Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — طه 20:62 – طه 20:135

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. طه 20:62
  2. طه 20:63
  3. طه 20:64
  4. طه 20:65
  5. طه 20:66
  6. طه 20:67
  7. طه 20:68
  8. طه 20:69
  9. طه 20:70
  10. طه 20:71
  11. طه 20:72
  12. طه 20:73
  13. طه 20:74
  14. طه 20:75
  15. طه 20:76
  16. طه 20:77
  17. طه 20:78
  18. طه 20:79
  19. طه 20:80
  20. طه 20:81
  21. طه 20:82
  22. طه 20:83
  23. طه 20:84
  24. طه 20:85
  25. طه 20:86
  26. طه 20:87
  27. طه 20:88
  28. طه 20:89
  29. طه 20:90
  30. طه 20:91
  31. طه 20:92
  32. طه 20:93
  33. طه 20:94
  34. طه 20:95
  35. طه 20:96
  36. طه 20:97
  37. طه 20:98
  38. طه 20:99
  39. طه 20:100
  40. طه 20:101
  41. طه 20:102
  42. طه 20:103
  43. طه 20:104
  44. طه 20:105
  45. طه 20:106
  46. طه 20:107
  47. طه 20:108
  48. طه 20:109
  49. طه 20:110
  50. طه 20:111
  51. طه 20:112
  52. طه 20:113
  53. طه 20:114
  54. طه 20:115
  55. طه 20:116
  56. طه 20:117
  57. طه 20:118
  58. طه 20:119
  59. طه 20:120
  60. طه 20:121
  61. طه 20:122
  62. طه 20:123
  63. طه 20:124
  64. طه 20:125
  65. طه 20:126
  66. طه 20:127
  67. طه 20:128
  68. طه 20:129
  69. طه 20:130
  70. طه 20:131
  71. طه 20:132
  72. طه 20:133
  73. طه 20:134
  74. طه 20:135

طه 20:62

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73) [56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ [57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔ [58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ [59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔ [60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘ [61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ [62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔ [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ [64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔ [65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ [66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ [67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ [68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ [69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔ [70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔ [71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔ [72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ [73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔

طه 20:63

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73) [56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ [57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔ [58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ [59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔ [60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘ [61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ [62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔ [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ [64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔ [65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ [66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ [67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ [68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ [69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔ [70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔ [71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔ [72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ [73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔

طه 20:64

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73) [56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ [57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔ [58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ [59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔ [60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘ [61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ [62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔ [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ [64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔ [65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ [66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ [67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ [68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ [69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔ [70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔ [71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔ [72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ [73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔

طه 20:65

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73) [56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ [57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔ [58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ [59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔ [60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘ [61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ [62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔ [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ [64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔ [65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ [66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ [67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ [68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ [69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔ [70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔ [71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔ [72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ [73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔

طه 20:66

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73) [56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ [57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔ [58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ [59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔ [60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘ [61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ [62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔ [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ [64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔ [65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ [66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ [67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ [68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ [69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔ [70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔ [71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔ [72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ [73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔

طه 20:67

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73) [56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ [57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔ [58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ [59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔ [60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘ [61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ [62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔ [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ [64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔ [65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ [66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ [67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ [68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ [69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔ [70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔ [71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔ [72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ [73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔

طه 20:68

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73) [56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ [57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔ [58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ [59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔ [60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘ [61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ [62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔ [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ [64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔ [65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ [66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ [67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ [68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ [69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔ [70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔ [71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔ [72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ [73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔

طه 20:69

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73) [56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ [57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔ [58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ [59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔ [60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘ [61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ [62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔ [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ [64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔ [65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ [66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ [67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ [68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ [69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔ [70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔ [71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔ [72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ [73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔

طه 20:70

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73) [56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ [57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔ [58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ [59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔ [60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘ [61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ [62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔ [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ [64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔ [65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ [66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ [67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ [68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ [69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔ [70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔ [71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔ [72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ [73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔

طه 20:71

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73) [56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ [57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔ [58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ [59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔ [60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘ [61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ [62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔ [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ [64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔ [65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ [66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ [67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ [68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ [69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔ [70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔ [71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔ [72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ [73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔

طه 20:72

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73) [56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ [57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔ [58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ [59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔ [60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘ [61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ [62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔ [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ [64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔ [65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ [66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ [67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ [68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ [69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔ [70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔ [71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔ [72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ [73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔

طه 20:73

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73) [56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ [57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔ [58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ [59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔ [60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘ [61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ [62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔ [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ [64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔ [65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ [66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ [67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ [68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ [69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔ [70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔ [71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔ [72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ [73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔

طه 20:74

بے شک جو شخص آئے گا اپنے رب کے پاس مجرم بن کر تو بلاشبہ اس کے لیے جہنم (تیار) ہے، نہ مرے گاوہ اس میں اور نہ جیے گا (74) اور جو شخص آئے گا اس کے پاس مومن ہو کر، جبکہ اس نے عمل کیے ہوں نیک تو یہ لوگ، ان کے لیے ہیں درجے بلند (75)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں اور یہی ہے جزا اس شخص کی جو پاک ہوا (76) [74] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہو گی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہو گی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جیے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جیے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی اور جسمانی عذاب سے لبریز ہو گی، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی اس سے دور نہ ہو گا۔ وہ مدد کے لیے پکارے گا لیکن اس کی مدد نہ کی جائے گی اور وہ دعائیں کرے گا لیکن اس کی دعا قبول نہ ہو گی۔ ہاں ! جب وہ پانی مانگے گا تو اسے پینے کے لیے ایسا پانی دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ کی مانند ہو گا جو چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ جب وہ پکارے گا تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون:23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور اسی عذاب میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘ [76,75] اور جو کوئی اپنے رب پر ایمان رکھتے، اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے اور اس کی کتابوں کی اتباع کرتے ہوئے، اس کے حضور حاضر ہوتا ہے ﴿قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ ﴾ اور اس نے فرض اور مستحب اعمال بھی سرانجام دیے ہوتے ہیں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰؔتُ الۡعُلٰى ﴾ ’’تو ان کے لیے بڑے درجے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے آراستہ بالا خانوں میں عالیشان ضیافتیں ہوں گی، کبھی نہ ختم ہونے والی لذتیں ، بہتی ہوئی نہریں ، دائمی خلود اور ایسی عظیم مسرتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ وَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ ثواب ﴿جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾اس شخص کی جزا ہے جو شرک، کفر، فسق اور معصیت سے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔ وہ یا تو ان مذکورہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی نہیں یا اگر اس سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو وہ توبہ کر لیتا ہے، نیز وہ اپنے نفس کو پاک کرتا ہے، ایمان اور عمل صالح کے ذریعے اس کی نشوونما کرتا ہے۔ ’’تزکیہ‘‘ کے دو معنیٰ ہیں ۔(۱)صاف کرنا اور گندگی کو زائل کرنا ۔(۲) بھلائی کے حصول میں اضافہ کرنا۔ زکاۃ کو انھی دو امور کی بنا پر زکاۃ کہا جاتا ہے۔

طه 20:75

بے شک جو شخص آئے گا اپنے رب کے پاس مجرم بن کر تو بلاشبہ اس کے لیے جہنم (تیار) ہے، نہ مرے گاوہ اس میں اور نہ جیے گا (74) اور جو شخص آئے گا اس کے پاس مومن ہو کر، جبکہ اس نے عمل کیے ہوں نیک تو یہ لوگ، ان کے لیے ہیں درجے بلند (75)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں اور یہی ہے جزا اس شخص کی جو پاک ہوا (76) [74] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہو گی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہو گی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جیے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جیے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی اور جسمانی عذاب سے لبریز ہو گی، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی اس سے دور نہ ہو گا۔ وہ مدد کے لیے پکارے گا لیکن اس کی مدد نہ کی جائے گی اور وہ دعائیں کرے گا لیکن اس کی دعا قبول نہ ہو گی۔ ہاں ! جب وہ پانی مانگے گا تو اسے پینے کے لیے ایسا پانی دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ کی مانند ہو گا جو چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ جب وہ پکارے گا تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون:23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور اسی عذاب میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘ [76,75] اور جو کوئی اپنے رب پر ایمان رکھتے، اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے اور اس کی کتابوں کی اتباع کرتے ہوئے، اس کے حضور حاضر ہوتا ہے ﴿قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ ﴾ اور اس نے فرض اور مستحب اعمال بھی سرانجام دیے ہوتے ہیں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰؔتُ الۡعُلٰى ﴾ ’’تو ان کے لیے بڑے درجے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے آراستہ بالا خانوں میں عالیشان ضیافتیں ہوں گی، کبھی نہ ختم ہونے والی لذتیں ، بہتی ہوئی نہریں ، دائمی خلود اور ایسی عظیم مسرتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ وَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ ثواب ﴿جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾اس شخص کی جزا ہے جو شرک، کفر، فسق اور معصیت سے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔ وہ یا تو ان مذکورہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی نہیں یا اگر اس سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو وہ توبہ کر لیتا ہے، نیز وہ اپنے نفس کو پاک کرتا ہے، ایمان اور عمل صالح کے ذریعے اس کی نشوونما کرتا ہے۔ ’’تزکیہ‘‘ کے دو معنیٰ ہیں ۔(۱)صاف کرنا اور گندگی کو زائل کرنا ۔(۲) بھلائی کے حصول میں اضافہ کرنا۔ زکاۃ کو انھی دو امور کی بنا پر زکاۃ کہا جاتا ہے۔

طه 20:76

بے شک جو شخص آئے گا اپنے رب کے پاس مجرم بن کر تو بلاشبہ اس کے لیے جہنم (تیار) ہے، نہ مرے گاوہ اس میں اور نہ جیے گا (74) اور جو شخص آئے گا اس کے پاس مومن ہو کر، جبکہ اس نے عمل کیے ہوں نیک تو یہ لوگ، ان کے لیے ہیں درجے بلند (75)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں اور یہی ہے جزا اس شخص کی جو پاک ہوا (76) [74] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہو گی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہو گی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جیے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جیے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی اور جسمانی عذاب سے لبریز ہو گی، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی اس سے دور نہ ہو گا۔ وہ مدد کے لیے پکارے گا لیکن اس کی مدد نہ کی جائے گی اور وہ دعائیں کرے گا لیکن اس کی دعا قبول نہ ہو گی۔ ہاں ! جب وہ پانی مانگے گا تو اسے پینے کے لیے ایسا پانی دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ کی مانند ہو گا جو چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ جب وہ پکارے گا تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون:23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور اسی عذاب میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘ [76,75] اور جو کوئی اپنے رب پر ایمان رکھتے، اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے اور اس کی کتابوں کی اتباع کرتے ہوئے، اس کے حضور حاضر ہوتا ہے ﴿قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ ﴾ اور اس نے فرض اور مستحب اعمال بھی سرانجام دیے ہوتے ہیں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰؔتُ الۡعُلٰى ﴾ ’’تو ان کے لیے بڑے درجے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے آراستہ بالا خانوں میں عالیشان ضیافتیں ہوں گی، کبھی نہ ختم ہونے والی لذتیں ، بہتی ہوئی نہریں ، دائمی خلود اور ایسی عظیم مسرتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ وَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ ثواب ﴿جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾اس شخص کی جزا ہے جو شرک، کفر، فسق اور معصیت سے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔ وہ یا تو ان مذکورہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی نہیں یا اگر اس سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو وہ توبہ کر لیتا ہے، نیز وہ اپنے نفس کو پاک کرتا ہے، ایمان اور عمل صالح کے ذریعے اس کی نشوونما کرتا ہے۔ ’’تزکیہ‘‘ کے دو معنیٰ ہیں ۔(۱)صاف کرنا اور گندگی کو زائل کرنا ۔(۲) بھلائی کے حصول میں اضافہ کرنا۔ زکاۃ کو انھی دو امور کی بنا پر زکاۃ کہا جاتا ہے۔

طه 20:77

اور البتہ تحقیق وحی کی ہم نے موسی کی طرف یہ کہ رات کو نکال لے جا میرے بندے ، پھر بنا تو ان کے لیے راستہ سمندر میں خشک اس حال میں کہ نہ خوف ہو گا تجھے پکڑے جانے کا اور نہ ڈرے گا تو(ڈوبنے سے)(77) پس پیچھے لگا ان کے فرعون اپنے لشکروں سمیت تو ڈھانپ لیا انھیں سمندر سے جس چیز نے ڈھانپ لیا انھیں (78) اور گمراہ کیا فرعون نے اپنی قوم کواور نہ (سیدھی) راہ بتائی (79) [79-77] جب موسیٰ u معجزات کے ذریعے سے فرعون اور اس کی قوم پر غالب آ گئے تو وہ مصر میں ٹھہر گئے اور فرعون اور قوم فرعون کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور اس کی تعذیب سے نجات دلانے میں کوشاں رہے۔ فرعون اپنی سرکشی اور روگردانی پر جما ہوا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں اس کا معاملہ بہت سخت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آیات و معجزات دکھائے جن کا قرآن میں ذکر فرمایا اور بنی اسرائیل اعلانیہ اپنے ایمان کے اظہار پر قادر نہیں تھے انھوں نے اپنے گھروں کو مساجد بنا رکھا تھا اور نہایت صبر و استقامت کے ساتھ وہ فرعون کی تعذیب اور اذیتوں کا سامنا کر رہے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کو اس کے دشمن کی غلامی سے رہائی دلا کر ایک ایسی سرزمین میں آباد کرے جہاں وہ اعلانیہ اس کی عبادت کریں اور اس کے دین کو قائم کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ u کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا کہ وہ خفیہ طور پر بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے منصوبے سے آگاہ کریں ، رات کے ابتدائی حصے میں مصر سے نکل کر راتوں رات بہت دور نکل جائیں اور خبردار کر دیا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ان کا تعاقب کرے گا، چنانچہ تمام بنی اسرائیل اپنے اہل و عیال سمیت، رات کے پہلے پہر، مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ جب صبح ہوئی تو مصریوں نے دیکھا کہ شہر میں (بنی اسرائیل میں سے) کوئی بلانے والا ہے نہ جواب دینے والا تو ان کا دشمن فرعون سخت غضبناک ہوا۔ اس نے تمام شہروں میں ہر کارے بھجوا دیے تاکہ وہ لوگوں کو اکٹھا کریں اور ان کو بنی اسرائیل کے تعاقب پر آمادہ کریں تاکہ وہ ان کو پکڑ کر ان پر اپنا غصہ نکال سکے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے امر کو نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پس فرعونی لشکر جمع ہوگیا تو وہ اسے لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ ﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍61) ’’جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو (حضرت) موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا لو ہم پکڑے گئے۔‘‘ ان پر خوف طاری ہو گیا، سمندر ان کے سامنے تھا اور فرعون (اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ) ان کے پیچھے تھا اور وہ غیظ و غضب سے لبریز تھا۔ حضرت موسیٰ u نہایت مطمئن اور پرسکون تھے اور انھیں اپنے رب کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍62) ’’ہرگز نہیں ! میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے ضرور کوئی راہ دکھائے گا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی طرف وحی کی کہ وہ اپنا عصا سمندر پر ماریں ۔ انھوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور پانی بلند پہاڑ کی مانند راستوں کے دائیں بائیں کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام راستوں کو خشک کر دیا جن سے پانی دور ہٹ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ فرعون سے ڈریں نہ سمندر میں غرق ہونے سے ڈریں ۔ پس وہ سمندر میں بنے ہوئے راستوں پر چل پڑے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ساحل سمندر پر پہنچا تو وہ ان راستوں پر ان کے پیچھے سمندر میں گھس گیا۔ جب موسیٰ uکی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آ گئی اور فرعون اور اس کا لشکر پورے کا پورا سمندر میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو سمندر کی موجوں نے ان پر تھپیڑے مارنے شروع کر دیے (راستے کے دونوں طرف کی موجیں آپس میں مل گئیں ) اور سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا اور تمام لشکر ڈوب گیا اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا، جبکہ بنی اسرائیل اپنے دشمنوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے دشمن کو ہلاک کر کے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔اور یہ کفر، ضلالت، بد راہی اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے عدم اعتناء کا انجام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور گمراہ کر دیا فرعون نے اپنی قوم کو۔‘‘ یعنی فرعون نے کفر کو مزین اور موسیٰu کی دعوت کا استخفاف کر کے اور اس کو برا کہہ کر اپنی قوم کو گمراہ کیا اور کبھی بھی ان کو راہ راست نہ دکھائی۔ وہ انھیں گمراہی اور بدراہی کے گھاٹ پر لے گیا، پھر انھیں عذاب اور ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔

طه 20:78

اور البتہ تحقیق وحی کی ہم نے موسی کی طرف یہ کہ رات کو نکال لے جا میرے بندے ، پھر بنا تو ان کے لیے راستہ سمندر میں خشک اس حال میں کہ نہ خوف ہو گا تجھے پکڑے جانے کا اور نہ ڈرے گا تو(ڈوبنے سے)(77) پس پیچھے لگا ان کے فرعون اپنے لشکروں سمیت تو ڈھانپ لیا انھیں سمندر سے جس چیز نے ڈھانپ لیا انھیں (78) اور گمراہ کیا فرعون نے اپنی قوم کواور نہ (سیدھی) راہ بتائی (79) [79-77] جب موسیٰ u معجزات کے ذریعے سے فرعون اور اس کی قوم پر غالب آ گئے تو وہ مصر میں ٹھہر گئے اور فرعون اور قوم فرعون کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور اس کی تعذیب سے نجات دلانے میں کوشاں رہے۔ فرعون اپنی سرکشی اور روگردانی پر جما ہوا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں اس کا معاملہ بہت سخت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آیات و معجزات دکھائے جن کا قرآن میں ذکر فرمایا اور بنی اسرائیل اعلانیہ اپنے ایمان کے اظہار پر قادر نہیں تھے انھوں نے اپنے گھروں کو مساجد بنا رکھا تھا اور نہایت صبر و استقامت کے ساتھ وہ فرعون کی تعذیب اور اذیتوں کا سامنا کر رہے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کو اس کے دشمن کی غلامی سے رہائی دلا کر ایک ایسی سرزمین میں آباد کرے جہاں وہ اعلانیہ اس کی عبادت کریں اور اس کے دین کو قائم کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ u کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا کہ وہ خفیہ طور پر بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے منصوبے سے آگاہ کریں ، رات کے ابتدائی حصے میں مصر سے نکل کر راتوں رات بہت دور نکل جائیں اور خبردار کر دیا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ان کا تعاقب کرے گا، چنانچہ تمام بنی اسرائیل اپنے اہل و عیال سمیت، رات کے پہلے پہر، مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ جب صبح ہوئی تو مصریوں نے دیکھا کہ شہر میں (بنی اسرائیل میں سے) کوئی بلانے والا ہے نہ جواب دینے والا تو ان کا دشمن فرعون سخت غضبناک ہوا۔ اس نے تمام شہروں میں ہر کارے بھجوا دیے تاکہ وہ لوگوں کو اکٹھا کریں اور ان کو بنی اسرائیل کے تعاقب پر آمادہ کریں تاکہ وہ ان کو پکڑ کر ان پر اپنا غصہ نکال سکے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے امر کو نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پس فرعونی لشکر جمع ہوگیا تو وہ اسے لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ ﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍61) ’’جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو (حضرت) موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا لو ہم پکڑے گئے۔‘‘ ان پر خوف طاری ہو گیا، سمندر ان کے سامنے تھا اور فرعون (اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ) ان کے پیچھے تھا اور وہ غیظ و غضب سے لبریز تھا۔ حضرت موسیٰ u نہایت مطمئن اور پرسکون تھے اور انھیں اپنے رب کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍62) ’’ہرگز نہیں ! میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے ضرور کوئی راہ دکھائے گا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی طرف وحی کی کہ وہ اپنا عصا سمندر پر ماریں ۔ انھوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور پانی بلند پہاڑ کی مانند راستوں کے دائیں بائیں کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام راستوں کو خشک کر دیا جن سے پانی دور ہٹ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ فرعون سے ڈریں نہ سمندر میں غرق ہونے سے ڈریں ۔ پس وہ سمندر میں بنے ہوئے راستوں پر چل پڑے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ساحل سمندر پر پہنچا تو وہ ان راستوں پر ان کے پیچھے سمندر میں گھس گیا۔ جب موسیٰ uکی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آ گئی اور فرعون اور اس کا لشکر پورے کا پورا سمندر میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو سمندر کی موجوں نے ان پر تھپیڑے مارنے شروع کر دیے (راستے کے دونوں طرف کی موجیں آپس میں مل گئیں ) اور سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا اور تمام لشکر ڈوب گیا اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا، جبکہ بنی اسرائیل اپنے دشمنوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے دشمن کو ہلاک کر کے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔اور یہ کفر، ضلالت، بد راہی اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے عدم اعتناء کا انجام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور گمراہ کر دیا فرعون نے اپنی قوم کو۔‘‘ یعنی فرعون نے کفر کو مزین اور موسیٰu کی دعوت کا استخفاف کر کے اور اس کو برا کہہ کر اپنی قوم کو گمراہ کیا اور کبھی بھی ان کو راہ راست نہ دکھائی۔ وہ انھیں گمراہی اور بدراہی کے گھاٹ پر لے گیا، پھر انھیں عذاب اور ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔

طه 20:79

اور البتہ تحقیق وحی کی ہم نے موسی کی طرف یہ کہ رات کو نکال لے جا میرے بندے ، پھر بنا تو ان کے لیے راستہ سمندر میں خشک اس حال میں کہ نہ خوف ہو گا تجھے پکڑے جانے کا اور نہ ڈرے گا تو(ڈوبنے سے)(77) پس پیچھے لگا ان کے فرعون اپنے لشکروں سمیت تو ڈھانپ لیا انھیں سمندر سے جس چیز نے ڈھانپ لیا انھیں (78) اور گمراہ کیا فرعون نے اپنی قوم کواور نہ (سیدھی) راہ بتائی (79) [79-77] جب موسیٰ u معجزات کے ذریعے سے فرعون اور اس کی قوم پر غالب آ گئے تو وہ مصر میں ٹھہر گئے اور فرعون اور قوم فرعون کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور اس کی تعذیب سے نجات دلانے میں کوشاں رہے۔ فرعون اپنی سرکشی اور روگردانی پر جما ہوا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں اس کا معاملہ بہت سخت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آیات و معجزات دکھائے جن کا قرآن میں ذکر فرمایا اور بنی اسرائیل اعلانیہ اپنے ایمان کے اظہار پر قادر نہیں تھے انھوں نے اپنے گھروں کو مساجد بنا رکھا تھا اور نہایت صبر و استقامت کے ساتھ وہ فرعون کی تعذیب اور اذیتوں کا سامنا کر رہے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کو اس کے دشمن کی غلامی سے رہائی دلا کر ایک ایسی سرزمین میں آباد کرے جہاں وہ اعلانیہ اس کی عبادت کریں اور اس کے دین کو قائم کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ u کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا کہ وہ خفیہ طور پر بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے منصوبے سے آگاہ کریں ، رات کے ابتدائی حصے میں مصر سے نکل کر راتوں رات بہت دور نکل جائیں اور خبردار کر دیا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ان کا تعاقب کرے گا، چنانچہ تمام بنی اسرائیل اپنے اہل و عیال سمیت، رات کے پہلے پہر، مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ جب صبح ہوئی تو مصریوں نے دیکھا کہ شہر میں (بنی اسرائیل میں سے) کوئی بلانے والا ہے نہ جواب دینے والا تو ان کا دشمن فرعون سخت غضبناک ہوا۔ اس نے تمام شہروں میں ہر کارے بھجوا دیے تاکہ وہ لوگوں کو اکٹھا کریں اور ان کو بنی اسرائیل کے تعاقب پر آمادہ کریں تاکہ وہ ان کو پکڑ کر ان پر اپنا غصہ نکال سکے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے امر کو نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پس فرعونی لشکر جمع ہوگیا تو وہ اسے لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ ﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍61) ’’جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو (حضرت) موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا لو ہم پکڑے گئے۔‘‘ ان پر خوف طاری ہو گیا، سمندر ان کے سامنے تھا اور فرعون (اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ) ان کے پیچھے تھا اور وہ غیظ و غضب سے لبریز تھا۔ حضرت موسیٰ u نہایت مطمئن اور پرسکون تھے اور انھیں اپنے رب کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍62) ’’ہرگز نہیں ! میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے ضرور کوئی راہ دکھائے گا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی طرف وحی کی کہ وہ اپنا عصا سمندر پر ماریں ۔ انھوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور پانی بلند پہاڑ کی مانند راستوں کے دائیں بائیں کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام راستوں کو خشک کر دیا جن سے پانی دور ہٹ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ فرعون سے ڈریں نہ سمندر میں غرق ہونے سے ڈریں ۔ پس وہ سمندر میں بنے ہوئے راستوں پر چل پڑے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ساحل سمندر پر پہنچا تو وہ ان راستوں پر ان کے پیچھے سمندر میں گھس گیا۔ جب موسیٰ uکی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آ گئی اور فرعون اور اس کا لشکر پورے کا پورا سمندر میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو سمندر کی موجوں نے ان پر تھپیڑے مارنے شروع کر دیے (راستے کے دونوں طرف کی موجیں آپس میں مل گئیں ) اور سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا اور تمام لشکر ڈوب گیا اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا، جبکہ بنی اسرائیل اپنے دشمنوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے دشمن کو ہلاک کر کے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔اور یہ کفر، ضلالت، بد راہی اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے عدم اعتناء کا انجام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور گمراہ کر دیا فرعون نے اپنی قوم کو۔‘‘ یعنی فرعون نے کفر کو مزین اور موسیٰu کی دعوت کا استخفاف کر کے اور اس کو برا کہہ کر اپنی قوم کو گمراہ کیا اور کبھی بھی ان کو راہ راست نہ دکھائی۔ وہ انھیں گمراہی اور بدراہی کے گھاٹ پر لے گیا، پھر انھیں عذاب اور ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔

طه 20:80

اے بنی اسرائیل! تحقیق نجات دی ہم نے تمھیں تمھارے دشمن سےاور وعدہ کیا ہم نے تم سے طور کی دائیں جانب کااور نازل کیاہم نے تم پر من اور سلوی (80) تم کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہ سرکشی کرو تم اس میں کہ (اس کی وجہ سے) اترے تم پر میرا غضب اور وہ شخص کہ اترا اس پر میرا غضب تو یقینا وہ تباہ ہو گیا (81) اور بلاشبہ میں البتہ بہت بخشنے والا ہوں اس شخص کو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا عمل کیا نیک، پھر وہ راہ راست پر رہا (82) [81,80] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا احسان عظیم یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور کوہ طور کے دائیں جانب وعدہ کیا کہ وہ ان پر کتاب نازل کرے گا جس میں جلیل القدر احکام اور عالیشان خبریں ہیں ۔ اس طرح دنیاوی نعمت کی تکمیل کے بعد دینی نعمت کی تکمیل ہوئی۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے بے آب و گیاہ بیابان میں ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور ان کو بافراط رزق سے نوازا جو انھیں بلامشقت حاصل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمھیں عطا کی ہیں ، ان پر اس کا شکر ادا کرو۔ ﴿ وَلَا تَطۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ یعنی اس کے عطا کردہ رزق میں سرکشی نہ کرو کہ اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کرنے لگو یا اس کی نعمت پر اترانے لگو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر میرا غضب نازل ہو گا یعنی میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا اور تمھیں عذاب میں مبتلا کر دوں گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّحۡلِلۡ عَلَيۡهِ غَضَبِيۡ فَقَدۡ هَوٰى ﴾ یعنی جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک اور خائب و خاسر ہوا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور احسان سے محروم ہو گیا اور اس کی ناراضی اور خسارہ اس کے حصے میں آیا۔ [82] بایں ہمہ بندے نے خواہ کتنا ہ بڑا گناہ کیوں نہ کیا ہو، اس کے لیے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ﴾ یعنی جو شخص کفر، بدعت اور فسق و فجور سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتا ہے اور قلب، بدن اور زبان کے ذریعے سے نیک عمل کرتا ہے تو میں بہت زیادہ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہوں ۔ ﴿ ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾ یعنی پھر وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا،رسول کریمﷺ کی اتباع اور دین قیم کی پیروی کی۔ پس یہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ اس کے گزشتہ گناہوں اور ان پر اس کے اصرار کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے بلکہ تمام اسباب انھی اشیاء پر منحصر ہیں کیونکہ توبہ گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے، ایمان اور اسلام گزشتہ تمام بداعمالیوں کو منہدم کر دیتے ہیں اور عمل صالح یعنی نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ راہ ہدایت کی تمام اقسام پر گامزن رہنا ، مثلاً: علم حاصل کرنا، کسی آیت یا حدیث کا معنیٰ سمجھنے کے لیے ان میں تدبر کرنا، دین حق کی طرف دعوت دینا، بدعت، کفر و ضلالت کا رد کرنا، جہاد اور ہجرت وغیرہ اور ہدایت کی دیگر جزئیات۔ یہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور منزل مطلوب کے حصول میں مدد دیتی ہیں ۔

طه 20:81

اے بنی اسرائیل! تحقیق نجات دی ہم نے تمھیں تمھارے دشمن سےاور وعدہ کیا ہم نے تم سے طور کی دائیں جانب کااور نازل کیاہم نے تم پر من اور سلوی (80) تم کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہ سرکشی کرو تم اس میں کہ (اس کی وجہ سے) اترے تم پر میرا غضب اور وہ شخص کہ اترا اس پر میرا غضب تو یقینا وہ تباہ ہو گیا (81) اور بلاشبہ میں البتہ بہت بخشنے والا ہوں اس شخص کو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا عمل کیا نیک، پھر وہ راہ راست پر رہا (82) [81,80] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا احسان عظیم یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور کوہ طور کے دائیں جانب وعدہ کیا کہ وہ ان پر کتاب نازل کرے گا جس میں جلیل القدر احکام اور عالیشان خبریں ہیں ۔ اس طرح دنیاوی نعمت کی تکمیل کے بعد دینی نعمت کی تکمیل ہوئی۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے بے آب و گیاہ بیابان میں ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور ان کو بافراط رزق سے نوازا جو انھیں بلامشقت حاصل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمھیں عطا کی ہیں ، ان پر اس کا شکر ادا کرو۔ ﴿ وَلَا تَطۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ یعنی اس کے عطا کردہ رزق میں سرکشی نہ کرو کہ اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کرنے لگو یا اس کی نعمت پر اترانے لگو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر میرا غضب نازل ہو گا یعنی میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا اور تمھیں عذاب میں مبتلا کر دوں گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّحۡلِلۡ عَلَيۡهِ غَضَبِيۡ فَقَدۡ هَوٰى ﴾ یعنی جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک اور خائب و خاسر ہوا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور احسان سے محروم ہو گیا اور اس کی ناراضی اور خسارہ اس کے حصے میں آیا۔ [82] بایں ہمہ بندے نے خواہ کتنا ہ بڑا گناہ کیوں نہ کیا ہو، اس کے لیے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ﴾ یعنی جو شخص کفر، بدعت اور فسق و فجور سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتا ہے اور قلب، بدن اور زبان کے ذریعے سے نیک عمل کرتا ہے تو میں بہت زیادہ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہوں ۔ ﴿ ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾ یعنی پھر وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا،رسول کریمﷺ کی اتباع اور دین قیم کی پیروی کی۔ پس یہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ اس کے گزشتہ گناہوں اور ان پر اس کے اصرار کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے بلکہ تمام اسباب انھی اشیاء پر منحصر ہیں کیونکہ توبہ گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے، ایمان اور اسلام گزشتہ تمام بداعمالیوں کو منہدم کر دیتے ہیں اور عمل صالح یعنی نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ راہ ہدایت کی تمام اقسام پر گامزن رہنا ، مثلاً: علم حاصل کرنا، کسی آیت یا حدیث کا معنیٰ سمجھنے کے لیے ان میں تدبر کرنا، دین حق کی طرف دعوت دینا، بدعت، کفر و ضلالت کا رد کرنا، جہاد اور ہجرت وغیرہ اور ہدایت کی دیگر جزئیات۔ یہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور منزل مطلوب کے حصول میں مدد دیتی ہیں ۔

طه 20:82

اے بنی اسرائیل! تحقیق نجات دی ہم نے تمھیں تمھارے دشمن سےاور وعدہ کیا ہم نے تم سے طور کی دائیں جانب کااور نازل کیاہم نے تم پر من اور سلوی (80) تم کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہ سرکشی کرو تم اس میں کہ (اس کی وجہ سے) اترے تم پر میرا غضب اور وہ شخص کہ اترا اس پر میرا غضب تو یقینا وہ تباہ ہو گیا (81) اور بلاشبہ میں البتہ بہت بخشنے والا ہوں اس شخص کو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا عمل کیا نیک، پھر وہ راہ راست پر رہا (82) [81,80] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا احسان عظیم یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور کوہ طور کے دائیں جانب وعدہ کیا کہ وہ ان پر کتاب نازل کرے گا جس میں جلیل القدر احکام اور عالیشان خبریں ہیں ۔ اس طرح دنیاوی نعمت کی تکمیل کے بعد دینی نعمت کی تکمیل ہوئی۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے بے آب و گیاہ بیابان میں ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور ان کو بافراط رزق سے نوازا جو انھیں بلامشقت حاصل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمھیں عطا کی ہیں ، ان پر اس کا شکر ادا کرو۔ ﴿ وَلَا تَطۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ یعنی اس کے عطا کردہ رزق میں سرکشی نہ کرو کہ اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کرنے لگو یا اس کی نعمت پر اترانے لگو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر میرا غضب نازل ہو گا یعنی میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا اور تمھیں عذاب میں مبتلا کر دوں گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّحۡلِلۡ عَلَيۡهِ غَضَبِيۡ فَقَدۡ هَوٰى ﴾ یعنی جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک اور خائب و خاسر ہوا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور احسان سے محروم ہو گیا اور اس کی ناراضی اور خسارہ اس کے حصے میں آیا۔ [82] بایں ہمہ بندے نے خواہ کتنا ہ بڑا گناہ کیوں نہ کیا ہو، اس کے لیے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ﴾ یعنی جو شخص کفر، بدعت اور فسق و فجور سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتا ہے اور قلب، بدن اور زبان کے ذریعے سے نیک عمل کرتا ہے تو میں بہت زیادہ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہوں ۔ ﴿ ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾ یعنی پھر وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا،رسول کریمﷺ کی اتباع اور دین قیم کی پیروی کی۔ پس یہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ اس کے گزشتہ گناہوں اور ان پر اس کے اصرار کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے بلکہ تمام اسباب انھی اشیاء پر منحصر ہیں کیونکہ توبہ گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے، ایمان اور اسلام گزشتہ تمام بداعمالیوں کو منہدم کر دیتے ہیں اور عمل صالح یعنی نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ راہ ہدایت کی تمام اقسام پر گامزن رہنا ، مثلاً: علم حاصل کرنا، کسی آیت یا حدیث کا معنیٰ سمجھنے کے لیے ان میں تدبر کرنا، دین حق کی طرف دعوت دینا، بدعت، کفر و ضلالت کا رد کرنا، جہاد اور ہجرت وغیرہ اور ہدایت کی دیگر جزئیات۔ یہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور منزل مطلوب کے حصول میں مدد دیتی ہیں ۔

طه 20:83

اور کون سی چیز جلدی لے آئی تجھے، تیری قوم سے اے موسیٰ؟ (83) اس نے کہا، وہ لوگ میرے پیچھے (آرہے) ہیں اور میں نے جلدی کی تیری طرف، اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے (84) اللہ نے کہا، پس بے شک ہم نے آزمایا ہے تیری قوم کو تیرے بعداور گمراہ کر دیا انھیں سامری نے (85) پس لوٹا موسی اپنی قوم کی طرف غضب ناک غمگین، اس نے کہا، اے میری قوم! کیا نہیں وعدہ کیا تھا تم سے تمھارے رب نے وعدہ اچھا؟ کیا پس لمبا ہو گیا تھا تم پر عہد یا چاہا تم نے یہ کہ اترے تم پر غضب تمھارے رب کی طرف سے؟ پس خلاف ورزی کی تم نے میرے وعدے کی (86) [83] اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے لیے جگہ اور وقت مقرر کر دیا تاکہ ان پر تیس دن میں تورات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ u اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا؟ تو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا ۔ [84] موسیٰ u نے عرض کیا: ﴿ هُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِيۡ ﴾ وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر ہونے پر آمادہ کیا وہ ہے تیرے قرب کی طلب، تیری رضا کے حصول میں جلدی اور تیرا شوق۔ [85] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢۡ بَعۡدِكَ ﴾ یعنی تیرے بعد تیری قوم کو بچھڑے کی پوجا کے ذریعے سے ہم نے آزمایا۔ پس انھوں نے صبر نہیں کیا اور جب ان کا امتحان ہوا تو انھوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿وَاَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ ﴾ ’’اور سامری نے ان کو گمراہ کر دیا‘‘ ﴿فَاَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا ﴾ وہ ان کے لیے ایک بچھڑے کا بت بنا لایا ﴿لَّهٗ خُوَارٌؔ فَقَالُوۡا ﴾ اس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے۔ ﴿ هٰؔذَاۤ اِلٰهُكُمۡ وَاِلٰهُ مُوۡسٰؔى﴾ ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے‘‘ جسے موسیٰ بھول گیا ہے۔ اسی طرح بنی اسرائیل فتنے میں مبتلا ہو گئے اور انھوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا حضرت ہارونu نے ان کو روکا مگر وہ بچھڑے کی عبادت سے باز نہ آئے۔ [86] جب موسیٰ u اپنی قوم میں واپس آئے تو سخت ناراض ہوئے وہ تاسف اور غیظ و غضب سے لبریز تھے انھوں نے اس فعل پر زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ اَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًا ﴾ ’’اے میری قوم! کیا تم سے تمھارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟‘‘ اور یہ تورات نازل کرنے کا وعدہ تھا۔ ﴿اَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ الۡعَهۡدُ ﴾ کیا وعدہ پورا ہونے میں دیر لگ گئی تھی اور میری عدم موجودگی طویل ہو گئی تھی، حالانکہ یہ تو بہت ہی تھوڑی سی مدت تھی۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے اور اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ کیا عہد نبوت اور رسالت کو زیادہ عرصہ گزر گیا ہے؟ جس کی وجہ سے تمھارے پاس علم باقی نہ رہا، علم کے تمام آثار مٹ گئے اور تمھارے پاس کوئی خبر نہ پہنچی اور طول عہد کی بنا پر آثار نبوت محو ہو گئے تھے اور اس طرح تم نے آثار رسالت اور علم کے معدوم ہونے اور غلبہء جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت شروع کر دی…؟ مگر معاملہ یوں نہیں بلکہ نبوت تمھارے درمیان موجود اور علم قائم ہے، اس لیے تمھارا یہ عذر قابل قبول نہیں ۔ یا اس فعل کے ذریعے سے تمھارا ارادہ یہ تھا کہ تم پر تمھارے رب کا غضب نازل ہو، یعنی تم نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ﴿ فَاَخۡلَفۡتُمۡ مَّوۡعِدِيۡ﴾ ’’پس تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔‘‘ جب میں نے تمھیں استقامت کا حکم دیا اور ہارونu کو تمھارے بارے میں وصیت کی تو تم نے غائب کا انتظار کیا نہ موجود کا احترام کیا۔

طه 20:84

اور کون سی چیز جلدی لے آئی تجھے، تیری قوم سے اے موسیٰ؟ (83) اس نے کہا، وہ لوگ میرے پیچھے (آرہے) ہیں اور میں نے جلدی کی تیری طرف، اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے (84) اللہ نے کہا، پس بے شک ہم نے آزمایا ہے تیری قوم کو تیرے بعداور گمراہ کر دیا انھیں سامری نے (85) پس لوٹا موسی اپنی قوم کی طرف غضب ناک غمگین، اس نے کہا، اے میری قوم! کیا نہیں وعدہ کیا تھا تم سے تمھارے رب نے وعدہ اچھا؟ کیا پس لمبا ہو گیا تھا تم پر عہد یا چاہا تم نے یہ کہ اترے تم پر غضب تمھارے رب کی طرف سے؟ پس خلاف ورزی کی تم نے میرے وعدے کی (86) [83] اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے لیے جگہ اور وقت مقرر کر دیا تاکہ ان پر تیس دن میں تورات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ u اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا؟ تو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا ۔ [84] موسیٰ u نے عرض کیا: ﴿ هُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِيۡ ﴾ وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر ہونے پر آمادہ کیا وہ ہے تیرے قرب کی طلب، تیری رضا کے حصول میں جلدی اور تیرا شوق۔ [85] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢۡ بَعۡدِكَ ﴾ یعنی تیرے بعد تیری قوم کو بچھڑے کی پوجا کے ذریعے سے ہم نے آزمایا۔ پس انھوں نے صبر نہیں کیا اور جب ان کا امتحان ہوا تو انھوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿وَاَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ ﴾ ’’اور سامری نے ان کو گمراہ کر دیا‘‘ ﴿فَاَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا ﴾ وہ ان کے لیے ایک بچھڑے کا بت بنا لایا ﴿لَّهٗ خُوَارٌؔ فَقَالُوۡا ﴾ اس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے۔ ﴿ هٰؔذَاۤ اِلٰهُكُمۡ وَاِلٰهُ مُوۡسٰؔى﴾ ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے‘‘ جسے موسیٰ بھول گیا ہے۔ اسی طرح بنی اسرائیل فتنے میں مبتلا ہو گئے اور انھوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا حضرت ہارونu نے ان کو روکا مگر وہ بچھڑے کی عبادت سے باز نہ آئے۔ [86] جب موسیٰ u اپنی قوم میں واپس آئے تو سخت ناراض ہوئے وہ تاسف اور غیظ و غضب سے لبریز تھے انھوں نے اس فعل پر زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ اَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًا ﴾ ’’اے میری قوم! کیا تم سے تمھارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟‘‘ اور یہ تورات نازل کرنے کا وعدہ تھا۔ ﴿اَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ الۡعَهۡدُ ﴾ کیا وعدہ پورا ہونے میں دیر لگ گئی تھی اور میری عدم موجودگی طویل ہو گئی تھی، حالانکہ یہ تو بہت ہی تھوڑی سی مدت تھی۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے اور اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ کیا عہد نبوت اور رسالت کو زیادہ عرصہ گزر گیا ہے؟ جس کی وجہ سے تمھارے پاس علم باقی نہ رہا، علم کے تمام آثار مٹ گئے اور تمھارے پاس کوئی خبر نہ پہنچی اور طول عہد کی بنا پر آثار نبوت محو ہو گئے تھے اور اس طرح تم نے آثار رسالت اور علم کے معدوم ہونے اور غلبہء جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت شروع کر دی…؟ مگر معاملہ یوں نہیں بلکہ نبوت تمھارے درمیان موجود اور علم قائم ہے، اس لیے تمھارا یہ عذر قابل قبول نہیں ۔ یا اس فعل کے ذریعے سے تمھارا ارادہ یہ تھا کہ تم پر تمھارے رب کا غضب نازل ہو، یعنی تم نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ﴿ فَاَخۡلَفۡتُمۡ مَّوۡعِدِيۡ﴾ ’’پس تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔‘‘ جب میں نے تمھیں استقامت کا حکم دیا اور ہارونu کو تمھارے بارے میں وصیت کی تو تم نے غائب کا انتظار کیا نہ موجود کا احترام کیا۔

طه 20:85

اور کون سی چیز جلدی لے آئی تجھے، تیری قوم سے اے موسیٰ؟ (83) اس نے کہا، وہ لوگ میرے پیچھے (آرہے) ہیں اور میں نے جلدی کی تیری طرف، اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے (84) اللہ نے کہا، پس بے شک ہم نے آزمایا ہے تیری قوم کو تیرے بعداور گمراہ کر دیا انھیں سامری نے (85) پس لوٹا موسی اپنی قوم کی طرف غضب ناک غمگین، اس نے کہا، اے میری قوم! کیا نہیں وعدہ کیا تھا تم سے تمھارے رب نے وعدہ اچھا؟ کیا پس لمبا ہو گیا تھا تم پر عہد یا چاہا تم نے یہ کہ اترے تم پر غضب تمھارے رب کی طرف سے؟ پس خلاف ورزی کی تم نے میرے وعدے کی (86) [83] اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے لیے جگہ اور وقت مقرر کر دیا تاکہ ان پر تیس دن میں تورات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ u اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا؟ تو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا ۔ [84] موسیٰ u نے عرض کیا: ﴿ هُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِيۡ ﴾ وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر ہونے پر آمادہ کیا وہ ہے تیرے قرب کی طلب، تیری رضا کے حصول میں جلدی اور تیرا شوق۔ [85] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢۡ بَعۡدِكَ ﴾ یعنی تیرے بعد تیری قوم کو بچھڑے کی پوجا کے ذریعے سے ہم نے آزمایا۔ پس انھوں نے صبر نہیں کیا اور جب ان کا امتحان ہوا تو انھوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿وَاَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ ﴾ ’’اور سامری نے ان کو گمراہ کر دیا‘‘ ﴿فَاَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا ﴾ وہ ان کے لیے ایک بچھڑے کا بت بنا لایا ﴿لَّهٗ خُوَارٌؔ فَقَالُوۡا ﴾ اس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے۔ ﴿ هٰؔذَاۤ اِلٰهُكُمۡ وَاِلٰهُ مُوۡسٰؔى﴾ ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے‘‘ جسے موسیٰ بھول گیا ہے۔ اسی طرح بنی اسرائیل فتنے میں مبتلا ہو گئے اور انھوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا حضرت ہارونu نے ان کو روکا مگر وہ بچھڑے کی عبادت سے باز نہ آئے۔ [86] جب موسیٰ u اپنی قوم میں واپس آئے تو سخت ناراض ہوئے وہ تاسف اور غیظ و غضب سے لبریز تھے انھوں نے اس فعل پر زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ اَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًا ﴾ ’’اے میری قوم! کیا تم سے تمھارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟‘‘ اور یہ تورات نازل کرنے کا وعدہ تھا۔ ﴿اَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ الۡعَهۡدُ ﴾ کیا وعدہ پورا ہونے میں دیر لگ گئی تھی اور میری عدم موجودگی طویل ہو گئی تھی، حالانکہ یہ تو بہت ہی تھوڑی سی مدت تھی۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے اور اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ کیا عہد نبوت اور رسالت کو زیادہ عرصہ گزر گیا ہے؟ جس کی وجہ سے تمھارے پاس علم باقی نہ رہا، علم کے تمام آثار مٹ گئے اور تمھارے پاس کوئی خبر نہ پہنچی اور طول عہد کی بنا پر آثار نبوت محو ہو گئے تھے اور اس طرح تم نے آثار رسالت اور علم کے معدوم ہونے اور غلبہء جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت شروع کر دی…؟ مگر معاملہ یوں نہیں بلکہ نبوت تمھارے درمیان موجود اور علم قائم ہے، اس لیے تمھارا یہ عذر قابل قبول نہیں ۔ یا اس فعل کے ذریعے سے تمھارا ارادہ یہ تھا کہ تم پر تمھارے رب کا غضب نازل ہو، یعنی تم نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ﴿ فَاَخۡلَفۡتُمۡ مَّوۡعِدِيۡ﴾ ’’پس تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔‘‘ جب میں نے تمھیں استقامت کا حکم دیا اور ہارونu کو تمھارے بارے میں وصیت کی تو تم نے غائب کا انتظار کیا نہ موجود کا احترام کیا۔

طه 20:86

اور کون سی چیز جلدی لے آئی تجھے، تیری قوم سے اے موسیٰ؟ (83) اس نے کہا، وہ لوگ میرے پیچھے (آرہے) ہیں اور میں نے جلدی کی تیری طرف، اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے (84) اللہ نے کہا، پس بے شک ہم نے آزمایا ہے تیری قوم کو تیرے بعداور گمراہ کر دیا انھیں سامری نے (85) پس لوٹا موسی اپنی قوم کی طرف غضب ناک غمگین، اس نے کہا، اے میری قوم! کیا نہیں وعدہ کیا تھا تم سے تمھارے رب نے وعدہ اچھا؟ کیا پس لمبا ہو گیا تھا تم پر عہد یا چاہا تم نے یہ کہ اترے تم پر غضب تمھارے رب کی طرف سے؟ پس خلاف ورزی کی تم نے میرے وعدے کی (86) [83] اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے لیے جگہ اور وقت مقرر کر دیا تاکہ ان پر تیس دن میں تورات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ u اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا؟ تو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا ۔ [84] موسیٰ u نے عرض کیا: ﴿ هُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِيۡ ﴾ وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر ہونے پر آمادہ کیا وہ ہے تیرے قرب کی طلب، تیری رضا کے حصول میں جلدی اور تیرا شوق۔ [85] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢۡ بَعۡدِكَ ﴾ یعنی تیرے بعد تیری قوم کو بچھڑے کی پوجا کے ذریعے سے ہم نے آزمایا۔ پس انھوں نے صبر نہیں کیا اور جب ان کا امتحان ہوا تو انھوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿وَاَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ ﴾ ’’اور سامری نے ان کو گمراہ کر دیا‘‘ ﴿فَاَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا ﴾ وہ ان کے لیے ایک بچھڑے کا بت بنا لایا ﴿لَّهٗ خُوَارٌؔ فَقَالُوۡا ﴾ اس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے۔ ﴿ هٰؔذَاۤ اِلٰهُكُمۡ وَاِلٰهُ مُوۡسٰؔى﴾ ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے‘‘ جسے موسیٰ بھول گیا ہے۔ اسی طرح بنی اسرائیل فتنے میں مبتلا ہو گئے اور انھوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا حضرت ہارونu نے ان کو روکا مگر وہ بچھڑے کی عبادت سے باز نہ آئے۔ [86] جب موسیٰ u اپنی قوم میں واپس آئے تو سخت ناراض ہوئے وہ تاسف اور غیظ و غضب سے لبریز تھے انھوں نے اس فعل پر زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ اَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًا ﴾ ’’اے میری قوم! کیا تم سے تمھارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟‘‘ اور یہ تورات نازل کرنے کا وعدہ تھا۔ ﴿اَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ الۡعَهۡدُ ﴾ کیا وعدہ پورا ہونے میں دیر لگ گئی تھی اور میری عدم موجودگی طویل ہو گئی تھی، حالانکہ یہ تو بہت ہی تھوڑی سی مدت تھی۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے اور اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ کیا عہد نبوت اور رسالت کو زیادہ عرصہ گزر گیا ہے؟ جس کی وجہ سے تمھارے پاس علم باقی نہ رہا، علم کے تمام آثار مٹ گئے اور تمھارے پاس کوئی خبر نہ پہنچی اور طول عہد کی بنا پر آثار نبوت محو ہو گئے تھے اور اس طرح تم نے آثار رسالت اور علم کے معدوم ہونے اور غلبہء جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت شروع کر دی…؟ مگر معاملہ یوں نہیں بلکہ نبوت تمھارے درمیان موجود اور علم قائم ہے، اس لیے تمھارا یہ عذر قابل قبول نہیں ۔ یا اس فعل کے ذریعے سے تمھارا ارادہ یہ تھا کہ تم پر تمھارے رب کا غضب نازل ہو، یعنی تم نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ﴿ فَاَخۡلَفۡتُمۡ مَّوۡعِدِيۡ﴾ ’’پس تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔‘‘ جب میں نے تمھیں استقامت کا حکم دیا اور ہارونu کو تمھارے بارے میں وصیت کی تو تم نے غائب کا انتظار کیا نہ موجود کا احترام کیا۔

طه 20:87

انھوں نے کہا، نہیں خلاف ورزی کی ہم نے تیرے وعدے کی اپنے اختیار سے لیکن اٹھوائے گئے تھے ہم بوجھ زیورات کا (فرعون کی) قوم کے، پس پھینک دیے ہم نے وہ (آگ میں ) اور اسی طرح (کچھ) پھینکا سامری نے بھی (87) پھر اس نے نکالا ان کے لیے ایک بچھڑا (یعنی ) ایک جسم، اس کی آواز تھی گائے کی سی تو انھوں نے کہا، یہ معبود ہے موسی کا، پس وہ بھول گیا (88) کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بلاشبہ وہ (بچھڑا) نہیں لوٹاتا ان کی طرف کوئی بات اور نہیں اختیار رکھتاوہ ان کے لیے نقصان کا اور نہ نفع کا (89) [88,87] انھوں نے موسیٰ u سے کہا کہ ان سے یہ کام جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے سرزد نہیں ہوا بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم زیورات کے گناہ سے، جو ہمارے پاس تھے، بچنا چاہتے تھے۔ اہل تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے قبطیوں سے زیورات وغیرہ مستعار لیے تھے مصر سے نکلتے وقت وہ زیورات بھی ساتھ لے آئے۔ وہاں سے نکل کر انھوں نے وہ زیورات پھینک دیے تھے جب موسیٰ u چلے گئے تو انھوں نے وہ زیورات اکٹھے کر لیے تاکہ حضرت موسیٰ کی واپسی پر اس بارے میں ان سے رجوع کریں ۔جس روز فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اس روز سامری نے رسول کا نقش پا دیکھ لیا تھا، اس کے نفس نے اسے آمادہ کیا اور اس نے اس نقش پا سے خاک کی ایک مٹھی اٹھالی اور اس خاک میں یہ تاثیر تھی کہ جب اسے کسی چیز پر ڈالا جاتا تو وہ زندہ ہو جاتی تھی… یہ امتحان اور آزمائش تھی۔ اس نے یہ خاک بچھڑے کے اس بت پر ڈال دی، جو اس نے گھڑا تھا۔ اس سے اس میں حرکت پیدا ہو گئی اور اس سے آواز بھی نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل نے کہا موسیٰu اپنے رب کو تلاش کرنے گیا ہے اور وہ یہاں موجود ہے، موسیٰu بھول گیا۔ [89] یہ ان کی کم عقلی اور حماقت تھی کہ انھوں نے گائے کے بچھڑے کو جو ایک دھات کا بنا ہوا تھا جس میں آواز پیدا ہو گئی تھی… زمین اور آسمانوں کا اِلٰہ سمجھ لیا تھا۔ ﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ ﴾’’کیا وہ نہیں دیکھتے۔‘‘ کہ وہ بچھڑا ﴿ اَلَّا يَرۡجِـعُ اِلَيۡهِمۡ قَوۡلًا ﴾ ان سے کلام کر سکتا ہے نہ وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ ان کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان؟ پس صرف وہی ہستی عبادت کی مستحق ہے جو کمال، کلام اور افعال کی مالک ہو اور ایسی ہستی عبادت کیے جانے کا استحقاق نہیں رکھتی جو اپنے عبادت گزاروں سے بھی ناقص ہو کیونکہ عبادت گزار تو کلام کر سکتے ہیں اور بعض معاملات میں ، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت کے مطابق، نفع و نقصان کا اختیار بھی رکھتے ہیں ۔

طه 20:88

انھوں نے کہا، نہیں خلاف ورزی کی ہم نے تیرے وعدے کی اپنے اختیار سے لیکن اٹھوائے گئے تھے ہم بوجھ زیورات کا (فرعون کی) قوم کے، پس پھینک دیے ہم نے وہ (آگ میں ) اور اسی طرح (کچھ) پھینکا سامری نے بھی (87) پھر اس نے نکالا ان کے لیے ایک بچھڑا (یعنی ) ایک جسم، اس کی آواز تھی گائے کی سی تو انھوں نے کہا، یہ معبود ہے موسی کا، پس وہ بھول گیا (88) کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بلاشبہ وہ (بچھڑا) نہیں لوٹاتا ان کی طرف کوئی بات اور نہیں اختیار رکھتاوہ ان کے لیے نقصان کا اور نہ نفع کا (89) [88,87] انھوں نے موسیٰ u سے کہا کہ ان سے یہ کام جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے سرزد نہیں ہوا بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم زیورات کے گناہ سے، جو ہمارے پاس تھے، بچنا چاہتے تھے۔ اہل تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے قبطیوں سے زیورات وغیرہ مستعار لیے تھے مصر سے نکلتے وقت وہ زیورات بھی ساتھ لے آئے۔ وہاں سے نکل کر انھوں نے وہ زیورات پھینک دیے تھے جب موسیٰ u چلے گئے تو انھوں نے وہ زیورات اکٹھے کر لیے تاکہ حضرت موسیٰ کی واپسی پر اس بارے میں ان سے رجوع کریں ۔جس روز فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اس روز سامری نے رسول کا نقش پا دیکھ لیا تھا، اس کے نفس نے اسے آمادہ کیا اور اس نے اس نقش پا سے خاک کی ایک مٹھی اٹھالی اور اس خاک میں یہ تاثیر تھی کہ جب اسے کسی چیز پر ڈالا جاتا تو وہ زندہ ہو جاتی تھی… یہ امتحان اور آزمائش تھی۔ اس نے یہ خاک بچھڑے کے اس بت پر ڈال دی، جو اس نے گھڑا تھا۔ اس سے اس میں حرکت پیدا ہو گئی اور اس سے آواز بھی نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل نے کہا موسیٰu اپنے رب کو تلاش کرنے گیا ہے اور وہ یہاں موجود ہے، موسیٰu بھول گیا۔ [89] یہ ان کی کم عقلی اور حماقت تھی کہ انھوں نے گائے کے بچھڑے کو جو ایک دھات کا بنا ہوا تھا جس میں آواز پیدا ہو گئی تھی… زمین اور آسمانوں کا اِلٰہ سمجھ لیا تھا۔ ﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ ﴾’’کیا وہ نہیں دیکھتے۔‘‘ کہ وہ بچھڑا ﴿ اَلَّا يَرۡجِـعُ اِلَيۡهِمۡ قَوۡلًا ﴾ ان سے کلام کر سکتا ہے نہ وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ ان کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان؟ پس صرف وہی ہستی عبادت کی مستحق ہے جو کمال، کلام اور افعال کی مالک ہو اور ایسی ہستی عبادت کیے جانے کا استحقاق نہیں رکھتی جو اپنے عبادت گزاروں سے بھی ناقص ہو کیونکہ عبادت گزار تو کلام کر سکتے ہیں اور بعض معاملات میں ، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت کے مطابق، نفع و نقصان کا اختیار بھی رکھتے ہیں ۔

طه 20:89

انھوں نے کہا، نہیں خلاف ورزی کی ہم نے تیرے وعدے کی اپنے اختیار سے لیکن اٹھوائے گئے تھے ہم بوجھ زیورات کا (فرعون کی) قوم کے، پس پھینک دیے ہم نے وہ (آگ میں ) اور اسی طرح (کچھ) پھینکا سامری نے بھی (87) پھر اس نے نکالا ان کے لیے ایک بچھڑا (یعنی ) ایک جسم، اس کی آواز تھی گائے کی سی تو انھوں نے کہا، یہ معبود ہے موسی کا، پس وہ بھول گیا (88) کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بلاشبہ وہ (بچھڑا) نہیں لوٹاتا ان کی طرف کوئی بات اور نہیں اختیار رکھتاوہ ان کے لیے نقصان کا اور نہ نفع کا (89) [88,87] انھوں نے موسیٰ u سے کہا کہ ان سے یہ کام جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے سرزد نہیں ہوا بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم زیورات کے گناہ سے، جو ہمارے پاس تھے، بچنا چاہتے تھے۔ اہل تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے قبطیوں سے زیورات وغیرہ مستعار لیے تھے مصر سے نکلتے وقت وہ زیورات بھی ساتھ لے آئے۔ وہاں سے نکل کر انھوں نے وہ زیورات پھینک دیے تھے جب موسیٰ u چلے گئے تو انھوں نے وہ زیورات اکٹھے کر لیے تاکہ حضرت موسیٰ کی واپسی پر اس بارے میں ان سے رجوع کریں ۔جس روز فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اس روز سامری نے رسول کا نقش پا دیکھ لیا تھا، اس کے نفس نے اسے آمادہ کیا اور اس نے اس نقش پا سے خاک کی ایک مٹھی اٹھالی اور اس خاک میں یہ تاثیر تھی کہ جب اسے کسی چیز پر ڈالا جاتا تو وہ زندہ ہو جاتی تھی… یہ امتحان اور آزمائش تھی۔ اس نے یہ خاک بچھڑے کے اس بت پر ڈال دی، جو اس نے گھڑا تھا۔ اس سے اس میں حرکت پیدا ہو گئی اور اس سے آواز بھی نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل نے کہا موسیٰu اپنے رب کو تلاش کرنے گیا ہے اور وہ یہاں موجود ہے، موسیٰu بھول گیا۔ [89] یہ ان کی کم عقلی اور حماقت تھی کہ انھوں نے گائے کے بچھڑے کو جو ایک دھات کا بنا ہوا تھا جس میں آواز پیدا ہو گئی تھی… زمین اور آسمانوں کا اِلٰہ سمجھ لیا تھا۔ ﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ ﴾’’کیا وہ نہیں دیکھتے۔‘‘ کہ وہ بچھڑا ﴿ اَلَّا يَرۡجِـعُ اِلَيۡهِمۡ قَوۡلًا ﴾ ان سے کلام کر سکتا ہے نہ وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ ان کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان؟ پس صرف وہی ہستی عبادت کی مستحق ہے جو کمال، کلام اور افعال کی مالک ہو اور ایسی ہستی عبادت کیے جانے کا استحقاق نہیں رکھتی جو اپنے عبادت گزاروں سے بھی ناقص ہو کیونکہ عبادت گزار تو کلام کر سکتے ہیں اور بعض معاملات میں ، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت کے مطابق، نفع و نقصان کا اختیار بھی رکھتے ہیں ۔

طه 20:90

اور البتہ تحقیق کہا تھا ان سے ہارون نے پہلے اس سے، اے میری قوم! یقینا تم آزمائے گئے ہو بوجہ اس (بچھڑے) کے اور بلاشبہ تمھارا رب نہایت مہربان ہے، پس تم پیروی کرو میری اور اطاعت کرو میرے حکم کی (90) انھوں نے کہا، ہمیشہ رہیں گے ہم تو اس کی پرستش کرتے یہاں تک کہ لوٹ آئے ہماری طرف موسیٰ (91) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! کس چیز نے منع کیا تھا تجھے جب دیکھا تو نے ان کو کہ وہ گمراہ ہو گئے (92) اس سے کہ نہ پیروی کرے تو میری؟ کیا پس تو نے نافرمانی کی میرے حکم کی؟ (93) ہارون نے کہا، اے میری ماں جائے! نہ پکڑ تو داڑھی میری اور نہ سر میرا، بے شک میں ڈر گیا تھا اس (بات) سے کہ تو کہے گا تفرقہ ڈال دیا تو نے درمیان بنی اسرائیل کےاور نہ انتظار کیا تو نے میری بات کا (94) [91,90] یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون u نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارونu کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عٰكِفِيۡنَ حَتّٰى يَرۡجِـعَ اِلَيۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔‘‘ [93,92] اور حضرت موسیٰu اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ يٰهٰؔرُوۡنُ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤا اَلَّا تَتَّبِعَنِ﴾ ’’اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟‘‘ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍142) ’’تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔‘‘ موسیٰ u نے حضرت ہارونu کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔ [94] ہارون u نے کہا: ﴿ يَبۡنَؤُمَّ ﴾ ’’اے میرے ماں جائے‘‘ انھوں نے موسیٰ u سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰu ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ ﴾ ’’آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں ، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔‘‘ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں ۔ اس پر موسیٰ u کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ١ۖٞ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍151) ’’اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

طه 20:91

اور البتہ تحقیق کہا تھا ان سے ہارون نے پہلے اس سے، اے میری قوم! یقینا تم آزمائے گئے ہو بوجہ اس (بچھڑے) کے اور بلاشبہ تمھارا رب نہایت مہربان ہے، پس تم پیروی کرو میری اور اطاعت کرو میرے حکم کی (90) انھوں نے کہا، ہمیشہ رہیں گے ہم تو اس کی پرستش کرتے یہاں تک کہ لوٹ آئے ہماری طرف موسیٰ (91) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! کس چیز نے منع کیا تھا تجھے جب دیکھا تو نے ان کو کہ وہ گمراہ ہو گئے (92) اس سے کہ نہ پیروی کرے تو میری؟ کیا پس تو نے نافرمانی کی میرے حکم کی؟ (93) ہارون نے کہا، اے میری ماں جائے! نہ پکڑ تو داڑھی میری اور نہ سر میرا، بے شک میں ڈر گیا تھا اس (بات) سے کہ تو کہے گا تفرقہ ڈال دیا تو نے درمیان بنی اسرائیل کےاور نہ انتظار کیا تو نے میری بات کا (94) [91,90] یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون u نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارونu کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عٰكِفِيۡنَ حَتّٰى يَرۡجِـعَ اِلَيۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔‘‘ [93,92] اور حضرت موسیٰu اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ يٰهٰؔرُوۡنُ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤا اَلَّا تَتَّبِعَنِ﴾ ’’اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟‘‘ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍142) ’’تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔‘‘ موسیٰ u نے حضرت ہارونu کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔ [94] ہارون u نے کہا: ﴿ يَبۡنَؤُمَّ ﴾ ’’اے میرے ماں جائے‘‘ انھوں نے موسیٰ u سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰu ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ ﴾ ’’آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں ، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔‘‘ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں ۔ اس پر موسیٰ u کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ١ۖٞ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍151) ’’اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

طه 20:92

اور البتہ تحقیق کہا تھا ان سے ہارون نے پہلے اس سے، اے میری قوم! یقینا تم آزمائے گئے ہو بوجہ اس (بچھڑے) کے اور بلاشبہ تمھارا رب نہایت مہربان ہے، پس تم پیروی کرو میری اور اطاعت کرو میرے حکم کی (90) انھوں نے کہا، ہمیشہ رہیں گے ہم تو اس کی پرستش کرتے یہاں تک کہ لوٹ آئے ہماری طرف موسیٰ (91) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! کس چیز نے منع کیا تھا تجھے جب دیکھا تو نے ان کو کہ وہ گمراہ ہو گئے (92) اس سے کہ نہ پیروی کرے تو میری؟ کیا پس تو نے نافرمانی کی میرے حکم کی؟ (93) ہارون نے کہا، اے میری ماں جائے! نہ پکڑ تو داڑھی میری اور نہ سر میرا، بے شک میں ڈر گیا تھا اس (بات) سے کہ تو کہے گا تفرقہ ڈال دیا تو نے درمیان بنی اسرائیل کےاور نہ انتظار کیا تو نے میری بات کا (94) [91,90] یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون u نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارونu کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عٰكِفِيۡنَ حَتّٰى يَرۡجِـعَ اِلَيۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔‘‘ [93,92] اور حضرت موسیٰu اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ يٰهٰؔرُوۡنُ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤا اَلَّا تَتَّبِعَنِ﴾ ’’اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟‘‘ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍142) ’’تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔‘‘ موسیٰ u نے حضرت ہارونu کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔ [94] ہارون u نے کہا: ﴿ يَبۡنَؤُمَّ ﴾ ’’اے میرے ماں جائے‘‘ انھوں نے موسیٰ u سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰu ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ ﴾ ’’آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں ، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔‘‘ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں ۔ اس پر موسیٰ u کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ١ۖٞ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍151) ’’اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

طه 20:93

اور البتہ تحقیق کہا تھا ان سے ہارون نے پہلے اس سے، اے میری قوم! یقینا تم آزمائے گئے ہو بوجہ اس (بچھڑے) کے اور بلاشبہ تمھارا رب نہایت مہربان ہے، پس تم پیروی کرو میری اور اطاعت کرو میرے حکم کی (90) انھوں نے کہا، ہمیشہ رہیں گے ہم تو اس کی پرستش کرتے یہاں تک کہ لوٹ آئے ہماری طرف موسیٰ (91) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! کس چیز نے منع کیا تھا تجھے جب دیکھا تو نے ان کو کہ وہ گمراہ ہو گئے (92) اس سے کہ نہ پیروی کرے تو میری؟ کیا پس تو نے نافرمانی کی میرے حکم کی؟ (93) ہارون نے کہا، اے میری ماں جائے! نہ پکڑ تو داڑھی میری اور نہ سر میرا، بے شک میں ڈر گیا تھا اس (بات) سے کہ تو کہے گا تفرقہ ڈال دیا تو نے درمیان بنی اسرائیل کےاور نہ انتظار کیا تو نے میری بات کا (94) [91,90] یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون u نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارونu کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عٰكِفِيۡنَ حَتّٰى يَرۡجِـعَ اِلَيۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔‘‘ [93,92] اور حضرت موسیٰu اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ يٰهٰؔرُوۡنُ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤا اَلَّا تَتَّبِعَنِ﴾ ’’اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟‘‘ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍142) ’’تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔‘‘ موسیٰ u نے حضرت ہارونu کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔ [94] ہارون u نے کہا: ﴿ يَبۡنَؤُمَّ ﴾ ’’اے میرے ماں جائے‘‘ انھوں نے موسیٰ u سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰu ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ ﴾ ’’آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں ، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔‘‘ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں ۔ اس پر موسیٰ u کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ١ۖٞ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍151) ’’اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

طه 20:94

اور البتہ تحقیق کہا تھا ان سے ہارون نے پہلے اس سے، اے میری قوم! یقینا تم آزمائے گئے ہو بوجہ اس (بچھڑے) کے اور بلاشبہ تمھارا رب نہایت مہربان ہے، پس تم پیروی کرو میری اور اطاعت کرو میرے حکم کی (90) انھوں نے کہا، ہمیشہ رہیں گے ہم تو اس کی پرستش کرتے یہاں تک کہ لوٹ آئے ہماری طرف موسیٰ (91) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! کس چیز نے منع کیا تھا تجھے جب دیکھا تو نے ان کو کہ وہ گمراہ ہو گئے (92) اس سے کہ نہ پیروی کرے تو میری؟ کیا پس تو نے نافرمانی کی میرے حکم کی؟ (93) ہارون نے کہا، اے میری ماں جائے! نہ پکڑ تو داڑھی میری اور نہ سر میرا، بے شک میں ڈر گیا تھا اس (بات) سے کہ تو کہے گا تفرقہ ڈال دیا تو نے درمیان بنی اسرائیل کےاور نہ انتظار کیا تو نے میری بات کا (94) [91,90] یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون u نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارونu کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عٰكِفِيۡنَ حَتّٰى يَرۡجِـعَ اِلَيۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔‘‘ [93,92] اور حضرت موسیٰu اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ يٰهٰؔرُوۡنُ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤا اَلَّا تَتَّبِعَنِ﴾ ’’اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟‘‘ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍142) ’’تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔‘‘ موسیٰ u نے حضرت ہارونu کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔ [94] ہارون u نے کہا: ﴿ يَبۡنَؤُمَّ ﴾ ’’اے میرے ماں جائے‘‘ انھوں نے موسیٰ u سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰu ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ ﴾ ’’آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں ، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔‘‘ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں ۔ اس پر موسیٰ u کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ١ۖٞ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍151) ’’اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

طه 20:95

موسیٰ نے کہا، پس کیامعاملہ ہے تیرا اے سامری؟ (95) اس نے کہا، دیکھا تھا میں نے اس چیز کو کہ نہ دیکھا تھا ان لوگوں نے اسے، پس بھر لی میں نے ایک مٹھی رسول (جبریل) کے نشان قدم سے، پھر پھینکا میں نے اس کواور اسی طرح مزین کیا تھا میرے نفس نے (96) موسیٰ نے کہا،پس جا تو، پس بے شک تیرے لیے ہے زندگی بھر کہ تو کہتا رہے نہ ہاتھ لگانا (مجھے)اور بلاشبہ تیرے لیے وعدہ کا وقت ہے کہ ہرگز نہیں خلاف کیا جائے گا تیرے حق میں اس سے اور دیکھ تو طرف اپنے معبود کی وہ جو ہو گیا تھا تواس کی پرستش کرنے والا، البتہ ضرور جلائیں گے ہم اسے، پھر اڑائیں گے ہم (اس کی راکھ) سمندر میں (مکمل طور پر) اڑانا (97) [96,95] یعنی یہ جو تو نے سب کچھ کیا ہے یہ کیا معاملہ ہے؟ سامری نے جواب دیا۔ ﴿ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’میں نے وہ چیز دیکھی جو انھوں نے نہیں دیکھی۔‘‘ یعنی وہ جبریلu تھے جن کو سامری نے سمندر سے باہر نکلتے اور فرعون کے اپنے لشکر سمیت ڈوبتے وقت گھوڑی پر سوار دیکھا۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے، یعنی میں نے گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھائی اور بچھڑے (کے بت) پر ڈال دی۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِيۡ نَفۡسِيۡ ﴾ میرے نفس نے مجھے ایسے ہی سمجھایا تھا کہ میں (جبریل کے نقش پا سے) ایک مٹھی خاک لوں اور اسے اس بچھڑے پر ڈال دوں اور اس طرح وہ کچھ ہو جائے جو ہو گیا۔ [97] پس موسیٰ u نے سامری سے کہا: ﴿ فَاذۡهَبۡ ﴾ مجھ سے دور ہو جا ﴿ فَاِنَّ لَكَ فِي الۡحَيٰؔوةِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ﴾یعنی تجھے زندگی میں ایسی سزا دی جائے گی کہ کوئی شخص تیرے قریب آئے گا نہ تجھے چھوئے گا۔ اگر کوئی شخص تیرے پاس آنا چاہے گا تو خود ہی پکار کر اسے کہہ دے گا ’’مجھے مت چھونا، میرے قریب نہ آنا‘‘ یہ تمھارے اس فعل کی سزا ہو گی… کیونکہ سامری نے اس چیز کو چھوا جسے کسی دوسرے نے نہیں چھوا اس نے وہ کچھ جاری کیا جو کسی اور نے جاری نہیں کیا۔﴿ وَاِنَّ لَكَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَهٗ﴾ ’’اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ٹلے گا۔‘‘ پس اس وقت تجھے تیرے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ وَانۡظُرۡ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِيۡ ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفًا﴾ ’’اور دیکھ تو اپنے اس معبود کی طرف جس کی تو تعظیم و عبادت کرتا ہے۔‘‘ اس سے مراد بچھڑا ہے ﴿لَنُحَرِّؔقَنَّهٗ۠ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّهٗ فِي الۡيَمِّ نَسۡفًا ﴾ ’’ہم اسے جلا کر، اس کا ریزہ ریزہ اڑا دیں گے۔‘‘ اور موسیٰ u نے ایسا ہی کیا۔ اگر وہ بچھڑا معبود ہوتا تو وہ ایذا دینے والے اور تلف کرنے والے سے بچ سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی، اس لیے موسیٰ u نے بنی اسرائیل کے سامنے اس کو تلف کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس کو دوبارہ نہ بنا سکیں … اس کو جلانے اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے سمندر میں بکھیرنے سے حضرت موسیٰu کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح بچھڑا جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا ہے اسی طرح ان کے دلوں سے اس کی محبت بھی زائل ہو جائے، نیز اس کے باقی رکھنے میں نفوس کے لیے فتنے کا امکان تھا کیونکہ نفسوں کے اندر باطل کی طرف بڑا قوی داعیہ ہوتا ہے۔ جب ان کے سامنے اس خود ساختہ خدا کا بطلان واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ہستی کے متعلق آگاہ فرمایا جو عبادت کی مستحق ہے، جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، فرمایا:

طه 20:96

موسیٰ نے کہا، پس کیامعاملہ ہے تیرا اے سامری؟ (95) اس نے کہا، دیکھا تھا میں نے اس چیز کو کہ نہ دیکھا تھا ان لوگوں نے اسے، پس بھر لی میں نے ایک مٹھی رسول (جبریل) کے نشان قدم سے، پھر پھینکا میں نے اس کواور اسی طرح مزین کیا تھا میرے نفس نے (96) موسیٰ نے کہا،پس جا تو، پس بے شک تیرے لیے ہے زندگی بھر کہ تو کہتا رہے نہ ہاتھ لگانا (مجھے)اور بلاشبہ تیرے لیے وعدہ کا وقت ہے کہ ہرگز نہیں خلاف کیا جائے گا تیرے حق میں اس سے اور دیکھ تو طرف اپنے معبود کی وہ جو ہو گیا تھا تواس کی پرستش کرنے والا، البتہ ضرور جلائیں گے ہم اسے، پھر اڑائیں گے ہم (اس کی راکھ) سمندر میں (مکمل طور پر) اڑانا (97) [96,95] یعنی یہ جو تو نے سب کچھ کیا ہے یہ کیا معاملہ ہے؟ سامری نے جواب دیا۔ ﴿ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’میں نے وہ چیز دیکھی جو انھوں نے نہیں دیکھی۔‘‘ یعنی وہ جبریلu تھے جن کو سامری نے سمندر سے باہر نکلتے اور فرعون کے اپنے لشکر سمیت ڈوبتے وقت گھوڑی پر سوار دیکھا۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے، یعنی میں نے گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھائی اور بچھڑے (کے بت) پر ڈال دی۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِيۡ نَفۡسِيۡ ﴾ میرے نفس نے مجھے ایسے ہی سمجھایا تھا کہ میں (جبریل کے نقش پا سے) ایک مٹھی خاک لوں اور اسے اس بچھڑے پر ڈال دوں اور اس طرح وہ کچھ ہو جائے جو ہو گیا۔ [97] پس موسیٰ u نے سامری سے کہا: ﴿ فَاذۡهَبۡ ﴾ مجھ سے دور ہو جا ﴿ فَاِنَّ لَكَ فِي الۡحَيٰؔوةِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ﴾یعنی تجھے زندگی میں ایسی سزا دی جائے گی کہ کوئی شخص تیرے قریب آئے گا نہ تجھے چھوئے گا۔ اگر کوئی شخص تیرے پاس آنا چاہے گا تو خود ہی پکار کر اسے کہہ دے گا ’’مجھے مت چھونا، میرے قریب نہ آنا‘‘ یہ تمھارے اس فعل کی سزا ہو گی… کیونکہ سامری نے اس چیز کو چھوا جسے کسی دوسرے نے نہیں چھوا اس نے وہ کچھ جاری کیا جو کسی اور نے جاری نہیں کیا۔﴿ وَاِنَّ لَكَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَهٗ﴾ ’’اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ٹلے گا۔‘‘ پس اس وقت تجھے تیرے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ وَانۡظُرۡ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِيۡ ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفًا﴾ ’’اور دیکھ تو اپنے اس معبود کی طرف جس کی تو تعظیم و عبادت کرتا ہے۔‘‘ اس سے مراد بچھڑا ہے ﴿لَنُحَرِّؔقَنَّهٗ۠ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّهٗ فِي الۡيَمِّ نَسۡفًا ﴾ ’’ہم اسے جلا کر، اس کا ریزہ ریزہ اڑا دیں گے۔‘‘ اور موسیٰ u نے ایسا ہی کیا۔ اگر وہ بچھڑا معبود ہوتا تو وہ ایذا دینے والے اور تلف کرنے والے سے بچ سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی، اس لیے موسیٰ u نے بنی اسرائیل کے سامنے اس کو تلف کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس کو دوبارہ نہ بنا سکیں … اس کو جلانے اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے سمندر میں بکھیرنے سے حضرت موسیٰu کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح بچھڑا جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا ہے اسی طرح ان کے دلوں سے اس کی محبت بھی زائل ہو جائے، نیز اس کے باقی رکھنے میں نفوس کے لیے فتنے کا امکان تھا کیونکہ نفسوں کے اندر باطل کی طرف بڑا قوی داعیہ ہوتا ہے۔ جب ان کے سامنے اس خود ساختہ خدا کا بطلان واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ہستی کے متعلق آگاہ فرمایا جو عبادت کی مستحق ہے، جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، فرمایا:

طه 20:97

موسیٰ نے کہا، پس کیامعاملہ ہے تیرا اے سامری؟ (95) اس نے کہا، دیکھا تھا میں نے اس چیز کو کہ نہ دیکھا تھا ان لوگوں نے اسے، پس بھر لی میں نے ایک مٹھی رسول (جبریل) کے نشان قدم سے، پھر پھینکا میں نے اس کواور اسی طرح مزین کیا تھا میرے نفس نے (96) موسیٰ نے کہا،پس جا تو، پس بے شک تیرے لیے ہے زندگی بھر کہ تو کہتا رہے نہ ہاتھ لگانا (مجھے)اور بلاشبہ تیرے لیے وعدہ کا وقت ہے کہ ہرگز نہیں خلاف کیا جائے گا تیرے حق میں اس سے اور دیکھ تو طرف اپنے معبود کی وہ جو ہو گیا تھا تواس کی پرستش کرنے والا، البتہ ضرور جلائیں گے ہم اسے، پھر اڑائیں گے ہم (اس کی راکھ) سمندر میں (مکمل طور پر) اڑانا (97) [96,95] یعنی یہ جو تو نے سب کچھ کیا ہے یہ کیا معاملہ ہے؟ سامری نے جواب دیا۔ ﴿ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’میں نے وہ چیز دیکھی جو انھوں نے نہیں دیکھی۔‘‘ یعنی وہ جبریلu تھے جن کو سامری نے سمندر سے باہر نکلتے اور فرعون کے اپنے لشکر سمیت ڈوبتے وقت گھوڑی پر سوار دیکھا۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے، یعنی میں نے گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھائی اور بچھڑے (کے بت) پر ڈال دی۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِيۡ نَفۡسِيۡ ﴾ میرے نفس نے مجھے ایسے ہی سمجھایا تھا کہ میں (جبریل کے نقش پا سے) ایک مٹھی خاک لوں اور اسے اس بچھڑے پر ڈال دوں اور اس طرح وہ کچھ ہو جائے جو ہو گیا۔ [97] پس موسیٰ u نے سامری سے کہا: ﴿ فَاذۡهَبۡ ﴾ مجھ سے دور ہو جا ﴿ فَاِنَّ لَكَ فِي الۡحَيٰؔوةِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ﴾یعنی تجھے زندگی میں ایسی سزا دی جائے گی کہ کوئی شخص تیرے قریب آئے گا نہ تجھے چھوئے گا۔ اگر کوئی شخص تیرے پاس آنا چاہے گا تو خود ہی پکار کر اسے کہہ دے گا ’’مجھے مت چھونا، میرے قریب نہ آنا‘‘ یہ تمھارے اس فعل کی سزا ہو گی… کیونکہ سامری نے اس چیز کو چھوا جسے کسی دوسرے نے نہیں چھوا اس نے وہ کچھ جاری کیا جو کسی اور نے جاری نہیں کیا۔﴿ وَاِنَّ لَكَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَهٗ﴾ ’’اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ٹلے گا۔‘‘ پس اس وقت تجھے تیرے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ وَانۡظُرۡ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِيۡ ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفًا﴾ ’’اور دیکھ تو اپنے اس معبود کی طرف جس کی تو تعظیم و عبادت کرتا ہے۔‘‘ اس سے مراد بچھڑا ہے ﴿لَنُحَرِّؔقَنَّهٗ۠ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّهٗ فِي الۡيَمِّ نَسۡفًا ﴾ ’’ہم اسے جلا کر، اس کا ریزہ ریزہ اڑا دیں گے۔‘‘ اور موسیٰ u نے ایسا ہی کیا۔ اگر وہ بچھڑا معبود ہوتا تو وہ ایذا دینے والے اور تلف کرنے والے سے بچ سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی، اس لیے موسیٰ u نے بنی اسرائیل کے سامنے اس کو تلف کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس کو دوبارہ نہ بنا سکیں … اس کو جلانے اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے سمندر میں بکھیرنے سے حضرت موسیٰu کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح بچھڑا جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا ہے اسی طرح ان کے دلوں سے اس کی محبت بھی زائل ہو جائے، نیز اس کے باقی رکھنے میں نفوس کے لیے فتنے کا امکان تھا کیونکہ نفسوں کے اندر باطل کی طرف بڑا قوی داعیہ ہوتا ہے۔ جب ان کے سامنے اس خود ساختہ خدا کا بطلان واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ہستی کے متعلق آگاہ فرمایا جو عبادت کی مستحق ہے، جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، فرمایا:

طه 20:98

یقینا تمھارا معبود تو وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی اور معبود سوائے اس کے، گھیر رکھا ہے اس نے ہر چیز کو ازروئے علم کے (98) [98] یعنی اللہ کریم کے سوا کوئی معبود نہیں ، صرف اسی کے ساتھ محبت کی جائے، اسی پر امیدیں رکھی جائیں ، اسی سے ڈرا جائے اور اسی کو پکارا جائے۔ وہی کامل ہستی ہے جو اسماء حسنیٰ اور اوصاف عالیہ کی مالک ہے۔ اس کے علم نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ بندوں پر جتنی بھی نعمتیں ہیں صرف اسی کی عطا کردہ ہیں ۔ صرف وہی ہے جو تمام تکالیف کو دور کرتا ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔

طه 20:99

اسی طرح ہم بیان کرتے ہیں آپ پر کچھ وہ خبریں جو پہلے گزر چکی ہیں اورتحقیق دیا ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ذکر (قرآن)(99) جس شخص نے اعراض کیا اس سے تو بلاشبہ وہ اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ (100) وہ ہمیشہ رہیں گے اس (تکلیف) میں اور برا ہوگا ان کے لیے دن قیامت کے بوجھ اٹھانا (101) [99] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ کو گزرے ہوئے لوگوں کی خبروں سے آگاہ فرمایا… مثلاً: یہ عظیم واقعہ اور اس کے اندر مذکور تمام احکام، جن کا اہل کتاب میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ پس آپ نے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا درس لیا ہے نہ کسی سے اس کا علم حاصل کیا ہے، لہٰذا آپ کا ان کے واقعات کے بارے میں حق الیقین کے ساتھ آگاہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ سب صداقت پر مبنی ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ مِنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور دیا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی اپنی طرف سے نفیس عطیہ اور عظیم نوازش کے طور پر ﴿ ذِكۡرًا ﴾ ’’ایک ذکر‘‘ اس سے مراد قرآن کریم ہے جس میں تمام گزرے ہوئے اور آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے کامل اسماء و صفات کا ذکر ہے اور اس میں احکام امرونہی اور احکام جزا کا تذکرہ ہے۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم بہترین احکام پر مشتمل ہے۔ عقل اور فطرت سلیم ان احکام کے حسن و کمال کی گواہی دیتی ہیں اور قرآن کریم آگاہ کرتا ہے کہ ان احکام میں کیا کیا مصالح پنہاں ہیں ، اس لیے جب قرآن کریم رسول اللہﷺ اور آپ کی امت کے لیے تذکرہ ہے تب اس کو قبول کرنا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، اس کی اطاعت کرنا، اس کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہونا اور اس کی تعلیم و تعلم واجب ہے۔ [100] اور اس سے روگردانی کے ساتھ پیش آنا یا اس کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جو اس سے بھی زیادہ عمومیت کا حامل ہو، جیسے اس کی باتوں کا انکار کرنا۔ تو یہ اس نعمت کی ناشکری ہے اور جو کوئی اس ناشکری کا ارتکاب کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡهُ﴾ جس نے اس سے روگردانی کی اور اس پر ایمان نہ لایا یا اس کے اوامر و نواہی کو حقیر سمجھا یا اس نے اس کے معانی کے تعلم کا تمسخر اڑایا تو یہ شخص ﴿ فَاِنَّهٗ يَحۡمِلُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وِزۡرًؔا﴾ قیامت کے روز اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا جس کے سبب سے اس نے قرآن سے روگردانی کی۔ سب سے بڑا گناہ تو کفر اور قرآن کو چھوڑنا ہے۔ [101]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهِ﴾ یعنی وہ اپنے گناہ کے بوجھ اٹھانے کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے کیونکہ (برے) اعمال ہی درحقیقت عذاب ہیں ۔ یہ اعمال بد صغیرہ یا کبیرہ ہونے کے مطابق، ارتکاب کرنے والوں کے لیے عذاب میں بدل جاتے ہیں ۔ ﴿ وَسَآءَؔ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ حِمۡلًا﴾ یعنی بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے اور بہت برا عذاب ہے جو انھیں قیامت کے روز بھگتنا ہو گا۔ پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

طه 20:100

اسی طرح ہم بیان کرتے ہیں آپ پر کچھ وہ خبریں جو پہلے گزر چکی ہیں اورتحقیق دیا ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ذکر (قرآن)(99) جس شخص نے اعراض کیا اس سے تو بلاشبہ وہ اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ (100) وہ ہمیشہ رہیں گے اس (تکلیف) میں اور برا ہوگا ان کے لیے دن قیامت کے بوجھ اٹھانا (101) [99] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ کو گزرے ہوئے لوگوں کی خبروں سے آگاہ فرمایا… مثلاً: یہ عظیم واقعہ اور اس کے اندر مذکور تمام احکام، جن کا اہل کتاب میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ پس آپ نے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا درس لیا ہے نہ کسی سے اس کا علم حاصل کیا ہے، لہٰذا آپ کا ان کے واقعات کے بارے میں حق الیقین کے ساتھ آگاہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ سب صداقت پر مبنی ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ مِنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور دیا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی اپنی طرف سے نفیس عطیہ اور عظیم نوازش کے طور پر ﴿ ذِكۡرًا ﴾ ’’ایک ذکر‘‘ اس سے مراد قرآن کریم ہے جس میں تمام گزرے ہوئے اور آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے کامل اسماء و صفات کا ذکر ہے اور اس میں احکام امرونہی اور احکام جزا کا تذکرہ ہے۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم بہترین احکام پر مشتمل ہے۔ عقل اور فطرت سلیم ان احکام کے حسن و کمال کی گواہی دیتی ہیں اور قرآن کریم آگاہ کرتا ہے کہ ان احکام میں کیا کیا مصالح پنہاں ہیں ، اس لیے جب قرآن کریم رسول اللہﷺ اور آپ کی امت کے لیے تذکرہ ہے تب اس کو قبول کرنا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، اس کی اطاعت کرنا، اس کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہونا اور اس کی تعلیم و تعلم واجب ہے۔ [100] اور اس سے روگردانی کے ساتھ پیش آنا یا اس کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جو اس سے بھی زیادہ عمومیت کا حامل ہو، جیسے اس کی باتوں کا انکار کرنا۔ تو یہ اس نعمت کی ناشکری ہے اور جو کوئی اس ناشکری کا ارتکاب کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡهُ﴾ جس نے اس سے روگردانی کی اور اس پر ایمان نہ لایا یا اس کے اوامر و نواہی کو حقیر سمجھا یا اس نے اس کے معانی کے تعلم کا تمسخر اڑایا تو یہ شخص ﴿ فَاِنَّهٗ يَحۡمِلُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وِزۡرًؔا﴾ قیامت کے روز اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا جس کے سبب سے اس نے قرآن سے روگردانی کی۔ سب سے بڑا گناہ تو کفر اور قرآن کو چھوڑنا ہے۔ [101]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهِ﴾ یعنی وہ اپنے گناہ کے بوجھ اٹھانے کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے کیونکہ (برے) اعمال ہی درحقیقت عذاب ہیں ۔ یہ اعمال بد صغیرہ یا کبیرہ ہونے کے مطابق، ارتکاب کرنے والوں کے لیے عذاب میں بدل جاتے ہیں ۔ ﴿ وَسَآءَؔ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ حِمۡلًا﴾ یعنی بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے اور بہت برا عذاب ہے جو انھیں قیامت کے روز بھگتنا ہو گا۔ پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

طه 20:101

اسی طرح ہم بیان کرتے ہیں آپ پر کچھ وہ خبریں جو پہلے گزر چکی ہیں اورتحقیق دیا ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ذکر (قرآن)(99) جس شخص نے اعراض کیا اس سے تو بلاشبہ وہ اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ (100) وہ ہمیشہ رہیں گے اس (تکلیف) میں اور برا ہوگا ان کے لیے دن قیامت کے بوجھ اٹھانا (101) [99] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ کو گزرے ہوئے لوگوں کی خبروں سے آگاہ فرمایا… مثلاً: یہ عظیم واقعہ اور اس کے اندر مذکور تمام احکام، جن کا اہل کتاب میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ پس آپ نے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا درس لیا ہے نہ کسی سے اس کا علم حاصل کیا ہے، لہٰذا آپ کا ان کے واقعات کے بارے میں حق الیقین کے ساتھ آگاہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ سب صداقت پر مبنی ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ مِنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور دیا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی اپنی طرف سے نفیس عطیہ اور عظیم نوازش کے طور پر ﴿ ذِكۡرًا ﴾ ’’ایک ذکر‘‘ اس سے مراد قرآن کریم ہے جس میں تمام گزرے ہوئے اور آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے کامل اسماء و صفات کا ذکر ہے اور اس میں احکام امرونہی اور احکام جزا کا تذکرہ ہے۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم بہترین احکام پر مشتمل ہے۔ عقل اور فطرت سلیم ان احکام کے حسن و کمال کی گواہی دیتی ہیں اور قرآن کریم آگاہ کرتا ہے کہ ان احکام میں کیا کیا مصالح پنہاں ہیں ، اس لیے جب قرآن کریم رسول اللہﷺ اور آپ کی امت کے لیے تذکرہ ہے تب اس کو قبول کرنا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، اس کی اطاعت کرنا، اس کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہونا اور اس کی تعلیم و تعلم واجب ہے۔ [100] اور اس سے روگردانی کے ساتھ پیش آنا یا اس کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جو اس سے بھی زیادہ عمومیت کا حامل ہو، جیسے اس کی باتوں کا انکار کرنا۔ تو یہ اس نعمت کی ناشکری ہے اور جو کوئی اس ناشکری کا ارتکاب کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡهُ﴾ جس نے اس سے روگردانی کی اور اس پر ایمان نہ لایا یا اس کے اوامر و نواہی کو حقیر سمجھا یا اس نے اس کے معانی کے تعلم کا تمسخر اڑایا تو یہ شخص ﴿ فَاِنَّهٗ يَحۡمِلُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وِزۡرًؔا﴾ قیامت کے روز اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا جس کے سبب سے اس نے قرآن سے روگردانی کی۔ سب سے بڑا گناہ تو کفر اور قرآن کو چھوڑنا ہے۔ [101]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهِ﴾ یعنی وہ اپنے گناہ کے بوجھ اٹھانے کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے کیونکہ (برے) اعمال ہی درحقیقت عذاب ہیں ۔ یہ اعمال بد صغیرہ یا کبیرہ ہونے کے مطابق، ارتکاب کرنے والوں کے لیے عذاب میں بدل جاتے ہیں ۔ ﴿ وَسَآءَؔ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ حِمۡلًا﴾ یعنی بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے اور بہت برا عذاب ہے جو انھیں قیامت کے روز بھگتنا ہو گا۔ پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

طه 20:102

جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں اورہم اکٹھا کریں گے اس دن مجرموں کو درآنحالیکہ وہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے (102) چپکے چپکے کہتے ہوں گے وہ آپس میں (یہ کہ) نہیں ٹھہرے تم (دنیا میں ) مگر صرف دس دن (103) ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو کچھ وہ کہیں گے، جس وقت کہے گا بہترین ان کا باعتبار رائے کے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر ایک ہی دن (104) [104-102] یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کیے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑ گیا ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخرت کے جلد آ جانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انھیں جانتا ہو گا اور وہ جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انھیں سنتا ہو گا ﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ اَمۡثَلُهُمۡ طَرِيۡقَةً ﴾ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ معتدل اور اندازے کے سب سے زیادہ قریب شخص کہے گا: ﴿ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا يَوۡمًا ﴾ تم صرف ایک دن دنیا میں رہے ہو۔ اس سے ان کا مقصد بہت بڑی ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہے کہ انھوں نے اوقات قصیرہ کیسے ضائع کر دیے اور غفلت اور لہو و لعب میں ڈوب کر فائدہ مند اعمال سے اعراض کرتے ہوئے اور نقصان دہ اعمال میں پڑ کر ان اوقات کو گزار دیا۔ اب جزا کا وقت آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوا اور اب ندامت ہلاکت اور موت کی دعا کے سوا کچھ باقی نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ۰۰قٰلَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾(المؤمنون:23؍112-114) ’’اللہ پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے! فرمایا تم زمین میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کاش تم نے اس وقت جانا ہوتا۔‘‘

طه 20:103

جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں اورہم اکٹھا کریں گے اس دن مجرموں کو درآنحالیکہ وہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے (102) چپکے چپکے کہتے ہوں گے وہ آپس میں (یہ کہ) نہیں ٹھہرے تم (دنیا میں ) مگر صرف دس دن (103) ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو کچھ وہ کہیں گے، جس وقت کہے گا بہترین ان کا باعتبار رائے کے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر ایک ہی دن (104) [104-102] یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کیے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑ گیا ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخرت کے جلد آ جانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انھیں جانتا ہو گا اور وہ جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انھیں سنتا ہو گا ﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ اَمۡثَلُهُمۡ طَرِيۡقَةً ﴾ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ معتدل اور اندازے کے سب سے زیادہ قریب شخص کہے گا: ﴿ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا يَوۡمًا ﴾ تم صرف ایک دن دنیا میں رہے ہو۔ اس سے ان کا مقصد بہت بڑی ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہے کہ انھوں نے اوقات قصیرہ کیسے ضائع کر دیے اور غفلت اور لہو و لعب میں ڈوب کر فائدہ مند اعمال سے اعراض کرتے ہوئے اور نقصان دہ اعمال میں پڑ کر ان اوقات کو گزار دیا۔ اب جزا کا وقت آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوا اور اب ندامت ہلاکت اور موت کی دعا کے سوا کچھ باقی نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ۰۰قٰلَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾(المؤمنون:23؍112-114) ’’اللہ پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے! فرمایا تم زمین میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کاش تم نے اس وقت جانا ہوتا۔‘‘

طه 20:104

جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں اورہم اکٹھا کریں گے اس دن مجرموں کو درآنحالیکہ وہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے (102) چپکے چپکے کہتے ہوں گے وہ آپس میں (یہ کہ) نہیں ٹھہرے تم (دنیا میں ) مگر صرف دس دن (103) ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو کچھ وہ کہیں گے، جس وقت کہے گا بہترین ان کا باعتبار رائے کے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر ایک ہی دن (104) [104-102] یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کیے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑ گیا ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخرت کے جلد آ جانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انھیں جانتا ہو گا اور وہ جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انھیں سنتا ہو گا ﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ اَمۡثَلُهُمۡ طَرِيۡقَةً ﴾ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ معتدل اور اندازے کے سب سے زیادہ قریب شخص کہے گا: ﴿ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا يَوۡمًا ﴾ تم صرف ایک دن دنیا میں رہے ہو۔ اس سے ان کا مقصد بہت بڑی ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہے کہ انھوں نے اوقات قصیرہ کیسے ضائع کر دیے اور غفلت اور لہو و لعب میں ڈوب کر فائدہ مند اعمال سے اعراض کرتے ہوئے اور نقصان دہ اعمال میں پڑ کر ان اوقات کو گزار دیا۔ اب جزا کا وقت آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوا اور اب ندامت ہلاکت اور موت کی دعا کے سوا کچھ باقی نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ۰۰قٰلَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾(المؤمنون:23؍112-114) ’’اللہ پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے! فرمایا تم زمین میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کاش تم نے اس وقت جانا ہوتا۔‘‘

طه 20:105

اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112) [107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔ [110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔ [112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘

طه 20:106

اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112) [107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔ [110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔ [112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘

طه 20:107

اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112) [107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔ [110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔ [112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘

طه 20:108

اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112) [107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔ [110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔ [112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘

طه 20:109

اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112) [107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔ [110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔ [112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘

طه 20:110

اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112) [107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔ [110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔ [112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘

طه 20:111

اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112) [107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔ [110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔ [112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘

طه 20:112

اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112) [107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔ [110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔ [112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘

طه 20:113

اور اسی طرح نازل کیاہم نے اس (قرآن) کو قرآن عربی اور پھیر پھیر کر بیان کیں ہم نے اس میں وعیدیں تاکہ وہ تقوی اختیار کریں یا پیدا کردے (قرآن) ان کے لیے نصیحت (113) [113] یعنی اسی طرح ہم نے اس کتاب کو فضیلت والی عربی زبان میں نازل کیا ہے جس کو تم خوب سمجھتے ہو اور اس میں کامل تفقُّہ رکھتے ہو اور اس کے الفاظ و معانی تم پر مخفی نہیں ہیں ۔ ﴿ وَّصَرَّفۡنَا فِيۡهِ مِنَ الۡوَعِيۡدِ﴾ یعنی اس کتاب میں ہم نے وعید کو بہت سی انواع کے ذریعے بیان کیا ہے۔ کبھی تو ان اسماء کے ذریعے سے بیان کیا ہے جو عدل و انتقام پر دلالت کرتے ہیں ، کبھی اس عبرت ناک عذاب کے ذکر کے ذریعے سے اس وعید کو بیان کیا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا اور حکم دیا کہ آنے والی امتیں اس سے عبرت حاصل کریں اور کبھی گناہوں کے آثار اور ان سے پیدا ہونے والے عیوب کو بیان کر کے اس وعید کا ذکر کیا۔ کبھی قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے دل کو ہلا دینے والے مناظر کو بیان کر کے اس وعید کا ذکر کیا۔ کبھی جہنم کے مناظر اور اس میں دیے جانے والے مختلف انواع کے عذاب اور عقوبتوں کا ذکر کر کے اس وعید کو بیان کیا ہے۔اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت کی وجہ سے ہے، شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور گناہوں اور معاصی کو چھوڑ دیں جن سے ان کو نقصان پہنچتا ہے۔ ﴿ اَوۡ يُحۡدِثُ لَهُمۡ ذِكۡرًا ﴾ یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے نصیحت پیدا کر دے اور یہ لوگ نیک عمل کرنے لگیں جو ان کو فائدہ دیں … پس اس کتاب کا عربی زبان میں نازل ہونا اور وعید کا مختلف طریقوں سے بیان ہونا، عمل صالح کا سب سے بڑا سبب اور سب سے بڑا داعی ہے۔ اگر یہ عظیم کتاب عربی زبان میں نہ ہوتی یا اس میں وعید کو مختلف انواع میں بیان نہ کیا گیا ہوتا تو اس میں یہ تاثیر نہ ہوتی۔

طه 20:114

پس بلند تر ہے اللہ بادشاہ برحق اور نہ جلدی کریں آپ قرآن پڑھنے میں ، پہلے اس سے کہ پوری کی جائے آپ کی طرف وحی اس کی اور کہیں ، اے میرے رب! زیادہ کر مجھے علم میں (114) [114] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حکم جزائی کا ذکر کیا جس سے اس کے بندے دوچار ہوتے ہیں اور حکم دینی و امری بیان فرمایا جو اس کتاب کریم میں نازل کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اقتدار کے آثار ہیں تو فرمایا ﴿ فَتَعٰلَى اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہر نقص اور آفت سے پاک، بلند اور جلیل تر ہے ﴿ الۡمَلِكُ﴾ اقتدار، حاکمیت جس کا وصف ہے اور تمام مخلوق اس کی مملوک (غلام) ہے۔ اس کی بادشاہی کے قدری و شرعی احکام تمام مخلوق پر نافذ ہیں ۔ ﴿ الۡحَقُّ﴾ یعنی اس کا وجود، اس کا اقتدار اور اس کا کمال سب حق ہے۔ پس صفات کمال کی مالک صرف ایسی ہستی ہو سکتی ہے جو ذی جلال ہو اور اس میں اقتدار بھی شامل ہے۔ بعض اوقات، اس کے سوا مخلوق بھی، بعض اشیاء پر اقتدار اور اختیار رکھتی ہے مگر یہ اقتدار ناقص اور باطل ہے جو زائل ہو جانے والا ہے… مگر رب تعالیٰ ہمیشہ کے لیے بادشاہ حقیقی، جلال کا مالک اور قائم و دائم رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰۤى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ ﴾ یعنی جب جبریل آپﷺ کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو اس کو اخذ کرنے میں جلدی نہ کیجیے اس وقت تک صبر کیجیے جب تک کہ وہ تلاوت سے فارغ نہ ہو جائے۔ جب وہ تلاوت سے فارغ ہو جائے تب اس کو پڑھیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو آپﷺ کے سینے میں جمع کرنے اور آپ کے اس کی قراء ت کرنے کی ضمانت دی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَا تُحَرِّكۡ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهٖؕ۰۰اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗۚۖ۰۰فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِـعۡ قُرۡاٰنَهٗۚ۰۰ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗ﴾(القیامۃ:75؍16-19) ’’جلدی سے وحی پڑھنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کیجیے، اس کو جمع کرنا اور پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے اور جب ہم اس وحی کو پڑھیں تو آپ اسی طرح پڑھا کریں پھر اس کے معانی کی تبیین و توضیح ہمارے ذمہ ہے۔‘‘ چونکہ وحی کو اخذ کرنے کے لیے آپﷺ کی عجلت دلالت کرتی ہے کہ آپ علم کے ساتھ کامل محبت رکھتے تھے اور اس کے حصول کے بے حد خواہش مند تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے لیے ازدیاد علم کی دعا کریں کیونکہ علم بھلائی ہے اور بھلائی کی کثرت مطلوب ہے اور یہ کثرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے اور اس کے حصول کا راستہ کوشش، شوق علم، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا، اس سے مدد مانگنا اور ہر وقت اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنا ہے۔ اس آیت کریمہ سے حصول علم کے آداب اخذ کیے جاتے ہیں ۔ علم کی سماعت کرنے والے کے لیے مناسب ہے کہ صبر سے کام لے یہاں تک کہ املا کرانے والا اور معلم اپنے کلام سے فارغ ہو جائیں جو لگاتار اور مسلسل ہے۔ اگر ذہن میں کوئی سوال ہے تو وہ اس وقت کیا جائے جب معلم فارغ ہو جائے۔ معلم کی قطع کلامی اور سوال کرنے میں عجلت سے باز رہے کیونکہ یہ حرماں نصیبی کا سبب ہے۔ اسی طرح مسؤل کے لیے مناسب ہے کہ وہ سائل کے سوال کو لکھ لے اور جواب دینے سے قبل سائل کے مقصود کو اچھی طرح سمجھ لے کیونکہ یہ صحیح جواب کا سبب ہے۔

طه 20:115

اور البتہ تحقیق عہد لیا تھا ہم نے آدم سے اس سے پہلے، پس بھول گیا وہ اور نہ پائی ہم نے اس میں ارادے کی پختگی (115) [115] یعنی ہم نے آدمu کو وصیت کی، اسے حکم دیا اور اس سے عہد لیا کہ وہ اس پر قائم رہے۔ اس نے اس وصیت کا التزام کیا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور اس کو قائم کرنے کا عزم کیا مگر اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وصیت کو بھول گیا اور اس کا مضبوط عزم ٹوٹ گیا تب اس سے ایسی لغزش صادر ہوئی جسے سب جانتے ہیں ۔ پس وہ اپنی اولاد کے لیے عبرت بن گیا اور اولاد آدم کی طبیعت اور فطرت آدمu کی طرح ہو گئی، آدمu سے بھول ہو گئی، اس کی اولاد بھی نسیان کا شکار ہو گئی، آدمu سے خطا ہوئی اور اولاد بھی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے۔ آدمu اپنے عزم پر قائم نہ رہ سکا اسی طرح اس کی اولاد اپنے عزم کو توڑ بیٹھتی ہے، آدمu نے اپنی خطا کا اعتراف اور اقرار کر کے فوراً توبہ کر لی اور اس کی خطا کو بخش دیا گیا، جو کوئی اپنے باپ کی مشابہت اختیار کرتا ہے اس پر ظلم نہیں کیا جاتا، پھر اس اجمال کی تفیصل بیان کرتے ہوئے فرمایا:

طه 20:116

اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122) [116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘ [118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘ [120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔ [121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا: [122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘

طه 20:117

اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122) [116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘ [118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘ [120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔ [121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا: [122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘

طه 20:118

اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122) [116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘ [118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘ [120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔ [121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا: [122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘

طه 20:119

اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122) [116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘ [118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘ [120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔ [121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا: [122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘

طه 20:120

اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122) [116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘ [118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘ [120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔ [121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا: [122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘

طه 20:121

اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122) [116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘ [118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘ [120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔ [121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا: [122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘

طه 20:122

اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122) [116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘ [118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘ [120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔ [121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا: [122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘

طه 20:123

اللہ نے کہا، اتر جاؤ تم دونوں اس سے اکٹھے تمھارا ایک، دوسرے کے لیے دشمن ہے، پس اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت تو جس شخص نے پیروی کی میری ہدایت کی، سو نہ گمراہ ہو گا وہ اور نہ وہ مشقت میں پڑے گا (123) اور جس نے اعراض کیا میری یاد سے تو بلاشبہ اس کے لیے گزر ان ہوگی تنگ اور ہم اٹھائیں گے اسے دن قیامت کے اندھا (کر کے)(124) وہ کہے گا، اے میرے رب! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے اندھا حالانکہ تھا میں (دنیا میں ) دیکھنے والا؟ (125) اللہ کہے گا، اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس نشانیاں ہماری، پس بھول گیا تھا تو انھیں اور اسی طرح آج کے دن بھلا دیا جائے گا تو بھی (126) اور اسی طرح سزا دیں گے ہم اس شخص کو جو حد سے بڑھ گیا اور نہ ایمان لایا وہ آیتوں پر اپنے رب کی اور البتہ عذاب آخرت کا زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے(127) [123] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے آدم u اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ ز مین پر اتر جائیں ، آدم اور ان کی اولاد شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں اور اس سے بچیں اس کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے لیے تیار رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں نازل کرے گا ان کی طرف رسول بھیجے گا جو ان کے سامنے صراط مستقیم کو واضح کریں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز وہ ان کو ان کے دشمن سے متنبہ اور چوکنا کریں گے، لہٰذا ان کے پاس جس وقت بھی یہ ہدایت آ جائے… یعنی کتاب اور انبیاء و مرسلین… پس اگر کسی نے اس کتاب کی اتباع کی، ان امور پر عمل کیا جن کا اس نے حکم دیا اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اس نے منع کیا تو ایسا شخص دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں اور نہ وہ دنیا و آخرت میں تکلیف میں پڑے گا بلکہ دونوں جہاں میں ان کی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور آخرت میں ان کو امن اور سعادت سے نوازا جائے گا۔ ایک اور آیت کریمہ میں وارد ہے کہ آخرت میں حزن و خوف ان سے دور رہے گا۔ ﴿فَمَنۡ تَبِـعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍38) ’’پس جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔‘‘ اور ’’ہدایت‘‘ کی پیروی یہ ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی جائے، شبہات کے ذریعے سے اس کے ساتھ معارضہ نہ کیا جائے، اس کے حکم کی اس طرح تعمیل کی جائے کہ کسی قسم کی خواہش اس کی معارض نہ ہو۔ [124]﴿ وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِيۡ﴾ یعنی جس کسی نے میری کتاب کریم سے اعراض کیا جس سے تمام مطالب عالیہ حاصل کیے جاتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے اس کو چھوڑ دیا یا اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر بھی برا سلوک کیا، یعنی اس کا انکار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ﴿ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا ﴾ یعنی اس کی سزا یہ ہو گی کہ ہم اس کی معیشت کو تنگ اور نہایت پر مشقت بنا دیں گے اور یہ معیشت اس کے لیے محض ایک عذاب ہو گی۔ ’’تنگ معیشت‘‘ کی تفسیر بیان کی جاتی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے، یعنی اس کے لیے اس کی قبر کو تنگ کر دیا جائے گا وہ اس میں گھٹ کر رہ جائے گا اور اس کو عذاب دیا جائے گا یہ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کی تھی۔ یہ ان آیات میں سے ایک آیت ہے جو عذاب قبر پر دلالت کرتی ہیں ۔ دوسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام:6؍93) ’’کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جان آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی اس کا سبب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے ساتھ تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ تیسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍21) ’’ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب سے کمتر عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ چوتھی آیت کریمہ یہ ہے ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ﴾(المؤمن:40؍46)’’انھیں صبح و شام آگ کے عذاب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہو گی اس روز کہا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ جو چیز سلف میں سے بعض مفسرین کے لیے، اس آیت کریمہ کو عذاب قبر پر محمول کرنے اورصرف اسی پر اقتصار کرنے کی موجب بنی… واللہ تعالیٰ اعلم… وہ ہے آیت کریمہ کا آخر۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کے آخر میں قیامت کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ’’تنگ معیشت‘‘ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں ، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ’’تنگ معیشت‘‘ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔﴿ وَّنَحۡشُرُهٗ ﴾ ’’اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو۔‘‘ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ﴿ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى ﴾ قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے… اور صحیح تفسیر یہی ہے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا﴾(بنی اسرائیل:17؍97) ’’اور قیامت کے روز ان لوگوں کو، اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں ، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے۔‘‘ [125] وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا:﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟‘‘ [126]﴿ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتۡكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيۡتَهَا﴾ ’’اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔‘‘ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ الۡيَوۡمَ تُنۡسٰى ﴾ ’’اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا۔‘‘ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا عمل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کر کے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کر دیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیر لیا۔ [127]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جزا ﴿ نَجۡزِيۡ مَنۡ اَسۡرَفَ ﴾ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ﴾ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَدُّ ﴾ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبۡقٰى ﴾ اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔

طه 20:124

اللہ نے کہا، اتر جاؤ تم دونوں اس سے اکٹھے تمھارا ایک، دوسرے کے لیے دشمن ہے، پس اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت تو جس شخص نے پیروی کی میری ہدایت کی، سو نہ گمراہ ہو گا وہ اور نہ وہ مشقت میں پڑے گا (123) اور جس نے اعراض کیا میری یاد سے تو بلاشبہ اس کے لیے گزر ان ہوگی تنگ اور ہم اٹھائیں گے اسے دن قیامت کے اندھا (کر کے)(124) وہ کہے گا، اے میرے رب! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے اندھا حالانکہ تھا میں (دنیا میں ) دیکھنے والا؟ (125) اللہ کہے گا، اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس نشانیاں ہماری، پس بھول گیا تھا تو انھیں اور اسی طرح آج کے دن بھلا دیا جائے گا تو بھی (126) اور اسی طرح سزا دیں گے ہم اس شخص کو جو حد سے بڑھ گیا اور نہ ایمان لایا وہ آیتوں پر اپنے رب کی اور البتہ عذاب آخرت کا زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے(127) [123] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے آدم u اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ ز مین پر اتر جائیں ، آدم اور ان کی اولاد شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں اور اس سے بچیں اس کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے لیے تیار رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں نازل کرے گا ان کی طرف رسول بھیجے گا جو ان کے سامنے صراط مستقیم کو واضح کریں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز وہ ان کو ان کے دشمن سے متنبہ اور چوکنا کریں گے، لہٰذا ان کے پاس جس وقت بھی یہ ہدایت آ جائے… یعنی کتاب اور انبیاء و مرسلین… پس اگر کسی نے اس کتاب کی اتباع کی، ان امور پر عمل کیا جن کا اس نے حکم دیا اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اس نے منع کیا تو ایسا شخص دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں اور نہ وہ دنیا و آخرت میں تکلیف میں پڑے گا بلکہ دونوں جہاں میں ان کی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور آخرت میں ان کو امن اور سعادت سے نوازا جائے گا۔ ایک اور آیت کریمہ میں وارد ہے کہ آخرت میں حزن و خوف ان سے دور رہے گا۔ ﴿فَمَنۡ تَبِـعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍38) ’’پس جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔‘‘ اور ’’ہدایت‘‘ کی پیروی یہ ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی جائے، شبہات کے ذریعے سے اس کے ساتھ معارضہ نہ کیا جائے، اس کے حکم کی اس طرح تعمیل کی جائے کہ کسی قسم کی خواہش اس کی معارض نہ ہو۔ [124]﴿ وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِيۡ﴾ یعنی جس کسی نے میری کتاب کریم سے اعراض کیا جس سے تمام مطالب عالیہ حاصل کیے جاتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے اس کو چھوڑ دیا یا اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر بھی برا سلوک کیا، یعنی اس کا انکار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ﴿ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا ﴾ یعنی اس کی سزا یہ ہو گی کہ ہم اس کی معیشت کو تنگ اور نہایت پر مشقت بنا دیں گے اور یہ معیشت اس کے لیے محض ایک عذاب ہو گی۔ ’’تنگ معیشت‘‘ کی تفسیر بیان کی جاتی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے، یعنی اس کے لیے اس کی قبر کو تنگ کر دیا جائے گا وہ اس میں گھٹ کر رہ جائے گا اور اس کو عذاب دیا جائے گا یہ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کی تھی۔ یہ ان آیات میں سے ایک آیت ہے جو عذاب قبر پر دلالت کرتی ہیں ۔ دوسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام:6؍93) ’’کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جان آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی اس کا سبب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے ساتھ تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ تیسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍21) ’’ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب سے کمتر عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ چوتھی آیت کریمہ یہ ہے ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ﴾(المؤمن:40؍46)’’انھیں صبح و شام آگ کے عذاب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہو گی اس روز کہا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ جو چیز سلف میں سے بعض مفسرین کے لیے، اس آیت کریمہ کو عذاب قبر پر محمول کرنے اورصرف اسی پر اقتصار کرنے کی موجب بنی… واللہ تعالیٰ اعلم… وہ ہے آیت کریمہ کا آخر۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کے آخر میں قیامت کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ’’تنگ معیشت‘‘ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں ، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ’’تنگ معیشت‘‘ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔﴿ وَّنَحۡشُرُهٗ ﴾ ’’اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو۔‘‘ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ﴿ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى ﴾ قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے… اور صحیح تفسیر یہی ہے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا﴾(بنی اسرائیل:17؍97) ’’اور قیامت کے روز ان لوگوں کو، اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں ، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے۔‘‘ [125] وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا:﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟‘‘ [126]﴿ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتۡكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيۡتَهَا﴾ ’’اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔‘‘ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ الۡيَوۡمَ تُنۡسٰى ﴾ ’’اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا۔‘‘ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا عمل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کر کے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کر دیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیر لیا۔ [127]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جزا ﴿ نَجۡزِيۡ مَنۡ اَسۡرَفَ ﴾ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ﴾ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَدُّ ﴾ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبۡقٰى ﴾ اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔

طه 20:125

اللہ نے کہا، اتر جاؤ تم دونوں اس سے اکٹھے تمھارا ایک، دوسرے کے لیے دشمن ہے، پس اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت تو جس شخص نے پیروی کی میری ہدایت کی، سو نہ گمراہ ہو گا وہ اور نہ وہ مشقت میں پڑے گا (123) اور جس نے اعراض کیا میری یاد سے تو بلاشبہ اس کے لیے گزر ان ہوگی تنگ اور ہم اٹھائیں گے اسے دن قیامت کے اندھا (کر کے)(124) وہ کہے گا، اے میرے رب! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے اندھا حالانکہ تھا میں (دنیا میں ) دیکھنے والا؟ (125) اللہ کہے گا، اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس نشانیاں ہماری، پس بھول گیا تھا تو انھیں اور اسی طرح آج کے دن بھلا دیا جائے گا تو بھی (126) اور اسی طرح سزا دیں گے ہم اس شخص کو جو حد سے بڑھ گیا اور نہ ایمان لایا وہ آیتوں پر اپنے رب کی اور البتہ عذاب آخرت کا زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے(127) [123] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے آدم u اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ ز مین پر اتر جائیں ، آدم اور ان کی اولاد شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں اور اس سے بچیں اس کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے لیے تیار رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں نازل کرے گا ان کی طرف رسول بھیجے گا جو ان کے سامنے صراط مستقیم کو واضح کریں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز وہ ان کو ان کے دشمن سے متنبہ اور چوکنا کریں گے، لہٰذا ان کے پاس جس وقت بھی یہ ہدایت آ جائے… یعنی کتاب اور انبیاء و مرسلین… پس اگر کسی نے اس کتاب کی اتباع کی، ان امور پر عمل کیا جن کا اس نے حکم دیا اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اس نے منع کیا تو ایسا شخص دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں اور نہ وہ دنیا و آخرت میں تکلیف میں پڑے گا بلکہ دونوں جہاں میں ان کی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور آخرت میں ان کو امن اور سعادت سے نوازا جائے گا۔ ایک اور آیت کریمہ میں وارد ہے کہ آخرت میں حزن و خوف ان سے دور رہے گا۔ ﴿فَمَنۡ تَبِـعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍38) ’’پس جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔‘‘ اور ’’ہدایت‘‘ کی پیروی یہ ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی جائے، شبہات کے ذریعے سے اس کے ساتھ معارضہ نہ کیا جائے، اس کے حکم کی اس طرح تعمیل کی جائے کہ کسی قسم کی خواہش اس کی معارض نہ ہو۔ [124]﴿ وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِيۡ﴾ یعنی جس کسی نے میری کتاب کریم سے اعراض کیا جس سے تمام مطالب عالیہ حاصل کیے جاتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے اس کو چھوڑ دیا یا اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر بھی برا سلوک کیا، یعنی اس کا انکار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ﴿ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا ﴾ یعنی اس کی سزا یہ ہو گی کہ ہم اس کی معیشت کو تنگ اور نہایت پر مشقت بنا دیں گے اور یہ معیشت اس کے لیے محض ایک عذاب ہو گی۔ ’’تنگ معیشت‘‘ کی تفسیر بیان کی جاتی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے، یعنی اس کے لیے اس کی قبر کو تنگ کر دیا جائے گا وہ اس میں گھٹ کر رہ جائے گا اور اس کو عذاب دیا جائے گا یہ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کی تھی۔ یہ ان آیات میں سے ایک آیت ہے جو عذاب قبر پر دلالت کرتی ہیں ۔ دوسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام:6؍93) ’’کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جان آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی اس کا سبب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے ساتھ تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ تیسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍21) ’’ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب سے کمتر عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ چوتھی آیت کریمہ یہ ہے ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ﴾(المؤمن:40؍46)’’انھیں صبح و شام آگ کے عذاب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہو گی اس روز کہا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ جو چیز سلف میں سے بعض مفسرین کے لیے، اس آیت کریمہ کو عذاب قبر پر محمول کرنے اورصرف اسی پر اقتصار کرنے کی موجب بنی… واللہ تعالیٰ اعلم… وہ ہے آیت کریمہ کا آخر۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کے آخر میں قیامت کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ’’تنگ معیشت‘‘ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں ، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ’’تنگ معیشت‘‘ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔﴿ وَّنَحۡشُرُهٗ ﴾ ’’اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو۔‘‘ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ﴿ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى ﴾ قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے… اور صحیح تفسیر یہی ہے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا﴾(بنی اسرائیل:17؍97) ’’اور قیامت کے روز ان لوگوں کو، اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں ، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے۔‘‘ [125] وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا:﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟‘‘ [126]﴿ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتۡكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيۡتَهَا﴾ ’’اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔‘‘ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ الۡيَوۡمَ تُنۡسٰى ﴾ ’’اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا۔‘‘ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا عمل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کر کے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کر دیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیر لیا۔ [127]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جزا ﴿ نَجۡزِيۡ مَنۡ اَسۡرَفَ ﴾ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ﴾ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَدُّ ﴾ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبۡقٰى ﴾ اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔

طه 20:126

اللہ نے کہا، اتر جاؤ تم دونوں اس سے اکٹھے تمھارا ایک، دوسرے کے لیے دشمن ہے، پس اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت تو جس شخص نے پیروی کی میری ہدایت کی، سو نہ گمراہ ہو گا وہ اور نہ وہ مشقت میں پڑے گا (123) اور جس نے اعراض کیا میری یاد سے تو بلاشبہ اس کے لیے گزر ان ہوگی تنگ اور ہم اٹھائیں گے اسے دن قیامت کے اندھا (کر کے)(124) وہ کہے گا، اے میرے رب! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے اندھا حالانکہ تھا میں (دنیا میں ) دیکھنے والا؟ (125) اللہ کہے گا، اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس نشانیاں ہماری، پس بھول گیا تھا تو انھیں اور اسی طرح آج کے دن بھلا دیا جائے گا تو بھی (126) اور اسی طرح سزا دیں گے ہم اس شخص کو جو حد سے بڑھ گیا اور نہ ایمان لایا وہ آیتوں پر اپنے رب کی اور البتہ عذاب آخرت کا زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے(127) [123] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے آدم u اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ ز مین پر اتر جائیں ، آدم اور ان کی اولاد شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں اور اس سے بچیں اس کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے لیے تیار رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں نازل کرے گا ان کی طرف رسول بھیجے گا جو ان کے سامنے صراط مستقیم کو واضح کریں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز وہ ان کو ان کے دشمن سے متنبہ اور چوکنا کریں گے، لہٰذا ان کے پاس جس وقت بھی یہ ہدایت آ جائے… یعنی کتاب اور انبیاء و مرسلین… پس اگر کسی نے اس کتاب کی اتباع کی، ان امور پر عمل کیا جن کا اس نے حکم دیا اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اس نے منع کیا تو ایسا شخص دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں اور نہ وہ دنیا و آخرت میں تکلیف میں پڑے گا بلکہ دونوں جہاں میں ان کی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور آخرت میں ان کو امن اور سعادت سے نوازا جائے گا۔ ایک اور آیت کریمہ میں وارد ہے کہ آخرت میں حزن و خوف ان سے دور رہے گا۔ ﴿فَمَنۡ تَبِـعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍38) ’’پس جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔‘‘ اور ’’ہدایت‘‘ کی پیروی یہ ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی جائے، شبہات کے ذریعے سے اس کے ساتھ معارضہ نہ کیا جائے، اس کے حکم کی اس طرح تعمیل کی جائے کہ کسی قسم کی خواہش اس کی معارض نہ ہو۔ [124]﴿ وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِيۡ﴾ یعنی جس کسی نے میری کتاب کریم سے اعراض کیا جس سے تمام مطالب عالیہ حاصل کیے جاتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے اس کو چھوڑ دیا یا اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر بھی برا سلوک کیا، یعنی اس کا انکار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ﴿ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا ﴾ یعنی اس کی سزا یہ ہو گی کہ ہم اس کی معیشت کو تنگ اور نہایت پر مشقت بنا دیں گے اور یہ معیشت اس کے لیے محض ایک عذاب ہو گی۔ ’’تنگ معیشت‘‘ کی تفسیر بیان کی جاتی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے، یعنی اس کے لیے اس کی قبر کو تنگ کر دیا جائے گا وہ اس میں گھٹ کر رہ جائے گا اور اس کو عذاب دیا جائے گا یہ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کی تھی۔ یہ ان آیات میں سے ایک آیت ہے جو عذاب قبر پر دلالت کرتی ہیں ۔ دوسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام:6؍93) ’’کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جان آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی اس کا سبب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے ساتھ تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ تیسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍21) ’’ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب سے کمتر عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ چوتھی آیت کریمہ یہ ہے ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ﴾(المؤمن:40؍46)’’انھیں صبح و شام آگ کے عذاب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہو گی اس روز کہا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ جو چیز سلف میں سے بعض مفسرین کے لیے، اس آیت کریمہ کو عذاب قبر پر محمول کرنے اورصرف اسی پر اقتصار کرنے کی موجب بنی… واللہ تعالیٰ اعلم… وہ ہے آیت کریمہ کا آخر۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کے آخر میں قیامت کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ’’تنگ معیشت‘‘ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں ، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ’’تنگ معیشت‘‘ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔﴿ وَّنَحۡشُرُهٗ ﴾ ’’اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو۔‘‘ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ﴿ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى ﴾ قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے… اور صحیح تفسیر یہی ہے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا﴾(بنی اسرائیل:17؍97) ’’اور قیامت کے روز ان لوگوں کو، اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں ، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے۔‘‘ [125] وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا:﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟‘‘ [126]﴿ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتۡكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيۡتَهَا﴾ ’’اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔‘‘ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ الۡيَوۡمَ تُنۡسٰى ﴾ ’’اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا۔‘‘ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا عمل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کر کے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کر دیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیر لیا۔ [127]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جزا ﴿ نَجۡزِيۡ مَنۡ اَسۡرَفَ ﴾ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ﴾ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَدُّ ﴾ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبۡقٰى ﴾ اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔

طه 20:127

اللہ نے کہا، اتر جاؤ تم دونوں اس سے اکٹھے تمھارا ایک، دوسرے کے لیے دشمن ہے، پس اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت تو جس شخص نے پیروی کی میری ہدایت کی، سو نہ گمراہ ہو گا وہ اور نہ وہ مشقت میں پڑے گا (123) اور جس نے اعراض کیا میری یاد سے تو بلاشبہ اس کے لیے گزر ان ہوگی تنگ اور ہم اٹھائیں گے اسے دن قیامت کے اندھا (کر کے)(124) وہ کہے گا، اے میرے رب! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے اندھا حالانکہ تھا میں (دنیا میں ) دیکھنے والا؟ (125) اللہ کہے گا، اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس نشانیاں ہماری، پس بھول گیا تھا تو انھیں اور اسی طرح آج کے دن بھلا دیا جائے گا تو بھی (126) اور اسی طرح سزا دیں گے ہم اس شخص کو جو حد سے بڑھ گیا اور نہ ایمان لایا وہ آیتوں پر اپنے رب کی اور البتہ عذاب آخرت کا زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے(127) [123] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے آدم u اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ ز مین پر اتر جائیں ، آدم اور ان کی اولاد شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں اور اس سے بچیں اس کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے لیے تیار رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں نازل کرے گا ان کی طرف رسول بھیجے گا جو ان کے سامنے صراط مستقیم کو واضح کریں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز وہ ان کو ان کے دشمن سے متنبہ اور چوکنا کریں گے، لہٰذا ان کے پاس جس وقت بھی یہ ہدایت آ جائے… یعنی کتاب اور انبیاء و مرسلین… پس اگر کسی نے اس کتاب کی اتباع کی، ان امور پر عمل کیا جن کا اس نے حکم دیا اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اس نے منع کیا تو ایسا شخص دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں اور نہ وہ دنیا و آخرت میں تکلیف میں پڑے گا بلکہ دونوں جہاں میں ان کی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور آخرت میں ان کو امن اور سعادت سے نوازا جائے گا۔ ایک اور آیت کریمہ میں وارد ہے کہ آخرت میں حزن و خوف ان سے دور رہے گا۔ ﴿فَمَنۡ تَبِـعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍38) ’’پس جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔‘‘ اور ’’ہدایت‘‘ کی پیروی یہ ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی جائے، شبہات کے ذریعے سے اس کے ساتھ معارضہ نہ کیا جائے، اس کے حکم کی اس طرح تعمیل کی جائے کہ کسی قسم کی خواہش اس کی معارض نہ ہو۔ [124]﴿ وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِيۡ﴾ یعنی جس کسی نے میری کتاب کریم سے اعراض کیا جس سے تمام مطالب عالیہ حاصل کیے جاتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے اس کو چھوڑ دیا یا اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر بھی برا سلوک کیا، یعنی اس کا انکار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ﴿ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا ﴾ یعنی اس کی سزا یہ ہو گی کہ ہم اس کی معیشت کو تنگ اور نہایت پر مشقت بنا دیں گے اور یہ معیشت اس کے لیے محض ایک عذاب ہو گی۔ ’’تنگ معیشت‘‘ کی تفسیر بیان کی جاتی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے، یعنی اس کے لیے اس کی قبر کو تنگ کر دیا جائے گا وہ اس میں گھٹ کر رہ جائے گا اور اس کو عذاب دیا جائے گا یہ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کی تھی۔ یہ ان آیات میں سے ایک آیت ہے جو عذاب قبر پر دلالت کرتی ہیں ۔ دوسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام:6؍93) ’’کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جان آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی اس کا سبب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے ساتھ تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ تیسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍21) ’’ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب سے کمتر عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ چوتھی آیت کریمہ یہ ہے ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ﴾(المؤمن:40؍46)’’انھیں صبح و شام آگ کے عذاب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہو گی اس روز کہا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ جو چیز سلف میں سے بعض مفسرین کے لیے، اس آیت کریمہ کو عذاب قبر پر محمول کرنے اورصرف اسی پر اقتصار کرنے کی موجب بنی… واللہ تعالیٰ اعلم… وہ ہے آیت کریمہ کا آخر۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کے آخر میں قیامت کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ’’تنگ معیشت‘‘ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں ، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ’’تنگ معیشت‘‘ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔﴿ وَّنَحۡشُرُهٗ ﴾ ’’اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو۔‘‘ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ﴿ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى ﴾ قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے… اور صحیح تفسیر یہی ہے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا﴾(بنی اسرائیل:17؍97) ’’اور قیامت کے روز ان لوگوں کو، اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں ، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے۔‘‘ [125] وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا:﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟‘‘ [126]﴿ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتۡكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيۡتَهَا﴾ ’’اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔‘‘ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ الۡيَوۡمَ تُنۡسٰى ﴾ ’’اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا۔‘‘ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا عمل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کر کے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کر دیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیر لیا۔ [127]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جزا ﴿ نَجۡزِيۡ مَنۡ اَسۡرَفَ ﴾ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ﴾ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَدُّ ﴾ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبۡقٰى ﴾ اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔

طه 20:128

کیا پس نہیں رہنمائی کی ان کی (اس چیز نے) کہ کتنی ہلاک کیں ہم نے ان سے پہلے قومیں ، کہ وہ لوگ چلتے ہیں ان کے مکانوں میں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں اہل عقل کے لیے (128) [128] ان جھٹلانے والوں اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والوں کو، اس عذاب نے راہ ہدایت پر گامزن ہونے، گمراہی اور فساد کی راہ سے اجتناب کرنے پر آمادہ نہیں کیا، جو گزشتہ قوموں اور ایک دوسرے کے پیچھے آنے والی امتوں پر نازل ہوا؟ یہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں ، ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آ رہے ہیں اور ان قوموں کے مسکن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ، مثلاً:ہود، صالح اور لوط علیہ السلام کی قوموں کے اجڑے ہوئے مسکن۔ انھوں نے جب ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری کتابوں سے روگردانی کی تو ہم نے ان پر دردناک عذاب نازل کر دیا۔ کس چیز نے ان کو بے خوف کیا ہے کہ جو عذاب ان قوموں پر نازل ہوا تھا ان پر نازل نہیں ہو گا؟ ﴿اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِۚ۰۰اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾(القمر:54؍43-44) ’’کیا تمھارے کفار ان گزرے ہوئے لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے (گزشتہ) کتابوں میں براء ت لکھ دی گئی ہے یا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم بڑے مضبوط ہیں ۔‘‘ یعنی ان میں سے کوئی چیز بھی ان پر صادق نہیں آتی۔ یہ کفار ان کافروں سے کسی لحاظ سے بھی بہتر نہیں کہ ان سے عذاب کو ٹال دیا جائے بلکہ یہ ان سے زیادہ شریر اور برے لوگ ہیں کیونکہ انھوں نے افضل ترین رسولﷺ اور بہترین کتاب کی تکذیب کی ہے اور نہ ان کے پاس کوئی تحریری براء ت نامہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عہد نامہ ہے… اور ایسا بھی نہیں ہو سکتا جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی قوم انھیں کوئی فائدہ دے گی اور ان سے عذاب کو دور کر دے گی بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یہ ان سے زیادہ ذلیل اور ان سے زیادہ حقیر ہیں ۔پس گزشتہ قوموں کو ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ہلاک کرنا، ہدایت کے اسباب میں سے ہے کیونکہ یہ ان رسولوں کی رسالت کی، جو ان کے پاس آئے، صداقت کی اور ان قوموں کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے۔ مگر ہر شخص آیات الٰہی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا صرف وہی لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کو عقل و دانش سے نوازا گیا ہے، یعنی عقل سلیم، فطرت مستقیم اور ذہن جو انسان کو ان امور سے روکتے ہیں جو اس کے لیے مناسب نہیں ۔

طه 20:129

اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (طے) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو البتہ ہو جاتا (عذاب) چمٹنے والااور (اگر نہ ہوتی) میعاد مقرر (129) پس صبر کیجیے اوپر ان باتوں کے جو وہ (کافر) کہتے ہیں اور تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی پہلے طلوع آفتاب سے اور پہلے اس کے غروب ہونے سےاور کچھ اوقات میں رات کے، پس تسبیح کیجیےاور (دونوں ) حصوں میں دن کے بھی تاکہ آپ راضی ہو جائیں (130) [129] یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور صبر کی ترغیب ہے کہ وہ ان جھٹلانے اور روگردانی کرنے والوں کے لیے جلدی ہلاکت کی خواہش نہ کریں ۔ ان کا کفر اور تکذیب، ان پر عذاب نازل ہونے کے لیے ایک معقول سبب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے سزاؤں کے لیے سبب مقرر کیا ہے جو گناہوں سے جنم لیتا ہے اور ان لوگوں نے نزول عذاب کے اسباب پیدا کر دیے ہیں مگر جس چیز نے اس عذاب کو مؤخر کر رکھا ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا حکم جو مہلت دینے اور وقت مقرر کرنے کو متضمن ہے۔ وقت کا مقرر ہونا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ، نزول عذاب کو اس وقت کے آنے تک کے لیے مؤخر کر دیتا ہے۔ شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کریں ، اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لے اور عذاب کو ان سے دور کر دے جب تک کہ اللہ کا کلمہ ان پر ثابت نہ ہو جائے۔ [130] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کی قولی اذیتوں پر صبر کرے اور اس کے مقابلے میں ان اوقات فاضلہ میں رب کی تسبیح و تحمید سے مدد لے… یعنی طلوع آفتاب اور غروب آفتاب، دن کے کناروں پر، یعنی اس کے اوائل اور اواخر میں … یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے… نیز رات کے اوقات اور اس کی گھڑیوں میں ۔ اگر آپﷺ اس پر عمل پیرا ہوئے تو شاید آپﷺ اپنے رب کے عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب پر راضی ہو جائیں ، آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو، اپنے رب کی عبادت سے آپ آنکھیں ٹھنڈی کریں اور ان کی اذیت رسانی پر اس عبادت کے ذریعے سے دل کو تسلی ہو تب آپﷺ کے لیے صبر بہت آسان ہو جائے گا۔

طه 20:130

اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (طے) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو البتہ ہو جاتا (عذاب) چمٹنے والااور (اگر نہ ہوتی) میعاد مقرر (129) پس صبر کیجیے اوپر ان باتوں کے جو وہ (کافر) کہتے ہیں اور تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی پہلے طلوع آفتاب سے اور پہلے اس کے غروب ہونے سےاور کچھ اوقات میں رات کے، پس تسبیح کیجیےاور (دونوں ) حصوں میں دن کے بھی تاکہ آپ راضی ہو جائیں (130) [129] یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور صبر کی ترغیب ہے کہ وہ ان جھٹلانے اور روگردانی کرنے والوں کے لیے جلدی ہلاکت کی خواہش نہ کریں ۔ ان کا کفر اور تکذیب، ان پر عذاب نازل ہونے کے لیے ایک معقول سبب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے سزاؤں کے لیے سبب مقرر کیا ہے جو گناہوں سے جنم لیتا ہے اور ان لوگوں نے نزول عذاب کے اسباب پیدا کر دیے ہیں مگر جس چیز نے اس عذاب کو مؤخر کر رکھا ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا حکم جو مہلت دینے اور وقت مقرر کرنے کو متضمن ہے۔ وقت کا مقرر ہونا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ، نزول عذاب کو اس وقت کے آنے تک کے لیے مؤخر کر دیتا ہے۔ شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کریں ، اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لے اور عذاب کو ان سے دور کر دے جب تک کہ اللہ کا کلمہ ان پر ثابت نہ ہو جائے۔ [130] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کی قولی اذیتوں پر صبر کرے اور اس کے مقابلے میں ان اوقات فاضلہ میں رب کی تسبیح و تحمید سے مدد لے… یعنی طلوع آفتاب اور غروب آفتاب، دن کے کناروں پر، یعنی اس کے اوائل اور اواخر میں … یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے… نیز رات کے اوقات اور اس کی گھڑیوں میں ۔ اگر آپﷺ اس پر عمل پیرا ہوئے تو شاید آپﷺ اپنے رب کے عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب پر راضی ہو جائیں ، آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو، اپنے رب کی عبادت سے آپ آنکھیں ٹھنڈی کریں اور ان کی اذیت رسانی پر اس عبادت کے ذریعے سے دل کو تسلی ہو تب آپﷺ کے لیے صبر بہت آسان ہو جائے گا۔

طه 20:131

اور نہ دراز کریں آپ اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف کہ فائدہ دیا ہم نے ان کے ساتھ کئی قسم کے لوگوں کو ان میں سے، رونق کا زندگانیٔ دنیا کی تاکہ ہم آزمائیں انھیں اس میں اور رزق آپ کے رب کا بہت بہتر اور دیرپا ہے(131) [131] یعنی دنیا اور اس کی متاع، مثلاً:لذیذ ماکولات و مشروبات، ملبوسات فاخرہ، آراستہ کیے ہوئے گھروں اور حسین و جمیل عورتوں سے حظ اٹھانے والوں کے احوال کو استحسان اور پسندیدگی کی نظر سے دوبارہ نہ دیکھیں ، اس لیے کہ یہ سب کچھ دنیا کی خوبصورتی ہے اور اس سے صرف فریب خوردہ لوگ ہی خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے روگردانی کرنے والوں کی نظریں ہی اسے پسندیدگی سے دیکھتی ہیں ۔ آخرت سے قطع نظر کر کے، صرف ظالم لوگ ہی اس سے متمتع ہوتے ہیں ، پھر یہ دنیا سب کی سب، تیزی سے گزر جاتی ہے، اپنے چاہنے والوں اور عشاق کو بے موت مار دیتی ہے۔ پس دنیا سے محبت کرنے والے لوگ اس وقت نادم ہوں گے جب ندامت کوئی فائدہ نہیں دے گی اور قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تب انھیں اپنی بے مائیگی کا علم ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو اس دنیا کو فتنہ اور آزمائش بنایا ہے تاکہ معلوم ہو کہ کون اس کے پاس ٹھہرتا اور اس کے فریب میں مبتلا ہوتا ہے اور کون اچھے عمل کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَيُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا۰۰وَاِنَّا لَجٰؔعِلُوۡنَ مَا عَلَيۡهَا صَعِيۡدًا جُرُزًا﴾(الکہف:18؍7-8) ’’جو کچھ زمین پر موجود ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں سے کون اچھے کام کرتا ہے، پھر جو کچھ اس زمین پر ہے ہم سب کو ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں ۔‘‘ ﴿وَرِزۡقُ رَبِّكَ ﴾ ’’اور تیرے رب کا رزق‘‘ دنیاوی رزق یعنی علم، ایمان اور اعمال صالحہ کے حقائق، اخروی رزق یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور رب رحیم کے جوار رحمت میں سلامتی سے بھرپور زندگی۔ ﴿ خَيۡرٌ ﴾ اپنی ذات و صفات میں اس زندگی سے بہتر ہے جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ﴿وَّاَبۡقٰى﴾ ’’اور پائدار ہے‘‘ کیونکہ اس کے پھل کبھی ختم نہ ہوں گے اور اس کے سائے دائمی ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾(الاعلی:87؍16۔17) ’’مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ جب دیکھے کہ اس کا نفس سرکشی اختیار کر کے دنیا کی زیب و زینت کی طرف مائل اور متوجہ ہے تو وہ اپنے رب کے اس رزق کو یاد کرے جو آئندہ زندگی میں اسے عطا ہونے والا ہے، پھر ان دونوں کے درمیان موازنہ کرے۔

طه 20:132

اور حکم دیجیے اپنے گھر والوں کو نماز (پڑھنے) کااور (خود بھی) ثابت رہیے اس پر، نہیں سوال کرتے ہم آپ سے رزق کا، ہم ہی رزق دیتے ہیں آپ کواور (بہترین) انجام تو تقوی (والوں ) ہی کا ہے (132) [132] اپنے گھر والوں کو نماز کی ترغیب دیجیے، انھیں فرض اور نفل نماز پڑھنے کا حکم دیتے رہیے اور کسی چیز کا حکم دینا ان تمام امور کو شامل ہے جن کے بغیر اس چیز کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس یہ حکم ، اپنے گھر والوں کو نماز کے بارے میں ان امور کی تعلیم دینا ہے جو نماز کی اصلاح کرتے ہیں ، جو نماز کو فاسد کرتے ہیں اور جو نماز کی تکمیل کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا ﴾ ’’اور خود بھی اس پر جمے رہیے۔‘‘ یعنی نماز پر، اس کی تمام حدود، اس کے ارکان، اس کے آداب اور اس کے خشوع و خضوع کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں نفس کے لیے مشقت ہے۔ تاہم مناسب یہی ہے کہ دائمی طور پر نفس کو نماز پڑھنے پر مجبور اور اس کے ساتھ جہاد کرتے رہنا چاہیے اور اس پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ بندۂ مومن جب اس طریقے سے نماز قائم کرتا ہے جس طریقے سے قائم کرنے کا اسے حکم دیا گیا ہے تو نماز کے علاوہ دیگر دین کی حفاظت کرنے اور اس کو قائم کرنے کی اس سے زیادہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اگر وہ نماز کو ضائع کرتا ہے تو دیگر دین کو زیادہ برے طریقے سے ضائع کر سکتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو رزق کی ضمانت دی اور ترغیب دی کہ آپ اقامت دین کو چھوڑ کر حصول رزق میں مشغول نہ ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ﴾ یعنی آپ کا رزق ہمارے ذمہ ہے ہم نے جس طرح تمام خلائق کے رزق کی کفالت اپنے ذمہ لی ہے اسی طرح آپ کے رزق کی کفالت بھی ہمارے ذمہ ہے۔ اس شخص کے رزق کی ذمہ داری ہم پر کیسے نہ ہو جو ہمارے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور ہمارے ذکر میں مشغول رہتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا رزق متقی اور غیر متقی سب کے لیے عام ہے، اس لیے ان امور کا اہتمام کرنا چاہیے جن پر ابدی سعادت کا دارومدار ہے اور وہ ہے تقویٰ، لہٰذا فرمایا:﴿وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ یعنی دنیا و آخرت کا انجام ﴿ لِلتَّقۡوٰى ﴾ تقویٰ کے لیے ہے اور تقویٰ سے مراد ہے مامورات کی تعمیل اور منہیات سے اجتناب۔ اور جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے، انجام اسی کا اچھا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍128) ’’اور اچھا انجام متقین کا ہے۔‘‘

طه 20:133

اور انھوں نے کہا، کیوں نہیں لاتا وہ ہمارے پاس کوئی نشانی اپنے رب کی طرف سے؟ کیا نہیں آئی ان کے پاس دلیل اس چیز کی جوکچھ پہلے صحیفوں میں ہے؟ (133) اور اگر بے شک ہم ہلاک کر دیتے ان کو ساتھ عذاب کے پہلے اس رسول سے تو البتہ کہتے وہ لوگ، اے ہمارے رب! کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول پس ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی پہلے اس سے کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوتے؟ (134) آپ کہہ دیجیے! ہر ایک انتظار کرنے والا ہے سو تم بھی انتظار کرو، پس عنقریب تم جان لو گے کہ کون ہیں حامل، راہ راست کے اور کس نے ہدایت کو اپنایا؟(135) [133] رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ نشانی سے ان کی مراد معجزات ہیں ۔ یہ بات ان کے اس قول کی مانند ہے ﴿وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًاۙ۰۰اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡهٰرَ خِلٰلَهَا تَفۡجِيۡرًاۙ۰۰اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل:17؍90-92) ’’انھوں نے کہا کہ ہم تم پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لیے چشمہ جاری نہ کرے۔ یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اور تو اس باغ کے درمیان نہریں جاری کر دے یا تو آسمان کو… جیسا کہ تو دعویٰ کرتا ہے… ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے یا تو اللہ اور فرشتوں کو ہمارے روبرو لے آئے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے محض تعنت، عناد اور ظلم ہے۔ کیونکہ رسول اور وہ خود محض بشر اور اللہ کے بندے ہیں ۔ ان کا اپنی خواہشات کے مطابق معجزات کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں ۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی حکمت کے مطابق آیات و معجزات کا انتخاب کر کے نازل کرتا ہے۔ چونکہ ان کا قول ﴿ لَوۡلَا يَاۡتِيۡنَا بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ ان کے پاس رسول اللہﷺ کی صداقت پر کوئی نشانی اور آپ کے حق ہونے پر دلیل نازل نہیں ہوئی… حالانکہ یہ جھوٹ اور بہتان ہے کیونکہ آپ بڑے بڑے معجزات اور ناقابل تردید دلائل لے کر آئے کہ ان میں سے کسی ایک کے ذریعے سے مقصود حاصل ہو سکتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ تَاۡتِهِمۡ ﴾ ’’کیا ان کے پاس نہیں آئی۔‘‘ اگر وہ اپنی بات میں سچے ہیں اور دلیل کے ذریعے سے وہ حق کے متلاشی ہیں ﴿ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ دلیل جو پہلے صحیفوں میں ہے؟‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم ان تمام باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو گزشتہ صحیفوں ، یعنی تورات، انجیل اور دیگر کتابوں میں نازل ہوئی ہیں اور انھی امور کے بارے میں خبر دیتا ہے جن کے بارے میں ان گزشتہ کتابوں نے خبر دی ہے۔ ان گزشتہ کتب اور صحیفوں میں اس قرآن عظیم کی تصدیق بھی موجود ہے اور اس کو لانے والے رسول کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَرَحۡمَةً وَّذِكۡرٰى لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(العنکبوت:29؍51) ’’کیا ان کے لیے یہی کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب عظیم نازل کی جو انھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے جو ایمان لاتے ہیں ۔‘‘ آیات الٰہی اہل ایمان کو فائدہ دیتی ہیں ، ان کی تلاوت سے ان کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن آیات الٰہی سے اعراض کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان پر ایمان رکھتے ہیں نہ ان سے کوئی فائدہ ہی اٹھاتے ہیں ۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ حَقَّتۡ عَلَيۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس:10؍96-97) ’’بلاشبہ وہ لوگ جن پر تیرے رب کا حکم قرار پا چکا ہے خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے، وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ۔‘‘ [134] ان آیات کو ان کی طرف بھیجنے اور ان کے ذریعے سے ان سے مخاطب ہونے کا پس ایک ہی فائدہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے تاکہ جب ان پر دردناک عذاب نازل ہو تو ان کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے: ﴿ لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَنَخۡزٰى ﴾ ’’کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول، پس ہم تیری آیات کی پیروی کرتے قبل اس کے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے۔‘‘ یعنی عقوبت کے ذریعے… لو تمھارے پاس، میری آیات و براہین کے ساتھ، میرا رسول آ گیا ہے اگر بات ایسے ہی ہے جیسے تم کہتے ہو تو اٹھو اس کی تصدیق کرو۔ [135] اے محمد! (ﷺ) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اس کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو‘‘ ﴿ قُلۡ كُلٌّ مُّؔتَرَبِّصٌ﴾ ’’کہہ دیجیے! ہم میں سے ہر ایک منتظر ہے۔‘‘ تم میری موت کا انتظار کرو میں تم پر عذاب الٰہی کے ٹوٹ پڑنے کا انتظار کرتا ہوں ۔ ﴿قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَى الۡحُسۡنَيَيۡنِ﴾(التوبۃ:9؍52) ’’کہہ دیجیے کیا تم ہمارے متعلق دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو؟‘‘ یعنی کامیابی یا شہادت ﴿وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖۤ اَوۡ بِاَيۡدِيۡنَا﴾(التوبۃ:9؍52)’’اور ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں کوئی سزا دے۔‘‘﴿ فَتَرَبَّصُوۡا١ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ مَنۡ اَصۡحٰؔبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ﴾ ’’پس تم انتظار کرو جلد ہی تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے (یعنی صراط مستقیم) والے کون ہیں ؟‘‘ ﴿ وَمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ ’’اور کون ہدایت یافتہ ہے؟‘‘ یعنی اپنے طرز عمل کے اعتبار سے، میں یا تم؟ کیونکہ اس راستے پر چلنے والا شخص ہی صاحب رشد و ہدایت، فوزوفلاح سے بہرہ ور اور نجات یافتہ ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے وہ خائب و خاسر اور عذاب کا مستحق ہے اور یہ حقیقت واضح طور پر معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں اور آپ کے دشمن اس کے برعکس راستوں پر چل رہے ہیں ۔ واللہ اعلم۔

طه 20:134

اور انھوں نے کہا، کیوں نہیں لاتا وہ ہمارے پاس کوئی نشانی اپنے رب کی طرف سے؟ کیا نہیں آئی ان کے پاس دلیل اس چیز کی جوکچھ پہلے صحیفوں میں ہے؟ (133) اور اگر بے شک ہم ہلاک کر دیتے ان کو ساتھ عذاب کے پہلے اس رسول سے تو البتہ کہتے وہ لوگ، اے ہمارے رب! کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول پس ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی پہلے اس سے کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوتے؟ (134) آپ کہہ دیجیے! ہر ایک انتظار کرنے والا ہے سو تم بھی انتظار کرو، پس عنقریب تم جان لو گے کہ کون ہیں حامل، راہ راست کے اور کس نے ہدایت کو اپنایا؟(135) [133] رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ نشانی سے ان کی مراد معجزات ہیں ۔ یہ بات ان کے اس قول کی مانند ہے ﴿وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًاۙ۰۰اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡهٰرَ خِلٰلَهَا تَفۡجِيۡرًاۙ۰۰اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل:17؍90-92) ’’انھوں نے کہا کہ ہم تم پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لیے چشمہ جاری نہ کرے۔ یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اور تو اس باغ کے درمیان نہریں جاری کر دے یا تو آسمان کو… جیسا کہ تو دعویٰ کرتا ہے… ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے یا تو اللہ اور فرشتوں کو ہمارے روبرو لے آئے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے محض تعنت، عناد اور ظلم ہے۔ کیونکہ رسول اور وہ خود محض بشر اور اللہ کے بندے ہیں ۔ ان کا اپنی خواہشات کے مطابق معجزات کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں ۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی حکمت کے مطابق آیات و معجزات کا انتخاب کر کے نازل کرتا ہے۔ چونکہ ان کا قول ﴿ لَوۡلَا يَاۡتِيۡنَا بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ ان کے پاس رسول اللہﷺ کی صداقت پر کوئی نشانی اور آپ کے حق ہونے پر دلیل نازل نہیں ہوئی… حالانکہ یہ جھوٹ اور بہتان ہے کیونکہ آپ بڑے بڑے معجزات اور ناقابل تردید دلائل لے کر آئے کہ ان میں سے کسی ایک کے ذریعے سے مقصود حاصل ہو سکتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ تَاۡتِهِمۡ ﴾ ’’کیا ان کے پاس نہیں آئی۔‘‘ اگر وہ اپنی بات میں سچے ہیں اور دلیل کے ذریعے سے وہ حق کے متلاشی ہیں ﴿ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ دلیل جو پہلے صحیفوں میں ہے؟‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم ان تمام باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو گزشتہ صحیفوں ، یعنی تورات، انجیل اور دیگر کتابوں میں نازل ہوئی ہیں اور انھی امور کے بارے میں خبر دیتا ہے جن کے بارے میں ان گزشتہ کتابوں نے خبر دی ہے۔ ان گزشتہ کتب اور صحیفوں میں اس قرآن عظیم کی تصدیق بھی موجود ہے اور اس کو لانے والے رسول کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَرَحۡمَةً وَّذِكۡرٰى لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(العنکبوت:29؍51) ’’کیا ان کے لیے یہی کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب عظیم نازل کی جو انھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے جو ایمان لاتے ہیں ۔‘‘ آیات الٰہی اہل ایمان کو فائدہ دیتی ہیں ، ان کی تلاوت سے ان کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن آیات الٰہی سے اعراض کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان پر ایمان رکھتے ہیں نہ ان سے کوئی فائدہ ہی اٹھاتے ہیں ۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ حَقَّتۡ عَلَيۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس:10؍96-97) ’’بلاشبہ وہ لوگ جن پر تیرے رب کا حکم قرار پا چکا ہے خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے، وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ۔‘‘ [134] ان آیات کو ان کی طرف بھیجنے اور ان کے ذریعے سے ان سے مخاطب ہونے کا پس ایک ہی فائدہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے تاکہ جب ان پر دردناک عذاب نازل ہو تو ان کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے: ﴿ لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَنَخۡزٰى ﴾ ’’کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول، پس ہم تیری آیات کی پیروی کرتے قبل اس کے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے۔‘‘ یعنی عقوبت کے ذریعے… لو تمھارے پاس، میری آیات و براہین کے ساتھ، میرا رسول آ گیا ہے اگر بات ایسے ہی ہے جیسے تم کہتے ہو تو اٹھو اس کی تصدیق کرو۔ [135] اے محمد! (ﷺ) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اس کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو‘‘ ﴿ قُلۡ كُلٌّ مُّؔتَرَبِّصٌ﴾ ’’کہہ دیجیے! ہم میں سے ہر ایک منتظر ہے۔‘‘ تم میری موت کا انتظار کرو میں تم پر عذاب الٰہی کے ٹوٹ پڑنے کا انتظار کرتا ہوں ۔ ﴿قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَى الۡحُسۡنَيَيۡنِ﴾(التوبۃ:9؍52) ’’کہہ دیجیے کیا تم ہمارے متعلق دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو؟‘‘ یعنی کامیابی یا شہادت ﴿وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖۤ اَوۡ بِاَيۡدِيۡنَا﴾(التوبۃ:9؍52)’’اور ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں کوئی سزا دے۔‘‘﴿ فَتَرَبَّصُوۡا١ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ مَنۡ اَصۡحٰؔبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ﴾ ’’پس تم انتظار کرو جلد ہی تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے (یعنی صراط مستقیم) والے کون ہیں ؟‘‘ ﴿ وَمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ ’’اور کون ہدایت یافتہ ہے؟‘‘ یعنی اپنے طرز عمل کے اعتبار سے، میں یا تم؟ کیونکہ اس راستے پر چلنے والا شخص ہی صاحب رشد و ہدایت، فوزوفلاح سے بہرہ ور اور نجات یافتہ ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے وہ خائب و خاسر اور عذاب کا مستحق ہے اور یہ حقیقت واضح طور پر معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں اور آپ کے دشمن اس کے برعکس راستوں پر چل رہے ہیں ۔ واللہ اعلم۔

طه 20:135

اور انھوں نے کہا، کیوں نہیں لاتا وہ ہمارے پاس کوئی نشانی اپنے رب کی طرف سے؟ کیا نہیں آئی ان کے پاس دلیل اس چیز کی جوکچھ پہلے صحیفوں میں ہے؟ (133) اور اگر بے شک ہم ہلاک کر دیتے ان کو ساتھ عذاب کے پہلے اس رسول سے تو البتہ کہتے وہ لوگ، اے ہمارے رب! کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول پس ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی پہلے اس سے کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوتے؟ (134) آپ کہہ دیجیے! ہر ایک انتظار کرنے والا ہے سو تم بھی انتظار کرو، پس عنقریب تم جان لو گے کہ کون ہیں حامل، راہ راست کے اور کس نے ہدایت کو اپنایا؟(135) [133] رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ نشانی سے ان کی مراد معجزات ہیں ۔ یہ بات ان کے اس قول کی مانند ہے ﴿وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًاۙ۰۰اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡهٰرَ خِلٰلَهَا تَفۡجِيۡرًاۙ۰۰اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل:17؍90-92) ’’انھوں نے کہا کہ ہم تم پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لیے چشمہ جاری نہ کرے۔ یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اور تو اس باغ کے درمیان نہریں جاری کر دے یا تو آسمان کو… جیسا کہ تو دعویٰ کرتا ہے… ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے یا تو اللہ اور فرشتوں کو ہمارے روبرو لے آئے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے محض تعنت، عناد اور ظلم ہے۔ کیونکہ رسول اور وہ خود محض بشر اور اللہ کے بندے ہیں ۔ ان کا اپنی خواہشات کے مطابق معجزات کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں ۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی حکمت کے مطابق آیات و معجزات کا انتخاب کر کے نازل کرتا ہے۔ چونکہ ان کا قول ﴿ لَوۡلَا يَاۡتِيۡنَا بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ ان کے پاس رسول اللہﷺ کی صداقت پر کوئی نشانی اور آپ کے حق ہونے پر دلیل نازل نہیں ہوئی… حالانکہ یہ جھوٹ اور بہتان ہے کیونکہ آپ بڑے بڑے معجزات اور ناقابل تردید دلائل لے کر آئے کہ ان میں سے کسی ایک کے ذریعے سے مقصود حاصل ہو سکتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ تَاۡتِهِمۡ ﴾ ’’کیا ان کے پاس نہیں آئی۔‘‘ اگر وہ اپنی بات میں سچے ہیں اور دلیل کے ذریعے سے وہ حق کے متلاشی ہیں ﴿ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ دلیل جو پہلے صحیفوں میں ہے؟‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم ان تمام باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو گزشتہ صحیفوں ، یعنی تورات، انجیل اور دیگر کتابوں میں نازل ہوئی ہیں اور انھی امور کے بارے میں خبر دیتا ہے جن کے بارے میں ان گزشتہ کتابوں نے خبر دی ہے۔ ان گزشتہ کتب اور صحیفوں میں اس قرآن عظیم کی تصدیق بھی موجود ہے اور اس کو لانے والے رسول کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَرَحۡمَةً وَّذِكۡرٰى لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(العنکبوت:29؍51) ’’کیا ان کے لیے یہی کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب عظیم نازل کی جو انھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے جو ایمان لاتے ہیں ۔‘‘ آیات الٰہی اہل ایمان کو فائدہ دیتی ہیں ، ان کی تلاوت سے ان کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن آیات الٰہی سے اعراض کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان پر ایمان رکھتے ہیں نہ ان سے کوئی فائدہ ہی اٹھاتے ہیں ۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ حَقَّتۡ عَلَيۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس:10؍96-97) ’’بلاشبہ وہ لوگ جن پر تیرے رب کا حکم قرار پا چکا ہے خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے، وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ۔‘‘ [134] ان آیات کو ان کی طرف بھیجنے اور ان کے ذریعے سے ان سے مخاطب ہونے کا پس ایک ہی فائدہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے تاکہ جب ان پر دردناک عذاب نازل ہو تو ان کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے: ﴿ لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَنَخۡزٰى ﴾ ’’کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول، پس ہم تیری آیات کی پیروی کرتے قبل اس کے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے۔‘‘ یعنی عقوبت کے ذریعے… لو تمھارے پاس، میری آیات و براہین کے ساتھ، میرا رسول آ گیا ہے اگر بات ایسے ہی ہے جیسے تم کہتے ہو تو اٹھو اس کی تصدیق کرو۔ [135] اے محمد! (ﷺ) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اس کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو‘‘ ﴿ قُلۡ كُلٌّ مُّؔتَرَبِّصٌ﴾ ’’کہہ دیجیے! ہم میں سے ہر ایک منتظر ہے۔‘‘ تم میری موت کا انتظار کرو میں تم پر عذاب الٰہی کے ٹوٹ پڑنے کا انتظار کرتا ہوں ۔ ﴿قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَى الۡحُسۡنَيَيۡنِ﴾(التوبۃ:9؍52) ’’کہہ دیجیے کیا تم ہمارے متعلق دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو؟‘‘ یعنی کامیابی یا شہادت ﴿وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖۤ اَوۡ بِاَيۡدِيۡنَا﴾(التوبۃ:9؍52)’’اور ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں کوئی سزا دے۔‘‘﴿ فَتَرَبَّصُوۡا١ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ مَنۡ اَصۡحٰؔبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ﴾ ’’پس تم انتظار کرو جلد ہی تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے (یعنی صراط مستقیم) والے کون ہیں ؟‘‘ ﴿ وَمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ ’’اور کون ہدایت یافتہ ہے؟‘‘ یعنی اپنے طرز عمل کے اعتبار سے، میں یا تم؟ کیونکہ اس راستے پر چلنے والا شخص ہی صاحب رشد و ہدایت، فوزوفلاح سے بہرہ ور اور نجات یافتہ ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے وہ خائب و خاسر اور عذاب کا مستحق ہے اور یہ حقیقت واضح طور پر معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں اور آپ کے دشمن اس کے برعکس راستوں پر چل رہے ہیں ۔ واللہ اعلم۔