Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — الروم 30:1 – لقمان 31:34

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. الروم 30:1
  2. الروم 30:2
  3. الروم 30:3
  4. الروم 30:4
  5. الروم 30:5
  6. الروم 30:6
  7. الروم 30:7
  8. الروم 30:8
  9. الروم 30:9
  10. الروم 30:10
  11. الروم 30:11
  12. الروم 30:12
  13. الروم 30:13
  14. الروم 30:14
  15. الروم 30:15
  16. الروم 30:16
  17. الروم 30:17
  18. الروم 30:18
  19. الروم 30:19
  20. الروم 30:20
  21. الروم 30:21
  22. الروم 30:22
  23. الروم 30:23
  24. الروم 30:24
  25. الروم 30:25
  26. الروم 30:26
  27. الروم 30:27
  28. الروم 30:28
  29. الروم 30:29
  30. الروم 30:30
  31. الروم 30:31
  32. الروم 30:32
  33. الروم 30:33
  34. الروم 30:34
  35. الروم 30:35
  36. الروم 30:36
  37. الروم 30:37
  38. الروم 30:38
  39. الروم 30:39
  40. الروم 30:40
  41. الروم 30:41
  42. الروم 30:42
  43. الروم 30:43
  44. الروم 30:44
  45. الروم 30:45
  46. الروم 30:46
  47. الروم 30:47
  48. الروم 30:48
  49. الروم 30:49
  50. الروم 30:50
  51. الروم 30:51
  52. الروم 30:52
  53. الروم 30:53
  54. الروم 30:54
  55. الروم 30:55
  56. الروم 30:56
  57. الروم 30:57
  58. الروم 30:58
  59. الروم 30:59
  60. الروم 30:60
  61. لقمان 31:1
  62. لقمان 31:2
  63. لقمان 31:3
  64. لقمان 31:4
  65. لقمان 31:5
  66. لقمان 31:6
  67. لقمان 31:7
  68. لقمان 31:8
  69. لقمان 31:9
  70. لقمان 31:10
  71. لقمان 31:11
  72. لقمان 31:12
  73. لقمان 31:13
  74. لقمان 31:14
  75. لقمان 31:15
  76. لقمان 31:16
  77. لقمان 31:17
  78. لقمان 31:18
  79. لقمان 31:19
  80. لقمان 31:20
  81. لقمان 31:21
  82. لقمان 31:22
  83. لقمان 31:23
  84. لقمان 31:24
  85. لقمان 31:25
  86. لقمان 31:26
  87. لقمان 31:27
  88. لقمان 31:28
  89. لقمان 31:29
  90. لقمان 31:30
  91. لقمان 31:31
  92. لقمان 31:32
  93. لقمان 31:33
  94. لقمان 31:34

الروم 30:1

الٓمّٓ(1)مغلوب ہو گئے رومی(2) قریب ترین زمین (شام وغیرہ) میں، اور وہ بعد اپنے مغلوب ہونے کے عنقریب غالب ہوں گے(3) چند سالوں میں، اللہ ہی کے لیے ہے اختیار پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس (غلبے کے) دن خوش ہوں گے مومن(4) اللہ کی مدد سے، وہ مدد دیتاہے جسے چاہتا ہے، اور وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(5) وعدہ ہے اللہ کا،نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدے کے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(6) وہ جانتے ہیں ظاہر کو زندگانی دنیا سے، اور وہ آخرت سے وہ غافل ہیں(7) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1]اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انھیں مکمل فتح حاصل نہ ہوئی بلکہ ایران سے ملحق بعض رومی علاقے ایرانیوں کے قبضہ میں آ گئے اس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمان اس فتح پر بہت رنجیدہ ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا بلکہ ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ عنقریب رومی اہل فارس پر فتح حاصل کریں گے۔﴿فِيۡ بِضۡعِ سِنِيۡنَ ﴾’’چند سالوں میں۔‘‘ تقریباً آٹھ نو سال کی مدت میں جو دس سال سے زیادہ اور تین سال سے کم نہ ہو گی۔ یہ رومیوں پر ایرانیوں کی فتح اور پھر ایرانیوں پر رومیوں کا غلبہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قضاوقدر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿لِلّٰهِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۢۡ بَعۡدُ ﴾ ’’اس (شکست) سے پہلے بھی اللہ ہی کا حکم چلتا تھا اور بعد میں بھی اسی کا چلے گا۔‘‘ یعنی غلبہ اور فتح و نصرت مجرد و جود اسباب پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے قضاوقدر کا مقرون ہونا ضروری ہے۔ ﴿وَيَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اور اس روز‘‘ یعنی جس روز رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتح حاصل ہو گی اور ان پر غالب آئیں گے ﴿يَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِنَصۡرِ اللّٰهِ١ؕ يَنۡصُرُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اہل ایمان خوش ہو رہے ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان ایرانیوں کے خلاف رومیوں کی فتح پر خوش ہو رہے ہوں گے... اگرچہ دونوں قومیں کافر تھیں تاہم کچھ برائیاں بعض دیگر برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں... اور اس روز مشرکین سوگ منا رہے ہوں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جو عزت و غلبہ کی مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت سے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾ اپنے مومن بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اس نے ان کے لیے بے حدو حساب اسباب فراہم کیے جو ان کو سعادت مند بناتے اور فتح و نصرت سے ہم کنار کرتے ہیں۔ [6]﴿وَعۡدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ﴾ ’’یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘ پس تم اس وعدے پر یقین رکھو، اسے حتمی سمجھو اور جان لو کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا۔ جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، جن میں اس وعدہ کا ذکر ہے، تو اس وعدے کی مسلمانوں نے تصدیق کی مگر مشرکین نے اس کو نہ مانا حتیٰ کہ بعض مسلمانوں اور بعض کفار نے اس پر شرط لگا لی اور کچھ سالوں کی مدت مقر کر لی۔ جب وہ مدت آئی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی تھی تو رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونے لگیں۔ رومیوں نے ایرانی افواج کو ان تمام علاقوں سے نکال باہر کیا جو انھوں نے رومیوں سے چھینے تھے اور یوں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو گیا۔اس کا تعلق امور غیبیہ سے ہے جن کے متعلق ان کے وقوع سے قبل اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر آگاہ فرما دیا تھا اور یہ پیش گوئی انھی مسلمانوں اور کافروں کے دور میں وقوع پذیر ہوئی جن کے دور میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ بنابریں ان میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اللہ کے وعدے کو سچ نہیں مانتا اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔ [7] یہ وہ لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے یعنی جو اشیاء کے اسرار نہاں اور ان کے عواقب کو نہیں جانتے۔﴿يَعۡلَمُوۡنَ ظَاهِرًا مِّنَ الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾’’وہ تو صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ یہ لوگ صرف اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے پر حتمی یقین رکھتے ہیں جن کے اسباب ان کی رائے کے مطابق پورے ہوچکے ہوں اور اگر انھوں نے ان اسباب کا مشاہدہ نہ کیا ہو جوان واقعات کے وقوع کا تقاضا کرتے ہیں تو وہ ان کے عدم وقوع پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ اسباب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی نظر مسبب الاسباب پر نہیں جو ان اسباب میں تصرف کی پوری قدرت رکھتا ہے۔﴿وَهُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَةِ هُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔‘‘ ان کے دل، ان کی خواہشات اور ان کے ارادے، دنیا اور دنیا کی شہوات اور اس کے چند ٹکڑوں پر مرتکز ہیں۔ ان کے ارادے اور خواہشات اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں، اسی کے لیے کوشاں ،اسی کی طرف متوجہ اور آخرت سے غافل ہیں۔ ان کے سامنے کوئی جنت نہیں جس کا انھیں اشتیاق ہو، ان کے سامنے کوئی جہنم نہیں جس کا انھیں خوف ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے کھڑے ہونے کا تصور ہے، جس سے یہ ڈر کر کانپ اٹھتے ہوں۔ یہ بدبختی کی علامت اور آخرت سے غفلت کا عنوان ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس گروہ کے لوگ اس ظاہری دنیا میں ذہانت اور فطانت کے اس درجے تک پہنچے ہوئے ہیں جس سے عقل حیران اور دہشت زدہ ہو جاتی ہے۔ ان کے ہاتھوں برقی اور جوہری عجائبات ظاہر ہوئے، انھوں نے بری، بحری اورفضائی سواریاں ایجاد کیں، وہ اپنی عقل کی مدد سے سب پر فوقیت لے گئے اور اپنی عقل کے ذریعے سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ قدرت عطا کی جس کے سامنے دیگر لوگ عاجز تھے۔ پس انھوں نے دوسروں کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا حالانکہ وہ خود اپنے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ کند ذہن، اپنی آخرت کے بارے میں سب سے زیاہ غافل اور اپنی عاقبت کے بارے میں سب سے کم علم رکھتے ہیں۔ اہل بصیرت کی رائے ہے کہ وہ اپنی جہالت میں پاگل، اپنی گمراہی میں سرگرداں اور اپنے باطل میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ درحقیقت یہی لوگ نافرمان ہیں۔اگر وہ ان صلاحیتوں پر غور کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ ور کیا ہے اور اس ظاہری دنیا میں انھیں دقیق افکار سے نوازا، پھر غور کریں کہ انھوں نے اپنے آپ کو عقل عالی سے محروم کیا، تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ تمام معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، اس کے بندوں میں اسی کا حکم جاری ہے اور یہ سب اس کی توفیق یا عدم توفیق کا معاملہ ہے تو وہ اپنے رب سے ڈرنے لگیں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ان کی عقل اور ایمان کی تکمیل کرے جو اس نے ان کو عطا کی ہے حتیٰ کہ وہ اس کے پاس پہنچ جائیں اور اس کے جوار میں نازل ہوجائیں۔ اگر یہ صلاحیتیں ایمان کے ساتھ مقرون ہوتیں اور ان کی بنیاد ایمان پر اٹھائی گئی ہوتی تو ترقی کے ساتھ ساتھ پاک صاف زندگی اس کا ثمرہ ہوتی مگر چونکہ ان کی بہت سی صلاحیتیں الحاد پر مبنی ہیں اس لیے ان کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

الروم 30:2

الٓمّٓ(1)مغلوب ہو گئے رومی(2) قریب ترین زمین (شام وغیرہ) میں، اور وہ بعد اپنے مغلوب ہونے کے عنقریب غالب ہوں گے(3) چند سالوں میں، اللہ ہی کے لیے ہے اختیار پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس (غلبے کے) دن خوش ہوں گے مومن(4) اللہ کی مدد سے، وہ مدد دیتاہے جسے چاہتا ہے، اور وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(5) وعدہ ہے اللہ کا،نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدے کے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(6) وہ جانتے ہیں ظاہر کو زندگانی دنیا سے، اور وہ آخرت سے وہ غافل ہیں(7) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1]اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انھیں مکمل فتح حاصل نہ ہوئی بلکہ ایران سے ملحق بعض رومی علاقے ایرانیوں کے قبضہ میں آ گئے اس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمان اس فتح پر بہت رنجیدہ ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا بلکہ ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ عنقریب رومی اہل فارس پر فتح حاصل کریں گے۔﴿فِيۡ بِضۡعِ سِنِيۡنَ ﴾’’چند سالوں میں۔‘‘ تقریباً آٹھ نو سال کی مدت میں جو دس سال سے زیادہ اور تین سال سے کم نہ ہو گی۔ یہ رومیوں پر ایرانیوں کی فتح اور پھر ایرانیوں پر رومیوں کا غلبہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قضاوقدر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿لِلّٰهِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۢۡ بَعۡدُ ﴾ ’’اس (شکست) سے پہلے بھی اللہ ہی کا حکم چلتا تھا اور بعد میں بھی اسی کا چلے گا۔‘‘ یعنی غلبہ اور فتح و نصرت مجرد و جود اسباب پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے قضاوقدر کا مقرون ہونا ضروری ہے۔ ﴿وَيَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اور اس روز‘‘ یعنی جس روز رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتح حاصل ہو گی اور ان پر غالب آئیں گے ﴿يَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِنَصۡرِ اللّٰهِ١ؕ يَنۡصُرُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اہل ایمان خوش ہو رہے ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان ایرانیوں کے خلاف رومیوں کی فتح پر خوش ہو رہے ہوں گے... اگرچہ دونوں قومیں کافر تھیں تاہم کچھ برائیاں بعض دیگر برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں... اور اس روز مشرکین سوگ منا رہے ہوں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جو عزت و غلبہ کی مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت سے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾ اپنے مومن بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اس نے ان کے لیے بے حدو حساب اسباب فراہم کیے جو ان کو سعادت مند بناتے اور فتح و نصرت سے ہم کنار کرتے ہیں۔ [6]﴿وَعۡدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ﴾ ’’یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘ پس تم اس وعدے پر یقین رکھو، اسے حتمی سمجھو اور جان لو کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا۔ جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، جن میں اس وعدہ کا ذکر ہے، تو اس وعدے کی مسلمانوں نے تصدیق کی مگر مشرکین نے اس کو نہ مانا حتیٰ کہ بعض مسلمانوں اور بعض کفار نے اس پر شرط لگا لی اور کچھ سالوں کی مدت مقر کر لی۔ جب وہ مدت آئی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی تھی تو رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونے لگیں۔ رومیوں نے ایرانی افواج کو ان تمام علاقوں سے نکال باہر کیا جو انھوں نے رومیوں سے چھینے تھے اور یوں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو گیا۔اس کا تعلق امور غیبیہ سے ہے جن کے متعلق ان کے وقوع سے قبل اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر آگاہ فرما دیا تھا اور یہ پیش گوئی انھی مسلمانوں اور کافروں کے دور میں وقوع پذیر ہوئی جن کے دور میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ بنابریں ان میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اللہ کے وعدے کو سچ نہیں مانتا اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔ [7] یہ وہ لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے یعنی جو اشیاء کے اسرار نہاں اور ان کے عواقب کو نہیں جانتے۔﴿يَعۡلَمُوۡنَ ظَاهِرًا مِّنَ الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾’’وہ تو صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ یہ لوگ صرف اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے پر حتمی یقین رکھتے ہیں جن کے اسباب ان کی رائے کے مطابق پورے ہوچکے ہوں اور اگر انھوں نے ان اسباب کا مشاہدہ نہ کیا ہو جوان واقعات کے وقوع کا تقاضا کرتے ہیں تو وہ ان کے عدم وقوع پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ اسباب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی نظر مسبب الاسباب پر نہیں جو ان اسباب میں تصرف کی پوری قدرت رکھتا ہے۔﴿وَهُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَةِ هُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔‘‘ ان کے دل، ان کی خواہشات اور ان کے ارادے، دنیا اور دنیا کی شہوات اور اس کے چند ٹکڑوں پر مرتکز ہیں۔ ان کے ارادے اور خواہشات اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں، اسی کے لیے کوشاں ،اسی کی طرف متوجہ اور آخرت سے غافل ہیں۔ ان کے سامنے کوئی جنت نہیں جس کا انھیں اشتیاق ہو، ان کے سامنے کوئی جہنم نہیں جس کا انھیں خوف ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے کھڑے ہونے کا تصور ہے، جس سے یہ ڈر کر کانپ اٹھتے ہوں۔ یہ بدبختی کی علامت اور آخرت سے غفلت کا عنوان ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس گروہ کے لوگ اس ظاہری دنیا میں ذہانت اور فطانت کے اس درجے تک پہنچے ہوئے ہیں جس سے عقل حیران اور دہشت زدہ ہو جاتی ہے۔ ان کے ہاتھوں برقی اور جوہری عجائبات ظاہر ہوئے، انھوں نے بری، بحری اورفضائی سواریاں ایجاد کیں، وہ اپنی عقل کی مدد سے سب پر فوقیت لے گئے اور اپنی عقل کے ذریعے سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ قدرت عطا کی جس کے سامنے دیگر لوگ عاجز تھے۔ پس انھوں نے دوسروں کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا حالانکہ وہ خود اپنے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ کند ذہن، اپنی آخرت کے بارے میں سب سے زیاہ غافل اور اپنی عاقبت کے بارے میں سب سے کم علم رکھتے ہیں۔ اہل بصیرت کی رائے ہے کہ وہ اپنی جہالت میں پاگل، اپنی گمراہی میں سرگرداں اور اپنے باطل میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ درحقیقت یہی لوگ نافرمان ہیں۔اگر وہ ان صلاحیتوں پر غور کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ ور کیا ہے اور اس ظاہری دنیا میں انھیں دقیق افکار سے نوازا، پھر غور کریں کہ انھوں نے اپنے آپ کو عقل عالی سے محروم کیا، تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ تمام معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، اس کے بندوں میں اسی کا حکم جاری ہے اور یہ سب اس کی توفیق یا عدم توفیق کا معاملہ ہے تو وہ اپنے رب سے ڈرنے لگیں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ان کی عقل اور ایمان کی تکمیل کرے جو اس نے ان کو عطا کی ہے حتیٰ کہ وہ اس کے پاس پہنچ جائیں اور اس کے جوار میں نازل ہوجائیں۔ اگر یہ صلاحیتیں ایمان کے ساتھ مقرون ہوتیں اور ان کی بنیاد ایمان پر اٹھائی گئی ہوتی تو ترقی کے ساتھ ساتھ پاک صاف زندگی اس کا ثمرہ ہوتی مگر چونکہ ان کی بہت سی صلاحیتیں الحاد پر مبنی ہیں اس لیے ان کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

الروم 30:3

الٓمّٓ(1)مغلوب ہو گئے رومی(2) قریب ترین زمین (شام وغیرہ) میں، اور وہ بعد اپنے مغلوب ہونے کے عنقریب غالب ہوں گے(3) چند سالوں میں، اللہ ہی کے لیے ہے اختیار پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس (غلبے کے) دن خوش ہوں گے مومن(4) اللہ کی مدد سے، وہ مدد دیتاہے جسے چاہتا ہے، اور وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(5) وعدہ ہے اللہ کا،نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدے کے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(6) وہ جانتے ہیں ظاہر کو زندگانی دنیا سے، اور وہ آخرت سے وہ غافل ہیں(7) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1]اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انھیں مکمل فتح حاصل نہ ہوئی بلکہ ایران سے ملحق بعض رومی علاقے ایرانیوں کے قبضہ میں آ گئے اس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمان اس فتح پر بہت رنجیدہ ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا بلکہ ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ عنقریب رومی اہل فارس پر فتح حاصل کریں گے۔﴿فِيۡ بِضۡعِ سِنِيۡنَ ﴾’’چند سالوں میں۔‘‘ تقریباً آٹھ نو سال کی مدت میں جو دس سال سے زیادہ اور تین سال سے کم نہ ہو گی۔ یہ رومیوں پر ایرانیوں کی فتح اور پھر ایرانیوں پر رومیوں کا غلبہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قضاوقدر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿لِلّٰهِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۢۡ بَعۡدُ ﴾ ’’اس (شکست) سے پہلے بھی اللہ ہی کا حکم چلتا تھا اور بعد میں بھی اسی کا چلے گا۔‘‘ یعنی غلبہ اور فتح و نصرت مجرد و جود اسباب پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے قضاوقدر کا مقرون ہونا ضروری ہے۔ ﴿وَيَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اور اس روز‘‘ یعنی جس روز رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتح حاصل ہو گی اور ان پر غالب آئیں گے ﴿يَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِنَصۡرِ اللّٰهِ١ؕ يَنۡصُرُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اہل ایمان خوش ہو رہے ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان ایرانیوں کے خلاف رومیوں کی فتح پر خوش ہو رہے ہوں گے... اگرچہ دونوں قومیں کافر تھیں تاہم کچھ برائیاں بعض دیگر برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں... اور اس روز مشرکین سوگ منا رہے ہوں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جو عزت و غلبہ کی مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت سے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾ اپنے مومن بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اس نے ان کے لیے بے حدو حساب اسباب فراہم کیے جو ان کو سعادت مند بناتے اور فتح و نصرت سے ہم کنار کرتے ہیں۔ [6]﴿وَعۡدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ﴾ ’’یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘ پس تم اس وعدے پر یقین رکھو، اسے حتمی سمجھو اور جان لو کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا۔ جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، جن میں اس وعدہ کا ذکر ہے، تو اس وعدے کی مسلمانوں نے تصدیق کی مگر مشرکین نے اس کو نہ مانا حتیٰ کہ بعض مسلمانوں اور بعض کفار نے اس پر شرط لگا لی اور کچھ سالوں کی مدت مقر کر لی۔ جب وہ مدت آئی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی تھی تو رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونے لگیں۔ رومیوں نے ایرانی افواج کو ان تمام علاقوں سے نکال باہر کیا جو انھوں نے رومیوں سے چھینے تھے اور یوں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو گیا۔اس کا تعلق امور غیبیہ سے ہے جن کے متعلق ان کے وقوع سے قبل اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر آگاہ فرما دیا تھا اور یہ پیش گوئی انھی مسلمانوں اور کافروں کے دور میں وقوع پذیر ہوئی جن کے دور میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ بنابریں ان میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اللہ کے وعدے کو سچ نہیں مانتا اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔ [7] یہ وہ لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے یعنی جو اشیاء کے اسرار نہاں اور ان کے عواقب کو نہیں جانتے۔﴿يَعۡلَمُوۡنَ ظَاهِرًا مِّنَ الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾’’وہ تو صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ یہ لوگ صرف اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے پر حتمی یقین رکھتے ہیں جن کے اسباب ان کی رائے کے مطابق پورے ہوچکے ہوں اور اگر انھوں نے ان اسباب کا مشاہدہ نہ کیا ہو جوان واقعات کے وقوع کا تقاضا کرتے ہیں تو وہ ان کے عدم وقوع پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ اسباب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی نظر مسبب الاسباب پر نہیں جو ان اسباب میں تصرف کی پوری قدرت رکھتا ہے۔﴿وَهُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَةِ هُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔‘‘ ان کے دل، ان کی خواہشات اور ان کے ارادے، دنیا اور دنیا کی شہوات اور اس کے چند ٹکڑوں پر مرتکز ہیں۔ ان کے ارادے اور خواہشات اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں، اسی کے لیے کوشاں ،اسی کی طرف متوجہ اور آخرت سے غافل ہیں۔ ان کے سامنے کوئی جنت نہیں جس کا انھیں اشتیاق ہو، ان کے سامنے کوئی جہنم نہیں جس کا انھیں خوف ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے کھڑے ہونے کا تصور ہے، جس سے یہ ڈر کر کانپ اٹھتے ہوں۔ یہ بدبختی کی علامت اور آخرت سے غفلت کا عنوان ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس گروہ کے لوگ اس ظاہری دنیا میں ذہانت اور فطانت کے اس درجے تک پہنچے ہوئے ہیں جس سے عقل حیران اور دہشت زدہ ہو جاتی ہے۔ ان کے ہاتھوں برقی اور جوہری عجائبات ظاہر ہوئے، انھوں نے بری، بحری اورفضائی سواریاں ایجاد کیں، وہ اپنی عقل کی مدد سے سب پر فوقیت لے گئے اور اپنی عقل کے ذریعے سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ قدرت عطا کی جس کے سامنے دیگر لوگ عاجز تھے۔ پس انھوں نے دوسروں کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا حالانکہ وہ خود اپنے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ کند ذہن، اپنی آخرت کے بارے میں سب سے زیاہ غافل اور اپنی عاقبت کے بارے میں سب سے کم علم رکھتے ہیں۔ اہل بصیرت کی رائے ہے کہ وہ اپنی جہالت میں پاگل، اپنی گمراہی میں سرگرداں اور اپنے باطل میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ درحقیقت یہی لوگ نافرمان ہیں۔اگر وہ ان صلاحیتوں پر غور کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ ور کیا ہے اور اس ظاہری دنیا میں انھیں دقیق افکار سے نوازا، پھر غور کریں کہ انھوں نے اپنے آپ کو عقل عالی سے محروم کیا، تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ تمام معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، اس کے بندوں میں اسی کا حکم جاری ہے اور یہ سب اس کی توفیق یا عدم توفیق کا معاملہ ہے تو وہ اپنے رب سے ڈرنے لگیں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ان کی عقل اور ایمان کی تکمیل کرے جو اس نے ان کو عطا کی ہے حتیٰ کہ وہ اس کے پاس پہنچ جائیں اور اس کے جوار میں نازل ہوجائیں۔ اگر یہ صلاحیتیں ایمان کے ساتھ مقرون ہوتیں اور ان کی بنیاد ایمان پر اٹھائی گئی ہوتی تو ترقی کے ساتھ ساتھ پاک صاف زندگی اس کا ثمرہ ہوتی مگر چونکہ ان کی بہت سی صلاحیتیں الحاد پر مبنی ہیں اس لیے ان کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

الروم 30:4

الٓمّٓ(1)مغلوب ہو گئے رومی(2) قریب ترین زمین (شام وغیرہ) میں، اور وہ بعد اپنے مغلوب ہونے کے عنقریب غالب ہوں گے(3) چند سالوں میں، اللہ ہی کے لیے ہے اختیار پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس (غلبے کے) دن خوش ہوں گے مومن(4) اللہ کی مدد سے، وہ مدد دیتاہے جسے چاہتا ہے، اور وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(5) وعدہ ہے اللہ کا،نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدے کے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(6) وہ جانتے ہیں ظاہر کو زندگانی دنیا سے، اور وہ آخرت سے وہ غافل ہیں(7) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1]اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انھیں مکمل فتح حاصل نہ ہوئی بلکہ ایران سے ملحق بعض رومی علاقے ایرانیوں کے قبضہ میں آ گئے اس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمان اس فتح پر بہت رنجیدہ ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا بلکہ ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ عنقریب رومی اہل فارس پر فتح حاصل کریں گے۔﴿فِيۡ بِضۡعِ سِنِيۡنَ ﴾’’چند سالوں میں۔‘‘ تقریباً آٹھ نو سال کی مدت میں جو دس سال سے زیادہ اور تین سال سے کم نہ ہو گی۔ یہ رومیوں پر ایرانیوں کی فتح اور پھر ایرانیوں پر رومیوں کا غلبہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قضاوقدر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿لِلّٰهِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۢۡ بَعۡدُ ﴾ ’’اس (شکست) سے پہلے بھی اللہ ہی کا حکم چلتا تھا اور بعد میں بھی اسی کا چلے گا۔‘‘ یعنی غلبہ اور فتح و نصرت مجرد و جود اسباب پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے قضاوقدر کا مقرون ہونا ضروری ہے۔ ﴿وَيَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اور اس روز‘‘ یعنی جس روز رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتح حاصل ہو گی اور ان پر غالب آئیں گے ﴿يَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِنَصۡرِ اللّٰهِ١ؕ يَنۡصُرُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اہل ایمان خوش ہو رہے ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان ایرانیوں کے خلاف رومیوں کی فتح پر خوش ہو رہے ہوں گے... اگرچہ دونوں قومیں کافر تھیں تاہم کچھ برائیاں بعض دیگر برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں... اور اس روز مشرکین سوگ منا رہے ہوں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جو عزت و غلبہ کی مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت سے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾ اپنے مومن بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اس نے ان کے لیے بے حدو حساب اسباب فراہم کیے جو ان کو سعادت مند بناتے اور فتح و نصرت سے ہم کنار کرتے ہیں۔ [6]﴿وَعۡدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ﴾ ’’یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘ پس تم اس وعدے پر یقین رکھو، اسے حتمی سمجھو اور جان لو کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا۔ جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، جن میں اس وعدہ کا ذکر ہے، تو اس وعدے کی مسلمانوں نے تصدیق کی مگر مشرکین نے اس کو نہ مانا حتیٰ کہ بعض مسلمانوں اور بعض کفار نے اس پر شرط لگا لی اور کچھ سالوں کی مدت مقر کر لی۔ جب وہ مدت آئی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی تھی تو رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونے لگیں۔ رومیوں نے ایرانی افواج کو ان تمام علاقوں سے نکال باہر کیا جو انھوں نے رومیوں سے چھینے تھے اور یوں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو گیا۔اس کا تعلق امور غیبیہ سے ہے جن کے متعلق ان کے وقوع سے قبل اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر آگاہ فرما دیا تھا اور یہ پیش گوئی انھی مسلمانوں اور کافروں کے دور میں وقوع پذیر ہوئی جن کے دور میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ بنابریں ان میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اللہ کے وعدے کو سچ نہیں مانتا اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔ [7] یہ وہ لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے یعنی جو اشیاء کے اسرار نہاں اور ان کے عواقب کو نہیں جانتے۔﴿يَعۡلَمُوۡنَ ظَاهِرًا مِّنَ الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾’’وہ تو صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ یہ لوگ صرف اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے پر حتمی یقین رکھتے ہیں جن کے اسباب ان کی رائے کے مطابق پورے ہوچکے ہوں اور اگر انھوں نے ان اسباب کا مشاہدہ نہ کیا ہو جوان واقعات کے وقوع کا تقاضا کرتے ہیں تو وہ ان کے عدم وقوع پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ اسباب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی نظر مسبب الاسباب پر نہیں جو ان اسباب میں تصرف کی پوری قدرت رکھتا ہے۔﴿وَهُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَةِ هُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔‘‘ ان کے دل، ان کی خواہشات اور ان کے ارادے، دنیا اور دنیا کی شہوات اور اس کے چند ٹکڑوں پر مرتکز ہیں۔ ان کے ارادے اور خواہشات اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں، اسی کے لیے کوشاں ،اسی کی طرف متوجہ اور آخرت سے غافل ہیں۔ ان کے سامنے کوئی جنت نہیں جس کا انھیں اشتیاق ہو، ان کے سامنے کوئی جہنم نہیں جس کا انھیں خوف ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے کھڑے ہونے کا تصور ہے، جس سے یہ ڈر کر کانپ اٹھتے ہوں۔ یہ بدبختی کی علامت اور آخرت سے غفلت کا عنوان ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس گروہ کے لوگ اس ظاہری دنیا میں ذہانت اور فطانت کے اس درجے تک پہنچے ہوئے ہیں جس سے عقل حیران اور دہشت زدہ ہو جاتی ہے۔ ان کے ہاتھوں برقی اور جوہری عجائبات ظاہر ہوئے، انھوں نے بری، بحری اورفضائی سواریاں ایجاد کیں، وہ اپنی عقل کی مدد سے سب پر فوقیت لے گئے اور اپنی عقل کے ذریعے سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ قدرت عطا کی جس کے سامنے دیگر لوگ عاجز تھے۔ پس انھوں نے دوسروں کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا حالانکہ وہ خود اپنے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ کند ذہن، اپنی آخرت کے بارے میں سب سے زیاہ غافل اور اپنی عاقبت کے بارے میں سب سے کم علم رکھتے ہیں۔ اہل بصیرت کی رائے ہے کہ وہ اپنی جہالت میں پاگل، اپنی گمراہی میں سرگرداں اور اپنے باطل میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ درحقیقت یہی لوگ نافرمان ہیں۔اگر وہ ان صلاحیتوں پر غور کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ ور کیا ہے اور اس ظاہری دنیا میں انھیں دقیق افکار سے نوازا، پھر غور کریں کہ انھوں نے اپنے آپ کو عقل عالی سے محروم کیا، تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ تمام معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، اس کے بندوں میں اسی کا حکم جاری ہے اور یہ سب اس کی توفیق یا عدم توفیق کا معاملہ ہے تو وہ اپنے رب سے ڈرنے لگیں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ان کی عقل اور ایمان کی تکمیل کرے جو اس نے ان کو عطا کی ہے حتیٰ کہ وہ اس کے پاس پہنچ جائیں اور اس کے جوار میں نازل ہوجائیں۔ اگر یہ صلاحیتیں ایمان کے ساتھ مقرون ہوتیں اور ان کی بنیاد ایمان پر اٹھائی گئی ہوتی تو ترقی کے ساتھ ساتھ پاک صاف زندگی اس کا ثمرہ ہوتی مگر چونکہ ان کی بہت سی صلاحیتیں الحاد پر مبنی ہیں اس لیے ان کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

الروم 30:5

الٓمّٓ(1)مغلوب ہو گئے رومی(2) قریب ترین زمین (شام وغیرہ) میں، اور وہ بعد اپنے مغلوب ہونے کے عنقریب غالب ہوں گے(3) چند سالوں میں، اللہ ہی کے لیے ہے اختیار پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس (غلبے کے) دن خوش ہوں گے مومن(4) اللہ کی مدد سے، وہ مدد دیتاہے جسے چاہتا ہے، اور وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(5) وعدہ ہے اللہ کا،نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدے کے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(6) وہ جانتے ہیں ظاہر کو زندگانی دنیا سے، اور وہ آخرت سے وہ غافل ہیں(7) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1]اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انھیں مکمل فتح حاصل نہ ہوئی بلکہ ایران سے ملحق بعض رومی علاقے ایرانیوں کے قبضہ میں آ گئے اس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمان اس فتح پر بہت رنجیدہ ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا بلکہ ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ عنقریب رومی اہل فارس پر فتح حاصل کریں گے۔﴿فِيۡ بِضۡعِ سِنِيۡنَ ﴾’’چند سالوں میں۔‘‘ تقریباً آٹھ نو سال کی مدت میں جو دس سال سے زیادہ اور تین سال سے کم نہ ہو گی۔ یہ رومیوں پر ایرانیوں کی فتح اور پھر ایرانیوں پر رومیوں کا غلبہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قضاوقدر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿لِلّٰهِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۢۡ بَعۡدُ ﴾ ’’اس (شکست) سے پہلے بھی اللہ ہی کا حکم چلتا تھا اور بعد میں بھی اسی کا چلے گا۔‘‘ یعنی غلبہ اور فتح و نصرت مجرد و جود اسباب پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے قضاوقدر کا مقرون ہونا ضروری ہے۔ ﴿وَيَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اور اس روز‘‘ یعنی جس روز رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتح حاصل ہو گی اور ان پر غالب آئیں گے ﴿يَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِنَصۡرِ اللّٰهِ١ؕ يَنۡصُرُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اہل ایمان خوش ہو رہے ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان ایرانیوں کے خلاف رومیوں کی فتح پر خوش ہو رہے ہوں گے... اگرچہ دونوں قومیں کافر تھیں تاہم کچھ برائیاں بعض دیگر برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں... اور اس روز مشرکین سوگ منا رہے ہوں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جو عزت و غلبہ کی مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت سے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾ اپنے مومن بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اس نے ان کے لیے بے حدو حساب اسباب فراہم کیے جو ان کو سعادت مند بناتے اور فتح و نصرت سے ہم کنار کرتے ہیں۔ [6]﴿وَعۡدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ﴾ ’’یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘ پس تم اس وعدے پر یقین رکھو، اسے حتمی سمجھو اور جان لو کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا۔ جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، جن میں اس وعدہ کا ذکر ہے، تو اس وعدے کی مسلمانوں نے تصدیق کی مگر مشرکین نے اس کو نہ مانا حتیٰ کہ بعض مسلمانوں اور بعض کفار نے اس پر شرط لگا لی اور کچھ سالوں کی مدت مقر کر لی۔ جب وہ مدت آئی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی تھی تو رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونے لگیں۔ رومیوں نے ایرانی افواج کو ان تمام علاقوں سے نکال باہر کیا جو انھوں نے رومیوں سے چھینے تھے اور یوں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو گیا۔اس کا تعلق امور غیبیہ سے ہے جن کے متعلق ان کے وقوع سے قبل اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر آگاہ فرما دیا تھا اور یہ پیش گوئی انھی مسلمانوں اور کافروں کے دور میں وقوع پذیر ہوئی جن کے دور میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ بنابریں ان میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اللہ کے وعدے کو سچ نہیں مانتا اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔ [7] یہ وہ لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے یعنی جو اشیاء کے اسرار نہاں اور ان کے عواقب کو نہیں جانتے۔﴿يَعۡلَمُوۡنَ ظَاهِرًا مِّنَ الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾’’وہ تو صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ یہ لوگ صرف اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے پر حتمی یقین رکھتے ہیں جن کے اسباب ان کی رائے کے مطابق پورے ہوچکے ہوں اور اگر انھوں نے ان اسباب کا مشاہدہ نہ کیا ہو جوان واقعات کے وقوع کا تقاضا کرتے ہیں تو وہ ان کے عدم وقوع پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ اسباب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی نظر مسبب الاسباب پر نہیں جو ان اسباب میں تصرف کی پوری قدرت رکھتا ہے۔﴿وَهُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَةِ هُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔‘‘ ان کے دل، ان کی خواہشات اور ان کے ارادے، دنیا اور دنیا کی شہوات اور اس کے چند ٹکڑوں پر مرتکز ہیں۔ ان کے ارادے اور خواہشات اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں، اسی کے لیے کوشاں ،اسی کی طرف متوجہ اور آخرت سے غافل ہیں۔ ان کے سامنے کوئی جنت نہیں جس کا انھیں اشتیاق ہو، ان کے سامنے کوئی جہنم نہیں جس کا انھیں خوف ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے کھڑے ہونے کا تصور ہے، جس سے یہ ڈر کر کانپ اٹھتے ہوں۔ یہ بدبختی کی علامت اور آخرت سے غفلت کا عنوان ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس گروہ کے لوگ اس ظاہری دنیا میں ذہانت اور فطانت کے اس درجے تک پہنچے ہوئے ہیں جس سے عقل حیران اور دہشت زدہ ہو جاتی ہے۔ ان کے ہاتھوں برقی اور جوہری عجائبات ظاہر ہوئے، انھوں نے بری، بحری اورفضائی سواریاں ایجاد کیں، وہ اپنی عقل کی مدد سے سب پر فوقیت لے گئے اور اپنی عقل کے ذریعے سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ قدرت عطا کی جس کے سامنے دیگر لوگ عاجز تھے۔ پس انھوں نے دوسروں کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا حالانکہ وہ خود اپنے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ کند ذہن، اپنی آخرت کے بارے میں سب سے زیاہ غافل اور اپنی عاقبت کے بارے میں سب سے کم علم رکھتے ہیں۔ اہل بصیرت کی رائے ہے کہ وہ اپنی جہالت میں پاگل، اپنی گمراہی میں سرگرداں اور اپنے باطل میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ درحقیقت یہی لوگ نافرمان ہیں۔اگر وہ ان صلاحیتوں پر غور کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ ور کیا ہے اور اس ظاہری دنیا میں انھیں دقیق افکار سے نوازا، پھر غور کریں کہ انھوں نے اپنے آپ کو عقل عالی سے محروم کیا، تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ تمام معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، اس کے بندوں میں اسی کا حکم جاری ہے اور یہ سب اس کی توفیق یا عدم توفیق کا معاملہ ہے تو وہ اپنے رب سے ڈرنے لگیں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ان کی عقل اور ایمان کی تکمیل کرے جو اس نے ان کو عطا کی ہے حتیٰ کہ وہ اس کے پاس پہنچ جائیں اور اس کے جوار میں نازل ہوجائیں۔ اگر یہ صلاحیتیں ایمان کے ساتھ مقرون ہوتیں اور ان کی بنیاد ایمان پر اٹھائی گئی ہوتی تو ترقی کے ساتھ ساتھ پاک صاف زندگی اس کا ثمرہ ہوتی مگر چونکہ ان کی بہت سی صلاحیتیں الحاد پر مبنی ہیں اس لیے ان کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

الروم 30:6

الٓمّٓ(1)مغلوب ہو گئے رومی(2) قریب ترین زمین (شام وغیرہ) میں، اور وہ بعد اپنے مغلوب ہونے کے عنقریب غالب ہوں گے(3) چند سالوں میں، اللہ ہی کے لیے ہے اختیار پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس (غلبے کے) دن خوش ہوں گے مومن(4) اللہ کی مدد سے، وہ مدد دیتاہے جسے چاہتا ہے، اور وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(5) وعدہ ہے اللہ کا،نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدے کے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(6) وہ جانتے ہیں ظاہر کو زندگانی دنیا سے، اور وہ آخرت سے وہ غافل ہیں(7) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1]اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انھیں مکمل فتح حاصل نہ ہوئی بلکہ ایران سے ملحق بعض رومی علاقے ایرانیوں کے قبضہ میں آ گئے اس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمان اس فتح پر بہت رنجیدہ ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا بلکہ ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ عنقریب رومی اہل فارس پر فتح حاصل کریں گے۔﴿فِيۡ بِضۡعِ سِنِيۡنَ ﴾’’چند سالوں میں۔‘‘ تقریباً آٹھ نو سال کی مدت میں جو دس سال سے زیادہ اور تین سال سے کم نہ ہو گی۔ یہ رومیوں پر ایرانیوں کی فتح اور پھر ایرانیوں پر رومیوں کا غلبہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قضاوقدر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿لِلّٰهِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۢۡ بَعۡدُ ﴾ ’’اس (شکست) سے پہلے بھی اللہ ہی کا حکم چلتا تھا اور بعد میں بھی اسی کا چلے گا۔‘‘ یعنی غلبہ اور فتح و نصرت مجرد و جود اسباب پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے قضاوقدر کا مقرون ہونا ضروری ہے۔ ﴿وَيَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اور اس روز‘‘ یعنی جس روز رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتح حاصل ہو گی اور ان پر غالب آئیں گے ﴿يَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِنَصۡرِ اللّٰهِ١ؕ يَنۡصُرُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اہل ایمان خوش ہو رہے ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان ایرانیوں کے خلاف رومیوں کی فتح پر خوش ہو رہے ہوں گے... اگرچہ دونوں قومیں کافر تھیں تاہم کچھ برائیاں بعض دیگر برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں... اور اس روز مشرکین سوگ منا رہے ہوں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جو عزت و غلبہ کی مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت سے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾ اپنے مومن بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اس نے ان کے لیے بے حدو حساب اسباب فراہم کیے جو ان کو سعادت مند بناتے اور فتح و نصرت سے ہم کنار کرتے ہیں۔ [6]﴿وَعۡدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ﴾ ’’یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘ پس تم اس وعدے پر یقین رکھو، اسے حتمی سمجھو اور جان لو کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا۔ جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، جن میں اس وعدہ کا ذکر ہے، تو اس وعدے کی مسلمانوں نے تصدیق کی مگر مشرکین نے اس کو نہ مانا حتیٰ کہ بعض مسلمانوں اور بعض کفار نے اس پر شرط لگا لی اور کچھ سالوں کی مدت مقر کر لی۔ جب وہ مدت آئی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی تھی تو رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونے لگیں۔ رومیوں نے ایرانی افواج کو ان تمام علاقوں سے نکال باہر کیا جو انھوں نے رومیوں سے چھینے تھے اور یوں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو گیا۔اس کا تعلق امور غیبیہ سے ہے جن کے متعلق ان کے وقوع سے قبل اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر آگاہ فرما دیا تھا اور یہ پیش گوئی انھی مسلمانوں اور کافروں کے دور میں وقوع پذیر ہوئی جن کے دور میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ بنابریں ان میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اللہ کے وعدے کو سچ نہیں مانتا اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔ [7] یہ وہ لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے یعنی جو اشیاء کے اسرار نہاں اور ان کے عواقب کو نہیں جانتے۔﴿يَعۡلَمُوۡنَ ظَاهِرًا مِّنَ الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾’’وہ تو صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ یہ لوگ صرف اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے پر حتمی یقین رکھتے ہیں جن کے اسباب ان کی رائے کے مطابق پورے ہوچکے ہوں اور اگر انھوں نے ان اسباب کا مشاہدہ نہ کیا ہو جوان واقعات کے وقوع کا تقاضا کرتے ہیں تو وہ ان کے عدم وقوع پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ اسباب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی نظر مسبب الاسباب پر نہیں جو ان اسباب میں تصرف کی پوری قدرت رکھتا ہے۔﴿وَهُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَةِ هُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔‘‘ ان کے دل، ان کی خواہشات اور ان کے ارادے، دنیا اور دنیا کی شہوات اور اس کے چند ٹکڑوں پر مرتکز ہیں۔ ان کے ارادے اور خواہشات اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں، اسی کے لیے کوشاں ،اسی کی طرف متوجہ اور آخرت سے غافل ہیں۔ ان کے سامنے کوئی جنت نہیں جس کا انھیں اشتیاق ہو، ان کے سامنے کوئی جہنم نہیں جس کا انھیں خوف ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے کھڑے ہونے کا تصور ہے، جس سے یہ ڈر کر کانپ اٹھتے ہوں۔ یہ بدبختی کی علامت اور آخرت سے غفلت کا عنوان ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس گروہ کے لوگ اس ظاہری دنیا میں ذہانت اور فطانت کے اس درجے تک پہنچے ہوئے ہیں جس سے عقل حیران اور دہشت زدہ ہو جاتی ہے۔ ان کے ہاتھوں برقی اور جوہری عجائبات ظاہر ہوئے، انھوں نے بری، بحری اورفضائی سواریاں ایجاد کیں، وہ اپنی عقل کی مدد سے سب پر فوقیت لے گئے اور اپنی عقل کے ذریعے سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ قدرت عطا کی جس کے سامنے دیگر لوگ عاجز تھے۔ پس انھوں نے دوسروں کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا حالانکہ وہ خود اپنے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ کند ذہن، اپنی آخرت کے بارے میں سب سے زیاہ غافل اور اپنی عاقبت کے بارے میں سب سے کم علم رکھتے ہیں۔ اہل بصیرت کی رائے ہے کہ وہ اپنی جہالت میں پاگل، اپنی گمراہی میں سرگرداں اور اپنے باطل میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ درحقیقت یہی لوگ نافرمان ہیں۔اگر وہ ان صلاحیتوں پر غور کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ ور کیا ہے اور اس ظاہری دنیا میں انھیں دقیق افکار سے نوازا، پھر غور کریں کہ انھوں نے اپنے آپ کو عقل عالی سے محروم کیا، تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ تمام معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، اس کے بندوں میں اسی کا حکم جاری ہے اور یہ سب اس کی توفیق یا عدم توفیق کا معاملہ ہے تو وہ اپنے رب سے ڈرنے لگیں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ان کی عقل اور ایمان کی تکمیل کرے جو اس نے ان کو عطا کی ہے حتیٰ کہ وہ اس کے پاس پہنچ جائیں اور اس کے جوار میں نازل ہوجائیں۔ اگر یہ صلاحیتیں ایمان کے ساتھ مقرون ہوتیں اور ان کی بنیاد ایمان پر اٹھائی گئی ہوتی تو ترقی کے ساتھ ساتھ پاک صاف زندگی اس کا ثمرہ ہوتی مگر چونکہ ان کی بہت سی صلاحیتیں الحاد پر مبنی ہیں اس لیے ان کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

الروم 30:7

الٓمّٓ(1)مغلوب ہو گئے رومی(2) قریب ترین زمین (شام وغیرہ) میں، اور وہ بعد اپنے مغلوب ہونے کے عنقریب غالب ہوں گے(3) چند سالوں میں، اللہ ہی کے لیے ہے اختیار پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس (غلبے کے) دن خوش ہوں گے مومن(4) اللہ کی مدد سے، وہ مدد دیتاہے جسے چاہتا ہے، اور وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(5) وعدہ ہے اللہ کا،نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدے کے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(6) وہ جانتے ہیں ظاہر کو زندگانی دنیا سے، اور وہ آخرت سے وہ غافل ہیں(7) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1]اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انھیں مکمل فتح حاصل نہ ہوئی بلکہ ایران سے ملحق بعض رومی علاقے ایرانیوں کے قبضہ میں آ گئے اس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمان اس فتح پر بہت رنجیدہ ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا بلکہ ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ عنقریب رومی اہل فارس پر فتح حاصل کریں گے۔﴿فِيۡ بِضۡعِ سِنِيۡنَ ﴾’’چند سالوں میں۔‘‘ تقریباً آٹھ نو سال کی مدت میں جو دس سال سے زیادہ اور تین سال سے کم نہ ہو گی۔ یہ رومیوں پر ایرانیوں کی فتح اور پھر ایرانیوں پر رومیوں کا غلبہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قضاوقدر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿لِلّٰهِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۢۡ بَعۡدُ ﴾ ’’اس (شکست) سے پہلے بھی اللہ ہی کا حکم چلتا تھا اور بعد میں بھی اسی کا چلے گا۔‘‘ یعنی غلبہ اور فتح و نصرت مجرد و جود اسباب پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے قضاوقدر کا مقرون ہونا ضروری ہے۔ ﴿وَيَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اور اس روز‘‘ یعنی جس روز رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتح حاصل ہو گی اور ان پر غالب آئیں گے ﴿يَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِنَصۡرِ اللّٰهِ١ؕ يَنۡصُرُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اہل ایمان خوش ہو رہے ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان ایرانیوں کے خلاف رومیوں کی فتح پر خوش ہو رہے ہوں گے... اگرچہ دونوں قومیں کافر تھیں تاہم کچھ برائیاں بعض دیگر برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں... اور اس روز مشرکین سوگ منا رہے ہوں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جو عزت و غلبہ کی مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت سے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾ اپنے مومن بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اس نے ان کے لیے بے حدو حساب اسباب فراہم کیے جو ان کو سعادت مند بناتے اور فتح و نصرت سے ہم کنار کرتے ہیں۔ [6]﴿وَعۡدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ﴾ ’’یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘ پس تم اس وعدے پر یقین رکھو، اسے حتمی سمجھو اور جان لو کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا۔ جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، جن میں اس وعدہ کا ذکر ہے، تو اس وعدے کی مسلمانوں نے تصدیق کی مگر مشرکین نے اس کو نہ مانا حتیٰ کہ بعض مسلمانوں اور بعض کفار نے اس پر شرط لگا لی اور کچھ سالوں کی مدت مقر کر لی۔ جب وہ مدت آئی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی تھی تو رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونے لگیں۔ رومیوں نے ایرانی افواج کو ان تمام علاقوں سے نکال باہر کیا جو انھوں نے رومیوں سے چھینے تھے اور یوں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو گیا۔اس کا تعلق امور غیبیہ سے ہے جن کے متعلق ان کے وقوع سے قبل اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر آگاہ فرما دیا تھا اور یہ پیش گوئی انھی مسلمانوں اور کافروں کے دور میں وقوع پذیر ہوئی جن کے دور میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ بنابریں ان میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اللہ کے وعدے کو سچ نہیں مانتا اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔ [7] یہ وہ لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے یعنی جو اشیاء کے اسرار نہاں اور ان کے عواقب کو نہیں جانتے۔﴿يَعۡلَمُوۡنَ ظَاهِرًا مِّنَ الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾’’وہ تو صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ یہ لوگ صرف اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے پر حتمی یقین رکھتے ہیں جن کے اسباب ان کی رائے کے مطابق پورے ہوچکے ہوں اور اگر انھوں نے ان اسباب کا مشاہدہ نہ کیا ہو جوان واقعات کے وقوع کا تقاضا کرتے ہیں تو وہ ان کے عدم وقوع پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ اسباب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی نظر مسبب الاسباب پر نہیں جو ان اسباب میں تصرف کی پوری قدرت رکھتا ہے۔﴿وَهُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَةِ هُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔‘‘ ان کے دل، ان کی خواہشات اور ان کے ارادے، دنیا اور دنیا کی شہوات اور اس کے چند ٹکڑوں پر مرتکز ہیں۔ ان کے ارادے اور خواہشات اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں، اسی کے لیے کوشاں ،اسی کی طرف متوجہ اور آخرت سے غافل ہیں۔ ان کے سامنے کوئی جنت نہیں جس کا انھیں اشتیاق ہو، ان کے سامنے کوئی جہنم نہیں جس کا انھیں خوف ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے کھڑے ہونے کا تصور ہے، جس سے یہ ڈر کر کانپ اٹھتے ہوں۔ یہ بدبختی کی علامت اور آخرت سے غفلت کا عنوان ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس گروہ کے لوگ اس ظاہری دنیا میں ذہانت اور فطانت کے اس درجے تک پہنچے ہوئے ہیں جس سے عقل حیران اور دہشت زدہ ہو جاتی ہے۔ ان کے ہاتھوں برقی اور جوہری عجائبات ظاہر ہوئے، انھوں نے بری، بحری اورفضائی سواریاں ایجاد کیں، وہ اپنی عقل کی مدد سے سب پر فوقیت لے گئے اور اپنی عقل کے ذریعے سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ قدرت عطا کی جس کے سامنے دیگر لوگ عاجز تھے۔ پس انھوں نے دوسروں کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا حالانکہ وہ خود اپنے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ کند ذہن، اپنی آخرت کے بارے میں سب سے زیاہ غافل اور اپنی عاقبت کے بارے میں سب سے کم علم رکھتے ہیں۔ اہل بصیرت کی رائے ہے کہ وہ اپنی جہالت میں پاگل، اپنی گمراہی میں سرگرداں اور اپنے باطل میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ درحقیقت یہی لوگ نافرمان ہیں۔اگر وہ ان صلاحیتوں پر غور کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ ور کیا ہے اور اس ظاہری دنیا میں انھیں دقیق افکار سے نوازا، پھر غور کریں کہ انھوں نے اپنے آپ کو عقل عالی سے محروم کیا، تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ تمام معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، اس کے بندوں میں اسی کا حکم جاری ہے اور یہ سب اس کی توفیق یا عدم توفیق کا معاملہ ہے تو وہ اپنے رب سے ڈرنے لگیں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ان کی عقل اور ایمان کی تکمیل کرے جو اس نے ان کو عطا کی ہے حتیٰ کہ وہ اس کے پاس پہنچ جائیں اور اس کے جوار میں نازل ہوجائیں۔ اگر یہ صلاحیتیں ایمان کے ساتھ مقرون ہوتیں اور ان کی بنیاد ایمان پر اٹھائی گئی ہوتی تو ترقی کے ساتھ ساتھ پاک صاف زندگی اس کا ثمرہ ہوتی مگر چونکہ ان کی بہت سی صلاحیتیں الحاد پر مبنی ہیں اس لیے ان کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

الروم 30:8

کیا نہیں غورو فکر کیا انھوں نے اپنے دلوں میں کہ نہیں پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے مگر ساتھ حق کے اور ایک وقت مقرر کے لیے؟ اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے البتہ کافر (منکر) ہیں(8) کیا نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پس دیکھتے وہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو پہلے تھے ان سے؟ تھے وہ زیادہ ان سے قوت میں، اور پھاڑا تھا انھوں نے زمین کو اور آباد کیا تھا انھوں نے اسے بہت زیادہ اس سے جو انھوں نے آباد کیا ہے اسے اور آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول ساتھ واضح دلائل کے پس نہیں تھا اللہ کہ وہ ظلم کرتا ان پر اور لیکن تھے وہ (خود ہی) اپنے آپ پر ظلم کرتے(9) پھر ہوا انجام ان لوگوں کا، جنھوں نے برا کیا تھا، برا ہی اس لیے کہ جھٹلایا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو، اور تھے وہ ان کا مذاق اڑاتے(10) [8] کیا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلانے والوں نے کبھی غور نہیں کیا ﴿فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾’’اپنے آپ پر؟‘‘ کیونکہ خود ان کی ذات میں نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وہ اس حقیقت کی معرفت حاصل کر سکتے ہیں کہ وہ ہستی جو انھیں عدم سے وجود میں لائی وہ عنقریب اس کا اعادہ کرے گی، وہ ہستی جس نے انھیں نطفہ، جمے ہوئے خون اور گوشت کی بوٹی کے مراحل سے گزار کر آدمی بنایا، پھر اس میں روح پھونکی، پھر اسے بچہ بنایا، اس بچے سے اسے جوان بنایا، پھر اسے بڑھاپے میں منتقل کیا اور پھر اسے انتہائی بڑھاپے کی طرف لے گیا۔ اس ہستی کے شایان شان نہیں کہ وہ ان کو مہمل اور بے کار چھوڑ دے کہ انھیں کسی چیز کا حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے اور انھیں نیکی پر ثواب دیا جائے نہ بدی پر سزا دی جائے۔﴿مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔‘‘ تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ﴿وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’اور وقت مقرر تک۔‘‘ یعنی زمین و آسمان کی مدت اس وقت تک ہے جب تک کہ دنیا کی مدت ختم ہو کر قیامت قائم نہیں ہو جاتی، تب یہ زمین و آسمان بدل کر کوئی اور ہی آسمان و زمین بن جائیں گے۔ ﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمۡ لَكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے قائل ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری نہیں کی اور نہ انھوں نے ان رسولوں کی تصدیق کی جنھوں نے قیامت کے قائم ہونے کی خبر دی تھی۔ [9] ان کے اس کفر پر کوئی دلیل نہیں بلکہ اس کے برعکس قطعی دلائل قیامت اور جزا و سزا کے اثبات پر دلالت کرتے ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبیہ کی کہ وہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں اور ان لوگوں کے انجام پر غور کریں جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کے حکم کی مخالفت کی۔ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے، مثلاً: انھوں نے محلات اور کارخانے بنائے، باغات اور کھیتیاں اگائیں اور نہریں کھودیں۔ مگر جب انھوں نے اپنے رسولوں کی، جو حق پر اور اپنی دعوت کی صحت پر واضح دلائل لے کر آئے تھے، تکذیب کی تو ان کی قوت ان کے کسی کام آئی نہ ان آثار نے انھیں کوئی فائدہ دیا... کیونکہ جب وہ ان کے آثار دیکھیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ وہ قومیں ہلاک ہو کر صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں ان کے مسکن غیر آباد پڑے ہیں اور وہ مسلسل مخلوق کی مذمت کا نشانہ ہیں۔ یہ تو اس دنیا کی سزا ہے جو اخروی عذاب کی تمہید ہے۔ ان ہلاک شدہ قوموں کو ہلاک کر کے اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا اور اپنی ہلاکت کے اسباب مہیا کیے۔ [10]﴿ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓاٰۤى ﴾ ’’ پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا۔‘‘ یعنی بہت قبیح اور بری حالت ہوئی اور یہ چیز ان کے لیے عذاب کی داعی بن گئی کہ ﴿كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوۡا بِهَا يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔‘‘ یہ ان کی برائیوں اور گناہوں کی سزا ہے، پھر یہ تمسخر اور تکذیب ان کے لیے سب سے بڑی سزا کا سبب بنے گی۔

الروم 30:9

کیا نہیں غورو فکر کیا انھوں نے اپنے دلوں میں کہ نہیں پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے مگر ساتھ حق کے اور ایک وقت مقرر کے لیے؟ اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے البتہ کافر (منکر) ہیں(8) کیا نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پس دیکھتے وہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو پہلے تھے ان سے؟ تھے وہ زیادہ ان سے قوت میں، اور پھاڑا تھا انھوں نے زمین کو اور آباد کیا تھا انھوں نے اسے بہت زیادہ اس سے جو انھوں نے آباد کیا ہے اسے اور آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول ساتھ واضح دلائل کے پس نہیں تھا اللہ کہ وہ ظلم کرتا ان پر اور لیکن تھے وہ (خود ہی) اپنے آپ پر ظلم کرتے(9) پھر ہوا انجام ان لوگوں کا، جنھوں نے برا کیا تھا، برا ہی اس لیے کہ جھٹلایا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو، اور تھے وہ ان کا مذاق اڑاتے(10) [8] کیا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلانے والوں نے کبھی غور نہیں کیا ﴿فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾’’اپنے آپ پر؟‘‘ کیونکہ خود ان کی ذات میں نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وہ اس حقیقت کی معرفت حاصل کر سکتے ہیں کہ وہ ہستی جو انھیں عدم سے وجود میں لائی وہ عنقریب اس کا اعادہ کرے گی، وہ ہستی جس نے انھیں نطفہ، جمے ہوئے خون اور گوشت کی بوٹی کے مراحل سے گزار کر آدمی بنایا، پھر اس میں روح پھونکی، پھر اسے بچہ بنایا، اس بچے سے اسے جوان بنایا، پھر اسے بڑھاپے میں منتقل کیا اور پھر اسے انتہائی بڑھاپے کی طرف لے گیا۔ اس ہستی کے شایان شان نہیں کہ وہ ان کو مہمل اور بے کار چھوڑ دے کہ انھیں کسی چیز کا حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے اور انھیں نیکی پر ثواب دیا جائے نہ بدی پر سزا دی جائے۔﴿مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔‘‘ تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ﴿وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’اور وقت مقرر تک۔‘‘ یعنی زمین و آسمان کی مدت اس وقت تک ہے جب تک کہ دنیا کی مدت ختم ہو کر قیامت قائم نہیں ہو جاتی، تب یہ زمین و آسمان بدل کر کوئی اور ہی آسمان و زمین بن جائیں گے۔ ﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمۡ لَكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے قائل ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری نہیں کی اور نہ انھوں نے ان رسولوں کی تصدیق کی جنھوں نے قیامت کے قائم ہونے کی خبر دی تھی۔ [9] ان کے اس کفر پر کوئی دلیل نہیں بلکہ اس کے برعکس قطعی دلائل قیامت اور جزا و سزا کے اثبات پر دلالت کرتے ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبیہ کی کہ وہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں اور ان لوگوں کے انجام پر غور کریں جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کے حکم کی مخالفت کی۔ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے، مثلاً: انھوں نے محلات اور کارخانے بنائے، باغات اور کھیتیاں اگائیں اور نہریں کھودیں۔ مگر جب انھوں نے اپنے رسولوں کی، جو حق پر اور اپنی دعوت کی صحت پر واضح دلائل لے کر آئے تھے، تکذیب کی تو ان کی قوت ان کے کسی کام آئی نہ ان آثار نے انھیں کوئی فائدہ دیا... کیونکہ جب وہ ان کے آثار دیکھیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ وہ قومیں ہلاک ہو کر صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں ان کے مسکن غیر آباد پڑے ہیں اور وہ مسلسل مخلوق کی مذمت کا نشانہ ہیں۔ یہ تو اس دنیا کی سزا ہے جو اخروی عذاب کی تمہید ہے۔ ان ہلاک شدہ قوموں کو ہلاک کر کے اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا اور اپنی ہلاکت کے اسباب مہیا کیے۔ [10]﴿ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓاٰۤى ﴾ ’’ پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا۔‘‘ یعنی بہت قبیح اور بری حالت ہوئی اور یہ چیز ان کے لیے عذاب کی داعی بن گئی کہ ﴿كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوۡا بِهَا يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔‘‘ یہ ان کی برائیوں اور گناہوں کی سزا ہے، پھر یہ تمسخر اور تکذیب ان کے لیے سب سے بڑی سزا کا سبب بنے گی۔

الروم 30:10

کیا نہیں غورو فکر کیا انھوں نے اپنے دلوں میں کہ نہیں پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے مگر ساتھ حق کے اور ایک وقت مقرر کے لیے؟ اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے البتہ کافر (منکر) ہیں(8) کیا نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پس دیکھتے وہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو پہلے تھے ان سے؟ تھے وہ زیادہ ان سے قوت میں، اور پھاڑا تھا انھوں نے زمین کو اور آباد کیا تھا انھوں نے اسے بہت زیادہ اس سے جو انھوں نے آباد کیا ہے اسے اور آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول ساتھ واضح دلائل کے پس نہیں تھا اللہ کہ وہ ظلم کرتا ان پر اور لیکن تھے وہ (خود ہی) اپنے آپ پر ظلم کرتے(9) پھر ہوا انجام ان لوگوں کا، جنھوں نے برا کیا تھا، برا ہی اس لیے کہ جھٹلایا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو، اور تھے وہ ان کا مذاق اڑاتے(10) [8] کیا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلانے والوں نے کبھی غور نہیں کیا ﴿فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾’’اپنے آپ پر؟‘‘ کیونکہ خود ان کی ذات میں نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وہ اس حقیقت کی معرفت حاصل کر سکتے ہیں کہ وہ ہستی جو انھیں عدم سے وجود میں لائی وہ عنقریب اس کا اعادہ کرے گی، وہ ہستی جس نے انھیں نطفہ، جمے ہوئے خون اور گوشت کی بوٹی کے مراحل سے گزار کر آدمی بنایا، پھر اس میں روح پھونکی، پھر اسے بچہ بنایا، اس بچے سے اسے جوان بنایا، پھر اسے بڑھاپے میں منتقل کیا اور پھر اسے انتہائی بڑھاپے کی طرف لے گیا۔ اس ہستی کے شایان شان نہیں کہ وہ ان کو مہمل اور بے کار چھوڑ دے کہ انھیں کسی چیز کا حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے اور انھیں نیکی پر ثواب دیا جائے نہ بدی پر سزا دی جائے۔﴿مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔‘‘ تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ﴿وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’اور وقت مقرر تک۔‘‘ یعنی زمین و آسمان کی مدت اس وقت تک ہے جب تک کہ دنیا کی مدت ختم ہو کر قیامت قائم نہیں ہو جاتی، تب یہ زمین و آسمان بدل کر کوئی اور ہی آسمان و زمین بن جائیں گے۔ ﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمۡ لَكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے قائل ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری نہیں کی اور نہ انھوں نے ان رسولوں کی تصدیق کی جنھوں نے قیامت کے قائم ہونے کی خبر دی تھی۔ [9] ان کے اس کفر پر کوئی دلیل نہیں بلکہ اس کے برعکس قطعی دلائل قیامت اور جزا و سزا کے اثبات پر دلالت کرتے ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبیہ کی کہ وہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں اور ان لوگوں کے انجام پر غور کریں جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کے حکم کی مخالفت کی۔ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے، مثلاً: انھوں نے محلات اور کارخانے بنائے، باغات اور کھیتیاں اگائیں اور نہریں کھودیں۔ مگر جب انھوں نے اپنے رسولوں کی، جو حق پر اور اپنی دعوت کی صحت پر واضح دلائل لے کر آئے تھے، تکذیب کی تو ان کی قوت ان کے کسی کام آئی نہ ان آثار نے انھیں کوئی فائدہ دیا... کیونکہ جب وہ ان کے آثار دیکھیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ وہ قومیں ہلاک ہو کر صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں ان کے مسکن غیر آباد پڑے ہیں اور وہ مسلسل مخلوق کی مذمت کا نشانہ ہیں۔ یہ تو اس دنیا کی سزا ہے جو اخروی عذاب کی تمہید ہے۔ ان ہلاک شدہ قوموں کو ہلاک کر کے اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا اور اپنی ہلاکت کے اسباب مہیا کیے۔ [10]﴿ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓاٰۤى ﴾ ’’ پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا۔‘‘ یعنی بہت قبیح اور بری حالت ہوئی اور یہ چیز ان کے لیے عذاب کی داعی بن گئی کہ ﴿كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوۡا بِهَا يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔‘‘ یہ ان کی برائیوں اور گناہوں کی سزا ہے، پھر یہ تمسخر اور تکذیب ان کے لیے سب سے بڑی سزا کا سبب بنے گی۔

الروم 30:11

اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے ، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم(11) اور جس دن قائم ہو گی قیامت مایوس ہوجائیں گے مجرم(12) اور نہیں ہوں گے ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارشی، اور ہو جائیں گے وہ (خود بھی) اپنے شریکوں (معبودوں) کا انکار کرنے والے(13) اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہو جائیں گے(14) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک تو وہ باغ (بہشت) میں خوش حال کیے جائیں گے(15)اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو، پس یہی لوگ عذاب میں حاضر (داخل) کیے جائیں گے(16) [13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے۔ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا ، پھر نیکوکاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’اور جس دن قیامت برپا ہوگی‘‘ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز ﴿يُبۡلِسُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ان لوگوں نے اس روز کے لیے جرائم کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا ہوگا۔ جرائم سے مراد کفر، شرک اور دیگر بڑے بڑے گناہ ہیں۔چونکہ انھوں نے ایسے اعمال آگے روانہ کیے تھے جو عذاب کے موجب تھے اور ان کے پاس کوئی بھی ایسا عمل نہ تھا جو ثواب کا موجب ہوتا اس لیے وہ اعمال خیر کے اعتبار سے مفلس ہوں گے اور سخت مایوس ہوں گے۔ ان کی تمام افترا پردازیاں گم ہو جائیں گی، ان کے خود ساختہ معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکیں گے نہ ان کی کوئی سفارش کر سکے گا۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ مِّنۡ شُرَؔكَآىِٕهِمۡ ﴾ ’’اور نہیں ہوگا ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی‘‘ جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿شُفَعٰٓؤُا وَؔكَانُوۡا بِشُرَؔكَآىِٕهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’سفارشی اور وہ اپنے شریکوں کا انکارکردیں گے۔‘‘ یعنی مشرکین اپنے ان خود ساختہ معبودوں سے بے زاری کا اظہار کریں گے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا اور معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ١ٞ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾(القصص:28؍63) ’’(اے اللہ!) ہم تیرے سامنے براء ت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ وہ اپنے آپ پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں گے۔ [16-14] اس روز اہل خیر اور اہل شر علیحدہ علیحدہ کھڑے ہوں گے جس طرح دنیا میں ان کے اعمال علیحدہ علیحدہ تھے۔﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کی ﴿فَهُمۡ فِيۡ رَوۡضَةٍ ﴾ ’’تو وہ باغ میں‘‘ جس میں ہر قسم کے درخت، پودے اور تمام دل پسند چیزیں ہوں گی ﴿يُّحۡبَرُوۡنَ ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کو خوش رکھا جائے گا اور نعمتوں سے نوازا جائے گا ، مثلاً:نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، خوبصورت حوریں، خدام، خدمت گار لڑکے، طرب انگیز آوازیں، سرور انگیز نغمے، خوبصورت و خوش کن مناظر، بہترین خوشبوئیں، فرحت و سرور اور لذت و نعمت وغیرہ جن کے اوصاف بیان کرنے کی کوئی شخص قدرت نہیں رکھتا۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کیا، ان کے مقابلے میں کفر کیا ﴿وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور ہماری (ان) آیتوں کو جھٹلایا‘‘ جنھیں ہمارے رسول لے کر آئے تھے ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔‘‘ جہنم ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی، دردناک عذاب ان کے دلوں تک پہنچ جائے گا، ابلتا ہوا پانی ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ دونوں گروہوں کے درمیان کتنا فرق ہے؟ نعمتوں سے سرفراز اور عذاب میں مبتلا دونوں گروہوں کے مابین کہاں برابری ہے؟

الروم 30:12

اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے ، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم(11) اور جس دن قائم ہو گی قیامت مایوس ہوجائیں گے مجرم(12) اور نہیں ہوں گے ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارشی، اور ہو جائیں گے وہ (خود بھی) اپنے شریکوں (معبودوں) کا انکار کرنے والے(13) اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہو جائیں گے(14) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک تو وہ باغ (بہشت) میں خوش حال کیے جائیں گے(15)اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو، پس یہی لوگ عذاب میں حاضر (داخل) کیے جائیں گے(16) [13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے۔ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا ، پھر نیکوکاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’اور جس دن قیامت برپا ہوگی‘‘ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز ﴿يُبۡلِسُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ان لوگوں نے اس روز کے لیے جرائم کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا ہوگا۔ جرائم سے مراد کفر، شرک اور دیگر بڑے بڑے گناہ ہیں۔چونکہ انھوں نے ایسے اعمال آگے روانہ کیے تھے جو عذاب کے موجب تھے اور ان کے پاس کوئی بھی ایسا عمل نہ تھا جو ثواب کا موجب ہوتا اس لیے وہ اعمال خیر کے اعتبار سے مفلس ہوں گے اور سخت مایوس ہوں گے۔ ان کی تمام افترا پردازیاں گم ہو جائیں گی، ان کے خود ساختہ معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکیں گے نہ ان کی کوئی سفارش کر سکے گا۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ مِّنۡ شُرَؔكَآىِٕهِمۡ ﴾ ’’اور نہیں ہوگا ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی‘‘ جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿شُفَعٰٓؤُا وَؔكَانُوۡا بِشُرَؔكَآىِٕهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’سفارشی اور وہ اپنے شریکوں کا انکارکردیں گے۔‘‘ یعنی مشرکین اپنے ان خود ساختہ معبودوں سے بے زاری کا اظہار کریں گے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا اور معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ١ٞ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾(القصص:28؍63) ’’(اے اللہ!) ہم تیرے سامنے براء ت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ وہ اپنے آپ پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں گے۔ [16-14] اس روز اہل خیر اور اہل شر علیحدہ علیحدہ کھڑے ہوں گے جس طرح دنیا میں ان کے اعمال علیحدہ علیحدہ تھے۔﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کی ﴿فَهُمۡ فِيۡ رَوۡضَةٍ ﴾ ’’تو وہ باغ میں‘‘ جس میں ہر قسم کے درخت، پودے اور تمام دل پسند چیزیں ہوں گی ﴿يُّحۡبَرُوۡنَ ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کو خوش رکھا جائے گا اور نعمتوں سے نوازا جائے گا ، مثلاً:نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، خوبصورت حوریں، خدام، خدمت گار لڑکے، طرب انگیز آوازیں، سرور انگیز نغمے، خوبصورت و خوش کن مناظر، بہترین خوشبوئیں، فرحت و سرور اور لذت و نعمت وغیرہ جن کے اوصاف بیان کرنے کی کوئی شخص قدرت نہیں رکھتا۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کیا، ان کے مقابلے میں کفر کیا ﴿وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور ہماری (ان) آیتوں کو جھٹلایا‘‘ جنھیں ہمارے رسول لے کر آئے تھے ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔‘‘ جہنم ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی، دردناک عذاب ان کے دلوں تک پہنچ جائے گا، ابلتا ہوا پانی ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ دونوں گروہوں کے درمیان کتنا فرق ہے؟ نعمتوں سے سرفراز اور عذاب میں مبتلا دونوں گروہوں کے مابین کہاں برابری ہے؟

الروم 30:13

اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے ، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم(11) اور جس دن قائم ہو گی قیامت مایوس ہوجائیں گے مجرم(12) اور نہیں ہوں گے ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارشی، اور ہو جائیں گے وہ (خود بھی) اپنے شریکوں (معبودوں) کا انکار کرنے والے(13) اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہو جائیں گے(14) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک تو وہ باغ (بہشت) میں خوش حال کیے جائیں گے(15)اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو، پس یہی لوگ عذاب میں حاضر (داخل) کیے جائیں گے(16) [13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے۔ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا ، پھر نیکوکاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’اور جس دن قیامت برپا ہوگی‘‘ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز ﴿يُبۡلِسُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ان لوگوں نے اس روز کے لیے جرائم کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا ہوگا۔ جرائم سے مراد کفر، شرک اور دیگر بڑے بڑے گناہ ہیں۔چونکہ انھوں نے ایسے اعمال آگے روانہ کیے تھے جو عذاب کے موجب تھے اور ان کے پاس کوئی بھی ایسا عمل نہ تھا جو ثواب کا موجب ہوتا اس لیے وہ اعمال خیر کے اعتبار سے مفلس ہوں گے اور سخت مایوس ہوں گے۔ ان کی تمام افترا پردازیاں گم ہو جائیں گی، ان کے خود ساختہ معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکیں گے نہ ان کی کوئی سفارش کر سکے گا۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ مِّنۡ شُرَؔكَآىِٕهِمۡ ﴾ ’’اور نہیں ہوگا ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی‘‘ جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿شُفَعٰٓؤُا وَؔكَانُوۡا بِشُرَؔكَآىِٕهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’سفارشی اور وہ اپنے شریکوں کا انکارکردیں گے۔‘‘ یعنی مشرکین اپنے ان خود ساختہ معبودوں سے بے زاری کا اظہار کریں گے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا اور معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ١ٞ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾(القصص:28؍63) ’’(اے اللہ!) ہم تیرے سامنے براء ت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ وہ اپنے آپ پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں گے۔ [16-14] اس روز اہل خیر اور اہل شر علیحدہ علیحدہ کھڑے ہوں گے جس طرح دنیا میں ان کے اعمال علیحدہ علیحدہ تھے۔﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کی ﴿فَهُمۡ فِيۡ رَوۡضَةٍ ﴾ ’’تو وہ باغ میں‘‘ جس میں ہر قسم کے درخت، پودے اور تمام دل پسند چیزیں ہوں گی ﴿يُّحۡبَرُوۡنَ ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کو خوش رکھا جائے گا اور نعمتوں سے نوازا جائے گا ، مثلاً:نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، خوبصورت حوریں، خدام، خدمت گار لڑکے، طرب انگیز آوازیں، سرور انگیز نغمے، خوبصورت و خوش کن مناظر، بہترین خوشبوئیں، فرحت و سرور اور لذت و نعمت وغیرہ جن کے اوصاف بیان کرنے کی کوئی شخص قدرت نہیں رکھتا۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کیا، ان کے مقابلے میں کفر کیا ﴿وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور ہماری (ان) آیتوں کو جھٹلایا‘‘ جنھیں ہمارے رسول لے کر آئے تھے ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔‘‘ جہنم ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی، دردناک عذاب ان کے دلوں تک پہنچ جائے گا، ابلتا ہوا پانی ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ دونوں گروہوں کے درمیان کتنا فرق ہے؟ نعمتوں سے سرفراز اور عذاب میں مبتلا دونوں گروہوں کے مابین کہاں برابری ہے؟

الروم 30:14

اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے ، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم(11) اور جس دن قائم ہو گی قیامت مایوس ہوجائیں گے مجرم(12) اور نہیں ہوں گے ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارشی، اور ہو جائیں گے وہ (خود بھی) اپنے شریکوں (معبودوں) کا انکار کرنے والے(13) اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہو جائیں گے(14) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک تو وہ باغ (بہشت) میں خوش حال کیے جائیں گے(15)اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو، پس یہی لوگ عذاب میں حاضر (داخل) کیے جائیں گے(16) [13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے۔ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا ، پھر نیکوکاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’اور جس دن قیامت برپا ہوگی‘‘ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز ﴿يُبۡلِسُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ان لوگوں نے اس روز کے لیے جرائم کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا ہوگا۔ جرائم سے مراد کفر، شرک اور دیگر بڑے بڑے گناہ ہیں۔چونکہ انھوں نے ایسے اعمال آگے روانہ کیے تھے جو عذاب کے موجب تھے اور ان کے پاس کوئی بھی ایسا عمل نہ تھا جو ثواب کا موجب ہوتا اس لیے وہ اعمال خیر کے اعتبار سے مفلس ہوں گے اور سخت مایوس ہوں گے۔ ان کی تمام افترا پردازیاں گم ہو جائیں گی، ان کے خود ساختہ معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکیں گے نہ ان کی کوئی سفارش کر سکے گا۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ مِّنۡ شُرَؔكَآىِٕهِمۡ ﴾ ’’اور نہیں ہوگا ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی‘‘ جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿شُفَعٰٓؤُا وَؔكَانُوۡا بِشُرَؔكَآىِٕهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’سفارشی اور وہ اپنے شریکوں کا انکارکردیں گے۔‘‘ یعنی مشرکین اپنے ان خود ساختہ معبودوں سے بے زاری کا اظہار کریں گے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا اور معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ١ٞ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾(القصص:28؍63) ’’(اے اللہ!) ہم تیرے سامنے براء ت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ وہ اپنے آپ پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں گے۔ [16-14] اس روز اہل خیر اور اہل شر علیحدہ علیحدہ کھڑے ہوں گے جس طرح دنیا میں ان کے اعمال علیحدہ علیحدہ تھے۔﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کی ﴿فَهُمۡ فِيۡ رَوۡضَةٍ ﴾ ’’تو وہ باغ میں‘‘ جس میں ہر قسم کے درخت، پودے اور تمام دل پسند چیزیں ہوں گی ﴿يُّحۡبَرُوۡنَ ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کو خوش رکھا جائے گا اور نعمتوں سے نوازا جائے گا ، مثلاً:نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، خوبصورت حوریں، خدام، خدمت گار لڑکے، طرب انگیز آوازیں، سرور انگیز نغمے، خوبصورت و خوش کن مناظر، بہترین خوشبوئیں، فرحت و سرور اور لذت و نعمت وغیرہ جن کے اوصاف بیان کرنے کی کوئی شخص قدرت نہیں رکھتا۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کیا، ان کے مقابلے میں کفر کیا ﴿وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور ہماری (ان) آیتوں کو جھٹلایا‘‘ جنھیں ہمارے رسول لے کر آئے تھے ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔‘‘ جہنم ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی، دردناک عذاب ان کے دلوں تک پہنچ جائے گا، ابلتا ہوا پانی ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ دونوں گروہوں کے درمیان کتنا فرق ہے؟ نعمتوں سے سرفراز اور عذاب میں مبتلا دونوں گروہوں کے مابین کہاں برابری ہے؟

الروم 30:15

اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے ، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم(11) اور جس دن قائم ہو گی قیامت مایوس ہوجائیں گے مجرم(12) اور نہیں ہوں گے ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارشی، اور ہو جائیں گے وہ (خود بھی) اپنے شریکوں (معبودوں) کا انکار کرنے والے(13) اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہو جائیں گے(14) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک تو وہ باغ (بہشت) میں خوش حال کیے جائیں گے(15)اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو، پس یہی لوگ عذاب میں حاضر (داخل) کیے جائیں گے(16) [13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے۔ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا ، پھر نیکوکاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’اور جس دن قیامت برپا ہوگی‘‘ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز ﴿يُبۡلِسُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ان لوگوں نے اس روز کے لیے جرائم کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا ہوگا۔ جرائم سے مراد کفر، شرک اور دیگر بڑے بڑے گناہ ہیں۔چونکہ انھوں نے ایسے اعمال آگے روانہ کیے تھے جو عذاب کے موجب تھے اور ان کے پاس کوئی بھی ایسا عمل نہ تھا جو ثواب کا موجب ہوتا اس لیے وہ اعمال خیر کے اعتبار سے مفلس ہوں گے اور سخت مایوس ہوں گے۔ ان کی تمام افترا پردازیاں گم ہو جائیں گی، ان کے خود ساختہ معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکیں گے نہ ان کی کوئی سفارش کر سکے گا۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ مِّنۡ شُرَؔكَآىِٕهِمۡ ﴾ ’’اور نہیں ہوگا ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی‘‘ جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿شُفَعٰٓؤُا وَؔكَانُوۡا بِشُرَؔكَآىِٕهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’سفارشی اور وہ اپنے شریکوں کا انکارکردیں گے۔‘‘ یعنی مشرکین اپنے ان خود ساختہ معبودوں سے بے زاری کا اظہار کریں گے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا اور معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ١ٞ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾(القصص:28؍63) ’’(اے اللہ!) ہم تیرے سامنے براء ت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ وہ اپنے آپ پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں گے۔ [16-14] اس روز اہل خیر اور اہل شر علیحدہ علیحدہ کھڑے ہوں گے جس طرح دنیا میں ان کے اعمال علیحدہ علیحدہ تھے۔﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کی ﴿فَهُمۡ فِيۡ رَوۡضَةٍ ﴾ ’’تو وہ باغ میں‘‘ جس میں ہر قسم کے درخت، پودے اور تمام دل پسند چیزیں ہوں گی ﴿يُّحۡبَرُوۡنَ ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کو خوش رکھا جائے گا اور نعمتوں سے نوازا جائے گا ، مثلاً:نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، خوبصورت حوریں، خدام، خدمت گار لڑکے، طرب انگیز آوازیں، سرور انگیز نغمے، خوبصورت و خوش کن مناظر، بہترین خوشبوئیں، فرحت و سرور اور لذت و نعمت وغیرہ جن کے اوصاف بیان کرنے کی کوئی شخص قدرت نہیں رکھتا۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کیا، ان کے مقابلے میں کفر کیا ﴿وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور ہماری (ان) آیتوں کو جھٹلایا‘‘ جنھیں ہمارے رسول لے کر آئے تھے ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔‘‘ جہنم ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی، دردناک عذاب ان کے دلوں تک پہنچ جائے گا، ابلتا ہوا پانی ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ دونوں گروہوں کے درمیان کتنا فرق ہے؟ نعمتوں سے سرفراز اور عذاب میں مبتلا دونوں گروہوں کے مابین کہاں برابری ہے؟

الروم 30:16

اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے ، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم(11) اور جس دن قائم ہو گی قیامت مایوس ہوجائیں گے مجرم(12) اور نہیں ہوں گے ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارشی، اور ہو جائیں گے وہ (خود بھی) اپنے شریکوں (معبودوں) کا انکار کرنے والے(13) اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہو جائیں گے(14) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک تو وہ باغ (بہشت) میں خوش حال کیے جائیں گے(15)اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو، پس یہی لوگ عذاب میں حاضر (داخل) کیے جائیں گے(16) [13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے۔ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا ، پھر نیکوکاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’اور جس دن قیامت برپا ہوگی‘‘ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز ﴿يُبۡلِسُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ان لوگوں نے اس روز کے لیے جرائم کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا ہوگا۔ جرائم سے مراد کفر، شرک اور دیگر بڑے بڑے گناہ ہیں۔چونکہ انھوں نے ایسے اعمال آگے روانہ کیے تھے جو عذاب کے موجب تھے اور ان کے پاس کوئی بھی ایسا عمل نہ تھا جو ثواب کا موجب ہوتا اس لیے وہ اعمال خیر کے اعتبار سے مفلس ہوں گے اور سخت مایوس ہوں گے۔ ان کی تمام افترا پردازیاں گم ہو جائیں گی، ان کے خود ساختہ معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکیں گے نہ ان کی کوئی سفارش کر سکے گا۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ مِّنۡ شُرَؔكَآىِٕهِمۡ ﴾ ’’اور نہیں ہوگا ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی‘‘ جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿شُفَعٰٓؤُا وَؔكَانُوۡا بِشُرَؔكَآىِٕهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’سفارشی اور وہ اپنے شریکوں کا انکارکردیں گے۔‘‘ یعنی مشرکین اپنے ان خود ساختہ معبودوں سے بے زاری کا اظہار کریں گے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا اور معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ١ٞ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾(القصص:28؍63) ’’(اے اللہ!) ہم تیرے سامنے براء ت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ وہ اپنے آپ پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں گے۔ [16-14] اس روز اہل خیر اور اہل شر علیحدہ علیحدہ کھڑے ہوں گے جس طرح دنیا میں ان کے اعمال علیحدہ علیحدہ تھے۔﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کی ﴿فَهُمۡ فِيۡ رَوۡضَةٍ ﴾ ’’تو وہ باغ میں‘‘ جس میں ہر قسم کے درخت، پودے اور تمام دل پسند چیزیں ہوں گی ﴿يُّحۡبَرُوۡنَ ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کو خوش رکھا جائے گا اور نعمتوں سے نوازا جائے گا ، مثلاً:نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، خوبصورت حوریں، خدام، خدمت گار لڑکے، طرب انگیز آوازیں، سرور انگیز نغمے، خوبصورت و خوش کن مناظر، بہترین خوشبوئیں، فرحت و سرور اور لذت و نعمت وغیرہ جن کے اوصاف بیان کرنے کی کوئی شخص قدرت نہیں رکھتا۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کیا، ان کے مقابلے میں کفر کیا ﴿وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور ہماری (ان) آیتوں کو جھٹلایا‘‘ جنھیں ہمارے رسول لے کر آئے تھے ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔‘‘ جہنم ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی، دردناک عذاب ان کے دلوں تک پہنچ جائے گا، ابلتا ہوا پانی ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ دونوں گروہوں کے درمیان کتنا فرق ہے؟ نعمتوں سے سرفراز اور عذاب میں مبتلا دونوں گروہوں کے مابین کہاں برابری ہے؟

الروم 30:17

پس تسبیح کرو اللہ کی جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو(17) اور اسی کے لیے ہیں تمام تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اور سہ پہر کو اور جب تم ظہر کرو(18) وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور وہی نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے، اور وہی زندہ (آباد) کرتا ہے زمین کو بعداس کی موت (ویرانی) کے، اور اسی طرح نکالے جاؤ گے تم بھی(19) [17، 18] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کی خبر ہے کہ وہ ہر برائی اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے نیز وہ اس سے بھی منزہ اور پاک ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کا مثیل ہو۔ اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام، عشاء اور ظہر کے وقت اس کی تسبیح بیان کریں۔ یہ پانچ اوقات، پانچ نمازوں کے اوقات ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان اوقات میں اس کی حمد و تسبیح بیان کریں۔ اس میں فرائض و واجبات بھی داخل ہیں جیسے نماز پنجگانہ اور مستحبات بھی شامل ہیں جیسے صبح و شام اور فرض نمازوں کے بعد اذکار و تسبیحات اور فرض نمازوں کے ساتھ والے نوافل (سنن موکدہ وغیرہ) کیونکہ یہ اوقات، جن کو اللہ تعالیٰ نے فرائض کی ادائیگی کے طور پر اپنے بندوں کے لیے منتخب کیا ہے، افضل ترین اوقات ہیں، اس لیے ان اوقات میں تسبیح و تحمید اور عبادات، دیگر اوقات کی نسبت زیادہ فضیلت کی حامل ہیں بلکہ ان اوقات میں عبادات، اگرچہ وہ ’’سبحان اللہ‘‘ پر مشتمل نہ بھی ہوں (وہ تسبیح و تحمید کے زمرے میں آئیں گی) کیونکہ عبادت کے اندر اخلاص عملی طورپر اللہ تعالیٰ کی اس بات سے تنزیہ ہے کہ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہو یا جس اخلاص اور انابت کا اللہ تعالیٰ مستحق ہے اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی مستحق ہو۔ [19]﴿يُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے۔‘‘ جیسے زندہ نباتات مردہ زمین سے، خوشہ بیج کے دانے سے، درخت گٹھلی سے، چوزہ انڈے سے اور مومن کافر سے نکلتا ہے۔ ﴿وَيُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’اور وہی مردہ کو زندہ سے نکالتا۔‘‘ متذکرہ بالا چیزوں کے برعکس ﴿وَيُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾ اللہ تعالیٰ زمین پر بارش برساتا ہے جبکہ زمین خشک اور مردہ پڑی ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اس پر بارش برساتا ہے تو وہ لہلہا اٹھتی، پھول جاتی اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح تمھیں بھی نکالا جائے گا‘‘ تمھاری قبروں سے۔ یہ قطعی اور بہت بڑی دلیل و برہان ہے کہ وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندگی عطا کی، وہ مردوں کو زندہ کرے گی۔ عقل کے لحاظ سے دونوں امور کے مابین کوئی فرق نہیں، ایک چیز کے مشاہدے کے بعد دوسرے کے بعید ہونے کا کوئی موجب نہیں۔

الروم 30:18

پس تسبیح کرو اللہ کی جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو(17) اور اسی کے لیے ہیں تمام تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اور سہ پہر کو اور جب تم ظہر کرو(18) وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور وہی نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے، اور وہی زندہ (آباد) کرتا ہے زمین کو بعداس کی موت (ویرانی) کے، اور اسی طرح نکالے جاؤ گے تم بھی(19) [17، 18] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کی خبر ہے کہ وہ ہر برائی اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے نیز وہ اس سے بھی منزہ اور پاک ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کا مثیل ہو۔ اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام، عشاء اور ظہر کے وقت اس کی تسبیح بیان کریں۔ یہ پانچ اوقات، پانچ نمازوں کے اوقات ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان اوقات میں اس کی حمد و تسبیح بیان کریں۔ اس میں فرائض و واجبات بھی داخل ہیں جیسے نماز پنجگانہ اور مستحبات بھی شامل ہیں جیسے صبح و شام اور فرض نمازوں کے بعد اذکار و تسبیحات اور فرض نمازوں کے ساتھ والے نوافل (سنن موکدہ وغیرہ) کیونکہ یہ اوقات، جن کو اللہ تعالیٰ نے فرائض کی ادائیگی کے طور پر اپنے بندوں کے لیے منتخب کیا ہے، افضل ترین اوقات ہیں، اس لیے ان اوقات میں تسبیح و تحمید اور عبادات، دیگر اوقات کی نسبت زیادہ فضیلت کی حامل ہیں بلکہ ان اوقات میں عبادات، اگرچہ وہ ’’سبحان اللہ‘‘ پر مشتمل نہ بھی ہوں (وہ تسبیح و تحمید کے زمرے میں آئیں گی) کیونکہ عبادت کے اندر اخلاص عملی طورپر اللہ تعالیٰ کی اس بات سے تنزیہ ہے کہ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہو یا جس اخلاص اور انابت کا اللہ تعالیٰ مستحق ہے اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی مستحق ہو۔ [19]﴿يُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے۔‘‘ جیسے زندہ نباتات مردہ زمین سے، خوشہ بیج کے دانے سے، درخت گٹھلی سے، چوزہ انڈے سے اور مومن کافر سے نکلتا ہے۔ ﴿وَيُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’اور وہی مردہ کو زندہ سے نکالتا۔‘‘ متذکرہ بالا چیزوں کے برعکس ﴿وَيُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾ اللہ تعالیٰ زمین پر بارش برساتا ہے جبکہ زمین خشک اور مردہ پڑی ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اس پر بارش برساتا ہے تو وہ لہلہا اٹھتی، پھول جاتی اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح تمھیں بھی نکالا جائے گا‘‘ تمھاری قبروں سے۔ یہ قطعی اور بہت بڑی دلیل و برہان ہے کہ وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندگی عطا کی، وہ مردوں کو زندہ کرے گی۔ عقل کے لحاظ سے دونوں امور کے مابین کوئی فرق نہیں، ایک چیز کے مشاہدے کے بعد دوسرے کے بعید ہونے کا کوئی موجب نہیں۔

الروم 30:19

پس تسبیح کرو اللہ کی جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو(17) اور اسی کے لیے ہیں تمام تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اور سہ پہر کو اور جب تم ظہر کرو(18) وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور وہی نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے، اور وہی زندہ (آباد) کرتا ہے زمین کو بعداس کی موت (ویرانی) کے، اور اسی طرح نکالے جاؤ گے تم بھی(19) [17، 18] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کی خبر ہے کہ وہ ہر برائی اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے نیز وہ اس سے بھی منزہ اور پاک ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کا مثیل ہو۔ اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام، عشاء اور ظہر کے وقت اس کی تسبیح بیان کریں۔ یہ پانچ اوقات، پانچ نمازوں کے اوقات ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان اوقات میں اس کی حمد و تسبیح بیان کریں۔ اس میں فرائض و واجبات بھی داخل ہیں جیسے نماز پنجگانہ اور مستحبات بھی شامل ہیں جیسے صبح و شام اور فرض نمازوں کے بعد اذکار و تسبیحات اور فرض نمازوں کے ساتھ والے نوافل (سنن موکدہ وغیرہ) کیونکہ یہ اوقات، جن کو اللہ تعالیٰ نے فرائض کی ادائیگی کے طور پر اپنے بندوں کے لیے منتخب کیا ہے، افضل ترین اوقات ہیں، اس لیے ان اوقات میں تسبیح و تحمید اور عبادات، دیگر اوقات کی نسبت زیادہ فضیلت کی حامل ہیں بلکہ ان اوقات میں عبادات، اگرچہ وہ ’’سبحان اللہ‘‘ پر مشتمل نہ بھی ہوں (وہ تسبیح و تحمید کے زمرے میں آئیں گی) کیونکہ عبادت کے اندر اخلاص عملی طورپر اللہ تعالیٰ کی اس بات سے تنزیہ ہے کہ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہو یا جس اخلاص اور انابت کا اللہ تعالیٰ مستحق ہے اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی مستحق ہو۔ [19]﴿يُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے۔‘‘ جیسے زندہ نباتات مردہ زمین سے، خوشہ بیج کے دانے سے، درخت گٹھلی سے، چوزہ انڈے سے اور مومن کافر سے نکلتا ہے۔ ﴿وَيُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’اور وہی مردہ کو زندہ سے نکالتا۔‘‘ متذکرہ بالا چیزوں کے برعکس ﴿وَيُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾ اللہ تعالیٰ زمین پر بارش برساتا ہے جبکہ زمین خشک اور مردہ پڑی ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اس پر بارش برساتا ہے تو وہ لہلہا اٹھتی، پھول جاتی اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح تمھیں بھی نکالا جائے گا‘‘ تمھاری قبروں سے۔ یہ قطعی اور بہت بڑی دلیل و برہان ہے کہ وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندگی عطا کی، وہ مردوں کو زندہ کرے گی۔ عقل کے لحاظ سے دونوں امور کے مابین کوئی فرق نہیں، ایک چیز کے مشاہدے کے بعد دوسرے کے بعید ہونے کا کوئی موجب نہیں۔

الروم 30:20

اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر ناگہاں تم انسان ہو، تم پھیل رہے ہو(زمین میں)(20) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ اس نے پیدا کیں (بنائیں) تمھارے لیے، تمھارے نفسوں (تمھاری جنس) سے بیویاں تاکہ تم سکون حاصل کرو ان سے، اور پیدا کر دی ا س نے تمھارے درمیان محبت اور مہربانی ، بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں(21) [20] یہاں سے وہ متعدد آیات شروع ہوتی ہیں جو الوہیت میں اللہ تعالیٰ کے یکتا ہونے، اس کی عظمت کے کمال، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کی قوت و اقتدار، اس کی صنعت کے جمال اور اس کی بے پایاں رحمت و احسان پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ اَنۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’اور اسی کے نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ یہ تھی نسل انسانی کے جدامجد، حضرت آدم u کی تخلیق ﴿ثُمَّ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ تَنۡتَشِرُوۡنَ ﴾ ’’پھر اب تم انسان ہوکر جابجا پھیل رہے ہو۔‘‘ اور اس نے تمھیں زمین کے تمام گوشوں اور کناروں تک پھیلایا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس ہستی نے تمھیں اس اصل سے تخلیق کیااور پھر تمھیں زمین کے کناروں تک پھیلایا، وہی ہستی رب معبود، قابل ستائش بادشاہ کائنات، نہایت مہربان اور محبت کرنے والا پروردگار ہے جو تمھیں موت کے بعد دوبارہ اٹھائے گا۔ [21]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ ﴾ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی، جو اس کے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی عنایت، اس کی عظیم حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتی ہے، یہ ہے ﴿اَنۡ خَلَقَ لَكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھارے جوڑے بنائے‘‘ جو تم سے مشابہت رکھتے ہیں اور تم ان سے مشابہت رکھتے ہو۔ ﴿لِّتَسۡكُنُوۡۤا اِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُمۡ مَّوَدَّةً وَّرَحۡمَةً ﴾ ’’تاکہ ان کی طرف آرام حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کردی‘‘ نکاح و ازدواج پر مترتب ہونے والے اسباب کے ذریعے سے جو محبت و مودت کے موجب ہیں۔ بیوی سے لذت تمتع، وجود اولاد کی منفعت، اولاد کی تربیت اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح شوہر اور بیوی کے درمیان محبت اور مودت ہوتی ہے غالب حالات میں آپ کبھی دو افراد کے درمیان اتنی محبت اور مودت نہیں پائیں گے ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک جو لوگ غوروفکر کرتے ہیں ان کے لیے ان باتوں میں نشانیاں ہیں۔‘‘ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی آیات میں غوروفکر کرتے ہیں اور وہ استدلال کے ذریعے سے ایک چیز سے دوسری چیز تک پہنچ جاتے ہیں۔

الروم 30:21

اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر ناگہاں تم انسان ہو، تم پھیل رہے ہو(زمین میں)(20) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ اس نے پیدا کیں (بنائیں) تمھارے لیے، تمھارے نفسوں (تمھاری جنس) سے بیویاں تاکہ تم سکون حاصل کرو ان سے، اور پیدا کر دی ا س نے تمھارے درمیان محبت اور مہربانی ، بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں(21) [20] یہاں سے وہ متعدد آیات شروع ہوتی ہیں جو الوہیت میں اللہ تعالیٰ کے یکتا ہونے، اس کی عظمت کے کمال، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کی قوت و اقتدار، اس کی صنعت کے جمال اور اس کی بے پایاں رحمت و احسان پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ اَنۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’اور اسی کے نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ یہ تھی نسل انسانی کے جدامجد، حضرت آدم u کی تخلیق ﴿ثُمَّ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ تَنۡتَشِرُوۡنَ ﴾ ’’پھر اب تم انسان ہوکر جابجا پھیل رہے ہو۔‘‘ اور اس نے تمھیں زمین کے تمام گوشوں اور کناروں تک پھیلایا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس ہستی نے تمھیں اس اصل سے تخلیق کیااور پھر تمھیں زمین کے کناروں تک پھیلایا، وہی ہستی رب معبود، قابل ستائش بادشاہ کائنات، نہایت مہربان اور محبت کرنے والا پروردگار ہے جو تمھیں موت کے بعد دوبارہ اٹھائے گا۔ [21]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ ﴾ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی، جو اس کے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی عنایت، اس کی عظیم حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتی ہے، یہ ہے ﴿اَنۡ خَلَقَ لَكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھارے جوڑے بنائے‘‘ جو تم سے مشابہت رکھتے ہیں اور تم ان سے مشابہت رکھتے ہو۔ ﴿لِّتَسۡكُنُوۡۤا اِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُمۡ مَّوَدَّةً وَّرَحۡمَةً ﴾ ’’تاکہ ان کی طرف آرام حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کردی‘‘ نکاح و ازدواج پر مترتب ہونے والے اسباب کے ذریعے سے جو محبت و مودت کے موجب ہیں۔ بیوی سے لذت تمتع، وجود اولاد کی منفعت، اولاد کی تربیت اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح شوہر اور بیوی کے درمیان محبت اور مودت ہوتی ہے غالب حالات میں آپ کبھی دو افراد کے درمیان اتنی محبت اور مودت نہیں پائیں گے ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک جو لوگ غوروفکر کرتے ہیں ان کے لیے ان باتوں میں نشانیاں ہیں۔‘‘ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی آیات میں غوروفکر کرتے ہیں اور وہ استدلال کے ذریعے سے ایک چیز سے دوسری چیز تک پہنچ جاتے ہیں۔

الروم 30:22

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے پیدا کرنا (بنانا) آسمانوں اور زمین کا، اور اختلاف تمھاری زبانوں اور تمھارے رنگوں کا بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانیاں ہیں علم والوں کے لیے(22) [22] اہل علم وہ لوگ ہیں جو مقام عبرت کو سمجھتے ہیں اور آیات الٰہی میں تدبر کرتے ہیں۔ اس بارے میں بہت سی آیات وارد ہوئی ہیں۔ اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے اسے پیدا کرنا ہے۔ یہ تخلیق اللہ تعالیٰ کی عظمت سلطان اور اس کے کامل اقتدار پر دلالت کرتی ہے جو ان بڑی بڑی مخلوقات کو وجود میں لایا نیز یہ تخلیق اللہ کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ ان مخلوقات کی تخلیق میں کمال درجے کی مہارت اور وسعت علم پائی جاتی ہے کیونکہ خالق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے بارے میں پورا علم رکھتا ہو۔ ﴿اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ﴾(الملک:67؍14) ’’بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ بے علم ہوسکتا ہے؟‘‘نیز یہ تخلیق اللہ تعالیٰ کی عمومی رحمت اور اس کے فضل و کرم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ ان کی تخلیق میں منافع جلیلہ ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارادے کا مالک ہے وہ جو چاہتا ہے خصوصیات کی بنا پر اس کو منتخب کر لیتا ہے۔ وہ اکیلا اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کو ایک مانا جائے۔ چونکہ وہ تخلیق میں یکتا ہے اس لیے وہ مستحق ہے کہ وہ عبادت میں بھی یکتا ہو۔ یہ تمام عقلی دلائل ہیں، اللہ تعالیٰ نے عقل انسانی کو ان کی طرف توجہ دلائی ہے اور انھیں ان میں غوروفکر کرنے اور عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ اسی طرح ﴿اخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِكُمۡ وَاَلۡوَانِكُمۡ﴾ ’’ تمھاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا‘‘بھی نشانی ہے جو تمھاری کثرت اور ایک دوسرے سے جدا ہونے کی بنا پر ہے حالانکہ تمھاری اصل ایک اور حروف کے مخارج ایک ہیں۔ بایں ہمہ آپ دو آوازیں بھی ایسی نہیں پائیں گے جو ہر لحاظ سے ایک جیسی ہوں نہ دو رنگ ایسے پائیں گے جو ہر لحاظ سے مشابہت رکھتے ہوں آپ دونوں کے درمیان ضرور فرق پائیں گے جس کے ذریعے سے ان کے مابین امتیاز کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور مشیت نافذہ پر دلالت کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت اور رحمت ہے کہ اس نے ان کے درمیان زبانوں اور رنگوں کا اختلاف پیدا کیا تاکہ ان میں تشابہ واقع نہ ہو جس کی بنا پر اضطراب پیدا ہو جائے اور بہت سے مقاصد و مطالب فوت ہو جائیں۔

الروم 30:23

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے سونا تمھارا رات اور دن میں اور تلاش کرنا تمھارا اس کے فضل کو، بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں(23) [23] یعنی آیات و معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے تدبر و تفکر کے ساتھ سننے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔ یہ آیت کریمہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾(القصص:28؍73) ’’یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات کے وقت سکون حاصل کرو اور دن میں اس کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔‘‘ نیز یہ آیت کریمہ اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ لوگ کسی وقت سکون حاصل کریں تاکہ وہ آرام کر سکیں اور کسی وقت اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لیے زمین پر پھیل جائیں اور یہ مصالح اس وقت تک پورے نہیں ہوتے جب تک کہ رات اور دن ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہوئے نہ آئیں۔ جس اکیلی ہستی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے لگایا ہے وہی اکیلی ہستی عبادت کی مستحق ہے۔

الروم 30:24

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ دکھاتا ہے تمھیں بجلی ڈر اور امیدکے لیے، اور وہی نازل کرتا ہے آسمان سے پانی، پس وہ زندہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے زمین کو بعد اس کی موت کے، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(24) [24] یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ وہ تم پر بارش برساتا ہے جس سے زمین اور بندوں میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ بارش برسانے سے قبل وہ تمھیں اس کے مقدمات کا مشاہدہ کراتا ہے، مثلاً: بجلی کی چمک اور بجلی کی کڑک، جس سے امید وابستہ ہوتی ہے اور اس سے خوف بھی آتا ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں‘‘ جو اس کے بے پایاں احسان، لا محدود علم، کامل مہارت اور عظیم حکمت پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا جس طرح اس نے زمین کو اس کے مر جانے کے بعد زندگی بخشی ﴿لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘ وہ جو کچھ سنتے اور دیکھتے ہیں اس عقل کے ذریعے سے اسے سمجھنے اور یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، پھر اس عقل کے ذریعے سے ان امور پر استدلال کرتے ہیں جن پر ان نشانیوں کو دلیل بنایا ہے۔

الروم 30:25

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ قائم ہیں آسمان اور زمین اس کے حکم سے، پھر جب وہ پکارے گا تمھیں ایک بار پکارنا، زمین میں سےتو ناگہاں تم (باہر) نکل آؤ گے(25) اور اسی کے لیے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں (26) اور وہی ہے (اللہ) جو پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے، اور وہ زیادہ آسان ہے اس پر، اور اسی کے لیے ہے مثال اعلیٰ آسمانوں اور زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(27) [25] اس کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم، ثابت اور ٹھہرے ہوئے ہیں وہ دونوں متزلزل ہوتے ہیں نہ آسمان زمین پر گرتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے۔ وہ اس پر قادر ہے کہ جب وہ مخلوق کو پکارے تو تمام مخلوق زمین سے نکل کھڑی ہو۔ ﴿لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَكۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ ﴾(المؤمن:40؍57) ’’آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے یقیناً زیادہ بڑا کام ہے۔‘‘ [26]﴿وَلَهٗ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ ہر چیز اس کی مخلوق اور مملوک ہے، وہ اپنی مخلوق میں کسی کی منازعت و معارضت اور کسی کے تعاون کے بغیر تصرف کرتا ہے، تمام مخلوق اس کے جلال کے سامنے فروتن اور اس کے کمال کے سامنے سرافگندہ ہے۔ [27]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ‘‘ یعنی تمام مخلوق کی موت کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرنا۔ ﴿اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ﴾ ’’اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔‘‘ انھیں پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے۔ یہ ذہن اور عقل کی نسبت سے ہے کہ جب وہ تخلیق کی ابتدا کرنے پر قادر ہے، جس کا تمھیں خود بھی اقرار ہے، تو تخلیق کے اعادہ پر قدرت آسان تر اور زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بڑی بڑی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد، جن سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے ہیں، اہل ایمان نصیحت پکڑتے ہیں اور ہدایت یافتہ لوگ اس سے بصیرت حاصل کرتے ہیں… بہت عظیم معاملے اور بہت بڑے مقصد کا تذکرہ کیا:﴿وَلَهُ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے۔‘‘ اس سے مراد ہر صفت کمال ہے اور اس کمال سے اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے دلوں میں محبت، انابت کامل، ذکر جلیل اور ان کی عبادت میں کمال مراد ہے۔یہاں (الْ٘مَثَلُ الْاَعْلٰى) سے مراد اس کے بلند ترین وصف اور اس پر مترتب ہونے والے آثار ہیں۔ اس لیے اہل علم اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں قیاس اولیٰ استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ مخلوقات کی ہر صفت کمال سے، ان کو پیدا کرنے والا اللہ متصف ہونے کا زیادہ مستحق ہے، مگر اس طرح کہ کوئی اس کا شریک نہیں ہوتا۔ ہر وہ نقص، جس سے مخلوق اپنے آپ کو بچاتی ہے خالق کا اس وصف سے منزہ ہونا اولیٰ و احریٰ ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ غلبۂ کامل اور بے پایاں حکمت کا مالک ہے اس نے اپنے غلبے کی بنا پر مخلوقات کو وجود بخشا اور مامورات کو ظاہر کیا اور اپنی حکمت کی بنا پر اپنی بنائی چیزوں کو مہارت سے بنایا، ان کے اندر اپنی شرع کو بہترین طریقے سے مشروع کیا۔

الروم 30:26

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ قائم ہیں آسمان اور زمین اس کے حکم سے، پھر جب وہ پکارے گا تمھیں ایک بار پکارنا، زمین میں سےتو ناگہاں تم (باہر) نکل آؤ گے(25) اور اسی کے لیے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں (26) اور وہی ہے (اللہ) جو پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے، اور وہ زیادہ آسان ہے اس پر، اور اسی کے لیے ہے مثال اعلیٰ آسمانوں اور زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(27) [25] اس کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم، ثابت اور ٹھہرے ہوئے ہیں وہ دونوں متزلزل ہوتے ہیں نہ آسمان زمین پر گرتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے۔ وہ اس پر قادر ہے کہ جب وہ مخلوق کو پکارے تو تمام مخلوق زمین سے نکل کھڑی ہو۔ ﴿لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَكۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ ﴾(المؤمن:40؍57) ’’آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے یقیناً زیادہ بڑا کام ہے۔‘‘ [26]﴿وَلَهٗ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ ہر چیز اس کی مخلوق اور مملوک ہے، وہ اپنی مخلوق میں کسی کی منازعت و معارضت اور کسی کے تعاون کے بغیر تصرف کرتا ہے، تمام مخلوق اس کے جلال کے سامنے فروتن اور اس کے کمال کے سامنے سرافگندہ ہے۔ [27]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ‘‘ یعنی تمام مخلوق کی موت کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرنا۔ ﴿اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ﴾ ’’اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔‘‘ انھیں پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے۔ یہ ذہن اور عقل کی نسبت سے ہے کہ جب وہ تخلیق کی ابتدا کرنے پر قادر ہے، جس کا تمھیں خود بھی اقرار ہے، تو تخلیق کے اعادہ پر قدرت آسان تر اور زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بڑی بڑی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد، جن سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے ہیں، اہل ایمان نصیحت پکڑتے ہیں اور ہدایت یافتہ لوگ اس سے بصیرت حاصل کرتے ہیں… بہت عظیم معاملے اور بہت بڑے مقصد کا تذکرہ کیا:﴿وَلَهُ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے۔‘‘ اس سے مراد ہر صفت کمال ہے اور اس کمال سے اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے دلوں میں محبت، انابت کامل، ذکر جلیل اور ان کی عبادت میں کمال مراد ہے۔یہاں (الْ٘مَثَلُ الْاَعْلٰى) سے مراد اس کے بلند ترین وصف اور اس پر مترتب ہونے والے آثار ہیں۔ اس لیے اہل علم اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں قیاس اولیٰ استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ مخلوقات کی ہر صفت کمال سے، ان کو پیدا کرنے والا اللہ متصف ہونے کا زیادہ مستحق ہے، مگر اس طرح کہ کوئی اس کا شریک نہیں ہوتا۔ ہر وہ نقص، جس سے مخلوق اپنے آپ کو بچاتی ہے خالق کا اس وصف سے منزہ ہونا اولیٰ و احریٰ ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ غلبۂ کامل اور بے پایاں حکمت کا مالک ہے اس نے اپنے غلبے کی بنا پر مخلوقات کو وجود بخشا اور مامورات کو ظاہر کیا اور اپنی حکمت کی بنا پر اپنی بنائی چیزوں کو مہارت سے بنایا، ان کے اندر اپنی شرع کو بہترین طریقے سے مشروع کیا۔

الروم 30:27

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ قائم ہیں آسمان اور زمین اس کے حکم سے، پھر جب وہ پکارے گا تمھیں ایک بار پکارنا، زمین میں سےتو ناگہاں تم (باہر) نکل آؤ گے(25) اور اسی کے لیے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں (26) اور وہی ہے (اللہ) جو پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے، اور وہ زیادہ آسان ہے اس پر، اور اسی کے لیے ہے مثال اعلیٰ آسمانوں اور زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(27) [25] اس کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم، ثابت اور ٹھہرے ہوئے ہیں وہ دونوں متزلزل ہوتے ہیں نہ آسمان زمین پر گرتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے۔ وہ اس پر قادر ہے کہ جب وہ مخلوق کو پکارے تو تمام مخلوق زمین سے نکل کھڑی ہو۔ ﴿لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَكۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ ﴾(المؤمن:40؍57) ’’آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے یقیناً زیادہ بڑا کام ہے۔‘‘ [26]﴿وَلَهٗ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ ہر چیز اس کی مخلوق اور مملوک ہے، وہ اپنی مخلوق میں کسی کی منازعت و معارضت اور کسی کے تعاون کے بغیر تصرف کرتا ہے، تمام مخلوق اس کے جلال کے سامنے فروتن اور اس کے کمال کے سامنے سرافگندہ ہے۔ [27]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ‘‘ یعنی تمام مخلوق کی موت کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرنا۔ ﴿اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ﴾ ’’اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔‘‘ انھیں پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے۔ یہ ذہن اور عقل کی نسبت سے ہے کہ جب وہ تخلیق کی ابتدا کرنے پر قادر ہے، جس کا تمھیں خود بھی اقرار ہے، تو تخلیق کے اعادہ پر قدرت آسان تر اور زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بڑی بڑی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد، جن سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے ہیں، اہل ایمان نصیحت پکڑتے ہیں اور ہدایت یافتہ لوگ اس سے بصیرت حاصل کرتے ہیں… بہت عظیم معاملے اور بہت بڑے مقصد کا تذکرہ کیا:﴿وَلَهُ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے۔‘‘ اس سے مراد ہر صفت کمال ہے اور اس کمال سے اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے دلوں میں محبت، انابت کامل، ذکر جلیل اور ان کی عبادت میں کمال مراد ہے۔یہاں (الْ٘مَثَلُ الْاَعْلٰى) سے مراد اس کے بلند ترین وصف اور اس پر مترتب ہونے والے آثار ہیں۔ اس لیے اہل علم اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں قیاس اولیٰ استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ مخلوقات کی ہر صفت کمال سے، ان کو پیدا کرنے والا اللہ متصف ہونے کا زیادہ مستحق ہے، مگر اس طرح کہ کوئی اس کا شریک نہیں ہوتا۔ ہر وہ نقص، جس سے مخلوق اپنے آپ کو بچاتی ہے خالق کا اس وصف سے منزہ ہونا اولیٰ و احریٰ ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ غلبۂ کامل اور بے پایاں حکمت کا مالک ہے اس نے اپنے غلبے کی بنا پر مخلوقات کو وجود بخشا اور مامورات کو ظاہر کیا اور اپنی حکمت کی بنا پر اپنی بنائی چیزوں کو مہارت سے بنایا، ان کے اندر اپنی شرع کو بہترین طریقے سے مشروع کیا۔

الروم 30:28

بیان کی اس (اللہ) نے تمھارے لیے ایک مثال تمھارے نفسوں ہی میں سے، کیا ہیں تمھارے لیے ان میں سے جن کے مالک ہیں دائیں ہاتھ تمھارے، کوئی شریک اس میں جو رزق دیا ہے ہم نے تمھیں کہ تم اس میں برابر ہو جاؤ ؟(کیا) تم ڈرتے ہو ان سے جس طرح ڈرتے ہو تم اپنے نفسوں (لوگوں) سے؟ اسی طرح ہم مفصل بیان کرتے ہیں آیتیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(28)بلکہ اتباع کیاان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، اپنی خواہشوں کا بغیر علم کے، پس کون ہدایت دے سکتا ہے اسے جس کو گمراہ کر دیا اللہ نے؟ اور نہیں ہے ان کے لیے کوئی مددگار(29) [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک کی قباحت اور برائی واضح کرنے کے لیے تمھارے اپنے نفوس سے مثال دی ہے جس کو سمجھنے کے لیے سفر کرنے اور سواریاں کسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ﴿هَلۡ لَّـكُمۡ مِّنۡ مَّا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ مِّنۡ شُرَؔكَآءَ فِيۡ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے کوئی ایسا ہے جسے تم اپنے رزق میں شریک کر سکو‘‘ جن کے بارے میں تمھارا خیال ہو کہ وہ تمھارے برابر ہیں ﴿تَخَافُوۡنَهُمۡ كَخِيۡفَتِكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ ﴾’’تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو؟‘‘ یعنی جس طرح حقیقی آزاد شریک اور اس کی تقسیم سے خوف آتا ہے کہ کہیں وہ تمام مال اپنے لیے مختص نہ کر لے۔ معاملہ ایسے نہیں کیونکہ تمھارے غلاموں میں سے کوئی غلام تمھارے اس رزق میں شریک نہیں بن سکتا جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے... حالانکہ تم نے ان کو پیدا نہیں کیا ہے نہ تم ان کو رزق دیتے ہو، نیز وہ بھی تمھاری طرح مملوک ہیں… پھر کیونکر تم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اس کا شریک بنانے پر راضی ہوتے ہو اور اس کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ہم مرتبہ اور اس کے برابر قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر قرار دینے پر راضی نہیں ہو۔ یہ سب سے زیادہ عجیب چیز ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے اس کی سفاہت و حماقت پر سب سے بڑی دلیل ہے، نیز اس نے جس چیز کو معبود بنایا ہے وہ باطل اور کمزور ہے وہ اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں ہو سکتی اور نہ وہ کسی قسم کی عبادت کی مستحق ہے۔﴿كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔‘‘ یعنی مثالوں کے ذریعے سے ان آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ﴿لِقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘ جو حقائق میں غور کر کے ان کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ رہا وہ شخص جو عقل سے کام نہیں لیتا اگر اس کے سامنے آیات کو کھول کھول کر بیان کر دیا جائے اور دلائل کو واضح کر دیا جائے تو اس کے پاس اتنی عقل ہی نہیں کہ اس کے ذریعے سے بات کی توضیح و تبیین کو سمجھ سکے... عقل مند لوگوں ہی کے سامنے کلام پیش کیا جاتا ہے اور انھیں خطاب کیا جاتا ہے۔ [29] جب اس مثال سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتا ہے، پھر اس کی عبادت کرتا ہے اور اپنے معاملات میں اس پر بھروسہ کرتا ہے، تو وہ حق پر نہیں تو وہ کون سی چیز ہے جو انھیں ایک امر باطل پر اقدام کے لیے آمادہ کرتی ہے جس کا بطلان اس کے لیے واضح اور اس کی دلیل ظاہر ہوچکی ہے؟ یقینا ان کی خواہشات نفس ان کے اس اقدام کی موجب ہیں، اس لیے فرمایا:﴿بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَهۡوَآءَؔهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾’’مگر جو ظالم ہیں وہ بے سمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ ان کے ناقص نفس، جس کا نقص ان امور میں ظاہر ہوچکا ہے جن کا تعلق خواہشات نفس سے ہے، ایسی بات چاہتے ہیں جس کو عقل اور فطرت نے فاسد قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ان کے پاس کوئی ایسی دلیل و برہان نہیں جو اس کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہو۔﴿فَمَنۡ يَّهۡدِيۡ مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ ﴾ ’’پس جسے اللہ گمراہ کردے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟‘‘ یعنی ان کی عدم ہدایت پر تعجب نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے ظلم کی پاداش میں گمراہ کر دیا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی اس کا مدمقابل ہے نہ کوئی مخالف۔ ﴿وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ جب وہ عذاب کے مستحق قرار دے دیے جائیں گے تو کوئی ان کا مددگار نہ ہوگا جو ان کی مدد کر سکے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔

الروم 30:29

بیان کی اس (اللہ) نے تمھارے لیے ایک مثال تمھارے نفسوں ہی میں سے، کیا ہیں تمھارے لیے ان میں سے جن کے مالک ہیں دائیں ہاتھ تمھارے، کوئی شریک اس میں جو رزق دیا ہے ہم نے تمھیں کہ تم اس میں برابر ہو جاؤ ؟(کیا) تم ڈرتے ہو ان سے جس طرح ڈرتے ہو تم اپنے نفسوں (لوگوں) سے؟ اسی طرح ہم مفصل بیان کرتے ہیں آیتیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(28)بلکہ اتباع کیاان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، اپنی خواہشوں کا بغیر علم کے، پس کون ہدایت دے سکتا ہے اسے جس کو گمراہ کر دیا اللہ نے؟ اور نہیں ہے ان کے لیے کوئی مددگار(29) [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک کی قباحت اور برائی واضح کرنے کے لیے تمھارے اپنے نفوس سے مثال دی ہے جس کو سمجھنے کے لیے سفر کرنے اور سواریاں کسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ﴿هَلۡ لَّـكُمۡ مِّنۡ مَّا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ مِّنۡ شُرَؔكَآءَ فِيۡ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے کوئی ایسا ہے جسے تم اپنے رزق میں شریک کر سکو‘‘ جن کے بارے میں تمھارا خیال ہو کہ وہ تمھارے برابر ہیں ﴿تَخَافُوۡنَهُمۡ كَخِيۡفَتِكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ ﴾’’تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو؟‘‘ یعنی جس طرح حقیقی آزاد شریک اور اس کی تقسیم سے خوف آتا ہے کہ کہیں وہ تمام مال اپنے لیے مختص نہ کر لے۔ معاملہ ایسے نہیں کیونکہ تمھارے غلاموں میں سے کوئی غلام تمھارے اس رزق میں شریک نہیں بن سکتا جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے... حالانکہ تم نے ان کو پیدا نہیں کیا ہے نہ تم ان کو رزق دیتے ہو، نیز وہ بھی تمھاری طرح مملوک ہیں… پھر کیونکر تم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اس کا شریک بنانے پر راضی ہوتے ہو اور اس کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ہم مرتبہ اور اس کے برابر قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر قرار دینے پر راضی نہیں ہو۔ یہ سب سے زیادہ عجیب چیز ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے اس کی سفاہت و حماقت پر سب سے بڑی دلیل ہے، نیز اس نے جس چیز کو معبود بنایا ہے وہ باطل اور کمزور ہے وہ اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں ہو سکتی اور نہ وہ کسی قسم کی عبادت کی مستحق ہے۔﴿كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔‘‘ یعنی مثالوں کے ذریعے سے ان آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ﴿لِقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘ جو حقائق میں غور کر کے ان کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ رہا وہ شخص جو عقل سے کام نہیں لیتا اگر اس کے سامنے آیات کو کھول کھول کر بیان کر دیا جائے اور دلائل کو واضح کر دیا جائے تو اس کے پاس اتنی عقل ہی نہیں کہ اس کے ذریعے سے بات کی توضیح و تبیین کو سمجھ سکے... عقل مند لوگوں ہی کے سامنے کلام پیش کیا جاتا ہے اور انھیں خطاب کیا جاتا ہے۔ [29] جب اس مثال سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتا ہے، پھر اس کی عبادت کرتا ہے اور اپنے معاملات میں اس پر بھروسہ کرتا ہے، تو وہ حق پر نہیں تو وہ کون سی چیز ہے جو انھیں ایک امر باطل پر اقدام کے لیے آمادہ کرتی ہے جس کا بطلان اس کے لیے واضح اور اس کی دلیل ظاہر ہوچکی ہے؟ یقینا ان کی خواہشات نفس ان کے اس اقدام کی موجب ہیں، اس لیے فرمایا:﴿بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَهۡوَآءَؔهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾’’مگر جو ظالم ہیں وہ بے سمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ ان کے ناقص نفس، جس کا نقص ان امور میں ظاہر ہوچکا ہے جن کا تعلق خواہشات نفس سے ہے، ایسی بات چاہتے ہیں جس کو عقل اور فطرت نے فاسد قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ان کے پاس کوئی ایسی دلیل و برہان نہیں جو اس کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہو۔﴿فَمَنۡ يَّهۡدِيۡ مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ ﴾ ’’پس جسے اللہ گمراہ کردے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟‘‘ یعنی ان کی عدم ہدایت پر تعجب نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے ظلم کی پاداش میں گمراہ کر دیا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی اس کا مدمقابل ہے نہ کوئی مخالف۔ ﴿وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ جب وہ عذاب کے مستحق قرار دے دیے جائیں گے تو کوئی ان کا مددگار نہ ہوگا جو ان کی مدد کر سکے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔

الروم 30:30

پس سیدھا کریں آپ چہرہ (رخ) اپنا دین کی طرف یک سو ہو کر (اختیار کرو) اللہ کی اس فطرت کو وہ جو پیدا کیا اس نے لوگوں کو اس پر،نہ تبدیل کرو اللہ کی پیدائش (فطرت) کو یہی ہے دین سیدھا، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(30) رجوع کرتے ہوئے اسی کی طرف، اور ڈرو تم اسی سے، اور قائم کرو تم نماز، اور نہ ہو تم مشرکوں میں سے(31)(یعنی )ان لوگوں میں سے جنھوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیااپنے دین کواور ہو گئے وہ کئی گروہ، ہر گروہ اس چیز پرجو اس کے پاس ہے خوش ہے(32) [30] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام احوال میں اخلاص اور اقامت دین کا حکم دیتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَقِمۡ وَجۡهَكَ ﴾ اپنے آپ کو دین کی طرف متوجہ رکھیے اور اس سے مراد ہے اسلام، ایمان اور احسان ہے، یعنی اپنے قلب و قصد اور بدن کے ساتھ ظاہری شرائع کو قائم کیجیے، مثلاً: نماز، زکاۃ، روزہ اور حج وغیرہ اور اس کے ساتھ ساتھ باطنی شرائع پر عمل کیجیے، مثلاً: اللہ تعالیٰ سے محبت، اس سے خوف، اس پر امید اور اس کی طرف انابت وغیرہ۔ ظاہری اور باطنی شرائع میں احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو سکے تو اس طرح اس کی عبادت کرے کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’چہرے کو قائم رکھنے‘‘ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے کیونکہ قلب کی توجہ، چہرے کی توجہ کی پیروی کرتی ہے اور ان دونوں امور پر بدن کی سعی مترتب ہوتی ہے اس لیے فرمایا:﴿حَنِيۡفًا ﴾ یعنی ہر طرف سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھتے ہوئے۔ یہ چیز جس کا ہم نے آپ کو حکم دیا ہے وہ ﴿فِطۡرَتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عقول میں فطرت کے محاسن اور غیر فطرت کے قبائح ودیعت کر دیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شریعت کے تمام ظاہری اور باطنی احکام کی طرف تمام مخلوق کے دلوں میں میلان رکھ دیا ہے۔ تو درحقیقت اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں حق کی محبت اور حق کو ترجیح دینے کو ودیعت کر دیا اور یہی فطرت کی حقیقت ہے۔ جو کوئی اس اصول سے باہر ہے تو اس کا سبب کوئی عارضہ ہے جو اس کی فطرت کو لاحق ہے جس نے اسے فاسد کر کے رکھ دیا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُھَوَّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ‘ (صحیح البخاري، التفسیر، باب قولہ:﴿فلا تعلم نفس....﴾(السجدۃ: 32؍17، ح: 4779)’’ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے پس اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی۔‘‘﴿لَا تَبۡدِيۡلَ لِخَلۡقِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی تخلیق میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کر سکے اور اس کو ایسی وضع پر تبدیل کر دے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ وضع سے مختلف ہے ﴿ذٰلِكَ الدِّيۡنُ ﴾ ’’یہ‘‘ جس کا ہم نے آپ کو حکم دیا ہے ﴿الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ﴾ ’’سیدھا دین ہے‘‘ یعنی سیدھا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے ۔جوکوئی ہر طرف سے توجہ ہٹا کر دین میں یکسو ہوتا ہے وہ اپنے تمام شرائع اور تمام طریقوں میں صراط مستقیم پر گامزن ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ دین کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اگر انھیں دین کی معرفت حاصل ہو ہی جائے تو اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ [31]﴿مُنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ وَاتَّقُوۡهُ ﴾ ’’اسی کی طرف رجوع کیے رہو اور اس سے ڈرتے رہو۔‘‘ یہ جملہ ’’دین کی طرف توجہ رکھنے‘‘ کی تفسیر ہے کیونکہ (اِنَابَت) ’’رجوع کرنا‘‘ سے مراد، قلب کا رجوع کرنا اور اس کے تمام داعیوں کا اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف کھنچنا ہے۔ یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ بدن قلب کے تقاضوں کے مطابق کام کرتا ہے اور یہ چیز ظاہری اور باطنی عبادت کو شامل ہے اور اس کی اس وقت تک تکمیل نہیں ہوتی جب تک ظاہری اور باطنی گناہوں کو ترک نہ کیا جائے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَاتَّقُوۡهُ ﴾ ’’اس سے ڈرتے رہو۔‘‘ یہ تمام مامورات کی تعمیل اور تمام منہیات سے اجتناب کو شامل ہے۔ مامورات میں نماز کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ نماز انابت اور تقویٰ کی طرف بلاتی ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ ﴾(العنکبوت:29؍45) ’’نماز قائم کر، بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔‘‘ گویا یہ تقویٰ پر اعانت ہے ، پھر فرمایا:﴿وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنکبوت:29؍45) ’’اور اللہ کا ذکر اس سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اور یہ انابت کی ترغیب ہے۔اللہ تعالیٰ نے منہیات میں سے ایسی برائی کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے اور جس کے ہوتے ہوئے کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور وہ ہے شرک، فرمایا:﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکوں میں نہ ہونا۔‘‘ کیونکہ شرک، انابت کی ضد ہے اور انابت کی روح ہر لحاظ سے اخلاص ہے۔ [32] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کی حالت کی قباحت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مِنَ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ ﴾ ’’جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا‘‘ حالانکہ دین ایک ہے اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کے لیے دین کو خالص کرنا اور ان مشرکین نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ان میں سے کچھ پتھروں اور بتوں کی عبادت کرنے لگے کچھ سورج اور چاند کو پوجنے لگے، ان میں سے کچھ نے اولیاء و صالحین کی عبادت کو وتیرہ بنا لیا اوران میں سے کچھ یہودی اور کچھ نصرانی ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿وَكَانُوۡا شِيَعًا ﴾’’اور وہ فرقے فرقے ہوگئے۔‘‘ یعنی ہر فرقے نے اپنے باطل نظریات کی نصرت و تائید کے لیے تعصب پر مبنی اپنا الگ گروہ بنا لیا اور دوسروں سے دشمنی اور محاربت شروع کر دی۔﴿كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’سب فرقے اس سے جوان کے پاس ہے‘‘ انبیاء و مرسلین کے علوم کی مخالفت کرنے والے علوم میں سے وہ ﴿فَرِحُوۡنَ ﴾ ان پر بہت خوش ہیں اور اپنے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ باطل پر ہیں۔یہ آیت کریمہ تشتت اور تفرقہ بازی کے ضمن میں مسلمانوں کے لیے تنبیہ ہے کہ ہر فریق جو اپنے حق اور باطل نظریات کے بارے میں تعصب رکھتا ہے وہ تفرقہ بازی میں مشرکین سے مشابہت رکھتا ہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ دین ایک ہے، رسول ایک ہے اور معبود ایک ہے اور اکثر دینی امور کے بارے میں اہل علم اور ائمہ کرام کا اجماع واقع ہو چکا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت مربوط طریقے سے اخوت ایمان قائم کر دی ہے تب کیا بات ہے کہ ان تمام متفقہ اصولوں اور اخوت ایمانی کو باطل قرار دے کر انتہائی خفیف فروعی اور اختلافی مسائل کی بنا پر مسلمانوں کے درمیان افتراق اور دشمنی پیدا کی جاتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو گمراہ قرار دیتے ہوئے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ سمجھتے ہیں۔ کیا یہ صورت حال شیطان کی طرف سے بڑا فساد اور اس کا سب سے بڑا مقصد نہیں جس کے ذریعے سے وہ مسلمانوں کو اپنے فریب میں مبتلا کرتا ہے؟کیا مسلمانوں کو ایک کلمہ پر جمع کرنا، ان کے درمیان ان اختلافات کا خاتمہ کرنا جو باطل اصولوں پر مبنی ہیں، اللہ کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور افضل ترین عمل نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے؟اللہ تبارک و تعالیٰ نے انابت کا حکم دیا ہے، اور انابت، انابت اختیاری ہے جو عسرت و خوش حالی، فراخی اور تنگی ہر حال میں اختیار کی جاتی ہے ، پھر انابت اضطراری کا ذکر کیا جو انسان میں صرف اس وقت ہوتی ہے جب وہ تنگی اور تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔ جب تنگی زائل ہو جاتی ہے تو وہ انابت کو بھی پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے، لہٰذا اس قسم کی انابت فائدہ مند نہیں ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

الروم 30:31

پس سیدھا کریں آپ چہرہ (رخ) اپنا دین کی طرف یک سو ہو کر (اختیار کرو) اللہ کی اس فطرت کو وہ جو پیدا کیا اس نے لوگوں کو اس پر،نہ تبدیل کرو اللہ کی پیدائش (فطرت) کو یہی ہے دین سیدھا، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(30) رجوع کرتے ہوئے اسی کی طرف، اور ڈرو تم اسی سے، اور قائم کرو تم نماز، اور نہ ہو تم مشرکوں میں سے(31)(یعنی )ان لوگوں میں سے جنھوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیااپنے دین کواور ہو گئے وہ کئی گروہ، ہر گروہ اس چیز پرجو اس کے پاس ہے خوش ہے(32) [30] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام احوال میں اخلاص اور اقامت دین کا حکم دیتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَقِمۡ وَجۡهَكَ ﴾ اپنے آپ کو دین کی طرف متوجہ رکھیے اور اس سے مراد ہے اسلام، ایمان اور احسان ہے، یعنی اپنے قلب و قصد اور بدن کے ساتھ ظاہری شرائع کو قائم کیجیے، مثلاً: نماز، زکاۃ، روزہ اور حج وغیرہ اور اس کے ساتھ ساتھ باطنی شرائع پر عمل کیجیے، مثلاً: اللہ تعالیٰ سے محبت، اس سے خوف، اس پر امید اور اس کی طرف انابت وغیرہ۔ ظاہری اور باطنی شرائع میں احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو سکے تو اس طرح اس کی عبادت کرے کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’چہرے کو قائم رکھنے‘‘ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے کیونکہ قلب کی توجہ، چہرے کی توجہ کی پیروی کرتی ہے اور ان دونوں امور پر بدن کی سعی مترتب ہوتی ہے اس لیے فرمایا:﴿حَنِيۡفًا ﴾ یعنی ہر طرف سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھتے ہوئے۔ یہ چیز جس کا ہم نے آپ کو حکم دیا ہے وہ ﴿فِطۡرَتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عقول میں فطرت کے محاسن اور غیر فطرت کے قبائح ودیعت کر دیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شریعت کے تمام ظاہری اور باطنی احکام کی طرف تمام مخلوق کے دلوں میں میلان رکھ دیا ہے۔ تو درحقیقت اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں حق کی محبت اور حق کو ترجیح دینے کو ودیعت کر دیا اور یہی فطرت کی حقیقت ہے۔ جو کوئی اس اصول سے باہر ہے تو اس کا سبب کوئی عارضہ ہے جو اس کی فطرت کو لاحق ہے جس نے اسے فاسد کر کے رکھ دیا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُھَوَّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ‘ (صحیح البخاري، التفسیر، باب قولہ:﴿فلا تعلم نفس....﴾(السجدۃ: 32؍17، ح: 4779)’’ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے پس اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی۔‘‘﴿لَا تَبۡدِيۡلَ لِخَلۡقِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی تخلیق میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کر سکے اور اس کو ایسی وضع پر تبدیل کر دے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ وضع سے مختلف ہے ﴿ذٰلِكَ الدِّيۡنُ ﴾ ’’یہ‘‘ جس کا ہم نے آپ کو حکم دیا ہے ﴿الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ﴾ ’’سیدھا دین ہے‘‘ یعنی سیدھا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے ۔جوکوئی ہر طرف سے توجہ ہٹا کر دین میں یکسو ہوتا ہے وہ اپنے تمام شرائع اور تمام طریقوں میں صراط مستقیم پر گامزن ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ دین کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اگر انھیں دین کی معرفت حاصل ہو ہی جائے تو اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ [31]﴿مُنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ وَاتَّقُوۡهُ ﴾ ’’اسی کی طرف رجوع کیے رہو اور اس سے ڈرتے رہو۔‘‘ یہ جملہ ’’دین کی طرف توجہ رکھنے‘‘ کی تفسیر ہے کیونکہ (اِنَابَت) ’’رجوع کرنا‘‘ سے مراد، قلب کا رجوع کرنا اور اس کے تمام داعیوں کا اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف کھنچنا ہے۔ یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ بدن قلب کے تقاضوں کے مطابق کام کرتا ہے اور یہ چیز ظاہری اور باطنی عبادت کو شامل ہے اور اس کی اس وقت تک تکمیل نہیں ہوتی جب تک ظاہری اور باطنی گناہوں کو ترک نہ کیا جائے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَاتَّقُوۡهُ ﴾ ’’اس سے ڈرتے رہو۔‘‘ یہ تمام مامورات کی تعمیل اور تمام منہیات سے اجتناب کو شامل ہے۔ مامورات میں نماز کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ نماز انابت اور تقویٰ کی طرف بلاتی ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ ﴾(العنکبوت:29؍45) ’’نماز قائم کر، بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔‘‘ گویا یہ تقویٰ پر اعانت ہے ، پھر فرمایا:﴿وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنکبوت:29؍45) ’’اور اللہ کا ذکر اس سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اور یہ انابت کی ترغیب ہے۔اللہ تعالیٰ نے منہیات میں سے ایسی برائی کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے اور جس کے ہوتے ہوئے کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور وہ ہے شرک، فرمایا:﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکوں میں نہ ہونا۔‘‘ کیونکہ شرک، انابت کی ضد ہے اور انابت کی روح ہر لحاظ سے اخلاص ہے۔ [32] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کی حالت کی قباحت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مِنَ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ ﴾ ’’جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا‘‘ حالانکہ دین ایک ہے اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کے لیے دین کو خالص کرنا اور ان مشرکین نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ان میں سے کچھ پتھروں اور بتوں کی عبادت کرنے لگے کچھ سورج اور چاند کو پوجنے لگے، ان میں سے کچھ نے اولیاء و صالحین کی عبادت کو وتیرہ بنا لیا اوران میں سے کچھ یہودی اور کچھ نصرانی ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿وَكَانُوۡا شِيَعًا ﴾’’اور وہ فرقے فرقے ہوگئے۔‘‘ یعنی ہر فرقے نے اپنے باطل نظریات کی نصرت و تائید کے لیے تعصب پر مبنی اپنا الگ گروہ بنا لیا اور دوسروں سے دشمنی اور محاربت شروع کر دی۔﴿كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’سب فرقے اس سے جوان کے پاس ہے‘‘ انبیاء و مرسلین کے علوم کی مخالفت کرنے والے علوم میں سے وہ ﴿فَرِحُوۡنَ ﴾ ان پر بہت خوش ہیں اور اپنے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ باطل پر ہیں۔یہ آیت کریمہ تشتت اور تفرقہ بازی کے ضمن میں مسلمانوں کے لیے تنبیہ ہے کہ ہر فریق جو اپنے حق اور باطل نظریات کے بارے میں تعصب رکھتا ہے وہ تفرقہ بازی میں مشرکین سے مشابہت رکھتا ہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ دین ایک ہے، رسول ایک ہے اور معبود ایک ہے اور اکثر دینی امور کے بارے میں اہل علم اور ائمہ کرام کا اجماع واقع ہو چکا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت مربوط طریقے سے اخوت ایمان قائم کر دی ہے تب کیا بات ہے کہ ان تمام متفقہ اصولوں اور اخوت ایمانی کو باطل قرار دے کر انتہائی خفیف فروعی اور اختلافی مسائل کی بنا پر مسلمانوں کے درمیان افتراق اور دشمنی پیدا کی جاتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو گمراہ قرار دیتے ہوئے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ سمجھتے ہیں۔ کیا یہ صورت حال شیطان کی طرف سے بڑا فساد اور اس کا سب سے بڑا مقصد نہیں جس کے ذریعے سے وہ مسلمانوں کو اپنے فریب میں مبتلا کرتا ہے؟کیا مسلمانوں کو ایک کلمہ پر جمع کرنا، ان کے درمیان ان اختلافات کا خاتمہ کرنا جو باطل اصولوں پر مبنی ہیں، اللہ کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور افضل ترین عمل نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے؟اللہ تبارک و تعالیٰ نے انابت کا حکم دیا ہے، اور انابت، انابت اختیاری ہے جو عسرت و خوش حالی، فراخی اور تنگی ہر حال میں اختیار کی جاتی ہے ، پھر انابت اضطراری کا ذکر کیا جو انسان میں صرف اس وقت ہوتی ہے جب وہ تنگی اور تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔ جب تنگی زائل ہو جاتی ہے تو وہ انابت کو بھی پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے، لہٰذا اس قسم کی انابت فائدہ مند نہیں ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

الروم 30:32

پس سیدھا کریں آپ چہرہ (رخ) اپنا دین کی طرف یک سو ہو کر (اختیار کرو) اللہ کی اس فطرت کو وہ جو پیدا کیا اس نے لوگوں کو اس پر،نہ تبدیل کرو اللہ کی پیدائش (فطرت) کو یہی ہے دین سیدھا، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(30) رجوع کرتے ہوئے اسی کی طرف، اور ڈرو تم اسی سے، اور قائم کرو تم نماز، اور نہ ہو تم مشرکوں میں سے(31)(یعنی )ان لوگوں میں سے جنھوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیااپنے دین کواور ہو گئے وہ کئی گروہ، ہر گروہ اس چیز پرجو اس کے پاس ہے خوش ہے(32) [30] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام احوال میں اخلاص اور اقامت دین کا حکم دیتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَقِمۡ وَجۡهَكَ ﴾ اپنے آپ کو دین کی طرف متوجہ رکھیے اور اس سے مراد ہے اسلام، ایمان اور احسان ہے، یعنی اپنے قلب و قصد اور بدن کے ساتھ ظاہری شرائع کو قائم کیجیے، مثلاً: نماز، زکاۃ، روزہ اور حج وغیرہ اور اس کے ساتھ ساتھ باطنی شرائع پر عمل کیجیے، مثلاً: اللہ تعالیٰ سے محبت، اس سے خوف، اس پر امید اور اس کی طرف انابت وغیرہ۔ ظاہری اور باطنی شرائع میں احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو سکے تو اس طرح اس کی عبادت کرے کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’چہرے کو قائم رکھنے‘‘ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے کیونکہ قلب کی توجہ، چہرے کی توجہ کی پیروی کرتی ہے اور ان دونوں امور پر بدن کی سعی مترتب ہوتی ہے اس لیے فرمایا:﴿حَنِيۡفًا ﴾ یعنی ہر طرف سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھتے ہوئے۔ یہ چیز جس کا ہم نے آپ کو حکم دیا ہے وہ ﴿فِطۡرَتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عقول میں فطرت کے محاسن اور غیر فطرت کے قبائح ودیعت کر دیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شریعت کے تمام ظاہری اور باطنی احکام کی طرف تمام مخلوق کے دلوں میں میلان رکھ دیا ہے۔ تو درحقیقت اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں حق کی محبت اور حق کو ترجیح دینے کو ودیعت کر دیا اور یہی فطرت کی حقیقت ہے۔ جو کوئی اس اصول سے باہر ہے تو اس کا سبب کوئی عارضہ ہے جو اس کی فطرت کو لاحق ہے جس نے اسے فاسد کر کے رکھ دیا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُھَوَّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ‘ (صحیح البخاري، التفسیر، باب قولہ:﴿فلا تعلم نفس....﴾(السجدۃ: 32؍17، ح: 4779)’’ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے پس اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی۔‘‘﴿لَا تَبۡدِيۡلَ لِخَلۡقِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی تخلیق میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کر سکے اور اس کو ایسی وضع پر تبدیل کر دے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ وضع سے مختلف ہے ﴿ذٰلِكَ الدِّيۡنُ ﴾ ’’یہ‘‘ جس کا ہم نے آپ کو حکم دیا ہے ﴿الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ﴾ ’’سیدھا دین ہے‘‘ یعنی سیدھا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے ۔جوکوئی ہر طرف سے توجہ ہٹا کر دین میں یکسو ہوتا ہے وہ اپنے تمام شرائع اور تمام طریقوں میں صراط مستقیم پر گامزن ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ دین کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اگر انھیں دین کی معرفت حاصل ہو ہی جائے تو اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ [31]﴿مُنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ وَاتَّقُوۡهُ ﴾ ’’اسی کی طرف رجوع کیے رہو اور اس سے ڈرتے رہو۔‘‘ یہ جملہ ’’دین کی طرف توجہ رکھنے‘‘ کی تفسیر ہے کیونکہ (اِنَابَت) ’’رجوع کرنا‘‘ سے مراد، قلب کا رجوع کرنا اور اس کے تمام داعیوں کا اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف کھنچنا ہے۔ یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ بدن قلب کے تقاضوں کے مطابق کام کرتا ہے اور یہ چیز ظاہری اور باطنی عبادت کو شامل ہے اور اس کی اس وقت تک تکمیل نہیں ہوتی جب تک ظاہری اور باطنی گناہوں کو ترک نہ کیا جائے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَاتَّقُوۡهُ ﴾ ’’اس سے ڈرتے رہو۔‘‘ یہ تمام مامورات کی تعمیل اور تمام منہیات سے اجتناب کو شامل ہے۔ مامورات میں نماز کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ نماز انابت اور تقویٰ کی طرف بلاتی ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ ﴾(العنکبوت:29؍45) ’’نماز قائم کر، بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔‘‘ گویا یہ تقویٰ پر اعانت ہے ، پھر فرمایا:﴿وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنکبوت:29؍45) ’’اور اللہ کا ذکر اس سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اور یہ انابت کی ترغیب ہے۔اللہ تعالیٰ نے منہیات میں سے ایسی برائی کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے اور جس کے ہوتے ہوئے کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور وہ ہے شرک، فرمایا:﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکوں میں نہ ہونا۔‘‘ کیونکہ شرک، انابت کی ضد ہے اور انابت کی روح ہر لحاظ سے اخلاص ہے۔ [32] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کی حالت کی قباحت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مِنَ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ ﴾ ’’جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا‘‘ حالانکہ دین ایک ہے اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کے لیے دین کو خالص کرنا اور ان مشرکین نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ان میں سے کچھ پتھروں اور بتوں کی عبادت کرنے لگے کچھ سورج اور چاند کو پوجنے لگے، ان میں سے کچھ نے اولیاء و صالحین کی عبادت کو وتیرہ بنا لیا اوران میں سے کچھ یہودی اور کچھ نصرانی ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿وَكَانُوۡا شِيَعًا ﴾’’اور وہ فرقے فرقے ہوگئے۔‘‘ یعنی ہر فرقے نے اپنے باطل نظریات کی نصرت و تائید کے لیے تعصب پر مبنی اپنا الگ گروہ بنا لیا اور دوسروں سے دشمنی اور محاربت شروع کر دی۔﴿كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’سب فرقے اس سے جوان کے پاس ہے‘‘ انبیاء و مرسلین کے علوم کی مخالفت کرنے والے علوم میں سے وہ ﴿فَرِحُوۡنَ ﴾ ان پر بہت خوش ہیں اور اپنے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ باطل پر ہیں۔یہ آیت کریمہ تشتت اور تفرقہ بازی کے ضمن میں مسلمانوں کے لیے تنبیہ ہے کہ ہر فریق جو اپنے حق اور باطل نظریات کے بارے میں تعصب رکھتا ہے وہ تفرقہ بازی میں مشرکین سے مشابہت رکھتا ہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ دین ایک ہے، رسول ایک ہے اور معبود ایک ہے اور اکثر دینی امور کے بارے میں اہل علم اور ائمہ کرام کا اجماع واقع ہو چکا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت مربوط طریقے سے اخوت ایمان قائم کر دی ہے تب کیا بات ہے کہ ان تمام متفقہ اصولوں اور اخوت ایمانی کو باطل قرار دے کر انتہائی خفیف فروعی اور اختلافی مسائل کی بنا پر مسلمانوں کے درمیان افتراق اور دشمنی پیدا کی جاتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو گمراہ قرار دیتے ہوئے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ سمجھتے ہیں۔ کیا یہ صورت حال شیطان کی طرف سے بڑا فساد اور اس کا سب سے بڑا مقصد نہیں جس کے ذریعے سے وہ مسلمانوں کو اپنے فریب میں مبتلا کرتا ہے؟کیا مسلمانوں کو ایک کلمہ پر جمع کرنا، ان کے درمیان ان اختلافات کا خاتمہ کرنا جو باطل اصولوں پر مبنی ہیں، اللہ کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور افضل ترین عمل نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے؟اللہ تبارک و تعالیٰ نے انابت کا حکم دیا ہے، اور انابت، انابت اختیاری ہے جو عسرت و خوش حالی، فراخی اور تنگی ہر حال میں اختیار کی جاتی ہے ، پھر انابت اضطراری کا ذکر کیا جو انسان میں صرف اس وقت ہوتی ہے جب وہ تنگی اور تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔ جب تنگی زائل ہو جاتی ہے تو وہ انابت کو بھی پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے، لہٰذا اس قسم کی انابت فائدہ مند نہیں ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

الروم 30:33

اور جب پہنچتی ہے لوگوں کو کوئی تکلیف تو وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو رجوع کرتے ہوئے اسی کی طرف، پھر جب وہ چکھاتا ہے انھیں اپنی طرف سے رحمت تو ناگہاں کچھ لوگ ان میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرتے ہیں(33) تاکہ وہ انکار کریں اس (نعمت) کا جو ہم نے انھیں دی، سو فائدہ اٹھا لو تم، پس عنقریب جان لو گے تم(34)کیا نازل کی ہے ہم نے ان پر کوئی (ایسی) دلیل کہ وہ بتلاتی ہے (ان کو )وہ چیز کہ ہیں وہ ساتھ اس کے شریک ٹھہراتے؟ (35) [33، 34]﴿وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ ﴾ ’’اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی مرض یا ہلاکت کا خوف وغیرہ ﴿دَعَوۡا رَبَّهُمۡ مُّنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ ﴾ ’’تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔‘‘ اور اس حال میں وہ اپنے اس شرک کو فراموش کر دیتے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان کی تکلیف کو دور کر سکے۔ ﴿ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمۡ مِّؔنۡهُ رَحۡمَةً ﴾ ’’ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے۔‘‘ یعنی ان کو ان کی بیماری سے شفایاب اور ہلاکت کے خوف سے نجات دیتا ہے ﴿اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ تو ان میں سے ایک فریق اس انابت کو ترک کرتے ہوئے جو اس سے صادر ہوئی تھی، ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتا ہے جو ان کی خوش بختی اور بدبختی، ان کے فقر اور غنا پر کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ یہ سب کچھ ان احسانات و عنایات کی ناشکری ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا، شدت اور تکلیف سے ان کو بچایا اور مشقت کو ان سے دور کیا۔ تب انھوں نے اس نعمت جلیلہ کو اپنے تمام احوال میں شکر اور دائمی اخلاص کے ساتھ کیوں قبول نہ کیا؟ [35]﴿اَمۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنًا ﴾ ’’کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے‘‘یعنی کوئی ظاہری دلیل ﴿فَهُوَ ﴾ ’’کہ وہ‘‘ دلیل ﴿يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوۡا بِهٖ يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ ان کو اللہ کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے۔‘‘ اور انھیں کہتی ہے کہ اپنے شرک پر قائم رہو، اپنے شک پر جمے رہو، تمھارا موقف حق ہے اور جس چیز کی طرف تمھیں انبیاء و مرسلین دعوت دیتے ہیں وہ باطل ہے۔ کیا کوئی ایسی دلیل تمھارے پاس موجود ہے جو شرک کو سختی کے ساتھ پکڑے رکھنے کی موجب ہے؟ یا اس کے برعکس تمام عقلی و نقلی دلائل، تمام کتب الٰہیہ، تمام انبیاء ومرسلین اور بڑے بڑے لوگ شرک سے نہایت شدت سے روکتے ہیں اور ان تمام راستوں پر چلنے سے باز رکھتے ہیں جن کی منزل شرک ہے اور ایسے شخص کی عقل و دین کے فساد کا حکم لگاتے ہیں جو شرک کا ارتکاب کرتا ہے؟ پس ان مشرکین کا شرک، جس پر کوئی دلیل اور برہان نہیں، محض خواہشات نفس کی پیروی اور شیطانی وسوسے ہیں۔

الروم 30:34

اور جب پہنچتی ہے لوگوں کو کوئی تکلیف تو وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو رجوع کرتے ہوئے اسی کی طرف، پھر جب وہ چکھاتا ہے انھیں اپنی طرف سے رحمت تو ناگہاں کچھ لوگ ان میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرتے ہیں(33) تاکہ وہ انکار کریں اس (نعمت) کا جو ہم نے انھیں دی، سو فائدہ اٹھا لو تم، پس عنقریب جان لو گے تم(34)کیا نازل کی ہے ہم نے ان پر کوئی (ایسی) دلیل کہ وہ بتلاتی ہے (ان کو )وہ چیز کہ ہیں وہ ساتھ اس کے شریک ٹھہراتے؟ (35) [33، 34]﴿وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ ﴾ ’’اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی مرض یا ہلاکت کا خوف وغیرہ ﴿دَعَوۡا رَبَّهُمۡ مُّنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ ﴾ ’’تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔‘‘ اور اس حال میں وہ اپنے اس شرک کو فراموش کر دیتے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان کی تکلیف کو دور کر سکے۔ ﴿ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمۡ مِّؔنۡهُ رَحۡمَةً ﴾ ’’ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے۔‘‘ یعنی ان کو ان کی بیماری سے شفایاب اور ہلاکت کے خوف سے نجات دیتا ہے ﴿اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ تو ان میں سے ایک فریق اس انابت کو ترک کرتے ہوئے جو اس سے صادر ہوئی تھی، ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتا ہے جو ان کی خوش بختی اور بدبختی، ان کے فقر اور غنا پر کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ یہ سب کچھ ان احسانات و عنایات کی ناشکری ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا، شدت اور تکلیف سے ان کو بچایا اور مشقت کو ان سے دور کیا۔ تب انھوں نے اس نعمت جلیلہ کو اپنے تمام احوال میں شکر اور دائمی اخلاص کے ساتھ کیوں قبول نہ کیا؟ [35]﴿اَمۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنًا ﴾ ’’کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے‘‘یعنی کوئی ظاہری دلیل ﴿فَهُوَ ﴾ ’’کہ وہ‘‘ دلیل ﴿يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوۡا بِهٖ يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ ان کو اللہ کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے۔‘‘ اور انھیں کہتی ہے کہ اپنے شرک پر قائم رہو، اپنے شک پر جمے رہو، تمھارا موقف حق ہے اور جس چیز کی طرف تمھیں انبیاء و مرسلین دعوت دیتے ہیں وہ باطل ہے۔ کیا کوئی ایسی دلیل تمھارے پاس موجود ہے جو شرک کو سختی کے ساتھ پکڑے رکھنے کی موجب ہے؟ یا اس کے برعکس تمام عقلی و نقلی دلائل، تمام کتب الٰہیہ، تمام انبیاء ومرسلین اور بڑے بڑے لوگ شرک سے نہایت شدت سے روکتے ہیں اور ان تمام راستوں پر چلنے سے باز رکھتے ہیں جن کی منزل شرک ہے اور ایسے شخص کی عقل و دین کے فساد کا حکم لگاتے ہیں جو شرک کا ارتکاب کرتا ہے؟ پس ان مشرکین کا شرک، جس پر کوئی دلیل اور برہان نہیں، محض خواہشات نفس کی پیروی اور شیطانی وسوسے ہیں۔

الروم 30:35

اور جب پہنچتی ہے لوگوں کو کوئی تکلیف تو وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو رجوع کرتے ہوئے اسی کی طرف، پھر جب وہ چکھاتا ہے انھیں اپنی طرف سے رحمت تو ناگہاں کچھ لوگ ان میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرتے ہیں(33) تاکہ وہ انکار کریں اس (نعمت) کا جو ہم نے انھیں دی، سو فائدہ اٹھا لو تم، پس عنقریب جان لو گے تم(34)کیا نازل کی ہے ہم نے ان پر کوئی (ایسی) دلیل کہ وہ بتلاتی ہے (ان کو )وہ چیز کہ ہیں وہ ساتھ اس کے شریک ٹھہراتے؟ (35) [33، 34]﴿وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ ﴾ ’’اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی مرض یا ہلاکت کا خوف وغیرہ ﴿دَعَوۡا رَبَّهُمۡ مُّنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ ﴾ ’’تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔‘‘ اور اس حال میں وہ اپنے اس شرک کو فراموش کر دیتے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان کی تکلیف کو دور کر سکے۔ ﴿ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمۡ مِّؔنۡهُ رَحۡمَةً ﴾ ’’ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے۔‘‘ یعنی ان کو ان کی بیماری سے شفایاب اور ہلاکت کے خوف سے نجات دیتا ہے ﴿اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ تو ان میں سے ایک فریق اس انابت کو ترک کرتے ہوئے جو اس سے صادر ہوئی تھی، ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتا ہے جو ان کی خوش بختی اور بدبختی، ان کے فقر اور غنا پر کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ یہ سب کچھ ان احسانات و عنایات کی ناشکری ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا، شدت اور تکلیف سے ان کو بچایا اور مشقت کو ان سے دور کیا۔ تب انھوں نے اس نعمت جلیلہ کو اپنے تمام احوال میں شکر اور دائمی اخلاص کے ساتھ کیوں قبول نہ کیا؟ [35]﴿اَمۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنًا ﴾ ’’کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے‘‘یعنی کوئی ظاہری دلیل ﴿فَهُوَ ﴾ ’’کہ وہ‘‘ دلیل ﴿يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوۡا بِهٖ يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ ان کو اللہ کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے۔‘‘ اور انھیں کہتی ہے کہ اپنے شرک پر قائم رہو، اپنے شک پر جمے رہو، تمھارا موقف حق ہے اور جس چیز کی طرف تمھیں انبیاء و مرسلین دعوت دیتے ہیں وہ باطل ہے۔ کیا کوئی ایسی دلیل تمھارے پاس موجود ہے جو شرک کو سختی کے ساتھ پکڑے رکھنے کی موجب ہے؟ یا اس کے برعکس تمام عقلی و نقلی دلائل، تمام کتب الٰہیہ، تمام انبیاء ومرسلین اور بڑے بڑے لوگ شرک سے نہایت شدت سے روکتے ہیں اور ان تمام راستوں پر چلنے سے باز رکھتے ہیں جن کی منزل شرک ہے اور ایسے شخص کی عقل و دین کے فساد کا حکم لگاتے ہیں جو شرک کا ارتکاب کرتا ہے؟ پس ان مشرکین کا شرک، جس پر کوئی دلیل اور برہان نہیں، محض خواہشات نفس کی پیروی اور شیطانی وسوسے ہیں۔

الروم 30:36

اور جب ہم چکھاتے ہیں لوگوں کو رحمت تو وہ خوش ہوتے ہیں اس سےاوراگر پہنچے انھیں کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو ناگہاں وہ ناامید ہو جاتے ہیں (36) کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک اللہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے وہ چاہتا ہے، اور وہی تنگ کرتا ہے، بلاشبہ اس (فراخی اور تنگی) میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (37) [36، 37] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ نرمی اور سختی کے حالات میں اکثر لوگوں کی فطرت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ صحت، فراخی اور نصرت وغیرہ کے ذریعے سے انھیں اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے فرحت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ تکبر کے ساتھ اتراتے ہوئے خوش ہوتے ہیں ﴿وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌۢ ﴾ ’’اور اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچے‘‘ یعنی اگر ان کا حال ایسا ہوتا ہے جس سے ان کو تکلیف پہنچتی ہو ﴿بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے عملوں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے‘‘ یعنی اپنے کرتوتوں کے باعث ﴿اِذَا هُمۡ يَقۡنَطُوۡنَ ﴾’’تو ناامید ہوجاتے ہیں۔‘‘ یعنی فقر اور بیماری وغیرہ کے دور ہونے کے بارے میں مایوس ہو جاتے ہیں یہ مایوسی ان کی جہالت اور عدم معرفت کے باعث ہے۔﴿اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے؟‘‘ یہ جان لینے کے بعد کہ خیر اور شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، رزق میں تنگی اور فراخی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، مایوسی کا کوئی مقام نہیں۔ اے عقل مند شخص! مجرد اسباب پر نظر نہ رکھ بلکہ مسبب الاسباب کی طرف دیکھ، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں نشانیاں ہیں۔‘‘ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو رزق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مشیت کے مطابق عطا کردہ کشادگی اور تنگی سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے انھیں اللہ تعالیٰ کی حکمت، اس کی رحمت، اس کے جودوکرم اور رزق کی تمام ضروریات میں دل کے اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کی طرف میلان کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔

الروم 30:37

اور جب ہم چکھاتے ہیں لوگوں کو رحمت تو وہ خوش ہوتے ہیں اس سےاوراگر پہنچے انھیں کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو ناگہاں وہ ناامید ہو جاتے ہیں (36) کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک اللہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے وہ چاہتا ہے، اور وہی تنگ کرتا ہے، بلاشبہ اس (فراخی اور تنگی) میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (37) [36، 37] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ نرمی اور سختی کے حالات میں اکثر لوگوں کی فطرت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ صحت، فراخی اور نصرت وغیرہ کے ذریعے سے انھیں اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے فرحت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ تکبر کے ساتھ اتراتے ہوئے خوش ہوتے ہیں ﴿وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌۢ ﴾ ’’اور اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچے‘‘ یعنی اگر ان کا حال ایسا ہوتا ہے جس سے ان کو تکلیف پہنچتی ہو ﴿بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے عملوں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے‘‘ یعنی اپنے کرتوتوں کے باعث ﴿اِذَا هُمۡ يَقۡنَطُوۡنَ ﴾’’تو ناامید ہوجاتے ہیں۔‘‘ یعنی فقر اور بیماری وغیرہ کے دور ہونے کے بارے میں مایوس ہو جاتے ہیں یہ مایوسی ان کی جہالت اور عدم معرفت کے باعث ہے۔﴿اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے؟‘‘ یہ جان لینے کے بعد کہ خیر اور شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، رزق میں تنگی اور فراخی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، مایوسی کا کوئی مقام نہیں۔ اے عقل مند شخص! مجرد اسباب پر نظر نہ رکھ بلکہ مسبب الاسباب کی طرف دیکھ، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں نشانیاں ہیں۔‘‘ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو رزق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مشیت کے مطابق عطا کردہ کشادگی اور تنگی سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے انھیں اللہ تعالیٰ کی حکمت، اس کی رحمت، اس کے جودوکرم اور رزق کی تمام ضروریات میں دل کے اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کی طرف میلان کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔

الروم 30:38

پس دیں آپ قرابت داروں کو حق ان کا اور مسکین اور مسافر کو بھی ، یہ بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو چاہتے ہیں چہرہ اللہ کا (یعنی اس کی رضا مندی) اور یہی لوگ، ہیں فلاح پانے والے (38) اور جو کچھ دو تم سود سے تاکہ وہ بڑھتا رہے لوگوں کے مالوں سے، تو وہ نہیں بڑھتا اللہ کے ہاں اور جو کچھ تم دو زکاۃ سے کہ چاہتے ہو تم رضا مندی اللہ کی، تو یہی لوگ ہیں(کئی گنا ) بڑھانے والے (39) [38] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے قرابت دار کو اس کی قرابت اور ضرورت کے مطابق اس کا حق ادا کرو جو شارع نے واجب قرار دیا ہے یا اس کی ترغیب دی ہے ، مثلاً: نفقات واجبہ اور صدقات کی ادائیگی کرنا، ہدیہ دینا، نیک سلوک کرنا، سلام کرنا، عزت و تکریم کرنا، دوسرے کی لغزش کو معاف کرنا اور اس کی بدکلامی پر رواداری سے کام لینا۔ اسی طرح مسکین کو، جسے فقر و فاقہ نے لاچار کر دیا ہو، اتنا عطا کرنا جس سے اس کے کھانے پینے اور لباس کی ضرورت پوری ہو جائے۔ ﴿وَابۡنَ السَّبِيۡلِ ﴾ وہ غریب الوطن مسافر جس کا زادِ راہ ختم ہو گیا ہو، اپنے شہر سے دور ہو جس کے بارے میں شدید گمان ہو کہ وہ انتہائی ضرورت مند ہو گا اس کے پاس مال ہے نہ ہاتھ میں کوئی کسب جس کے ذریعے سے وہ دوران سفر اپنی ضروریات کا انتظام کر سکتا ہو۔ برعکس اس شخص کے جو اپنے شہر میں رہتا ہے اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غالب حالات میں اس کے بارے میں یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ کسی صنعت و حرفت کا کام کرتا ہو گا جس سے اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہو گی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے زکاۃ میں مسکین اور مسافر کا (الگ الگ)حصہ رکھا ہے۔﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی قرابت داروں، مساکین اور مسافروں کو عطا کرنا ﴿خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں‘‘ اس عمل کے ذریعے سے ﴿وَجۡهَ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کا چہرہ‘‘ یعنی بے شمار بھلائی اور ثواب کثیر کیونکہ یہ بہترین اعمال ہیں، ان کا فائدہ دوسروں تک پہنچتا ہے بشرطیکہ موقع و محل کے مطابق اور اخلاص سے مقرون ہوں۔ اگر اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو تو عطا کرنے والے کے لیے کوئی بھلائی نہیں خواہ اس شخص کو اس سے کتنا ہی فائدہ کیوں نہ پہنچا ہو جسے عطا کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لَا خَيۡرَ فِيۡ كَثِيۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰىهُمۡ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ اَوۡ اِصۡلَاحٍۭ بَيۡنَ النَّاسِ ﴾(النساء:4؍114) ’’ان لوگوں کے بہت سے مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں، سوائے اس کے کہ صدقہ کا حکم دیا ہو یا نیکی کا یا لوگوں کے درمیان صلح کروائی ہو۔‘‘ اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ ان کاموں میں بھلائی ہے کیونکہ اس کا فائدہ دوسروں تک پہنچتا ہے، مگر جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ عنقریب اسے اجر عظیم عطا کرے گا۔ فرمایا:﴿وَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہ اعمال بجا لاتے ہیں ﴿هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے فیض یاب اور اس کے عذاب سے نجات یافتہ ہیں۔ [39] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ، ان اعمال کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے ، پھر ان اعمال کا ذکر کیا جو دنیاوی مقاصد کے تحت کیے جاتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّيَرۡبُوَاۡ فِيۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ ﴾ ’’اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مالوں میں افزائش ہو۔‘‘ یعنی اپنی ضروریات سے زائد مال، جو تم عطا کرتے ہو اور اس سے تمھارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تمھارے مال میں اضافہ ہو جائے۔ تم انھی لوگوں کو مال عطاکرتے ہو جن سے تمھیں عطا کردہ مال سے زیادہ معاوضے کی امید ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس عمل کے اجر میں اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ اس میں اخلاص کی شرط معدوم ہے۔ اس قسم کے اعمال کے زمرے میں وہ اعمال آتے ہیں جو لوگوں کے ہاں عزت و جاہ اور ریا کے لیے کیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کے اجر میں اضافہ نہیں ہوتا۔ ﴿وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ زَؔكٰوةٍ ﴾ ’’اور جو کچھ تم زکاۃ دیتے ہو۔‘‘ وہ مال تمھیں اخلاق رذیلہ سے پاک کرتا ہے اور زکاۃ کے ذریعے سے تمھارے مال کو بخل سے پاک کرتا ہے اور حاجت مند کی حاجت پوری کرنے کی بنا پر اس میں اضافہ کرتا ہے۔ ﴿تُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم چاہتے ہو‘‘ زکاۃ کی ادائیگی سے ﴿وَجۡهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ ﴾ ’’اللہ کا چہرہ، تو وہی لوگ اپنے مال کو دگنا چوگنا کررہے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا خرچ کیا ہوا مال کئی گنا ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مال کو ان کے لیے بڑھاتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ زَؔكٰوةٍ ﴾ دلالت کرتا ہے کو وہ صدقہ جس کا دینے والا اضطرار سے دو چار ہو، یا صدقہ دینے والے کے ذمہ قرض ہو جو اس نے ادا نہیں کیا اور اس کی بجائے صدقے کو مقدم رکھا تو اس زکاۃ پر بندے کو اجر نہیں ملے گا اور اس کا یہ تصرف شرعاً مردود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾(اللیل:92؍18) ’’جو پاک ہونے کے لیے اللہ کے راستے میں اپنا مال عطا کرتا ہے۔‘‘ مجرد مال عطاکرنا بھلائی نہیں جب تک کہ وہ وصف مذکور کے ساتھ نہ ہو یعنی عطا کرنے والے کا مقصد پاک ہونا ہو۔

الروم 30:39

پس دیں آپ قرابت داروں کو حق ان کا اور مسکین اور مسافر کو بھی ، یہ بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو چاہتے ہیں چہرہ اللہ کا (یعنی اس کی رضا مندی) اور یہی لوگ، ہیں فلاح پانے والے (38) اور جو کچھ دو تم سود سے تاکہ وہ بڑھتا رہے لوگوں کے مالوں سے، تو وہ نہیں بڑھتا اللہ کے ہاں اور جو کچھ تم دو زکاۃ سے کہ چاہتے ہو تم رضا مندی اللہ کی، تو یہی لوگ ہیں(کئی گنا ) بڑھانے والے (39) [38] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے قرابت دار کو اس کی قرابت اور ضرورت کے مطابق اس کا حق ادا کرو جو شارع نے واجب قرار دیا ہے یا اس کی ترغیب دی ہے ، مثلاً: نفقات واجبہ اور صدقات کی ادائیگی کرنا، ہدیہ دینا، نیک سلوک کرنا، سلام کرنا، عزت و تکریم کرنا، دوسرے کی لغزش کو معاف کرنا اور اس کی بدکلامی پر رواداری سے کام لینا۔ اسی طرح مسکین کو، جسے فقر و فاقہ نے لاچار کر دیا ہو، اتنا عطا کرنا جس سے اس کے کھانے پینے اور لباس کی ضرورت پوری ہو جائے۔ ﴿وَابۡنَ السَّبِيۡلِ ﴾ وہ غریب الوطن مسافر جس کا زادِ راہ ختم ہو گیا ہو، اپنے شہر سے دور ہو جس کے بارے میں شدید گمان ہو کہ وہ انتہائی ضرورت مند ہو گا اس کے پاس مال ہے نہ ہاتھ میں کوئی کسب جس کے ذریعے سے وہ دوران سفر اپنی ضروریات کا انتظام کر سکتا ہو۔ برعکس اس شخص کے جو اپنے شہر میں رہتا ہے اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غالب حالات میں اس کے بارے میں یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ کسی صنعت و حرفت کا کام کرتا ہو گا جس سے اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہو گی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے زکاۃ میں مسکین اور مسافر کا (الگ الگ)حصہ رکھا ہے۔﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی قرابت داروں، مساکین اور مسافروں کو عطا کرنا ﴿خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں‘‘ اس عمل کے ذریعے سے ﴿وَجۡهَ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کا چہرہ‘‘ یعنی بے شمار بھلائی اور ثواب کثیر کیونکہ یہ بہترین اعمال ہیں، ان کا فائدہ دوسروں تک پہنچتا ہے بشرطیکہ موقع و محل کے مطابق اور اخلاص سے مقرون ہوں۔ اگر اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو تو عطا کرنے والے کے لیے کوئی بھلائی نہیں خواہ اس شخص کو اس سے کتنا ہی فائدہ کیوں نہ پہنچا ہو جسے عطا کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لَا خَيۡرَ فِيۡ كَثِيۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰىهُمۡ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ اَوۡ اِصۡلَاحٍۭ بَيۡنَ النَّاسِ ﴾(النساء:4؍114) ’’ان لوگوں کے بہت سے مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں، سوائے اس کے کہ صدقہ کا حکم دیا ہو یا نیکی کا یا لوگوں کے درمیان صلح کروائی ہو۔‘‘ اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ ان کاموں میں بھلائی ہے کیونکہ اس کا فائدہ دوسروں تک پہنچتا ہے، مگر جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ عنقریب اسے اجر عظیم عطا کرے گا۔ فرمایا:﴿وَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہ اعمال بجا لاتے ہیں ﴿هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے فیض یاب اور اس کے عذاب سے نجات یافتہ ہیں۔ [39] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ، ان اعمال کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے ، پھر ان اعمال کا ذکر کیا جو دنیاوی مقاصد کے تحت کیے جاتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّيَرۡبُوَاۡ فِيۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ ﴾ ’’اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مالوں میں افزائش ہو۔‘‘ یعنی اپنی ضروریات سے زائد مال، جو تم عطا کرتے ہو اور اس سے تمھارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تمھارے مال میں اضافہ ہو جائے۔ تم انھی لوگوں کو مال عطاکرتے ہو جن سے تمھیں عطا کردہ مال سے زیادہ معاوضے کی امید ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس عمل کے اجر میں اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ اس میں اخلاص کی شرط معدوم ہے۔ اس قسم کے اعمال کے زمرے میں وہ اعمال آتے ہیں جو لوگوں کے ہاں عزت و جاہ اور ریا کے لیے کیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کے اجر میں اضافہ نہیں ہوتا۔ ﴿وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ زَؔكٰوةٍ ﴾ ’’اور جو کچھ تم زکاۃ دیتے ہو۔‘‘ وہ مال تمھیں اخلاق رذیلہ سے پاک کرتا ہے اور زکاۃ کے ذریعے سے تمھارے مال کو بخل سے پاک کرتا ہے اور حاجت مند کی حاجت پوری کرنے کی بنا پر اس میں اضافہ کرتا ہے۔ ﴿تُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم چاہتے ہو‘‘ زکاۃ کی ادائیگی سے ﴿وَجۡهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ ﴾ ’’اللہ کا چہرہ، تو وہی لوگ اپنے مال کو دگنا چوگنا کررہے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا خرچ کیا ہوا مال کئی گنا ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مال کو ان کے لیے بڑھاتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ زَؔكٰوةٍ ﴾ دلالت کرتا ہے کو وہ صدقہ جس کا دینے والا اضطرار سے دو چار ہو، یا صدقہ دینے والے کے ذمہ قرض ہو جو اس نے ادا نہیں کیا اور اس کی بجائے صدقے کو مقدم رکھا تو اس زکاۃ پر بندے کو اجر نہیں ملے گا اور اس کا یہ تصرف شرعاً مردود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾(اللیل:92؍18) ’’جو پاک ہونے کے لیے اللہ کے راستے میں اپنا مال عطا کرتا ہے۔‘‘ مجرد مال عطاکرنا بھلائی نہیں جب تک کہ وہ وصف مذکور کے ساتھ نہ ہو یعنی عطا کرنے والے کا مقصد پاک ہونا ہو۔

الروم 30:40

اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں، پھر اس نے رزق دیا تمھیں ، پھر وہ مارے گا تمھیں، پھر وہ (دوبارہ) زندہ کرے گا تمھیں، کیا ہے کوئی تمھارے شریکوں میں سے وہ جو کر سکے ان (کاموں) میں سے کچھ بھی؟ وہ ( اللہ) پاک اور برتر ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں (40) [40] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ تمھاری تخلیق، تمھیں رزق عطا کرنے، تمھیں مارنے اور تمھیں زندہ کرنے میں اللہ تعالیٰ یکتا ہے اور یہ خود ساختہ الٰہ، جن کو مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک قرار دے رکھا ہے ان افعال میں کچھ بھی شریک نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ، جو ان امور میں یکتا ہے، ایسی ہستیوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی طرح بھی ان امور میں تصرف کی قدرت نہیں رکھتیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے شرک سے بالاتر، پاک اور منزہ ہے اور ان کے شرک سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اس کا وبال انھی پر ہے۔

الروم 30:41

ظاہر ہو گیا فساد خشکی اور سمندر (تری) میں بوجہ اس کے جو کمایا ہے لوگوں کے ہاتھوں نے، تاکہ وہ (اللہ) چکھائے انھیں (مزہ) بعض اس کا جو انھوں نے عمل کیے شاید کہ وہ رجوع کریں (41) [41] بحروبر میں فساد برپا ہو گیا، یعنی ان کی معیشت میں فساد اور اس میں کمی، ان کی معیشت پر آفات کا نزول اور خود ان کے اندر امراض اور وباؤ ں کا پھیلنا، یہ سب کچھ ان کے کرتوتوں کی پاداش اور فطری طورپر فاسد اور فساد برپا کرنے والے اعمال کے سبب سے ہے۔ یہ مذکورہ عذاب اس لیے ہے ﴿لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا ﴾ ’’تاکہ وہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے۔‘‘ یعنی وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اعمال کی جزا دینے والا ہے۔ اس نے انھیں دنیا ہی میں ان کے اعمال کی جزا کا ایک نمونہ دکھا دیا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ (اپنے ان اعمال سے) باز آ جائیں‘‘ جن کی وجہ سے فساد برپا ہوا ہے، اس طرح ان کے احوال درست اور ان کے معاملات سیدھے ہو جائیں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی آزمائش کے ذریعے سے انعام کیا اور اپنے عذاب کے ذریعے سے احسان کیا ورنہ اگر وہ ان کے تمام کرتوتوں کی سزا کا مزہ چکھاتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار نہ چھوڑتا۔

الروم 30:42

کہہ دیجیے: سیر کرو تم زمین میں، پھر دیکھو تم کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو (ان سے) پہلے تھے؟ تھے اکثر ان کے مشرک ہی (42) [42] زمین میں چلنے پھرنے کے حکم میں، بدنی سیر اور قلبی سیر دونوں شامل ہیں۔ قلبی سیر کا مقصد گزرے ہوئے لوگوں کے انجام پر غور و فکر ہے۔ ﴿كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے۔‘‘ تم ان کے انجام کو بدترین انجام پاؤ گے۔ عذاب نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طرف سے مذمت، لعنت اور لگاتار رسوائی ان کا پیچھا کرتی رہی۔ پس تم بھی ان جیسے اعمال سے بچو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عدل اور اس کی حکمت ہر زمان و مکان میں جاری ہے۔

الروم 30:43

پس سیدھا کریں آپ چہرہ (رخ) اپنا سیدھے دین کی طرف پہلے اس سے کہ آجائے وہ دن کہ نہیں ہے ٹلنا اس کا اللہ کی طرف سے، اس دن وہ (لوگ) جدا جدا ہوں گے (43) جس شخص نے کفر کیاتو اسی پر ہے کفر اس کا اور جس نے عمل کیے صالح تو وہ اپنے ہی لیے راستہ سنوارتے ہیں (44) تاکہ وہ (اللہ) جزا دے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اپنے فضل سے۔ بلاشبہ وہ نہیں پسند کرتا کافروں کو (45) [43] اپنے دل، چہرے اور بدن کو سیدھے اور مستقیم دین کو قائم رکھنے پر متوجہ رکھیے۔ کوشش اور جدوجہد سے اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو نافذ کیجیے اور دین کے ظاہری اور باطنی تمام وظائف ادا کیجیے۔ اپنے زمانے، اپنی زندگی اور اپنے شباب میں جلدی سے نیک عمل کر لیجیے ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ يَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اس دن سے پہلے جو اللہ کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا۔‘‘ اس سے مراد روز قیامت ہے اور جب وہ دن آ جائے گا تو اسے روکنا ممکن نہ ہو گا۔ عمل کرنے والوں کو مہلت نہ دی جائے گی کہ اپنے عمل کو نئے سرے سے انجام دیں بلکہ وہ اعمال سے فارغ ہو چکے اب تو عمل کرنے والوں کی جزا کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ ﴿يَوۡمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوۡنَ ﴾ یعنی اس دن لوگ بکھر جائیں گے اور الگ الگ حاضر ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ [44، 45]﴿مَنۡ كَفَرَ ﴾ ’’جس نے کفر کیا‘‘ ان میں سے ﴿فَعَلَيۡهِ كُفۡرُهٗ﴾ ’’تو اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔‘‘ یعنی اس کی سزا صرف اسی کی ذات کو ملے گی اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا ﴾ ’’اور جس نے نیک عمل کیے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ ادا کرتا ہے۔ ﴿فَلِاَنۡفُسِهِمۡ۠﴾ ’’تو وہ اپنے ہی لیے ‘‘ نہ کہ کسی دوسرے کے لیے ﴿يَمۡهَدُوۡنَ ﴾ یہ اعمال صالحہ تیار کر رہے ہیں، اپنی ہی آخرت کو آباد کر رہے ہیں، جنت کے بالاخانوں اور منازل کے حصول کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں۔بایں ہمہ ان کی جزا ان کے اعمال پر منحصر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بے پایاں فضل اور لامحدود کرم کی بنا پر ان کو اتنی جزا دے گا جہاں تک ان کے اعمال کی رسائی ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے اور جب وہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنے بے پایاں احسانات، عنایات فاخرہ، ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے۔ اس کے برعکس، چونکہ اللہ کفار سے ناراض ہے اس لیے وہ ان کو سزا دیتا ہے اور عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی عنایت نہیں کرے گا جیسے اس نے اپنے محبوب بندوں پر کی، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

الروم 30:44

پس سیدھا کریں آپ چہرہ (رخ) اپنا سیدھے دین کی طرف پہلے اس سے کہ آجائے وہ دن کہ نہیں ہے ٹلنا اس کا اللہ کی طرف سے، اس دن وہ (لوگ) جدا جدا ہوں گے (43) جس شخص نے کفر کیاتو اسی پر ہے کفر اس کا اور جس نے عمل کیے صالح تو وہ اپنے ہی لیے راستہ سنوارتے ہیں (44) تاکہ وہ (اللہ) جزا دے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اپنے فضل سے۔ بلاشبہ وہ نہیں پسند کرتا کافروں کو (45) [43] اپنے دل، چہرے اور بدن کو سیدھے اور مستقیم دین کو قائم رکھنے پر متوجہ رکھیے۔ کوشش اور جدوجہد سے اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو نافذ کیجیے اور دین کے ظاہری اور باطنی تمام وظائف ادا کیجیے۔ اپنے زمانے، اپنی زندگی اور اپنے شباب میں جلدی سے نیک عمل کر لیجیے ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ يَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اس دن سے پہلے جو اللہ کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا۔‘‘ اس سے مراد روز قیامت ہے اور جب وہ دن آ جائے گا تو اسے روکنا ممکن نہ ہو گا۔ عمل کرنے والوں کو مہلت نہ دی جائے گی کہ اپنے عمل کو نئے سرے سے انجام دیں بلکہ وہ اعمال سے فارغ ہو چکے اب تو عمل کرنے والوں کی جزا کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ ﴿يَوۡمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوۡنَ ﴾ یعنی اس دن لوگ بکھر جائیں گے اور الگ الگ حاضر ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ [44، 45]﴿مَنۡ كَفَرَ ﴾ ’’جس نے کفر کیا‘‘ ان میں سے ﴿فَعَلَيۡهِ كُفۡرُهٗ﴾ ’’تو اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔‘‘ یعنی اس کی سزا صرف اسی کی ذات کو ملے گی اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا ﴾ ’’اور جس نے نیک عمل کیے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ ادا کرتا ہے۔ ﴿فَلِاَنۡفُسِهِمۡ۠﴾ ’’تو وہ اپنے ہی لیے ‘‘ نہ کہ کسی دوسرے کے لیے ﴿يَمۡهَدُوۡنَ ﴾ یہ اعمال صالحہ تیار کر رہے ہیں، اپنی ہی آخرت کو آباد کر رہے ہیں، جنت کے بالاخانوں اور منازل کے حصول کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں۔بایں ہمہ ان کی جزا ان کے اعمال پر منحصر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بے پایاں فضل اور لامحدود کرم کی بنا پر ان کو اتنی جزا دے گا جہاں تک ان کے اعمال کی رسائی ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے اور جب وہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنے بے پایاں احسانات، عنایات فاخرہ، ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے۔ اس کے برعکس، چونکہ اللہ کفار سے ناراض ہے اس لیے وہ ان کو سزا دیتا ہے اور عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی عنایت نہیں کرے گا جیسے اس نے اپنے محبوب بندوں پر کی، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

الروم 30:45

پس سیدھا کریں آپ چہرہ (رخ) اپنا سیدھے دین کی طرف پہلے اس سے کہ آجائے وہ دن کہ نہیں ہے ٹلنا اس کا اللہ کی طرف سے، اس دن وہ (لوگ) جدا جدا ہوں گے (43) جس شخص نے کفر کیاتو اسی پر ہے کفر اس کا اور جس نے عمل کیے صالح تو وہ اپنے ہی لیے راستہ سنوارتے ہیں (44) تاکہ وہ (اللہ) جزا دے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اپنے فضل سے۔ بلاشبہ وہ نہیں پسند کرتا کافروں کو (45) [43] اپنے دل، چہرے اور بدن کو سیدھے اور مستقیم دین کو قائم رکھنے پر متوجہ رکھیے۔ کوشش اور جدوجہد سے اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو نافذ کیجیے اور دین کے ظاہری اور باطنی تمام وظائف ادا کیجیے۔ اپنے زمانے، اپنی زندگی اور اپنے شباب میں جلدی سے نیک عمل کر لیجیے ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ يَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اس دن سے پہلے جو اللہ کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا۔‘‘ اس سے مراد روز قیامت ہے اور جب وہ دن آ جائے گا تو اسے روکنا ممکن نہ ہو گا۔ عمل کرنے والوں کو مہلت نہ دی جائے گی کہ اپنے عمل کو نئے سرے سے انجام دیں بلکہ وہ اعمال سے فارغ ہو چکے اب تو عمل کرنے والوں کی جزا کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ ﴿يَوۡمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوۡنَ ﴾ یعنی اس دن لوگ بکھر جائیں گے اور الگ الگ حاضر ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ [44، 45]﴿مَنۡ كَفَرَ ﴾ ’’جس نے کفر کیا‘‘ ان میں سے ﴿فَعَلَيۡهِ كُفۡرُهٗ﴾ ’’تو اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔‘‘ یعنی اس کی سزا صرف اسی کی ذات کو ملے گی اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا ﴾ ’’اور جس نے نیک عمل کیے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ ادا کرتا ہے۔ ﴿فَلِاَنۡفُسِهِمۡ۠﴾ ’’تو وہ اپنے ہی لیے ‘‘ نہ کہ کسی دوسرے کے لیے ﴿يَمۡهَدُوۡنَ ﴾ یہ اعمال صالحہ تیار کر رہے ہیں، اپنی ہی آخرت کو آباد کر رہے ہیں، جنت کے بالاخانوں اور منازل کے حصول کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں۔بایں ہمہ ان کی جزا ان کے اعمال پر منحصر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بے پایاں فضل اور لامحدود کرم کی بنا پر ان کو اتنی جزا دے گا جہاں تک ان کے اعمال کی رسائی ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے اور جب وہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنے بے پایاں احسانات، عنایات فاخرہ، ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے۔ اس کے برعکس، چونکہ اللہ کفار سے ناراض ہے اس لیے وہ ان کو سزا دیتا ہے اور عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی عنایت نہیں کرے گا جیسے اس نے اپنے محبوب بندوں پر کی، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

الروم 30:46

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ وہ بھیجتا ہے ہوائیں خوشخبری دینے والی، اور تاکہ وہ چکھائے تمھیں کچھ رحمت اپنی اور تاکہ چلیں کشتیاں اس کے حکم سے اور تاکہ تم تلاش کرو اس کا فضل اور تاکہ تم شکر کرو (46) [46] یہ ان دلائل کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرے گا ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہی الٰہ معبود اور بادشاہ محمود ہے۔ ان دلائل میں سے ایک ﴿اَنۡ يُّرۡسِلَ الرِّيَاحَ ﴾ بارش سے پہلے اس کا ہواؤں کو بھیجنا ہے۔ ﴿مُبَشِّرٰتٍ ﴾ جو بادلوں کو اٹھا کر خوشخبری دیتی ہیں ، پھر بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں اور بارش کے برسنے سے پہلے نفس خوش ہوتے ہیں۔ ﴿وَّلِيُذِيۡقَكُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِهٖ ﴾ ’’اور تاکہ وہ تمھیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے۔‘‘ وہ تم پر بارش برساتا ہے، جس سے زمین اور بندوں میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ تم اس کی رحمت کا مزا چکھتے ہو اور تمھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی بندوں کو ان کا رزق فراہم کرتی ہے، لہٰذا تم ان اعمال صالحہ کی کثرت کے مشتاق ہو جاؤ جو اس کی رحمت کے خزانے کھول دیں۔ ﴿وَلِتَجۡرِيَ الۡفُلۡكُ﴾ ’’اور تاکہ کشتیاں چلیں۔‘‘ سمندر کے اندر ﴿بِاَمۡرِهٖ ﴾ اس کے حکم قدری سے ﴿وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ اور اپنی معاش اور مصالح میں تصرف کے ذریعے سے اللہ کا فضل تلاش کرو۔ ﴿وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ تم شکر ادا کرو‘‘ اس ہستی کا جس نے تمھارے لیے یہ اسباب مہیا کیے اور تمھارے لیے رزق کے ذرائع پیدا کیے۔نعمتوں سے مقصود یہ ہے کہ ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ تمھیں اور زیادہ نعمتوں سے سرفراز کرے اور ان نعمتوں کو تمھارے پاس باقی رکھے۔رہا نعمتوں کے مقابلے میں کفر اور معاصی کا ارتکاب کرنا تو یہ اس شخص کا حال ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو کفر سے بدل دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عنایات کے بدلے ناشکری کرتا ہے۔ اس کے اس رویے سے نعمتیں اس شخص سے کسی دوسرے شخص کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں۔

الروم 30:47

اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے آپ سے پہلے کئی رسول ان کی قوم کی طرف پس آئے وہ ان کے پاس ساتھ واضح دلیلوں کے، (پھر بھی قوم نے جھٹلایا ) پس انتقام لیا ہم نے ان لوگوں سے جنھوں نے جرم کیے، اور ہے حق ہم پر مدد کرنا مومنوں کی (47) [47]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’اور تحقیق ہم نے آپ سے پہلے بھیجے‘‘ یعنی گزشتہ امتوں میں ﴿رُسُلًا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ ﴾ ’’رسول ان کی قوم کی طرف۔‘‘ یعنی جب ان قوموں نے توحید کا انکار کیا اور حق کی تکذیب کی تو ان کے رسول ان کے پاس آئے جو ان کو توحید اور اخلاص کی دعوت دیتے تھے، حق کی تصدیق اور ان کے کفر اور ضلالت کا ابطلال کرتے تھے۔ وہ اپنے اس موقف پر واضح دلائل لے کر آئے، مگر وہ ایمان لائے نہ انھوں نے اپنی گمراہی کو ترک کیا ﴿فَانۡتَقَمۡنَا مِنَ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا ﴾ ’’پس ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جنھوں نے جرم کا ارتکاب کیا‘‘ اور انبیاء کی پیروی کرنے والے اہل ایمان کی مدد کی ﴿وَؔكَانَ حَقًّا عَلَيۡنَا نَصۡرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی۔‘‘ یعنی اہل ایمان کی نصرت ہم نے خود اپنے آپ پر واجب کی، اہل ایمان کی نصرت کو جملہ متعین حقوق میں شامل کیا اور ان کے ساتھ اس نصرت کا وعدہ کیا۔ پس اس کا واقع ہونا ضروری ہے۔محمد مصطفی ﷺ کی تکذیب کرنے والو! اگر تم تکذیب کی روش پر قائم رہے تو تم پر عذاب نازل ہو گا اور ہم تمھارے خلاف محمد ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز کریں گے۔

الروم 30:48

اللہ وہ ذات ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں، پس وہ اٹھاتی ہیں بادل، پھر پھیلاتا ہے اللہ اس کو آسمان میں جس طرح وہ چاہتا ہے، اور وہ کر دیتا ہے اس کو ٹکڑے ٹکڑے، پھر دیکھتے ہیں آپ بارش کو وہ نکلتی ہے اس کے درمیان سے، پس جب وہ پہنچاتا (برساتا) ہے اسے جس پر چاہتاہے اپنے بندوں میں سے تو اس وقت وہ خوش ہو جاتے ہیں (48) اور بلاشبہ تھے وہ ، پیشتر اس کے کہ وہ نازل ہو ان پر اس سے پہلے، البتہ ناامید (49) پس دیکھیں آپ اللہ کی رحمت کے آثار کی طرف، کیسے وہ زندہ (آباد) کرتا ہے زمین کو بعد اس کی موت (ویرانی) کے، بلاشبہ وہی البتہ زندہ کرنے والا ہے مردوں کو، اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے (50) [48، 49] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور نعمت تامہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ﴿يُرۡسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيۡرُ سَحَابًا ﴾ ’’وہ ہواؤ ں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں‘‘ زمین سے ﴿فَيَبۡسُطُهٗ فِي السَّمَآءِ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے۔ ﴿كَيۡفَ يَشَآءُ ﴾ جس حالت میں چاہتا ہے ﴿وَيَجۡعَلُهٗ﴾ ’’اور اس کو کردیتا ہے‘‘ یعنی اس لمبے چوڑے بادل کو ﴿كِسَفًا ﴾ ایک گہرا بادل بنا دیتا ہے جو ایک دوسرے کے اوپر جما ہوا ہوتا ہے۔ ﴿فَتَرَى الۡوَدۡقَ يَخۡرُجُ مِنۡ خِلٰلِهٖ﴾ پھر تم اس بادل میں سے چھوٹے چھوٹے قطرے گرتے دیکھتے ہو۔ بارش کے یہ قطرے بیک وقت نہیں گرتے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ یہ قطرے جس پر گریں اسے خراب کر دیں۔ ﴿فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جب اسے برسا دیتا ہے‘‘ یعنی یہ بارش ﴿مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠﴾ ’’اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے، تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔‘‘ وہ بارش برسنے پر ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں کیونکہ وہ بارش کے سخت ضرورت مند تھے۔﴿وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ قَبۡلِهٖ لَمُبۡلِسِيۡنَ ﴾ وہ اس سے پہلے بارش میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سخت مایوس تھے۔ جب اس حالت میں بارش برستی ہے تو یہ ان کے لیے انتہائی خوشی کا موقع بن جاتا ہے۔ [50]﴿فَانۡظُرۡ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحۡمَتِ اللّٰهِ كَيۡفَ يُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾ ’’پس اب اللہ کی اس رحمت کے نتائج پر غور کیجیے کہ وہ کیسے زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔‘‘ زمین لہلہانے لگتی ہے اور وہ قسم قسم کی خوبصورت نباتات اگاتی ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ وہ ہستی جو زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے زندہ کرتی ہے ﴿لَمُحۡيِ الۡمَوۡتٰى١ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’مردوں کو زندہ کرنے والی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کبھی کسی چیز سے قاصر نہیں رہی اگرچہ اس کی قدرت مخلوق کی عقل و فہم سے باریک تر ہوتی ہے۔ ان کی عقل اس کی قدرت کے کرشموں سے حیران ہو جاتی ہے۔

الروم 30:49

اللہ وہ ذات ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں، پس وہ اٹھاتی ہیں بادل، پھر پھیلاتا ہے اللہ اس کو آسمان میں جس طرح وہ چاہتا ہے، اور وہ کر دیتا ہے اس کو ٹکڑے ٹکڑے، پھر دیکھتے ہیں آپ بارش کو وہ نکلتی ہے اس کے درمیان سے، پس جب وہ پہنچاتا (برساتا) ہے اسے جس پر چاہتاہے اپنے بندوں میں سے تو اس وقت وہ خوش ہو جاتے ہیں (48) اور بلاشبہ تھے وہ ، پیشتر اس کے کہ وہ نازل ہو ان پر اس سے پہلے، البتہ ناامید (49) پس دیکھیں آپ اللہ کی رحمت کے آثار کی طرف، کیسے وہ زندہ (آباد) کرتا ہے زمین کو بعد اس کی موت (ویرانی) کے، بلاشبہ وہی البتہ زندہ کرنے والا ہے مردوں کو، اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے (50) [48، 49] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور نعمت تامہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ﴿يُرۡسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيۡرُ سَحَابًا ﴾ ’’وہ ہواؤ ں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں‘‘ زمین سے ﴿فَيَبۡسُطُهٗ فِي السَّمَآءِ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے۔ ﴿كَيۡفَ يَشَآءُ ﴾ جس حالت میں چاہتا ہے ﴿وَيَجۡعَلُهٗ﴾ ’’اور اس کو کردیتا ہے‘‘ یعنی اس لمبے چوڑے بادل کو ﴿كِسَفًا ﴾ ایک گہرا بادل بنا دیتا ہے جو ایک دوسرے کے اوپر جما ہوا ہوتا ہے۔ ﴿فَتَرَى الۡوَدۡقَ يَخۡرُجُ مِنۡ خِلٰلِهٖ﴾ پھر تم اس بادل میں سے چھوٹے چھوٹے قطرے گرتے دیکھتے ہو۔ بارش کے یہ قطرے بیک وقت نہیں گرتے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ یہ قطرے جس پر گریں اسے خراب کر دیں۔ ﴿فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جب اسے برسا دیتا ہے‘‘ یعنی یہ بارش ﴿مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠﴾ ’’اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے، تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔‘‘ وہ بارش برسنے پر ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں کیونکہ وہ بارش کے سخت ضرورت مند تھے۔﴿وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ قَبۡلِهٖ لَمُبۡلِسِيۡنَ ﴾ وہ اس سے پہلے بارش میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سخت مایوس تھے۔ جب اس حالت میں بارش برستی ہے تو یہ ان کے لیے انتہائی خوشی کا موقع بن جاتا ہے۔ [50]﴿فَانۡظُرۡ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحۡمَتِ اللّٰهِ كَيۡفَ يُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾ ’’پس اب اللہ کی اس رحمت کے نتائج پر غور کیجیے کہ وہ کیسے زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔‘‘ زمین لہلہانے لگتی ہے اور وہ قسم قسم کی خوبصورت نباتات اگاتی ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ وہ ہستی جو زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے زندہ کرتی ہے ﴿لَمُحۡيِ الۡمَوۡتٰى١ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’مردوں کو زندہ کرنے والی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کبھی کسی چیز سے قاصر نہیں رہی اگرچہ اس کی قدرت مخلوق کی عقل و فہم سے باریک تر ہوتی ہے۔ ان کی عقل اس کی قدرت کے کرشموں سے حیران ہو جاتی ہے۔

الروم 30:50

اللہ وہ ذات ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں، پس وہ اٹھاتی ہیں بادل، پھر پھیلاتا ہے اللہ اس کو آسمان میں جس طرح وہ چاہتا ہے، اور وہ کر دیتا ہے اس کو ٹکڑے ٹکڑے، پھر دیکھتے ہیں آپ بارش کو وہ نکلتی ہے اس کے درمیان سے، پس جب وہ پہنچاتا (برساتا) ہے اسے جس پر چاہتاہے اپنے بندوں میں سے تو اس وقت وہ خوش ہو جاتے ہیں (48) اور بلاشبہ تھے وہ ، پیشتر اس کے کہ وہ نازل ہو ان پر اس سے پہلے، البتہ ناامید (49) پس دیکھیں آپ اللہ کی رحمت کے آثار کی طرف، کیسے وہ زندہ (آباد) کرتا ہے زمین کو بعد اس کی موت (ویرانی) کے، بلاشبہ وہی البتہ زندہ کرنے والا ہے مردوں کو، اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے (50) [48، 49] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور نعمت تامہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ﴿يُرۡسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيۡرُ سَحَابًا ﴾ ’’وہ ہواؤ ں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں‘‘ زمین سے ﴿فَيَبۡسُطُهٗ فِي السَّمَآءِ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے۔ ﴿كَيۡفَ يَشَآءُ ﴾ جس حالت میں چاہتا ہے ﴿وَيَجۡعَلُهٗ﴾ ’’اور اس کو کردیتا ہے‘‘ یعنی اس لمبے چوڑے بادل کو ﴿كِسَفًا ﴾ ایک گہرا بادل بنا دیتا ہے جو ایک دوسرے کے اوپر جما ہوا ہوتا ہے۔ ﴿فَتَرَى الۡوَدۡقَ يَخۡرُجُ مِنۡ خِلٰلِهٖ﴾ پھر تم اس بادل میں سے چھوٹے چھوٹے قطرے گرتے دیکھتے ہو۔ بارش کے یہ قطرے بیک وقت نہیں گرتے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ یہ قطرے جس پر گریں اسے خراب کر دیں۔ ﴿فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جب اسے برسا دیتا ہے‘‘ یعنی یہ بارش ﴿مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠﴾ ’’اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے، تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔‘‘ وہ بارش برسنے پر ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں کیونکہ وہ بارش کے سخت ضرورت مند تھے۔﴿وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ قَبۡلِهٖ لَمُبۡلِسِيۡنَ ﴾ وہ اس سے پہلے بارش میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سخت مایوس تھے۔ جب اس حالت میں بارش برستی ہے تو یہ ان کے لیے انتہائی خوشی کا موقع بن جاتا ہے۔ [50]﴿فَانۡظُرۡ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحۡمَتِ اللّٰهِ كَيۡفَ يُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾ ’’پس اب اللہ کی اس رحمت کے نتائج پر غور کیجیے کہ وہ کیسے زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔‘‘ زمین لہلہانے لگتی ہے اور وہ قسم قسم کی خوبصورت نباتات اگاتی ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ وہ ہستی جو زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے زندہ کرتی ہے ﴿لَمُحۡيِ الۡمَوۡتٰى١ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’مردوں کو زندہ کرنے والی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کبھی کسی چیز سے قاصر نہیں رہی اگرچہ اس کی قدرت مخلوق کی عقل و فہم سے باریک تر ہوتی ہے۔ ان کی عقل اس کی قدرت کے کرشموں سے حیران ہو جاتی ہے۔

الروم 30:51

اور البتہ اگر بھیجیں ہم ایسی ہوا کہ وہ دیکھیں اس (کھیتی) کو زرد پڑنے والی ،تو البتہ وہ ہوجائیں بعد اس کے ناشکری کرنے والے (51) پس بلاشبہ آپ نہیں سنا سکتے مُردوں کو اور نہیں سنا سکتے آپ بہروں کو (اپنی) پکار جب وہ لوٹ جائیں پیٹھ پھیر کر (52) اور نہیں آپ ہدایت کرنے والے اندھوں کو ان کی گمراہی سے، نہیں سنا سکتے آ پ مگر انھی (لو گوں)کو جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر، پس وہی ہیں فرماں بردار (53) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کا حال بیان کرتا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کے سایہ کناں ہونے، زمین کے مر جانے کے بعد اس کے زندہ ہونے پر بہت خوش ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بارش کے بعد اگنے والی نباتات اور ان کی کھیتیوں پر نقصان دہ اور انھیں تلف کر دینے والی ہوا بھیج دے۔ ﴿فَرَاَوۡهُ مُصۡفَرًّا ﴾ ’’لہٰذا وہ اس (کھیتی) کو زرد پڑتا دیکھیں‘‘ جو تلف ہونے کی حالت کو پہنچ چکی ہے ﴿لَّظَلُّوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ يَكۡفُرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگ جائیں گے‘‘ اور اس کی گزشتہ نعمتوں کو بھول جائیں گے۔ ان لوگوں کو وعظ و نصیحت اور زجروتوبیخ کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ [52]﴿فَاِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰى وَلَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ﴾ ’’بلاشبہ آپ مردوں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں نہ بہروں کو‘‘ خاص طور پر اس وقت ﴿اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب یہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں‘‘ تب تو آپ ان کو بدرجہ اولیٰ نہیں سنا سکتے کیونکہ ان کے اندر اطاعت اور نفع بخش سماعت کے موانع بہت زیادہ ہیں جس طرح آوازِ حسی کے سننے سے بہت سے موانع ہوتے ہیں۔ [53]﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِهٰؔدِ الۡعُمۡيِ عَنۡ ضَلٰلَتِهِمۡ ﴾ ’’اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر ہدایت دے سکتے ہیں‘‘ کیونکہ اندھے اپنے اندھے پن کے باعث دیکھ سکتے ہیں نہ ان میں دیکھنے کی صلاحیت ہی ہے ﴿اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’آپ صرف انھیں سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ سرتسلیم خم کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہدایت کا سنوانا صرف انھی لوگوں کو فائدہ دے سکتا ہے جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے، ہمارے احکام کی تعمیل کرتے اور ہمارے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں کیونکہ ان کے اندر وعظ و نصیحت کو قبول کرنے کا قوی داعیہ موجود ہے اور وہ ہے ہر آیت پر ایمان لانے اور مقدور بھر اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کرنے کے لیے مستعد رہنا۔

الروم 30:52

اور البتہ اگر بھیجیں ہم ایسی ہوا کہ وہ دیکھیں اس (کھیتی) کو زرد پڑنے والی ،تو البتہ وہ ہوجائیں بعد اس کے ناشکری کرنے والے (51) پس بلاشبہ آپ نہیں سنا سکتے مُردوں کو اور نہیں سنا سکتے آپ بہروں کو (اپنی) پکار جب وہ لوٹ جائیں پیٹھ پھیر کر (52) اور نہیں آپ ہدایت کرنے والے اندھوں کو ان کی گمراہی سے، نہیں سنا سکتے آ پ مگر انھی (لو گوں)کو جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر، پس وہی ہیں فرماں بردار (53) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کا حال بیان کرتا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کے سایہ کناں ہونے، زمین کے مر جانے کے بعد اس کے زندہ ہونے پر بہت خوش ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بارش کے بعد اگنے والی نباتات اور ان کی کھیتیوں پر نقصان دہ اور انھیں تلف کر دینے والی ہوا بھیج دے۔ ﴿فَرَاَوۡهُ مُصۡفَرًّا ﴾ ’’لہٰذا وہ اس (کھیتی) کو زرد پڑتا دیکھیں‘‘ جو تلف ہونے کی حالت کو پہنچ چکی ہے ﴿لَّظَلُّوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ يَكۡفُرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگ جائیں گے‘‘ اور اس کی گزشتہ نعمتوں کو بھول جائیں گے۔ ان لوگوں کو وعظ و نصیحت اور زجروتوبیخ کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ [52]﴿فَاِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰى وَلَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ﴾ ’’بلاشبہ آپ مردوں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں نہ بہروں کو‘‘ خاص طور پر اس وقت ﴿اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب یہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں‘‘ تب تو آپ ان کو بدرجہ اولیٰ نہیں سنا سکتے کیونکہ ان کے اندر اطاعت اور نفع بخش سماعت کے موانع بہت زیادہ ہیں جس طرح آوازِ حسی کے سننے سے بہت سے موانع ہوتے ہیں۔ [53]﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِهٰؔدِ الۡعُمۡيِ عَنۡ ضَلٰلَتِهِمۡ ﴾ ’’اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر ہدایت دے سکتے ہیں‘‘ کیونکہ اندھے اپنے اندھے پن کے باعث دیکھ سکتے ہیں نہ ان میں دیکھنے کی صلاحیت ہی ہے ﴿اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’آپ صرف انھیں سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ سرتسلیم خم کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہدایت کا سنوانا صرف انھی لوگوں کو فائدہ دے سکتا ہے جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے، ہمارے احکام کی تعمیل کرتے اور ہمارے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں کیونکہ ان کے اندر وعظ و نصیحت کو قبول کرنے کا قوی داعیہ موجود ہے اور وہ ہے ہر آیت پر ایمان لانے اور مقدور بھر اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کرنے کے لیے مستعد رہنا۔

الروم 30:53

اور البتہ اگر بھیجیں ہم ایسی ہوا کہ وہ دیکھیں اس (کھیتی) کو زرد پڑنے والی ،تو البتہ وہ ہوجائیں بعد اس کے ناشکری کرنے والے (51) پس بلاشبہ آپ نہیں سنا سکتے مُردوں کو اور نہیں سنا سکتے آپ بہروں کو (اپنی) پکار جب وہ لوٹ جائیں پیٹھ پھیر کر (52) اور نہیں آپ ہدایت کرنے والے اندھوں کو ان کی گمراہی سے، نہیں سنا سکتے آ پ مگر انھی (لو گوں)کو جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر، پس وہی ہیں فرماں بردار (53) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کا حال بیان کرتا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کے سایہ کناں ہونے، زمین کے مر جانے کے بعد اس کے زندہ ہونے پر بہت خوش ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بارش کے بعد اگنے والی نباتات اور ان کی کھیتیوں پر نقصان دہ اور انھیں تلف کر دینے والی ہوا بھیج دے۔ ﴿فَرَاَوۡهُ مُصۡفَرًّا ﴾ ’’لہٰذا وہ اس (کھیتی) کو زرد پڑتا دیکھیں‘‘ جو تلف ہونے کی حالت کو پہنچ چکی ہے ﴿لَّظَلُّوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ يَكۡفُرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگ جائیں گے‘‘ اور اس کی گزشتہ نعمتوں کو بھول جائیں گے۔ ان لوگوں کو وعظ و نصیحت اور زجروتوبیخ کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ [52]﴿فَاِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰى وَلَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ﴾ ’’بلاشبہ آپ مردوں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں نہ بہروں کو‘‘ خاص طور پر اس وقت ﴿اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب یہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں‘‘ تب تو آپ ان کو بدرجہ اولیٰ نہیں سنا سکتے کیونکہ ان کے اندر اطاعت اور نفع بخش سماعت کے موانع بہت زیادہ ہیں جس طرح آوازِ حسی کے سننے سے بہت سے موانع ہوتے ہیں۔ [53]﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِهٰؔدِ الۡعُمۡيِ عَنۡ ضَلٰلَتِهِمۡ ﴾ ’’اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر ہدایت دے سکتے ہیں‘‘ کیونکہ اندھے اپنے اندھے پن کے باعث دیکھ سکتے ہیں نہ ان میں دیکھنے کی صلاحیت ہی ہے ﴿اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’آپ صرف انھیں سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ سرتسلیم خم کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہدایت کا سنوانا صرف انھی لوگوں کو فائدہ دے سکتا ہے جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے، ہمارے احکام کی تعمیل کرتے اور ہمارے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں کیونکہ ان کے اندر وعظ و نصیحت کو قبول کرنے کا قوی داعیہ موجود ہے اور وہ ہے ہر آیت پر ایمان لانے اور مقدور بھر اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کرنے کے لیے مستعد رہنا۔

الروم 30:54

اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں کمزوری (کی حالت) سے ، پھر کر دی اس نے بعد کمزوری کے قوت ، پھر کر دی اس نے بعد قوت کے کمزوری اوربڑھاپا، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، اور وہ خوب جاننے والا، بڑا قدرت والا ہے (54) [54]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وسعت علم، عظمت اقتدار اور کمال حکمت کو بیان کرتا ہے کہ اس نے انسان کو کمزوری سے پیدا کیا اور وہ اس کی تخلیق کے ابتدائی مراحل ہیں یعنی اسے نطفہ سے جما ہوا خون بنایا ، پھر گوشت کا لوتھڑا بنایا اور پھر رحم کے اندر زندہ انسان بنایا ، پھر اس کو ماں کے پیٹ سے پیدا کیا۔ جب وہ سن طفولیت میں ہوتا ہے تو انتہائی ضعیف اور اس میں قوت و قدرت معدوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی قوت میں اضافہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جوانی کو پہنچ جاتا ہے، اس کی قوت اور اس کے ظاہری و باطنی قویٰ مکمل ہو جاتے ہیں۔ پھر اس مرحلے سے کمزوری اور بڑھاپے کی طرف لوٹتا ہے۔﴿يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ﴾ وہ اپنی حکمت کے مطابق جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ بندہ اپنے ضعف کا مشاہدہ کرے۔ اس کی قوت دو قسم کی کمزوریوں سے گھری ہوئی ہے اور فی نفسہ اس کے پاس نقص کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے طاقت عطا نہ کرے تو اسے طاقت حاصل ہو سکتی ہے نہ قدرت اور اگر اس کی قوت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے تو وہ بغاوت اور سرکشی میں بڑھتا چلا جائے گا۔ بندوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت دائمی ہے وہ اپنی قدرت سے جو چاہتا ہے تخلیق کرتا ہے، اپنی قدرت سے تمام امور کی تدبیر کرتا ہے، اسے تھکن لاحق ہوتی ہے نہ کمزوری اور نہ کسی طرح اس میں کمی واقع ہوتی ہے۔

الروم 30:55

اور جس دن قائم ہو گی قیامت قسمیں کھائیں گے مجرم کہ نہیں ٹھہرے وہ سوائے گھڑی بھر کے، اسی طرح تھے وہ (دنیا میں) پھیرے جاتے (حق سے)(55) اور کہیں گے وہ لوگ جو دیے گئے علم اور ایمان البتہ تحقیق ٹھہرے تھے تم اللہ کی کتاب (لوح محفوظ) میں دوبارہ اٹھنے کے دن (قیامت) تک، سو یہی ہے دن دوبارہ اٹھنے کا اور لیکن تھے تم نہیں جانتے (56)پس اس دن نہیں فائدہ دے گی ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا معذرت ان کی، اور نہ ان سے توبہ طلب کی جائے گی (57) [55] اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ بہت جلد آنے والا ہے اور جب قیامت قائم ہو گی تو ﴿يُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’مجرم اللہ کی قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے‘‘ کہ بلاشبہ وہ ﴿مَا لَبِثُوۡا ﴾ ’’نہیں رہے تھے‘‘ دنیا میں ﴿غَيۡرَ سَاعَةٍ ﴾ ’’سوائے ایک گھڑی کے‘‘ وہ یہ عذر اس لیے پیش کریں گے کہ شاید دنیا کی مدت کو کم کہنا انھیں کوئی فائدہ دے۔چونکہ ان کی یہ بات جھوٹ پر مبنی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ، لہٰذا اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿كَذٰلِكَ كَانُوۡا يُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’وہ اسی طرح غلط انداز ے لگایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی وہ دنیا کے اندر بھی ہمیشہ حقائق کو چھوڑ کر کذب بیانی کرتے رہے اور جھوٹ گھڑتے رہے، دنیا کے اندر انھوں نے حق کی تکذیب کی جسے انبیائے کرام لے کر آئے تھے اور آخرت میں وہ امرمحسوس، یعنی دنیا کے اندر طویل مدت تک رہنے کا انکار کریں گے۔ یہ ان کا بدترین خلق ہے اور بندہ اسی عادت اور ہیئت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرے گا۔ [56]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَالۡاِيۡمَانَ ﴾ ’’اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے۔‘‘ یعنی جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے ان دو چیزوں کے ساتھ احسان کیا اور حق کا علم اور وہ ایمان جو حق کی ترجیح کو مستلزم ہے ان کا وصف بن گیا۔ جب انھوں نے حق کو جان لیا اور حق کو ترجیح دی تو لازم ہے کہ ان کا قول واقع اور ان کے احوال کے مطابق ہو، بنا بریں وہ حق بات کہیں گے:﴿لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِيۡ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’تم اللہ کی کتاب کے مطابق رہے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضاوقدر کے مطابق، جو اس نے اپنے حکم میں تمھارے لیے مقرر کر دی تھی ﴿اِلٰى يَوۡمِ الۡبَعۡثِ ﴾ ’’قیامت تک‘‘ یعنی تمھیں اس قدر عمر دی گئی تھی کہ جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرسکتا تھا، تدبر کرنے والا اس میں تدبر کرسکتا تھا اور عبرت پکڑنے والا اس میں عبرت پکڑسکتا تھا حتی کہ قیامت آگئی اور تم اس حال کو پہنچ گئے۔ ﴿فَهٰذَا يَوۡمُ الۡبَعۡثِ وَلٰكِنَّكُمۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’پس یہ یوم قیامت ہے، لیکن تم (اسے حق) نہیں جانتے تھے۔‘‘ اس لیے تم نے اس کا انکار کیا، تم نے دنیا میں ایک مدت تک کے لیے اپنے قیام کا انکار کیا جس میں توبہ اور انابت تمھارے بس میں تھی، مگر جہالت اور اس کے آثار، یعنی تکذیب تمھارا شعار اور خسارہ تمھارا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ [57]﴿فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ ﴾ ’’یقیناً اس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہیں دے گی‘‘ یعنی اگر وہ جھوٹ بولتے ہوئے یہ سمجھیں کہ ان پر حجت قائم نہیں ہوئی یا ایمان لانا ان کے بس میں نہ تھا تو اہل علم و ایمان کی گواہی بلکہ خود ان کی اپنی کھالوں، ان کے ہاتھوں اور پاؤ ں کی گواہی سے ان کو جھٹلا دیا جائے گا۔ اگر وہ معذرت کی اجازت چاہیں کہ ان کو اب واپس لوٹا دیا جائے تو وہ ایسا کام ہرگز نہیں کریں گے جس سے انھیں روکا گیا ہے... تو ان کی معذرت قبول نہ کی جائے گی۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی‘‘ یعنی وہ ہمیشہ زیر عتاب رہیں گے۔

الروم 30:56

اور جس دن قائم ہو گی قیامت قسمیں کھائیں گے مجرم کہ نہیں ٹھہرے وہ سوائے گھڑی بھر کے، اسی طرح تھے وہ (دنیا میں) پھیرے جاتے (حق سے)(55) اور کہیں گے وہ لوگ جو دیے گئے علم اور ایمان البتہ تحقیق ٹھہرے تھے تم اللہ کی کتاب (لوح محفوظ) میں دوبارہ اٹھنے کے دن (قیامت) تک، سو یہی ہے دن دوبارہ اٹھنے کا اور لیکن تھے تم نہیں جانتے (56)پس اس دن نہیں فائدہ دے گی ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا معذرت ان کی، اور نہ ان سے توبہ طلب کی جائے گی (57) [55] اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ بہت جلد آنے والا ہے اور جب قیامت قائم ہو گی تو ﴿يُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’مجرم اللہ کی قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے‘‘ کہ بلاشبہ وہ ﴿مَا لَبِثُوۡا ﴾ ’’نہیں رہے تھے‘‘ دنیا میں ﴿غَيۡرَ سَاعَةٍ ﴾ ’’سوائے ایک گھڑی کے‘‘ وہ یہ عذر اس لیے پیش کریں گے کہ شاید دنیا کی مدت کو کم کہنا انھیں کوئی فائدہ دے۔چونکہ ان کی یہ بات جھوٹ پر مبنی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ، لہٰذا اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿كَذٰلِكَ كَانُوۡا يُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’وہ اسی طرح غلط انداز ے لگایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی وہ دنیا کے اندر بھی ہمیشہ حقائق کو چھوڑ کر کذب بیانی کرتے رہے اور جھوٹ گھڑتے رہے، دنیا کے اندر انھوں نے حق کی تکذیب کی جسے انبیائے کرام لے کر آئے تھے اور آخرت میں وہ امرمحسوس، یعنی دنیا کے اندر طویل مدت تک رہنے کا انکار کریں گے۔ یہ ان کا بدترین خلق ہے اور بندہ اسی عادت اور ہیئت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرے گا۔ [56]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَالۡاِيۡمَانَ ﴾ ’’اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے۔‘‘ یعنی جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے ان دو چیزوں کے ساتھ احسان کیا اور حق کا علم اور وہ ایمان جو حق کی ترجیح کو مستلزم ہے ان کا وصف بن گیا۔ جب انھوں نے حق کو جان لیا اور حق کو ترجیح دی تو لازم ہے کہ ان کا قول واقع اور ان کے احوال کے مطابق ہو، بنا بریں وہ حق بات کہیں گے:﴿لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِيۡ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’تم اللہ کی کتاب کے مطابق رہے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضاوقدر کے مطابق، جو اس نے اپنے حکم میں تمھارے لیے مقرر کر دی تھی ﴿اِلٰى يَوۡمِ الۡبَعۡثِ ﴾ ’’قیامت تک‘‘ یعنی تمھیں اس قدر عمر دی گئی تھی کہ جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرسکتا تھا، تدبر کرنے والا اس میں تدبر کرسکتا تھا اور عبرت پکڑنے والا اس میں عبرت پکڑسکتا تھا حتی کہ قیامت آگئی اور تم اس حال کو پہنچ گئے۔ ﴿فَهٰذَا يَوۡمُ الۡبَعۡثِ وَلٰكِنَّكُمۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’پس یہ یوم قیامت ہے، لیکن تم (اسے حق) نہیں جانتے تھے۔‘‘ اس لیے تم نے اس کا انکار کیا، تم نے دنیا میں ایک مدت تک کے لیے اپنے قیام کا انکار کیا جس میں توبہ اور انابت تمھارے بس میں تھی، مگر جہالت اور اس کے آثار، یعنی تکذیب تمھارا شعار اور خسارہ تمھارا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ [57]﴿فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ ﴾ ’’یقیناً اس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہیں دے گی‘‘ یعنی اگر وہ جھوٹ بولتے ہوئے یہ سمجھیں کہ ان پر حجت قائم نہیں ہوئی یا ایمان لانا ان کے بس میں نہ تھا تو اہل علم و ایمان کی گواہی بلکہ خود ان کی اپنی کھالوں، ان کے ہاتھوں اور پاؤ ں کی گواہی سے ان کو جھٹلا دیا جائے گا۔ اگر وہ معذرت کی اجازت چاہیں کہ ان کو اب واپس لوٹا دیا جائے تو وہ ایسا کام ہرگز نہیں کریں گے جس سے انھیں روکا گیا ہے... تو ان کی معذرت قبول نہ کی جائے گی۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی‘‘ یعنی وہ ہمیشہ زیر عتاب رہیں گے۔

الروم 30:57

اور جس دن قائم ہو گی قیامت قسمیں کھائیں گے مجرم کہ نہیں ٹھہرے وہ سوائے گھڑی بھر کے، اسی طرح تھے وہ (دنیا میں) پھیرے جاتے (حق سے)(55) اور کہیں گے وہ لوگ جو دیے گئے علم اور ایمان البتہ تحقیق ٹھہرے تھے تم اللہ کی کتاب (لوح محفوظ) میں دوبارہ اٹھنے کے دن (قیامت) تک، سو یہی ہے دن دوبارہ اٹھنے کا اور لیکن تھے تم نہیں جانتے (56)پس اس دن نہیں فائدہ دے گی ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا معذرت ان کی، اور نہ ان سے توبہ طلب کی جائے گی (57) [55] اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ بہت جلد آنے والا ہے اور جب قیامت قائم ہو گی تو ﴿يُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’مجرم اللہ کی قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے‘‘ کہ بلاشبہ وہ ﴿مَا لَبِثُوۡا ﴾ ’’نہیں رہے تھے‘‘ دنیا میں ﴿غَيۡرَ سَاعَةٍ ﴾ ’’سوائے ایک گھڑی کے‘‘ وہ یہ عذر اس لیے پیش کریں گے کہ شاید دنیا کی مدت کو کم کہنا انھیں کوئی فائدہ دے۔چونکہ ان کی یہ بات جھوٹ پر مبنی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ، لہٰذا اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿كَذٰلِكَ كَانُوۡا يُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’وہ اسی طرح غلط انداز ے لگایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی وہ دنیا کے اندر بھی ہمیشہ حقائق کو چھوڑ کر کذب بیانی کرتے رہے اور جھوٹ گھڑتے رہے، دنیا کے اندر انھوں نے حق کی تکذیب کی جسے انبیائے کرام لے کر آئے تھے اور آخرت میں وہ امرمحسوس، یعنی دنیا کے اندر طویل مدت تک رہنے کا انکار کریں گے۔ یہ ان کا بدترین خلق ہے اور بندہ اسی عادت اور ہیئت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرے گا۔ [56]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَالۡاِيۡمَانَ ﴾ ’’اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے۔‘‘ یعنی جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے ان دو چیزوں کے ساتھ احسان کیا اور حق کا علم اور وہ ایمان جو حق کی ترجیح کو مستلزم ہے ان کا وصف بن گیا۔ جب انھوں نے حق کو جان لیا اور حق کو ترجیح دی تو لازم ہے کہ ان کا قول واقع اور ان کے احوال کے مطابق ہو، بنا بریں وہ حق بات کہیں گے:﴿لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِيۡ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’تم اللہ کی کتاب کے مطابق رہے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضاوقدر کے مطابق، جو اس نے اپنے حکم میں تمھارے لیے مقرر کر دی تھی ﴿اِلٰى يَوۡمِ الۡبَعۡثِ ﴾ ’’قیامت تک‘‘ یعنی تمھیں اس قدر عمر دی گئی تھی کہ جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرسکتا تھا، تدبر کرنے والا اس میں تدبر کرسکتا تھا اور عبرت پکڑنے والا اس میں عبرت پکڑسکتا تھا حتی کہ قیامت آگئی اور تم اس حال کو پہنچ گئے۔ ﴿فَهٰذَا يَوۡمُ الۡبَعۡثِ وَلٰكِنَّكُمۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’پس یہ یوم قیامت ہے، لیکن تم (اسے حق) نہیں جانتے تھے۔‘‘ اس لیے تم نے اس کا انکار کیا، تم نے دنیا میں ایک مدت تک کے لیے اپنے قیام کا انکار کیا جس میں توبہ اور انابت تمھارے بس میں تھی، مگر جہالت اور اس کے آثار، یعنی تکذیب تمھارا شعار اور خسارہ تمھارا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ [57]﴿فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ ﴾ ’’یقیناً اس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہیں دے گی‘‘ یعنی اگر وہ جھوٹ بولتے ہوئے یہ سمجھیں کہ ان پر حجت قائم نہیں ہوئی یا ایمان لانا ان کے بس میں نہ تھا تو اہل علم و ایمان کی گواہی بلکہ خود ان کی اپنی کھالوں، ان کے ہاتھوں اور پاؤ ں کی گواہی سے ان کو جھٹلا دیا جائے گا۔ اگر وہ معذرت کی اجازت چاہیں کہ ان کو اب واپس لوٹا دیا جائے تو وہ ایسا کام ہرگز نہیں کریں گے جس سے انھیں روکا گیا ہے... تو ان کی معذرت قبول نہ کی جائے گی۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی‘‘ یعنی وہ ہمیشہ زیر عتاب رہیں گے۔

الروم 30:58

اور البتہ تحقیق بیان کر دی ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر ایک مثال اور البتہ اگرلے آئیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی (معجزہ) تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہو تم مگر باطل پرست (58) اسی طرح مہرلگاتا ہے اللہ دلوں پر ان لوگوں کے جو نہیں جانتے (59) پس آپ صبر کیجیے، بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور نہ ہلکا (بے وزن) بنا دیں آپ کو وہ لوگ جو نہیں یقین رکھتے (60) [58، 59]﴿وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے بیان کی‘‘ اپنی عنایت، رحمت، لطف و کرم اور حسن تعلیم کی بنا پر ﴿لِلنَّاسِ فِيۡ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ ﴾ ’’لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال‘‘ جس سے حقائق واضح ہوتے ہیں، تمام امور کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حجت تمام ہوتی ہے۔ یہ اصول ان تمام مثالوں میں عام ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے امور معقولہ کو امور محسوسہ کے قریب لانے کے لیے بیان کیا ہے۔ ان امور کے بارے میں جو ابھی واقع ہوں گے خبر دینے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ضرب الامثال کا اسلوب بہت اہم ہے حتیٰ کہ یوں لگتا ہے جیسے یہ خبر واقع ہو چکی ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے روز مجرموں کی حالت کیا ہو گی۔ وہ شدت غم میں مبتلا ہوں گے اور ان سے کسی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔یہ ظالم کفار واضح حق کے بارے میں عناد رکھنے سے باز نہ آئے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَىِٕنۡ جِئۡتَهُمۡ بِاٰيَةٍ ﴾ ’’اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں‘‘ جو آپ کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی ہو ﴿لَّيَقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُبۡطِلُوۡنَ ﴾’’تو کافر لوگ یہی کہیں گے کہ تم تو جعل سازی کرتے ہو۔‘‘ یعنی وہ حق کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ باطل ہے۔ یہ ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے باعث تھا نیز اس کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور وہ اپنی جہالت میں بہت دور تک نکل گئے۔﴿كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پرمہر لگا دیتا ہے جو علم نہیں رکھتے۔‘‘ اس لیے ان کے دلوں میں کوئی بھلائی داخل ہو سکتی ہے نہ وہ اشیاء کی حقیقت کا ادراک کر سکتے ہیں بلکہ اس کے برعکس انھیں حق باطل اور باطل حق دکھائی دیتا ہے۔ [60]﴿فَاصۡبِرۡ ﴾ ’’پس صبر کیجیے!‘‘ اپنی دعوت الیٰ اللہ اور جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اس پر ثابت قدم رہیے اگر آپ ان کے اندر روگردانی اور اعراض دیکھتے ہیں تو یہ چیز آپ کو اپنی دعوت سے نہ روک دے۔ ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے‘‘ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ چیز صبر میں مدد دیتی ہے کیونکہ جب بندے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا عمل رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس کا اجر اسے کامل طور پر مل جائے گا، تو اسے اس راستے میں جو تکالیف اور مصائب پہنچتے ہیں وہ انھیں معمولی نظر آتے ہیں، اس کے لیے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے اور اسے ہر بڑا اور زیادہ عمل کم نظر آتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ۠ الَّذِيۡنَ لَا يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ آپ کو ہرگز ہلکا نہ پائیں جن کا ایمان کمزور اور یقین بہت کم ہے بنابریں ان کی عقل بہت خفیف اور ان میں صبر بہت کم ہے۔ پس یہ لوگ آپ کو ہرگز کمزور نہ پائیں آپ ان سے بچتے رہیں اور ان کی پروا نہ کریں ورنہ وہ آپ کو بہت کمزور اور ہلکا سمجھیں گے اور آپ کو اوامرونواہی میں عدم ثبات پر محمول کریں گے۔ اس بارے میں نفس ان کی معاونت کرتا ہے اور مشابہت اور موافقت تلاش کرتا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ہر مومن جو صاحب یقین ہو اور پختہ عقل رکھتا ہو اس کے لیے صبر کرنا بہت آسان ہے اور ہر کمزور یقین اور کمزور عقل شخص کم صبر والا ہوتا ہے۔ پہلی صورت گویا مغز کی مانند ہے اور دوسری صورت چھلکے کی سی ہے۔ واللہ المستعان۔

الروم 30:59

اور البتہ تحقیق بیان کر دی ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر ایک مثال اور البتہ اگرلے آئیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی (معجزہ) تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہو تم مگر باطل پرست (58) اسی طرح مہرلگاتا ہے اللہ دلوں پر ان لوگوں کے جو نہیں جانتے (59) پس آپ صبر کیجیے، بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور نہ ہلکا (بے وزن) بنا دیں آپ کو وہ لوگ جو نہیں یقین رکھتے (60) [58، 59]﴿وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے بیان کی‘‘ اپنی عنایت، رحمت، لطف و کرم اور حسن تعلیم کی بنا پر ﴿لِلنَّاسِ فِيۡ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ ﴾ ’’لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال‘‘ جس سے حقائق واضح ہوتے ہیں، تمام امور کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حجت تمام ہوتی ہے۔ یہ اصول ان تمام مثالوں میں عام ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے امور معقولہ کو امور محسوسہ کے قریب لانے کے لیے بیان کیا ہے۔ ان امور کے بارے میں جو ابھی واقع ہوں گے خبر دینے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ضرب الامثال کا اسلوب بہت اہم ہے حتیٰ کہ یوں لگتا ہے جیسے یہ خبر واقع ہو چکی ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے روز مجرموں کی حالت کیا ہو گی۔ وہ شدت غم میں مبتلا ہوں گے اور ان سے کسی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔یہ ظالم کفار واضح حق کے بارے میں عناد رکھنے سے باز نہ آئے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَىِٕنۡ جِئۡتَهُمۡ بِاٰيَةٍ ﴾ ’’اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں‘‘ جو آپ کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی ہو ﴿لَّيَقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُبۡطِلُوۡنَ ﴾’’تو کافر لوگ یہی کہیں گے کہ تم تو جعل سازی کرتے ہو۔‘‘ یعنی وہ حق کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ باطل ہے۔ یہ ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے باعث تھا نیز اس کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور وہ اپنی جہالت میں بہت دور تک نکل گئے۔﴿كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پرمہر لگا دیتا ہے جو علم نہیں رکھتے۔‘‘ اس لیے ان کے دلوں میں کوئی بھلائی داخل ہو سکتی ہے نہ وہ اشیاء کی حقیقت کا ادراک کر سکتے ہیں بلکہ اس کے برعکس انھیں حق باطل اور باطل حق دکھائی دیتا ہے۔ [60]﴿فَاصۡبِرۡ ﴾ ’’پس صبر کیجیے!‘‘ اپنی دعوت الیٰ اللہ اور جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اس پر ثابت قدم رہیے اگر آپ ان کے اندر روگردانی اور اعراض دیکھتے ہیں تو یہ چیز آپ کو اپنی دعوت سے نہ روک دے۔ ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے‘‘ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ چیز صبر میں مدد دیتی ہے کیونکہ جب بندے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا عمل رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس کا اجر اسے کامل طور پر مل جائے گا، تو اسے اس راستے میں جو تکالیف اور مصائب پہنچتے ہیں وہ انھیں معمولی نظر آتے ہیں، اس کے لیے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے اور اسے ہر بڑا اور زیادہ عمل کم نظر آتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ۠ الَّذِيۡنَ لَا يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ آپ کو ہرگز ہلکا نہ پائیں جن کا ایمان کمزور اور یقین بہت کم ہے بنابریں ان کی عقل بہت خفیف اور ان میں صبر بہت کم ہے۔ پس یہ لوگ آپ کو ہرگز کمزور نہ پائیں آپ ان سے بچتے رہیں اور ان کی پروا نہ کریں ورنہ وہ آپ کو بہت کمزور اور ہلکا سمجھیں گے اور آپ کو اوامرونواہی میں عدم ثبات پر محمول کریں گے۔ اس بارے میں نفس ان کی معاونت کرتا ہے اور مشابہت اور موافقت تلاش کرتا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ہر مومن جو صاحب یقین ہو اور پختہ عقل رکھتا ہو اس کے لیے صبر کرنا بہت آسان ہے اور ہر کمزور یقین اور کمزور عقل شخص کم صبر والا ہوتا ہے۔ پہلی صورت گویا مغز کی مانند ہے اور دوسری صورت چھلکے کی سی ہے۔ واللہ المستعان۔

الروم 30:60

اور البتہ تحقیق بیان کر دی ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر ایک مثال اور البتہ اگرلے آئیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی (معجزہ) تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہو تم مگر باطل پرست (58) اسی طرح مہرلگاتا ہے اللہ دلوں پر ان لوگوں کے جو نہیں جانتے (59) پس آپ صبر کیجیے، بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور نہ ہلکا (بے وزن) بنا دیں آپ کو وہ لوگ جو نہیں یقین رکھتے (60) [58، 59]﴿وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے بیان کی‘‘ اپنی عنایت، رحمت، لطف و کرم اور حسن تعلیم کی بنا پر ﴿لِلنَّاسِ فِيۡ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ ﴾ ’’لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال‘‘ جس سے حقائق واضح ہوتے ہیں، تمام امور کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حجت تمام ہوتی ہے۔ یہ اصول ان تمام مثالوں میں عام ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے امور معقولہ کو امور محسوسہ کے قریب لانے کے لیے بیان کیا ہے۔ ان امور کے بارے میں جو ابھی واقع ہوں گے خبر دینے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ضرب الامثال کا اسلوب بہت اہم ہے حتیٰ کہ یوں لگتا ہے جیسے یہ خبر واقع ہو چکی ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے روز مجرموں کی حالت کیا ہو گی۔ وہ شدت غم میں مبتلا ہوں گے اور ان سے کسی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔یہ ظالم کفار واضح حق کے بارے میں عناد رکھنے سے باز نہ آئے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَىِٕنۡ جِئۡتَهُمۡ بِاٰيَةٍ ﴾ ’’اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں‘‘ جو آپ کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی ہو ﴿لَّيَقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُبۡطِلُوۡنَ ﴾’’تو کافر لوگ یہی کہیں گے کہ تم تو جعل سازی کرتے ہو۔‘‘ یعنی وہ حق کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ باطل ہے۔ یہ ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے باعث تھا نیز اس کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور وہ اپنی جہالت میں بہت دور تک نکل گئے۔﴿كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پرمہر لگا دیتا ہے جو علم نہیں رکھتے۔‘‘ اس لیے ان کے دلوں میں کوئی بھلائی داخل ہو سکتی ہے نہ وہ اشیاء کی حقیقت کا ادراک کر سکتے ہیں بلکہ اس کے برعکس انھیں حق باطل اور باطل حق دکھائی دیتا ہے۔ [60]﴿فَاصۡبِرۡ ﴾ ’’پس صبر کیجیے!‘‘ اپنی دعوت الیٰ اللہ اور جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اس پر ثابت قدم رہیے اگر آپ ان کے اندر روگردانی اور اعراض دیکھتے ہیں تو یہ چیز آپ کو اپنی دعوت سے نہ روک دے۔ ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے‘‘ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ چیز صبر میں مدد دیتی ہے کیونکہ جب بندے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا عمل رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس کا اجر اسے کامل طور پر مل جائے گا، تو اسے اس راستے میں جو تکالیف اور مصائب پہنچتے ہیں وہ انھیں معمولی نظر آتے ہیں، اس کے لیے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے اور اسے ہر بڑا اور زیادہ عمل کم نظر آتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ۠ الَّذِيۡنَ لَا يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ آپ کو ہرگز ہلکا نہ پائیں جن کا ایمان کمزور اور یقین بہت کم ہے بنابریں ان کی عقل بہت خفیف اور ان میں صبر بہت کم ہے۔ پس یہ لوگ آپ کو ہرگز کمزور نہ پائیں آپ ان سے بچتے رہیں اور ان کی پروا نہ کریں ورنہ وہ آپ کو بہت کمزور اور ہلکا سمجھیں گے اور آپ کو اوامرونواہی میں عدم ثبات پر محمول کریں گے۔ اس بارے میں نفس ان کی معاونت کرتا ہے اور مشابہت اور موافقت تلاش کرتا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ہر مومن جو صاحب یقین ہو اور پختہ عقل رکھتا ہو اس کے لیے صبر کرنا بہت آسان ہے اور ہر کمزور یقین اور کمزور عقل شخص کم صبر والا ہوتا ہے۔ پہلی صورت گویا مغز کی مانند ہے اور دوسری صورت چھلکے کی سی ہے۔ واللہ المستعان۔

لقمان 31:1

الٓمٓ(1) یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی(2) ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے(3) وہ لوگ جوقائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں(4) یہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے رب (کی طرف) سے، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تعالیٰ ان ﴿اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمت والی کتاب کی آیات‘‘ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف، اشارہ کرتا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں:(۱)یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔(۲)یہ آیات تغیر و تبدل، کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔(۳)ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی، حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں، جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔(۴)ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔(۵)قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ، اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں، اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔(۶) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات، اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے، مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غوروفکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، اس کو یقین ہو جاتا ہے، جس میں شک وریب کا کوئی شائبہ نہیں، کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔ [3] وہ حکمت سے لبریز ہے، وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی راہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کر کے روگردانی سے بچایا وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔پس یہ قرآن انھی کے لیے ﴿هُدًى ﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انھیں بچاتا ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھیں دنیا و آخرت کی سعادت، خیر کثیر، ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہو جاتی ہے۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان ’’محسنین‘‘ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا: وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں جو اخلاص، اللہ تعالیٰ سے مناجات، قلب و زبان اور جوارح کے تعبُّد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے۔ نیز زکاۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکاۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، زکاۃ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے... اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔ [5]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰى هُدًى ﴾ ’’ہدایت پر ہیں‘‘ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ’’ہدایت‘‘ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اپنے رب کی طرف سے۔‘‘ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں‘‘ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنھوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی، تو اس کے بعد، ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کر کے، بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا، اسی لیے فرمایا:

لقمان 31:2

الٓمٓ(1) یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی(2) ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے(3) وہ لوگ جوقائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں(4) یہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے رب (کی طرف) سے، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تعالیٰ ان ﴿اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمت والی کتاب کی آیات‘‘ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف، اشارہ کرتا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں:(۱)یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔(۲)یہ آیات تغیر و تبدل، کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔(۳)ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی، حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں، جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔(۴)ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔(۵)قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ، اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں، اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔(۶) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات، اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے، مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غوروفکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، اس کو یقین ہو جاتا ہے، جس میں شک وریب کا کوئی شائبہ نہیں، کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔ [3] وہ حکمت سے لبریز ہے، وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی راہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کر کے روگردانی سے بچایا وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔پس یہ قرآن انھی کے لیے ﴿هُدًى ﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انھیں بچاتا ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھیں دنیا و آخرت کی سعادت، خیر کثیر، ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہو جاتی ہے۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان ’’محسنین‘‘ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا: وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں جو اخلاص، اللہ تعالیٰ سے مناجات، قلب و زبان اور جوارح کے تعبُّد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے۔ نیز زکاۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکاۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، زکاۃ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے... اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔ [5]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰى هُدًى ﴾ ’’ہدایت پر ہیں‘‘ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ’’ہدایت‘‘ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اپنے رب کی طرف سے۔‘‘ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں‘‘ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنھوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی، تو اس کے بعد، ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کر کے، بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا، اسی لیے فرمایا:

لقمان 31:3

الٓمٓ(1) یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی(2) ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے(3) وہ لوگ جوقائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں(4) یہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے رب (کی طرف) سے، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تعالیٰ ان ﴿اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمت والی کتاب کی آیات‘‘ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف، اشارہ کرتا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں:(۱)یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔(۲)یہ آیات تغیر و تبدل، کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔(۳)ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی، حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں، جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔(۴)ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔(۵)قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ، اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں، اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔(۶) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات، اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے، مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غوروفکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، اس کو یقین ہو جاتا ہے، جس میں شک وریب کا کوئی شائبہ نہیں، کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔ [3] وہ حکمت سے لبریز ہے، وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی راہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کر کے روگردانی سے بچایا وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔پس یہ قرآن انھی کے لیے ﴿هُدًى ﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انھیں بچاتا ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھیں دنیا و آخرت کی سعادت، خیر کثیر، ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہو جاتی ہے۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان ’’محسنین‘‘ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا: وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں جو اخلاص، اللہ تعالیٰ سے مناجات، قلب و زبان اور جوارح کے تعبُّد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے۔ نیز زکاۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکاۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، زکاۃ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے... اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔ [5]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰى هُدًى ﴾ ’’ہدایت پر ہیں‘‘ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ’’ہدایت‘‘ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اپنے رب کی طرف سے۔‘‘ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں‘‘ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنھوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی، تو اس کے بعد، ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کر کے، بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا، اسی لیے فرمایا:

لقمان 31:4

الٓمٓ(1) یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی(2) ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے(3) وہ لوگ جوقائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں(4) یہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے رب (کی طرف) سے، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تعالیٰ ان ﴿اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمت والی کتاب کی آیات‘‘ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف، اشارہ کرتا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں:(۱)یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔(۲)یہ آیات تغیر و تبدل، کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔(۳)ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی، حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں، جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔(۴)ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔(۵)قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ، اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں، اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔(۶) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات، اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے، مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غوروفکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، اس کو یقین ہو جاتا ہے، جس میں شک وریب کا کوئی شائبہ نہیں، کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔ [3] وہ حکمت سے لبریز ہے، وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی راہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کر کے روگردانی سے بچایا وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔پس یہ قرآن انھی کے لیے ﴿هُدًى ﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انھیں بچاتا ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھیں دنیا و آخرت کی سعادت، خیر کثیر، ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہو جاتی ہے۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان ’’محسنین‘‘ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا: وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں جو اخلاص، اللہ تعالیٰ سے مناجات، قلب و زبان اور جوارح کے تعبُّد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے۔ نیز زکاۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکاۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، زکاۃ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے... اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔ [5]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰى هُدًى ﴾ ’’ہدایت پر ہیں‘‘ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ’’ہدایت‘‘ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اپنے رب کی طرف سے۔‘‘ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں‘‘ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنھوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی، تو اس کے بعد، ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کر کے، بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا، اسی لیے فرمایا:

لقمان 31:5

الٓمٓ(1) یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی(2) ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے(3) وہ لوگ جوقائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں(4) یہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے رب (کی طرف) سے، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تعالیٰ ان ﴿اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمت والی کتاب کی آیات‘‘ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف، اشارہ کرتا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں:(۱)یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔(۲)یہ آیات تغیر و تبدل، کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔(۳)ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی، حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں، جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔(۴)ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔(۵)قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ، اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں، اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔(۶) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات، اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے، مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غوروفکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، اس کو یقین ہو جاتا ہے، جس میں شک وریب کا کوئی شائبہ نہیں، کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔ [3] وہ حکمت سے لبریز ہے، وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی راہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کر کے روگردانی سے بچایا وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔پس یہ قرآن انھی کے لیے ﴿هُدًى ﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انھیں بچاتا ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھیں دنیا و آخرت کی سعادت، خیر کثیر، ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہو جاتی ہے۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان ’’محسنین‘‘ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا: وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں جو اخلاص، اللہ تعالیٰ سے مناجات، قلب و زبان اور جوارح کے تعبُّد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے۔ نیز زکاۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکاۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، زکاۃ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے... اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔ [5]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰى هُدًى ﴾ ’’ہدایت پر ہیں‘‘ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ’’ہدایت‘‘ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اپنے رب کی طرف سے۔‘‘ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں‘‘ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنھوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی، تو اس کے بعد، ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کر کے، بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا، اسی لیے فرمایا:

لقمان 31:6

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو خریدتے ہیں غافل کرنے والی باتیں تاکہ وہ گمراہ کریں اللہ کی راہ سے بغیر علم کے، اور(تاکہ) بنائیں اس (راہ ہدایت) کو مذاق، یہی لوگ ہیں، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا(6) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں، وہ پھر جاتا ہے تکبر کرتے ہوئے گویا کہ اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا کہ اس کےدونوں کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے، پس خوشخبری دے دیجیے اسے عذاب درد ناک کی(7) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہیں باغ ہائے نعمت(8) وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں (یہ) وعدہ ہے اللہ کا سچا اور وہ غالب ہے، حکمت والا(9) [6]﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’اور لوگوں میں سے جو‘‘ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے ﴿يَّشۡتَرِيۡ ﴾ ’’خریدتا ہے‘‘ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ﴿لَهۡوَ الۡحَدِيۡثِ ﴾ ’’لغو باتیں‘‘ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام، ہر قسم کی لغویات، ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں، ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ، سب و شتم، شیطانی گانا بجانا، غفلت میں مبتلا کرنے والے قصے کہانیاں، جن کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں، داخل ہیں۔ لوگوں کی یہ صنف ہدایت کی باتوں کو چھوڑ کر کھیل تماشوں پر مشتمل قصے کہانیاں خریدتی ہے۔ ﴿لِيُضِلَّ ﴾ تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بغیر علم کے اللہ کی راہ سے‘‘ یعنی اپنے فعل میں خود گمراہی کا راستہ اختیار کر کے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کا گمراہ کرنے کا عمل خود اس کی اپنی گمراہی سے جنم لیتا ہے، اس کا اس لہو الحدیث سے گمراہ کرنے سے مراد اس کا فائدہ مند بات، عمل نافع، حق مبین اور صراط مستقیم سے روکنا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک اس کے لیے تکمیل نہیں پاتا جب تک کہ وہ ہدایت اور حق میں (جسے اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آئی ہیں) جرح و قدح نہیں کرتا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان کو لانے والے کا تمسخر اڑاتا ہے۔جب ایسے شخص میں باطل کی مدح، اس کی ترغیب، حق میں جرح و قدح، حق اور اہل حق کے ساتھ استہزا وتمسخراکٹھے ہو جاتے ہیں تو وہ بے علم آدمی کو گمراہ کرتا ہے اور اسے ایسی بات بیان کرکے دھوکا دیتا ہے، جس میں گمراہ شخص امتیاز کر سکتا ہے نہ اس کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ استہزا کیا اور واضح حق کی تکذیب کی۔ [7] اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں‘‘ تاکہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے ﴿وَلّٰى مُسۡتَكۡبِرًا ﴾ تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر جاتا ہے جیسے ان آیات سے تکبر کرنے اور ان کو ٹھکرانے والا پیٹھ پھیرتا ہے۔ یہ آیات اس کے دل میں داخل ہوتی ہیں نہ اس پر کچھ اثر کرتی ہیں بلکہ وہ ان کو پیٹھ کر کے چل دیتا ہے۔ ﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا ﴾ ’’جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہ ہو‘‘ بلکہ ﴿كَاَنَّ فِيۡۤ اُذُنَيۡهِ وَقۡرًا ﴾ ’’گویا اس کے کانوں میں گرانی ہو‘‘ اور آواز اس کے کانوں تک پہنچ ہی نہ سکتی ہو، لہٰذا اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ ﴿فَبَشِّرۡهُ ﴾ ’’پس اس کو بشارت دے دیجیے۔‘‘ یعنی اسے ایسی بشارت دیں جو اس کے قلب کو حزن و غم سے لبریز کر دے اور اس کے چہرے پر بدحالی، اندھیرا اور گردوغبار چھا جائیں۔ ﴿بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’دردناک عذاب کی۔‘‘ جو قلب و بدن کے لیے بہت درد ناک ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کو جانا جا سکتا ہے۔یہ تو تھی اہل شر کی بشارت اور کتنی بری تھی یہ بشارت۔ [8، 9] رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا ﴿لَهُمۡ جَنّٰتُ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔‘‘ انھوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں، جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں، ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا ﴾ ’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ کامل غلبہ اور کامل حکمت کا مالک ہے۔ یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا، جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہو گیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔

لقمان 31:7

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو خریدتے ہیں غافل کرنے والی باتیں تاکہ وہ گمراہ کریں اللہ کی راہ سے بغیر علم کے، اور(تاکہ) بنائیں اس (راہ ہدایت) کو مذاق، یہی لوگ ہیں، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا(6) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں، وہ پھر جاتا ہے تکبر کرتے ہوئے گویا کہ اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا کہ اس کےدونوں کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے، پس خوشخبری دے دیجیے اسے عذاب درد ناک کی(7) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہیں باغ ہائے نعمت(8) وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں (یہ) وعدہ ہے اللہ کا سچا اور وہ غالب ہے، حکمت والا(9) [6]﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’اور لوگوں میں سے جو‘‘ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے ﴿يَّشۡتَرِيۡ ﴾ ’’خریدتا ہے‘‘ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ﴿لَهۡوَ الۡحَدِيۡثِ ﴾ ’’لغو باتیں‘‘ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام، ہر قسم کی لغویات، ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں، ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ، سب و شتم، شیطانی گانا بجانا، غفلت میں مبتلا کرنے والے قصے کہانیاں، جن کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں، داخل ہیں۔ لوگوں کی یہ صنف ہدایت کی باتوں کو چھوڑ کر کھیل تماشوں پر مشتمل قصے کہانیاں خریدتی ہے۔ ﴿لِيُضِلَّ ﴾ تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بغیر علم کے اللہ کی راہ سے‘‘ یعنی اپنے فعل میں خود گمراہی کا راستہ اختیار کر کے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کا گمراہ کرنے کا عمل خود اس کی اپنی گمراہی سے جنم لیتا ہے، اس کا اس لہو الحدیث سے گمراہ کرنے سے مراد اس کا فائدہ مند بات، عمل نافع، حق مبین اور صراط مستقیم سے روکنا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک اس کے لیے تکمیل نہیں پاتا جب تک کہ وہ ہدایت اور حق میں (جسے اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آئی ہیں) جرح و قدح نہیں کرتا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان کو لانے والے کا تمسخر اڑاتا ہے۔جب ایسے شخص میں باطل کی مدح، اس کی ترغیب، حق میں جرح و قدح، حق اور اہل حق کے ساتھ استہزا وتمسخراکٹھے ہو جاتے ہیں تو وہ بے علم آدمی کو گمراہ کرتا ہے اور اسے ایسی بات بیان کرکے دھوکا دیتا ہے، جس میں گمراہ شخص امتیاز کر سکتا ہے نہ اس کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ استہزا کیا اور واضح حق کی تکذیب کی۔ [7] اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں‘‘ تاکہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے ﴿وَلّٰى مُسۡتَكۡبِرًا ﴾ تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر جاتا ہے جیسے ان آیات سے تکبر کرنے اور ان کو ٹھکرانے والا پیٹھ پھیرتا ہے۔ یہ آیات اس کے دل میں داخل ہوتی ہیں نہ اس پر کچھ اثر کرتی ہیں بلکہ وہ ان کو پیٹھ کر کے چل دیتا ہے۔ ﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا ﴾ ’’جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہ ہو‘‘ بلکہ ﴿كَاَنَّ فِيۡۤ اُذُنَيۡهِ وَقۡرًا ﴾ ’’گویا اس کے کانوں میں گرانی ہو‘‘ اور آواز اس کے کانوں تک پہنچ ہی نہ سکتی ہو، لہٰذا اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ ﴿فَبَشِّرۡهُ ﴾ ’’پس اس کو بشارت دے دیجیے۔‘‘ یعنی اسے ایسی بشارت دیں جو اس کے قلب کو حزن و غم سے لبریز کر دے اور اس کے چہرے پر بدحالی، اندھیرا اور گردوغبار چھا جائیں۔ ﴿بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’دردناک عذاب کی۔‘‘ جو قلب و بدن کے لیے بہت درد ناک ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کو جانا جا سکتا ہے۔یہ تو تھی اہل شر کی بشارت اور کتنی بری تھی یہ بشارت۔ [8، 9] رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا ﴿لَهُمۡ جَنّٰتُ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔‘‘ انھوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں، جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں، ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا ﴾ ’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ کامل غلبہ اور کامل حکمت کا مالک ہے۔ یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا، جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہو گیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔

لقمان 31:8

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو خریدتے ہیں غافل کرنے والی باتیں تاکہ وہ گمراہ کریں اللہ کی راہ سے بغیر علم کے، اور(تاکہ) بنائیں اس (راہ ہدایت) کو مذاق، یہی لوگ ہیں، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا(6) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں، وہ پھر جاتا ہے تکبر کرتے ہوئے گویا کہ اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا کہ اس کےدونوں کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے، پس خوشخبری دے دیجیے اسے عذاب درد ناک کی(7) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہیں باغ ہائے نعمت(8) وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں (یہ) وعدہ ہے اللہ کا سچا اور وہ غالب ہے، حکمت والا(9) [6]﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’اور لوگوں میں سے جو‘‘ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے ﴿يَّشۡتَرِيۡ ﴾ ’’خریدتا ہے‘‘ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ﴿لَهۡوَ الۡحَدِيۡثِ ﴾ ’’لغو باتیں‘‘ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام، ہر قسم کی لغویات، ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں، ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ، سب و شتم، شیطانی گانا بجانا، غفلت میں مبتلا کرنے والے قصے کہانیاں، جن کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں، داخل ہیں۔ لوگوں کی یہ صنف ہدایت کی باتوں کو چھوڑ کر کھیل تماشوں پر مشتمل قصے کہانیاں خریدتی ہے۔ ﴿لِيُضِلَّ ﴾ تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بغیر علم کے اللہ کی راہ سے‘‘ یعنی اپنے فعل میں خود گمراہی کا راستہ اختیار کر کے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کا گمراہ کرنے کا عمل خود اس کی اپنی گمراہی سے جنم لیتا ہے، اس کا اس لہو الحدیث سے گمراہ کرنے سے مراد اس کا فائدہ مند بات، عمل نافع، حق مبین اور صراط مستقیم سے روکنا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک اس کے لیے تکمیل نہیں پاتا جب تک کہ وہ ہدایت اور حق میں (جسے اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آئی ہیں) جرح و قدح نہیں کرتا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان کو لانے والے کا تمسخر اڑاتا ہے۔جب ایسے شخص میں باطل کی مدح، اس کی ترغیب، حق میں جرح و قدح، حق اور اہل حق کے ساتھ استہزا وتمسخراکٹھے ہو جاتے ہیں تو وہ بے علم آدمی کو گمراہ کرتا ہے اور اسے ایسی بات بیان کرکے دھوکا دیتا ہے، جس میں گمراہ شخص امتیاز کر سکتا ہے نہ اس کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ استہزا کیا اور واضح حق کی تکذیب کی۔ [7] اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں‘‘ تاکہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے ﴿وَلّٰى مُسۡتَكۡبِرًا ﴾ تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر جاتا ہے جیسے ان آیات سے تکبر کرنے اور ان کو ٹھکرانے والا پیٹھ پھیرتا ہے۔ یہ آیات اس کے دل میں داخل ہوتی ہیں نہ اس پر کچھ اثر کرتی ہیں بلکہ وہ ان کو پیٹھ کر کے چل دیتا ہے۔ ﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا ﴾ ’’جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہ ہو‘‘ بلکہ ﴿كَاَنَّ فِيۡۤ اُذُنَيۡهِ وَقۡرًا ﴾ ’’گویا اس کے کانوں میں گرانی ہو‘‘ اور آواز اس کے کانوں تک پہنچ ہی نہ سکتی ہو، لہٰذا اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ ﴿فَبَشِّرۡهُ ﴾ ’’پس اس کو بشارت دے دیجیے۔‘‘ یعنی اسے ایسی بشارت دیں جو اس کے قلب کو حزن و غم سے لبریز کر دے اور اس کے چہرے پر بدحالی، اندھیرا اور گردوغبار چھا جائیں۔ ﴿بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’دردناک عذاب کی۔‘‘ جو قلب و بدن کے لیے بہت درد ناک ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کو جانا جا سکتا ہے۔یہ تو تھی اہل شر کی بشارت اور کتنی بری تھی یہ بشارت۔ [8، 9] رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا ﴿لَهُمۡ جَنّٰتُ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔‘‘ انھوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں، جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں، ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا ﴾ ’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ کامل غلبہ اور کامل حکمت کا مالک ہے۔ یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا، جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہو گیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔

لقمان 31:9

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو خریدتے ہیں غافل کرنے والی باتیں تاکہ وہ گمراہ کریں اللہ کی راہ سے بغیر علم کے، اور(تاکہ) بنائیں اس (راہ ہدایت) کو مذاق، یہی لوگ ہیں، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا(6) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں، وہ پھر جاتا ہے تکبر کرتے ہوئے گویا کہ اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا کہ اس کےدونوں کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے، پس خوشخبری دے دیجیے اسے عذاب درد ناک کی(7) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہیں باغ ہائے نعمت(8) وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں (یہ) وعدہ ہے اللہ کا سچا اور وہ غالب ہے، حکمت والا(9) [6]﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’اور لوگوں میں سے جو‘‘ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے ﴿يَّشۡتَرِيۡ ﴾ ’’خریدتا ہے‘‘ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ﴿لَهۡوَ الۡحَدِيۡثِ ﴾ ’’لغو باتیں‘‘ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام، ہر قسم کی لغویات، ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں، ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ، سب و شتم، شیطانی گانا بجانا، غفلت میں مبتلا کرنے والے قصے کہانیاں، جن کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں، داخل ہیں۔ لوگوں کی یہ صنف ہدایت کی باتوں کو چھوڑ کر کھیل تماشوں پر مشتمل قصے کہانیاں خریدتی ہے۔ ﴿لِيُضِلَّ ﴾ تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بغیر علم کے اللہ کی راہ سے‘‘ یعنی اپنے فعل میں خود گمراہی کا راستہ اختیار کر کے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کا گمراہ کرنے کا عمل خود اس کی اپنی گمراہی سے جنم لیتا ہے، اس کا اس لہو الحدیث سے گمراہ کرنے سے مراد اس کا فائدہ مند بات، عمل نافع، حق مبین اور صراط مستقیم سے روکنا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک اس کے لیے تکمیل نہیں پاتا جب تک کہ وہ ہدایت اور حق میں (جسے اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آئی ہیں) جرح و قدح نہیں کرتا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان کو لانے والے کا تمسخر اڑاتا ہے۔جب ایسے شخص میں باطل کی مدح، اس کی ترغیب، حق میں جرح و قدح، حق اور اہل حق کے ساتھ استہزا وتمسخراکٹھے ہو جاتے ہیں تو وہ بے علم آدمی کو گمراہ کرتا ہے اور اسے ایسی بات بیان کرکے دھوکا دیتا ہے، جس میں گمراہ شخص امتیاز کر سکتا ہے نہ اس کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ استہزا کیا اور واضح حق کی تکذیب کی۔ [7] اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں‘‘ تاکہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے ﴿وَلّٰى مُسۡتَكۡبِرًا ﴾ تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر جاتا ہے جیسے ان آیات سے تکبر کرنے اور ان کو ٹھکرانے والا پیٹھ پھیرتا ہے۔ یہ آیات اس کے دل میں داخل ہوتی ہیں نہ اس پر کچھ اثر کرتی ہیں بلکہ وہ ان کو پیٹھ کر کے چل دیتا ہے۔ ﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا ﴾ ’’جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہ ہو‘‘ بلکہ ﴿كَاَنَّ فِيۡۤ اُذُنَيۡهِ وَقۡرًا ﴾ ’’گویا اس کے کانوں میں گرانی ہو‘‘ اور آواز اس کے کانوں تک پہنچ ہی نہ سکتی ہو، لہٰذا اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ ﴿فَبَشِّرۡهُ ﴾ ’’پس اس کو بشارت دے دیجیے۔‘‘ یعنی اسے ایسی بشارت دیں جو اس کے قلب کو حزن و غم سے لبریز کر دے اور اس کے چہرے پر بدحالی، اندھیرا اور گردوغبار چھا جائیں۔ ﴿بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’دردناک عذاب کی۔‘‘ جو قلب و بدن کے لیے بہت درد ناک ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کو جانا جا سکتا ہے۔یہ تو تھی اہل شر کی بشارت اور کتنی بری تھی یہ بشارت۔ [8، 9] رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا ﴿لَهُمۡ جَنّٰتُ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔‘‘ انھوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں، جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں، ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا ﴾ ’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ کامل غلبہ اور کامل حکمت کا مالک ہے۔ یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا، جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہو گیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔

لقمان 31:10

اس (اللہ) نے پیدا کیے آسمان بغیر (ایسے) ستونوں کے کہ دیکھتے ہو تم ان کو اور اس نے گاڑ دیے زمین میں مضبوط (پہاڑ) تاکہ (نہ) جھک پڑے وہ تمھیں لے کروہ اور اس نے پھیلائے اس میں ہر قسم کے چوپائے اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی، پھر اگائی ہم نے اس میں (غلوں کی) ہر قسم عمدہ (10) یہ مخلوق ہے اللہ کی، پس دکھاؤ تم مجھے کیا ہے وہ جو پیدا کیا ہے ان (معبودوں) نے جو اس کے سوا ہیں؟بلکہ ظالم ہی صریح گمراہی میں ہیں (11) [10] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنی قدرت کے کچھ آثار، اپنی حکمت کی کچھ انوکھی چیزیں اور اپنی رحمت کے آثار میں سے کچھ نعمتوں کے بارے میں بیان فرماتا ہے:﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ ﴾ اس نے ساتوں آسمانوں کو ان کی عظمت، ان کی وسعت، ان کی کثافت اور ان کی ہولناک بلندیوں کے ساتھ پیدا کیا ﴿بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا ﴾ان کو سہارا دینے کے لیے کوئی ستون نہیں۔ اگر کوئی ستون ہوتا تو ضرور نظر آتا۔ آسمان صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔﴿وَاَلۡقٰى فِي الۡاَرۡضِ رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور زمین پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی بڑے بڑے پہاڑ، جن کو زمین کے کناروں اور گوشوں میں گاڑ دیا تاکہ زمین ﴿تَمِيۡدَ بِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔‘‘ اگر یہ مضبوطی سے گاڑے ہوئے پہاڑ نہ ہوتے تو زمین ڈھلک جاتی اور اپنے بسنے والوں کے ساتھ استقرار نہ پکڑتی۔ ﴿وَبَثَّ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ دَآبَّةٍ ﴾ اس وسیع زمین میں تمام اصناف کے حیوانات پھیلائے جو انسانوں کے مصالح و منافع کے لیے مسخر ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کے اندر حیوانات پھیلائے تو اسے معلوم تھا کہ ان حیوانات کے زندہ رہنے کے لیے رزق بہت ضروری ہے اس لیے اس نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا۔ ﴿فَاَنۢۡبـَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگادیے۔‘‘یعنی خوش منظر، نفع مند نباتات جن میں زمین کے اندر پھیلے ہوئے حیوانات چرتے ہیں اور ان کے نیچے تمام حیوانات سکون حاصل کرتے ہیں۔ [11]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوق، جمادات و حیوانات اور تمام مخلوقات کے لیے رزق رسانی ﴿خَلۡقُ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی تخلیق ہے۔‘‘ جو وحدہ لاشریک ہے، جس کا سب اقرار کرتے ہیں حتیٰ کہ اے مشرکو! تم بھی اقرار کرتے ہو۔ ﴿فَاَرُوۡنِيۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’پس مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو لوگ ہیں انھوں نے کیا پیدا کیا ہے؟‘‘ یعنی جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے، جن کو تم اپنی حاجتوں میں پکارتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو۔ پس اس سے لازم آتا ہے کہ ان کی بھی کوئی تخلیق ہو جیسی اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے، ان کے یہ خود ساختہ معبود بھی رزق عطا کرتے ہوں جیسے اللہ تعالیٰ رزق رسانی کرتا ہے۔ اگر تمھارے خود ساختہ معبودوں نے ان میں سے کوئی کام کیا ہے تو مجھے بھی دکھاؤ تاکہ تمھارا ان کے بارے میں یہ دعویٰ ثابت ہو کہ وہ عبادت کے مستحق ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں دکھا سکتے جو ان باطل معبودوں کی تخلیق ہو کیونکہ مذکورہ تمام اشیاء کے بارے میں وہ اقرارکر چکے ہیں کہ وہ اللہ وحدہ کی تخلیق کردہ ہیں اور ان اشیاء کے علاوہ وہاں کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ لہٰذا وہ کسی ایسی چیز کو ثابت کرنے سے عاجز ہیں جو عبادت کی مستحق ہو۔ ان کا ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنا کسی علم اور بصیرت پر مبنی نہیں بلکہ جہالت اور گمراہی کی بنا پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿بَلِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’بلکہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں۔‘‘ یعنی جو بالکل صاف، ظاہر اور واضح ہے کیونکہ وہ ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی نفع کی مالک ہیں نہ نقصان کی، جن کے قبضۂ قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر قادر ہیں... اور ان لوگوں نے اپنے خالق اور رازق کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیا جو تمام امور کا مالک ہے۔

لقمان 31:11

اس (اللہ) نے پیدا کیے آسمان بغیر (ایسے) ستونوں کے کہ دیکھتے ہو تم ان کو اور اس نے گاڑ دیے زمین میں مضبوط (پہاڑ) تاکہ (نہ) جھک پڑے وہ تمھیں لے کروہ اور اس نے پھیلائے اس میں ہر قسم کے چوپائے اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی، پھر اگائی ہم نے اس میں (غلوں کی) ہر قسم عمدہ (10) یہ مخلوق ہے اللہ کی، پس دکھاؤ تم مجھے کیا ہے وہ جو پیدا کیا ہے ان (معبودوں) نے جو اس کے سوا ہیں؟بلکہ ظالم ہی صریح گمراہی میں ہیں (11) [10] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنی قدرت کے کچھ آثار، اپنی حکمت کی کچھ انوکھی چیزیں اور اپنی رحمت کے آثار میں سے کچھ نعمتوں کے بارے میں بیان فرماتا ہے:﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ ﴾ اس نے ساتوں آسمانوں کو ان کی عظمت، ان کی وسعت، ان کی کثافت اور ان کی ہولناک بلندیوں کے ساتھ پیدا کیا ﴿بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا ﴾ان کو سہارا دینے کے لیے کوئی ستون نہیں۔ اگر کوئی ستون ہوتا تو ضرور نظر آتا۔ آسمان صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔﴿وَاَلۡقٰى فِي الۡاَرۡضِ رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور زمین پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی بڑے بڑے پہاڑ، جن کو زمین کے کناروں اور گوشوں میں گاڑ دیا تاکہ زمین ﴿تَمِيۡدَ بِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔‘‘ اگر یہ مضبوطی سے گاڑے ہوئے پہاڑ نہ ہوتے تو زمین ڈھلک جاتی اور اپنے بسنے والوں کے ساتھ استقرار نہ پکڑتی۔ ﴿وَبَثَّ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ دَآبَّةٍ ﴾ اس وسیع زمین میں تمام اصناف کے حیوانات پھیلائے جو انسانوں کے مصالح و منافع کے لیے مسخر ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کے اندر حیوانات پھیلائے تو اسے معلوم تھا کہ ان حیوانات کے زندہ رہنے کے لیے رزق بہت ضروری ہے اس لیے اس نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا۔ ﴿فَاَنۢۡبـَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگادیے۔‘‘یعنی خوش منظر، نفع مند نباتات جن میں زمین کے اندر پھیلے ہوئے حیوانات چرتے ہیں اور ان کے نیچے تمام حیوانات سکون حاصل کرتے ہیں۔ [11]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوق، جمادات و حیوانات اور تمام مخلوقات کے لیے رزق رسانی ﴿خَلۡقُ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی تخلیق ہے۔‘‘ جو وحدہ لاشریک ہے، جس کا سب اقرار کرتے ہیں حتیٰ کہ اے مشرکو! تم بھی اقرار کرتے ہو۔ ﴿فَاَرُوۡنِيۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’پس مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو لوگ ہیں انھوں نے کیا پیدا کیا ہے؟‘‘ یعنی جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے، جن کو تم اپنی حاجتوں میں پکارتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو۔ پس اس سے لازم آتا ہے کہ ان کی بھی کوئی تخلیق ہو جیسی اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے، ان کے یہ خود ساختہ معبود بھی رزق عطا کرتے ہوں جیسے اللہ تعالیٰ رزق رسانی کرتا ہے۔ اگر تمھارے خود ساختہ معبودوں نے ان میں سے کوئی کام کیا ہے تو مجھے بھی دکھاؤ تاکہ تمھارا ان کے بارے میں یہ دعویٰ ثابت ہو کہ وہ عبادت کے مستحق ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں دکھا سکتے جو ان باطل معبودوں کی تخلیق ہو کیونکہ مذکورہ تمام اشیاء کے بارے میں وہ اقرارکر چکے ہیں کہ وہ اللہ وحدہ کی تخلیق کردہ ہیں اور ان اشیاء کے علاوہ وہاں کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ لہٰذا وہ کسی ایسی چیز کو ثابت کرنے سے عاجز ہیں جو عبادت کی مستحق ہو۔ ان کا ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنا کسی علم اور بصیرت پر مبنی نہیں بلکہ جہالت اور گمراہی کی بنا پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿بَلِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’بلکہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں۔‘‘ یعنی جو بالکل صاف، ظاہر اور واضح ہے کیونکہ وہ ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی نفع کی مالک ہیں نہ نقصان کی، جن کے قبضۂ قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر قادر ہیں... اور ان لوگوں نے اپنے خالق اور رازق کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیا جو تمام امور کا مالک ہے۔

لقمان 31:12

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔

لقمان 31:13

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔

لقمان 31:14

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔

لقمان 31:15

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔

لقمان 31:16

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔

لقمان 31:17

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔

لقمان 31:18

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔

لقمان 31:19

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔

لقمان 31:20

کیا نہیں دیکھا تم نے کہ بے شک اللہ نے کام میں لگا دیا ہے تمھارے لیے (ان سب کو) جو کچھ ہے آسمانوں میں اورجو کچھ ہے زمین میں اورپوری کر دیں اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اورچھپی اور بعض لوگ وہ ہیں جو جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی کتاب روشن کے(20) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم پیروی کرو اس کی جسے نازل کیا اللہ نے تو وہ کہتے ہیں: ہم تو پیروی کریں گے اسی (راستے) کی کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو، کیا (پیروی کر یں گے انھی کی) اگرچہ تھا شیطان بلاتا رہا ان کو طرف عذاب جہنم کی؟(21) [20، 21] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور انھیں ان نعمتوں پر شکر کرنے، ان کا مشاہدہ کرنے اور ان سے عدم غفلت کا حکم دیتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَمۡ تَرَوۡا ﴾ کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا؟ کیا تم نے اپنی ظاہری اور دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہیں کی؟ ﴿اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمۡ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ ﴾ کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (سورج، چاند اور ستاروں میں سے) جو کچھ آسمان میں ہے، اسے تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے۔‘‘ یہ سب بندوں کے فائدے کے لیے مسخر ہیں۔﴿وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو کچھ زمین میں ہے۔‘‘ یعنی تمام حیوانات، درخت، کھیتیاں، دریا اور معدنیات وغیرہ کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ لَكُمۡ مَّا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾(البقرۃ:2؍29) ’’وہی تو ہے جس نے زمین کی سب چیزیں تمھارے لیے پیدا کیں۔‘‘ ﴿وَاَسۡبَغَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ اور جس نے تمھیں دین و دنیا کی نعمتوں، بہت سی منفعتوں کے حصول اور مضرتوں سے دور ہونے جیسی وافر، ظاہری اور باطنی نعمتوں سے ڈھانپ لیا ہے۔ ان میں سے بعض کو ہم جانتے ہیں اور بعض کو نہیں جانتے۔تمھارا وظیفہ یہ ہونا چاہیے کہ تم منعم کی محبت کے ساتھ اور اس کے سامنے سرافگندہ ہو کر ان نعمتوں پر شکر کا اظہار کرو، ان نعمتوں کو اس کی اطاعت میں صرف کرو اور ان نعمتوں سے ان کی نافرمانی پر مدد نہ لو۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان نعمتوں کے پے درپے عطا ہونے کے باوجود ﴿مِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’لوگوں میں ایسا آدمی بھی ہے جو‘‘ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ ان نعمتوں پر ناشکری کرتا ہے۔ اس ہستی کا انکار کرتا ہے جس نے اسے ان نعمتوں سے نوازا اور اس نے اس کے اس حق کو تسلیم نہ کیا جس کے لیے اس نے کتابیں نازل کیں اور اپنے رسول بھیجے۔ ﴿يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ ﴾ اور اس نے باطل دلائل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں جھگڑنا شروع کیا تاکہ حق کو نیچا دکھائے اور اس دعوت کو جسے رسول لے کر آیا ہے، یعنی اللہ وحدہ کی عبادت کی دعوت کو ٹھکرا دے اور یہ جھگڑنے والا شخص ﴿بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ کسی علم اور کسی بصیرت کے بغیر جھگڑتا ہے۔ پس اس کا جھگڑا کسی علمی بنیاد پر مبنی نہیں ہے کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اس کے ساتھ بات چیت میں نرمی کی جائے ﴿وَّلَا هُدًى ﴾ اور نہ کسی ہدایت پر مبنی ہے، جس کی بنا پر ہدایت یافتہ لوگوں کی پیروی کی جاتی ہے ﴿وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيۡرٍ ﴾اور نہ اس کا مجادلہ کسی روشن اور حق کو واضح کرنے والی کسی کتاب پر مبنی ہے۔ پس اس کا مجادلہ کسی معقول یا منقول دلیل پر مبنی ہے نہ ہدایت یافتہ لوگوں کی اقتدا پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کی بحث و جدال تو صرف اپنے ان آباء و اجداد کی تقلید پر مبنی ہے جو کسی طرح بھی راہ راست پر نہ تھے، بلکہ خود گمراہ اور گمراہ کنندہ تھے۔﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کی اتباع کرو۔‘‘ یعنی جو کچھ اس نے رسولوں کے ذریعے سے نازل فرمایا ہے کیونکہ یہی حق ہے اور ان کے سامنے اس کے ظاہری دلائل بیان کیے ہیں ﴿قَالُوۡا ﴾ تو وہ اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿بَلۡ نَتَّبِـعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔‘‘ یعنی ہم کسی کی خاطر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، ان عقائد و نظریات کو نہیں چھوڑ سکتے جن پر ہمارے باپ دادا عمل پیرا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان کے باپ دادا کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَوَلَوۡ كَانَ الشَّيۡطٰنُ يَدۡعُوۡهُمۡ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾ ’’خواہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو۔‘‘ یعنی ان کے آباء و اجداد نے شیطان کی آواز پر لبیک کہا اور اس کے پیچھے چل پڑے اور یوں وہ شیطان کے چیلوں میں شامل ہو گئے اور ان پر حیرت و تردد نے غلبہ پا لیا۔ کیا یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ ان کی پیروی کی جائے اور ان کے طریقے پر چلا جائے یا یہ چیز ان کو ان کے آباء و اجداد کے مسلک پر چلنے سے ڈراتی ہے اور ان کی اور ان کے پیروکاروں کی گمراہی کا اعلان کرتی ہے؟ ان کے آباء واجداد کے لیے شیطان کی دعوت کسی محبت اور مودت کی بنا پر نہیں بلکہ یہ تو ان کے ساتھ عداوت اور فریب ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیروکار اس کے دشمن ہیں جن پر قابو پانے میں وہ کامیاب ہوا ہے۔ جب لوگ اس کی دعوت کو قبول کر کے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے مستحق بنتے ہیں تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔

لقمان 31:21

کیا نہیں دیکھا تم نے کہ بے شک اللہ نے کام میں لگا دیا ہے تمھارے لیے (ان سب کو) جو کچھ ہے آسمانوں میں اورجو کچھ ہے زمین میں اورپوری کر دیں اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اورچھپی اور بعض لوگ وہ ہیں جو جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی کتاب روشن کے(20) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم پیروی کرو اس کی جسے نازل کیا اللہ نے تو وہ کہتے ہیں: ہم تو پیروی کریں گے اسی (راستے) کی کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو، کیا (پیروی کر یں گے انھی کی) اگرچہ تھا شیطان بلاتا رہا ان کو طرف عذاب جہنم کی؟(21) [20، 21] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور انھیں ان نعمتوں پر شکر کرنے، ان کا مشاہدہ کرنے اور ان سے عدم غفلت کا حکم دیتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَمۡ تَرَوۡا ﴾ کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا؟ کیا تم نے اپنی ظاہری اور دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہیں کی؟ ﴿اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمۡ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ ﴾ کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (سورج، چاند اور ستاروں میں سے) جو کچھ آسمان میں ہے، اسے تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے۔‘‘ یہ سب بندوں کے فائدے کے لیے مسخر ہیں۔﴿وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو کچھ زمین میں ہے۔‘‘ یعنی تمام حیوانات، درخت، کھیتیاں، دریا اور معدنیات وغیرہ کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ لَكُمۡ مَّا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾(البقرۃ:2؍29) ’’وہی تو ہے جس نے زمین کی سب چیزیں تمھارے لیے پیدا کیں۔‘‘ ﴿وَاَسۡبَغَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ اور جس نے تمھیں دین و دنیا کی نعمتوں، بہت سی منفعتوں کے حصول اور مضرتوں سے دور ہونے جیسی وافر، ظاہری اور باطنی نعمتوں سے ڈھانپ لیا ہے۔ ان میں سے بعض کو ہم جانتے ہیں اور بعض کو نہیں جانتے۔تمھارا وظیفہ یہ ہونا چاہیے کہ تم منعم کی محبت کے ساتھ اور اس کے سامنے سرافگندہ ہو کر ان نعمتوں پر شکر کا اظہار کرو، ان نعمتوں کو اس کی اطاعت میں صرف کرو اور ان نعمتوں سے ان کی نافرمانی پر مدد نہ لو۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان نعمتوں کے پے درپے عطا ہونے کے باوجود ﴿مِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’لوگوں میں ایسا آدمی بھی ہے جو‘‘ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ ان نعمتوں پر ناشکری کرتا ہے۔ اس ہستی کا انکار کرتا ہے جس نے اسے ان نعمتوں سے نوازا اور اس نے اس کے اس حق کو تسلیم نہ کیا جس کے لیے اس نے کتابیں نازل کیں اور اپنے رسول بھیجے۔ ﴿يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ ﴾ اور اس نے باطل دلائل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں جھگڑنا شروع کیا تاکہ حق کو نیچا دکھائے اور اس دعوت کو جسے رسول لے کر آیا ہے، یعنی اللہ وحدہ کی عبادت کی دعوت کو ٹھکرا دے اور یہ جھگڑنے والا شخص ﴿بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ کسی علم اور کسی بصیرت کے بغیر جھگڑتا ہے۔ پس اس کا جھگڑا کسی علمی بنیاد پر مبنی نہیں ہے کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اس کے ساتھ بات چیت میں نرمی کی جائے ﴿وَّلَا هُدًى ﴾ اور نہ کسی ہدایت پر مبنی ہے، جس کی بنا پر ہدایت یافتہ لوگوں کی پیروی کی جاتی ہے ﴿وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيۡرٍ ﴾اور نہ اس کا مجادلہ کسی روشن اور حق کو واضح کرنے والی کسی کتاب پر مبنی ہے۔ پس اس کا مجادلہ کسی معقول یا منقول دلیل پر مبنی ہے نہ ہدایت یافتہ لوگوں کی اقتدا پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کی بحث و جدال تو صرف اپنے ان آباء و اجداد کی تقلید پر مبنی ہے جو کسی طرح بھی راہ راست پر نہ تھے، بلکہ خود گمراہ اور گمراہ کنندہ تھے۔﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کی اتباع کرو۔‘‘ یعنی جو کچھ اس نے رسولوں کے ذریعے سے نازل فرمایا ہے کیونکہ یہی حق ہے اور ان کے سامنے اس کے ظاہری دلائل بیان کیے ہیں ﴿قَالُوۡا ﴾ تو وہ اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿بَلۡ نَتَّبِـعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔‘‘ یعنی ہم کسی کی خاطر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، ان عقائد و نظریات کو نہیں چھوڑ سکتے جن پر ہمارے باپ دادا عمل پیرا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان کے باپ دادا کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَوَلَوۡ كَانَ الشَّيۡطٰنُ يَدۡعُوۡهُمۡ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾ ’’خواہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو۔‘‘ یعنی ان کے آباء و اجداد نے شیطان کی آواز پر لبیک کہا اور اس کے پیچھے چل پڑے اور یوں وہ شیطان کے چیلوں میں شامل ہو گئے اور ان پر حیرت و تردد نے غلبہ پا لیا۔ کیا یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ ان کی پیروی کی جائے اور ان کے طریقے پر چلا جائے یا یہ چیز ان کو ان کے آباء و اجداد کے مسلک پر چلنے سے ڈراتی ہے اور ان کی اور ان کے پیروکاروں کی گمراہی کا اعلان کرتی ہے؟ ان کے آباء واجداد کے لیے شیطان کی دعوت کسی محبت اور مودت کی بنا پر نہیں بلکہ یہ تو ان کے ساتھ عداوت اور فریب ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیروکار اس کے دشمن ہیں جن پر قابو پانے میں وہ کامیاب ہوا ہے۔ جب لوگ اس کی دعوت کو قبول کر کے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے مستحق بنتے ہیں تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔

لقمان 31:22

اور جو جھکا دے اپنا چہرہ طرف اللہ کی، جبکہ وہ نیکوکار ہو تو تحقیق پکڑ لیا اس نے کڑا مضبوط، اور اللہ ہی کی طرف ہے انجام سب کاموں کا(22) اور جس نے کفر کیا تو نہ غم میں ڈالے آپ کو کفر اس کا، ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا، پس ہم خبر دیں گے ان کو (اس کی) جو کچھ انھوں نے کیا ہوگا، بے شک اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(23) فائدہ دیتے ہیں ہم ان کو تھوڑا سا ، پھر دھکیل دیں گے ہم ان کو طرف سخت عذاب کی(24) [22]﴿وَمَنۡ يُّسۡلِمۡ وَجۡهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے ﴿وَهُوَ مُحۡسِنٌ ﴾ تو وہ اسلام میں محسن ہے کیونکہ اس کا عمل شرعی ہے اور وہ اس میں رسول ﷺکی اتباع کرتا ہے، یا اس کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور وہ اپنی عبادات کو احسان کے درجہ تک لے جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو وہ اس طرح عبادت کرتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حقوق قائم کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرتا ہے… تینوں معانی میں تلازم پایا جاتا ہے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں سوائے اس پہلو سے کہ دونوں لفظوں کے مورد میں اختلاف ہے ورنہ قبول کرنے اور تکمیل کے لحاظ سے، تمام معانی، دین کے تمام قوانین اور اصولوں کو قائم کرنے پر متفق ہیں۔جو کوئی ان امور پر عمل پیرا ہوا تو ﴿اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى ﴾ ’’اس نے مضبوط سہارے کو تھام لیا۔‘‘ یعنی جس نے وہ سہارا تھام لیا جو بھروسے کے قابل تھا، وہ نجات پاگیا اور ہلاکت سے بچ گیا اور ہر بھلائی سے بہرہ ور ہوا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا یا اس نے ’’احسان‘‘ سے کام نہ لیا تو اس نے بھروسے کے قابل سہارے کو نہ تھاما اور جب اس نے اس قابل اعتماد سہارے کو نہ تھاما تو وہاں ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ﴾ اورتمام معاملات کا مرجع و منتہا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا وہ ان کے اعمال کے تقاضوں اور ان کے انجام کے مطابق ان کو جزا وسزا دے گا، لہٰذا اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ [23]﴿وَمَنۡ كَفَرَ فَلَا يَحۡزُنۡكَ كُفۡرُهٗ﴾ ’’اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمھیں غمگین نہ کردے‘‘ کیونکہ آپ کے ذمہ دعوت توحید اور تبلیغ کا جو فرض تھا وہ آپ نے ادا کر دیا اگر کوئی راہ راست اختیار نہیں کرتا، (تو نہ سہی)اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ اجر کے مستحق ہو گئے ، لہٰذا ان کے راہ راست اختیار نہ کرنے پر، آپ کے لیے حزن و غم کا کوئی مقام نہیں کیونکہ ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت سے نواز دیتا۔ آپ اس بات پر بھی غم زدہ نہ ہوں کہ انھوں نے آپ کے ساتھ عداوت کی جسارت کی اور آپ کے خلاف اعلان جنگ کیا، وہ اپنی گمراہی اور کفر پر جمے رہے نیز آپ کو اس بارے میں بھی غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ان پر اس دنیا ہی میں عذاب بھیج دیا گیا۔﴿اِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ فَنُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو بتا دیں گے۔‘‘ ہم انھیں ان کے کفر، عداوت، اللہ کی روشنی کو بجھانے کے لیے ان کی بھاگ دوڑ کرنے اور اس کے رسولوں کو اذیت پہنچانے کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سینے کے اسرار نہاں کو بھی جانتا ہے‘‘ جن کے بارے میں کبھی کسی نے بات نہیں کی تب ان معاملات کو کیسے نہیں جانے گاجو ظاہر اور سب کے سامنے ہیں؟ [24]﴿نُمَتِّعُهُمۡ قَلِيۡلًا ﴾ ’’ہم انھیں تھوڑا سا فائدہ اٹھانے کی مہلت دیتے ہیں‘‘ اس دنیا میں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں اور یوں ان کے عذاب میں اضافہ ہو جائے۔ ﴿ثُمَّ نَضۡطَرُّهُمۡ ﴾ ’’ پھر ہم انھیں جبراً کھینچ لائیں گے‘‘ ﴿اِلٰى عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’ایک سخت عذاب کی طرف۔‘‘ یعنی وہ عذاب جو اپنی سختی، بہت بڑا ہونے، اپنی قباحت، اپنی الم ناکی اور اپنی شدت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔

لقمان 31:23

اور جو جھکا دے اپنا چہرہ طرف اللہ کی، جبکہ وہ نیکوکار ہو تو تحقیق پکڑ لیا اس نے کڑا مضبوط، اور اللہ ہی کی طرف ہے انجام سب کاموں کا(22) اور جس نے کفر کیا تو نہ غم میں ڈالے آپ کو کفر اس کا، ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا، پس ہم خبر دیں گے ان کو (اس کی) جو کچھ انھوں نے کیا ہوگا، بے شک اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(23) فائدہ دیتے ہیں ہم ان کو تھوڑا سا ، پھر دھکیل دیں گے ہم ان کو طرف سخت عذاب کی(24) [22]﴿وَمَنۡ يُّسۡلِمۡ وَجۡهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے ﴿وَهُوَ مُحۡسِنٌ ﴾ تو وہ اسلام میں محسن ہے کیونکہ اس کا عمل شرعی ہے اور وہ اس میں رسول ﷺکی اتباع کرتا ہے، یا اس کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور وہ اپنی عبادات کو احسان کے درجہ تک لے جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو وہ اس طرح عبادت کرتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حقوق قائم کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرتا ہے… تینوں معانی میں تلازم پایا جاتا ہے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں سوائے اس پہلو سے کہ دونوں لفظوں کے مورد میں اختلاف ہے ورنہ قبول کرنے اور تکمیل کے لحاظ سے، تمام معانی، دین کے تمام قوانین اور اصولوں کو قائم کرنے پر متفق ہیں۔جو کوئی ان امور پر عمل پیرا ہوا تو ﴿اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى ﴾ ’’اس نے مضبوط سہارے کو تھام لیا۔‘‘ یعنی جس نے وہ سہارا تھام لیا جو بھروسے کے قابل تھا، وہ نجات پاگیا اور ہلاکت سے بچ گیا اور ہر بھلائی سے بہرہ ور ہوا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا یا اس نے ’’احسان‘‘ سے کام نہ لیا تو اس نے بھروسے کے قابل سہارے کو نہ تھاما اور جب اس نے اس قابل اعتماد سہارے کو نہ تھاما تو وہاں ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ﴾ اورتمام معاملات کا مرجع و منتہا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا وہ ان کے اعمال کے تقاضوں اور ان کے انجام کے مطابق ان کو جزا وسزا دے گا، لہٰذا اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ [23]﴿وَمَنۡ كَفَرَ فَلَا يَحۡزُنۡكَ كُفۡرُهٗ﴾ ’’اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمھیں غمگین نہ کردے‘‘ کیونکہ آپ کے ذمہ دعوت توحید اور تبلیغ کا جو فرض تھا وہ آپ نے ادا کر دیا اگر کوئی راہ راست اختیار نہیں کرتا، (تو نہ سہی)اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ اجر کے مستحق ہو گئے ، لہٰذا ان کے راہ راست اختیار نہ کرنے پر، آپ کے لیے حزن و غم کا کوئی مقام نہیں کیونکہ ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت سے نواز دیتا۔ آپ اس بات پر بھی غم زدہ نہ ہوں کہ انھوں نے آپ کے ساتھ عداوت کی جسارت کی اور آپ کے خلاف اعلان جنگ کیا، وہ اپنی گمراہی اور کفر پر جمے رہے نیز آپ کو اس بارے میں بھی غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ان پر اس دنیا ہی میں عذاب بھیج دیا گیا۔﴿اِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ فَنُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو بتا دیں گے۔‘‘ ہم انھیں ان کے کفر، عداوت، اللہ کی روشنی کو بجھانے کے لیے ان کی بھاگ دوڑ کرنے اور اس کے رسولوں کو اذیت پہنچانے کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سینے کے اسرار نہاں کو بھی جانتا ہے‘‘ جن کے بارے میں کبھی کسی نے بات نہیں کی تب ان معاملات کو کیسے نہیں جانے گاجو ظاہر اور سب کے سامنے ہیں؟ [24]﴿نُمَتِّعُهُمۡ قَلِيۡلًا ﴾ ’’ہم انھیں تھوڑا سا فائدہ اٹھانے کی مہلت دیتے ہیں‘‘ اس دنیا میں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں اور یوں ان کے عذاب میں اضافہ ہو جائے۔ ﴿ثُمَّ نَضۡطَرُّهُمۡ ﴾ ’’ پھر ہم انھیں جبراً کھینچ لائیں گے‘‘ ﴿اِلٰى عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’ایک سخت عذاب کی طرف۔‘‘ یعنی وہ عذاب جو اپنی سختی، بہت بڑا ہونے، اپنی قباحت، اپنی الم ناکی اور اپنی شدت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔

لقمان 31:24

اور جو جھکا دے اپنا چہرہ طرف اللہ کی، جبکہ وہ نیکوکار ہو تو تحقیق پکڑ لیا اس نے کڑا مضبوط، اور اللہ ہی کی طرف ہے انجام سب کاموں کا(22) اور جس نے کفر کیا تو نہ غم میں ڈالے آپ کو کفر اس کا، ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا، پس ہم خبر دیں گے ان کو (اس کی) جو کچھ انھوں نے کیا ہوگا، بے شک اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(23) فائدہ دیتے ہیں ہم ان کو تھوڑا سا ، پھر دھکیل دیں گے ہم ان کو طرف سخت عذاب کی(24) [22]﴿وَمَنۡ يُّسۡلِمۡ وَجۡهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے ﴿وَهُوَ مُحۡسِنٌ ﴾ تو وہ اسلام میں محسن ہے کیونکہ اس کا عمل شرعی ہے اور وہ اس میں رسول ﷺکی اتباع کرتا ہے، یا اس کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور وہ اپنی عبادات کو احسان کے درجہ تک لے جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو وہ اس طرح عبادت کرتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حقوق قائم کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرتا ہے… تینوں معانی میں تلازم پایا جاتا ہے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں سوائے اس پہلو سے کہ دونوں لفظوں کے مورد میں اختلاف ہے ورنہ قبول کرنے اور تکمیل کے لحاظ سے، تمام معانی، دین کے تمام قوانین اور اصولوں کو قائم کرنے پر متفق ہیں۔جو کوئی ان امور پر عمل پیرا ہوا تو ﴿اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى ﴾ ’’اس نے مضبوط سہارے کو تھام لیا۔‘‘ یعنی جس نے وہ سہارا تھام لیا جو بھروسے کے قابل تھا، وہ نجات پاگیا اور ہلاکت سے بچ گیا اور ہر بھلائی سے بہرہ ور ہوا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا یا اس نے ’’احسان‘‘ سے کام نہ لیا تو اس نے بھروسے کے قابل سہارے کو نہ تھاما اور جب اس نے اس قابل اعتماد سہارے کو نہ تھاما تو وہاں ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ﴾ اورتمام معاملات کا مرجع و منتہا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا وہ ان کے اعمال کے تقاضوں اور ان کے انجام کے مطابق ان کو جزا وسزا دے گا، لہٰذا اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ [23]﴿وَمَنۡ كَفَرَ فَلَا يَحۡزُنۡكَ كُفۡرُهٗ﴾ ’’اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمھیں غمگین نہ کردے‘‘ کیونکہ آپ کے ذمہ دعوت توحید اور تبلیغ کا جو فرض تھا وہ آپ نے ادا کر دیا اگر کوئی راہ راست اختیار نہیں کرتا، (تو نہ سہی)اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ اجر کے مستحق ہو گئے ، لہٰذا ان کے راہ راست اختیار نہ کرنے پر، آپ کے لیے حزن و غم کا کوئی مقام نہیں کیونکہ ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت سے نواز دیتا۔ آپ اس بات پر بھی غم زدہ نہ ہوں کہ انھوں نے آپ کے ساتھ عداوت کی جسارت کی اور آپ کے خلاف اعلان جنگ کیا، وہ اپنی گمراہی اور کفر پر جمے رہے نیز آپ کو اس بارے میں بھی غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ان پر اس دنیا ہی میں عذاب بھیج دیا گیا۔﴿اِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ فَنُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو بتا دیں گے۔‘‘ ہم انھیں ان کے کفر، عداوت، اللہ کی روشنی کو بجھانے کے لیے ان کی بھاگ دوڑ کرنے اور اس کے رسولوں کو اذیت پہنچانے کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سینے کے اسرار نہاں کو بھی جانتا ہے‘‘ جن کے بارے میں کبھی کسی نے بات نہیں کی تب ان معاملات کو کیسے نہیں جانے گاجو ظاہر اور سب کے سامنے ہیں؟ [24]﴿نُمَتِّعُهُمۡ قَلِيۡلًا ﴾ ’’ہم انھیں تھوڑا سا فائدہ اٹھانے کی مہلت دیتے ہیں‘‘ اس دنیا میں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں اور یوں ان کے عذاب میں اضافہ ہو جائے۔ ﴿ثُمَّ نَضۡطَرُّهُمۡ ﴾ ’’ پھر ہم انھیں جبراً کھینچ لائیں گے‘‘ ﴿اِلٰى عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’ایک سخت عذاب کی طرف۔‘‘ یعنی وہ عذاب جو اپنی سختی، بہت بڑا ہونے، اپنی قباحت، اپنی الم ناکی اور اپنی شدت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔

لقمان 31:25

اور البتہ اگرپوچھیں آپ ان سے، کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے ،کہہ دیجیے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(25) اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ، وہ بے نیاز ہے تعریف کے لائق(26) اور اگر بے شک جو کچھ زمین میں ہیں درختوں سے (وہ) قلمیں ہو جائیں اور سمندر (سیاہی) زیادہ کریں اس (سیاہی) کو اس کےبعد سات سمندر (اور) تو بھی نہ ختم ہوں کلمات اللہ کے، بے شک اللہ نہایت غالب، خوب حکمت والا ہے(27) نہیں ہے پیدا کرنا تمھارا اور نہ دوبارہ اٹھانا تمھارا، مگر مانند ایک جان کے، بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے(28) [25] اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں: ﴿مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے ﴿قُلِ ﴾ ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ جس نے نور کو واضح کر دیا اور خود تمھاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کر دیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انھیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد ہے لیکن ﴿اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان میں اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے انھوں نے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرایا، بصیرت کی بنا پر نہیں بلکہ حیرت اور شک کی بنا پر وہ اپنے مذہب کے تناقض پر راضی ہو گئے۔ [26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت اوصاف کے نمونے کے طور پر ان دو آیتوں کا ذکر فرمایا تاکہ وہ اپنے بندوں کو اپنی معرفت، محبت اور دین میں اخلاص کی دعوت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی ملکیت کا ذکر کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے... یہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی کو شامل ہے... سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ وہ احکام کونی و قدری، احکام دینی و امری اور احکام جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی مملوک ہے جو اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے اور وہ کسی چیز کی مالک نہیں۔ وہ بے حد بے نیاز ہے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے۔ ﴿مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ ﴾(الذّٰریٰت:51؍57) ’’میں ان سے رزق طلب نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔‘‘ نیز انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے اعمال اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ان کے اعمال کا فائدہ صرف انھی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے بے نیاز ہے۔ یہ اس کی بے نیازی ہے کہ اس نے انھیں ان کی دنیا و آخرت میں بے نیاز بنا دیا اور ان کے لیے وہ کافی ہوگیا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت حمد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ اس کی حمد و ثنا اس کی ذات کا لازمہ ہے وہ ہر لحاظ ہی سے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں قابل تعریف ہے۔ اس کی صفات میں سے ہر صفت کامل ترین حمد وثنا کی مستحق ہے کیونکہ یہ عظمت وکمال پر مبنی صفات ہیں۔ اس کے تمام افعال اور اس کی تمام تخلیقات قابل تعریف اور اس کے تمام اوامر و نواہی قابل ستائش ہیں۔ وہ تمام فیصلے اور احکام جو اس نے دنیا وآخرت میں اپنے بندوں پر اور بندوں کے درمیان نافذ کیے ہیں، ان پر وہ قابل حمدوستائش ہے۔ [27] اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی وسعت اور اپنے قول کی عظمت کو ایسی شرح کے ساتھ بیان کیا جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے، جس سے عقل و خرد حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور عقل مند اور اصحاب بصیرت اس کی معرفت میں سیاحت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ اَنَّ مَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌؔ﴾ ’’اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں۔‘‘ جن کے ساتھ لکھا جائے ﴿وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ ﴾ ’’اور سمندر روشنائی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اور‘‘ روشنائی بن جائیں جن سے لکھنے میں مدد لی جائے تو قلم ٹوٹ جائیں گے اور یہ روشنائی ختم ہو جائے گی لیکن ﴿كَلِمٰتُ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھنے سے کبھی ختم نہ ہوں گی۔یہ مبالغہ نہیں ہے، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ عقل انسانی اللہ کی بعض صفات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اور وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے اس کی معرفت سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے انھیں سرفراز کیا ہے اور سب سے بڑی منقبت ہے جو انھیں حاصل ہوئی ہے جس کا کامل طور پر ادراک ممکن نہیں، مگر جس چیز کا کامل ادراک ممکن نہ ہو اس کو کامل طور پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان میں سے بعض صفات کی طرف اس طرح توجہ دلائی ہے جس سے ان کے قلب منور ہوتے ہیں اور انھیں شرح صدر حاصل ہوتی ہے وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے جس پر وہ نہیں پہنچے، اس چیز سے راہ نمائی لیتے ہیں جس تک وہ پہنچ چکے ہیں۔ اور وہ اسی طرح کہتے ہیں جیسے ان میں سے بہترین انسان اور اپنے رب کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی ہستی نے کہا: ’لَا نُحْصِي ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ،(اصل لفظ (لَا اُحْصِي) ہے اور یہ مؤلفa کی سبقت قلم ہے) ’’ہم تیری ثنا بیان نہیں کر سکتے، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔‘‘(صحیح مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟، ح: 486) ورنہ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے جلیل تر اور عظیم تر ہے۔یہ تمثیل ان معانی کو قریب کرنے کے باب میں سے ہے جہاں تک پہنچنے کی ذہن اور فہم طاقت نہیں رکھتا۔ ورنہ اگر درختوں کو کئی گنا کر لیا جائے اور سمندروں کو بھی کئی گنا کر کے ان کی روشنائی بنا لی جائے تب بھی ان کے ختم ہونے کا تو تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مخلوق ہیں... رہا اللہ تبارک و تعالیٰ کا کلام، تو اس کے ختم ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ عقلی اور نقلی دلیل دلالت کرتی ہے کہ اس کا کلام ختم ہوتا ہے نہ اس کی کوئی انتہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے سوا باقی ہر چیز کی انتہا ہے۔ ﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰى ﴾(النجم:53؍42) ’’اور تیرے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے۔‘‘ جب عقل اللہ تعالیٰ کی ’’اولیت‘‘ اور ’’آخریت‘‘ کا تصور کرے تو، ذہن گزرے ہوئے زمانوں کو فرض کرے۔ وہ ازمان گزشتہ کا جتنا بھی اندازہ لگائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی پہلے ہے جس کا کوئی منتہیٰ نہیں۔ اسی طرح عقل وذہن میں آنے والے زمانوں کے بارے میں خواہ کتنا ہی اندازہ کر لیں اور قلب و زبان کے ذریعے سے اس کی مدد بھی لے لیں، اللہ تعالیٰ ان کے ان اندازوں سے بھی زیادہ متأخر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تمام اوقات میں فیصلہ کرتا ہے، کلام کرتا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنا قول و فعل صادر کرتا ہے اسے اپنے اقوال و افعال سے کوئی چیز مانع نہیں۔ جب عقل نے اس حقیقت کا تصور کر لیا تو معلوم ہوا کہ یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ضمن میں بیان کی ہے صرف اس لیے ہے کہ بندوں کو اس کا تھوڑا سا ادراک ہو جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس سے عظیم تر اور جلیل تر ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عزت کے جلال اور کمال حکمت کا ذکر کیا فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی تمام عزت و غلبے کا وہی مالک ہے تمام عالم علوی اور عالم سفلی میں جو بھی قوت پائی جاتی ہے وہ اسی کی طرف سے ہے، وہی ہے جس کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے۔ وہ اپنے غلبے کے ذریعے سے تمام مخلوق پر غالب ہے، ان میں تصرف اور ان کی تدبیرکرتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت سے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ اس تخلیق سے اس کی غرض و غایت اور مقصد بھی حکمت ہی ہے اسی طرح امرونہی بھی اس کی حکمت ہی سے وجود میں آئے ہیں، اور ان کو وجود میں لانے کی غایت مقصود بھی حکمت ہی ہے۔ پس وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظیم اور کامل قدرت کا ذکر فرمایا جس کا عقل تصور تک نہیں کر سکتی۔ پس فرمایا: ﴿مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’تم سب کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ اٹھانا تو بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور اٹھانا)‘‘ اور یہ ایسی چیز ہے جو عقل کو حیران کر دیتی ہے۔ تمام مخلوق کی تخلیق... ان کی کثرت کے باوجود اور ان کی موت کے بعد ان کے بکھر جانے کے باوجود ان کو ایک لمحہ میں دوبارہ زندہ کرنا… ایسے ہی ہے جیسے اس نے صرف ایک نفس کو پیدا کیا ہو۔ اس لیے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور پھر اعمال کی جزا دینے کو بعید سمجھنا اللہ تعالیٰ کی عظمت، قوت اور قدرت کے بارے میں جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ذکر فرمایا کہ وہ تمام مسموعات کو سنتا اور تمام مرئیات کو دیکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

لقمان 31:26

اور البتہ اگرپوچھیں آپ ان سے، کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے ،کہہ دیجیے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(25) اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ، وہ بے نیاز ہے تعریف کے لائق(26) اور اگر بے شک جو کچھ زمین میں ہیں درختوں سے (وہ) قلمیں ہو جائیں اور سمندر (سیاہی) زیادہ کریں اس (سیاہی) کو اس کےبعد سات سمندر (اور) تو بھی نہ ختم ہوں کلمات اللہ کے، بے شک اللہ نہایت غالب، خوب حکمت والا ہے(27) نہیں ہے پیدا کرنا تمھارا اور نہ دوبارہ اٹھانا تمھارا، مگر مانند ایک جان کے، بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے(28) [25] اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں: ﴿مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے ﴿قُلِ ﴾ ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ جس نے نور کو واضح کر دیا اور خود تمھاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کر دیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انھیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد ہے لیکن ﴿اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان میں اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے انھوں نے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرایا، بصیرت کی بنا پر نہیں بلکہ حیرت اور شک کی بنا پر وہ اپنے مذہب کے تناقض پر راضی ہو گئے۔ [26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت اوصاف کے نمونے کے طور پر ان دو آیتوں کا ذکر فرمایا تاکہ وہ اپنے بندوں کو اپنی معرفت، محبت اور دین میں اخلاص کی دعوت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی ملکیت کا ذکر کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے... یہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی کو شامل ہے... سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ وہ احکام کونی و قدری، احکام دینی و امری اور احکام جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی مملوک ہے جو اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے اور وہ کسی چیز کی مالک نہیں۔ وہ بے حد بے نیاز ہے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے۔ ﴿مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ ﴾(الذّٰریٰت:51؍57) ’’میں ان سے رزق طلب نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔‘‘ نیز انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے اعمال اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ان کے اعمال کا فائدہ صرف انھی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے بے نیاز ہے۔ یہ اس کی بے نیازی ہے کہ اس نے انھیں ان کی دنیا و آخرت میں بے نیاز بنا دیا اور ان کے لیے وہ کافی ہوگیا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت حمد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ اس کی حمد و ثنا اس کی ذات کا لازمہ ہے وہ ہر لحاظ ہی سے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں قابل تعریف ہے۔ اس کی صفات میں سے ہر صفت کامل ترین حمد وثنا کی مستحق ہے کیونکہ یہ عظمت وکمال پر مبنی صفات ہیں۔ اس کے تمام افعال اور اس کی تمام تخلیقات قابل تعریف اور اس کے تمام اوامر و نواہی قابل ستائش ہیں۔ وہ تمام فیصلے اور احکام جو اس نے دنیا وآخرت میں اپنے بندوں پر اور بندوں کے درمیان نافذ کیے ہیں، ان پر وہ قابل حمدوستائش ہے۔ [27] اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی وسعت اور اپنے قول کی عظمت کو ایسی شرح کے ساتھ بیان کیا جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے، جس سے عقل و خرد حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور عقل مند اور اصحاب بصیرت اس کی معرفت میں سیاحت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ اَنَّ مَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌؔ﴾ ’’اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں۔‘‘ جن کے ساتھ لکھا جائے ﴿وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ ﴾ ’’اور سمندر روشنائی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اور‘‘ روشنائی بن جائیں جن سے لکھنے میں مدد لی جائے تو قلم ٹوٹ جائیں گے اور یہ روشنائی ختم ہو جائے گی لیکن ﴿كَلِمٰتُ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھنے سے کبھی ختم نہ ہوں گی۔یہ مبالغہ نہیں ہے، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ عقل انسانی اللہ کی بعض صفات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اور وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے اس کی معرفت سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے انھیں سرفراز کیا ہے اور سب سے بڑی منقبت ہے جو انھیں حاصل ہوئی ہے جس کا کامل طور پر ادراک ممکن نہیں، مگر جس چیز کا کامل ادراک ممکن نہ ہو اس کو کامل طور پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان میں سے بعض صفات کی طرف اس طرح توجہ دلائی ہے جس سے ان کے قلب منور ہوتے ہیں اور انھیں شرح صدر حاصل ہوتی ہے وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے جس پر وہ نہیں پہنچے، اس چیز سے راہ نمائی لیتے ہیں جس تک وہ پہنچ چکے ہیں۔ اور وہ اسی طرح کہتے ہیں جیسے ان میں سے بہترین انسان اور اپنے رب کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی ہستی نے کہا: ’لَا نُحْصِي ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ،(اصل لفظ (لَا اُحْصِي) ہے اور یہ مؤلفa کی سبقت قلم ہے) ’’ہم تیری ثنا بیان نہیں کر سکتے، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔‘‘(صحیح مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟، ح: 486) ورنہ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے جلیل تر اور عظیم تر ہے۔یہ تمثیل ان معانی کو قریب کرنے کے باب میں سے ہے جہاں تک پہنچنے کی ذہن اور فہم طاقت نہیں رکھتا۔ ورنہ اگر درختوں کو کئی گنا کر لیا جائے اور سمندروں کو بھی کئی گنا کر کے ان کی روشنائی بنا لی جائے تب بھی ان کے ختم ہونے کا تو تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مخلوق ہیں... رہا اللہ تبارک و تعالیٰ کا کلام، تو اس کے ختم ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ عقلی اور نقلی دلیل دلالت کرتی ہے کہ اس کا کلام ختم ہوتا ہے نہ اس کی کوئی انتہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے سوا باقی ہر چیز کی انتہا ہے۔ ﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰى ﴾(النجم:53؍42) ’’اور تیرے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے۔‘‘ جب عقل اللہ تعالیٰ کی ’’اولیت‘‘ اور ’’آخریت‘‘ کا تصور کرے تو، ذہن گزرے ہوئے زمانوں کو فرض کرے۔ وہ ازمان گزشتہ کا جتنا بھی اندازہ لگائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی پہلے ہے جس کا کوئی منتہیٰ نہیں۔ اسی طرح عقل وذہن میں آنے والے زمانوں کے بارے میں خواہ کتنا ہی اندازہ کر لیں اور قلب و زبان کے ذریعے سے اس کی مدد بھی لے لیں، اللہ تعالیٰ ان کے ان اندازوں سے بھی زیادہ متأخر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تمام اوقات میں فیصلہ کرتا ہے، کلام کرتا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنا قول و فعل صادر کرتا ہے اسے اپنے اقوال و افعال سے کوئی چیز مانع نہیں۔ جب عقل نے اس حقیقت کا تصور کر لیا تو معلوم ہوا کہ یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ضمن میں بیان کی ہے صرف اس لیے ہے کہ بندوں کو اس کا تھوڑا سا ادراک ہو جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس سے عظیم تر اور جلیل تر ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عزت کے جلال اور کمال حکمت کا ذکر کیا فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی تمام عزت و غلبے کا وہی مالک ہے تمام عالم علوی اور عالم سفلی میں جو بھی قوت پائی جاتی ہے وہ اسی کی طرف سے ہے، وہی ہے جس کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے۔ وہ اپنے غلبے کے ذریعے سے تمام مخلوق پر غالب ہے، ان میں تصرف اور ان کی تدبیرکرتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت سے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ اس تخلیق سے اس کی غرض و غایت اور مقصد بھی حکمت ہی ہے اسی طرح امرونہی بھی اس کی حکمت ہی سے وجود میں آئے ہیں، اور ان کو وجود میں لانے کی غایت مقصود بھی حکمت ہی ہے۔ پس وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظیم اور کامل قدرت کا ذکر فرمایا جس کا عقل تصور تک نہیں کر سکتی۔ پس فرمایا: ﴿مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’تم سب کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ اٹھانا تو بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور اٹھانا)‘‘ اور یہ ایسی چیز ہے جو عقل کو حیران کر دیتی ہے۔ تمام مخلوق کی تخلیق... ان کی کثرت کے باوجود اور ان کی موت کے بعد ان کے بکھر جانے کے باوجود ان کو ایک لمحہ میں دوبارہ زندہ کرنا… ایسے ہی ہے جیسے اس نے صرف ایک نفس کو پیدا کیا ہو۔ اس لیے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور پھر اعمال کی جزا دینے کو بعید سمجھنا اللہ تعالیٰ کی عظمت، قوت اور قدرت کے بارے میں جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ذکر فرمایا کہ وہ تمام مسموعات کو سنتا اور تمام مرئیات کو دیکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

لقمان 31:27

اور البتہ اگرپوچھیں آپ ان سے، کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے ،کہہ دیجیے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(25) اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ، وہ بے نیاز ہے تعریف کے لائق(26) اور اگر بے شک جو کچھ زمین میں ہیں درختوں سے (وہ) قلمیں ہو جائیں اور سمندر (سیاہی) زیادہ کریں اس (سیاہی) کو اس کےبعد سات سمندر (اور) تو بھی نہ ختم ہوں کلمات اللہ کے، بے شک اللہ نہایت غالب، خوب حکمت والا ہے(27) نہیں ہے پیدا کرنا تمھارا اور نہ دوبارہ اٹھانا تمھارا، مگر مانند ایک جان کے، بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے(28) [25] اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں: ﴿مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے ﴿قُلِ ﴾ ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ جس نے نور کو واضح کر دیا اور خود تمھاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کر دیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انھیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد ہے لیکن ﴿اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان میں اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے انھوں نے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرایا، بصیرت کی بنا پر نہیں بلکہ حیرت اور شک کی بنا پر وہ اپنے مذہب کے تناقض پر راضی ہو گئے۔ [26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت اوصاف کے نمونے کے طور پر ان دو آیتوں کا ذکر فرمایا تاکہ وہ اپنے بندوں کو اپنی معرفت، محبت اور دین میں اخلاص کی دعوت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی ملکیت کا ذکر کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے... یہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی کو شامل ہے... سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ وہ احکام کونی و قدری، احکام دینی و امری اور احکام جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی مملوک ہے جو اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے اور وہ کسی چیز کی مالک نہیں۔ وہ بے حد بے نیاز ہے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے۔ ﴿مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ ﴾(الذّٰریٰت:51؍57) ’’میں ان سے رزق طلب نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔‘‘ نیز انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے اعمال اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ان کے اعمال کا فائدہ صرف انھی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے بے نیاز ہے۔ یہ اس کی بے نیازی ہے کہ اس نے انھیں ان کی دنیا و آخرت میں بے نیاز بنا دیا اور ان کے لیے وہ کافی ہوگیا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت حمد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ اس کی حمد و ثنا اس کی ذات کا لازمہ ہے وہ ہر لحاظ ہی سے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں قابل تعریف ہے۔ اس کی صفات میں سے ہر صفت کامل ترین حمد وثنا کی مستحق ہے کیونکہ یہ عظمت وکمال پر مبنی صفات ہیں۔ اس کے تمام افعال اور اس کی تمام تخلیقات قابل تعریف اور اس کے تمام اوامر و نواہی قابل ستائش ہیں۔ وہ تمام فیصلے اور احکام جو اس نے دنیا وآخرت میں اپنے بندوں پر اور بندوں کے درمیان نافذ کیے ہیں، ان پر وہ قابل حمدوستائش ہے۔ [27] اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی وسعت اور اپنے قول کی عظمت کو ایسی شرح کے ساتھ بیان کیا جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے، جس سے عقل و خرد حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور عقل مند اور اصحاب بصیرت اس کی معرفت میں سیاحت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ اَنَّ مَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌؔ﴾ ’’اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں۔‘‘ جن کے ساتھ لکھا جائے ﴿وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ ﴾ ’’اور سمندر روشنائی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اور‘‘ روشنائی بن جائیں جن سے لکھنے میں مدد لی جائے تو قلم ٹوٹ جائیں گے اور یہ روشنائی ختم ہو جائے گی لیکن ﴿كَلِمٰتُ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھنے سے کبھی ختم نہ ہوں گی۔یہ مبالغہ نہیں ہے، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ عقل انسانی اللہ کی بعض صفات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اور وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے اس کی معرفت سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے انھیں سرفراز کیا ہے اور سب سے بڑی منقبت ہے جو انھیں حاصل ہوئی ہے جس کا کامل طور پر ادراک ممکن نہیں، مگر جس چیز کا کامل ادراک ممکن نہ ہو اس کو کامل طور پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان میں سے بعض صفات کی طرف اس طرح توجہ دلائی ہے جس سے ان کے قلب منور ہوتے ہیں اور انھیں شرح صدر حاصل ہوتی ہے وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے جس پر وہ نہیں پہنچے، اس چیز سے راہ نمائی لیتے ہیں جس تک وہ پہنچ چکے ہیں۔ اور وہ اسی طرح کہتے ہیں جیسے ان میں سے بہترین انسان اور اپنے رب کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی ہستی نے کہا: ’لَا نُحْصِي ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ،(اصل لفظ (لَا اُحْصِي) ہے اور یہ مؤلفa کی سبقت قلم ہے) ’’ہم تیری ثنا بیان نہیں کر سکتے، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔‘‘(صحیح مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟، ح: 486) ورنہ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے جلیل تر اور عظیم تر ہے۔یہ تمثیل ان معانی کو قریب کرنے کے باب میں سے ہے جہاں تک پہنچنے کی ذہن اور فہم طاقت نہیں رکھتا۔ ورنہ اگر درختوں کو کئی گنا کر لیا جائے اور سمندروں کو بھی کئی گنا کر کے ان کی روشنائی بنا لی جائے تب بھی ان کے ختم ہونے کا تو تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مخلوق ہیں... رہا اللہ تبارک و تعالیٰ کا کلام، تو اس کے ختم ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ عقلی اور نقلی دلیل دلالت کرتی ہے کہ اس کا کلام ختم ہوتا ہے نہ اس کی کوئی انتہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے سوا باقی ہر چیز کی انتہا ہے۔ ﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰى ﴾(النجم:53؍42) ’’اور تیرے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے۔‘‘ جب عقل اللہ تعالیٰ کی ’’اولیت‘‘ اور ’’آخریت‘‘ کا تصور کرے تو، ذہن گزرے ہوئے زمانوں کو فرض کرے۔ وہ ازمان گزشتہ کا جتنا بھی اندازہ لگائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی پہلے ہے جس کا کوئی منتہیٰ نہیں۔ اسی طرح عقل وذہن میں آنے والے زمانوں کے بارے میں خواہ کتنا ہی اندازہ کر لیں اور قلب و زبان کے ذریعے سے اس کی مدد بھی لے لیں، اللہ تعالیٰ ان کے ان اندازوں سے بھی زیادہ متأخر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تمام اوقات میں فیصلہ کرتا ہے، کلام کرتا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنا قول و فعل صادر کرتا ہے اسے اپنے اقوال و افعال سے کوئی چیز مانع نہیں۔ جب عقل نے اس حقیقت کا تصور کر لیا تو معلوم ہوا کہ یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ضمن میں بیان کی ہے صرف اس لیے ہے کہ بندوں کو اس کا تھوڑا سا ادراک ہو جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس سے عظیم تر اور جلیل تر ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عزت کے جلال اور کمال حکمت کا ذکر کیا فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی تمام عزت و غلبے کا وہی مالک ہے تمام عالم علوی اور عالم سفلی میں جو بھی قوت پائی جاتی ہے وہ اسی کی طرف سے ہے، وہی ہے جس کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے۔ وہ اپنے غلبے کے ذریعے سے تمام مخلوق پر غالب ہے، ان میں تصرف اور ان کی تدبیرکرتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت سے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ اس تخلیق سے اس کی غرض و غایت اور مقصد بھی حکمت ہی ہے اسی طرح امرونہی بھی اس کی حکمت ہی سے وجود میں آئے ہیں، اور ان کو وجود میں لانے کی غایت مقصود بھی حکمت ہی ہے۔ پس وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظیم اور کامل قدرت کا ذکر فرمایا جس کا عقل تصور تک نہیں کر سکتی۔ پس فرمایا: ﴿مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’تم سب کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ اٹھانا تو بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور اٹھانا)‘‘ اور یہ ایسی چیز ہے جو عقل کو حیران کر دیتی ہے۔ تمام مخلوق کی تخلیق... ان کی کثرت کے باوجود اور ان کی موت کے بعد ان کے بکھر جانے کے باوجود ان کو ایک لمحہ میں دوبارہ زندہ کرنا… ایسے ہی ہے جیسے اس نے صرف ایک نفس کو پیدا کیا ہو۔ اس لیے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور پھر اعمال کی جزا دینے کو بعید سمجھنا اللہ تعالیٰ کی عظمت، قوت اور قدرت کے بارے میں جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ذکر فرمایا کہ وہ تمام مسموعات کو سنتا اور تمام مرئیات کو دیکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

لقمان 31:28

اور البتہ اگرپوچھیں آپ ان سے، کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے ،کہہ دیجیے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(25) اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ، وہ بے نیاز ہے تعریف کے لائق(26) اور اگر بے شک جو کچھ زمین میں ہیں درختوں سے (وہ) قلمیں ہو جائیں اور سمندر (سیاہی) زیادہ کریں اس (سیاہی) کو اس کےبعد سات سمندر (اور) تو بھی نہ ختم ہوں کلمات اللہ کے، بے شک اللہ نہایت غالب، خوب حکمت والا ہے(27) نہیں ہے پیدا کرنا تمھارا اور نہ دوبارہ اٹھانا تمھارا، مگر مانند ایک جان کے، بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے(28) [25] اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں: ﴿مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے ﴿قُلِ ﴾ ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ جس نے نور کو واضح کر دیا اور خود تمھاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کر دیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انھیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد ہے لیکن ﴿اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان میں اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے انھوں نے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرایا، بصیرت کی بنا پر نہیں بلکہ حیرت اور شک کی بنا پر وہ اپنے مذہب کے تناقض پر راضی ہو گئے۔ [26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت اوصاف کے نمونے کے طور پر ان دو آیتوں کا ذکر فرمایا تاکہ وہ اپنے بندوں کو اپنی معرفت، محبت اور دین میں اخلاص کی دعوت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی ملکیت کا ذکر کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے... یہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی کو شامل ہے... سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ وہ احکام کونی و قدری، احکام دینی و امری اور احکام جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی مملوک ہے جو اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے اور وہ کسی چیز کی مالک نہیں۔ وہ بے حد بے نیاز ہے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے۔ ﴿مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ ﴾(الذّٰریٰت:51؍57) ’’میں ان سے رزق طلب نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔‘‘ نیز انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے اعمال اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ان کے اعمال کا فائدہ صرف انھی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے بے نیاز ہے۔ یہ اس کی بے نیازی ہے کہ اس نے انھیں ان کی دنیا و آخرت میں بے نیاز بنا دیا اور ان کے لیے وہ کافی ہوگیا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت حمد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ اس کی حمد و ثنا اس کی ذات کا لازمہ ہے وہ ہر لحاظ ہی سے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں قابل تعریف ہے۔ اس کی صفات میں سے ہر صفت کامل ترین حمد وثنا کی مستحق ہے کیونکہ یہ عظمت وکمال پر مبنی صفات ہیں۔ اس کے تمام افعال اور اس کی تمام تخلیقات قابل تعریف اور اس کے تمام اوامر و نواہی قابل ستائش ہیں۔ وہ تمام فیصلے اور احکام جو اس نے دنیا وآخرت میں اپنے بندوں پر اور بندوں کے درمیان نافذ کیے ہیں، ان پر وہ قابل حمدوستائش ہے۔ [27] اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی وسعت اور اپنے قول کی عظمت کو ایسی شرح کے ساتھ بیان کیا جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے، جس سے عقل و خرد حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور عقل مند اور اصحاب بصیرت اس کی معرفت میں سیاحت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ اَنَّ مَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌؔ﴾ ’’اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں۔‘‘ جن کے ساتھ لکھا جائے ﴿وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ ﴾ ’’اور سمندر روشنائی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اور‘‘ روشنائی بن جائیں جن سے لکھنے میں مدد لی جائے تو قلم ٹوٹ جائیں گے اور یہ روشنائی ختم ہو جائے گی لیکن ﴿كَلِمٰتُ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھنے سے کبھی ختم نہ ہوں گی۔یہ مبالغہ نہیں ہے، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ عقل انسانی اللہ کی بعض صفات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اور وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے اس کی معرفت سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے انھیں سرفراز کیا ہے اور سب سے بڑی منقبت ہے جو انھیں حاصل ہوئی ہے جس کا کامل طور پر ادراک ممکن نہیں، مگر جس چیز کا کامل ادراک ممکن نہ ہو اس کو کامل طور پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان میں سے بعض صفات کی طرف اس طرح توجہ دلائی ہے جس سے ان کے قلب منور ہوتے ہیں اور انھیں شرح صدر حاصل ہوتی ہے وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے جس پر وہ نہیں پہنچے، اس چیز سے راہ نمائی لیتے ہیں جس تک وہ پہنچ چکے ہیں۔ اور وہ اسی طرح کہتے ہیں جیسے ان میں سے بہترین انسان اور اپنے رب کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی ہستی نے کہا: ’لَا نُحْصِي ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ،(اصل لفظ (لَا اُحْصِي) ہے اور یہ مؤلفa کی سبقت قلم ہے) ’’ہم تیری ثنا بیان نہیں کر سکتے، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔‘‘(صحیح مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟، ح: 486) ورنہ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے جلیل تر اور عظیم تر ہے۔یہ تمثیل ان معانی کو قریب کرنے کے باب میں سے ہے جہاں تک پہنچنے کی ذہن اور فہم طاقت نہیں رکھتا۔ ورنہ اگر درختوں کو کئی گنا کر لیا جائے اور سمندروں کو بھی کئی گنا کر کے ان کی روشنائی بنا لی جائے تب بھی ان کے ختم ہونے کا تو تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مخلوق ہیں... رہا اللہ تبارک و تعالیٰ کا کلام، تو اس کے ختم ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ عقلی اور نقلی دلیل دلالت کرتی ہے کہ اس کا کلام ختم ہوتا ہے نہ اس کی کوئی انتہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے سوا باقی ہر چیز کی انتہا ہے۔ ﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰى ﴾(النجم:53؍42) ’’اور تیرے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے۔‘‘ جب عقل اللہ تعالیٰ کی ’’اولیت‘‘ اور ’’آخریت‘‘ کا تصور کرے تو، ذہن گزرے ہوئے زمانوں کو فرض کرے۔ وہ ازمان گزشتہ کا جتنا بھی اندازہ لگائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی پہلے ہے جس کا کوئی منتہیٰ نہیں۔ اسی طرح عقل وذہن میں آنے والے زمانوں کے بارے میں خواہ کتنا ہی اندازہ کر لیں اور قلب و زبان کے ذریعے سے اس کی مدد بھی لے لیں، اللہ تعالیٰ ان کے ان اندازوں سے بھی زیادہ متأخر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تمام اوقات میں فیصلہ کرتا ہے، کلام کرتا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنا قول و فعل صادر کرتا ہے اسے اپنے اقوال و افعال سے کوئی چیز مانع نہیں۔ جب عقل نے اس حقیقت کا تصور کر لیا تو معلوم ہوا کہ یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ضمن میں بیان کی ہے صرف اس لیے ہے کہ بندوں کو اس کا تھوڑا سا ادراک ہو جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس سے عظیم تر اور جلیل تر ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عزت کے جلال اور کمال حکمت کا ذکر کیا فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی تمام عزت و غلبے کا وہی مالک ہے تمام عالم علوی اور عالم سفلی میں جو بھی قوت پائی جاتی ہے وہ اسی کی طرف سے ہے، وہی ہے جس کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے۔ وہ اپنے غلبے کے ذریعے سے تمام مخلوق پر غالب ہے، ان میں تصرف اور ان کی تدبیرکرتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت سے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ اس تخلیق سے اس کی غرض و غایت اور مقصد بھی حکمت ہی ہے اسی طرح امرونہی بھی اس کی حکمت ہی سے وجود میں آئے ہیں، اور ان کو وجود میں لانے کی غایت مقصود بھی حکمت ہی ہے۔ پس وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظیم اور کامل قدرت کا ذکر فرمایا جس کا عقل تصور تک نہیں کر سکتی۔ پس فرمایا: ﴿مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’تم سب کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ اٹھانا تو بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور اٹھانا)‘‘ اور یہ ایسی چیز ہے جو عقل کو حیران کر دیتی ہے۔ تمام مخلوق کی تخلیق... ان کی کثرت کے باوجود اور ان کی موت کے بعد ان کے بکھر جانے کے باوجود ان کو ایک لمحہ میں دوبارہ زندہ کرنا… ایسے ہی ہے جیسے اس نے صرف ایک نفس کو پیدا کیا ہو۔ اس لیے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور پھر اعمال کی جزا دینے کو بعید سمجھنا اللہ تعالیٰ کی عظمت، قوت اور قدرت کے بارے میں جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ذکر فرمایا کہ وہ تمام مسموعات کو سنتا اور تمام مرئیات کو دیکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

لقمان 31:29

کیا نہیں دیکھا آپ نے، بے شک اللہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور اس نے کام میں لگا دیا ہے سورج اور چاند کو، ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک اور (یہ کہ) بے شک اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(29) یہ اس سبب سے کہ بے شک اللہ، وہی ہے حق، اور (یہ کہ) بے شک جس کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوا، باطل ہے اور یہ کہ بلاشبہ اللہ، وہی ہے بلند بہت بڑا (30) [29]اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے اپنے تصرف و تدبیر میں متفرد ہونے، رات کو دن میں داخل کرنے اور دن کو رات میں داخل کرنے میں اپنی قدرت و اختیار کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب دن اور رات میں سے کوئی داخل ہوتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے۔ وہ سورج اور چاند کو مسخر کرنے میں بھی متفرد ہے۔ سورج اور چاند اس کی تدبیر اور نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، ان میں خلل واقع نہیں ہوا... تاکہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ دین و دنیا سے متعلق اپنے بندوں کے مصالح و منافع کو پورا کرے، جس سے اس کے بندے عبرت حاصل کرتے اور فائدہ حاصل کرتے ہیں۔﴿كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک‘‘ یعنی سورج اور چاند دونوں ﴿يَّجۡرِيۡۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ایک مدت مقرر تک چلے جا رہے ہیں۔ جب یہ مدت پوری ہو جائے گی تو ان کی گردش ختم اور ان کی قوت معطل ہو جائے گی اور یہ قیامت کا دن ہو گا جب سورج اور چاند سیاہ اور بے نور کر دیے جائیں گے۔ دنیا کے گھر کی انتہا اور آخرت کے گھر کی ابتدا ہو جائے گی۔ ﴿وَّاَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ﴾ اور تم جو نیکی اور بدی کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے ﴿خَبِيۡرٌ ﴾ ’’باخبر ہے۔‘‘ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ وہ عنقریب تمھیں ان اعمال پر جزا وسزا دے گا۔ اطاعت کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور نافرمانوں کو سزا دے گا۔ [30]﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے اپنی عظمت اور اپنی صفات کو بیان کیا ہے ﴿بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات و صفات میں حق ہے، اس کا دین حق ہے، اس کے رسول حق ہیں، اس کا وعدہ حق ہے، اس کی وعید حق ہے اور اس کی عبادت حق ہے۔ ﴿وَاَنَّ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الۡبَاطِلُ ﴾ اور جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، سب اپنی ذات و صفات میں باطل ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو وجود میں نہ لاتا تو کبھی وجود میں نہ آ سکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی امداد نہ کرے تو ان کی بقا ممکن نہیں۔ جب یہ خود باطل ہیں تو ان کی عبادت سب سے بڑا باطل ہے۔﴿وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡعَلِيُّ ﴾ ’’اور بے شک اللہ تعالیٰ (بذاتہ) بلند ہے‘‘ وہ تمام مخلوقات سے اوپر ہے۔ اس کی صفات اس سے بلندتر ہیں کہ ان پر مخلوق کی صفات کو قیاس کیا جائے وہ مخلوق کے اوپر اور ان پر غالب ہے۔ ﴿الۡكَبِيۡرُ ﴾ وہ اپنی ذات و صفات میں کبریائی کا مالک ہے اور زمین اور آسمان کی تمام مخلوق کے دل اس کی کبریائی سے لبریز ہیں۔

لقمان 31:30

کیا نہیں دیکھا آپ نے، بے شک اللہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور اس نے کام میں لگا دیا ہے سورج اور چاند کو، ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک اور (یہ کہ) بے شک اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(29) یہ اس سبب سے کہ بے شک اللہ، وہی ہے حق، اور (یہ کہ) بے شک جس کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوا، باطل ہے اور یہ کہ بلاشبہ اللہ، وہی ہے بلند بہت بڑا (30) [29]اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے اپنے تصرف و تدبیر میں متفرد ہونے، رات کو دن میں داخل کرنے اور دن کو رات میں داخل کرنے میں اپنی قدرت و اختیار کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب دن اور رات میں سے کوئی داخل ہوتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے۔ وہ سورج اور چاند کو مسخر کرنے میں بھی متفرد ہے۔ سورج اور چاند اس کی تدبیر اور نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، ان میں خلل واقع نہیں ہوا... تاکہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ دین و دنیا سے متعلق اپنے بندوں کے مصالح و منافع کو پورا کرے، جس سے اس کے بندے عبرت حاصل کرتے اور فائدہ حاصل کرتے ہیں۔﴿كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک‘‘ یعنی سورج اور چاند دونوں ﴿يَّجۡرِيۡۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ایک مدت مقرر تک چلے جا رہے ہیں۔ جب یہ مدت پوری ہو جائے گی تو ان کی گردش ختم اور ان کی قوت معطل ہو جائے گی اور یہ قیامت کا دن ہو گا جب سورج اور چاند سیاہ اور بے نور کر دیے جائیں گے۔ دنیا کے گھر کی انتہا اور آخرت کے گھر کی ابتدا ہو جائے گی۔ ﴿وَّاَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ﴾ اور تم جو نیکی اور بدی کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے ﴿خَبِيۡرٌ ﴾ ’’باخبر ہے۔‘‘ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ وہ عنقریب تمھیں ان اعمال پر جزا وسزا دے گا۔ اطاعت کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور نافرمانوں کو سزا دے گا۔ [30]﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے اپنی عظمت اور اپنی صفات کو بیان کیا ہے ﴿بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات و صفات میں حق ہے، اس کا دین حق ہے، اس کے رسول حق ہیں، اس کا وعدہ حق ہے، اس کی وعید حق ہے اور اس کی عبادت حق ہے۔ ﴿وَاَنَّ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الۡبَاطِلُ ﴾ اور جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، سب اپنی ذات و صفات میں باطل ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو وجود میں نہ لاتا تو کبھی وجود میں نہ آ سکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی امداد نہ کرے تو ان کی بقا ممکن نہیں۔ جب یہ خود باطل ہیں تو ان کی عبادت سب سے بڑا باطل ہے۔﴿وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡعَلِيُّ ﴾ ’’اور بے شک اللہ تعالیٰ (بذاتہ) بلند ہے‘‘ وہ تمام مخلوقات سے اوپر ہے۔ اس کی صفات اس سے بلندتر ہیں کہ ان پر مخلوق کی صفات کو قیاس کیا جائے وہ مخلوق کے اوپر اور ان پر غالب ہے۔ ﴿الۡكَبِيۡرُ ﴾ وہ اپنی ذات و صفات میں کبریائی کا مالک ہے اور زمین اور آسمان کی تمام مخلوق کے دل اس کی کبریائی سے لبریز ہیں۔

لقمان 31:31

کیا نہیں دیکھا آپ نے بے شک کشتی چلتی ہے سمندر میں ساتھ فضل اللہ کے، تاکہ دکھائے وہ تمھیں اپنی کچھ نشانیاں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کے لیے (31) اور جب ڈھانپ لیتی ہے انھیں کوئی (بڑی) موج، مانند سائبانوں کے، تو پکارتے ہیں وہ اللہ کو، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے دین (پکار) کو ، پھر جب وہ نجات دے دیتا ہے ان کو خشکی کی طرف تو کوئی ہی ان میں سے عہد پر قائم رہنے والا ہوتا ہے، اور نہیں انکارکرتا ہماری آیتوں کا مگر ہر عہد توڑنے والا ناشکرا ہی (32) [31] کیا تو نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی رحمت اوراپنے بندوں پر اس کی عنایت کے آثار نہیں دیکھے؟ اس نے سمندر کو مسخر کیا جس میں اس کے حکم قدری اور اس کے لطف و احسان سے کشتیاں چلتی ہیں۔ ﴿لِيُـرِيَكُمۡ مِّنۡ اٰيٰتِهٖ﴾ ’’تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے۔‘‘ ان نشانیوں میں نفع اور عبرت ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ ’’بے شک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکرکرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ پس یہ وہ لوگ ہیں جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ ہر تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور خوشی پر شکر کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اس کی اطاعت پر صبر کرتے ہیں، اس کی قضا و قدر پر صبر کرتے اور اس کی دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اس کا شکر کرتے ہیں۔ [32] اللہ تعالیٰ لوگوں کا حال بیان کرتا ہے کہ جب لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں اور سمندر کی موجیں چھتری کی مانند ان پر چھا جاتی ہیں تب وہ اللہ کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ ﴿فَلَمَّا نَجّٰىهُمۡ اِلَى الۡـبَرِّ ﴾ ’’ پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے۔‘‘ تو وہ دو گروہوں میں منقسم ہو جاتے ہیں: ان میں سے ایک گروہ کے لوگ درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں، یعنی کامل طریقے سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ وہ گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کر کے اس کی نعمت کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَمَا يَجۡحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ ﴾ ’’اور ہماری آیتوں کا وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن ہیں۔‘‘ ان کی بدعہدی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے سمندر اور اس کی سختیوں سے انھیں نجات دی تو وہ اس کے شکر گزار بندے بنیں گے۔ پس اس فریق نے بد عہدی کی اپنے عہد کو پورا نہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ ﴿كَفُوۡرٍ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے سخت ناشکرے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ان سختیوں سے نجات دی ہو کیا اس کے لیے اس کا شکر ادا کرنے کے سوا کچھ اور لائق ہے؟

لقمان 31:32

کیا نہیں دیکھا آپ نے بے شک کشتی چلتی ہے سمندر میں ساتھ فضل اللہ کے، تاکہ دکھائے وہ تمھیں اپنی کچھ نشانیاں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کے لیے (31) اور جب ڈھانپ لیتی ہے انھیں کوئی (بڑی) موج، مانند سائبانوں کے، تو پکارتے ہیں وہ اللہ کو، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے دین (پکار) کو ، پھر جب وہ نجات دے دیتا ہے ان کو خشکی کی طرف تو کوئی ہی ان میں سے عہد پر قائم رہنے والا ہوتا ہے، اور نہیں انکارکرتا ہماری آیتوں کا مگر ہر عہد توڑنے والا ناشکرا ہی (32) [31] کیا تو نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی رحمت اوراپنے بندوں پر اس کی عنایت کے آثار نہیں دیکھے؟ اس نے سمندر کو مسخر کیا جس میں اس کے حکم قدری اور اس کے لطف و احسان سے کشتیاں چلتی ہیں۔ ﴿لِيُـرِيَكُمۡ مِّنۡ اٰيٰتِهٖ﴾ ’’تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے۔‘‘ ان نشانیوں میں نفع اور عبرت ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ ’’بے شک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکرکرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ پس یہ وہ لوگ ہیں جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ ہر تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور خوشی پر شکر کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اس کی اطاعت پر صبر کرتے ہیں، اس کی قضا و قدر پر صبر کرتے اور اس کی دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اس کا شکر کرتے ہیں۔ [32] اللہ تعالیٰ لوگوں کا حال بیان کرتا ہے کہ جب لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں اور سمندر کی موجیں چھتری کی مانند ان پر چھا جاتی ہیں تب وہ اللہ کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ ﴿فَلَمَّا نَجّٰىهُمۡ اِلَى الۡـبَرِّ ﴾ ’’ پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے۔‘‘ تو وہ دو گروہوں میں منقسم ہو جاتے ہیں: ان میں سے ایک گروہ کے لوگ درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں، یعنی کامل طریقے سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ وہ گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کر کے اس کی نعمت کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَمَا يَجۡحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ ﴾ ’’اور ہماری آیتوں کا وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن ہیں۔‘‘ ان کی بدعہدی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے سمندر اور اس کی سختیوں سے انھیں نجات دی تو وہ اس کے شکر گزار بندے بنیں گے۔ پس اس فریق نے بد عہدی کی اپنے عہد کو پورا نہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ ﴿كَفُوۡرٍ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے سخت ناشکرے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ان سختیوں سے نجات دی ہو کیا اس کے لیے اس کا شکر ادا کرنے کے سوا کچھ اور لائق ہے؟

لقمان 31:33

اے لوگو! تقوی اختیارکرو اپنے رب کا اور ڈرواس دن سے کہ نہیں کام آئے گا کوئی باپ اپنی اولاد کے اور نہ کوئی اولاد ہی کام آنے والی ہو گی اپنے باپ کے کچھ بھی، بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے، پس نہ دھوکے میں ڈال دے تمھیں زندگانیٔ دنیا، اور نہ دھوکے میں ڈالے تمھیں اللہ کے متعلق بڑا دھوکے باز (شیطان)(33) [33] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تقویٰ کا حکم دیتا ہے۔ تقویٰ سے مراد اس کے حکم کی تعمیل کرنا اور منہیات کو ترک کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے سخت دن کے خوف کی طرف ان کی توجہ مبذول کرواتا ہے۔ جس روز ہر شخص کو اپنے سوا کسی کا ہوش نہیں ہو گا پس ﴿لَّا يَجۡزِيۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِهٖ١ٞ وَلَا مَوۡلُوۡدٌ هُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِهٖ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا۔‘‘ یعنی وہ اس کی نیکیوں میں اضافہ کر سکے گا نہ اس کے گناہوں میں کوئی کمی کر سکے گا۔ ہر بندے کا عمل پورا ہو چکا ہوگا اور اس پر اس کی جزا وسزا بھی متحقق ہو چکی ہوگی۔ تو اس ہولناک دن کی طرف دیکھ، جو بندے کو قوت عطا کر کے اس کے لیے تقویٰ کو آسان کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے کہ وہ انھیں تقویٰ کا حکم دیتا ہے جس کے اندر ان کی سعادت ہے اور اس پر ان کے ساتھ ثواب کا وعدہ کرتا ہے، انھیں عذاب سے ڈراتا ہے، انھیں مواعظ اور (قیامت کے) خوفناک مقامات سے ڈرا کر، برائیوں سے روکتا ہے... اے جہانوں کے رب! تیری ہی ستائش ہے۔ ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ پس اللہ کے وعدے میں شک نہ کرو اور ایسے کام نہ کرو جو اس وعدے کو سچا نہ ماننے والوں کے ہوتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا: ﴿فَلَا تَغُرَّنَّـكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ یعنی دنیا کی زیب و زینت، اس کی چکا چوند اور اس کے فتنے تمھیں دھوکے میں نہ ڈال دیں ﴿وَلَا يَغُرَّنَّـكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ﴾ ’’اور فریب دینے والا تمھیں اللہ کے بارے میں کسی طرح کا فریب نہ دے‘‘ یعنی شیطان ہر وقت انسان کو فریب میں مبتلا رکھتا ہے اور کسی وقت بھی اس سے غافل نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حق ہے۔ اور اس نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا، نیز کیا انھوں نے اس کا حق پورا کیا ہے یا اس بارے میں انھوں نے کوتاہی کی ہے؟ یہ ایسا معاملہ ہے جس کا اہتمام واجب ہے۔ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ اسے اپنا نصب العین اور زندگی کا سرمایہ بنائے رکھے جس کے لیے کوشش کی جاتی ہے۔ اس راستے کی سب سے بڑی آفت فتنہ میں مبتلا کرنے والی دنیا ہے اور سب سے بڑا راہزن شیطان ہے جو وسوسے ڈالتا اور گمراہ کرتا ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا اور شیطان کے فریب میں مبتلا ہونے سے روکا ہے۔ ﴿يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ١ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴾(النساء:4؍120) ’’شیطان ان سے وعدہ کرتا ہے، ان کو آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان کا وعدہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

لقمان 31:34

بے شک اللہ، اسی کے پاس ہے علم قیامت کا اوروہی نازل کرتا ہے بارش اور وہی جانتا ہے جو کچھ رحموں (ماؤ ں کے پیٹوں) میں ہے اور نہیں جانتا کوئی نفس کہ کیا کام کرے گا وہ کل کو اور نہیں جانتا کوئی نفس کہ کس زمین میں وہ مرے گا، بے شک اللہ خوب جاننے والا، خوب خبردار ہے (34) [34] یہ امر متحقق ہے کہ علم الٰہی نے غیب و شاہد اور ظاہر و باطن ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اور کبھی کبھی بہت سے امور غیبیہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مطلع کر دیتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں مذکور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا علم کسی کو بھی نہیں دیا گیا، عام لوگ تو کیا ان امور کو کوئی نبی مرسل جانتا ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ١ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔ ۘ ؕ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً﴾(الأعراف:7؍187)’’وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آخر قیامت کی گھڑی کب آئے گی، کہہ دیجیے اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا، آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری حادثہ ہوگا اور وہ تم پر اچانک ہی آ جائے گی۔‘‘﴿وَيُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ ﴾ وہ اکیلا ہی ہے جو بارش برساتا ہے اور وہی اس کے برسنے کا وقت جانتا ہے۔ ﴿وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡاَرۡحَامِ ﴾ پس رحموں کے اندر جو کچھ ہے اس نے تخلیق کیا ہے اور اس کے متعلق وہی جانتا ہے کہ آیا وہ نر ہے یا مادہ، اس لیے اس پر مقرر کردہ فرشتہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے لڑکا یا لڑکی؟ پس اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ ﴿وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا ﴾ ’’اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔‘‘ یعنی دین اور دنیا کی کمائی میں سے ﴿وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌۢ بِاَيِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ﴾ ’’اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سر زمین میں اسے موت آئے گی۔‘‘ بلکہ یہ تمام علم صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مختص ہے۔ ان مذکورہ چیزوں کا علم مخصوص کرنے کے بعد بیان فرمایا کہ اس کاعلم تمام چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظاہری و باطنی امور، تمام چھپی ہوئی اور تمام اسرار نہاں سے باخبر اور ان کو جانتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کاملہ ہے کہ اس نے پانچ چیزوں کا علم بندوں سے چھپا رکھا ہے کیونکہ اس کے اندر ان کے مصالح پنہاں ہیں۔ صاحب تدبر پر یہ چیز مخفی نہیں۔