Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — هود 11:1 – هود 11:36

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. هود 11:1
  2. هود 11:2
  3. هود 11:3
  4. هود 11:4
  5. هود 11:5
  6. هود 11:6
  7. هود 11:7
  8. هود 11:8
  9. هود 11:9
  10. هود 11:10
  11. هود 11:11
  12. هود 11:12
  13. هود 11:13
  14. هود 11:14
  15. هود 11:15
  16. هود 11:16
  17. هود 11:17
  18. هود 11:18
  19. هود 11:19
  20. هود 11:20
  21. هود 11:21
  22. هود 11:22
  23. هود 11:23
  24. هود 11:24
  25. هود 11:25
  26. هود 11:26
  27. هود 11:27
  28. هود 11:28
  29. هود 11:29
  30. هود 11:30
  31. هود 11:31
  32. هود 11:32
  33. هود 11:33
  34. هود 11:34
  35. هود 11:35
  36. هود 11:36

هود 11:1

الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4) [1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔ [2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔ [3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے‘‘ اور وہ ہے روز قیامت، جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔ [4]﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’تمھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے‘‘ تاکہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے اگر اعمال نیک ہوں گے تو جزا اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو بدلہ بھی برا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور مردوں کو زندہ کرنا بھی ’’ہر چیز‘‘ کے زمرے میں شامل ہے اور اس کی خبر سب سے سچی ہستی نے دی ہے۔ پس اس خبر کا وقوع عقلاً اور نقلاً واجب ہے۔

هود 11:2

الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4) [1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔ [2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔ [3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے‘‘ اور وہ ہے روز قیامت، جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔ [4]﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’تمھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے‘‘ تاکہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے اگر اعمال نیک ہوں گے تو جزا اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو بدلہ بھی برا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور مردوں کو زندہ کرنا بھی ’’ہر چیز‘‘ کے زمرے میں شامل ہے اور اس کی خبر سب سے سچی ہستی نے دی ہے۔ پس اس خبر کا وقوع عقلاً اور نقلاً واجب ہے۔

هود 11:3

الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4) [1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔ [2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔ [3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے‘‘ اور وہ ہے روز قیامت، جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔ [4]﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’تمھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے‘‘ تاکہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے اگر اعمال نیک ہوں گے تو جزا اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو بدلہ بھی برا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور مردوں کو زندہ کرنا بھی ’’ہر چیز‘‘ کے زمرے میں شامل ہے اور اس کی خبر سب سے سچی ہستی نے دی ہے۔ پس اس خبر کا وقوع عقلاً اور نقلاً واجب ہے۔

هود 11:4

الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4) [1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔ [2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔ [3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے‘‘ اور وہ ہے روز قیامت، جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔ [4]﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’تمھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے‘‘ تاکہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے اگر اعمال نیک ہوں گے تو جزا اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو بدلہ بھی برا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور مردوں کو زندہ کرنا بھی ’’ہر چیز‘‘ کے زمرے میں شامل ہے اور اس کی خبر سب سے سچی ہستی نے دی ہے۔ پس اس خبر کا وقوع عقلاً اور نقلاً واجب ہے۔

هود 11:5

آگاہ رہو! بے شک وہ دہرے کرتے ہیں سینے اپنے تاکہ وہ چھپ جائیں اللہ سے، آگاہ رہو! جس وقت اوڑھتے ہیں وہ کپڑے اپنے، جانتا ہے اللہ جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ، بلاشبہ اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے (5) [5] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کی گمراہی کی شدت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿ يَثۡنُوۡنَ صُدُوۡرَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں‘‘ ﴿ لِيَسۡتَخۡفُوۡا مِنۡهُ﴾ ’’تاکہ اس (اللہ) سے پردہ کریں ۔‘‘ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ سے چھپائیں ۔ پس ان کے سینے اللہ کے علم کے لیے رکاوٹ بن جائیں تاکہ وہ ان کے احوال کو جان نہ سکے اور اس کی نگاہ کے لیے بھی تاکہ وہ ان کے حالات کو دیکھ نہ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس ظن باطل کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَلَا حِيۡنَ يَسۡتَغۡشُوۡنَ ثِيَابَهُمۡ ﴾ ’’سن لو جس وقت اوڑھتے ہیں وہ اپنے کپڑے۔‘‘ یعنی جب وہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانک لیتے ہیں اللہ تعالیٰ اس حال میں بھی ان کو خوب جانتا ہے جو کہ مخفی ترین حال ہے بلکہ ﴿ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ یعنی وہ جو اقوال و افعال چھپاتے ہیں ﴿وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ﴾ ’’اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ‘‘ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’دلوں کی باتوں کو جانتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ان ارادوں ، وسوسوں اور سوچوں کو بھی جانتا ہے جن کو یہ سراً یا جہراً نطق زبان سے بھی ظاہر نہیں کرتے... تب تم اپنے حال کو اپنے سینے کو موڑ کر اس سے کیسے چھپا سکتے ہو؟اس آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والوں اور آپ کی دعوت سے غافل لوگوں کے اعراض کا ذکر کرتا ہے، یعنی جب وہ رسول اللہﷺ کو دیکھتے ہیں تو شدت اعراض کی وجہ سے اپنے سینوں کو موڑ لیتے ہیں تاکہ آپ ان کو دیکھ سکیں نہ ان کو اپنی دعوت سنا سکیں اور نہ ان کو ان باتوں کی نصیحت کر سکیں جو ان کے لیے مفید ہیں ۔ کیا اس اعراض سے بھی بڑھ کر اعراض کی کوئی صورت ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ انھیں وعید سناتا ہے کہ وہ ان کے تمام احوال کو جانتا ہے اور وہ اس سے مخفی نہیں ہیں اور وہ عنقریب ان کو ان کے کرتوتوں کی سزا دے گا۔

هود 11:6

اور نہیں کوئی چلنے والا (جاندار) زمین میں مگر اوپر اللہ ہی کے ہے رزق اس کااور وہ جانتا ہے قرار گاہ اس کی اور جائے امانت اس کی، ہرچیز کتاب واضح میں (تحریر) ہے (6) [6] روئے زمین پر چلنے والا ہر جاندار، خواہ انسان ہو یا حیوان، خشکی کا جانور ہو یا پانی کا جانور، ان کی خوراک اور رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ ﴿وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾ ’’اور وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔‘‘ یعنی وہ تمام جانداروں کے ٹھکانوں کو جانتا ہے (مُسْتَقَر) سے مراد وہ جگہ ہے جہاں جانور رہتے ہیں ، جسے ٹھکانا بناتے ہیں اور جہاں پناہ لیتے ہیں اور (مُسْتَوْدَع) سے مراد وہ جگہ ہے جہاں ، اپنی آمدورفت اور مختلف احوال میں منتقل ہوتے ہیں ۔ ﴿ كُلٌّ ﴾ ’’یہ سب کچھ‘‘ ان کے احوال کی تمام تفاصیل ﴿ فِيۡؔ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’واضح کتاب میں ہے۔‘‘ یعنی ہر چیز لوح محفوظ میں مرقوم ہے، جو ان تمام حوادث و واقعات پر مشتمل ہے جو اس کائنات میں وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔ تمام حوادث کا اللہ تعالیٰ کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے۔ اس نے ہر چیز کی تقدیر لکھ دی ہے ہر چیز پر اس کی مشیت نافذ ہے اور ہر ایک کے لیے اس کا رزق وسیع ہے۔ دل، اس ہستی کی کفایت پر مطمئن ہو جانے چاہئیں ، جو ان کے رزق کی کفالت کرتی ہے اور جس کے علم نے مخلوق کی ذات و صفات کا احاطہ کر رکھا ہے۔

هود 11:7

اور (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور تھا عرش اس کا اوپر پانی کےتاکہ وہ آزمائے تمھیں کہ کون سا تمھارا اچھا ہے عمل (کرنے) میں ؟ اور البتہ اگر کہیں آپ کہ بے شک تم اٹھائے جاؤ گے بعد مرنے کے تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر (7) اور البتہ اگر مؤخر کر دیں ہم ان (پر) سے عذاب ایک مدت گنی ہوئی تک تو البتہ ضرور کہیں گے وہ (کافر) کہ کون سی چیز روک رہی ہے اس کو؟ آگاہ رہو! جس دن آئے گا (عذاب) ان کے پاس تو نہیں پھیرا جائے گا وہ ان سےاور گھیر لے گا انھیں وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (8) [7] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اسی نے ﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں ‘‘ پہلا دن اتوار اور چھٹا دن جمعہ تھا اور جس وقت اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ﴿ وَّكَانَ عَرۡشُهٗ عَلَى الۡمَآءِ ﴾ ’’اس کا عرش پانی پر تھا‘‘ ساتویں آسمان کے اوپر۔ پس آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرنے کے بعد اپنے عرش پر مستوی ہوا، وہ تمام امور کی تدبیر کرتا ہے اور احکام قدریہ اور احکام شرعیہ میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ ’’تاکہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔‘‘ تاکہ وہ اپنے اوامر و نواہی کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے۔فضیل بن عیاضa نے فرمایا: ’’سب سے اچھا عمل وہ ہے جو سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح ہو۔‘‘ ان سے پوچھا گیا ’’سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح سے کیا مراد ہے؟‘‘ فرمایا: ’’اگر عمل خالص ہو مگر صحیح نہ ہو تو قبول نہیں ہوتا اور اگر عمل صحیح ہو مگر خالص نہ ہو تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قابل قبول نہیں ۔ صرف وہی عمل قابل قبول ہوتا ہے جو خالص بھی ہو اور صحیح بھی ہو۔‘‘ خالص عمل وہ ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اور صحیح عمل وہ ہے جس میں شریعت اور سنت کی پیروی کی گئی ہو اور یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ١ۙ۬ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾(الطلاق: 65؍12) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور ان کی مانند سات زمینیں اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کا حکم اترتا رہتا ہے تاکہ تم لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوق کو اپنی عبادت اور اپنے اسماء و صفات کی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے اور اسی چیز کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور اس ذمہ داری کو ادا کر دیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا وہ فلاح پانے والوں میں سے ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعراض کیا تو یہی گھاٹے میں پڑنے والے لوگ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان کو ایک جگہ جمع کرے گا اور پھر ان کو اپنے اوامر و نواہی کی بنیاد پر جزا دے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کے بارے میں مشرکین کی تکذیب کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَىِٕنۡ قُلۡتَ اِنَّـكُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَيَقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور اگر آپ کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘ یعنی اگر آپ ان سے کہیں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں ان کو آگاہ کریں تو یہ آپ کی تصدیق نہیں کریں گے بلکہ وہ نہایت شدت سے آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ کی دعوت میں عیب چینی کریں گے اور کہیں گے ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلے جادو کے علاوہ کچھ نہیں ‘‘ مگر آگاہ رہو کہ یہ واضح حق ہے۔ [8]﴿ وَلَىِٕنۡ اَخَّرۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّؔةٍ مَّعۡدُوۡدَةٍ ﴾ ’’اگر ہم روکے رکھیں ان سے عذاب ایک معلوم مدت تک‘‘ یعنی ایک وقت مقررہ تک، جس کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دن بہت دیر سے آئے گا۔ تب وہ ظلم و جہالت کی بنا پر کہتے ہیں :﴿مَا يَحۡبِسُهٗ﴾ ’’کون سی چیز اس (عذاب) کو روکے ہوئے ہے؟‘‘ اس آیت کا مضمون ان کا رسول کو جھٹلانا ہے۔ وہ ان پر عذاب کے فوری طورپر نہ آنے کو رسول (ﷺ ) کے جھوٹا ہونے پر دلیل بناتے ہیں جنھوں نے ان کو عذاب واقع ہونے کی وعید سنائی ہے۔ پس یہ کتنا بعید استدلال ہے! ﴿ اَلَا يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمۡ لَيۡسَ مَصۡرُوۡفًا عَنۡهُمۡ ﴾ ’’دیکھو جس روز عذاب ان پر نازل ہوگا تو پھر ٹلے گا نہیں ‘‘ کہ وہ اپنے معاملے میں غور کر سکیں ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کو گھیر لے گا۔‘‘ یعنی نازل ہو کر ﴿ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’وہ (عذاب) جس کے ساتھ یہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ وہ اسے نہایت حقیر سمجھتے تھے حتیٰ کہ جو ان کو عذاب کی وعید سناتا تھا وہ قطعی طور پر اسے جھوٹا سمجھتے تھے۔

هود 11:8

اور (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور تھا عرش اس کا اوپر پانی کےتاکہ وہ آزمائے تمھیں کہ کون سا تمھارا اچھا ہے عمل (کرنے) میں ؟ اور البتہ اگر کہیں آپ کہ بے شک تم اٹھائے جاؤ گے بعد مرنے کے تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر (7) اور البتہ اگر مؤخر کر دیں ہم ان (پر) سے عذاب ایک مدت گنی ہوئی تک تو البتہ ضرور کہیں گے وہ (کافر) کہ کون سی چیز روک رہی ہے اس کو؟ آگاہ رہو! جس دن آئے گا (عذاب) ان کے پاس تو نہیں پھیرا جائے گا وہ ان سےاور گھیر لے گا انھیں وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (8) [7] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اسی نے ﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں ‘‘ پہلا دن اتوار اور چھٹا دن جمعہ تھا اور جس وقت اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ﴿ وَّكَانَ عَرۡشُهٗ عَلَى الۡمَآءِ ﴾ ’’اس کا عرش پانی پر تھا‘‘ ساتویں آسمان کے اوپر۔ پس آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرنے کے بعد اپنے عرش پر مستوی ہوا، وہ تمام امور کی تدبیر کرتا ہے اور احکام قدریہ اور احکام شرعیہ میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ ’’تاکہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔‘‘ تاکہ وہ اپنے اوامر و نواہی کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے۔فضیل بن عیاضa نے فرمایا: ’’سب سے اچھا عمل وہ ہے جو سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح ہو۔‘‘ ان سے پوچھا گیا ’’سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح سے کیا مراد ہے؟‘‘ فرمایا: ’’اگر عمل خالص ہو مگر صحیح نہ ہو تو قبول نہیں ہوتا اور اگر عمل صحیح ہو مگر خالص نہ ہو تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قابل قبول نہیں ۔ صرف وہی عمل قابل قبول ہوتا ہے جو خالص بھی ہو اور صحیح بھی ہو۔‘‘ خالص عمل وہ ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اور صحیح عمل وہ ہے جس میں شریعت اور سنت کی پیروی کی گئی ہو اور یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ١ۙ۬ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾(الطلاق: 65؍12) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور ان کی مانند سات زمینیں اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کا حکم اترتا رہتا ہے تاکہ تم لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوق کو اپنی عبادت اور اپنے اسماء و صفات کی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے اور اسی چیز کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور اس ذمہ داری کو ادا کر دیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا وہ فلاح پانے والوں میں سے ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعراض کیا تو یہی گھاٹے میں پڑنے والے لوگ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان کو ایک جگہ جمع کرے گا اور پھر ان کو اپنے اوامر و نواہی کی بنیاد پر جزا دے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کے بارے میں مشرکین کی تکذیب کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَىِٕنۡ قُلۡتَ اِنَّـكُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَيَقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور اگر آپ کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘ یعنی اگر آپ ان سے کہیں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں ان کو آگاہ کریں تو یہ آپ کی تصدیق نہیں کریں گے بلکہ وہ نہایت شدت سے آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ کی دعوت میں عیب چینی کریں گے اور کہیں گے ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلے جادو کے علاوہ کچھ نہیں ‘‘ مگر آگاہ رہو کہ یہ واضح حق ہے۔ [8]﴿ وَلَىِٕنۡ اَخَّرۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّؔةٍ مَّعۡدُوۡدَةٍ ﴾ ’’اگر ہم روکے رکھیں ان سے عذاب ایک معلوم مدت تک‘‘ یعنی ایک وقت مقررہ تک، جس کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دن بہت دیر سے آئے گا۔ تب وہ ظلم و جہالت کی بنا پر کہتے ہیں :﴿مَا يَحۡبِسُهٗ﴾ ’’کون سی چیز اس (عذاب) کو روکے ہوئے ہے؟‘‘ اس آیت کا مضمون ان کا رسول کو جھٹلانا ہے۔ وہ ان پر عذاب کے فوری طورپر نہ آنے کو رسول (ﷺ ) کے جھوٹا ہونے پر دلیل بناتے ہیں جنھوں نے ان کو عذاب واقع ہونے کی وعید سنائی ہے۔ پس یہ کتنا بعید استدلال ہے! ﴿ اَلَا يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمۡ لَيۡسَ مَصۡرُوۡفًا عَنۡهُمۡ ﴾ ’’دیکھو جس روز عذاب ان پر نازل ہوگا تو پھر ٹلے گا نہیں ‘‘ کہ وہ اپنے معاملے میں غور کر سکیں ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کو گھیر لے گا۔‘‘ یعنی نازل ہو کر ﴿ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’وہ (عذاب) جس کے ساتھ یہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ وہ اسے نہایت حقیر سمجھتے تھے حتیٰ کہ جو ان کو عذاب کی وعید سناتا تھا وہ قطعی طور پر اسے جھوٹا سمجھتے تھے۔

هود 11:9

اور البتہ اگر چکھائیں ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت، پھر چھین لیں ہم وہ (رحمت) اس سے تو بے شک (ہو جاتا ہے) وہ انتہائی ناامید، بہت ناشکرا (9) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے راحت بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو ضرور کہے گا چلی گئیں برائیاں (دکھ درد) مجھ سے، بلاشبہ وہ بہت اترانے والا، بڑا شیخی بگھارنے والا ہے (10) مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور عمل کیے نیک، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا (11) [10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً:اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کر سکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی اس کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے:﴿ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴾ ’’دور ہو گئیں برائیاں مجھ سے، بے شک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے‘‘ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الٰہی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انھیں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہو سکتا ہے؟ [11] یہ ہے انسان کی فطرت! سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں ۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے‘‘ اور یہ نعمتوں سے بھرپور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔

هود 11:10

اور البتہ اگر چکھائیں ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت، پھر چھین لیں ہم وہ (رحمت) اس سے تو بے شک (ہو جاتا ہے) وہ انتہائی ناامید، بہت ناشکرا (9) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے راحت بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو ضرور کہے گا چلی گئیں برائیاں (دکھ درد) مجھ سے، بلاشبہ وہ بہت اترانے والا، بڑا شیخی بگھارنے والا ہے (10) مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور عمل کیے نیک، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا (11) [10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً:اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کر سکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی اس کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے:﴿ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴾ ’’دور ہو گئیں برائیاں مجھ سے، بے شک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے‘‘ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الٰہی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انھیں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہو سکتا ہے؟ [11] یہ ہے انسان کی فطرت! سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں ۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے‘‘ اور یہ نعمتوں سے بھرپور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔

هود 11:11

اور البتہ اگر چکھائیں ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت، پھر چھین لیں ہم وہ (رحمت) اس سے تو بے شک (ہو جاتا ہے) وہ انتہائی ناامید، بہت ناشکرا (9) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے راحت بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو ضرور کہے گا چلی گئیں برائیاں (دکھ درد) مجھ سے، بلاشبہ وہ بہت اترانے والا، بڑا شیخی بگھارنے والا ہے (10) مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور عمل کیے نیک، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا (11) [10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً:اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کر سکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی اس کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے:﴿ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴾ ’’دور ہو گئیں برائیاں مجھ سے، بے شک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے‘‘ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الٰہی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انھیں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہو سکتا ہے؟ [11] یہ ہے انسان کی فطرت! سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں ۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے‘‘ اور یہ نعمتوں سے بھرپور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔

هود 11:12

پس شاید آپ چھوڑنے والے ہوں بعض وہ چیز جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور تنگ ہونے والا ہو بوجہ اس کے سینہ آپ کا، اس اندیشے سے کہ کہیں وہ (کافر) کیوں نہیں نازل کیا گیا آپ پر کوئی خزانہ یا (کیوں نہیں ) آیا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ، بلاشبہ آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے (12) کیا وہ کہتے ہیں کہ خود گھڑا ہے اس نے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے، پس لے آؤ تم دس سورتیں اس جیسی گھڑی ہوئی اور بلا لو (تعاون کے لیے) جنھیں (بلانے کی) طاقت رکھتے ہو تم سوائے اللہ کے اگر ہو تم سچے(13) پھر اگر نہ جواب دیں وہ تمھیں تو جان لو کہ یقینا وہ (قرآن) نازل کیا گیا ہے ساتھ اللہ کے علم کےاور یہ کہ نہیں کوئی معبود (برحق) سوائے اس کے تو کیا (اب) تم مسلمان ہوتے ہو؟ (14) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ، کفار کی تکذیب پر اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعۡضَ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ وَضَآىِٕقٌۢ بِهٖ صَدۡرُكَ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا﴾ ’’شاید آپ کچھ چیز وحی میں سے جو آپ کے پاس آتی ہے چھوڑ دیں اور اس (خیال) سے آپ کا دل تنگ ہوکہ یہ (کافر) کہنے لگیں ۔‘‘ یعنی آپ جیسی ہستی کے لائق نہیں کہ ان کا قول آپ پر اثر انداز ہو اور آپ کو اپنے راستے سے روک دے اور آپ وحی کے کچھ حصے کو ترک کر دیں اور ان کی عیب چینی اور ان کے اس قول پر تنگ دل ہوں کہ ﴿لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ ﴾ ’’کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ‘‘ کیونکہ یہ قول عیب چینی، ظلم، عناد اور دلائل سے جہالت کی بنا پر جنم لیتا ہے۔ پس آپ اپنے راستے پر گامزن رہیے اور ان کے یہ رکیک الفاظ آپ کی راہ کھوٹی نہ کرنے پائیں جو صرف ایک انتہائی بیوقوف آدمی ہی سے صادر ہو سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل نہ ہوں ۔کیا انھوں نے آپ کے سامنے کوئی ایسی دلیل پیش کی ہے، جس کا آپ جواب نہیں دے پائے؟ یا انھوں نے اس چیز کی برائی اس انداز سے بیان کی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں کہ وہ اس میں مؤثر ثابت ہوئی ہے اور جس سے اس کی قدرومنزلت کم ہوئی ہے۔ پس آپ اس سے تنگ دل ہوئے ہیں ؟ یا ان کا حساب آپ کے ذمہ ہے اور آپ سے ان کی جبری ہدایت کا مطالبہ کیا گیا ہے؟ ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِيۡرٌ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّؔكِيۡلٌ﴾ ’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا ذمے دار ہے‘‘ پس وہ ان جھٹلانے والوں پر نگران ہے، وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔ [13]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود بنالیا ہے۔‘‘ یعنی اس قرآن کو محمدﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِهٖ مُفۡتَرَيٰتٍ وَّادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلالو۔‘‘ یعنی اگر اس قرآن کو تمھارے قول کے مطابق… محمدﷺ نے اپنی طرف سے تصنیف کیا ہے، تب تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے تمھارے اور محمدﷺ کے درمیان کوئی فرق نہیں اور تم حقیقی دشمن ہو اور محمدﷺ کی دعوت کے ابطال کے لیے انتہائی کوشش کے حریص ہو… اگر تم اپنے موقف میں سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ۔ [14]﴿ فَاِلَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’پس اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی وہ اس کا کوئی جواب نہ دیں ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کے علم سے‘‘ دلیل و مقتضی کے قیام اور معارض کی نفی کی بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہی الوہیت اور عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟‘‘ یعنی کیا تم اس کی الوہیت کو مانتے ہو اور اس کی عبادت کے لیے سر تسلیم خم کرتے ہو؟ان آیات کریمہ میں اس امر کی طرف راہ نمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کے لیے مناسب نہیں کہ دعوت پر اعتراض کرنے والے معترضین کے اعتراضات اور رد و قدح کی بنا پر دعوت دین سے رک جائے۔ خاص طور پر جبکہ اس رد و قدح پر کوئی دلیل نہ ہو اور دعوت میں کوئی خامی بھی نہ ہو۔ نیز یہ کہ داعی کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اپنی دعوت پر مطمئن ہونا چاہیے، وہ اپنے راستے پر گامزن رہے اور اپنی منزل کو سامنے رکھے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ داعی نئے نئے مطالبات پیش کرنے والوں کو اہمیت نہ دے، صرف دلائل ہی ان کے سامنے رکھے۔ تمام مسائل پر ایسے دلائل کا قائم کر دینا جن کا توڑ نہ کیا جا سکے یہی کافی ہے۔اور اس آیت کریمہ میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ یہ قرآن بنفسہ معجزہ ہے، کوئی بشر ایسی کتاب نہیں لا سکتا، کتاب تو کیا اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت ہی نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے بڑے بڑے بلغاء و فصحاء کو مقابلے کی دعوت دی مگر انھوں نے مقابلہ نہ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایسی کتاب بنانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ امور جن میں محض غلبۂ ظن کافی نہیں بلکہ علم یقینی مطلوب ہے، وہ ہیں علم القرآن اور علم التوحید، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘

هود 11:13

پس شاید آپ چھوڑنے والے ہوں بعض وہ چیز جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور تنگ ہونے والا ہو بوجہ اس کے سینہ آپ کا، اس اندیشے سے کہ کہیں وہ (کافر) کیوں نہیں نازل کیا گیا آپ پر کوئی خزانہ یا (کیوں نہیں ) آیا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ، بلاشبہ آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے (12) کیا وہ کہتے ہیں کہ خود گھڑا ہے اس نے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے، پس لے آؤ تم دس سورتیں اس جیسی گھڑی ہوئی اور بلا لو (تعاون کے لیے) جنھیں (بلانے کی) طاقت رکھتے ہو تم سوائے اللہ کے اگر ہو تم سچے(13) پھر اگر نہ جواب دیں وہ تمھیں تو جان لو کہ یقینا وہ (قرآن) نازل کیا گیا ہے ساتھ اللہ کے علم کےاور یہ کہ نہیں کوئی معبود (برحق) سوائے اس کے تو کیا (اب) تم مسلمان ہوتے ہو؟ (14) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ، کفار کی تکذیب پر اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعۡضَ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ وَضَآىِٕقٌۢ بِهٖ صَدۡرُكَ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا﴾ ’’شاید آپ کچھ چیز وحی میں سے جو آپ کے پاس آتی ہے چھوڑ دیں اور اس (خیال) سے آپ کا دل تنگ ہوکہ یہ (کافر) کہنے لگیں ۔‘‘ یعنی آپ جیسی ہستی کے لائق نہیں کہ ان کا قول آپ پر اثر انداز ہو اور آپ کو اپنے راستے سے روک دے اور آپ وحی کے کچھ حصے کو ترک کر دیں اور ان کی عیب چینی اور ان کے اس قول پر تنگ دل ہوں کہ ﴿لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ ﴾ ’’کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ‘‘ کیونکہ یہ قول عیب چینی، ظلم، عناد اور دلائل سے جہالت کی بنا پر جنم لیتا ہے۔ پس آپ اپنے راستے پر گامزن رہیے اور ان کے یہ رکیک الفاظ آپ کی راہ کھوٹی نہ کرنے پائیں جو صرف ایک انتہائی بیوقوف آدمی ہی سے صادر ہو سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل نہ ہوں ۔کیا انھوں نے آپ کے سامنے کوئی ایسی دلیل پیش کی ہے، جس کا آپ جواب نہیں دے پائے؟ یا انھوں نے اس چیز کی برائی اس انداز سے بیان کی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں کہ وہ اس میں مؤثر ثابت ہوئی ہے اور جس سے اس کی قدرومنزلت کم ہوئی ہے۔ پس آپ اس سے تنگ دل ہوئے ہیں ؟ یا ان کا حساب آپ کے ذمہ ہے اور آپ سے ان کی جبری ہدایت کا مطالبہ کیا گیا ہے؟ ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِيۡرٌ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّؔكِيۡلٌ﴾ ’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا ذمے دار ہے‘‘ پس وہ ان جھٹلانے والوں پر نگران ہے، وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔ [13]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود بنالیا ہے۔‘‘ یعنی اس قرآن کو محمدﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِهٖ مُفۡتَرَيٰتٍ وَّادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلالو۔‘‘ یعنی اگر اس قرآن کو تمھارے قول کے مطابق… محمدﷺ نے اپنی طرف سے تصنیف کیا ہے، تب تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے تمھارے اور محمدﷺ کے درمیان کوئی فرق نہیں اور تم حقیقی دشمن ہو اور محمدﷺ کی دعوت کے ابطال کے لیے انتہائی کوشش کے حریص ہو… اگر تم اپنے موقف میں سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ۔ [14]﴿ فَاِلَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’پس اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی وہ اس کا کوئی جواب نہ دیں ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کے علم سے‘‘ دلیل و مقتضی کے قیام اور معارض کی نفی کی بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہی الوہیت اور عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟‘‘ یعنی کیا تم اس کی الوہیت کو مانتے ہو اور اس کی عبادت کے لیے سر تسلیم خم کرتے ہو؟ان آیات کریمہ میں اس امر کی طرف راہ نمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کے لیے مناسب نہیں کہ دعوت پر اعتراض کرنے والے معترضین کے اعتراضات اور رد و قدح کی بنا پر دعوت دین سے رک جائے۔ خاص طور پر جبکہ اس رد و قدح پر کوئی دلیل نہ ہو اور دعوت میں کوئی خامی بھی نہ ہو۔ نیز یہ کہ داعی کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اپنی دعوت پر مطمئن ہونا چاہیے، وہ اپنے راستے پر گامزن رہے اور اپنی منزل کو سامنے رکھے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ داعی نئے نئے مطالبات پیش کرنے والوں کو اہمیت نہ دے، صرف دلائل ہی ان کے سامنے رکھے۔ تمام مسائل پر ایسے دلائل کا قائم کر دینا جن کا توڑ نہ کیا جا سکے یہی کافی ہے۔اور اس آیت کریمہ میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ یہ قرآن بنفسہ معجزہ ہے، کوئی بشر ایسی کتاب نہیں لا سکتا، کتاب تو کیا اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت ہی نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے بڑے بڑے بلغاء و فصحاء کو مقابلے کی دعوت دی مگر انھوں نے مقابلہ نہ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایسی کتاب بنانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ امور جن میں محض غلبۂ ظن کافی نہیں بلکہ علم یقینی مطلوب ہے، وہ ہیں علم القرآن اور علم التوحید، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘

هود 11:14

پس شاید آپ چھوڑنے والے ہوں بعض وہ چیز جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور تنگ ہونے والا ہو بوجہ اس کے سینہ آپ کا، اس اندیشے سے کہ کہیں وہ (کافر) کیوں نہیں نازل کیا گیا آپ پر کوئی خزانہ یا (کیوں نہیں ) آیا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ، بلاشبہ آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے (12) کیا وہ کہتے ہیں کہ خود گھڑا ہے اس نے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے، پس لے آؤ تم دس سورتیں اس جیسی گھڑی ہوئی اور بلا لو (تعاون کے لیے) جنھیں (بلانے کی) طاقت رکھتے ہو تم سوائے اللہ کے اگر ہو تم سچے(13) پھر اگر نہ جواب دیں وہ تمھیں تو جان لو کہ یقینا وہ (قرآن) نازل کیا گیا ہے ساتھ اللہ کے علم کےاور یہ کہ نہیں کوئی معبود (برحق) سوائے اس کے تو کیا (اب) تم مسلمان ہوتے ہو؟ (14) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ، کفار کی تکذیب پر اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعۡضَ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ وَضَآىِٕقٌۢ بِهٖ صَدۡرُكَ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا﴾ ’’شاید آپ کچھ چیز وحی میں سے جو آپ کے پاس آتی ہے چھوڑ دیں اور اس (خیال) سے آپ کا دل تنگ ہوکہ یہ (کافر) کہنے لگیں ۔‘‘ یعنی آپ جیسی ہستی کے لائق نہیں کہ ان کا قول آپ پر اثر انداز ہو اور آپ کو اپنے راستے سے روک دے اور آپ وحی کے کچھ حصے کو ترک کر دیں اور ان کی عیب چینی اور ان کے اس قول پر تنگ دل ہوں کہ ﴿لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ ﴾ ’’کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ‘‘ کیونکہ یہ قول عیب چینی، ظلم، عناد اور دلائل سے جہالت کی بنا پر جنم لیتا ہے۔ پس آپ اپنے راستے پر گامزن رہیے اور ان کے یہ رکیک الفاظ آپ کی راہ کھوٹی نہ کرنے پائیں جو صرف ایک انتہائی بیوقوف آدمی ہی سے صادر ہو سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل نہ ہوں ۔کیا انھوں نے آپ کے سامنے کوئی ایسی دلیل پیش کی ہے، جس کا آپ جواب نہیں دے پائے؟ یا انھوں نے اس چیز کی برائی اس انداز سے بیان کی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں کہ وہ اس میں مؤثر ثابت ہوئی ہے اور جس سے اس کی قدرومنزلت کم ہوئی ہے۔ پس آپ اس سے تنگ دل ہوئے ہیں ؟ یا ان کا حساب آپ کے ذمہ ہے اور آپ سے ان کی جبری ہدایت کا مطالبہ کیا گیا ہے؟ ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِيۡرٌ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّؔكِيۡلٌ﴾ ’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا ذمے دار ہے‘‘ پس وہ ان جھٹلانے والوں پر نگران ہے، وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔ [13]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود بنالیا ہے۔‘‘ یعنی اس قرآن کو محمدﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِهٖ مُفۡتَرَيٰتٍ وَّادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلالو۔‘‘ یعنی اگر اس قرآن کو تمھارے قول کے مطابق… محمدﷺ نے اپنی طرف سے تصنیف کیا ہے، تب تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے تمھارے اور محمدﷺ کے درمیان کوئی فرق نہیں اور تم حقیقی دشمن ہو اور محمدﷺ کی دعوت کے ابطال کے لیے انتہائی کوشش کے حریص ہو… اگر تم اپنے موقف میں سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ۔ [14]﴿ فَاِلَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’پس اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی وہ اس کا کوئی جواب نہ دیں ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کے علم سے‘‘ دلیل و مقتضی کے قیام اور معارض کی نفی کی بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہی الوہیت اور عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟‘‘ یعنی کیا تم اس کی الوہیت کو مانتے ہو اور اس کی عبادت کے لیے سر تسلیم خم کرتے ہو؟ان آیات کریمہ میں اس امر کی طرف راہ نمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کے لیے مناسب نہیں کہ دعوت پر اعتراض کرنے والے معترضین کے اعتراضات اور رد و قدح کی بنا پر دعوت دین سے رک جائے۔ خاص طور پر جبکہ اس رد و قدح پر کوئی دلیل نہ ہو اور دعوت میں کوئی خامی بھی نہ ہو۔ نیز یہ کہ داعی کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اپنی دعوت پر مطمئن ہونا چاہیے، وہ اپنے راستے پر گامزن رہے اور اپنی منزل کو سامنے رکھے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ داعی نئے نئے مطالبات پیش کرنے والوں کو اہمیت نہ دے، صرف دلائل ہی ان کے سامنے رکھے۔ تمام مسائل پر ایسے دلائل کا قائم کر دینا جن کا توڑ نہ کیا جا سکے یہی کافی ہے۔اور اس آیت کریمہ میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ یہ قرآن بنفسہ معجزہ ہے، کوئی بشر ایسی کتاب نہیں لا سکتا، کتاب تو کیا اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت ہی نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے بڑے بڑے بلغاء و فصحاء کو مقابلے کی دعوت دی مگر انھوں نے مقابلہ نہ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایسی کتاب بنانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ امور جن میں محض غلبۂ ظن کافی نہیں بلکہ علم یقینی مطلوب ہے، وہ ہیں علم القرآن اور علم التوحید، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘

هود 11:15

جو کوئی چاہتا ہے زندگی دنیا کی اور زینت اس کی تو ہم پوری دے دیتے ہیں انھیں جزا ان کے عملوں کی اسی (دنیا) میں اور وہ دنیا میں نہیں نقصان دیے جاتے (15) یہی ہیں وہ لوگ کہ نہیں واسطے ان کے آخرت میں مگر آگ ہی اور برباد ہوا وہ جو کچھ انھوں نے کیا تھا دنیا میں اور باطل (ضائع) ہو گیا جو تھے وہ عمل کرتے (16) [15]﴿ مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا ﴾ ’’جو چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی رونق‘‘ یعنی جس شخص کا بھی ارادہ، دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت ہی کے گرد گھومتا ہے، مثلاً:عورتوں اور بیٹوں کے حصول کی خواہش، سونے اور چاندی کے خزانوں کی حرص، نشان زدہ گھوڑوں ، مویشیوں اور کھیتیوں کی چاہت، اس نے اپنی رغبت، عمل اور کوشش کو صرف انھی چیزوں پر مرکوز کر رکھا ہے اور وہ آخرت کے گھر کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایسا شخص کافر کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر وہ مومن ہوتا تو اس کا ایمان اسے اس بات سے روک دیتا کہ اس کا تمام ارادہ صرف دنیا ہی پر مرکوز رہے بلکہ اس کا ایمان اور اس کے اعمال، اس کے ارادۂ آخرت ہی کے آثار ہیں ۔ مگر یہ کافر بدبخت تو گویا صرف دنیا ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ﴿ نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’بھگتا دیں گے ہم ان کو ان کے عمل دنیا ہی میں ‘‘ یعنی ہم ان کو وہ دنیاوی ثواب عطا کر دیتے ہیں جو ان کے لیے لوح محفوظ میں لکھا ہوتا ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ ﴾ ’’اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔‘‘ یعنی جو کچھ ان کے لیے مقرر کیا گیا ہوتا ہے اس میں ذرہ بھر کمی نہیں کی جاتی۔ مگر یہ ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کی منتہا ہے۔ [16]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ﴾ ’’یہی ہیں جن کے واسطے آخرت میں کچھ نہیں ہے سوائے آگ کے‘‘ وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے، ان کے عذاب میں کوئی وقفہ نہیں کیا جائے گا اور ثواب جزیل سے انھیں محروم کر دیا جائے گا۔ ﴿ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’اور برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے کیا دنیا میں ‘‘ یعنی وہ سب اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے جو وہ حق اور اہل حق کے خلاف سازشوں کے لیے کرتے رہے ہیں اور نیکی کے اعمال بھی باطل ہو جائیں گے جن کی کوئی اساس ہی نہیں اور ان کی قبولیت کی شرط بھی مفقود ہے اور وہ ہے ایمان۔

هود 11:16

جو کوئی چاہتا ہے زندگی دنیا کی اور زینت اس کی تو ہم پوری دے دیتے ہیں انھیں جزا ان کے عملوں کی اسی (دنیا) میں اور وہ دنیا میں نہیں نقصان دیے جاتے (15) یہی ہیں وہ لوگ کہ نہیں واسطے ان کے آخرت میں مگر آگ ہی اور برباد ہوا وہ جو کچھ انھوں نے کیا تھا دنیا میں اور باطل (ضائع) ہو گیا جو تھے وہ عمل کرتے (16) [15]﴿ مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا ﴾ ’’جو چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی رونق‘‘ یعنی جس شخص کا بھی ارادہ، دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت ہی کے گرد گھومتا ہے، مثلاً:عورتوں اور بیٹوں کے حصول کی خواہش، سونے اور چاندی کے خزانوں کی حرص، نشان زدہ گھوڑوں ، مویشیوں اور کھیتیوں کی چاہت، اس نے اپنی رغبت، عمل اور کوشش کو صرف انھی چیزوں پر مرکوز کر رکھا ہے اور وہ آخرت کے گھر کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایسا شخص کافر کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر وہ مومن ہوتا تو اس کا ایمان اسے اس بات سے روک دیتا کہ اس کا تمام ارادہ صرف دنیا ہی پر مرکوز رہے بلکہ اس کا ایمان اور اس کے اعمال، اس کے ارادۂ آخرت ہی کے آثار ہیں ۔ مگر یہ کافر بدبخت تو گویا صرف دنیا ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ﴿ نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’بھگتا دیں گے ہم ان کو ان کے عمل دنیا ہی میں ‘‘ یعنی ہم ان کو وہ دنیاوی ثواب عطا کر دیتے ہیں جو ان کے لیے لوح محفوظ میں لکھا ہوتا ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ ﴾ ’’اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔‘‘ یعنی جو کچھ ان کے لیے مقرر کیا گیا ہوتا ہے اس میں ذرہ بھر کمی نہیں کی جاتی۔ مگر یہ ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کی منتہا ہے۔ [16]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ﴾ ’’یہی ہیں جن کے واسطے آخرت میں کچھ نہیں ہے سوائے آگ کے‘‘ وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے، ان کے عذاب میں کوئی وقفہ نہیں کیا جائے گا اور ثواب جزیل سے انھیں محروم کر دیا جائے گا۔ ﴿ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’اور برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے کیا دنیا میں ‘‘ یعنی وہ سب اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے جو وہ حق اور اہل حق کے خلاف سازشوں کے لیے کرتے رہے ہیں اور نیکی کے اعمال بھی باطل ہو جائیں گے جن کی کوئی اساس ہی نہیں اور ان کی قبولیت کی شرط بھی مفقود ہے اور وہ ہے ایمان۔

هود 11:17

کیا پس (طالب دنیا اس جیسا ہے) جو ہو اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سےاور اس کے پیچھے ایک گواہ ہو اللہ کی طرف سےاور اس سے پہلے ہے کتاب موسیٰ کی درآں حالیکہ وہ پیشوا اور رحمت ہے یہی لوگ ایمان لاتے ہیں ساتھ اس (قرآن) کےاور جو شخص کفرکرے ساتھ اس کے گروہوں میں سے تو آگ ہی اس کی وعدہ گا ہ ہے، پس نہ ہوں آپ شک میں اس سے، بلاشبہ قرآن حق ہے آپ کے رب کی طرف سے لیکن اکثر لوگ نہیں ایمان لاتے (17) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ ، آپ کے قائم مقام، آپ کے دین کو قائم کرنے والے آپ کے ورثاء کا حال اور اہل ایقان کے دلائل کا ذکر کرتا ہے اور یہ ایسے اوصاف ہیں جن سے ان کے سوا کوئی اور متصف نہیں ہے اور نہ ان جیسا کوئی اور ہے۔ فرمایا:﴿اَفَمَنۡ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’بھلا وہ شخص جو ہے واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی اس وحی کے ذریعے سے جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہم مسائل اور ان کے ظاہری دلائل نازل کیے ہیں پس ان سے یہ ثبوت اور دلیل مزید متیقن ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَيَتۡلُوۡهُ ﴾ ’’اور اس کے پیچھے ہے‘‘ یعنی اس دلیل اور برہان کے پیچھے ایک اور دلیل ہے۔ ﴿شَاهِدٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’ایک گواہ اس کی طرف سے‘‘ اور وہ ہے فطرت مستقیم، عقل سلیم۔ فطرت سلیم اس شریعت کی حقانیت کی گواہی دیتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے نازل اور مشروع فرمایا اور بندہ اپنی عقل کے ذریعے سے اس کے حسن کو معلوم کر لیتا ہے پس اس کے ایمان میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ وہاں ایک تیسرا شاہد بھی ہے ﴿ مِنۡ قَبۡلِهٖ ﴾ ’’اس سے پہلے‘‘ اور وہ ہے ﴿ كِتٰبُ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ (u) کی کتاب۔‘‘ یعنی تورات ﴿ اِمَامًا﴾ ’’پیشوا‘‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے امام ﴿ وَّرَحۡمَةً﴾’’اور رحمت بنایا ہے۔‘‘ یہ تورات قرآن کی صداقت پر گواہی دیتی ہے اور اس حق کی موافقت کرتی ہے جو اس کے اندر نازل کیا گیا… یعنی جس کا یہ وصف ہو کہ تمام شواہد ایمان اس کی تائید کرتے ہوں اور اس کے پاس تمام دلائل یقین قائم ہوں کیا وہ اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو تاریکیوں اور جہالتوں میں ڈوبا ہوا ہے اور ان میں سے نکل نہیں سکتا۔ یہ دونوں اللہ کے ہاں برابر ہیں نہ اللہ کے بندوں کے ہاں ۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو دلائل قائم کرنے کی توفیق عطا کی گئی ہے۔ ﴿ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ﴾ ’’اس پر ایمان لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی قرآن پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں ان کے ایمان کے نتیجے میں انھیں دنیا و آخرت کی ہر بھلائی عطا ہوتی ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ مِنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’اور جو منکر ہو اس سے سب فرقوں میں سے‘‘ یعنی روئے زمین کے تمام گروہ، جو حق کو ٹھکرانے پر متفق ہیں ۔ ﴿ فَالنَّارُ مَوۡعِدُهٗ﴾ ’’پس دوزخ اس کا ٹھکانا ہے‘‘ وہ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ ﴿ فَلَا تَكُ فِيۡ مِرۡيَةٍ مِّؔنۡهُ﴾ ’’تو آپ اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔‘‘ یعنی آپ اس کی طرف سے ادنیٰ سے شک میں بھی مبتلا نہ ہوں ۔ ﴿ اِنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے‘‘ یعنی یا تو جہالت کی بنا پر ایمان نہیں لاتے یا ظلم، عناد اور بغاوت کی بنا پر ایمان نہیں لاتے۔ ورنہ جس کا مقصد اچھا اور فہم درست ہے وہ اس پر ضرور ایمان لائے گا کیونکہ اسے اس میں وہ صداقت نظر آتی ہے جو اسے ہر لحاظ سے ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے۔

هود 11:18

اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22) [18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔ [19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ السَّمۡعَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی‘‘ یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہو سکیں ﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ۰۰كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌۙ۰۰ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ﴾(المدثر: 74؍49-51) ’’انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں ۔‘‘ ﴿ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ دیکھتے تھے‘‘ یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں ۔ [21]﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو‘‘ کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔ [22]﴿ لَا جَرَمَ ﴾ ’’بلاشبہ‘‘ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔

هود 11:19

اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22) [18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔ [19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ السَّمۡعَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی‘‘ یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہو سکیں ﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ۰۰كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌۙ۰۰ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ﴾(المدثر: 74؍49-51) ’’انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں ۔‘‘ ﴿ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ دیکھتے تھے‘‘ یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں ۔ [21]﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو‘‘ کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔ [22]﴿ لَا جَرَمَ ﴾ ’’بلاشبہ‘‘ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔

هود 11:20

اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22) [18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔ [19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ السَّمۡعَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی‘‘ یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہو سکیں ﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ۰۰كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌۙ۰۰ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ﴾(المدثر: 74؍49-51) ’’انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں ۔‘‘ ﴿ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ دیکھتے تھے‘‘ یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں ۔ [21]﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو‘‘ کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔ [22]﴿ لَا جَرَمَ ﴾ ’’بلاشبہ‘‘ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔

هود 11:21

اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22) [18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔ [19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ السَّمۡعَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی‘‘ یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہو سکیں ﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ۰۰كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌۙ۰۰ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ﴾(المدثر: 74؍49-51) ’’انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں ۔‘‘ ﴿ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ دیکھتے تھے‘‘ یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں ۔ [21]﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو‘‘ کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔ [22]﴿ لَا جَرَمَ ﴾ ’’بلاشبہ‘‘ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔

هود 11:22

اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22) [18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔ [19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ السَّمۡعَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی‘‘ یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہو سکیں ﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ۰۰كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌۙ۰۰ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ﴾(المدثر: 74؍49-51) ’’انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں ۔‘‘ ﴿ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ دیکھتے تھے‘‘ یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں ۔ [21]﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو‘‘ کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔ [22]﴿ لَا جَرَمَ ﴾ ’’بلاشبہ‘‘ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔

هود 11:23

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کی طرف، یہی لوگ اہل جنت ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (23) مثال دونوں فریقوں کی مانند (مثال) اندھے اور بہرے، دیکھنے والے اور سننے والے کی ہے، کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں مثال میں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (24) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے (بدبختوں کا حال اور اللہ کے ہاں ان کا اجروثواب بیان کرنے کے بعد خوش بخت لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’جولوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اصول دین اور اس کے قواعد پر ایمان لانے کا حکم دیا تو انھوں نے ان امور کا اعتراف کیا اور ان کی تصدیق کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کیے۔‘‘ جو اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لسان پر مشتمل ہیں ۔ ﴿ وَاَخۡبَتُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ﴾ ’’اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے سرافگندہ ہوگئے، اس کی قوت و اقتدار کے سامنے تذلل اور انکساری اختیار کی، اپنے دل میں اس کی محبت، اس کا خوف اور اس پر امیدیں رکھتے ہوئے اس کی طرف لوٹے اور اس کے حضور اپنی عاجزی اور بے مائیگی کا اظہار کیا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام صفات جمع ہیں ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’جنتی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ کیونکہ بھلائی کا کوئی ایسا مقصد نہیں جو انھوں نے حاصل نہ کیا اور کوئی ایسی منزل نہیں جس کی طرف انھوں نے سبقت نہ کی ہو۔ [24]﴿ مَثَلُ الۡفَرِيۡقَيۡنِ ﴾ ’’مثال دو گروہوں کی‘‘ یعنی بدبختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ ﴿ كَالۡاَعۡمٰى وَالۡاَصَمِّ ﴾ ’’اندھے اور بہرے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی ان بدبختوں کا گروہ ﴿ وَالۡبَصِيۡرِ وَالسَّمِيۡعِ﴾ ’’اور دیکھنے، سننے والے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ ﴿ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا﴾ ’’کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہو سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے‘‘ ان اعمال کی طرف جو تمھیں فائدہ دیں اور تم انھیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں ، پس تم ان کو چھوڑ دو۔

هود 11:24

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کی طرف، یہی لوگ اہل جنت ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (23) مثال دونوں فریقوں کی مانند (مثال) اندھے اور بہرے، دیکھنے والے اور سننے والے کی ہے، کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں مثال میں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (24) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے (بدبختوں کا حال اور اللہ کے ہاں ان کا اجروثواب بیان کرنے کے بعد خوش بخت لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’جولوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اصول دین اور اس کے قواعد پر ایمان لانے کا حکم دیا تو انھوں نے ان امور کا اعتراف کیا اور ان کی تصدیق کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کیے۔‘‘ جو اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لسان پر مشتمل ہیں ۔ ﴿ وَاَخۡبَتُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ﴾ ’’اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے سرافگندہ ہوگئے، اس کی قوت و اقتدار کے سامنے تذلل اور انکساری اختیار کی، اپنے دل میں اس کی محبت، اس کا خوف اور اس پر امیدیں رکھتے ہوئے اس کی طرف لوٹے اور اس کے حضور اپنی عاجزی اور بے مائیگی کا اظہار کیا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام صفات جمع ہیں ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’جنتی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ کیونکہ بھلائی کا کوئی ایسا مقصد نہیں جو انھوں نے حاصل نہ کیا اور کوئی ایسی منزل نہیں جس کی طرف انھوں نے سبقت نہ کی ہو۔ [24]﴿ مَثَلُ الۡفَرِيۡقَيۡنِ ﴾ ’’مثال دو گروہوں کی‘‘ یعنی بدبختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ ﴿ كَالۡاَعۡمٰى وَالۡاَصَمِّ ﴾ ’’اندھے اور بہرے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی ان بدبختوں کا گروہ ﴿ وَالۡبَصِيۡرِ وَالسَّمِيۡعِ﴾ ’’اور دیکھنے، سننے والے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ ﴿ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا﴾ ’’کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہو سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے‘‘ ان اعمال کی طرف جو تمھیں فائدہ دیں اور تم انھیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں ، پس تم ان کو چھوڑ دو۔

هود 11:25

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49) [25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ [26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔ [27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ [29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ [30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟ [31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔ [32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ [33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔ [34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔ [36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ [37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ [38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘ [39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔ [40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘ [41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ [42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ [43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘ [44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ [45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ [46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ [47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ [48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ [49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔

هود 11:26

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49) [25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ [26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔ [27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ [29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ [30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟ [31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔ [32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ [33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔ [34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔ [36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ [37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ [38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘ [39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔ [40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘ [41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ [42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ [43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘ [44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ [45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ [46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ [47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ [48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ [49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔

هود 11:27

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49) [25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ [26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔ [27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ [29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ [30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟ [31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔ [32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ [33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔ [34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔ [36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ [37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ [38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘ [39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔ [40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘ [41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ [42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ [43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘ [44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ [45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ [46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ [47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ [48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ [49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔

هود 11:28

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49) [25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ [26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔ [27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ [29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ [30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟ [31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔ [32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ [33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔ [34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔ [36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ [37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ [38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘ [39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔ [40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘ [41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ [42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ [43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘ [44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ [45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ [46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ [47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ [48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ [49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔

هود 11:29

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49) [25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ [26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔ [27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ [29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ [30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟ [31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔ [32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ [33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔ [34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔ [36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ [37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ [38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘ [39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔ [40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘ [41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ [42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ [43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘ [44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ [45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ [46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ [47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ [48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ [49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔

هود 11:30

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49) [25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ [26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔ [27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ [29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ [30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟ [31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔ [32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ [33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔ [34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔ [36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ [37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ [38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘ [39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔ [40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘ [41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ [42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ [43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘ [44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ [45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ [46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ [47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ [48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ [49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔

هود 11:31

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49) [25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ [26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔ [27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ [29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ [30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟ [31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔ [32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ [33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔ [34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔ [36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ [37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ [38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘ [39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔ [40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘ [41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ [42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ [43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘ [44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ [45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ [46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ [47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ [48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ [49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔

هود 11:32

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49) [25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ [26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔ [27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ [29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ [30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟ [31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔ [32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ [33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔ [34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔ [36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ [37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ [38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘ [39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔ [40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘ [41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ [42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ [43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘ [44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ [45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ [46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ [47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ [48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ [49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔

هود 11:33

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49) [25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ [26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔ [27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ [29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ [30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟ [31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔ [32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ [33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔ [34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔ [36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ [37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ [38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘ [39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔ [40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘ [41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ [42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ [43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘ [44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ [45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ [46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ [47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ [48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ [49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔

هود 11:34

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49) [25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ [26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔ [27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ [29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ [30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟ [31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔ [32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ [33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔ [34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔ [36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ [37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ [38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘ [39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔ [40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘ [41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ [42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ [43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘ [44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ [45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ [46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ [47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ [48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ [49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔

هود 11:35

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49) [25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ [26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔ [27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ [29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ [30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟ [31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔ [32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ [33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔ [34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔ [36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ [37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ [38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘ [39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔ [40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘ [41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ [42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ [43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘ [44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ [45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ [46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ [47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ [48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ [49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔

هود 11:36

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49) [25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔ [26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔ [27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ [29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ [30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟ [31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔ [32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ [33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔ [34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔ [36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ [37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ [38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘ [39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔ [40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘ [41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔ [42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ [43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘ [44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ [45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘ [46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔ [47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔ [48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔ [49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔