Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — السجدة 32:1 – الأحزاب 33:25

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. السجدة 32:1
  2. السجدة 32:2
  3. السجدة 32:3
  4. السجدة 32:4
  5. السجدة 32:5
  6. السجدة 32:6
  7. السجدة 32:7
  8. السجدة 32:8
  9. السجدة 32:9
  10. السجدة 32:10
  11. السجدة 32:11
  12. السجدة 32:12
  13. السجدة 32:13
  14. السجدة 32:14
  15. السجدة 32:15
  16. السجدة 32:16
  17. السجدة 32:17
  18. السجدة 32:18
  19. السجدة 32:19
  20. السجدة 32:20
  21. السجدة 32:21
  22. السجدة 32:22
  23. السجدة 32:23
  24. السجدة 32:24
  25. السجدة 32:25
  26. السجدة 32:26
  27. السجدة 32:27
  28. السجدة 32:28
  29. السجدة 32:29
  30. السجدة 32:30
  31. الأحزاب 33:1
  32. الأحزاب 33:2
  33. الأحزاب 33:3
  34. الأحزاب 33:4
  35. الأحزاب 33:5
  36. الأحزاب 33:6
  37. الأحزاب 33:7
  38. الأحزاب 33:8
  39. الأحزاب 33:9
  40. الأحزاب 33:10
  41. الأحزاب 33:11
  42. الأحزاب 33:12
  43. الأحزاب 33:13
  44. الأحزاب 33:14
  45. الأحزاب 33:15
  46. الأحزاب 33:16
  47. الأحزاب 33:17
  48. الأحزاب 33:18
  49. الأحزاب 33:19
  50. الأحزاب 33:20
  51. الأحزاب 33:21
  52. الأحزاب 33:22
  53. الأحزاب 33:23
  54. الأحزاب 33:24
  55. الأحزاب 33:25

السجدة 32:1

الٓمّٓ (1) اتارنا کتاب کا، درآں حالیکہ نہیں کوئی شک اس میں، رب العالمین کی طرف سے ہے(2)کیا وہ کہتے ہیں کہ خود گھڑ لیا ہے اس (پیغمبر) نے اسے (نہیں)بلکہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ڈرائیں ان لوگوں کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے، شاید کہ وہ راہ پائیں(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب کریم رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جس نے اپنی نعمت کے ذریعے سے ان کی تربیت کی ہے۔ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنی ربوبیت کا فیضان کیا ہے، یہی کتاب کریم ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہے، جو ان کے احوال کو درست اور ان کے اخلاق کی تکمیل کرتی ہے۔ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں، بایں ہمہ رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے ظالم کہتے ہیں کہ اس کتاب کو محمد(ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے انکار کی سب سے بڑی جسارت اور محمد مصطفیﷺ پر سب سے بڑے جھوٹ کا بہتان لگانا ہے، نیز یہ بہتان لگانا ہے کہ مخلوق بھی خالق کے کلام جیسا کلام تخلیق کرنے پر قادر ہے۔ [3] مذکورہ بالا باتوں میں سے ہر ایک بات بہت بڑا جرم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے قول ’’اس کو محمد (ﷺ)نے گھڑا ہے۔‘‘ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿بَلۡ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بلکہ یہ حق ہے‘‘ جس کے سامنے سے باطل آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ یہ کتاب کریم قابل تعریف اور دانا ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہے ﴿مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’آپ کے رب کی طرف سے۔‘‘ جس نے اسے اپنے بندوں پر رحمت کے طور پر نازل کیا ہے ﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ﴾ ’’تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے ڈرانے (متنبہ کرنے) والا نہیں آیا۔‘‘ یعنی رسول کے بھیجے جانے اور کتاب کے نازل کیے جانے کی انھیں سخت ضرورت ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا… بلکہ یہ لوگ اپنی جہالت میں سرگرداں اور اپنی گمراہی کے اندھیروں میں مارے مارے پھرتے ہیں، لہٰذا ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ﴿لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ شاید کہ یہ گمراہی کو چھوڑ کر راہ راست پر گامزن ہوں اور اس طرح حق کو پہچان کر اس کو ترجیح دیں۔یہ تمام امور جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، ان کی تکذیب کے متناقض ہیں۔ یہ تمام امور ان سے ایمان اور تصدیق کامل کا تقاضا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ﴿مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’رب کائنات کی طرف سے ہے‘‘ اور یقینا یہ ﴿الۡحَقُّ ﴾ ’’حق ہے‘‘اور حق ہر حال میں قابل قبول ہوتا ہے۔ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ ’’اس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک نہیں‘‘ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو شک و ریب کی موجب ہو۔ یہ کتاب کریم کوئی ایسی خبر بیان نہیں کرتی جو واقع کے غیر مطابق ہو اور نہ اس میں کوئی ایسی چیز ہی ہے جس کے معانی میں کوئی اشتباہ ہو یا وہ مخفی ہوں… نیز وہ رسالت کے سخت ضرورت مند تھے اور اس کتاب کریم میں ہر قسم کی بھلائی اور نیکی کا راستہ دکھایا گیا ہے۔

السجدة 32:2

الٓمّٓ (1) اتارنا کتاب کا، درآں حالیکہ نہیں کوئی شک اس میں، رب العالمین کی طرف سے ہے(2)کیا وہ کہتے ہیں کہ خود گھڑ لیا ہے اس (پیغمبر) نے اسے (نہیں)بلکہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ڈرائیں ان لوگوں کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے، شاید کہ وہ راہ پائیں(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب کریم رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جس نے اپنی نعمت کے ذریعے سے ان کی تربیت کی ہے۔ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنی ربوبیت کا فیضان کیا ہے، یہی کتاب کریم ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہے، جو ان کے احوال کو درست اور ان کے اخلاق کی تکمیل کرتی ہے۔ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں، بایں ہمہ رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے ظالم کہتے ہیں کہ اس کتاب کو محمد(ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے انکار کی سب سے بڑی جسارت اور محمد مصطفیﷺ پر سب سے بڑے جھوٹ کا بہتان لگانا ہے، نیز یہ بہتان لگانا ہے کہ مخلوق بھی خالق کے کلام جیسا کلام تخلیق کرنے پر قادر ہے۔ [3] مذکورہ بالا باتوں میں سے ہر ایک بات بہت بڑا جرم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے قول ’’اس کو محمد (ﷺ)نے گھڑا ہے۔‘‘ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿بَلۡ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بلکہ یہ حق ہے‘‘ جس کے سامنے سے باطل آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ یہ کتاب کریم قابل تعریف اور دانا ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہے ﴿مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’آپ کے رب کی طرف سے۔‘‘ جس نے اسے اپنے بندوں پر رحمت کے طور پر نازل کیا ہے ﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ﴾ ’’تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے ڈرانے (متنبہ کرنے) والا نہیں آیا۔‘‘ یعنی رسول کے بھیجے جانے اور کتاب کے نازل کیے جانے کی انھیں سخت ضرورت ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا… بلکہ یہ لوگ اپنی جہالت میں سرگرداں اور اپنی گمراہی کے اندھیروں میں مارے مارے پھرتے ہیں، لہٰذا ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ﴿لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ شاید کہ یہ گمراہی کو چھوڑ کر راہ راست پر گامزن ہوں اور اس طرح حق کو پہچان کر اس کو ترجیح دیں۔یہ تمام امور جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، ان کی تکذیب کے متناقض ہیں۔ یہ تمام امور ان سے ایمان اور تصدیق کامل کا تقاضا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ﴿مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’رب کائنات کی طرف سے ہے‘‘ اور یقینا یہ ﴿الۡحَقُّ ﴾ ’’حق ہے‘‘اور حق ہر حال میں قابل قبول ہوتا ہے۔ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ ’’اس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک نہیں‘‘ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو شک و ریب کی موجب ہو۔ یہ کتاب کریم کوئی ایسی خبر بیان نہیں کرتی جو واقع کے غیر مطابق ہو اور نہ اس میں کوئی ایسی چیز ہی ہے جس کے معانی میں کوئی اشتباہ ہو یا وہ مخفی ہوں… نیز وہ رسالت کے سخت ضرورت مند تھے اور اس کتاب کریم میں ہر قسم کی بھلائی اور نیکی کا راستہ دکھایا گیا ہے۔

السجدة 32:3

الٓمّٓ (1) اتارنا کتاب کا، درآں حالیکہ نہیں کوئی شک اس میں، رب العالمین کی طرف سے ہے(2)کیا وہ کہتے ہیں کہ خود گھڑ لیا ہے اس (پیغمبر) نے اسے (نہیں)بلکہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ڈرائیں ان لوگوں کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے، شاید کہ وہ راہ پائیں(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب کریم رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جس نے اپنی نعمت کے ذریعے سے ان کی تربیت کی ہے۔ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنی ربوبیت کا فیضان کیا ہے، یہی کتاب کریم ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہے، جو ان کے احوال کو درست اور ان کے اخلاق کی تکمیل کرتی ہے۔ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں، بایں ہمہ رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے ظالم کہتے ہیں کہ اس کتاب کو محمد(ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے انکار کی سب سے بڑی جسارت اور محمد مصطفیﷺ پر سب سے بڑے جھوٹ کا بہتان لگانا ہے، نیز یہ بہتان لگانا ہے کہ مخلوق بھی خالق کے کلام جیسا کلام تخلیق کرنے پر قادر ہے۔ [3] مذکورہ بالا باتوں میں سے ہر ایک بات بہت بڑا جرم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے قول ’’اس کو محمد (ﷺ)نے گھڑا ہے۔‘‘ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿بَلۡ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بلکہ یہ حق ہے‘‘ جس کے سامنے سے باطل آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ یہ کتاب کریم قابل تعریف اور دانا ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہے ﴿مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’آپ کے رب کی طرف سے۔‘‘ جس نے اسے اپنے بندوں پر رحمت کے طور پر نازل کیا ہے ﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ﴾ ’’تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے ڈرانے (متنبہ کرنے) والا نہیں آیا۔‘‘ یعنی رسول کے بھیجے جانے اور کتاب کے نازل کیے جانے کی انھیں سخت ضرورت ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا… بلکہ یہ لوگ اپنی جہالت میں سرگرداں اور اپنی گمراہی کے اندھیروں میں مارے مارے پھرتے ہیں، لہٰذا ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ﴿لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ شاید کہ یہ گمراہی کو چھوڑ کر راہ راست پر گامزن ہوں اور اس طرح حق کو پہچان کر اس کو ترجیح دیں۔یہ تمام امور جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، ان کی تکذیب کے متناقض ہیں۔ یہ تمام امور ان سے ایمان اور تصدیق کامل کا تقاضا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ﴿مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’رب کائنات کی طرف سے ہے‘‘ اور یقینا یہ ﴿الۡحَقُّ ﴾ ’’حق ہے‘‘اور حق ہر حال میں قابل قبول ہوتا ہے۔ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ ’’اس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک نہیں‘‘ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو شک و ریب کی موجب ہو۔ یہ کتاب کریم کوئی ایسی خبر بیان نہیں کرتی جو واقع کے غیر مطابق ہو اور نہ اس میں کوئی ایسی چیز ہی ہے جس کے معانی میں کوئی اشتباہ ہو یا وہ مخفی ہوں… نیز وہ رسالت کے سخت ضرورت مند تھے اور اس کتاب کریم میں ہر قسم کی بھلائی اور نیکی کا راستہ دکھایا گیا ہے۔

السجدة 32:4

اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں، پھر وہ مستوی ہو گیا عرش پر نہیں ہے تمھارے لیے اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(4) وہ تدبیر کرتا ہے (سارے) معاملے کی آسمان سے زمین تک، پھر چڑھتا (لوٹتا) ہے وہ (معاملہ) اس کی طرف، ایک دن میں کہ ہے اس کی مقدار ایک ہزار سال، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو(5) وہ (مدبر ہی) ہے جاننے والا پوشیدہ اورظاہر کا، نہایت غالب خوب رحم کرنے والا(6) وہ جس نے اچھے طریقے سے بنایا ہر چیز کو جسے پیدا کیا اس نے اور شروع کی پیدائش انسان کی گارے سے(7) پھربنایا اس نے اس کی نسل کو خلاصے (نطفے) سے ایک حقیر پانی کے(8) پھر اس نے درست کیا اس (کے اعضاء) کو اور پھونکا اس میں اپنی روح سے، اور بنائے اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل، (مگر) تھوڑا ہی ہے جو تم شکر کرتے ہو(9) [4] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ﴾ ’’وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا، حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ ﴿ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾’’پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔﴿مَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں‘‘ جو تمھارے معاملات میں تمھاری سرپرستی کرے ﴿وَّلَا شَفِيۡعٍ ﴾ ’’اور نہ سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی اگرتمھیں سزا ملے تو وہ تمھاری سفارش کرے۔ ﴿اَفَلَا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے‘‘ کہ تمھیں علم ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے، جو تمھاری تدبیر اور تمھاری سرپرستی میں یکتا ہے اور تمام تر شفاعت کا وہی مالک ہے، اس لیے عبادت کی تمام انواع کا وہی مستحق ہے۔ [5]﴿يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ﴾ امر کونی و قدری اور امر دینی و شرعی کی تمام تدابیر وہ اکیلا ہی کرتا ہے اور تمام تدابیر قادر مطلق بادشاہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ﴿مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾’’آسمان سے زمین کی طرف‘‘ پس وہ ان تدابیر کے ذریعے سے کسی کو سعادت مند بناتا ہے اور کسی کو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے، کسی کو دولت مند بنا دیتا ہے اور کسی کے نصیب میں فقروفاقہ لکھ دیتا ہے، کسی کو عزت سے نوازتا ہے اور کسی کو ذلت دیتا ہے، کسی کو اکرام و تکریم سے بہرہ مند کرتا ہے اور کسی کے دامن میں رسوائی ڈال دیتا ہے، کچھ قوموں کو رفعت اور عروج سے سرفراز کرتا ہے اور کچھ قوموں کو زوال کی پستیوں میں گرا دیتا ہے اور وہی آسمانوں سے رزق نازل کرتا ہے۔﴿ثُمَّ يَعۡرُجُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’ پھر وہ اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔‘‘ یعنی امر اس کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی طرف چڑھ جاتا ہے ﴿فِيۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗۤ اَلۡفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴾ ’’ایک روز میں جس کا اندازہ تمھارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگا۔‘‘ یعنی یہ امرعروج کر کے، ایک لمحہ میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ [6]﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’وہ‘‘ یعنی جس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے اور اکیلا ہی اپنی مملکت کی تدبیر کرتا ہے ﴿عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، غالب، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس اس نے اپنی وسعت علم، اپنے کامل غلبے اور اپنی بے پایاں رحمت کی بنا پر ان مخلوقات کو وجود بخشا اور ان میں بے شمار فائدے ودیعت کیے اور ان کی تدبیر کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔ [7]﴿الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾ تمام مخلوق کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا، اسے بہترین تخلیق عطا کی۔ اس نے ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے ماحول کے موافق ہے اور یہ عام ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے فضل و شرف کی بنا پر اس کی تخلیق کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ﴾ ’’اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔‘‘ یہ ابتدا ابوالبشرحضرت آدمu کی تخلیق سے ہوئی۔ [8]﴿ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ﴾ ’’ پھر کیا اس کی نسل کو‘‘ یعنی ذریت آدم کی پیدائش کو ﴿مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ گندے اور کمزور نطفہ سے۔ [9]﴿ثُمَّ سَوّٰىهُ ﴾ پھر اس کا گوشت پوست، اس کے اعضاء، اس کے اعصاب اور اس کی شریانوں کے نظام کو درست طور پر بنایا، اسے بہترین تخلیق وہیئت سے سرفراز کیا اس کے ہر ہر عضو کو ایسے مقام پر رکھا جس کے سوا کوئی اور مقام اس کے لائق نہ تھا۔ ﴿وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ﴾ ’’اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے تب وہ جمادات کی شکل سے نکل کر، زندگی سے بہرہ ور انسان بن جاتا ہے۔ ﴿وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ﴾ اور وہ تمھیں آہستہ آہستہ تمام منفعتیں عطا کرتا رہا حتیٰ کہ تمھیں سماعت و بصارت کی مکمل صلاحیتوں سے نواز دیا ﴿وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور دل (بنائے) مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو‘‘ اس ہستی کا جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھاری صورت گری کی۔

السجدة 32:5

اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں، پھر وہ مستوی ہو گیا عرش پر نہیں ہے تمھارے لیے اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(4) وہ تدبیر کرتا ہے (سارے) معاملے کی آسمان سے زمین تک، پھر چڑھتا (لوٹتا) ہے وہ (معاملہ) اس کی طرف، ایک دن میں کہ ہے اس کی مقدار ایک ہزار سال، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو(5) وہ (مدبر ہی) ہے جاننے والا پوشیدہ اورظاہر کا، نہایت غالب خوب رحم کرنے والا(6) وہ جس نے اچھے طریقے سے بنایا ہر چیز کو جسے پیدا کیا اس نے اور شروع کی پیدائش انسان کی گارے سے(7) پھربنایا اس نے اس کی نسل کو خلاصے (نطفے) سے ایک حقیر پانی کے(8) پھر اس نے درست کیا اس (کے اعضاء) کو اور پھونکا اس میں اپنی روح سے، اور بنائے اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل، (مگر) تھوڑا ہی ہے جو تم شکر کرتے ہو(9) [4] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ﴾ ’’وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا، حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ ﴿ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾’’پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔﴿مَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں‘‘ جو تمھارے معاملات میں تمھاری سرپرستی کرے ﴿وَّلَا شَفِيۡعٍ ﴾ ’’اور نہ سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی اگرتمھیں سزا ملے تو وہ تمھاری سفارش کرے۔ ﴿اَفَلَا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے‘‘ کہ تمھیں علم ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے، جو تمھاری تدبیر اور تمھاری سرپرستی میں یکتا ہے اور تمام تر شفاعت کا وہی مالک ہے، اس لیے عبادت کی تمام انواع کا وہی مستحق ہے۔ [5]﴿يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ﴾ امر کونی و قدری اور امر دینی و شرعی کی تمام تدابیر وہ اکیلا ہی کرتا ہے اور تمام تدابیر قادر مطلق بادشاہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ﴿مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾’’آسمان سے زمین کی طرف‘‘ پس وہ ان تدابیر کے ذریعے سے کسی کو سعادت مند بناتا ہے اور کسی کو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے، کسی کو دولت مند بنا دیتا ہے اور کسی کے نصیب میں فقروفاقہ لکھ دیتا ہے، کسی کو عزت سے نوازتا ہے اور کسی کو ذلت دیتا ہے، کسی کو اکرام و تکریم سے بہرہ مند کرتا ہے اور کسی کے دامن میں رسوائی ڈال دیتا ہے، کچھ قوموں کو رفعت اور عروج سے سرفراز کرتا ہے اور کچھ قوموں کو زوال کی پستیوں میں گرا دیتا ہے اور وہی آسمانوں سے رزق نازل کرتا ہے۔﴿ثُمَّ يَعۡرُجُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’ پھر وہ اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔‘‘ یعنی امر اس کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی طرف چڑھ جاتا ہے ﴿فِيۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗۤ اَلۡفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴾ ’’ایک روز میں جس کا اندازہ تمھارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگا۔‘‘ یعنی یہ امرعروج کر کے، ایک لمحہ میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ [6]﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’وہ‘‘ یعنی جس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے اور اکیلا ہی اپنی مملکت کی تدبیر کرتا ہے ﴿عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، غالب، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس اس نے اپنی وسعت علم، اپنے کامل غلبے اور اپنی بے پایاں رحمت کی بنا پر ان مخلوقات کو وجود بخشا اور ان میں بے شمار فائدے ودیعت کیے اور ان کی تدبیر کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔ [7]﴿الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾ تمام مخلوق کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا، اسے بہترین تخلیق عطا کی۔ اس نے ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے ماحول کے موافق ہے اور یہ عام ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے فضل و شرف کی بنا پر اس کی تخلیق کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ﴾ ’’اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔‘‘ یہ ابتدا ابوالبشرحضرت آدمu کی تخلیق سے ہوئی۔ [8]﴿ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ﴾ ’’ پھر کیا اس کی نسل کو‘‘ یعنی ذریت آدم کی پیدائش کو ﴿مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ گندے اور کمزور نطفہ سے۔ [9]﴿ثُمَّ سَوّٰىهُ ﴾ پھر اس کا گوشت پوست، اس کے اعضاء، اس کے اعصاب اور اس کی شریانوں کے نظام کو درست طور پر بنایا، اسے بہترین تخلیق وہیئت سے سرفراز کیا اس کے ہر ہر عضو کو ایسے مقام پر رکھا جس کے سوا کوئی اور مقام اس کے لائق نہ تھا۔ ﴿وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ﴾ ’’اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے تب وہ جمادات کی شکل سے نکل کر، زندگی سے بہرہ ور انسان بن جاتا ہے۔ ﴿وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ﴾ اور وہ تمھیں آہستہ آہستہ تمام منفعتیں عطا کرتا رہا حتیٰ کہ تمھیں سماعت و بصارت کی مکمل صلاحیتوں سے نواز دیا ﴿وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور دل (بنائے) مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو‘‘ اس ہستی کا جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھاری صورت گری کی۔

السجدة 32:6

اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں، پھر وہ مستوی ہو گیا عرش پر نہیں ہے تمھارے لیے اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(4) وہ تدبیر کرتا ہے (سارے) معاملے کی آسمان سے زمین تک، پھر چڑھتا (لوٹتا) ہے وہ (معاملہ) اس کی طرف، ایک دن میں کہ ہے اس کی مقدار ایک ہزار سال، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو(5) وہ (مدبر ہی) ہے جاننے والا پوشیدہ اورظاہر کا، نہایت غالب خوب رحم کرنے والا(6) وہ جس نے اچھے طریقے سے بنایا ہر چیز کو جسے پیدا کیا اس نے اور شروع کی پیدائش انسان کی گارے سے(7) پھربنایا اس نے اس کی نسل کو خلاصے (نطفے) سے ایک حقیر پانی کے(8) پھر اس نے درست کیا اس (کے اعضاء) کو اور پھونکا اس میں اپنی روح سے، اور بنائے اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل، (مگر) تھوڑا ہی ہے جو تم شکر کرتے ہو(9) [4] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ﴾ ’’وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا، حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ ﴿ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾’’پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔﴿مَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں‘‘ جو تمھارے معاملات میں تمھاری سرپرستی کرے ﴿وَّلَا شَفِيۡعٍ ﴾ ’’اور نہ سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی اگرتمھیں سزا ملے تو وہ تمھاری سفارش کرے۔ ﴿اَفَلَا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے‘‘ کہ تمھیں علم ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے، جو تمھاری تدبیر اور تمھاری سرپرستی میں یکتا ہے اور تمام تر شفاعت کا وہی مالک ہے، اس لیے عبادت کی تمام انواع کا وہی مستحق ہے۔ [5]﴿يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ﴾ امر کونی و قدری اور امر دینی و شرعی کی تمام تدابیر وہ اکیلا ہی کرتا ہے اور تمام تدابیر قادر مطلق بادشاہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ﴿مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾’’آسمان سے زمین کی طرف‘‘ پس وہ ان تدابیر کے ذریعے سے کسی کو سعادت مند بناتا ہے اور کسی کو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے، کسی کو دولت مند بنا دیتا ہے اور کسی کے نصیب میں فقروفاقہ لکھ دیتا ہے، کسی کو عزت سے نوازتا ہے اور کسی کو ذلت دیتا ہے، کسی کو اکرام و تکریم سے بہرہ مند کرتا ہے اور کسی کے دامن میں رسوائی ڈال دیتا ہے، کچھ قوموں کو رفعت اور عروج سے سرفراز کرتا ہے اور کچھ قوموں کو زوال کی پستیوں میں گرا دیتا ہے اور وہی آسمانوں سے رزق نازل کرتا ہے۔﴿ثُمَّ يَعۡرُجُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’ پھر وہ اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔‘‘ یعنی امر اس کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی طرف چڑھ جاتا ہے ﴿فِيۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗۤ اَلۡفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴾ ’’ایک روز میں جس کا اندازہ تمھارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگا۔‘‘ یعنی یہ امرعروج کر کے، ایک لمحہ میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ [6]﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’وہ‘‘ یعنی جس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے اور اکیلا ہی اپنی مملکت کی تدبیر کرتا ہے ﴿عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، غالب، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس اس نے اپنی وسعت علم، اپنے کامل غلبے اور اپنی بے پایاں رحمت کی بنا پر ان مخلوقات کو وجود بخشا اور ان میں بے شمار فائدے ودیعت کیے اور ان کی تدبیر کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔ [7]﴿الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾ تمام مخلوق کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا، اسے بہترین تخلیق عطا کی۔ اس نے ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے ماحول کے موافق ہے اور یہ عام ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے فضل و شرف کی بنا پر اس کی تخلیق کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ﴾ ’’اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔‘‘ یہ ابتدا ابوالبشرحضرت آدمu کی تخلیق سے ہوئی۔ [8]﴿ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ﴾ ’’ پھر کیا اس کی نسل کو‘‘ یعنی ذریت آدم کی پیدائش کو ﴿مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ گندے اور کمزور نطفہ سے۔ [9]﴿ثُمَّ سَوّٰىهُ ﴾ پھر اس کا گوشت پوست، اس کے اعضاء، اس کے اعصاب اور اس کی شریانوں کے نظام کو درست طور پر بنایا، اسے بہترین تخلیق وہیئت سے سرفراز کیا اس کے ہر ہر عضو کو ایسے مقام پر رکھا جس کے سوا کوئی اور مقام اس کے لائق نہ تھا۔ ﴿وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ﴾ ’’اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے تب وہ جمادات کی شکل سے نکل کر، زندگی سے بہرہ ور انسان بن جاتا ہے۔ ﴿وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ﴾ اور وہ تمھیں آہستہ آہستہ تمام منفعتیں عطا کرتا رہا حتیٰ کہ تمھیں سماعت و بصارت کی مکمل صلاحیتوں سے نواز دیا ﴿وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور دل (بنائے) مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو‘‘ اس ہستی کا جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھاری صورت گری کی۔

السجدة 32:7

اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں، پھر وہ مستوی ہو گیا عرش پر نہیں ہے تمھارے لیے اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(4) وہ تدبیر کرتا ہے (سارے) معاملے کی آسمان سے زمین تک، پھر چڑھتا (لوٹتا) ہے وہ (معاملہ) اس کی طرف، ایک دن میں کہ ہے اس کی مقدار ایک ہزار سال، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو(5) وہ (مدبر ہی) ہے جاننے والا پوشیدہ اورظاہر کا، نہایت غالب خوب رحم کرنے والا(6) وہ جس نے اچھے طریقے سے بنایا ہر چیز کو جسے پیدا کیا اس نے اور شروع کی پیدائش انسان کی گارے سے(7) پھربنایا اس نے اس کی نسل کو خلاصے (نطفے) سے ایک حقیر پانی کے(8) پھر اس نے درست کیا اس (کے اعضاء) کو اور پھونکا اس میں اپنی روح سے، اور بنائے اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل، (مگر) تھوڑا ہی ہے جو تم شکر کرتے ہو(9) [4] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ﴾ ’’وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا، حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ ﴿ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾’’پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔﴿مَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں‘‘ جو تمھارے معاملات میں تمھاری سرپرستی کرے ﴿وَّلَا شَفِيۡعٍ ﴾ ’’اور نہ سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی اگرتمھیں سزا ملے تو وہ تمھاری سفارش کرے۔ ﴿اَفَلَا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے‘‘ کہ تمھیں علم ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے، جو تمھاری تدبیر اور تمھاری سرپرستی میں یکتا ہے اور تمام تر شفاعت کا وہی مالک ہے، اس لیے عبادت کی تمام انواع کا وہی مستحق ہے۔ [5]﴿يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ﴾ امر کونی و قدری اور امر دینی و شرعی کی تمام تدابیر وہ اکیلا ہی کرتا ہے اور تمام تدابیر قادر مطلق بادشاہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ﴿مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾’’آسمان سے زمین کی طرف‘‘ پس وہ ان تدابیر کے ذریعے سے کسی کو سعادت مند بناتا ہے اور کسی کو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے، کسی کو دولت مند بنا دیتا ہے اور کسی کے نصیب میں فقروفاقہ لکھ دیتا ہے، کسی کو عزت سے نوازتا ہے اور کسی کو ذلت دیتا ہے، کسی کو اکرام و تکریم سے بہرہ مند کرتا ہے اور کسی کے دامن میں رسوائی ڈال دیتا ہے، کچھ قوموں کو رفعت اور عروج سے سرفراز کرتا ہے اور کچھ قوموں کو زوال کی پستیوں میں گرا دیتا ہے اور وہی آسمانوں سے رزق نازل کرتا ہے۔﴿ثُمَّ يَعۡرُجُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’ پھر وہ اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔‘‘ یعنی امر اس کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی طرف چڑھ جاتا ہے ﴿فِيۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗۤ اَلۡفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴾ ’’ایک روز میں جس کا اندازہ تمھارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگا۔‘‘ یعنی یہ امرعروج کر کے، ایک لمحہ میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ [6]﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’وہ‘‘ یعنی جس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے اور اکیلا ہی اپنی مملکت کی تدبیر کرتا ہے ﴿عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، غالب، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس اس نے اپنی وسعت علم، اپنے کامل غلبے اور اپنی بے پایاں رحمت کی بنا پر ان مخلوقات کو وجود بخشا اور ان میں بے شمار فائدے ودیعت کیے اور ان کی تدبیر کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔ [7]﴿الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾ تمام مخلوق کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا، اسے بہترین تخلیق عطا کی۔ اس نے ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے ماحول کے موافق ہے اور یہ عام ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے فضل و شرف کی بنا پر اس کی تخلیق کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ﴾ ’’اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔‘‘ یہ ابتدا ابوالبشرحضرت آدمu کی تخلیق سے ہوئی۔ [8]﴿ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ﴾ ’’ پھر کیا اس کی نسل کو‘‘ یعنی ذریت آدم کی پیدائش کو ﴿مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ گندے اور کمزور نطفہ سے۔ [9]﴿ثُمَّ سَوّٰىهُ ﴾ پھر اس کا گوشت پوست، اس کے اعضاء، اس کے اعصاب اور اس کی شریانوں کے نظام کو درست طور پر بنایا، اسے بہترین تخلیق وہیئت سے سرفراز کیا اس کے ہر ہر عضو کو ایسے مقام پر رکھا جس کے سوا کوئی اور مقام اس کے لائق نہ تھا۔ ﴿وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ﴾ ’’اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے تب وہ جمادات کی شکل سے نکل کر، زندگی سے بہرہ ور انسان بن جاتا ہے۔ ﴿وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ﴾ اور وہ تمھیں آہستہ آہستہ تمام منفعتیں عطا کرتا رہا حتیٰ کہ تمھیں سماعت و بصارت کی مکمل صلاحیتوں سے نواز دیا ﴿وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور دل (بنائے) مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو‘‘ اس ہستی کا جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھاری صورت گری کی۔

السجدة 32:8

اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں، پھر وہ مستوی ہو گیا عرش پر نہیں ہے تمھارے لیے اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(4) وہ تدبیر کرتا ہے (سارے) معاملے کی آسمان سے زمین تک، پھر چڑھتا (لوٹتا) ہے وہ (معاملہ) اس کی طرف، ایک دن میں کہ ہے اس کی مقدار ایک ہزار سال، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو(5) وہ (مدبر ہی) ہے جاننے والا پوشیدہ اورظاہر کا، نہایت غالب خوب رحم کرنے والا(6) وہ جس نے اچھے طریقے سے بنایا ہر چیز کو جسے پیدا کیا اس نے اور شروع کی پیدائش انسان کی گارے سے(7) پھربنایا اس نے اس کی نسل کو خلاصے (نطفے) سے ایک حقیر پانی کے(8) پھر اس نے درست کیا اس (کے اعضاء) کو اور پھونکا اس میں اپنی روح سے، اور بنائے اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل، (مگر) تھوڑا ہی ہے جو تم شکر کرتے ہو(9) [4] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ﴾ ’’وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا، حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ ﴿ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾’’پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔﴿مَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں‘‘ جو تمھارے معاملات میں تمھاری سرپرستی کرے ﴿وَّلَا شَفِيۡعٍ ﴾ ’’اور نہ سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی اگرتمھیں سزا ملے تو وہ تمھاری سفارش کرے۔ ﴿اَفَلَا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے‘‘ کہ تمھیں علم ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے، جو تمھاری تدبیر اور تمھاری سرپرستی میں یکتا ہے اور تمام تر شفاعت کا وہی مالک ہے، اس لیے عبادت کی تمام انواع کا وہی مستحق ہے۔ [5]﴿يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ﴾ امر کونی و قدری اور امر دینی و شرعی کی تمام تدابیر وہ اکیلا ہی کرتا ہے اور تمام تدابیر قادر مطلق بادشاہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ﴿مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾’’آسمان سے زمین کی طرف‘‘ پس وہ ان تدابیر کے ذریعے سے کسی کو سعادت مند بناتا ہے اور کسی کو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے، کسی کو دولت مند بنا دیتا ہے اور کسی کے نصیب میں فقروفاقہ لکھ دیتا ہے، کسی کو عزت سے نوازتا ہے اور کسی کو ذلت دیتا ہے، کسی کو اکرام و تکریم سے بہرہ مند کرتا ہے اور کسی کے دامن میں رسوائی ڈال دیتا ہے، کچھ قوموں کو رفعت اور عروج سے سرفراز کرتا ہے اور کچھ قوموں کو زوال کی پستیوں میں گرا دیتا ہے اور وہی آسمانوں سے رزق نازل کرتا ہے۔﴿ثُمَّ يَعۡرُجُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’ پھر وہ اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔‘‘ یعنی امر اس کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی طرف چڑھ جاتا ہے ﴿فِيۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗۤ اَلۡفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴾ ’’ایک روز میں جس کا اندازہ تمھارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگا۔‘‘ یعنی یہ امرعروج کر کے، ایک لمحہ میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ [6]﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’وہ‘‘ یعنی جس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے اور اکیلا ہی اپنی مملکت کی تدبیر کرتا ہے ﴿عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، غالب، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس اس نے اپنی وسعت علم، اپنے کامل غلبے اور اپنی بے پایاں رحمت کی بنا پر ان مخلوقات کو وجود بخشا اور ان میں بے شمار فائدے ودیعت کیے اور ان کی تدبیر کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔ [7]﴿الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾ تمام مخلوق کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا، اسے بہترین تخلیق عطا کی۔ اس نے ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے ماحول کے موافق ہے اور یہ عام ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے فضل و شرف کی بنا پر اس کی تخلیق کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ﴾ ’’اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔‘‘ یہ ابتدا ابوالبشرحضرت آدمu کی تخلیق سے ہوئی۔ [8]﴿ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ﴾ ’’ پھر کیا اس کی نسل کو‘‘ یعنی ذریت آدم کی پیدائش کو ﴿مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ گندے اور کمزور نطفہ سے۔ [9]﴿ثُمَّ سَوّٰىهُ ﴾ پھر اس کا گوشت پوست، اس کے اعضاء، اس کے اعصاب اور اس کی شریانوں کے نظام کو درست طور پر بنایا، اسے بہترین تخلیق وہیئت سے سرفراز کیا اس کے ہر ہر عضو کو ایسے مقام پر رکھا جس کے سوا کوئی اور مقام اس کے لائق نہ تھا۔ ﴿وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ﴾ ’’اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے تب وہ جمادات کی شکل سے نکل کر، زندگی سے بہرہ ور انسان بن جاتا ہے۔ ﴿وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ﴾ اور وہ تمھیں آہستہ آہستہ تمام منفعتیں عطا کرتا رہا حتیٰ کہ تمھیں سماعت و بصارت کی مکمل صلاحیتوں سے نواز دیا ﴿وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور دل (بنائے) مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو‘‘ اس ہستی کا جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھاری صورت گری کی۔

السجدة 32:9

اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں، پھر وہ مستوی ہو گیا عرش پر نہیں ہے تمھارے لیے اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(4) وہ تدبیر کرتا ہے (سارے) معاملے کی آسمان سے زمین تک، پھر چڑھتا (لوٹتا) ہے وہ (معاملہ) اس کی طرف، ایک دن میں کہ ہے اس کی مقدار ایک ہزار سال، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو(5) وہ (مدبر ہی) ہے جاننے والا پوشیدہ اورظاہر کا، نہایت غالب خوب رحم کرنے والا(6) وہ جس نے اچھے طریقے سے بنایا ہر چیز کو جسے پیدا کیا اس نے اور شروع کی پیدائش انسان کی گارے سے(7) پھربنایا اس نے اس کی نسل کو خلاصے (نطفے) سے ایک حقیر پانی کے(8) پھر اس نے درست کیا اس (کے اعضاء) کو اور پھونکا اس میں اپنی روح سے، اور بنائے اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل، (مگر) تھوڑا ہی ہے جو تم شکر کرتے ہو(9) [4] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ﴾ ’’وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا، حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ ﴿ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾’’پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔﴿مَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں‘‘ جو تمھارے معاملات میں تمھاری سرپرستی کرے ﴿وَّلَا شَفِيۡعٍ ﴾ ’’اور نہ سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی اگرتمھیں سزا ملے تو وہ تمھاری سفارش کرے۔ ﴿اَفَلَا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے‘‘ کہ تمھیں علم ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے، جو تمھاری تدبیر اور تمھاری سرپرستی میں یکتا ہے اور تمام تر شفاعت کا وہی مالک ہے، اس لیے عبادت کی تمام انواع کا وہی مستحق ہے۔ [5]﴿يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ﴾ امر کونی و قدری اور امر دینی و شرعی کی تمام تدابیر وہ اکیلا ہی کرتا ہے اور تمام تدابیر قادر مطلق بادشاہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ﴿مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾’’آسمان سے زمین کی طرف‘‘ پس وہ ان تدابیر کے ذریعے سے کسی کو سعادت مند بناتا ہے اور کسی کو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے، کسی کو دولت مند بنا دیتا ہے اور کسی کے نصیب میں فقروفاقہ لکھ دیتا ہے، کسی کو عزت سے نوازتا ہے اور کسی کو ذلت دیتا ہے، کسی کو اکرام و تکریم سے بہرہ مند کرتا ہے اور کسی کے دامن میں رسوائی ڈال دیتا ہے، کچھ قوموں کو رفعت اور عروج سے سرفراز کرتا ہے اور کچھ قوموں کو زوال کی پستیوں میں گرا دیتا ہے اور وہی آسمانوں سے رزق نازل کرتا ہے۔﴿ثُمَّ يَعۡرُجُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’ پھر وہ اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔‘‘ یعنی امر اس کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی طرف چڑھ جاتا ہے ﴿فِيۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗۤ اَلۡفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴾ ’’ایک روز میں جس کا اندازہ تمھارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگا۔‘‘ یعنی یہ امرعروج کر کے، ایک لمحہ میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ [6]﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’وہ‘‘ یعنی جس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے اور اکیلا ہی اپنی مملکت کی تدبیر کرتا ہے ﴿عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، غالب، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس اس نے اپنی وسعت علم، اپنے کامل غلبے اور اپنی بے پایاں رحمت کی بنا پر ان مخلوقات کو وجود بخشا اور ان میں بے شمار فائدے ودیعت کیے اور ان کی تدبیر کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔ [7]﴿الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾ تمام مخلوق کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا، اسے بہترین تخلیق عطا کی۔ اس نے ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے ماحول کے موافق ہے اور یہ عام ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے فضل و شرف کی بنا پر اس کی تخلیق کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ﴾ ’’اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔‘‘ یہ ابتدا ابوالبشرحضرت آدمu کی تخلیق سے ہوئی۔ [8]﴿ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ﴾ ’’ پھر کیا اس کی نسل کو‘‘ یعنی ذریت آدم کی پیدائش کو ﴿مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ گندے اور کمزور نطفہ سے۔ [9]﴿ثُمَّ سَوّٰىهُ ﴾ پھر اس کا گوشت پوست، اس کے اعضاء، اس کے اعصاب اور اس کی شریانوں کے نظام کو درست طور پر بنایا، اسے بہترین تخلیق وہیئت سے سرفراز کیا اس کے ہر ہر عضو کو ایسے مقام پر رکھا جس کے سوا کوئی اور مقام اس کے لائق نہ تھا۔ ﴿وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ﴾ ’’اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے تب وہ جمادات کی شکل سے نکل کر، زندگی سے بہرہ ور انسان بن جاتا ہے۔ ﴿وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ﴾ اور وہ تمھیں آہستہ آہستہ تمام منفعتیں عطا کرتا رہا حتیٰ کہ تمھیں سماعت و بصارت کی مکمل صلاحیتوں سے نواز دیا ﴿وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور دل (بنائے) مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو‘‘ اس ہستی کا جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھاری صورت گری کی۔

السجدة 32:10

اور انھوں نے کہا: کیا جب ہم گم ہو جائیں گے زمین میں تو کیا ہم بے شک البتہ نئی پیدائش میں (ظاہر) ہوں گے؟ (نہیں)بلکہ وہ تو ملاقات ہی سے، اپنے رب کی، انکار کرنے والے ہیں (10) کہہ دیجیے: فوت کرتا ہے تم کو فرشتہ موت کا، وہ جو مقرر کیا گیا ہے تم پر، پھر اپنے رب ہی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (11) [10] قیامت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کی تکذیب کرنے والوں نے کہا: ﴿ءَاِذَا ضَلَلۡنَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ جب ہم بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو کر ایسی ایسی جگہوں میں بکھر جائیں گے جن کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو گا۔ ﴿ءَاِنَّا لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ ﴾ تو کیا ہمیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا۔ ان کے خیال میں یہ بعید ترین چیز ہے اور ایسا خیال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالق کائنات کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرتے ہیں اور ان کا یہ کلام تلاش حقیقت کی خاطر نہیں، بلکہ یہ تو ظلم، عناد، اپنے رب کی ملاقات سے انکار اور کفر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿بَلۡ هُمۡ بِلِقَآئِ رَبِّهِمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات سے انکار کرتے ہیں۔‘‘ ان کے کلام ہی سے ان کی غرض و غایت معلوم ہو جاتی ہے ورنہ اگر ان کا مقصد بیان حق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے ایسے قطعی دلائل بیان کرتا جو بصیرت کے لیے اتنے ہی نمایاں ہوتے جتنا بصارت کے لیے سورج۔ ان کے لیے یہی جان لینا کافی ہے کہ ان کو عدم سے وجود میں لایا گیا۔ ابتدا کی نسبت اس کا اعادہ آسان تر ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین پر بارش برساتا ہے، زمین اپنی موت کے بعد جی اٹھتی ہے اور اپنے اندر بکھرے ہوئے بیجوں کو اگاتی ہے۔ [11]﴿قُلۡ يَتَوَفّٰىكُمۡ مَّلَكُ الۡمَوۡتِ الَّذِيۡ وُكِّلَ بِكُمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے وہ تمھاری روحیں قبض کرلیتا ہے۔‘‘ یعنی ارواح کا قبض کرنا جس کے سپرد کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ مددگار فرشتے بھی ہیں۔ ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ تم نے قیامت کا انکار کیا ہے اس لیے دیکھو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ کیا کرتا ہے۔

السجدة 32:11

اور انھوں نے کہا: کیا جب ہم گم ہو جائیں گے زمین میں تو کیا ہم بے شک البتہ نئی پیدائش میں (ظاہر) ہوں گے؟ (نہیں)بلکہ وہ تو ملاقات ہی سے، اپنے رب کی، انکار کرنے والے ہیں (10) کہہ دیجیے: فوت کرتا ہے تم کو فرشتہ موت کا، وہ جو مقرر کیا گیا ہے تم پر، پھر اپنے رب ہی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (11) [10] قیامت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کی تکذیب کرنے والوں نے کہا: ﴿ءَاِذَا ضَلَلۡنَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ جب ہم بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو کر ایسی ایسی جگہوں میں بکھر جائیں گے جن کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو گا۔ ﴿ءَاِنَّا لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ ﴾ تو کیا ہمیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا۔ ان کے خیال میں یہ بعید ترین چیز ہے اور ایسا خیال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالق کائنات کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرتے ہیں اور ان کا یہ کلام تلاش حقیقت کی خاطر نہیں، بلکہ یہ تو ظلم، عناد، اپنے رب کی ملاقات سے انکار اور کفر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿بَلۡ هُمۡ بِلِقَآئِ رَبِّهِمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات سے انکار کرتے ہیں۔‘‘ ان کے کلام ہی سے ان کی غرض و غایت معلوم ہو جاتی ہے ورنہ اگر ان کا مقصد بیان حق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے ایسے قطعی دلائل بیان کرتا جو بصیرت کے لیے اتنے ہی نمایاں ہوتے جتنا بصارت کے لیے سورج۔ ان کے لیے یہی جان لینا کافی ہے کہ ان کو عدم سے وجود میں لایا گیا۔ ابتدا کی نسبت اس کا اعادہ آسان تر ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین پر بارش برساتا ہے، زمین اپنی موت کے بعد جی اٹھتی ہے اور اپنے اندر بکھرے ہوئے بیجوں کو اگاتی ہے۔ [11]﴿قُلۡ يَتَوَفّٰىكُمۡ مَّلَكُ الۡمَوۡتِ الَّذِيۡ وُكِّلَ بِكُمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے وہ تمھاری روحیں قبض کرلیتا ہے۔‘‘ یعنی ارواح کا قبض کرنا جس کے سپرد کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ مددگار فرشتے بھی ہیں۔ ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ تم نے قیامت کا انکار کیا ہے اس لیے دیکھو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ کیا کرتا ہے۔

السجدة 32:12

اور اگر آپ دیکھیں، جب مجرم لوگ جھکائے ہوئے ہوں گے سر اپنے نزدیک اپنے رب کے (تو کہیں گے:) اے ہمارے رب! دیکھ لیا ہم نے اور سن لیا ہم نے، پس واپس بھیج ہمیں، کریں ہم نیک عمل، بے شک ہم یقین کرنے والے ہیں (12) اور اگر ہم چاہتے تو دے دیتے ہم ہر نفس کو ہدایت اس کی، لیکن ثابت ہو گیا قول (وعدہ) میری طرف سے کہ البتہ میں ضرور بھروں گا جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے (13) پس چکھو تم (عذاب) بوجہ اس کےجوبھلائے رکھا تم نے ملاقات کو اپنے اس دن کی، بے شک (آج) بھلا دیا ہم نے تم کو اور چکھو تم عذاب ہمیشہ کا، بسبب اس کے جو تھے تم عمل کرتے (14) [12] اللہ تبارک وتعالیٰ نے قیامت کے روز ان کے اپنی طرف لوٹنے کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد، اپنے حضور ان کی حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں، جبکہ گناہ گار‘‘ جنھوں نے بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کیا ﴿نَاكِسُوۡا رُءُوۡسِهِمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ خشوع و خضوع کے ساتھ سرنگوں ہو کر، اپنے جرائم کا اقرار کرتے ہوئے، واپس لوٹائے جانے کی درخواست کر کے عرض کریں گے:﴿رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔‘‘ یعنی تمام معاملہ ہمارے سامنے واضح ہو گیا ہم نے اسے عیاں طور پر دیکھ لیا اور ہمارے لیے عین الیقین بن گیا۔ ﴿فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں بلاشبہ ہم یقین کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جن حقائق کو ہم جھٹلایا کرتے تھے اب ہمیں ان کا یقین آ گیا ہے۔ تو آپ بہت برا معاملہ، ہولناک حالات، خائب و خاسر لوگ اور نامقبول دعائیں دیکھیں گے، کیونکہ مہلت کا وقت تو گزر چکا۔ [13] اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر ہے کہ وہ ان کے اور کفرومعاصی کے درمیان سے نکل گیا۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَلَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدٰؔىهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔‘‘ یعنی ہم تمام لوگوں کو ہدایت سے نواز کر ہدایت پر جمع کر دیتے۔ ہماری مشیت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مگر ہماری حکمت یہ نہیں چاہتی کہ تمام لوگ ہدایت پر جمع ہوں، اسی لیے فرمایا:﴿وَلٰكِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّيۡ ﴾ ’’لیکن میری یہ بات بالک حق ہوچکی ہے۔‘‘ یعنی میرا حکم واجب ہو گیا اور اس طرح ثابت ہو گیا کہ اس میں تغیر کا کوئی گزر نہیں ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔‘‘ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا جس سے کوئی مفر نہیں۔ اس کے اسباب، یعنی کفر ومعاصی ضرور متحقق ہوں گے۔ [14]﴿فَذُوۡقُوۡا بِمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’پس چکھو تم (عذاب) اس دن کی ملاقات کو بھول جانے کی وجہ سے۔‘‘ یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا، جن پر ذلت طاری ہو چکی ہو گی اور دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی درخواست کر رہے ہوں گے تاکہ اپنے اعمال کی تلافی کر سکیں، واپس لوٹنے کا وقت چلا گیا، اب عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں، لہٰذا اب تم دردناک عذاب کا مزا چکھو، اس پاداش میں کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا تھا۔ نسیان کی یہ قسم نسیان ترک ہے، یعنی تم نے اللہ تعالیٰ سے منہ پھیرا اور اس کی خاطر عمل کو ترک کر دیا گویا کہ تم سمجھتے تھے کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے نہ اس سے ملاقات کرنی ہے۔ ﴿اِنَّا نَسِيۡنٰكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم نے بھی تمھیں بھلا دیا۔‘‘ یعنی ہم نے تمھیں عذاب میں چھوڑ دیا۔ یہ جزا تمھارے عمل کی جنس میں سے ہے۔ جس طرح تم نے بھلائے رکھا اس طرح تمھیں بھی بھلا دیا گیا۔ ﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ ﴾ کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب کا مزا چکھو کیونکہ جب عذاب کی مدت اور انتہا مقرر ہو تو اس میں کسی حد تک تخفیف کا پہلو پایا جاتا ہے، رہا جہنم کا عذاب... اللہ تعالیٰ اس عذاب سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے... تو اس عذاب میں کوئی راحت ہو گی نہ ان پر یہ عذاب کبھی منقطع ہو گا۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے اعمال کی وجہ سے۔‘‘ یعنی کفر، فسق اور معاصی کی پاداش میں۔

السجدة 32:13

اور اگر آپ دیکھیں، جب مجرم لوگ جھکائے ہوئے ہوں گے سر اپنے نزدیک اپنے رب کے (تو کہیں گے:) اے ہمارے رب! دیکھ لیا ہم نے اور سن لیا ہم نے، پس واپس بھیج ہمیں، کریں ہم نیک عمل، بے شک ہم یقین کرنے والے ہیں (12) اور اگر ہم چاہتے تو دے دیتے ہم ہر نفس کو ہدایت اس کی، لیکن ثابت ہو گیا قول (وعدہ) میری طرف سے کہ البتہ میں ضرور بھروں گا جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے (13) پس چکھو تم (عذاب) بوجہ اس کےجوبھلائے رکھا تم نے ملاقات کو اپنے اس دن کی، بے شک (آج) بھلا دیا ہم نے تم کو اور چکھو تم عذاب ہمیشہ کا، بسبب اس کے جو تھے تم عمل کرتے (14) [12] اللہ تبارک وتعالیٰ نے قیامت کے روز ان کے اپنی طرف لوٹنے کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد، اپنے حضور ان کی حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں، جبکہ گناہ گار‘‘ جنھوں نے بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کیا ﴿نَاكِسُوۡا رُءُوۡسِهِمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ خشوع و خضوع کے ساتھ سرنگوں ہو کر، اپنے جرائم کا اقرار کرتے ہوئے، واپس لوٹائے جانے کی درخواست کر کے عرض کریں گے:﴿رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔‘‘ یعنی تمام معاملہ ہمارے سامنے واضح ہو گیا ہم نے اسے عیاں طور پر دیکھ لیا اور ہمارے لیے عین الیقین بن گیا۔ ﴿فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں بلاشبہ ہم یقین کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جن حقائق کو ہم جھٹلایا کرتے تھے اب ہمیں ان کا یقین آ گیا ہے۔ تو آپ بہت برا معاملہ، ہولناک حالات، خائب و خاسر لوگ اور نامقبول دعائیں دیکھیں گے، کیونکہ مہلت کا وقت تو گزر چکا۔ [13] اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر ہے کہ وہ ان کے اور کفرومعاصی کے درمیان سے نکل گیا۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَلَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدٰؔىهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔‘‘ یعنی ہم تمام لوگوں کو ہدایت سے نواز کر ہدایت پر جمع کر دیتے۔ ہماری مشیت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مگر ہماری حکمت یہ نہیں چاہتی کہ تمام لوگ ہدایت پر جمع ہوں، اسی لیے فرمایا:﴿وَلٰكِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّيۡ ﴾ ’’لیکن میری یہ بات بالک حق ہوچکی ہے۔‘‘ یعنی میرا حکم واجب ہو گیا اور اس طرح ثابت ہو گیا کہ اس میں تغیر کا کوئی گزر نہیں ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔‘‘ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا جس سے کوئی مفر نہیں۔ اس کے اسباب، یعنی کفر ومعاصی ضرور متحقق ہوں گے۔ [14]﴿فَذُوۡقُوۡا بِمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’پس چکھو تم (عذاب) اس دن کی ملاقات کو بھول جانے کی وجہ سے۔‘‘ یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا، جن پر ذلت طاری ہو چکی ہو گی اور دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی درخواست کر رہے ہوں گے تاکہ اپنے اعمال کی تلافی کر سکیں، واپس لوٹنے کا وقت چلا گیا، اب عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں، لہٰذا اب تم دردناک عذاب کا مزا چکھو، اس پاداش میں کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا تھا۔ نسیان کی یہ قسم نسیان ترک ہے، یعنی تم نے اللہ تعالیٰ سے منہ پھیرا اور اس کی خاطر عمل کو ترک کر دیا گویا کہ تم سمجھتے تھے کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے نہ اس سے ملاقات کرنی ہے۔ ﴿اِنَّا نَسِيۡنٰكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم نے بھی تمھیں بھلا دیا۔‘‘ یعنی ہم نے تمھیں عذاب میں چھوڑ دیا۔ یہ جزا تمھارے عمل کی جنس میں سے ہے۔ جس طرح تم نے بھلائے رکھا اس طرح تمھیں بھی بھلا دیا گیا۔ ﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ ﴾ کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب کا مزا چکھو کیونکہ جب عذاب کی مدت اور انتہا مقرر ہو تو اس میں کسی حد تک تخفیف کا پہلو پایا جاتا ہے، رہا جہنم کا عذاب... اللہ تعالیٰ اس عذاب سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے... تو اس عذاب میں کوئی راحت ہو گی نہ ان پر یہ عذاب کبھی منقطع ہو گا۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے اعمال کی وجہ سے۔‘‘ یعنی کفر، فسق اور معاصی کی پاداش میں۔

السجدة 32:14

اور اگر آپ دیکھیں، جب مجرم لوگ جھکائے ہوئے ہوں گے سر اپنے نزدیک اپنے رب کے (تو کہیں گے:) اے ہمارے رب! دیکھ لیا ہم نے اور سن لیا ہم نے، پس واپس بھیج ہمیں، کریں ہم نیک عمل، بے شک ہم یقین کرنے والے ہیں (12) اور اگر ہم چاہتے تو دے دیتے ہم ہر نفس کو ہدایت اس کی، لیکن ثابت ہو گیا قول (وعدہ) میری طرف سے کہ البتہ میں ضرور بھروں گا جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے (13) پس چکھو تم (عذاب) بوجہ اس کےجوبھلائے رکھا تم نے ملاقات کو اپنے اس دن کی، بے شک (آج) بھلا دیا ہم نے تم کو اور چکھو تم عذاب ہمیشہ کا، بسبب اس کے جو تھے تم عمل کرتے (14) [12] اللہ تبارک وتعالیٰ نے قیامت کے روز ان کے اپنی طرف لوٹنے کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد، اپنے حضور ان کی حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں، جبکہ گناہ گار‘‘ جنھوں نے بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کیا ﴿نَاكِسُوۡا رُءُوۡسِهِمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ خشوع و خضوع کے ساتھ سرنگوں ہو کر، اپنے جرائم کا اقرار کرتے ہوئے، واپس لوٹائے جانے کی درخواست کر کے عرض کریں گے:﴿رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔‘‘ یعنی تمام معاملہ ہمارے سامنے واضح ہو گیا ہم نے اسے عیاں طور پر دیکھ لیا اور ہمارے لیے عین الیقین بن گیا۔ ﴿فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں بلاشبہ ہم یقین کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جن حقائق کو ہم جھٹلایا کرتے تھے اب ہمیں ان کا یقین آ گیا ہے۔ تو آپ بہت برا معاملہ، ہولناک حالات، خائب و خاسر لوگ اور نامقبول دعائیں دیکھیں گے، کیونکہ مہلت کا وقت تو گزر چکا۔ [13] اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر ہے کہ وہ ان کے اور کفرومعاصی کے درمیان سے نکل گیا۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَلَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدٰؔىهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔‘‘ یعنی ہم تمام لوگوں کو ہدایت سے نواز کر ہدایت پر جمع کر دیتے۔ ہماری مشیت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مگر ہماری حکمت یہ نہیں چاہتی کہ تمام لوگ ہدایت پر جمع ہوں، اسی لیے فرمایا:﴿وَلٰكِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّيۡ ﴾ ’’لیکن میری یہ بات بالک حق ہوچکی ہے۔‘‘ یعنی میرا حکم واجب ہو گیا اور اس طرح ثابت ہو گیا کہ اس میں تغیر کا کوئی گزر نہیں ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔‘‘ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا جس سے کوئی مفر نہیں۔ اس کے اسباب، یعنی کفر ومعاصی ضرور متحقق ہوں گے۔ [14]﴿فَذُوۡقُوۡا بِمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’پس چکھو تم (عذاب) اس دن کی ملاقات کو بھول جانے کی وجہ سے۔‘‘ یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا، جن پر ذلت طاری ہو چکی ہو گی اور دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی درخواست کر رہے ہوں گے تاکہ اپنے اعمال کی تلافی کر سکیں، واپس لوٹنے کا وقت چلا گیا، اب عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں، لہٰذا اب تم دردناک عذاب کا مزا چکھو، اس پاداش میں کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا تھا۔ نسیان کی یہ قسم نسیان ترک ہے، یعنی تم نے اللہ تعالیٰ سے منہ پھیرا اور اس کی خاطر عمل کو ترک کر دیا گویا کہ تم سمجھتے تھے کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے نہ اس سے ملاقات کرنی ہے۔ ﴿اِنَّا نَسِيۡنٰكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم نے بھی تمھیں بھلا دیا۔‘‘ یعنی ہم نے تمھیں عذاب میں چھوڑ دیا۔ یہ جزا تمھارے عمل کی جنس میں سے ہے۔ جس طرح تم نے بھلائے رکھا اس طرح تمھیں بھی بھلا دیا گیا۔ ﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ ﴾ کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب کا مزا چکھو کیونکہ جب عذاب کی مدت اور انتہا مقرر ہو تو اس میں کسی حد تک تخفیف کا پہلو پایا جاتا ہے، رہا جہنم کا عذاب... اللہ تعالیٰ اس عذاب سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے... تو اس عذاب میں کوئی راحت ہو گی نہ ان پر یہ عذاب کبھی منقطع ہو گا۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے اعمال کی وجہ سے۔‘‘ یعنی کفر، فسق اور معاصی کی پاداش میں۔

السجدة 32:15

بے شک ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر صرف وہی لوگ کہ جب نصیحت کیے جاتے ہیں وہ ان کی تو گر پڑتے ہیں وہ سجدہ کرتے ہوئے اور وہ تسبیح کرتے ہیں حمد کے ساتھ اپنے رب کی اور وہ نہیں تکبر کرتے (15) علیحدہ رہتے ہیں ان کے پہلو خواب گاہوں سے، وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو خوف سے اور امید کرتے ہوئے اور کچھ اس میں سے جو ہم نے انھیں رزق دیا، وہ خرچ کرتے ہیں (16) پس نہیں جانتا کوئی نفس وہ جو چھپا رکھی گئی ہے ان کے لیے ٹھنڈک آنکھوں کی، بدلہ (دینے کے لیے) ان کا جو تھے وہ عمل کرتے (17) [15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عذاب کا ذکر کرنے کے بعد، جو اس نے اپنی آیتوں کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے، اہل ایمان کا ذکر فرمایا اور ان کے ثواب کا وصف بیان کیا، جو ان کے لیے تیار کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا ﴾ یعنی جو ہماری آیتوں پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں اور جن میں ایمان کے شواہد پائے جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا ﴾ جن کے سامنے جب قرآن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے، رسولوں کے توسط سے ان کے پاس نصیحتیں آتی ہیں، انھیں یاددہانی کرائی جاتی ہے تو وہ اسے غور سے سنتے ہیں، ان کو قبول کر کے ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ﴿خَرُّوۡا سُجَّدًا ﴾ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے سامنے فروتنی کرتے ہوئے، ذکر الٰہی کے خضوع اور اس کی معرفت کی فرحت کے ساتھ سجدہ ریز ہو جاتے ہیں ﴿وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر سے الگ تھلگ رہتے ہیں۔‘‘ وہ اپنے دلوں میں تکبر رکھتے ہیں نہ بدن سے اس کا اظہار کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل نہ کریں بلکہ اس کے برعکس وہ آیات الٰہی کے سامنے سرافگندہ ہو جاتے ہیں، ان کو انشراح صدر اور تسلیم و رضا کے ساتھ قبول کرتے ہیں، ان کے ذریعے سے رب رحیم کی رضا حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔ [16]﴿تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ ﴾ ان کے پہلو نہایت بے قراری سے ان کے آرام دہ بستروں سے علیحدہ رہتے ہیں اور وہ ایسی چیز میں مصروف رہتے ہیں جو ان کے نزدیک ان آرام دہ بستروں سے زیادہ لذیذ اور زیادہ محبوب ہے۔ اس سے مراد رات کے وقت نماز اور اللہ سے مناجات ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ ﴾ دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی نقصانات کو روکنے کے لیے اپنے رب کو پکارتے ہیں ﴿خَوۡفًا وَّطَمَعًا ﴾خوف اور امید دونوں اوصاف کو یکجا کر کے، اس خوف کے ساتھ کہ کہیں ان کے اعمال ٹھکرا نہ دیے جائیں اور اس امید کے ساتھ کہ ان کے اعمال کو شرف قبولیت حاصل ہو جائے گا۔ نیز اس خوف سے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں نہ آ جائیں اور اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ انھیں ثواب سے سرفراز فرمائے گا۔﴿وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو ہم نے انھیں دیا ہے‘‘ خواہ وہ تھوڑا رزق ہو یا زیادہ ﴿يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’وہ خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کو کسی قید سے مقید نہیں کیا اور نہ اس شخص پر کوئی قید لگائی ہے، جس پر خرچ کیا جائے تاکہ آیت کریمہ عموم پر دلالت کرے... تب اس میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ، کفارات، اہل و عیال اور اقارب وغیرہ پر خرچ کرنا، نفقات مستحبہ کو بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا، مالی طورپر احسان کرنا مطلقاً نیکی ہے خواہ کسی محتاج کے ساتھ یہ احسان کیا جائے یا کسی مال دار کے ساتھ، اقارب کے ساتھ کیا جائے یا اجنبیوں کے ساتھ، مگر اس احسان کے افادے میں تفاوت کے مطابق اجر میں تفاوت ہوتا ہے۔ یہ تو ہے ان کا عمل۔ کیا پس وہ شخص جو ہے مومن، مانند اس شخص کی ہے جو ہے فاسق؟ نہیں وہ برابر ہو سکتے (18) لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے ہیں باغات رہنے کے، بطور مہمانی بدلہ (میں) ان کے جوتھے وہ کرتے (19) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے فسق کیا، تو ان کا ٹھکانا آگ ہے، جب بھی ارادہ کریں گے وہ یہ کہ نکلیں وہ اس سے تو لوٹا دیے جائیں گے اسی میں اور کہا جائے گا ان سے: چکھو تم عذاب آگ کا، وہ جو تھے تم اسے جھٹلاتے(20)

السجدة 32:16

بے شک ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر صرف وہی لوگ کہ جب نصیحت کیے جاتے ہیں وہ ان کی تو گر پڑتے ہیں وہ سجدہ کرتے ہوئے اور وہ تسبیح کرتے ہیں حمد کے ساتھ اپنے رب کی اور وہ نہیں تکبر کرتے (15) علیحدہ رہتے ہیں ان کے پہلو خواب گاہوں سے، وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو خوف سے اور امید کرتے ہوئے اور کچھ اس میں سے جو ہم نے انھیں رزق دیا، وہ خرچ کرتے ہیں (16) پس نہیں جانتا کوئی نفس وہ جو چھپا رکھی گئی ہے ان کے لیے ٹھنڈک آنکھوں کی، بدلہ (دینے کے لیے) ان کا جو تھے وہ عمل کرتے (17) [15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عذاب کا ذکر کرنے کے بعد، جو اس نے اپنی آیتوں کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے، اہل ایمان کا ذکر فرمایا اور ان کے ثواب کا وصف بیان کیا، جو ان کے لیے تیار کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا ﴾ یعنی جو ہماری آیتوں پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں اور جن میں ایمان کے شواہد پائے جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا ﴾ جن کے سامنے جب قرآن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے، رسولوں کے توسط سے ان کے پاس نصیحتیں آتی ہیں، انھیں یاددہانی کرائی جاتی ہے تو وہ اسے غور سے سنتے ہیں، ان کو قبول کر کے ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ﴿خَرُّوۡا سُجَّدًا ﴾ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے سامنے فروتنی کرتے ہوئے، ذکر الٰہی کے خضوع اور اس کی معرفت کی فرحت کے ساتھ سجدہ ریز ہو جاتے ہیں ﴿وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر سے الگ تھلگ رہتے ہیں۔‘‘ وہ اپنے دلوں میں تکبر رکھتے ہیں نہ بدن سے اس کا اظہار کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل نہ کریں بلکہ اس کے برعکس وہ آیات الٰہی کے سامنے سرافگندہ ہو جاتے ہیں، ان کو انشراح صدر اور تسلیم و رضا کے ساتھ قبول کرتے ہیں، ان کے ذریعے سے رب رحیم کی رضا حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔ [16]﴿تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ ﴾ ان کے پہلو نہایت بے قراری سے ان کے آرام دہ بستروں سے علیحدہ رہتے ہیں اور وہ ایسی چیز میں مصروف رہتے ہیں جو ان کے نزدیک ان آرام دہ بستروں سے زیادہ لذیذ اور زیادہ محبوب ہے۔ اس سے مراد رات کے وقت نماز اور اللہ سے مناجات ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ ﴾ دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی نقصانات کو روکنے کے لیے اپنے رب کو پکارتے ہیں ﴿خَوۡفًا وَّطَمَعًا ﴾خوف اور امید دونوں اوصاف کو یکجا کر کے، اس خوف کے ساتھ کہ کہیں ان کے اعمال ٹھکرا نہ دیے جائیں اور اس امید کے ساتھ کہ ان کے اعمال کو شرف قبولیت حاصل ہو جائے گا۔ نیز اس خوف سے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں نہ آ جائیں اور اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ انھیں ثواب سے سرفراز فرمائے گا۔﴿وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو ہم نے انھیں دیا ہے‘‘ خواہ وہ تھوڑا رزق ہو یا زیادہ ﴿يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’وہ خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کو کسی قید سے مقید نہیں کیا اور نہ اس شخص پر کوئی قید لگائی ہے، جس پر خرچ کیا جائے تاکہ آیت کریمہ عموم پر دلالت کرے... تب اس میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ، کفارات، اہل و عیال اور اقارب وغیرہ پر خرچ کرنا، نفقات مستحبہ کو بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا، مالی طورپر احسان کرنا مطلقاً نیکی ہے خواہ کسی محتاج کے ساتھ یہ احسان کیا جائے یا کسی مال دار کے ساتھ، اقارب کے ساتھ کیا جائے یا اجنبیوں کے ساتھ، مگر اس احسان کے افادے میں تفاوت کے مطابق اجر میں تفاوت ہوتا ہے۔ یہ تو ہے ان کا عمل۔ کیا پس وہ شخص جو ہے مومن، مانند اس شخص کی ہے جو ہے فاسق؟ نہیں وہ برابر ہو سکتے (18) لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے ہیں باغات رہنے کے، بطور مہمانی بدلہ (میں) ان کے جوتھے وہ کرتے (19) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے فسق کیا، تو ان کا ٹھکانا آگ ہے، جب بھی ارادہ کریں گے وہ یہ کہ نکلیں وہ اس سے تو لوٹا دیے جائیں گے اسی میں اور کہا جائے گا ان سے: چکھو تم عذاب آگ کا، وہ جو تھے تم اسے جھٹلاتے(20)

السجدة 32:17

بے شک ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر صرف وہی لوگ کہ جب نصیحت کیے جاتے ہیں وہ ان کی تو گر پڑتے ہیں وہ سجدہ کرتے ہوئے اور وہ تسبیح کرتے ہیں حمد کے ساتھ اپنے رب کی اور وہ نہیں تکبر کرتے (15) علیحدہ رہتے ہیں ان کے پہلو خواب گاہوں سے، وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو خوف سے اور امید کرتے ہوئے اور کچھ اس میں سے جو ہم نے انھیں رزق دیا، وہ خرچ کرتے ہیں (16) پس نہیں جانتا کوئی نفس وہ جو چھپا رکھی گئی ہے ان کے لیے ٹھنڈک آنکھوں کی، بدلہ (دینے کے لیے) ان کا جو تھے وہ عمل کرتے (17) [15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عذاب کا ذکر کرنے کے بعد، جو اس نے اپنی آیتوں کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے، اہل ایمان کا ذکر فرمایا اور ان کے ثواب کا وصف بیان کیا، جو ان کے لیے تیار کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا ﴾ یعنی جو ہماری آیتوں پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں اور جن میں ایمان کے شواہد پائے جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا ﴾ جن کے سامنے جب قرآن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے، رسولوں کے توسط سے ان کے پاس نصیحتیں آتی ہیں، انھیں یاددہانی کرائی جاتی ہے تو وہ اسے غور سے سنتے ہیں، ان کو قبول کر کے ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ﴿خَرُّوۡا سُجَّدًا ﴾ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے سامنے فروتنی کرتے ہوئے، ذکر الٰہی کے خضوع اور اس کی معرفت کی فرحت کے ساتھ سجدہ ریز ہو جاتے ہیں ﴿وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر سے الگ تھلگ رہتے ہیں۔‘‘ وہ اپنے دلوں میں تکبر رکھتے ہیں نہ بدن سے اس کا اظہار کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل نہ کریں بلکہ اس کے برعکس وہ آیات الٰہی کے سامنے سرافگندہ ہو جاتے ہیں، ان کو انشراح صدر اور تسلیم و رضا کے ساتھ قبول کرتے ہیں، ان کے ذریعے سے رب رحیم کی رضا حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔ [16]﴿تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ ﴾ ان کے پہلو نہایت بے قراری سے ان کے آرام دہ بستروں سے علیحدہ رہتے ہیں اور وہ ایسی چیز میں مصروف رہتے ہیں جو ان کے نزدیک ان آرام دہ بستروں سے زیادہ لذیذ اور زیادہ محبوب ہے۔ اس سے مراد رات کے وقت نماز اور اللہ سے مناجات ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ ﴾ دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی نقصانات کو روکنے کے لیے اپنے رب کو پکارتے ہیں ﴿خَوۡفًا وَّطَمَعًا ﴾خوف اور امید دونوں اوصاف کو یکجا کر کے، اس خوف کے ساتھ کہ کہیں ان کے اعمال ٹھکرا نہ دیے جائیں اور اس امید کے ساتھ کہ ان کے اعمال کو شرف قبولیت حاصل ہو جائے گا۔ نیز اس خوف سے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں نہ آ جائیں اور اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ انھیں ثواب سے سرفراز فرمائے گا۔﴿وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو ہم نے انھیں دیا ہے‘‘ خواہ وہ تھوڑا رزق ہو یا زیادہ ﴿يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’وہ خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کو کسی قید سے مقید نہیں کیا اور نہ اس شخص پر کوئی قید لگائی ہے، جس پر خرچ کیا جائے تاکہ آیت کریمہ عموم پر دلالت کرے... تب اس میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ، کفارات، اہل و عیال اور اقارب وغیرہ پر خرچ کرنا، نفقات مستحبہ کو بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا، مالی طورپر احسان کرنا مطلقاً نیکی ہے خواہ کسی محتاج کے ساتھ یہ احسان کیا جائے یا کسی مال دار کے ساتھ، اقارب کے ساتھ کیا جائے یا اجنبیوں کے ساتھ، مگر اس احسان کے افادے میں تفاوت کے مطابق اجر میں تفاوت ہوتا ہے۔ یہ تو ہے ان کا عمل۔ کیا پس وہ شخص جو ہے مومن، مانند اس شخص کی ہے جو ہے فاسق؟ نہیں وہ برابر ہو سکتے (18) لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے ہیں باغات رہنے کے، بطور مہمانی بدلہ (میں) ان کے جوتھے وہ کرتے (19) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے فسق کیا، تو ان کا ٹھکانا آگ ہے، جب بھی ارادہ کریں گے وہ یہ کہ نکلیں وہ اس سے تو لوٹا دیے جائیں گے اسی میں اور کہا جائے گا ان سے: چکھو تم عذاب آگ کا، وہ جو تھے تم اسے جھٹلاتے(20)

السجدة 32:18

[17] رہی اس کی جزا، تو فرمایا:﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ ﴾ یہاں سیاق نفی میں نکرہ کا استعمال ہوا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں تمام مخلوق کے نفوس شامل ہیں یعنی کوئی نہیں جانتا ﴿مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’کہ ان کے لیے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ یعنی خیر کثیر، بے شمار نعمتیں، فرحت و سرور اور لذتیں۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان پر فرمایا: ’’میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی اس کا خیال آیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، التفسیر، باب قولہ:﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ…﴾(السجدۃ:32؍17) حدیث:4779 و صحیح مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمہا وأہلہا، باب صفۃ الجنۃ، حدیث:2824) جس طرح وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتے رہے، اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہے، انھوں نے اپنے عمل کو چھپایا پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے عمل ہی کی جنس سے جزا عطا کی ہے اس لیے ان کے اجر کو چھپا دیا، اسی لیے فرمایا:﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ اعمال کی جزا ہے جو وہ کرتے رہے ہیں۔‘‘ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ، دو متفاوت اور متباین چیزوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں عقل انسانی کو متنبہ کرتا ہے، جن کے درمیان عدم مساوات متحقق ہے۔ نیز آگاہ کرتا ہے کہ ان کے درمیان عدم مساوات اس کی حکمت کا تقاضا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اَفَمَنۡ كَانَ مُؤۡمِنًا ﴾ ’’کیا وہ جو مؤمن ہو‘‘ یعنی جس کا قلب نور ایمان سے منور اور اس کے جوارح شریعت کے تابع ہیں، نیز اس کا ایمان اپنے آثار اور ان امور کو ترک کرنے کے موجب کا تقاضا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہیں جن کا وجود ایمان کے لیے ضرر رساں ہے۔ ﴿كَمَنۡ كَانَ فَاسِقًا ﴾ ’’اس کی مثل ہے جو فاسق ہے‘‘ جس کا قلب غیر آباد اور ایمان سے خالی ہے اس کے اندر کوئی دینی داعیہ موجود نہیں۔ اس لیے اس کے جوارح جلدی سے ظلم اور جہالت کے موجبات کی وجہ سے ہر قسم کے گناہ اور معصیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے فسق کے سبب سے اپنے رب کی اطاعت سے نکل جاتا ہے۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہو سکتے ہیں؟ ﴿لَا يَسۡتَوٗنَ ﴾ عقلاً اور شرعاً کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ جس طرح دن اور رات، روشنی اور تاریکی برابر نہیں ہوتے اسی طرح قیامت کے روز مومن اور فاسق کا ثواب بھی برابر نہیں ہو گا۔ [19]﴿اَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ یعنی جو فرائض اور نوافل ادا کرتے ہیں ﴿فَلَهُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰى ﴾ ’’تو ان کے رہنے کے لیے باغ ہیں۔‘‘ یعنی وہ جنتیں جو لذتوں کا ٹھکانا، خوبصورت چیزوں کا گھر، مسرتوں کا مقام، نفوس اور قلب و روح کے لیے نعمت، ہمیشہ رہنے کی جگہ، بادشاہ معبود کے جوار رحمت، اس کے قرب سے متمتع ہونے، اس کے چہرے کا دیدار کرنے اور اس کا خطاب سننے کا مقام ہیں ﴿نُزُلًۢا﴾ یہ سب نعمتیں ان کی ضیافت اور مہمانی کے لیے ہوں گی ﴿بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ان اعمال کی وجہ سے ہے جو وہ کرتے رہے۔‘‘ پس وہ اعمال جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز کیا، انھی اعمال نے ان کو ان عالی شان منزلوں تک پہنچایا ہے، جہاں مال و دولت، لشکر، خدام اور اولاد کے ذریعے سے تو کیا جان وروح کو کھپا کر بھی نہیں پہنچا جا سکتا اور نہ ایمان اور عمل صالح کے بغیر کسی دوسری چیز کے ذریعے سے ان منزلوں کے قریب ہی پہنچا جاسکتا ہے۔ [20]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰىهُمُ النَّارُ ﴾ ’’اور رہے وہ لوگ جنھوں نے نافرمانی کی تو ان کے رہنے کے لیے دوزخ ہے۔‘‘ یعنی ان کا دائمی مستقر اور ٹھکانا جہنم ہو گا جہاں ہر نوع کا عذاب اور ہر قسم کی بدبختی جمع ہو گی اور وہ ان سے ایک گھڑی کے لیے بھی علیحدہ نہ ہو گا۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾ عذاب کی انتہائی شدت کی وجہ سے جب کبھی وہ نکلنے کا ارادہ کریں گے، انھیں دوبارہ جہنم میں دھکیل دیا جائے گا، ان سے آرام اور چین رخصت ہو جائے گا اور غم اور رنج و ملال ان پر شدت اختیار کرجائے گا۔ ﴿وَقِيۡلَ لَهُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو۔‘‘ یہ جہنم کا عذاب ہے جہاں ان کا ٹھکانا ہوگا، رہا وہ عذاب جو اس سے پہلے اور اس کا مقدمہ تھا، یعنی عذاب برزخ تو اس کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے:

السجدة 32:19

[17] رہی اس کی جزا، تو فرمایا:﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ ﴾ یہاں سیاق نفی میں نکرہ کا استعمال ہوا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں تمام مخلوق کے نفوس شامل ہیں یعنی کوئی نہیں جانتا ﴿مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’کہ ان کے لیے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ یعنی خیر کثیر، بے شمار نعمتیں، فرحت و سرور اور لذتیں۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان پر فرمایا: ’’میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی اس کا خیال آیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، التفسیر، باب قولہ:﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ…﴾(السجدۃ:32؍17) حدیث:4779 و صحیح مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمہا وأہلہا، باب صفۃ الجنۃ، حدیث:2824) جس طرح وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتے رہے، اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہے، انھوں نے اپنے عمل کو چھپایا پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے عمل ہی کی جنس سے جزا عطا کی ہے اس لیے ان کے اجر کو چھپا دیا، اسی لیے فرمایا:﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ اعمال کی جزا ہے جو وہ کرتے رہے ہیں۔‘‘ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ، دو متفاوت اور متباین چیزوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں عقل انسانی کو متنبہ کرتا ہے، جن کے درمیان عدم مساوات متحقق ہے۔ نیز آگاہ کرتا ہے کہ ان کے درمیان عدم مساوات اس کی حکمت کا تقاضا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اَفَمَنۡ كَانَ مُؤۡمِنًا ﴾ ’’کیا وہ جو مؤمن ہو‘‘ یعنی جس کا قلب نور ایمان سے منور اور اس کے جوارح شریعت کے تابع ہیں، نیز اس کا ایمان اپنے آثار اور ان امور کو ترک کرنے کے موجب کا تقاضا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہیں جن کا وجود ایمان کے لیے ضرر رساں ہے۔ ﴿كَمَنۡ كَانَ فَاسِقًا ﴾ ’’اس کی مثل ہے جو فاسق ہے‘‘ جس کا قلب غیر آباد اور ایمان سے خالی ہے اس کے اندر کوئی دینی داعیہ موجود نہیں۔ اس لیے اس کے جوارح جلدی سے ظلم اور جہالت کے موجبات کی وجہ سے ہر قسم کے گناہ اور معصیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے فسق کے سبب سے اپنے رب کی اطاعت سے نکل جاتا ہے۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہو سکتے ہیں؟ ﴿لَا يَسۡتَوٗنَ ﴾ عقلاً اور شرعاً کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ جس طرح دن اور رات، روشنی اور تاریکی برابر نہیں ہوتے اسی طرح قیامت کے روز مومن اور فاسق کا ثواب بھی برابر نہیں ہو گا۔ [19]﴿اَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ یعنی جو فرائض اور نوافل ادا کرتے ہیں ﴿فَلَهُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰى ﴾ ’’تو ان کے رہنے کے لیے باغ ہیں۔‘‘ یعنی وہ جنتیں جو لذتوں کا ٹھکانا، خوبصورت چیزوں کا گھر، مسرتوں کا مقام، نفوس اور قلب و روح کے لیے نعمت، ہمیشہ رہنے کی جگہ، بادشاہ معبود کے جوار رحمت، اس کے قرب سے متمتع ہونے، اس کے چہرے کا دیدار کرنے اور اس کا خطاب سننے کا مقام ہیں ﴿نُزُلًۢا﴾ یہ سب نعمتیں ان کی ضیافت اور مہمانی کے لیے ہوں گی ﴿بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ان اعمال کی وجہ سے ہے جو وہ کرتے رہے۔‘‘ پس وہ اعمال جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز کیا، انھی اعمال نے ان کو ان عالی شان منزلوں تک پہنچایا ہے، جہاں مال و دولت، لشکر، خدام اور اولاد کے ذریعے سے تو کیا جان وروح کو کھپا کر بھی نہیں پہنچا جا سکتا اور نہ ایمان اور عمل صالح کے بغیر کسی دوسری چیز کے ذریعے سے ان منزلوں کے قریب ہی پہنچا جاسکتا ہے۔ [20]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰىهُمُ النَّارُ ﴾ ’’اور رہے وہ لوگ جنھوں نے نافرمانی کی تو ان کے رہنے کے لیے دوزخ ہے۔‘‘ یعنی ان کا دائمی مستقر اور ٹھکانا جہنم ہو گا جہاں ہر نوع کا عذاب اور ہر قسم کی بدبختی جمع ہو گی اور وہ ان سے ایک گھڑی کے لیے بھی علیحدہ نہ ہو گا۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾ عذاب کی انتہائی شدت کی وجہ سے جب کبھی وہ نکلنے کا ارادہ کریں گے، انھیں دوبارہ جہنم میں دھکیل دیا جائے گا، ان سے آرام اور چین رخصت ہو جائے گا اور غم اور رنج و ملال ان پر شدت اختیار کرجائے گا۔ ﴿وَقِيۡلَ لَهُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو۔‘‘ یہ جہنم کا عذاب ہے جہاں ان کا ٹھکانا ہوگا، رہا وہ عذاب جو اس سے پہلے اور اس کا مقدمہ تھا، یعنی عذاب برزخ تو اس کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے:

السجدة 32:20

[17] رہی اس کی جزا، تو فرمایا:﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ ﴾ یہاں سیاق نفی میں نکرہ کا استعمال ہوا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں تمام مخلوق کے نفوس شامل ہیں یعنی کوئی نہیں جانتا ﴿مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’کہ ان کے لیے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ یعنی خیر کثیر، بے شمار نعمتیں، فرحت و سرور اور لذتیں۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان پر فرمایا: ’’میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی اس کا خیال آیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، التفسیر، باب قولہ:﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ…﴾(السجدۃ:32؍17) حدیث:4779 و صحیح مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمہا وأہلہا، باب صفۃ الجنۃ، حدیث:2824) جس طرح وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتے رہے، اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہے، انھوں نے اپنے عمل کو چھپایا پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے عمل ہی کی جنس سے جزا عطا کی ہے اس لیے ان کے اجر کو چھپا دیا، اسی لیے فرمایا:﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ اعمال کی جزا ہے جو وہ کرتے رہے ہیں۔‘‘ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ، دو متفاوت اور متباین چیزوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں عقل انسانی کو متنبہ کرتا ہے، جن کے درمیان عدم مساوات متحقق ہے۔ نیز آگاہ کرتا ہے کہ ان کے درمیان عدم مساوات اس کی حکمت کا تقاضا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اَفَمَنۡ كَانَ مُؤۡمِنًا ﴾ ’’کیا وہ جو مؤمن ہو‘‘ یعنی جس کا قلب نور ایمان سے منور اور اس کے جوارح شریعت کے تابع ہیں، نیز اس کا ایمان اپنے آثار اور ان امور کو ترک کرنے کے موجب کا تقاضا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہیں جن کا وجود ایمان کے لیے ضرر رساں ہے۔ ﴿كَمَنۡ كَانَ فَاسِقًا ﴾ ’’اس کی مثل ہے جو فاسق ہے‘‘ جس کا قلب غیر آباد اور ایمان سے خالی ہے اس کے اندر کوئی دینی داعیہ موجود نہیں۔ اس لیے اس کے جوارح جلدی سے ظلم اور جہالت کے موجبات کی وجہ سے ہر قسم کے گناہ اور معصیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے فسق کے سبب سے اپنے رب کی اطاعت سے نکل جاتا ہے۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہو سکتے ہیں؟ ﴿لَا يَسۡتَوٗنَ ﴾ عقلاً اور شرعاً کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ جس طرح دن اور رات، روشنی اور تاریکی برابر نہیں ہوتے اسی طرح قیامت کے روز مومن اور فاسق کا ثواب بھی برابر نہیں ہو گا۔ [19]﴿اَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ یعنی جو فرائض اور نوافل ادا کرتے ہیں ﴿فَلَهُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰى ﴾ ’’تو ان کے رہنے کے لیے باغ ہیں۔‘‘ یعنی وہ جنتیں جو لذتوں کا ٹھکانا، خوبصورت چیزوں کا گھر، مسرتوں کا مقام، نفوس اور قلب و روح کے لیے نعمت، ہمیشہ رہنے کی جگہ، بادشاہ معبود کے جوار رحمت، اس کے قرب سے متمتع ہونے، اس کے چہرے کا دیدار کرنے اور اس کا خطاب سننے کا مقام ہیں ﴿نُزُلًۢا﴾ یہ سب نعمتیں ان کی ضیافت اور مہمانی کے لیے ہوں گی ﴿بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ان اعمال کی وجہ سے ہے جو وہ کرتے رہے۔‘‘ پس وہ اعمال جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز کیا، انھی اعمال نے ان کو ان عالی شان منزلوں تک پہنچایا ہے، جہاں مال و دولت، لشکر، خدام اور اولاد کے ذریعے سے تو کیا جان وروح کو کھپا کر بھی نہیں پہنچا جا سکتا اور نہ ایمان اور عمل صالح کے بغیر کسی دوسری چیز کے ذریعے سے ان منزلوں کے قریب ہی پہنچا جاسکتا ہے۔ [20]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰىهُمُ النَّارُ ﴾ ’’اور رہے وہ لوگ جنھوں نے نافرمانی کی تو ان کے رہنے کے لیے دوزخ ہے۔‘‘ یعنی ان کا دائمی مستقر اور ٹھکانا جہنم ہو گا جہاں ہر نوع کا عذاب اور ہر قسم کی بدبختی جمع ہو گی اور وہ ان سے ایک گھڑی کے لیے بھی علیحدہ نہ ہو گا۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾ عذاب کی انتہائی شدت کی وجہ سے جب کبھی وہ نکلنے کا ارادہ کریں گے، انھیں دوبارہ جہنم میں دھکیل دیا جائے گا، ان سے آرام اور چین رخصت ہو جائے گا اور غم اور رنج و ملال ان پر شدت اختیار کرجائے گا۔ ﴿وَقِيۡلَ لَهُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو۔‘‘ یہ جہنم کا عذاب ہے جہاں ان کا ٹھکانا ہوگا، رہا وہ عذاب جو اس سے پہلے اور اس کا مقدمہ تھا، یعنی عذاب برزخ تو اس کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے:

السجدة 32:21

اور البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان کو عذابِ ادنیٰ پہلے عذابِ اکبر سے، تاکہ وہ (ہماری طرف) لوٹیں(21) [21] ہم رسول کی تکذیب کرنے والے فاسقوں کو نمونے کے طور پر کم تر عذاب کا مزا چکھائیں گے اور وہ برزخ کا عذاب ہے۔ پس ہم برزخ کے عذاب کا کچھ مزا ان کے مرنے سے پہلے انھیں چکھائیں گے اس سے مراد قتل وغیرہ کا عذاب ہے، جیسے غزوہ بدر میں مشرکین کو قتل کیا گیا… یا اس سے مراد موت کے وقت کا عذاب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اس کا ذکر آتا ہے:﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ ﴾(الانعام:6؍93) ’’اور کاش آپ دیکھتے، جب یہ ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے عذاب کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے، (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جانیں، آج تمھیں رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی۔‘‘ پھر برزخ میں ان کا یہ کم تر عذاب مکمل ہو جائے گا۔ یہ آیت کریمہ عذاب قبر کے واضح دلائل میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى ﴾ اور ہم انھیں قریب کے کم تر عذاب میں سے چکھائیں گے یعنی اس عذاب کا کچھ حصہ، پس یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ’’عذاب اکبر‘‘ یعنی جہنم کے عذاب سے پہلے بھی ان کو عذاب ادنیٰ میں مبتلا کیا جائے گا۔چونکہ عذاب ادنیٰ کا مزا جو انھیں دنیا میں چکھایا جائے گا، بسا اوقات اس سے موت واقع نہیں ہوتی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ انھیں عذاب ادنیٰ کا مزا اس لیے چکھاتا ہے تاکہ یہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾(الروم:30؍41) ’’بحروبر میں فساد برپا ہو گیا لوگوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے، تاکہ وہ ان کو مزا چکھائے ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔‘‘

السجدة 32:22

اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے کہ نصیحت کیا گیا وہ ساتھ آیات کے اپنے رب کی، پھر اس نے اعراض کیا ان سے بلاشبہ ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں(22) [22] یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور زیادتی کرنے والا کون ہو سکتا ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی ہو جنھیں اس کے رب نے اس کے پاس پہنچایا ہو اور وہ اپنے رسولوں کے ہاتھوں پر اپنی ربوبیت کا فیضان اور اپنی نعمت کی تکمیل کرنا چاہتا ہو۔ وہ آیات اسے اس کے دینی اور دنیاوی مصالح کے بارے میں نصیحت کرتی اور حکم دیتی ہیں، اسے دینی اور دنیاوی ضرر رساں امور سے روکتی ہیں، وہ اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ان کو ایمان و تسلیم اور شکرو اطاعت کے ساتھ قبول کیا جائے، مگر اس ظالم نے ایسے طریقے سے ان آیات کا استقبال کیا جو ان کے لائق نہ تھا۔ یہ ظالم ان پر ایمان لایا نہ ان کی پیروی کی بلکہ ان سے اعراض کرتے ہوئے ان کو چھوڑ دیا اور ان کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا یہ ان مجرموں میں سب سے بڑا مجرم ہے جو سخت سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا:﴿اِنَّا مِنَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾’’بے شک ہم گناہ گاروں سے بدلہ لینے والے ہیں۔‘‘

السجدة 32:23

اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، پس نہ ہوں آپ شک میں اس (موسیٰ) کی ملاقات سے، اور کیا ہم نے اس (تورات) کو ہدایت (کا ذریعہ) واسطے بنی اسرائیل کے(23) اور بنائے ہم نے کچھ ان میں سے پیشوا، وہ رہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم سے، جب انھوں نے صبر کیا اور تھے وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے (24) بلاشبہ آپ کا رب، وہ (ہی) فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے اس (معاملے) میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے(25) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اپنی ان آیات کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کو نصیحت کی، اور وہ قرآن مجید ہے جو اس نے نبی مصطفی حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا، تو اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ یہ قرآن کوئی انوکھی کتاب ہے نہ اس کتاب کو لانے والا رسول کوئی انوکھا رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو کتاب دی تھی جو کہ تورات ہے وہ قرآن کی تصدیق کرتی ہے اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے، دونوں کا حق ایک دوسرے کے مطابق اور موافق ہے اور دونوں کی دلیل ثابت ہے ﴿فَلَا تَكُنۡ فِيۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡ لِّقَآىِٕهٖ﴾’’پس آپ اس کے ملنے سے شک میں نہ پڑنا۔‘‘ کیونکہ حق کے دلائل و براہین ثابت ہو چکے ہیں اس لیے شک و شبہے کا کوئی مقام نہیں۔﴿وَجَعَلۡنٰهُ ﴾ ’’اور ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی اس کتاب کو جو ہم نے موسیٰ کو عطا کی ﴿هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡ﴾ ’’بنی اسرائیل کے لیے ہدایت۔‘‘ یعنی وہ اپنے دین کے اصول و فروع میں اس کتاب سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ اس کی شریعت اور قوانین صرف اسرائیلیوں کے لیے اور اس زمانے کے مطابق تھے... رہا یہ قرآن کریم تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے تمام انسانوں کے لیے ہدایت بنایا ہے کیونکہ یہ اپنے کامل اور عالی شان ہونے کی بنا پر قیامت تک کے لیے تمام مخلوق اور ان کے دینی اور دنیاوی امور میں راہنمائی عطا کرتا ہے۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِيۡۤ اُمِّ الۡكِتٰبِ لَدَيۡنَا لَعَلِيٌّ حَكِيۡمٌ﴾(الزخرف:43؍4) ’’اور بے شک یہ لوح محفوظ میں درج ہے جو ہمارے ہاں بہت عالی مرتبہ، حکمت والی کتاب ہے۔‘‘ [24]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان میں سے بنائے‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا ﴾ ایسے علماء جو شریعت اور ہدایت کے راستوں کا علم رکھتے تھے۔ وہ خود ہدایت یافتہ تھے اور اس ہدایت کے ذریعے سے دوسروں کی راہنمائی کرتے تھے۔ جو کتاب ان کی طرف نازل کی گئی وہ سراسر ہدایت تھی اور اس پر ایمان رکھنے والے دو اقسام میں منقسم تھے: (۱) ائمہ، جو اللہ کے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔ (۲) جو ان ائمہ سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔پہلی قسم کے لوگ انبیاء و رسل کے بعد سب سے بلند درجے پر فائز ہیں اور یہ صدیقین کا درجہ ہے اور یہ بلند درجہ انھیں اس لیے حاصل ہوا کہ انھوں نے تعلیم و تعلم، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت اور اس کے راستے میں پیش آنے والی اذیتوں پر صبر کیا اور نفوس کو معاصی اور شہوات سے روکا۔ ﴿وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ اور وہ آیات الٰہی پر ایمان میں درجۂ یقین پر پہنچ چکے تھے۔ یقین سے مراد وہ علم تام ہے جو عمل کا موجب ہے۔ وہ درجۂ یقین پر اس لیے پہنچے کہ انھوں نے صحیح طریقے سے علم حاصل کیا اور ان دلائل کے ذریعے سے مسائل کو اخذ کیا جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں۔ وہ مسائل سیکھتے رہے اور کثرت دلائل سے ان پر استدلال کرتے رہے یہاں تک کہ وہ درجۂ یقین پر پہنچ گئے۔ پس صبر اور یقین کے ذریعے سے دین میں امامت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ [25] کچھ مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں بنی اسرائیل میں اختلاف واقع ہوا۔ ان میں سے کچھ لوگ صحیح راہ پر تھے اور کچھ عمداً یا غیر ارادی طور پر راہ صواب سے محروم تھے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کے درمیان ان باتوں میں جن کے متعلق وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔‘‘ اور یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے کچھ مسائل کا ذکر کرتا ہے جن کی تصدیق قرآن کریم میں موجود ہے، وہی حق ہے، اس کے علاوہ وہ تمام اقوال جو اس کے خلاف ہیں، باطل ہیں۔

السجدة 32:24

اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، پس نہ ہوں آپ شک میں اس (موسیٰ) کی ملاقات سے، اور کیا ہم نے اس (تورات) کو ہدایت (کا ذریعہ) واسطے بنی اسرائیل کے(23) اور بنائے ہم نے کچھ ان میں سے پیشوا، وہ رہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم سے، جب انھوں نے صبر کیا اور تھے وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے (24) بلاشبہ آپ کا رب، وہ (ہی) فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے اس (معاملے) میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے(25) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اپنی ان آیات کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کو نصیحت کی، اور وہ قرآن مجید ہے جو اس نے نبی مصطفی حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا، تو اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ یہ قرآن کوئی انوکھی کتاب ہے نہ اس کتاب کو لانے والا رسول کوئی انوکھا رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو کتاب دی تھی جو کہ تورات ہے وہ قرآن کی تصدیق کرتی ہے اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے، دونوں کا حق ایک دوسرے کے مطابق اور موافق ہے اور دونوں کی دلیل ثابت ہے ﴿فَلَا تَكُنۡ فِيۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡ لِّقَآىِٕهٖ﴾’’پس آپ اس کے ملنے سے شک میں نہ پڑنا۔‘‘ کیونکہ حق کے دلائل و براہین ثابت ہو چکے ہیں اس لیے شک و شبہے کا کوئی مقام نہیں۔﴿وَجَعَلۡنٰهُ ﴾ ’’اور ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی اس کتاب کو جو ہم نے موسیٰ کو عطا کی ﴿هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡ﴾ ’’بنی اسرائیل کے لیے ہدایت۔‘‘ یعنی وہ اپنے دین کے اصول و فروع میں اس کتاب سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ اس کی شریعت اور قوانین صرف اسرائیلیوں کے لیے اور اس زمانے کے مطابق تھے... رہا یہ قرآن کریم تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے تمام انسانوں کے لیے ہدایت بنایا ہے کیونکہ یہ اپنے کامل اور عالی شان ہونے کی بنا پر قیامت تک کے لیے تمام مخلوق اور ان کے دینی اور دنیاوی امور میں راہنمائی عطا کرتا ہے۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِيۡۤ اُمِّ الۡكِتٰبِ لَدَيۡنَا لَعَلِيٌّ حَكِيۡمٌ﴾(الزخرف:43؍4) ’’اور بے شک یہ لوح محفوظ میں درج ہے جو ہمارے ہاں بہت عالی مرتبہ، حکمت والی کتاب ہے۔‘‘ [24]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان میں سے بنائے‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا ﴾ ایسے علماء جو شریعت اور ہدایت کے راستوں کا علم رکھتے تھے۔ وہ خود ہدایت یافتہ تھے اور اس ہدایت کے ذریعے سے دوسروں کی راہنمائی کرتے تھے۔ جو کتاب ان کی طرف نازل کی گئی وہ سراسر ہدایت تھی اور اس پر ایمان رکھنے والے دو اقسام میں منقسم تھے: (۱) ائمہ، جو اللہ کے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔ (۲) جو ان ائمہ سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔پہلی قسم کے لوگ انبیاء و رسل کے بعد سب سے بلند درجے پر فائز ہیں اور یہ صدیقین کا درجہ ہے اور یہ بلند درجہ انھیں اس لیے حاصل ہوا کہ انھوں نے تعلیم و تعلم، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت اور اس کے راستے میں پیش آنے والی اذیتوں پر صبر کیا اور نفوس کو معاصی اور شہوات سے روکا۔ ﴿وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ اور وہ آیات الٰہی پر ایمان میں درجۂ یقین پر پہنچ چکے تھے۔ یقین سے مراد وہ علم تام ہے جو عمل کا موجب ہے۔ وہ درجۂ یقین پر اس لیے پہنچے کہ انھوں نے صحیح طریقے سے علم حاصل کیا اور ان دلائل کے ذریعے سے مسائل کو اخذ کیا جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں۔ وہ مسائل سیکھتے رہے اور کثرت دلائل سے ان پر استدلال کرتے رہے یہاں تک کہ وہ درجۂ یقین پر پہنچ گئے۔ پس صبر اور یقین کے ذریعے سے دین میں امامت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ [25] کچھ مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں بنی اسرائیل میں اختلاف واقع ہوا۔ ان میں سے کچھ لوگ صحیح راہ پر تھے اور کچھ عمداً یا غیر ارادی طور پر راہ صواب سے محروم تھے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کے درمیان ان باتوں میں جن کے متعلق وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔‘‘ اور یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے کچھ مسائل کا ذکر کرتا ہے جن کی تصدیق قرآن کریم میں موجود ہے، وہی حق ہے، اس کے علاوہ وہ تمام اقوال جو اس کے خلاف ہیں، باطل ہیں۔

السجدة 32:25

اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، پس نہ ہوں آپ شک میں اس (موسیٰ) کی ملاقات سے، اور کیا ہم نے اس (تورات) کو ہدایت (کا ذریعہ) واسطے بنی اسرائیل کے(23) اور بنائے ہم نے کچھ ان میں سے پیشوا، وہ رہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم سے، جب انھوں نے صبر کیا اور تھے وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے (24) بلاشبہ آپ کا رب، وہ (ہی) فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے اس (معاملے) میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے(25) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اپنی ان آیات کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کو نصیحت کی، اور وہ قرآن مجید ہے جو اس نے نبی مصطفی حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا، تو اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ یہ قرآن کوئی انوکھی کتاب ہے نہ اس کتاب کو لانے والا رسول کوئی انوکھا رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو کتاب دی تھی جو کہ تورات ہے وہ قرآن کی تصدیق کرتی ہے اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے، دونوں کا حق ایک دوسرے کے مطابق اور موافق ہے اور دونوں کی دلیل ثابت ہے ﴿فَلَا تَكُنۡ فِيۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡ لِّقَآىِٕهٖ﴾’’پس آپ اس کے ملنے سے شک میں نہ پڑنا۔‘‘ کیونکہ حق کے دلائل و براہین ثابت ہو چکے ہیں اس لیے شک و شبہے کا کوئی مقام نہیں۔﴿وَجَعَلۡنٰهُ ﴾ ’’اور ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی اس کتاب کو جو ہم نے موسیٰ کو عطا کی ﴿هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡ﴾ ’’بنی اسرائیل کے لیے ہدایت۔‘‘ یعنی وہ اپنے دین کے اصول و فروع میں اس کتاب سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ اس کی شریعت اور قوانین صرف اسرائیلیوں کے لیے اور اس زمانے کے مطابق تھے... رہا یہ قرآن کریم تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے تمام انسانوں کے لیے ہدایت بنایا ہے کیونکہ یہ اپنے کامل اور عالی شان ہونے کی بنا پر قیامت تک کے لیے تمام مخلوق اور ان کے دینی اور دنیاوی امور میں راہنمائی عطا کرتا ہے۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِيۡۤ اُمِّ الۡكِتٰبِ لَدَيۡنَا لَعَلِيٌّ حَكِيۡمٌ﴾(الزخرف:43؍4) ’’اور بے شک یہ لوح محفوظ میں درج ہے جو ہمارے ہاں بہت عالی مرتبہ، حکمت والی کتاب ہے۔‘‘ [24]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان میں سے بنائے‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا ﴾ ایسے علماء جو شریعت اور ہدایت کے راستوں کا علم رکھتے تھے۔ وہ خود ہدایت یافتہ تھے اور اس ہدایت کے ذریعے سے دوسروں کی راہنمائی کرتے تھے۔ جو کتاب ان کی طرف نازل کی گئی وہ سراسر ہدایت تھی اور اس پر ایمان رکھنے والے دو اقسام میں منقسم تھے: (۱) ائمہ، جو اللہ کے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔ (۲) جو ان ائمہ سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔پہلی قسم کے لوگ انبیاء و رسل کے بعد سب سے بلند درجے پر فائز ہیں اور یہ صدیقین کا درجہ ہے اور یہ بلند درجہ انھیں اس لیے حاصل ہوا کہ انھوں نے تعلیم و تعلم، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت اور اس کے راستے میں پیش آنے والی اذیتوں پر صبر کیا اور نفوس کو معاصی اور شہوات سے روکا۔ ﴿وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ اور وہ آیات الٰہی پر ایمان میں درجۂ یقین پر پہنچ چکے تھے۔ یقین سے مراد وہ علم تام ہے جو عمل کا موجب ہے۔ وہ درجۂ یقین پر اس لیے پہنچے کہ انھوں نے صحیح طریقے سے علم حاصل کیا اور ان دلائل کے ذریعے سے مسائل کو اخذ کیا جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں۔ وہ مسائل سیکھتے رہے اور کثرت دلائل سے ان پر استدلال کرتے رہے یہاں تک کہ وہ درجۂ یقین پر پہنچ گئے۔ پس صبر اور یقین کے ذریعے سے دین میں امامت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ [25] کچھ مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں بنی اسرائیل میں اختلاف واقع ہوا۔ ان میں سے کچھ لوگ صحیح راہ پر تھے اور کچھ عمداً یا غیر ارادی طور پر راہ صواب سے محروم تھے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کے درمیان ان باتوں میں جن کے متعلق وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔‘‘ اور یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے کچھ مسائل کا ذکر کرتا ہے جن کی تصدیق قرآن کریم میں موجود ہے، وہی حق ہے، اس کے علاوہ وہ تمام اقوال جو اس کے خلاف ہیں، باطل ہیں۔

السجدة 32:26

کیا نہیں واضح ہوا ان کے لیے کہ کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں، چلتے (پھرتے) ہیں وہ ان کے گھروں میں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں، کیا پس وہ نہیں سنتے؟(26)کیا نہیں دیکھا انھوں نے، بے شک ہم ہانک لے جاتے ہیں پانی طرف چٹیل زمین کی، پس نکالتے ہیں ہم اس کے ذریعے سے کھیتی، کھاتے ہیں اس سے چوپائے ان کے اور وہ خود بھی، کیا پس وہ نہیں دیکھتے؟(27) [26] کیا رسول (ﷺ)کی تکذیب کرنے والے ان کفار پر واضح نہیں ہوا اور انھیں راہ صواب نہیں ملی کہ ﴿كَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ ﴾ ’’ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا۔‘‘ جو ان کی گمراہی کے مسلک پر گامزن تھے۔ ﴿يَمۡشُوۡنَ فِيۡ مَسٰكِنِهِمۡ ﴾ ’’ان کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں‘‘ اور وہ عیاں طور پر ان کے مساکن کا مشاہدہ کرتے ہیں، مثلاً: قوم ہود، قوم صالح اور قوم لوط کے مساکن۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں‘‘ جن کے ذریعے سے وہ رسولوں کی صداقت اور شرک اور شر پر مبنی اپنے موقف کے بطلان پر استدلال کر سکتے ہیں نیز جو ان جیسے کرتوت کرے گا اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو گا جو ان لوگوں کے ساتھ ہوا تھا۔ نیز وہ اس پر بھی استدلال کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور حشر کے لیے ان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ﴿اَفَلَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ کیا وہ آیات الٰہی کو سن کر یاد نہیں رکھتے کہ ان سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر ان کی سماعت صحیح ہوتی اور وہ عقل راجح سے بہرہ مند ہوتے تو اس حالت پر کبھی بھی قائم نہ رہتے جس میں ہلاکت یقینی ہے۔ [27]﴿اَوَلَمۡ يَرَوۡا ﴾ کیا انھوں نے اپنی کھلی آنکھوں کے ساتھ ہماری نعمت اور ہماری حکمت کاملہ کا مشاہدہ نہیں کیا؟ ﴿اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَى الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ﴾ ’’ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں۔‘‘ یعنی اس زمین کی طرف جو بے آب و گیاہ ہے اللہ تعالیٰ بارش کو لاتا ہے جو اس سے قبل موجود نہ تھی وہ اس زمین پر بادل برساتا ہے یا دریاؤ ں سے سیراب کرتا ہے۔ ﴿فَنُخۡرِجُ بِهٖ زَرۡعًا ﴾ پس ہم اس پانی کے ذریعے سے مختلف انواع کی نباتات اگاتے ہیں ﴿تَاۡكُلُ مِنۡهُ اَنۡعَامُهُمۡ ﴾ ’’جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد مویشیوں کا چارہ ہے ﴿وَاَنۡفُسُهُمۡ ﴾’’اور وہ خود بھی‘‘ اس سے مراد آدمیوں کا کھانا ہے۔﴿اَفَلَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو دیکھتے نہیں جس کے ذریعے سے اس نے زمین اور بندوں کو زندگی بخشی؟ اگر وہ دیکھتے تو انھیں صاف نظر آتا اور اس بصارت اور بصیرت کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کرتے، مگر ان پر اندھا پن غالب اور غفلت چھائی ہوئی ہے، لہٰذا انھوں نے اس بارے میں مردوں کی طرح نہیں دیکھا۔ بس انھوں نے اس کو غفلت کی نظر سے اور محض عادت کے طور پر دیکھا، اس لیے انھیں بھلائی کی توفیق نہیں ملی۔

السجدة 32:27

کیا نہیں واضح ہوا ان کے لیے کہ کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں، چلتے (پھرتے) ہیں وہ ان کے گھروں میں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں، کیا پس وہ نہیں سنتے؟(26)کیا نہیں دیکھا انھوں نے، بے شک ہم ہانک لے جاتے ہیں پانی طرف چٹیل زمین کی، پس نکالتے ہیں ہم اس کے ذریعے سے کھیتی، کھاتے ہیں اس سے چوپائے ان کے اور وہ خود بھی، کیا پس وہ نہیں دیکھتے؟(27) [26] کیا رسول (ﷺ)کی تکذیب کرنے والے ان کفار پر واضح نہیں ہوا اور انھیں راہ صواب نہیں ملی کہ ﴿كَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ ﴾ ’’ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا۔‘‘ جو ان کی گمراہی کے مسلک پر گامزن تھے۔ ﴿يَمۡشُوۡنَ فِيۡ مَسٰكِنِهِمۡ ﴾ ’’ان کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں‘‘ اور وہ عیاں طور پر ان کے مساکن کا مشاہدہ کرتے ہیں، مثلاً: قوم ہود، قوم صالح اور قوم لوط کے مساکن۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں‘‘ جن کے ذریعے سے وہ رسولوں کی صداقت اور شرک اور شر پر مبنی اپنے موقف کے بطلان پر استدلال کر سکتے ہیں نیز جو ان جیسے کرتوت کرے گا اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو گا جو ان لوگوں کے ساتھ ہوا تھا۔ نیز وہ اس پر بھی استدلال کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور حشر کے لیے ان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ﴿اَفَلَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ کیا وہ آیات الٰہی کو سن کر یاد نہیں رکھتے کہ ان سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر ان کی سماعت صحیح ہوتی اور وہ عقل راجح سے بہرہ مند ہوتے تو اس حالت پر کبھی بھی قائم نہ رہتے جس میں ہلاکت یقینی ہے۔ [27]﴿اَوَلَمۡ يَرَوۡا ﴾ کیا انھوں نے اپنی کھلی آنکھوں کے ساتھ ہماری نعمت اور ہماری حکمت کاملہ کا مشاہدہ نہیں کیا؟ ﴿اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَى الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ﴾ ’’ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں۔‘‘ یعنی اس زمین کی طرف جو بے آب و گیاہ ہے اللہ تعالیٰ بارش کو لاتا ہے جو اس سے قبل موجود نہ تھی وہ اس زمین پر بادل برساتا ہے یا دریاؤ ں سے سیراب کرتا ہے۔ ﴿فَنُخۡرِجُ بِهٖ زَرۡعًا ﴾ پس ہم اس پانی کے ذریعے سے مختلف انواع کی نباتات اگاتے ہیں ﴿تَاۡكُلُ مِنۡهُ اَنۡعَامُهُمۡ ﴾ ’’جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد مویشیوں کا چارہ ہے ﴿وَاَنۡفُسُهُمۡ ﴾’’اور وہ خود بھی‘‘ اس سے مراد آدمیوں کا کھانا ہے۔﴿اَفَلَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو دیکھتے نہیں جس کے ذریعے سے اس نے زمین اور بندوں کو زندگی بخشی؟ اگر وہ دیکھتے تو انھیں صاف نظر آتا اور اس بصارت اور بصیرت کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کرتے، مگر ان پر اندھا پن غالب اور غفلت چھائی ہوئی ہے، لہٰذا انھوں نے اس بارے میں مردوں کی طرح نہیں دیکھا۔ بس انھوں نے اس کو غفلت کی نظر سے اور محض عادت کے طور پر دیکھا، اس لیے انھیں بھلائی کی توفیق نہیں ملی۔

السجدة 32:28

اور وہ کہتے ہیں: کب ہو گا یہ فیصلہ، اگر ہو تم سچے؟(28) کہہ دیجیے: دن فیصلے کے نہیں نفع دے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ایمان لانا ان کا اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے(29) پس آپ منہ پھیر لیں ان سے اور انتظار کریں، بلاشبہ وہ بھی منتظر ہیں (30) [28] یعنی مجرم جہالت اور عناد کی بنا پر عذاب میں جلدی مچاتے ہیں جس کا ان کے ساتھ ان کے جھٹلانے کی پاداش میں وعدہ کیا گیا ہے۔ ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡفَتۡحُ ﴾ ’’اور کہتے ہیں: یہ فیصلہ کب ہوگا؟‘‘ جو ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ کر دے اور تمھارے زعم کے مطابق ہمیں عذاب میں مبتلا کر دے ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ اے رسول! اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو۔ [29]﴿قُلۡ يَوۡمَ الۡفَتۡحِ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن‘‘ یعنی جس روز تمھیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمھیں ایمان حاصل ہو جائے تو تمھیں مہلت کا ملناممکن ہے تاکہ جو چیز تمھارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کر لو کیونکہ یقینی طورپر معاملہ ابھی تک تمھارے ہاتھ میں ہے۔ مگر جب فیصلے کا دن آئے گا تو تمام معاملہ ختم ہو جائے گا اور امتحان و ابتلا کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا، اس وقت ﴿لَا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’کافروں کو ان کاایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔‘‘ کیونکہ اس ایمان کی حیثیت اضطراری ایمان کی سی ہو گی۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ اور نہ ان کو کوئی مہلت دی جائے گی کہ عذاب کو مؤخر کر دیا جائے اور یہ اپنے معاملے کو سدھار لیں۔ [30]﴿فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس آپ ان سے اعراض کریں۔‘‘ جب ان کا خطاب جہالت کی حدود کو چھونے لگے اور وہ عذاب کے لیے جلدی مچانے لگیں ﴿وَانۡتَظِرۡ ﴾اور اس عذاب کا انتظار کیجیے جو ان پر نازل ہونے والا ہے کیونکہ یہ عذاب ضرور نازل ہو گا، مگر اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو وہ آگے پیچھے نہیں ہو گا۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴾ وہ بھی آپ کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور برے وقت کے منتظر ہیں حالانکہ اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔

السجدة 32:29

اور وہ کہتے ہیں: کب ہو گا یہ فیصلہ، اگر ہو تم سچے؟(28) کہہ دیجیے: دن فیصلے کے نہیں نفع دے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ایمان لانا ان کا اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے(29) پس آپ منہ پھیر لیں ان سے اور انتظار کریں، بلاشبہ وہ بھی منتظر ہیں (30) [28] یعنی مجرم جہالت اور عناد کی بنا پر عذاب میں جلدی مچاتے ہیں جس کا ان کے ساتھ ان کے جھٹلانے کی پاداش میں وعدہ کیا گیا ہے۔ ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡفَتۡحُ ﴾ ’’اور کہتے ہیں: یہ فیصلہ کب ہوگا؟‘‘ جو ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ کر دے اور تمھارے زعم کے مطابق ہمیں عذاب میں مبتلا کر دے ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ اے رسول! اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو۔ [29]﴿قُلۡ يَوۡمَ الۡفَتۡحِ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن‘‘ یعنی جس روز تمھیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمھیں ایمان حاصل ہو جائے تو تمھیں مہلت کا ملناممکن ہے تاکہ جو چیز تمھارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کر لو کیونکہ یقینی طورپر معاملہ ابھی تک تمھارے ہاتھ میں ہے۔ مگر جب فیصلے کا دن آئے گا تو تمام معاملہ ختم ہو جائے گا اور امتحان و ابتلا کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا، اس وقت ﴿لَا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’کافروں کو ان کاایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔‘‘ کیونکہ اس ایمان کی حیثیت اضطراری ایمان کی سی ہو گی۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ اور نہ ان کو کوئی مہلت دی جائے گی کہ عذاب کو مؤخر کر دیا جائے اور یہ اپنے معاملے کو سدھار لیں۔ [30]﴿فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس آپ ان سے اعراض کریں۔‘‘ جب ان کا خطاب جہالت کی حدود کو چھونے لگے اور وہ عذاب کے لیے جلدی مچانے لگیں ﴿وَانۡتَظِرۡ ﴾اور اس عذاب کا انتظار کیجیے جو ان پر نازل ہونے والا ہے کیونکہ یہ عذاب ضرور نازل ہو گا، مگر اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو وہ آگے پیچھے نہیں ہو گا۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴾ وہ بھی آپ کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور برے وقت کے منتظر ہیں حالانکہ اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔

السجدة 32:30

اور وہ کہتے ہیں: کب ہو گا یہ فیصلہ، اگر ہو تم سچے؟(28) کہہ دیجیے: دن فیصلے کے نہیں نفع دے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ایمان لانا ان کا اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے(29) پس آپ منہ پھیر لیں ان سے اور انتظار کریں، بلاشبہ وہ بھی منتظر ہیں (30) [28] یعنی مجرم جہالت اور عناد کی بنا پر عذاب میں جلدی مچاتے ہیں جس کا ان کے ساتھ ان کے جھٹلانے کی پاداش میں وعدہ کیا گیا ہے۔ ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡفَتۡحُ ﴾ ’’اور کہتے ہیں: یہ فیصلہ کب ہوگا؟‘‘ جو ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ کر دے اور تمھارے زعم کے مطابق ہمیں عذاب میں مبتلا کر دے ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ اے رسول! اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو۔ [29]﴿قُلۡ يَوۡمَ الۡفَتۡحِ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن‘‘ یعنی جس روز تمھیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمھیں ایمان حاصل ہو جائے تو تمھیں مہلت کا ملناممکن ہے تاکہ جو چیز تمھارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کر لو کیونکہ یقینی طورپر معاملہ ابھی تک تمھارے ہاتھ میں ہے۔ مگر جب فیصلے کا دن آئے گا تو تمام معاملہ ختم ہو جائے گا اور امتحان و ابتلا کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا، اس وقت ﴿لَا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’کافروں کو ان کاایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔‘‘ کیونکہ اس ایمان کی حیثیت اضطراری ایمان کی سی ہو گی۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ اور نہ ان کو کوئی مہلت دی جائے گی کہ عذاب کو مؤخر کر دیا جائے اور یہ اپنے معاملے کو سدھار لیں۔ [30]﴿فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس آپ ان سے اعراض کریں۔‘‘ جب ان کا خطاب جہالت کی حدود کو چھونے لگے اور وہ عذاب کے لیے جلدی مچانے لگیں ﴿وَانۡتَظِرۡ ﴾اور اس عذاب کا انتظار کیجیے جو ان پر نازل ہونے والا ہے کیونکہ یہ عذاب ضرور نازل ہو گا، مگر اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو وہ آگے پیچھے نہیں ہو گا۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴾ وہ بھی آپ کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور برے وقت کے منتظر ہیں حالانکہ اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔

الأحزاب 33:1

اے نبی! ڈریں اللہ سے اور نہ اطاعت کریں کافروں اور منافقوں کی، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا، حکمت والا(1) اور پیروی کیجیے اس چیز کی جووحی کی جاتی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے بے شک اللہ ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب خبردار(2) اور توکل کیجیے اوپر اللہ کے اور کافی ہے اللہ کار ساز(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2]یعنی اے وہ ہستی! جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا اور اپنی وحی کے لیے چن لیا اور تمام مخلوق پر فضیلت بخشی، اپنے اوپر اپنے رب کی اس نعمت پر تقویٰ کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیجیے جس کے دوسروں کی نسبت آپ زیادہ مستحق ہیں اور اسے اختیار کرنا دوسروں کی نسبت آپ پر زیادہ فرض ہے۔ پس اس کے اوامر و نواہی پر عمل کیجیے، اس کے پیغامات کی تبلیغ کیجیے، اس کے بندوں تک اس کی وحی کو پہنچائیے اور تمام مخلوق کی خیرخواہی کیجیے کوئی آپ کو آپ کے مقصد سے ہٹا سکے نہ آپ کی راہ کو کھوٹی کر سکے اور کسی کافر کی اطاعت نہ کیجیے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے عداوت ظاہر کی ہو اور نہ کسی منافق کی اطاعت کیجیے، کیونکہ اس نے تکذیب اور کفر کو اپنے باطن میں چھپا رکھا ہے اور ان کے برعکس تصدیق و ایمان کا اظہار کرتا ہے۔ بس یہی لوگ ہیں جو حقیقی دشمن ہیں ، لہٰذا بعض معاملات میں جو تقویٰ کے متناقض ہیں ان کی بات نہ مانئے اور ان کی خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے ورنہ وہ آپ کو راہ صواب سے ہٹا دیں گے۔﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اتَّبِـعۡ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کی جاتی ہے اسی کی اتباع کیجیے۔‘‘ کیونکہ یہی ہدایت اور رحمت ہے اس کی پیروی کر کے اپنے رب کے ثواب کی امید رکھیے کیونکہ وہ تمھارے اعمال سے باخبر ہے، وہ تمھیں تمھارے اچھے اور برے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔ [3]اگر آپ کے دل میں یہ بات ہو کہ آپ نے ان کی گمراہ کن خواہشات نفس کی پیروی نہ کی تو آپ کو ان سے کوئی نقصان پہنچ جائے گا یا مخلوق کی ہدایت میں نقص واقع ہو جائے گا تو اس خیال کو اپنے دل سے نکال پھینکیے اور اللہ پر بھروسہ کیجیے۔ ان کے شر سے سلامتی اور اقامت دین میں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، اپنے رب پر اس شخص کی مانند اعتماد کیجیے جو اپنی ذات کے لیے کسی نفع کا مالک ہے نہ نقصان کا، جو موت پر اختیار رکھتا ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کر سکتا ہے، لہٰذا اس امر کے حصول کے بارے میں ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کافی کارساز ہے۔‘‘ اس لیے تمام معاملات کو اسی کے سپرد کر دیجیے وہ ان کا اس طریقہ سے انتظام کرے گا جو بندے کے لیے سب سے زیادہ درست ہو گا، پھر وہ ان مصالح کو اپنے بندے تک پہنچانے کی پوری قدرت رکھتا ہے جبکہ بندہ ان پر قادر نہیں، وہ اپنے بندے پر اس سے بھی کہیں زیادہ رحم کرتا ہے جتنا بندہ خود اپنے آپ پر رحم کر سکتا ہے یا اس پر اس کے والدین رحم کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے بندے پر ہر ایک سے زیادہ رحمت والا ہے خصوصاً اپنے خاص بندوں پر، جن پر ہمیشہ سے اس کی ربوبیت اور احسان کا فیضان جاری ہے اور جن کو اپنی ظاہری اور باطنی برکتوں سے سرفراز کیا ہے، خاص طور پر اس نے حکم دیا ہے کہ تمام امور اس کے سپرد کر دیے جائیں، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کی تدبیر کرے گا۔تب آپ نہ پوچھیں کہ ہر معاملہ کیسے آسان ہوگا، مشکلات کیسے دور ہوں گی، مصائب کیسے ختم ہوں گے، تکلیفیں کیسے زائل ہوں گی، ضرورتیں اور حاجتیں کیسے پوری ہوں گی، برکتیں کیسے نازل ہوں گی، سزائیں کیسے ختم ہو ں گی اور شر کیسے اٹھا لیا جائے گا... یہاں آپ کمزور بندے کو دیکھیں گے جس نے اپنا تمام معاملہ اپنے آقا کے سپرد کر دیا، اس کے آقا نے اس کے معاملات کا اس طرح انتظام کیا کہ لوگوں کی ایک جماعت بھی اس کا انتظام نہ کر سکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے معاملات اس کے لیے نہایت آسان کر دیے جو بڑے بڑے طاقتور لوگوں کے لیے بھی نہایت مشکل تھے۔ وباللہ المستعان۔

الأحزاب 33:2

اے نبی! ڈریں اللہ سے اور نہ اطاعت کریں کافروں اور منافقوں کی، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا، حکمت والا(1) اور پیروی کیجیے اس چیز کی جووحی کی جاتی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے بے شک اللہ ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب خبردار(2) اور توکل کیجیے اوپر اللہ کے اور کافی ہے اللہ کار ساز(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2]یعنی اے وہ ہستی! جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا اور اپنی وحی کے لیے چن لیا اور تمام مخلوق پر فضیلت بخشی، اپنے اوپر اپنے رب کی اس نعمت پر تقویٰ کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیجیے جس کے دوسروں کی نسبت آپ زیادہ مستحق ہیں اور اسے اختیار کرنا دوسروں کی نسبت آپ پر زیادہ فرض ہے۔ پس اس کے اوامر و نواہی پر عمل کیجیے، اس کے پیغامات کی تبلیغ کیجیے، اس کے بندوں تک اس کی وحی کو پہنچائیے اور تمام مخلوق کی خیرخواہی کیجیے کوئی آپ کو آپ کے مقصد سے ہٹا سکے نہ آپ کی راہ کو کھوٹی کر سکے اور کسی کافر کی اطاعت نہ کیجیے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے عداوت ظاہر کی ہو اور نہ کسی منافق کی اطاعت کیجیے، کیونکہ اس نے تکذیب اور کفر کو اپنے باطن میں چھپا رکھا ہے اور ان کے برعکس تصدیق و ایمان کا اظہار کرتا ہے۔ بس یہی لوگ ہیں جو حقیقی دشمن ہیں ، لہٰذا بعض معاملات میں جو تقویٰ کے متناقض ہیں ان کی بات نہ مانئے اور ان کی خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے ورنہ وہ آپ کو راہ صواب سے ہٹا دیں گے۔﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اتَّبِـعۡ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کی جاتی ہے اسی کی اتباع کیجیے۔‘‘ کیونکہ یہی ہدایت اور رحمت ہے اس کی پیروی کر کے اپنے رب کے ثواب کی امید رکھیے کیونکہ وہ تمھارے اعمال سے باخبر ہے، وہ تمھیں تمھارے اچھے اور برے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔ [3]اگر آپ کے دل میں یہ بات ہو کہ آپ نے ان کی گمراہ کن خواہشات نفس کی پیروی نہ کی تو آپ کو ان سے کوئی نقصان پہنچ جائے گا یا مخلوق کی ہدایت میں نقص واقع ہو جائے گا تو اس خیال کو اپنے دل سے نکال پھینکیے اور اللہ پر بھروسہ کیجیے۔ ان کے شر سے سلامتی اور اقامت دین میں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، اپنے رب پر اس شخص کی مانند اعتماد کیجیے جو اپنی ذات کے لیے کسی نفع کا مالک ہے نہ نقصان کا، جو موت پر اختیار رکھتا ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کر سکتا ہے، لہٰذا اس امر کے حصول کے بارے میں ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کافی کارساز ہے۔‘‘ اس لیے تمام معاملات کو اسی کے سپرد کر دیجیے وہ ان کا اس طریقہ سے انتظام کرے گا جو بندے کے لیے سب سے زیادہ درست ہو گا، پھر وہ ان مصالح کو اپنے بندے تک پہنچانے کی پوری قدرت رکھتا ہے جبکہ بندہ ان پر قادر نہیں، وہ اپنے بندے پر اس سے بھی کہیں زیادہ رحم کرتا ہے جتنا بندہ خود اپنے آپ پر رحم کر سکتا ہے یا اس پر اس کے والدین رحم کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے بندے پر ہر ایک سے زیادہ رحمت والا ہے خصوصاً اپنے خاص بندوں پر، جن پر ہمیشہ سے اس کی ربوبیت اور احسان کا فیضان جاری ہے اور جن کو اپنی ظاہری اور باطنی برکتوں سے سرفراز کیا ہے، خاص طور پر اس نے حکم دیا ہے کہ تمام امور اس کے سپرد کر دیے جائیں، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کی تدبیر کرے گا۔تب آپ نہ پوچھیں کہ ہر معاملہ کیسے آسان ہوگا، مشکلات کیسے دور ہوں گی، مصائب کیسے ختم ہوں گے، تکلیفیں کیسے زائل ہوں گی، ضرورتیں اور حاجتیں کیسے پوری ہوں گی، برکتیں کیسے نازل ہوں گی، سزائیں کیسے ختم ہو ں گی اور شر کیسے اٹھا لیا جائے گا... یہاں آپ کمزور بندے کو دیکھیں گے جس نے اپنا تمام معاملہ اپنے آقا کے سپرد کر دیا، اس کے آقا نے اس کے معاملات کا اس طرح انتظام کیا کہ لوگوں کی ایک جماعت بھی اس کا انتظام نہ کر سکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے معاملات اس کے لیے نہایت آسان کر دیے جو بڑے بڑے طاقتور لوگوں کے لیے بھی نہایت مشکل تھے۔ وباللہ المستعان۔

الأحزاب 33:3

اے نبی! ڈریں اللہ سے اور نہ اطاعت کریں کافروں اور منافقوں کی، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا، حکمت والا(1) اور پیروی کیجیے اس چیز کی جووحی کی جاتی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے بے شک اللہ ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب خبردار(2) اور توکل کیجیے اوپر اللہ کے اور کافی ہے اللہ کار ساز(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2]یعنی اے وہ ہستی! جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا اور اپنی وحی کے لیے چن لیا اور تمام مخلوق پر فضیلت بخشی، اپنے اوپر اپنے رب کی اس نعمت پر تقویٰ کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیجیے جس کے دوسروں کی نسبت آپ زیادہ مستحق ہیں اور اسے اختیار کرنا دوسروں کی نسبت آپ پر زیادہ فرض ہے۔ پس اس کے اوامر و نواہی پر عمل کیجیے، اس کے پیغامات کی تبلیغ کیجیے، اس کے بندوں تک اس کی وحی کو پہنچائیے اور تمام مخلوق کی خیرخواہی کیجیے کوئی آپ کو آپ کے مقصد سے ہٹا سکے نہ آپ کی راہ کو کھوٹی کر سکے اور کسی کافر کی اطاعت نہ کیجیے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے عداوت ظاہر کی ہو اور نہ کسی منافق کی اطاعت کیجیے، کیونکہ اس نے تکذیب اور کفر کو اپنے باطن میں چھپا رکھا ہے اور ان کے برعکس تصدیق و ایمان کا اظہار کرتا ہے۔ بس یہی لوگ ہیں جو حقیقی دشمن ہیں ، لہٰذا بعض معاملات میں جو تقویٰ کے متناقض ہیں ان کی بات نہ مانئے اور ان کی خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے ورنہ وہ آپ کو راہ صواب سے ہٹا دیں گے۔﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اتَّبِـعۡ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کی جاتی ہے اسی کی اتباع کیجیے۔‘‘ کیونکہ یہی ہدایت اور رحمت ہے اس کی پیروی کر کے اپنے رب کے ثواب کی امید رکھیے کیونکہ وہ تمھارے اعمال سے باخبر ہے، وہ تمھیں تمھارے اچھے اور برے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔ [3]اگر آپ کے دل میں یہ بات ہو کہ آپ نے ان کی گمراہ کن خواہشات نفس کی پیروی نہ کی تو آپ کو ان سے کوئی نقصان پہنچ جائے گا یا مخلوق کی ہدایت میں نقص واقع ہو جائے گا تو اس خیال کو اپنے دل سے نکال پھینکیے اور اللہ پر بھروسہ کیجیے۔ ان کے شر سے سلامتی اور اقامت دین میں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، اپنے رب پر اس شخص کی مانند اعتماد کیجیے جو اپنی ذات کے لیے کسی نفع کا مالک ہے نہ نقصان کا، جو موت پر اختیار رکھتا ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کر سکتا ہے، لہٰذا اس امر کے حصول کے بارے میں ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کافی کارساز ہے۔‘‘ اس لیے تمام معاملات کو اسی کے سپرد کر دیجیے وہ ان کا اس طریقہ سے انتظام کرے گا جو بندے کے لیے سب سے زیادہ درست ہو گا، پھر وہ ان مصالح کو اپنے بندے تک پہنچانے کی پوری قدرت رکھتا ہے جبکہ بندہ ان پر قادر نہیں، وہ اپنے بندے پر اس سے بھی کہیں زیادہ رحم کرتا ہے جتنا بندہ خود اپنے آپ پر رحم کر سکتا ہے یا اس پر اس کے والدین رحم کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے بندے پر ہر ایک سے زیادہ رحمت والا ہے خصوصاً اپنے خاص بندوں پر، جن پر ہمیشہ سے اس کی ربوبیت اور احسان کا فیضان جاری ہے اور جن کو اپنی ظاہری اور باطنی برکتوں سے سرفراز کیا ہے، خاص طور پر اس نے حکم دیا ہے کہ تمام امور اس کے سپرد کر دیے جائیں، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کی تدبیر کرے گا۔تب آپ نہ پوچھیں کہ ہر معاملہ کیسے آسان ہوگا، مشکلات کیسے دور ہوں گی، مصائب کیسے ختم ہوں گے، تکلیفیں کیسے زائل ہوں گی، ضرورتیں اور حاجتیں کیسے پوری ہوں گی، برکتیں کیسے نازل ہوں گی، سزائیں کیسے ختم ہو ں گی اور شر کیسے اٹھا لیا جائے گا... یہاں آپ کمزور بندے کو دیکھیں گے جس نے اپنا تمام معاملہ اپنے آقا کے سپرد کر دیا، اس کے آقا نے اس کے معاملات کا اس طرح انتظام کیا کہ لوگوں کی ایک جماعت بھی اس کا انتظام نہ کر سکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے معاملات اس کے لیے نہایت آسان کر دیے جو بڑے بڑے طاقتور لوگوں کے لیے بھی نہایت مشکل تھے۔ وباللہ المستعان۔

الأحزاب 33:4

نہیں بنائے اللہ نے واسطے کسی آدمی کے دو دل اس کے سینے میں اور نہیں بنایا اس نے تمھاری بیویوں کو، وہ جو ظہار کرتے ہو تم ان سے، تمھاری مائیں، اور نہیں بنایا اس نے تمھارے لے پالکوں کو تمھارے بیٹے، یہ تمھارا کہنا ہے اپنے مونہوں سے، اور اللہ کہتا ہے حق اور وہی ہدایت دیتا ہے سیدھے راستے کی (4) پکارو تم ان کو ان کے باپوں کی طرف (نسبت کر کے) یہ زیادہ انصاف کی بات ہے نزدیک اللہ کے، پس اگر نہ جانوان کے باپوں کو تو (وہ) بھائی ہیں تمھارے دین میں اور دوست تمھارے، اور نہیں ہے تم پر کوئی گناہ اس میں جو چوک جاؤ تم اس (کے بولنے) میں لیکن (وہ گناہ ہے) جوارادہ کیا تمھارے دلوں نے اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) [4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسے امور میں گفتگو نہ کریں جن کی کوئی حقیقت نہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں فرمایا جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔ یہ ان کی اپنی بات ہے جو جھوٹ اور باطل ہے، جس پر شرعی برائیاں مرتب ہوتی ہیں۔ یہ ہر معاملے میں گفتگو کرنے اور کسی چیز کے وقوع و وجود کے بارے میں، جسے اللہ تعالیٰ نے نہ کیا ہو، خبر دینے میں ایک عام قاعدہ ہے، مگر مذکورہ چیزوں کو ان کے کثرت و قوع اور ان کو بیان کرنے کی حاجت کی بنا پر مخصوص کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلۡبَيۡنِ فِيۡ جَوۡفِهٖ﴾’’اللہ نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے‘‘ یہ صورت کبھی نہیں پائی جاتی۔ پس کسی کے بارے میں یہ کہنے سے بچو کہ اس کے پہلو میں دو دل ہیں ورنہ تم تخلیق الٰہی کے بارے میں جھوٹ کے مرتکب بنو گے۔﴿وَمَا جَعَلَ اَزۡوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔيۡ تُظٰهِرُوۡنَ ﴾ ’’اور (اللہ نے) نہیں بنایا تمھاری عورتوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو‘‘ یعنی تم میں سے کسی شخص کا اپنی بیوی سے یہ کہنا: ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ یا، جیسے میری ماں‘‘ تو نہیں بنایا اللہ تعالیٰ نے انھیں ﴿اُمَّهٰؔتِكُمۡ ﴾ ’’تمھاری مائیں‘‘ تیری ماں تو وہ ہے جس نے تجھے جنم دیا، جو تیرے لیے تمام عورتوں سے بڑھ کر حرمت و تحریم کی حامل ہے اور تیری بیوی تیرے لیے سب سے زیادہ حلال عورت ہے، تب تو دو متناقض امور کو کیسے ایک دوسرے کے مشابہ قرار دے رہا ہے جبکہ یہ ہرگز جائز نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ١ؕ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا ؔ﴾(المجادلۃ:58؍2)’’تم میں سے جو لوگ اپنی بیوی کو ماں کہہ دیتے ہیں، وہ اس طرح ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا، بلاشبہ وہ ایک جھوٹی اور بری بات کہتے ہیں۔‘‘﴿وَمَا جَعَلَ اَدۡعِيَآءَكُمۡ۠ اَبۡنَآءَكُمۡ﴾ ’’اور تمھاری لے پالکوں کو تمھارے بیٹے نہیں بنایا۔‘‘ (اَدْعِیَاء) اس لڑکے کو کہتے ہیں جس کے بارے میں کوئی شخص اپنا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرے مگر وہ اس کا بیٹا نہ ہو یا اسے متبنیٰ ہونے کی وجہ سے بیٹا کہا جائے۔ جیسا کہ ایام جاہلیت اور اسلام کی ابتدا میں یہ رواج موجود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس رواج کو ختم کرنے کا ارادہ فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اس رواج کی برائی بیان کی اور واضح کیا کہ یہ باطل اور جھوٹ ہے۔ باطل اور جھوٹ کا اللہ تعالیٰ کی شریعت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کے بندے اس سے متصف ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے تمھارے منہ بولے بیٹوں کو، جن کو تم بیٹا کہتے ہو یا وہ تمھارا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں،تمھارا بیٹا نہیں بنایا۔ حقیقت میں تمھارے بیٹے وہ ہیں جو تم میں سے ہیں اور جن کو تم نے جنم دیا ہے اور رہے دوسرے لوگ جن کے بارے میں تم اپنے بیٹے ہونے کا دعویٰ کرتے ہو وہ تمھارے حقیقی بیٹوں کی مانند نہیں ہیں۔ ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ بات جو تم منہ بولے بیٹوں کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ فلاں کا بیٹا ہے، اس شخص کے لیے جو اس کے بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، یا اس کا باپ فلاں ہے ﴿قَوۡلُكُمۡ بِاَفۡوَاهِكُمۡ ﴾ ’’تمھارے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘ یعنی یہ ایسی بات ہے کہ جس کی کوئی حقیقت ہے نہ معنی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَقُوۡلُ الۡحَقَّ﴾ ’’اور اللہ حق بات کہتا ہے۔‘‘ یعنی جو صداقت اور یقین پر مبنی ہے اس لیے اس نے تمھیں اس کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ اس کا قول حق اور اس کی شریعت حق ہے، تمام باطل اقوال و افعال کسی بھی لحاظ سے اس کی طرف منسوب نہیں کیے جاسکتے اور نہ اس کی ہدایت سے ان کا کوئی تعلق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو صرف صراط مستقیم اور صدق کے طریقوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اگر یہ اس کی مشیت کے مطابق واقع ہوا ہے تو اس کی مشیت اس کائنات میں جو بھی خیروشر موجود ہے، سب کے لیے عام ہے۔ [5] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ حکم دیا کہ پہلی صورت کو ترک کیا جائے جو قول باطل کو متضمن ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اُدۡعُوۡهُمۡ ﴾ ’’ان کو پکارو‘‘ یعنی اپنے منہ بولے بیٹوں کو ﴿لِاٰبَآىِٕهِمۡ ﴾ ان کے حقیقی باپوں سے منسوب کرتے ہوئے جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ ﴿هُوَ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾یہ زیادہ قرین عدل، زیادہ درست اور ہدایت کے زیادہ قریب ہے۔﴿فَاِنۡ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ ﴾ ’’پس اگر تم ان کے (حقیقی) باپوں کو نہیں جانتے‘‘ ﴿فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَمَوَالِيۡكُمۡ ﴾تو وہ اللہ کے دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے موالی ہیں۔ تم انھیں اخوت ایمانی اور موالات اسلام کی نسبت سے پکارو۔ جس شخص نے ان کو متبنیٰ بنایا ہے اس کے لیے اس دعویٰ کو ترک کرنا حتمی ہے۔ یہ دعویٰ جائز نہیں۔رہا ان کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارنا، تو اگر ان کا نام معلوم ہو تو ان کی طرف منسوب کر کے پکارو اور اگر ان کا نام معلوم نہ ہو تو صرف اسی پر اکتفا کرو جو معلوم ہے اور وہ ہے اخوت دینی اور موالات اسلامی۔ یہ نہ سمجھو کہ ان کے باپوں کے ناموں کے بارے میں عدم علم اس بات کے لیے عذر ہے کہ تم ان کو متبنیٰ بنانے والوں کی طرف منسوب کر کے پکارو، کیونکہ اس عذر سے حرمت زائل نہیں ہو سکتی۔﴿وَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ فِيۡمَاۤ اَخۡطَاۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘ یعنی اگر تم میں سے کوئی غلطی سے اس کو کسی شخص کی طرف منسوب کر کے پکارے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں یا ظاہری طور پر اس کے باپ کا نام معلوم ہے اور تم اس کو اسی کی طرف پکارتے ہو حالانکہ وہ باطن میں اس کا باپ نہیں ہے، تب اس میں کوئی حرج نہیں جبکہ یہ غلطی سے ہو۔ ﴿وَلٰكِنۡ ﴾ ’’مگر‘‘ وہ صرف اس چیز میں تمھارا مواخذہ کرتا ہے ﴿مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ ﴾ ’’جس کا تمھارے دلوں نے عمدًا ارتکاب کیا ہے۔‘‘ جو تم نے جان بوجھ کرنا جائز بات کہی ہو۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ اس نے تمھیں بخش دیا اور تمھیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیا کیونکہ اس نے تمھیں تمھارے سابقہ گناہوں پر سزا نہیں دی، تم نے جو غلطی کی اس پر درگزر کیا اور شرعی احکام بیان کرکے تم پر رحم کیا جن میں تمھارے دین اور دنیا کی اصلاح ہے۔

الأحزاب 33:5

نہیں بنائے اللہ نے واسطے کسی آدمی کے دو دل اس کے سینے میں اور نہیں بنایا اس نے تمھاری بیویوں کو، وہ جو ظہار کرتے ہو تم ان سے، تمھاری مائیں، اور نہیں بنایا اس نے تمھارے لے پالکوں کو تمھارے بیٹے، یہ تمھارا کہنا ہے اپنے مونہوں سے، اور اللہ کہتا ہے حق اور وہی ہدایت دیتا ہے سیدھے راستے کی (4) پکارو تم ان کو ان کے باپوں کی طرف (نسبت کر کے) یہ زیادہ انصاف کی بات ہے نزدیک اللہ کے، پس اگر نہ جانوان کے باپوں کو تو (وہ) بھائی ہیں تمھارے دین میں اور دوست تمھارے، اور نہیں ہے تم پر کوئی گناہ اس میں جو چوک جاؤ تم اس (کے بولنے) میں لیکن (وہ گناہ ہے) جوارادہ کیا تمھارے دلوں نے اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) [4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسے امور میں گفتگو نہ کریں جن کی کوئی حقیقت نہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں فرمایا جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔ یہ ان کی اپنی بات ہے جو جھوٹ اور باطل ہے، جس پر شرعی برائیاں مرتب ہوتی ہیں۔ یہ ہر معاملے میں گفتگو کرنے اور کسی چیز کے وقوع و وجود کے بارے میں، جسے اللہ تعالیٰ نے نہ کیا ہو، خبر دینے میں ایک عام قاعدہ ہے، مگر مذکورہ چیزوں کو ان کے کثرت و قوع اور ان کو بیان کرنے کی حاجت کی بنا پر مخصوص کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلۡبَيۡنِ فِيۡ جَوۡفِهٖ﴾’’اللہ نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے‘‘ یہ صورت کبھی نہیں پائی جاتی۔ پس کسی کے بارے میں یہ کہنے سے بچو کہ اس کے پہلو میں دو دل ہیں ورنہ تم تخلیق الٰہی کے بارے میں جھوٹ کے مرتکب بنو گے۔﴿وَمَا جَعَلَ اَزۡوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔيۡ تُظٰهِرُوۡنَ ﴾ ’’اور (اللہ نے) نہیں بنایا تمھاری عورتوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو‘‘ یعنی تم میں سے کسی شخص کا اپنی بیوی سے یہ کہنا: ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ یا، جیسے میری ماں‘‘ تو نہیں بنایا اللہ تعالیٰ نے انھیں ﴿اُمَّهٰؔتِكُمۡ ﴾ ’’تمھاری مائیں‘‘ تیری ماں تو وہ ہے جس نے تجھے جنم دیا، جو تیرے لیے تمام عورتوں سے بڑھ کر حرمت و تحریم کی حامل ہے اور تیری بیوی تیرے لیے سب سے زیادہ حلال عورت ہے، تب تو دو متناقض امور کو کیسے ایک دوسرے کے مشابہ قرار دے رہا ہے جبکہ یہ ہرگز جائز نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ١ؕ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا ؔ﴾(المجادلۃ:58؍2)’’تم میں سے جو لوگ اپنی بیوی کو ماں کہہ دیتے ہیں، وہ اس طرح ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا، بلاشبہ وہ ایک جھوٹی اور بری بات کہتے ہیں۔‘‘﴿وَمَا جَعَلَ اَدۡعِيَآءَكُمۡ۠ اَبۡنَآءَكُمۡ﴾ ’’اور تمھاری لے پالکوں کو تمھارے بیٹے نہیں بنایا۔‘‘ (اَدْعِیَاء) اس لڑکے کو کہتے ہیں جس کے بارے میں کوئی شخص اپنا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرے مگر وہ اس کا بیٹا نہ ہو یا اسے متبنیٰ ہونے کی وجہ سے بیٹا کہا جائے۔ جیسا کہ ایام جاہلیت اور اسلام کی ابتدا میں یہ رواج موجود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس رواج کو ختم کرنے کا ارادہ فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اس رواج کی برائی بیان کی اور واضح کیا کہ یہ باطل اور جھوٹ ہے۔ باطل اور جھوٹ کا اللہ تعالیٰ کی شریعت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کے بندے اس سے متصف ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے تمھارے منہ بولے بیٹوں کو، جن کو تم بیٹا کہتے ہو یا وہ تمھارا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں،تمھارا بیٹا نہیں بنایا۔ حقیقت میں تمھارے بیٹے وہ ہیں جو تم میں سے ہیں اور جن کو تم نے جنم دیا ہے اور رہے دوسرے لوگ جن کے بارے میں تم اپنے بیٹے ہونے کا دعویٰ کرتے ہو وہ تمھارے حقیقی بیٹوں کی مانند نہیں ہیں۔ ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ بات جو تم منہ بولے بیٹوں کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ فلاں کا بیٹا ہے، اس شخص کے لیے جو اس کے بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، یا اس کا باپ فلاں ہے ﴿قَوۡلُكُمۡ بِاَفۡوَاهِكُمۡ ﴾ ’’تمھارے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘ یعنی یہ ایسی بات ہے کہ جس کی کوئی حقیقت ہے نہ معنی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَقُوۡلُ الۡحَقَّ﴾ ’’اور اللہ حق بات کہتا ہے۔‘‘ یعنی جو صداقت اور یقین پر مبنی ہے اس لیے اس نے تمھیں اس کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ اس کا قول حق اور اس کی شریعت حق ہے، تمام باطل اقوال و افعال کسی بھی لحاظ سے اس کی طرف منسوب نہیں کیے جاسکتے اور نہ اس کی ہدایت سے ان کا کوئی تعلق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو صرف صراط مستقیم اور صدق کے طریقوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اگر یہ اس کی مشیت کے مطابق واقع ہوا ہے تو اس کی مشیت اس کائنات میں جو بھی خیروشر موجود ہے، سب کے لیے عام ہے۔ [5] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ حکم دیا کہ پہلی صورت کو ترک کیا جائے جو قول باطل کو متضمن ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اُدۡعُوۡهُمۡ ﴾ ’’ان کو پکارو‘‘ یعنی اپنے منہ بولے بیٹوں کو ﴿لِاٰبَآىِٕهِمۡ ﴾ ان کے حقیقی باپوں سے منسوب کرتے ہوئے جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ ﴿هُوَ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾یہ زیادہ قرین عدل، زیادہ درست اور ہدایت کے زیادہ قریب ہے۔﴿فَاِنۡ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ ﴾ ’’پس اگر تم ان کے (حقیقی) باپوں کو نہیں جانتے‘‘ ﴿فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَمَوَالِيۡكُمۡ ﴾تو وہ اللہ کے دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے موالی ہیں۔ تم انھیں اخوت ایمانی اور موالات اسلام کی نسبت سے پکارو۔ جس شخص نے ان کو متبنیٰ بنایا ہے اس کے لیے اس دعویٰ کو ترک کرنا حتمی ہے۔ یہ دعویٰ جائز نہیں۔رہا ان کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارنا، تو اگر ان کا نام معلوم ہو تو ان کی طرف منسوب کر کے پکارو اور اگر ان کا نام معلوم نہ ہو تو صرف اسی پر اکتفا کرو جو معلوم ہے اور وہ ہے اخوت دینی اور موالات اسلامی۔ یہ نہ سمجھو کہ ان کے باپوں کے ناموں کے بارے میں عدم علم اس بات کے لیے عذر ہے کہ تم ان کو متبنیٰ بنانے والوں کی طرف منسوب کر کے پکارو، کیونکہ اس عذر سے حرمت زائل نہیں ہو سکتی۔﴿وَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ فِيۡمَاۤ اَخۡطَاۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘ یعنی اگر تم میں سے کوئی غلطی سے اس کو کسی شخص کی طرف منسوب کر کے پکارے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں یا ظاہری طور پر اس کے باپ کا نام معلوم ہے اور تم اس کو اسی کی طرف پکارتے ہو حالانکہ وہ باطن میں اس کا باپ نہیں ہے، تب اس میں کوئی حرج نہیں جبکہ یہ غلطی سے ہو۔ ﴿وَلٰكِنۡ ﴾ ’’مگر‘‘ وہ صرف اس چیز میں تمھارا مواخذہ کرتا ہے ﴿مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ ﴾ ’’جس کا تمھارے دلوں نے عمدًا ارتکاب کیا ہے۔‘‘ جو تم نے جان بوجھ کرنا جائز بات کہی ہو۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ اس نے تمھیں بخش دیا اور تمھیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیا کیونکہ اس نے تمھیں تمھارے سابقہ گناہوں پر سزا نہیں دی، تم نے جو غلطی کی اس پر درگزر کیا اور شرعی احکام بیان کرکے تم پر رحم کیا جن میں تمھارے دین اور دنیا کی اصلاح ہے۔

الأحزاب 33:6

پیغمبر زیادہ حق دار ہے(ہر قسم کا تصرف کرنے میں) مومنوں پر ان کے نفسوں سے بھی اور بیویاں اس کی مائیں ہیں ان کی اور رشتے دار، بعض ان کے زیادہ حق دار ہیں ساتھ بعض کے، اللہ کی کتاب میں، (دیگر) مومنوں اور مہاجروں سے، مگر یہ کہ کرو تم ساتھ اپنے دوستوں کے کوئی بھلائی، (تو یہ جائز ہے) ہے یہی (حکم)کتاب میں لکھا ہوا(6) [6] اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ایک ایسی خبر بیان کرتا ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول مصطفیﷺ کے احوال اور آپ کے مرتبے کو پہچان سکتے ہیں تاکہ وہ اس حال اور مرتبہ کے مطابق آپ کے ساتھ معاملہ کریں، چنانچہ فرمایا ﴿اَلنَّبِيُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی انسان کے لیے سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ مومن کے لیے خود اس کی ذات پر بھی مقدم ہیں کیونکہ آپ ﷺ ان کی خیرخواہی کرتے ہیں، ان کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں۔ مخلوق میں سب سے بڑھ کر رحیم اور سب سے زیادہ مہربان ہیں۔ ان پر مخلوق میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کا احسان ہے کیونکہ انھیں اگر ذرہ بھر بھلائی حاصل ہوئی ہے یا ان سے کوئی ذرہ بھر برائی دور ہوئی ہے تو آپ کے ہاتھ سے اور آپ کے سبب سے ہوئی ہے۔اس لیے جب کبھی اس کے نفس کی مراد یا کسی اور شخص کی مراد، رسول اللہ ﷺ کی مراد سے متعارض ہو تو اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی مراد کو مقدم رکھیں۔ رسول اللہ ﷺ کے قول سے، کسی شخص کے قول کا، خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو، مقابلہ نہ کریں، آپ ﷺ پر اپنی جان، مال اور اولاد کو فدا کر دیں، آپ کی محبت کو تمام مخلوق کی محبت پر مقدم رکھیں، جب تک کہ آپ بول نہ لیں، ہرگز نہ بولیں، اور آپ سے آگے نہ بڑھیں۔ رسول مصطفیﷺ، مومنوں کے باپ ہیں، جیسا کہ بعض صحابہ کرام yکی قراء ت میں پڑھا گیا ہے، آپ اہل ایمان کی اسی طرح تربیت کرتے ہیں جس طرح باپ اپنی اولاد کی تربیت کرتا ہے۔اب اس باپ ہونے پر یہ اصول مترتب ہوتا ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات اہل ایمان کی مائیں ہیں۔ یعنی حرمت، احترام اور اکرام کے اعتبار سے نہ کہ خلوت و محرمیت کے اعتبار سے۔ گویا یہ زید بن حارثہw کے قصے کا مقدمہ ہے جو کہ عنقریب آئے گا، زید بن حارثہw اس سے پہلے ’’زید بن محمد‘‘ کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ ﴾(الاحزاب:33؍40) ’’محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نسب اور آپ کی طرف انتساب دونوں منقطع کر دیے۔ اس آیت کریمہ میں آگاہ فرما دیا کہ تمام اہل ایمان، رسول (ﷺ)کی اولاد ہیں۔ کسی کو کسی دوسرے پر کوئی اختصاص حاصل نہیں۔ اگرچہ کسی کا منہ بولا بیٹا ہونے کا انتساب منقطع ہو گیا مگر نسب ایمانی منقطع نہیں ہوا اس لیے اسے غمزدہ اور متاسف نہیں ہونا چاہیے۔اس آیت کریمہ سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات اہل ایمان کی مائیں ہیں ، لہٰذا آپ کے بعد وہ کسی کے لیے حلال نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں صراحت فرما دی ہے:﴿وَلَاۤ اَنۡ تَنۡكِحُوۡۤا اَزۡوَاجَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖۤ اَبَدًا ﴾(الاحزاب:33؍53) ’’اور نہ تمھارے لیے یہ جائز ہے کہ تم کبھی بھی آپ(ﷺ)کی بیویوں کے ساتھ نکاح کرو۔‘‘﴿وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ ﴾ یعنی رشتہ دار، خواہ وہ قریب کے رشتہ دار ہوں یا دور کے رشتہ دار۔ ﴿بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾’’آپس میں کتاب اللہ کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے۔ پس وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کریں گے۔ قرابت کا تعلق دوستی اور حلف وغیرہ کے تعلق سے بڑھ کر ہے۔ اس آیت کریمہ سے پہلے، ان اسباب کی بنا پر رشتہ داروں کی بجائے منہ بولے بیٹے وارث بنتے تھے، اس آیت کریمہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اس توارث کو منقطع کر دیا۔ اپنے لطف و کرم اور حکمت کی بنا پر حقیقی اقارب کو وارث بنا دیا کیونکہ اگر معاملہ سابقہ عادت اور رواج کے مطابق چلتا رہتا تو شر اور فساد پھیل جاتا اور قریب کے رشتہ داروں کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے حیلہ سازی بکثرت رواج پا جاتی۔﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُهٰؔجِرِيۡنَ ﴾ خواہ یہ قریبی رشتہ مومن اور مہاجر ہوں یا غیر مہاجر ہوں، بہر حال رشتہ دار مقدم ہیں۔ یہ آیت کریمہ تمام معاملات میں قریبی رشتہ داروں کی ولایت پر دلیل ہے، مثلاً: نکاح اور مال وغیرہ کی ولایت ﴿اِلَّاۤ اَنۡ تَفۡعَلُوۡۤا اِلٰۤى اَوۡلِيٰٓؔىِٕكُمۡ۠ مَّعۡرُوۡفًا ﴾ ’’مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔‘‘ یعنی ان کا کوئی مقرر شدہ حق نہیں ہے یہ صرف تمھارے ارادے پر منحصر ہے۔ اگر تم ان کو نیکی کے طور پر کوئی عطیہ دینا چاہو تو دے دو۔ ﴿كَانَ ذٰلِكَ ﴾ یہ حکم مذکور ﴿ فِي الۡكِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا ﴾ کتاب میں لکھ دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو مقدم کر دیا ہے، لہٰذا اس کا نفاذ لازمی ہے۔

الأحزاب 33:7

اور جب لیا ہم نے نبیوں سے عہد ان کا اورآپ سے اور نوح سے، اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے اور لیا ہم نے ان سے عہد بڑا پختہ(7) تاکہ وہ (اللہ) پوچھے سچوں سے ان کی سچائی کی بابت اور تیارکیا ہے اس نے واسطے کافروں کے عذاب درد ناک(8) [7، 8] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے تمام انبیائے کرام سے عام طور پر اور آیت کریمہ میں مذکور پانچ اولوالعزم رسولوں سے خاص طور پر نہایت پختہ اور موکد عہد لیا کہ وہ اللہ کے دین پر اور اس کے راستے میں جہاد پر قائم رہیں گے۔ اقامت دین اور جہاد ایسا راستہ ہے جس پر گزشتہ انبیاء و مرسلین گامزن رہے اور یہ سلسلہ افضل الانبیاء والمرسلین سیدنا محمد ﷺ پر آ کر ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ انبیاء کے نقش قدم پر چلیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انبیائے کرام اور ان کے متبعین سے اس میثاق کے بارے میں پوچھے گا کہ کیا انھوں نے اس عہد کو پورا کیا اور اپنے عہد پر پورے اترے تاکہ انھیں نعمتوں بھری جنت عطا کی جائے؟ یا انھوں نے کفر کیا تاکہ انھیں دردناک عذاب دیا جائے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾(الأحزاب:33؍23) ’’اہل ایمان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا۔‘‘

الأحزاب 33:8

اور جب لیا ہم نے نبیوں سے عہد ان کا اورآپ سے اور نوح سے، اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے اور لیا ہم نے ان سے عہد بڑا پختہ(7) تاکہ وہ (اللہ) پوچھے سچوں سے ان کی سچائی کی بابت اور تیارکیا ہے اس نے واسطے کافروں کے عذاب درد ناک(8) [7، 8] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے تمام انبیائے کرام سے عام طور پر اور آیت کریمہ میں مذکور پانچ اولوالعزم رسولوں سے خاص طور پر نہایت پختہ اور موکد عہد لیا کہ وہ اللہ کے دین پر اور اس کے راستے میں جہاد پر قائم رہیں گے۔ اقامت دین اور جہاد ایسا راستہ ہے جس پر گزشتہ انبیاء و مرسلین گامزن رہے اور یہ سلسلہ افضل الانبیاء والمرسلین سیدنا محمد ﷺ پر آ کر ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ انبیاء کے نقش قدم پر چلیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انبیائے کرام اور ان کے متبعین سے اس میثاق کے بارے میں پوچھے گا کہ کیا انھوں نے اس عہد کو پورا کیا اور اپنے عہد پر پورے اترے تاکہ انھیں نعمتوں بھری جنت عطا کی جائے؟ یا انھوں نے کفر کیا تاکہ انھیں دردناک عذاب دیا جائے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾(الأحزاب:33؍23) ’’اہل ایمان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا۔‘‘

الأحزاب 33:9

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو تم احسان اللہ کا اوپر اپنے، جب (چڑھ) آئے تھے تم پر کئی لشکر، پس بھیجی ہم نے ان پر (سخت) ہوا اور ایسے لشکر کہ نہیں دیکھا تم نے ان کو، اور تھا اللہ ساتھ اس کے جو تم کر رہے تھے، خوب دیکھنے والا(9)جب وہ (چڑھ) آئے تھے تم پر تمھارے اوپر سے اور نیچے سے تمھارے، اور جب ، پھر گئی تھیں آنکھیں اور پہنچ گئے تھے دل گلوں تک اور گمان کرتے تھے تم اللہ کے بارے میں (طرح طرح کے) گمان(10)اس جگہ (ا س موقعے) پر آزمائے گئے مومن اور ہلائے گئے وہ ہلایا جانا نہایت سخت(11) [11-9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمت یاد دلا کر انھیں اس پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ان کے اوپر سے مشرکین مکہ اور مشرکین حجاز کے لشکر اور نیچے سے کفار نجد کے لشکر ان پر حملہ آور ہوئے۔ حملہ آوروں نے آپس میں عہد کر رکھا تھا کہ وہ رسول (ﷺ)اور صحابہ کرام کا قلع قمع کر کے دم لیں گے۔ یہ غزوہ احزاب کا واقعہ ہے۔ ان یہودی گروہوں نے بھی ان کی مدد کی جو مدینہ منورہ کے اردگرد رہتے تھے، وہ بھی بڑے بڑے لشکر لے آئے۔رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے اردگرد دفاع کے لیے خندق کھود لی۔ کفار نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا۔ معاملہ بہت سخت ہو گیا، کلیجے منہ کو آگئے اور لوگوں نے جب بہت سخت حالات اور اسباب دیکھے تو بہت سے لوگ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ ایک طویل مدت تک مدینہ منورہ کا محاصرہ جاری رہا۔ معاملہ ایسے ہی تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا:﴿وَاِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَبَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوۡنَا ﴾’’اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے برے گمان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کی تکمیل کرے گا۔﴿هُنَالِكَ ابۡتُلِيَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ اس وقت اہل ایمان اس عظیم فتنے کے ذریعے سے آزمائے گئے ﴿وَزُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِيۡدًا ﴾ اور ان کو خوف، قلق اور بھوک کے ذریعے سے ہلا ڈالا گیا تاکہ ان کا ایمان واضح اور ان کے ایقان میں اضافہ ہو… ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے… ان کے ایمان اور ان کے یقین کی پختگی اس طرح ظاہر ہوئی کہ وہ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ جب غم کی شدت بڑھ گئی اور سختیوں نے گھیر لیا تو ان کا ایمان عین الیقین کے درجے پر پہنچ گیا۔ ﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ١ۙ قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ١ٞ وَمَا زَادَهُمۡ اِلَّاۤ اِيۡمَانًا وَّتَسۡلِيۡمًا﴾(الاحزاب:33؍22) ’’اور جب اہل ایمان نے لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہ تو وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ کیا تھا، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس واقعے نے ان کے ایمان و تسلیم میں اور اضافہ کر دیا۔‘‘ یہاں منافقین کا نفاق بھی ظاہر ہو گیا اور وہ چیز سامنے آگئی جسے وہ چھپایا کرتے تھے۔

الأحزاب 33:10

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو تم احسان اللہ کا اوپر اپنے، جب (چڑھ) آئے تھے تم پر کئی لشکر، پس بھیجی ہم نے ان پر (سخت) ہوا اور ایسے لشکر کہ نہیں دیکھا تم نے ان کو، اور تھا اللہ ساتھ اس کے جو تم کر رہے تھے، خوب دیکھنے والا(9)جب وہ (چڑھ) آئے تھے تم پر تمھارے اوپر سے اور نیچے سے تمھارے، اور جب ، پھر گئی تھیں آنکھیں اور پہنچ گئے تھے دل گلوں تک اور گمان کرتے تھے تم اللہ کے بارے میں (طرح طرح کے) گمان(10)اس جگہ (ا س موقعے) پر آزمائے گئے مومن اور ہلائے گئے وہ ہلایا جانا نہایت سخت(11) [11-9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمت یاد دلا کر انھیں اس پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ان کے اوپر سے مشرکین مکہ اور مشرکین حجاز کے لشکر اور نیچے سے کفار نجد کے لشکر ان پر حملہ آور ہوئے۔ حملہ آوروں نے آپس میں عہد کر رکھا تھا کہ وہ رسول (ﷺ)اور صحابہ کرام کا قلع قمع کر کے دم لیں گے۔ یہ غزوہ احزاب کا واقعہ ہے۔ ان یہودی گروہوں نے بھی ان کی مدد کی جو مدینہ منورہ کے اردگرد رہتے تھے، وہ بھی بڑے بڑے لشکر لے آئے۔رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے اردگرد دفاع کے لیے خندق کھود لی۔ کفار نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا۔ معاملہ بہت سخت ہو گیا، کلیجے منہ کو آگئے اور لوگوں نے جب بہت سخت حالات اور اسباب دیکھے تو بہت سے لوگ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ ایک طویل مدت تک مدینہ منورہ کا محاصرہ جاری رہا۔ معاملہ ایسے ہی تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا:﴿وَاِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَبَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوۡنَا ﴾’’اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے برے گمان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کی تکمیل کرے گا۔﴿هُنَالِكَ ابۡتُلِيَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ اس وقت اہل ایمان اس عظیم فتنے کے ذریعے سے آزمائے گئے ﴿وَزُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِيۡدًا ﴾ اور ان کو خوف، قلق اور بھوک کے ذریعے سے ہلا ڈالا گیا تاکہ ان کا ایمان واضح اور ان کے ایقان میں اضافہ ہو… ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے… ان کے ایمان اور ان کے یقین کی پختگی اس طرح ظاہر ہوئی کہ وہ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ جب غم کی شدت بڑھ گئی اور سختیوں نے گھیر لیا تو ان کا ایمان عین الیقین کے درجے پر پہنچ گیا۔ ﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ١ۙ قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ١ٞ وَمَا زَادَهُمۡ اِلَّاۤ اِيۡمَانًا وَّتَسۡلِيۡمًا﴾(الاحزاب:33؍22) ’’اور جب اہل ایمان نے لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہ تو وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ کیا تھا، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس واقعے نے ان کے ایمان و تسلیم میں اور اضافہ کر دیا۔‘‘ یہاں منافقین کا نفاق بھی ظاہر ہو گیا اور وہ چیز سامنے آگئی جسے وہ چھپایا کرتے تھے۔

الأحزاب 33:11

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو تم احسان اللہ کا اوپر اپنے، جب (چڑھ) آئے تھے تم پر کئی لشکر، پس بھیجی ہم نے ان پر (سخت) ہوا اور ایسے لشکر کہ نہیں دیکھا تم نے ان کو، اور تھا اللہ ساتھ اس کے جو تم کر رہے تھے، خوب دیکھنے والا(9)جب وہ (چڑھ) آئے تھے تم پر تمھارے اوپر سے اور نیچے سے تمھارے، اور جب ، پھر گئی تھیں آنکھیں اور پہنچ گئے تھے دل گلوں تک اور گمان کرتے تھے تم اللہ کے بارے میں (طرح طرح کے) گمان(10)اس جگہ (ا س موقعے) پر آزمائے گئے مومن اور ہلائے گئے وہ ہلایا جانا نہایت سخت(11) [11-9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمت یاد دلا کر انھیں اس پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ان کے اوپر سے مشرکین مکہ اور مشرکین حجاز کے لشکر اور نیچے سے کفار نجد کے لشکر ان پر حملہ آور ہوئے۔ حملہ آوروں نے آپس میں عہد کر رکھا تھا کہ وہ رسول (ﷺ)اور صحابہ کرام کا قلع قمع کر کے دم لیں گے۔ یہ غزوہ احزاب کا واقعہ ہے۔ ان یہودی گروہوں نے بھی ان کی مدد کی جو مدینہ منورہ کے اردگرد رہتے تھے، وہ بھی بڑے بڑے لشکر لے آئے۔رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے اردگرد دفاع کے لیے خندق کھود لی۔ کفار نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا۔ معاملہ بہت سخت ہو گیا، کلیجے منہ کو آگئے اور لوگوں نے جب بہت سخت حالات اور اسباب دیکھے تو بہت سے لوگ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ ایک طویل مدت تک مدینہ منورہ کا محاصرہ جاری رہا۔ معاملہ ایسے ہی تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا:﴿وَاِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَبَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوۡنَا ﴾’’اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے برے گمان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کی تکمیل کرے گا۔﴿هُنَالِكَ ابۡتُلِيَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ اس وقت اہل ایمان اس عظیم فتنے کے ذریعے سے آزمائے گئے ﴿وَزُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِيۡدًا ﴾ اور ان کو خوف، قلق اور بھوک کے ذریعے سے ہلا ڈالا گیا تاکہ ان کا ایمان واضح اور ان کے ایقان میں اضافہ ہو… ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے… ان کے ایمان اور ان کے یقین کی پختگی اس طرح ظاہر ہوئی کہ وہ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ جب غم کی شدت بڑھ گئی اور سختیوں نے گھیر لیا تو ان کا ایمان عین الیقین کے درجے پر پہنچ گیا۔ ﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ١ۙ قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ١ٞ وَمَا زَادَهُمۡ اِلَّاۤ اِيۡمَانًا وَّتَسۡلِيۡمًا﴾(الاحزاب:33؍22) ’’اور جب اہل ایمان نے لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہ تو وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ کیا تھا، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس واقعے نے ان کے ایمان و تسلیم میں اور اضافہ کر دیا۔‘‘ یہاں منافقین کا نفاق بھی ظاہر ہو گیا اور وہ چیز سامنے آگئی جسے وہ چھپایا کرتے تھے۔

الأحزاب 33:12

اور جب کہہ رہے تھے منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے، نہیں وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے، مگر فریب کا(12) [12] یہ منافق کی عادت ہے کہ مصیبت اور امتحان کے وقت اس کا ایمان قائم نہیں رہتا۔ وہ موجودہ حالت میں اپنی کوتاہ عقل سے غور کرتا ہے اور اپنے ناقص گمان کی تصدیق کرتا ہے۔

الأحزاب 33:13

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:14

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:15

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:16

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:17

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:18

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:19

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:20

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:21

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:22

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:23

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:24

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:25

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔