Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — المائدة 5:50 – المائدة 5:120

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. المائدة 5:50
  2. المائدة 5:51
  3. المائدة 5:52
  4. المائدة 5:53
  5. المائدة 5:54
  6. المائدة 5:55
  7. المائدة 5:56
  8. المائدة 5:57
  9. المائدة 5:58
  10. المائدة 5:59
  11. المائدة 5:60
  12. المائدة 5:61
  13. المائدة 5:62
  14. المائدة 5:63
  15. المائدة 5:64
  16. المائدة 5:65
  17. المائدة 5:66
  18. المائدة 5:67
  19. المائدة 5:68
  20. المائدة 5:69
  21. المائدة 5:70
  22. المائدة 5:71
  23. المائدة 5:72
  24. المائدة 5:73
  25. المائدة 5:74
  26. المائدة 5:75
  27. المائدة 5:76
  28. المائدة 5:77
  29. المائدة 5:78
  30. المائدة 5:79
  31. المائدة 5:80
  32. المائدة 5:81
  33. المائدة 5:82
  34. المائدة 5:83
  35. المائدة 5:84
  36. المائدة 5:85
  37. المائدة 5:86
  38. المائدة 5:87
  39. المائدة 5:88
  40. المائدة 5:89
  41. المائدة 5:90
  42. المائدة 5:91
  43. المائدة 5:92
  44. المائدة 5:93
  45. المائدة 5:94
  46. المائدة 5:95
  47. المائدة 5:96
  48. المائدة 5:97
  49. المائدة 5:98
  50. المائدة 5:99
  51. المائدة 5:100
  52. المائدة 5:101
  53. المائدة 5:102
  54. المائدة 5:103
  55. المائدة 5:104
  56. المائدة 5:105
  57. المائدة 5:106
  58. المائدة 5:107
  59. المائدة 5:108
  60. المائدة 5:109
  61. المائدة 5:110
  62. المائدة 5:111
  63. المائدة 5:112
  64. المائدة 5:113
  65. المائدة 5:114
  66. المائدة 5:115
  67. المائدة 5:116
  68. المائدة 5:117
  69. المائدة 5:118
  70. المائدة 5:119
  71. المائدة 5:120

المائدة 5:50

اور نازل کی ہم نے طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی کتاب اور نگہبان اوپر اس کے، پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی، نظر انداز کرکے اس کو جو آیا آپ کے پاس حق، ہر ایک کے لیے کیا ہم نے تم میں سے ایک دستور اور طریقہ اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ کر دیتا تم کو امت ایک لیکن تاکہ آزمائے تمھیں اس (کتاب) میں جو دی اس نے تمھیں ، پس سبقت کرو تم نیکیوں میں ، طرف اللہ ہی کی لوٹنا ہے تم سب کا، پھر وہ خبر دے گا تمھیں اس کی بابت کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(48) اور یہ کہ فیصلہ کریں آپ ان کے درمیان ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نےاور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور ڈریں ان سے کہ وہ بہکانہ دیں آپ کو کسی ایسی بات سے جو نازل کی اللہ نے آپ کی طرف۔ پس اگر وہ روگردانی کریں تو جان لیں کہ بے شک اللہ یہی ارادہ کرتا ہے کہ پہنچائے ان کو سزا بہ سبب ان کے بعض گناہوں کے اور بے شک اکثر لوگوں میں سے ، البتہ نافرمان ہیں (49) کیا پس جاہلیت کا فیصلہ وہ چاہتے ہیں ؟ اور کون زیادہ اچھا ہے اللہ سے فیصلہ کرنے میں ، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے(50) [48]﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب‘‘ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’حق کے ساتھ‘‘ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامر و نواہی میں حق پر مشتمل ہے ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق، اس کے بڑے بڑے قوانین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے ﴿ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور ان کے مضامین پر نگہبان ہے‘‘ یعنی یہ کتاب ان امور پر مشتمل ہے جن امور پر سابقہ کتب مشتمل تھیں ۔ نیز مطالب الہٰیہ اور اخلاق نفسیہ میں بعض اضافے ہیں ۔یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان کتابوں میں آ چکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہے اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت ، دانائی اور احکام ہیں جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردود ہے کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہو چکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی۔ ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’پس ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپﷺ پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کیجیے ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ عَمَّؔا جَآءَكَ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور آپ کے پاس جو حق آیا، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ‘‘ یعنی ان کی حق کے خلاف خواہشات فاسدہ کی اتباع کو اس حق کا بدل نہ بنائیں جو آپﷺ کے پاس آچکا ہے، ورنہ آپ اعلیٰ کے بدلے ادنیٰ کو لیں گے۔ ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کو دیا ہم نے‘‘ یعنی اے قومو! ﴿ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا ﴾’’ایک دستور اور راہ‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ شریعتیں جو امتوں کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتی رہی ہیں ، زمان و مکان اور احوال کے تغیر و تبدل کے مطابق ان شرائع میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہا ہے اور ہر شریعت اپنے تشریع کے وقت عدل کی طرف راجع ہے۔ مگر بڑے بڑے اصول جو ہر زمان و مکان میں مصلحت اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے، وہ تمام شرائع میں مشروع ہوتے ہیں ۔﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا‘‘ یعنی ایک شریعت کی پیروی میں ایک امت بنا دیتا کسی متقدم اور متاخر امت میں کوئی اختلاف نہ ہوتا ﴿ وَّلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’لیکن وہ تمھیں آزمانا چاہتا ہے اپنے دیے ہوئے حکموں میں ‘‘ پس وہ تمھیں آزمائے اور دیکھے کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہر قوم کو آزماتا ہے اور ہر قوم کو اس کے احوال اور شان کے لائق عطا کرتا ہے تاکہ قوموں کے درمیان مقابلہ رہے۔ پس ہر قوم دوسری قوم سے آگے بڑھنے کی خواہش مند ہوتی ہے اس لیے فرمایا: ﴿ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’نیک کاموں میں جلدی کرو۔‘‘ یعنی نیکیوں کے حصول کے لیے جلدی سے آگے بڑھو اور ان کی تکمیل کرو۔ کیونکہ وہ نیکیاں جو فرائض و مستحبات، حقوق اللہ اور حقوق العباد پر مشتمل ہوتی ہیں ، ان کا فاعل ان دو امور کو مدنظر رکھے بغیر کسی سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (۱) جب نیکی کرنے کا وقت آ جائے اور اس کا سبب ظاہر ہو جائے تو فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے جلدی سے اس کی طرف بڑھنا۔ (۲)اور حکم کے مطابق اسے کامل طور پر ادا کرنے کی کوشش کرنا۔اس آیت کریمہ سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ نماز کو اول وقت پڑھنے کی کوشش کی جائے۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ بندے کو صرف نماز وغیرہ اور دیگر امور واجبہ کی ادائیگی پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ مقدور بھر مستحبات پر بھی عمل کرے تاکہ واجبات کی تکمیل ہو اور ان کے ذریعے سے سبقت حاصل ہو۔﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’تم سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے‘‘ تمام امم سابقہ ولاحقہ نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’پس وہ تمھیں ان امور کی بابت خبر دے گا جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے تھے‘‘ یعنی جن شرائع اور اعمال کے بارے میں تمھارے درمیان اختلاف تھا، چنانچہ وہ اہل حق اور نیک عمل کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور اہل باطل اور بدکاروں کو سزا دے گا۔ [49]﴿ وَاَنِ احۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے اتارا‘‘ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ آیت کریمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ﴾ ’’ان کے درمیان فیصلہ کریں یا اس سے روگردانی کریں ‘‘ کو منسوخ کرتی ہے۔ صحیح رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ اس مذکورہ آیت کو منسوخ نہیں کرتی، پہلی آیت دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ حق کی خاطر فیصلہ کروانے کا قصد نہیں رکھتے تھے۔ اور یہ (دوسری) آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب آپﷺ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت یعنی قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ کریں ۔ یہی وہ انصاف ہے جس کے بارے میں گزشتہ صفحات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ ‘‘یہ آیت کریمہ عدل کی توضیح و تبیین پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ عدل کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے احکام ہیں جو انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اصولوں پر مشتمل ہیں اور جو کچھ ان احکام کے خلاف ہے، وہ سراسر ظلم و جور ہے۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ‘‘ شدت تحذیر کی خاطر اللہ تعالیٰ نے بتکرار آپﷺ کو ان کی خواہشات کی پیروی کرنے سے روکا ہے۔ نیز وہ آیت حکم اور فتویٰ کے مقام پر ہے اور اس میں زیادہ وسعت ہے اور یہ صرف حکم کے مقام پر ہے۔ دونوں آیات کا مفاد یہ ہے کہ ضروری ہے کہ ان کی خلاف حق خواہشات کی پیروی نہ کی جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَاحۡذَرۡهُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنُوۡكَ عَنۢۡ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ ﴾’’اور بچتے رہیں ان سے، اس بات سے کہ وہ کہیں آپ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے آپ کی طرف اتارا‘‘ یعنی ان کی فریب کاریوں سے بچیے، نیز ان سے بچیے کہ وہ آپ کو فتنے میں ڈال کر آپﷺ کو کسی ایسی چیز سے نہ روک دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے۔ پس ان کی خواہشات کی پیروی، حق واجب کو ترک کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ اتباع حق فرض ہے۔﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ نہ مانیں ‘‘ یعنی اگر وہ آپ کی اتباع اور حق کی پیروی سے روگردانی کریں ﴿ فَاعۡلَمۡ ﴾ ’’تو جان لیجیے‘‘ کہ یہ روگردانی ان کے لیے سزا ہے ﴿ اَنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّصِيۡبَهُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے گناہوں کے سبب کوئی سزا پہنچائے‘‘ کیونکہ گناہوں کے لیے دنیا و آخرت میں سزائیں مقرر ہیں اور سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش میں مبتلا کر دے اور اتباع رسول کے ترک کو اس کے لیے مزین کر دے اور اس کا باعث اس کا فسق ہوتا ہے ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور اکثر لوگ نافرمان ہیں ‘‘ یعنی ان کی فطرت اور طبیعت میں فسق، نیز اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و اتباع سے خروج ہے۔ [50]﴿ اَفَحُكۡمَ الۡجَاهِلِيَّةِ يَبۡغُوۡنَ﴾ ’’اب کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی کیا وہ کفار کی دوستی طلب کر کے اور آپ سے اعراض کر کے جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں ؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ ہے۔ تب اس طرح صرف دو قسم کے فیصلے ہیں ۔ (۱) اللہ اور اس کے رسولﷺ کا فیصلہ۔ (۲)جاہلیت کا فیصلہ۔ پس جو کوئی اللہ اور رسولﷺ کے فیصلوں سے منہ موڑتا ہے تو وہ دوسری قسم کے فیصلوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جو جہالت، ظلم اور گمراہی پر مبنی ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان فیصلوں کو جاہلیت کی طرف مضاف کیا ہے۔ رہے اللہ تعالیٰ کے فیصلے تو وہ علم، عدل و انصاف، نور اور ہدایت پر مبنی ہوتے ہیں ۔﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سے بہتر کون ہے حکم کرنے والا، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے‘‘ صاحب ایقان وہ ہے جو اپنے یقین کی بنیاد پر دونوں قسم کے فیصلوں کے درمیان فرق کو پہچانتا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں موجود حسن اور خوبصورتی میں امتیاز کر سکتا ہو اور عقلاً اور شرعاً ان کی اتباع کو لازم قرار دیتا ہو اور یقین سے مراد وہ علم کامل و تام ہے جو عمل کا موجب ہوتا ہے۔

المائدة 5:51

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے اور جو کوئی دوستی رکھے گا ان سے تم میں سے تو بے شک وہ انھی میں سے ہے، بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو(51) پس آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے، دوڑ کر جاتے ہیں ان میں ، کہتے ہیں وہ ہم ڈرتے ہیں اس سے کہ پہنچے ہمیں کوئی مصیبت، سو قریب ہے اللہ یہ کہ (جلد ہی) لے آئے فتح یا کوئی اور حکم اپنی طرف سے، پس ہو جائیں وہ اس پر، جو چھپاتے تھے وہ اپنے نفسوں میں ، پچھتانے والے(52) اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے، کیا یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے قسمیں کھائی تھیں اللہ کی بڑی تاکید سے کہ بے شک وہ تمھارے ساتھ ہیں ، برباد ہوگئے عمل ان کے اور ہو گئے وہ خسارہ اٹھانے والے(53) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود و نصاریٰ کے احوال اور غیر مستحسن صفات بیان کرتے ہوئے اپنے مومن بندوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ انھیں اپنا دوست نہ بنائیں ﴿بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ﴾ ’’کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘‘ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں ۔ پس تم ان کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ درحقیقت تمھارے دشمن ہیں ۔ انھیں تمھارے نقصان کی کوئی پروا نہیں بلکہ وہ تمھیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انھیں وہی شخص دوست بنائے گا جو ان جیسا ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّؔنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے گا، وہ انھی میں سے ہے‘‘ کیونکہ کامل دوستی ان کے دین میں منتقل ہونے کی موجب بنتی ہے۔ تھوڑی دوستی زیادہ دوستی کی طرف دعوت دیتی ہے پھر وہ آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ بندہ انھی میں سے ہو جاتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم ہے۔ ظلم ان کا مرجع اور ظلم ہی پر ان کا اعتماد ہے۔ اس لیے آپ ان کے پاس کوئی بھی آیت اور معجزہ لے کر آئیں ، وہ کبھی آپ کی اطاعت نہیں کریں گے۔ [52] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو اہل کتاب سے دوستی رکھنے سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک گروہ ان کے ساتھ دوستی رکھتا ہے۔ ﴿ فَتَرَى الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’پس آپ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں روگ ہے‘‘ یعنی ان کے دلوں میں شک، نفاق اور ضعف ایمان ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم نے ضرورت کے تحت ان کو دوست بنایا ہے اس لیے کہ ﴿ نَخۡشٰۤى اَنۡ تُصِيۡبَنَا دَآىِٕرَةٌ﴾ ’’ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے‘‘ یعنی ہمیں ڈر ہے کہ کہیں گردش ایام یہود و نصاریٰ کے حق میں نہ ہو جائے اور اگر زمانے کی گردش ان کے حق میں ہو تو ہمارا ان پر یہ احسان انھیں اس بدلے میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر آمادہ کرے گا۔ یہ اسلام کے بارے میں ان کی انتہائی بدظنی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی بدظنی کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ فَعَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِيَ بِالۡفَتۡحِ ﴾ ’’ہو سکتا ہے اللہ فتح عطا کرے‘‘ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ پر غالب کر دے ﴿ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’یا کوئی حکم اپنے پاس سے‘‘ جس سے منافقین، یہود وغیرہ کفار کے کامیاب ہونے سے مایوس ہو جائیں ۔ ﴿ فَيُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوۡا ﴾ ’’پس ہوجائیں وہ اس پر جو کچھ وہ چھپاتے ہیں ‘‘ ﴿ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ نٰدِمِيۡنَ﴾ ’’اپنے نفسوں میں نادم ہوں ‘‘ یعنی اس رویے پر جس کا اظہار ان کی طرف سے ہوا اور جس نے انھیں نقصان پہنچایا اور کوئی نفع انھیں حاصل نہ ہوا۔ پس مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو نصرت سے نوازا اور کفر اور کفار کو ذلیل کیا۔ پس ان کو ندامت اٹھانی پڑی اور انھیں ایسے غم کا سامنا کرنا پڑا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ [53]﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ان کے حال پر اہل ایمان تعجب کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ١ۙ اِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡ﴾ ’’کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی تاکید سے اللہ کی قسمیں کھاتے تھے کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انھوں نے نہایت تاکید کے ساتھ حلف اٹھایا اور مختلف انواع کی تاکیدات کے ذریعے سے پکا کر کے کہا کہ وہ ایمان لانے میں ، نیز ایمان کے لوازم یعنی نصرت، محبت اور موالات میں ان کے ساتھ ہیں ۔مگر جو کچھ وہ چھپاتے رہے ہیں وہ ظاہر ہو گیا ، ان کے تمام بھید عیاں ہو گئے۔ ان کی سازشوں کے وہ تمام تانے بانے جو وہ بنا کرتے تھے اور ان کے وہ تمام ظن و گمان جو وہ اسلام کے بارے میں رکھا کرتے تھے، باطل ہو گئے اور ان کی سب چالیں ناکام ہو گئیں ﴿ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ ﴾ ’’پس (دنیا میں ) ان کے تمام اعمال اکارت گئے‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ خائب و خاسر ہو کر رہ گئے‘‘ کیونکہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور بدبختی اور عذاب نے انھیں گھیر لیا۔

المائدة 5:52

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے اور جو کوئی دوستی رکھے گا ان سے تم میں سے تو بے شک وہ انھی میں سے ہے، بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو(51) پس آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے، دوڑ کر جاتے ہیں ان میں ، کہتے ہیں وہ ہم ڈرتے ہیں اس سے کہ پہنچے ہمیں کوئی مصیبت، سو قریب ہے اللہ یہ کہ (جلد ہی) لے آئے فتح یا کوئی اور حکم اپنی طرف سے، پس ہو جائیں وہ اس پر، جو چھپاتے تھے وہ اپنے نفسوں میں ، پچھتانے والے(52) اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے، کیا یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے قسمیں کھائی تھیں اللہ کی بڑی تاکید سے کہ بے شک وہ تمھارے ساتھ ہیں ، برباد ہوگئے عمل ان کے اور ہو گئے وہ خسارہ اٹھانے والے(53) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود و نصاریٰ کے احوال اور غیر مستحسن صفات بیان کرتے ہوئے اپنے مومن بندوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ انھیں اپنا دوست نہ بنائیں ﴿بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ﴾ ’’کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘‘ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں ۔ پس تم ان کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ درحقیقت تمھارے دشمن ہیں ۔ انھیں تمھارے نقصان کی کوئی پروا نہیں بلکہ وہ تمھیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انھیں وہی شخص دوست بنائے گا جو ان جیسا ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّؔنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے گا، وہ انھی میں سے ہے‘‘ کیونکہ کامل دوستی ان کے دین میں منتقل ہونے کی موجب بنتی ہے۔ تھوڑی دوستی زیادہ دوستی کی طرف دعوت دیتی ہے پھر وہ آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ بندہ انھی میں سے ہو جاتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم ہے۔ ظلم ان کا مرجع اور ظلم ہی پر ان کا اعتماد ہے۔ اس لیے آپ ان کے پاس کوئی بھی آیت اور معجزہ لے کر آئیں ، وہ کبھی آپ کی اطاعت نہیں کریں گے۔ [52] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو اہل کتاب سے دوستی رکھنے سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک گروہ ان کے ساتھ دوستی رکھتا ہے۔ ﴿ فَتَرَى الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’پس آپ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں روگ ہے‘‘ یعنی ان کے دلوں میں شک، نفاق اور ضعف ایمان ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم نے ضرورت کے تحت ان کو دوست بنایا ہے اس لیے کہ ﴿ نَخۡشٰۤى اَنۡ تُصِيۡبَنَا دَآىِٕرَةٌ﴾ ’’ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے‘‘ یعنی ہمیں ڈر ہے کہ کہیں گردش ایام یہود و نصاریٰ کے حق میں نہ ہو جائے اور اگر زمانے کی گردش ان کے حق میں ہو تو ہمارا ان پر یہ احسان انھیں اس بدلے میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر آمادہ کرے گا۔ یہ اسلام کے بارے میں ان کی انتہائی بدظنی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی بدظنی کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ فَعَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِيَ بِالۡفَتۡحِ ﴾ ’’ہو سکتا ہے اللہ فتح عطا کرے‘‘ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ پر غالب کر دے ﴿ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’یا کوئی حکم اپنے پاس سے‘‘ جس سے منافقین، یہود وغیرہ کفار کے کامیاب ہونے سے مایوس ہو جائیں ۔ ﴿ فَيُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوۡا ﴾ ’’پس ہوجائیں وہ اس پر جو کچھ وہ چھپاتے ہیں ‘‘ ﴿ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ نٰدِمِيۡنَ﴾ ’’اپنے نفسوں میں نادم ہوں ‘‘ یعنی اس رویے پر جس کا اظہار ان کی طرف سے ہوا اور جس نے انھیں نقصان پہنچایا اور کوئی نفع انھیں حاصل نہ ہوا۔ پس مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو نصرت سے نوازا اور کفر اور کفار کو ذلیل کیا۔ پس ان کو ندامت اٹھانی پڑی اور انھیں ایسے غم کا سامنا کرنا پڑا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ [53]﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ان کے حال پر اہل ایمان تعجب کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ١ۙ اِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡ﴾ ’’کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی تاکید سے اللہ کی قسمیں کھاتے تھے کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انھوں نے نہایت تاکید کے ساتھ حلف اٹھایا اور مختلف انواع کی تاکیدات کے ذریعے سے پکا کر کے کہا کہ وہ ایمان لانے میں ، نیز ایمان کے لوازم یعنی نصرت، محبت اور موالات میں ان کے ساتھ ہیں ۔مگر جو کچھ وہ چھپاتے رہے ہیں وہ ظاہر ہو گیا ، ان کے تمام بھید عیاں ہو گئے۔ ان کی سازشوں کے وہ تمام تانے بانے جو وہ بنا کرتے تھے اور ان کے وہ تمام ظن و گمان جو وہ اسلام کے بارے میں رکھا کرتے تھے، باطل ہو گئے اور ان کی سب چالیں ناکام ہو گئیں ﴿ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ ﴾ ’’پس (دنیا میں ) ان کے تمام اعمال اکارت گئے‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ خائب و خاسر ہو کر رہ گئے‘‘ کیونکہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور بدبختی اور عذاب نے انھیں گھیر لیا۔

المائدة 5:53

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے اور جو کوئی دوستی رکھے گا ان سے تم میں سے تو بے شک وہ انھی میں سے ہے، بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو(51) پس آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے، دوڑ کر جاتے ہیں ان میں ، کہتے ہیں وہ ہم ڈرتے ہیں اس سے کہ پہنچے ہمیں کوئی مصیبت، سو قریب ہے اللہ یہ کہ (جلد ہی) لے آئے فتح یا کوئی اور حکم اپنی طرف سے، پس ہو جائیں وہ اس پر، جو چھپاتے تھے وہ اپنے نفسوں میں ، پچھتانے والے(52) اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے، کیا یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے قسمیں کھائی تھیں اللہ کی بڑی تاکید سے کہ بے شک وہ تمھارے ساتھ ہیں ، برباد ہوگئے عمل ان کے اور ہو گئے وہ خسارہ اٹھانے والے(53) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود و نصاریٰ کے احوال اور غیر مستحسن صفات بیان کرتے ہوئے اپنے مومن بندوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ انھیں اپنا دوست نہ بنائیں ﴿بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ﴾ ’’کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘‘ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں ۔ پس تم ان کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ درحقیقت تمھارے دشمن ہیں ۔ انھیں تمھارے نقصان کی کوئی پروا نہیں بلکہ وہ تمھیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انھیں وہی شخص دوست بنائے گا جو ان جیسا ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّؔنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے گا، وہ انھی میں سے ہے‘‘ کیونکہ کامل دوستی ان کے دین میں منتقل ہونے کی موجب بنتی ہے۔ تھوڑی دوستی زیادہ دوستی کی طرف دعوت دیتی ہے پھر وہ آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ بندہ انھی میں سے ہو جاتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم ہے۔ ظلم ان کا مرجع اور ظلم ہی پر ان کا اعتماد ہے۔ اس لیے آپ ان کے پاس کوئی بھی آیت اور معجزہ لے کر آئیں ، وہ کبھی آپ کی اطاعت نہیں کریں گے۔ [52] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو اہل کتاب سے دوستی رکھنے سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک گروہ ان کے ساتھ دوستی رکھتا ہے۔ ﴿ فَتَرَى الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’پس آپ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں روگ ہے‘‘ یعنی ان کے دلوں میں شک، نفاق اور ضعف ایمان ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم نے ضرورت کے تحت ان کو دوست بنایا ہے اس لیے کہ ﴿ نَخۡشٰۤى اَنۡ تُصِيۡبَنَا دَآىِٕرَةٌ﴾ ’’ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے‘‘ یعنی ہمیں ڈر ہے کہ کہیں گردش ایام یہود و نصاریٰ کے حق میں نہ ہو جائے اور اگر زمانے کی گردش ان کے حق میں ہو تو ہمارا ان پر یہ احسان انھیں اس بدلے میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر آمادہ کرے گا۔ یہ اسلام کے بارے میں ان کی انتہائی بدظنی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی بدظنی کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ فَعَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِيَ بِالۡفَتۡحِ ﴾ ’’ہو سکتا ہے اللہ فتح عطا کرے‘‘ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ پر غالب کر دے ﴿ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’یا کوئی حکم اپنے پاس سے‘‘ جس سے منافقین، یہود وغیرہ کفار کے کامیاب ہونے سے مایوس ہو جائیں ۔ ﴿ فَيُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوۡا ﴾ ’’پس ہوجائیں وہ اس پر جو کچھ وہ چھپاتے ہیں ‘‘ ﴿ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ نٰدِمِيۡنَ﴾ ’’اپنے نفسوں میں نادم ہوں ‘‘ یعنی اس رویے پر جس کا اظہار ان کی طرف سے ہوا اور جس نے انھیں نقصان پہنچایا اور کوئی نفع انھیں حاصل نہ ہوا۔ پس مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو نصرت سے نوازا اور کفر اور کفار کو ذلیل کیا۔ پس ان کو ندامت اٹھانی پڑی اور انھیں ایسے غم کا سامنا کرنا پڑا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ [53]﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ان کے حال پر اہل ایمان تعجب کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ١ۙ اِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡ﴾ ’’کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی تاکید سے اللہ کی قسمیں کھاتے تھے کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انھوں نے نہایت تاکید کے ساتھ حلف اٹھایا اور مختلف انواع کی تاکیدات کے ذریعے سے پکا کر کے کہا کہ وہ ایمان لانے میں ، نیز ایمان کے لوازم یعنی نصرت، محبت اور موالات میں ان کے ساتھ ہیں ۔مگر جو کچھ وہ چھپاتے رہے ہیں وہ ظاہر ہو گیا ، ان کے تمام بھید عیاں ہو گئے۔ ان کی سازشوں کے وہ تمام تانے بانے جو وہ بنا کرتے تھے اور ان کے وہ تمام ظن و گمان جو وہ اسلام کے بارے میں رکھا کرتے تھے، باطل ہو گئے اور ان کی سب چالیں ناکام ہو گئیں ﴿ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ ﴾ ’’پس (دنیا میں ) ان کے تمام اعمال اکارت گئے‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ خائب و خاسر ہو کر رہ گئے‘‘ کیونکہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور بدبختی اور عذاب نے انھیں گھیر لیا۔

المائدة 5:54

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جو پھر جائے تم میں سے اپنے دین سے تو عنقریب لائے گا اللہ ایسے لوگ کہ محبت کرتا ہوگا وہ ان سے اور وہ محبت کرتے ہوں گے اس سے، نرم ہوں گے مومنوں پر، سختی کرنے والے کافروں پر وہ جہاد کریں گے اللہ کی راہ میں اور نہ ڈریں گے وہ کسی ملامت گر کی ملامت سے، یہ فضل ہے اللہ کا دیتا ہے وہ یہ جسے چاہتا ہے اور اللہ کشائش والا خوب جاننے والا ہے(54) [54] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے جو کوئی اس کے دین سے پھرجاتا ہے وہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتا بلکہ وہ اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مخلص اور سچے بندے ہیں اللہ رحمان و رحیم ان کی ہدایت کا ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لانے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ اپنے اوصاف میں سب سے کامل، اپنے جسم میں سب سے طاقتور اور اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہیں ۔ان کی سب سے بڑی صفت یہ ہے ﴿ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾ ’’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ بندے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت جلیل ترین نعمت ہے جس کے ساتھ اس نے اپنے بندے کو نوازا ہے اور سب سے بڑی فضیلت ہے جس سے اللہ نے اپنے بندے کو مشرف فرمایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کے لیے تمام اسباب مہیا کر دیتا ہے، ہر قسم کی مشکل اس پر آسان کر دیتا ہے، نیک کام کرنے اور برائیوں کو ترک کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے اور بندوں کے دلوں کو محبت اور مودت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔اپنے رب کے ساتھ بندے کی محبت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے اقوال و افعال اور تمام احوال میں ظاہری اور باطنی طور پر رسول اللہﷺ کی متابعت کی صفت سے متصف ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ قُلۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ يُحۡبِبۡكُمُ اللّٰهُ ﴾(آل عمران: 3؍31) ’’کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘ جیسے بندے کے ساتھ رب کی محبت کے لوازم میں سے یہ ہے کہ بندہ کثرت سے فرائض اور نوافل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے ایک صحیح حدیث میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے نقل فرمایا ہے: ’’میرا بندہ جس چیز کے ذریعے سے میرا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، ان میں فرائض سے بڑھ کر کوئی چیز مجھے محبوب نہیں ۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ دیکھتا ہے، میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے پکڑتا ہے اور میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں ‘‘ (صحیح البخاري، کتاب الرقاق، باب التواضع، حدیث: 6502)اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لوازم میں سے اس کی معرفت اور کثرت کے ساتھ اس کا ذکر کرنا بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے بغیر اس کے ساتھ محبت ناقص ہے بلکہ اس محبت کا وجود ہی نہیں اگرچہ اس کا دعویٰ کیا جائے۔جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے وہ کثرت سے اس کا ذکر کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے تھوڑے سے عمل کو قبول فرما لیتا ہے اور اس کی بہت سی لغزشوں کو معاف کر دیتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے محبوب لوگوں کی صفات میں سے یہ ہے ﴿ اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’نرم ہیں مومنوں پر، سخت ہیں کافروں پر‘‘ پس وہ اہل ایمان کے ساتھ محبت، ان کے لیے خیر خواہی، ان کے لیے نرمی اور مہربانی، ان کے لیے رحمت و رافت اور ان کے ساتھ شفقت بھرے رویے کی بنا پر ان کے لیے نرم خو ہوتے ہیں ۔ نیز کسی ایسی چیز کے قرب کی بنا پر جو اس سے مطلوب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والوں ، اس کی آیت سے عناد رکھنے والوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہوتے ہیں ۔ ان کی عداوت پر ان کی ہمت اور عزائم مجتمع ہوتے ہیں اور وہ ان پر فتح حاصل کرنے کے لیے ہر سبب میں پوری کوشش کرتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّؔكُمۡ ﴾(الانفال: 8؍60) ’’جہاں تک ہو سکے قوت و طاقت کے ساتھ اور گھوڑوں کو تیار رکھ کر ان کے مقابلے کے لیے مستعد رہو، اس کے ذریعے سے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ڈرائے رکھو۔‘‘اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ﴾(الفتح: 48؍29)’’وہ کافروں کے لیے نہایت سخت اور آپس میں بہت مہربان ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے بارے میں سخت رویہ رکھنا، ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس سے بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کرتا ہے اور ان کے ساتھ سختی اور ناراضی میں بندہ اپنے رب کی موافقت کرتا ہے اور ان کے بارے میں سخت رویہ ان کو دین اسلام کی طرف ایسے طریقے سے دعوت دینے سے مانع نہیں جو بہتر ہو۔ ان کے بارے میں سخت رویہ اور دعوت دین میں نرمی دونوں یکجا ہوں ۔ دونوں امور میں ان کے لیے مصلحت ہے جس کا فائدہ انھی کی طرف لوٹتا ہے۔﴿ يُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ (اپنی جان، مال، اقوال اور افعال کے ذریعے سے) اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں ‘‘ ﴿ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَآىِٕمٍ﴾ ’’وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے‘‘ بلکہ وہ اپنے رب کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں اور مخلوق کی ملامت کی بجائے اپنے رب کی ملامت سے ڈرتے ہیں ۔ اور یہ رویہ ان کے ارادوں اور عزائم کی پختگی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ کمزور دل والا، ارادے کا بھی کمزور ہوتا ہے۔ ملامت گروں کی ملامت پر اس کی عزیمت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے اور نکتہ چینوں کی نکتہ چینی پر اس کی قوت کمزور ہو جاتی ہے۔ مخلوق کی رعایت، ان کی رضا اور ناراضی کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر ترجیح کے مطابق بندوں کے دلوں میں غیر اللہ کا تعبد جنم لیتا ہے۔ قلب، غیر اللہ کی عبادت سے اس وقت تک محفوظ نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت سے ڈرنا چھوڑ نہ دے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان صفات جمیلہ اور مناقب عالیہ سے نواز کر ان کی مدح کی ہے جو ایسے افعال خیر کو مستلزم ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ ان پر محض اس کا فضل و احسان ہے۔ تاکہ وہ خود پسندی کا شکار نہ ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں جس نے ان پر احسان کیا تاکہ وہ ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ نوازے اور دوسرے لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم محجوب نہیں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ١ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے اور اللہ کشائش والا جاننے والا ہے‘‘ یعنی وہ وسیع فضل و کرم اور بے پایاں احسان کا مالک ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اولیا ءکو وسیع فضل و کرم سے نوازتا ہے جس سے وہ اوروں کو نہیں نوازتا۔ مگر وہ علم رکھتا ہے کہ کون اس کے فضل کا مستحق ہے پس وہ اسی کو عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ اصولی اور فروعی طور پر رسالت سے کسے نوازنا ہے۔

المائدة 5:55

تمھارے دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، جو قائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور وہ رکوع کرنے والے ہیں (55) اور جو کوئی دوستی رکھے گا اللہ اور اس کے رسول سے اور ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو یقینا گروہ اللہ کا، وہی ہے غالب آنے والا(56) [55] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار کی دوستی سے روکا اور ذکر فرمایا کہ ان کی دوستی کا انجام واضح خسارہ ہے۔ جس کی دوستی متعین اور واجب ہے، اب اس کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اس کے فائدے اور مصلحت کا ذکر کیا ہے ﴿ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’تمھارا دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول ہی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی) ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے۔ جو کوئی صاحب ایمان اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی یعنی دوست ہے اور جو اللہ کا دوست ہے وہ اس کے رسولﷺ کا دوست ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو دوست بناتا ہے تو اس دوستی کی تکمیل یہ ہے کہ اللہ جن کو دوست بناتا ہے یہ بھی انھی کو دوست بنائے۔ اور وہ ہیں اہل ایمان جو ایمان کے ظاہری اور باطنی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور معبود کے لیے دین کو خالص کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کی تمام شرائط و فرائض اور اس کو مکمل کرنے والے امور کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، مخلوق کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے ہیں اور اپنے اموال میں سے اپنے میں سے مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دیتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ رٰؔكِعُوۡنَ﴾ ’’اور (اللہ کے آگے) جھکتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے خضوع اور تذلل اختیار کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا ﴾ میں حصر کا اسلوب دلالت کرتا ہے کہ ان مذکور لوگوں کی دوستی پر اقتصار کرنااور ان کے علاوہ دیگر لوگوں سے براء ت کا اظہار کرنا ضروری ہے۔ [56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس دوستی کا فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾ ’’اور جو اللہ سے، اس کے رسول سے اور ایمان والوں سے دوستی رکھتا ہے تو بے شک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے‘‘ یعنی وہ اس گروہ میں شمار ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عبودیت اور ولایت کی اضافت رکھتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا حزب غالب ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کا انجام دنیا و آخرت میں اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(الصافات: 36؍173) ’’بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔‘‘ یہ اس شخص کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کر کے اس کے گروہ اور لشکر میں شامل ہو جاتا ہے کہ غلبہ اسی کے لیے ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت وہ مغلوب بھی ہو جاتا ہے مگر انجام کار فتح و غلبہ سے وہی بہرہ ور ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا کون ہے۔

المائدة 5:56

تمھارے دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، جو قائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور وہ رکوع کرنے والے ہیں (55) اور جو کوئی دوستی رکھے گا اللہ اور اس کے رسول سے اور ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو یقینا گروہ اللہ کا، وہی ہے غالب آنے والا(56) [55] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار کی دوستی سے روکا اور ذکر فرمایا کہ ان کی دوستی کا انجام واضح خسارہ ہے۔ جس کی دوستی متعین اور واجب ہے، اب اس کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اس کے فائدے اور مصلحت کا ذکر کیا ہے ﴿ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’تمھارا دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول ہی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی) ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے۔ جو کوئی صاحب ایمان اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی یعنی دوست ہے اور جو اللہ کا دوست ہے وہ اس کے رسولﷺ کا دوست ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو دوست بناتا ہے تو اس دوستی کی تکمیل یہ ہے کہ اللہ جن کو دوست بناتا ہے یہ بھی انھی کو دوست بنائے۔ اور وہ ہیں اہل ایمان جو ایمان کے ظاہری اور باطنی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور معبود کے لیے دین کو خالص کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کی تمام شرائط و فرائض اور اس کو مکمل کرنے والے امور کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، مخلوق کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے ہیں اور اپنے اموال میں سے اپنے میں سے مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دیتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ رٰؔكِعُوۡنَ﴾ ’’اور (اللہ کے آگے) جھکتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے خضوع اور تذلل اختیار کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا ﴾ میں حصر کا اسلوب دلالت کرتا ہے کہ ان مذکور لوگوں کی دوستی پر اقتصار کرنااور ان کے علاوہ دیگر لوگوں سے براء ت کا اظہار کرنا ضروری ہے۔ [56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس دوستی کا فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾ ’’اور جو اللہ سے، اس کے رسول سے اور ایمان والوں سے دوستی رکھتا ہے تو بے شک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے‘‘ یعنی وہ اس گروہ میں شمار ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عبودیت اور ولایت کی اضافت رکھتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا حزب غالب ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کا انجام دنیا و آخرت میں اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(الصافات: 36؍173) ’’بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔‘‘ یہ اس شخص کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کر کے اس کے گروہ اور لشکر میں شامل ہو جاتا ہے کہ غلبہ اسی کے لیے ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت وہ مغلوب بھی ہو جاتا ہے مگر انجام کار فتح و غلبہ سے وہی بہرہ ور ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا کون ہے۔

المائدة 5:57

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم ان لوگوں کو، جنھوں نے بنا لیا تمھارے دین کو ہنسی اور کھیل، ان لوگوں میں سے کہ دیے گئے وہ کتاب پہلے تم سےاور نہ کافروں کو، (اپنا) دوست۔ اور ڈرو اللہ سے اگر ہو تم مومن(57) اور جب تم پکارتے ہو طرف نماز کی تو بنا لیتے ہیں وہ اسے ہنسی اور کھیل یہ اس سبب سے کہ ہیں وہ لوگ نہیں عقل رکھتے(58) [58,57] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام کفار کے ساتھ موالات رکھنے سے منع کرتا ہے۔ وہ ان سے محبت نہ کریں ان کو دوست نہ بنائیں ، ان پر اہل ایمان کے بھید نہ کھولیں اور بعض ایسے امور پر ان کی معاونت نہ کریں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ ان کا ایمان کفار کے ساتھ ترک موالات کا موجب ہے اور ان کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح ان کا تقویٰ کا التزام ... جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور اس کی نواہی سے اجتناب کا .... کفار کے ساتھ عداوت کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح مشرکین، کفار اور مسلمانوں کے دیگر مخالفین کا رویہ بھی اسی بات کا متقاضی ہے کہ مسلمان ان سے دوستی کی بجائے دشمنی رکھیں ۔ یہ لوگ دین اسلام میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں ۔ اسلام کے ساتھ استہزا کرتے اور تمسخر اڑاتے ہیں اور دین کی تحقیر کرتے ہیں خصوصاً نماز کے بارے میں جو کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا شعار اور سب سے بڑی عبادت ہے۔ جب مسلمان نماز کے لیے اذان دیتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کا سبب ان کی کم عقلی اور جہالت ہے۔ ورنہ اگر ان میں عقل ہوتی تو وہ نماز کی افادیت کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے اور انھیں معلوم ہو جاتا کہ نماز ہی ان فضائل میں سب سے بڑی فضیلت ہے جس سے نفوس انسانی متصف ہوتے ہیں ۔پس اے مومنو! جب تمھیں کفار کا حال معلوم ہے اور تمھیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ تمھارے اور تمھارے دین کے ساتھ کتنی شدید عداوت رکھتے ہیں جو کوئی اس صورتحال کے بعد بھی انھیں اپنا دشمن نہیں سمجھتا تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اسلام اس کے نزدیک بہت سستی چیز ہے اور اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کوئی اس میں طعن و تشنیع کرتا ہے یا اسے کفر اور ضلالت قرار دیتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص کے اندر مروت اور انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ آپ اپنے لیے دین قیم کا کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں اور کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام دین حق ہے اور اس کے سوا تمام ادیان باطل ہیں جبکہ حال یہ ہے کہ آپ ان جاہل اور احمق لوگوں کی موالات پر راضی ہیں جو آپ کے دین کے ساتھ استہزا کرتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں ؟ اس آیت کریمہ میں کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب ہے اور یہ بات ہر اس شخص کو معلوم ہے جو ادنیٰ سا بھی فہم رکھتا ہے۔

المائدة 5:58

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم ان لوگوں کو، جنھوں نے بنا لیا تمھارے دین کو ہنسی اور کھیل، ان لوگوں میں سے کہ دیے گئے وہ کتاب پہلے تم سےاور نہ کافروں کو، (اپنا) دوست۔ اور ڈرو اللہ سے اگر ہو تم مومن(57) اور جب تم پکارتے ہو طرف نماز کی تو بنا لیتے ہیں وہ اسے ہنسی اور کھیل یہ اس سبب سے کہ ہیں وہ لوگ نہیں عقل رکھتے(58) [58,57] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام کفار کے ساتھ موالات رکھنے سے منع کرتا ہے۔ وہ ان سے محبت نہ کریں ان کو دوست نہ بنائیں ، ان پر اہل ایمان کے بھید نہ کھولیں اور بعض ایسے امور پر ان کی معاونت نہ کریں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ ان کا ایمان کفار کے ساتھ ترک موالات کا موجب ہے اور ان کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح ان کا تقویٰ کا التزام ... جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور اس کی نواہی سے اجتناب کا .... کفار کے ساتھ عداوت کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح مشرکین، کفار اور مسلمانوں کے دیگر مخالفین کا رویہ بھی اسی بات کا متقاضی ہے کہ مسلمان ان سے دوستی کی بجائے دشمنی رکھیں ۔ یہ لوگ دین اسلام میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں ۔ اسلام کے ساتھ استہزا کرتے اور تمسخر اڑاتے ہیں اور دین کی تحقیر کرتے ہیں خصوصاً نماز کے بارے میں جو کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا شعار اور سب سے بڑی عبادت ہے۔ جب مسلمان نماز کے لیے اذان دیتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کا سبب ان کی کم عقلی اور جہالت ہے۔ ورنہ اگر ان میں عقل ہوتی تو وہ نماز کی افادیت کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے اور انھیں معلوم ہو جاتا کہ نماز ہی ان فضائل میں سب سے بڑی فضیلت ہے جس سے نفوس انسانی متصف ہوتے ہیں ۔پس اے مومنو! جب تمھیں کفار کا حال معلوم ہے اور تمھیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ تمھارے اور تمھارے دین کے ساتھ کتنی شدید عداوت رکھتے ہیں جو کوئی اس صورتحال کے بعد بھی انھیں اپنا دشمن نہیں سمجھتا تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اسلام اس کے نزدیک بہت سستی چیز ہے اور اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کوئی اس میں طعن و تشنیع کرتا ہے یا اسے کفر اور ضلالت قرار دیتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص کے اندر مروت اور انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ آپ اپنے لیے دین قیم کا کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں اور کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام دین حق ہے اور اس کے سوا تمام ادیان باطل ہیں جبکہ حال یہ ہے کہ آپ ان جاہل اور احمق لوگوں کی موالات پر راضی ہیں جو آپ کے دین کے ساتھ استہزا کرتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں ؟ اس آیت کریمہ میں کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب ہے اور یہ بات ہر اس شخص کو معلوم ہے جو ادنیٰ سا بھی فہم رکھتا ہے۔

المائدة 5:59

کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں کد (ضد) رکھتے تم ہم سے مگر اس وجہ سے کہ ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس چیز کے جو نازل کی گئی ہماری طرف اور جو نازل کی گئی اس سے پہلےاور یہ کہ اکثر تم میں فاسق ہیں (59) کہہ دیجیے! کیا خبر دوں میں تم کو بدتر کی اس سے، جزا کے اعتبار سے، نزدیک اللہ کے؟ وہ شخص کہ لعنت کی اس پر اللہ نے اور غصے ہوا اوپر اس کے اور کیے ان میں سے بندر اور سور اور پوجا کی اس نے شیطان کی، وہی لوگ ہیں بدتر درجے میں اور زیادہ گمراہ ہیں سیدھی راہ سے(60) اور جب آتے ہیں وہ تمھارے پاس تو کہتے ہیں ، ہم ایمان لائے اور حال یہ ہے کہ وہ داخل ہوئے تھے ساتھ کفر کے اور نکل گئے ساتھ اسی کے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو کہ تھے وہ چھپاتے(61)اور آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، جلدی کرتے ہیں گناہ میں اور زیادتی میں اور اپنے حرام کھانے میں ، البتہ بہت برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(62) کیوں نہیں روکتے ان کو رب والے اور علماء ان کے گناہ کی بات کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے، البتہ برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(63) [59]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول کہہ دیجیے ﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اے اہل کتاب!‘‘ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ١ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَؔكُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں ) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں ۔‘‘ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے۔ اور بایں ہمہ کہ ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو! تمھارے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جبکہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے... تو یہ برائی تمھارے فسق کی معیت میں تمھارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔ [60] اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿قُلۡ﴾ یعنی ان کی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بری بات کی‘‘ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے ﴿ مَنۡ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’جس پر اللہ نے لعنت کی۔‘‘ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ﴿ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اس پر غضب نازل کیا‘‘ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ الۡقِرَدَةَ وَالۡخَنَازِيۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ﴾’’اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنھوں نے طاغوت کی بندگی کی‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ’’ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔‘‘ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔یہ (اَفْعَلْ التَّفْضِیل)کو ایک دوسرے اسلوب میں استعمال کرنے کی نوع ہے۔ اور اسی طرح یہ قول ہے۔﴿ وَّاَضَلُّ عَنۡ سَوَؔآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے‘‘ یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں ۔ [61]﴿ وَاِذَا جَآءُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ﴾ ’’اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے‘‘ یعنی وہ مکرو فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ وَقَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِهٖ﴾ ’’حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں ۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بدحال کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ﴿وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دے گا۔ [62] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکرار ان یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے ﴿ وَتَرٰؔى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ ﴾ ’’وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں ﴿ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’اور ان کے حرام کھانے پر‘‘ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لیے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشنیع کی انتہا ہے۔ [63]﴿ لَوۡلَا يَنۡهٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِهِمُ الۡاِثۡمَ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے‘‘ یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے درپے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انھوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہو جاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں ، انھیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’بلاشبہ وہ بہت برا کرتے ہیں ۔‘‘

المائدة 5:60

کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں کد (ضد) رکھتے تم ہم سے مگر اس وجہ سے کہ ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس چیز کے جو نازل کی گئی ہماری طرف اور جو نازل کی گئی اس سے پہلےاور یہ کہ اکثر تم میں فاسق ہیں (59) کہہ دیجیے! کیا خبر دوں میں تم کو بدتر کی اس سے، جزا کے اعتبار سے، نزدیک اللہ کے؟ وہ شخص کہ لعنت کی اس پر اللہ نے اور غصے ہوا اوپر اس کے اور کیے ان میں سے بندر اور سور اور پوجا کی اس نے شیطان کی، وہی لوگ ہیں بدتر درجے میں اور زیادہ گمراہ ہیں سیدھی راہ سے(60) اور جب آتے ہیں وہ تمھارے پاس تو کہتے ہیں ، ہم ایمان لائے اور حال یہ ہے کہ وہ داخل ہوئے تھے ساتھ کفر کے اور نکل گئے ساتھ اسی کے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو کہ تھے وہ چھپاتے(61)اور آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، جلدی کرتے ہیں گناہ میں اور زیادتی میں اور اپنے حرام کھانے میں ، البتہ بہت برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(62) کیوں نہیں روکتے ان کو رب والے اور علماء ان کے گناہ کی بات کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے، البتہ برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(63) [59]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول کہہ دیجیے ﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اے اہل کتاب!‘‘ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ١ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَؔكُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں ) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں ۔‘‘ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے۔ اور بایں ہمہ کہ ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو! تمھارے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جبکہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے... تو یہ برائی تمھارے فسق کی معیت میں تمھارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔ [60] اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿قُلۡ﴾ یعنی ان کی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بری بات کی‘‘ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے ﴿ مَنۡ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’جس پر اللہ نے لعنت کی۔‘‘ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ﴿ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اس پر غضب نازل کیا‘‘ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ الۡقِرَدَةَ وَالۡخَنَازِيۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ﴾’’اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنھوں نے طاغوت کی بندگی کی‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ’’ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔‘‘ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔یہ (اَفْعَلْ التَّفْضِیل)کو ایک دوسرے اسلوب میں استعمال کرنے کی نوع ہے۔ اور اسی طرح یہ قول ہے۔﴿ وَّاَضَلُّ عَنۡ سَوَؔآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے‘‘ یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں ۔ [61]﴿ وَاِذَا جَآءُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ﴾ ’’اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے‘‘ یعنی وہ مکرو فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ وَقَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِهٖ﴾ ’’حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں ۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بدحال کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ﴿وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دے گا۔ [62] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکرار ان یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے ﴿ وَتَرٰؔى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ ﴾ ’’وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں ﴿ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’اور ان کے حرام کھانے پر‘‘ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لیے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشنیع کی انتہا ہے۔ [63]﴿ لَوۡلَا يَنۡهٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِهِمُ الۡاِثۡمَ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے‘‘ یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے درپے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انھوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہو جاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں ، انھیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’بلاشبہ وہ بہت برا کرتے ہیں ۔‘‘

المائدة 5:61

کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں کد (ضد) رکھتے تم ہم سے مگر اس وجہ سے کہ ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس چیز کے جو نازل کی گئی ہماری طرف اور جو نازل کی گئی اس سے پہلےاور یہ کہ اکثر تم میں فاسق ہیں (59) کہہ دیجیے! کیا خبر دوں میں تم کو بدتر کی اس سے، جزا کے اعتبار سے، نزدیک اللہ کے؟ وہ شخص کہ لعنت کی اس پر اللہ نے اور غصے ہوا اوپر اس کے اور کیے ان میں سے بندر اور سور اور پوجا کی اس نے شیطان کی، وہی لوگ ہیں بدتر درجے میں اور زیادہ گمراہ ہیں سیدھی راہ سے(60) اور جب آتے ہیں وہ تمھارے پاس تو کہتے ہیں ، ہم ایمان لائے اور حال یہ ہے کہ وہ داخل ہوئے تھے ساتھ کفر کے اور نکل گئے ساتھ اسی کے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو کہ تھے وہ چھپاتے(61)اور آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، جلدی کرتے ہیں گناہ میں اور زیادتی میں اور اپنے حرام کھانے میں ، البتہ بہت برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(62) کیوں نہیں روکتے ان کو رب والے اور علماء ان کے گناہ کی بات کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے، البتہ برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(63) [59]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول کہہ دیجیے ﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اے اہل کتاب!‘‘ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ١ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَؔكُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں ) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں ۔‘‘ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے۔ اور بایں ہمہ کہ ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو! تمھارے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جبکہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے... تو یہ برائی تمھارے فسق کی معیت میں تمھارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔ [60] اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿قُلۡ﴾ یعنی ان کی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بری بات کی‘‘ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے ﴿ مَنۡ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’جس پر اللہ نے لعنت کی۔‘‘ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ﴿ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اس پر غضب نازل کیا‘‘ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ الۡقِرَدَةَ وَالۡخَنَازِيۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ﴾’’اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنھوں نے طاغوت کی بندگی کی‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ’’ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔‘‘ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔یہ (اَفْعَلْ التَّفْضِیل)کو ایک دوسرے اسلوب میں استعمال کرنے کی نوع ہے۔ اور اسی طرح یہ قول ہے۔﴿ وَّاَضَلُّ عَنۡ سَوَؔآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے‘‘ یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں ۔ [61]﴿ وَاِذَا جَآءُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ﴾ ’’اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے‘‘ یعنی وہ مکرو فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ وَقَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِهٖ﴾ ’’حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں ۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بدحال کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ﴿وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دے گا۔ [62] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکرار ان یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے ﴿ وَتَرٰؔى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ ﴾ ’’وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں ﴿ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’اور ان کے حرام کھانے پر‘‘ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لیے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشنیع کی انتہا ہے۔ [63]﴿ لَوۡلَا يَنۡهٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِهِمُ الۡاِثۡمَ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے‘‘ یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے درپے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انھوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہو جاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں ، انھیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’بلاشبہ وہ بہت برا کرتے ہیں ۔‘‘

المائدة 5:62

کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں کد (ضد) رکھتے تم ہم سے مگر اس وجہ سے کہ ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس چیز کے جو نازل کی گئی ہماری طرف اور جو نازل کی گئی اس سے پہلےاور یہ کہ اکثر تم میں فاسق ہیں (59) کہہ دیجیے! کیا خبر دوں میں تم کو بدتر کی اس سے، جزا کے اعتبار سے، نزدیک اللہ کے؟ وہ شخص کہ لعنت کی اس پر اللہ نے اور غصے ہوا اوپر اس کے اور کیے ان میں سے بندر اور سور اور پوجا کی اس نے شیطان کی، وہی لوگ ہیں بدتر درجے میں اور زیادہ گمراہ ہیں سیدھی راہ سے(60) اور جب آتے ہیں وہ تمھارے پاس تو کہتے ہیں ، ہم ایمان لائے اور حال یہ ہے کہ وہ داخل ہوئے تھے ساتھ کفر کے اور نکل گئے ساتھ اسی کے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو کہ تھے وہ چھپاتے(61)اور آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، جلدی کرتے ہیں گناہ میں اور زیادتی میں اور اپنے حرام کھانے میں ، البتہ بہت برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(62) کیوں نہیں روکتے ان کو رب والے اور علماء ان کے گناہ کی بات کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے، البتہ برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(63) [59]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول کہہ دیجیے ﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اے اہل کتاب!‘‘ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ١ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَؔكُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں ) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں ۔‘‘ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے۔ اور بایں ہمہ کہ ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو! تمھارے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جبکہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے... تو یہ برائی تمھارے فسق کی معیت میں تمھارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔ [60] اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿قُلۡ﴾ یعنی ان کی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بری بات کی‘‘ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے ﴿ مَنۡ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’جس پر اللہ نے لعنت کی۔‘‘ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ﴿ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اس پر غضب نازل کیا‘‘ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ الۡقِرَدَةَ وَالۡخَنَازِيۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ﴾’’اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنھوں نے طاغوت کی بندگی کی‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ’’ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔‘‘ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔یہ (اَفْعَلْ التَّفْضِیل)کو ایک دوسرے اسلوب میں استعمال کرنے کی نوع ہے۔ اور اسی طرح یہ قول ہے۔﴿ وَّاَضَلُّ عَنۡ سَوَؔآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے‘‘ یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں ۔ [61]﴿ وَاِذَا جَآءُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ﴾ ’’اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے‘‘ یعنی وہ مکرو فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ وَقَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِهٖ﴾ ’’حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں ۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بدحال کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ﴿وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دے گا۔ [62] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکرار ان یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے ﴿ وَتَرٰؔى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ ﴾ ’’وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں ﴿ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’اور ان کے حرام کھانے پر‘‘ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لیے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشنیع کی انتہا ہے۔ [63]﴿ لَوۡلَا يَنۡهٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِهِمُ الۡاِثۡمَ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے‘‘ یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے درپے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انھوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہو جاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں ، انھیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’بلاشبہ وہ بہت برا کرتے ہیں ۔‘‘

المائدة 5:63

کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں کد (ضد) رکھتے تم ہم سے مگر اس وجہ سے کہ ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس چیز کے جو نازل کی گئی ہماری طرف اور جو نازل کی گئی اس سے پہلےاور یہ کہ اکثر تم میں فاسق ہیں (59) کہہ دیجیے! کیا خبر دوں میں تم کو بدتر کی اس سے، جزا کے اعتبار سے، نزدیک اللہ کے؟ وہ شخص کہ لعنت کی اس پر اللہ نے اور غصے ہوا اوپر اس کے اور کیے ان میں سے بندر اور سور اور پوجا کی اس نے شیطان کی، وہی لوگ ہیں بدتر درجے میں اور زیادہ گمراہ ہیں سیدھی راہ سے(60) اور جب آتے ہیں وہ تمھارے پاس تو کہتے ہیں ، ہم ایمان لائے اور حال یہ ہے کہ وہ داخل ہوئے تھے ساتھ کفر کے اور نکل گئے ساتھ اسی کے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو کہ تھے وہ چھپاتے(61)اور آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، جلدی کرتے ہیں گناہ میں اور زیادتی میں اور اپنے حرام کھانے میں ، البتہ بہت برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(62) کیوں نہیں روکتے ان کو رب والے اور علماء ان کے گناہ کی بات کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے، البتہ برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(63) [59]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول کہہ دیجیے ﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اے اہل کتاب!‘‘ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ١ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَؔكُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں ) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں ۔‘‘ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے۔ اور بایں ہمہ کہ ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو! تمھارے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جبکہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے... تو یہ برائی تمھارے فسق کی معیت میں تمھارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔ [60] اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿قُلۡ﴾ یعنی ان کی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بری بات کی‘‘ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے ﴿ مَنۡ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’جس پر اللہ نے لعنت کی۔‘‘ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ﴿ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اس پر غضب نازل کیا‘‘ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ الۡقِرَدَةَ وَالۡخَنَازِيۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ﴾’’اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنھوں نے طاغوت کی بندگی کی‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ’’ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔‘‘ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔یہ (اَفْعَلْ التَّفْضِیل)کو ایک دوسرے اسلوب میں استعمال کرنے کی نوع ہے۔ اور اسی طرح یہ قول ہے۔﴿ وَّاَضَلُّ عَنۡ سَوَؔآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے‘‘ یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں ۔ [61]﴿ وَاِذَا جَآءُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ﴾ ’’اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے‘‘ یعنی وہ مکرو فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ وَقَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِهٖ﴾ ’’حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں ۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بدحال کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ﴿وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دے گا۔ [62] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکرار ان یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے ﴿ وَتَرٰؔى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ ﴾ ’’وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں ﴿ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’اور ان کے حرام کھانے پر‘‘ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لیے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشنیع کی انتہا ہے۔ [63]﴿ لَوۡلَا يَنۡهٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِهِمُ الۡاِثۡمَ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے‘‘ یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے درپے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انھوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہو جاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں ، انھیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’بلاشبہ وہ بہت برا کرتے ہیں ۔‘‘

المائدة 5:64

اور کہا یہود نے، ہاتھ اللہ کے بندھے ہوئے ہیں ۔ بند ہو جائیں ہاتھ انھی کے اور لعنت کیے جائیں بسبب ان کے قول کےبلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں ، وہ خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے اور یقینا زیادہ کرے گا بہتوں کو ان میں سے (وہ قرآن) جو اُتارا گیا آپ کی جانب، طرف سے آپ کے رب کی، سرکشی اور کفر میں ۔ اور ڈال دی ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت کے دن تک جب کبھی جلاتے ہیں وہ آگ لڑائی کے لیے تو بجھا دیتا ہے اسے اللہ اور دوڑتے پھرتے ہیں وہ زمین میں فساد کرنے کو اور اللہ نہیں پسند کرتا فسادیوں کو(64) اور اگر بے شک اہل کتاب ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کر لیں تو یقینا دور کر دیں گے ہم ان سے ان کی برائیاں اور ضرور داخل کریں گے ان کو نعمت والے باغوں میں (65) اور اگر بے شک وہ قائم رکھتے تورات اور انجیل کو اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے تو یقینا کھاتے وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پیروں کے نیچے سے ان میں سے ایک گروہ ہے درمیانی راہ چلنے والااور زیادہ لوگ ان میں سے، برا ہے جو وہ کررہے ہیں (66) [64] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود کے انتہائی خبیث قول اور ان کے قبیح ترین عقیدے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ يَدُ اللّٰهِ مَغۡلُوۡلَةٌ﴾ ’’یہود نے کہا، اللہ کا ہاتھ بند ہو گیا ہے‘‘ یعنی بھلائی احسان اور نیکی سے ﴿ غُلَّتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَلُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا﴾ ’’انھی کے ہاتھ بند ہو جائیں اور لعنت ہے ان کے اس کہنے پر‘‘ یہ انھی کی گفتگو کی جنس کے ساتھ ان کے لیے بددعا ہے چونکہ ان کی یہ بدگوئی اللہ کریم کو بخل اور عدم احسان کی صفات سے متصف کرنے کی متضمن ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی وصف کو منطبق کرکے ان کو اس بدگوئی کا بدلہ دیا ہے۔ پس یہود بخیل ترین، نیکی کے اعتبار سے قلیل ترین، اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظنی میں بدترین اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے بعید ترین لوگ ہیں جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس سے تمام عالم علوی اور سفلی لبریز ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ يَدٰهُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ١ۙ يُنۡفِقُ كَيۡفَ يَشَآءُ﴾’’بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے‘‘ اس پر کوئی پابندی عائد نہیں اور کوئی روکنے والا نہیں جو اسے اپنے ارادے سے روک سکے۔ اس کا فضل و کرم اور دینی اور دنیاوی احسان بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جود و کرم کے جھونکوں سے مستفید ہوں ۔ وہ اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے اپنے آپ پر اس کے فضل و احسان کے دروازے بند نہ کریں ۔ اس کی داد و دہش دن رات جاری ہے، اس کی عطا و بخشش ہر وقت موسلا دھار بارش کی مانند ہے۔وہ دکھوں کو دور کرتا ہے، غموں کا ازالہ کرتا ہے، محتاج کو بے نیاز کرتا ہے، قیدی کو آزاد کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہے۔ محتاج کو عطا کرتا ہے، مجبوروں کو ان کی پکار کا جواب دیتا ہے، سوال کرنے والوں کے سوال کو پورا کرتا ہے۔ جو اس سے سوال نہیں کرتا اسے بھی نعمتیں عطا کرتا ہے، جو اس سے عافیت طلب کرتا ہے اسے عافیت عطا کرتا ہے، وہ کسی نافرمان کو اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرتا بلکہ نیک اور بد سب اس کی بھلائی سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے اولیا کو نیک اعمال کی توفیق سے نوازتا ہے جو اس کا جود و کرم ہے، پھر وہ ان اعمال پر ان کی تعریف کرتا اور ان کی اضافت ان کی طرف کرتا ہے اور یہ بھی اس کے جودوکرم کا نتیجہ ہے اور ان کو دنیا و آخرت میں ایسا ثواب عطا کرتا ہے کہ زبان اس کے بیان سے قاصر ہے اور بندے کے طائر خیال کی اس تک رسائی ممکن نہیں ۔ وہ تمام امور میں ان کو لطف و کرم سے نوازتا ہے۔ وہ اپنا احسان ان تک پہنچاتا رہتا ہے۔ وہ اپنے طور پر ہی ان سے بہت سی مصیبتیں دور کر دیتا ہے کہ ان کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا۔پاک ہے وہ ذات کہ بندوں کے پاس جو نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور تکالیف کو دور کرنے کے لیے اسی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں اور برکت والی ہے وہ ذات جس کی مدح و ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا، بس وہ ایسے ہے جیسے اس نے خود اپنی مدح و ثنا بیان کی۔ بالا و بلند ہے وہ ہستی کہ بندے ایک لمحے کے لیے بھی اس کے فضل و کرم سے علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا وجود اور ان کی بقا اسی کے جود و کرم کی مرہون ہے۔اللہ تعالیٰ برا کرے ان لوگوں کا جو اپنی جہالت کی بنا پر اپنے آپ کو اپنے رب سے بے نیاز سمجھتے ہیں اور اس کی طرف ایسے امور منسوب کرتے ہیں جو اس کی جلالت کے لائق نہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ ان یہود کے ساتھ، جنھوں نے یہ بدگوئی کی ہے اور ان جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ ان کے کسی قول پر معاملہ کرتا تو وہ ہلاک ہو جاتے اور دنیا میں بدبختی کا شکار ہو جاتے۔ مگر وہ اس قسم کی گستاخانہ باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بردباری سے پیش آتا ہے اور ان سے درگزر فرماتا ہے، ان کو ڈھیل دیتا ہے مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑتا۔﴿ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾’’اور یقینا ان میں سے بہتوں کو، وہ کلام جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے، سرکشی اور کفر میں ہی بڑھائے گا‘‘ یہ بندے کے لیے سب سے بڑی سزا ہے کہ وہ ذکر، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کیا ہے جس میں قلب و روح کی زندگی، دنیا و آخرت کی سعادت اور فلاح ہے جو اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سعادت کے ذریعے سے اپنے بندوں پر احسان فرمایا ہے جو ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اسے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھیں ، اس کے سبب سے اللہ کے سامنے سر جھکا دیں ، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ... وہی ذکر اس کی گمراہی، سرکشی اور کفر میں اضافے کا باعث بن جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اس سے روگردانی کی اور اسے ٹھکرا دیا اس سے عناد رکھا اور شبہات باطلہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی۔﴿ وَاَلۡقَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَؔ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور ہم نے ڈال دی ہے ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک‘‘ پس وہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کریں گے، ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے اور وہ کسی ایسی بات پر متفق نہیں ہوں گے جس میں ان کی کوئی مصلحت ہو۔ بلکہ وہ ہمیشہ اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور بغض رکھیں گے اور قیامت تک ایک دوسرے پر ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔ ﴿ كُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ ﴾ ’’جب کبھی آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لیے‘‘ تاکہ اس طرح وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں ، ان کے خلاف چالیں چلیں اور ان پر سوار اور پیادے چڑھا لائیں ﴿ اَطۡفَاَهَا اللّٰهُ﴾ ’’اللہ اس کو بجھا دیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کے لشکروں کو منتشر کر کے، ان کے خلاف مسلمانوں کی نصرت فرما کر اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔ ﴿ وَيَسۡعَوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ فَسَادًا﴾ ’’اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زمین میں فساد پھیلانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ، اپنے باطل دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان کے ساتھ سخت ناراض ہوتا ہے وہ عنقریب انھیں اس کی سزا دے گا۔ [65] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَكَـفَّرۡنَا عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاَدۡخَلۡنٰهُمۡ۠ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کر دیتے اور ان کو نعمت والے باغوں میں داخل کرتے‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کا جود و کرم ہے کہ جہاں اس نے اہل کتاب کی برائیوں اور ان کے معایب اور ان کے اقوال باطلہ کا ذکر فرمایا ہے، وہاں ان کو توبہ کی طرف بھی بلایا ہے اور یہ کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں ، اس کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں اور گناہوں سے پرہیز کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام برائیاں ، خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں ، مٹا دے گا اور ان کو نعمتوں سے بھری ہوئی جنت میں داخل کرے گا جس میں وہ کچھ ہے کہ نفس اس کی چاہت رکھتے ہیں اور آنکھیں اس سے لذت اٹھاتی ہیں ۔ [66]﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اگر وہ قائم کرتے تورات، انجیل اور اس کو جو نازل کیا گیا ان پر، ان کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توجہ دلائی اور ان کو ترغیب دی ہے۔ تورات و انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان امور پر ایمان لانا ہے جن کی طرف یہ دونوں کتابیں دعوت دیتی ہیں ، یعنی محمد مصطفیﷺ اور قرآن پر ایمان لانا۔اگر وہ اس عظیم نعمت کو قائم کرتے جس کو ان کے رب نے ان کی طرف نازل فرمایا ہے یعنی ان کی خاطر اور ان کے ساتھ اعتنا کی بنا پر اس نعمت کو ان کی طرف نازل کیا ہے ﴿ لَاَكَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِهِمۡ﴾ ’’تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر رزق کے دروازے کھول دیتا، آسمان سے ان پر بارش برساتا اور زمین ان کے لیے فصلیں اگاتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰۤى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَؔكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾(الاعراف: 7؍96)’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔‘‘﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمَّةٌ مُّقۡتَصِدَةٌ﴾ ’’ایک گروہ ہے سیدھی راہ پر‘‘ یعنی ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تورات و انجیل پر عامل ہے مگر اس کا عمل قوی اور نشاط انگیز نہیں ہے ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ سَآءَؔ مَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں ۔‘‘ یعنی ان میں برائیوں کا ارتکاب کرنے والے بہت زیادہ ہیں اور نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے بہت کم ہیں ۔

المائدة 5:65

اور کہا یہود نے، ہاتھ اللہ کے بندھے ہوئے ہیں ۔ بند ہو جائیں ہاتھ انھی کے اور لعنت کیے جائیں بسبب ان کے قول کےبلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں ، وہ خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے اور یقینا زیادہ کرے گا بہتوں کو ان میں سے (وہ قرآن) جو اُتارا گیا آپ کی جانب، طرف سے آپ کے رب کی، سرکشی اور کفر میں ۔ اور ڈال دی ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت کے دن تک جب کبھی جلاتے ہیں وہ آگ لڑائی کے لیے تو بجھا دیتا ہے اسے اللہ اور دوڑتے پھرتے ہیں وہ زمین میں فساد کرنے کو اور اللہ نہیں پسند کرتا فسادیوں کو(64) اور اگر بے شک اہل کتاب ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کر لیں تو یقینا دور کر دیں گے ہم ان سے ان کی برائیاں اور ضرور داخل کریں گے ان کو نعمت والے باغوں میں (65) اور اگر بے شک وہ قائم رکھتے تورات اور انجیل کو اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے تو یقینا کھاتے وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پیروں کے نیچے سے ان میں سے ایک گروہ ہے درمیانی راہ چلنے والااور زیادہ لوگ ان میں سے، برا ہے جو وہ کررہے ہیں (66) [64] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود کے انتہائی خبیث قول اور ان کے قبیح ترین عقیدے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ يَدُ اللّٰهِ مَغۡلُوۡلَةٌ﴾ ’’یہود نے کہا، اللہ کا ہاتھ بند ہو گیا ہے‘‘ یعنی بھلائی احسان اور نیکی سے ﴿ غُلَّتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَلُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا﴾ ’’انھی کے ہاتھ بند ہو جائیں اور لعنت ہے ان کے اس کہنے پر‘‘ یہ انھی کی گفتگو کی جنس کے ساتھ ان کے لیے بددعا ہے چونکہ ان کی یہ بدگوئی اللہ کریم کو بخل اور عدم احسان کی صفات سے متصف کرنے کی متضمن ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی وصف کو منطبق کرکے ان کو اس بدگوئی کا بدلہ دیا ہے۔ پس یہود بخیل ترین، نیکی کے اعتبار سے قلیل ترین، اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظنی میں بدترین اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے بعید ترین لوگ ہیں جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس سے تمام عالم علوی اور سفلی لبریز ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ يَدٰهُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ١ۙ يُنۡفِقُ كَيۡفَ يَشَآءُ﴾’’بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے‘‘ اس پر کوئی پابندی عائد نہیں اور کوئی روکنے والا نہیں جو اسے اپنے ارادے سے روک سکے۔ اس کا فضل و کرم اور دینی اور دنیاوی احسان بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جود و کرم کے جھونکوں سے مستفید ہوں ۔ وہ اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے اپنے آپ پر اس کے فضل و احسان کے دروازے بند نہ کریں ۔ اس کی داد و دہش دن رات جاری ہے، اس کی عطا و بخشش ہر وقت موسلا دھار بارش کی مانند ہے۔وہ دکھوں کو دور کرتا ہے، غموں کا ازالہ کرتا ہے، محتاج کو بے نیاز کرتا ہے، قیدی کو آزاد کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہے۔ محتاج کو عطا کرتا ہے، مجبوروں کو ان کی پکار کا جواب دیتا ہے، سوال کرنے والوں کے سوال کو پورا کرتا ہے۔ جو اس سے سوال نہیں کرتا اسے بھی نعمتیں عطا کرتا ہے، جو اس سے عافیت طلب کرتا ہے اسے عافیت عطا کرتا ہے، وہ کسی نافرمان کو اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرتا بلکہ نیک اور بد سب اس کی بھلائی سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے اولیا کو نیک اعمال کی توفیق سے نوازتا ہے جو اس کا جود و کرم ہے، پھر وہ ان اعمال پر ان کی تعریف کرتا اور ان کی اضافت ان کی طرف کرتا ہے اور یہ بھی اس کے جودوکرم کا نتیجہ ہے اور ان کو دنیا و آخرت میں ایسا ثواب عطا کرتا ہے کہ زبان اس کے بیان سے قاصر ہے اور بندے کے طائر خیال کی اس تک رسائی ممکن نہیں ۔ وہ تمام امور میں ان کو لطف و کرم سے نوازتا ہے۔ وہ اپنا احسان ان تک پہنچاتا رہتا ہے۔ وہ اپنے طور پر ہی ان سے بہت سی مصیبتیں دور کر دیتا ہے کہ ان کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا۔پاک ہے وہ ذات کہ بندوں کے پاس جو نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور تکالیف کو دور کرنے کے لیے اسی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں اور برکت والی ہے وہ ذات جس کی مدح و ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا، بس وہ ایسے ہے جیسے اس نے خود اپنی مدح و ثنا بیان کی۔ بالا و بلند ہے وہ ہستی کہ بندے ایک لمحے کے لیے بھی اس کے فضل و کرم سے علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا وجود اور ان کی بقا اسی کے جود و کرم کی مرہون ہے۔اللہ تعالیٰ برا کرے ان لوگوں کا جو اپنی جہالت کی بنا پر اپنے آپ کو اپنے رب سے بے نیاز سمجھتے ہیں اور اس کی طرف ایسے امور منسوب کرتے ہیں جو اس کی جلالت کے لائق نہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ ان یہود کے ساتھ، جنھوں نے یہ بدگوئی کی ہے اور ان جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ ان کے کسی قول پر معاملہ کرتا تو وہ ہلاک ہو جاتے اور دنیا میں بدبختی کا شکار ہو جاتے۔ مگر وہ اس قسم کی گستاخانہ باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بردباری سے پیش آتا ہے اور ان سے درگزر فرماتا ہے، ان کو ڈھیل دیتا ہے مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑتا۔﴿ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾’’اور یقینا ان میں سے بہتوں کو، وہ کلام جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے، سرکشی اور کفر میں ہی بڑھائے گا‘‘ یہ بندے کے لیے سب سے بڑی سزا ہے کہ وہ ذکر، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کیا ہے جس میں قلب و روح کی زندگی، دنیا و آخرت کی سعادت اور فلاح ہے جو اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سعادت کے ذریعے سے اپنے بندوں پر احسان فرمایا ہے جو ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اسے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھیں ، اس کے سبب سے اللہ کے سامنے سر جھکا دیں ، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ... وہی ذکر اس کی گمراہی، سرکشی اور کفر میں اضافے کا باعث بن جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اس سے روگردانی کی اور اسے ٹھکرا دیا اس سے عناد رکھا اور شبہات باطلہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی۔﴿ وَاَلۡقَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَؔ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور ہم نے ڈال دی ہے ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک‘‘ پس وہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کریں گے، ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے اور وہ کسی ایسی بات پر متفق نہیں ہوں گے جس میں ان کی کوئی مصلحت ہو۔ بلکہ وہ ہمیشہ اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور بغض رکھیں گے اور قیامت تک ایک دوسرے پر ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔ ﴿ كُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ ﴾ ’’جب کبھی آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لیے‘‘ تاکہ اس طرح وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں ، ان کے خلاف چالیں چلیں اور ان پر سوار اور پیادے چڑھا لائیں ﴿ اَطۡفَاَهَا اللّٰهُ﴾ ’’اللہ اس کو بجھا دیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کے لشکروں کو منتشر کر کے، ان کے خلاف مسلمانوں کی نصرت فرما کر اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔ ﴿ وَيَسۡعَوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ فَسَادًا﴾ ’’اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زمین میں فساد پھیلانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ، اپنے باطل دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان کے ساتھ سخت ناراض ہوتا ہے وہ عنقریب انھیں اس کی سزا دے گا۔ [65] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَكَـفَّرۡنَا عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاَدۡخَلۡنٰهُمۡ۠ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کر دیتے اور ان کو نعمت والے باغوں میں داخل کرتے‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کا جود و کرم ہے کہ جہاں اس نے اہل کتاب کی برائیوں اور ان کے معایب اور ان کے اقوال باطلہ کا ذکر فرمایا ہے، وہاں ان کو توبہ کی طرف بھی بلایا ہے اور یہ کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں ، اس کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں اور گناہوں سے پرہیز کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام برائیاں ، خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں ، مٹا دے گا اور ان کو نعمتوں سے بھری ہوئی جنت میں داخل کرے گا جس میں وہ کچھ ہے کہ نفس اس کی چاہت رکھتے ہیں اور آنکھیں اس سے لذت اٹھاتی ہیں ۔ [66]﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اگر وہ قائم کرتے تورات، انجیل اور اس کو جو نازل کیا گیا ان پر، ان کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توجہ دلائی اور ان کو ترغیب دی ہے۔ تورات و انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان امور پر ایمان لانا ہے جن کی طرف یہ دونوں کتابیں دعوت دیتی ہیں ، یعنی محمد مصطفیﷺ اور قرآن پر ایمان لانا۔اگر وہ اس عظیم نعمت کو قائم کرتے جس کو ان کے رب نے ان کی طرف نازل فرمایا ہے یعنی ان کی خاطر اور ان کے ساتھ اعتنا کی بنا پر اس نعمت کو ان کی طرف نازل کیا ہے ﴿ لَاَكَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِهِمۡ﴾ ’’تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر رزق کے دروازے کھول دیتا، آسمان سے ان پر بارش برساتا اور زمین ان کے لیے فصلیں اگاتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰۤى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَؔكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾(الاعراف: 7؍96)’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔‘‘﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمَّةٌ مُّقۡتَصِدَةٌ﴾ ’’ایک گروہ ہے سیدھی راہ پر‘‘ یعنی ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تورات و انجیل پر عامل ہے مگر اس کا عمل قوی اور نشاط انگیز نہیں ہے ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ سَآءَؔ مَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں ۔‘‘ یعنی ان میں برائیوں کا ارتکاب کرنے والے بہت زیادہ ہیں اور نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے بہت کم ہیں ۔

المائدة 5:66

اور کہا یہود نے، ہاتھ اللہ کے بندھے ہوئے ہیں ۔ بند ہو جائیں ہاتھ انھی کے اور لعنت کیے جائیں بسبب ان کے قول کےبلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں ، وہ خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے اور یقینا زیادہ کرے گا بہتوں کو ان میں سے (وہ قرآن) جو اُتارا گیا آپ کی جانب، طرف سے آپ کے رب کی، سرکشی اور کفر میں ۔ اور ڈال دی ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت کے دن تک جب کبھی جلاتے ہیں وہ آگ لڑائی کے لیے تو بجھا دیتا ہے اسے اللہ اور دوڑتے پھرتے ہیں وہ زمین میں فساد کرنے کو اور اللہ نہیں پسند کرتا فسادیوں کو(64) اور اگر بے شک اہل کتاب ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کر لیں تو یقینا دور کر دیں گے ہم ان سے ان کی برائیاں اور ضرور داخل کریں گے ان کو نعمت والے باغوں میں (65) اور اگر بے شک وہ قائم رکھتے تورات اور انجیل کو اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے تو یقینا کھاتے وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پیروں کے نیچے سے ان میں سے ایک گروہ ہے درمیانی راہ چلنے والااور زیادہ لوگ ان میں سے، برا ہے جو وہ کررہے ہیں (66) [64] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود کے انتہائی خبیث قول اور ان کے قبیح ترین عقیدے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ يَدُ اللّٰهِ مَغۡلُوۡلَةٌ﴾ ’’یہود نے کہا، اللہ کا ہاتھ بند ہو گیا ہے‘‘ یعنی بھلائی احسان اور نیکی سے ﴿ غُلَّتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَلُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا﴾ ’’انھی کے ہاتھ بند ہو جائیں اور لعنت ہے ان کے اس کہنے پر‘‘ یہ انھی کی گفتگو کی جنس کے ساتھ ان کے لیے بددعا ہے چونکہ ان کی یہ بدگوئی اللہ کریم کو بخل اور عدم احسان کی صفات سے متصف کرنے کی متضمن ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی وصف کو منطبق کرکے ان کو اس بدگوئی کا بدلہ دیا ہے۔ پس یہود بخیل ترین، نیکی کے اعتبار سے قلیل ترین، اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظنی میں بدترین اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے بعید ترین لوگ ہیں جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس سے تمام عالم علوی اور سفلی لبریز ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ يَدٰهُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ١ۙ يُنۡفِقُ كَيۡفَ يَشَآءُ﴾’’بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے‘‘ اس پر کوئی پابندی عائد نہیں اور کوئی روکنے والا نہیں جو اسے اپنے ارادے سے روک سکے۔ اس کا فضل و کرم اور دینی اور دنیاوی احسان بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جود و کرم کے جھونکوں سے مستفید ہوں ۔ وہ اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے اپنے آپ پر اس کے فضل و احسان کے دروازے بند نہ کریں ۔ اس کی داد و دہش دن رات جاری ہے، اس کی عطا و بخشش ہر وقت موسلا دھار بارش کی مانند ہے۔وہ دکھوں کو دور کرتا ہے، غموں کا ازالہ کرتا ہے، محتاج کو بے نیاز کرتا ہے، قیدی کو آزاد کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہے۔ محتاج کو عطا کرتا ہے، مجبوروں کو ان کی پکار کا جواب دیتا ہے، سوال کرنے والوں کے سوال کو پورا کرتا ہے۔ جو اس سے سوال نہیں کرتا اسے بھی نعمتیں عطا کرتا ہے، جو اس سے عافیت طلب کرتا ہے اسے عافیت عطا کرتا ہے، وہ کسی نافرمان کو اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرتا بلکہ نیک اور بد سب اس کی بھلائی سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے اولیا کو نیک اعمال کی توفیق سے نوازتا ہے جو اس کا جود و کرم ہے، پھر وہ ان اعمال پر ان کی تعریف کرتا اور ان کی اضافت ان کی طرف کرتا ہے اور یہ بھی اس کے جودوکرم کا نتیجہ ہے اور ان کو دنیا و آخرت میں ایسا ثواب عطا کرتا ہے کہ زبان اس کے بیان سے قاصر ہے اور بندے کے طائر خیال کی اس تک رسائی ممکن نہیں ۔ وہ تمام امور میں ان کو لطف و کرم سے نوازتا ہے۔ وہ اپنا احسان ان تک پہنچاتا رہتا ہے۔ وہ اپنے طور پر ہی ان سے بہت سی مصیبتیں دور کر دیتا ہے کہ ان کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا۔پاک ہے وہ ذات کہ بندوں کے پاس جو نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور تکالیف کو دور کرنے کے لیے اسی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں اور برکت والی ہے وہ ذات جس کی مدح و ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا، بس وہ ایسے ہے جیسے اس نے خود اپنی مدح و ثنا بیان کی۔ بالا و بلند ہے وہ ہستی کہ بندے ایک لمحے کے لیے بھی اس کے فضل و کرم سے علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا وجود اور ان کی بقا اسی کے جود و کرم کی مرہون ہے۔اللہ تعالیٰ برا کرے ان لوگوں کا جو اپنی جہالت کی بنا پر اپنے آپ کو اپنے رب سے بے نیاز سمجھتے ہیں اور اس کی طرف ایسے امور منسوب کرتے ہیں جو اس کی جلالت کے لائق نہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ ان یہود کے ساتھ، جنھوں نے یہ بدگوئی کی ہے اور ان جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ ان کے کسی قول پر معاملہ کرتا تو وہ ہلاک ہو جاتے اور دنیا میں بدبختی کا شکار ہو جاتے۔ مگر وہ اس قسم کی گستاخانہ باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بردباری سے پیش آتا ہے اور ان سے درگزر فرماتا ہے، ان کو ڈھیل دیتا ہے مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑتا۔﴿ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾’’اور یقینا ان میں سے بہتوں کو، وہ کلام جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے، سرکشی اور کفر میں ہی بڑھائے گا‘‘ یہ بندے کے لیے سب سے بڑی سزا ہے کہ وہ ذکر، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کیا ہے جس میں قلب و روح کی زندگی، دنیا و آخرت کی سعادت اور فلاح ہے جو اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سعادت کے ذریعے سے اپنے بندوں پر احسان فرمایا ہے جو ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اسے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھیں ، اس کے سبب سے اللہ کے سامنے سر جھکا دیں ، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ... وہی ذکر اس کی گمراہی، سرکشی اور کفر میں اضافے کا باعث بن جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اس سے روگردانی کی اور اسے ٹھکرا دیا اس سے عناد رکھا اور شبہات باطلہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی۔﴿ وَاَلۡقَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَؔ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور ہم نے ڈال دی ہے ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک‘‘ پس وہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کریں گے، ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے اور وہ کسی ایسی بات پر متفق نہیں ہوں گے جس میں ان کی کوئی مصلحت ہو۔ بلکہ وہ ہمیشہ اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور بغض رکھیں گے اور قیامت تک ایک دوسرے پر ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔ ﴿ كُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ ﴾ ’’جب کبھی آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لیے‘‘ تاکہ اس طرح وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں ، ان کے خلاف چالیں چلیں اور ان پر سوار اور پیادے چڑھا لائیں ﴿ اَطۡفَاَهَا اللّٰهُ﴾ ’’اللہ اس کو بجھا دیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کے لشکروں کو منتشر کر کے، ان کے خلاف مسلمانوں کی نصرت فرما کر اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔ ﴿ وَيَسۡعَوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ فَسَادًا﴾ ’’اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زمین میں فساد پھیلانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ، اپنے باطل دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان کے ساتھ سخت ناراض ہوتا ہے وہ عنقریب انھیں اس کی سزا دے گا۔ [65] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَكَـفَّرۡنَا عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاَدۡخَلۡنٰهُمۡ۠ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کر دیتے اور ان کو نعمت والے باغوں میں داخل کرتے‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کا جود و کرم ہے کہ جہاں اس نے اہل کتاب کی برائیوں اور ان کے معایب اور ان کے اقوال باطلہ کا ذکر فرمایا ہے، وہاں ان کو توبہ کی طرف بھی بلایا ہے اور یہ کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں ، اس کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں اور گناہوں سے پرہیز کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام برائیاں ، خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں ، مٹا دے گا اور ان کو نعمتوں سے بھری ہوئی جنت میں داخل کرے گا جس میں وہ کچھ ہے کہ نفس اس کی چاہت رکھتے ہیں اور آنکھیں اس سے لذت اٹھاتی ہیں ۔ [66]﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اگر وہ قائم کرتے تورات، انجیل اور اس کو جو نازل کیا گیا ان پر، ان کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توجہ دلائی اور ان کو ترغیب دی ہے۔ تورات و انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان امور پر ایمان لانا ہے جن کی طرف یہ دونوں کتابیں دعوت دیتی ہیں ، یعنی محمد مصطفیﷺ اور قرآن پر ایمان لانا۔اگر وہ اس عظیم نعمت کو قائم کرتے جس کو ان کے رب نے ان کی طرف نازل فرمایا ہے یعنی ان کی خاطر اور ان کے ساتھ اعتنا کی بنا پر اس نعمت کو ان کی طرف نازل کیا ہے ﴿ لَاَكَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِهِمۡ﴾ ’’تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر رزق کے دروازے کھول دیتا، آسمان سے ان پر بارش برساتا اور زمین ان کے لیے فصلیں اگاتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰۤى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَؔكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾(الاعراف: 7؍96)’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔‘‘﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمَّةٌ مُّقۡتَصِدَةٌ﴾ ’’ایک گروہ ہے سیدھی راہ پر‘‘ یعنی ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تورات و انجیل پر عامل ہے مگر اس کا عمل قوی اور نشاط انگیز نہیں ہے ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ سَآءَؔ مَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں ۔‘‘ یعنی ان میں برائیوں کا ارتکاب کرنے والے بہت زیادہ ہیں اور نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے بہت کم ہیں ۔

المائدة 5:67

اے رسول! پہنچا دیجیے جو نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اور اگر ایسا نہ کیا تو نہیں پہنچایا آپ نے اس کا پیغام اور اللہ حفاظت کرے گا آپ کی لوگوں سے۔ بے شک اللہ نہیں ہدایت کرتا کافر لوگوں کو(67) [67] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو حکم ہے اور یہ سب سے بڑا اور جلیل ترین حکم ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا ہے اسے اس کے بندوں تک پہنچایا جائے ... اس میں وہ تمام امور شامل ہیں جو امت نے آپ سے حاصل کیے ، مثلاً:عقائد، اعمال، اقوال، احکام شرعیہ اور مطالب الہٰیہ وغیرہ۔ رسول اللہﷺ نے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کو پوری طرح پہنچا دیا، آپﷺ نے لوگوں کو دعوت دی، ان کو برے انجام سے ڈرایا، ان کو ایمان لانے پر اچھے انجام کی خوشخبری سنائی ، ان کے لیے آسانیاں پیدا کیں ، ان پڑھ جاہلوں کو علم سکھایا حتیٰ کہ وہ علمائے ربانی بن گئے۔ آپﷺ نے اپنے قول و فعل، اپنے مراسلات اور ایلچیوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے دین کو پہنچا دیا۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف آپ نے امت کی راہنمائی نہ کی ہو اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے آپ نے امت کو ڈرایا نہ ہو۔ آپ کی اس تبلیغ کی گواہی افاضل امت یعنی صحابہ کرام y نے دی اور ان کے بعد ائمہ دین اور مسلمانوں نے دی۔﴿ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ ﴾ ’’اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا۔‘‘ یعنی جو چیز آپﷺ کے رب کی طرف سے آپ پر اتاری گئی ہے اگر آپ نے اسے لوگوں تک نہ پہنچایا ﴿ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَهٗ﴾ ’’تو نہیں پہنچایا آپ نے اس کا پیغام‘‘ یعنی آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرماں برداری نہیں کی ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ ’’اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ کی حمایت اور لوگوں سے آپ کی حفاظت کا وعدہ ہے۔ آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ تعلیم و تبلیغ پر توجہ مرکوز رکھیں ، مخلوق کا خوف آپ کو اس مقصد سے نہ ہٹا دے۔ کیونکہ مخلوق کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ، اس نے آپ کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا ہے۔ اور آپ کی ذمہ داری پہنچا دینا ہے جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے لیے ہے۔رہے کفار جن کا خواہشات نفس کی پیروی کے سوا کوئی مقصد نہیں تو ان کے کفر کے سبب سے اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت دے گا، نہ انھیں بھلائی کی توفیق عطا کرے گا۔

المائدة 5:68

کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں ہو تم اوپر کسی چیز کے، یہاں تک کہ قائم کرو تم تورات اور انجیل کو اور جو کچھ نازل کیا گیا تمھاری طرف تمھارے رب کی طرف سےاور یقینا زیادہ کرے گا بہتوں کو ان میں سے (وہ قرآن) جو نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے، سرکشی اور کفر میں ۔ پس نہ غم کھائیں آپ کافر لوگوں پر(68) [68] یعنی اہل کتاب کی گمراہی کی منادی اور ان کے باطل کا اعلان کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ لَسۡتُمۡ عَلٰى شَيۡءٍ ﴾ ’’تم کسی چیز پر نہیں ہو‘‘ یعنی تم کسی بھی دینی اصول پر قائم نہیں ہو۔ تم قرآن اور محمدﷺ پر ایمان لائے ہو نہ تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کی تصدیق کی ہے، تم نے حق کو تھاما ہے نہ کسی اصول پر تمھارا اعتماد ہے ﴿ حَتّٰى تُقِيۡمُوا التَّوۡرٰىةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ ﴾ ’’جب تک تم تورات اور انجیل کو قائم نہ رکھو گے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تم تورات اور انجیل پر ایمان لا کر ان کو قائم نہ کرو، ان کی اتباع نہ کرو اور جن امور کی طرف یہ دعوت دیتی ہیں ان میں سے ہر چیز کو مضبوطی سے تھام نہ لو۔ اور جب تک کہ تم اس چیز کو قائم نہ کرو ﴿ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ﴾’’جو تم پر تمھارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے‘‘ جس نے تمھاری تربیت کی اور تمھیں نعمتوں سے نوازا۔ تم پر اس کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ تمھاری طرف کتابیں نازل فرمائیں ۔ پس تم پر فرض ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہو، اس کے احکام کا التزام کرو اور اللہ تعالیٰ کی امانت اور اس کے عہد کی جو ذمہ داری، تم پر ڈالی گئی ہے، اسے پورا کرو۔﴿ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا١ۚ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے، اس سے ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ ہو گا اس لیے آپ کافروں کے گروہ پر متاسف نہ ہوں ۔‘‘

المائدة 5:69

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور صابی اور نصاریٰ (ان میں سے) جو بھی ایمان لائے ساتھی اللہ کے اور دن آخرت کےاور عمل کرے نیک تو نہیں خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(69) [69] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل قرآن، اہل تورات اور اہل انجیل کے بارے میں بیان فرماتا ہے کہ ان سب کی سعادت اور نجات ایک ہی طریقے اور ایک ہی اصول میں ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانا اور نیک عمل کرنا..، لہٰذا ان میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اسی کے لیے نجات ہے ان کو کوئی خوف نہ ہو گا، انھیں خوف زدہ کرنے والے امور کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اور وہ امور جو وہ پیچھے چھوڑ چکے ہیں ان کے بارے میں غمگین نہ ہوں گے... یہ حکم مذکور تمام زمانوں کو شامل ہے۔

المائدة 5:70

البتہ تحقیق لیا تھا ہم نے عہد بنی اسرائیل سے اور بھیجے ہم نے ان کی طرف کئی رسول، جب آیا ان کے پاس رسول، ساتھ ایسی چیز کے کہ نہیں چاہتے تھے ان کے نفس تو کچھ کو انھوں نے جھٹلایا اور کچھ کو وہ قتل ہی کر ڈالتے(70) اور گمان کیا انھوں نے کہ نہ ہوگی کوئی آزمائش ، پس وہ اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے، پھر متوجہ ہوا اللہ اوپر ان کے، پھر اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے زیادہ لوگ ان میں سےاور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں (71) [70]﴿ لَقَدۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے واجبات کو قائم کرنے کے بارے میں ان سے بھاری عہد لیا جن کے بارے میں گزشتہ صفحات میں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۚ وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا…الآيۃ﴾(المائدۃ: 5؍12) کی تفسیر کے ضمن میں بحث گزر چکی ہے۔ ﴿ وَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ رُسُلًا﴾ ’’اور ان کی طرف رسول بھیجے‘‘ جو پے در پے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے اور ان کو رشد و ہدایت کی طرف بلاتے رہتے تھے مگر یہ چیز ان کے کسی کام آئی نہ اس نے کوئی فائدہ دیا ﴿ كُلَّمَا جَآءَؔهُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَهۡوٰۤى اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’جب لایا کوئی رسول وہ حکم جس کو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے‘‘ یعنی حق کو ان کے نفس پسند نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے حق کو جھٹلایا، اس سے عناد رکھا اور اس کے ساتھ بدترین معاملہ کیا ﴿ فَرِيۡقًا كَذَّبُوۡا وَفَرِيۡقًا يَّقۡتُلُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے رسولوں کے ایک گروہ کی تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کیا۔‘‘ [71]﴿ وَحَسِبُوۡۤا اَلَّا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور یہ خیال کرتے تھے کہ کوئی آفت نہیں آنے کی۔‘‘ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی نافرمانی اور ان کی تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں آئے گا۔ نہ ان کو سزا دی جائے گی اور وہ اپنے باطل پر ہمیشہ قائم رہیں گے ﴿ فَعَمُوۡا وَصَمُّوۡا ﴾ ’’پس وہ (حق دیکھنے سے) اندھے اور (حق بولنے سے) گونگے ہو گئے‘‘ ﴿ ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی‘‘ یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے ان لغزشوں کو نظر انداز کر دیا جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کی اور اس کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ ثُمَّ ﴾ پھر انھوں نے اس توبہ پر دوام نہ کیا یہاں تک کہ ان کے اکثر لوگ بدترین احوال کی طرف پلٹ گئے ﴿ عَمُوۡا وَصَمُّوۡا كَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ﴾ ’’ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔‘‘ یعنی انھی اوصاف کے ساتھ وہ پھر اندھے اور گونگے ہو گئے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اپنی توبہ اور ایمان پر قائم رہے ﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ، وہ جو کچھ کرتے ہیں ، اس کو دیکھتا ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہوا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہوا تو بری جزاہو گی۔

المائدة 5:71

البتہ تحقیق لیا تھا ہم نے عہد بنی اسرائیل سے اور بھیجے ہم نے ان کی طرف کئی رسول، جب آیا ان کے پاس رسول، ساتھ ایسی چیز کے کہ نہیں چاہتے تھے ان کے نفس تو کچھ کو انھوں نے جھٹلایا اور کچھ کو وہ قتل ہی کر ڈالتے(70) اور گمان کیا انھوں نے کہ نہ ہوگی کوئی آزمائش ، پس وہ اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے، پھر متوجہ ہوا اللہ اوپر ان کے، پھر اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے زیادہ لوگ ان میں سےاور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں (71) [70]﴿ لَقَدۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے واجبات کو قائم کرنے کے بارے میں ان سے بھاری عہد لیا جن کے بارے میں گزشتہ صفحات میں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۚ وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا…الآيۃ﴾(المائدۃ: 5؍12) کی تفسیر کے ضمن میں بحث گزر چکی ہے۔ ﴿ وَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ رُسُلًا﴾ ’’اور ان کی طرف رسول بھیجے‘‘ جو پے در پے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے اور ان کو رشد و ہدایت کی طرف بلاتے رہتے تھے مگر یہ چیز ان کے کسی کام آئی نہ اس نے کوئی فائدہ دیا ﴿ كُلَّمَا جَآءَؔهُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَهۡوٰۤى اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’جب لایا کوئی رسول وہ حکم جس کو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے‘‘ یعنی حق کو ان کے نفس پسند نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے حق کو جھٹلایا، اس سے عناد رکھا اور اس کے ساتھ بدترین معاملہ کیا ﴿ فَرِيۡقًا كَذَّبُوۡا وَفَرِيۡقًا يَّقۡتُلُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے رسولوں کے ایک گروہ کی تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کیا۔‘‘ [71]﴿ وَحَسِبُوۡۤا اَلَّا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور یہ خیال کرتے تھے کہ کوئی آفت نہیں آنے کی۔‘‘ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی نافرمانی اور ان کی تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں آئے گا۔ نہ ان کو سزا دی جائے گی اور وہ اپنے باطل پر ہمیشہ قائم رہیں گے ﴿ فَعَمُوۡا وَصَمُّوۡا ﴾ ’’پس وہ (حق دیکھنے سے) اندھے اور (حق بولنے سے) گونگے ہو گئے‘‘ ﴿ ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی‘‘ یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے ان لغزشوں کو نظر انداز کر دیا جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کی اور اس کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ ثُمَّ ﴾ پھر انھوں نے اس توبہ پر دوام نہ کیا یہاں تک کہ ان کے اکثر لوگ بدترین احوال کی طرف پلٹ گئے ﴿ عَمُوۡا وَصَمُّوۡا كَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ﴾ ’’ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔‘‘ یعنی انھی اوصاف کے ساتھ وہ پھر اندھے اور گونگے ہو گئے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اپنی توبہ اور ایمان پر قائم رہے ﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ، وہ جو کچھ کرتے ہیں ، اس کو دیکھتا ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہوا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہوا تو بری جزاہو گی۔

المائدة 5:72

البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا، بے شک اللہ وہی مسیح ابن مریم ہے۔ اور کہا مسیح نے اے بنی اسرائیل! عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی۔ تحقیق جو شریک ٹھہراتا ہے ساتھ اللہ کے تو یقینا حرام کر دی اللہ نے اوپر اس کے جنت اور اس کا ٹھکانا آگ ہےاور نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار(72) البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ جنھوں نے کہا، بے شک اللہ تیسرا ہے تین میں سے اور نہیں کوئی معبود مگر معبود ایک۔ اور اگر وہ باز نہ آئے اس سے جو کہتے ہیں تو ضرور پہنچے گا، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب دردناک(73) کیا پس نہیں توبہ کرتے طرف اللہ کی اور بخشش مانگتے اس سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(74) نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول ہی، گزر چکے ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول اور ان کی ماں صدیقہ تھی، تھے وہ دونوں کھاتے کھانا۔ دیکھیے! کیسے ہم بیان کرتے ہیں ان کے لیے نشانیاں ، پھر دیکھیے! کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(75) [72] اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ﴾ ’’بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے‘‘ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے... دراں حالیکہ عیسیٰu نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ﴾ ’’اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ مسیحu نے اپنے لیے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لیے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی، (خواہ وہ عیسیٰu ہوں یا کوئی اور...) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ﴾ ’’تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔۔، یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت.... اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کر دیا... اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ﴾ ’’اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کر سکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے۔ [73]﴿ لَقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ﴾ ’’یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے‘‘ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ، عیسیٰ اور مریم... اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے ... یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انھوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کر لیا؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہو گئے؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا؟اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’اور نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی معبود‘‘ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهُوۡا عَمَّؔا يَقُوۡلُوۡنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انھیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا‘‘ [74] پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے‘‘ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰu اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔﴿ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَهٗ﴾ اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا ہے ﴿اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے۔‘‘ [75] پھر اللہ تعالیٰ نے جناب مسیحu اور ان کی والدہ ماجدہ کی حقیقت بیان فرمائی جو کہ حق ہے۔ فرمایا: ﴿ مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ١ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ﴾ ’’نہیں ہیں مسیح بن مریم مگر ایک رسول ہی، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزرے‘‘ یعنی جناب مسیح کے معاملے کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور رسولوں میں سے ایک ہیں جن کو کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ تشریع کا کوئی اختیار رکھتے ہیں سوائے اس چیز کے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا ہے۔ جناب مسیح بھی ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو دوسرے رسولوں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل نہیں جو انھیں بشریت سے نکال کر ربوبیت کے مرتبے پر فائز کر دے ﴿ وَاُمُّهٗ ﴾ ’’اور ان کی ماں ‘‘ یعنی مریم[ ﴿ صِدِّيۡقَةٌ﴾ ’’صدیقہ ہیں۔‘‘ یعنی جناب مریم[ کی بھی غایت و انتہا یہ ہے کہ صدیقین میں ان کا شمار ہوتا ہے جو انبیا و مرسلین کے بعد مخلوق میں سب سے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں ۔صدیقیت وہ علم نافع ہے جس کا ثمرہ یقین اور عمل صالح ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مریم نبی نہ تھیں ۔ ان کا بلند ترین حال صدیقیت ہے اور فضیلت اور شرف کے لیے یہی کافی ہے۔اسی طرح عورتوں میں سے کوئی عورت نبی مبعوث نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کامل تر صنف یعنی مردوں ہی میں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ ﴾(یوسف:12؍109) ’’اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔‘‘جب حضرت عیسیٰu انبیا و مرسلین کی جنس میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں تو نصاریٰ نے کس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان دونوں کو بھی الٰہ قرار دے دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَ﴾ ’’وہ دونوں کھانا کھاتے تھے‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فقیر اور محتاج بندے تھے جیسا کہ انسان کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں ۔ پس اگر جناب عیسیٰ اور مریمi الٰہ ہوتے تو وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوتے اور کسی چیز کے بھی محتاج نہ ہوتے۔ کیونکہ معبود بے نیاز اور قابل تعریف ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل اور برہان واضح کر دی تو فرمایا: ﴿اُنۡظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم کیسے ان کے لیے آیات بیان کرتے ہیں ‘‘ جو حق کو واضح کرتی ہیں اور یقین کو منکشف کرتی ہیں بایں ہمہ انھیں کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی بلکہ وہ اپنی بہتان طرازیوں ، جھوٹ اور افترا پردازی پر بضد ہیں اور یہ ان کا ظلم اور عناد ہے۔

المائدة 5:73

البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا، بے شک اللہ وہی مسیح ابن مریم ہے۔ اور کہا مسیح نے اے بنی اسرائیل! عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی۔ تحقیق جو شریک ٹھہراتا ہے ساتھ اللہ کے تو یقینا حرام کر دی اللہ نے اوپر اس کے جنت اور اس کا ٹھکانا آگ ہےاور نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار(72) البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ جنھوں نے کہا، بے شک اللہ تیسرا ہے تین میں سے اور نہیں کوئی معبود مگر معبود ایک۔ اور اگر وہ باز نہ آئے اس سے جو کہتے ہیں تو ضرور پہنچے گا، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب دردناک(73) کیا پس نہیں توبہ کرتے طرف اللہ کی اور بخشش مانگتے اس سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(74) نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول ہی، گزر چکے ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول اور ان کی ماں صدیقہ تھی، تھے وہ دونوں کھاتے کھانا۔ دیکھیے! کیسے ہم بیان کرتے ہیں ان کے لیے نشانیاں ، پھر دیکھیے! کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(75) [72] اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ﴾ ’’بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے‘‘ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے... دراں حالیکہ عیسیٰu نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ﴾ ’’اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ مسیحu نے اپنے لیے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لیے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی، (خواہ وہ عیسیٰu ہوں یا کوئی اور...) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ﴾ ’’تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔۔، یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت.... اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کر دیا... اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ﴾ ’’اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کر سکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے۔ [73]﴿ لَقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ﴾ ’’یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے‘‘ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ، عیسیٰ اور مریم... اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے ... یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انھوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کر لیا؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہو گئے؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا؟اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’اور نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی معبود‘‘ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهُوۡا عَمَّؔا يَقُوۡلُوۡنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انھیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا‘‘ [74] پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے‘‘ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰu اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔﴿ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَهٗ﴾ اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا ہے ﴿اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے۔‘‘ [75] پھر اللہ تعالیٰ نے جناب مسیحu اور ان کی والدہ ماجدہ کی حقیقت بیان فرمائی جو کہ حق ہے۔ فرمایا: ﴿ مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ١ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ﴾ ’’نہیں ہیں مسیح بن مریم مگر ایک رسول ہی، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزرے‘‘ یعنی جناب مسیح کے معاملے کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور رسولوں میں سے ایک ہیں جن کو کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ تشریع کا کوئی اختیار رکھتے ہیں سوائے اس چیز کے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا ہے۔ جناب مسیح بھی ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو دوسرے رسولوں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل نہیں جو انھیں بشریت سے نکال کر ربوبیت کے مرتبے پر فائز کر دے ﴿ وَاُمُّهٗ ﴾ ’’اور ان کی ماں ‘‘ یعنی مریم[ ﴿ صِدِّيۡقَةٌ﴾ ’’صدیقہ ہیں۔‘‘ یعنی جناب مریم[ کی بھی غایت و انتہا یہ ہے کہ صدیقین میں ان کا شمار ہوتا ہے جو انبیا و مرسلین کے بعد مخلوق میں سب سے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں ۔صدیقیت وہ علم نافع ہے جس کا ثمرہ یقین اور عمل صالح ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مریم نبی نہ تھیں ۔ ان کا بلند ترین حال صدیقیت ہے اور فضیلت اور شرف کے لیے یہی کافی ہے۔اسی طرح عورتوں میں سے کوئی عورت نبی مبعوث نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کامل تر صنف یعنی مردوں ہی میں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ ﴾(یوسف:12؍109) ’’اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔‘‘جب حضرت عیسیٰu انبیا و مرسلین کی جنس میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں تو نصاریٰ نے کس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان دونوں کو بھی الٰہ قرار دے دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَ﴾ ’’وہ دونوں کھانا کھاتے تھے‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فقیر اور محتاج بندے تھے جیسا کہ انسان کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں ۔ پس اگر جناب عیسیٰ اور مریمi الٰہ ہوتے تو وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوتے اور کسی چیز کے بھی محتاج نہ ہوتے۔ کیونکہ معبود بے نیاز اور قابل تعریف ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل اور برہان واضح کر دی تو فرمایا: ﴿اُنۡظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم کیسے ان کے لیے آیات بیان کرتے ہیں ‘‘ جو حق کو واضح کرتی ہیں اور یقین کو منکشف کرتی ہیں بایں ہمہ انھیں کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی بلکہ وہ اپنی بہتان طرازیوں ، جھوٹ اور افترا پردازی پر بضد ہیں اور یہ ان کا ظلم اور عناد ہے۔

المائدة 5:74

البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا، بے شک اللہ وہی مسیح ابن مریم ہے۔ اور کہا مسیح نے اے بنی اسرائیل! عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی۔ تحقیق جو شریک ٹھہراتا ہے ساتھ اللہ کے تو یقینا حرام کر دی اللہ نے اوپر اس کے جنت اور اس کا ٹھکانا آگ ہےاور نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار(72) البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ جنھوں نے کہا، بے شک اللہ تیسرا ہے تین میں سے اور نہیں کوئی معبود مگر معبود ایک۔ اور اگر وہ باز نہ آئے اس سے جو کہتے ہیں تو ضرور پہنچے گا، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب دردناک(73) کیا پس نہیں توبہ کرتے طرف اللہ کی اور بخشش مانگتے اس سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(74) نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول ہی، گزر چکے ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول اور ان کی ماں صدیقہ تھی، تھے وہ دونوں کھاتے کھانا۔ دیکھیے! کیسے ہم بیان کرتے ہیں ان کے لیے نشانیاں ، پھر دیکھیے! کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(75) [72] اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ﴾ ’’بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے‘‘ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے... دراں حالیکہ عیسیٰu نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ﴾ ’’اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ مسیحu نے اپنے لیے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لیے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی، (خواہ وہ عیسیٰu ہوں یا کوئی اور...) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ﴾ ’’تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔۔، یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت.... اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کر دیا... اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ﴾ ’’اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کر سکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے۔ [73]﴿ لَقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ﴾ ’’یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے‘‘ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ، عیسیٰ اور مریم... اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے ... یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انھوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کر لیا؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہو گئے؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا؟اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’اور نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی معبود‘‘ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهُوۡا عَمَّؔا يَقُوۡلُوۡنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انھیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا‘‘ [74] پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے‘‘ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰu اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔﴿ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَهٗ﴾ اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا ہے ﴿اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے۔‘‘ [75] پھر اللہ تعالیٰ نے جناب مسیحu اور ان کی والدہ ماجدہ کی حقیقت بیان فرمائی جو کہ حق ہے۔ فرمایا: ﴿ مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ١ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ﴾ ’’نہیں ہیں مسیح بن مریم مگر ایک رسول ہی، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزرے‘‘ یعنی جناب مسیح کے معاملے کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور رسولوں میں سے ایک ہیں جن کو کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ تشریع کا کوئی اختیار رکھتے ہیں سوائے اس چیز کے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا ہے۔ جناب مسیح بھی ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو دوسرے رسولوں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل نہیں جو انھیں بشریت سے نکال کر ربوبیت کے مرتبے پر فائز کر دے ﴿ وَاُمُّهٗ ﴾ ’’اور ان کی ماں ‘‘ یعنی مریم[ ﴿ صِدِّيۡقَةٌ﴾ ’’صدیقہ ہیں۔‘‘ یعنی جناب مریم[ کی بھی غایت و انتہا یہ ہے کہ صدیقین میں ان کا شمار ہوتا ہے جو انبیا و مرسلین کے بعد مخلوق میں سب سے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں ۔صدیقیت وہ علم نافع ہے جس کا ثمرہ یقین اور عمل صالح ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مریم نبی نہ تھیں ۔ ان کا بلند ترین حال صدیقیت ہے اور فضیلت اور شرف کے لیے یہی کافی ہے۔اسی طرح عورتوں میں سے کوئی عورت نبی مبعوث نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کامل تر صنف یعنی مردوں ہی میں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ ﴾(یوسف:12؍109) ’’اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔‘‘جب حضرت عیسیٰu انبیا و مرسلین کی جنس میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں تو نصاریٰ نے کس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان دونوں کو بھی الٰہ قرار دے دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَ﴾ ’’وہ دونوں کھانا کھاتے تھے‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فقیر اور محتاج بندے تھے جیسا کہ انسان کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں ۔ پس اگر جناب عیسیٰ اور مریمi الٰہ ہوتے تو وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوتے اور کسی چیز کے بھی محتاج نہ ہوتے۔ کیونکہ معبود بے نیاز اور قابل تعریف ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل اور برہان واضح کر دی تو فرمایا: ﴿اُنۡظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم کیسے ان کے لیے آیات بیان کرتے ہیں ‘‘ جو حق کو واضح کرتی ہیں اور یقین کو منکشف کرتی ہیں بایں ہمہ انھیں کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی بلکہ وہ اپنی بہتان طرازیوں ، جھوٹ اور افترا پردازی پر بضد ہیں اور یہ ان کا ظلم اور عناد ہے۔

المائدة 5:75

البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا، بے شک اللہ وہی مسیح ابن مریم ہے۔ اور کہا مسیح نے اے بنی اسرائیل! عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی۔ تحقیق جو شریک ٹھہراتا ہے ساتھ اللہ کے تو یقینا حرام کر دی اللہ نے اوپر اس کے جنت اور اس کا ٹھکانا آگ ہےاور نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار(72) البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ جنھوں نے کہا، بے شک اللہ تیسرا ہے تین میں سے اور نہیں کوئی معبود مگر معبود ایک۔ اور اگر وہ باز نہ آئے اس سے جو کہتے ہیں تو ضرور پہنچے گا، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب دردناک(73) کیا پس نہیں توبہ کرتے طرف اللہ کی اور بخشش مانگتے اس سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(74) نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول ہی، گزر چکے ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول اور ان کی ماں صدیقہ تھی، تھے وہ دونوں کھاتے کھانا۔ دیکھیے! کیسے ہم بیان کرتے ہیں ان کے لیے نشانیاں ، پھر دیکھیے! کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(75) [72] اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ﴾ ’’بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے‘‘ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے... دراں حالیکہ عیسیٰu نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ﴾ ’’اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ مسیحu نے اپنے لیے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لیے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی، (خواہ وہ عیسیٰu ہوں یا کوئی اور...) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ﴾ ’’تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔۔، یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت.... اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کر دیا... اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ﴾ ’’اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کر سکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے۔ [73]﴿ لَقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ﴾ ’’یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے‘‘ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ، عیسیٰ اور مریم... اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے ... یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انھوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کر لیا؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہو گئے؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا؟اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’اور نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی معبود‘‘ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهُوۡا عَمَّؔا يَقُوۡلُوۡنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انھیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا‘‘ [74] پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے‘‘ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰu اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔﴿ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَهٗ﴾ اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا ہے ﴿اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے۔‘‘ [75] پھر اللہ تعالیٰ نے جناب مسیحu اور ان کی والدہ ماجدہ کی حقیقت بیان فرمائی جو کہ حق ہے۔ فرمایا: ﴿ مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ١ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ﴾ ’’نہیں ہیں مسیح بن مریم مگر ایک رسول ہی، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزرے‘‘ یعنی جناب مسیح کے معاملے کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور رسولوں میں سے ایک ہیں جن کو کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ تشریع کا کوئی اختیار رکھتے ہیں سوائے اس چیز کے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا ہے۔ جناب مسیح بھی ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو دوسرے رسولوں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل نہیں جو انھیں بشریت سے نکال کر ربوبیت کے مرتبے پر فائز کر دے ﴿ وَاُمُّهٗ ﴾ ’’اور ان کی ماں ‘‘ یعنی مریم[ ﴿ صِدِّيۡقَةٌ﴾ ’’صدیقہ ہیں۔‘‘ یعنی جناب مریم[ کی بھی غایت و انتہا یہ ہے کہ صدیقین میں ان کا شمار ہوتا ہے جو انبیا و مرسلین کے بعد مخلوق میں سب سے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں ۔صدیقیت وہ علم نافع ہے جس کا ثمرہ یقین اور عمل صالح ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مریم نبی نہ تھیں ۔ ان کا بلند ترین حال صدیقیت ہے اور فضیلت اور شرف کے لیے یہی کافی ہے۔اسی طرح عورتوں میں سے کوئی عورت نبی مبعوث نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کامل تر صنف یعنی مردوں ہی میں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ ﴾(یوسف:12؍109) ’’اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔‘‘جب حضرت عیسیٰu انبیا و مرسلین کی جنس میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں تو نصاریٰ نے کس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان دونوں کو بھی الٰہ قرار دے دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَ﴾ ’’وہ دونوں کھانا کھاتے تھے‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فقیر اور محتاج بندے تھے جیسا کہ انسان کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں ۔ پس اگر جناب عیسیٰ اور مریمi الٰہ ہوتے تو وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوتے اور کسی چیز کے بھی محتاج نہ ہوتے۔ کیونکہ معبود بے نیاز اور قابل تعریف ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل اور برہان واضح کر دی تو فرمایا: ﴿اُنۡظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم کیسے ان کے لیے آیات بیان کرتے ہیں ‘‘ جو حق کو واضح کرتی ہیں اور یقین کو منکشف کرتی ہیں بایں ہمہ انھیں کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی بلکہ وہ اپنی بہتان طرازیوں ، جھوٹ اور افترا پردازی پر بضد ہیں اور یہ ان کا ظلم اور عناد ہے۔

المائدة 5:76

کہہ دیجیے! کیا تم عبادت کرتے ہو، اللہ کو چھوڑ کر، ایسی چیز کی جو نہیں اختیار رکھتی تمھارے لیے نقصان کا اور نہ نفع کااور اللہ وہی ہے خوب سننے والا خوب جاننے والا(76) [76]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسولﷺ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ کیا تم اللہ کے سوا مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو محتاج اور فقیر ہیں ﴿ مَا لَا يَمۡلِكُ لَكُمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا﴾ ’’جو تمھارے لیے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے‘‘ اور تم اس ہستی کو چھوڑ دیتے ہو جس اکیلی کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور صرف وہی ہستی ہے جو عطا کرتی اور محروم کرتی ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ ’’اور اللہ، وہی سننے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ مخلوق کے اختلافات زبان اور تنوع حاجات کے باوجود سب آوازیں سنتا ہے ﴿ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ وہ ظاہر و باطن، غیب و شہادت اور ماضی اور مستقبل کے امور کو جانتا ہے۔ پس صاحب کمال ہستی جو ان اوصاف کی مالک ہے، وہی عبادت کی تمام انواع اور خالص اطاعت کی مستحق ہے۔

المائدة 5:77

کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہ غلو کرو تم اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی جو گمراہ ہو چکے اس سے پہلے اور گمراہ کیا انھوں نے بہت سوں کو اور بہک گئے وہ سیدھی راہ سے(77) لعنت کیے گئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے، بہ زبان داود اور عیسیٰ ابن مریم کے یہ بہ سبب اس کے جو نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ حد سے گزر جاتے(78) نہیں تھے وہ ایک دوسرے کو منع کرتے برے کام سے کہ کیا ہوتا انھوں نے وہ ، البتہ برا تھا جو تھے وہ کرتے(79) آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، وہ دوستی کرتے ہیں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ البتہ برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے، یہ کہ ناراض ہوا اللہ اوپر ان کے اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (80)اور اگر ہوتے وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور (اس پر) جو نازل کیا گیا اس کی طرف تو نہ بناتے ان (کافروں )کو دوست لیکن زیادہ لوگ ان میں سے فاسق ہیں (81) [77] اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ہے ﴿ قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو‘‘ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡۤا اَهۡوَؔآءَؔ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔‘‘ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ [78]﴿ لُعِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔ [79] ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں ، یہ تھے کہ وہ ﴿ كَانُوۡا لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَنۡ مُّنۡؔكَرٍ فَعَلُوۡهُ﴾ ’’برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔‘‘ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لیے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کے محارم کی ہتک پر انھیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی ناراض ہوتے۔ اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں : ، مثلاً:(۱) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لیے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔ (۲) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأ ت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شریر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ اہل شر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ انھیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔ (۴) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں ، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں ۔اس سے بڑی کونسی برائی ہو سکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انھیں باطل حق نظر آنے لگے۔ (۵) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہو جاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنائے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔چونکہ یہ برائیوں پر سکوت کی جزا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انھی لوگوں میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعدی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص کیا ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘ [80]﴿ تَرٰى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا‘‘ یعنی انھوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا... اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہو جاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انھوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انھوں نے انھیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کر دیا۔ [81]﴿ وَلَوۡ كَانُوۡا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَا اتَّؔخَذُوۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ، نبیﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لیے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا ﴿ وَلٰكِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبیﷺ پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں ۔

المائدة 5:78

کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہ غلو کرو تم اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی جو گمراہ ہو چکے اس سے پہلے اور گمراہ کیا انھوں نے بہت سوں کو اور بہک گئے وہ سیدھی راہ سے(77) لعنت کیے گئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے، بہ زبان داود اور عیسیٰ ابن مریم کے یہ بہ سبب اس کے جو نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ حد سے گزر جاتے(78) نہیں تھے وہ ایک دوسرے کو منع کرتے برے کام سے کہ کیا ہوتا انھوں نے وہ ، البتہ برا تھا جو تھے وہ کرتے(79) آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، وہ دوستی کرتے ہیں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ البتہ برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے، یہ کہ ناراض ہوا اللہ اوپر ان کے اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (80)اور اگر ہوتے وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور (اس پر) جو نازل کیا گیا اس کی طرف تو نہ بناتے ان (کافروں )کو دوست لیکن زیادہ لوگ ان میں سے فاسق ہیں (81) [77] اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ہے ﴿ قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو‘‘ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡۤا اَهۡوَؔآءَؔ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔‘‘ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ [78]﴿ لُعِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔ [79] ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں ، یہ تھے کہ وہ ﴿ كَانُوۡا لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَنۡ مُّنۡؔكَرٍ فَعَلُوۡهُ﴾ ’’برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔‘‘ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لیے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کے محارم کی ہتک پر انھیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی ناراض ہوتے۔ اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں : ، مثلاً:(۱) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لیے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔ (۲) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأ ت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شریر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ اہل شر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ انھیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔ (۴) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں ، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں ۔اس سے بڑی کونسی برائی ہو سکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انھیں باطل حق نظر آنے لگے۔ (۵) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہو جاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنائے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔چونکہ یہ برائیوں پر سکوت کی جزا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انھی لوگوں میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعدی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص کیا ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘ [80]﴿ تَرٰى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا‘‘ یعنی انھوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا... اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہو جاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انھوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انھوں نے انھیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کر دیا۔ [81]﴿ وَلَوۡ كَانُوۡا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَا اتَّؔخَذُوۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ، نبیﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لیے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا ﴿ وَلٰكِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبیﷺ پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں ۔

المائدة 5:79

کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہ غلو کرو تم اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی جو گمراہ ہو چکے اس سے پہلے اور گمراہ کیا انھوں نے بہت سوں کو اور بہک گئے وہ سیدھی راہ سے(77) لعنت کیے گئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے، بہ زبان داود اور عیسیٰ ابن مریم کے یہ بہ سبب اس کے جو نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ حد سے گزر جاتے(78) نہیں تھے وہ ایک دوسرے کو منع کرتے برے کام سے کہ کیا ہوتا انھوں نے وہ ، البتہ برا تھا جو تھے وہ کرتے(79) آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، وہ دوستی کرتے ہیں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ البتہ برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے، یہ کہ ناراض ہوا اللہ اوپر ان کے اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (80)اور اگر ہوتے وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور (اس پر) جو نازل کیا گیا اس کی طرف تو نہ بناتے ان (کافروں )کو دوست لیکن زیادہ لوگ ان میں سے فاسق ہیں (81) [77] اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ہے ﴿ قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو‘‘ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡۤا اَهۡوَؔآءَؔ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔‘‘ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ [78]﴿ لُعِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔ [79] ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں ، یہ تھے کہ وہ ﴿ كَانُوۡا لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَنۡ مُّنۡؔكَرٍ فَعَلُوۡهُ﴾ ’’برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔‘‘ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لیے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کے محارم کی ہتک پر انھیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی ناراض ہوتے۔ اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں : ، مثلاً:(۱) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لیے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔ (۲) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأ ت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شریر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ اہل شر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ انھیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔ (۴) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں ، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں ۔اس سے بڑی کونسی برائی ہو سکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انھیں باطل حق نظر آنے لگے۔ (۵) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہو جاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنائے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔چونکہ یہ برائیوں پر سکوت کی جزا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انھی لوگوں میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعدی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص کیا ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘ [80]﴿ تَرٰى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا‘‘ یعنی انھوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا... اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہو جاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انھوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انھوں نے انھیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کر دیا۔ [81]﴿ وَلَوۡ كَانُوۡا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَا اتَّؔخَذُوۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ، نبیﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لیے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا ﴿ وَلٰكِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبیﷺ پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں ۔

المائدة 5:80

کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہ غلو کرو تم اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی جو گمراہ ہو چکے اس سے پہلے اور گمراہ کیا انھوں نے بہت سوں کو اور بہک گئے وہ سیدھی راہ سے(77) لعنت کیے گئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے، بہ زبان داود اور عیسیٰ ابن مریم کے یہ بہ سبب اس کے جو نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ حد سے گزر جاتے(78) نہیں تھے وہ ایک دوسرے کو منع کرتے برے کام سے کہ کیا ہوتا انھوں نے وہ ، البتہ برا تھا جو تھے وہ کرتے(79) آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، وہ دوستی کرتے ہیں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ البتہ برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے، یہ کہ ناراض ہوا اللہ اوپر ان کے اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (80)اور اگر ہوتے وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور (اس پر) جو نازل کیا گیا اس کی طرف تو نہ بناتے ان (کافروں )کو دوست لیکن زیادہ لوگ ان میں سے فاسق ہیں (81) [77] اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ہے ﴿ قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو‘‘ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡۤا اَهۡوَؔآءَؔ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔‘‘ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ [78]﴿ لُعِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔ [79] ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں ، یہ تھے کہ وہ ﴿ كَانُوۡا لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَنۡ مُّنۡؔكَرٍ فَعَلُوۡهُ﴾ ’’برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔‘‘ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لیے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کے محارم کی ہتک پر انھیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی ناراض ہوتے۔ اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں : ، مثلاً:(۱) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لیے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔ (۲) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأ ت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شریر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ اہل شر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ انھیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔ (۴) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں ، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں ۔اس سے بڑی کونسی برائی ہو سکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انھیں باطل حق نظر آنے لگے۔ (۵) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہو جاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنائے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔چونکہ یہ برائیوں پر سکوت کی جزا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انھی لوگوں میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعدی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص کیا ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘ [80]﴿ تَرٰى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا‘‘ یعنی انھوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا... اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہو جاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انھوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انھوں نے انھیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کر دیا۔ [81]﴿ وَلَوۡ كَانُوۡا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَا اتَّؔخَذُوۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ، نبیﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لیے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا ﴿ وَلٰكِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبیﷺ پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں ۔

المائدة 5:81

کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہ غلو کرو تم اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی جو گمراہ ہو چکے اس سے پہلے اور گمراہ کیا انھوں نے بہت سوں کو اور بہک گئے وہ سیدھی راہ سے(77) لعنت کیے گئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے، بہ زبان داود اور عیسیٰ ابن مریم کے یہ بہ سبب اس کے جو نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ حد سے گزر جاتے(78) نہیں تھے وہ ایک دوسرے کو منع کرتے برے کام سے کہ کیا ہوتا انھوں نے وہ ، البتہ برا تھا جو تھے وہ کرتے(79) آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، وہ دوستی کرتے ہیں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ البتہ برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے، یہ کہ ناراض ہوا اللہ اوپر ان کے اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (80)اور اگر ہوتے وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور (اس پر) جو نازل کیا گیا اس کی طرف تو نہ بناتے ان (کافروں )کو دوست لیکن زیادہ لوگ ان میں سے فاسق ہیں (81) [77] اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ہے ﴿ قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو‘‘ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡۤا اَهۡوَؔآءَؔ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔‘‘ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ [78]﴿ لُعِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔ [79] ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں ، یہ تھے کہ وہ ﴿ كَانُوۡا لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَنۡ مُّنۡؔكَرٍ فَعَلُوۡهُ﴾ ’’برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔‘‘ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لیے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کے محارم کی ہتک پر انھیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی ناراض ہوتے۔ اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں : ، مثلاً:(۱) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لیے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔ (۲) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأ ت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شریر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ اہل شر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ انھیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔ (۴) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں ، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں ۔اس سے بڑی کونسی برائی ہو سکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انھیں باطل حق نظر آنے لگے۔ (۵) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہو جاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنائے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔چونکہ یہ برائیوں پر سکوت کی جزا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انھی لوگوں میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعدی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص کیا ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘ [80]﴿ تَرٰى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا‘‘ یعنی انھوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا... اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہو جاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انھوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انھوں نے انھیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کر دیا۔ [81]﴿ وَلَوۡ كَانُوۡا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَا اتَّؔخَذُوۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ، نبیﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لیے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا ﴿ وَلٰكِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبیﷺ پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں ۔

المائدة 5:82

یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86) [82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔ [83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ: 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘ [84] گویا انھیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا: ﴿ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَؔنَا مِنَ الۡحَقِّ١ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں ) داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ دراں حالیکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آ گیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟ [85] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا‘‘ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔‘‘یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں ۔ [86] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لیے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔

المائدة 5:83

یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86) [82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔ [83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ: 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘ [84] گویا انھیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا: ﴿ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَؔنَا مِنَ الۡحَقِّ١ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں ) داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ دراں حالیکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آ گیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟ [85] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا‘‘ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔‘‘یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں ۔ [86] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لیے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔

المائدة 5:84

یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86) [82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔ [83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ: 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘ [84] گویا انھیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا: ﴿ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَؔنَا مِنَ الۡحَقِّ١ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں ) داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ دراں حالیکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آ گیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟ [85] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا‘‘ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔‘‘یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں ۔ [86] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لیے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔

المائدة 5:85

یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86) [82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔ [83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ: 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘ [84] گویا انھیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا: ﴿ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَؔنَا مِنَ الۡحَقِّ١ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں ) داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ دراں حالیکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آ گیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟ [85] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا‘‘ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔‘‘یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں ۔ [86] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لیے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔

المائدة 5:86

یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86) [82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔ [83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ: 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘ [84] گویا انھیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا: ﴿ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَؔنَا مِنَ الۡحَقِّ١ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں ) داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ دراں حالیکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آ گیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟ [85] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا‘‘ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔‘‘یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں ۔ [86] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لیے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔

المائدة 5:87

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت حرام ٹھہراؤ وہ پاکیزہ چیزیں جن کو حلال کیا اللہ نے تمھارے لیےاور نہ حد سے گزرو یقینا اللہ نہیں پسند کرتا حد سے گزرنے والوں کو(87) اور کھاؤ اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، جس پر تم ایمان رکھتے ہو(88) [87]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ ﴾ ’’اے ایمان والو! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمھارے لیے حلال کیا ہے، تم انھیں حرام مت کرو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں ، انھیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمھارے لیے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ۔ ورنہ تم اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی، کفران نعمت اور حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب ٹھہرو گے… اور یہ حد سے تجاوز ہے اور اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھنے سے منع فرمایا ہے ﴿ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ﴾ ’’اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہو تا ہے اور اس پر ان کو سزا دے گا۔ [88] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کے طریقے کے برعکس جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا، حکم دیا ﴿ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا﴾’’اور جو حلال طیب روزی اللہ نے تمھیں دی ہے اسے کھاؤ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس رزق میں سے کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری طرف بھیجا ہے جو تمھیں میسر ہیں ۔ بشرطیکہ یہ رزق حلال ہو اور چوری یا غصب شدہ وغیرہ مال میں سے نہ ہو جو ناحق حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ نیز وہ پاک بھی ہو، یعنی اس میں کوئی ناپاکی نہ ہو۔ اس طرح درندے اور دیگر ناپاک چیزیں اس دائرے سے نکل جاتی ہیں ۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی منہیات کے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تم پر تقویٰ اور حقوق اللہ کی رعایت و حفاظت واجب کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حلال چیز ، مثلاً: ماکولات، مشروبات یا لونڈی وغیرہ کو حرام ٹھہرا لیتا ہے تو یہ چیز اس کے حرام ٹھہرا لینے سے حرام نہیں ہو جاتی، البتہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو قسم کا کفارہ واجب ہو جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾(التحریم: 66؍1) ’’اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دی ہے۔‘‘مگر بیوی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے سے ظہار کا کفارہ لازم آئے گا۔( اس مسئلے میں کافی اختلاف ہے‘ ایک رائے یہ بھی ہے جس کا اظہارفاضل مفسر رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے‘ دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کفارۂ یمین ہے (اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے‘ واللہ اعلم) اور تیسری رائے ہے کہ اس میں سرے سے کوئی کفارہ ہی نہیں ہے۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر کا رجحان دوسری رائے کی طرف اور امام شوکانی کا تیسری رائے کی طرف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے تفسیر فتح القدیر‘ آیت زیر بحث۔ زاد المعاد، ج : 5؍ 302۔312، فتح الباري، کتاب الطلاق، والروضۃ الندیۃ، ج : 2، کتاب الطلاق وغیرھا من الکتب ( ص ۔ ی) اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ پاک چیزوں سے اجتناب کرے اور انھیں اپنے آپ پر حرام ٹھہرا لے بلکہ وہ انھیں استعمال کرے اور اس طرح اطاعت الٰہی پر ان سے مدد لے۔

المائدة 5:88

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت حرام ٹھہراؤ وہ پاکیزہ چیزیں جن کو حلال کیا اللہ نے تمھارے لیےاور نہ حد سے گزرو یقینا اللہ نہیں پسند کرتا حد سے گزرنے والوں کو(87) اور کھاؤ اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، جس پر تم ایمان رکھتے ہو(88) [87]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ ﴾ ’’اے ایمان والو! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمھارے لیے حلال کیا ہے، تم انھیں حرام مت کرو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں ، انھیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمھارے لیے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ۔ ورنہ تم اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی، کفران نعمت اور حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب ٹھہرو گے… اور یہ حد سے تجاوز ہے اور اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھنے سے منع فرمایا ہے ﴿ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ﴾ ’’اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہو تا ہے اور اس پر ان کو سزا دے گا۔ [88] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کے طریقے کے برعکس جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا، حکم دیا ﴿ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا﴾’’اور جو حلال طیب روزی اللہ نے تمھیں دی ہے اسے کھاؤ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس رزق میں سے کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری طرف بھیجا ہے جو تمھیں میسر ہیں ۔ بشرطیکہ یہ رزق حلال ہو اور چوری یا غصب شدہ وغیرہ مال میں سے نہ ہو جو ناحق حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ نیز وہ پاک بھی ہو، یعنی اس میں کوئی ناپاکی نہ ہو۔ اس طرح درندے اور دیگر ناپاک چیزیں اس دائرے سے نکل جاتی ہیں ۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی منہیات کے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تم پر تقویٰ اور حقوق اللہ کی رعایت و حفاظت واجب کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حلال چیز ، مثلاً: ماکولات، مشروبات یا لونڈی وغیرہ کو حرام ٹھہرا لیتا ہے تو یہ چیز اس کے حرام ٹھہرا لینے سے حرام نہیں ہو جاتی، البتہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو قسم کا کفارہ واجب ہو جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾(التحریم: 66؍1) ’’اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دی ہے۔‘‘مگر بیوی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے سے ظہار کا کفارہ لازم آئے گا۔( اس مسئلے میں کافی اختلاف ہے‘ ایک رائے یہ بھی ہے جس کا اظہارفاضل مفسر رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے‘ دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کفارۂ یمین ہے (اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے‘ واللہ اعلم) اور تیسری رائے ہے کہ اس میں سرے سے کوئی کفارہ ہی نہیں ہے۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر کا رجحان دوسری رائے کی طرف اور امام شوکانی کا تیسری رائے کی طرف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے تفسیر فتح القدیر‘ آیت زیر بحث۔ زاد المعاد، ج : 5؍ 302۔312، فتح الباري، کتاب الطلاق، والروضۃ الندیۃ، ج : 2، کتاب الطلاق وغیرھا من الکتب ( ص ۔ ی) اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ پاک چیزوں سے اجتناب کرے اور انھیں اپنے آپ پر حرام ٹھہرا لے بلکہ وہ انھیں استعمال کرے اور اس طرح اطاعت الٰہی پر ان سے مدد لے۔

المائدة 5:89

نہیں مؤاخذہ کرے گا تمھارا اللہ تمھاری لغو قسموں پر لیکن وہ مؤاخذہ کرے گا تمھارا ان پر جو مضبوط باندھیں تم نے قسمیں ، پس کفارہ اس کا، کھانا کھلانا ہے دس مسکینوں کو اوسط درجے کا، جو کھلاتے ہو تم اپنے اہل و عیال کو یا کپڑے پہنانا ہے انھیں یا آزاد کرنا ایک گردن کا، پس جو نہ پائے تو روزے رکھنے ہیں تین دن کے۔ یہ کفارہ ہے تمھاری قسموں کا، جب قسم کھا بیٹھو تم اور حفاظت کرو تم اپنی قسموں کی۔ اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں تاکہ تم شکر کرو(89) [89] یعنی تمھاری ان قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمھارا مواخذہ نہیں کرے گا جو تم سے لغو صادر ہوتی ہیں ۔ اس سے مراد وہ قسمیں ہیں جو انسان بغیر کسی نیت اور ارادے کے کھا لیتا ہے یا یہ سمجھتے ہوئے اٹھاتا ہے کہ وہ سچا ہے مگر معاملہ اس کے برعکس نکلتا ہے ﴿ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ﴾ ’’لیکن پکڑتا ہے ان قسموں پر جن کو تم نے مضبوط باندھا‘‘ یعنی جس کا تم عزم کر لیتے ہو اور تمھارے دل جس پر جم جاتے ہیں ۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ﴾(البقرۃ: 2؍225)’’مگر وہ قسمیں جو تم دلی ارادے سے کھاتے ہو، ان پر تمھارا مواخذہ کرے گا۔‘‘﴿ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ ﴾ ’’تو اس کا کفارہ‘‘ یعنی ان قسموں کا کفارہ جو تم قصد اور ارادے سے کھاتے ہو ﴿ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ ﴾ ’’دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے‘‘ اور یہ کھانا ﴿ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ ﴾ ’’اوسط درجے کا کھانا جو تم کھلاتے ہو اپنے گھر والوں کو‘‘ ﴿ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ ﴾ ’’یا ان دس مسکینوں کو لباس پہنانا ہے‘‘ اور یہاں لباس سے مراد کم از کم اتنا لباس ہے جس سے نماز ہو جاتی ہے ﴿ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ﴾ ’’یا ایک گردن آزاد کرنی ہے‘‘ یعنی مومن غلام جیسا کہ بعض دیگر مقام پر اسے ایمان کے ساتھ مقید کیا گیا ہے۔جب ان مذکورہ تینوں صورتوں میں سے کسی ایک پر عمل کر لے تو اس کی قسم کا کفارہ ادا ہو جائے گا ﴿ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ ﴾ ’’اور جس کو یہ میسر نہ ہو۔‘‘ یعنی جب کوئی ان تینوں صورتوں میں سے کسی پر بھی عمل کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ﴾ ’’تو تین دن کے روزے رکھنے ہیں ‘‘ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ مذکورہ صورت ﴿ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ﴾’’تمھاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو۔‘‘ یہ ان کو مٹا دیتا ہے اور گناہ کو ختم کر دیتا ہے۔﴿ وَاحۡفَظُوۡۤا اَيۡمَانَكُمۡ﴾ ’’اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے نام پر جھوٹے اور کثرت سے حلف اٹھانے سے اپنی قسموں کی حفاظت کرو اور جب تم حلف اٹھا ہی لو پھر ٹوٹنے سے اس کو بچاؤ۔ سوائے اس کے کہ قسم توڑنے میں کوئی بھلائی ہو۔ پس قسم کی کامل حفاظت یہ ہے کہ انسان بھلائی پر عمل کرے اور اس کی قسم بھلائی کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ ﴿ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ ﴾ ’’اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے اپنی آیات‘‘ جو حلال و حرام کو بیان کرنے والی اور احکام کو واضح کرنے والی ہیں ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’شاید تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بنو‘‘ کہ اس نے تمھیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے۔ پس بندۂ مومن پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے کہ اس نے احکام شریعت کی معرفت اور ان کی توضیحات سے نوازا۔

المائدة 5:90

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یقینا شراب اور جوا اور بت اور فال نکالنے کے تیر ناپاک ہیں عمل سے ہیں شیطان کے، پس بچو تم اس سے تاکہ تم فلاح پاؤ(90) یقینا چاہتا ہے شیطان کہ ڈال دے تمھارے درمیان عداوت اور بغض شراب اور جوئے کے ذریعے سےاور روک دے تمھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے، پس کیا تم باز آتے ہو (ان شیطانی کاموں سے)؟ (91) [91,90] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مذکورہ قبیح اشیا کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ یہ شیطانی اور گندے کام ہیں ۔ ﴿ فَاجۡتَنِبُوۡهُ ﴾ ’’پس بچو ان سے‘‘ یعنی ان گندے کاموں کو چھوڑ دو ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾’’تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘ کیونکہ فلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ان چیزوں سے اجتناب نہ کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ خاص طور پر مذکورہ فواحش :(الف)خمر : ہر وہ چیز خمر ہے جو عقل کو ڈھانپ لے، یعنی عقل پر نشے کا پردہ ڈال دے۔(ب) جوا : وہ تمام مقابلے جن میں جانبین کی طرف سے جیتنے والے کے لیے عوض مقرر کیا گیا ہو ، مثلاً:گھوڑ دوڑ وغیرہ کی شرط۔(ج)انصاب : اس سے مراد وہ بت وغیرہ ہیں جن کو نصب کر دیا جاتا ہے اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی جاتی ہے۔(د)پانسے : جن کے ذریعے سے لوگ اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں ۔یہ وہ چار چیزیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور ان کے ارتکاب پر زجر و توبیخ کی ہے اور ان کے مفاسد سے آگاہ فرمایا جو ان کو ترک کرنے اور ان سے اجتناب کے داعی ہیں ۔(۱) یہ تمام امور (رجس)یعنی ناپاک ہیں ۔ اگرچہ حسی طور پر یہ ناپاک نہیں مگر معنوی طور پر ناپاک ہیں اور ناپاک امور سے بچنا اور ان کی گندگی میں ملوث ہونے سے اجتناب کرنا ہی مناسب ہے۔(۲)یہ تمام امور شیطانی اعمال ہیں اور شیطان انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ دشمن سے ہمیشہ دور رہا جاتا ہے اور اس کی گھاتوں اور سازشوں سے بچا جاتا ہے، خاص طور پر ان اعمال سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں دشمن ملوث کر کے ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور سب سے بڑی احتیاط یہ ہے کہ اپنے کھلے دشمن کے اعمال سے دور رہ کر اس سے بچنا چاہیے اور ان اعمال میں پڑنے سے ڈرنا چاہیے۔(۳)ان مذکورہ امور سے اجتناب کیے بغیر بندے کی فلاح ممکن نہیں ۔ فلاح، امر مطلوب کے حصول میں کامیابی اور امر مرہوب سے نجات کا نام ہے اور یہ تمام امور فلاح سے مانع اور اس کے لیے رکاوٹ ہیں ۔(۴)یہ مذکورہ اعمال لوگوں کے درمیان بغض اور عداوت کے موجب ہیں ۔ شیطان ان اعمال کو لوگوں کے درمیان پھیلانے کا بڑا حریص ہے، خاص طور پر شراب اور جوا۔ تاکہ وہ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بو سکے۔ کیونکہ شراب پینا، عقل میں فتور آنے کا، ہوش و حواس کے چلے جانے کا اور مومن بھائیوں کے درمیان بغض اور عداوت کا سبب بنتا ہے خاص طور پر جبکہ اس کے ساتھ وہ اسباب بھی مقرون ہوں جو شراب پینے والے کے لوازم میں شمار ہوتے ہیں ۔ تب یہ شراب نوشی بسا اوقات قتل کے اقدام تک پہنچا دیتی ہے۔ جوئے میں ایک شخص کو جو دوسرے شخص پر جیت حاصل ہوتی ہے اور وہ بغیر کسی مقابلہ کے بہت سا مال حاصل کر لیتا ہے تو یہ چیز بغض اور عداوت کا سب سے بڑا سبب ہے۔(۵) یہ مذکورہ اعمال قلب کو ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور بدن کو ذکر اور نماز سے دور کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے لیے بندے کو تخلیق کیا گیا ہے اور انھی دو امور میں بندے کی سعادت ہے۔شراب اور جوا تو ذکر الٰہی اور نماز کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قلب مشغول ہو جاتا ہے اور ذہن شراب اور جوئے میں مشغول ہو کر غافل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ طویل مدت اس پر گزر جاتی ہے اور انسان کو ہوش تک نہیں رہتا کہ وہ کہاں ہے۔ پس کون سا گناہ اس گناہ سے بڑھ کر قبیح ہے جو انسان کو ناپاک کر کے ناپاک لوگوں میں شامل کر دے اور وہ اسے شیطان کے اعمال، اس کے مکر و فریب کے جال میں پھنسا دے ۔اور وہ شیطان کا اس طرح مطیع ہو جائے جس طرح مویشی چرواہے کے مطیع ہوتے ہیں ۔ شیطان بندے اور اس کی فلاح کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بوتا ہے اور انھیں ذکر الٰہی اور نماز سے روکتا ہے۔ (کیا یہ مفاسد جو مذکور ہوئے، کم ہیں ) اور کیا ان مفاسد سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہے جو ان سے بڑی ہو؟بنابریں اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم کو ان چیزوں سے روکتے ہوئے فرمایا ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ﴾ ’’کیا تم باز آتے ہو؟‘‘ کیونکہ ایک عقل مند شخص جب ان مفاسد میں سے کسی ایک پر نظر ڈالتا ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور اپنے آپ کو ان برائیوں کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے۔ اسے کسی لمبے چوڑے وعظ اور بہت زیادہ زجر و توبیخ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

المائدة 5:91

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یقینا شراب اور جوا اور بت اور فال نکالنے کے تیر ناپاک ہیں عمل سے ہیں شیطان کے، پس بچو تم اس سے تاکہ تم فلاح پاؤ(90) یقینا چاہتا ہے شیطان کہ ڈال دے تمھارے درمیان عداوت اور بغض شراب اور جوئے کے ذریعے سےاور روک دے تمھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے، پس کیا تم باز آتے ہو (ان شیطانی کاموں سے)؟ (91) [91,90] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مذکورہ قبیح اشیا کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ یہ شیطانی اور گندے کام ہیں ۔ ﴿ فَاجۡتَنِبُوۡهُ ﴾ ’’پس بچو ان سے‘‘ یعنی ان گندے کاموں کو چھوڑ دو ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾’’تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘ کیونکہ فلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ان چیزوں سے اجتناب نہ کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ خاص طور پر مذکورہ فواحش :(الف)خمر : ہر وہ چیز خمر ہے جو عقل کو ڈھانپ لے، یعنی عقل پر نشے کا پردہ ڈال دے۔(ب) جوا : وہ تمام مقابلے جن میں جانبین کی طرف سے جیتنے والے کے لیے عوض مقرر کیا گیا ہو ، مثلاً:گھوڑ دوڑ وغیرہ کی شرط۔(ج)انصاب : اس سے مراد وہ بت وغیرہ ہیں جن کو نصب کر دیا جاتا ہے اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی جاتی ہے۔(د)پانسے : جن کے ذریعے سے لوگ اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں ۔یہ وہ چار چیزیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور ان کے ارتکاب پر زجر و توبیخ کی ہے اور ان کے مفاسد سے آگاہ فرمایا جو ان کو ترک کرنے اور ان سے اجتناب کے داعی ہیں ۔(۱) یہ تمام امور (رجس)یعنی ناپاک ہیں ۔ اگرچہ حسی طور پر یہ ناپاک نہیں مگر معنوی طور پر ناپاک ہیں اور ناپاک امور سے بچنا اور ان کی گندگی میں ملوث ہونے سے اجتناب کرنا ہی مناسب ہے۔(۲)یہ تمام امور شیطانی اعمال ہیں اور شیطان انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ دشمن سے ہمیشہ دور رہا جاتا ہے اور اس کی گھاتوں اور سازشوں سے بچا جاتا ہے، خاص طور پر ان اعمال سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں دشمن ملوث کر کے ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور سب سے بڑی احتیاط یہ ہے کہ اپنے کھلے دشمن کے اعمال سے دور رہ کر اس سے بچنا چاہیے اور ان اعمال میں پڑنے سے ڈرنا چاہیے۔(۳)ان مذکورہ امور سے اجتناب کیے بغیر بندے کی فلاح ممکن نہیں ۔ فلاح، امر مطلوب کے حصول میں کامیابی اور امر مرہوب سے نجات کا نام ہے اور یہ تمام امور فلاح سے مانع اور اس کے لیے رکاوٹ ہیں ۔(۴)یہ مذکورہ اعمال لوگوں کے درمیان بغض اور عداوت کے موجب ہیں ۔ شیطان ان اعمال کو لوگوں کے درمیان پھیلانے کا بڑا حریص ہے، خاص طور پر شراب اور جوا۔ تاکہ وہ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بو سکے۔ کیونکہ شراب پینا، عقل میں فتور آنے کا، ہوش و حواس کے چلے جانے کا اور مومن بھائیوں کے درمیان بغض اور عداوت کا سبب بنتا ہے خاص طور پر جبکہ اس کے ساتھ وہ اسباب بھی مقرون ہوں جو شراب پینے والے کے لوازم میں شمار ہوتے ہیں ۔ تب یہ شراب نوشی بسا اوقات قتل کے اقدام تک پہنچا دیتی ہے۔ جوئے میں ایک شخص کو جو دوسرے شخص پر جیت حاصل ہوتی ہے اور وہ بغیر کسی مقابلہ کے بہت سا مال حاصل کر لیتا ہے تو یہ چیز بغض اور عداوت کا سب سے بڑا سبب ہے۔(۵) یہ مذکورہ اعمال قلب کو ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور بدن کو ذکر اور نماز سے دور کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے لیے بندے کو تخلیق کیا گیا ہے اور انھی دو امور میں بندے کی سعادت ہے۔شراب اور جوا تو ذکر الٰہی اور نماز کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قلب مشغول ہو جاتا ہے اور ذہن شراب اور جوئے میں مشغول ہو کر غافل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ طویل مدت اس پر گزر جاتی ہے اور انسان کو ہوش تک نہیں رہتا کہ وہ کہاں ہے۔ پس کون سا گناہ اس گناہ سے بڑھ کر قبیح ہے جو انسان کو ناپاک کر کے ناپاک لوگوں میں شامل کر دے اور وہ اسے شیطان کے اعمال، اس کے مکر و فریب کے جال میں پھنسا دے ۔اور وہ شیطان کا اس طرح مطیع ہو جائے جس طرح مویشی چرواہے کے مطیع ہوتے ہیں ۔ شیطان بندے اور اس کی فلاح کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بوتا ہے اور انھیں ذکر الٰہی اور نماز سے روکتا ہے۔ (کیا یہ مفاسد جو مذکور ہوئے، کم ہیں ) اور کیا ان مفاسد سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہے جو ان سے بڑی ہو؟بنابریں اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم کو ان چیزوں سے روکتے ہوئے فرمایا ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ﴾ ’’کیا تم باز آتے ہو؟‘‘ کیونکہ ایک عقل مند شخص جب ان مفاسد میں سے کسی ایک پر نظر ڈالتا ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور اپنے آپ کو ان برائیوں کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے۔ اسے کسی لمبے چوڑے وعظ اور بہت زیادہ زجر و توبیخ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

المائدة 5:92

اور اطاعت کرو تم اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ڈرو تم، پس اگر پھر جاؤ تم تو جان لو کہ ہمارے رسول پر تو صرف پہنچا دینا ہے کھول کر(92) [92] اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ایک ہی چیز کا نام ہے جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ رسولﷺ کی اطاعت کرتا ہے اور جو کوئی رسولﷺ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ یہ اطاعت اس بات کو متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کی تعمیل کی جائے، یعنی ظاہری و باطنی اعمال و اقوال، حقوق اللہ اور حقوق مخلوق سے متعلق واجب اور مستحب اعمال بجا لائے جائیں ۔ اور اس امر کو متضمن ہے کہ ان امور سے اجتناب کیا جائے جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کا حکم ایک عام حکم ہے جو تمام احکام کو شامل ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس میں تمام اوامر و نواہی اور ظاہر و باطن شامل ہیں ۔ فرمایا:﴿ وَاحۡذَرُوۡا﴾ ’’اور ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی سے بچو کیونکہ یہ نافرمانی شر اور واضح خسارے کی موجب ہے ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ﴾ ’’پس اگر تم اعراض کرو‘‘ یعنی جس چیز کا تمھیں حکم دیا گیا اور جس چیز سے تمھیں روکا گیا ہے اگر تم اس کی تعمیل کرنے سے گریز کرو ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’تو جان لو کہ ہمارے رسول(ﷺ) کے ذمہ تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے‘‘ اور اس نے یہ فریضہ ادا کر دیا ہے۔ اگر تم راہ راست اختیار کرتے ہو تو اس کا فائدہ تمھارے لیے ہے اور اگر تم برائیوں کا ارتکاب کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمھارا محاسبہ کرے گا۔ رسولﷺ کے ذمہ جو کچھ تھا وہ انھوں نے پہنچا دیا۔

المائدة 5:93

نہیں ہے اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، کوئی گناہ اس چیز میں جو کھا چکے وہ، جب ڈر جائیں وہ اور ایمان لے آئیں اور عمل کریں نیک ، پھر تقویٰ اختیار کریں وہ اور ایمان لائیں ، پھر تقویٰ اختیار کریں وہ اور نیکی کریں اور اللہ محبت کرتا ہے نیکی کرنے والوں سے(93) [93] جب شراب کی تحریم، ممانعت کی تاکید اور اس کی بابت سخت حکم نازل ہوا تو بہت سے اہل ایمان کی خواہش تھی کہ انھیں اپنے ان مومن بھائیوں کے بارے میں معلوم ہو جو حالت اسلام میں فوت ہوئے اور شراب کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿لَيۡسَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جُنَاحٌ ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں ۔‘‘ یعنی ان پر گناہ اور حرج نہیں ہے ﴿ فِيۡمَا طَعِمُوۡۤا﴾ ’’اس میں جو کچھ پہلے کھا چکے‘‘ یعنی شراب اور جوئے کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے۔ چونکہ نفی حرج مذکورہ اشیا وغیرہ کو شامل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کو مقید فرمایا ﴿ اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّاٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’جبکہ وہ آئندہ کو ڈر گئے اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے‘‘ یعنی اس شرط کے ساتھ کہ وہ گناہوں کو ترک کریں اللہ تعالیٰ پر ایسا صحیح ایمان رکھیں جو عمل صالح کا موجب ہوتا ہے، پھر اس پر ہمیشہ قائم رہیں .... ورنہ بندہ کبھی اس صفت سے متصف ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ یہ ایمان اس وقت تک کافی نہیں جب تک کہ اس پر دوام نہ ہو اور اسی حالت میں اس کو موت نہ آئے۔ نیز نیک اعمال پر اس کا دوام ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اچھے طریقے سے اپنے خالق کی عبادت کرنے والے نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے اور وہ بندوں کو نفع پہنچانے کو پسند کرتا ہے۔اس آیت کریمہ میں وہ شخص بھی شامل ہے جو تحریم کے نازل ہونے کے بعد کوئی حرام کردہ چیز کھاتا ہے یا کسی حرام فعل کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے توبہ کرلیتا، تقویٰ اختیار کرلیتا ہے اور نیک کام کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا اور اس بارے میں اس کے گناہ کا بوجھ ہٹا دے گا۔

المائدة 5:94

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ، البتہ ضرور آزمائے گا تمھیں اللہ کچھ شکار سے کہ پہنچ سکتے ہیں اس تک تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے تاکہ معلوم کر لے اللہ کہ کون ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے؟ پس جو حد سے گزرے بعد اس کے، سو اس کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(94) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مارو تم شکار کو جبکہ تم احرام میں ہو اور جو کوئی مارے گا تم میں سے اس کو جان بوجھ کر تو بدلہ ہے (اس پر) مثل اس کے جو مارا اس نے، چوپاؤں سے، فیصلہ کریں گے اس کا دو انصاف والے تم میں سے، بطور قربانی کے پہنچنے والی کعبہ میں یا کفارہ ہے کھانا کھلانا کچھ مسکینوں کو یا برابر اس کے روزے رکھنے ہیں تاکہ چکھے وہ سزا اپنے کام کی۔ معاف کیا اللہ نے اس سے جو گزر چکااور جو کوئی پھر کرے تو انتقام لے گا اللہ اس سےاور اللہ غالب ہے انتقام لینے والا(95) حلال کیا گیا ہے تمھارے لیے شکار سمندر کا اور کھانا اس کا فائدے کے لیے تمھارے اور مسافروں کےاور حرام کیا گیا ہے تم پر شکار خشکی کا جب تک ہو تم احرام میں اور ڈرو تم اللہ سے، وہ جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(96) [94] اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سرانجام دے گا۔ تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کا امتحان لے ﴿ لَيَبۡلُوَنَّـــكُمُ اللّٰهُ بِشَيۡءٍ مِّنَ الصَّيۡدِ ﴾ ’’البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں ‘‘ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے گا۔ یہ شکار ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمھیں آزمائے گا ﴿ تَنَالُهٗۤ اَيۡدِيۡكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ ﴾ ’’جس پر پہنچتے ہیں تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے‘‘ یعنی تم اس کے شکار پر متمکن ہوتے ہو تاکہ اس طرح آزمائش مکمل ہو جائے اگر ہاتھ یا نیزے کے ذریعے سے شکار قدرت و اختیار میں نہ ہو تو آزمائش کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آزمائش کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿لِيَعۡلَمَ اللّٰهُ ﴾ ’’تاکہ جان لے اللہ‘‘ یعنی ایسا جاننا جو مخلوق پر ظاہر ہو اور اس پر ثواب و عذاب مترتب ہوتا ہو ﴿مَنۡ يَّخَافُهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾’’کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔‘‘ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اس پر قدرت و اختیار ہونے کے باوجود وہ اس سے رک جاتا ہے تو وہ اسے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے، اس کے برعکس وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے غائبانہ طور پر ڈرتا نہیں اور اس کی نافرمانی سے باز نہیں آتا، اس کے سامنے شکار آجاتا ہے، اگر اس پر قابو پا سکتا ہے تو اس کو شکار کر لیتا ہے۔۔۔۔﴿فَمَنِ اعۡتَدٰؔى ﴾ ’’تو جو زیادتی کرے۔‘‘ یعنی تم میں سے جو کوئی حد سے تجاوز کرے گا ﴿ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس کے بعد‘‘ یعنی اس بیان کے بعد جس نے ہر قسم کی حجت کو باطل کر کے راستے کو واضح کر دیا ہے ﴿ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پس اس کے لیے انتہائی دردناک عذاب ہے‘‘ جس کا وصف اللہ کے سوا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والے اس شخص کے لیے کوئی عذر نہیں ۔ اعتبار اس شخص کا ہے جو لوگوں کی عدم موجودگی میں غائبانہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ رہا لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خوف کا اظہار کرنا تو یہ کبھی کبھی لوگوں کے خوف کی وجہ سے بھی ہوتا ہے تب اس پر کوئی ثواب نہیں ۔ [95] پھر اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کر کے شکار کرنے کو حرام قرار دے دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّيۡدَ وَاَنۡتُمۡ حُرُمٌؔ ﴾ ’’اے ایمان دارو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا۔‘‘ یعنی جب تم نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا ہوا ہو۔ شکار مارنے کی ممانعت، شکار مارنے کے مقدمات کی ممانعت کو بھی شامل ہے۔ جیسے شکار مارنے میں اشتراک، شکار کی نشاندہی کرنا اور شکار کرنے میں اعانت کرنا، احرام کی حالت میں سب ممنوع ہے۔ حتی کہ محرم کو وہ شکار کھانا بھی ممنوع ہے جو اس کی خاطر شکار کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ اس عظیم عبادت کی تعظیم کے لیے ہے کہ محرم کے لیے اس شکار کو مارنا حرام ہے جو احرام باندھنے سے پہلے تک اس کے لیے حلال تھا۔ ﴿ وَمَنۡ قَتَلَهٗ مِنۡكُمۡ مُّتَعَمِّدًا ﴾ ’’اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے۔‘‘ یعنی اس نے جان بوجھ کر شکار مارا ﴿ فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ ﴾ ’’تو اس پر بدلہ ہے اس مارے ہوئے کے برابر مویشی میں سے‘‘ یعنی اس پر لازم ہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کا فدیہ دے۔ شکار کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ وہ کس سے مشابہت رکھتا ہے تو اس جیسا مویشی ذبح کر کے صدقہ کیا جائے گا۔ اور مماثلت کی تعیین میں کس کا فیصلہ معتبر ہو گا؟ ﴿ يَحۡكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے دو عادل شخص اس کا فیصلہ کریں گے‘‘ یعنی دو عادل اشخاص جو فیصلہ کرنا جانتے ہوں اور وجہ مشابہت کی بھی معرفت رکھتے ہوں جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا۔ انھوں نے کبوتر کا شکار کرنے پر بکری، شتر مرغ کا شکار کرنے پر اونٹنی اور نیل گائے کی تمام اقسام پر گائے ذبح کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح تمام جنگلی جانور جو مویشیوں میں کسی کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں تو فدیہ کے لیے وہی اس کے مماثل ہیں ۔ اگر کوئی مشابہت نہ ہو تو اس میں قیمت ہے۔ جیسا کہ تلف شدہ چیزوں میں قاعدہ ہے۔یہ بھی لازم ہے کہ یہ ہدی بیت اللہ پہنچے ﴿ هَدۡيًۢا بٰلِغَ الۡكَعۡبَةِ ﴾ ’’وہ جانور بطور قربانی پہنچایا جائے کعبے تک‘‘ یعنی اس کو حرم کے اندر ذبح کیا جائے ﴿ اَوۡ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيۡنَ ﴾ ’’یا اس جزا کا کفارہ چند مساکین کو کھانا کھلانا ہے‘‘ یعنی مویشیوں میں سے مماثل کے مقابلے میں مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ بہت سے علماء کہتے ہیں کہ جزا یوں پوری ہو گی کہ مماثل مویشی کی قیمت کے برابر غلہ وغیرہ خریدا جائے اور ہر مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دوسری جنس میں سے نصف صاع دیا جائے ﴿ اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِكَ ﴾ ’’یا اس کھانے کے بدل میں ‘‘ ﴿ صِيَامًا ﴾ ’’روزے رکھے۔‘‘ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانے کے بدلے میں ایک روزہ رکھے ﴿ لِّيَذُوۡقَ ﴾ ’’تاکہ چکھے وہ‘‘ اس مذکورہ جزا کے وجوب کے ذریعے سے ﴿ وَبَالَ اَمۡرِهٖ ﴾ ’’سزا اپنے کام کی‘‘ ﴿وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور پھر جو کرے گا‘‘ یعنی اس کے بعد ﴿ فَيَنۡتَقِمُ اللّٰهُ مِنۡهُ١ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا اور اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے جان بوجھ کر شکار مارنے پر اس کی سزا کی صراحت کی ہے باوجود اس بات کے کہ بدلہ تو ہر غلطی کا ضروری ہوتا ہے، چاہے اس کا مرتکب جان بوجھ کر کرے یا غلطی سے۔ جیسا کہ شرعی قاعدہ ہے کہ جان اور مال کو تلف کرنے والے پر ضمان لازم ہے خواہ کسی بھی حال میں اس سے یہ اتلاف صادر ہوا ہو۔ جبکہ یہ اتلاف ناحق ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بدلہ اور انتقام مترتب کیا ہے اور یہ سب جان بوجھ کر کرنے والے کے لیے ہے۔ لیکن غلطی سے کرنے والے کے لیے سزا نہیں ہے، صرف بدلہ ہے۔ یہی جمہور علماء کی رائے ہے مگر صحیح وہی ہے جس کی آیت کریمہ نے تصریح کی ہے کہ جس طرح بغیر جانے بوجھے اور بغیر ارادے کے شکار مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں اسی طرح اس پر جزا بھی لازم نہیں ہے۔ [96] چونکہ شکار کا اطلاق بری اور بحری دونوں قسم کے شکار پر ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سمندری شکار کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اُحِلَّ لَكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ وَطَعَامُهٗ ﴾ ’’احرام کی حالت میں تمھارے لیے سمندر کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال ہے‘‘ اور ’’سمندر کے شکار‘‘ سے مراد سمندر کے زندہ جانور ہیں اور (طعام) ’’اس کے کھانے‘‘ سے مراد سمندر میں مرنے والے سمندری جانور ہیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرے ہوئے بحری جانور بھی حلال ہیں ۔ ﴿ مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ ﴾ ’’تمھارے فائدے کے لیے اور مسافروں کے لیے‘‘ یعنی اس کی اباحت میں تمھارے لیے فائدہ ہے تاکہ تم اور تمھارے وہ ساتھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو تمھارے ساتھ سفر کرتے ہیں ﴿ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ الۡـبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ﴾ ’’اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر خشکی (جنگل)کا شکار حرام ہے‘‘ یہاں لفظ ’’شکار‘‘ سے یہ مسئلہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ شکار کیا ہوا جانور جنگلی ہو۔ کیونکہ پالتو اور گھریلو جانور پر شکار کا اطلاق نہیں ہوتا۔ نیز یہ ایسا جانور ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہو کیونکہ جس جانور کا گوشت کھایا نہ جاتا ہو اس کو شکار نہیں کیا جاتا اور نہ اس پر ’’شکار‘‘ کا اطلاق ہی کیا جاتا ہے۔﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ﴾ ’’اور اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کر کے اور جس چیز سے روکا ہے اس کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کرو۔ اور اپنے اس علم سے حصول تقویٰ میں مدد لو کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا اور وہ تمھیں اس بات کی جزا دے گا کہ آیا تم نے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیا تھا۔ تب وہ تمھیں بہت زیادہ ثواب سے نوازے گا یا اگر تقویٰ کو اختیار نہیں کیا تب اس صورت میں وہ تمھیں سخت سزا دے گا۔

المائدة 5:95

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ، البتہ ضرور آزمائے گا تمھیں اللہ کچھ شکار سے کہ پہنچ سکتے ہیں اس تک تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے تاکہ معلوم کر لے اللہ کہ کون ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے؟ پس جو حد سے گزرے بعد اس کے، سو اس کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(94) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مارو تم شکار کو جبکہ تم احرام میں ہو اور جو کوئی مارے گا تم میں سے اس کو جان بوجھ کر تو بدلہ ہے (اس پر) مثل اس کے جو مارا اس نے، چوپاؤں سے، فیصلہ کریں گے اس کا دو انصاف والے تم میں سے، بطور قربانی کے پہنچنے والی کعبہ میں یا کفارہ ہے کھانا کھلانا کچھ مسکینوں کو یا برابر اس کے روزے رکھنے ہیں تاکہ چکھے وہ سزا اپنے کام کی۔ معاف کیا اللہ نے اس سے جو گزر چکااور جو کوئی پھر کرے تو انتقام لے گا اللہ اس سےاور اللہ غالب ہے انتقام لینے والا(95) حلال کیا گیا ہے تمھارے لیے شکار سمندر کا اور کھانا اس کا فائدے کے لیے تمھارے اور مسافروں کےاور حرام کیا گیا ہے تم پر شکار خشکی کا جب تک ہو تم احرام میں اور ڈرو تم اللہ سے، وہ جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(96) [94] اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سرانجام دے گا۔ تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کا امتحان لے ﴿ لَيَبۡلُوَنَّـــكُمُ اللّٰهُ بِشَيۡءٍ مِّنَ الصَّيۡدِ ﴾ ’’البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں ‘‘ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے گا۔ یہ شکار ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمھیں آزمائے گا ﴿ تَنَالُهٗۤ اَيۡدِيۡكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ ﴾ ’’جس پر پہنچتے ہیں تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے‘‘ یعنی تم اس کے شکار پر متمکن ہوتے ہو تاکہ اس طرح آزمائش مکمل ہو جائے اگر ہاتھ یا نیزے کے ذریعے سے شکار قدرت و اختیار میں نہ ہو تو آزمائش کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آزمائش کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿لِيَعۡلَمَ اللّٰهُ ﴾ ’’تاکہ جان لے اللہ‘‘ یعنی ایسا جاننا جو مخلوق پر ظاہر ہو اور اس پر ثواب و عذاب مترتب ہوتا ہو ﴿مَنۡ يَّخَافُهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾’’کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔‘‘ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اس پر قدرت و اختیار ہونے کے باوجود وہ اس سے رک جاتا ہے تو وہ اسے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے، اس کے برعکس وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے غائبانہ طور پر ڈرتا نہیں اور اس کی نافرمانی سے باز نہیں آتا، اس کے سامنے شکار آجاتا ہے، اگر اس پر قابو پا سکتا ہے تو اس کو شکار کر لیتا ہے۔۔۔۔﴿فَمَنِ اعۡتَدٰؔى ﴾ ’’تو جو زیادتی کرے۔‘‘ یعنی تم میں سے جو کوئی حد سے تجاوز کرے گا ﴿ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس کے بعد‘‘ یعنی اس بیان کے بعد جس نے ہر قسم کی حجت کو باطل کر کے راستے کو واضح کر دیا ہے ﴿ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پس اس کے لیے انتہائی دردناک عذاب ہے‘‘ جس کا وصف اللہ کے سوا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والے اس شخص کے لیے کوئی عذر نہیں ۔ اعتبار اس شخص کا ہے جو لوگوں کی عدم موجودگی میں غائبانہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ رہا لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خوف کا اظہار کرنا تو یہ کبھی کبھی لوگوں کے خوف کی وجہ سے بھی ہوتا ہے تب اس پر کوئی ثواب نہیں ۔ [95] پھر اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کر کے شکار کرنے کو حرام قرار دے دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّيۡدَ وَاَنۡتُمۡ حُرُمٌؔ ﴾ ’’اے ایمان دارو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا۔‘‘ یعنی جب تم نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا ہوا ہو۔ شکار مارنے کی ممانعت، شکار مارنے کے مقدمات کی ممانعت کو بھی شامل ہے۔ جیسے شکار مارنے میں اشتراک، شکار کی نشاندہی کرنا اور شکار کرنے میں اعانت کرنا، احرام کی حالت میں سب ممنوع ہے۔ حتی کہ محرم کو وہ شکار کھانا بھی ممنوع ہے جو اس کی خاطر شکار کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ اس عظیم عبادت کی تعظیم کے لیے ہے کہ محرم کے لیے اس شکار کو مارنا حرام ہے جو احرام باندھنے سے پہلے تک اس کے لیے حلال تھا۔ ﴿ وَمَنۡ قَتَلَهٗ مِنۡكُمۡ مُّتَعَمِّدًا ﴾ ’’اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے۔‘‘ یعنی اس نے جان بوجھ کر شکار مارا ﴿ فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ ﴾ ’’تو اس پر بدلہ ہے اس مارے ہوئے کے برابر مویشی میں سے‘‘ یعنی اس پر لازم ہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کا فدیہ دے۔ شکار کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ وہ کس سے مشابہت رکھتا ہے تو اس جیسا مویشی ذبح کر کے صدقہ کیا جائے گا۔ اور مماثلت کی تعیین میں کس کا فیصلہ معتبر ہو گا؟ ﴿ يَحۡكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے دو عادل شخص اس کا فیصلہ کریں گے‘‘ یعنی دو عادل اشخاص جو فیصلہ کرنا جانتے ہوں اور وجہ مشابہت کی بھی معرفت رکھتے ہوں جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا۔ انھوں نے کبوتر کا شکار کرنے پر بکری، شتر مرغ کا شکار کرنے پر اونٹنی اور نیل گائے کی تمام اقسام پر گائے ذبح کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح تمام جنگلی جانور جو مویشیوں میں کسی کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں تو فدیہ کے لیے وہی اس کے مماثل ہیں ۔ اگر کوئی مشابہت نہ ہو تو اس میں قیمت ہے۔ جیسا کہ تلف شدہ چیزوں میں قاعدہ ہے۔یہ بھی لازم ہے کہ یہ ہدی بیت اللہ پہنچے ﴿ هَدۡيًۢا بٰلِغَ الۡكَعۡبَةِ ﴾ ’’وہ جانور بطور قربانی پہنچایا جائے کعبے تک‘‘ یعنی اس کو حرم کے اندر ذبح کیا جائے ﴿ اَوۡ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيۡنَ ﴾ ’’یا اس جزا کا کفارہ چند مساکین کو کھانا کھلانا ہے‘‘ یعنی مویشیوں میں سے مماثل کے مقابلے میں مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ بہت سے علماء کہتے ہیں کہ جزا یوں پوری ہو گی کہ مماثل مویشی کی قیمت کے برابر غلہ وغیرہ خریدا جائے اور ہر مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دوسری جنس میں سے نصف صاع دیا جائے ﴿ اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِكَ ﴾ ’’یا اس کھانے کے بدل میں ‘‘ ﴿ صِيَامًا ﴾ ’’روزے رکھے۔‘‘ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانے کے بدلے میں ایک روزہ رکھے ﴿ لِّيَذُوۡقَ ﴾ ’’تاکہ چکھے وہ‘‘ اس مذکورہ جزا کے وجوب کے ذریعے سے ﴿ وَبَالَ اَمۡرِهٖ ﴾ ’’سزا اپنے کام کی‘‘ ﴿وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور پھر جو کرے گا‘‘ یعنی اس کے بعد ﴿ فَيَنۡتَقِمُ اللّٰهُ مِنۡهُ١ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا اور اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے جان بوجھ کر شکار مارنے پر اس کی سزا کی صراحت کی ہے باوجود اس بات کے کہ بدلہ تو ہر غلطی کا ضروری ہوتا ہے، چاہے اس کا مرتکب جان بوجھ کر کرے یا غلطی سے۔ جیسا کہ شرعی قاعدہ ہے کہ جان اور مال کو تلف کرنے والے پر ضمان لازم ہے خواہ کسی بھی حال میں اس سے یہ اتلاف صادر ہوا ہو۔ جبکہ یہ اتلاف ناحق ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بدلہ اور انتقام مترتب کیا ہے اور یہ سب جان بوجھ کر کرنے والے کے لیے ہے۔ لیکن غلطی سے کرنے والے کے لیے سزا نہیں ہے، صرف بدلہ ہے۔ یہی جمہور علماء کی رائے ہے مگر صحیح وہی ہے جس کی آیت کریمہ نے تصریح کی ہے کہ جس طرح بغیر جانے بوجھے اور بغیر ارادے کے شکار مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں اسی طرح اس پر جزا بھی لازم نہیں ہے۔ [96] چونکہ شکار کا اطلاق بری اور بحری دونوں قسم کے شکار پر ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سمندری شکار کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اُحِلَّ لَكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ وَطَعَامُهٗ ﴾ ’’احرام کی حالت میں تمھارے لیے سمندر کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال ہے‘‘ اور ’’سمندر کے شکار‘‘ سے مراد سمندر کے زندہ جانور ہیں اور (طعام) ’’اس کے کھانے‘‘ سے مراد سمندر میں مرنے والے سمندری جانور ہیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرے ہوئے بحری جانور بھی حلال ہیں ۔ ﴿ مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ ﴾ ’’تمھارے فائدے کے لیے اور مسافروں کے لیے‘‘ یعنی اس کی اباحت میں تمھارے لیے فائدہ ہے تاکہ تم اور تمھارے وہ ساتھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو تمھارے ساتھ سفر کرتے ہیں ﴿ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ الۡـبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ﴾ ’’اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر خشکی (جنگل)کا شکار حرام ہے‘‘ یہاں لفظ ’’شکار‘‘ سے یہ مسئلہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ شکار کیا ہوا جانور جنگلی ہو۔ کیونکہ پالتو اور گھریلو جانور پر شکار کا اطلاق نہیں ہوتا۔ نیز یہ ایسا جانور ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہو کیونکہ جس جانور کا گوشت کھایا نہ جاتا ہو اس کو شکار نہیں کیا جاتا اور نہ اس پر ’’شکار‘‘ کا اطلاق ہی کیا جاتا ہے۔﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ﴾ ’’اور اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کر کے اور جس چیز سے روکا ہے اس کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کرو۔ اور اپنے اس علم سے حصول تقویٰ میں مدد لو کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا اور وہ تمھیں اس بات کی جزا دے گا کہ آیا تم نے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیا تھا۔ تب وہ تمھیں بہت زیادہ ثواب سے نوازے گا یا اگر تقویٰ کو اختیار نہیں کیا تب اس صورت میں وہ تمھیں سخت سزا دے گا۔

المائدة 5:96

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ، البتہ ضرور آزمائے گا تمھیں اللہ کچھ شکار سے کہ پہنچ سکتے ہیں اس تک تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے تاکہ معلوم کر لے اللہ کہ کون ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے؟ پس جو حد سے گزرے بعد اس کے، سو اس کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(94) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مارو تم شکار کو جبکہ تم احرام میں ہو اور جو کوئی مارے گا تم میں سے اس کو جان بوجھ کر تو بدلہ ہے (اس پر) مثل اس کے جو مارا اس نے، چوپاؤں سے، فیصلہ کریں گے اس کا دو انصاف والے تم میں سے، بطور قربانی کے پہنچنے والی کعبہ میں یا کفارہ ہے کھانا کھلانا کچھ مسکینوں کو یا برابر اس کے روزے رکھنے ہیں تاکہ چکھے وہ سزا اپنے کام کی۔ معاف کیا اللہ نے اس سے جو گزر چکااور جو کوئی پھر کرے تو انتقام لے گا اللہ اس سےاور اللہ غالب ہے انتقام لینے والا(95) حلال کیا گیا ہے تمھارے لیے شکار سمندر کا اور کھانا اس کا فائدے کے لیے تمھارے اور مسافروں کےاور حرام کیا گیا ہے تم پر شکار خشکی کا جب تک ہو تم احرام میں اور ڈرو تم اللہ سے، وہ جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(96) [94] اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سرانجام دے گا۔ تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کا امتحان لے ﴿ لَيَبۡلُوَنَّـــكُمُ اللّٰهُ بِشَيۡءٍ مِّنَ الصَّيۡدِ ﴾ ’’البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں ‘‘ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے گا۔ یہ شکار ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمھیں آزمائے گا ﴿ تَنَالُهٗۤ اَيۡدِيۡكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ ﴾ ’’جس پر پہنچتے ہیں تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے‘‘ یعنی تم اس کے شکار پر متمکن ہوتے ہو تاکہ اس طرح آزمائش مکمل ہو جائے اگر ہاتھ یا نیزے کے ذریعے سے شکار قدرت و اختیار میں نہ ہو تو آزمائش کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آزمائش کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿لِيَعۡلَمَ اللّٰهُ ﴾ ’’تاکہ جان لے اللہ‘‘ یعنی ایسا جاننا جو مخلوق پر ظاہر ہو اور اس پر ثواب و عذاب مترتب ہوتا ہو ﴿مَنۡ يَّخَافُهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾’’کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔‘‘ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اس پر قدرت و اختیار ہونے کے باوجود وہ اس سے رک جاتا ہے تو وہ اسے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے، اس کے برعکس وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے غائبانہ طور پر ڈرتا نہیں اور اس کی نافرمانی سے باز نہیں آتا، اس کے سامنے شکار آجاتا ہے، اگر اس پر قابو پا سکتا ہے تو اس کو شکار کر لیتا ہے۔۔۔۔﴿فَمَنِ اعۡتَدٰؔى ﴾ ’’تو جو زیادتی کرے۔‘‘ یعنی تم میں سے جو کوئی حد سے تجاوز کرے گا ﴿ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس کے بعد‘‘ یعنی اس بیان کے بعد جس نے ہر قسم کی حجت کو باطل کر کے راستے کو واضح کر دیا ہے ﴿ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پس اس کے لیے انتہائی دردناک عذاب ہے‘‘ جس کا وصف اللہ کے سوا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والے اس شخص کے لیے کوئی عذر نہیں ۔ اعتبار اس شخص کا ہے جو لوگوں کی عدم موجودگی میں غائبانہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ رہا لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خوف کا اظہار کرنا تو یہ کبھی کبھی لوگوں کے خوف کی وجہ سے بھی ہوتا ہے تب اس پر کوئی ثواب نہیں ۔ [95] پھر اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کر کے شکار کرنے کو حرام قرار دے دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّيۡدَ وَاَنۡتُمۡ حُرُمٌؔ ﴾ ’’اے ایمان دارو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا۔‘‘ یعنی جب تم نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا ہوا ہو۔ شکار مارنے کی ممانعت، شکار مارنے کے مقدمات کی ممانعت کو بھی شامل ہے۔ جیسے شکار مارنے میں اشتراک، شکار کی نشاندہی کرنا اور شکار کرنے میں اعانت کرنا، احرام کی حالت میں سب ممنوع ہے۔ حتی کہ محرم کو وہ شکار کھانا بھی ممنوع ہے جو اس کی خاطر شکار کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ اس عظیم عبادت کی تعظیم کے لیے ہے کہ محرم کے لیے اس شکار کو مارنا حرام ہے جو احرام باندھنے سے پہلے تک اس کے لیے حلال تھا۔ ﴿ وَمَنۡ قَتَلَهٗ مِنۡكُمۡ مُّتَعَمِّدًا ﴾ ’’اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے۔‘‘ یعنی اس نے جان بوجھ کر شکار مارا ﴿ فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ ﴾ ’’تو اس پر بدلہ ہے اس مارے ہوئے کے برابر مویشی میں سے‘‘ یعنی اس پر لازم ہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کا فدیہ دے۔ شکار کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ وہ کس سے مشابہت رکھتا ہے تو اس جیسا مویشی ذبح کر کے صدقہ کیا جائے گا۔ اور مماثلت کی تعیین میں کس کا فیصلہ معتبر ہو گا؟ ﴿ يَحۡكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے دو عادل شخص اس کا فیصلہ کریں گے‘‘ یعنی دو عادل اشخاص جو فیصلہ کرنا جانتے ہوں اور وجہ مشابہت کی بھی معرفت رکھتے ہوں جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا۔ انھوں نے کبوتر کا شکار کرنے پر بکری، شتر مرغ کا شکار کرنے پر اونٹنی اور نیل گائے کی تمام اقسام پر گائے ذبح کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح تمام جنگلی جانور جو مویشیوں میں کسی کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں تو فدیہ کے لیے وہی اس کے مماثل ہیں ۔ اگر کوئی مشابہت نہ ہو تو اس میں قیمت ہے۔ جیسا کہ تلف شدہ چیزوں میں قاعدہ ہے۔یہ بھی لازم ہے کہ یہ ہدی بیت اللہ پہنچے ﴿ هَدۡيًۢا بٰلِغَ الۡكَعۡبَةِ ﴾ ’’وہ جانور بطور قربانی پہنچایا جائے کعبے تک‘‘ یعنی اس کو حرم کے اندر ذبح کیا جائے ﴿ اَوۡ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيۡنَ ﴾ ’’یا اس جزا کا کفارہ چند مساکین کو کھانا کھلانا ہے‘‘ یعنی مویشیوں میں سے مماثل کے مقابلے میں مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ بہت سے علماء کہتے ہیں کہ جزا یوں پوری ہو گی کہ مماثل مویشی کی قیمت کے برابر غلہ وغیرہ خریدا جائے اور ہر مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دوسری جنس میں سے نصف صاع دیا جائے ﴿ اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِكَ ﴾ ’’یا اس کھانے کے بدل میں ‘‘ ﴿ صِيَامًا ﴾ ’’روزے رکھے۔‘‘ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانے کے بدلے میں ایک روزہ رکھے ﴿ لِّيَذُوۡقَ ﴾ ’’تاکہ چکھے وہ‘‘ اس مذکورہ جزا کے وجوب کے ذریعے سے ﴿ وَبَالَ اَمۡرِهٖ ﴾ ’’سزا اپنے کام کی‘‘ ﴿وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور پھر جو کرے گا‘‘ یعنی اس کے بعد ﴿ فَيَنۡتَقِمُ اللّٰهُ مِنۡهُ١ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا اور اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے جان بوجھ کر شکار مارنے پر اس کی سزا کی صراحت کی ہے باوجود اس بات کے کہ بدلہ تو ہر غلطی کا ضروری ہوتا ہے، چاہے اس کا مرتکب جان بوجھ کر کرے یا غلطی سے۔ جیسا کہ شرعی قاعدہ ہے کہ جان اور مال کو تلف کرنے والے پر ضمان لازم ہے خواہ کسی بھی حال میں اس سے یہ اتلاف صادر ہوا ہو۔ جبکہ یہ اتلاف ناحق ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بدلہ اور انتقام مترتب کیا ہے اور یہ سب جان بوجھ کر کرنے والے کے لیے ہے۔ لیکن غلطی سے کرنے والے کے لیے سزا نہیں ہے، صرف بدلہ ہے۔ یہی جمہور علماء کی رائے ہے مگر صحیح وہی ہے جس کی آیت کریمہ نے تصریح کی ہے کہ جس طرح بغیر جانے بوجھے اور بغیر ارادے کے شکار مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں اسی طرح اس پر جزا بھی لازم نہیں ہے۔ [96] چونکہ شکار کا اطلاق بری اور بحری دونوں قسم کے شکار پر ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سمندری شکار کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اُحِلَّ لَكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ وَطَعَامُهٗ ﴾ ’’احرام کی حالت میں تمھارے لیے سمندر کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال ہے‘‘ اور ’’سمندر کے شکار‘‘ سے مراد سمندر کے زندہ جانور ہیں اور (طعام) ’’اس کے کھانے‘‘ سے مراد سمندر میں مرنے والے سمندری جانور ہیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرے ہوئے بحری جانور بھی حلال ہیں ۔ ﴿ مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ ﴾ ’’تمھارے فائدے کے لیے اور مسافروں کے لیے‘‘ یعنی اس کی اباحت میں تمھارے لیے فائدہ ہے تاکہ تم اور تمھارے وہ ساتھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو تمھارے ساتھ سفر کرتے ہیں ﴿ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ الۡـبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ﴾ ’’اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر خشکی (جنگل)کا شکار حرام ہے‘‘ یہاں لفظ ’’شکار‘‘ سے یہ مسئلہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ شکار کیا ہوا جانور جنگلی ہو۔ کیونکہ پالتو اور گھریلو جانور پر شکار کا اطلاق نہیں ہوتا۔ نیز یہ ایسا جانور ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہو کیونکہ جس جانور کا گوشت کھایا نہ جاتا ہو اس کو شکار نہیں کیا جاتا اور نہ اس پر ’’شکار‘‘ کا اطلاق ہی کیا جاتا ہے۔﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ﴾ ’’اور اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کر کے اور جس چیز سے روکا ہے اس کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کرو۔ اور اپنے اس علم سے حصول تقویٰ میں مدد لو کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا اور وہ تمھیں اس بات کی جزا دے گا کہ آیا تم نے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیا تھا۔ تب وہ تمھیں بہت زیادہ ثواب سے نوازے گا یا اگر تقویٰ کو اختیار نہیں کیا تب اس صورت میں وہ تمھیں سخت سزا دے گا۔

المائدة 5:97

بنایا ہے اللہ نے کعبے کو، جو گھر ہے حرمت والا، قیام کا سبب لوگوں کے لیے اور حرمت والے مہینوں کواور حرم والی قربانی کو اور پٹوں (والے جانوروں ) کو یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(97) جان لو! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہےاور بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(98) نہیں ہے رسول پر مگر پہنچا دینااور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو(99) [97] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ﴿ جَعَلَ اللّٰهُ الۡكَعۡبَةَ الۡبَيۡتَ الۡحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ ﴾ ’’اس نے کعبہ، یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔‘‘ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں ۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں ۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں ۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں ، مصالح عامہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں ، ان کے درمیان ان کے دینی اور دنیاوی مفادات کے ضمن میں روابط استوار ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾(الحج: 22؍28)’’تاکہ وہ اپنے فائدے کے کاموں میں حاضر ہوں اور قربانی کے چند معلوم دنوں میں ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں ‘‘۔اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محترم گھر کو لوگوں کے لیے اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا، بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر سال بیت اللہ کا حج کرنا فرض کفایہ ہے اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو تمام وہ لوگ گناہ گار ٹھہریں گے جو حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو ان کی اجتماعی زندگی کا سہارا ختم ہو جائے گا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔﴿ وَالۡهَدۡيَ وَالۡقَلَآىِٕدَ ﴾ ’’اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں ۔‘‘ یعنی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں اور پٹے والے جانوروں کو جو کہ قربانی کی بہترین قسم ہے، لوگوں کے گزارے کا ذریعہ بنایا۔ لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے‘‘ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ محترم گھر بنایا کیونکہ وہ تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کا علم رکھتا ہے۔ [98]﴿اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یعنی ان دونوں امور کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ تمھارے دلوں میں علم موجود ہے۔ یہ حقیقت ہمیشہ تمھیں معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو دنیا میں اور آخرت میں سخت عذاب دینے والا ہے اور وہ ان لوگوں کو بخش دینے والا اور ان پر بہت رحم کرنے والا ہے جو توبہ کر کے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔ پس اس کے عذاب کا خوف اور اس کی بخشش اور ثواب کی امید اس علم کے ثمرات ہیں اور تم خوف اور امید کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہو۔ [99] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’رسول کے ذمے صرف پہنچا دینا ہے‘‘ اور آپﷺ کو جیسے حکم دیا گیا، آپ نے پہنچا دیا۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کے سوا دیگر معاملات میں آپ کو کوئی اختیار نہیں ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو‘‘ اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔

المائدة 5:98

بنایا ہے اللہ نے کعبے کو، جو گھر ہے حرمت والا، قیام کا سبب لوگوں کے لیے اور حرمت والے مہینوں کواور حرم والی قربانی کو اور پٹوں (والے جانوروں ) کو یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(97) جان لو! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہےاور بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(98) نہیں ہے رسول پر مگر پہنچا دینااور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو(99) [97] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ﴿ جَعَلَ اللّٰهُ الۡكَعۡبَةَ الۡبَيۡتَ الۡحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ ﴾ ’’اس نے کعبہ، یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔‘‘ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں ۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں ۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں ۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں ، مصالح عامہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں ، ان کے درمیان ان کے دینی اور دنیاوی مفادات کے ضمن میں روابط استوار ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾(الحج: 22؍28)’’تاکہ وہ اپنے فائدے کے کاموں میں حاضر ہوں اور قربانی کے چند معلوم دنوں میں ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں ‘‘۔اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محترم گھر کو لوگوں کے لیے اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا، بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر سال بیت اللہ کا حج کرنا فرض کفایہ ہے اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو تمام وہ لوگ گناہ گار ٹھہریں گے جو حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو ان کی اجتماعی زندگی کا سہارا ختم ہو جائے گا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔﴿ وَالۡهَدۡيَ وَالۡقَلَآىِٕدَ ﴾ ’’اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں ۔‘‘ یعنی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں اور پٹے والے جانوروں کو جو کہ قربانی کی بہترین قسم ہے، لوگوں کے گزارے کا ذریعہ بنایا۔ لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے‘‘ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ محترم گھر بنایا کیونکہ وہ تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کا علم رکھتا ہے۔ [98]﴿اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یعنی ان دونوں امور کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ تمھارے دلوں میں علم موجود ہے۔ یہ حقیقت ہمیشہ تمھیں معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو دنیا میں اور آخرت میں سخت عذاب دینے والا ہے اور وہ ان لوگوں کو بخش دینے والا اور ان پر بہت رحم کرنے والا ہے جو توبہ کر کے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔ پس اس کے عذاب کا خوف اور اس کی بخشش اور ثواب کی امید اس علم کے ثمرات ہیں اور تم خوف اور امید کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہو۔ [99] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’رسول کے ذمے صرف پہنچا دینا ہے‘‘ اور آپﷺ کو جیسے حکم دیا گیا، آپ نے پہنچا دیا۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کے سوا دیگر معاملات میں آپ کو کوئی اختیار نہیں ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو‘‘ اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔

المائدة 5:99

بنایا ہے اللہ نے کعبے کو، جو گھر ہے حرمت والا، قیام کا سبب لوگوں کے لیے اور حرمت والے مہینوں کواور حرم والی قربانی کو اور پٹوں (والے جانوروں ) کو یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(97) جان لو! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہےاور بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(98) نہیں ہے رسول پر مگر پہنچا دینااور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو(99) [97] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ﴿ جَعَلَ اللّٰهُ الۡكَعۡبَةَ الۡبَيۡتَ الۡحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ ﴾ ’’اس نے کعبہ، یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔‘‘ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں ۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں ۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں ۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں ، مصالح عامہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں ، ان کے درمیان ان کے دینی اور دنیاوی مفادات کے ضمن میں روابط استوار ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾(الحج: 22؍28)’’تاکہ وہ اپنے فائدے کے کاموں میں حاضر ہوں اور قربانی کے چند معلوم دنوں میں ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں ‘‘۔اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محترم گھر کو لوگوں کے لیے اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا، بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر سال بیت اللہ کا حج کرنا فرض کفایہ ہے اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو تمام وہ لوگ گناہ گار ٹھہریں گے جو حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو ان کی اجتماعی زندگی کا سہارا ختم ہو جائے گا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔﴿ وَالۡهَدۡيَ وَالۡقَلَآىِٕدَ ﴾ ’’اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں ۔‘‘ یعنی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں اور پٹے والے جانوروں کو جو کہ قربانی کی بہترین قسم ہے، لوگوں کے گزارے کا ذریعہ بنایا۔ لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے‘‘ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ محترم گھر بنایا کیونکہ وہ تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کا علم رکھتا ہے۔ [98]﴿اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یعنی ان دونوں امور کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ تمھارے دلوں میں علم موجود ہے۔ یہ حقیقت ہمیشہ تمھیں معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو دنیا میں اور آخرت میں سخت عذاب دینے والا ہے اور وہ ان لوگوں کو بخش دینے والا اور ان پر بہت رحم کرنے والا ہے جو توبہ کر کے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔ پس اس کے عذاب کا خوف اور اس کی بخشش اور ثواب کی امید اس علم کے ثمرات ہیں اور تم خوف اور امید کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہو۔ [99] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’رسول کے ذمے صرف پہنچا دینا ہے‘‘ اور آپﷺ کو جیسے حکم دیا گیا، آپ نے پہنچا دیا۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کے سوا دیگر معاملات میں آپ کو کوئی اختیار نہیں ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو‘‘ اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔

المائدة 5:100

کہہ دیجیے! نہیں برابر ہو سکتے ناپاک اور پاک اگرچہ تعجب میں ڈالے آپ کو کثرت ناپاک کی، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل والو! تاکہ تم فلاح پاؤ(100) [100]﴿ قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ یعنی لوگوں کو شر سے ڈراتے ہوئے اور ان کو بھلائی کی ترغیب دیتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ لَّا يَسۡتَوِي الۡخَبِيۡثُ وَالطَّيِّبُ ﴾ ’’ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں ۔‘‘ یعنی ہر چیز میں اچھے اور برے برابر نہیں ہو سکتے۔ ایمان اور کفر، اطاعت اور معصیت، اہل جنت اور اہل جہنم، اعمال خبیثہ اور اعمال صالحہ برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح حرام مال اور حلال مال کے درمیان کوئی مساوات نہیں ۔ ﴿ وَلَوۡ اَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ الۡخَبِيۡثِ﴾ ’’اگرچہ ناپاک کی کثرت آپ کو بھلی لگے‘‘ کیونکہ ناپاک چیز کی کثرت اپنے مالک کو کوئی فائدہ نہیں دیتی بلکہ دین و دنیا میں اسے نقصان دیتی ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’پس اے عقل مندو! اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے عقل مندوں ، یعنی پوری عقل اور کامل رائے کے حامل لوگوں کو حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ انھی لوگوں کی طرف ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی پروا کی جاتی ہے اور انھی میں خیر کی امید ہوتی ہے اور ان کو آگاہ فرمایا ہے کہ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی میں اس کی موافقت کا نام ہے۔ پس جس نے تقویٰ اختیار کیا، اس نے پوری فلاح پا لی۔ جس نے تقویٰ کو ترک کر دیا، اس کے نصیب میں خسارہ آیا اور نفع سے محروم رہ گیا۔

المائدة 5:101

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ سوال کرو ایسی چیزوں کی بابت کہ اگر ظاہر کر دی جائیں وہ تمھارے لیے تو ناگوار گزریں تمھیں اور اگر پوچھو گے تم ان کی بابت جبکہ اتارا جا رہا ہے قرآن تو ظاہر کر دی جائیں گی وہ تم پر، درگزر کیا اللہ نے ان سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت بردبار ہے(101) تحقیق پوچھا تھا ان کی بابت ایک قوم نے تم سے پہلے، پھر ہو گئے وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے(102) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرنے سے منع کرتا ہے جن کو اگر ان کے سامنے بیان کر دیا جائے تو ان کو بری لگیں گی اور ان کو غمزدہ کر دیں گی ، مثلاً: بعض مسلمانوں نے اپنے آباء و اجداد کے بارے میں سوال کیا تھا کہ آیا وہ جنت میں ہیں یا جہنم میں ۔ اگر اس قسم کے سوال پر سائل کو واضح جواب دیا جائے تو بسا اوقات اس میں بھلائی نہیں ہوتی ، مثلاً: غیر واقع امور کے بارے میں ان کا سوال کرنا۔ یا ایسا سوال کرنا جس کی بنا پر کوئی شرعی شدت مترتب ہو اور بسا اوقات اس سوال کی وجہ سے امت حرج میں مبتلا ہو جاتی ہے یا کوئی اور لایعنی سوال کرنا۔ یہ سوالات اور اس قسم کے دیگر سوالات ممنوع ہیں ۔ رہا وہ سوال جس کے ساتھ مذکورہ بالا چیزوں کا تعلق نہ ہو۔ تو وہ مامور بہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(النحل: 16؍43)’’اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔‘‘﴿وَاِنۡ تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡهَا حِيۡنَ يُنَزَّلُ الۡقُرۡاٰنُ تُبۡدَ لَكُمۡ﴾ ’’اور اگر پوچھو گے یہ باتیں ، ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو تم پر ظاہر کر دی جائیں گی‘‘ یعنی جب تمھارا سوال اس کے محلِ نظر سے موافقت کرے اور تم اس وقت سوال کرو جب تم پر قرآن نازل کیاجا رہا ہو اور تم کسی آیت میں اشکال کے بارے میں سوال کرو یا کسی ایسے حکم کے بارے میں سوال کرو جو تم پر مخفی رہ گیا ہو اور یہ سوال کسی ایسے وقت پر ہو جب آسمان سے وحی کے نزول کا امکان ہو تو تم پر ظاہر کر دیا جائے گا، یعنی اس کو تمھارے سامنے واضح کر دیا جائے گا ورنہ جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ خاموش ہے تم بھی خاموش رہو۔ ﴿عَفَا اللّٰهُ عَنۡهَا﴾ ’’اللہ نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معاف کرتے ہوئے سکوت سے کام لیا۔ پس ہر وہ معاملہ جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سکوت اختیار کیا ہو وہ معاف ہے اور مباحات کے زمرے میں آتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ سے مغفرت کی صفت سے موصوف، حلم اور احسان میں معروف ہے۔ پس اس سے اس کی مغفرت اور احسان کا سوال کرو اور اس سے اس کی رحمت اور رضا طلب کرو۔ [102] یہ سوالات جن سے تمھیں منع کیا گیا ہے ﴿ قَدۡ سَاَلَهَا قَوۡمٌ مِّنۡ قَبۡلِكُمۡ ﴾ ’’تحقیق پوچھ چکی ہے یہ باتیں ایک جماعت تم سے پہلے‘‘ یعنی اس جنس کے اور اسی قسم کے سوالات تھے۔ ان کا سوال طلب رشد کے لیے نہ تھا بلکہ تلبیس کی خاطر تھا۔ جب ان کے سوال کا جواب واضح ہو کر ان کے سامنے آ گیا ﴿ثُمَّ اَصۡبَحُوۡا بِهَا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے ہو گئے‘‘ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے صحیح حدیث میں فرمایا ’’جب میں تمھیں کسی چیز سے روک دوں تو اس سے اجتناب کرو اور جب کسی کام کے کرنے کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس حکم کی تعمیل کرو کیونکہ تم سے پہلے قومیں کثرت سوال اور اپنے نبیوں سے اختلاف کرنے کی بنا پر ہلاک ہوئیں ‘‘(صحیح مسلم، الحج ، حدیث: 1337)

المائدة 5:102

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ سوال کرو ایسی چیزوں کی بابت کہ اگر ظاہر کر دی جائیں وہ تمھارے لیے تو ناگوار گزریں تمھیں اور اگر پوچھو گے تم ان کی بابت جبکہ اتارا جا رہا ہے قرآن تو ظاہر کر دی جائیں گی وہ تم پر، درگزر کیا اللہ نے ان سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت بردبار ہے(101) تحقیق پوچھا تھا ان کی بابت ایک قوم نے تم سے پہلے، پھر ہو گئے وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے(102) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرنے سے منع کرتا ہے جن کو اگر ان کے سامنے بیان کر دیا جائے تو ان کو بری لگیں گی اور ان کو غمزدہ کر دیں گی ، مثلاً: بعض مسلمانوں نے اپنے آباء و اجداد کے بارے میں سوال کیا تھا کہ آیا وہ جنت میں ہیں یا جہنم میں ۔ اگر اس قسم کے سوال پر سائل کو واضح جواب دیا جائے تو بسا اوقات اس میں بھلائی نہیں ہوتی ، مثلاً: غیر واقع امور کے بارے میں ان کا سوال کرنا۔ یا ایسا سوال کرنا جس کی بنا پر کوئی شرعی شدت مترتب ہو اور بسا اوقات اس سوال کی وجہ سے امت حرج میں مبتلا ہو جاتی ہے یا کوئی اور لایعنی سوال کرنا۔ یہ سوالات اور اس قسم کے دیگر سوالات ممنوع ہیں ۔ رہا وہ سوال جس کے ساتھ مذکورہ بالا چیزوں کا تعلق نہ ہو۔ تو وہ مامور بہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(النحل: 16؍43)’’اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔‘‘﴿وَاِنۡ تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡهَا حِيۡنَ يُنَزَّلُ الۡقُرۡاٰنُ تُبۡدَ لَكُمۡ﴾ ’’اور اگر پوچھو گے یہ باتیں ، ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو تم پر ظاہر کر دی جائیں گی‘‘ یعنی جب تمھارا سوال اس کے محلِ نظر سے موافقت کرے اور تم اس وقت سوال کرو جب تم پر قرآن نازل کیاجا رہا ہو اور تم کسی آیت میں اشکال کے بارے میں سوال کرو یا کسی ایسے حکم کے بارے میں سوال کرو جو تم پر مخفی رہ گیا ہو اور یہ سوال کسی ایسے وقت پر ہو جب آسمان سے وحی کے نزول کا امکان ہو تو تم پر ظاہر کر دیا جائے گا، یعنی اس کو تمھارے سامنے واضح کر دیا جائے گا ورنہ جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ خاموش ہے تم بھی خاموش رہو۔ ﴿عَفَا اللّٰهُ عَنۡهَا﴾ ’’اللہ نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معاف کرتے ہوئے سکوت سے کام لیا۔ پس ہر وہ معاملہ جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سکوت اختیار کیا ہو وہ معاف ہے اور مباحات کے زمرے میں آتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ سے مغفرت کی صفت سے موصوف، حلم اور احسان میں معروف ہے۔ پس اس سے اس کی مغفرت اور احسان کا سوال کرو اور اس سے اس کی رحمت اور رضا طلب کرو۔ [102] یہ سوالات جن سے تمھیں منع کیا گیا ہے ﴿ قَدۡ سَاَلَهَا قَوۡمٌ مِّنۡ قَبۡلِكُمۡ ﴾ ’’تحقیق پوچھ چکی ہے یہ باتیں ایک جماعت تم سے پہلے‘‘ یعنی اس جنس کے اور اسی قسم کے سوالات تھے۔ ان کا سوال طلب رشد کے لیے نہ تھا بلکہ تلبیس کی خاطر تھا۔ جب ان کے سوال کا جواب واضح ہو کر ان کے سامنے آ گیا ﴿ثُمَّ اَصۡبَحُوۡا بِهَا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے ہو گئے‘‘ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے صحیح حدیث میں فرمایا ’’جب میں تمھیں کسی چیز سے روک دوں تو اس سے اجتناب کرو اور جب کسی کام کے کرنے کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس حکم کی تعمیل کرو کیونکہ تم سے پہلے قومیں کثرت سوال اور اپنے نبیوں سے اختلاف کرنے کی بنا پر ہلاک ہوئیں ‘‘(صحیح مسلم، الحج ، حدیث: 1337)

المائدة 5:103

نہیں مقرر کیا اللہ نے کوئی بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ اور اکثر ان کے نہیں عقل رکھتے(103) اور جب کہا جاتا ہے ان سے آؤ تم اس چیز کی طرف جو نازل کی اللہ نے اور (آؤ) رسول کی طرف تو کہتے ہیں کافی ہے ہمیں وہ کہ پایا ہم نے اسی پر اپنے آباؤ اجداد کو، کیا اگرچہ ہوں آباؤ اجداد ان کے نہ جانتے ہوں کچھ اور نہ ہوں وہ ہدایت یافتہ(104) [103] یہ مشرکین کی مذمت ہے جنھوں نے دین میں ایسی چیزیں گھڑ لی تھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا اور وہ چیزیں حرام قرار دے لی تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا تھا، چنانچہ انھوں نے اپنی فاسد آراء کی بنا پر اپنی ان اصطلاحات کے مطابق کچھ مویشی حرام قرار دے دیے جو کتاب اللہ کے مخالف تھیں ۔ بنابریں فرمایا:﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَحِيۡرَةٍ ﴾ ’’نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ‘‘ (بَحِیرَہ) اس اونٹنی کو کہا جاتا تھا جس کے کان پھاڑ دیا کرتے، اس پر سواری کرنے کو حرام کر لیتے اور اس کو مقدس خیال کرتے تھے۔ ﴿وَّلَا سَآىِٕبَةٍ ﴾ ’’اور نہ سائبہ‘‘ اونٹنی، گائے یا بکری جب سن رسیدہ ہو جاتی تو اسے سائبہ کہا جاتا تھا اور اسے آزاد چھوڑ دیتے تھے، اس پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر بوجھ لادا جاتا تھا۔ اور نہ اس کا گوشت کھایا جاتا تھا۔ بعض لوگ اپنے مال میں سے کچھ نذر مان کر اس کو ’’سائبہ‘‘ بنا کر چھوڑ دیتے تھے۔ ﴿ وَّلَا حَامٍ ﴾ ’’اور نہ حام‘‘ یعنی اونٹ جب ایک خاص حالت کو پہنچ جاتا جو ان کے ہاں معروف تھی تو اس اونٹ پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر سامان لادا جاتا تھا۔ ان تمام چیزوں کو مشرکین نے بغیر کسی دلیل اور برہان کے حرام قرار دے رکھا تھا یہ اللہ تعالیٰ پر افترا اور بہتان تھا جو ان کی جہالت اور بے عقلی سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَّلٰكِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ١ؕ وَاَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’لیکن کافر اللہ پر افترا باندھتے تھے اور ان کے اکثر عقل نہیں رکھتے تھے‘‘ ان مذکورہ امور میں کوئی نقلی دلیل تھی نہ عقلی۔ [104] بایں ہمہ انھیں اپنی آراء بہت پسند تھیں جو ظلم اور جہالت پر مبنی تھیں ۔ جب انھیں دعوت دی جاتی ﴿ اِلٰى مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’اس کی طرف جو اللہ نے نازل کیا اور رسول کی طرف‘‘ تو اس سے روگردانی کرتے اور اسے قبول نہ کرتے ﴿ قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰ بَآءَنَا﴾ ’’اور کہتے کہ جس دین پر ہم نے اپنے آبا و اجداد کو پایا ہے وہ ہمارے لیے کافی ہے‘‘ اگرچہ یہ دین نادرست ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ دین اللہ کے عذاب سے نجات نہ دلا سکتا ہو۔ اگر ان کے آبا و اجداد کافی ہوتے، ان میں معرفت اور درایت ہوتی تو معاملہ آسان ہوتا۔ مگر ان کے آبا و اجداد میں تو کچھ بھی عقل نہ تھی۔ ان کے پاس کوئی معقول شے تھی، نہ علم و ہدایت کا کوئی حصہ۔ ہلاکت ہے اس کے لیے جو کسی ایسے شخص کی تقلید کرتا ہے جس کے پاس علم صحیح ہے نہ عقل راجح اور وہ اللہ کی نازل کردہ کتاب اور اس کے انبیا و مرسلین کی اتباع کو چھوڑ دیتا ہے جو قلب کو علم وایمان اور ہدایت و ایقان سے لبریز کرتی ہے۔

المائدة 5:104

نہیں مقرر کیا اللہ نے کوئی بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ اور اکثر ان کے نہیں عقل رکھتے(103) اور جب کہا جاتا ہے ان سے آؤ تم اس چیز کی طرف جو نازل کی اللہ نے اور (آؤ) رسول کی طرف تو کہتے ہیں کافی ہے ہمیں وہ کہ پایا ہم نے اسی پر اپنے آباؤ اجداد کو، کیا اگرچہ ہوں آباؤ اجداد ان کے نہ جانتے ہوں کچھ اور نہ ہوں وہ ہدایت یافتہ(104) [103] یہ مشرکین کی مذمت ہے جنھوں نے دین میں ایسی چیزیں گھڑ لی تھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا اور وہ چیزیں حرام قرار دے لی تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا تھا، چنانچہ انھوں نے اپنی فاسد آراء کی بنا پر اپنی ان اصطلاحات کے مطابق کچھ مویشی حرام قرار دے دیے جو کتاب اللہ کے مخالف تھیں ۔ بنابریں فرمایا:﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَحِيۡرَةٍ ﴾ ’’نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ‘‘ (بَحِیرَہ) اس اونٹنی کو کہا جاتا تھا جس کے کان پھاڑ دیا کرتے، اس پر سواری کرنے کو حرام کر لیتے اور اس کو مقدس خیال کرتے تھے۔ ﴿وَّلَا سَآىِٕبَةٍ ﴾ ’’اور نہ سائبہ‘‘ اونٹنی، گائے یا بکری جب سن رسیدہ ہو جاتی تو اسے سائبہ کہا جاتا تھا اور اسے آزاد چھوڑ دیتے تھے، اس پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر بوجھ لادا جاتا تھا۔ اور نہ اس کا گوشت کھایا جاتا تھا۔ بعض لوگ اپنے مال میں سے کچھ نذر مان کر اس کو ’’سائبہ‘‘ بنا کر چھوڑ دیتے تھے۔ ﴿ وَّلَا حَامٍ ﴾ ’’اور نہ حام‘‘ یعنی اونٹ جب ایک خاص حالت کو پہنچ جاتا جو ان کے ہاں معروف تھی تو اس اونٹ پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر سامان لادا جاتا تھا۔ ان تمام چیزوں کو مشرکین نے بغیر کسی دلیل اور برہان کے حرام قرار دے رکھا تھا یہ اللہ تعالیٰ پر افترا اور بہتان تھا جو ان کی جہالت اور بے عقلی سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَّلٰكِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ١ؕ وَاَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’لیکن کافر اللہ پر افترا باندھتے تھے اور ان کے اکثر عقل نہیں رکھتے تھے‘‘ ان مذکورہ امور میں کوئی نقلی دلیل تھی نہ عقلی۔ [104] بایں ہمہ انھیں اپنی آراء بہت پسند تھیں جو ظلم اور جہالت پر مبنی تھیں ۔ جب انھیں دعوت دی جاتی ﴿ اِلٰى مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’اس کی طرف جو اللہ نے نازل کیا اور رسول کی طرف‘‘ تو اس سے روگردانی کرتے اور اسے قبول نہ کرتے ﴿ قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰ بَآءَنَا﴾ ’’اور کہتے کہ جس دین پر ہم نے اپنے آبا و اجداد کو پایا ہے وہ ہمارے لیے کافی ہے‘‘ اگرچہ یہ دین نادرست ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ دین اللہ کے عذاب سے نجات نہ دلا سکتا ہو۔ اگر ان کے آبا و اجداد کافی ہوتے، ان میں معرفت اور درایت ہوتی تو معاملہ آسان ہوتا۔ مگر ان کے آبا و اجداد میں تو کچھ بھی عقل نہ تھی۔ ان کے پاس کوئی معقول شے تھی، نہ علم و ہدایت کا کوئی حصہ۔ ہلاکت ہے اس کے لیے جو کسی ایسے شخص کی تقلید کرتا ہے جس کے پاس علم صحیح ہے نہ عقل راجح اور وہ اللہ کی نازل کردہ کتاب اور اس کے انبیا و مرسلین کی اتباع کو چھوڑ دیتا ہے جو قلب کو علم وایمان اور ہدایت و ایقان سے لبریز کرتی ہے۔

المائدة 5:105

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! لازم ہے تم پر فکر اپنی جانوں کی، نہیں نقصان پہنچا سکے گا تمھیں جو گمراہ ہوگا جبکہ تم خود ہدایت پر ہو اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری سب کی، پھر وہ خبر دے گا تمھیں جو تھے تم عمل کرتے(105) [105] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَيۡكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ ﴾’’اے ایمان والو، تم پر لازم ہے فکر اپنی جان کا‘‘ یعنی اپنے نفوس کی اصلاح، ان کو منزل کمال تک پہنچانے اور ان کو صراط مستقیم پر گامزن کرنے کی کوشش کرو۔ کیونکہ اگر تم نے اپنی اصلاح کر لی تو وہ شخص تمھارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جو راہ راست سے بھٹک گیا ہے اور دین قیم کے راستے کو اختیار نہیں کرتا۔ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑ دینے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ کیونکہ خود بندے کی ہدایت بھی اس وقت تک تکمیل نہیں پاتی جب تک کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جو ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے اسے ادا نہیں کرتا۔ ہاں ! اگر وہ اپنے ہاتھ اور زبان سے برائی کا انکار کرنے پر قادر نہیں تو اپنے دل میں اس برائی کو برا سمجھے۔ تب کسی دوسرے کی گمراہی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔﴿اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹو گے اور اس کے سامنے اکٹھے ہو گے ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’وہ تم کو تمھارے سب کاموں سے آگاہ کرے گا۔‘‘ یعنی اچھے اور برے جو عمل بھی کرتے رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمھیں ان کے بارے میں آگاہ کرے گا۔

المائدة 5:106

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شہادت ہونی چاہیے تمھارے درمیان جب آپہنچے کسی کو تم میں سے موت، وقت وصیت کے دو عادل شخصوں کی تم میں سے یا دو اور ہوں تم مسلمانوں کے سوا، اگر تم سفر کر رہے ہو زمین میں ، پھر پہنچے تمھیں مصیبت موت کی، روک لو ان دونوں کو بعد نماز کے، پس قسمیں کھائیں وہ اللہ کی اگر تم شک کرو (وہ کہیں ) ہم نہیں لیتے اس (قسم) کے بدلے کوئی قیمت، اگرچہ ہو وہ رشتے داراور نہیں چھپاتے ہم گواہی اللہ کی، یقینا ہم اس وقت گناہ گاروں میں سے ہوں گے(106) پھر اگر اطلاع ہو جائے اس پر کہ وہ دونوں مرتکب ہوئے ہیں گناہ کے تو دو اور گواہ کھڑے ہوں ان کی جگہ ان لوگوں میں سے جن کی حق تلفی ہوئی ہے، قریب تر (میت کے) ، پھر قسمیں کھائیں دونوں اللہ کی کہ ہماری شہادت زیادہ سچی ہے ان کی شہادت سے اور نہیں زیادتی کی ہم نے، بے شک ہم اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے(107) یہ (طریقہ) قریب تر ہے اس کے کہ دیں وہ شہادت ٹھیک طریقے پر یا ڈریں اس سے کہ رد کر دی جائیں گی قسمیں (ان کی) بعد ان (ورثاء) کی قسموں کےاور ڈرو تم اللہ سے اور سنواور اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق لوگوں کو(108) [106] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے جو کہ اس حکم کو متضمن ہے کہ جب انسان کی موت کی علامات اور اس کے مقدمات سامنے آ جائیں تو اپنی وصیت پر دو گواہ بنا لے۔ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی وصیت کو تحریر کروائے اور اس پر دو عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی ثبت کروائے۔ ﴿ اَوۡ اٰخَرٰنِ مِنۡ غَيۡرِكُمۡ ﴾ ’’یا دوسرے دو گواہ تمھارے سوا‘‘ یعنی مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ یہ سخت ضرورت اور حاجت کے وقت ہے جب یہود و نصاریٰ کے سوا مسلمانوں میں سے گواہ موجود نہ ہوں ﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب تم زمین میں سفر کر رہے ہو‘‘ ﴿ فَاَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةُ الۡمَوۡتِ﴾ ’’اور پہنچے تمھیں مصیبت موت کی‘‘ یعنی تم ان دونوں کو گواہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گواہ بنانے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ اس صورتحال میں ان کی گواہی مقبول ہے اور ان کے بارے میں مزید تاکید فرمائی کہ ان کو روک لیا جائے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’نماز کے بعد‘‘ جس نماز کی یہ تعظیم کرتے ہیں ﴿فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ ﴾ ’’پس وہ اللہ کی قسم اٹھائیں ‘‘ کہ انھوں نے سچ کہا ہے اور انھوں نے کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا ﴿ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تمھیں (ان کی گواہی میں ) شک ہو‘‘ اور اگر تم انھیں سچا سمجھتے ہو تو پھر ان سے قسم اٹھوانے کی ضرورت نہیں اور وہ قسم اٹھاتے وقت یہ الفاظ ادا کریں ﴿ لَا نَشۡتَرِيۡ بِهٖ ﴾ ’’نہیں حاصل کرتے ہم اس کے بدلے‘‘ یعنی اپنی قسموں کے بدلے ﴿ ثَمَنًا ﴾ ’’کوئی مال‘‘ یعنی دنیاوی فائدے کی خاطر ہم جھوٹی قسم نہیں اٹھائیں گے ﴿ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾ ’’اگرچہ ہم کو کسی سے قرابت بھی ہو‘‘ یعنی اس کے ساتھ اپنی قرابت داری کی وجہ سے اس سے کوئی رعایت نہیں کریں گے ﴿وَلَا نَؔكۡتُمُ شَهَادَةَ اللّٰهِ﴾ ’’اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے‘‘ بلکہ ہم اسی طرح شہادت کو ادا کریں گے جس طرح ہم نے سنی ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک تب ہم‘‘ یعنی اگر ہم گواہی کو چھپائیں ﴿لَّمِنَ الۡاٰثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو یقینا گناہ گاروں میں سے ہوں گے‘‘۔ [107]﴿ فَاِنۡ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا ﴾ ’’پھر اگر خبر ہوجائے کہ یہ دونوں ‘‘ یعنی دونوں گواہ ﴿ اسۡتَحَقَّـاۤ اِثۡمًا ﴾ ’’حق بات دبا گئے ہیں ‘‘ یعنی اگر ایسے قرائن پائے جائیں جو ان کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں اور جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ انھوں نے خیانت کی ہے تو جن لوگوں کا انھوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں جو میت کے زیادہ قریبی ہوں ، یعنی میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور وہ دونوں میت کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں۔ ﴿ فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنۡ شَهَادَتِهِمَا ﴾’’پس وہ دونوں قسم کھائیں اللہ کی، کہ ہماری گواہی زیادہ صحیح ہے پہلوں کی گواہی سے‘‘ یعنی انھوں نے جھوٹ بولا ہے اور وہ وصیت میں تغیر و تبدل کر کے خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں ﴿ وَمَا اعۡتَدَيۡنَاۤ١ۖٞ اِنَّـاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے زیادتی نہیں کی، نہیں تو بے شک ہم ظالموں میں سے ہوں گے‘‘ یعنی اگر ہم نے ظلم اور زیادتی کی اور ناحق گواہی دی۔ [108] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس گواہی، اس کی تاکید اور دونوں گواہوں سے خیانت ظاہر ہونے پر گواہی کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹانے کی حکمت بیان کی ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ اَدۡنٰۤى ﴾ ’’اس طریق سے بہت قریب ہے۔‘‘ یعنی یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے ﴿ اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجۡهِهَاۤ ﴾ ’’کہ وہ ادا کریں گواہی کو ٹھیک طریقے پر‘‘ یعنی جب ان گواہوں کو مذکورہ تاکیدات کے ذریعے سے تاکید کی جائے گی ﴿ اَوۡ يَخَافُوۡۤا اَنۡ تُرَدَّ اَيۡمَانٌۢ بَعۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ ﴾ ’’اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی۔‘‘ یعنی ان کو خوف ہو گا کہ ان کی قسمیں قبول نہیں کی جائیں گی اور ان قسموں کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹا دیا جائے گا ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف فسق ہے جو ہدایت چاہتے ہیں، نہ راہ راست پر چلنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں ۔ ان آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ سفر وغیرہ میں جب میت کی موت کا وقت آ جائے اور وہ ایسی جگہ پر ہو جہاں گمان یہ ہو کہ معتبر گواہ بہت کم ہوں گے تو میت کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ دو مسلمان عادل گواہوں کے سامنے وصیت کرے اور اگر صرف دو کافر گواہ مہیا ہو سکیں تو ان کے پاس بھی وصیت کرنا جائز ہے۔اگر ان گواہوں کے کفر کی وجہ سے میت کے اولیاء ان کے بارے میں شک کریں تو نماز کے بعد ان سے حلف لیں کہ انھوں نے خیانت کا ارتکاب کیا ہے نہ جھوٹ بولا ہے اور نہ انھوں نے وصیت میں کوئی تغیر و تبدل کیا ہے۔ اس طرح وہ اس حق کی ذمہ داری سے بری ہو جائیں گے جو ان پر ڈال دی گئی تھی۔ اگر میت کے اولیاء ان کی گواہی کو تسلیم نہ کریں اور وہ کوئی ایسا قرینہ پائیں جو گواہوں کے جھوٹ پر دلالت کرتا ہو۔ پس اگر میت کے اولیاء میں سے دو گواہ کھڑے ہو کر قسم اٹھائیں کہ ان کی گواہی پہلے گواہوں کی گواہی سے صحیح ہے اور یہ کہ پہلے گواہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے جھوٹ بولا ہے تو وہ ان پہلے گواہوں کے مقابلے میں اپنے دعوے میں مستحق قرار پائیں گے۔یہ آیات کریمہ تمیم داریt اور عدی بن بداء کے قصہ میں نازل ہوئی ہیں جو بہت مشہور ہے اور قصہ یوں ہے کہ عدوی(مفسر موصوف سے سہوہوا ہے۔ صحیح بخاری، ترمذی، ابن کثیر اور دیگر مفسرین کے نزدیک عدوی کی جگہ سہمی وارد ہوا ہے یعنی بنو سہم کا ایک آدمی) نے ان دونوں حضرات کے پاس وصیت کی تھی۔ واللہ اعلم(یہ قصہ اصل میں اس طرح ہے کہ حضرت تمیم داری (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اور عدی بن بداء، یہ دونوں نصرانی تھے اور تجارت کے لیے شام گئے ہوئے تھے۔ ایک مسلمان بدیل بن ابی مریم بھی وہاں گئے ہوئے تھے، وہاں بدیل سخت بیمار ہوگئے حتیٰ کہ زندگی سے مایوس ہوگئے۔ انہوں نے ان دونوں کو وصیت کی اور اپنا سامان بھی ان کے سپرد کردیا کہ وہ اسے ان کے گھر پہنچادیں ۔ ان دونوں نے اس سامان میں سے چاندی کا ایک پیالہ نکال کر بیچ دیا اور اس کی رقم آپس میں بانٹ لی۔ بعد میں ورثاء کو اس کا علم ہوا، تو رسول اللہﷺ نے ان سے حلف اٹھوایا۔ (صحیح البخاري، الوصایا، حدیث:2780۔ جامع الترمذي، التفسیر، حدیث: 3059)(ص۔ی)ان آیات کریمہ سے متعدد احکام پر استدلال کیا جاتا ہے۔(۱)وصیت کرنا مشروع ہے جس کی موت کا وقت قریب آ جائے تو اسے چاہیے کہ وصیت کرے۔(۲) جب موت کے مقدمات و آثار نمودار ہو جائیں تو مرنے والے کی وصیت اس وقت تک معتبر ہے جب تک اس کے ہوش و حواس قائم ہیں ۔ (۳) وصیت میں دو عادل گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔ (۴) وصیت اور اس قسم کے دیگر مواقع پر، بوقت ضرورت کفار کی گواہی مقبول ہے۔ یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ بہت سے اہل علم دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔ مگر نسخ کے اس دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں ۔ (۵) اس حکم کے اشارہ اور اس کے معنی سے مستفاد ہوتا ہے کہ مسلمان گواہوں کی عدم موجودگی میں وصیت کے علاوہ دیگر مسائل میں بھی کفار کی گواہی قابل قبول ہے۔ جیسا کہ یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ (۶) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر خوف کی بات نہ ہو تو کفار کی معیت میں سفر جائز ہے۔ (۷) تجارت کے لیے سفرکرنا جائز ہے۔ (۸) اگر دونوں گواہوں کی گواہی کے بارے میں شک ہو مگر ایسا کوئی قرینہ موجود نہ ہو جو ان کی خیانت پر دلالت کرتا ہو اور وصیت کرنے والے کے اولیاء ان گواہوں سے قسم لینا چاہتے ہوں تو وہ انھیں نماز کے بعد روک لیں اور ان سے اس طریقے سے قسم لیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ (۹) اگر ان دونوں کی گواہی میں کوئی شک اور تہمت نہ ہو تو ان کو روکنے اور ان سے قسم لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (۱۰) یہ آیت کریمہ شہادت کے معاملے کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شہادت کو اپنی طرف مضاف کیا ہے، نیز یہ کہ اس کو درخور اعتنا سمجھنا اور انصاف کے مطابق اس کو قائم کرنا واجب ہے۔ (۱۱) گواہوں کے بارے میں اگر شک ہو تو گواہوں کا امتحان اور ان کو علیحدہ علیحدہ کر کے گواہی لینا جائز ہے۔ تاکہ سچ اور جھوٹ کے اعتبار سے گواہی کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ (۱۲) جب ایسے قرائن پائے جائیں جو اس مسئلہ میں دونوں وصیّوں (گواہوں ) کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں تو میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری قسم ان کی قسم سے زیادہ سچی ہے۔ انھوں نے خیانت کی ہے اور جھوٹ کہا ہے پھر جس چیز کا وہ دعویٰ کرتے ہیں ان کے حوالے کر دی جائے گی۔ ان کی قسموں کے ساتھ، قرینہ، ثبوت کے قائم مقام ہے۔

المائدة 5:107

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شہادت ہونی چاہیے تمھارے درمیان جب آپہنچے کسی کو تم میں سے موت، وقت وصیت کے دو عادل شخصوں کی تم میں سے یا دو اور ہوں تم مسلمانوں کے سوا، اگر تم سفر کر رہے ہو زمین میں ، پھر پہنچے تمھیں مصیبت موت کی، روک لو ان دونوں کو بعد نماز کے، پس قسمیں کھائیں وہ اللہ کی اگر تم شک کرو (وہ کہیں ) ہم نہیں لیتے اس (قسم) کے بدلے کوئی قیمت، اگرچہ ہو وہ رشتے داراور نہیں چھپاتے ہم گواہی اللہ کی، یقینا ہم اس وقت گناہ گاروں میں سے ہوں گے(106) پھر اگر اطلاع ہو جائے اس پر کہ وہ دونوں مرتکب ہوئے ہیں گناہ کے تو دو اور گواہ کھڑے ہوں ان کی جگہ ان لوگوں میں سے جن کی حق تلفی ہوئی ہے، قریب تر (میت کے) ، پھر قسمیں کھائیں دونوں اللہ کی کہ ہماری شہادت زیادہ سچی ہے ان کی شہادت سے اور نہیں زیادتی کی ہم نے، بے شک ہم اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے(107) یہ (طریقہ) قریب تر ہے اس کے کہ دیں وہ شہادت ٹھیک طریقے پر یا ڈریں اس سے کہ رد کر دی جائیں گی قسمیں (ان کی) بعد ان (ورثاء) کی قسموں کےاور ڈرو تم اللہ سے اور سنواور اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق لوگوں کو(108) [106] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے جو کہ اس حکم کو متضمن ہے کہ جب انسان کی موت کی علامات اور اس کے مقدمات سامنے آ جائیں تو اپنی وصیت پر دو گواہ بنا لے۔ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی وصیت کو تحریر کروائے اور اس پر دو عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی ثبت کروائے۔ ﴿ اَوۡ اٰخَرٰنِ مِنۡ غَيۡرِكُمۡ ﴾ ’’یا دوسرے دو گواہ تمھارے سوا‘‘ یعنی مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ یہ سخت ضرورت اور حاجت کے وقت ہے جب یہود و نصاریٰ کے سوا مسلمانوں میں سے گواہ موجود نہ ہوں ﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب تم زمین میں سفر کر رہے ہو‘‘ ﴿ فَاَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةُ الۡمَوۡتِ﴾ ’’اور پہنچے تمھیں مصیبت موت کی‘‘ یعنی تم ان دونوں کو گواہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گواہ بنانے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ اس صورتحال میں ان کی گواہی مقبول ہے اور ان کے بارے میں مزید تاکید فرمائی کہ ان کو روک لیا جائے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’نماز کے بعد‘‘ جس نماز کی یہ تعظیم کرتے ہیں ﴿فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ ﴾ ’’پس وہ اللہ کی قسم اٹھائیں ‘‘ کہ انھوں نے سچ کہا ہے اور انھوں نے کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا ﴿ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تمھیں (ان کی گواہی میں ) شک ہو‘‘ اور اگر تم انھیں سچا سمجھتے ہو تو پھر ان سے قسم اٹھوانے کی ضرورت نہیں اور وہ قسم اٹھاتے وقت یہ الفاظ ادا کریں ﴿ لَا نَشۡتَرِيۡ بِهٖ ﴾ ’’نہیں حاصل کرتے ہم اس کے بدلے‘‘ یعنی اپنی قسموں کے بدلے ﴿ ثَمَنًا ﴾ ’’کوئی مال‘‘ یعنی دنیاوی فائدے کی خاطر ہم جھوٹی قسم نہیں اٹھائیں گے ﴿ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾ ’’اگرچہ ہم کو کسی سے قرابت بھی ہو‘‘ یعنی اس کے ساتھ اپنی قرابت داری کی وجہ سے اس سے کوئی رعایت نہیں کریں گے ﴿وَلَا نَؔكۡتُمُ شَهَادَةَ اللّٰهِ﴾ ’’اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے‘‘ بلکہ ہم اسی طرح شہادت کو ادا کریں گے جس طرح ہم نے سنی ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک تب ہم‘‘ یعنی اگر ہم گواہی کو چھپائیں ﴿لَّمِنَ الۡاٰثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو یقینا گناہ گاروں میں سے ہوں گے‘‘۔ [107]﴿ فَاِنۡ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا ﴾ ’’پھر اگر خبر ہوجائے کہ یہ دونوں ‘‘ یعنی دونوں گواہ ﴿ اسۡتَحَقَّـاۤ اِثۡمًا ﴾ ’’حق بات دبا گئے ہیں ‘‘ یعنی اگر ایسے قرائن پائے جائیں جو ان کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں اور جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ انھوں نے خیانت کی ہے تو جن لوگوں کا انھوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں جو میت کے زیادہ قریبی ہوں ، یعنی میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور وہ دونوں میت کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں۔ ﴿ فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنۡ شَهَادَتِهِمَا ﴾’’پس وہ دونوں قسم کھائیں اللہ کی، کہ ہماری گواہی زیادہ صحیح ہے پہلوں کی گواہی سے‘‘ یعنی انھوں نے جھوٹ بولا ہے اور وہ وصیت میں تغیر و تبدل کر کے خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں ﴿ وَمَا اعۡتَدَيۡنَاۤ١ۖٞ اِنَّـاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے زیادتی نہیں کی، نہیں تو بے شک ہم ظالموں میں سے ہوں گے‘‘ یعنی اگر ہم نے ظلم اور زیادتی کی اور ناحق گواہی دی۔ [108] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس گواہی، اس کی تاکید اور دونوں گواہوں سے خیانت ظاہر ہونے پر گواہی کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹانے کی حکمت بیان کی ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ اَدۡنٰۤى ﴾ ’’اس طریق سے بہت قریب ہے۔‘‘ یعنی یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے ﴿ اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجۡهِهَاۤ ﴾ ’’کہ وہ ادا کریں گواہی کو ٹھیک طریقے پر‘‘ یعنی جب ان گواہوں کو مذکورہ تاکیدات کے ذریعے سے تاکید کی جائے گی ﴿ اَوۡ يَخَافُوۡۤا اَنۡ تُرَدَّ اَيۡمَانٌۢ بَعۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ ﴾ ’’اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی۔‘‘ یعنی ان کو خوف ہو گا کہ ان کی قسمیں قبول نہیں کی جائیں گی اور ان قسموں کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹا دیا جائے گا ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف فسق ہے جو ہدایت چاہتے ہیں، نہ راہ راست پر چلنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں ۔ ان آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ سفر وغیرہ میں جب میت کی موت کا وقت آ جائے اور وہ ایسی جگہ پر ہو جہاں گمان یہ ہو کہ معتبر گواہ بہت کم ہوں گے تو میت کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ دو مسلمان عادل گواہوں کے سامنے وصیت کرے اور اگر صرف دو کافر گواہ مہیا ہو سکیں تو ان کے پاس بھی وصیت کرنا جائز ہے۔اگر ان گواہوں کے کفر کی وجہ سے میت کے اولیاء ان کے بارے میں شک کریں تو نماز کے بعد ان سے حلف لیں کہ انھوں نے خیانت کا ارتکاب کیا ہے نہ جھوٹ بولا ہے اور نہ انھوں نے وصیت میں کوئی تغیر و تبدل کیا ہے۔ اس طرح وہ اس حق کی ذمہ داری سے بری ہو جائیں گے جو ان پر ڈال دی گئی تھی۔ اگر میت کے اولیاء ان کی گواہی کو تسلیم نہ کریں اور وہ کوئی ایسا قرینہ پائیں جو گواہوں کے جھوٹ پر دلالت کرتا ہو۔ پس اگر میت کے اولیاء میں سے دو گواہ کھڑے ہو کر قسم اٹھائیں کہ ان کی گواہی پہلے گواہوں کی گواہی سے صحیح ہے اور یہ کہ پہلے گواہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے جھوٹ بولا ہے تو وہ ان پہلے گواہوں کے مقابلے میں اپنے دعوے میں مستحق قرار پائیں گے۔یہ آیات کریمہ تمیم داریt اور عدی بن بداء کے قصہ میں نازل ہوئی ہیں جو بہت مشہور ہے اور قصہ یوں ہے کہ عدوی(مفسر موصوف سے سہوہوا ہے۔ صحیح بخاری، ترمذی، ابن کثیر اور دیگر مفسرین کے نزدیک عدوی کی جگہ سہمی وارد ہوا ہے یعنی بنو سہم کا ایک آدمی) نے ان دونوں حضرات کے پاس وصیت کی تھی۔ واللہ اعلم(یہ قصہ اصل میں اس طرح ہے کہ حضرت تمیم داری (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اور عدی بن بداء، یہ دونوں نصرانی تھے اور تجارت کے لیے شام گئے ہوئے تھے۔ ایک مسلمان بدیل بن ابی مریم بھی وہاں گئے ہوئے تھے، وہاں بدیل سخت بیمار ہوگئے حتیٰ کہ زندگی سے مایوس ہوگئے۔ انہوں نے ان دونوں کو وصیت کی اور اپنا سامان بھی ان کے سپرد کردیا کہ وہ اسے ان کے گھر پہنچادیں ۔ ان دونوں نے اس سامان میں سے چاندی کا ایک پیالہ نکال کر بیچ دیا اور اس کی رقم آپس میں بانٹ لی۔ بعد میں ورثاء کو اس کا علم ہوا، تو رسول اللہﷺ نے ان سے حلف اٹھوایا۔ (صحیح البخاري، الوصایا، حدیث:2780۔ جامع الترمذي، التفسیر، حدیث: 3059)(ص۔ی)ان آیات کریمہ سے متعدد احکام پر استدلال کیا جاتا ہے۔(۱)وصیت کرنا مشروع ہے جس کی موت کا وقت قریب آ جائے تو اسے چاہیے کہ وصیت کرے۔(۲) جب موت کے مقدمات و آثار نمودار ہو جائیں تو مرنے والے کی وصیت اس وقت تک معتبر ہے جب تک اس کے ہوش و حواس قائم ہیں ۔ (۳) وصیت میں دو عادل گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔ (۴) وصیت اور اس قسم کے دیگر مواقع پر، بوقت ضرورت کفار کی گواہی مقبول ہے۔ یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ بہت سے اہل علم دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔ مگر نسخ کے اس دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں ۔ (۵) اس حکم کے اشارہ اور اس کے معنی سے مستفاد ہوتا ہے کہ مسلمان گواہوں کی عدم موجودگی میں وصیت کے علاوہ دیگر مسائل میں بھی کفار کی گواہی قابل قبول ہے۔ جیسا کہ یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ (۶) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر خوف کی بات نہ ہو تو کفار کی معیت میں سفر جائز ہے۔ (۷) تجارت کے لیے سفرکرنا جائز ہے۔ (۸) اگر دونوں گواہوں کی گواہی کے بارے میں شک ہو مگر ایسا کوئی قرینہ موجود نہ ہو جو ان کی خیانت پر دلالت کرتا ہو اور وصیت کرنے والے کے اولیاء ان گواہوں سے قسم لینا چاہتے ہوں تو وہ انھیں نماز کے بعد روک لیں اور ان سے اس طریقے سے قسم لیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ (۹) اگر ان دونوں کی گواہی میں کوئی شک اور تہمت نہ ہو تو ان کو روکنے اور ان سے قسم لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (۱۰) یہ آیت کریمہ شہادت کے معاملے کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شہادت کو اپنی طرف مضاف کیا ہے، نیز یہ کہ اس کو درخور اعتنا سمجھنا اور انصاف کے مطابق اس کو قائم کرنا واجب ہے۔ (۱۱) گواہوں کے بارے میں اگر شک ہو تو گواہوں کا امتحان اور ان کو علیحدہ علیحدہ کر کے گواہی لینا جائز ہے۔ تاکہ سچ اور جھوٹ کے اعتبار سے گواہی کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ (۱۲) جب ایسے قرائن پائے جائیں جو اس مسئلہ میں دونوں وصیّوں (گواہوں ) کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں تو میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری قسم ان کی قسم سے زیادہ سچی ہے۔ انھوں نے خیانت کی ہے اور جھوٹ کہا ہے پھر جس چیز کا وہ دعویٰ کرتے ہیں ان کے حوالے کر دی جائے گی۔ ان کی قسموں کے ساتھ، قرینہ، ثبوت کے قائم مقام ہے۔

المائدة 5:108

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شہادت ہونی چاہیے تمھارے درمیان جب آپہنچے کسی کو تم میں سے موت، وقت وصیت کے دو عادل شخصوں کی تم میں سے یا دو اور ہوں تم مسلمانوں کے سوا، اگر تم سفر کر رہے ہو زمین میں ، پھر پہنچے تمھیں مصیبت موت کی، روک لو ان دونوں کو بعد نماز کے، پس قسمیں کھائیں وہ اللہ کی اگر تم شک کرو (وہ کہیں ) ہم نہیں لیتے اس (قسم) کے بدلے کوئی قیمت، اگرچہ ہو وہ رشتے داراور نہیں چھپاتے ہم گواہی اللہ کی، یقینا ہم اس وقت گناہ گاروں میں سے ہوں گے(106) پھر اگر اطلاع ہو جائے اس پر کہ وہ دونوں مرتکب ہوئے ہیں گناہ کے تو دو اور گواہ کھڑے ہوں ان کی جگہ ان لوگوں میں سے جن کی حق تلفی ہوئی ہے، قریب تر (میت کے) ، پھر قسمیں کھائیں دونوں اللہ کی کہ ہماری شہادت زیادہ سچی ہے ان کی شہادت سے اور نہیں زیادتی کی ہم نے، بے شک ہم اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے(107) یہ (طریقہ) قریب تر ہے اس کے کہ دیں وہ شہادت ٹھیک طریقے پر یا ڈریں اس سے کہ رد کر دی جائیں گی قسمیں (ان کی) بعد ان (ورثاء) کی قسموں کےاور ڈرو تم اللہ سے اور سنواور اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق لوگوں کو(108) [106] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے جو کہ اس حکم کو متضمن ہے کہ جب انسان کی موت کی علامات اور اس کے مقدمات سامنے آ جائیں تو اپنی وصیت پر دو گواہ بنا لے۔ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی وصیت کو تحریر کروائے اور اس پر دو عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی ثبت کروائے۔ ﴿ اَوۡ اٰخَرٰنِ مِنۡ غَيۡرِكُمۡ ﴾ ’’یا دوسرے دو گواہ تمھارے سوا‘‘ یعنی مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ یہ سخت ضرورت اور حاجت کے وقت ہے جب یہود و نصاریٰ کے سوا مسلمانوں میں سے گواہ موجود نہ ہوں ﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب تم زمین میں سفر کر رہے ہو‘‘ ﴿ فَاَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةُ الۡمَوۡتِ﴾ ’’اور پہنچے تمھیں مصیبت موت کی‘‘ یعنی تم ان دونوں کو گواہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گواہ بنانے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ اس صورتحال میں ان کی گواہی مقبول ہے اور ان کے بارے میں مزید تاکید فرمائی کہ ان کو روک لیا جائے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’نماز کے بعد‘‘ جس نماز کی یہ تعظیم کرتے ہیں ﴿فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ ﴾ ’’پس وہ اللہ کی قسم اٹھائیں ‘‘ کہ انھوں نے سچ کہا ہے اور انھوں نے کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا ﴿ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تمھیں (ان کی گواہی میں ) شک ہو‘‘ اور اگر تم انھیں سچا سمجھتے ہو تو پھر ان سے قسم اٹھوانے کی ضرورت نہیں اور وہ قسم اٹھاتے وقت یہ الفاظ ادا کریں ﴿ لَا نَشۡتَرِيۡ بِهٖ ﴾ ’’نہیں حاصل کرتے ہم اس کے بدلے‘‘ یعنی اپنی قسموں کے بدلے ﴿ ثَمَنًا ﴾ ’’کوئی مال‘‘ یعنی دنیاوی فائدے کی خاطر ہم جھوٹی قسم نہیں اٹھائیں گے ﴿ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾ ’’اگرچہ ہم کو کسی سے قرابت بھی ہو‘‘ یعنی اس کے ساتھ اپنی قرابت داری کی وجہ سے اس سے کوئی رعایت نہیں کریں گے ﴿وَلَا نَؔكۡتُمُ شَهَادَةَ اللّٰهِ﴾ ’’اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے‘‘ بلکہ ہم اسی طرح شہادت کو ادا کریں گے جس طرح ہم نے سنی ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک تب ہم‘‘ یعنی اگر ہم گواہی کو چھپائیں ﴿لَّمِنَ الۡاٰثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو یقینا گناہ گاروں میں سے ہوں گے‘‘۔ [107]﴿ فَاِنۡ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا ﴾ ’’پھر اگر خبر ہوجائے کہ یہ دونوں ‘‘ یعنی دونوں گواہ ﴿ اسۡتَحَقَّـاۤ اِثۡمًا ﴾ ’’حق بات دبا گئے ہیں ‘‘ یعنی اگر ایسے قرائن پائے جائیں جو ان کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں اور جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ انھوں نے خیانت کی ہے تو جن لوگوں کا انھوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں جو میت کے زیادہ قریبی ہوں ، یعنی میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور وہ دونوں میت کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں۔ ﴿ فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنۡ شَهَادَتِهِمَا ﴾’’پس وہ دونوں قسم کھائیں اللہ کی، کہ ہماری گواہی زیادہ صحیح ہے پہلوں کی گواہی سے‘‘ یعنی انھوں نے جھوٹ بولا ہے اور وہ وصیت میں تغیر و تبدل کر کے خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں ﴿ وَمَا اعۡتَدَيۡنَاۤ١ۖٞ اِنَّـاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے زیادتی نہیں کی، نہیں تو بے شک ہم ظالموں میں سے ہوں گے‘‘ یعنی اگر ہم نے ظلم اور زیادتی کی اور ناحق گواہی دی۔ [108] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس گواہی، اس کی تاکید اور دونوں گواہوں سے خیانت ظاہر ہونے پر گواہی کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹانے کی حکمت بیان کی ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ اَدۡنٰۤى ﴾ ’’اس طریق سے بہت قریب ہے۔‘‘ یعنی یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے ﴿ اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجۡهِهَاۤ ﴾ ’’کہ وہ ادا کریں گواہی کو ٹھیک طریقے پر‘‘ یعنی جب ان گواہوں کو مذکورہ تاکیدات کے ذریعے سے تاکید کی جائے گی ﴿ اَوۡ يَخَافُوۡۤا اَنۡ تُرَدَّ اَيۡمَانٌۢ بَعۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ ﴾ ’’اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی۔‘‘ یعنی ان کو خوف ہو گا کہ ان کی قسمیں قبول نہیں کی جائیں گی اور ان قسموں کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹا دیا جائے گا ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف فسق ہے جو ہدایت چاہتے ہیں، نہ راہ راست پر چلنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں ۔ ان آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ سفر وغیرہ میں جب میت کی موت کا وقت آ جائے اور وہ ایسی جگہ پر ہو جہاں گمان یہ ہو کہ معتبر گواہ بہت کم ہوں گے تو میت کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ دو مسلمان عادل گواہوں کے سامنے وصیت کرے اور اگر صرف دو کافر گواہ مہیا ہو سکیں تو ان کے پاس بھی وصیت کرنا جائز ہے۔اگر ان گواہوں کے کفر کی وجہ سے میت کے اولیاء ان کے بارے میں شک کریں تو نماز کے بعد ان سے حلف لیں کہ انھوں نے خیانت کا ارتکاب کیا ہے نہ جھوٹ بولا ہے اور نہ انھوں نے وصیت میں کوئی تغیر و تبدل کیا ہے۔ اس طرح وہ اس حق کی ذمہ داری سے بری ہو جائیں گے جو ان پر ڈال دی گئی تھی۔ اگر میت کے اولیاء ان کی گواہی کو تسلیم نہ کریں اور وہ کوئی ایسا قرینہ پائیں جو گواہوں کے جھوٹ پر دلالت کرتا ہو۔ پس اگر میت کے اولیاء میں سے دو گواہ کھڑے ہو کر قسم اٹھائیں کہ ان کی گواہی پہلے گواہوں کی گواہی سے صحیح ہے اور یہ کہ پہلے گواہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے جھوٹ بولا ہے تو وہ ان پہلے گواہوں کے مقابلے میں اپنے دعوے میں مستحق قرار پائیں گے۔یہ آیات کریمہ تمیم داریt اور عدی بن بداء کے قصہ میں نازل ہوئی ہیں جو بہت مشہور ہے اور قصہ یوں ہے کہ عدوی(مفسر موصوف سے سہوہوا ہے۔ صحیح بخاری، ترمذی، ابن کثیر اور دیگر مفسرین کے نزدیک عدوی کی جگہ سہمی وارد ہوا ہے یعنی بنو سہم کا ایک آدمی) نے ان دونوں حضرات کے پاس وصیت کی تھی۔ واللہ اعلم(یہ قصہ اصل میں اس طرح ہے کہ حضرت تمیم داری (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اور عدی بن بداء، یہ دونوں نصرانی تھے اور تجارت کے لیے شام گئے ہوئے تھے۔ ایک مسلمان بدیل بن ابی مریم بھی وہاں گئے ہوئے تھے، وہاں بدیل سخت بیمار ہوگئے حتیٰ کہ زندگی سے مایوس ہوگئے۔ انہوں نے ان دونوں کو وصیت کی اور اپنا سامان بھی ان کے سپرد کردیا کہ وہ اسے ان کے گھر پہنچادیں ۔ ان دونوں نے اس سامان میں سے چاندی کا ایک پیالہ نکال کر بیچ دیا اور اس کی رقم آپس میں بانٹ لی۔ بعد میں ورثاء کو اس کا علم ہوا، تو رسول اللہﷺ نے ان سے حلف اٹھوایا۔ (صحیح البخاري، الوصایا، حدیث:2780۔ جامع الترمذي، التفسیر، حدیث: 3059)(ص۔ی)ان آیات کریمہ سے متعدد احکام پر استدلال کیا جاتا ہے۔(۱)وصیت کرنا مشروع ہے جس کی موت کا وقت قریب آ جائے تو اسے چاہیے کہ وصیت کرے۔(۲) جب موت کے مقدمات و آثار نمودار ہو جائیں تو مرنے والے کی وصیت اس وقت تک معتبر ہے جب تک اس کے ہوش و حواس قائم ہیں ۔ (۳) وصیت میں دو عادل گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔ (۴) وصیت اور اس قسم کے دیگر مواقع پر، بوقت ضرورت کفار کی گواہی مقبول ہے۔ یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ بہت سے اہل علم دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔ مگر نسخ کے اس دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں ۔ (۵) اس حکم کے اشارہ اور اس کے معنی سے مستفاد ہوتا ہے کہ مسلمان گواہوں کی عدم موجودگی میں وصیت کے علاوہ دیگر مسائل میں بھی کفار کی گواہی قابل قبول ہے۔ جیسا کہ یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ (۶) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر خوف کی بات نہ ہو تو کفار کی معیت میں سفر جائز ہے۔ (۷) تجارت کے لیے سفرکرنا جائز ہے۔ (۸) اگر دونوں گواہوں کی گواہی کے بارے میں شک ہو مگر ایسا کوئی قرینہ موجود نہ ہو جو ان کی خیانت پر دلالت کرتا ہو اور وصیت کرنے والے کے اولیاء ان گواہوں سے قسم لینا چاہتے ہوں تو وہ انھیں نماز کے بعد روک لیں اور ان سے اس طریقے سے قسم لیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ (۹) اگر ان دونوں کی گواہی میں کوئی شک اور تہمت نہ ہو تو ان کو روکنے اور ان سے قسم لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (۱۰) یہ آیت کریمہ شہادت کے معاملے کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شہادت کو اپنی طرف مضاف کیا ہے، نیز یہ کہ اس کو درخور اعتنا سمجھنا اور انصاف کے مطابق اس کو قائم کرنا واجب ہے۔ (۱۱) گواہوں کے بارے میں اگر شک ہو تو گواہوں کا امتحان اور ان کو علیحدہ علیحدہ کر کے گواہی لینا جائز ہے۔ تاکہ سچ اور جھوٹ کے اعتبار سے گواہی کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ (۱۲) جب ایسے قرائن پائے جائیں جو اس مسئلہ میں دونوں وصیّوں (گواہوں ) کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں تو میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری قسم ان کی قسم سے زیادہ سچی ہے۔ انھوں نے خیانت کی ہے اور جھوٹ کہا ہے پھر جس چیز کا وہ دعویٰ کرتے ہیں ان کے حوالے کر دی جائے گی۔ ان کی قسموں کے ساتھ، قرینہ، ثبوت کے قائم مقام ہے۔

المائدة 5:109

جس دن جمع کرے گا اللہ رسولوں کو، پس کہے گا کیا جواب دیے گئے تھے تم؟ وہ کہیں گے نہیں علم ہمیں ، بے شک تو ہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(109)جس وقت کہے گا اللہ، اے عیسیٰ ابن مریم! یاد کر تو میری نعمت (جو ہوئی) تجھ پر اور تیری والدہ پر، جب قوت دی میں نے تجھے ساتھ روح القدس کے، کلام کرتا تھا تو لوگوں سے گود میں اور پختہ عمر میں اور جب تعلیم دی میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی اور جب بناتا تھا تو گارے سے مانند شکل پرندے کی میرے حکم سے، پھر پھونک مارتا اس میں تو ہو جاتا وہ پرندہ، میرے حکم سےاور تندرست کرتا تھا تو پیدائشی نابینے کو اور برص والے کو میرے حکم سےاور جب (زندہ) نکالتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب لایا تھا تو ان کے پاس واضح دلیلیں تو کہا تھا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر(110) [109] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن اور اس کی ہولناکیوں کے بارے میں خبر دیتا ہے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے پوچھے گا ﴿مَاذَاۤ اُجِبۡتُمۡ ﴾ ’’تمھیں کیا جواب ملا تھا۔‘‘ یعنی اس بارے میں تمھاری امتوں نے کیا جواب دیا ﴿ قَالُوۡا لَا عِلۡمَ لَنَا ﴾ ’’وہ جواب دیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں ۔‘‘ تجھے ہی علم ہے۔ اے ہمارے رب! تو ہم سے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تو حاضر و غائب تمام امور کو جانتا ہے۔ [110]﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ اذۡكُرۡ نِعۡمَتِيۡ عَلَيۡكَ وَعَلٰى وَالِدَتِكَ ﴾ ’’جبکہ ا اللہ نے، اے عیسیٰ بن مریم! یاد کر میری نعمت جو تجھ پر اور تیری ماں پر ہوئی‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان سے یاد کیجیے اور اس کے واجبات کو ادا کر کے اپنے رب کا شکر کیجیے۔ کیونکہ اس نے آپ کو اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جو کسی دوسرے کو عطا نہیں کیں ۔ ﴿ اِذۡ اَيَّدۡتُّكَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ﴾ ’’جب میں نے روح القدس سے تیری مدد کی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تجھ کو روح اور وحی کے ذریعے سے تقویت دی، جس نے تجھ کو پاک کیا اور تجھ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی طرف دعوت دینے کی قوت حاصل ہوئی اور بعض نے کہا کہ روح القدس سے مراد جبریل ہیں ۔ بڑے بڑے سخت مقامات پر اللہ تعالیٰ نے جبریل کی ملازمت (ساتھ رہنے)اور ان کے ذریعے سے ثبات عطا کر کے جناب عیسیٰu کی مدد فرمائی۔﴿ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا ﴾ ’’تو کلام کرتا تھا لوگوں سے گود میں اور بڑی عمر میں ‘‘ یہاں کلام کرنے سے مراد مجرد کلام کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ کلام ہے جس سے متکلم اور مخاطب دونوں مستفید ہوں ۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا۔ جناب عیسیٰ کو اس عمر میں رسالت، بھلائیوں کی طرف دعوت اور برائیوں سے روکنے کی ذمہ داری عطا کر دی گئی اور دیگر اولو العزم انبیا و مرسلین کو بڑی عمر میں یہ ذمہ داری عطا کی گئی تھی۔ حضرت عیسیٰ تمام انبیائے کرام میں اس بنا پر ممتاز ہیں کہ انھوں نے پنگھوڑے میں کلام فرمایا ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّاۙ۰۰وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ١۪ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا﴾(مریم: 19؍30،31)’’میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا کی اور مجھے نبی بنایا اور میں جہاں کہیں بھی ہوں مجھے بابرکت بنایا۔ جب تک میں زندہ رہوں مجھے نماز اور زکٰوۃ کی وصیت فرمائی‘‘۔﴿وَاِذۡ عَلَّمۡتُكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور جب سکھلائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت‘‘ یہ کتاب تمام کتب سابقہ خصوصاً تورات کو شامل ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰu جناب موسیٰ کے بعد تورات کے سب سے بڑے عالم تھے۔۔۔ اور انجیل کو بھی شامل ہے جو ان پر نازل کی گئی.... حکمت سے اسرار شریعت، اس کے فوائد اور اس کی حکمتوں کی معرفت، دعوت و تعلیم کی خوبی اور تمام امور کا ان کی اہمیت اور مناسبت کے مطابق خیال رکھنا مراد ہے۔ ﴿وَاِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’اور جب تو بناتا تھا گارے سے جانور کی سی صورت‘‘ یعنی پرندوں کی تصویر جس میں روح نہیں ہوتی ﴿بِـاِذۡنِيۡ فَتَنۡفُخُ فِيۡهَا فَتَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِيۡ وَتُبۡرِئُ الۡاَكۡمَهَ ﴾ ’’پھر تو اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے والا ہو جاتا اور اچھا کرتا تھا تو مادر زاد اندھے کو‘‘ (اَ لْاَکْمَہَ) اس شخص کو کہتے ہیں جس کی بینائی ہو نہ آنکھ ﴿وَالۡاَبۡرَصَ بِـاِذۡنِيۡ١ۚ وَاِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِيۡ ﴾’’اور کوڑھی کو، میرے حکم سے اور جب نکال کھڑا کرتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے‘‘ یہ واضح نشانیاں اور نمایاں معجزات ہیں جن سے بڑے بڑے اطباء وغیرہ بھی عاجز ہیں ۔ ان معجزات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰu کی مدد فرمائی اور اس کے ذریعے سے ان کی دعوت کو تقویت بخشی۔﴿وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو لے کر آیا ان کے پاس نشانیاں تو کہا ان لوگوں نے جو ان میں سے کافر تھے‘‘ یعنی جب ان کے پاس حق آ گیا جس کی ایسے دلائل کے ساتھ تائید کی گئی تھی جن پر ایمان لانا واجب ہے تو انھوں نے کہا ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اور انھوں نے جناب عیسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ روک دیے اور حضرت عیسیٰ کی ان سے حفاظت کی اور ان کو ان کے شر سے بچا لیا۔ پس یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے احسانات جن سے اس نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم کو نوازا اور ان کو ان احسانات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور ان کو قائم کرنے کا حکم دیا۔۔۔ حضرت عیسیٰ نے ان احسانات کے تقاضوں کو پوری طرح ادا کیا اور اس راہ کی سختیوں پر اسی طرح صبر کیا جس طرح دیگر اولو العزم انبیا و رسل نے صبر کیا تھا۔

المائدة 5:110

جس دن جمع کرے گا اللہ رسولوں کو، پس کہے گا کیا جواب دیے گئے تھے تم؟ وہ کہیں گے نہیں علم ہمیں ، بے شک تو ہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(109)جس وقت کہے گا اللہ، اے عیسیٰ ابن مریم! یاد کر تو میری نعمت (جو ہوئی) تجھ پر اور تیری والدہ پر، جب قوت دی میں نے تجھے ساتھ روح القدس کے، کلام کرتا تھا تو لوگوں سے گود میں اور پختہ عمر میں اور جب تعلیم دی میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی اور جب بناتا تھا تو گارے سے مانند شکل پرندے کی میرے حکم سے، پھر پھونک مارتا اس میں تو ہو جاتا وہ پرندہ، میرے حکم سےاور تندرست کرتا تھا تو پیدائشی نابینے کو اور برص والے کو میرے حکم سےاور جب (زندہ) نکالتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب لایا تھا تو ان کے پاس واضح دلیلیں تو کہا تھا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر(110) [109] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن اور اس کی ہولناکیوں کے بارے میں خبر دیتا ہے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے پوچھے گا ﴿مَاذَاۤ اُجِبۡتُمۡ ﴾ ’’تمھیں کیا جواب ملا تھا۔‘‘ یعنی اس بارے میں تمھاری امتوں نے کیا جواب دیا ﴿ قَالُوۡا لَا عِلۡمَ لَنَا ﴾ ’’وہ جواب دیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں ۔‘‘ تجھے ہی علم ہے۔ اے ہمارے رب! تو ہم سے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تو حاضر و غائب تمام امور کو جانتا ہے۔ [110]﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ اذۡكُرۡ نِعۡمَتِيۡ عَلَيۡكَ وَعَلٰى وَالِدَتِكَ ﴾ ’’جبکہ ا اللہ نے، اے عیسیٰ بن مریم! یاد کر میری نعمت جو تجھ پر اور تیری ماں پر ہوئی‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان سے یاد کیجیے اور اس کے واجبات کو ادا کر کے اپنے رب کا شکر کیجیے۔ کیونکہ اس نے آپ کو اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جو کسی دوسرے کو عطا نہیں کیں ۔ ﴿ اِذۡ اَيَّدۡتُّكَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ﴾ ’’جب میں نے روح القدس سے تیری مدد کی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تجھ کو روح اور وحی کے ذریعے سے تقویت دی، جس نے تجھ کو پاک کیا اور تجھ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی طرف دعوت دینے کی قوت حاصل ہوئی اور بعض نے کہا کہ روح القدس سے مراد جبریل ہیں ۔ بڑے بڑے سخت مقامات پر اللہ تعالیٰ نے جبریل کی ملازمت (ساتھ رہنے)اور ان کے ذریعے سے ثبات عطا کر کے جناب عیسیٰu کی مدد فرمائی۔﴿ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا ﴾ ’’تو کلام کرتا تھا لوگوں سے گود میں اور بڑی عمر میں ‘‘ یہاں کلام کرنے سے مراد مجرد کلام کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ کلام ہے جس سے متکلم اور مخاطب دونوں مستفید ہوں ۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا۔ جناب عیسیٰ کو اس عمر میں رسالت، بھلائیوں کی طرف دعوت اور برائیوں سے روکنے کی ذمہ داری عطا کر دی گئی اور دیگر اولو العزم انبیا و مرسلین کو بڑی عمر میں یہ ذمہ داری عطا کی گئی تھی۔ حضرت عیسیٰ تمام انبیائے کرام میں اس بنا پر ممتاز ہیں کہ انھوں نے پنگھوڑے میں کلام فرمایا ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّاۙ۰۰وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ١۪ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا﴾(مریم: 19؍30،31)’’میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا کی اور مجھے نبی بنایا اور میں جہاں کہیں بھی ہوں مجھے بابرکت بنایا۔ جب تک میں زندہ رہوں مجھے نماز اور زکٰوۃ کی وصیت فرمائی‘‘۔﴿وَاِذۡ عَلَّمۡتُكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور جب سکھلائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت‘‘ یہ کتاب تمام کتب سابقہ خصوصاً تورات کو شامل ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰu جناب موسیٰ کے بعد تورات کے سب سے بڑے عالم تھے۔۔۔ اور انجیل کو بھی شامل ہے جو ان پر نازل کی گئی.... حکمت سے اسرار شریعت، اس کے فوائد اور اس کی حکمتوں کی معرفت، دعوت و تعلیم کی خوبی اور تمام امور کا ان کی اہمیت اور مناسبت کے مطابق خیال رکھنا مراد ہے۔ ﴿وَاِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’اور جب تو بناتا تھا گارے سے جانور کی سی صورت‘‘ یعنی پرندوں کی تصویر جس میں روح نہیں ہوتی ﴿بِـاِذۡنِيۡ فَتَنۡفُخُ فِيۡهَا فَتَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِيۡ وَتُبۡرِئُ الۡاَكۡمَهَ ﴾ ’’پھر تو اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے والا ہو جاتا اور اچھا کرتا تھا تو مادر زاد اندھے کو‘‘ (اَ لْاَکْمَہَ) اس شخص کو کہتے ہیں جس کی بینائی ہو نہ آنکھ ﴿وَالۡاَبۡرَصَ بِـاِذۡنِيۡ١ۚ وَاِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِيۡ ﴾’’اور کوڑھی کو، میرے حکم سے اور جب نکال کھڑا کرتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے‘‘ یہ واضح نشانیاں اور نمایاں معجزات ہیں جن سے بڑے بڑے اطباء وغیرہ بھی عاجز ہیں ۔ ان معجزات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰu کی مدد فرمائی اور اس کے ذریعے سے ان کی دعوت کو تقویت بخشی۔﴿وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو لے کر آیا ان کے پاس نشانیاں تو کہا ان لوگوں نے جو ان میں سے کافر تھے‘‘ یعنی جب ان کے پاس حق آ گیا جس کی ایسے دلائل کے ساتھ تائید کی گئی تھی جن پر ایمان لانا واجب ہے تو انھوں نے کہا ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اور انھوں نے جناب عیسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ روک دیے اور حضرت عیسیٰ کی ان سے حفاظت کی اور ان کو ان کے شر سے بچا لیا۔ پس یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے احسانات جن سے اس نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم کو نوازا اور ان کو ان احسانات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور ان کو قائم کرنے کا حکم دیا۔۔۔ حضرت عیسیٰ نے ان احسانات کے تقاضوں کو پوری طرح ادا کیا اور اس راہ کی سختیوں پر اسی طرح صبر کیا جس طرح دیگر اولو العزم انبیا و رسل نے صبر کیا تھا۔

المائدة 5:111

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120) [120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔

المائدة 5:112

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120) [120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔

المائدة 5:113

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120) [120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔

المائدة 5:114

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120) [120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔

المائدة 5:115

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120) [120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔

المائدة 5:116

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120) [120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔

المائدة 5:117

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120) [120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔

المائدة 5:118

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120) [120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔

المائدة 5:119

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120) [120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔

المائدة 5:120

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120) [120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔