Tafsir As-Saadi - Urdu — الأنبياء 21:1 – الأنبياء 21:63
Contents
- الأنبياء 21:1
- الأنبياء 21:2
- الأنبياء 21:3
- الأنبياء 21:4
- الأنبياء 21:5
- الأنبياء 21:6
- الأنبياء 21:7
- الأنبياء 21:8
- الأنبياء 21:9
- الأنبياء 21:10
- الأنبياء 21:11
- الأنبياء 21:12
- الأنبياء 21:13
- الأنبياء 21:14
- الأنبياء 21:15
- الأنبياء 21:16
- الأنبياء 21:17
- الأنبياء 21:18
- الأنبياء 21:19
- الأنبياء 21:20
- الأنبياء 21:21
- الأنبياء 21:22
- الأنبياء 21:23
- الأنبياء 21:24
- الأنبياء 21:25
- الأنبياء 21:26
- الأنبياء 21:27
- الأنبياء 21:28
- الأنبياء 21:29
- الأنبياء 21:30
- الأنبياء 21:31
- الأنبياء 21:32
- الأنبياء 21:33
- الأنبياء 21:34
- الأنبياء 21:35
- الأنبياء 21:36
- الأنبياء 21:37
- الأنبياء 21:38
- الأنبياء 21:39
- الأنبياء 21:40
- الأنبياء 21:41
- الأنبياء 21:42
- الأنبياء 21:43
- الأنبياء 21:44
- الأنبياء 21:45
- الأنبياء 21:46
- الأنبياء 21:47
- الأنبياء 21:48
- الأنبياء 21:49
- الأنبياء 21:50
- الأنبياء 21:51
- الأنبياء 21:52
- الأنبياء 21:53
- الأنبياء 21:54
- الأنبياء 21:55
- الأنبياء 21:56
- الأنبياء 21:57
- الأنبياء 21:58
- الأنبياء 21:59
- الأنبياء 21:60
- الأنبياء 21:61
- الأنبياء 21:62
- الأنبياء 21:63
الأنبياء 21:1
قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے حساب (کا وقت) ان کا جبکہ وہ غفلت میں پڑے اعراض کرنے والے ہیں (1) نہیں آتا ان کے پاس کوئی ذکر ان کے رب کی طرف سے نیا مگر وہ سنتے ہیں اس کو اس حال میں کہ وہ کھیل رہے ہوتے ہیں (2) غافل ہیں دل ان کےاور چپکے چپکے کیا مشورہ ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، نہیں ہے یہ (رسول) مگر بشر ہی تم جیسا، کیا پس تم آتے (مانتے) ہو جادو کو جبکہ تم دیکھ بھی رہے ہو (3) رسول نے کہا، میرا رب جانتا ہے (ہر) بات کو آسمان اور زمین میں اور وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے (4)
[1] یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انھیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں ، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انھیں صرف دنیا کے لیے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انھیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور اعراض میں مستغرق ہیں ۔
[2] اس لیے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ مُّؔحۡدَثٍ ﴾ ’’نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔‘‘ جو انھیں ایسی باتوں کی یاددہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انھیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ ﴿اِلَّا اسۡتَمَعُوۡهُ﴾ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے ﴿وَهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾
[3]﴿لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ یعنی ان کے دل اپنے دنیاوی اغراض و مقاصد میں مستغرق ہو کر اس ’’ذکر‘‘ سے روگرداں اور ان کے جسم شہوات کے حصول، باطل پر عمل پیرا ہونے اور ردی اقوال میں مشغول ہیں ۔جبکہ ان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس صفت سے متصف نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ اللہ تعالیٰ کے امرونہی کو قبول کریں ، اسے اس طرح سنیں جس سے اس کی مراد ان کی سمجھ میں آئے، ان کے جوارح اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ روز قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ اس طرح ہی ان کے معاملے کی تکمیل ہو گی، ان کے احوال درست اور ان کے اعمال پاک ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ ﴾’’لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آ گیا ہے۔‘‘ کی تفسیر میں اصحاب تفسیر سے دو قول منقول ہیں۔(۱) پہلا قول یہ ہے کہ یہ امت آخری امت اور یہ رسول آخری رسول ہے۔ اس رسول کی امت پر ہی قیامت قائم ہو گی گزشتہ امتوں کی نسبت، قیامت اس امت کے زیادہ قریب ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس زمانے میں مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت کا دن اس طرح ساتھ ساتھ ہیں ۔‘‘ اور آپﷺ نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی کو اکٹھا کر کے دکھایا۔(صحیح البخاري، الرقاق، باب قول النبیﷺ (بعث انا…)، ح:6503 و صحیح مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، ح:867)(۲) دوسرا قول یہ ہے کہ ’’حساب‘‘ کے قریب ہونے سے مراد موت کا قریب ہونا ہے، نیز یہ کہ جو کوئی مر جاتا ہے ،اس کی قیامت قائم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لیے دارالجزا میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ تعجب ہر اس شخص پر ہے جو غافل اور روگرداں ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ صبح یا شام، کب اچانک موت کا پیغام آ جائے۔ تمام لوگوں کی یہی حالت ہے سوائے اس کے جس پر عنایت ربانی سایہ کناں ہے۔ پس وہ موت اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے لیے تیاری کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ ظالم کفار عناد اور باطل کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور رسول اللہﷺ کے بارے میں یہ کہنے پر متفق ہیں کہ وہ تو ایک بشر ہے، کس بنا پر اسے تم پر فضیلت دی گئی ہے اور کس وجہ سے اسے تم میں سے خاص کر لیا گیا ہے اور تم میں سے کوئی اس قسم کا دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ بھی اسی طرح کا دعویٰ ہو گا۔ درحقیقت یہ شخص تم پر اپنی فضیلت ثابت کر کے تمھارا سردار بننا چاہتا ہے، اس لیے اس کی اطاعت کرنا نہ اس کی تصدیق کرنا، یہ جادوگر ہے اور یہ جو قرآن لے کر آیا ہے، وہ جادو ہے، اس لیے اس سے خود بھی دور رہو اور لوگوں کو بھی اس سے متنفر کرو اور لوگوں سے کہو! ﴿اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ یعنی اسے دیکھتے ہوئے تم اس جادو کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہو… حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں کیونکہ وہ بڑی بڑی آیات الٰہی کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا مشاہدہ ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا لیکن ظلم، عناد اور بدبختی نے ان کو اس انکار پر آمادہ کیا۔
[4] اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿قٰلَ رَبِّيۡ يَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے ﴿ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان ا ور زمین میں ۔‘‘ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے۔ ﴿ وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔
الأنبياء 21:2
قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے حساب (کا وقت) ان کا جبکہ وہ غفلت میں پڑے اعراض کرنے والے ہیں (1) نہیں آتا ان کے پاس کوئی ذکر ان کے رب کی طرف سے نیا مگر وہ سنتے ہیں اس کو اس حال میں کہ وہ کھیل رہے ہوتے ہیں (2) غافل ہیں دل ان کےاور چپکے چپکے کیا مشورہ ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، نہیں ہے یہ (رسول) مگر بشر ہی تم جیسا، کیا پس تم آتے (مانتے) ہو جادو کو جبکہ تم دیکھ بھی رہے ہو (3) رسول نے کہا، میرا رب جانتا ہے (ہر) بات کو آسمان اور زمین میں اور وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے (4)
[1] یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انھیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں ، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انھیں صرف دنیا کے لیے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انھیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور اعراض میں مستغرق ہیں ۔
[2] اس لیے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ مُّؔحۡدَثٍ ﴾ ’’نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔‘‘ جو انھیں ایسی باتوں کی یاددہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انھیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ ﴿اِلَّا اسۡتَمَعُوۡهُ﴾ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے ﴿وَهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾
[3]﴿لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ یعنی ان کے دل اپنے دنیاوی اغراض و مقاصد میں مستغرق ہو کر اس ’’ذکر‘‘ سے روگرداں اور ان کے جسم شہوات کے حصول، باطل پر عمل پیرا ہونے اور ردی اقوال میں مشغول ہیں ۔جبکہ ان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس صفت سے متصف نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ اللہ تعالیٰ کے امرونہی کو قبول کریں ، اسے اس طرح سنیں جس سے اس کی مراد ان کی سمجھ میں آئے، ان کے جوارح اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ روز قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ اس طرح ہی ان کے معاملے کی تکمیل ہو گی، ان کے احوال درست اور ان کے اعمال پاک ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ ﴾’’لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آ گیا ہے۔‘‘ کی تفسیر میں اصحاب تفسیر سے دو قول منقول ہیں۔(۱) پہلا قول یہ ہے کہ یہ امت آخری امت اور یہ رسول آخری رسول ہے۔ اس رسول کی امت پر ہی قیامت قائم ہو گی گزشتہ امتوں کی نسبت، قیامت اس امت کے زیادہ قریب ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس زمانے میں مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت کا دن اس طرح ساتھ ساتھ ہیں ۔‘‘ اور آپﷺ نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی کو اکٹھا کر کے دکھایا۔(صحیح البخاري، الرقاق، باب قول النبیﷺ (بعث انا…)، ح:6503 و صحیح مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، ح:867)(۲) دوسرا قول یہ ہے کہ ’’حساب‘‘ کے قریب ہونے سے مراد موت کا قریب ہونا ہے، نیز یہ کہ جو کوئی مر جاتا ہے ،اس کی قیامت قائم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لیے دارالجزا میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ تعجب ہر اس شخص پر ہے جو غافل اور روگرداں ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ صبح یا شام، کب اچانک موت کا پیغام آ جائے۔ تمام لوگوں کی یہی حالت ہے سوائے اس کے جس پر عنایت ربانی سایہ کناں ہے۔ پس وہ موت اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے لیے تیاری کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ ظالم کفار عناد اور باطل کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور رسول اللہﷺ کے بارے میں یہ کہنے پر متفق ہیں کہ وہ تو ایک بشر ہے، کس بنا پر اسے تم پر فضیلت دی گئی ہے اور کس وجہ سے اسے تم میں سے خاص کر لیا گیا ہے اور تم میں سے کوئی اس قسم کا دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ بھی اسی طرح کا دعویٰ ہو گا۔ درحقیقت یہ شخص تم پر اپنی فضیلت ثابت کر کے تمھارا سردار بننا چاہتا ہے، اس لیے اس کی اطاعت کرنا نہ اس کی تصدیق کرنا، یہ جادوگر ہے اور یہ جو قرآن لے کر آیا ہے، وہ جادو ہے، اس لیے اس سے خود بھی دور رہو اور لوگوں کو بھی اس سے متنفر کرو اور لوگوں سے کہو! ﴿اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ یعنی اسے دیکھتے ہوئے تم اس جادو کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہو… حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں کیونکہ وہ بڑی بڑی آیات الٰہی کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا مشاہدہ ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا لیکن ظلم، عناد اور بدبختی نے ان کو اس انکار پر آمادہ کیا۔
[4] اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿قٰلَ رَبِّيۡ يَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے ﴿ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان ا ور زمین میں ۔‘‘ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے۔ ﴿ وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔
الأنبياء 21:3
قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے حساب (کا وقت) ان کا جبکہ وہ غفلت میں پڑے اعراض کرنے والے ہیں (1) نہیں آتا ان کے پاس کوئی ذکر ان کے رب کی طرف سے نیا مگر وہ سنتے ہیں اس کو اس حال میں کہ وہ کھیل رہے ہوتے ہیں (2) غافل ہیں دل ان کےاور چپکے چپکے کیا مشورہ ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، نہیں ہے یہ (رسول) مگر بشر ہی تم جیسا، کیا پس تم آتے (مانتے) ہو جادو کو جبکہ تم دیکھ بھی رہے ہو (3) رسول نے کہا، میرا رب جانتا ہے (ہر) بات کو آسمان اور زمین میں اور وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے (4)
[1] یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انھیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں ، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انھیں صرف دنیا کے لیے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انھیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور اعراض میں مستغرق ہیں ۔
[2] اس لیے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ مُّؔحۡدَثٍ ﴾ ’’نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔‘‘ جو انھیں ایسی باتوں کی یاددہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انھیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ ﴿اِلَّا اسۡتَمَعُوۡهُ﴾ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے ﴿وَهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾
[3]﴿لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ یعنی ان کے دل اپنے دنیاوی اغراض و مقاصد میں مستغرق ہو کر اس ’’ذکر‘‘ سے روگرداں اور ان کے جسم شہوات کے حصول، باطل پر عمل پیرا ہونے اور ردی اقوال میں مشغول ہیں ۔جبکہ ان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس صفت سے متصف نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ اللہ تعالیٰ کے امرونہی کو قبول کریں ، اسے اس طرح سنیں جس سے اس کی مراد ان کی سمجھ میں آئے، ان کے جوارح اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ روز قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ اس طرح ہی ان کے معاملے کی تکمیل ہو گی، ان کے احوال درست اور ان کے اعمال پاک ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ ﴾’’لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آ گیا ہے۔‘‘ کی تفسیر میں اصحاب تفسیر سے دو قول منقول ہیں۔(۱) پہلا قول یہ ہے کہ یہ امت آخری امت اور یہ رسول آخری رسول ہے۔ اس رسول کی امت پر ہی قیامت قائم ہو گی گزشتہ امتوں کی نسبت، قیامت اس امت کے زیادہ قریب ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس زمانے میں مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت کا دن اس طرح ساتھ ساتھ ہیں ۔‘‘ اور آپﷺ نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی کو اکٹھا کر کے دکھایا۔(صحیح البخاري، الرقاق، باب قول النبیﷺ (بعث انا…)، ح:6503 و صحیح مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، ح:867)(۲) دوسرا قول یہ ہے کہ ’’حساب‘‘ کے قریب ہونے سے مراد موت کا قریب ہونا ہے، نیز یہ کہ جو کوئی مر جاتا ہے ،اس کی قیامت قائم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لیے دارالجزا میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ تعجب ہر اس شخص پر ہے جو غافل اور روگرداں ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ صبح یا شام، کب اچانک موت کا پیغام آ جائے۔ تمام لوگوں کی یہی حالت ہے سوائے اس کے جس پر عنایت ربانی سایہ کناں ہے۔ پس وہ موت اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے لیے تیاری کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ ظالم کفار عناد اور باطل کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور رسول اللہﷺ کے بارے میں یہ کہنے پر متفق ہیں کہ وہ تو ایک بشر ہے، کس بنا پر اسے تم پر فضیلت دی گئی ہے اور کس وجہ سے اسے تم میں سے خاص کر لیا گیا ہے اور تم میں سے کوئی اس قسم کا دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ بھی اسی طرح کا دعویٰ ہو گا۔ درحقیقت یہ شخص تم پر اپنی فضیلت ثابت کر کے تمھارا سردار بننا چاہتا ہے، اس لیے اس کی اطاعت کرنا نہ اس کی تصدیق کرنا، یہ جادوگر ہے اور یہ جو قرآن لے کر آیا ہے، وہ جادو ہے، اس لیے اس سے خود بھی دور رہو اور لوگوں کو بھی اس سے متنفر کرو اور لوگوں سے کہو! ﴿اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ یعنی اسے دیکھتے ہوئے تم اس جادو کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہو… حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں کیونکہ وہ بڑی بڑی آیات الٰہی کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا مشاہدہ ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا لیکن ظلم، عناد اور بدبختی نے ان کو اس انکار پر آمادہ کیا۔
[4] اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿قٰلَ رَبِّيۡ يَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے ﴿ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان ا ور زمین میں ۔‘‘ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے۔ ﴿ وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔
الأنبياء 21:4
قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے حساب (کا وقت) ان کا جبکہ وہ غفلت میں پڑے اعراض کرنے والے ہیں (1) نہیں آتا ان کے پاس کوئی ذکر ان کے رب کی طرف سے نیا مگر وہ سنتے ہیں اس کو اس حال میں کہ وہ کھیل رہے ہوتے ہیں (2) غافل ہیں دل ان کےاور چپکے چپکے کیا مشورہ ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، نہیں ہے یہ (رسول) مگر بشر ہی تم جیسا، کیا پس تم آتے (مانتے) ہو جادو کو جبکہ تم دیکھ بھی رہے ہو (3) رسول نے کہا، میرا رب جانتا ہے (ہر) بات کو آسمان اور زمین میں اور وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے (4)
[1] یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انھیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں ، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انھیں صرف دنیا کے لیے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انھیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور اعراض میں مستغرق ہیں ۔
[2] اس لیے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ مُّؔحۡدَثٍ ﴾ ’’نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔‘‘ جو انھیں ایسی باتوں کی یاددہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انھیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ ﴿اِلَّا اسۡتَمَعُوۡهُ﴾ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے ﴿وَهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾
[3]﴿لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ یعنی ان کے دل اپنے دنیاوی اغراض و مقاصد میں مستغرق ہو کر اس ’’ذکر‘‘ سے روگرداں اور ان کے جسم شہوات کے حصول، باطل پر عمل پیرا ہونے اور ردی اقوال میں مشغول ہیں ۔جبکہ ان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس صفت سے متصف نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ اللہ تعالیٰ کے امرونہی کو قبول کریں ، اسے اس طرح سنیں جس سے اس کی مراد ان کی سمجھ میں آئے، ان کے جوارح اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ روز قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ اس طرح ہی ان کے معاملے کی تکمیل ہو گی، ان کے احوال درست اور ان کے اعمال پاک ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ ﴾’’لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آ گیا ہے۔‘‘ کی تفسیر میں اصحاب تفسیر سے دو قول منقول ہیں۔(۱) پہلا قول یہ ہے کہ یہ امت آخری امت اور یہ رسول آخری رسول ہے۔ اس رسول کی امت پر ہی قیامت قائم ہو گی گزشتہ امتوں کی نسبت، قیامت اس امت کے زیادہ قریب ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس زمانے میں مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت کا دن اس طرح ساتھ ساتھ ہیں ۔‘‘ اور آپﷺ نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی کو اکٹھا کر کے دکھایا۔(صحیح البخاري، الرقاق، باب قول النبیﷺ (بعث انا…)، ح:6503 و صحیح مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، ح:867)(۲) دوسرا قول یہ ہے کہ ’’حساب‘‘ کے قریب ہونے سے مراد موت کا قریب ہونا ہے، نیز یہ کہ جو کوئی مر جاتا ہے ،اس کی قیامت قائم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لیے دارالجزا میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ تعجب ہر اس شخص پر ہے جو غافل اور روگرداں ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ صبح یا شام، کب اچانک موت کا پیغام آ جائے۔ تمام لوگوں کی یہی حالت ہے سوائے اس کے جس پر عنایت ربانی سایہ کناں ہے۔ پس وہ موت اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے لیے تیاری کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ ظالم کفار عناد اور باطل کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور رسول اللہﷺ کے بارے میں یہ کہنے پر متفق ہیں کہ وہ تو ایک بشر ہے، کس بنا پر اسے تم پر فضیلت دی گئی ہے اور کس وجہ سے اسے تم میں سے خاص کر لیا گیا ہے اور تم میں سے کوئی اس قسم کا دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ بھی اسی طرح کا دعویٰ ہو گا۔ درحقیقت یہ شخص تم پر اپنی فضیلت ثابت کر کے تمھارا سردار بننا چاہتا ہے، اس لیے اس کی اطاعت کرنا نہ اس کی تصدیق کرنا، یہ جادوگر ہے اور یہ جو قرآن لے کر آیا ہے، وہ جادو ہے، اس لیے اس سے خود بھی دور رہو اور لوگوں کو بھی اس سے متنفر کرو اور لوگوں سے کہو! ﴿اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ یعنی اسے دیکھتے ہوئے تم اس جادو کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہو… حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں کیونکہ وہ بڑی بڑی آیات الٰہی کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا مشاہدہ ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا لیکن ظلم، عناد اور بدبختی نے ان کو اس انکار پر آمادہ کیا۔
[4] اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿قٰلَ رَبِّيۡ يَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے ﴿ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان ا ور زمین میں ۔‘‘ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے۔ ﴿ وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔
الأنبياء 21:5
بلکہ انھوں نے کہا ، پراگندہ خواب ہیں بلکہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اسےبلکہ وہ شاعر ہے، پس چاہیے کہ لے آئے ہمارے پاس کوئی نشانی جیسا کہ بھیجے گئے تھے پہلے (پیغمبر)(5) نہیں ایمان لائے ان سے پہلے کوئی بستی (والے) کہ ہلاک کیا ہم نے انھیں ، کیا پس وہ (اب) ایمان لے آئیں گے؟ (6)
[5] اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت محمد مصطفیﷺ اور آپﷺ کے لائے ہوئے قرآن عظیم پر کفار کی بہتان طرازی کا ذکر کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں جھوٹ گھڑتے اور اس کے بارے میں مختلف باطل باتیں پھیلاتے ہیں ۔ کبھی کہتے ہیں ’’یہ پراگندہ خواب ہیں ‘‘ ایک سوئے ہوئے شخص کے ہذیانی کلام کی مانند، جسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ کبھی کہتے ہیں ’’یہ اس کا من گھڑت کلام ہے‘‘ جو اس نے اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور کبھی کہتے ہیں ’’یہ شاعر ہے‘‘ اور جو قرآن یہ لے کر آیا ہے وہ محض شاعری ہے۔ جو کوئی واقعات اور رسولﷺ کے احوال کی ادنیٰ سی بھی معرفت رکھتا ہے اور اس کلام میں غور کرتا ہے جسے رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں وہ ایسے جزم و یقین سے پکار اٹھتا ہے، جس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہوتا کہ یہ نہایت جلیل القدر اور بلند ترین کلام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ کوئی بشر اس جیسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے سامنے چیلنج کیا ہے کہ وہ اس کلام کا مقابلہ کر دکھائیں ، حالانکہ ان کے اندر قرآن عظیم کی مخالفت اور اس کے ساتھ عداوت کا وافر داعیہ موجود تھا۔ بایں ہمہ وہ اس کلام کا مقابلہ نہ کر سکے اور وہ یہ سب کچھ جانتے ہیں ۔ ورنہ وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو باز رکھا، ان کو کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کیا اور ان کی زبانوں کو گنگ کر دیا؟… وہ حق کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی؟اور چونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے اس لیے ایسے لوگوں کو، جو اس کی معرفت نہیں رکھتے متنفر کرنے کے لیے اس قسم باتیں کرتے ہیں ۔ یہ قرآن عظیم ہمیشہ رہنے والا سب سے بڑا معجزہ ہے جو رسول اللہﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرتا ہے اور یہ کافی و شافی ہے۔ پس جو اس کے علاوہ کوئی اور دلیل طلب کرتا ہے اور اپنی خواہش کے مطابق معجزوں کا مطالبہ کرتا ہے، وہ جاہل اور ظالم ہے اور ان معاندین حق سے مشابہت رکھتا ہے جنھوں نے اس کی تکذیب کی، معجزات کا مطالبہ کیا جو ان کے لیے سب سے زیادہ ضرر رساں چیز ہے اور ان معجزات میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں کیونکہ اگر ان کا مقصد و ضوح دلیل کے ذریعے سے معرفت حق ہے تو دلیل ان معجزات کے بغیر بھی واضح ہو چکی ہے اور اگر ان کا مقصد عاجز کرنا اور معجزات کا مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں اپنے لیے عذر کا جواز پیدا کرنا ہے… تو اس صورت میں بھی جبکہ فرض کر لیا جائے کہ ان کی خواہش کے مطابق معجزہ پیش کر دیا جائے، وہ قطعاً ایمان نہیں لائیں گے۔ پس واقعہ یہ ہے کہ اگر ان کے پاس ہر قسم کا معجزہ ہی کیوں نہ آ جائے تو پھر بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل فرمایا:﴿ فَلۡيَاۡتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَاۤ اُرۡسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمارے پاس ایسی کوئی نشانی لائے جیسے پہلے پیغمبر (ان کے ساتھ) بھیجے گئے۔‘‘ جیسے صالح کی اونٹنی اور موسیٰu کا عصااور اس جیسے معجزات۔
[6] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ مَاۤ اٰمَنَتۡ قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا١ۚ اَفَهُمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’نہیں ایمان لائی ان سے پہلے کوئی بستی جن کو ہم نے ہلاک کیا، کیا پس یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟‘‘ یعنی ان معجزات پر جو ان کے مطالبوں پر پیش کیے جائیں گے۔ اللہ کی سنت کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو معجزے طلب کرتا ہے، پھر وہ اسے دکھا دیا جاتا ہے (پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتا تو) وہ فوری سزا سے محفوظ نہیں ہے۔ پس پہلے لوگ ان معجزات کی وجہ سے ایمان نہیں لائے تو کیا یہ ان کی وجہ سے ایمان لے آئیں گے؟ آخر ان (عربوں ) کو پہلے لوگوں پر کیا فضیلت حاصل ہے اور وہ کیا بھلائی ہے جو ان کے اندر موجود ہے جو اس بات کی مقتضی ہو کہ معجزات کے صدور پر یہ ایمان لے آئیں گے؟ یہ استفہام، نفی کے معنی میں ہے، یعنی ان سے کبھی ایسا نہیں ہو گا کہ وہ ایمان لے آئیں۔
الأنبياء 21:6
بلکہ انھوں نے کہا ، پراگندہ خواب ہیں بلکہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اسےبلکہ وہ شاعر ہے، پس چاہیے کہ لے آئے ہمارے پاس کوئی نشانی جیسا کہ بھیجے گئے تھے پہلے (پیغمبر)(5) نہیں ایمان لائے ان سے پہلے کوئی بستی (والے) کہ ہلاک کیا ہم نے انھیں ، کیا پس وہ (اب) ایمان لے آئیں گے؟ (6)
[5] اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت محمد مصطفیﷺ اور آپﷺ کے لائے ہوئے قرآن عظیم پر کفار کی بہتان طرازی کا ذکر کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں جھوٹ گھڑتے اور اس کے بارے میں مختلف باطل باتیں پھیلاتے ہیں ۔ کبھی کہتے ہیں ’’یہ پراگندہ خواب ہیں ‘‘ ایک سوئے ہوئے شخص کے ہذیانی کلام کی مانند، جسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ کبھی کہتے ہیں ’’یہ اس کا من گھڑت کلام ہے‘‘ جو اس نے اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور کبھی کہتے ہیں ’’یہ شاعر ہے‘‘ اور جو قرآن یہ لے کر آیا ہے وہ محض شاعری ہے۔ جو کوئی واقعات اور رسولﷺ کے احوال کی ادنیٰ سی بھی معرفت رکھتا ہے اور اس کلام میں غور کرتا ہے جسے رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں وہ ایسے جزم و یقین سے پکار اٹھتا ہے، جس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہوتا کہ یہ نہایت جلیل القدر اور بلند ترین کلام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ کوئی بشر اس جیسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے سامنے چیلنج کیا ہے کہ وہ اس کلام کا مقابلہ کر دکھائیں ، حالانکہ ان کے اندر قرآن عظیم کی مخالفت اور اس کے ساتھ عداوت کا وافر داعیہ موجود تھا۔ بایں ہمہ وہ اس کلام کا مقابلہ نہ کر سکے اور وہ یہ سب کچھ جانتے ہیں ۔ ورنہ وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو باز رکھا، ان کو کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کیا اور ان کی زبانوں کو گنگ کر دیا؟… وہ حق کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی؟اور چونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے اس لیے ایسے لوگوں کو، جو اس کی معرفت نہیں رکھتے متنفر کرنے کے لیے اس قسم باتیں کرتے ہیں ۔ یہ قرآن عظیم ہمیشہ رہنے والا سب سے بڑا معجزہ ہے جو رسول اللہﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرتا ہے اور یہ کافی و شافی ہے۔ پس جو اس کے علاوہ کوئی اور دلیل طلب کرتا ہے اور اپنی خواہش کے مطابق معجزوں کا مطالبہ کرتا ہے، وہ جاہل اور ظالم ہے اور ان معاندین حق سے مشابہت رکھتا ہے جنھوں نے اس کی تکذیب کی، معجزات کا مطالبہ کیا جو ان کے لیے سب سے زیادہ ضرر رساں چیز ہے اور ان معجزات میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں کیونکہ اگر ان کا مقصد و ضوح دلیل کے ذریعے سے معرفت حق ہے تو دلیل ان معجزات کے بغیر بھی واضح ہو چکی ہے اور اگر ان کا مقصد عاجز کرنا اور معجزات کا مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں اپنے لیے عذر کا جواز پیدا کرنا ہے… تو اس صورت میں بھی جبکہ فرض کر لیا جائے کہ ان کی خواہش کے مطابق معجزہ پیش کر دیا جائے، وہ قطعاً ایمان نہیں لائیں گے۔ پس واقعہ یہ ہے کہ اگر ان کے پاس ہر قسم کا معجزہ ہی کیوں نہ آ جائے تو پھر بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل فرمایا:﴿ فَلۡيَاۡتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَاۤ اُرۡسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمارے پاس ایسی کوئی نشانی لائے جیسے پہلے پیغمبر (ان کے ساتھ) بھیجے گئے۔‘‘ جیسے صالح کی اونٹنی اور موسیٰu کا عصااور اس جیسے معجزات۔
[6] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ مَاۤ اٰمَنَتۡ قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا١ۚ اَفَهُمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’نہیں ایمان لائی ان سے پہلے کوئی بستی جن کو ہم نے ہلاک کیا، کیا پس یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟‘‘ یعنی ان معجزات پر جو ان کے مطالبوں پر پیش کیے جائیں گے۔ اللہ کی سنت کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو معجزے طلب کرتا ہے، پھر وہ اسے دکھا دیا جاتا ہے (پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتا تو) وہ فوری سزا سے محفوظ نہیں ہے۔ پس پہلے لوگ ان معجزات کی وجہ سے ایمان نہیں لائے تو کیا یہ ان کی وجہ سے ایمان لے آئیں گے؟ آخر ان (عربوں ) کو پہلے لوگوں پر کیا فضیلت حاصل ہے اور وہ کیا بھلائی ہے جو ان کے اندر موجود ہے جو اس بات کی مقتضی ہو کہ معجزات کے صدور پر یہ ایمان لے آئیں گے؟ یہ استفہام، نفی کے معنی میں ہے، یعنی ان سے کبھی ایسا نہیں ہو گا کہ وہ ایمان لے آئیں۔
الأنبياء 21:7
اور نہیں بھیجے ہم نے (رسول) آپ سے پہلے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، پس پوچھ لو تم اہل ذکر سے اگر ہو تم نہیں جانتے (7) اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان (رسولوں ) کے ایسے جسم کہ نہ کھاتے ہوں وہ طعام، نہ تھے وہ ہمیشہ رہنے والے (8) پھر سچا کیا ہم نے ان سے وعدہ، پس نجات دی ہم نے انھیں اور جنھیں ہم چاہتے تھےاور ہلاک کر دیا ہم نے حد سے گزرنے والوں کو (9)
[9-7] یہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کے شبہ کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ ’’کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو کھانے پینے اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ ہوتا؟ کوئی ایسا رسول کیوں نہ بھیجا گیا جسے دائمی زندگی عطا کی گئی ہوتی؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ رسول نہیں ہے۔‘‘ یہ شبہ انبیاء و رسل کو جھٹلانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ رہا ہے۔ چونکہ اہل تکذیب کفر میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے نظریات بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کفار کو… جو رسول اللہﷺ کو تو جھٹلاتے ہیں اور گزشتہ رسولوں کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ صرف حضرت ابراہیمu ہی نبی ہوتے جن کی نبوت کا تمام گروہ اقرار کرتے ہیں بلکہ مشرکین تو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کی ملت پر ہیں … ان کے شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے پہلے بھی تمام رسول بشر ہی تھے، جو کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے، ان پر موت وغیرہ اور تمام بشری عوارض طاری ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے قوموں اور امتوں میں مبعوث فرمایا ان قوموں میں سے کسی نے ان کی تصدیق کی اور کسی نے ان کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور ان کے متبعین سے نجات اور سعادت کا جو وعدہ کیا تھا اس نے پورا کر دیا اور اس نے حد سے بڑھنے والے اہل تکذیب کو ہلاک کر ڈالا تو محمد مصطفیﷺ کے ساتھ یہ کیا معاملہ ہے کہ آپﷺ کی رسالت کے انکار کے لیے باطل شبہات قائم كيے جاتے ہیں ، حالانکہ یہی شبہات دیگر انبیاء و مرسلین پر بھی وارد ہوتے ہیں جن کی رسالت کا یہ لوگ اقرار کرتے ہیں جو محمدﷺ کی تکذیب کرتے ہیں … پس ان پر یہ الزامی جواب بالکل واضح ہے۔ اگر انھوں نے کسی رسول بشر کا اقرار کیا ہے تو وہ کسی غیر بشر رسول کا اقرار ہرگز نہیں کریں گے تب ان کے شبہات باطل ہیں انھوں نے ان شبہات کے فساد اور اپنے تناقض کا اقرار کر کے خود ان شبہات کا ابطال کر لیا ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ لوگ سرے ہی سے کسی بشر کے نبی ہونے کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ صرف دائمی زندگی رکھنے والا فرشتہ ہی نبی ہو سکتا ہے جو کھانا نہیں کھاتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٌ١ؕ وَلَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنۡظَرُوۡنَ۰۰وَلَوۡ جَعَلۡنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلۡنٰهُ رَجُلًا وَّلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّا يَلۡبِسُوۡنَ﴾(الانعام:6؍8،9) ’’اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا، اگر ہم نے فرشتہ اتارا ہوا ہوتا تو تمام معاملے کا فیصلہ ہو گیا ہوتا، پھر ان کو ڈھیل نہ دی جاتی اور اگر ہم نے اس کو فرشتہ بنایا ہوتا تو تب بھی اس کو بشر ہی بنایا ہوتا اور (اس طرح) ہم معاملہ ان پر مشتبہ کر دیتے جیسے اب وہ اشتباہ پیش کر رہے ہیں۔‘‘ انسان فرشتوں سے وحی اخذ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا: ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍95) ’’کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے اور اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان کے پاس کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔ ‘‘ اگر گزشتہ رسولوں کے بارے میں تمھیں کوئی شک ہے یا ان کے احوال کا علم نہیں ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ ﴾ ’’تو تم اہل ذکر سے پوچھ لو۔‘‘ یعنی کتب سابقہ رکھنے والوں سے پوچھ لو، مثلاً:اہل تورات اور اہل انجیل وغیرہ، ان کے پاس جو علم ہے وہ اس کے مطابق تمھیں بتائیں گے کہ گزشتہ تمام رسول انسان تھے جیسے یہ انسان ہیں ۔ اس آیت کریمہ کا سبب نزول انبیائے متقدمین کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے مختص ہے کیونکہ وہ اس بارے میں علم رکھتے تھے… مگر یہ دین کے اصول و فروع کے تمام مسائل کے لیے عام ہے۔ جب انسان کے پاس ان مسائل کا علم نہ ہو تو وہ اس شخص سے پوچھ لے جو اس کا علم رکھتا ہے، نیز اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے اور اہل علم سے سوال کرنے کا حکم ہے اور اہل علم سے سوال کرنے کا اس لیے حکم دیا گیا کہ اہل علم پر تعلیم دینا اور اپنے علم کے مطابق جواب دینا فرض ہے۔ اہل علم اور اہل ذکر سے سوال کرنے کی تخصیص سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص جہالت اور عدم علم میں معروف ہو اس سے سوال کرنے کی ممانعت ہے اور اس شخص کے لیے بھی جواب دینے کے درپے ہونا ممنوع ہے۔ اس آیت میں اس امر پر دلیل ہے کہ عورتیں نبی نہیں ہوئیں ، حضرت مریم [ نبی تھیں نہ کوئی اور عورت۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِلَّا رِجَالًا﴾ یعنی ہم نے صرف مرد ہی نبی بنا کر بھیجے۔
الأنبياء 21:8
اور نہیں بھیجے ہم نے (رسول) آپ سے پہلے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، پس پوچھ لو تم اہل ذکر سے اگر ہو تم نہیں جانتے (7) اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان (رسولوں ) کے ایسے جسم کہ نہ کھاتے ہوں وہ طعام، نہ تھے وہ ہمیشہ رہنے والے (8) پھر سچا کیا ہم نے ان سے وعدہ، پس نجات دی ہم نے انھیں اور جنھیں ہم چاہتے تھےاور ہلاک کر دیا ہم نے حد سے گزرنے والوں کو (9)
[9-7] یہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کے شبہ کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ ’’کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو کھانے پینے اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ ہوتا؟ کوئی ایسا رسول کیوں نہ بھیجا گیا جسے دائمی زندگی عطا کی گئی ہوتی؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ رسول نہیں ہے۔‘‘ یہ شبہ انبیاء و رسل کو جھٹلانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ رہا ہے۔ چونکہ اہل تکذیب کفر میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے نظریات بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کفار کو… جو رسول اللہﷺ کو تو جھٹلاتے ہیں اور گزشتہ رسولوں کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ صرف حضرت ابراہیمu ہی نبی ہوتے جن کی نبوت کا تمام گروہ اقرار کرتے ہیں بلکہ مشرکین تو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کی ملت پر ہیں … ان کے شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے پہلے بھی تمام رسول بشر ہی تھے، جو کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے، ان پر موت وغیرہ اور تمام بشری عوارض طاری ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے قوموں اور امتوں میں مبعوث فرمایا ان قوموں میں سے کسی نے ان کی تصدیق کی اور کسی نے ان کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور ان کے متبعین سے نجات اور سعادت کا جو وعدہ کیا تھا اس نے پورا کر دیا اور اس نے حد سے بڑھنے والے اہل تکذیب کو ہلاک کر ڈالا تو محمد مصطفیﷺ کے ساتھ یہ کیا معاملہ ہے کہ آپﷺ کی رسالت کے انکار کے لیے باطل شبہات قائم كيے جاتے ہیں ، حالانکہ یہی شبہات دیگر انبیاء و مرسلین پر بھی وارد ہوتے ہیں جن کی رسالت کا یہ لوگ اقرار کرتے ہیں جو محمدﷺ کی تکذیب کرتے ہیں … پس ان پر یہ الزامی جواب بالکل واضح ہے۔ اگر انھوں نے کسی رسول بشر کا اقرار کیا ہے تو وہ کسی غیر بشر رسول کا اقرار ہرگز نہیں کریں گے تب ان کے شبہات باطل ہیں انھوں نے ان شبہات کے فساد اور اپنے تناقض کا اقرار کر کے خود ان شبہات کا ابطال کر لیا ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ لوگ سرے ہی سے کسی بشر کے نبی ہونے کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ صرف دائمی زندگی رکھنے والا فرشتہ ہی نبی ہو سکتا ہے جو کھانا نہیں کھاتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٌ١ؕ وَلَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنۡظَرُوۡنَ۰۰وَلَوۡ جَعَلۡنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلۡنٰهُ رَجُلًا وَّلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّا يَلۡبِسُوۡنَ﴾(الانعام:6؍8،9) ’’اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا، اگر ہم نے فرشتہ اتارا ہوا ہوتا تو تمام معاملے کا فیصلہ ہو گیا ہوتا، پھر ان کو ڈھیل نہ دی جاتی اور اگر ہم نے اس کو فرشتہ بنایا ہوتا تو تب بھی اس کو بشر ہی بنایا ہوتا اور (اس طرح) ہم معاملہ ان پر مشتبہ کر دیتے جیسے اب وہ اشتباہ پیش کر رہے ہیں۔‘‘ انسان فرشتوں سے وحی اخذ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا: ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍95) ’’کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے اور اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان کے پاس کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔ ‘‘ اگر گزشتہ رسولوں کے بارے میں تمھیں کوئی شک ہے یا ان کے احوال کا علم نہیں ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ ﴾ ’’تو تم اہل ذکر سے پوچھ لو۔‘‘ یعنی کتب سابقہ رکھنے والوں سے پوچھ لو، مثلاً:اہل تورات اور اہل انجیل وغیرہ، ان کے پاس جو علم ہے وہ اس کے مطابق تمھیں بتائیں گے کہ گزشتہ تمام رسول انسان تھے جیسے یہ انسان ہیں ۔ اس آیت کریمہ کا سبب نزول انبیائے متقدمین کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے مختص ہے کیونکہ وہ اس بارے میں علم رکھتے تھے… مگر یہ دین کے اصول و فروع کے تمام مسائل کے لیے عام ہے۔ جب انسان کے پاس ان مسائل کا علم نہ ہو تو وہ اس شخص سے پوچھ لے جو اس کا علم رکھتا ہے، نیز اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے اور اہل علم سے سوال کرنے کا حکم ہے اور اہل علم سے سوال کرنے کا اس لیے حکم دیا گیا کہ اہل علم پر تعلیم دینا اور اپنے علم کے مطابق جواب دینا فرض ہے۔ اہل علم اور اہل ذکر سے سوال کرنے کی تخصیص سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص جہالت اور عدم علم میں معروف ہو اس سے سوال کرنے کی ممانعت ہے اور اس شخص کے لیے بھی جواب دینے کے درپے ہونا ممنوع ہے۔ اس آیت میں اس امر پر دلیل ہے کہ عورتیں نبی نہیں ہوئیں ، حضرت مریم [ نبی تھیں نہ کوئی اور عورت۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِلَّا رِجَالًا﴾ یعنی ہم نے صرف مرد ہی نبی بنا کر بھیجے۔
الأنبياء 21:9
اور نہیں بھیجے ہم نے (رسول) آپ سے پہلے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، پس پوچھ لو تم اہل ذکر سے اگر ہو تم نہیں جانتے (7) اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان (رسولوں ) کے ایسے جسم کہ نہ کھاتے ہوں وہ طعام، نہ تھے وہ ہمیشہ رہنے والے (8) پھر سچا کیا ہم نے ان سے وعدہ، پس نجات دی ہم نے انھیں اور جنھیں ہم چاہتے تھےاور ہلاک کر دیا ہم نے حد سے گزرنے والوں کو (9)
[9-7] یہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کے شبہ کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ ’’کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو کھانے پینے اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ ہوتا؟ کوئی ایسا رسول کیوں نہ بھیجا گیا جسے دائمی زندگی عطا کی گئی ہوتی؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ رسول نہیں ہے۔‘‘ یہ شبہ انبیاء و رسل کو جھٹلانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ رہا ہے۔ چونکہ اہل تکذیب کفر میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے نظریات بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کفار کو… جو رسول اللہﷺ کو تو جھٹلاتے ہیں اور گزشتہ رسولوں کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ صرف حضرت ابراہیمu ہی نبی ہوتے جن کی نبوت کا تمام گروہ اقرار کرتے ہیں بلکہ مشرکین تو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کی ملت پر ہیں … ان کے شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے پہلے بھی تمام رسول بشر ہی تھے، جو کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے، ان پر موت وغیرہ اور تمام بشری عوارض طاری ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے قوموں اور امتوں میں مبعوث فرمایا ان قوموں میں سے کسی نے ان کی تصدیق کی اور کسی نے ان کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور ان کے متبعین سے نجات اور سعادت کا جو وعدہ کیا تھا اس نے پورا کر دیا اور اس نے حد سے بڑھنے والے اہل تکذیب کو ہلاک کر ڈالا تو محمد مصطفیﷺ کے ساتھ یہ کیا معاملہ ہے کہ آپﷺ کی رسالت کے انکار کے لیے باطل شبہات قائم كيے جاتے ہیں ، حالانکہ یہی شبہات دیگر انبیاء و مرسلین پر بھی وارد ہوتے ہیں جن کی رسالت کا یہ لوگ اقرار کرتے ہیں جو محمدﷺ کی تکذیب کرتے ہیں … پس ان پر یہ الزامی جواب بالکل واضح ہے۔ اگر انھوں نے کسی رسول بشر کا اقرار کیا ہے تو وہ کسی غیر بشر رسول کا اقرار ہرگز نہیں کریں گے تب ان کے شبہات باطل ہیں انھوں نے ان شبہات کے فساد اور اپنے تناقض کا اقرار کر کے خود ان شبہات کا ابطال کر لیا ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ لوگ سرے ہی سے کسی بشر کے نبی ہونے کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ صرف دائمی زندگی رکھنے والا فرشتہ ہی نبی ہو سکتا ہے جو کھانا نہیں کھاتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٌ١ؕ وَلَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنۡظَرُوۡنَ۰۰وَلَوۡ جَعَلۡنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلۡنٰهُ رَجُلًا وَّلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّا يَلۡبِسُوۡنَ﴾(الانعام:6؍8،9) ’’اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا، اگر ہم نے فرشتہ اتارا ہوا ہوتا تو تمام معاملے کا فیصلہ ہو گیا ہوتا، پھر ان کو ڈھیل نہ دی جاتی اور اگر ہم نے اس کو فرشتہ بنایا ہوتا تو تب بھی اس کو بشر ہی بنایا ہوتا اور (اس طرح) ہم معاملہ ان پر مشتبہ کر دیتے جیسے اب وہ اشتباہ پیش کر رہے ہیں۔‘‘ انسان فرشتوں سے وحی اخذ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا: ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍95) ’’کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے اور اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان کے پاس کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔ ‘‘ اگر گزشتہ رسولوں کے بارے میں تمھیں کوئی شک ہے یا ان کے احوال کا علم نہیں ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ ﴾ ’’تو تم اہل ذکر سے پوچھ لو۔‘‘ یعنی کتب سابقہ رکھنے والوں سے پوچھ لو، مثلاً:اہل تورات اور اہل انجیل وغیرہ، ان کے پاس جو علم ہے وہ اس کے مطابق تمھیں بتائیں گے کہ گزشتہ تمام رسول انسان تھے جیسے یہ انسان ہیں ۔ اس آیت کریمہ کا سبب نزول انبیائے متقدمین کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے مختص ہے کیونکہ وہ اس بارے میں علم رکھتے تھے… مگر یہ دین کے اصول و فروع کے تمام مسائل کے لیے عام ہے۔ جب انسان کے پاس ان مسائل کا علم نہ ہو تو وہ اس شخص سے پوچھ لے جو اس کا علم رکھتا ہے، نیز اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے اور اہل علم سے سوال کرنے کا حکم ہے اور اہل علم سے سوال کرنے کا اس لیے حکم دیا گیا کہ اہل علم پر تعلیم دینا اور اپنے علم کے مطابق جواب دینا فرض ہے۔ اہل علم اور اہل ذکر سے سوال کرنے کی تخصیص سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص جہالت اور عدم علم میں معروف ہو اس سے سوال کرنے کی ممانعت ہے اور اس شخص کے لیے بھی جواب دینے کے درپے ہونا ممنوع ہے۔ اس آیت میں اس امر پر دلیل ہے کہ عورتیں نبی نہیں ہوئیں ، حضرت مریم [ نبی تھیں نہ کوئی اور عورت۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِلَّا رِجَالًا﴾ یعنی ہم نے صرف مرد ہی نبی بنا کر بھیجے۔
الأنبياء 21:10
البتہ تحقیق نازل کی ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب، اس میں ذکر ہے تمھارا، کیا پس نہیں سمجھتے ؟ (10)
[10] اے وہ لوگو! جن کی طرف محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب (ﷺ) کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، ہم نے تمھاری طرف ایک جلیل القدر کتاب اور ایک واضح قرآن نازل کیا ﴿ فِيۡهِ ذِكۡرُؔكُمۡ ﴾ یعنی جو کچھ اس میں سچی باتیں بیان کی گئیں ہیں اگر تم اس سے نصیحت پکڑو، انھیں اپنا اعتقاد بناؤ اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو تو اس میں تمھارا شرف و فخر اور تمھاری سربلندی ہے، تمھاری قدر بڑھے گی اور تمھارا معاملہ عظیم ہو جائے گا۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ کیا تم ان معاملات کو نہیں سمجھ سکتے جن میں تمھارا نفع و نقصان ہے؟ تم اس چیز پر کیوں عمل پیرا نہیں ہوتے جس میں تمھارا ذکر اور جس میں تمھارے لیے دنیا و آخرت کا شرف ہے؟ اگر تم میں عقل ہوتی تو تم اسی راستے پر گامزن ہوتے۔ چونکہ تم اسے راستے پر نہیں چلے بلکہ تم نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کر لیا ہے جس میں تمھارے لیے دنیا و آخرت کی ذلت اور تحقیر ہے اور جس کی منزل تمھارے لیے دنیا و آخرت کی بدبختی ہے، اس لیے معلوم ہوا کہ تم صحیح معقولات اور راجح آراء سے تہی دامن ہو… جو کچھ واقع ہوا یہ آیت کریمہ اس کا مصداق ہے۔ کیونکہ رسول اللہﷺ پر ایمان لانے والے صحابہ کرام اور بعد میں آنے والے اہل ایمان نے اس قرآن سے نصیحت پکڑی تو انھیں غلبہ، سربلندی، عظیم شہرت اور بادشاہوں پر سرداری حاصل ہوئی اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہر شخص جانتا ہے جیسے اس شخص کے بارے میں معلوم ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے سربلندی حاصل نہیں کی، اس کی راہنمائی قبول نہیں کی اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو پاک نہ کیا، اس کے نصیب میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی، ذلت و رسوائی، گمنامی اور بدبختی ہے۔ پس دنیا و آخرت کی سعادت تک رسائی صرف اس کتاب عظیم کے ذریعے نصیحت پکڑنے ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔
الأنبياء 21:11
اور کتنی ہی تہس نہس کر دیں ہم نے بستیاں کہ تھیں وہ ظالم اور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد قومیں دوسری (11) پس جب محسوس کیا انھوں نے ہمارا عذاب تب وہ لوگ ان (بستیوں ) سے بھاگتے تھے (12)(انھیں کہا گیا) مت بھاگو تم! اور لوٹ آؤ طرف ان نعمتوں کی کہ آسودگی دیے گئے تھے تم ان میں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم پوچھے جاؤ (13) انھوں نے کہا، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (14) پس ہمیشہ رہی یہی پکار ان کی، یہاں تک کہ کر دیا ہم نے انھیں کٹی کھیتی (کی طرح) بجھے ہوئے (مردہ)(15)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمۡ قَصَمۡنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں ۔‘‘ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’بستیاں ‘‘ جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔‘‘
[13,12] جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لیے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنی کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر پاؤں پٹختے تھے تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا:﴿ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمھیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمھارا حال تھا… لیکن یہ بہت بعید ہے۔
[14] اب دنیا میں کیسے واپس جایا جا سکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہو گیا، ان کا عزوشرف ختم ہو گیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہو گئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اس لیے وہ پکار اٹھیں گے:﴿ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ہائے افسوس، ہم ہی ظالم تھے۔‘‘
[15]﴿ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ ﴾ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔‘‘ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾ ’’علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔‘‘ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں ، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول (ﷺ) کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
الأنبياء 21:12
اور کتنی ہی تہس نہس کر دیں ہم نے بستیاں کہ تھیں وہ ظالم اور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد قومیں دوسری (11) پس جب محسوس کیا انھوں نے ہمارا عذاب تب وہ لوگ ان (بستیوں ) سے بھاگتے تھے (12)(انھیں کہا گیا) مت بھاگو تم! اور لوٹ آؤ طرف ان نعمتوں کی کہ آسودگی دیے گئے تھے تم ان میں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم پوچھے جاؤ (13) انھوں نے کہا، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (14) پس ہمیشہ رہی یہی پکار ان کی، یہاں تک کہ کر دیا ہم نے انھیں کٹی کھیتی (کی طرح) بجھے ہوئے (مردہ)(15)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمۡ قَصَمۡنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں ۔‘‘ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’بستیاں ‘‘ جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔‘‘
[13,12] جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لیے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنی کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر پاؤں پٹختے تھے تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا:﴿ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمھیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمھارا حال تھا… لیکن یہ بہت بعید ہے۔
[14] اب دنیا میں کیسے واپس جایا جا سکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہو گیا، ان کا عزوشرف ختم ہو گیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہو گئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اس لیے وہ پکار اٹھیں گے:﴿ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ہائے افسوس، ہم ہی ظالم تھے۔‘‘
[15]﴿ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ ﴾ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔‘‘ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾ ’’علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔‘‘ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں ، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول (ﷺ) کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
الأنبياء 21:13
اور کتنی ہی تہس نہس کر دیں ہم نے بستیاں کہ تھیں وہ ظالم اور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد قومیں دوسری (11) پس جب محسوس کیا انھوں نے ہمارا عذاب تب وہ لوگ ان (بستیوں ) سے بھاگتے تھے (12)(انھیں کہا گیا) مت بھاگو تم! اور لوٹ آؤ طرف ان نعمتوں کی کہ آسودگی دیے گئے تھے تم ان میں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم پوچھے جاؤ (13) انھوں نے کہا، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (14) پس ہمیشہ رہی یہی پکار ان کی، یہاں تک کہ کر دیا ہم نے انھیں کٹی کھیتی (کی طرح) بجھے ہوئے (مردہ)(15)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمۡ قَصَمۡنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں ۔‘‘ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’بستیاں ‘‘ جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔‘‘
[13,12] جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لیے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنی کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر پاؤں پٹختے تھے تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا:﴿ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمھیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمھارا حال تھا… لیکن یہ بہت بعید ہے۔
[14] اب دنیا میں کیسے واپس جایا جا سکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہو گیا، ان کا عزوشرف ختم ہو گیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہو گئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اس لیے وہ پکار اٹھیں گے:﴿ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ہائے افسوس، ہم ہی ظالم تھے۔‘‘
[15]﴿ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ ﴾ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔‘‘ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾ ’’علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔‘‘ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں ، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول (ﷺ) کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
الأنبياء 21:14
اور کتنی ہی تہس نہس کر دیں ہم نے بستیاں کہ تھیں وہ ظالم اور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد قومیں دوسری (11) پس جب محسوس کیا انھوں نے ہمارا عذاب تب وہ لوگ ان (بستیوں ) سے بھاگتے تھے (12)(انھیں کہا گیا) مت بھاگو تم! اور لوٹ آؤ طرف ان نعمتوں کی کہ آسودگی دیے گئے تھے تم ان میں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم پوچھے جاؤ (13) انھوں نے کہا، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (14) پس ہمیشہ رہی یہی پکار ان کی، یہاں تک کہ کر دیا ہم نے انھیں کٹی کھیتی (کی طرح) بجھے ہوئے (مردہ)(15)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمۡ قَصَمۡنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں ۔‘‘ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’بستیاں ‘‘ جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔‘‘
[13,12] جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لیے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنی کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر پاؤں پٹختے تھے تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا:﴿ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمھیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمھارا حال تھا… لیکن یہ بہت بعید ہے۔
[14] اب دنیا میں کیسے واپس جایا جا سکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہو گیا، ان کا عزوشرف ختم ہو گیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہو گئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اس لیے وہ پکار اٹھیں گے:﴿ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ہائے افسوس، ہم ہی ظالم تھے۔‘‘
[15]﴿ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ ﴾ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔‘‘ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾ ’’علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔‘‘ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں ، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول (ﷺ) کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
الأنبياء 21:15
اور کتنی ہی تہس نہس کر دیں ہم نے بستیاں کہ تھیں وہ ظالم اور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد قومیں دوسری (11) پس جب محسوس کیا انھوں نے ہمارا عذاب تب وہ لوگ ان (بستیوں ) سے بھاگتے تھے (12)(انھیں کہا گیا) مت بھاگو تم! اور لوٹ آؤ طرف ان نعمتوں کی کہ آسودگی دیے گئے تھے تم ان میں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم پوچھے جاؤ (13) انھوں نے کہا، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (14) پس ہمیشہ رہی یہی پکار ان کی، یہاں تک کہ کر دیا ہم نے انھیں کٹی کھیتی (کی طرح) بجھے ہوئے (مردہ)(15)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمۡ قَصَمۡنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں ۔‘‘ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’بستیاں ‘‘ جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔‘‘
[13,12] جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لیے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنی کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر پاؤں پٹختے تھے تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا:﴿ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمھیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمھارا حال تھا… لیکن یہ بہت بعید ہے۔
[14] اب دنیا میں کیسے واپس جایا جا سکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہو گیا، ان کا عزوشرف ختم ہو گیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہو گئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اس لیے وہ پکار اٹھیں گے:﴿ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ہائے افسوس، ہم ہی ظالم تھے۔‘‘
[15]﴿ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ ﴾ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔‘‘ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾ ’’علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔‘‘ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں ، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول (ﷺ) کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
الأنبياء 21:16
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، کھیلتے ہوئے (بے فائدہ)(16) اگر ہم چاہتے یہ کہ بنائیں کوئی کھیل تماشہ تو ا لبتہ بنا لیتے ہم اس کو اپنے پاس سے اگر ہوتے ہم (یہ کام) کرنے والے (17)
[16] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے طور پر عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان کو حق کے ساتھ اور حق کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ بندے اس کائنات سے استدلال کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، عظمت والا، کائنات کی تدبیر کرنے والا، حکمت والا اور رحمان و رحیم ہے، جو کمال کلی، ہر قسم کی تعریف اور تمام تر عزت کا مالک ہے۔ وہ اپنے قول میں سچا ہے اس کے رسول بھی اس کی طرف سے خبردینے میں سچے ہیں ۔ وہ قادر ہستی جو زمین و آسمان کو ان کی وسعت اور عظمت کے ساتھ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ جسموں کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے تاکہ نیک کو اس کی نیکی کی جزا اور بدکو اس کی بدی کی سزا دے۔
[17]﴿ لَوۡ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ لَهۡوًا ﴾ ’’اگر ہم کھیل تماشے ہی کا ارادہ کرتے‘‘ یعنی بفرض محال اگر یہ تسلیم کر لیا جائے ﴿ لَّاتَّؔخَذۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّاۤ﴾ ’’تو ہم اسے بنا لیتے اپنی طرف ہی سے۔‘‘ ﴿ اِنۡ كُنَّا فٰعِلِيۡنَ﴾ ’’اگر ہوتے ہم کرنے والے۔‘‘ اور کھیل تماشے کی بابت تمھیں مطلع بھی نہ کرتے کیونکہ یہ نقص اور برا وصف ہے، جسے ہم تمھیں دکھانا پسند نہ کرتے۔ یہ زمین و آسمان جو ہمیشہ سے تمھارے سامنے ہیں ، ممکن نہیں کہ ان کو عبث اور کھیل تماشے کے مقصد سے پیدا کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ موٹی عقل کے لوگوں کی سطح پر اتر کر کہا گیا ہے تاکہ ان کو ہر لحاظ سے مطمئن کیا جائے۔ پس پاک ہے وہ ذات جو حلم والی، رحم کرنے والی اور حکمت والی ہے، وہ تمام اشیاء کو ان کے اپنے مقام پر رکھنے میں حکمت سے کام لیتی ہے۔
الأنبياء 21:17
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، کھیلتے ہوئے (بے فائدہ)(16) اگر ہم چاہتے یہ کہ بنائیں کوئی کھیل تماشہ تو ا لبتہ بنا لیتے ہم اس کو اپنے پاس سے اگر ہوتے ہم (یہ کام) کرنے والے (17)
[16] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے طور پر عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان کو حق کے ساتھ اور حق کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ بندے اس کائنات سے استدلال کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، عظمت والا، کائنات کی تدبیر کرنے والا، حکمت والا اور رحمان و رحیم ہے، جو کمال کلی، ہر قسم کی تعریف اور تمام تر عزت کا مالک ہے۔ وہ اپنے قول میں سچا ہے اس کے رسول بھی اس کی طرف سے خبردینے میں سچے ہیں ۔ وہ قادر ہستی جو زمین و آسمان کو ان کی وسعت اور عظمت کے ساتھ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ جسموں کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے تاکہ نیک کو اس کی نیکی کی جزا اور بدکو اس کی بدی کی سزا دے۔
[17]﴿ لَوۡ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ لَهۡوًا ﴾ ’’اگر ہم کھیل تماشے ہی کا ارادہ کرتے‘‘ یعنی بفرض محال اگر یہ تسلیم کر لیا جائے ﴿ لَّاتَّؔخَذۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّاۤ﴾ ’’تو ہم اسے بنا لیتے اپنی طرف ہی سے۔‘‘ ﴿ اِنۡ كُنَّا فٰعِلِيۡنَ﴾ ’’اگر ہوتے ہم کرنے والے۔‘‘ اور کھیل تماشے کی بابت تمھیں مطلع بھی نہ کرتے کیونکہ یہ نقص اور برا وصف ہے، جسے ہم تمھیں دکھانا پسند نہ کرتے۔ یہ زمین و آسمان جو ہمیشہ سے تمھارے سامنے ہیں ، ممکن نہیں کہ ان کو عبث اور کھیل تماشے کے مقصد سے پیدا کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ موٹی عقل کے لوگوں کی سطح پر اتر کر کہا گیا ہے تاکہ ان کو ہر لحاظ سے مطمئن کیا جائے۔ پس پاک ہے وہ ذات جو حلم والی، رحم کرنے والی اور حکمت والی ہے، وہ تمام اشیاء کو ان کے اپنے مقام پر رکھنے میں حکمت سے کام لیتی ہے۔
الأنبياء 21:18
بلکہ ہم پھینک مارتے ہیں حق کو اوپر باطل (کے سر) کے تو وہ اس کا سر پھوڑ دیتا ہے، پس یکا یک وہ مٹ جانے والا ہو جاتا ہے اور تمھارے لیے ہلاکت ہے بوجہ ان باتوں کے جو تم (اللہ کی بابت) بیان کرتے ہو (18) اور اسی کا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جو اس کے پاس ہیں نہیں تکبر کرتے وہ اس کی عبادت سے اور نہ وہ تھکتے ہیں (19) وہ تسبیح کرتے ہیں (اس کی) رات اوردن، نہیں سستی کرتے وہ (اس سے)(20)
[18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے احقاق حق اور ابطلال باطل کی ذمہ داری لی ہے۔ باطل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ حق، علم اور بیان نازل کرتا ہے، جس سے باطل پر ضرب لگتی ہے پس باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس کا بطلان ہر ایک پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ یعنی مضمحل ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے، جب بھی کوئی باطل پرست شخص باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لیے کوئی عقلی یا نقلی شبہ وارد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نقلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ اس قول باطل کو زائل کر کے اس کا قلع قمع کر دیتا ہے اور یوں اس کا بطلان ہر شخص پر واضح ہو جاتا ہے۔ اگر تمام مسائل میں ایک ایک مسئلہ کا استقراء کیا جائے تو آپ اس اصول کو اسی طرح پائیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا:﴿ وَلَكُمُ ﴾ ’’اور تمھارے لیے۔‘‘ اے لوگو! جو اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف کرتے ہو جو اس کے شایان شان نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بیوی، اس کے ہمسر اور شریک قراردینا۔ان باطل باتوں میں سے تمھارا حصہ اور تمھارا نصیب ہے کہ اس پاداش میں تمھارے لیے ہلاکت، ندامت اور خسارہ ہے تم نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھارے لیے کوئی فائدہ ہے نہ تمھارے لیے کوئی بھلائی، جس کی خاطر تم عمل کر رہے ہو اور جہاں پہنچنے کے لیے تم کوشاں ہو، البتہ تمھارے مقصود و مطلوب کے برعکس، تمھارے نصیب میں ناکامی اور محرومی ہے۔
[19] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ زمین، آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی غلام اور مملوک ہے۔ زمین و آسمان کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کی ملکیت ہے نہ اس میں کسی کا حصہ ہے، نہ اس اقتدار میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر سکے گا، پھر کیسے ان کو معبود بنایا جا سکتا ہے اور کیسے ان میں سے کسی کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جا سکتا ہے؟… بالا و بلند اور پاک ہے وہ ہستی جو مالک اور عظمت والی ہے جس کے سامنے گردنیں جھکی ہوئی، بڑے بڑے سرکش سرافگندہ اور جس کے حضور مقرب فرشتے عاجز اور فروتن ہیں اور سب اس کی دائمی عبادت میں مصروف ہیں ۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ ﴾ ’’اور جو اس کے پاس ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتے ﴿ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُوۡنَ۠﴾ ’’وہ اس کی عبادت سے انکار کرتے ہیں نہ وہ تھکتے ہیں ۔‘‘ یعنی شدت رغبت، کامل محبت اور اپنے بدن کی طاقت کی وجہ سے، اس کی عبادت سے تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں ۔
[20]﴿يُسَبِّحُوۡنَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفۡتُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تحمید میں مستغرق رہتے ہیں ۔ ان کے اوقات میں کوئی وقت فارغ ہے نہ عبادت سے خالی ہے۔ وہ اپنی کثرت کے باوصف اس صفت سے متصف ہیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال، اس کی قدرت، اس کے کامل علم و حکمت کا بیان ہے جو اس امر کا موجب ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت کی جائے نہ عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیرا جائے۔
الأنبياء 21:19
بلکہ ہم پھینک مارتے ہیں حق کو اوپر باطل (کے سر) کے تو وہ اس کا سر پھوڑ دیتا ہے، پس یکا یک وہ مٹ جانے والا ہو جاتا ہے اور تمھارے لیے ہلاکت ہے بوجہ ان باتوں کے جو تم (اللہ کی بابت) بیان کرتے ہو (18) اور اسی کا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جو اس کے پاس ہیں نہیں تکبر کرتے وہ اس کی عبادت سے اور نہ وہ تھکتے ہیں (19) وہ تسبیح کرتے ہیں (اس کی) رات اوردن، نہیں سستی کرتے وہ (اس سے)(20)
[18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے احقاق حق اور ابطلال باطل کی ذمہ داری لی ہے۔ باطل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ حق، علم اور بیان نازل کرتا ہے، جس سے باطل پر ضرب لگتی ہے پس باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس کا بطلان ہر ایک پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ یعنی مضمحل ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے، جب بھی کوئی باطل پرست شخص باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لیے کوئی عقلی یا نقلی شبہ وارد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نقلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ اس قول باطل کو زائل کر کے اس کا قلع قمع کر دیتا ہے اور یوں اس کا بطلان ہر شخص پر واضح ہو جاتا ہے۔ اگر تمام مسائل میں ایک ایک مسئلہ کا استقراء کیا جائے تو آپ اس اصول کو اسی طرح پائیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا:﴿ وَلَكُمُ ﴾ ’’اور تمھارے لیے۔‘‘ اے لوگو! جو اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف کرتے ہو جو اس کے شایان شان نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بیوی، اس کے ہمسر اور شریک قراردینا۔ان باطل باتوں میں سے تمھارا حصہ اور تمھارا نصیب ہے کہ اس پاداش میں تمھارے لیے ہلاکت، ندامت اور خسارہ ہے تم نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھارے لیے کوئی فائدہ ہے نہ تمھارے لیے کوئی بھلائی، جس کی خاطر تم عمل کر رہے ہو اور جہاں پہنچنے کے لیے تم کوشاں ہو، البتہ تمھارے مقصود و مطلوب کے برعکس، تمھارے نصیب میں ناکامی اور محرومی ہے۔
[19] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ زمین، آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی غلام اور مملوک ہے۔ زمین و آسمان کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کی ملکیت ہے نہ اس میں کسی کا حصہ ہے، نہ اس اقتدار میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر سکے گا، پھر کیسے ان کو معبود بنایا جا سکتا ہے اور کیسے ان میں سے کسی کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جا سکتا ہے؟… بالا و بلند اور پاک ہے وہ ہستی جو مالک اور عظمت والی ہے جس کے سامنے گردنیں جھکی ہوئی، بڑے بڑے سرکش سرافگندہ اور جس کے حضور مقرب فرشتے عاجز اور فروتن ہیں اور سب اس کی دائمی عبادت میں مصروف ہیں ۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ ﴾ ’’اور جو اس کے پاس ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتے ﴿ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُوۡنَ۠﴾ ’’وہ اس کی عبادت سے انکار کرتے ہیں نہ وہ تھکتے ہیں ۔‘‘ یعنی شدت رغبت، کامل محبت اور اپنے بدن کی طاقت کی وجہ سے، اس کی عبادت سے تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں ۔
[20]﴿يُسَبِّحُوۡنَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفۡتُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تحمید میں مستغرق رہتے ہیں ۔ ان کے اوقات میں کوئی وقت فارغ ہے نہ عبادت سے خالی ہے۔ وہ اپنی کثرت کے باوصف اس صفت سے متصف ہیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال، اس کی قدرت، اس کے کامل علم و حکمت کا بیان ہے جو اس امر کا موجب ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت کی جائے نہ عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیرا جائے۔
الأنبياء 21:20
بلکہ ہم پھینک مارتے ہیں حق کو اوپر باطل (کے سر) کے تو وہ اس کا سر پھوڑ دیتا ہے، پس یکا یک وہ مٹ جانے والا ہو جاتا ہے اور تمھارے لیے ہلاکت ہے بوجہ ان باتوں کے جو تم (اللہ کی بابت) بیان کرتے ہو (18) اور اسی کا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جو اس کے پاس ہیں نہیں تکبر کرتے وہ اس کی عبادت سے اور نہ وہ تھکتے ہیں (19) وہ تسبیح کرتے ہیں (اس کی) رات اوردن، نہیں سستی کرتے وہ (اس سے)(20)
[18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے احقاق حق اور ابطلال باطل کی ذمہ داری لی ہے۔ باطل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ حق، علم اور بیان نازل کرتا ہے، جس سے باطل پر ضرب لگتی ہے پس باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس کا بطلان ہر ایک پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ یعنی مضمحل ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے، جب بھی کوئی باطل پرست شخص باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لیے کوئی عقلی یا نقلی شبہ وارد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نقلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ اس قول باطل کو زائل کر کے اس کا قلع قمع کر دیتا ہے اور یوں اس کا بطلان ہر شخص پر واضح ہو جاتا ہے۔ اگر تمام مسائل میں ایک ایک مسئلہ کا استقراء کیا جائے تو آپ اس اصول کو اسی طرح پائیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا:﴿ وَلَكُمُ ﴾ ’’اور تمھارے لیے۔‘‘ اے لوگو! جو اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف کرتے ہو جو اس کے شایان شان نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بیوی، اس کے ہمسر اور شریک قراردینا۔ان باطل باتوں میں سے تمھارا حصہ اور تمھارا نصیب ہے کہ اس پاداش میں تمھارے لیے ہلاکت، ندامت اور خسارہ ہے تم نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھارے لیے کوئی فائدہ ہے نہ تمھارے لیے کوئی بھلائی، جس کی خاطر تم عمل کر رہے ہو اور جہاں پہنچنے کے لیے تم کوشاں ہو، البتہ تمھارے مقصود و مطلوب کے برعکس، تمھارے نصیب میں ناکامی اور محرومی ہے۔
[19] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ زمین، آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی غلام اور مملوک ہے۔ زمین و آسمان کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کی ملکیت ہے نہ اس میں کسی کا حصہ ہے، نہ اس اقتدار میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر سکے گا، پھر کیسے ان کو معبود بنایا جا سکتا ہے اور کیسے ان میں سے کسی کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جا سکتا ہے؟… بالا و بلند اور پاک ہے وہ ہستی جو مالک اور عظمت والی ہے جس کے سامنے گردنیں جھکی ہوئی، بڑے بڑے سرکش سرافگندہ اور جس کے حضور مقرب فرشتے عاجز اور فروتن ہیں اور سب اس کی دائمی عبادت میں مصروف ہیں ۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ ﴾ ’’اور جو اس کے پاس ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتے ﴿ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُوۡنَ۠﴾ ’’وہ اس کی عبادت سے انکار کرتے ہیں نہ وہ تھکتے ہیں ۔‘‘ یعنی شدت رغبت، کامل محبت اور اپنے بدن کی طاقت کی وجہ سے، اس کی عبادت سے تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں ۔
[20]﴿يُسَبِّحُوۡنَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفۡتُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تحمید میں مستغرق رہتے ہیں ۔ ان کے اوقات میں کوئی وقت فارغ ہے نہ عبادت سے خالی ہے۔ وہ اپنی کثرت کے باوصف اس صفت سے متصف ہیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال، اس کی قدرت، اس کے کامل علم و حکمت کا بیان ہے جو اس امر کا موجب ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت کی جائے نہ عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیرا جائے۔
الأنبياء 21:21
کیا بنا لیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ زندہ کر دیں گے (مردوں کو)؟ (21) اگر ہوتے ان (آسمانوں و زمین) میں کئی معبود سوائے اللہ کے تو البتہ بگڑ جاتے وہ دونوں پس پاک ہے اللہ، جو رب ہے عرش کا، ان سے جو وہ بیان کرتے ہیں (22) نہیں پوچھا جاسکتا اس سے اس چیز کی بات جو وہ کرتا ہے، جبکہ وہ (لوگ) پوچھے جائیں گے(23) کیا بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اس کے اور معبود؟ کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، یہ (توحید ہی) ذکر ہے ان لوگوں کا جو میرے ساتھ ہیں اور ذکر ہے ان لوگوں کا جو مجھ سے پہلے تھےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے حق کو، پس وہ اعراض کرنے والے ہیں (24)اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر وحی کرتے تھے ہم اس کی طرف (یہ بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم عبادت کرو میری ہی (25)
[21] اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنھوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لیے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ۔ ﴿ هُمۡ يُنۡشِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکیں گے؟‘‘ یہ استفہام نفی کے معنٰی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشرونشر پر قادر نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ ﴿وَاتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰؔوةً وَّلَا نُشُوۡرًؔا﴾(الفرقان:25؍3) ’’انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے خدا بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا كيے جاتے ہیں وہ خود اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں نہ نفع کا اور نہ وہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمۡ يُنۡصَرُوۡنَؕ۰۰لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ١ۙ وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾(یٰسین:36؍74،75) ’’انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنائے ہیں شائد کہ ان کی طرف سے ان کی مدد کی جائے (حالانکہ) وہ ان کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ تو خود ان کے لشکری ہیں حاضر کیے ہوئے۔‘‘
[22] پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ترک کر دیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ یہ توفیق سے محرومی، اس کی بدقسمتی، اس کی جہالت کی فراوانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجود کائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لیے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لیے فرمایا ﴿ لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ ﴾ اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ﴿ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ﴾ ’’کئی معبود اللہ کے سوا تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے۔‘‘خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہو جاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہو جاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی… جیسا کہ نظر آ رہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ… پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہو جاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو خداؤں میں سے ایک خدا کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد و قہار ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمانع کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ ﴿مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ﴾(المومنون:23؍91) ’’ا للہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی خدائی میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہو جاتا اور غالب آنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے۔ جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔‘‘ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا۰۰سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا ﴾(بنی اسرائیل:17؍42، 43) ’’کہہ دیجیے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند و بالاہے ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں ۔‘‘ اسی لیے فرمایا:﴿فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ﴿ رَبِّ الۡعَرۡشِ ﴾ ’’رب ہے عرش کا۔‘‘ وہ عرش جو مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لیے اس کا رب ہونا تو طریق اولیٰ کے باب سے ہے۔ ﴿ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے۔ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔
[23]﴿ لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ ﴾ ’’نہیں پوچھا جائے گا اس سے (اس کی بابت) جو وہ کرتا ہے۔‘‘ اس کی طاقت، اس کے غلبہ اور اس کی کامل قدرت کی بنا پر کوئی اس کے افعال میں ، قول یا فعل کے ذریعے، مزاحم نہیں ہو سکتا اس نے اپنی حکمت کاملہ کی بنا پر تمام اشیاء کو ان کے لائق مقامات پر رکھا ہے، ان کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا اور ہر چیز کو احسن طریقے سے بنایا، عقل جس کا اندازہ کر سکتی ہے۔ اس پر سوال وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تخلیق میں کوئی خلل اور نقص نہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ ﴾ یعنی تمام مخلوقات ﴿ يُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے افعال و اقوال کے بارے میں جواب دہ ہیں کیونکہ وہ عاجز، محتاج اور غلام ہیں ۔ وہ خود اپنی ذات پر یا کسی دوسرے پر ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔
[24] پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لیے ہیں ، لہٰذا ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہو! ﴿ اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ﴾ یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لا سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ هٰؔذَا ذِكۡرُ مَنۡ مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَنۡ قَبۡلِيۡ ﴾یعنی تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں ، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت و برہان قائم ہو گئی اس لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ دلیل و برہان قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں ۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آ سکتے۔﴿بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡحَقَّ ﴾ یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ ورنہ اگر انھوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے متقدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلے کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ پس آپﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد ِ وحید، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
الأنبياء 21:22
کیا بنا لیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ زندہ کر دیں گے (مردوں کو)؟ (21) اگر ہوتے ان (آسمانوں و زمین) میں کئی معبود سوائے اللہ کے تو البتہ بگڑ جاتے وہ دونوں پس پاک ہے اللہ، جو رب ہے عرش کا، ان سے جو وہ بیان کرتے ہیں (22) نہیں پوچھا جاسکتا اس سے اس چیز کی بات جو وہ کرتا ہے، جبکہ وہ (لوگ) پوچھے جائیں گے(23) کیا بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اس کے اور معبود؟ کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، یہ (توحید ہی) ذکر ہے ان لوگوں کا جو میرے ساتھ ہیں اور ذکر ہے ان لوگوں کا جو مجھ سے پہلے تھےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے حق کو، پس وہ اعراض کرنے والے ہیں (24)اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر وحی کرتے تھے ہم اس کی طرف (یہ بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم عبادت کرو میری ہی (25)
[21] اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنھوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لیے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ۔ ﴿ هُمۡ يُنۡشِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکیں گے؟‘‘ یہ استفہام نفی کے معنٰی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشرونشر پر قادر نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ ﴿وَاتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰؔوةً وَّلَا نُشُوۡرًؔا﴾(الفرقان:25؍3) ’’انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے خدا بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا كيے جاتے ہیں وہ خود اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں نہ نفع کا اور نہ وہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمۡ يُنۡصَرُوۡنَؕ۰۰لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ١ۙ وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾(یٰسین:36؍74،75) ’’انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنائے ہیں شائد کہ ان کی طرف سے ان کی مدد کی جائے (حالانکہ) وہ ان کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ تو خود ان کے لشکری ہیں حاضر کیے ہوئے۔‘‘
[22] پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ترک کر دیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ یہ توفیق سے محرومی، اس کی بدقسمتی، اس کی جہالت کی فراوانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجود کائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لیے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لیے فرمایا ﴿ لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ ﴾ اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ﴿ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ﴾ ’’کئی معبود اللہ کے سوا تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے۔‘‘خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہو جاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہو جاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی… جیسا کہ نظر آ رہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ… پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہو جاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو خداؤں میں سے ایک خدا کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد و قہار ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمانع کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ ﴿مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ﴾(المومنون:23؍91) ’’ا للہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی خدائی میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہو جاتا اور غالب آنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے۔ جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔‘‘ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا۰۰سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا ﴾(بنی اسرائیل:17؍42، 43) ’’کہہ دیجیے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند و بالاہے ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں ۔‘‘ اسی لیے فرمایا:﴿فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ﴿ رَبِّ الۡعَرۡشِ ﴾ ’’رب ہے عرش کا۔‘‘ وہ عرش جو مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لیے اس کا رب ہونا تو طریق اولیٰ کے باب سے ہے۔ ﴿ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے۔ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔
[23]﴿ لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ ﴾ ’’نہیں پوچھا جائے گا اس سے (اس کی بابت) جو وہ کرتا ہے۔‘‘ اس کی طاقت، اس کے غلبہ اور اس کی کامل قدرت کی بنا پر کوئی اس کے افعال میں ، قول یا فعل کے ذریعے، مزاحم نہیں ہو سکتا اس نے اپنی حکمت کاملہ کی بنا پر تمام اشیاء کو ان کے لائق مقامات پر رکھا ہے، ان کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا اور ہر چیز کو احسن طریقے سے بنایا، عقل جس کا اندازہ کر سکتی ہے۔ اس پر سوال وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تخلیق میں کوئی خلل اور نقص نہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ ﴾ یعنی تمام مخلوقات ﴿ يُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے افعال و اقوال کے بارے میں جواب دہ ہیں کیونکہ وہ عاجز، محتاج اور غلام ہیں ۔ وہ خود اپنی ذات پر یا کسی دوسرے پر ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔
[24] پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لیے ہیں ، لہٰذا ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہو! ﴿ اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ﴾ یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لا سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ هٰؔذَا ذِكۡرُ مَنۡ مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَنۡ قَبۡلِيۡ ﴾یعنی تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں ، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت و برہان قائم ہو گئی اس لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ دلیل و برہان قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں ۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آ سکتے۔﴿بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡحَقَّ ﴾ یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ ورنہ اگر انھوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے متقدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلے کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ پس آپﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد ِ وحید، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
الأنبياء 21:23
کیا بنا لیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ زندہ کر دیں گے (مردوں کو)؟ (21) اگر ہوتے ان (آسمانوں و زمین) میں کئی معبود سوائے اللہ کے تو البتہ بگڑ جاتے وہ دونوں پس پاک ہے اللہ، جو رب ہے عرش کا، ان سے جو وہ بیان کرتے ہیں (22) نہیں پوچھا جاسکتا اس سے اس چیز کی بات جو وہ کرتا ہے، جبکہ وہ (لوگ) پوچھے جائیں گے(23) کیا بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اس کے اور معبود؟ کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، یہ (توحید ہی) ذکر ہے ان لوگوں کا جو میرے ساتھ ہیں اور ذکر ہے ان لوگوں کا جو مجھ سے پہلے تھےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے حق کو، پس وہ اعراض کرنے والے ہیں (24)اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر وحی کرتے تھے ہم اس کی طرف (یہ بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم عبادت کرو میری ہی (25)
[21] اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنھوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لیے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ۔ ﴿ هُمۡ يُنۡشِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکیں گے؟‘‘ یہ استفہام نفی کے معنٰی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشرونشر پر قادر نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ ﴿وَاتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰؔوةً وَّلَا نُشُوۡرًؔا﴾(الفرقان:25؍3) ’’انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے خدا بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا كيے جاتے ہیں وہ خود اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں نہ نفع کا اور نہ وہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمۡ يُنۡصَرُوۡنَؕ۰۰لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ١ۙ وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾(یٰسین:36؍74،75) ’’انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنائے ہیں شائد کہ ان کی طرف سے ان کی مدد کی جائے (حالانکہ) وہ ان کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ تو خود ان کے لشکری ہیں حاضر کیے ہوئے۔‘‘
[22] پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ترک کر دیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ یہ توفیق سے محرومی، اس کی بدقسمتی، اس کی جہالت کی فراوانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجود کائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لیے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لیے فرمایا ﴿ لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ ﴾ اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ﴿ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ﴾ ’’کئی معبود اللہ کے سوا تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے۔‘‘خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہو جاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہو جاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی… جیسا کہ نظر آ رہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ… پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہو جاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو خداؤں میں سے ایک خدا کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد و قہار ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمانع کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ ﴿مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ﴾(المومنون:23؍91) ’’ا للہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی خدائی میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہو جاتا اور غالب آنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے۔ جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔‘‘ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا۰۰سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا ﴾(بنی اسرائیل:17؍42، 43) ’’کہہ دیجیے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند و بالاہے ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں ۔‘‘ اسی لیے فرمایا:﴿فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ﴿ رَبِّ الۡعَرۡشِ ﴾ ’’رب ہے عرش کا۔‘‘ وہ عرش جو مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لیے اس کا رب ہونا تو طریق اولیٰ کے باب سے ہے۔ ﴿ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے۔ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔
[23]﴿ لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ ﴾ ’’نہیں پوچھا جائے گا اس سے (اس کی بابت) جو وہ کرتا ہے۔‘‘ اس کی طاقت، اس کے غلبہ اور اس کی کامل قدرت کی بنا پر کوئی اس کے افعال میں ، قول یا فعل کے ذریعے، مزاحم نہیں ہو سکتا اس نے اپنی حکمت کاملہ کی بنا پر تمام اشیاء کو ان کے لائق مقامات پر رکھا ہے، ان کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا اور ہر چیز کو احسن طریقے سے بنایا، عقل جس کا اندازہ کر سکتی ہے۔ اس پر سوال وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تخلیق میں کوئی خلل اور نقص نہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ ﴾ یعنی تمام مخلوقات ﴿ يُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے افعال و اقوال کے بارے میں جواب دہ ہیں کیونکہ وہ عاجز، محتاج اور غلام ہیں ۔ وہ خود اپنی ذات پر یا کسی دوسرے پر ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔
[24] پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لیے ہیں ، لہٰذا ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہو! ﴿ اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ﴾ یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لا سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ هٰؔذَا ذِكۡرُ مَنۡ مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَنۡ قَبۡلِيۡ ﴾یعنی تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں ، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت و برہان قائم ہو گئی اس لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ دلیل و برہان قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں ۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آ سکتے۔﴿بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡحَقَّ ﴾ یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ ورنہ اگر انھوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے متقدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلے کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ پس آپﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد ِ وحید، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
الأنبياء 21:24
کیا بنا لیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ زندہ کر دیں گے (مردوں کو)؟ (21) اگر ہوتے ان (آسمانوں و زمین) میں کئی معبود سوائے اللہ کے تو البتہ بگڑ جاتے وہ دونوں پس پاک ہے اللہ، جو رب ہے عرش کا، ان سے جو وہ بیان کرتے ہیں (22) نہیں پوچھا جاسکتا اس سے اس چیز کی بات جو وہ کرتا ہے، جبکہ وہ (لوگ) پوچھے جائیں گے(23) کیا بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اس کے اور معبود؟ کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، یہ (توحید ہی) ذکر ہے ان لوگوں کا جو میرے ساتھ ہیں اور ذکر ہے ان لوگوں کا جو مجھ سے پہلے تھےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے حق کو، پس وہ اعراض کرنے والے ہیں (24)اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر وحی کرتے تھے ہم اس کی طرف (یہ بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم عبادت کرو میری ہی (25)
[21] اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنھوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لیے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ۔ ﴿ هُمۡ يُنۡشِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکیں گے؟‘‘ یہ استفہام نفی کے معنٰی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشرونشر پر قادر نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ ﴿وَاتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰؔوةً وَّلَا نُشُوۡرًؔا﴾(الفرقان:25؍3) ’’انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے خدا بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا كيے جاتے ہیں وہ خود اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں نہ نفع کا اور نہ وہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمۡ يُنۡصَرُوۡنَؕ۰۰لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ١ۙ وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾(یٰسین:36؍74،75) ’’انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنائے ہیں شائد کہ ان کی طرف سے ان کی مدد کی جائے (حالانکہ) وہ ان کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ تو خود ان کے لشکری ہیں حاضر کیے ہوئے۔‘‘
[22] پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ترک کر دیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ یہ توفیق سے محرومی، اس کی بدقسمتی، اس کی جہالت کی فراوانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجود کائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لیے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لیے فرمایا ﴿ لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ ﴾ اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ﴿ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ﴾ ’’کئی معبود اللہ کے سوا تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے۔‘‘خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہو جاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہو جاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی… جیسا کہ نظر آ رہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ… پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہو جاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو خداؤں میں سے ایک خدا کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد و قہار ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمانع کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ ﴿مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ﴾(المومنون:23؍91) ’’ا للہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی خدائی میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہو جاتا اور غالب آنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے۔ جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔‘‘ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا۰۰سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا ﴾(بنی اسرائیل:17؍42، 43) ’’کہہ دیجیے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند و بالاہے ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں ۔‘‘ اسی لیے فرمایا:﴿فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ﴿ رَبِّ الۡعَرۡشِ ﴾ ’’رب ہے عرش کا۔‘‘ وہ عرش جو مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لیے اس کا رب ہونا تو طریق اولیٰ کے باب سے ہے۔ ﴿ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے۔ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔
[23]﴿ لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ ﴾ ’’نہیں پوچھا جائے گا اس سے (اس کی بابت) جو وہ کرتا ہے۔‘‘ اس کی طاقت، اس کے غلبہ اور اس کی کامل قدرت کی بنا پر کوئی اس کے افعال میں ، قول یا فعل کے ذریعے، مزاحم نہیں ہو سکتا اس نے اپنی حکمت کاملہ کی بنا پر تمام اشیاء کو ان کے لائق مقامات پر رکھا ہے، ان کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا اور ہر چیز کو احسن طریقے سے بنایا، عقل جس کا اندازہ کر سکتی ہے۔ اس پر سوال وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تخلیق میں کوئی خلل اور نقص نہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ ﴾ یعنی تمام مخلوقات ﴿ يُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے افعال و اقوال کے بارے میں جواب دہ ہیں کیونکہ وہ عاجز، محتاج اور غلام ہیں ۔ وہ خود اپنی ذات پر یا کسی دوسرے پر ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔
[24] پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لیے ہیں ، لہٰذا ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہو! ﴿ اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ﴾ یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لا سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ هٰؔذَا ذِكۡرُ مَنۡ مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَنۡ قَبۡلِيۡ ﴾یعنی تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں ، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت و برہان قائم ہو گئی اس لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ دلیل و برہان قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں ۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آ سکتے۔﴿بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡحَقَّ ﴾ یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ ورنہ اگر انھوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے متقدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلے کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ پس آپﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد ِ وحید، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
الأنبياء 21:25
کیا بنا لیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ زندہ کر دیں گے (مردوں کو)؟ (21) اگر ہوتے ان (آسمانوں و زمین) میں کئی معبود سوائے اللہ کے تو البتہ بگڑ جاتے وہ دونوں پس پاک ہے اللہ، جو رب ہے عرش کا، ان سے جو وہ بیان کرتے ہیں (22) نہیں پوچھا جاسکتا اس سے اس چیز کی بات جو وہ کرتا ہے، جبکہ وہ (لوگ) پوچھے جائیں گے(23) کیا بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اس کے اور معبود؟ کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، یہ (توحید ہی) ذکر ہے ان لوگوں کا جو میرے ساتھ ہیں اور ذکر ہے ان لوگوں کا جو مجھ سے پہلے تھےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے حق کو، پس وہ اعراض کرنے والے ہیں (24)اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر وحی کرتے تھے ہم اس کی طرف (یہ بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم عبادت کرو میری ہی (25)
[21] اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنھوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لیے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ۔ ﴿ هُمۡ يُنۡشِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکیں گے؟‘‘ یہ استفہام نفی کے معنٰی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشرونشر پر قادر نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ ﴿وَاتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰؔوةً وَّلَا نُشُوۡرًؔا﴾(الفرقان:25؍3) ’’انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے خدا بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا كيے جاتے ہیں وہ خود اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں نہ نفع کا اور نہ وہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمۡ يُنۡصَرُوۡنَؕ۰۰لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ١ۙ وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾(یٰسین:36؍74،75) ’’انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنائے ہیں شائد کہ ان کی طرف سے ان کی مدد کی جائے (حالانکہ) وہ ان کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ تو خود ان کے لشکری ہیں حاضر کیے ہوئے۔‘‘
[22] پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ترک کر دیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ یہ توفیق سے محرومی، اس کی بدقسمتی، اس کی جہالت کی فراوانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجود کائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لیے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لیے فرمایا ﴿ لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ ﴾ اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ﴿ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ﴾ ’’کئی معبود اللہ کے سوا تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے۔‘‘خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہو جاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہو جاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی… جیسا کہ نظر آ رہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ… پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہو جاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو خداؤں میں سے ایک خدا کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد و قہار ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمانع کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ ﴿مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ﴾(المومنون:23؍91) ’’ا للہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی خدائی میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہو جاتا اور غالب آنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے۔ جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔‘‘ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا۰۰سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا ﴾(بنی اسرائیل:17؍42، 43) ’’کہہ دیجیے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند و بالاہے ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں ۔‘‘ اسی لیے فرمایا:﴿فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ﴿ رَبِّ الۡعَرۡشِ ﴾ ’’رب ہے عرش کا۔‘‘ وہ عرش جو مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لیے اس کا رب ہونا تو طریق اولیٰ کے باب سے ہے۔ ﴿ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے۔ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔
[23]﴿ لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ ﴾ ’’نہیں پوچھا جائے گا اس سے (اس کی بابت) جو وہ کرتا ہے۔‘‘ اس کی طاقت، اس کے غلبہ اور اس کی کامل قدرت کی بنا پر کوئی اس کے افعال میں ، قول یا فعل کے ذریعے، مزاحم نہیں ہو سکتا اس نے اپنی حکمت کاملہ کی بنا پر تمام اشیاء کو ان کے لائق مقامات پر رکھا ہے، ان کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا اور ہر چیز کو احسن طریقے سے بنایا، عقل جس کا اندازہ کر سکتی ہے۔ اس پر سوال وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تخلیق میں کوئی خلل اور نقص نہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ ﴾ یعنی تمام مخلوقات ﴿ يُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے افعال و اقوال کے بارے میں جواب دہ ہیں کیونکہ وہ عاجز، محتاج اور غلام ہیں ۔ وہ خود اپنی ذات پر یا کسی دوسرے پر ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔
[24] پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لیے ہیں ، لہٰذا ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہو! ﴿ اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ﴾ یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لا سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ هٰؔذَا ذِكۡرُ مَنۡ مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَنۡ قَبۡلِيۡ ﴾یعنی تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں ، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت و برہان قائم ہو گئی اس لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ دلیل و برہان قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں ۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آ سکتے۔﴿بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡحَقَّ ﴾ یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ ورنہ اگر انھوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے متقدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلے کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ پس آپﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد ِ وحید، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
الأنبياء 21:26
اور انھوں نے کہا، بنائی ہے رحمن نے اولاد، پاک ہے وہ بلکہ وہ (فرشتے) تو (اس کے) بندے ہیں معزز (26) نہیں سبقت کرتے وہ اس (اللہ) سے بات (کرنے) میں اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں (27) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور وہ (فرشتے) نہیں سفارش کریں گے مگر واسطے اسی شخص کے (جس کے لیے) اللہ پسند کرے گااور وہ اس کے خوف سے ڈرنے والے ہیں (28) اور جو کوئی بھی کہے ان میں سے کہ بے شک میں معبود ہوں سوائے اس (اللہ) کے تو وہ شخص، سزا دیں گے ہم اسے جہنم کی، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (29)
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول (ﷺ) کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے… ان کا برا ہو… کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہرزہ سرائی سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انھیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انھیں رذائل سے پاک اور بے شمار فضائل سے مختص فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی باادب اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والے ہیں ۔
[27]﴿لَا يَسۡبِقُوۡنَهٗ بِالۡقَوۡلِ ﴾ تدبیر مملکت کے متعلق اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ارشاد نہ فرمائے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پرمؤدب اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ بِاَمۡرِهٖ يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ وہ انھیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جس کام پر انھیں لگاتا ہے وہ اسے سرانجام دیتے ہیں ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگتے ہیں۔
[28] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ماضی اور مستقبل کے تمام معاملات کا علم رکھتا ہے، وہ اس کے احاطۂ علم سے اسی طرح باہر نہیں نکل سکتے جیسے وہ اس کے دائرۂ امروتدبیر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کر سکتے اور نہ اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتے ہیں ، اس لیے جب االلہ تعالیٰ ان کو اجازت دیتا ہے اور جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، تب وہ سفارش کرتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ صرف اسی قول و عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے اور رسول (ﷺ) کی اتباع میں کیا گیا ہو… یہ آیت کریمہ شفاعت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ خَشۡيَتِهٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے غلبہ و جمال کے سامنے سرافگندہ ہیں ۔
[29] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ الوہیت میں ان (فرشتوں ) کا کوئی حق نہیں اور نہ وہ عبودیت ہی کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہیں جو عدم استحقاق کا تقاضا کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ذکر فرمایا دیا کہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ بھی نہیں اور نہ مجرد دعویٰ سے الوہیت کا استحقاق ہی ثابت ہوتا ہے اور ان میں سے جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ﴿ اِنِّيۡۤ اِلٰهٌ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں ‘‘ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے ﴿ فَذٰلِكَ نَجۡزِيۡهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو جزاء دیتے ہیں۔‘‘ اور اس سے بڑا اور کونسا ظلم ہو سکتا ہے کہ ایک ناقص مخلوق جو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، خصائص الوہیت و ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہونے کا دعویٰ کرے؟
الأنبياء 21:27
اور انھوں نے کہا، بنائی ہے رحمن نے اولاد، پاک ہے وہ بلکہ وہ (فرشتے) تو (اس کے) بندے ہیں معزز (26) نہیں سبقت کرتے وہ اس (اللہ) سے بات (کرنے) میں اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں (27) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور وہ (فرشتے) نہیں سفارش کریں گے مگر واسطے اسی شخص کے (جس کے لیے) اللہ پسند کرے گااور وہ اس کے خوف سے ڈرنے والے ہیں (28) اور جو کوئی بھی کہے ان میں سے کہ بے شک میں معبود ہوں سوائے اس (اللہ) کے تو وہ شخص، سزا دیں گے ہم اسے جہنم کی، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (29)
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول (ﷺ) کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے… ان کا برا ہو… کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہرزہ سرائی سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انھیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انھیں رذائل سے پاک اور بے شمار فضائل سے مختص فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی باادب اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والے ہیں ۔
[27]﴿لَا يَسۡبِقُوۡنَهٗ بِالۡقَوۡلِ ﴾ تدبیر مملکت کے متعلق اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ارشاد نہ فرمائے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پرمؤدب اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ بِاَمۡرِهٖ يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ وہ انھیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جس کام پر انھیں لگاتا ہے وہ اسے سرانجام دیتے ہیں ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگتے ہیں۔
[28] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ماضی اور مستقبل کے تمام معاملات کا علم رکھتا ہے، وہ اس کے احاطۂ علم سے اسی طرح باہر نہیں نکل سکتے جیسے وہ اس کے دائرۂ امروتدبیر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کر سکتے اور نہ اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتے ہیں ، اس لیے جب االلہ تعالیٰ ان کو اجازت دیتا ہے اور جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، تب وہ سفارش کرتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ صرف اسی قول و عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے اور رسول (ﷺ) کی اتباع میں کیا گیا ہو… یہ آیت کریمہ شفاعت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ خَشۡيَتِهٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے غلبہ و جمال کے سامنے سرافگندہ ہیں ۔
[29] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ الوہیت میں ان (فرشتوں ) کا کوئی حق نہیں اور نہ وہ عبودیت ہی کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہیں جو عدم استحقاق کا تقاضا کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ذکر فرمایا دیا کہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ بھی نہیں اور نہ مجرد دعویٰ سے الوہیت کا استحقاق ہی ثابت ہوتا ہے اور ان میں سے جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ﴿ اِنِّيۡۤ اِلٰهٌ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں ‘‘ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے ﴿ فَذٰلِكَ نَجۡزِيۡهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو جزاء دیتے ہیں۔‘‘ اور اس سے بڑا اور کونسا ظلم ہو سکتا ہے کہ ایک ناقص مخلوق جو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، خصائص الوہیت و ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہونے کا دعویٰ کرے؟
الأنبياء 21:28
اور انھوں نے کہا، بنائی ہے رحمن نے اولاد، پاک ہے وہ بلکہ وہ (فرشتے) تو (اس کے) بندے ہیں معزز (26) نہیں سبقت کرتے وہ اس (اللہ) سے بات (کرنے) میں اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں (27) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور وہ (فرشتے) نہیں سفارش کریں گے مگر واسطے اسی شخص کے (جس کے لیے) اللہ پسند کرے گااور وہ اس کے خوف سے ڈرنے والے ہیں (28) اور جو کوئی بھی کہے ان میں سے کہ بے شک میں معبود ہوں سوائے اس (اللہ) کے تو وہ شخص، سزا دیں گے ہم اسے جہنم کی، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (29)
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول (ﷺ) کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے… ان کا برا ہو… کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہرزہ سرائی سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انھیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انھیں رذائل سے پاک اور بے شمار فضائل سے مختص فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی باادب اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والے ہیں ۔
[27]﴿لَا يَسۡبِقُوۡنَهٗ بِالۡقَوۡلِ ﴾ تدبیر مملکت کے متعلق اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ارشاد نہ فرمائے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پرمؤدب اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ بِاَمۡرِهٖ يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ وہ انھیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جس کام پر انھیں لگاتا ہے وہ اسے سرانجام دیتے ہیں ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگتے ہیں۔
[28] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ماضی اور مستقبل کے تمام معاملات کا علم رکھتا ہے، وہ اس کے احاطۂ علم سے اسی طرح باہر نہیں نکل سکتے جیسے وہ اس کے دائرۂ امروتدبیر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کر سکتے اور نہ اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتے ہیں ، اس لیے جب االلہ تعالیٰ ان کو اجازت دیتا ہے اور جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، تب وہ سفارش کرتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ صرف اسی قول و عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے اور رسول (ﷺ) کی اتباع میں کیا گیا ہو… یہ آیت کریمہ شفاعت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ خَشۡيَتِهٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے غلبہ و جمال کے سامنے سرافگندہ ہیں ۔
[29] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ الوہیت میں ان (فرشتوں ) کا کوئی حق نہیں اور نہ وہ عبودیت ہی کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہیں جو عدم استحقاق کا تقاضا کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ذکر فرمایا دیا کہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ بھی نہیں اور نہ مجرد دعویٰ سے الوہیت کا استحقاق ہی ثابت ہوتا ہے اور ان میں سے جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ﴿ اِنِّيۡۤ اِلٰهٌ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں ‘‘ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے ﴿ فَذٰلِكَ نَجۡزِيۡهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو جزاء دیتے ہیں۔‘‘ اور اس سے بڑا اور کونسا ظلم ہو سکتا ہے کہ ایک ناقص مخلوق جو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، خصائص الوہیت و ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہونے کا دعویٰ کرے؟
الأنبياء 21:29
اور انھوں نے کہا، بنائی ہے رحمن نے اولاد، پاک ہے وہ بلکہ وہ (فرشتے) تو (اس کے) بندے ہیں معزز (26) نہیں سبقت کرتے وہ اس (اللہ) سے بات (کرنے) میں اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں (27) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور وہ (فرشتے) نہیں سفارش کریں گے مگر واسطے اسی شخص کے (جس کے لیے) اللہ پسند کرے گااور وہ اس کے خوف سے ڈرنے والے ہیں (28) اور جو کوئی بھی کہے ان میں سے کہ بے شک میں معبود ہوں سوائے اس (اللہ) کے تو وہ شخص، سزا دیں گے ہم اسے جہنم کی، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (29)
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول (ﷺ) کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے… ان کا برا ہو… کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہرزہ سرائی سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انھیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انھیں رذائل سے پاک اور بے شمار فضائل سے مختص فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی باادب اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والے ہیں ۔
[27]﴿لَا يَسۡبِقُوۡنَهٗ بِالۡقَوۡلِ ﴾ تدبیر مملکت کے متعلق اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ارشاد نہ فرمائے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پرمؤدب اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ بِاَمۡرِهٖ يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ وہ انھیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جس کام پر انھیں لگاتا ہے وہ اسے سرانجام دیتے ہیں ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگتے ہیں۔
[28] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ماضی اور مستقبل کے تمام معاملات کا علم رکھتا ہے، وہ اس کے احاطۂ علم سے اسی طرح باہر نہیں نکل سکتے جیسے وہ اس کے دائرۂ امروتدبیر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کر سکتے اور نہ اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتے ہیں ، اس لیے جب االلہ تعالیٰ ان کو اجازت دیتا ہے اور جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، تب وہ سفارش کرتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ صرف اسی قول و عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے اور رسول (ﷺ) کی اتباع میں کیا گیا ہو… یہ آیت کریمہ شفاعت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ خَشۡيَتِهٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے غلبہ و جمال کے سامنے سرافگندہ ہیں ۔
[29] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ الوہیت میں ان (فرشتوں ) کا کوئی حق نہیں اور نہ وہ عبودیت ہی کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہیں جو عدم استحقاق کا تقاضا کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ذکر فرمایا دیا کہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ بھی نہیں اور نہ مجرد دعویٰ سے الوہیت کا استحقاق ہی ثابت ہوتا ہے اور ان میں سے جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ﴿ اِنِّيۡۤ اِلٰهٌ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں ‘‘ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے ﴿ فَذٰلِكَ نَجۡزِيۡهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو جزاء دیتے ہیں۔‘‘ اور اس سے بڑا اور کونسا ظلم ہو سکتا ہے کہ ایک ناقص مخلوق جو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، خصائص الوہیت و ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہونے کا دعویٰ کرے؟
الأنبياء 21:30
کیا نہیں دیکھا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کہ بلاشبہ آسمان اور زمین تھے باہم ملے ہوئے؟ پھر الگ الگ کیا ہم نے ان دونوں کو اور بنائی ہم نے پانی سے ہر چیز جاندار کیا پس نہیں ایمان لاتے وہ؟ (30)
[30] کیا ان لوگوں نے… جنھوں نے اپنے رب سے کفر کیا اور عبودیت کو اس کے لیے خالص کرنے سے انکار کیا… ان نشانیوں کو نہیں دیکھا جو عیاں طور پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رب محمود و کریم اور معبود ہے۔ وہ زمین و آسمان کا مشاہدہ کرتے ہیں وہ ان کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا پاتے ہیں ، آسمان میں کوئی بادل ہوتا ہے نہ بارش، زمین مردہ اور بنجر دکھائی دیتی ہے، بے آب و گیاہ، پھر ہم دونوں کو جدا کر دیتے ہیں ، آسمان کو پانی کے ذریعے سے اور زمین کو نباتات کے ذریعے سے۔ کیا وہ ہستی جو آسمان پر بادل وجود میں لائی تھی جبکہ آسمان بالکل صاف تھا کہیں بادل کا ٹکڑا نظر نہیں آتا تھا، پھر اس نے اس میں بہت سا پانی ودیعت کیا، پھر وہ ہستی اس بادل کو ایک ایسی مردہ زمین پر لے گئی جہاں پانی کی نایابی کی وجہ سے اس کے کناروں تک خاک اڑتی تھی۔ پس اس نے اس مردہ زمین میں بارش برسائی اور وہ لہلہا اٹھی، حرکت کرنے اور بڑھنے لگی اور اس نے مختلف انواع اور متعدد فوائد کی خوشنما نباتات اگائی۔ کیا یہ سب کچھ اس بات کی دلیل نہیں کہ صرف وہی حق ہے اور اس کے سوا سب باطل ہے، وہی مردوں کو زندہ کرے گا، وہی رحمن و رحیم ہے؟ اس لیے فرمایا ﴿ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی کیا وہ صحیح طور پر ایمان نہیں لاتے جس میں کوئی شک ہو نہ شرک۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دلائل آفاقی شمار کرتے ہوئے فرمایا:
الأنبياء 21:31
اور بنائے ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑتاکہ (نہ) جھک پڑے وہ (کسی ایک طرف) انھیں لے کر اور بنائے ہم نے اس میں کشادہ راستے تاکہ وہ (لوگ) راہ پائیں (31) اور بنایا ہم نے آسمان کو چھت محفوظ اور وہ اس (آسمان) کی نشانیوں سے اعراض کرنے والے ہیں (32) اور وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیے رات اور دن اور سورج اورچاند، سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے ہیں (33)
[31] یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے کمال، اس کی وحدانیت اور رحمت پر دلیل ہے کہ جب زمین میں پہاڑوں کے بغیر ٹھہراؤ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں ٹھہراؤ پیدا کیا تاکہ وہ بندوں ساتھ جھک نہ جائے یعنی زمین میں اضطراب پیدا نہ ہو اور بندے سکون اور کھیتی باڑی کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین میں ٹھہراؤ نہ رہے… اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے زمین کو ٹھہراؤ عطا کیا تب اس سبب سے بندوں کو جو بہت سے مصالح اور منافع حاصل ہوئے،وہ محتاجِ وضاحت نہیں ۔ چونکہ پہاڑ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ان میں بہت زیادہ اتصال ہے۔ اگر اسی حالت اتصال میں بڑے بڑے پہاڑ اور بلند چوٹیاں ہوتیں تو بہت سے شہروں کا آپس میں رابطہ نہ رہتا، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور بندوں پر اس کی رحمت ہے کہ اس نے پہاڑوں کے درمیان راستے بنائے، یعنی آسان راستے جن پر چلنا مشکل نہ ہو تاکہ وہ اپنی مطلوبہ منزلوں تک پہنچ سکیں اور شاید وہ اسی طرح احسان کرنے والی اس ہستی کی وحدانیت پر اس سے استدلال کر کے راہِ ہدایت پا لیں ۔
[33,32]﴿ وَجَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا ﴾ یعنی آسمان کو اس زمین کے لیے چھت بنایا جس پر تم رہ رہے ہو ﴿ مَّحۡفُوۡظًا﴾ یعنی گرنے سے محفوظ۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ﴾(فاطر:35؍41)’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں او زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو شیاطین کے سن گن لینے سے بھی محفوظ کر رکھا ہے۔﴿ وَّهُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اس کی آیات سے غافل اور لہوولعب میں مبتلا ہیں ۔ یہ آسمان کی تمام نشانیوں کے لیے عام ہے، مثلاً:اس کی بلندی، کشادگی، عظمت، اس کے حسین رنگ، حیرت انگیز مہارت سے اس کی مضبوطی وغیرہ، نیز اس میں بہت سی دیگر نشانیوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً:ستارے، سیارے، روشن سورج اور چاند جو رات اور دن کے وجود کا باعث بنتے ہیں اور ہمیشہ سے اپنے افلاک میں تیر رہے ہیں ۔ اسی طرح ستارے اپنے اپنے فلک میں رواں دواں ہیں ۔ پس اس سبب سے بندوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں ، مثلاً:گرمی سردی کا پیدا ہونا، موسموں کا تغیر و تبدل، جس سے بندے اپنی عبادات اور دیگر معاملات کا حساب رکھتے ہیں ، رات کے وقت راحت اور سکون پاتے ہیں اور دن کے وقت اپنی معاش کے حصول کے لیے زمین میں پھیل جاتے ہیں ۔ ان تمام امور کی تدبیر ایک دانا و بینا ہستی کر رہی ہے اور وہ نہایت توجہ سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک وقت مقرر اور حتمی مدت تک کے لیے بنایا ہے تاکہ اس دوران میں اپنے مصالح و منافع حاصل کر لیں اور فائدہ اٹھا لیں ۔ اس کے بعد یہ سب کچھ زائل ہو کر مضمحل ہو جائے گا اور وہ ہستی اسے فنا کے گھاٹ اتار دے گی جو اسے وجود میں لائی ہے، وہ ہستی اس کون و مکاں کو ساکن کر دے گی جس نے اس کو متحرک کیا ہے۔ مکلفین اس گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہو جائیں گے جہاں انھیں ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دنیا آخرت کے دائمی گھر کے لیے کھیتی ہے، یہ سفر کی ایک منزل ہے، مستقل قیام کی جگہ نہیں ہے۔
الأنبياء 21:32
اور بنائے ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑتاکہ (نہ) جھک پڑے وہ (کسی ایک طرف) انھیں لے کر اور بنائے ہم نے اس میں کشادہ راستے تاکہ وہ (لوگ) راہ پائیں (31) اور بنایا ہم نے آسمان کو چھت محفوظ اور وہ اس (آسمان) کی نشانیوں سے اعراض کرنے والے ہیں (32) اور وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیے رات اور دن اور سورج اورچاند، سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے ہیں (33)
[31] یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے کمال، اس کی وحدانیت اور رحمت پر دلیل ہے کہ جب زمین میں پہاڑوں کے بغیر ٹھہراؤ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں ٹھہراؤ پیدا کیا تاکہ وہ بندوں ساتھ جھک نہ جائے یعنی زمین میں اضطراب پیدا نہ ہو اور بندے سکون اور کھیتی باڑی کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین میں ٹھہراؤ نہ رہے… اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے زمین کو ٹھہراؤ عطا کیا تب اس سبب سے بندوں کو جو بہت سے مصالح اور منافع حاصل ہوئے،وہ محتاجِ وضاحت نہیں ۔ چونکہ پہاڑ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ان میں بہت زیادہ اتصال ہے۔ اگر اسی حالت اتصال میں بڑے بڑے پہاڑ اور بلند چوٹیاں ہوتیں تو بہت سے شہروں کا آپس میں رابطہ نہ رہتا، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور بندوں پر اس کی رحمت ہے کہ اس نے پہاڑوں کے درمیان راستے بنائے، یعنی آسان راستے جن پر چلنا مشکل نہ ہو تاکہ وہ اپنی مطلوبہ منزلوں تک پہنچ سکیں اور شاید وہ اسی طرح احسان کرنے والی اس ہستی کی وحدانیت پر اس سے استدلال کر کے راہِ ہدایت پا لیں ۔
[33,32]﴿ وَجَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا ﴾ یعنی آسمان کو اس زمین کے لیے چھت بنایا جس پر تم رہ رہے ہو ﴿ مَّحۡفُوۡظًا﴾ یعنی گرنے سے محفوظ۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ﴾(فاطر:35؍41)’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں او زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو شیاطین کے سن گن لینے سے بھی محفوظ کر رکھا ہے۔﴿ وَّهُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اس کی آیات سے غافل اور لہوولعب میں مبتلا ہیں ۔ یہ آسمان کی تمام نشانیوں کے لیے عام ہے، مثلاً:اس کی بلندی، کشادگی، عظمت، اس کے حسین رنگ، حیرت انگیز مہارت سے اس کی مضبوطی وغیرہ، نیز اس میں بہت سی دیگر نشانیوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً:ستارے، سیارے، روشن سورج اور چاند جو رات اور دن کے وجود کا باعث بنتے ہیں اور ہمیشہ سے اپنے افلاک میں تیر رہے ہیں ۔ اسی طرح ستارے اپنے اپنے فلک میں رواں دواں ہیں ۔ پس اس سبب سے بندوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں ، مثلاً:گرمی سردی کا پیدا ہونا، موسموں کا تغیر و تبدل، جس سے بندے اپنی عبادات اور دیگر معاملات کا حساب رکھتے ہیں ، رات کے وقت راحت اور سکون پاتے ہیں اور دن کے وقت اپنی معاش کے حصول کے لیے زمین میں پھیل جاتے ہیں ۔ ان تمام امور کی تدبیر ایک دانا و بینا ہستی کر رہی ہے اور وہ نہایت توجہ سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک وقت مقرر اور حتمی مدت تک کے لیے بنایا ہے تاکہ اس دوران میں اپنے مصالح و منافع حاصل کر لیں اور فائدہ اٹھا لیں ۔ اس کے بعد یہ سب کچھ زائل ہو کر مضمحل ہو جائے گا اور وہ ہستی اسے فنا کے گھاٹ اتار دے گی جو اسے وجود میں لائی ہے، وہ ہستی اس کون و مکاں کو ساکن کر دے گی جس نے اس کو متحرک کیا ہے۔ مکلفین اس گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہو جائیں گے جہاں انھیں ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دنیا آخرت کے دائمی گھر کے لیے کھیتی ہے، یہ سفر کی ایک منزل ہے، مستقل قیام کی جگہ نہیں ہے۔
الأنبياء 21:33
اور بنائے ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑتاکہ (نہ) جھک پڑے وہ (کسی ایک طرف) انھیں لے کر اور بنائے ہم نے اس میں کشادہ راستے تاکہ وہ (لوگ) راہ پائیں (31) اور بنایا ہم نے آسمان کو چھت محفوظ اور وہ اس (آسمان) کی نشانیوں سے اعراض کرنے والے ہیں (32) اور وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیے رات اور دن اور سورج اورچاند، سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے ہیں (33)
[31] یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے کمال، اس کی وحدانیت اور رحمت پر دلیل ہے کہ جب زمین میں پہاڑوں کے بغیر ٹھہراؤ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں ٹھہراؤ پیدا کیا تاکہ وہ بندوں ساتھ جھک نہ جائے یعنی زمین میں اضطراب پیدا نہ ہو اور بندے سکون اور کھیتی باڑی کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین میں ٹھہراؤ نہ رہے… اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے زمین کو ٹھہراؤ عطا کیا تب اس سبب سے بندوں کو جو بہت سے مصالح اور منافع حاصل ہوئے،وہ محتاجِ وضاحت نہیں ۔ چونکہ پہاڑ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ان میں بہت زیادہ اتصال ہے۔ اگر اسی حالت اتصال میں بڑے بڑے پہاڑ اور بلند چوٹیاں ہوتیں تو بہت سے شہروں کا آپس میں رابطہ نہ رہتا، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور بندوں پر اس کی رحمت ہے کہ اس نے پہاڑوں کے درمیان راستے بنائے، یعنی آسان راستے جن پر چلنا مشکل نہ ہو تاکہ وہ اپنی مطلوبہ منزلوں تک پہنچ سکیں اور شاید وہ اسی طرح احسان کرنے والی اس ہستی کی وحدانیت پر اس سے استدلال کر کے راہِ ہدایت پا لیں ۔
[33,32]﴿ وَجَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا ﴾ یعنی آسمان کو اس زمین کے لیے چھت بنایا جس پر تم رہ رہے ہو ﴿ مَّحۡفُوۡظًا﴾ یعنی گرنے سے محفوظ۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ﴾(فاطر:35؍41)’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں او زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو شیاطین کے سن گن لینے سے بھی محفوظ کر رکھا ہے۔﴿ وَّهُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اس کی آیات سے غافل اور لہوولعب میں مبتلا ہیں ۔ یہ آسمان کی تمام نشانیوں کے لیے عام ہے، مثلاً:اس کی بلندی، کشادگی، عظمت، اس کے حسین رنگ، حیرت انگیز مہارت سے اس کی مضبوطی وغیرہ، نیز اس میں بہت سی دیگر نشانیوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً:ستارے، سیارے، روشن سورج اور چاند جو رات اور دن کے وجود کا باعث بنتے ہیں اور ہمیشہ سے اپنے افلاک میں تیر رہے ہیں ۔ اسی طرح ستارے اپنے اپنے فلک میں رواں دواں ہیں ۔ پس اس سبب سے بندوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں ، مثلاً:گرمی سردی کا پیدا ہونا، موسموں کا تغیر و تبدل، جس سے بندے اپنی عبادات اور دیگر معاملات کا حساب رکھتے ہیں ، رات کے وقت راحت اور سکون پاتے ہیں اور دن کے وقت اپنی معاش کے حصول کے لیے زمین میں پھیل جاتے ہیں ۔ ان تمام امور کی تدبیر ایک دانا و بینا ہستی کر رہی ہے اور وہ نہایت توجہ سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک وقت مقرر اور حتمی مدت تک کے لیے بنایا ہے تاکہ اس دوران میں اپنے مصالح و منافع حاصل کر لیں اور فائدہ اٹھا لیں ۔ اس کے بعد یہ سب کچھ زائل ہو کر مضمحل ہو جائے گا اور وہ ہستی اسے فنا کے گھاٹ اتار دے گی جو اسے وجود میں لائی ہے، وہ ہستی اس کون و مکاں کو ساکن کر دے گی جس نے اس کو متحرک کیا ہے۔ مکلفین اس گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہو جائیں گے جہاں انھیں ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دنیا آخرت کے دائمی گھر کے لیے کھیتی ہے، یہ سفر کی ایک منزل ہے، مستقل قیام کی جگہ نہیں ہے۔
الأنبياء 21:34
اور نہیں کیا ہم نے کسی بشر کے لیے آپ سے پہلے ہمیشہ رہنا، کیا پس اگر آپ مر جائیں تو (کیا) وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ؟ (34) ہر نفس چکھنے والا ہے (تلخی) موت کی اور ہم آزماتے ہیں تمھیں ساتھ برائی اور اچھائی کے خوب آزمانا اور ہماری طرف ہی تر لوٹائے جاؤ گے (35)
[34] رسول اللہﷺ کے دشمن کہا کرتے تھے تم اس(ﷺ) کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موت کا راستہ ایک ایسی گزرگاہ ہے جس پر سب رواں دواں ہیں ۔ ﴿ وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُلۡدَ ﴾ ’’اے محمد! (ﷺ) ہم نے آپ سے پہلے بھی دنیا میں کسی بشر کو دائمی زندگی عطا نہیں کی۔‘‘ اگر آپﷺ موت سے ہم آغوش ہوں گے تو آپﷺ کی طرح دیگر رسول، انبیاء اور اولیاء بھی اسی راستے پر گامزن رہے ہیں جس کی منزل موت ہے۔ ﴿ اَفَاۡىِٕنۡ مِّؔتَّ فَهُمُ الۡخٰؔلِدُوۡنَ﴾ یعنی اگر آپﷺ وفات پا جائیں گے تو کیا آپﷺ کے بعد یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے تاکہ وہ اس دائمی زندگی سے لطف اندوز ہوں ؟ معاملہ اس طرح نہیں (جس طرح انھوں نے سمجھ رکھا ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی زمین پر ہے اس کی منزل فنا ہے۔
[35] اس لیے فرمایا: ﴿كُلُّ نَفۡسٍ ذَآىِٕقَةُ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ تمام خلائق کے نفوس کو شامل ہے۔ بندے کو خواہ کتنی ہی لمبی مہلت اور کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ دے دی جائے، آخر موت کا پیالہ اسے پینا ہی پڑے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے بندوں کو وجود بخشا، ان کو اوامر و نواہی عطا كيے ان کو خیروشر، غناوفقر، عزت و ذلت اور موت و حیات کے ذریعے سے آزمائش میں مبتلا کیا تاکہ وہ دیکھے کہ فتنے کے مواقع پر کون فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور کون فتنے سے نجات پاتا ہے۔ فرمایا:﴿ثُمَّ اِلَيۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر ہم تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دیں گے، اگر اچھے اعمال ہیں تو جزا اچھی ہو گی، اگر برے اعمال ہیں تو جزا بھی بری ہو گی۔ ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ:41؍46) ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے بطلان پر دلالت کرتی ہے جو حضرت خضر u کی بقاء کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت خضر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ، نیز یہ دلائل شرعیہ کے بھی منافی ہے۔
الأنبياء 21:35
اور نہیں کیا ہم نے کسی بشر کے لیے آپ سے پہلے ہمیشہ رہنا، کیا پس اگر آپ مر جائیں تو (کیا) وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ؟ (34) ہر نفس چکھنے والا ہے (تلخی) موت کی اور ہم آزماتے ہیں تمھیں ساتھ برائی اور اچھائی کے خوب آزمانا اور ہماری طرف ہی تر لوٹائے جاؤ گے (35)
[34] رسول اللہﷺ کے دشمن کہا کرتے تھے تم اس(ﷺ) کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موت کا راستہ ایک ایسی گزرگاہ ہے جس پر سب رواں دواں ہیں ۔ ﴿ وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُلۡدَ ﴾ ’’اے محمد! (ﷺ) ہم نے آپ سے پہلے بھی دنیا میں کسی بشر کو دائمی زندگی عطا نہیں کی۔‘‘ اگر آپﷺ موت سے ہم آغوش ہوں گے تو آپﷺ کی طرح دیگر رسول، انبیاء اور اولیاء بھی اسی راستے پر گامزن رہے ہیں جس کی منزل موت ہے۔ ﴿ اَفَاۡىِٕنۡ مِّؔتَّ فَهُمُ الۡخٰؔلِدُوۡنَ﴾ یعنی اگر آپﷺ وفات پا جائیں گے تو کیا آپﷺ کے بعد یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے تاکہ وہ اس دائمی زندگی سے لطف اندوز ہوں ؟ معاملہ اس طرح نہیں (جس طرح انھوں نے سمجھ رکھا ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی زمین پر ہے اس کی منزل فنا ہے۔
[35] اس لیے فرمایا: ﴿كُلُّ نَفۡسٍ ذَآىِٕقَةُ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ تمام خلائق کے نفوس کو شامل ہے۔ بندے کو خواہ کتنی ہی لمبی مہلت اور کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ دے دی جائے، آخر موت کا پیالہ اسے پینا ہی پڑے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے بندوں کو وجود بخشا، ان کو اوامر و نواہی عطا كيے ان کو خیروشر، غناوفقر، عزت و ذلت اور موت و حیات کے ذریعے سے آزمائش میں مبتلا کیا تاکہ وہ دیکھے کہ فتنے کے مواقع پر کون فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور کون فتنے سے نجات پاتا ہے۔ فرمایا:﴿ثُمَّ اِلَيۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر ہم تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دیں گے، اگر اچھے اعمال ہیں تو جزا اچھی ہو گی، اگر برے اعمال ہیں تو جزا بھی بری ہو گی۔ ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ:41؍46) ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے بطلان پر دلالت کرتی ہے جو حضرت خضر u کی بقاء کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت خضر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ، نیز یہ دلائل شرعیہ کے بھی منافی ہے۔
الأنبياء 21:36
اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41)
[36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔
[37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔
[38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔
[39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔
[40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔
[41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
الأنبياء 21:37
اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41)
[36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔
[37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔
[38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔
[39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔
[40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔
[41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
الأنبياء 21:38
اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41)
[36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔
[37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔
[38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔
[39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔
[40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔
[41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
الأنبياء 21:39
اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41)
[36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔
[37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔
[38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔
[39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔
[40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔
[41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
الأنبياء 21:40
اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41)
[36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔
[37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔
[38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔
[39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔
[40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔
[41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
الأنبياء 21:41
اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41)
[36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔
[37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔
[38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔
[39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔
[40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔
[41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
الأنبياء 21:42
کہہ دیجیے! کون نگہبانی کرتا ہے تمھاری رات اوردن میں ، رحمن (کے عذاب) سے؟بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں (42) کیا ان کے لیے (اور) معبود ہیں جو بچاتے ہوں ان کو، ہمارے سوا؟ نہیں استطاعت رکھتے وہ مدد کرنے کی اپنی ہی جانوں کی اورنہ وہ ہم (ہمارے عذاب) ہی سے محفوظ ہیں (43)بلکہ فائدہ دیا ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو، یہاں تک کہ طویل ہو گئیں ان کی عمریں ، کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بے شک ہم آتے زمین کو، کم کرتے ہیں ہم اس کو اس کے کناروں سے؟ کیا پس وہ غالب ہیں ؟ (44)
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے جنھوں نے اللہ کے بغیر دوسرے معبود بنا لیے… کہ وہ اپنے رب رحمان کے محتاج ہیں جس کی بے پایاں رحمت شب و روز ہر نیک اور بد پر سایہ کناں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ يَّكۡلَؤُكُمۡ ﴾ یعنی کون تمھاری حفاظت کرتا ہے ﴿ بِالَّيۡلِ ﴾ ’’رات کو۔‘‘ یعنی جب تم اپنے بستروں میں سو رہے اور اپنے حواس سے محروم ہوتے ہو ﴿ وَالنَّهَارِ ﴾ ’’اور دن کو۔‘‘ یعنی تمھارے زمین میں پھیل جانے اور تمھاری غفلت کے وقت ﴿ مِنَ الرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمن کے مقابلے میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کون تمھاری حفاظت کرتا ہے اس کے بغیر کوئی ہے جو تمھاری حفاظت کرتا ہو؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمھاری حفاظت کرنے والا نہیں ۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کیا۔ اگر انھوں نے اپنے رب کی طرف توجہ کی ہوتی، اس کی نصیحتوں کو قبول کیا ہوتا تو یقینا انھیں رشد و ہدایت عطا کر دی جاتی اور ان کے معاملے میں انھیں توفیق سے نواز دیا جاتا۔
[43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اٰلِهَةٌ تَمۡنَعُهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ﴾ یعنی جب ہم ان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو کیا ان کے خود ساختہ معبود ان کو اس برائی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے شر سے بچانے کی قدرت رکھتے ہیں ؟ ﴿لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَ اَنۡفُسِهِمۡ وَلَا هُمۡ مِّؔنَّا يُصۡحَبُوۡنَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے وہ خود اپنی مدد کرنے کی اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت دیے جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہماری طرف سے ان کے معاملات میں ان کی مدد نہیں کی جاتی۔ جب ان کی مدد نہ کی جائے تو گویا ان کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محروم کر کے ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں وہ کوئی فائدہ اٹھانے اور ضرر دور کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔
[44] جو چیز ان کے اپنے کفر و شرک پر جمے رہنے کی باعث بنی اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ بَلۡ مَتَّعۡنَا هٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُمۡ حَتّٰى طَالَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ ﴾ ہم نے مال اور اولاد کے ذریعے سے ان کی مدد کی، ان کو لمبی عمریں عطا کیں تو وہ ان مقاصد کو چھوڑ کر جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا، لہو و لعب کی بنا پر، مال اور اولاد سے متمتع ہونے میں مشغول ہو گئے اور ان کی مدت مہلت طویل ہو گئی، جس سے ان کے دل سخت ہو گئے، ان کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا۔ اگر وہ اس زمین پر دائیں بائیں مڑ کر اپنے جیسے لوگوں کا انجام دیکھتے تو ہلاک ہونے والوں کے سوا کچھ نہ پاتے اور موت کی خبر دینے والے کی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنتے۔ انھیں معلوم ہوتا کہ کئی قومیں پے در پے ہلاک ہو گئیں اور موت نے نفوس کو پھانسنے کے لیے ہر راستے پر پھندہ لگا رکھا ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِي الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا﴾ یعنی ہم زمین کو اہل زمین کی موت اور ان کو فنا کرنے کے ذریعے آہستہ آہستہ کم کررہے ہیں یہاں تک کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی زمین اور زمین کے رہنے والوں کا وارث ہو گا اور وہ بہترین وارث ہے اگر وہ اپنی اس حالت کو دیکھیں تو کبھی فریب میں مبتلا نہ ہوں اور کبھی اپنے کفر و شرک کے موجودہ رویے پر جمے نہ رہیں ۔ ﴿ اَفَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس وہ غالب ہیں ۔‘‘ جو اپنے زور سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کو روک سکتے ہوں اور اپنی طاقت سے موت سے بچ سکتے ہوں ؟ کیا یہ ان کا وصف ہے کہ جس کی بنا پر وہ طول بقاء کے فریب میں مبتلا ہیں ؟ یا ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کی ارواح کو قبض کرنے کے لیے ان کے رب کا فرشتہ ان کے پاس آئے گا تو اس کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور ادنیٰ سی مزاحمت پر بھی قادر نہ ہوں گے۔
الأنبياء 21:43
کہہ دیجیے! کون نگہبانی کرتا ہے تمھاری رات اوردن میں ، رحمن (کے عذاب) سے؟بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں (42) کیا ان کے لیے (اور) معبود ہیں جو بچاتے ہوں ان کو، ہمارے سوا؟ نہیں استطاعت رکھتے وہ مدد کرنے کی اپنی ہی جانوں کی اورنہ وہ ہم (ہمارے عذاب) ہی سے محفوظ ہیں (43)بلکہ فائدہ دیا ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو، یہاں تک کہ طویل ہو گئیں ان کی عمریں ، کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بے شک ہم آتے زمین کو، کم کرتے ہیں ہم اس کو اس کے کناروں سے؟ کیا پس وہ غالب ہیں ؟ (44)
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے جنھوں نے اللہ کے بغیر دوسرے معبود بنا لیے… کہ وہ اپنے رب رحمان کے محتاج ہیں جس کی بے پایاں رحمت شب و روز ہر نیک اور بد پر سایہ کناں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ يَّكۡلَؤُكُمۡ ﴾ یعنی کون تمھاری حفاظت کرتا ہے ﴿ بِالَّيۡلِ ﴾ ’’رات کو۔‘‘ یعنی جب تم اپنے بستروں میں سو رہے اور اپنے حواس سے محروم ہوتے ہو ﴿ وَالنَّهَارِ ﴾ ’’اور دن کو۔‘‘ یعنی تمھارے زمین میں پھیل جانے اور تمھاری غفلت کے وقت ﴿ مِنَ الرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمن کے مقابلے میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کون تمھاری حفاظت کرتا ہے اس کے بغیر کوئی ہے جو تمھاری حفاظت کرتا ہو؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمھاری حفاظت کرنے والا نہیں ۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کیا۔ اگر انھوں نے اپنے رب کی طرف توجہ کی ہوتی، اس کی نصیحتوں کو قبول کیا ہوتا تو یقینا انھیں رشد و ہدایت عطا کر دی جاتی اور ان کے معاملے میں انھیں توفیق سے نواز دیا جاتا۔
[43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اٰلِهَةٌ تَمۡنَعُهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ﴾ یعنی جب ہم ان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو کیا ان کے خود ساختہ معبود ان کو اس برائی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے شر سے بچانے کی قدرت رکھتے ہیں ؟ ﴿لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَ اَنۡفُسِهِمۡ وَلَا هُمۡ مِّؔنَّا يُصۡحَبُوۡنَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے وہ خود اپنی مدد کرنے کی اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت دیے جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہماری طرف سے ان کے معاملات میں ان کی مدد نہیں کی جاتی۔ جب ان کی مدد نہ کی جائے تو گویا ان کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محروم کر کے ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں وہ کوئی فائدہ اٹھانے اور ضرر دور کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔
[44] جو چیز ان کے اپنے کفر و شرک پر جمے رہنے کی باعث بنی اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ بَلۡ مَتَّعۡنَا هٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُمۡ حَتّٰى طَالَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ ﴾ ہم نے مال اور اولاد کے ذریعے سے ان کی مدد کی، ان کو لمبی عمریں عطا کیں تو وہ ان مقاصد کو چھوڑ کر جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا، لہو و لعب کی بنا پر، مال اور اولاد سے متمتع ہونے میں مشغول ہو گئے اور ان کی مدت مہلت طویل ہو گئی، جس سے ان کے دل سخت ہو گئے، ان کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا۔ اگر وہ اس زمین پر دائیں بائیں مڑ کر اپنے جیسے لوگوں کا انجام دیکھتے تو ہلاک ہونے والوں کے سوا کچھ نہ پاتے اور موت کی خبر دینے والے کی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنتے۔ انھیں معلوم ہوتا کہ کئی قومیں پے در پے ہلاک ہو گئیں اور موت نے نفوس کو پھانسنے کے لیے ہر راستے پر پھندہ لگا رکھا ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِي الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا﴾ یعنی ہم زمین کو اہل زمین کی موت اور ان کو فنا کرنے کے ذریعے آہستہ آہستہ کم کررہے ہیں یہاں تک کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی زمین اور زمین کے رہنے والوں کا وارث ہو گا اور وہ بہترین وارث ہے اگر وہ اپنی اس حالت کو دیکھیں تو کبھی فریب میں مبتلا نہ ہوں اور کبھی اپنے کفر و شرک کے موجودہ رویے پر جمے نہ رہیں ۔ ﴿ اَفَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس وہ غالب ہیں ۔‘‘ جو اپنے زور سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کو روک سکتے ہوں اور اپنی طاقت سے موت سے بچ سکتے ہوں ؟ کیا یہ ان کا وصف ہے کہ جس کی بنا پر وہ طول بقاء کے فریب میں مبتلا ہیں ؟ یا ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کی ارواح کو قبض کرنے کے لیے ان کے رب کا فرشتہ ان کے پاس آئے گا تو اس کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور ادنیٰ سی مزاحمت پر بھی قادر نہ ہوں گے۔
الأنبياء 21:44
کہہ دیجیے! کون نگہبانی کرتا ہے تمھاری رات اوردن میں ، رحمن (کے عذاب) سے؟بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں (42) کیا ان کے لیے (اور) معبود ہیں جو بچاتے ہوں ان کو، ہمارے سوا؟ نہیں استطاعت رکھتے وہ مدد کرنے کی اپنی ہی جانوں کی اورنہ وہ ہم (ہمارے عذاب) ہی سے محفوظ ہیں (43)بلکہ فائدہ دیا ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو، یہاں تک کہ طویل ہو گئیں ان کی عمریں ، کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بے شک ہم آتے زمین کو، کم کرتے ہیں ہم اس کو اس کے کناروں سے؟ کیا پس وہ غالب ہیں ؟ (44)
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے جنھوں نے اللہ کے بغیر دوسرے معبود بنا لیے… کہ وہ اپنے رب رحمان کے محتاج ہیں جس کی بے پایاں رحمت شب و روز ہر نیک اور بد پر سایہ کناں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ يَّكۡلَؤُكُمۡ ﴾ یعنی کون تمھاری حفاظت کرتا ہے ﴿ بِالَّيۡلِ ﴾ ’’رات کو۔‘‘ یعنی جب تم اپنے بستروں میں سو رہے اور اپنے حواس سے محروم ہوتے ہو ﴿ وَالنَّهَارِ ﴾ ’’اور دن کو۔‘‘ یعنی تمھارے زمین میں پھیل جانے اور تمھاری غفلت کے وقت ﴿ مِنَ الرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمن کے مقابلے میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کون تمھاری حفاظت کرتا ہے اس کے بغیر کوئی ہے جو تمھاری حفاظت کرتا ہو؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمھاری حفاظت کرنے والا نہیں ۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کیا۔ اگر انھوں نے اپنے رب کی طرف توجہ کی ہوتی، اس کی نصیحتوں کو قبول کیا ہوتا تو یقینا انھیں رشد و ہدایت عطا کر دی جاتی اور ان کے معاملے میں انھیں توفیق سے نواز دیا جاتا۔
[43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اٰلِهَةٌ تَمۡنَعُهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ﴾ یعنی جب ہم ان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو کیا ان کے خود ساختہ معبود ان کو اس برائی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے شر سے بچانے کی قدرت رکھتے ہیں ؟ ﴿لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَ اَنۡفُسِهِمۡ وَلَا هُمۡ مِّؔنَّا يُصۡحَبُوۡنَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے وہ خود اپنی مدد کرنے کی اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت دیے جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہماری طرف سے ان کے معاملات میں ان کی مدد نہیں کی جاتی۔ جب ان کی مدد نہ کی جائے تو گویا ان کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محروم کر کے ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں وہ کوئی فائدہ اٹھانے اور ضرر دور کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔
[44] جو چیز ان کے اپنے کفر و شرک پر جمے رہنے کی باعث بنی اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ بَلۡ مَتَّعۡنَا هٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُمۡ حَتّٰى طَالَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ ﴾ ہم نے مال اور اولاد کے ذریعے سے ان کی مدد کی، ان کو لمبی عمریں عطا کیں تو وہ ان مقاصد کو چھوڑ کر جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا، لہو و لعب کی بنا پر، مال اور اولاد سے متمتع ہونے میں مشغول ہو گئے اور ان کی مدت مہلت طویل ہو گئی، جس سے ان کے دل سخت ہو گئے، ان کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا۔ اگر وہ اس زمین پر دائیں بائیں مڑ کر اپنے جیسے لوگوں کا انجام دیکھتے تو ہلاک ہونے والوں کے سوا کچھ نہ پاتے اور موت کی خبر دینے والے کی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنتے۔ انھیں معلوم ہوتا کہ کئی قومیں پے در پے ہلاک ہو گئیں اور موت نے نفوس کو پھانسنے کے لیے ہر راستے پر پھندہ لگا رکھا ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِي الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا﴾ یعنی ہم زمین کو اہل زمین کی موت اور ان کو فنا کرنے کے ذریعے آہستہ آہستہ کم کررہے ہیں یہاں تک کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی زمین اور زمین کے رہنے والوں کا وارث ہو گا اور وہ بہترین وارث ہے اگر وہ اپنی اس حالت کو دیکھیں تو کبھی فریب میں مبتلا نہ ہوں اور کبھی اپنے کفر و شرک کے موجودہ رویے پر جمے نہ رہیں ۔ ﴿ اَفَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس وہ غالب ہیں ۔‘‘ جو اپنے زور سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کو روک سکتے ہوں اور اپنی طاقت سے موت سے بچ سکتے ہوں ؟ کیا یہ ان کا وصف ہے کہ جس کی بنا پر وہ طول بقاء کے فریب میں مبتلا ہیں ؟ یا ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کی ارواح کو قبض کرنے کے لیے ان کے رب کا فرشتہ ان کے پاس آئے گا تو اس کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور ادنیٰ سی مزاحمت پر بھی قادر نہ ہوں گے۔
الأنبياء 21:45
کہہ دیجیے! یقینا ڈراتا ہوں میں تمھیں وحی کے ذریعے سےاور نہیں سنتے بہرے پکار کو جب وہ ڈرائے جائیں (45)اور البتہ اگر چھو جائے انھیں ایک (ہلکا سا) جھونکا آپ کے رب کے عذاب کا تو البتہ ضرور کہیں گے وہ، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (46)
[45]﴿قُلۡ ﴾ اے محمد! (ﷺ) تمام لوگوں سے کہہ دیجیے ﴿ اِنَّمَاۤ اُنۡذِرُؔكُمۡ بِالۡوَحۡيِ﴾یعنی میں تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو کچھ تمھارے پاس لایا ہوں وہ اپنی طرف سے نہیں لایا نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں ، نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ، میں تو صرف اس چیز کے ذریعے سے تمھیں ڈراتا ہوں جو اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے۔ اگر تم نے میری دعوت پر لبیک کہی تو یہ اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک ہے وہ تمھیں اس پر ثواب عطا کرے گا اور اگر تم روگردانی کر کے اس کی مخالفت کروگے تو میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں ۔ اختیار تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے اور تقدیر صرف اسی کی طرف سے ہے۔﴿ وَلَا يَسۡمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ ﴾ یعنی بہرہ کسی قسم کی آواز نہیں سن سکتا کیونکہ اس کی سماعت خراب ہو چکی ہے جس طرح آواز کا سننا اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ آواز کو قبول کرنے والا مقام و محل موجود ہو۔ اسی طرح وحی قلب و روح کے لیے زندگی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کا سبب ہے لیکن اگر قلب ہدایت کی آواز کو قبول نہیں کرتا تو وہ ہدایت اور ایمان کی نسبت سے اس بہرے کی مانند ہے جو آوازوں کو نہیں سن سکتا۔ یہ مشرکین بھی ہدایت اور ایمان کی آواز سننے سے بہرے ہیں اس لیے ان کا ہدایت کو قبول نہ کرنا کوئی تعجب انگیز بات نہیں خاص طور پر اس حالت میں کہ ابھی تک ان کو عذاب اور اس کی تکلیف نے چھویا نہیں ۔
[46]﴿ وَلَىِٕنۡ مَّسَّتۡهُمۡ نَفۡحَةٌ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّكَ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک معمولی سا حصہ ان کو چھو لے ﴿ لَيَقُوۡلُنَّ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! ہم تو ظالم تھے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ہلاکت اور موت ہی کو پکاریں گے اور ان کی پکار اپنی ندامت کا اظہار اور اپنے ظلم، کفر اور استحقاق عذاب ہی کا اعتراف ہو گی۔
الأنبياء 21:46
کہہ دیجیے! یقینا ڈراتا ہوں میں تمھیں وحی کے ذریعے سےاور نہیں سنتے بہرے پکار کو جب وہ ڈرائے جائیں (45)اور البتہ اگر چھو جائے انھیں ایک (ہلکا سا) جھونکا آپ کے رب کے عذاب کا تو البتہ ضرور کہیں گے وہ، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (46)
[45]﴿قُلۡ ﴾ اے محمد! (ﷺ) تمام لوگوں سے کہہ دیجیے ﴿ اِنَّمَاۤ اُنۡذِرُؔكُمۡ بِالۡوَحۡيِ﴾یعنی میں تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو کچھ تمھارے پاس لایا ہوں وہ اپنی طرف سے نہیں لایا نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں ، نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ، میں تو صرف اس چیز کے ذریعے سے تمھیں ڈراتا ہوں جو اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے۔ اگر تم نے میری دعوت پر لبیک کہی تو یہ اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک ہے وہ تمھیں اس پر ثواب عطا کرے گا اور اگر تم روگردانی کر کے اس کی مخالفت کروگے تو میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں ۔ اختیار تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے اور تقدیر صرف اسی کی طرف سے ہے۔﴿ وَلَا يَسۡمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ ﴾ یعنی بہرہ کسی قسم کی آواز نہیں سن سکتا کیونکہ اس کی سماعت خراب ہو چکی ہے جس طرح آواز کا سننا اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ آواز کو قبول کرنے والا مقام و محل موجود ہو۔ اسی طرح وحی قلب و روح کے لیے زندگی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کا سبب ہے لیکن اگر قلب ہدایت کی آواز کو قبول نہیں کرتا تو وہ ہدایت اور ایمان کی نسبت سے اس بہرے کی مانند ہے جو آوازوں کو نہیں سن سکتا۔ یہ مشرکین بھی ہدایت اور ایمان کی آواز سننے سے بہرے ہیں اس لیے ان کا ہدایت کو قبول نہ کرنا کوئی تعجب انگیز بات نہیں خاص طور پر اس حالت میں کہ ابھی تک ان کو عذاب اور اس کی تکلیف نے چھویا نہیں ۔
[46]﴿ وَلَىِٕنۡ مَّسَّتۡهُمۡ نَفۡحَةٌ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّكَ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک معمولی سا حصہ ان کو چھو لے ﴿ لَيَقُوۡلُنَّ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! ہم تو ظالم تھے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ہلاکت اور موت ہی کو پکاریں گے اور ان کی پکار اپنی ندامت کا اظہار اور اپنے ظلم، کفر اور استحقاق عذاب ہی کا اعتراف ہو گی۔
الأنبياء 21:47
اور ہم رکھیں گے ترازوئیں انصاف کی دن قیامت کے، پس نہ ظلم کیا جائے گا کسی نفس پر کچھ بھی اور اگر ہوگا (عمل) برابر دانے ایک رائی کے بھی تو لے آئیں گے ہم اسے اور کافی ہیں ہم حساب کرنے والے (47)
[47] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عدل پر مبنی حکم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، قیامت کے روز جب وہ اپنے بندوں کو جمع کرے گا تو ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔ نہایت عدل کے ساتھ وزن کرنے والی ترازوئیں قائم کر دی جائیں گی جن پر ذرہ بھر وزن بھی واضح ہو جائے گا۔ یہ ترازوئیں نیکیوں اور برائیوں کا وزن کریں گی۔ ﴿ فَلَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ ﴾ ’’پس کسی نفس پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر ﴿ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’کچھ بھی۔‘‘ یعنی کسی شخص کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی نہ کسی شخص کی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ ﴿ وَاِنۡ كَانَ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اور اگر ہو گا (عمل) رائی کے دانے کے برابر۔‘‘ جو کہ سب سے چھوٹی اور حقیر سی چیز ہے یعنی رائی کے دانے کے برابر بھی نیکی یا بدی ہو گی ﴿ اَتَيۡنَا بِهَا﴾ ہم اسے سامنے حاضر کر دیں گے تاکہ اس پر اس کے مرتکب کو جزا دی جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ ﴾(الزلزال:99؍7 ،8) ’’جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے اور جس نے ذرہ بھر برائی کا ارتکاب کیا ہو گا وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’وہ کہیں گے کہ ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ کوئی چھوٹا یا بڑا عمل ایسا نہیں جو اس میں لکھنے سے رہ گیا ہو اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے۔‘‘ ﴿ وَكَفٰى بِنَا حٰؔسِبِيۡنَ﴾ اللہ تعالیٰ کی اس سے مراد خود اپنا نفس کریمہ ہے اور وہ حساب لینے کے لیے کافی ہے، یعنی اللہ اپنے بندوں کے اعمال کا علم رکھتا ہے، ان اعمال کو کتا ب میں درج کر کے ان کی حفاظت کرتا ہے، وہ ان اعمال کی مقدار کے مطابق ثواب اور ان کے استحقاق کا بھی علم رکھتا ہے اور وہ عمل کرنے والوں کو ان کی جزا عطا کرے گا۔
الأنبياء 21:48
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی (کتاب) اور روشنی اور ذکر (نصیحت) پرہیز گاروں کے لیے (48) وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھےاور وہ قیامت سے بھی ڈرنے والے ہیں (49) اور یہ (قرآن) ذکر ہے، برکت والا ہے، ہم نے نازل کیا ہے اسے، کیا پس تم اس کے منکر ہو؟ (50)
[48] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت کثرت سے ان دو جلیل القدر کتابوں کا اکٹھا ذکر کیا ہے ان دونوں سے افضل، ذکر میں ان سے بڑی، ان سے زیادہ بابرکت اور ہدایت و بیان کے لیے زیادہ عظیم کوئی اور کتاب دنیا میں نازل نہیں ہوئی اور وہ ہیں تورات اور قرآن کریم، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰu کو اصلاً اور حضرت ہارونu کو تبعاً تورات عطا فرمائی ﴿ الۡفُرۡقَانَ ﴾ جو حق اور باطل کے درمیان اور ہدایت اور گمراہی کے درمیان فرق کرتی ہے ﴿وَضِيَآءً ﴾نور ہے جس سے راہنمائی کے خواہشمند راہنمائی حاصل کرتے ہیں ، اہل سلوک اس کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس سے احکام کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے حلال و حرام کی پہچان حاصل ہوتی ہے، وہ جہالت، گمراہی اور بدعات کی تاریکیوں میں روشنی عطا کرتی ہے۔﴿ وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’اور نصیحت ہے متقین کے لیے۔‘‘ یعنی اہل تقویٰ کے ذریعے سے نصیحت پکڑتے ہیں کہ کون سے امور ان کو فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس کے ذریعے سے خیروشر کی معرفت حاصل کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کو ’’ذکر‘‘ کے ساتھ اس لیے مختص کیا ہے کیونکہ صرف وہی اس سے علم و عمل میں فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
[49] پھر اللہ تعالیٰ نے ’’متقین‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ ﴾ یعنی اپنے تنہائی کے اوقات میں جب لوگ ان کو دیکھ نہیں رہے ہوتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور جب ایسا ہے تو لوگوں کے سامنے تو بطریق اولیٰ ڈرتے ہیں ۔ پس وہ حرام امور سے بچتے ہیں اور جو امور ان پر لازم ٹھہرا دیے گئے ان کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنَ السَّاعَةِ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ اور وہ، اپنے رب کی کامل معرفت حاصل ہونے کی بنا پر، قیامت کی گھڑی سے ڈرتے ہیں … پس انھوں نے احسان اور خوف الٰہی کو یکجا کر کے اپنے اندر سمو لیا۔ یہاں عطف، ایک ہی چیز اور ایک ہی موصوف پر وارد ہونے والی متضاد صفات پر عطف کے باب میں سے ہے۔
[50]﴿ وَهٰؔذَا ﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی قرآن کریم ﴿ ذِكۡرٌ مُّبٰرَكٌ ﴾’’ذکر ہے مبارک۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو دو جلیل القدر اوصاف سے موسوم کیا ہے۔(۱)قرآن حکیم ’’ذکر‘‘ ہے۔ تمام مطالب میں قرآن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال، اس کے انبیاء و اولیاء کی صفات اور احکام جزا، جنت اور جہنم کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اس لیے بھی ’’ذکر‘‘ کہا ہے کہ قرآن… اخبار صادقہ کی تصدیق، ان امور کا حکم دینا جو عقلاً حسن ہیں اور ان امور سے روکنا جو عقلاً قبیح ہیں ، جیسی صفات کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی عقل و فطرت میں ودیعت کر رکھی ہیں ان کی یاد دہانی کراتا ہے۔(۲) قرآن کریم کا ’’مبارک‘‘ (یعنی بابرکت) ہونا اس میں بھلائی کی کثرت، بھلائی کی نشوونما اور اس میں اضافے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس قرآن حکیم سے بڑھ کر کوئی چیز بابرکت نہیں کیونکہ ہر بھلائی، ہر نعمت، دینی، دنیاوی اور اخروی امور میں ہر اضافہ اسی کے سبب سے ہے اور اس پر عمل کے آثار ہیں ۔ جب ’’ذکر‘‘ بابرکت ہو تو اس کو قبول کرنا، اس کی اطاعت کرنا اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا واجب ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی اس جلیل القدر نعمت کا شکر ادا ہو،اس کو قائم کیا جا سکے اور اس کے الفاظ و معانی کو سیکھ کر اس سے برکت حاصل کی جائے اور اس رویے سے متضاد رویہ، یعنی اس سے روگردانی کرنا، اسے درخور اعتنانہ سمجھنا، اس کا انکار کرنا اور اس پر ایمان نہ لانا سب سے بڑا کفر، شدید ترین جہالت اور سخت ظلم ہے، اس لیے جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر نکیر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَاَنۡتُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو۔
الأنبياء 21:49
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی (کتاب) اور روشنی اور ذکر (نصیحت) پرہیز گاروں کے لیے (48) وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھےاور وہ قیامت سے بھی ڈرنے والے ہیں (49) اور یہ (قرآن) ذکر ہے، برکت والا ہے، ہم نے نازل کیا ہے اسے، کیا پس تم اس کے منکر ہو؟ (50)
[48] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت کثرت سے ان دو جلیل القدر کتابوں کا اکٹھا ذکر کیا ہے ان دونوں سے افضل، ذکر میں ان سے بڑی، ان سے زیادہ بابرکت اور ہدایت و بیان کے لیے زیادہ عظیم کوئی اور کتاب دنیا میں نازل نہیں ہوئی اور وہ ہیں تورات اور قرآن کریم، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰu کو اصلاً اور حضرت ہارونu کو تبعاً تورات عطا فرمائی ﴿ الۡفُرۡقَانَ ﴾ جو حق اور باطل کے درمیان اور ہدایت اور گمراہی کے درمیان فرق کرتی ہے ﴿وَضِيَآءً ﴾نور ہے جس سے راہنمائی کے خواہشمند راہنمائی حاصل کرتے ہیں ، اہل سلوک اس کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس سے احکام کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے حلال و حرام کی پہچان حاصل ہوتی ہے، وہ جہالت، گمراہی اور بدعات کی تاریکیوں میں روشنی عطا کرتی ہے۔﴿ وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’اور نصیحت ہے متقین کے لیے۔‘‘ یعنی اہل تقویٰ کے ذریعے سے نصیحت پکڑتے ہیں کہ کون سے امور ان کو فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس کے ذریعے سے خیروشر کی معرفت حاصل کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کو ’’ذکر‘‘ کے ساتھ اس لیے مختص کیا ہے کیونکہ صرف وہی اس سے علم و عمل میں فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
[49] پھر اللہ تعالیٰ نے ’’متقین‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ ﴾ یعنی اپنے تنہائی کے اوقات میں جب لوگ ان کو دیکھ نہیں رہے ہوتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور جب ایسا ہے تو لوگوں کے سامنے تو بطریق اولیٰ ڈرتے ہیں ۔ پس وہ حرام امور سے بچتے ہیں اور جو امور ان پر لازم ٹھہرا دیے گئے ان کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنَ السَّاعَةِ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ اور وہ، اپنے رب کی کامل معرفت حاصل ہونے کی بنا پر، قیامت کی گھڑی سے ڈرتے ہیں … پس انھوں نے احسان اور خوف الٰہی کو یکجا کر کے اپنے اندر سمو لیا۔ یہاں عطف، ایک ہی چیز اور ایک ہی موصوف پر وارد ہونے والی متضاد صفات پر عطف کے باب میں سے ہے۔
[50]﴿ وَهٰؔذَا ﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی قرآن کریم ﴿ ذِكۡرٌ مُّبٰرَكٌ ﴾’’ذکر ہے مبارک۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو دو جلیل القدر اوصاف سے موسوم کیا ہے۔(۱)قرآن حکیم ’’ذکر‘‘ ہے۔ تمام مطالب میں قرآن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال، اس کے انبیاء و اولیاء کی صفات اور احکام جزا، جنت اور جہنم کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اس لیے بھی ’’ذکر‘‘ کہا ہے کہ قرآن… اخبار صادقہ کی تصدیق، ان امور کا حکم دینا جو عقلاً حسن ہیں اور ان امور سے روکنا جو عقلاً قبیح ہیں ، جیسی صفات کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی عقل و فطرت میں ودیعت کر رکھی ہیں ان کی یاد دہانی کراتا ہے۔(۲) قرآن کریم کا ’’مبارک‘‘ (یعنی بابرکت) ہونا اس میں بھلائی کی کثرت، بھلائی کی نشوونما اور اس میں اضافے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس قرآن حکیم سے بڑھ کر کوئی چیز بابرکت نہیں کیونکہ ہر بھلائی، ہر نعمت، دینی، دنیاوی اور اخروی امور میں ہر اضافہ اسی کے سبب سے ہے اور اس پر عمل کے آثار ہیں ۔ جب ’’ذکر‘‘ بابرکت ہو تو اس کو قبول کرنا، اس کی اطاعت کرنا اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا واجب ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی اس جلیل القدر نعمت کا شکر ادا ہو،اس کو قائم کیا جا سکے اور اس کے الفاظ و معانی کو سیکھ کر اس سے برکت حاصل کی جائے اور اس رویے سے متضاد رویہ، یعنی اس سے روگردانی کرنا، اسے درخور اعتنانہ سمجھنا، اس کا انکار کرنا اور اس پر ایمان نہ لانا سب سے بڑا کفر، شدید ترین جہالت اور سخت ظلم ہے، اس لیے جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر نکیر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَاَنۡتُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو۔
الأنبياء 21:50
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی (کتاب) اور روشنی اور ذکر (نصیحت) پرہیز گاروں کے لیے (48) وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھےاور وہ قیامت سے بھی ڈرنے والے ہیں (49) اور یہ (قرآن) ذکر ہے، برکت والا ہے، ہم نے نازل کیا ہے اسے، کیا پس تم اس کے منکر ہو؟ (50)
[48] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت کثرت سے ان دو جلیل القدر کتابوں کا اکٹھا ذکر کیا ہے ان دونوں سے افضل، ذکر میں ان سے بڑی، ان سے زیادہ بابرکت اور ہدایت و بیان کے لیے زیادہ عظیم کوئی اور کتاب دنیا میں نازل نہیں ہوئی اور وہ ہیں تورات اور قرآن کریم، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰu کو اصلاً اور حضرت ہارونu کو تبعاً تورات عطا فرمائی ﴿ الۡفُرۡقَانَ ﴾ جو حق اور باطل کے درمیان اور ہدایت اور گمراہی کے درمیان فرق کرتی ہے ﴿وَضِيَآءً ﴾نور ہے جس سے راہنمائی کے خواہشمند راہنمائی حاصل کرتے ہیں ، اہل سلوک اس کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس سے احکام کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے حلال و حرام کی پہچان حاصل ہوتی ہے، وہ جہالت، گمراہی اور بدعات کی تاریکیوں میں روشنی عطا کرتی ہے۔﴿ وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’اور نصیحت ہے متقین کے لیے۔‘‘ یعنی اہل تقویٰ کے ذریعے سے نصیحت پکڑتے ہیں کہ کون سے امور ان کو فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس کے ذریعے سے خیروشر کی معرفت حاصل کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کو ’’ذکر‘‘ کے ساتھ اس لیے مختص کیا ہے کیونکہ صرف وہی اس سے علم و عمل میں فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
[49] پھر اللہ تعالیٰ نے ’’متقین‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ ﴾ یعنی اپنے تنہائی کے اوقات میں جب لوگ ان کو دیکھ نہیں رہے ہوتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور جب ایسا ہے تو لوگوں کے سامنے تو بطریق اولیٰ ڈرتے ہیں ۔ پس وہ حرام امور سے بچتے ہیں اور جو امور ان پر لازم ٹھہرا دیے گئے ان کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنَ السَّاعَةِ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ اور وہ، اپنے رب کی کامل معرفت حاصل ہونے کی بنا پر، قیامت کی گھڑی سے ڈرتے ہیں … پس انھوں نے احسان اور خوف الٰہی کو یکجا کر کے اپنے اندر سمو لیا۔ یہاں عطف، ایک ہی چیز اور ایک ہی موصوف پر وارد ہونے والی متضاد صفات پر عطف کے باب میں سے ہے۔
[50]﴿ وَهٰؔذَا ﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی قرآن کریم ﴿ ذِكۡرٌ مُّبٰرَكٌ ﴾’’ذکر ہے مبارک۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو دو جلیل القدر اوصاف سے موسوم کیا ہے۔(۱)قرآن حکیم ’’ذکر‘‘ ہے۔ تمام مطالب میں قرآن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال، اس کے انبیاء و اولیاء کی صفات اور احکام جزا، جنت اور جہنم کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اس لیے بھی ’’ذکر‘‘ کہا ہے کہ قرآن… اخبار صادقہ کی تصدیق، ان امور کا حکم دینا جو عقلاً حسن ہیں اور ان امور سے روکنا جو عقلاً قبیح ہیں ، جیسی صفات کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی عقل و فطرت میں ودیعت کر رکھی ہیں ان کی یاد دہانی کراتا ہے۔(۲) قرآن کریم کا ’’مبارک‘‘ (یعنی بابرکت) ہونا اس میں بھلائی کی کثرت، بھلائی کی نشوونما اور اس میں اضافے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس قرآن حکیم سے بڑھ کر کوئی چیز بابرکت نہیں کیونکہ ہر بھلائی، ہر نعمت، دینی، دنیاوی اور اخروی امور میں ہر اضافہ اسی کے سبب سے ہے اور اس پر عمل کے آثار ہیں ۔ جب ’’ذکر‘‘ بابرکت ہو تو اس کو قبول کرنا، اس کی اطاعت کرنا اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا واجب ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی اس جلیل القدر نعمت کا شکر ادا ہو،اس کو قائم کیا جا سکے اور اس کے الفاظ و معانی کو سیکھ کر اس سے برکت حاصل کی جائے اور اس رویے سے متضاد رویہ، یعنی اس سے روگردانی کرنا، اسے درخور اعتنانہ سمجھنا، اس کا انکار کرنا اور اس پر ایمان نہ لانا سب سے بڑا کفر، شدید ترین جہالت اور سخت ظلم ہے، اس لیے جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر نکیر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَاَنۡتُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو۔
الأنبياء 21:51
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
الأنبياء 21:52
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
الأنبياء 21:53
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
الأنبياء 21:54
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
الأنبياء 21:55
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
الأنبياء 21:56
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
الأنبياء 21:57
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
الأنبياء 21:58
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
الأنبياء 21:59
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
الأنبياء 21:60
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
الأنبياء 21:61
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
الأنبياء 21:62
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
الأنبياء 21:63
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔