Tafsir As-Saadi - Urdu — الشعراء 26:124 – الشعراء 26:193
Contents
- الشعراء 26:124
- الشعراء 26:125
- الشعراء 26:126
- الشعراء 26:127
- الشعراء 26:128
- الشعراء 26:129
- الشعراء 26:130
- الشعراء 26:131
- الشعراء 26:132
- الشعراء 26:133
- الشعراء 26:134
- الشعراء 26:135
- الشعراء 26:136
- الشعراء 26:137
- الشعراء 26:138
- الشعراء 26:139
- الشعراء 26:140
- الشعراء 26:141
- الشعراء 26:142
- الشعراء 26:143
- الشعراء 26:144
- الشعراء 26:145
- الشعراء 26:146
- الشعراء 26:147
- الشعراء 26:148
- الشعراء 26:149
- الشعراء 26:150
- الشعراء 26:151
- الشعراء 26:152
- الشعراء 26:153
- الشعراء 26:154
- الشعراء 26:155
- الشعراء 26:156
- الشعراء 26:157
- الشعراء 26:158
- الشعراء 26:159
- الشعراء 26:160
- الشعراء 26:161
- الشعراء 26:162
- الشعراء 26:163
- الشعراء 26:164
- الشعراء 26:165
- الشعراء 26:166
- الشعراء 26:167
- الشعراء 26:168
- الشعراء 26:169
- الشعراء 26:170
- الشعراء 26:171
- الشعراء 26:172
- الشعراء 26:173
- الشعراء 26:174
- الشعراء 26:175
- الشعراء 26:176
- الشعراء 26:177
- الشعراء 26:178
- الشعراء 26:179
- الشعراء 26:180
- الشعراء 26:181
- الشعراء 26:182
- الشعراء 26:183
- الشعراء 26:184
- الشعراء 26:185
- الشعراء 26:186
- الشعراء 26:187
- الشعراء 26:188
- الشعراء 26:189
- الشعراء 26:190
- الشعراء 26:191
- الشعراء 26:192
- الشعراء 26:193
الشعراء 26:124
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:125
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:126
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:127
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:128
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:129
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:130
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:131
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:132
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:133
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:134
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:135
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:136
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:137
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:138
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:139
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:140
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
الشعراء 26:141
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:142
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:143
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:144
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:145
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:146
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:147
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:148
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:149
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:150
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:151
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:152
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:153
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:154
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:155
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:156
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:157
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:158
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:159
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
الشعراء 26:160
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:161
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:162
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:163
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:164
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:165
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:166
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:167
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:168
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:169
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:170
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:171
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:172
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:173
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:174
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:175
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
الشعراء 26:176
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:177
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:178
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:179
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:180
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:181
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:182
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:183
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:184
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:185
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:186
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:187
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:188
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:189
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:190
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:191
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
الشعراء 26:192
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
الشعراء 26:193
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔