Tafsir As-Saadi - Urdu — آل عمران 3:122 – آل عمران 3:200
Contents
- آل عمران 3:122
- آل عمران 3:123
- آل عمران 3:124
- آل عمران 3:125
- آل عمران 3:126
- آل عمران 3:127
- آل عمران 3:128
- آل عمران 3:129
- آل عمران 3:130
- آل عمران 3:131
- آل عمران 3:132
- آل عمران 3:133
- آل عمران 3:134
- آل عمران 3:135
- آل عمران 3:136
- آل عمران 3:137
- آل عمران 3:138
- آل عمران 3:139
- آل عمران 3:140
- آل عمران 3:141
- آل عمران 3:142
- آل عمران 3:143
- آل عمران 3:144
- آل عمران 3:145
- آل عمران 3:146
- آل عمران 3:147
- آل عمران 3:148
- آل عمران 3:149
- آل عمران 3:150
- آل عمران 3:151
- آل عمران 3:152
- آل عمران 3:153
- آل عمران 3:154
- آل عمران 3:155
- آل عمران 3:156
- آل عمران 3:157
- آل عمران 3:158
- آل عمران 3:159
- آل عمران 3:160
- آل عمران 3:161
- آل عمران 3:162
- آل عمران 3:163
- آل عمران 3:164
- آل عمران 3:165
- آل عمران 3:166
- آل عمران 3:167
- آل عمران 3:168
- آل عمران 3:169
- آل عمران 3:170
- آل عمران 3:171
- آل عمران 3:172
- آل عمران 3:173
- آل عمران 3:174
- آل عمران 3:175
- آل عمران 3:176
- آل عمران 3:177
- آل عمران 3:178
- آل عمران 3:179
- آل عمران 3:180
- آل عمران 3:181
- آل عمران 3:182
- آل عمران 3:183
- آل عمران 3:184
- آل عمران 3:185
- آل عمران 3:186
- آل عمران 3:187
- آل عمران 3:188
- آل عمران 3:189
- آل عمران 3:190
- آل عمران 3:191
- آل عمران 3:192
- آل عمران 3:193
- آل عمران 3:194
- آل عمران 3:195
- آل عمران 3:196
- آل عمران 3:197
- آل عمران 3:198
- آل عمران 3:199
- آل عمران 3:200
آل عمران 3:122
اور جب صبح کو نکلے آپ اپنے گھر والوں (کے پاس) سے، بٹھاتے تھے آپ مومنوں کو مورچوں پر لڑائی کے لیےاور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(121) جب ارادہ کیا دو گروہوں نے تم میں سے یہ کہ وہ بزدلی کریں اور اللہ دوست تھا ان کااور اللہ ہی پر پس چاہیے کہ توکل کریں مومن (122)اور البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بدر میں جبکہ تم کمزور تھے، پس ڈرو تم اللہ سے تاکہ تم شکر کرو(123) جب کہتے تھے آپ مومنوں سے، کیا ہرگز نہ کفایت کرے گی تمھیں یہ بات کہ مدد کرے تمھاری تمھارا رب ساتھ تین ہزار فرشتوں کے، اتارے ہوئے (آسمان سے)؟ (124) کیوں نہیں (ہاں) ! اگر تم صبر کرو اور ڈرو اور وہ (دشمن) آجائے تمھارے پاس اسی دم تو مدد کرے گا تمھاری، تمھارا رب ساتھ پانچ ہزار فرشتوں کے (وہ خاص) نشان لگائے ہوں گے(125) اور نہیں کیا اس کو اللہ نے مگر خوش خبری تمھارے لیے اور تاکہ مطمئن ہو جائیں تمھارے دل ساتھ اس کےاور نہیں ہے مدد مگر اللہ ہی کی طرف سے (جو) زبردست حکمت والاہے(126)تاکہ کاٹ (ہلاک کر) دے وہ ایک گروہ کو ان میں سے جنھوں نے کفر کیا یا ذلیل کرے ان کو، پس پھریں وہ نامراد ہو کر(127)
[121] یہ آیات واقعۂ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے، اور اس کے درمیان میں بدر کا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا، اور دشمن کی سازشوں سے انھیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوںمیں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لیے فرمائی تھی کہ انھوں نے صبر کیا اورتقویٰ اختیار کیا، اور احد میں انھیں دشمنوں کے ہاتھوں اس لیے نقصان پہنچا کہ ان میں سے بعض افراد سے ایسی غلطی ہوگئی جو تقویٰ کے منافی تھی، دونوں واقعات اکٹھے بیان کرنے کا یہ مقصد ہے کہ اللہ کو بندوں کا یہ عمل پسند ہے کہ جب انھیں کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آجائے تو انھیں وہ نعمت یاد کرنی چاہیے جو انھیں پسند ہے، تو ان کی مصیبت ہلکی ہوجائے گی اور وہ اس بڑی نعمت پر رب کا شکر کریں گے۔ جس کے مقابلے میں یہ ظاہری مصیبت، جو حقیقت میں نعمت ہی ہے، بڑی نعمت کے مقابلے میں بہت معمولی محسوس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اسی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ﴿ اَوَلَمَّؔاۤ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا ﴾ ’’کیابات ہے کہ جب تمھیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے۔‘‘واقعۂ احد کا خلاصہ یہ ہے کہ جب 2ھ میں جنگ بدر کے بعد بچے کھچے مشرکین مکہ پہنچے، تو انھوں نے اپنی طاقت کے مطابق مال، افراد اور اسلحہ کے ساتھ بھرپور تیاری کی، حتیٰ کہ اتنا کچھ جمع ہوگیا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنا مقصود حاصل کرنے اور اپنا غصہ نکالنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ تب وہ تین ہزار جنگجو افراد کا لشکر لے کر مکہ سے روانہ ہوئے اور مدینہ کے قریب آٹھہرے۔ نبی اکرمﷺنے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، تو طے پایا کہ شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے۔ نبیﷺایک ہزار آدمی لے کر روانہ ہوئے۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد عبداللہ بن ابی (منافق) اپنے جیسے تین سو افراد لے کر واپس پلٹ گیا۔ اس طرح اسلامی لشکر کی تعداد میں ایک تہائی مقدار کی کمی ہوگئی۔ مومنوں کے دو گروہ بھی پلٹ جانے کا سوچنے لگے۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے قبائل تھے۔ اللہ نے انھیں ثابت قدمی عطا فرمائی۔ جب احد کے مقام پر پہنچے تو نبیﷺنے لشکر کو ترتیب دے کر ان کے مختلف دستے اپنے اپنے مقام پر متعین فرمائے۔ احد کا پہاڑ ان کی پشت کی طرف تھا۔ انھوں نے اپنی پیٹھیں احد کی طرف رکھیں ۔ نبیﷺنے پچاس صحابہ کرام کو احد کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا، اور انھیں حکم دیا کہ وہیں ٹھہرے رہیں، اور وہ جگہ نہ چھوڑیں، تاکہ پیچھے سے دشمن کے حملہ کا خطرہ نہ رہے۔ جب مسلمانوں اور مشرکوں کے مابین جنگ ہوئی تو مشرکوں کو بری طرح شکست ہوئی، وہ اپنی لشکر گاہ کو پیچھے چھوڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کرکے انھیں قتل اور قید کرنا شروع کردیا۔ جن تیر اندازوں کو نبیﷺنے پہاڑ پر متعین فرمایا تھا، جب انھوں نے یہ صورت حال دیکھی تو (انھوں نے سوچا کہ اب ہمارا فرض مکمل ہوگیا ہے، اس لیے) انھوں نے آپس میں کہا، غنیمت! غنیمت! ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں جبکہ مشرکین شکست کھاچکے ہیں۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیرtنے انھیں نصیحت فرمائی کہ رسول اللہﷺکی حکم عدولی نہ کریں۔ لیکن دوسروں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ جب انھوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور وہاں صرف چند افراد رہ گئے، تو مشرکین کا گھڑسوار دستہ اس گھاٹی سے آگیا اور مسلمانوں کے پیچھے آکر لشکر کے پچھلے دستے پر حملہ کردیا۔ تب مسلمان کچھ ادھر ادھر ہوئے، جو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی۔ جس سے ان کے گناہ معاف ہوئے، اور تعمیل حکم میں کوتاہی کی سزا مل گئی۔ اس کے نتیجے میں جن کی قسمت میں شہادت تھی، وہ شہید ہوگئے۔ آخرکار مسلمان جبل احد کی چوٹی کی طرف جمع ہوگئے۔اللہ نے مشرکین کے ہاتھوں کو روک دیا اور وہ لوگ اپنے وطن کی طرف لوٹ گئے۔ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَهۡلِكَ ﴾ ’’اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ اپنے گھر سے نکلے‘‘ اس مقام پر (غدوت) کامطلب ’’مطلقاً نکلنا ہے‘‘ صبح کے وقت نکلنا نہیں۔ کیونکہ نبیﷺاور صحابہ کرامyجمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ﴾ ’’مومنوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعدہ بٹھا رہے تھے‘‘ یعنی آپ انھیں ترتیب دے رہے تھے۔ اور ہر ایک کو اس مقام پر ٹھہرا رہے تھے جو اس کے لیے مناسب تھا۔ اس میں نبیﷺکی عظیم تعریف ہے کہ آپ بنفس نفیس ان کو منظم فرما رہے تھے اور جنگ کے لیے مناسب مقامات پر ٹھہرا رہے تھے۔ اس کی وجہ آپ کے علم و فراست کا کمال، دور اندیشی اور بلند ہمتی تھی۔ علاوہ ازیں آپ کامل شجاعت سے بہرہ ور تھے، صلوات اللہ وسلامہ علیہ ﴿وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے‘‘ جو ہر بات سنتا ہے۔ مومنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور منافقوں کی بھی۔ ہر ایک کی بات چیت سے اس کے دل کے جذبات، احساسات اور خیالات ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ بندوں کی نیتوں کو جانتا ہے، وہ ان کے مطابق انھیں مکمل بدلہ عطا فرماتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ تمھاری حفاظت کرتاہے۔ تمھارے معاملات سنوارتا ہے۔ اور تمھیں اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰuاور ہارونuسے بھی اسی طرح فرمایا تھا:﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍46) ’’میں تمھارے ساتھ ہوں، اور سنتا دیکھتا ہوں۔‘‘
[122] اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر مہربانی اور احسان اس طرح بھی ہوا کہ ﴿ اِذۡ هَمَّتۡ طَّآىِٕفَتٰنِ ﴾ جب مومنوں کی دو جماعتیں پست ہمتی کا ارادہ کرچکی تھیں، اور وہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے، جیسے پہلے بیان ہوا۔ اللہ نے ان پر اور تمام مومنوں پر احسان کرتے ہوئے انھیں ثابت قدمی کی توفیق بخشی، اس لیے فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا﴾ ’’اللہ ان کا ولی اور مددگار ہے‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی خاص ولایت مراد ہے، یعنی اس کی اپنے دوستوں پر مہربانی، انھیں ایسے کاموں کی توفیق دینا جن میں ان کا فائدہ ہو، اور ایسے کاموں سے محفوظ رکھنا، جن میں ان کا نقصان ہو۔ اس کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ جب انھوں نے اس گناہ کا ارادہ کیا کہ وہ پست ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان جنگ سے چلے جائیں اور نبیﷺکو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس غلطی سے بچالیا، کیونکہ ان میں ایمان موجود تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ ﴾(البقرۃ:2؍257) ’’اللہ مومنوں کا دوست اور مددگار ہے، انھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لاتا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی ذات پر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہیے‘‘ اس میں توکل کا حکم ہے توکل کا مطلب یہ ہے کہ فائدہ مند اشیاء کے حصول کے لیے اور نقصان سے بچنے کے لیے اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے دل کا سہارا اللہ پر ہو۔ بندے کو اللہ پر جتنا ایمان ہوتا ہے، اس کے مطابق اس کا توکل ہوتا ہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ دوسروں کی نسبت مومن اللہ پر توکل کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ بالخصوص سختی اور جہاد کے موقع پر انھیں اللہ پر توکل کرنا، اس سے مدد اور فتح طلب کرنا، اپنی طاقت پر بالکل بھروسا نہ کرنا، بلکہ اللہ کی قوت اور حفاظت پربھروسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ان کی مدد کرتا ہے اور ان کی مصیبتیں اور مشکلات دور فرماتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
[123] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنا احسان یاد دلایا ہے، اور انھیں اپنی وہ مدد یا ددلائی ہے جو بدر کے موقع پر ہوئی۔ جب وہ کمزور تھے، ان کی تعداد بھی کم تھی، اور سامان بھی۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد اور سامان جنگ کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ غزوۂ بدر ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔ نبیﷺمدینہ منورہ سے تین سو دس سے چند افراد زیادہ کی تعداد میں اپنے صحابہyکے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ان کے پاس صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ آپ قریش کے تجارتی قافلہ کے تعاقب میں نکلے تھے جو شام سے آرہا تھا۔ مشرکین کو اطلاع ملی تو وہ اپنے قافلے کوبچانے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر مکہ مکرمہ سے نکلے۔ وہ تقریباً ایک ہزار جنگجو تھے جن کے پاس مکمل سامان رسد، بکثرت ہتھیار اور بہت سے گھوڑے موجود تھے۔ ان کا مسلمانوں سے آمنا سامنا ایک چشمے کے پاس ہوا، جسے ’’بدر‘‘ کہتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عظیم مدد فرمائی، چنانچہ انھوں نے مشرکین کے ستر بہادر سردار قتل کیے اور ستر کو جنگی قیدی بنایا اور ان کی لشکر گاہ پر قبضہ کرلیا۔ جیسے سورۂ انفال میں ان شاء اللہ بیان ہوگا۔ اس کی تفصیل کا اصل مقام وہی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ مسلمان اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس کا شکر کریں، اس لیے فرمایا:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ہی سے ڈرو، تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ‘‘ کیونکہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہی اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جو تقویٰ ترک کردیتا ہے، وہ شکر گزار نہیں ہوتا۔
[124] اے محمد(ﷺ)!یاد کیجیے جب بدر کے دن آپ مومنوں کو فتح کی خوش خبری دیتے ہوئے ان سے فرما رہے تھے: ﴿اَلَنۡ يَّكۡفِيَكُمۡ اَنۡ يُّمِدَّكُمۡ رَبُّكُمۡ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُنۡزَلِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارے لیے یہ کافی نہیں ہوگا کہ تمھارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمھاری مدد کرے؟‘‘
[125]﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’بلکہ اگر تم صبر اور پرہیز گاری کرو، اور وہ اپنے اس جوش سے تمھارے مقابلے میں آئیں۔‘‘ ﴿ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ کا مطلب ہے (من مقصدہم ھذا) ’’اپنے کسی ارادے اور عزم کے ساتھ‘‘ اس سے غزوۂ بدر مراد ہے۔ ﴿ يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ بِخَمۡسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِيۡنَ ﴾ ’’تمھارا رب تمھاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا، جو نشان دار ہوں گے‘‘ یعنی ان پر بہادروں کا خصوصی نشان ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں کی مدد کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں: صبر، تقویٰ اور مشرکین کا فوری جوش و جذبہ کے ساتھ آنا۔ یہ وعدہ مذکورہ بالا فرشتوں کے بطور امداد فوج کے نازل ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن فتح اور دشمنوں کے منصوبوں کی ناکامی کے لیے اللہ نے پہلی دو شرطیں مقرر فرمائی ہیں۔ جیسے کہ پہلے فرمان الٰہی گزرا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کے منصوبے تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے‘‘
[126] اس کے بعد فرمایا: ﴿ وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشۡرٰؔى ﴾ ’’اللہ نے اس چیز کو (یعنی فرشتے اتار کر تمھیں کمک پہنچانے کو) صرف خوش خبری بنایا ہے‘‘ تاکہ اس سے تمھیں خوشی حاصل ہو۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُكُمۡ بِهٖ ﴾ ’’اور اس بشارت سے تمھارے دل مطمئن ہوجائیں‘‘ ﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’ورنہ مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے‘‘ لہٰذا اپنے اسباب پر اعتماد نہ کرو۔ بلکہ اسباب صرف تمھارے دلوں کے اطمینان کے لیے ہیں۔ اصل فتح، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ تو اللہ کی مشیت ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کی مدد کرنے کا ارادہ فرمالے وہی فتح یاب ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس فریق کی مدد کرے جس کے پاس اسباب ہیں، جیسے عام طورپر مخلوق میں اس کی سنت جاری ہے اور اگر چاہے تو کمزور اور معمولی فریق کی مدد کرے، تاکہ اس کے بندوں کو معلوم ہوجائے کہ سب کام اس کے ہاتھ میں ہیں اور سب معاملات کا دارومدار اسی کی مرضی پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے‘‘ کوئی مخلوق اس کے آگے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کی تدبیر اور غلبے کے آگے کمزور اور مجبور ہیں۔ ﴿ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمتوں والا ہے‘‘ جو ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ بعض اوقات کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے۔ کفار کایہ غلبہ مستقل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(سورۂ محمد:47؍4)’ ’اگر اللہ چاہتا تو خود ہی بدلہ لے لیتا، لیکن اس کا منشا یہ ہے کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے سے لے۔‘‘
[127] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد دو مقاصد کے لیے کرتا ہے۔۱۔ تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ لے، یعنی وہ قتل ہوجائیں یا قید ہوجائیں۔ یا ان کے شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے یا مال غنیمت حاصل ہو۔ اس طرح مومنوں کو قوت حاصل ہو اور کافر ذلیل ہوجائیں۔ کیونکہ اسلام کا مقابلہ کرنے اور اسلام سے جنگ کرنے کی قوت انھیں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے یا ہتھیاروں سے یا مال سے یا زمین سے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کا ختم ہونا یا مسلمانوں کے قبضے میں آنا، ان کی قوت میں کمی کا باعث ہے۔۲۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ کافر اپنی قوت و کثرت پر اعتماد کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش کریں، بلکہ اس کی انتہائی شدید حرص میں مبتلا ہوکر اپنی طاقت اور اپنا مال صرف کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ جنگ میں مومنوں کی مدد کرکے انھیں ناکام کردے، وہ اپنا مقصد حاصل نہ کرسکیں۔ بلکہ خسارہ اٹھا کر غم اور حسرت لے کر واپس چلے جائیں۔ جب آپ حالات پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب مومنوں کی مدد کرتا ہے تو وہ ان دو امور سے خارج نہیں ہوتی۔ یا ان پر مسلمانوں کی فتح یا کفار کی اپنی کوششوں میں ناکامی۔
آل عمران 3:123
اور جب صبح کو نکلے آپ اپنے گھر والوں (کے پاس) سے، بٹھاتے تھے آپ مومنوں کو مورچوں پر لڑائی کے لیےاور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(121) جب ارادہ کیا دو گروہوں نے تم میں سے یہ کہ وہ بزدلی کریں اور اللہ دوست تھا ان کااور اللہ ہی پر پس چاہیے کہ توکل کریں مومن (122)اور البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بدر میں جبکہ تم کمزور تھے، پس ڈرو تم اللہ سے تاکہ تم شکر کرو(123) جب کہتے تھے آپ مومنوں سے، کیا ہرگز نہ کفایت کرے گی تمھیں یہ بات کہ مدد کرے تمھاری تمھارا رب ساتھ تین ہزار فرشتوں کے، اتارے ہوئے (آسمان سے)؟ (124) کیوں نہیں (ہاں) ! اگر تم صبر کرو اور ڈرو اور وہ (دشمن) آجائے تمھارے پاس اسی دم تو مدد کرے گا تمھاری، تمھارا رب ساتھ پانچ ہزار فرشتوں کے (وہ خاص) نشان لگائے ہوں گے(125) اور نہیں کیا اس کو اللہ نے مگر خوش خبری تمھارے لیے اور تاکہ مطمئن ہو جائیں تمھارے دل ساتھ اس کےاور نہیں ہے مدد مگر اللہ ہی کی طرف سے (جو) زبردست حکمت والاہے(126)تاکہ کاٹ (ہلاک کر) دے وہ ایک گروہ کو ان میں سے جنھوں نے کفر کیا یا ذلیل کرے ان کو، پس پھریں وہ نامراد ہو کر(127)
[121] یہ آیات واقعۂ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے، اور اس کے درمیان میں بدر کا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا، اور دشمن کی سازشوں سے انھیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوںمیں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لیے فرمائی تھی کہ انھوں نے صبر کیا اورتقویٰ اختیار کیا، اور احد میں انھیں دشمنوں کے ہاتھوں اس لیے نقصان پہنچا کہ ان میں سے بعض افراد سے ایسی غلطی ہوگئی جو تقویٰ کے منافی تھی، دونوں واقعات اکٹھے بیان کرنے کا یہ مقصد ہے کہ اللہ کو بندوں کا یہ عمل پسند ہے کہ جب انھیں کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آجائے تو انھیں وہ نعمت یاد کرنی چاہیے جو انھیں پسند ہے، تو ان کی مصیبت ہلکی ہوجائے گی اور وہ اس بڑی نعمت پر رب کا شکر کریں گے۔ جس کے مقابلے میں یہ ظاہری مصیبت، جو حقیقت میں نعمت ہی ہے، بڑی نعمت کے مقابلے میں بہت معمولی محسوس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اسی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ﴿ اَوَلَمَّؔاۤ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا ﴾ ’’کیابات ہے کہ جب تمھیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے۔‘‘واقعۂ احد کا خلاصہ یہ ہے کہ جب 2ھ میں جنگ بدر کے بعد بچے کھچے مشرکین مکہ پہنچے، تو انھوں نے اپنی طاقت کے مطابق مال، افراد اور اسلحہ کے ساتھ بھرپور تیاری کی، حتیٰ کہ اتنا کچھ جمع ہوگیا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنا مقصود حاصل کرنے اور اپنا غصہ نکالنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ تب وہ تین ہزار جنگجو افراد کا لشکر لے کر مکہ سے روانہ ہوئے اور مدینہ کے قریب آٹھہرے۔ نبی اکرمﷺنے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، تو طے پایا کہ شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے۔ نبیﷺایک ہزار آدمی لے کر روانہ ہوئے۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد عبداللہ بن ابی (منافق) اپنے جیسے تین سو افراد لے کر واپس پلٹ گیا۔ اس طرح اسلامی لشکر کی تعداد میں ایک تہائی مقدار کی کمی ہوگئی۔ مومنوں کے دو گروہ بھی پلٹ جانے کا سوچنے لگے۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے قبائل تھے۔ اللہ نے انھیں ثابت قدمی عطا فرمائی۔ جب احد کے مقام پر پہنچے تو نبیﷺنے لشکر کو ترتیب دے کر ان کے مختلف دستے اپنے اپنے مقام پر متعین فرمائے۔ احد کا پہاڑ ان کی پشت کی طرف تھا۔ انھوں نے اپنی پیٹھیں احد کی طرف رکھیں ۔ نبیﷺنے پچاس صحابہ کرام کو احد کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا، اور انھیں حکم دیا کہ وہیں ٹھہرے رہیں، اور وہ جگہ نہ چھوڑیں، تاکہ پیچھے سے دشمن کے حملہ کا خطرہ نہ رہے۔ جب مسلمانوں اور مشرکوں کے مابین جنگ ہوئی تو مشرکوں کو بری طرح شکست ہوئی، وہ اپنی لشکر گاہ کو پیچھے چھوڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کرکے انھیں قتل اور قید کرنا شروع کردیا۔ جن تیر اندازوں کو نبیﷺنے پہاڑ پر متعین فرمایا تھا، جب انھوں نے یہ صورت حال دیکھی تو (انھوں نے سوچا کہ اب ہمارا فرض مکمل ہوگیا ہے، اس لیے) انھوں نے آپس میں کہا، غنیمت! غنیمت! ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں جبکہ مشرکین شکست کھاچکے ہیں۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیرtنے انھیں نصیحت فرمائی کہ رسول اللہﷺکی حکم عدولی نہ کریں۔ لیکن دوسروں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ جب انھوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور وہاں صرف چند افراد رہ گئے، تو مشرکین کا گھڑسوار دستہ اس گھاٹی سے آگیا اور مسلمانوں کے پیچھے آکر لشکر کے پچھلے دستے پر حملہ کردیا۔ تب مسلمان کچھ ادھر ادھر ہوئے، جو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی۔ جس سے ان کے گناہ معاف ہوئے، اور تعمیل حکم میں کوتاہی کی سزا مل گئی۔ اس کے نتیجے میں جن کی قسمت میں شہادت تھی، وہ شہید ہوگئے۔ آخرکار مسلمان جبل احد کی چوٹی کی طرف جمع ہوگئے۔اللہ نے مشرکین کے ہاتھوں کو روک دیا اور وہ لوگ اپنے وطن کی طرف لوٹ گئے۔ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَهۡلِكَ ﴾ ’’اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ اپنے گھر سے نکلے‘‘ اس مقام پر (غدوت) کامطلب ’’مطلقاً نکلنا ہے‘‘ صبح کے وقت نکلنا نہیں۔ کیونکہ نبیﷺاور صحابہ کرامyجمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ﴾ ’’مومنوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعدہ بٹھا رہے تھے‘‘ یعنی آپ انھیں ترتیب دے رہے تھے۔ اور ہر ایک کو اس مقام پر ٹھہرا رہے تھے جو اس کے لیے مناسب تھا۔ اس میں نبیﷺکی عظیم تعریف ہے کہ آپ بنفس نفیس ان کو منظم فرما رہے تھے اور جنگ کے لیے مناسب مقامات پر ٹھہرا رہے تھے۔ اس کی وجہ آپ کے علم و فراست کا کمال، دور اندیشی اور بلند ہمتی تھی۔ علاوہ ازیں آپ کامل شجاعت سے بہرہ ور تھے، صلوات اللہ وسلامہ علیہ ﴿وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے‘‘ جو ہر بات سنتا ہے۔ مومنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور منافقوں کی بھی۔ ہر ایک کی بات چیت سے اس کے دل کے جذبات، احساسات اور خیالات ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ بندوں کی نیتوں کو جانتا ہے، وہ ان کے مطابق انھیں مکمل بدلہ عطا فرماتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ تمھاری حفاظت کرتاہے۔ تمھارے معاملات سنوارتا ہے۔ اور تمھیں اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰuاور ہارونuسے بھی اسی طرح فرمایا تھا:﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍46) ’’میں تمھارے ساتھ ہوں، اور سنتا دیکھتا ہوں۔‘‘
[122] اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر مہربانی اور احسان اس طرح بھی ہوا کہ ﴿ اِذۡ هَمَّتۡ طَّآىِٕفَتٰنِ ﴾ جب مومنوں کی دو جماعتیں پست ہمتی کا ارادہ کرچکی تھیں، اور وہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے، جیسے پہلے بیان ہوا۔ اللہ نے ان پر اور تمام مومنوں پر احسان کرتے ہوئے انھیں ثابت قدمی کی توفیق بخشی، اس لیے فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا﴾ ’’اللہ ان کا ولی اور مددگار ہے‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی خاص ولایت مراد ہے، یعنی اس کی اپنے دوستوں پر مہربانی، انھیں ایسے کاموں کی توفیق دینا جن میں ان کا فائدہ ہو، اور ایسے کاموں سے محفوظ رکھنا، جن میں ان کا نقصان ہو۔ اس کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ جب انھوں نے اس گناہ کا ارادہ کیا کہ وہ پست ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان جنگ سے چلے جائیں اور نبیﷺکو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس غلطی سے بچالیا، کیونکہ ان میں ایمان موجود تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ ﴾(البقرۃ:2؍257) ’’اللہ مومنوں کا دوست اور مددگار ہے، انھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لاتا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی ذات پر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہیے‘‘ اس میں توکل کا حکم ہے توکل کا مطلب یہ ہے کہ فائدہ مند اشیاء کے حصول کے لیے اور نقصان سے بچنے کے لیے اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے دل کا سہارا اللہ پر ہو۔ بندے کو اللہ پر جتنا ایمان ہوتا ہے، اس کے مطابق اس کا توکل ہوتا ہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ دوسروں کی نسبت مومن اللہ پر توکل کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ بالخصوص سختی اور جہاد کے موقع پر انھیں اللہ پر توکل کرنا، اس سے مدد اور فتح طلب کرنا، اپنی طاقت پر بالکل بھروسا نہ کرنا، بلکہ اللہ کی قوت اور حفاظت پربھروسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ان کی مدد کرتا ہے اور ان کی مصیبتیں اور مشکلات دور فرماتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
[123] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنا احسان یاد دلایا ہے، اور انھیں اپنی وہ مدد یا ددلائی ہے جو بدر کے موقع پر ہوئی۔ جب وہ کمزور تھے، ان کی تعداد بھی کم تھی، اور سامان بھی۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد اور سامان جنگ کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ غزوۂ بدر ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔ نبیﷺمدینہ منورہ سے تین سو دس سے چند افراد زیادہ کی تعداد میں اپنے صحابہyکے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ان کے پاس صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ آپ قریش کے تجارتی قافلہ کے تعاقب میں نکلے تھے جو شام سے آرہا تھا۔ مشرکین کو اطلاع ملی تو وہ اپنے قافلے کوبچانے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر مکہ مکرمہ سے نکلے۔ وہ تقریباً ایک ہزار جنگجو تھے جن کے پاس مکمل سامان رسد، بکثرت ہتھیار اور بہت سے گھوڑے موجود تھے۔ ان کا مسلمانوں سے آمنا سامنا ایک چشمے کے پاس ہوا، جسے ’’بدر‘‘ کہتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عظیم مدد فرمائی، چنانچہ انھوں نے مشرکین کے ستر بہادر سردار قتل کیے اور ستر کو جنگی قیدی بنایا اور ان کی لشکر گاہ پر قبضہ کرلیا۔ جیسے سورۂ انفال میں ان شاء اللہ بیان ہوگا۔ اس کی تفصیل کا اصل مقام وہی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ مسلمان اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس کا شکر کریں، اس لیے فرمایا:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ہی سے ڈرو، تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ‘‘ کیونکہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہی اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جو تقویٰ ترک کردیتا ہے، وہ شکر گزار نہیں ہوتا۔
[124] اے محمد(ﷺ)!یاد کیجیے جب بدر کے دن آپ مومنوں کو فتح کی خوش خبری دیتے ہوئے ان سے فرما رہے تھے: ﴿اَلَنۡ يَّكۡفِيَكُمۡ اَنۡ يُّمِدَّكُمۡ رَبُّكُمۡ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُنۡزَلِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارے لیے یہ کافی نہیں ہوگا کہ تمھارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمھاری مدد کرے؟‘‘
[125]﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’بلکہ اگر تم صبر اور پرہیز گاری کرو، اور وہ اپنے اس جوش سے تمھارے مقابلے میں آئیں۔‘‘ ﴿ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ کا مطلب ہے (من مقصدہم ھذا) ’’اپنے کسی ارادے اور عزم کے ساتھ‘‘ اس سے غزوۂ بدر مراد ہے۔ ﴿ يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ بِخَمۡسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِيۡنَ ﴾ ’’تمھارا رب تمھاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا، جو نشان دار ہوں گے‘‘ یعنی ان پر بہادروں کا خصوصی نشان ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں کی مدد کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں: صبر، تقویٰ اور مشرکین کا فوری جوش و جذبہ کے ساتھ آنا۔ یہ وعدہ مذکورہ بالا فرشتوں کے بطور امداد فوج کے نازل ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن فتح اور دشمنوں کے منصوبوں کی ناکامی کے لیے اللہ نے پہلی دو شرطیں مقرر فرمائی ہیں۔ جیسے کہ پہلے فرمان الٰہی گزرا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کے منصوبے تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے‘‘
[126] اس کے بعد فرمایا: ﴿ وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشۡرٰؔى ﴾ ’’اللہ نے اس چیز کو (یعنی فرشتے اتار کر تمھیں کمک پہنچانے کو) صرف خوش خبری بنایا ہے‘‘ تاکہ اس سے تمھیں خوشی حاصل ہو۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُكُمۡ بِهٖ ﴾ ’’اور اس بشارت سے تمھارے دل مطمئن ہوجائیں‘‘ ﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’ورنہ مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے‘‘ لہٰذا اپنے اسباب پر اعتماد نہ کرو۔ بلکہ اسباب صرف تمھارے دلوں کے اطمینان کے لیے ہیں۔ اصل فتح، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ تو اللہ کی مشیت ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کی مدد کرنے کا ارادہ فرمالے وہی فتح یاب ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس فریق کی مدد کرے جس کے پاس اسباب ہیں، جیسے عام طورپر مخلوق میں اس کی سنت جاری ہے اور اگر چاہے تو کمزور اور معمولی فریق کی مدد کرے، تاکہ اس کے بندوں کو معلوم ہوجائے کہ سب کام اس کے ہاتھ میں ہیں اور سب معاملات کا دارومدار اسی کی مرضی پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے‘‘ کوئی مخلوق اس کے آگے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کی تدبیر اور غلبے کے آگے کمزور اور مجبور ہیں۔ ﴿ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمتوں والا ہے‘‘ جو ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ بعض اوقات کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے۔ کفار کایہ غلبہ مستقل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(سورۂ محمد:47؍4)’ ’اگر اللہ چاہتا تو خود ہی بدلہ لے لیتا، لیکن اس کا منشا یہ ہے کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے سے لے۔‘‘
[127] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد دو مقاصد کے لیے کرتا ہے۔۱۔ تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ لے، یعنی وہ قتل ہوجائیں یا قید ہوجائیں۔ یا ان کے شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے یا مال غنیمت حاصل ہو۔ اس طرح مومنوں کو قوت حاصل ہو اور کافر ذلیل ہوجائیں۔ کیونکہ اسلام کا مقابلہ کرنے اور اسلام سے جنگ کرنے کی قوت انھیں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے یا ہتھیاروں سے یا مال سے یا زمین سے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کا ختم ہونا یا مسلمانوں کے قبضے میں آنا، ان کی قوت میں کمی کا باعث ہے۔۲۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ کافر اپنی قوت و کثرت پر اعتماد کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش کریں، بلکہ اس کی انتہائی شدید حرص میں مبتلا ہوکر اپنی طاقت اور اپنا مال صرف کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ جنگ میں مومنوں کی مدد کرکے انھیں ناکام کردے، وہ اپنا مقصد حاصل نہ کرسکیں۔ بلکہ خسارہ اٹھا کر غم اور حسرت لے کر واپس چلے جائیں۔ جب آپ حالات پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب مومنوں کی مدد کرتا ہے تو وہ ان دو امور سے خارج نہیں ہوتی۔ یا ان پر مسلمانوں کی فتح یا کفار کی اپنی کوششوں میں ناکامی۔
آل عمران 3:124
اور جب صبح کو نکلے آپ اپنے گھر والوں (کے پاس) سے، بٹھاتے تھے آپ مومنوں کو مورچوں پر لڑائی کے لیےاور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(121) جب ارادہ کیا دو گروہوں نے تم میں سے یہ کہ وہ بزدلی کریں اور اللہ دوست تھا ان کااور اللہ ہی پر پس چاہیے کہ توکل کریں مومن (122)اور البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بدر میں جبکہ تم کمزور تھے، پس ڈرو تم اللہ سے تاکہ تم شکر کرو(123) جب کہتے تھے آپ مومنوں سے، کیا ہرگز نہ کفایت کرے گی تمھیں یہ بات کہ مدد کرے تمھاری تمھارا رب ساتھ تین ہزار فرشتوں کے، اتارے ہوئے (آسمان سے)؟ (124) کیوں نہیں (ہاں) ! اگر تم صبر کرو اور ڈرو اور وہ (دشمن) آجائے تمھارے پاس اسی دم تو مدد کرے گا تمھاری، تمھارا رب ساتھ پانچ ہزار فرشتوں کے (وہ خاص) نشان لگائے ہوں گے(125) اور نہیں کیا اس کو اللہ نے مگر خوش خبری تمھارے لیے اور تاکہ مطمئن ہو جائیں تمھارے دل ساتھ اس کےاور نہیں ہے مدد مگر اللہ ہی کی طرف سے (جو) زبردست حکمت والاہے(126)تاکہ کاٹ (ہلاک کر) دے وہ ایک گروہ کو ان میں سے جنھوں نے کفر کیا یا ذلیل کرے ان کو، پس پھریں وہ نامراد ہو کر(127)
[121] یہ آیات واقعۂ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے، اور اس کے درمیان میں بدر کا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا، اور دشمن کی سازشوں سے انھیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوںمیں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لیے فرمائی تھی کہ انھوں نے صبر کیا اورتقویٰ اختیار کیا، اور احد میں انھیں دشمنوں کے ہاتھوں اس لیے نقصان پہنچا کہ ان میں سے بعض افراد سے ایسی غلطی ہوگئی جو تقویٰ کے منافی تھی، دونوں واقعات اکٹھے بیان کرنے کا یہ مقصد ہے کہ اللہ کو بندوں کا یہ عمل پسند ہے کہ جب انھیں کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آجائے تو انھیں وہ نعمت یاد کرنی چاہیے جو انھیں پسند ہے، تو ان کی مصیبت ہلکی ہوجائے گی اور وہ اس بڑی نعمت پر رب کا شکر کریں گے۔ جس کے مقابلے میں یہ ظاہری مصیبت، جو حقیقت میں نعمت ہی ہے، بڑی نعمت کے مقابلے میں بہت معمولی محسوس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اسی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ﴿ اَوَلَمَّؔاۤ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا ﴾ ’’کیابات ہے کہ جب تمھیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے۔‘‘واقعۂ احد کا خلاصہ یہ ہے کہ جب 2ھ میں جنگ بدر کے بعد بچے کھچے مشرکین مکہ پہنچے، تو انھوں نے اپنی طاقت کے مطابق مال، افراد اور اسلحہ کے ساتھ بھرپور تیاری کی، حتیٰ کہ اتنا کچھ جمع ہوگیا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنا مقصود حاصل کرنے اور اپنا غصہ نکالنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ تب وہ تین ہزار جنگجو افراد کا لشکر لے کر مکہ سے روانہ ہوئے اور مدینہ کے قریب آٹھہرے۔ نبی اکرمﷺنے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، تو طے پایا کہ شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے۔ نبیﷺایک ہزار آدمی لے کر روانہ ہوئے۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد عبداللہ بن ابی (منافق) اپنے جیسے تین سو افراد لے کر واپس پلٹ گیا۔ اس طرح اسلامی لشکر کی تعداد میں ایک تہائی مقدار کی کمی ہوگئی۔ مومنوں کے دو گروہ بھی پلٹ جانے کا سوچنے لگے۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے قبائل تھے۔ اللہ نے انھیں ثابت قدمی عطا فرمائی۔ جب احد کے مقام پر پہنچے تو نبیﷺنے لشکر کو ترتیب دے کر ان کے مختلف دستے اپنے اپنے مقام پر متعین فرمائے۔ احد کا پہاڑ ان کی پشت کی طرف تھا۔ انھوں نے اپنی پیٹھیں احد کی طرف رکھیں ۔ نبیﷺنے پچاس صحابہ کرام کو احد کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا، اور انھیں حکم دیا کہ وہیں ٹھہرے رہیں، اور وہ جگہ نہ چھوڑیں، تاکہ پیچھے سے دشمن کے حملہ کا خطرہ نہ رہے۔ جب مسلمانوں اور مشرکوں کے مابین جنگ ہوئی تو مشرکوں کو بری طرح شکست ہوئی، وہ اپنی لشکر گاہ کو پیچھے چھوڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کرکے انھیں قتل اور قید کرنا شروع کردیا۔ جن تیر اندازوں کو نبیﷺنے پہاڑ پر متعین فرمایا تھا، جب انھوں نے یہ صورت حال دیکھی تو (انھوں نے سوچا کہ اب ہمارا فرض مکمل ہوگیا ہے، اس لیے) انھوں نے آپس میں کہا، غنیمت! غنیمت! ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں جبکہ مشرکین شکست کھاچکے ہیں۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیرtنے انھیں نصیحت فرمائی کہ رسول اللہﷺکی حکم عدولی نہ کریں۔ لیکن دوسروں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ جب انھوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور وہاں صرف چند افراد رہ گئے، تو مشرکین کا گھڑسوار دستہ اس گھاٹی سے آگیا اور مسلمانوں کے پیچھے آکر لشکر کے پچھلے دستے پر حملہ کردیا۔ تب مسلمان کچھ ادھر ادھر ہوئے، جو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی۔ جس سے ان کے گناہ معاف ہوئے، اور تعمیل حکم میں کوتاہی کی سزا مل گئی۔ اس کے نتیجے میں جن کی قسمت میں شہادت تھی، وہ شہید ہوگئے۔ آخرکار مسلمان جبل احد کی چوٹی کی طرف جمع ہوگئے۔اللہ نے مشرکین کے ہاتھوں کو روک دیا اور وہ لوگ اپنے وطن کی طرف لوٹ گئے۔ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَهۡلِكَ ﴾ ’’اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ اپنے گھر سے نکلے‘‘ اس مقام پر (غدوت) کامطلب ’’مطلقاً نکلنا ہے‘‘ صبح کے وقت نکلنا نہیں۔ کیونکہ نبیﷺاور صحابہ کرامyجمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ﴾ ’’مومنوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعدہ بٹھا رہے تھے‘‘ یعنی آپ انھیں ترتیب دے رہے تھے۔ اور ہر ایک کو اس مقام پر ٹھہرا رہے تھے جو اس کے لیے مناسب تھا۔ اس میں نبیﷺکی عظیم تعریف ہے کہ آپ بنفس نفیس ان کو منظم فرما رہے تھے اور جنگ کے لیے مناسب مقامات پر ٹھہرا رہے تھے۔ اس کی وجہ آپ کے علم و فراست کا کمال، دور اندیشی اور بلند ہمتی تھی۔ علاوہ ازیں آپ کامل شجاعت سے بہرہ ور تھے، صلوات اللہ وسلامہ علیہ ﴿وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے‘‘ جو ہر بات سنتا ہے۔ مومنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور منافقوں کی بھی۔ ہر ایک کی بات چیت سے اس کے دل کے جذبات، احساسات اور خیالات ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ بندوں کی نیتوں کو جانتا ہے، وہ ان کے مطابق انھیں مکمل بدلہ عطا فرماتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ تمھاری حفاظت کرتاہے۔ تمھارے معاملات سنوارتا ہے۔ اور تمھیں اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰuاور ہارونuسے بھی اسی طرح فرمایا تھا:﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍46) ’’میں تمھارے ساتھ ہوں، اور سنتا دیکھتا ہوں۔‘‘
[122] اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر مہربانی اور احسان اس طرح بھی ہوا کہ ﴿ اِذۡ هَمَّتۡ طَّآىِٕفَتٰنِ ﴾ جب مومنوں کی دو جماعتیں پست ہمتی کا ارادہ کرچکی تھیں، اور وہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے، جیسے پہلے بیان ہوا۔ اللہ نے ان پر اور تمام مومنوں پر احسان کرتے ہوئے انھیں ثابت قدمی کی توفیق بخشی، اس لیے فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا﴾ ’’اللہ ان کا ولی اور مددگار ہے‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی خاص ولایت مراد ہے، یعنی اس کی اپنے دوستوں پر مہربانی، انھیں ایسے کاموں کی توفیق دینا جن میں ان کا فائدہ ہو، اور ایسے کاموں سے محفوظ رکھنا، جن میں ان کا نقصان ہو۔ اس کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ جب انھوں نے اس گناہ کا ارادہ کیا کہ وہ پست ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان جنگ سے چلے جائیں اور نبیﷺکو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس غلطی سے بچالیا، کیونکہ ان میں ایمان موجود تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ ﴾(البقرۃ:2؍257) ’’اللہ مومنوں کا دوست اور مددگار ہے، انھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لاتا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی ذات پر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہیے‘‘ اس میں توکل کا حکم ہے توکل کا مطلب یہ ہے کہ فائدہ مند اشیاء کے حصول کے لیے اور نقصان سے بچنے کے لیے اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے دل کا سہارا اللہ پر ہو۔ بندے کو اللہ پر جتنا ایمان ہوتا ہے، اس کے مطابق اس کا توکل ہوتا ہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ دوسروں کی نسبت مومن اللہ پر توکل کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ بالخصوص سختی اور جہاد کے موقع پر انھیں اللہ پر توکل کرنا، اس سے مدد اور فتح طلب کرنا، اپنی طاقت پر بالکل بھروسا نہ کرنا، بلکہ اللہ کی قوت اور حفاظت پربھروسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ان کی مدد کرتا ہے اور ان کی مصیبتیں اور مشکلات دور فرماتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
[123] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنا احسان یاد دلایا ہے، اور انھیں اپنی وہ مدد یا ددلائی ہے جو بدر کے موقع پر ہوئی۔ جب وہ کمزور تھے، ان کی تعداد بھی کم تھی، اور سامان بھی۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد اور سامان جنگ کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ غزوۂ بدر ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔ نبیﷺمدینہ منورہ سے تین سو دس سے چند افراد زیادہ کی تعداد میں اپنے صحابہyکے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ان کے پاس صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ آپ قریش کے تجارتی قافلہ کے تعاقب میں نکلے تھے جو شام سے آرہا تھا۔ مشرکین کو اطلاع ملی تو وہ اپنے قافلے کوبچانے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر مکہ مکرمہ سے نکلے۔ وہ تقریباً ایک ہزار جنگجو تھے جن کے پاس مکمل سامان رسد، بکثرت ہتھیار اور بہت سے گھوڑے موجود تھے۔ ان کا مسلمانوں سے آمنا سامنا ایک چشمے کے پاس ہوا، جسے ’’بدر‘‘ کہتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عظیم مدد فرمائی، چنانچہ انھوں نے مشرکین کے ستر بہادر سردار قتل کیے اور ستر کو جنگی قیدی بنایا اور ان کی لشکر گاہ پر قبضہ کرلیا۔ جیسے سورۂ انفال میں ان شاء اللہ بیان ہوگا۔ اس کی تفصیل کا اصل مقام وہی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ مسلمان اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس کا شکر کریں، اس لیے فرمایا:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ہی سے ڈرو، تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ‘‘ کیونکہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہی اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جو تقویٰ ترک کردیتا ہے، وہ شکر گزار نہیں ہوتا۔
[124] اے محمد(ﷺ)!یاد کیجیے جب بدر کے دن آپ مومنوں کو فتح کی خوش خبری دیتے ہوئے ان سے فرما رہے تھے: ﴿اَلَنۡ يَّكۡفِيَكُمۡ اَنۡ يُّمِدَّكُمۡ رَبُّكُمۡ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُنۡزَلِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارے لیے یہ کافی نہیں ہوگا کہ تمھارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمھاری مدد کرے؟‘‘
[125]﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’بلکہ اگر تم صبر اور پرہیز گاری کرو، اور وہ اپنے اس جوش سے تمھارے مقابلے میں آئیں۔‘‘ ﴿ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ کا مطلب ہے (من مقصدہم ھذا) ’’اپنے کسی ارادے اور عزم کے ساتھ‘‘ اس سے غزوۂ بدر مراد ہے۔ ﴿ يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ بِخَمۡسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِيۡنَ ﴾ ’’تمھارا رب تمھاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا، جو نشان دار ہوں گے‘‘ یعنی ان پر بہادروں کا خصوصی نشان ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں کی مدد کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں: صبر، تقویٰ اور مشرکین کا فوری جوش و جذبہ کے ساتھ آنا۔ یہ وعدہ مذکورہ بالا فرشتوں کے بطور امداد فوج کے نازل ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن فتح اور دشمنوں کے منصوبوں کی ناکامی کے لیے اللہ نے پہلی دو شرطیں مقرر فرمائی ہیں۔ جیسے کہ پہلے فرمان الٰہی گزرا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کے منصوبے تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے‘‘
[126] اس کے بعد فرمایا: ﴿ وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشۡرٰؔى ﴾ ’’اللہ نے اس چیز کو (یعنی فرشتے اتار کر تمھیں کمک پہنچانے کو) صرف خوش خبری بنایا ہے‘‘ تاکہ اس سے تمھیں خوشی حاصل ہو۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُكُمۡ بِهٖ ﴾ ’’اور اس بشارت سے تمھارے دل مطمئن ہوجائیں‘‘ ﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’ورنہ مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے‘‘ لہٰذا اپنے اسباب پر اعتماد نہ کرو۔ بلکہ اسباب صرف تمھارے دلوں کے اطمینان کے لیے ہیں۔ اصل فتح، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ تو اللہ کی مشیت ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کی مدد کرنے کا ارادہ فرمالے وہی فتح یاب ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس فریق کی مدد کرے جس کے پاس اسباب ہیں، جیسے عام طورپر مخلوق میں اس کی سنت جاری ہے اور اگر چاہے تو کمزور اور معمولی فریق کی مدد کرے، تاکہ اس کے بندوں کو معلوم ہوجائے کہ سب کام اس کے ہاتھ میں ہیں اور سب معاملات کا دارومدار اسی کی مرضی پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے‘‘ کوئی مخلوق اس کے آگے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کی تدبیر اور غلبے کے آگے کمزور اور مجبور ہیں۔ ﴿ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمتوں والا ہے‘‘ جو ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ بعض اوقات کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے۔ کفار کایہ غلبہ مستقل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(سورۂ محمد:47؍4)’ ’اگر اللہ چاہتا تو خود ہی بدلہ لے لیتا، لیکن اس کا منشا یہ ہے کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے سے لے۔‘‘
[127] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد دو مقاصد کے لیے کرتا ہے۔۱۔ تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ لے، یعنی وہ قتل ہوجائیں یا قید ہوجائیں۔ یا ان کے شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے یا مال غنیمت حاصل ہو۔ اس طرح مومنوں کو قوت حاصل ہو اور کافر ذلیل ہوجائیں۔ کیونکہ اسلام کا مقابلہ کرنے اور اسلام سے جنگ کرنے کی قوت انھیں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے یا ہتھیاروں سے یا مال سے یا زمین سے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کا ختم ہونا یا مسلمانوں کے قبضے میں آنا، ان کی قوت میں کمی کا باعث ہے۔۲۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ کافر اپنی قوت و کثرت پر اعتماد کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش کریں، بلکہ اس کی انتہائی شدید حرص میں مبتلا ہوکر اپنی طاقت اور اپنا مال صرف کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ جنگ میں مومنوں کی مدد کرکے انھیں ناکام کردے، وہ اپنا مقصد حاصل نہ کرسکیں۔ بلکہ خسارہ اٹھا کر غم اور حسرت لے کر واپس چلے جائیں۔ جب آپ حالات پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب مومنوں کی مدد کرتا ہے تو وہ ان دو امور سے خارج نہیں ہوتی۔ یا ان پر مسلمانوں کی فتح یا کفار کی اپنی کوششوں میں ناکامی۔
آل عمران 3:125
اور جب صبح کو نکلے آپ اپنے گھر والوں (کے پاس) سے، بٹھاتے تھے آپ مومنوں کو مورچوں پر لڑائی کے لیےاور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(121) جب ارادہ کیا دو گروہوں نے تم میں سے یہ کہ وہ بزدلی کریں اور اللہ دوست تھا ان کااور اللہ ہی پر پس چاہیے کہ توکل کریں مومن (122)اور البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بدر میں جبکہ تم کمزور تھے، پس ڈرو تم اللہ سے تاکہ تم شکر کرو(123) جب کہتے تھے آپ مومنوں سے، کیا ہرگز نہ کفایت کرے گی تمھیں یہ بات کہ مدد کرے تمھاری تمھارا رب ساتھ تین ہزار فرشتوں کے، اتارے ہوئے (آسمان سے)؟ (124) کیوں نہیں (ہاں) ! اگر تم صبر کرو اور ڈرو اور وہ (دشمن) آجائے تمھارے پاس اسی دم تو مدد کرے گا تمھاری، تمھارا رب ساتھ پانچ ہزار فرشتوں کے (وہ خاص) نشان لگائے ہوں گے(125) اور نہیں کیا اس کو اللہ نے مگر خوش خبری تمھارے لیے اور تاکہ مطمئن ہو جائیں تمھارے دل ساتھ اس کےاور نہیں ہے مدد مگر اللہ ہی کی طرف سے (جو) زبردست حکمت والاہے(126)تاکہ کاٹ (ہلاک کر) دے وہ ایک گروہ کو ان میں سے جنھوں نے کفر کیا یا ذلیل کرے ان کو، پس پھریں وہ نامراد ہو کر(127)
[121] یہ آیات واقعۂ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے، اور اس کے درمیان میں بدر کا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا، اور دشمن کی سازشوں سے انھیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوںمیں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لیے فرمائی تھی کہ انھوں نے صبر کیا اورتقویٰ اختیار کیا، اور احد میں انھیں دشمنوں کے ہاتھوں اس لیے نقصان پہنچا کہ ان میں سے بعض افراد سے ایسی غلطی ہوگئی جو تقویٰ کے منافی تھی، دونوں واقعات اکٹھے بیان کرنے کا یہ مقصد ہے کہ اللہ کو بندوں کا یہ عمل پسند ہے کہ جب انھیں کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آجائے تو انھیں وہ نعمت یاد کرنی چاہیے جو انھیں پسند ہے، تو ان کی مصیبت ہلکی ہوجائے گی اور وہ اس بڑی نعمت پر رب کا شکر کریں گے۔ جس کے مقابلے میں یہ ظاہری مصیبت، جو حقیقت میں نعمت ہی ہے، بڑی نعمت کے مقابلے میں بہت معمولی محسوس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اسی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ﴿ اَوَلَمَّؔاۤ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا ﴾ ’’کیابات ہے کہ جب تمھیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے۔‘‘واقعۂ احد کا خلاصہ یہ ہے کہ جب 2ھ میں جنگ بدر کے بعد بچے کھچے مشرکین مکہ پہنچے، تو انھوں نے اپنی طاقت کے مطابق مال، افراد اور اسلحہ کے ساتھ بھرپور تیاری کی، حتیٰ کہ اتنا کچھ جمع ہوگیا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنا مقصود حاصل کرنے اور اپنا غصہ نکالنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ تب وہ تین ہزار جنگجو افراد کا لشکر لے کر مکہ سے روانہ ہوئے اور مدینہ کے قریب آٹھہرے۔ نبی اکرمﷺنے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، تو طے پایا کہ شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے۔ نبیﷺایک ہزار آدمی لے کر روانہ ہوئے۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد عبداللہ بن ابی (منافق) اپنے جیسے تین سو افراد لے کر واپس پلٹ گیا۔ اس طرح اسلامی لشکر کی تعداد میں ایک تہائی مقدار کی کمی ہوگئی۔ مومنوں کے دو گروہ بھی پلٹ جانے کا سوچنے لگے۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے قبائل تھے۔ اللہ نے انھیں ثابت قدمی عطا فرمائی۔ جب احد کے مقام پر پہنچے تو نبیﷺنے لشکر کو ترتیب دے کر ان کے مختلف دستے اپنے اپنے مقام پر متعین فرمائے۔ احد کا پہاڑ ان کی پشت کی طرف تھا۔ انھوں نے اپنی پیٹھیں احد کی طرف رکھیں ۔ نبیﷺنے پچاس صحابہ کرام کو احد کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا، اور انھیں حکم دیا کہ وہیں ٹھہرے رہیں، اور وہ جگہ نہ چھوڑیں، تاکہ پیچھے سے دشمن کے حملہ کا خطرہ نہ رہے۔ جب مسلمانوں اور مشرکوں کے مابین جنگ ہوئی تو مشرکوں کو بری طرح شکست ہوئی، وہ اپنی لشکر گاہ کو پیچھے چھوڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کرکے انھیں قتل اور قید کرنا شروع کردیا۔ جن تیر اندازوں کو نبیﷺنے پہاڑ پر متعین فرمایا تھا، جب انھوں نے یہ صورت حال دیکھی تو (انھوں نے سوچا کہ اب ہمارا فرض مکمل ہوگیا ہے، اس لیے) انھوں نے آپس میں کہا، غنیمت! غنیمت! ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں جبکہ مشرکین شکست کھاچکے ہیں۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیرtنے انھیں نصیحت فرمائی کہ رسول اللہﷺکی حکم عدولی نہ کریں۔ لیکن دوسروں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ جب انھوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور وہاں صرف چند افراد رہ گئے، تو مشرکین کا گھڑسوار دستہ اس گھاٹی سے آگیا اور مسلمانوں کے پیچھے آکر لشکر کے پچھلے دستے پر حملہ کردیا۔ تب مسلمان کچھ ادھر ادھر ہوئے، جو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی۔ جس سے ان کے گناہ معاف ہوئے، اور تعمیل حکم میں کوتاہی کی سزا مل گئی۔ اس کے نتیجے میں جن کی قسمت میں شہادت تھی، وہ شہید ہوگئے۔ آخرکار مسلمان جبل احد کی چوٹی کی طرف جمع ہوگئے۔اللہ نے مشرکین کے ہاتھوں کو روک دیا اور وہ لوگ اپنے وطن کی طرف لوٹ گئے۔ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَهۡلِكَ ﴾ ’’اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ اپنے گھر سے نکلے‘‘ اس مقام پر (غدوت) کامطلب ’’مطلقاً نکلنا ہے‘‘ صبح کے وقت نکلنا نہیں۔ کیونکہ نبیﷺاور صحابہ کرامyجمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ﴾ ’’مومنوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعدہ بٹھا رہے تھے‘‘ یعنی آپ انھیں ترتیب دے رہے تھے۔ اور ہر ایک کو اس مقام پر ٹھہرا رہے تھے جو اس کے لیے مناسب تھا۔ اس میں نبیﷺکی عظیم تعریف ہے کہ آپ بنفس نفیس ان کو منظم فرما رہے تھے اور جنگ کے لیے مناسب مقامات پر ٹھہرا رہے تھے۔ اس کی وجہ آپ کے علم و فراست کا کمال، دور اندیشی اور بلند ہمتی تھی۔ علاوہ ازیں آپ کامل شجاعت سے بہرہ ور تھے، صلوات اللہ وسلامہ علیہ ﴿وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے‘‘ جو ہر بات سنتا ہے۔ مومنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور منافقوں کی بھی۔ ہر ایک کی بات چیت سے اس کے دل کے جذبات، احساسات اور خیالات ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ بندوں کی نیتوں کو جانتا ہے، وہ ان کے مطابق انھیں مکمل بدلہ عطا فرماتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ تمھاری حفاظت کرتاہے۔ تمھارے معاملات سنوارتا ہے۔ اور تمھیں اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰuاور ہارونuسے بھی اسی طرح فرمایا تھا:﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍46) ’’میں تمھارے ساتھ ہوں، اور سنتا دیکھتا ہوں۔‘‘
[122] اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر مہربانی اور احسان اس طرح بھی ہوا کہ ﴿ اِذۡ هَمَّتۡ طَّآىِٕفَتٰنِ ﴾ جب مومنوں کی دو جماعتیں پست ہمتی کا ارادہ کرچکی تھیں، اور وہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے، جیسے پہلے بیان ہوا۔ اللہ نے ان پر اور تمام مومنوں پر احسان کرتے ہوئے انھیں ثابت قدمی کی توفیق بخشی، اس لیے فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا﴾ ’’اللہ ان کا ولی اور مددگار ہے‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی خاص ولایت مراد ہے، یعنی اس کی اپنے دوستوں پر مہربانی، انھیں ایسے کاموں کی توفیق دینا جن میں ان کا فائدہ ہو، اور ایسے کاموں سے محفوظ رکھنا، جن میں ان کا نقصان ہو۔ اس کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ جب انھوں نے اس گناہ کا ارادہ کیا کہ وہ پست ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان جنگ سے چلے جائیں اور نبیﷺکو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس غلطی سے بچالیا، کیونکہ ان میں ایمان موجود تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ ﴾(البقرۃ:2؍257) ’’اللہ مومنوں کا دوست اور مددگار ہے، انھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لاتا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی ذات پر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہیے‘‘ اس میں توکل کا حکم ہے توکل کا مطلب یہ ہے کہ فائدہ مند اشیاء کے حصول کے لیے اور نقصان سے بچنے کے لیے اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے دل کا سہارا اللہ پر ہو۔ بندے کو اللہ پر جتنا ایمان ہوتا ہے، اس کے مطابق اس کا توکل ہوتا ہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ دوسروں کی نسبت مومن اللہ پر توکل کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ بالخصوص سختی اور جہاد کے موقع پر انھیں اللہ پر توکل کرنا، اس سے مدد اور فتح طلب کرنا، اپنی طاقت پر بالکل بھروسا نہ کرنا، بلکہ اللہ کی قوت اور حفاظت پربھروسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ان کی مدد کرتا ہے اور ان کی مصیبتیں اور مشکلات دور فرماتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
[123] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنا احسان یاد دلایا ہے، اور انھیں اپنی وہ مدد یا ددلائی ہے جو بدر کے موقع پر ہوئی۔ جب وہ کمزور تھے، ان کی تعداد بھی کم تھی، اور سامان بھی۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد اور سامان جنگ کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ غزوۂ بدر ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔ نبیﷺمدینہ منورہ سے تین سو دس سے چند افراد زیادہ کی تعداد میں اپنے صحابہyکے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ان کے پاس صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ آپ قریش کے تجارتی قافلہ کے تعاقب میں نکلے تھے جو شام سے آرہا تھا۔ مشرکین کو اطلاع ملی تو وہ اپنے قافلے کوبچانے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر مکہ مکرمہ سے نکلے۔ وہ تقریباً ایک ہزار جنگجو تھے جن کے پاس مکمل سامان رسد، بکثرت ہتھیار اور بہت سے گھوڑے موجود تھے۔ ان کا مسلمانوں سے آمنا سامنا ایک چشمے کے پاس ہوا، جسے ’’بدر‘‘ کہتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عظیم مدد فرمائی، چنانچہ انھوں نے مشرکین کے ستر بہادر سردار قتل کیے اور ستر کو جنگی قیدی بنایا اور ان کی لشکر گاہ پر قبضہ کرلیا۔ جیسے سورۂ انفال میں ان شاء اللہ بیان ہوگا۔ اس کی تفصیل کا اصل مقام وہی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ مسلمان اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس کا شکر کریں، اس لیے فرمایا:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ہی سے ڈرو، تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ‘‘ کیونکہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہی اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جو تقویٰ ترک کردیتا ہے، وہ شکر گزار نہیں ہوتا۔
[124] اے محمد(ﷺ)!یاد کیجیے جب بدر کے دن آپ مومنوں کو فتح کی خوش خبری دیتے ہوئے ان سے فرما رہے تھے: ﴿اَلَنۡ يَّكۡفِيَكُمۡ اَنۡ يُّمِدَّكُمۡ رَبُّكُمۡ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُنۡزَلِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارے لیے یہ کافی نہیں ہوگا کہ تمھارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمھاری مدد کرے؟‘‘
[125]﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’بلکہ اگر تم صبر اور پرہیز گاری کرو، اور وہ اپنے اس جوش سے تمھارے مقابلے میں آئیں۔‘‘ ﴿ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ کا مطلب ہے (من مقصدہم ھذا) ’’اپنے کسی ارادے اور عزم کے ساتھ‘‘ اس سے غزوۂ بدر مراد ہے۔ ﴿ يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ بِخَمۡسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِيۡنَ ﴾ ’’تمھارا رب تمھاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا، جو نشان دار ہوں گے‘‘ یعنی ان پر بہادروں کا خصوصی نشان ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں کی مدد کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں: صبر، تقویٰ اور مشرکین کا فوری جوش و جذبہ کے ساتھ آنا۔ یہ وعدہ مذکورہ بالا فرشتوں کے بطور امداد فوج کے نازل ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن فتح اور دشمنوں کے منصوبوں کی ناکامی کے لیے اللہ نے پہلی دو شرطیں مقرر فرمائی ہیں۔ جیسے کہ پہلے فرمان الٰہی گزرا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کے منصوبے تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے‘‘
[126] اس کے بعد فرمایا: ﴿ وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشۡرٰؔى ﴾ ’’اللہ نے اس چیز کو (یعنی فرشتے اتار کر تمھیں کمک پہنچانے کو) صرف خوش خبری بنایا ہے‘‘ تاکہ اس سے تمھیں خوشی حاصل ہو۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُكُمۡ بِهٖ ﴾ ’’اور اس بشارت سے تمھارے دل مطمئن ہوجائیں‘‘ ﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’ورنہ مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے‘‘ لہٰذا اپنے اسباب پر اعتماد نہ کرو۔ بلکہ اسباب صرف تمھارے دلوں کے اطمینان کے لیے ہیں۔ اصل فتح، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ تو اللہ کی مشیت ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کی مدد کرنے کا ارادہ فرمالے وہی فتح یاب ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس فریق کی مدد کرے جس کے پاس اسباب ہیں، جیسے عام طورپر مخلوق میں اس کی سنت جاری ہے اور اگر چاہے تو کمزور اور معمولی فریق کی مدد کرے، تاکہ اس کے بندوں کو معلوم ہوجائے کہ سب کام اس کے ہاتھ میں ہیں اور سب معاملات کا دارومدار اسی کی مرضی پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے‘‘ کوئی مخلوق اس کے آگے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کی تدبیر اور غلبے کے آگے کمزور اور مجبور ہیں۔ ﴿ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمتوں والا ہے‘‘ جو ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ بعض اوقات کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے۔ کفار کایہ غلبہ مستقل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(سورۂ محمد:47؍4)’ ’اگر اللہ چاہتا تو خود ہی بدلہ لے لیتا، لیکن اس کا منشا یہ ہے کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے سے لے۔‘‘
[127] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد دو مقاصد کے لیے کرتا ہے۔۱۔ تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ لے، یعنی وہ قتل ہوجائیں یا قید ہوجائیں۔ یا ان کے شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے یا مال غنیمت حاصل ہو۔ اس طرح مومنوں کو قوت حاصل ہو اور کافر ذلیل ہوجائیں۔ کیونکہ اسلام کا مقابلہ کرنے اور اسلام سے جنگ کرنے کی قوت انھیں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے یا ہتھیاروں سے یا مال سے یا زمین سے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کا ختم ہونا یا مسلمانوں کے قبضے میں آنا، ان کی قوت میں کمی کا باعث ہے۔۲۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ کافر اپنی قوت و کثرت پر اعتماد کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش کریں، بلکہ اس کی انتہائی شدید حرص میں مبتلا ہوکر اپنی طاقت اور اپنا مال صرف کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ جنگ میں مومنوں کی مدد کرکے انھیں ناکام کردے، وہ اپنا مقصد حاصل نہ کرسکیں۔ بلکہ خسارہ اٹھا کر غم اور حسرت لے کر واپس چلے جائیں۔ جب آپ حالات پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب مومنوں کی مدد کرتا ہے تو وہ ان دو امور سے خارج نہیں ہوتی۔ یا ان پر مسلمانوں کی فتح یا کفار کی اپنی کوششوں میں ناکامی۔
آل عمران 3:126
اور جب صبح کو نکلے آپ اپنے گھر والوں (کے پاس) سے، بٹھاتے تھے آپ مومنوں کو مورچوں پر لڑائی کے لیےاور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(121) جب ارادہ کیا دو گروہوں نے تم میں سے یہ کہ وہ بزدلی کریں اور اللہ دوست تھا ان کااور اللہ ہی پر پس چاہیے کہ توکل کریں مومن (122)اور البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بدر میں جبکہ تم کمزور تھے، پس ڈرو تم اللہ سے تاکہ تم شکر کرو(123) جب کہتے تھے آپ مومنوں سے، کیا ہرگز نہ کفایت کرے گی تمھیں یہ بات کہ مدد کرے تمھاری تمھارا رب ساتھ تین ہزار فرشتوں کے، اتارے ہوئے (آسمان سے)؟ (124) کیوں نہیں (ہاں) ! اگر تم صبر کرو اور ڈرو اور وہ (دشمن) آجائے تمھارے پاس اسی دم تو مدد کرے گا تمھاری، تمھارا رب ساتھ پانچ ہزار فرشتوں کے (وہ خاص) نشان لگائے ہوں گے(125) اور نہیں کیا اس کو اللہ نے مگر خوش خبری تمھارے لیے اور تاکہ مطمئن ہو جائیں تمھارے دل ساتھ اس کےاور نہیں ہے مدد مگر اللہ ہی کی طرف سے (جو) زبردست حکمت والاہے(126)تاکہ کاٹ (ہلاک کر) دے وہ ایک گروہ کو ان میں سے جنھوں نے کفر کیا یا ذلیل کرے ان کو، پس پھریں وہ نامراد ہو کر(127)
[121] یہ آیات واقعۂ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے، اور اس کے درمیان میں بدر کا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا، اور دشمن کی سازشوں سے انھیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوںمیں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لیے فرمائی تھی کہ انھوں نے صبر کیا اورتقویٰ اختیار کیا، اور احد میں انھیں دشمنوں کے ہاتھوں اس لیے نقصان پہنچا کہ ان میں سے بعض افراد سے ایسی غلطی ہوگئی جو تقویٰ کے منافی تھی، دونوں واقعات اکٹھے بیان کرنے کا یہ مقصد ہے کہ اللہ کو بندوں کا یہ عمل پسند ہے کہ جب انھیں کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آجائے تو انھیں وہ نعمت یاد کرنی چاہیے جو انھیں پسند ہے، تو ان کی مصیبت ہلکی ہوجائے گی اور وہ اس بڑی نعمت پر رب کا شکر کریں گے۔ جس کے مقابلے میں یہ ظاہری مصیبت، جو حقیقت میں نعمت ہی ہے، بڑی نعمت کے مقابلے میں بہت معمولی محسوس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اسی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ﴿ اَوَلَمَّؔاۤ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا ﴾ ’’کیابات ہے کہ جب تمھیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے۔‘‘واقعۂ احد کا خلاصہ یہ ہے کہ جب 2ھ میں جنگ بدر کے بعد بچے کھچے مشرکین مکہ پہنچے، تو انھوں نے اپنی طاقت کے مطابق مال، افراد اور اسلحہ کے ساتھ بھرپور تیاری کی، حتیٰ کہ اتنا کچھ جمع ہوگیا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنا مقصود حاصل کرنے اور اپنا غصہ نکالنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ تب وہ تین ہزار جنگجو افراد کا لشکر لے کر مکہ سے روانہ ہوئے اور مدینہ کے قریب آٹھہرے۔ نبی اکرمﷺنے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، تو طے پایا کہ شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے۔ نبیﷺایک ہزار آدمی لے کر روانہ ہوئے۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد عبداللہ بن ابی (منافق) اپنے جیسے تین سو افراد لے کر واپس پلٹ گیا۔ اس طرح اسلامی لشکر کی تعداد میں ایک تہائی مقدار کی کمی ہوگئی۔ مومنوں کے دو گروہ بھی پلٹ جانے کا سوچنے لگے۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے قبائل تھے۔ اللہ نے انھیں ثابت قدمی عطا فرمائی۔ جب احد کے مقام پر پہنچے تو نبیﷺنے لشکر کو ترتیب دے کر ان کے مختلف دستے اپنے اپنے مقام پر متعین فرمائے۔ احد کا پہاڑ ان کی پشت کی طرف تھا۔ انھوں نے اپنی پیٹھیں احد کی طرف رکھیں ۔ نبیﷺنے پچاس صحابہ کرام کو احد کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا، اور انھیں حکم دیا کہ وہیں ٹھہرے رہیں، اور وہ جگہ نہ چھوڑیں، تاکہ پیچھے سے دشمن کے حملہ کا خطرہ نہ رہے۔ جب مسلمانوں اور مشرکوں کے مابین جنگ ہوئی تو مشرکوں کو بری طرح شکست ہوئی، وہ اپنی لشکر گاہ کو پیچھے چھوڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کرکے انھیں قتل اور قید کرنا شروع کردیا۔ جن تیر اندازوں کو نبیﷺنے پہاڑ پر متعین فرمایا تھا، جب انھوں نے یہ صورت حال دیکھی تو (انھوں نے سوچا کہ اب ہمارا فرض مکمل ہوگیا ہے، اس لیے) انھوں نے آپس میں کہا، غنیمت! غنیمت! ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں جبکہ مشرکین شکست کھاچکے ہیں۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیرtنے انھیں نصیحت فرمائی کہ رسول اللہﷺکی حکم عدولی نہ کریں۔ لیکن دوسروں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ جب انھوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور وہاں صرف چند افراد رہ گئے، تو مشرکین کا گھڑسوار دستہ اس گھاٹی سے آگیا اور مسلمانوں کے پیچھے آکر لشکر کے پچھلے دستے پر حملہ کردیا۔ تب مسلمان کچھ ادھر ادھر ہوئے، جو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی۔ جس سے ان کے گناہ معاف ہوئے، اور تعمیل حکم میں کوتاہی کی سزا مل گئی۔ اس کے نتیجے میں جن کی قسمت میں شہادت تھی، وہ شہید ہوگئے۔ آخرکار مسلمان جبل احد کی چوٹی کی طرف جمع ہوگئے۔اللہ نے مشرکین کے ہاتھوں کو روک دیا اور وہ لوگ اپنے وطن کی طرف لوٹ گئے۔ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَهۡلِكَ ﴾ ’’اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ اپنے گھر سے نکلے‘‘ اس مقام پر (غدوت) کامطلب ’’مطلقاً نکلنا ہے‘‘ صبح کے وقت نکلنا نہیں۔ کیونکہ نبیﷺاور صحابہ کرامyجمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ﴾ ’’مومنوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعدہ بٹھا رہے تھے‘‘ یعنی آپ انھیں ترتیب دے رہے تھے۔ اور ہر ایک کو اس مقام پر ٹھہرا رہے تھے جو اس کے لیے مناسب تھا۔ اس میں نبیﷺکی عظیم تعریف ہے کہ آپ بنفس نفیس ان کو منظم فرما رہے تھے اور جنگ کے لیے مناسب مقامات پر ٹھہرا رہے تھے۔ اس کی وجہ آپ کے علم و فراست کا کمال، دور اندیشی اور بلند ہمتی تھی۔ علاوہ ازیں آپ کامل شجاعت سے بہرہ ور تھے، صلوات اللہ وسلامہ علیہ ﴿وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے‘‘ جو ہر بات سنتا ہے۔ مومنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور منافقوں کی بھی۔ ہر ایک کی بات چیت سے اس کے دل کے جذبات، احساسات اور خیالات ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ بندوں کی نیتوں کو جانتا ہے، وہ ان کے مطابق انھیں مکمل بدلہ عطا فرماتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ تمھاری حفاظت کرتاہے۔ تمھارے معاملات سنوارتا ہے۔ اور تمھیں اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰuاور ہارونuسے بھی اسی طرح فرمایا تھا:﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍46) ’’میں تمھارے ساتھ ہوں، اور سنتا دیکھتا ہوں۔‘‘
[122] اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر مہربانی اور احسان اس طرح بھی ہوا کہ ﴿ اِذۡ هَمَّتۡ طَّآىِٕفَتٰنِ ﴾ جب مومنوں کی دو جماعتیں پست ہمتی کا ارادہ کرچکی تھیں، اور وہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے، جیسے پہلے بیان ہوا۔ اللہ نے ان پر اور تمام مومنوں پر احسان کرتے ہوئے انھیں ثابت قدمی کی توفیق بخشی، اس لیے فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا﴾ ’’اللہ ان کا ولی اور مددگار ہے‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی خاص ولایت مراد ہے، یعنی اس کی اپنے دوستوں پر مہربانی، انھیں ایسے کاموں کی توفیق دینا جن میں ان کا فائدہ ہو، اور ایسے کاموں سے محفوظ رکھنا، جن میں ان کا نقصان ہو۔ اس کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ جب انھوں نے اس گناہ کا ارادہ کیا کہ وہ پست ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان جنگ سے چلے جائیں اور نبیﷺکو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس غلطی سے بچالیا، کیونکہ ان میں ایمان موجود تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ ﴾(البقرۃ:2؍257) ’’اللہ مومنوں کا دوست اور مددگار ہے، انھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لاتا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی ذات پر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہیے‘‘ اس میں توکل کا حکم ہے توکل کا مطلب یہ ہے کہ فائدہ مند اشیاء کے حصول کے لیے اور نقصان سے بچنے کے لیے اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے دل کا سہارا اللہ پر ہو۔ بندے کو اللہ پر جتنا ایمان ہوتا ہے، اس کے مطابق اس کا توکل ہوتا ہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ دوسروں کی نسبت مومن اللہ پر توکل کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ بالخصوص سختی اور جہاد کے موقع پر انھیں اللہ پر توکل کرنا، اس سے مدد اور فتح طلب کرنا، اپنی طاقت پر بالکل بھروسا نہ کرنا، بلکہ اللہ کی قوت اور حفاظت پربھروسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ان کی مدد کرتا ہے اور ان کی مصیبتیں اور مشکلات دور فرماتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
[123] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنا احسان یاد دلایا ہے، اور انھیں اپنی وہ مدد یا ددلائی ہے جو بدر کے موقع پر ہوئی۔ جب وہ کمزور تھے، ان کی تعداد بھی کم تھی، اور سامان بھی۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد اور سامان جنگ کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ غزوۂ بدر ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔ نبیﷺمدینہ منورہ سے تین سو دس سے چند افراد زیادہ کی تعداد میں اپنے صحابہyکے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ان کے پاس صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ آپ قریش کے تجارتی قافلہ کے تعاقب میں نکلے تھے جو شام سے آرہا تھا۔ مشرکین کو اطلاع ملی تو وہ اپنے قافلے کوبچانے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر مکہ مکرمہ سے نکلے۔ وہ تقریباً ایک ہزار جنگجو تھے جن کے پاس مکمل سامان رسد، بکثرت ہتھیار اور بہت سے گھوڑے موجود تھے۔ ان کا مسلمانوں سے آمنا سامنا ایک چشمے کے پاس ہوا، جسے ’’بدر‘‘ کہتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عظیم مدد فرمائی، چنانچہ انھوں نے مشرکین کے ستر بہادر سردار قتل کیے اور ستر کو جنگی قیدی بنایا اور ان کی لشکر گاہ پر قبضہ کرلیا۔ جیسے سورۂ انفال میں ان شاء اللہ بیان ہوگا۔ اس کی تفصیل کا اصل مقام وہی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ مسلمان اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس کا شکر کریں، اس لیے فرمایا:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ہی سے ڈرو، تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ‘‘ کیونکہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہی اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جو تقویٰ ترک کردیتا ہے، وہ شکر گزار نہیں ہوتا۔
[124] اے محمد(ﷺ)!یاد کیجیے جب بدر کے دن آپ مومنوں کو فتح کی خوش خبری دیتے ہوئے ان سے فرما رہے تھے: ﴿اَلَنۡ يَّكۡفِيَكُمۡ اَنۡ يُّمِدَّكُمۡ رَبُّكُمۡ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُنۡزَلِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارے لیے یہ کافی نہیں ہوگا کہ تمھارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمھاری مدد کرے؟‘‘
[125]﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’بلکہ اگر تم صبر اور پرہیز گاری کرو، اور وہ اپنے اس جوش سے تمھارے مقابلے میں آئیں۔‘‘ ﴿ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ کا مطلب ہے (من مقصدہم ھذا) ’’اپنے کسی ارادے اور عزم کے ساتھ‘‘ اس سے غزوۂ بدر مراد ہے۔ ﴿ يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ بِخَمۡسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِيۡنَ ﴾ ’’تمھارا رب تمھاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا، جو نشان دار ہوں گے‘‘ یعنی ان پر بہادروں کا خصوصی نشان ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں کی مدد کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں: صبر، تقویٰ اور مشرکین کا فوری جوش و جذبہ کے ساتھ آنا۔ یہ وعدہ مذکورہ بالا فرشتوں کے بطور امداد فوج کے نازل ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن فتح اور دشمنوں کے منصوبوں کی ناکامی کے لیے اللہ نے پہلی دو شرطیں مقرر فرمائی ہیں۔ جیسے کہ پہلے فرمان الٰہی گزرا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کے منصوبے تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے‘‘
[126] اس کے بعد فرمایا: ﴿ وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشۡرٰؔى ﴾ ’’اللہ نے اس چیز کو (یعنی فرشتے اتار کر تمھیں کمک پہنچانے کو) صرف خوش خبری بنایا ہے‘‘ تاکہ اس سے تمھیں خوشی حاصل ہو۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُكُمۡ بِهٖ ﴾ ’’اور اس بشارت سے تمھارے دل مطمئن ہوجائیں‘‘ ﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’ورنہ مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے‘‘ لہٰذا اپنے اسباب پر اعتماد نہ کرو۔ بلکہ اسباب صرف تمھارے دلوں کے اطمینان کے لیے ہیں۔ اصل فتح، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ تو اللہ کی مشیت ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کی مدد کرنے کا ارادہ فرمالے وہی فتح یاب ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس فریق کی مدد کرے جس کے پاس اسباب ہیں، جیسے عام طورپر مخلوق میں اس کی سنت جاری ہے اور اگر چاہے تو کمزور اور معمولی فریق کی مدد کرے، تاکہ اس کے بندوں کو معلوم ہوجائے کہ سب کام اس کے ہاتھ میں ہیں اور سب معاملات کا دارومدار اسی کی مرضی پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے‘‘ کوئی مخلوق اس کے آگے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کی تدبیر اور غلبے کے آگے کمزور اور مجبور ہیں۔ ﴿ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمتوں والا ہے‘‘ جو ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ بعض اوقات کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے۔ کفار کایہ غلبہ مستقل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(سورۂ محمد:47؍4)’ ’اگر اللہ چاہتا تو خود ہی بدلہ لے لیتا، لیکن اس کا منشا یہ ہے کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے سے لے۔‘‘
[127] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد دو مقاصد کے لیے کرتا ہے۔۱۔ تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ لے، یعنی وہ قتل ہوجائیں یا قید ہوجائیں۔ یا ان کے شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے یا مال غنیمت حاصل ہو۔ اس طرح مومنوں کو قوت حاصل ہو اور کافر ذلیل ہوجائیں۔ کیونکہ اسلام کا مقابلہ کرنے اور اسلام سے جنگ کرنے کی قوت انھیں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے یا ہتھیاروں سے یا مال سے یا زمین سے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کا ختم ہونا یا مسلمانوں کے قبضے میں آنا، ان کی قوت میں کمی کا باعث ہے۔۲۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ کافر اپنی قوت و کثرت پر اعتماد کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش کریں، بلکہ اس کی انتہائی شدید حرص میں مبتلا ہوکر اپنی طاقت اور اپنا مال صرف کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ جنگ میں مومنوں کی مدد کرکے انھیں ناکام کردے، وہ اپنا مقصد حاصل نہ کرسکیں۔ بلکہ خسارہ اٹھا کر غم اور حسرت لے کر واپس چلے جائیں۔ جب آپ حالات پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب مومنوں کی مدد کرتا ہے تو وہ ان دو امور سے خارج نہیں ہوتی۔ یا ان پر مسلمانوں کی فتح یا کفار کی اپنی کوششوں میں ناکامی۔
آل عمران 3:127
اور جب صبح کو نکلے آپ اپنے گھر والوں (کے پاس) سے، بٹھاتے تھے آپ مومنوں کو مورچوں پر لڑائی کے لیےاور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(121) جب ارادہ کیا دو گروہوں نے تم میں سے یہ کہ وہ بزدلی کریں اور اللہ دوست تھا ان کااور اللہ ہی پر پس چاہیے کہ توکل کریں مومن (122)اور البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بدر میں جبکہ تم کمزور تھے، پس ڈرو تم اللہ سے تاکہ تم شکر کرو(123) جب کہتے تھے آپ مومنوں سے، کیا ہرگز نہ کفایت کرے گی تمھیں یہ بات کہ مدد کرے تمھاری تمھارا رب ساتھ تین ہزار فرشتوں کے، اتارے ہوئے (آسمان سے)؟ (124) کیوں نہیں (ہاں) ! اگر تم صبر کرو اور ڈرو اور وہ (دشمن) آجائے تمھارے پاس اسی دم تو مدد کرے گا تمھاری، تمھارا رب ساتھ پانچ ہزار فرشتوں کے (وہ خاص) نشان لگائے ہوں گے(125) اور نہیں کیا اس کو اللہ نے مگر خوش خبری تمھارے لیے اور تاکہ مطمئن ہو جائیں تمھارے دل ساتھ اس کےاور نہیں ہے مدد مگر اللہ ہی کی طرف سے (جو) زبردست حکمت والاہے(126)تاکہ کاٹ (ہلاک کر) دے وہ ایک گروہ کو ان میں سے جنھوں نے کفر کیا یا ذلیل کرے ان کو، پس پھریں وہ نامراد ہو کر(127)
[121] یہ آیات واقعۂ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے، اور اس کے درمیان میں بدر کا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا، اور دشمن کی سازشوں سے انھیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوںمیں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لیے فرمائی تھی کہ انھوں نے صبر کیا اورتقویٰ اختیار کیا، اور احد میں انھیں دشمنوں کے ہاتھوں اس لیے نقصان پہنچا کہ ان میں سے بعض افراد سے ایسی غلطی ہوگئی جو تقویٰ کے منافی تھی، دونوں واقعات اکٹھے بیان کرنے کا یہ مقصد ہے کہ اللہ کو بندوں کا یہ عمل پسند ہے کہ جب انھیں کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آجائے تو انھیں وہ نعمت یاد کرنی چاہیے جو انھیں پسند ہے، تو ان کی مصیبت ہلکی ہوجائے گی اور وہ اس بڑی نعمت پر رب کا شکر کریں گے۔ جس کے مقابلے میں یہ ظاہری مصیبت، جو حقیقت میں نعمت ہی ہے، بڑی نعمت کے مقابلے میں بہت معمولی محسوس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اسی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ﴿ اَوَلَمَّؔاۤ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا ﴾ ’’کیابات ہے کہ جب تمھیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے۔‘‘واقعۂ احد کا خلاصہ یہ ہے کہ جب 2ھ میں جنگ بدر کے بعد بچے کھچے مشرکین مکہ پہنچے، تو انھوں نے اپنی طاقت کے مطابق مال، افراد اور اسلحہ کے ساتھ بھرپور تیاری کی، حتیٰ کہ اتنا کچھ جمع ہوگیا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنا مقصود حاصل کرنے اور اپنا غصہ نکالنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ تب وہ تین ہزار جنگجو افراد کا لشکر لے کر مکہ سے روانہ ہوئے اور مدینہ کے قریب آٹھہرے۔ نبی اکرمﷺنے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، تو طے پایا کہ شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے۔ نبیﷺایک ہزار آدمی لے کر روانہ ہوئے۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد عبداللہ بن ابی (منافق) اپنے جیسے تین سو افراد لے کر واپس پلٹ گیا۔ اس طرح اسلامی لشکر کی تعداد میں ایک تہائی مقدار کی کمی ہوگئی۔ مومنوں کے دو گروہ بھی پلٹ جانے کا سوچنے لگے۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے قبائل تھے۔ اللہ نے انھیں ثابت قدمی عطا فرمائی۔ جب احد کے مقام پر پہنچے تو نبیﷺنے لشکر کو ترتیب دے کر ان کے مختلف دستے اپنے اپنے مقام پر متعین فرمائے۔ احد کا پہاڑ ان کی پشت کی طرف تھا۔ انھوں نے اپنی پیٹھیں احد کی طرف رکھیں ۔ نبیﷺنے پچاس صحابہ کرام کو احد کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا، اور انھیں حکم دیا کہ وہیں ٹھہرے رہیں، اور وہ جگہ نہ چھوڑیں، تاکہ پیچھے سے دشمن کے حملہ کا خطرہ نہ رہے۔ جب مسلمانوں اور مشرکوں کے مابین جنگ ہوئی تو مشرکوں کو بری طرح شکست ہوئی، وہ اپنی لشکر گاہ کو پیچھے چھوڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کرکے انھیں قتل اور قید کرنا شروع کردیا۔ جن تیر اندازوں کو نبیﷺنے پہاڑ پر متعین فرمایا تھا، جب انھوں نے یہ صورت حال دیکھی تو (انھوں نے سوچا کہ اب ہمارا فرض مکمل ہوگیا ہے، اس لیے) انھوں نے آپس میں کہا، غنیمت! غنیمت! ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں جبکہ مشرکین شکست کھاچکے ہیں۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیرtنے انھیں نصیحت فرمائی کہ رسول اللہﷺکی حکم عدولی نہ کریں۔ لیکن دوسروں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ جب انھوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور وہاں صرف چند افراد رہ گئے، تو مشرکین کا گھڑسوار دستہ اس گھاٹی سے آگیا اور مسلمانوں کے پیچھے آکر لشکر کے پچھلے دستے پر حملہ کردیا۔ تب مسلمان کچھ ادھر ادھر ہوئے، جو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی۔ جس سے ان کے گناہ معاف ہوئے، اور تعمیل حکم میں کوتاہی کی سزا مل گئی۔ اس کے نتیجے میں جن کی قسمت میں شہادت تھی، وہ شہید ہوگئے۔ آخرکار مسلمان جبل احد کی چوٹی کی طرف جمع ہوگئے۔اللہ نے مشرکین کے ہاتھوں کو روک دیا اور وہ لوگ اپنے وطن کی طرف لوٹ گئے۔ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَهۡلِكَ ﴾ ’’اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ اپنے گھر سے نکلے‘‘ اس مقام پر (غدوت) کامطلب ’’مطلقاً نکلنا ہے‘‘ صبح کے وقت نکلنا نہیں۔ کیونکہ نبیﷺاور صحابہ کرامyجمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ﴾ ’’مومنوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعدہ بٹھا رہے تھے‘‘ یعنی آپ انھیں ترتیب دے رہے تھے۔ اور ہر ایک کو اس مقام پر ٹھہرا رہے تھے جو اس کے لیے مناسب تھا۔ اس میں نبیﷺکی عظیم تعریف ہے کہ آپ بنفس نفیس ان کو منظم فرما رہے تھے اور جنگ کے لیے مناسب مقامات پر ٹھہرا رہے تھے۔ اس کی وجہ آپ کے علم و فراست کا کمال، دور اندیشی اور بلند ہمتی تھی۔ علاوہ ازیں آپ کامل شجاعت سے بہرہ ور تھے، صلوات اللہ وسلامہ علیہ ﴿وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے‘‘ جو ہر بات سنتا ہے۔ مومنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور منافقوں کی بھی۔ ہر ایک کی بات چیت سے اس کے دل کے جذبات، احساسات اور خیالات ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ بندوں کی نیتوں کو جانتا ہے، وہ ان کے مطابق انھیں مکمل بدلہ عطا فرماتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ تمھاری حفاظت کرتاہے۔ تمھارے معاملات سنوارتا ہے۔ اور تمھیں اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰuاور ہارونuسے بھی اسی طرح فرمایا تھا:﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍46) ’’میں تمھارے ساتھ ہوں، اور سنتا دیکھتا ہوں۔‘‘
[122] اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر مہربانی اور احسان اس طرح بھی ہوا کہ ﴿ اِذۡ هَمَّتۡ طَّآىِٕفَتٰنِ ﴾ جب مومنوں کی دو جماعتیں پست ہمتی کا ارادہ کرچکی تھیں، اور وہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے، جیسے پہلے بیان ہوا۔ اللہ نے ان پر اور تمام مومنوں پر احسان کرتے ہوئے انھیں ثابت قدمی کی توفیق بخشی، اس لیے فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا﴾ ’’اللہ ان کا ولی اور مددگار ہے‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی خاص ولایت مراد ہے، یعنی اس کی اپنے دوستوں پر مہربانی، انھیں ایسے کاموں کی توفیق دینا جن میں ان کا فائدہ ہو، اور ایسے کاموں سے محفوظ رکھنا، جن میں ان کا نقصان ہو۔ اس کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ جب انھوں نے اس گناہ کا ارادہ کیا کہ وہ پست ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان جنگ سے چلے جائیں اور نبیﷺکو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس غلطی سے بچالیا، کیونکہ ان میں ایمان موجود تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ ﴾(البقرۃ:2؍257) ’’اللہ مومنوں کا دوست اور مددگار ہے، انھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لاتا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی ذات پر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہیے‘‘ اس میں توکل کا حکم ہے توکل کا مطلب یہ ہے کہ فائدہ مند اشیاء کے حصول کے لیے اور نقصان سے بچنے کے لیے اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے دل کا سہارا اللہ پر ہو۔ بندے کو اللہ پر جتنا ایمان ہوتا ہے، اس کے مطابق اس کا توکل ہوتا ہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ دوسروں کی نسبت مومن اللہ پر توکل کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ بالخصوص سختی اور جہاد کے موقع پر انھیں اللہ پر توکل کرنا، اس سے مدد اور فتح طلب کرنا، اپنی طاقت پر بالکل بھروسا نہ کرنا، بلکہ اللہ کی قوت اور حفاظت پربھروسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ان کی مدد کرتا ہے اور ان کی مصیبتیں اور مشکلات دور فرماتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
[123] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنا احسان یاد دلایا ہے، اور انھیں اپنی وہ مدد یا ددلائی ہے جو بدر کے موقع پر ہوئی۔ جب وہ کمزور تھے، ان کی تعداد بھی کم تھی، اور سامان بھی۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد اور سامان جنگ کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ غزوۂ بدر ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔ نبیﷺمدینہ منورہ سے تین سو دس سے چند افراد زیادہ کی تعداد میں اپنے صحابہyکے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ان کے پاس صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ آپ قریش کے تجارتی قافلہ کے تعاقب میں نکلے تھے جو شام سے آرہا تھا۔ مشرکین کو اطلاع ملی تو وہ اپنے قافلے کوبچانے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر مکہ مکرمہ سے نکلے۔ وہ تقریباً ایک ہزار جنگجو تھے جن کے پاس مکمل سامان رسد، بکثرت ہتھیار اور بہت سے گھوڑے موجود تھے۔ ان کا مسلمانوں سے آمنا سامنا ایک چشمے کے پاس ہوا، جسے ’’بدر‘‘ کہتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عظیم مدد فرمائی، چنانچہ انھوں نے مشرکین کے ستر بہادر سردار قتل کیے اور ستر کو جنگی قیدی بنایا اور ان کی لشکر گاہ پر قبضہ کرلیا۔ جیسے سورۂ انفال میں ان شاء اللہ بیان ہوگا۔ اس کی تفصیل کا اصل مقام وہی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ مسلمان اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس کا شکر کریں، اس لیے فرمایا:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ہی سے ڈرو، تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ‘‘ کیونکہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہی اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جو تقویٰ ترک کردیتا ہے، وہ شکر گزار نہیں ہوتا۔
[124] اے محمد(ﷺ)!یاد کیجیے جب بدر کے دن آپ مومنوں کو فتح کی خوش خبری دیتے ہوئے ان سے فرما رہے تھے: ﴿اَلَنۡ يَّكۡفِيَكُمۡ اَنۡ يُّمِدَّكُمۡ رَبُّكُمۡ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُنۡزَلِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارے لیے یہ کافی نہیں ہوگا کہ تمھارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمھاری مدد کرے؟‘‘
[125]﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’بلکہ اگر تم صبر اور پرہیز گاری کرو، اور وہ اپنے اس جوش سے تمھارے مقابلے میں آئیں۔‘‘ ﴿ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ کا مطلب ہے (من مقصدہم ھذا) ’’اپنے کسی ارادے اور عزم کے ساتھ‘‘ اس سے غزوۂ بدر مراد ہے۔ ﴿ يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ بِخَمۡسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِيۡنَ ﴾ ’’تمھارا رب تمھاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا، جو نشان دار ہوں گے‘‘ یعنی ان پر بہادروں کا خصوصی نشان ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں کی مدد کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں: صبر، تقویٰ اور مشرکین کا فوری جوش و جذبہ کے ساتھ آنا۔ یہ وعدہ مذکورہ بالا فرشتوں کے بطور امداد فوج کے نازل ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن فتح اور دشمنوں کے منصوبوں کی ناکامی کے لیے اللہ نے پہلی دو شرطیں مقرر فرمائی ہیں۔ جیسے کہ پہلے فرمان الٰہی گزرا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کے منصوبے تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے‘‘
[126] اس کے بعد فرمایا: ﴿ وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشۡرٰؔى ﴾ ’’اللہ نے اس چیز کو (یعنی فرشتے اتار کر تمھیں کمک پہنچانے کو) صرف خوش خبری بنایا ہے‘‘ تاکہ اس سے تمھیں خوشی حاصل ہو۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُكُمۡ بِهٖ ﴾ ’’اور اس بشارت سے تمھارے دل مطمئن ہوجائیں‘‘ ﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’ورنہ مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے‘‘ لہٰذا اپنے اسباب پر اعتماد نہ کرو۔ بلکہ اسباب صرف تمھارے دلوں کے اطمینان کے لیے ہیں۔ اصل فتح، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ تو اللہ کی مشیت ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کی مدد کرنے کا ارادہ فرمالے وہی فتح یاب ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس فریق کی مدد کرے جس کے پاس اسباب ہیں، جیسے عام طورپر مخلوق میں اس کی سنت جاری ہے اور اگر چاہے تو کمزور اور معمولی فریق کی مدد کرے، تاکہ اس کے بندوں کو معلوم ہوجائے کہ سب کام اس کے ہاتھ میں ہیں اور سب معاملات کا دارومدار اسی کی مرضی پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے‘‘ کوئی مخلوق اس کے آگے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کی تدبیر اور غلبے کے آگے کمزور اور مجبور ہیں۔ ﴿ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمتوں والا ہے‘‘ جو ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ بعض اوقات کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے۔ کفار کایہ غلبہ مستقل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(سورۂ محمد:47؍4)’ ’اگر اللہ چاہتا تو خود ہی بدلہ لے لیتا، لیکن اس کا منشا یہ ہے کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے سے لے۔‘‘
[127] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد دو مقاصد کے لیے کرتا ہے۔۱۔ تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ لے، یعنی وہ قتل ہوجائیں یا قید ہوجائیں۔ یا ان کے شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے یا مال غنیمت حاصل ہو۔ اس طرح مومنوں کو قوت حاصل ہو اور کافر ذلیل ہوجائیں۔ کیونکہ اسلام کا مقابلہ کرنے اور اسلام سے جنگ کرنے کی قوت انھیں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے یا ہتھیاروں سے یا مال سے یا زمین سے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کا ختم ہونا یا مسلمانوں کے قبضے میں آنا، ان کی قوت میں کمی کا باعث ہے۔۲۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ کافر اپنی قوت و کثرت پر اعتماد کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش کریں، بلکہ اس کی انتہائی شدید حرص میں مبتلا ہوکر اپنی طاقت اور اپنا مال صرف کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ جنگ میں مومنوں کی مدد کرکے انھیں ناکام کردے، وہ اپنا مقصد حاصل نہ کرسکیں۔ بلکہ خسارہ اٹھا کر غم اور حسرت لے کر واپس چلے جائیں۔ جب آپ حالات پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب مومنوں کی مدد کرتا ہے تو وہ ان دو امور سے خارج نہیں ہوتی۔ یا ان پر مسلمانوں کی فتح یا کفار کی اپنی کوششوں میں ناکامی۔
آل عمران 3:128
نہیں ہے واسطے آپ کے اس معاملے میں کچھ (اختیار) یا متوجہ ہو وہ (مہربانی سے) ان پر یا عذاب دے وہ ان کو، پس بے شک وہ ظالم ہیں(128)
[128] جب جنگ احد کے سنگین واقعات پیش آئے، اور نبیﷺکو سخت مصائب پیش آئے، جن کی وجہ سے اللہ نے آپ کا مقام مزید بلند فرمادیا۔ اس موقع پر آپ کا سر مبارک زخمی ہوا، اور دندان مبارک شہید ہوئے تو آپﷺنے فرمایا تھا: ’کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِیَّہُمْ‘ ’’وہ قوم کس طرح فلاح پاسکتی ہے جس نے اپنے نبی کو زخمی کردیا۔‘‘ (صحیح مسلم، الجہاد، باب غزوۃ أحد، حديث:1791)اس موقع پر آپuنے مشرکین کے سرداروں کے حق میں بددعا بھی فرمائی۔ مثلاً ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر وحی نازل فرما کر آپ کو ان کے خلاف دعا کرنے، انھیں لعنت کرنے، ان کے لیے رحمت سے دوری کی درخواست کرنے سے منع فرمادیا اور فرمایا:﴿ لَيۡسَ لَكَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَيۡءٌ ﴾ ’’آپ کے اختیار میں کچھ نہیں‘‘ آپ کے فرائض صرف یہ ہیں کہ تبلیغ کریں، مخلوق کی رہنمائی فرمائیں، اور ان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں۔ باقی معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے تدبیر فرماتا ہے۔ جسے چاہتا ہے ہدایت نصیب فرما دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ آپ انھیں بددعائیں نہ دیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہوگا تو ان کی توبہ قبول فرماکر انھیں اسلام کی نعمت عطا فرما دے گا اور اگر اس کی حکمت کا تقاضا ہوا تو انھیں ہدایت سے محروم فرما کر کفر میں پڑا رہنے دے گا۔ اس صورت میں اپنے نقصان کا باعث اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے وہی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان معین افراد کو اور دوسروں کو بھی ہدایت نصیب فرمائی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کا اختیار بندوں کے اختیار پر غالب ہے۔ بندے کا درجہ جتنا بھی بلند ہو، اس سے یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ایک چیز کو بہتر سمجھ کر منتخب کرے حالانکہ بہتری اور مصلحت دوسری چیز میں ہو۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسولﷺمعاملات میں اختیار نہیں رکھتے تھے، لہٰذا دوسرے افراد بدرجہ اولیٰ اختیار سے محروم ہوں گے۔ اس میں انبیاء و اولیاء سے حاجتیں مانگنے والوں کی سخت تردید ہے۔ اور یہ وضاحت ہے کہ اس قسم کا عقیدہ رکھنا شرک فی العبادت ہے، جو ان لوگوں کی کم عقلی کو ظاہر کرتا ہے کہ جس ہستی کے ہاتھ میں سب اختیارات ہیں اسے چھوڑ کر انھیں پکارتے ہیں جو ذرہ برابر اختیار نہیں رکھتے، یہ بہت بڑی گمراہی ہے۔ غور کیجیے جب اللہ نے ان کی توبہ قبول کرنے کا ذکر فرمایا تو فعل کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ (یعنی یہ فرمایا کہ اللہ توبہ قبول فرماتا ہے) اس کا کوئی سبب بیان نہیں فرمایا جس کا یہ نتیجہ برآمد ہوا ہو۔ تاکہ یہ ثابت ہو کہ نعمت تو بندے پر اللہ کا خالص فضل ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ بندے کی طرف سے پہلے کوئی عمل ہوا ہو جو اس نعمت کا سبب بنے نہ کسی وسیلے کی ضرورت ہے۔ لیکن جب عذاب کا ذکر فرمایا تو ساتھ ہی ان کے ظلم کا ذکر فرمایا۔ اور فائے سببیہ کے ذریعے سے واضح فرمایا کہ عذاب کا سبب ان کا ظلم ہے۔ ارشاد ہے: ﴿ اَوۡ يُعَذِّبَهُمۡ فَاِنَّهُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’یاان کو عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں‘‘ تاکہ اس سے اللہ کا کامل عدل اور اس کی کامل حکمت ظاہر ہوکہ اس نے سزا کو مناسب مقام پر رکھا، اور بندے پر ظلم نہیں کیا، بلکہ بندے نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔
آل عمران 3:129
اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، وہ معاف کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور عذاب دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے(129)
[129] جب یہ واضح فرما دیا کہ رسول کے ہاتھ میں اختیار نہیں، تو اس کے بعد بیان فرمایا کہ اختیار کس کے ہاتھ میں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، سب اللہ ہی کا ہے۔‘‘ یعنی فرشتے، انسان، جن، حیوانات، جمادات، افلاک وغیرہ اور آسمانوں میں زمین میں موجود تمام کی تمام اشیاء اللہ کی ملک اور اللہ کی مخلوق ہیں اور اس کی تدبیر کے تابع ہیں۔ وہ ان میں اس طرح تصرف کرتا ہے جس طرح بادشاہ اپنے ملک میں تصرف کرتا ہے۔ اس حکومت میں ان کا ایک ذرہ بھی نہیں۔ جب صورت حال یہ ہے تو وہ سب اس کی مغفرت او را س کے عذاب کے درمیان ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے اس کی مغفرت اس طرح فرماتا ہے کہ ہدایت دے کر اسلام میں داخل کردیتا ہے۔ اس طرح اس کا شرک معاف کردیتا ہے، اور اس پر یہ احسان فرماتا ہے کہ اسے گناہ ترک کرنے کی توفیق دیتا ہے اور اس طرح اس کے گناہ بھی معاف کردیتا ہے۔ ﴿ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتاہے‘‘ وہ اس طرح کہ اسے اس کے نفس کے حوالے کردیتا ہے۔ انسان کا نفس جاہل اور ظالم ہے جو برائیوں کے ارتکاب کا تقاضا کرتا ہے، چنانچہ انسان گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے گناہ کی سزا دے دیتا ہے۔آیت مبارکہ کو دو اسمائے مبارکہ پر ختم کیا گیا ہے جن سے اللہ کی رحمت کی وسعت، اس کی مغفرت کا لامحدود ہونا، اس کے احسان کی وسعت و عموم ظاہر ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اللہ بخشش کرنے والا مہربان ہے‘‘ اس میں بہت بڑا اشارہ ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اور اس کی مغفرت اس کے مواخذہ پر غالب ہے۔ اس آیت میں مخلوق کی حالت بیان کی گئی ہے کہ ان میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ بخش دیتاہے اور کسی کو عذاب دیتاہے لیکن آیت کے آخرمیں اس طرح کے دو اسمائے مبارکہ ذکر نہیں فرمائے کہ ایک سے اس کی رحمت ظاہر ہو اور دوسرے سے اس کا انتقام۔ پس اللہ تعالیٰ رحمت و احسان والا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر ایسے انداز سے رحمت فرمائے گا جو کسی انسان کے خیال میں بھی نہیں آسکتا۔ نہ اس کی کیفیت معلوم ہوسکتی ہے۔ ہم بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے دامن رحمت میں جگہ دے اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی اپنے نیک بندوں میں شامل فرمالے۔ (آمین)
آل عمران 3:130
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ تم سود دگنا چوگنا کر کے اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاؤ(130) اور ڈرو اس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے(131) اور اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی تاکہ تم رحم کیے جاؤ(132) اور جلدی کرو تم طرف بخشش کی، اپنے رب کی اور بہشت کی (طرف) کہ ہے عرض اس کا آسمان اور زمین، تیار کی گئی ہے وہ متقین کے لیے(133) وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور سختی میں اور پی جانے والے ہیں غصے کو اور معاف کر دینے والے ہیں لوگوں کواور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(134) اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھتے ہیں کوئی برائی یا وہ ظلم کر گزرتے ہیں اپنے آپ پر تو یاد کرتے ہیں اللہ کو اور بخشش مانگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور کون بخشتا ہے گناہوں کو سوائے اللہ کے؟ اور نہیں وہ اصرار کرتے اس پر جو انھوں نے کیا جبکہ وہ جانتے ہیں(135) یہ لوگ، بدلہ ان کا بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور باغات ہیں، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا(136)
[130] اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامر و نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندۂ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کر سکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہو جائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی حدود میں داخل ہے اور کیا چیز اس سے باہر ہے پھر اس کو ترک کرنے کی کوشش کرے اور اپنے رب سے مدد طلب کرے۔یہ ایسا اصول ہے جسے اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر اور نواہی میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ آیات کریمہ بھلائی کے ان احکام اور خصائل پر مشتمل ہیں جن کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم اور ان کی ترغیب دی ہے اور ان کے اجر و ثواب سے آگاہ فرمایا ہے اور ایسی منہیات پر مشتمل ہیں جن کو ترک کرنے کی اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے اور اُحد کے قصے کے درمیان ان آیات کو بیان کرنے کی حکمت شاید یہ ہے...واللہ اعلم...کہ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کے دشمنوں پر فتح دے گا اور ان کے دشمنوں کی مدد چھوڑ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾(آل عمران:3؍120) ’’اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔‘‘ فرمایا: ﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ ﴾(آل عمران : 3؍125) ’’کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور کفار تم پر اچانک زور کا حملہ کر دیں تو تمھارا رب تمھاری مدد کرے گا۔‘‘گویا نفوس انسانی تقویٰ کی خصائل کی معرفت کے مشتاق ہوئے، جن کے ذریعے سے فتح و نصرت اور فلاح و سعادت حاصل ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں تقویٰ کے اہم ترین خصائل کا ذکر فرمایا جن کو اگر بندۂ مومن قائم کر لے تو پھر دوسرے خصائل تقویٰ کو وہ بطریق اولیٰ اختیار کرے گا۔ ہمارے اس قول کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ’’تقویٰ‘‘ کا لفظ تین بار ذکر فرمایا ہے۔ ایک دفعہ بغیر کسی قید کے علی الاطلاق ذکر فرمایا ﴿اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ دو دفعہ تقویٰ کا ذکر مقید طور پر کیا ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو‘‘ ﴿ وَاتَّقُوا النَّارَ ﴾ ’’آگ سے ڈرو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی یوں آتا ہے ’’اے ایمان والو! فلاں کام کرو یا فلاں کام چھوڑ دو...‘‘ تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایمان ہی وہ سبب ہے جو اس حکم کی اطاعت کا داعی اور موجب ہے اور اس نواہی سے اجتناب کا باعث ہے، کیونکہ ایمان ان تمام امور کی تصدیق کامل کا نام ہے جن کی تصدیق واجب ہے اور اعضاء کے اعمال کو مستلزم ہے، چنانچہ انھیں کئی کئی گنا سود کھانے سے منع کیا۔ جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی عادت تھی یا وہ لوگ ہیں جو شرعی احکام کی پروا نہیں کرتے۔ زمانہ جاہلیت میں سود لینے کا طریقہ یہ تھا کہ جب تنگ دست مقروض کے قرض کی ادائیگی کا وقت ہو جاتا اور اس سے کچھ حاصل ہونے کی امید نہ ہوتی تو قرض خواہ اس سے کہتا کہ وہ یا تو اپنا قرض ادا کر دے یا قرض خواہ مدت بڑھا دے گا اور مقروض کے ذمہ جو رقم ہے اس میں اضافہ ہو جائے گا۔ پس تنگ دست مقروض مجبور ہو جاتا اور اپنی جان چھڑانے اور وقتی طور پر راحت کی خاطر قرض خواہ کی شرائط کا التزام کر لیتا۔ اس طرح اس کے ذمہ جو قرض ہوتا وہ، بغیر کسی فائدے کے، بڑھ کر کئی گنا ہو جاتا۔ پس اللہ تعالیٰ کے قول ﴿ اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَةً﴾ میں سود کی برائی پر سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے اور اس میں سود کی تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔ اور سود کی حرمت کی حکمت یہ ہے کہ اس میں بے انتہا ظلم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سود لینے سے روک دیا اور وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے کہ تنگ دست مقروض کومہلت دی جائے اور بغیر کسی اضافے کے اس کے ذمہ وہی قرض باقی رہنے دیا جائے جو اصل زر ہے اور اس پر اصل زر سے زیادہ رقم عائد کرنا سخت ظلم ہے۔ لہٰذا متقی مومن پر لازم ہے کہ وہ سود کو ترک کر دے اور اس کے قریب نہ جائے کیونکہ سود کو ترک کرنا موجبات تقویٰ میں سے ہے۔ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ۰۰﴾
[131]﴿وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی جہنم سے ڈرو اور ان تمام امور کو چھوڑ دو جو جہنم میں لے جاتے ہیں مثلاً کفر اور مختلف اقسام کے گناہ اور معاصی۔ کیونکہ تمام گناہ، خصوصاً کبیرہ گناہ کفر کی طرف لے جاتے ہیں بلکہ کبیرہ گناہ تو کفر کے خصائل ہیں جس کے حاملین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے اور گناہ اور معاصی کو ترک کرنا جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے اور خدائے جبار کی ناراضی سے بچاتا ہے۔ نیکی اور اطاعت کے افعال رحمٰن کی رضا، جنت میں دخول اور حصول رحمت کے موجب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[132]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت حصول رحمت کا سبب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ …﴾(الاعراف: 7؍156) ’’اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکاۃ دیتے ہیں۔‘‘
[133] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرنے کا حکم دیا ہے جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ تب اس کی لمبائی کا کیا حال ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس کو متقین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ متقین ہی اس جنت کے وارث ہیں اور اعمال تقویٰ ہی جنت تک پہنچاتے ہیں۔
[134] پھر اللہ تعالیٰ نے متقین اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِي السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ یعنی وہ تنگی اور فراخی میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، یعنی جب وہ مال دار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں کثرت سے خرچ کرتے ہیں اور جب وہ تنگدست ہوتے ہیں تو وہ نیکی کے کسی کام کو حقیر نہیں سمجھتے خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ ﴿ وَالۡــكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ ﴾ یعنی جب ان کو دوسروں کی طرف سے کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو ان کے غصے کا موجب ہوتی ہے۔ یہاں (غیظ) سے مراد ان کے دلوں کا ایسے غصے سے لبریز ہونا ہے جو قول و فعل کے ذریعے سے انتقام کا موجب ہوتا ہے۔ یہ اہل تقویٰ طبائع بشری کے ان تقاضوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں میں جو غصہ ہوتا ہے اسے دبا دیتے ہیں اور برا سلوک کرنے والے کے مقابلے میں صبر سے کام لیتے ہیں۔ ﴿وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ ﴾لوگوں کو معاف کر دینے میں ہر اس شخص کو معاف کردینا شامل ہے جو آپ کے ساتھ قول یا فعل کے ذریعے سے برائی سے پیش آتا ہے۔(عفو)(کظم) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ’’عفو‘‘ برائی کرنے والے سے درگزر کرنے کے ساتھ، مواخذہ ترک کرنے کا نام ہے۔ یہ سب کچھ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو اخلاق جمیلہ سے آراستہ اور عادات رذیلہ سے پاک کر لیا ہو اور وہ ان میں سے ہو جس کی تجارت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو۔ جو اللہ کے بندوں پر رحم اور احسان کرتے ہوئے اور اس خوف سے کہ کہیں ان کو برائی نہ پہنچے ان کو معاف کر دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے اور اس کا اجر اس کے رب کریم پر واجب ہو، نہ کہ اس بندۂ فقیر پر۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری : 42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے (بندۂ مومن کے) ایسے حال کا ذکر فرمایا ہے جو دیگر احوال سے زیادہ عام، احسن و اعلیٰ اور زیادہ جلیل القدر ہے اور وہ ہے احسان۔ فرمایا ﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘ احسان کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں احسان۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ احسان۔خالق کی عبودیت میں احسان کی تفسیر رسول اللہﷺنے ان الفاظ میں کی ہے: ’اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فِانْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاَکَ‘ (صحیح البخاری، الإيمان، سؤال جبریل النبیE …..، حديث: 5، وصحیح مسلم، الإيمان، حديث: 1)’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی بندگی اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو پھر وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ رہا مخلوق کے ساتھ احسان تو یہ ان کو دینی اور دنیاوی نفع پہنچانے اور ان سے دینی اور دنیاوی شر کو ہٹانے اور دور کرنے کا نام ہے، چنانچہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، جاہل کو تعلیم دینا، غافل کو وعظ ونصیحت کرنا، مسلمان عوام اور خواص کی خیر خواہی کرنا اور ان کو متحد رکھنے کی کوشش کرنا یہ تمام امور مخلوق کے ساتھ احسان کے زمرے میں آتے ہیں۔ نیز لوگوں کے مختلف احوال اور متباین اوصاف کے مطابق ان تک واجب اور مستحب صدقات وغیرہ پہنچانا بھی احسان ہی میں شامل ہے۔ پس سخاوت کرنا، لوگوں کی تکالیف رفع کرنا خود تکالیف برداشت کرنا احسان ہے۔ جیسا کہ انھی آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا وصف بیان فرمایا ہے۔ پس جس نے مذکورہ بالا امور کو قائم کیا اس نے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کو ادا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی اس معذرت کا ذکر فرمایا جو وہ اپنے جرائم اور گناہوں کے بارے میں اپنے رب کے سامنے پیش کرتے ہیں:
[135]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ یعنی جب کبھی ان سے کوئی بڑا یا چھوٹا گناہ صادر ہو جاتا ہے تو وہ فوراً توبہ اور استغفار کرتے ہیں، اور اپنے رب اور اس کی وعید کو یاد کرتے ہیں جو اس نے نافرمانوں کو سنا رکھی ہے اور اپنے رب کے اس وعدے کو یاد کرتے ہیں جو اس نے اہل تقویٰ سے کر رکھا ہے۔ پس وہ گناہوں کو ترک کرنے اور ان پر نادم ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس سے اپنے عیوب پر پردہ پوشی کا سوال کرتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ جانتے ہوئے اپنی بداعمالیوں پر اڑتے نہیں ہیں‘‘
[136]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ جَزَؔآؤُهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’ان کی جزا مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے۔‘‘ اور یہ مغفرت ان کے ہر گناہ کو زائل کر دے گی ﴿ وَجَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، شادمانی، خوبصورتی، رونق، بھلائی، مسرت، عالی شان محل، خوبصورت اور بلند منازل، پھلوں سے لدے ہوئے خوش کن درخت، اور ان خوبصورت مساکن و منازل میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے انھیں وہاں سے نکالا جائے گا نہ وہ ان جنتوں کے بدلے میں کچھ اور چاہیں گے اور نہ ان نعمتوں کو، جن میں وہ رہتے ہوں گے، بدلا جائے گا۔ ﴿ وَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ﴾ ’’اور عمل کرنے والوں کا اجر اچھا ہے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر تھوڑا عمل کیا مگر ان کو بہت زیادہ اجر عطا ہوا۔ مشقت برداشت کرنے کے بعد ہی راحت کی امید ہوتی ہے اور جزا کے وقت ہی عمل کرنے والے کو اپنے عمل کا پورا اور وافر بدلہ عطا ہوتا ہے۔یہ آیات کریمہ مرجئہ کے برعکس اہل سنت والجماعت کے اس موقف پر دلالت کرتی ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور آیت کریمہ سے استدلال کا پہلو سورۃ الحدید کی اس آیت کو ملا کر مکمل ہوتا ہے جو کہ اس آیت کی نظیر ہے ﴿ سَابِقُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾(الحدید: 57؍21) ’’اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کی چوڑائی کی مانند ہے جسے ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔‘‘اس آیت کریمہ میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جنت متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ پھر متقین کے اعمال مالیہ اور اعمال بدنیہ بیان فرمائے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ متقین، جو ان صفات سے متصف ہیں، وہی مومن ہیں۔
آل عمران 3:131
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ تم سود دگنا چوگنا کر کے اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاؤ(130) اور ڈرو اس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے(131) اور اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی تاکہ تم رحم کیے جاؤ(132) اور جلدی کرو تم طرف بخشش کی، اپنے رب کی اور بہشت کی (طرف) کہ ہے عرض اس کا آسمان اور زمین، تیار کی گئی ہے وہ متقین کے لیے(133) وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور سختی میں اور پی جانے والے ہیں غصے کو اور معاف کر دینے والے ہیں لوگوں کواور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(134) اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھتے ہیں کوئی برائی یا وہ ظلم کر گزرتے ہیں اپنے آپ پر تو یاد کرتے ہیں اللہ کو اور بخشش مانگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور کون بخشتا ہے گناہوں کو سوائے اللہ کے؟ اور نہیں وہ اصرار کرتے اس پر جو انھوں نے کیا جبکہ وہ جانتے ہیں(135) یہ لوگ، بدلہ ان کا بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور باغات ہیں، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا(136)
[130] اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامر و نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندۂ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کر سکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہو جائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی حدود میں داخل ہے اور کیا چیز اس سے باہر ہے پھر اس کو ترک کرنے کی کوشش کرے اور اپنے رب سے مدد طلب کرے۔یہ ایسا اصول ہے جسے اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر اور نواہی میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ آیات کریمہ بھلائی کے ان احکام اور خصائل پر مشتمل ہیں جن کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم اور ان کی ترغیب دی ہے اور ان کے اجر و ثواب سے آگاہ فرمایا ہے اور ایسی منہیات پر مشتمل ہیں جن کو ترک کرنے کی اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے اور اُحد کے قصے کے درمیان ان آیات کو بیان کرنے کی حکمت شاید یہ ہے...واللہ اعلم...کہ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کے دشمنوں پر فتح دے گا اور ان کے دشمنوں کی مدد چھوڑ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾(آل عمران:3؍120) ’’اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔‘‘ فرمایا: ﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ ﴾(آل عمران : 3؍125) ’’کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور کفار تم پر اچانک زور کا حملہ کر دیں تو تمھارا رب تمھاری مدد کرے گا۔‘‘گویا نفوس انسانی تقویٰ کی خصائل کی معرفت کے مشتاق ہوئے، جن کے ذریعے سے فتح و نصرت اور فلاح و سعادت حاصل ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں تقویٰ کے اہم ترین خصائل کا ذکر فرمایا جن کو اگر بندۂ مومن قائم کر لے تو پھر دوسرے خصائل تقویٰ کو وہ بطریق اولیٰ اختیار کرے گا۔ ہمارے اس قول کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ’’تقویٰ‘‘ کا لفظ تین بار ذکر فرمایا ہے۔ ایک دفعہ بغیر کسی قید کے علی الاطلاق ذکر فرمایا ﴿اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ دو دفعہ تقویٰ کا ذکر مقید طور پر کیا ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو‘‘ ﴿ وَاتَّقُوا النَّارَ ﴾ ’’آگ سے ڈرو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی یوں آتا ہے ’’اے ایمان والو! فلاں کام کرو یا فلاں کام چھوڑ دو...‘‘ تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایمان ہی وہ سبب ہے جو اس حکم کی اطاعت کا داعی اور موجب ہے اور اس نواہی سے اجتناب کا باعث ہے، کیونکہ ایمان ان تمام امور کی تصدیق کامل کا نام ہے جن کی تصدیق واجب ہے اور اعضاء کے اعمال کو مستلزم ہے، چنانچہ انھیں کئی کئی گنا سود کھانے سے منع کیا۔ جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی عادت تھی یا وہ لوگ ہیں جو شرعی احکام کی پروا نہیں کرتے۔ زمانہ جاہلیت میں سود لینے کا طریقہ یہ تھا کہ جب تنگ دست مقروض کے قرض کی ادائیگی کا وقت ہو جاتا اور اس سے کچھ حاصل ہونے کی امید نہ ہوتی تو قرض خواہ اس سے کہتا کہ وہ یا تو اپنا قرض ادا کر دے یا قرض خواہ مدت بڑھا دے گا اور مقروض کے ذمہ جو رقم ہے اس میں اضافہ ہو جائے گا۔ پس تنگ دست مقروض مجبور ہو جاتا اور اپنی جان چھڑانے اور وقتی طور پر راحت کی خاطر قرض خواہ کی شرائط کا التزام کر لیتا۔ اس طرح اس کے ذمہ جو قرض ہوتا وہ، بغیر کسی فائدے کے، بڑھ کر کئی گنا ہو جاتا۔ پس اللہ تعالیٰ کے قول ﴿ اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَةً﴾ میں سود کی برائی پر سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے اور اس میں سود کی تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔ اور سود کی حرمت کی حکمت یہ ہے کہ اس میں بے انتہا ظلم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سود لینے سے روک دیا اور وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے کہ تنگ دست مقروض کومہلت دی جائے اور بغیر کسی اضافے کے اس کے ذمہ وہی قرض باقی رہنے دیا جائے جو اصل زر ہے اور اس پر اصل زر سے زیادہ رقم عائد کرنا سخت ظلم ہے۔ لہٰذا متقی مومن پر لازم ہے کہ وہ سود کو ترک کر دے اور اس کے قریب نہ جائے کیونکہ سود کو ترک کرنا موجبات تقویٰ میں سے ہے۔ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ۰۰﴾
[131]﴿وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی جہنم سے ڈرو اور ان تمام امور کو چھوڑ دو جو جہنم میں لے جاتے ہیں مثلاً کفر اور مختلف اقسام کے گناہ اور معاصی۔ کیونکہ تمام گناہ، خصوصاً کبیرہ گناہ کفر کی طرف لے جاتے ہیں بلکہ کبیرہ گناہ تو کفر کے خصائل ہیں جس کے حاملین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے اور گناہ اور معاصی کو ترک کرنا جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے اور خدائے جبار کی ناراضی سے بچاتا ہے۔ نیکی اور اطاعت کے افعال رحمٰن کی رضا، جنت میں دخول اور حصول رحمت کے موجب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[132]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت حصول رحمت کا سبب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ …﴾(الاعراف: 7؍156) ’’اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکاۃ دیتے ہیں۔‘‘
[133] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرنے کا حکم دیا ہے جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ تب اس کی لمبائی کا کیا حال ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس کو متقین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ متقین ہی اس جنت کے وارث ہیں اور اعمال تقویٰ ہی جنت تک پہنچاتے ہیں۔
[134] پھر اللہ تعالیٰ نے متقین اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِي السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ یعنی وہ تنگی اور فراخی میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، یعنی جب وہ مال دار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں کثرت سے خرچ کرتے ہیں اور جب وہ تنگدست ہوتے ہیں تو وہ نیکی کے کسی کام کو حقیر نہیں سمجھتے خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ ﴿ وَالۡــكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ ﴾ یعنی جب ان کو دوسروں کی طرف سے کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو ان کے غصے کا موجب ہوتی ہے۔ یہاں (غیظ) سے مراد ان کے دلوں کا ایسے غصے سے لبریز ہونا ہے جو قول و فعل کے ذریعے سے انتقام کا موجب ہوتا ہے۔ یہ اہل تقویٰ طبائع بشری کے ان تقاضوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں میں جو غصہ ہوتا ہے اسے دبا دیتے ہیں اور برا سلوک کرنے والے کے مقابلے میں صبر سے کام لیتے ہیں۔ ﴿وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ ﴾لوگوں کو معاف کر دینے میں ہر اس شخص کو معاف کردینا شامل ہے جو آپ کے ساتھ قول یا فعل کے ذریعے سے برائی سے پیش آتا ہے۔(عفو)(کظم) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ’’عفو‘‘ برائی کرنے والے سے درگزر کرنے کے ساتھ، مواخذہ ترک کرنے کا نام ہے۔ یہ سب کچھ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو اخلاق جمیلہ سے آراستہ اور عادات رذیلہ سے پاک کر لیا ہو اور وہ ان میں سے ہو جس کی تجارت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو۔ جو اللہ کے بندوں پر رحم اور احسان کرتے ہوئے اور اس خوف سے کہ کہیں ان کو برائی نہ پہنچے ان کو معاف کر دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے اور اس کا اجر اس کے رب کریم پر واجب ہو، نہ کہ اس بندۂ فقیر پر۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری : 42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے (بندۂ مومن کے) ایسے حال کا ذکر فرمایا ہے جو دیگر احوال سے زیادہ عام، احسن و اعلیٰ اور زیادہ جلیل القدر ہے اور وہ ہے احسان۔ فرمایا ﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘ احسان کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں احسان۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ احسان۔خالق کی عبودیت میں احسان کی تفسیر رسول اللہﷺنے ان الفاظ میں کی ہے: ’اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فِانْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاَکَ‘ (صحیح البخاری، الإيمان، سؤال جبریل النبیE …..، حديث: 5، وصحیح مسلم، الإيمان، حديث: 1)’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی بندگی اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو پھر وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ رہا مخلوق کے ساتھ احسان تو یہ ان کو دینی اور دنیاوی نفع پہنچانے اور ان سے دینی اور دنیاوی شر کو ہٹانے اور دور کرنے کا نام ہے، چنانچہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، جاہل کو تعلیم دینا، غافل کو وعظ ونصیحت کرنا، مسلمان عوام اور خواص کی خیر خواہی کرنا اور ان کو متحد رکھنے کی کوشش کرنا یہ تمام امور مخلوق کے ساتھ احسان کے زمرے میں آتے ہیں۔ نیز لوگوں کے مختلف احوال اور متباین اوصاف کے مطابق ان تک واجب اور مستحب صدقات وغیرہ پہنچانا بھی احسان ہی میں شامل ہے۔ پس سخاوت کرنا، لوگوں کی تکالیف رفع کرنا خود تکالیف برداشت کرنا احسان ہے۔ جیسا کہ انھی آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا وصف بیان فرمایا ہے۔ پس جس نے مذکورہ بالا امور کو قائم کیا اس نے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کو ادا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی اس معذرت کا ذکر فرمایا جو وہ اپنے جرائم اور گناہوں کے بارے میں اپنے رب کے سامنے پیش کرتے ہیں:
[135]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ یعنی جب کبھی ان سے کوئی بڑا یا چھوٹا گناہ صادر ہو جاتا ہے تو وہ فوراً توبہ اور استغفار کرتے ہیں، اور اپنے رب اور اس کی وعید کو یاد کرتے ہیں جو اس نے نافرمانوں کو سنا رکھی ہے اور اپنے رب کے اس وعدے کو یاد کرتے ہیں جو اس نے اہل تقویٰ سے کر رکھا ہے۔ پس وہ گناہوں کو ترک کرنے اور ان پر نادم ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس سے اپنے عیوب پر پردہ پوشی کا سوال کرتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ جانتے ہوئے اپنی بداعمالیوں پر اڑتے نہیں ہیں‘‘
[136]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ جَزَؔآؤُهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’ان کی جزا مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے۔‘‘ اور یہ مغفرت ان کے ہر گناہ کو زائل کر دے گی ﴿ وَجَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، شادمانی، خوبصورتی، رونق، بھلائی، مسرت، عالی شان محل، خوبصورت اور بلند منازل، پھلوں سے لدے ہوئے خوش کن درخت، اور ان خوبصورت مساکن و منازل میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے انھیں وہاں سے نکالا جائے گا نہ وہ ان جنتوں کے بدلے میں کچھ اور چاہیں گے اور نہ ان نعمتوں کو، جن میں وہ رہتے ہوں گے، بدلا جائے گا۔ ﴿ وَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ﴾ ’’اور عمل کرنے والوں کا اجر اچھا ہے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر تھوڑا عمل کیا مگر ان کو بہت زیادہ اجر عطا ہوا۔ مشقت برداشت کرنے کے بعد ہی راحت کی امید ہوتی ہے اور جزا کے وقت ہی عمل کرنے والے کو اپنے عمل کا پورا اور وافر بدلہ عطا ہوتا ہے۔یہ آیات کریمہ مرجئہ کے برعکس اہل سنت والجماعت کے اس موقف پر دلالت کرتی ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور آیت کریمہ سے استدلال کا پہلو سورۃ الحدید کی اس آیت کو ملا کر مکمل ہوتا ہے جو کہ اس آیت کی نظیر ہے ﴿ سَابِقُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾(الحدید: 57؍21) ’’اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کی چوڑائی کی مانند ہے جسے ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔‘‘اس آیت کریمہ میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جنت متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ پھر متقین کے اعمال مالیہ اور اعمال بدنیہ بیان فرمائے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ متقین، جو ان صفات سے متصف ہیں، وہی مومن ہیں۔
آل عمران 3:132
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ تم سود دگنا چوگنا کر کے اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاؤ(130) اور ڈرو اس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے(131) اور اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی تاکہ تم رحم کیے جاؤ(132) اور جلدی کرو تم طرف بخشش کی، اپنے رب کی اور بہشت کی (طرف) کہ ہے عرض اس کا آسمان اور زمین، تیار کی گئی ہے وہ متقین کے لیے(133) وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور سختی میں اور پی جانے والے ہیں غصے کو اور معاف کر دینے والے ہیں لوگوں کواور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(134) اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھتے ہیں کوئی برائی یا وہ ظلم کر گزرتے ہیں اپنے آپ پر تو یاد کرتے ہیں اللہ کو اور بخشش مانگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور کون بخشتا ہے گناہوں کو سوائے اللہ کے؟ اور نہیں وہ اصرار کرتے اس پر جو انھوں نے کیا جبکہ وہ جانتے ہیں(135) یہ لوگ، بدلہ ان کا بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور باغات ہیں، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا(136)
[130] اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامر و نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندۂ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کر سکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہو جائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی حدود میں داخل ہے اور کیا چیز اس سے باہر ہے پھر اس کو ترک کرنے کی کوشش کرے اور اپنے رب سے مدد طلب کرے۔یہ ایسا اصول ہے جسے اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر اور نواہی میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ آیات کریمہ بھلائی کے ان احکام اور خصائل پر مشتمل ہیں جن کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم اور ان کی ترغیب دی ہے اور ان کے اجر و ثواب سے آگاہ فرمایا ہے اور ایسی منہیات پر مشتمل ہیں جن کو ترک کرنے کی اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے اور اُحد کے قصے کے درمیان ان آیات کو بیان کرنے کی حکمت شاید یہ ہے...واللہ اعلم...کہ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کے دشمنوں پر فتح دے گا اور ان کے دشمنوں کی مدد چھوڑ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾(آل عمران:3؍120) ’’اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔‘‘ فرمایا: ﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ ﴾(آل عمران : 3؍125) ’’کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور کفار تم پر اچانک زور کا حملہ کر دیں تو تمھارا رب تمھاری مدد کرے گا۔‘‘گویا نفوس انسانی تقویٰ کی خصائل کی معرفت کے مشتاق ہوئے، جن کے ذریعے سے فتح و نصرت اور فلاح و سعادت حاصل ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں تقویٰ کے اہم ترین خصائل کا ذکر فرمایا جن کو اگر بندۂ مومن قائم کر لے تو پھر دوسرے خصائل تقویٰ کو وہ بطریق اولیٰ اختیار کرے گا۔ ہمارے اس قول کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ’’تقویٰ‘‘ کا لفظ تین بار ذکر فرمایا ہے۔ ایک دفعہ بغیر کسی قید کے علی الاطلاق ذکر فرمایا ﴿اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ دو دفعہ تقویٰ کا ذکر مقید طور پر کیا ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو‘‘ ﴿ وَاتَّقُوا النَّارَ ﴾ ’’آگ سے ڈرو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی یوں آتا ہے ’’اے ایمان والو! فلاں کام کرو یا فلاں کام چھوڑ دو...‘‘ تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایمان ہی وہ سبب ہے جو اس حکم کی اطاعت کا داعی اور موجب ہے اور اس نواہی سے اجتناب کا باعث ہے، کیونکہ ایمان ان تمام امور کی تصدیق کامل کا نام ہے جن کی تصدیق واجب ہے اور اعضاء کے اعمال کو مستلزم ہے، چنانچہ انھیں کئی کئی گنا سود کھانے سے منع کیا۔ جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی عادت تھی یا وہ لوگ ہیں جو شرعی احکام کی پروا نہیں کرتے۔ زمانہ جاہلیت میں سود لینے کا طریقہ یہ تھا کہ جب تنگ دست مقروض کے قرض کی ادائیگی کا وقت ہو جاتا اور اس سے کچھ حاصل ہونے کی امید نہ ہوتی تو قرض خواہ اس سے کہتا کہ وہ یا تو اپنا قرض ادا کر دے یا قرض خواہ مدت بڑھا دے گا اور مقروض کے ذمہ جو رقم ہے اس میں اضافہ ہو جائے گا۔ پس تنگ دست مقروض مجبور ہو جاتا اور اپنی جان چھڑانے اور وقتی طور پر راحت کی خاطر قرض خواہ کی شرائط کا التزام کر لیتا۔ اس طرح اس کے ذمہ جو قرض ہوتا وہ، بغیر کسی فائدے کے، بڑھ کر کئی گنا ہو جاتا۔ پس اللہ تعالیٰ کے قول ﴿ اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَةً﴾ میں سود کی برائی پر سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے اور اس میں سود کی تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔ اور سود کی حرمت کی حکمت یہ ہے کہ اس میں بے انتہا ظلم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سود لینے سے روک دیا اور وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے کہ تنگ دست مقروض کومہلت دی جائے اور بغیر کسی اضافے کے اس کے ذمہ وہی قرض باقی رہنے دیا جائے جو اصل زر ہے اور اس پر اصل زر سے زیادہ رقم عائد کرنا سخت ظلم ہے۔ لہٰذا متقی مومن پر لازم ہے کہ وہ سود کو ترک کر دے اور اس کے قریب نہ جائے کیونکہ سود کو ترک کرنا موجبات تقویٰ میں سے ہے۔ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ۰۰﴾
[131]﴿وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی جہنم سے ڈرو اور ان تمام امور کو چھوڑ دو جو جہنم میں لے جاتے ہیں مثلاً کفر اور مختلف اقسام کے گناہ اور معاصی۔ کیونکہ تمام گناہ، خصوصاً کبیرہ گناہ کفر کی طرف لے جاتے ہیں بلکہ کبیرہ گناہ تو کفر کے خصائل ہیں جس کے حاملین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے اور گناہ اور معاصی کو ترک کرنا جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے اور خدائے جبار کی ناراضی سے بچاتا ہے۔ نیکی اور اطاعت کے افعال رحمٰن کی رضا، جنت میں دخول اور حصول رحمت کے موجب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[132]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت حصول رحمت کا سبب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ …﴾(الاعراف: 7؍156) ’’اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکاۃ دیتے ہیں۔‘‘
[133] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرنے کا حکم دیا ہے جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ تب اس کی لمبائی کا کیا حال ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس کو متقین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ متقین ہی اس جنت کے وارث ہیں اور اعمال تقویٰ ہی جنت تک پہنچاتے ہیں۔
[134] پھر اللہ تعالیٰ نے متقین اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِي السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ یعنی وہ تنگی اور فراخی میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، یعنی جب وہ مال دار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں کثرت سے خرچ کرتے ہیں اور جب وہ تنگدست ہوتے ہیں تو وہ نیکی کے کسی کام کو حقیر نہیں سمجھتے خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ ﴿ وَالۡــكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ ﴾ یعنی جب ان کو دوسروں کی طرف سے کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو ان کے غصے کا موجب ہوتی ہے۔ یہاں (غیظ) سے مراد ان کے دلوں کا ایسے غصے سے لبریز ہونا ہے جو قول و فعل کے ذریعے سے انتقام کا موجب ہوتا ہے۔ یہ اہل تقویٰ طبائع بشری کے ان تقاضوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں میں جو غصہ ہوتا ہے اسے دبا دیتے ہیں اور برا سلوک کرنے والے کے مقابلے میں صبر سے کام لیتے ہیں۔ ﴿وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ ﴾لوگوں کو معاف کر دینے میں ہر اس شخص کو معاف کردینا شامل ہے جو آپ کے ساتھ قول یا فعل کے ذریعے سے برائی سے پیش آتا ہے۔(عفو)(کظم) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ’’عفو‘‘ برائی کرنے والے سے درگزر کرنے کے ساتھ، مواخذہ ترک کرنے کا نام ہے۔ یہ سب کچھ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو اخلاق جمیلہ سے آراستہ اور عادات رذیلہ سے پاک کر لیا ہو اور وہ ان میں سے ہو جس کی تجارت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو۔ جو اللہ کے بندوں پر رحم اور احسان کرتے ہوئے اور اس خوف سے کہ کہیں ان کو برائی نہ پہنچے ان کو معاف کر دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے اور اس کا اجر اس کے رب کریم پر واجب ہو، نہ کہ اس بندۂ فقیر پر۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری : 42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے (بندۂ مومن کے) ایسے حال کا ذکر فرمایا ہے جو دیگر احوال سے زیادہ عام، احسن و اعلیٰ اور زیادہ جلیل القدر ہے اور وہ ہے احسان۔ فرمایا ﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘ احسان کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں احسان۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ احسان۔خالق کی عبودیت میں احسان کی تفسیر رسول اللہﷺنے ان الفاظ میں کی ہے: ’اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فِانْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاَکَ‘ (صحیح البخاری، الإيمان، سؤال جبریل النبیE …..، حديث: 5، وصحیح مسلم، الإيمان، حديث: 1)’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی بندگی اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو پھر وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ رہا مخلوق کے ساتھ احسان تو یہ ان کو دینی اور دنیاوی نفع پہنچانے اور ان سے دینی اور دنیاوی شر کو ہٹانے اور دور کرنے کا نام ہے، چنانچہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، جاہل کو تعلیم دینا، غافل کو وعظ ونصیحت کرنا، مسلمان عوام اور خواص کی خیر خواہی کرنا اور ان کو متحد رکھنے کی کوشش کرنا یہ تمام امور مخلوق کے ساتھ احسان کے زمرے میں آتے ہیں۔ نیز لوگوں کے مختلف احوال اور متباین اوصاف کے مطابق ان تک واجب اور مستحب صدقات وغیرہ پہنچانا بھی احسان ہی میں شامل ہے۔ پس سخاوت کرنا، لوگوں کی تکالیف رفع کرنا خود تکالیف برداشت کرنا احسان ہے۔ جیسا کہ انھی آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا وصف بیان فرمایا ہے۔ پس جس نے مذکورہ بالا امور کو قائم کیا اس نے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کو ادا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی اس معذرت کا ذکر فرمایا جو وہ اپنے جرائم اور گناہوں کے بارے میں اپنے رب کے سامنے پیش کرتے ہیں:
[135]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ یعنی جب کبھی ان سے کوئی بڑا یا چھوٹا گناہ صادر ہو جاتا ہے تو وہ فوراً توبہ اور استغفار کرتے ہیں، اور اپنے رب اور اس کی وعید کو یاد کرتے ہیں جو اس نے نافرمانوں کو سنا رکھی ہے اور اپنے رب کے اس وعدے کو یاد کرتے ہیں جو اس نے اہل تقویٰ سے کر رکھا ہے۔ پس وہ گناہوں کو ترک کرنے اور ان پر نادم ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس سے اپنے عیوب پر پردہ پوشی کا سوال کرتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ جانتے ہوئے اپنی بداعمالیوں پر اڑتے نہیں ہیں‘‘
[136]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ جَزَؔآؤُهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’ان کی جزا مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے۔‘‘ اور یہ مغفرت ان کے ہر گناہ کو زائل کر دے گی ﴿ وَجَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، شادمانی، خوبصورتی، رونق، بھلائی، مسرت، عالی شان محل، خوبصورت اور بلند منازل، پھلوں سے لدے ہوئے خوش کن درخت، اور ان خوبصورت مساکن و منازل میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے انھیں وہاں سے نکالا جائے گا نہ وہ ان جنتوں کے بدلے میں کچھ اور چاہیں گے اور نہ ان نعمتوں کو، جن میں وہ رہتے ہوں گے، بدلا جائے گا۔ ﴿ وَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ﴾ ’’اور عمل کرنے والوں کا اجر اچھا ہے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر تھوڑا عمل کیا مگر ان کو بہت زیادہ اجر عطا ہوا۔ مشقت برداشت کرنے کے بعد ہی راحت کی امید ہوتی ہے اور جزا کے وقت ہی عمل کرنے والے کو اپنے عمل کا پورا اور وافر بدلہ عطا ہوتا ہے۔یہ آیات کریمہ مرجئہ کے برعکس اہل سنت والجماعت کے اس موقف پر دلالت کرتی ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور آیت کریمہ سے استدلال کا پہلو سورۃ الحدید کی اس آیت کو ملا کر مکمل ہوتا ہے جو کہ اس آیت کی نظیر ہے ﴿ سَابِقُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾(الحدید: 57؍21) ’’اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کی چوڑائی کی مانند ہے جسے ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔‘‘اس آیت کریمہ میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جنت متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ پھر متقین کے اعمال مالیہ اور اعمال بدنیہ بیان فرمائے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ متقین، جو ان صفات سے متصف ہیں، وہی مومن ہیں۔
آل عمران 3:133
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ تم سود دگنا چوگنا کر کے اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاؤ(130) اور ڈرو اس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے(131) اور اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی تاکہ تم رحم کیے جاؤ(132) اور جلدی کرو تم طرف بخشش کی، اپنے رب کی اور بہشت کی (طرف) کہ ہے عرض اس کا آسمان اور زمین، تیار کی گئی ہے وہ متقین کے لیے(133) وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور سختی میں اور پی جانے والے ہیں غصے کو اور معاف کر دینے والے ہیں لوگوں کواور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(134) اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھتے ہیں کوئی برائی یا وہ ظلم کر گزرتے ہیں اپنے آپ پر تو یاد کرتے ہیں اللہ کو اور بخشش مانگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور کون بخشتا ہے گناہوں کو سوائے اللہ کے؟ اور نہیں وہ اصرار کرتے اس پر جو انھوں نے کیا جبکہ وہ جانتے ہیں(135) یہ لوگ، بدلہ ان کا بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور باغات ہیں، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا(136)
[130] اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامر و نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندۂ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کر سکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہو جائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی حدود میں داخل ہے اور کیا چیز اس سے باہر ہے پھر اس کو ترک کرنے کی کوشش کرے اور اپنے رب سے مدد طلب کرے۔یہ ایسا اصول ہے جسے اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر اور نواہی میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ آیات کریمہ بھلائی کے ان احکام اور خصائل پر مشتمل ہیں جن کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم اور ان کی ترغیب دی ہے اور ان کے اجر و ثواب سے آگاہ فرمایا ہے اور ایسی منہیات پر مشتمل ہیں جن کو ترک کرنے کی اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے اور اُحد کے قصے کے درمیان ان آیات کو بیان کرنے کی حکمت شاید یہ ہے...واللہ اعلم...کہ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کے دشمنوں پر فتح دے گا اور ان کے دشمنوں کی مدد چھوڑ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾(آل عمران:3؍120) ’’اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔‘‘ فرمایا: ﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ ﴾(آل عمران : 3؍125) ’’کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور کفار تم پر اچانک زور کا حملہ کر دیں تو تمھارا رب تمھاری مدد کرے گا۔‘‘گویا نفوس انسانی تقویٰ کی خصائل کی معرفت کے مشتاق ہوئے، جن کے ذریعے سے فتح و نصرت اور فلاح و سعادت حاصل ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں تقویٰ کے اہم ترین خصائل کا ذکر فرمایا جن کو اگر بندۂ مومن قائم کر لے تو پھر دوسرے خصائل تقویٰ کو وہ بطریق اولیٰ اختیار کرے گا۔ ہمارے اس قول کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ’’تقویٰ‘‘ کا لفظ تین بار ذکر فرمایا ہے۔ ایک دفعہ بغیر کسی قید کے علی الاطلاق ذکر فرمایا ﴿اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ دو دفعہ تقویٰ کا ذکر مقید طور پر کیا ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو‘‘ ﴿ وَاتَّقُوا النَّارَ ﴾ ’’آگ سے ڈرو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی یوں آتا ہے ’’اے ایمان والو! فلاں کام کرو یا فلاں کام چھوڑ دو...‘‘ تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایمان ہی وہ سبب ہے جو اس حکم کی اطاعت کا داعی اور موجب ہے اور اس نواہی سے اجتناب کا باعث ہے، کیونکہ ایمان ان تمام امور کی تصدیق کامل کا نام ہے جن کی تصدیق واجب ہے اور اعضاء کے اعمال کو مستلزم ہے، چنانچہ انھیں کئی کئی گنا سود کھانے سے منع کیا۔ جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی عادت تھی یا وہ لوگ ہیں جو شرعی احکام کی پروا نہیں کرتے۔ زمانہ جاہلیت میں سود لینے کا طریقہ یہ تھا کہ جب تنگ دست مقروض کے قرض کی ادائیگی کا وقت ہو جاتا اور اس سے کچھ حاصل ہونے کی امید نہ ہوتی تو قرض خواہ اس سے کہتا کہ وہ یا تو اپنا قرض ادا کر دے یا قرض خواہ مدت بڑھا دے گا اور مقروض کے ذمہ جو رقم ہے اس میں اضافہ ہو جائے گا۔ پس تنگ دست مقروض مجبور ہو جاتا اور اپنی جان چھڑانے اور وقتی طور پر راحت کی خاطر قرض خواہ کی شرائط کا التزام کر لیتا۔ اس طرح اس کے ذمہ جو قرض ہوتا وہ، بغیر کسی فائدے کے، بڑھ کر کئی گنا ہو جاتا۔ پس اللہ تعالیٰ کے قول ﴿ اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَةً﴾ میں سود کی برائی پر سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے اور اس میں سود کی تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔ اور سود کی حرمت کی حکمت یہ ہے کہ اس میں بے انتہا ظلم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سود لینے سے روک دیا اور وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے کہ تنگ دست مقروض کومہلت دی جائے اور بغیر کسی اضافے کے اس کے ذمہ وہی قرض باقی رہنے دیا جائے جو اصل زر ہے اور اس پر اصل زر سے زیادہ رقم عائد کرنا سخت ظلم ہے۔ لہٰذا متقی مومن پر لازم ہے کہ وہ سود کو ترک کر دے اور اس کے قریب نہ جائے کیونکہ سود کو ترک کرنا موجبات تقویٰ میں سے ہے۔ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ۰۰﴾
[131]﴿وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی جہنم سے ڈرو اور ان تمام امور کو چھوڑ دو جو جہنم میں لے جاتے ہیں مثلاً کفر اور مختلف اقسام کے گناہ اور معاصی۔ کیونکہ تمام گناہ، خصوصاً کبیرہ گناہ کفر کی طرف لے جاتے ہیں بلکہ کبیرہ گناہ تو کفر کے خصائل ہیں جس کے حاملین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے اور گناہ اور معاصی کو ترک کرنا جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے اور خدائے جبار کی ناراضی سے بچاتا ہے۔ نیکی اور اطاعت کے افعال رحمٰن کی رضا، جنت میں دخول اور حصول رحمت کے موجب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[132]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت حصول رحمت کا سبب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ …﴾(الاعراف: 7؍156) ’’اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکاۃ دیتے ہیں۔‘‘
[133] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرنے کا حکم دیا ہے جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ تب اس کی لمبائی کا کیا حال ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس کو متقین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ متقین ہی اس جنت کے وارث ہیں اور اعمال تقویٰ ہی جنت تک پہنچاتے ہیں۔
[134] پھر اللہ تعالیٰ نے متقین اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِي السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ یعنی وہ تنگی اور فراخی میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، یعنی جب وہ مال دار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں کثرت سے خرچ کرتے ہیں اور جب وہ تنگدست ہوتے ہیں تو وہ نیکی کے کسی کام کو حقیر نہیں سمجھتے خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ ﴿ وَالۡــكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ ﴾ یعنی جب ان کو دوسروں کی طرف سے کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو ان کے غصے کا موجب ہوتی ہے۔ یہاں (غیظ) سے مراد ان کے دلوں کا ایسے غصے سے لبریز ہونا ہے جو قول و فعل کے ذریعے سے انتقام کا موجب ہوتا ہے۔ یہ اہل تقویٰ طبائع بشری کے ان تقاضوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں میں جو غصہ ہوتا ہے اسے دبا دیتے ہیں اور برا سلوک کرنے والے کے مقابلے میں صبر سے کام لیتے ہیں۔ ﴿وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ ﴾لوگوں کو معاف کر دینے میں ہر اس شخص کو معاف کردینا شامل ہے جو آپ کے ساتھ قول یا فعل کے ذریعے سے برائی سے پیش آتا ہے۔(عفو)(کظم) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ’’عفو‘‘ برائی کرنے والے سے درگزر کرنے کے ساتھ، مواخذہ ترک کرنے کا نام ہے۔ یہ سب کچھ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو اخلاق جمیلہ سے آراستہ اور عادات رذیلہ سے پاک کر لیا ہو اور وہ ان میں سے ہو جس کی تجارت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو۔ جو اللہ کے بندوں پر رحم اور احسان کرتے ہوئے اور اس خوف سے کہ کہیں ان کو برائی نہ پہنچے ان کو معاف کر دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے اور اس کا اجر اس کے رب کریم پر واجب ہو، نہ کہ اس بندۂ فقیر پر۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری : 42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے (بندۂ مومن کے) ایسے حال کا ذکر فرمایا ہے جو دیگر احوال سے زیادہ عام، احسن و اعلیٰ اور زیادہ جلیل القدر ہے اور وہ ہے احسان۔ فرمایا ﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘ احسان کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں احسان۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ احسان۔خالق کی عبودیت میں احسان کی تفسیر رسول اللہﷺنے ان الفاظ میں کی ہے: ’اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فِانْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاَکَ‘ (صحیح البخاری، الإيمان، سؤال جبریل النبیE …..، حديث: 5، وصحیح مسلم، الإيمان، حديث: 1)’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی بندگی اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو پھر وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ رہا مخلوق کے ساتھ احسان تو یہ ان کو دینی اور دنیاوی نفع پہنچانے اور ان سے دینی اور دنیاوی شر کو ہٹانے اور دور کرنے کا نام ہے، چنانچہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، جاہل کو تعلیم دینا، غافل کو وعظ ونصیحت کرنا، مسلمان عوام اور خواص کی خیر خواہی کرنا اور ان کو متحد رکھنے کی کوشش کرنا یہ تمام امور مخلوق کے ساتھ احسان کے زمرے میں آتے ہیں۔ نیز لوگوں کے مختلف احوال اور متباین اوصاف کے مطابق ان تک واجب اور مستحب صدقات وغیرہ پہنچانا بھی احسان ہی میں شامل ہے۔ پس سخاوت کرنا، لوگوں کی تکالیف رفع کرنا خود تکالیف برداشت کرنا احسان ہے۔ جیسا کہ انھی آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا وصف بیان فرمایا ہے۔ پس جس نے مذکورہ بالا امور کو قائم کیا اس نے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کو ادا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی اس معذرت کا ذکر فرمایا جو وہ اپنے جرائم اور گناہوں کے بارے میں اپنے رب کے سامنے پیش کرتے ہیں:
[135]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ یعنی جب کبھی ان سے کوئی بڑا یا چھوٹا گناہ صادر ہو جاتا ہے تو وہ فوراً توبہ اور استغفار کرتے ہیں، اور اپنے رب اور اس کی وعید کو یاد کرتے ہیں جو اس نے نافرمانوں کو سنا رکھی ہے اور اپنے رب کے اس وعدے کو یاد کرتے ہیں جو اس نے اہل تقویٰ سے کر رکھا ہے۔ پس وہ گناہوں کو ترک کرنے اور ان پر نادم ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس سے اپنے عیوب پر پردہ پوشی کا سوال کرتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ جانتے ہوئے اپنی بداعمالیوں پر اڑتے نہیں ہیں‘‘
[136]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ جَزَؔآؤُهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’ان کی جزا مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے۔‘‘ اور یہ مغفرت ان کے ہر گناہ کو زائل کر دے گی ﴿ وَجَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، شادمانی، خوبصورتی، رونق، بھلائی، مسرت، عالی شان محل، خوبصورت اور بلند منازل، پھلوں سے لدے ہوئے خوش کن درخت، اور ان خوبصورت مساکن و منازل میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے انھیں وہاں سے نکالا جائے گا نہ وہ ان جنتوں کے بدلے میں کچھ اور چاہیں گے اور نہ ان نعمتوں کو، جن میں وہ رہتے ہوں گے، بدلا جائے گا۔ ﴿ وَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ﴾ ’’اور عمل کرنے والوں کا اجر اچھا ہے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر تھوڑا عمل کیا مگر ان کو بہت زیادہ اجر عطا ہوا۔ مشقت برداشت کرنے کے بعد ہی راحت کی امید ہوتی ہے اور جزا کے وقت ہی عمل کرنے والے کو اپنے عمل کا پورا اور وافر بدلہ عطا ہوتا ہے۔یہ آیات کریمہ مرجئہ کے برعکس اہل سنت والجماعت کے اس موقف پر دلالت کرتی ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور آیت کریمہ سے استدلال کا پہلو سورۃ الحدید کی اس آیت کو ملا کر مکمل ہوتا ہے جو کہ اس آیت کی نظیر ہے ﴿ سَابِقُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾(الحدید: 57؍21) ’’اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کی چوڑائی کی مانند ہے جسے ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔‘‘اس آیت کریمہ میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جنت متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ پھر متقین کے اعمال مالیہ اور اعمال بدنیہ بیان فرمائے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ متقین، جو ان صفات سے متصف ہیں، وہی مومن ہیں۔
آل عمران 3:134
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ تم سود دگنا چوگنا کر کے اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاؤ(130) اور ڈرو اس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے(131) اور اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی تاکہ تم رحم کیے جاؤ(132) اور جلدی کرو تم طرف بخشش کی، اپنے رب کی اور بہشت کی (طرف) کہ ہے عرض اس کا آسمان اور زمین، تیار کی گئی ہے وہ متقین کے لیے(133) وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور سختی میں اور پی جانے والے ہیں غصے کو اور معاف کر دینے والے ہیں لوگوں کواور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(134) اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھتے ہیں کوئی برائی یا وہ ظلم کر گزرتے ہیں اپنے آپ پر تو یاد کرتے ہیں اللہ کو اور بخشش مانگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور کون بخشتا ہے گناہوں کو سوائے اللہ کے؟ اور نہیں وہ اصرار کرتے اس پر جو انھوں نے کیا جبکہ وہ جانتے ہیں(135) یہ لوگ، بدلہ ان کا بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور باغات ہیں، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا(136)
[130] اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامر و نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندۂ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کر سکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہو جائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی حدود میں داخل ہے اور کیا چیز اس سے باہر ہے پھر اس کو ترک کرنے کی کوشش کرے اور اپنے رب سے مدد طلب کرے۔یہ ایسا اصول ہے جسے اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر اور نواہی میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ آیات کریمہ بھلائی کے ان احکام اور خصائل پر مشتمل ہیں جن کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم اور ان کی ترغیب دی ہے اور ان کے اجر و ثواب سے آگاہ فرمایا ہے اور ایسی منہیات پر مشتمل ہیں جن کو ترک کرنے کی اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے اور اُحد کے قصے کے درمیان ان آیات کو بیان کرنے کی حکمت شاید یہ ہے...واللہ اعلم...کہ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کے دشمنوں پر فتح دے گا اور ان کے دشمنوں کی مدد چھوڑ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾(آل عمران:3؍120) ’’اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔‘‘ فرمایا: ﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ ﴾(آل عمران : 3؍125) ’’کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور کفار تم پر اچانک زور کا حملہ کر دیں تو تمھارا رب تمھاری مدد کرے گا۔‘‘گویا نفوس انسانی تقویٰ کی خصائل کی معرفت کے مشتاق ہوئے، جن کے ذریعے سے فتح و نصرت اور فلاح و سعادت حاصل ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں تقویٰ کے اہم ترین خصائل کا ذکر فرمایا جن کو اگر بندۂ مومن قائم کر لے تو پھر دوسرے خصائل تقویٰ کو وہ بطریق اولیٰ اختیار کرے گا۔ ہمارے اس قول کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ’’تقویٰ‘‘ کا لفظ تین بار ذکر فرمایا ہے۔ ایک دفعہ بغیر کسی قید کے علی الاطلاق ذکر فرمایا ﴿اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ دو دفعہ تقویٰ کا ذکر مقید طور پر کیا ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو‘‘ ﴿ وَاتَّقُوا النَّارَ ﴾ ’’آگ سے ڈرو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی یوں آتا ہے ’’اے ایمان والو! فلاں کام کرو یا فلاں کام چھوڑ دو...‘‘ تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایمان ہی وہ سبب ہے جو اس حکم کی اطاعت کا داعی اور موجب ہے اور اس نواہی سے اجتناب کا باعث ہے، کیونکہ ایمان ان تمام امور کی تصدیق کامل کا نام ہے جن کی تصدیق واجب ہے اور اعضاء کے اعمال کو مستلزم ہے، چنانچہ انھیں کئی کئی گنا سود کھانے سے منع کیا۔ جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی عادت تھی یا وہ لوگ ہیں جو شرعی احکام کی پروا نہیں کرتے۔ زمانہ جاہلیت میں سود لینے کا طریقہ یہ تھا کہ جب تنگ دست مقروض کے قرض کی ادائیگی کا وقت ہو جاتا اور اس سے کچھ حاصل ہونے کی امید نہ ہوتی تو قرض خواہ اس سے کہتا کہ وہ یا تو اپنا قرض ادا کر دے یا قرض خواہ مدت بڑھا دے گا اور مقروض کے ذمہ جو رقم ہے اس میں اضافہ ہو جائے گا۔ پس تنگ دست مقروض مجبور ہو جاتا اور اپنی جان چھڑانے اور وقتی طور پر راحت کی خاطر قرض خواہ کی شرائط کا التزام کر لیتا۔ اس طرح اس کے ذمہ جو قرض ہوتا وہ، بغیر کسی فائدے کے، بڑھ کر کئی گنا ہو جاتا۔ پس اللہ تعالیٰ کے قول ﴿ اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَةً﴾ میں سود کی برائی پر سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے اور اس میں سود کی تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔ اور سود کی حرمت کی حکمت یہ ہے کہ اس میں بے انتہا ظلم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سود لینے سے روک دیا اور وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے کہ تنگ دست مقروض کومہلت دی جائے اور بغیر کسی اضافے کے اس کے ذمہ وہی قرض باقی رہنے دیا جائے جو اصل زر ہے اور اس پر اصل زر سے زیادہ رقم عائد کرنا سخت ظلم ہے۔ لہٰذا متقی مومن پر لازم ہے کہ وہ سود کو ترک کر دے اور اس کے قریب نہ جائے کیونکہ سود کو ترک کرنا موجبات تقویٰ میں سے ہے۔ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ۰۰﴾
[131]﴿وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی جہنم سے ڈرو اور ان تمام امور کو چھوڑ دو جو جہنم میں لے جاتے ہیں مثلاً کفر اور مختلف اقسام کے گناہ اور معاصی۔ کیونکہ تمام گناہ، خصوصاً کبیرہ گناہ کفر کی طرف لے جاتے ہیں بلکہ کبیرہ گناہ تو کفر کے خصائل ہیں جس کے حاملین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے اور گناہ اور معاصی کو ترک کرنا جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے اور خدائے جبار کی ناراضی سے بچاتا ہے۔ نیکی اور اطاعت کے افعال رحمٰن کی رضا، جنت میں دخول اور حصول رحمت کے موجب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[132]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت حصول رحمت کا سبب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ …﴾(الاعراف: 7؍156) ’’اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکاۃ دیتے ہیں۔‘‘
[133] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرنے کا حکم دیا ہے جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ تب اس کی لمبائی کا کیا حال ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس کو متقین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ متقین ہی اس جنت کے وارث ہیں اور اعمال تقویٰ ہی جنت تک پہنچاتے ہیں۔
[134] پھر اللہ تعالیٰ نے متقین اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِي السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ یعنی وہ تنگی اور فراخی میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، یعنی جب وہ مال دار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں کثرت سے خرچ کرتے ہیں اور جب وہ تنگدست ہوتے ہیں تو وہ نیکی کے کسی کام کو حقیر نہیں سمجھتے خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ ﴿ وَالۡــكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ ﴾ یعنی جب ان کو دوسروں کی طرف سے کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو ان کے غصے کا موجب ہوتی ہے۔ یہاں (غیظ) سے مراد ان کے دلوں کا ایسے غصے سے لبریز ہونا ہے جو قول و فعل کے ذریعے سے انتقام کا موجب ہوتا ہے۔ یہ اہل تقویٰ طبائع بشری کے ان تقاضوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں میں جو غصہ ہوتا ہے اسے دبا دیتے ہیں اور برا سلوک کرنے والے کے مقابلے میں صبر سے کام لیتے ہیں۔ ﴿وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ ﴾لوگوں کو معاف کر دینے میں ہر اس شخص کو معاف کردینا شامل ہے جو آپ کے ساتھ قول یا فعل کے ذریعے سے برائی سے پیش آتا ہے۔(عفو)(کظم) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ’’عفو‘‘ برائی کرنے والے سے درگزر کرنے کے ساتھ، مواخذہ ترک کرنے کا نام ہے۔ یہ سب کچھ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو اخلاق جمیلہ سے آراستہ اور عادات رذیلہ سے پاک کر لیا ہو اور وہ ان میں سے ہو جس کی تجارت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو۔ جو اللہ کے بندوں پر رحم اور احسان کرتے ہوئے اور اس خوف سے کہ کہیں ان کو برائی نہ پہنچے ان کو معاف کر دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے اور اس کا اجر اس کے رب کریم پر واجب ہو، نہ کہ اس بندۂ فقیر پر۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری : 42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے (بندۂ مومن کے) ایسے حال کا ذکر فرمایا ہے جو دیگر احوال سے زیادہ عام، احسن و اعلیٰ اور زیادہ جلیل القدر ہے اور وہ ہے احسان۔ فرمایا ﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘ احسان کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں احسان۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ احسان۔خالق کی عبودیت میں احسان کی تفسیر رسول اللہﷺنے ان الفاظ میں کی ہے: ’اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فِانْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاَکَ‘ (صحیح البخاری، الإيمان، سؤال جبریل النبیE …..، حديث: 5، وصحیح مسلم، الإيمان، حديث: 1)’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی بندگی اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو پھر وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ رہا مخلوق کے ساتھ احسان تو یہ ان کو دینی اور دنیاوی نفع پہنچانے اور ان سے دینی اور دنیاوی شر کو ہٹانے اور دور کرنے کا نام ہے، چنانچہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، جاہل کو تعلیم دینا، غافل کو وعظ ونصیحت کرنا، مسلمان عوام اور خواص کی خیر خواہی کرنا اور ان کو متحد رکھنے کی کوشش کرنا یہ تمام امور مخلوق کے ساتھ احسان کے زمرے میں آتے ہیں۔ نیز لوگوں کے مختلف احوال اور متباین اوصاف کے مطابق ان تک واجب اور مستحب صدقات وغیرہ پہنچانا بھی احسان ہی میں شامل ہے۔ پس سخاوت کرنا، لوگوں کی تکالیف رفع کرنا خود تکالیف برداشت کرنا احسان ہے۔ جیسا کہ انھی آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا وصف بیان فرمایا ہے۔ پس جس نے مذکورہ بالا امور کو قائم کیا اس نے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کو ادا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی اس معذرت کا ذکر فرمایا جو وہ اپنے جرائم اور گناہوں کے بارے میں اپنے رب کے سامنے پیش کرتے ہیں:
[135]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ یعنی جب کبھی ان سے کوئی بڑا یا چھوٹا گناہ صادر ہو جاتا ہے تو وہ فوراً توبہ اور استغفار کرتے ہیں، اور اپنے رب اور اس کی وعید کو یاد کرتے ہیں جو اس نے نافرمانوں کو سنا رکھی ہے اور اپنے رب کے اس وعدے کو یاد کرتے ہیں جو اس نے اہل تقویٰ سے کر رکھا ہے۔ پس وہ گناہوں کو ترک کرنے اور ان پر نادم ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس سے اپنے عیوب پر پردہ پوشی کا سوال کرتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ جانتے ہوئے اپنی بداعمالیوں پر اڑتے نہیں ہیں‘‘
[136]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ جَزَؔآؤُهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’ان کی جزا مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے۔‘‘ اور یہ مغفرت ان کے ہر گناہ کو زائل کر دے گی ﴿ وَجَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، شادمانی، خوبصورتی، رونق، بھلائی، مسرت، عالی شان محل، خوبصورت اور بلند منازل، پھلوں سے لدے ہوئے خوش کن درخت، اور ان خوبصورت مساکن و منازل میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے انھیں وہاں سے نکالا جائے گا نہ وہ ان جنتوں کے بدلے میں کچھ اور چاہیں گے اور نہ ان نعمتوں کو، جن میں وہ رہتے ہوں گے، بدلا جائے گا۔ ﴿ وَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ﴾ ’’اور عمل کرنے والوں کا اجر اچھا ہے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر تھوڑا عمل کیا مگر ان کو بہت زیادہ اجر عطا ہوا۔ مشقت برداشت کرنے کے بعد ہی راحت کی امید ہوتی ہے اور جزا کے وقت ہی عمل کرنے والے کو اپنے عمل کا پورا اور وافر بدلہ عطا ہوتا ہے۔یہ آیات کریمہ مرجئہ کے برعکس اہل سنت والجماعت کے اس موقف پر دلالت کرتی ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور آیت کریمہ سے استدلال کا پہلو سورۃ الحدید کی اس آیت کو ملا کر مکمل ہوتا ہے جو کہ اس آیت کی نظیر ہے ﴿ سَابِقُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾(الحدید: 57؍21) ’’اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کی چوڑائی کی مانند ہے جسے ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔‘‘اس آیت کریمہ میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جنت متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ پھر متقین کے اعمال مالیہ اور اعمال بدنیہ بیان فرمائے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ متقین، جو ان صفات سے متصف ہیں، وہی مومن ہیں۔
آل عمران 3:135
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ تم سود دگنا چوگنا کر کے اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاؤ(130) اور ڈرو اس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے(131) اور اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی تاکہ تم رحم کیے جاؤ(132) اور جلدی کرو تم طرف بخشش کی، اپنے رب کی اور بہشت کی (طرف) کہ ہے عرض اس کا آسمان اور زمین، تیار کی گئی ہے وہ متقین کے لیے(133) وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور سختی میں اور پی جانے والے ہیں غصے کو اور معاف کر دینے والے ہیں لوگوں کواور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(134) اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھتے ہیں کوئی برائی یا وہ ظلم کر گزرتے ہیں اپنے آپ پر تو یاد کرتے ہیں اللہ کو اور بخشش مانگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور کون بخشتا ہے گناہوں کو سوائے اللہ کے؟ اور نہیں وہ اصرار کرتے اس پر جو انھوں نے کیا جبکہ وہ جانتے ہیں(135) یہ لوگ، بدلہ ان کا بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور باغات ہیں، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا(136)
[130] اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامر و نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندۂ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کر سکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہو جائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی حدود میں داخل ہے اور کیا چیز اس سے باہر ہے پھر اس کو ترک کرنے کی کوشش کرے اور اپنے رب سے مدد طلب کرے۔یہ ایسا اصول ہے جسے اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر اور نواہی میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ آیات کریمہ بھلائی کے ان احکام اور خصائل پر مشتمل ہیں جن کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم اور ان کی ترغیب دی ہے اور ان کے اجر و ثواب سے آگاہ فرمایا ہے اور ایسی منہیات پر مشتمل ہیں جن کو ترک کرنے کی اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے اور اُحد کے قصے کے درمیان ان آیات کو بیان کرنے کی حکمت شاید یہ ہے...واللہ اعلم...کہ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کے دشمنوں پر فتح دے گا اور ان کے دشمنوں کی مدد چھوڑ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾(آل عمران:3؍120) ’’اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔‘‘ فرمایا: ﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ ﴾(آل عمران : 3؍125) ’’کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور کفار تم پر اچانک زور کا حملہ کر دیں تو تمھارا رب تمھاری مدد کرے گا۔‘‘گویا نفوس انسانی تقویٰ کی خصائل کی معرفت کے مشتاق ہوئے، جن کے ذریعے سے فتح و نصرت اور فلاح و سعادت حاصل ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں تقویٰ کے اہم ترین خصائل کا ذکر فرمایا جن کو اگر بندۂ مومن قائم کر لے تو پھر دوسرے خصائل تقویٰ کو وہ بطریق اولیٰ اختیار کرے گا۔ ہمارے اس قول کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ’’تقویٰ‘‘ کا لفظ تین بار ذکر فرمایا ہے۔ ایک دفعہ بغیر کسی قید کے علی الاطلاق ذکر فرمایا ﴿اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ دو دفعہ تقویٰ کا ذکر مقید طور پر کیا ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو‘‘ ﴿ وَاتَّقُوا النَّارَ ﴾ ’’آگ سے ڈرو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی یوں آتا ہے ’’اے ایمان والو! فلاں کام کرو یا فلاں کام چھوڑ دو...‘‘ تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایمان ہی وہ سبب ہے جو اس حکم کی اطاعت کا داعی اور موجب ہے اور اس نواہی سے اجتناب کا باعث ہے، کیونکہ ایمان ان تمام امور کی تصدیق کامل کا نام ہے جن کی تصدیق واجب ہے اور اعضاء کے اعمال کو مستلزم ہے، چنانچہ انھیں کئی کئی گنا سود کھانے سے منع کیا۔ جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی عادت تھی یا وہ لوگ ہیں جو شرعی احکام کی پروا نہیں کرتے۔ زمانہ جاہلیت میں سود لینے کا طریقہ یہ تھا کہ جب تنگ دست مقروض کے قرض کی ادائیگی کا وقت ہو جاتا اور اس سے کچھ حاصل ہونے کی امید نہ ہوتی تو قرض خواہ اس سے کہتا کہ وہ یا تو اپنا قرض ادا کر دے یا قرض خواہ مدت بڑھا دے گا اور مقروض کے ذمہ جو رقم ہے اس میں اضافہ ہو جائے گا۔ پس تنگ دست مقروض مجبور ہو جاتا اور اپنی جان چھڑانے اور وقتی طور پر راحت کی خاطر قرض خواہ کی شرائط کا التزام کر لیتا۔ اس طرح اس کے ذمہ جو قرض ہوتا وہ، بغیر کسی فائدے کے، بڑھ کر کئی گنا ہو جاتا۔ پس اللہ تعالیٰ کے قول ﴿ اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَةً﴾ میں سود کی برائی پر سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے اور اس میں سود کی تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔ اور سود کی حرمت کی حکمت یہ ہے کہ اس میں بے انتہا ظلم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سود لینے سے روک دیا اور وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے کہ تنگ دست مقروض کومہلت دی جائے اور بغیر کسی اضافے کے اس کے ذمہ وہی قرض باقی رہنے دیا جائے جو اصل زر ہے اور اس پر اصل زر سے زیادہ رقم عائد کرنا سخت ظلم ہے۔ لہٰذا متقی مومن پر لازم ہے کہ وہ سود کو ترک کر دے اور اس کے قریب نہ جائے کیونکہ سود کو ترک کرنا موجبات تقویٰ میں سے ہے۔ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ۰۰﴾
[131]﴿وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی جہنم سے ڈرو اور ان تمام امور کو چھوڑ دو جو جہنم میں لے جاتے ہیں مثلاً کفر اور مختلف اقسام کے گناہ اور معاصی۔ کیونکہ تمام گناہ، خصوصاً کبیرہ گناہ کفر کی طرف لے جاتے ہیں بلکہ کبیرہ گناہ تو کفر کے خصائل ہیں جس کے حاملین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے اور گناہ اور معاصی کو ترک کرنا جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے اور خدائے جبار کی ناراضی سے بچاتا ہے۔ نیکی اور اطاعت کے افعال رحمٰن کی رضا، جنت میں دخول اور حصول رحمت کے موجب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[132]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت حصول رحمت کا سبب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ …﴾(الاعراف: 7؍156) ’’اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکاۃ دیتے ہیں۔‘‘
[133] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرنے کا حکم دیا ہے جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ تب اس کی لمبائی کا کیا حال ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس کو متقین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ متقین ہی اس جنت کے وارث ہیں اور اعمال تقویٰ ہی جنت تک پہنچاتے ہیں۔
[134] پھر اللہ تعالیٰ نے متقین اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِي السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ یعنی وہ تنگی اور فراخی میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، یعنی جب وہ مال دار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں کثرت سے خرچ کرتے ہیں اور جب وہ تنگدست ہوتے ہیں تو وہ نیکی کے کسی کام کو حقیر نہیں سمجھتے خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ ﴿ وَالۡــكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ ﴾ یعنی جب ان کو دوسروں کی طرف سے کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو ان کے غصے کا موجب ہوتی ہے۔ یہاں (غیظ) سے مراد ان کے دلوں کا ایسے غصے سے لبریز ہونا ہے جو قول و فعل کے ذریعے سے انتقام کا موجب ہوتا ہے۔ یہ اہل تقویٰ طبائع بشری کے ان تقاضوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں میں جو غصہ ہوتا ہے اسے دبا دیتے ہیں اور برا سلوک کرنے والے کے مقابلے میں صبر سے کام لیتے ہیں۔ ﴿وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ ﴾لوگوں کو معاف کر دینے میں ہر اس شخص کو معاف کردینا شامل ہے جو آپ کے ساتھ قول یا فعل کے ذریعے سے برائی سے پیش آتا ہے۔(عفو)(کظم) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ’’عفو‘‘ برائی کرنے والے سے درگزر کرنے کے ساتھ، مواخذہ ترک کرنے کا نام ہے۔ یہ سب کچھ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو اخلاق جمیلہ سے آراستہ اور عادات رذیلہ سے پاک کر لیا ہو اور وہ ان میں سے ہو جس کی تجارت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو۔ جو اللہ کے بندوں پر رحم اور احسان کرتے ہوئے اور اس خوف سے کہ کہیں ان کو برائی نہ پہنچے ان کو معاف کر دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے اور اس کا اجر اس کے رب کریم پر واجب ہو، نہ کہ اس بندۂ فقیر پر۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری : 42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے (بندۂ مومن کے) ایسے حال کا ذکر فرمایا ہے جو دیگر احوال سے زیادہ عام، احسن و اعلیٰ اور زیادہ جلیل القدر ہے اور وہ ہے احسان۔ فرمایا ﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘ احسان کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں احسان۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ احسان۔خالق کی عبودیت میں احسان کی تفسیر رسول اللہﷺنے ان الفاظ میں کی ہے: ’اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فِانْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاَکَ‘ (صحیح البخاری، الإيمان، سؤال جبریل النبیE …..، حديث: 5، وصحیح مسلم، الإيمان، حديث: 1)’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی بندگی اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو پھر وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ رہا مخلوق کے ساتھ احسان تو یہ ان کو دینی اور دنیاوی نفع پہنچانے اور ان سے دینی اور دنیاوی شر کو ہٹانے اور دور کرنے کا نام ہے، چنانچہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، جاہل کو تعلیم دینا، غافل کو وعظ ونصیحت کرنا، مسلمان عوام اور خواص کی خیر خواہی کرنا اور ان کو متحد رکھنے کی کوشش کرنا یہ تمام امور مخلوق کے ساتھ احسان کے زمرے میں آتے ہیں۔ نیز لوگوں کے مختلف احوال اور متباین اوصاف کے مطابق ان تک واجب اور مستحب صدقات وغیرہ پہنچانا بھی احسان ہی میں شامل ہے۔ پس سخاوت کرنا، لوگوں کی تکالیف رفع کرنا خود تکالیف برداشت کرنا احسان ہے۔ جیسا کہ انھی آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا وصف بیان فرمایا ہے۔ پس جس نے مذکورہ بالا امور کو قائم کیا اس نے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کو ادا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی اس معذرت کا ذکر فرمایا جو وہ اپنے جرائم اور گناہوں کے بارے میں اپنے رب کے سامنے پیش کرتے ہیں:
[135]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ یعنی جب کبھی ان سے کوئی بڑا یا چھوٹا گناہ صادر ہو جاتا ہے تو وہ فوراً توبہ اور استغفار کرتے ہیں، اور اپنے رب اور اس کی وعید کو یاد کرتے ہیں جو اس نے نافرمانوں کو سنا رکھی ہے اور اپنے رب کے اس وعدے کو یاد کرتے ہیں جو اس نے اہل تقویٰ سے کر رکھا ہے۔ پس وہ گناہوں کو ترک کرنے اور ان پر نادم ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس سے اپنے عیوب پر پردہ پوشی کا سوال کرتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ جانتے ہوئے اپنی بداعمالیوں پر اڑتے نہیں ہیں‘‘
[136]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ جَزَؔآؤُهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’ان کی جزا مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے۔‘‘ اور یہ مغفرت ان کے ہر گناہ کو زائل کر دے گی ﴿ وَجَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، شادمانی، خوبصورتی، رونق، بھلائی، مسرت، عالی شان محل، خوبصورت اور بلند منازل، پھلوں سے لدے ہوئے خوش کن درخت، اور ان خوبصورت مساکن و منازل میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے انھیں وہاں سے نکالا جائے گا نہ وہ ان جنتوں کے بدلے میں کچھ اور چاہیں گے اور نہ ان نعمتوں کو، جن میں وہ رہتے ہوں گے، بدلا جائے گا۔ ﴿ وَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ﴾ ’’اور عمل کرنے والوں کا اجر اچھا ہے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر تھوڑا عمل کیا مگر ان کو بہت زیادہ اجر عطا ہوا۔ مشقت برداشت کرنے کے بعد ہی راحت کی امید ہوتی ہے اور جزا کے وقت ہی عمل کرنے والے کو اپنے عمل کا پورا اور وافر بدلہ عطا ہوتا ہے۔یہ آیات کریمہ مرجئہ کے برعکس اہل سنت والجماعت کے اس موقف پر دلالت کرتی ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور آیت کریمہ سے استدلال کا پہلو سورۃ الحدید کی اس آیت کو ملا کر مکمل ہوتا ہے جو کہ اس آیت کی نظیر ہے ﴿ سَابِقُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾(الحدید: 57؍21) ’’اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کی چوڑائی کی مانند ہے جسے ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔‘‘اس آیت کریمہ میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جنت متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ پھر متقین کے اعمال مالیہ اور اعمال بدنیہ بیان فرمائے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ متقین، جو ان صفات سے متصف ہیں، وہی مومن ہیں۔
آل عمران 3:136
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ تم سود دگنا چوگنا کر کے اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاؤ(130) اور ڈرو اس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے(131) اور اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی تاکہ تم رحم کیے جاؤ(132) اور جلدی کرو تم طرف بخشش کی، اپنے رب کی اور بہشت کی (طرف) کہ ہے عرض اس کا آسمان اور زمین، تیار کی گئی ہے وہ متقین کے لیے(133) وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور سختی میں اور پی جانے والے ہیں غصے کو اور معاف کر دینے والے ہیں لوگوں کواور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(134) اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھتے ہیں کوئی برائی یا وہ ظلم کر گزرتے ہیں اپنے آپ پر تو یاد کرتے ہیں اللہ کو اور بخشش مانگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور کون بخشتا ہے گناہوں کو سوائے اللہ کے؟ اور نہیں وہ اصرار کرتے اس پر جو انھوں نے کیا جبکہ وہ جانتے ہیں(135) یہ لوگ، بدلہ ان کا بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور باغات ہیں، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا(136)
[130] اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامر و نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندۂ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کر سکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہو جائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی حدود میں داخل ہے اور کیا چیز اس سے باہر ہے پھر اس کو ترک کرنے کی کوشش کرے اور اپنے رب سے مدد طلب کرے۔یہ ایسا اصول ہے جسے اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر اور نواہی میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ آیات کریمہ بھلائی کے ان احکام اور خصائل پر مشتمل ہیں جن کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم اور ان کی ترغیب دی ہے اور ان کے اجر و ثواب سے آگاہ فرمایا ہے اور ایسی منہیات پر مشتمل ہیں جن کو ترک کرنے کی اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے اور اُحد کے قصے کے درمیان ان آیات کو بیان کرنے کی حکمت شاید یہ ہے...واللہ اعلم...کہ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کے دشمنوں پر فتح دے گا اور ان کے دشمنوں کی مدد چھوڑ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾(آل عمران:3؍120) ’’اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔‘‘ فرمایا: ﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ ﴾(آل عمران : 3؍125) ’’کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور کفار تم پر اچانک زور کا حملہ کر دیں تو تمھارا رب تمھاری مدد کرے گا۔‘‘گویا نفوس انسانی تقویٰ کی خصائل کی معرفت کے مشتاق ہوئے، جن کے ذریعے سے فتح و نصرت اور فلاح و سعادت حاصل ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں تقویٰ کے اہم ترین خصائل کا ذکر فرمایا جن کو اگر بندۂ مومن قائم کر لے تو پھر دوسرے خصائل تقویٰ کو وہ بطریق اولیٰ اختیار کرے گا۔ ہمارے اس قول کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ’’تقویٰ‘‘ کا لفظ تین بار ذکر فرمایا ہے۔ ایک دفعہ بغیر کسی قید کے علی الاطلاق ذکر فرمایا ﴿اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ دو دفعہ تقویٰ کا ذکر مقید طور پر کیا ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو‘‘ ﴿ وَاتَّقُوا النَّارَ ﴾ ’’آگ سے ڈرو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی یوں آتا ہے ’’اے ایمان والو! فلاں کام کرو یا فلاں کام چھوڑ دو...‘‘ تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایمان ہی وہ سبب ہے جو اس حکم کی اطاعت کا داعی اور موجب ہے اور اس نواہی سے اجتناب کا باعث ہے، کیونکہ ایمان ان تمام امور کی تصدیق کامل کا نام ہے جن کی تصدیق واجب ہے اور اعضاء کے اعمال کو مستلزم ہے، چنانچہ انھیں کئی کئی گنا سود کھانے سے منع کیا۔ جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی عادت تھی یا وہ لوگ ہیں جو شرعی احکام کی پروا نہیں کرتے۔ زمانہ جاہلیت میں سود لینے کا طریقہ یہ تھا کہ جب تنگ دست مقروض کے قرض کی ادائیگی کا وقت ہو جاتا اور اس سے کچھ حاصل ہونے کی امید نہ ہوتی تو قرض خواہ اس سے کہتا کہ وہ یا تو اپنا قرض ادا کر دے یا قرض خواہ مدت بڑھا دے گا اور مقروض کے ذمہ جو رقم ہے اس میں اضافہ ہو جائے گا۔ پس تنگ دست مقروض مجبور ہو جاتا اور اپنی جان چھڑانے اور وقتی طور پر راحت کی خاطر قرض خواہ کی شرائط کا التزام کر لیتا۔ اس طرح اس کے ذمہ جو قرض ہوتا وہ، بغیر کسی فائدے کے، بڑھ کر کئی گنا ہو جاتا۔ پس اللہ تعالیٰ کے قول ﴿ اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَةً﴾ میں سود کی برائی پر سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے اور اس میں سود کی تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔ اور سود کی حرمت کی حکمت یہ ہے کہ اس میں بے انتہا ظلم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سود لینے سے روک دیا اور وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے کہ تنگ دست مقروض کومہلت دی جائے اور بغیر کسی اضافے کے اس کے ذمہ وہی قرض باقی رہنے دیا جائے جو اصل زر ہے اور اس پر اصل زر سے زیادہ رقم عائد کرنا سخت ظلم ہے۔ لہٰذا متقی مومن پر لازم ہے کہ وہ سود کو ترک کر دے اور اس کے قریب نہ جائے کیونکہ سود کو ترک کرنا موجبات تقویٰ میں سے ہے۔ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ۰۰﴾
[131]﴿وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی جہنم سے ڈرو اور ان تمام امور کو چھوڑ دو جو جہنم میں لے جاتے ہیں مثلاً کفر اور مختلف اقسام کے گناہ اور معاصی۔ کیونکہ تمام گناہ، خصوصاً کبیرہ گناہ کفر کی طرف لے جاتے ہیں بلکہ کبیرہ گناہ تو کفر کے خصائل ہیں جس کے حاملین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے اور گناہ اور معاصی کو ترک کرنا جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے اور خدائے جبار کی ناراضی سے بچاتا ہے۔ نیکی اور اطاعت کے افعال رحمٰن کی رضا، جنت میں دخول اور حصول رحمت کے موجب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[132]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت حصول رحمت کا سبب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ …﴾(الاعراف: 7؍156) ’’اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکاۃ دیتے ہیں۔‘‘
[133] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرنے کا حکم دیا ہے جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ تب اس کی لمبائی کا کیا حال ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس کو متقین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ متقین ہی اس جنت کے وارث ہیں اور اعمال تقویٰ ہی جنت تک پہنچاتے ہیں۔
[134] پھر اللہ تعالیٰ نے متقین اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِي السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ یعنی وہ تنگی اور فراخی میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، یعنی جب وہ مال دار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں کثرت سے خرچ کرتے ہیں اور جب وہ تنگدست ہوتے ہیں تو وہ نیکی کے کسی کام کو حقیر نہیں سمجھتے خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ ﴿ وَالۡــكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ ﴾ یعنی جب ان کو دوسروں کی طرف سے کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو ان کے غصے کا موجب ہوتی ہے۔ یہاں (غیظ) سے مراد ان کے دلوں کا ایسے غصے سے لبریز ہونا ہے جو قول و فعل کے ذریعے سے انتقام کا موجب ہوتا ہے۔ یہ اہل تقویٰ طبائع بشری کے ان تقاضوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں میں جو غصہ ہوتا ہے اسے دبا دیتے ہیں اور برا سلوک کرنے والے کے مقابلے میں صبر سے کام لیتے ہیں۔ ﴿وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ ﴾لوگوں کو معاف کر دینے میں ہر اس شخص کو معاف کردینا شامل ہے جو آپ کے ساتھ قول یا فعل کے ذریعے سے برائی سے پیش آتا ہے۔(عفو)(کظم) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ’’عفو‘‘ برائی کرنے والے سے درگزر کرنے کے ساتھ، مواخذہ ترک کرنے کا نام ہے۔ یہ سب کچھ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو اخلاق جمیلہ سے آراستہ اور عادات رذیلہ سے پاک کر لیا ہو اور وہ ان میں سے ہو جس کی تجارت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو۔ جو اللہ کے بندوں پر رحم اور احسان کرتے ہوئے اور اس خوف سے کہ کہیں ان کو برائی نہ پہنچے ان کو معاف کر دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے اور اس کا اجر اس کے رب کریم پر واجب ہو، نہ کہ اس بندۂ فقیر پر۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری : 42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے (بندۂ مومن کے) ایسے حال کا ذکر فرمایا ہے جو دیگر احوال سے زیادہ عام، احسن و اعلیٰ اور زیادہ جلیل القدر ہے اور وہ ہے احسان۔ فرمایا ﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘ احسان کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں احسان۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ احسان۔خالق کی عبودیت میں احسان کی تفسیر رسول اللہﷺنے ان الفاظ میں کی ہے: ’اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فِانْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاَکَ‘ (صحیح البخاری، الإيمان، سؤال جبریل النبیE …..، حديث: 5، وصحیح مسلم، الإيمان، حديث: 1)’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی بندگی اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو پھر وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ رہا مخلوق کے ساتھ احسان تو یہ ان کو دینی اور دنیاوی نفع پہنچانے اور ان سے دینی اور دنیاوی شر کو ہٹانے اور دور کرنے کا نام ہے، چنانچہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، جاہل کو تعلیم دینا، غافل کو وعظ ونصیحت کرنا، مسلمان عوام اور خواص کی خیر خواہی کرنا اور ان کو متحد رکھنے کی کوشش کرنا یہ تمام امور مخلوق کے ساتھ احسان کے زمرے میں آتے ہیں۔ نیز لوگوں کے مختلف احوال اور متباین اوصاف کے مطابق ان تک واجب اور مستحب صدقات وغیرہ پہنچانا بھی احسان ہی میں شامل ہے۔ پس سخاوت کرنا، لوگوں کی تکالیف رفع کرنا خود تکالیف برداشت کرنا احسان ہے۔ جیسا کہ انھی آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا وصف بیان فرمایا ہے۔ پس جس نے مذکورہ بالا امور کو قائم کیا اس نے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کو ادا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی اس معذرت کا ذکر فرمایا جو وہ اپنے جرائم اور گناہوں کے بارے میں اپنے رب کے سامنے پیش کرتے ہیں:
[135]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ یعنی جب کبھی ان سے کوئی بڑا یا چھوٹا گناہ صادر ہو جاتا ہے تو وہ فوراً توبہ اور استغفار کرتے ہیں، اور اپنے رب اور اس کی وعید کو یاد کرتے ہیں جو اس نے نافرمانوں کو سنا رکھی ہے اور اپنے رب کے اس وعدے کو یاد کرتے ہیں جو اس نے اہل تقویٰ سے کر رکھا ہے۔ پس وہ گناہوں کو ترک کرنے اور ان پر نادم ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس سے اپنے عیوب پر پردہ پوشی کا سوال کرتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ جانتے ہوئے اپنی بداعمالیوں پر اڑتے نہیں ہیں‘‘
[136]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ جَزَؔآؤُهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’ان کی جزا مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے۔‘‘ اور یہ مغفرت ان کے ہر گناہ کو زائل کر دے گی ﴿ وَجَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، شادمانی، خوبصورتی، رونق، بھلائی، مسرت، عالی شان محل، خوبصورت اور بلند منازل، پھلوں سے لدے ہوئے خوش کن درخت، اور ان خوبصورت مساکن و منازل میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے انھیں وہاں سے نکالا جائے گا نہ وہ ان جنتوں کے بدلے میں کچھ اور چاہیں گے اور نہ ان نعمتوں کو، جن میں وہ رہتے ہوں گے، بدلا جائے گا۔ ﴿ وَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ﴾ ’’اور عمل کرنے والوں کا اجر اچھا ہے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر تھوڑا عمل کیا مگر ان کو بہت زیادہ اجر عطا ہوا۔ مشقت برداشت کرنے کے بعد ہی راحت کی امید ہوتی ہے اور جزا کے وقت ہی عمل کرنے والے کو اپنے عمل کا پورا اور وافر بدلہ عطا ہوتا ہے۔یہ آیات کریمہ مرجئہ کے برعکس اہل سنت والجماعت کے اس موقف پر دلالت کرتی ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور آیت کریمہ سے استدلال کا پہلو سورۃ الحدید کی اس آیت کو ملا کر مکمل ہوتا ہے جو کہ اس آیت کی نظیر ہے ﴿ سَابِقُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾(الحدید: 57؍21) ’’اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کی چوڑائی کی مانند ہے جسے ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔‘‘اس آیت کریمہ میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’جنت متقین کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ پھر متقین کے اعمال مالیہ اور اعمال بدنیہ بیان فرمائے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ متقین، جو ان صفات سے متصف ہیں، وہی مومن ہیں۔
آل عمران 3:137
تحقیق گزر چکے تم سے پہلے کئی واقعات، پس سیر کرو تم زمین میں اور دیکھو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا(137) یہ وضاحت ہے واسطے لوگوں کے اور ہدایت اور نصیحت ہے واسطے متقیوں کے(138)
[137]یہ آیات کریمہ اور ان کے بعد آنے والی آیات ’’اُحد‘‘ کے واقعات کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے مومن بندوں کو تسلی دیتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں اور امتوں کو بھی امتحان میں ڈالا گیا اور اہل ایمان کفار کے ساتھ جنگ کی آزمائش میں مبتلا کیے گئے اور وہ بھی کبھی فتح سے نوازے گئے اورکبھی انھیں زک اٹھانا پڑی۔ مگراس تمام کشمکش کا انجام اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کے حق میں رکھا اور اپنے مومن بندوں کو فتح و نصرت سے نوازا۔ آخرکار جھٹلانے والوں پر غلبہ حاصل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو اپنی نصرت عطا کر کے جھٹلانے والوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔﴿ فَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’زمین میں چلو پھرو‘‘ یعنی اپنے جسم اور قلوب کے ساتھ (زمین میں چلو پھرو)﴿ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ ﴾ تم تکذیب کرنے والوں کو مختلف قسم کے دنیاوی عذاب اور عقوبتوں میں مبتلا پاؤ گے۔ ان کے شہر تباہ و برباد ہو گئے اور ان کا خسارہ سب پر عیاں ہوگیا۔ ان کی شان و شوکت اور اقتدار قصہ پارینہ بن گیا، ان کا تکبر اور فخر ختم ہوگیا۔ کیا یہ سب اس امر کی سب سے بڑی دلیل اور سب سے بڑا شاہد نہیں کہ جو کچھ انبیاء کرام لے کر مبعوث ہوئے وہ صداقت پر مبنی ہے؟بندوں کو آزمائش میں مبتلا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ سچوں اور جھوٹوں میں امتیاز ہو جائے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
[138]﴿ هٰؔذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ ﴾ یعنی یہ واضح دلیل ہے جو لوگوں کے سامنے باطل میں سے حق کو واضح کر دیتی ہے۔ اہل شقاوت میں سے اہل سعادت کو ممتاز کر دیتی ہے اور یہ اس عذاب کی طرف بھی اشارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو مبتلا کیا۔ ﴿ وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ اورمتقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے صرف یہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ آیات انھیں رشد و ہدایت کی راہ دکھاتی اور انھیں گمراہی کے راستے سے روکتی ہیں۔ رہے باقی لوگ تو یہ ان کے سامنے کھول کر بیان کر دینا ہے جس سے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت قائم ہو جاتی ہے تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کو جان کر ہلاک ہو۔نیز اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ﴿ هٰؔذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ ﴾ میں قرآن مجید اور ذکر حکیم کی طرف اشارہ ہو اور یہ کہ یہ عمومی طور پر تمام لوگوں کے لیے بیان ہے اور اہل تقویٰ کے لیے خاص طور پر ہدایت اور نصیحت ہے۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔
آل عمران 3:138
تحقیق گزر چکے تم سے پہلے کئی واقعات، پس سیر کرو تم زمین میں اور دیکھو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا(137) یہ وضاحت ہے واسطے لوگوں کے اور ہدایت اور نصیحت ہے واسطے متقیوں کے(138)
[137]یہ آیات کریمہ اور ان کے بعد آنے والی آیات ’’اُحد‘‘ کے واقعات کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے مومن بندوں کو تسلی دیتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں اور امتوں کو بھی امتحان میں ڈالا گیا اور اہل ایمان کفار کے ساتھ جنگ کی آزمائش میں مبتلا کیے گئے اور وہ بھی کبھی فتح سے نوازے گئے اورکبھی انھیں زک اٹھانا پڑی۔ مگراس تمام کشمکش کا انجام اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کے حق میں رکھا اور اپنے مومن بندوں کو فتح و نصرت سے نوازا۔ آخرکار جھٹلانے والوں پر غلبہ حاصل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو اپنی نصرت عطا کر کے جھٹلانے والوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔﴿ فَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’زمین میں چلو پھرو‘‘ یعنی اپنے جسم اور قلوب کے ساتھ (زمین میں چلو پھرو)﴿ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ ﴾ تم تکذیب کرنے والوں کو مختلف قسم کے دنیاوی عذاب اور عقوبتوں میں مبتلا پاؤ گے۔ ان کے شہر تباہ و برباد ہو گئے اور ان کا خسارہ سب پر عیاں ہوگیا۔ ان کی شان و شوکت اور اقتدار قصہ پارینہ بن گیا، ان کا تکبر اور فخر ختم ہوگیا۔ کیا یہ سب اس امر کی سب سے بڑی دلیل اور سب سے بڑا شاہد نہیں کہ جو کچھ انبیاء کرام لے کر مبعوث ہوئے وہ صداقت پر مبنی ہے؟بندوں کو آزمائش میں مبتلا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ سچوں اور جھوٹوں میں امتیاز ہو جائے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
[138]﴿ هٰؔذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ ﴾ یعنی یہ واضح دلیل ہے جو لوگوں کے سامنے باطل میں سے حق کو واضح کر دیتی ہے۔ اہل شقاوت میں سے اہل سعادت کو ممتاز کر دیتی ہے اور یہ اس عذاب کی طرف بھی اشارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو مبتلا کیا۔ ﴿ وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ اورمتقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے صرف یہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ آیات انھیں رشد و ہدایت کی راہ دکھاتی اور انھیں گمراہی کے راستے سے روکتی ہیں۔ رہے باقی لوگ تو یہ ان کے سامنے کھول کر بیان کر دینا ہے جس سے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت قائم ہو جاتی ہے تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کو جان کر ہلاک ہو۔نیز اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ﴿ هٰؔذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ ﴾ میں قرآن مجید اور ذکر حکیم کی طرف اشارہ ہو اور یہ کہ یہ عمومی طور پر تمام لوگوں کے لیے بیان ہے اور اہل تقویٰ کے لیے خاص طور پر ہدایت اور نصیحت ہے۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔
آل عمران 3:139
اور نہ ہمت ہارو تم اور نہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگر ہو تم مومن (139) اگر پہنچے تم کو کوئی زخم تو تحقیق پہنچ چکا ہے اس قوم (کافر) کو بھی زخم اس کی مثل اور یہ ایام، باری باری بدلتے رہتے ہیں ہم ان کو درمیان لوگوں کے اور تاکہ جان لے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تاکہ بنائے تم میں سے کچھ کو شہید اور اللہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو(140) اور تاکہ پاک صاف کر دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور مٹا دے کافروں کو(141) کیا گمان کیا تم نے یہ کہ داخل ہو جاؤ گے تم جنت میں، حالانکہ (ابھی) نہیں جانا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا تم میں سے اور یہ کہ جان لے وہ صبر کرنے والوں کو(142) اور البتہ تحقیق تھے تم آرزو کرتے موت کی پہلے اس کے کہ دوچار ہو تم اس سے، پس تحقیق مشاہدہ کیا تم نے اس کا جبکہ تم دیکھ رہے تھے(143)
[139] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا حوصلہ بڑھانے، ان کے عزائم مضبوط اور ان کے ارادوں کو بلند کرنے کے لیے فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَهِنُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا ﴾ یعنی تم اس مصیبت کے وقت جو تم پر نازل ہوئی ہے اور اس ابتلا پر جس سے تم دوچار ہوئے ہو جسمانی کمزوری اور دلی غم کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دلوں کا حزن و غم اور جسموں کی کمزوری، تمھارے لیے مصیبت میں اضافے اور دشمن کی مدد کا باعث ہوں گے بلکہ دلوں کو مضبوط رکھو اور ان میں استقامت پیدا کرو۔ حزن و غم کو اپنے دلوں سے نکال دو اور اپنے دشمن کے ساتھ قتال کے لیے سخت جان ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت اور اس کے ثواب کے امیدوار ہیں، اس لیے کمزوری اور حزن و غم کا مظاہرہ ان کے شایان شان نہیں۔ اس قسم کے رویے کا اظہار اس مومن کے لائق نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق دنیاوی اور اخروی ثواب کا طلب گار ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے اس ہزیمت پر ان کو تسلی دی، جو انھوں نے اٹھائی تھی اور ان عظیم حکمتوں کو بیان کیا جو اس ہزیمت پر مرتب ہوئیں، چنانچہ فرمایا:
[140]﴿اِنۡ يَّمۡسَسۡكُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُهٗ﴾ یعنی زخم کھانے کے اعتبار سے تم اور وہ برابر ہو۔ مگر تم اللہ تعالیٰ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ١ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ﴾(النساء:4؍104)’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے اور تم اللہ سے ایسی امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ مومن و کافر اور نیک و بد سب کو حصہ عطا کرتا ہے اور ان ایام کو لوگوں کے مابین ادلتا بدلتا رہتا ہے آج کامیابی ایک گروہ کے لیے ہے تو کل کسی اور گروہ کے لیے۔ کیونکہ یہ دنیا تو آخر کار ختم ہو جانے والی اور فانی ہے مگر اس کے برعکس آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے اور وہ صرف اہل ایمان کے لیے ہے۔﴿وَلِيَعۡلَمَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہزیمت اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ مومن اور منافق کے درمیان فرق واضح ہو جائے، کیونکہ اگر مومنوں کو تمام جنگوں میں فتح ہی حاصل ہوتی رہے تو اسلام میں ایسے لوگ بھی داخل ہو جائیں گے جو اسلام نہیں چاہتے۔ اگر بعض مواقع پر مسلمان آزمائش مومن میں مبتلا ہوں تو حقیقی مومن کا پتہ چل جاتا ہے جو مصیبت و مسرت، فراخی اور تنگی ہر حالت میں اسلام میں رغبت رکھتا ہے۔ ﴿وَيَتَّؔخِذَ مِنۡؔكُمۡ شُهَدَآءَؔ﴾ ’’اور تم میں سے گواہ بنائے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے، کیونکہ شہادت اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ترین مرتبہ ہے اور اس کے اسباب کے حصول کے بغیر وہاں تک پہنچنا ناممکن ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر رحمت ہے کہ وہ ان کے لیے اسباب مہیا کرتا ہے جو اگرچہ نفوس کو ناپسند ہوتے ہیں مگر ان اسباب کے ذریعے سے وہ اعلیٰ مراتب اور دائمی نعمتیں حاصل کر لیتے ہیں جو انھیں پسند ہیں۔ ﴿وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اللہ کے راستے میں جہاد کو چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ اَرَادُوا الۡخُرُوۡجَ لَاَعَدُّوۡا لَهٗ عُدَّةً وَّلٰكِنۡ كَرِهَ اللّٰهُ انۢۡبِعَاثَهُمۡ فَثَبَّطَهُمۡ وَقِيۡلَ اقۡعُدُوۡا مَعَ الۡقٰعِدِيۡنَ﴾(التوبۃ: 9؍46) ’’اگر وہ جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ کرتے تو وہ اس کے لیے سامان تیار کرتے مگر اللہ کو ان کا اٹھنا پسند نہ آیا اور ان کو اس سے باز رکھا اور کہا گیا کہ معذور بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔‘‘
[141]﴿وَلِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور یہ کہ اللہ ایمان والوں کو خالص (مومن) بنادے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ ان آزمائشوں کے ذریعے سے اہل ایمان کو گناہوں اور عیبوں سے پاک کرتا ہے۔ اور اس امر کی دلیل یہ ہے کہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جنگ کرنا گناہوں کو مٹا دیتے اور عیوب کو زائل کر دیتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو منافقین سے پاک کرتا ہے اور وہ منافقین سے الگ ہو جاتے ہیں اور وہ منافق اور مومن کو پہچان لیتے ہیں اور اس میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے یہ سب کچھ کفار کو مٹانے کے لیے مقرر کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے (جہاد کو) سزا کے ذریعے سے کفار کے استیصال کا سبب بنایا کیونکہ جب کفار فتح یاب ہوتے ہیں تو بغاوت کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں چنانچہ وہ اس دنیا ہی میں سزا کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ بھی مومن بندوں پر اللہ کی مہربانی ہے (کہ وہ منافقوں کو جلد ہی دنیا میں عبرت ناک انجام سے دوچار کر دیتا ہے)
[142] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَعۡلَمِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ جٰهَدُوۡا مِنۡكُمۡ وَيَعۡلَمَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارا خیال ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے، جبکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو بھی معلوم نہیں کیا جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور معلوم نہیں کیا ثابت قدم رہنے والوں کو؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ نہ سمجھ لینا اور نہ تمھارے دل میں یہ خیال آئے کہ تم کسی مشقت اور اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے لیے کوئی تکلیف اٹھائے بغیر جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ اس لیے کہ جنت بلند ترین منزل مقصود اور سب سے افضل مقام ہے جس کے حصول کے لیے مسابقت کی جاتی ہے۔ مطلوب و مقصود جتنا زیادہ بڑا ہو گا وہاں تک پہنچانے والا وسیلہ اور عمل بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔ پس راحت کو چھوڑ کر ہی دوسری راحت تک پہنچا جا سکتا ہے اور نعمت کو ترک کر کے ہی دوسری نعمت حاصل کی جا سکتی ہے۔دنیا کی تکالیف اور مشکلات، جن کا سامنا بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کرنا پڑتا ہے۔ نفس کو ان تکالیف کا عادی بنانے کے لیے ان کی مشق کروانے اور ان کی معرفت حاصل کرتے وقت اہل بصیرت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی نعمت بن جاتی ہیں جن پر وہ مسرت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی کوئی پروا نہیں کرتے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ پھر ایک ایسے معاملے میں جس کی وہ خود تمنا کیا کرتے تھے اور اسے حاصل کرنا چاہتے تھے، اس پر ان کے عدم صبر پر اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے چنانچہ فرمایا:
[143]﴿وَلَقَدۡ كُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡهُ﴾ ’’اور تم تو آرزو کرتے تھے مرنے کی اس کی ملاقات سے پہلے‘‘ اس آیت کریمہ کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ وہ صحابہ کرامyجو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے، وہ آرزو کیا کرتے تھے اگر اللہ تعالیٰ انھیں کسی معرکے میں شرکت کا موقع عطا کرے تو وہ اس میں اپنی جان لڑا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا ﴿فَقَدۡ رَاَيۡتُمُوۡهُ﴾ یعنی جس چیز کی تم تمنا کیا کرتے تھے تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ﴿وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ﴾ اب تمھیں کیا ہو گیا تم نے صبر کیوں چھوڑ دیا؟ یہ حالت خاص طور پر اس شخص کے لائق نہیں جو اس کی آرزو کیا کرتا تھا اور اسے وہ چیز حاصل ہو گئی ہو جس کی اسے آرزو تھی۔ اس پر تو واجب یہ ہے کہ اب وہ اس کے لیے اپنی پوری کوشش، جہد اور طاقت صرف کر دے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ شہادت کی تمنا کرنا ناجائز نہیں۔ اس میں استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آرزو پر برقرار رکھا اور ان کی آرزو کا انکار نہیں کیا۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے اس تمنا کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ان کے عمل نہ کرنے پر نکیر کی ہے۔ وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔
آل عمران 3:140
اور نہ ہمت ہارو تم اور نہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگر ہو تم مومن (139) اگر پہنچے تم کو کوئی زخم تو تحقیق پہنچ چکا ہے اس قوم (کافر) کو بھی زخم اس کی مثل اور یہ ایام، باری باری بدلتے رہتے ہیں ہم ان کو درمیان لوگوں کے اور تاکہ جان لے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تاکہ بنائے تم میں سے کچھ کو شہید اور اللہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو(140) اور تاکہ پاک صاف کر دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور مٹا دے کافروں کو(141) کیا گمان کیا تم نے یہ کہ داخل ہو جاؤ گے تم جنت میں، حالانکہ (ابھی) نہیں جانا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا تم میں سے اور یہ کہ جان لے وہ صبر کرنے والوں کو(142) اور البتہ تحقیق تھے تم آرزو کرتے موت کی پہلے اس کے کہ دوچار ہو تم اس سے، پس تحقیق مشاہدہ کیا تم نے اس کا جبکہ تم دیکھ رہے تھے(143)
[139] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا حوصلہ بڑھانے، ان کے عزائم مضبوط اور ان کے ارادوں کو بلند کرنے کے لیے فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَهِنُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا ﴾ یعنی تم اس مصیبت کے وقت جو تم پر نازل ہوئی ہے اور اس ابتلا پر جس سے تم دوچار ہوئے ہو جسمانی کمزوری اور دلی غم کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دلوں کا حزن و غم اور جسموں کی کمزوری، تمھارے لیے مصیبت میں اضافے اور دشمن کی مدد کا باعث ہوں گے بلکہ دلوں کو مضبوط رکھو اور ان میں استقامت پیدا کرو۔ حزن و غم کو اپنے دلوں سے نکال دو اور اپنے دشمن کے ساتھ قتال کے لیے سخت جان ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت اور اس کے ثواب کے امیدوار ہیں، اس لیے کمزوری اور حزن و غم کا مظاہرہ ان کے شایان شان نہیں۔ اس قسم کے رویے کا اظہار اس مومن کے لائق نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق دنیاوی اور اخروی ثواب کا طلب گار ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے اس ہزیمت پر ان کو تسلی دی، جو انھوں نے اٹھائی تھی اور ان عظیم حکمتوں کو بیان کیا جو اس ہزیمت پر مرتب ہوئیں، چنانچہ فرمایا:
[140]﴿اِنۡ يَّمۡسَسۡكُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُهٗ﴾ یعنی زخم کھانے کے اعتبار سے تم اور وہ برابر ہو۔ مگر تم اللہ تعالیٰ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ١ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ﴾(النساء:4؍104)’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے اور تم اللہ سے ایسی امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ مومن و کافر اور نیک و بد سب کو حصہ عطا کرتا ہے اور ان ایام کو لوگوں کے مابین ادلتا بدلتا رہتا ہے آج کامیابی ایک گروہ کے لیے ہے تو کل کسی اور گروہ کے لیے۔ کیونکہ یہ دنیا تو آخر کار ختم ہو جانے والی اور فانی ہے مگر اس کے برعکس آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے اور وہ صرف اہل ایمان کے لیے ہے۔﴿وَلِيَعۡلَمَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہزیمت اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ مومن اور منافق کے درمیان فرق واضح ہو جائے، کیونکہ اگر مومنوں کو تمام جنگوں میں فتح ہی حاصل ہوتی رہے تو اسلام میں ایسے لوگ بھی داخل ہو جائیں گے جو اسلام نہیں چاہتے۔ اگر بعض مواقع پر مسلمان آزمائش مومن میں مبتلا ہوں تو حقیقی مومن کا پتہ چل جاتا ہے جو مصیبت و مسرت، فراخی اور تنگی ہر حالت میں اسلام میں رغبت رکھتا ہے۔ ﴿وَيَتَّؔخِذَ مِنۡؔكُمۡ شُهَدَآءَؔ﴾ ’’اور تم میں سے گواہ بنائے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے، کیونکہ شہادت اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ترین مرتبہ ہے اور اس کے اسباب کے حصول کے بغیر وہاں تک پہنچنا ناممکن ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر رحمت ہے کہ وہ ان کے لیے اسباب مہیا کرتا ہے جو اگرچہ نفوس کو ناپسند ہوتے ہیں مگر ان اسباب کے ذریعے سے وہ اعلیٰ مراتب اور دائمی نعمتیں حاصل کر لیتے ہیں جو انھیں پسند ہیں۔ ﴿وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اللہ کے راستے میں جہاد کو چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ اَرَادُوا الۡخُرُوۡجَ لَاَعَدُّوۡا لَهٗ عُدَّةً وَّلٰكِنۡ كَرِهَ اللّٰهُ انۢۡبِعَاثَهُمۡ فَثَبَّطَهُمۡ وَقِيۡلَ اقۡعُدُوۡا مَعَ الۡقٰعِدِيۡنَ﴾(التوبۃ: 9؍46) ’’اگر وہ جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ کرتے تو وہ اس کے لیے سامان تیار کرتے مگر اللہ کو ان کا اٹھنا پسند نہ آیا اور ان کو اس سے باز رکھا اور کہا گیا کہ معذور بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔‘‘
[141]﴿وَلِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور یہ کہ اللہ ایمان والوں کو خالص (مومن) بنادے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ ان آزمائشوں کے ذریعے سے اہل ایمان کو گناہوں اور عیبوں سے پاک کرتا ہے۔ اور اس امر کی دلیل یہ ہے کہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جنگ کرنا گناہوں کو مٹا دیتے اور عیوب کو زائل کر دیتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو منافقین سے پاک کرتا ہے اور وہ منافقین سے الگ ہو جاتے ہیں اور وہ منافق اور مومن کو پہچان لیتے ہیں اور اس میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے یہ سب کچھ کفار کو مٹانے کے لیے مقرر کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے (جہاد کو) سزا کے ذریعے سے کفار کے استیصال کا سبب بنایا کیونکہ جب کفار فتح یاب ہوتے ہیں تو بغاوت کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں چنانچہ وہ اس دنیا ہی میں سزا کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ بھی مومن بندوں پر اللہ کی مہربانی ہے (کہ وہ منافقوں کو جلد ہی دنیا میں عبرت ناک انجام سے دوچار کر دیتا ہے)
[142] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَعۡلَمِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ جٰهَدُوۡا مِنۡكُمۡ وَيَعۡلَمَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارا خیال ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے، جبکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو بھی معلوم نہیں کیا جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور معلوم نہیں کیا ثابت قدم رہنے والوں کو؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ نہ سمجھ لینا اور نہ تمھارے دل میں یہ خیال آئے کہ تم کسی مشقت اور اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے لیے کوئی تکلیف اٹھائے بغیر جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ اس لیے کہ جنت بلند ترین منزل مقصود اور سب سے افضل مقام ہے جس کے حصول کے لیے مسابقت کی جاتی ہے۔ مطلوب و مقصود جتنا زیادہ بڑا ہو گا وہاں تک پہنچانے والا وسیلہ اور عمل بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔ پس راحت کو چھوڑ کر ہی دوسری راحت تک پہنچا جا سکتا ہے اور نعمت کو ترک کر کے ہی دوسری نعمت حاصل کی جا سکتی ہے۔دنیا کی تکالیف اور مشکلات، جن کا سامنا بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کرنا پڑتا ہے۔ نفس کو ان تکالیف کا عادی بنانے کے لیے ان کی مشق کروانے اور ان کی معرفت حاصل کرتے وقت اہل بصیرت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی نعمت بن جاتی ہیں جن پر وہ مسرت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی کوئی پروا نہیں کرتے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ پھر ایک ایسے معاملے میں جس کی وہ خود تمنا کیا کرتے تھے اور اسے حاصل کرنا چاہتے تھے، اس پر ان کے عدم صبر پر اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے چنانچہ فرمایا:
[143]﴿وَلَقَدۡ كُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡهُ﴾ ’’اور تم تو آرزو کرتے تھے مرنے کی اس کی ملاقات سے پہلے‘‘ اس آیت کریمہ کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ وہ صحابہ کرامyجو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے، وہ آرزو کیا کرتے تھے اگر اللہ تعالیٰ انھیں کسی معرکے میں شرکت کا موقع عطا کرے تو وہ اس میں اپنی جان لڑا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا ﴿فَقَدۡ رَاَيۡتُمُوۡهُ﴾ یعنی جس چیز کی تم تمنا کیا کرتے تھے تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ﴿وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ﴾ اب تمھیں کیا ہو گیا تم نے صبر کیوں چھوڑ دیا؟ یہ حالت خاص طور پر اس شخص کے لائق نہیں جو اس کی آرزو کیا کرتا تھا اور اسے وہ چیز حاصل ہو گئی ہو جس کی اسے آرزو تھی۔ اس پر تو واجب یہ ہے کہ اب وہ اس کے لیے اپنی پوری کوشش، جہد اور طاقت صرف کر دے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ شہادت کی تمنا کرنا ناجائز نہیں۔ اس میں استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آرزو پر برقرار رکھا اور ان کی آرزو کا انکار نہیں کیا۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے اس تمنا کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ان کے عمل نہ کرنے پر نکیر کی ہے۔ وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔
آل عمران 3:141
اور نہ ہمت ہارو تم اور نہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگر ہو تم مومن (139) اگر پہنچے تم کو کوئی زخم تو تحقیق پہنچ چکا ہے اس قوم (کافر) کو بھی زخم اس کی مثل اور یہ ایام، باری باری بدلتے رہتے ہیں ہم ان کو درمیان لوگوں کے اور تاکہ جان لے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تاکہ بنائے تم میں سے کچھ کو شہید اور اللہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو(140) اور تاکہ پاک صاف کر دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور مٹا دے کافروں کو(141) کیا گمان کیا تم نے یہ کہ داخل ہو جاؤ گے تم جنت میں، حالانکہ (ابھی) نہیں جانا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا تم میں سے اور یہ کہ جان لے وہ صبر کرنے والوں کو(142) اور البتہ تحقیق تھے تم آرزو کرتے موت کی پہلے اس کے کہ دوچار ہو تم اس سے، پس تحقیق مشاہدہ کیا تم نے اس کا جبکہ تم دیکھ رہے تھے(143)
[139] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا حوصلہ بڑھانے، ان کے عزائم مضبوط اور ان کے ارادوں کو بلند کرنے کے لیے فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَهِنُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا ﴾ یعنی تم اس مصیبت کے وقت جو تم پر نازل ہوئی ہے اور اس ابتلا پر جس سے تم دوچار ہوئے ہو جسمانی کمزوری اور دلی غم کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دلوں کا حزن و غم اور جسموں کی کمزوری، تمھارے لیے مصیبت میں اضافے اور دشمن کی مدد کا باعث ہوں گے بلکہ دلوں کو مضبوط رکھو اور ان میں استقامت پیدا کرو۔ حزن و غم کو اپنے دلوں سے نکال دو اور اپنے دشمن کے ساتھ قتال کے لیے سخت جان ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت اور اس کے ثواب کے امیدوار ہیں، اس لیے کمزوری اور حزن و غم کا مظاہرہ ان کے شایان شان نہیں۔ اس قسم کے رویے کا اظہار اس مومن کے لائق نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق دنیاوی اور اخروی ثواب کا طلب گار ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے اس ہزیمت پر ان کو تسلی دی، جو انھوں نے اٹھائی تھی اور ان عظیم حکمتوں کو بیان کیا جو اس ہزیمت پر مرتب ہوئیں، چنانچہ فرمایا:
[140]﴿اِنۡ يَّمۡسَسۡكُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُهٗ﴾ یعنی زخم کھانے کے اعتبار سے تم اور وہ برابر ہو۔ مگر تم اللہ تعالیٰ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ١ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ﴾(النساء:4؍104)’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے اور تم اللہ سے ایسی امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ مومن و کافر اور نیک و بد سب کو حصہ عطا کرتا ہے اور ان ایام کو لوگوں کے مابین ادلتا بدلتا رہتا ہے آج کامیابی ایک گروہ کے لیے ہے تو کل کسی اور گروہ کے لیے۔ کیونکہ یہ دنیا تو آخر کار ختم ہو جانے والی اور فانی ہے مگر اس کے برعکس آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے اور وہ صرف اہل ایمان کے لیے ہے۔﴿وَلِيَعۡلَمَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہزیمت اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ مومن اور منافق کے درمیان فرق واضح ہو جائے، کیونکہ اگر مومنوں کو تمام جنگوں میں فتح ہی حاصل ہوتی رہے تو اسلام میں ایسے لوگ بھی داخل ہو جائیں گے جو اسلام نہیں چاہتے۔ اگر بعض مواقع پر مسلمان آزمائش مومن میں مبتلا ہوں تو حقیقی مومن کا پتہ چل جاتا ہے جو مصیبت و مسرت، فراخی اور تنگی ہر حالت میں اسلام میں رغبت رکھتا ہے۔ ﴿وَيَتَّؔخِذَ مِنۡؔكُمۡ شُهَدَآءَؔ﴾ ’’اور تم میں سے گواہ بنائے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے، کیونکہ شہادت اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ترین مرتبہ ہے اور اس کے اسباب کے حصول کے بغیر وہاں تک پہنچنا ناممکن ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر رحمت ہے کہ وہ ان کے لیے اسباب مہیا کرتا ہے جو اگرچہ نفوس کو ناپسند ہوتے ہیں مگر ان اسباب کے ذریعے سے وہ اعلیٰ مراتب اور دائمی نعمتیں حاصل کر لیتے ہیں جو انھیں پسند ہیں۔ ﴿وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اللہ کے راستے میں جہاد کو چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ اَرَادُوا الۡخُرُوۡجَ لَاَعَدُّوۡا لَهٗ عُدَّةً وَّلٰكِنۡ كَرِهَ اللّٰهُ انۢۡبِعَاثَهُمۡ فَثَبَّطَهُمۡ وَقِيۡلَ اقۡعُدُوۡا مَعَ الۡقٰعِدِيۡنَ﴾(التوبۃ: 9؍46) ’’اگر وہ جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ کرتے تو وہ اس کے لیے سامان تیار کرتے مگر اللہ کو ان کا اٹھنا پسند نہ آیا اور ان کو اس سے باز رکھا اور کہا گیا کہ معذور بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔‘‘
[141]﴿وَلِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور یہ کہ اللہ ایمان والوں کو خالص (مومن) بنادے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ ان آزمائشوں کے ذریعے سے اہل ایمان کو گناہوں اور عیبوں سے پاک کرتا ہے۔ اور اس امر کی دلیل یہ ہے کہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جنگ کرنا گناہوں کو مٹا دیتے اور عیوب کو زائل کر دیتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو منافقین سے پاک کرتا ہے اور وہ منافقین سے الگ ہو جاتے ہیں اور وہ منافق اور مومن کو پہچان لیتے ہیں اور اس میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے یہ سب کچھ کفار کو مٹانے کے لیے مقرر کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے (جہاد کو) سزا کے ذریعے سے کفار کے استیصال کا سبب بنایا کیونکہ جب کفار فتح یاب ہوتے ہیں تو بغاوت کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں چنانچہ وہ اس دنیا ہی میں سزا کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ بھی مومن بندوں پر اللہ کی مہربانی ہے (کہ وہ منافقوں کو جلد ہی دنیا میں عبرت ناک انجام سے دوچار کر دیتا ہے)
[142] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَعۡلَمِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ جٰهَدُوۡا مِنۡكُمۡ وَيَعۡلَمَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارا خیال ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے، جبکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو بھی معلوم نہیں کیا جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور معلوم نہیں کیا ثابت قدم رہنے والوں کو؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ نہ سمجھ لینا اور نہ تمھارے دل میں یہ خیال آئے کہ تم کسی مشقت اور اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے لیے کوئی تکلیف اٹھائے بغیر جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ اس لیے کہ جنت بلند ترین منزل مقصود اور سب سے افضل مقام ہے جس کے حصول کے لیے مسابقت کی جاتی ہے۔ مطلوب و مقصود جتنا زیادہ بڑا ہو گا وہاں تک پہنچانے والا وسیلہ اور عمل بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔ پس راحت کو چھوڑ کر ہی دوسری راحت تک پہنچا جا سکتا ہے اور نعمت کو ترک کر کے ہی دوسری نعمت حاصل کی جا سکتی ہے۔دنیا کی تکالیف اور مشکلات، جن کا سامنا بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کرنا پڑتا ہے۔ نفس کو ان تکالیف کا عادی بنانے کے لیے ان کی مشق کروانے اور ان کی معرفت حاصل کرتے وقت اہل بصیرت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی نعمت بن جاتی ہیں جن پر وہ مسرت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی کوئی پروا نہیں کرتے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ پھر ایک ایسے معاملے میں جس کی وہ خود تمنا کیا کرتے تھے اور اسے حاصل کرنا چاہتے تھے، اس پر ان کے عدم صبر پر اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے چنانچہ فرمایا:
[143]﴿وَلَقَدۡ كُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡهُ﴾ ’’اور تم تو آرزو کرتے تھے مرنے کی اس کی ملاقات سے پہلے‘‘ اس آیت کریمہ کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ وہ صحابہ کرامyجو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے، وہ آرزو کیا کرتے تھے اگر اللہ تعالیٰ انھیں کسی معرکے میں شرکت کا موقع عطا کرے تو وہ اس میں اپنی جان لڑا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا ﴿فَقَدۡ رَاَيۡتُمُوۡهُ﴾ یعنی جس چیز کی تم تمنا کیا کرتے تھے تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ﴿وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ﴾ اب تمھیں کیا ہو گیا تم نے صبر کیوں چھوڑ دیا؟ یہ حالت خاص طور پر اس شخص کے لائق نہیں جو اس کی آرزو کیا کرتا تھا اور اسے وہ چیز حاصل ہو گئی ہو جس کی اسے آرزو تھی۔ اس پر تو واجب یہ ہے کہ اب وہ اس کے لیے اپنی پوری کوشش، جہد اور طاقت صرف کر دے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ شہادت کی تمنا کرنا ناجائز نہیں۔ اس میں استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آرزو پر برقرار رکھا اور ان کی آرزو کا انکار نہیں کیا۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے اس تمنا کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ان کے عمل نہ کرنے پر نکیر کی ہے۔ وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔
آل عمران 3:142
اور نہ ہمت ہارو تم اور نہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگر ہو تم مومن (139) اگر پہنچے تم کو کوئی زخم تو تحقیق پہنچ چکا ہے اس قوم (کافر) کو بھی زخم اس کی مثل اور یہ ایام، باری باری بدلتے رہتے ہیں ہم ان کو درمیان لوگوں کے اور تاکہ جان لے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تاکہ بنائے تم میں سے کچھ کو شہید اور اللہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو(140) اور تاکہ پاک صاف کر دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور مٹا دے کافروں کو(141) کیا گمان کیا تم نے یہ کہ داخل ہو جاؤ گے تم جنت میں، حالانکہ (ابھی) نہیں جانا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا تم میں سے اور یہ کہ جان لے وہ صبر کرنے والوں کو(142) اور البتہ تحقیق تھے تم آرزو کرتے موت کی پہلے اس کے کہ دوچار ہو تم اس سے، پس تحقیق مشاہدہ کیا تم نے اس کا جبکہ تم دیکھ رہے تھے(143)
[139] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا حوصلہ بڑھانے، ان کے عزائم مضبوط اور ان کے ارادوں کو بلند کرنے کے لیے فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَهِنُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا ﴾ یعنی تم اس مصیبت کے وقت جو تم پر نازل ہوئی ہے اور اس ابتلا پر جس سے تم دوچار ہوئے ہو جسمانی کمزوری اور دلی غم کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دلوں کا حزن و غم اور جسموں کی کمزوری، تمھارے لیے مصیبت میں اضافے اور دشمن کی مدد کا باعث ہوں گے بلکہ دلوں کو مضبوط رکھو اور ان میں استقامت پیدا کرو۔ حزن و غم کو اپنے دلوں سے نکال دو اور اپنے دشمن کے ساتھ قتال کے لیے سخت جان ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت اور اس کے ثواب کے امیدوار ہیں، اس لیے کمزوری اور حزن و غم کا مظاہرہ ان کے شایان شان نہیں۔ اس قسم کے رویے کا اظہار اس مومن کے لائق نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق دنیاوی اور اخروی ثواب کا طلب گار ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے اس ہزیمت پر ان کو تسلی دی، جو انھوں نے اٹھائی تھی اور ان عظیم حکمتوں کو بیان کیا جو اس ہزیمت پر مرتب ہوئیں، چنانچہ فرمایا:
[140]﴿اِنۡ يَّمۡسَسۡكُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُهٗ﴾ یعنی زخم کھانے کے اعتبار سے تم اور وہ برابر ہو۔ مگر تم اللہ تعالیٰ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ١ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ﴾(النساء:4؍104)’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے اور تم اللہ سے ایسی امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ مومن و کافر اور نیک و بد سب کو حصہ عطا کرتا ہے اور ان ایام کو لوگوں کے مابین ادلتا بدلتا رہتا ہے آج کامیابی ایک گروہ کے لیے ہے تو کل کسی اور گروہ کے لیے۔ کیونکہ یہ دنیا تو آخر کار ختم ہو جانے والی اور فانی ہے مگر اس کے برعکس آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے اور وہ صرف اہل ایمان کے لیے ہے۔﴿وَلِيَعۡلَمَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہزیمت اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ مومن اور منافق کے درمیان فرق واضح ہو جائے، کیونکہ اگر مومنوں کو تمام جنگوں میں فتح ہی حاصل ہوتی رہے تو اسلام میں ایسے لوگ بھی داخل ہو جائیں گے جو اسلام نہیں چاہتے۔ اگر بعض مواقع پر مسلمان آزمائش مومن میں مبتلا ہوں تو حقیقی مومن کا پتہ چل جاتا ہے جو مصیبت و مسرت، فراخی اور تنگی ہر حالت میں اسلام میں رغبت رکھتا ہے۔ ﴿وَيَتَّؔخِذَ مِنۡؔكُمۡ شُهَدَآءَؔ﴾ ’’اور تم میں سے گواہ بنائے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے، کیونکہ شہادت اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ترین مرتبہ ہے اور اس کے اسباب کے حصول کے بغیر وہاں تک پہنچنا ناممکن ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر رحمت ہے کہ وہ ان کے لیے اسباب مہیا کرتا ہے جو اگرچہ نفوس کو ناپسند ہوتے ہیں مگر ان اسباب کے ذریعے سے وہ اعلیٰ مراتب اور دائمی نعمتیں حاصل کر لیتے ہیں جو انھیں پسند ہیں۔ ﴿وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اللہ کے راستے میں جہاد کو چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ اَرَادُوا الۡخُرُوۡجَ لَاَعَدُّوۡا لَهٗ عُدَّةً وَّلٰكِنۡ كَرِهَ اللّٰهُ انۢۡبِعَاثَهُمۡ فَثَبَّطَهُمۡ وَقِيۡلَ اقۡعُدُوۡا مَعَ الۡقٰعِدِيۡنَ﴾(التوبۃ: 9؍46) ’’اگر وہ جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ کرتے تو وہ اس کے لیے سامان تیار کرتے مگر اللہ کو ان کا اٹھنا پسند نہ آیا اور ان کو اس سے باز رکھا اور کہا گیا کہ معذور بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔‘‘
[141]﴿وَلِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور یہ کہ اللہ ایمان والوں کو خالص (مومن) بنادے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ ان آزمائشوں کے ذریعے سے اہل ایمان کو گناہوں اور عیبوں سے پاک کرتا ہے۔ اور اس امر کی دلیل یہ ہے کہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جنگ کرنا گناہوں کو مٹا دیتے اور عیوب کو زائل کر دیتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو منافقین سے پاک کرتا ہے اور وہ منافقین سے الگ ہو جاتے ہیں اور وہ منافق اور مومن کو پہچان لیتے ہیں اور اس میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے یہ سب کچھ کفار کو مٹانے کے لیے مقرر کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے (جہاد کو) سزا کے ذریعے سے کفار کے استیصال کا سبب بنایا کیونکہ جب کفار فتح یاب ہوتے ہیں تو بغاوت کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں چنانچہ وہ اس دنیا ہی میں سزا کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ بھی مومن بندوں پر اللہ کی مہربانی ہے (کہ وہ منافقوں کو جلد ہی دنیا میں عبرت ناک انجام سے دوچار کر دیتا ہے)
[142] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَعۡلَمِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ جٰهَدُوۡا مِنۡكُمۡ وَيَعۡلَمَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارا خیال ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے، جبکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو بھی معلوم نہیں کیا جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور معلوم نہیں کیا ثابت قدم رہنے والوں کو؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ نہ سمجھ لینا اور نہ تمھارے دل میں یہ خیال آئے کہ تم کسی مشقت اور اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے لیے کوئی تکلیف اٹھائے بغیر جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ اس لیے کہ جنت بلند ترین منزل مقصود اور سب سے افضل مقام ہے جس کے حصول کے لیے مسابقت کی جاتی ہے۔ مطلوب و مقصود جتنا زیادہ بڑا ہو گا وہاں تک پہنچانے والا وسیلہ اور عمل بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔ پس راحت کو چھوڑ کر ہی دوسری راحت تک پہنچا جا سکتا ہے اور نعمت کو ترک کر کے ہی دوسری نعمت حاصل کی جا سکتی ہے۔دنیا کی تکالیف اور مشکلات، جن کا سامنا بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کرنا پڑتا ہے۔ نفس کو ان تکالیف کا عادی بنانے کے لیے ان کی مشق کروانے اور ان کی معرفت حاصل کرتے وقت اہل بصیرت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی نعمت بن جاتی ہیں جن پر وہ مسرت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی کوئی پروا نہیں کرتے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ پھر ایک ایسے معاملے میں جس کی وہ خود تمنا کیا کرتے تھے اور اسے حاصل کرنا چاہتے تھے، اس پر ان کے عدم صبر پر اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے چنانچہ فرمایا:
[143]﴿وَلَقَدۡ كُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡهُ﴾ ’’اور تم تو آرزو کرتے تھے مرنے کی اس کی ملاقات سے پہلے‘‘ اس آیت کریمہ کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ وہ صحابہ کرامyجو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے، وہ آرزو کیا کرتے تھے اگر اللہ تعالیٰ انھیں کسی معرکے میں شرکت کا موقع عطا کرے تو وہ اس میں اپنی جان لڑا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا ﴿فَقَدۡ رَاَيۡتُمُوۡهُ﴾ یعنی جس چیز کی تم تمنا کیا کرتے تھے تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ﴿وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ﴾ اب تمھیں کیا ہو گیا تم نے صبر کیوں چھوڑ دیا؟ یہ حالت خاص طور پر اس شخص کے لائق نہیں جو اس کی آرزو کیا کرتا تھا اور اسے وہ چیز حاصل ہو گئی ہو جس کی اسے آرزو تھی۔ اس پر تو واجب یہ ہے کہ اب وہ اس کے لیے اپنی پوری کوشش، جہد اور طاقت صرف کر دے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ شہادت کی تمنا کرنا ناجائز نہیں۔ اس میں استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آرزو پر برقرار رکھا اور ان کی آرزو کا انکار نہیں کیا۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے اس تمنا کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ان کے عمل نہ کرنے پر نکیر کی ہے۔ وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔
آل عمران 3:143
اور نہ ہمت ہارو تم اور نہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگر ہو تم مومن (139) اگر پہنچے تم کو کوئی زخم تو تحقیق پہنچ چکا ہے اس قوم (کافر) کو بھی زخم اس کی مثل اور یہ ایام، باری باری بدلتے رہتے ہیں ہم ان کو درمیان لوگوں کے اور تاکہ جان لے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تاکہ بنائے تم میں سے کچھ کو شہید اور اللہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو(140) اور تاکہ پاک صاف کر دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور مٹا دے کافروں کو(141) کیا گمان کیا تم نے یہ کہ داخل ہو جاؤ گے تم جنت میں، حالانکہ (ابھی) نہیں جانا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا تم میں سے اور یہ کہ جان لے وہ صبر کرنے والوں کو(142) اور البتہ تحقیق تھے تم آرزو کرتے موت کی پہلے اس کے کہ دوچار ہو تم اس سے، پس تحقیق مشاہدہ کیا تم نے اس کا جبکہ تم دیکھ رہے تھے(143)
[139] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا حوصلہ بڑھانے، ان کے عزائم مضبوط اور ان کے ارادوں کو بلند کرنے کے لیے فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَهِنُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا ﴾ یعنی تم اس مصیبت کے وقت جو تم پر نازل ہوئی ہے اور اس ابتلا پر جس سے تم دوچار ہوئے ہو جسمانی کمزوری اور دلی غم کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دلوں کا حزن و غم اور جسموں کی کمزوری، تمھارے لیے مصیبت میں اضافے اور دشمن کی مدد کا باعث ہوں گے بلکہ دلوں کو مضبوط رکھو اور ان میں استقامت پیدا کرو۔ حزن و غم کو اپنے دلوں سے نکال دو اور اپنے دشمن کے ساتھ قتال کے لیے سخت جان ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت اور اس کے ثواب کے امیدوار ہیں، اس لیے کمزوری اور حزن و غم کا مظاہرہ ان کے شایان شان نہیں۔ اس قسم کے رویے کا اظہار اس مومن کے لائق نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق دنیاوی اور اخروی ثواب کا طلب گار ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے اس ہزیمت پر ان کو تسلی دی، جو انھوں نے اٹھائی تھی اور ان عظیم حکمتوں کو بیان کیا جو اس ہزیمت پر مرتب ہوئیں، چنانچہ فرمایا:
[140]﴿اِنۡ يَّمۡسَسۡكُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُهٗ﴾ یعنی زخم کھانے کے اعتبار سے تم اور وہ برابر ہو۔ مگر تم اللہ تعالیٰ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ١ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ﴾(النساء:4؍104)’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے اور تم اللہ سے ایسی امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ مومن و کافر اور نیک و بد سب کو حصہ عطا کرتا ہے اور ان ایام کو لوگوں کے مابین ادلتا بدلتا رہتا ہے آج کامیابی ایک گروہ کے لیے ہے تو کل کسی اور گروہ کے لیے۔ کیونکہ یہ دنیا تو آخر کار ختم ہو جانے والی اور فانی ہے مگر اس کے برعکس آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے اور وہ صرف اہل ایمان کے لیے ہے۔﴿وَلِيَعۡلَمَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہزیمت اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ مومن اور منافق کے درمیان فرق واضح ہو جائے، کیونکہ اگر مومنوں کو تمام جنگوں میں فتح ہی حاصل ہوتی رہے تو اسلام میں ایسے لوگ بھی داخل ہو جائیں گے جو اسلام نہیں چاہتے۔ اگر بعض مواقع پر مسلمان آزمائش مومن میں مبتلا ہوں تو حقیقی مومن کا پتہ چل جاتا ہے جو مصیبت و مسرت، فراخی اور تنگی ہر حالت میں اسلام میں رغبت رکھتا ہے۔ ﴿وَيَتَّؔخِذَ مِنۡؔكُمۡ شُهَدَآءَؔ﴾ ’’اور تم میں سے گواہ بنائے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے، کیونکہ شہادت اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ترین مرتبہ ہے اور اس کے اسباب کے حصول کے بغیر وہاں تک پہنچنا ناممکن ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر رحمت ہے کہ وہ ان کے لیے اسباب مہیا کرتا ہے جو اگرچہ نفوس کو ناپسند ہوتے ہیں مگر ان اسباب کے ذریعے سے وہ اعلیٰ مراتب اور دائمی نعمتیں حاصل کر لیتے ہیں جو انھیں پسند ہیں۔ ﴿وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اللہ کے راستے میں جہاد کو چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ اَرَادُوا الۡخُرُوۡجَ لَاَعَدُّوۡا لَهٗ عُدَّةً وَّلٰكِنۡ كَرِهَ اللّٰهُ انۢۡبِعَاثَهُمۡ فَثَبَّطَهُمۡ وَقِيۡلَ اقۡعُدُوۡا مَعَ الۡقٰعِدِيۡنَ﴾(التوبۃ: 9؍46) ’’اگر وہ جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ کرتے تو وہ اس کے لیے سامان تیار کرتے مگر اللہ کو ان کا اٹھنا پسند نہ آیا اور ان کو اس سے باز رکھا اور کہا گیا کہ معذور بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔‘‘
[141]﴿وَلِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور یہ کہ اللہ ایمان والوں کو خالص (مومن) بنادے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ ان آزمائشوں کے ذریعے سے اہل ایمان کو گناہوں اور عیبوں سے پاک کرتا ہے۔ اور اس امر کی دلیل یہ ہے کہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جنگ کرنا گناہوں کو مٹا دیتے اور عیوب کو زائل کر دیتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو منافقین سے پاک کرتا ہے اور وہ منافقین سے الگ ہو جاتے ہیں اور وہ منافق اور مومن کو پہچان لیتے ہیں اور اس میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے یہ سب کچھ کفار کو مٹانے کے لیے مقرر کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے (جہاد کو) سزا کے ذریعے سے کفار کے استیصال کا سبب بنایا کیونکہ جب کفار فتح یاب ہوتے ہیں تو بغاوت کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں چنانچہ وہ اس دنیا ہی میں سزا کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ بھی مومن بندوں پر اللہ کی مہربانی ہے (کہ وہ منافقوں کو جلد ہی دنیا میں عبرت ناک انجام سے دوچار کر دیتا ہے)
[142] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَعۡلَمِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ جٰهَدُوۡا مِنۡكُمۡ وَيَعۡلَمَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارا خیال ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے، جبکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو بھی معلوم نہیں کیا جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور معلوم نہیں کیا ثابت قدم رہنے والوں کو؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ نہ سمجھ لینا اور نہ تمھارے دل میں یہ خیال آئے کہ تم کسی مشقت اور اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے لیے کوئی تکلیف اٹھائے بغیر جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ اس لیے کہ جنت بلند ترین منزل مقصود اور سب سے افضل مقام ہے جس کے حصول کے لیے مسابقت کی جاتی ہے۔ مطلوب و مقصود جتنا زیادہ بڑا ہو گا وہاں تک پہنچانے والا وسیلہ اور عمل بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔ پس راحت کو چھوڑ کر ہی دوسری راحت تک پہنچا جا سکتا ہے اور نعمت کو ترک کر کے ہی دوسری نعمت حاصل کی جا سکتی ہے۔دنیا کی تکالیف اور مشکلات، جن کا سامنا بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کرنا پڑتا ہے۔ نفس کو ان تکالیف کا عادی بنانے کے لیے ان کی مشق کروانے اور ان کی معرفت حاصل کرتے وقت اہل بصیرت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی نعمت بن جاتی ہیں جن پر وہ مسرت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی کوئی پروا نہیں کرتے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ پھر ایک ایسے معاملے میں جس کی وہ خود تمنا کیا کرتے تھے اور اسے حاصل کرنا چاہتے تھے، اس پر ان کے عدم صبر پر اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے چنانچہ فرمایا:
[143]﴿وَلَقَدۡ كُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡهُ﴾ ’’اور تم تو آرزو کرتے تھے مرنے کی اس کی ملاقات سے پہلے‘‘ اس آیت کریمہ کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ وہ صحابہ کرامyجو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے، وہ آرزو کیا کرتے تھے اگر اللہ تعالیٰ انھیں کسی معرکے میں شرکت کا موقع عطا کرے تو وہ اس میں اپنی جان لڑا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا ﴿فَقَدۡ رَاَيۡتُمُوۡهُ﴾ یعنی جس چیز کی تم تمنا کیا کرتے تھے تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ﴿وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ﴾ اب تمھیں کیا ہو گیا تم نے صبر کیوں چھوڑ دیا؟ یہ حالت خاص طور پر اس شخص کے لائق نہیں جو اس کی آرزو کیا کرتا تھا اور اسے وہ چیز حاصل ہو گئی ہو جس کی اسے آرزو تھی۔ اس پر تو واجب یہ ہے کہ اب وہ اس کے لیے اپنی پوری کوشش، جہد اور طاقت صرف کر دے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ شہادت کی تمنا کرنا ناجائز نہیں۔ اس میں استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آرزو پر برقرار رکھا اور ان کی آرزو کا انکار نہیں کیا۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے اس تمنا کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ان کے عمل نہ کرنے پر نکیر کی ہے۔ وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔
آل عمران 3:144
اور نہیں ہیں محمد مگر ایک رسول ہی، تحقیق گزر چکے ہیں ان سے پہلے (بھی) رسول، کیا پس اگر وہ فوت ہو جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو پھر جاؤ گے تم اپنی ایڑیوں پر؟ اور جو پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہرگز نہیں نقصان پہنچائے گا وہ اللہ کو کچھ بھی اور عنقریب جزا دے گا اللہ شکرکرنے والوں کو(144) اور نہیں ہے (ممکن) واسطے کسی جان کے یہ کہ وہ مر جائے مگر ساتھ حکم اللہ ہی کے، (لکھا ہے اس نے) لکھنا ایک وقت مقرراور جو چاہتا ہے بدلہ دنیا کا تو دے دیتے ہیں ہم اسے کچھ اس میں سےاور جو چاہتا ہے ثواب آخرت کا تو دیں گے ہم اس کو اس میں سے اور عنقریب ہم جزا دیں گے شکرگزاروں کو(145)
[144]﴿وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ١ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ﴾ یعنی وہ رسولوں میں سے کوئی انوکھا رسول نہیں ہیں بلکہ وہ ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی ذمہ داری اپنے رب کا پیغام پہنچانا اور اس کے احکام کا نفاذ تھا۔ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ تھے اور نہ ان کی بقا اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کے لیے کوئی شرط تھی۔ بلکہ تمام امتوں پر یہ چیز فرض تھی کہ وہ ہر وقت اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَفَاۡؔؔىِٕنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ﴾ ’’کیا پس اگر ان کو موت آ گئی یا قتل کر دیے گئے، تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟‘‘ یعنی یہ نبی ایمان اور جہاد وغیرہ کے جو احکام لے کر مبعوث ہوئے ہیں کیا تم ان کو ترک کر کے الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ فرمایا:﴿وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے گا، تو ہرگز نہ بگاڑے گا اللہ کا کچھ‘‘ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے دین کو ضرور قائم کرے گا اور اپنے مومن بندوں کو غلبہ عطا کرے گا۔جب اللہ تعالیٰ نے الٹے پاؤں پلٹ جانے والوں کو زجر و توبیخ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح و ثنا بھی کی جو اس کے رسولﷺکے ساتھ ثابت قدمی سے ڈٹے رہے اور انھوں نے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی۔ فرمایا:﴿وَسَيَجۡزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ﴾ ’’اللہ شکر گزار بندوں کو جزا دے گا‘‘ اور شکر کے تقاضے اس کے بغیر ادا نہیں ہوتے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت اختیار کی جائے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی راہنمائی فرمائی ہے کہ ان کے سربراہ کا مفقود ہونا خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو کسی بھی حالت میں ان کو ان کے ایمان یا کسی لازمہ ایمان سے نہ ہٹا دے مگر یہ تب ہی ممکن ہے کہ امور دین کے ہر ہر شعبہ میں کچھ لوگوں کو تیار کیا جائے جو اس شعبہ میں برابر ہوں۔ ان میں سے ایک کی عدم موجودگی میں دوسرا اس کی جگہ لے لے۔ نیز اہل ایمان کا عمومی مقصد اقامت دین اور اس کے دفاع میں اپنی استطاعت کے مطابق جہاد ہونا چاہیے۔ ان کا مقصد ایک سربراہ کی جگہ دوسرے سربراہ کو لانا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی صورت میں ان کا معاملہ درست طریقے سے جاری رہ سکتا ہے اور دیگر تمام امور صحیح نہج پر چل سکتے ہیں۔اس آیت کریمہ میں صدیق اکبر جناب ابوبکرtاور دیگر اصحاب کرام کی فضیلت پر بھی سب سے بڑی دلیل ہے، جنھوں نے رسول اللہﷺکے بعد مرتدین کے خلاف جنگ کی، کیونکہ وہ سادات اہل شکر میں شمار ہوتے ہیں۔
[145] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ تمام نفوس اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قضا و قدر سے اپنی اپنی اجل کے ساتھ معلق ہیں۔ پس جس کی تقدیر میں موت کا حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے اسے بغیر کسی سبب کے بھی موت آ کر رہتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جس کو باقی رکھنا چاہے، تو پھر اگر موت کے تمام اسباب بھی جمع کیوں نہ ہو جائیں، یہ اسباب وقت مقررہ سے پہلے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کر کے اس کو مقدر کر دیا ہے اور اس کی موت کا وقت معین اس کی تقدیر میں لکھ دیا۔ ﴿فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠﴾(الاعراف : 7؍34) ’’جب ان کا وقت معین آ جاتا ہے تو نہ وہ ایک گھڑی تاخیر کر سکتے ہیں اور نہ جلدی۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ لوگوں کو دنیا و آخرت کا وہی ثواب عطاکرتا ہے جس سے ان کے ارادے متعلق ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿وَمَنۡ يُّرِدۡ ثَـوَابَ الدُّنۡيَا نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا١ۚ وَمَنۡ يُّرِدۡ ثَـوَابَ الۡاٰخِرَةِ نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا﴾ ’’جو کوئی دنیا ہی میں اپنے اعمال کا بدلہ چاہتا ہے ہم اسے وہیں بدلہ دے دیتے ہیں اور جو کوئی اپنے اعمال کا بدلہ آخرت میں چاہتا ہے ہم اس کو آخرت میں اس کا بدلہ عطا کریں گے۔‘‘ فرمایا: ﴿كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَهٰۤؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُوۡرًا۰۰اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ وَلَلۡاٰخِرَةُ اَكۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكۡبَرُ تَفۡضِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍20۔21) ’’ہم ان سب کو تیرے رب کی عطا و بخشش سے مدد دیتے ہیں اور تیرے رب کی عطا و بخشش ممنوع اور روکی ہوئی نہیں ہے۔ دیکھ ہم نے کیسے ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے اور آخرت درجات کے اعتبار سے بہت بڑی اور فضیلت میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘فرمایا: ﴿وَسَنَجۡزِي الشّٰكِرِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جزا دیں گے شکر کرنے والوں کو‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ نے جزا کا ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس جزا کی کثرت اور عظمت پر دلیل ہو اور یہ بھی بندے کو معلوم ہو جائے کہ یہ جزا قلت و کثرت اور حسن کے اعتبار سے شکر کی مقدار پر منحصر ہے۔
آل عمران 3:145
اور نہیں ہیں محمد مگر ایک رسول ہی، تحقیق گزر چکے ہیں ان سے پہلے (بھی) رسول، کیا پس اگر وہ فوت ہو جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو پھر جاؤ گے تم اپنی ایڑیوں پر؟ اور جو پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہرگز نہیں نقصان پہنچائے گا وہ اللہ کو کچھ بھی اور عنقریب جزا دے گا اللہ شکرکرنے والوں کو(144) اور نہیں ہے (ممکن) واسطے کسی جان کے یہ کہ وہ مر جائے مگر ساتھ حکم اللہ ہی کے، (لکھا ہے اس نے) لکھنا ایک وقت مقرراور جو چاہتا ہے بدلہ دنیا کا تو دے دیتے ہیں ہم اسے کچھ اس میں سےاور جو چاہتا ہے ثواب آخرت کا تو دیں گے ہم اس کو اس میں سے اور عنقریب ہم جزا دیں گے شکرگزاروں کو(145)
[144]﴿وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ١ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ﴾ یعنی وہ رسولوں میں سے کوئی انوکھا رسول نہیں ہیں بلکہ وہ ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی ذمہ داری اپنے رب کا پیغام پہنچانا اور اس کے احکام کا نفاذ تھا۔ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ تھے اور نہ ان کی بقا اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کے لیے کوئی شرط تھی۔ بلکہ تمام امتوں پر یہ چیز فرض تھی کہ وہ ہر وقت اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَفَاۡؔؔىِٕنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ﴾ ’’کیا پس اگر ان کو موت آ گئی یا قتل کر دیے گئے، تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟‘‘ یعنی یہ نبی ایمان اور جہاد وغیرہ کے جو احکام لے کر مبعوث ہوئے ہیں کیا تم ان کو ترک کر کے الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ فرمایا:﴿وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے گا، تو ہرگز نہ بگاڑے گا اللہ کا کچھ‘‘ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے دین کو ضرور قائم کرے گا اور اپنے مومن بندوں کو غلبہ عطا کرے گا۔جب اللہ تعالیٰ نے الٹے پاؤں پلٹ جانے والوں کو زجر و توبیخ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح و ثنا بھی کی جو اس کے رسولﷺکے ساتھ ثابت قدمی سے ڈٹے رہے اور انھوں نے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی۔ فرمایا:﴿وَسَيَجۡزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ﴾ ’’اللہ شکر گزار بندوں کو جزا دے گا‘‘ اور شکر کے تقاضے اس کے بغیر ادا نہیں ہوتے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت اختیار کی جائے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی راہنمائی فرمائی ہے کہ ان کے سربراہ کا مفقود ہونا خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو کسی بھی حالت میں ان کو ان کے ایمان یا کسی لازمہ ایمان سے نہ ہٹا دے مگر یہ تب ہی ممکن ہے کہ امور دین کے ہر ہر شعبہ میں کچھ لوگوں کو تیار کیا جائے جو اس شعبہ میں برابر ہوں۔ ان میں سے ایک کی عدم موجودگی میں دوسرا اس کی جگہ لے لے۔ نیز اہل ایمان کا عمومی مقصد اقامت دین اور اس کے دفاع میں اپنی استطاعت کے مطابق جہاد ہونا چاہیے۔ ان کا مقصد ایک سربراہ کی جگہ دوسرے سربراہ کو لانا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی صورت میں ان کا معاملہ درست طریقے سے جاری رہ سکتا ہے اور دیگر تمام امور صحیح نہج پر چل سکتے ہیں۔اس آیت کریمہ میں صدیق اکبر جناب ابوبکرtاور دیگر اصحاب کرام کی فضیلت پر بھی سب سے بڑی دلیل ہے، جنھوں نے رسول اللہﷺکے بعد مرتدین کے خلاف جنگ کی، کیونکہ وہ سادات اہل شکر میں شمار ہوتے ہیں۔
[145] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ تمام نفوس اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قضا و قدر سے اپنی اپنی اجل کے ساتھ معلق ہیں۔ پس جس کی تقدیر میں موت کا حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے اسے بغیر کسی سبب کے بھی موت آ کر رہتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جس کو باقی رکھنا چاہے، تو پھر اگر موت کے تمام اسباب بھی جمع کیوں نہ ہو جائیں، یہ اسباب وقت مقررہ سے پہلے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کر کے اس کو مقدر کر دیا ہے اور اس کی موت کا وقت معین اس کی تقدیر میں لکھ دیا۔ ﴿فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠﴾(الاعراف : 7؍34) ’’جب ان کا وقت معین آ جاتا ہے تو نہ وہ ایک گھڑی تاخیر کر سکتے ہیں اور نہ جلدی۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ لوگوں کو دنیا و آخرت کا وہی ثواب عطاکرتا ہے جس سے ان کے ارادے متعلق ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿وَمَنۡ يُّرِدۡ ثَـوَابَ الدُّنۡيَا نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا١ۚ وَمَنۡ يُّرِدۡ ثَـوَابَ الۡاٰخِرَةِ نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا﴾ ’’جو کوئی دنیا ہی میں اپنے اعمال کا بدلہ چاہتا ہے ہم اسے وہیں بدلہ دے دیتے ہیں اور جو کوئی اپنے اعمال کا بدلہ آخرت میں چاہتا ہے ہم اس کو آخرت میں اس کا بدلہ عطا کریں گے۔‘‘ فرمایا: ﴿كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَهٰۤؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُوۡرًا۰۰اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ وَلَلۡاٰخِرَةُ اَكۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكۡبَرُ تَفۡضِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍20۔21) ’’ہم ان سب کو تیرے رب کی عطا و بخشش سے مدد دیتے ہیں اور تیرے رب کی عطا و بخشش ممنوع اور روکی ہوئی نہیں ہے۔ دیکھ ہم نے کیسے ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے اور آخرت درجات کے اعتبار سے بہت بڑی اور فضیلت میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘فرمایا: ﴿وَسَنَجۡزِي الشّٰكِرِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جزا دیں گے شکر کرنے والوں کو‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ نے جزا کا ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس جزا کی کثرت اور عظمت پر دلیل ہو اور یہ بھی بندے کو معلوم ہو جائے کہ یہ جزا قلت و کثرت اور حسن کے اعتبار سے شکر کی مقدار پر منحصر ہے۔
آل عمران 3:146
اور کتنے ہی نبی تھے، لڑے ان کے ساتھ (مل کر) اللہ والے بہت سے، پس نہ سست ہوئے وہ بوجہ اس کے جو پہنچا ان کو اللہ کے راستے میں اور نہ انھوں نے کمزوری دکھائی اور نہ وہ دبے اور اللہ پسند کرتا ہے صبر کرنے والوں کو(146) اور نہیں تھا قول ان کا مگر یہی کہ کہا انھوں نے، اے ہمارے رب! بخش دے ہمارے لیے ہمارے گناہ اور ہماری زیادتی ہمارے اپنے کام میں اور ثابت رکھ ہمارے قدموں کو اور مدد فرما ہماری اوپر کافر قوم کے(147) پس دیا انھیں اللہ نے ثواب دنیا کا بھی اور اچھا ثواب آخرت کا بھی اور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(148)
[146] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے تسلی ہے اور ان کے فعل کی اقتدا کی ترغیب ہے اور اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ (حق و باطل کی کشمکش کا) یہ معاملہ شروع ہی سے چلا آ رہا ہے اور ازل سے اللہ تعالیٰ کی سنت جاری ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ نَّبِيٍّ﴾ ’’یعنی کتنے ہی نبی ہیں‘‘ ﴿قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوۡنَ كَثِيۡرٌ﴾ ’’جن کے ساتھ ہوکر اکثر اللہ والوں نے قتال کیا ہے۔‘‘ یعنی انبیاء کرام کے پیروکاروں کی بہت سی جماعتوں نے، جن کی انبیاء علیہ السلام نے ایمان اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے تربیت کی، جہاد کیا، پس وہ شہید ہوئے اور انھوں نے زخم کھائے ﴿فَمَا وَهَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَهُمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوۡا وَمَا اسۡتَكَانُوۡا﴾ یعنی ان کے دل کمزور ہوئے نہ ان کے بدن، اور نہ انھوں نے عاجزی اور فروتنی ظاہر کی۔ یعنی وہ دشمن کے سامنے جھکے نہیں۔ بلکہ انھوں نے صبر کیا اور ثابت قدم رہے اور اپنا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘
[147] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی اس دعا کا ذکر فرمایا جس میں انھوں نے اپنے رب سے فتح و نصرت طلب کی ہے۔ ﴿وَمَا كَانَ قَوۡلَهُمۡ﴾ یعنی ان انتہائی مشکل مقامات پر ان کا یہی قول تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَاِسۡرَافَنَا فِيۡۤ اَمۡرِنَا﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمارے گناہ اور وہ زیادتیاں جو ہمارے معاملے میں ہم سے سرزد ہوئی ہیں بخش دے۔‘‘ اسراف سے مراد حد سے تجاوز کر کے حرام امور میں داخل ہونا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ گناہ اور اسراف اللہ تعالیٰ کی نصرت اور توفیق کے اٹھ جانے کا سب سے بڑا سبب ہے اور گناہ اور اسراف کو چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کی نصرت کے حصول کا سبب ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے گناہوں کی بخشش کا سوال کیا۔ پھر انھوں نے محض اپنی جدوجہد اور اپنے صبر پر ہی بھروسہ نہیں کیا بلکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کیا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ دشمن سے مقابلہ ہونے کے وقت انھیں ثابت قدمی سے نوازے اور دشمن کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا کرے۔ پس اہل ایمان نے صبر کرنے، صبر کے متضاد امور کو ترک کرنے، توبہ، استغفار اور اللہ تعالیٰ سے فتح و نصرت کی دعا کو ایک جگہ جمع کر دیا۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح و نصرت سے نوازا۔ اور دنیا و آخرت میں ان کا اچھا انجام کیا۔ اس لیے فرمایا:
[148]﴿فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَـوَابَ الدُّنۡيَا﴾ ’’پس دیا ان کو اللہ نے دنیا کا ثواب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں فتح و ظفر سے نوازا اور مال غنیمت عطا کیا ﴿وَحُسۡنَ ثَـوَابِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’اور خوب آخرت کا ثواب‘‘ یعنی اپنے رب کی رضا کے حصول میں کامیابی، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کا عطا ہونا جو ہر قسم کے تکدر سے محفوظ ہوں گی۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ انھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے بہترین اعمال سرانجام دیے پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو بہترین جزا سے نوازا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ یعنی خالق کی عبادت اور مخلوق کے ساتھ معاملہ میں احسان کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ دشمن کے ساتھ جہاد کے وقت، ان مومنین کا سا کردار اختیار کرنا بھی احسان ہے۔
آل عمران 3:147
اور کتنے ہی نبی تھے، لڑے ان کے ساتھ (مل کر) اللہ والے بہت سے، پس نہ سست ہوئے وہ بوجہ اس کے جو پہنچا ان کو اللہ کے راستے میں اور نہ انھوں نے کمزوری دکھائی اور نہ وہ دبے اور اللہ پسند کرتا ہے صبر کرنے والوں کو(146) اور نہیں تھا قول ان کا مگر یہی کہ کہا انھوں نے، اے ہمارے رب! بخش دے ہمارے لیے ہمارے گناہ اور ہماری زیادتی ہمارے اپنے کام میں اور ثابت رکھ ہمارے قدموں کو اور مدد فرما ہماری اوپر کافر قوم کے(147) پس دیا انھیں اللہ نے ثواب دنیا کا بھی اور اچھا ثواب آخرت کا بھی اور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(148)
[146] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے تسلی ہے اور ان کے فعل کی اقتدا کی ترغیب ہے اور اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ (حق و باطل کی کشمکش کا) یہ معاملہ شروع ہی سے چلا آ رہا ہے اور ازل سے اللہ تعالیٰ کی سنت جاری ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ نَّبِيٍّ﴾ ’’یعنی کتنے ہی نبی ہیں‘‘ ﴿قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوۡنَ كَثِيۡرٌ﴾ ’’جن کے ساتھ ہوکر اکثر اللہ والوں نے قتال کیا ہے۔‘‘ یعنی انبیاء کرام کے پیروکاروں کی بہت سی جماعتوں نے، جن کی انبیاء علیہ السلام نے ایمان اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے تربیت کی، جہاد کیا، پس وہ شہید ہوئے اور انھوں نے زخم کھائے ﴿فَمَا وَهَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَهُمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوۡا وَمَا اسۡتَكَانُوۡا﴾ یعنی ان کے دل کمزور ہوئے نہ ان کے بدن، اور نہ انھوں نے عاجزی اور فروتنی ظاہر کی۔ یعنی وہ دشمن کے سامنے جھکے نہیں۔ بلکہ انھوں نے صبر کیا اور ثابت قدم رہے اور اپنا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘
[147] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی اس دعا کا ذکر فرمایا جس میں انھوں نے اپنے رب سے فتح و نصرت طلب کی ہے۔ ﴿وَمَا كَانَ قَوۡلَهُمۡ﴾ یعنی ان انتہائی مشکل مقامات پر ان کا یہی قول تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَاِسۡرَافَنَا فِيۡۤ اَمۡرِنَا﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمارے گناہ اور وہ زیادتیاں جو ہمارے معاملے میں ہم سے سرزد ہوئی ہیں بخش دے۔‘‘ اسراف سے مراد حد سے تجاوز کر کے حرام امور میں داخل ہونا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ گناہ اور اسراف اللہ تعالیٰ کی نصرت اور توفیق کے اٹھ جانے کا سب سے بڑا سبب ہے اور گناہ اور اسراف کو چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کی نصرت کے حصول کا سبب ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے گناہوں کی بخشش کا سوال کیا۔ پھر انھوں نے محض اپنی جدوجہد اور اپنے صبر پر ہی بھروسہ نہیں کیا بلکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کیا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ دشمن سے مقابلہ ہونے کے وقت انھیں ثابت قدمی سے نوازے اور دشمن کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا کرے۔ پس اہل ایمان نے صبر کرنے، صبر کے متضاد امور کو ترک کرنے، توبہ، استغفار اور اللہ تعالیٰ سے فتح و نصرت کی دعا کو ایک جگہ جمع کر دیا۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح و نصرت سے نوازا۔ اور دنیا و آخرت میں ان کا اچھا انجام کیا۔ اس لیے فرمایا:
[148]﴿فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَـوَابَ الدُّنۡيَا﴾ ’’پس دیا ان کو اللہ نے دنیا کا ثواب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں فتح و ظفر سے نوازا اور مال غنیمت عطا کیا ﴿وَحُسۡنَ ثَـوَابِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’اور خوب آخرت کا ثواب‘‘ یعنی اپنے رب کی رضا کے حصول میں کامیابی، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کا عطا ہونا جو ہر قسم کے تکدر سے محفوظ ہوں گی۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ انھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے بہترین اعمال سرانجام دیے پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو بہترین جزا سے نوازا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ یعنی خالق کی عبادت اور مخلوق کے ساتھ معاملہ میں احسان کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ دشمن کے ساتھ جہاد کے وقت، ان مومنین کا سا کردار اختیار کرنا بھی احسان ہے۔
آل عمران 3:148
اور کتنے ہی نبی تھے، لڑے ان کے ساتھ (مل کر) اللہ والے بہت سے، پس نہ سست ہوئے وہ بوجہ اس کے جو پہنچا ان کو اللہ کے راستے میں اور نہ انھوں نے کمزوری دکھائی اور نہ وہ دبے اور اللہ پسند کرتا ہے صبر کرنے والوں کو(146) اور نہیں تھا قول ان کا مگر یہی کہ کہا انھوں نے، اے ہمارے رب! بخش دے ہمارے لیے ہمارے گناہ اور ہماری زیادتی ہمارے اپنے کام میں اور ثابت رکھ ہمارے قدموں کو اور مدد فرما ہماری اوپر کافر قوم کے(147) پس دیا انھیں اللہ نے ثواب دنیا کا بھی اور اچھا ثواب آخرت کا بھی اور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(148)
[146] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے تسلی ہے اور ان کے فعل کی اقتدا کی ترغیب ہے اور اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ (حق و باطل کی کشمکش کا) یہ معاملہ شروع ہی سے چلا آ رہا ہے اور ازل سے اللہ تعالیٰ کی سنت جاری ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ نَّبِيٍّ﴾ ’’یعنی کتنے ہی نبی ہیں‘‘ ﴿قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوۡنَ كَثِيۡرٌ﴾ ’’جن کے ساتھ ہوکر اکثر اللہ والوں نے قتال کیا ہے۔‘‘ یعنی انبیاء کرام کے پیروکاروں کی بہت سی جماعتوں نے، جن کی انبیاء علیہ السلام نے ایمان اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے تربیت کی، جہاد کیا، پس وہ شہید ہوئے اور انھوں نے زخم کھائے ﴿فَمَا وَهَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَهُمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوۡا وَمَا اسۡتَكَانُوۡا﴾ یعنی ان کے دل کمزور ہوئے نہ ان کے بدن، اور نہ انھوں نے عاجزی اور فروتنی ظاہر کی۔ یعنی وہ دشمن کے سامنے جھکے نہیں۔ بلکہ انھوں نے صبر کیا اور ثابت قدم رہے اور اپنا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘
[147] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی اس دعا کا ذکر فرمایا جس میں انھوں نے اپنے رب سے فتح و نصرت طلب کی ہے۔ ﴿وَمَا كَانَ قَوۡلَهُمۡ﴾ یعنی ان انتہائی مشکل مقامات پر ان کا یہی قول تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَاِسۡرَافَنَا فِيۡۤ اَمۡرِنَا﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمارے گناہ اور وہ زیادتیاں جو ہمارے معاملے میں ہم سے سرزد ہوئی ہیں بخش دے۔‘‘ اسراف سے مراد حد سے تجاوز کر کے حرام امور میں داخل ہونا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ گناہ اور اسراف اللہ تعالیٰ کی نصرت اور توفیق کے اٹھ جانے کا سب سے بڑا سبب ہے اور گناہ اور اسراف کو چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کی نصرت کے حصول کا سبب ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے گناہوں کی بخشش کا سوال کیا۔ پھر انھوں نے محض اپنی جدوجہد اور اپنے صبر پر ہی بھروسہ نہیں کیا بلکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کیا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ دشمن سے مقابلہ ہونے کے وقت انھیں ثابت قدمی سے نوازے اور دشمن کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا کرے۔ پس اہل ایمان نے صبر کرنے، صبر کے متضاد امور کو ترک کرنے، توبہ، استغفار اور اللہ تعالیٰ سے فتح و نصرت کی دعا کو ایک جگہ جمع کر دیا۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح و نصرت سے نوازا۔ اور دنیا و آخرت میں ان کا اچھا انجام کیا۔ اس لیے فرمایا:
[148]﴿فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَـوَابَ الدُّنۡيَا﴾ ’’پس دیا ان کو اللہ نے دنیا کا ثواب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں فتح و ظفر سے نوازا اور مال غنیمت عطا کیا ﴿وَحُسۡنَ ثَـوَابِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’اور خوب آخرت کا ثواب‘‘ یعنی اپنے رب کی رضا کے حصول میں کامیابی، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کا عطا ہونا جو ہر قسم کے تکدر سے محفوظ ہوں گی۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ انھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے بہترین اعمال سرانجام دیے پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو بہترین جزا سے نوازا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ یعنی خالق کی عبادت اور مخلوق کے ساتھ معاملہ میں احسان کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ دشمن کے ساتھ جہاد کے وقت، ان مومنین کا سا کردار اختیار کرنا بھی احسان ہے۔
آل عمران 3:149
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر اطاعت کرو گے تم ان کی جنھوں نے کفر کیا تو لوٹا دیں گے وہ تمھیں اوپر تمھاری ایڑیوں کے (شرک کی طرف) پس پلٹو گے تم خسارہ پانے والے(149)بلکہ اللہ کارساز ہے تمھارا اور وہ سب سے بہترمددگار ہے(150) عنقریب ڈال دیں گے ہم دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب بہ سبب اس کے جو شریک ٹھہرایا انھوں نے اللہ کا، ایسی چیزوں کو کہ نہیں اُتاری اس نے اس کی کوئی دلیل اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور برا ہے ٹھکانا ظالموں کا(151)
[149] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو منافقین و مشرکین کی اطاعت سے ممانعت ہے۔ کیونکہ وہ جب بھی کفار کی اطاعت کریں گے تو کفار ان کے مقابلے میں برا ارادہ ہی رکھیں گے اور ان کا قصد و ارادہ یہی ہو گا کہ وہ اہل ایمان کو کفر کی طرف لوٹا دیں جس کا انجام ناکامی اور خسارے کے سوا کچھ بھی نہیں۔
[150] پھر اہل ایمان کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ ان کا مولیٰ اور حامی و ناصر ہے اور اس میں اہل ایمان کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ اپنے لطف و کرم سے ان کے امور کی سرپرستی کرتا ہے اور انھیں مختلف قسم کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ وہ ہر ایک کو چھوڑ کر صرف اسی کو اپنا ولی اور مددگار بنائیں۔
[151] اللہ کی سرپرستی اور اس کی طرف سے مسلمانوں کی مدد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ ان کے دشمن کفار کے دلوں میں رعب ڈال دے گا۔ یہاں رعب سے مراد وہ خوف عظیم ہے جو کفار کو ان کے بہت سے مقاصد سے روک دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا فرمایا وہ اس طرح کہ ’’اُحد‘‘ کے واقعہ کے بعد جب مشرکین واپس لوٹے تو (راستے میں) انھوں نے باہمی مشورہ کیا اور کہنے لگے ’’ہم کیسے واپس لوٹ سکتے ہیں۔ ہم نے ان کے بعض لوگوں کو قتل کیا اور ان کو شکست دی مگر ہم نے ان کا مکمل استیصال نہیں کیا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے اس کا ارادہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ خائب و خاسر ہو کر لوٹ گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بہت بڑی فتح ہے۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے فتح و نصرت، دو امور سے خالی نہیں ہوتی:(۱) اللہ تعالیٰ یا تو کفار کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ (۲) یا انھیں ذلت سے دوچار کرتا ہے اور وہ خائب و خاسر واپس لوٹ جاتے ہیں اور یہ (رعب ڈال کر انھیں ناکام لوٹا دینا) دوسری قسم سے ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو کفار کے دلوں میں رعب ڈالنے کا موجب تھا ﴿بِمَاۤ اَشۡرَؔكُوۡا بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ سُلۡطٰنًا﴾ یعنی اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا لیے اور اپنی خواہشات نفس اور اپنے فاسد ارادوں کے مطابق بتوں کو رب بنا لیا۔ جس پر کوئی حجت اور برہان نہیں تھی اور اس طرح وہ اللہ واحد و رحمٰن کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔ اسی وجہ سے مشرک اہل ایمان سے مرعوب ہو جاتا تھا اور اسے کوئی مضبوط سہارا حاصل نہیں تھا۔ کسی شدت اور تنگی کے وقت کوئی اس کی پناہ گاہ نہیں تھی۔ یہ اس کا دنیا میں حال ہے۔ آخرت کا حال اس سے زیادہ برا اور سخت ہو گا اس لیے فرمایا: ﴿وَمَاۡوٰىهُمُ النَّارُ﴾ یعنی ان کا ٹھکانہ جہاں یہ پناہ لیں گے، جہنم ہے، اور پھر وہاں سے نکل نہیں سکیں گے ﴿وَبِئۡسَ مَثۡوَى الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور برا ہے ٹھکانا ظالموں کا‘‘ ان کے ظلم اور تعدی کے سبب جہنم ان کا ٹھکانہ ہو گا۔
آل عمران 3:150
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر اطاعت کرو گے تم ان کی جنھوں نے کفر کیا تو لوٹا دیں گے وہ تمھیں اوپر تمھاری ایڑیوں کے (شرک کی طرف) پس پلٹو گے تم خسارہ پانے والے(149)بلکہ اللہ کارساز ہے تمھارا اور وہ سب سے بہترمددگار ہے(150) عنقریب ڈال دیں گے ہم دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب بہ سبب اس کے جو شریک ٹھہرایا انھوں نے اللہ کا، ایسی چیزوں کو کہ نہیں اُتاری اس نے اس کی کوئی دلیل اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور برا ہے ٹھکانا ظالموں کا(151)
[149] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو منافقین و مشرکین کی اطاعت سے ممانعت ہے۔ کیونکہ وہ جب بھی کفار کی اطاعت کریں گے تو کفار ان کے مقابلے میں برا ارادہ ہی رکھیں گے اور ان کا قصد و ارادہ یہی ہو گا کہ وہ اہل ایمان کو کفر کی طرف لوٹا دیں جس کا انجام ناکامی اور خسارے کے سوا کچھ بھی نہیں۔
[150] پھر اہل ایمان کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ ان کا مولیٰ اور حامی و ناصر ہے اور اس میں اہل ایمان کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ اپنے لطف و کرم سے ان کے امور کی سرپرستی کرتا ہے اور انھیں مختلف قسم کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ وہ ہر ایک کو چھوڑ کر صرف اسی کو اپنا ولی اور مددگار بنائیں۔
[151] اللہ کی سرپرستی اور اس کی طرف سے مسلمانوں کی مدد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ ان کے دشمن کفار کے دلوں میں رعب ڈال دے گا۔ یہاں رعب سے مراد وہ خوف عظیم ہے جو کفار کو ان کے بہت سے مقاصد سے روک دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا فرمایا وہ اس طرح کہ ’’اُحد‘‘ کے واقعہ کے بعد جب مشرکین واپس لوٹے تو (راستے میں) انھوں نے باہمی مشورہ کیا اور کہنے لگے ’’ہم کیسے واپس لوٹ سکتے ہیں۔ ہم نے ان کے بعض لوگوں کو قتل کیا اور ان کو شکست دی مگر ہم نے ان کا مکمل استیصال نہیں کیا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے اس کا ارادہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ خائب و خاسر ہو کر لوٹ گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بہت بڑی فتح ہے۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے فتح و نصرت، دو امور سے خالی نہیں ہوتی:(۱) اللہ تعالیٰ یا تو کفار کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ (۲) یا انھیں ذلت سے دوچار کرتا ہے اور وہ خائب و خاسر واپس لوٹ جاتے ہیں اور یہ (رعب ڈال کر انھیں ناکام لوٹا دینا) دوسری قسم سے ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو کفار کے دلوں میں رعب ڈالنے کا موجب تھا ﴿بِمَاۤ اَشۡرَؔكُوۡا بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ سُلۡطٰنًا﴾ یعنی اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا لیے اور اپنی خواہشات نفس اور اپنے فاسد ارادوں کے مطابق بتوں کو رب بنا لیا۔ جس پر کوئی حجت اور برہان نہیں تھی اور اس طرح وہ اللہ واحد و رحمٰن کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔ اسی وجہ سے مشرک اہل ایمان سے مرعوب ہو جاتا تھا اور اسے کوئی مضبوط سہارا حاصل نہیں تھا۔ کسی شدت اور تنگی کے وقت کوئی اس کی پناہ گاہ نہیں تھی۔ یہ اس کا دنیا میں حال ہے۔ آخرت کا حال اس سے زیادہ برا اور سخت ہو گا اس لیے فرمایا: ﴿وَمَاۡوٰىهُمُ النَّارُ﴾ یعنی ان کا ٹھکانہ جہاں یہ پناہ لیں گے، جہنم ہے، اور پھر وہاں سے نکل نہیں سکیں گے ﴿وَبِئۡسَ مَثۡوَى الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور برا ہے ٹھکانا ظالموں کا‘‘ ان کے ظلم اور تعدی کے سبب جہنم ان کا ٹھکانہ ہو گا۔
آل عمران 3:151
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر اطاعت کرو گے تم ان کی جنھوں نے کفر کیا تو لوٹا دیں گے وہ تمھیں اوپر تمھاری ایڑیوں کے (شرک کی طرف) پس پلٹو گے تم خسارہ پانے والے(149)بلکہ اللہ کارساز ہے تمھارا اور وہ سب سے بہترمددگار ہے(150) عنقریب ڈال دیں گے ہم دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب بہ سبب اس کے جو شریک ٹھہرایا انھوں نے اللہ کا، ایسی چیزوں کو کہ نہیں اُتاری اس نے اس کی کوئی دلیل اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور برا ہے ٹھکانا ظالموں کا(151)
[149] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو منافقین و مشرکین کی اطاعت سے ممانعت ہے۔ کیونکہ وہ جب بھی کفار کی اطاعت کریں گے تو کفار ان کے مقابلے میں برا ارادہ ہی رکھیں گے اور ان کا قصد و ارادہ یہی ہو گا کہ وہ اہل ایمان کو کفر کی طرف لوٹا دیں جس کا انجام ناکامی اور خسارے کے سوا کچھ بھی نہیں۔
[150] پھر اہل ایمان کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ ان کا مولیٰ اور حامی و ناصر ہے اور اس میں اہل ایمان کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ اپنے لطف و کرم سے ان کے امور کی سرپرستی کرتا ہے اور انھیں مختلف قسم کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ وہ ہر ایک کو چھوڑ کر صرف اسی کو اپنا ولی اور مددگار بنائیں۔
[151] اللہ کی سرپرستی اور اس کی طرف سے مسلمانوں کی مدد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ ان کے دشمن کفار کے دلوں میں رعب ڈال دے گا۔ یہاں رعب سے مراد وہ خوف عظیم ہے جو کفار کو ان کے بہت سے مقاصد سے روک دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا فرمایا وہ اس طرح کہ ’’اُحد‘‘ کے واقعہ کے بعد جب مشرکین واپس لوٹے تو (راستے میں) انھوں نے باہمی مشورہ کیا اور کہنے لگے ’’ہم کیسے واپس لوٹ سکتے ہیں۔ ہم نے ان کے بعض لوگوں کو قتل کیا اور ان کو شکست دی مگر ہم نے ان کا مکمل استیصال نہیں کیا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے اس کا ارادہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ خائب و خاسر ہو کر لوٹ گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بہت بڑی فتح ہے۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے فتح و نصرت، دو امور سے خالی نہیں ہوتی:(۱) اللہ تعالیٰ یا تو کفار کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ (۲) یا انھیں ذلت سے دوچار کرتا ہے اور وہ خائب و خاسر واپس لوٹ جاتے ہیں اور یہ (رعب ڈال کر انھیں ناکام لوٹا دینا) دوسری قسم سے ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو کفار کے دلوں میں رعب ڈالنے کا موجب تھا ﴿بِمَاۤ اَشۡرَؔكُوۡا بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ سُلۡطٰنًا﴾ یعنی اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا لیے اور اپنی خواہشات نفس اور اپنے فاسد ارادوں کے مطابق بتوں کو رب بنا لیا۔ جس پر کوئی حجت اور برہان نہیں تھی اور اس طرح وہ اللہ واحد و رحمٰن کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔ اسی وجہ سے مشرک اہل ایمان سے مرعوب ہو جاتا تھا اور اسے کوئی مضبوط سہارا حاصل نہیں تھا۔ کسی شدت اور تنگی کے وقت کوئی اس کی پناہ گاہ نہیں تھی۔ یہ اس کا دنیا میں حال ہے۔ آخرت کا حال اس سے زیادہ برا اور سخت ہو گا اس لیے فرمایا: ﴿وَمَاۡوٰىهُمُ النَّارُ﴾ یعنی ان کا ٹھکانہ جہاں یہ پناہ لیں گے، جہنم ہے، اور پھر وہاں سے نکل نہیں سکیں گے ﴿وَبِئۡسَ مَثۡوَى الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور برا ہے ٹھکانا ظالموں کا‘‘ ان کے ظلم اور تعدی کے سبب جہنم ان کا ٹھکانہ ہو گا۔
آل عمران 3:152
اور تحقیق سچا کر دکھایا تم سے اللہ نے اپنا وعدہ جب کاٹتے تھے تم ان کو ساتھ اس کے حکم کے، یہاں تک کہ جب تم پست ہمت ہوگئے اور باہم جھگڑا کیا تم نے حکم (رسول) میں اور نافرمانی کی تم نے بعد اس کے کہ دکھلایا اس نے تم کو وہ جسے تم پسند کرتے تھے، تم میں سے بعض وہ ہیں جو ارادہ کرتے تھے دنیا کا اور بعض تم میں سے وہ ہیں جو ارادہ کرتے تھے آخرت کا۔ ، پھر پھیر دیا اللہ نے تم کو ان (کافروں) سے تاکہ آزمائے وہ تمھیں اور البتہ تحقیق معاف کر دیا اس نے تم کو اور اللہ فضل والا ہے اوپر مومنوں کے(152)
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اپنی نصرت کا وعدہ پورا کر دیا، پس تمھیں کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا کی حتی کہ تمھیں ان کی گردنوں پر اختیار دے دیا تھا اور تم نے ان کی گردنیں مارنا شروع کر دیں یہاں تک کہ تم خود اپنے لیے ہزیمت کا سبب بن گئے اور تم خود اپنے مقابلے میں دشمن کی اعانت کا باعث بن گئے۔ پس جب تم بزدلی، کمزوری اور سستی کا شکار ہو گئے ﴿وَتَنَازَعۡتُمۡ فِي الۡاَمۡرِ﴾ اور تم نے جھگڑے میں پڑ کر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو چھوڑ دیا جو اتحاد اور عدم اختلاف کے بارے میں تھا۔ پس تم اختلافات میں پڑ گئے۔ کوئی کہتا تھا کہ ہم تو اسی مقام پر ڈٹے رہیں گے جہاں رسول اللہﷺنے ہمیں متعین فرمایا ہے اور کسی نے کہا، اب ہمارے یہاں ٹھہرے رہنے کا کیا کام؟ جبکہ دشمن شکست کھا چکا اور کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔پس تم نے رسولﷺکی نافرمانی کی اور آپ کے حکم کو چھوڑ دیا ﴿ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَرٰىكُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَ﴾ ’’بعد اس کے، جب اللہ نے تمھیں وہ چیز دکھا دی جو تم پسند کرتے تھے‘‘ اور وہ تھی تمھارے دشمن کی ناکامی اور شکست۔ اس لیے کہ جس کو اللہ تعالیٰ اس چیز سے نواز دے، جو اسے پسند ہو، اس پر دوسرے کی نسبت زیادہ ضروری ہے کہ وہ نافرمانی سے بچے۔ پس خاص طور پر اس حال میں اور عام طور پر ہر حال میں اس پر اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنا واجب ہے۔ ﴿مِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الدُّنۡيَا﴾ ’’تم میں سے بعض وہ ہیں جو دنیا چاہتے تھے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا ﴿وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ﴾’’اور بعض تم میں سے آخرت چاہتے تھے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے رسول اللہﷺکے حکم کا التزام کیا اور جو ان کو حکم دیا گیا تھا اس پر ثابت قدم رہے۔﴿ثُمَّ صَرَفَكُمۡ عَنۡهُمۡ﴾ ’’پھر تم کو پھیر دیا ان سے‘‘ یعنی جب یہ تمام امور تم میں پائے گئے تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے مقابلے میں پھیر کر بھگا دیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمھاری آزمائش اور تمھارے امتحان کے طور پر جیت دشمن کے ہاتھ رہی۔ تاکہ مومن اور کافر، فرمانبردار اور نافرمان کے درمیان امتیاز ہو جائے۔ اور تاکہ تم سے جو غلطی سرزد ہوئی ہے اس مصیبت کے ذریعے سے تمھیں معاف کردے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ عَفَا عَنۡكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس نے تمھیں معاف کر دیا اور اللہ مومنوں پر فضل کرنے والا ہے‘‘ یعنی وہ ان پر بہت زیادہ فضل کرنے والا ہے کیونکہ اس نے انھیں اسلام سے نوازا، اپنے احکام کی طرف راہنمائی کی، ان کے گناہوں کو معاف کر دیا اور ان کے مصائب پر ان کو اجر عطا کیا۔یہ اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے کہ وہ جو بھلائی یا مصیبت ان کے لیے مقدر کرتا ہے وہ بھی ان کے لیے بھلائی ہی ہوتی ہے۔ اگر انھیں خوشحالی عطا کرتا ہے اور وہ اس پر شکر ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں شکر گزاروں کی جزا دیتا ہے۔ اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور اس پر وہ صبر کرتے ہیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ انھیں صبر کرنے والوں کے ثواب سے نوازتا ہے۔
آل عمران 3:153
جب چڑھے جارہے تھے تم اور نہیں مڑ کر دیکھتے تھے کسی کو اور رسول پکار رہے تھے تمھیں تمھاری پچھلی جماعت میں (کھڑے ہوئے) پس بدلے میں دیا اس نے تم کو غم پر غم تاکہ نہ غم کھاؤ تم اس پر جو فوت ہو گیا تم سے اور نہ اس (تکلیف) پر جو پہنچی تمھیں اور اللہ خبردار ہے اس سے جو تم عمل کرتے ہو(153) پھر نازل کیا اس نے تم پر بعدغم کے، امن ( یعنی ) اونگھ، ڈھانپتی تھی وہ ایک جماعت کو تم میں سے اور ایک جماعت تھی کہ فکر میں ڈال دیا تھا ان کو ان کی جانوں نے، وہ گمان کرتے تھے ساتھ اللہ کے ناحق گمان جاہلیت کا، کہتے تھے کیا ہے ہمارے لیے معاملے سے کچھ؟ کہہ دیجیے! بے شک معاملہ سب کا سب اللہ ہی کے لیے ہے، وہ چھپاتے ہیں اپنے دلوں میں وہ (بات) جو نہیں ظاہر کرتے آپ کے سامنے، کہتے ہیں اگر ہوتا ہمارے لیے معاملے سے کچھ تو نہ قتل کیے جاتے ہم یہاں، کہہ دیجیے! اگر ہوتے تم اپنے گھروں میں (بھی) تو ضرور باہر نکلتے وہ لوگ کہ لکھ دیا گیا تھا ان پر قتل ہونا، طرف اپنی قتل گاہوں کی اور تاکہ آزمائے اللہ اس میں جو تمھارے سینوں میں ہے اور تاکہ صاف کر دے ان (وسوسوں) کو جو تمھارے دلوں میں ہیں اور اللہ جانتا ہے سینوں کے راز(154)
[153] اللہ تبارک و تعالیٰ جنگ سے ان کی پسپائی کے وقت ان کا حال بیان کرتے ہوئے ان پر عتاب کرتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿اِذۡ تُصۡعِدُوۡنَ﴾ یعنی جب تم تیزی سے بھاگے جا رہے تھے ﴿وَلَا تَلۡوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ﴾ یعنی تم ایک دوسرے کو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے بلکہ جنگ سے فرار اور نجات کے سوا تمھارا کوئی ارادہ نہ تھا اور حال یہ تھا کہ تم کسی بڑے خطرے سے بھی دوچار نہ تھے کیونکہ تم سب سے آخر میں تھے اور ان لوگوں میں سے نہ تھے جو دشمن کے قریب تھے جو بلاواسطہ میدان جنگ میں تھے، بلکہ صورت حال یہ تھی ﴿وَّالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ فِيۡۤ اُخۡرٰؔىكُمۡ﴾’’رسول تمھیں بلا رہے تھے، تمھارے پیچھے سے‘‘ یعنی رسول اللہﷺان لوگوں کو بلا رہے تھے جو پہاڑوں پر چڑھ رہے تھے ’’اے اللہ کے بندو! میرے پاس آؤ‘‘ مگر تم نے ان کی طرف پلٹ کر دیکھا نہ تم ان کے پاس رکے۔ پس میدان جنگ سے فرار فی نفسہ موجب ملامت ہے اور رسول اللہﷺکا بلانا، جو اس امر کا موجب تھا کہ اپنی جان پر بھی آپ کی پکار کو مقدم رکھا جائے، سب سے بڑی ملامت کا مقام ہے، کیونکہ تم لوگ بلانے کے باوجود آپ سے پیچھے رہے۔﴿فَاَثَابَكُمۡ﴾ یعنی اس نے تمھارے اس فعل پر تمھیں جزا دی ﴿غَمًّۢا بِغَمٍّ﴾ یعنی غم کے بعد غم۔ فتح حاصل نہ ہونے کا غم، مال غنیمت سے محروم ہونے کا غم، ہزیمت اٹھانے کا غم اور ایک ایسا غم جس نے تمام غموں کو بھلا دیا اور وہ تھا تمھارا اس افواہ کو سن لینا کہ محمدﷺکو شہید کر دیا گیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور اپنے بندوں پر حسن نظر کی بنا پر ان تمام امور کے اجتماع کو ان کے لیے بھلائی بنا دیا۔ فرمایا:﴿لِّكَيۡلَا تَحۡزَنُوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ﴾ یعنی جو فتح و ظفر تمھیں حاصل نہ ہو سکی۔ اس پر غمزدہ نہ ہو ﴿وَلَا مَاۤ اَصَابَكُمۡ﴾ ’’اور نہ اس پر جو تمھیں پہنچا‘‘ یعنی تمھیں ہزیمت ، قتل اور زخموں کا جو سامنا کرنا پڑا۔ اور جب تم نے اس بات کی تحقیق کر لی کہ رسول اللہﷺشہید نہیں ہوئے تو تم پر تمام مصیبتیں آسان ہو گئیں۔ تم رسول اللہﷺکے زندہ ہونے پر خوش ہو گئے آپ کی زندگی کی خبر نے ہر مصیبت اور سختی کو فراموش کر دیا۔پس ابتلا اور آزمائش میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اس کے علم، تمھارے اعمال اور ظاہر و باطن کے مکمل باخبر ہونے کے ساتھ صادر ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اللہ تمھارے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِّكَيۡلَا تَحۡزَنُوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا مَاۤ اَصَابَكُمۡ﴾ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ غم اور مصیبت اس لیے مقدر کیے ہیں تاکہ تمھارے نفس ان مصائب کا سامنا کرنے پر آمادہ، اور ان پر صبر کرنے کے عادی ہوں اور تمھارے لیے مشقتوں کو برداشت کرنا آسان ہو جائے۔
[154]﴿ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ الۡغَمِّ ﴾ ’’پھر اتارا اس نے تم پر اس غم کے بعد‘‘ یعنی وہ غم جو تمھیں پہنچا ﴿اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغۡشٰى طَآىِٕفَةً مِّنۡكُمۡ﴾ ’’امن کو جو کہ اونگھ تھی کہ ڈھانک لیا اس نے تمھارے ایک گروہ کو‘‘ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت، احسان، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں کو ثابت قدم رکھنے اور طمانیت میں اضافہ کا باعث تھا۔ کیونکہ خوف زدہ شخص کو، دل خوف سے لبریز ہونے کی وجہ سے اونگھ اور نیند نہیں آتی۔ جب دل سے خوف زائل ہو جاتا ہے، تب نیند آنے کا امکان ہوتا ہے۔ یہ گروہ جس کو اللہ تعالیٰ نے نیند اور اونگھ سے نوازا ، اہل ایمان ہیں جن کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے، اللہ اور اس کے رسولﷺکی رضا کے حصول اور مسلمانوں کے مصالح کے سوا کوئی اور مقصد نہیں تھا۔رہا دوسرا گروہ جس کے بارے میں فرمایا:﴿قَدۡ اَهَمَّؔتۡهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’انھیں فکر میں ڈال دیا تھا ان کی جانوں نے‘‘ تو ان کے نفاق یا ان کے ایمان کی کمزوری کی بنا پر، ان کا اپنی جان بچانے کے سوا کوئی اور ارادہ نہ تھا۔ اس لیے ان کو وہ اونگھ نہ آئی جو دوسروں کو آئی تھی ﴿يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’وہ کہتے تھے، کچھ بھی کام ہے ہمارے ہاتھ میں؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے یعنی فتح و نصرت میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ پس انھوں نے اپنے رب، اپنے دین اور اپنے نبی کے بارے میں بدگمانی کی اور انھوں نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی دعوت کو پورا نہیں کرے گا۔ انھوں نے یہ بھی سمجھ لیا کہ یہ شکست اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف ایک فیصلہ کن شکست ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جواب میں فرمایا ﴿قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ﴾ ’’کہہ دو کہ تمام معاملے کا اختیار اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔‘‘ (امر) دو امور پر مشتمل ہوتا ہے:(۱) امر قدری اور(۲)امر شرعی۔پس تمام چیزوں کا ظہور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کی اطاعت کرنے والوں کے حق میں، ان چیزوں کا انجام فتح وظفر ہی ہوتا ہے خواہ ان پر کچھ بھی گزر جائے۔﴿يُخۡفُوۡنَ﴾ یعنی منافقین چھپاتے ہیں ﴿ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ مَّا لَا يُبۡدُوۡنَ لَكَ﴾ ’’اپنے دلوں میں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس معاملے کو واضح کر دیا جو وہ چھپاتے تھے، چنانچہ فرمایا ﴿يَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَيۡءٌ﴾ یعنی اگر اس واقعہ میں ہم سے رائے اور مشورہ لیا گیا ہوتا ﴿مَّا قُتِلۡنَا هٰهُنَا﴾ ’’تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا انکار اور اس کی تکذیب ہے اور یہ رسول اللہﷺاور آپ کے اصحاب کرام کی رائے کو بیوقوفی کی طرف منسوب کرنا اور اپنے آپ کو پاک صاف اور صحیح قرار دینا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ﴾ ’’کہہ دیں، اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے‘‘ گھر ایسی جگہ ہے جہاں قتل کا گمان بعید ترین چیز ہے۔ فرمایا ﴿لَـبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ﴾ ’’تب بھی وہ لوگ ضرور اپنے پڑاؤ کی طرف نکلتے جن کا مارا جانا لکھ دیا گیا تھا‘‘ پس معلوم ہوا کہ اسباب خواہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، وہ تب ہی فائدہ دیتے ہیں جب قضا و قدر معارض نہ ہو۔ جب قضا و قدر اسباب کے خلاف ہو تو اسباب کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کے جو فیصلے لوح محفوظ میں لکھ دیے ہیں وہ نافذ ہو کر رہتے ہیں۔ ﴿وَلِيَبۡتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيۡ صُدُوۡرِكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ آزمائے جو تمھارے سینوں میں (نفاق، ایمان اور ضعف ایمان) ہے۔‘‘ ﴿وَلِيُمَحِّصَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے دلوں کو (شیطانی وسوسوں اور ان سے پیدا ہونے والی مذموم صفات سے) پاک کر دے‘‘ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام (خیالات اور ارادوں) کو جانتا ہے جو دلوں کے اندر ہیں اور ان میں چھپے ہوئے ہیں۔ پس اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہوا کہ وہ ایسے اسباب پیدا کرے جن سے سینوں کے بھید اور معاملات کے اسرار نہاں ظاہر ہوں۔
آل عمران 3:154
جب چڑھے جارہے تھے تم اور نہیں مڑ کر دیکھتے تھے کسی کو اور رسول پکار رہے تھے تمھیں تمھاری پچھلی جماعت میں (کھڑے ہوئے) پس بدلے میں دیا اس نے تم کو غم پر غم تاکہ نہ غم کھاؤ تم اس پر جو فوت ہو گیا تم سے اور نہ اس (تکلیف) پر جو پہنچی تمھیں اور اللہ خبردار ہے اس سے جو تم عمل کرتے ہو(153) پھر نازل کیا اس نے تم پر بعدغم کے، امن ( یعنی ) اونگھ، ڈھانپتی تھی وہ ایک جماعت کو تم میں سے اور ایک جماعت تھی کہ فکر میں ڈال دیا تھا ان کو ان کی جانوں نے، وہ گمان کرتے تھے ساتھ اللہ کے ناحق گمان جاہلیت کا، کہتے تھے کیا ہے ہمارے لیے معاملے سے کچھ؟ کہہ دیجیے! بے شک معاملہ سب کا سب اللہ ہی کے لیے ہے، وہ چھپاتے ہیں اپنے دلوں میں وہ (بات) جو نہیں ظاہر کرتے آپ کے سامنے، کہتے ہیں اگر ہوتا ہمارے لیے معاملے سے کچھ تو نہ قتل کیے جاتے ہم یہاں، کہہ دیجیے! اگر ہوتے تم اپنے گھروں میں (بھی) تو ضرور باہر نکلتے وہ لوگ کہ لکھ دیا گیا تھا ان پر قتل ہونا، طرف اپنی قتل گاہوں کی اور تاکہ آزمائے اللہ اس میں جو تمھارے سینوں میں ہے اور تاکہ صاف کر دے ان (وسوسوں) کو جو تمھارے دلوں میں ہیں اور اللہ جانتا ہے سینوں کے راز(154)
[153] اللہ تبارک و تعالیٰ جنگ سے ان کی پسپائی کے وقت ان کا حال بیان کرتے ہوئے ان پر عتاب کرتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿اِذۡ تُصۡعِدُوۡنَ﴾ یعنی جب تم تیزی سے بھاگے جا رہے تھے ﴿وَلَا تَلۡوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ﴾ یعنی تم ایک دوسرے کو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے بلکہ جنگ سے فرار اور نجات کے سوا تمھارا کوئی ارادہ نہ تھا اور حال یہ تھا کہ تم کسی بڑے خطرے سے بھی دوچار نہ تھے کیونکہ تم سب سے آخر میں تھے اور ان لوگوں میں سے نہ تھے جو دشمن کے قریب تھے جو بلاواسطہ میدان جنگ میں تھے، بلکہ صورت حال یہ تھی ﴿وَّالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ فِيۡۤ اُخۡرٰؔىكُمۡ﴾’’رسول تمھیں بلا رہے تھے، تمھارے پیچھے سے‘‘ یعنی رسول اللہﷺان لوگوں کو بلا رہے تھے جو پہاڑوں پر چڑھ رہے تھے ’’اے اللہ کے بندو! میرے پاس آؤ‘‘ مگر تم نے ان کی طرف پلٹ کر دیکھا نہ تم ان کے پاس رکے۔ پس میدان جنگ سے فرار فی نفسہ موجب ملامت ہے اور رسول اللہﷺکا بلانا، جو اس امر کا موجب تھا کہ اپنی جان پر بھی آپ کی پکار کو مقدم رکھا جائے، سب سے بڑی ملامت کا مقام ہے، کیونکہ تم لوگ بلانے کے باوجود آپ سے پیچھے رہے۔﴿فَاَثَابَكُمۡ﴾ یعنی اس نے تمھارے اس فعل پر تمھیں جزا دی ﴿غَمًّۢا بِغَمٍّ﴾ یعنی غم کے بعد غم۔ فتح حاصل نہ ہونے کا غم، مال غنیمت سے محروم ہونے کا غم، ہزیمت اٹھانے کا غم اور ایک ایسا غم جس نے تمام غموں کو بھلا دیا اور وہ تھا تمھارا اس افواہ کو سن لینا کہ محمدﷺکو شہید کر دیا گیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور اپنے بندوں پر حسن نظر کی بنا پر ان تمام امور کے اجتماع کو ان کے لیے بھلائی بنا دیا۔ فرمایا:﴿لِّكَيۡلَا تَحۡزَنُوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ﴾ یعنی جو فتح و ظفر تمھیں حاصل نہ ہو سکی۔ اس پر غمزدہ نہ ہو ﴿وَلَا مَاۤ اَصَابَكُمۡ﴾ ’’اور نہ اس پر جو تمھیں پہنچا‘‘ یعنی تمھیں ہزیمت ، قتل اور زخموں کا جو سامنا کرنا پڑا۔ اور جب تم نے اس بات کی تحقیق کر لی کہ رسول اللہﷺشہید نہیں ہوئے تو تم پر تمام مصیبتیں آسان ہو گئیں۔ تم رسول اللہﷺکے زندہ ہونے پر خوش ہو گئے آپ کی زندگی کی خبر نے ہر مصیبت اور سختی کو فراموش کر دیا۔پس ابتلا اور آزمائش میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اس کے علم، تمھارے اعمال اور ظاہر و باطن کے مکمل باخبر ہونے کے ساتھ صادر ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اللہ تمھارے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِّكَيۡلَا تَحۡزَنُوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا مَاۤ اَصَابَكُمۡ﴾ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ غم اور مصیبت اس لیے مقدر کیے ہیں تاکہ تمھارے نفس ان مصائب کا سامنا کرنے پر آمادہ، اور ان پر صبر کرنے کے عادی ہوں اور تمھارے لیے مشقتوں کو برداشت کرنا آسان ہو جائے۔
[154]﴿ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ الۡغَمِّ ﴾ ’’پھر اتارا اس نے تم پر اس غم کے بعد‘‘ یعنی وہ غم جو تمھیں پہنچا ﴿اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغۡشٰى طَآىِٕفَةً مِّنۡكُمۡ﴾ ’’امن کو جو کہ اونگھ تھی کہ ڈھانک لیا اس نے تمھارے ایک گروہ کو‘‘ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت، احسان، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں کو ثابت قدم رکھنے اور طمانیت میں اضافہ کا باعث تھا۔ کیونکہ خوف زدہ شخص کو، دل خوف سے لبریز ہونے کی وجہ سے اونگھ اور نیند نہیں آتی۔ جب دل سے خوف زائل ہو جاتا ہے، تب نیند آنے کا امکان ہوتا ہے۔ یہ گروہ جس کو اللہ تعالیٰ نے نیند اور اونگھ سے نوازا ، اہل ایمان ہیں جن کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے، اللہ اور اس کے رسولﷺکی رضا کے حصول اور مسلمانوں کے مصالح کے سوا کوئی اور مقصد نہیں تھا۔رہا دوسرا گروہ جس کے بارے میں فرمایا:﴿قَدۡ اَهَمَّؔتۡهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’انھیں فکر میں ڈال دیا تھا ان کی جانوں نے‘‘ تو ان کے نفاق یا ان کے ایمان کی کمزوری کی بنا پر، ان کا اپنی جان بچانے کے سوا کوئی اور ارادہ نہ تھا۔ اس لیے ان کو وہ اونگھ نہ آئی جو دوسروں کو آئی تھی ﴿يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’وہ کہتے تھے، کچھ بھی کام ہے ہمارے ہاتھ میں؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے یعنی فتح و نصرت میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ پس انھوں نے اپنے رب، اپنے دین اور اپنے نبی کے بارے میں بدگمانی کی اور انھوں نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی دعوت کو پورا نہیں کرے گا۔ انھوں نے یہ بھی سمجھ لیا کہ یہ شکست اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف ایک فیصلہ کن شکست ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جواب میں فرمایا ﴿قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ﴾ ’’کہہ دو کہ تمام معاملے کا اختیار اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔‘‘ (امر) دو امور پر مشتمل ہوتا ہے:(۱) امر قدری اور(۲)امر شرعی۔پس تمام چیزوں کا ظہور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کی اطاعت کرنے والوں کے حق میں، ان چیزوں کا انجام فتح وظفر ہی ہوتا ہے خواہ ان پر کچھ بھی گزر جائے۔﴿يُخۡفُوۡنَ﴾ یعنی منافقین چھپاتے ہیں ﴿ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ مَّا لَا يُبۡدُوۡنَ لَكَ﴾ ’’اپنے دلوں میں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس معاملے کو واضح کر دیا جو وہ چھپاتے تھے، چنانچہ فرمایا ﴿يَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَيۡءٌ﴾ یعنی اگر اس واقعہ میں ہم سے رائے اور مشورہ لیا گیا ہوتا ﴿مَّا قُتِلۡنَا هٰهُنَا﴾ ’’تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا انکار اور اس کی تکذیب ہے اور یہ رسول اللہﷺاور آپ کے اصحاب کرام کی رائے کو بیوقوفی کی طرف منسوب کرنا اور اپنے آپ کو پاک صاف اور صحیح قرار دینا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ﴾ ’’کہہ دیں، اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے‘‘ گھر ایسی جگہ ہے جہاں قتل کا گمان بعید ترین چیز ہے۔ فرمایا ﴿لَـبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ﴾ ’’تب بھی وہ لوگ ضرور اپنے پڑاؤ کی طرف نکلتے جن کا مارا جانا لکھ دیا گیا تھا‘‘ پس معلوم ہوا کہ اسباب خواہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، وہ تب ہی فائدہ دیتے ہیں جب قضا و قدر معارض نہ ہو۔ جب قضا و قدر اسباب کے خلاف ہو تو اسباب کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کے جو فیصلے لوح محفوظ میں لکھ دیے ہیں وہ نافذ ہو کر رہتے ہیں۔ ﴿وَلِيَبۡتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيۡ صُدُوۡرِكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ آزمائے جو تمھارے سینوں میں (نفاق، ایمان اور ضعف ایمان) ہے۔‘‘ ﴿وَلِيُمَحِّصَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے دلوں کو (شیطانی وسوسوں اور ان سے پیدا ہونے والی مذموم صفات سے) پاک کر دے‘‘ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام (خیالات اور ارادوں) کو جانتا ہے جو دلوں کے اندر ہیں اور ان میں چھپے ہوئے ہیں۔ پس اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہوا کہ وہ ایسے اسباب پیدا کرے جن سے سینوں کے بھید اور معاملات کے اسرار نہاں ظاہر ہوں۔
آل عمران 3:155
بلاشبہ وہ لوگ جو پھر گئے تھے تم میں سے، جس دن ملی تھیں دو جماعتیں، یقیناً پھسلا دیا تھا ان کو شیطان نے بہ سبب بعض ان (کوتاہیوں) کے جو انھوں نے کیں اور تحقیق معاف کر دیا اللہ نے ان سے، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا بردبار ہے(155)
[155] اللہ تبارک وتعالیٰ ان لوگوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جنھوں نے احد کے روز ہزیمت اٹھائی۔ اور ان عوامل کی خبر دی جو ان کے فرار کا موجب بنے۔ نیز یہ کہ شیطان نے ان کو گمراہ کیا اور وہ ان کے بعض گناہوں کے سبب سے ان پر مسلط ہوگیا۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے شیطان کو دراندازی کی اجازت دی اور اپنی نافرمانیوں پر اسے اختیار دے دیا کیونکہ معصیت شیطان کی سواری اور اس کی دراندازی کا ذریعہ ہے۔ اگر وہ اپنے رب کی اطاعت کے ذریعے سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتے تو شیطان کو ان پر کوئی اختیار نہ ہوتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ﴾(بنی اسرائیل : 17؍65) ’’بے شک میرے جو بندے ہیں ان پر تیرا کوئی اختیار نہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے ان لوگوں کو معاف کر دیا جن سے یہ قابل مواخذہ فعل سرزد ہوا اور اگر وہ ان کا مواخذہ کرتا تو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ﴿اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ﴾ بے شک اللہ خطا کار گناہ گاروں کو توبہ و استغفار کی توفیق عطا کر کے اور ان کو مصائب میں مبتلا کر کے بخش دیتا ہے ﴿حَلِيۡمٌ﴾ یعنی جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ وہ اسے توبہ و انابت کے لیے اپنی طرف بلاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر کے اس کی طرف لوٹ آئے تو وہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور اسے ایسے کر دیتا ہے جیسے اس سے کوئی گناہ اور عیب صادر ہی نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر اللہ تعالیٰ ہی کی حمدو ثنا ہے۔
آل عمران 3:156
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا اور کہا انھوں نے واسطے اپنے بھائیوں کے، جب سفر کیا انھوں نے زمین میں یا تھے وہ لڑنے والے، اگر ہوتے وہ ہمارے پاس تو نہ مرتے وہ اور نہ قتل کیے جاتےتاکہ کر دے اللہ اس (فاسد خیال) کو پچھتاوا ان کے دلوں میں اور اللہ زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اللہ ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(156) اور البتہ اگر قتل کر دیے گئے تم اللہ کے راستے میں یا مر گئے تو البتہ بخشش اللہ کی اور رحمت، بہت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں(157) اور البتہ اگر تم مر گئے یا قتل کر دیے گئے تو یقینا اللہ ہی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(158)
[156] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو کفار اور منافقین وغیرہ کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ خاص طور پر اس معاملے میں کہ وہ اپنے دینی یا نسبی بھائیوں سے کہتے ہیں ﴿اِذَا ضَرَبُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ یعنی جب تجارت وغیرہ کے لیے سفر کرتے ہیں ﴿اَوۡ كَانُوۡا غُزًّى﴾ یا وہ غزوات کے لیے نکلتے ہیں۔ پھر اس دوران میں انھیں موت آ جاتی ہے یا وہ قتل ہو جاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿لَّوۡ كَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَمَا قُتِلُوۡا﴾ ’’اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو وہ نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے‘‘ یہ ان کا جھوٹ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ لَـبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ﴾(آل عمران : 3؍154) ’’کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھا تھا تو وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔‘‘ مگر اس تکذیب نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا البتہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول اور عقیدے کو ان کے دلوں میں حسرت بنا دیا پس ان کی مصیبت میں اور اضافہ ہو گیا۔ رہے اہل ایمان ، تو وہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے پس وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ہدایت دیتا ہے اور ان کو مضبوط کر دیتا ہے اور اس طرح ان کی مصیبت میں تخفیف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ منافقین کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿وَاللّٰهُ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ یعنی زندہ کرنے اور موت دینے کا اختیار وہ اکیلا ہی رکھتا ہے۔ اس لیے صرف احتیاط تقدیر سے نہیں بچا سکتی۔ ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس لیے وہ تمھارے اعمال اور تمھاری تکذیب کا بدلہ ضرور دے گا۔
[157] پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہو جانا یا مر جانا، اس میں کوئی نقص یا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے پرہیز کیا جائے بلکہ یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے جس میں رغبت کے لیے لوگوں کو مسابقت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک سبب ہے جو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت تک پہنچاتا ہے۔ اور یہ اس دنیاوی مال و متاع سے کہیں بہتر ہے جسے دنیا والے جمع کرتے ہیں۔
[158] نیز مخلوق کو جب بھی موت آئے گی یا کسی بھی حالت میں ان کو قتل کیا جائے انھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ اس لیے اللہ کے سوا کوئی جائے فرار نہیں اور مخلوق کو کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اس کے کہ اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے۔
آل عمران 3:157
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا اور کہا انھوں نے واسطے اپنے بھائیوں کے، جب سفر کیا انھوں نے زمین میں یا تھے وہ لڑنے والے، اگر ہوتے وہ ہمارے پاس تو نہ مرتے وہ اور نہ قتل کیے جاتےتاکہ کر دے اللہ اس (فاسد خیال) کو پچھتاوا ان کے دلوں میں اور اللہ زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اللہ ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(156) اور البتہ اگر قتل کر دیے گئے تم اللہ کے راستے میں یا مر گئے تو البتہ بخشش اللہ کی اور رحمت، بہت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں(157) اور البتہ اگر تم مر گئے یا قتل کر دیے گئے تو یقینا اللہ ہی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(158)
[156] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو کفار اور منافقین وغیرہ کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ خاص طور پر اس معاملے میں کہ وہ اپنے دینی یا نسبی بھائیوں سے کہتے ہیں ﴿اِذَا ضَرَبُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ یعنی جب تجارت وغیرہ کے لیے سفر کرتے ہیں ﴿اَوۡ كَانُوۡا غُزًّى﴾ یا وہ غزوات کے لیے نکلتے ہیں۔ پھر اس دوران میں انھیں موت آ جاتی ہے یا وہ قتل ہو جاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿لَّوۡ كَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَمَا قُتِلُوۡا﴾ ’’اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو وہ نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے‘‘ یہ ان کا جھوٹ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ لَـبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ﴾(آل عمران : 3؍154) ’’کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھا تھا تو وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔‘‘ مگر اس تکذیب نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا البتہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول اور عقیدے کو ان کے دلوں میں حسرت بنا دیا پس ان کی مصیبت میں اور اضافہ ہو گیا۔ رہے اہل ایمان ، تو وہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے پس وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ہدایت دیتا ہے اور ان کو مضبوط کر دیتا ہے اور اس طرح ان کی مصیبت میں تخفیف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ منافقین کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿وَاللّٰهُ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ یعنی زندہ کرنے اور موت دینے کا اختیار وہ اکیلا ہی رکھتا ہے۔ اس لیے صرف احتیاط تقدیر سے نہیں بچا سکتی۔ ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس لیے وہ تمھارے اعمال اور تمھاری تکذیب کا بدلہ ضرور دے گا۔
[157] پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہو جانا یا مر جانا، اس میں کوئی نقص یا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے پرہیز کیا جائے بلکہ یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے جس میں رغبت کے لیے لوگوں کو مسابقت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک سبب ہے جو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت تک پہنچاتا ہے۔ اور یہ اس دنیاوی مال و متاع سے کہیں بہتر ہے جسے دنیا والے جمع کرتے ہیں۔
[158] نیز مخلوق کو جب بھی موت آئے گی یا کسی بھی حالت میں ان کو قتل کیا جائے انھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ اس لیے اللہ کے سوا کوئی جائے فرار نہیں اور مخلوق کو کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اس کے کہ اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے۔
آل عمران 3:158
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا اور کہا انھوں نے واسطے اپنے بھائیوں کے، جب سفر کیا انھوں نے زمین میں یا تھے وہ لڑنے والے، اگر ہوتے وہ ہمارے پاس تو نہ مرتے وہ اور نہ قتل کیے جاتےتاکہ کر دے اللہ اس (فاسد خیال) کو پچھتاوا ان کے دلوں میں اور اللہ زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اللہ ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(156) اور البتہ اگر قتل کر دیے گئے تم اللہ کے راستے میں یا مر گئے تو البتہ بخشش اللہ کی اور رحمت، بہت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں(157) اور البتہ اگر تم مر گئے یا قتل کر دیے گئے تو یقینا اللہ ہی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(158)
[156] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو کفار اور منافقین وغیرہ کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ خاص طور پر اس معاملے میں کہ وہ اپنے دینی یا نسبی بھائیوں سے کہتے ہیں ﴿اِذَا ضَرَبُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ یعنی جب تجارت وغیرہ کے لیے سفر کرتے ہیں ﴿اَوۡ كَانُوۡا غُزًّى﴾ یا وہ غزوات کے لیے نکلتے ہیں۔ پھر اس دوران میں انھیں موت آ جاتی ہے یا وہ قتل ہو جاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿لَّوۡ كَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَمَا قُتِلُوۡا﴾ ’’اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو وہ نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے‘‘ یہ ان کا جھوٹ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ لَـبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ﴾(آل عمران : 3؍154) ’’کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھا تھا تو وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔‘‘ مگر اس تکذیب نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا البتہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول اور عقیدے کو ان کے دلوں میں حسرت بنا دیا پس ان کی مصیبت میں اور اضافہ ہو گیا۔ رہے اہل ایمان ، تو وہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے پس وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ہدایت دیتا ہے اور ان کو مضبوط کر دیتا ہے اور اس طرح ان کی مصیبت میں تخفیف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ منافقین کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿وَاللّٰهُ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ یعنی زندہ کرنے اور موت دینے کا اختیار وہ اکیلا ہی رکھتا ہے۔ اس لیے صرف احتیاط تقدیر سے نہیں بچا سکتی۔ ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس لیے وہ تمھارے اعمال اور تمھاری تکذیب کا بدلہ ضرور دے گا۔
[157] پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہو جانا یا مر جانا، اس میں کوئی نقص یا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے پرہیز کیا جائے بلکہ یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے جس میں رغبت کے لیے لوگوں کو مسابقت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک سبب ہے جو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت تک پہنچاتا ہے۔ اور یہ اس دنیاوی مال و متاع سے کہیں بہتر ہے جسے دنیا والے جمع کرتے ہیں۔
[158] نیز مخلوق کو جب بھی موت آئے گی یا کسی بھی حالت میں ان کو قتل کیا جائے انھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ اس لیے اللہ کے سوا کوئی جائے فرار نہیں اور مخلوق کو کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اس کے کہ اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے۔
آل عمران 3:159
پس بہ سبب رحمت کے اللہ کی، نرم ہوگئے آپ ان کے لیےاور اگر ہوتے آپ تند خو، سخت دل تو ضرور منتشر ہو جاتے وہ آپ کے پاس سے، پس آپ معاف کر دیں انھیں اور بخشش مانگیں ان کے لیے اور مشورہ کریں ان سے (اہم) معاملے میں، پس جب پختہ ارادہ کر لیں آپ تو توکل کریں اللہ پر، بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے توکل کرنے والوں کو(159)
[159] یعنی یہ آپ پر اور آپ کے اصحاب پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور یہ اللہ کا آپ پر احسان ہے کہ آپ ان کے لیے نہایت نرم دل ہو گئے، آپ ان سے نہایت مہربانی اور شفقت سے پیش آتے ہیں اور ان کے ساتھ آپ کا خلق بہت اچھا ہے اس لیے وہ آپ کے ارد گر جمع ہو گئے اور وہ آپ سے محبت کرتے اور آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ ﴿وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا﴾ یعنی اگر آپ بداخلاق ہوتے ﴿غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ﴾ یعنی سخت دل ہوتے ﴿لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾ ’’تو وہ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے‘‘ کیونکہ بدخوئی اور سخت دلی لوگوں کو متنفر اور ان کے دلوں میں بغض پیدا کرتی ہے۔ پس دنیاوی سربراہ کے اچھے اخلاق لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف کھینچتے ہیں اور دین کے بارے میں لوگوں میں رغبت پیدا کرتے ہیں اس کے علاوہ وہ لوگوں میں قابل تعریف اور اللہ کے ہاں اجر خاص کا مستحق ہوتا ہے اور دینی سربراہ کے برے اخلاق لوگوں کو دین سے متنفر کرتے اور دین کے بارے میں لوگوں میں بغض پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بدخو دینی سربراہ قابل مذمت اور خاص سزا کا مستحق ہے۔ یہ رسول معصوم(ﷺ)ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے تب کسی دوسرے کا کیا حال ہو گا۔کیا یہ سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ اہم بات نہیں کہ ہم رسول اللہﷺکے اخلاق کی پیروی کریں اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف راغب کرنے کے لیے ہم ان کے ساتھ نرمی، حسن خلق اور الفت کے ساتھ پیش آئیں جیسے رسول اللہﷺپیش آیا کرتے تھے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺکو حکم دیا ہے کہ وہ ان کی کوتاہیاں معاف کر دیں جو آپ کے حق میں ان سے صادر ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حق میں جو کوتاہیاں ان سے سرزد ہوئی ہیں اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بخشش طلب کریں اور اس طرح عفو اور احسان کو یکجا کر دیں۔ ﴿وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ﴾ یعنی ان امور میں ان سے مشورہ کریں جو مشاورت اور فکر و نظر کے محتاج ہیں۔ کیونکہ مشاورت میں بہت سے فوائد اور بے شمار دینی اور دنیاوی مصالح ہیں۔ جیسے:۱۔ مشاورت دینی عبادات میں شمار ہوتی ہے جن سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے۔۲۔ مشاورت میں لوگوں کی دل جوئی اور اس قلق کا ازالہ ہوتا ہے جو حوادث کے وقت دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جس شخص کے ہاتھ میں لوگوں کے معاملات کا اختیار ہوتا ہے، جب وہ کسی حادثہ اور اہم موقع پر اہل رائے اور اہل فضیلت اصحاب کو جمع کر کے ان سے مشورہ لیتا ہے تو لوگوں کے دل اس پر مطمئن ہو جاتے ہیں اور وہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی ہی رائے کو ترجیح نہیں دیتا بلکہ وہ تمام لوگوں کے لیے کلی مصلحت عامہ میں غور و فکر کرتا ہے۔ تب وہ اس کی اطاعت کی پوری کوشش کرتے ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ مصالح عامہ میں تگ و دو کرتا ہے۔ اس کے برعکس جو یہ طرز عمل اختیار نہیں کرتا لوگ اس سے سچی محبت کرتے ہیں نہ اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اگر وہ اس کی اطاعت کرتے بھی ہیں تو یہ اطاعت کامل نہیں ہوتی۔۳۔ مشاورت میں افکار نکھر کر سامنے آ جاتے ہیں کیونکہ ان کو ان کے اصل مقام پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس طرح لوگوں کی عقل و فہم میں اضافہ ہوتا ہے۔۴۔ مشاورت کے نتیجے میں صحیح رائے سامنے آ جاتی ہے مشاورت سے کام لینے والا عام طور پر غلطی نہیں کرتا۔ اگر اس سے غلطی سرزد ہو بھی جائے یا مقصد پورا نہ ہو تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ٹھہرتا۔جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺسے فرمایا ہے ﴿وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ﴾ درآں حالیکہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ عقل، سب سے زیادہ علم اور سب سے افضل رائے رکھتے ہیں… تو وہ دوسروں کو یہ حکم کیسے نہ دے گا؟ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِذَا عَزَمۡتَ﴾ یعنی اگر کسی ایسے معاملے میں جس میں مشاورت کی حاجت ہو تو مشاورت کے بعد جب آپ کوئی عزم کر لیں ﴿فَتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ﴾ تو اپنی طاقت اور اپنی دوربینی پر بھروسہ چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی قوت و قدرت پر بھروسہ کریں ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَوَكِّلِيۡنَ﴾ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے پاس پناہ لیتے ہیں۔
آل عمران 3:160
اگر مدد کرے تمھاری اللہ تو نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر اور اگر وہ (بے مدد) چھوڑ دے تمھیں تو پس کون ہے جو مدد کرے تمھاری بعد اس کے؟ اور اللہ ہی پر پس چاہیے کہ توکل کریں مومن (160)
[160] اگر اللہ تعالیٰ اپنی فتح و نصرت اور اعانت کے ذریعے سے تمھاری مدد کرے ﴿فَلَا غَالِبَ لَكُمۡ﴾ تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا، خواہ دنیا کے تمام گوشوں سے جمع ہو کر لوگ تمھارے خلاف کیوں نہ آ جائیں اور خواہ ان کے پاس کتنی ہی زیادہ تعداد اور کتنا ہی سروسامان کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ تمام بندے اس کے سامنے مغلوب و مقہور ہیں۔ ان کی پیشانی اس کے قبضہ قدرت میں ہے، پس کوئی جاندار اس کی اجازت کے بغیر حرکت کر سکتا ہے نہ اس کی اجازت کے بغیر سکون اختیار کر سکتا ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّؔخۡذُلۡكُمۡ﴾ ’’اور اگر وہ تمھاری مدد نہ کرے‘‘ یعنی تمھیں تمھارے نفس کے حوالے کر دے ﴿فَمَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَنۡصُرُؔكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ ’’پس کون ہے جو اس کے بعد تمھاری مدد کرے؟‘‘ اس لیے اگر تمام مخلوق بھی تمھاری اعانت پر مجتمع ہو جائے تو پھر بھی تم مدد سے محروم ہو گے۔ یہ آیت کریمہ اس حکم کو متضمن ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے فتح و نصرت طلب کی جائے، اسی پر بھروسہ کیا جائے اور اپنی طاقت و قدرت سے براء ت کا اظہار کیا جائے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ معمول کو عامل سے قبل لانا حصر کا معنی دیتا ہے۔ یعنی تم صرف اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرو، کسی اور پر بھروسہ نہ کرو۔ کیونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ وہ اکیلا مدد کرنے والا ہے۔ اس لیے اس پر اعتماد اور بھروسہ کرنا توحید ہے اور اس سے مقصود و مطلوب حاصل ہوتا ہے اور کسی دوسرے پر بھروسہ کرنا شرک ہے اور بھروسہ کرنے والے کو کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ نقصان دہ ہے۔ اس آیت میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا حکم ہے اور بندۂ مومن کے ایمان کے مطابق ہی اس کا توکل ہوتا ہے۔
آل عمران 3:161
اور نہیں لائق کسی نبی کے خیانت کرنا اور جو خیانت کرے تو آئے گا وہ ساتھ اس چیز کے جس کی خیانت کی، دن قیامت کے، پھر پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(161)
[161] یہاں (غلول) سے مراد ہے مال غنیمت چھپانا اور اس چیز میں خیانت کرنا جس کا اسے منتظم بنایا گیا ہے۔ خیانت کے حرام ہونے پر اتفاق ہے بلکہ اس کا شمار کبائر میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ یہ آیت کریمہ اور دیگر نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ مال غنیمت میں خیانت کرنا ایک نبی کے شایان شان نہیں ۔ کیونکہ مال غنیمت میں خیانت، جیسا کہ آپ کو علم ہے۔۔۔ سب سے بڑا گناہ اور بدترین عیب ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام کو ہر عیب سے محفوظ رکھا ہے جو ان میں کسی اعتراض کا باعث بن سکتا ہے۔ اخلاق و اطوار کے لحاظ سے انھیں دنیا میں افضل ترین انسان، سب سے زیادہ پاک نفوس کے مالک اور سب سے زیادہ طیب و طاہرہستیاں بنایا ہے اور انھیں ہر عیب سے پاک کیا ہے۔ انھیں اپنی رسالت کا محل اور اپنی حکمت کا خزانہ بنایا ہے۔ ﴿اَللّٰهُ اَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسَالَتَهٗ﴾(الانعام : 6؍124) ’’اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اس کی رسالت کا کون سا محل ہے اور وہ اپنی رسالت کسے عنایت فرمائے۔‘‘ان میں سے کسی ایک رسول کے بارے میں بندے کا مجرد علم، تمام رسولوں کے ہر عیب سے محفوظ اور سلامت ہونے کا قطعی فیصلہ کر دیتا ہے اور انبیاء و مرسلین کے بارے میں ان کے دشمنوں کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے اس کے فاسد ہونے پر کسی دلیل کی حاجت نہیں، کیونکہ ان کی نبوت کی معرفت ان تمام اعتراضات کو دفع کرنے کو مستلزم ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسلوب کے ساتھ ذکر کیا جو اس فعل کے وجود کو مانع ہے چنانچہ فرمایا:﴿وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنۡ يَّغُلَّ﴾ یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت کے لیے چنا ہے اس کے بارے میں یہ ممتنع اور محال ہے کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں خیانت کرنے والوں کے لیے وعید سنائی ہے، فرمایا:﴿وَمَنۡ يَّغۡلُلۡ يَاۡتِ بِمَا غَلَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾یعنی مال غنیمت میں خیانت کرنے والا قیامت کے روز اس مال کو، خواہ وہ کوئی حیوان ہے یا مال و متاع وغیرہ، اپنی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے آئے گا اور اس مال کے ذریعے سے اسے عذاب دیا جائے گا۔﴿ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ﴾ یعنی مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کو اس کی خیانت کی مقدار کے مطابق اس کے گناہ کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ﴿وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور ان پر ظلم نہیں ہو گا‘‘ یعنی ان کی برائیوں میں اضافہ اور ان کی نیکیوں میں کمی نہیں کی جائے گی ۔اس آیت کریمہ میں آپ اس حسن احتراز (مفہوم مخالف سے بچاؤ کے احسن پیرائے) پر غور کیجیے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا ذکر کیا ہے کہ وہ قیامت کے روز خیانت شدہ مال کے ساتھ آئے گا اور چونکہ وہ اس غنیمت میں خیانت کرنے والے کی پوری جزا کا ذکر کرنا چاہتا ہے اور اس میں صرف غنیمت میں خیانت کی سزا کے ذکر پر اقتصار کیا ہے۔ یوں اس آیت کے مفہوم مخالف سے یہ وہم لازم آتا ہے کہ دیگر عمل کرنے والوں کو ہو سکتا ہے کہ پورا پورا بدلہ نہ دیا جائے۔ اس لیے یہاں ایسا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو غنیمت میں خیانت کرنے والوں اور دیگر عمل کرنے والوں، دونوں کے لیے جامع ہے۔
آل عمران 3:162
کیا پس جس نے پیروی کی رضائے الٰہی کی، مانند اس شخص کے ہوگا جو لوٹا ساتھ ناراضی کے اللہ کی اور ٹھکانا اس کا جہنم ہے؟ اور وہ بری ہے جگہ لوٹنے کی(162) وہ (الگ الگ) درجوں پر ہوں گے اللہ کے ہاں اور اللہ دیکھنے والا ہے ساتھ اس کے جو وہ کرتے ہیں(163)
[163,162] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ شخص، جس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے مطابق اس کے اعمال ہوں اس شخص کے برابر نہیں ہو سکتا جو گناہوں میں مشغول ہے اور اپنے رب کو ناراض کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم ، اس کی حکمت اور فطرت انسانی میں یہ دونوں قسم کے اشخاص مساوی نہیں ہو سکتے ﴿اَفَمَنۡ كَانَ مُؤۡمِنًا كَمَنۡ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا يَسۡتَوٗنَ﴾(السجدۃ : 32؍18) ’’بھلا جو شخص مومن ہے وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو فاسق ہے؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿هُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’لوگوں کے مختلف درجے ہیں اللہ کے ہاں‘‘ یعنی یہ تمام لوگ اپنے اعمال میں تفاوت کی بنا پر اپنے درجات اور منزلت میں بھی متفاوت ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کرنے والے بلند درجات و منازل اور بالاخانوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے مطابق اپنے فضل و کرم سے انھیں عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے سبب والے امور کی پیروی کرنے والے پست سے پست اور فروترین ٹھکانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق جزا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو دیکھتا ہے اور ان کا کوئی عمل اس سے چھپا ہوا نہیں۔ بلکہ ان کے تمام اعمال اس کے احاطہ علم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے اور اس کے امین و کریم فرشتے ان اعمال کو لکھ کر محفوظ رکھتے ہیں۔
آل عمران 3:163
کیا پس جس نے پیروی کی رضائے الٰہی کی، مانند اس شخص کے ہوگا جو لوٹا ساتھ ناراضی کے اللہ کی اور ٹھکانا اس کا جہنم ہے؟ اور وہ بری ہے جگہ لوٹنے کی(162) وہ (الگ الگ) درجوں پر ہوں گے اللہ کے ہاں اور اللہ دیکھنے والا ہے ساتھ اس کے جو وہ کرتے ہیں(163)
[163,162] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ شخص، جس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے مطابق اس کے اعمال ہوں اس شخص کے برابر نہیں ہو سکتا جو گناہوں میں مشغول ہے اور اپنے رب کو ناراض کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم ، اس کی حکمت اور فطرت انسانی میں یہ دونوں قسم کے اشخاص مساوی نہیں ہو سکتے ﴿اَفَمَنۡ كَانَ مُؤۡمِنًا كَمَنۡ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا يَسۡتَوٗنَ﴾(السجدۃ : 32؍18) ’’بھلا جو شخص مومن ہے وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو فاسق ہے؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿هُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’لوگوں کے مختلف درجے ہیں اللہ کے ہاں‘‘ یعنی یہ تمام لوگ اپنے اعمال میں تفاوت کی بنا پر اپنے درجات اور منزلت میں بھی متفاوت ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کرنے والے بلند درجات و منازل اور بالاخانوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے مطابق اپنے فضل و کرم سے انھیں عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے سبب والے امور کی پیروی کرنے والے پست سے پست اور فروترین ٹھکانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق جزا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو دیکھتا ہے اور ان کا کوئی عمل اس سے چھپا ہوا نہیں۔ بلکہ ان کے تمام اعمال اس کے احاطہ علم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے اور اس کے امین و کریم فرشتے ان اعمال کو لکھ کر محفوظ رکھتے ہیں۔
آل عمران 3:164
تحقیق احسان کیا اللہ نے مومنوں پر، جب بھیجا ان میں ایک رسول انھی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر اس کی آیتیں اور پاک کرتا ہے ان کواور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور حکمت اور بلاشبہ تھے وہ اس سے پہلے گمراہی ظاہر میں(164)
[164] اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ احسان جو اس نے اپنے بندوں پر کیا ہے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، بلکہ اصل نعمت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریمﷺکو مبعوث فرما کر ان پر بہت بڑا احسان کیا۔ جس کے ذریعے سے اس نے ان کو گمراہی کے گڑھے سے بچایا اور انھیں ہلاکت سے محفوظ کیا۔ پس فرمایا:﴿لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’یقینا اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا، جو بھیجا ان میں رسول، انھی میں سے‘‘ یعنی وہ اس کا حسب و نسب، اس کے احوال اور اس کی زبان جانتے ہیں۔ وہ ان کی اپنی قوم اور ان کے اپنے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے وہ ان کے لیے خیر خواہی کے جذبات رکھتا اور ان پر بہت شفیق اور مہربان ہے۔ ﴿يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ یعنی وہ ان کو ان آیات کے الفاظ اور معانی سکھاتا ہے ﴿وَيُزَؔكِّيۡهِمۡ﴾ یعنی وہ ان کو شرک، گناہ، رذائل اور دیگر تمام برے اخلاق و اطوار سے پاک کرتا ہے ﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور انھیں کتاب سکھاتا ہے‘‘ یا تو اس سے مراد جنس کتاب ہے جو کہ قرآن مجید ہے تب اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ سے مراد آیات کونیہ ہوں گی۔ یا کتاب سے مراد ’’کتابت‘‘ ہے تب اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اور کتابت کی تعلیم دے کر ان پر بڑا احسان کیا ہے، جس کے ذریعے سے علوم حاصل کیے جاتے ہیں اور ان کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ ﴿وَالۡحِكۡمَةَ﴾ یہاں حکمت سے مراد سنت ہے جو کہ قرآن مجید کی مانند ہے نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور اسرار شریعت کی معرفت بھی ہے۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تعلیم احکام، تنفیذ احکام کے ذرائع اور ان احکام کے فوائد و ثمرات کے حصول کے ذرائع کو جمع کر دیا۔ پس وہ ان عظیم امور کی بنا پر تمام لوگوں سے آگے نکل گئے اور ان کا شمار علمائے ربانی میں ہونے لگا۔ ﴿وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ﴾ یعنی اس رسولﷺکی بعثت سے قبل ﴿لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’وہ کھلی گمراہی میں تھے‘‘ اور اپنے رب تک پہنچانے والے راستے کی معرفت سے محروم تھے اور نہ انھیں اس طریق کا علم تھا جو ان کا تزکیہ نفس کر کے ان کو پاک کرے بلکہ وہ تو اس راستے پر گامزن تھے جو ان کی جہالت کو مزین کرتا تھا۔ خواہ یہ جہالت تمام جہانوں کی عقل کے متناقض ہی کیوں نہ ہو۔
آل عمران 3:165
کیا جب (اُحد کے دن) پہنچی تمھیں مصیبت، حالانکہ پہنچا چکے تھے تم (بدر کے دن) دوگنی اس سے تو کہا تم نے، کہاں سے آئی یہ؟ کہہ دیجیے! وہ تمھاری ہی طرف سے ہے، بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(165) اور جو کچھ پہنچا تمھیں جس دن ملیں دو جماعتیں، پس ساتھ حکم اللہ کے اور تاکہ جان لے وہ مومنوں کو(166)اور تاکہ جان لے وہ ان لوگوں کو جنھوں نے منافقت کی اور کہا گیا ان سے آؤ! لڑو! اللہ کے راستے میں یا (دشمن کو) دفع کرو! تو انھوں نے کہا، اگر جانتے ہم لڑائی کو تو ضرور ساتھ چلتے ہم تمھارے، وہ کفر کے اس دن زیادہ قریب تھے ان سے، بہ نسبت ایمان کے، کہتے تھے ساتھ اپنے مونہوں کے وہ جو نہیں تھا ان کے دلوں میں اور اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس کے جو وہ چھپاتے ہیں(167) وہ لوگ جنھوں نے کہا اپنے بھائیوں سے، جبکہ وہ خود بیٹھے رہے اگر اطاعت کرتے وہ ہماری تو نہ قتل کیے جاتے وہ، کہہ دیجیے! تو ٹال لو تم اپنے نفسوں سے موت کو، اگر ہو تم سچے(168)
[165] جب اہل ایمان کو غزوۂ احد میں بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں سے تقریباً ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ان مومن بندوں کے لیے تسلی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا﴾’’پہنچا چکے ہو تم اس سے دو چند‘‘ یعنی تمھارے ہاتھوں سے دشمنوں پر دوچند مصیبت پڑ چکی ہے۔ تم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ بنا بریں تمھارے لیے یہ معاملہ آسان اور تم پر یہ مصیبت ہلکی ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ تم اور وہ برابر نہیں ہو۔ تمھارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جہنم میں۔﴿قُلۡتُمۡ اَنّٰى هٰؔذَا﴾ ’’تم نے کہا، یہ کہاں سے آئی؟‘‘ یعنی یہ مصیبت جو ہمیں پہنچی ہے اور یہ ہزیمت جو ہمیں اٹھانا پڑی ہے کہاں سے آ گئی؟ ﴿قُلۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ مصیبت تمھارے نفس ہی کی طرف سے وارد ہوئی ہے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تمھیں وہ چیز دکھائی جسے تم پسند کرتے تھے اس کے بعد تم نے آپس میں جھگڑا کیا اور رسول کے حکم کی نافرمانی کی پس اپنے ہی نفس کو ملامت کرو اور ہلاکت کے اسباب سے بچو﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ پس اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے گمان سے بچو۔ وہ تمھاری مدد کرنے پر قادر ہے مگر تمھیں آزمائش اور مصیبت میں مبتلا کرنے میں اس کی کامل حکمت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ذٰلِكَ١ۛؕ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(محمد : 47؍4) ’’یہ (حکم یاد رکھو) ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا مگر وہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرتا ہے۔‘‘
[167,166]پھر اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ دونوں لشکروں یعنی مسلمانوں کے لشکر اور کفار کے لشکر میں مڈبھیڑ ہونے کے روز، احد میں ان کو ہزیمت اور قتل کی جو مصیبت پہنچی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قضا و قدر سے پہنچی جس کو کوئی روکنے والا نہیں۔ لہٰذا اس مصیبت کا واقع ہونا ایک لابدی امر تھا اور جب امر قدری نافذ ہو جائے تب اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں اور یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ اس نے اس امر کو عظیم حکمتوں اور بہت بڑے فوائد کے لیے مقدر کیا ہے۔ تاکہ جب مسلمانوں کو جنگ کا حکم دیا جائے تو اس امر قدری کے ذریعے سے مومن اور منافق کے مابین فرق واضح ہو جائے۔﴿وَقِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور ان سے کہا گیا کہ آؤ! اللہ کی راہ میں لڑو‘‘ یعنی تم دین کی مدافعت اور حمایت اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اللہ کے راستے میں جنگ کرو ﴿ اَوِ ادۡفَعُوۡا ﴾ ’’یا دشمن کو دفع کرو‘‘ یعنی اگر تمھاری نیت صالح نہیں ہے تو پھر تم اپنے حرم اور شہر کے دفاع کی خاطر لڑو۔ مگر انھوں نے انکار کر دیا اور عذر یہ پیش کیا ﴿ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمھارے ساتھ چلتے، حالانکہ وہ اس میں جھوٹے تھے۔ وہ جانتے تھے اور انھیں یقین تھا بلکہ ہر شخص جانتا تھا کہ مشرکین کو اہل ایمان نے شکست دی ہے اس لیے مشرکین کے دل اہل ایمان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز ہیں۔ ان سے انتقام لینے کے لیے مشرکین نے مال خرچ کیا۔ اہل ایمان کے خلاف لوگوں اور سامان حرب کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر دی ہے اور وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ اہل ایمان پر ان کے شہر میں حملہ آور ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں ان میں سخت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ جب حملہ آوروں کی یہ حالت اور کیفیت ہو تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ نہیں ہو گی۔ خاص طور پر جبکہ مسلمان کفار کا مقابلہ کرنے کے لیے مدینہ سے باہر نکل آئے تھے؟۔۔۔ یہ محال ہے۔ مگر منافقین کا خیال تھا کہ ان کا یہ عذر مسلمانوں کو مطمئن کر دے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’وہ اس دن کفر کے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر نکلنے سے انکار کیا ﴿ اَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ١ۚ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِهِمۡ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’زیادہ قریب ہیں، بہ نسبت ایمان کے، اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں‘‘ یہ منافقین کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے کلام اور افعال سے وہ کچھ ظاہر کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں چھپے ہوئے خیالات اور ارادوں کی ضد ہوتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ﴿ لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعۡنٰكُمۡ ﴾ بھی اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ انھیں علم تھا کہ جنگ ضرور ہوگی۔اس آیت کریمہ میں اس فقہی قاعدہ پر دلیل ملتی ہے ’’کہ بوقت ضرورت بڑی برائی کو روکنے کے لیے چھوٹی برائی کو اختیار کرنا جائز ہے۔ اسی طرح دو مصلحتوں میں سے اگر بڑی مصلحت پر عمل کرنے سے عاجز ہو تو اسے چھوڑ کر کم تر مصلحت پر عمل کرنا جائز ہے۔‘‘ اس لیے کہ منافقین کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کے لیے جنگ کریں۔ اگر وہ دین کے لیے جنگ نہیں کرتے تو اپنے اہل و عیال اور وطن کے دفاع کے لیے ہی جنگ کریں ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں‘‘ پس وہ اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے ظاہر کرے گا اس پر ان منافقین کو سزا دے گا۔
[168] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِهِمۡ وَقَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے اور آپ بیٹھے رہے، اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے‘‘ یعنی انھوں نے دو برائیوں کو اکٹھا کر لیا تھا، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض اور اس کی تکذیب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا ﴾ یعنی دور ہٹا دو ﴿ عَنۡ اَنۡفُسِكُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اوپر سے موت کو، اگر تم سچے ہو‘‘ یعنی اگر تم یہ کہنے میں سچے ہو کہ اگر وہ تمھاری بات مانتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔ تم اس پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ تم ان کو قتل ہونے سے بچانے کی استطاعت رکھتے ہو۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بندے میں کبھی کبھی کفر کی کوئی خصلت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایمان کی خصلت بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک خصلت کی نسبت دوسری خصلت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
آل عمران 3:166
کیا جب (اُحد کے دن) پہنچی تمھیں مصیبت، حالانکہ پہنچا چکے تھے تم (بدر کے دن) دوگنی اس سے تو کہا تم نے، کہاں سے آئی یہ؟ کہہ دیجیے! وہ تمھاری ہی طرف سے ہے، بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(165) اور جو کچھ پہنچا تمھیں جس دن ملیں دو جماعتیں، پس ساتھ حکم اللہ کے اور تاکہ جان لے وہ مومنوں کو(166)اور تاکہ جان لے وہ ان لوگوں کو جنھوں نے منافقت کی اور کہا گیا ان سے آؤ! لڑو! اللہ کے راستے میں یا (دشمن کو) دفع کرو! تو انھوں نے کہا، اگر جانتے ہم لڑائی کو تو ضرور ساتھ چلتے ہم تمھارے، وہ کفر کے اس دن زیادہ قریب تھے ان سے، بہ نسبت ایمان کے، کہتے تھے ساتھ اپنے مونہوں کے وہ جو نہیں تھا ان کے دلوں میں اور اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس کے جو وہ چھپاتے ہیں(167) وہ لوگ جنھوں نے کہا اپنے بھائیوں سے، جبکہ وہ خود بیٹھے رہے اگر اطاعت کرتے وہ ہماری تو نہ قتل کیے جاتے وہ، کہہ دیجیے! تو ٹال لو تم اپنے نفسوں سے موت کو، اگر ہو تم سچے(168)
[165] جب اہل ایمان کو غزوۂ احد میں بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں سے تقریباً ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ان مومن بندوں کے لیے تسلی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا﴾’’پہنچا چکے ہو تم اس سے دو چند‘‘ یعنی تمھارے ہاتھوں سے دشمنوں پر دوچند مصیبت پڑ چکی ہے۔ تم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ بنا بریں تمھارے لیے یہ معاملہ آسان اور تم پر یہ مصیبت ہلکی ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ تم اور وہ برابر نہیں ہو۔ تمھارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جہنم میں۔﴿قُلۡتُمۡ اَنّٰى هٰؔذَا﴾ ’’تم نے کہا، یہ کہاں سے آئی؟‘‘ یعنی یہ مصیبت جو ہمیں پہنچی ہے اور یہ ہزیمت جو ہمیں اٹھانا پڑی ہے کہاں سے آ گئی؟ ﴿قُلۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ مصیبت تمھارے نفس ہی کی طرف سے وارد ہوئی ہے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تمھیں وہ چیز دکھائی جسے تم پسند کرتے تھے اس کے بعد تم نے آپس میں جھگڑا کیا اور رسول کے حکم کی نافرمانی کی پس اپنے ہی نفس کو ملامت کرو اور ہلاکت کے اسباب سے بچو﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ پس اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے گمان سے بچو۔ وہ تمھاری مدد کرنے پر قادر ہے مگر تمھیں آزمائش اور مصیبت میں مبتلا کرنے میں اس کی کامل حکمت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ذٰلِكَ١ۛؕ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(محمد : 47؍4) ’’یہ (حکم یاد رکھو) ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا مگر وہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرتا ہے۔‘‘
[167,166]پھر اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ دونوں لشکروں یعنی مسلمانوں کے لشکر اور کفار کے لشکر میں مڈبھیڑ ہونے کے روز، احد میں ان کو ہزیمت اور قتل کی جو مصیبت پہنچی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قضا و قدر سے پہنچی جس کو کوئی روکنے والا نہیں۔ لہٰذا اس مصیبت کا واقع ہونا ایک لابدی امر تھا اور جب امر قدری نافذ ہو جائے تب اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں اور یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ اس نے اس امر کو عظیم حکمتوں اور بہت بڑے فوائد کے لیے مقدر کیا ہے۔ تاکہ جب مسلمانوں کو جنگ کا حکم دیا جائے تو اس امر قدری کے ذریعے سے مومن اور منافق کے مابین فرق واضح ہو جائے۔﴿وَقِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور ان سے کہا گیا کہ آؤ! اللہ کی راہ میں لڑو‘‘ یعنی تم دین کی مدافعت اور حمایت اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اللہ کے راستے میں جنگ کرو ﴿ اَوِ ادۡفَعُوۡا ﴾ ’’یا دشمن کو دفع کرو‘‘ یعنی اگر تمھاری نیت صالح نہیں ہے تو پھر تم اپنے حرم اور شہر کے دفاع کی خاطر لڑو۔ مگر انھوں نے انکار کر دیا اور عذر یہ پیش کیا ﴿ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمھارے ساتھ چلتے، حالانکہ وہ اس میں جھوٹے تھے۔ وہ جانتے تھے اور انھیں یقین تھا بلکہ ہر شخص جانتا تھا کہ مشرکین کو اہل ایمان نے شکست دی ہے اس لیے مشرکین کے دل اہل ایمان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز ہیں۔ ان سے انتقام لینے کے لیے مشرکین نے مال خرچ کیا۔ اہل ایمان کے خلاف لوگوں اور سامان حرب کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر دی ہے اور وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ اہل ایمان پر ان کے شہر میں حملہ آور ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں ان میں سخت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ جب حملہ آوروں کی یہ حالت اور کیفیت ہو تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ نہیں ہو گی۔ خاص طور پر جبکہ مسلمان کفار کا مقابلہ کرنے کے لیے مدینہ سے باہر نکل آئے تھے؟۔۔۔ یہ محال ہے۔ مگر منافقین کا خیال تھا کہ ان کا یہ عذر مسلمانوں کو مطمئن کر دے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’وہ اس دن کفر کے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر نکلنے سے انکار کیا ﴿ اَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ١ۚ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِهِمۡ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’زیادہ قریب ہیں، بہ نسبت ایمان کے، اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں‘‘ یہ منافقین کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے کلام اور افعال سے وہ کچھ ظاہر کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں چھپے ہوئے خیالات اور ارادوں کی ضد ہوتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ﴿ لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعۡنٰكُمۡ ﴾ بھی اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ انھیں علم تھا کہ جنگ ضرور ہوگی۔اس آیت کریمہ میں اس فقہی قاعدہ پر دلیل ملتی ہے ’’کہ بوقت ضرورت بڑی برائی کو روکنے کے لیے چھوٹی برائی کو اختیار کرنا جائز ہے۔ اسی طرح دو مصلحتوں میں سے اگر بڑی مصلحت پر عمل کرنے سے عاجز ہو تو اسے چھوڑ کر کم تر مصلحت پر عمل کرنا جائز ہے۔‘‘ اس لیے کہ منافقین کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کے لیے جنگ کریں۔ اگر وہ دین کے لیے جنگ نہیں کرتے تو اپنے اہل و عیال اور وطن کے دفاع کے لیے ہی جنگ کریں ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں‘‘ پس وہ اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے ظاہر کرے گا اس پر ان منافقین کو سزا دے گا۔
[168] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِهِمۡ وَقَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے اور آپ بیٹھے رہے، اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے‘‘ یعنی انھوں نے دو برائیوں کو اکٹھا کر لیا تھا، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض اور اس کی تکذیب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا ﴾ یعنی دور ہٹا دو ﴿ عَنۡ اَنۡفُسِكُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اوپر سے موت کو، اگر تم سچے ہو‘‘ یعنی اگر تم یہ کہنے میں سچے ہو کہ اگر وہ تمھاری بات مانتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔ تم اس پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ تم ان کو قتل ہونے سے بچانے کی استطاعت رکھتے ہو۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بندے میں کبھی کبھی کفر کی کوئی خصلت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایمان کی خصلت بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک خصلت کی نسبت دوسری خصلت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
آل عمران 3:167
کیا جب (اُحد کے دن) پہنچی تمھیں مصیبت، حالانکہ پہنچا چکے تھے تم (بدر کے دن) دوگنی اس سے تو کہا تم نے، کہاں سے آئی یہ؟ کہہ دیجیے! وہ تمھاری ہی طرف سے ہے، بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(165) اور جو کچھ پہنچا تمھیں جس دن ملیں دو جماعتیں، پس ساتھ حکم اللہ کے اور تاکہ جان لے وہ مومنوں کو(166)اور تاکہ جان لے وہ ان لوگوں کو جنھوں نے منافقت کی اور کہا گیا ان سے آؤ! لڑو! اللہ کے راستے میں یا (دشمن کو) دفع کرو! تو انھوں نے کہا، اگر جانتے ہم لڑائی کو تو ضرور ساتھ چلتے ہم تمھارے، وہ کفر کے اس دن زیادہ قریب تھے ان سے، بہ نسبت ایمان کے، کہتے تھے ساتھ اپنے مونہوں کے وہ جو نہیں تھا ان کے دلوں میں اور اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس کے جو وہ چھپاتے ہیں(167) وہ لوگ جنھوں نے کہا اپنے بھائیوں سے، جبکہ وہ خود بیٹھے رہے اگر اطاعت کرتے وہ ہماری تو نہ قتل کیے جاتے وہ، کہہ دیجیے! تو ٹال لو تم اپنے نفسوں سے موت کو، اگر ہو تم سچے(168)
[165] جب اہل ایمان کو غزوۂ احد میں بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں سے تقریباً ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ان مومن بندوں کے لیے تسلی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا﴾’’پہنچا چکے ہو تم اس سے دو چند‘‘ یعنی تمھارے ہاتھوں سے دشمنوں پر دوچند مصیبت پڑ چکی ہے۔ تم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ بنا بریں تمھارے لیے یہ معاملہ آسان اور تم پر یہ مصیبت ہلکی ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ تم اور وہ برابر نہیں ہو۔ تمھارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جہنم میں۔﴿قُلۡتُمۡ اَنّٰى هٰؔذَا﴾ ’’تم نے کہا، یہ کہاں سے آئی؟‘‘ یعنی یہ مصیبت جو ہمیں پہنچی ہے اور یہ ہزیمت جو ہمیں اٹھانا پڑی ہے کہاں سے آ گئی؟ ﴿قُلۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ مصیبت تمھارے نفس ہی کی طرف سے وارد ہوئی ہے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تمھیں وہ چیز دکھائی جسے تم پسند کرتے تھے اس کے بعد تم نے آپس میں جھگڑا کیا اور رسول کے حکم کی نافرمانی کی پس اپنے ہی نفس کو ملامت کرو اور ہلاکت کے اسباب سے بچو﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ پس اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے گمان سے بچو۔ وہ تمھاری مدد کرنے پر قادر ہے مگر تمھیں آزمائش اور مصیبت میں مبتلا کرنے میں اس کی کامل حکمت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ذٰلِكَ١ۛؕ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(محمد : 47؍4) ’’یہ (حکم یاد رکھو) ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا مگر وہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرتا ہے۔‘‘
[167,166]پھر اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ دونوں لشکروں یعنی مسلمانوں کے لشکر اور کفار کے لشکر میں مڈبھیڑ ہونے کے روز، احد میں ان کو ہزیمت اور قتل کی جو مصیبت پہنچی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قضا و قدر سے پہنچی جس کو کوئی روکنے والا نہیں۔ لہٰذا اس مصیبت کا واقع ہونا ایک لابدی امر تھا اور جب امر قدری نافذ ہو جائے تب اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں اور یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ اس نے اس امر کو عظیم حکمتوں اور بہت بڑے فوائد کے لیے مقدر کیا ہے۔ تاکہ جب مسلمانوں کو جنگ کا حکم دیا جائے تو اس امر قدری کے ذریعے سے مومن اور منافق کے مابین فرق واضح ہو جائے۔﴿وَقِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور ان سے کہا گیا کہ آؤ! اللہ کی راہ میں لڑو‘‘ یعنی تم دین کی مدافعت اور حمایت اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اللہ کے راستے میں جنگ کرو ﴿ اَوِ ادۡفَعُوۡا ﴾ ’’یا دشمن کو دفع کرو‘‘ یعنی اگر تمھاری نیت صالح نہیں ہے تو پھر تم اپنے حرم اور شہر کے دفاع کی خاطر لڑو۔ مگر انھوں نے انکار کر دیا اور عذر یہ پیش کیا ﴿ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمھارے ساتھ چلتے، حالانکہ وہ اس میں جھوٹے تھے۔ وہ جانتے تھے اور انھیں یقین تھا بلکہ ہر شخص جانتا تھا کہ مشرکین کو اہل ایمان نے شکست دی ہے اس لیے مشرکین کے دل اہل ایمان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز ہیں۔ ان سے انتقام لینے کے لیے مشرکین نے مال خرچ کیا۔ اہل ایمان کے خلاف لوگوں اور سامان حرب کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر دی ہے اور وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ اہل ایمان پر ان کے شہر میں حملہ آور ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں ان میں سخت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ جب حملہ آوروں کی یہ حالت اور کیفیت ہو تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ نہیں ہو گی۔ خاص طور پر جبکہ مسلمان کفار کا مقابلہ کرنے کے لیے مدینہ سے باہر نکل آئے تھے؟۔۔۔ یہ محال ہے۔ مگر منافقین کا خیال تھا کہ ان کا یہ عذر مسلمانوں کو مطمئن کر دے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’وہ اس دن کفر کے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر نکلنے سے انکار کیا ﴿ اَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ١ۚ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِهِمۡ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’زیادہ قریب ہیں، بہ نسبت ایمان کے، اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں‘‘ یہ منافقین کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے کلام اور افعال سے وہ کچھ ظاہر کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں چھپے ہوئے خیالات اور ارادوں کی ضد ہوتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ﴿ لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعۡنٰكُمۡ ﴾ بھی اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ انھیں علم تھا کہ جنگ ضرور ہوگی۔اس آیت کریمہ میں اس فقہی قاعدہ پر دلیل ملتی ہے ’’کہ بوقت ضرورت بڑی برائی کو روکنے کے لیے چھوٹی برائی کو اختیار کرنا جائز ہے۔ اسی طرح دو مصلحتوں میں سے اگر بڑی مصلحت پر عمل کرنے سے عاجز ہو تو اسے چھوڑ کر کم تر مصلحت پر عمل کرنا جائز ہے۔‘‘ اس لیے کہ منافقین کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کے لیے جنگ کریں۔ اگر وہ دین کے لیے جنگ نہیں کرتے تو اپنے اہل و عیال اور وطن کے دفاع کے لیے ہی جنگ کریں ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں‘‘ پس وہ اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے ظاہر کرے گا اس پر ان منافقین کو سزا دے گا۔
[168] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِهِمۡ وَقَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے اور آپ بیٹھے رہے، اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے‘‘ یعنی انھوں نے دو برائیوں کو اکٹھا کر لیا تھا، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض اور اس کی تکذیب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا ﴾ یعنی دور ہٹا دو ﴿ عَنۡ اَنۡفُسِكُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اوپر سے موت کو، اگر تم سچے ہو‘‘ یعنی اگر تم یہ کہنے میں سچے ہو کہ اگر وہ تمھاری بات مانتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔ تم اس پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ تم ان کو قتل ہونے سے بچانے کی استطاعت رکھتے ہو۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بندے میں کبھی کبھی کفر کی کوئی خصلت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایمان کی خصلت بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک خصلت کی نسبت دوسری خصلت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
آل عمران 3:168
کیا جب (اُحد کے دن) پہنچی تمھیں مصیبت، حالانکہ پہنچا چکے تھے تم (بدر کے دن) دوگنی اس سے تو کہا تم نے، کہاں سے آئی یہ؟ کہہ دیجیے! وہ تمھاری ہی طرف سے ہے، بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(165) اور جو کچھ پہنچا تمھیں جس دن ملیں دو جماعتیں، پس ساتھ حکم اللہ کے اور تاکہ جان لے وہ مومنوں کو(166)اور تاکہ جان لے وہ ان لوگوں کو جنھوں نے منافقت کی اور کہا گیا ان سے آؤ! لڑو! اللہ کے راستے میں یا (دشمن کو) دفع کرو! تو انھوں نے کہا، اگر جانتے ہم لڑائی کو تو ضرور ساتھ چلتے ہم تمھارے، وہ کفر کے اس دن زیادہ قریب تھے ان سے، بہ نسبت ایمان کے، کہتے تھے ساتھ اپنے مونہوں کے وہ جو نہیں تھا ان کے دلوں میں اور اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس کے جو وہ چھپاتے ہیں(167) وہ لوگ جنھوں نے کہا اپنے بھائیوں سے، جبکہ وہ خود بیٹھے رہے اگر اطاعت کرتے وہ ہماری تو نہ قتل کیے جاتے وہ، کہہ دیجیے! تو ٹال لو تم اپنے نفسوں سے موت کو، اگر ہو تم سچے(168)
[165] جب اہل ایمان کو غزوۂ احد میں بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں سے تقریباً ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ان مومن بندوں کے لیے تسلی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا﴾’’پہنچا چکے ہو تم اس سے دو چند‘‘ یعنی تمھارے ہاتھوں سے دشمنوں پر دوچند مصیبت پڑ چکی ہے۔ تم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ بنا بریں تمھارے لیے یہ معاملہ آسان اور تم پر یہ مصیبت ہلکی ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ تم اور وہ برابر نہیں ہو۔ تمھارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جہنم میں۔﴿قُلۡتُمۡ اَنّٰى هٰؔذَا﴾ ’’تم نے کہا، یہ کہاں سے آئی؟‘‘ یعنی یہ مصیبت جو ہمیں پہنچی ہے اور یہ ہزیمت جو ہمیں اٹھانا پڑی ہے کہاں سے آ گئی؟ ﴿قُلۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ مصیبت تمھارے نفس ہی کی طرف سے وارد ہوئی ہے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تمھیں وہ چیز دکھائی جسے تم پسند کرتے تھے اس کے بعد تم نے آپس میں جھگڑا کیا اور رسول کے حکم کی نافرمانی کی پس اپنے ہی نفس کو ملامت کرو اور ہلاکت کے اسباب سے بچو﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ پس اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے گمان سے بچو۔ وہ تمھاری مدد کرنے پر قادر ہے مگر تمھیں آزمائش اور مصیبت میں مبتلا کرنے میں اس کی کامل حکمت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ذٰلِكَ١ۛؕ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(محمد : 47؍4) ’’یہ (حکم یاد رکھو) ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا مگر وہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرتا ہے۔‘‘
[167,166]پھر اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ دونوں لشکروں یعنی مسلمانوں کے لشکر اور کفار کے لشکر میں مڈبھیڑ ہونے کے روز، احد میں ان کو ہزیمت اور قتل کی جو مصیبت پہنچی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قضا و قدر سے پہنچی جس کو کوئی روکنے والا نہیں۔ لہٰذا اس مصیبت کا واقع ہونا ایک لابدی امر تھا اور جب امر قدری نافذ ہو جائے تب اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں اور یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ اس نے اس امر کو عظیم حکمتوں اور بہت بڑے فوائد کے لیے مقدر کیا ہے۔ تاکہ جب مسلمانوں کو جنگ کا حکم دیا جائے تو اس امر قدری کے ذریعے سے مومن اور منافق کے مابین فرق واضح ہو جائے۔﴿وَقِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور ان سے کہا گیا کہ آؤ! اللہ کی راہ میں لڑو‘‘ یعنی تم دین کی مدافعت اور حمایت اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اللہ کے راستے میں جنگ کرو ﴿ اَوِ ادۡفَعُوۡا ﴾ ’’یا دشمن کو دفع کرو‘‘ یعنی اگر تمھاری نیت صالح نہیں ہے تو پھر تم اپنے حرم اور شہر کے دفاع کی خاطر لڑو۔ مگر انھوں نے انکار کر دیا اور عذر یہ پیش کیا ﴿ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمھارے ساتھ چلتے، حالانکہ وہ اس میں جھوٹے تھے۔ وہ جانتے تھے اور انھیں یقین تھا بلکہ ہر شخص جانتا تھا کہ مشرکین کو اہل ایمان نے شکست دی ہے اس لیے مشرکین کے دل اہل ایمان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز ہیں۔ ان سے انتقام لینے کے لیے مشرکین نے مال خرچ کیا۔ اہل ایمان کے خلاف لوگوں اور سامان حرب کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر دی ہے اور وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ اہل ایمان پر ان کے شہر میں حملہ آور ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں ان میں سخت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ جب حملہ آوروں کی یہ حالت اور کیفیت ہو تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ نہیں ہو گی۔ خاص طور پر جبکہ مسلمان کفار کا مقابلہ کرنے کے لیے مدینہ سے باہر نکل آئے تھے؟۔۔۔ یہ محال ہے۔ مگر منافقین کا خیال تھا کہ ان کا یہ عذر مسلمانوں کو مطمئن کر دے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’وہ اس دن کفر کے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر نکلنے سے انکار کیا ﴿ اَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ١ۚ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِهِمۡ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’زیادہ قریب ہیں، بہ نسبت ایمان کے، اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں‘‘ یہ منافقین کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے کلام اور افعال سے وہ کچھ ظاہر کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں چھپے ہوئے خیالات اور ارادوں کی ضد ہوتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ﴿ لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعۡنٰكُمۡ ﴾ بھی اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ انھیں علم تھا کہ جنگ ضرور ہوگی۔اس آیت کریمہ میں اس فقہی قاعدہ پر دلیل ملتی ہے ’’کہ بوقت ضرورت بڑی برائی کو روکنے کے لیے چھوٹی برائی کو اختیار کرنا جائز ہے۔ اسی طرح دو مصلحتوں میں سے اگر بڑی مصلحت پر عمل کرنے سے عاجز ہو تو اسے چھوڑ کر کم تر مصلحت پر عمل کرنا جائز ہے۔‘‘ اس لیے کہ منافقین کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کے لیے جنگ کریں۔ اگر وہ دین کے لیے جنگ نہیں کرتے تو اپنے اہل و عیال اور وطن کے دفاع کے لیے ہی جنگ کریں ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں‘‘ پس وہ اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے ظاہر کرے گا اس پر ان منافقین کو سزا دے گا۔
[168] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِهِمۡ وَقَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے اور آپ بیٹھے رہے، اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے‘‘ یعنی انھوں نے دو برائیوں کو اکٹھا کر لیا تھا، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض اور اس کی تکذیب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا ﴾ یعنی دور ہٹا دو ﴿ عَنۡ اَنۡفُسِكُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اوپر سے موت کو، اگر تم سچے ہو‘‘ یعنی اگر تم یہ کہنے میں سچے ہو کہ اگر وہ تمھاری بات مانتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔ تم اس پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ تم ان کو قتل ہونے سے بچانے کی استطاعت رکھتے ہو۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بندے میں کبھی کبھی کفر کی کوئی خصلت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایمان کی خصلت بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک خصلت کی نسبت دوسری خصلت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
آل عمران 3:169
اور نہ ہرگز گمان کریں آپ ان لوگوں کو جو قتل کر دیے گئے اللہ کے راستے میں، مردےبلکہ (وہ) زندہ ہیں، نزدیک اپنے رب کے وہ رزق دیے جاتے ہیں(169) وہ خوش ہیں ان پر جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور خوشی محسوس کرتے ہیں وہ ساتھ ان کے جو نہیں ملے ان کو ان کے پیچھے سے، یہ کہ نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے(170) وہ خوشی محسوس کرتے ہیں ساتھ احسان کے اللہ کی طرف سے اور (ساتھ اس کے) فضل کے اور اس پر کہ بلاشبہ اللہ نہیں ضائع کرتا اجر مومنوں کا(171)
[169] ان آیات کریمہ میں شہداء کی کرامت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر ہے جن سے شہداء کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے نوازا ہے اور اسی ضمن میں ان زندہ لوگوں کے لیے تسلی اور تعزیت ہے جن کے اقرباء نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ نیز ان کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دینا اور ان میں شوق شہادت پیدا کرنا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جو دشمنان دین کے ساتھ اس قصد کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو، قتل ہو گئے ﴿ اَمۡوَاتًا ﴾ ’’ان کو مردہ گمان مت کرو‘‘ یعنی ان کے بارے میں تمھارے دل میں اس خیال کا گزر بھی نہ ہو کہ وہ موت سے ہم کنار ہو کر مفقود ہو گئے اور دنیاوی زندگی کی لذات ان سے دور ہو گئیں اور وہ دنیا کی رنگینیوں سے متمتع ہونے سے محروم ہو گئے۔ جن سے محرومی کے خوف اور بزدلی کی وجہ سے جہاد سے گریز کیا جاتا اور شہادت سے بچا جاتا ہے۔ ﴿ بَلۡ ﴾ بلکہ وہ اس سے بھی بلند مراتب حاصل کر چکے ہیں جن کے حصول کے لیے لوگ بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں ﴿ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے عزت و تکریم کے گھر میں زندہ ہیں۔ (عِنْدَ رَبِّهِمْ) کا لفظ ان کے بلند درجات اور ان کے رب کے قرب پر دلالت کرتا ہے ﴿ يُرۡزَقُوۡنَ﴾ یعنی ان انواع و اقسام کی نعمتوں سے رزق عطا کیا جاتا ہے جن کے اوصاف کو صرف وہی ہستی جانتی ہے جس نے ان کو یہ نعمتیں عطا کی ہیں۔
[170] اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ فَرِحِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ یعنی ان نعمتوں کے حصول پر وہ خوش ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں ٹھنڈی اور نفس خوش ہوتے ہیں۔ یہ فرحت ان نعمتوں کی خوبصورتی، ان کی کثرت و عظمت، ان نعمتوں تک پہنچنے میں کامل لذت اور ان نعمتوں کے کبھی ختم نہ ہونے کی بنا پر ہو گی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے رزق کے ذریعے سے بدنی نعمت اور اپنے فضل و کرم پر فرحت کے ذریعے سے قلبی اور روحانی نعمت کو جمع کر دیا ہے۔پس ان کے لیے نعمت اور مسرت کی تکمیل ہو گئی ﴿ وَيَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِالَّذِيۡنَ لَمۡ يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایک دوسرے کو اپنے ان بھائیوں کے پہنچنے پر جو ابھی تک نہیں پہنچے، خوشخبری دیتے ہیں نیز ان کو بھی وہی نعمتیں حاصل ہوں گی جن سے وہ بہرہ ور ہو چکے ہیں ﴿ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾ یعنی ڈرانے والے امور کے ان سے اور ان کے بھائیوں سے زائل ہونے کی وجہ سے بہت خوش ہوں گے جن کا زوال کامل مسرت کو مستلزم ہے۔
[171]﴿يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ ﴾ وہ ایک دوسرے کو ہدیہ تبریک پیش کر رہے ہوں گے اور یہ ان کے رب کی نعمت اور اس کا فضل و کرم ہے۔ ﴿وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ اور اللہ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ اسے بڑھاتا ہے اس کی قدر کرتا ہے اپنے فضل و کرم سے اس میں اتنا اضافہ کرتا ہے کہ ان کی کوشش وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ برزخ میں بھی نعمتیں عطا ہوں گی اور برزخ میں شہداء اپنے رب کے پاس بلند ترین مقامات پر فائز ہوں گے۔ نیز نیک ارواح ایک دوسرے سے ملاقات اور ایک دوسرے کی زیارت کرتی ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دیتی ہیں۔
آل عمران 3:170
اور نہ ہرگز گمان کریں آپ ان لوگوں کو جو قتل کر دیے گئے اللہ کے راستے میں، مردےبلکہ (وہ) زندہ ہیں، نزدیک اپنے رب کے وہ رزق دیے جاتے ہیں(169) وہ خوش ہیں ان پر جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور خوشی محسوس کرتے ہیں وہ ساتھ ان کے جو نہیں ملے ان کو ان کے پیچھے سے، یہ کہ نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے(170) وہ خوشی محسوس کرتے ہیں ساتھ احسان کے اللہ کی طرف سے اور (ساتھ اس کے) فضل کے اور اس پر کہ بلاشبہ اللہ نہیں ضائع کرتا اجر مومنوں کا(171)
[169] ان آیات کریمہ میں شہداء کی کرامت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر ہے جن سے شہداء کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے نوازا ہے اور اسی ضمن میں ان زندہ لوگوں کے لیے تسلی اور تعزیت ہے جن کے اقرباء نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ نیز ان کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دینا اور ان میں شوق شہادت پیدا کرنا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جو دشمنان دین کے ساتھ اس قصد کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو، قتل ہو گئے ﴿ اَمۡوَاتًا ﴾ ’’ان کو مردہ گمان مت کرو‘‘ یعنی ان کے بارے میں تمھارے دل میں اس خیال کا گزر بھی نہ ہو کہ وہ موت سے ہم کنار ہو کر مفقود ہو گئے اور دنیاوی زندگی کی لذات ان سے دور ہو گئیں اور وہ دنیا کی رنگینیوں سے متمتع ہونے سے محروم ہو گئے۔ جن سے محرومی کے خوف اور بزدلی کی وجہ سے جہاد سے گریز کیا جاتا اور شہادت سے بچا جاتا ہے۔ ﴿ بَلۡ ﴾ بلکہ وہ اس سے بھی بلند مراتب حاصل کر چکے ہیں جن کے حصول کے لیے لوگ بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں ﴿ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے عزت و تکریم کے گھر میں زندہ ہیں۔ (عِنْدَ رَبِّهِمْ) کا لفظ ان کے بلند درجات اور ان کے رب کے قرب پر دلالت کرتا ہے ﴿ يُرۡزَقُوۡنَ﴾ یعنی ان انواع و اقسام کی نعمتوں سے رزق عطا کیا جاتا ہے جن کے اوصاف کو صرف وہی ہستی جانتی ہے جس نے ان کو یہ نعمتیں عطا کی ہیں۔
[170] اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ فَرِحِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ یعنی ان نعمتوں کے حصول پر وہ خوش ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں ٹھنڈی اور نفس خوش ہوتے ہیں۔ یہ فرحت ان نعمتوں کی خوبصورتی، ان کی کثرت و عظمت، ان نعمتوں تک پہنچنے میں کامل لذت اور ان نعمتوں کے کبھی ختم نہ ہونے کی بنا پر ہو گی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے رزق کے ذریعے سے بدنی نعمت اور اپنے فضل و کرم پر فرحت کے ذریعے سے قلبی اور روحانی نعمت کو جمع کر دیا ہے۔پس ان کے لیے نعمت اور مسرت کی تکمیل ہو گئی ﴿ وَيَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِالَّذِيۡنَ لَمۡ يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایک دوسرے کو اپنے ان بھائیوں کے پہنچنے پر جو ابھی تک نہیں پہنچے، خوشخبری دیتے ہیں نیز ان کو بھی وہی نعمتیں حاصل ہوں گی جن سے وہ بہرہ ور ہو چکے ہیں ﴿ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾ یعنی ڈرانے والے امور کے ان سے اور ان کے بھائیوں سے زائل ہونے کی وجہ سے بہت خوش ہوں گے جن کا زوال کامل مسرت کو مستلزم ہے۔
[171]﴿يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ ﴾ وہ ایک دوسرے کو ہدیہ تبریک پیش کر رہے ہوں گے اور یہ ان کے رب کی نعمت اور اس کا فضل و کرم ہے۔ ﴿وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ اور اللہ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ اسے بڑھاتا ہے اس کی قدر کرتا ہے اپنے فضل و کرم سے اس میں اتنا اضافہ کرتا ہے کہ ان کی کوشش وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ برزخ میں بھی نعمتیں عطا ہوں گی اور برزخ میں شہداء اپنے رب کے پاس بلند ترین مقامات پر فائز ہوں گے۔ نیز نیک ارواح ایک دوسرے سے ملاقات اور ایک دوسرے کی زیارت کرتی ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دیتی ہیں۔
آل عمران 3:171
اور نہ ہرگز گمان کریں آپ ان لوگوں کو جو قتل کر دیے گئے اللہ کے راستے میں، مردےبلکہ (وہ) زندہ ہیں، نزدیک اپنے رب کے وہ رزق دیے جاتے ہیں(169) وہ خوش ہیں ان پر جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور خوشی محسوس کرتے ہیں وہ ساتھ ان کے جو نہیں ملے ان کو ان کے پیچھے سے، یہ کہ نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے(170) وہ خوشی محسوس کرتے ہیں ساتھ احسان کے اللہ کی طرف سے اور (ساتھ اس کے) فضل کے اور اس پر کہ بلاشبہ اللہ نہیں ضائع کرتا اجر مومنوں کا(171)
[169] ان آیات کریمہ میں شہداء کی کرامت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر ہے جن سے شہداء کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے نوازا ہے اور اسی ضمن میں ان زندہ لوگوں کے لیے تسلی اور تعزیت ہے جن کے اقرباء نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ نیز ان کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دینا اور ان میں شوق شہادت پیدا کرنا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جو دشمنان دین کے ساتھ اس قصد کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو، قتل ہو گئے ﴿ اَمۡوَاتًا ﴾ ’’ان کو مردہ گمان مت کرو‘‘ یعنی ان کے بارے میں تمھارے دل میں اس خیال کا گزر بھی نہ ہو کہ وہ موت سے ہم کنار ہو کر مفقود ہو گئے اور دنیاوی زندگی کی لذات ان سے دور ہو گئیں اور وہ دنیا کی رنگینیوں سے متمتع ہونے سے محروم ہو گئے۔ جن سے محرومی کے خوف اور بزدلی کی وجہ سے جہاد سے گریز کیا جاتا اور شہادت سے بچا جاتا ہے۔ ﴿ بَلۡ ﴾ بلکہ وہ اس سے بھی بلند مراتب حاصل کر چکے ہیں جن کے حصول کے لیے لوگ بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں ﴿ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے عزت و تکریم کے گھر میں زندہ ہیں۔ (عِنْدَ رَبِّهِمْ) کا لفظ ان کے بلند درجات اور ان کے رب کے قرب پر دلالت کرتا ہے ﴿ يُرۡزَقُوۡنَ﴾ یعنی ان انواع و اقسام کی نعمتوں سے رزق عطا کیا جاتا ہے جن کے اوصاف کو صرف وہی ہستی جانتی ہے جس نے ان کو یہ نعمتیں عطا کی ہیں۔
[170] اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ فَرِحِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ یعنی ان نعمتوں کے حصول پر وہ خوش ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں ٹھنڈی اور نفس خوش ہوتے ہیں۔ یہ فرحت ان نعمتوں کی خوبصورتی، ان کی کثرت و عظمت، ان نعمتوں تک پہنچنے میں کامل لذت اور ان نعمتوں کے کبھی ختم نہ ہونے کی بنا پر ہو گی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے رزق کے ذریعے سے بدنی نعمت اور اپنے فضل و کرم پر فرحت کے ذریعے سے قلبی اور روحانی نعمت کو جمع کر دیا ہے۔پس ان کے لیے نعمت اور مسرت کی تکمیل ہو گئی ﴿ وَيَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِالَّذِيۡنَ لَمۡ يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایک دوسرے کو اپنے ان بھائیوں کے پہنچنے پر جو ابھی تک نہیں پہنچے، خوشخبری دیتے ہیں نیز ان کو بھی وہی نعمتیں حاصل ہوں گی جن سے وہ بہرہ ور ہو چکے ہیں ﴿ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾ یعنی ڈرانے والے امور کے ان سے اور ان کے بھائیوں سے زائل ہونے کی وجہ سے بہت خوش ہوں گے جن کا زوال کامل مسرت کو مستلزم ہے۔
[171]﴿يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ ﴾ وہ ایک دوسرے کو ہدیہ تبریک پیش کر رہے ہوں گے اور یہ ان کے رب کی نعمت اور اس کا فضل و کرم ہے۔ ﴿وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ اور اللہ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ اسے بڑھاتا ہے اس کی قدر کرتا ہے اپنے فضل و کرم سے اس میں اتنا اضافہ کرتا ہے کہ ان کی کوشش وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ برزخ میں بھی نعمتیں عطا ہوں گی اور برزخ میں شہداء اپنے رب کے پاس بلند ترین مقامات پر فائز ہوں گے۔ نیز نیک ارواح ایک دوسرے سے ملاقات اور ایک دوسرے کی زیارت کرتی ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دیتی ہیں۔
آل عمران 3:172
وہ لوگ جنھوں نے حکم مانا اللہ اور رسول کا بعد اس کے کہ پہنچا انھیں زخم، واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے احسان کیا ان میں سے اور تقویٰ اختیار کیا، اجر ہے بہت بڑا(172) وہ لوگ کہ کہا ان سے لوگوں نے، بلاشبہ لوگوں نے جمع کیا ہے (لشکر) تمھارے مقابلہ میں پس ڈرو تم ان سے تو زیادہ کر دیا ان کو (اس بات نے) ایمان میں اور کہا انھوں نے، کافی ہے ہمیں اللہ اور وہ اچھا کارساز ہے(173) پس لوٹے وہ ساتھ احسان کے اللہ سے اور فضل کے، نہیں پہنچی انھیں کوئی برائی اور پیروی کی انھوں نے رضائے الٰہی کی اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے(174) یقیناً یہ تو شیطان ہی ہے، ڈراتا ہے وہ اپنے دوستوں سے، پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ سے اگر ہو تم مومن (175)
[173,172] جب رسول اللہﷺاحد سے مدینہ کی طرف لوٹ آئے آپ نے سنا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھ جو مشرک ہیں وہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب کرام کو جنگ کے لیے نکلنے کو کہا۔ اس کے باوجود کہ صحابہ کرام سخت زخمی تھے، رسول اللہﷺکی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل آئے۔ جب وہ ’’حمراء الاسد‘‘ پہنچے تو ایک آنے والے نے ان کے پاس آ کر کہا ﴿ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَكُمۡ ﴾ اس نے خوف زدہ کرنے کی غرض سے کہا کہ لوگ تمھیں مٹانے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس کے اس قول نے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسے میں اور اضافہ کیا اور انھوں نے کہا۔ ﴿ حَسۡبُنَا اللّٰهُ ﴾ یعنی ہماری پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے ﴿ وَنِعۡمَ الۡوَؔكِيۡلُ ﴾ اور وہ بہترین کارساز ہے اور بندوں کی تدبیر اسی کے سپرد ہے اور وہ ان کے مصالح کا انتظام کرتا ہے۔
[174]﴿ فَانۡقَلَبُوۡا ﴾ یعنی مسلمان لوٹے ﴿ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ لَّمۡ يَمۡسَسۡهُمۡ سُوۡٓءٌ ﴾ ’’اللہ کے احسان اور فضل کے ساتھ، ان کو کوئی برائی نہ پہنچی‘‘ جب یہ خبر مشرکین کے پاس پہنچی کہ رسول اللہﷺاور آپ کے اصحاب کرام تمھارے تعاقب میں آ رہے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی اب نادم ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ مکہ واپس چلے گئے اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم سے مستفید ہو کر لوٹے کیونکہ اس حالت میں بھی ان کو جنگ کے لیے نکلنے کی توفیق ہوئی اور انھوں نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے غازیوں کا پورا اجر لکھ دیا۔ پس اپنے رب کے لیے حسن اطاعت اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی وجہ سے ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
[175]﴿ اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيۡطٰنُ يُخَوِّفُ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ یعنی مشرکین میں سے جس نے ڈرایا اور کہا کہ لوگ تمھارے لیے اکٹھے ہو چکے ہیں۔ وہ شیطان کے داعیوں میں سے ایک داعی ہے جو اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے جو ایمان سے محروم ہیں یا جن کا ایمان کمزور ہے۔ فرمایا: ﴿ فَلَا تَخَافُوۡهُمۡ وَخَافُوۡنِ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی شیطان کے دوست مشرکین سے نہ ڈرو کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق ہی تصرف کر سکتے ہیں۔۔۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو اپنے ان دوستوں کی مدد کرتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کا خوف واجب ہے اور اللہ تعالیٰ کاخوف لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ بندہ اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق خوف الٰہی رکھتا ہے۔ اور خوف محمود وہ ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور کے ارتکاب سے روک دے۔
آل عمران 3:173
وہ لوگ جنھوں نے حکم مانا اللہ اور رسول کا بعد اس کے کہ پہنچا انھیں زخم، واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے احسان کیا ان میں سے اور تقویٰ اختیار کیا، اجر ہے بہت بڑا(172) وہ لوگ کہ کہا ان سے لوگوں نے، بلاشبہ لوگوں نے جمع کیا ہے (لشکر) تمھارے مقابلہ میں پس ڈرو تم ان سے تو زیادہ کر دیا ان کو (اس بات نے) ایمان میں اور کہا انھوں نے، کافی ہے ہمیں اللہ اور وہ اچھا کارساز ہے(173) پس لوٹے وہ ساتھ احسان کے اللہ سے اور فضل کے، نہیں پہنچی انھیں کوئی برائی اور پیروی کی انھوں نے رضائے الٰہی کی اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے(174) یقیناً یہ تو شیطان ہی ہے، ڈراتا ہے وہ اپنے دوستوں سے، پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ سے اگر ہو تم مومن (175)
[173,172] جب رسول اللہﷺاحد سے مدینہ کی طرف لوٹ آئے آپ نے سنا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھ جو مشرک ہیں وہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب کرام کو جنگ کے لیے نکلنے کو کہا۔ اس کے باوجود کہ صحابہ کرام سخت زخمی تھے، رسول اللہﷺکی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل آئے۔ جب وہ ’’حمراء الاسد‘‘ پہنچے تو ایک آنے والے نے ان کے پاس آ کر کہا ﴿ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَكُمۡ ﴾ اس نے خوف زدہ کرنے کی غرض سے کہا کہ لوگ تمھیں مٹانے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس کے اس قول نے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسے میں اور اضافہ کیا اور انھوں نے کہا۔ ﴿ حَسۡبُنَا اللّٰهُ ﴾ یعنی ہماری پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے ﴿ وَنِعۡمَ الۡوَؔكِيۡلُ ﴾ اور وہ بہترین کارساز ہے اور بندوں کی تدبیر اسی کے سپرد ہے اور وہ ان کے مصالح کا انتظام کرتا ہے۔
[174]﴿ فَانۡقَلَبُوۡا ﴾ یعنی مسلمان لوٹے ﴿ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ لَّمۡ يَمۡسَسۡهُمۡ سُوۡٓءٌ ﴾ ’’اللہ کے احسان اور فضل کے ساتھ، ان کو کوئی برائی نہ پہنچی‘‘ جب یہ خبر مشرکین کے پاس پہنچی کہ رسول اللہﷺاور آپ کے اصحاب کرام تمھارے تعاقب میں آ رہے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی اب نادم ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ مکہ واپس چلے گئے اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم سے مستفید ہو کر لوٹے کیونکہ اس حالت میں بھی ان کو جنگ کے لیے نکلنے کی توفیق ہوئی اور انھوں نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے غازیوں کا پورا اجر لکھ دیا۔ پس اپنے رب کے لیے حسن اطاعت اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی وجہ سے ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
[175]﴿ اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيۡطٰنُ يُخَوِّفُ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ یعنی مشرکین میں سے جس نے ڈرایا اور کہا کہ لوگ تمھارے لیے اکٹھے ہو چکے ہیں۔ وہ شیطان کے داعیوں میں سے ایک داعی ہے جو اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے جو ایمان سے محروم ہیں یا جن کا ایمان کمزور ہے۔ فرمایا: ﴿ فَلَا تَخَافُوۡهُمۡ وَخَافُوۡنِ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی شیطان کے دوست مشرکین سے نہ ڈرو کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق ہی تصرف کر سکتے ہیں۔۔۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو اپنے ان دوستوں کی مدد کرتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کا خوف واجب ہے اور اللہ تعالیٰ کاخوف لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ بندہ اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق خوف الٰہی رکھتا ہے۔ اور خوف محمود وہ ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور کے ارتکاب سے روک دے۔
آل عمران 3:174
وہ لوگ جنھوں نے حکم مانا اللہ اور رسول کا بعد اس کے کہ پہنچا انھیں زخم، واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے احسان کیا ان میں سے اور تقویٰ اختیار کیا، اجر ہے بہت بڑا(172) وہ لوگ کہ کہا ان سے لوگوں نے، بلاشبہ لوگوں نے جمع کیا ہے (لشکر) تمھارے مقابلہ میں پس ڈرو تم ان سے تو زیادہ کر دیا ان کو (اس بات نے) ایمان میں اور کہا انھوں نے، کافی ہے ہمیں اللہ اور وہ اچھا کارساز ہے(173) پس لوٹے وہ ساتھ احسان کے اللہ سے اور فضل کے، نہیں پہنچی انھیں کوئی برائی اور پیروی کی انھوں نے رضائے الٰہی کی اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے(174) یقیناً یہ تو شیطان ہی ہے، ڈراتا ہے وہ اپنے دوستوں سے، پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ سے اگر ہو تم مومن (175)
[173,172] جب رسول اللہﷺاحد سے مدینہ کی طرف لوٹ آئے آپ نے سنا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھ جو مشرک ہیں وہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب کرام کو جنگ کے لیے نکلنے کو کہا۔ اس کے باوجود کہ صحابہ کرام سخت زخمی تھے، رسول اللہﷺکی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل آئے۔ جب وہ ’’حمراء الاسد‘‘ پہنچے تو ایک آنے والے نے ان کے پاس آ کر کہا ﴿ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَكُمۡ ﴾ اس نے خوف زدہ کرنے کی غرض سے کہا کہ لوگ تمھیں مٹانے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس کے اس قول نے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسے میں اور اضافہ کیا اور انھوں نے کہا۔ ﴿ حَسۡبُنَا اللّٰهُ ﴾ یعنی ہماری پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے ﴿ وَنِعۡمَ الۡوَؔكِيۡلُ ﴾ اور وہ بہترین کارساز ہے اور بندوں کی تدبیر اسی کے سپرد ہے اور وہ ان کے مصالح کا انتظام کرتا ہے۔
[174]﴿ فَانۡقَلَبُوۡا ﴾ یعنی مسلمان لوٹے ﴿ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ لَّمۡ يَمۡسَسۡهُمۡ سُوۡٓءٌ ﴾ ’’اللہ کے احسان اور فضل کے ساتھ، ان کو کوئی برائی نہ پہنچی‘‘ جب یہ خبر مشرکین کے پاس پہنچی کہ رسول اللہﷺاور آپ کے اصحاب کرام تمھارے تعاقب میں آ رہے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی اب نادم ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ مکہ واپس چلے گئے اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم سے مستفید ہو کر لوٹے کیونکہ اس حالت میں بھی ان کو جنگ کے لیے نکلنے کی توفیق ہوئی اور انھوں نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے غازیوں کا پورا اجر لکھ دیا۔ پس اپنے رب کے لیے حسن اطاعت اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی وجہ سے ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
[175]﴿ اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيۡطٰنُ يُخَوِّفُ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ یعنی مشرکین میں سے جس نے ڈرایا اور کہا کہ لوگ تمھارے لیے اکٹھے ہو چکے ہیں۔ وہ شیطان کے داعیوں میں سے ایک داعی ہے جو اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے جو ایمان سے محروم ہیں یا جن کا ایمان کمزور ہے۔ فرمایا: ﴿ فَلَا تَخَافُوۡهُمۡ وَخَافُوۡنِ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی شیطان کے دوست مشرکین سے نہ ڈرو کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق ہی تصرف کر سکتے ہیں۔۔۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو اپنے ان دوستوں کی مدد کرتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کا خوف واجب ہے اور اللہ تعالیٰ کاخوف لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ بندہ اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق خوف الٰہی رکھتا ہے۔ اور خوف محمود وہ ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور کے ارتکاب سے روک دے۔
آل عمران 3:175
وہ لوگ جنھوں نے حکم مانا اللہ اور رسول کا بعد اس کے کہ پہنچا انھیں زخم، واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے احسان کیا ان میں سے اور تقویٰ اختیار کیا، اجر ہے بہت بڑا(172) وہ لوگ کہ کہا ان سے لوگوں نے، بلاشبہ لوگوں نے جمع کیا ہے (لشکر) تمھارے مقابلہ میں پس ڈرو تم ان سے تو زیادہ کر دیا ان کو (اس بات نے) ایمان میں اور کہا انھوں نے، کافی ہے ہمیں اللہ اور وہ اچھا کارساز ہے(173) پس لوٹے وہ ساتھ احسان کے اللہ سے اور فضل کے، نہیں پہنچی انھیں کوئی برائی اور پیروی کی انھوں نے رضائے الٰہی کی اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے(174) یقیناً یہ تو شیطان ہی ہے، ڈراتا ہے وہ اپنے دوستوں سے، پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ سے اگر ہو تم مومن (175)
[173,172] جب رسول اللہﷺاحد سے مدینہ کی طرف لوٹ آئے آپ نے سنا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھ جو مشرک ہیں وہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب کرام کو جنگ کے لیے نکلنے کو کہا۔ اس کے باوجود کہ صحابہ کرام سخت زخمی تھے، رسول اللہﷺکی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل آئے۔ جب وہ ’’حمراء الاسد‘‘ پہنچے تو ایک آنے والے نے ان کے پاس آ کر کہا ﴿ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَكُمۡ ﴾ اس نے خوف زدہ کرنے کی غرض سے کہا کہ لوگ تمھیں مٹانے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس کے اس قول نے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسے میں اور اضافہ کیا اور انھوں نے کہا۔ ﴿ حَسۡبُنَا اللّٰهُ ﴾ یعنی ہماری پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے ﴿ وَنِعۡمَ الۡوَؔكِيۡلُ ﴾ اور وہ بہترین کارساز ہے اور بندوں کی تدبیر اسی کے سپرد ہے اور وہ ان کے مصالح کا انتظام کرتا ہے۔
[174]﴿ فَانۡقَلَبُوۡا ﴾ یعنی مسلمان لوٹے ﴿ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ لَّمۡ يَمۡسَسۡهُمۡ سُوۡٓءٌ ﴾ ’’اللہ کے احسان اور فضل کے ساتھ، ان کو کوئی برائی نہ پہنچی‘‘ جب یہ خبر مشرکین کے پاس پہنچی کہ رسول اللہﷺاور آپ کے اصحاب کرام تمھارے تعاقب میں آ رہے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی اب نادم ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ مکہ واپس چلے گئے اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم سے مستفید ہو کر لوٹے کیونکہ اس حالت میں بھی ان کو جنگ کے لیے نکلنے کی توفیق ہوئی اور انھوں نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے غازیوں کا پورا اجر لکھ دیا۔ پس اپنے رب کے لیے حسن اطاعت اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی وجہ سے ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
[175]﴿ اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيۡطٰنُ يُخَوِّفُ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ یعنی مشرکین میں سے جس نے ڈرایا اور کہا کہ لوگ تمھارے لیے اکٹھے ہو چکے ہیں۔ وہ شیطان کے داعیوں میں سے ایک داعی ہے جو اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے جو ایمان سے محروم ہیں یا جن کا ایمان کمزور ہے۔ فرمایا: ﴿ فَلَا تَخَافُوۡهُمۡ وَخَافُوۡنِ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی شیطان کے دوست مشرکین سے نہ ڈرو کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق ہی تصرف کر سکتے ہیں۔۔۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو اپنے ان دوستوں کی مدد کرتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کا خوف واجب ہے اور اللہ تعالیٰ کاخوف لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ بندہ اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق خوف الٰہی رکھتا ہے۔ اور خوف محمود وہ ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور کے ارتکاب سے روک دے۔
آل عمران 3:176
اور نہ غم میں ڈالیں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں، بلاشبہ وہ ہرگز نہیں نقصان پہنچا سکیں گے اللہ کو کچھ بھی، ارادہ کرتا ہے اللہ یہ کہ نہ کرے ان کے لیے کوئی حصہ آخرت میں اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا(176) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے خریدا کفر کو بدلے ایمان کے، ہرگز نہیں نقصان پہنچا سکیں گے وہ اللہ کو کچھ بھی اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(177)
[176] رسول اللہﷺلوگوں کی ہدایت کے بہت آرزو مند تھے اور ان کو ہدایت کی راہ پر لانے کے لیے جدوجہد کرتے تھے۔ جب وہ ہدایت قبول نہ کرتے تو آپ بہت آزردہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَا يَحۡزُنۡكَ الَّذِيۡنَ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡكُفۡرِ ﴾ یعنی ان کی کفر میں شدید رغبت اور چاہت کی وجہ سے آپ آزردہ خاطر نہ ہوں ﴿ اِنَّهُمۡ لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے‘‘ پس اللہ تعالیٰ اپنے دین کا حامی و ناصر، اپنے رسول کی مدد کرنے والا اور ان کے بغیر اپنے حکم کو نافذ کرنے والا ہے۔ اس لیے آپ ان کی پروا نہ کریں۔ یہ محض اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایمان سے محروم ہو کر اس دنیا میں اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حقیر ہونے، اس کی نظر سے گرنے اور اللہ تعالیٰ کے اس ارادے کی وجہ سے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو… ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ ان کی جزا یہ ہے کہ اس نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور انھیں اس توفیق سے نہ نوازا جو اس نے نہایت عدل و حکمت کی بنا پر اپنے اولیاء اور ان بندوں کو عطا کی جن کے ساتھ وہ بھلائی چاہتا ہے ۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ راہ ہدایت کے ذریعے سے تزکیہ نفس نہیں چاہتے اور اپنے فاسد اخلاق و اطوار اور برے مقاصد کی بنا پر رشد و ہدایت کو قبول نہیں کرتے۔
[177] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا پھر اس کفر میں اس شخص کی مانند رغبت کرنے لگے جو کسی محبوب مال تجارت کو خریدنے کے لیے اپنا محبوب مال خرچ کرتا ہے۔ فرمایا ﴿ لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتے۔‘‘ بلکہ ان کے فعل کا نقصان خود ان کی ذات کو پہنچتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کو کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں وہ ایمان سے دور بھاگتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر میں پوری طرح راغب رہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے لیے ان کفار کے سوا اپنے نیک اور پاک بندوں کو مقرر کر رکھا ہے اور اپنے دین کی مدد اور نصرت کے لیے اپنے پسندیدہ بندوں میں سے اصحاب عقل و بصیرت اور بڑے بڑے ذہین لوگوں کو تیار کر رکھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن کو اس سے پہلے علم دیا گیا جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں۔‘‘
آل عمران 3:177
اور نہ غم میں ڈالیں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں، بلاشبہ وہ ہرگز نہیں نقصان پہنچا سکیں گے اللہ کو کچھ بھی، ارادہ کرتا ہے اللہ یہ کہ نہ کرے ان کے لیے کوئی حصہ آخرت میں اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا(176) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے خریدا کفر کو بدلے ایمان کے، ہرگز نہیں نقصان پہنچا سکیں گے وہ اللہ کو کچھ بھی اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(177)
[176] رسول اللہﷺلوگوں کی ہدایت کے بہت آرزو مند تھے اور ان کو ہدایت کی راہ پر لانے کے لیے جدوجہد کرتے تھے۔ جب وہ ہدایت قبول نہ کرتے تو آپ بہت آزردہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَا يَحۡزُنۡكَ الَّذِيۡنَ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡكُفۡرِ ﴾ یعنی ان کی کفر میں شدید رغبت اور چاہت کی وجہ سے آپ آزردہ خاطر نہ ہوں ﴿ اِنَّهُمۡ لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے‘‘ پس اللہ تعالیٰ اپنے دین کا حامی و ناصر، اپنے رسول کی مدد کرنے والا اور ان کے بغیر اپنے حکم کو نافذ کرنے والا ہے۔ اس لیے آپ ان کی پروا نہ کریں۔ یہ محض اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایمان سے محروم ہو کر اس دنیا میں اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حقیر ہونے، اس کی نظر سے گرنے اور اللہ تعالیٰ کے اس ارادے کی وجہ سے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو… ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ ان کی جزا یہ ہے کہ اس نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور انھیں اس توفیق سے نہ نوازا جو اس نے نہایت عدل و حکمت کی بنا پر اپنے اولیاء اور ان بندوں کو عطا کی جن کے ساتھ وہ بھلائی چاہتا ہے ۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ راہ ہدایت کے ذریعے سے تزکیہ نفس نہیں چاہتے اور اپنے فاسد اخلاق و اطوار اور برے مقاصد کی بنا پر رشد و ہدایت کو قبول نہیں کرتے۔
[177] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا پھر اس کفر میں اس شخص کی مانند رغبت کرنے لگے جو کسی محبوب مال تجارت کو خریدنے کے لیے اپنا محبوب مال خرچ کرتا ہے۔ فرمایا ﴿ لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتے۔‘‘ بلکہ ان کے فعل کا نقصان خود ان کی ذات کو پہنچتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کو کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں وہ ایمان سے دور بھاگتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر میں پوری طرح راغب رہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے لیے ان کفار کے سوا اپنے نیک اور پاک بندوں کو مقرر کر رکھا ہے اور اپنے دین کی مدد اور نصرت کے لیے اپنے پسندیدہ بندوں میں سے اصحاب عقل و بصیرت اور بڑے بڑے ذہین لوگوں کو تیار کر رکھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن کو اس سے پہلے علم دیا گیا جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں۔‘‘
آل عمران 3:178
اور نہ گمان کریں کافر کہ بے شک جو ڈھیل دے رہے ہیں ہم ان کو، وہ بہتر ہے ان کی جانوں کے لیے، ہم تو صرف مہلت دیتے ہیں ان کو تاکہ زیادہ ہو جائیں وہ گناہ میں اور واسطے ان کے عذاب ہے رسوا کرنے والا(178)
[178] وہ لوگ جو اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں، اس کے دین کو دور پھینکتے ہیں اور اس کے رسولﷺکے خلاف جنگ کرتے ہیں، یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا ان کو اس دنیا میں چھوڑ دینا، ان کا استیصال نہ کرنا اور ان کو مہلت دینا، ان کے لیے بہتر ہے اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں، معاملہ ایسا نہیں جیسا وہ سمجھتے ہیں۔ یہ مہلت دینا تو ان کے حق میں برا ہے ان کی سزا اور عذاب میں اور اضافہ ہو گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا نُمۡلِيۡ لَهُمۡ لِيَزۡدَادُوۡۤا اِثۡمًا١ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’ہم تو انھیں اس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ گناہوں میں اور ترقی کریں اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کی اس کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اس کے رویے میں پے در پے کفر کا اظہار ہوتا ہے۔ پھر وہ اس کو غالب اور مقتدر ہستی کی مانند پکڑ لیتا ہے۔ پس ظالموں کو اس مہلت سے ڈرنا چاہیے اور وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اس بڑی اور بلند ہستی کی پکڑ سے رہ جائیں گے۔
آل عمران 3:179
نہیں ہے اللہ کہ چھوڑ دے مومنوں کو اس (حالت) پر کہ ہو تم اوپر اس کے، یہاں تک کہ وہ علیحدہ کر دے ناپاک کو پاک سے اور نہیں ہے اللہ کہ مطلع کرے وہ تمھیں اوپر غیب کے لیکن اللہ پسند کر لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو تمھارے لیے اجر ہے بہت بڑا(179)
[179] یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت نہیں کہ وہ اہل ایمان کو پرکھے بغیر خلط ملط حالت میں چھوڑ دے۔ وہ ان کو پرکھے گا اور پاک کو ناپاک میں سے، مومن کو منافق میں سے اور سچے کو جھوٹے میں سے علیحدہ کرے گا۔ نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت نہیں کہ اپنے بندوں کو اس غیب پر مطلع کرے جس کا علم اس نے اپنے بعض بندوں (رسولوں) کو عطا کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو مختلف قسم کی آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل مبعوث فرمائے اور ان کی اطاعت، ان کی پیروی اور ان پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ ایمان اور تقویٰ کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ پس انبیاء کرام کی اتباع کے اعتبار سے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں اطاعت گزار اور نافرمان، مومنین اور منافقین، مسلمان اور کفار۔ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ثواب و عقاب مترتب ہو۔ اور تاکہ اس کا عدل و فضل اور اس کی مخلوق پر اس کی حکمت ظاہر ہو۔
آل عمران 3:180
اور نہ گمان کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں ساتھ اس کے جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے کہ وہ بہتر ہے ان کے لیےبلکہ وہ بدتر ہے ان کے لیے، عنقریب وہ طوق پہنائے جائیں گے، اس (مال) کا کہ بخل کیا تھا انھوں نے ساتھ اس کے، دن قیامت کےاور اللہ ہی کے لیے ملکیت ہے آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب خبردار ہے(180)
[180] یعنی جو لوگ بخل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال، جاہ، علم اور دیگر چیزیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا ہے اور ان کو حکم دیا کہ ان چیزوں میں سے اس کے بندوں پر اتنا ضرور خرچ کریں جس سے خود ان کو نقصان نہ پہنچے۔ مگر انھوں نے بخل کیا اور ان چیزوں کو بندوں پرخرچ کرنے سے روک رکھا اور سمجھتے رہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ ان کے لیے بہتر ہے (یہ ان کے لیے بہتر نہیں) بلکہ یہ تو ان کے دین و دنیا و آخرت کے لیے بدترین چیز ہے۔ ﴿سَيُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِهٖ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ یعنی جس چیز کے بارے میں انھوں نے بخل کیا، اللہ تعالیٰ اسے طوق بنا کر ان کی گردن میں ڈال دے گا اور اس سبب سے انھیں عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے، چنانچہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’اِنَّ الْبَخِیْلَ یُمَثَّلُ لَہُ مَالُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعاً اَقْرَعَ لَہُ زَبِیْبَتَانِ یَاخُذُ بِلِھْزِمَتَیْہِ یَقُولُ : اَنَا مَالُکَ اَنَا کَنْزُکَ‘ ’’قیامت کے روز بخیل کے مال کو ایک بڑا سانپ بنا دیا جائے گا جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے وہ بخیل کو اس کے جبڑوں سے پکڑ لے گا اور کہے گا ’’میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔‘‘پھر رسول اللہﷺنے اس کے مصداق کے طور پر یہی آیت تلاوت فرمائی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب:﴿ولا يحسبن الذين يبخلون ...... من فضله﴾، حديث:4565، بلفظ:من آتاہ اللہ مالا فلم يؤد زکاتہ) یہ لوگ سمجھتے تھے کہ ان کا بخل ان کے لیے نفع مند اور عزت کا باعث ہے مگر معاملہ الٹ نکلا اور یہی بخل ان کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ اور عذاب کا باعث بن گیا۔﴿ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اقتدار اور بادشاہی کا مالک ہے تمام املاک اپنے مالک کی طرف لوٹتی ہیں اور بندے اس دنیا سے اس حالت میں جائیں گے کہ ان کے ساتھ درہم و دینار ہوں گے نہ کوئی مال و متاع۔ جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ الۡاَرۡضَ وَمَنۡ عَلَيۡهَا وَ اِلَيۡنَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾(مریم : 19؍40) ’’زمین اور جو لوگ اس کے اوپر ہیں ہم ہی ان کے وارث ہیں اور انھیں ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے سبب ابتدائی اور سبب انتہائی کو کیسے ذکر فرمایا ہے اور یہ دونوں اس بات کے موجب ہیں کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیزوں میں بخل نہ کرے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ بندے کے پاس اور بندے کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ بندے کی ملکیت نہیں، بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی نعمت ہے۔ اگر بندے پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا احسان نہ ہوتا تو ان میں سے کوئی چیز بھی اسے عطا نہ ہوتی۔ لہٰذا جو کوئی یہ چیزیں لوگوں کو عطا کرنے میں بخل کرتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو لوگوں تک پہنچنے سے روکتا ہے۔ کیونکہ بندے پر اللہ تعالیٰ کا احسان اس بات کا موجب ہوتا ہے کہ وہ بندہ اللہ کے بندوں پر احسان کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَحۡسِنۡ كَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ ﴾(القصص : 28؍77) ’’جیسی اللہ نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے تو بھی لوگوں کے ساتھ ویسی ہی بھلائی کر۔‘‘پس جسے اس بات کا یقین ہو گیا کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و کرم کو دوسروں تک پہنچانے سے کبھی نہیں رکے گا جس سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ یہ فعل اس کے دل اور مال میں اسے فائدہ ہی پہنچاتا ہے اس کے ایمان میں اضافہ کا باعث بنتا ہے اور اسے آفات سے محفوظ رکھتا ہے۔ثانیاً: اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ یہ سب کچھ جو بندے کے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کا وارث ہو گا اور وہ سب سے اچھا وارث ہے۔ کسی ایسی چیز میں آپ کا بخل کرنا کیا معنی رکھتا ہے جو چیز آپ کے پاس سے زائل ہو کر کسی دوسرے کے پاس منتقل ہو جائے گی۔ثالثًا: اللہ تعالیٰ نے سبب جزائی کا ذکر فرمایا چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ جب اللہ تعالیٰ تمھارے تمام اعمال کی خبر رکھتا ہے تو یہ حقیقت اس بات کی مستلزم ہے کہ وہ اچھے اعمال پر اچھی جزا دے اور برے اعمال پر بری سزا دے۔ اب جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہے وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے باز نہیں رہ سکتا جس کا بدلہ ثواب ہے۔ اور بخل پر راضی نہیں ہو سکتا، جو عذاب کا باعث ہے۔
آل عمران 3:181
تحقیق سن لی اللہ نے بات ان لوگوں کی جنھوں نے کہا، بے شک اللہ فقیر ہے اور ہم مال دار، یقینا ہم لکھتے ہیں جو کچھ انھوں نے کہا اور ان کے قتل کرنے کو (بھی) انبیاء کا ناحق اور کہیں گے ہم چکھو عذاب جلانے والا(181) یہ بہ سبب اس کے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا واسطے بندوں کے(182)
[181] اللہ تبارک و تعالیٰ ان متکبرین کے قول سے آگاہ فرماتا ہے جنھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں بدترین اور قبیح ترین بات کہی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ انھوں نے جو بدزبانی کی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے۔ وہ اس بدزبانی کو لکھ کر محفوظ کر لے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ دیگر افعال قبیحہ بھی محفوظ کرے گا۔ مثلاً ان کا خیر خواہی کرنے والے انبیائے کرام کو ناحق قتل کرنا، اور وہ ان کو ان افعال پر سخت سزا دے گا، ان کی اس ہرزہ گوئی… ’’اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں‘‘… کے بدلے میں کہا جائے گا ﴿ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡـقِ ﴾ یعنی بدن سے دل تک جلا ڈالنے والے عذاب کا مزا چکھو، ان کو دیا گیا یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ﴾ ’’بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔‘‘ وہ اس سے منزہ ہے۔
[182] فرمایا ﴿ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ یہ رسوائیاں اور قباحتیں جو انھیں عذاب کا مستحق بناتی اور ثواب سے محروم کرتی ہیں ان کا اپنا کیا دھرا ہے ۔ مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنھوں نے مذکورہ ہرزہ سرائی کی تھی۔ ان میں ’’فنحاص بن عازوراء‘‘ کا نام لیا جاتا ہے جو مدینہ میں علمائے یہود کا سرخیل تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب فنحاص بن عازوراء نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾(البقرہ: 2؍245) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾(الحدید:57؍18) سنا تو اس وقت اس نے تکبر کی بنا پر یہ بات کہنے کی جسارت کی ۔۔ قبحہ اللٰہ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی بدگوئی کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ ہرزہ سرائیاں کوئی نئی چیز نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے قبیح کام کرتے رہے ہیں ان کی ایک نظیر یہ ہے کہ انھوں نے نبیوں کو ناحق قتل کیا… یہاں ’’ناحق‘‘ کی قید لگانے سے مراد یہ ہے کہ وہ نبیوں کو لاعلمی اور ضلالت کی وجہ سے قتل نہیں کرتے تھے بلکہ اس جرم کی قباحت اور شناعت کو جانتے ہوئے بھی سرکشی اور عناد کی بنا پر قتل انبیاء علیہ السلام کے اقدام کی جرأت کرتے تھے۔
آل عمران 3:182
تحقیق سن لی اللہ نے بات ان لوگوں کی جنھوں نے کہا، بے شک اللہ فقیر ہے اور ہم مال دار، یقینا ہم لکھتے ہیں جو کچھ انھوں نے کہا اور ان کے قتل کرنے کو (بھی) انبیاء کا ناحق اور کہیں گے ہم چکھو عذاب جلانے والا(181) یہ بہ سبب اس کے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا واسطے بندوں کے(182)
[181] اللہ تبارک و تعالیٰ ان متکبرین کے قول سے آگاہ فرماتا ہے جنھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں بدترین اور قبیح ترین بات کہی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ انھوں نے جو بدزبانی کی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے۔ وہ اس بدزبانی کو لکھ کر محفوظ کر لے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ دیگر افعال قبیحہ بھی محفوظ کرے گا۔ مثلاً ان کا خیر خواہی کرنے والے انبیائے کرام کو ناحق قتل کرنا، اور وہ ان کو ان افعال پر سخت سزا دے گا، ان کی اس ہرزہ گوئی… ’’اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں‘‘… کے بدلے میں کہا جائے گا ﴿ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡـقِ ﴾ یعنی بدن سے دل تک جلا ڈالنے والے عذاب کا مزا چکھو، ان کو دیا گیا یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ﴾ ’’بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔‘‘ وہ اس سے منزہ ہے۔
[182] فرمایا ﴿ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ یہ رسوائیاں اور قباحتیں جو انھیں عذاب کا مستحق بناتی اور ثواب سے محروم کرتی ہیں ان کا اپنا کیا دھرا ہے ۔ مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنھوں نے مذکورہ ہرزہ سرائی کی تھی۔ ان میں ’’فنحاص بن عازوراء‘‘ کا نام لیا جاتا ہے جو مدینہ میں علمائے یہود کا سرخیل تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب فنحاص بن عازوراء نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾(البقرہ: 2؍245) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾(الحدید:57؍18) سنا تو اس وقت اس نے تکبر کی بنا پر یہ بات کہنے کی جسارت کی ۔۔ قبحہ اللٰہ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی بدگوئی کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ ہرزہ سرائیاں کوئی نئی چیز نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے قبیح کام کرتے رہے ہیں ان کی ایک نظیر یہ ہے کہ انھوں نے نبیوں کو ناحق قتل کیا… یہاں ’’ناحق‘‘ کی قید لگانے سے مراد یہ ہے کہ وہ نبیوں کو لاعلمی اور ضلالت کی وجہ سے قتل نہیں کرتے تھے بلکہ اس جرم کی قباحت اور شناعت کو جانتے ہوئے بھی سرکشی اور عناد کی بنا پر قتل انبیاء علیہ السلام کے اقدام کی جرأت کرتے تھے۔
آل عمران 3:183
وہ لوگ جنھوں نے کہا: بلاشبہ اللہ نے عہد لیا ہے ہم سے یہ کہ نہ ایمان لائیں ہم کسی رسول پر، یہاں تک کہ لائے وہ ہمارے پاس ایسی قربانی کہ کھا جائے اسے آگ، کہہ دیجیے! تحقیق آئے تمھارے پاس کئی رسول پہلے مجھ سے ساتھ واضح دلائل کے اور ساتھ اس کے جو کہا تم نے، پھر کیوں قتل کیا تم نے ان کو اگر ہو تم سچے؟(183) پس اگر جھٹلایا ہے انھوں نے آپ کو تو تحقیق جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے، لائے تھے وہ واضح دلائل اور صحیفے اور کتاب روشن(184)
[183] اللہ تعالیٰ ان افترا پردازوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيۡنَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے عہد لے چکا ہے اور اس نے وصیت کی ہے کہ ﴿ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰى يَاۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡكُلُهُ النَّارُ ﴾ ’’ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ (آسمان سے نازل ہو کر) کھا لے۔‘‘پس انھوں نے یہ افترا پردازی کر کے اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی اور انبیاء و مرسلین علیہ السلام کے معجزات کو صرف اسی ایک معجزے میں محصور کر کے یکجا کر دیا نیز یہ کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہیں لائیں گے جس نے ایسی قربانی نہ کی ہو جسے آگ نے کھایا ہو۔ اس لیے وہ رسول اللہﷺپر ایمان نہ لانے کے سلسلے میں اپنے رب کی اطاعت اور اس کے عہد کا التزام کر رہے ہیں۔ یہ چیز معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول مبعوث فرمائے ان سب کی معجزات و براہین کے ذریعے سے تائید کی۔ جس پر انسان مطمئن ہو جاتا ہے اور جس معجزے کا انھوں نے مطالبہ کیا انبیاء علیہ السلام اس سے قاصر نہیں رہے۔ اس کے باوجود انھوں نے انبیاء علیہ السلام کی دعوت کو بہتان و افترا کہہ کر اس کا التزام نہ کیا اور اسے باطل کہا اور اس پر عمل نہ کیا۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو حکم دیا کہ وہ ان سے کہہ دیں ﴿ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِيۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمھارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی صداقت کی تائید کرتے تھے ﴿ وَبِالَّذِيۡ قُلۡتُمۡ ﴾ اور وہ معجزہ لے کر بھی آئے جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے، یعنی انھوں نے وہ قربانی بھی کی جس کو آگ نے کھایا ﴿ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡهُمۡ۠ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟‘‘ یعنی اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ ہم تو رسول پر اس وقت ایمان لاتے ہیں جب وہ قربانی کرے اور آگ آسمان سے نازل ہو کر اسے کھا لے تو پھر تم یہ معجزہ دکھانے والے نبیوں کو قتل کیوں کرتے تھے۔ پس اس سے ان کا جھوٹ اور تناقض واضح ہو گیا۔
[184] پھر اپنے رسولﷺکو ان الفاظ میں خوشخبری سنائی ہے ﴿ فَاِنۡ كَذَّبُوۡكَ فَقَدۡ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’پس اگر انھوں نے تمھاری تکذیب کی ہے تو تم سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرنا ان ظالموں کی عادت اور وتیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اس وجہ سے نہ تھی کہ وہ معجزہ دکھانے سے قاصر رہے یا دلیل واضح نہ تھی بلکہ ﴿ جَآءُوۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ یعنی وہ تو دلائل عقلیہ اور براہین نقلیہ لے کر مبعوث ہوئے ﴿ وَالزُّبُرِ ﴾ ان کے لیے آسمان سے لکھی ہوئی کتابیں نازل ہوئیں ان کتابوں کو رسول کے سوا کوئی اور نہیں لا سکتا۔ ﴿ وَالۡكِتٰبِ الۡمُنِيۡرِ﴾ یعنی احکام شرعی کو روشن اور عیاں کرنے والی اور یہ احکام الٰہی جن محاسن عقلی پر مشتمل ہیں ان کو بیان کرنے والی ہیں نیز سچی خبروں کو روشن کرتی ہے۔ لہٰذا جب ان اوصاف کے حامل رسولوں پر ایمان لانا ان کی عادت نہیں تو ان کا معاملہ آپ کو غمزدہ نہ کر دے۔
آل عمران 3:184
وہ لوگ جنھوں نے کہا: بلاشبہ اللہ نے عہد لیا ہے ہم سے یہ کہ نہ ایمان لائیں ہم کسی رسول پر، یہاں تک کہ لائے وہ ہمارے پاس ایسی قربانی کہ کھا جائے اسے آگ، کہہ دیجیے! تحقیق آئے تمھارے پاس کئی رسول پہلے مجھ سے ساتھ واضح دلائل کے اور ساتھ اس کے جو کہا تم نے، پھر کیوں قتل کیا تم نے ان کو اگر ہو تم سچے؟(183) پس اگر جھٹلایا ہے انھوں نے آپ کو تو تحقیق جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے، لائے تھے وہ واضح دلائل اور صحیفے اور کتاب روشن(184)
[183] اللہ تعالیٰ ان افترا پردازوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيۡنَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے عہد لے چکا ہے اور اس نے وصیت کی ہے کہ ﴿ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰى يَاۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡكُلُهُ النَّارُ ﴾ ’’ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ (آسمان سے نازل ہو کر) کھا لے۔‘‘پس انھوں نے یہ افترا پردازی کر کے اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی اور انبیاء و مرسلین علیہ السلام کے معجزات کو صرف اسی ایک معجزے میں محصور کر کے یکجا کر دیا نیز یہ کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہیں لائیں گے جس نے ایسی قربانی نہ کی ہو جسے آگ نے کھایا ہو۔ اس لیے وہ رسول اللہﷺپر ایمان نہ لانے کے سلسلے میں اپنے رب کی اطاعت اور اس کے عہد کا التزام کر رہے ہیں۔ یہ چیز معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول مبعوث فرمائے ان سب کی معجزات و براہین کے ذریعے سے تائید کی۔ جس پر انسان مطمئن ہو جاتا ہے اور جس معجزے کا انھوں نے مطالبہ کیا انبیاء علیہ السلام اس سے قاصر نہیں رہے۔ اس کے باوجود انھوں نے انبیاء علیہ السلام کی دعوت کو بہتان و افترا کہہ کر اس کا التزام نہ کیا اور اسے باطل کہا اور اس پر عمل نہ کیا۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو حکم دیا کہ وہ ان سے کہہ دیں ﴿ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِيۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمھارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی صداقت کی تائید کرتے تھے ﴿ وَبِالَّذِيۡ قُلۡتُمۡ ﴾ اور وہ معجزہ لے کر بھی آئے جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے، یعنی انھوں نے وہ قربانی بھی کی جس کو آگ نے کھایا ﴿ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡهُمۡ۠ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟‘‘ یعنی اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ ہم تو رسول پر اس وقت ایمان لاتے ہیں جب وہ قربانی کرے اور آگ آسمان سے نازل ہو کر اسے کھا لے تو پھر تم یہ معجزہ دکھانے والے نبیوں کو قتل کیوں کرتے تھے۔ پس اس سے ان کا جھوٹ اور تناقض واضح ہو گیا۔
[184] پھر اپنے رسولﷺکو ان الفاظ میں خوشخبری سنائی ہے ﴿ فَاِنۡ كَذَّبُوۡكَ فَقَدۡ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’پس اگر انھوں نے تمھاری تکذیب کی ہے تو تم سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرنا ان ظالموں کی عادت اور وتیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اس وجہ سے نہ تھی کہ وہ معجزہ دکھانے سے قاصر رہے یا دلیل واضح نہ تھی بلکہ ﴿ جَآءُوۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ یعنی وہ تو دلائل عقلیہ اور براہین نقلیہ لے کر مبعوث ہوئے ﴿ وَالزُّبُرِ ﴾ ان کے لیے آسمان سے لکھی ہوئی کتابیں نازل ہوئیں ان کتابوں کو رسول کے سوا کوئی اور نہیں لا سکتا۔ ﴿ وَالۡكِتٰبِ الۡمُنِيۡرِ﴾ یعنی احکام شرعی کو روشن اور عیاں کرنے والی اور یہ احکام الٰہی جن محاسن عقلی پر مشتمل ہیں ان کو بیان کرنے والی ہیں نیز سچی خبروں کو روشن کرتی ہے۔ لہٰذا جب ان اوصاف کے حامل رسولوں پر ایمان لانا ان کی عادت نہیں تو ان کا معاملہ آپ کو غمزدہ نہ کر دے۔
آل عمران 3:185
ہر نفس چکھنے والا ہے موت کو اور بلاشبہ پورے دیے جاؤ گے تم اپنے اجر دن قیامت کے، پس جو دور کر دیا گیا آگ سے اور داخل کر دیا گیا جنت میں تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور نہیں ہے زندگانیٔ دنیا مگر سامان دھوکے کا(185)
[185] اس آیت کریمہ میں دنیا میں زہد کی ترغیب دی گئی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور باقی نہیں رہے گی، یہ محض دھوکے کا سامان ہے یہ اپنی چکا چوند، اپنے غرور اور اپنی ظاہری خوبصورتی سے انسان کو دھوکے میں مبتلا کرتی ہے۔ پھر یہ دنیا ختم ہو جائے گی اور اس میں رہنے والے آخرت کے ٹھکانے میں منتقل ہو جائیں گے جہاں ہر نفس کو اچھے یا برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے اس دنیا میں کیے ہیں۔ ﴿ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدۡخِلَ الۡجَنَّةَ فَقَدۡ فَازَ ﴾ ’’جسے آگ سے بچا کر جنت میں بھیج دیا گیا پس وہ کامیاب ہو گیا۔‘‘ یعنی دردناک عذاب سے نجات حاصل کر کے اور نعمتوں سے لبریز جنتوں میں پہنچ کر اس نے عظیم کامیابی حاصل کی۔ ان جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جس کسی کو جہنم کی آگ سے ہٹا کر جنت میں داخل نہ کیا گیا، وہ کامیابی سے محروم ہو گیا۔ بلکہ ابدی شقاوت اور سرمدی عذاب میں مبتلا کر دیا گیا۔ نیز اس آیت کریمہ میں برزخ کی نعمتوں کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے، لوگوں کو ان کے اعمال کا کچھ بدلہ برزخ میں بھی دیا جائے گا ان کے اعمال کے کچھ نمونے ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ یہ لطیف اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے مستنبط ہوتا ہے ﴿ وَاِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَؔكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ یعنی اعمال کی کامل جزا تو قیامت کے روز ہی ملے گی البتہ اس سے کم تر جزا برزخ میں عطا ہو گی۔ بلکہ بسا اوقات اس سے بھی پہلے کبھی کبھی یہ جزا دنیا ہی میں عطا ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ ﴾(السجدۃ : 32؍21) ’’ہم ان کو آخرت کے بڑے عذاب کے علاوہ دنیا کے عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے۔‘‘
آل عمران 3:186
البتہ ضرور آزمائے جاؤ گے تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں اور بالیقین ضرور سنو گے تم ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب تم سے پہلے اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا، ایذا (کی باتیں) بہت اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہیں(186)
[186]اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ انھیں ان کے اموال میں اللہ کی راہ میں واجب اور مستحب نفقات کے ذریعے سے آزمایا جائے گا اور خود ان کو ایسی بوجھلتکالیف میں مبتلا کیا جائے گا جو اکثر لوگوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں مثلاً جہاد فی سبیل اللہ، جہاد میں مشقت، قتل، اسیری اور زخموں سے واسطہ پڑتا ہے اور مثلاً امراض جو خود اسے یا اس کے کسی محبوب فرد کو لاحق ہو جاتے ہیں۔﴿ وَلَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡۤا اَذًى كَثِيۡرًا﴾ یعنی تمھیں اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے خود تمھاری ذات، تمھارے دین، تمھاری کتاب اور تمھارے رسول کے بارے میں طعنے سننے پڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان امور کے بارے میں اپنے مومن بندوں کو آگاہ کرنے میں متعدد فوائد ہیں۔۱۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے تاکہ مومن صادق اور دیگر لوگوں کے درمیان امتیاز واقع ہو جائے۔۲۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو وہ ان کے لیے شدائد اور تکالیف کو مقدر کر دیتا ہے تاکہ وہ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی برائیوں کو مٹا دے اور تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کے ایقان کی تکمیل ہو۔جب اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں آگاہ فرمایا اور وہ اسی طرح واقع بھی ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ١ٞ وَمَا زَادَهُمۡ اِلَّاۤ اِيۡمَانًا وَّتَسۡلِيۡمًا﴾(الاحزاب:33؍22) ’’تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ وعدہ فرمایا تھا۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا اس سے ان کے ایمان میں اضافہ اور تسلیم و رضا زیادہ ہو گئی۔‘‘۳۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس کی خبر دی تاکہ ان کے نفوس اس قسم کے شدائد برداشت کرنے کے لیے آمادہ ہوں اور جب سختیاں آن پڑیں تو ان پر صبر کریں۔ کیونکہ جب شدائد کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں گے تو ان کا برداشت کرنا ان کے لیے آسان ہو جائے گا اور ان کا بوجھ ہلکا لگے گا، تب وہ صبر اور تقویٰ کی پناہ لیں گے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا ﴾ یعنی تمھاری جان و مال میں تم جس ابتلا و امتحان میں پڑے ہوئے ہو اور تمھیں ظالموں کی اذیتوں کا جو سامنا کرنا پڑا ہے اگر تم اس پر صبر کرو اور اس صبر میں تقویٰ کا التزام یعنی اس صبر میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کی نیت رکھو اور اپنے صبر میں صبر کی شرعی حدود سے تجاوز نہ کرو یعنی ایسے مقام پر صبر نہ کرو جہاں صبر کرنا جائز نہ ہو بلکہ وہاں تمھارا کام اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے انتقام لینا ہو ﴿ فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴾ تو اس کا شمار ایسے امور میں ہوتا ہے جس پر عزم کیا جاتا ہے اور جس میں رغبت کے لیے سبقت کی جاتی ہے اور اس کی توفیق صرف انھیں عطا ہوتی ہے جو باعزم اور بلند ہمت لوگ ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾(فصلت:41؍35) ’’یہ بات صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس بات سے صرف وہ لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو نصیب والے ہیں۔‘‘
آل عمران 3:187
اور جب لیا اللہ نے عہد ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب، البتہ ضرور بیان کرو گے تم اسے واسطے لوگوں کے اور نہ چھپاؤ گے اسے، پس پھینک دیا انھوں نے اسے پیچھے اپنی پیٹھوں کے اور خرید لیا اس کے بدلے مول تھوڑا، پس برا ہے وہ جو خریدتے ہیں(187) نہ گمان کریں آپ ان لوگوں کوجو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے جو انھوں نے (کرتوت) کیے اور پسند کرتے ہیں وہ یہ کہ تعریف کیے جائیں ساتھ اس کے جو نہیں کیا انھوں نے، پس نہ گمان کریں آپ ان کی بابت چھوٹ جانے کا عذاب سےاور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(188)
[187]﴿ مِيۡثَاقَ ﴾اس عہد کو کہتے ہیں جو بہت موکد اور بھاری ذمہ داری کا حامل ہو۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص سے لیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا کی اور اسے علم سے نوازا۔ اس سے یہ عہد لیا کہ لوگ اس کے علم میں سے جس چیز کے محتاج ہوں وہ ان کے سامنے بیان کرے اور ان سے کوئی چیز نہ چھپائے اور نہ علم بیان کرنے میں بخل سے کام لے خاص طور پر جب اس سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے یا کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جو علمی راہنمائی کا متقاضی ہو۔ پس اس صورتحال میں ہر صاحب علم پر فرض ہے کہ وہ مسئلہ کو بیان کر کے حق اور باطل کو واضح کر دے اور جن لوگوں کو اللہ نے توفیق سے نوازا ہے۔ وہ اس ذمہ داری کو پوری طرح نبھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو علم ان کو عطا کیا ہے وہ اسے اللہ کی رضا کی خاطر لوگوں پر شفقت کی وجہ سے اور کتمان علم کے گناہ سے ڈرتے ہوئے لوگوں کو سکھاتے ہیں۔رہے وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ اور ان جیسے دیگر لوگ تو انھوں نے اس عہد اور میثاق کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور اس میثاق کی انھوں نے پروا نہیں کی۔ پس انھوں نے حق کو چھپا لیا اور باطل کو ظاہر کیا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو حقیر سمجھتے ہوئے محرمات کے ارتکاب کی جرأت کی اور اس کتمان حق کے بدلے بہت معمولی قیمت لی۔ وہ یہ تھی کہ انھیں کتمان حق کی بنا پر سرداری حاصل ہوئی اور ان کے گھٹیا پیروکاروں کی طرف سے، جو ان کی خواہشات کی پیروی کرتے تھے اور حق پر خواہشات کو مقدم رکھتے تھے، ان کو حقیر سے مال کے نذرانے پیش ہوتے تھے۔﴿ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا برا ہے جو وہ خریدتے (حاصل کرتے) ہیں‘‘ کیونکہ یہ خسیس ترین معاوضہ ہے جو انھوں نے حاصل کیا ہے اور جس حق کے بیان کرنے سے انھوں نے روگردانی کی، اس حق میں ان کی ابدی سعادت، دینی اور دنیاوی مصالح موجود ہیں اور یہ حق سب سے بڑا اور جلیل ترین مطلوب و مقصود ہے۔ پس انھوں نے محض اپنی بدنصیبی اور ذلت کی بنا پر عالی مرتبہ دین کو چھوڑ کر گھٹیا طریق زندگی اختیار کر لیا، نیز اس لیے بھی کہ انھوں نے وہی چیز اختیار کر لی جس کے لیے وہ پیدا ہوئے تھے۔
[188] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا ﴾ ’’آپ ان کی نسبت خیال نہ کریں جو اپنے (ناپسندیدہ) کاموں سے خوش ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ جن قبیح امور اور قولی اور فعلی باطل کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا ﴾ یعنی اس بھلائی کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں کی اور اس حق کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں بولا۔ پس انھوں نے برائی کے قول و فعل اور اس پر اظہار فرحت کو یکجا کر دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ بھلائی کے اس کام پر ان پر تعریف کے ڈونگرے برسائے جائیں جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔ فرمایا: ﴿ فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی وہ یہ نہ سمجھیں کہ انھیں عذاب سے نجات اور سلامتی حاصل ہو گئی ہے بلکہ وہ تو عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں عنقریب انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اسی لیے فرمایا ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ اہل کتاب شامل ہیں جو اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے پاس علم ہے درآں حالیکہ انھوں نے رسولﷺکی اطاعت نہ کی اور وہ اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ وہ اپنے حال و مقال میں حق پر ہیں۔ اسی طرح ہر وہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے جو کوئی قولی یا فعلی بدعت ایجاد کرتا ہے اور اس پر خوش ہوتا ہے اور پھر اس بدعت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور وہ اس بارے میں اپنے موقف کو حق اور دوسروں کے موقف کو باطل سمجھتا ہے جیسا کہ اہل بدعت کا وتیرہ ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ خواہش کرتا ہے کہ نیکی کے کام اور اتباع حق پر اس کی تعریف کی جائے جبکہ اس سے اس کا مقصد ریااور شہرت نہ ہو تو یہ مذموم نہیں۔ بلکہ اس کا شمار تو ان امور میں ہوتا ہے جو مطلوب و مقصود ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ان نیکیوں کی بنا پر نیکوکاروں کو ان کے قول و فعل کا بدلہ دیتا ہے۔ اس نے اپنے خاص بندوں کو ان نیکیوں پر جزا سے نوازا ہے اور ان خاص بندوں نے اللہ تعالیٰ سے ان نیکیوں کا سوال کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیمuنے اللہ تعالیٰ سے عرض کی ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾(الشعراء:26؍84) ’’اور پچھلے لوگوں میں میرا نیک ذکر جاری کر۔‘‘ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾(الصافات : 37؍79، 80) ’’تمام جہان میں نوح پر سلام ہو۔ ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘ رحمٰن کے بندوں نے عرض کی ﴿وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾(الفرقان:25؍74) ’’اور ہمیں متقی لوگوں کا امام بنا۔‘‘ یہ اپنے بندے پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا فیضان ہے جن پر اللہ تعالیٰ کے شکر کی ضرورت ہے۔
آل عمران 3:188
اور جب لیا اللہ نے عہد ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب، البتہ ضرور بیان کرو گے تم اسے واسطے لوگوں کے اور نہ چھپاؤ گے اسے، پس پھینک دیا انھوں نے اسے پیچھے اپنی پیٹھوں کے اور خرید لیا اس کے بدلے مول تھوڑا، پس برا ہے وہ جو خریدتے ہیں(187) نہ گمان کریں آپ ان لوگوں کوجو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے جو انھوں نے (کرتوت) کیے اور پسند کرتے ہیں وہ یہ کہ تعریف کیے جائیں ساتھ اس کے جو نہیں کیا انھوں نے، پس نہ گمان کریں آپ ان کی بابت چھوٹ جانے کا عذاب سےاور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(188)
[187]﴿ مِيۡثَاقَ ﴾اس عہد کو کہتے ہیں جو بہت موکد اور بھاری ذمہ داری کا حامل ہو۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص سے لیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا کی اور اسے علم سے نوازا۔ اس سے یہ عہد لیا کہ لوگ اس کے علم میں سے جس چیز کے محتاج ہوں وہ ان کے سامنے بیان کرے اور ان سے کوئی چیز نہ چھپائے اور نہ علم بیان کرنے میں بخل سے کام لے خاص طور پر جب اس سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے یا کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جو علمی راہنمائی کا متقاضی ہو۔ پس اس صورتحال میں ہر صاحب علم پر فرض ہے کہ وہ مسئلہ کو بیان کر کے حق اور باطل کو واضح کر دے اور جن لوگوں کو اللہ نے توفیق سے نوازا ہے۔ وہ اس ذمہ داری کو پوری طرح نبھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو علم ان کو عطا کیا ہے وہ اسے اللہ کی رضا کی خاطر لوگوں پر شفقت کی وجہ سے اور کتمان علم کے گناہ سے ڈرتے ہوئے لوگوں کو سکھاتے ہیں۔رہے وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ اور ان جیسے دیگر لوگ تو انھوں نے اس عہد اور میثاق کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور اس میثاق کی انھوں نے پروا نہیں کی۔ پس انھوں نے حق کو چھپا لیا اور باطل کو ظاہر کیا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو حقیر سمجھتے ہوئے محرمات کے ارتکاب کی جرأت کی اور اس کتمان حق کے بدلے بہت معمولی قیمت لی۔ وہ یہ تھی کہ انھیں کتمان حق کی بنا پر سرداری حاصل ہوئی اور ان کے گھٹیا پیروکاروں کی طرف سے، جو ان کی خواہشات کی پیروی کرتے تھے اور حق پر خواہشات کو مقدم رکھتے تھے، ان کو حقیر سے مال کے نذرانے پیش ہوتے تھے۔﴿ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا برا ہے جو وہ خریدتے (حاصل کرتے) ہیں‘‘ کیونکہ یہ خسیس ترین معاوضہ ہے جو انھوں نے حاصل کیا ہے اور جس حق کے بیان کرنے سے انھوں نے روگردانی کی، اس حق میں ان کی ابدی سعادت، دینی اور دنیاوی مصالح موجود ہیں اور یہ حق سب سے بڑا اور جلیل ترین مطلوب و مقصود ہے۔ پس انھوں نے محض اپنی بدنصیبی اور ذلت کی بنا پر عالی مرتبہ دین کو چھوڑ کر گھٹیا طریق زندگی اختیار کر لیا، نیز اس لیے بھی کہ انھوں نے وہی چیز اختیار کر لی جس کے لیے وہ پیدا ہوئے تھے۔
[188] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا ﴾ ’’آپ ان کی نسبت خیال نہ کریں جو اپنے (ناپسندیدہ) کاموں سے خوش ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ جن قبیح امور اور قولی اور فعلی باطل کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا ﴾ یعنی اس بھلائی کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں کی اور اس حق کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں بولا۔ پس انھوں نے برائی کے قول و فعل اور اس پر اظہار فرحت کو یکجا کر دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ بھلائی کے اس کام پر ان پر تعریف کے ڈونگرے برسائے جائیں جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔ فرمایا: ﴿ فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی وہ یہ نہ سمجھیں کہ انھیں عذاب سے نجات اور سلامتی حاصل ہو گئی ہے بلکہ وہ تو عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں عنقریب انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اسی لیے فرمایا ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ اہل کتاب شامل ہیں جو اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے پاس علم ہے درآں حالیکہ انھوں نے رسولﷺکی اطاعت نہ کی اور وہ اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ وہ اپنے حال و مقال میں حق پر ہیں۔ اسی طرح ہر وہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے جو کوئی قولی یا فعلی بدعت ایجاد کرتا ہے اور اس پر خوش ہوتا ہے اور پھر اس بدعت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور وہ اس بارے میں اپنے موقف کو حق اور دوسروں کے موقف کو باطل سمجھتا ہے جیسا کہ اہل بدعت کا وتیرہ ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ خواہش کرتا ہے کہ نیکی کے کام اور اتباع حق پر اس کی تعریف کی جائے جبکہ اس سے اس کا مقصد ریااور شہرت نہ ہو تو یہ مذموم نہیں۔ بلکہ اس کا شمار تو ان امور میں ہوتا ہے جو مطلوب و مقصود ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ان نیکیوں کی بنا پر نیکوکاروں کو ان کے قول و فعل کا بدلہ دیتا ہے۔ اس نے اپنے خاص بندوں کو ان نیکیوں پر جزا سے نوازا ہے اور ان خاص بندوں نے اللہ تعالیٰ سے ان نیکیوں کا سوال کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیمuنے اللہ تعالیٰ سے عرض کی ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾(الشعراء:26؍84) ’’اور پچھلے لوگوں میں میرا نیک ذکر جاری کر۔‘‘ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾(الصافات : 37؍79، 80) ’’تمام جہان میں نوح پر سلام ہو۔ ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘ رحمٰن کے بندوں نے عرض کی ﴿وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾(الفرقان:25؍74) ’’اور ہمیں متقی لوگوں کا امام بنا۔‘‘ یہ اپنے بندے پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا فیضان ہے جن پر اللہ تعالیٰ کے شکر کی ضرورت ہے۔
آل عمران 3:189
اور اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(189)
[189] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود تمام مخلوق کا مالک ہے اور وہی اپنی قدرت کاملہ اور انوکھی ربوبیت کے ذریعے سے ان پر تصرف کرتا ہے۔ کوئی اس کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں اور کوئی اسے عاجز و لاچار نہیں کر سکتا۔
آل عمران 3:190
بے شک پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے، البتہ نشانیاں ہیں واسطے اہل عقل کے (190)وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اوپر اپنے پہلوؤں کےاور غور و فکر کرتے ہیں پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! نہیں پیدا کیا تونے یہ بے فائدہ پاک ہے تو! پس بچا تو ہمیں عذاب سے آگ کے (191) اے ہمارے رب! بلاشبہ جس کو داخل کرے تو آگ میں تو یقینا رسوا کر دیا تونے اسےاور نہیں واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(192) اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم نے سنا ایک مُنادی کو، پکارتا ہے وہ ایمان کی طرف، یہ کہ ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے! پس ایمان لائے ہم، اے ہمارے رب! پس بخش دے واسطے ہمارے، ہمارے گناہ اور دور کر دے ہم سے ہماری برائیاں اور فوت کر ہمیں ساتھ نیک لوگوں کے(193) اے ہمارے رب! اور دے ہمیں جو وعدہ کیا تونے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی اور نہ رسوا کرنا ہمیں دن قیامت کے۔ بلاشبہ تو نہیں خلاف ورزی کرتا وعدے کی(194)
[190] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے۔ کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کر دیتی ہیں جو اہل صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ آیات جن تفصیلات پر مشتمل ہیں ان کو احاطہ شمار میں لانا مخلوق کے بس میں نہیں۔ البتہ مخلوق ان میں سے بعض چیزوں کا احاطہ کر سکتی ہے۔ مجمل طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کائنات کی عظمت، وسعت، اور اس کی حرکت و رفتار کا ایک نظم کے تحت ہونا، اس کے خالق کی عظمت پر دلالت کرتا ہے نیز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا تسلط و غلبہ اور اس کی قدرت سب کو شامل ہے۔ اس کائنات کا محکم اور مضبوط انداز، اس میں نت نئی تخلیقات اور انوکھے افعال اللہ تعالی کی حکمت اور اس کے علم کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں نیز اس بات پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھا ہے۔اس کائنات میں مخلوق کے لیے جو فوائد ہیں وہ اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع، اس کا فضل عام، اس کا احسان سب کو شامل اور اس کا شکر واجب ہے۔یہ تمام امور اس پر دلالت کرتے ہیں کہ قلب کے اپنے خالق اور پیدا کرنے والے کے ساتھ تعلق جوڑنے اور اس کی رضا کے حصول کے لیے پوری کوشش ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ کسی ایسی ہستی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے جو خود اپنی ذات اور زمین و آسمان میں ذرہ بھر کی بھی مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ساتھ صرف عقل مندوں کو مخصوص کیا ہے کیونکہ یہی لوگ ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عقل مند لوگ ہی اپنی آنکھوں کی بجائے اپنی عقل کے ذریعے سے غور و فکر کرتے ہیں۔
[191] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عقل مندوں لوگوں کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ ﴾ وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ﴿قِيٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ ﴾ یہ قلبی و قولی ذکر اور ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے اور اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ نیز ﴿ وَيَتَفَؔكَّـرُوۡنَ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ وہ زمین و آسمان کی تخلیق پر غوروفکر کرتے یعنی ان سے ان کی تخلیق کے مقصد پر استدلال کرتے ہیں۔ نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات میں غور و فکر کرنا عبادت ہے اور عارفین اولیاء اللہ کی صفت ہے۔ جب وہ اس کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں تو انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عبث پیدا نہیں کیا، پس وہ پکار اٹھتے ہیں ﴿ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰؔذَا بَاطِلًا١ۚ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ تیری ذات ہر اس وصف سے پاک ہے جو تیرے جلال کے لائق نہیں، تو نے اسے حق کے ساتھ حق کے لیے بلکہ حق پر مشتمل پیدا کیا ہے۔ ﴿ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’پس تو ہمیں جہنم سے بچا‘‘ بایں طور کہ ہمیں برائیوں سے بچا اور نیک اعمال کی توفیق عطا کر، تاکہ اس کے ذریعے سے ہم جہنم کی آگ سے نجات حاصل کر سکیں۔ یہ دعا جنت کے سوال کو بھی متضمن ہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا تو انھیں جنت حاصل ہو جائے گی۔ مگر جب ان کے دلوں پر خوف چھا گیا تو انھوں نے ان امور کی دعا مانگی جو ان کے لیے زیادہ اہم تھے۔
[192]﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَيۡتَهٗ ﴾ ’’اے ہمارے رب! جس کو تو نے دوزخ میں ڈال دیا، تو اس کو تو نے رسوا کر دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کے اولیاء کو ناراض کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو رسوا کیا اور اسے فضیحت میں مبتلا کر دیا۔ جس سے نجات کی کوئی راہ ہے نہ اس سے کوئی بچانے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴾ ’’ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے ظلم کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئے ہیں۔
[193] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقل فرمایا: ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيۡ لِلۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان لانے کی ندا دیتا ہے‘‘ ایمان کی منادی دینے والے محمد رسول اللہﷺہیں جو لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے اصول و فروع میں ان کو ترغیب دیتے ہیں ﴿فَاٰمَنَّا ﴾پس ہم نے جلدی سے آگے بڑھ کر ان کی دعوت پر لبیک کہا۔اس آیت کریمہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کے احسان، اس کی نعمت پر اظہار فخر اور اس ایمان کو اپنے گناہوں کی بخشش اور برائیوں کو مٹانے کے لیے وسیلہ بنانے کی خبر ہے کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے انھیں ایمان سے نوازا ہے وہی انھیں کامل امان سے نوازے گی۔﴿ وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ﴾ ’’اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے‘‘ یہ دعا اس بات کو متضمن ہے کہ نیکی کرنا اور برائی کو ترک کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے جس کی بنا پر بندہ ابرار میں شمار ہوتا ہے اور اس توفیق کی بنا پر نیکی کرنے اور برائی چھوڑنے پر اپنی موت تک ہمیشہ ثابت قدم رہتا ہے۔
[194] جب انھوں نے ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تکمیل نعمت کے لیے اس ایمان کو وسیلہ بنانے کا ذکر کیا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس پر اجر و ثواب کا سوال کیا اور دعا کی کہ وہ اپنی فتح و نصرت، دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت اور اپنی رضا کا وہ وعدہ پورا کر دے جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی زبانی کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا اور تضرع و زاری کو قبول فرما لیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
آل عمران 3:191
بے شک پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے، البتہ نشانیاں ہیں واسطے اہل عقل کے (190)وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اوپر اپنے پہلوؤں کےاور غور و فکر کرتے ہیں پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! نہیں پیدا کیا تونے یہ بے فائدہ پاک ہے تو! پس بچا تو ہمیں عذاب سے آگ کے (191) اے ہمارے رب! بلاشبہ جس کو داخل کرے تو آگ میں تو یقینا رسوا کر دیا تونے اسےاور نہیں واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(192) اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم نے سنا ایک مُنادی کو، پکارتا ہے وہ ایمان کی طرف، یہ کہ ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے! پس ایمان لائے ہم، اے ہمارے رب! پس بخش دے واسطے ہمارے، ہمارے گناہ اور دور کر دے ہم سے ہماری برائیاں اور فوت کر ہمیں ساتھ نیک لوگوں کے(193) اے ہمارے رب! اور دے ہمیں جو وعدہ کیا تونے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی اور نہ رسوا کرنا ہمیں دن قیامت کے۔ بلاشبہ تو نہیں خلاف ورزی کرتا وعدے کی(194)
[190] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے۔ کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کر دیتی ہیں جو اہل صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ آیات جن تفصیلات پر مشتمل ہیں ان کو احاطہ شمار میں لانا مخلوق کے بس میں نہیں۔ البتہ مخلوق ان میں سے بعض چیزوں کا احاطہ کر سکتی ہے۔ مجمل طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کائنات کی عظمت، وسعت، اور اس کی حرکت و رفتار کا ایک نظم کے تحت ہونا، اس کے خالق کی عظمت پر دلالت کرتا ہے نیز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا تسلط و غلبہ اور اس کی قدرت سب کو شامل ہے۔ اس کائنات کا محکم اور مضبوط انداز، اس میں نت نئی تخلیقات اور انوکھے افعال اللہ تعالی کی حکمت اور اس کے علم کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں نیز اس بات پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھا ہے۔اس کائنات میں مخلوق کے لیے جو فوائد ہیں وہ اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع، اس کا فضل عام، اس کا احسان سب کو شامل اور اس کا شکر واجب ہے۔یہ تمام امور اس پر دلالت کرتے ہیں کہ قلب کے اپنے خالق اور پیدا کرنے والے کے ساتھ تعلق جوڑنے اور اس کی رضا کے حصول کے لیے پوری کوشش ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ کسی ایسی ہستی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے جو خود اپنی ذات اور زمین و آسمان میں ذرہ بھر کی بھی مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ساتھ صرف عقل مندوں کو مخصوص کیا ہے کیونکہ یہی لوگ ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عقل مند لوگ ہی اپنی آنکھوں کی بجائے اپنی عقل کے ذریعے سے غور و فکر کرتے ہیں۔
[191] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عقل مندوں لوگوں کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ ﴾ وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ﴿قِيٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ ﴾ یہ قلبی و قولی ذکر اور ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے اور اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ نیز ﴿ وَيَتَفَؔكَّـرُوۡنَ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ وہ زمین و آسمان کی تخلیق پر غوروفکر کرتے یعنی ان سے ان کی تخلیق کے مقصد پر استدلال کرتے ہیں۔ نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات میں غور و فکر کرنا عبادت ہے اور عارفین اولیاء اللہ کی صفت ہے۔ جب وہ اس کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں تو انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عبث پیدا نہیں کیا، پس وہ پکار اٹھتے ہیں ﴿ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰؔذَا بَاطِلًا١ۚ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ تیری ذات ہر اس وصف سے پاک ہے جو تیرے جلال کے لائق نہیں، تو نے اسے حق کے ساتھ حق کے لیے بلکہ حق پر مشتمل پیدا کیا ہے۔ ﴿ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’پس تو ہمیں جہنم سے بچا‘‘ بایں طور کہ ہمیں برائیوں سے بچا اور نیک اعمال کی توفیق عطا کر، تاکہ اس کے ذریعے سے ہم جہنم کی آگ سے نجات حاصل کر سکیں۔ یہ دعا جنت کے سوال کو بھی متضمن ہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا تو انھیں جنت حاصل ہو جائے گی۔ مگر جب ان کے دلوں پر خوف چھا گیا تو انھوں نے ان امور کی دعا مانگی جو ان کے لیے زیادہ اہم تھے۔
[192]﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَيۡتَهٗ ﴾ ’’اے ہمارے رب! جس کو تو نے دوزخ میں ڈال دیا، تو اس کو تو نے رسوا کر دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کے اولیاء کو ناراض کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو رسوا کیا اور اسے فضیحت میں مبتلا کر دیا۔ جس سے نجات کی کوئی راہ ہے نہ اس سے کوئی بچانے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴾ ’’ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے ظلم کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئے ہیں۔
[193] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقل فرمایا: ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيۡ لِلۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان لانے کی ندا دیتا ہے‘‘ ایمان کی منادی دینے والے محمد رسول اللہﷺہیں جو لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے اصول و فروع میں ان کو ترغیب دیتے ہیں ﴿فَاٰمَنَّا ﴾پس ہم نے جلدی سے آگے بڑھ کر ان کی دعوت پر لبیک کہا۔اس آیت کریمہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کے احسان، اس کی نعمت پر اظہار فخر اور اس ایمان کو اپنے گناہوں کی بخشش اور برائیوں کو مٹانے کے لیے وسیلہ بنانے کی خبر ہے کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے انھیں ایمان سے نوازا ہے وہی انھیں کامل امان سے نوازے گی۔﴿ وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ﴾ ’’اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے‘‘ یہ دعا اس بات کو متضمن ہے کہ نیکی کرنا اور برائی کو ترک کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے جس کی بنا پر بندہ ابرار میں شمار ہوتا ہے اور اس توفیق کی بنا پر نیکی کرنے اور برائی چھوڑنے پر اپنی موت تک ہمیشہ ثابت قدم رہتا ہے۔
[194] جب انھوں نے ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تکمیل نعمت کے لیے اس ایمان کو وسیلہ بنانے کا ذکر کیا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس پر اجر و ثواب کا سوال کیا اور دعا کی کہ وہ اپنی فتح و نصرت، دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت اور اپنی رضا کا وہ وعدہ پورا کر دے جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی زبانی کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا اور تضرع و زاری کو قبول فرما لیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
آل عمران 3:192
بے شک پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے، البتہ نشانیاں ہیں واسطے اہل عقل کے (190)وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اوپر اپنے پہلوؤں کےاور غور و فکر کرتے ہیں پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! نہیں پیدا کیا تونے یہ بے فائدہ پاک ہے تو! پس بچا تو ہمیں عذاب سے آگ کے (191) اے ہمارے رب! بلاشبہ جس کو داخل کرے تو آگ میں تو یقینا رسوا کر دیا تونے اسےاور نہیں واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(192) اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم نے سنا ایک مُنادی کو، پکارتا ہے وہ ایمان کی طرف، یہ کہ ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے! پس ایمان لائے ہم، اے ہمارے رب! پس بخش دے واسطے ہمارے، ہمارے گناہ اور دور کر دے ہم سے ہماری برائیاں اور فوت کر ہمیں ساتھ نیک لوگوں کے(193) اے ہمارے رب! اور دے ہمیں جو وعدہ کیا تونے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی اور نہ رسوا کرنا ہمیں دن قیامت کے۔ بلاشبہ تو نہیں خلاف ورزی کرتا وعدے کی(194)
[190] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے۔ کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کر دیتی ہیں جو اہل صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ آیات جن تفصیلات پر مشتمل ہیں ان کو احاطہ شمار میں لانا مخلوق کے بس میں نہیں۔ البتہ مخلوق ان میں سے بعض چیزوں کا احاطہ کر سکتی ہے۔ مجمل طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کائنات کی عظمت، وسعت، اور اس کی حرکت و رفتار کا ایک نظم کے تحت ہونا، اس کے خالق کی عظمت پر دلالت کرتا ہے نیز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا تسلط و غلبہ اور اس کی قدرت سب کو شامل ہے۔ اس کائنات کا محکم اور مضبوط انداز، اس میں نت نئی تخلیقات اور انوکھے افعال اللہ تعالی کی حکمت اور اس کے علم کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں نیز اس بات پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھا ہے۔اس کائنات میں مخلوق کے لیے جو فوائد ہیں وہ اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع، اس کا فضل عام، اس کا احسان سب کو شامل اور اس کا شکر واجب ہے۔یہ تمام امور اس پر دلالت کرتے ہیں کہ قلب کے اپنے خالق اور پیدا کرنے والے کے ساتھ تعلق جوڑنے اور اس کی رضا کے حصول کے لیے پوری کوشش ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ کسی ایسی ہستی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے جو خود اپنی ذات اور زمین و آسمان میں ذرہ بھر کی بھی مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ساتھ صرف عقل مندوں کو مخصوص کیا ہے کیونکہ یہی لوگ ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عقل مند لوگ ہی اپنی آنکھوں کی بجائے اپنی عقل کے ذریعے سے غور و فکر کرتے ہیں۔
[191] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عقل مندوں لوگوں کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ ﴾ وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ﴿قِيٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ ﴾ یہ قلبی و قولی ذکر اور ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے اور اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ نیز ﴿ وَيَتَفَؔكَّـرُوۡنَ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ وہ زمین و آسمان کی تخلیق پر غوروفکر کرتے یعنی ان سے ان کی تخلیق کے مقصد پر استدلال کرتے ہیں۔ نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات میں غور و فکر کرنا عبادت ہے اور عارفین اولیاء اللہ کی صفت ہے۔ جب وہ اس کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں تو انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عبث پیدا نہیں کیا، پس وہ پکار اٹھتے ہیں ﴿ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰؔذَا بَاطِلًا١ۚ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ تیری ذات ہر اس وصف سے پاک ہے جو تیرے جلال کے لائق نہیں، تو نے اسے حق کے ساتھ حق کے لیے بلکہ حق پر مشتمل پیدا کیا ہے۔ ﴿ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’پس تو ہمیں جہنم سے بچا‘‘ بایں طور کہ ہمیں برائیوں سے بچا اور نیک اعمال کی توفیق عطا کر، تاکہ اس کے ذریعے سے ہم جہنم کی آگ سے نجات حاصل کر سکیں۔ یہ دعا جنت کے سوال کو بھی متضمن ہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا تو انھیں جنت حاصل ہو جائے گی۔ مگر جب ان کے دلوں پر خوف چھا گیا تو انھوں نے ان امور کی دعا مانگی جو ان کے لیے زیادہ اہم تھے۔
[192]﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَيۡتَهٗ ﴾ ’’اے ہمارے رب! جس کو تو نے دوزخ میں ڈال دیا، تو اس کو تو نے رسوا کر دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کے اولیاء کو ناراض کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو رسوا کیا اور اسے فضیحت میں مبتلا کر دیا۔ جس سے نجات کی کوئی راہ ہے نہ اس سے کوئی بچانے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴾ ’’ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے ظلم کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئے ہیں۔
[193] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقل فرمایا: ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيۡ لِلۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان لانے کی ندا دیتا ہے‘‘ ایمان کی منادی دینے والے محمد رسول اللہﷺہیں جو لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے اصول و فروع میں ان کو ترغیب دیتے ہیں ﴿فَاٰمَنَّا ﴾پس ہم نے جلدی سے آگے بڑھ کر ان کی دعوت پر لبیک کہا۔اس آیت کریمہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کے احسان، اس کی نعمت پر اظہار فخر اور اس ایمان کو اپنے گناہوں کی بخشش اور برائیوں کو مٹانے کے لیے وسیلہ بنانے کی خبر ہے کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے انھیں ایمان سے نوازا ہے وہی انھیں کامل امان سے نوازے گی۔﴿ وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ﴾ ’’اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے‘‘ یہ دعا اس بات کو متضمن ہے کہ نیکی کرنا اور برائی کو ترک کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے جس کی بنا پر بندہ ابرار میں شمار ہوتا ہے اور اس توفیق کی بنا پر نیکی کرنے اور برائی چھوڑنے پر اپنی موت تک ہمیشہ ثابت قدم رہتا ہے۔
[194] جب انھوں نے ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تکمیل نعمت کے لیے اس ایمان کو وسیلہ بنانے کا ذکر کیا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس پر اجر و ثواب کا سوال کیا اور دعا کی کہ وہ اپنی فتح و نصرت، دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت اور اپنی رضا کا وہ وعدہ پورا کر دے جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی زبانی کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا اور تضرع و زاری کو قبول فرما لیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
آل عمران 3:193
بے شک پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے، البتہ نشانیاں ہیں واسطے اہل عقل کے (190)وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اوپر اپنے پہلوؤں کےاور غور و فکر کرتے ہیں پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! نہیں پیدا کیا تونے یہ بے فائدہ پاک ہے تو! پس بچا تو ہمیں عذاب سے آگ کے (191) اے ہمارے رب! بلاشبہ جس کو داخل کرے تو آگ میں تو یقینا رسوا کر دیا تونے اسےاور نہیں واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(192) اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم نے سنا ایک مُنادی کو، پکارتا ہے وہ ایمان کی طرف، یہ کہ ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے! پس ایمان لائے ہم، اے ہمارے رب! پس بخش دے واسطے ہمارے، ہمارے گناہ اور دور کر دے ہم سے ہماری برائیاں اور فوت کر ہمیں ساتھ نیک لوگوں کے(193) اے ہمارے رب! اور دے ہمیں جو وعدہ کیا تونے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی اور نہ رسوا کرنا ہمیں دن قیامت کے۔ بلاشبہ تو نہیں خلاف ورزی کرتا وعدے کی(194)
[190] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے۔ کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کر دیتی ہیں جو اہل صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ آیات جن تفصیلات پر مشتمل ہیں ان کو احاطہ شمار میں لانا مخلوق کے بس میں نہیں۔ البتہ مخلوق ان میں سے بعض چیزوں کا احاطہ کر سکتی ہے۔ مجمل طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کائنات کی عظمت، وسعت، اور اس کی حرکت و رفتار کا ایک نظم کے تحت ہونا، اس کے خالق کی عظمت پر دلالت کرتا ہے نیز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا تسلط و غلبہ اور اس کی قدرت سب کو شامل ہے۔ اس کائنات کا محکم اور مضبوط انداز، اس میں نت نئی تخلیقات اور انوکھے افعال اللہ تعالی کی حکمت اور اس کے علم کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں نیز اس بات پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھا ہے۔اس کائنات میں مخلوق کے لیے جو فوائد ہیں وہ اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع، اس کا فضل عام، اس کا احسان سب کو شامل اور اس کا شکر واجب ہے۔یہ تمام امور اس پر دلالت کرتے ہیں کہ قلب کے اپنے خالق اور پیدا کرنے والے کے ساتھ تعلق جوڑنے اور اس کی رضا کے حصول کے لیے پوری کوشش ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ کسی ایسی ہستی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے جو خود اپنی ذات اور زمین و آسمان میں ذرہ بھر کی بھی مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ساتھ صرف عقل مندوں کو مخصوص کیا ہے کیونکہ یہی لوگ ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عقل مند لوگ ہی اپنی آنکھوں کی بجائے اپنی عقل کے ذریعے سے غور و فکر کرتے ہیں۔
[191] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عقل مندوں لوگوں کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ ﴾ وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ﴿قِيٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ ﴾ یہ قلبی و قولی ذکر اور ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے اور اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ نیز ﴿ وَيَتَفَؔكَّـرُوۡنَ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ وہ زمین و آسمان کی تخلیق پر غوروفکر کرتے یعنی ان سے ان کی تخلیق کے مقصد پر استدلال کرتے ہیں۔ نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات میں غور و فکر کرنا عبادت ہے اور عارفین اولیاء اللہ کی صفت ہے۔ جب وہ اس کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں تو انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عبث پیدا نہیں کیا، پس وہ پکار اٹھتے ہیں ﴿ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰؔذَا بَاطِلًا١ۚ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ تیری ذات ہر اس وصف سے پاک ہے جو تیرے جلال کے لائق نہیں، تو نے اسے حق کے ساتھ حق کے لیے بلکہ حق پر مشتمل پیدا کیا ہے۔ ﴿ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’پس تو ہمیں جہنم سے بچا‘‘ بایں طور کہ ہمیں برائیوں سے بچا اور نیک اعمال کی توفیق عطا کر، تاکہ اس کے ذریعے سے ہم جہنم کی آگ سے نجات حاصل کر سکیں۔ یہ دعا جنت کے سوال کو بھی متضمن ہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا تو انھیں جنت حاصل ہو جائے گی۔ مگر جب ان کے دلوں پر خوف چھا گیا تو انھوں نے ان امور کی دعا مانگی جو ان کے لیے زیادہ اہم تھے۔
[192]﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَيۡتَهٗ ﴾ ’’اے ہمارے رب! جس کو تو نے دوزخ میں ڈال دیا، تو اس کو تو نے رسوا کر دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کے اولیاء کو ناراض کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو رسوا کیا اور اسے فضیحت میں مبتلا کر دیا۔ جس سے نجات کی کوئی راہ ہے نہ اس سے کوئی بچانے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴾ ’’ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے ظلم کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئے ہیں۔
[193] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقل فرمایا: ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيۡ لِلۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان لانے کی ندا دیتا ہے‘‘ ایمان کی منادی دینے والے محمد رسول اللہﷺہیں جو لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے اصول و فروع میں ان کو ترغیب دیتے ہیں ﴿فَاٰمَنَّا ﴾پس ہم نے جلدی سے آگے بڑھ کر ان کی دعوت پر لبیک کہا۔اس آیت کریمہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کے احسان، اس کی نعمت پر اظہار فخر اور اس ایمان کو اپنے گناہوں کی بخشش اور برائیوں کو مٹانے کے لیے وسیلہ بنانے کی خبر ہے کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے انھیں ایمان سے نوازا ہے وہی انھیں کامل امان سے نوازے گی۔﴿ وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ﴾ ’’اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے‘‘ یہ دعا اس بات کو متضمن ہے کہ نیکی کرنا اور برائی کو ترک کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے جس کی بنا پر بندہ ابرار میں شمار ہوتا ہے اور اس توفیق کی بنا پر نیکی کرنے اور برائی چھوڑنے پر اپنی موت تک ہمیشہ ثابت قدم رہتا ہے۔
[194] جب انھوں نے ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تکمیل نعمت کے لیے اس ایمان کو وسیلہ بنانے کا ذکر کیا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس پر اجر و ثواب کا سوال کیا اور دعا کی کہ وہ اپنی فتح و نصرت، دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت اور اپنی رضا کا وہ وعدہ پورا کر دے جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی زبانی کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا اور تضرع و زاری کو قبول فرما لیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
آل عمران 3:194
بے شک پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے، البتہ نشانیاں ہیں واسطے اہل عقل کے (190)وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اوپر اپنے پہلوؤں کےاور غور و فکر کرتے ہیں پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! نہیں پیدا کیا تونے یہ بے فائدہ پاک ہے تو! پس بچا تو ہمیں عذاب سے آگ کے (191) اے ہمارے رب! بلاشبہ جس کو داخل کرے تو آگ میں تو یقینا رسوا کر دیا تونے اسےاور نہیں واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(192) اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم نے سنا ایک مُنادی کو، پکارتا ہے وہ ایمان کی طرف، یہ کہ ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے! پس ایمان لائے ہم، اے ہمارے رب! پس بخش دے واسطے ہمارے، ہمارے گناہ اور دور کر دے ہم سے ہماری برائیاں اور فوت کر ہمیں ساتھ نیک لوگوں کے(193) اے ہمارے رب! اور دے ہمیں جو وعدہ کیا تونے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی اور نہ رسوا کرنا ہمیں دن قیامت کے۔ بلاشبہ تو نہیں خلاف ورزی کرتا وعدے کی(194)
[190] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے۔ کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کر دیتی ہیں جو اہل صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ آیات جن تفصیلات پر مشتمل ہیں ان کو احاطہ شمار میں لانا مخلوق کے بس میں نہیں۔ البتہ مخلوق ان میں سے بعض چیزوں کا احاطہ کر سکتی ہے۔ مجمل طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کائنات کی عظمت، وسعت، اور اس کی حرکت و رفتار کا ایک نظم کے تحت ہونا، اس کے خالق کی عظمت پر دلالت کرتا ہے نیز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا تسلط و غلبہ اور اس کی قدرت سب کو شامل ہے۔ اس کائنات کا محکم اور مضبوط انداز، اس میں نت نئی تخلیقات اور انوکھے افعال اللہ تعالی کی حکمت اور اس کے علم کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں نیز اس بات پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھا ہے۔اس کائنات میں مخلوق کے لیے جو فوائد ہیں وہ اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع، اس کا فضل عام، اس کا احسان سب کو شامل اور اس کا شکر واجب ہے۔یہ تمام امور اس پر دلالت کرتے ہیں کہ قلب کے اپنے خالق اور پیدا کرنے والے کے ساتھ تعلق جوڑنے اور اس کی رضا کے حصول کے لیے پوری کوشش ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ کسی ایسی ہستی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے جو خود اپنی ذات اور زمین و آسمان میں ذرہ بھر کی بھی مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ساتھ صرف عقل مندوں کو مخصوص کیا ہے کیونکہ یہی لوگ ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عقل مند لوگ ہی اپنی آنکھوں کی بجائے اپنی عقل کے ذریعے سے غور و فکر کرتے ہیں۔
[191] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عقل مندوں لوگوں کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ ﴾ وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ﴿قِيٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ ﴾ یہ قلبی و قولی ذکر اور ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے اور اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ نیز ﴿ وَيَتَفَؔكَّـرُوۡنَ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ وہ زمین و آسمان کی تخلیق پر غوروفکر کرتے یعنی ان سے ان کی تخلیق کے مقصد پر استدلال کرتے ہیں۔ نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات میں غور و فکر کرنا عبادت ہے اور عارفین اولیاء اللہ کی صفت ہے۔ جب وہ اس کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں تو انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عبث پیدا نہیں کیا، پس وہ پکار اٹھتے ہیں ﴿ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰؔذَا بَاطِلًا١ۚ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ تیری ذات ہر اس وصف سے پاک ہے جو تیرے جلال کے لائق نہیں، تو نے اسے حق کے ساتھ حق کے لیے بلکہ حق پر مشتمل پیدا کیا ہے۔ ﴿ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’پس تو ہمیں جہنم سے بچا‘‘ بایں طور کہ ہمیں برائیوں سے بچا اور نیک اعمال کی توفیق عطا کر، تاکہ اس کے ذریعے سے ہم جہنم کی آگ سے نجات حاصل کر سکیں۔ یہ دعا جنت کے سوال کو بھی متضمن ہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا تو انھیں جنت حاصل ہو جائے گی۔ مگر جب ان کے دلوں پر خوف چھا گیا تو انھوں نے ان امور کی دعا مانگی جو ان کے لیے زیادہ اہم تھے۔
[192]﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَيۡتَهٗ ﴾ ’’اے ہمارے رب! جس کو تو نے دوزخ میں ڈال دیا، تو اس کو تو نے رسوا کر دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کے اولیاء کو ناراض کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو رسوا کیا اور اسے فضیحت میں مبتلا کر دیا۔ جس سے نجات کی کوئی راہ ہے نہ اس سے کوئی بچانے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴾ ’’ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے ظلم کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئے ہیں۔
[193] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقل فرمایا: ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيۡ لِلۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان لانے کی ندا دیتا ہے‘‘ ایمان کی منادی دینے والے محمد رسول اللہﷺہیں جو لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے اصول و فروع میں ان کو ترغیب دیتے ہیں ﴿فَاٰمَنَّا ﴾پس ہم نے جلدی سے آگے بڑھ کر ان کی دعوت پر لبیک کہا۔اس آیت کریمہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کے احسان، اس کی نعمت پر اظہار فخر اور اس ایمان کو اپنے گناہوں کی بخشش اور برائیوں کو مٹانے کے لیے وسیلہ بنانے کی خبر ہے کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے انھیں ایمان سے نوازا ہے وہی انھیں کامل امان سے نوازے گی۔﴿ وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ﴾ ’’اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے‘‘ یہ دعا اس بات کو متضمن ہے کہ نیکی کرنا اور برائی کو ترک کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے جس کی بنا پر بندہ ابرار میں شمار ہوتا ہے اور اس توفیق کی بنا پر نیکی کرنے اور برائی چھوڑنے پر اپنی موت تک ہمیشہ ثابت قدم رہتا ہے۔
[194] جب انھوں نے ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تکمیل نعمت کے لیے اس ایمان کو وسیلہ بنانے کا ذکر کیا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس پر اجر و ثواب کا سوال کیا اور دعا کی کہ وہ اپنی فتح و نصرت، دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت اور اپنی رضا کا وہ وعدہ پورا کر دے جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی زبانی کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا اور تضرع و زاری کو قبول فرما لیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
آل عمران 3:195
پس قبول کی (دعا) ان کی ان کے رب نے، یہ کہ نہیں ضائع کروں گا میں عمل کسی کرنے والے کا تم میں سے مرد ہو یا عورت، بعض تمھارا بعض سے ہے، ( یعنی تم ایک ہی ہو) پس وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی اور نکال دیے گئے وہ اپنے گھروں سے اور تکلیف دیے گئے میرے راستے میں اور لڑے وہ اور قتل کر دیے گئے وہ تو دور کر دوں گا ان سے ان کی برائیاں اور یقینا داخل کروں گا میں ان کو ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، بطور ثواب کے اللہ کی طرف سے اور اللہ، اسی کے پاس ہے اچھا ثواب(195)
[195] اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائے عبادت اور دعائے طلب، (دونوں دعائیں) قبول فرما لیں اور فرمایا: ﴿ اَنِّيۡ لَاۤ اُضِيۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى﴾ ’’میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، وہ مرد ہو یا عورت‘‘ پس تمام لوگ اپنے اعمال کا پورا پورا اور وافر اجر پائیں گے۔۔۔ تم میں سے تمام لوگ (خواہ مرد ہوں یا عورت)ثواب اور عقاب میں مساوی ہیں۔﴿ فَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا وَاُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاُوۡذُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَقٰتَلُوۡا وَقُتِلُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیے گئے اور جنھیں میری راہ میں ایذا دی گئی اور جنھوں نے جہاد کیا اور شہید کر دیے گئے‘‘ پس انھوں نے ایمان، ہجرت اور اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنے وطن اور مال و متاع جیسی محبوب چیزوں سے مفارقت کو جمع کر دیا نیز انھوں نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔ ﴿ لَاُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۚ ثَـوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں بالضرور ان کی برائیاں ان سے دور کروں گا اور بالضرور انھیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، بدلہ اللہ کی طرف سے‘‘ جو اپنے بندے کو اس کے بہت تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ ثواب عطا کرتا ہے ﴿ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ ﴾ ’’اور اللہ کے پاس ہی بہترین اجر و ثواب ہے‘‘ ایسا ثواب جو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ پس جو کوئی اس ثواب کے حصول کا ارادہ رکھتا ہے وہ حسب استطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس کے تقرب کے ذریعے سے اس سے یہ ثواب طلب کرے۔
آل عمران 3:196
نہ دھوکے میں ڈالے آپ کو چلنا پھرنا ان لوگوں کا، جنھوں نے کفر کیا، شہروں میں(196)(یہ) فائدہ ہے تھوڑا سا، پھر ٹھکانا ان کا جہنم ہے اور برا بچھونا ہے (وہ)(197) لیکن وہ لوگ جو ڈر گئے اپنے رب سے، ان کے لیے باغ ہیں چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، بطور مہمان نوازی کے اللہ کے پاس سےاور جو پاس ہے اللہ کے وہ بہتر ہے واسطے نیک لوگوں کے(198)
[196] اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو اس بارے میں تسلی دینا مقصود ہے کہ کفار کو جو دنیا کی نعمتیں، دنیا کی متاع، شہروں پر ان کا تصرف، مختلف قسم کی تجارتیں، مکاسب، انواع و اقسام کی لذات، اقتدار کی مختلف صورتیں اور بعض اوقات اہل ایمان پر ان کا غلبہ یہ تمام چیزیں:
[197]﴿ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ ﴾ ’’بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے‘‘ بے ثبات ہیں باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ اس متاع قلیل سے بہت تھوڑا فائدہ اٹھائیں گے اور اس کی وجہ سے بہت ہی طویل عذاب بھگتیں گے۔ یہ کافر کی بلند ترین حالت ہے اور آپ نے دیکھ لیا ہے کہ اس کا ٹھکانا کیا ہو گا۔
[198] اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں انھیں دنیا کی عزت اور دنیا کی نعمتوں کے حصول کے ساتھ ساتھ ﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘اگر یہ مقدر کر لیا جائے کہ انھیں دنیا میں ہر قسم کی تکلیف، شدت، عناد اور مشقت کا سامنا کرنا پڑا تو یہ جنت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، کدورتوں سے سلامت زندگی، بے پایاں مسرت، خوشی اور تروتازگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یہ تو محنت کی صورت میں نوازش ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ابرار کے لیے بہتر ہے‘‘ اور (ابرار) وہ لوگ ہیں جن کے دل پاک اور اطاعت گزار ہوں اور ان کے اقوال و افعال بھی نیک ہوں۔ پس بھلائی کرنے والا اللہ مہربان اپنی عنایت سے انھیں اجر عظیم، بہت بڑی عطا و بخشش اور دائمی فوز و فلاح عطا کرے گا۔
آل عمران 3:197
نہ دھوکے میں ڈالے آپ کو چلنا پھرنا ان لوگوں کا، جنھوں نے کفر کیا، شہروں میں(196)(یہ) فائدہ ہے تھوڑا سا، پھر ٹھکانا ان کا جہنم ہے اور برا بچھونا ہے (وہ)(197) لیکن وہ لوگ جو ڈر گئے اپنے رب سے، ان کے لیے باغ ہیں چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، بطور مہمان نوازی کے اللہ کے پاس سےاور جو پاس ہے اللہ کے وہ بہتر ہے واسطے نیک لوگوں کے(198)
[196] اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو اس بارے میں تسلی دینا مقصود ہے کہ کفار کو جو دنیا کی نعمتیں، دنیا کی متاع، شہروں پر ان کا تصرف، مختلف قسم کی تجارتیں، مکاسب، انواع و اقسام کی لذات، اقتدار کی مختلف صورتیں اور بعض اوقات اہل ایمان پر ان کا غلبہ یہ تمام چیزیں:
[197]﴿ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ ﴾ ’’بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے‘‘ بے ثبات ہیں باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ اس متاع قلیل سے بہت تھوڑا فائدہ اٹھائیں گے اور اس کی وجہ سے بہت ہی طویل عذاب بھگتیں گے۔ یہ کافر کی بلند ترین حالت ہے اور آپ نے دیکھ لیا ہے کہ اس کا ٹھکانا کیا ہو گا۔
[198] اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں انھیں دنیا کی عزت اور دنیا کی نعمتوں کے حصول کے ساتھ ساتھ ﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘اگر یہ مقدر کر لیا جائے کہ انھیں دنیا میں ہر قسم کی تکلیف، شدت، عناد اور مشقت کا سامنا کرنا پڑا تو یہ جنت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، کدورتوں سے سلامت زندگی، بے پایاں مسرت، خوشی اور تروتازگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یہ تو محنت کی صورت میں نوازش ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ابرار کے لیے بہتر ہے‘‘ اور (ابرار) وہ لوگ ہیں جن کے دل پاک اور اطاعت گزار ہوں اور ان کے اقوال و افعال بھی نیک ہوں۔ پس بھلائی کرنے والا اللہ مہربان اپنی عنایت سے انھیں اجر عظیم، بہت بڑی عطا و بخشش اور دائمی فوز و فلاح عطا کرے گا۔
آل عمران 3:198
نہ دھوکے میں ڈالے آپ کو چلنا پھرنا ان لوگوں کا، جنھوں نے کفر کیا، شہروں میں(196)(یہ) فائدہ ہے تھوڑا سا، پھر ٹھکانا ان کا جہنم ہے اور برا بچھونا ہے (وہ)(197) لیکن وہ لوگ جو ڈر گئے اپنے رب سے، ان کے لیے باغ ہیں چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، بطور مہمان نوازی کے اللہ کے پاس سےاور جو پاس ہے اللہ کے وہ بہتر ہے واسطے نیک لوگوں کے(198)
[196] اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو اس بارے میں تسلی دینا مقصود ہے کہ کفار کو جو دنیا کی نعمتیں، دنیا کی متاع، شہروں پر ان کا تصرف، مختلف قسم کی تجارتیں، مکاسب، انواع و اقسام کی لذات، اقتدار کی مختلف صورتیں اور بعض اوقات اہل ایمان پر ان کا غلبہ یہ تمام چیزیں:
[197]﴿ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ ﴾ ’’بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے‘‘ بے ثبات ہیں باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ اس متاع قلیل سے بہت تھوڑا فائدہ اٹھائیں گے اور اس کی وجہ سے بہت ہی طویل عذاب بھگتیں گے۔ یہ کافر کی بلند ترین حالت ہے اور آپ نے دیکھ لیا ہے کہ اس کا ٹھکانا کیا ہو گا۔
[198] اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں انھیں دنیا کی عزت اور دنیا کی نعمتوں کے حصول کے ساتھ ساتھ ﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘اگر یہ مقدر کر لیا جائے کہ انھیں دنیا میں ہر قسم کی تکلیف، شدت، عناد اور مشقت کا سامنا کرنا پڑا تو یہ جنت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، کدورتوں سے سلامت زندگی، بے پایاں مسرت، خوشی اور تروتازگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یہ تو محنت کی صورت میں نوازش ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ابرار کے لیے بہتر ہے‘‘ اور (ابرار) وہ لوگ ہیں جن کے دل پاک اور اطاعت گزار ہوں اور ان کے اقوال و افعال بھی نیک ہوں۔ پس بھلائی کرنے والا اللہ مہربان اپنی عنایت سے انھیں اجر عظیم، بہت بڑی عطا و بخشش اور دائمی فوز و فلاح عطا کرے گا۔
آل عمران 3:199
اور بلاشبہ اہل کتاب میں سے، البتہ وہ (بھی) ہے جو ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ کے اور جو نازل کیا گیا تمھاری طرف اور جو نازل کیا گیا ان کی طرف، جھکنے والے ہیں وہ واسطے اللہ کے، نہیں خریدتے (لیتے) وہ ساتھ اللہ کی آیتوں کے مول تھوڑا، یہ لوگ، ان کے لیے اجر ہے ان کا، نزدیک ان کے رب کے، بلاشبہ اللہ جلد لینے والا ہے حساب(199) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! صبر کرو اور ڈٹے رہو اور کمر بستہ رہواور ڈرو اللہ سےتاکہ تم فلاح پاؤ(200)
[199] یعنی اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں بھلائی کی توفیق عطا کی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تم پر نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی اور یہی وہ ایمان ہے جو نفع پہنچاتا ہے اور اس شخص کے ایمان کی مانند نہیں، جو بعض رسولوں اور کتابوں پر ایمان لاتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں، چونکہ ان کا ایمان عام اور حقیقت پر مبنی ہے اس لیے یہ نفع پہنچانے والا ہے، یہ ایمان ان کے دلوں میں خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی پر عمل کرنے اور اس کی مقرر کردہ حدود پر رک جانے کا موجب ہے۔ یہی لوگ درحقیقت اہل کتاب اور اہل علم ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ﴾(فاطر : 35؍28) ’’اللہ تعالیٰ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔‘‘ اور کامل خشیت الٰہی یہ ہے کہ ﴿ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾ ’’وہ اللہ کی آیات کو معمولی قیمت پر نہیں بیچتے، پس دین پر دنیا کو ترجیح نہیں دیتے، جیسا کہ اہل انحراف کا وتیرہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے بہت معمولی قیمت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن یہ اہل کتاب، تو انھوں نے معاملے کی حقیقت کو پہچان لیا ہے اور انھیں معلوم ہو گیا ہے کہ دین سے کم تر چیز پر راضی ہونا، نفس کے بعض سفلی حظوظ کے ساتھ ٹھہرنا اور حق کو ترک کرنا جو دنیا و آخرت میں سب سے بڑا حظ اور فوز و فلاح کا ضامن ہے… سب سے بڑا خسارہ ہے، اس لیے وہ حق کو مقدم رکھتے ہیں، اس کو بیان کرتے ہیں اور اس کی طرف دعوت دیتے ہیں اور باطل سے ڈراتے اور بچاتے ہیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ بدلہ دیا ہے کہ اس نے ان کے لیے اجر عظیم اور ثواب جمیل کا وعدہ کیا ہے اور اپنے قرب کی خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے جو وعدہ کیا ہے اس میں دیر نہ سمجھیں یہ وعدہ پورا ہونے والا ہے اور اس کا حصول متحقق ہو چکا ہے۔ پس یہ وعدہ بہت قریب ہے۔
[200]پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس چیز کی ترغیب دی ہے جو انھیں فوز و فلاح کی منزل پر پہنچاتی ہے۔ اور وہ ہے سعادت اور کامیابی۔ اس سعادت تک پہنچانے والا راستہ صبر کا التزام ہے اور صبر کیا ہے؟ نفس انسانی کو ایسی چیز پر روکے رکھنا جو اس کو ناپسند ہو، جیسے گناہ کا چھوڑ دینا، مصائب پر صبر کرنا اور نفوس کو ان پر گراں گزرنے والے اوامر پر روکے رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام امور پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے۔(مصابرہ)صبر کے دائمی اور مسلسل التزام اور تمام احوال میں دشمن کا مقابلہ کرنے کا نام ہے۔﴿ وَرَابِطُوۡا ﴾(مرابطۃ) سے مراد اس مقام پر جمے رہنا جہاں سے دشمن کے آنے کا خطرہ ہو۔ نیز یہ کہ اہل ایمان دشمنوں سے ہوشیار رہیں اور ان کو اپنا مقصد حاصل نہ کرنے دیں۔۔۔۔ شاید وہ فلاح پا لیں یعنی دینی، دنیاوی اور اخروی محبوب کے حاصل کرنے میں وہ کامیاب ہو جائیں اور اسی طرح ناپسندیدہ چیزوں سے نجات پا لیں۔اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ صرف صبر، صبر پر دوام اور دشمن سے ہمیشہ ہوشیار رہنا ہی فلاح کا راستہ ہے۔ جس کسی نے فلاح پائی تو اسی راستہ پر چل کر فلاح پائی اور جو کوئی اس فلاح سے محروم ہوا تو ان تمام امور کو یا ان میں سے بعض کو ترک کر کے محروم ہوا۔
واللہ الموفق ولا حول ولا قوۃ إلا بہ
آل عمران 3:200
اور بلاشبہ اہل کتاب میں سے، البتہ وہ (بھی) ہے جو ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ کے اور جو نازل کیا گیا تمھاری طرف اور جو نازل کیا گیا ان کی طرف، جھکنے والے ہیں وہ واسطے اللہ کے، نہیں خریدتے (لیتے) وہ ساتھ اللہ کی آیتوں کے مول تھوڑا، یہ لوگ، ان کے لیے اجر ہے ان کا، نزدیک ان کے رب کے، بلاشبہ اللہ جلد لینے والا ہے حساب(199) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! صبر کرو اور ڈٹے رہو اور کمر بستہ رہواور ڈرو اللہ سےتاکہ تم فلاح پاؤ(200)
[199] یعنی اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں بھلائی کی توفیق عطا کی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تم پر نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی اور یہی وہ ایمان ہے جو نفع پہنچاتا ہے اور اس شخص کے ایمان کی مانند نہیں، جو بعض رسولوں اور کتابوں پر ایمان لاتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں، چونکہ ان کا ایمان عام اور حقیقت پر مبنی ہے اس لیے یہ نفع پہنچانے والا ہے، یہ ایمان ان کے دلوں میں خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی پر عمل کرنے اور اس کی مقرر کردہ حدود پر رک جانے کا موجب ہے۔ یہی لوگ درحقیقت اہل کتاب اور اہل علم ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ﴾(فاطر : 35؍28) ’’اللہ تعالیٰ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔‘‘ اور کامل خشیت الٰہی یہ ہے کہ ﴿ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾ ’’وہ اللہ کی آیات کو معمولی قیمت پر نہیں بیچتے، پس دین پر دنیا کو ترجیح نہیں دیتے، جیسا کہ اہل انحراف کا وتیرہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے بہت معمولی قیمت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن یہ اہل کتاب، تو انھوں نے معاملے کی حقیقت کو پہچان لیا ہے اور انھیں معلوم ہو گیا ہے کہ دین سے کم تر چیز پر راضی ہونا، نفس کے بعض سفلی حظوظ کے ساتھ ٹھہرنا اور حق کو ترک کرنا جو دنیا و آخرت میں سب سے بڑا حظ اور فوز و فلاح کا ضامن ہے… سب سے بڑا خسارہ ہے، اس لیے وہ حق کو مقدم رکھتے ہیں، اس کو بیان کرتے ہیں اور اس کی طرف دعوت دیتے ہیں اور باطل سے ڈراتے اور بچاتے ہیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ بدلہ دیا ہے کہ اس نے ان کے لیے اجر عظیم اور ثواب جمیل کا وعدہ کیا ہے اور اپنے قرب کی خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے جو وعدہ کیا ہے اس میں دیر نہ سمجھیں یہ وعدہ پورا ہونے والا ہے اور اس کا حصول متحقق ہو چکا ہے۔ پس یہ وعدہ بہت قریب ہے۔
[200]پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس چیز کی ترغیب دی ہے جو انھیں فوز و فلاح کی منزل پر پہنچاتی ہے۔ اور وہ ہے سعادت اور کامیابی۔ اس سعادت تک پہنچانے والا راستہ صبر کا التزام ہے اور صبر کیا ہے؟ نفس انسانی کو ایسی چیز پر روکے رکھنا جو اس کو ناپسند ہو، جیسے گناہ کا چھوڑ دینا، مصائب پر صبر کرنا اور نفوس کو ان پر گراں گزرنے والے اوامر پر روکے رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام امور پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے۔(مصابرہ)صبر کے دائمی اور مسلسل التزام اور تمام احوال میں دشمن کا مقابلہ کرنے کا نام ہے۔﴿ وَرَابِطُوۡا ﴾(مرابطۃ) سے مراد اس مقام پر جمے رہنا جہاں سے دشمن کے آنے کا خطرہ ہو۔ نیز یہ کہ اہل ایمان دشمنوں سے ہوشیار رہیں اور ان کو اپنا مقصد حاصل نہ کرنے دیں۔۔۔۔ شاید وہ فلاح پا لیں یعنی دینی، دنیاوی اور اخروی محبوب کے حاصل کرنے میں وہ کامیاب ہو جائیں اور اسی طرح ناپسندیدہ چیزوں سے نجات پا لیں۔اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ صرف صبر، صبر پر دوام اور دشمن سے ہمیشہ ہوشیار رہنا ہی فلاح کا راستہ ہے۔ جس کسی نے فلاح پائی تو اسی راستہ پر چل کر فلاح پائی اور جو کوئی اس فلاح سے محروم ہوا تو ان تمام امور کو یا ان میں سے بعض کو ترک کر کے محروم ہوا۔
واللہ الموفق ولا حول ولا قوۃ إلا بہ