Tafsir As-Saadi - Urdu — النساء 4:148 – المائدة 5:49
Contents
- النساء 4:148
- النساء 4:149
- النساء 4:150
- النساء 4:151
- النساء 4:152
- النساء 4:153
- النساء 4:154
- النساء 4:155
- النساء 4:156
- النساء 4:157
- النساء 4:158
- النساء 4:159
- النساء 4:160
- النساء 4:161
- النساء 4:162
- النساء 4:163
- النساء 4:164
- النساء 4:165
- النساء 4:166
- النساء 4:167
- النساء 4:168
- النساء 4:169
- النساء 4:170
- النساء 4:171
- النساء 4:172
- النساء 4:173
- النساء 4:174
- النساء 4:175
- النساء 4:176
- المائدة 5:1
- المائدة 5:2
- المائدة 5:3
- المائدة 5:4
- المائدة 5:5
- المائدة 5:6
- المائدة 5:7
- المائدة 5:8
- المائدة 5:9
- المائدة 5:10
- المائدة 5:11
- المائدة 5:12
- المائدة 5:13
- المائدة 5:14
- المائدة 5:15
- المائدة 5:16
- المائدة 5:17
- المائدة 5:18
- المائدة 5:19
- المائدة 5:20
- المائدة 5:21
- المائدة 5:22
- المائدة 5:23
- المائدة 5:24
- المائدة 5:25
- المائدة 5:26
- المائدة 5:27
- المائدة 5:28
- المائدة 5:29
- المائدة 5:30
- المائدة 5:31
- المائدة 5:32
- المائدة 5:33
- المائدة 5:34
- المائدة 5:35
- المائدة 5:36
- المائدة 5:37
- المائدة 5:38
- المائدة 5:39
- المائدة 5:40
- المائدة 5:41
- المائدة 5:42
- المائدة 5:43
- المائدة 5:44
- المائدة 5:45
- المائدة 5:46
- المائدة 5:47
- المائدة 5:48
- المائدة 5:49
النساء 4:148
نہیں پسند کرتا اللہ اونچی آواز سے برائی کی بات کرنے کو مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو اور ہے اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا(148) اگر تم علانیہ کرو کوئی بھلائی یا خفیہ کرو اسے یا معاف کر دو برائی کو تو اللہ (بھی) ہے بہت معاف کرنے والا بڑی قدرت والا(149)
[148] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی اعلانیہ بری بات کہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے۔ اس میں وہ تمام برے اقوال شامل ہیں جو تکلیف دہ اور صدمہ پہنچاتے ہیں ، مثلاً: گالی گلوچ، قذف اور سب و شتم کرنا۔ اس لیے کہ ایسے تمام اقوال سے منع کیا گیا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے ، مثلاً: ذکر الٰہی، اچھا اور نرم پاکیزہ کلام، وغیرہ۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ﴾ ’’مگر وہ جو مظلوم ہو۔‘‘ یعنی جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو وہ ظلم کرنے والے کے لیے بد دعا کر سکتا ہے، شکایت کر سکتا ہے اور اس شخص کو اعلانیہ بری بات کہہ سکتا ہے جس نے اعلانیہ بری بات کہی ہے، البتہ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس پر بہتان لگائے یا اس کے ظلم سے بڑھ کر زیادتی کرے یا ظالم کے علاوہ کسی اور کو گالی وغیرہ دے۔ بایں ہمہ معاف کر دینا اور ظلم و زیادتی میں مقابلہ نہ کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری: 42؍40)’’پس جس کسی نے معاف کر دیا اور اصلاح کی اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ سَمِيۡعًا عَلِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ (سب کچھ) سنتا، جانتا ہے۔‘‘ چونکہ آیت کریمہ برے، اچھے اور مباح کلام کے احکام پر مشتمل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ وہ سننے والا ہے، تمھارے اقوال سنتا ہے اس لیے ایسی بات کہنے سے بچو جو تمھارے رب کی ناراضی کا باعث بنے اور وہ تمھیں سزا دے۔ اس آیت کریمہ میں اچھی بات کہنے کی بھی ترغیب ہے ﴿ عَلِيۡمًا ﴾ وہ تمھاری نیتوں اور تمھارے اقوال کے مصدر کو جانتا ہے۔
[149] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ تُبۡدُوۡا خَيۡرًا اَوۡ تُخۡفُوۡهُ ﴾ ’’اگر تم بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر۔‘‘ یہ قولی و فعلی، ظاہری و باطنی ، واجب و مستحب ہر بھلائی کو شامل ہے۔ ﴿اَوۡ تَعۡفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’یا برائی سے درگزر کروگے۔‘‘ یعنی وہ شخص جو تمھارے بدن، تمھارے اموال اور تمھاری عزت و ناموس کے معاملے میں تمھارے ساتھ برا سلوک کرے تم اسے معاف کر دو کیونکہ عمل کی جزا عمل کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے جو کسی کے ساتھ بھلائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھلائی کرتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيۡرًا ﴾ ’’تو اللہ بھی معاف کرنے والا صاحب قدرت ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے بندوں کی لغزشوں اور ان کے بڑے بڑے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور ان کی پردہ پوشی کرتا ہے اور کامل عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے ان سے معاملہ کرتا ہے۔ جو اس کی قدرت کاملہ سے صادر ہوتے ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے معانی میں تدبر و تفکر کی طرف راہنمائی کی گئی ہے۔ نیز یہ کہ خلق و امر ان اسماء و صفات سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اسماء و صفات خلق و امر کا تقاضا کرتے ہیں ۔ بنابریں اسمائے حسنی کو احکام کی علت بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کے عمل اور برا سلوک کرنے والے کو معاف کر دینے کا ذکر کیا ہے اس لیے اس نے اس پر یہ امر مرتب فرمایا کہ اس نے اپنے اسماء کی معرفت کو ہمارا مدار بنا دیا اور یہ چیز ہمیں ان اسماء حسنی کے ثواب خاص کے ذکر سے مستغنی کرتی ہے۔
النساء 4:149
نہیں پسند کرتا اللہ اونچی آواز سے برائی کی بات کرنے کو مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو اور ہے اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا(148) اگر تم علانیہ کرو کوئی بھلائی یا خفیہ کرو اسے یا معاف کر دو برائی کو تو اللہ (بھی) ہے بہت معاف کرنے والا بڑی قدرت والا(149)
[148] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی اعلانیہ بری بات کہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے۔ اس میں وہ تمام برے اقوال شامل ہیں جو تکلیف دہ اور صدمہ پہنچاتے ہیں ، مثلاً: گالی گلوچ، قذف اور سب و شتم کرنا۔ اس لیے کہ ایسے تمام اقوال سے منع کیا گیا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے ، مثلاً: ذکر الٰہی، اچھا اور نرم پاکیزہ کلام، وغیرہ۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ﴾ ’’مگر وہ جو مظلوم ہو۔‘‘ یعنی جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو وہ ظلم کرنے والے کے لیے بد دعا کر سکتا ہے، شکایت کر سکتا ہے اور اس شخص کو اعلانیہ بری بات کہہ سکتا ہے جس نے اعلانیہ بری بات کہی ہے، البتہ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس پر بہتان لگائے یا اس کے ظلم سے بڑھ کر زیادتی کرے یا ظالم کے علاوہ کسی اور کو گالی وغیرہ دے۔ بایں ہمہ معاف کر دینا اور ظلم و زیادتی میں مقابلہ نہ کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری: 42؍40)’’پس جس کسی نے معاف کر دیا اور اصلاح کی اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ سَمِيۡعًا عَلِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ (سب کچھ) سنتا، جانتا ہے۔‘‘ چونکہ آیت کریمہ برے، اچھے اور مباح کلام کے احکام پر مشتمل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ وہ سننے والا ہے، تمھارے اقوال سنتا ہے اس لیے ایسی بات کہنے سے بچو جو تمھارے رب کی ناراضی کا باعث بنے اور وہ تمھیں سزا دے۔ اس آیت کریمہ میں اچھی بات کہنے کی بھی ترغیب ہے ﴿ عَلِيۡمًا ﴾ وہ تمھاری نیتوں اور تمھارے اقوال کے مصدر کو جانتا ہے۔
[149] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ تُبۡدُوۡا خَيۡرًا اَوۡ تُخۡفُوۡهُ ﴾ ’’اگر تم بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر۔‘‘ یہ قولی و فعلی، ظاہری و باطنی ، واجب و مستحب ہر بھلائی کو شامل ہے۔ ﴿اَوۡ تَعۡفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’یا برائی سے درگزر کروگے۔‘‘ یعنی وہ شخص جو تمھارے بدن، تمھارے اموال اور تمھاری عزت و ناموس کے معاملے میں تمھارے ساتھ برا سلوک کرے تم اسے معاف کر دو کیونکہ عمل کی جزا عمل کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے جو کسی کے ساتھ بھلائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھلائی کرتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيۡرًا ﴾ ’’تو اللہ بھی معاف کرنے والا صاحب قدرت ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے بندوں کی لغزشوں اور ان کے بڑے بڑے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور ان کی پردہ پوشی کرتا ہے اور کامل عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے ان سے معاملہ کرتا ہے۔ جو اس کی قدرت کاملہ سے صادر ہوتے ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے معانی میں تدبر و تفکر کی طرف راہنمائی کی گئی ہے۔ نیز یہ کہ خلق و امر ان اسماء و صفات سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اسماء و صفات خلق و امر کا تقاضا کرتے ہیں ۔ بنابریں اسمائے حسنی کو احکام کی علت بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کے عمل اور برا سلوک کرنے والے کو معاف کر دینے کا ذکر کیا ہے اس لیے اس نے اس پر یہ امر مرتب فرمایا کہ اس نے اپنے اسماء کی معرفت کو ہمارا مدار بنا دیا اور یہ چیز ہمیں ان اسماء حسنی کے ثواب خاص کے ذکر سے مستغنی کرتی ہے۔
النساء 4:150
بے شک جو کفر کرتے ہیں ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور چاہتے ہیں وہ کہ تفریق کریں درمیان اللہ اور اس کے رسولوں کے اور کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں ساتھ بعض کے اور کفر کرتے ہیں ساتھ بعض کے اور وہ چاہتے ہیں کہ اختیار کریں درمیان اس کے کوئی راہ(150) یہ لوگ، وہی ہیں کافر اصل اور ہم نے تیار کیا ہے واسطے کافروں کے عذاب رسواکن(151) اور جو لوگ ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور نہیں تفریق کی انھوں نے درمیان کسی ایک کے ان میں سے یہ لوگ ہیں جلد دے گا ان کو (اللہ) اجر ان کے اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(152)
[150] یہاں تک لوگوں کی دو اقسام ہیں جن کو ہر ایک کے لیے واضح کر دیا گیا ہے۔ (۱) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے لوگ (۲) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والے لوگ۔ رہ گئی تیسری قسم تو یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گا مگر یہ ان کی مجرد آرزوئیں ہیں ۔پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جو کوئی حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور دوست بناتا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کو دوست بناتا ہے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کی دوستی کی تکمیل ہے اور جو کوئی انبیاء و رسل میں سے کسی ایک کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ اور تمام رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾(البقرۃ: 2؍98) ’’جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔‘‘اسی طرح جو کوئی کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ تمام رسولوں کا انکار کرتا ہے بلکہ وہ اس رسول کا بھی انکار کرتا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لایا ہے۔
[152,151] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہ بلاشبہ کافر ہیں پکے۔‘‘ اور (حقا) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے تاکہ کوئی اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ ان کا مرتبہ ایمان اور کفر کے درمیان ہے۔ اور ان کے کافر ہونے کی… یہاں تک کہ اس رسول کے ساتھ بھی کفر کرنے کی، جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں … وجہ یہ ہے کہ ہر وہ دلیل جو اس نبی پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، وہی دلیل یا اس جیسی یا اس سے بڑھ کر دلیل موجود ہے جو اس نبی کی نبوت پر دلالت کرتی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں ۔ اسی طرح ہر وہ شبہ جس کی بنیاد پر وہ اس نبی پر اعتراض کرتے ہیں جس کے ساتھ انھوں نے کفر کیا ہے، وہی شبہ یا اس جیسا یا اس سے بھی بڑا شبہ اس نبی کی نبوت میں بھی موجود ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں .... تب اس کے بعد سوائے خواہشات نفس اور مجرد دعویٰ کے کچھ باقی نہیں ۔ جس کے مقابلہ میں اس جیسا دعویٰ کرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہی لوگ حقیقی (پکے) کافر ہیں تو اس عذاب کا ذکر بھی فرما دیا جو ان کو اور دیگر کفار کو دیا جائے گا۔ ﴿وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا﴾’’اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘ جس طرح انھوں نے تکبر کی بنا پر ایمان لانے سے انکار کر دیا اسی طرح اللہ تعالیٰ رسوا کن اور درد ناک عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کرے گا۔﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾ ’’اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ہر اس خبر پر ایمان لانے کو متضمن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے اور ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لانے کو بھی جنھیں لے کر انبیاء و رسل مبعوث ہوئے۔ ﴿وَلَمۡ يُفَرِّؔقُوۡا بَيۡنَ اَحَدٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا۔‘‘ بلکہ وہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لائے اور یہی وہ حقیقی اور یقینی ایمان ہے جو دلیل اور برہان پر مبنی ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَوۡفَ يُؤۡتِيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں ) کے صلے عطا فرمائے گا۔‘‘ یعنی ان کے ایمان اور ایمان پر مبنی عمل صالح، قول حسن اور خلق جمیل کی جزا دی جائے گی اور یہ جزا ہر ایک کو اس کے حسب حال عطا ہو گی۔ شاید ان کے اجر میں اضافے کا یہی سرنہاں ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًؔا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور نیکیوں کو قبول فرماتا ہے۔
النساء 4:151
بے شک جو کفر کرتے ہیں ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور چاہتے ہیں وہ کہ تفریق کریں درمیان اللہ اور اس کے رسولوں کے اور کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں ساتھ بعض کے اور کفر کرتے ہیں ساتھ بعض کے اور وہ چاہتے ہیں کہ اختیار کریں درمیان اس کے کوئی راہ(150) یہ لوگ، وہی ہیں کافر اصل اور ہم نے تیار کیا ہے واسطے کافروں کے عذاب رسواکن(151) اور جو لوگ ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور نہیں تفریق کی انھوں نے درمیان کسی ایک کے ان میں سے یہ لوگ ہیں جلد دے گا ان کو (اللہ) اجر ان کے اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(152)
[150] یہاں تک لوگوں کی دو اقسام ہیں جن کو ہر ایک کے لیے واضح کر دیا گیا ہے۔ (۱) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے لوگ (۲) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والے لوگ۔ رہ گئی تیسری قسم تو یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گا مگر یہ ان کی مجرد آرزوئیں ہیں ۔پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جو کوئی حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور دوست بناتا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کو دوست بناتا ہے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کی دوستی کی تکمیل ہے اور جو کوئی انبیاء و رسل میں سے کسی ایک کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ اور تمام رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾(البقرۃ: 2؍98) ’’جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔‘‘اسی طرح جو کوئی کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ تمام رسولوں کا انکار کرتا ہے بلکہ وہ اس رسول کا بھی انکار کرتا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لایا ہے۔
[152,151] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہ بلاشبہ کافر ہیں پکے۔‘‘ اور (حقا) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے تاکہ کوئی اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ ان کا مرتبہ ایمان اور کفر کے درمیان ہے۔ اور ان کے کافر ہونے کی… یہاں تک کہ اس رسول کے ساتھ بھی کفر کرنے کی، جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں … وجہ یہ ہے کہ ہر وہ دلیل جو اس نبی پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، وہی دلیل یا اس جیسی یا اس سے بڑھ کر دلیل موجود ہے جو اس نبی کی نبوت پر دلالت کرتی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں ۔ اسی طرح ہر وہ شبہ جس کی بنیاد پر وہ اس نبی پر اعتراض کرتے ہیں جس کے ساتھ انھوں نے کفر کیا ہے، وہی شبہ یا اس جیسا یا اس سے بھی بڑا شبہ اس نبی کی نبوت میں بھی موجود ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں .... تب اس کے بعد سوائے خواہشات نفس اور مجرد دعویٰ کے کچھ باقی نہیں ۔ جس کے مقابلہ میں اس جیسا دعویٰ کرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہی لوگ حقیقی (پکے) کافر ہیں تو اس عذاب کا ذکر بھی فرما دیا جو ان کو اور دیگر کفار کو دیا جائے گا۔ ﴿وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا﴾’’اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘ جس طرح انھوں نے تکبر کی بنا پر ایمان لانے سے انکار کر دیا اسی طرح اللہ تعالیٰ رسوا کن اور درد ناک عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کرے گا۔﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾ ’’اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ہر اس خبر پر ایمان لانے کو متضمن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے اور ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لانے کو بھی جنھیں لے کر انبیاء و رسل مبعوث ہوئے۔ ﴿وَلَمۡ يُفَرِّؔقُوۡا بَيۡنَ اَحَدٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا۔‘‘ بلکہ وہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لائے اور یہی وہ حقیقی اور یقینی ایمان ہے جو دلیل اور برہان پر مبنی ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَوۡفَ يُؤۡتِيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں ) کے صلے عطا فرمائے گا۔‘‘ یعنی ان کے ایمان اور ایمان پر مبنی عمل صالح، قول حسن اور خلق جمیل کی جزا دی جائے گی اور یہ جزا ہر ایک کو اس کے حسب حال عطا ہو گی۔ شاید ان کے اجر میں اضافے کا یہی سرنہاں ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًؔا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور نیکیوں کو قبول فرماتا ہے۔
النساء 4:152
بے شک جو کفر کرتے ہیں ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور چاہتے ہیں وہ کہ تفریق کریں درمیان اللہ اور اس کے رسولوں کے اور کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں ساتھ بعض کے اور کفر کرتے ہیں ساتھ بعض کے اور وہ چاہتے ہیں کہ اختیار کریں درمیان اس کے کوئی راہ(150) یہ لوگ، وہی ہیں کافر اصل اور ہم نے تیار کیا ہے واسطے کافروں کے عذاب رسواکن(151) اور جو لوگ ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور نہیں تفریق کی انھوں نے درمیان کسی ایک کے ان میں سے یہ لوگ ہیں جلد دے گا ان کو (اللہ) اجر ان کے اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(152)
[150] یہاں تک لوگوں کی دو اقسام ہیں جن کو ہر ایک کے لیے واضح کر دیا گیا ہے۔ (۱) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے لوگ (۲) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والے لوگ۔ رہ گئی تیسری قسم تو یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گا مگر یہ ان کی مجرد آرزوئیں ہیں ۔پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جو کوئی حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور دوست بناتا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کو دوست بناتا ہے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کی دوستی کی تکمیل ہے اور جو کوئی انبیاء و رسل میں سے کسی ایک کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ اور تمام رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾(البقرۃ: 2؍98) ’’جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔‘‘اسی طرح جو کوئی کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ تمام رسولوں کا انکار کرتا ہے بلکہ وہ اس رسول کا بھی انکار کرتا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لایا ہے۔
[152,151] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہ بلاشبہ کافر ہیں پکے۔‘‘ اور (حقا) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے تاکہ کوئی اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ ان کا مرتبہ ایمان اور کفر کے درمیان ہے۔ اور ان کے کافر ہونے کی… یہاں تک کہ اس رسول کے ساتھ بھی کفر کرنے کی، جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں … وجہ یہ ہے کہ ہر وہ دلیل جو اس نبی پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، وہی دلیل یا اس جیسی یا اس سے بڑھ کر دلیل موجود ہے جو اس نبی کی نبوت پر دلالت کرتی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں ۔ اسی طرح ہر وہ شبہ جس کی بنیاد پر وہ اس نبی پر اعتراض کرتے ہیں جس کے ساتھ انھوں نے کفر کیا ہے، وہی شبہ یا اس جیسا یا اس سے بھی بڑا شبہ اس نبی کی نبوت میں بھی موجود ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں .... تب اس کے بعد سوائے خواہشات نفس اور مجرد دعویٰ کے کچھ باقی نہیں ۔ جس کے مقابلہ میں اس جیسا دعویٰ کرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہی لوگ حقیقی (پکے) کافر ہیں تو اس عذاب کا ذکر بھی فرما دیا جو ان کو اور دیگر کفار کو دیا جائے گا۔ ﴿وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا﴾’’اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘ جس طرح انھوں نے تکبر کی بنا پر ایمان لانے سے انکار کر دیا اسی طرح اللہ تعالیٰ رسوا کن اور درد ناک عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کرے گا۔﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾ ’’اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ہر اس خبر پر ایمان لانے کو متضمن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے اور ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لانے کو بھی جنھیں لے کر انبیاء و رسل مبعوث ہوئے۔ ﴿وَلَمۡ يُفَرِّؔقُوۡا بَيۡنَ اَحَدٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا۔‘‘ بلکہ وہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لائے اور یہی وہ حقیقی اور یقینی ایمان ہے جو دلیل اور برہان پر مبنی ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَوۡفَ يُؤۡتِيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں ) کے صلے عطا فرمائے گا۔‘‘ یعنی ان کے ایمان اور ایمان پر مبنی عمل صالح، قول حسن اور خلق جمیل کی جزا دی جائے گی اور یہ جزا ہر ایک کو اس کے حسب حال عطا ہو گی۔ شاید ان کے اجر میں اضافے کا یہی سرنہاں ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًؔا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور نیکیوں کو قبول فرماتا ہے۔
النساء 4:153
سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161)
[158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔
[159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔
[161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
النساء 4:154
سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161)
[158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔
[159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔
[161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
النساء 4:155
سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161)
[158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔
[159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔
[161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
النساء 4:156
سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161)
[158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔
[159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔
[161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
النساء 4:157
سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161)
[158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔
[159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔
[161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
النساء 4:158
سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161)
[158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔
[159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔
[161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
النساء 4:159
سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161)
[158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔
[159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔
[161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
النساء 4:160
سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161)
[158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔
[159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔
[161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
النساء 4:161
سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161)
[158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔
[159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔
[161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
النساء 4:162
لیکن جو پکے ہیں علم میں ان میں سےاور مومن، وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا آپ کی طرف اور جو نازل کیا گیا آپ سے پہلے اور قائم کرنے والے ہیں نماز اور ادا کرنے والے ہیں زکاۃ اور ایمان رکھنے والے ہیں ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، یہ لوگ ہیں ، عنقریب دیں گے ہم ان کو اجر بہت بڑا(162)
[162] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے معایب بیان کیے تو اب ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو ان میں سے قابل تعریف ہیں ۔ ﴿لٰكِنِ الرّٰؔسِخُوۡنَ فِي الۡعِلۡمِ مِنۡهُمۡ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور مومن ہیں ‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں علم مضبوط اور ایقان راسخ ہے اور اس کے ثمرہ میں انھیں ایمان کامل حاصل ہوتا ہے ﴿ يُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو آپﷺ پر اتاری گئی اور ان کتابوں پر جو آپ سے پہلے اتاری گئیں ۔‘‘ یہ ایمان انھیں اعمال صالحہ کا پھل عطا کرتا ہے ، مثلاً: نماز قائم کرنا اور زکٰوۃ ادا کرنا، یہ دونوں سب سے افضل اعمال ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں معبود کے لیے اخلاص اور اس کے بندوں کے لیے احسان پر مشتمل ہیں ۔ وہ لوگ روز قیامت پر بھی ایمان لاتے ہیں ۔ بنابریں وہ اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈرتے ہیں اور اس کے وعدے پر امید رکھتے ہیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَنُؤۡتِيۡهِمۡ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ ’’ہم عنقریب انھیں اجر عظیم سے نوازیں گے‘‘ کیونکہ انھوں نے علم و ایمان، عمل صالح، گزشتہ اور آئندہ آنے والے انبیاء و مرسلین اور تمام کتب الہیہ پر ایمان کو جمع کر دیا۔
النساء 4:163
بلاشبہ وحی کی ہم نے آپ کی طرف جیسے وحی کی ہم نے نوح اور (دوسرے) نبیوں کی طرف اس کے بعد اور وحی کی ہم نے طرف ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی اور دی ہم نے داود کو زبور(163) اور (بھیجے ہم نے) کئی رسول، تحقیق بیان کیا ہم نے ان کا حال آپ پر اس سے پہلے اور کئی رسول ایسے کہ نہیں بیان کیا ان کا حال آپ پر اور کلام کیا اللہ نے موسیٰ سے (خاص طور پر) کلام(164)(بھیجے) رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تاکہ (باقی) نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی الزام، بعد رسولوں کے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا(165)
[163] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی کی تھیں ۔ اس میں متعدد فوائد ہیں : (۱) نبی اکرمﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ سے پہلے بھی بے شمار رسول بھیجے ہیں اس لیے آپﷺ کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں ۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کیے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور ایک دوسرے کی موافقت کرتے تھے۔ (۳) محمد مصطفیﷺ انھی انبیاء و رسل کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ، لہٰذا آپ کو دیگر انبیاء و رسل کے زمرے میں رکھ کر آپ کا اعتبار کرنا چاہیے۔ آپ کی دعوت وہی ہے جو ان رسولوں کی دعوت تھی، آپ کے اخلاق ان کے اخلاق سے متفق، آپ کی اور ان کی تعلیمات کا مصدر ایک اور آپ کے اور ان سب کے مقاصد یکساں ہیں ... پس اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا مجہول اور کذاب لوگوں اور ظالم بادشاہوں کے ساتھ ذکر نہیں کیا۔ (۴)(قرآن مجید میں ) ان انبیاء و رسل کے تذکرے اور ان کی تعداد بیان کرنے میں ان کی ایسی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے اور ان کے احوال کی اس طرح تشریح ہے جس سے ان کے بارے میں مومن کے ایمان اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کے طریقے اور سنت کو اپنانے کا جذبہ بڑھتا ہے اور ان کے حقوق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا مصداق ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ (الصافات:37؍79) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ (الصافات: 37؍109) سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ (الصافات: 37؍120) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ (الصافات: 37؍130) اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ (الصافات: 37؍131)﴾ پس بھلائی اور احسان کرنے والے ہر شخص کو اس کے احسان کے مطابق مخلوق کے اندر ثنائے حسن نصیب ہوتی ہے۔ تمام انبیاء و رسل خصوصاً وہ انبیائے کرام جن کے اسمائے گرامی گزشتہ سطور میں ذکر کیے گئے ہیں احسان کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں ۔جہاں اللہ تعالیٰ نے وحی میں ان کے اشتراک کا ذکر فرمایا، وہاں اس نے بعض انبیاء کے اختصاص کا بھی ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے جناب داودu کو زبور عطا کی اور یہ وہ معروف اور لکھی ہوئی کتاب ہے جو داودu کے فضل و شرف کی بنا پر ان کے لیے مخصوص کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu کے ساتھ کلام فرمایا، یعنی بغیر کسی واسطہ کے بالمشافہ کلام فرمایا۔ حتیٰ کہ یہ بات تمام دنیا میں مشہور ہوگئی اور جناب موسیٰu کو ’’کلیم الرحمن‘‘ کہا جانے لگا۔
[164] نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان انبیاء و رسل میں سے بعض کا قصہ رسول اللہﷺ پر بیان فرمایا اور بعض انبیاء کا قصہ بیان نہیں فرمایا۔ اور یہ امر انبیائے کرام کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[165] اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے بنا کر مبعوث فرمایا جو ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے دونوں جہانوں کی بدبختی سے ڈرانے والے بنا کر بھیجا جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ان رسولوں کی مخالفت کرتے ہیں ... تاکہ انبیاء و رسل مبعوث کرنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہیں کہ:﴿مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ١ٞ فَقَدۡ جَآءَؔكُمۡ بَشِيۡرٌ وَّنَذِيۡرٌ﴾(المآئدہ: 5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ پس تحقیق تمھارے پاس خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا آ گیا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ کے مسلسل رسول بھیجنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہی یہ رسول لوگوں کے سامنے ان کا دین بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضی کے اسباب اور جنت و جہنم کے راستے واضح کرتے ہیں .... تب جو کوئی ان انبیاء و رسل کا انکار کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے کامل غلبہ اور کامل حکمت کی دلیل ہے کہ اس نے لوگوں کی طرف رسول مبعوث فرمائے اور ان پر کتابیں نازل فرمائیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بھی ہے کیونکہ لوگ انبیاء و رسل کی بعثت کے سخت ضرورت مند تھے تب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اضطرار کا ازالہ فرمایا۔ پس وہی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ اس نے جس طرح اپنے رسول بھیج کر ہم پر اپنی نعمت کی ابتدا کی، اسی طرح وہ ہمیں ان کے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے نواز کر اس نعمت کا اتمام کرے، بے شک وہ جواد اور کریم ہے۔
النساء 4:164
بلاشبہ وحی کی ہم نے آپ کی طرف جیسے وحی کی ہم نے نوح اور (دوسرے) نبیوں کی طرف اس کے بعد اور وحی کی ہم نے طرف ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی اور دی ہم نے داود کو زبور(163) اور (بھیجے ہم نے) کئی رسول، تحقیق بیان کیا ہم نے ان کا حال آپ پر اس سے پہلے اور کئی رسول ایسے کہ نہیں بیان کیا ان کا حال آپ پر اور کلام کیا اللہ نے موسیٰ سے (خاص طور پر) کلام(164)(بھیجے) رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تاکہ (باقی) نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی الزام، بعد رسولوں کے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا(165)
[163] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی کی تھیں ۔ اس میں متعدد فوائد ہیں : (۱) نبی اکرمﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ سے پہلے بھی بے شمار رسول بھیجے ہیں اس لیے آپﷺ کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں ۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کیے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور ایک دوسرے کی موافقت کرتے تھے۔ (۳) محمد مصطفیﷺ انھی انبیاء و رسل کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ، لہٰذا آپ کو دیگر انبیاء و رسل کے زمرے میں رکھ کر آپ کا اعتبار کرنا چاہیے۔ آپ کی دعوت وہی ہے جو ان رسولوں کی دعوت تھی، آپ کے اخلاق ان کے اخلاق سے متفق، آپ کی اور ان کی تعلیمات کا مصدر ایک اور آپ کے اور ان سب کے مقاصد یکساں ہیں ... پس اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا مجہول اور کذاب لوگوں اور ظالم بادشاہوں کے ساتھ ذکر نہیں کیا۔ (۴)(قرآن مجید میں ) ان انبیاء و رسل کے تذکرے اور ان کی تعداد بیان کرنے میں ان کی ایسی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے اور ان کے احوال کی اس طرح تشریح ہے جس سے ان کے بارے میں مومن کے ایمان اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کے طریقے اور سنت کو اپنانے کا جذبہ بڑھتا ہے اور ان کے حقوق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا مصداق ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ (الصافات:37؍79) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ (الصافات: 37؍109) سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ (الصافات: 37؍120) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ (الصافات: 37؍130) اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ (الصافات: 37؍131)﴾ پس بھلائی اور احسان کرنے والے ہر شخص کو اس کے احسان کے مطابق مخلوق کے اندر ثنائے حسن نصیب ہوتی ہے۔ تمام انبیاء و رسل خصوصاً وہ انبیائے کرام جن کے اسمائے گرامی گزشتہ سطور میں ذکر کیے گئے ہیں احسان کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں ۔جہاں اللہ تعالیٰ نے وحی میں ان کے اشتراک کا ذکر فرمایا، وہاں اس نے بعض انبیاء کے اختصاص کا بھی ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے جناب داودu کو زبور عطا کی اور یہ وہ معروف اور لکھی ہوئی کتاب ہے جو داودu کے فضل و شرف کی بنا پر ان کے لیے مخصوص کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu کے ساتھ کلام فرمایا، یعنی بغیر کسی واسطہ کے بالمشافہ کلام فرمایا۔ حتیٰ کہ یہ بات تمام دنیا میں مشہور ہوگئی اور جناب موسیٰu کو ’’کلیم الرحمن‘‘ کہا جانے لگا۔
[164] نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان انبیاء و رسل میں سے بعض کا قصہ رسول اللہﷺ پر بیان فرمایا اور بعض انبیاء کا قصہ بیان نہیں فرمایا۔ اور یہ امر انبیائے کرام کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[165] اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے بنا کر مبعوث فرمایا جو ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے دونوں جہانوں کی بدبختی سے ڈرانے والے بنا کر بھیجا جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ان رسولوں کی مخالفت کرتے ہیں ... تاکہ انبیاء و رسل مبعوث کرنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہیں کہ:﴿مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ١ٞ فَقَدۡ جَآءَؔكُمۡ بَشِيۡرٌ وَّنَذِيۡرٌ﴾(المآئدہ: 5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ پس تحقیق تمھارے پاس خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا آ گیا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ کے مسلسل رسول بھیجنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہی یہ رسول لوگوں کے سامنے ان کا دین بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضی کے اسباب اور جنت و جہنم کے راستے واضح کرتے ہیں .... تب جو کوئی ان انبیاء و رسل کا انکار کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے کامل غلبہ اور کامل حکمت کی دلیل ہے کہ اس نے لوگوں کی طرف رسول مبعوث فرمائے اور ان پر کتابیں نازل فرمائیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بھی ہے کیونکہ لوگ انبیاء و رسل کی بعثت کے سخت ضرورت مند تھے تب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اضطرار کا ازالہ فرمایا۔ پس وہی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ اس نے جس طرح اپنے رسول بھیج کر ہم پر اپنی نعمت کی ابتدا کی، اسی طرح وہ ہمیں ان کے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے نواز کر اس نعمت کا اتمام کرے، بے شک وہ جواد اور کریم ہے۔
النساء 4:165
بلاشبہ وحی کی ہم نے آپ کی طرف جیسے وحی کی ہم نے نوح اور (دوسرے) نبیوں کی طرف اس کے بعد اور وحی کی ہم نے طرف ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی اور دی ہم نے داود کو زبور(163) اور (بھیجے ہم نے) کئی رسول، تحقیق بیان کیا ہم نے ان کا حال آپ پر اس سے پہلے اور کئی رسول ایسے کہ نہیں بیان کیا ان کا حال آپ پر اور کلام کیا اللہ نے موسیٰ سے (خاص طور پر) کلام(164)(بھیجے) رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تاکہ (باقی) نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی الزام، بعد رسولوں کے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا(165)
[163] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی کی تھیں ۔ اس میں متعدد فوائد ہیں : (۱) نبی اکرمﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ سے پہلے بھی بے شمار رسول بھیجے ہیں اس لیے آپﷺ کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں ۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کیے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور ایک دوسرے کی موافقت کرتے تھے۔ (۳) محمد مصطفیﷺ انھی انبیاء و رسل کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ، لہٰذا آپ کو دیگر انبیاء و رسل کے زمرے میں رکھ کر آپ کا اعتبار کرنا چاہیے۔ آپ کی دعوت وہی ہے جو ان رسولوں کی دعوت تھی، آپ کے اخلاق ان کے اخلاق سے متفق، آپ کی اور ان کی تعلیمات کا مصدر ایک اور آپ کے اور ان سب کے مقاصد یکساں ہیں ... پس اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا مجہول اور کذاب لوگوں اور ظالم بادشاہوں کے ساتھ ذکر نہیں کیا۔ (۴)(قرآن مجید میں ) ان انبیاء و رسل کے تذکرے اور ان کی تعداد بیان کرنے میں ان کی ایسی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے اور ان کے احوال کی اس طرح تشریح ہے جس سے ان کے بارے میں مومن کے ایمان اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کے طریقے اور سنت کو اپنانے کا جذبہ بڑھتا ہے اور ان کے حقوق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا مصداق ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ (الصافات:37؍79) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ (الصافات: 37؍109) سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ (الصافات: 37؍120) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ (الصافات: 37؍130) اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ (الصافات: 37؍131)﴾ پس بھلائی اور احسان کرنے والے ہر شخص کو اس کے احسان کے مطابق مخلوق کے اندر ثنائے حسن نصیب ہوتی ہے۔ تمام انبیاء و رسل خصوصاً وہ انبیائے کرام جن کے اسمائے گرامی گزشتہ سطور میں ذکر کیے گئے ہیں احسان کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں ۔جہاں اللہ تعالیٰ نے وحی میں ان کے اشتراک کا ذکر فرمایا، وہاں اس نے بعض انبیاء کے اختصاص کا بھی ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے جناب داودu کو زبور عطا کی اور یہ وہ معروف اور لکھی ہوئی کتاب ہے جو داودu کے فضل و شرف کی بنا پر ان کے لیے مخصوص کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu کے ساتھ کلام فرمایا، یعنی بغیر کسی واسطہ کے بالمشافہ کلام فرمایا۔ حتیٰ کہ یہ بات تمام دنیا میں مشہور ہوگئی اور جناب موسیٰu کو ’’کلیم الرحمن‘‘ کہا جانے لگا۔
[164] نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان انبیاء و رسل میں سے بعض کا قصہ رسول اللہﷺ پر بیان فرمایا اور بعض انبیاء کا قصہ بیان نہیں فرمایا۔ اور یہ امر انبیائے کرام کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[165] اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے بنا کر مبعوث فرمایا جو ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے دونوں جہانوں کی بدبختی سے ڈرانے والے بنا کر بھیجا جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ان رسولوں کی مخالفت کرتے ہیں ... تاکہ انبیاء و رسل مبعوث کرنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہیں کہ:﴿مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ١ٞ فَقَدۡ جَآءَؔكُمۡ بَشِيۡرٌ وَّنَذِيۡرٌ﴾(المآئدہ: 5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ پس تحقیق تمھارے پاس خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا آ گیا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ کے مسلسل رسول بھیجنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہی یہ رسول لوگوں کے سامنے ان کا دین بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضی کے اسباب اور جنت و جہنم کے راستے واضح کرتے ہیں .... تب جو کوئی ان انبیاء و رسل کا انکار کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے کامل غلبہ اور کامل حکمت کی دلیل ہے کہ اس نے لوگوں کی طرف رسول مبعوث فرمائے اور ان پر کتابیں نازل فرمائیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بھی ہے کیونکہ لوگ انبیاء و رسل کی بعثت کے سخت ضرورت مند تھے تب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اضطرار کا ازالہ فرمایا۔ پس وہی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ اس نے جس طرح اپنے رسول بھیج کر ہم پر اپنی نعمت کی ابتدا کی، اسی طرح وہ ہمیں ان کے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے نواز کر اس نعمت کا اتمام کرے، بے شک وہ جواد اور کریم ہے۔
النساء 4:166
لیکن اللہ گواہی دیتا ہے اس کی جو نازل کیا اس نے طرف آپ کی کہ نازل کیا ہے اس کو اپنے علم کے ساتھ اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور کافی ہے اللہ گواہ(166)
[166] اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ اس نے محمد مصطفیﷺ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جس طرح دیگر انبیاء کی طرف، وہاں یہ خبر بھی دی ہے کہ اس نے آپﷺ کی رسالت کی اور جو تعلیمات لے کر آپ مبعوث ہوئے، ان کی صحت کی گواہی دی ہے۔فرمایا:﴿اَنۡزَلَهٗ بِعِلۡمِهٖ﴾ ’’اس نے اپنے علم سے اسے نازل کیا ہے۔‘‘ اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اس نے قرآن کو اس طرح نازل فرمایا کہ وہ اس (اللہ) کے علم پر مشتمل ہے، یعنی اس کے اندر تمام علوم الہیہ، احکام شرعیہ اور اخبار غیبیہ موجود ہیں ۔ یہ تمام اللہ تعالیٰ کا وہ علم ہے جو اس نے اپنے بندوں کو سکھایا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد ہو کہ اس نے اس قرآن کو اپنے علم کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ تب اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی شہادت کے پہلو کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے اس طرح نازل فرمایا ہے کہ وہ اوامر و نواہی پر مشتمل ہے اور یہ سب کچھ جانتا ہے۔ اور وہ اس کے احوال کو بھی جانتا ہے جس پر یہ نازل کیا گیا اور اللہ تعالیٰ یہ بھی جانتا ہے کہ اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی ہے۔ پس جس کسی نے اس کی دعوت پر لبیک کہی اور اس کی تصدیق کی وہ اللہ تعالیٰ کا دوست ہے اور جس کسی نے اس کو جھٹلایا اور اس کے ساتھ عداوت رکھی وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا مال اور خون مباح کر دیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دوست کو قدرت عطا کرتا ہے اور پے در پے اس کی مدد کرتا ہے، اس کی دعائیں قبول کرتا ہے، اس کے دشمنوں سے الگ ہو جاتا ہے اور اس کے دوستوں کی مدد کرتا ہے۔کیا کوئی ایسی شہادت ہے جو اس شہادت سے بڑی ہو؟ اللہ تعالیٰ کے علم، اس کی قدرت اور اس کی حکمت میں عیب لگائے بغیر نیز فرشتوں کے ایمان کامل اور مشہود علیہ کی جلالت شان کی بنا پر اس چیز پر ان کی شہادت کے بارے میں جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے عیب چینی کیے بغیر اس شہادت میں جرح و قدح ممکن نہیں ۔ اس قسم کے عظیم الشان امور پر خواص ہی سے شہادت طلب کی جاتی ہے جیسا کہ توحید پر شہادت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَاُولُوا الۡعِلۡمِ قَآىِٕمًۢا بِالۡقِسۡطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾(ال عمران: 3؍18) ’’اس نے شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ،فرشتوں اور اہل علم نے بھی شہادت دی ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ حکومت کر رہا ہے،اس کے سوا کوئی الہ نہیں وہی زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔‘‘
النساء 4:167
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، یقینا وہ گمراہ ہوگئے گمراہ بہت دور کے(167) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، نہیں ہے اللہ کہ بخش دے ان کو اور نہ ایسا کہ دکھلائے ان کو راہ(168) مگر راہ جہنم کی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک اور ہے یہ اللہ پر بہت آسان(169)
[167] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہود بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام علیہ السلام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔‘‘ یعنی انھوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کر دیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر اور گمراہی کے داعی ہیں ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا﴾ ’’وہ راستے سے بھٹک کر دور جاپڑے۔‘‘ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا ہو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس نے دو گناہ سمیٹے اور وہ دو خسارے لے کر لوٹا اور دو ہدایتوں سے محروم ہو گیا۔
[169,168] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا ﴾ ’’جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے۔‘‘ اور یہ ظلم ان کے کفر پر اضافہ ہے ورنہ جب ظلم کا اطلاق کیا جاتا ہے تو کفر اس کے اندر شامل ہوتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد اعمال کفر اور اس کے اندر استغراق ہے۔ پس یہ لوگ مغفرت اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے بہت دور ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ طَرِيۡقًاۙ۰۰ اِلَّا طَرِيۡقَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اللہ ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انھیں راستہ ہی دکھائے گا، ہاں دوزخ کا راستہ۔‘‘ ان کے لیے مغفرت اور ہدایت کی نفی محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی سرکشی پر قائم اور اپنے کفر میں بڑھتے جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر ہدایت کی راہ مسدود ہو گئی ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46)’’تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘﴿وَؔكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا﴾ ’’اور یہ بات اللہ کو آسان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ اسی حال کے لائق ہیں جس کو انھوں نے اپنے لیے منتخب کیا۔
النساء 4:168
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، یقینا وہ گمراہ ہوگئے گمراہ بہت دور کے(167) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، نہیں ہے اللہ کہ بخش دے ان کو اور نہ ایسا کہ دکھلائے ان کو راہ(168) مگر راہ جہنم کی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک اور ہے یہ اللہ پر بہت آسان(169)
[167] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہود بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام علیہ السلام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔‘‘ یعنی انھوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کر دیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر اور گمراہی کے داعی ہیں ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا﴾ ’’وہ راستے سے بھٹک کر دور جاپڑے۔‘‘ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا ہو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس نے دو گناہ سمیٹے اور وہ دو خسارے لے کر لوٹا اور دو ہدایتوں سے محروم ہو گیا۔
[169,168] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا ﴾ ’’جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے۔‘‘ اور یہ ظلم ان کے کفر پر اضافہ ہے ورنہ جب ظلم کا اطلاق کیا جاتا ہے تو کفر اس کے اندر شامل ہوتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد اعمال کفر اور اس کے اندر استغراق ہے۔ پس یہ لوگ مغفرت اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے بہت دور ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ طَرِيۡقًاۙ۰۰ اِلَّا طَرِيۡقَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اللہ ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انھیں راستہ ہی دکھائے گا، ہاں دوزخ کا راستہ۔‘‘ ان کے لیے مغفرت اور ہدایت کی نفی محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی سرکشی پر قائم اور اپنے کفر میں بڑھتے جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر ہدایت کی راہ مسدود ہو گئی ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46)’’تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘﴿وَؔكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا﴾ ’’اور یہ بات اللہ کو آسان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ اسی حال کے لائق ہیں جس کو انھوں نے اپنے لیے منتخب کیا۔
النساء 4:169
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، یقینا وہ گمراہ ہوگئے گمراہ بہت دور کے(167) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، نہیں ہے اللہ کہ بخش دے ان کو اور نہ ایسا کہ دکھلائے ان کو راہ(168) مگر راہ جہنم کی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک اور ہے یہ اللہ پر بہت آسان(169)
[167] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہود بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام علیہ السلام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔‘‘ یعنی انھوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کر دیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر اور گمراہی کے داعی ہیں ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا﴾ ’’وہ راستے سے بھٹک کر دور جاپڑے۔‘‘ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا ہو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس نے دو گناہ سمیٹے اور وہ دو خسارے لے کر لوٹا اور دو ہدایتوں سے محروم ہو گیا۔
[169,168] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا ﴾ ’’جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے۔‘‘ اور یہ ظلم ان کے کفر پر اضافہ ہے ورنہ جب ظلم کا اطلاق کیا جاتا ہے تو کفر اس کے اندر شامل ہوتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد اعمال کفر اور اس کے اندر استغراق ہے۔ پس یہ لوگ مغفرت اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے بہت دور ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ طَرِيۡقًاۙ۰۰ اِلَّا طَرِيۡقَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اللہ ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انھیں راستہ ہی دکھائے گا، ہاں دوزخ کا راستہ۔‘‘ ان کے لیے مغفرت اور ہدایت کی نفی محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی سرکشی پر قائم اور اپنے کفر میں بڑھتے جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر ہدایت کی راہ مسدود ہو گئی ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46)’’تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘﴿وَؔكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا﴾ ’’اور یہ بات اللہ کو آسان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ اسی حال کے لائق ہیں جس کو انھوں نے اپنے لیے منتخب کیا۔
النساء 4:170
اے لوگو! تحقیق آگیا تمھارے پاس یہ رسول حق لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ایمان لاؤ تم، (ہوگا یہ) بہتر تمھارے لیے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور ہے اللہ خوب جاننے والا حکمت والا(170)
[170] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں ۔ اس نے اس سبب کا بھی ذکر فرمایا ہے جو ایمان کا موجب ہے اور ایمان کے اندر جو فوائد اور عدم ایمان کے اندر جو نقصانات ہیں ان سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ایمان کا موجب سبب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دینا ہے کہ رسول اللہﷺ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ۔ آپ کی تشریف آوری فی نفسہ حق اور جو شریعت آپ لائے ہیں وہ بھی حق ہے۔عقلمند شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ مخلوق کا اپنی جہالت میں سرگرداں رہنا اور اپنے کفر میں ادھر ادھر مارے مارے پھرنا جبکہ رسالت منقطع ہو چکی ہو .... اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی رحمت کے لائق نہیں ۔ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے ان کی طرف رسول کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ ان کو گمراہی اور ضلالت میں سے رشد و ہدایت کی پہچان کروائیں ۔ آپﷺ کی رسالت میں مجرد غور و فکر ہی آپ کی نبوت کی صداقت کی قطعی دلیل ہے۔ اسی طرح اس عظیم شریعت اور صراط مستقیم میں غور و فکر، جس کے ساتھ آپ تشریف لائے ہیں ۔ آپﷺ کی نبوت کی دلیل ہے کیونکہ اس میں گزشتہ زمانوں اور آئندہ آنے والے زمانوں کے امور غیبیہ نیز اللہ تعالیٰ اور روز آخرت کے بارے میں ایسی ایسی خبریں دی گئی ہیں کہ کوئی شخص وحی اور رسالت کے بغیر ان کی معرفت حاصل نہیں کر سکتا اور اس میں ہر قسم کی خیر و صلاح، رشد و ہدایت، عدل و احسان، صدق، نیکی، صلہ رحمی اور حسن اخلاق کا حکم دیا گیا ہے اور ہر قسم کے شر، فساد، بغاوت، ظلم، بدخلقی، جھوٹ اور والدین کی نافرمانی سے روکا گیا ہے جن کے بارے میں قطعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔بندے کی بصیرت میں جب بھی اضافہ ہوتا ہے اس کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے پس یہ ہے وہ سبب جو بندے کو ایمان کی دعوت دیتا ہے۔ رہی ایمان میں فائدے کی بات تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ﴿خَيۡرًا لَّـكُمۡ ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ خیر، شر کی ضد ہے۔ پس ایمان اہل ایمان کے ابدان، ان کے دلوں ، ان کی ارواح اور ان کی دنیا و آخرت میں ان کے لیے بہتر ہے۔ کیونکہ ایمان پر مصالح اور فوائد مترتب ہوتے ہیں ، چنانچہ ہر قسم کا ثواب، خواہ وہ اسی دنیا میں حاصل ہو یا آخرت میں ، ایمان ہی کا ثمرہ ہے اور فتح و نصرت، ہدایت، علم، عمل صالح، مسرتیں ، فرحتیں ، جنت اور جنت کی تمام نعمتیں ، ان سب کا سبب ایمان ہے۔ جیسے دنیاوی اور اخروی بدبختی عدم ایمان یا نقص ایمان کے باعث ہے۔رہا رسول اللہﷺ پر عدم ایمان کا ضرر تو اسے ان فوائد کی ضد سے معلوم کیا جا سکتا ہے جو ایمان کے باعث حاصل ہوتے ہیں اور بندہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ تمام گناہ گاروں کا گناہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔‘‘ یعنی زمین و آسمان میں ہر چیز اس کی مخلوق، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر اور تصرف کے تحت ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘ ﴿حَكِيۡمًا ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت کا مالک ہے۔ پس وہ جانتا ہے کہ کون ہدایت اور کون گمراہی کا مستحق ہے۔ ہدایت اور گمراہی کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنے میں وہ حکمت سے کام لیتا ہے۔
النساء 4:171
اے اہل کتاب!نہ غلو (زیادتی) کرو اپنے دین میں اور نہ کہو اللہ کے بارے میں مگر حق بات، بس مسیح عیسیٰ ابن مریم تو اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہی ہے جس کو اس نے ڈالا مریم کی طرف اور ایک روح ہے اس کی طرف سے، پس ایمان لاؤ تم اللہ اور اس کے رسولوں پر اور نہ کہو کہ (الٰہ) تین ہیں ۔ باز آجاؤ (اس سے، ہوگا) بہتر تمھارے لیے بس اللہ ہی معبود ہے اکیلا، وہ پاک ہے اس سے کہ ہو اس کی کوئی اولاد، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ کارساز(171)
[171] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل کتاب کو دین میں غلو کرنے سے منع کرتا ہے۔ اور غلو سے مراد ہے حد سے تجاوز کرنا اور حدود مشروع سے نکل کر غیر مشروع کی طرف جانا۔ جیسے نصاریٰ جناب عیسیٰu کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں اور انھیں نبوت اور رسالت کے مقام سے اٹھا کر ربوبیت کے مقام پر بٹھا دیتے ہیں جو اللہ تعالی ٰ کے سوا کسی کے لائق نہیں ۔ پس جس طرح تقصیر اور تفریط (کمی) منہیات میں سے ہے، غلو بھی اسی طرح ممنوع ہے۔ اسی لیے فرمایا ﴿وَلَا تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ﴾ ’’اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔‘‘ یہ کلام اقدس تین امور کو متضمن ہے۔ ان میں سے پہلے دو امور ممنوع ہیں۔اول: اللہ تبارک و تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا۔ثانی: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اس کے افعال، اس کی شریعت اور اس کے رسولوں کے بارے میں بلاعلم بات کرنا۔ثالث: اور تیسری چیز وہ ہے جس کا حکم دیا گیا ہے اور وہ ہے ان تمام امور میں قول حق۔ چونکہ یہ ایک عام قاعدہ کلیہ ہے اور سیاق کلام جناب عیسیٰu کے بارے میں نص اور قول حق ہے اور یہودیت اور نصرانیت کے طریقے کے خلاف ہے اس لیے فرمایا :﴿اِنَّمَا الۡمَسِيۡحُ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ رَسُوۡلُ اللّٰهِ ﴾ ’’مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (u)اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘ یعنی جناب مسیحu کی غایت اور مراتب کمال کی انتہاء وہ اعلیٰ ترین حالت ہے جو کسی مخلوق کے لیے ہو سکتی ہے اور وہ مرتبۂ رسالت ہے، جو بلند ترین درجہ اور جلیل ترین مقام ہے۔﴿وَؔكَلِمَتُهٗ١ۚ اَلۡقٰىهَاۤ اِلٰى مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور اس کا کلمہ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا۔‘‘ اور وہ ایک کلمہ ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور اس کلمہ کے ذریعے سے حضرت عیسیٰu نے تخلیق پائی۔ خود حضرت عیسیٰu وہ کلمہ نہ تھے بلکہ وہ اس کلمہ کے ذریعے سے وجود میں آئے اور یہ شرف و تکریم کی اضافت ہے۔ اسی طرح فرمایا: ﴿وَرُوۡحٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اور اس کی طرف سے ایک روح تھے۔‘‘ یعنی ان ارواح میں سے ایک روح ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا اور صفات فاضلہ اور اخلاق کاملہ کے ساتھ اس کی تکمیل کی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ روح جبریلu کو دے کر جناب مریم علیہا السلام کی طرف بھیجا اور انھوں نے جناب مریم علیہا السلام کی فرج میں روح کو پھونک دیا، پس اللہ کے حکم سے ان کو حمل ٹھہر گیا جس سے حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰu کی حقیقت واضح کر دی تو اس نے اہل کتاب کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کا حکم دیا اور ان کو تین خدا بنانے سے منع کیا، یعنی اللہ تعالیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم علیہا السلام۔ ان کا برا ہو یہ نصاریٰ کا قول باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس تثلیث سے باز آ جائیں اور انھیں آگاہ فرمایا کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے کیونکہ یہ امر متعین ہے کہ یہی نجات کی راہ ہے اور اس کے سوا ہر راستہ ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو شریک اور اولاد سے منزہ قرار دیا ہے۔فرمایا:﴿اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ ’’اللہ ہی معبود واحد ہے۔‘‘ یعنی وہ الوہیت میں منفرد (یکتا) ہے جس کے سوا عبادت کا کوئی مستحق نہیں ﴿سُبۡحٰؔنَهٗۤ ﴾ وہ اس سے منزہ اور پاک ہے ﴿اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗ وَلَدٌ ﴾ ’’کہ اس کا کوئی بیٹا ہو‘‘ کیونکہ ﴿لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے‘‘ پس تمام اس کے مملوک اور اس کے محتاج ہیں ۔ اس لیے یہ محال ہے کہ ان میں سے اس کا کوئی شریک یا اس کا کوئی بیٹا ہو۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تمام عالم علوی اور سفلی کا مالک ہے تو وہ یہ بھی بتلاتا ہے کہ وہی تمام دنیوی اور اخروی مصالح کا بھی انتظام فرماتا ہے، ان مصالح کی حفاظت کرتاہے اور ان کی جزا دیتا ہے۔
النساء 4:172
ہرگز نہیں عار کریں گے مسیح اس سے کہ ہوں وہ بندے اللہ کے اور نہ فرشتے مقرب اور جو کوئی عار کرے اللہ کی عبادت سے اور تکبر کرے تو یقینا وہ جمع کرے گا ان کو اپنی طرف سب کو(172) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو پورا دے گا وہ ان کو اجر ان کا اور زیادہ دے گا ان کو اپنے فضل سے اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے عار کیا اور تکبر کیا تو عذاب دے گا وہ ان کو عذاب بہت دردناک اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار(173)
[172] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں نصاریٰ کے غلو کا ذکر فرمایا اور بیان فرمایا کہ جناب عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول ہیں تو اب یہاں یہ بھی واضح کر دیا کہ حضرت عیسیٰu اپنے رب کی عبادت میں عار نہیں سمجھتے تھے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی نہیں کرتے تھے ﴿وَلَا الۡمَلٰٓىِٕكَةُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠ ﴾’’اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے‘‘ اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس چیز سے پاک رکھا ہے کہ وہ اس کی عبادت کو عار سمجھیں اور تکبر و استکبار سے پاک ہونا تو بدرجہ اولیٰ ان کی صفت ہے۔ کسی چیز کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے… یعنی عیسیٰu اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے تو اپنے رب کی عبادت میں رغبت رکھتے ہیں ، اس کی عبادت کو پسند کرتے ہیں اور اپنے اپنے حسب احوال اس کی عبادت میں سعی کرتے ہیں ۔ ان کی یہ عبادت ان کے لیے بہت بڑے شرف اور فوز عظیم کی موجب ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت میں اپنے آپ کو بندے سمجھنے میں عار محسوس نہیں کی بلکہ وہ ہر طرح سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کا محتاج سمجھتے ہیں ۔یہ نہ سمجھا جائے کہ عیسیٰu یا کسی اور کو اس مرتبے سے بڑھانا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے، ان کے لیے کوئی کمال ہے بلکہ یہ تو عین نقص اور مذمت و عذاب کا محل و مقام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا﴿وَمَنۡ يَّسۡتَنۡكِفۡ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَيَسۡتَؔكۡبِرۡ فَسَيَحۡشُرُهُمۡ۠ اِلَيۡهِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور جو شخص اللہ کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو اللہ سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی عبادت کو عار سمجھنے والوں ، متکبروں اور اپنے مومن بندوں ، سب کو عنقریب جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اور اپنی جزا سے نوازے گا۔
[173] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مذکورہ افراد کی بابت اپنے الگ الگ فیصلے کی بابت فرمایا: ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے‘‘ یعنی انھوں نے ایمان مامور کے ساتھ اعمال صالحہ یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ضمن میں واجبات و مستحبات کو جمع کیا ﴿فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ ﴾ ’’وہ ان کو ان کا پورا بدلہ دے گا۔‘‘ یعنی وہ اجر، جس کو اللہ تعالیٰ نے اعمال پر مترتب فرمایا ہے۔ ہر شخص کو اس کے ایمان اور عمل کے مطابق ملے گا ﴿وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ثواب میں اتنا اضافہ کرے گا کہ ان کے اعمال یہ ثواب حاصل نہیں کر سکتے، ان کے افعال اس ثواب تک نہیں پہنچ سکتے اور اس ثواب کا تصور بھی ان کے دل میں نہیں آ سکتا۔ اس ثواب میں ہر وہ چیز شامل ہے جو جنت میں موجود ہے ، مثلاً:ماکولات، مشروبات، بیویاں ، خوبصورت مناظر، فرحت و سرور، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں ۔ بلکہ اس میں ہر دینی اور دنیاوی بھلائی شامل ہے جو ایمان اور عمل صالح پر مترتب ہوتی ہے۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡتَنۡكَفُوۡا وَاسۡتَؔكۡبَرُوۡا ﴾ ’’لیکن وہ لوگ جنھوں نے عار کی اور تکبر کیا‘‘ یعنی وہ لوگ جو تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو عار سمجھتے ہیں ﴿فَيُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’ان کو وہ تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔‘‘ یہ عذاب الیم اللہ تعالیٰ کی ناراضی، اس کے غضب اور بھڑکتی ہوئی آگ پر مشتمل ہے جو دلوں کے ساتھ لپٹ جائے گی۔ ﴿وَّلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’تو اور یہ لوگ اللہ کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔‘‘ یعنی وہ مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں پائیں گے جو ان کا ولی و مددگار بن سکے اور وہ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کر سکیں ۔ اور نہ ان کا کوئی حامی و ناصر ہو گا جو ان سے اس چیز کو دور کر سکے جس سے یہ ڈرتے ہیں ۔ بلکہ صورت حال یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ جو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے وہ بھی ان سے الگ ہو جائے گا اور ان کو دائمی عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جو فیصلہ کرتا ہے اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کر سکتا اور نہ اس کی قضا کو کوئی بدل سکتا ہے۔
النساء 4:173
ہرگز نہیں عار کریں گے مسیح اس سے کہ ہوں وہ بندے اللہ کے اور نہ فرشتے مقرب اور جو کوئی عار کرے اللہ کی عبادت سے اور تکبر کرے تو یقینا وہ جمع کرے گا ان کو اپنی طرف سب کو(172) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو پورا دے گا وہ ان کو اجر ان کا اور زیادہ دے گا ان کو اپنے فضل سے اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے عار کیا اور تکبر کیا تو عذاب دے گا وہ ان کو عذاب بہت دردناک اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار(173)
[172] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں نصاریٰ کے غلو کا ذکر فرمایا اور بیان فرمایا کہ جناب عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول ہیں تو اب یہاں یہ بھی واضح کر دیا کہ حضرت عیسیٰu اپنے رب کی عبادت میں عار نہیں سمجھتے تھے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی نہیں کرتے تھے ﴿وَلَا الۡمَلٰٓىِٕكَةُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠ ﴾’’اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے‘‘ اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس چیز سے پاک رکھا ہے کہ وہ اس کی عبادت کو عار سمجھیں اور تکبر و استکبار سے پاک ہونا تو بدرجہ اولیٰ ان کی صفت ہے۔ کسی چیز کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے… یعنی عیسیٰu اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے تو اپنے رب کی عبادت میں رغبت رکھتے ہیں ، اس کی عبادت کو پسند کرتے ہیں اور اپنے اپنے حسب احوال اس کی عبادت میں سعی کرتے ہیں ۔ ان کی یہ عبادت ان کے لیے بہت بڑے شرف اور فوز عظیم کی موجب ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت میں اپنے آپ کو بندے سمجھنے میں عار محسوس نہیں کی بلکہ وہ ہر طرح سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کا محتاج سمجھتے ہیں ۔یہ نہ سمجھا جائے کہ عیسیٰu یا کسی اور کو اس مرتبے سے بڑھانا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے، ان کے لیے کوئی کمال ہے بلکہ یہ تو عین نقص اور مذمت و عذاب کا محل و مقام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا﴿وَمَنۡ يَّسۡتَنۡكِفۡ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَيَسۡتَؔكۡبِرۡ فَسَيَحۡشُرُهُمۡ۠ اِلَيۡهِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور جو شخص اللہ کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو اللہ سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی عبادت کو عار سمجھنے والوں ، متکبروں اور اپنے مومن بندوں ، سب کو عنقریب جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اور اپنی جزا سے نوازے گا۔
[173] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مذکورہ افراد کی بابت اپنے الگ الگ فیصلے کی بابت فرمایا: ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے‘‘ یعنی انھوں نے ایمان مامور کے ساتھ اعمال صالحہ یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ضمن میں واجبات و مستحبات کو جمع کیا ﴿فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ ﴾ ’’وہ ان کو ان کا پورا بدلہ دے گا۔‘‘ یعنی وہ اجر، جس کو اللہ تعالیٰ نے اعمال پر مترتب فرمایا ہے۔ ہر شخص کو اس کے ایمان اور عمل کے مطابق ملے گا ﴿وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ثواب میں اتنا اضافہ کرے گا کہ ان کے اعمال یہ ثواب حاصل نہیں کر سکتے، ان کے افعال اس ثواب تک نہیں پہنچ سکتے اور اس ثواب کا تصور بھی ان کے دل میں نہیں آ سکتا۔ اس ثواب میں ہر وہ چیز شامل ہے جو جنت میں موجود ہے ، مثلاً:ماکولات، مشروبات، بیویاں ، خوبصورت مناظر، فرحت و سرور، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں ۔ بلکہ اس میں ہر دینی اور دنیاوی بھلائی شامل ہے جو ایمان اور عمل صالح پر مترتب ہوتی ہے۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡتَنۡكَفُوۡا وَاسۡتَؔكۡبَرُوۡا ﴾ ’’لیکن وہ لوگ جنھوں نے عار کی اور تکبر کیا‘‘ یعنی وہ لوگ جو تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو عار سمجھتے ہیں ﴿فَيُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’ان کو وہ تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔‘‘ یہ عذاب الیم اللہ تعالیٰ کی ناراضی، اس کے غضب اور بھڑکتی ہوئی آگ پر مشتمل ہے جو دلوں کے ساتھ لپٹ جائے گی۔ ﴿وَّلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’تو اور یہ لوگ اللہ کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔‘‘ یعنی وہ مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں پائیں گے جو ان کا ولی و مددگار بن سکے اور وہ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کر سکیں ۔ اور نہ ان کا کوئی حامی و ناصر ہو گا جو ان سے اس چیز کو دور کر سکے جس سے یہ ڈرتے ہیں ۔ بلکہ صورت حال یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ جو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے وہ بھی ان سے الگ ہو جائے گا اور ان کو دائمی عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جو فیصلہ کرتا ہے اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کر سکتا اور نہ اس کی قضا کو کوئی بدل سکتا ہے۔
النساء 4:174
اے لوگو! تحقیق آگئی تمھارے پاس ایک دلیل تمھارے رب کی طرف سےاور نازل کیا ہم نے تمھاری طرف ایک نور واضح(174) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور مضبوط پکڑا اس کو تو وہ ضرور داخل کرے گا ان کو اپنی رحمت اور فضل میں اور بتلا دے گا ان کو اپنے تک (پہنچنے کے لیے) راہ سیدھی(175)
[174] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں پر احسان جتلاتا ہے کہ اس نے ان تک براہین قاطعہ اور واضح روشنی پہنچائی، ان پر حجت قائم کرتا ہے اور ان کے سامنے ہدایت کی راہ واضح کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمۡ بُرۡهَانٌؔ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’لوگو! تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس دلیل آچکی ہے۔‘‘ یعنی تمھارے پاس حق کی تائید میں قطعی دلائل آچکے ہیں جو حق کو واضح کرتے ہیں اور اس کی ضد کو بیان کرتے ہیں ۔ یہ براہین دلائل عقلیہ، دلائل نقلیہ، آیات افقی اور آیات نفسی پر مشتمل ہیں ، فرمایا:﴿سَنُرِيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا فِي الۡاٰفَاقِ وَفِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُ الۡحَقُّ﴾(حم السجدہ: 41؍53) ’’ہم عنقریب ان کو آفاق میں اور خود ان کی ذات میں نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ حق ان پر واضح ہو جائے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ اس برہان و دلیل کی عظمت و شرف پر دلالت کرتا ہے کیونکہ یہ تمھارے رب کی طرف سے ہے جس نے تمھاری دینی اور دنیوی تربیت کی ہے۔ یہ اس کی تربیت ہی ہے جس پر اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے تمھیں دلائل عطا کیے تاکہ وہ صراط مستقیم کی طرف تمھاری راہنمائی کرے اور تمھیں نعمتوں سے بھری ہوئی جنتوں تک پہنچائے۔﴿وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ نُوۡرًؔا مُّبِيۡنًا ﴾ ’’اور اتارا ہم نے تمھاری طرف واضح نور‘‘ وہ یہی قرآن عظیم ہے جو اولین و آخرین کے علوم، سچی خبروں ، عدل و احسان اور بھلائی کے احکام اور ہر قسم کے ظلم اور شر سے ممانعت پر مشتمل ہے۔ لوگ اگر قرآن سے روشنی حاصل کر کے اپنی راہوں کو روشن نہیں کریں گے تو اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ اگر انھوں نے قرآن سے بھلائی کو حاصل نہ کیا تو بہت بڑی بدبختی میں پڑے رہیں گے۔
[175]تاہم قرآن عظیم پر ایمان لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں :(۱)﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وجود کا اعتراف کیا اور یہ تسلیم کیا کہ وہ تمام اوصاف کاملہ سے متصف اور ہر نقص اور ہر عیب سے منزہ ہے۔ ﴿وَاعۡتَصَمُوۡا بِهٖ ﴾ ’’اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ہاں پناہ لی اور اپنی قوت اور طاقت سے بری ہو کر اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَسَيُدۡخِلُهُمۡ۠ فِيۡ رَحۡمَةٍ مِّؔنۡهُ وَفَضۡلٍ﴾ ’’ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کی بہشتوں ) میں داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص رحمت سے ڈھانپ لے گا، انھیں نیکیوں کی توفیق عنایت کرے گا، انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے گا اور ان سے بلائیں دور کرے گا ﴿وَّيَهۡدِيۡهِمۡ اِلَيۡهِ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور اپنی طرف (پہنچنے کا)سیدھا راستہ دکھائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں علم و عمل کی توفیق اور انھیں حق اور اس پر عمل کی معرفت عطا کرے گا۔(۲) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے، اللہ کے پاس پناہ نہ لی اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے نہ پکڑا تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل اور رحمت سے محروم کر دے گا ان کو ان کے نفس کے حوالے کر دے گا۔ انھوں نے ہدایت کی راہ کو اختیار نہ کیا بلکہ وہ واضح طور پر گمراہی میں جا پڑے۔ ایمان ترک کرنے پر یہ ان کی سزا ہے، پس ناکامی اور محرومی ان کا نصیب بن گئی ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے عفو، عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں ۔
النساء 4:175
اے لوگو! تحقیق آگئی تمھارے پاس ایک دلیل تمھارے رب کی طرف سےاور نازل کیا ہم نے تمھاری طرف ایک نور واضح(174) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور مضبوط پکڑا اس کو تو وہ ضرور داخل کرے گا ان کو اپنی رحمت اور فضل میں اور بتلا دے گا ان کو اپنے تک (پہنچنے کے لیے) راہ سیدھی(175)
[174] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں پر احسان جتلاتا ہے کہ اس نے ان تک براہین قاطعہ اور واضح روشنی پہنچائی، ان پر حجت قائم کرتا ہے اور ان کے سامنے ہدایت کی راہ واضح کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمۡ بُرۡهَانٌؔ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’لوگو! تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس دلیل آچکی ہے۔‘‘ یعنی تمھارے پاس حق کی تائید میں قطعی دلائل آچکے ہیں جو حق کو واضح کرتے ہیں اور اس کی ضد کو بیان کرتے ہیں ۔ یہ براہین دلائل عقلیہ، دلائل نقلیہ، آیات افقی اور آیات نفسی پر مشتمل ہیں ، فرمایا:﴿سَنُرِيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا فِي الۡاٰفَاقِ وَفِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُ الۡحَقُّ﴾(حم السجدہ: 41؍53) ’’ہم عنقریب ان کو آفاق میں اور خود ان کی ذات میں نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ حق ان پر واضح ہو جائے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ اس برہان و دلیل کی عظمت و شرف پر دلالت کرتا ہے کیونکہ یہ تمھارے رب کی طرف سے ہے جس نے تمھاری دینی اور دنیوی تربیت کی ہے۔ یہ اس کی تربیت ہی ہے جس پر اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے تمھیں دلائل عطا کیے تاکہ وہ صراط مستقیم کی طرف تمھاری راہنمائی کرے اور تمھیں نعمتوں سے بھری ہوئی جنتوں تک پہنچائے۔﴿وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ نُوۡرًؔا مُّبِيۡنًا ﴾ ’’اور اتارا ہم نے تمھاری طرف واضح نور‘‘ وہ یہی قرآن عظیم ہے جو اولین و آخرین کے علوم، سچی خبروں ، عدل و احسان اور بھلائی کے احکام اور ہر قسم کے ظلم اور شر سے ممانعت پر مشتمل ہے۔ لوگ اگر قرآن سے روشنی حاصل کر کے اپنی راہوں کو روشن نہیں کریں گے تو اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ اگر انھوں نے قرآن سے بھلائی کو حاصل نہ کیا تو بہت بڑی بدبختی میں پڑے رہیں گے۔
[175]تاہم قرآن عظیم پر ایمان لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں :(۱)﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وجود کا اعتراف کیا اور یہ تسلیم کیا کہ وہ تمام اوصاف کاملہ سے متصف اور ہر نقص اور ہر عیب سے منزہ ہے۔ ﴿وَاعۡتَصَمُوۡا بِهٖ ﴾ ’’اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ہاں پناہ لی اور اپنی قوت اور طاقت سے بری ہو کر اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَسَيُدۡخِلُهُمۡ۠ فِيۡ رَحۡمَةٍ مِّؔنۡهُ وَفَضۡلٍ﴾ ’’ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کی بہشتوں ) میں داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص رحمت سے ڈھانپ لے گا، انھیں نیکیوں کی توفیق عنایت کرے گا، انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے گا اور ان سے بلائیں دور کرے گا ﴿وَّيَهۡدِيۡهِمۡ اِلَيۡهِ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور اپنی طرف (پہنچنے کا)سیدھا راستہ دکھائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں علم و عمل کی توفیق اور انھیں حق اور اس پر عمل کی معرفت عطا کرے گا۔(۲) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے، اللہ کے پاس پناہ نہ لی اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے نہ پکڑا تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل اور رحمت سے محروم کر دے گا ان کو ان کے نفس کے حوالے کر دے گا۔ انھوں نے ہدایت کی راہ کو اختیار نہ کیا بلکہ وہ واضح طور پر گمراہی میں جا پڑے۔ ایمان ترک کرنے پر یہ ان کی سزا ہے، پس ناکامی اور محرومی ان کا نصیب بن گئی ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے عفو، عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں ۔
النساء 4:176
فتویٰ پوچھتے ہیں وہ آپ سے، کہہ دیجیے! اللہ فتویٰ دیتا ہے تمھیں کلالہ کے بارے میں کہ اگر کوئی مرد مر جائے، نہ ہو اس کی کوئی اولاد اوراس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے آدھا ہے اس (مال) کا جو وہ چھوڑ گیا اور وہ وارث ہوگا اس بہن کااگر نہ ہو اس بہن کی اولاد ، پھر اگر ہوں وہ دو بہنیں تو ان کے لیے ہے دو تہائی اس میں سے جو وہ چھوڑ گیا اور اگر (وارث) ہوں کئی بھائی (بہن)، مرد اور عورتیں تو واسطے مرد کے ہے مثل حصے دو عورتوں کے۔ وضاحت کرتا ہے اللہ تمھارے لیے تاکہ نہ گمراہ ہو تم اور اللہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے(176)
[176] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے کلالہ کے بارے میں فتویٰ طلب کیا تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ فِي الۡكَلٰلَةِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ تعالیٰ تمھیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے‘‘ (کَلَالَہ) سے مراد وہ میت ہے جس کی صلب سے کوئی اولاد ہو، نہ کوئی پوتا پوتی، نہ باپ ہو نہ دادا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنِ امۡرُؤٌا هَلَكَ لَيۡسَ لَهٗ وَلَدٌ ﴾ ’’اگر کوئی ایسا مرد مر جائے جس کے اولاد نہ ہو۔‘‘ یعنی اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہو، نہ صلبی بیٹا ہو اور نہ بیٹے کا بیٹا ہو… اور اسی طرح نہ اس کا باپ ہو اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بھائی اور بہنیں اس کے وارث بنیں گے کیونکہ اس پر علماء کا اجماع ہے کہ بہن بھائی باپ کی معیت میں وارث نہیں بنیں گے۔ پس جب ایسا شخص فوت ہو جائے گا جس کی اولاد ہے نہ باپ ﴿وَّلَهٗۤ اُخۡتٌ ﴾ البتہ اس کی حقیقی یا باپ شریک بہن ہے، نہ کہ ماں شریک کیونکہ اس کا حکم پہلے گزر چکا ہے۔ ﴿فَلَهَا نِصۡفُ مَا تَرَكَ﴾ ’’اس (بہن)کے کے لیے ترکے میں سے آدھا حصہ ہے۔‘‘ یعنی بہن کو کلالہ بھائی کے ترکہ، یعنی نقدی، جائداد اور دیگر اثاثوں میں سے نصف ملے گا۔ یہ حصہ میت کی وصیت پوری کرنے اور قرض کی ادائیگی کے بعد دیا جائے گا۔ جیسا کہ اس کے بارے میں احکام گزشتہ اوراق میں گزر چکے ہیں ۔﴿وَهُوَ ﴾ ’’اور وہ‘‘ یعنی میت کا حقیقی بھائی یا باپ کی طرف سے بھائی ﴿يَرِثُهَاۤ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهَا وَلَدٌ﴾ ’’اس بہن کا وارث ہو گا، اگر اس کی اولاد نہیں ہو گی‘‘ اور اس کے لیے حصۂ میراث مقرر نہ ہو کیونکہ وہ تو عصبہ ہے اگر اصحاب فروض یا عصبہ میں شریک کوئی فرد نہ ہو تو وہ تمام ترکہ لے گا یا اصحاب فروض کو ان کے حصے دینے کے بعد جو کچھ باقی بچے گا وہ اس کو ملے گا۔ ﴿فَاِنۡ كَانَتَا اثۡنَتَيۡنِ ﴾ ’’اور اگر دو بہنیں ہوں ۔‘‘ یعنی دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں ﴿فَلَهُمَا الثُّلُـثٰنِ مِمَّؔا تَرَكَ﴾ ’’تو ان کو ترکے میں سے دو تہائی ملے گا‘‘ ﴿وَاِنۡ كَانُوۡۤا اِخۡوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً ﴾ ’’اور اگر بھائی اور بہن، یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں ۔‘‘ یعنی اگر باپ کی طرف سے بھائی اور بہنیں وارث ہوں ﴿فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ ’’تو مرد کے لیے، دو عورتوں کے برابر حصہ ہے‘‘ پس عورتوں کا مقررہ حصہ (دو تہائی) ساقط ہو جائے گا اور ان عورتوں کو ان کے بھائی عصبہ بنا دیں گے۔ (گویا اس میں عصبات کا حکم بیان کیا گیا ہے)عورتوں کا حصہ ساقط ہو جائے گا اور ان کے بھائی ان کے عصبہ بنیں گے۔﴿يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اَنۡ تَضِلُّوۡا ﴾ ’’اللہ تم سے اس لیے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے ان احکام کو واضح کرتا ہے اور ان کی تشریح کرتا ہے جن کے تم محتاج ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل و احسان ہے تاکہ تم راہ ہدایت پا لو۔ اور تم اس کے احکام پر عمل کرو اور تاکہ تم اپنی جہالت اور عدم علم کی وجہ سے راہ راست سے بھٹک نہ جاؤ۔ ﴿وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ غائب اور موجود، ماضی اور مستقبل کے تمام امور کو جانتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تم اس کی وضاحت اور تعلیم کے محتاج ہو، وہ اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھاتاہے جو تمھیں ہر زمان و مکان میں ہمیشہ فائدہ دے گا۔
المائدة 5:1
اے ایمان والو! پورا کرو تم عہدوں کو، حلال کر دیے گئے ہیں تمھارے لیے چارپائے مویشی، سوائے ان کے جن کی تلاوت کی جائے گی (ابھی) تم پر، اس حال میں کہ نہ حلال جاننے والے ہو تم شکار کو جبکہ تم حالت احرام میں ہو، بے شک اللہ فیصلہ کرتا ہے جو چاہتا ہے(1)
[1] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کو اس بات کا حکم ہے جس کا ایمان تقاضا کرتا ہے اور وہ یہ کہ معاہدوں کو پورا کیا جائے۔ ان میں کمی کی جائے نہ ان کو توڑا جائے۔ یہ آیت کریمہ ان تمام معاہدوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے اس کی عبودیت کا التزام، اسے پوری طرح قائم رکھنا اور اس کے حقوق میں سے کچھ کمی نہ کرنا۔ اور یہ ان معاہدوں کو بھی شامل ہے جو بندے اور رسول اللہﷺ کے مابین آپ کی اتباع اور اطاعت کے بارے میں ہیں ۔ اور اسی طرح اس میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو بندے اور اس کے والدین اور اس کے عزیز و اقارب کے درمیان ان کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی اور عدم قطع رحمی کے بارے میں ہیں ۔ نیز اس آیت کریمہ کے حکم میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو فراخی اور تنگ دستی، آسانی اور تنگی میں صحبت اور دوستی کے حقوق کے بارے میں ہیں ۔ اس کے تحت وہ معاہدے بھی آتے ہیں جو معاملات، مثلاً: خرید و فروخت اور اجارہ وغیرہ کے ضمن میں بندے اور لوگوں کے درمیان ہیں ۔ اس میں صدقات اور ہبہ وغیرہ کے معاہدے کی پابندی، مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی وغیرہ بھی شامل ہے جن کی پابندی کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں عائد کیا ہے۔ ﴿اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ ﴾(الحجرات: 49؍10) ’’تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔‘‘بلکہ حق کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کرنا، مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور محبت سے مل جل کر رہنا اور قطع تعلقات سے اجتناب وغیرہ تک شامل ہے۔پس اس حکم میں دین کے تمام اصول و فروع شامل ہیں اور دین کے تمام اصول و فروع ان معاہدوں میں داخل ہیں جن کی پابندی کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿اُحِلَّتۡ لَكُمۡ ﴾ ’’تمھارے لیے حلال کردیے گئے۔‘‘ یعنی تمھاری خاطر اور تم پر رحمت کی بنا پر حلال کر دیے گئے ہیں ﴿بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’چوپائے مویشی‘‘ یعنی اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری وغیرہ بلکہ بسا اوقات اس میں جنگلی جانور ، مثلاً: ہرن اور گورخر اور اس قسم کے دیگر شکار کیے جانے والے جانور بھی شامل ہیں ۔ بعض صحابہ کرامy اس آیت کریمہ سے اس بچے کی حلت پر بھی استدلال کرتے ہیں جو ذبح کرتے وقت مذبوحہ کے پیٹ میں ہوتا ہے اور ذبح کرنے کے بعد وہ مذبوحہ کے پیٹ میں مر جاتا ہے۔( حدیث میں بھی ایسے بچے کو یہ کہہ کر حلال قرار دیا گیا ہے ذَکوٰۃُ الْجَنِیْنِ ذَکَاۃُ اُمِّہِ (سنن أبي داود، و جامع الترمذي، بحوالہ صحیح الجامع) ’’بچے کا ذبح کرنا یہی ہے کہ اس کی ماں کو ذبح کر لیا جائے۔‘‘ یعنی ماں کا ذبح کر لینا‘ بچے کی حلت کیلیے کافی ہے۔ (ص ۔ ی)﴿اِلَّا مَا يُتۡلٰى ﴾ ’’سوائے ان چیزوں (کی تحریم) کے جو تمھیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں ۔‘‘ جیسے فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ۠ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّـيۡتُمۡ ﴾ الآیۃ (المائدۃ: 5؍3) ’’تم پر حرام کر دیا گیا مردار، خون، سور کا گوشت، جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، وہ جانور جو گلا گھٹ کر مر جائے، جو چوٹ لگ کر مر جائے، جو گر کر مر جائے، جو سینگ لگ کر مر جائے اور وہ جانور جسے درندے پھاڑ کھائیں سوائے اس کے جس کو تم ذبح کر لو اور وہ جانور جو آستانوں پر ذبح کیے جائیں …‘‘ مذکورہ بالا تمام جانور اگرچہ ﴿بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ ﴾ مویشیوں میں شامل ہیں تاہم یہ مردار ہونے کی وجہ سے حرام ہیں ۔یہ چوپائے مویشی عام طور پر تمام احوال و اوقات میں مباح ہیں البتہ احرام کی حالت میں ان کے شکار کو مستثنی قرار دیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ غَيۡرَ مُحِلِّي الصَّيۡدِ وَاَنۡتُمۡ حُرُمٌ﴾ ’’مگر حلال نہ جانو شکار کو احرام کی حالت میں ‘‘ یعنی یہ جانور تمھارے لیے تمام احوال میں حلال ہیں سوائے اس حالت میں جبکہ تم احرام حج کی حالت میں ہو تب اس حالت میں شکار نہ کرو، یعنی احرام میں ان کو مارنے کی جرأت نہ کرو۔ کیونکہ حالت احرام میں ان کا شکار کرنا ، مثلاً:ہرن وغیرہ کو مارنا تمھارے لیے جائز نہیں ۔ شکار سے مراد وہ جنگلی جانور ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيۡدُ﴾ ’’بے شک اللہ جو چاہے، فیصلہ کرتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو بھی ارادہ کرتا ہے اس امر کے مطابق فیصلہ کرتا ہے جو اس کی حکمت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ جس طرح اس نے تمھارے مصالح کے حصول اور مضرت کو دور کرنے کے لیے تمھیں معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا اور تم پر رحمت کی بنا پر اس نے تمھارے لیے مویشیوں کو حلال قرار دیا اور بعض موانع کی وجہ سے جو جانور ان میں سے مستثنی ہیں ان کو حرام قرار دیا ، مثلاً: مردار وغیرہ اس کا مقصد تمھاری حفاظت اور احترام ہے۔ احرام کی حالت میں شکار کو حرام قرار دیا اور اس کا مقصد احرام کا احترام اور تعظیم ہے۔
المائدة 5:2
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بے حرمتی کرو اللہ کی نشانیوں کی اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ حرم والی قربانی کی اور نہ پٹوں (والے جانوروں ) کی اور نہ قصد کرنے والوں کی بیت الحرام کی طرف، وہ تلاش کرتے ہیں فضل اپنے رب کا اور رضامندی اور جب تم احرام کھول دو تو (اب) تم شکار کر سکتے ہو اور نہ آمادہ کرے تمھیں دشمنی کسی قوم کی اس وجہ سے کہ اس نے روک دیا تھا تم کو مسجد حرام سے، یہ کہ تم زیادتی کرو اور تم ایک دوسرے کی مدد کرو نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں اور نہ ایک دوسرے کی مدد کرو گناہ اور زیادتی پر اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے(2)
[2]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ ﴾ ’’اے ایمان والو! اللہ کی نشانیوں کو حلال نہ سمجھو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ان محرمات کو حلال نہ ٹھہرا لو جن کی تعظیم کا اور ان کے عدم فعل کا اس نے تمھیں حکم دیا ہے۔ پس یہ ممانعت، ان کے فعل کی ممانعت اور ان کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے کی ممانعت پر مشتمل ہے، یعنی یہ ممانعت فعل قبیح اور اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے کو شامل ہے اس ممانعت میں محرمات احرام اور محرمات حرم بھی داخل ہیں ۔ اس میں وہ امور بھی داخل ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آتا ہے ﴿وَلَا الشَّهۡرَ الۡحَرَامَ ﴾ ’’اور نہ ادب کے مہینے کی۔‘‘ یعنی حرمت کے مہینے میں لڑائی اور دیگر مظالم کا ارتکاب کر کے اس کی ہتک حرمت نہ کرو۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰهِ اثۡنَا عَشَرَ شَهۡرًا فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ مِنۡهَاۤ اَرۡبَعَةٌ حُرُمٌؔ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِيۡهِنَّ اَنۡفُسَكُمۡ ﴾(التوبۃ: 9؍36) ’’بے شک اللہ کے نزدیک اس کی کتاب میں مہینے گنتی میں بارہ ہیں ، اس روز سے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں ۔ یہی مضبوط دین ہے۔ تم ان مہینوں میں ناحق لڑائی کر کے اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔‘‘جمہور اہل علم کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں لڑائی کی تحریم منسوخ ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡهُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ ﴾(التوبۃ: 9؍5)’’جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ ان کو قتل کرو۔‘‘اور اس کے علاوہ دیگر آیات جو عموم پر دلالت کرتی ہیں جن میں کفار کے ساتھ مطلق قتال کا حکم دیا گیا ہے اور اس قتال سے پیچھے رہ جانے پر وعید سنائی ہے۔ نیز نبی اکرمﷺ نے ذیقعد کے مہینے میں اہل طائف کے خلاف جنگ کی اور ذی قعد حرام مہینوں میں سے ہے۔دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ حرمت کے مہینوں میں لڑائی کی ممانعت منسوخ نہیں ہے اس کی دلیل یہی مذکورہ آیت کریمہ ہے۔ جس میں خاص طور پر لڑائی کی ممانعت کی گئی ہے اور انھوں نے اس بارے میں وارد مطلق نصوص کو مقید پر محمول کیا ہے۔اور بعض علماء نے اس میں یہ تفصیل بیان کی ہے کہ حرمت والے مہینوں میں جنگ کی ابتدا کرنا جائز نہیں ، البتہ اگر جنگ پہلے سے جاری ہو جبکہ اس کی ابتدا حلال مہینوں میں ہوئی ہو تو حرمت کے مہینوں میں اس کی تکمیل جائز ہے اور انھوں نے اہل طائف کے خلاف رسول اللہﷺ کی جنگ کو اسی پر محمول کیا ہے۔ کیونکہ ان کے ساتھ جنگ کی ابتدا حنین میں ہوئی جو شوال کے مہینے میں ہوئی تھی۔ یہ سب اس جنگ کے بارے میں ہے جس میں مدافعت مقصود نہ ہو۔ جہاں تک دفاعی جنگ کا معاملہ ہے جبکہ وہ کفار کی طرف سے شروع کی گئی ہو تو مسلمانوں کو اپنے دفاع میں حرمت والے مہینوں میں بھی جنگ لڑنا جائز ہے۔ اور اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے۔﴿وَلَا الۡهَدۡيَ ﴾ ’’اور نہ قربانی کے جانوروں کی۔‘‘ یعنی تم اس ﴿الۡهَدۡيَ ﴾’’قربانی‘‘ کو جو حج یا عمرہ یا دیگر ایام میں بیت اللہ کو بھیجی جا رہی ہو، حلال نہ ٹھہرا لو۔ اس کو قربان گاہ تک پہنچنے سے مت روکو۔ نہ اسے چوری وغیرہ کے ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ نہ اس کے بارے میں کوتاہی کرو اور نہ اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ لادو۔ مبادا کہ وہ قربان گاہ تک پہنچنے سے پہلے ہی تلف ہو جائے بلکہ اس ہدی کی اور اس کو لانے والے کی تعظیم کرو۔﴿وَلَا الۡقَلَآىِٕدَ ﴾ ’’اور نہ ان جانوروں کی (جو اللہ کی راہ میں نذر کردیے گئے ہوں اور)جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں ۔‘‘ یہ ہدی کی ایک خاص قسم ہے یہ ہدی کا وہ جانور ہے جس کے لیے قلادے وغیرہ تیار کر کے صرف اس لیے اس کی گردن میں ڈالے گئے ہوں تاکہ اس سے ظاہر ہو کہ یہ اللہ کے شعائر ہیں، نیز اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں اور اس سے سنت کی تعلیم بھی مقصود ہے۔ تاکہ لوگ پہچان لیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے ، لہٰذا حرمت کا حامل ہے۔ بنا بریں ہدی کو علامت کے طور پر قلادے وغیرہ پہنانا سنت ہے اور شعائر مسنونہ میں اس کا شمار ہوتا ہے۔﴿وَلَاۤ آٰمِّيۡنَ الۡبَيۡتَ الۡحَرَامَ ﴾ ’’اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت اللہ) کو جارہے ہوں ۔‘‘ یعنی جو بیت اللہ کا قصد رکھتے ہیں ﴿يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرِضۡوَانًا﴾ ’’اور اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں ۔‘‘ یعنی جو بیت اللہ پہنچنے کا قصد رکھتا ہے اور وہ تجارت اور جائز ذرائع اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کا ارادہ لیے ہوئے ہے یا وہ حج، عمرہ، طواف بیت اللہ، نماز اور مختلف انواع کی دیگر عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ارادہ رکھتا ہے، اس کے ساتھ برائی سے پیش آؤ نہ اس کی اہانت کرو بلکہ اس کی تکریم کرو اور تمھارے رب کے گھر کی زیارت کے لیے جانے والوں کی تعظیم کرو۔ اس حکم میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ بیت اللہ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو پرامن بنایا جائے تاکہ بیت اللہ کو جانے والے بڑے اطمینان سے اللہ کے گھر کو جا سکیں ، انھیں راستے میں قتل و غارت اور اپنے اموال کے بارے میں کسی چوری ڈاکے اور کسی ظلم کا خوف نہ ہو۔اس آیت کریمہ کے عموم کو اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد خاص کرتا ہے ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِكُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا ﴾(التوبہ: 9؍28) ’’اے ایمان لانے والے لوگو! مشرک تو ناپاک ہیں وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں۔ ‘‘ لہٰذا مشرک حرم میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اس آیت کریمہ میں بیت اللہ کی طرف جانے والے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رضا کا قصد رکھنے والے سے تعرض کرنے کی ممانعت کی تخصیص اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اس نیت سے بیت اللہ کا قصد کرتا ہے کہ گناہوں کے ذریعے سے اس کی ہتک حرمت کا ارتکاب کرے، اس کو اللہ تعالیٰ کے گھر میں فساد پھیلانے سے روکا جائے کیونکہ اسے اس فعل سے روکنا حرم کے احترام کی تکمیل ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَمَنۡ يُّرِدۡ فِيۡهِ بِـاِلۡحَادٍۭؔ بِظُلۡمٍ نُّذِقۡهُ مِنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾(الحج: 22؍25) ’’اور جو کوئی اس میں ظلم سے کج روی کرنا چاہے ہم اسے دردناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔‘‘چونکہ اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کیا ہے اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا حَلَلۡتُمۡ فَاصۡطَادُوۡا﴾ ’’اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ)شکار کرو۔‘‘ یعنی جب تم حج اور عمرہ کا احرام کھول دو تو تمھارے لیے شکار کرنا جائز ہے اور اب اس کی تحریم ختم ہو گئی ہے۔ تحریم کے بعد کا حکم محرمہ اشیاء کو ان کی اس حالت کی طرف لوٹا دیتا ہے جو تحریم کے حکم سے پہلے تھی۔﴿وَلَا يَجۡرِمَنَّـكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡؔكُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا ﴾’’اور لوگوں کی دشمنی، اس وجہ سے کہ انھوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا، تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے۔‘‘ یعنی کسی قوم کا بغض، عداوت اور تم پر ان کا ظلم و تعدی کہ انھوں نے تمھیں مسجد حرام تک جانے سے روکا تھا تمھیں ان پر ظلم و تعدی کرنے پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان سے بدلہ لے کر اپنے غصے کو ٹھنڈا کرو۔ کیونکہ بندے پر ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا التزام کرنا اور عدل و انصاف کا راستہ اختیار کرنا فرض ہے۔ خواہ اس کے خلاف جرم، ظلم یا زیادتی کا ارتکاب ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔ جس نے اس پر جھوٹا الزام لگایا، اس پر جھوٹا الزام لگانا اور جس نے اس کے ساتھ خیانت کی، اس کے ساتھ خیانت کرنا کسی حالت میں جائز نہیں ۔﴿وَتَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡـبِرِّ وَالتَّقۡوٰى ﴾ ’’نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔‘‘ یعنی تم نیکیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ یہاں ﴿ الۡـبِرِّ ﴾’’نیکی‘‘ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ضمن میں ان تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور وہ ان پر راضی ہے۔ اس مقام پر تقویٰ ان تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ترک کرنے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو ناپسند ہیں ۔ بھلائی کی ہر خصلت جس کے فعل کا حکم یا برائی کی ہر خصلت جسے ترک کرنے کا حکم ہے بندہ خود بھی اس کے فعل پر مامور ہے اور اسے اپنے مومن بھائیوں کے ساتھ، اپنے قول و فعل کے ذریعے سے جو ان کو اس بھلائی پر آمادہ کرے یا اس میں نشاط پیدا کرے، تعاون کرنے کا حکم ہے۔﴿ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ ﴾ ’’اور گناہ پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو‘‘ اور یہ ان گناہوں پر جسارت ہے جن کے ارتکاب سے انسان گناہ گار اور ناقابل اعتبار ہو جاتا ہے ﴿ وَالۡعُدۡوَانِ ﴾ ’’اور نہ زیادتی پر‘‘ یہ مخلوق کے ساتھ ان کی جان و مال اور ان کی عزت و ناموس کے بارے میں ظلم اور زیادتی ہے۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ ہر گناہ اور ظلم و تعدی سے اپنے آپ کو بھی روکے اور دوسروں کے ساتھ بھی اس ظلم و تعدی کو ترک کرنے پر تعاون کرے۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو، کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو سزا دے گا جو اس کی نافرمانی کرے گا اور محارم کے ارتکاب کی جسارت کرے گا۔ پس ہتک محارم سے بچو مبادا (ایسا نہ ہو) کہ تم اس کی دنیاوی یا اخروی سزا کے مستحق بن جاؤ۔
المائدة 5:3
حرام کیا گیا تم پر مردہ جانور اور خون اور گوشت سور کا اور وہ جانور کہ پکارا جائے نام غیراللہ کا اس پر اور گلا گھٹنے سے مر جانے والا اور جو مر جائے چوٹ لگنے سے اور گر کر مرنے والا اور جو کسی کے سینگ سے مر جائے اور جس کو کھا جائیں درندے مگر جس کو تم ذبح کر لو اور جو جانور ذبح کیا جائے تھانوں پراور یہ کہ قسمت معلوم کرو فال کے تیروں کے ساتھ، یہ سب گناہ (کے کام) ہیں ۔
[3] یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ارشاد جس کا اس نے اس آیت کریمہ ﴿ اِلَّا مَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ میں حوالہ دیا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام ٹھہرائی ہے وہ اپنے بندوں کی حفاظت اور ان کو اس ضرر سے بچانے کے لیے حرام قرار دی ہے جو ان محرمات میں ہوتا ہے۔ کبھی تو اللہ تعالیٰ یہ ضرر اپنے بندوں کے سامنے بیان کر دیتا ہے اور کبھی (اپنی حکمت کے تحت) اس ضرر کو بیان نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ’’مردار‘‘ کو حرام قرار دیا ہے۔ مردار سے مراد وہ مرا ہوا جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح ہوئے بغیر زندگی سے محروم ہو گیا ہو، پس اس جانور کا گوشت ضرر رساں ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور وہ ضرر ہے اس کے اندر گوشت میں خون کا رک جانا، جس کے کھانے سے نقصان پہنچتا ہے اور اکثر جانور، جو کسی بیماری کی وجہ سے جو ان کی ہلاکت کا باعث ہوتی ہے، مر جاتے ہیں ، وہ کھانے والے کے لیے نقصان کا باعث ہیں ، البتہ مری ہوئی ٹڈی اور مچھلی اس حکم سے مستثنی ہے۔ کیونکہ ان کا کھانا حلال ہے۔( یہ استثناء حدیث سے ثابت ہے، (سنن ابن ماجہ، حدیث: 3218) اسی لیے صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ حدیث کے ساتھ ہی قرآن کی تفہیم اور اس کے احکامات کی تعمیل کی تکمیل ہوتی ہے۔ (ص ۔ ی)﴿وَالدَّمُ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہتا ہوا خون۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اس کو اس صفت سے مقید بیان کیا گیا ہے ﴿ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾’’اور سور کا گوشت‘‘ اس حرمت میں اس کے تمام اجزا شامل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ناپاک درندوں میں سے خنزیر کو خاص طور پر منصوص کیا ہے کیونکہ اہل کتاب میں سے نصاریٰ دعویٰ کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خنزیر کو حلال قرار دیا ہے...، یعنی نصاریٰ سے دھوکہ نہ کھانا کیونکہ یہ خنزیر بھی حرام اور من جملہ خبائث کے ہے۔﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ ﴾ ’’اور وہ جس پر غیراللہ کا نام پکارا جائے‘‘ یعنی اس پر بتوں ، اولیاء، کواکب اور دیگر مخلوق کا نام لیا گیا ہو۔ جس طرح ذبیحہ پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا، اسے پاک کر دیتا ہے اسی طرح غیر اللہ کا نام، ذبیحہ کو معنوی طور پر ناپاک کر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ شرک ہے ﴿ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ ﴾ ’’جو جانور گلا گھٹ کر مرجائے۔‘‘ یہ وہ مرا ہوا جانور ہے جس کو ہاتھ سے، رسی سے یا کسی تنگ چیز میں اس کا سر داخل کر کے جہاں سے نکلنا ممکن نہ ہو اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا ہو۔ ﴿ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ ﴾ ’’جو چوٹ لگ کر مرجائے۔‘‘ اس مرے ہوئے جانور کو کہا جاتا ہے جو لاٹھی، پتھر یا لکڑی وغیرہ کی ضرب سے مرا ہو یا اس پر قصداً یا بغیر قصد کے دیوار وغیرہ گر گئی ہو ﴿ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ۠ ﴾ ’’جو گر کر مرجائے۔‘‘ یعنی جو بلند جگہ ، مثلاً: پہاڑ، دیوار یا چھت وغیرہ سے گر کر مر گیا ہو ﴿وَالنَّطِيۡحَةُ ﴾ اس مرے ہوئے جانور کو کہتے ہیں جسے کسی دوسرے جانور نے سینگ مار کر ہلاک کر دیا ہو ﴿ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ ﴾ جسے بھیڑیے، شیر، چیتے یا کسی شکاری پرندے وغیرہ نے پھاڑ کھایا ہو۔ اگر درندے کے پھاڑ کھانے سے جانور مر جائے تو یہ حلال نہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اِلَّا مَا ذَكَّـيۡتُمۡ ﴾ ’’مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے)ذبح کرلو۔‘‘ گلا گھٹ کر مرنے والے، چوٹ لگ کر مرنے والے، بلندی سے گر کر مرنے والے اور درندے کے پھاڑ کھانے سے مرنے والے جانور کی طرف راجع ہے۔ اگر اس جانور میں پوری طرح زندگی موجود ہو اور اسے ذبح کر لیا جائے تو یہ جانور شرعی طور پر مذبوح ہے۔ بنابریں فقہاء کہتے ہیں ’’اگر کسی درندے وغیرہ نے کسی جانور کو چیر پھاڑ کر اس کی آنتیں اور دیگر اندرونی اعضا کو باہر نکال کر علیحدہ علیحدہ کر دیا ہو یا اس کا حلقوم کاٹ دیا ہو تو اس میں زندگی کا وجود اور عدم وجود مساوی ہیں ۔ کیونکہ اب اس کو ذبح کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘بعض فقہاء اس میں صرف زندگی کے وجود کا اعتبار کرتے ہیں ۔ اگر اس جانور میں بھی زندگی کا وجود ہو اور اس حالت میں اس کو ذبح کر لیا جائے تو وہ حلال ہے خواہ اس کا اندرونی حصہ بکھیر ہی کیوں نہ دیا گیا ہو۔ آیت کریمہ کا ظاہر اسی پر دلالت کرتا ہے۔﴿ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ﴾ ’’اور یہ کہ پانسوں کے ذریعے سے قسمت معلوم کرو۔‘‘ یعنی تمھیں تیروں کے ذریعے سے قسمت کا حال معلوم کرنے سے منع کر دیا گیا۔ استسقام کے معنی یہ ہیں کہ جو تمھارے مقسوم اور مقدر میں ہے اسے طلب کرنا۔ جاہلیت کے زمانے میں تین تیر ہوتے تھے جن کو اس کام کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جن میں سے ایک پر لکھا ہوتا تھا کہ ’’یہ کام کر‘‘ دوسرے پر لکھا ہوتا تھا ’’یہ کام نہ کر‘‘ اور تیسرا تیر خالی ہوتا تھا۔ جب کوئی شخص کسی سفر پر روانہ ہونے لگتا یا شادی وغیرہ کرتا تو تینوں تیر کسی ڈونگی وغیرہ میں رکھ کر گھماتے پھر ان میں سے ایک تیر نکال لیتے اگر اس پر لکھا ہوتا ’’یہ کام کر‘‘ تو وہ یہ کام کر لیتا اور اگر لکھا ہوتا ’’یہ کام نہ کر‘‘ تو وہ اس کام میں ہاتھ نہ ڈالتا۔ اگر وہ تیر نکل آتا جس پر کچھ بھی نہ لکھا ہوتا تو وہ اس عمل کا اعادہ کرتا یہاں تک کہ لکھا ہوا تیر نکل آتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اس عمل کو اس صورت میں یا اس سے مشابہ صورت میں حرام قرار دے دیا اور اس کے عوض ان کو تمام امور میں اپنے رب سے استخارہ کرنے کا حکم دیا (جیسا کہ حدیث نبوی سے استخارے کی تاکید ہے۔ جامع الترمذي، حدیث: ۴۸۰)﴿ ذٰلِكُمۡ فِسۡقٌ ﴾ ’’یہ سب گناہ (کے کام) ہیں ۔‘‘ یہ ان تمام محرمات کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ یہ تمام محرمات فسق ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل کر شیطان کی اطاعت میں داخل ہونا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان جتلاتے ہوئے فرماتا ہے: آج ناامید ہوگئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تمھارے دین سے پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ ہی سے۔ آج مکمل کر دیا میں نے تمھارے لیے تمھارا دین اور پوری کر دی تم پر اپنی نعمت اور پسند کر لیا تمھارے لیے اسلام کو بطور دین کے۔ پس جو لاچار ہو جائے بھوک میں نہ مائل ہونے والا ہو گناہ پر تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے(3)[3] وہ دن جس کی طرف آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے وہ عرفہ کا دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو مکمل فرمایا، اپنے بندے اور رسولﷺ کی مدد کی اور اہل شرک پوری طرح بے یارو مددگار ہو گئے، حالانکہ وہ اس سے پہلے اہل ایمان کو ان کے دین سے پھیرنے کی بہت خواہش رکھتے تھے۔ جب انھوں نے اسلام کا غلبہ، اس کی فتح اور بالادستی دیکھی تو اہل ایمان کو دین سے پھیرنے سے پوری طرح مایوس ہو گئے اور اب ان کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ وہ اہل ایمان سے خوف کھانے لگے۔ بنابریں ، اس سال یعنی ۱۰ ھ میں جب رسول اللہﷺ نے آخری حج کیا تو اس حج میں کسی مشرک نے حج نہیں کیا اور نہ کسی نے عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِ ﴾’’تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی مشرکین سے نہ ڈرو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس نے مشرکین کے مقابلے میں تمھاری مدد فرمائی اور ان کو تنہا چھوڑ دیا اور ان کے مکرو فریب اور ان کی سازشیں ان کے سینوں ہی میں لوٹا دیں ۔﴿ اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِيۡنَؔكُمۡ ﴾ ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کر دیا‘‘ یعنی اپنی نصرت کا اتمام کر کے اور ظاہری و باطنی طور پر اور اصول و فروع میں شریعت کی تکمیل فرما کر۔ اسی لیے احکام دین، یعنی اس کے تمام اصول و فروع میں کتاب و سنت کافی ہیں ۔ اگر تکلف کا شکار کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لوگ عقائد اور احکام دین کی معرفت کے لیے کتاب و سنت کے علم کے علاوہ دیگر علوم ، مثلاً:علم کلام وغیرہ کے محتاج ہیں تو وہ جاہل اور اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے گویا وہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ دین کی تکمیل اس کے اقوال اور ان نظریات کے ذریعے سے ہوئی ہے جس کی طرف وہ دعوت دیتا ہے اور یہ سب سے بڑا ظلم اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو جاہل قرار دینا ہے۔﴿ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِيۡ ﴾ ’’میں نے تم پر اپنی (ظاہری اور باطنی) نعمت پوری کر دی ﴿ وَرَضِيۡتُ لَكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا ﴾’’اور میں نے تمھارے لیے اسلام کو دین کے طورپر پسند کرلیا۔‘‘ یعنی میں نے اسلام کو تمھارے لیے دین کے طور پر اور تمھیں اسلام کے لیے چن لیا ہے۔ اب اپنے رب کی شکر گزاری کے لیے اس دین کو قائم کرو اور اس ہستی کی حمد و ستائش کرو جس نے تمھیں بہترین، عالی شان اور کامل ترین دین سے نواز کر تم پر احسان فرمایا۔﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس جو شخص ناچار ہوجائے۔‘‘ یعنی جسے ضرورت ان محرمات میں سے کچھ کھانے پر مجبور کر دے جن کا ذکر ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ﴾کے تحت گزر چکا ہے ﴿ فِيۡ مَخۡمَصَةٍ ﴾ ’’بھوک کی وجہ سے‘‘ یعنی اگر وہ سخت بھوکا ہو ﴿ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ ﴾ ’’ گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔‘‘ بایں طور کہ وہ ان محرمات کو اس وقت تک نہ کھائے جب تک کہ وہ اضطراری حالت میں نہ ہو اور ضرورت سے بڑھ کر نہ کھائے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے کہ اس نے بندے کے لیے اس اضطراری حال میں محرمات کو کھانا جائز قرار دے دیا۔ اور اس کی نیت کے مطابق اور دین میں کوئی نقص لاحق کیے بغیر اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرمایا۔
المائدة 5:4
پوچھتے ہیں آپ سے کہ کیا کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں ان کے لیے؟ کہہ دیجیے حلال کر دی گئی ہیں تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں اور (شکار ان کا) جو سدھائے تم نے شکاری جانور، جب سدھانے والے ہو، سکھاتے ہو تم ان کو ان میں سے جو سکھلائیں تمھیں اللہ نے، پس کھاؤ تم ان میں سے جو وہ روک رکھیں تمھاری خاطر اور ذکر کرو نام اللہ کا اس پر اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے(4)
[4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَهُمۡ﴾ ’’آپ سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں۔‘‘ یعنی ان کے لیے کون کون سے کھانے حلال ہیں۔ ﴿ قُلۡ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰؔتُ ﴾ ’’کہہ دیجیے! تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں‘‘ ﴿الطَّيِّبٰؔتُ ﴾ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس میں کوئی فائدہ ہے اور بدن اور عقل میں نقصان پہنچے بغیر ان سے لذت حاصل ہوتی ہے۔ پس طیبات میں وہ تمام غلہ جات اور پھل وغیرہ شامل ہیں جو بستیوں اور صحراؤں میں پیدا ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ کے مضمون میں وہ تمام حیوانات بھی شامل ہیں جو خشک زمین پر پائے جاتے ہیں سوائے ان حیوانات کے جن کو شارع نے مستثنی قرار دیا ہے، مثلاً: درندے اور ناپاک جانور اور ناپاک اشیاء وغیرہ۔ اسی لیے یہ آیت کریمہ اپنے مفہوم میں ناپاک چیزوں کی تحریم پر دلالت کرتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں صراحت کے ساتھ اس تحریم کو بیان کیا گیا ہے:﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾(الاعراف: 7؍157)’’وہ پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان کے لیے حرام ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿وَمَا عَلَّمۡتُمۡ مِّنَ الۡجَوَارِحِ ﴾’’اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو۔‘‘ یعنی جو تم شکاری جانوروں کو شکار کرنا سکھاتے ہو وہ شکار بھی تمھارے لیے حلال ہے۔ یہ آیت کریمہ شکار کے متعلق متعدد امور پر دلالت کرتی ہے۔(۱)یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے ان کے لیے رزق حلال کی راہیں کشادہ کر دی ہیں اور ان کے لیے شکاری جانوروں کے شکار کیے ہوئے اس شکار کو حلال کر دیا جس کو ذبح نہیں کر سکتے… شکاری جانور سے مراد کتے، چیتے اور باز وغیرہ ہیں ، جو اپنے دانتوں سے یا پنجے سے شکار کو پکڑتے ہیں ۔(۲) شکاری جانور کے لیے شرط یہ ہے کہ اس کو شکار کے لیے سکھایا گیا ہو۔ ایسا سکھانا جس کو عرف عام میں سکھانا کہتے ہیں ، یعنی اگر اسے شکار پر چھوڑا جائے تو وہ شکار پر جھپٹے اور اگر اس کو روک دیا جائے تو فوراً رک جائے۔ اور جب شکار کو پکڑ لے تو اس کو نہ کھائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿تُعَلِّمُوۡنَهُنَّ مِمَّؔا عَلَّمَؔكُمُ اللّٰهُ١ٞ فَكُلُوۡا مِمَّؔاۤ اَمۡسَكۡنَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور جس (طریق) سے اللہ نے تمھیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے)تم نے ان کو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمھارے لیے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو۔‘‘ یعنی وہ شکار کو تمھارے لیے روک رکھیں اور جس شکار میں سے شکاری جانور نے کچھ کھا لیا ہو تو اس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آیا اس نے شکار کو اپنے مالک کے لیے پکڑا ہے اور شاید یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے شکار خود اپنے لیے پکڑا ہو۔(۳) شکاری جانور کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ کتا ہو یا باز وغیرہ، شکار کو زخمی کرتا ہو (اس کا گلا نہ گھونٹتا ہو) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مِّنَ الۡجَوَارِحِ ﴾سے واضح ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گلا گھٹ کر مر جانے والے جانور کی حرمت گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ اگر کتے وغیرہ نے شکار کا گلا گھونٹ دیا ہو یا اسے اپنے بوجھ تلے دبا کر اسے ہلاک کر دیا ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں ۔ یہ اس اصول پر مبنی ہے کہ شکاری جانور وہ ہیں جو شکار کو اپنے دانتوں یا پنجوں سے زخمی کرتے ہیں ۔﴿جَوَارِحِ ﴾ ’’شکاری جانور‘‘ کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ اس سے مراد شکار کو حاصل کر لینے اور اس کو پا لینے والا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس معنی پر دلالت نہیں کرتی۔ واللہ اعلم۔ (اس لیے ’’جوارح‘‘ کا وہی مفہوم صحیح ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کی جاچکی ہے)(۴) شکار کے لیے کتا پالنا جائز ہے جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے۔ (صحیح البخاري، کتاب الحرث والمزارعۃ، باب اقتناء الکلب للحرث، حدیث: 2322)اس کے ساتھ ساتھ عام کتا پالنا حرام ہے ... کیونکہ کتے کے شکار اور اس کو شکار کے لیے سکھانے کے جواز سے لازم آتا ہے کہ اس کو پالنا بھی جائز ہے۔(۵)شکار کو اگر کتے کے منہ سے نکلا ہوا لعاب وغیرہ لگ جائے تو وہ پاک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتے کے مارے ہوئے شکار کو مباح قرار دیا ہے اور شکار کو دھونے کا حکم نہیں ہے۔ یہ چیز شکار کو لگے ہوئے کتے کے لعاب کی طہارت پر دلالت کرتی ہے۔(۶)اس میں علم کی فضیلت کی دلیل ہے کیونکہ سدھائے ہوئے شکاری جانور کا مارا یا پکڑا ہوا شکار علم کی وجہ سے ہی مباح ہوتا ہے۔ اگر اسے تعلیم نہ دی گئی ہو تو اس کا مارا ہوا شکار جائز نہیں ہوتا۔(۷)شکاری کتے اور شکاری پرندے وغیرہ کو سکھانے میں مشغول ہونا مذموم، عبث اور باطل نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو امر مقصود ہے کیونکہ شکاری جانور کو سکھانا اس کے مارے ہوئے شکار کی حلت اور اس سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ ہے۔(۸)اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے دلیل ہے جو کتے کی فروخت کو جائز قرار دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ خریدے بغیر کتے کا حصول ممکن نہیں ۔(۹)شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت تکبیر پڑھنا شرط ہے۔ اگر شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت عمداً تکبیر نہ پڑھی گئی ہو تو اس کا مارا ہوا شکار جائز نہیں ۔(۱۰) شکاری جانور کے مارے ہوئے شکار کو کھانا جائز ہے خواہ شکار مر گیا ہو یا زندہ ہو۔ اگر مالک شکار کو اس حالت میں پا لے کہ ابھی وہ زندہ ہو تو ذبح کیے بغیر اس کا کھانا جائز نہیں ۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تقویٰ اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے اور قیامت کے روز حساب سے ڈرایا ہے۔ اور یہ ایسا معاملہ ہے کہ بہت قریب آن لگا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک وہ جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘
المائدة 5:5
آج حلال کر دی گئیں تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں اور کھانا ان لوگوں کا، جن کو دی گئی کتاب، حلال ہے تمھارے لیے۔ اور کھانا تمھارا حلال ہے، ان کے لیے۔ اور (حلال ہیں تمھارے لیے) پاک دامن مسلمان عورتیں اور پاک دامن عورتیں اُن کی جن کو دی گئی کتاب تم سے پہلے، جب دو تم ان کو مہر ان کے، (نیز) قید نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے اور نہ بنانے والے خفیہ آشنا۔ اور جو انکار کرے گا ایمان سے تو یقینا برباد ہوگئے اس کے عمل اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا(5)
[5]اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے طیبات کی حلت کو مکرر بیان فرمایا۔ اس میں بندوں کو اس کا شکر ادا کرنے اور کثرت سے ذکر کرنے کی ترغیب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ان چیزوں کو مباح فرمایا جن کے وہ سخت محتاج تھے اور وہ ان طیبات سے فائدے حاصل کرتے ہیں ۔﴿وَطَعَامُ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ حِلٌّ لَّـكُمۡ ﴾ ’’اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے۔‘‘ یعنی اے مسلمانو! تمھارے لیے یہودیوں اور عیسائیوں کے ذبیحے حلال ہیں اور باقی کفار کے ذبیحے حلال نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام اہل کتاب انبیائے کرام اور کتابوں سے منسوب ہیں اور تمام انبیائے کرام غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی تحریم پر متفق ہیں کیونکہ یہ شرک ہے۔ پس یہود و نصاریٰ بھی غیر اللہ کے نام پر ذبیحے کی حرمت کے قائل ہیں ۔ اس لیے دیگر کفار کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ کا ذبیحہ حلال قرار دیا گیا ہے۔ اور یہاں ان کے طعام سے مراد ان کا ذبیحہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ طعام جو ذبیحہ کے زمرے میں نہیں آتا ، مثلاً:غلہ اور پھل وغیرہ تو اس میں اہل کتاب کی کوئی خصوصیت نہیں ۔ غلہ اور پھل تو حلال ہیں ، اگرچہ وہ اہل کتاب کے علاوہ کسی اور کا طعام ہوں ۔ نیز طعام کو ان کی طرف مضاف کیا گیا ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ وہ ان کا ذبیحہ ہونے کے سبب سے ’’ان کا کھانا‘‘ ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اضافت تملیک کے لیے ہے اور یہ کہ اس سے مراد وہ کھانا ہے، جس کے وہ مالک ہیں ۔ کیونکہ غصب کے پہلو سے یہ بھی حلال نہیں خواہ مسلمانوں ہی کا ہو۔﴿ وَطَعَامُكُمۡ حِلٌّ لَّهُمۡ﴾ ’’اور تمھارا کھانا ان کو حلال ہے۔‘‘ اے مسلمانو! اگر تم اپنا کھانا اہل کتاب کو کھلاؤ تو یہ ان کے لیے حلال ہے ۔﴿وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’آزاد اور عفت ماب مومن عورتیں (تمھارے لیے حلال ہیں )‘‘ ﴿وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ ﴾ ’’اور آزاد پاک دامن اہل کتاب کی عورتیں ۔‘‘ یعنی یہود و نصاریٰ کی آزاد عفت ماب عورتیں بھی تمھارے لیے حلال ہیں ۔ اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تخصیص کرتی ہے ﴿وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ ﴾(البقرہ: 2؍221) ’’اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ۔‘‘آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ مومن لونڈیوں کا آزاد مردوں کے ساتھ نکاح جائز نہیں ۔ لیکن اہل کتاب لونڈیوں کا نکاح، آزاد مومن مردوں کے ساتھ مطلقا حرام ہے۔ اور اس کی دلیل اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿مِنۡ فَتَيٰتِكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾(النساء: 4؍25)’’اور ان لونڈیوں سے نکاح کر لو جو مومن ہیں ۔‘‘اگر مسلمان عورتیں لونڈیاں ہوں تو آزاد مردوں کے ساتھ ان کے نکاح کے لیے دو شرائط ہیں ۔(۱)مرد آزاد عورت کے ساتھ نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔(۲) عدم نکاح کی صورت میں اسے حرام میں پڑنے کا خدشہ ہو۔رہی فاجر عورتیں ، جو زنا سے نہیں بچتیں ، ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں خواہ وہ مسلمان ہوں یا اہل کتاب سے تعلق رکھتی ہوں جب تک کہ وہ حرام کاری سے تائب نہ ہو جائیں ۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿اَلزَّانِيۡ لَا يَنۡكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوۡ مُشۡرِكَةً﴾(النور: 24؍3)’’زانی مرد نکاح نہیں کرتا مگر زانی عورت یا مشرک عورت کے ساتھ ہی۔‘‘﴿اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ ﴾ ’’جبکہ ان کا مہر دے دو۔‘‘ یعنی جب تم ان کے مہر ادا کر دو تو ہم نے ان کے ساتھ تمھارا نکاح جائز قرار دے دیا ہے۔ اور جس کا یہ ارادہ ہو کہ وہ مہر ادا نہیں کرے گا تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہے۔ اگر عورت سمجھ دار ہے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ خود اسے مہر ادا کیا جائے ورنہ شوہر اس کے سرپرست کو مہر ادا کرے۔ حق مہر کی عورتوں کی طرف اضافت دلالت کرتی ہے کہ عورت اپنے تمام حق مہر کی خود مالک ہوتی ہے اس میں کسی کا کوئی حصہ نہیں ۔ سوائے اس کے کہ عورت خود اپنے شوہر کو یا اپنے ولی (سرپرست) وغیرہ کو یہ مہر عطا کر دے۔ ﴿مُحۡصِنِيۡنَ ﴾ ’’اور عفت قائم رکھنی مقصود ہو۔‘‘ یعنی اے شوہرو! اس حال میں کہ تم اپنی بیویوں کی عفت کی حفاظت کر کے ان کو پاک باز رکھو ﴿غَيۡرَ مُسٰفِحِيۡنَ ﴾ ’’نہ کہ اس حال میں کہ تم ہر ایک کے ساتھ زنا کرتے پھرو۔‘‘ ﴿وَلَا مُتَّؔخِذِيۡۤ اَخۡدَانٍ﴾ اور نہ اس حالت میں کہ تم اپنی معشوقاؤں کے ساتھ بدکاری کرو (اخدان)سے مراد ہے معشوقاؤں کے ساتھ زنا کرنا۔ زمانۂ جاہلیت میں زناکاروں کی دو اقسام تھیں :(۱) کسی بھی عورت کے ساتھ زنا کرنے والے ۔ ان کو ﴿مُسٰفِحِيۡنَ ﴾کہاجاتا ہے۔(۲) صرف اپنی محبوبہ کے ساتھ زنا کرنے والے۔ یہ ﴿اَخۡدَانٍ﴾ہیں ۔پس اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہ دونوں صورتیں پاک دامنی کے منافی ہیں اور یہ کہ نکاح کی شرط یہ ہے کہ مرد زناکاری سے دامن بچانے والا ہو۔﴿وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُهٗ ﴾ ’’اور جو منکر ہوا ایمان سے تو ضائع ہو گئے عمل اس کے‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور ان چیزوں کے ساتھ کفر کرتا ہے جن پر ایمان لانا فرض ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور اس کے انبیاء و رسل علیہ السلام اور شریعت کے بعض امور... اور وہ اسی کفر کی حالت میں مر جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال اکارت چلے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾(البقرۃ: 2؍217) ’’تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر کر کافر ہو جائے اور وہ کفر کی حالت میں مر جائے تو دنیا اور آخرت میں اس کے تمام اعمال اکارت جائیں گے۔‘‘ ﴿وَ هُوَ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘ یعنی ان کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جو قیامت کے روز، اپنی جان، مال اور اپنے اہل و عیال کے بارے میں سخت خسارے میں ہوں گے۔ اور ابدی بدبختی ان کا نصیب بنے گی۔
المائدة 5:6
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب اٹھو تم نماز کے لیے تو دھوؤ اپنے چہرے اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں کا اور (دھوؤ) اپنے پاؤں ٹخنوں تک اور اگر ہو تم جنبی تو غسل کرو اور اگر ہو تم (شدید) بیمار یا سفر میں یا آئے کوئی تم میں سے قضائے حاجت سے یا ہم بستری کی ہو تم نے عورتوں سے، پھر نہ پاؤ تم پانی تو تیمم کر لو مٹی پاک سے پس مسح کرو اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کا اس (مٹی) سے، نہیں ارادہ کرتا اللہ کہ کرے تم پر کوئی تنگی لیکن ارادہ کرتا ہے وہ کہ پاک کر دے تم کو اور تاکہ پوری کرے اپنی نعمت تم پر تاکہ تم شکر کرو(6)
[6]یہ آیت عظیمہ بہت سے احکام پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق سے ان کو بیان کرنے کی جتنی آسانی عطا فرمائی ہم ان کو بیان کریں گے۔(۱) جو کچھ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے ان پر عمل کرنا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم اس طرح صادر ہوتا ہے ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا …﴾یعنی اے ایمان والے لوگو! اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق ان امور پر عمل کرو جو ہم نے تمھارے لیے مشروع کیے ہیں ۔(۲) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ ﴾’’جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو۔‘‘ سے نماز کو قائم کرنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔(۳) اس میں نماز کے لیے نیت کے حکم کا اثبات ہے فرمایا: ﴿اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ ﴾یعنی جب تم نماز کی نیت اور ارادے سے اٹھو۔(۴) نماز کی صحت کے لیے طہارت شرط ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کے لیے اٹھتے وقت طہارت کا حکم دیا ہے اور اصولی طور پر حکم (امر)وجوب کے لیے ہوتا ہے۔(۵)طہارت نماز کا وقت داخل ہونے پر واجب نہیں ہوتی بلکہ یہ تو صرف اس وقت واجب ہوتی ہے جب نماز پڑھنے کا ارادہ کیا جائے۔(۶) ہر وہ نماز جس پر (الصلوۃ) کا اطلاق کیا جائے، مثلاً: فرض، نفل، فرض کفایہ اور نماز جنازہ وغیرہ ہر قسم کی نماز کے لیے طہارت فرض ہے حتیٰ کہ بہت سے اہل علم کے نزدیک مجرد سجدہ ، مثلاً:سجدۂ تلاوت اور سجدہ شکر کے لیے بھی طہارت ضروری ہے۔(۷) اس میں چہرے کے دھونے کا حکم ہے اور چہرے میں چہرے کا صرف سامنے کا حصہ شامل ہے یعنی سر کے بالوں کی حدود سے لے کر طول میں جبڑوں کے نیچے اور ٹھوڑی تک۔ اور عرض میں ایک کان سے دوسرے کان تک۔ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چہرے کے دھونے میں شامل ہے۔ اور یہ سنت ہے۔ چہرے پہ اگے ہوئے بال بھی چہرے میں داخل ہیں ۔ اگر یہ زیادہ گھنے نہیں تو تمام جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔ اگر داڑھی گھنی ہو تو اوپر سے دھونا کافی ہے۔ (داڑھی کے بالوں میں خلال کرنا نبیﷺ کے عمل سے ثابت ہے، جامع الترمذي، الطہارۃ، باب ما جاء فی تخلیل اللحیۃ، حدیث: 31، اس لیے گھنی داڑھی میں بالخصوص خلال بھی کیا جائے۔ (ص۔ی)(۸) اس میں ہاتھوں کو دھونے کا حکم ہے اور ہاتھوں کی حد کہنیوں تک ہے۔ جمہور مفسرین کے مطابق (اِلٰی)(مع) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَهُمۡ اِلٰۤى اَمۡوَالِكُمۡ﴾(النساء: 4؍2) ’’ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ (ملا کر)نہ کھاؤ۔‘‘نیز ہاتھ دھونے کا وجوب اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ کہنیوں کو پوری طرح نہ دھویا جائے۔(۹)سر پر مسح کرنے کا حکم ہے۔(۱۰)پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے۔ کیونکہ (با)تَبْعِیض کے لیے نہیں بلکہ اِلْصَاق کے لیے ہے۔ اور یہ تمام تر سر کے مسح کو شامل ہے۔(۱۱)سر کا مسح دونوں ہاتھوں سے کیا جائے یا ایک ہاتھ سے، کسی کپڑے سے کیا جائے یا لکڑی وغیرہ سے، جیسے بھی کیا جائے اکتفا کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسح کا علی الاطلاق حکم دیا ہے کسی وصف سے مقید نہیں کیا۔ پس یہ چیز مسح کے اطلاق پر دلالت کرتی ہے۔(۱۲)وضو میں سر پر مسح کرنا فرض ہے۔ اگر ہاتھوں کے ساتھ سر پر مسح کرنے کی بجائے سر کو دھو لیا جائے۔ تو یہ کفایت نہیں کرے گا کیونکہ اس نے وہ کام نہیں کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔(۱۳)(وضو میں )دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونے کا حکم دیا گیا ہے، اس کا حکم بھی وہی ہے جو ہاتھوں کے بارے میں ہے۔(۱۴)اس میں ، نَصَب کے ساتھ جمہور کی قراء ت کے مطابق، روافض کا رد ہے۔ اور جب تک پاؤں ننگے ہیں ، ان پر مسح کرنا جائز نہیں ۔(۱۵)’’وَاَرْجُلِکُمْ‘‘ میں جر کے ساتھ قراء ت کے مطابق موزوں پر مسح کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں قراء توں کو اپنے اپنے معنی پر محمول کیا جائے گا۔ اگر پاؤں میں موزے نہ پہنے ہوں تو نصب کے ساتھ قراء ت کے مطابق پاؤں دھوئے جائیں ۔ اور اگر پاؤں میں موزے پہنے ہوئے ہیں تو جر کے ساتھ قراء ت کے مطابق پاؤں پر مسح کیا جائے گا۔(۱۶)وضو کے اندر اعضا کو ترتیب کے ساتھ دھونے کا حکم ہے کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو ترتیب کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ نیز جب دو دھوئے جانے والے اعضا کے درمیان مسح والے عضو کا ذکر کیا جائے تو اس کا ترتیب کے سوا کوئی اور فائدہ نہیں ۔(۱۷)ترتیب صرف ان چار اعضا کے ساتھ مخصوص ہے جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ رہا کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے، منہ دھونے، دایاں بازو اور بایاں بازو، دایاں پاؤں اور بایاں پاؤں دھونے میں ترتیب کا اعتبار تو یہ واجب نہیں ، البتہ منہ دھونے سے پہلے کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا مستحب ہے۔ دایاں ہاتھ پہلے دھونا مستحب ہے۔ اسی طرح دایاں پاؤں پہلے دھونا مستحب ہے۔ کانوں کے مسح سے پہلے سر کا مسح کرنا مستحب ہے۔(۱۸)ہر نماز کے وقت تجدید وضو کا حکم ہے تاکہ مامور بہ پر عمل کیا جا سکے۔(یہ بہتر صورت ہے، ورنہ ایک وضو سے متعدد نمازیں پڑھنا جائز ہے‘ بشرطیکہ وضو برقرار ہو۔فتح مکہ کے دن رسول اللہﷺ نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں اور فرمایا کہ یہ میں نے عمداً کیاہے، تاکہ لوگوں کو اس کا جواز معلوم ہوجائے ،صحیح مسلم، الطہارۃ، باب جواز الصلوات کلہا بوضوء واحد، حدیث: 277۔ (ص۔ى)(۱۹)جنابت کی حالت میں غسل کا حکم دیا گیا ہے۔(۲۰)غسل جنابت میں تمام بدن کا دھونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے طہارت حاصل کرنے کو بدن کے کسی ایک حصے کے ساتھ مخصوص کرنے کی بجائے تمام بدن کی طرف مضاف کیا ہے۔(۲۱)جنابت کی حالت میں بالوں کو اندر اور باہر سے دھونے کا حکم ہے۔(۲۲)طہارت کے حصول کے وقت حدث اصغر حدث اکبر کے اندر شامل ہوتا ہے۔ حدث اکبر سے طہارت کے حصول کے لیے غسل کرنے سے حدث اصغر سے بھی طہارت حاصل ہو جاتی ہے اس کے لیے اس کی نیت کر لینا کافی ہے، پھر وہ تمام بدن پر پانی بہائے کیونکہ اللہ نے صرف پاکیزگی حاصل کرنے کا ذکر کیا ہے اور وضو لوٹانے کا ذکر نہیں فرمایا۔(لیکن یہ بات اس وقت صحیح ہوگی جب سنت کے مطابق غسل جنابت کیا جائے۔ اور وہ مسنون طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ہاتھ دھوئے جائیں، پھر شرم گاہ کو بائیں ہاتھ سے دھو کر اس ہاتھ کو مٹی یا صابن وغیرہ سے دھویا جائے۔ پھر وضو کیا جائے اور سر پر مسح کرنے کے بجائے تین بار سر پر پانی ڈالا جائے۔ پھر سارے بدن پر پانی ڈال کر غسل کیا جائے۔ پھر آخر میں جگہ بدل کر پیر دھوئے۔ اس طرح غسل جنابت کے بعد دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ، بشرطیکہ دوران غسل شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگے۔ (ص۔ي)(۲۳)جنبی کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جس سے جاگتے یا سوتے منی خارج ہوئی ہو یا اس نے مجامعت کی ہو خواہ منی کا انزال نہ ہوا ہو۔(۲۴)جسے یاد آ جائے کہ اسے احتلام ہوا ہے مگر کپڑوں پر منی کے نشانات موجود نہ ہوں تو اس پر غسل واجب نہیں کیونکہ جنابت متحقق نہیں ہوئی۔(۲۵)اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے تیمم مشروع فرمایا۔(۲۶)تیمم کے جواز کے اسباب میں سے ایک سبب ایسا مرض ہے جس میں پانی کے استعمال سے ضرر پہنچتا ہو۔ اس صورت میں تیمم جائز ہے۔ نیز تیمم کے جواز کے جملہ اسباب میں سفر، وضو کا ٹوٹنا اور پانی کا موجود نہ ہونا شامل ہیں ۔ پس پانی موجود ہونے کے باوجود مرض بھی تیمم کو جائز کر دیتا ہے کیونکہ وضو سے ضرر کا اندیشہ ہے... اور باقی صورتوں میں پانی کا معدوم ہونا تیمم کا جواز فراہم کرتا ہے۔ خواہ انسان اپنے گھر میں ہی ہو۔(۲۷)پیشاب اور پاخانہ کے راستوں میں سے کوئی چیز باہر نکلے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔(۲۸)وہ اہل علم جو اس بات کے قائل ہیں کہ ان دو امور کے سوا کسی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا، وہ یہیں سے استدلال کرتے ہیں ان کے نزدیک فرج وغیرہ کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔(۲۹)جس فعل کے لیے صریح لفظ برا اور نامناسب لگتا ہو اس کے لیے کنایہ استعمال کرنا مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَوۡ جَآءَؔ اَحَدٌ مِّؔنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآىِٕطِ ﴾’’یا تم میں سے کوئی بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو۔‘‘(۳۰) لذت اور شہوت سے عورت کے بدن کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔(فاضل مفسر رحمہ اللہ نے غالباً لمس کو لغوی معنی ہاتھ سے چھونے کے مفہوم میں لے کر یہ بات کہی ہے، جیسا کہ لمس کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے۔ اور دوسری تفسیر لمس کی۔ جماع۔ کی گئی ہے۔ اس تفسیر کی رو سے محض عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، ہاں اگر چھونے سے مذی یا منی کا اخراج ہوگیا تو مذی کی صورت میں ذکر (آلۂ تناسل) کو دھو کر وضو کرنا اور منی کی صورت میں غسل کرنا ضروری ہوگا۔ بصورت دیگر چاہے لذت و شہوت سے چھوئے، حتیٰ کہ بوسہ بھی لے لے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ (دیکھیے، الاحادیث الضعیفۃ للالباني، رقم: 1000)(ص۔ي)(۳۱)تیمم کی صحت پانی کے عدم وجود سے مشروط ہے۔(۳۲) پانی کے وجود کے ساتھ ہی، خواہ انسان نماز کے اندر ہی کیوں نہ ہو، تیمم باطل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پانی کی عدم موجودگی میں تیمم کو مباح فرمایا ہے۔ (یہ بھی بعض ائمہ کی رائے ہے۔ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ نماز شروع کردینے کے بعد نماز کے توڑنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ نماز پوری پڑھ لے۔ اس لیے کہ جس وقت اس نے نماز شروع کی تھی تو وہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کرکے شروع کی تھی اور اس کا ایسا کرنا شریعت کے مطابق تھا، اس لیے اس کی نماز صحیح ہوگی۔ کیونکہ یہ تیمم نماز کے ختم ہونے تک باطل نہیں ہوگا۔ (ص۔ي)(۳۳)جب نماز کا وقت داخل ہو جائے اور انسان کے پاس پانی موجود نہ ہو تو اس پر اپنے پڑاؤ اور ارد گرد نزدیک کے علاقہ میں پانی تلاش کرنا لازم ہے۔ کیونکہ جس کسی نے پانی کو تلاش ہی نہ کیا ہو تو اس کے لیے (لَمْ یَجِدْ)’’اس نے پانی نہ پایا‘‘ کا لفظ نہیں بولا جاتا۔(۳۴)اگر تلاش کے بعد اسے اتنا پانی ملے جو پورے وضو کے لیے کافی نہ ہو تو اس پر اس پانی کا استعمال لازم ہے۔ اس کے بعد تیمم کر لے۔(۳۵) پاک اشیا ءکی وجہ سے متغیر پانی، تیمم پر مقدم ہے، یعنی یہ پانی طاہر پانی شمار ہو گا کیونکہ متغیر پانی بھی پانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءًؔ ﴾کے حکم میں آئے گا۔(۳۶) تیمم میں نیت بہت ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَتَيَمَّمُوۡا ﴾ یعنی قصد کرو۔ (۳۷) تیمم کے لیے سطح زمین پر پڑی ہوئی گرد وغیرہ کافی ہوتی ہے تب اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ یا تو تغلیب کے باب سے ہے اور غالب طور پر اس کے لیے غبار کا ہونا ضروری ہے جس سے مسح کیا جائے اور جو چہرے اور ہاتھوں کے ساتھ لگ جائے یا یہ افضل کی طرف راہنمائی ہے، یعنی جب ایسی مٹی کا حصول ممکن ہو جس میں غبار شامل ہو تو وہ افضل ہے۔ (۳۸) نجس مٹی سے تیمم نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ پاک نہیں بلکہ ناپاک ہے۔ (۳۹) تیمم میں تمام اعضا کی بجائے صرف چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنا کافی ہے۔ (۴۰) اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿بِوُجُوۡهِكُمۡ ﴾ تمام چہرے کو شامل ہے اور تمام چہرے کا مسح واجب ہے، البتہ اس سے منہ اور ناک کے اندر مٹی داخل کرنا اور بالوں کی جڑوں تک مسح کرنا مستثنی ہے۔ (۴۱) ہاتھوں کا مسح صرف ہاتھ اور کلائی کے جوڑ تک ہے کیونکہ ہاتھ کا اطلاق صرف گٹے تک ہے۔ اگر کہنیوں تک ہاتھوں پر مسح تیمم کے لیے شرط ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس شرط سے مقید فرما دیتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وضو میں مقید فرمایا ہے۔ (۴۲) حدث (ناپاکی) خواہ اکبر ہو یا اصغر، ہر قسم کی ناپاکی میں تیمم جائز ہے بلکہ اگر جسم پر نجاست بھی لگی ہو، تب بھی تیمم جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیمم کے ذریعے سے طہارت کو پانی کے ذریعے سے طہارت کا بدل بنایا ہے اور آیت کریمہ کے اطلاق کو کسی چیز سے مقید نہیں فرمایا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ بدن کی نجاست، تیمم کے حکم میں داخل نہیں ۔ کیونکہ آیت کریمہ کا سیاق حدث اکبر اور حدث اصغر کے بارے میں ہے اور یہ جمہور علماء کا مذہب ہے۔ (۴۳)حدث اکبر اور حدث اصغر دونوں میں تیمم کا محل ایک ہی ہے یعنی چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرنا۔ (۴۴) وہ شخص جسے حدث اصغر اور حدث اکبر دونوں لاحق ہیں اگر تیمم کرتے وقت دونوں سے طہارت کی نیت کر لے تو تیمم ہو جائے گا۔ آیت کریمہ کا عموم اور اطلاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (۴۵) تیمم میں مسح ہاتھ سے یا کسی اور چیز سے جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد (فَامْسَحُوا) میں صرف مسح کا حکم دیا ہے اور یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس چیز کے ساتھ مسح کیا جائے۔ اس لیے ہر چیز کے ساتھ مسح جائز ہے۔ (۴۶) تیمم میں بھی ترتیب اسی طرح شرط ہے جس طرح وضو میں شرط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھوں کے مسح سے قبل چہرے کا مسح کرنے سے ابتدا کی ہے۔ (۴۷) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے لیے جو احکام مشروع فرمائے ہیں ان میں ہمارے لیے کوئی حرج، کوئی مشقت اور کوئی تنگی نہیں رکھی۔ یہ اس کی اپنے بندوں پر بے پایاں رحمت ہے تاکہ وہ ان کو پاک کرے اور ان پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ (۴۸) پانی اور مٹی کے ذریعے سے ظاہری بدن کی طہارت توحید اور خالص توبہ کے ذریعے سے حاصل ہونے والی باطنی طہارت کی تکمیل ہے۔ (۴۹) تیمم کی طہارت میں اگرچہ وہ نظافت اور طہارت نہیں ہوتی جس کا حس اور مشاہدہ کے ذریعے سے ادراک ہو سکتا ہو ،تاہم اس میں معنوی طہارت ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے پیدا ہوتی ہے۔ (۵۰) بندے کے لیے مناسب ہے کہ وہ طہارت اور دیگر شرعی احکام میں پوشیدہ اسرار و حکمت میں تدبر کرے تاکہ اس کے علم و معرفت میں اضافہ ہو۔ اور اس کی شکر گزاری اور محبت زیادہ ہو۔ ان احکام پر جو اللہ تعالیٰ نے مشروع کیے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر بندہ بلند مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔
المائدة 5:7
اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو (جو ہوئی) تم پر اور اس عہد کو جو معاہدہ کیا اس نے تم سے ساتھ اس کے، جب کہا تم نے، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نےاور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(7)
[7]اللہ تبارک و تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس کی عطا کردہ دینی اور دنیاوی نعمتوں کا قلب اور زبان سے ذکر کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے دائمی ذکر میں اس کے لیے شکر اور محبت کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور بندے کا دل اس کے احسان کی معرفت سے لبریز ہو جاتا ہے، دینی نعمتوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے بارے میں نفس کی خود پسندی زائل ہوتی ہے۔﴿وَمِيۡثَاقَهُ ﴾ ’’(اور یاد کرو) اس عہد کو بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے میثاق کو یاد کرو ﴿الَّذِيۡ وَاثَقَكُمۡ ﴾ ’’جس کا تم سے قول لیا تھا۔‘‘ یعنی وہ عہد جو اس نے تم سے لیا۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ بندوں نے اپنے نطق زبان سے اس عہد و میثاق کا اقرار کیا تھا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر اللہ اور رسول کی اطاعت کا التزام کیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿اِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا﴾ ’’جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (اللہ کا حکم) سن لیا اور قبول کرلیا۔‘‘ یعنی تو نے اپنی آیات قرآنیہ اور کونیہ کے ذریعے سے ہمیں جو دعوت دی، ہم نے اسے فہم، اطاعت اور فرماں برداری کے ساتھ سنا۔ تو نے جن امور پر عمل پیرا ہونے اور جن سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہم نے اس کی اطاعت کی۔ یہ ظاہری اور باطنی تمام شرعی احکام کو شامل ہے۔اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو یاد رکھتے ہیں اور یہ عہد ہر وقت انھیں ذہن نشیں رہتا ہے اور جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے اسے کامل طریقے سے ادا کرنے کے حریص ہیں ۔ ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے۔‘‘ یعنی دل میں جو افکار، اسرار اور خیالات چھپے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی جانتا ہے ، لہٰذا اس بات سے ڈرو کہ تمھارے دلوں میں موجود کسی ایسی بات کی اسے اطلاع ہو جس سے وہ راضی نہیں یا تم سے کوئی ایسا فعل صادر ہو جسے وہ ناپسند کرتا ہے اور اپنے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اللہ کے بندوں کی خیر خواہی سے آباد کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمھاری نیکیوں کو کئی گنا زیادہ کر دے گا کیونکہ اسے علم ہے کہ تمھارے دل درست ہیں ۔
المائدة 5:8
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم قائم رہنے والے (حق پر) اللہ کے لیے، گواہی دینے والے ساتھ انصاف کے اور نہ آمادہ کرے تمھیں دشمنی کسی قوم کی اس بات پر کہ نہ عدل کرو تم، عدل کرو یہی بات زیادہ قریب ہے تقویٰ کےاور ڈرو اللہ سے بے شک اللہ خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو(8)
[8]﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘یعنی اے وہ لوگو جو ان امور پر ایمان لائے ہو جن پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اپنے ایمان کے لوازم کو قائم کرو ﴿كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَؔ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اللہ کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔‘‘ یعنی انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی دینے کے لیے کھڑے ہونے والے بن جاؤ۔ تمھاری ظاہری اور باطنی حرکات قیام انصاف میں نشاط محسوس کریں ۔ اور یہ قیام عدل دنیاوی اغراض کی خاطر نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اور صرف (قسط)یعنی عدل تمھارا مقصد ہو۔ تمھارے اقوال و افعال میں کسی قسم کی افراط و تفریط نہ ہو اور تم قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو۔﴿وَلَا يَجۡرِمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’تمھیں ہرگز آمادہ نہ کرے‘‘ ﴿شَنَاٰنُ قَوۡمٍ ﴾ ’’لوگوں کی دشمنی۔‘‘ یعنی کسی قوم کے ساتھ کینہ و بغض ﴿عَلٰۤى اَلَّا تَعۡدِلُوۡا﴾ ’’اس بات پر کہ تم عدل نہ کرو‘‘ جیسا کہ وہ لوگ کرتے ہیں جن کے پاس عدل و انصاف کا کوئی تصور نہیں ۔ بلکہ ہونا یہ چاہیے کہ جیسے تم اپنے دوست کے حق میں گواہی دیتے ہو، اس کے خلاف بھی گواہی دو اور جیسے تم اپنے دشمن کے خلاف گواہی دیتے ہو تو اس کے حق میں بھی گواہی دو۔ خواہ تمھارا دشمن کافر یا بدعتی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بارے میں عدل کرنا اور اگر وہ حق بات کہتا ہے تو اسے قبول کرنا فرض ہے اور محض اس وجہ سے اس کا قول قبول نہ کیا جائے کہ وہ دوست کا قول ہے اور نہ دشمن کے قول کو محض اس وجہ سے رد کیا جائے کہ وہ دشمن کا قول ہے کیونکہ یہ حق پر ظلم ہے۔ ﴿اِعۡدِلُوۡا١۫ هُوَ اَ قۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى ﴾ ’’انصاف کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے‘‘ یعنی جب بھی تم عدل کرنے کی خواہش کرو گے اور اس خواہش پر عمل کرنے کی کوشش کرو گے تو یہ چیز تمھارے دلوں کے تقویٰ کے بہت قریب ہے۔ اگر عدل کی تکمیل ہو گئی تو تقویٰ بھی مکمل ہو گیا ﴿اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’یقینا اللہ اس سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو‘‘ اس لیے وہ تمھارے اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے تمام اعمال کی دنیا اور آخرت میں جزا دے گا۔
المائدة 5:9
وعدہ کیا اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا(9) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہی لوگ ہیں دوزخی(10)
[9]﴿وَعَدَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے وعدہ کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’اور جنھوں نے نیک عمل کیے‘‘ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کر دینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے صلہ کے طورپر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپارکھی گئی۔‘‘
[10]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کی تکذیب کی جو حق مبین پر دلالت کرتی ہیں حالانکہ ان آیات نے حقائق کو بیان کر دیا تھا ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’وہ جہنمی ہیں ۔‘‘ وہ جہنم کے ساتھ اس طرح لازم رہیں گے جس طرح دوست دوست کے ساتھ لازم رہتا ہے۔
المائدة 5:10
وعدہ کیا اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا(9) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہی لوگ ہیں دوزخی(10)
[9]﴿وَعَدَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے وعدہ کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’اور جنھوں نے نیک عمل کیے‘‘ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کر دینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے صلہ کے طورپر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپارکھی گئی۔‘‘
[10]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کی تکذیب کی جو حق مبین پر دلالت کرتی ہیں حالانکہ ان آیات نے حقائق کو بیان کر دیا تھا ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’وہ جہنمی ہیں ۔‘‘ وہ جہنم کے ساتھ اس طرح لازم رہیں گے جس طرح دوست دوست کے ساتھ لازم رہتا ہے۔
المائدة 5:11
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب ارادہ کیا تھا ایک قوم نے کہ دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ تو روک دیے اس نے ان کے ہاتھ تم سےاور ڈرو اللہ سے اور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ توکل کریں ایمان والے(11)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے اور انھیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ بھی دل و زبان سے ان نعمتوں کا ذکر کیا کریں ۔ جس طرح وہ اپنے دشمنوں کے قتل، ان کے مال کو مال غنیمت بنانے، ان کے شہروں کو فتح کرنے اور ان کے غلام بنانے کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیتے ہیں اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھی اعتراف کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھارے ساتھ لڑنے سے روکا اور ان کی سازشوں اور چالوں کو جو ان کے سینوں میں تھیں ، انھی پر لوٹا دیا۔ اس لیے کہ دشمنوں نے ایک سازش تیار کی اور ان کا گمان تھا کہ وہ اسے بروئے کار لانے میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جب وہ مومنوں کے خلاف اس سازش میں کامیاب نہیں ہوئے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی مدد ہے۔ اس لیے ان کو چاہیے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ، اس کی عبادت اور اس کا ذکر کریں ۔ کافر، منافقین اور باغیوں میں سے جن لوگوں نے بھی اہل ایمان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا، یہ آیت کریمہ ان سب کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کرنے اور دیگر تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں ، اس لیے فرمایا:﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول میں اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور اعتماد کریں ، اپنی قوت اور طاقت پر بھروسہ نہ کریں اور اپنے محبوب امور کے حصول میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور بندے کے ایمان کے مطابق ہی، اس کا اللہ پر توکل ہوتا ہے اور یہ دل کے ان واجبات میں سے ہے جن پر اتفاق ہے۔
المائدة 5:12
اور البتہ تحقیق لیا اللہ نے عہد بنی اسرائیل سے اور مقرر کیے ہم نے ان میں سے بارہ سردار اور کہا اللہ نے، بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں ، ، البتہ اگر قائم رکھو گے تم نماز اور ادا کرو گے زکاۃ اور ایمان لاؤ گے ساتھ میرے رسولوں کے اور تقویت پہنچاؤ گے ان کو اور قرض دو گے تم اللہ کو قرض حسن تو ضرور دور کر دوں گا میں تم سے تمھاری برائیاں اور ضرور داخل کروں گا تمھیں ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، پس جس نے کفر کیا بعد اس کے تم میں سے تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(12) پس بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو، لعنت کی ہم نے ان پر اور کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو سخت، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو ان کی جگہوں سے اور بھول گئے وہ ایک حصہ اس چیز سے کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے اور ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں آپ خیانت پر ان کی مگر تھوڑے لوگ ان میں سے، پس معاف کر دیں آپ ان کو اور درگزر کریں ، بے شک اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(13)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بہت موکد اور بھاری عہد لیا، پھر اس میثاق اور عہد کا وصف بیان فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کو کیا اجر ملے گا اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان کو کیا سزا ملے گی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کو اس کی پاداش میں کیا سزا ملی۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔‘‘ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے مضبوط اور موکد عہد لیا ﴿وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا﴾ ہم نے ان کے بارہ سردار مقرر کر دیے جو ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے اور جن باتوں کا انھیں حکم دیا جاتا تھا اس کی تعمیل کرنے پر انھیں آمادہ کرتے تھے۔ ﴿وَقَالَ اللّٰهُ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نقیبوں (سرداروں ) سے فرمایا جنھوں نے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا تھا ﴿ااِنِّيۡ مَعَكُمۡ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ یعنی میری اعانت و نصرت تمھارے ساتھ ہے۔ کیونکہ مدد ہمیشہ ذمہ داری کے بوجھ کے مطابق ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جن پر عہد لیا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ اَقَمۡتُمُ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اگر تم نماز پڑھتے رہو گے۔‘‘ یعنی اگر تم نماز کو اس کے ظاہری اور باطنی لوازم کے ساتھ قائم کرو اور پھر اس پر دوام اختیار کرو گے ﴿وَاٰتَيۡتُمُ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ دیتے رہو گے۔‘‘ یعنی مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دو گے ﴿وَاٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِيۡ ﴾ ’’اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے۔‘‘ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لاؤ گے، جن میں سب سے افضل اور سب سے اکمل جناب محمد مصطفیﷺ ہیں ﴿وَعَزَّرۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی مدد کروگے۔‘‘ یعنی اگر تم انبیاء کی تعظیم اور ان کی اطاعت اور ان کا احترام کرو گے جو تم پر واجب ہے ﴿وَاَقۡرَضۡتُمُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾ ’’اور تم اللہ کو قرض حسن دو گے‘‘ یعنی صدقہ دو گے اور بھلائی کرو گے جس کا مصدر صدق و اخلاص اور کسب حلال ہو۔جب تم مذکورہ بالا تمام امور قائم کر لو گے ﴿لَّاُكَفِّرَنَّ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’تو میں تم سے تمھاری برائیاں دور کر دوں گا اور تمھیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی‘‘ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت میں اپنی نعمتوں اور محبوب امور کے حصول اور گناہوں کی تکفیر اور اس پر مرتب ہونے والی سزا کو دور کر کے ناپسندیدہ امور کے دور ہٹنے کو یکجا بیان فرمایا۔﴿فَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر جس نے اس کے بعد کفر کیا۔‘‘ یعنی جو کوئی اس عہد و میثاق کے بعد جسے ایمان اور ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے موکد کیا گیا ہے۔ کفر کا رویہ اختیار کرتا ہے ﴿فَقَدۡ ضَلَّ سَوَؔآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ یعنی وہ جان بوجھ کر سیدھے راستے سے بھٹکتا ہے تو وہ اسی سزا کا مستحق ہو گا، جس کے مستحق گمراہ لوگ ہوں گے، جیسے ثواب سے محرومی اور عذاب سے دوچار ہونا۔
[13] گویا یوں کہا گیا ہے کہ ’’ کاش ہمیں بھی معلوم ہو تا کہ انھوں نے کیا کیا؟ کیا انھوں نے اس عہد کو پورا کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا یا اس عہد کو توڑ دیا؟‘‘ پس اللہ نے واضح کر دیا کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ کیے گئے اس عہد کو توڑ دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَبِمَا نَقۡضِهِمۡ مِّؔيۡثَاقَهُمۡ ﴾’’تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب۔‘‘ یعنی ان کے نقض عہد کے سبب سے ہم نے ان کو متعدد سزائیں دیں ۔(۱)﴿لَعَنّٰهُمۡ ﴾’’ہم نے ان پر لعنت کی۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو دھتکار کر اپنی رحمت سے دور کر دیا کیونکہ انھوں نے اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بند کر لیے اور انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔(۲)﴿وَجَعَلۡنَا قُلُوۡبَهُمۡ قٰسِيَةً﴾’’اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو پتھر دل بنا دیا، پس وعظ و نصیحت ان کے کسی کام آ سکتے ہیں نہ آیات اور نہ ہی برے انجام سے ڈرانے والے انھیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ کوئی شوق انھیں ترغیب دے سکتا ہے نہ کوئی خوف ان کو یہ عہد پورا کرنے کے لیے بے قرار کر سکتا ہے۔ بندے کے لیے یہ سب سے بڑی سزا ہے کہ اس کے دل کی یہ کیفیت ہو جائے کہ ہدایت اور بھلائی بھی اس پر برا اثر کریں ۔(۳)﴿يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ﴾ ’’یہ لوگ کلمات (کتاب)کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کلام اللہ میں تغیر و تبدل کے بھی مرتکب ہوئے، چنانچہ انھوں نے کلام الٰہی کے اس معنی کو، جو اللہ تعالیٰ کی مراد تھا، بدل کر وہ معنی بنا دیا جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ تھا۔(۴)﴿وَنَسُوۡا حَظًّا مِّؔمَّؔا ذُكِّرُوۡا بِهٖ﴾’’اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔‘‘ انھیں تورات اور ان تعلیمات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی جو موسیٰu پر نازل کی گئی تھیں مگر انھوں نے ان کو فراموش کر دیا۔ یہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ انھوں نے جناب موسیٰu کے علم کو فراموش کر دیا بنابریں علم ان سے ضائع ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ بہت سا علم ناپید ہو گیا۔ یہ آیت کریمہ نسیان عمل کو بھی شامل ہے جو ترک عمل کا نتیجہ ہے، پس جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا تھا اس پر عمل کرنے کی ان کو توفیق نہ ہوئی۔اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے بعض ان امور کا جو انکار کیا جن کا ذکر ان کی کتابوں میں ہے یا ان کے زمانے میں واقع ہوئے، یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن کو انھوں نے فراموش کیا۔(۵) دائمی خیانت، جس کے بارے میں فرمایا:﴿وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىِٕنَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان کی خیانت پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیانت۔ اور ان کی سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ انھوں نے ان لوگوں سے حق کو چھپایا جو ان کو نصیحت کرتے تھے اور ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے تھے ۔ اور ان کو ان کے کفر پر باقی رکھنا۔ پس یہ بہت بڑی خیانت ہے۔ اور جو کوئی ان صفات سے متصف ہوتا ہے اس میں یہ مذموم خصائل پائے جاتے ہیں ۔پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور ان کا التزام نہیں کرتا تو اس لعنت، قساوت قلبی اور کلام الٰہی کی تحریف میں وہ بھی حصہ دار ہوتا ہے۔ اس کو بھی حق اور صواب کی توفیق نہیں ملتی وہ بھی ان امور کو فراموش کرنے کا مرتکب ہوتا ہے جن کی اسے یاد دہانی کروائی گئی تھی اور ایسے شخص کا خیانت میں مبتلا ہونا بھی یقینی ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلب گار ہیں ۔جس امر کی انھیں یاد دہانی کروائی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو﴿حَظًّا ﴾ ’’حصہ، نصیبہ‘‘ کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا حظ ہے اس کے علاوہ دیگر تمام حظوظ دنیاوی حظوظ ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَخَرَ جَ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(القصص: 28؍79) ’’قارون بڑی سج دھج کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے طالب تھے، کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ دیا گیا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ وہ تو بہت بڑے نصیبے والا ہے۔‘‘ اور حظ نافع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(حم السجدۃ: 41؍35)’’یہ بات صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس سے وہی لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو بہت بڑے نصیبے والے ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’تھوڑے آدمیوں کے سوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ بہت کم تھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے پورا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق سے نوازا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کی ﴿فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاصۡفَحۡ﴾ ’’پس آپ ان کی خطائیں معاف کردیں اور ان سے درگزر فرمائیں ۔‘‘ ان کی طرف سے آپ کو جو بھی کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو معاف کر دینے کے قابل ہو اسے معاف کر دیا کریں ۔ اور ان سے درگزر کیجیے کیونکہ یہ بھلائی ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ اور احسان یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اپنے آپ میں یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ تو تجھے دیکھ رہا ہے اور مخلوق کے حق میں احسان یہ ہے کہ تو انھیں دینی اور دنیاوی فائدے سے نوازے۔
المائدة 5:13
اور البتہ تحقیق لیا اللہ نے عہد بنی اسرائیل سے اور مقرر کیے ہم نے ان میں سے بارہ سردار اور کہا اللہ نے، بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں ، ، البتہ اگر قائم رکھو گے تم نماز اور ادا کرو گے زکاۃ اور ایمان لاؤ گے ساتھ میرے رسولوں کے اور تقویت پہنچاؤ گے ان کو اور قرض دو گے تم اللہ کو قرض حسن تو ضرور دور کر دوں گا میں تم سے تمھاری برائیاں اور ضرور داخل کروں گا تمھیں ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، پس جس نے کفر کیا بعد اس کے تم میں سے تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(12) پس بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو، لعنت کی ہم نے ان پر اور کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو سخت، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو ان کی جگہوں سے اور بھول گئے وہ ایک حصہ اس چیز سے کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے اور ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں آپ خیانت پر ان کی مگر تھوڑے لوگ ان میں سے، پس معاف کر دیں آپ ان کو اور درگزر کریں ، بے شک اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(13)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بہت موکد اور بھاری عہد لیا، پھر اس میثاق اور عہد کا وصف بیان فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کو کیا اجر ملے گا اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان کو کیا سزا ملے گی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کو اس کی پاداش میں کیا سزا ملی۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔‘‘ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے مضبوط اور موکد عہد لیا ﴿وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا﴾ ہم نے ان کے بارہ سردار مقرر کر دیے جو ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے اور جن باتوں کا انھیں حکم دیا جاتا تھا اس کی تعمیل کرنے پر انھیں آمادہ کرتے تھے۔ ﴿وَقَالَ اللّٰهُ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نقیبوں (سرداروں ) سے فرمایا جنھوں نے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا تھا ﴿ااِنِّيۡ مَعَكُمۡ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ یعنی میری اعانت و نصرت تمھارے ساتھ ہے۔ کیونکہ مدد ہمیشہ ذمہ داری کے بوجھ کے مطابق ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جن پر عہد لیا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ اَقَمۡتُمُ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اگر تم نماز پڑھتے رہو گے۔‘‘ یعنی اگر تم نماز کو اس کے ظاہری اور باطنی لوازم کے ساتھ قائم کرو اور پھر اس پر دوام اختیار کرو گے ﴿وَاٰتَيۡتُمُ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ دیتے رہو گے۔‘‘ یعنی مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دو گے ﴿وَاٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِيۡ ﴾ ’’اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے۔‘‘ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لاؤ گے، جن میں سب سے افضل اور سب سے اکمل جناب محمد مصطفیﷺ ہیں ﴿وَعَزَّرۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی مدد کروگے۔‘‘ یعنی اگر تم انبیاء کی تعظیم اور ان کی اطاعت اور ان کا احترام کرو گے جو تم پر واجب ہے ﴿وَاَقۡرَضۡتُمُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾ ’’اور تم اللہ کو قرض حسن دو گے‘‘ یعنی صدقہ دو گے اور بھلائی کرو گے جس کا مصدر صدق و اخلاص اور کسب حلال ہو۔جب تم مذکورہ بالا تمام امور قائم کر لو گے ﴿لَّاُكَفِّرَنَّ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’تو میں تم سے تمھاری برائیاں دور کر دوں گا اور تمھیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی‘‘ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت میں اپنی نعمتوں اور محبوب امور کے حصول اور گناہوں کی تکفیر اور اس پر مرتب ہونے والی سزا کو دور کر کے ناپسندیدہ امور کے دور ہٹنے کو یکجا بیان فرمایا۔﴿فَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر جس نے اس کے بعد کفر کیا۔‘‘ یعنی جو کوئی اس عہد و میثاق کے بعد جسے ایمان اور ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے موکد کیا گیا ہے۔ کفر کا رویہ اختیار کرتا ہے ﴿فَقَدۡ ضَلَّ سَوَؔآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ یعنی وہ جان بوجھ کر سیدھے راستے سے بھٹکتا ہے تو وہ اسی سزا کا مستحق ہو گا، جس کے مستحق گمراہ لوگ ہوں گے، جیسے ثواب سے محرومی اور عذاب سے دوچار ہونا۔
[13] گویا یوں کہا گیا ہے کہ ’’ کاش ہمیں بھی معلوم ہو تا کہ انھوں نے کیا کیا؟ کیا انھوں نے اس عہد کو پورا کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا یا اس عہد کو توڑ دیا؟‘‘ پس اللہ نے واضح کر دیا کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ کیے گئے اس عہد کو توڑ دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَبِمَا نَقۡضِهِمۡ مِّؔيۡثَاقَهُمۡ ﴾’’تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب۔‘‘ یعنی ان کے نقض عہد کے سبب سے ہم نے ان کو متعدد سزائیں دیں ۔(۱)﴿لَعَنّٰهُمۡ ﴾’’ہم نے ان پر لعنت کی۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو دھتکار کر اپنی رحمت سے دور کر دیا کیونکہ انھوں نے اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بند کر لیے اور انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔(۲)﴿وَجَعَلۡنَا قُلُوۡبَهُمۡ قٰسِيَةً﴾’’اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو پتھر دل بنا دیا، پس وعظ و نصیحت ان کے کسی کام آ سکتے ہیں نہ آیات اور نہ ہی برے انجام سے ڈرانے والے انھیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ کوئی شوق انھیں ترغیب دے سکتا ہے نہ کوئی خوف ان کو یہ عہد پورا کرنے کے لیے بے قرار کر سکتا ہے۔ بندے کے لیے یہ سب سے بڑی سزا ہے کہ اس کے دل کی یہ کیفیت ہو جائے کہ ہدایت اور بھلائی بھی اس پر برا اثر کریں ۔(۳)﴿يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ﴾ ’’یہ لوگ کلمات (کتاب)کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کلام اللہ میں تغیر و تبدل کے بھی مرتکب ہوئے، چنانچہ انھوں نے کلام الٰہی کے اس معنی کو، جو اللہ تعالیٰ کی مراد تھا، بدل کر وہ معنی بنا دیا جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ تھا۔(۴)﴿وَنَسُوۡا حَظًّا مِّؔمَّؔا ذُكِّرُوۡا بِهٖ﴾’’اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔‘‘ انھیں تورات اور ان تعلیمات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی جو موسیٰu پر نازل کی گئی تھیں مگر انھوں نے ان کو فراموش کر دیا۔ یہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ انھوں نے جناب موسیٰu کے علم کو فراموش کر دیا بنابریں علم ان سے ضائع ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ بہت سا علم ناپید ہو گیا۔ یہ آیت کریمہ نسیان عمل کو بھی شامل ہے جو ترک عمل کا نتیجہ ہے، پس جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا تھا اس پر عمل کرنے کی ان کو توفیق نہ ہوئی۔اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے بعض ان امور کا جو انکار کیا جن کا ذکر ان کی کتابوں میں ہے یا ان کے زمانے میں واقع ہوئے، یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن کو انھوں نے فراموش کیا۔(۵) دائمی خیانت، جس کے بارے میں فرمایا:﴿وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىِٕنَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان کی خیانت پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیانت۔ اور ان کی سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ انھوں نے ان لوگوں سے حق کو چھپایا جو ان کو نصیحت کرتے تھے اور ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے تھے ۔ اور ان کو ان کے کفر پر باقی رکھنا۔ پس یہ بہت بڑی خیانت ہے۔ اور جو کوئی ان صفات سے متصف ہوتا ہے اس میں یہ مذموم خصائل پائے جاتے ہیں ۔پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور ان کا التزام نہیں کرتا تو اس لعنت، قساوت قلبی اور کلام الٰہی کی تحریف میں وہ بھی حصہ دار ہوتا ہے۔ اس کو بھی حق اور صواب کی توفیق نہیں ملتی وہ بھی ان امور کو فراموش کرنے کا مرتکب ہوتا ہے جن کی اسے یاد دہانی کروائی گئی تھی اور ایسے شخص کا خیانت میں مبتلا ہونا بھی یقینی ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلب گار ہیں ۔جس امر کی انھیں یاد دہانی کروائی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو﴿حَظًّا ﴾ ’’حصہ، نصیبہ‘‘ کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا حظ ہے اس کے علاوہ دیگر تمام حظوظ دنیاوی حظوظ ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَخَرَ جَ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(القصص: 28؍79) ’’قارون بڑی سج دھج کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے طالب تھے، کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ دیا گیا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ وہ تو بہت بڑے نصیبے والا ہے۔‘‘ اور حظ نافع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(حم السجدۃ: 41؍35)’’یہ بات صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس سے وہی لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو بہت بڑے نصیبے والے ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’تھوڑے آدمیوں کے سوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ بہت کم تھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے پورا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق سے نوازا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کی ﴿فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاصۡفَحۡ﴾ ’’پس آپ ان کی خطائیں معاف کردیں اور ان سے درگزر فرمائیں ۔‘‘ ان کی طرف سے آپ کو جو بھی کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو معاف کر دینے کے قابل ہو اسے معاف کر دیا کریں ۔ اور ان سے درگزر کیجیے کیونکہ یہ بھلائی ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ اور احسان یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اپنے آپ میں یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ تو تجھے دیکھ رہا ہے اور مخلوق کے حق میں احسان یہ ہے کہ تو انھیں دینی اور دنیاوی فائدے سے نوازے۔
المائدة 5:14
اور ان لوگوں سے جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں ، لیا ہم نے عہد ان سے، پس بھول گئے وہ ایک حصہ اس چیز سے کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو ڈال دی ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور بغض روز قیامت تک اور عنقریب خبر دے گا ان کو اللہ ساتھ اس چیز کے جو تھے وہ کرتے(14)
[14] یعنی جس طرح ہم نے یہود سے عہد لیا اسی طرح ہم نے نصاریٰ سے بھی عہد لیا ﴿وَمِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى ﴾ ’’اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں ۔‘‘ یعنی جو کہتے ہیں کہ ہم حضرت عیسیٰu کے مددگار ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے انبیاء و رسل اور ان پر نازل شدہ کتابوں پر ایمان لا کر اپنے آپ کو پاک کیا اور پھر عہد کو توڑ دیا ﴿فَنَسُوۡا حَظًّا مِّؔمَّؔا ذُكِّرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’پھر بھول گئے وہ نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی‘‘ یعنی وہ نسیان علمی اور نسیان عملی کا شکار ہو گئے ﴿ فَاَغۡرَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَؔ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’پس ہم نے لگا دی آپس میں ان کی دشمنی اور کینہ، قیامت کے دن تک‘‘ یعنی ہم نے انھیں ایک دوسرے پر مسلط کر دیا، ان کے درمیان شر و فساد اور کینہ نے جنم لیا جو قیامت تک کے لیے ایک دوسرے کے خلاف بغض اور عداوت کا باعث ہے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا مشاہدہ کیاجا سکتا ہے کیونکہ نصاریٰ ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بغض، مخالفت اور عداوت رکھتے چلے آ رہے ہیں ﴿وَسَوۡفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’اور عنقریب اللہ ان کو خبر دے گا، جو کچھ وہ کرتے تھے‘‘ اور انھیں ان کی کارستانیوں پر عذاب دے گا۔
المائدة 5:15
اے اہل کتاب! تحقیق آیا ہے تمھارے پاس ہمارا رسول، وہ بیان کرتا ہے تمھارے لیے بہ کثرت ان چیزوں سے کہ تھے تم چھپاتے کتاب میں سے اور درگزر کرتا ہے بہت سی باتوں سے۔ تحقیق آگئی تمھارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب واضح(15) دکھاتا ہے ساتھ اس کے اللہ اس شخص کو کہ پیروی کرتا ہے وہ اس کی رضامندی کی، راہیں سلامتی کی اور نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے طرف روشنی کی اپنے حکم سے اور راہنمائی کرتا ہے ان کی، طرف سیدھی راہ کی(16)
[15] جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد اور میثاق کا ذکر کیا جو اس نے اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا تھا مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے اس عہد کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں اور آپ کی نبوت پر ایک قطعی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا۔ اور وہ یہ کہ آپﷺ ان کے سامنے وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہیں حتیٰ کہ خود اپنے عوام سے بھی چھپاتے ہیں ، پس جب یہی لوگ علم کے بارے میں عوام کا مرجع تھے اور علم کے خواہش مند کے لیے ان کے بغیر علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا تو ان حالات میں رسول اللہﷺ کا قرآن کریم کے ساتھ مبعوث ہونا اور ان تمام امورکو کھول کھول کر بیان کر دینا جو وہ چھپاتے تھے، دراں حالیکہ آپ ان پڑھ تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، آپﷺ کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے، مثلاً: ان کی کتابوں میں جناب محمدﷺ کی صفات اور بشارتیں موجود تھیں ۔ اسی طرح آیت رجم کو، (جسے وہ چھپاتے تھے)رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا۔﴿وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍ﴾ ’’اور درگزر کرتا ہے وہ بہت سی چیزوں سے‘‘ یعنی آپﷺ نے بہت سی ایسی باتوں کو بیان نہیں فرمایا جن کو بیان کرنا حکمت کا تقاضا نہیں تھا ﴿قَدۡ جَآءَؔكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ نُوۡرٌؔ ﴾ ’’تحقیق آ گیا تمھارے پاس اللہ کی طرف سے نور‘‘ اس نور سے مراد قرآن کریم ہے جس سے جہالت کی تاریکیوں اور گمراہی کے اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے ﴿وَّكِتٰبٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور روشن کتاب۔‘‘ مخلوق اپنے دین و دنیا کے جن امور کی محتاج ہے اس کتاب نے ان کو واضح کر دیا ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ، اس کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعی اور احکام جزائی کا علم۔
[16] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کون ہے جو اس قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور وہ کون سا سبب ہے جو بندہ اس راہنمائی کے حصول کے لیے اختیار کرتا ہے۔ ﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ﴾’’اللہ اس کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے، اس کو جو اس کی رضامندی کی پیروی کرتا ہے، سلامتی کے راستوں کی‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حریص ہوتا ہے اور پھر اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اس کا قصد و ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سلامتی کے راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو اسے عذاب سے بچا کر سلامتی کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں سلامتی کے گھر سے مراد حق کا اجمالی اور تفصیلی علم اور اس پر عمل کرنا ہے۔﴿وَيُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ ﴾ ’’اور ان کو تاریکیوں سے نکالتا ہے‘‘ یعنی کفر، بدعت، معصیت، جہالت اور غفلت کی تاریکیوں سے ﴿اِلَى النُّوۡرِ ﴾ ’’روشنی کی طرف‘‘ ایمان، سنت، اطاعت، علم اور ذکر الٰہی کی روشنی۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے راہ ہدایت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا ﴿وَيَهۡدِيۡهِمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔‘‘
المائدة 5:16
اے اہل کتاب! تحقیق آیا ہے تمھارے پاس ہمارا رسول، وہ بیان کرتا ہے تمھارے لیے بہ کثرت ان چیزوں سے کہ تھے تم چھپاتے کتاب میں سے اور درگزر کرتا ہے بہت سی باتوں سے۔ تحقیق آگئی تمھارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب واضح(15) دکھاتا ہے ساتھ اس کے اللہ اس شخص کو کہ پیروی کرتا ہے وہ اس کی رضامندی کی، راہیں سلامتی کی اور نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے طرف روشنی کی اپنے حکم سے اور راہنمائی کرتا ہے ان کی، طرف سیدھی راہ کی(16)
[15] جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد اور میثاق کا ذکر کیا جو اس نے اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا تھا مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے اس عہد کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں اور آپ کی نبوت پر ایک قطعی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا۔ اور وہ یہ کہ آپﷺ ان کے سامنے وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہیں حتیٰ کہ خود اپنے عوام سے بھی چھپاتے ہیں ، پس جب یہی لوگ علم کے بارے میں عوام کا مرجع تھے اور علم کے خواہش مند کے لیے ان کے بغیر علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا تو ان حالات میں رسول اللہﷺ کا قرآن کریم کے ساتھ مبعوث ہونا اور ان تمام امورکو کھول کھول کر بیان کر دینا جو وہ چھپاتے تھے، دراں حالیکہ آپ ان پڑھ تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، آپﷺ کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے، مثلاً: ان کی کتابوں میں جناب محمدﷺ کی صفات اور بشارتیں موجود تھیں ۔ اسی طرح آیت رجم کو، (جسے وہ چھپاتے تھے)رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا۔﴿وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍ﴾ ’’اور درگزر کرتا ہے وہ بہت سی چیزوں سے‘‘ یعنی آپﷺ نے بہت سی ایسی باتوں کو بیان نہیں فرمایا جن کو بیان کرنا حکمت کا تقاضا نہیں تھا ﴿قَدۡ جَآءَؔكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ نُوۡرٌؔ ﴾ ’’تحقیق آ گیا تمھارے پاس اللہ کی طرف سے نور‘‘ اس نور سے مراد قرآن کریم ہے جس سے جہالت کی تاریکیوں اور گمراہی کے اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے ﴿وَّكِتٰبٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور روشن کتاب۔‘‘ مخلوق اپنے دین و دنیا کے جن امور کی محتاج ہے اس کتاب نے ان کو واضح کر دیا ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ، اس کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعی اور احکام جزائی کا علم۔
[16] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کون ہے جو اس قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور وہ کون سا سبب ہے جو بندہ اس راہنمائی کے حصول کے لیے اختیار کرتا ہے۔ ﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ﴾’’اللہ اس کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے، اس کو جو اس کی رضامندی کی پیروی کرتا ہے، سلامتی کے راستوں کی‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حریص ہوتا ہے اور پھر اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اس کا قصد و ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سلامتی کے راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو اسے عذاب سے بچا کر سلامتی کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں سلامتی کے گھر سے مراد حق کا اجمالی اور تفصیلی علم اور اس پر عمل کرنا ہے۔﴿وَيُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ ﴾ ’’اور ان کو تاریکیوں سے نکالتا ہے‘‘ یعنی کفر، بدعت، معصیت، جہالت اور غفلت کی تاریکیوں سے ﴿اِلَى النُّوۡرِ ﴾ ’’روشنی کی طرف‘‘ ایمان، سنت، اطاعت، علم اور ذکر الٰہی کی روشنی۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے راہ ہدایت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا ﴿وَيَهۡدِيۡهِمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔‘‘
المائدة 5:17
البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا: بے شک اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے۔ کہہ دیجیے: پس کون اختیار رکھتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ ارادہ کر لے ہلاک کرنے کا مسیح ابن مریم اور ان کی ماں کو اور ان کو جو زمین میں ہیں سارے؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(17) اور کہا یہود نے اور نصاریٰ نے ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے، کہہ دیجیے: پس کیوں عذاب کرتا ہے وہ تمھیں تمھارے گناہوں کی وجہ سےبلکہ تم بھی انسان ہی ہو ان میں سے جن کو اس نے پیدا کیا وہ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہےاور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف ہے پھر کر جانا(18)
[17] اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے عہد لینے اور ان کے نقض عہد کا ذکر کرنے کے بعد ان کے اقوال قبیحہ کا ذکر فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے قول کا ذکر فرمایا اور یہ بات نصاریٰ سے پہلے کسی نے نہیں کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ اور ان کے شبہ کا سبب یہ ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، بنابریں یہ اعتقاد باطل ان کے اندر در آیا۔ حالانکہ جناب حوا کی تخلیق اس کی نظیر ہے جن کو بغیر ماں کے پیدا کیا گیا اور اس لحاظ سے جناب آدم تو الوہیت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جو باپ اور ماں دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔ کیا انھوں نے آدمu اور جناب حوا کے بارے میں اسی طرح الوہیت کا دعویٰ کیا ہے جس طرح انھوں نے مسیحu کے بارے میں کیا؟ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا حضرت مسیح کی الوہیت کا دعوی بغیر کسی برہان کے خواہش نفس کی پیروی ہے۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح عقلی دلائل سے ان کے اس قول باطل کا رد کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ فَمَنۡ يَّمۡلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّهۡلِكَ الۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا﴾ ’’فرما دیجیے، پس کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور تمام اہل زمین کو‘‘ چونکہ اگر اللہ تعالیٰ ان مذکور لوگوں کو ہلاک کرنا چاہے تو ان کے پاس اپنے آپ کو بچانے کی قدرت اور طاقت نہیں۔ اس لیے یہ اس ہستی کی الوہیت کے بطلان کی دلیل ہے جو اپنے آپ کو ہلاکت سے نہیں بچا سکتی اور نہ چھڑا سکتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے ﴿لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے۔‘‘ پس وہ ان میں تکوینی ، شرعی اور جزائی احکام کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے وہ سب مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کیا مملوک اور بندۂ محتاج کے لائق ہے کہ وہ الٰہ بن جائے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہو؟.... یہ سب سے بڑا محال ہے۔عیسیٰu کا بغیر باپ کے متولد ہونا کوئی انہونی اور تعجب خیز بات نہیں ﴿ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ﴾ ’’وہ (اللہ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔‘‘ چاہے تو ماں اور باپ کے ذریعے سے پیدا کرے، جیسا کہ تمام بنی آدم کی تخلیق ہوئی ہے۔ چاہے تو بغیر ماں کے، صرف باپ سے پیدا کرے جیسے حضرت حوا کا معاملہ ہے۔ چاہے تو کسی کو بغیر باپ کے، ماں سے پیدا کرے، جیسے حضرت عیسیٰu کی تخلیق ہوئی اور چاہے تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کرے، جیسے حضرت آدم کی پیدائش ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت نافذہ سے اپنی مخلوق کو الگ الگ انداز سے پیدا فرمایا جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ۔ بنابریں فرمایا :﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
[18] یہود و نصاریٰ کے دعاوی میں سے۔ جبکہ ان کے تمام دعوے باطل ہیں ۔ ایک دعویٰ یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں ﴿ نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ﴾ ’’ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ‘‘ ان کی لغت میں بیٹے سے مراد محبوب ہے وہ اس سے حقیقی ابنیت (بیٹا ہونا) مراد نہیں لیتے۔ کیونکہ یہ ان کا مذہب نہیں ہے سوائے حضرت مسیح کے بارے میں کہ عیسائی ان کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ۔ چونکہ ان کا دعویٰ دلیل و برہان سے محروم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُؔكُمۡ بِذُنُوۡبِكُمۡ﴾’’کہہ دیجیے، پھر وہ کیوں تمھیں تمھارے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا؟‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے تو وہ تمھیں کبھی عذاب نہ دیتا کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اسی کو محبوب بناتا ہے جو اس کی مرضی کو پورا کرتا ہے۔﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ مِّمَّنۡ خَلَقَ﴾ ’’بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو، اس کی مخلوق میں سے‘‘ تم پر بھی اللہ تعالیٰ کے عدل و فضل کے تمام احکام جاری ہوتے ہیں ﴿يَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے۔‘‘ یعنی جب وہ مغفرت یا عذاب کے اسباب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو اللہ ان اسباب کے مطابق ان کو بخش دیتا ہے یا عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا١ٞ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ یعنی کس چیز نے تمھارے لیے اس فضیلت کو مختص کیا ہے جبکہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے جملہ مملوکات میں شامل ہو اور تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جنھیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ وہاں وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
المائدة 5:18
البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا: بے شک اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے۔ کہہ دیجیے: پس کون اختیار رکھتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ ارادہ کر لے ہلاک کرنے کا مسیح ابن مریم اور ان کی ماں کو اور ان کو جو زمین میں ہیں سارے؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(17) اور کہا یہود نے اور نصاریٰ نے ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے، کہہ دیجیے: پس کیوں عذاب کرتا ہے وہ تمھیں تمھارے گناہوں کی وجہ سےبلکہ تم بھی انسان ہی ہو ان میں سے جن کو اس نے پیدا کیا وہ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہےاور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف ہے پھر کر جانا(18)
[17] اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے عہد لینے اور ان کے نقض عہد کا ذکر کرنے کے بعد ان کے اقوال قبیحہ کا ذکر فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے قول کا ذکر فرمایا اور یہ بات نصاریٰ سے پہلے کسی نے نہیں کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ اور ان کے شبہ کا سبب یہ ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، بنابریں یہ اعتقاد باطل ان کے اندر در آیا۔ حالانکہ جناب حوا کی تخلیق اس کی نظیر ہے جن کو بغیر ماں کے پیدا کیا گیا اور اس لحاظ سے جناب آدم تو الوہیت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جو باپ اور ماں دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔ کیا انھوں نے آدمu اور جناب حوا کے بارے میں اسی طرح الوہیت کا دعویٰ کیا ہے جس طرح انھوں نے مسیحu کے بارے میں کیا؟ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا حضرت مسیح کی الوہیت کا دعوی بغیر کسی برہان کے خواہش نفس کی پیروی ہے۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح عقلی دلائل سے ان کے اس قول باطل کا رد کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ فَمَنۡ يَّمۡلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّهۡلِكَ الۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا﴾ ’’فرما دیجیے، پس کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور تمام اہل زمین کو‘‘ چونکہ اگر اللہ تعالیٰ ان مذکور لوگوں کو ہلاک کرنا چاہے تو ان کے پاس اپنے آپ کو بچانے کی قدرت اور طاقت نہیں۔ اس لیے یہ اس ہستی کی الوہیت کے بطلان کی دلیل ہے جو اپنے آپ کو ہلاکت سے نہیں بچا سکتی اور نہ چھڑا سکتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے ﴿لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے۔‘‘ پس وہ ان میں تکوینی ، شرعی اور جزائی احکام کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے وہ سب مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کیا مملوک اور بندۂ محتاج کے لائق ہے کہ وہ الٰہ بن جائے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہو؟.... یہ سب سے بڑا محال ہے۔عیسیٰu کا بغیر باپ کے متولد ہونا کوئی انہونی اور تعجب خیز بات نہیں ﴿ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ﴾ ’’وہ (اللہ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔‘‘ چاہے تو ماں اور باپ کے ذریعے سے پیدا کرے، جیسا کہ تمام بنی آدم کی تخلیق ہوئی ہے۔ چاہے تو بغیر ماں کے، صرف باپ سے پیدا کرے جیسے حضرت حوا کا معاملہ ہے۔ چاہے تو کسی کو بغیر باپ کے، ماں سے پیدا کرے، جیسے حضرت عیسیٰu کی تخلیق ہوئی اور چاہے تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کرے، جیسے حضرت آدم کی پیدائش ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت نافذہ سے اپنی مخلوق کو الگ الگ انداز سے پیدا فرمایا جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ۔ بنابریں فرمایا :﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
[18] یہود و نصاریٰ کے دعاوی میں سے۔ جبکہ ان کے تمام دعوے باطل ہیں ۔ ایک دعویٰ یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں ﴿ نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ﴾ ’’ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ‘‘ ان کی لغت میں بیٹے سے مراد محبوب ہے وہ اس سے حقیقی ابنیت (بیٹا ہونا) مراد نہیں لیتے۔ کیونکہ یہ ان کا مذہب نہیں ہے سوائے حضرت مسیح کے بارے میں کہ عیسائی ان کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ۔ چونکہ ان کا دعویٰ دلیل و برہان سے محروم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُؔكُمۡ بِذُنُوۡبِكُمۡ﴾’’کہہ دیجیے، پھر وہ کیوں تمھیں تمھارے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا؟‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے تو وہ تمھیں کبھی عذاب نہ دیتا کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اسی کو محبوب بناتا ہے جو اس کی مرضی کو پورا کرتا ہے۔﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ مِّمَّنۡ خَلَقَ﴾ ’’بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو، اس کی مخلوق میں سے‘‘ تم پر بھی اللہ تعالیٰ کے عدل و فضل کے تمام احکام جاری ہوتے ہیں ﴿يَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے۔‘‘ یعنی جب وہ مغفرت یا عذاب کے اسباب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو اللہ ان اسباب کے مطابق ان کو بخش دیتا ہے یا عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا١ٞ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ یعنی کس چیز نے تمھارے لیے اس فضیلت کو مختص کیا ہے جبکہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے جملہ مملوکات میں شامل ہو اور تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جنھیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ وہاں وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
المائدة 5:19
اے اہل کتاب! تحقیق آیا تمھارے پاس ہمارا رسول، بیان کرتا ہے وہ تمھارے لیے، پیچھے موقوف ہو جانے رسولوں کے کہیں تم نہ کہو کہ نہیں آیا ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور نہ ڈرانے والا، پس تحقیق آگیا تمھارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے(19)
[19] اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو کتاب عطا کر کے ان پر احسان فرمایا اور اس سبب سے انھیں دعوت دی کہ وہ اس کے رسول محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ان کی طرف رسول بھیجا ﴿عَلٰى فَتۡرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ ﴾ ’’رسولوں کے مبعوث ہونے کا سلسلہ منقطع رہنے کے بعد‘‘ اور ان کی شدید احتیاج کی بنا پر۔ یہ چیز اس بات کی داعی ہے کہ آپﷺ پر ایمان لایا جائے اور ان کے سامنے تمام مطالب الہیہ اور احکام شرعیہ بیان کیے جائیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس طرح ان پر حجت پوری کر دی تاکہ وہ یہ نہ کہیں ﴿مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ﴾ ’’کہ ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا آیا نہ کوئی ڈرانے والا‘‘ ﴿فَقَدۡ جَآءَؔكُمۡ بَشِيۡرٌ وَّنَذِيۡرٌ﴾’’پس تحقیق تمھارے پاس خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا آگیا‘‘ جو دنیوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری دیتا ہے اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہے جو اس ثواب کے حصول کے موجب ہیں ، نیز ان اعمال کو بجا لانے والوں کی صفات بیان کرتا ہے اور دنیوی اور اخروی عذاب اور ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اس عذاب کا باعث بنتے ہیں اور ان اعمال کا ارتکاب کرنے والوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہے۔﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ تمام اشیاء نے اس کی قدرت کاملہ کے سامنے اطاعت سے سرتسلیم خم کر رکھا ہے کسی کو اس کی نافرمانی کی مجال نہیں ۔ یہ اس کی قدرت کاملہ ہی ہے کہ اس نے رسول مبعوث فرمائے، کتابیں نازل کیں جو ان رسولوں کی اطاعت کرتا ہے، اسے ثواب عطا کرتا ہے اور جو ان کی نافرمانی کرتا ہے انھیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔
المائدة 5:20
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
المائدة 5:21
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
المائدة 5:22
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
المائدة 5:23
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
المائدة 5:24
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
المائدة 5:25
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
المائدة 5:26
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
المائدة 5:27
اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)
[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لیے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے۔
[29]﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓءَاۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔‘‘ ﴿ بِـاِثۡمِيۡ وَاِثۡمِكَ ﴾ ’’میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ‘‘ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مجھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے ﴿ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ١ۚ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہو جائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔‘‘یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔
[30] وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹا نہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا‘‘ یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گیا اور اس نے ہر قاتل کے لیے ایک سنت رائج کر دی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے‘‘(دیکھیے: صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ… الخ، حدیث: 1017) بنابریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔‘‘ (دیکھیے: جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء أن الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث: 2673)
[31] جب اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے کیونکہ آدم کے بیٹوں میں وہ پہلا شخص تھا جو مرا تھا ﴿ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبۡحَثُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تو اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدتا تھا‘‘ یعنی وہ زمین کھودتا ہے تاکہ دوسرے مردہ کوے کو دفن کرے ﴿ لِيُرِيَهٗ ﴾ ’’تاکہ اسے دکھائے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے آدم کے قاتل بیٹے کو دکھائے ﴿ كَيۡفَ يُوَارِيۡ سَوۡءَةَ اَخِيۡهِ ﴾ ’’ کہ وہ اپنے بھائی کے بدن کو کیسے چھپائے۔‘‘ کیونکہ میت کا بدن ستر ہوتا ہے ﴿ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہ نادم ہونے والوں میں سے ہو گیا‘‘ اسی طرح تمام گناہوں کا انجام ندامت اور خسارہ ہے۔
المائدة 5:28
اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)
[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لیے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے۔
[29]﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓءَاۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔‘‘ ﴿ بِـاِثۡمِيۡ وَاِثۡمِكَ ﴾ ’’میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ‘‘ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مجھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے ﴿ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ١ۚ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہو جائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔‘‘یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔
[30] وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹا نہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا‘‘ یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گیا اور اس نے ہر قاتل کے لیے ایک سنت رائج کر دی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے‘‘(دیکھیے: صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ… الخ، حدیث: 1017) بنابریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔‘‘ (دیکھیے: جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء أن الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث: 2673)
[31] جب اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے کیونکہ آدم کے بیٹوں میں وہ پہلا شخص تھا جو مرا تھا ﴿ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبۡحَثُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تو اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدتا تھا‘‘ یعنی وہ زمین کھودتا ہے تاکہ دوسرے مردہ کوے کو دفن کرے ﴿ لِيُرِيَهٗ ﴾ ’’تاکہ اسے دکھائے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے آدم کے قاتل بیٹے کو دکھائے ﴿ كَيۡفَ يُوَارِيۡ سَوۡءَةَ اَخِيۡهِ ﴾ ’’ کہ وہ اپنے بھائی کے بدن کو کیسے چھپائے۔‘‘ کیونکہ میت کا بدن ستر ہوتا ہے ﴿ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہ نادم ہونے والوں میں سے ہو گیا‘‘ اسی طرح تمام گناہوں کا انجام ندامت اور خسارہ ہے۔
المائدة 5:29
اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)
[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لیے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے۔
[29]﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓءَاۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔‘‘ ﴿ بِـاِثۡمِيۡ وَاِثۡمِكَ ﴾ ’’میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ‘‘ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مجھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے ﴿ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ١ۚ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہو جائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔‘‘یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔
[30] وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹا نہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا‘‘ یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گیا اور اس نے ہر قاتل کے لیے ایک سنت رائج کر دی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے‘‘(دیکھیے: صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ… الخ، حدیث: 1017) بنابریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔‘‘ (دیکھیے: جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء أن الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث: 2673)
[31] جب اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے کیونکہ آدم کے بیٹوں میں وہ پہلا شخص تھا جو مرا تھا ﴿ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبۡحَثُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تو اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدتا تھا‘‘ یعنی وہ زمین کھودتا ہے تاکہ دوسرے مردہ کوے کو دفن کرے ﴿ لِيُرِيَهٗ ﴾ ’’تاکہ اسے دکھائے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے آدم کے قاتل بیٹے کو دکھائے ﴿ كَيۡفَ يُوَارِيۡ سَوۡءَةَ اَخِيۡهِ ﴾ ’’ کہ وہ اپنے بھائی کے بدن کو کیسے چھپائے۔‘‘ کیونکہ میت کا بدن ستر ہوتا ہے ﴿ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہ نادم ہونے والوں میں سے ہو گیا‘‘ اسی طرح تمام گناہوں کا انجام ندامت اور خسارہ ہے۔
المائدة 5:30
اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)
[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لیے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے۔
[29]﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓءَاۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔‘‘ ﴿ بِـاِثۡمِيۡ وَاِثۡمِكَ ﴾ ’’میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ‘‘ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مجھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے ﴿ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ١ۚ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہو جائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔‘‘یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔
[30] وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹا نہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا‘‘ یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گیا اور اس نے ہر قاتل کے لیے ایک سنت رائج کر دی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے‘‘(دیکھیے: صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ… الخ، حدیث: 1017) بنابریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔‘‘ (دیکھیے: جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء أن الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث: 2673)
[31] جب اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے کیونکہ آدم کے بیٹوں میں وہ پہلا شخص تھا جو مرا تھا ﴿ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبۡحَثُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تو اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدتا تھا‘‘ یعنی وہ زمین کھودتا ہے تاکہ دوسرے مردہ کوے کو دفن کرے ﴿ لِيُرِيَهٗ ﴾ ’’تاکہ اسے دکھائے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے آدم کے قاتل بیٹے کو دکھائے ﴿ كَيۡفَ يُوَارِيۡ سَوۡءَةَ اَخِيۡهِ ﴾ ’’ کہ وہ اپنے بھائی کے بدن کو کیسے چھپائے۔‘‘ کیونکہ میت کا بدن ستر ہوتا ہے ﴿ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہ نادم ہونے والوں میں سے ہو گیا‘‘ اسی طرح تمام گناہوں کا انجام ندامت اور خسارہ ہے۔
المائدة 5:31
اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)
[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لیے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے۔
[29]﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓءَاۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔‘‘ ﴿ بِـاِثۡمِيۡ وَاِثۡمِكَ ﴾ ’’میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ‘‘ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مجھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے ﴿ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ١ۚ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہو جائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔‘‘یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔
[30] وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹا نہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا‘‘ یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گیا اور اس نے ہر قاتل کے لیے ایک سنت رائج کر دی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے‘‘(دیکھیے: صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ… الخ، حدیث: 1017) بنابریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔‘‘ (دیکھیے: جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء أن الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث: 2673)
[31] جب اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے کیونکہ آدم کے بیٹوں میں وہ پہلا شخص تھا جو مرا تھا ﴿ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبۡحَثُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تو اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدتا تھا‘‘ یعنی وہ زمین کھودتا ہے تاکہ دوسرے مردہ کوے کو دفن کرے ﴿ لِيُرِيَهٗ ﴾ ’’تاکہ اسے دکھائے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے آدم کے قاتل بیٹے کو دکھائے ﴿ كَيۡفَ يُوَارِيۡ سَوۡءَةَ اَخِيۡهِ ﴾ ’’ کہ وہ اپنے بھائی کے بدن کو کیسے چھپائے۔‘‘ کیونکہ میت کا بدن ستر ہوتا ہے ﴿ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہ نادم ہونے والوں میں سے ہو گیا‘‘ اسی طرح تمام گناہوں کا انجام ندامت اور خسارہ ہے۔
المائدة 5:32
اسی وجہ سے لکھا (فرض کر دیا) ہم نے بنی اسرائیل پر کہ جو کوئی قتل کرے کسی جان کو بغیر عوض جان کے یا بغیر فساد کے زمین میں تو گویا اس نے قتل کر دیا لوگوں کو سب کو اور جو بچائے کسی ایک جان کو تو گویا اس نے بچایا لوگوں کو سب کو اور البتہ تحقیق آئے ان کے پاس ہمارے رسول ساتھ واضح دلائل کے، پھر بے شک بہت سے لوگ ان میں سے، بعد اس کے زمین میں حد سے نکل جانے والے ہیں (32)
[32] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِكَ ﴾ ’’اسی سبب سے‘‘ یعنی آدم کے بیٹوں کے اس واقعہ کے بعد جس کا ہم نے ذکر کیا ہے جس میں ان میں سے ایک نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا اور اپنے مابعد قتل کا طریقہ جاری کر دیا اور یہ کہ قتل کا انجام دنیا و آخرت میں انتہائی مضر اور خسارے والا ہے ﴿ كَتَبۡنَا عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا‘‘ یعنی ان لوگوں پر جنھیں کتب سماویہ سے نوازا گیا ﴿ اَنَّهٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جس نے کسی جان کو بغیر جان کے یا بغیر فساد کرنے کے قتل کر دیا‘‘ یعنی ناحق ﴿ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ﴾’’گویا کہ اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس کوئی داعیہ نہیں جو اسے تبیین پر آمادہ کرتا اور قتل ناحق کے اقدام سے روکتا۔ پس جب اس نے اس جان کو قتل کرنے کی جسارت کی جو قتل ہونے کی مستحق نہ تھی، تب معلوم ہوا کہ اس مقتول ناحق اور دیگر مقتولین کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔ یہ تو نفس امارہ کے داعیے کے مطابق ہے۔ پس اس کا اس نفس کو قتل کرنے کی جسارت کرنا تمام نفوس انسانی کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح جس نے کسی نفس انسانی کو زندگی بخشی، یعنی نفس امارہ کے داعیے کے باوجود کسی نفس کو باقی رکھا اور اسے قتل نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کے خوف نے اسے قتل ناحق سے روک دیا تو اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔ کیونکہ اس کے ہمراہ جو خوف الٰہی ہے، وہ اسے ایسے نفس کے قتل سے روکتا ہے جو قتل کا مستحق نہیں ۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دو امور کی بنا پر قتل جائز ہے۔(۱) اگر کسی نے جان بوجھ کر ناحق قتل کیا ہو اگر قاتل مکلف اور بدلہ لیے جانے کے قابل ہو، وہ مقتول کا باپ نہ ہو تو اسے (قصاص میں )قتل کرنا جائز ہے۔(۲) وہ لوگ جو لوگوں کے دین، جان اور اموال کو ہلاک کر کے زمین میں فساد برپا کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں ، مثلاً: مرتدین اہل کفر، محاربین اور بدعات کی طرف دعوت دینے والے وہ لوگ جن کو قتل کیے بغیر ان کے شر و فساد کا سدباب نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح وہ راہزن وغیرہ ہیں جو لوگوں کا مال لوٹنے یا ان کو قتل کرنے کے لیے شاہراہوں میں لوگوں پر حملہ کر دیتے ہیں ۔فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جَآءَؔتۡهُمۡ رُسُلُنَا بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ان کے پاس ہمارے رسول دلائل لے کر آئے‘‘ ان دلائل نے کسی کے پاس کوئی حجت باقی نہیں رہنے دی ﴿ ثُمَّؔ اِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگ۔‘‘ یعنی لوگوں میں سے ﴿ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس کے بعد‘‘ یعنی حجت کی کاٹ کرنے والے اس بیان کے بعد، جو کہ زمین میں راست روی اور استقامت کا موجب ہوتاہے ﴿ لَمُسۡرِفُوۡنَ ﴾ ’’حد اعتدال سے نکل جاتے ہیں ۔‘‘ گناہوں کے اعمال اور انبیاء و رسل کی مخالفت میں ، جو کہ واضح دلائل اور براہین کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ، حد سے بڑھنے والے ہیں ۔
المائدة 5:33
یقینا بدلہ ان لوگوں کا، جو لڑتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد کرنے کی، (یہی ہے) کہ قتل کر دیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا کاٹ دیے جائیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف جانب سے یا نکال دیے جائیں اس علاقے سے، یہ ان کے لیے ذلت ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے بہت بڑا(33) مگر وہ لوگ کہ توبہ کر لی انھوں نے پہلے اس کے کہ قابو پاؤ تم ان پر تو جان لو بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(34)
[33]اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ محاربت کے مرتکب وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ عداوت ظاہر کرتے ہیں اور قتل و غارت، کفر، لوٹ مار اور شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے کا ارتکاب کرتے ہیں ۔مشہور یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ ان راہزنوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بستیوں اور دیہات میں لوگوں پر حملے کر کے ان کا مال لوٹتے ہیں ، ان کو قتل کرتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں ۔ بنابریں لوگ ان شاہراہوں پر سفر کرنا بند کر دیتے ہیں پس اس وجہ سے راستے منقطع ہو جاتے ہیں ۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حد نافذ کرتے وقت ان لوگوں کی سزا، ان سزاؤں میں سے ایک ہے جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں ۔ اصحاب تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان سزاؤں میں اختیار ہے اور امام یا اس کا نائب ہر راہزن کو اپنی صواب دید اور مصلحت کے مطابق ان مذکورہ سزاؤں میں سے کوئی سزا دے سکتا ہے۔ آیت کریمہ کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ یا ان کی سزا ان کے جرم کے مطابق دی جائے گی اور ہر جرم کے مقابلے میں ایک سزا ہے جیسا کہ آیت کریمہ اس پر دلالت کرتی ہے اور اس آیت کریمہ کا حکم اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہے، یعنی اگر وہ قتل اور لوٹ مار کا ارتکاب کریں تو ان کو قتل کرنے اور سولی دینے کی سزا حتمی ہے۔ یہاں تک کہ ان کا سولی دیا جانا مشہور ہو جائے اور دوسرے لوگ لوٹ مار اور راہزنی سے باز آجائیں ۔ اگر وہ لوگوں کو قتل کریں اور مال نہ لوٹیں تو ان کو صرف قتل کیا جائے۔ اگر وہ صرف مال لوٹیں اور لوگوں کو قتل کرنے سے باز رہیں تو مخالف سمت سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر صرف لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور دہشت پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہوں اور انھوں نے کسی کا مال لوٹا ہو نہ کسی کو قتل کیا ہو تو ان کو جلاوطن کیا جائے گا اور ان کو کسی شہر میں پناہ نہیں لینے دی جائے گی یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں ۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباسw کا قول ہے اور بعض تفاصیل میں اختلاف کے باوجود بہت سے ائمہ نے اس قول کو اختیا رکیا ہے۔﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ سزا ﴿ لَهُمۡ خِزۡيٌ فِي الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں فضیحت اور عار ہے‘‘ ﴿ وَلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ راہزنی بڑے گناہوں میں شمار ہوتی ہے جو دنیا و آخرت کی رسوائی اور فضیحت کی موجب ہے اور راہزنی کا مرتکب اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ جب یہ جرم اتنا بڑا ہے تو معلوم ہوا کہ مفسدین سے روئے زمین کی تطہیر کرنا، شاہراہوں کو قتل و غارت، لوٹ مار اور خوف و دہشت سے محفوظ کرنا، سب سے بڑی بھلائی اور سب سے بڑی نیکی ہے۔ نیز یہ زمین کے اندر اصلاح ہے جیسا کہ اس کی ضد فساد فی الارض ہے۔
[34]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہاں جن لوگوں نے، اس سے پیشترکہ تمھارے قابو آجائیں توبہ کرلی۔‘‘ یعنی ان محاربین میں سے جو لوگ توبہ کر لیں پہلے اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ یعنی اس سے جرم اور گناہ ساقط ہو جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ضمن میں تھا، یعنی قتل، سولی، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور جلاوطنی وغیرہ سزائیں معاف ہو جائیں گی۔ اگر محارب کافر تھا اور اس نے گرفتار ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لیا تو آدمی کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ اگر محارب مسلمان ہے تو لوٹ مار اور قتل و غارت وغیرہ انسانی حقوق ساقط نہیں ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ محارب پر قابو پا لینے کے بعد اس کی توبہ معتبر نہیں ، اس سے کوئی سزا ساقط نہیں ہو گی۔ اس میں جو حکمت ہے وہ واضح ہے۔ اور جب قابو پانے سے پہلے کی ہوئی توبہ محاربت کی حد کے نفاذ سے مانع ہے تو قابو پانے سے پہلے دیگر جرائم سے توبہ کا ان جرائم کی حدود کے نفاذ سے مانع ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔
المائدة 5:34
یقینا بدلہ ان لوگوں کا، جو لڑتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد کرنے کی، (یہی ہے) کہ قتل کر دیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا کاٹ دیے جائیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف جانب سے یا نکال دیے جائیں اس علاقے سے، یہ ان کے لیے ذلت ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے بہت بڑا(33) مگر وہ لوگ کہ توبہ کر لی انھوں نے پہلے اس کے کہ قابو پاؤ تم ان پر تو جان لو بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(34)
[33]اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ محاربت کے مرتکب وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ عداوت ظاہر کرتے ہیں اور قتل و غارت، کفر، لوٹ مار اور شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے کا ارتکاب کرتے ہیں ۔مشہور یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ ان راہزنوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بستیوں اور دیہات میں لوگوں پر حملے کر کے ان کا مال لوٹتے ہیں ، ان کو قتل کرتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں ۔ بنابریں لوگ ان شاہراہوں پر سفر کرنا بند کر دیتے ہیں پس اس وجہ سے راستے منقطع ہو جاتے ہیں ۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حد نافذ کرتے وقت ان لوگوں کی سزا، ان سزاؤں میں سے ایک ہے جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں ۔ اصحاب تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان سزاؤں میں اختیار ہے اور امام یا اس کا نائب ہر راہزن کو اپنی صواب دید اور مصلحت کے مطابق ان مذکورہ سزاؤں میں سے کوئی سزا دے سکتا ہے۔ آیت کریمہ کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ یا ان کی سزا ان کے جرم کے مطابق دی جائے گی اور ہر جرم کے مقابلے میں ایک سزا ہے جیسا کہ آیت کریمہ اس پر دلالت کرتی ہے اور اس آیت کریمہ کا حکم اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہے، یعنی اگر وہ قتل اور لوٹ مار کا ارتکاب کریں تو ان کو قتل کرنے اور سولی دینے کی سزا حتمی ہے۔ یہاں تک کہ ان کا سولی دیا جانا مشہور ہو جائے اور دوسرے لوگ لوٹ مار اور راہزنی سے باز آجائیں ۔ اگر وہ لوگوں کو قتل کریں اور مال نہ لوٹیں تو ان کو صرف قتل کیا جائے۔ اگر وہ صرف مال لوٹیں اور لوگوں کو قتل کرنے سے باز رہیں تو مخالف سمت سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر صرف لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور دہشت پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہوں اور انھوں نے کسی کا مال لوٹا ہو نہ کسی کو قتل کیا ہو تو ان کو جلاوطن کیا جائے گا اور ان کو کسی شہر میں پناہ نہیں لینے دی جائے گی یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں ۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباسw کا قول ہے اور بعض تفاصیل میں اختلاف کے باوجود بہت سے ائمہ نے اس قول کو اختیا رکیا ہے۔﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ سزا ﴿ لَهُمۡ خِزۡيٌ فِي الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں فضیحت اور عار ہے‘‘ ﴿ وَلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ راہزنی بڑے گناہوں میں شمار ہوتی ہے جو دنیا و آخرت کی رسوائی اور فضیحت کی موجب ہے اور راہزنی کا مرتکب اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ جب یہ جرم اتنا بڑا ہے تو معلوم ہوا کہ مفسدین سے روئے زمین کی تطہیر کرنا، شاہراہوں کو قتل و غارت، لوٹ مار اور خوف و دہشت سے محفوظ کرنا، سب سے بڑی بھلائی اور سب سے بڑی نیکی ہے۔ نیز یہ زمین کے اندر اصلاح ہے جیسا کہ اس کی ضد فساد فی الارض ہے۔
[34]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہاں جن لوگوں نے، اس سے پیشترکہ تمھارے قابو آجائیں توبہ کرلی۔‘‘ یعنی ان محاربین میں سے جو لوگ توبہ کر لیں پہلے اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ یعنی اس سے جرم اور گناہ ساقط ہو جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ضمن میں تھا، یعنی قتل، سولی، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور جلاوطنی وغیرہ سزائیں معاف ہو جائیں گی۔ اگر محارب کافر تھا اور اس نے گرفتار ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لیا تو آدمی کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ اگر محارب مسلمان ہے تو لوٹ مار اور قتل و غارت وغیرہ انسانی حقوق ساقط نہیں ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ محارب پر قابو پا لینے کے بعد اس کی توبہ معتبر نہیں ، اس سے کوئی سزا ساقط نہیں ہو گی۔ اس میں جو حکمت ہے وہ واضح ہے۔ اور جب قابو پانے سے پہلے کی ہوئی توبہ محاربت کی حد کے نفاذ سے مانع ہے تو قابو پانے سے پہلے دیگر جرائم سے توبہ کا ان جرائم کی حدود کے نفاذ سے مانع ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔
المائدة 5:35
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے اور تلاش کرو اس کی طرف ذریعۂ قرب اور جہاد کرو اس کی راہ میں تاکہ تم فلاح پاؤ(35)
[35]اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایمان کے تقاضے کے مطابق تقویٰ اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے غضب سے بچیں اور وہ اس طرح کہ بندۂ مومن مقدور بھر ان امور سے اجتناب کرے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں قلب، زبان اور جوارح کے ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچے اور ان گناہوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے تاکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات حاصل کر سکے۔﴿و َابۡتَغُوۡۤا اِلَيۡهِ الۡوَسِيۡلَةَ ﴾ ’’اور ڈھونڈو اس کی طرف وسیلہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب، اس کے پاس مرتبہ اور اس کی محبت طلب کرو۔ یہ چیز فرائض قلبی، مثلاً: محبت الٰہی، اس کے خوف، اس پر امید، اس کی طرف انابت اور اس پر توکل، فرائض بدنی ، مثلاً: زکٰوۃ اور حج وغیرہ اور قلب و بدن سے مرکب فرائض ، مثلاً: نماز، ذکر اور تلاوت اور لوگوں سے اپنے اخلاق، مال، علم، جاہ اور بدن کے ذریعے سے بھلائی سے پیش آنے اور ان کی خیر خواہی کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ پس یہ تمام اعمال تقرب الٰہی کا ذریعہ ہیں ۔ بندہ اعمال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرنے لگتا ہے تو اللہ اس کے کان بن جاتا ہے جن کے ذریعے سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی دعائیں قبول کرتا ہے۔( مطلب یہ ہے کہ اللہ کا محبوب انسان اپنے تمام اعضاء کو اس طرح استعمال کرتا ہے جس طرح اللہ پسند کرتا ہے، یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کا جز بن جاتا یا اللہ اس میں حلول کر جاتا ہے‘ جیسا کہ بعض مشرکین میں اس قسم کے عقیدے پائے جاتے ہیں ۔ )(ص ۔ ی)پھر اللہ کے قریب کرنے والی عبادات میں سے جہاد فی سبیل اللہ کا خصوصی طور پر بیان کیا اور یہ جہاد نام ہے، کافروں کے ساتھ لڑائی میں اپنی پوری طاقت صرف کرنے کا، مال، جان، رائے، زبان کے ذریعے سے اور اللہ کے دین کی مدد میں اپنی مقدور بھر سعی و کوشش کرنے کا۔ اس لیے کہ عبادت کی یہ قسم تمام طاعات میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور قربات میں سب سے افضل ہے، نیز یہ کہ جو اس کی ادائیگی کا اہتمام کر لیتا ہے، وہ دیگر فرائض و عبادات بہ طریق اولیٰ بجا لاتا ہے۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ اگر تم نے گناہوں کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کیا، نیکیوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا وسیلہ تلاش کر لیا اور اس کی رضا کی خاطر اس کے راستے میں جہاد کیا تو امید کی جا سکتی ہے کہ تم فلاح پا لو گے۔ فلاح اپنے ہر مطلوب و مرغوب کے حصول میں کامیابی اور مرہوب سے نجات کا نام ہے۔ پس اس کی حقیقت ابدی سعادت اور دائمی نعمت ہے۔
المائدة 5:36
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اگر ہو ان کے لیے جو کچھ زمین میں ہے سارا اور اتنا ہی اور اس کے ساتھ تاکہ معاوضے میں دے دیں وہ اس کو عذاب کے روز قیامت کے تو نہیں قبول کیا جائے گا ان سےاور ان کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(36) وہ ارادہ کریں گے کہ نکل جائیں آگ سے اور نہیں ہوں گے نکلنے والے اس سے اور ان کے لیے عذاب ہے ہمیشہ رہنے والا(37)
[37,36] قیامت کے روز کفار کا جو بدترین حال ہو گا اور وہ جس قبیح ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز اگر وہ زمین بھر سونا اور اتنا ہی اور، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ کے طور پر ادا کریں تو ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور نہ یہ فدیہ کوئی فائدہ ہی دے گا۔ کیونکہ فدیہ دینے کا موقع تو وہ گنوا بیٹھے، اب تو دردناک دائمی عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ اس عذاب سے وہ کبھی نہ نکل سکیں گے بلکہ وہ اس عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔
المائدة 5:37
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اگر ہو ان کے لیے جو کچھ زمین میں ہے سارا اور اتنا ہی اور اس کے ساتھ تاکہ معاوضے میں دے دیں وہ اس کو عذاب کے روز قیامت کے تو نہیں قبول کیا جائے گا ان سےاور ان کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(36) وہ ارادہ کریں گے کہ نکل جائیں آگ سے اور نہیں ہوں گے نکلنے والے اس سے اور ان کے لیے عذاب ہے ہمیشہ رہنے والا(37)
[37,36] قیامت کے روز کفار کا جو بدترین حال ہو گا اور وہ جس قبیح ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز اگر وہ زمین بھر سونا اور اتنا ہی اور، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ کے طور پر ادا کریں تو ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور نہ یہ فدیہ کوئی فائدہ ہی دے گا۔ کیونکہ فدیہ دینے کا موقع تو وہ گنوا بیٹھے، اب تو دردناک دائمی عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ اس عذاب سے وہ کبھی نہ نکل سکیں گے بلکہ وہ اس عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔
المائدة 5:38
چور مرد اور چور عورت پس کاٹ دو ہاتھ ان دونوں کے، بدلے میں اس کے جو انھوں نے کمایا، عبرت ناک سزا ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ غالب حکمت والا ہے(38) پھر جس نے توبہ کر لی بعد اپنے ظلم کے اور اصلاح کر لی تو اللہ توجہ فرماتا ہے اس پر بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(39) کیا نہیں علم ہوا آپ کو کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، وہ عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور مغفرت کرتا ہے جس کی چاہتا ہےاور اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے(40)
[38]چور اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضامندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دایاں ہاتھ کاٹنا۔ جیسا کہ بعض صحابہy کی قراء ت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہو جائیں اور خون رک جائے۔سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔(۱)حفاظت: چوری کے اطلاق کے لیے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے جو عادتاً کی جاتی ہے۔ چور نے اگر کسی ایسے مال کی چوری کی ہو جو حفاظت میں نہ ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔(۲) نصاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے مال مسروقہ کا نصاب ضروری ہے۔ یہ نصاب کم از کم ایک چوتھائی دینار یا تین درہم یا ان میں سے کسی ایک کے برابر۔ مال مسروقہ اگر اس نصاب سے کم ہو تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ شاید یہ لفظ سرقہ اور اس کے معنی سے ماخوذ ہے کیونکہ لفظ ’’سرقہ‘‘ سے مراد ہے کوئی چیز اس طریقے سے لینا جس سے احتراز ممکن نہ ہو اور یہ اسی وقت ہی ہوگا کہ مال کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو۔ اگر مال کو حفاظت کے ساتھ نہ رکھا گیا تو اس مال کا لینا شرعی سرقہ کے زمرے میں نہیں آئے گا۔یہ بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت ہے کہ تھوڑی اور حقیر سی شے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ چونکہ قطع ید کے لیے کم ترین نصاب مقرر کرنا ضروری ہے، اس لیے نصاب شرعی ہی کتاب اللہ کی تخصیص کرنے والا ہو گا۔ چوری میں ہاتھ کاٹنے میں حکمت یہ ہے کہ اس سے مال محفوظ ہو جاتے ہیں اور اس عضو کو بھی کٹ جانا چاہیے جس سے جرم صادر ہوا ہے۔ دایاں ہاتھ کاٹ دیے جانے کے بعد اگر چور دوبارہ چوری کا ارتکاب کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر پھر چوری کرے تو بعض کہتے ہیں کہ اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا اور اگر پھر بھی باز نہ آئے تو دایاں پاؤں کاٹ دیا جائے اور بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اس کو قید کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ قید ہی میں مر جائے۔ ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا ﴾ ’’یہ بدلہ ہے اس کا جو انھوں نے کمایا‘‘ یعنی یہ قطع ید، چور کو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ اس نے لوگوں کا مال چرایا ہے ﴿ نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے‘‘ یعنی یہ سزا چور اور دیگر لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہے کیونکہ چوروں کو جب معلوم ہو گا کہ چوری کے ارتکاب پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا تو وہ چوری سے باز آ جائیں گے ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ زبردست، صاحب حکمت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے اس لیے اس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔
[39]﴿ فَمَنۡ تَابَ مِنۢۡ بَعۡدِ ظُلۡمِهٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوۡبُ عَلَيۡهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’پس جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد اور اصلاح کی تو اللہ قبول کرتا ہے توبہ اس کی، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ پس جو کوئی توبہ کرتا ہے، گناہوں کو ترک کر کے اپنے اعمال اور اپنے عیوب کی اصلاح کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے۔
[40] اور یہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے زمین اور آسمان میں تکوینی اور شرعی تصرف کرتا ہے اور اپنی حکمت، بے پایاں رحمت اور مغفرت کے تقاضے کے مطابق وہ بخشتا ہے یا سزا دیتا ہے۔
المائدة 5:39
چور مرد اور چور عورت پس کاٹ دو ہاتھ ان دونوں کے، بدلے میں اس کے جو انھوں نے کمایا، عبرت ناک سزا ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ غالب حکمت والا ہے(38) پھر جس نے توبہ کر لی بعد اپنے ظلم کے اور اصلاح کر لی تو اللہ توجہ فرماتا ہے اس پر بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(39) کیا نہیں علم ہوا آپ کو کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، وہ عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور مغفرت کرتا ہے جس کی چاہتا ہےاور اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے(40)
[38]چور اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضامندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دایاں ہاتھ کاٹنا۔ جیسا کہ بعض صحابہy کی قراء ت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہو جائیں اور خون رک جائے۔سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔(۱)حفاظت: چوری کے اطلاق کے لیے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے جو عادتاً کی جاتی ہے۔ چور نے اگر کسی ایسے مال کی چوری کی ہو جو حفاظت میں نہ ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔(۲) نصاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے مال مسروقہ کا نصاب ضروری ہے۔ یہ نصاب کم از کم ایک چوتھائی دینار یا تین درہم یا ان میں سے کسی ایک کے برابر۔ مال مسروقہ اگر اس نصاب سے کم ہو تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ شاید یہ لفظ سرقہ اور اس کے معنی سے ماخوذ ہے کیونکہ لفظ ’’سرقہ‘‘ سے مراد ہے کوئی چیز اس طریقے سے لینا جس سے احتراز ممکن نہ ہو اور یہ اسی وقت ہی ہوگا کہ مال کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو۔ اگر مال کو حفاظت کے ساتھ نہ رکھا گیا تو اس مال کا لینا شرعی سرقہ کے زمرے میں نہیں آئے گا۔یہ بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت ہے کہ تھوڑی اور حقیر سی شے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ چونکہ قطع ید کے لیے کم ترین نصاب مقرر کرنا ضروری ہے، اس لیے نصاب شرعی ہی کتاب اللہ کی تخصیص کرنے والا ہو گا۔ چوری میں ہاتھ کاٹنے میں حکمت یہ ہے کہ اس سے مال محفوظ ہو جاتے ہیں اور اس عضو کو بھی کٹ جانا چاہیے جس سے جرم صادر ہوا ہے۔ دایاں ہاتھ کاٹ دیے جانے کے بعد اگر چور دوبارہ چوری کا ارتکاب کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر پھر چوری کرے تو بعض کہتے ہیں کہ اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا اور اگر پھر بھی باز نہ آئے تو دایاں پاؤں کاٹ دیا جائے اور بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اس کو قید کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ قید ہی میں مر جائے۔ ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا ﴾ ’’یہ بدلہ ہے اس کا جو انھوں نے کمایا‘‘ یعنی یہ قطع ید، چور کو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ اس نے لوگوں کا مال چرایا ہے ﴿ نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے‘‘ یعنی یہ سزا چور اور دیگر لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہے کیونکہ چوروں کو جب معلوم ہو گا کہ چوری کے ارتکاب پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا تو وہ چوری سے باز آ جائیں گے ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ زبردست، صاحب حکمت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے اس لیے اس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔
[39]﴿ فَمَنۡ تَابَ مِنۢۡ بَعۡدِ ظُلۡمِهٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوۡبُ عَلَيۡهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’پس جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد اور اصلاح کی تو اللہ قبول کرتا ہے توبہ اس کی، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ پس جو کوئی توبہ کرتا ہے، گناہوں کو ترک کر کے اپنے اعمال اور اپنے عیوب کی اصلاح کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے۔
[40] اور یہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے زمین اور آسمان میں تکوینی اور شرعی تصرف کرتا ہے اور اپنی حکمت، بے پایاں رحمت اور مغفرت کے تقاضے کے مطابق وہ بخشتا ہے یا سزا دیتا ہے۔
المائدة 5:40
چور مرد اور چور عورت پس کاٹ دو ہاتھ ان دونوں کے، بدلے میں اس کے جو انھوں نے کمایا، عبرت ناک سزا ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ غالب حکمت والا ہے(38) پھر جس نے توبہ کر لی بعد اپنے ظلم کے اور اصلاح کر لی تو اللہ توجہ فرماتا ہے اس پر بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(39) کیا نہیں علم ہوا آپ کو کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، وہ عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور مغفرت کرتا ہے جس کی چاہتا ہےاور اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے(40)
[38]چور اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضامندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دایاں ہاتھ کاٹنا۔ جیسا کہ بعض صحابہy کی قراء ت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہو جائیں اور خون رک جائے۔سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔(۱)حفاظت: چوری کے اطلاق کے لیے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے جو عادتاً کی جاتی ہے۔ چور نے اگر کسی ایسے مال کی چوری کی ہو جو حفاظت میں نہ ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔(۲) نصاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے مال مسروقہ کا نصاب ضروری ہے۔ یہ نصاب کم از کم ایک چوتھائی دینار یا تین درہم یا ان میں سے کسی ایک کے برابر۔ مال مسروقہ اگر اس نصاب سے کم ہو تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ شاید یہ لفظ سرقہ اور اس کے معنی سے ماخوذ ہے کیونکہ لفظ ’’سرقہ‘‘ سے مراد ہے کوئی چیز اس طریقے سے لینا جس سے احتراز ممکن نہ ہو اور یہ اسی وقت ہی ہوگا کہ مال کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو۔ اگر مال کو حفاظت کے ساتھ نہ رکھا گیا تو اس مال کا لینا شرعی سرقہ کے زمرے میں نہیں آئے گا۔یہ بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت ہے کہ تھوڑی اور حقیر سی شے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ چونکہ قطع ید کے لیے کم ترین نصاب مقرر کرنا ضروری ہے، اس لیے نصاب شرعی ہی کتاب اللہ کی تخصیص کرنے والا ہو گا۔ چوری میں ہاتھ کاٹنے میں حکمت یہ ہے کہ اس سے مال محفوظ ہو جاتے ہیں اور اس عضو کو بھی کٹ جانا چاہیے جس سے جرم صادر ہوا ہے۔ دایاں ہاتھ کاٹ دیے جانے کے بعد اگر چور دوبارہ چوری کا ارتکاب کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر پھر چوری کرے تو بعض کہتے ہیں کہ اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا اور اگر پھر بھی باز نہ آئے تو دایاں پاؤں کاٹ دیا جائے اور بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اس کو قید کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ قید ہی میں مر جائے۔ ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا ﴾ ’’یہ بدلہ ہے اس کا جو انھوں نے کمایا‘‘ یعنی یہ قطع ید، چور کو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ اس نے لوگوں کا مال چرایا ہے ﴿ نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے‘‘ یعنی یہ سزا چور اور دیگر لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہے کیونکہ چوروں کو جب معلوم ہو گا کہ چوری کے ارتکاب پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا تو وہ چوری سے باز آ جائیں گے ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ زبردست، صاحب حکمت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے اس لیے اس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔
[39]﴿ فَمَنۡ تَابَ مِنۢۡ بَعۡدِ ظُلۡمِهٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوۡبُ عَلَيۡهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’پس جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد اور اصلاح کی تو اللہ قبول کرتا ہے توبہ اس کی، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ پس جو کوئی توبہ کرتا ہے، گناہوں کو ترک کر کے اپنے اعمال اور اپنے عیوب کی اصلاح کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے۔
[40] اور یہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے زمین اور آسمان میں تکوینی اور شرعی تصرف کرتا ہے اور اپنی حکمت، بے پایاں رحمت اور مغفرت کے تقاضے کے مطابق وہ بخشتا ہے یا سزا دیتا ہے۔
المائدة 5:41
اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)
[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ کو ایسے معانی پہناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے پس لوگ گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے پیچھے چلتے ہیں اور محال کی پیروی کرتے ہیں جو تمام تر جھوٹ ہی لے کر آتے ہیں جو عقل سے محروم اور عزم و ہمت سے تہی دست ہیں ۔ اگر وہ آپ کی اتباع نہیں کرتے تو پروا نہ کیجیے کیونکہ وہ انتہائی ناقص ہیں اور ناقص کی پروا نہیں کی جاتی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِيۡتُمۡ هٰؔذَا فَخُذُوۡهُ وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡهُ فَاحۡذَرُوۡا ﴾ ’’کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا‘‘ یعنی یہ بات وہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ فیصلہ کروانے کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں ۔ خواہشات نفس کی پیروی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ’’اگر محمد (ﷺ)تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس فیصلے میں اس کی پیروی سے بچو۔‘‘ یہ نقطہ نظر فتنہ اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔﴿ وَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتۡنَتَهٗ فَلَنۡ تَمۡلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کر سکتے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد اس قول کی مانند ہے ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾(القصص: 28؍56) ’’آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔‘‘﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يُّطَهِّرَ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾’’یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے‘‘ یعنی پس ان سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے صادر ہو رہا ہے۔ ان کا یہ رویہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی خواہش نفس کی اتباع کی خاطر شریعت کے مطابق فیصلہ کرواتا ہے اگر فیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہو جاتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو ناراض ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز اس کے قلب کی عدم طہارت میں سے ہے۔ جیسے وہ شخص ہے جو اپنا فیصلہ شریعت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا مخالف تو یہ اس کی طہارت قلب میں سے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طہارت قلب ہر بھلائی کا سبب ہے اور طہارت قلب رشد و ہدایت اور عمل سدید کا سب سے بڑا داعی ہے۔﴿ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں ان کے لیے فضیحت اور عار ہے ﴿ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور آخرت میں عذاب عظیم ہے‘‘ عذاب عظیم سے مراد جہنم اور اللہ جبار کی ناراضی ہے۔
[42]﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ ﴾ ’’جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے‘‘ یہاں سننے سے مراد اطاعت کے لیے سننا ہے یعنی وہ قلت دین اور قلت عقل کی بنا پر ہر اس شخص کی بات پر لبیک کہتے ہیں جو انھیں جھوٹ کی طرف دعوت دیتاہے ﴿ اَكّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ﴾ ’’کھانے والے ہیں حرام کے‘‘ یعنی اپنے عوام اور گھٹیا لوگوں سے ناحق وظائف لے کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ پس انھوں نے اپنے اندر جھوٹ کی پیروی اور اکل حرام کو یکجا کر لیا ﴿ فَاِنۡ جَآءُوۡكَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اگر یہ آپ کے پاس (کوئی فیصلہ کرانے کو) آئیں تو آپ ان میں فیصلہ کردیں یا اعراض کریں ۔‘‘ یعنی آپ کو اس بارے میں اختیار ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرما لیں ۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں ، جو فیصلہ کروانے کے لیے آپﷺ کے پاس آئیں آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا فیصلہ کرنے سے گریز کریں ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ صرف اسی وقت شریعت کے مطابق فیصلہ کروانے کا قصد کرتے ہیں جب فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہو۔ بنابریں فتویٰ طلب کرنے والے اور کسی عالم کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے جانے والے کے احوال کی تحقیق کی جائے اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر راضی نہ ہو گا تو اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا واجب ہے نہ فتویٰ دینا۔ تاہم اگر وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَنۡ يَّضُرُّوۡكَ شَيۡـًٔـا١ؕ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں ، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ حتی کہ... خواہ لوگ ظالم اور دشمن ہی کیوں نہ ہوں تب بھی ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو۔یہ آیت کریمہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔
[43] پھر ان پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَؔكَيۡفَ يُحَكِّمُوۡنَكَ وَعِنۡدَهُمُ التَّوۡرٰىةُ … بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور وہ کس طرح آپ کو منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر اس کے بعد وہ پھر جاتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘‘ اس لیے کہ اگر وہ مومن ہوتے اور ایمان کے تقاضے اور اس کے موجبات پر عمل کرتے تو اللہ کے اس حکم سے اعراض نہ کرتے جو تورات میں موجود ہے اور جو ان کے سامنے ہے۔ (لیکن اس سے اعراض کر کے جو آپ کے پاس آئے ہیں تو اس امید پر کہ) شاید جو کچھ آپ کے پاس ہے ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق فیصلہ کر دیا جو ان کے پاس ہے۔ تو وہ نہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اس سے روگردانی کی اور اس کو ناپسند کیا۔ ﴿ وَمَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے یہ اعمال ہیں وہ مومن نہیں ، یعنی یہ اہل ایمان کا رویہ نہیں اور نہ یہ لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور احکام ایمان کو اپنی خواہشات کے تابع کر رکھا ہے۔
[44]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’بے شک ہم نے تورات نازل فرمائی۔‘‘ یعنی ہم نے موسیٰ بن عمرانu پر تورات نازل کی ﴿ فِيۡهَا هُدًى ﴾ ’’جس میں ہدایت ہے۔‘‘ یعنی تورات ایمان اور حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے ﴿ وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اور روشنی ہے۔‘‘ یعنی ظلم و جہالت، شک و حیرت اور شبہات و شہوات کی تاریکیوں میں اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ الۡفُرۡقَانَ وَضِيَآءً وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍48) ’’اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں فرق کرنے والی، روشنی عطا کرنے والی اور اہل تقویٰ کو نصیحت کرنے والی کتاب عطا کی۔‘‘ ﴿يَحۡكُمُ بِهَا ﴾ ’’فیصلہ کرتے تھے اس کے ساتھ‘‘ یعنی یہودیوں کے جھگڑوں اور ان کے فتاویٰ میں ﴿ النَّبِيُّوۡنَ الَّذِيۡنَ اَسۡلَمُوۡا ﴾’’پیغمبر جو فرماں بردار تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیا، اس کے احکامات کی اطاعت کی اور ان کا اسلام دیگر لوگوں کے اسلام سے زیادہ عظیم تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے تھے۔جب یہ انبیائے کرام جو مخلوق کے سردار ہیں تورات کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چلتے ہیں تو یہودیوں کے ان رذیل لوگوں کو اس کی پیروی کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ اور ان پر کس چیز نے واجب کیا ہے کہ وہ تورات کے بہترین حصے کو نظر انداز کر دیں جس میں حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس عقیدے کو قبول کیے بغیر کوئی ظاہری اور باطنی عمل قابل قبول نہیں ۔ کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی راہنمائی ہے؟ ہاں ! ان کی راہنمائی کرنے والے راہنما موجود ہیں جو تحریف کرنے، لوگوں کے درمیان اپنی سرداری اور مناصب قائم رکھنے، کتمان حق کے ذریعے سے حرام مال کھانے اور اظہار باطل کے عادی ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔﴿ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ ﴾ ’’درویش اور عالم‘‘ یعنی اسی طرح یہودیوں کے ائمہ دین میں ربانی تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ (رَبَّانِیُّون) سے مراد باعمل علماء ہیں جو لوگوں کی بہترین تربیت کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا وہی مشفقانہ رویہ تھا جو انبیاء کرام کا ہوتا ہے (اَحْبَار) سے مراد وہ علمائے کبار ہیں جن کے قول کی اتباع کی جاتی ہے اور جن کے آثار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور وہ اپنی قوم میں اچھی شہرت رکھتے ہیں ۔ان کی طرف سے صادر ہونے والا یہ فیصلہ حق کے مطابق ہے ﴿ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ كِتٰبِ اللّٰهِ وَؔكَانُوۡا عَلَيۡهِ شُهَدَآءَؔ ﴾ ’’اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور وہ اس کی خبر گیری پر مقرر تھے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی تھی، ان کو اپنی کتاب کا امین بنایا تھا اور یہ کتاب ان کے پاس امانت تھی اور اس میں کمی بیشی اور کتمان سے اس کی حفاظت کو اور بے علم لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کو ان پر واجب قرار دیا تھا... وہ اس کتاب پر گواہ ہیں کیونکہ وہی اس کتاب میں مندرج احکام کے بارے میں اور اس کی بابت لوگوں کے درمیان مشتبہ امور میں ان کے لیے مرجع ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل علم پر وہ ذمہ داری ڈالی ہے جو جہلا پر نہیں ڈالی اس لیے جس ذمہ داری کا بوجھ ان پر ڈالا گیا ہے، احسن طریقے سے اس کو نبھانا ان پر واجب ہے اور یہ کہ بیکاری اور کسل مندی کو عادت بناتے ہوئے جہال کی پیروی نہ کریں ۔ نیز وہ مختلف انواع کے اذکار، نماز، زکٰوۃ ، حج ، روزہ وغیرہ مجرد عبادات ہی پر اقتصار نہ کریں جن کو قائم کر کے غیر اہل علم نجات پاتے ہیں ۔ اہل علم سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور انھیں ان دینی امور سے آگاہ کریں جن کے وہ محتاج ہیں ۔ خاص طور پر اصولی امور اور ایسے معاملات جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں نیز یہ کہ وہ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈریں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ فَلَا تَخۡشَوُا النَّاسَ وَاخۡشَوۡنِ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِيۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾’’پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو! اور میری آیات کے بدلے تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرو‘‘ یعنی دنیا کی متاع قلیل کی خاطر حق کو چھپا کر باطل کا اظہار نہ کرو۔اگر صاحب علم ان آفات سے محفوظ ہو جاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سعادت اس امر میں ہے کہ علم و تعلیم میں جدوجہد اس کا مقصد رہے۔ یہ چیز ہمیشہ اس کے علم میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی امانت اس کے سپرد کر کے اس کی حفاظت اس کے ذمہ عائد کی ہے اور اس کو اس علم پر گواہ بنایا ہے۔ وہ صرف اپنے رب سے ڈرے، لوگوں کا ڈر اور خوف اسے لوازم علم کو قائم کرنے سے مانع نہ ہو۔ دین پر دنیا کو ترجیح نہ دے۔ اسی طرح کسی عالم کی بدبختی یہ ہے کہ وہ بے کاری کو اپنی عادت بنا لے اور جن چیزوں کا اسے حکم دیا گیا ہے ان کو قائم نہ کرے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اسے پورا نہ کرے۔ ایسے شخص نے علم کو بے کار اور ضائع کر دیا، دنیا کے بدلے دین کو فروخت کر ڈالا، اس کے فیصلوں میں رشوت لی اس کے فتووں میں مال سمیٹا اور اللہ کے بندوں کو اجرت لے کر علم سکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس کی اس نے ناشکری کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم نعمت عطا کی تھی، اس نے اس نعمت سے دوسروں کو محروم کر دیا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل مقبول کا سوال کرتے ہیں ۔ اے الٰہ کریم ہمیں ہر مصیبت سے عفو اور عافیت عطا کر۔﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے۔‘‘ یعنی جو کوئی واضح حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اپنی فاسد اغراض کی خاطر جان بوجھ کر باطل کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا اہل کفر کا شیوہ ہے۔ اور بسا اوقات یہ ایسا کفر بن جاتا ہے جو اپنے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جائز اور صحیح سمجھتا ہے۔
المائدة 5:42
اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)
[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ کو ایسے معانی پہناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے پس لوگ گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے پیچھے چلتے ہیں اور محال کی پیروی کرتے ہیں جو تمام تر جھوٹ ہی لے کر آتے ہیں جو عقل سے محروم اور عزم و ہمت سے تہی دست ہیں ۔ اگر وہ آپ کی اتباع نہیں کرتے تو پروا نہ کیجیے کیونکہ وہ انتہائی ناقص ہیں اور ناقص کی پروا نہیں کی جاتی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِيۡتُمۡ هٰؔذَا فَخُذُوۡهُ وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡهُ فَاحۡذَرُوۡا ﴾ ’’کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا‘‘ یعنی یہ بات وہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ فیصلہ کروانے کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں ۔ خواہشات نفس کی پیروی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ’’اگر محمد (ﷺ)تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس فیصلے میں اس کی پیروی سے بچو۔‘‘ یہ نقطہ نظر فتنہ اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔﴿ وَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتۡنَتَهٗ فَلَنۡ تَمۡلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کر سکتے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد اس قول کی مانند ہے ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾(القصص: 28؍56) ’’آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔‘‘﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يُّطَهِّرَ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾’’یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے‘‘ یعنی پس ان سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے صادر ہو رہا ہے۔ ان کا یہ رویہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی خواہش نفس کی اتباع کی خاطر شریعت کے مطابق فیصلہ کرواتا ہے اگر فیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہو جاتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو ناراض ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز اس کے قلب کی عدم طہارت میں سے ہے۔ جیسے وہ شخص ہے جو اپنا فیصلہ شریعت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا مخالف تو یہ اس کی طہارت قلب میں سے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طہارت قلب ہر بھلائی کا سبب ہے اور طہارت قلب رشد و ہدایت اور عمل سدید کا سب سے بڑا داعی ہے۔﴿ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں ان کے لیے فضیحت اور عار ہے ﴿ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور آخرت میں عذاب عظیم ہے‘‘ عذاب عظیم سے مراد جہنم اور اللہ جبار کی ناراضی ہے۔
[42]﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ ﴾ ’’جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے‘‘ یہاں سننے سے مراد اطاعت کے لیے سننا ہے یعنی وہ قلت دین اور قلت عقل کی بنا پر ہر اس شخص کی بات پر لبیک کہتے ہیں جو انھیں جھوٹ کی طرف دعوت دیتاہے ﴿ اَكّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ﴾ ’’کھانے والے ہیں حرام کے‘‘ یعنی اپنے عوام اور گھٹیا لوگوں سے ناحق وظائف لے کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ پس انھوں نے اپنے اندر جھوٹ کی پیروی اور اکل حرام کو یکجا کر لیا ﴿ فَاِنۡ جَآءُوۡكَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اگر یہ آپ کے پاس (کوئی فیصلہ کرانے کو) آئیں تو آپ ان میں فیصلہ کردیں یا اعراض کریں ۔‘‘ یعنی آپ کو اس بارے میں اختیار ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرما لیں ۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں ، جو فیصلہ کروانے کے لیے آپﷺ کے پاس آئیں آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا فیصلہ کرنے سے گریز کریں ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ صرف اسی وقت شریعت کے مطابق فیصلہ کروانے کا قصد کرتے ہیں جب فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہو۔ بنابریں فتویٰ طلب کرنے والے اور کسی عالم کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے جانے والے کے احوال کی تحقیق کی جائے اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر راضی نہ ہو گا تو اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا واجب ہے نہ فتویٰ دینا۔ تاہم اگر وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَنۡ يَّضُرُّوۡكَ شَيۡـًٔـا١ؕ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں ، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ حتی کہ... خواہ لوگ ظالم اور دشمن ہی کیوں نہ ہوں تب بھی ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو۔یہ آیت کریمہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔
[43] پھر ان پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَؔكَيۡفَ يُحَكِّمُوۡنَكَ وَعِنۡدَهُمُ التَّوۡرٰىةُ … بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور وہ کس طرح آپ کو منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر اس کے بعد وہ پھر جاتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘‘ اس لیے کہ اگر وہ مومن ہوتے اور ایمان کے تقاضے اور اس کے موجبات پر عمل کرتے تو اللہ کے اس حکم سے اعراض نہ کرتے جو تورات میں موجود ہے اور جو ان کے سامنے ہے۔ (لیکن اس سے اعراض کر کے جو آپ کے پاس آئے ہیں تو اس امید پر کہ) شاید جو کچھ آپ کے پاس ہے ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق فیصلہ کر دیا جو ان کے پاس ہے۔ تو وہ نہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اس سے روگردانی کی اور اس کو ناپسند کیا۔ ﴿ وَمَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے یہ اعمال ہیں وہ مومن نہیں ، یعنی یہ اہل ایمان کا رویہ نہیں اور نہ یہ لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور احکام ایمان کو اپنی خواہشات کے تابع کر رکھا ہے۔
[44]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’بے شک ہم نے تورات نازل فرمائی۔‘‘ یعنی ہم نے موسیٰ بن عمرانu پر تورات نازل کی ﴿ فِيۡهَا هُدًى ﴾ ’’جس میں ہدایت ہے۔‘‘ یعنی تورات ایمان اور حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے ﴿ وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اور روشنی ہے۔‘‘ یعنی ظلم و جہالت، شک و حیرت اور شبہات و شہوات کی تاریکیوں میں اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ الۡفُرۡقَانَ وَضِيَآءً وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍48) ’’اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں فرق کرنے والی، روشنی عطا کرنے والی اور اہل تقویٰ کو نصیحت کرنے والی کتاب عطا کی۔‘‘ ﴿يَحۡكُمُ بِهَا ﴾ ’’فیصلہ کرتے تھے اس کے ساتھ‘‘ یعنی یہودیوں کے جھگڑوں اور ان کے فتاویٰ میں ﴿ النَّبِيُّوۡنَ الَّذِيۡنَ اَسۡلَمُوۡا ﴾’’پیغمبر جو فرماں بردار تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیا، اس کے احکامات کی اطاعت کی اور ان کا اسلام دیگر لوگوں کے اسلام سے زیادہ عظیم تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے تھے۔جب یہ انبیائے کرام جو مخلوق کے سردار ہیں تورات کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چلتے ہیں تو یہودیوں کے ان رذیل لوگوں کو اس کی پیروی کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ اور ان پر کس چیز نے واجب کیا ہے کہ وہ تورات کے بہترین حصے کو نظر انداز کر دیں جس میں حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس عقیدے کو قبول کیے بغیر کوئی ظاہری اور باطنی عمل قابل قبول نہیں ۔ کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی راہنمائی ہے؟ ہاں ! ان کی راہنمائی کرنے والے راہنما موجود ہیں جو تحریف کرنے، لوگوں کے درمیان اپنی سرداری اور مناصب قائم رکھنے، کتمان حق کے ذریعے سے حرام مال کھانے اور اظہار باطل کے عادی ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔﴿ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ ﴾ ’’درویش اور عالم‘‘ یعنی اسی طرح یہودیوں کے ائمہ دین میں ربانی تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ (رَبَّانِیُّون) سے مراد باعمل علماء ہیں جو لوگوں کی بہترین تربیت کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا وہی مشفقانہ رویہ تھا جو انبیاء کرام کا ہوتا ہے (اَحْبَار) سے مراد وہ علمائے کبار ہیں جن کے قول کی اتباع کی جاتی ہے اور جن کے آثار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور وہ اپنی قوم میں اچھی شہرت رکھتے ہیں ۔ان کی طرف سے صادر ہونے والا یہ فیصلہ حق کے مطابق ہے ﴿ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ كِتٰبِ اللّٰهِ وَؔكَانُوۡا عَلَيۡهِ شُهَدَآءَؔ ﴾ ’’اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور وہ اس کی خبر گیری پر مقرر تھے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی تھی، ان کو اپنی کتاب کا امین بنایا تھا اور یہ کتاب ان کے پاس امانت تھی اور اس میں کمی بیشی اور کتمان سے اس کی حفاظت کو اور بے علم لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کو ان پر واجب قرار دیا تھا... وہ اس کتاب پر گواہ ہیں کیونکہ وہی اس کتاب میں مندرج احکام کے بارے میں اور اس کی بابت لوگوں کے درمیان مشتبہ امور میں ان کے لیے مرجع ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل علم پر وہ ذمہ داری ڈالی ہے جو جہلا پر نہیں ڈالی اس لیے جس ذمہ داری کا بوجھ ان پر ڈالا گیا ہے، احسن طریقے سے اس کو نبھانا ان پر واجب ہے اور یہ کہ بیکاری اور کسل مندی کو عادت بناتے ہوئے جہال کی پیروی نہ کریں ۔ نیز وہ مختلف انواع کے اذکار، نماز، زکٰوۃ ، حج ، روزہ وغیرہ مجرد عبادات ہی پر اقتصار نہ کریں جن کو قائم کر کے غیر اہل علم نجات پاتے ہیں ۔ اہل علم سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور انھیں ان دینی امور سے آگاہ کریں جن کے وہ محتاج ہیں ۔ خاص طور پر اصولی امور اور ایسے معاملات جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں نیز یہ کہ وہ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈریں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ فَلَا تَخۡشَوُا النَّاسَ وَاخۡشَوۡنِ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِيۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾’’پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو! اور میری آیات کے بدلے تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرو‘‘ یعنی دنیا کی متاع قلیل کی خاطر حق کو چھپا کر باطل کا اظہار نہ کرو۔اگر صاحب علم ان آفات سے محفوظ ہو جاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سعادت اس امر میں ہے کہ علم و تعلیم میں جدوجہد اس کا مقصد رہے۔ یہ چیز ہمیشہ اس کے علم میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی امانت اس کے سپرد کر کے اس کی حفاظت اس کے ذمہ عائد کی ہے اور اس کو اس علم پر گواہ بنایا ہے۔ وہ صرف اپنے رب سے ڈرے، لوگوں کا ڈر اور خوف اسے لوازم علم کو قائم کرنے سے مانع نہ ہو۔ دین پر دنیا کو ترجیح نہ دے۔ اسی طرح کسی عالم کی بدبختی یہ ہے کہ وہ بے کاری کو اپنی عادت بنا لے اور جن چیزوں کا اسے حکم دیا گیا ہے ان کو قائم نہ کرے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اسے پورا نہ کرے۔ ایسے شخص نے علم کو بے کار اور ضائع کر دیا، دنیا کے بدلے دین کو فروخت کر ڈالا، اس کے فیصلوں میں رشوت لی اس کے فتووں میں مال سمیٹا اور اللہ کے بندوں کو اجرت لے کر علم سکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس کی اس نے ناشکری کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم نعمت عطا کی تھی، اس نے اس نعمت سے دوسروں کو محروم کر دیا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل مقبول کا سوال کرتے ہیں ۔ اے الٰہ کریم ہمیں ہر مصیبت سے عفو اور عافیت عطا کر۔﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے۔‘‘ یعنی جو کوئی واضح حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اپنی فاسد اغراض کی خاطر جان بوجھ کر باطل کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا اہل کفر کا شیوہ ہے۔ اور بسا اوقات یہ ایسا کفر بن جاتا ہے جو اپنے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جائز اور صحیح سمجھتا ہے۔
المائدة 5:43
اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)
[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ کو ایسے معانی پہناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے پس لوگ گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے پیچھے چلتے ہیں اور محال کی پیروی کرتے ہیں جو تمام تر جھوٹ ہی لے کر آتے ہیں جو عقل سے محروم اور عزم و ہمت سے تہی دست ہیں ۔ اگر وہ آپ کی اتباع نہیں کرتے تو پروا نہ کیجیے کیونکہ وہ انتہائی ناقص ہیں اور ناقص کی پروا نہیں کی جاتی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِيۡتُمۡ هٰؔذَا فَخُذُوۡهُ وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡهُ فَاحۡذَرُوۡا ﴾ ’’کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا‘‘ یعنی یہ بات وہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ فیصلہ کروانے کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں ۔ خواہشات نفس کی پیروی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ’’اگر محمد (ﷺ)تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس فیصلے میں اس کی پیروی سے بچو۔‘‘ یہ نقطہ نظر فتنہ اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔﴿ وَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتۡنَتَهٗ فَلَنۡ تَمۡلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کر سکتے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد اس قول کی مانند ہے ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾(القصص: 28؍56) ’’آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔‘‘﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يُّطَهِّرَ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾’’یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے‘‘ یعنی پس ان سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے صادر ہو رہا ہے۔ ان کا یہ رویہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی خواہش نفس کی اتباع کی خاطر شریعت کے مطابق فیصلہ کرواتا ہے اگر فیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہو جاتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو ناراض ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز اس کے قلب کی عدم طہارت میں سے ہے۔ جیسے وہ شخص ہے جو اپنا فیصلہ شریعت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا مخالف تو یہ اس کی طہارت قلب میں سے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طہارت قلب ہر بھلائی کا سبب ہے اور طہارت قلب رشد و ہدایت اور عمل سدید کا سب سے بڑا داعی ہے۔﴿ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں ان کے لیے فضیحت اور عار ہے ﴿ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور آخرت میں عذاب عظیم ہے‘‘ عذاب عظیم سے مراد جہنم اور اللہ جبار کی ناراضی ہے۔
[42]﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ ﴾ ’’جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے‘‘ یہاں سننے سے مراد اطاعت کے لیے سننا ہے یعنی وہ قلت دین اور قلت عقل کی بنا پر ہر اس شخص کی بات پر لبیک کہتے ہیں جو انھیں جھوٹ کی طرف دعوت دیتاہے ﴿ اَكّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ﴾ ’’کھانے والے ہیں حرام کے‘‘ یعنی اپنے عوام اور گھٹیا لوگوں سے ناحق وظائف لے کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ پس انھوں نے اپنے اندر جھوٹ کی پیروی اور اکل حرام کو یکجا کر لیا ﴿ فَاِنۡ جَآءُوۡكَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اگر یہ آپ کے پاس (کوئی فیصلہ کرانے کو) آئیں تو آپ ان میں فیصلہ کردیں یا اعراض کریں ۔‘‘ یعنی آپ کو اس بارے میں اختیار ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرما لیں ۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں ، جو فیصلہ کروانے کے لیے آپﷺ کے پاس آئیں آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا فیصلہ کرنے سے گریز کریں ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ صرف اسی وقت شریعت کے مطابق فیصلہ کروانے کا قصد کرتے ہیں جب فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہو۔ بنابریں فتویٰ طلب کرنے والے اور کسی عالم کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے جانے والے کے احوال کی تحقیق کی جائے اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر راضی نہ ہو گا تو اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا واجب ہے نہ فتویٰ دینا۔ تاہم اگر وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَنۡ يَّضُرُّوۡكَ شَيۡـًٔـا١ؕ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں ، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ حتی کہ... خواہ لوگ ظالم اور دشمن ہی کیوں نہ ہوں تب بھی ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو۔یہ آیت کریمہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔
[43] پھر ان پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَؔكَيۡفَ يُحَكِّمُوۡنَكَ وَعِنۡدَهُمُ التَّوۡرٰىةُ … بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور وہ کس طرح آپ کو منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر اس کے بعد وہ پھر جاتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘‘ اس لیے کہ اگر وہ مومن ہوتے اور ایمان کے تقاضے اور اس کے موجبات پر عمل کرتے تو اللہ کے اس حکم سے اعراض نہ کرتے جو تورات میں موجود ہے اور جو ان کے سامنے ہے۔ (لیکن اس سے اعراض کر کے جو آپ کے پاس آئے ہیں تو اس امید پر کہ) شاید جو کچھ آپ کے پاس ہے ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق فیصلہ کر دیا جو ان کے پاس ہے۔ تو وہ نہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اس سے روگردانی کی اور اس کو ناپسند کیا۔ ﴿ وَمَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے یہ اعمال ہیں وہ مومن نہیں ، یعنی یہ اہل ایمان کا رویہ نہیں اور نہ یہ لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور احکام ایمان کو اپنی خواہشات کے تابع کر رکھا ہے۔
[44]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’بے شک ہم نے تورات نازل فرمائی۔‘‘ یعنی ہم نے موسیٰ بن عمرانu پر تورات نازل کی ﴿ فِيۡهَا هُدًى ﴾ ’’جس میں ہدایت ہے۔‘‘ یعنی تورات ایمان اور حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے ﴿ وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اور روشنی ہے۔‘‘ یعنی ظلم و جہالت، شک و حیرت اور شبہات و شہوات کی تاریکیوں میں اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ الۡفُرۡقَانَ وَضِيَآءً وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍48) ’’اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں فرق کرنے والی، روشنی عطا کرنے والی اور اہل تقویٰ کو نصیحت کرنے والی کتاب عطا کی۔‘‘ ﴿يَحۡكُمُ بِهَا ﴾ ’’فیصلہ کرتے تھے اس کے ساتھ‘‘ یعنی یہودیوں کے جھگڑوں اور ان کے فتاویٰ میں ﴿ النَّبِيُّوۡنَ الَّذِيۡنَ اَسۡلَمُوۡا ﴾’’پیغمبر جو فرماں بردار تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیا، اس کے احکامات کی اطاعت کی اور ان کا اسلام دیگر لوگوں کے اسلام سے زیادہ عظیم تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے تھے۔جب یہ انبیائے کرام جو مخلوق کے سردار ہیں تورات کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چلتے ہیں تو یہودیوں کے ان رذیل لوگوں کو اس کی پیروی کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ اور ان پر کس چیز نے واجب کیا ہے کہ وہ تورات کے بہترین حصے کو نظر انداز کر دیں جس میں حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس عقیدے کو قبول کیے بغیر کوئی ظاہری اور باطنی عمل قابل قبول نہیں ۔ کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی راہنمائی ہے؟ ہاں ! ان کی راہنمائی کرنے والے راہنما موجود ہیں جو تحریف کرنے، لوگوں کے درمیان اپنی سرداری اور مناصب قائم رکھنے، کتمان حق کے ذریعے سے حرام مال کھانے اور اظہار باطل کے عادی ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔﴿ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ ﴾ ’’درویش اور عالم‘‘ یعنی اسی طرح یہودیوں کے ائمہ دین میں ربانی تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ (رَبَّانِیُّون) سے مراد باعمل علماء ہیں جو لوگوں کی بہترین تربیت کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا وہی مشفقانہ رویہ تھا جو انبیاء کرام کا ہوتا ہے (اَحْبَار) سے مراد وہ علمائے کبار ہیں جن کے قول کی اتباع کی جاتی ہے اور جن کے آثار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور وہ اپنی قوم میں اچھی شہرت رکھتے ہیں ۔ان کی طرف سے صادر ہونے والا یہ فیصلہ حق کے مطابق ہے ﴿ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ كِتٰبِ اللّٰهِ وَؔكَانُوۡا عَلَيۡهِ شُهَدَآءَؔ ﴾ ’’اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور وہ اس کی خبر گیری پر مقرر تھے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی تھی، ان کو اپنی کتاب کا امین بنایا تھا اور یہ کتاب ان کے پاس امانت تھی اور اس میں کمی بیشی اور کتمان سے اس کی حفاظت کو اور بے علم لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کو ان پر واجب قرار دیا تھا... وہ اس کتاب پر گواہ ہیں کیونکہ وہی اس کتاب میں مندرج احکام کے بارے میں اور اس کی بابت لوگوں کے درمیان مشتبہ امور میں ان کے لیے مرجع ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل علم پر وہ ذمہ داری ڈالی ہے جو جہلا پر نہیں ڈالی اس لیے جس ذمہ داری کا بوجھ ان پر ڈالا گیا ہے، احسن طریقے سے اس کو نبھانا ان پر واجب ہے اور یہ کہ بیکاری اور کسل مندی کو عادت بناتے ہوئے جہال کی پیروی نہ کریں ۔ نیز وہ مختلف انواع کے اذکار، نماز، زکٰوۃ ، حج ، روزہ وغیرہ مجرد عبادات ہی پر اقتصار نہ کریں جن کو قائم کر کے غیر اہل علم نجات پاتے ہیں ۔ اہل علم سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور انھیں ان دینی امور سے آگاہ کریں جن کے وہ محتاج ہیں ۔ خاص طور پر اصولی امور اور ایسے معاملات جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں نیز یہ کہ وہ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈریں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ فَلَا تَخۡشَوُا النَّاسَ وَاخۡشَوۡنِ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِيۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾’’پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو! اور میری آیات کے بدلے تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرو‘‘ یعنی دنیا کی متاع قلیل کی خاطر حق کو چھپا کر باطل کا اظہار نہ کرو۔اگر صاحب علم ان آفات سے محفوظ ہو جاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سعادت اس امر میں ہے کہ علم و تعلیم میں جدوجہد اس کا مقصد رہے۔ یہ چیز ہمیشہ اس کے علم میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی امانت اس کے سپرد کر کے اس کی حفاظت اس کے ذمہ عائد کی ہے اور اس کو اس علم پر گواہ بنایا ہے۔ وہ صرف اپنے رب سے ڈرے، لوگوں کا ڈر اور خوف اسے لوازم علم کو قائم کرنے سے مانع نہ ہو۔ دین پر دنیا کو ترجیح نہ دے۔ اسی طرح کسی عالم کی بدبختی یہ ہے کہ وہ بے کاری کو اپنی عادت بنا لے اور جن چیزوں کا اسے حکم دیا گیا ہے ان کو قائم نہ کرے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اسے پورا نہ کرے۔ ایسے شخص نے علم کو بے کار اور ضائع کر دیا، دنیا کے بدلے دین کو فروخت کر ڈالا، اس کے فیصلوں میں رشوت لی اس کے فتووں میں مال سمیٹا اور اللہ کے بندوں کو اجرت لے کر علم سکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس کی اس نے ناشکری کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم نعمت عطا کی تھی، اس نے اس نعمت سے دوسروں کو محروم کر دیا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل مقبول کا سوال کرتے ہیں ۔ اے الٰہ کریم ہمیں ہر مصیبت سے عفو اور عافیت عطا کر۔﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے۔‘‘ یعنی جو کوئی واضح حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اپنی فاسد اغراض کی خاطر جان بوجھ کر باطل کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا اہل کفر کا شیوہ ہے۔ اور بسا اوقات یہ ایسا کفر بن جاتا ہے جو اپنے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جائز اور صحیح سمجھتا ہے۔
المائدة 5:44
اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)
[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ کو ایسے معانی پہناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے پس لوگ گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے پیچھے چلتے ہیں اور محال کی پیروی کرتے ہیں جو تمام تر جھوٹ ہی لے کر آتے ہیں جو عقل سے محروم اور عزم و ہمت سے تہی دست ہیں ۔ اگر وہ آپ کی اتباع نہیں کرتے تو پروا نہ کیجیے کیونکہ وہ انتہائی ناقص ہیں اور ناقص کی پروا نہیں کی جاتی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِيۡتُمۡ هٰؔذَا فَخُذُوۡهُ وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡهُ فَاحۡذَرُوۡا ﴾ ’’کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا‘‘ یعنی یہ بات وہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ فیصلہ کروانے کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں ۔ خواہشات نفس کی پیروی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ’’اگر محمد (ﷺ)تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس فیصلے میں اس کی پیروی سے بچو۔‘‘ یہ نقطہ نظر فتنہ اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔﴿ وَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتۡنَتَهٗ فَلَنۡ تَمۡلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کر سکتے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد اس قول کی مانند ہے ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾(القصص: 28؍56) ’’آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔‘‘﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يُّطَهِّرَ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾’’یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے‘‘ یعنی پس ان سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے صادر ہو رہا ہے۔ ان کا یہ رویہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی خواہش نفس کی اتباع کی خاطر شریعت کے مطابق فیصلہ کرواتا ہے اگر فیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہو جاتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو ناراض ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز اس کے قلب کی عدم طہارت میں سے ہے۔ جیسے وہ شخص ہے جو اپنا فیصلہ شریعت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا مخالف تو یہ اس کی طہارت قلب میں سے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طہارت قلب ہر بھلائی کا سبب ہے اور طہارت قلب رشد و ہدایت اور عمل سدید کا سب سے بڑا داعی ہے۔﴿ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں ان کے لیے فضیحت اور عار ہے ﴿ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور آخرت میں عذاب عظیم ہے‘‘ عذاب عظیم سے مراد جہنم اور اللہ جبار کی ناراضی ہے۔
[42]﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ ﴾ ’’جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے‘‘ یہاں سننے سے مراد اطاعت کے لیے سننا ہے یعنی وہ قلت دین اور قلت عقل کی بنا پر ہر اس شخص کی بات پر لبیک کہتے ہیں جو انھیں جھوٹ کی طرف دعوت دیتاہے ﴿ اَكّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ﴾ ’’کھانے والے ہیں حرام کے‘‘ یعنی اپنے عوام اور گھٹیا لوگوں سے ناحق وظائف لے کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ پس انھوں نے اپنے اندر جھوٹ کی پیروی اور اکل حرام کو یکجا کر لیا ﴿ فَاِنۡ جَآءُوۡكَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اگر یہ آپ کے پاس (کوئی فیصلہ کرانے کو) آئیں تو آپ ان میں فیصلہ کردیں یا اعراض کریں ۔‘‘ یعنی آپ کو اس بارے میں اختیار ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرما لیں ۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں ، جو فیصلہ کروانے کے لیے آپﷺ کے پاس آئیں آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا فیصلہ کرنے سے گریز کریں ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ صرف اسی وقت شریعت کے مطابق فیصلہ کروانے کا قصد کرتے ہیں جب فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہو۔ بنابریں فتویٰ طلب کرنے والے اور کسی عالم کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے جانے والے کے احوال کی تحقیق کی جائے اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر راضی نہ ہو گا تو اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا واجب ہے نہ فتویٰ دینا۔ تاہم اگر وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَنۡ يَّضُرُّوۡكَ شَيۡـًٔـا١ؕ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں ، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ حتی کہ... خواہ لوگ ظالم اور دشمن ہی کیوں نہ ہوں تب بھی ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو۔یہ آیت کریمہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔
[43] پھر ان پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَؔكَيۡفَ يُحَكِّمُوۡنَكَ وَعِنۡدَهُمُ التَّوۡرٰىةُ … بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور وہ کس طرح آپ کو منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر اس کے بعد وہ پھر جاتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘‘ اس لیے کہ اگر وہ مومن ہوتے اور ایمان کے تقاضے اور اس کے موجبات پر عمل کرتے تو اللہ کے اس حکم سے اعراض نہ کرتے جو تورات میں موجود ہے اور جو ان کے سامنے ہے۔ (لیکن اس سے اعراض کر کے جو آپ کے پاس آئے ہیں تو اس امید پر کہ) شاید جو کچھ آپ کے پاس ہے ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق فیصلہ کر دیا جو ان کے پاس ہے۔ تو وہ نہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اس سے روگردانی کی اور اس کو ناپسند کیا۔ ﴿ وَمَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے یہ اعمال ہیں وہ مومن نہیں ، یعنی یہ اہل ایمان کا رویہ نہیں اور نہ یہ لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور احکام ایمان کو اپنی خواہشات کے تابع کر رکھا ہے۔
[44]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’بے شک ہم نے تورات نازل فرمائی۔‘‘ یعنی ہم نے موسیٰ بن عمرانu پر تورات نازل کی ﴿ فِيۡهَا هُدًى ﴾ ’’جس میں ہدایت ہے۔‘‘ یعنی تورات ایمان اور حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے ﴿ وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اور روشنی ہے۔‘‘ یعنی ظلم و جہالت، شک و حیرت اور شبہات و شہوات کی تاریکیوں میں اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ الۡفُرۡقَانَ وَضِيَآءً وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍48) ’’اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں فرق کرنے والی، روشنی عطا کرنے والی اور اہل تقویٰ کو نصیحت کرنے والی کتاب عطا کی۔‘‘ ﴿يَحۡكُمُ بِهَا ﴾ ’’فیصلہ کرتے تھے اس کے ساتھ‘‘ یعنی یہودیوں کے جھگڑوں اور ان کے فتاویٰ میں ﴿ النَّبِيُّوۡنَ الَّذِيۡنَ اَسۡلَمُوۡا ﴾’’پیغمبر جو فرماں بردار تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیا، اس کے احکامات کی اطاعت کی اور ان کا اسلام دیگر لوگوں کے اسلام سے زیادہ عظیم تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے تھے۔جب یہ انبیائے کرام جو مخلوق کے سردار ہیں تورات کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چلتے ہیں تو یہودیوں کے ان رذیل لوگوں کو اس کی پیروی کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ اور ان پر کس چیز نے واجب کیا ہے کہ وہ تورات کے بہترین حصے کو نظر انداز کر دیں جس میں حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس عقیدے کو قبول کیے بغیر کوئی ظاہری اور باطنی عمل قابل قبول نہیں ۔ کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی راہنمائی ہے؟ ہاں ! ان کی راہنمائی کرنے والے راہنما موجود ہیں جو تحریف کرنے، لوگوں کے درمیان اپنی سرداری اور مناصب قائم رکھنے، کتمان حق کے ذریعے سے حرام مال کھانے اور اظہار باطل کے عادی ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔﴿ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ ﴾ ’’درویش اور عالم‘‘ یعنی اسی طرح یہودیوں کے ائمہ دین میں ربانی تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ (رَبَّانِیُّون) سے مراد باعمل علماء ہیں جو لوگوں کی بہترین تربیت کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا وہی مشفقانہ رویہ تھا جو انبیاء کرام کا ہوتا ہے (اَحْبَار) سے مراد وہ علمائے کبار ہیں جن کے قول کی اتباع کی جاتی ہے اور جن کے آثار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور وہ اپنی قوم میں اچھی شہرت رکھتے ہیں ۔ان کی طرف سے صادر ہونے والا یہ فیصلہ حق کے مطابق ہے ﴿ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ كِتٰبِ اللّٰهِ وَؔكَانُوۡا عَلَيۡهِ شُهَدَآءَؔ ﴾ ’’اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور وہ اس کی خبر گیری پر مقرر تھے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی تھی، ان کو اپنی کتاب کا امین بنایا تھا اور یہ کتاب ان کے پاس امانت تھی اور اس میں کمی بیشی اور کتمان سے اس کی حفاظت کو اور بے علم لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کو ان پر واجب قرار دیا تھا... وہ اس کتاب پر گواہ ہیں کیونکہ وہی اس کتاب میں مندرج احکام کے بارے میں اور اس کی بابت لوگوں کے درمیان مشتبہ امور میں ان کے لیے مرجع ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل علم پر وہ ذمہ داری ڈالی ہے جو جہلا پر نہیں ڈالی اس لیے جس ذمہ داری کا بوجھ ان پر ڈالا گیا ہے، احسن طریقے سے اس کو نبھانا ان پر واجب ہے اور یہ کہ بیکاری اور کسل مندی کو عادت بناتے ہوئے جہال کی پیروی نہ کریں ۔ نیز وہ مختلف انواع کے اذکار، نماز، زکٰوۃ ، حج ، روزہ وغیرہ مجرد عبادات ہی پر اقتصار نہ کریں جن کو قائم کر کے غیر اہل علم نجات پاتے ہیں ۔ اہل علم سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور انھیں ان دینی امور سے آگاہ کریں جن کے وہ محتاج ہیں ۔ خاص طور پر اصولی امور اور ایسے معاملات جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں نیز یہ کہ وہ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈریں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ فَلَا تَخۡشَوُا النَّاسَ وَاخۡشَوۡنِ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِيۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾’’پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو! اور میری آیات کے بدلے تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرو‘‘ یعنی دنیا کی متاع قلیل کی خاطر حق کو چھپا کر باطل کا اظہار نہ کرو۔اگر صاحب علم ان آفات سے محفوظ ہو جاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سعادت اس امر میں ہے کہ علم و تعلیم میں جدوجہد اس کا مقصد رہے۔ یہ چیز ہمیشہ اس کے علم میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی امانت اس کے سپرد کر کے اس کی حفاظت اس کے ذمہ عائد کی ہے اور اس کو اس علم پر گواہ بنایا ہے۔ وہ صرف اپنے رب سے ڈرے، لوگوں کا ڈر اور خوف اسے لوازم علم کو قائم کرنے سے مانع نہ ہو۔ دین پر دنیا کو ترجیح نہ دے۔ اسی طرح کسی عالم کی بدبختی یہ ہے کہ وہ بے کاری کو اپنی عادت بنا لے اور جن چیزوں کا اسے حکم دیا گیا ہے ان کو قائم نہ کرے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اسے پورا نہ کرے۔ ایسے شخص نے علم کو بے کار اور ضائع کر دیا، دنیا کے بدلے دین کو فروخت کر ڈالا، اس کے فیصلوں میں رشوت لی اس کے فتووں میں مال سمیٹا اور اللہ کے بندوں کو اجرت لے کر علم سکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس کی اس نے ناشکری کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم نعمت عطا کی تھی، اس نے اس نعمت سے دوسروں کو محروم کر دیا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل مقبول کا سوال کرتے ہیں ۔ اے الٰہ کریم ہمیں ہر مصیبت سے عفو اور عافیت عطا کر۔﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے۔‘‘ یعنی جو کوئی واضح حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اپنی فاسد اغراض کی خاطر جان بوجھ کر باطل کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا اہل کفر کا شیوہ ہے۔ اور بسا اوقات یہ ایسا کفر بن جاتا ہے جو اپنے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جائز اور صحیح سمجھتا ہے۔
المائدة 5:45
اور لکھا ہم نے اوپر ان کے اس (تورات) میں کہ جان بدلے جان کے ہے اور آنکھ بدلے آنکھ کے اور ناک بدلے ناک کے اور کان بدلے کان کے اور دانت بدلے دانت کے اور زخموں کا قصاص ہے پس جو شخص معاف کر دے اس زخم کو تو وہ کفارہ ہوگا اس کے لیے اور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں ظالم(45)
[45] یہ احکام تورات کے اندر موجود ان جملہ احکام میں شمار ہوتے ہیں جن کے مطابق انبیائے کرام، ربانیون اور علمائے یہود، یہودیوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض قرار دیا کہ اگر کوئی جان بوجھ کر کسی کو قتل کرے تو اس کو قصاص میں قتل کر دیا جائے۔آنکھ کے بدلے آنکھ پھوڑ دی جائے، کان کے بدلے کان کاٹ دیا جائے اور دانت کے بدلے دانت نکال دیا جائے۔ اسی طرح بغیر کسی ظلم کے جن اعضا کا قصاص لیا جاسکتا ہے ان کا قصاص لیا جائے۔ ﴿ وَالۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌ ﴾ ’’اور زخموں کا بدلہ، ان کے برابر ہے‘‘ اور قصاص سے مراد ہے کہ فاعل کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جو اس نے کیا تھا جو کوئی کسی کو جان بوجھ کر زخمی کرتا ہے۔ تو جارح سے زخموں کا قصاص لیا جائے گا اور اسے حد، مقام، زخم کی لمبائی چوڑائی اور گہرائی کے مطابق اتنا ہی زخم لگایا جائے گا۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ہم سے پہلے کی شریعت کی پیروی ہمارے لیے بھی اس وقت تک لازم ہے جب تک کہ ہماری شریعت میں کوئی ایسی چیز وارد نہ ہو جو اس شریعت کے خلاف ہو۔ ﴿ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِهٖ ﴾ ’’پھر جس نے معاف کر دیا‘‘ یعنی جو کوئی جان، اعضا اور زخموں کے قصاص میں مجرم کو معاف کر دیتا ہے۔ دراں حالیکہ قصاص کا حق ثابت تھا ﴿ فَهُوَؔ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ﴾ ’’تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے‘‘ یعنی مجرم کے لیے کفارہ ہے کیونکہ آدمی نے تو اس کو اپنا حق معاف کر دیا اور اللہ تعالیٰ تو اپنے حق کو زیادہ معاف کر دینے والا ہے۔ نیز یہ معاف کر دینے والے کے حق میں بھی کفارہ ہے۔ کیونکہ جس طرح اس نے اپنے حق میں جرم کا ارتکاب کرنے والے کو معاف یا اس کو معاف کر دیا جو اس سے متعلق ہے اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی لغزشوں اور ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کوئی اس کے مطابق حکم نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا تو یہی لوگ ظالم ہیں ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباسw فرماتے ہیں ’’کفر سے کم تر کفر، ظلم سے کم تر ظلم اور فسق سے کم تر فسق ہوتا ہے‘‘.... پس اگر اس فعل کو حلال سمجھتے ہوئے اس کو کیا جائے تو یہ سب سے بڑا ظلم ہے اور اگر اس کو حلال نہ سمجھتے ہوئے کیا جائے تو یہ گناہ کبیرہ ہے۔
المائدة 5:46
اور پیچھے بھیجا ہم نے ان کے قدم بہ قدم عیسیٰ ابن مریم کو، تصدیق کرنے والا اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات اور دی ہم نے اس کو انجیل، اس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات اور ہدایت اور نصیحت متقیوں کے لیے(46) اور چاہیے کہ فیصلہ کریں اہل انجیل ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اس میں اور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں فاسق(47)
[46] یعنی ان انبیا و مرسلین کے پیچھے جو تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، ہم نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم، روح اللہ اور اللہ کے کلمہ کو جو اس نے حضرت مریم[ کی طرف ڈالا، مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان سے پہلے گزری ہوئی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا نبی بنا کر بھیجا، وہ موسیٰu اور تورات کی حق و صداقت کے ساتھ گواہی دینے والے، ان کی دعوت کی تائید کرنے والے اور ان کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے تھے اور اکثر امور شرعیہ میں موسیٰu کی موافقت کرتے تھے۔بسااوقات عیسیٰu بعض احکام میں تخفیف فرما دیتے تھے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا قول نقل فرمایا کہ انھوں نے بنی اسرائیل سے فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾(ال عمران: 3؍50) ’’تاکہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو حلال ٹھہراؤں ۔‘‘﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں کتاب عظیم عطا کی جو تورات کی تکمیل کرتی ہے ﴿ فِيۡهِ هُدًى وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور روشنی ہے‘‘ یہ کتاب صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور باطل میں سے حق کو واضح کرتی ہے ﴿ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور تورات کی جو اس سے پہلے (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے۔‘‘ یعنی تورات کی صداقت کو ثابت کر کے، اس کی شہادت دے کر اور اس کی موافقت کر کے اس کی تصدیق کرتی ہے ﴿وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے‘‘ کیونکہ اہل تقویٰ ہی ہیں جو ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، مواعظ سے نصیحت پکڑتے ہیں اور غیر مناسب امور سے باز رہتے ہیں ۔
[47]﴿ وَلۡيَحۡكُمۡ اَهۡلُ الۡاِنۡجِيۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ ﴾ ’’اور چاہیے کہ اہل انجیل اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا۔‘‘ یعنی ان پر اپنی کتاب کا التزام کرنا لازم ہے، اس کتاب سے روگردانی کرنا ان کے لیے جائز نہیں ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے پس یہی لوگ فاسق ہیں ۔‘‘
المائدة 5:47
اور پیچھے بھیجا ہم نے ان کے قدم بہ قدم عیسیٰ ابن مریم کو، تصدیق کرنے والا اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات اور دی ہم نے اس کو انجیل، اس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات اور ہدایت اور نصیحت متقیوں کے لیے(46) اور چاہیے کہ فیصلہ کریں اہل انجیل ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اس میں اور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں فاسق(47)
[46] یعنی ان انبیا و مرسلین کے پیچھے جو تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، ہم نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم، روح اللہ اور اللہ کے کلمہ کو جو اس نے حضرت مریم[ کی طرف ڈالا، مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان سے پہلے گزری ہوئی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا نبی بنا کر بھیجا، وہ موسیٰu اور تورات کی حق و صداقت کے ساتھ گواہی دینے والے، ان کی دعوت کی تائید کرنے والے اور ان کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے تھے اور اکثر امور شرعیہ میں موسیٰu کی موافقت کرتے تھے۔بسااوقات عیسیٰu بعض احکام میں تخفیف فرما دیتے تھے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا قول نقل فرمایا کہ انھوں نے بنی اسرائیل سے فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾(ال عمران: 3؍50) ’’تاکہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو حلال ٹھہراؤں ۔‘‘﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں کتاب عظیم عطا کی جو تورات کی تکمیل کرتی ہے ﴿ فِيۡهِ هُدًى وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور روشنی ہے‘‘ یہ کتاب صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور باطل میں سے حق کو واضح کرتی ہے ﴿ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور تورات کی جو اس سے پہلے (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے۔‘‘ یعنی تورات کی صداقت کو ثابت کر کے، اس کی شہادت دے کر اور اس کی موافقت کر کے اس کی تصدیق کرتی ہے ﴿وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے‘‘ کیونکہ اہل تقویٰ ہی ہیں جو ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، مواعظ سے نصیحت پکڑتے ہیں اور غیر مناسب امور سے باز رہتے ہیں ۔
[47]﴿ وَلۡيَحۡكُمۡ اَهۡلُ الۡاِنۡجِيۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ ﴾ ’’اور چاہیے کہ اہل انجیل اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا۔‘‘ یعنی ان پر اپنی کتاب کا التزام کرنا لازم ہے، اس کتاب سے روگردانی کرنا ان کے لیے جائز نہیں ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے پس یہی لوگ فاسق ہیں ۔‘‘
المائدة 5:48
اور نازل کی ہم نے طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی کتاب اور نگہبان اوپر اس کے، پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی، نظر انداز کرکے اس کو جو آیا آپ کے پاس حق، ہر ایک کے لیے کیا ہم نے تم میں سے ایک دستور اور طریقہ اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ کر دیتا تم کو امت ایک لیکن تاکہ آزمائے تمھیں اس (کتاب) میں جو دی اس نے تمھیں ، پس سبقت کرو تم نیکیوں میں ، طرف اللہ ہی کی لوٹنا ہے تم سب کا، پھر وہ خبر دے گا تمھیں اس کی بابت کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(48) اور یہ کہ فیصلہ کریں آپ ان کے درمیان ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نےاور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور ڈریں ان سے کہ وہ بہکانہ دیں آپ کو کسی ایسی بات سے جو نازل کی اللہ نے آپ کی طرف۔ پس اگر وہ روگردانی کریں تو جان لیں کہ بے شک اللہ یہی ارادہ کرتا ہے کہ پہنچائے ان کو سزا بہ سبب ان کے بعض گناہوں کے اور بے شک اکثر لوگوں میں سے ، البتہ نافرمان ہیں (49) کیا پس جاہلیت کا فیصلہ وہ چاہتے ہیں ؟ اور کون زیادہ اچھا ہے اللہ سے فیصلہ کرنے میں ، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے(50)
[48]﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب‘‘ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’حق کے ساتھ‘‘ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامر و نواہی میں حق پر مشتمل ہے ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق، اس کے بڑے بڑے قوانین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے ﴿ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور ان کے مضامین پر نگہبان ہے‘‘ یعنی یہ کتاب ان امور پر مشتمل ہے جن امور پر سابقہ کتب مشتمل تھیں ۔ نیز مطالب الہٰیہ اور اخلاق نفسیہ میں بعض اضافے ہیں ۔یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان کتابوں میں آ چکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہے اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت ، دانائی اور احکام ہیں جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردود ہے کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہو چکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی۔ ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’پس ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپﷺ پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کیجیے ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ عَمَّؔا جَآءَكَ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور آپ کے پاس جو حق آیا، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ‘‘ یعنی ان کی حق کے خلاف خواہشات فاسدہ کی اتباع کو اس حق کا بدل نہ بنائیں جو آپﷺ کے پاس آچکا ہے، ورنہ آپ اعلیٰ کے بدلے ادنیٰ کو لیں گے۔ ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کو دیا ہم نے‘‘ یعنی اے قومو! ﴿ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا ﴾’’ایک دستور اور راہ‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ شریعتیں جو امتوں کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتی رہی ہیں ، زمان و مکان اور احوال کے تغیر و تبدل کے مطابق ان شرائع میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہا ہے اور ہر شریعت اپنے تشریع کے وقت عدل کی طرف راجع ہے۔ مگر بڑے بڑے اصول جو ہر زمان و مکان میں مصلحت اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے، وہ تمام شرائع میں مشروع ہوتے ہیں ۔﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا‘‘ یعنی ایک شریعت کی پیروی میں ایک امت بنا دیتا کسی متقدم اور متاخر امت میں کوئی اختلاف نہ ہوتا ﴿ وَّلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’لیکن وہ تمھیں آزمانا چاہتا ہے اپنے دیے ہوئے حکموں میں ‘‘ پس وہ تمھیں آزمائے اور دیکھے کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہر قوم کو آزماتا ہے اور ہر قوم کو اس کے احوال اور شان کے لائق عطا کرتا ہے تاکہ قوموں کے درمیان مقابلہ رہے۔ پس ہر قوم دوسری قوم سے آگے بڑھنے کی خواہش مند ہوتی ہے اس لیے فرمایا: ﴿ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’نیک کاموں میں جلدی کرو۔‘‘ یعنی نیکیوں کے حصول کے لیے جلدی سے آگے بڑھو اور ان کی تکمیل کرو۔ کیونکہ وہ نیکیاں جو فرائض و مستحبات، حقوق اللہ اور حقوق العباد پر مشتمل ہوتی ہیں ، ان کا فاعل ان دو امور کو مدنظر رکھے بغیر کسی سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (۱) جب نیکی کرنے کا وقت آ جائے اور اس کا سبب ظاہر ہو جائے تو فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے جلدی سے اس کی طرف بڑھنا۔ (۲)اور حکم کے مطابق اسے کامل طور پر ادا کرنے کی کوشش کرنا۔اس آیت کریمہ سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ نماز کو اول وقت پڑھنے کی کوشش کی جائے۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ بندے کو صرف نماز وغیرہ اور دیگر امور واجبہ کی ادائیگی پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ مقدور بھر مستحبات پر بھی عمل کرے تاکہ واجبات کی تکمیل ہو اور ان کے ذریعے سے سبقت حاصل ہو۔﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’تم سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے‘‘ تمام امم سابقہ ولاحقہ نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’پس وہ تمھیں ان امور کی بابت خبر دے گا جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے تھے‘‘ یعنی جن شرائع اور اعمال کے بارے میں تمھارے درمیان اختلاف تھا، چنانچہ وہ اہل حق اور نیک عمل کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور اہل باطل اور بدکاروں کو سزا دے گا۔
[49]﴿ وَاَنِ احۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے اتارا‘‘ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ آیت کریمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ﴾ ’’ان کے درمیان فیصلہ کریں یا اس سے روگردانی کریں ‘‘ کو منسوخ کرتی ہے۔ صحیح رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ اس مذکورہ آیت کو منسوخ نہیں کرتی، پہلی آیت دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ حق کی خاطر فیصلہ کروانے کا قصد نہیں رکھتے تھے۔ اور یہ (دوسری) آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب آپﷺ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت یعنی قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ کریں ۔ یہی وہ انصاف ہے جس کے بارے میں گزشتہ صفحات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ ‘‘یہ آیت کریمہ عدل کی توضیح و تبیین پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ عدل کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے احکام ہیں جو انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اصولوں پر مشتمل ہیں اور جو کچھ ان احکام کے خلاف ہے، وہ سراسر ظلم و جور ہے۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ‘‘ شدت تحذیر کی خاطر اللہ تعالیٰ نے بتکرار آپﷺ کو ان کی خواہشات کی پیروی کرنے سے روکا ہے۔ نیز وہ آیت حکم اور فتویٰ کے مقام پر ہے اور اس میں زیادہ وسعت ہے اور یہ صرف حکم کے مقام پر ہے۔ دونوں آیات کا مفاد یہ ہے کہ ضروری ہے کہ ان کی خلاف حق خواہشات کی پیروی نہ کی جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَاحۡذَرۡهُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنُوۡكَ عَنۢۡ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ ﴾’’اور بچتے رہیں ان سے، اس بات سے کہ وہ کہیں آپ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے آپ کی طرف اتارا‘‘ یعنی ان کی فریب کاریوں سے بچیے، نیز ان سے بچیے کہ وہ آپ کو فتنے میں ڈال کر آپﷺ کو کسی ایسی چیز سے نہ روک دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے۔ پس ان کی خواہشات کی پیروی، حق واجب کو ترک کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ اتباع حق فرض ہے۔﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ نہ مانیں ‘‘ یعنی اگر وہ آپ کی اتباع اور حق کی پیروی سے روگردانی کریں ﴿ فَاعۡلَمۡ ﴾ ’’تو جان لیجیے‘‘ کہ یہ روگردانی ان کے لیے سزا ہے ﴿ اَنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّصِيۡبَهُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے گناہوں کے سبب کوئی سزا پہنچائے‘‘ کیونکہ گناہوں کے لیے دنیا و آخرت میں سزائیں مقرر ہیں اور سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش میں مبتلا کر دے اور اتباع رسول کے ترک کو اس کے لیے مزین کر دے اور اس کا باعث اس کا فسق ہوتا ہے ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور اکثر لوگ نافرمان ہیں ‘‘ یعنی ان کی فطرت اور طبیعت میں فسق، نیز اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و اتباع سے خروج ہے۔
[50]﴿ اَفَحُكۡمَ الۡجَاهِلِيَّةِ يَبۡغُوۡنَ﴾ ’’اب کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی کیا وہ کفار کی دوستی طلب کر کے اور آپ سے اعراض کر کے جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں ؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ ہے۔ تب اس طرح صرف دو قسم کے فیصلے ہیں ۔ (۱) اللہ اور اس کے رسولﷺ کا فیصلہ۔ (۲)جاہلیت کا فیصلہ۔ پس جو کوئی اللہ اور رسولﷺ کے فیصلوں سے منہ موڑتا ہے تو وہ دوسری قسم کے فیصلوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جو جہالت، ظلم اور گمراہی پر مبنی ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان فیصلوں کو جاہلیت کی طرف مضاف کیا ہے۔ رہے اللہ تعالیٰ کے فیصلے تو وہ علم، عدل و انصاف، نور اور ہدایت پر مبنی ہوتے ہیں ۔﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سے بہتر کون ہے حکم کرنے والا، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے‘‘ صاحب ایقان وہ ہے جو اپنے یقین کی بنیاد پر دونوں قسم کے فیصلوں کے درمیان فرق کو پہچانتا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں موجود حسن اور خوبصورتی میں امتیاز کر سکتا ہو اور عقلاً اور شرعاً ان کی اتباع کو لازم قرار دیتا ہو اور یقین سے مراد وہ علم کامل و تام ہے جو عمل کا موجب ہوتا ہے۔
المائدة 5:49
اور نازل کی ہم نے طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی کتاب اور نگہبان اوپر اس کے، پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی، نظر انداز کرکے اس کو جو آیا آپ کے پاس حق، ہر ایک کے لیے کیا ہم نے تم میں سے ایک دستور اور طریقہ اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ کر دیتا تم کو امت ایک لیکن تاکہ آزمائے تمھیں اس (کتاب) میں جو دی اس نے تمھیں ، پس سبقت کرو تم نیکیوں میں ، طرف اللہ ہی کی لوٹنا ہے تم سب کا، پھر وہ خبر دے گا تمھیں اس کی بابت کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(48) اور یہ کہ فیصلہ کریں آپ ان کے درمیان ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نےاور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور ڈریں ان سے کہ وہ بہکانہ دیں آپ کو کسی ایسی بات سے جو نازل کی اللہ نے آپ کی طرف۔ پس اگر وہ روگردانی کریں تو جان لیں کہ بے شک اللہ یہی ارادہ کرتا ہے کہ پہنچائے ان کو سزا بہ سبب ان کے بعض گناہوں کے اور بے شک اکثر لوگوں میں سے ، البتہ نافرمان ہیں (49) کیا پس جاہلیت کا فیصلہ وہ چاہتے ہیں ؟ اور کون زیادہ اچھا ہے اللہ سے فیصلہ کرنے میں ، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے(50)
[48]﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب‘‘ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’حق کے ساتھ‘‘ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامر و نواہی میں حق پر مشتمل ہے ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق، اس کے بڑے بڑے قوانین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے ﴿ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور ان کے مضامین پر نگہبان ہے‘‘ یعنی یہ کتاب ان امور پر مشتمل ہے جن امور پر سابقہ کتب مشتمل تھیں ۔ نیز مطالب الہٰیہ اور اخلاق نفسیہ میں بعض اضافے ہیں ۔یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان کتابوں میں آ چکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہے اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت ، دانائی اور احکام ہیں جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردود ہے کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہو چکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی۔ ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’پس ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپﷺ پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کیجیے ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ عَمَّؔا جَآءَكَ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور آپ کے پاس جو حق آیا، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ‘‘ یعنی ان کی حق کے خلاف خواہشات فاسدہ کی اتباع کو اس حق کا بدل نہ بنائیں جو آپﷺ کے پاس آچکا ہے، ورنہ آپ اعلیٰ کے بدلے ادنیٰ کو لیں گے۔ ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کو دیا ہم نے‘‘ یعنی اے قومو! ﴿ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا ﴾’’ایک دستور اور راہ‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ شریعتیں جو امتوں کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتی رہی ہیں ، زمان و مکان اور احوال کے تغیر و تبدل کے مطابق ان شرائع میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہا ہے اور ہر شریعت اپنے تشریع کے وقت عدل کی طرف راجع ہے۔ مگر بڑے بڑے اصول جو ہر زمان و مکان میں مصلحت اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے، وہ تمام شرائع میں مشروع ہوتے ہیں ۔﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا‘‘ یعنی ایک شریعت کی پیروی میں ایک امت بنا دیتا کسی متقدم اور متاخر امت میں کوئی اختلاف نہ ہوتا ﴿ وَّلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’لیکن وہ تمھیں آزمانا چاہتا ہے اپنے دیے ہوئے حکموں میں ‘‘ پس وہ تمھیں آزمائے اور دیکھے کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہر قوم کو آزماتا ہے اور ہر قوم کو اس کے احوال اور شان کے لائق عطا کرتا ہے تاکہ قوموں کے درمیان مقابلہ رہے۔ پس ہر قوم دوسری قوم سے آگے بڑھنے کی خواہش مند ہوتی ہے اس لیے فرمایا: ﴿ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’نیک کاموں میں جلدی کرو۔‘‘ یعنی نیکیوں کے حصول کے لیے جلدی سے آگے بڑھو اور ان کی تکمیل کرو۔ کیونکہ وہ نیکیاں جو فرائض و مستحبات، حقوق اللہ اور حقوق العباد پر مشتمل ہوتی ہیں ، ان کا فاعل ان دو امور کو مدنظر رکھے بغیر کسی سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (۱) جب نیکی کرنے کا وقت آ جائے اور اس کا سبب ظاہر ہو جائے تو فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے جلدی سے اس کی طرف بڑھنا۔ (۲)اور حکم کے مطابق اسے کامل طور پر ادا کرنے کی کوشش کرنا۔اس آیت کریمہ سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ نماز کو اول وقت پڑھنے کی کوشش کی جائے۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ بندے کو صرف نماز وغیرہ اور دیگر امور واجبہ کی ادائیگی پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ مقدور بھر مستحبات پر بھی عمل کرے تاکہ واجبات کی تکمیل ہو اور ان کے ذریعے سے سبقت حاصل ہو۔﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’تم سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے‘‘ تمام امم سابقہ ولاحقہ نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’پس وہ تمھیں ان امور کی بابت خبر دے گا جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے تھے‘‘ یعنی جن شرائع اور اعمال کے بارے میں تمھارے درمیان اختلاف تھا، چنانچہ وہ اہل حق اور نیک عمل کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور اہل باطل اور بدکاروں کو سزا دے گا۔
[49]﴿ وَاَنِ احۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے اتارا‘‘ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ آیت کریمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ﴾ ’’ان کے درمیان فیصلہ کریں یا اس سے روگردانی کریں ‘‘ کو منسوخ کرتی ہے۔ صحیح رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ اس مذکورہ آیت کو منسوخ نہیں کرتی، پہلی آیت دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ حق کی خاطر فیصلہ کروانے کا قصد نہیں رکھتے تھے۔ اور یہ (دوسری) آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب آپﷺ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت یعنی قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ کریں ۔ یہی وہ انصاف ہے جس کے بارے میں گزشتہ صفحات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ ‘‘یہ آیت کریمہ عدل کی توضیح و تبیین پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ عدل کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے احکام ہیں جو انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اصولوں پر مشتمل ہیں اور جو کچھ ان احکام کے خلاف ہے، وہ سراسر ظلم و جور ہے۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ‘‘ شدت تحذیر کی خاطر اللہ تعالیٰ نے بتکرار آپﷺ کو ان کی خواہشات کی پیروی کرنے سے روکا ہے۔ نیز وہ آیت حکم اور فتویٰ کے مقام پر ہے اور اس میں زیادہ وسعت ہے اور یہ صرف حکم کے مقام پر ہے۔ دونوں آیات کا مفاد یہ ہے کہ ضروری ہے کہ ان کی خلاف حق خواہشات کی پیروی نہ کی جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَاحۡذَرۡهُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنُوۡكَ عَنۢۡ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ ﴾’’اور بچتے رہیں ان سے، اس بات سے کہ وہ کہیں آپ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے آپ کی طرف اتارا‘‘ یعنی ان کی فریب کاریوں سے بچیے، نیز ان سے بچیے کہ وہ آپ کو فتنے میں ڈال کر آپﷺ کو کسی ایسی چیز سے نہ روک دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے۔ پس ان کی خواہشات کی پیروی، حق واجب کو ترک کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ اتباع حق فرض ہے۔﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ نہ مانیں ‘‘ یعنی اگر وہ آپ کی اتباع اور حق کی پیروی سے روگردانی کریں ﴿ فَاعۡلَمۡ ﴾ ’’تو جان لیجیے‘‘ کہ یہ روگردانی ان کے لیے سزا ہے ﴿ اَنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّصِيۡبَهُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے گناہوں کے سبب کوئی سزا پہنچائے‘‘ کیونکہ گناہوں کے لیے دنیا و آخرت میں سزائیں مقرر ہیں اور سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش میں مبتلا کر دے اور اتباع رسول کے ترک کو اس کے لیے مزین کر دے اور اس کا باعث اس کا فسق ہوتا ہے ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور اکثر لوگ نافرمان ہیں ‘‘ یعنی ان کی فطرت اور طبیعت میں فسق، نیز اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و اتباع سے خروج ہے۔
[50]﴿ اَفَحُكۡمَ الۡجَاهِلِيَّةِ يَبۡغُوۡنَ﴾ ’’اب کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی کیا وہ کفار کی دوستی طلب کر کے اور آپ سے اعراض کر کے جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں ؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ ہے۔ تب اس طرح صرف دو قسم کے فیصلے ہیں ۔ (۱) اللہ اور اس کے رسولﷺ کا فیصلہ۔ (۲)جاہلیت کا فیصلہ۔ پس جو کوئی اللہ اور رسولﷺ کے فیصلوں سے منہ موڑتا ہے تو وہ دوسری قسم کے فیصلوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جو جہالت، ظلم اور گمراہی پر مبنی ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان فیصلوں کو جاہلیت کی طرف مضاف کیا ہے۔ رہے اللہ تعالیٰ کے فیصلے تو وہ علم، عدل و انصاف، نور اور ہدایت پر مبنی ہوتے ہیں ۔﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سے بہتر کون ہے حکم کرنے والا، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے‘‘ صاحب ایقان وہ ہے جو اپنے یقین کی بنیاد پر دونوں قسم کے فیصلوں کے درمیان فرق کو پہچانتا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں موجود حسن اور خوبصورتی میں امتیاز کر سکتا ہو اور عقلاً اور شرعاً ان کی اتباع کو لازم قرار دیتا ہو اور یقین سے مراد وہ علم کامل و تام ہے جو عمل کا موجب ہوتا ہے۔