Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — الأحزاب 33:26 – سبأ 34:39

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. الأحزاب 33:26
  2. الأحزاب 33:27
  3. الأحزاب 33:28
  4. الأحزاب 33:29
  5. الأحزاب 33:30
  6. الأحزاب 33:31
  7. الأحزاب 33:32
  8. الأحزاب 33:33
  9. الأحزاب 33:34
  10. الأحزاب 33:35
  11. الأحزاب 33:36
  12. الأحزاب 33:37
  13. الأحزاب 33:38
  14. الأحزاب 33:39
  15. الأحزاب 33:40
  16. الأحزاب 33:41
  17. الأحزاب 33:42
  18. الأحزاب 33:43
  19. الأحزاب 33:44
  20. الأحزاب 33:45
  21. الأحزاب 33:46
  22. الأحزاب 33:47
  23. الأحزاب 33:48
  24. الأحزاب 33:49
  25. الأحزاب 33:50
  26. الأحزاب 33:51
  27. الأحزاب 33:52
  28. الأحزاب 33:53
  29. الأحزاب 33:54
  30. الأحزاب 33:55
  31. الأحزاب 33:56
  32. الأحزاب 33:57
  33. الأحزاب 33:58
  34. الأحزاب 33:59
  35. الأحزاب 33:60
  36. الأحزاب 33:61
  37. الأحزاب 33:62
  38. الأحزاب 33:63
  39. الأحزاب 33:64
  40. الأحزاب 33:65
  41. الأحزاب 33:66
  42. الأحزاب 33:67
  43. الأحزاب 33:68
  44. الأحزاب 33:69
  45. الأحزاب 33:70
  46. الأحزاب 33:71
  47. الأحزاب 33:72
  48. الأحزاب 33:73
  49. سبأ 34:1
  50. سبأ 34:2
  51. سبأ 34:3
  52. سبأ 34:4
  53. سبأ 34:5
  54. سبأ 34:6
  55. سبأ 34:7
  56. سبأ 34:8
  57. سبأ 34:9
  58. سبأ 34:10
  59. سبأ 34:11
  60. سبأ 34:12
  61. سبأ 34:13
  62. سبأ 34:14
  63. سبأ 34:15
  64. سبأ 34:16
  65. سبأ 34:17
  66. سبأ 34:18
  67. سبأ 34:19
  68. سبأ 34:20
  69. سبأ 34:21
  70. سبأ 34:22
  71. سبأ 34:23
  72. سبأ 34:24
  73. سبأ 34:25
  74. سبأ 34:26
  75. سبأ 34:27
  76. سبأ 34:28
  77. سبأ 34:29
  78. سبأ 34:30
  79. سبأ 34:31
  80. سبأ 34:32
  81. سبأ 34:33
  82. سبأ 34:34
  83. سبأ 34:35
  84. سبأ 34:36
  85. سبأ 34:37
  86. سبأ 34:38
  87. سبأ 34:39

الأحزاب 33:26

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:27

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27) [13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔ [14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔ [15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ [16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔ [18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ [19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔ [20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔ [21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ [22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔ [23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔ [24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔ [25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔ [27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔

الأحزاب 33:28

اے پیغمبر! کہہ دیجیے! اپنی بیویوں سے، اگر ہو تم چاہتی زندگی دنیا کی اور زیب و زینت اس کی تو آؤ ! میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کر دوں رخصت کرنا اچھے طریقے سے (28) اور اگر ہو تم چاہتی اللہ کو اور اس کےرسول کو اور آخرت کے گھر کو تو بلاشبہ اللہ نے تیار کیا ہے نیکی کرنے و الیوں کے لیے تم میں سے، اجر بہت بڑا (29) [28] رسول اللہ کی ازواج مطہراتg نے جمع ہو کر آپ ﷺ سے کچھ ایسے مطالبات کیے جن کو ہر وقت پورا نہیں کیا جا سکتا تھا، مگر وہ متفق ہو کر اپنا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ یہ چیز رسول اللہ ﷺ پر بہت شاق گزری۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ آپ کو ان کے ساتھ ایک ماہ کے لیے ایلاء (زو جہ کے قریب نہ جانے کا عہد) کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کے معاملے کو آسان اور آپ کی ازواج مطہرات کے درجات کو بلند کرنا چاہتا تھا اور آپ کی ازواج مطہرات سے ہر اس بات کو دور کرنا چاہتا تھا جو ان کے اجر کو کم کرے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی ازواج کو (اپنے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دے دیں۔ فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا ﴾ ’’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو۔‘‘ یعنی اگر دنیا کے سوا تمھارا کوئی مطلب نہیں اور تم دنیا کی زندگی پر راضی اور اس کے فقدان پر ناراض ہو۔ اگر تمھارا یہی حال ہے تو مجھے تمھاری کوئی ضرورت نہیں۔ ﴿فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ ﴾ ’’تو آؤ میں تمھیں کچھ مال دوں۔‘‘ یعنی میرے پاس جو بھی سروسامان ہے، وہ تمھیں عطا کر دوں۔ ﴿وَاُسَرِّحۡؔكُنَّ ﴾ اور تمھیں الگ کر دوں ﴿سَرَاحًا جَمِيۡلًا﴾ یعنی کسی ناراضی اور سب و شتم کے بغیر، بلکہ خوش دلی اور انشراح صدر کے ساتھ، اس سے قبل کہ حالات نامناسب سطح تک پہنچ جائیں تمھیں آزاد کر دوں۔ [29]﴿وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طلبگار ہو۔‘‘ یعنی اگر آخرت کا گھر تمھارا مطلوب و مقصود ہے اور جب تمھیں اللہ، اس کا رسول اور آخرت حاصل ہو جائیں تو تمھیں دنیا کی کشادگی اور تنگی، اس کی آسانی اور سختی کی پروا نہ ہو اور تم اسی پر قناعت کرو جو تمھیں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے میسر ہے اور آپ سے ایسا مطالبہ نہ کرو جو آپ پر شاق گزرے ﴿فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡؔكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’تو (جان لو) اللہ نے تم میں سے نیکو کاروں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کررکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے وصف احسان پر اجر مرتب کیا ہے کیونکہ اس اجر کا سبب اور موجب یہ نہیں کہ وہ رسول (ﷺ)کی بیویاں ہیں بلکہ اس کا موجب یہی وصف ہے۔ احسان کا وصف معدوم ہوتے ہوئے مجرد رسولﷺ کی بیویاں ہونا کافی نہیں۔رسول اللہ ﷺ نے تمام ازواج مطہراتg کو اختیار دے دیا۔ تمام ازواج مطہراتg نے اللہ، اس کے رسول اور آخرت کو اختیار کر لیا، ان میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہی ۔ اس تخییر سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں:(۱) اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول (ﷺ)کے لیے اہتمام کرنا اور اس پر غیرت کا اظہار کرنا، آپ کا ایسے حال میں ہونا کہ آپ کی ازواج مطہرات کے بہت سے دنیاوی مطالبات کا آپ پر شاق گزرنا۔(۲) اس تخییر کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج مطہرات کے حقوق کے بوجھ سے سلامت ہونا، اپنے آپ میں آزاد ہونا، اگر آپ ﷺ چاہیں تو عطا کریں اور اگر چاہیں تو محروم رکھیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنۡ حَرَجٍ فِيۡمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ ﴾(الاحزاب:33؍38)’’نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی حرج نہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کر دیا۔‘‘(۳) اللہ تعالیٰ کے رسول کا ان امور سے منزہ ہونا جو اگر ازواج مطہرات میں ہوتے ، مثلاً:اللہ اور اس کے رسول پر دنیا کو ترجیح دینا... تو آپ ان کے قریب نہ جاتے۔(۴)آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کا گناہ اور کسی ایسے امر سے تعرض سے سلامت ہونا جو اللہ اور اس کے رسول کی ناراضی کا موجب ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس تخییر کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ پر ان کی ناراضی کو ختم کر دیا، جو آپ کی ناراضی کا موجب تھی، آپ کی ناراضی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی عذاب کی موجب ہے۔(۵)ان آیات کریمہ سے، ازواج مطہرات کی رفعت، ان کے درجات کی بلندی اور ان کی عالی ہمتی کا اظہار ہوتا ہے کہ انھوں نے دنیا کے چند ٹکڑوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اپنا مطلوب و مقصود اور اپنی مراد بنایا۔(۶)ازواج مطہرات کا اس اختیار کے ذریعے سے ایک ایسے معاملے کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہونا جو جنت کے درجات تک پہنچاتا ہے۔ نیز اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ تمام ازواج مطہرات دنیا و آخرت میں آپ کی بیویاں ہیں۔(۷) اس آیت کریمہ سے نبی ﷺ کے اور آپ کی ازواج مطہرات کے درمیان کامل مناسبت کا اظہار ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کامل ترین ہستی ہیں اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ آپ کی ازواج مطہرات بھی کامل اور پاک عورتیں ہوں۔ ﴿وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ ﴾(النور:24؍26)’’پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔‘‘(۸)یہ تخییر قناعت کی داعی اور اس کی موجب ہے۔ جس سے اطمینان قلب اور انشراح صدر حاصل ہوتا ہے، لالچ اور عدم رضا زائل ہو جاتے ہیں جو قلب کے لیے قلق، اضطراب اور ہم و غم کا باعث ہوتے ہیں۔(۹) ازواج مطہرات کا آپ کو اختیار کرنا، ان کے اجر میں کئی گنا اضافے کا سبب ہے نیز یہ کہ وہ ایک ایسے مرتبے پر فائز ہیں جس میں دنیا کی کوئی عورت شریک نہیں۔

الأحزاب 33:29

اے پیغمبر! کہہ دیجیے! اپنی بیویوں سے، اگر ہو تم چاہتی زندگی دنیا کی اور زیب و زینت اس کی تو آؤ ! میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کر دوں رخصت کرنا اچھے طریقے سے (28) اور اگر ہو تم چاہتی اللہ کو اور اس کےرسول کو اور آخرت کے گھر کو تو بلاشبہ اللہ نے تیار کیا ہے نیکی کرنے و الیوں کے لیے تم میں سے، اجر بہت بڑا (29) [28] رسول اللہ کی ازواج مطہراتg نے جمع ہو کر آپ ﷺ سے کچھ ایسے مطالبات کیے جن کو ہر وقت پورا نہیں کیا جا سکتا تھا، مگر وہ متفق ہو کر اپنا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ یہ چیز رسول اللہ ﷺ پر بہت شاق گزری۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ آپ کو ان کے ساتھ ایک ماہ کے لیے ایلاء (زو جہ کے قریب نہ جانے کا عہد) کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کے معاملے کو آسان اور آپ کی ازواج مطہرات کے درجات کو بلند کرنا چاہتا تھا اور آپ کی ازواج مطہرات سے ہر اس بات کو دور کرنا چاہتا تھا جو ان کے اجر کو کم کرے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی ازواج کو (اپنے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دے دیں۔ فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا ﴾ ’’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو۔‘‘ یعنی اگر دنیا کے سوا تمھارا کوئی مطلب نہیں اور تم دنیا کی زندگی پر راضی اور اس کے فقدان پر ناراض ہو۔ اگر تمھارا یہی حال ہے تو مجھے تمھاری کوئی ضرورت نہیں۔ ﴿فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ ﴾ ’’تو آؤ میں تمھیں کچھ مال دوں۔‘‘ یعنی میرے پاس جو بھی سروسامان ہے، وہ تمھیں عطا کر دوں۔ ﴿وَاُسَرِّحۡؔكُنَّ ﴾ اور تمھیں الگ کر دوں ﴿سَرَاحًا جَمِيۡلًا﴾ یعنی کسی ناراضی اور سب و شتم کے بغیر، بلکہ خوش دلی اور انشراح صدر کے ساتھ، اس سے قبل کہ حالات نامناسب سطح تک پہنچ جائیں تمھیں آزاد کر دوں۔ [29]﴿وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طلبگار ہو۔‘‘ یعنی اگر آخرت کا گھر تمھارا مطلوب و مقصود ہے اور جب تمھیں اللہ، اس کا رسول اور آخرت حاصل ہو جائیں تو تمھیں دنیا کی کشادگی اور تنگی، اس کی آسانی اور سختی کی پروا نہ ہو اور تم اسی پر قناعت کرو جو تمھیں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے میسر ہے اور آپ سے ایسا مطالبہ نہ کرو جو آپ پر شاق گزرے ﴿فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡؔكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’تو (جان لو) اللہ نے تم میں سے نیکو کاروں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کررکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے وصف احسان پر اجر مرتب کیا ہے کیونکہ اس اجر کا سبب اور موجب یہ نہیں کہ وہ رسول (ﷺ)کی بیویاں ہیں بلکہ اس کا موجب یہی وصف ہے۔ احسان کا وصف معدوم ہوتے ہوئے مجرد رسولﷺ کی بیویاں ہونا کافی نہیں۔رسول اللہ ﷺ نے تمام ازواج مطہراتg کو اختیار دے دیا۔ تمام ازواج مطہراتg نے اللہ، اس کے رسول اور آخرت کو اختیار کر لیا، ان میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہی ۔ اس تخییر سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں:(۱) اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول (ﷺ)کے لیے اہتمام کرنا اور اس پر غیرت کا اظہار کرنا، آپ کا ایسے حال میں ہونا کہ آپ کی ازواج مطہرات کے بہت سے دنیاوی مطالبات کا آپ پر شاق گزرنا۔(۲) اس تخییر کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج مطہرات کے حقوق کے بوجھ سے سلامت ہونا، اپنے آپ میں آزاد ہونا، اگر آپ ﷺ چاہیں تو عطا کریں اور اگر چاہیں تو محروم رکھیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنۡ حَرَجٍ فِيۡمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ ﴾(الاحزاب:33؍38)’’نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی حرج نہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کر دیا۔‘‘(۳) اللہ تعالیٰ کے رسول کا ان امور سے منزہ ہونا جو اگر ازواج مطہرات میں ہوتے ، مثلاً:اللہ اور اس کے رسول پر دنیا کو ترجیح دینا... تو آپ ان کے قریب نہ جاتے۔(۴)آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کا گناہ اور کسی ایسے امر سے تعرض سے سلامت ہونا جو اللہ اور اس کے رسول کی ناراضی کا موجب ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس تخییر کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ پر ان کی ناراضی کو ختم کر دیا، جو آپ کی ناراضی کا موجب تھی، آپ کی ناراضی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی عذاب کی موجب ہے۔(۵)ان آیات کریمہ سے، ازواج مطہرات کی رفعت، ان کے درجات کی بلندی اور ان کی عالی ہمتی کا اظہار ہوتا ہے کہ انھوں نے دنیا کے چند ٹکڑوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اپنا مطلوب و مقصود اور اپنی مراد بنایا۔(۶)ازواج مطہرات کا اس اختیار کے ذریعے سے ایک ایسے معاملے کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہونا جو جنت کے درجات تک پہنچاتا ہے۔ نیز اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ تمام ازواج مطہرات دنیا و آخرت میں آپ کی بیویاں ہیں۔(۷) اس آیت کریمہ سے نبی ﷺ کے اور آپ کی ازواج مطہرات کے درمیان کامل مناسبت کا اظہار ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کامل ترین ہستی ہیں اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ آپ کی ازواج مطہرات بھی کامل اور پاک عورتیں ہوں۔ ﴿وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ ﴾(النور:24؍26)’’پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔‘‘(۸)یہ تخییر قناعت کی داعی اور اس کی موجب ہے۔ جس سے اطمینان قلب اور انشراح صدر حاصل ہوتا ہے، لالچ اور عدم رضا زائل ہو جاتے ہیں جو قلب کے لیے قلق، اضطراب اور ہم و غم کا باعث ہوتے ہیں۔(۹) ازواج مطہرات کا آپ کو اختیار کرنا، ان کے اجر میں کئی گنا اضافے کا سبب ہے نیز یہ کہ وہ ایک ایسے مرتبے پر فائز ہیں جس میں دنیا کی کوئی عورت شریک نہیں۔

الأحزاب 33:30

اے نبی کی بیویو! جو کرے گی تم میں سے بے حیائی کھلی، تو دگنا دیا جائے گااسے عذاب دوہرا، اور ہے یہ اوپر اللہ کے آسان (30) اور جو فرماں برداری کرے تم میں سے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور عمل کرے نیک تو دیں گے ہم اسے اس کا اجر دوبار، اور تیار کیا ہے ہم نے اس کے لیے رزق عزت کا(31) [30] جب ازواج مطہراتg نے اللہ، اس کے رسول ﷺ اور آخرت کو چن لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے کئی گنا اجر کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی ذکر کر دیا کہ ان کے گناہوں کی سزا بھی کئی گنا ہو گی تاکہ وہ گناہوں سے بچیں اور اجر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اگر ان میں سے کوئی فحش کام کا ارتکاب کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دوگنا عذاب مقرر فرمایا ہے۔ [31]﴿وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡؔكُنَّ ﴾ یعنی تم میں جو کوئی اطاعت شعار ہو گی ﴿لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًا ﴾ ’’اللہ کی اور اس کے رسول کی اور وہ نیک عمل کرے گی۔‘‘ خواہ وہ عمل تھوڑا ہو یا بہت ﴿نُّؤۡتِهَاۤ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ہم اسے دگنا اجر دیں گے‘‘ یعنی وہ اجر جو ہم دوسروں کو عطا کرتے ہیں، ان کو اُن سے دوگنا اجر عطا کریں گے ﴿وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا ﴾ ’’اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد جنت ہے، چنانچہ ازواج مطہرات نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، نیک عمل کیے تو اس سے ان کا اجر و ثواب بھی معلوم ہوگیا۔

الأحزاب 33:31

اے نبی کی بیویو! جو کرے گی تم میں سے بے حیائی کھلی، تو دگنا دیا جائے گااسے عذاب دوہرا، اور ہے یہ اوپر اللہ کے آسان (30) اور جو فرماں برداری کرے تم میں سے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور عمل کرے نیک تو دیں گے ہم اسے اس کا اجر دوبار، اور تیار کیا ہے ہم نے اس کے لیے رزق عزت کا(31) [30] جب ازواج مطہراتg نے اللہ، اس کے رسول ﷺ اور آخرت کو چن لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے کئی گنا اجر کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی ذکر کر دیا کہ ان کے گناہوں کی سزا بھی کئی گنا ہو گی تاکہ وہ گناہوں سے بچیں اور اجر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اگر ان میں سے کوئی فحش کام کا ارتکاب کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دوگنا عذاب مقرر فرمایا ہے۔ [31]﴿وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡؔكُنَّ ﴾ یعنی تم میں جو کوئی اطاعت شعار ہو گی ﴿لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًا ﴾ ’’اللہ کی اور اس کے رسول کی اور وہ نیک عمل کرے گی۔‘‘ خواہ وہ عمل تھوڑا ہو یا بہت ﴿نُّؤۡتِهَاۤ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ہم اسے دگنا اجر دیں گے‘‘ یعنی وہ اجر جو ہم دوسروں کو عطا کرتے ہیں، ان کو اُن سے دوگنا اجر عطا کریں گے ﴿وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا ﴾ ’’اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد جنت ہے، چنانچہ ازواج مطہرات نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، نیک عمل کیے تو اس سے ان کا اجر و ثواب بھی معلوم ہوگیا۔

الأحزاب 33:32

اے نبی کی بیویو! نہیں ہو تم مانند کسی ایک کے عورتوں میں سے اگر تم تقویٰ اختیار کرو، پس نہ نزاکت اختیار کرو تم بات چیت میں کہ طمع کرنے لگے وہ شخص جس کے دل میں روگ (ہوس) ہو اور کہو تم بات معقول(32) اور ٹک کر رہو تم اپنے گھروں میں اور نہ زیب و زینت ظاہر کرو(مانند) زینت ظاہر کرنے کے جاہلیت اُولیٰ میں اور قائم کرو نماز اور ادا کرو زکاۃ اوراطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی، بے شک چاہتا ہے اللہ کہ دور کر دے وہ تم سے ناپاکی اے (نبی کے) گھر والو! اور پاک کر دے تمھیں پوری طرح پاک کرنا(33) اور یاد کرو تم، جو پڑھی جاتی ہیں تمھارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت سے، بلاشبہ اللہ ہے نہایت باریک بین ،بڑا باخبر(34) [32]﴿يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ ﴾ ’’ اے نبی کی بیویو!‘‘ تمام ازواج مطہرات سے خطاب ہے۔ ﴿لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ ﴾ ’’تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو‘‘ کیونکہ اس طرح تمھیں تمام عورتوں پر فوقیت حاصل ہو گی اور کوئی عورت تمھارے درجے کو نہیں پہنچ سکے گی۔ پس ازواج رسول نے تقویٰ کی اس کے تمام وسائل اور مقاصد کے ساتھ تکمیل کی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام حرام و سائل کو منقطع کرنے میں ان کی راہنمائی فرمائی اور فرمایا:﴿فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ ﴾ ’’پس تم نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ یعنی مردوں کے ساتھ مخاطب ہوتے ہوئے یا اس وقت کہ لوگ تمھاری گفتگو سن رہے ہوں اور تم دھیمے لہجے اور رغبت دلانے والی نرم کلامی سے گفتگو کرو تو ہوسکتا ہے کہ تمھاری طرف مائل ہوجائے۔ ﴿الَّذِيۡ فِيۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ﴾ ’’وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے۔‘‘ یعنی شہوت زنا کا مرض۔ بے شک ایسا شخص تیار رہتا ہے اور کسی ادنیٰ سے محرک کا منتظر رہتا ہے جو اس کو متحرک کر دے کیونکہ اس کا قلب صحت مند نہیں اور صحت مند قلب میں کسی ایسی چیز کی شہوت نہیں ہوتی جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہو۔ اس کے قلب کے صحت مند اور مرض سے سلامت ہونے کی وجہ سے اسباب اسے شہوت حرام کے لیے متحرک کر سکتے ہیں نہ اسے اس کی طرف مائل کر سکتے ہیں، بخلاف اس قلب کے جو مریض ہے وہ اس چیز کا متحمل نہیں ہو سکتا جس کا متحمل ایک صحت مند قلب ہو سکتا ہے، وہ اس چیز پر صبر نہیں کر سکتا جس پر ایک صحت مند صبر کر سکتا ہے۔ پس اگر ایک ادنیٰ سا سبب بھی اسے حرام کی طرف دعوت دے تو وہ اس کی دعوت پر لبیک کہے گا اور اس کی نافرمانی نہیں کرے گا۔ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ وسائل کے احکام بھی وہی ہیں جو مقاصد کے احکام ہیں کیونکہ دھیمے لہجے میں بات کرنا اور نرم کلامی، اصل میں مباح ہیں چونکہ اس قسم کی نرم کلامی حرام کردہ امر کے لیے وسیلہ بن سکتی ہے اس لیے اس سے روک دیا گیا، اس لیے عورت کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ مردوں سے مخاطب ہوتے وقت نرم لہجے میں بات نہ کرے۔ چونکہ انھیں نرم لہجے میں بات کرنے سے روکا گیا ہے اس لیے بسااوقات یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ انھیں درشت کلامی کا حکم ہے ، چنانچہ اس وہم کو اس ارشاد کے ذریعے سے دور کیا گیا ہے:﴿وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا﴾ ’’اور دستور کے مطابق بات کیا کرو۔‘‘ یعنی جس طرح دھیما پن اور نرم کلامی نہیں ہونی چاہیے اسی طرح درشت لہجے اور بداخلاقی پر مشتمل کلام بھی نہیں ہونا چاہیے۔ غور کیجیے کیسے ارشاد فرمایا: ﴿فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ ﴾ ’’نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور یہ نہیں کہا : فَلاَ تَلِنَّ بِالْقَوْلِ ’’بات کرنے میں نرمی نہ کرو۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی نرم کلامی ممنوع ہے جس میں مرد کے لیے عورت کی اطاعت اور اس کے انکسار کی جھلک ہو۔ اطاعت مند اور جھکنے والے کے بارے میں کسی قسم کا طمع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو کوئی ایسے نرم لہجے میں بات کرتا ہے، جس میں اطاعت اور جھکاؤ کی جھلک نہیں ہوتی بلکہ اس میں ترفع اور مدمقابل کے لیے سختی ہوتی ہے، اس شخص کے بارے میں مدمقابل کوئی طمع نہیں کر سکتا، (ورنہ نرمی تو مطلوب ہے) اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی نرم مزاجی کی مدح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’پس اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں۔‘‘ حضرت موسیٰ اور ہارون iسے فرمایا: ﴿اِذۡهَبَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ۚۖ۰۰ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى﴾(طہ:20/43۔44) ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد: ﴿فَيَطۡمَعَ الَّذِيۡ فِيۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ ﴾ اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دینا، شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مردوں اور عورتوں کی مدح و ثنا اور اس کا زنا کے قریب جانے سے منع کرنا یہ سب کچھ دلالت کرتا ہے کہ بندے کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب وہ اپنے نفس کو اس حالت میں دیکھے کہ وہ کسی حرام فعل کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے یا کسی محبوب ہستی کا کلام سن کر خوش ہوتا ہے اور اپنے اندر طمع کے داعیے کو حرام کی طرف رخ کرتے ہوئے پاتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مرض ہے۔ وہ اس مرض کو کمزور کرنے، ردی خیالات کا قلع قمع کرنے، اس خطرناک مرض سے نفس کو محفوظ کرنے کی پوری جدوجہد کرے اور اللہ تعالیٰ سے حفاظت اور توفیق کا سوال کرتا رہے۔ یہ بھی شرم گاہ کی حفاظت کے زمرے میں آتا ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ [33]﴿وَقَرۡنَ فِيۡ بُيُوۡتِكُنَّ ﴾ اپنے گھروں میں قرار پکڑو یہ تمھارے لیے زیادہ حفاظت اور سلامتی کا مقام ہے۔﴿وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى﴾ اور بناؤ سنگار کر کے اور خوشبو لگا کر بہت زیادہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلا کرو، جیسا کہ اہل جاہلیت کی عادت تھی جن کے پاس علم تھا نہ دین۔ یہ حکم شر اور اس کے اسباب کو روکنے کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر انھیں تقویٰ اور تقویٰ کی جزئیات کا حکم دینے کے بعد، اسے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کیونکہ عورتیں اس کی سب سے زیادہ محتاج ہوتی ہیں۔ اسی طرح اس نے انھیں اطاعت کا حکم دیا، خاص طور پر نماز اور زکاۃ کا حکم دیا جن کی ضرورت ہر شخص کو ہوتی ہے۔ نماز اور زکاۃ سب سے بڑی عبادتیں اورجلیل القدر نیکیاں ہیں۔ نماز کے اندر معبود کے لیے اخلاص اور زکاۃ میں اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان ہے۔ پھر ان کو عمومی اطاعت کا حکم دیا، فرمایا :﴿وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی۔‘‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہر قسم کا معاملہ داخل ہے، خواہ اس کا حکم وجوب کے طور پر دیا گیا ہو یا استحباب کے طور پر۔ ﴿اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ صرف یہ چاہتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں جن چیزوں کا حکم دیا اور جن امور سے منع کیا، اس کا مقصد صرف یہ ہے ﴿لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ ﴾ کہ وہ تم سے گندگی، شر اور ناپاکی کو دور کر دے ﴿اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَؔكُمۡ تَطۡهِيۡرًا﴾ ’’اے نبی کی گھر والیو! اور تمھیں خوب پاک کردے۔‘‘ یہاں تک کہ تم سب طاہر اور مطہر بن جاؤ ۔ پس تم ان اوامرونواہی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو، جن کی مصلحتوں کے بارے میں تمھیں آگاہ فرمایا کہ وہ محض تمھارے فائدے کے لیے ہیں، ان اوامرونواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں کسی مشقت اور تنگی میں مبتلا کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ تمھارے نفوس کا تزکیہ، تمھارے اخلاق کی تطہیر اور تمھارے اعمال کی اصلاح کرنا چاہتا ہے اور اس طرح تمھارے اجر کو بڑا کرنا مقصود ہے۔ [34] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو عمل کا حکم دیا جو فعل و ترک پر مشتمل ہے تو پھر انھیں علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور اس کا طریقہ بیان فرمایا، لہٰذا فرمایا:﴿وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِيۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ ﴾ ’’اور تمھارے گھروں میں جو اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔، ، یہاں آیات الٰہی سے مراد قرآن، حکمت سے مراد قرآن کے اسرار اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنا ذکر کرنے کا حکم دیا جو تلاوت قرآن کے ذریعے سے لفظی ذکر، اس کے معانی میں غوروفکر، اس کے احکام اور اس کی حکمتوں کے استخراج، اس پر عمل اور اس کی تاویل کے ذکر کو شامل ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ باریک بین، خبردار ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمام معاملات کے اسرار نہاں، سینوں کے بھید، آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی تمام چیزوں اور تمام کھلے چھپے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ اس کا لطف و کرم اور خبرگیری اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ انھیں اخلاص للہ اور اعمال کو چھپانے کی ترغیب دے، نیز تقاضا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی جزا دے۔ (اَللَّطِیفُ) اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو اپنے بندے کو ایسے مخفی طریقے سے بھلائی عطا کرتی ہے اور شر سے بچاتی ہے، جس کا اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے اس طرح رزق عطا کرتی ہے کہ اسے اس کا ادراک تک نہیں ہوتا اور وہ اسے ایسے اسباب دکھاتی ہے جسے نفس ناپسند کرتے ہیں، مگر یہ اسباب اس کے لیے بلند درجات اور اعلیٰ مراتب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔

الأحزاب 33:33

اے نبی کی بیویو! نہیں ہو تم مانند کسی ایک کے عورتوں میں سے اگر تم تقویٰ اختیار کرو، پس نہ نزاکت اختیار کرو تم بات چیت میں کہ طمع کرنے لگے وہ شخص جس کے دل میں روگ (ہوس) ہو اور کہو تم بات معقول(32) اور ٹک کر رہو تم اپنے گھروں میں اور نہ زیب و زینت ظاہر کرو(مانند) زینت ظاہر کرنے کے جاہلیت اُولیٰ میں اور قائم کرو نماز اور ادا کرو زکاۃ اوراطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی، بے شک چاہتا ہے اللہ کہ دور کر دے وہ تم سے ناپاکی اے (نبی کے) گھر والو! اور پاک کر دے تمھیں پوری طرح پاک کرنا(33) اور یاد کرو تم، جو پڑھی جاتی ہیں تمھارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت سے، بلاشبہ اللہ ہے نہایت باریک بین ،بڑا باخبر(34) [32]﴿يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ ﴾ ’’ اے نبی کی بیویو!‘‘ تمام ازواج مطہرات سے خطاب ہے۔ ﴿لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ ﴾ ’’تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو‘‘ کیونکہ اس طرح تمھیں تمام عورتوں پر فوقیت حاصل ہو گی اور کوئی عورت تمھارے درجے کو نہیں پہنچ سکے گی۔ پس ازواج رسول نے تقویٰ کی اس کے تمام وسائل اور مقاصد کے ساتھ تکمیل کی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام حرام و سائل کو منقطع کرنے میں ان کی راہنمائی فرمائی اور فرمایا:﴿فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ ﴾ ’’پس تم نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ یعنی مردوں کے ساتھ مخاطب ہوتے ہوئے یا اس وقت کہ لوگ تمھاری گفتگو سن رہے ہوں اور تم دھیمے لہجے اور رغبت دلانے والی نرم کلامی سے گفتگو کرو تو ہوسکتا ہے کہ تمھاری طرف مائل ہوجائے۔ ﴿الَّذِيۡ فِيۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ﴾ ’’وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے۔‘‘ یعنی شہوت زنا کا مرض۔ بے شک ایسا شخص تیار رہتا ہے اور کسی ادنیٰ سے محرک کا منتظر رہتا ہے جو اس کو متحرک کر دے کیونکہ اس کا قلب صحت مند نہیں اور صحت مند قلب میں کسی ایسی چیز کی شہوت نہیں ہوتی جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہو۔ اس کے قلب کے صحت مند اور مرض سے سلامت ہونے کی وجہ سے اسباب اسے شہوت حرام کے لیے متحرک کر سکتے ہیں نہ اسے اس کی طرف مائل کر سکتے ہیں، بخلاف اس قلب کے جو مریض ہے وہ اس چیز کا متحمل نہیں ہو سکتا جس کا متحمل ایک صحت مند قلب ہو سکتا ہے، وہ اس چیز پر صبر نہیں کر سکتا جس پر ایک صحت مند صبر کر سکتا ہے۔ پس اگر ایک ادنیٰ سا سبب بھی اسے حرام کی طرف دعوت دے تو وہ اس کی دعوت پر لبیک کہے گا اور اس کی نافرمانی نہیں کرے گا۔ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ وسائل کے احکام بھی وہی ہیں جو مقاصد کے احکام ہیں کیونکہ دھیمے لہجے میں بات کرنا اور نرم کلامی، اصل میں مباح ہیں چونکہ اس قسم کی نرم کلامی حرام کردہ امر کے لیے وسیلہ بن سکتی ہے اس لیے اس سے روک دیا گیا، اس لیے عورت کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ مردوں سے مخاطب ہوتے وقت نرم لہجے میں بات نہ کرے۔ چونکہ انھیں نرم لہجے میں بات کرنے سے روکا گیا ہے اس لیے بسااوقات یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ انھیں درشت کلامی کا حکم ہے ، چنانچہ اس وہم کو اس ارشاد کے ذریعے سے دور کیا گیا ہے:﴿وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا﴾ ’’اور دستور کے مطابق بات کیا کرو۔‘‘ یعنی جس طرح دھیما پن اور نرم کلامی نہیں ہونی چاہیے اسی طرح درشت لہجے اور بداخلاقی پر مشتمل کلام بھی نہیں ہونا چاہیے۔ غور کیجیے کیسے ارشاد فرمایا: ﴿فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ ﴾ ’’نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور یہ نہیں کہا : فَلاَ تَلِنَّ بِالْقَوْلِ ’’بات کرنے میں نرمی نہ کرو۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی نرم کلامی ممنوع ہے جس میں مرد کے لیے عورت کی اطاعت اور اس کے انکسار کی جھلک ہو۔ اطاعت مند اور جھکنے والے کے بارے میں کسی قسم کا طمع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو کوئی ایسے نرم لہجے میں بات کرتا ہے، جس میں اطاعت اور جھکاؤ کی جھلک نہیں ہوتی بلکہ اس میں ترفع اور مدمقابل کے لیے سختی ہوتی ہے، اس شخص کے بارے میں مدمقابل کوئی طمع نہیں کر سکتا، (ورنہ نرمی تو مطلوب ہے) اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی نرم مزاجی کی مدح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’پس اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں۔‘‘ حضرت موسیٰ اور ہارون iسے فرمایا: ﴿اِذۡهَبَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ۚۖ۰۰ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى﴾(طہ:20/43۔44) ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد: ﴿فَيَطۡمَعَ الَّذِيۡ فِيۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ ﴾ اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دینا، شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مردوں اور عورتوں کی مدح و ثنا اور اس کا زنا کے قریب جانے سے منع کرنا یہ سب کچھ دلالت کرتا ہے کہ بندے کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب وہ اپنے نفس کو اس حالت میں دیکھے کہ وہ کسی حرام فعل کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے یا کسی محبوب ہستی کا کلام سن کر خوش ہوتا ہے اور اپنے اندر طمع کے داعیے کو حرام کی طرف رخ کرتے ہوئے پاتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مرض ہے۔ وہ اس مرض کو کمزور کرنے، ردی خیالات کا قلع قمع کرنے، اس خطرناک مرض سے نفس کو محفوظ کرنے کی پوری جدوجہد کرے اور اللہ تعالیٰ سے حفاظت اور توفیق کا سوال کرتا رہے۔ یہ بھی شرم گاہ کی حفاظت کے زمرے میں آتا ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ [33]﴿وَقَرۡنَ فِيۡ بُيُوۡتِكُنَّ ﴾ اپنے گھروں میں قرار پکڑو یہ تمھارے لیے زیادہ حفاظت اور سلامتی کا مقام ہے۔﴿وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى﴾ اور بناؤ سنگار کر کے اور خوشبو لگا کر بہت زیادہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلا کرو، جیسا کہ اہل جاہلیت کی عادت تھی جن کے پاس علم تھا نہ دین۔ یہ حکم شر اور اس کے اسباب کو روکنے کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر انھیں تقویٰ اور تقویٰ کی جزئیات کا حکم دینے کے بعد، اسے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کیونکہ عورتیں اس کی سب سے زیادہ محتاج ہوتی ہیں۔ اسی طرح اس نے انھیں اطاعت کا حکم دیا، خاص طور پر نماز اور زکاۃ کا حکم دیا جن کی ضرورت ہر شخص کو ہوتی ہے۔ نماز اور زکاۃ سب سے بڑی عبادتیں اورجلیل القدر نیکیاں ہیں۔ نماز کے اندر معبود کے لیے اخلاص اور زکاۃ میں اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان ہے۔ پھر ان کو عمومی اطاعت کا حکم دیا، فرمایا :﴿وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی۔‘‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہر قسم کا معاملہ داخل ہے، خواہ اس کا حکم وجوب کے طور پر دیا گیا ہو یا استحباب کے طور پر۔ ﴿اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ صرف یہ چاہتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں جن چیزوں کا حکم دیا اور جن امور سے منع کیا، اس کا مقصد صرف یہ ہے ﴿لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ ﴾ کہ وہ تم سے گندگی، شر اور ناپاکی کو دور کر دے ﴿اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَؔكُمۡ تَطۡهِيۡرًا﴾ ’’اے نبی کی گھر والیو! اور تمھیں خوب پاک کردے۔‘‘ یہاں تک کہ تم سب طاہر اور مطہر بن جاؤ ۔ پس تم ان اوامرونواہی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو، جن کی مصلحتوں کے بارے میں تمھیں آگاہ فرمایا کہ وہ محض تمھارے فائدے کے لیے ہیں، ان اوامرونواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں کسی مشقت اور تنگی میں مبتلا کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ تمھارے نفوس کا تزکیہ، تمھارے اخلاق کی تطہیر اور تمھارے اعمال کی اصلاح کرنا چاہتا ہے اور اس طرح تمھارے اجر کو بڑا کرنا مقصود ہے۔ [34] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو عمل کا حکم دیا جو فعل و ترک پر مشتمل ہے تو پھر انھیں علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور اس کا طریقہ بیان فرمایا، لہٰذا فرمایا:﴿وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِيۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ ﴾ ’’اور تمھارے گھروں میں جو اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔، ، یہاں آیات الٰہی سے مراد قرآن، حکمت سے مراد قرآن کے اسرار اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنا ذکر کرنے کا حکم دیا جو تلاوت قرآن کے ذریعے سے لفظی ذکر، اس کے معانی میں غوروفکر، اس کے احکام اور اس کی حکمتوں کے استخراج، اس پر عمل اور اس کی تاویل کے ذکر کو شامل ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ باریک بین، خبردار ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمام معاملات کے اسرار نہاں، سینوں کے بھید، آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی تمام چیزوں اور تمام کھلے چھپے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ اس کا لطف و کرم اور خبرگیری اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ انھیں اخلاص للہ اور اعمال کو چھپانے کی ترغیب دے، نیز تقاضا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی جزا دے۔ (اَللَّطِیفُ) اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو اپنے بندے کو ایسے مخفی طریقے سے بھلائی عطا کرتی ہے اور شر سے بچاتی ہے، جس کا اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے اس طرح رزق عطا کرتی ہے کہ اسے اس کا ادراک تک نہیں ہوتا اور وہ اسے ایسے اسباب دکھاتی ہے جسے نفس ناپسند کرتے ہیں، مگر یہ اسباب اس کے لیے بلند درجات اور اعلیٰ مراتب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔

الأحزاب 33:34

اے نبی کی بیویو! نہیں ہو تم مانند کسی ایک کے عورتوں میں سے اگر تم تقویٰ اختیار کرو، پس نہ نزاکت اختیار کرو تم بات چیت میں کہ طمع کرنے لگے وہ شخص جس کے دل میں روگ (ہوس) ہو اور کہو تم بات معقول(32) اور ٹک کر رہو تم اپنے گھروں میں اور نہ زیب و زینت ظاہر کرو(مانند) زینت ظاہر کرنے کے جاہلیت اُولیٰ میں اور قائم کرو نماز اور ادا کرو زکاۃ اوراطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی، بے شک چاہتا ہے اللہ کہ دور کر دے وہ تم سے ناپاکی اے (نبی کے) گھر والو! اور پاک کر دے تمھیں پوری طرح پاک کرنا(33) اور یاد کرو تم، جو پڑھی جاتی ہیں تمھارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت سے، بلاشبہ اللہ ہے نہایت باریک بین ،بڑا باخبر(34) [32]﴿يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ ﴾ ’’ اے نبی کی بیویو!‘‘ تمام ازواج مطہرات سے خطاب ہے۔ ﴿لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ ﴾ ’’تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو‘‘ کیونکہ اس طرح تمھیں تمام عورتوں پر فوقیت حاصل ہو گی اور کوئی عورت تمھارے درجے کو نہیں پہنچ سکے گی۔ پس ازواج رسول نے تقویٰ کی اس کے تمام وسائل اور مقاصد کے ساتھ تکمیل کی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام حرام و سائل کو منقطع کرنے میں ان کی راہنمائی فرمائی اور فرمایا:﴿فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ ﴾ ’’پس تم نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ یعنی مردوں کے ساتھ مخاطب ہوتے ہوئے یا اس وقت کہ لوگ تمھاری گفتگو سن رہے ہوں اور تم دھیمے لہجے اور رغبت دلانے والی نرم کلامی سے گفتگو کرو تو ہوسکتا ہے کہ تمھاری طرف مائل ہوجائے۔ ﴿الَّذِيۡ فِيۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ﴾ ’’وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے۔‘‘ یعنی شہوت زنا کا مرض۔ بے شک ایسا شخص تیار رہتا ہے اور کسی ادنیٰ سے محرک کا منتظر رہتا ہے جو اس کو متحرک کر دے کیونکہ اس کا قلب صحت مند نہیں اور صحت مند قلب میں کسی ایسی چیز کی شہوت نہیں ہوتی جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہو۔ اس کے قلب کے صحت مند اور مرض سے سلامت ہونے کی وجہ سے اسباب اسے شہوت حرام کے لیے متحرک کر سکتے ہیں نہ اسے اس کی طرف مائل کر سکتے ہیں، بخلاف اس قلب کے جو مریض ہے وہ اس چیز کا متحمل نہیں ہو سکتا جس کا متحمل ایک صحت مند قلب ہو سکتا ہے، وہ اس چیز پر صبر نہیں کر سکتا جس پر ایک صحت مند صبر کر سکتا ہے۔ پس اگر ایک ادنیٰ سا سبب بھی اسے حرام کی طرف دعوت دے تو وہ اس کی دعوت پر لبیک کہے گا اور اس کی نافرمانی نہیں کرے گا۔ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ وسائل کے احکام بھی وہی ہیں جو مقاصد کے احکام ہیں کیونکہ دھیمے لہجے میں بات کرنا اور نرم کلامی، اصل میں مباح ہیں چونکہ اس قسم کی نرم کلامی حرام کردہ امر کے لیے وسیلہ بن سکتی ہے اس لیے اس سے روک دیا گیا، اس لیے عورت کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ مردوں سے مخاطب ہوتے وقت نرم لہجے میں بات نہ کرے۔ چونکہ انھیں نرم لہجے میں بات کرنے سے روکا گیا ہے اس لیے بسااوقات یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ انھیں درشت کلامی کا حکم ہے ، چنانچہ اس وہم کو اس ارشاد کے ذریعے سے دور کیا گیا ہے:﴿وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا﴾ ’’اور دستور کے مطابق بات کیا کرو۔‘‘ یعنی جس طرح دھیما پن اور نرم کلامی نہیں ہونی چاہیے اسی طرح درشت لہجے اور بداخلاقی پر مشتمل کلام بھی نہیں ہونا چاہیے۔ غور کیجیے کیسے ارشاد فرمایا: ﴿فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ ﴾ ’’نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور یہ نہیں کہا : فَلاَ تَلِنَّ بِالْقَوْلِ ’’بات کرنے میں نرمی نہ کرو۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی نرم کلامی ممنوع ہے جس میں مرد کے لیے عورت کی اطاعت اور اس کے انکسار کی جھلک ہو۔ اطاعت مند اور جھکنے والے کے بارے میں کسی قسم کا طمع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو کوئی ایسے نرم لہجے میں بات کرتا ہے، جس میں اطاعت اور جھکاؤ کی جھلک نہیں ہوتی بلکہ اس میں ترفع اور مدمقابل کے لیے سختی ہوتی ہے، اس شخص کے بارے میں مدمقابل کوئی طمع نہیں کر سکتا، (ورنہ نرمی تو مطلوب ہے) اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی نرم مزاجی کی مدح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’پس اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں۔‘‘ حضرت موسیٰ اور ہارون iسے فرمایا: ﴿اِذۡهَبَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ۚۖ۰۰ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى﴾(طہ:20/43۔44) ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد: ﴿فَيَطۡمَعَ الَّذِيۡ فِيۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ ﴾ اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دینا، شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مردوں اور عورتوں کی مدح و ثنا اور اس کا زنا کے قریب جانے سے منع کرنا یہ سب کچھ دلالت کرتا ہے کہ بندے کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب وہ اپنے نفس کو اس حالت میں دیکھے کہ وہ کسی حرام فعل کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے یا کسی محبوب ہستی کا کلام سن کر خوش ہوتا ہے اور اپنے اندر طمع کے داعیے کو حرام کی طرف رخ کرتے ہوئے پاتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مرض ہے۔ وہ اس مرض کو کمزور کرنے، ردی خیالات کا قلع قمع کرنے، اس خطرناک مرض سے نفس کو محفوظ کرنے کی پوری جدوجہد کرے اور اللہ تعالیٰ سے حفاظت اور توفیق کا سوال کرتا رہے۔ یہ بھی شرم گاہ کی حفاظت کے زمرے میں آتا ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ [33]﴿وَقَرۡنَ فِيۡ بُيُوۡتِكُنَّ ﴾ اپنے گھروں میں قرار پکڑو یہ تمھارے لیے زیادہ حفاظت اور سلامتی کا مقام ہے۔﴿وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى﴾ اور بناؤ سنگار کر کے اور خوشبو لگا کر بہت زیادہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلا کرو، جیسا کہ اہل جاہلیت کی عادت تھی جن کے پاس علم تھا نہ دین۔ یہ حکم شر اور اس کے اسباب کو روکنے کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر انھیں تقویٰ اور تقویٰ کی جزئیات کا حکم دینے کے بعد، اسے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کیونکہ عورتیں اس کی سب سے زیادہ محتاج ہوتی ہیں۔ اسی طرح اس نے انھیں اطاعت کا حکم دیا، خاص طور پر نماز اور زکاۃ کا حکم دیا جن کی ضرورت ہر شخص کو ہوتی ہے۔ نماز اور زکاۃ سب سے بڑی عبادتیں اورجلیل القدر نیکیاں ہیں۔ نماز کے اندر معبود کے لیے اخلاص اور زکاۃ میں اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان ہے۔ پھر ان کو عمومی اطاعت کا حکم دیا، فرمایا :﴿وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی۔‘‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہر قسم کا معاملہ داخل ہے، خواہ اس کا حکم وجوب کے طور پر دیا گیا ہو یا استحباب کے طور پر۔ ﴿اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ صرف یہ چاہتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں جن چیزوں کا حکم دیا اور جن امور سے منع کیا، اس کا مقصد صرف یہ ہے ﴿لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ ﴾ کہ وہ تم سے گندگی، شر اور ناپاکی کو دور کر دے ﴿اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَؔكُمۡ تَطۡهِيۡرًا﴾ ’’اے نبی کی گھر والیو! اور تمھیں خوب پاک کردے۔‘‘ یہاں تک کہ تم سب طاہر اور مطہر بن جاؤ ۔ پس تم ان اوامرونواہی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو، جن کی مصلحتوں کے بارے میں تمھیں آگاہ فرمایا کہ وہ محض تمھارے فائدے کے لیے ہیں، ان اوامرونواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں کسی مشقت اور تنگی میں مبتلا کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ تمھارے نفوس کا تزکیہ، تمھارے اخلاق کی تطہیر اور تمھارے اعمال کی اصلاح کرنا چاہتا ہے اور اس طرح تمھارے اجر کو بڑا کرنا مقصود ہے۔ [34] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو عمل کا حکم دیا جو فعل و ترک پر مشتمل ہے تو پھر انھیں علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور اس کا طریقہ بیان فرمایا، لہٰذا فرمایا:﴿وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِيۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ ﴾ ’’اور تمھارے گھروں میں جو اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔، ، یہاں آیات الٰہی سے مراد قرآن، حکمت سے مراد قرآن کے اسرار اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنا ذکر کرنے کا حکم دیا جو تلاوت قرآن کے ذریعے سے لفظی ذکر، اس کے معانی میں غوروفکر، اس کے احکام اور اس کی حکمتوں کے استخراج، اس پر عمل اور اس کی تاویل کے ذکر کو شامل ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ باریک بین، خبردار ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمام معاملات کے اسرار نہاں، سینوں کے بھید، آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی تمام چیزوں اور تمام کھلے چھپے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ اس کا لطف و کرم اور خبرگیری اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ انھیں اخلاص للہ اور اعمال کو چھپانے کی ترغیب دے، نیز تقاضا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی جزا دے۔ (اَللَّطِیفُ) اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو اپنے بندے کو ایسے مخفی طریقے سے بھلائی عطا کرتی ہے اور شر سے بچاتی ہے، جس کا اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے اس طرح رزق عطا کرتی ہے کہ اسے اس کا ادراک تک نہیں ہوتا اور وہ اسے ایسے اسباب دکھاتی ہے جسے نفس ناپسند کرتے ہیں، مگر یہ اسباب اس کے لیے بلند درجات اور اعلیٰ مراتب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔

الأحزاب 33:35

بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرماں بردار مرداور فرماں بردار عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزے دار مرد اور روزے دار عورتیں اور حفاظت کرنے والے مرد اپنی شرم گاہوں کی اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور ذکر کرنے والے مرد اللہ کا کثرت سے اور ذکر کرنے والی عورتیں، تیار کر رکھی ہے اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم(35) [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ﷺ کی ازواج مطہرات کے لیے ثواب اور (بفرض محال عدم اطاعت کی صورت میں) عذاب کا ذکر کیا اور یہ بھی واضح کیا کہ ان جیسی کوئی عورت نہیں تو اس کے بعد، ان کے علاوہ دیگر عورتوں کا ذکر کیا۔ چونکہ عورتوں اور مردوں کا ایک ہی حکم ہے اس لیے دونوں کے لیے مشترک بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الۡمُسۡلِمِيۡنَ وَالۡمُسۡلِمٰتِ ﴾ ’’بلاشبہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں‘‘ یہ شریعت کے ظاہری احکام کے بارے میں ہے جبکہ وہ اسے قائم کریں۔ ﴿وَالۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں۔‘‘ یہ باطنی امور کے بارے میں ہے ، مثلاً: عقائد اور اعمال قلوب وغیرہ۔ ﴿وَالۡقٰنِتِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے مرد ﴿وَالۡقٰنِتٰؔتِ﴾’’اور اطاعت کرنے والی عورتیں ﴿وَالصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور سچ بولنے والے مرد۔‘‘ اپنے قول و فعل میں ﴿وَالصّٰؔدِقٰتِ ﴾ ’’اور سچ بولنے والی عورتیں۔‘‘ ﴿وَالصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اور صبر کرنے والے مرد ‘‘ مصائب وآلام پر ﴿وَالصّٰؔبِرٰتِ﴾ ’’اور صبر کرنے والی عورتیں‘‘ ﴿وَالۡخٰؔشِعِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ مرد جو عاجزی کرتے ہیں۔‘‘ اپنے تمام احوال میں، خاص طور پر عبادات میں اور عبادات میں سے خاص طور پر نمازوں میں، ﴿وَالۡخٰؔشِعٰتِ ﴾ ’’اور عاجزی کرنے والی عورتیں۔‘‘ ﴿وَالۡمُتَصَدِّقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ مرد جو صدقہ دیتے ہیں۔‘‘ خواہ یہ صدقہ فرض ہو یا نفل۔ ﴿وَالۡمُتَصَدِّقٰتِ۠﴾’’اور صدقہ دینے والی عورتیں ‘‘﴿وَالصَّآىِٕمِيۡنَ۠﴾’’اور روزہ رکھنے والے مرد‘‘ ﴿وَالصّٰٓىِٕمٰتِ﴾ ’’اور روزہ رکھنے والی عورتیں۔‘‘ یہ فرض اور نفل تمام روزوں کو شامل ہے ﴿وَالۡحٰؔفِظِيۡنَ فُرُوۡجَهُمۡ ﴾ زنا اور مقدمات زنا سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مرد ﴿وَالۡحٰؔفِظٰتِ ﴾ ’’اور حفاظت کرنے والی عورتیں۔‘‘ ﴿وَالذّٰكِرِيۡنَ اللّٰهَؔ كَثِيۡرًا ﴾ اور اپنے اکثر اوقات میں، خصوصاً مقررہ اوراد کے اوقات میں ، مثلاً: صبح و شام یا فرض نمازوں کے بعد اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے مرد ﴿وَّالذّٰكِرٰتِ ﴾ ’’اور ذکر کرنے والی عورتیں۔‘‘ ﴿اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمۡ ﴾ ’’اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جو ان صفات جمیلہ اور مناقب جلیلہ سے موصوف ہیں۔ یہ امور اعتقادات، اعمال قلوب، اعمال جوارح، اقوال لسان، دوسروں کو نفع پہنچانے، بھلائی کے کام کرنے اور شر کو ترک کرنے پر مشتمل ہیں۔ جو کوئی متذکرہ صدر امور پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ ظاہری اور باطنی طور پر تمام دین کو قائم کرتا ہے یعنی وہ اسلام، ایمان اور احسان پر عمل کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی یہ جزا دی کہ ان کے گناہوں کو بخش دیا، کیونکہ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ ﴿وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور ان کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔‘‘ جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا اندازہ صرف وہی کر سکے گا جس کو اللہ تعالیٰ عطا کرے گا۔ وہ ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کے خیال کا گزر ہوا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے۔

الأحزاب 33:36

اور نہیں ہے لائق واسطے کسی مومن اور نہ کسی مومنہ کے، جب فیصلہ کر دے اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا، یہ کہ ہو (اس کےبعد) ان کے لیے اختیاران کے معاملے میں اور جو نافرمانی کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو تحقیق گمراہ ہو گیا وہ گمراہ ظاہر(36) [36] جو شخص ایمان سے متصف ہے اس کے لیے اس کے سوا اور کچھ مناسب نہیں کہ وہ فوراً اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کی طرف سبقت کرے، ان کی ناراضی سے بچے، ان کے حکم کی تعمیل کرے اور جس کام سے وہ روک دیں، اس سے اجتناب کرے۔ کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لائق نہیں کہ ﴿اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَمۡرًا ﴾ ’’جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ کر دیں۔‘‘ اور اس کی تعمیل کو لازم قرار دے دیں تو ﴿اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ مِنۡ اَمۡرِهِمۡ﴾’’ان کے لیے اس فیصلے پر عمل کا اختیار باقی رہے۔‘‘ کہ آیا وہ اس کام کو کریں یا نہ کریں؟ بلکہ مومن مرد اور مومن عورتیں جانتے ہیں کہ رسول ﷺ ان کی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہیں، اس لیے وہ اپنے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان، اپنی کسی خواہشِ نفس کو حجاب نہ بنائیں۔﴿وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيۡنًا﴾ ’’اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہ ہو گیا۔‘‘ یعنی وہ واضح طور پر گمراہ ہو گیا کیونکہ اس نے صراط مستقیم کو ترک کر کے، جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک جاتا ہے، دوسرا راستہ اختیار کر لیا جو دردناک عذاب تک پہنچتا ہے۔سب سے پہلے اس سبب کا ذکر کیا جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ)کے حکم سے عدم معارضہ کا موجب ہے اور وہ ہے ایمان، پھر اس سے مانع کا ذکر فرمایا اور وہ ہے گمراہی سے ڈرانا، جو عذاب اور سزا پر دلالت کرتا ہے۔

الأحزاب 33:37

اور (یاد کریں) جب آپ کہتے تھے اس شخص سے کہ انعام کیا اللہ نے اس پر اور انعا م کیا تھا آپ نے بھی اس پر، کہ روکے رکھ تو اپنے پاس اپنی بیوی، اور ڈر اللہ سے، اور چھپاتے تھے آپ اپنے دل میں وہ بات کہ اللہ ظاہر کرنے والا تھا اسے اور ڈرتے تھے آپ لوگوں سے، حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے یہ کہ ڈریں آپ اس سے، پس جب پوری کر لی زید نے اس سے (اپنی) حاجت تو نکاح کر دیا ہم نے آپ کا اس سے، تاکہ نہ ہو مومنوں پر کوئی حرج اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کر لینے) میں، جب پوری کر لیں وہ ان سے (اپنی) حاجت، اور ہے حکم اللہ کا (پورا) کیا ہوا (37) [37] ان آیات کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے ایک عام قانون مشروع کرنے کا ارادہ فرمایا کہ منہ بولے بیٹے، تمام وجوہ سے، حقیقی بیٹوں کے حکم میں داخل نہیں ہیں اور ان کی بیویوں کے ساتھ، متبنیٰ بنانے والوں کے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ معاملہ ان امور عادیہ میں شمار ہوتا تھا جو کسی بہت بڑے حادثے کے بغیر ختم نہیں ہو سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ یہ قانون رسول (ﷺ)کے قول و فعل کے ذریعے سے وجود میں آئے اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے کوئی سبب مقرر کر دیتا ہے۔زید بن حارثہw کو ’’زید بن محمد‘‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا جنھیں نبی مصطفیٰ ﷺ نے اپنا متبنیٰ بنایا تھا۔ ان کو ’’زید بن محمد‘‘ کہا جاتا رہا حتیٰ کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ﴿اُدۡعُوۡهُمۡ لِاٰبَآىِٕهِمۡ﴾(الاحزاب:33/5) ’’ان کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔‘‘ تب ان کو زید بن حارثہw کہا جانے لگا۔ ان کی بیوی ز ینب بنت جحشr رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ آپ کو بذریعہ وحی مطلع کردیا گیا تھا کہ زید نے طلاق دے دینی ہے اور اس کے بعد اس کا نکاح آپ سے کردیا جائے گا۔ اس وحی ٔالٰہی کی وجہ سے آپﷺ یہ یقین رکھتے تھے کہ زید کے طلاق دینے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر کر دیا کہ حضرت زینبr اور حضرت زید بن حارثہw کے درمیان کچھ ایسے واقعات ہوئے جن کی بنا پر زیدt نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت ز ینبr کو طلاق دینے کی اجازت طلب کی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذۡ تَقُوۡلُ لِلَّذِيۡۤ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ ﴾ ’’جب آپ اس شخص سے، جس پر اللہ نے احسان کیا، کہہ رہے تھے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے اسلام سے سرفراز فرمایا ﴿وَاَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور آپ نے بھی اس پر انعام کیا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو آزادی عطا کر کے اور ارشاد و تعلیم کے ذریعے سے اس پر احسان فرمایا۔ جب زیدt نبیﷺ کے پاس اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں مشورہ طلب کرنے کی غرض سے حاضر ہوئے آپ نے اس کی خیرخواہی کرتے اور اس کو اس کی مصلحت سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَمۡسِكۡ عَلَيۡكَ زَوۡجَكَ ﴾ ’’اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو۔‘‘ یعنی اسے طلاق نہ دے اس کی طرف سے تمھیں جو کوئی تکلیف پہنچی ہے اس پر صبر کر۔ ﴿وَاتَّقِ اللّٰهَ ﴾ اپنے عام معاملات میں اور خاص طور پر اپنی بیوی کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر، کیونکہ تقویٰ صبر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کا حکم دیتا ہے۔ ﴿وَتُخۡفِيۡ فِيۡ نَفۡسِكَ مَا اللّٰهُ مُبۡدِيۡهِ ﴾ ’’اورآپ اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ رکھتے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔‘‘ جو چیز آپ نے اپنے دل میں چھپائی ہوئی تھی وہ یہی تھی جس کی اطلاع آپ کو بذریعہ وحی دی گئی تھی کہ اگر زیدt زینبr کو طلاق دے دے تو آپ اس سے نکاح کر لیں گے۔ ﴿وَتَخۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’اور آپ لوگوں سے ڈرتے تھے‘‘ اس چیز کے عدم ظہور کے معاملے میں جو آپ کے دل میں ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشٰىهُ ﴾’’حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔‘‘ کیونکہ اس کا خوف ہر بھلائی کے عطا ہونے کا سبب اور ہر برائی کے روکنے کا ذریعہ ہے۔﴿فَلَمَّا قَضٰى زَيۡدٌ مِّؔنۡهَا وَطَرًا ﴾ ’’پس جب زید نے اس سے اپنی ضرورت پوری کر لی۔‘‘ یعنی جب زیدt نے خوش دلی سے اور حضرت ز ینبr میں بے رغبتی کے باعث طلاق دے دی ﴿زَوَّجۡنٰـكَهَا﴾ ’’تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کر دیا‘‘ اور ہم نے یہ سب کچھ ایک عظیم فائدے کے لیے کیا۔ ﴿لِكَيۡؔ لَا يَكُوۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ حَرَجٌ فِيۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِيَآىِٕهِمۡ ﴾ ’’تاکہ مومنوں کے لیے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی حرج نہ رہے۔‘‘ یہ دیکھ کر کہ نبیﷺ نے زید بن حارثہw کی مطلقہ سے نکاح کر لیا ہے جو اس سے قبل آپ کا منہ بولا بیٹا تھا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿لِكَيۡؔ لَا يَكُوۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ حَرَجٌ فِيۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِيَآىِٕهِمۡ ﴾ تمام احوال میں عام ہے جبکہ بعض احوال میں ایسا کرنا جائز نہیں ہوتااور وہ حالت حاجت پوری ہونے سے پہلے کی حالت ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان کے ساتھ اسے مقید کر دیا کہ ﴿اِذَا قَضَوۡا مِنۡهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’جب وہ ان سے اپنی ضرورت پوری کر چکیں، اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہنے والا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم پورا ہوکر رہتا ہے اور اس کے لیے کوئی رکاوٹ اور کوئی مانع نہیں بن سکتا۔ان آیات کریمہ سے، جو اس واقعے پر مشتمل ہیں، متعدد نکات مستنبط ہوتے ہیں:(۱)ان آیات کریمہ میں دو لحاظ سے حضرت زید بن حارثہw کی مدح کی گئی ہے:(ا)اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آپ کا نام ذکر کیا ہے جبکہ آپ کے علاوہ صحابہ میں سے کسی صحابی کا نام قرآن مجید میں مذکور نہیں۔(ب) اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زید (t)کو نعمت سے نوازا یعنی اسلام اور ایمان کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گواہی ہے کہ زید ظاہری اور باطنی طور پر مسلمان اور مومن تھے ورنہ اس نعمت کو ان کے ساتھ مختص کرنے کی کوئی وجہ نہیں، سوائے اس کے کہ اس سے مراد نعمت خاص ہے۔(۲)جس شخص کو آزاد کیا گیا ہو وہ آزاد کرنے والے کا ممنونِ نعمت ہے۔(۳)ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح جائز ہے جیسا کہ اس کی تصریح کی گئی ہے۔(۴)ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ عملی تعلیم، قولی تعلیم سے زیادہ بلیغ اور مؤثر ہے خاص طور پر جب عملی تعلیم قولی تعلیم سے مقرون ہو تو پھر ’’سونے پہ سہاگہ‘‘ ہے۔(۵)بندے کے دل میں اپنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ کسی اور عورت کی رغبت کا پیدا ہوجانا قابل گرفت نہیں ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ رغبت یا محبت فعل حرام سے مقرون نہ ہو۔ بندہ اس محبت پر گناہ گار نہیں خواہ اس کی یہ آرزو ہی کیوں نہ ہو کہ اگر اس کا شوہر اسے طلاق دے دے تو وہ اس سے نکاح کرے گا، مگر وہ کسی بھی سبب سے ان کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے کوشش نہ کرے۔(۶)ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی رسالت کو واضح طریقے سے پہنچا دیا۔ آپ کی طرف جو کچھ بھی وحی کیا گیا وہ سب پہنچا دیا اور کچھ بھی باقی نہیں رکھا حتی کہ وہ حکم بھی پہنچایا جس میں آپ پر عتاب کیا گیا تھا اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور وہی بات کہتے ہیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اور آپ اپنی بڑائی نہیں چاہتے۔(۷)آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امین ہے، جب بھی کسی معاملے میں اس سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ اپنے علم کے مطابق بہترین مشورہ دے اور مشورہ طلب کرنے والے کے مفاد کو اپنی خواہش نفس اور اپنی غرض پر مقدم رکھے، خواہ اس میں اس کا اپنا حظ نفس ہی کیوں نہ ہو۔(۸)جو کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لیے مشورہ طلب کرتا ہے، اس کے لیے بہترین رائے یہ ہے کہ جہاں تک اصلاح احوال ممکن ہو، اس کو اپنی بیوی کو طلاق نہ دینے کا مشورہ دیا جائے کیونکہ بیوی کو اپنے پاس رکھنا، طلاق دینے سے بہتر ہے۔(۹)یہ بات متعین ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے خوف کو لوگوں کے خوف پر مقدم رکھے اور اللہ تعالیٰ کا خوف ہی زیادہ لائق اور اولیٰ ہے۔(۱۰) ان آیات کریمہ سے ام المومنین حضرت ز ینب بنت جحش r کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ ان کے نکاح کی اللہ تعالیٰ نے سرپرستی فرمائی جس میں کوئی خطبہ تھا نہ گواہ۔ بنا بریں ز ینب r رسول اللہﷺ کی دیگر ازواج مطہراتg پر فخر کا اظہار کیا کرتی تھیں، فرمایا کرتی تھیں:’’تمھارا نکاح تمھارے گھر والوں نے کیا ہے میرا نکاح سات آسمانوں پر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔‘‘ (۱۱) ان آیات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر عورت شادی شدہ ہو اور اس کا شوہر موجود ہو تو اس کے ساتھ نکاح جائز ہے نہ اس کے اسباب میں کوشش کرناجائز ہے جب تک اس کا شوہر اس سے اپنی حاجت پوری نہ کرے اور اس کی حاجت اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک کہ طلاق کی عدت پوری نہ ہو جائے کیونکہ عورت عدت کے ختم ہونے تک اپنے خاوند کی حفاظت میں ہوتی ہے خواہ کسی بھی پہلو سے ہو۔

الأحزاب 33:38

اور نہیں ہے اوپر نبی کے کوئی حرج اس بات میں جو فرض (مقدر) کر دی اللہ نے اس کے لیے، (یہ) طریقۂ الٰہی (رہا) ہے ان لوگوں(انبیاء) میں جو گزر گئے اس سے قبل اور ہے حکم اللہ کا اندازہ مقرر کیا ہوا (38)وہ لوگ (انبیاء) جو پہنچاتے ہیں پیغام اللہ کے اور وہ ڈرتے ہیں اس سے اور نہیں وہ ڈرتے کسی سے بھی سوائے اللہ کے ، اور کافی ہے اللہ حساب لینے والا(39) [38] یہ ان لوگوں کا جواب ہے جو کثرت ازواج کے ضمن میں آپﷺ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں جبکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں طعن کی کوئی گنجائش نہیں، چنانچہ فرمایا:﴿مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنۡ حَرَجٍ ﴾ ’’نبی پر کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ یعنی گناہ ﴿فِيۡمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ﴾ ’’ان چیزوں میں جنھیں اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے جو بیویاں مقرر کی ہیں، چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے کثرت ازواج کو اسی طرح مباح کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے دیگر انبیاء کے لیے مباح کیا۔ ، اس لیے فرمایا:﴿سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ١ؕ وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقۡدُوۡرَا﴾ ’’جو لوگ پہلے گزر گئے ان میں بھی اللہ کا یہی دستور رہا ہے اور اللہ کا حکم ٹھہر چکا ہے۔‘‘ یعنی اس کا وقوع پذیر ہونا ضروری ہے۔ [39] پھر ذکر فرمایا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں جن کی یہ عادت اور سنت ہے اور یہ وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ يُبَلِّغُوۡنَ رِسٰؔلٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں۔‘‘ جو بندوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کے دلائل و براہین کی تلاوت کرتے ہیں اور انھیں اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ﴿وَيَخۡشَوۡنَهٗ ﴾ وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک سے ڈرتے ہیں۔ ﴿وَلَا يَخۡشَوۡنَ اَحَدًا ﴾ ’’اور وہ (اللہ کے سوا) کسی سے نہیں ڈرتے۔‘‘ یہ انبیائے معصومین کی سنت میں شامل ہے جنھوں نے اپنا وظیفہ ادا کر دیا اور اسے مکمل طور پر قائم کیا اور وہ وظیفہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا اور صرف اسی کی خشیت کی ترغیب دینا ہے جو ہر فعل مامور کو بجا لانے اور فعل محظور سے اجتناب کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس میں کسی طرح بھی کوئی نقص نہیں۔ ﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيۡبًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا محاسبہ کرنے اور ان کے اعمال کی نگرانی کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح تمام انبیاء و مرسلین کی سنت ہے۔

الأحزاب 33:39

اور نہیں ہے اوپر نبی کے کوئی حرج اس بات میں جو فرض (مقدر) کر دی اللہ نے اس کے لیے، (یہ) طریقۂ الٰہی (رہا) ہے ان لوگوں(انبیاء) میں جو گزر گئے اس سے قبل اور ہے حکم اللہ کا اندازہ مقرر کیا ہوا (38)وہ لوگ (انبیاء) جو پہنچاتے ہیں پیغام اللہ کے اور وہ ڈرتے ہیں اس سے اور نہیں وہ ڈرتے کسی سے بھی سوائے اللہ کے ، اور کافی ہے اللہ حساب لینے والا(39) [38] یہ ان لوگوں کا جواب ہے جو کثرت ازواج کے ضمن میں آپﷺ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں جبکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں طعن کی کوئی گنجائش نہیں، چنانچہ فرمایا:﴿مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنۡ حَرَجٍ ﴾ ’’نبی پر کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ یعنی گناہ ﴿فِيۡمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ﴾ ’’ان چیزوں میں جنھیں اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے جو بیویاں مقرر کی ہیں، چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے کثرت ازواج کو اسی طرح مباح کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے دیگر انبیاء کے لیے مباح کیا۔ ، اس لیے فرمایا:﴿سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ١ؕ وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقۡدُوۡرَا﴾ ’’جو لوگ پہلے گزر گئے ان میں بھی اللہ کا یہی دستور رہا ہے اور اللہ کا حکم ٹھہر چکا ہے۔‘‘ یعنی اس کا وقوع پذیر ہونا ضروری ہے۔ [39] پھر ذکر فرمایا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں جن کی یہ عادت اور سنت ہے اور یہ وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ يُبَلِّغُوۡنَ رِسٰؔلٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں۔‘‘ جو بندوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کے دلائل و براہین کی تلاوت کرتے ہیں اور انھیں اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ﴿وَيَخۡشَوۡنَهٗ ﴾ وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک سے ڈرتے ہیں۔ ﴿وَلَا يَخۡشَوۡنَ اَحَدًا ﴾ ’’اور وہ (اللہ کے سوا) کسی سے نہیں ڈرتے۔‘‘ یہ انبیائے معصومین کی سنت میں شامل ہے جنھوں نے اپنا وظیفہ ادا کر دیا اور اسے مکمل طور پر قائم کیا اور وہ وظیفہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا اور صرف اسی کی خشیت کی ترغیب دینا ہے جو ہر فعل مامور کو بجا لانے اور فعل محظور سے اجتناب کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس میں کسی طرح بھی کوئی نقص نہیں۔ ﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيۡبًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا محاسبہ کرنے اور ان کے اعمال کی نگرانی کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح تمام انبیاء و مرسلین کی سنت ہے۔

الأحزاب 33:40

نہیں ہیں محمد(ﷺ)باپ کسی کے تمھارے مردوں میں سے لیکن رسول ہیں اللہ کے اور خاتم ہیں نبیوں کے اور ہے اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا(40) [40] نہیں ہیں رسول اللہ ﴿مُحَمَّدٌ﴾ حضرت محمدﷺ ﴿اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ ﴾ ’’تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ۔‘‘ اس سے آپﷺ کی طرف حضرت زید بن حارثہw کا انتساب منقطع ہوگیا۔جب یہ نفی تمام احوال میں عام ہے تو اگر لفظ کو اپنے ظاہری معنوں پر محمول کیا جائے، یعنی آپﷺ نسب کے اعتبار سے کسی کے باپ ہیں نہ کسی منہ بولے بیٹے کے باپ ہیں جبکہ گزشتہ سطور میں یہ بات متحقق ہو چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام مومنوں کے باپ ہیں اور آپ کی ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں ہیں، اس لیے احتراز فرمایا، تاکہ یہ نوع متذکرہ صدر عموم نہی میں داخل نہ ہو ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلٰكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ﴾ ’’بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔‘‘ یہ آپ کا مرتبہ مطاع ومتبوع کا مرتبہ ہے آپ پر ایمان لانے والا آپ کی پیروی کرتا ہے، آپ کی محبت کو ہر کسی کی محبت پر مقدم کرتا ہے۔ آپ اہل ایمان کے خیر خواہ ہیں، اپنی خیر خواہی اور حسن سلوک کی بنا پر گویا آپ ان کے باپ ہیں۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس کے علم نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی ذمہ داری کسے عطا کرے؟ کون اس کے فضل و کرم کا اہل اور کون اہل نہیں ہے؟

الأحزاب 33:41

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو اللہ کویاد کرنا بہت زیادہ(41) اور تسبیح بیان کرو تم اس کی صبح و شام(42) وہی ہے جو رحمت بھیجتا ہے تم پر اور اس کےفرشتے (رحمت کی دعا کرتے ہیں)تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف اور ہے وہ مومنوں پربہت رحم کرنے والا(43) ان کی دعا ہو گی جس دن ملیں گے وہ اس (اللہ) کو، سلام اور تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے اجر عزت والا(44) [41] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ تہلیل و تحمید اور تسبیح و تکبیر وغیرہ کے ذریعے سے کہ جن میں سے ہر کلمہ تقرب الٰہی کا وسیلہ ہے نہایت کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کریں۔ قلیل ترین ذکر یہ ہے کہ انسان صبح شام اور نمازوں کے بعد کے اذکار کا التزام کرے نیز مختلف عوارض اور اسباب کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔ تمام اوقات اور تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے ذکر پر دوام کرے، کیونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے سے عمل کرنے والا آرام کرتے ہوئے بھی سبقت لے جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے، بھلائی پر مددگار ہے اور زبان کو گندی باتوں سے باز رکھتا ہے۔ [42]﴿وَّسَبِّحُوۡهُ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ اورصبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو کیونکہ صبح اور شام دونوں فضیلت کے حامل اوقات ہیں اور ان میں عمل کرنا بھی نہایت سہل ہوتا ہے۔ [43]﴿هُوَ الَّذِيۡ يُصَلِّيۡ عَلَيۡكُمۡ وَمَلٰٓىِٕكَتُهٗ لِيُخۡرِجَكُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ١ؕ وَكَانَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَحِيۡمًا ﴾ ’’وہی ہے جو تم پر رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تمھارے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں تاکہ وہ تمھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان پر یہ اس کی بے پایاں رحمت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو اپنی برکت، اپنی مدح و ثنا اور فرشتوں کی دعاؤ ں سے نوازا جو انھیں گناہوں اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایمان، توفیق، علم اور عمل کی روشنی میں لاتی ہیں۔ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے اطاعت کیش بندوں کو سرفراز فرمایا۔ یہ نعمت ان سے اللہ تعالیٰ کے شکر اور کثرت کے ساتھ اس کے ذکر کا مطالبہ کرتی ہے جس نے ان پر رحم اور لطف و کرم کیا۔ اس کے عرش عظیم کو اٹھانے والے اور اس کے اردگرد موجود افضل ترین فرشتے اپنے رب کی تحمید کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:﴿رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَيۡءٍ رَّحۡمَةً وَّعِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاتَّبَعُوۡا سَبِيۡلَكَ وَقِهِمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡهُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِنِ الَّتِيۡ وَعَدۡتَّهُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُۙ۰۰ وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ١ؕ وَمَنۡ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوۡمَىِٕذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَهٗ١ؕ وَذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾(المؤمن:40؍7-9) ’’اے ہمارے رب! تو نے اپنی رحمت اور علم کے ساتھ ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، پس تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی اور انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ اے ہمارے رب! تو داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں، جن کا تو نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور ان کے والدین، بیویوں اور اولاد میں سے ان لوگوں کو بھی (ان جنتوں میں داخل کر) جو نیک ہیں۔ بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے اور تو ان کو برائیوں سے بچا اور جس کو تو نے اس روز برائیوں سے بچا دیا، تو تُو نے اس پر رحم کیا اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ ان پر اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت اور نعمت دنیا میں ہے۔ [44] ان پر آخرت میں جو رحمت ہو گی وہ جلیل ترین رحمت اور افضل ترین ثواب ہے اور یہ ہے اپنے رب کی رضا کے حصول میں فوزیاب ہونا، ان کے رب کی طرف سے سلام، اس کے کلام جلیل کا سماع، اس کے چہرۂ مبارک کا دیدار اور بہت بڑے اجر کا حصول جس کو کوئی جان سکتا ہے نہ اس کی حقیقی معرفت حاصل کر سکتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو وہ خود عطا کر دے۔ بنا بریں فرمایا:﴿تَحِيَّتُهُمۡ يَوۡمَ يَلۡقَوۡنَهٗ سَلٰمٌ١ۚ ۖ وَاَعَدَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَرِيۡمًا ﴾ ’’جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ سلام ہو گا اور اس نے ان کے لیے اجرِ کریم تیار کر رکھا ہے۔‘‘

الأحزاب 33:42

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو اللہ کویاد کرنا بہت زیادہ(41) اور تسبیح بیان کرو تم اس کی صبح و شام(42) وہی ہے جو رحمت بھیجتا ہے تم پر اور اس کےفرشتے (رحمت کی دعا کرتے ہیں)تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف اور ہے وہ مومنوں پربہت رحم کرنے والا(43) ان کی دعا ہو گی جس دن ملیں گے وہ اس (اللہ) کو، سلام اور تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے اجر عزت والا(44) [41] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ تہلیل و تحمید اور تسبیح و تکبیر وغیرہ کے ذریعے سے کہ جن میں سے ہر کلمہ تقرب الٰہی کا وسیلہ ہے نہایت کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کریں۔ قلیل ترین ذکر یہ ہے کہ انسان صبح شام اور نمازوں کے بعد کے اذکار کا التزام کرے نیز مختلف عوارض اور اسباب کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔ تمام اوقات اور تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے ذکر پر دوام کرے، کیونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے سے عمل کرنے والا آرام کرتے ہوئے بھی سبقت لے جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے، بھلائی پر مددگار ہے اور زبان کو گندی باتوں سے باز رکھتا ہے۔ [42]﴿وَّسَبِّحُوۡهُ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ اورصبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو کیونکہ صبح اور شام دونوں فضیلت کے حامل اوقات ہیں اور ان میں عمل کرنا بھی نہایت سہل ہوتا ہے۔ [43]﴿هُوَ الَّذِيۡ يُصَلِّيۡ عَلَيۡكُمۡ وَمَلٰٓىِٕكَتُهٗ لِيُخۡرِجَكُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ١ؕ وَكَانَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَحِيۡمًا ﴾ ’’وہی ہے جو تم پر رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تمھارے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں تاکہ وہ تمھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان پر یہ اس کی بے پایاں رحمت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو اپنی برکت، اپنی مدح و ثنا اور فرشتوں کی دعاؤ ں سے نوازا جو انھیں گناہوں اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایمان، توفیق، علم اور عمل کی روشنی میں لاتی ہیں۔ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے اطاعت کیش بندوں کو سرفراز فرمایا۔ یہ نعمت ان سے اللہ تعالیٰ کے شکر اور کثرت کے ساتھ اس کے ذکر کا مطالبہ کرتی ہے جس نے ان پر رحم اور لطف و کرم کیا۔ اس کے عرش عظیم کو اٹھانے والے اور اس کے اردگرد موجود افضل ترین فرشتے اپنے رب کی تحمید کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:﴿رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَيۡءٍ رَّحۡمَةً وَّعِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاتَّبَعُوۡا سَبِيۡلَكَ وَقِهِمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡهُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِنِ الَّتِيۡ وَعَدۡتَّهُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُۙ۰۰ وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ١ؕ وَمَنۡ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوۡمَىِٕذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَهٗ١ؕ وَذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾(المؤمن:40؍7-9) ’’اے ہمارے رب! تو نے اپنی رحمت اور علم کے ساتھ ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، پس تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی اور انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ اے ہمارے رب! تو داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں، جن کا تو نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور ان کے والدین، بیویوں اور اولاد میں سے ان لوگوں کو بھی (ان جنتوں میں داخل کر) جو نیک ہیں۔ بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے اور تو ان کو برائیوں سے بچا اور جس کو تو نے اس روز برائیوں سے بچا دیا، تو تُو نے اس پر رحم کیا اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ ان پر اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت اور نعمت دنیا میں ہے۔ [44] ان پر آخرت میں جو رحمت ہو گی وہ جلیل ترین رحمت اور افضل ترین ثواب ہے اور یہ ہے اپنے رب کی رضا کے حصول میں فوزیاب ہونا، ان کے رب کی طرف سے سلام، اس کے کلام جلیل کا سماع، اس کے چہرۂ مبارک کا دیدار اور بہت بڑے اجر کا حصول جس کو کوئی جان سکتا ہے نہ اس کی حقیقی معرفت حاصل کر سکتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو وہ خود عطا کر دے۔ بنا بریں فرمایا:﴿تَحِيَّتُهُمۡ يَوۡمَ يَلۡقَوۡنَهٗ سَلٰمٌ١ۚ ۖ وَاَعَدَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَرِيۡمًا ﴾ ’’جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ سلام ہو گا اور اس نے ان کے لیے اجرِ کریم تیار کر رکھا ہے۔‘‘

الأحزاب 33:43

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو اللہ کویاد کرنا بہت زیادہ(41) اور تسبیح بیان کرو تم اس کی صبح و شام(42) وہی ہے جو رحمت بھیجتا ہے تم پر اور اس کےفرشتے (رحمت کی دعا کرتے ہیں)تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف اور ہے وہ مومنوں پربہت رحم کرنے والا(43) ان کی دعا ہو گی جس دن ملیں گے وہ اس (اللہ) کو، سلام اور تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے اجر عزت والا(44) [41] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ تہلیل و تحمید اور تسبیح و تکبیر وغیرہ کے ذریعے سے کہ جن میں سے ہر کلمہ تقرب الٰہی کا وسیلہ ہے نہایت کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کریں۔ قلیل ترین ذکر یہ ہے کہ انسان صبح شام اور نمازوں کے بعد کے اذکار کا التزام کرے نیز مختلف عوارض اور اسباب کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔ تمام اوقات اور تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے ذکر پر دوام کرے، کیونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے سے عمل کرنے والا آرام کرتے ہوئے بھی سبقت لے جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے، بھلائی پر مددگار ہے اور زبان کو گندی باتوں سے باز رکھتا ہے۔ [42]﴿وَّسَبِّحُوۡهُ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ اورصبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو کیونکہ صبح اور شام دونوں فضیلت کے حامل اوقات ہیں اور ان میں عمل کرنا بھی نہایت سہل ہوتا ہے۔ [43]﴿هُوَ الَّذِيۡ يُصَلِّيۡ عَلَيۡكُمۡ وَمَلٰٓىِٕكَتُهٗ لِيُخۡرِجَكُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ١ؕ وَكَانَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَحِيۡمًا ﴾ ’’وہی ہے جو تم پر رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تمھارے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں تاکہ وہ تمھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان پر یہ اس کی بے پایاں رحمت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو اپنی برکت، اپنی مدح و ثنا اور فرشتوں کی دعاؤ ں سے نوازا جو انھیں گناہوں اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایمان، توفیق، علم اور عمل کی روشنی میں لاتی ہیں۔ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے اطاعت کیش بندوں کو سرفراز فرمایا۔ یہ نعمت ان سے اللہ تعالیٰ کے شکر اور کثرت کے ساتھ اس کے ذکر کا مطالبہ کرتی ہے جس نے ان پر رحم اور لطف و کرم کیا۔ اس کے عرش عظیم کو اٹھانے والے اور اس کے اردگرد موجود افضل ترین فرشتے اپنے رب کی تحمید کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:﴿رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَيۡءٍ رَّحۡمَةً وَّعِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاتَّبَعُوۡا سَبِيۡلَكَ وَقِهِمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡهُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِنِ الَّتِيۡ وَعَدۡتَّهُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُۙ۰۰ وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ١ؕ وَمَنۡ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوۡمَىِٕذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَهٗ١ؕ وَذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾(المؤمن:40؍7-9) ’’اے ہمارے رب! تو نے اپنی رحمت اور علم کے ساتھ ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، پس تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی اور انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ اے ہمارے رب! تو داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں، جن کا تو نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور ان کے والدین، بیویوں اور اولاد میں سے ان لوگوں کو بھی (ان جنتوں میں داخل کر) جو نیک ہیں۔ بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے اور تو ان کو برائیوں سے بچا اور جس کو تو نے اس روز برائیوں سے بچا دیا، تو تُو نے اس پر رحم کیا اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ ان پر اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت اور نعمت دنیا میں ہے۔ [44] ان پر آخرت میں جو رحمت ہو گی وہ جلیل ترین رحمت اور افضل ترین ثواب ہے اور یہ ہے اپنے رب کی رضا کے حصول میں فوزیاب ہونا، ان کے رب کی طرف سے سلام، اس کے کلام جلیل کا سماع، اس کے چہرۂ مبارک کا دیدار اور بہت بڑے اجر کا حصول جس کو کوئی جان سکتا ہے نہ اس کی حقیقی معرفت حاصل کر سکتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو وہ خود عطا کر دے۔ بنا بریں فرمایا:﴿تَحِيَّتُهُمۡ يَوۡمَ يَلۡقَوۡنَهٗ سَلٰمٌ١ۚ ۖ وَاَعَدَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَرِيۡمًا ﴾ ’’جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ سلام ہو گا اور اس نے ان کے لیے اجرِ کریم تیار کر رکھا ہے۔‘‘

الأحزاب 33:44

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو اللہ کویاد کرنا بہت زیادہ(41) اور تسبیح بیان کرو تم اس کی صبح و شام(42) وہی ہے جو رحمت بھیجتا ہے تم پر اور اس کےفرشتے (رحمت کی دعا کرتے ہیں)تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف اور ہے وہ مومنوں پربہت رحم کرنے والا(43) ان کی دعا ہو گی جس دن ملیں گے وہ اس (اللہ) کو، سلام اور تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے اجر عزت والا(44) [41] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ تہلیل و تحمید اور تسبیح و تکبیر وغیرہ کے ذریعے سے کہ جن میں سے ہر کلمہ تقرب الٰہی کا وسیلہ ہے نہایت کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کریں۔ قلیل ترین ذکر یہ ہے کہ انسان صبح شام اور نمازوں کے بعد کے اذکار کا التزام کرے نیز مختلف عوارض اور اسباب کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔ تمام اوقات اور تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے ذکر پر دوام کرے، کیونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے سے عمل کرنے والا آرام کرتے ہوئے بھی سبقت لے جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے، بھلائی پر مددگار ہے اور زبان کو گندی باتوں سے باز رکھتا ہے۔ [42]﴿وَّسَبِّحُوۡهُ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ اورصبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو کیونکہ صبح اور شام دونوں فضیلت کے حامل اوقات ہیں اور ان میں عمل کرنا بھی نہایت سہل ہوتا ہے۔ [43]﴿هُوَ الَّذِيۡ يُصَلِّيۡ عَلَيۡكُمۡ وَمَلٰٓىِٕكَتُهٗ لِيُخۡرِجَكُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ١ؕ وَكَانَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَحِيۡمًا ﴾ ’’وہی ہے جو تم پر رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تمھارے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں تاکہ وہ تمھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان پر یہ اس کی بے پایاں رحمت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو اپنی برکت، اپنی مدح و ثنا اور فرشتوں کی دعاؤ ں سے نوازا جو انھیں گناہوں اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایمان، توفیق، علم اور عمل کی روشنی میں لاتی ہیں۔ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے اطاعت کیش بندوں کو سرفراز فرمایا۔ یہ نعمت ان سے اللہ تعالیٰ کے شکر اور کثرت کے ساتھ اس کے ذکر کا مطالبہ کرتی ہے جس نے ان پر رحم اور لطف و کرم کیا۔ اس کے عرش عظیم کو اٹھانے والے اور اس کے اردگرد موجود افضل ترین فرشتے اپنے رب کی تحمید کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:﴿رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَيۡءٍ رَّحۡمَةً وَّعِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاتَّبَعُوۡا سَبِيۡلَكَ وَقِهِمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡهُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِنِ الَّتِيۡ وَعَدۡتَّهُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُۙ۰۰ وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ١ؕ وَمَنۡ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوۡمَىِٕذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَهٗ١ؕ وَذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾(المؤمن:40؍7-9) ’’اے ہمارے رب! تو نے اپنی رحمت اور علم کے ساتھ ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، پس تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی اور انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ اے ہمارے رب! تو داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں، جن کا تو نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور ان کے والدین، بیویوں اور اولاد میں سے ان لوگوں کو بھی (ان جنتوں میں داخل کر) جو نیک ہیں۔ بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے اور تو ان کو برائیوں سے بچا اور جس کو تو نے اس روز برائیوں سے بچا دیا، تو تُو نے اس پر رحم کیا اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ ان پر اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت اور نعمت دنیا میں ہے۔ [44] ان پر آخرت میں جو رحمت ہو گی وہ جلیل ترین رحمت اور افضل ترین ثواب ہے اور یہ ہے اپنے رب کی رضا کے حصول میں فوزیاب ہونا، ان کے رب کی طرف سے سلام، اس کے کلام جلیل کا سماع، اس کے چہرۂ مبارک کا دیدار اور بہت بڑے اجر کا حصول جس کو کوئی جان سکتا ہے نہ اس کی حقیقی معرفت حاصل کر سکتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو وہ خود عطا کر دے۔ بنا بریں فرمایا:﴿تَحِيَّتُهُمۡ يَوۡمَ يَلۡقَوۡنَهٗ سَلٰمٌ١ۚ ۖ وَاَعَدَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَرِيۡمًا ﴾ ’’جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ سلام ہو گا اور اس نے ان کے لیے اجرِ کریم تیار کر رکھا ہے۔‘‘

الأحزاب 33:45

اے نبی! بلاشبہ ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہی دینے والا اور خوش خبری سنانے والااور ڈرانے والا(45) اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور چراغ روشن (بنا کر)(46) اورخوشخبری دے دیجیے مومنوں کو، اس بات کی کہ بے شک ان کے لیے ہے اللہ کی طرف سے فضل بہت بڑا(47) اور نہ اطاعت کیجیے کافروں اور منافقوں کی اور نظر انداز کر دیجیے ان کی ایذا رسانی کو اور توکل کیجیے اللہ پر، اور کافی ہے اللہ کارساز(48) [45] یہ صفات گرامی جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو موصوف کیا ہے، آپ کی رسالت کا مقصود و مطلوب اور اس کی بنیاد ہیں، جن سے آپ کو مختص کیا گیا اوروہ پانچ چیزیں ہیں:(۱)﴿شَاهِدًا ﴾ یعنی آپ کا اپنی امت کے اچھے اور برے اعمال پر گواہ ہونا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ﴾(البقرہ:2؍143) ’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿فَكَـيۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّؔةٍۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيۡدًا﴾(النساء:4؍41)’’پس کیاحال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کو بلائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ کے طور پر طلب کریں گے۔‘‘(۳،۲)﴿مُبَشِّرًا وَّنَذِيۡرًا﴾ یہ مُبَشَّر اور مُنْذَر کے ذکر کو ، نیز جس چیزکی خوشخبری دی جائے اور جس سے ڈرایا جائے اور انذار وتبشیر والے اعمال کے ذکر کو مستلزم ہے۔ پس (اَلْمُبَشَّرُ) ’’جس کو خوشخبری دی گئی ہو‘‘ سے مراد اہل ایمان اور اہل تقویٰ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان اور عمل صالح کو جمع اور معاصی کو ترک کیا ہے۔ ان کے لیے دنیا ہی میں ہر قسم کے دینی اور دنیاوی ثواب کی بشارت ہے جو ایمان اور تقویٰ پر مترتب ہوتا ہے اور آخرت میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں۔ یہ سب کچھ اعمال کی تفاصیل تقویٰ کے خصائل اور ثواب کی اقسام کے ذکر کو مستلزم ہے۔ (اَلْمُنْذَرُ) سے مراد مجرم، ظالم اور جاہل لوگ ہیں، جن کے لیے اس دنیا میں دینی اور دنیاوی عقوبات کے ذریعے سے ڈرانا ہے جو ظلم اور جہالت پر مترتب ہوتی ہیں اور آخرت میں ہمیشہ رہنے والا دردناک عذاب ہو گا۔ رسول اللہﷺ جو کتاب وسنت لائے ہیں یہ جملہ تفاصیل اسی پر مشتمل ہیں۔ [46](۴)﴿دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ آپ مخلوق کو ان کے رب کی طرف دعوت دیں، ان میں اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کا شوق پیدا کریں اور ان کو اس کی عبادت کا حکم دیں جس کے لیے ان کو تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ چیز ان امور پر استقامت کا تقاضا کرتی ہے جس کی دعوت دی گئی ہے اور یہ چیز ان کے اپنے رب کی، اس کی صفات مقدسہ کے ذریعے سے معرفت اور جو صفات اس کے جلال کے لائق نہیں ان صفات سے اس کی ذات مقدس کی تنزیہ جیسے امور کی تفاصیل کا تذ کرہ ہے جن کی طرف انھیں دعوت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عبودیت کی مختلف انواع کا ذکر کیا، قریب ترین راستے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا، ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرنا، دعوت الیٰ اللہ اپنے نفس کی تعظیم کے لیے نہ ہو بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جیسا کہ اس مقام پر بہت سے نفوس کو کبھی کبھی یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔(۵)﴿سِرَاجًا مُّنِيۡرًا ﴾ ’’روشن چراغ‘‘ یہ لفظ دلالت کرتا ہے کہ تمام مخلوق بہت بڑی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں روشنی کی کوئی کرن نہ تھی جس سے راہ نمائی حاصل کی جا سکتی، نہ کوئی علم تھا کہ اس جہالت میں کوئی دلیل مل سکتی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس نبی کریمﷺ کو مبعوث فرمایا، آپ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تاریکیوں کا پردہ چاک کر دیا، آپ کے ذریعے سے جہالتوں کے اندھیروں میں علم کی روشنی پھیلائی اور آپ کے ذریعے سے گمراہوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔پس اہل استقامت کے لیے راستہ واضح ہو گیا اور وہ اس راہنما(ﷺ)کے پیچھے چل پڑے۔ انھوں نے اس کے ذریعے سے خیروشر، اہل سعادت اور اہل شقاوت کو پہچان لیا۔ انھوں اپنے رب کی معرفت کے لیے اس سے روشنی حاصل کی اور انھوں نے اپنے رب کو اس کے اوصاف حمیدہ، افعال سدیدہ اور احکام رشیدہ کے ذریعے سے پہچان لیا۔ [47]﴿وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ بِاَنَّ لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ فَضۡلًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجیے! ان کے لیے اللہ کے طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔‘‘ اس جملے میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو خوشخبری دی گئی ہے اور وہ اہل ایمان ہیں۔ جب کہیں ایمان کو مفرد طور پر ذکر کیا جائے تو اس میں عمل صالح داخل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا جن کی خوشخبری دی گئی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا اور جلیل القدر فضل، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا ، مثلاً: اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت، ہدایتِ قلوب، گناہوں کی بخشش، تکلیفوں کا دور ہونا، رزق کی کثرت اور ارزانی، خوش کن نعمتوں کا حصول، اپنے رب کی رضا اور اس کے ثواب کے حصول میں کامیابی اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات... یہ وہ امور ہیں جن کے ذکر سے عمل کرنے والوں کو نشاط حاصل ہوتا ہے، جن سے وہ صراط مستقیم پر گامزن ہونے میں مدد لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ جیسا کہ یہ بھی اس کی حکمت ہے کہ وہ ترہیب کے مقام پر عقوبتوں کا ذکر کرتا ہے جو ان افعال پر مترتب ہوتی ہیں جن سے ڈرایا گیا ہے کہ یہ ترہیب ان امور سے باز رہنے میں مدد دے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ [48] لوگوں میں سے ایک گروہ، دعوت الیٰ اللہ کا کام کرنے والے انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کی راہ روکنے کے لیے ہر وقت مستعد رہتا ہے۔ یہ وہ منافق ہیں جو ایمان کا اظہار کرتے ہیں جبکہ باطن میں درحقیقت کافر اور فاجر ہوتے ہیں اور وہ کفار ہیں جو ظاہر اور باطن میں کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کی اطاعت کرنے سے روکا ہے اور ان کے برے منصوبوں سے ہوشیار کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَا تُطِعِ الۡكٰفِرِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا۔‘‘ یعنی کسی بھی ایسے معاملے میں ان کی بات نہ مانیں جو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے۔ یہ بات ان کو اذیت دینے کا تقاضا نہیں کرتی بلکہ حکم یہ ہے کہ آپ ان کی اطاعت نہ کیجیے۔ ﴿وَدَعۡ اَذٰىهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں اذیت پہنچانے کو ترک کردیں۔‘‘ کیونکہ یہ چیز ان کو قبول اسلام کی طرف بلاتی ہے، آپ کو اور آپ کے گھر والوں کوبہت سی اذیتوں سے بچاتی ہے۔ ﴿وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ اپنے کام کی تکمیل اور اپنے دشمن کے خذلان میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ ہی کارساز کافی ہے۔‘‘ بڑے بڑے امور اس کے سپرد کیے جاتے ہیں وہ ان کا انتظام کرتا ہے اور انھیں اپنے بندے کے لیے آسان کر دیتا ہے۔

الأحزاب 33:46

اے نبی! بلاشبہ ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہی دینے والا اور خوش خبری سنانے والااور ڈرانے والا(45) اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور چراغ روشن (بنا کر)(46) اورخوشخبری دے دیجیے مومنوں کو، اس بات کی کہ بے شک ان کے لیے ہے اللہ کی طرف سے فضل بہت بڑا(47) اور نہ اطاعت کیجیے کافروں اور منافقوں کی اور نظر انداز کر دیجیے ان کی ایذا رسانی کو اور توکل کیجیے اللہ پر، اور کافی ہے اللہ کارساز(48) [45] یہ صفات گرامی جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو موصوف کیا ہے، آپ کی رسالت کا مقصود و مطلوب اور اس کی بنیاد ہیں، جن سے آپ کو مختص کیا گیا اوروہ پانچ چیزیں ہیں:(۱)﴿شَاهِدًا ﴾ یعنی آپ کا اپنی امت کے اچھے اور برے اعمال پر گواہ ہونا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ﴾(البقرہ:2؍143) ’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿فَكَـيۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّؔةٍۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيۡدًا﴾(النساء:4؍41)’’پس کیاحال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کو بلائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ کے طور پر طلب کریں گے۔‘‘(۳،۲)﴿مُبَشِّرًا وَّنَذِيۡرًا﴾ یہ مُبَشَّر اور مُنْذَر کے ذکر کو ، نیز جس چیزکی خوشخبری دی جائے اور جس سے ڈرایا جائے اور انذار وتبشیر والے اعمال کے ذکر کو مستلزم ہے۔ پس (اَلْمُبَشَّرُ) ’’جس کو خوشخبری دی گئی ہو‘‘ سے مراد اہل ایمان اور اہل تقویٰ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان اور عمل صالح کو جمع اور معاصی کو ترک کیا ہے۔ ان کے لیے دنیا ہی میں ہر قسم کے دینی اور دنیاوی ثواب کی بشارت ہے جو ایمان اور تقویٰ پر مترتب ہوتا ہے اور آخرت میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں۔ یہ سب کچھ اعمال کی تفاصیل تقویٰ کے خصائل اور ثواب کی اقسام کے ذکر کو مستلزم ہے۔ (اَلْمُنْذَرُ) سے مراد مجرم، ظالم اور جاہل لوگ ہیں، جن کے لیے اس دنیا میں دینی اور دنیاوی عقوبات کے ذریعے سے ڈرانا ہے جو ظلم اور جہالت پر مترتب ہوتی ہیں اور آخرت میں ہمیشہ رہنے والا دردناک عذاب ہو گا۔ رسول اللہﷺ جو کتاب وسنت لائے ہیں یہ جملہ تفاصیل اسی پر مشتمل ہیں۔ [46](۴)﴿دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ آپ مخلوق کو ان کے رب کی طرف دعوت دیں، ان میں اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کا شوق پیدا کریں اور ان کو اس کی عبادت کا حکم دیں جس کے لیے ان کو تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ چیز ان امور پر استقامت کا تقاضا کرتی ہے جس کی دعوت دی گئی ہے اور یہ چیز ان کے اپنے رب کی، اس کی صفات مقدسہ کے ذریعے سے معرفت اور جو صفات اس کے جلال کے لائق نہیں ان صفات سے اس کی ذات مقدس کی تنزیہ جیسے امور کی تفاصیل کا تذ کرہ ہے جن کی طرف انھیں دعوت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عبودیت کی مختلف انواع کا ذکر کیا، قریب ترین راستے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا، ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرنا، دعوت الیٰ اللہ اپنے نفس کی تعظیم کے لیے نہ ہو بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جیسا کہ اس مقام پر بہت سے نفوس کو کبھی کبھی یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔(۵)﴿سِرَاجًا مُّنِيۡرًا ﴾ ’’روشن چراغ‘‘ یہ لفظ دلالت کرتا ہے کہ تمام مخلوق بہت بڑی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں روشنی کی کوئی کرن نہ تھی جس سے راہ نمائی حاصل کی جا سکتی، نہ کوئی علم تھا کہ اس جہالت میں کوئی دلیل مل سکتی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس نبی کریمﷺ کو مبعوث فرمایا، آپ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تاریکیوں کا پردہ چاک کر دیا، آپ کے ذریعے سے جہالتوں کے اندھیروں میں علم کی روشنی پھیلائی اور آپ کے ذریعے سے گمراہوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔پس اہل استقامت کے لیے راستہ واضح ہو گیا اور وہ اس راہنما(ﷺ)کے پیچھے چل پڑے۔ انھوں نے اس کے ذریعے سے خیروشر، اہل سعادت اور اہل شقاوت کو پہچان لیا۔ انھوں اپنے رب کی معرفت کے لیے اس سے روشنی حاصل کی اور انھوں نے اپنے رب کو اس کے اوصاف حمیدہ، افعال سدیدہ اور احکام رشیدہ کے ذریعے سے پہچان لیا۔ [47]﴿وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ بِاَنَّ لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ فَضۡلًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجیے! ان کے لیے اللہ کے طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔‘‘ اس جملے میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو خوشخبری دی گئی ہے اور وہ اہل ایمان ہیں۔ جب کہیں ایمان کو مفرد طور پر ذکر کیا جائے تو اس میں عمل صالح داخل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا جن کی خوشخبری دی گئی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا اور جلیل القدر فضل، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا ، مثلاً: اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت، ہدایتِ قلوب، گناہوں کی بخشش، تکلیفوں کا دور ہونا، رزق کی کثرت اور ارزانی، خوش کن نعمتوں کا حصول، اپنے رب کی رضا اور اس کے ثواب کے حصول میں کامیابی اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات... یہ وہ امور ہیں جن کے ذکر سے عمل کرنے والوں کو نشاط حاصل ہوتا ہے، جن سے وہ صراط مستقیم پر گامزن ہونے میں مدد لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ جیسا کہ یہ بھی اس کی حکمت ہے کہ وہ ترہیب کے مقام پر عقوبتوں کا ذکر کرتا ہے جو ان افعال پر مترتب ہوتی ہیں جن سے ڈرایا گیا ہے کہ یہ ترہیب ان امور سے باز رہنے میں مدد دے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ [48] لوگوں میں سے ایک گروہ، دعوت الیٰ اللہ کا کام کرنے والے انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کی راہ روکنے کے لیے ہر وقت مستعد رہتا ہے۔ یہ وہ منافق ہیں جو ایمان کا اظہار کرتے ہیں جبکہ باطن میں درحقیقت کافر اور فاجر ہوتے ہیں اور وہ کفار ہیں جو ظاہر اور باطن میں کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کی اطاعت کرنے سے روکا ہے اور ان کے برے منصوبوں سے ہوشیار کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَا تُطِعِ الۡكٰفِرِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا۔‘‘ یعنی کسی بھی ایسے معاملے میں ان کی بات نہ مانیں جو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے۔ یہ بات ان کو اذیت دینے کا تقاضا نہیں کرتی بلکہ حکم یہ ہے کہ آپ ان کی اطاعت نہ کیجیے۔ ﴿وَدَعۡ اَذٰىهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں اذیت پہنچانے کو ترک کردیں۔‘‘ کیونکہ یہ چیز ان کو قبول اسلام کی طرف بلاتی ہے، آپ کو اور آپ کے گھر والوں کوبہت سی اذیتوں سے بچاتی ہے۔ ﴿وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ اپنے کام کی تکمیل اور اپنے دشمن کے خذلان میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ ہی کارساز کافی ہے۔‘‘ بڑے بڑے امور اس کے سپرد کیے جاتے ہیں وہ ان کا انتظام کرتا ہے اور انھیں اپنے بندے کے لیے آسان کر دیتا ہے۔

الأحزاب 33:47

اے نبی! بلاشبہ ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہی دینے والا اور خوش خبری سنانے والااور ڈرانے والا(45) اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور چراغ روشن (بنا کر)(46) اورخوشخبری دے دیجیے مومنوں کو، اس بات کی کہ بے شک ان کے لیے ہے اللہ کی طرف سے فضل بہت بڑا(47) اور نہ اطاعت کیجیے کافروں اور منافقوں کی اور نظر انداز کر دیجیے ان کی ایذا رسانی کو اور توکل کیجیے اللہ پر، اور کافی ہے اللہ کارساز(48) [45] یہ صفات گرامی جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو موصوف کیا ہے، آپ کی رسالت کا مقصود و مطلوب اور اس کی بنیاد ہیں، جن سے آپ کو مختص کیا گیا اوروہ پانچ چیزیں ہیں:(۱)﴿شَاهِدًا ﴾ یعنی آپ کا اپنی امت کے اچھے اور برے اعمال پر گواہ ہونا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ﴾(البقرہ:2؍143) ’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿فَكَـيۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّؔةٍۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيۡدًا﴾(النساء:4؍41)’’پس کیاحال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کو بلائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ کے طور پر طلب کریں گے۔‘‘(۳،۲)﴿مُبَشِّرًا وَّنَذِيۡرًا﴾ یہ مُبَشَّر اور مُنْذَر کے ذکر کو ، نیز جس چیزکی خوشخبری دی جائے اور جس سے ڈرایا جائے اور انذار وتبشیر والے اعمال کے ذکر کو مستلزم ہے۔ پس (اَلْمُبَشَّرُ) ’’جس کو خوشخبری دی گئی ہو‘‘ سے مراد اہل ایمان اور اہل تقویٰ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان اور عمل صالح کو جمع اور معاصی کو ترک کیا ہے۔ ان کے لیے دنیا ہی میں ہر قسم کے دینی اور دنیاوی ثواب کی بشارت ہے جو ایمان اور تقویٰ پر مترتب ہوتا ہے اور آخرت میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں۔ یہ سب کچھ اعمال کی تفاصیل تقویٰ کے خصائل اور ثواب کی اقسام کے ذکر کو مستلزم ہے۔ (اَلْمُنْذَرُ) سے مراد مجرم، ظالم اور جاہل لوگ ہیں، جن کے لیے اس دنیا میں دینی اور دنیاوی عقوبات کے ذریعے سے ڈرانا ہے جو ظلم اور جہالت پر مترتب ہوتی ہیں اور آخرت میں ہمیشہ رہنے والا دردناک عذاب ہو گا۔ رسول اللہﷺ جو کتاب وسنت لائے ہیں یہ جملہ تفاصیل اسی پر مشتمل ہیں۔ [46](۴)﴿دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ آپ مخلوق کو ان کے رب کی طرف دعوت دیں، ان میں اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کا شوق پیدا کریں اور ان کو اس کی عبادت کا حکم دیں جس کے لیے ان کو تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ چیز ان امور پر استقامت کا تقاضا کرتی ہے جس کی دعوت دی گئی ہے اور یہ چیز ان کے اپنے رب کی، اس کی صفات مقدسہ کے ذریعے سے معرفت اور جو صفات اس کے جلال کے لائق نہیں ان صفات سے اس کی ذات مقدس کی تنزیہ جیسے امور کی تفاصیل کا تذ کرہ ہے جن کی طرف انھیں دعوت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عبودیت کی مختلف انواع کا ذکر کیا، قریب ترین راستے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا، ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرنا، دعوت الیٰ اللہ اپنے نفس کی تعظیم کے لیے نہ ہو بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جیسا کہ اس مقام پر بہت سے نفوس کو کبھی کبھی یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔(۵)﴿سِرَاجًا مُّنِيۡرًا ﴾ ’’روشن چراغ‘‘ یہ لفظ دلالت کرتا ہے کہ تمام مخلوق بہت بڑی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں روشنی کی کوئی کرن نہ تھی جس سے راہ نمائی حاصل کی جا سکتی، نہ کوئی علم تھا کہ اس جہالت میں کوئی دلیل مل سکتی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس نبی کریمﷺ کو مبعوث فرمایا، آپ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تاریکیوں کا پردہ چاک کر دیا، آپ کے ذریعے سے جہالتوں کے اندھیروں میں علم کی روشنی پھیلائی اور آپ کے ذریعے سے گمراہوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔پس اہل استقامت کے لیے راستہ واضح ہو گیا اور وہ اس راہنما(ﷺ)کے پیچھے چل پڑے۔ انھوں نے اس کے ذریعے سے خیروشر، اہل سعادت اور اہل شقاوت کو پہچان لیا۔ انھوں اپنے رب کی معرفت کے لیے اس سے روشنی حاصل کی اور انھوں نے اپنے رب کو اس کے اوصاف حمیدہ، افعال سدیدہ اور احکام رشیدہ کے ذریعے سے پہچان لیا۔ [47]﴿وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ بِاَنَّ لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ فَضۡلًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجیے! ان کے لیے اللہ کے طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔‘‘ اس جملے میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو خوشخبری دی گئی ہے اور وہ اہل ایمان ہیں۔ جب کہیں ایمان کو مفرد طور پر ذکر کیا جائے تو اس میں عمل صالح داخل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا جن کی خوشخبری دی گئی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا اور جلیل القدر فضل، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا ، مثلاً: اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت، ہدایتِ قلوب، گناہوں کی بخشش، تکلیفوں کا دور ہونا، رزق کی کثرت اور ارزانی، خوش کن نعمتوں کا حصول، اپنے رب کی رضا اور اس کے ثواب کے حصول میں کامیابی اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات... یہ وہ امور ہیں جن کے ذکر سے عمل کرنے والوں کو نشاط حاصل ہوتا ہے، جن سے وہ صراط مستقیم پر گامزن ہونے میں مدد لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ جیسا کہ یہ بھی اس کی حکمت ہے کہ وہ ترہیب کے مقام پر عقوبتوں کا ذکر کرتا ہے جو ان افعال پر مترتب ہوتی ہیں جن سے ڈرایا گیا ہے کہ یہ ترہیب ان امور سے باز رہنے میں مدد دے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ [48] لوگوں میں سے ایک گروہ، دعوت الیٰ اللہ کا کام کرنے والے انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کی راہ روکنے کے لیے ہر وقت مستعد رہتا ہے۔ یہ وہ منافق ہیں جو ایمان کا اظہار کرتے ہیں جبکہ باطن میں درحقیقت کافر اور فاجر ہوتے ہیں اور وہ کفار ہیں جو ظاہر اور باطن میں کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کی اطاعت کرنے سے روکا ہے اور ان کے برے منصوبوں سے ہوشیار کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَا تُطِعِ الۡكٰفِرِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا۔‘‘ یعنی کسی بھی ایسے معاملے میں ان کی بات نہ مانیں جو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے۔ یہ بات ان کو اذیت دینے کا تقاضا نہیں کرتی بلکہ حکم یہ ہے کہ آپ ان کی اطاعت نہ کیجیے۔ ﴿وَدَعۡ اَذٰىهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں اذیت پہنچانے کو ترک کردیں۔‘‘ کیونکہ یہ چیز ان کو قبول اسلام کی طرف بلاتی ہے، آپ کو اور آپ کے گھر والوں کوبہت سی اذیتوں سے بچاتی ہے۔ ﴿وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ اپنے کام کی تکمیل اور اپنے دشمن کے خذلان میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ ہی کارساز کافی ہے۔‘‘ بڑے بڑے امور اس کے سپرد کیے جاتے ہیں وہ ان کا انتظام کرتا ہے اور انھیں اپنے بندے کے لیے آسان کر دیتا ہے۔

الأحزاب 33:48

اے نبی! بلاشبہ ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہی دینے والا اور خوش خبری سنانے والااور ڈرانے والا(45) اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور چراغ روشن (بنا کر)(46) اورخوشخبری دے دیجیے مومنوں کو، اس بات کی کہ بے شک ان کے لیے ہے اللہ کی طرف سے فضل بہت بڑا(47) اور نہ اطاعت کیجیے کافروں اور منافقوں کی اور نظر انداز کر دیجیے ان کی ایذا رسانی کو اور توکل کیجیے اللہ پر، اور کافی ہے اللہ کارساز(48) [45] یہ صفات گرامی جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو موصوف کیا ہے، آپ کی رسالت کا مقصود و مطلوب اور اس کی بنیاد ہیں، جن سے آپ کو مختص کیا گیا اوروہ پانچ چیزیں ہیں:(۱)﴿شَاهِدًا ﴾ یعنی آپ کا اپنی امت کے اچھے اور برے اعمال پر گواہ ہونا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ﴾(البقرہ:2؍143) ’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿فَكَـيۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّؔةٍۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيۡدًا﴾(النساء:4؍41)’’پس کیاحال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کو بلائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ کے طور پر طلب کریں گے۔‘‘(۳،۲)﴿مُبَشِّرًا وَّنَذِيۡرًا﴾ یہ مُبَشَّر اور مُنْذَر کے ذکر کو ، نیز جس چیزکی خوشخبری دی جائے اور جس سے ڈرایا جائے اور انذار وتبشیر والے اعمال کے ذکر کو مستلزم ہے۔ پس (اَلْمُبَشَّرُ) ’’جس کو خوشخبری دی گئی ہو‘‘ سے مراد اہل ایمان اور اہل تقویٰ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان اور عمل صالح کو جمع اور معاصی کو ترک کیا ہے۔ ان کے لیے دنیا ہی میں ہر قسم کے دینی اور دنیاوی ثواب کی بشارت ہے جو ایمان اور تقویٰ پر مترتب ہوتا ہے اور آخرت میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں۔ یہ سب کچھ اعمال کی تفاصیل تقویٰ کے خصائل اور ثواب کی اقسام کے ذکر کو مستلزم ہے۔ (اَلْمُنْذَرُ) سے مراد مجرم، ظالم اور جاہل لوگ ہیں، جن کے لیے اس دنیا میں دینی اور دنیاوی عقوبات کے ذریعے سے ڈرانا ہے جو ظلم اور جہالت پر مترتب ہوتی ہیں اور آخرت میں ہمیشہ رہنے والا دردناک عذاب ہو گا۔ رسول اللہﷺ جو کتاب وسنت لائے ہیں یہ جملہ تفاصیل اسی پر مشتمل ہیں۔ [46](۴)﴿دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ آپ مخلوق کو ان کے رب کی طرف دعوت دیں، ان میں اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کا شوق پیدا کریں اور ان کو اس کی عبادت کا حکم دیں جس کے لیے ان کو تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ چیز ان امور پر استقامت کا تقاضا کرتی ہے جس کی دعوت دی گئی ہے اور یہ چیز ان کے اپنے رب کی، اس کی صفات مقدسہ کے ذریعے سے معرفت اور جو صفات اس کے جلال کے لائق نہیں ان صفات سے اس کی ذات مقدس کی تنزیہ جیسے امور کی تفاصیل کا تذ کرہ ہے جن کی طرف انھیں دعوت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عبودیت کی مختلف انواع کا ذکر کیا، قریب ترین راستے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا، ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرنا، دعوت الیٰ اللہ اپنے نفس کی تعظیم کے لیے نہ ہو بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جیسا کہ اس مقام پر بہت سے نفوس کو کبھی کبھی یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔(۵)﴿سِرَاجًا مُّنِيۡرًا ﴾ ’’روشن چراغ‘‘ یہ لفظ دلالت کرتا ہے کہ تمام مخلوق بہت بڑی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں روشنی کی کوئی کرن نہ تھی جس سے راہ نمائی حاصل کی جا سکتی، نہ کوئی علم تھا کہ اس جہالت میں کوئی دلیل مل سکتی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس نبی کریمﷺ کو مبعوث فرمایا، آپ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تاریکیوں کا پردہ چاک کر دیا، آپ کے ذریعے سے جہالتوں کے اندھیروں میں علم کی روشنی پھیلائی اور آپ کے ذریعے سے گمراہوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔پس اہل استقامت کے لیے راستہ واضح ہو گیا اور وہ اس راہنما(ﷺ)کے پیچھے چل پڑے۔ انھوں نے اس کے ذریعے سے خیروشر، اہل سعادت اور اہل شقاوت کو پہچان لیا۔ انھوں اپنے رب کی معرفت کے لیے اس سے روشنی حاصل کی اور انھوں نے اپنے رب کو اس کے اوصاف حمیدہ، افعال سدیدہ اور احکام رشیدہ کے ذریعے سے پہچان لیا۔ [47]﴿وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ بِاَنَّ لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ فَضۡلًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجیے! ان کے لیے اللہ کے طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔‘‘ اس جملے میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو خوشخبری دی گئی ہے اور وہ اہل ایمان ہیں۔ جب کہیں ایمان کو مفرد طور پر ذکر کیا جائے تو اس میں عمل صالح داخل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا جن کی خوشخبری دی گئی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا اور جلیل القدر فضل، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا ، مثلاً: اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت، ہدایتِ قلوب، گناہوں کی بخشش، تکلیفوں کا دور ہونا، رزق کی کثرت اور ارزانی، خوش کن نعمتوں کا حصول، اپنے رب کی رضا اور اس کے ثواب کے حصول میں کامیابی اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات... یہ وہ امور ہیں جن کے ذکر سے عمل کرنے والوں کو نشاط حاصل ہوتا ہے، جن سے وہ صراط مستقیم پر گامزن ہونے میں مدد لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ جیسا کہ یہ بھی اس کی حکمت ہے کہ وہ ترہیب کے مقام پر عقوبتوں کا ذکر کرتا ہے جو ان افعال پر مترتب ہوتی ہیں جن سے ڈرایا گیا ہے کہ یہ ترہیب ان امور سے باز رہنے میں مدد دے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ [48] لوگوں میں سے ایک گروہ، دعوت الیٰ اللہ کا کام کرنے والے انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کی راہ روکنے کے لیے ہر وقت مستعد رہتا ہے۔ یہ وہ منافق ہیں جو ایمان کا اظہار کرتے ہیں جبکہ باطن میں درحقیقت کافر اور فاجر ہوتے ہیں اور وہ کفار ہیں جو ظاہر اور باطن میں کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کی اطاعت کرنے سے روکا ہے اور ان کے برے منصوبوں سے ہوشیار کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَا تُطِعِ الۡكٰفِرِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا۔‘‘ یعنی کسی بھی ایسے معاملے میں ان کی بات نہ مانیں جو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے۔ یہ بات ان کو اذیت دینے کا تقاضا نہیں کرتی بلکہ حکم یہ ہے کہ آپ ان کی اطاعت نہ کیجیے۔ ﴿وَدَعۡ اَذٰىهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں اذیت پہنچانے کو ترک کردیں۔‘‘ کیونکہ یہ چیز ان کو قبول اسلام کی طرف بلاتی ہے، آپ کو اور آپ کے گھر والوں کوبہت سی اذیتوں سے بچاتی ہے۔ ﴿وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ اپنے کام کی تکمیل اور اپنے دشمن کے خذلان میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ ہی کارساز کافی ہے۔‘‘ بڑے بڑے امور اس کے سپرد کیے جاتے ہیں وہ ان کا انتظام کرتا ہے اور انھیں اپنے بندے کے لیے آسان کر دیتا ہے۔

الأحزاب 33:49

اے لوگوجو ایمان لائے ہو! جب نکاح کرو تم مومن عورتوں سے، پھر طلاق دے دو تم ان کو، پہلے اس سے کہ چھوؤ تم ان کو، تو نہیں ہے تمھارے لیے ان پر کوئی عدت، کہ شمار کرو تم اس (عدت) کو، پس کچھ فائدہ دو تم ان کو اور رخصت کرو تم ان کو رخصت کرنا اچھا(49) [49] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو آگاہ فرماتا ہے کہ جب وہ مومن عورتوں کے ساتھ نکاح کریں، پھر ان کو چھوئے بغیر طلاق دے دیں تو اس صورت میں مطلقہ عورتوں پر کوئی عدت نہیں، مگر اللہ مردوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس صورت میں بھی ان کو کچھ متاع دیں جو ان کی اس دل شکنی کا ازالہ کرے گی جو انھیں طلاق کی وجہ سے لاحق ہوئی ہے، نیز انھیں حکم دیتا ہے کہ وہ کسی مخاصمت، گالی گلوچ اور کسی مطالبہ وغیرہ کے بغیر اچھے طریقے سے ان کو علیحدہ کریں۔اس آیت مبارکہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ طلاق صرف نکاح کے بعد ہوتی ہے اگر کوئی شخص نکاح سے پہلے اپنی ہونے والی بیوی کو طلاق دے دے یا طلاق کو نکاح پر معلق کر دے، تو یہ طلاق واقع نہیں ہو گی، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿اِذَا نَؔكَحۡتُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ﴾(الاحزاب:33؍49) ’’جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو ، پھر ان کو طلاق دے دو۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ نے طلاق کو نکاح کے بعد مقرر فرمایا ہے۔ پس یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نکاح سے قبل طلاق کا کوئی مقام نہیں، چونکہ طلاق ایک مکمل جدائی اور مکمل تحریم ہے اس لیے نکاح سے قبل واقع نہیں ہو سکتی، جب یہ بات ہے تو ظہار یا ایلا وغیرہ کا، جو کہ تحریم ناقص ہے، نکاح سے قبل واقع نہ ہونا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اہل علم کی صحیح ترین رائے ہے۔یہ آیت کریمہ طلاق کے جواز پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل ایمان کی طلاق کے بارے میں خبر دی، اس پر ان کو کوئی ملامت کی نہ ان پر کوئی گرفت کی، حالانکہ آیت کریمہ اہل ایمان سے خطاب کے ساتھ صادر ہوئی ہے۔یہ آیت کریمہ اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ بیوی کو چھوئے بغیر طلاق دی جا سکتی ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا:﴿لَاجُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِنۡ طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمۡ تَمَسُّوۡهُنَّ ﴾(البقرۃ:2؍236) ’’تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنی بیویوں کو چھوئے بغیر طلاق دے دو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس پر دلیل ہے کہ اگر عورت کو دخول سے قبل طلاق دے دی جائے تو اس پر مجرد طلاق کی بنا پر عدت واجب نہیں ہوتی۔ اس کے لیے دوسرا نکاح کرنا جائز ہے، کیونکہ کوئی مانع موجود نہیں ہے۔اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ دخول اور چھونے کے بعد طلاق دینے سے عدت واجب ہو جاتی ہے۔کیا ’’دخول‘‘ اور ’’چھونے‘‘ سے مراد مجامعت ہے جیسا کہ اس پر تو اجماع ہے؟ یا خلوت کا بھی یہی حکم ہے خواہ اس میں مجامعت نہ ہوئی ہو جیسا کہ خلفائے راشدین کا فتویٰ ہے اور یہی صحیح ہے۔ جب بیوی کے ساتھ خلوت حاصل ہو گئی خواہ اس خلوت میں مجامعت ہوئی یا نہ ہوئی مجرد اس خلوت کی بنا پر عدت واجب ہو گی۔(خلوت کومعتبر قرار دینے کا مذہب جمہور علماء کا ہے اور راحج بھی یہی ہے جیسا کہ مؤلفa نے وضاحت کی ہے۔ لیکن اس بات کا خیال رہے کہ خلوت ہوئی اور پھر مشاجرت ہوئی لیکن کسی یقینی ذریعے سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ مجامعت نہیں ہوئی تو عدت نہیں ہوگی)اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر چھونے سے قبل عورت کو طلاق دے دی جائے، تو خوش حال خاوند پر اس کی حیثیت کے مطابق اور تنگ دست خاوند پر اس کی حیثیت کے مطابق اس مطلقہ بیوی کو ’’متاع‘‘ دینا واجب ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے جب مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور اگر مہر مقرر کر دیا گیا ہو اور چھونے سے قبل بیوی کو طلاق دے دی گئی ہو تو نصف مہر کی ادائیگی واجب ہے، تب یہ مہر ’’متاع‘‘ کے بدل میں بھی کفایت کرتا ہے۔اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جو کوئی اپنی بیوی کو دخول سے قبل یا بعد میں طلاق دیتا ہے تو اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ نہایت اچھے اور بھلے طریقے سے طلاق دے کہ دونوں ایک دوسرے کی تعریف کریں۔ اگر دونوں ایک دوسرے میں جرح وقدح کریں اور ایک دوسرے میں کیڑے نکالیں تو یہ جدائی ’’بھلے طریقے‘‘ سے جدائی نہیں ہے۔اس آیت کریمہ سے یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ عدت خاوند کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿فَمَا لَكُمۡ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ عِدَّةٍ ﴾ ’’تو ان پر تمھارا کوئی حق عدت نہیں ہے۔‘‘ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اگر خلوت کے بعد طلاق دی ہوتی تو خاوند کے حق میں عورت پر عدت واجب تھی۔آیت کریمہ اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اگر مفارقت خاوند کی وفات کے باعث ہو تو وہ مطلق طور پر عدت گزارے گی۔ جیسا کہ آیت کریمہ ﴿ثُمَّ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ ﴾ ’’ پھر تم ان کو طلاق دو۔‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اس بیوی کے علاوہ جس کے ساتھ خلوت نہ ہوئی ہو، دیگر بیویوں پر عدت واجب ہے، خواہ وہ خاوند کی موت کی صورت میں مفارقت ہوئی ہو یا اس کی زندگی میں کسی وجہ سے مفارقت ہوئی ہو۔

الأحزاب 33:50

اے نبی! بے شک حلال کر دیں ہم نے آپ کے لیے آپ کی بیویاں، وہ جو ادا کر دیے آپ نے ان کے مہر، اور وہ (کنیزیں) جن کا مالک ہوا آپ کا دایاں ہاتھ، ان میں سے جو بطور غنیمت دیں اللہ نے آپ کو، اور بیٹیاں آپ کے چچوں کی اور بیٹیاں آپ کی پھوپھیوں کی اور بیٹیاں آپ کے ماموؤ ں کی اور بیٹیاں آپ کی خالاؤ ں کی، وہ جنھوں نے ہجرت کی آپ کے ساتھ اور مومن عورت بھی، اگر وہ ہبہ کر دے اپنا نفس نبی کے لیے، اگر ارادہ کرے نبی یہ کہ (اپنے) نکا ح میں لے آئے اسے ، اس حال میں کہ (یہ) خاص ہے آپ کے لیے، سوائے دوسرے مسلمانوں کے، تحقیق جان لیا ہم نے جو فرض کیا ہم نے ان پر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان (لونڈیوں) کے بارے میں جن کے مالک ہوئے دائیں ہاتھ ان کے، تاکہ نہ ہو آپ پر کوئی تنگی، اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا(50) [50] اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)پر اپنے احسانات کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ پر کچھ ایسی چیزیں حلال ٹھہرائیں جو مومنوں کے لیے بھی حلال ہیں اور کچھ چیزیں ایسی بھی حلال ٹھہرائیں جو صرف آپ کے لیے مختص ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّـاۤ اَحۡلَلۡنَا لَكَ اَزۡوَاجَكَ الّٰتِيۡۤ اٰتَيۡتَ اُجُوۡرَهُنَّ ﴾ ’’اے نبی! ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کردی ہیں جنھیں ان کا اجر دے چکاہے۔‘‘ یعنی آپ نے جن بیویوں کو مہر عطا کر دیا ہے۔ یہ ان امور میں شمار ہوتا ہے جو نبیﷺ اور دیگر اہل ایمان کے درمیان مشترک ہیں، کیونکہ اہل ایمان کے لیے بھی ان کی وہی بیویاں مباح ہیں جن کو انھوں نے حق مہر ادا کر دیا ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ اسی طرح ہم نے آپ کے لیے مباح کر دیں ﴿مَا مَلَكَتۡ يَمِيۡنُكَ ﴾ وہ لونڈیاں جو آپ کی ملکیت ہیں۔ ﴿مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ ﴾ ’’ان لونڈیوں میں سے جو اللہ نے تمھیں مال غنیمت سے عطا کی ہیں۔‘‘ یعنی کفار کے مال غنیمت میں جو غلام یا آزاد عورتیں ہاتھ لگیں اور ان عورتوں کے خواہ خاوند ہوں یا نہ ہوں وہ مباح ہیں۔ یہ بھی نبیﷺ اور اہل ایمان کے درمیان مشترک ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مشترک ہے: ﴿وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰؔتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰؔلٰتِكَ ﴾ ’’اور تمھارے چچوں کی بیٹیاں اور تمھاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمھارے ماموؤ ں کی بیٹیاں اور تمھاری خالاؤ ں کی بیٹیاں۔‘‘ اس میں قریب اور دور کے چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ، سب شامل ہیں۔ یہ مباح عورتوں کا حصر ہے۔ اس سے مفہوم مخالف یہ اخذ کیا گیا کہ ان اقارب کے علاوہ دیگر اقارب مباح نہیں ہیں جیسا کہ سورۃالنساء میں گزر چکا ہے۔پس مذکورہ بالا ان چار رشتہ دار عورتوں کے سوا کوئی رشتہ دار عورت مباح نہیں خواہ وہ فروع میں سے ہوں یا اصول میں سے، باپ اور ماں کی فروع میں سے خواہ کتنا ہی نیچے چلے جائیں اور ان سے اوپر کی فروع اپنے صلب کی بنا پر۔ اس لیے کہ وہ مباح نہیں۔ ﴿الّٰتِيۡ هَاجَرۡنَ مَعَكَ ﴾’’جو آپ کے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں۔‘‘ رسول اللہ ﷺ کے لیے مذکورہ بالا عورتوں کی حلت اس قید سے مقید ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں منقول دو اقوال میں سے یہی قول قرین صواب ہے۔ آپ کے سوا دیگر اہل ایمان کے لیے یہ قید صحیح نہیں۔﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم نے آپ کے لیے حلال کردیا ﴿امۡرَاَةً مُّؤۡمِنَةً اِنۡ وَّهَبَتۡ نَفۡسَهَا لِلنَّبِيِّ ﴾ ’’مومن عورت کو بھی جو اپنانفس نبی کو ہبہ کردے۔‘‘ اس کے اپنا نفس ہبہ کر دینے ہی سے ﴿اِنۡ اَرَادَ النَّبِيُّ اَنۡ يَّسۡتَنۡكِحَهَا۠﴾ ’’اگر نبی(ﷺ) بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں۔‘‘ یہ آپ کے ارادہ اور رغبت پر منحصر ہے۔ ﴿خَالِصَةً لَّكَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’یہ خاص آپ ہی کے لیے ہے مومنوں کے لیے نہیں۔‘‘ یعنی یہ ہبہ کی اباحت دیگر مومنوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسی عورت کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوں جو اپنے آپ کو ان کے لیے ہبہ کردیتی ہے۔ ﴿قَدۡ عَلِمۡنَا مَا فَرَضۡنَا عَلَيۡهِمۡ فِيۡۤ اَزۡوَاجِهِمۡ وَمَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ﴾ یعنی ہم خوب جانتے ہیں کہ اہل ایمان پر کیا واجب ہے، ان کے لیے بیویوں اور لونڈیوں میں سے کیا حلال ہے اور کیا حلال نہیں ہے اور اس حلت و حرمت کے بارے میں ہم نے ان کو آگاہ بھی کر دیا ہے اور اس کے فرائض بھی واضح کر دیے ہیں۔اس آیت کریمہ میں جو احکامات دوسرے لوگوں کے مخالف ہیں، وہ آپ کے لیے خاص ہیں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کیا ہے۔ فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّـاۤ اَحۡلَلۡنَا لَكَ ﴾ ’’اے نبی! ہم نے آپ کے لیے حلال کی ہیں…‘‘ نیز فرمایا: ﴿خَالِصَةً لَّكَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی اے نبی! ہم نے آپ کے لیے ایسی چیزیں مباح کی ہیں جو دوسروں کے لیے مباح نہیں کیں اور آپ کو جو وسعت عطا کی ہے وہ دوسروں کو عطا نہیں کی ﴿لِكَيۡلَا يَكُوۡنَ عَلَيۡكَ حَرَجٌ ﴾ ’’تاکہ آپ پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر عنایت خاص ہے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ سے مغفرت اور رحمت کی صفات سے متصف ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اپنی حکمت اور ان کی طرف سے عمل کے اسباب کے مطابق، اپنی مغفرت و رحمت اور اپنا جود و احسان نازل کرتا ہے۔

الأحزاب 33:51

موقوف کر دیں آپ (باری) جس کی چاہیں، ان میں سے اور جگہ دیں اپنے پاس جس کو چاہیں، اور جسے آپ چاہیں ان میں سے جنھیں آپ نے علیحدہ کر دیا تھا تو کوئی گناہ نہیں آپ پر، یہ (حکمِ تخییر) زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ ٹھنڈی ہوں آنکھیں ان کی اور نہ وہ غمگین ہوں اورراضی ہوں وہ اس پر جودیں ان کوآپ سب کی سب، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اور ہے اللہ خوب جاننے والا، نہایت بردبار(51) [51] نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ پر رحمت اور آپ کے لیے وسعت ہے کہ آپ کو اپنی ازواج مطہرات کی باریوں کی تقسیم کے ترک کرنے کو مباح فرمایا۔ اگر آپ ان کی باریاں مقرر کرتے ہیں تو یہ آپ کی نوازش ہے۔ اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے درمیان ہر چیز تقسیم کر رکھی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے: ’’اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جو میرے بس میں ہے اور جو میرے بس میں نہیں (اے اللہ!) اس پر مجھے ملامت نہ کرنا۔‘‘ (سنن أبي داود، النکاح، باب في القسم بین النساء، ح: 2134 امام البانیa نے اس حدیث کے مرسل ہونے کو راحج قرار دیتےہوئے اسے ضعیف کہا ہے لیکن اس کا پہلا جملہ (یقسم بیننا فیعدل) دوسری حسن حدیث سے ثابت ہے۔ اور دوسرا اپنی معنی و مفہوم کے لحاظ سے درست ہے۔ جبکہ حماد بن سمہ نے اس حدیث کو موصولا بیان کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: الإرواء، 7؍81 حدیث نمبر 2018) یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿تُرۡجِيۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡهُنَّ ﴾ اپنی ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں الگ رکھیں، اس کو اپنے پاس بلائیں نہ اس کے پاس رات بسر کریں۔ ﴿وَتُــــٔۡوِيۡۤ اِلَيۡكَ مَنۡ تَشَآءُ ﴾اور جس کو چاہیں اپنے پاس بلا ئیں اور اس کے ہاں رات بسر کریں۔﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ اس کے باوجود یہ امر متعین نہیں ﴿مَنِ ابۡتَغَيۡتَ ﴾ جس کو چاہو اپنے پاس بلا لو۔ ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكَ ﴾ ’’تو آپ پر کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘ معنی یہ ہے کہ آپ کو مکمل اختیار ہے۔بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ یہ حکم ان عورتوں کے بارے میں خاص ہے جو اپنے آپ کو ہبہ کریں کہ آپ کو اختیار ہے جسے چاہیں الگ رکھیں اور جسے چاہیں بلا کر اپنے پاس رکھیں، یعنی اگر آپ چاہیں تو اس عورت کو قبول کر لیں جس نے خود کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا اور اگر آپ چاہیں تو قبول نہ کریں۔ واللّٰہ أعلم۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت واضح کرتے ہوئے فرمایا:﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی یہ وسعت، تمام معاملے کا آپ کے اختیار میں ہونا اور اس معاملے میں آپ کا ان عورتوں پر کوئی عنایت اور نوازش کرنا ﴿اَدۡنٰۤى اَنۡ تَقَرَّ اَعۡيُنُهُنَّ وَلَا يَحۡزَنَّ وَيَرۡضَيۡنَ بِمَاۤ اٰتَيۡتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ﴾ ’’اس میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غم ناک نہ ہوں اور آپ جو کچھ ان کو دیں اسے لے کر وہ سب خوش رہیں۔‘‘ کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ آپ نے کسی واجب کو ترک کیا ہے نہ کسی واجب حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اسے اللہ جانتا ہے۔‘‘ حقوق واجبہ و مستحبہ کی ادائیگی اور حقوق میں مزاحمت کے وقت دلوں میں جو خیال گزرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ اس لیے اے اللہ کے رسول! آپ کے لیے یہ وسعت مشروع کی گئی ہے تاکہ آپ کی ازواج کا دل مطمئن رہے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَلِيۡمًا ﴾ اوراللہ تعالیٰ وسیع علم اور کثیر حلم والا ہے۔ یہ اس کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے وہ چیز مشروع کی ہے جو تمھارے معاملات کے لیے درست اور تمھارے اجر میں اضافہ کرنے کی باعث ہے اور یہ اس کا حلم ہے کہ تم سے جو کوتاہیاں صادر ہوئیں اور تمھارے دلوں نے جس برائی پر اصرار کیا، اس نے اس پر تمھاری گرفت نہیں فرمائی۔

الأحزاب 33:52

نہیں ہیں حلال آپ کے لیے عورتیں اس کے بعد اور نہ یہ کہ بدل لیں آپ ان (موجودہ بیویوں) کے مقابلے میں، کوئی اور بیویاں ، اگرچہ اچھا لگے آپ کو ان کا حسن، مگروہ (لونڈیاں) جن کا مالک ہوا آپ کا دایاں ہاتھ، اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب نگران(52) [52] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ کی ازواج مطہراتg کی قدر دانی ہے... اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کے اعمال کا قدردان ہے... کہ اس نے ان کو اپنے سایۂ رحمت میں لے لیا اور رسول اللہ ﷺ کو انھی پر اقتصار وانحصار کرنے کا حکم دیا کیونکہ انھوں نے اللہ کے رسول اور آخرت کو چنا تھا، چنانچہ فرمایا:﴿لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنۢۡ بَعۡدُ ﴾ ’’ان کے سوا اور عورتیں آپ کے لیے جائز نہیں۔‘‘ یعنی ان موجودہ ازواج مطہرات کے بعد ﴿وَلَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ ﴾ ’’اور نہ یہ کہ آپ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرلیں۔‘‘ یعنی ان میں سے کسی کو طلاق دے کر، اس کی جگہ کسی اور کو نکاح میں نہ لائیں۔ اس آیت کریمہ کی بنا پر وہ طلاق اور سوکنوں سے محفوظ و مامون ہو گئیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فیصلہ فرما دیا کہ وہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیویاں ہیں۔ آپ اور ان کے درمیان کبھی جدائی نہ ہو گی۔ ﴿وَّلَوۡ اَعۡجَبَكَ حُسۡنُهُنَّ ﴾ ’’خواہ ان (کے علاوہ کسی اور) کا حسن آپ کو کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگے‘‘ وہ آپ کے لیے حلال نہیں ﴿اِلَّا مَا مَلَكَتۡ يَـمِيۡنُكَ﴾ یعنی سوائے قیدیوں میں سے جو آپ کی ملکیت میں آجائیں، وہ آپ کے لیے حلال ہیں کیونکہ لونڈیاں، بیویوں کی ناپسندیدگی میں، بیویوں کو نقصان پہنچانے میں، بیویوں کے مقام پر نہیں۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ رَّقِيۡبًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمام امور کا نگہبان ہے اور ان تمام امور کو جانتا ہے جو اس کی طرف لوٹتے ہیں۔ وہ کامل ترین نظام اور بہترین احکام کے ساتھ ان کی تدبیر کرتا ہے۔

الأحزاب 33:53

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ داخل ہو تم نبی کے گھروں میں، مگر یہ کہ اجازت دے دی جائے تمھیں، کھانے کے لیے، نہ انتظار کرنے والے ہو اس کے پکنے کا، لیکن جب بلائے جاؤ تم، تو داخل ہو تم، پس جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ ( یعنی اُٹھ کر چلے جاؤ )، اور نہ (ٹھہرے رہو) رغبت رکھتے ہوئے باتوں میں، بلاشبہ تمھاری یہ بات ہے ایذا دیتی ہے نبی(ﷺ)کو، پس وہ شرم کرتا ہے تم سے ، اور اللہ نہیں شرماتا حق بات (بیان کرنے) سے اور جب سوال کرو تم ان (ازواج مطہرات) سے کسی سامان کا، تو سوال کرو تم ان سے پیچھے سے پردے کے، یہ بات زیادہ پاکیزہ ہے واسطے تمھارے دلوں کے اور ان کے دلوں کے، اور نہیں ہے جائز تمھارے لیے یہ کہ ایذا دو تم اللہ کے رسول کواور نہ یہ (ہی جائز ہے) کہ تم نکاح کرو اس کی بیویوں سے اس کے بعد کبھی بھی، بے شک تمھارا یہ (فعل) ہو گا نزدیک اللہ کے بہت بڑا(53) اگرظاہر کرو تم کوئی چیز یا چھپاؤ تم اسے تو بلاشبہ اللہ ہے ہر چیز کو خوب جاننے والا(54) [53] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں داخل ہوتے وقت آپ کے آداب کا خیال رکھا کریں، لہٰذا فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتَ النَّبِيِّ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡذَنَ لَكُمۡ اِلٰى طَعَامٍ ﴾ یعنی کھانے کے لیے داخلے کی اجازت کے بغیر نبی کر یمﷺ کے گھر میں داخل نہ ہوا کرو اور نہ تم ﴿نٰظِرِيۡنَ اِنٰىهُ ﴾کھانا تیار ہونے اور اس کے پکنے کا انتظار کیا کرو اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لوٹنے میں تاخیر نہ کیا کرو۔اس کا معنی یہ ہے کہ تم دو شرائط کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے گھروں میں داخل ہوا کرو:(۱)داخل ہونے کی اجازت ملنے کے بعد۔(۲) تمھارا آپ کے گھر میں بیٹھنا ضرورت کے مطابق ہو۔اسی لیے فرمایا: ﴿وَلٰكِنۡ اِذَا دُعِيۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانۡتَشِرُوۡا وَلَا مُسۡتَاۡنِسِيۡنَ۠ لِحَدِيۡثٍ ﴾ ’’لیکن جب تمھیں دعوت دی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو۔‘‘ یعنی کھانے سے پہلے یا بعد میں باتیں کرنے نہ لگ جاؤ ۔ پھر اس ممانعت کی حکمت اور فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنَّ ذٰلِكُمۡ ﴾ یعنی ضرورت سے زیادہ تمھارا وہاں انتظار کرنا ﴿كَانَ يُؤۡذِي النَّبِيَّ ﴾ ’’نبی (ﷺ) کو تکلیف دیتا ہے‘‘ یعنی وہاں تمھارا بیٹھ کر آپ کو اپنے کام کاج اور دیگر معاملات سے روکے رکھنا، آپ پر شاق گزرتا ہے اس سے آپ ﷺ کو تکلیف ہوتی ہے۔ ﴿فَيَسۡتَحۡيٖ مِنۡكُمۡ ﴾ یعنی وہ شرم کی وجہ سے تمھیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہاں سے چلے جاؤ ۔ جیسا کہ عادت جاریہ ہے کہ لوگ... خاص طور پر شرفاء اور باوقار لوگ... لوگوں کو اپنے گھروں سے نکالتے ہوئے شرماتے ہیں ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اللّٰهُ لَا يَسۡتَحۡيٖ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا۔‘‘ شرعی معاملے میں اگر یہ تو ہم لاحق ہو کہ اس کے ترک کرنے میں ادب اور حیا ہے، تو کامل حزم و احتیاط یہ ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ جو چیز شریعت کے خلاف ہے اس میں کوئی ادب نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمھیں ایسا حکم دینے سے نہیں شرماتا جس میں تمھارے لیے بھلائی اور رسول (ﷺ)کے لیے نرمی ہو خواہ یہ حکم کیسا ہی کیوں نہ ہو۔یہ تو تھے نبی اکرم ﷺ کے گھروں میں داخل ہونے کے آداب اور رہے آپ کی ازواج مطہرات سے مخاطب ہونے کے آداب، تو اس میں دو امور ہیں کہ آیا ازواج مطہرات سے مخاطب ہونے کی کوئی حقیقی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟اگر بات چیت کرنے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں تو اس کو ترک کرنا ہی ادب ہے۔ اگر کوئی حقیقی ضرورت لاحق ہے، جیسے ان سے کوئی چیز، مثلاً: گھر کے برتن وغیرہ طلب کرنا، تو یہ چیزیں ان سے طلب کی جائیں ﴿مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ﴾ ’’پردہ کے پیچھے سے۔‘‘ یعنی تمھارے درمیان اور ازواج مطہرات کے درمیان ایک پردہ حائل ہو، جو نظر پڑنے سے بچائے کیونکہ دیکھنے کی ضرورت نہیں تو معلوم ہوا ازواج مطہرات کو دیکھنا ہر حال میں ممنوع ہے اور ان سے ہم کلام ہونے میں تفصیل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرما دیا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ذٰلِكُمۡ اَطۡهَرُ لِقُلُوۡبِكُمۡ وَقُلُوۡبِهِنَّ ﴾ ’’یہ تمھارے اور ان کے دلوں کے لیے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔‘‘ کیونکہ یہ طریقہ کسی قسم کے شبہے سے بعید تر ہے اور انسان شر کی طرف دعوت دینے والے اسباب سے جتنا دور رہے گا تو یہ چیز اس کے قلب کے لیے اتنی ہی زیادہ سلامتی اور پاکیزگی کا باعث ہو گی۔بنا بریں اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام شرعی امور کی کثرت سے تفاصیل بیان کی ہیں، نیز یہ بھی واضح کیا ہے کہ برائی کے تمام وسائل، اسباب اور مقدمات ممنوع ہیں اور ہر طریقے سے ان سے دور رہنا مشروع ہے، پھر ایک جامع بات اور ایک عام قاعدہ کلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿مَا كَانَ لَكُمۡ ﴾ اے مومنو! تمھارے لائق ہے نہ یہ مستحسن ہے، بلکہ یہ قبیح ترین بات ہے ﴿اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰهِ ﴾ ’’ کہ تم رسول اللہ کو تکلیف پہنچاؤ ۔‘‘ یعنی قول و فعل اور ان سے متعلق تمام امور کے ذریعے سے اذیت پہنچاؤ۔ ﴿وَلَاۤ اَنۡ تَنۡكِحُوۡۤا اَزۡوَاجَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖۤ اَبَدًا ﴾ ’’اور نہ (تمھارے لیے یہ حلال ہے کہ )آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔‘‘ یہ چیز ان جملہ امور میں داخل ہے جن سے آپ کو اذیت پہنچتی ہے۔ بے شک آپﷺ تعظیم اور رفعت و اکرام کے مقام کے حامل ہیں آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات سے نکاح کرنا، اس مقام کے منافی ہے، نیز ازواج مطہرات، دنیا وآخرت میں آپ کی بیویاں ہیں، زوجیت کا یہ رشتہ آپ کی وفات کے بعد بھی باقی ہے اس لیے وہ آپ کی امت میں سے کسی کے لیے جائز نہیں۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكُمۡ كَانَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمًا ﴾ ’’یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ کا کام) ہے۔‘‘ امت مسلمہ نے اس حکم کی تعمیل کی اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے روکا۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُوَالشُّکْرُ۔ [54] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ تُبۡدُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو ﴿اَوۡ تُخۡفُوۡهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمًا ﴾ ’’ یا اس کو تم چھپاؤ، تو اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے اور وہ تمھیں اس کی جزا دے گا۔

الأحزاب 33:54

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ داخل ہو تم نبی کے گھروں میں، مگر یہ کہ اجازت دے دی جائے تمھیں، کھانے کے لیے، نہ انتظار کرنے والے ہو اس کے پکنے کا، لیکن جب بلائے جاؤ تم، تو داخل ہو تم، پس جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ ( یعنی اُٹھ کر چلے جاؤ )، اور نہ (ٹھہرے رہو) رغبت رکھتے ہوئے باتوں میں، بلاشبہ تمھاری یہ بات ہے ایذا دیتی ہے نبی(ﷺ)کو، پس وہ شرم کرتا ہے تم سے ، اور اللہ نہیں شرماتا حق بات (بیان کرنے) سے اور جب سوال کرو تم ان (ازواج مطہرات) سے کسی سامان کا، تو سوال کرو تم ان سے پیچھے سے پردے کے، یہ بات زیادہ پاکیزہ ہے واسطے تمھارے دلوں کے اور ان کے دلوں کے، اور نہیں ہے جائز تمھارے لیے یہ کہ ایذا دو تم اللہ کے رسول کواور نہ یہ (ہی جائز ہے) کہ تم نکاح کرو اس کی بیویوں سے اس کے بعد کبھی بھی، بے شک تمھارا یہ (فعل) ہو گا نزدیک اللہ کے بہت بڑا(53) اگرظاہر کرو تم کوئی چیز یا چھپاؤ تم اسے تو بلاشبہ اللہ ہے ہر چیز کو خوب جاننے والا(54) [53] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں داخل ہوتے وقت آپ کے آداب کا خیال رکھا کریں، لہٰذا فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتَ النَّبِيِّ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡذَنَ لَكُمۡ اِلٰى طَعَامٍ ﴾ یعنی کھانے کے لیے داخلے کی اجازت کے بغیر نبی کر یمﷺ کے گھر میں داخل نہ ہوا کرو اور نہ تم ﴿نٰظِرِيۡنَ اِنٰىهُ ﴾کھانا تیار ہونے اور اس کے پکنے کا انتظار کیا کرو اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لوٹنے میں تاخیر نہ کیا کرو۔اس کا معنی یہ ہے کہ تم دو شرائط کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے گھروں میں داخل ہوا کرو:(۱)داخل ہونے کی اجازت ملنے کے بعد۔(۲) تمھارا آپ کے گھر میں بیٹھنا ضرورت کے مطابق ہو۔اسی لیے فرمایا: ﴿وَلٰكِنۡ اِذَا دُعِيۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانۡتَشِرُوۡا وَلَا مُسۡتَاۡنِسِيۡنَ۠ لِحَدِيۡثٍ ﴾ ’’لیکن جب تمھیں دعوت دی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو۔‘‘ یعنی کھانے سے پہلے یا بعد میں باتیں کرنے نہ لگ جاؤ ۔ پھر اس ممانعت کی حکمت اور فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنَّ ذٰلِكُمۡ ﴾ یعنی ضرورت سے زیادہ تمھارا وہاں انتظار کرنا ﴿كَانَ يُؤۡذِي النَّبِيَّ ﴾ ’’نبی (ﷺ) کو تکلیف دیتا ہے‘‘ یعنی وہاں تمھارا بیٹھ کر آپ کو اپنے کام کاج اور دیگر معاملات سے روکے رکھنا، آپ پر شاق گزرتا ہے اس سے آپ ﷺ کو تکلیف ہوتی ہے۔ ﴿فَيَسۡتَحۡيٖ مِنۡكُمۡ ﴾ یعنی وہ شرم کی وجہ سے تمھیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہاں سے چلے جاؤ ۔ جیسا کہ عادت جاریہ ہے کہ لوگ... خاص طور پر شرفاء اور باوقار لوگ... لوگوں کو اپنے گھروں سے نکالتے ہوئے شرماتے ہیں ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اللّٰهُ لَا يَسۡتَحۡيٖ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا۔‘‘ شرعی معاملے میں اگر یہ تو ہم لاحق ہو کہ اس کے ترک کرنے میں ادب اور حیا ہے، تو کامل حزم و احتیاط یہ ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ جو چیز شریعت کے خلاف ہے اس میں کوئی ادب نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمھیں ایسا حکم دینے سے نہیں شرماتا جس میں تمھارے لیے بھلائی اور رسول (ﷺ)کے لیے نرمی ہو خواہ یہ حکم کیسا ہی کیوں نہ ہو۔یہ تو تھے نبی اکرم ﷺ کے گھروں میں داخل ہونے کے آداب اور رہے آپ کی ازواج مطہرات سے مخاطب ہونے کے آداب، تو اس میں دو امور ہیں کہ آیا ازواج مطہرات سے مخاطب ہونے کی کوئی حقیقی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟اگر بات چیت کرنے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں تو اس کو ترک کرنا ہی ادب ہے۔ اگر کوئی حقیقی ضرورت لاحق ہے، جیسے ان سے کوئی چیز، مثلاً: گھر کے برتن وغیرہ طلب کرنا، تو یہ چیزیں ان سے طلب کی جائیں ﴿مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ﴾ ’’پردہ کے پیچھے سے۔‘‘ یعنی تمھارے درمیان اور ازواج مطہرات کے درمیان ایک پردہ حائل ہو، جو نظر پڑنے سے بچائے کیونکہ دیکھنے کی ضرورت نہیں تو معلوم ہوا ازواج مطہرات کو دیکھنا ہر حال میں ممنوع ہے اور ان سے ہم کلام ہونے میں تفصیل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرما دیا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ذٰلِكُمۡ اَطۡهَرُ لِقُلُوۡبِكُمۡ وَقُلُوۡبِهِنَّ ﴾ ’’یہ تمھارے اور ان کے دلوں کے لیے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔‘‘ کیونکہ یہ طریقہ کسی قسم کے شبہے سے بعید تر ہے اور انسان شر کی طرف دعوت دینے والے اسباب سے جتنا دور رہے گا تو یہ چیز اس کے قلب کے لیے اتنی ہی زیادہ سلامتی اور پاکیزگی کا باعث ہو گی۔بنا بریں اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام شرعی امور کی کثرت سے تفاصیل بیان کی ہیں، نیز یہ بھی واضح کیا ہے کہ برائی کے تمام وسائل، اسباب اور مقدمات ممنوع ہیں اور ہر طریقے سے ان سے دور رہنا مشروع ہے، پھر ایک جامع بات اور ایک عام قاعدہ کلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿مَا كَانَ لَكُمۡ ﴾ اے مومنو! تمھارے لائق ہے نہ یہ مستحسن ہے، بلکہ یہ قبیح ترین بات ہے ﴿اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰهِ ﴾ ’’ کہ تم رسول اللہ کو تکلیف پہنچاؤ ۔‘‘ یعنی قول و فعل اور ان سے متعلق تمام امور کے ذریعے سے اذیت پہنچاؤ۔ ﴿وَلَاۤ اَنۡ تَنۡكِحُوۡۤا اَزۡوَاجَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖۤ اَبَدًا ﴾ ’’اور نہ (تمھارے لیے یہ حلال ہے کہ )آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔‘‘ یہ چیز ان جملہ امور میں داخل ہے جن سے آپ کو اذیت پہنچتی ہے۔ بے شک آپﷺ تعظیم اور رفعت و اکرام کے مقام کے حامل ہیں آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات سے نکاح کرنا، اس مقام کے منافی ہے، نیز ازواج مطہرات، دنیا وآخرت میں آپ کی بیویاں ہیں، زوجیت کا یہ رشتہ آپ کی وفات کے بعد بھی باقی ہے اس لیے وہ آپ کی امت میں سے کسی کے لیے جائز نہیں۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكُمۡ كَانَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمًا ﴾ ’’یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ کا کام) ہے۔‘‘ امت مسلمہ نے اس حکم کی تعمیل کی اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے روکا۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُوَالشُّکْرُ۔ [54] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ تُبۡدُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو ﴿اَوۡ تُخۡفُوۡهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمًا ﴾ ’’ یا اس کو تم چھپاؤ، تو اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے اور وہ تمھیں اس کی جزا دے گا۔

الأحزاب 33:55

نہیں گناہ ان عورتوں پراپنے باپوں (کے سامنے آنے) میں اور نہ اپنے بیٹوں کے اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے اور نہ اپنی بہنوں کے بیٹوں کے اور نہ اپنی عورتوں کے اور نہ ان کے جن کے مالک ہوئے دائیں ہاتھ ان کے اور ڈرو تم(سب) اللہ سے، بے شک اللہ ہے اوپر ہر چیز کے گواہ(55) [55] جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ازواج مطہرات سے اگر کوئی چیز طلب کی جائے تو پردے کے پیچھے سے طلب کی جائے تو لفظ عام استعمال کیا جس کا اطلاق سب پر ہوتا ہے، اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ اس حکم میں سے ان محرم اقارب کو مستثنیٰ قرار دیا جائے جو یہاں مذکور ہیں کہ جن سے پردہ نہ کرنے میں ﴿لَا جُنَاحَ عَلَيۡهِنَّ ﴾ ’’ان پر کوئی حرج نہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے چچاؤ ں اور ماموؤ ں کا ذکر نہیں کیا کیونکہ جب خالاؤں اور پھوپھیوں پر بھتیجوں اور بھانجوں سے پردہ کرنا واجب نہیں تو چچا اور ماموں سے پردہ کرنا بدرجہ اولیٰ واجب نہیں۔ نیز ایک دوسری آیت کا منطوق، جس میں نہایت صراحت کے ساتھ چچا اور ماموں کا ذکر ہے، اس آیت کریمہ کے مفہوم پر مقدم ہے۔ ﴿وَلَا نِسَآىِٕهِنَّ ﴾ یعنی عورتوں پر دوسری عورتوں سے پردہ نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ یعنی وہ عورتیں جو دین میں ان کی ہم جنس ہیں، تو آیت کریمہ کے اس جملہ کی رو سے کافر عورتیں نکل جاتیں ہیں۔ اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد جنس عورت ہے، تب معنیٰ یہ ہو گا کہ عورت عورت سے پردہ نہ کرے۔ ﴿وَلَا مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُنَّ ﴾ ’’اور نہ ان میں کوئی گناہ ہے جن کی وہ مالک ہیں۔‘‘ یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک غلام پورے کا پورا ان کی غلامی میں ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات سے حرج اور مضائقہ کو دور کر دیا ہے، اس لیے اس بارے میں اور دیگر امور میں التزام تقویٰ کی شرط عائد کی ہے، نیز یہ کہ اس میں کسی حرمت شرعی کا ارتکاب نہ ہو، چنانچہ فرمایا:﴿وَاتَّقِيۡنَ اللّٰهَ ﴾ یعنی اپنے تمام احوال میں تقویٰ کو کام میں لاؤ ۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ یقینا ہر چیز پر حاضر و ناظر ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام ظاہری وباطنی اعمال کو دیکھ رہا ہے، ان کے تمام اقوال کو سن رہا ہے اور ان کی تمام حرکات کا مشاہدہ کر رہا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ان کے تمام اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔

الأحزاب 33:56

بلاشبہ اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں نبی پر، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم بھی درود بھیجو اس پر اور سلام بھیجو (بہت) سلام(56) [56] ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کے کمال، اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے ہاں آپ کے بلند درجات، آپ کی بلند قدرومنزلت اور آپ کے ذکرِ رفیع کی طرف اشارہ ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فرشتوں اور ملأاعلیٰ کے سامنے اپنے نبی محمد ﷺ کی مدح و ثنا بیان کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ سے بہت محبت کرتا ہے۔ تمام فرشتے آپ کی مدح و ثنا کرتے ہیں اور نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی اقتدا میں، آپ کے بعض حقوق کی جزا کے طور پر، اپنے ایمان کی تکمیل کے لیے، آپ کی تعظیم کی خاطر، آپ سے محبت اور آپ کے اکرام و تکریم کے اظہار کے لیے، اپنی نیکیوں میں اضافہ کرنے اور اپنی برائیوں کے کفارہ کے لیے اے مومنو! تم بھی رسول اللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجا کرو۔ رسول اللہ ﷺ پر درود کی بہتر شکل وہ ہے جو آپ نے اپنے صحابہ کرا م کو سکھائی ہے ، لہٰذا آپ نے فرمایا: ’أَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیمَ اِنَّکَ حَمِیدٌ مَّجِیدٌ۔ اَللَّہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدِ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیمَ وَعَلٰی آلِ اِبْراہِیمَ اِنَّکَ حَمِیدٌ مَّجِیدٌ(صحیح البخاري، کتاب أحادیث الأنبیاء، باب: 10، حدیث: 3370) درود وسلام کا یہ حکم، تمام اوقات میں مشروع ہے اور بہت سے اہل علم نے اسے نماز کے اندر واجب قرار دیا ہے۔

الأحزاب 33:57

بلاشبہ وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کےرسول کو، لعنت کی ان پر اللہ نے دنیااور آخرت میں اور اس نے تیار کیا ہے ان کے لیے عذاب رسوا کرنے والا(57) اور وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر اس کےجو انھوں نے(کوئی گناہ)کمایا ہو تو یقیناً اٹھایا انھوں نے بہتان کا اور گناہ صریح (کابوجھ)(58) [57، 58] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی تعظیم اور آپ پر صلاۃ و سلام کا حکم دینے کے بعد، آپ کو اذیت پہنچانے سے منع کیا اور جو آپ کو اذیت پہنچائے اس کو سخت عذاب کی وعید سنائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’ وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو۔‘‘ یہ آیت کریمہ ہر قسم کی قولی و فعلی اذیت سب وشتم، آپ کی تنقیص، آپ کے دین کی تنقیص اور ہر ایسا کام جس سے آپ کو اذیت پہنچے، سب کو شامل ہے۔ ﴿لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان پر دنیا میں اللہ کی پھٹکار ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں رحمت سے دور کر کے دھتکار دیا ہے۔ دنیا کے اندر ان پر لعنت یہ ہے کہ شاتم رسول کی حتمی سزا قتل ہے۔ ﴿وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ﴾ ’’اور آخرت میں بھی اور ان کے لیے اللہ نے انتہائی رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔‘‘ اس اذیت رسانی کی جزا کے طور پر ایذا دینے والے کو درد ناک عذاب دیا جائے گا۔ رسول (ﷺ)کو تکلیف پہنچانا کسی عام آدمی کو تکلیف پہنچانے کی مانند نہیں ہے کیونکہ بندہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لا سکتا جب تک کہ وہ اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہ لائے۔ آپ کی تعظیم کرنا لوازم ایمان میں شامل ہے اور یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ آپ کسی اور کی مانند نہیں۔ اہل ایمان کو بھی اذیت پہنچانا بہت بڑی برائی ہے اور اس کا گناہ بھی بڑا ہے اس لیے اس ایذا رسانی کے بارے میں فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَيۡرِ مَا اكۡتَسَبُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام کی وجہ سے ایذا دیں جو انھوں نے نہ کیا۔‘‘ یعنی ان کے کسی ایسے جرم کے بغیر، جو ان کو اذیت دینے کا موجب ہو ﴿فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا ﴾ تو ایذا دینے والوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھایا ﴿بُهۡتَانًا ﴾ ’’بہت بڑا بہتان‘‘ کیونکہ انھوں نے کسی سبب کے بغیر اہل ایمان کو اذیت پہنچائی ﴿وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا ﴾ ’’اور واضح گناہ (کا بوجھ اٹھایا)‘‘ کیونکہ انھوں نے اہل ایمان پر زیادتی کی اور انھوں نے اس حرمت کی ہتک کی جس کے احترام کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ اس لیے عام اہل ایمان کو سب وشتم کرنا، ان کے احوال اور مرتبے کے مطابق، موجب تعزیر ہے۔ صحابہ کرامy کو سب و شتم کرنے والے کے لیے اس سے بڑھ کر تعزیر ہے۔ اہل علم اور متدین حضرات کو سب و شتم کرنے والا عام لوگوں کو سب و شتم کرنے والے سے بڑھ کر تعزیر اور سزا کا مستحق ہے۔

الأحزاب 33:58

بلاشبہ وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کےرسول کو، لعنت کی ان پر اللہ نے دنیااور آخرت میں اور اس نے تیار کیا ہے ان کے لیے عذاب رسوا کرنے والا(57) اور وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر اس کےجو انھوں نے(کوئی گناہ)کمایا ہو تو یقیناً اٹھایا انھوں نے بہتان کا اور گناہ صریح (کابوجھ)(58) [57، 58] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی تعظیم اور آپ پر صلاۃ و سلام کا حکم دینے کے بعد، آپ کو اذیت پہنچانے سے منع کیا اور جو آپ کو اذیت پہنچائے اس کو سخت عذاب کی وعید سنائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’ وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو۔‘‘ یہ آیت کریمہ ہر قسم کی قولی و فعلی اذیت سب وشتم، آپ کی تنقیص، آپ کے دین کی تنقیص اور ہر ایسا کام جس سے آپ کو اذیت پہنچے، سب کو شامل ہے۔ ﴿لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان پر دنیا میں اللہ کی پھٹکار ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں رحمت سے دور کر کے دھتکار دیا ہے۔ دنیا کے اندر ان پر لعنت یہ ہے کہ شاتم رسول کی حتمی سزا قتل ہے۔ ﴿وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ﴾ ’’اور آخرت میں بھی اور ان کے لیے اللہ نے انتہائی رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔‘‘ اس اذیت رسانی کی جزا کے طور پر ایذا دینے والے کو درد ناک عذاب دیا جائے گا۔ رسول (ﷺ)کو تکلیف پہنچانا کسی عام آدمی کو تکلیف پہنچانے کی مانند نہیں ہے کیونکہ بندہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لا سکتا جب تک کہ وہ اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہ لائے۔ آپ کی تعظیم کرنا لوازم ایمان میں شامل ہے اور یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ آپ کسی اور کی مانند نہیں۔ اہل ایمان کو بھی اذیت پہنچانا بہت بڑی برائی ہے اور اس کا گناہ بھی بڑا ہے اس لیے اس ایذا رسانی کے بارے میں فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَيۡرِ مَا اكۡتَسَبُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام کی وجہ سے ایذا دیں جو انھوں نے نہ کیا۔‘‘ یعنی ان کے کسی ایسے جرم کے بغیر، جو ان کو اذیت دینے کا موجب ہو ﴿فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا ﴾ تو ایذا دینے والوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھایا ﴿بُهۡتَانًا ﴾ ’’بہت بڑا بہتان‘‘ کیونکہ انھوں نے کسی سبب کے بغیر اہل ایمان کو اذیت پہنچائی ﴿وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا ﴾ ’’اور واضح گناہ (کا بوجھ اٹھایا)‘‘ کیونکہ انھوں نے اہل ایمان پر زیادتی کی اور انھوں نے اس حرمت کی ہتک کی جس کے احترام کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ اس لیے عام اہل ایمان کو سب وشتم کرنا، ان کے احوال اور مرتبے کے مطابق، موجب تعزیر ہے۔ صحابہ کرامy کو سب و شتم کرنے والے کے لیے اس سے بڑھ کر تعزیر ہے۔ اہل علم اور متدین حضرات کو سب و شتم کرنے والا عام لوگوں کو سب و شتم کرنے والے سے بڑھ کر تعزیر اور سزا کا مستحق ہے۔

الأحزاب 33:59

اے نبی! کہہ دیجیے: اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہ لٹکا لیا کریں وہ اپنے اوپر اپنی چادریں، یہ (بات) زیادہ قریب ہے اس کےکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ وہ ایذا پہنچائی جائیں، اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(59) البتہ اگر نہ باز آئے منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جھوٹی افواہیں اڑانے والے مدینے میں، تو ضرور ہم مسلط کر دیں گے آپ کو ان پر، پھر نہ وہ پاس رہ سکیں گے آپ کے اس (مدینے) میں، مگر تھوڑی مدت(60) دھتکارے ہوئے، جہاں بھی وہ پائے جائیں، پکڑ لیے جائیں اور قتل کر دیے جائیں (بری طرح سے) قتل کیا جانا(61)(یہ) طریقہ ہے اللہ کا ان لوگوں میں جو گزر گئے اس سے پہلے، اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی(62) [59] اس آیت کریمہ کو ’’آیت حجاب‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تمام عورتوں کو عمومی طور پر پردے کا حکم دیں اور اس کی ابتدا اپنی ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کریں کیونکہ دوسروں کی نسبت، ان کے لیے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے۔ نیز کسی معاملے میں دوسروں کو حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر سے ابتدا کرے جیسا کہ فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا﴾(التحریم:66/6) ’’اے مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے حکم دیاکہ ﴿يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ۠﴾ ’’وہ اپنی چادریں اوڑھ کر گھونگٹ نکال لیا کریں۔‘‘ (جلباب) وہ کپڑا ہے جو عام لباس کے اوپر اوڑھ لیا جاتا ہے ، مثلاً: دوپٹا، اوڑھنی اور چادر وغیرہ، یعنی چادر وغیرہ سے اپنے چہروں اور سینوں کو ڈھانپ لیا کریں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ذٰلِكَ اَدۡنٰۤى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ ﴾ ’’یہ امر ان کے لیے موجب شناخت ہو گا تو کوئی ان کو ایذا نہیں دے گا۔‘‘ آیت کریمہ کا یہ جملہ عدم حجاب کی صورت میں وجود اذیت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر وہ پردہ نہیں کریں گی تو بسااوقات ان کے بارے میں کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ پاک باز عورتیں نہیں ہیں اور کوئی بدکردار شخص، جس کے دل میں مرض ہے، آگے بڑھ کر تعرض کر کے ان کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ ان کی اہانت بھی ہو سکتی ہے۔ شرارت پسند شخص ان کو لونڈیاں سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ برا سلوک کر سکتا ہے، اس لیے حجاب بدطینت لوگوں کی لالچ بھری نظروں سے بچاتا ہے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ اس نے تمھارے گزشتہ گناہ بخش دیے اور تم پر رحم فرمایا کہ اس نے تمھارے لیے احکام بیان فرمائے، حلال اور حرام کو واضح کیا۔ یہ عورتوں کی جہت سے برائی کا سدباب ہے۔ [60، 61] رہا شریر لوگوں کے شر کا سدباب، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اگر باز نہ آئیں وہ لوگ جو منافق ہیں اور جن کے دلوں میں مرض ہے۔‘‘ یعنی شک اور شہوت کا مرض ﴿وَّالۡمُرۡجِفُوۡنَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور جو مدینے میں جھوٹی خبریں اڑایا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اپنے دشمنوں کو ڈراتے، اپنی کثرت و قوت اور مسلمانوں کی کمزوری کا ذکر کرتے پھرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عمل کا ذکر نہیں فرمایا جس کے بارے میں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس سے باز آ جائیں تاکہ یہ اپنے عموم کے ساتھ ان تمام برائیوں سے رک جائیں جن پر انھیں ان کے نفس اکساتے، وسوسہ پیدا کرتے اور شر کی طرف انھیں دعوت دیتے رہتے ہیں، مثلاً: اسلام اور اہل اسلام پر سب و شتم کرنا، مسلمانوں کے بارے میں بری افواہیں پھیلانا، ان کی قوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرنا، مومن خواتین کے ساتھ برائی اور فحش رویے سے پیش آنا اور دیگر گناہ جو ان جیسے بدکردار لوگوں سے صادر ہوتے ہیں۔ ﴿لَنُغۡرِيَنَّكَ بِهِمۡ ﴾ ہم آپ کو انھیں سزا دینے اور ان کے خلاف لڑنے کا حکم دیں گے اور آپ کو ان پر تسلط اور غلبہ عطا کریں گے۔ اگر ہم نے یہ کام کیا تو ان میں آپ کا مقابلہ کرنے اور آپ سے بچنے کی قوت اور طاقت نہ ہو گی۔ اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ یعنی وہ مدینہ منورہ میں بہت کم آپ کے ساتھ رہ سکیں گے، آپ ان کو قتل کردیں گے یا شہر بدر کردیں گے۔آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ان شرپسندوں کو، جن کے مسلمانوں کے اندر قیام سے مسلمانوں کو ضرر کا اندیشہ ہو، شہر بدر کیا جا سکتا ہے، اس طریقے سے بہتر طور پر برائی کا سدباب ہو سکتا ہے اور برائی سے دور رہا جا سکتا ہے ﴿مَّلۡعُوۡنِيۡنَ١ۛۚ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا﴾ ’’ان پر پھٹکار برسائی گئی جہاں بھی وہ مل جائیں پکڑے جائیں اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں۔‘‘ یعنی جہاں کہیں بھی پائے جائیں گے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے انھیں امن حاصل ہو گا نہ قرار، انھیں ہمیشہ قتل، قید اور عقوبتوں کا دھڑ کا لگا رہے گا۔ [62]﴿سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ کی یہی سنت رہی ہے۔‘‘ یعنی جو نافرمانی میں بڑھتا چلا جاتا ہے، ایذا رسانی کی جسارت کرتا ہے اور اس سے باز نہیں آتا، اسے سخت سزا دی جاتی ہے ﴿وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا ﴾ ’’اور البتہ آپ اللہ کی سنت میں کوئی تغیر و تبدل نہیں پائیں گے۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت اسباب اور اس کے مسببات کے ساتھ جاری و ساری پائیں گے۔

الأحزاب 33:60

اے نبی! کہہ دیجیے: اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہ لٹکا لیا کریں وہ اپنے اوپر اپنی چادریں، یہ (بات) زیادہ قریب ہے اس کےکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ وہ ایذا پہنچائی جائیں، اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(59) البتہ اگر نہ باز آئے منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جھوٹی افواہیں اڑانے والے مدینے میں، تو ضرور ہم مسلط کر دیں گے آپ کو ان پر، پھر نہ وہ پاس رہ سکیں گے آپ کے اس (مدینے) میں، مگر تھوڑی مدت(60) دھتکارے ہوئے، جہاں بھی وہ پائے جائیں، پکڑ لیے جائیں اور قتل کر دیے جائیں (بری طرح سے) قتل کیا جانا(61)(یہ) طریقہ ہے اللہ کا ان لوگوں میں جو گزر گئے اس سے پہلے، اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی(62) [59] اس آیت کریمہ کو ’’آیت حجاب‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تمام عورتوں کو عمومی طور پر پردے کا حکم دیں اور اس کی ابتدا اپنی ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کریں کیونکہ دوسروں کی نسبت، ان کے لیے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے۔ نیز کسی معاملے میں دوسروں کو حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر سے ابتدا کرے جیسا کہ فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا﴾(التحریم:66/6) ’’اے مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے حکم دیاکہ ﴿يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ۠﴾ ’’وہ اپنی چادریں اوڑھ کر گھونگٹ نکال لیا کریں۔‘‘ (جلباب) وہ کپڑا ہے جو عام لباس کے اوپر اوڑھ لیا جاتا ہے ، مثلاً: دوپٹا، اوڑھنی اور چادر وغیرہ، یعنی چادر وغیرہ سے اپنے چہروں اور سینوں کو ڈھانپ لیا کریں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ذٰلِكَ اَدۡنٰۤى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ ﴾ ’’یہ امر ان کے لیے موجب شناخت ہو گا تو کوئی ان کو ایذا نہیں دے گا۔‘‘ آیت کریمہ کا یہ جملہ عدم حجاب کی صورت میں وجود اذیت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر وہ پردہ نہیں کریں گی تو بسااوقات ان کے بارے میں کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ پاک باز عورتیں نہیں ہیں اور کوئی بدکردار شخص، جس کے دل میں مرض ہے، آگے بڑھ کر تعرض کر کے ان کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ ان کی اہانت بھی ہو سکتی ہے۔ شرارت پسند شخص ان کو لونڈیاں سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ برا سلوک کر سکتا ہے، اس لیے حجاب بدطینت لوگوں کی لالچ بھری نظروں سے بچاتا ہے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ اس نے تمھارے گزشتہ گناہ بخش دیے اور تم پر رحم فرمایا کہ اس نے تمھارے لیے احکام بیان فرمائے، حلال اور حرام کو واضح کیا۔ یہ عورتوں کی جہت سے برائی کا سدباب ہے۔ [60، 61] رہا شریر لوگوں کے شر کا سدباب، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اگر باز نہ آئیں وہ لوگ جو منافق ہیں اور جن کے دلوں میں مرض ہے۔‘‘ یعنی شک اور شہوت کا مرض ﴿وَّالۡمُرۡجِفُوۡنَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور جو مدینے میں جھوٹی خبریں اڑایا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اپنے دشمنوں کو ڈراتے، اپنی کثرت و قوت اور مسلمانوں کی کمزوری کا ذکر کرتے پھرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عمل کا ذکر نہیں فرمایا جس کے بارے میں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس سے باز آ جائیں تاکہ یہ اپنے عموم کے ساتھ ان تمام برائیوں سے رک جائیں جن پر انھیں ان کے نفس اکساتے، وسوسہ پیدا کرتے اور شر کی طرف انھیں دعوت دیتے رہتے ہیں، مثلاً: اسلام اور اہل اسلام پر سب و شتم کرنا، مسلمانوں کے بارے میں بری افواہیں پھیلانا، ان کی قوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرنا، مومن خواتین کے ساتھ برائی اور فحش رویے سے پیش آنا اور دیگر گناہ جو ان جیسے بدکردار لوگوں سے صادر ہوتے ہیں۔ ﴿لَنُغۡرِيَنَّكَ بِهِمۡ ﴾ ہم آپ کو انھیں سزا دینے اور ان کے خلاف لڑنے کا حکم دیں گے اور آپ کو ان پر تسلط اور غلبہ عطا کریں گے۔ اگر ہم نے یہ کام کیا تو ان میں آپ کا مقابلہ کرنے اور آپ سے بچنے کی قوت اور طاقت نہ ہو گی۔ اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ یعنی وہ مدینہ منورہ میں بہت کم آپ کے ساتھ رہ سکیں گے، آپ ان کو قتل کردیں گے یا شہر بدر کردیں گے۔آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ان شرپسندوں کو، جن کے مسلمانوں کے اندر قیام سے مسلمانوں کو ضرر کا اندیشہ ہو، شہر بدر کیا جا سکتا ہے، اس طریقے سے بہتر طور پر برائی کا سدباب ہو سکتا ہے اور برائی سے دور رہا جا سکتا ہے ﴿مَّلۡعُوۡنِيۡنَ١ۛۚ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا﴾ ’’ان پر پھٹکار برسائی گئی جہاں بھی وہ مل جائیں پکڑے جائیں اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں۔‘‘ یعنی جہاں کہیں بھی پائے جائیں گے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے انھیں امن حاصل ہو گا نہ قرار، انھیں ہمیشہ قتل، قید اور عقوبتوں کا دھڑ کا لگا رہے گا۔ [62]﴿سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ کی یہی سنت رہی ہے۔‘‘ یعنی جو نافرمانی میں بڑھتا چلا جاتا ہے، ایذا رسانی کی جسارت کرتا ہے اور اس سے باز نہیں آتا، اسے سخت سزا دی جاتی ہے ﴿وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا ﴾ ’’اور البتہ آپ اللہ کی سنت میں کوئی تغیر و تبدل نہیں پائیں گے۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت اسباب اور اس کے مسببات کے ساتھ جاری و ساری پائیں گے۔

الأحزاب 33:61

اے نبی! کہہ دیجیے: اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہ لٹکا لیا کریں وہ اپنے اوپر اپنی چادریں، یہ (بات) زیادہ قریب ہے اس کےکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ وہ ایذا پہنچائی جائیں، اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(59) البتہ اگر نہ باز آئے منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جھوٹی افواہیں اڑانے والے مدینے میں، تو ضرور ہم مسلط کر دیں گے آپ کو ان پر، پھر نہ وہ پاس رہ سکیں گے آپ کے اس (مدینے) میں، مگر تھوڑی مدت(60) دھتکارے ہوئے، جہاں بھی وہ پائے جائیں، پکڑ لیے جائیں اور قتل کر دیے جائیں (بری طرح سے) قتل کیا جانا(61)(یہ) طریقہ ہے اللہ کا ان لوگوں میں جو گزر گئے اس سے پہلے، اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی(62) [59] اس آیت کریمہ کو ’’آیت حجاب‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تمام عورتوں کو عمومی طور پر پردے کا حکم دیں اور اس کی ابتدا اپنی ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کریں کیونکہ دوسروں کی نسبت، ان کے لیے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے۔ نیز کسی معاملے میں دوسروں کو حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر سے ابتدا کرے جیسا کہ فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا﴾(التحریم:66/6) ’’اے مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے حکم دیاکہ ﴿يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ۠﴾ ’’وہ اپنی چادریں اوڑھ کر گھونگٹ نکال لیا کریں۔‘‘ (جلباب) وہ کپڑا ہے جو عام لباس کے اوپر اوڑھ لیا جاتا ہے ، مثلاً: دوپٹا، اوڑھنی اور چادر وغیرہ، یعنی چادر وغیرہ سے اپنے چہروں اور سینوں کو ڈھانپ لیا کریں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ذٰلِكَ اَدۡنٰۤى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ ﴾ ’’یہ امر ان کے لیے موجب شناخت ہو گا تو کوئی ان کو ایذا نہیں دے گا۔‘‘ آیت کریمہ کا یہ جملہ عدم حجاب کی صورت میں وجود اذیت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر وہ پردہ نہیں کریں گی تو بسااوقات ان کے بارے میں کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ پاک باز عورتیں نہیں ہیں اور کوئی بدکردار شخص، جس کے دل میں مرض ہے، آگے بڑھ کر تعرض کر کے ان کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ ان کی اہانت بھی ہو سکتی ہے۔ شرارت پسند شخص ان کو لونڈیاں سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ برا سلوک کر سکتا ہے، اس لیے حجاب بدطینت لوگوں کی لالچ بھری نظروں سے بچاتا ہے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ اس نے تمھارے گزشتہ گناہ بخش دیے اور تم پر رحم فرمایا کہ اس نے تمھارے لیے احکام بیان فرمائے، حلال اور حرام کو واضح کیا۔ یہ عورتوں کی جہت سے برائی کا سدباب ہے۔ [60، 61] رہا شریر لوگوں کے شر کا سدباب، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اگر باز نہ آئیں وہ لوگ جو منافق ہیں اور جن کے دلوں میں مرض ہے۔‘‘ یعنی شک اور شہوت کا مرض ﴿وَّالۡمُرۡجِفُوۡنَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور جو مدینے میں جھوٹی خبریں اڑایا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اپنے دشمنوں کو ڈراتے، اپنی کثرت و قوت اور مسلمانوں کی کمزوری کا ذکر کرتے پھرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عمل کا ذکر نہیں فرمایا جس کے بارے میں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس سے باز آ جائیں تاکہ یہ اپنے عموم کے ساتھ ان تمام برائیوں سے رک جائیں جن پر انھیں ان کے نفس اکساتے، وسوسہ پیدا کرتے اور شر کی طرف انھیں دعوت دیتے رہتے ہیں، مثلاً: اسلام اور اہل اسلام پر سب و شتم کرنا، مسلمانوں کے بارے میں بری افواہیں پھیلانا، ان کی قوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرنا، مومن خواتین کے ساتھ برائی اور فحش رویے سے پیش آنا اور دیگر گناہ جو ان جیسے بدکردار لوگوں سے صادر ہوتے ہیں۔ ﴿لَنُغۡرِيَنَّكَ بِهِمۡ ﴾ ہم آپ کو انھیں سزا دینے اور ان کے خلاف لڑنے کا حکم دیں گے اور آپ کو ان پر تسلط اور غلبہ عطا کریں گے۔ اگر ہم نے یہ کام کیا تو ان میں آپ کا مقابلہ کرنے اور آپ سے بچنے کی قوت اور طاقت نہ ہو گی۔ اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ یعنی وہ مدینہ منورہ میں بہت کم آپ کے ساتھ رہ سکیں گے، آپ ان کو قتل کردیں گے یا شہر بدر کردیں گے۔آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ان شرپسندوں کو، جن کے مسلمانوں کے اندر قیام سے مسلمانوں کو ضرر کا اندیشہ ہو، شہر بدر کیا جا سکتا ہے، اس طریقے سے بہتر طور پر برائی کا سدباب ہو سکتا ہے اور برائی سے دور رہا جا سکتا ہے ﴿مَّلۡعُوۡنِيۡنَ١ۛۚ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا﴾ ’’ان پر پھٹکار برسائی گئی جہاں بھی وہ مل جائیں پکڑے جائیں اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں۔‘‘ یعنی جہاں کہیں بھی پائے جائیں گے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے انھیں امن حاصل ہو گا نہ قرار، انھیں ہمیشہ قتل، قید اور عقوبتوں کا دھڑ کا لگا رہے گا۔ [62]﴿سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ کی یہی سنت رہی ہے۔‘‘ یعنی جو نافرمانی میں بڑھتا چلا جاتا ہے، ایذا رسانی کی جسارت کرتا ہے اور اس سے باز نہیں آتا، اسے سخت سزا دی جاتی ہے ﴿وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا ﴾ ’’اور البتہ آپ اللہ کی سنت میں کوئی تغیر و تبدل نہیں پائیں گے۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت اسباب اور اس کے مسببات کے ساتھ جاری و ساری پائیں گے۔

الأحزاب 33:62

اے نبی! کہہ دیجیے: اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہ لٹکا لیا کریں وہ اپنے اوپر اپنی چادریں، یہ (بات) زیادہ قریب ہے اس کےکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ وہ ایذا پہنچائی جائیں، اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(59) البتہ اگر نہ باز آئے منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جھوٹی افواہیں اڑانے والے مدینے میں، تو ضرور ہم مسلط کر دیں گے آپ کو ان پر، پھر نہ وہ پاس رہ سکیں گے آپ کے اس (مدینے) میں، مگر تھوڑی مدت(60) دھتکارے ہوئے، جہاں بھی وہ پائے جائیں، پکڑ لیے جائیں اور قتل کر دیے جائیں (بری طرح سے) قتل کیا جانا(61)(یہ) طریقہ ہے اللہ کا ان لوگوں میں جو گزر گئے اس سے پہلے، اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی(62) [59] اس آیت کریمہ کو ’’آیت حجاب‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تمام عورتوں کو عمومی طور پر پردے کا حکم دیں اور اس کی ابتدا اپنی ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کریں کیونکہ دوسروں کی نسبت، ان کے لیے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے۔ نیز کسی معاملے میں دوسروں کو حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر سے ابتدا کرے جیسا کہ فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا﴾(التحریم:66/6) ’’اے مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے حکم دیاکہ ﴿يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ۠﴾ ’’وہ اپنی چادریں اوڑھ کر گھونگٹ نکال لیا کریں۔‘‘ (جلباب) وہ کپڑا ہے جو عام لباس کے اوپر اوڑھ لیا جاتا ہے ، مثلاً: دوپٹا، اوڑھنی اور چادر وغیرہ، یعنی چادر وغیرہ سے اپنے چہروں اور سینوں کو ڈھانپ لیا کریں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ذٰلِكَ اَدۡنٰۤى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ ﴾ ’’یہ امر ان کے لیے موجب شناخت ہو گا تو کوئی ان کو ایذا نہیں دے گا۔‘‘ آیت کریمہ کا یہ جملہ عدم حجاب کی صورت میں وجود اذیت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر وہ پردہ نہیں کریں گی تو بسااوقات ان کے بارے میں کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ پاک باز عورتیں نہیں ہیں اور کوئی بدکردار شخص، جس کے دل میں مرض ہے، آگے بڑھ کر تعرض کر کے ان کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ ان کی اہانت بھی ہو سکتی ہے۔ شرارت پسند شخص ان کو لونڈیاں سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ برا سلوک کر سکتا ہے، اس لیے حجاب بدطینت لوگوں کی لالچ بھری نظروں سے بچاتا ہے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ اس نے تمھارے گزشتہ گناہ بخش دیے اور تم پر رحم فرمایا کہ اس نے تمھارے لیے احکام بیان فرمائے، حلال اور حرام کو واضح کیا۔ یہ عورتوں کی جہت سے برائی کا سدباب ہے۔ [60، 61] رہا شریر لوگوں کے شر کا سدباب، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اگر باز نہ آئیں وہ لوگ جو منافق ہیں اور جن کے دلوں میں مرض ہے۔‘‘ یعنی شک اور شہوت کا مرض ﴿وَّالۡمُرۡجِفُوۡنَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور جو مدینے میں جھوٹی خبریں اڑایا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اپنے دشمنوں کو ڈراتے، اپنی کثرت و قوت اور مسلمانوں کی کمزوری کا ذکر کرتے پھرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عمل کا ذکر نہیں فرمایا جس کے بارے میں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس سے باز آ جائیں تاکہ یہ اپنے عموم کے ساتھ ان تمام برائیوں سے رک جائیں جن پر انھیں ان کے نفس اکساتے، وسوسہ پیدا کرتے اور شر کی طرف انھیں دعوت دیتے رہتے ہیں، مثلاً: اسلام اور اہل اسلام پر سب و شتم کرنا، مسلمانوں کے بارے میں بری افواہیں پھیلانا، ان کی قوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرنا، مومن خواتین کے ساتھ برائی اور فحش رویے سے پیش آنا اور دیگر گناہ جو ان جیسے بدکردار لوگوں سے صادر ہوتے ہیں۔ ﴿لَنُغۡرِيَنَّكَ بِهِمۡ ﴾ ہم آپ کو انھیں سزا دینے اور ان کے خلاف لڑنے کا حکم دیں گے اور آپ کو ان پر تسلط اور غلبہ عطا کریں گے۔ اگر ہم نے یہ کام کیا تو ان میں آپ کا مقابلہ کرنے اور آپ سے بچنے کی قوت اور طاقت نہ ہو گی۔ اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ یعنی وہ مدینہ منورہ میں بہت کم آپ کے ساتھ رہ سکیں گے، آپ ان کو قتل کردیں گے یا شہر بدر کردیں گے۔آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ان شرپسندوں کو، جن کے مسلمانوں کے اندر قیام سے مسلمانوں کو ضرر کا اندیشہ ہو، شہر بدر کیا جا سکتا ہے، اس طریقے سے بہتر طور پر برائی کا سدباب ہو سکتا ہے اور برائی سے دور رہا جا سکتا ہے ﴿مَّلۡعُوۡنِيۡنَ١ۛۚ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا﴾ ’’ان پر پھٹکار برسائی گئی جہاں بھی وہ مل جائیں پکڑے جائیں اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں۔‘‘ یعنی جہاں کہیں بھی پائے جائیں گے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے انھیں امن حاصل ہو گا نہ قرار، انھیں ہمیشہ قتل، قید اور عقوبتوں کا دھڑ کا لگا رہے گا۔ [62]﴿سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ کی یہی سنت رہی ہے۔‘‘ یعنی جو نافرمانی میں بڑھتا چلا جاتا ہے، ایذا رسانی کی جسارت کرتا ہے اور اس سے باز نہیں آتا، اسے سخت سزا دی جاتی ہے ﴿وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا ﴾ ’’اور البتہ آپ اللہ کی سنت میں کوئی تغیر و تبدل نہیں پائیں گے۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت اسباب اور اس کے مسببات کے ساتھ جاری و ساری پائیں گے۔

الأحزاب 33:63

پوچھتے ہیں آپ سے لوگ قیامت کی بابت، کہہ دیجیے: بلاشبہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور کیا چیز بتلاتی ہے آپ کو شاید کہ قیامت ہو قریب ہی؟(63) بلاشبہ اللہ نے لعنت کی کافروں پر اور اس نے تیار کی ہے ان کے لیے خوب بھڑکتی ہوئی آگ(64) ہمیشہ رہیں گے اس میں ابد تک ، نہیں پائیں گے وہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(65) جس دن الٹ پلٹ کیے جائیں گے ان کے چہرے آگ میں تو وہ کہیں گے، اے کاش! اطاعت کی ہوتی ہم نے اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول کی(66) اور وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی، پس انہو ں نے گمراہ کر دیا ہمیں (سیدھے) راستے سے(67) اے ہمارے رب! دے ان کو دگنا عذاب اور لعنت کر ان پر لعنت بڑی (زیادہ)(68) [63] یعنی لوگ جلدی مچاتے ہوئے آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان میں سے بعض تکذیب کے طور پر اور خبر دینے والے کو اس بارے میں عاجز سمجھتے ہوئے پوچھتے ہیں تو ﴿قُلۡ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے۔‘‘ ان سے! ﴿اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے مجھے یا کسی اور کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ بایں ہمہ تم اسے زیادہ دور نہ سمجھو۔ ﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوۡنُ قَرِيۡبًا ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آ گئی ہو‘‘ [66-64] قیامت کی گھڑی کے مجرد قریب یا بعید ہونے میں کوئی فائدہ یا نتیجہ نہیں، حقیقی نتیجہ تو خسارہ یا نفع اور بدبختی یا خوش بختی ہے، نیز آیا بندہ عذاب کا مستحق ہے یا ثواب کا؟ اور ان امور کے بارے میں تمھیں میں خبر دیتا ہوں اور میں بتاتا ہوں کہ ان کا مستحق کون ہے؟ لہٰذا آپ نے عذاب کے مستحق لوگوں کا وصف بیان کیا اور اس عذاب کا وصف بیان کیا جس میں ان کو مبتلا کیا جائے گا کیونکہ یہ وصفِ مذکور آخرت کی تکذیب کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی جن کی عادت اور فطرت اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اس کا کفر اور انکار کر نا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں اپنی رحمت سے دور کر دیا اور سزا کے لیے یہی کافی ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور تیار کی ہے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔‘‘ یعنی ان کے لیے آگ بھڑکائی جائے گی جس میں ان کے جسم جلیں گے، آگ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی وہ اس سخت عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس عذاب سے کبھی نکل سکیں گے نہ عذاب میں کبھی کمی آئے گی اور ﴿لَا يَجِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ نہیں پائیں گے ‘‘ اپنے لیے ﴿وَلِيًّا ﴾ ’’کوئی دوست‘‘ جو ان کو وہ کچھ دے سکے جو وہ طلب کریں۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا﴾ ’’نہ ان کا کوئی مددگار ہو گا‘‘ جو ان سے عذاب کو دور کر سکے بلکہ تمام مددگار ان کو چھوڑ جائیں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا سخت عذاب انھیں گھیر لے گا۔اس لیے فرمایا: ﴿يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ ﴾ ’’جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں گے۔‘‘ پس وہ آگ کی شدید حرارت کا مزا چکھیں گے، آگ کا عذاب ان پر بھڑک اٹھے گا۔ وہ اپنے گزشتہ اعمال پر حسرت کا اظہار کریں گے۔ ﴿يَقُوۡلُوۡنَ يٰلَيۡتَنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰهَ وَاَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا ﴾ ’’وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی‘‘ اور یوں ہم اس عذاب سے بچ جاتے اور اطاعت مندوں کی طرح ہم بھی ثواب جزیل کے مستحق ٹھہرتے۔ مگر یہ ان کی ایسی آرزو ہے جس کا وقت گزر چکا۔ جس کا اب، حسرت، ندامت، غم اور الم کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ [67]﴿وَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّـاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَؔكُبَرَآءَؔنَا ﴾ ’’اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا‘‘ اور ہم نے گمراہی میں ان کی تقلید کی ﴿فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِيۡلَا﴾ ’’تو انھوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾(الفرقان:25/27-29) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے مجھے نصیحت کے بارے میں گمراہ کر دیا جب وہ میرے پاس آئی۔‘‘ [68] جب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ اور ان کے سردار عذاب کے مستحق ہیں تو وہ ان کو عذاب میں دیکھنا چاہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا، چنانچہ وہ کہیں گے:﴿رَبَّنَاۤ اٰتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَالۡعَنۡهُمۡ لَعۡنًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہے تم سب کفر اور معاصی میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک تھے، لہٰذا عذاب میں بھی تم ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو گے اگرچہ تمھارے جرم میں تفاوت کے مطابق تمھارے عذاب میں بھی تفاوت ہو گا۔

الأحزاب 33:64

پوچھتے ہیں آپ سے لوگ قیامت کی بابت، کہہ دیجیے: بلاشبہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور کیا چیز بتلاتی ہے آپ کو شاید کہ قیامت ہو قریب ہی؟(63) بلاشبہ اللہ نے لعنت کی کافروں پر اور اس نے تیار کی ہے ان کے لیے خوب بھڑکتی ہوئی آگ(64) ہمیشہ رہیں گے اس میں ابد تک ، نہیں پائیں گے وہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(65) جس دن الٹ پلٹ کیے جائیں گے ان کے چہرے آگ میں تو وہ کہیں گے، اے کاش! اطاعت کی ہوتی ہم نے اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول کی(66) اور وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی، پس انہو ں نے گمراہ کر دیا ہمیں (سیدھے) راستے سے(67) اے ہمارے رب! دے ان کو دگنا عذاب اور لعنت کر ان پر لعنت بڑی (زیادہ)(68) [63] یعنی لوگ جلدی مچاتے ہوئے آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان میں سے بعض تکذیب کے طور پر اور خبر دینے والے کو اس بارے میں عاجز سمجھتے ہوئے پوچھتے ہیں تو ﴿قُلۡ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے۔‘‘ ان سے! ﴿اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے مجھے یا کسی اور کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ بایں ہمہ تم اسے زیادہ دور نہ سمجھو۔ ﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوۡنُ قَرِيۡبًا ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آ گئی ہو‘‘ [66-64] قیامت کی گھڑی کے مجرد قریب یا بعید ہونے میں کوئی فائدہ یا نتیجہ نہیں، حقیقی نتیجہ تو خسارہ یا نفع اور بدبختی یا خوش بختی ہے، نیز آیا بندہ عذاب کا مستحق ہے یا ثواب کا؟ اور ان امور کے بارے میں تمھیں میں خبر دیتا ہوں اور میں بتاتا ہوں کہ ان کا مستحق کون ہے؟ لہٰذا آپ نے عذاب کے مستحق لوگوں کا وصف بیان کیا اور اس عذاب کا وصف بیان کیا جس میں ان کو مبتلا کیا جائے گا کیونکہ یہ وصفِ مذکور آخرت کی تکذیب کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی جن کی عادت اور فطرت اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اس کا کفر اور انکار کر نا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں اپنی رحمت سے دور کر دیا اور سزا کے لیے یہی کافی ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور تیار کی ہے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔‘‘ یعنی ان کے لیے آگ بھڑکائی جائے گی جس میں ان کے جسم جلیں گے، آگ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی وہ اس سخت عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس عذاب سے کبھی نکل سکیں گے نہ عذاب میں کبھی کمی آئے گی اور ﴿لَا يَجِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ نہیں پائیں گے ‘‘ اپنے لیے ﴿وَلِيًّا ﴾ ’’کوئی دوست‘‘ جو ان کو وہ کچھ دے سکے جو وہ طلب کریں۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا﴾ ’’نہ ان کا کوئی مددگار ہو گا‘‘ جو ان سے عذاب کو دور کر سکے بلکہ تمام مددگار ان کو چھوڑ جائیں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا سخت عذاب انھیں گھیر لے گا۔اس لیے فرمایا: ﴿يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ ﴾ ’’جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں گے۔‘‘ پس وہ آگ کی شدید حرارت کا مزا چکھیں گے، آگ کا عذاب ان پر بھڑک اٹھے گا۔ وہ اپنے گزشتہ اعمال پر حسرت کا اظہار کریں گے۔ ﴿يَقُوۡلُوۡنَ يٰلَيۡتَنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰهَ وَاَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا ﴾ ’’وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی‘‘ اور یوں ہم اس عذاب سے بچ جاتے اور اطاعت مندوں کی طرح ہم بھی ثواب جزیل کے مستحق ٹھہرتے۔ مگر یہ ان کی ایسی آرزو ہے جس کا وقت گزر چکا۔ جس کا اب، حسرت، ندامت، غم اور الم کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ [67]﴿وَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّـاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَؔكُبَرَآءَؔنَا ﴾ ’’اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا‘‘ اور ہم نے گمراہی میں ان کی تقلید کی ﴿فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِيۡلَا﴾ ’’تو انھوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾(الفرقان:25/27-29) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے مجھے نصیحت کے بارے میں گمراہ کر دیا جب وہ میرے پاس آئی۔‘‘ [68] جب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ اور ان کے سردار عذاب کے مستحق ہیں تو وہ ان کو عذاب میں دیکھنا چاہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا، چنانچہ وہ کہیں گے:﴿رَبَّنَاۤ اٰتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَالۡعَنۡهُمۡ لَعۡنًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہے تم سب کفر اور معاصی میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک تھے، لہٰذا عذاب میں بھی تم ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو گے اگرچہ تمھارے جرم میں تفاوت کے مطابق تمھارے عذاب میں بھی تفاوت ہو گا۔

الأحزاب 33:65

پوچھتے ہیں آپ سے لوگ قیامت کی بابت، کہہ دیجیے: بلاشبہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور کیا چیز بتلاتی ہے آپ کو شاید کہ قیامت ہو قریب ہی؟(63) بلاشبہ اللہ نے لعنت کی کافروں پر اور اس نے تیار کی ہے ان کے لیے خوب بھڑکتی ہوئی آگ(64) ہمیشہ رہیں گے اس میں ابد تک ، نہیں پائیں گے وہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(65) جس دن الٹ پلٹ کیے جائیں گے ان کے چہرے آگ میں تو وہ کہیں گے، اے کاش! اطاعت کی ہوتی ہم نے اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول کی(66) اور وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی، پس انہو ں نے گمراہ کر دیا ہمیں (سیدھے) راستے سے(67) اے ہمارے رب! دے ان کو دگنا عذاب اور لعنت کر ان پر لعنت بڑی (زیادہ)(68) [63] یعنی لوگ جلدی مچاتے ہوئے آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان میں سے بعض تکذیب کے طور پر اور خبر دینے والے کو اس بارے میں عاجز سمجھتے ہوئے پوچھتے ہیں تو ﴿قُلۡ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے۔‘‘ ان سے! ﴿اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے مجھے یا کسی اور کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ بایں ہمہ تم اسے زیادہ دور نہ سمجھو۔ ﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوۡنُ قَرِيۡبًا ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آ گئی ہو‘‘ [66-64] قیامت کی گھڑی کے مجرد قریب یا بعید ہونے میں کوئی فائدہ یا نتیجہ نہیں، حقیقی نتیجہ تو خسارہ یا نفع اور بدبختی یا خوش بختی ہے، نیز آیا بندہ عذاب کا مستحق ہے یا ثواب کا؟ اور ان امور کے بارے میں تمھیں میں خبر دیتا ہوں اور میں بتاتا ہوں کہ ان کا مستحق کون ہے؟ لہٰذا آپ نے عذاب کے مستحق لوگوں کا وصف بیان کیا اور اس عذاب کا وصف بیان کیا جس میں ان کو مبتلا کیا جائے گا کیونکہ یہ وصفِ مذکور آخرت کی تکذیب کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی جن کی عادت اور فطرت اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اس کا کفر اور انکار کر نا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں اپنی رحمت سے دور کر دیا اور سزا کے لیے یہی کافی ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور تیار کی ہے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔‘‘ یعنی ان کے لیے آگ بھڑکائی جائے گی جس میں ان کے جسم جلیں گے، آگ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی وہ اس سخت عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس عذاب سے کبھی نکل سکیں گے نہ عذاب میں کبھی کمی آئے گی اور ﴿لَا يَجِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ نہیں پائیں گے ‘‘ اپنے لیے ﴿وَلِيًّا ﴾ ’’کوئی دوست‘‘ جو ان کو وہ کچھ دے سکے جو وہ طلب کریں۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا﴾ ’’نہ ان کا کوئی مددگار ہو گا‘‘ جو ان سے عذاب کو دور کر سکے بلکہ تمام مددگار ان کو چھوڑ جائیں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا سخت عذاب انھیں گھیر لے گا۔اس لیے فرمایا: ﴿يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ ﴾ ’’جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں گے۔‘‘ پس وہ آگ کی شدید حرارت کا مزا چکھیں گے، آگ کا عذاب ان پر بھڑک اٹھے گا۔ وہ اپنے گزشتہ اعمال پر حسرت کا اظہار کریں گے۔ ﴿يَقُوۡلُوۡنَ يٰلَيۡتَنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰهَ وَاَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا ﴾ ’’وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی‘‘ اور یوں ہم اس عذاب سے بچ جاتے اور اطاعت مندوں کی طرح ہم بھی ثواب جزیل کے مستحق ٹھہرتے۔ مگر یہ ان کی ایسی آرزو ہے جس کا وقت گزر چکا۔ جس کا اب، حسرت، ندامت، غم اور الم کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ [67]﴿وَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّـاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَؔكُبَرَآءَؔنَا ﴾ ’’اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا‘‘ اور ہم نے گمراہی میں ان کی تقلید کی ﴿فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِيۡلَا﴾ ’’تو انھوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾(الفرقان:25/27-29) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے مجھے نصیحت کے بارے میں گمراہ کر دیا جب وہ میرے پاس آئی۔‘‘ [68] جب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ اور ان کے سردار عذاب کے مستحق ہیں تو وہ ان کو عذاب میں دیکھنا چاہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا، چنانچہ وہ کہیں گے:﴿رَبَّنَاۤ اٰتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَالۡعَنۡهُمۡ لَعۡنًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہے تم سب کفر اور معاصی میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک تھے، لہٰذا عذاب میں بھی تم ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو گے اگرچہ تمھارے جرم میں تفاوت کے مطابق تمھارے عذاب میں بھی تفاوت ہو گا۔

الأحزاب 33:66

پوچھتے ہیں آپ سے لوگ قیامت کی بابت، کہہ دیجیے: بلاشبہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور کیا چیز بتلاتی ہے آپ کو شاید کہ قیامت ہو قریب ہی؟(63) بلاشبہ اللہ نے لعنت کی کافروں پر اور اس نے تیار کی ہے ان کے لیے خوب بھڑکتی ہوئی آگ(64) ہمیشہ رہیں گے اس میں ابد تک ، نہیں پائیں گے وہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(65) جس دن الٹ پلٹ کیے جائیں گے ان کے چہرے آگ میں تو وہ کہیں گے، اے کاش! اطاعت کی ہوتی ہم نے اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول کی(66) اور وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی، پس انہو ں نے گمراہ کر دیا ہمیں (سیدھے) راستے سے(67) اے ہمارے رب! دے ان کو دگنا عذاب اور لعنت کر ان پر لعنت بڑی (زیادہ)(68) [63] یعنی لوگ جلدی مچاتے ہوئے آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان میں سے بعض تکذیب کے طور پر اور خبر دینے والے کو اس بارے میں عاجز سمجھتے ہوئے پوچھتے ہیں تو ﴿قُلۡ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے۔‘‘ ان سے! ﴿اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے مجھے یا کسی اور کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ بایں ہمہ تم اسے زیادہ دور نہ سمجھو۔ ﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوۡنُ قَرِيۡبًا ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آ گئی ہو‘‘ [66-64] قیامت کی گھڑی کے مجرد قریب یا بعید ہونے میں کوئی فائدہ یا نتیجہ نہیں، حقیقی نتیجہ تو خسارہ یا نفع اور بدبختی یا خوش بختی ہے، نیز آیا بندہ عذاب کا مستحق ہے یا ثواب کا؟ اور ان امور کے بارے میں تمھیں میں خبر دیتا ہوں اور میں بتاتا ہوں کہ ان کا مستحق کون ہے؟ لہٰذا آپ نے عذاب کے مستحق لوگوں کا وصف بیان کیا اور اس عذاب کا وصف بیان کیا جس میں ان کو مبتلا کیا جائے گا کیونکہ یہ وصفِ مذکور آخرت کی تکذیب کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی جن کی عادت اور فطرت اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اس کا کفر اور انکار کر نا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں اپنی رحمت سے دور کر دیا اور سزا کے لیے یہی کافی ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور تیار کی ہے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔‘‘ یعنی ان کے لیے آگ بھڑکائی جائے گی جس میں ان کے جسم جلیں گے، آگ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی وہ اس سخت عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس عذاب سے کبھی نکل سکیں گے نہ عذاب میں کبھی کمی آئے گی اور ﴿لَا يَجِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ نہیں پائیں گے ‘‘ اپنے لیے ﴿وَلِيًّا ﴾ ’’کوئی دوست‘‘ جو ان کو وہ کچھ دے سکے جو وہ طلب کریں۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا﴾ ’’نہ ان کا کوئی مددگار ہو گا‘‘ جو ان سے عذاب کو دور کر سکے بلکہ تمام مددگار ان کو چھوڑ جائیں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا سخت عذاب انھیں گھیر لے گا۔اس لیے فرمایا: ﴿يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ ﴾ ’’جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں گے۔‘‘ پس وہ آگ کی شدید حرارت کا مزا چکھیں گے، آگ کا عذاب ان پر بھڑک اٹھے گا۔ وہ اپنے گزشتہ اعمال پر حسرت کا اظہار کریں گے۔ ﴿يَقُوۡلُوۡنَ يٰلَيۡتَنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰهَ وَاَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا ﴾ ’’وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی‘‘ اور یوں ہم اس عذاب سے بچ جاتے اور اطاعت مندوں کی طرح ہم بھی ثواب جزیل کے مستحق ٹھہرتے۔ مگر یہ ان کی ایسی آرزو ہے جس کا وقت گزر چکا۔ جس کا اب، حسرت، ندامت، غم اور الم کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ [67]﴿وَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّـاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَؔكُبَرَآءَؔنَا ﴾ ’’اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا‘‘ اور ہم نے گمراہی میں ان کی تقلید کی ﴿فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِيۡلَا﴾ ’’تو انھوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾(الفرقان:25/27-29) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے مجھے نصیحت کے بارے میں گمراہ کر دیا جب وہ میرے پاس آئی۔‘‘ [68] جب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ اور ان کے سردار عذاب کے مستحق ہیں تو وہ ان کو عذاب میں دیکھنا چاہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا، چنانچہ وہ کہیں گے:﴿رَبَّنَاۤ اٰتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَالۡعَنۡهُمۡ لَعۡنًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہے تم سب کفر اور معاصی میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک تھے، لہٰذا عذاب میں بھی تم ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو گے اگرچہ تمھارے جرم میں تفاوت کے مطابق تمھارے عذاب میں بھی تفاوت ہو گا۔

الأحزاب 33:67

پوچھتے ہیں آپ سے لوگ قیامت کی بابت، کہہ دیجیے: بلاشبہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور کیا چیز بتلاتی ہے آپ کو شاید کہ قیامت ہو قریب ہی؟(63) بلاشبہ اللہ نے لعنت کی کافروں پر اور اس نے تیار کی ہے ان کے لیے خوب بھڑکتی ہوئی آگ(64) ہمیشہ رہیں گے اس میں ابد تک ، نہیں پائیں گے وہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(65) جس دن الٹ پلٹ کیے جائیں گے ان کے چہرے آگ میں تو وہ کہیں گے، اے کاش! اطاعت کی ہوتی ہم نے اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول کی(66) اور وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی، پس انہو ں نے گمراہ کر دیا ہمیں (سیدھے) راستے سے(67) اے ہمارے رب! دے ان کو دگنا عذاب اور لعنت کر ان پر لعنت بڑی (زیادہ)(68) [63] یعنی لوگ جلدی مچاتے ہوئے آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان میں سے بعض تکذیب کے طور پر اور خبر دینے والے کو اس بارے میں عاجز سمجھتے ہوئے پوچھتے ہیں تو ﴿قُلۡ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے۔‘‘ ان سے! ﴿اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے مجھے یا کسی اور کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ بایں ہمہ تم اسے زیادہ دور نہ سمجھو۔ ﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوۡنُ قَرِيۡبًا ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آ گئی ہو‘‘ [66-64] قیامت کی گھڑی کے مجرد قریب یا بعید ہونے میں کوئی فائدہ یا نتیجہ نہیں، حقیقی نتیجہ تو خسارہ یا نفع اور بدبختی یا خوش بختی ہے، نیز آیا بندہ عذاب کا مستحق ہے یا ثواب کا؟ اور ان امور کے بارے میں تمھیں میں خبر دیتا ہوں اور میں بتاتا ہوں کہ ان کا مستحق کون ہے؟ لہٰذا آپ نے عذاب کے مستحق لوگوں کا وصف بیان کیا اور اس عذاب کا وصف بیان کیا جس میں ان کو مبتلا کیا جائے گا کیونکہ یہ وصفِ مذکور آخرت کی تکذیب کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی جن کی عادت اور فطرت اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اس کا کفر اور انکار کر نا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں اپنی رحمت سے دور کر دیا اور سزا کے لیے یہی کافی ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور تیار کی ہے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔‘‘ یعنی ان کے لیے آگ بھڑکائی جائے گی جس میں ان کے جسم جلیں گے، آگ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی وہ اس سخت عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس عذاب سے کبھی نکل سکیں گے نہ عذاب میں کبھی کمی آئے گی اور ﴿لَا يَجِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ نہیں پائیں گے ‘‘ اپنے لیے ﴿وَلِيًّا ﴾ ’’کوئی دوست‘‘ جو ان کو وہ کچھ دے سکے جو وہ طلب کریں۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا﴾ ’’نہ ان کا کوئی مددگار ہو گا‘‘ جو ان سے عذاب کو دور کر سکے بلکہ تمام مددگار ان کو چھوڑ جائیں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا سخت عذاب انھیں گھیر لے گا۔اس لیے فرمایا: ﴿يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ ﴾ ’’جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں گے۔‘‘ پس وہ آگ کی شدید حرارت کا مزا چکھیں گے، آگ کا عذاب ان پر بھڑک اٹھے گا۔ وہ اپنے گزشتہ اعمال پر حسرت کا اظہار کریں گے۔ ﴿يَقُوۡلُوۡنَ يٰلَيۡتَنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰهَ وَاَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا ﴾ ’’وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی‘‘ اور یوں ہم اس عذاب سے بچ جاتے اور اطاعت مندوں کی طرح ہم بھی ثواب جزیل کے مستحق ٹھہرتے۔ مگر یہ ان کی ایسی آرزو ہے جس کا وقت گزر چکا۔ جس کا اب، حسرت، ندامت، غم اور الم کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ [67]﴿وَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّـاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَؔكُبَرَآءَؔنَا ﴾ ’’اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا‘‘ اور ہم نے گمراہی میں ان کی تقلید کی ﴿فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِيۡلَا﴾ ’’تو انھوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾(الفرقان:25/27-29) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے مجھے نصیحت کے بارے میں گمراہ کر دیا جب وہ میرے پاس آئی۔‘‘ [68] جب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ اور ان کے سردار عذاب کے مستحق ہیں تو وہ ان کو عذاب میں دیکھنا چاہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا، چنانچہ وہ کہیں گے:﴿رَبَّنَاۤ اٰتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَالۡعَنۡهُمۡ لَعۡنًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہے تم سب کفر اور معاصی میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک تھے، لہٰذا عذاب میں بھی تم ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو گے اگرچہ تمھارے جرم میں تفاوت کے مطابق تمھارے عذاب میں بھی تفاوت ہو گا۔

الأحزاب 33:68

پوچھتے ہیں آپ سے لوگ قیامت کی بابت، کہہ دیجیے: بلاشبہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور کیا چیز بتلاتی ہے آپ کو شاید کہ قیامت ہو قریب ہی؟(63) بلاشبہ اللہ نے لعنت کی کافروں پر اور اس نے تیار کی ہے ان کے لیے خوب بھڑکتی ہوئی آگ(64) ہمیشہ رہیں گے اس میں ابد تک ، نہیں پائیں گے وہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(65) جس دن الٹ پلٹ کیے جائیں گے ان کے چہرے آگ میں تو وہ کہیں گے، اے کاش! اطاعت کی ہوتی ہم نے اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول کی(66) اور وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی، پس انہو ں نے گمراہ کر دیا ہمیں (سیدھے) راستے سے(67) اے ہمارے رب! دے ان کو دگنا عذاب اور لعنت کر ان پر لعنت بڑی (زیادہ)(68) [63] یعنی لوگ جلدی مچاتے ہوئے آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان میں سے بعض تکذیب کے طور پر اور خبر دینے والے کو اس بارے میں عاجز سمجھتے ہوئے پوچھتے ہیں تو ﴿قُلۡ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے۔‘‘ ان سے! ﴿اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے مجھے یا کسی اور کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ بایں ہمہ تم اسے زیادہ دور نہ سمجھو۔ ﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوۡنُ قَرِيۡبًا ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آ گئی ہو‘‘ [66-64] قیامت کی گھڑی کے مجرد قریب یا بعید ہونے میں کوئی فائدہ یا نتیجہ نہیں، حقیقی نتیجہ تو خسارہ یا نفع اور بدبختی یا خوش بختی ہے، نیز آیا بندہ عذاب کا مستحق ہے یا ثواب کا؟ اور ان امور کے بارے میں تمھیں میں خبر دیتا ہوں اور میں بتاتا ہوں کہ ان کا مستحق کون ہے؟ لہٰذا آپ نے عذاب کے مستحق لوگوں کا وصف بیان کیا اور اس عذاب کا وصف بیان کیا جس میں ان کو مبتلا کیا جائے گا کیونکہ یہ وصفِ مذکور آخرت کی تکذیب کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی جن کی عادت اور فطرت اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اس کا کفر اور انکار کر نا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں اپنی رحمت سے دور کر دیا اور سزا کے لیے یہی کافی ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور تیار کی ہے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔‘‘ یعنی ان کے لیے آگ بھڑکائی جائے گی جس میں ان کے جسم جلیں گے، آگ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی وہ اس سخت عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس عذاب سے کبھی نکل سکیں گے نہ عذاب میں کبھی کمی آئے گی اور ﴿لَا يَجِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ نہیں پائیں گے ‘‘ اپنے لیے ﴿وَلِيًّا ﴾ ’’کوئی دوست‘‘ جو ان کو وہ کچھ دے سکے جو وہ طلب کریں۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا﴾ ’’نہ ان کا کوئی مددگار ہو گا‘‘ جو ان سے عذاب کو دور کر سکے بلکہ تمام مددگار ان کو چھوڑ جائیں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا سخت عذاب انھیں گھیر لے گا۔اس لیے فرمایا: ﴿يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ ﴾ ’’جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں گے۔‘‘ پس وہ آگ کی شدید حرارت کا مزا چکھیں گے، آگ کا عذاب ان پر بھڑک اٹھے گا۔ وہ اپنے گزشتہ اعمال پر حسرت کا اظہار کریں گے۔ ﴿يَقُوۡلُوۡنَ يٰلَيۡتَنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰهَ وَاَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا ﴾ ’’وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی‘‘ اور یوں ہم اس عذاب سے بچ جاتے اور اطاعت مندوں کی طرح ہم بھی ثواب جزیل کے مستحق ٹھہرتے۔ مگر یہ ان کی ایسی آرزو ہے جس کا وقت گزر چکا۔ جس کا اب، حسرت، ندامت، غم اور الم کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ [67]﴿وَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّـاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَؔكُبَرَآءَؔنَا ﴾ ’’اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا‘‘ اور ہم نے گمراہی میں ان کی تقلید کی ﴿فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِيۡلَا﴾ ’’تو انھوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾(الفرقان:25/27-29) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے مجھے نصیحت کے بارے میں گمراہ کر دیا جب وہ میرے پاس آئی۔‘‘ [68] جب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ اور ان کے سردار عذاب کے مستحق ہیں تو وہ ان کو عذاب میں دیکھنا چاہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا، چنانچہ وہ کہیں گے:﴿رَبَّنَاۤ اٰتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَالۡعَنۡهُمۡ لَعۡنًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہے تم سب کفر اور معاصی میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک تھے، لہٰذا عذاب میں بھی تم ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو گے اگرچہ تمھارے جرم میں تفاوت کے مطابق تمھارے عذاب میں بھی تفاوت ہو گا۔

الأحزاب 33:69

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ ہو تم ان لوگوں کی طرح جنھوں نے ایذا دی موسیٰ کو، پس بری کر دیا اس کو اللہ نے اس (الزام) سے جو انھوں نے (اس کی بابت) کہا، اور تھا وہ نزدیک اللہ کے بڑے رتبے والا(69) [69] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے مومن بندوں کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول محمدﷺکو جو معزز ، نہایت نرم دل اور رحیم ہیں، اذیت نہ پہنچائیں، ان پر جو آپ کے لیے اکرام و احترام واجب ہے وہ اس کے برعکس رویے سے پیش نہ آئیں اور ان لوگوں کی مشابہت اختیار نہ کرلیں جنھوں نے کلیم الرحمٰن حضرت موسیٰ بن عمرانu کو اذیت پہنچائی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو ان کی تکلیف دہ باتوں سے براء ت دی اور ان کی براء ت کو ان کے سامنے ظاہر کر دیا، حالانکہ موسیٰu تہمت اور اذیت کے لائق نہ تھے وہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاں نہایت باآبرو، اس کے مقرب بندے، اس کے خاص رسول اور اس کے مخلص بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔حضرت موسیٰu کو اللہ تعالیٰ نے جن فضائل سے سرفراز فرمایا وہ فضائل بھی ان کو اذیت رسانی سے نہ روک سکے اور ان کو ناپسندیدہ حرکات سے باز نہ رکھ سکے اس لیے اے مومنو! تم ان کی مشابہت اختیار کرنے سے بچو۔یہ اذیت جس کی طرف قرآن مجید میں اشارہ کیا گیا ہے، حضرت موسیٰu کے بارے میں بنی اسرائیل کی بدزبانی ہے۔ جب انھوں نے حضرت موسیٰ کو دیکھا کہ یہ نہایت باحیا ہیں اور اپنے ستر کا بہت خیال رکھتے ہیں تو انھوں نے مشہور کر دیا کہ وہ صرف اس لیے ستر چھپاتے ہیں کہ ان کے خصیے (فوطے) متورم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بنائی ہوئی باتوں سے آپ کی براء ت کرنا چاہی، چنانچہ ایک روز حضرت موسیٰu نے غسل کیا اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے پتھر کپڑے لے کر فرار ہونے لگا حضرت موسیٰ (اسی عریاں حالت میں) پتھر کے پیچھے بھاگے اور بنی اسرائیل کی مجالس کے پاس سے گزرے تو انھوں نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہترین تخلیق سے سرفراز فرمایا ہے۔ پس آپ سے ان کا بہتان زائل ہو گیا۔(صحيح البخاري، الغسل، باب من اغتسل عرياناً وحده في خلوةٍ، ح: 278)

الأحزاب 33:70

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے، اور کہو بات سیدھی(سچی)(70)وہ درست کر دے گا تمھارے لیے تمھارے عمل اور بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ اور جو اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی، تو تحقیق کامیابی حاصل کر لی اس نے کامیابی بہت بڑی(71) [70] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ کھلے چھپے، اپنے تمام احوال میں تقویٰ کا التزام کریں اور درست بات کہنے پر خاص طور پر زور دیا ہے (اَلْقَوْلُ السَّدِیْد) اس قول کو کہتے ہیں جو صحیح اور حق کے موافق یا اس کے قریب تر ہو، مثلاً: قراء تِ قرآن، ذکرِ الٰہی، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، علم کا سیکھنا ، پھر اس کی تعلیم دینا، علمی مسائل میں حق و صواب کے حصول کی حرص، ہر اس راستے پر گامزن ہونے کی کوشش کرنا جو حق تک پہنچتا ہو اور وہ وسیلہ اختیار کرنا جو حق کے حصول میں مددگار ہو۔ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں نرم اور لطیف کلام بھی قولِ سدید کے زمرے میں آتا ہے، کوئی ایسی بات کہنا جو خیرخواہی کو متضمن ہو، یا کسی درست تر امر کا مشورہ دینا یہ سب قولِ سدید میں داخل ہیں۔ [71] پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو تقویٰ اور قول سدید پر مترتب ہوتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿يُّصۡلِحۡ لَكُمۡ اَعۡمَالَكُمۡ ﴾ یعنی تقویٰ اعمال کی اصلاح کا سبب اور ان کی قبولیت کا ذریعہ ہے کیونکہ تقویٰ کے استعمال ہی سے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا شرف پاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا:﴿اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾(المائدۃ : 5؍ 27) ’’اللہ تعالیٰ صرف متقین ہی کا عمل قبول فرماتا ہے۔‘‘ تقویٰ کے وجود سے انسان کو عمل صالح کی توفیق عطا ہوتی ہے، تقویٰ ہی کی بنا پر اللہ تعالیٰ اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان کے ثواب کی مفاسد سے حفاظت کرتا ہے اور ثواب کو کئی گنا زیادہ کرتا ہے۔اسی طرح تقویٰ اور قول سدید میں خلل اور فساد اعمال، ان کی عدم قبولیت اور ان کے اثرات مترتب نہ ہونے کا سبب بنتا ہے۔ ﴿وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا‘‘ جو تمھاری ہلاکت کا سبب ہیں۔ تقویٰ ہی سے تمام معاملات درست اور تمام برائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ﴾’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ بہت بڑی مراد پائے گا۔‘‘

الأحزاب 33:71

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے، اور کہو بات سیدھی(سچی)(70)وہ درست کر دے گا تمھارے لیے تمھارے عمل اور بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ اور جو اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی، تو تحقیق کامیابی حاصل کر لی اس نے کامیابی بہت بڑی(71) [70] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ کھلے چھپے، اپنے تمام احوال میں تقویٰ کا التزام کریں اور درست بات کہنے پر خاص طور پر زور دیا ہے (اَلْقَوْلُ السَّدِیْد) اس قول کو کہتے ہیں جو صحیح اور حق کے موافق یا اس کے قریب تر ہو، مثلاً: قراء تِ قرآن، ذکرِ الٰہی، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، علم کا سیکھنا ، پھر اس کی تعلیم دینا، علمی مسائل میں حق و صواب کے حصول کی حرص، ہر اس راستے پر گامزن ہونے کی کوشش کرنا جو حق تک پہنچتا ہو اور وہ وسیلہ اختیار کرنا جو حق کے حصول میں مددگار ہو۔ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں نرم اور لطیف کلام بھی قولِ سدید کے زمرے میں آتا ہے، کوئی ایسی بات کہنا جو خیرخواہی کو متضمن ہو، یا کسی درست تر امر کا مشورہ دینا یہ سب قولِ سدید میں داخل ہیں۔ [71] پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو تقویٰ اور قول سدید پر مترتب ہوتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿يُّصۡلِحۡ لَكُمۡ اَعۡمَالَكُمۡ ﴾ یعنی تقویٰ اعمال کی اصلاح کا سبب اور ان کی قبولیت کا ذریعہ ہے کیونکہ تقویٰ کے استعمال ہی سے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا شرف پاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا:﴿اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾(المائدۃ : 5؍ 27) ’’اللہ تعالیٰ صرف متقین ہی کا عمل قبول فرماتا ہے۔‘‘ تقویٰ کے وجود سے انسان کو عمل صالح کی توفیق عطا ہوتی ہے، تقویٰ ہی کی بنا پر اللہ تعالیٰ اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان کے ثواب کی مفاسد سے حفاظت کرتا ہے اور ثواب کو کئی گنا زیادہ کرتا ہے۔اسی طرح تقویٰ اور قول سدید میں خلل اور فساد اعمال، ان کی عدم قبولیت اور ان کے اثرات مترتب نہ ہونے کا سبب بنتا ہے۔ ﴿وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا‘‘ جو تمھاری ہلاکت کا سبب ہیں۔ تقویٰ ہی سے تمام معاملات درست اور تمام برائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ﴾’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ بہت بڑی مراد پائے گا۔‘‘

الأحزاب 33:72

بلاشبہ ہم نے پیش کی (اپنی) امانت اوپر آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے، تو انھوں نے انکار کر دیا اس کے اٹھانے سے اور ڈر گئے وہ اس سے اور اٹھا لیا اس (امانت) کو انسان نے، یقیناً تھا وہ بڑا ظالم اور بہت جاہل(72) تاکہ عذاب دے اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو اور توجہ (رحم) فرمائے اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر اور ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(73) [72] اللہ تبارک وتعالیٰ اس امانت کی عظمت بیان کرتا ہے جو اس نے مکلفین کے سپرد کی۔ اس امانت سے مراد اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سرافگندہ ہونا اور کھلے چھپے تمام احوال میں محارم سے اجتناب کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو بڑی بڑی مخلوقات، آسمان، زمین اور پہاڑوں وغیرہ کے سامنے پیش کر کے اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا کہ اگر تم اسے قائم کروگے اور اس کا جو حق ہے وہ ادا کرو گے تو تمھارے لیے ثواب ہے اور اگر تم اس کو قائم کر سکے نہ اسے ادا کر سکے تو تمھیں عذاب ملے گا۔ ﴿فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا ﴾ یعنی انھوں نے اس خوف سے اس امانت کا بار اٹھانے سے انکار کر دیا کہ وہ اس امانت کو قائم نہیں رکھ سکیں گے، ان کا یہ انکار اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے طور پر نہ تھا، اور نہ اس کے ثواب میں بے رغبتی کے سبب سے تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو، اسی شرط کے ساتھ، انسان کے سامنے پیش کیا، اس نے اسے قبول کر کے اس کا بار اٹھا لیا، اس نے اپنی جہالت اور ظلم کے باوصف اس بھاری ذمہ داری کو قبول کر لیا۔ [73]لوگ اس امانت کو قائم رکھنے اور قائم نہ رکھنے کے لحاظ سے تین اقسام میں منقسم ہیں:(۱)منافقین: جو ظاہری طور پر اس امانت کو قائم رکھتے ہیں اور باطن میں اس کو ضائع کرتے ہیں۔(۲)مشرکین: جنھوں نے ظاہری اور باطنی طور پر اس امانت کو ضائع کر دیا ہے۔(۳) مومنین: جنھوں نے ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے اس امانت کو قائم کر رکھا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان تینوں اقسام کے لوگوں کے اعمال اور ان کے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّيُعَذِّبَ اللّٰهُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ وَالۡمُشۡرِكٰتِ وَيَتُوۡبَ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اس آیت مبارکہ کو ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کی کامل مغفرت، بے پایاں رحمت اور لامحدود جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں۔ بایں ہمہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ اپنے نفاق اور شرک کے باعث اس مغفرت اور رحمت کے مستحق نہیں۔

الأحزاب 33:73

بلاشبہ ہم نے پیش کی (اپنی) امانت اوپر آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے، تو انھوں نے انکار کر دیا اس کے اٹھانے سے اور ڈر گئے وہ اس سے اور اٹھا لیا اس (امانت) کو انسان نے، یقیناً تھا وہ بڑا ظالم اور بہت جاہل(72) تاکہ عذاب دے اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو اور توجہ (رحم) فرمائے اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر اور ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(73) [72] اللہ تبارک وتعالیٰ اس امانت کی عظمت بیان کرتا ہے جو اس نے مکلفین کے سپرد کی۔ اس امانت سے مراد اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سرافگندہ ہونا اور کھلے چھپے تمام احوال میں محارم سے اجتناب کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو بڑی بڑی مخلوقات، آسمان، زمین اور پہاڑوں وغیرہ کے سامنے پیش کر کے اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا کہ اگر تم اسے قائم کروگے اور اس کا جو حق ہے وہ ادا کرو گے تو تمھارے لیے ثواب ہے اور اگر تم اس کو قائم کر سکے نہ اسے ادا کر سکے تو تمھیں عذاب ملے گا۔ ﴿فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا ﴾ یعنی انھوں نے اس خوف سے اس امانت کا بار اٹھانے سے انکار کر دیا کہ وہ اس امانت کو قائم نہیں رکھ سکیں گے، ان کا یہ انکار اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے طور پر نہ تھا، اور نہ اس کے ثواب میں بے رغبتی کے سبب سے تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو، اسی شرط کے ساتھ، انسان کے سامنے پیش کیا، اس نے اسے قبول کر کے اس کا بار اٹھا لیا، اس نے اپنی جہالت اور ظلم کے باوصف اس بھاری ذمہ داری کو قبول کر لیا۔ [73]لوگ اس امانت کو قائم رکھنے اور قائم نہ رکھنے کے لحاظ سے تین اقسام میں منقسم ہیں:(۱)منافقین: جو ظاہری طور پر اس امانت کو قائم رکھتے ہیں اور باطن میں اس کو ضائع کرتے ہیں۔(۲)مشرکین: جنھوں نے ظاہری اور باطنی طور پر اس امانت کو ضائع کر دیا ہے۔(۳) مومنین: جنھوں نے ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے اس امانت کو قائم کر رکھا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان تینوں اقسام کے لوگوں کے اعمال اور ان کے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّيُعَذِّبَ اللّٰهُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ وَالۡمُشۡرِكٰتِ وَيَتُوۡبَ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اس آیت مبارکہ کو ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کی کامل مغفرت، بے پایاں رحمت اور لامحدود جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں۔ بایں ہمہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ اپنے نفاق اور شرک کے باعث اس مغفرت اور رحمت کے مستحق نہیں۔

سبأ 34:1

سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اسی کے لیے ہیں سب تعریفیں آخرت میں (بھی) اور وہ نہایت حکمت والا خوب خبردار ہے(1) وہ جانتا ہے جو داخل ہوتا ہے زمین میں اورجونکلتا ہے اس میں سے اور جو اترتا ہے آسمان سے اور جو چڑھتا ہے اس میں، اور وہ نہایت رحم کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے(2) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] حمد سے مراد، صفات حمیدہ اور افعال حسنہ کے ذریعے سے، ثنا بیان کرنا ہے پس ہر قسم کی حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے کیونکہ وہ اپنے اوصاف کی بنا پر مستحق حمد ہے، اس کے تمام اوصاف، اوصاف کمال ہیں۔ وہ اپنے افعال پرمستحق حمد ہے کیونکہ اس کے افعال، اس کے فضل پرمبنی ہیں جس پر اس کی حمد اور اس کا شکر کیا جاتا ہے اور اس کے عدل پرمبنی ہیں جس کی بنا پر اس کی تعریف کی جاتی ہے اور اس میں اس کی حکمت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد اس بنا پر بیان کی ہے کہ ﴿لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے‘‘ یعنی ہرچیز کی ملکیت اور اسی کی غلام ہے وہ اپنی حمد وثنا کی بنا پر ان میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿وَلَهُ الۡحَمۡدُ فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے۔‘‘ اس لیے کہ آخرت میں اس کی وہ حمد وثنا ظاہر ہو گی جو دنیا میں ظاہر نہیں ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کرے گا اور تمام انسان اور تمام مخلوق اس کے فیصلے، اس کے کامل عدل و انصاف اور اس میں اس کی حکمت کو دیکھیں گے تو وہ سب اس پر اس کی حمد وثنا بیان کریں گے حتیٰ کہ ان جہنمیوں کے دل بھی، جن کو عذاب دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہوں گے، نیز ان کو اعتراف ہو گا کہ یہ عذاب ان کے اعمال کی جزا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے کے فیصلے میں عادل ہے۔رہا جنت میں اللہ تعالیٰ کی حمد کا ظہور، تو اس بارے میں نہایت تواتر سے اخبار وارد ہوئی ہیں، دلائل سمعی اور دلائل عقلی ان کی موافقت کرتے ہیں۔ کیونکہ جنتی لوگ جنت میں، اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں، بے شمار خیروبرکت اور اس کی بے پایاں نوازشات کا مشاہدہ کریں گے۔ اہل جنت کے دل میں کوئی آرزو اور کوئی ارادہ باقی نہیں رہے گا جسے اللہ تعالیٰ نے پورا نہ کر دیا ہو اور ان کی خواہش اور آرزو سے بڑھ کر عطا نہ کیا ہو، بلکہ انھیں اتنی زیادہ بھلائی عطا ہو گی کہ ان کی خواہش اور آرزوئیں وہاں پہنچ ہی نہیں سکتیں اور ان کے دل میں ان کا تصور تک نہیں آ سکتا۔ اس حال میں ان کی حمد وثنا کیسی ہو گی، درآں حالیکہ جنت میں وہ تمام عوارض و قواطع مضمحل ہو جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی حمد وثنا کو منقطع کرتے ہیں۔ اہل ایمان کے لیے یہ حال ہر نعمت سے بڑھ کر محبوب اور ہر لذت سے بڑھ کر لذیذ ہوگا۔ اس لیے جب وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اور اس کے خطاب کے وقت اس کے کلام سے محظوظ ہوں گے تو وہ ہر نعمت کو بھلا دیں گے وہ جنت میں ذکر الٰہی میں مشغول رہیں گے اور جنت میں ان کے لیے ذکر کی وہ حیثیت ہو گی جیسے ہر وقت سانس کی۔ جب آپ اس کے ساتھ اس چیز کو شامل کر دیکھیں کہ اہل جنت، ہر وقت جنت کے اندر اپنے رب کی عظمت، اس کے جلال و جمال اور اس کے لامحدود کمال کا نظارہ کریں گے، تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی کامل حمد وثنا کی موجب ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے اقتدار و تدبیر اور اپنے امرونہی میں حکمت والا ہے۔ ﴿الۡخَبِيۡرُ ﴾ وہ تمام امور کے اسرار نہاں کی خبر رکھتا ہے۔ [2] لہٰذا اپنے علم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے‘‘ یعنی بارش، نباتات کے بیج اور حیوانات وغیرہ ﴿وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا ﴾ ’’اور جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے۔‘‘ یعنی مختلف اقسام کی نباتات اور مختلف انواع کے حیوانات وغیرہ۔ ﴿وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے‘‘ یعنی آسمان سے جو فرشتے نازل ہوتے ہیں، رزق نازل ہوتا ہے اور تقدیر اترتی ہے۔ ﴿وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ یعنی آسمان کی طرف جو فرشتے اور ارواح وغیرہ بلند ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو بخوبی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کے اندر اپنی حکمت اور ان کے احوال کے بارے میں اپنے علم کا ذکر کرنے کے بعد اپنی بخشش اور مخلوقات کے لیے اپنی بے پایاں رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَهُوَ الرَّحِيۡمُ الۡغَفُوۡرُ ﴾ ’’وہ رحم کرنے والا، معاف کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی رحمت اور مغفرت جس کا وصف ہے اس کے بندے رحمت اور مغفرت کے تقاضوں کو جس قدر پورا کرتے ہیں، اس کے مطابق ہر وقت اس کی رحمت اور مغفرت کے آثار نازل ہوتے رہتے ہیں۔

سبأ 34:2

سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اسی کے لیے ہیں سب تعریفیں آخرت میں (بھی) اور وہ نہایت حکمت والا خوب خبردار ہے(1) وہ جانتا ہے جو داخل ہوتا ہے زمین میں اورجونکلتا ہے اس میں سے اور جو اترتا ہے آسمان سے اور جو چڑھتا ہے اس میں، اور وہ نہایت رحم کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے(2) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] حمد سے مراد، صفات حمیدہ اور افعال حسنہ کے ذریعے سے، ثنا بیان کرنا ہے پس ہر قسم کی حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے کیونکہ وہ اپنے اوصاف کی بنا پر مستحق حمد ہے، اس کے تمام اوصاف، اوصاف کمال ہیں۔ وہ اپنے افعال پرمستحق حمد ہے کیونکہ اس کے افعال، اس کے فضل پرمبنی ہیں جس پر اس کی حمد اور اس کا شکر کیا جاتا ہے اور اس کے عدل پرمبنی ہیں جس کی بنا پر اس کی تعریف کی جاتی ہے اور اس میں اس کی حکمت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد اس بنا پر بیان کی ہے کہ ﴿لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے‘‘ یعنی ہرچیز کی ملکیت اور اسی کی غلام ہے وہ اپنی حمد وثنا کی بنا پر ان میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿وَلَهُ الۡحَمۡدُ فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے۔‘‘ اس لیے کہ آخرت میں اس کی وہ حمد وثنا ظاہر ہو گی جو دنیا میں ظاہر نہیں ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کرے گا اور تمام انسان اور تمام مخلوق اس کے فیصلے، اس کے کامل عدل و انصاف اور اس میں اس کی حکمت کو دیکھیں گے تو وہ سب اس پر اس کی حمد وثنا بیان کریں گے حتیٰ کہ ان جہنمیوں کے دل بھی، جن کو عذاب دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہوں گے، نیز ان کو اعتراف ہو گا کہ یہ عذاب ان کے اعمال کی جزا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے کے فیصلے میں عادل ہے۔رہا جنت میں اللہ تعالیٰ کی حمد کا ظہور، تو اس بارے میں نہایت تواتر سے اخبار وارد ہوئی ہیں، دلائل سمعی اور دلائل عقلی ان کی موافقت کرتے ہیں۔ کیونکہ جنتی لوگ جنت میں، اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں، بے شمار خیروبرکت اور اس کی بے پایاں نوازشات کا مشاہدہ کریں گے۔ اہل جنت کے دل میں کوئی آرزو اور کوئی ارادہ باقی نہیں رہے گا جسے اللہ تعالیٰ نے پورا نہ کر دیا ہو اور ان کی خواہش اور آرزو سے بڑھ کر عطا نہ کیا ہو، بلکہ انھیں اتنی زیادہ بھلائی عطا ہو گی کہ ان کی خواہش اور آرزوئیں وہاں پہنچ ہی نہیں سکتیں اور ان کے دل میں ان کا تصور تک نہیں آ سکتا۔ اس حال میں ان کی حمد وثنا کیسی ہو گی، درآں حالیکہ جنت میں وہ تمام عوارض و قواطع مضمحل ہو جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی حمد وثنا کو منقطع کرتے ہیں۔ اہل ایمان کے لیے یہ حال ہر نعمت سے بڑھ کر محبوب اور ہر لذت سے بڑھ کر لذیذ ہوگا۔ اس لیے جب وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اور اس کے خطاب کے وقت اس کے کلام سے محظوظ ہوں گے تو وہ ہر نعمت کو بھلا دیں گے وہ جنت میں ذکر الٰہی میں مشغول رہیں گے اور جنت میں ان کے لیے ذکر کی وہ حیثیت ہو گی جیسے ہر وقت سانس کی۔ جب آپ اس کے ساتھ اس چیز کو شامل کر دیکھیں کہ اہل جنت، ہر وقت جنت کے اندر اپنے رب کی عظمت، اس کے جلال و جمال اور اس کے لامحدود کمال کا نظارہ کریں گے، تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی کامل حمد وثنا کی موجب ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے اقتدار و تدبیر اور اپنے امرونہی میں حکمت والا ہے۔ ﴿الۡخَبِيۡرُ ﴾ وہ تمام امور کے اسرار نہاں کی خبر رکھتا ہے۔ [2] لہٰذا اپنے علم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے‘‘ یعنی بارش، نباتات کے بیج اور حیوانات وغیرہ ﴿وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا ﴾ ’’اور جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے۔‘‘ یعنی مختلف اقسام کی نباتات اور مختلف انواع کے حیوانات وغیرہ۔ ﴿وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے‘‘ یعنی آسمان سے جو فرشتے نازل ہوتے ہیں، رزق نازل ہوتا ہے اور تقدیر اترتی ہے۔ ﴿وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ یعنی آسمان کی طرف جو فرشتے اور ارواح وغیرہ بلند ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو بخوبی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کے اندر اپنی حکمت اور ان کے احوال کے بارے میں اپنے علم کا ذکر کرنے کے بعد اپنی بخشش اور مخلوقات کے لیے اپنی بے پایاں رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَهُوَ الرَّحِيۡمُ الۡغَفُوۡرُ ﴾ ’’وہ رحم کرنے والا، معاف کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی رحمت اور مغفرت جس کا وصف ہے اس کے بندے رحمت اور مغفرت کے تقاضوں کو جس قدر پورا کرتے ہیں، اس کے مطابق ہر وقت اس کی رحمت اور مغفرت کے آثار نازل ہوتے رہتے ہیں۔

سبأ 34:3

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہیں آئے گی ہم پر قیامت ، کہہ دیجیے!کیوں نہیں، قسم ہے میرے رب کی! وہ ضرور آئے گی تم پر، جو جاننے والا ہے غیب کا نہیں پوشیدہ رہتی اس سے (کوئی چیز) برابر ایک ذرے کے، آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہیں (کوئی چیز) چھوٹی اس سے اور نہ بڑی، مگر وہ (درج ہے) کتاب واضح (لوح محفوظ) میں(3)تاکہ بدلہ دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہ لوگ، ان کے لیے ہےمغفرت اور روزی اچھی(4)اور وہ لوگ جنھوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، یہی لوگ، ان کے لیے ہے عذاب، سزا کے طور پر، درد ناک(5) [3] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت بیان کی جس کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور یہ چیز اس کی تعظیم و تقدیس اور اس پر ایمان کی موجب ہے تو ذکر فرمایا کہ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اپنے رب کی قدر کی نہ اس کی تعظیم کی جیسا کہ اس کا حق ہے، بلکہ اس کے برعکس انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اور قیامت کی گھڑی کا انکار کیا اور اس کے بارے میں اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کی مخالفت کی، لہٰذا فرمایا:﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کا انکار کیا، انھوں نے اپنے کفر کی بنا پر کہا:﴿لَا تَاۡتِيۡنَا السَّاعَةُ ﴾ ’’ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔‘‘ یہاں اس دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہاں ہم زندہ رہتے ہیں اور ، پھر مر جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس نظریے کی تردید اور اس کا ابطال کریں اور تاکیداً ان کو قسم کھا کر بتائیں کہ قیامت برحق ہے اور وہ ضرور آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا ہے کہ جو کوئی اس دلیل کا اقرار کرتا ہے وہ ضرور موت کے بعد زندگی ہونے کا اقرار کرے گا۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا لامحدود علم، چنانچہ فرمایا:﴿عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور کا علم رکھتا ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل اور ہمارے احاطۂ علم میں نہیں ہیں، تب وہ ان امور کا علم کیونکر نہیں رکھتا جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے بارے میں تاکید کے طور پر ارشاد فرمایا:﴿لَا يَعۡزُبُ عَنۡهُ ﴾ یعنی اس کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ﴿مِثۡقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام اشیاء اپنی ذات و اجزاء سمیت، حتی کہ ان کا چھوٹے سے چھوٹا جزو بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے اوجھل نہیں۔ ﴿وَلَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡبَرُ اِلَّا فِيۡؔ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور نہیں کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی مگر وہ کتاب واضح میں درج ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کا قلم اس پر چل چکا ہے اور وہ کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں درج ہو چکا ہے۔ اس لیے وہ ہستی جس سے ذرہ بھر یا اس سے بھی چھوٹی چیز کسی بھی وقت چھپی ہوئی نہیں ہے اور وہ ہستی جانتی ہے کہ زمین میں موت کے ذریعے سے کتنے افراد کی کمی واقع ہو رہی ہے اور کتنے زندہ باقی ہیں اور وہ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر بالاولی قادر ہے۔ اس کا مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا، اس کے علم محیط سے زیادہ تعجب خیز نہیں ہے۔ [4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے‘‘ اپنے دلوں سے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی پوری طرح تصدیق کی۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور انھوں نے نیک عمل کیے‘‘ اپنے ایمان کی تصدیق کے لیے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے بخشش ہے ان کے ایمان اور اعمال کے باعث ان سے ہر برائی اور تمام عذاب دور ہو جائیں گے۔ ﴿وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی‘‘ ان کے احسان کے سبب سے انھیں ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہو گا اور ان کی ہر آرزو پوری ہو گی۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کرنے اور ان کو لانے والے انبیاء و مرسلین اور ان کو نازل کرنے والے کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا جیسے انھوں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کو نیچا دکھانے کے لیے پوری کوشش کی ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ﴾ ان کے لیے ان کے دل و جان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔

سبأ 34:4

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہیں آئے گی ہم پر قیامت ، کہہ دیجیے!کیوں نہیں، قسم ہے میرے رب کی! وہ ضرور آئے گی تم پر، جو جاننے والا ہے غیب کا نہیں پوشیدہ رہتی اس سے (کوئی چیز) برابر ایک ذرے کے، آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہیں (کوئی چیز) چھوٹی اس سے اور نہ بڑی، مگر وہ (درج ہے) کتاب واضح (لوح محفوظ) میں(3)تاکہ بدلہ دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہ لوگ، ان کے لیے ہےمغفرت اور روزی اچھی(4)اور وہ لوگ جنھوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، یہی لوگ، ان کے لیے ہے عذاب، سزا کے طور پر، درد ناک(5) [3] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت بیان کی جس کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور یہ چیز اس کی تعظیم و تقدیس اور اس پر ایمان کی موجب ہے تو ذکر فرمایا کہ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اپنے رب کی قدر کی نہ اس کی تعظیم کی جیسا کہ اس کا حق ہے، بلکہ اس کے برعکس انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اور قیامت کی گھڑی کا انکار کیا اور اس کے بارے میں اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کی مخالفت کی، لہٰذا فرمایا:﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کا انکار کیا، انھوں نے اپنے کفر کی بنا پر کہا:﴿لَا تَاۡتِيۡنَا السَّاعَةُ ﴾ ’’ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔‘‘ یہاں اس دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہاں ہم زندہ رہتے ہیں اور ، پھر مر جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس نظریے کی تردید اور اس کا ابطال کریں اور تاکیداً ان کو قسم کھا کر بتائیں کہ قیامت برحق ہے اور وہ ضرور آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا ہے کہ جو کوئی اس دلیل کا اقرار کرتا ہے وہ ضرور موت کے بعد زندگی ہونے کا اقرار کرے گا۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا لامحدود علم، چنانچہ فرمایا:﴿عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور کا علم رکھتا ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل اور ہمارے احاطۂ علم میں نہیں ہیں، تب وہ ان امور کا علم کیونکر نہیں رکھتا جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے بارے میں تاکید کے طور پر ارشاد فرمایا:﴿لَا يَعۡزُبُ عَنۡهُ ﴾ یعنی اس کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ﴿مِثۡقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام اشیاء اپنی ذات و اجزاء سمیت، حتی کہ ان کا چھوٹے سے چھوٹا جزو بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے اوجھل نہیں۔ ﴿وَلَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡبَرُ اِلَّا فِيۡؔ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور نہیں کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی مگر وہ کتاب واضح میں درج ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کا قلم اس پر چل چکا ہے اور وہ کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں درج ہو چکا ہے۔ اس لیے وہ ہستی جس سے ذرہ بھر یا اس سے بھی چھوٹی چیز کسی بھی وقت چھپی ہوئی نہیں ہے اور وہ ہستی جانتی ہے کہ زمین میں موت کے ذریعے سے کتنے افراد کی کمی واقع ہو رہی ہے اور کتنے زندہ باقی ہیں اور وہ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر بالاولی قادر ہے۔ اس کا مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا، اس کے علم محیط سے زیادہ تعجب خیز نہیں ہے۔ [4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے‘‘ اپنے دلوں سے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی پوری طرح تصدیق کی۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور انھوں نے نیک عمل کیے‘‘ اپنے ایمان کی تصدیق کے لیے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے بخشش ہے ان کے ایمان اور اعمال کے باعث ان سے ہر برائی اور تمام عذاب دور ہو جائیں گے۔ ﴿وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی‘‘ ان کے احسان کے سبب سے انھیں ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہو گا اور ان کی ہر آرزو پوری ہو گی۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کرنے اور ان کو لانے والے انبیاء و مرسلین اور ان کو نازل کرنے والے کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا جیسے انھوں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کو نیچا دکھانے کے لیے پوری کوشش کی ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ﴾ ان کے لیے ان کے دل و جان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔

سبأ 34:5

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہیں آئے گی ہم پر قیامت ، کہہ دیجیے!کیوں نہیں، قسم ہے میرے رب کی! وہ ضرور آئے گی تم پر، جو جاننے والا ہے غیب کا نہیں پوشیدہ رہتی اس سے (کوئی چیز) برابر ایک ذرے کے، آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہیں (کوئی چیز) چھوٹی اس سے اور نہ بڑی، مگر وہ (درج ہے) کتاب واضح (لوح محفوظ) میں(3)تاکہ بدلہ دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہ لوگ، ان کے لیے ہےمغفرت اور روزی اچھی(4)اور وہ لوگ جنھوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، یہی لوگ، ان کے لیے ہے عذاب، سزا کے طور پر، درد ناک(5) [3] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت بیان کی جس کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور یہ چیز اس کی تعظیم و تقدیس اور اس پر ایمان کی موجب ہے تو ذکر فرمایا کہ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اپنے رب کی قدر کی نہ اس کی تعظیم کی جیسا کہ اس کا حق ہے، بلکہ اس کے برعکس انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اور قیامت کی گھڑی کا انکار کیا اور اس کے بارے میں اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کی مخالفت کی، لہٰذا فرمایا:﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کا انکار کیا، انھوں نے اپنے کفر کی بنا پر کہا:﴿لَا تَاۡتِيۡنَا السَّاعَةُ ﴾ ’’ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔‘‘ یہاں اس دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہاں ہم زندہ رہتے ہیں اور ، پھر مر جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس نظریے کی تردید اور اس کا ابطال کریں اور تاکیداً ان کو قسم کھا کر بتائیں کہ قیامت برحق ہے اور وہ ضرور آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا ہے کہ جو کوئی اس دلیل کا اقرار کرتا ہے وہ ضرور موت کے بعد زندگی ہونے کا اقرار کرے گا۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا لامحدود علم، چنانچہ فرمایا:﴿عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور کا علم رکھتا ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل اور ہمارے احاطۂ علم میں نہیں ہیں، تب وہ ان امور کا علم کیونکر نہیں رکھتا جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے بارے میں تاکید کے طور پر ارشاد فرمایا:﴿لَا يَعۡزُبُ عَنۡهُ ﴾ یعنی اس کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ﴿مِثۡقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام اشیاء اپنی ذات و اجزاء سمیت، حتی کہ ان کا چھوٹے سے چھوٹا جزو بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے اوجھل نہیں۔ ﴿وَلَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡبَرُ اِلَّا فِيۡؔ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور نہیں کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی مگر وہ کتاب واضح میں درج ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کا قلم اس پر چل چکا ہے اور وہ کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں درج ہو چکا ہے۔ اس لیے وہ ہستی جس سے ذرہ بھر یا اس سے بھی چھوٹی چیز کسی بھی وقت چھپی ہوئی نہیں ہے اور وہ ہستی جانتی ہے کہ زمین میں موت کے ذریعے سے کتنے افراد کی کمی واقع ہو رہی ہے اور کتنے زندہ باقی ہیں اور وہ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر بالاولی قادر ہے۔ اس کا مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا، اس کے علم محیط سے زیادہ تعجب خیز نہیں ہے۔ [4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے‘‘ اپنے دلوں سے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی پوری طرح تصدیق کی۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور انھوں نے نیک عمل کیے‘‘ اپنے ایمان کی تصدیق کے لیے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے بخشش ہے ان کے ایمان اور اعمال کے باعث ان سے ہر برائی اور تمام عذاب دور ہو جائیں گے۔ ﴿وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی‘‘ ان کے احسان کے سبب سے انھیں ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہو گا اور ان کی ہر آرزو پوری ہو گی۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کرنے اور ان کو لانے والے انبیاء و مرسلین اور ان کو نازل کرنے والے کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا جیسے انھوں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کو نیچا دکھانے کے لیے پوری کوشش کی ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ﴾ ان کے لیے ان کے دل و جان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔

سبأ 34:6

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیارہنمائی کریں ہم تمھاری اوپر ایسے آدمی کے جو خبر دیتا ہے تمھیں کہ جب پارہ پارہ کر دیے جاؤ گے تم ہر طرح پارہ پارہ کیے جانا تو بے شک ہو گے تم البتہ ایک نئی پیدائش میں(7) کیا باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ یا اسے جنون(لاحق) ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر، (وہ) عذاب میں اور دور کی گمراہی میں (پڑے) ہیں(8)کیا پس نہیں دیکھا انھوں نے طرف اس کی جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین سے، اگر ہم چاہیں تودھنسا دیں ان کو زمین میں یا گرا دیں ہم ان پر ٹکڑے آسمان سے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے واسطے ہر رجوع کرنے والے بندے کے(9) [7]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی کفار تکذیب اور استہزا کے طور پر اور معاد کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّـكُمۡ لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ ’’کیا ہم تمھاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمھیں یہ خبر پہنچارہاہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔‘‘ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں ان کی نظر میں آپ ان کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجوبہ ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں: ’’جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تمھارا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا اور تمھارے اعضاء بکھر کر نیست و نابود ہو جائیں گے ، پھر تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟‘‘ [8] یہ شخص جو بات کہتا ہے کیا ﴿اَفۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی جرأت کی ہے ﴿اَمۡ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا اسے جنون ہے؟‘‘ اور یہ اس سے کوئی بعید بھی نہیں کیونکہ جنون کی کئی قسمیں ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ظلم اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ مخلوق میں سب سے سچے اور سب سے عقل مند انسان ہیں۔ ان کا علم بس یہی ہے کہ انھوں نے آپ سے عداوت شروع کی اور بار بار عداوت کا اظہار کیا اور انھوں نے لوگوں کو آپ سے دور رکھنے کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کر دیا۔گندے ذہن کے لوگو! اگر آپﷺ جھوٹے یا پاگل ہوتے، تو یہ مناسب ہی نہ تھا کہ تم ان کی بات پر دھیان دیتے یا تم ان کی دعوت کو درخوراعتنا سمجھتے کیونکہ ایک عقل مند شخص کے لائق نہیں کہ وہ ایک پاگل شخص کی طرف التفات کرے یا اس کی بات کو کوئی اہمیت دے۔ اگر تمھارے دل میں عناد نہ ہوتا اور تمھارا رویہ ظلم پر مبنی نہ ہوتا تو تم آگے بڑھ کر آپ کی دعوت کو قبول کرتے اور آپ کی آواز پر لبیک کہتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے، نشانیاں اور ڈراوے ان کے کسی کام نہیں آتے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلِ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’بلکہ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے مذکورہ بالا بات کہی تھی ﴿فِي الۡعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الۡبَعِيۡدِ ﴾ وہ بہت بڑی بدبختی اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں اور منزل صواب کے ذرا بھی قریب نہیں۔ کون سی بدبختی اور گمراہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس چیز پر قادر ہونے کے انکار سے بڑھ کر ہو کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور کون سی بدبختی اور گمراہی ان کی رسولوں کی تکذیب، ان کے ساتھ استہزا اور ان کے اس دعوے سے بڑھ کر ہو کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے۔ پس وہ حق کو باطل اور باطل و ضلالت کو حق اور ہدایت سمجھتے ہیں۔ [9] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عقلی دلیل کی طرف ان کی توجہ مبذول کی ہے جو زندگی بعد موت کے بعید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر وہ اپنے آگے پیچھے زمین اور آسمان کی طرف دیکھیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے مناظر نظر آئیں گے جو عقل کو حیران کر دیتے ہیں، وہ اس کی عظمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو بڑے بڑے علماء کو حواس باختہ کر دیتے ہیں اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین و آسمان کی تخلیق، ان کی عظمت اور زمین و آسمان کے اندر موجود مخلوقات کی تخلیق قبروں میں مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم ہے۔ پس کس چیز نے ان کو اس پر آمادہ کیا ہے کہ وہ زندگی بعد موت کی تکذیب کرتے رہیں حالانکہ وہ اس سے مشکل تر چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔ہاں! زندگی بعد موت، اب تک خبر غیبی ہے جس کا انھوں نے مشاہدہ نہیں کیا اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔‘‘ یعنی عذاب کا کوئی ٹکڑا کیونکہ زمین اور آسمان ہمارے دست تدبیر کے تحت ہیں اگر ہم ان کو حکم دیں تو وہ حکم عدولی نہیں کر سکتے، لہٰذا تم اپنی تکذیب پر مصر رہنے سے باز آ جاؤ ورنہ ہم تمھیں سخت سزا دیں گے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ یعنی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام مخلوقات کی تخلیق میں ﴿لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ ﴾ ’’ البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے، جو اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے‘‘ اس کی اطاعت کرتا ہے اور پورا یقین ہے کہ وہ، انسانوں کی موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔بندۂ مومن جس قدر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا، اسی قدر زیادہ وہ آیات الٰہی سے مستفید ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کا ارادہ اور ہمت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ بندہ ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اپنے رب کی رضا میں مشغولیت کے سوا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ مخلوقات پر اس کی نظر بے فائدہ اور غفلت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ فکروعبرت کی نظر ہوتی ہے۔

سبأ 34:7

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیارہنمائی کریں ہم تمھاری اوپر ایسے آدمی کے جو خبر دیتا ہے تمھیں کہ جب پارہ پارہ کر دیے جاؤ گے تم ہر طرح پارہ پارہ کیے جانا تو بے شک ہو گے تم البتہ ایک نئی پیدائش میں(7) کیا باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ یا اسے جنون(لاحق) ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر، (وہ) عذاب میں اور دور کی گمراہی میں (پڑے) ہیں(8)کیا پس نہیں دیکھا انھوں نے طرف اس کی جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین سے، اگر ہم چاہیں تودھنسا دیں ان کو زمین میں یا گرا دیں ہم ان پر ٹکڑے آسمان سے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے واسطے ہر رجوع کرنے والے بندے کے(9) [7]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی کفار تکذیب اور استہزا کے طور پر اور معاد کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّـكُمۡ لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ ’’کیا ہم تمھاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمھیں یہ خبر پہنچارہاہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔‘‘ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں ان کی نظر میں آپ ان کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجوبہ ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں: ’’جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تمھارا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا اور تمھارے اعضاء بکھر کر نیست و نابود ہو جائیں گے ، پھر تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟‘‘ [8] یہ شخص جو بات کہتا ہے کیا ﴿اَفۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی جرأت کی ہے ﴿اَمۡ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا اسے جنون ہے؟‘‘ اور یہ اس سے کوئی بعید بھی نہیں کیونکہ جنون کی کئی قسمیں ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ظلم اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ مخلوق میں سب سے سچے اور سب سے عقل مند انسان ہیں۔ ان کا علم بس یہی ہے کہ انھوں نے آپ سے عداوت شروع کی اور بار بار عداوت کا اظہار کیا اور انھوں نے لوگوں کو آپ سے دور رکھنے کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کر دیا۔گندے ذہن کے لوگو! اگر آپﷺ جھوٹے یا پاگل ہوتے، تو یہ مناسب ہی نہ تھا کہ تم ان کی بات پر دھیان دیتے یا تم ان کی دعوت کو درخوراعتنا سمجھتے کیونکہ ایک عقل مند شخص کے لائق نہیں کہ وہ ایک پاگل شخص کی طرف التفات کرے یا اس کی بات کو کوئی اہمیت دے۔ اگر تمھارے دل میں عناد نہ ہوتا اور تمھارا رویہ ظلم پر مبنی نہ ہوتا تو تم آگے بڑھ کر آپ کی دعوت کو قبول کرتے اور آپ کی آواز پر لبیک کہتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے، نشانیاں اور ڈراوے ان کے کسی کام نہیں آتے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلِ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’بلکہ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے مذکورہ بالا بات کہی تھی ﴿فِي الۡعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الۡبَعِيۡدِ ﴾ وہ بہت بڑی بدبختی اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں اور منزل صواب کے ذرا بھی قریب نہیں۔ کون سی بدبختی اور گمراہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس چیز پر قادر ہونے کے انکار سے بڑھ کر ہو کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور کون سی بدبختی اور گمراہی ان کی رسولوں کی تکذیب، ان کے ساتھ استہزا اور ان کے اس دعوے سے بڑھ کر ہو کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے۔ پس وہ حق کو باطل اور باطل و ضلالت کو حق اور ہدایت سمجھتے ہیں۔ [9] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عقلی دلیل کی طرف ان کی توجہ مبذول کی ہے جو زندگی بعد موت کے بعید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر وہ اپنے آگے پیچھے زمین اور آسمان کی طرف دیکھیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے مناظر نظر آئیں گے جو عقل کو حیران کر دیتے ہیں، وہ اس کی عظمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو بڑے بڑے علماء کو حواس باختہ کر دیتے ہیں اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین و آسمان کی تخلیق، ان کی عظمت اور زمین و آسمان کے اندر موجود مخلوقات کی تخلیق قبروں میں مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم ہے۔ پس کس چیز نے ان کو اس پر آمادہ کیا ہے کہ وہ زندگی بعد موت کی تکذیب کرتے رہیں حالانکہ وہ اس سے مشکل تر چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔ہاں! زندگی بعد موت، اب تک خبر غیبی ہے جس کا انھوں نے مشاہدہ نہیں کیا اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔‘‘ یعنی عذاب کا کوئی ٹکڑا کیونکہ زمین اور آسمان ہمارے دست تدبیر کے تحت ہیں اگر ہم ان کو حکم دیں تو وہ حکم عدولی نہیں کر سکتے، لہٰذا تم اپنی تکذیب پر مصر رہنے سے باز آ جاؤ ورنہ ہم تمھیں سخت سزا دیں گے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ یعنی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام مخلوقات کی تخلیق میں ﴿لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ ﴾ ’’ البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے، جو اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے‘‘ اس کی اطاعت کرتا ہے اور پورا یقین ہے کہ وہ، انسانوں کی موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔بندۂ مومن جس قدر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا، اسی قدر زیادہ وہ آیات الٰہی سے مستفید ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کا ارادہ اور ہمت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ بندہ ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اپنے رب کی رضا میں مشغولیت کے سوا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ مخلوقات پر اس کی نظر بے فائدہ اور غفلت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ فکروعبرت کی نظر ہوتی ہے۔

سبأ 34:8

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیارہنمائی کریں ہم تمھاری اوپر ایسے آدمی کے جو خبر دیتا ہے تمھیں کہ جب پارہ پارہ کر دیے جاؤ گے تم ہر طرح پارہ پارہ کیے جانا تو بے شک ہو گے تم البتہ ایک نئی پیدائش میں(7) کیا باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ یا اسے جنون(لاحق) ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر، (وہ) عذاب میں اور دور کی گمراہی میں (پڑے) ہیں(8)کیا پس نہیں دیکھا انھوں نے طرف اس کی جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین سے، اگر ہم چاہیں تودھنسا دیں ان کو زمین میں یا گرا دیں ہم ان پر ٹکڑے آسمان سے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے واسطے ہر رجوع کرنے والے بندے کے(9) [7]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی کفار تکذیب اور استہزا کے طور پر اور معاد کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّـكُمۡ لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ ’’کیا ہم تمھاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمھیں یہ خبر پہنچارہاہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔‘‘ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں ان کی نظر میں آپ ان کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجوبہ ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں: ’’جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تمھارا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا اور تمھارے اعضاء بکھر کر نیست و نابود ہو جائیں گے ، پھر تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟‘‘ [8] یہ شخص جو بات کہتا ہے کیا ﴿اَفۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی جرأت کی ہے ﴿اَمۡ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا اسے جنون ہے؟‘‘ اور یہ اس سے کوئی بعید بھی نہیں کیونکہ جنون کی کئی قسمیں ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ظلم اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ مخلوق میں سب سے سچے اور سب سے عقل مند انسان ہیں۔ ان کا علم بس یہی ہے کہ انھوں نے آپ سے عداوت شروع کی اور بار بار عداوت کا اظہار کیا اور انھوں نے لوگوں کو آپ سے دور رکھنے کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کر دیا۔گندے ذہن کے لوگو! اگر آپﷺ جھوٹے یا پاگل ہوتے، تو یہ مناسب ہی نہ تھا کہ تم ان کی بات پر دھیان دیتے یا تم ان کی دعوت کو درخوراعتنا سمجھتے کیونکہ ایک عقل مند شخص کے لائق نہیں کہ وہ ایک پاگل شخص کی طرف التفات کرے یا اس کی بات کو کوئی اہمیت دے۔ اگر تمھارے دل میں عناد نہ ہوتا اور تمھارا رویہ ظلم پر مبنی نہ ہوتا تو تم آگے بڑھ کر آپ کی دعوت کو قبول کرتے اور آپ کی آواز پر لبیک کہتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے، نشانیاں اور ڈراوے ان کے کسی کام نہیں آتے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلِ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’بلکہ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے مذکورہ بالا بات کہی تھی ﴿فِي الۡعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الۡبَعِيۡدِ ﴾ وہ بہت بڑی بدبختی اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں اور منزل صواب کے ذرا بھی قریب نہیں۔ کون سی بدبختی اور گمراہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس چیز پر قادر ہونے کے انکار سے بڑھ کر ہو کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور کون سی بدبختی اور گمراہی ان کی رسولوں کی تکذیب، ان کے ساتھ استہزا اور ان کے اس دعوے سے بڑھ کر ہو کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے۔ پس وہ حق کو باطل اور باطل و ضلالت کو حق اور ہدایت سمجھتے ہیں۔ [9] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عقلی دلیل کی طرف ان کی توجہ مبذول کی ہے جو زندگی بعد موت کے بعید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر وہ اپنے آگے پیچھے زمین اور آسمان کی طرف دیکھیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے مناظر نظر آئیں گے جو عقل کو حیران کر دیتے ہیں، وہ اس کی عظمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو بڑے بڑے علماء کو حواس باختہ کر دیتے ہیں اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین و آسمان کی تخلیق، ان کی عظمت اور زمین و آسمان کے اندر موجود مخلوقات کی تخلیق قبروں میں مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم ہے۔ پس کس چیز نے ان کو اس پر آمادہ کیا ہے کہ وہ زندگی بعد موت کی تکذیب کرتے رہیں حالانکہ وہ اس سے مشکل تر چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔ہاں! زندگی بعد موت، اب تک خبر غیبی ہے جس کا انھوں نے مشاہدہ نہیں کیا اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔‘‘ یعنی عذاب کا کوئی ٹکڑا کیونکہ زمین اور آسمان ہمارے دست تدبیر کے تحت ہیں اگر ہم ان کو حکم دیں تو وہ حکم عدولی نہیں کر سکتے، لہٰذا تم اپنی تکذیب پر مصر رہنے سے باز آ جاؤ ورنہ ہم تمھیں سخت سزا دیں گے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ یعنی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام مخلوقات کی تخلیق میں ﴿لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ ﴾ ’’ البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے، جو اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے‘‘ اس کی اطاعت کرتا ہے اور پورا یقین ہے کہ وہ، انسانوں کی موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔بندۂ مومن جس قدر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا، اسی قدر زیادہ وہ آیات الٰہی سے مستفید ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کا ارادہ اور ہمت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ بندہ ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اپنے رب کی رضا میں مشغولیت کے سوا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ مخلوقات پر اس کی نظر بے فائدہ اور غفلت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ فکروعبرت کی نظر ہوتی ہے۔

سبأ 34:9

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیارہنمائی کریں ہم تمھاری اوپر ایسے آدمی کے جو خبر دیتا ہے تمھیں کہ جب پارہ پارہ کر دیے جاؤ گے تم ہر طرح پارہ پارہ کیے جانا تو بے شک ہو گے تم البتہ ایک نئی پیدائش میں(7) کیا باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ یا اسے جنون(لاحق) ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر، (وہ) عذاب میں اور دور کی گمراہی میں (پڑے) ہیں(8)کیا پس نہیں دیکھا انھوں نے طرف اس کی جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین سے، اگر ہم چاہیں تودھنسا دیں ان کو زمین میں یا گرا دیں ہم ان پر ٹکڑے آسمان سے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے واسطے ہر رجوع کرنے والے بندے کے(9) [7]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی کفار تکذیب اور استہزا کے طور پر اور معاد کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّـكُمۡ لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ ’’کیا ہم تمھاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمھیں یہ خبر پہنچارہاہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔‘‘ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں ان کی نظر میں آپ ان کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجوبہ ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں: ’’جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تمھارا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا اور تمھارے اعضاء بکھر کر نیست و نابود ہو جائیں گے ، پھر تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟‘‘ [8] یہ شخص جو بات کہتا ہے کیا ﴿اَفۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی جرأت کی ہے ﴿اَمۡ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا اسے جنون ہے؟‘‘ اور یہ اس سے کوئی بعید بھی نہیں کیونکہ جنون کی کئی قسمیں ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ظلم اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ مخلوق میں سب سے سچے اور سب سے عقل مند انسان ہیں۔ ان کا علم بس یہی ہے کہ انھوں نے آپ سے عداوت شروع کی اور بار بار عداوت کا اظہار کیا اور انھوں نے لوگوں کو آپ سے دور رکھنے کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کر دیا۔گندے ذہن کے لوگو! اگر آپﷺ جھوٹے یا پاگل ہوتے، تو یہ مناسب ہی نہ تھا کہ تم ان کی بات پر دھیان دیتے یا تم ان کی دعوت کو درخوراعتنا سمجھتے کیونکہ ایک عقل مند شخص کے لائق نہیں کہ وہ ایک پاگل شخص کی طرف التفات کرے یا اس کی بات کو کوئی اہمیت دے۔ اگر تمھارے دل میں عناد نہ ہوتا اور تمھارا رویہ ظلم پر مبنی نہ ہوتا تو تم آگے بڑھ کر آپ کی دعوت کو قبول کرتے اور آپ کی آواز پر لبیک کہتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے، نشانیاں اور ڈراوے ان کے کسی کام نہیں آتے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلِ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’بلکہ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے مذکورہ بالا بات کہی تھی ﴿فِي الۡعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الۡبَعِيۡدِ ﴾ وہ بہت بڑی بدبختی اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں اور منزل صواب کے ذرا بھی قریب نہیں۔ کون سی بدبختی اور گمراہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس چیز پر قادر ہونے کے انکار سے بڑھ کر ہو کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور کون سی بدبختی اور گمراہی ان کی رسولوں کی تکذیب، ان کے ساتھ استہزا اور ان کے اس دعوے سے بڑھ کر ہو کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے۔ پس وہ حق کو باطل اور باطل و ضلالت کو حق اور ہدایت سمجھتے ہیں۔ [9] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عقلی دلیل کی طرف ان کی توجہ مبذول کی ہے جو زندگی بعد موت کے بعید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر وہ اپنے آگے پیچھے زمین اور آسمان کی طرف دیکھیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے مناظر نظر آئیں گے جو عقل کو حیران کر دیتے ہیں، وہ اس کی عظمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو بڑے بڑے علماء کو حواس باختہ کر دیتے ہیں اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین و آسمان کی تخلیق، ان کی عظمت اور زمین و آسمان کے اندر موجود مخلوقات کی تخلیق قبروں میں مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم ہے۔ پس کس چیز نے ان کو اس پر آمادہ کیا ہے کہ وہ زندگی بعد موت کی تکذیب کرتے رہیں حالانکہ وہ اس سے مشکل تر چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔ہاں! زندگی بعد موت، اب تک خبر غیبی ہے جس کا انھوں نے مشاہدہ نہیں کیا اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔‘‘ یعنی عذاب کا کوئی ٹکڑا کیونکہ زمین اور آسمان ہمارے دست تدبیر کے تحت ہیں اگر ہم ان کو حکم دیں تو وہ حکم عدولی نہیں کر سکتے، لہٰذا تم اپنی تکذیب پر مصر رہنے سے باز آ جاؤ ورنہ ہم تمھیں سخت سزا دیں گے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ یعنی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام مخلوقات کی تخلیق میں ﴿لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ ﴾ ’’ البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے، جو اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے‘‘ اس کی اطاعت کرتا ہے اور پورا یقین ہے کہ وہ، انسانوں کی موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔بندۂ مومن جس قدر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا، اسی قدر زیادہ وہ آیات الٰہی سے مستفید ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کا ارادہ اور ہمت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ بندہ ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اپنے رب کی رضا میں مشغولیت کے سوا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ مخلوقات پر اس کی نظر بے فائدہ اور غفلت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ فکروعبرت کی نظر ہوتی ہے۔

سبأ 34:10

اور تحقیق دی ہم نے داؤ د کو اپنی طرف سے فضیلت ، (ہم نے حکم دیا) اے پہاڑو! تسبیح دہراؤ اس کےساتھ اور پرندوں کو (بھی کہا) اور نرم کر دیا ہم نے اس کے لیے لوہا(10) یہ کہ بنا (زرہیں)کامل کشادہ اور (مناسب) اندازہ رکھ کڑیاں جوڑنے میں اور تم (سب) عمل کرو نیک، بے شک میں، ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہوں(11) [10، 11] یعنی ہم نے اپنے بندے اور رسول داؤ دu پر احسان کیا اور ہم نے انھیں علم نافع اور عمل صالح میں فضیلت بخشی اور انھیں دینی اور دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے کہ اس نے پہاڑوں، حیوانات اور پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤ دu کی حمدوتسبیح کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائیں۔ یہ ایسی نعمت ہے جو آپ کے خصائص میں شمار ہوتی ہے اور یہ خصوصیت آپ سے پہلے کسی کو عطا کی گئی نہ آپ کے بعد۔ یہ آواز آپ کو اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح پر آمادہ کرتی تھی۔ جب وہ دیکھتے کہ یہ جمادات، پہاڑ اور حیوانات حضرت داؤ دu کی آواز کا جواب دیتے ہوئے اپنے رب کی تسبیح و تکبیر اور تمجیدوتحمید کرتے ہیں تو یہ چیز ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر پر آمادہ کرتی۔بہت سے علماء کہتے ہیں کہ یہ نعمت داؤ دu کی آواز کی طرب خیزی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت خوبصورت آواز سے سرفراز فرمایا تھا اور انھیں اس میدان میں سب پر فوقیت حاصل تھی۔ جب آپ تسبیح و تہلیل اور تمجید وتحمید میں اپنی طرب انگیز آواز بلند کرتے تو جن وانس، پرندے اور پہاڑ آپ کی آواز پر جھوم اٹھتے اور اپنے رب کی تحمید وتسبیح بیان کرنے لگتے ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی کہ آپ کی آواز پر طرب میں آکر تسبیح و تحمید بیان کرنے والے جمادات و حیوانات کی تسبیح کا اجر بھی آپ کو حاصل ہوتا تھا کیونکہ آپ ان کی تسبیح و تحمید کا سبب تھے۔اللہ تعالیٰ کا یہ بھی آپ پر فضل و کرم تھا کہ اس نے لوہے کو آپ کے لیے نرم کر دیا تاکہ وہ زر ہیں تیار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زرہ کی صنعت کی تعلیم دی اور ان کو زرہ کے حلقوں کو اندازے پر رکھنا سکھایا یعنی وہ اندازے کے ساتھ زرہ کا حلقہ بناتے تھے ، پھر وہ ان کو ایک دوسرے میں داخل کر دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۢۡ بَاۡسِكُمۡ١ۚ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ﴾(الانبیاء:21؍80) ’’اور ہم نے تمھارے لیے ان کو زرہ بنانا سکھا دیا تاکہ یہ زرہیں تمھیں ایک دوسرے کی ضرب سے محفوظ رکھیں، تو پھر کیا تم شکر گزار ہو گے؟‘‘ حضرت داؤ دu اور آل داؤ د پر اپنے احسان کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر کرنے کا حکم دیا، نیز انھیں یہ حکم بھی دیا کہ وہ نیک عمل کریں، وہ اپنے عمل کی اصلاح اور مفسدات سے اس کو محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے ڈریں کیونکہ وہ ان اعمال کو دیکھتا ہے، ان کی اطلاع رکھتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں۔

سبأ 34:11

اور تحقیق دی ہم نے داؤ د کو اپنی طرف سے فضیلت ، (ہم نے حکم دیا) اے پہاڑو! تسبیح دہراؤ اس کےساتھ اور پرندوں کو (بھی کہا) اور نرم کر دیا ہم نے اس کے لیے لوہا(10) یہ کہ بنا (زرہیں)کامل کشادہ اور (مناسب) اندازہ رکھ کڑیاں جوڑنے میں اور تم (سب) عمل کرو نیک، بے شک میں، ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہوں(11) [10، 11] یعنی ہم نے اپنے بندے اور رسول داؤ دu پر احسان کیا اور ہم نے انھیں علم نافع اور عمل صالح میں فضیلت بخشی اور انھیں دینی اور دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے کہ اس نے پہاڑوں، حیوانات اور پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤ دu کی حمدوتسبیح کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائیں۔ یہ ایسی نعمت ہے جو آپ کے خصائص میں شمار ہوتی ہے اور یہ خصوصیت آپ سے پہلے کسی کو عطا کی گئی نہ آپ کے بعد۔ یہ آواز آپ کو اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح پر آمادہ کرتی تھی۔ جب وہ دیکھتے کہ یہ جمادات، پہاڑ اور حیوانات حضرت داؤ دu کی آواز کا جواب دیتے ہوئے اپنے رب کی تسبیح و تکبیر اور تمجیدوتحمید کرتے ہیں تو یہ چیز ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر پر آمادہ کرتی۔بہت سے علماء کہتے ہیں کہ یہ نعمت داؤ دu کی آواز کی طرب خیزی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت خوبصورت آواز سے سرفراز فرمایا تھا اور انھیں اس میدان میں سب پر فوقیت حاصل تھی۔ جب آپ تسبیح و تہلیل اور تمجید وتحمید میں اپنی طرب انگیز آواز بلند کرتے تو جن وانس، پرندے اور پہاڑ آپ کی آواز پر جھوم اٹھتے اور اپنے رب کی تحمید وتسبیح بیان کرنے لگتے ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی کہ آپ کی آواز پر طرب میں آکر تسبیح و تحمید بیان کرنے والے جمادات و حیوانات کی تسبیح کا اجر بھی آپ کو حاصل ہوتا تھا کیونکہ آپ ان کی تسبیح و تحمید کا سبب تھے۔اللہ تعالیٰ کا یہ بھی آپ پر فضل و کرم تھا کہ اس نے لوہے کو آپ کے لیے نرم کر دیا تاکہ وہ زر ہیں تیار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زرہ کی صنعت کی تعلیم دی اور ان کو زرہ کے حلقوں کو اندازے پر رکھنا سکھایا یعنی وہ اندازے کے ساتھ زرہ کا حلقہ بناتے تھے ، پھر وہ ان کو ایک دوسرے میں داخل کر دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۢۡ بَاۡسِكُمۡ١ۚ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ﴾(الانبیاء:21؍80) ’’اور ہم نے تمھارے لیے ان کو زرہ بنانا سکھا دیا تاکہ یہ زرہیں تمھیں ایک دوسرے کی ضرب سے محفوظ رکھیں، تو پھر کیا تم شکر گزار ہو گے؟‘‘ حضرت داؤ دu اور آل داؤ د پر اپنے احسان کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر کرنے کا حکم دیا، نیز انھیں یہ حکم بھی دیا کہ وہ نیک عمل کریں، وہ اپنے عمل کی اصلاح اور مفسدات سے اس کو محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے ڈریں کیونکہ وہ ان اعمال کو دیکھتا ہے، ان کی اطلاع رکھتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں۔

سبأ 34:12

اور (تابع کیا) سلیمان کے ہوا کو، اس کا صبح کا چلنا، ایک ماہ (کی مسافت) تھا اور اس کا شام کا چلنا ایک ماہ تھا اور بہا دیا ہم نے اس کے لیے چشمہ تانبے کا، اور کچھ جن تھے جو کام کرتے تھے اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے، اور جو پھر جاتاان میں سے ہمارے حکم سے تو چکھاتے ہم اس کو خوب عذاب بھڑکتی آگ کا (12) وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا ، عالیشان عمارتیں اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے حوض اور دیگیں جمی ہوئیں، عمل کرو تم اے آل داؤد! (ہمارا) شکر کرنے کے لیے، اور بہت ہی تھوڑے ہیں میرے بندوں میں سے شکر گزار(13) پس جب ہم نے فیصلہ (نافذ) کر دیا اس (سلیمان) پر موت کا ، تو نہیں بتلایا ان (جنوں) کو اس (سلیمان) کی موت کا، مگر گھن کے کیڑے نے جو کھا رہا تھا اس کی لاٹھی کو، پس جب گر گیا سلیمان، تو جان لیا جنوں نے کہ اگر ہوتے وہ جانتے غیب کو تو نہ ٹھہرے رہتے وہ اس عذاب میں جو ذلیل کرنے والا ہے(14) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمانu پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لیے مسخر کر دیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کر لیتی تھی۔ فرمایا: ﴿غُدُوُّهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔‘‘ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک ﴿وَّرَوَاحُهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی ۔‘‘ یعنی زوال آفتاب سے لے کر دن کے آخر تک۔ ﴿وَاَسَلۡنَا لَهٗ عَيۡنَ الۡقِطۡرِ﴾ اورہم نے حضرت سلیمانu کے لیے تانبے کا چشمہ مسخر کر دیا اور اس تانبے سے مختلف اقسام کی اشیاء اور برتن بنانے کے اسباب کو ان کے لیے آسان کر دیا۔نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کے لیے شیاطین اور جنوں کو مسخر کر دیا وہ آپ کی حکم عدولی کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ فرمایا: ﴿وَمَنۡ يَّزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ اَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾ ’’اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا، ہم اس کو جہنم کی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘ [13] یہ شیاطین اور جن وہ تمام کام کرتے تھے جس کا حضرت سلیمانu ان کو حکم دیتے تھے ﴿مِنۡ مَّحَارِيۡبَ ﴾ ’’قلعے‘‘ اس سے مراد ہر ایسی تعمیر ہے جس کے ذریعے سے عمارتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ گویا اس میں بڑی بڑی عمارتوں کا ذکر ہے ﴿وَتَمَاثِيۡلَ ﴾ ’’اور مجسمے‘‘ یعنی حیوانات و جمادات کی تماثیل بنانا ان کی اس صنعت میں مہارت ، قدرت اور ان کا سلیمان u کے لیے کام کرنے پر دلالت کرنا ہے۔ ﴿وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ ﴾ ’’اور لگن جیسے تالاب‘‘ وہ حضرت سلیمانu کے لیے بڑے بڑے حوض بناتے تھے، جن میں کھانا ڈالا جاتا تھا کیونکہ حضرت سلیمانu ایسی چیزوں کے محتاج تھے جن کے دوسرے لوگ محتاج نہ تھے اور وہ ان کے لیے بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی ہونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے نہ ہٹتی تھیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنی نوازشات کا ذکر کرنے کے بعد انھیں ان نوازشات پر شکر کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ ﴾ ’’اے آل داود! نیک عمل کرو۔‘‘ اس سے مراد داؤ دu، ان کی اولاد اور اہل و عیال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ان سب پر تھا اور ان بہت سے فوائد سے سب ہی مستفید ہوتے تھے۔ ﴿شُكۡرًا ﴾ یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾ اکثر لوگ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں اور ان سے جو تکالیف دور کی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ’’شکر‘‘ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا دل سے اعتراف کرنا، اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھتے ہوئے اس نعمت کو قبول کرنا، اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرنا اور اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے گریز کرنا۔ [14] شیاطین اور جن حضرت سلیمانu کے لیے عمارتیں تعمیر کرتے رہے۔ انھوں نے انسانوں کو بہکایا اور ان پر ظاہر کیا کہ وہ غیب کا علم جانتے ہیں اور چھپی ہوئی چیزوں کی اطلاع رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بندوں پر ان کا جھوٹ واضح کرے، لہٰذا وہ اپنا کام کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کی وفات کا فیصلہ کر دیا، حضرت سلیمانu اپنے عصا کا سہارا لیے کھڑے تھے (اور اسی حالت میں وفات پاگئے) تو جن جب وہاں سے گزرتے تو دیکھتے کہ وہ سہارا لیے کھڑے ہیں۔ وہ انھیں زندہ سمجھتے ہوئے ان سے ڈرتے رہے۔ ایک قول کے مطابق جن سال بھر اسی طرح کام کرتے رہے حتیٰ کہ دیمک نے ان کا عصا کھانا شروع کر دیا یہاں تک کہ عصا بالکل ختم ہو کر گر گیا اور اس کے ساتھ حضرت سلیمانu کا جسد بھی زمین پر آرہا۔ یہ دیکھ کر شیاطین آزاد ہو کر بھاگ گئے اس طرح انسانوں پر واضح ہو گیا ﴿اَنۡ لَّوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ الۡغَيۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِي الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’کہ اگر جنوں کے پاس علم غیب ہوتا تو وہ اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے‘‘ یعنی اس انتہائی سخت کام میں مصروف نہ رہتے۔ اگر ان کے پاس غیب کا علم ہوتا تو انھیں حضرت سلیمانu کے وفات پاجانے کا علم ہوتا، جو ان کی سب سے بڑی خواہش تھی تاکہ اس مشقت سے نجات پائیں۔

سبأ 34:13

اور (تابع کیا) سلیمان کے ہوا کو، اس کا صبح کا چلنا، ایک ماہ (کی مسافت) تھا اور اس کا شام کا چلنا ایک ماہ تھا اور بہا دیا ہم نے اس کے لیے چشمہ تانبے کا، اور کچھ جن تھے جو کام کرتے تھے اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے، اور جو پھر جاتاان میں سے ہمارے حکم سے تو چکھاتے ہم اس کو خوب عذاب بھڑکتی آگ کا (12) وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا ، عالیشان عمارتیں اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے حوض اور دیگیں جمی ہوئیں، عمل کرو تم اے آل داؤد! (ہمارا) شکر کرنے کے لیے، اور بہت ہی تھوڑے ہیں میرے بندوں میں سے شکر گزار(13) پس جب ہم نے فیصلہ (نافذ) کر دیا اس (سلیمان) پر موت کا ، تو نہیں بتلایا ان (جنوں) کو اس (سلیمان) کی موت کا، مگر گھن کے کیڑے نے جو کھا رہا تھا اس کی لاٹھی کو، پس جب گر گیا سلیمان، تو جان لیا جنوں نے کہ اگر ہوتے وہ جانتے غیب کو تو نہ ٹھہرے رہتے وہ اس عذاب میں جو ذلیل کرنے والا ہے(14) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمانu پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لیے مسخر کر دیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کر لیتی تھی۔ فرمایا: ﴿غُدُوُّهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔‘‘ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک ﴿وَّرَوَاحُهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی ۔‘‘ یعنی زوال آفتاب سے لے کر دن کے آخر تک۔ ﴿وَاَسَلۡنَا لَهٗ عَيۡنَ الۡقِطۡرِ﴾ اورہم نے حضرت سلیمانu کے لیے تانبے کا چشمہ مسخر کر دیا اور اس تانبے سے مختلف اقسام کی اشیاء اور برتن بنانے کے اسباب کو ان کے لیے آسان کر دیا۔نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کے لیے شیاطین اور جنوں کو مسخر کر دیا وہ آپ کی حکم عدولی کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ فرمایا: ﴿وَمَنۡ يَّزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ اَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾ ’’اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا، ہم اس کو جہنم کی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘ [13] یہ شیاطین اور جن وہ تمام کام کرتے تھے جس کا حضرت سلیمانu ان کو حکم دیتے تھے ﴿مِنۡ مَّحَارِيۡبَ ﴾ ’’قلعے‘‘ اس سے مراد ہر ایسی تعمیر ہے جس کے ذریعے سے عمارتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ گویا اس میں بڑی بڑی عمارتوں کا ذکر ہے ﴿وَتَمَاثِيۡلَ ﴾ ’’اور مجسمے‘‘ یعنی حیوانات و جمادات کی تماثیل بنانا ان کی اس صنعت میں مہارت ، قدرت اور ان کا سلیمان u کے لیے کام کرنے پر دلالت کرنا ہے۔ ﴿وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ ﴾ ’’اور لگن جیسے تالاب‘‘ وہ حضرت سلیمانu کے لیے بڑے بڑے حوض بناتے تھے، جن میں کھانا ڈالا جاتا تھا کیونکہ حضرت سلیمانu ایسی چیزوں کے محتاج تھے جن کے دوسرے لوگ محتاج نہ تھے اور وہ ان کے لیے بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی ہونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے نہ ہٹتی تھیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنی نوازشات کا ذکر کرنے کے بعد انھیں ان نوازشات پر شکر کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ ﴾ ’’اے آل داود! نیک عمل کرو۔‘‘ اس سے مراد داؤ دu، ان کی اولاد اور اہل و عیال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ان سب پر تھا اور ان بہت سے فوائد سے سب ہی مستفید ہوتے تھے۔ ﴿شُكۡرًا ﴾ یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾ اکثر لوگ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں اور ان سے جو تکالیف دور کی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ’’شکر‘‘ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا دل سے اعتراف کرنا، اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھتے ہوئے اس نعمت کو قبول کرنا، اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرنا اور اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے گریز کرنا۔ [14] شیاطین اور جن حضرت سلیمانu کے لیے عمارتیں تعمیر کرتے رہے۔ انھوں نے انسانوں کو بہکایا اور ان پر ظاہر کیا کہ وہ غیب کا علم جانتے ہیں اور چھپی ہوئی چیزوں کی اطلاع رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بندوں پر ان کا جھوٹ واضح کرے، لہٰذا وہ اپنا کام کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کی وفات کا فیصلہ کر دیا، حضرت سلیمانu اپنے عصا کا سہارا لیے کھڑے تھے (اور اسی حالت میں وفات پاگئے) تو جن جب وہاں سے گزرتے تو دیکھتے کہ وہ سہارا لیے کھڑے ہیں۔ وہ انھیں زندہ سمجھتے ہوئے ان سے ڈرتے رہے۔ ایک قول کے مطابق جن سال بھر اسی طرح کام کرتے رہے حتیٰ کہ دیمک نے ان کا عصا کھانا شروع کر دیا یہاں تک کہ عصا بالکل ختم ہو کر گر گیا اور اس کے ساتھ حضرت سلیمانu کا جسد بھی زمین پر آرہا۔ یہ دیکھ کر شیاطین آزاد ہو کر بھاگ گئے اس طرح انسانوں پر واضح ہو گیا ﴿اَنۡ لَّوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ الۡغَيۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِي الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’کہ اگر جنوں کے پاس علم غیب ہوتا تو وہ اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے‘‘ یعنی اس انتہائی سخت کام میں مصروف نہ رہتے۔ اگر ان کے پاس غیب کا علم ہوتا تو انھیں حضرت سلیمانu کے وفات پاجانے کا علم ہوتا، جو ان کی سب سے بڑی خواہش تھی تاکہ اس مشقت سے نجات پائیں۔

سبأ 34:14

اور (تابع کیا) سلیمان کے ہوا کو، اس کا صبح کا چلنا، ایک ماہ (کی مسافت) تھا اور اس کا شام کا چلنا ایک ماہ تھا اور بہا دیا ہم نے اس کے لیے چشمہ تانبے کا، اور کچھ جن تھے جو کام کرتے تھے اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے، اور جو پھر جاتاان میں سے ہمارے حکم سے تو چکھاتے ہم اس کو خوب عذاب بھڑکتی آگ کا (12) وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا ، عالیشان عمارتیں اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے حوض اور دیگیں جمی ہوئیں، عمل کرو تم اے آل داؤد! (ہمارا) شکر کرنے کے لیے، اور بہت ہی تھوڑے ہیں میرے بندوں میں سے شکر گزار(13) پس جب ہم نے فیصلہ (نافذ) کر دیا اس (سلیمان) پر موت کا ، تو نہیں بتلایا ان (جنوں) کو اس (سلیمان) کی موت کا، مگر گھن کے کیڑے نے جو کھا رہا تھا اس کی لاٹھی کو، پس جب گر گیا سلیمان، تو جان لیا جنوں نے کہ اگر ہوتے وہ جانتے غیب کو تو نہ ٹھہرے رہتے وہ اس عذاب میں جو ذلیل کرنے والا ہے(14) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمانu پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لیے مسخر کر دیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کر لیتی تھی۔ فرمایا: ﴿غُدُوُّهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔‘‘ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک ﴿وَّرَوَاحُهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی ۔‘‘ یعنی زوال آفتاب سے لے کر دن کے آخر تک۔ ﴿وَاَسَلۡنَا لَهٗ عَيۡنَ الۡقِطۡرِ﴾ اورہم نے حضرت سلیمانu کے لیے تانبے کا چشمہ مسخر کر دیا اور اس تانبے سے مختلف اقسام کی اشیاء اور برتن بنانے کے اسباب کو ان کے لیے آسان کر دیا۔نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کے لیے شیاطین اور جنوں کو مسخر کر دیا وہ آپ کی حکم عدولی کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ فرمایا: ﴿وَمَنۡ يَّزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ اَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾ ’’اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا، ہم اس کو جہنم کی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘ [13] یہ شیاطین اور جن وہ تمام کام کرتے تھے جس کا حضرت سلیمانu ان کو حکم دیتے تھے ﴿مِنۡ مَّحَارِيۡبَ ﴾ ’’قلعے‘‘ اس سے مراد ہر ایسی تعمیر ہے جس کے ذریعے سے عمارتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ گویا اس میں بڑی بڑی عمارتوں کا ذکر ہے ﴿وَتَمَاثِيۡلَ ﴾ ’’اور مجسمے‘‘ یعنی حیوانات و جمادات کی تماثیل بنانا ان کی اس صنعت میں مہارت ، قدرت اور ان کا سلیمان u کے لیے کام کرنے پر دلالت کرنا ہے۔ ﴿وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ ﴾ ’’اور لگن جیسے تالاب‘‘ وہ حضرت سلیمانu کے لیے بڑے بڑے حوض بناتے تھے، جن میں کھانا ڈالا جاتا تھا کیونکہ حضرت سلیمانu ایسی چیزوں کے محتاج تھے جن کے دوسرے لوگ محتاج نہ تھے اور وہ ان کے لیے بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی ہونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے نہ ہٹتی تھیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنی نوازشات کا ذکر کرنے کے بعد انھیں ان نوازشات پر شکر کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ ﴾ ’’اے آل داود! نیک عمل کرو۔‘‘ اس سے مراد داؤ دu، ان کی اولاد اور اہل و عیال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ان سب پر تھا اور ان بہت سے فوائد سے سب ہی مستفید ہوتے تھے۔ ﴿شُكۡرًا ﴾ یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾ اکثر لوگ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں اور ان سے جو تکالیف دور کی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ’’شکر‘‘ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا دل سے اعتراف کرنا، اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھتے ہوئے اس نعمت کو قبول کرنا، اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرنا اور اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے گریز کرنا۔ [14] شیاطین اور جن حضرت سلیمانu کے لیے عمارتیں تعمیر کرتے رہے۔ انھوں نے انسانوں کو بہکایا اور ان پر ظاہر کیا کہ وہ غیب کا علم جانتے ہیں اور چھپی ہوئی چیزوں کی اطلاع رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بندوں پر ان کا جھوٹ واضح کرے، لہٰذا وہ اپنا کام کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کی وفات کا فیصلہ کر دیا، حضرت سلیمانu اپنے عصا کا سہارا لیے کھڑے تھے (اور اسی حالت میں وفات پاگئے) تو جن جب وہاں سے گزرتے تو دیکھتے کہ وہ سہارا لیے کھڑے ہیں۔ وہ انھیں زندہ سمجھتے ہوئے ان سے ڈرتے رہے۔ ایک قول کے مطابق جن سال بھر اسی طرح کام کرتے رہے حتیٰ کہ دیمک نے ان کا عصا کھانا شروع کر دیا یہاں تک کہ عصا بالکل ختم ہو کر گر گیا اور اس کے ساتھ حضرت سلیمانu کا جسد بھی زمین پر آرہا۔ یہ دیکھ کر شیاطین آزاد ہو کر بھاگ گئے اس طرح انسانوں پر واضح ہو گیا ﴿اَنۡ لَّوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ الۡغَيۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِي الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’کہ اگر جنوں کے پاس علم غیب ہوتا تو وہ اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے‘‘ یعنی اس انتہائی سخت کام میں مصروف نہ رہتے۔ اگر ان کے پاس غیب کا علم ہوتا تو انھیں حضرت سلیمانu کے وفات پاجانے کا علم ہوتا، جو ان کی سب سے بڑی خواہش تھی تاکہ اس مشقت سے نجات پائیں۔

سبأ 34:15

البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21) [19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ [20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔ [21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔

سبأ 34:16

البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21) [19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ [20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔ [21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔

سبأ 34:17

البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21) [19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ [20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔ [21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔

سبأ 34:18

البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21) [19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ [20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔ [21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔

سبأ 34:19

البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21) [19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ [20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔ [21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔

سبأ 34:20

البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21) [19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ [20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔ [21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔

سبأ 34:21

البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21) [19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ [20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔ [21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔

سبأ 34:22

کہہ دیجیے! پکارو ان کو جنھیں گمان کیا تھا تم نے اللہ کے سوا ( معبود)، نہیں اختیار رکھتے وہ برابر ایک ذرے کے آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہیں ہے ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت اور نہیں ہے اس کے لیے ان میں سے کوئی مددگار(22) اور نہیں نفع دے گی سفارش اس کےپاس، سوائے اس شخص کے کہ اجازت دے گا اللہ اسے، یہاں تک کہ جب دور کر دی جاتی گھبراہٹ ان کے دلوں سے توکہتے ہیں، کیا کہا تمھارے رب نے؟ وہ کہتے ہیں: حق (کہا)، اور وہ بہت بلند اور بڑا ہے(23) [22، 23]﴿قُلِ ﴾ اے رسول! جو لوگ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں دے سکتی انھیں خود ساختہ معبودوں کا عجز اور ان کی عبادت کا بطلان واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جنھیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو، اگر تمھارا پکارنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے، تو انھیں پکار دیکھو ان کی بے بسی اور تمھاری پکار کا جواب دینے پر عدم قدرت کے اسباب ہر لحاظ سے بہت زیادہ اور واضح ہیں۔بلاشبہ وہ کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ زمین وآسمان میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں‘‘ یعنی وہ مستقل طور پر کسی چیز کے مالک ہیں نہ کسی چیز کی ملکیت میں اشتراک رکھتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَمَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے نہیں ہے‘‘ یعنی جن کو تم نے معبود سمجھ رکھا ہے ﴿فِيۡهِمَا ﴾ آسمانوں اور زمین میں ﴿مِنۡ شِرۡكٍ ﴾ ’’کوئی شراکت‘‘ یعنی خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، ان کا اس میں کوئی بھی حصہ نہیں ہے۔ پس وہ کسی چیز کے مالک ہیں نہ ملکیت میں ان کا کوئی حصہ ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ، ان کے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور ملکیت میں شریک نہ ہونے کے باوجود ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ مالک کے اعوان و انصار اور اس کے وزراء ہیں ، لہٰذا ان کو پکارنا نفع مند ہے، کیونکہ بادشاہ ان کا محتاج ہوتا ہے اور وہ اپنے متعلقین کی حاجتیں پوری کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مرتبہ ومقام کی بھی نفی فرما دی، چنانچہ فرمایا:﴿وَّمَا لَهٗ﴾ ’’اور نہیں ہے اس کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ واحد قہار کے ﴿مِنۡهُمۡ ﴾ ان خود ساختہ معبودوں میں سے ﴿مِّنۡ ظَهِيۡرٍ ﴾ کوئی معاون اور وزیر، جو کاروبار، اقتدار اور تدبیر مملکت میں اس کی مدد کرے۔باقی رہی شفاعت تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بھی نفی فرما دی، فرمایا:﴿وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾ ’’اور اس کے ہاں سفارش فائدہ نہیں دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔‘‘ یہ وہ تعلقات اور امیدیں ہیں جو مشرکین اپنے خود ساختہ معبودوں، بتوں، انسانوں اور شجر وحجر سے وابستہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام امیدوں کو منقطع کر دیا اور ان کے بطلان کو اچھی طرح واضح کر کے شرک کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ چونکہ مشرک غیراللہ کی عبادت صرف اس لیے کرتا ہے کہ اسے غیر اللہ سے کسی نفع کی امید ہوتی ہے اور یہی امید شرک کی موجب ہوتی ہے تو جب یہ معلوم ہو جائے کہ وہ ہستی، جسے یہ اللہ کے سوا پکارتا ہے، کسی نفع و نقصان کی مالک ہے نہ مالک کی ملکیت میں شریک ہے، نہ اس کی معاون اور مددگار ہے اور نہ وہ مالک کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتی ہے تو اس کا یہ پکارنا اور اس کی یہ عبادت عقل کے مطابق گمراہی اور شرع کے مطابق باطل ہے۔اس کے برعکس مشرک کو اس سے جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ اس کے مقصود ومطلوب کے بالکل الٹ ہوتی ہے۔ مشرک ان خود ساختہ معبودوں کے ذریعے سے نفع چاہتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس نفع کا بطلان اور اس کا معدوم ہونا واضح کر دیا ہے اور بعض دیگر آیات میں ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنے والے کے لیے ان کے ضرر کو بیان کر دیا ہے۔ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ قیامت کے روز یہ ایک دوسرے کا انکار کریں گے ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ﴾(الاحقاف:46/6)’’اور جب تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ اپنی عبادت کرنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔‘‘ بڑی عجیب بات ہے کہ مشرک آدمی تکبرواستکبار کی وجہ سے رسولوں کی اطاعت اس گمان سے نہیں کرتا کہ وہ بشر ہیں اور اس کا حال یہ ہے کہ وہ شجروحجر کو پکارتاہے اور ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے، محض تکبر کی بنا پر رحمان کے لیے اخلاص نہیں رکھتا مگر اپنے بدترین دشمن شیطان کی اطاعت کرتے ہوئے ان ہستیوں کی عبادت پر راضی ہو جاتا ہے جن کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔﴿حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنۡ قُلُوۡبِهِمۡ قَالُوۡا مَاذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمۡ١ؕ قَالُوا الۡحَقَّ١ۚ وَهُوَ الۡعَلِيُّ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’حتی کہ جب ان کے دلوں سے گبھراہٹ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمھارے پرودگار نے کیا فرمایا؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وہ بلند وبالا اور بہت بڑا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں یہ احتمال موجود ہے کہ اس مقام پر ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ آیت کریمہ میں لفظاً وہی مذکور ہیں اور ضمائر کے بارے میں قاعدہ بھی یہی ہے کہ یہ اپنے قریب ترین مذکور کی طرف لوٹتی ہیں تب اس صورت میں معنیٰ یہ ہو گا کہ قیامت کے روز جب مشرکین کی گھبراہٹ دور ہو گی، اور انھیں ہوش آئے گا، ان سے دنیا میں ان کے احوال کے بارے میں سوال کیا جائے گا، حق لانے والے رسولوں کی تکذیب کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا تو وہ اقرار کریں گے کہ کفر اور شرک پر مبنی ان کا موقف باطل تھا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اور انبیاء و مرسلین نے اس کے بارے میں خبر دی تھی وہی حق تھا۔ تو اس سے پہلے جو کچھ وہ چھپایا کرتے تھے سب ان کے سامنے ظاہر ہوجائے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ حق تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَلِيُّ ﴾ وہ بذاتہ تمام مخلوقات کے اوپر ہے، وہ ان پر غالب ہے اور وہ اپنی عظیم اور جلیل القدر صفات کی بنا پر عالی قدر ہے۔ ﴿الۡكَبِيۡرُ ﴾ وہ اپنی ذات و صفات میں بہت بڑا ہے۔ یہ اس کی بلندی ہے کہ اس کا حکم سب پر غالب ہے نفوس اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں حتیٰ کہ مشرکین و متکبرین کے نفوس بھی سرافگندہ ہیں۔ یہ معنیٰ زیادہ واضح ہے اور یہی وہ معنیٰ ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے۔اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر ملائکہ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے کلام فرماتے ہیں اور فرشتے اسے سنتے ہیں تو وہ غش کھا کر سجدے میں گر جاتے ہیں، پھر سب سے پہلے جبریلu سر اٹھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ جو ارادہ فرماتے ہیں اس کے بارے میں ان سے وحی کے ذریعے سے کلام کرتے ہیں۔ جب فرشتوں کی مدہوشی دور اور ان کی گھبراہٹ زائل ہو جاتی ہے تو وہ کلام الٰہی کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں جس کی بنا پر ان پر غشی طاری ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حق ارشاد فرمایا: یہ بات وہ یا تو اجمالی طور پر کہتے ہیں کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کے سوا کچھ نہیں کہتے یا وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں بات ارشاد فرمائی، یہ اس کلام کی وجہ سے کہتے ہیں جو انھوں نے اس سے سنا ہے اور یہ سب حق ہے۔تب اس احتمال کے مطابق معنیٰ یہ ہو گا کہ مشرکین جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی جن کے عجز اور نقص کے بارے میں ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کو کوئی نفع نہیں دے سکتے تو ان کفار نے رب عظیم کی عبادت میں اخلاص سے کیسے انحراف کیا، جو بلند اور بہت بڑا ہے جس کی عظمت و جلال کا یہ حال ہے کہ بڑے بڑے مکرم اور مقرب فرشتے، اس کا کلام سن کر خشوع و خضوع کی بنا پر غش کھا کر گر پڑتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ان مشرکین کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ تکبر سے اس ہستی کی عبادت سے انکار کرتے ہیں جس کی عظمت، اقتدار، تسلط اور شان کا یہ حال ہے۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ مشرکین کے شرک اور ان کے کذب و بہتان طرازی سے بلندوبالا ہے۔

سبأ 34:23

کہہ دیجیے! پکارو ان کو جنھیں گمان کیا تھا تم نے اللہ کے سوا ( معبود)، نہیں اختیار رکھتے وہ برابر ایک ذرے کے آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہیں ہے ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت اور نہیں ہے اس کے لیے ان میں سے کوئی مددگار(22) اور نہیں نفع دے گی سفارش اس کےپاس، سوائے اس شخص کے کہ اجازت دے گا اللہ اسے، یہاں تک کہ جب دور کر دی جاتی گھبراہٹ ان کے دلوں سے توکہتے ہیں، کیا کہا تمھارے رب نے؟ وہ کہتے ہیں: حق (کہا)، اور وہ بہت بلند اور بڑا ہے(23) [22، 23]﴿قُلِ ﴾ اے رسول! جو لوگ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں دے سکتی انھیں خود ساختہ معبودوں کا عجز اور ان کی عبادت کا بطلان واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جنھیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو، اگر تمھارا پکارنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے، تو انھیں پکار دیکھو ان کی بے بسی اور تمھاری پکار کا جواب دینے پر عدم قدرت کے اسباب ہر لحاظ سے بہت زیادہ اور واضح ہیں۔بلاشبہ وہ کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ زمین وآسمان میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں‘‘ یعنی وہ مستقل طور پر کسی چیز کے مالک ہیں نہ کسی چیز کی ملکیت میں اشتراک رکھتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَمَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے نہیں ہے‘‘ یعنی جن کو تم نے معبود سمجھ رکھا ہے ﴿فِيۡهِمَا ﴾ آسمانوں اور زمین میں ﴿مِنۡ شِرۡكٍ ﴾ ’’کوئی شراکت‘‘ یعنی خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، ان کا اس میں کوئی بھی حصہ نہیں ہے۔ پس وہ کسی چیز کے مالک ہیں نہ ملکیت میں ان کا کوئی حصہ ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ، ان کے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور ملکیت میں شریک نہ ہونے کے باوجود ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ مالک کے اعوان و انصار اور اس کے وزراء ہیں ، لہٰذا ان کو پکارنا نفع مند ہے، کیونکہ بادشاہ ان کا محتاج ہوتا ہے اور وہ اپنے متعلقین کی حاجتیں پوری کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مرتبہ ومقام کی بھی نفی فرما دی، چنانچہ فرمایا:﴿وَّمَا لَهٗ﴾ ’’اور نہیں ہے اس کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ واحد قہار کے ﴿مِنۡهُمۡ ﴾ ان خود ساختہ معبودوں میں سے ﴿مِّنۡ ظَهِيۡرٍ ﴾ کوئی معاون اور وزیر، جو کاروبار، اقتدار اور تدبیر مملکت میں اس کی مدد کرے۔باقی رہی شفاعت تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بھی نفی فرما دی، فرمایا:﴿وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾ ’’اور اس کے ہاں سفارش فائدہ نہیں دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔‘‘ یہ وہ تعلقات اور امیدیں ہیں جو مشرکین اپنے خود ساختہ معبودوں، بتوں، انسانوں اور شجر وحجر سے وابستہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام امیدوں کو منقطع کر دیا اور ان کے بطلان کو اچھی طرح واضح کر کے شرک کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ چونکہ مشرک غیراللہ کی عبادت صرف اس لیے کرتا ہے کہ اسے غیر اللہ سے کسی نفع کی امید ہوتی ہے اور یہی امید شرک کی موجب ہوتی ہے تو جب یہ معلوم ہو جائے کہ وہ ہستی، جسے یہ اللہ کے سوا پکارتا ہے، کسی نفع و نقصان کی مالک ہے نہ مالک کی ملکیت میں شریک ہے، نہ اس کی معاون اور مددگار ہے اور نہ وہ مالک کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتی ہے تو اس کا یہ پکارنا اور اس کی یہ عبادت عقل کے مطابق گمراہی اور شرع کے مطابق باطل ہے۔اس کے برعکس مشرک کو اس سے جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ اس کے مقصود ومطلوب کے بالکل الٹ ہوتی ہے۔ مشرک ان خود ساختہ معبودوں کے ذریعے سے نفع چاہتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس نفع کا بطلان اور اس کا معدوم ہونا واضح کر دیا ہے اور بعض دیگر آیات میں ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنے والے کے لیے ان کے ضرر کو بیان کر دیا ہے۔ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ قیامت کے روز یہ ایک دوسرے کا انکار کریں گے ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ﴾(الاحقاف:46/6)’’اور جب تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ اپنی عبادت کرنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔‘‘ بڑی عجیب بات ہے کہ مشرک آدمی تکبرواستکبار کی وجہ سے رسولوں کی اطاعت اس گمان سے نہیں کرتا کہ وہ بشر ہیں اور اس کا حال یہ ہے کہ وہ شجروحجر کو پکارتاہے اور ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے، محض تکبر کی بنا پر رحمان کے لیے اخلاص نہیں رکھتا مگر اپنے بدترین دشمن شیطان کی اطاعت کرتے ہوئے ان ہستیوں کی عبادت پر راضی ہو جاتا ہے جن کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔﴿حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنۡ قُلُوۡبِهِمۡ قَالُوۡا مَاذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمۡ١ؕ قَالُوا الۡحَقَّ١ۚ وَهُوَ الۡعَلِيُّ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’حتی کہ جب ان کے دلوں سے گبھراہٹ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمھارے پرودگار نے کیا فرمایا؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وہ بلند وبالا اور بہت بڑا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں یہ احتمال موجود ہے کہ اس مقام پر ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ آیت کریمہ میں لفظاً وہی مذکور ہیں اور ضمائر کے بارے میں قاعدہ بھی یہی ہے کہ یہ اپنے قریب ترین مذکور کی طرف لوٹتی ہیں تب اس صورت میں معنیٰ یہ ہو گا کہ قیامت کے روز جب مشرکین کی گھبراہٹ دور ہو گی، اور انھیں ہوش آئے گا، ان سے دنیا میں ان کے احوال کے بارے میں سوال کیا جائے گا، حق لانے والے رسولوں کی تکذیب کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا تو وہ اقرار کریں گے کہ کفر اور شرک پر مبنی ان کا موقف باطل تھا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اور انبیاء و مرسلین نے اس کے بارے میں خبر دی تھی وہی حق تھا۔ تو اس سے پہلے جو کچھ وہ چھپایا کرتے تھے سب ان کے سامنے ظاہر ہوجائے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ حق تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَلِيُّ ﴾ وہ بذاتہ تمام مخلوقات کے اوپر ہے، وہ ان پر غالب ہے اور وہ اپنی عظیم اور جلیل القدر صفات کی بنا پر عالی قدر ہے۔ ﴿الۡكَبِيۡرُ ﴾ وہ اپنی ذات و صفات میں بہت بڑا ہے۔ یہ اس کی بلندی ہے کہ اس کا حکم سب پر غالب ہے نفوس اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں حتیٰ کہ مشرکین و متکبرین کے نفوس بھی سرافگندہ ہیں۔ یہ معنیٰ زیادہ واضح ہے اور یہی وہ معنیٰ ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے۔اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر ملائکہ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے کلام فرماتے ہیں اور فرشتے اسے سنتے ہیں تو وہ غش کھا کر سجدے میں گر جاتے ہیں، پھر سب سے پہلے جبریلu سر اٹھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ جو ارادہ فرماتے ہیں اس کے بارے میں ان سے وحی کے ذریعے سے کلام کرتے ہیں۔ جب فرشتوں کی مدہوشی دور اور ان کی گھبراہٹ زائل ہو جاتی ہے تو وہ کلام الٰہی کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں جس کی بنا پر ان پر غشی طاری ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حق ارشاد فرمایا: یہ بات وہ یا تو اجمالی طور پر کہتے ہیں کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کے سوا کچھ نہیں کہتے یا وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں بات ارشاد فرمائی، یہ اس کلام کی وجہ سے کہتے ہیں جو انھوں نے اس سے سنا ہے اور یہ سب حق ہے۔تب اس احتمال کے مطابق معنیٰ یہ ہو گا کہ مشرکین جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی جن کے عجز اور نقص کے بارے میں ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کو کوئی نفع نہیں دے سکتے تو ان کفار نے رب عظیم کی عبادت میں اخلاص سے کیسے انحراف کیا، جو بلند اور بہت بڑا ہے جس کی عظمت و جلال کا یہ حال ہے کہ بڑے بڑے مکرم اور مقرب فرشتے، اس کا کلام سن کر خشوع و خضوع کی بنا پر غش کھا کر گر پڑتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ان مشرکین کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ تکبر سے اس ہستی کی عبادت سے انکار کرتے ہیں جس کی عظمت، اقتدار، تسلط اور شان کا یہ حال ہے۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ مشرکین کے شرک اور ان کے کذب و بہتان طرازی سے بلندوبالا ہے۔

سبأ 34:24

کہہ دیجیے!کون رزق دیتا ہے تم کو آسمانوں اور زمین سے؟ کہہ دیجیے: اللہ ہی، اور بلاشبہ ہم یا تم البتہ ہدایت پر ہیں یا صریح گمراہی میں(24) کہہ دیجیے! نہیں پوچھے جاؤ گے تم اس کی بابت جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم پوچھے جائیں گے اس کی بابت جو تم عمل کرتے ہو(25) کہہ دیجیے: جمع کرے گا ہم سب کو ہمارا رب، پھر وہ فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور وہی ہے فیصلہ کرنے والا، جاننے والا(26) کہہ دیجیے: دکھاؤ تم مجھے، وہ (معبود) جن کو ملا دیا تھا تم نے اس (اللہ) کے ساتھ شریک (ٹھہرا کر)، ہرگز ایسا نہیں بلکہ وہی ہے اللہ غالب حکمت والا (27) [24] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے ان کے شرک کی صحت کی دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین سے تمھیں رزق کون فراہم کرتا ہے؟‘‘ تو وہ لازمی طور پر اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ انھیں رزق مہیا کرتا ہے اگر وہ اس حقیقت کا اقرار نہ کریں تو ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔‘‘ آپ ایک بھی ایسا شخص نہ پائیں گے جو اس بات کو رد کر سکے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زمین و آسمان سے تمھیں رزق عطا کرتا ہے، وہ تمھارے لیے آسمان سے بارش برساتا ہے، وہ تمھارے لیے نباتات اگاتا ہے، وہ تمھارے لیے دریاؤ ں کو جاری کرتا ہے، وہ درختوں پر تمھارے لیے پھل اگاتا ہے، اس نے تمام حیوانات کو تمھارے رزق اور تمھاری دیگر منفعتوں کے لیے تخلیق فرمایا۔ پھر تم اس کے ساتھ ان ہستیوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تمھیں رزق عطا کر سکتی ہیں نہ کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاِنَّـاۤ اَوۡ اِيَّاكُمۡ لَعَلٰى هُدًى اَوۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی ہم دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں غرق ہے۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس پر حق ظاہر اور صواب واضح ہو، جسے اپنے موقف کے حق ہونے اور اپنے مخالف کے موقف کے بطلان کا یقین ہو۔ ہم نے وہ تمام دلائل واضح کر دیے ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں اور جو تم پیش کرتے ہو۔ جن سے کسی شک کے بغیر یقینی علم حاصل ہو جاتا ہے کہ ہم میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ؟ حتی کہ اس کے بعد تعیین ہو جاتی ہےجس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ اس شخص کے درمیان... جو اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، جو ان میں ہر قسم کا تصرف کرتا ہے، جو ہر قسم کی نعمت عطا کرتا ہے، جس نے ان کو رزق مہیا کیا، ان تک ہر قسم کی نعمت پہنچائی، ان سے ہر برائی کو دور کیا۔ تمام حمد وثنا اسی کے لیے ہے، تمام فرشتے اور ان سے کم تر مخلوق اس کی ہیبت کے سامنے سرنگوں اور اس کی عظمت کے سامنے ذلت کا اظہار کرتے ہیں، تمام سفارشی اس سے خائف ہیں، ان میں سے کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا جو اپنی ذات میں، اپنے اوصاف و افعال میں، بہت بلند اور بہت بڑا ہے، جو ہر قسم کے کمال، جلال اور جمال کا مالک ہے، جو ہر قسم کی مجد اور حمد وثنا کا مستحق ہے ، وہ اس ہستی کے تقرب کے حصول کی دعوت دیتا ہے جس کی یہ شان ہے، اس کے لیے اخلاص عمل کا حکم دیتا ہے، اس کے سوا دیگر ہستیوں کی عبادت سے روکتا ہے... اور اس شخص کے درمیان موازنہ کریں جو خودساختہ معبودوں، بتوں اور قبروں کے تقرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے، جو کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں، وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کے لیے، بلکہ یہ تو جمادات اور پتھر ہیں جو عقل رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی پکار کو سنتے ہیں، اگر سن بھی لیں تو ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے روز یہ ان کے شرک کا انکار اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ شراکت اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ان کی سفارش کر سکتے ہیں۔ یہ شخص اس ہستی کو پکارتا ہے، جس کا یہ وصف ہے، امکان بھر اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس شخص کے ساتھ عداوت رکھتا اور اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے جو دین میں اخلاص کا حامل ہے اور وہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں... تو آپ پر واضح ہو جائے گاکہ فریقین میں سے کون ہدایت یافتہ اور کون گمراہ ہے، کون نیک بخت اور کون بدبخت ہے۔ اس بات کی حاجت نہیں کہ اس کو بیان کرنے کے لیے آپ کی کوئی مدد کرے کیونکہ زبانِ حال زبانِ مقال سے زیادہ واضح اور زیادہ فصیح ہے۔ [25]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ انھیں ﴿لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم میں سے اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ ہمارے جرائم اور گناہوں کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور نہ تمھارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا۔ ہمارا اور تمھارا مقصد صرف طلبِ حق اور انصاف کے راستے پر چلنا ہونا چاہیے اور چھوڑو اس بات کو کہ ہم کیا کرتے ہیں، نیز یہ بات تمھارے لیے اتباع حق سے مانع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے احکام ظواہر پر جاری ہوتے ہیں، ان میں حق کی پیروی کی جاتی ہے اور باطل سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ رہے اعمال، تو ان کے فیصلے کے لیے آخرت کا گھر ہے، ان کے بارے میں احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ عادل ہستی فیصلہ کرے گی۔ [26] بنا بریں فرمایا: ﴿قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا ، پھر ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس سے سچے اور جھوٹے، ثواب کے مستحق اور عذاب کے مستحق کے درمیان امتیاز واضح ہو جائے گا اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔ [27]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! آپ اور وہ، جو آپ کا قائم مقام ہو، ان سے کہہ دیں:﴿اَرُوۡنِيَ الَّذِيۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِهٖ شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے اس کا شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔‘‘ یعنی مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں؟ ان کی معرفت کا کیا طریقہ ہے؟ وہ زمین میں ہیں یا آسمان میں؟ کیونکہ غیب اور شہادت کو جاننے والی ہستی نے ہمیں آگاہ فرمایا ہے کہ اس وجود کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾(یونس:10؍18) ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اورکہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، آپ کہہ دیجیے: تم اللہ کو اس بات سے آگاہ کرتے ہو جسے وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں وہ ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ شرک کرتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ ﴾(یونس:10؍66) ’’اور جو یہ لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں، یہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض اندازے لگاتے ہیں۔‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خاص مخلوق، یعنی انبیاء و مرسلین کے علم میں بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہے، تو اے مشرکو! مجھے دکھاؤ جن کو تم نے اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ﴿شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’شریک ‘‘ ٹھہرا دیا ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ان سے ممکن نہیں، اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک، کوئی ہمسر اور کوئی مد مقابل نہیں۔ ﴿بَلۡ هُوَ اللّٰهُ ﴾ ’’بلکہ وہ اللہ ہے‘‘ جس کے سوا کوئی الوہیت اور عبادت کا مستحق نہیں۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب ہے، اس کے سوا ہر چیز مقہور اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے۔ ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے‘‘ اس نے جو چیز بھی تخلیق کی نہایت مہارت سے تخلیق کی۔ اس نے جو شریعت بنائی، بہترین شریعت بنائی۔اگر اس کی شریعت میں صرف یہی حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ اس نے اپنی توحید اور اخلاص فی الدین کا حکم دیا، اسی کو پسند فرمایا اوراسی کو نجات کی راہ قرار دیا ہے، اس نے شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنانے سے روکا اور اس کو ہلاکت اور بدبختی کا راستہ قرار دیا ہے... تو اس کے کمال حکمت کے اثبات کے لیے یہی دلیل کافی ہے... تب اس شریعت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جس کے تمام اوامرونواہی حکمت پر مشتمل ہیں؟

سبأ 34:25

کہہ دیجیے!کون رزق دیتا ہے تم کو آسمانوں اور زمین سے؟ کہہ دیجیے: اللہ ہی، اور بلاشبہ ہم یا تم البتہ ہدایت پر ہیں یا صریح گمراہی میں(24) کہہ دیجیے! نہیں پوچھے جاؤ گے تم اس کی بابت جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم پوچھے جائیں گے اس کی بابت جو تم عمل کرتے ہو(25) کہہ دیجیے: جمع کرے گا ہم سب کو ہمارا رب، پھر وہ فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور وہی ہے فیصلہ کرنے والا، جاننے والا(26) کہہ دیجیے: دکھاؤ تم مجھے، وہ (معبود) جن کو ملا دیا تھا تم نے اس (اللہ) کے ساتھ شریک (ٹھہرا کر)، ہرگز ایسا نہیں بلکہ وہی ہے اللہ غالب حکمت والا (27) [24] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے ان کے شرک کی صحت کی دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین سے تمھیں رزق کون فراہم کرتا ہے؟‘‘ تو وہ لازمی طور پر اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ انھیں رزق مہیا کرتا ہے اگر وہ اس حقیقت کا اقرار نہ کریں تو ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔‘‘ آپ ایک بھی ایسا شخص نہ پائیں گے جو اس بات کو رد کر سکے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زمین و آسمان سے تمھیں رزق عطا کرتا ہے، وہ تمھارے لیے آسمان سے بارش برساتا ہے، وہ تمھارے لیے نباتات اگاتا ہے، وہ تمھارے لیے دریاؤ ں کو جاری کرتا ہے، وہ درختوں پر تمھارے لیے پھل اگاتا ہے، اس نے تمام حیوانات کو تمھارے رزق اور تمھاری دیگر منفعتوں کے لیے تخلیق فرمایا۔ پھر تم اس کے ساتھ ان ہستیوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تمھیں رزق عطا کر سکتی ہیں نہ کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاِنَّـاۤ اَوۡ اِيَّاكُمۡ لَعَلٰى هُدًى اَوۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی ہم دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں غرق ہے۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس پر حق ظاہر اور صواب واضح ہو، جسے اپنے موقف کے حق ہونے اور اپنے مخالف کے موقف کے بطلان کا یقین ہو۔ ہم نے وہ تمام دلائل واضح کر دیے ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں اور جو تم پیش کرتے ہو۔ جن سے کسی شک کے بغیر یقینی علم حاصل ہو جاتا ہے کہ ہم میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ؟ حتی کہ اس کے بعد تعیین ہو جاتی ہےجس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ اس شخص کے درمیان... جو اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، جو ان میں ہر قسم کا تصرف کرتا ہے، جو ہر قسم کی نعمت عطا کرتا ہے، جس نے ان کو رزق مہیا کیا، ان تک ہر قسم کی نعمت پہنچائی، ان سے ہر برائی کو دور کیا۔ تمام حمد وثنا اسی کے لیے ہے، تمام فرشتے اور ان سے کم تر مخلوق اس کی ہیبت کے سامنے سرنگوں اور اس کی عظمت کے سامنے ذلت کا اظہار کرتے ہیں، تمام سفارشی اس سے خائف ہیں، ان میں سے کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا جو اپنی ذات میں، اپنے اوصاف و افعال میں، بہت بلند اور بہت بڑا ہے، جو ہر قسم کے کمال، جلال اور جمال کا مالک ہے، جو ہر قسم کی مجد اور حمد وثنا کا مستحق ہے ، وہ اس ہستی کے تقرب کے حصول کی دعوت دیتا ہے جس کی یہ شان ہے، اس کے لیے اخلاص عمل کا حکم دیتا ہے، اس کے سوا دیگر ہستیوں کی عبادت سے روکتا ہے... اور اس شخص کے درمیان موازنہ کریں جو خودساختہ معبودوں، بتوں اور قبروں کے تقرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے، جو کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں، وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کے لیے، بلکہ یہ تو جمادات اور پتھر ہیں جو عقل رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی پکار کو سنتے ہیں، اگر سن بھی لیں تو ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے روز یہ ان کے شرک کا انکار اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ شراکت اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ان کی سفارش کر سکتے ہیں۔ یہ شخص اس ہستی کو پکارتا ہے، جس کا یہ وصف ہے، امکان بھر اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس شخص کے ساتھ عداوت رکھتا اور اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے جو دین میں اخلاص کا حامل ہے اور وہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں... تو آپ پر واضح ہو جائے گاکہ فریقین میں سے کون ہدایت یافتہ اور کون گمراہ ہے، کون نیک بخت اور کون بدبخت ہے۔ اس بات کی حاجت نہیں کہ اس کو بیان کرنے کے لیے آپ کی کوئی مدد کرے کیونکہ زبانِ حال زبانِ مقال سے زیادہ واضح اور زیادہ فصیح ہے۔ [25]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ انھیں ﴿لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم میں سے اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ ہمارے جرائم اور گناہوں کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور نہ تمھارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا۔ ہمارا اور تمھارا مقصد صرف طلبِ حق اور انصاف کے راستے پر چلنا ہونا چاہیے اور چھوڑو اس بات کو کہ ہم کیا کرتے ہیں، نیز یہ بات تمھارے لیے اتباع حق سے مانع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے احکام ظواہر پر جاری ہوتے ہیں، ان میں حق کی پیروی کی جاتی ہے اور باطل سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ رہے اعمال، تو ان کے فیصلے کے لیے آخرت کا گھر ہے، ان کے بارے میں احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ عادل ہستی فیصلہ کرے گی۔ [26] بنا بریں فرمایا: ﴿قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا ، پھر ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس سے سچے اور جھوٹے، ثواب کے مستحق اور عذاب کے مستحق کے درمیان امتیاز واضح ہو جائے گا اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔ [27]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! آپ اور وہ، جو آپ کا قائم مقام ہو، ان سے کہہ دیں:﴿اَرُوۡنِيَ الَّذِيۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِهٖ شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے اس کا شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔‘‘ یعنی مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں؟ ان کی معرفت کا کیا طریقہ ہے؟ وہ زمین میں ہیں یا آسمان میں؟ کیونکہ غیب اور شہادت کو جاننے والی ہستی نے ہمیں آگاہ فرمایا ہے کہ اس وجود کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾(یونس:10؍18) ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اورکہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، آپ کہہ دیجیے: تم اللہ کو اس بات سے آگاہ کرتے ہو جسے وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں وہ ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ شرک کرتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ ﴾(یونس:10؍66) ’’اور جو یہ لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں، یہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض اندازے لگاتے ہیں۔‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خاص مخلوق، یعنی انبیاء و مرسلین کے علم میں بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہے، تو اے مشرکو! مجھے دکھاؤ جن کو تم نے اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ﴿شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’شریک ‘‘ ٹھہرا دیا ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ان سے ممکن نہیں، اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک، کوئی ہمسر اور کوئی مد مقابل نہیں۔ ﴿بَلۡ هُوَ اللّٰهُ ﴾ ’’بلکہ وہ اللہ ہے‘‘ جس کے سوا کوئی الوہیت اور عبادت کا مستحق نہیں۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب ہے، اس کے سوا ہر چیز مقہور اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے۔ ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے‘‘ اس نے جو چیز بھی تخلیق کی نہایت مہارت سے تخلیق کی۔ اس نے جو شریعت بنائی، بہترین شریعت بنائی۔اگر اس کی شریعت میں صرف یہی حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ اس نے اپنی توحید اور اخلاص فی الدین کا حکم دیا، اسی کو پسند فرمایا اوراسی کو نجات کی راہ قرار دیا ہے، اس نے شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنانے سے روکا اور اس کو ہلاکت اور بدبختی کا راستہ قرار دیا ہے... تو اس کے کمال حکمت کے اثبات کے لیے یہی دلیل کافی ہے... تب اس شریعت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جس کے تمام اوامرونواہی حکمت پر مشتمل ہیں؟

سبأ 34:26

کہہ دیجیے!کون رزق دیتا ہے تم کو آسمانوں اور زمین سے؟ کہہ دیجیے: اللہ ہی، اور بلاشبہ ہم یا تم البتہ ہدایت پر ہیں یا صریح گمراہی میں(24) کہہ دیجیے! نہیں پوچھے جاؤ گے تم اس کی بابت جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم پوچھے جائیں گے اس کی بابت جو تم عمل کرتے ہو(25) کہہ دیجیے: جمع کرے گا ہم سب کو ہمارا رب، پھر وہ فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور وہی ہے فیصلہ کرنے والا، جاننے والا(26) کہہ دیجیے: دکھاؤ تم مجھے، وہ (معبود) جن کو ملا دیا تھا تم نے اس (اللہ) کے ساتھ شریک (ٹھہرا کر)، ہرگز ایسا نہیں بلکہ وہی ہے اللہ غالب حکمت والا (27) [24] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے ان کے شرک کی صحت کی دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین سے تمھیں رزق کون فراہم کرتا ہے؟‘‘ تو وہ لازمی طور پر اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ انھیں رزق مہیا کرتا ہے اگر وہ اس حقیقت کا اقرار نہ کریں تو ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔‘‘ آپ ایک بھی ایسا شخص نہ پائیں گے جو اس بات کو رد کر سکے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زمین و آسمان سے تمھیں رزق عطا کرتا ہے، وہ تمھارے لیے آسمان سے بارش برساتا ہے، وہ تمھارے لیے نباتات اگاتا ہے، وہ تمھارے لیے دریاؤ ں کو جاری کرتا ہے، وہ درختوں پر تمھارے لیے پھل اگاتا ہے، اس نے تمام حیوانات کو تمھارے رزق اور تمھاری دیگر منفعتوں کے لیے تخلیق فرمایا۔ پھر تم اس کے ساتھ ان ہستیوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تمھیں رزق عطا کر سکتی ہیں نہ کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاِنَّـاۤ اَوۡ اِيَّاكُمۡ لَعَلٰى هُدًى اَوۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی ہم دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں غرق ہے۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس پر حق ظاہر اور صواب واضح ہو، جسے اپنے موقف کے حق ہونے اور اپنے مخالف کے موقف کے بطلان کا یقین ہو۔ ہم نے وہ تمام دلائل واضح کر دیے ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں اور جو تم پیش کرتے ہو۔ جن سے کسی شک کے بغیر یقینی علم حاصل ہو جاتا ہے کہ ہم میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ؟ حتی کہ اس کے بعد تعیین ہو جاتی ہےجس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ اس شخص کے درمیان... جو اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، جو ان میں ہر قسم کا تصرف کرتا ہے، جو ہر قسم کی نعمت عطا کرتا ہے، جس نے ان کو رزق مہیا کیا، ان تک ہر قسم کی نعمت پہنچائی، ان سے ہر برائی کو دور کیا۔ تمام حمد وثنا اسی کے لیے ہے، تمام فرشتے اور ان سے کم تر مخلوق اس کی ہیبت کے سامنے سرنگوں اور اس کی عظمت کے سامنے ذلت کا اظہار کرتے ہیں، تمام سفارشی اس سے خائف ہیں، ان میں سے کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا جو اپنی ذات میں، اپنے اوصاف و افعال میں، بہت بلند اور بہت بڑا ہے، جو ہر قسم کے کمال، جلال اور جمال کا مالک ہے، جو ہر قسم کی مجد اور حمد وثنا کا مستحق ہے ، وہ اس ہستی کے تقرب کے حصول کی دعوت دیتا ہے جس کی یہ شان ہے، اس کے لیے اخلاص عمل کا حکم دیتا ہے، اس کے سوا دیگر ہستیوں کی عبادت سے روکتا ہے... اور اس شخص کے درمیان موازنہ کریں جو خودساختہ معبودوں، بتوں اور قبروں کے تقرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے، جو کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں، وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کے لیے، بلکہ یہ تو جمادات اور پتھر ہیں جو عقل رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی پکار کو سنتے ہیں، اگر سن بھی لیں تو ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے روز یہ ان کے شرک کا انکار اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ شراکت اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ان کی سفارش کر سکتے ہیں۔ یہ شخص اس ہستی کو پکارتا ہے، جس کا یہ وصف ہے، امکان بھر اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس شخص کے ساتھ عداوت رکھتا اور اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے جو دین میں اخلاص کا حامل ہے اور وہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں... تو آپ پر واضح ہو جائے گاکہ فریقین میں سے کون ہدایت یافتہ اور کون گمراہ ہے، کون نیک بخت اور کون بدبخت ہے۔ اس بات کی حاجت نہیں کہ اس کو بیان کرنے کے لیے آپ کی کوئی مدد کرے کیونکہ زبانِ حال زبانِ مقال سے زیادہ واضح اور زیادہ فصیح ہے۔ [25]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ انھیں ﴿لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم میں سے اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ ہمارے جرائم اور گناہوں کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور نہ تمھارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا۔ ہمارا اور تمھارا مقصد صرف طلبِ حق اور انصاف کے راستے پر چلنا ہونا چاہیے اور چھوڑو اس بات کو کہ ہم کیا کرتے ہیں، نیز یہ بات تمھارے لیے اتباع حق سے مانع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے احکام ظواہر پر جاری ہوتے ہیں، ان میں حق کی پیروی کی جاتی ہے اور باطل سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ رہے اعمال، تو ان کے فیصلے کے لیے آخرت کا گھر ہے، ان کے بارے میں احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ عادل ہستی فیصلہ کرے گی۔ [26] بنا بریں فرمایا: ﴿قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا ، پھر ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس سے سچے اور جھوٹے، ثواب کے مستحق اور عذاب کے مستحق کے درمیان امتیاز واضح ہو جائے گا اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔ [27]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! آپ اور وہ، جو آپ کا قائم مقام ہو، ان سے کہہ دیں:﴿اَرُوۡنِيَ الَّذِيۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِهٖ شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے اس کا شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔‘‘ یعنی مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں؟ ان کی معرفت کا کیا طریقہ ہے؟ وہ زمین میں ہیں یا آسمان میں؟ کیونکہ غیب اور شہادت کو جاننے والی ہستی نے ہمیں آگاہ فرمایا ہے کہ اس وجود کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾(یونس:10؍18) ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اورکہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، آپ کہہ دیجیے: تم اللہ کو اس بات سے آگاہ کرتے ہو جسے وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں وہ ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ شرک کرتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ ﴾(یونس:10؍66) ’’اور جو یہ لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں، یہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض اندازے لگاتے ہیں۔‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خاص مخلوق، یعنی انبیاء و مرسلین کے علم میں بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہے، تو اے مشرکو! مجھے دکھاؤ جن کو تم نے اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ﴿شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’شریک ‘‘ ٹھہرا دیا ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ان سے ممکن نہیں، اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک، کوئی ہمسر اور کوئی مد مقابل نہیں۔ ﴿بَلۡ هُوَ اللّٰهُ ﴾ ’’بلکہ وہ اللہ ہے‘‘ جس کے سوا کوئی الوہیت اور عبادت کا مستحق نہیں۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب ہے، اس کے سوا ہر چیز مقہور اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے۔ ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے‘‘ اس نے جو چیز بھی تخلیق کی نہایت مہارت سے تخلیق کی۔ اس نے جو شریعت بنائی، بہترین شریعت بنائی۔اگر اس کی شریعت میں صرف یہی حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ اس نے اپنی توحید اور اخلاص فی الدین کا حکم دیا، اسی کو پسند فرمایا اوراسی کو نجات کی راہ قرار دیا ہے، اس نے شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنانے سے روکا اور اس کو ہلاکت اور بدبختی کا راستہ قرار دیا ہے... تو اس کے کمال حکمت کے اثبات کے لیے یہی دلیل کافی ہے... تب اس شریعت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جس کے تمام اوامرونواہی حکمت پر مشتمل ہیں؟

سبأ 34:27

کہہ دیجیے!کون رزق دیتا ہے تم کو آسمانوں اور زمین سے؟ کہہ دیجیے: اللہ ہی، اور بلاشبہ ہم یا تم البتہ ہدایت پر ہیں یا صریح گمراہی میں(24) کہہ دیجیے! نہیں پوچھے جاؤ گے تم اس کی بابت جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم پوچھے جائیں گے اس کی بابت جو تم عمل کرتے ہو(25) کہہ دیجیے: جمع کرے گا ہم سب کو ہمارا رب، پھر وہ فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور وہی ہے فیصلہ کرنے والا، جاننے والا(26) کہہ دیجیے: دکھاؤ تم مجھے، وہ (معبود) جن کو ملا دیا تھا تم نے اس (اللہ) کے ساتھ شریک (ٹھہرا کر)، ہرگز ایسا نہیں بلکہ وہی ہے اللہ غالب حکمت والا (27) [24] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے ان کے شرک کی صحت کی دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین سے تمھیں رزق کون فراہم کرتا ہے؟‘‘ تو وہ لازمی طور پر اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ انھیں رزق مہیا کرتا ہے اگر وہ اس حقیقت کا اقرار نہ کریں تو ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔‘‘ آپ ایک بھی ایسا شخص نہ پائیں گے جو اس بات کو رد کر سکے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زمین و آسمان سے تمھیں رزق عطا کرتا ہے، وہ تمھارے لیے آسمان سے بارش برساتا ہے، وہ تمھارے لیے نباتات اگاتا ہے، وہ تمھارے لیے دریاؤ ں کو جاری کرتا ہے، وہ درختوں پر تمھارے لیے پھل اگاتا ہے، اس نے تمام حیوانات کو تمھارے رزق اور تمھاری دیگر منفعتوں کے لیے تخلیق فرمایا۔ پھر تم اس کے ساتھ ان ہستیوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تمھیں رزق عطا کر سکتی ہیں نہ کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاِنَّـاۤ اَوۡ اِيَّاكُمۡ لَعَلٰى هُدًى اَوۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی ہم دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں غرق ہے۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس پر حق ظاہر اور صواب واضح ہو، جسے اپنے موقف کے حق ہونے اور اپنے مخالف کے موقف کے بطلان کا یقین ہو۔ ہم نے وہ تمام دلائل واضح کر دیے ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں اور جو تم پیش کرتے ہو۔ جن سے کسی شک کے بغیر یقینی علم حاصل ہو جاتا ہے کہ ہم میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ؟ حتی کہ اس کے بعد تعیین ہو جاتی ہےجس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ اس شخص کے درمیان... جو اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، جو ان میں ہر قسم کا تصرف کرتا ہے، جو ہر قسم کی نعمت عطا کرتا ہے، جس نے ان کو رزق مہیا کیا، ان تک ہر قسم کی نعمت پہنچائی، ان سے ہر برائی کو دور کیا۔ تمام حمد وثنا اسی کے لیے ہے، تمام فرشتے اور ان سے کم تر مخلوق اس کی ہیبت کے سامنے سرنگوں اور اس کی عظمت کے سامنے ذلت کا اظہار کرتے ہیں، تمام سفارشی اس سے خائف ہیں، ان میں سے کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا جو اپنی ذات میں، اپنے اوصاف و افعال میں، بہت بلند اور بہت بڑا ہے، جو ہر قسم کے کمال، جلال اور جمال کا مالک ہے، جو ہر قسم کی مجد اور حمد وثنا کا مستحق ہے ، وہ اس ہستی کے تقرب کے حصول کی دعوت دیتا ہے جس کی یہ شان ہے، اس کے لیے اخلاص عمل کا حکم دیتا ہے، اس کے سوا دیگر ہستیوں کی عبادت سے روکتا ہے... اور اس شخص کے درمیان موازنہ کریں جو خودساختہ معبودوں، بتوں اور قبروں کے تقرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے، جو کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں، وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کے لیے، بلکہ یہ تو جمادات اور پتھر ہیں جو عقل رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی پکار کو سنتے ہیں، اگر سن بھی لیں تو ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے روز یہ ان کے شرک کا انکار اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ شراکت اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ان کی سفارش کر سکتے ہیں۔ یہ شخص اس ہستی کو پکارتا ہے، جس کا یہ وصف ہے، امکان بھر اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس شخص کے ساتھ عداوت رکھتا اور اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے جو دین میں اخلاص کا حامل ہے اور وہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں... تو آپ پر واضح ہو جائے گاکہ فریقین میں سے کون ہدایت یافتہ اور کون گمراہ ہے، کون نیک بخت اور کون بدبخت ہے۔ اس بات کی حاجت نہیں کہ اس کو بیان کرنے کے لیے آپ کی کوئی مدد کرے کیونکہ زبانِ حال زبانِ مقال سے زیادہ واضح اور زیادہ فصیح ہے۔ [25]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ انھیں ﴿لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم میں سے اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ ہمارے جرائم اور گناہوں کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور نہ تمھارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا۔ ہمارا اور تمھارا مقصد صرف طلبِ حق اور انصاف کے راستے پر چلنا ہونا چاہیے اور چھوڑو اس بات کو کہ ہم کیا کرتے ہیں، نیز یہ بات تمھارے لیے اتباع حق سے مانع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے احکام ظواہر پر جاری ہوتے ہیں، ان میں حق کی پیروی کی جاتی ہے اور باطل سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ رہے اعمال، تو ان کے فیصلے کے لیے آخرت کا گھر ہے، ان کے بارے میں احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ عادل ہستی فیصلہ کرے گی۔ [26] بنا بریں فرمایا: ﴿قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا ، پھر ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس سے سچے اور جھوٹے، ثواب کے مستحق اور عذاب کے مستحق کے درمیان امتیاز واضح ہو جائے گا اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔ [27]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! آپ اور وہ، جو آپ کا قائم مقام ہو، ان سے کہہ دیں:﴿اَرُوۡنِيَ الَّذِيۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِهٖ شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے اس کا شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔‘‘ یعنی مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں؟ ان کی معرفت کا کیا طریقہ ہے؟ وہ زمین میں ہیں یا آسمان میں؟ کیونکہ غیب اور شہادت کو جاننے والی ہستی نے ہمیں آگاہ فرمایا ہے کہ اس وجود کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾(یونس:10؍18) ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اورکہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، آپ کہہ دیجیے: تم اللہ کو اس بات سے آگاہ کرتے ہو جسے وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں وہ ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ شرک کرتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ ﴾(یونس:10؍66) ’’اور جو یہ لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں، یہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض اندازے لگاتے ہیں۔‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خاص مخلوق، یعنی انبیاء و مرسلین کے علم میں بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہے، تو اے مشرکو! مجھے دکھاؤ جن کو تم نے اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ﴿شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’شریک ‘‘ ٹھہرا دیا ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ان سے ممکن نہیں، اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک، کوئی ہمسر اور کوئی مد مقابل نہیں۔ ﴿بَلۡ هُوَ اللّٰهُ ﴾ ’’بلکہ وہ اللہ ہے‘‘ جس کے سوا کوئی الوہیت اور عبادت کا مستحق نہیں۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب ہے، اس کے سوا ہر چیز مقہور اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے۔ ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے‘‘ اس نے جو چیز بھی تخلیق کی نہایت مہارت سے تخلیق کی۔ اس نے جو شریعت بنائی، بہترین شریعت بنائی۔اگر اس کی شریعت میں صرف یہی حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ اس نے اپنی توحید اور اخلاص فی الدین کا حکم دیا، اسی کو پسند فرمایا اوراسی کو نجات کی راہ قرار دیا ہے، اس نے شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنانے سے روکا اور اس کو ہلاکت اور بدبختی کا راستہ قرار دیا ہے... تو اس کے کمال حکمت کے اثبات کے لیے یہی دلیل کافی ہے... تب اس شریعت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جس کے تمام اوامرونواہی حکمت پر مشتمل ہیں؟

سبأ 34:28

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام انسانوں کے لیے، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا (بنا کر) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(28) اور وہ کہتے ہیں، کب (پورا) ہوگا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟(29) کہہ دیجیے! تمھارے لیے وعدہ ہے ایک ایسے دن کا کہ نہ تم پیچھے رہ سکو گے اس سے ایک گھڑی اور نہ تم آگے بڑھ سکو گے(30) [28] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو صرف اس لیے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوشخبری دے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد رکھتے ہیں اور اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتے، تب ان کا حال یہ ہے کہ گویا ان کے پاس علم ہی نہیں۔ جن کے پاس علم نہ ہو، ان کا رسول سے معجزے کا مطالبہ پورا نہ ہونا، رسول کی دعوت کو ٹھکرانے کا موجب ہوتا ہے۔ [29] انھوں نے جن چیزوں کا مطالبہ کیا تھا ان میں سے ایک عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ تھا جس سے انھیں ڈرایا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کہتے ہیں، اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب وقوع پذیر ہو گا؟‘‘ یہ مطالبہ ان کی طرف سے محض ظلم تھا کیونکہ رسول کی صداقت اور اس وعدے کے پورا ہونے کے وقت سے آگاہ کرنے میں کون سا تلازم ہے؟ کیا یہ حق کو ٹھکرانے اور حماقت و سفاہت کے سوا کچھ اور ہے؟ کیا دنیا کے کسی معاملے میں ڈرانے والا کوئی شخص اگر ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اس کی صداقت اور خیرخواہی کو جانتے ہیں اور ان کا ایک دشمن بھی ہے جو ان پر حملہ کرنے کے لیے تیار اور اس کے لیے موقع کا متلاشی ہے، تو یہ شخص ان لوگوں کے پاس آ کر کہتا ہے: ’’میں تمھارے دشمن کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ روانہ ہو چکا ہے وہ تمھیں نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔‘‘ اگر ان میں سے بعض لوگ کہیں: ’’اگر تو سچا ہے تو ہمیں بتا کہ کس وقت وہ ہمارے پاس پہنچے گا اور اس وقت وہ کہاں ہے؟‘‘ کیا یہ سوال کرنے والا شخص عقل مند شمار کیا جائے گا یا اس پر سفاہت اور پاگل پن کا حکم لگایا جائے گا؟خبر دینے والا سچا یا جھوٹا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن کا ارادہ کسی اور طرف کا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ دشمن اپنا ارادہ ترک کر دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی مضبوط قلعے میں ہوں جہاں وہ اس دشمن سے اپنی مدافعت کر سکتے ہوں۔ تب وہ اس شخص کو کیوں کر جھٹلا سکتے ہیں جو مخلوق میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے، جو اپنی خبر میں ہر غلطی سے پاک ہے، جو اس آنے والے یقینی عذاب کے بارے میں اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتا، اس عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ اس سے بچانے والا کوئی مددگار ہے۔ کیا اس شخص کی خبر کو محض اس لیے رد کرنا کہ اس عذاب کے وقوع کا وقت نہیں بتایا گیا، سب سے بڑی حماقت نہیں! [30]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ ان کو اس عذاب کے وقوع کی خبر دیتے ہوئے جس میں کوئی شک نہیں ﴿لَّكُمۡ مِّؔيۡعَادُ يَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ عَنۡهُ سَاعَةً وَّلَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾ ’’تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے۔‘‘ پس اس دن سے ڈرو اور اس کے لیے تیاری کرو۔

سبأ 34:29

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام انسانوں کے لیے، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا (بنا کر) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(28) اور وہ کہتے ہیں، کب (پورا) ہوگا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟(29) کہہ دیجیے! تمھارے لیے وعدہ ہے ایک ایسے دن کا کہ نہ تم پیچھے رہ سکو گے اس سے ایک گھڑی اور نہ تم آگے بڑھ سکو گے(30) [28] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو صرف اس لیے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوشخبری دے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد رکھتے ہیں اور اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتے، تب ان کا حال یہ ہے کہ گویا ان کے پاس علم ہی نہیں۔ جن کے پاس علم نہ ہو، ان کا رسول سے معجزے کا مطالبہ پورا نہ ہونا، رسول کی دعوت کو ٹھکرانے کا موجب ہوتا ہے۔ [29] انھوں نے جن چیزوں کا مطالبہ کیا تھا ان میں سے ایک عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ تھا جس سے انھیں ڈرایا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کہتے ہیں، اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب وقوع پذیر ہو گا؟‘‘ یہ مطالبہ ان کی طرف سے محض ظلم تھا کیونکہ رسول کی صداقت اور اس وعدے کے پورا ہونے کے وقت سے آگاہ کرنے میں کون سا تلازم ہے؟ کیا یہ حق کو ٹھکرانے اور حماقت و سفاہت کے سوا کچھ اور ہے؟ کیا دنیا کے کسی معاملے میں ڈرانے والا کوئی شخص اگر ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اس کی صداقت اور خیرخواہی کو جانتے ہیں اور ان کا ایک دشمن بھی ہے جو ان پر حملہ کرنے کے لیے تیار اور اس کے لیے موقع کا متلاشی ہے، تو یہ شخص ان لوگوں کے پاس آ کر کہتا ہے: ’’میں تمھارے دشمن کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ روانہ ہو چکا ہے وہ تمھیں نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔‘‘ اگر ان میں سے بعض لوگ کہیں: ’’اگر تو سچا ہے تو ہمیں بتا کہ کس وقت وہ ہمارے پاس پہنچے گا اور اس وقت وہ کہاں ہے؟‘‘ کیا یہ سوال کرنے والا شخص عقل مند شمار کیا جائے گا یا اس پر سفاہت اور پاگل پن کا حکم لگایا جائے گا؟خبر دینے والا سچا یا جھوٹا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن کا ارادہ کسی اور طرف کا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ دشمن اپنا ارادہ ترک کر دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی مضبوط قلعے میں ہوں جہاں وہ اس دشمن سے اپنی مدافعت کر سکتے ہوں۔ تب وہ اس شخص کو کیوں کر جھٹلا سکتے ہیں جو مخلوق میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے، جو اپنی خبر میں ہر غلطی سے پاک ہے، جو اس آنے والے یقینی عذاب کے بارے میں اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتا، اس عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ اس سے بچانے والا کوئی مددگار ہے۔ کیا اس شخص کی خبر کو محض اس لیے رد کرنا کہ اس عذاب کے وقوع کا وقت نہیں بتایا گیا، سب سے بڑی حماقت نہیں! [30]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ ان کو اس عذاب کے وقوع کی خبر دیتے ہوئے جس میں کوئی شک نہیں ﴿لَّكُمۡ مِّؔيۡعَادُ يَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ عَنۡهُ سَاعَةً وَّلَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾ ’’تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے۔‘‘ پس اس دن سے ڈرو اور اس کے لیے تیاری کرو۔

سبأ 34:30

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام انسانوں کے لیے، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا (بنا کر) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(28) اور وہ کہتے ہیں، کب (پورا) ہوگا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟(29) کہہ دیجیے! تمھارے لیے وعدہ ہے ایک ایسے دن کا کہ نہ تم پیچھے رہ سکو گے اس سے ایک گھڑی اور نہ تم آگے بڑھ سکو گے(30) [28] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو صرف اس لیے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوشخبری دے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد رکھتے ہیں اور اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتے، تب ان کا حال یہ ہے کہ گویا ان کے پاس علم ہی نہیں۔ جن کے پاس علم نہ ہو، ان کا رسول سے معجزے کا مطالبہ پورا نہ ہونا، رسول کی دعوت کو ٹھکرانے کا موجب ہوتا ہے۔ [29] انھوں نے جن چیزوں کا مطالبہ کیا تھا ان میں سے ایک عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ تھا جس سے انھیں ڈرایا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کہتے ہیں، اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب وقوع پذیر ہو گا؟‘‘ یہ مطالبہ ان کی طرف سے محض ظلم تھا کیونکہ رسول کی صداقت اور اس وعدے کے پورا ہونے کے وقت سے آگاہ کرنے میں کون سا تلازم ہے؟ کیا یہ حق کو ٹھکرانے اور حماقت و سفاہت کے سوا کچھ اور ہے؟ کیا دنیا کے کسی معاملے میں ڈرانے والا کوئی شخص اگر ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اس کی صداقت اور خیرخواہی کو جانتے ہیں اور ان کا ایک دشمن بھی ہے جو ان پر حملہ کرنے کے لیے تیار اور اس کے لیے موقع کا متلاشی ہے، تو یہ شخص ان لوگوں کے پاس آ کر کہتا ہے: ’’میں تمھارے دشمن کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ روانہ ہو چکا ہے وہ تمھیں نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔‘‘ اگر ان میں سے بعض لوگ کہیں: ’’اگر تو سچا ہے تو ہمیں بتا کہ کس وقت وہ ہمارے پاس پہنچے گا اور اس وقت وہ کہاں ہے؟‘‘ کیا یہ سوال کرنے والا شخص عقل مند شمار کیا جائے گا یا اس پر سفاہت اور پاگل پن کا حکم لگایا جائے گا؟خبر دینے والا سچا یا جھوٹا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن کا ارادہ کسی اور طرف کا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ دشمن اپنا ارادہ ترک کر دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی مضبوط قلعے میں ہوں جہاں وہ اس دشمن سے اپنی مدافعت کر سکتے ہوں۔ تب وہ اس شخص کو کیوں کر جھٹلا سکتے ہیں جو مخلوق میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے، جو اپنی خبر میں ہر غلطی سے پاک ہے، جو اس آنے والے یقینی عذاب کے بارے میں اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتا، اس عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ اس سے بچانے والا کوئی مددگار ہے۔ کیا اس شخص کی خبر کو محض اس لیے رد کرنا کہ اس عذاب کے وقوع کا وقت نہیں بتایا گیا، سب سے بڑی حماقت نہیں! [30]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ ان کو اس عذاب کے وقوع کی خبر دیتے ہوئے جس میں کوئی شک نہیں ﴿لَّكُمۡ مِّؔيۡعَادُ يَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ عَنۡهُ سَاعَةً وَّلَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾ ’’تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے۔‘‘ پس اس دن سے ڈرو اور اس کے لیے تیاری کرو۔

سبأ 34:31

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم ا س قرآن پر او ر نہ ان (کتابوں) پرجو اس سے پہلے تھیں اور آپ اگر دیکھیں جب ظالم لوگ کھڑے کیے جائیں گے سامنے اپنے رب کے، جبکہ رد کر رہا ہوگا بعض ان کا بعض کی بات کا، (تو آپ کو تعجب ہو گا)کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان لوگوں سے جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے اگر نہ ہوتے تم تو یقیناً ہوتے ہم مومن(31)کہیں گے وہ لوگ جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے، ان سے جو کمزور سمجھے جاتے تھے، کیا ہم نے روک دیا تھا تمھیں ہدایت(اختیار کرنے) سے بعد اس کے جب وہ آ گئی تھی تمھارے پاس؟بلکہ تھے تم (خود ہی) مجرم(32)اور کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان سے جو بڑے بنتے تھے، (نہیں)بلکہ (تمھاری) رات اور دن کی چالوں ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب حکم دیتے تھے تم ہمیں یہ کہ کفر کریں ہم ساتھ اللہ کے اور ٹھہرائیں اس کے لیے شریک، اور چھپائیں گے وہ ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب، اور ہم کر (ڈال) دیں گے طوق گردنوں میں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ، مگر(اسی کا) جو تھے وہ عمل کرتے(33) [31] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے لیے عذاب کا جو وعدہ کیا گیا ہے اپنے وقت پر اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہاں فرمایا کہ اگر آپ اس روز ان کا حال دیکھیں، جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، سردار اور کفروضلالت میں ان کی پیروی کرنے والے اکٹھے کھڑے ہوں گے، تو آپ کو بہت بڑا اور انتہائی ہولناک معاملہ نظر آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی بات کو رد کرتے ہیں۔ ﴿يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کمزور کیے گئے تھے وہ کہیں گے‘‘ یعنی متبعین ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ ’’ان سے جنھوں نے تکبر کیا۔‘‘ اس سے مراد قائدین کفر ہیں ﴿لَوۡلَاۤ اَنۡتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔‘‘ مگر تم ہمارے اور ایمان کے درمیان حائل ہو گئے، تم نے کفر کو ہمارے سامنے مزین کیا اور تمھاری پیروی میں ہم نے کفر کو اختیار کیا۔ ایسا کہنے میں ان کا مقصود یہ ہو گا کہ ان کی بجائے عذاب ان سرداروں کو دیا جائے۔ [32]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا ﴾ ’’جنھوں نے تکبر کیا وہ کمزور بنائے ہوئے لوگوں سے کہیں گے۔‘‘ یہ سردار استفہامی انداز میں ان کو خبر دیں گے کہ سب اس عذاب کو بھگتیں گے۔ ﴿اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰكُمۡ عَنِ الۡهُدٰؔى بَعۡدَ اِذۡ جَآءَكُمۡ ﴾ ’’کیا ہم نے تمھیں ہدایت آجانے کے بعد اس سے روکا تھا؟، ، یعنی کیا ہم نے تمھیں اپنی قوت اور غلبے کی وجہ سے ایمان لانے سے روکا تھا؟ ﴿بَلۡ كُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم مجرم تھے۔‘‘ یعنی تم مقہور ومغلوب نہ تھے، تم سے جبراً کفر کا ارتکاب نہیں کرایا گیا تھا بلکہ تم نے اپنے اختیار سے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اگرچہ ہم نے تمھارے سامنے کفر کو مزین کیا تھا، تاہم تم پر ہمیں کوئی تسلط اور اختیار تو حاصل نہ تھا۔ [33]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا بَلۡ مَكۡرُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ اِذۡ تَاۡمُرُوۡنَنَاۤ۠ اَنۡ نَّـكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَنَجۡعَلَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور کمزور لوگ تکبر کرنے والے لوگوں سے کہیں گے، بلکہ تم رات دن مکر وفریب کرتے رہتے تھے جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا انکار کریں اور اس کے لیے شریک ٹھرائیں۔‘‘ یعنی تم نے جو دن رات سازشیں کیں اور تم نے ہمارے ساتھ مکروفریب کیا اور اس مکروفریب سے ہم پر گمراہی کو مسلط کیا، تم ہمارے سامنے کفر کو مزین کیا کرتے تھے ، پھر اس کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ تم اس کے بارے میں دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ حق ہے اور حق میں جرح و قدح کر کے اس کی قدر گھٹایا کرتے تھے اور بزعم خود حق کو باطل قرار دیا کرتے تھے۔ تم ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے یہاں تک کہ تم نے ہمیں گمراہ کر کے فتنے میں مبتلا کر دیا۔آپس میں ان کی یہ گفتگو اس کے سوا انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی کہ وہ ایک دوسرے سے بیزاری اور سخت ندامت کا اظہار کریں گے، اس لیے فرمایا:﴿وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ﴾ ’’اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔‘‘ یعنی اس حجت کا تاروپود بکھر جائے گا جس کے ذریعے سے وہ ایک دوسرے پر حجت قائم کرتے تھے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ وہ ظالم ہیں اور عذاب کے مستحق ہیں۔ ان میں سے ہر مجرم بے حد پشیمان ہو گا اور وہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ حق پر ہوتا اور اس نے باطل کو چھوڑ دیا ہوتا جس نے اسے اس عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ اپنے جرائم کا اقرار کر لینے کی فضیحت کا خوف ان پر چھا جائے گا۔قیامت کے بعض مواقف پر اور جہنم میں داخل ہوتے وقت، وہ بآواز بلند اپنی ندامت کا اظہار کریں گے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا ﴾(الفرقان:25/27-28) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش! میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ۰۰ فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۢۡبِهِمۡ١ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ ﴾(الملک : 67 ؍10۔11)’’وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو ہم اصحاب جہنم میں شامل نہ ہوتے، وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے۔ پس جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔‘‘﴿وَجَعَلۡنَا الۡاَغۡلٰلَ فِيۡۤ اَعۡنَاقِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ان کو بیڑیاں پہنائی جائیں گی جیسے اس قیدی کو پہنا دی جاتی ہیں جس کی قید میں اہانت مقصود ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ وَالسَّلٰسِلُ١ؕ يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾(المؤمن:40؍71۔72) ’’جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں پہنا دی جائیں گی، پھر انھیں کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ ﴿هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ یہ عذاب اور یہ سزا جو انھیں دی گئی ہے اور یہ بوجھل طوق جو انھیں پہنائے گئے ہیں ﴿اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ صرف ان اعمال کی پاداش میں ہے جن کا وہ کفر، فسق اور نافرمانی کرکے ارتکاب کیا کرتے تھے۔

سبأ 34:32

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم ا س قرآن پر او ر نہ ان (کتابوں) پرجو اس سے پہلے تھیں اور آپ اگر دیکھیں جب ظالم لوگ کھڑے کیے جائیں گے سامنے اپنے رب کے، جبکہ رد کر رہا ہوگا بعض ان کا بعض کی بات کا، (تو آپ کو تعجب ہو گا)کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان لوگوں سے جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے اگر نہ ہوتے تم تو یقیناً ہوتے ہم مومن(31)کہیں گے وہ لوگ جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے، ان سے جو کمزور سمجھے جاتے تھے، کیا ہم نے روک دیا تھا تمھیں ہدایت(اختیار کرنے) سے بعد اس کے جب وہ آ گئی تھی تمھارے پاس؟بلکہ تھے تم (خود ہی) مجرم(32)اور کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان سے جو بڑے بنتے تھے، (نہیں)بلکہ (تمھاری) رات اور دن کی چالوں ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب حکم دیتے تھے تم ہمیں یہ کہ کفر کریں ہم ساتھ اللہ کے اور ٹھہرائیں اس کے لیے شریک، اور چھپائیں گے وہ ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب، اور ہم کر (ڈال) دیں گے طوق گردنوں میں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ، مگر(اسی کا) جو تھے وہ عمل کرتے(33) [31] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے لیے عذاب کا جو وعدہ کیا گیا ہے اپنے وقت پر اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہاں فرمایا کہ اگر آپ اس روز ان کا حال دیکھیں، جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، سردار اور کفروضلالت میں ان کی پیروی کرنے والے اکٹھے کھڑے ہوں گے، تو آپ کو بہت بڑا اور انتہائی ہولناک معاملہ نظر آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی بات کو رد کرتے ہیں۔ ﴿يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کمزور کیے گئے تھے وہ کہیں گے‘‘ یعنی متبعین ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ ’’ان سے جنھوں نے تکبر کیا۔‘‘ اس سے مراد قائدین کفر ہیں ﴿لَوۡلَاۤ اَنۡتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔‘‘ مگر تم ہمارے اور ایمان کے درمیان حائل ہو گئے، تم نے کفر کو ہمارے سامنے مزین کیا اور تمھاری پیروی میں ہم نے کفر کو اختیار کیا۔ ایسا کہنے میں ان کا مقصود یہ ہو گا کہ ان کی بجائے عذاب ان سرداروں کو دیا جائے۔ [32]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا ﴾ ’’جنھوں نے تکبر کیا وہ کمزور بنائے ہوئے لوگوں سے کہیں گے۔‘‘ یہ سردار استفہامی انداز میں ان کو خبر دیں گے کہ سب اس عذاب کو بھگتیں گے۔ ﴿اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰكُمۡ عَنِ الۡهُدٰؔى بَعۡدَ اِذۡ جَآءَكُمۡ ﴾ ’’کیا ہم نے تمھیں ہدایت آجانے کے بعد اس سے روکا تھا؟، ، یعنی کیا ہم نے تمھیں اپنی قوت اور غلبے کی وجہ سے ایمان لانے سے روکا تھا؟ ﴿بَلۡ كُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم مجرم تھے۔‘‘ یعنی تم مقہور ومغلوب نہ تھے، تم سے جبراً کفر کا ارتکاب نہیں کرایا گیا تھا بلکہ تم نے اپنے اختیار سے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اگرچہ ہم نے تمھارے سامنے کفر کو مزین کیا تھا، تاہم تم پر ہمیں کوئی تسلط اور اختیار تو حاصل نہ تھا۔ [33]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا بَلۡ مَكۡرُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ اِذۡ تَاۡمُرُوۡنَنَاۤ۠ اَنۡ نَّـكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَنَجۡعَلَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور کمزور لوگ تکبر کرنے والے لوگوں سے کہیں گے، بلکہ تم رات دن مکر وفریب کرتے رہتے تھے جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا انکار کریں اور اس کے لیے شریک ٹھرائیں۔‘‘ یعنی تم نے جو دن رات سازشیں کیں اور تم نے ہمارے ساتھ مکروفریب کیا اور اس مکروفریب سے ہم پر گمراہی کو مسلط کیا، تم ہمارے سامنے کفر کو مزین کیا کرتے تھے ، پھر اس کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ تم اس کے بارے میں دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ حق ہے اور حق میں جرح و قدح کر کے اس کی قدر گھٹایا کرتے تھے اور بزعم خود حق کو باطل قرار دیا کرتے تھے۔ تم ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے یہاں تک کہ تم نے ہمیں گمراہ کر کے فتنے میں مبتلا کر دیا۔آپس میں ان کی یہ گفتگو اس کے سوا انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی کہ وہ ایک دوسرے سے بیزاری اور سخت ندامت کا اظہار کریں گے، اس لیے فرمایا:﴿وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ﴾ ’’اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔‘‘ یعنی اس حجت کا تاروپود بکھر جائے گا جس کے ذریعے سے وہ ایک دوسرے پر حجت قائم کرتے تھے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ وہ ظالم ہیں اور عذاب کے مستحق ہیں۔ ان میں سے ہر مجرم بے حد پشیمان ہو گا اور وہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ حق پر ہوتا اور اس نے باطل کو چھوڑ دیا ہوتا جس نے اسے اس عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ اپنے جرائم کا اقرار کر لینے کی فضیحت کا خوف ان پر چھا جائے گا۔قیامت کے بعض مواقف پر اور جہنم میں داخل ہوتے وقت، وہ بآواز بلند اپنی ندامت کا اظہار کریں گے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا ﴾(الفرقان:25/27-28) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش! میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ۰۰ فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۢۡبِهِمۡ١ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ ﴾(الملک : 67 ؍10۔11)’’وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو ہم اصحاب جہنم میں شامل نہ ہوتے، وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے۔ پس جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔‘‘﴿وَجَعَلۡنَا الۡاَغۡلٰلَ فِيۡۤ اَعۡنَاقِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ان کو بیڑیاں پہنائی جائیں گی جیسے اس قیدی کو پہنا دی جاتی ہیں جس کی قید میں اہانت مقصود ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ وَالسَّلٰسِلُ١ؕ يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾(المؤمن:40؍71۔72) ’’جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں پہنا دی جائیں گی، پھر انھیں کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ ﴿هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ یہ عذاب اور یہ سزا جو انھیں دی گئی ہے اور یہ بوجھل طوق جو انھیں پہنائے گئے ہیں ﴿اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ صرف ان اعمال کی پاداش میں ہے جن کا وہ کفر، فسق اور نافرمانی کرکے ارتکاب کیا کرتے تھے۔

سبأ 34:33

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم ا س قرآن پر او ر نہ ان (کتابوں) پرجو اس سے پہلے تھیں اور آپ اگر دیکھیں جب ظالم لوگ کھڑے کیے جائیں گے سامنے اپنے رب کے، جبکہ رد کر رہا ہوگا بعض ان کا بعض کی بات کا، (تو آپ کو تعجب ہو گا)کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان لوگوں سے جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے اگر نہ ہوتے تم تو یقیناً ہوتے ہم مومن(31)کہیں گے وہ لوگ جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے، ان سے جو کمزور سمجھے جاتے تھے، کیا ہم نے روک دیا تھا تمھیں ہدایت(اختیار کرنے) سے بعد اس کے جب وہ آ گئی تھی تمھارے پاس؟بلکہ تھے تم (خود ہی) مجرم(32)اور کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان سے جو بڑے بنتے تھے، (نہیں)بلکہ (تمھاری) رات اور دن کی چالوں ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب حکم دیتے تھے تم ہمیں یہ کہ کفر کریں ہم ساتھ اللہ کے اور ٹھہرائیں اس کے لیے شریک، اور چھپائیں گے وہ ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب، اور ہم کر (ڈال) دیں گے طوق گردنوں میں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ، مگر(اسی کا) جو تھے وہ عمل کرتے(33) [31] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے لیے عذاب کا جو وعدہ کیا گیا ہے اپنے وقت پر اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہاں فرمایا کہ اگر آپ اس روز ان کا حال دیکھیں، جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، سردار اور کفروضلالت میں ان کی پیروی کرنے والے اکٹھے کھڑے ہوں گے، تو آپ کو بہت بڑا اور انتہائی ہولناک معاملہ نظر آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی بات کو رد کرتے ہیں۔ ﴿يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کمزور کیے گئے تھے وہ کہیں گے‘‘ یعنی متبعین ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ ’’ان سے جنھوں نے تکبر کیا۔‘‘ اس سے مراد قائدین کفر ہیں ﴿لَوۡلَاۤ اَنۡتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔‘‘ مگر تم ہمارے اور ایمان کے درمیان حائل ہو گئے، تم نے کفر کو ہمارے سامنے مزین کیا اور تمھاری پیروی میں ہم نے کفر کو اختیار کیا۔ ایسا کہنے میں ان کا مقصود یہ ہو گا کہ ان کی بجائے عذاب ان سرداروں کو دیا جائے۔ [32]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا ﴾ ’’جنھوں نے تکبر کیا وہ کمزور بنائے ہوئے لوگوں سے کہیں گے۔‘‘ یہ سردار استفہامی انداز میں ان کو خبر دیں گے کہ سب اس عذاب کو بھگتیں گے۔ ﴿اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰكُمۡ عَنِ الۡهُدٰؔى بَعۡدَ اِذۡ جَآءَكُمۡ ﴾ ’’کیا ہم نے تمھیں ہدایت آجانے کے بعد اس سے روکا تھا؟، ، یعنی کیا ہم نے تمھیں اپنی قوت اور غلبے کی وجہ سے ایمان لانے سے روکا تھا؟ ﴿بَلۡ كُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم مجرم تھے۔‘‘ یعنی تم مقہور ومغلوب نہ تھے، تم سے جبراً کفر کا ارتکاب نہیں کرایا گیا تھا بلکہ تم نے اپنے اختیار سے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اگرچہ ہم نے تمھارے سامنے کفر کو مزین کیا تھا، تاہم تم پر ہمیں کوئی تسلط اور اختیار تو حاصل نہ تھا۔ [33]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا بَلۡ مَكۡرُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ اِذۡ تَاۡمُرُوۡنَنَاۤ۠ اَنۡ نَّـكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَنَجۡعَلَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور کمزور لوگ تکبر کرنے والے لوگوں سے کہیں گے، بلکہ تم رات دن مکر وفریب کرتے رہتے تھے جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا انکار کریں اور اس کے لیے شریک ٹھرائیں۔‘‘ یعنی تم نے جو دن رات سازشیں کیں اور تم نے ہمارے ساتھ مکروفریب کیا اور اس مکروفریب سے ہم پر گمراہی کو مسلط کیا، تم ہمارے سامنے کفر کو مزین کیا کرتے تھے ، پھر اس کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ تم اس کے بارے میں دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ حق ہے اور حق میں جرح و قدح کر کے اس کی قدر گھٹایا کرتے تھے اور بزعم خود حق کو باطل قرار دیا کرتے تھے۔ تم ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے یہاں تک کہ تم نے ہمیں گمراہ کر کے فتنے میں مبتلا کر دیا۔آپس میں ان کی یہ گفتگو اس کے سوا انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی کہ وہ ایک دوسرے سے بیزاری اور سخت ندامت کا اظہار کریں گے، اس لیے فرمایا:﴿وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ﴾ ’’اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔‘‘ یعنی اس حجت کا تاروپود بکھر جائے گا جس کے ذریعے سے وہ ایک دوسرے پر حجت قائم کرتے تھے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ وہ ظالم ہیں اور عذاب کے مستحق ہیں۔ ان میں سے ہر مجرم بے حد پشیمان ہو گا اور وہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ حق پر ہوتا اور اس نے باطل کو چھوڑ دیا ہوتا جس نے اسے اس عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ اپنے جرائم کا اقرار کر لینے کی فضیحت کا خوف ان پر چھا جائے گا۔قیامت کے بعض مواقف پر اور جہنم میں داخل ہوتے وقت، وہ بآواز بلند اپنی ندامت کا اظہار کریں گے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا ﴾(الفرقان:25/27-28) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش! میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ۰۰ فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۢۡبِهِمۡ١ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ ﴾(الملک : 67 ؍10۔11)’’وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو ہم اصحاب جہنم میں شامل نہ ہوتے، وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے۔ پس جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔‘‘﴿وَجَعَلۡنَا الۡاَغۡلٰلَ فِيۡۤ اَعۡنَاقِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ان کو بیڑیاں پہنائی جائیں گی جیسے اس قیدی کو پہنا دی جاتی ہیں جس کی قید میں اہانت مقصود ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ وَالسَّلٰسِلُ١ؕ يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾(المؤمن:40؍71۔72) ’’جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں پہنا دی جائیں گی، پھر انھیں کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ ﴿هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ یہ عذاب اور یہ سزا جو انھیں دی گئی ہے اور یہ بوجھل طوق جو انھیں پہنائے گئے ہیں ﴿اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ صرف ان اعمال کی پاداش میں ہے جن کا وہ کفر، فسق اور نافرمانی کرکے ارتکاب کیا کرتے تھے۔

سبأ 34:34

اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39) [34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔ [35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔ [36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔ [37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔ [38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔ [39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔

سبأ 34:35

اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39) [34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔ [35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔ [36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔ [37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔ [38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔ [39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔

سبأ 34:36

اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39) [34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔ [35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔ [36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔ [37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔ [38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔ [39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔

سبأ 34:37

اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39) [34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔ [35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔ [36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔ [37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔ [38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔ [39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔

سبأ 34:38

اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39) [34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔ [35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔ [36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔ [37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔ [38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔ [39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔

سبأ 34:39

اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39) [34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔ [35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔ [36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔ [37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔ [38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔ [39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔