Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — يونس 10:76 – يونس 10:109

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. يونس 10:76
  2. يونس 10:77
  3. يونس 10:78
  4. يونس 10:79
  5. يونس 10:80
  6. يونس 10:81
  7. يونس 10:82
  8. يونس 10:83
  9. يونس 10:84
  10. يونس 10:85
  11. يونس 10:86
  12. يونس 10:87
  13. يونس 10:88
  14. يونس 10:89
  15. يونس 10:90
  16. يونس 10:91
  17. يونس 10:92
  18. يونس 10:93
  19. يونس 10:94
  20. يونس 10:95
  21. يونس 10:96
  22. يونس 10:97
  23. يونس 10:98
  24. يونس 10:99
  25. يونس 10:100
  26. يونس 10:101
  27. يونس 10:102
  28. يونس 10:103
  29. يونس 10:104
  30. يونس 10:105
  31. يونس 10:106
  32. يونس 10:107
  33. يونس 10:108
  34. يونس 10:109

يونس 10:76

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:77

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:78

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:79

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:80

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:81

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:82

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:83

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:84

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:85

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:86

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:87

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:88

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:89

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:90

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:91

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:92

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:93

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93) [75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔ [76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ [77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔ [78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔ [79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔ [80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔ [81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ [82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ [83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔ [84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ [85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ [86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔ [87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔ [88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔ [89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔ [90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔ [91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔ [92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ [93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔

يونس 10:94

پس اگر ہوں آپ شک میں اس (کتاب) سے جو نازل کی ہم نے آپ کی طرف تو پوچھیے ان لوگوں سے جو پڑھتے ہیں کتاب آپ سے پہلے، ، البتہ تحقیق آگیا ہے آپ کے پاس حق آپ کے رب کی طرف سے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے (94)اور نہ ہوں آپ ان لوگوں میں سے جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو، پس ہو جائیں گے آپ (اس طرح) خسارہ پانے والوں میں سے (95) [94] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ فَاِنۡ كُنۡتَ فِيۡ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ﴾ ’’اگر آپ اس کی بابت شک میں ہیں جو ہم نے آپ کی طرف اتارا‘‘ کہ آیا یہ صحیح ہے یا غیر صحیح ہے؟ ﴿ فَسۡـَٔلِ الَّذِيۡنَ يَقۡرَءُوۡنَ الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكَ﴾’’تو ان سے پوچھ لیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں ‘‘ یعنی انصاف پسند اہل کتاب اور راسخ العلم علماء سے پوچھیے وہ اس چیز کی صداقت کا اقرار کریں گے جس کی آپ کو خبر دی گئی ہے اور وہ یہ بھی اعتراف کریں گے وہ اس ہدایت کے موافق ہے جو ان کے پاس ہے۔اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ میں سے بہت سے لوگوں نے بلکہ ان میں سے اکثر لوگوں نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی، آپ سے عناد رکھا اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ اہل کتاب سے اپنی صداقت پر گواہی لیں اور ان کی گواہی کو اپنی دعوت پر حجت اور اپنی صداقت پر دلیل بنائیں ... یہ کیسے ہو سکتا ہے؟اس کا جواب متعدد پہلوؤں سے دیا جاتا ہے۔(۱) جب شہادت کی اضافت کسی گروہ، کسی مذہب کے ماننے والوں یا کسی شہر کے لوگوں کی طرف کی جاتی ہے تو اس کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو ان میں عادل اور سچے ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ خواہ اکثریت ہی میں کیوں نہ ہوں ، ان کی شہادت معتبر نہیں کیونکہ شہادت، عدالت اور صدق پر مبنی ہوتی ہے اور یہ مقصد بہت سے ربانی احبار کے ایمان سے حاصل ہوگیا تھا، مثلاً:عبداللہ بن سلامt اور ان کے اصحاب اور بہت سے دیگر اہل کتاب جو نبی اکرمﷺ اور آپ کے خلفاء کے عہد میں اور بعد کے زمانوں میں ایمان لاتے رہے۔(۲)رسول اللہﷺ کی صداقت پر اہل کتاب کی شہادت دراصل ان کی کتاب تورات، جس کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ، کے بیان پر مبنی ہے جب تورات میں ایسا مواد موجود ہو جو قرآن کی موافقت اور اس کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی صحت کی شہادت دیتا ہو، تب اگر اولین و آخرین تمام اہل کتاب اس کے انکار پر متفق ہو جائیں تو ان کا یہ انکار رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے قرآن میں قادح نہیں ۔(۳)اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ اپنے لائے ہوئے قرآن کی صداقت پر اہل کتاب سے استشہاد کریں اور ظاہر ہے کہ یہ حکم علی الاعلان دیا گیا تھا اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اہل کتاب میں بہت سے لوگ رسول اللہﷺ کی دعوت کے ابطال کے بڑے حریص تھے۔ اگر ان کے پاس کوئی ایسا مواد موجود ہوتا جو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو رد کرسکتا تو وہ ضرور اسے پیش کرتے چونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی اس لیے دشمنوں کا عدم جواب اور مستجیب کا اقرار اس قرآن اور صداقت پر سب سے بڑی دلیل ہے۔(۴) اکثر اہل کتاب ایسے نہ تھے جنھوں نے رسول اللہﷺ کی دعوت کو رد کر دیا ہو بلکہ ان میں سے اکثر ایسے لوگ تھے جنھوں نے آپ کی دعوت کو قبول کر لیا تھا اور انھوں نے اپنے اختیار سے آپ کی اطاعت کی کیونکہ جب رسول اللہﷺ مبعوث ہوئے تو روئے زمین پر اکثر لوگ اہل کتاب تھے۔ اسلام پر زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ شام، مصر، عراق اور ان کے آس پاس کے علاقوں کے اکثر لوگ مسلمان ہوگئے، یہ ممالک اہل کتاب کے مذہب کا گڑھ تھے۔ اسلام قبول کرنے سے صرف وہی لوگ باقی رہ گئے تھے جن کے پاس سرداریاں تھیں اور جنھوں نے اپنی سرداریوں کو حق پر ترجیح دی تھی، نیز وہ لوگ باقی رہ گئے جنھوں نے ان سرداروں کی پیروی کی جو حقیقی طور پر نہیں بلکہ برائے نام اس دین کی طرف منسوب تھے، مثلاً:فرنگی، جن کے دین کی حقیقت یہ ہے کہ وہ دہریے ہیں اور تمام انبیاء و مرسلین کے مذاہب کے دائرے سے خارج ہیں وہ صرف ملکی رواج کے طور پر اور اپنے باطل پر ملمع کی خاطر دین مسیح کی طرف منسوب ہیں ۔ جیسا کہ ان کے حالات کی معرفت رکھنے والے جانتے ہیں ۔﴿ لَقَدۡ جَآءَكَ الۡحَقُّ﴾’’تحقیق آ گیا آپ کے پاس حق‘‘ جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ ’’آپ کے رب کی طرف سے، پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ‘‘ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾(الاعراف:7؍2) ’’یہ کتاب ہے جو آپ پر نازل کی گئی ہے، پس آپ کے دل میں کوئی تنگی نہیں آنی چاہیے۔‘‘ [95]﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوۡنَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا پس آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘ ان دونوں آیات کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن کریم کے بارے میں ) دو چیزوں سے منع کیا ہے۔۱۔ قرآن مجید میں شک کرنا اور اس کے بارے میں جھگڑنا۔۲۔ اور اس سے بھی شدید تر چیز اس کی تکذیب کرنا ہے، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی واضح آیات ہیں جن کو کسی لحاظ سے بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا اور تکذیب کا نتیجہ خسارہ ہے اور وہ ہے منافع کا بالکل معدوم ہونا اور یہ خسارہ دنیا و آخرت کے ثواب کے فوت ہونے اور دنیا و آخرت کے عذاب سے لاحق ہوتا ہے۔ کسی چیز سے روکنا دراصل اس کی ضد کا حکم دینا ہے۔ تب قرآن کی تکذیب سے منع کرنا درحقیقت قرآن کی تصدیق کامل، اس پر طمانیت قلب اور علم و عمل کے اعتبار سے اس کی طرف توجہ دینے کا نام ہے اور یوں بندۂ مومن نفع کمانے والوں میں شامل ہو جاتا ہے جو جلیل ترین مقاصد بہترین خواہشات اور کامل ترین مناقب کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس خسارے کی نفی ہو جاتی ہے۔

يونس 10:95

پس اگر ہوں آپ شک میں اس (کتاب) سے جو نازل کی ہم نے آپ کی طرف تو پوچھیے ان لوگوں سے جو پڑھتے ہیں کتاب آپ سے پہلے، ، البتہ تحقیق آگیا ہے آپ کے پاس حق آپ کے رب کی طرف سے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے (94)اور نہ ہوں آپ ان لوگوں میں سے جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو، پس ہو جائیں گے آپ (اس طرح) خسارہ پانے والوں میں سے (95) [94] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ فَاِنۡ كُنۡتَ فِيۡ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ﴾ ’’اگر آپ اس کی بابت شک میں ہیں جو ہم نے آپ کی طرف اتارا‘‘ کہ آیا یہ صحیح ہے یا غیر صحیح ہے؟ ﴿ فَسۡـَٔلِ الَّذِيۡنَ يَقۡرَءُوۡنَ الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكَ﴾’’تو ان سے پوچھ لیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں ‘‘ یعنی انصاف پسند اہل کتاب اور راسخ العلم علماء سے پوچھیے وہ اس چیز کی صداقت کا اقرار کریں گے جس کی آپ کو خبر دی گئی ہے اور وہ یہ بھی اعتراف کریں گے وہ اس ہدایت کے موافق ہے جو ان کے پاس ہے۔اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ میں سے بہت سے لوگوں نے بلکہ ان میں سے اکثر لوگوں نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی، آپ سے عناد رکھا اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ اہل کتاب سے اپنی صداقت پر گواہی لیں اور ان کی گواہی کو اپنی دعوت پر حجت اور اپنی صداقت پر دلیل بنائیں ... یہ کیسے ہو سکتا ہے؟اس کا جواب متعدد پہلوؤں سے دیا جاتا ہے۔(۱) جب شہادت کی اضافت کسی گروہ، کسی مذہب کے ماننے والوں یا کسی شہر کے لوگوں کی طرف کی جاتی ہے تو اس کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو ان میں عادل اور سچے ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ خواہ اکثریت ہی میں کیوں نہ ہوں ، ان کی شہادت معتبر نہیں کیونکہ شہادت، عدالت اور صدق پر مبنی ہوتی ہے اور یہ مقصد بہت سے ربانی احبار کے ایمان سے حاصل ہوگیا تھا، مثلاً:عبداللہ بن سلامt اور ان کے اصحاب اور بہت سے دیگر اہل کتاب جو نبی اکرمﷺ اور آپ کے خلفاء کے عہد میں اور بعد کے زمانوں میں ایمان لاتے رہے۔(۲)رسول اللہﷺ کی صداقت پر اہل کتاب کی شہادت دراصل ان کی کتاب تورات، جس کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ، کے بیان پر مبنی ہے جب تورات میں ایسا مواد موجود ہو جو قرآن کی موافقت اور اس کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی صحت کی شہادت دیتا ہو، تب اگر اولین و آخرین تمام اہل کتاب اس کے انکار پر متفق ہو جائیں تو ان کا یہ انکار رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے قرآن میں قادح نہیں ۔(۳)اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ اپنے لائے ہوئے قرآن کی صداقت پر اہل کتاب سے استشہاد کریں اور ظاہر ہے کہ یہ حکم علی الاعلان دیا گیا تھا اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اہل کتاب میں بہت سے لوگ رسول اللہﷺ کی دعوت کے ابطال کے بڑے حریص تھے۔ اگر ان کے پاس کوئی ایسا مواد موجود ہوتا جو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو رد کرسکتا تو وہ ضرور اسے پیش کرتے چونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی اس لیے دشمنوں کا عدم جواب اور مستجیب کا اقرار اس قرآن اور صداقت پر سب سے بڑی دلیل ہے۔(۴) اکثر اہل کتاب ایسے نہ تھے جنھوں نے رسول اللہﷺ کی دعوت کو رد کر دیا ہو بلکہ ان میں سے اکثر ایسے لوگ تھے جنھوں نے آپ کی دعوت کو قبول کر لیا تھا اور انھوں نے اپنے اختیار سے آپ کی اطاعت کی کیونکہ جب رسول اللہﷺ مبعوث ہوئے تو روئے زمین پر اکثر لوگ اہل کتاب تھے۔ اسلام پر زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ شام، مصر، عراق اور ان کے آس پاس کے علاقوں کے اکثر لوگ مسلمان ہوگئے، یہ ممالک اہل کتاب کے مذہب کا گڑھ تھے۔ اسلام قبول کرنے سے صرف وہی لوگ باقی رہ گئے تھے جن کے پاس سرداریاں تھیں اور جنھوں نے اپنی سرداریوں کو حق پر ترجیح دی تھی، نیز وہ لوگ باقی رہ گئے جنھوں نے ان سرداروں کی پیروی کی جو حقیقی طور پر نہیں بلکہ برائے نام اس دین کی طرف منسوب تھے، مثلاً:فرنگی، جن کے دین کی حقیقت یہ ہے کہ وہ دہریے ہیں اور تمام انبیاء و مرسلین کے مذاہب کے دائرے سے خارج ہیں وہ صرف ملکی رواج کے طور پر اور اپنے باطل پر ملمع کی خاطر دین مسیح کی طرف منسوب ہیں ۔ جیسا کہ ان کے حالات کی معرفت رکھنے والے جانتے ہیں ۔﴿ لَقَدۡ جَآءَكَ الۡحَقُّ﴾’’تحقیق آ گیا آپ کے پاس حق‘‘ جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ ’’آپ کے رب کی طرف سے، پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ‘‘ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾(الاعراف:7؍2) ’’یہ کتاب ہے جو آپ پر نازل کی گئی ہے، پس آپ کے دل میں کوئی تنگی نہیں آنی چاہیے۔‘‘ [95]﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوۡنَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا پس آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘ ان دونوں آیات کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن کریم کے بارے میں ) دو چیزوں سے منع کیا ہے۔۱۔ قرآن مجید میں شک کرنا اور اس کے بارے میں جھگڑنا۔۲۔ اور اس سے بھی شدید تر چیز اس کی تکذیب کرنا ہے، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی واضح آیات ہیں جن کو کسی لحاظ سے بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا اور تکذیب کا نتیجہ خسارہ ہے اور وہ ہے منافع کا بالکل معدوم ہونا اور یہ خسارہ دنیا و آخرت کے ثواب کے فوت ہونے اور دنیا و آخرت کے عذاب سے لاحق ہوتا ہے۔ کسی چیز سے روکنا دراصل اس کی ضد کا حکم دینا ہے۔ تب قرآن کی تکذیب سے منع کرنا درحقیقت قرآن کی تصدیق کامل، اس پر طمانیت قلب اور علم و عمل کے اعتبار سے اس کی طرف توجہ دینے کا نام ہے اور یوں بندۂ مومن نفع کمانے والوں میں شامل ہو جاتا ہے جو جلیل ترین مقاصد بہترین خواہشات اور کامل ترین مناقب کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس خسارے کی نفی ہو جاتی ہے۔

يونس 10:96

بے شک وہ لوگ کہ ثابت ہو چکا ہے ان پر حکم آپ کے رب کا، نہیں ایمان لائیں گے وہ (96) اور اگر چہ آجائیں ان کے پاس ساری نشانیاں ، یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (97) [97,96]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ حَقَّتۡ عَلَيۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ﴾ ’’جن لوگوں کے بارے میں آپ کے رب کا حکم قرار پاچکا ہے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن پر یہ بات صادق آئی کہ وہ گمراہ، بھٹکے ہوئے اور جہنمی ہیں تو یہ لابدی ہے کہ وہ وہی کچھ کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں مقدر ہو چکا ہے اگر ان کے پاس ہر قسم کی نشانی اور معجزہ بھی آجائے، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ آیات و معجزات ان کی سرکشی اور گمراہی میں اضافہ ہی کرتے ہیں ۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلا کر، جب حق ان کے پاس پہلی مرتبہ آیا خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر، کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگا دی اور اب وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس وقت حق یقین کے ساتھ معلوم ہو جائے گا کہ وہ اب تک جس راستے پر چلتے رہے ہیں وہ گمراہی کا راستہ ہے اور جو چیز رسول لے کر آئے ہیں وہ حق ہے مگر اس روز ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس روز ظالموں کی معذرت کسی کام نہ آئے گی اور ان کی کوئی معذرت قبول نہ ہوگی۔ آیات و معجزات صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتے ہیں جو دل رکھتے ہیں اور توجہ سے سنتے ہیں ۔

يونس 10:97

بے شک وہ لوگ کہ ثابت ہو چکا ہے ان پر حکم آپ کے رب کا، نہیں ایمان لائیں گے وہ (96) اور اگر چہ آجائیں ان کے پاس ساری نشانیاں ، یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (97) [97,96]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ حَقَّتۡ عَلَيۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ﴾ ’’جن لوگوں کے بارے میں آپ کے رب کا حکم قرار پاچکا ہے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن پر یہ بات صادق آئی کہ وہ گمراہ، بھٹکے ہوئے اور جہنمی ہیں تو یہ لابدی ہے کہ وہ وہی کچھ کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں مقدر ہو چکا ہے اگر ان کے پاس ہر قسم کی نشانی اور معجزہ بھی آجائے، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ آیات و معجزات ان کی سرکشی اور گمراہی میں اضافہ ہی کرتے ہیں ۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلا کر، جب حق ان کے پاس پہلی مرتبہ آیا خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر، کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگا دی اور اب وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس وقت حق یقین کے ساتھ معلوم ہو جائے گا کہ وہ اب تک جس راستے پر چلتے رہے ہیں وہ گمراہی کا راستہ ہے اور جو چیز رسول لے کر آئے ہیں وہ حق ہے مگر اس روز ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس روز ظالموں کی معذرت کسی کام نہ آئے گی اور ان کی کوئی معذرت قبول نہ ہوگی۔ آیات و معجزات صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتے ہیں جو دل رکھتے ہیں اور توجہ سے سنتے ہیں ۔

يونس 10:98

پس کیوں نہ ہوئی کوئی بستی ایسی کہ ایمان لائی ہو وہ (عذاب سے پہلے)، پھر نفع دیا ہوا اس کو اس کے ایمان (لانے) نے، سوائے (لوگ) قوم یونس کے، جب ایمان لائے وہ تو دور کر دیا ہم نے ان سے عذاب رسوائی کا دنیا کی زندگی میں اور ہم نے فائدہ دیا انھیں ایک وقت (مقرر) تک (98) [98]﴿ فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ﴾ ’’پس کیوں نہ ہوئی کوئی بستی‘‘ یعنی جھٹلانے والی بستیوں میں سے، ﴿ اٰمَنَتۡ ﴾ ’’کہ وہ ایمان لائی‘‘ جب انھوں نے عذاب دیکھا ﴿فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ ﴾ ’’پھر کام آیا ہو ان کو ان کا ایمان لانا‘‘ یعنی ان تمام بستیوں میں سے کسی بستی کو عذاب دیکھ کر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوا جیسا کہ فرعون کے ایمان لانے کے بارے میں گزشتہ صفحات میں قریب ہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد گزر چکا ہے اور جیسے فرمایا: ﴿ فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗ وَؔكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشۡرِكِيۡنَ۰۰فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ قَدۡ خَلَتۡ فِيۡ عِبَادِهٖ﴾(غافر: 40؍84-85) ’’پس جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہا ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور ان کا ہم نے انکار کیا جن کو ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے لیکن ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کو ان کے ایمان لانے نے کوئی فائدہ نہیں دیا۔‘‘ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔‘‘ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ رَبِّ ارۡجِعُوۡنِۙ۰۰ لَعَلِّيۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًا فِيۡمَا تَرَؔكۡتُ كَلَّا ﴾(المومنون: 23؍99-100) ’’حتیٰ کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو وہ کہے گا اے میرے پروردگار! مجھے دنیا میں پھر واپس بھیج دے شاید کہ میں جسے پیچھے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں ، ہرگز نہیں !‘‘اور اس میں حکمت ظاہر ہے کہ ایمان اضطراری حقیقی ایمان نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو دور ہٹا لے جس سے مجبور ہو کر انھوں نے ایمان لانے کا اقرار کیا تھا تو وہ پھر کفر کی طرف لوٹ جائیں گے۔ فرمایا ﴿ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’سوائے یونس کی قوم کے، جب وہ ایمان لائی، (عذاب دیکھ لینے کے بعد) تو ہم نے ان پر سے ذلت کا عذاب اٹھا لیا دنیا کی زندگی میں اور ایک وقت تک ہم نے ان کو فائدہ پہنچایا‘‘ پس حضرت یونسu کی قوم گزشتہ عموم سے مستثنیٰ ہے اس میں ضرور اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ کی حکمت پوشیدہ ہے۔ جہاں تک پہنچنے اور اس کے ادراک سے ہمارا فہم قاصر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ يُوۡنُسَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَؕ۰۰.....وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَۚ۰۰فَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾(الصافات: 37؍139-148) ’’اور یونس اللہ کے رسولوں میں سے تھا جب وہ (گھر سے) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوا، اس وقت قرعہ ڈالا گیا تو اس نے زک اٹھائی پس اس کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ قابل ملامت کام کرنے والوں میں سے تھا۔ پس اگر وہ اللہ کی تسبیح بیان نہ کرتا تو قیامت کے روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہتا، پھر ہم نے اس کو (مچھلی کے پیٹ سے نکال کر) اس حالت میں کھلے میدان میں ڈال دیا کہ وہ بیمار تھا اور اس پر کدو کی بیل اگا دی اور اس کو ایک لاکھ یا کچھ اوپر لوگوں کی طرف مبعوث کیا۔ پس وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ان کو ایک وقت مقررہ تک فائدہ اٹھانے دیا۔‘‘شاید اس میں حکمت یہ ہے کہ اگر حضرت یونسu کی قوم کے علاوہ کوئی اور قوم ہوتی اور ان پر سے عذاب کو ہٹا لیا جاتا تو وہ پھر اسی کام کا اعادہ کرتے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور رہا یونسu کی قوم کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں زیادہ جانتا تھا کہ وہ اپنے ایمان پر قائم رہیں گے بلکہ وہ قائم رہے۔ واللہ اعلم

يونس 10:99

اور اگر چاہتا رب آپ کا تو ایمان لے آتے وہ لوگ جو زمین میں ہیں سب کے سب سارے ہی، کیا پس آپ مجبور کریں گے لوگوں کو یہاں تک کہ ہو جائیں وہ مومن؟ (99)اور نہیں ہے (ممکن) واسطے کسی نفس کے یہ کہ ایمان لائے وہ مگر ساتھ حکم اللہ کےاورکرتا ہے اللہ پلیدی (عذاب) اوپر ان لوگوں کے جو نہیں عقل رکھتے (100) [99] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِي الۡاَرۡضِ كُلُّهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اگر آپ کا رب چاہتا تو زمین میں رہنے والے سب کے سب ایمان لے آتے‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان الہام کر دیتا اور ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے درست کر دیتا۔ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے بعض لوگ ایمان لائیں اور بعض لوگ کافر رہیں ۔ ﴿ اَفَاَنۡتَ تُكۡرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں ‘‘ یعنی آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ یہ چیز غیر اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے۔ [100]﴿ وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور کسی سے نہیں ہو سکتا کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے حکم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت اور اس کے قدری و شرعی حکم سے۔ پس مخلوق میں سے جو اس کے قبول کرنے کے قابل ہوتا ہے تو ایمان اس کے پاس پھلتا پھولتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو توفیق سے نوازتا اور اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَيَجۡعَلُ الرِّجۡسَ ﴾ ’’اور ڈالتا ہے وہ گندگی‘‘ یعنی شر اور گمراہی ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ ’’ان لوگوں پر جو سوچتے نہیں ‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی اور اس کے نصائح و مواعظ پر کان نہیں دھرتے۔

يونس 10:100

اور اگر چاہتا رب آپ کا تو ایمان لے آتے وہ لوگ جو زمین میں ہیں سب کے سب سارے ہی، کیا پس آپ مجبور کریں گے لوگوں کو یہاں تک کہ ہو جائیں وہ مومن؟ (99)اور نہیں ہے (ممکن) واسطے کسی نفس کے یہ کہ ایمان لائے وہ مگر ساتھ حکم اللہ کےاورکرتا ہے اللہ پلیدی (عذاب) اوپر ان لوگوں کے جو نہیں عقل رکھتے (100) [99] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِي الۡاَرۡضِ كُلُّهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اگر آپ کا رب چاہتا تو زمین میں رہنے والے سب کے سب ایمان لے آتے‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان الہام کر دیتا اور ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے درست کر دیتا۔ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے بعض لوگ ایمان لائیں اور بعض لوگ کافر رہیں ۔ ﴿ اَفَاَنۡتَ تُكۡرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں ‘‘ یعنی آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ یہ چیز غیر اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے۔ [100]﴿ وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور کسی سے نہیں ہو سکتا کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے حکم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت اور اس کے قدری و شرعی حکم سے۔ پس مخلوق میں سے جو اس کے قبول کرنے کے قابل ہوتا ہے تو ایمان اس کے پاس پھلتا پھولتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو توفیق سے نوازتا اور اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَيَجۡعَلُ الرِّجۡسَ ﴾ ’’اور ڈالتا ہے وہ گندگی‘‘ یعنی شر اور گمراہی ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ ’’ان لوگوں پر جو سوچتے نہیں ‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی اور اس کے نصائح و مواعظ پر کان نہیں دھرتے۔

يونس 10:101

آپ کہہ دیجیے! دیکھو (اور غور کرو اس میں ) جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور نہیں فائدہ دیتیں نشانیاں اور تنبیہات ان لوگوں کو جو نہیں ایمان لاتے (101) پس نہیں انتظار کرتے وہ مگر مثل ایام ان لوگوں کے جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے، کہہ دیجیے! پس انتظار کرو تم، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ ہوں انتظار کرنے والوں میں سے (102) پھر نجات دیتے ہیں ہم اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے، اسی طرح، حق ہے ہم پر (یہ کہ) نجات دیں ہم مومنوں کو (103) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین میں غور کریں اور اس سے مراد یہ ہے کہ تفکر اور عبرت کی نظر سے آسمان کو دیکھیں ، ان میں جو کچھ موجود ہے اس میں تدبر کریں اور بصیرت حاصل کریں ۔ ان میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں اور اہل ایقان کے لیے عبرت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود محمود ہے، وہی صاحب جلال واکرام اور عظیم اسماء و صفات کا مالک ہے۔ ﴿وَمَا تُغۡنِي الۡاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور کچھ کام نہیں آتیں نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو ایمان لانے والے نہیں ‘‘ کیونکہ یہ لوگ اپنے اعراض اور عناد کی وجہ سے آیات الٰہی سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ [103,102]﴿فَهَلۡ يَنۡتَظِرُوۡنَ اِلَّا مِثۡلَ اَيَّامِ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’پس وہ لوگ صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کررہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ۔‘‘ یعنی یہ لوگ جو آیات الٰہی کے واضح ہو جانے کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کو بھی اسی طرح عذاب بھیج کر ہلاک کر دیا جائے، جیسے ان کے پہلوں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔ ان کے اعمال بھی وہی تھے جو ان کے اعمال ہیں اور سنت الٰہی اولین و آخرین میں جاری و ساری ہے۔ ﴿قُلۡ فَانۡتَظِرُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پس انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ عنقریب تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کا انجام اچھا ہے، دنیا اور آخرت میں نجات کس کے لیے ہے اور یہ نجات صرف انبیاء و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے لیے ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ثُمَّ نُنَجِّيۡ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پھر ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کو (دنیا و آخرت کی تکالیف اور شدائد سے) نجات دیتے ہیں۔‘‘ ﴿كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَيۡنَا ﴾ ’’اسی طرح ہمارے ذمہ ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اپنے اوپر واجب ٹھہرایا ہے۔ ﴿ نُنۡجِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’کہ ایمان والوں کو نجات دیں گے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ، مومن بندوں میں جذبۂ ایمان کی مقدار کے مطابق، ان کا دفاع کرتا ہے اس سے انھیں تکلیف دہ امور سے نجات ملتی ہے۔

يونس 10:102

آپ کہہ دیجیے! دیکھو (اور غور کرو اس میں ) جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور نہیں فائدہ دیتیں نشانیاں اور تنبیہات ان لوگوں کو جو نہیں ایمان لاتے (101) پس نہیں انتظار کرتے وہ مگر مثل ایام ان لوگوں کے جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے، کہہ دیجیے! پس انتظار کرو تم، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ ہوں انتظار کرنے والوں میں سے (102) پھر نجات دیتے ہیں ہم اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے، اسی طرح، حق ہے ہم پر (یہ کہ) نجات دیں ہم مومنوں کو (103) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین میں غور کریں اور اس سے مراد یہ ہے کہ تفکر اور عبرت کی نظر سے آسمان کو دیکھیں ، ان میں جو کچھ موجود ہے اس میں تدبر کریں اور بصیرت حاصل کریں ۔ ان میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں اور اہل ایقان کے لیے عبرت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود محمود ہے، وہی صاحب جلال واکرام اور عظیم اسماء و صفات کا مالک ہے۔ ﴿وَمَا تُغۡنِي الۡاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور کچھ کام نہیں آتیں نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو ایمان لانے والے نہیں ‘‘ کیونکہ یہ لوگ اپنے اعراض اور عناد کی وجہ سے آیات الٰہی سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ [103,102]﴿فَهَلۡ يَنۡتَظِرُوۡنَ اِلَّا مِثۡلَ اَيَّامِ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’پس وہ لوگ صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کررہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ۔‘‘ یعنی یہ لوگ جو آیات الٰہی کے واضح ہو جانے کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کو بھی اسی طرح عذاب بھیج کر ہلاک کر دیا جائے، جیسے ان کے پہلوں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔ ان کے اعمال بھی وہی تھے جو ان کے اعمال ہیں اور سنت الٰہی اولین و آخرین میں جاری و ساری ہے۔ ﴿قُلۡ فَانۡتَظِرُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پس انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ عنقریب تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کا انجام اچھا ہے، دنیا اور آخرت میں نجات کس کے لیے ہے اور یہ نجات صرف انبیاء و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے لیے ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ثُمَّ نُنَجِّيۡ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پھر ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کو (دنیا و آخرت کی تکالیف اور شدائد سے) نجات دیتے ہیں۔‘‘ ﴿كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَيۡنَا ﴾ ’’اسی طرح ہمارے ذمہ ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اپنے اوپر واجب ٹھہرایا ہے۔ ﴿ نُنۡجِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’کہ ایمان والوں کو نجات دیں گے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ، مومن بندوں میں جذبۂ ایمان کی مقدار کے مطابق، ان کا دفاع کرتا ہے اس سے انھیں تکلیف دہ امور سے نجات ملتی ہے۔

يونس 10:103

آپ کہہ دیجیے! دیکھو (اور غور کرو اس میں ) جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور نہیں فائدہ دیتیں نشانیاں اور تنبیہات ان لوگوں کو جو نہیں ایمان لاتے (101) پس نہیں انتظار کرتے وہ مگر مثل ایام ان لوگوں کے جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے، کہہ دیجیے! پس انتظار کرو تم، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ ہوں انتظار کرنے والوں میں سے (102) پھر نجات دیتے ہیں ہم اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے، اسی طرح، حق ہے ہم پر (یہ کہ) نجات دیں ہم مومنوں کو (103) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین میں غور کریں اور اس سے مراد یہ ہے کہ تفکر اور عبرت کی نظر سے آسمان کو دیکھیں ، ان میں جو کچھ موجود ہے اس میں تدبر کریں اور بصیرت حاصل کریں ۔ ان میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں اور اہل ایقان کے لیے عبرت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود محمود ہے، وہی صاحب جلال واکرام اور عظیم اسماء و صفات کا مالک ہے۔ ﴿وَمَا تُغۡنِي الۡاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور کچھ کام نہیں آتیں نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو ایمان لانے والے نہیں ‘‘ کیونکہ یہ لوگ اپنے اعراض اور عناد کی وجہ سے آیات الٰہی سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ [103,102]﴿فَهَلۡ يَنۡتَظِرُوۡنَ اِلَّا مِثۡلَ اَيَّامِ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’پس وہ لوگ صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کررہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ۔‘‘ یعنی یہ لوگ جو آیات الٰہی کے واضح ہو جانے کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کو بھی اسی طرح عذاب بھیج کر ہلاک کر دیا جائے، جیسے ان کے پہلوں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔ ان کے اعمال بھی وہی تھے جو ان کے اعمال ہیں اور سنت الٰہی اولین و آخرین میں جاری و ساری ہے۔ ﴿قُلۡ فَانۡتَظِرُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پس انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ عنقریب تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کا انجام اچھا ہے، دنیا اور آخرت میں نجات کس کے لیے ہے اور یہ نجات صرف انبیاء و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے لیے ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ثُمَّ نُنَجِّيۡ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پھر ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کو (دنیا و آخرت کی تکالیف اور شدائد سے) نجات دیتے ہیں۔‘‘ ﴿كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَيۡنَا ﴾ ’’اسی طرح ہمارے ذمہ ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اپنے اوپر واجب ٹھہرایا ہے۔ ﴿ نُنۡجِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’کہ ایمان والوں کو نجات دیں گے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ، مومن بندوں میں جذبۂ ایمان کی مقدار کے مطابق، ان کا دفاع کرتا ہے اس سے انھیں تکلیف دہ امور سے نجات ملتی ہے۔

يونس 10:104

کہہ دیجیے، اے لوگو! اگر ہو تم شک میں ، میرے دین سے (متعلق) تو نہیں عبادت کرتا میں ان کی جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے لیکن میں تو عبادت کرتاہوں اللہ کی وہ جو وفات دیتا ہے تمھیں اور حکم دیا گیا ہوں میں اس بات کا کہ ہوں میں مومنوں میں سے (104) اور یہ کہ سیدھا رکھیں آپ منہ اپنا واسطے دین (اسلام) کے ، یکسو ہو کر! اور ہرگز نہ ہوں آپ مشرکین میں سے(105)اور مت پکاریں آپ سوائے اللہ کے ان کو جو نہ نفع دے سکتے ہیں آپ کواور نہ نقصان دے سکتے ہیں آپ کو، پس اگر آپ نے (ایسا) کیا تو بلاشبہ آپ بھی اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے (106) [104] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول سید المرسلین، امام المتقین، خیر الموقنین حضرت محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ دِيۡنِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے اے لوگو! اگر تم میرے لائے ہوئے دین کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔‘‘ تو میں اس بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں علم الیقین رکھتا ہوں کہ یہ حق ہے اور تم اللہ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہو، وہ سب باطل ہیں ۔ میں اپنے اس موقف پر واضح دلائل اور روشن براہین رکھتا ہوں ۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تمھارے خود ساختہ ہمسروں اور بتوں کی عبادت نہیں کرتا کیونکہ یہ پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں اور نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے، یہ تو خود مخلوق اور اللہ کی قدرت کے سامنے مسخر ہیں ، ان میں کوئی ایسی صفات نہیں پائی جاتیں جو ان کی عبادت کا تقاضا کرتی ہوں ﴿ وَلٰكِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰهَ الَّذِيۡ يَتَوَفّٰىكُمۡ﴾ ’’لیکن میں تو اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو کھینچ لیتا ہے تمھاری روحیں ‘‘ یعنی وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، وہی تمھیں موت دے گا، پھر وہ تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا... پس وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس کے لیے نماز پڑھی جائے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوا جائے۔ [105]﴿ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔‘‘ ﴿ وَاَنۡ اَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ حَنِيۡفًا﴾ ’’اور یہ کہ سیدھا کر اپنا منہ دین پر یک طرفہ ہو کر‘‘ یعنی اپنے ظاہری اور باطنی اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیجیے اور یکسو ہو کر تمام شرائع کو قائم کیجیے، یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف اللہ کی طرف اپنی توجہ کو مبذول رکھیے۔ ﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔‘‘ ان کا حال اختیار کیجیے، نہ ان کا ساتھ دیجیے۔ [106]﴿ وَلَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ﴾ ’’اور اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو مت پکاریں جو آپ کو فائدہ پہنچا سکیں نہ نقصان‘‘ کیونکہ یہ وصف ہر مخلوق کا ہے، مخلوق کوئی فائدہ دے سکتی ہے نہ نقصان، نفع اور نقصان پہنچانے والی ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ﴿ فَاِنۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اگر ایسا کرو گے۔‘‘ یعنی اگر آپ نے اللہ کے بغیر کسی ہستی کو پکارا جو کسی کو نفع دے سکتی ہے نہ نقصان ﴿ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔‘‘ یعنی آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جنھوں نے ہلاکت کے ذریعے سے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ۰۰﴾(لقمان: 31؍13) ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘ اگر اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پکارے تو اس کا شمار مشرکوں میں ہو جاتا ہے تو دیگر لوگوں کا کیا حال ہوگا؟

يونس 10:105

کہہ دیجیے، اے لوگو! اگر ہو تم شک میں ، میرے دین سے (متعلق) تو نہیں عبادت کرتا میں ان کی جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے لیکن میں تو عبادت کرتاہوں اللہ کی وہ جو وفات دیتا ہے تمھیں اور حکم دیا گیا ہوں میں اس بات کا کہ ہوں میں مومنوں میں سے (104) اور یہ کہ سیدھا رکھیں آپ منہ اپنا واسطے دین (اسلام) کے ، یکسو ہو کر! اور ہرگز نہ ہوں آپ مشرکین میں سے(105)اور مت پکاریں آپ سوائے اللہ کے ان کو جو نہ نفع دے سکتے ہیں آپ کواور نہ نقصان دے سکتے ہیں آپ کو، پس اگر آپ نے (ایسا) کیا تو بلاشبہ آپ بھی اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے (106) [104] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول سید المرسلین، امام المتقین، خیر الموقنین حضرت محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ دِيۡنِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے اے لوگو! اگر تم میرے لائے ہوئے دین کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔‘‘ تو میں اس بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں علم الیقین رکھتا ہوں کہ یہ حق ہے اور تم اللہ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہو، وہ سب باطل ہیں ۔ میں اپنے اس موقف پر واضح دلائل اور روشن براہین رکھتا ہوں ۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تمھارے خود ساختہ ہمسروں اور بتوں کی عبادت نہیں کرتا کیونکہ یہ پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں اور نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے، یہ تو خود مخلوق اور اللہ کی قدرت کے سامنے مسخر ہیں ، ان میں کوئی ایسی صفات نہیں پائی جاتیں جو ان کی عبادت کا تقاضا کرتی ہوں ﴿ وَلٰكِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰهَ الَّذِيۡ يَتَوَفّٰىكُمۡ﴾ ’’لیکن میں تو اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو کھینچ لیتا ہے تمھاری روحیں ‘‘ یعنی وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، وہی تمھیں موت دے گا، پھر وہ تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا... پس وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس کے لیے نماز پڑھی جائے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوا جائے۔ [105]﴿ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔‘‘ ﴿ وَاَنۡ اَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ حَنِيۡفًا﴾ ’’اور یہ کہ سیدھا کر اپنا منہ دین پر یک طرفہ ہو کر‘‘ یعنی اپنے ظاہری اور باطنی اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیجیے اور یکسو ہو کر تمام شرائع کو قائم کیجیے، یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف اللہ کی طرف اپنی توجہ کو مبذول رکھیے۔ ﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔‘‘ ان کا حال اختیار کیجیے، نہ ان کا ساتھ دیجیے۔ [106]﴿ وَلَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ﴾ ’’اور اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو مت پکاریں جو آپ کو فائدہ پہنچا سکیں نہ نقصان‘‘ کیونکہ یہ وصف ہر مخلوق کا ہے، مخلوق کوئی فائدہ دے سکتی ہے نہ نقصان، نفع اور نقصان پہنچانے والی ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ﴿ فَاِنۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اگر ایسا کرو گے۔‘‘ یعنی اگر آپ نے اللہ کے بغیر کسی ہستی کو پکارا جو کسی کو نفع دے سکتی ہے نہ نقصان ﴿ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔‘‘ یعنی آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جنھوں نے ہلاکت کے ذریعے سے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ۰۰﴾(لقمان: 31؍13) ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘ اگر اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پکارے تو اس کا شمار مشرکوں میں ہو جاتا ہے تو دیگر لوگوں کا کیا حال ہوگا؟

يونس 10:106

کہہ دیجیے، اے لوگو! اگر ہو تم شک میں ، میرے دین سے (متعلق) تو نہیں عبادت کرتا میں ان کی جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے لیکن میں تو عبادت کرتاہوں اللہ کی وہ جو وفات دیتا ہے تمھیں اور حکم دیا گیا ہوں میں اس بات کا کہ ہوں میں مومنوں میں سے (104) اور یہ کہ سیدھا رکھیں آپ منہ اپنا واسطے دین (اسلام) کے ، یکسو ہو کر! اور ہرگز نہ ہوں آپ مشرکین میں سے(105)اور مت پکاریں آپ سوائے اللہ کے ان کو جو نہ نفع دے سکتے ہیں آپ کواور نہ نقصان دے سکتے ہیں آپ کو، پس اگر آپ نے (ایسا) کیا تو بلاشبہ آپ بھی اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے (106) [104] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول سید المرسلین، امام المتقین، خیر الموقنین حضرت محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ دِيۡنِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے اے لوگو! اگر تم میرے لائے ہوئے دین کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔‘‘ تو میں اس بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں علم الیقین رکھتا ہوں کہ یہ حق ہے اور تم اللہ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہو، وہ سب باطل ہیں ۔ میں اپنے اس موقف پر واضح دلائل اور روشن براہین رکھتا ہوں ۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تمھارے خود ساختہ ہمسروں اور بتوں کی عبادت نہیں کرتا کیونکہ یہ پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں اور نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے، یہ تو خود مخلوق اور اللہ کی قدرت کے سامنے مسخر ہیں ، ان میں کوئی ایسی صفات نہیں پائی جاتیں جو ان کی عبادت کا تقاضا کرتی ہوں ﴿ وَلٰكِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰهَ الَّذِيۡ يَتَوَفّٰىكُمۡ﴾ ’’لیکن میں تو اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو کھینچ لیتا ہے تمھاری روحیں ‘‘ یعنی وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، وہی تمھیں موت دے گا، پھر وہ تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا... پس وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس کے لیے نماز پڑھی جائے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوا جائے۔ [105]﴿ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔‘‘ ﴿ وَاَنۡ اَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ حَنِيۡفًا﴾ ’’اور یہ کہ سیدھا کر اپنا منہ دین پر یک طرفہ ہو کر‘‘ یعنی اپنے ظاہری اور باطنی اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیجیے اور یکسو ہو کر تمام شرائع کو قائم کیجیے، یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف اللہ کی طرف اپنی توجہ کو مبذول رکھیے۔ ﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔‘‘ ان کا حال اختیار کیجیے، نہ ان کا ساتھ دیجیے۔ [106]﴿ وَلَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ﴾ ’’اور اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو مت پکاریں جو آپ کو فائدہ پہنچا سکیں نہ نقصان‘‘ کیونکہ یہ وصف ہر مخلوق کا ہے، مخلوق کوئی فائدہ دے سکتی ہے نہ نقصان، نفع اور نقصان پہنچانے والی ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ﴿ فَاِنۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اگر ایسا کرو گے۔‘‘ یعنی اگر آپ نے اللہ کے بغیر کسی ہستی کو پکارا جو کسی کو نفع دے سکتی ہے نہ نقصان ﴿ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔‘‘ یعنی آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جنھوں نے ہلاکت کے ذریعے سے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ۰۰﴾(لقمان: 31؍13) ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘ اگر اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پکارے تو اس کا شمار مشرکوں میں ہو جاتا ہے تو دیگر لوگوں کا کیا حال ہوگا؟

يونس 10:107

اگر پہنچائے آپ کو اللہ کوئی تکلیف تو نہیں کوئی بھی دور کرنے والا اسے سوائے اس کے اور اگر ارادہ کرے اللہ آپ کے ساتھ کسی بھلائی کا تو نہیں کوئی بھی رد کرنے والا اس کے فضل کو، پہنچاتا ہے وہ اس (فضل) کو جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور وہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(107) [107] یہ آیت کریمہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا عبادت کا مستحق ہے کیونکہ نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی عطا کرتا ہے وہی محروم کرتا ہے۔ جب کوئی تکلیف ، مثلاً: فقر اور مرض وغیرہ لاحق ہوتا ہے ﴿ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ﴾ ’’تو اس کے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا۔‘‘ کیونکہ اگر تمام مخلوق اکٹھی ہو کر کوئی فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے اور اگر تمام مخلوق اکٹھی ہو کر کسی کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنۡ يُّرِدۡكَ بِخَيۡرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِهٖ﴾ ’’اور اگر وہ آپ کو کوئی بھلائی پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی پھیرنے والا نہیں ‘‘ یعنی مخلوق میں کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو اس کے فضل و احسان کو روک سکے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا١ۚ وَمَا يُمۡسِكۡ١ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾(فاطر: 35؍2)’’اللہ لوگوں کے لیے اپنی رحمت کا جو دروازہ کھول دے تو اس کو کوئی بند نہیں کر سکتا اور جو دروازہ بند کر دے اس کے بعد اسے کوئی کھول نہیں سکتا۔‘‘﴿ يُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾ ’’وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، پہنچاتا ہے‘‘ یعنی وہ مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے مخصوص کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے ﴿ وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ ﴾ اللہ تعالیٰ تمام لغزشوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندے کو مغفرت کے اسباب کی توفیق سے نوازتا ہے۔ بندہ جب ان اسباب پر عمل کرتا ہے تو اللہ اس کے تمام کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اس کا جود و احسان تمام موجودات تک پہنچتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز لمحہ بھر کے لیے بھی اس کے فضل و احسان سے بے نیاز نہیں رہ سکتی۔جب بندہ قطعی دلیل کے ذریعے سے یہ معلوم کر لے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے جو نعمتوں سے نوازتا ہے، وہی تکالیف کو دور کرتا ہے، وہی بھلائیاں عطا کرتا ہے، وہی برائیوں اور تکالیف کو ہٹاتا ہے اور مخلوق میں کوئی ہستی ایسی نہیں جس کے ہاتھ میں یہ چیزیں ہوں ، سوائے اس کے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ جاری فرما دے... تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اور وہ ہستیاں ، جنھیں یہ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں ، سب باطل ہیں ۔

يونس 10:108

کہہ دیجیے، اے لوگو! یقینا آ گیا ہے تمھارے پاس حق (قرآن) تمھارے رب کی طرف سے ، پس جس شخص نے ہدایت کو اپنایا تو یقینا وہ ہدایت کو اپنائے گا اپنے ہی نفس کے لیے اور جس نے گمراہی اختیار کی تو یقینا وہ گمراہی اختیار کرے گا اپنے ہی نفس کے برے کواور نہیں ہوں میں تم پر نگران (108) اور پیروی کریں آپ اس چیز کی جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور صبر کریں یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ اور وہ سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے(109) [108] بنابریں ، جب اللہ تعالیٰ نے واضح دلیل بیان کردی تو اس کے بعد فرمایا:﴿ قُلۡ ﴾ چونکہ دلیل و برہان واضح ہوگئی اس لیے اے رسول فرما دیجیے! ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ﴾ ’’اے لوگو! تمھارے رب کے ہاں سے تمھارے پاس حق آچکا ہے۔‘‘ یعنی تمھارے پاس سچی خبر آگئی ہے جس کی تائید دلائل و براہین سے ہوتی ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی کوئی شک نہیں اور یہ خبر تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے پہنچی ہے، جس کی تمھارے لیے سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے تم پر یہ قرآن نازل کیا، جو ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے یہ قرآن مختلف انواع کے احکام، مطالب الہیہ اور اخلاق حسنہ پر مشتمل ہے جن میں تمھاری تربیت کا بہترین سامان موجود ہے۔ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ پس گمراہی سے ہدایت کا راستہ واضح ہوگیا اور کسی کے لیے کوئی شبہ باقی نہ رہا۔ ﴿ فَمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ ’’اب جو کوئی راہ پر آئے‘‘ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی کے ذریعے سے راہ ہدایت اپنا لی۔ وہ یوں کہ اس نے حق معلوم کر لیا اور پھر اسے اچھی طرح سمجھ لیا اور دیگر ہر چیز پر اسے ترجیح دی ﴿ فَاِنَّمَا يَهۡتَدِيۡ لِنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس وہ راہ پاتا ہے اپنے بھلے کو‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے نیاز ہے۔ بندوں کے اعمال کے ثمرات انھی کی طرف لوٹتے ہیں ﴿ وَمَنۡ ضَلَّ ﴾ ’’اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو حق کے علم یا اس پر عمل سے روگردانی کر کے ہدایت کی راہ سے بھٹک جائے ﴿ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا﴾’’تو وہ بہکا پھرے گا اپنے برے کو‘‘ یعنی وہ اپنے لیے گمراہی اختیار کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِوَؔكِيۡلٍ﴾ ’’اور میں تم پر داروغہ نہیں ‘‘ کہ تمھارے اعمال کی نگرانی کروں اور ان کا حساب کتاب رکھوں ۔ میں تو تمھیں کھلا ڈرانے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ تمھارا نگران اور وکیل ہے۔ جب تک تم اس مہلت کی مدت میں ہو، اپنے آپ پر نظر رکھو۔ [109]﴿وَاتَّبِـعۡ ﴾ ’’اور پیروی کیے جاؤ۔‘‘ اے رسول! ﴿ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ ﴾ ’’اس کی جو حکم آپ کی طرف بھیجا جاتا ہے۔‘‘ یعنی علم، عمل، حال اور دعوت میں اس وحی کی اتباع کیجیے جو آپ کی طرف بھیجی گئی ہے ﴿ وَاصۡبِرۡ ﴾ ’’اور (اس پر)صبر کیجیے‘‘ کیونکہ یہ صبر کی بلند ترین نوع ہے اور اس کا انجام بھی قابل ستائش ہے۔ سستی اور کسل مندی کا شکار ہوں ، نہ تنگ دل ہوں بلکہ اس پر قائم و دائم اور ثابت قدم رہیں ۔﴿ حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ﴾ ’’یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے۔‘‘ یعنی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کے درمیان اور آپ کی تکذیب کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کر دے۔ ﴿ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ کیونکہ اس کا فیصلہ کامل عدل و انصاف پر مبنی ہے جو قابل تعریف ہے۔نبی کریمﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور صراط مستقیم پر قائم رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کر دیا۔ آپ کو آپ کے دشمنوں کے مقابلے میں دلائل و براہین کے ذریعے سے نصرت عطا کرنے کے بعد شمشیر و سناں کے ذریعے سے فتح و نصرت سے نوازا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے ہر قسم کی حمد و ستائش اور ثنائے حسن جیسا کہ اس کی عظمت و جلال، اس کے کمال اور اس کے بے پایاں احسان کے لائق ہے۔

يونس 10:109

کہہ دیجیے، اے لوگو! یقینا آ گیا ہے تمھارے پاس حق (قرآن) تمھارے رب کی طرف سے ، پس جس شخص نے ہدایت کو اپنایا تو یقینا وہ ہدایت کو اپنائے گا اپنے ہی نفس کے لیے اور جس نے گمراہی اختیار کی تو یقینا وہ گمراہی اختیار کرے گا اپنے ہی نفس کے برے کواور نہیں ہوں میں تم پر نگران (108) اور پیروی کریں آپ اس چیز کی جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور صبر کریں یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ اور وہ سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے(109) [108] بنابریں ، جب اللہ تعالیٰ نے واضح دلیل بیان کردی تو اس کے بعد فرمایا:﴿ قُلۡ ﴾ چونکہ دلیل و برہان واضح ہوگئی اس لیے اے رسول فرما دیجیے! ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ﴾ ’’اے لوگو! تمھارے رب کے ہاں سے تمھارے پاس حق آچکا ہے۔‘‘ یعنی تمھارے پاس سچی خبر آگئی ہے جس کی تائید دلائل و براہین سے ہوتی ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی کوئی شک نہیں اور یہ خبر تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے پہنچی ہے، جس کی تمھارے لیے سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے تم پر یہ قرآن نازل کیا، جو ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے یہ قرآن مختلف انواع کے احکام، مطالب الہیہ اور اخلاق حسنہ پر مشتمل ہے جن میں تمھاری تربیت کا بہترین سامان موجود ہے۔ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ پس گمراہی سے ہدایت کا راستہ واضح ہوگیا اور کسی کے لیے کوئی شبہ باقی نہ رہا۔ ﴿ فَمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ ’’اب جو کوئی راہ پر آئے‘‘ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی کے ذریعے سے راہ ہدایت اپنا لی۔ وہ یوں کہ اس نے حق معلوم کر لیا اور پھر اسے اچھی طرح سمجھ لیا اور دیگر ہر چیز پر اسے ترجیح دی ﴿ فَاِنَّمَا يَهۡتَدِيۡ لِنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس وہ راہ پاتا ہے اپنے بھلے کو‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے نیاز ہے۔ بندوں کے اعمال کے ثمرات انھی کی طرف لوٹتے ہیں ﴿ وَمَنۡ ضَلَّ ﴾ ’’اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو حق کے علم یا اس پر عمل سے روگردانی کر کے ہدایت کی راہ سے بھٹک جائے ﴿ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا﴾’’تو وہ بہکا پھرے گا اپنے برے کو‘‘ یعنی وہ اپنے لیے گمراہی اختیار کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِوَؔكِيۡلٍ﴾ ’’اور میں تم پر داروغہ نہیں ‘‘ کہ تمھارے اعمال کی نگرانی کروں اور ان کا حساب کتاب رکھوں ۔ میں تو تمھیں کھلا ڈرانے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ تمھارا نگران اور وکیل ہے۔ جب تک تم اس مہلت کی مدت میں ہو، اپنے آپ پر نظر رکھو۔ [109]﴿وَاتَّبِـعۡ ﴾ ’’اور پیروی کیے جاؤ۔‘‘ اے رسول! ﴿ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ ﴾ ’’اس کی جو حکم آپ کی طرف بھیجا جاتا ہے۔‘‘ یعنی علم، عمل، حال اور دعوت میں اس وحی کی اتباع کیجیے جو آپ کی طرف بھیجی گئی ہے ﴿ وَاصۡبِرۡ ﴾ ’’اور (اس پر)صبر کیجیے‘‘ کیونکہ یہ صبر کی بلند ترین نوع ہے اور اس کا انجام بھی قابل ستائش ہے۔ سستی اور کسل مندی کا شکار ہوں ، نہ تنگ دل ہوں بلکہ اس پر قائم و دائم اور ثابت قدم رہیں ۔﴿ حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ﴾ ’’یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے۔‘‘ یعنی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کے درمیان اور آپ کی تکذیب کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کر دے۔ ﴿ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ کیونکہ اس کا فیصلہ کامل عدل و انصاف پر مبنی ہے جو قابل تعریف ہے۔نبی کریمﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور صراط مستقیم پر قائم رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کر دیا۔ آپ کو آپ کے دشمنوں کے مقابلے میں دلائل و براہین کے ذریعے سے نصرت عطا کرنے کے بعد شمشیر و سناں کے ذریعے سے فتح و نصرت سے نوازا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے ہر قسم کی حمد و ستائش اور ثنائے حسن جیسا کہ اس کی عظمت و جلال، اس کے کمال اور اس کے بے پایاں احسان کے لائق ہے۔