Tafsir As-Saadi - Urdu — الشعراء 26:194 – النمل 27:20
Contents
- الشعراء 26:194
- الشعراء 26:195
- الشعراء 26:196
- الشعراء 26:197
- الشعراء 26:198
- الشعراء 26:199
- الشعراء 26:200
- الشعراء 26:201
- الشعراء 26:202
- الشعراء 26:203
- الشعراء 26:204
- الشعراء 26:205
- الشعراء 26:206
- الشعراء 26:207
- الشعراء 26:208
- الشعراء 26:209
- الشعراء 26:210
- الشعراء 26:211
- الشعراء 26:212
- الشعراء 26:213
- الشعراء 26:214
- الشعراء 26:215
- الشعراء 26:216
- الشعراء 26:217
- الشعراء 26:218
- الشعراء 26:219
- الشعراء 26:220
- الشعراء 26:221
- الشعراء 26:222
- الشعراء 26:223
- الشعراء 26:224
- الشعراء 26:225
- الشعراء 26:226
- الشعراء 26:227
- النمل 27:1
- النمل 27:2
- النمل 27:3
- النمل 27:4
- النمل 27:5
- النمل 27:6
- النمل 27:7
- النمل 27:8
- النمل 27:9
- النمل 27:10
- النمل 27:11
- النمل 27:12
- النمل 27:13
- النمل 27:14
- النمل 27:15
- النمل 27:16
- النمل 27:17
- النمل 27:18
- النمل 27:19
- النمل 27:20
الشعراء 26:194
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
الشعراء 26:195
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
الشعراء 26:196
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
الشعراء 26:197
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
الشعراء 26:198
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
الشعراء 26:199
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
الشعراء 26:200
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
الشعراء 26:201
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
الشعراء 26:202
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
الشعراء 26:203
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
الشعراء 26:204
کیا پس ہمارا عذاب وہ (لوگ) جلدی طلب کرتے ہیں ؟ (204) کیا پس دیکھا آپ نے اگر فائدہ دیں ہم ان کو کئی سال (205) پھر آجائے ان کے پاس وہ (عذاب) جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (206) تو نہیں کفایت کریں گی ان سے وہ چیزیں جن سے تھے وہ فائدہ پہنچائے جاتے (207)
[204] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَفَبِعَذَابِنَا۠ ﴾ ’’کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے۔‘‘ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جا سکتا ہے نہ حقیر جانا جا سکتا ہے ﴿ يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ ’’جلدی مچاتے ہیں ؟‘‘ کس چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے؟ جب یہ عذاب نازل ہو جائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں … یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے؟
[207-205]﴿ اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَ﴾ ’’بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہیں ۔‘‘ یعنی کیا آپ نے کچھ غورکیا کہ اگر ہم ان پر جلدی عذاب نازل نہ کریں اور ان کو چند سالوں کے لیے مہلت دے دیں اور یہ دنیا سے فائدہ اٹھائیں ﴿ ثُمَّ جَآءَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پھر ان پر وہ واقع ہوجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی عذاب کا۔ ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُمَتَّعُوۡنَ﴾ ’’جن (لذات و شہوات) سے وہ متمتع ہوتے تھے، وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی کون سی چیز ان کے کام آ سکتی اور انھیں کوئی فائدہ دے سکتی ہے؟ دراں حالیکہ لذتیں باطل اور مضمحل ہو کر ختم ہو گئیں اور اپنے پیچھے برے اثرات چھوڑ گئیں اور انھیں طویل مدت تک کئی گنا عذاب دیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ وہ وقوع عذاب اور اس کے مستحق ہونے سے بچیں اور رہا عذاب کا جلدی نازل ہونا یا اس کے نزول میں تاخیر ہونا تو اس کے تحت کوئی اہمیت ہے نہ اس کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ۔
الشعراء 26:205
کیا پس ہمارا عذاب وہ (لوگ) جلدی طلب کرتے ہیں ؟ (204) کیا پس دیکھا آپ نے اگر فائدہ دیں ہم ان کو کئی سال (205) پھر آجائے ان کے پاس وہ (عذاب) جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (206) تو نہیں کفایت کریں گی ان سے وہ چیزیں جن سے تھے وہ فائدہ پہنچائے جاتے (207)
[204] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَفَبِعَذَابِنَا۠ ﴾ ’’کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے۔‘‘ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جا سکتا ہے نہ حقیر جانا جا سکتا ہے ﴿ يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ ’’جلدی مچاتے ہیں ؟‘‘ کس چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے؟ جب یہ عذاب نازل ہو جائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں … یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے؟
[207-205]﴿ اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَ﴾ ’’بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہیں ۔‘‘ یعنی کیا آپ نے کچھ غورکیا کہ اگر ہم ان پر جلدی عذاب نازل نہ کریں اور ان کو چند سالوں کے لیے مہلت دے دیں اور یہ دنیا سے فائدہ اٹھائیں ﴿ ثُمَّ جَآءَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پھر ان پر وہ واقع ہوجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی عذاب کا۔ ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُمَتَّعُوۡنَ﴾ ’’جن (لذات و شہوات) سے وہ متمتع ہوتے تھے، وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی کون سی چیز ان کے کام آ سکتی اور انھیں کوئی فائدہ دے سکتی ہے؟ دراں حالیکہ لذتیں باطل اور مضمحل ہو کر ختم ہو گئیں اور اپنے پیچھے برے اثرات چھوڑ گئیں اور انھیں طویل مدت تک کئی گنا عذاب دیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ وہ وقوع عذاب اور اس کے مستحق ہونے سے بچیں اور رہا عذاب کا جلدی نازل ہونا یا اس کے نزول میں تاخیر ہونا تو اس کے تحت کوئی اہمیت ہے نہ اس کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ۔
الشعراء 26:206
کیا پس ہمارا عذاب وہ (لوگ) جلدی طلب کرتے ہیں ؟ (204) کیا پس دیکھا آپ نے اگر فائدہ دیں ہم ان کو کئی سال (205) پھر آجائے ان کے پاس وہ (عذاب) جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (206) تو نہیں کفایت کریں گی ان سے وہ چیزیں جن سے تھے وہ فائدہ پہنچائے جاتے (207)
[204] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَفَبِعَذَابِنَا۠ ﴾ ’’کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے۔‘‘ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جا سکتا ہے نہ حقیر جانا جا سکتا ہے ﴿ يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ ’’جلدی مچاتے ہیں ؟‘‘ کس چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے؟ جب یہ عذاب نازل ہو جائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں … یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے؟
[207-205]﴿ اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَ﴾ ’’بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہیں ۔‘‘ یعنی کیا آپ نے کچھ غورکیا کہ اگر ہم ان پر جلدی عذاب نازل نہ کریں اور ان کو چند سالوں کے لیے مہلت دے دیں اور یہ دنیا سے فائدہ اٹھائیں ﴿ ثُمَّ جَآءَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پھر ان پر وہ واقع ہوجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی عذاب کا۔ ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُمَتَّعُوۡنَ﴾ ’’جن (لذات و شہوات) سے وہ متمتع ہوتے تھے، وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی کون سی چیز ان کے کام آ سکتی اور انھیں کوئی فائدہ دے سکتی ہے؟ دراں حالیکہ لذتیں باطل اور مضمحل ہو کر ختم ہو گئیں اور اپنے پیچھے برے اثرات چھوڑ گئیں اور انھیں طویل مدت تک کئی گنا عذاب دیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ وہ وقوع عذاب اور اس کے مستحق ہونے سے بچیں اور رہا عذاب کا جلدی نازل ہونا یا اس کے نزول میں تاخیر ہونا تو اس کے تحت کوئی اہمیت ہے نہ اس کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ۔
الشعراء 26:207
کیا پس ہمارا عذاب وہ (لوگ) جلدی طلب کرتے ہیں ؟ (204) کیا پس دیکھا آپ نے اگر فائدہ دیں ہم ان کو کئی سال (205) پھر آجائے ان کے پاس وہ (عذاب) جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (206) تو نہیں کفایت کریں گی ان سے وہ چیزیں جن سے تھے وہ فائدہ پہنچائے جاتے (207)
[204] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَفَبِعَذَابِنَا۠ ﴾ ’’کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے۔‘‘ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جا سکتا ہے نہ حقیر جانا جا سکتا ہے ﴿ يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ ’’جلدی مچاتے ہیں ؟‘‘ کس چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے؟ جب یہ عذاب نازل ہو جائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں … یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے؟
[207-205]﴿ اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَ﴾ ’’بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہیں ۔‘‘ یعنی کیا آپ نے کچھ غورکیا کہ اگر ہم ان پر جلدی عذاب نازل نہ کریں اور ان کو چند سالوں کے لیے مہلت دے دیں اور یہ دنیا سے فائدہ اٹھائیں ﴿ ثُمَّ جَآءَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پھر ان پر وہ واقع ہوجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی عذاب کا۔ ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُمَتَّعُوۡنَ﴾ ’’جن (لذات و شہوات) سے وہ متمتع ہوتے تھے، وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی کون سی چیز ان کے کام آ سکتی اور انھیں کوئی فائدہ دے سکتی ہے؟ دراں حالیکہ لذتیں باطل اور مضمحل ہو کر ختم ہو گئیں اور اپنے پیچھے برے اثرات چھوڑ گئیں اور انھیں طویل مدت تک کئی گنا عذاب دیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ وہ وقوع عذاب اور اس کے مستحق ہونے سے بچیں اور رہا عذاب کا جلدی نازل ہونا یا اس کے نزول میں تاخیر ہونا تو اس کے تحت کوئی اہمیت ہے نہ اس کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ۔
الشعراء 26:208
اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس کے لیے تھے ڈرانے والے (208) یاد دہانی کے لیےاورنہیں ہیں ہم ظلم کرنے والے (209) اور نہیں لے کر اترے اس (قرآن) کو شیاطین (210)اور نہیں لائق ان کے لیے اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (211) بلاشبہ وہ تو اس کے سننے سے بھی البتہ دوررکھے گئے ہیں (212)
[209,208] اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نازل نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انھیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں ، انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ، انھیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں ، وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں ۔ ﴿ذِكۡرٰى ﴾ ’’نصیحت‘‘ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لیے یاددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ۔‘‘ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کر دیں ، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انھیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍15) ’’اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے ایک رسول نہ بھیج دیں ۔‘‘ ﴿ رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ﴾(النساء:4؍165) ’’تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘
[212-210] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم کا کمال اور اس کی جلالت بیان کرتے ہوئے اسے ہر صفت نقص سے منزہ قرار دیا نیز واضح کر دیا کہ وہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت اور اس کے بعد شیاطین جن و انس سے اس کی حفاظت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ وَ مَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل ہوئے ہیں نہ یہ ان کے لائق ہی ہے۔‘‘ یعنی یہ چیز ان کے حال کے لائق ہے نہ ان سے کوئی مناسبت رکھتی ہے ﴿ وَمَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠﴾ ’’اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔‘‘ ﴿اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ۠﴾ ’’وہ (آسمانی باتوں کے) سننے سے الگ کر دیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس سے دور کر دیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی خاطر شیاطین کے لیے شہاب ثاقب تیار كيے گئے ہیں ۔ اس قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوتا ہے جو سب سے طاقتور فرشتہ ہے شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اس کے اردگرد منڈلا سکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾(الحجر:15؍9) ’’ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘
الشعراء 26:209
اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس کے لیے تھے ڈرانے والے (208) یاد دہانی کے لیےاورنہیں ہیں ہم ظلم کرنے والے (209) اور نہیں لے کر اترے اس (قرآن) کو شیاطین (210)اور نہیں لائق ان کے لیے اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (211) بلاشبہ وہ تو اس کے سننے سے بھی البتہ دوررکھے گئے ہیں (212)
[209,208] اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نازل نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انھیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں ، انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ، انھیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں ، وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں ۔ ﴿ذِكۡرٰى ﴾ ’’نصیحت‘‘ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لیے یاددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ۔‘‘ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کر دیں ، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انھیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍15) ’’اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے ایک رسول نہ بھیج دیں ۔‘‘ ﴿ رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ﴾(النساء:4؍165) ’’تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘
[212-210] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم کا کمال اور اس کی جلالت بیان کرتے ہوئے اسے ہر صفت نقص سے منزہ قرار دیا نیز واضح کر دیا کہ وہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت اور اس کے بعد شیاطین جن و انس سے اس کی حفاظت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ وَ مَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل ہوئے ہیں نہ یہ ان کے لائق ہی ہے۔‘‘ یعنی یہ چیز ان کے حال کے لائق ہے نہ ان سے کوئی مناسبت رکھتی ہے ﴿ وَمَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠﴾ ’’اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔‘‘ ﴿اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ۠﴾ ’’وہ (آسمانی باتوں کے) سننے سے الگ کر دیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس سے دور کر دیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی خاطر شیاطین کے لیے شہاب ثاقب تیار كيے گئے ہیں ۔ اس قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوتا ہے جو سب سے طاقتور فرشتہ ہے شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اس کے اردگرد منڈلا سکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾(الحجر:15؍9) ’’ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘
الشعراء 26:210
اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس کے لیے تھے ڈرانے والے (208) یاد دہانی کے لیےاورنہیں ہیں ہم ظلم کرنے والے (209) اور نہیں لے کر اترے اس (قرآن) کو شیاطین (210)اور نہیں لائق ان کے لیے اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (211) بلاشبہ وہ تو اس کے سننے سے بھی البتہ دوررکھے گئے ہیں (212)
[209,208] اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نازل نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انھیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں ، انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ، انھیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں ، وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں ۔ ﴿ذِكۡرٰى ﴾ ’’نصیحت‘‘ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لیے یاددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ۔‘‘ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کر دیں ، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انھیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍15) ’’اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے ایک رسول نہ بھیج دیں ۔‘‘ ﴿ رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ﴾(النساء:4؍165) ’’تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘
[212-210] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم کا کمال اور اس کی جلالت بیان کرتے ہوئے اسے ہر صفت نقص سے منزہ قرار دیا نیز واضح کر دیا کہ وہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت اور اس کے بعد شیاطین جن و انس سے اس کی حفاظت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ وَ مَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل ہوئے ہیں نہ یہ ان کے لائق ہی ہے۔‘‘ یعنی یہ چیز ان کے حال کے لائق ہے نہ ان سے کوئی مناسبت رکھتی ہے ﴿ وَمَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠﴾ ’’اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔‘‘ ﴿اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ۠﴾ ’’وہ (آسمانی باتوں کے) سننے سے الگ کر دیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس سے دور کر دیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی خاطر شیاطین کے لیے شہاب ثاقب تیار كيے گئے ہیں ۔ اس قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوتا ہے جو سب سے طاقتور فرشتہ ہے شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اس کے اردگرد منڈلا سکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾(الحجر:15؍9) ’’ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘
الشعراء 26:211
اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس کے لیے تھے ڈرانے والے (208) یاد دہانی کے لیےاورنہیں ہیں ہم ظلم کرنے والے (209) اور نہیں لے کر اترے اس (قرآن) کو شیاطین (210)اور نہیں لائق ان کے لیے اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (211) بلاشبہ وہ تو اس کے سننے سے بھی البتہ دوررکھے گئے ہیں (212)
[209,208] اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نازل نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انھیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں ، انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ، انھیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں ، وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں ۔ ﴿ذِكۡرٰى ﴾ ’’نصیحت‘‘ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لیے یاددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ۔‘‘ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کر دیں ، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انھیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍15) ’’اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے ایک رسول نہ بھیج دیں ۔‘‘ ﴿ رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ﴾(النساء:4؍165) ’’تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘
[212-210] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم کا کمال اور اس کی جلالت بیان کرتے ہوئے اسے ہر صفت نقص سے منزہ قرار دیا نیز واضح کر دیا کہ وہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت اور اس کے بعد شیاطین جن و انس سے اس کی حفاظت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ وَ مَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل ہوئے ہیں نہ یہ ان کے لائق ہی ہے۔‘‘ یعنی یہ چیز ان کے حال کے لائق ہے نہ ان سے کوئی مناسبت رکھتی ہے ﴿ وَمَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠﴾ ’’اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔‘‘ ﴿اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ۠﴾ ’’وہ (آسمانی باتوں کے) سننے سے الگ کر دیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس سے دور کر دیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی خاطر شیاطین کے لیے شہاب ثاقب تیار كيے گئے ہیں ۔ اس قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوتا ہے جو سب سے طاقتور فرشتہ ہے شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اس کے اردگرد منڈلا سکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾(الحجر:15؍9) ’’ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘
الشعراء 26:212
اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس کے لیے تھے ڈرانے والے (208) یاد دہانی کے لیےاورنہیں ہیں ہم ظلم کرنے والے (209) اور نہیں لے کر اترے اس (قرآن) کو شیاطین (210)اور نہیں لائق ان کے لیے اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (211) بلاشبہ وہ تو اس کے سننے سے بھی البتہ دوررکھے گئے ہیں (212)
[209,208] اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نازل نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انھیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں ، انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ، انھیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں ، وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں ۔ ﴿ذِكۡرٰى ﴾ ’’نصیحت‘‘ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لیے یاددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ۔‘‘ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کر دیں ، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انھیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍15) ’’اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے ایک رسول نہ بھیج دیں ۔‘‘ ﴿ رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ﴾(النساء:4؍165) ’’تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘
[212-210] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم کا کمال اور اس کی جلالت بیان کرتے ہوئے اسے ہر صفت نقص سے منزہ قرار دیا نیز واضح کر دیا کہ وہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت اور اس کے بعد شیاطین جن و انس سے اس کی حفاظت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ وَ مَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل ہوئے ہیں نہ یہ ان کے لائق ہی ہے۔‘‘ یعنی یہ چیز ان کے حال کے لائق ہے نہ ان سے کوئی مناسبت رکھتی ہے ﴿ وَمَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠﴾ ’’اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔‘‘ ﴿اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ۠﴾ ’’وہ (آسمانی باتوں کے) سننے سے الگ کر دیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس سے دور کر دیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی خاطر شیاطین کے لیے شہاب ثاقب تیار كيے گئے ہیں ۔ اس قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوتا ہے جو سب سے طاقتور فرشتہ ہے شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اس کے اردگرد منڈلا سکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾(الحجر:15؍9) ’’ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘
الشعراء 26:213
پس نہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے معبود کو اور، پس ہو جائیں گے آپ (بھی) ان لوگوں میں سے جو عذاب دیے گئے (213) اور ڈرائیں آپ اپنے قبیلے سے قریبی لوگوں کو (214) اور جھکا دیجیے اپنا بازو واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے پیروی کی آپ کی مومنوں میں سے (215) پس اگر وہ نافرمانی کریں آپ کی تو کہہ دیجیے، بلاشبہ میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو (216)
[213] اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کو اصلاً اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے، اس لیے کہ غیر اللہ کو پکارنا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ:5؍72) ’’جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔‘‘ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لیے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اسی کے لیے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید صرف، اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔
[214] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں ۔‘‘ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی نہیں ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے:(أحسن الیٰ قرابتک) ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی، چنانچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کر لی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔
[215]﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان جو آپ کے متبعین ہیں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیجیے‘‘ ان کے ساتھ نہایت نرمی سے بات کیجیے ان کے ساتھ محبت و مودت، حسن اخلاق اور احسان کامل سے پیش آئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا:﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کے لیے بڑے نرم واقع ہوئے ہیں اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے چھٹ جاتے پس آپ ان کو معاف کر دیجیے، ان کے لیے مغفرت مانگیے اور اجتماعی امور میں ان سے مشاورت کر لیا کیجیے۔‘‘ رسول مصطفی ﷺ کے یہ اخلاق، کامل ترین اخلاق تھے جن کے ذریعے سے عظیم مصالح حاصل ہوتے ہیں اور بہت سے مضر امور دور ہوتے ہیں ۔ جن کا ہر روز مشاہدہ ہوتا ہے … تب کیا اس شخص کے لائق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع اور اقتدا کا دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر بوجھ بنے ، بداخلاق، سخت طبیعت، سخت دل، بدخو اور بدکلام ہو؟ اور اگر وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سوء ادب دیکھے تو ان سے ناراض ہو جائے اور ان کو چھوڑ دے تب وہ ان سے نرم برتاؤ کرے نہ اس کے ہاں ان کے لیے کوئی ادب اور کوئی توفیق ہو۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں بہت سے مفاسد حاصل اور بہت سے مصالح معطل ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے پائیں گے کہ وہ اس شخص کی تحقیر کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صفات کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کے حسن اخلاق کو نفاق اور مداہنت کا نام دیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھتا ہے اور اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل اس کی جہالت، شیطان کی تزیین اور اس کا فریب شمار ہو گا۔
[216] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ عَصَوۡكَ ﴾ اگر یہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے بیزار ہوں نہ ان سے معاملات کو ترک کریں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں اور نرمی سے پیش آئیں ، البتہ آپ ان کے برے عمل سے براء ت کا اظہار کریں ، ان کو نصیحت کریں اور ان کے ساتھ خیرخواہی سے پیش آئیں ۔ ان کو اس برے عمل سے روکنے اور اس سے توبہ کروانے کے لیے مقدور بھر کوشش کریں ۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے وہم کو رد کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ﴾ اہل ایمان سے صادر ہونے والے ہر فعل پر، جب تک وہ مومن ہیں ، رضا کا تقاضا کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
الشعراء 26:214
پس نہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے معبود کو اور، پس ہو جائیں گے آپ (بھی) ان لوگوں میں سے جو عذاب دیے گئے (213) اور ڈرائیں آپ اپنے قبیلے سے قریبی لوگوں کو (214) اور جھکا دیجیے اپنا بازو واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے پیروی کی آپ کی مومنوں میں سے (215) پس اگر وہ نافرمانی کریں آپ کی تو کہہ دیجیے، بلاشبہ میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو (216)
[213] اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کو اصلاً اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے، اس لیے کہ غیر اللہ کو پکارنا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ:5؍72) ’’جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔‘‘ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لیے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اسی کے لیے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید صرف، اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔
[214] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں ۔‘‘ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی نہیں ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے:(أحسن الیٰ قرابتک) ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی، چنانچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کر لی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔
[215]﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان جو آپ کے متبعین ہیں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیجیے‘‘ ان کے ساتھ نہایت نرمی سے بات کیجیے ان کے ساتھ محبت و مودت، حسن اخلاق اور احسان کامل سے پیش آئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا:﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کے لیے بڑے نرم واقع ہوئے ہیں اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے چھٹ جاتے پس آپ ان کو معاف کر دیجیے، ان کے لیے مغفرت مانگیے اور اجتماعی امور میں ان سے مشاورت کر لیا کیجیے۔‘‘ رسول مصطفی ﷺ کے یہ اخلاق، کامل ترین اخلاق تھے جن کے ذریعے سے عظیم مصالح حاصل ہوتے ہیں اور بہت سے مضر امور دور ہوتے ہیں ۔ جن کا ہر روز مشاہدہ ہوتا ہے … تب کیا اس شخص کے لائق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع اور اقتدا کا دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر بوجھ بنے ، بداخلاق، سخت طبیعت، سخت دل، بدخو اور بدکلام ہو؟ اور اگر وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سوء ادب دیکھے تو ان سے ناراض ہو جائے اور ان کو چھوڑ دے تب وہ ان سے نرم برتاؤ کرے نہ اس کے ہاں ان کے لیے کوئی ادب اور کوئی توفیق ہو۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں بہت سے مفاسد حاصل اور بہت سے مصالح معطل ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے پائیں گے کہ وہ اس شخص کی تحقیر کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صفات کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کے حسن اخلاق کو نفاق اور مداہنت کا نام دیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھتا ہے اور اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل اس کی جہالت، شیطان کی تزیین اور اس کا فریب شمار ہو گا۔
[216] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ عَصَوۡكَ ﴾ اگر یہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے بیزار ہوں نہ ان سے معاملات کو ترک کریں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں اور نرمی سے پیش آئیں ، البتہ آپ ان کے برے عمل سے براء ت کا اظہار کریں ، ان کو نصیحت کریں اور ان کے ساتھ خیرخواہی سے پیش آئیں ۔ ان کو اس برے عمل سے روکنے اور اس سے توبہ کروانے کے لیے مقدور بھر کوشش کریں ۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے وہم کو رد کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ﴾ اہل ایمان سے صادر ہونے والے ہر فعل پر، جب تک وہ مومن ہیں ، رضا کا تقاضا کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
الشعراء 26:215
پس نہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے معبود کو اور، پس ہو جائیں گے آپ (بھی) ان لوگوں میں سے جو عذاب دیے گئے (213) اور ڈرائیں آپ اپنے قبیلے سے قریبی لوگوں کو (214) اور جھکا دیجیے اپنا بازو واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے پیروی کی آپ کی مومنوں میں سے (215) پس اگر وہ نافرمانی کریں آپ کی تو کہہ دیجیے، بلاشبہ میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو (216)
[213] اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کو اصلاً اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے، اس لیے کہ غیر اللہ کو پکارنا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ:5؍72) ’’جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔‘‘ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لیے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اسی کے لیے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید صرف، اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔
[214] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں ۔‘‘ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی نہیں ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے:(أحسن الیٰ قرابتک) ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی، چنانچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کر لی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔
[215]﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان جو آپ کے متبعین ہیں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیجیے‘‘ ان کے ساتھ نہایت نرمی سے بات کیجیے ان کے ساتھ محبت و مودت، حسن اخلاق اور احسان کامل سے پیش آئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا:﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کے لیے بڑے نرم واقع ہوئے ہیں اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے چھٹ جاتے پس آپ ان کو معاف کر دیجیے، ان کے لیے مغفرت مانگیے اور اجتماعی امور میں ان سے مشاورت کر لیا کیجیے۔‘‘ رسول مصطفی ﷺ کے یہ اخلاق، کامل ترین اخلاق تھے جن کے ذریعے سے عظیم مصالح حاصل ہوتے ہیں اور بہت سے مضر امور دور ہوتے ہیں ۔ جن کا ہر روز مشاہدہ ہوتا ہے … تب کیا اس شخص کے لائق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع اور اقتدا کا دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر بوجھ بنے ، بداخلاق، سخت طبیعت، سخت دل، بدخو اور بدکلام ہو؟ اور اگر وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سوء ادب دیکھے تو ان سے ناراض ہو جائے اور ان کو چھوڑ دے تب وہ ان سے نرم برتاؤ کرے نہ اس کے ہاں ان کے لیے کوئی ادب اور کوئی توفیق ہو۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں بہت سے مفاسد حاصل اور بہت سے مصالح معطل ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے پائیں گے کہ وہ اس شخص کی تحقیر کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صفات کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کے حسن اخلاق کو نفاق اور مداہنت کا نام دیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھتا ہے اور اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل اس کی جہالت، شیطان کی تزیین اور اس کا فریب شمار ہو گا۔
[216] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ عَصَوۡكَ ﴾ اگر یہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے بیزار ہوں نہ ان سے معاملات کو ترک کریں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں اور نرمی سے پیش آئیں ، البتہ آپ ان کے برے عمل سے براء ت کا اظہار کریں ، ان کو نصیحت کریں اور ان کے ساتھ خیرخواہی سے پیش آئیں ۔ ان کو اس برے عمل سے روکنے اور اس سے توبہ کروانے کے لیے مقدور بھر کوشش کریں ۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے وہم کو رد کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ﴾ اہل ایمان سے صادر ہونے والے ہر فعل پر، جب تک وہ مومن ہیں ، رضا کا تقاضا کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
الشعراء 26:216
پس نہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے معبود کو اور، پس ہو جائیں گے آپ (بھی) ان لوگوں میں سے جو عذاب دیے گئے (213) اور ڈرائیں آپ اپنے قبیلے سے قریبی لوگوں کو (214) اور جھکا دیجیے اپنا بازو واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے پیروی کی آپ کی مومنوں میں سے (215) پس اگر وہ نافرمانی کریں آپ کی تو کہہ دیجیے، بلاشبہ میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو (216)
[213] اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کو اصلاً اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے، اس لیے کہ غیر اللہ کو پکارنا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ:5؍72) ’’جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔‘‘ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لیے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اسی کے لیے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید صرف، اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔
[214] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں ۔‘‘ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی نہیں ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے:(أحسن الیٰ قرابتک) ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی، چنانچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کر لی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔
[215]﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان جو آپ کے متبعین ہیں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیجیے‘‘ ان کے ساتھ نہایت نرمی سے بات کیجیے ان کے ساتھ محبت و مودت، حسن اخلاق اور احسان کامل سے پیش آئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا:﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کے لیے بڑے نرم واقع ہوئے ہیں اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے چھٹ جاتے پس آپ ان کو معاف کر دیجیے، ان کے لیے مغفرت مانگیے اور اجتماعی امور میں ان سے مشاورت کر لیا کیجیے۔‘‘ رسول مصطفی ﷺ کے یہ اخلاق، کامل ترین اخلاق تھے جن کے ذریعے سے عظیم مصالح حاصل ہوتے ہیں اور بہت سے مضر امور دور ہوتے ہیں ۔ جن کا ہر روز مشاہدہ ہوتا ہے … تب کیا اس شخص کے لائق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع اور اقتدا کا دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر بوجھ بنے ، بداخلاق، سخت طبیعت، سخت دل، بدخو اور بدکلام ہو؟ اور اگر وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سوء ادب دیکھے تو ان سے ناراض ہو جائے اور ان کو چھوڑ دے تب وہ ان سے نرم برتاؤ کرے نہ اس کے ہاں ان کے لیے کوئی ادب اور کوئی توفیق ہو۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں بہت سے مفاسد حاصل اور بہت سے مصالح معطل ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے پائیں گے کہ وہ اس شخص کی تحقیر کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صفات کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کے حسن اخلاق کو نفاق اور مداہنت کا نام دیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھتا ہے اور اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل اس کی جہالت، شیطان کی تزیین اور اس کا فریب شمار ہو گا۔
[216] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ عَصَوۡكَ ﴾ اگر یہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے بیزار ہوں نہ ان سے معاملات کو ترک کریں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں اور نرمی سے پیش آئیں ، البتہ آپ ان کے برے عمل سے براء ت کا اظہار کریں ، ان کو نصیحت کریں اور ان کے ساتھ خیرخواہی سے پیش آئیں ۔ ان کو اس برے عمل سے روکنے اور اس سے توبہ کروانے کے لیے مقدور بھر کوشش کریں ۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے وہم کو رد کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ﴾ اہل ایمان سے صادر ہونے والے ہر فعل پر، جب تک وہ مومن ہیں ، رضا کا تقاضا کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
الشعراء 26:217
اور توکل کیجیے اس پر جو غالب نہایت رحم کرنے والا ہے (217) وہ جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں (نماز کے لیے)(218) اور آپ کے ، پھرنے (اٹھنے بیٹھنے) کو سجدہ کرنے والوں میں (219) بلاشبہ وہ (اللہ) ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (220)
[217] جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسہ اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لیے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔‘‘ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لیے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس فعل کو سرانجام دیتا ہے۔
[220-218] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اعانت، اس کے قرب کے استحضار اور مقام احسان پر فائز ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ يَرٰىكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ۰۰ وَتَقَلُّبَكَ فِي السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ وہ آپ کو، اس عظیم عبادت میں ، جو نماز ہے، جب آپ قیام اور رکوع و سجود میں مصروف ہوتے ہیں ، دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ نماز فضل و شرف کی حامل ہے نیز جو کوئی استحضار کے ساتھ نماز پڑھتا ہے وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اسے خشوع و تذلل حاصل ہوتا ہے اور وہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔ نماز کی تکمیل ہی سے تمام اعمال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز ہی کے ذریعے سے دیگر تمام امور پر اللہ تعالیٰ سے اعانت طلب کی جاتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو، ان کے اختلاف، تشتت اور تنوع کے باوجود سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یعنی اس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور غائب و موجود کا احاطہ کر رکھا ہے۔ پس بندۂ مومن کا یہ استحضار اور شہود کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، وہ جو کچھ بولتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سن رہا ہے، وہ اس کے دل کے عزائم، ارادوں اور نیتوں کو خوب جانتا ہے، منزل احسان تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
الشعراء 26:218
اور توکل کیجیے اس پر جو غالب نہایت رحم کرنے والا ہے (217) وہ جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں (نماز کے لیے)(218) اور آپ کے ، پھرنے (اٹھنے بیٹھنے) کو سجدہ کرنے والوں میں (219) بلاشبہ وہ (اللہ) ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (220)
[217] جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسہ اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لیے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔‘‘ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لیے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس فعل کو سرانجام دیتا ہے۔
[220-218] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اعانت، اس کے قرب کے استحضار اور مقام احسان پر فائز ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ يَرٰىكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ۰۰ وَتَقَلُّبَكَ فِي السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ وہ آپ کو، اس عظیم عبادت میں ، جو نماز ہے، جب آپ قیام اور رکوع و سجود میں مصروف ہوتے ہیں ، دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ نماز فضل و شرف کی حامل ہے نیز جو کوئی استحضار کے ساتھ نماز پڑھتا ہے وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اسے خشوع و تذلل حاصل ہوتا ہے اور وہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔ نماز کی تکمیل ہی سے تمام اعمال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز ہی کے ذریعے سے دیگر تمام امور پر اللہ تعالیٰ سے اعانت طلب کی جاتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو، ان کے اختلاف، تشتت اور تنوع کے باوجود سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یعنی اس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور غائب و موجود کا احاطہ کر رکھا ہے۔ پس بندۂ مومن کا یہ استحضار اور شہود کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، وہ جو کچھ بولتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سن رہا ہے، وہ اس کے دل کے عزائم، ارادوں اور نیتوں کو خوب جانتا ہے، منزل احسان تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
الشعراء 26:219
اور توکل کیجیے اس پر جو غالب نہایت رحم کرنے والا ہے (217) وہ جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں (نماز کے لیے)(218) اور آپ کے ، پھرنے (اٹھنے بیٹھنے) کو سجدہ کرنے والوں میں (219) بلاشبہ وہ (اللہ) ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (220)
[217] جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسہ اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لیے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔‘‘ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لیے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس فعل کو سرانجام دیتا ہے۔
[220-218] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اعانت، اس کے قرب کے استحضار اور مقام احسان پر فائز ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ يَرٰىكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ۰۰ وَتَقَلُّبَكَ فِي السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ وہ آپ کو، اس عظیم عبادت میں ، جو نماز ہے، جب آپ قیام اور رکوع و سجود میں مصروف ہوتے ہیں ، دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ نماز فضل و شرف کی حامل ہے نیز جو کوئی استحضار کے ساتھ نماز پڑھتا ہے وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اسے خشوع و تذلل حاصل ہوتا ہے اور وہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔ نماز کی تکمیل ہی سے تمام اعمال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز ہی کے ذریعے سے دیگر تمام امور پر اللہ تعالیٰ سے اعانت طلب کی جاتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو، ان کے اختلاف، تشتت اور تنوع کے باوجود سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یعنی اس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور غائب و موجود کا احاطہ کر رکھا ہے۔ پس بندۂ مومن کا یہ استحضار اور شہود کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، وہ جو کچھ بولتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سن رہا ہے، وہ اس کے دل کے عزائم، ارادوں اور نیتوں کو خوب جانتا ہے، منزل احسان تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
الشعراء 26:220
اور توکل کیجیے اس پر جو غالب نہایت رحم کرنے والا ہے (217) وہ جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں (نماز کے لیے)(218) اور آپ کے ، پھرنے (اٹھنے بیٹھنے) کو سجدہ کرنے والوں میں (219) بلاشبہ وہ (اللہ) ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (220)
[217] جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسہ اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لیے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔‘‘ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لیے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس فعل کو سرانجام دیتا ہے۔
[220-218] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اعانت، اس کے قرب کے استحضار اور مقام احسان پر فائز ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ يَرٰىكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ۰۰ وَتَقَلُّبَكَ فِي السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ وہ آپ کو، اس عظیم عبادت میں ، جو نماز ہے، جب آپ قیام اور رکوع و سجود میں مصروف ہوتے ہیں ، دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ نماز فضل و شرف کی حامل ہے نیز جو کوئی استحضار کے ساتھ نماز پڑھتا ہے وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اسے خشوع و تذلل حاصل ہوتا ہے اور وہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔ نماز کی تکمیل ہی سے تمام اعمال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز ہی کے ذریعے سے دیگر تمام امور پر اللہ تعالیٰ سے اعانت طلب کی جاتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو، ان کے اختلاف، تشتت اور تنوع کے باوجود سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یعنی اس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور غائب و موجود کا احاطہ کر رکھا ہے۔ پس بندۂ مومن کا یہ استحضار اور شہود کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، وہ جو کچھ بولتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سن رہا ہے، وہ اس کے دل کے عزائم، ارادوں اور نیتوں کو خوب جانتا ہے، منزل احسان تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
الشعراء 26:221
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
الشعراء 26:222
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
الشعراء 26:223
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
الشعراء 26:224
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
الشعراء 26:225
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
الشعراء 26:226
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
الشعراء 26:227
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
النمل 27:1
طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔
[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔
[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
النمل 27:2
طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔
[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔
[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
النمل 27:3
طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔
[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔
[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
النمل 27:4
طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔
[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔
[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
النمل 27:5
طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔
[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔
[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
النمل 27:6
طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔
[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔
[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
النمل 27:7
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
النمل 27:8
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
النمل 27:9
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
النمل 27:10
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
النمل 27:11
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
النمل 27:12
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
النمل 27:13
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
النمل 27:14
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
النمل 27:15
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
النمل 27:16
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
النمل 27:17
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
النمل 27:18
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
النمل 27:19
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
النمل 27:20
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔