبدل منہ سے زیادہ خاص ہونا چاہیے۔ اگر وہ زیاہ عام ہو، پھر اسے مبدل منہ کی طرف لوٹنے والی چیز کی طرف مضاف کردیا جائے یا اس ضمیر کے ساتھ مقید کردیا جائے تو عموم ختم ہوجائے گا اور خصوص کا مفہوم باقی رہ جائے گا۔ (۳)یہاں مضاف کو حذف کرنا اس لیے بھی بہتر ہے کہ صلہ اور موصول کے ساتھ کلام زیادہ طویل ہوجاتا ہے۔لفظ لِلہِ کے مجرور کے بارے میں دو احتمال ہیں اول یہ کہ وہ من سبیل کے محل میں ہو۔ گویا ہ وہ نکرہ کی صفت ہے جو نکرہ سے مقدم ہے۔ کیونکہ اگر اسے موخر کیا جاتا تو وہ سبیل کی صفت کی جگہ ہوتا۔ دوم یہ کہ ’’سبیل‘‘ کا متعلق ہو۔ اگر آپ کہیں کہ یہ اس کا متعلق کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اس (سبیل) میں فعل کا معنی نہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہاں سبیل کا مفہوم ’’الموصل الی البیت‘‘ کعبہ تک پہنچانے والی چیز یعنی سامان سفر وغیرہ ہے۔ لہٰذا س میں فعل کا تھوڑا سا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہاں سبیل سے وہ راستہ مراد نہیں جس پر چلتے ہیں، اس لیے جار مجرور اس کے متعلق ہوسکتا ہے۔ اور حسن نظم اور اعجاز لفظی کے لحاظ سے جار مجرور کو مقدم کرنا بہتر تھا، اگرچہ اس کا اصل مقام موخر ہی ہے، کیونکہ یہ ضمیر ’’بیت‘‘ کی طرف راجع ہے۔ اور اصل اہمیت بیت (کعبہ) ہی کو دینا مقصود ہے۔ اور اہل عرب کلام میں اہم چیز کو مقدم کرتے ہیں۔ یہ سہیلی کے کلام کی وضاحت ہے۔ لیکن یہ قول بہت بعید ہے۔ بلکہ جار مجرور کے متعلق ان دونوں سے بہتر ایک قول ہے، وہی درست ہے۔ اور اس آیت سے وہی مفہوم مناسبت رکھتا ہے۔ وہ ہے ’’وجوب‘‘ جو آیت کے لفظ ’’علی الناس‘‘ سے سمجھ میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ (یجب للہ علی الناس الحج) ’’لوگوں پر اللہ کے لیے حج کرنا واجب ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ کا وجوبی حق ہے۔ اسے ’’سبیل‘‘ کے متعلق قرار دے کر اس کا حال بنانا بہت ہی بعید ہے۔ آیت سے یہ مفہوم بالکل ذہن میں نہیں آتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کہیں (للہ علیک الصلاۃ والزکاۃ والصیام) ’’آپ پر اللہ کے لیے نماز، زکاۃ اور روزہ ضروری ہے۔‘‘آیت میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ایسے کام کا ذکر کرتا ہے، جسے واجب یا حرام قرار دینا مقصود ہو، تو وہ اکثر اوقات امرونہی کے الفاظ سے مذکور ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس مقصد کے لیے ایجاب، کتابۃ اور تحریم کے الفاظ بھی وارد ہوتے ہیں۔ مثلاً ﴿ كُتِبَ عَلَيۡكُمُ الصِّيَامُ ﴾(البقرہ:2؍183) ’’تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے۔‘‘ ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ ﴾(المائدۃ:5؍3) ’’تم پر مردار حرام کیا گیا ہے‘‘ ﴿ قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾(الانعام:6؍151) ’’کہہ دیجیے! آؤ میں تمھیں پڑھ کر سناؤں کہ اللہ نے تم پر کیا پابندیاں لگائی ہیں۔‘‘ حج کے بارے میں جو لفظ استعمال ہوا ہے (وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ) ’’اس سے دس انداز سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کو مقدم فرمایا ہے۔ اور اس پر ’’ل‘‘ داخل کیا ہے، جس سے استحقاق اور اختصاص ظاہر ہوتا ہے۔ پھر جن پر واجب ہے ان کے لیے عموم کا صیغہ استعمال کیا ہے، اور اس پر عَلٰی داخل کیا ہے، جس سے اہل استطاعت کو بدل بنایا ہے۔ پھر ’’سبیل‘‘ نکرہ ہے جو سیاق شرط میں واقع ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ حج ہر قسم کے سبیل میسر ہونے سے واجب ہوجاتا ہے، مثلاً خوراک اور مال۔ یعنی وجوب کا تعلق ہر اس چیز سے ہے جسے ’’سبیل‘‘کہا جاسکے۔ پھر اس کے بعد سب سے عظیم تہدید ذکر فرمائی اور فرمایا ﴿ وَمَنۡ كَفَرَ ﴾ یعنی جس نے اس واجب پر عمل نہ کرکے اور اسے ترک کرکے کفر کا ارتکاب کیا۔ پھر اس کی عظمت شان کے لیے وعید کو موکد فرمایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ مستغنی ہے۔ اسے کسی کے حج کی ضرورت نہیں۔ یہاں استغنا کے ذکر کا مقصد ناراضی، غصے اور بے اعتنائی کا اظہار ہے، جو بہت عظیم اور بلیغ وعید ہے۔ اس کی مزید تائید اس سے ہوتی ہے کہ یہاں ’’العالمین‘‘ کا عام لفظ بولا گیا ہے۔ یہ نہیں فرمایا:(فان اللہ غنی عنہ) ’’اللہ اس سے مستغنی ہے‘‘ کیونکہ جب وہ تمام جہانوں سے مستغنی اور بے پروا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے اور ہر اعتبارسے کامل و مکمل استغنا حاصل ہے۔ اس طرح اس کے واجب کردہ حق کو ترک کرنے والے پر اس کی ناراضی زیادہ تاکید سے ظاہر ہوتی ہے۔ پھر اس مفہوم کو لفظ ’’ان‘‘ کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے جوبذات خود تاکید پر دلالت کرتا ہے۔ یہ دس وجوہ ہیں جن سے اس فرض عظیم کا ضروری اور موکد ہونا ظاہر ہوتا ہے۔علاوہ ازیں آیت مبارکہ میں ’’بدل‘‘میں پوشیدہ نکتہ پر بھی غور کیجیے۔ بدل کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اسناد دوبارہ ذکر ہوئی ہے۔ ایک دفعہ اس کی اسناد عمومی طورپر سب لوگوں سے ہے اور دوسری بار خاص طورپر استطاعت رکھنے والوں سے۔ اور بدل کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اسناد کی تکرار سے معنی میں قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی لیے بدل عامل کی تکرار اور دہرانے کا مفہوم رکھتا ہے۔پھر غور کیجیے کہ آیت میں کس طرح ابہام کے بعد توضیح اور اجمال کے بعد تفصیل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اہمیت دیتے ہوئے اور اس کی شان کی تاکید فرماتے ہوئے کلام کو دو صورتوں میں وارد کیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی غور کیجیے کہ کس طرح وجوب کا ذکر کرنے سے پہلے کعبہ شریف کی خوبیوں اور عظمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے دلوں میں اس کی زیارت اور حج کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ چیز خود مقصود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اَوَّلَ بَيۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ … الخ﴾ چنانچہ کعبہ شریف کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں۔ (۱) وہ دنیا میں عبادت کے لیے مقرر کیا جانے والا سب سے پہلا اللہ کا گھر ہے۔ (۲) برکت والا ہے۔ برکت کا مطلب خیر کا دوام اور کثرت ہے۔ دنیا میں اتنی برکت والا، اس قدر کثیر اور دائمی خیر والا، اور مخلوق کے لیے اس قدر فوائد کا حامل کوئی گھر موجود نہیں۔ (۳) وہ ہدایت ہے۔ ہدایت دینے والے کے بجائے ہدایت (مصدر) کا لفظ بولنے میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے گویا یہ خود سراپا ہدایت ہے۔ (۴) اس میں آیات بینات (واضح نشانیاں) موجود ہیں۔ جن کی تعداد چالیس سے زیادہ ہے۔ (۵) اس میں داخل ہونے والے کے لیے امن ہے۔ اگر یہی صفات ذکر کردی جائیں اور اس کی زیارت کا حکم نہ دیا جاتا، تب بھی ان صفات کی وجہ سے دلوں میں اس کی زیارت کی تڑپ پیدا ہوتی، خواہ کتنی دور سے آنا پڑتا۔ یہاں تو یہ صفات ذکر کرنے کے بعد صراحت کے ساتھ فرض ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس قدر تاکیدات لائی گئی ہیں، جن سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس گھر کی بے حد اہمیت ہے۔ اور اس کے نزدیک اس کی شان و عظمت کی کوئی حد نہیں۔ اگر اس میں یہی شرف ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف کرتے ہوئے اسے (بیتی)(میرا گھر) فرمایا ہے، تو یہ نسبت ہی اتنی بڑی فضیلت اور اتنا بڑا شرف ہے کہ صرف اس کی وجہ سے جہان والوں کے دل اس کی طرف متوجہ ہوجاتے، اور اس کی زیارت کے لیے دور دراز سے کھنچے آتے۔ محبت کرنے والوں کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ اس کے پاس اکٹھے ہوکر آتے ہیں، اس کی زیارت سے کبھی سیر نہیں ہوتے۔ جتنی زیادہ زیارت کرتے ہیں، اتنا ہی محبت اور شوق میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ دور جانے سے محبت کی لو مدہم ہوتی ہے نہ وصال سے ان کی پیاس بجھتی ہے۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے:میں اس کا طواف کرتا ہوں اور دل پھر بھی شوق سے بھرپور ہےکیا طواف کے بعد مزید قرب بھی ہوسکتا ہے؟میں اس کے حجر اسود کو چومتا ہوں، اور اس طرح دل میں موج زنمحبت اور پیاس کو ٹھنڈک پہنچانا چاہتا ہوںقسم ہے اللہ کی! میری محبت ہی میں اضافہ ہوتا ہےاور دل اور زیادہ دھڑکنے لگتا ہے۔اے جنت ماویٰ! اے مقصود تمنا!اور اے میری آرزو! ہر امان سے قریب تر!غلبہ ہائے شوق تیرے قرب پر اصرار کرتے ہیںتجھ سے فراق میرے بس میں نہیں!میں اگر تجھ سے دور ہوا تو اس کی وجہ بے اعتنائی نہیںاس کا گواہ میری (اشک بار) آنکھیں اور (نالہ وشیون کرتی) زبان ہے۔تجھ سے دور ہونے کے بعد میں نے صبر کو بھی آواز دی اور گریہ کو بھیگریہ نے (فوراً) لبیک کہا (اور آگیا) اور صبر نے میری بات نہ مانی (صبر نہ آیا)لوگ گمان کرتے ہیں کہ جب محب دور چلا جائےتو لمبا عرصہ گزرنے کے بعد اس کی محبت کمزور ہوجاتی ہے۔اگر یہ خیال درست ہوتا، تو یقیناًہر زمانے کے لوگوں کے لیے محبت کا علاج ہوتاہاں ہاں محب کمزور ہوجائے گا اور محبتاسی حال میں ہوگی، اسے رات دن کے گزرنے نے کمزور نہیں کیا ہوگا۔(امام ابن قیمa کا یہ کلام ان کی کتاب ’’بدائع الفوائد‘‘ سے منقول ہے۔ اس میں یہ شعر اس طرح درج ہے: (بلیٰ انہ یبلی التصبر و الہوی...علی حالہ لم یبلہ الملوان) ’’ہاں صبر تو کمزور ہوجاتا ہے لیکن محبت اپنے حال پر رہتی ہے، وہ رات دن کے گزرنے سے کمزور نہیں ہوتی)یہ محبت کرنے والا ہے، جسے شوق اور عشق لیے جاتا ہےبغیر کسی لگام اور باگ کے جو اسے کھینچے لے جاتی ہو۔زیارت گاہ دور ہونے کے باوجود، وہ تیرے در پر آپہنچا ہےاگر اس کی سواری کمزور ہوجاتی تو اس کے قدم ہی اسے لے آتے۔یہاں امام ابن قیم a کا کلام ختم ہوا۔
آل عمران 3:97
بلاشبہ پہلا گھر جو مقرر کیا گیا واسطے لوگوں کے، ، البتہ وہ ہے جو مکہ میں ہے، بڑی برکت والا اور ہدایت واسطے جہانوں کے(96) اس میں نشانیاں ہیں واضح، مقام ابراہیم (وغیرہ) اور جو اس میں داخل ہوا، ہو گیا وہ امن والا،اور اللہ ہی کے لیے ہے اوپر لوگوں کے حج کرنا بیت اللہ کا، جو طاقت رکھے اس کی طرف راستے کی اور جس نے کفر کیا تو بلاشبہ اللہ بے پروا ہے سارے جہانوں سے(97)
[97,96] اللہ تعالیٰ کعبہ شریف کا شرف بیان فرما رہا ہے کہ یہ پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے اس مقصد کے لیے مقرر کیا ہے کہ وہ اس میں اپنے رب کی عبادت کریں اور ان کے گناہ معاف ہوں۔ اور انھیں وہ نیکیاں حاصل ہوں جن کی وجہ سے انھیں رب کی رضا حاصل ہو، اور وہ ثواب حاصل کرکے اللہ کے عذاب سے بچ جائیں، اس لیے فرمایا:﴿مُبٰرَؔكًا﴾ ’’برکت والا ہے‘‘ اس میں بہت سی برکتیں، اور دینی و دنیوی فوائد موجود ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾(الحج:22؍28) ’’تاکہ وہ اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں، اور ان مقررہ دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام یاد کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں‘‘ ﴿وَّهُدًى لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور ہدایت ہے جہان والوں کے لیے‘‘ ہدایت کی دو قسمیں ہیں:علمی ہدایت اور عملی ہدایت۔ عملی ہدایت تو ظاہر ہے کہ اللہ نے ایسی عبادتیں مقرر کی ہیں جو اس مقدس گھر کے ساتھ مخصوص ہیں۔ علمی ہدایت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے حق کا علم حاصل ہوتاہے کیونکہ اس میں آیات بینات موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فِيۡهِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ﴾ ’’اس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں‘‘ یعنی مختلف علوم الٰہی اور بلند مطالب پر واضح دلائل اور قطعی براہین موجود ہیں۔ مثلاً اللہ کی توحید کے دلائل، اس کی رحمت، حکمت، عظمت، جلالت، اس کے کامل علم اوربے حد و حساب جودوسخا کے دلائل، اور انبیاء و اولیاء پر ہونے والے اللہ کے احسانات کی نشانیاں۔ ان نشانیوں میں سے ایک ﴿مَّقَامُ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ بھی ہے۔ اس سے وہ پتھربھی مراد ہوسکتا ہے جس پر کھڑے ہوکر ابراہیمuکعبہ کی عمارت بناتے رہے تھے۔ پہلے یہ کعبہ کی دیوار سے متصل تھا۔ حضرت عمرtنے اپنے دور خلافت میں اسے موجودہ مقام پر منتقل کیا۔ اس پتھر میں نشان سے مراد ایک قول کے مطابق حضرت ابراہیمuکے قدموں کے نشان ہیں کہ سخت چٹان میں نشان پڑگئے جو امت محمدیہ کے ابتدائی زمانے تک باقی رہے۔ یہ ایک خرق عادت معجزہ ہے۔ دوسرے قول کے مطابق نشان سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت، شرف اور احترام کے جذبات رکھ دیے ہیں۔ ’’مقام ابراہیم‘‘ کی دوسری تشریح یہ ہوسکتی ہے کہ یہ لفظ مفرد ہے جسے ابراہیم کی طرف مضاف کیا گیا ہے، اس لیے اس سے مراد وہ تمام مقامات ہیں جن سے آپ کا تعلق ہے یعنی وہ تمام مقامات جہاں حج کے مناسک ادا ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے حج کے تمام مناسک بھی ’’آیَاتِ بَیِّنَات‘‘ میں شامل ہیں، مثلاً طواف، سعی اور ان کے مقامات، عرفات اور مزدلفہ میں ٹھہرنا، رمی کرنا اور دوسرے شعائر۔ اس میں نشانی یہ ہے کہ اللہ نے لوگوں کے دلوں میں ان کی عظمت و احترام نقش کردیا ہے۔ لوگ یہاں تک پہنچنے کے لیے مال و دولت خرچ کرتے اور ہر قسم کی مشقت برداشت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں عجیب و غریب اسرار اور اعلیٰ معنویات پوشیدہ ہیں۔ اس کے افعال میں وہ حکمتیں اورمصلحتیں ہیں کہ مخلوق ان میں سے تھوڑی سی حکمتیں شمار کرنے سے بھی عاجز ہے۔ اس کی کھلی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں داخل ہونے والے کو اللہ تعالیٰ امن عطا فرماتا ہے۔ اور اسے شرعی حکم بھی قرار دے دیا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے پیغمبر ابراہیمuنے، پھر محمدﷺنے اس کے احترام کا حکم دیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ جو اس میں داخل ہوجائے، اسے امن حاصل ہوجاتا ہے۔ اسے وہاں سے نکالا نہیں جاسکتا۔ یہ حرمت حرم کے شکار، درختوں اور نباتات کو بھی حاصل ہے۔ اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص حدود حرم سے باہر کوئی جرم کرلے، پھر حرم میں آجائے تو اسے بھی امن حاصل ہوگا۔ جب تک وہ اس سے باہر نہیں آتا اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔ اللہ کے قضا و قدر کے فیصلے کے مطابق اس مقام کے امن ہونے کی وضاحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دلوں میں، حتیٰ کہ مشرکوں اور کافروں کے دلوں میں بھی اس کا احترام ڈال دیا۔ مشرکین عرب انتہائی لڑاکا طبیعت والے، غیرت والے اور کسی کا طعنہ برداشت نہ کرنے والے تھے۔ اس کے باوجود اگر کسی کو اپنے باپ کا قاتل بھی حرم کی حدود میں مل جاتا تھا تو وہ اسے کچھ نہیں کہتا تھا۔ اس کے حرم ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو اسے نقصان پہنچانا چاہے اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے۔ جیسے ہاتھی والوں کے ساتھ ہوا۔اس موضوع پر میں نے ابن قیم رحمہ اللہ کا بہت اچھا بیان پڑھا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اسے یہاں ذکر کردوں، کیونکہ اس کا معلوم ہونا بہت ضروری ہے۔ امام صاحب aفرماتے ہیں:فائدہ: ﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الۡبَيۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَيۡهِ سَبِيۡلًا﴾ اس آیت میں (حِجُّ الْبَیْتِ) مبتدا ہے۔ اس کی خبر اس سے پہلے دو جارو مجرور میں سے کوئی ایک ہوسکتا ہے۔ معنی کے لحاظ سے (عَلَى النَّاسِ) کو خبر بنانا بہتر ہے کیونکہ یہ وجوب کے لیے ہے۔ اور وجوب کے لیے (عَلَى) ہونا چاہیے۔ ممکن ہے لِلّٰہِ خبر ہو۔ کیونکہ اس میں وجوب اور استحقاق کا مفہوم ہے۔ اس قول کو اس امر سے بھی ترجیح حاصل ہوتی ہے کہ فائدہ کا اصل مقام خبر ہے۔ اس مقام میں اس کو لفظاً مقدم کیا گیا ہے لیکن معنی کے لحاظ سے وہ موخر ہے۔ اس وجہ سے (وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ) کہنا بہتر ہوا۔ پہلے قول کی تائید میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وجوب کے لیے (حِجُّ الْبَیْتِ عَلَی النَّاسِ) ’’بیت اللہ کا حج لوگوں پر واجب ہے‘‘ کا انداز زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ بہ نسبت یوں کہنے کہ ﴿حِجُّ الۡبَيۡتِ لِلهِ﴾ ’’بیت اللہ کا حج اللہ کا حق ہے۔‘‘اس تشریح کے مطابق پہلے مجرور کو مقدم کرنا، حالانکہ وہ خبر نہیں، دو فوائد کا حامل ہے:پہلا فائدہ: یہ حج کو واجب کرنے والے (اللہ)کا نام ہے۔ لہٰذا وجوب کے ذکر سے پہلے اس کا ذکر کرنا زیادہ حق رکھتا ہے۔ یعنی آیت میں تین اشیا کا ذکر ہے جو وقوع کے لحاظ سے بالترتیب ذکر ہوئی ہیں:(۱)اس فریضہ کو واجب کرنے والا۔ اس کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا ہے۔ (۲) واجب کو ادا کرنے والا، جس پر وہ فرض عائد ہوتا ہے۔ وہ ہیں لوگ (۳) وہ حق جس کے ساتھ اللہ کا تعلق واجب کرنے کا اور بندوں کا تعلق واجب ہونے اور ادا کرنے کا ہے، وہ ہے حج۔دوسرا فائدہ: مجرور اللہ تعالیٰ کا نام مبارک ہونے کی وجہ سے اہمیت کا مستحق ہے۔ لہٰذا اس کے واجب کیے ہوئے فریضہ کے احترام کی عظمت کا لحاظ رکھے ہوئے، اس فریضہ کو ضائع کرنے سے منع کرنے کے لیے اسے پہلے ذکر کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ کا واجب کیا ہوا کام کسی اور کے واجب کیے ہوئے کی طرح نہیں، بلکہ زیادہ اہم اور لازم ہے۔لفظ ’’ مَنْ ‘‘ بدل ہے۔ بعض لوگوں نے اسے مصدر کا فاعل قرار دینا پسند کیا ہے گویا آیت کا مفہوم یوں ہے: أَنْ یَّحُجَّ الْبَیْتَ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِيْلًا ’’کہ جو شخص اس کی طرف راستے کی طاقت رکھتا ہے وہ بیت اللہ کا حج کرے‘‘ یہ قول کئی وجہ سے ضعیف ہے۔ (۱)حج فرض عین ہے۔ اگر آیت کا مفہوم یہ ہوتا جو ان لوگوں نے بیان کیا ہے تو اس سے حج کا فریضہ فرض کفایہ ہوتا۔ یعنی جب استطاعت والوں نے حج کرلیا تو دوسروں کے ذمہ سے ساقط ہوگیا۔ اس صورت میں معنی یوں بن جاتا ہے وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتَ مُسْتَطِیعِہِمْ ’’لوگوں کے ذمے اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج فرض ہے استطاعت رکھنے والے کے لیے‘‘ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب استطاعت رکھنے والوں نے ادا کرلیا تو استطاعت نہ رکھنے والوں پر واجب نہیں رہا۔ حالانکہ صحیح صورت حال یہ نہیں۔ بلکہ حج ہر شخص پر فرض عین ہے۔ طاقت والا حج کرے یا نہ کرے وہ اس کے ذمے ہے۔ لیکن طاقت نہ رکھنے والے کو اللہ نے معذور قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس سے مواخذہ نہیں کرے گا، نہ اس سے ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ جب وہ حج کرے گا تو خود اس کا اپنا فرض ادا ہوگا۔ ایسا نہیں ہے کہ طاقت رکھنے والوں کے حج کرنے کی وجہ سے طاقت نہ رکھنے والوں سے فرضیت ساقط ہوجاتی ہو۔ اس کی مزید وضاحت اس مثال سے ہوتی ہے کہ جب کوئی کہے (وَاجِبٌ عَلٰی أَہْلِ ہٰذِہِ النَّاحِیَۃِ أَنْ یُّجَاہِدَ مِنْہُمُ الطَّائِفَۃُ الْمُسْتَطِیعُونَ لِلْجِہَادِ) ’’اس علاقے والوں کا فرض ہے کہ ان میں سے جہاد کی طاقت رکھنے والی جماعت ضرور جہاد کرے‘‘ تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جب طاقت رکھنے و الے جہاد کریں تو دوسرے لوگوں سے وجوب کا تعلق ختم ہوجائے گا۔ لیکن اگر یوں کہا جائے (واجب علی الناس کلہم ان یجاہد منہم المستطیع) ’’سب لوگوں کا فرض ہے کہ ان میں سے طاقت رکھنے والا جہاد کرے‘‘ تو وجوب کا تعلق تو ہر فرد سے ہوگا، لیکن طاقت نہ رکھنے والے معذور سمجھے جائیں گے۔ لہٰذا (للہ حج البیت علی المستطیعین) کے بجائے آیت مبارکہ کے انداز سے ارشاد فرمانے میں یہ نادر نکتہ ہے۔ لہٰذا اسے غور کرکے سمجھنا چاہیے۔دوسری وجہ: جملہ میں فاعل کی موجودگی میں مصدر کی اضافت فاعل کی طرف کرنا مفعول کی طرف اضافت کرنے کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اس اصول سے گریز صرف کسی منقول دلیل کی بنیاد پر ہی کیا جاسکتا ہے۔ آیت مبارکہ میں اگر مَنْ کو فاعل تسلیم کیا جائے تو اس کا تقاضا ہے کہ مصدر کو اس کی طرف مضاف کرکے یوں کہا جائے: وللہ علی الناس حِجُّ مَنِ اسْتَطَاعَ اسے (یُعْجِبُنِیْ ضَرْبُ زیدٍ عَمْرًا) جیسی مثال پر یا مصدر اور اس کے مضاف الیہ فاعل کے درمیان مفعول یا ظرف کے فاصلے کی صورت پر محمول کرنا گویا مکتوب پر محمول کرنا ہے جو مرجوح ہے۔ جیسے ابن عامر کی یہ قراء ت مرجوح ہے (کذلک زُیِّن لکثیر من المشرکین قَتْلُ اولادھم شرکاۂم۔) لہٰذا یہ قول درست نہیں ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ من استطاع میں ’’من‘‘ بدل بعض ہے تو ضروری ہے کہ کلام میں کوئی ضمیر موجود ہو جو ’’الناس‘‘ کی طرف راجع ہو۔ یعنی عبارت گویا یوں ہے ’’من استطاع منہم‘‘ اکثر مقامات پر اس ضمیر کا حذف کرنا بہتر نہیں ہوتا۔ البتہ یہاں اس کا حذف کرنا اچھا ہے۔ اس کے کئی وجوہ ہیں: (۱)’’من‘‘ کا لفظ اس کے مبدل منہ کی طرح غیر عاقل پر واقع ہوا ہے، اس لیے اس سے ربط قائم ہوگیا ہے۔ (۲)یہ اسم موصول ہے جس کا صلہ اس سے اخص ہے۔ اگر صلہ اعم ہوتا تو ضمیر حذف کرنا قبیح ہوتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب آپ کہیں: (رأیت إخوتک من ذہب إلی السوق منہم) ’’میں نے تیرے بھائیوں کو، ان میں سے جو بازار گیا، دیکھا‘‘ تو یہ قبیح ہوگا۔ کیونکہ (ذاھب الی السوق) اعم ہے اخوۃ سے ۔اسی طرح اگر یوں کہا جائے: البس الثیاب ماحسن ’’کپڑے پہن جو اچھے ہیں‘‘ مطلب یہ ہو گا کہ (ماحسن منہا) ’’ان میں سے جو اچھے ہیں‘‘ تو ضمیر ذکر نہ کرنا زیادہ غلط ہوگا۔ کیونکہ لفظ ’’ما‘‘ میں ’’الثیاب‘‘ کی نسبت عموم پایا جاتا ہے۔ اور بدل بعض کو مبدل منہ سے زیادہ خاص ہونا چاہیے۔ اگر وہ زیاہ عام ہو، پھر اسے مبدل منہ کی طرف لوٹنے والی چیز کی طرف مضاف کردیا جائے یا اس ضمیر کے ساتھ مقید کردیا جائے تو عموم ختم ہوجائے گا اور خصوص کا مفہوم باقی رہ جائے گا۔ (۳)یہاں مضاف کو حذف کرنا اس لیے بھی بہتر ہے کہ صلہ اور موصول کے ساتھ کلام زیادہ طویل ہوجاتا ہے۔لفظ لِلہِ کے مجرور کے بارے میں دو احتمال ہیں اول یہ کہ وہ من سبیل کے محل میں ہو۔ گویا ہ وہ نکرہ کی صفت ہے جو نکرہ سے مقدم ہے۔ کیونکہ اگر اسے موخر کیا جاتا تو وہ سبیل کی صفت کی جگہ ہوتا۔ دوم یہ کہ ’’سبیل‘‘ کا متعلق ہو۔ اگر آپ کہیں کہ یہ اس کا متعلق کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اس (سبیل) میں فعل کا معنی نہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہاں سبیل کا مفہوم ’’الموصل الی البیت‘‘ کعبہ تک پہنچانے والی چیز یعنی سامان سفر وغیرہ ہے۔ لہٰذا س میں فعل کا تھوڑا سا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہاں سبیل سے وہ راستہ مراد نہیں جس پر چلتے ہیں، اس لیے جار مجرور اس کے متعلق ہوسکتا ہے۔ اور حسن نظم اور اعجاز لفظی کے لحاظ سے جار مجرور کو مقدم کرنا بہتر تھا، اگرچہ اس کا اصل مقام موخر ہی ہے، کیونکہ یہ ضمیر ’’بیت‘‘ کی طرف راجع ہے۔ اور اصل اہمیت بیت (کعبہ) ہی کو دینا مقصود ہے۔ اور اہل عرب کلام میں اہم چیز کو مقدم کرتے ہیں۔ یہ سہیلی کے کلام کی وضاحت ہے۔ لیکن یہ قول بہت بعید ہے۔ بلکہ جار مجرور کے متعلق ان دونوں سے بہتر ایک قول ہے، وہی درست ہے۔ اور اس آیت سے وہی مفہوم مناسبت رکھتا ہے۔ وہ ہے ’’وجوب‘‘ جو آیت کے لفظ ’’علی الناس‘‘ سے سمجھ میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ (یجب للہ علی الناس الحج) ’’لوگوں پر اللہ کے لیے حج کرنا واجب ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ کا وجوبی حق ہے۔ اسے ’’سبیل‘‘ کے متعلق قرار دے کر اس کا حال بنانا بہت ہی بعید ہے۔ آیت سے یہ مفہوم بالکل ذہن میں نہیں آتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کہیں (للہ علیک الصلاۃ والزکاۃ والصیام) ’’آپ پر اللہ کے لیے نماز، زکاۃ اور روزہ ضروری ہے۔‘‘آیت میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ایسے کام کا ذکر کرتا ہے، جسے واجب یا حرام قرار دینا مقصود ہو، تو وہ اکثر اوقات امرونہی کے الفاظ سے مذکور ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس مقصد کے لیے ایجاب، کتابۃ اور تحریم کے الفاظ بھی وارد ہوتے ہیں۔ مثلاً ﴿ كُتِبَ عَلَيۡكُمُ الصِّيَامُ ﴾(البقرہ:2؍183) ’’تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے۔‘‘ ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ ﴾(المائدۃ:5؍3) ’’تم پر مردار حرام کیا گیا ہے‘‘ ﴿ قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾(الانعام:6؍151) ’’کہہ دیجیے! آؤ میں تمھیں پڑھ کر سناؤں کہ اللہ نے تم پر کیا پابندیاں لگائی ہیں۔‘‘ حج کے بارے میں جو لفظ استعمال ہوا ہے (وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ) ’’اس سے دس انداز سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کو مقدم فرمایا ہے۔ اور اس پر ’’ل‘‘ داخل کیا ہے، جس سے استحقاق اور اختصاص ظاہر ہوتا ہے۔ پھر جن پر واجب ہے ان کے لیے عموم کا صیغہ استعمال کیا ہے، اور اس پر عَلٰی داخل کیا ہے، جس سے اہل استطاعت کو بدل بنایا ہے۔ پھر ’’سبیل‘‘ نکرہ ہے جو سیاق شرط میں واقع ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ حج ہر قسم کے سبیل میسر ہونے سے واجب ہوجاتا ہے، مثلاً خوراک اور مال۔ یعنی وجوب کا تعلق ہر اس چیز سے ہے جسے ’’سبیل‘‘کہا جاسکے۔ پھر اس کے بعد سب سے عظیم تہدید ذکر فرمائی اور فرمایا ﴿ وَمَنۡ كَفَرَ ﴾ یعنی جس نے اس واجب پر عمل نہ کرکے اور اسے ترک کرکے کفر کا ارتکاب کیا۔ پھر اس کی عظمت شان کے لیے وعید کو موکد فرمایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ مستغنی ہے۔ اسے کسی کے حج کی ضرورت نہیں۔ یہاں استغنا کے ذکر کا مقصد ناراضی، غصے اور بے اعتنائی کا اظہار ہے، جو بہت عظیم اور بلیغ وعید ہے۔ اس کی مزید تائید اس سے ہوتی ہے کہ یہاں ’’العالمین‘‘ کا عام لفظ بولا گیا ہے۔ یہ نہیں فرمایا:(فان اللہ غنی عنہ) ’’اللہ اس سے مستغنی ہے‘‘ کیونکہ جب وہ تمام جہانوں سے مستغنی اور بے پروا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے اور ہر اعتبارسے کامل و مکمل استغنا حاصل ہے۔ اس طرح اس کے واجب کردہ حق کو ترک کرنے والے پر اس کی ناراضی زیادہ تاکید سے ظاہر ہوتی ہے۔ پھر اس مفہوم کو لفظ ’’ان‘‘ کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے جوبذات خود تاکید پر دلالت کرتا ہے۔ یہ دس وجوہ ہیں جن سے اس فرض عظیم کا ضروری اور موکد ہونا ظاہر ہوتا ہے۔علاوہ ازیں آیت مبارکہ میں ’’بدل‘‘میں پوشیدہ نکتہ پر بھی غور کیجیے۔ بدل کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اسناد دوبارہ ذکر ہوئی ہے۔ ایک دفعہ اس کی اسناد عمومی طورپر سب لوگوں سے ہے اور دوسری بار خاص طورپر استطاعت رکھنے والوں سے۔ اور بدل کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اسناد کی تکرار سے معنی میں قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی لیے بدل عامل کی تکرار اور دہرانے کا مفہوم رکھتا ہے۔پھر غور کیجیے کہ آیت میں کس طرح ابہام کے بعد توضیح اور اجمال کے بعد تفصیل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اہمیت دیتے ہوئے اور اس کی شان کی تاکید فرماتے ہوئے کلام کو دو صورتوں میں وارد کیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی غور کیجیے کہ کس طرح وجوب کا ذکر کرنے سے پہلے کعبہ شریف کی خوبیوں اور عظمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے دلوں میں اس کی زیارت اور حج کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ چیز خود مقصود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اَوَّلَ بَيۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ … الخ﴾ چنانچہ کعبہ شریف کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں۔ (۱) وہ دنیا میں عبادت کے لیے مقرر کیا جانے والا سب سے پہلا اللہ کا گھر ہے۔ (۲) برکت والا ہے۔ برکت کا مطلب خیر کا دوام اور کثرت ہے۔ دنیا میں اتنی برکت والا، اس قدر کثیر اور دائمی خیر والا، اور مخلوق کے لیے اس قدر فوائد کا حامل کوئی گھر موجود نہیں۔ (۳) وہ ہدایت ہے۔ ہدایت دینے والے کے بجائے ہدایت (مصدر) کا لفظ بولنے میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے گویا یہ خود سراپا ہدایت ہے۔ (۴) اس میں آیات بینات (واضح نشانیاں) موجود ہیں۔ جن کی تعداد چالیس سے زیادہ ہے۔ (۵) اس میں داخل ہونے والے کے لیے امن ہے۔ اگر یہی صفات ذکر کردی جائیں اور اس کی زیارت کا حکم نہ دیا جاتا، تب بھی ان صفات کی وجہ سے دلوں میں اس کی زیارت کی تڑپ پیدا ہوتی، خواہ کتنی دور سے آنا پڑتا۔ یہاں تو یہ صفات ذکر کرنے کے بعد صراحت کے ساتھ فرض ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس قدر تاکیدات لائی گئی ہیں، جن سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس گھر کی بے حد اہمیت ہے۔ اور اس کے نزدیک اس کی شان و عظمت کی کوئی حد نہیں۔ اگر اس میں یہی شرف ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف کرتے ہوئے اسے (بیتی)(میرا گھر) فرمایا ہے، تو یہ نسبت ہی اتنی بڑی فضیلت اور اتنا بڑا شرف ہے کہ صرف اس کی وجہ سے جہان والوں کے دل اس کی طرف متوجہ ہوجاتے، اور اس کی زیارت کے لیے دور دراز سے کھنچے آتے۔ محبت کرنے والوں کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ اس کے پاس اکٹھے ہوکر آتے ہیں، اس کی زیارت سے کبھی سیر نہیں ہوتے۔ جتنی زیادہ زیارت کرتے ہیں، اتنا ہی محبت اور شوق میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ دور جانے سے محبت کی لو مدہم ہوتی ہے نہ وصال سے ان کی پیاس بجھتی ہے۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے:میں اس کا طواف کرتا ہوں اور دل پھر بھی شوق سے بھرپور ہےکیا طواف کے بعد مزید قرب بھی ہوسکتا ہے؟میں اس کے حجر اسود کو چومتا ہوں، اور اس طرح دل میں موج زنمحبت اور پیاس کو ٹھنڈک پہنچانا چاہتا ہوںقسم ہے اللہ کی! میری محبت ہی میں اضافہ ہوتا ہےاور دل اور زیادہ دھڑکنے لگتا ہے۔اے جنت ماویٰ! اے مقصود تمنا!اور اے میری آرزو! ہر امان سے قریب تر!غلبہ ہائے شوق تیرے قرب پر اصرار کرتے ہیںتجھ سے فراق میرے بس میں نہیں!میں اگر تجھ سے دور ہوا تو اس کی وجہ بے اعتنائی نہیںاس کا گواہ میری (اشک بار) آنکھیں اور (نالہ وشیون کرتی) زبان ہے۔تجھ سے دور ہونے کے بعد میں نے صبر کو بھی آواز دی اور گریہ کو بھیگریہ نے (فوراً) لبیک کہا (اور آگیا) اور صبر نے میری بات نہ مانی (صبر نہ آیا)لوگ گمان کرتے ہیں کہ جب محب دور چلا جائےتو لمبا عرصہ گزرنے کے بعد اس کی محبت کمزور ہوجاتی ہے۔اگر یہ خیال درست ہوتا، تو یقیناًہر زمانے کے لوگوں کے لیے محبت کا علاج ہوتاہاں ہاں محب کمزور ہوجائے گا اور محبتاسی حال میں ہوگی، اسے رات دن کے گزرنے نے کمزور نہیں کیا ہوگا۔(امام ابن قیمa کا یہ کلام ان کی کتاب ’’بدائع الفوائد‘‘ سے منقول ہے۔ اس میں یہ شعر اس طرح درج ہے: (بلیٰ انہ یبلی التصبر و الہوی...علی حالہ لم یبلہ الملوان) ’’ہاں صبر تو کمزور ہوجاتا ہے لیکن محبت اپنے حال پر رہتی ہے، وہ رات دن کے گزرنے سے کمزور نہیں ہوتی)یہ محبت کرنے والا ہے، جسے شوق اور عشق لیے جاتا ہےبغیر کسی لگام اور باگ کے جو اسے کھینچے لے جاتی ہو۔زیارت گاہ دور ہونے کے باوجود، وہ تیرے در پر آپہنچا ہےاگر اس کی سواری کمزور ہوجاتی تو اس کے قدم ہی اسے لے آتے۔یہاں امام ابن قیم a کا کلام ختم ہوا۔
آل عمران 3:98
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! کیوں کفر کرتے ہو تم ساتھ آیتوں کے اللہ کی؟ اور اللہ گواہ ہے ان پر جو تم کرتے ہو(98) کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! کیوں روکتے ہو تم اللہ کے راستے سے، اس کو جو ایمان لایا، ڈھونڈتے ہو تم اس (راہ) میں کجی، جب کہ تم گواہ ہو اور نہیں ہے اللہ غافل ان سے جو تم کرتے ہو(99)
[99,98] اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو زجر و توبیخ فرماتا ہے کیونکہ انھوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، جو اس نے اپنے رسولوں پر نازل کیں، جنھیں اللہ نے اپنے بندوں کے لیے رحمت بنایا کہ ان کی رہنمائی میں اللہ تک پہنچ سکیں، اور ان کی مدد سے تمام اہم مقاصد اور مفید علوم حاصل کریں۔ ان کافروں نے ان کا انکار بھی کیا، ان پر ایمان لانے والوں کو روکا، ان میں تحریف کی، انھیں اصل مفہوم سے پھیرنے کی کوشش کی۔ وہ خود ان جرائم کو تسلیم کرتے ہیں۔ انھیں خوب معلوم ہے کہ ان کا یہ کام بہت بڑا کفر ہے، جس کی سزا بہت سخت ہے۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل:16؍88) ’’جنھوں نے کفر کیا، اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم انھیں عذاب پر مزید عذاب دیں گے کیونکہ وہ فساد کرتے تھے‘‘ یہاں انھیں یہ فرما کر تنبیہ کی۔ ﴿ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں۔‘‘ بلکہ تمھارے اعمال، تمھاری نیتوں اور تمھاری بری تدبیروں سے پوری طرح باخبر ہے، وہ تمھیں ان کی بہت بری سزا دے گا۔ ان کو تنبیہ کرنے کے بعد اپنی رحمت، عطا اور احسان کا ذکر کیا، اور اپنے مومن بندوں کو ان سے متنبہ کیا، تاکہ وہ بے خبری میں ان کے مکروفریب کا نشانہ نہ بن جائیں۔
آل عمران 3:99
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! کیوں کفر کرتے ہو تم ساتھ آیتوں کے اللہ کی؟ اور اللہ گواہ ہے ان پر جو تم کرتے ہو(98) کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! کیوں روکتے ہو تم اللہ کے راستے سے، اس کو جو ایمان لایا، ڈھونڈتے ہو تم اس (راہ) میں کجی، جب کہ تم گواہ ہو اور نہیں ہے اللہ غافل ان سے جو تم کرتے ہو(99)
[99,98] اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو زجر و توبیخ فرماتا ہے کیونکہ انھوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، جو اس نے اپنے رسولوں پر نازل کیں، جنھیں اللہ نے اپنے بندوں کے لیے رحمت بنایا کہ ان کی رہنمائی میں اللہ تک پہنچ سکیں، اور ان کی مدد سے تمام اہم مقاصد اور مفید علوم حاصل کریں۔ ان کافروں نے ان کا انکار بھی کیا، ان پر ایمان لانے والوں کو روکا، ان میں تحریف کی، انھیں اصل مفہوم سے پھیرنے کی کوشش کی۔ وہ خود ان جرائم کو تسلیم کرتے ہیں۔ انھیں خوب معلوم ہے کہ ان کا یہ کام بہت بڑا کفر ہے، جس کی سزا بہت سخت ہے۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل:16؍88) ’’جنھوں نے کفر کیا، اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم انھیں عذاب پر مزید عذاب دیں گے کیونکہ وہ فساد کرتے تھے‘‘ یہاں انھیں یہ فرما کر تنبیہ کی۔ ﴿ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں۔‘‘ بلکہ تمھارے اعمال، تمھاری نیتوں اور تمھاری بری تدبیروں سے پوری طرح باخبر ہے، وہ تمھیں ان کی بہت بری سزا دے گا۔ ان کو تنبیہ کرنے کے بعد اپنی رحمت، عطا اور احسان کا ذکر کیا، اور اپنے مومن بندوں کو ان سے متنبہ کیا، تاکہ وہ بے خبری میں ان کے مکروفریب کا نشانہ نہ بن جائیں۔
آل عمران 3:100
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اطاعت کرو گے ایک فریق کی ان لوگوں میں سے جو دیے گئے کتاب، تو لوٹا (بنا) دیں گے وہ تمھیں بعد تمھارے ایمان کے کفر کرنے والے(100) اور کیسے کفر کرو گے تم جب کہ تلاوت کی جاتی ہیں تم پر آیتیں اللہ کی اور تمھارے اندر اس کا رسول (موجود) ہے؟ اور جو مضبوط پکڑ لے اللہ (کے دین) کو، تو تحقیق ہدایت دیا گیا وہ طرف سیدھے راستے کی(101)
[101,100] چنانچہ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِيۡعُوۡا فَرِيۡقًا مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ يَرُدُّوۡؔكُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اے ایمان والو! اگر تم اہل کتاب کی کسی جماعت کی باتیں مانو گے تو وہ تمھیں، تمھارے ایمان لانے کے بعد مرتد کافر بنا دیں گے۔‘‘ اس کی وجہ ان کا حسد، ظلم اور تمھیں مرتد کردینے کی شدید خواہش ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَدَّؔ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا١ۖ ۚ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَقُّ ﴾(البقرۃ:2؍109)’ ’اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے ، محض حسد و بغض کی بنا پر تمھیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی اپنے ایمان پر ثابت قدمی کا اور یقین میں ڈانواں ڈول نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب بیان کیا ہے اور یہ کہ ان کا ایمان سے پھر جانا انتہائی ناممکن ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَيۡفَ تَكۡفُرُوۡنَ وَاَنۡتُمۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيۡكُمۡ رَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’اور تم کیسے کفر کرسکتے ہو جبکہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول موجود ہے۔‘‘ یعنی رسول تمھارے اندر موجود ہیں، وہ ہر وقت تمھیں رب کی آیتیں سناتے ہیں۔ یہ واضح آیات ہیں جو بیان کردہ مسائل پر قطعی یقین کا فائدہ دیتی ہیں۔ اور یہ کہ ان سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس میں کسی بھی لحاظ سے شک کی گنجائش نہیں۔ خاص طورپر اس لیے بھی کہ اسے بیان کرنے والا وہ انسان(محمدﷺ)ہے، جو تمام مخلوق میں سب سے افضل، زیادہ عالم، زیادہ فصیح، زیادہ مخلص و خیر خواہ اور مومنوں پر زیادہ شفیق، مخلوق کو ہر ممکن طریقے سے ہدایت دینے اور ان کی رہنمائی کرنے کا انتہائی شوق رکھنے والا ہے۔ اللہ کے درود و سلام نازل ہوں آپ کی ذات اقدس پر۔ آپ نے یقیناً خیر خواہی فرمائی اور پوری وضاحت سے اللہ کا دین پہنچا دیا۔ حتیٰ کہ کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہ رہی۔ اور نیکی کے کسی طلب گار کو تلاش کی ضرورت نہ رہی، آخرمیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرے، اس پرتوکل کرے، ہر برائی سے بچاؤ کے لیے اس کی قوت و رحمت کا سہارا تلاش کرے اور ہر خیرکے لیے اس سے مدد طلب کرے ﴿فَقَدۡ هُدِيَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’تو بلاشبہ اسے راہ راست دکھا دی گئی‘‘ جو مطلوب منزل تک پہنچانے والی ہے۔ کیونکہ اس نے رسول اللہﷺکے اقوال، افعال اور احوال کی اتباع بھی کی، اور اللہ کا سہارا بھی حاصل کیا۔
آل عمران 3:101
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اطاعت کرو گے ایک فریق کی ان لوگوں میں سے جو دیے گئے کتاب، تو لوٹا (بنا) دیں گے وہ تمھیں بعد تمھارے ایمان کے کفر کرنے والے(100) اور کیسے کفر کرو گے تم جب کہ تلاوت کی جاتی ہیں تم پر آیتیں اللہ کی اور تمھارے اندر اس کا رسول (موجود) ہے؟ اور جو مضبوط پکڑ لے اللہ (کے دین) کو، تو تحقیق ہدایت دیا گیا وہ طرف سیدھے راستے کی(101)
[101,100] چنانچہ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِيۡعُوۡا فَرِيۡقًا مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ يَرُدُّوۡؔكُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اے ایمان والو! اگر تم اہل کتاب کی کسی جماعت کی باتیں مانو گے تو وہ تمھیں، تمھارے ایمان لانے کے بعد مرتد کافر بنا دیں گے۔‘‘ اس کی وجہ ان کا حسد، ظلم اور تمھیں مرتد کردینے کی شدید خواہش ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَدَّؔ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا١ۖ ۚ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَقُّ ﴾(البقرۃ:2؍109)’ ’اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے ، محض حسد و بغض کی بنا پر تمھیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی اپنے ایمان پر ثابت قدمی کا اور یقین میں ڈانواں ڈول نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب بیان کیا ہے اور یہ کہ ان کا ایمان سے پھر جانا انتہائی ناممکن ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَيۡفَ تَكۡفُرُوۡنَ وَاَنۡتُمۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيۡكُمۡ رَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’اور تم کیسے کفر کرسکتے ہو جبکہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول موجود ہے۔‘‘ یعنی رسول تمھارے اندر موجود ہیں، وہ ہر وقت تمھیں رب کی آیتیں سناتے ہیں۔ یہ واضح آیات ہیں جو بیان کردہ مسائل پر قطعی یقین کا فائدہ دیتی ہیں۔ اور یہ کہ ان سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس میں کسی بھی لحاظ سے شک کی گنجائش نہیں۔ خاص طورپر اس لیے بھی کہ اسے بیان کرنے والا وہ انسان(محمدﷺ)ہے، جو تمام مخلوق میں سب سے افضل، زیادہ عالم، زیادہ فصیح، زیادہ مخلص و خیر خواہ اور مومنوں پر زیادہ شفیق، مخلوق کو ہر ممکن طریقے سے ہدایت دینے اور ان کی رہنمائی کرنے کا انتہائی شوق رکھنے والا ہے۔ اللہ کے درود و سلام نازل ہوں آپ کی ذات اقدس پر۔ آپ نے یقیناً خیر خواہی فرمائی اور پوری وضاحت سے اللہ کا دین پہنچا دیا۔ حتیٰ کہ کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہ رہی۔ اور نیکی کے کسی طلب گار کو تلاش کی ضرورت نہ رہی، آخرمیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرے، اس پرتوکل کرے، ہر برائی سے بچاؤ کے لیے اس کی قوت و رحمت کا سہارا تلاش کرے اور ہر خیرکے لیے اس سے مدد طلب کرے ﴿فَقَدۡ هُدِيَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’تو بلاشبہ اسے راہ راست دکھا دی گئی‘‘ جو مطلوب منزل تک پہنچانے والی ہے۔ کیونکہ اس نے رسول اللہﷺکے اقوال، افعال اور احوال کی اتباع بھی کی، اور اللہ کا سہارا بھی حاصل کیا۔
آل عمران 3:102
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے جیسا کہ حق ہے اس سے ڈرنے کا اور نہ ہرگز موت آئے تمھیں مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو(102) اور مضبوطی سے پکڑ لو تم اللہ کی رسی اکٹھے اور نہ جدا جدا ہو اور یاد کرو نعمت اللہ کی (جو) تم پر ہوئی، جب تھے تم (باہم) دشمن، پس الفت ڈال دی اس نے درمیان تمھارے دلوں کے، تو ہو گئے تم اس کے احسان سے بھائی (بھائی) اور تھے تم اوپر کنارے ایک گڑھے کے آگ کے، پس بچایااس نے تم کو اس سے، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں، شاید کہ تم ہدایت پاؤ(103)اور چاہیے کہ ہو تم میں سے ایک جماعت، جو بلائے طرف خیر کی اور حکم دے ساتھ اچھے کاموں کے اور روکے برے کاموں سے،اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(104) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کے جو جدا جدا ہو گئے اور انھوں نے (باہم) اختلاف کیا بعد اس کے کہ آگئیں ان کے پاس واضح دلیلیں اور یہ لوگ، ان کے لیے ہے عذاب بہت بڑا(105)
[105-102] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ اس سے ایسے ڈریں جیسے ڈرنے کا حق ہے، پھر اس تقویٰ پر قائم اور ثابت قدم رہیں۔ اور موت تک استقامت ہو۔ کیونکہ انسان جس طرح کی زندگی گزارتا ہے، اسے ویسی ہی موت نصیب ہوتی ہے۔ جو شخص صحت، نشاط اور طاقت کی حالت میں اللہ کے تقویٰ اور اس کی اطاعت پر قائم رہتا ہے، اور ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت استقامت عطا فرماتا ہے اور اسے حسن خاتمہ سے نوازتا ہے۔ اللہ سے کماحقہ تقویٰ رکھنے کی وضاحت جناب عبداللہ بن مسعودtنے ان الفاظ میں کی ہے:(ھُوَ أَنْ یُّطَاعَ فَلاَ یُعصٰی، وَیُذْکَرَ فَلَا یُنْسٰی وَیُشْکَرَ فَلَا یُکْفَر) ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی فرماںبرداری کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد کیا جائے، فراموش نہ کیا جائے، اس کا شکر کیا جائے، ناشکری نہ کی جائے۔‘‘ اس آیت میں وضاحت ہے تقویٰ کے سلسلے میں اللہ کا کیا حق ہے۔ اس بارے میں بندے کا فرض کیا ہے۔ وہ اللہ کے اس فرمان میں بیان ہوا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن:64؍16)’ ’جہاں تک تمھارا بس چلے، اللہ سے ڈرتے رہو‘‘ دل اور جسم کے متعلق تقویٰ کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ جس جس کام کا حکم دے، اسے انجام دینا اور جس جس کام سے منع کرے، اس سے باز رہنا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کام کا حکم دیا ہے جو تقویٰ اختیار کرنے میں مدد دیتا ہے، وہ ہے متحد رہنا، اللہ کے دین پر مضبوطی سے کاربند رہنا، تمام مومنوں کا یک آواز ہونا، مل جل کر رہنا اور اختلاف نہ کرنا۔ دین پر متحد رہنے سے اور باہمی الفت و مودت سے ان کا دین بھی درست رہے گا اور دنیا بھی درست رہے گی۔ اتحاد کی وجہ سے وہ ہر کام کرسکیں گے، اور انھیں وہ تمام فوائد حاصل ہوں گے جن کا دارومدار اتفاق و اتحاد پر ہے۔ یہ فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ علاوہ ازیں نیکی اور تقویٰ میں تعاون بھی ممکن ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اختلاف اور تفرقہ کی وجہ سے ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، باہمی رابطے ٹوٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے ذاتی فائدے کے لیے بھاگ دوڑ کرے گا، اگرچہ اس سے اجتماعی طورپر نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک نعمت ذکر فرمائی اور حکم دیا کہ اسے یاد رکھیں ۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ ’’اور اللہ کی اس وقت کی نعمت یاد کرو، جب تم (یہ نعمت حاصل ہونے سے پہلے) ایک دوسرے کے دشمن تھے‘‘ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ ایک دوسرے کا مال چھینتے تھے، قبیلوں کی قبیلوں سے دشمنی تھی، ایک ہی شہر کے رہنے والے آپس میں عداوت اور جنگ و جدل کا شکار تھے۔ غرض بہت بری حالت تھی۔ یہ وہ حالت ہے جو نبیﷺکی بعثت سے پہلے عرب میں عام تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺکو مبعوث فرمایا، اور وہ لوگ ایمان لے آئے، تو وہ اسلام کی بنیاد پر اکٹھے ہوگئے، ان کے دلوںمیں ایمان کی وجہ سے محبت پیدا ہوگئی۔ وہ باہمی محبت اور مدد کے لحاظ سے فرد واحد کی حیثیت اختیار کرگئے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا ﴾ ’’اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَؔكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے‘‘ یعنی تم جہنم کے مستحق ہوچکے تھے۔ صرف اتنی کسر رہ گئی تھی کہ تمھیں موت آجائے تو جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ ﴿فَاَنۡؔقَذَكُمۡ مِّنۡهَا ﴾ ’’تو اس نے تمھیں اس سے بچالیا‘‘ وہ اس طرح کہ تم پر یہ احسان کیا کہ تمھیں محمدﷺپر ایمان نصیب فرمادیا۔ ﴿كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ ﴾ ’’اللہ اسی طرح تمھارے لیے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے‘‘ یعنی ان کی وضاحت اور تشریح کرتا ہے، اور تمھارے لیے حق و باطل اور ہدایت و گمراہی الگ الگ کرکے واضح کردیتا ہے ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم (حق کو پہچان کر اور اس پر عمل کرکے) ہدایت پاؤ‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ بندے دلوں اور زبانوں کے ساتھ اس کی نعمت کو یاد کریں، تاکہ ان میں شکر اور اللہ کی محبت کے جذبات پروان چڑھیں ا ور اللہ تعالیٰ مزید فضل و احسانات سے نوازے۔ اللہ کی جو نعمت سب سے زیادہ ذکر کیے جانے کے قابل ہے وہ ہے اسلام کا شرف حاصل ہوجانے کی نعمت، اتباع رسول کی توفیق مل جانے کی نعمت اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کی موجودگی اور اختلاف و افتراق نہ ہونے کی نعمت۔مطلب یہ ہے کہ اے مومنو! جن پر اللہ نے ایمان لانے اور اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی توفیق دے کر احسان فرمایا ہے، تم میں سے ﴿اُمَّةٌ ﴾ ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے ﴿ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ ﴾ ’’جو بھلائی کی طرف بلائے۔‘‘ (خیر) ’’بھلائی‘‘ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ سے قریب کرنے والی، اور اس کی ناراضی سے دور کرنے والی ہو۔ ﴿ وَؔيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور وہ نیک کاموں کا حکم کرے‘‘ (معروف) اسے کہتے ہیں جس کا اچھا ہونا عقل اور شریعت کی روشنی میں معلوم ہوچکا ہو۔ ﴿ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکے‘‘ (منکر) اسے کہتے ہیں جس کا برا ہونا عقل اور شریعت کے ذریعے سے معلوم ہوچکا ہو۔ اس میں مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ان میں ایک ایسی جماعت موجود ہونی چاہیے جو لوگوں کو اس کی راہ کی طرف بلائے، اور اس کے دین کی طرف رہنمائی کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ اس جماعت میں وہ علماء بھی شامل ہیں جو لوگوں کو دین سکھاتے ہیں، وہ مبلغ بھی جو دوسرے مذاہب والوں کو دین اسلام میں داخل ہونے کی، اور بدعملی میں مبتلا لوگوں کو دین پر کاربند ہونے کی تبلیغ کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے بھی، اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ لوگوں کے حالات معلوم کرتے رہیں، اور انھیں شرعی احکام مثلاً نماز، روزہ، حج اور زکاۃ وغیرہ کی پابندی کروائیں اور غلط کاموں سے روکیں مثلاً ماپ تول کے پیمانوں اور باٹوں کو چیک کریں، بازار میں خریدوفروخت کرنے والوں کو دھوکا بازی سے اور لین دین کے ان معاملات سے روکیں جو شرعاً ناجائز ہیں۔ یہ سب کام فرض کفایہ ہیں۔ جیسے کہ آیت کریمہ کے الفاظ ﴿ وَلۡتَؔكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ ﴾ ’’تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہیے‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے، یعنی تم میں ایک جماعت ایسی موجود ہونی چاہیے جس سے مذکورہ بالا مقاصد حاصل ہوسکیں۔ یہ ایک جانا پہچانا اور مانا ہوا اصول ہے کہ جب کسی خاص کام کا حکم دیا جائے، تو اس میں ان تمام کاموں کا حکم شامل ہوتا ہے، جو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ضروری ہوں۔ لہٰذا وہ تمام کام جن پر ان اشیاء کا وجود موقوف ہے، وہ سب ضروری ہیں اور اللہ کی طرف سے ان کا حکم سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً جہاد کے لیے طرح طرح کے سامان تیار کرنا، جن سے دشمنوں کا قلع قمع کیا جاسکے اور اسلام کا نام بلند کیا جاسکے، وہ علم سیکھنا جن کی مدد سے نیکی کی طرف بلایا جاسکے۔ علم و رہنمائی کے لیے مدارس کی تعمیر، لوگوں میں شریعت نافذ کرنے کے لیے حکمرانوں کی قولی،عملی اور مالی امداد۔ اور ایسے دوسرے کام جن پر ان امور کادارومدار ہے۔ یہ جماعت جو نیکی کی طرف بلانے، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے کمر بستہ ہے، یہ خاص مومنین ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں‘‘ یعنی کامیاب ہیں جنھیں مطلوب حاصل ہوگا اور خطرناک نتائج سے محفوظ رہیں گے۔ اس کے بعد انھیں اہل کتاب کی طرح اختلاف و انتشار میں گرفتار ہونے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے تفرقہ ڈالا، اور اختلاف کیا‘‘ اور عجیب بات یہ ہے کہ انھوں نے اختلاف بھی کیا تو ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ ﴾ ’’روشن دلیلیں آجانے کے بعد‘‘ حالانکہ ان کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ افتراق و اختلاف نہ ہوتا۔ انھیں دین پر دوسروں کی نسبت زیادہ پابندی اختیار کرنا چاہیےتھی۔ لیکن انھوں نے بالکل الٹ کام کیا حالانکہ انھیں معلوم تھا کہ وہ اللہ کے احکام کی مخالفت کررہے ہیں، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے:﴿وَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور انھی لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘
آل عمران 3:103
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے جیسا کہ حق ہے اس سے ڈرنے کا اور نہ ہرگز موت آئے تمھیں مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو(102) اور مضبوطی سے پکڑ لو تم اللہ کی رسی اکٹھے اور نہ جدا جدا ہو اور یاد کرو نعمت اللہ کی (جو) تم پر ہوئی، جب تھے تم (باہم) دشمن، پس الفت ڈال دی اس نے درمیان تمھارے دلوں کے، تو ہو گئے تم اس کے احسان سے بھائی (بھائی) اور تھے تم اوپر کنارے ایک گڑھے کے آگ کے، پس بچایااس نے تم کو اس سے، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں، شاید کہ تم ہدایت پاؤ(103)اور چاہیے کہ ہو تم میں سے ایک جماعت، جو بلائے طرف خیر کی اور حکم دے ساتھ اچھے کاموں کے اور روکے برے کاموں سے،اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(104) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کے جو جدا جدا ہو گئے اور انھوں نے (باہم) اختلاف کیا بعد اس کے کہ آگئیں ان کے پاس واضح دلیلیں اور یہ لوگ، ان کے لیے ہے عذاب بہت بڑا(105)
[105-102] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ اس سے ایسے ڈریں جیسے ڈرنے کا حق ہے، پھر اس تقویٰ پر قائم اور ثابت قدم رہیں۔ اور موت تک استقامت ہو۔ کیونکہ انسان جس طرح کی زندگی گزارتا ہے، اسے ویسی ہی موت نصیب ہوتی ہے۔ جو شخص صحت، نشاط اور طاقت کی حالت میں اللہ کے تقویٰ اور اس کی اطاعت پر قائم رہتا ہے، اور ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت استقامت عطا فرماتا ہے اور اسے حسن خاتمہ سے نوازتا ہے۔ اللہ سے کماحقہ تقویٰ رکھنے کی وضاحت جناب عبداللہ بن مسعودtنے ان الفاظ میں کی ہے:(ھُوَ أَنْ یُّطَاعَ فَلاَ یُعصٰی، وَیُذْکَرَ فَلَا یُنْسٰی وَیُشْکَرَ فَلَا یُکْفَر) ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی فرماںبرداری کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد کیا جائے، فراموش نہ کیا جائے، اس کا شکر کیا جائے، ناشکری نہ کی جائے۔‘‘ اس آیت میں وضاحت ہے تقویٰ کے سلسلے میں اللہ کا کیا حق ہے۔ اس بارے میں بندے کا فرض کیا ہے۔ وہ اللہ کے اس فرمان میں بیان ہوا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن:64؍16)’ ’جہاں تک تمھارا بس چلے، اللہ سے ڈرتے رہو‘‘ دل اور جسم کے متعلق تقویٰ کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ جس جس کام کا حکم دے، اسے انجام دینا اور جس جس کام سے منع کرے، اس سے باز رہنا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کام کا حکم دیا ہے جو تقویٰ اختیار کرنے میں مدد دیتا ہے، وہ ہے متحد رہنا، اللہ کے دین پر مضبوطی سے کاربند رہنا، تمام مومنوں کا یک آواز ہونا، مل جل کر رہنا اور اختلاف نہ کرنا۔ دین پر متحد رہنے سے اور باہمی الفت و مودت سے ان کا دین بھی درست رہے گا اور دنیا بھی درست رہے گی۔ اتحاد کی وجہ سے وہ ہر کام کرسکیں گے، اور انھیں وہ تمام فوائد حاصل ہوں گے جن کا دارومدار اتفاق و اتحاد پر ہے۔ یہ فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ علاوہ ازیں نیکی اور تقویٰ میں تعاون بھی ممکن ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اختلاف اور تفرقہ کی وجہ سے ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، باہمی رابطے ٹوٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے ذاتی فائدے کے لیے بھاگ دوڑ کرے گا، اگرچہ اس سے اجتماعی طورپر نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک نعمت ذکر فرمائی اور حکم دیا کہ اسے یاد رکھیں ۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ ’’اور اللہ کی اس وقت کی نعمت یاد کرو، جب تم (یہ نعمت حاصل ہونے سے پہلے) ایک دوسرے کے دشمن تھے‘‘ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ ایک دوسرے کا مال چھینتے تھے، قبیلوں کی قبیلوں سے دشمنی تھی، ایک ہی شہر کے رہنے والے آپس میں عداوت اور جنگ و جدل کا شکار تھے۔ غرض بہت بری حالت تھی۔ یہ وہ حالت ہے جو نبیﷺکی بعثت سے پہلے عرب میں عام تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺکو مبعوث فرمایا، اور وہ لوگ ایمان لے آئے، تو وہ اسلام کی بنیاد پر اکٹھے ہوگئے، ان کے دلوںمیں ایمان کی وجہ سے محبت پیدا ہوگئی۔ وہ باہمی محبت اور مدد کے لحاظ سے فرد واحد کی حیثیت اختیار کرگئے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا ﴾ ’’اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَؔكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے‘‘ یعنی تم جہنم کے مستحق ہوچکے تھے۔ صرف اتنی کسر رہ گئی تھی کہ تمھیں موت آجائے تو جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ ﴿فَاَنۡؔقَذَكُمۡ مِّنۡهَا ﴾ ’’تو اس نے تمھیں اس سے بچالیا‘‘ وہ اس طرح کہ تم پر یہ احسان کیا کہ تمھیں محمدﷺپر ایمان نصیب فرمادیا۔ ﴿كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ ﴾ ’’اللہ اسی طرح تمھارے لیے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے‘‘ یعنی ان کی وضاحت اور تشریح کرتا ہے، اور تمھارے لیے حق و باطل اور ہدایت و گمراہی الگ الگ کرکے واضح کردیتا ہے ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم (حق کو پہچان کر اور اس پر عمل کرکے) ہدایت پاؤ‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ بندے دلوں اور زبانوں کے ساتھ اس کی نعمت کو یاد کریں، تاکہ ان میں شکر اور اللہ کی محبت کے جذبات پروان چڑھیں ا ور اللہ تعالیٰ مزید فضل و احسانات سے نوازے۔ اللہ کی جو نعمت سب سے زیادہ ذکر کیے جانے کے قابل ہے وہ ہے اسلام کا شرف حاصل ہوجانے کی نعمت، اتباع رسول کی توفیق مل جانے کی نعمت اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کی موجودگی اور اختلاف و افتراق نہ ہونے کی نعمت۔مطلب یہ ہے کہ اے مومنو! جن پر اللہ نے ایمان لانے اور اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی توفیق دے کر احسان فرمایا ہے، تم میں سے ﴿اُمَّةٌ ﴾ ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے ﴿ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ ﴾ ’’جو بھلائی کی طرف بلائے۔‘‘ (خیر) ’’بھلائی‘‘ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ سے قریب کرنے والی، اور اس کی ناراضی سے دور کرنے والی ہو۔ ﴿ وَؔيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور وہ نیک کاموں کا حکم کرے‘‘ (معروف) اسے کہتے ہیں جس کا اچھا ہونا عقل اور شریعت کی روشنی میں معلوم ہوچکا ہو۔ ﴿ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکے‘‘ (منکر) اسے کہتے ہیں جس کا برا ہونا عقل اور شریعت کے ذریعے سے معلوم ہوچکا ہو۔ اس میں مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ان میں ایک ایسی جماعت موجود ہونی چاہیے جو لوگوں کو اس کی راہ کی طرف بلائے، اور اس کے دین کی طرف رہنمائی کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ اس جماعت میں وہ علماء بھی شامل ہیں جو لوگوں کو دین سکھاتے ہیں، وہ مبلغ بھی جو دوسرے مذاہب والوں کو دین اسلام میں داخل ہونے کی، اور بدعملی میں مبتلا لوگوں کو دین پر کاربند ہونے کی تبلیغ کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے بھی، اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ لوگوں کے حالات معلوم کرتے رہیں، اور انھیں شرعی احکام مثلاً نماز، روزہ، حج اور زکاۃ وغیرہ کی پابندی کروائیں اور غلط کاموں سے روکیں مثلاً ماپ تول کے پیمانوں اور باٹوں کو چیک کریں، بازار میں خریدوفروخت کرنے والوں کو دھوکا بازی سے اور لین دین کے ان معاملات سے روکیں جو شرعاً ناجائز ہیں۔ یہ سب کام فرض کفایہ ہیں۔ جیسے کہ آیت کریمہ کے الفاظ ﴿ وَلۡتَؔكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ ﴾ ’’تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہیے‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے، یعنی تم میں ایک جماعت ایسی موجود ہونی چاہیے جس سے مذکورہ بالا مقاصد حاصل ہوسکیں۔ یہ ایک جانا پہچانا اور مانا ہوا اصول ہے کہ جب کسی خاص کام کا حکم دیا جائے، تو اس میں ان تمام کاموں کا حکم شامل ہوتا ہے، جو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ضروری ہوں۔ لہٰذا وہ تمام کام جن پر ان اشیاء کا وجود موقوف ہے، وہ سب ضروری ہیں اور اللہ کی طرف سے ان کا حکم سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً جہاد کے لیے طرح طرح کے سامان تیار کرنا، جن سے دشمنوں کا قلع قمع کیا جاسکے اور اسلام کا نام بلند کیا جاسکے، وہ علم سیکھنا جن کی مدد سے نیکی کی طرف بلایا جاسکے۔ علم و رہنمائی کے لیے مدارس کی تعمیر، لوگوں میں شریعت نافذ کرنے کے لیے حکمرانوں کی قولی،عملی اور مالی امداد۔ اور ایسے دوسرے کام جن پر ان امور کادارومدار ہے۔ یہ جماعت جو نیکی کی طرف بلانے، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے کمر بستہ ہے، یہ خاص مومنین ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں‘‘ یعنی کامیاب ہیں جنھیں مطلوب حاصل ہوگا اور خطرناک نتائج سے محفوظ رہیں گے۔ اس کے بعد انھیں اہل کتاب کی طرح اختلاف و انتشار میں گرفتار ہونے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے تفرقہ ڈالا، اور اختلاف کیا‘‘ اور عجیب بات یہ ہے کہ انھوں نے اختلاف بھی کیا تو ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ ﴾ ’’روشن دلیلیں آجانے کے بعد‘‘ حالانکہ ان کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ افتراق و اختلاف نہ ہوتا۔ انھیں دین پر دوسروں کی نسبت زیادہ پابندی اختیار کرنا چاہیےتھی۔ لیکن انھوں نے بالکل الٹ کام کیا حالانکہ انھیں معلوم تھا کہ وہ اللہ کے احکام کی مخالفت کررہے ہیں، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے:﴿وَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور انھی لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘
آل عمران 3:104
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے جیسا کہ حق ہے اس سے ڈرنے کا اور نہ ہرگز موت آئے تمھیں مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو(102) اور مضبوطی سے پکڑ لو تم اللہ کی رسی اکٹھے اور نہ جدا جدا ہو اور یاد کرو نعمت اللہ کی (جو) تم پر ہوئی، جب تھے تم (باہم) دشمن، پس الفت ڈال دی اس نے درمیان تمھارے دلوں کے، تو ہو گئے تم اس کے احسان سے بھائی (بھائی) اور تھے تم اوپر کنارے ایک گڑھے کے آگ کے، پس بچایااس نے تم کو اس سے، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں، شاید کہ تم ہدایت پاؤ(103)اور چاہیے کہ ہو تم میں سے ایک جماعت، جو بلائے طرف خیر کی اور حکم دے ساتھ اچھے کاموں کے اور روکے برے کاموں سے،اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(104) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کے جو جدا جدا ہو گئے اور انھوں نے (باہم) اختلاف کیا بعد اس کے کہ آگئیں ان کے پاس واضح دلیلیں اور یہ لوگ، ان کے لیے ہے عذاب بہت بڑا(105)
[105-102] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ اس سے ایسے ڈریں جیسے ڈرنے کا حق ہے، پھر اس تقویٰ پر قائم اور ثابت قدم رہیں۔ اور موت تک استقامت ہو۔ کیونکہ انسان جس طرح کی زندگی گزارتا ہے، اسے ویسی ہی موت نصیب ہوتی ہے۔ جو شخص صحت، نشاط اور طاقت کی حالت میں اللہ کے تقویٰ اور اس کی اطاعت پر قائم رہتا ہے، اور ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت استقامت عطا فرماتا ہے اور اسے حسن خاتمہ سے نوازتا ہے۔ اللہ سے کماحقہ تقویٰ رکھنے کی وضاحت جناب عبداللہ بن مسعودtنے ان الفاظ میں کی ہے:(ھُوَ أَنْ یُّطَاعَ فَلاَ یُعصٰی، وَیُذْکَرَ فَلَا یُنْسٰی وَیُشْکَرَ فَلَا یُکْفَر) ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی فرماںبرداری کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد کیا جائے، فراموش نہ کیا جائے، اس کا شکر کیا جائے، ناشکری نہ کی جائے۔‘‘ اس آیت میں وضاحت ہے تقویٰ کے سلسلے میں اللہ کا کیا حق ہے۔ اس بارے میں بندے کا فرض کیا ہے۔ وہ اللہ کے اس فرمان میں بیان ہوا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن:64؍16)’ ’جہاں تک تمھارا بس چلے، اللہ سے ڈرتے رہو‘‘ دل اور جسم کے متعلق تقویٰ کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ جس جس کام کا حکم دے، اسے انجام دینا اور جس جس کام سے منع کرے، اس سے باز رہنا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کام کا حکم دیا ہے جو تقویٰ اختیار کرنے میں مدد دیتا ہے، وہ ہے متحد رہنا، اللہ کے دین پر مضبوطی سے کاربند رہنا، تمام مومنوں کا یک آواز ہونا، مل جل کر رہنا اور اختلاف نہ کرنا۔ دین پر متحد رہنے سے اور باہمی الفت و مودت سے ان کا دین بھی درست رہے گا اور دنیا بھی درست رہے گی۔ اتحاد کی وجہ سے وہ ہر کام کرسکیں گے، اور انھیں وہ تمام فوائد حاصل ہوں گے جن کا دارومدار اتفاق و اتحاد پر ہے۔ یہ فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ علاوہ ازیں نیکی اور تقویٰ میں تعاون بھی ممکن ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اختلاف اور تفرقہ کی وجہ سے ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، باہمی رابطے ٹوٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے ذاتی فائدے کے لیے بھاگ دوڑ کرے گا، اگرچہ اس سے اجتماعی طورپر نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک نعمت ذکر فرمائی اور حکم دیا کہ اسے یاد رکھیں ۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ ’’اور اللہ کی اس وقت کی نعمت یاد کرو، جب تم (یہ نعمت حاصل ہونے سے پہلے) ایک دوسرے کے دشمن تھے‘‘ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ ایک دوسرے کا مال چھینتے تھے، قبیلوں کی قبیلوں سے دشمنی تھی، ایک ہی شہر کے رہنے والے آپس میں عداوت اور جنگ و جدل کا شکار تھے۔ غرض بہت بری حالت تھی۔ یہ وہ حالت ہے جو نبیﷺکی بعثت سے پہلے عرب میں عام تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺکو مبعوث فرمایا، اور وہ لوگ ایمان لے آئے، تو وہ اسلام کی بنیاد پر اکٹھے ہوگئے، ان کے دلوںمیں ایمان کی وجہ سے محبت پیدا ہوگئی۔ وہ باہمی محبت اور مدد کے لحاظ سے فرد واحد کی حیثیت اختیار کرگئے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا ﴾ ’’اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَؔكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے‘‘ یعنی تم جہنم کے مستحق ہوچکے تھے۔ صرف اتنی کسر رہ گئی تھی کہ تمھیں موت آجائے تو جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ ﴿فَاَنۡؔقَذَكُمۡ مِّنۡهَا ﴾ ’’تو اس نے تمھیں اس سے بچالیا‘‘ وہ اس طرح کہ تم پر یہ احسان کیا کہ تمھیں محمدﷺپر ایمان نصیب فرمادیا۔ ﴿كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ ﴾ ’’اللہ اسی طرح تمھارے لیے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے‘‘ یعنی ان کی وضاحت اور تشریح کرتا ہے، اور تمھارے لیے حق و باطل اور ہدایت و گمراہی الگ الگ کرکے واضح کردیتا ہے ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم (حق کو پہچان کر اور اس پر عمل کرکے) ہدایت پاؤ‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ بندے دلوں اور زبانوں کے ساتھ اس کی نعمت کو یاد کریں، تاکہ ان میں شکر اور اللہ کی محبت کے جذبات پروان چڑھیں ا ور اللہ تعالیٰ مزید فضل و احسانات سے نوازے۔ اللہ کی جو نعمت سب سے زیادہ ذکر کیے جانے کے قابل ہے وہ ہے اسلام کا شرف حاصل ہوجانے کی نعمت، اتباع رسول کی توفیق مل جانے کی نعمت اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کی موجودگی اور اختلاف و افتراق نہ ہونے کی نعمت۔مطلب یہ ہے کہ اے مومنو! جن پر اللہ نے ایمان لانے اور اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی توفیق دے کر احسان فرمایا ہے، تم میں سے ﴿اُمَّةٌ ﴾ ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے ﴿ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ ﴾ ’’جو بھلائی کی طرف بلائے۔‘‘ (خیر) ’’بھلائی‘‘ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ سے قریب کرنے والی، اور اس کی ناراضی سے دور کرنے والی ہو۔ ﴿ وَؔيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور وہ نیک کاموں کا حکم کرے‘‘ (معروف) اسے کہتے ہیں جس کا اچھا ہونا عقل اور شریعت کی روشنی میں معلوم ہوچکا ہو۔ ﴿ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکے‘‘ (منکر) اسے کہتے ہیں جس کا برا ہونا عقل اور شریعت کے ذریعے سے معلوم ہوچکا ہو۔ اس میں مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ان میں ایک ایسی جماعت موجود ہونی چاہیے جو لوگوں کو اس کی راہ کی طرف بلائے، اور اس کے دین کی طرف رہنمائی کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ اس جماعت میں وہ علماء بھی شامل ہیں جو لوگوں کو دین سکھاتے ہیں، وہ مبلغ بھی جو دوسرے مذاہب والوں کو دین اسلام میں داخل ہونے کی، اور بدعملی میں مبتلا لوگوں کو دین پر کاربند ہونے کی تبلیغ کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے بھی، اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ لوگوں کے حالات معلوم کرتے رہیں، اور انھیں شرعی احکام مثلاً نماز، روزہ، حج اور زکاۃ وغیرہ کی پابندی کروائیں اور غلط کاموں سے روکیں مثلاً ماپ تول کے پیمانوں اور باٹوں کو چیک کریں، بازار میں خریدوفروخت کرنے والوں کو دھوکا بازی سے اور لین دین کے ان معاملات سے روکیں جو شرعاً ناجائز ہیں۔ یہ سب کام فرض کفایہ ہیں۔ جیسے کہ آیت کریمہ کے الفاظ ﴿ وَلۡتَؔكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ ﴾ ’’تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہیے‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے، یعنی تم میں ایک جماعت ایسی موجود ہونی چاہیے جس سے مذکورہ بالا مقاصد حاصل ہوسکیں۔ یہ ایک جانا پہچانا اور مانا ہوا اصول ہے کہ جب کسی خاص کام کا حکم دیا جائے، تو اس میں ان تمام کاموں کا حکم شامل ہوتا ہے، جو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ضروری ہوں۔ لہٰذا وہ تمام کام جن پر ان اشیاء کا وجود موقوف ہے، وہ سب ضروری ہیں اور اللہ کی طرف سے ان کا حکم سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً جہاد کے لیے طرح طرح کے سامان تیار کرنا، جن سے دشمنوں کا قلع قمع کیا جاسکے اور اسلام کا نام بلند کیا جاسکے، وہ علم سیکھنا جن کی مدد سے نیکی کی طرف بلایا جاسکے۔ علم و رہنمائی کے لیے مدارس کی تعمیر، لوگوں میں شریعت نافذ کرنے کے لیے حکمرانوں کی قولی،عملی اور مالی امداد۔ اور ایسے دوسرے کام جن پر ان امور کادارومدار ہے۔ یہ جماعت جو نیکی کی طرف بلانے، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے کمر بستہ ہے، یہ خاص مومنین ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں‘‘ یعنی کامیاب ہیں جنھیں مطلوب حاصل ہوگا اور خطرناک نتائج سے محفوظ رہیں گے۔ اس کے بعد انھیں اہل کتاب کی طرح اختلاف و انتشار میں گرفتار ہونے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے تفرقہ ڈالا، اور اختلاف کیا‘‘ اور عجیب بات یہ ہے کہ انھوں نے اختلاف بھی کیا تو ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ ﴾ ’’روشن دلیلیں آجانے کے بعد‘‘ حالانکہ ان کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ افتراق و اختلاف نہ ہوتا۔ انھیں دین پر دوسروں کی نسبت زیادہ پابندی اختیار کرنا چاہیےتھی۔ لیکن انھوں نے بالکل الٹ کام کیا حالانکہ انھیں معلوم تھا کہ وہ اللہ کے احکام کی مخالفت کررہے ہیں، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے:﴿وَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور انھی لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘
آل عمران 3:105
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے جیسا کہ حق ہے اس سے ڈرنے کا اور نہ ہرگز موت آئے تمھیں مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو(102) اور مضبوطی سے پکڑ لو تم اللہ کی رسی اکٹھے اور نہ جدا جدا ہو اور یاد کرو نعمت اللہ کی (جو) تم پر ہوئی، جب تھے تم (باہم) دشمن، پس الفت ڈال دی اس نے درمیان تمھارے دلوں کے، تو ہو گئے تم اس کے احسان سے بھائی (بھائی) اور تھے تم اوپر کنارے ایک گڑھے کے آگ کے، پس بچایااس نے تم کو اس سے، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں، شاید کہ تم ہدایت پاؤ(103)اور چاہیے کہ ہو تم میں سے ایک جماعت، جو بلائے طرف خیر کی اور حکم دے ساتھ اچھے کاموں کے اور روکے برے کاموں سے،اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(104) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کے جو جدا جدا ہو گئے اور انھوں نے (باہم) اختلاف کیا بعد اس کے کہ آگئیں ان کے پاس واضح دلیلیں اور یہ لوگ، ان کے لیے ہے عذاب بہت بڑا(105)
[105-102] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ اس سے ایسے ڈریں جیسے ڈرنے کا حق ہے، پھر اس تقویٰ پر قائم اور ثابت قدم رہیں۔ اور موت تک استقامت ہو۔ کیونکہ انسان جس طرح کی زندگی گزارتا ہے، اسے ویسی ہی موت نصیب ہوتی ہے۔ جو شخص صحت، نشاط اور طاقت کی حالت میں اللہ کے تقویٰ اور اس کی اطاعت پر قائم رہتا ہے، اور ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت استقامت عطا فرماتا ہے اور اسے حسن خاتمہ سے نوازتا ہے۔ اللہ سے کماحقہ تقویٰ رکھنے کی وضاحت جناب عبداللہ بن مسعودtنے ان الفاظ میں کی ہے:(ھُوَ أَنْ یُّطَاعَ فَلاَ یُعصٰی، وَیُذْکَرَ فَلَا یُنْسٰی وَیُشْکَرَ فَلَا یُکْفَر) ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی فرماںبرداری کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد کیا جائے، فراموش نہ کیا جائے، اس کا شکر کیا جائے، ناشکری نہ کی جائے۔‘‘ اس آیت میں وضاحت ہے تقویٰ کے سلسلے میں اللہ کا کیا حق ہے۔ اس بارے میں بندے کا فرض کیا ہے۔ وہ اللہ کے اس فرمان میں بیان ہوا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن:64؍16)’ ’جہاں تک تمھارا بس چلے، اللہ سے ڈرتے رہو‘‘ دل اور جسم کے متعلق تقویٰ کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ جس جس کام کا حکم دے، اسے انجام دینا اور جس جس کام سے منع کرے، اس سے باز رہنا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کام کا حکم دیا ہے جو تقویٰ اختیار کرنے میں مدد دیتا ہے، وہ ہے متحد رہنا، اللہ کے دین پر مضبوطی سے کاربند رہنا، تمام مومنوں کا یک آواز ہونا، مل جل کر رہنا اور اختلاف نہ کرنا۔ دین پر متحد رہنے سے اور باہمی الفت و مودت سے ان کا دین بھی درست رہے گا اور دنیا بھی درست رہے گی۔ اتحاد کی وجہ سے وہ ہر کام کرسکیں گے، اور انھیں وہ تمام فوائد حاصل ہوں گے جن کا دارومدار اتفاق و اتحاد پر ہے۔ یہ فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ علاوہ ازیں نیکی اور تقویٰ میں تعاون بھی ممکن ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اختلاف اور تفرقہ کی وجہ سے ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، باہمی رابطے ٹوٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے ذاتی فائدے کے لیے بھاگ دوڑ کرے گا، اگرچہ اس سے اجتماعی طورپر نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک نعمت ذکر فرمائی اور حکم دیا کہ اسے یاد رکھیں ۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ ’’اور اللہ کی اس وقت کی نعمت یاد کرو، جب تم (یہ نعمت حاصل ہونے سے پہلے) ایک دوسرے کے دشمن تھے‘‘ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ ایک دوسرے کا مال چھینتے تھے، قبیلوں کی قبیلوں سے دشمنی تھی، ایک ہی شہر کے رہنے والے آپس میں عداوت اور جنگ و جدل کا شکار تھے۔ غرض بہت بری حالت تھی۔ یہ وہ حالت ہے جو نبیﷺکی بعثت سے پہلے عرب میں عام تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺکو مبعوث فرمایا، اور وہ لوگ ایمان لے آئے، تو وہ اسلام کی بنیاد پر اکٹھے ہوگئے، ان کے دلوںمیں ایمان کی وجہ سے محبت پیدا ہوگئی۔ وہ باہمی محبت اور مدد کے لحاظ سے فرد واحد کی حیثیت اختیار کرگئے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا ﴾ ’’اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَؔكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے‘‘ یعنی تم جہنم کے مستحق ہوچکے تھے۔ صرف اتنی کسر رہ گئی تھی کہ تمھیں موت آجائے تو جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ ﴿فَاَنۡؔقَذَكُمۡ مِّنۡهَا ﴾ ’’تو اس نے تمھیں اس سے بچالیا‘‘ وہ اس طرح کہ تم پر یہ احسان کیا کہ تمھیں محمدﷺپر ایمان نصیب فرمادیا۔ ﴿كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ ﴾ ’’اللہ اسی طرح تمھارے لیے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے‘‘ یعنی ان کی وضاحت اور تشریح کرتا ہے، اور تمھارے لیے حق و باطل اور ہدایت و گمراہی الگ الگ کرکے واضح کردیتا ہے ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم (حق کو پہچان کر اور اس پر عمل کرکے) ہدایت پاؤ‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ بندے دلوں اور زبانوں کے ساتھ اس کی نعمت کو یاد کریں، تاکہ ان میں شکر اور اللہ کی محبت کے جذبات پروان چڑھیں ا ور اللہ تعالیٰ مزید فضل و احسانات سے نوازے۔ اللہ کی جو نعمت سب سے زیادہ ذکر کیے جانے کے قابل ہے وہ ہے اسلام کا شرف حاصل ہوجانے کی نعمت، اتباع رسول کی توفیق مل جانے کی نعمت اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کی موجودگی اور اختلاف و افتراق نہ ہونے کی نعمت۔مطلب یہ ہے کہ اے مومنو! جن پر اللہ نے ایمان لانے اور اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی توفیق دے کر احسان فرمایا ہے، تم میں سے ﴿اُمَّةٌ ﴾ ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے ﴿ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ ﴾ ’’جو بھلائی کی طرف بلائے۔‘‘ (خیر) ’’بھلائی‘‘ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ سے قریب کرنے والی، اور اس کی ناراضی سے دور کرنے والی ہو۔ ﴿ وَؔيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور وہ نیک کاموں کا حکم کرے‘‘ (معروف) اسے کہتے ہیں جس کا اچھا ہونا عقل اور شریعت کی روشنی میں معلوم ہوچکا ہو۔ ﴿ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکے‘‘ (منکر) اسے کہتے ہیں جس کا برا ہونا عقل اور شریعت کے ذریعے سے معلوم ہوچکا ہو۔ اس میں مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ان میں ایک ایسی جماعت موجود ہونی چاہیے جو لوگوں کو اس کی راہ کی طرف بلائے، اور اس کے دین کی طرف رہنمائی کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ اس جماعت میں وہ علماء بھی شامل ہیں جو لوگوں کو دین سکھاتے ہیں، وہ مبلغ بھی جو دوسرے مذاہب والوں کو دین اسلام میں داخل ہونے کی، اور بدعملی میں مبتلا لوگوں کو دین پر کاربند ہونے کی تبلیغ کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے بھی، اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ لوگوں کے حالات معلوم کرتے رہیں، اور انھیں شرعی احکام مثلاً نماز، روزہ، حج اور زکاۃ وغیرہ کی پابندی کروائیں اور غلط کاموں سے روکیں مثلاً ماپ تول کے پیمانوں اور باٹوں کو چیک کریں، بازار میں خریدوفروخت کرنے والوں کو دھوکا بازی سے اور لین دین کے ان معاملات سے روکیں جو شرعاً ناجائز ہیں۔ یہ سب کام فرض کفایہ ہیں۔ جیسے کہ آیت کریمہ کے الفاظ ﴿ وَلۡتَؔكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ ﴾ ’’تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہیے‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے، یعنی تم میں ایک جماعت ایسی موجود ہونی چاہیے جس سے مذکورہ بالا مقاصد حاصل ہوسکیں۔ یہ ایک جانا پہچانا اور مانا ہوا اصول ہے کہ جب کسی خاص کام کا حکم دیا جائے، تو اس میں ان تمام کاموں کا حکم شامل ہوتا ہے، جو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ضروری ہوں۔ لہٰذا وہ تمام کام جن پر ان اشیاء کا وجود موقوف ہے، وہ سب ضروری ہیں اور اللہ کی طرف سے ان کا حکم سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً جہاد کے لیے طرح طرح کے سامان تیار کرنا، جن سے دشمنوں کا قلع قمع کیا جاسکے اور اسلام کا نام بلند کیا جاسکے، وہ علم سیکھنا جن کی مدد سے نیکی کی طرف بلایا جاسکے۔ علم و رہنمائی کے لیے مدارس کی تعمیر، لوگوں میں شریعت نافذ کرنے کے لیے حکمرانوں کی قولی،عملی اور مالی امداد۔ اور ایسے دوسرے کام جن پر ان امور کادارومدار ہے۔ یہ جماعت جو نیکی کی طرف بلانے، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے کمر بستہ ہے، یہ خاص مومنین ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں‘‘ یعنی کامیاب ہیں جنھیں مطلوب حاصل ہوگا اور خطرناک نتائج سے محفوظ رہیں گے۔ اس کے بعد انھیں اہل کتاب کی طرح اختلاف و انتشار میں گرفتار ہونے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے تفرقہ ڈالا، اور اختلاف کیا‘‘ اور عجیب بات یہ ہے کہ انھوں نے اختلاف بھی کیا تو ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ ﴾ ’’روشن دلیلیں آجانے کے بعد‘‘ حالانکہ ان کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ افتراق و اختلاف نہ ہوتا۔ انھیں دین پر دوسروں کی نسبت زیادہ پابندی اختیار کرنا چاہیےتھی۔ لیکن انھوں نے بالکل الٹ کام کیا حالانکہ انھیں معلوم تھا کہ وہ اللہ کے احکام کی مخالفت کررہے ہیں، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے:﴿وَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور انھی لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘
آل عمران 3:106
جس دن کہ سفید ہوں گے کئی چہرے اور سیاہ ہوں گے کئی چہرے۔ پس لیکن وہ لوگ کہ سیاہ ہوں گے چہرے اُن کے (ان سے کہا جائے گا) کیا کفر کیا تھا تم نے بعد اپنے ایمان کے؟ تو (اب) چکھو تم عذاب بہ سبب اس کے جو تھے تم کفر کرتے(106) اور لیکن وہ لوگ کہ سفید ہوں گے چہرے ان کے، پس وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(107)
[107,106] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے حالات بیان فرمائے ہیں۔ اس دن عدل اور فضل کی بنیاد پر ملنے والی جزا و سزا کے اثرات بیان فرمائے ہیں۔ اس بیان کا مقصد ترغیب وترہیب ہے جس کا فائدہ خوف اور امید کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ ﴾ ’’جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے‘‘ وہ خوش نصیبوں اور نیکی کرنے والوں کے چہرے ہوں گے، جنھوں نے آپس میں الفت و محبت رکھی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ﴿ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ ﴾ ’’اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے‘‘ وہ بدنصیبوں اوربدکاروں کے چہرے ہوں گے، جو اختلاف و افتراق پیدا کرنے والے تھے۔ ذلت و رسوائی کی وجہ سے ان کے دلوں کی جو کیفیت ہوگی، اس کے نتیجے میں ان کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے۔ اور نیک لوگوں کو نعمتیں اور خوشیاں نصیب ہوں گی، ان کے اثرات ان کے چہروں پر ظاہر ہوں گے۔ اور ان کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَقّٰىهُمۡ نَضۡرَةً وَّسُرُوۡرًا﴾(الدہر:76؍11) ’’اور انھیں تازگی اور خوشی پہنچائی‘‘ تروتازہ ہونے کا تعلق چہروں سے ہے، اور خوشی دلوں میں ہوتی ہے۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے:﴿وَالَّذِيۡنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍۭ بِمِثۡلِهَا١ۙ وَتَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغۡشِيَتۡ وُجُوۡهُهُمۡ قِطَعًا مِّنَ الَّيۡلِ مُظۡلِمًا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾(یونس:1؍27) ’’جنھوں نے گناہ کمائے تو ہر برائی کا بدلہ اس کے برابر ہے۔ اور ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ انھیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ یوں ہوگا گویا ان کے چہروں پر رات کے تاریک ٹکڑے اوڑھا دیے گئے ہیں۔ یہی لوگ آگ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ ﴾ ’’اور جن کے چہرے سیاہ ہوں گے‘‘انھیں ڈانٹ ڈپٹ اور زجر و توبیخ کے انداز سے کہا جائے گا: ﴿ اَكَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا‘‘ یعنی تم نے ہدایت اور ایمان کے بجائے کفر و ضلالت کو کیوں ترجیح دی؟ تم نے ہدایت والا راستہ چھوڑ کر گمراہی کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ ﴿ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ اب ’’اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو‘‘ تمھارے لائق صرف جہنم کا مقام ہے تم صرف ذلت و رسوائی کے مستحق ہو۔ ﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ابۡيَضَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ ﴾ ’’اور جن کے چہرے سفید ہوں گے‘‘ انھیں مبارک باد دی جائے گی، اورعظیم ترین بشارت ملے گی، یعنی انھیں جنت میں داخلے کی، رب کی خوشنودی کی اور اس کی رحمت کی خوش خبری دی جائے گی۔ ﴿ فَفِيۡ رَحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اللہ کی رحمت میں داخل ہوں گے، اور اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ چونکہ وہ ہمیشہ رحمت میں رہیں گے اور جنت بھی اللہ کی رحمت کا ایک مظہر ہے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے جس میں دائمی نعمتیں اور سلامتی والی زندگی ہوگی۔ وہ ارحم الراحمین کے پڑوس میں ہوں گے۔
آل عمران 3:107
جس دن کہ سفید ہوں گے کئی چہرے اور سیاہ ہوں گے کئی چہرے۔ پس لیکن وہ لوگ کہ سیاہ ہوں گے چہرے اُن کے (ان سے کہا جائے گا) کیا کفر کیا تھا تم نے بعد اپنے ایمان کے؟ تو (اب) چکھو تم عذاب بہ سبب اس کے جو تھے تم کفر کرتے(106) اور لیکن وہ لوگ کہ سفید ہوں گے چہرے ان کے، پس وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(107)
[107,106] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے حالات بیان فرمائے ہیں۔ اس دن عدل اور فضل کی بنیاد پر ملنے والی جزا و سزا کے اثرات بیان فرمائے ہیں۔ اس بیان کا مقصد ترغیب وترہیب ہے جس کا فائدہ خوف اور امید کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ ﴾ ’’جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے‘‘ وہ خوش نصیبوں اور نیکی کرنے والوں کے چہرے ہوں گے، جنھوں نے آپس میں الفت و محبت رکھی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ﴿ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ ﴾ ’’اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے‘‘ وہ بدنصیبوں اوربدکاروں کے چہرے ہوں گے، جو اختلاف و افتراق پیدا کرنے والے تھے۔ ذلت و رسوائی کی وجہ سے ان کے دلوں کی جو کیفیت ہوگی، اس کے نتیجے میں ان کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے۔ اور نیک لوگوں کو نعمتیں اور خوشیاں نصیب ہوں گی، ان کے اثرات ان کے چہروں پر ظاہر ہوں گے۔ اور ان کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَقّٰىهُمۡ نَضۡرَةً وَّسُرُوۡرًا﴾(الدہر:76؍11) ’’اور انھیں تازگی اور خوشی پہنچائی‘‘ تروتازہ ہونے کا تعلق چہروں سے ہے، اور خوشی دلوں میں ہوتی ہے۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے:﴿وَالَّذِيۡنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍۭ بِمِثۡلِهَا١ۙ وَتَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغۡشِيَتۡ وُجُوۡهُهُمۡ قِطَعًا مِّنَ الَّيۡلِ مُظۡلِمًا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾(یونس:1؍27) ’’جنھوں نے گناہ کمائے تو ہر برائی کا بدلہ اس کے برابر ہے۔ اور ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ انھیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ یوں ہوگا گویا ان کے چہروں پر رات کے تاریک ٹکڑے اوڑھا دیے گئے ہیں۔ یہی لوگ آگ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ ﴾ ’’اور جن کے چہرے سیاہ ہوں گے‘‘انھیں ڈانٹ ڈپٹ اور زجر و توبیخ کے انداز سے کہا جائے گا: ﴿ اَكَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا‘‘ یعنی تم نے ہدایت اور ایمان کے بجائے کفر و ضلالت کو کیوں ترجیح دی؟ تم نے ہدایت والا راستہ چھوڑ کر گمراہی کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ ﴿ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ اب ’’اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو‘‘ تمھارے لائق صرف جہنم کا مقام ہے تم صرف ذلت و رسوائی کے مستحق ہو۔ ﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ابۡيَضَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ ﴾ ’’اور جن کے چہرے سفید ہوں گے‘‘ انھیں مبارک باد دی جائے گی، اورعظیم ترین بشارت ملے گی، یعنی انھیں جنت میں داخلے کی، رب کی خوشنودی کی اور اس کی رحمت کی خوش خبری دی جائے گی۔ ﴿ فَفِيۡ رَحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اللہ کی رحمت میں داخل ہوں گے، اور اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ چونکہ وہ ہمیشہ رحمت میں رہیں گے اور جنت بھی اللہ کی رحمت کا ایک مظہر ہے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے جس میں دائمی نعمتیں اور سلامتی والی زندگی ہوگی۔ وہ ارحم الراحمین کے پڑوس میں ہوں گے۔
آل عمران 3:108
یہ آیتیں ہیں اللہ کی، پڑھتے ہیں ہم ان کو آپ پر ساتھ حق کے اور نہیں اللہ ارادہ کرتا ظلم کرنے کا جہان والوں کے لیے(108) اور اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور طرف اللہ ہی کی لوٹائے جاتے ہیں سب معاملات(109)
[108] جب اللہ تعالیٰ نے احکام و اوامر بھی بتا دیے اور ان کی جزا بھی بیان فرمادی، تو اس کے بعد فرمایا:﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَتۡلُوۡهَا عَلَيۡكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ اللہ کی آیتیں ہیں، جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک بیان کررہے ہیں‘‘ کیونکہ اس کے اوامر و نواہی حکمت و رحمت پر اور جزا و سزا پر مشتمل ہیں۔ اس طرح وہ حکمت و رحمت پر اور عدل پر مشتمل ہیں جن میں ظلم کا کوئی شائبہ نہیں‘‘ اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ کا ارادہ لوگوں پر ظلم کرنے کا نہیں‘‘ ظلم کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اللہ تعالیٰ ظلم کا ارادہ بھی نہیں فرماتا۔ لہٰذا کسی کی نیکیوں میں کمی نہیں کرتا، اور ظالموں کے ظلم میں اضافہ نہیں فرماتا، بلکہ صرف ان کے کیے ہوئے اعمال کی سزا دیتا ہے۔
[109] یعنی آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، اس سب کا مالک وہی ہے۔ جس نے انھیں پیدا کیا، انھیں رزق دیا، اور اپنی قضا و قدر کے مطابق اور اپنی شریعت اور احکام کے مطابق ان میں تصرف کرتا ہے۔ قیامت کے دن وہ اسی کے پاس واپس جائیں گے، پھر وہ انھیں اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
آل عمران 3:109
یہ آیتیں ہیں اللہ کی، پڑھتے ہیں ہم ان کو آپ پر ساتھ حق کے اور نہیں اللہ ارادہ کرتا ظلم کرنے کا جہان والوں کے لیے(108) اور اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور طرف اللہ ہی کی لوٹائے جاتے ہیں سب معاملات(109)
[108] جب اللہ تعالیٰ نے احکام و اوامر بھی بتا دیے اور ان کی جزا بھی بیان فرمادی، تو اس کے بعد فرمایا:﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَتۡلُوۡهَا عَلَيۡكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ اللہ کی آیتیں ہیں، جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک بیان کررہے ہیں‘‘ کیونکہ اس کے اوامر و نواہی حکمت و رحمت پر اور جزا و سزا پر مشتمل ہیں۔ اس طرح وہ حکمت و رحمت پر اور عدل پر مشتمل ہیں جن میں ظلم کا کوئی شائبہ نہیں‘‘ اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ کا ارادہ لوگوں پر ظلم کرنے کا نہیں‘‘ ظلم کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اللہ تعالیٰ ظلم کا ارادہ بھی نہیں فرماتا۔ لہٰذا کسی کی نیکیوں میں کمی نہیں کرتا، اور ظالموں کے ظلم میں اضافہ نہیں فرماتا، بلکہ صرف ان کے کیے ہوئے اعمال کی سزا دیتا ہے۔
[109] یعنی آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، اس سب کا مالک وہی ہے۔ جس نے انھیں پیدا کیا، انھیں رزق دیا، اور اپنی قضا و قدر کے مطابق اور اپنی شریعت اور احکام کے مطابق ان میں تصرف کرتا ہے۔ قیامت کے دن وہ اسی کے پاس واپس جائیں گے، پھر وہ انھیں اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
آل عمران 3:110
ہو تم بہترین امت جو نکالی (بنائی) گئی ہے لوگوں کے لیے، تم حکم کرتے ہو ساتھ اچھے کاموں کے اور روکتے ہو برے کاموں سے اور ایمان رکھتے ہو تم ساتھ اللہ کےاور اگر ایمان لاتے اہل کتاب تو البتہ ہوتا بہت بہترین ان کے لیے، بعض ان میں سے ایمان لانے والے ہیں اور اکثر ان میں سے فاسق ہیں(110) وہ ہرگز نہیں ضرر پہنچا سکیں گے تمھیں مگر ایذا تھوڑی سی اور اگر لڑیں وہ تم سے تو پھیر دیں گے تمھاری طرف پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(111)
[111,110] اللہ تعالیٰ اس امت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمام امتوں سے بہتر اور افضل امت ہے جسے اللہ نے لوگوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کامل کرتے ہیں، یعنی ایسا ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنے کو مستلزم ہے۔ اور دوسروں کو بھی کامل بناتے ہیں۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پرعمل پیرا ہوتے ہیں، جس میں مخلوق کو اللہ کی طرف بلانا، اس مقصد کے لیے ان سے جہاد کرنا، ان کو گمراہی اور نافرمانی سے روکنے کے لیے ہرممکن کوشش کرنا شامل ہے۔ اس وجہ سے وہ بہترین امت ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں ،یعنی اس فرمان الٰہی میں:﴿وَلۡتَؔكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَؔيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیک کاموں کا حکم کرے، اور برے کاموں سے روکے۔‘‘ اللہ کی طرف سے اس امت کو ایک حکم دیا گیا تھا۔ اور جسے حکم دیا جائے وہ بعض اوقات حکم کی تعمیل کرتا ہے اور بعض اوقات تعمیل نہیں کرتا۔ لہٰذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس امت نے وہ کام انجام دیا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا تھا، اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ہے اور تمام امتوں سے افضل قرار پانے کی مستحق ہوگئی ہے۔ ﴿ وَلَوۡ اٰمَنَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ ﴾ ’’اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نرم انداز اختیار کرتے ہوئے اہل کتاب کو ایمان کی دعوت دی ہے۔ لیکن ان میں سے بہت کم افراد ایمان لائے۔ زیادہ فاسق، اللہ کے نافرمان اور اللہ کے دوستوں سے طرح طرح سے دشمنی کا اظہار کرنے والے تھے۔ لیکن اللہ کا اپنے مومن بندوں پر یہ لطف و کرم ہے کہ اس نے دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ اور مومنوں کو ان سے نہ دینی نقصان پہنچا، نہ جسمانی، وہ زیادہ سے زیادہ جو کچھ کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ زبان سے تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔ اور یہ چیز ایسی ہے کہ اس سے کوئی بھی دشمن بچ نہیں سکتا۔ اگر وہ مومنوں سے جنگ کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔
آل عمران 3:111
ہو تم بہترین امت جو نکالی (بنائی) گئی ہے لوگوں کے لیے، تم حکم کرتے ہو ساتھ اچھے کاموں کے اور روکتے ہو برے کاموں سے اور ایمان رکھتے ہو تم ساتھ اللہ کےاور اگر ایمان لاتے اہل کتاب تو البتہ ہوتا بہت بہترین ان کے لیے، بعض ان میں سے ایمان لانے والے ہیں اور اکثر ان میں سے فاسق ہیں(110) وہ ہرگز نہیں ضرر پہنچا سکیں گے تمھیں مگر ایذا تھوڑی سی اور اگر لڑیں وہ تم سے تو پھیر دیں گے تمھاری طرف پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(111)
[111,110] اللہ تعالیٰ اس امت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمام امتوں سے بہتر اور افضل امت ہے جسے اللہ نے لوگوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کامل کرتے ہیں، یعنی ایسا ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنے کو مستلزم ہے۔ اور دوسروں کو بھی کامل بناتے ہیں۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پرعمل پیرا ہوتے ہیں، جس میں مخلوق کو اللہ کی طرف بلانا، اس مقصد کے لیے ان سے جہاد کرنا، ان کو گمراہی اور نافرمانی سے روکنے کے لیے ہرممکن کوشش کرنا شامل ہے۔ اس وجہ سے وہ بہترین امت ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں ،یعنی اس فرمان الٰہی میں:﴿وَلۡتَؔكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَؔيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیک کاموں کا حکم کرے، اور برے کاموں سے روکے۔‘‘ اللہ کی طرف سے اس امت کو ایک حکم دیا گیا تھا۔ اور جسے حکم دیا جائے وہ بعض اوقات حکم کی تعمیل کرتا ہے اور بعض اوقات تعمیل نہیں کرتا۔ لہٰذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس امت نے وہ کام انجام دیا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا تھا، اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ہے اور تمام امتوں سے افضل قرار پانے کی مستحق ہوگئی ہے۔ ﴿ وَلَوۡ اٰمَنَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ ﴾ ’’اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نرم انداز اختیار کرتے ہوئے اہل کتاب کو ایمان کی دعوت دی ہے۔ لیکن ان میں سے بہت کم افراد ایمان لائے۔ زیادہ فاسق، اللہ کے نافرمان اور اللہ کے دوستوں سے طرح طرح سے دشمنی کا اظہار کرنے والے تھے۔ لیکن اللہ کا اپنے مومن بندوں پر یہ لطف و کرم ہے کہ اس نے دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ اور مومنوں کو ان سے نہ دینی نقصان پہنچا، نہ جسمانی، وہ زیادہ سے زیادہ جو کچھ کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ زبان سے تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔ اور یہ چیز ایسی ہے کہ اس سے کوئی بھی دشمن بچ نہیں سکتا۔ اگر وہ مومنوں سے جنگ کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔
آل عمران 3:112
مسلط کر دی گئی ان پر ذلت، جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں مگر ساتھ پناہ کے اللہ کی اور (ساتھ) پناہ کے لوگوں کی اور لوٹے وہ ساتھ غضب کے اللہ کی طرف سےاور مسلط کر دی گئی ان پر محتاجی، یہ اس سبب سے کہ بے شک تھے وہ کفر کرتے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اورقتل کرتے تھے نبیوں کو ناحق، یہ بہ سبب اس کے کہ نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ زیادتی کرتے(112)
[112]ان کی یہ ہزیمت دائمی ہوگی، اور ان کی ذلت ہمیشہ رہے گی۔ ان کی کبھی مدد نہیں کی جائے گی، اس لیے اللہ نے ان کا انجام یہ بتایا کہ باطنی طورپر وہ ذلت کا شکار ہوں گے اور ظاہری طورپر فقر و مسکنت کا۔ لہٰذا وہ کہیں اطمینان اور سکون سے نہیں رہ سکیں گے۔﴿ اِلَّا بِحَبۡلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبۡلٍ مِّنَ النَّاسِ ﴾ ’’مگر یہ کہ اللہ کی یا لوگوں کی پناہ میں ہوں‘‘ اس لیے یہودی یا تو مسلمانوں سے معاہدہ کرکے ان کے ماتحت (ذمی بن کر) رہیں گے، ان سے جزیہ لیا جائے گا۔ وہ ذلیل ہوں گے۔ یا نصاریٰ کے ماتحت ہوں گے۔ ﴿ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ غضب الٰہی کے مستحق ہو گئے‘‘ اور یہ سب سے بڑی سزا ہے۔ وہ اس حال کو کیوں پہنچے، اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے:﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ یہ لوگ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے‘‘ یہ لوگ ان آیتوں کا انکار کرتے تھے جنھیں اللہ نے اپنے رسول محمدﷺپر نازل کیا ہے، جن سے ایمان اور یقین حاصل ہوتا ہے۔ لیکن انھوں نے سرکشی اور عناد کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔ ﴿ وَيَقۡتُلُوۡنَ الۡاَنۢۡبِيَآءَ۠ بِغَيۡرِ حَقٍّ ﴾ ’’اور انبیاء کو بے وجہ قتل کرتے تھے‘‘ وہ انبیاء جو ان پر سب سے عظیم احسان کرتے تھے، وہ اس احسان کے بدلے میں بدترین سلوک کرتے تھے، یعنی انھیں شہید کردیتے تھے۔ کیا اس جسارت اور اس جرم سے بڑھ کر بھی کوئی جرم ہوسکتا ہے؟ ان سب بداعمالیوں کی وجہ ان کی نافرمانی اورظلم تھا، جس کی وجہ سے انھوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور انبیائے کرام کو شہید کرنے کی جسارت کی۔ اس کے بعد فرمایا:
آل عمران 3:113
نہیں ہیں وہ (سب) برابر، اہل کتاب میں سے ایک جماعت ہے (حق پر) قائم، تلاوت کرتے ہیں وہ آیتیں اللہ کی رات کی گھڑیوں میں اور وہ سجدہ کرتے ہیں(113)ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ اللہ کے اور دن آخرت کے اور حکم کرتے ہیں ساتھ اچھے کاموں کے اور روکتے ہیں وہ برے کاموں سے اور جلدی کرتے ہیں وہ بھلائیوں میں اور یہی لوگ ہیں صالحین میں سے(114) اور جو کچھ کریں گے وہ بھلائی سے، پس ہرگز نہیں محروم کیے جائیں گے وہ اس (کے ثواب) سے اور اللہ خوب جاننے والا ہے پرہیزگاروں کو(115)
[114,113] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے فاسق گروہ کا ذکر کیا، ان کی بداعمالیاں اور ان کی سزائیں بیان کیں، تو ان آیات میں حق پر قائم رہنے والی جماعت کا ذکر فرمایا، ان کے نیک اعمال اور ان کا ثواب ذکر فرمایا۔ اور یہ بتایا کہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں گروہ برابر نہیں۔ بلکہ ان کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس فاسق گروہ کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔ باقی رہے یہ مومن ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں ﴿ اُمَّةٌ قَآىِٕمَةٌ ﴾ ایک جماعت اللہ کے دین پرقائم رہنے والی، اور اللہ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے ان پر عمل پیرا رہنے والی ہے۔ ان نیک اعمال میں نماز قائم کرنا بھی شامل ہے۔ ﴿ يَّتۡلُوۡنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّيۡلِ وَهُمۡ يَسۡجُدُوۡنَ ﴾ ’’وہ راتوں کے وقت کلام اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں‘‘ یہ رات کے اوقات میں ادا کی جانے والی ان کی نمازوں کا بیان ہے کہ وہ طویل تہجد پڑھتے ہیں، اور اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ رکوع اور سجدے کرتے ہیں۔ ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’اللہ پر اور قیامت کے دن پرایمان بھی رکھتے ہیں‘‘ جس طرح مسلمانوں کا ایمان ان کے لیے ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر، اور اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر ایمان رکھیں ۔ وہ بھی اس طرح کا ایمان رکھتے ہیں۔ قیامت پر ایمان کا خاص طورپر ذکر فرمایا، کیونکہ قیامت پر صحیح یقین و ایمان ہی مومن کو ان اعمال پر آمادہ کرتا ہے جو اسے اللہ سے قریب کرتے ہیں۔ اور جن کا قیامت کو ثواب ملے گا۔ اور ہر اس عمل کے ترک پر آمادہ کرتا ہے جس سے اس دن سزا ملے۔ ﴿ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں‘‘ اس طرح ان سے یہ عمل انجام پاتا ہے۔ ایمان اور ایمان کے لوازم کے ذریعے سے اپنی تکمیل کرتے ہیں، اور دوسروں کو ہر نیکی کا حکم دے کر ہر برائی سے منع کرکے دوسروں کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کو اور دوسرے لوگوں کو محمدﷺپر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر ان کی عالی ہمتی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ﴿ وَيُسَارِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں‘‘ نیکی کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جب بھی ہوسکے فوراً نیکی کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی کی شدید رغبت اور خواہش رکھتے ہیں، اور اس کے فوائد و ثمرات سے خوب واقف ہیں۔ یہ لوگ جن کی تعریف اللہ نے ان عمدہ صفات اور عظیم اعمال کے ساتھ کی ہے۔ ﴿ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’یہی نیک لوگوں میں سے ہیں‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کرے گا، انھیں اپنی بخشش کے سائے میں لے لے گا، اور انھیں اپنے فضل و احسان سے نوازے گا۔
[115]﴿ وَمَا يَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ﴾ ’’اور یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں‘‘ تھوڑی ہوں یا زیادہ ﴿ فَلَنۡ يُّكۡفَرُوۡهُ ﴾’’ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی‘‘ انھیں ان کے ثواب سے محروم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا مکمل ترین ثواب دے گا۔ لیکن اعمال کے ثواب کا دارومدارعمل کرنے والے کے دل میں موجود ایمان و تقویٰ پر ہوتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے‘‘ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ہے: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾(المائدۃ:5؍27) ’’اللہ صرف پرہیز گاروں کی قربانی قبول کرتا ہے۔‘‘
آل عمران 3:114
نہیں ہیں وہ (سب) برابر، اہل کتاب میں سے ایک جماعت ہے (حق پر) قائم، تلاوت کرتے ہیں وہ آیتیں اللہ کی رات کی گھڑیوں میں اور وہ سجدہ کرتے ہیں(113)ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ اللہ کے اور دن آخرت کے اور حکم کرتے ہیں ساتھ اچھے کاموں کے اور روکتے ہیں وہ برے کاموں سے اور جلدی کرتے ہیں وہ بھلائیوں میں اور یہی لوگ ہیں صالحین میں سے(114) اور جو کچھ کریں گے وہ بھلائی سے، پس ہرگز نہیں محروم کیے جائیں گے وہ اس (کے ثواب) سے اور اللہ خوب جاننے والا ہے پرہیزگاروں کو(115)
[114,113] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے فاسق گروہ کا ذکر کیا، ان کی بداعمالیاں اور ان کی سزائیں بیان کیں، تو ان آیات میں حق پر قائم رہنے والی جماعت کا ذکر فرمایا، ان کے نیک اعمال اور ان کا ثواب ذکر فرمایا۔ اور یہ بتایا کہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں گروہ برابر نہیں۔ بلکہ ان کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس فاسق گروہ کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔ باقی رہے یہ مومن ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں ﴿ اُمَّةٌ قَآىِٕمَةٌ ﴾ ایک جماعت اللہ کے دین پرقائم رہنے والی، اور اللہ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے ان پر عمل پیرا رہنے والی ہے۔ ان نیک اعمال میں نماز قائم کرنا بھی شامل ہے۔ ﴿ يَّتۡلُوۡنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّيۡلِ وَهُمۡ يَسۡجُدُوۡنَ ﴾ ’’وہ راتوں کے وقت کلام اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں‘‘ یہ رات کے اوقات میں ادا کی جانے والی ان کی نمازوں کا بیان ہے کہ وہ طویل تہجد پڑھتے ہیں، اور اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ رکوع اور سجدے کرتے ہیں۔ ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’اللہ پر اور قیامت کے دن پرایمان بھی رکھتے ہیں‘‘ جس طرح مسلمانوں کا ایمان ان کے لیے ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر، اور اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر ایمان رکھیں ۔ وہ بھی اس طرح کا ایمان رکھتے ہیں۔ قیامت پر ایمان کا خاص طورپر ذکر فرمایا، کیونکہ قیامت پر صحیح یقین و ایمان ہی مومن کو ان اعمال پر آمادہ کرتا ہے جو اسے اللہ سے قریب کرتے ہیں۔ اور جن کا قیامت کو ثواب ملے گا۔ اور ہر اس عمل کے ترک پر آمادہ کرتا ہے جس سے اس دن سزا ملے۔ ﴿ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں‘‘ اس طرح ان سے یہ عمل انجام پاتا ہے۔ ایمان اور ایمان کے لوازم کے ذریعے سے اپنی تکمیل کرتے ہیں، اور دوسروں کو ہر نیکی کا حکم دے کر ہر برائی سے منع کرکے دوسروں کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کو اور دوسرے لوگوں کو محمدﷺپر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر ان کی عالی ہمتی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ﴿ وَيُسَارِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں‘‘ نیکی کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جب بھی ہوسکے فوراً نیکی کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی کی شدید رغبت اور خواہش رکھتے ہیں، اور اس کے فوائد و ثمرات سے خوب واقف ہیں۔ یہ لوگ جن کی تعریف اللہ نے ان عمدہ صفات اور عظیم اعمال کے ساتھ کی ہے۔ ﴿ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’یہی نیک لوگوں میں سے ہیں‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کرے گا، انھیں اپنی بخشش کے سائے میں لے لے گا، اور انھیں اپنے فضل و احسان سے نوازے گا۔
[115]﴿ وَمَا يَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ﴾ ’’اور یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں‘‘ تھوڑی ہوں یا زیادہ ﴿ فَلَنۡ يُّكۡفَرُوۡهُ ﴾’’ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی‘‘ انھیں ان کے ثواب سے محروم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا مکمل ترین ثواب دے گا۔ لیکن اعمال کے ثواب کا دارومدارعمل کرنے والے کے دل میں موجود ایمان و تقویٰ پر ہوتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے‘‘ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ہے: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾(المائدۃ:5؍27) ’’اللہ صرف پرہیز گاروں کی قربانی قبول کرتا ہے۔‘‘
آل عمران 3:115
نہیں ہیں وہ (سب) برابر، اہل کتاب میں سے ایک جماعت ہے (حق پر) قائم، تلاوت کرتے ہیں وہ آیتیں اللہ کی رات کی گھڑیوں میں اور وہ سجدہ کرتے ہیں(113)ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ اللہ کے اور دن آخرت کے اور حکم کرتے ہیں ساتھ اچھے کاموں کے اور روکتے ہیں وہ برے کاموں سے اور جلدی کرتے ہیں وہ بھلائیوں میں اور یہی لوگ ہیں صالحین میں سے(114) اور جو کچھ کریں گے وہ بھلائی سے، پس ہرگز نہیں محروم کیے جائیں گے وہ اس (کے ثواب) سے اور اللہ خوب جاننے والا ہے پرہیزگاروں کو(115)
[114,113] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے فاسق گروہ کا ذکر کیا، ان کی بداعمالیاں اور ان کی سزائیں بیان کیں، تو ان آیات میں حق پر قائم رہنے والی جماعت کا ذکر فرمایا، ان کے نیک اعمال اور ان کا ثواب ذکر فرمایا۔ اور یہ بتایا کہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں گروہ برابر نہیں۔ بلکہ ان کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس فاسق گروہ کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔ باقی رہے یہ مومن ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں ﴿ اُمَّةٌ قَآىِٕمَةٌ ﴾ ایک جماعت اللہ کے دین پرقائم رہنے والی، اور اللہ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے ان پر عمل پیرا رہنے والی ہے۔ ان نیک اعمال میں نماز قائم کرنا بھی شامل ہے۔ ﴿ يَّتۡلُوۡنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّيۡلِ وَهُمۡ يَسۡجُدُوۡنَ ﴾ ’’وہ راتوں کے وقت کلام اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں‘‘ یہ رات کے اوقات میں ادا کی جانے والی ان کی نمازوں کا بیان ہے کہ وہ طویل تہجد پڑھتے ہیں، اور اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ رکوع اور سجدے کرتے ہیں۔ ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’اللہ پر اور قیامت کے دن پرایمان بھی رکھتے ہیں‘‘ جس طرح مسلمانوں کا ایمان ان کے لیے ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر، اور اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر ایمان رکھیں ۔ وہ بھی اس طرح کا ایمان رکھتے ہیں۔ قیامت پر ایمان کا خاص طورپر ذکر فرمایا، کیونکہ قیامت پر صحیح یقین و ایمان ہی مومن کو ان اعمال پر آمادہ کرتا ہے جو اسے اللہ سے قریب کرتے ہیں۔ اور جن کا قیامت کو ثواب ملے گا۔ اور ہر اس عمل کے ترک پر آمادہ کرتا ہے جس سے اس دن سزا ملے۔ ﴿ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں‘‘ اس طرح ان سے یہ عمل انجام پاتا ہے۔ ایمان اور ایمان کے لوازم کے ذریعے سے اپنی تکمیل کرتے ہیں، اور دوسروں کو ہر نیکی کا حکم دے کر ہر برائی سے منع کرکے دوسروں کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کو اور دوسرے لوگوں کو محمدﷺپر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر ان کی عالی ہمتی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ﴿ وَيُسَارِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں‘‘ نیکی کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جب بھی ہوسکے فوراً نیکی کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی کی شدید رغبت اور خواہش رکھتے ہیں، اور اس کے فوائد و ثمرات سے خوب واقف ہیں۔ یہ لوگ جن کی تعریف اللہ نے ان عمدہ صفات اور عظیم اعمال کے ساتھ کی ہے۔ ﴿ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’یہی نیک لوگوں میں سے ہیں‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کرے گا، انھیں اپنی بخشش کے سائے میں لے لے گا، اور انھیں اپنے فضل و احسان سے نوازے گا۔
[115]﴿ وَمَا يَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ﴾ ’’اور یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں‘‘ تھوڑی ہوں یا زیادہ ﴿ فَلَنۡ يُّكۡفَرُوۡهُ ﴾’’ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی‘‘ انھیں ان کے ثواب سے محروم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا مکمل ترین ثواب دے گا۔ لیکن اعمال کے ثواب کا دارومدارعمل کرنے والے کے دل میں موجود ایمان و تقویٰ پر ہوتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے‘‘ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ہے: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾(المائدۃ:5؍27) ’’اللہ صرف پرہیز گاروں کی قربانی قبول کرتا ہے۔‘‘
آل عمران 3:116
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں کفایت کریں گے ان سے مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی اور یہ لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(116) مثال اس کی جو خرچ کرتے ہیں وہ اس زندگانیٔ دنیا میں مانند مثال سخت ہوا کی ہے، اس میں ہو سخت سردی، پہنچی وہ کھیتی کو ایک قوم کی، جس نے ظلم کیا تھا اپنی جانوں پر اور تہس نہس کر دیا اسےاور نہیں ظلم کیا ان پر اللہ نے لیکن وہ اپنے نفسوں پر (خود ہی) ظلم کرتے تھے(117)
[117,116] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ کافروں کو ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی، یعنی اللہ کے عذاب سے بچانے میں یا اللہ سے ثواب کے حصول میں معمولی سا بھی فائدہ نہیں دیں گی۔ جیسے فرمان الٰہی ہے:﴿ وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾(سبا:34؍37) ’’یہ تمھارے مال اور تمھاری اولادیں ايسی نہیں کہ جوتمھیں ہمارا قرب بخش سکیں، لیکن جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے (اسے قرب حاصل ہوگا)‘‘ بلکہ ان کے مال و اولاد جہنم کی طرف سفر میں ان کا زاد راہ ہیں۔ اللہ کی نعمتوں میں اضافے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا شکر ادا کیا جائے، لیکن ان کے لیے یہ چیزیں شکر نہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف حجت ہوں گی، اس لیے ان پر شکر نہ کرنے اور ناشکری کی پاداش میں انھیں سزا دی جائے گی۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تو جہنمی ہیں، جو ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔‘‘ پھر اللہ نے کافروں کے مال خرچ کرنے کے بارے میں ایک مثال بیان فرمائی کہ وہ لوگ مال خرچ کرکے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، تو یہ کوششیں ناکام رہیں گی، جیسے کوئی شخص فصل بوئے اسے اس کانتیجہ ملنے اور اس سے پیداوار حاصل ہونے کی امید ہو، اچانک کھیتی پر ایک سخت ٹھنڈی ہوا چلے جس سے کھیتی تباہ ہوجائے۔ اس کے حصے میں صرف محنت، مشقت اور حسرت و افسوس ہی آئے۔ کافروں کا بھی یہی حال ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ﴾(الانفال:8؍36) ’’بے شک کافر اپنے مال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کرتے ہیں، یہ خرچ کریں گے، پھر یہ ان کے لیے حسرت کا باعث بن جائیں گے، پھر یہ مغلوب ہوجائیں گے‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ کہ ان کے عمل ضائع کردیے۔ ﴿وَلٰكِنۡ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔‘‘ وہ اس طرح کہ انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کے نورکو بجھانے کی کوشش کی۔ ان بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں اور مال تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد فرمایا:
آل عمران 3:117
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں کفایت کریں گے ان سے مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی اور یہ لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(116) مثال اس کی جو خرچ کرتے ہیں وہ اس زندگانیٔ دنیا میں مانند مثال سخت ہوا کی ہے، اس میں ہو سخت سردی، پہنچی وہ کھیتی کو ایک قوم کی، جس نے ظلم کیا تھا اپنی جانوں پر اور تہس نہس کر دیا اسےاور نہیں ظلم کیا ان پر اللہ نے لیکن وہ اپنے نفسوں پر (خود ہی) ظلم کرتے تھے(117)
[117,116] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ کافروں کو ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی، یعنی اللہ کے عذاب سے بچانے میں یا اللہ سے ثواب کے حصول میں معمولی سا بھی فائدہ نہیں دیں گی۔ جیسے فرمان الٰہی ہے:﴿ وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾(سبا:34؍37) ’’یہ تمھارے مال اور تمھاری اولادیں ايسی نہیں کہ جوتمھیں ہمارا قرب بخش سکیں، لیکن جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے (اسے قرب حاصل ہوگا)‘‘ بلکہ ان کے مال و اولاد جہنم کی طرف سفر میں ان کا زاد راہ ہیں۔ اللہ کی نعمتوں میں اضافے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا شکر ادا کیا جائے، لیکن ان کے لیے یہ چیزیں شکر نہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف حجت ہوں گی، اس لیے ان پر شکر نہ کرنے اور ناشکری کی پاداش میں انھیں سزا دی جائے گی۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تو جہنمی ہیں، جو ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔‘‘ پھر اللہ نے کافروں کے مال خرچ کرنے کے بارے میں ایک مثال بیان فرمائی کہ وہ لوگ مال خرچ کرکے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، تو یہ کوششیں ناکام رہیں گی، جیسے کوئی شخص فصل بوئے اسے اس کانتیجہ ملنے اور اس سے پیداوار حاصل ہونے کی امید ہو، اچانک کھیتی پر ایک سخت ٹھنڈی ہوا چلے جس سے کھیتی تباہ ہوجائے۔ اس کے حصے میں صرف محنت، مشقت اور حسرت و افسوس ہی آئے۔ کافروں کا بھی یہی حال ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ﴾(الانفال:8؍36) ’’بے شک کافر اپنے مال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کرتے ہیں، یہ خرچ کریں گے، پھر یہ ان کے لیے حسرت کا باعث بن جائیں گے، پھر یہ مغلوب ہوجائیں گے‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ کہ ان کے عمل ضائع کردیے۔ ﴿وَلٰكِنۡ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔‘‘ وہ اس طرح کہ انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کے نورکو بجھانے کی کوشش کی۔ ان بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں اور مال تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد فرمایا:
آل عمران 3:118
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم دلی دوست سوائے اپنے (لوگوں) کے، نہیں کمی کرتے وہ تمھیں برباد کرنے میں، وہ چاہتے ہیں یہ کہ تکلیف میں پڑو تم،تحقیق ظاہر ہو چکا ہے بغض ان کے مونہوں سےاور جو چھپاتے ہیں ان کے سینے، وہ بہت بڑا ہے، تحقیق بیان کیا ہم نے تمھارے لیے نشانیوں کو اگر ہو تم عقل رکھتے(118) خبردار! تم ہی وہ لوگ ہو کہ محبت رکھتے ہو تم ان سے اور نہیں محبت رکھتے وہ تم سے اور تم ایمان رکھتے ہو سب کتابوں پراور جب وہ ملتے ہیں تم سے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہم اور جب تنہا ہوتے ہیں تو کاٹتے ہیں اوپر تمھارے انگلیاں (اپنی) غصے سے، کہہ دیجیے! مر جاؤ تم ساتھ اپنے غصے ہی کے، بلاشبہ اللہ خوب جاننے والا ہے سینوں کے راز (119)اگر پہنچے تمھیں کوئی بھلائی تو بری لگتی ہے ان کواور اگر پہنچے تمھیں کوئی برائی تو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے اور اگر صبر کرو تم اور تقویٰ اختیار کرو تو نہیں نقصان پہنچائے گا تمھیں مکر ان کا کچھ بھی، بلاشبہ اللہ اس کو، جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(120)
[120-118] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انھیں اپنے راز بتائیں یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ ﴿ وَمَا تُخۡفِيۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَ كۡبَرُ ﴾ ’’اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔‘‘ اسی لیے ﴿ لَا يَاۡلُوۡنَؔكُمۡ خَبَالًا ﴾ ’’وہ تمھاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے‘‘ یعنی تمھیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تمھیں نقصان پہنچے اور تمھارے خلاف تمھارے دشمنوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مومنوں سے فرماتا ہے: ﴿قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم نے تمھارے لیے آیتیں بیان کردی ہیں‘‘ جن میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحتیں اور فوائد موجود ہیں۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اگر تم عقل مند ہو‘‘ تو ان نشانیوں کو پہچان کر دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کرو، کیونکہ ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے ہم راز بنایا جائے۔عقل مند وہ ہوتا ہے جسے اگر دشمن سے میل جول رکھنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس سے میل جول صرف ظاہری معاملات میں ہو، اور اپنے اندرونی معاملات اسے نہ بتائے۔ اگرچہ دشمن کتنی ہی چاپلوسی کرے اور قسمیں کھائے کہ وہ دوست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودی اور عیسائی منافقوں سے احتیاط کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ان کی شدید دشمنی کو واضح کرتا ہے۔ ارشاد ہے ﴿ هٰۤاَ نۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَهُمۡ وَلَا يُحِبُّوۡنَكُمۡ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ كُلِّهٖ ﴾ ’’ہاں، تم تو انھیں چاہتے ہو، اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم پوری کتاب کو مانتے ہو‘‘ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل کی ہیں۔ حالانکہ وہ تمھاری کتاب، قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بلکہ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو اوپر اوپر سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِذَا لَقُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا١ۖ ۗۚ وَاِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَيۡكُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَيۡظِ ﴾ ’’اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔ لیکن تنہائی میں تم پر غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں‘‘ ﴿الۡاَنَامِلَ﴾ کا مطلب ’’انگلیوں کے سرے۔‘‘ ﴿ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’کہہ دو! اپنے غصے میں ہی مرجاؤ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز بخوبی جانتا ہے۔‘‘ اس میں مومنوں کے لیے خوش خبری ہے کہ یہ دشمن تمھیں نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اپنا ہی نقصان کررہے ہیں۔ وہ اپنے غصے کو عملی جامہ پہنانے کے قابل نہیں۔ وہ مرتے دم تک دنیا کا یہ عذاب سہتے رہیں گے اور مرنے کے بعد دنیا کے عذاب سے آخرت کے عذاب کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔ ﴿ اِنۡ تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٌ ﴾ ’’تمھیں اگر بھلائی ملے‘‘ مثلاً: دشمنوں پر فتح نصیب ہو یا غنیمت حاصل ہو ﴿ تَسُؤۡهُمۡ ﴾ ’’تو یہ ناخوش ہوتے ہیں‘‘ یعنی انھیں اس سے غم ہوتا ہے ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٌ يَّفۡرَحُوۡا بِهَا١ؕ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ﴾ ’’اور اگر تمھیں برائی پہنچے تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ اور تم اگر صبر کرو اورپرہیز گاری کرو تو ان کا مکر تمھیں کچھ نقصان نہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کا احاطہ کررکھا ہے۔‘‘ لہٰذا جب تم ان اسباب کو عملی جامہ پہناؤ جن پر اللہ نے مدد کا وعدہ کررکھا ہے، یعنی صبرا ور تقویٰ اختیار کرو، تو ان کا مکر تمھیں نقصان نہ دے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے مکر کو انھی پر الٹ دے گا۔ کیونکہ اس کا علم اور اس کی قدرت ان کو گھیرے ہوئے ہے، وہ اس کی قدرت کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اور ان کی کوئی بات اللہ سے چھپی نہیں رہ سکتی۔
آل عمران 3:119
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم دلی دوست سوائے اپنے (لوگوں) کے، نہیں کمی کرتے وہ تمھیں برباد کرنے میں، وہ چاہتے ہیں یہ کہ تکلیف میں پڑو تم،تحقیق ظاہر ہو چکا ہے بغض ان کے مونہوں سےاور جو چھپاتے ہیں ان کے سینے، وہ بہت بڑا ہے، تحقیق بیان کیا ہم نے تمھارے لیے نشانیوں کو اگر ہو تم عقل رکھتے(118) خبردار! تم ہی وہ لوگ ہو کہ محبت رکھتے ہو تم ان سے اور نہیں محبت رکھتے وہ تم سے اور تم ایمان رکھتے ہو سب کتابوں پراور جب وہ ملتے ہیں تم سے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہم اور جب تنہا ہوتے ہیں تو کاٹتے ہیں اوپر تمھارے انگلیاں (اپنی) غصے سے، کہہ دیجیے! مر جاؤ تم ساتھ اپنے غصے ہی کے، بلاشبہ اللہ خوب جاننے والا ہے سینوں کے راز (119)اگر پہنچے تمھیں کوئی بھلائی تو بری لگتی ہے ان کواور اگر پہنچے تمھیں کوئی برائی تو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے اور اگر صبر کرو تم اور تقویٰ اختیار کرو تو نہیں نقصان پہنچائے گا تمھیں مکر ان کا کچھ بھی، بلاشبہ اللہ اس کو، جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(120)
[120-118] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انھیں اپنے راز بتائیں یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ ﴿ وَمَا تُخۡفِيۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَ كۡبَرُ ﴾ ’’اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔‘‘ اسی لیے ﴿ لَا يَاۡلُوۡنَؔكُمۡ خَبَالًا ﴾ ’’وہ تمھاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے‘‘ یعنی تمھیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تمھیں نقصان پہنچے اور تمھارے خلاف تمھارے دشمنوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مومنوں سے فرماتا ہے: ﴿قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم نے تمھارے لیے آیتیں بیان کردی ہیں‘‘ جن میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحتیں اور فوائد موجود ہیں۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اگر تم عقل مند ہو‘‘ تو ان نشانیوں کو پہچان کر دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کرو، کیونکہ ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے ہم راز بنایا جائے۔عقل مند وہ ہوتا ہے جسے اگر دشمن سے میل جول رکھنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس سے میل جول صرف ظاہری معاملات میں ہو، اور اپنے اندرونی معاملات اسے نہ بتائے۔ اگرچہ دشمن کتنی ہی چاپلوسی کرے اور قسمیں کھائے کہ وہ دوست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودی اور عیسائی منافقوں سے احتیاط کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ان کی شدید دشمنی کو واضح کرتا ہے۔ ارشاد ہے ﴿ هٰۤاَ نۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَهُمۡ وَلَا يُحِبُّوۡنَكُمۡ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ كُلِّهٖ ﴾ ’’ہاں، تم تو انھیں چاہتے ہو، اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم پوری کتاب کو مانتے ہو‘‘ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل کی ہیں۔ حالانکہ وہ تمھاری کتاب، قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بلکہ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو اوپر اوپر سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِذَا لَقُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا١ۖ ۗۚ وَاِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَيۡكُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَيۡظِ ﴾ ’’اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔ لیکن تنہائی میں تم پر غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں‘‘ ﴿الۡاَنَامِلَ﴾ کا مطلب ’’انگلیوں کے سرے۔‘‘ ﴿ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’کہہ دو! اپنے غصے میں ہی مرجاؤ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز بخوبی جانتا ہے۔‘‘ اس میں مومنوں کے لیے خوش خبری ہے کہ یہ دشمن تمھیں نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اپنا ہی نقصان کررہے ہیں۔ وہ اپنے غصے کو عملی جامہ پہنانے کے قابل نہیں۔ وہ مرتے دم تک دنیا کا یہ عذاب سہتے رہیں گے اور مرنے کے بعد دنیا کے عذاب سے آخرت کے عذاب کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔ ﴿ اِنۡ تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٌ ﴾ ’’تمھیں اگر بھلائی ملے‘‘ مثلاً: دشمنوں پر فتح نصیب ہو یا غنیمت حاصل ہو ﴿ تَسُؤۡهُمۡ ﴾ ’’تو یہ ناخوش ہوتے ہیں‘‘ یعنی انھیں اس سے غم ہوتا ہے ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٌ يَّفۡرَحُوۡا بِهَا١ؕ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ﴾ ’’اور اگر تمھیں برائی پہنچے تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ اور تم اگر صبر کرو اورپرہیز گاری کرو تو ان کا مکر تمھیں کچھ نقصان نہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کا احاطہ کررکھا ہے۔‘‘ لہٰذا جب تم ان اسباب کو عملی جامہ پہناؤ جن پر اللہ نے مدد کا وعدہ کررکھا ہے، یعنی صبرا ور تقویٰ اختیار کرو، تو ان کا مکر تمھیں نقصان نہ دے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے مکر کو انھی پر الٹ دے گا۔ کیونکہ اس کا علم اور اس کی قدرت ان کو گھیرے ہوئے ہے، وہ اس کی قدرت کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اور ان کی کوئی بات اللہ سے چھپی نہیں رہ سکتی۔
آل عمران 3:120
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم دلی دوست سوائے اپنے (لوگوں) کے، نہیں کمی کرتے وہ تمھیں برباد کرنے میں، وہ چاہتے ہیں یہ کہ تکلیف میں پڑو تم،تحقیق ظاہر ہو چکا ہے بغض ان کے مونہوں سےاور جو چھپاتے ہیں ان کے سینے، وہ بہت بڑا ہے، تحقیق بیان کیا ہم نے تمھارے لیے نشانیوں کو اگر ہو تم عقل رکھتے(118) خبردار! تم ہی وہ لوگ ہو کہ محبت رکھتے ہو تم ان سے اور نہیں محبت رکھتے وہ تم سے اور تم ایمان رکھتے ہو سب کتابوں پراور جب وہ ملتے ہیں تم سے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہم اور جب تنہا ہوتے ہیں تو کاٹتے ہیں اوپر تمھارے انگلیاں (اپنی) غصے سے، کہہ دیجیے! مر جاؤ تم ساتھ اپنے غصے ہی کے، بلاشبہ اللہ خوب جاننے والا ہے سینوں کے راز (119)اگر پہنچے تمھیں کوئی بھلائی تو بری لگتی ہے ان کواور اگر پہنچے تمھیں کوئی برائی تو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے اور اگر صبر کرو تم اور تقویٰ اختیار کرو تو نہیں نقصان پہنچائے گا تمھیں مکر ان کا کچھ بھی، بلاشبہ اللہ اس کو، جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(120)
[120-118] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انھیں اپنے راز بتائیں یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ ﴿ وَمَا تُخۡفِيۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَ كۡبَرُ ﴾ ’’اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔‘‘ اسی لیے ﴿ لَا يَاۡلُوۡنَؔكُمۡ خَبَالًا ﴾ ’’وہ تمھاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے‘‘ یعنی تمھیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تمھیں نقصان پہنچے اور تمھارے خلاف تمھارے دشمنوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مومنوں سے فرماتا ہے: ﴿قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم نے تمھارے لیے آیتیں بیان کردی ہیں‘‘ جن میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحتیں اور فوائد موجود ہیں۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اگر تم عقل مند ہو‘‘ تو ان نشانیوں کو پہچان کر دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کرو، کیونکہ ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے ہم راز بنایا جائے۔عقل مند وہ ہوتا ہے جسے اگر دشمن سے میل جول رکھنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس سے میل جول صرف ظاہری معاملات میں ہو، اور اپنے اندرونی معاملات اسے نہ بتائے۔ اگرچہ دشمن کتنی ہی چاپلوسی کرے اور قسمیں کھائے کہ وہ دوست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودی اور عیسائی منافقوں سے احتیاط کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ان کی شدید دشمنی کو واضح کرتا ہے۔ ارشاد ہے ﴿ هٰۤاَ نۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَهُمۡ وَلَا يُحِبُّوۡنَكُمۡ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ كُلِّهٖ ﴾ ’’ہاں، تم تو انھیں چاہتے ہو، اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم پوری کتاب کو مانتے ہو‘‘ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل کی ہیں۔ حالانکہ وہ تمھاری کتاب، قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بلکہ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو اوپر اوپر سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِذَا لَقُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا١ۖ ۗۚ وَاِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَيۡكُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَيۡظِ ﴾ ’’اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔ لیکن تنہائی میں تم پر غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں‘‘ ﴿الۡاَنَامِلَ﴾ کا مطلب ’’انگلیوں کے سرے۔‘‘ ﴿ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’کہہ دو! اپنے غصے میں ہی مرجاؤ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز بخوبی جانتا ہے۔‘‘ اس میں مومنوں کے لیے خوش خبری ہے کہ یہ دشمن تمھیں نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اپنا ہی نقصان کررہے ہیں۔ وہ اپنے غصے کو عملی جامہ پہنانے کے قابل نہیں۔ وہ مرتے دم تک دنیا کا یہ عذاب سہتے رہیں گے اور مرنے کے بعد دنیا کے عذاب سے آخرت کے عذاب کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔ ﴿ اِنۡ تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٌ ﴾ ’’تمھیں اگر بھلائی ملے‘‘ مثلاً: دشمنوں پر فتح نصیب ہو یا غنیمت حاصل ہو ﴿ تَسُؤۡهُمۡ ﴾ ’’تو یہ ناخوش ہوتے ہیں‘‘ یعنی انھیں اس سے غم ہوتا ہے ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٌ يَّفۡرَحُوۡا بِهَا١ؕ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ﴾ ’’اور اگر تمھیں برائی پہنچے تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ اور تم اگر صبر کرو اورپرہیز گاری کرو تو ان کا مکر تمھیں کچھ نقصان نہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کا احاطہ کررکھا ہے۔‘‘ لہٰذا جب تم ان اسباب کو عملی جامہ پہناؤ جن پر اللہ نے مدد کا وعدہ کررکھا ہے، یعنی صبرا ور تقویٰ اختیار کرو، تو ان کا مکر تمھیں نقصان نہ دے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے مکر کو انھی پر الٹ دے گا۔ کیونکہ اس کا علم اور اس کی قدرت ان کو گھیرے ہوئے ہے، وہ اس کی قدرت کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اور ان کی کوئی بات اللہ سے چھپی نہیں رہ سکتی۔
آل عمران 3:121
اور جب صبح کو نکلے آپ اپنے گھر والوں (کے پاس) سے، بٹھاتے تھے آپ مومنوں کو مورچوں پر لڑائی کے لیےاور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(121) جب ارادہ کیا دو گروہوں نے تم میں سے یہ کہ وہ بزدلی کریں اور اللہ دوست تھا ان کااور اللہ ہی پر پس چاہیے کہ توکل کریں مومن (122)اور البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بدر میں جبکہ تم کمزور تھے، پس ڈرو تم اللہ سے تاکہ تم شکر کرو(123) جب کہتے تھے آپ مومنوں سے، کیا ہرگز نہ کفایت کرے گی تمھیں یہ بات کہ مدد کرے تمھاری تمھارا رب ساتھ تین ہزار فرشتوں کے، اتارے ہوئے (آسمان سے)؟ (124) کیوں نہیں (ہاں) ! اگر تم صبر کرو اور ڈرو اور وہ (دشمن) آجائے تمھارے پاس اسی دم تو مدد کرے گا تمھاری، تمھارا رب ساتھ پانچ ہزار فرشتوں کے (وہ خاص) نشان لگائے ہوں گے(125) اور نہیں کیا اس کو اللہ نے مگر خوش خبری تمھارے لیے اور تاکہ مطمئن ہو جائیں تمھارے دل ساتھ اس کےاور نہیں ہے مدد مگر اللہ ہی کی طرف سے (جو) زبردست حکمت والاہے(126)تاکہ کاٹ (ہلاک کر) دے وہ ایک گروہ کو ان میں سے جنھوں نے کفر کیا یا ذلیل کرے ان کو، پس پھریں وہ نامراد ہو کر(127)
[121] یہ آیات واقعۂ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے، اور اس کے درمیان میں بدر کا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا، اور دشمن کی سازشوں سے انھیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوںمیں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لیے فرمائی تھی کہ انھوں نے صبر کیا اورتقویٰ اختیار کیا، اور احد میں انھیں دشمنوں کے ہاتھوں اس لیے نقصان پہنچا کہ ان میں سے بعض افراد سے ایسی غلطی ہوگئی جو تقویٰ کے منافی تھی، دونوں واقعات اکٹھے بیان کرنے کا یہ مقصد ہے کہ اللہ کو بندوں کا یہ عمل پسند ہے کہ جب انھیں کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آجائے تو انھیں وہ نعمت یاد کرنی چاہیے جو انھیں پسند ہے، تو ان کی مصیبت ہلکی ہوجائے گی اور وہ اس بڑی نعمت پر رب کا شکر کریں گے۔ جس کے مقابلے میں یہ ظاہری مصیبت، جو حقیقت میں نعمت ہی ہے، بڑی نعمت کے مقابلے میں بہت معمولی محسوس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اسی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ﴿ اَوَلَمَّؔاۤ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا ﴾ ’’کیابات ہے کہ جب تمھیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے۔‘‘واقعۂ احد کا خلاصہ یہ ہے کہ جب 2ھ میں جنگ بدر کے بعد بچے کھچے مشرکین مکہ پہنچے، تو انھوں نے اپنی طاقت کے مطابق مال، افراد اور اسلحہ کے ساتھ بھرپور تیاری کی، حتیٰ کہ اتنا کچھ جمع ہوگیا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنا مقصود حاصل کرنے اور اپنا غصہ نکالنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ تب وہ تین ہزار جنگجو افراد کا لشکر لے کر مکہ سے روانہ ہوئے اور مدینہ کے قریب آٹھہرے۔ نبی اکرمﷺنے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، تو طے پایا کہ شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے۔ نبیﷺایک ہزار آدمی لے کر روانہ ہوئے۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد عبداللہ بن ابی (منافق) اپنے جیسے تین سو افراد لے کر واپس پلٹ گیا۔ اس طرح اسلامی لشکر کی تعداد میں ایک تہائی مقدار کی کمی ہوگئی۔ مومنوں کے دو گروہ بھی پلٹ جانے کا سوچنے لگے۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے قبائل تھے۔ اللہ نے انھیں ثابت قدمی عطا فرمائی۔ جب احد کے مقام پر پہنچے تو نبیﷺنے لشکر کو ترتیب دے کر ان کے مختلف دستے اپنے اپنے مقام پر متعین فرمائے۔ احد کا پہاڑ ان کی پشت کی طرف تھا۔ انھوں نے اپنی پیٹھیں احد کی طرف رکھیں ۔ نبیﷺنے پچاس صحابہ کرام کو احد کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا، اور انھیں حکم دیا کہ وہیں ٹھہرے رہیں، اور وہ جگہ نہ چھوڑیں، تاکہ پیچھے سے دشمن کے حملہ کا خطرہ نہ رہے۔ جب مسلمانوں اور مشرکوں کے مابین جنگ ہوئی تو مشرکوں کو بری طرح شکست ہوئی، وہ اپنی لشکر گاہ کو پیچھے چھوڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کرکے انھیں قتل اور قید کرنا شروع کردیا۔ جن تیر اندازوں کو نبیﷺنے پہاڑ پر متعین فرمایا تھا، جب انھوں نے یہ صورت حال دیکھی تو (انھوں نے سوچا کہ اب ہمارا فرض مکمل ہوگیا ہے، اس لیے) انھوں نے آپس میں کہا، غنیمت! غنیمت! ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں جبکہ مشرکین شکست کھاچکے ہیں۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیرtنے انھیں نصیحت فرمائی کہ رسول اللہﷺکی حکم عدولی نہ کریں۔ لیکن دوسروں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ جب انھوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور وہاں صرف چند افراد رہ گئے، تو مشرکین کا گھڑسوار دستہ اس گھاٹی سے آگیا اور مسلمانوں کے پیچھے آکر لشکر کے پچھلے دستے پر حملہ کردیا۔ تب مسلمان کچھ ادھر ادھر ہوئے، جو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی۔ جس سے ان کے گناہ معاف ہوئے، اور تعمیل حکم میں کوتاہی کی سزا مل گئی۔ اس کے نتیجے میں جن کی قسمت میں شہادت تھی، وہ شہید ہوگئے۔ آخرکار مسلمان جبل احد کی چوٹی کی طرف جمع ہوگئے۔اللہ نے مشرکین کے ہاتھوں کو روک دیا اور وہ لوگ اپنے وطن کی طرف لوٹ گئے۔ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَهۡلِكَ ﴾ ’’اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ اپنے گھر سے نکلے‘‘ اس مقام پر (غدوت) کامطلب ’’مطلقاً نکلنا ہے‘‘ صبح کے وقت نکلنا نہیں۔ کیونکہ نبیﷺاور صحابہ کرامyجمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ﴾ ’’مومنوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعدہ بٹھا رہے تھے‘‘ یعنی آپ انھیں ترتیب دے رہے تھے۔ اور ہر ایک کو اس مقام پر ٹھہرا رہے تھے جو اس کے لیے مناسب تھا۔ اس میں نبیﷺکی عظیم تعریف ہے کہ آپ بنفس نفیس ان کو منظم فرما رہے تھے اور جنگ کے لیے مناسب مقامات پر ٹھہرا رہے تھے۔ اس کی وجہ آپ کے علم و فراست کا کمال، دور اندیشی اور بلند ہمتی تھی۔ علاوہ ازیں آپ کامل شجاعت سے بہرہ ور تھے، صلوات اللہ وسلامہ علیہ ﴿وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے‘‘ جو ہر بات سنتا ہے۔ مومنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور منافقوں کی بھی۔ ہر ایک کی بات چیت سے اس کے دل کے جذبات، احساسات اور خیالات ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ بندوں کی نیتوں کو جانتا ہے، وہ ان کے مطابق انھیں مکمل بدلہ عطا فرماتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ تمھاری حفاظت کرتاہے۔ تمھارے معاملات سنوارتا ہے۔ اور تمھیں اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰuاور ہارونuسے بھی اسی طرح فرمایا تھا:﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍46) ’’میں تمھارے ساتھ ہوں، اور سنتا دیکھتا ہوں۔‘‘
[122] اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر مہربانی اور احسان اس طرح بھی ہوا کہ ﴿ اِذۡ هَمَّتۡ طَّآىِٕفَتٰنِ ﴾ جب مومنوں کی دو جماعتیں پست ہمتی کا ارادہ کرچکی تھیں، اور وہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے، جیسے پہلے بیان ہوا۔ اللہ نے ان پر اور تمام مومنوں پر احسان کرتے ہوئے انھیں ثابت قدمی کی توفیق بخشی، اس لیے فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا﴾ ’’اللہ ان کا ولی اور مددگار ہے‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی خاص ولایت مراد ہے، یعنی اس کی اپنے دوستوں پر مہربانی، انھیں ایسے کاموں کی توفیق دینا جن میں ان کا فائدہ ہو، اور ایسے کاموں سے محفوظ رکھنا، جن میں ان کا نقصان ہو۔ اس کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ جب انھوں نے اس گناہ کا ارادہ کیا کہ وہ پست ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان جنگ سے چلے جائیں اور نبیﷺکو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس غلطی سے بچالیا، کیونکہ ان میں ایمان موجود تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ ﴾(البقرۃ:2؍257) ’’اللہ مومنوں کا دوست اور مددگار ہے، انھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لاتا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی ذات پر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہیے‘‘ اس میں توکل کا حکم ہے توکل کا مطلب یہ ہے کہ فائدہ مند اشیاء کے حصول کے لیے اور نقصان سے بچنے کے لیے اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے دل کا سہارا اللہ پر ہو۔ بندے کو اللہ پر جتنا ایمان ہوتا ہے، اس کے مطابق اس کا توکل ہوتا ہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ دوسروں کی نسبت مومن اللہ پر توکل کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ بالخصوص سختی اور جہاد کے موقع پر انھیں اللہ پر توکل کرنا، اس سے مدد اور فتح طلب کرنا، اپنی طاقت پر بالکل بھروسا نہ کرنا، بلکہ اللہ کی قوت اور حفاظت پربھروسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ان کی مدد کرتا ہے اور ان کی مصیبتیں اور مشکلات دور فرماتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
[123] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنا احسان یاد دلایا ہے، اور انھیں اپنی وہ مدد یا ددلائی ہے جو بدر کے موقع پر ہوئی۔ جب وہ کمزور تھے، ان کی تعداد بھی کم تھی، اور سامان بھی۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد اور سامان جنگ کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ غزوۂ بدر ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔ نبیﷺمدینہ منورہ سے تین سو دس سے چند افراد زیادہ کی تعداد میں اپنے صحابہyکے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ان کے پاس صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ آپ قریش کے تجارتی قافلہ کے تعاقب میں نکلے تھے جو شام سے آرہا تھا۔ مشرکین کو اطلاع ملی تو وہ اپنے قافلے کوبچانے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر مکہ مکرمہ سے نکلے۔ وہ تقریباً ایک ہزار جنگجو تھے جن کے پاس مکمل سامان رسد، بکثرت ہتھیار اور بہت سے گھوڑے موجود تھے۔ ان کا مسلمانوں سے آمنا سامنا ایک چشمے کے پاس ہوا، جسے ’’بدر‘‘ کہتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عظیم مدد فرمائی، چنانچہ انھوں نے مشرکین کے ستر بہادر سردار قتل کیے اور ستر کو جنگی قیدی بنایا اور ان کی لشکر گاہ پر قبضہ کرلیا۔ جیسے سورۂ انفال میں ان شاء اللہ بیان ہوگا۔ اس کی تفصیل کا اصل مقام وہی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ مسلمان اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس کا شکر کریں، اس لیے فرمایا:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ہی سے ڈرو، تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ‘‘ کیونکہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہی اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جو تقویٰ ترک کردیتا ہے، وہ شکر گزار نہیں ہوتا۔
[124] اے محمد(ﷺ)!یاد کیجیے جب بدر کے دن آپ مومنوں کو فتح کی خوش خبری دیتے ہوئے ان سے فرما رہے تھے: ﴿اَلَنۡ يَّكۡفِيَكُمۡ اَنۡ يُّمِدَّكُمۡ رَبُّكُمۡ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُنۡزَلِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارے لیے یہ کافی نہیں ہوگا کہ تمھارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمھاری مدد کرے؟‘‘
[125]﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’بلکہ اگر تم صبر اور پرہیز گاری کرو، اور وہ اپنے اس جوش سے تمھارے مقابلے میں آئیں۔‘‘ ﴿ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ کا مطلب ہے (من مقصدہم ھذا) ’’اپنے کسی ارادے اور عزم کے ساتھ‘‘ اس سے غزوۂ بدر مراد ہے۔ ﴿ يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ بِخَمۡسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِيۡنَ ﴾ ’’تمھارا رب تمھاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا، جو نشان دار ہوں گے‘‘ یعنی ان پر بہادروں کا خصوصی نشان ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں کی مدد کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں: صبر، تقویٰ اور مشرکین کا فوری جوش و جذبہ کے ساتھ آنا۔ یہ وعدہ مذکورہ بالا فرشتوں کے بطور امداد فوج کے نازل ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن فتح اور دشمنوں کے منصوبوں کی ناکامی کے لیے اللہ نے پہلی دو شرطیں مقرر فرمائی ہیں۔ جیسے کہ پہلے فرمان الٰہی گزرا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کے منصوبے تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے‘‘
[126] اس کے بعد فرمایا: ﴿ وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشۡرٰؔى ﴾ ’’اللہ نے اس چیز کو (یعنی فرشتے اتار کر تمھیں کمک پہنچانے کو) صرف خوش خبری بنایا ہے‘‘ تاکہ اس سے تمھیں خوشی حاصل ہو۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُكُمۡ بِهٖ ﴾ ’’اور اس بشارت سے تمھارے دل مطمئن ہوجائیں‘‘ ﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’ورنہ مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے‘‘ لہٰذا اپنے اسباب پر اعتماد نہ کرو۔ بلکہ اسباب صرف تمھارے دلوں کے اطمینان کے لیے ہیں۔ اصل فتح، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ تو اللہ کی مشیت ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کی مدد کرنے کا ارادہ فرمالے وہی فتح یاب ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس فریق کی مدد کرے جس کے پاس اسباب ہیں، جیسے عام طورپر مخلوق میں اس کی سنت جاری ہے اور اگر چاہے تو کمزور اور معمولی فریق کی مدد کرے، تاکہ اس کے بندوں کو معلوم ہوجائے کہ سب کام اس کے ہاتھ میں ہیں اور سب معاملات کا دارومدار اسی کی مرضی پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے‘‘ کوئی مخلوق اس کے آگے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کی تدبیر اور غلبے کے آگے کمزور اور مجبور ہیں۔ ﴿ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمتوں والا ہے‘‘ جو ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ بعض اوقات کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے۔ کفار کایہ غلبہ مستقل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(سورۂ محمد:47؍4)’ ’اگر اللہ چاہتا تو خود ہی بدلہ لے لیتا، لیکن اس کا منشا یہ ہے کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے سے لے۔‘‘
[127] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد دو مقاصد کے لیے کرتا ہے۔۱۔ تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ لے، یعنی وہ قتل ہوجائیں یا قید ہوجائیں۔ یا ان کے شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے یا مال غنیمت حاصل ہو۔ اس طرح مومنوں کو قوت حاصل ہو اور کافر ذلیل ہوجائیں۔ کیونکہ اسلام کا مقابلہ کرنے اور اسلام سے جنگ کرنے کی قوت انھیں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے یا ہتھیاروں سے یا مال سے یا زمین سے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کا ختم ہونا یا مسلمانوں کے قبضے میں آنا، ان کی قوت میں کمی کا باعث ہے۔۲۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ کافر اپنی قوت و کثرت پر اعتماد کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش کریں، بلکہ اس کی انتہائی شدید حرص میں مبتلا ہوکر اپنی طاقت اور اپنا مال صرف کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ جنگ میں مومنوں کی مدد کرکے انھیں ناکام کردے، وہ اپنا مقصد حاصل نہ کرسکیں۔ بلکہ خسارہ اٹھا کر غم اور حسرت لے کر واپس چلے جائیں۔ جب آپ حالات پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب مومنوں کی مدد کرتا ہے تو وہ ان دو امور سے خارج نہیں ہوتی۔ یا ان پر مسلمانوں کی فتح یا کفار کی اپنی کوششوں میں ناکامی۔