Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — الممتحنة 60:1 – الجمعة 62:11

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. الممتحنة 60:1
  2. الممتحنة 60:2
  3. الممتحنة 60:3
  4. الممتحنة 60:4
  5. الممتحنة 60:5
  6. الممتحنة 60:6
  7. الممتحنة 60:7
  8. الممتحنة 60:8
  9. الممتحنة 60:9
  10. الممتحنة 60:10
  11. الممتحنة 60:11
  12. الممتحنة 60:12
  13. الممتحنة 60:13
  14. الصف 61:1
  15. الصف 61:2
  16. الصف 61:3
  17. الصف 61:4
  18. الصف 61:5
  19. الصف 61:6
  20. الصف 61:7
  21. الصف 61:8
  22. الصف 61:9
  23. الصف 61:10
  24. الصف 61:11
  25. الصف 61:12
  26. الصف 61:13
  27. الصف 61:14
  28. الجمعة 62:1
  29. الجمعة 62:2
  30. الجمعة 62:3
  31. الجمعة 62:4
  32. الجمعة 62:5
  33. الجمعة 62:6
  34. الجمعة 62:7
  35. الجمعة 62:8
  36. الجمعة 62:9
  37. الجمعة 62:10
  38. الجمعة 62:11

الممتحنة 60:1

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا حالانکہ انھوں نے کفر کیا ہے ساتھ اس چیز کے جو آیا ہے تمھارے پاس حق، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور خود تمھیں بھی اس لیے کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ ( یعنی ) اپنے رب پر (نہ دوست بناؤ) اگر ہو تم نکلتے جہاد کے لیے میرے راستے میں اور تلاش کرنے کے لیے میری رضامندی تم پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا؟ اور میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو اور اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کوئی کرے یہ کام تم میں سے تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا سیدھی راہ سے(1) اگر وہ پائیں تم کو تو ہو جائیں وہ واسطے تمھارے دشمن، اور دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں ساتھ برائی کے، اور وہ پسند کریں کاش کہ تم بھی کفر کرو(2) ہرگز نہیں نفع دیں گے تمھیں تمھارے رشتے ناتے اور نہ تمھاری اولاد دن قیامت کے وہ فیصلہ کرےگا تمھارے درمیان (اس میں) اور اللہ، ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(3) تحقیق ہے تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کےساتھ تھے، جب انھوں نے کہا تھا اپنی قوم سے، بلاشبہ ہم بری ہیں تم سے اور ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کفر کیا ہم نے ساتھ تمھارے اور ظاہر ہو گئی ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اکیلے کے ،مگر کہنا ابراہیم کا اپنے باپ سے کہ ضرور مغفرت طلب کروں گا میں تیرے لیے اور نہیں اختیار رکھتا میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز کا بھی، اے ہمارے رب!تجھی پر توکل کیا ہم نے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہم نے اور تیری ہی طرف (ہمارا) لوٹنا ہے(4) اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا اور بخش دے ہمیں اے ہمارے رب! بلاشبہ تو ہی ہے بڑا زبردست، خوب حکمت والا(5) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے ان میں نمونہ بہترین اس شخص کے لیے جو ہو امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور جو کوئی رو گردانی کرے تو بلاشبہ اللہ ہی ہے بے پروا قابل تعریف(6) امید ہے کہ اللہ، یہ کہ (پیدا) کر دے وہ درمیان تمھارے اور درمیان ان لوگوں کے کہ عداوت رکھتے ہو تم ان سے، دوستی اور اللہ خوب قدرت والا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے(7) نہیں روکتا تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو نہیں لڑے تم سے دین کی بابت اور نہیں نکالا انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے ،اس بات سے کہ تم حسن سلوک کرو ان سے اور انصاف کرو تم ان کے حق میں بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(8)یقیناً روکتا ہے تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو لڑے تم سے دین کی بابت، اور انھوں نے نکالا تمھیں تمھارے گھروں سے اور انھوں نے مدد کی تمھارے نکالنے میں، اس بات سے کہ تم دوستی کرو ان سے، اور جو کوئی دوستی کرے ان سے تو وہی لوگ ظالم ہیں(9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ بہت سے مفسرینs نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہt کا قصہ ہے، جب رسول اللہﷺ نے غزوۂ فتحِ مکہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہt نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انھیں رسول اللہﷺ کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان كرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ٔاکرمﷺ کو تمام معاملے سے آگاہ کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرالیا۔ آپ نے حاطبt پر عتاب فرمایا، حاطبt نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی ٔکریم ﷺ نے قبول فرما لیا۔ان آیات کریمہ میں کفار ومشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات و مودت ایمان اور ملت ابراہیمu کے منافی اور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد و کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ [1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات و مودت رکھو، جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے، تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے، لہٰذا ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡا عَدُوِّيۡ ﴾ نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو ﴿وَعَدُوَّؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ﴾ ’’اور اپنے دشمنوں کو دوست۔ تم انھیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کی محبت و مودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہو جاتی ہے تو نصرت و موالات اس کے پیچھے آتی ہیں۔ تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفر ان کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے، وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے، اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے؟مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بھی دعوت دیتی ہے کہ انھوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کر دیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا۔ اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں، انھوں نے تمھارے اصل دین کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور جو کوئی حق کو ٹھکراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کا مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ ﴿ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ﴾ اے مومنو! وہ رسول کو اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمھیں جلا وطن کرتے ہیں۔ان کے ہاں اس بارے میں تمھارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ ﴿ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ﴾ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ۔جب انھوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمھارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور اس بنا پر انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا۔تب کون سا دین، کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس باقی رہ جاتی ہے، اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے، جن کا ہر زمان و مکان میں یہی وصف ہے، ان کو خوف یا کسی طاقتور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِيۡ﴾ یعنی اگر تمھارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کی رضا کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو، یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور سب سے بڑا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ﴿ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ١ۖ ۗ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ﴾ یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمھیں علم ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، تمھارا کفار کے ساتھ مودت و موالات رکھنا، اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا و سزا دے گا۔ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ﴾ اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے منع کیا ہے۔﴿ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ يَّثۡقَفُوۡؔكُمۡ﴾ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ يَكُوۡنُوۡا لَكُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّيَبۡسُطُوۡۤا اِلَيۡكُمۡ اَيۡدِيَهُمۡ﴾ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلۡسِنَتَهُمۡ بِالسُّوۡٓءِ﴾ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔‘‘ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔ [3] اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو ﴿ لَنۡ تَنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ﴾ اللہ کے مقابلے میں تمھارے رشتے ناتے اور تمھاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں کفار کی موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمھیں نقصان دے گی۔ [4] اے مومنوں کے گروہ! تمھارے لیے ﴿ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ اچھا نمونہ اور ایسی راہ نمائی ہے جو تمھیں فائدہ دے گی ﴿ فِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ﴾ ’’ابرہیم (u) میں اور ان کے (مومن) رفقاء میں ہے۔‘‘ تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ تم یکسو ہو کر ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ ﴿ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ یعنی جب حضرت ابراہیمu اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی مشرک قوم اور ان کے معبودوں سے براء ت کا اعلان کیا، جنھیں وہ(مشرک)اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ پھر پوری صراحت سے ان کے ساتھ اپنی عداوت کی تصریح کی ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا﴾ ’’ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور ظاہر ہو گیا۔‘‘ یعنی پوری طرح ظاہر اور واضح ہو گیا کہ ﴿ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ﴾ ہمارے اور تمھارے درمیان دلوں کا بغض اور ابدان کی عداوت، دلوں میں سے مودت زائل ہو گئی اور اس بغض اور عداوت کے لیے کوئی وقت اور حد مقرر نہیں بلکہ یہ عداوت ﴿ اَبَدًا﴾ اس وقت تک ہمیشہ برقرار رہے گی جب تک کہ تم اپنے کفر پر قائم ہو ﴿ حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ﴾ یعنی جب تم اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ گے تو عداوت اور بغض زائل ہو جائے گا، عداوت مودت اور دوستی میں بدل جائے گی ۔پس اے مومنو! ایمان، توحید اور اس کے لوازم و مقتضیات کو قائم کرنے میں ابراہیم uاور ان کے اصحاب میں تمھارے لیے نمونہ ہے، ہر چیز میں اسی کو نمونہ بنا کر اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ﴿ اِلَّا﴾ سوائے ایک خصلت کے اور وہ ہے ﴿ قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ﴾ حضرت ابراہیمu کے اپنے مشرک، کافر اور معاندِ حق باپ کے بارے میں قول، جب آپ نے اپنے باپ کو ایمان اور توحید کی دعوت دی اور اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے اس سے کہا تھا :﴿ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَ﴾ ’’میں تیرے لیے مغفرت طلب کروں گا۔ اور حال یہ ہے کہ ‘‘ ﴿ مَاۤ اَمۡلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’میں اللہ کے سامنے تمھارے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ مگر میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا، ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں۔اس حال میں تم ابراہیم (u) کی اقتدانہ کرو جس میں انھوں نے اپنے مشرک (باپ)کے لیے دعا کی تھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم مشرکین کے لیے دعا کرو اور پھر کہو کہ ہم تو ملت ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ابراہیمu کا عذر ان الفاظ میں بیان فرما دیا ہے: ﴿وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا، صرف ایک وعدے کے سبب سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کر چکے تھے، جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا بلاشبہ ابراہیم بہت نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘ تمھارے لیے حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب میں نمونہ اس وقت (کے طرز عمل میں)ہے جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا، اس پر بھروسہ کیا، اس کی طرف رجوع کیا اور اپنے عجز و تقصیر کا اعتراف کیا اور کہا :﴿ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّؔلۡنَا﴾ ایسے امور کے حصول میں جو ہمیں فائدہ دیتے ہیں ا ور ایسے امور کو دور کرنے میں، جو ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ اَنَبۡنَا﴾ یعنی ہم تیری اطاعت، تیری رضا، اور ان تمام امور کی طرف لوٹتے ہیں جو تیرا قرب عطا کرتے ہیں۔ نیک اعمال کے ذریعے سے اس قرب کے حصول میں کوشاں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے تیری طرف لوٹنا ہے، ہم تیری خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ اعمال سر انجام دے رہے ہیں جو تیرے قریب کرتے ہیں۔ [5]﴿ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کے سبب سے تو کفار کو ہم پر مسلط نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کر دیں اور ہمیں ان امورِ ایمان سے روک دیں جن پر عمل کرنے پر ہم قادر ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی فتنے میں مبتلا کریں گے کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ انھیں غلبہ حاصل ہے تو سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں اس طرح وہ کفر اور سرکشی میں اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ﴿ وَاغۡفِرۡ لَنَا﴾ ہم نے جن گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور مامورات کی تعمیل میں ہم سے جو تقصیر سرزد ہوئی ہے، وہ ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے۔‘‘ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ جو تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، پس اپنی عزت و غلبے اور اپنی حکمت کے وسیلے سےہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے عیوب کی اصلاح کر۔ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوبارہ حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب کی پیروی کی ترغیب دی اور فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡهِمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ’’تحقیق تمھارے لیے انھی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔‘‘ اور ہر شخص کے لیے اس نمونہ کی پیروی کرنا آسان نہیں، یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے ﴿ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ﴾ ’’جو اللہ (سے ملنے) اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔‘‘ کیونکہ ایمان اور اجر و ثواب کی امید، بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بے انتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے، وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی بے پروا ہے۔‘‘ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ ﴿ الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے۔ [7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عداوت جس کے بارے میں اس نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے ساتھ رکھیں، اور اہل ایمان کو اس وصف سے موصوف کیا کہ جب تک مشرکین اپنے شرک اور کفر پر قائم ہیں، وہ ان کی دشمنی پر قائم ہیں اور اگر مشرکین دائرہ ایمان سے منتقل ہو جائیں گے تو حکم بھی اپنی علت کے مطابق ہو گا اور مودت ایمانی لوٹ آئے گی۔پس اے مومنو! تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہو جاؤ ﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّوَدَّةً﴾ ’’عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کرے۔‘‘ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے﴿ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اس کی قدرت کے تحت ہے ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ ﴿ قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’(اے نبی!) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض کفار کے اسلام لانے کی طرف اشارہ اور اس کی بشارت ہے جو اس وقت کافر اور اہل ایمان کے دشمن تھے۔ اور یہ بشارت پوری ہوئی۔وَلِلہِ الْحَمْدُ . [8] جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں، نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا، انھوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات و مودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ ﴿ لَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اپنے مشرک عزیز و اقارب وغیرہ سے حسن سلوک، صلہ رحمی، ان کو معروف طریقے سے انصاف کے ساتھ بدلہ دینے سے نہیں روکتا، مگر اس صورت میں کہ انھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی ہو نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہو۔ اس لیے تم پر کوئی گناہ نہیں، اگر تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو، کیونکہ ان حالات میں صلہ رحمی ممنوع نہیں اور نہ ایسا کرنے میں کوئی تاوان ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں، جبکہ ان کا بیٹا مسلمان ہو، فرمایا:﴿ وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا﴾(لقمان:31؍15) ’’اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ۔‘‘ [9]﴿ اِنَّمَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ قٰتَلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ﴾ ’’اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمھارے دین کی وجہ سے ﴿ وَاَخۡرَجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ وَظٰهَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا اور انھوں نے مدد کی۔‘‘ یعنی انھوں نے دوسروں کی مدد کی ﴿ عَلٰۤى اِخۡرَاجِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں تمھارے گھروں سے نکالنے میں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں روک دیا ہے ﴿ اَنۡ تَوَلَّوۡهُمۡ ﴾ اس بات سے کہ قول و فعل میں تم نصرت و مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو، رہا تمھارا (اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور احسان، جو مشرکین کے ساتھ موالات کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے نہیں روکا۔ بلکہ یہ حکم اقارب وغیرہ انسانوں اور دیگر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی کریں گے تو وہ ظالم ہیں۔‘‘ اور یہ ظلم موالات کے مطابق ہو گا۔ اگر کسی نے پوری پوری موالات اور دوستی رکھی ہے تو یہ کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے، اس سے نیچے بہت سے مراتب ہیں جن میں بعض بہت سخت اور بعض نرم ہیں۔

الممتحنة 60:2

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا حالانکہ انھوں نے کفر کیا ہے ساتھ اس چیز کے جو آیا ہے تمھارے پاس حق، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور خود تمھیں بھی اس لیے کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ ( یعنی ) اپنے رب پر (نہ دوست بناؤ) اگر ہو تم نکلتے جہاد کے لیے میرے راستے میں اور تلاش کرنے کے لیے میری رضامندی تم پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا؟ اور میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو اور اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کوئی کرے یہ کام تم میں سے تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا سیدھی راہ سے(1) اگر وہ پائیں تم کو تو ہو جائیں وہ واسطے تمھارے دشمن، اور دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں ساتھ برائی کے، اور وہ پسند کریں کاش کہ تم بھی کفر کرو(2) ہرگز نہیں نفع دیں گے تمھیں تمھارے رشتے ناتے اور نہ تمھاری اولاد دن قیامت کے وہ فیصلہ کرےگا تمھارے درمیان (اس میں) اور اللہ، ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(3) تحقیق ہے تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کےساتھ تھے، جب انھوں نے کہا تھا اپنی قوم سے، بلاشبہ ہم بری ہیں تم سے اور ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کفر کیا ہم نے ساتھ تمھارے اور ظاہر ہو گئی ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اکیلے کے ،مگر کہنا ابراہیم کا اپنے باپ سے کہ ضرور مغفرت طلب کروں گا میں تیرے لیے اور نہیں اختیار رکھتا میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز کا بھی، اے ہمارے رب!تجھی پر توکل کیا ہم نے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہم نے اور تیری ہی طرف (ہمارا) لوٹنا ہے(4) اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا اور بخش دے ہمیں اے ہمارے رب! بلاشبہ تو ہی ہے بڑا زبردست، خوب حکمت والا(5) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے ان میں نمونہ بہترین اس شخص کے لیے جو ہو امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور جو کوئی رو گردانی کرے تو بلاشبہ اللہ ہی ہے بے پروا قابل تعریف(6) امید ہے کہ اللہ، یہ کہ (پیدا) کر دے وہ درمیان تمھارے اور درمیان ان لوگوں کے کہ عداوت رکھتے ہو تم ان سے، دوستی اور اللہ خوب قدرت والا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے(7) نہیں روکتا تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو نہیں لڑے تم سے دین کی بابت اور نہیں نکالا انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے ،اس بات سے کہ تم حسن سلوک کرو ان سے اور انصاف کرو تم ان کے حق میں بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(8)یقیناً روکتا ہے تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو لڑے تم سے دین کی بابت، اور انھوں نے نکالا تمھیں تمھارے گھروں سے اور انھوں نے مدد کی تمھارے نکالنے میں، اس بات سے کہ تم دوستی کرو ان سے، اور جو کوئی دوستی کرے ان سے تو وہی لوگ ظالم ہیں(9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ بہت سے مفسرینs نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہt کا قصہ ہے، جب رسول اللہﷺ نے غزوۂ فتحِ مکہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہt نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انھیں رسول اللہﷺ کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان كرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ٔاکرمﷺ کو تمام معاملے سے آگاہ کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرالیا۔ آپ نے حاطبt پر عتاب فرمایا، حاطبt نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی ٔکریم ﷺ نے قبول فرما لیا۔ان آیات کریمہ میں کفار ومشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات و مودت ایمان اور ملت ابراہیمu کے منافی اور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد و کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ [1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات و مودت رکھو، جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے، تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے، لہٰذا ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡا عَدُوِّيۡ ﴾ نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو ﴿وَعَدُوَّؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ﴾ ’’اور اپنے دشمنوں کو دوست۔ تم انھیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کی محبت و مودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہو جاتی ہے تو نصرت و موالات اس کے پیچھے آتی ہیں۔ تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفر ان کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے، وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے، اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے؟مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بھی دعوت دیتی ہے کہ انھوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کر دیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا۔ اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں، انھوں نے تمھارے اصل دین کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور جو کوئی حق کو ٹھکراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کا مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ ﴿ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ﴾ اے مومنو! وہ رسول کو اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمھیں جلا وطن کرتے ہیں۔ان کے ہاں اس بارے میں تمھارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ ﴿ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ﴾ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ۔جب انھوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمھارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور اس بنا پر انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا۔تب کون سا دین، کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس باقی رہ جاتی ہے، اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے، جن کا ہر زمان و مکان میں یہی وصف ہے، ان کو خوف یا کسی طاقتور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِيۡ﴾ یعنی اگر تمھارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کی رضا کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو، یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور سب سے بڑا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ﴿ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ١ۖ ۗ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ﴾ یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمھیں علم ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، تمھارا کفار کے ساتھ مودت و موالات رکھنا، اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا و سزا دے گا۔ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ﴾ اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے منع کیا ہے۔﴿ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ يَّثۡقَفُوۡؔكُمۡ﴾ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ يَكُوۡنُوۡا لَكُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّيَبۡسُطُوۡۤا اِلَيۡكُمۡ اَيۡدِيَهُمۡ﴾ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلۡسِنَتَهُمۡ بِالسُّوۡٓءِ﴾ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔‘‘ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔ [3] اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو ﴿ لَنۡ تَنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ﴾ اللہ کے مقابلے میں تمھارے رشتے ناتے اور تمھاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں کفار کی موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمھیں نقصان دے گی۔ [4] اے مومنوں کے گروہ! تمھارے لیے ﴿ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ اچھا نمونہ اور ایسی راہ نمائی ہے جو تمھیں فائدہ دے گی ﴿ فِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ﴾ ’’ابرہیم (u) میں اور ان کے (مومن) رفقاء میں ہے۔‘‘ تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ تم یکسو ہو کر ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ ﴿ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ یعنی جب حضرت ابراہیمu اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی مشرک قوم اور ان کے معبودوں سے براء ت کا اعلان کیا، جنھیں وہ(مشرک)اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ پھر پوری صراحت سے ان کے ساتھ اپنی عداوت کی تصریح کی ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا﴾ ’’ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور ظاہر ہو گیا۔‘‘ یعنی پوری طرح ظاہر اور واضح ہو گیا کہ ﴿ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ﴾ ہمارے اور تمھارے درمیان دلوں کا بغض اور ابدان کی عداوت، دلوں میں سے مودت زائل ہو گئی اور اس بغض اور عداوت کے لیے کوئی وقت اور حد مقرر نہیں بلکہ یہ عداوت ﴿ اَبَدًا﴾ اس وقت تک ہمیشہ برقرار رہے گی جب تک کہ تم اپنے کفر پر قائم ہو ﴿ حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ﴾ یعنی جب تم اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ گے تو عداوت اور بغض زائل ہو جائے گا، عداوت مودت اور دوستی میں بدل جائے گی ۔پس اے مومنو! ایمان، توحید اور اس کے لوازم و مقتضیات کو قائم کرنے میں ابراہیم uاور ان کے اصحاب میں تمھارے لیے نمونہ ہے، ہر چیز میں اسی کو نمونہ بنا کر اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ﴿ اِلَّا﴾ سوائے ایک خصلت کے اور وہ ہے ﴿ قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ﴾ حضرت ابراہیمu کے اپنے مشرک، کافر اور معاندِ حق باپ کے بارے میں قول، جب آپ نے اپنے باپ کو ایمان اور توحید کی دعوت دی اور اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے اس سے کہا تھا :﴿ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَ﴾ ’’میں تیرے لیے مغفرت طلب کروں گا۔ اور حال یہ ہے کہ ‘‘ ﴿ مَاۤ اَمۡلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’میں اللہ کے سامنے تمھارے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ مگر میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا، ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں۔اس حال میں تم ابراہیم (u) کی اقتدانہ کرو جس میں انھوں نے اپنے مشرک (باپ)کے لیے دعا کی تھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم مشرکین کے لیے دعا کرو اور پھر کہو کہ ہم تو ملت ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ابراہیمu کا عذر ان الفاظ میں بیان فرما دیا ہے: ﴿وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا، صرف ایک وعدے کے سبب سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کر چکے تھے، جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا بلاشبہ ابراہیم بہت نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘ تمھارے لیے حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب میں نمونہ اس وقت (کے طرز عمل میں)ہے جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا، اس پر بھروسہ کیا، اس کی طرف رجوع کیا اور اپنے عجز و تقصیر کا اعتراف کیا اور کہا :﴿ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّؔلۡنَا﴾ ایسے امور کے حصول میں جو ہمیں فائدہ دیتے ہیں ا ور ایسے امور کو دور کرنے میں، جو ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ اَنَبۡنَا﴾ یعنی ہم تیری اطاعت، تیری رضا، اور ان تمام امور کی طرف لوٹتے ہیں جو تیرا قرب عطا کرتے ہیں۔ نیک اعمال کے ذریعے سے اس قرب کے حصول میں کوشاں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے تیری طرف لوٹنا ہے، ہم تیری خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ اعمال سر انجام دے رہے ہیں جو تیرے قریب کرتے ہیں۔ [5]﴿ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کے سبب سے تو کفار کو ہم پر مسلط نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کر دیں اور ہمیں ان امورِ ایمان سے روک دیں جن پر عمل کرنے پر ہم قادر ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی فتنے میں مبتلا کریں گے کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ انھیں غلبہ حاصل ہے تو سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں اس طرح وہ کفر اور سرکشی میں اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ﴿ وَاغۡفِرۡ لَنَا﴾ ہم نے جن گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور مامورات کی تعمیل میں ہم سے جو تقصیر سرزد ہوئی ہے، وہ ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے۔‘‘ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ جو تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، پس اپنی عزت و غلبے اور اپنی حکمت کے وسیلے سےہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے عیوب کی اصلاح کر۔ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوبارہ حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب کی پیروی کی ترغیب دی اور فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡهِمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ’’تحقیق تمھارے لیے انھی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔‘‘ اور ہر شخص کے لیے اس نمونہ کی پیروی کرنا آسان نہیں، یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے ﴿ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ﴾ ’’جو اللہ (سے ملنے) اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔‘‘ کیونکہ ایمان اور اجر و ثواب کی امید، بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بے انتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے، وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی بے پروا ہے۔‘‘ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ ﴿ الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے۔ [7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عداوت جس کے بارے میں اس نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے ساتھ رکھیں، اور اہل ایمان کو اس وصف سے موصوف کیا کہ جب تک مشرکین اپنے شرک اور کفر پر قائم ہیں، وہ ان کی دشمنی پر قائم ہیں اور اگر مشرکین دائرہ ایمان سے منتقل ہو جائیں گے تو حکم بھی اپنی علت کے مطابق ہو گا اور مودت ایمانی لوٹ آئے گی۔پس اے مومنو! تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہو جاؤ ﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّوَدَّةً﴾ ’’عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کرے۔‘‘ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے﴿ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اس کی قدرت کے تحت ہے ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ ﴿ قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’(اے نبی!) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض کفار کے اسلام لانے کی طرف اشارہ اور اس کی بشارت ہے جو اس وقت کافر اور اہل ایمان کے دشمن تھے۔ اور یہ بشارت پوری ہوئی۔وَلِلہِ الْحَمْدُ . [8] جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں، نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا، انھوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات و مودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ ﴿ لَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اپنے مشرک عزیز و اقارب وغیرہ سے حسن سلوک، صلہ رحمی، ان کو معروف طریقے سے انصاف کے ساتھ بدلہ دینے سے نہیں روکتا، مگر اس صورت میں کہ انھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی ہو نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہو۔ اس لیے تم پر کوئی گناہ نہیں، اگر تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو، کیونکہ ان حالات میں صلہ رحمی ممنوع نہیں اور نہ ایسا کرنے میں کوئی تاوان ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں، جبکہ ان کا بیٹا مسلمان ہو، فرمایا:﴿ وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا﴾(لقمان:31؍15) ’’اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ۔‘‘ [9]﴿ اِنَّمَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ قٰتَلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ﴾ ’’اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمھارے دین کی وجہ سے ﴿ وَاَخۡرَجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ وَظٰهَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا اور انھوں نے مدد کی۔‘‘ یعنی انھوں نے دوسروں کی مدد کی ﴿ عَلٰۤى اِخۡرَاجِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں تمھارے گھروں سے نکالنے میں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں روک دیا ہے ﴿ اَنۡ تَوَلَّوۡهُمۡ ﴾ اس بات سے کہ قول و فعل میں تم نصرت و مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو، رہا تمھارا (اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور احسان، جو مشرکین کے ساتھ موالات کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے نہیں روکا۔ بلکہ یہ حکم اقارب وغیرہ انسانوں اور دیگر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی کریں گے تو وہ ظالم ہیں۔‘‘ اور یہ ظلم موالات کے مطابق ہو گا۔ اگر کسی نے پوری پوری موالات اور دوستی رکھی ہے تو یہ کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے، اس سے نیچے بہت سے مراتب ہیں جن میں بعض بہت سخت اور بعض نرم ہیں۔

الممتحنة 60:3

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا حالانکہ انھوں نے کفر کیا ہے ساتھ اس چیز کے جو آیا ہے تمھارے پاس حق، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور خود تمھیں بھی اس لیے کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ ( یعنی ) اپنے رب پر (نہ دوست بناؤ) اگر ہو تم نکلتے جہاد کے لیے میرے راستے میں اور تلاش کرنے کے لیے میری رضامندی تم پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا؟ اور میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو اور اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کوئی کرے یہ کام تم میں سے تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا سیدھی راہ سے(1) اگر وہ پائیں تم کو تو ہو جائیں وہ واسطے تمھارے دشمن، اور دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں ساتھ برائی کے، اور وہ پسند کریں کاش کہ تم بھی کفر کرو(2) ہرگز نہیں نفع دیں گے تمھیں تمھارے رشتے ناتے اور نہ تمھاری اولاد دن قیامت کے وہ فیصلہ کرےگا تمھارے درمیان (اس میں) اور اللہ، ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(3) تحقیق ہے تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کےساتھ تھے، جب انھوں نے کہا تھا اپنی قوم سے، بلاشبہ ہم بری ہیں تم سے اور ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کفر کیا ہم نے ساتھ تمھارے اور ظاہر ہو گئی ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اکیلے کے ،مگر کہنا ابراہیم کا اپنے باپ سے کہ ضرور مغفرت طلب کروں گا میں تیرے لیے اور نہیں اختیار رکھتا میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز کا بھی، اے ہمارے رب!تجھی پر توکل کیا ہم نے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہم نے اور تیری ہی طرف (ہمارا) لوٹنا ہے(4) اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا اور بخش دے ہمیں اے ہمارے رب! بلاشبہ تو ہی ہے بڑا زبردست، خوب حکمت والا(5) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے ان میں نمونہ بہترین اس شخص کے لیے جو ہو امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور جو کوئی رو گردانی کرے تو بلاشبہ اللہ ہی ہے بے پروا قابل تعریف(6) امید ہے کہ اللہ، یہ کہ (پیدا) کر دے وہ درمیان تمھارے اور درمیان ان لوگوں کے کہ عداوت رکھتے ہو تم ان سے، دوستی اور اللہ خوب قدرت والا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے(7) نہیں روکتا تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو نہیں لڑے تم سے دین کی بابت اور نہیں نکالا انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے ،اس بات سے کہ تم حسن سلوک کرو ان سے اور انصاف کرو تم ان کے حق میں بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(8)یقیناً روکتا ہے تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو لڑے تم سے دین کی بابت، اور انھوں نے نکالا تمھیں تمھارے گھروں سے اور انھوں نے مدد کی تمھارے نکالنے میں، اس بات سے کہ تم دوستی کرو ان سے، اور جو کوئی دوستی کرے ان سے تو وہی لوگ ظالم ہیں(9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ بہت سے مفسرینs نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہt کا قصہ ہے، جب رسول اللہﷺ نے غزوۂ فتحِ مکہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہt نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انھیں رسول اللہﷺ کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان كرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ٔاکرمﷺ کو تمام معاملے سے آگاہ کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرالیا۔ آپ نے حاطبt پر عتاب فرمایا، حاطبt نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی ٔکریم ﷺ نے قبول فرما لیا۔ان آیات کریمہ میں کفار ومشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات و مودت ایمان اور ملت ابراہیمu کے منافی اور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد و کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ [1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات و مودت رکھو، جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے، تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے، لہٰذا ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡا عَدُوِّيۡ ﴾ نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو ﴿وَعَدُوَّؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ﴾ ’’اور اپنے دشمنوں کو دوست۔ تم انھیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کی محبت و مودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہو جاتی ہے تو نصرت و موالات اس کے پیچھے آتی ہیں۔ تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفر ان کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے، وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے، اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے؟مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بھی دعوت دیتی ہے کہ انھوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کر دیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا۔ اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں، انھوں نے تمھارے اصل دین کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور جو کوئی حق کو ٹھکراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کا مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ ﴿ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ﴾ اے مومنو! وہ رسول کو اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمھیں جلا وطن کرتے ہیں۔ان کے ہاں اس بارے میں تمھارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ ﴿ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ﴾ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ۔جب انھوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمھارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور اس بنا پر انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا۔تب کون سا دین، کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس باقی رہ جاتی ہے، اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے، جن کا ہر زمان و مکان میں یہی وصف ہے، ان کو خوف یا کسی طاقتور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِيۡ﴾ یعنی اگر تمھارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کی رضا کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو، یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور سب سے بڑا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ﴿ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ١ۖ ۗ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ﴾ یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمھیں علم ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، تمھارا کفار کے ساتھ مودت و موالات رکھنا، اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا و سزا دے گا۔ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ﴾ اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے منع کیا ہے۔﴿ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ يَّثۡقَفُوۡؔكُمۡ﴾ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ يَكُوۡنُوۡا لَكُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّيَبۡسُطُوۡۤا اِلَيۡكُمۡ اَيۡدِيَهُمۡ﴾ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلۡسِنَتَهُمۡ بِالسُّوۡٓءِ﴾ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔‘‘ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔ [3] اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو ﴿ لَنۡ تَنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ﴾ اللہ کے مقابلے میں تمھارے رشتے ناتے اور تمھاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں کفار کی موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمھیں نقصان دے گی۔ [4] اے مومنوں کے گروہ! تمھارے لیے ﴿ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ اچھا نمونہ اور ایسی راہ نمائی ہے جو تمھیں فائدہ دے گی ﴿ فِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ﴾ ’’ابرہیم (u) میں اور ان کے (مومن) رفقاء میں ہے۔‘‘ تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ تم یکسو ہو کر ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ ﴿ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ یعنی جب حضرت ابراہیمu اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی مشرک قوم اور ان کے معبودوں سے براء ت کا اعلان کیا، جنھیں وہ(مشرک)اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ پھر پوری صراحت سے ان کے ساتھ اپنی عداوت کی تصریح کی ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا﴾ ’’ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور ظاہر ہو گیا۔‘‘ یعنی پوری طرح ظاہر اور واضح ہو گیا کہ ﴿ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ﴾ ہمارے اور تمھارے درمیان دلوں کا بغض اور ابدان کی عداوت، دلوں میں سے مودت زائل ہو گئی اور اس بغض اور عداوت کے لیے کوئی وقت اور حد مقرر نہیں بلکہ یہ عداوت ﴿ اَبَدًا﴾ اس وقت تک ہمیشہ برقرار رہے گی جب تک کہ تم اپنے کفر پر قائم ہو ﴿ حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ﴾ یعنی جب تم اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ گے تو عداوت اور بغض زائل ہو جائے گا، عداوت مودت اور دوستی میں بدل جائے گی ۔پس اے مومنو! ایمان، توحید اور اس کے لوازم و مقتضیات کو قائم کرنے میں ابراہیم uاور ان کے اصحاب میں تمھارے لیے نمونہ ہے، ہر چیز میں اسی کو نمونہ بنا کر اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ﴿ اِلَّا﴾ سوائے ایک خصلت کے اور وہ ہے ﴿ قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ﴾ حضرت ابراہیمu کے اپنے مشرک، کافر اور معاندِ حق باپ کے بارے میں قول، جب آپ نے اپنے باپ کو ایمان اور توحید کی دعوت دی اور اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے اس سے کہا تھا :﴿ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَ﴾ ’’میں تیرے لیے مغفرت طلب کروں گا۔ اور حال یہ ہے کہ ‘‘ ﴿ مَاۤ اَمۡلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’میں اللہ کے سامنے تمھارے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ مگر میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا، ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں۔اس حال میں تم ابراہیم (u) کی اقتدانہ کرو جس میں انھوں نے اپنے مشرک (باپ)کے لیے دعا کی تھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم مشرکین کے لیے دعا کرو اور پھر کہو کہ ہم تو ملت ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ابراہیمu کا عذر ان الفاظ میں بیان فرما دیا ہے: ﴿وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا، صرف ایک وعدے کے سبب سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کر چکے تھے، جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا بلاشبہ ابراہیم بہت نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘ تمھارے لیے حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب میں نمونہ اس وقت (کے طرز عمل میں)ہے جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا، اس پر بھروسہ کیا، اس کی طرف رجوع کیا اور اپنے عجز و تقصیر کا اعتراف کیا اور کہا :﴿ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّؔلۡنَا﴾ ایسے امور کے حصول میں جو ہمیں فائدہ دیتے ہیں ا ور ایسے امور کو دور کرنے میں، جو ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ اَنَبۡنَا﴾ یعنی ہم تیری اطاعت، تیری رضا، اور ان تمام امور کی طرف لوٹتے ہیں جو تیرا قرب عطا کرتے ہیں۔ نیک اعمال کے ذریعے سے اس قرب کے حصول میں کوشاں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے تیری طرف لوٹنا ہے، ہم تیری خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ اعمال سر انجام دے رہے ہیں جو تیرے قریب کرتے ہیں۔ [5]﴿ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کے سبب سے تو کفار کو ہم پر مسلط نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کر دیں اور ہمیں ان امورِ ایمان سے روک دیں جن پر عمل کرنے پر ہم قادر ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی فتنے میں مبتلا کریں گے کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ انھیں غلبہ حاصل ہے تو سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں اس طرح وہ کفر اور سرکشی میں اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ﴿ وَاغۡفِرۡ لَنَا﴾ ہم نے جن گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور مامورات کی تعمیل میں ہم سے جو تقصیر سرزد ہوئی ہے، وہ ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے۔‘‘ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ جو تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، پس اپنی عزت و غلبے اور اپنی حکمت کے وسیلے سےہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے عیوب کی اصلاح کر۔ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوبارہ حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب کی پیروی کی ترغیب دی اور فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡهِمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ’’تحقیق تمھارے لیے انھی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔‘‘ اور ہر شخص کے لیے اس نمونہ کی پیروی کرنا آسان نہیں، یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے ﴿ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ﴾ ’’جو اللہ (سے ملنے) اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔‘‘ کیونکہ ایمان اور اجر و ثواب کی امید، بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بے انتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے، وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی بے پروا ہے۔‘‘ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ ﴿ الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے۔ [7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عداوت جس کے بارے میں اس نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے ساتھ رکھیں، اور اہل ایمان کو اس وصف سے موصوف کیا کہ جب تک مشرکین اپنے شرک اور کفر پر قائم ہیں، وہ ان کی دشمنی پر قائم ہیں اور اگر مشرکین دائرہ ایمان سے منتقل ہو جائیں گے تو حکم بھی اپنی علت کے مطابق ہو گا اور مودت ایمانی لوٹ آئے گی۔پس اے مومنو! تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہو جاؤ ﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّوَدَّةً﴾ ’’عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کرے۔‘‘ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے﴿ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اس کی قدرت کے تحت ہے ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ ﴿ قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’(اے نبی!) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض کفار کے اسلام لانے کی طرف اشارہ اور اس کی بشارت ہے جو اس وقت کافر اور اہل ایمان کے دشمن تھے۔ اور یہ بشارت پوری ہوئی۔وَلِلہِ الْحَمْدُ . [8] جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں، نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا، انھوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات و مودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ ﴿ لَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اپنے مشرک عزیز و اقارب وغیرہ سے حسن سلوک، صلہ رحمی، ان کو معروف طریقے سے انصاف کے ساتھ بدلہ دینے سے نہیں روکتا، مگر اس صورت میں کہ انھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی ہو نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہو۔ اس لیے تم پر کوئی گناہ نہیں، اگر تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو، کیونکہ ان حالات میں صلہ رحمی ممنوع نہیں اور نہ ایسا کرنے میں کوئی تاوان ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں، جبکہ ان کا بیٹا مسلمان ہو، فرمایا:﴿ وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا﴾(لقمان:31؍15) ’’اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ۔‘‘ [9]﴿ اِنَّمَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ قٰتَلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ﴾ ’’اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمھارے دین کی وجہ سے ﴿ وَاَخۡرَجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ وَظٰهَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا اور انھوں نے مدد کی۔‘‘ یعنی انھوں نے دوسروں کی مدد کی ﴿ عَلٰۤى اِخۡرَاجِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں تمھارے گھروں سے نکالنے میں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں روک دیا ہے ﴿ اَنۡ تَوَلَّوۡهُمۡ ﴾ اس بات سے کہ قول و فعل میں تم نصرت و مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو، رہا تمھارا (اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور احسان، جو مشرکین کے ساتھ موالات کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے نہیں روکا۔ بلکہ یہ حکم اقارب وغیرہ انسانوں اور دیگر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی کریں گے تو وہ ظالم ہیں۔‘‘ اور یہ ظلم موالات کے مطابق ہو گا۔ اگر کسی نے پوری پوری موالات اور دوستی رکھی ہے تو یہ کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے، اس سے نیچے بہت سے مراتب ہیں جن میں بعض بہت سخت اور بعض نرم ہیں۔

الممتحنة 60:4

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا حالانکہ انھوں نے کفر کیا ہے ساتھ اس چیز کے جو آیا ہے تمھارے پاس حق، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور خود تمھیں بھی اس لیے کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ ( یعنی ) اپنے رب پر (نہ دوست بناؤ) اگر ہو تم نکلتے جہاد کے لیے میرے راستے میں اور تلاش کرنے کے لیے میری رضامندی تم پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا؟ اور میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو اور اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کوئی کرے یہ کام تم میں سے تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا سیدھی راہ سے(1) اگر وہ پائیں تم کو تو ہو جائیں وہ واسطے تمھارے دشمن، اور دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں ساتھ برائی کے، اور وہ پسند کریں کاش کہ تم بھی کفر کرو(2) ہرگز نہیں نفع دیں گے تمھیں تمھارے رشتے ناتے اور نہ تمھاری اولاد دن قیامت کے وہ فیصلہ کرےگا تمھارے درمیان (اس میں) اور اللہ، ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(3) تحقیق ہے تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کےساتھ تھے، جب انھوں نے کہا تھا اپنی قوم سے، بلاشبہ ہم بری ہیں تم سے اور ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کفر کیا ہم نے ساتھ تمھارے اور ظاہر ہو گئی ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اکیلے کے ،مگر کہنا ابراہیم کا اپنے باپ سے کہ ضرور مغفرت طلب کروں گا میں تیرے لیے اور نہیں اختیار رکھتا میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز کا بھی، اے ہمارے رب!تجھی پر توکل کیا ہم نے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہم نے اور تیری ہی طرف (ہمارا) لوٹنا ہے(4) اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا اور بخش دے ہمیں اے ہمارے رب! بلاشبہ تو ہی ہے بڑا زبردست، خوب حکمت والا(5) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے ان میں نمونہ بہترین اس شخص کے لیے جو ہو امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور جو کوئی رو گردانی کرے تو بلاشبہ اللہ ہی ہے بے پروا قابل تعریف(6) امید ہے کہ اللہ، یہ کہ (پیدا) کر دے وہ درمیان تمھارے اور درمیان ان لوگوں کے کہ عداوت رکھتے ہو تم ان سے، دوستی اور اللہ خوب قدرت والا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے(7) نہیں روکتا تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو نہیں لڑے تم سے دین کی بابت اور نہیں نکالا انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے ،اس بات سے کہ تم حسن سلوک کرو ان سے اور انصاف کرو تم ان کے حق میں بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(8)یقیناً روکتا ہے تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو لڑے تم سے دین کی بابت، اور انھوں نے نکالا تمھیں تمھارے گھروں سے اور انھوں نے مدد کی تمھارے نکالنے میں، اس بات سے کہ تم دوستی کرو ان سے، اور جو کوئی دوستی کرے ان سے تو وہی لوگ ظالم ہیں(9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ بہت سے مفسرینs نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہt کا قصہ ہے، جب رسول اللہﷺ نے غزوۂ فتحِ مکہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہt نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انھیں رسول اللہﷺ کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان كرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ٔاکرمﷺ کو تمام معاملے سے آگاہ کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرالیا۔ آپ نے حاطبt پر عتاب فرمایا، حاطبt نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی ٔکریم ﷺ نے قبول فرما لیا۔ان آیات کریمہ میں کفار ومشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات و مودت ایمان اور ملت ابراہیمu کے منافی اور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد و کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ [1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات و مودت رکھو، جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے، تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے، لہٰذا ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡا عَدُوِّيۡ ﴾ نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو ﴿وَعَدُوَّؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ﴾ ’’اور اپنے دشمنوں کو دوست۔ تم انھیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کی محبت و مودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہو جاتی ہے تو نصرت و موالات اس کے پیچھے آتی ہیں۔ تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفر ان کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے، وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے، اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے؟مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بھی دعوت دیتی ہے کہ انھوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کر دیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا۔ اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں، انھوں نے تمھارے اصل دین کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور جو کوئی حق کو ٹھکراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کا مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ ﴿ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ﴾ اے مومنو! وہ رسول کو اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمھیں جلا وطن کرتے ہیں۔ان کے ہاں اس بارے میں تمھارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ ﴿ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ﴾ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ۔جب انھوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمھارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور اس بنا پر انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا۔تب کون سا دین، کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس باقی رہ جاتی ہے، اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے، جن کا ہر زمان و مکان میں یہی وصف ہے، ان کو خوف یا کسی طاقتور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِيۡ﴾ یعنی اگر تمھارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کی رضا کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو، یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور سب سے بڑا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ﴿ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ١ۖ ۗ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ﴾ یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمھیں علم ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، تمھارا کفار کے ساتھ مودت و موالات رکھنا، اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا و سزا دے گا۔ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ﴾ اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے منع کیا ہے۔﴿ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ يَّثۡقَفُوۡؔكُمۡ﴾ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ يَكُوۡنُوۡا لَكُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّيَبۡسُطُوۡۤا اِلَيۡكُمۡ اَيۡدِيَهُمۡ﴾ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلۡسِنَتَهُمۡ بِالسُّوۡٓءِ﴾ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔‘‘ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔ [3] اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو ﴿ لَنۡ تَنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ﴾ اللہ کے مقابلے میں تمھارے رشتے ناتے اور تمھاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں کفار کی موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمھیں نقصان دے گی۔ [4] اے مومنوں کے گروہ! تمھارے لیے ﴿ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ اچھا نمونہ اور ایسی راہ نمائی ہے جو تمھیں فائدہ دے گی ﴿ فِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ﴾ ’’ابرہیم (u) میں اور ان کے (مومن) رفقاء میں ہے۔‘‘ تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ تم یکسو ہو کر ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ ﴿ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ یعنی جب حضرت ابراہیمu اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی مشرک قوم اور ان کے معبودوں سے براء ت کا اعلان کیا، جنھیں وہ(مشرک)اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ پھر پوری صراحت سے ان کے ساتھ اپنی عداوت کی تصریح کی ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا﴾ ’’ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور ظاہر ہو گیا۔‘‘ یعنی پوری طرح ظاہر اور واضح ہو گیا کہ ﴿ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ﴾ ہمارے اور تمھارے درمیان دلوں کا بغض اور ابدان کی عداوت، دلوں میں سے مودت زائل ہو گئی اور اس بغض اور عداوت کے لیے کوئی وقت اور حد مقرر نہیں بلکہ یہ عداوت ﴿ اَبَدًا﴾ اس وقت تک ہمیشہ برقرار رہے گی جب تک کہ تم اپنے کفر پر قائم ہو ﴿ حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ﴾ یعنی جب تم اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ گے تو عداوت اور بغض زائل ہو جائے گا، عداوت مودت اور دوستی میں بدل جائے گی ۔پس اے مومنو! ایمان، توحید اور اس کے لوازم و مقتضیات کو قائم کرنے میں ابراہیم uاور ان کے اصحاب میں تمھارے لیے نمونہ ہے، ہر چیز میں اسی کو نمونہ بنا کر اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ﴿ اِلَّا﴾ سوائے ایک خصلت کے اور وہ ہے ﴿ قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ﴾ حضرت ابراہیمu کے اپنے مشرک، کافر اور معاندِ حق باپ کے بارے میں قول، جب آپ نے اپنے باپ کو ایمان اور توحید کی دعوت دی اور اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے اس سے کہا تھا :﴿ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَ﴾ ’’میں تیرے لیے مغفرت طلب کروں گا۔ اور حال یہ ہے کہ ‘‘ ﴿ مَاۤ اَمۡلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’میں اللہ کے سامنے تمھارے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ مگر میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا، ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں۔اس حال میں تم ابراہیم (u) کی اقتدانہ کرو جس میں انھوں نے اپنے مشرک (باپ)کے لیے دعا کی تھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم مشرکین کے لیے دعا کرو اور پھر کہو کہ ہم تو ملت ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ابراہیمu کا عذر ان الفاظ میں بیان فرما دیا ہے: ﴿وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا، صرف ایک وعدے کے سبب سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کر چکے تھے، جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا بلاشبہ ابراہیم بہت نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘ تمھارے لیے حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب میں نمونہ اس وقت (کے طرز عمل میں)ہے جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا، اس پر بھروسہ کیا، اس کی طرف رجوع کیا اور اپنے عجز و تقصیر کا اعتراف کیا اور کہا :﴿ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّؔلۡنَا﴾ ایسے امور کے حصول میں جو ہمیں فائدہ دیتے ہیں ا ور ایسے امور کو دور کرنے میں، جو ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ اَنَبۡنَا﴾ یعنی ہم تیری اطاعت، تیری رضا، اور ان تمام امور کی طرف لوٹتے ہیں جو تیرا قرب عطا کرتے ہیں۔ نیک اعمال کے ذریعے سے اس قرب کے حصول میں کوشاں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے تیری طرف لوٹنا ہے، ہم تیری خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ اعمال سر انجام دے رہے ہیں جو تیرے قریب کرتے ہیں۔ [5]﴿ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کے سبب سے تو کفار کو ہم پر مسلط نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کر دیں اور ہمیں ان امورِ ایمان سے روک دیں جن پر عمل کرنے پر ہم قادر ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی فتنے میں مبتلا کریں گے کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ انھیں غلبہ حاصل ہے تو سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں اس طرح وہ کفر اور سرکشی میں اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ﴿ وَاغۡفِرۡ لَنَا﴾ ہم نے جن گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور مامورات کی تعمیل میں ہم سے جو تقصیر سرزد ہوئی ہے، وہ ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے۔‘‘ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ جو تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، پس اپنی عزت و غلبے اور اپنی حکمت کے وسیلے سےہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے عیوب کی اصلاح کر۔ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوبارہ حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب کی پیروی کی ترغیب دی اور فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡهِمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ’’تحقیق تمھارے لیے انھی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔‘‘ اور ہر شخص کے لیے اس نمونہ کی پیروی کرنا آسان نہیں، یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے ﴿ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ﴾ ’’جو اللہ (سے ملنے) اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔‘‘ کیونکہ ایمان اور اجر و ثواب کی امید، بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بے انتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے، وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی بے پروا ہے۔‘‘ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ ﴿ الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے۔ [7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عداوت جس کے بارے میں اس نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے ساتھ رکھیں، اور اہل ایمان کو اس وصف سے موصوف کیا کہ جب تک مشرکین اپنے شرک اور کفر پر قائم ہیں، وہ ان کی دشمنی پر قائم ہیں اور اگر مشرکین دائرہ ایمان سے منتقل ہو جائیں گے تو حکم بھی اپنی علت کے مطابق ہو گا اور مودت ایمانی لوٹ آئے گی۔پس اے مومنو! تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہو جاؤ ﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّوَدَّةً﴾ ’’عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کرے۔‘‘ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے﴿ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اس کی قدرت کے تحت ہے ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ ﴿ قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’(اے نبی!) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض کفار کے اسلام لانے کی طرف اشارہ اور اس کی بشارت ہے جو اس وقت کافر اور اہل ایمان کے دشمن تھے۔ اور یہ بشارت پوری ہوئی۔وَلِلہِ الْحَمْدُ . [8] جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں، نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا، انھوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات و مودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ ﴿ لَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اپنے مشرک عزیز و اقارب وغیرہ سے حسن سلوک، صلہ رحمی، ان کو معروف طریقے سے انصاف کے ساتھ بدلہ دینے سے نہیں روکتا، مگر اس صورت میں کہ انھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی ہو نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہو۔ اس لیے تم پر کوئی گناہ نہیں، اگر تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو، کیونکہ ان حالات میں صلہ رحمی ممنوع نہیں اور نہ ایسا کرنے میں کوئی تاوان ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں، جبکہ ان کا بیٹا مسلمان ہو، فرمایا:﴿ وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا﴾(لقمان:31؍15) ’’اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ۔‘‘ [9]﴿ اِنَّمَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ قٰتَلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ﴾ ’’اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمھارے دین کی وجہ سے ﴿ وَاَخۡرَجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ وَظٰهَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا اور انھوں نے مدد کی۔‘‘ یعنی انھوں نے دوسروں کی مدد کی ﴿ عَلٰۤى اِخۡرَاجِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں تمھارے گھروں سے نکالنے میں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں روک دیا ہے ﴿ اَنۡ تَوَلَّوۡهُمۡ ﴾ اس بات سے کہ قول و فعل میں تم نصرت و مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو، رہا تمھارا (اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور احسان، جو مشرکین کے ساتھ موالات کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے نہیں روکا۔ بلکہ یہ حکم اقارب وغیرہ انسانوں اور دیگر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی کریں گے تو وہ ظالم ہیں۔‘‘ اور یہ ظلم موالات کے مطابق ہو گا۔ اگر کسی نے پوری پوری موالات اور دوستی رکھی ہے تو یہ کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے، اس سے نیچے بہت سے مراتب ہیں جن میں بعض بہت سخت اور بعض نرم ہیں۔

الممتحنة 60:5

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا حالانکہ انھوں نے کفر کیا ہے ساتھ اس چیز کے جو آیا ہے تمھارے پاس حق، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور خود تمھیں بھی اس لیے کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ ( یعنی ) اپنے رب پر (نہ دوست بناؤ) اگر ہو تم نکلتے جہاد کے لیے میرے راستے میں اور تلاش کرنے کے لیے میری رضامندی تم پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا؟ اور میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو اور اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کوئی کرے یہ کام تم میں سے تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا سیدھی راہ سے(1) اگر وہ پائیں تم کو تو ہو جائیں وہ واسطے تمھارے دشمن، اور دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں ساتھ برائی کے، اور وہ پسند کریں کاش کہ تم بھی کفر کرو(2) ہرگز نہیں نفع دیں گے تمھیں تمھارے رشتے ناتے اور نہ تمھاری اولاد دن قیامت کے وہ فیصلہ کرےگا تمھارے درمیان (اس میں) اور اللہ، ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(3) تحقیق ہے تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کےساتھ تھے، جب انھوں نے کہا تھا اپنی قوم سے، بلاشبہ ہم بری ہیں تم سے اور ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کفر کیا ہم نے ساتھ تمھارے اور ظاہر ہو گئی ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اکیلے کے ،مگر کہنا ابراہیم کا اپنے باپ سے کہ ضرور مغفرت طلب کروں گا میں تیرے لیے اور نہیں اختیار رکھتا میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز کا بھی، اے ہمارے رب!تجھی پر توکل کیا ہم نے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہم نے اور تیری ہی طرف (ہمارا) لوٹنا ہے(4) اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا اور بخش دے ہمیں اے ہمارے رب! بلاشبہ تو ہی ہے بڑا زبردست، خوب حکمت والا(5) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے ان میں نمونہ بہترین اس شخص کے لیے جو ہو امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور جو کوئی رو گردانی کرے تو بلاشبہ اللہ ہی ہے بے پروا قابل تعریف(6) امید ہے کہ اللہ، یہ کہ (پیدا) کر دے وہ درمیان تمھارے اور درمیان ان لوگوں کے کہ عداوت رکھتے ہو تم ان سے، دوستی اور اللہ خوب قدرت والا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے(7) نہیں روکتا تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو نہیں لڑے تم سے دین کی بابت اور نہیں نکالا انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے ،اس بات سے کہ تم حسن سلوک کرو ان سے اور انصاف کرو تم ان کے حق میں بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(8)یقیناً روکتا ہے تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو لڑے تم سے دین کی بابت، اور انھوں نے نکالا تمھیں تمھارے گھروں سے اور انھوں نے مدد کی تمھارے نکالنے میں، اس بات سے کہ تم دوستی کرو ان سے، اور جو کوئی دوستی کرے ان سے تو وہی لوگ ظالم ہیں(9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ بہت سے مفسرینs نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہt کا قصہ ہے، جب رسول اللہﷺ نے غزوۂ فتحِ مکہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہt نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انھیں رسول اللہﷺ کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان كرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ٔاکرمﷺ کو تمام معاملے سے آگاہ کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرالیا۔ آپ نے حاطبt پر عتاب فرمایا، حاطبt نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی ٔکریم ﷺ نے قبول فرما لیا۔ان آیات کریمہ میں کفار ومشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات و مودت ایمان اور ملت ابراہیمu کے منافی اور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد و کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ [1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات و مودت رکھو، جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے، تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے، لہٰذا ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡا عَدُوِّيۡ ﴾ نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو ﴿وَعَدُوَّؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ﴾ ’’اور اپنے دشمنوں کو دوست۔ تم انھیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کی محبت و مودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہو جاتی ہے تو نصرت و موالات اس کے پیچھے آتی ہیں۔ تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفر ان کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے، وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے، اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے؟مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بھی دعوت دیتی ہے کہ انھوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کر دیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا۔ اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں، انھوں نے تمھارے اصل دین کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور جو کوئی حق کو ٹھکراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کا مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ ﴿ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ﴾ اے مومنو! وہ رسول کو اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمھیں جلا وطن کرتے ہیں۔ان کے ہاں اس بارے میں تمھارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ ﴿ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ﴾ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ۔جب انھوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمھارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور اس بنا پر انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا۔تب کون سا دین، کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس باقی رہ جاتی ہے، اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے، جن کا ہر زمان و مکان میں یہی وصف ہے، ان کو خوف یا کسی طاقتور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِيۡ﴾ یعنی اگر تمھارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کی رضا کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو، یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور سب سے بڑا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ﴿ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ١ۖ ۗ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ﴾ یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمھیں علم ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، تمھارا کفار کے ساتھ مودت و موالات رکھنا، اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا و سزا دے گا۔ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ﴾ اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے منع کیا ہے۔﴿ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ يَّثۡقَفُوۡؔكُمۡ﴾ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ يَكُوۡنُوۡا لَكُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّيَبۡسُطُوۡۤا اِلَيۡكُمۡ اَيۡدِيَهُمۡ﴾ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلۡسِنَتَهُمۡ بِالسُّوۡٓءِ﴾ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔‘‘ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔ [3] اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو ﴿ لَنۡ تَنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ﴾ اللہ کے مقابلے میں تمھارے رشتے ناتے اور تمھاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں کفار کی موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمھیں نقصان دے گی۔ [4] اے مومنوں کے گروہ! تمھارے لیے ﴿ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ اچھا نمونہ اور ایسی راہ نمائی ہے جو تمھیں فائدہ دے گی ﴿ فِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ﴾ ’’ابرہیم (u) میں اور ان کے (مومن) رفقاء میں ہے۔‘‘ تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ تم یکسو ہو کر ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ ﴿ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ یعنی جب حضرت ابراہیمu اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی مشرک قوم اور ان کے معبودوں سے براء ت کا اعلان کیا، جنھیں وہ(مشرک)اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ پھر پوری صراحت سے ان کے ساتھ اپنی عداوت کی تصریح کی ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا﴾ ’’ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور ظاہر ہو گیا۔‘‘ یعنی پوری طرح ظاہر اور واضح ہو گیا کہ ﴿ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ﴾ ہمارے اور تمھارے درمیان دلوں کا بغض اور ابدان کی عداوت، دلوں میں سے مودت زائل ہو گئی اور اس بغض اور عداوت کے لیے کوئی وقت اور حد مقرر نہیں بلکہ یہ عداوت ﴿ اَبَدًا﴾ اس وقت تک ہمیشہ برقرار رہے گی جب تک کہ تم اپنے کفر پر قائم ہو ﴿ حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ﴾ یعنی جب تم اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ گے تو عداوت اور بغض زائل ہو جائے گا، عداوت مودت اور دوستی میں بدل جائے گی ۔پس اے مومنو! ایمان، توحید اور اس کے لوازم و مقتضیات کو قائم کرنے میں ابراہیم uاور ان کے اصحاب میں تمھارے لیے نمونہ ہے، ہر چیز میں اسی کو نمونہ بنا کر اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ﴿ اِلَّا﴾ سوائے ایک خصلت کے اور وہ ہے ﴿ قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ﴾ حضرت ابراہیمu کے اپنے مشرک، کافر اور معاندِ حق باپ کے بارے میں قول، جب آپ نے اپنے باپ کو ایمان اور توحید کی دعوت دی اور اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے اس سے کہا تھا :﴿ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَ﴾ ’’میں تیرے لیے مغفرت طلب کروں گا۔ اور حال یہ ہے کہ ‘‘ ﴿ مَاۤ اَمۡلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’میں اللہ کے سامنے تمھارے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ مگر میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا، ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں۔اس حال میں تم ابراہیم (u) کی اقتدانہ کرو جس میں انھوں نے اپنے مشرک (باپ)کے لیے دعا کی تھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم مشرکین کے لیے دعا کرو اور پھر کہو کہ ہم تو ملت ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ابراہیمu کا عذر ان الفاظ میں بیان فرما دیا ہے: ﴿وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا، صرف ایک وعدے کے سبب سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کر چکے تھے، جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا بلاشبہ ابراہیم بہت نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘ تمھارے لیے حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب میں نمونہ اس وقت (کے طرز عمل میں)ہے جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا، اس پر بھروسہ کیا، اس کی طرف رجوع کیا اور اپنے عجز و تقصیر کا اعتراف کیا اور کہا :﴿ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّؔلۡنَا﴾ ایسے امور کے حصول میں جو ہمیں فائدہ دیتے ہیں ا ور ایسے امور کو دور کرنے میں، جو ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ اَنَبۡنَا﴾ یعنی ہم تیری اطاعت، تیری رضا، اور ان تمام امور کی طرف لوٹتے ہیں جو تیرا قرب عطا کرتے ہیں۔ نیک اعمال کے ذریعے سے اس قرب کے حصول میں کوشاں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے تیری طرف لوٹنا ہے، ہم تیری خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ اعمال سر انجام دے رہے ہیں جو تیرے قریب کرتے ہیں۔ [5]﴿ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کے سبب سے تو کفار کو ہم پر مسلط نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کر دیں اور ہمیں ان امورِ ایمان سے روک دیں جن پر عمل کرنے پر ہم قادر ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی فتنے میں مبتلا کریں گے کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ انھیں غلبہ حاصل ہے تو سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں اس طرح وہ کفر اور سرکشی میں اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ﴿ وَاغۡفِرۡ لَنَا﴾ ہم نے جن گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور مامورات کی تعمیل میں ہم سے جو تقصیر سرزد ہوئی ہے، وہ ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے۔‘‘ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ جو تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، پس اپنی عزت و غلبے اور اپنی حکمت کے وسیلے سےہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے عیوب کی اصلاح کر۔ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوبارہ حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب کی پیروی کی ترغیب دی اور فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡهِمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ’’تحقیق تمھارے لیے انھی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔‘‘ اور ہر شخص کے لیے اس نمونہ کی پیروی کرنا آسان نہیں، یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے ﴿ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ﴾ ’’جو اللہ (سے ملنے) اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔‘‘ کیونکہ ایمان اور اجر و ثواب کی امید، بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بے انتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے، وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی بے پروا ہے۔‘‘ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ ﴿ الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے۔ [7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عداوت جس کے بارے میں اس نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے ساتھ رکھیں، اور اہل ایمان کو اس وصف سے موصوف کیا کہ جب تک مشرکین اپنے شرک اور کفر پر قائم ہیں، وہ ان کی دشمنی پر قائم ہیں اور اگر مشرکین دائرہ ایمان سے منتقل ہو جائیں گے تو حکم بھی اپنی علت کے مطابق ہو گا اور مودت ایمانی لوٹ آئے گی۔پس اے مومنو! تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہو جاؤ ﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّوَدَّةً﴾ ’’عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کرے۔‘‘ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے﴿ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اس کی قدرت کے تحت ہے ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ ﴿ قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’(اے نبی!) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض کفار کے اسلام لانے کی طرف اشارہ اور اس کی بشارت ہے جو اس وقت کافر اور اہل ایمان کے دشمن تھے۔ اور یہ بشارت پوری ہوئی۔وَلِلہِ الْحَمْدُ . [8] جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں، نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا، انھوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات و مودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ ﴿ لَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اپنے مشرک عزیز و اقارب وغیرہ سے حسن سلوک، صلہ رحمی، ان کو معروف طریقے سے انصاف کے ساتھ بدلہ دینے سے نہیں روکتا، مگر اس صورت میں کہ انھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی ہو نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہو۔ اس لیے تم پر کوئی گناہ نہیں، اگر تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو، کیونکہ ان حالات میں صلہ رحمی ممنوع نہیں اور نہ ایسا کرنے میں کوئی تاوان ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں، جبکہ ان کا بیٹا مسلمان ہو، فرمایا:﴿ وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا﴾(لقمان:31؍15) ’’اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ۔‘‘ [9]﴿ اِنَّمَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ قٰتَلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ﴾ ’’اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمھارے دین کی وجہ سے ﴿ وَاَخۡرَجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ وَظٰهَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا اور انھوں نے مدد کی۔‘‘ یعنی انھوں نے دوسروں کی مدد کی ﴿ عَلٰۤى اِخۡرَاجِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں تمھارے گھروں سے نکالنے میں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں روک دیا ہے ﴿ اَنۡ تَوَلَّوۡهُمۡ ﴾ اس بات سے کہ قول و فعل میں تم نصرت و مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو، رہا تمھارا (اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور احسان، جو مشرکین کے ساتھ موالات کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے نہیں روکا۔ بلکہ یہ حکم اقارب وغیرہ انسانوں اور دیگر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی کریں گے تو وہ ظالم ہیں۔‘‘ اور یہ ظلم موالات کے مطابق ہو گا۔ اگر کسی نے پوری پوری موالات اور دوستی رکھی ہے تو یہ کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے، اس سے نیچے بہت سے مراتب ہیں جن میں بعض بہت سخت اور بعض نرم ہیں۔

الممتحنة 60:6

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا حالانکہ انھوں نے کفر کیا ہے ساتھ اس چیز کے جو آیا ہے تمھارے پاس حق، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور خود تمھیں بھی اس لیے کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ ( یعنی ) اپنے رب پر (نہ دوست بناؤ) اگر ہو تم نکلتے جہاد کے لیے میرے راستے میں اور تلاش کرنے کے لیے میری رضامندی تم پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا؟ اور میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو اور اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کوئی کرے یہ کام تم میں سے تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا سیدھی راہ سے(1) اگر وہ پائیں تم کو تو ہو جائیں وہ واسطے تمھارے دشمن، اور دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں ساتھ برائی کے، اور وہ پسند کریں کاش کہ تم بھی کفر کرو(2) ہرگز نہیں نفع دیں گے تمھیں تمھارے رشتے ناتے اور نہ تمھاری اولاد دن قیامت کے وہ فیصلہ کرےگا تمھارے درمیان (اس میں) اور اللہ، ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(3) تحقیق ہے تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کےساتھ تھے، جب انھوں نے کہا تھا اپنی قوم سے، بلاشبہ ہم بری ہیں تم سے اور ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کفر کیا ہم نے ساتھ تمھارے اور ظاہر ہو گئی ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اکیلے کے ،مگر کہنا ابراہیم کا اپنے باپ سے کہ ضرور مغفرت طلب کروں گا میں تیرے لیے اور نہیں اختیار رکھتا میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز کا بھی، اے ہمارے رب!تجھی پر توکل کیا ہم نے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہم نے اور تیری ہی طرف (ہمارا) لوٹنا ہے(4) اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا اور بخش دے ہمیں اے ہمارے رب! بلاشبہ تو ہی ہے بڑا زبردست، خوب حکمت والا(5) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے ان میں نمونہ بہترین اس شخص کے لیے جو ہو امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور جو کوئی رو گردانی کرے تو بلاشبہ اللہ ہی ہے بے پروا قابل تعریف(6) امید ہے کہ اللہ، یہ کہ (پیدا) کر دے وہ درمیان تمھارے اور درمیان ان لوگوں کے کہ عداوت رکھتے ہو تم ان سے، دوستی اور اللہ خوب قدرت والا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے(7) نہیں روکتا تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو نہیں لڑے تم سے دین کی بابت اور نہیں نکالا انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے ،اس بات سے کہ تم حسن سلوک کرو ان سے اور انصاف کرو تم ان کے حق میں بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(8)یقیناً روکتا ہے تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو لڑے تم سے دین کی بابت، اور انھوں نے نکالا تمھیں تمھارے گھروں سے اور انھوں نے مدد کی تمھارے نکالنے میں، اس بات سے کہ تم دوستی کرو ان سے، اور جو کوئی دوستی کرے ان سے تو وہی لوگ ظالم ہیں(9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ بہت سے مفسرینs نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہt کا قصہ ہے، جب رسول اللہﷺ نے غزوۂ فتحِ مکہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہt نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انھیں رسول اللہﷺ کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان كرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ٔاکرمﷺ کو تمام معاملے سے آگاہ کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرالیا۔ آپ نے حاطبt پر عتاب فرمایا، حاطبt نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی ٔکریم ﷺ نے قبول فرما لیا۔ان آیات کریمہ میں کفار ومشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات و مودت ایمان اور ملت ابراہیمu کے منافی اور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد و کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ [1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات و مودت رکھو، جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے، تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے، لہٰذا ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡا عَدُوِّيۡ ﴾ نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو ﴿وَعَدُوَّؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ﴾ ’’اور اپنے دشمنوں کو دوست۔ تم انھیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کی محبت و مودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہو جاتی ہے تو نصرت و موالات اس کے پیچھے آتی ہیں۔ تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفر ان کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے، وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے، اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے؟مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بھی دعوت دیتی ہے کہ انھوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کر دیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا۔ اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں، انھوں نے تمھارے اصل دین کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور جو کوئی حق کو ٹھکراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کا مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ ﴿ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ﴾ اے مومنو! وہ رسول کو اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمھیں جلا وطن کرتے ہیں۔ان کے ہاں اس بارے میں تمھارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ ﴿ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ﴾ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ۔جب انھوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمھارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور اس بنا پر انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا۔تب کون سا دین، کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس باقی رہ جاتی ہے، اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے، جن کا ہر زمان و مکان میں یہی وصف ہے، ان کو خوف یا کسی طاقتور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِيۡ﴾ یعنی اگر تمھارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کی رضا کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو، یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور سب سے بڑا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ﴿ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ١ۖ ۗ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ﴾ یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمھیں علم ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، تمھارا کفار کے ساتھ مودت و موالات رکھنا، اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا و سزا دے گا۔ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ﴾ اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے منع کیا ہے۔﴿ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ يَّثۡقَفُوۡؔكُمۡ﴾ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ يَكُوۡنُوۡا لَكُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّيَبۡسُطُوۡۤا اِلَيۡكُمۡ اَيۡدِيَهُمۡ﴾ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلۡسِنَتَهُمۡ بِالسُّوۡٓءِ﴾ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔‘‘ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔ [3] اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو ﴿ لَنۡ تَنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ﴾ اللہ کے مقابلے میں تمھارے رشتے ناتے اور تمھاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں کفار کی موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمھیں نقصان دے گی۔ [4] اے مومنوں کے گروہ! تمھارے لیے ﴿ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ اچھا نمونہ اور ایسی راہ نمائی ہے جو تمھیں فائدہ دے گی ﴿ فِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ﴾ ’’ابرہیم (u) میں اور ان کے (مومن) رفقاء میں ہے۔‘‘ تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ تم یکسو ہو کر ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ ﴿ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ یعنی جب حضرت ابراہیمu اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی مشرک قوم اور ان کے معبودوں سے براء ت کا اعلان کیا، جنھیں وہ(مشرک)اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ پھر پوری صراحت سے ان کے ساتھ اپنی عداوت کی تصریح کی ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا﴾ ’’ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور ظاہر ہو گیا۔‘‘ یعنی پوری طرح ظاہر اور واضح ہو گیا کہ ﴿ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ﴾ ہمارے اور تمھارے درمیان دلوں کا بغض اور ابدان کی عداوت، دلوں میں سے مودت زائل ہو گئی اور اس بغض اور عداوت کے لیے کوئی وقت اور حد مقرر نہیں بلکہ یہ عداوت ﴿ اَبَدًا﴾ اس وقت تک ہمیشہ برقرار رہے گی جب تک کہ تم اپنے کفر پر قائم ہو ﴿ حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ﴾ یعنی جب تم اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ گے تو عداوت اور بغض زائل ہو جائے گا، عداوت مودت اور دوستی میں بدل جائے گی ۔پس اے مومنو! ایمان، توحید اور اس کے لوازم و مقتضیات کو قائم کرنے میں ابراہیم uاور ان کے اصحاب میں تمھارے لیے نمونہ ہے، ہر چیز میں اسی کو نمونہ بنا کر اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ﴿ اِلَّا﴾ سوائے ایک خصلت کے اور وہ ہے ﴿ قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ﴾ حضرت ابراہیمu کے اپنے مشرک، کافر اور معاندِ حق باپ کے بارے میں قول، جب آپ نے اپنے باپ کو ایمان اور توحید کی دعوت دی اور اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے اس سے کہا تھا :﴿ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَ﴾ ’’میں تیرے لیے مغفرت طلب کروں گا۔ اور حال یہ ہے کہ ‘‘ ﴿ مَاۤ اَمۡلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’میں اللہ کے سامنے تمھارے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ مگر میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا، ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں۔اس حال میں تم ابراہیم (u) کی اقتدانہ کرو جس میں انھوں نے اپنے مشرک (باپ)کے لیے دعا کی تھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم مشرکین کے لیے دعا کرو اور پھر کہو کہ ہم تو ملت ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ابراہیمu کا عذر ان الفاظ میں بیان فرما دیا ہے: ﴿وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا، صرف ایک وعدے کے سبب سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کر چکے تھے، جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا بلاشبہ ابراہیم بہت نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘ تمھارے لیے حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب میں نمونہ اس وقت (کے طرز عمل میں)ہے جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا، اس پر بھروسہ کیا، اس کی طرف رجوع کیا اور اپنے عجز و تقصیر کا اعتراف کیا اور کہا :﴿ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّؔلۡنَا﴾ ایسے امور کے حصول میں جو ہمیں فائدہ دیتے ہیں ا ور ایسے امور کو دور کرنے میں، جو ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ اَنَبۡنَا﴾ یعنی ہم تیری اطاعت، تیری رضا، اور ان تمام امور کی طرف لوٹتے ہیں جو تیرا قرب عطا کرتے ہیں۔ نیک اعمال کے ذریعے سے اس قرب کے حصول میں کوشاں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے تیری طرف لوٹنا ہے، ہم تیری خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ اعمال سر انجام دے رہے ہیں جو تیرے قریب کرتے ہیں۔ [5]﴿ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کے سبب سے تو کفار کو ہم پر مسلط نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کر دیں اور ہمیں ان امورِ ایمان سے روک دیں جن پر عمل کرنے پر ہم قادر ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی فتنے میں مبتلا کریں گے کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ انھیں غلبہ حاصل ہے تو سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں اس طرح وہ کفر اور سرکشی میں اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ﴿ وَاغۡفِرۡ لَنَا﴾ ہم نے جن گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور مامورات کی تعمیل میں ہم سے جو تقصیر سرزد ہوئی ہے، وہ ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے۔‘‘ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ جو تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، پس اپنی عزت و غلبے اور اپنی حکمت کے وسیلے سےہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے عیوب کی اصلاح کر۔ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوبارہ حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب کی پیروی کی ترغیب دی اور فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡهِمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ’’تحقیق تمھارے لیے انھی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔‘‘ اور ہر شخص کے لیے اس نمونہ کی پیروی کرنا آسان نہیں، یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے ﴿ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ﴾ ’’جو اللہ (سے ملنے) اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔‘‘ کیونکہ ایمان اور اجر و ثواب کی امید، بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بے انتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے، وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی بے پروا ہے۔‘‘ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ ﴿ الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے۔ [7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عداوت جس کے بارے میں اس نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے ساتھ رکھیں، اور اہل ایمان کو اس وصف سے موصوف کیا کہ جب تک مشرکین اپنے شرک اور کفر پر قائم ہیں، وہ ان کی دشمنی پر قائم ہیں اور اگر مشرکین دائرہ ایمان سے منتقل ہو جائیں گے تو حکم بھی اپنی علت کے مطابق ہو گا اور مودت ایمانی لوٹ آئے گی۔پس اے مومنو! تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہو جاؤ ﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّوَدَّةً﴾ ’’عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کرے۔‘‘ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے﴿ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اس کی قدرت کے تحت ہے ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ ﴿ قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’(اے نبی!) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض کفار کے اسلام لانے کی طرف اشارہ اور اس کی بشارت ہے جو اس وقت کافر اور اہل ایمان کے دشمن تھے۔ اور یہ بشارت پوری ہوئی۔وَلِلہِ الْحَمْدُ . [8] جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں، نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا، انھوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات و مودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ ﴿ لَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اپنے مشرک عزیز و اقارب وغیرہ سے حسن سلوک، صلہ رحمی، ان کو معروف طریقے سے انصاف کے ساتھ بدلہ دینے سے نہیں روکتا، مگر اس صورت میں کہ انھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی ہو نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہو۔ اس لیے تم پر کوئی گناہ نہیں، اگر تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو، کیونکہ ان حالات میں صلہ رحمی ممنوع نہیں اور نہ ایسا کرنے میں کوئی تاوان ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں، جبکہ ان کا بیٹا مسلمان ہو، فرمایا:﴿ وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا﴾(لقمان:31؍15) ’’اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ۔‘‘ [9]﴿ اِنَّمَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ قٰتَلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ﴾ ’’اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمھارے دین کی وجہ سے ﴿ وَاَخۡرَجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ وَظٰهَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا اور انھوں نے مدد کی۔‘‘ یعنی انھوں نے دوسروں کی مدد کی ﴿ عَلٰۤى اِخۡرَاجِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں تمھارے گھروں سے نکالنے میں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں روک دیا ہے ﴿ اَنۡ تَوَلَّوۡهُمۡ ﴾ اس بات سے کہ قول و فعل میں تم نصرت و مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو، رہا تمھارا (اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور احسان، جو مشرکین کے ساتھ موالات کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے نہیں روکا۔ بلکہ یہ حکم اقارب وغیرہ انسانوں اور دیگر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی کریں گے تو وہ ظالم ہیں۔‘‘ اور یہ ظلم موالات کے مطابق ہو گا۔ اگر کسی نے پوری پوری موالات اور دوستی رکھی ہے تو یہ کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے، اس سے نیچے بہت سے مراتب ہیں جن میں بعض بہت سخت اور بعض نرم ہیں۔

الممتحنة 60:7

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا حالانکہ انھوں نے کفر کیا ہے ساتھ اس چیز کے جو آیا ہے تمھارے پاس حق، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور خود تمھیں بھی اس لیے کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ ( یعنی ) اپنے رب پر (نہ دوست بناؤ) اگر ہو تم نکلتے جہاد کے لیے میرے راستے میں اور تلاش کرنے کے لیے میری رضامندی تم پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا؟ اور میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو اور اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کوئی کرے یہ کام تم میں سے تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا سیدھی راہ سے(1) اگر وہ پائیں تم کو تو ہو جائیں وہ واسطے تمھارے دشمن، اور دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں ساتھ برائی کے، اور وہ پسند کریں کاش کہ تم بھی کفر کرو(2) ہرگز نہیں نفع دیں گے تمھیں تمھارے رشتے ناتے اور نہ تمھاری اولاد دن قیامت کے وہ فیصلہ کرےگا تمھارے درمیان (اس میں) اور اللہ، ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(3) تحقیق ہے تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کےساتھ تھے، جب انھوں نے کہا تھا اپنی قوم سے، بلاشبہ ہم بری ہیں تم سے اور ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کفر کیا ہم نے ساتھ تمھارے اور ظاہر ہو گئی ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اکیلے کے ،مگر کہنا ابراہیم کا اپنے باپ سے کہ ضرور مغفرت طلب کروں گا میں تیرے لیے اور نہیں اختیار رکھتا میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز کا بھی، اے ہمارے رب!تجھی پر توکل کیا ہم نے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہم نے اور تیری ہی طرف (ہمارا) لوٹنا ہے(4) اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا اور بخش دے ہمیں اے ہمارے رب! بلاشبہ تو ہی ہے بڑا زبردست، خوب حکمت والا(5) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے ان میں نمونہ بہترین اس شخص کے لیے جو ہو امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور جو کوئی رو گردانی کرے تو بلاشبہ اللہ ہی ہے بے پروا قابل تعریف(6) امید ہے کہ اللہ، یہ کہ (پیدا) کر دے وہ درمیان تمھارے اور درمیان ان لوگوں کے کہ عداوت رکھتے ہو تم ان سے، دوستی اور اللہ خوب قدرت والا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے(7) نہیں روکتا تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو نہیں لڑے تم سے دین کی بابت اور نہیں نکالا انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے ،اس بات سے کہ تم حسن سلوک کرو ان سے اور انصاف کرو تم ان کے حق میں بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(8)یقیناً روکتا ہے تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو لڑے تم سے دین کی بابت، اور انھوں نے نکالا تمھیں تمھارے گھروں سے اور انھوں نے مدد کی تمھارے نکالنے میں، اس بات سے کہ تم دوستی کرو ان سے، اور جو کوئی دوستی کرے ان سے تو وہی لوگ ظالم ہیں(9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ بہت سے مفسرینs نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہt کا قصہ ہے، جب رسول اللہﷺ نے غزوۂ فتحِ مکہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہt نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انھیں رسول اللہﷺ کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان كرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ٔاکرمﷺ کو تمام معاملے سے آگاہ کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرالیا۔ آپ نے حاطبt پر عتاب فرمایا، حاطبt نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی ٔکریم ﷺ نے قبول فرما لیا۔ان آیات کریمہ میں کفار ومشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات و مودت ایمان اور ملت ابراہیمu کے منافی اور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد و کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ [1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات و مودت رکھو، جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے، تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے، لہٰذا ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡا عَدُوِّيۡ ﴾ نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو ﴿وَعَدُوَّؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ﴾ ’’اور اپنے دشمنوں کو دوست۔ تم انھیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کی محبت و مودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہو جاتی ہے تو نصرت و موالات اس کے پیچھے آتی ہیں۔ تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفر ان کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے، وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے، اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے؟مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بھی دعوت دیتی ہے کہ انھوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کر دیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا۔ اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں، انھوں نے تمھارے اصل دین کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور جو کوئی حق کو ٹھکراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کا مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ ﴿ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ﴾ اے مومنو! وہ رسول کو اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمھیں جلا وطن کرتے ہیں۔ان کے ہاں اس بارے میں تمھارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ ﴿ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ﴾ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ۔جب انھوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمھارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور اس بنا پر انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا۔تب کون سا دین، کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس باقی رہ جاتی ہے، اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے، جن کا ہر زمان و مکان میں یہی وصف ہے، ان کو خوف یا کسی طاقتور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِيۡ﴾ یعنی اگر تمھارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کی رضا کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو، یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور سب سے بڑا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ﴿ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ١ۖ ۗ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ﴾ یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمھیں علم ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، تمھارا کفار کے ساتھ مودت و موالات رکھنا، اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا و سزا دے گا۔ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ﴾ اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے منع کیا ہے۔﴿ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ يَّثۡقَفُوۡؔكُمۡ﴾ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ يَكُوۡنُوۡا لَكُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّيَبۡسُطُوۡۤا اِلَيۡكُمۡ اَيۡدِيَهُمۡ﴾ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلۡسِنَتَهُمۡ بِالسُّوۡٓءِ﴾ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔‘‘ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔ [3] اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو ﴿ لَنۡ تَنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ﴾ اللہ کے مقابلے میں تمھارے رشتے ناتے اور تمھاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں کفار کی موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمھیں نقصان دے گی۔ [4] اے مومنوں کے گروہ! تمھارے لیے ﴿ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ اچھا نمونہ اور ایسی راہ نمائی ہے جو تمھیں فائدہ دے گی ﴿ فِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ﴾ ’’ابرہیم (u) میں اور ان کے (مومن) رفقاء میں ہے۔‘‘ تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ تم یکسو ہو کر ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ ﴿ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ یعنی جب حضرت ابراہیمu اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی مشرک قوم اور ان کے معبودوں سے براء ت کا اعلان کیا، جنھیں وہ(مشرک)اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ پھر پوری صراحت سے ان کے ساتھ اپنی عداوت کی تصریح کی ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا﴾ ’’ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور ظاہر ہو گیا۔‘‘ یعنی پوری طرح ظاہر اور واضح ہو گیا کہ ﴿ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ﴾ ہمارے اور تمھارے درمیان دلوں کا بغض اور ابدان کی عداوت، دلوں میں سے مودت زائل ہو گئی اور اس بغض اور عداوت کے لیے کوئی وقت اور حد مقرر نہیں بلکہ یہ عداوت ﴿ اَبَدًا﴾ اس وقت تک ہمیشہ برقرار رہے گی جب تک کہ تم اپنے کفر پر قائم ہو ﴿ حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ﴾ یعنی جب تم اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ گے تو عداوت اور بغض زائل ہو جائے گا، عداوت مودت اور دوستی میں بدل جائے گی ۔پس اے مومنو! ایمان، توحید اور اس کے لوازم و مقتضیات کو قائم کرنے میں ابراہیم uاور ان کے اصحاب میں تمھارے لیے نمونہ ہے، ہر چیز میں اسی کو نمونہ بنا کر اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ﴿ اِلَّا﴾ سوائے ایک خصلت کے اور وہ ہے ﴿ قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ﴾ حضرت ابراہیمu کے اپنے مشرک، کافر اور معاندِ حق باپ کے بارے میں قول، جب آپ نے اپنے باپ کو ایمان اور توحید کی دعوت دی اور اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے اس سے کہا تھا :﴿ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَ﴾ ’’میں تیرے لیے مغفرت طلب کروں گا۔ اور حال یہ ہے کہ ‘‘ ﴿ مَاۤ اَمۡلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’میں اللہ کے سامنے تمھارے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ مگر میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا، ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں۔اس حال میں تم ابراہیم (u) کی اقتدانہ کرو جس میں انھوں نے اپنے مشرک (باپ)کے لیے دعا کی تھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم مشرکین کے لیے دعا کرو اور پھر کہو کہ ہم تو ملت ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ابراہیمu کا عذر ان الفاظ میں بیان فرما دیا ہے: ﴿وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا، صرف ایک وعدے کے سبب سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کر چکے تھے، جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا بلاشبہ ابراہیم بہت نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘ تمھارے لیے حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب میں نمونہ اس وقت (کے طرز عمل میں)ہے جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا، اس پر بھروسہ کیا، اس کی طرف رجوع کیا اور اپنے عجز و تقصیر کا اعتراف کیا اور کہا :﴿ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّؔلۡنَا﴾ ایسے امور کے حصول میں جو ہمیں فائدہ دیتے ہیں ا ور ایسے امور کو دور کرنے میں، جو ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ اَنَبۡنَا﴾ یعنی ہم تیری اطاعت، تیری رضا، اور ان تمام امور کی طرف لوٹتے ہیں جو تیرا قرب عطا کرتے ہیں۔ نیک اعمال کے ذریعے سے اس قرب کے حصول میں کوشاں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے تیری طرف لوٹنا ہے، ہم تیری خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ اعمال سر انجام دے رہے ہیں جو تیرے قریب کرتے ہیں۔ [5]﴿ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کے سبب سے تو کفار کو ہم پر مسلط نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کر دیں اور ہمیں ان امورِ ایمان سے روک دیں جن پر عمل کرنے پر ہم قادر ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی فتنے میں مبتلا کریں گے کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ انھیں غلبہ حاصل ہے تو سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں اس طرح وہ کفر اور سرکشی میں اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ﴿ وَاغۡفِرۡ لَنَا﴾ ہم نے جن گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور مامورات کی تعمیل میں ہم سے جو تقصیر سرزد ہوئی ہے، وہ ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے۔‘‘ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ جو تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، پس اپنی عزت و غلبے اور اپنی حکمت کے وسیلے سےہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے عیوب کی اصلاح کر۔ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوبارہ حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب کی پیروی کی ترغیب دی اور فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡهِمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ’’تحقیق تمھارے لیے انھی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔‘‘ اور ہر شخص کے لیے اس نمونہ کی پیروی کرنا آسان نہیں، یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے ﴿ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ﴾ ’’جو اللہ (سے ملنے) اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔‘‘ کیونکہ ایمان اور اجر و ثواب کی امید، بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بے انتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے، وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی بے پروا ہے۔‘‘ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ ﴿ الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے۔ [7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عداوت جس کے بارے میں اس نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے ساتھ رکھیں، اور اہل ایمان کو اس وصف سے موصوف کیا کہ جب تک مشرکین اپنے شرک اور کفر پر قائم ہیں، وہ ان کی دشمنی پر قائم ہیں اور اگر مشرکین دائرہ ایمان سے منتقل ہو جائیں گے تو حکم بھی اپنی علت کے مطابق ہو گا اور مودت ایمانی لوٹ آئے گی۔پس اے مومنو! تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہو جاؤ ﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّوَدَّةً﴾ ’’عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کرے۔‘‘ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے﴿ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اس کی قدرت کے تحت ہے ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ ﴿ قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’(اے نبی!) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض کفار کے اسلام لانے کی طرف اشارہ اور اس کی بشارت ہے جو اس وقت کافر اور اہل ایمان کے دشمن تھے۔ اور یہ بشارت پوری ہوئی۔وَلِلہِ الْحَمْدُ . [8] جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں، نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا، انھوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات و مودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ ﴿ لَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اپنے مشرک عزیز و اقارب وغیرہ سے حسن سلوک، صلہ رحمی، ان کو معروف طریقے سے انصاف کے ساتھ بدلہ دینے سے نہیں روکتا، مگر اس صورت میں کہ انھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی ہو نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہو۔ اس لیے تم پر کوئی گناہ نہیں، اگر تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو، کیونکہ ان حالات میں صلہ رحمی ممنوع نہیں اور نہ ایسا کرنے میں کوئی تاوان ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں، جبکہ ان کا بیٹا مسلمان ہو، فرمایا:﴿ وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا﴾(لقمان:31؍15) ’’اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ۔‘‘ [9]﴿ اِنَّمَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ قٰتَلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ﴾ ’’اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمھارے دین کی وجہ سے ﴿ وَاَخۡرَجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ وَظٰهَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا اور انھوں نے مدد کی۔‘‘ یعنی انھوں نے دوسروں کی مدد کی ﴿ عَلٰۤى اِخۡرَاجِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں تمھارے گھروں سے نکالنے میں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں روک دیا ہے ﴿ اَنۡ تَوَلَّوۡهُمۡ ﴾ اس بات سے کہ قول و فعل میں تم نصرت و مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو، رہا تمھارا (اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور احسان، جو مشرکین کے ساتھ موالات کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے نہیں روکا۔ بلکہ یہ حکم اقارب وغیرہ انسانوں اور دیگر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی کریں گے تو وہ ظالم ہیں۔‘‘ اور یہ ظلم موالات کے مطابق ہو گا۔ اگر کسی نے پوری پوری موالات اور دوستی رکھی ہے تو یہ کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے، اس سے نیچے بہت سے مراتب ہیں جن میں بعض بہت سخت اور بعض نرم ہیں۔

الممتحنة 60:8

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا حالانکہ انھوں نے کفر کیا ہے ساتھ اس چیز کے جو آیا ہے تمھارے پاس حق، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور خود تمھیں بھی اس لیے کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ ( یعنی ) اپنے رب پر (نہ دوست بناؤ) اگر ہو تم نکلتے جہاد کے لیے میرے راستے میں اور تلاش کرنے کے لیے میری رضامندی تم پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا؟ اور میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو اور اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کوئی کرے یہ کام تم میں سے تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا سیدھی راہ سے(1) اگر وہ پائیں تم کو تو ہو جائیں وہ واسطے تمھارے دشمن، اور دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں ساتھ برائی کے، اور وہ پسند کریں کاش کہ تم بھی کفر کرو(2) ہرگز نہیں نفع دیں گے تمھیں تمھارے رشتے ناتے اور نہ تمھاری اولاد دن قیامت کے وہ فیصلہ کرےگا تمھارے درمیان (اس میں) اور اللہ، ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(3) تحقیق ہے تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کےساتھ تھے، جب انھوں نے کہا تھا اپنی قوم سے، بلاشبہ ہم بری ہیں تم سے اور ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کفر کیا ہم نے ساتھ تمھارے اور ظاہر ہو گئی ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اکیلے کے ،مگر کہنا ابراہیم کا اپنے باپ سے کہ ضرور مغفرت طلب کروں گا میں تیرے لیے اور نہیں اختیار رکھتا میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز کا بھی، اے ہمارے رب!تجھی پر توکل کیا ہم نے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہم نے اور تیری ہی طرف (ہمارا) لوٹنا ہے(4) اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا اور بخش دے ہمیں اے ہمارے رب! بلاشبہ تو ہی ہے بڑا زبردست، خوب حکمت والا(5) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے ان میں نمونہ بہترین اس شخص کے لیے جو ہو امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور جو کوئی رو گردانی کرے تو بلاشبہ اللہ ہی ہے بے پروا قابل تعریف(6) امید ہے کہ اللہ، یہ کہ (پیدا) کر دے وہ درمیان تمھارے اور درمیان ان لوگوں کے کہ عداوت رکھتے ہو تم ان سے، دوستی اور اللہ خوب قدرت والا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے(7) نہیں روکتا تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو نہیں لڑے تم سے دین کی بابت اور نہیں نکالا انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے ،اس بات سے کہ تم حسن سلوک کرو ان سے اور انصاف کرو تم ان کے حق میں بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(8)یقیناً روکتا ہے تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو لڑے تم سے دین کی بابت، اور انھوں نے نکالا تمھیں تمھارے گھروں سے اور انھوں نے مدد کی تمھارے نکالنے میں، اس بات سے کہ تم دوستی کرو ان سے، اور جو کوئی دوستی کرے ان سے تو وہی لوگ ظالم ہیں(9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ بہت سے مفسرینs نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہt کا قصہ ہے، جب رسول اللہﷺ نے غزوۂ فتحِ مکہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہt نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انھیں رسول اللہﷺ کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان كرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ٔاکرمﷺ کو تمام معاملے سے آگاہ کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرالیا۔ آپ نے حاطبt پر عتاب فرمایا، حاطبt نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی ٔکریم ﷺ نے قبول فرما لیا۔ان آیات کریمہ میں کفار ومشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات و مودت ایمان اور ملت ابراہیمu کے منافی اور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد و کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ [1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات و مودت رکھو، جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے، تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے، لہٰذا ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡا عَدُوِّيۡ ﴾ نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو ﴿وَعَدُوَّؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ﴾ ’’اور اپنے دشمنوں کو دوست۔ تم انھیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کی محبت و مودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہو جاتی ہے تو نصرت و موالات اس کے پیچھے آتی ہیں۔ تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفر ان کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے، وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے، اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے؟مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بھی دعوت دیتی ہے کہ انھوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کر دیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا۔ اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں، انھوں نے تمھارے اصل دین کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور جو کوئی حق کو ٹھکراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کا مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ ﴿ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ﴾ اے مومنو! وہ رسول کو اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمھیں جلا وطن کرتے ہیں۔ان کے ہاں اس بارے میں تمھارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ ﴿ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ﴾ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ۔جب انھوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمھارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور اس بنا پر انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا۔تب کون سا دین، کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس باقی رہ جاتی ہے، اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے، جن کا ہر زمان و مکان میں یہی وصف ہے، ان کو خوف یا کسی طاقتور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِيۡ﴾ یعنی اگر تمھارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کی رضا کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو، یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور سب سے بڑا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ﴿ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ١ۖ ۗ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ﴾ یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمھیں علم ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، تمھارا کفار کے ساتھ مودت و موالات رکھنا، اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا و سزا دے گا۔ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ﴾ اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے منع کیا ہے۔﴿ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ يَّثۡقَفُوۡؔكُمۡ﴾ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ يَكُوۡنُوۡا لَكُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّيَبۡسُطُوۡۤا اِلَيۡكُمۡ اَيۡدِيَهُمۡ﴾ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلۡسِنَتَهُمۡ بِالسُّوۡٓءِ﴾ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔‘‘ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔ [3] اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو ﴿ لَنۡ تَنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ﴾ اللہ کے مقابلے میں تمھارے رشتے ناتے اور تمھاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں کفار کی موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمھیں نقصان دے گی۔ [4] اے مومنوں کے گروہ! تمھارے لیے ﴿ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ اچھا نمونہ اور ایسی راہ نمائی ہے جو تمھیں فائدہ دے گی ﴿ فِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ﴾ ’’ابرہیم (u) میں اور ان کے (مومن) رفقاء میں ہے۔‘‘ تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ تم یکسو ہو کر ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ ﴿ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ یعنی جب حضرت ابراہیمu اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی مشرک قوم اور ان کے معبودوں سے براء ت کا اعلان کیا، جنھیں وہ(مشرک)اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ پھر پوری صراحت سے ان کے ساتھ اپنی عداوت کی تصریح کی ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا﴾ ’’ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور ظاہر ہو گیا۔‘‘ یعنی پوری طرح ظاہر اور واضح ہو گیا کہ ﴿ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ﴾ ہمارے اور تمھارے درمیان دلوں کا بغض اور ابدان کی عداوت، دلوں میں سے مودت زائل ہو گئی اور اس بغض اور عداوت کے لیے کوئی وقت اور حد مقرر نہیں بلکہ یہ عداوت ﴿ اَبَدًا﴾ اس وقت تک ہمیشہ برقرار رہے گی جب تک کہ تم اپنے کفر پر قائم ہو ﴿ حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ﴾ یعنی جب تم اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ گے تو عداوت اور بغض زائل ہو جائے گا، عداوت مودت اور دوستی میں بدل جائے گی ۔پس اے مومنو! ایمان، توحید اور اس کے لوازم و مقتضیات کو قائم کرنے میں ابراہیم uاور ان کے اصحاب میں تمھارے لیے نمونہ ہے، ہر چیز میں اسی کو نمونہ بنا کر اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ﴿ اِلَّا﴾ سوائے ایک خصلت کے اور وہ ہے ﴿ قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ﴾ حضرت ابراہیمu کے اپنے مشرک، کافر اور معاندِ حق باپ کے بارے میں قول، جب آپ نے اپنے باپ کو ایمان اور توحید کی دعوت دی اور اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے اس سے کہا تھا :﴿ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَ﴾ ’’میں تیرے لیے مغفرت طلب کروں گا۔ اور حال یہ ہے کہ ‘‘ ﴿ مَاۤ اَمۡلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’میں اللہ کے سامنے تمھارے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ مگر میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا، ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں۔اس حال میں تم ابراہیم (u) کی اقتدانہ کرو جس میں انھوں نے اپنے مشرک (باپ)کے لیے دعا کی تھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم مشرکین کے لیے دعا کرو اور پھر کہو کہ ہم تو ملت ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ابراہیمu کا عذر ان الفاظ میں بیان فرما دیا ہے: ﴿وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا، صرف ایک وعدے کے سبب سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کر چکے تھے، جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا بلاشبہ ابراہیم بہت نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘ تمھارے لیے حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب میں نمونہ اس وقت (کے طرز عمل میں)ہے جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا، اس پر بھروسہ کیا، اس کی طرف رجوع کیا اور اپنے عجز و تقصیر کا اعتراف کیا اور کہا :﴿ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّؔلۡنَا﴾ ایسے امور کے حصول میں جو ہمیں فائدہ دیتے ہیں ا ور ایسے امور کو دور کرنے میں، جو ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ اَنَبۡنَا﴾ یعنی ہم تیری اطاعت، تیری رضا، اور ان تمام امور کی طرف لوٹتے ہیں جو تیرا قرب عطا کرتے ہیں۔ نیک اعمال کے ذریعے سے اس قرب کے حصول میں کوشاں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے تیری طرف لوٹنا ہے، ہم تیری خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ اعمال سر انجام دے رہے ہیں جو تیرے قریب کرتے ہیں۔ [5]﴿ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کے سبب سے تو کفار کو ہم پر مسلط نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کر دیں اور ہمیں ان امورِ ایمان سے روک دیں جن پر عمل کرنے پر ہم قادر ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی فتنے میں مبتلا کریں گے کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ انھیں غلبہ حاصل ہے تو سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں اس طرح وہ کفر اور سرکشی میں اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ﴿ وَاغۡفِرۡ لَنَا﴾ ہم نے جن گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور مامورات کی تعمیل میں ہم سے جو تقصیر سرزد ہوئی ہے، وہ ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے۔‘‘ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ جو تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، پس اپنی عزت و غلبے اور اپنی حکمت کے وسیلے سےہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے عیوب کی اصلاح کر۔ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوبارہ حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب کی پیروی کی ترغیب دی اور فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡهِمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ’’تحقیق تمھارے لیے انھی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔‘‘ اور ہر شخص کے لیے اس نمونہ کی پیروی کرنا آسان نہیں، یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے ﴿ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ﴾ ’’جو اللہ (سے ملنے) اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔‘‘ کیونکہ ایمان اور اجر و ثواب کی امید، بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بے انتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے، وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی بے پروا ہے۔‘‘ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ ﴿ الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے۔ [7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عداوت جس کے بارے میں اس نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے ساتھ رکھیں، اور اہل ایمان کو اس وصف سے موصوف کیا کہ جب تک مشرکین اپنے شرک اور کفر پر قائم ہیں، وہ ان کی دشمنی پر قائم ہیں اور اگر مشرکین دائرہ ایمان سے منتقل ہو جائیں گے تو حکم بھی اپنی علت کے مطابق ہو گا اور مودت ایمانی لوٹ آئے گی۔پس اے مومنو! تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہو جاؤ ﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّوَدَّةً﴾ ’’عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کرے۔‘‘ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے﴿ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اس کی قدرت کے تحت ہے ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ ﴿ قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’(اے نبی!) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض کفار کے اسلام لانے کی طرف اشارہ اور اس کی بشارت ہے جو اس وقت کافر اور اہل ایمان کے دشمن تھے۔ اور یہ بشارت پوری ہوئی۔وَلِلہِ الْحَمْدُ . [8] جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں، نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا، انھوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات و مودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ ﴿ لَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اپنے مشرک عزیز و اقارب وغیرہ سے حسن سلوک، صلہ رحمی، ان کو معروف طریقے سے انصاف کے ساتھ بدلہ دینے سے نہیں روکتا، مگر اس صورت میں کہ انھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی ہو نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہو۔ اس لیے تم پر کوئی گناہ نہیں، اگر تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو، کیونکہ ان حالات میں صلہ رحمی ممنوع نہیں اور نہ ایسا کرنے میں کوئی تاوان ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں، جبکہ ان کا بیٹا مسلمان ہو، فرمایا:﴿ وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا﴾(لقمان:31؍15) ’’اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ۔‘‘ [9]﴿ اِنَّمَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ قٰتَلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ﴾ ’’اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمھارے دین کی وجہ سے ﴿ وَاَخۡرَجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ وَظٰهَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا اور انھوں نے مدد کی۔‘‘ یعنی انھوں نے دوسروں کی مدد کی ﴿ عَلٰۤى اِخۡرَاجِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں تمھارے گھروں سے نکالنے میں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں روک دیا ہے ﴿ اَنۡ تَوَلَّوۡهُمۡ ﴾ اس بات سے کہ قول و فعل میں تم نصرت و مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو، رہا تمھارا (اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور احسان، جو مشرکین کے ساتھ موالات کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے نہیں روکا۔ بلکہ یہ حکم اقارب وغیرہ انسانوں اور دیگر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی کریں گے تو وہ ظالم ہیں۔‘‘ اور یہ ظلم موالات کے مطابق ہو گا۔ اگر کسی نے پوری پوری موالات اور دوستی رکھی ہے تو یہ کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے، اس سے نیچے بہت سے مراتب ہیں جن میں بعض بہت سخت اور بعض نرم ہیں۔

الممتحنة 60:9

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا حالانکہ انھوں نے کفر کیا ہے ساتھ اس چیز کے جو آیا ہے تمھارے پاس حق، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور خود تمھیں بھی اس لیے کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ ( یعنی ) اپنے رب پر (نہ دوست بناؤ) اگر ہو تم نکلتے جہاد کے لیے میرے راستے میں اور تلاش کرنے کے لیے میری رضامندی تم پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا؟ اور میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو اور اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کوئی کرے یہ کام تم میں سے تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا سیدھی راہ سے(1) اگر وہ پائیں تم کو تو ہو جائیں وہ واسطے تمھارے دشمن، اور دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں ساتھ برائی کے، اور وہ پسند کریں کاش کہ تم بھی کفر کرو(2) ہرگز نہیں نفع دیں گے تمھیں تمھارے رشتے ناتے اور نہ تمھاری اولاد دن قیامت کے وہ فیصلہ کرےگا تمھارے درمیان (اس میں) اور اللہ، ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(3) تحقیق ہے تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کےساتھ تھے، جب انھوں نے کہا تھا اپنی قوم سے، بلاشبہ ہم بری ہیں تم سے اور ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کفر کیا ہم نے ساتھ تمھارے اور ظاہر ہو گئی ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اکیلے کے ،مگر کہنا ابراہیم کا اپنے باپ سے کہ ضرور مغفرت طلب کروں گا میں تیرے لیے اور نہیں اختیار رکھتا میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز کا بھی، اے ہمارے رب!تجھی پر توکل کیا ہم نے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہم نے اور تیری ہی طرف (ہمارا) لوٹنا ہے(4) اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا اور بخش دے ہمیں اے ہمارے رب! بلاشبہ تو ہی ہے بڑا زبردست، خوب حکمت والا(5) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے ان میں نمونہ بہترین اس شخص کے لیے جو ہو امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور جو کوئی رو گردانی کرے تو بلاشبہ اللہ ہی ہے بے پروا قابل تعریف(6) امید ہے کہ اللہ، یہ کہ (پیدا) کر دے وہ درمیان تمھارے اور درمیان ان لوگوں کے کہ عداوت رکھتے ہو تم ان سے، دوستی اور اللہ خوب قدرت والا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے(7) نہیں روکتا تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو نہیں لڑے تم سے دین کی بابت اور نہیں نکالا انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے ،اس بات سے کہ تم حسن سلوک کرو ان سے اور انصاف کرو تم ان کے حق میں بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(8)یقیناً روکتا ہے تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو لڑے تم سے دین کی بابت، اور انھوں نے نکالا تمھیں تمھارے گھروں سے اور انھوں نے مدد کی تمھارے نکالنے میں، اس بات سے کہ تم دوستی کرو ان سے، اور جو کوئی دوستی کرے ان سے تو وہی لوگ ظالم ہیں(9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ بہت سے مفسرینs نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہt کا قصہ ہے، جب رسول اللہﷺ نے غزوۂ فتحِ مکہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہt نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انھیں رسول اللہﷺ کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان كرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ٔاکرمﷺ کو تمام معاملے سے آگاہ کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرالیا۔ آپ نے حاطبt پر عتاب فرمایا، حاطبt نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی ٔکریم ﷺ نے قبول فرما لیا۔ان آیات کریمہ میں کفار ومشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات و مودت ایمان اور ملت ابراہیمu کے منافی اور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد و کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ [1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات و مودت رکھو، جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے، تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے، لہٰذا ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡا عَدُوِّيۡ ﴾ نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو ﴿وَعَدُوَّؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ﴾ ’’اور اپنے دشمنوں کو دوست۔ تم انھیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کی محبت و مودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہو جاتی ہے تو نصرت و موالات اس کے پیچھے آتی ہیں۔ تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفر ان کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے، وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے، اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے؟مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بھی دعوت دیتی ہے کہ انھوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کر دیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا۔ اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں، انھوں نے تمھارے اصل دین کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور جو کوئی حق کو ٹھکراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کا مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ ﴿ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ﴾ اے مومنو! وہ رسول کو اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمھیں جلا وطن کرتے ہیں۔ان کے ہاں اس بارے میں تمھارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ ﴿ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ﴾ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ۔جب انھوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمھارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور اس بنا پر انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا۔تب کون سا دین، کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس باقی رہ جاتی ہے، اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے، جن کا ہر زمان و مکان میں یہی وصف ہے، ان کو خوف یا کسی طاقتور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِيۡ﴾ یعنی اگر تمھارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کی رضا کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو، یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور سب سے بڑا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ﴿ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ١ۖ ۗ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ﴾ یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمھیں علم ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، تمھارا کفار کے ساتھ مودت و موالات رکھنا، اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا و سزا دے گا۔ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ﴾ اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے منع کیا ہے۔﴿ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔ [2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ يَّثۡقَفُوۡؔكُمۡ﴾ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ يَكُوۡنُوۡا لَكُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّيَبۡسُطُوۡۤا اِلَيۡكُمۡ اَيۡدِيَهُمۡ﴾ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلۡسِنَتَهُمۡ بِالسُّوۡٓءِ﴾ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔‘‘ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔ [3] اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو ﴿ لَنۡ تَنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ﴾ اللہ کے مقابلے میں تمھارے رشتے ناتے اور تمھاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں کفار کی موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمھیں نقصان دے گی۔ [4] اے مومنوں کے گروہ! تمھارے لیے ﴿ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ اچھا نمونہ اور ایسی راہ نمائی ہے جو تمھیں فائدہ دے گی ﴿ فِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ﴾ ’’ابرہیم (u) میں اور ان کے (مومن) رفقاء میں ہے۔‘‘ تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ تم یکسو ہو کر ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ ﴿ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ یعنی جب حضرت ابراہیمu اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی مشرک قوم اور ان کے معبودوں سے براء ت کا اعلان کیا، جنھیں وہ(مشرک)اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ پھر پوری صراحت سے ان کے ساتھ اپنی عداوت کی تصریح کی ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا﴾ ’’ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور ظاہر ہو گیا۔‘‘ یعنی پوری طرح ظاہر اور واضح ہو گیا کہ ﴿ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ﴾ ہمارے اور تمھارے درمیان دلوں کا بغض اور ابدان کی عداوت، دلوں میں سے مودت زائل ہو گئی اور اس بغض اور عداوت کے لیے کوئی وقت اور حد مقرر نہیں بلکہ یہ عداوت ﴿ اَبَدًا﴾ اس وقت تک ہمیشہ برقرار رہے گی جب تک کہ تم اپنے کفر پر قائم ہو ﴿ حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ﴾ یعنی جب تم اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ گے تو عداوت اور بغض زائل ہو جائے گا، عداوت مودت اور دوستی میں بدل جائے گی ۔پس اے مومنو! ایمان، توحید اور اس کے لوازم و مقتضیات کو قائم کرنے میں ابراہیم uاور ان کے اصحاب میں تمھارے لیے نمونہ ہے، ہر چیز میں اسی کو نمونہ بنا کر اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ﴿ اِلَّا﴾ سوائے ایک خصلت کے اور وہ ہے ﴿ قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ﴾ حضرت ابراہیمu کے اپنے مشرک، کافر اور معاندِ حق باپ کے بارے میں قول، جب آپ نے اپنے باپ کو ایمان اور توحید کی دعوت دی اور اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے اس سے کہا تھا :﴿ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَ﴾ ’’میں تیرے لیے مغفرت طلب کروں گا۔ اور حال یہ ہے کہ ‘‘ ﴿ مَاۤ اَمۡلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’میں اللہ کے سامنے تمھارے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ مگر میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا، ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں۔اس حال میں تم ابراہیم (u) کی اقتدانہ کرو جس میں انھوں نے اپنے مشرک (باپ)کے لیے دعا کی تھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم مشرکین کے لیے دعا کرو اور پھر کہو کہ ہم تو ملت ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ابراہیمu کا عذر ان الفاظ میں بیان فرما دیا ہے: ﴿وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا، صرف ایک وعدے کے سبب سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کر چکے تھے، جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا بلاشبہ ابراہیم بہت نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘ تمھارے لیے حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب میں نمونہ اس وقت (کے طرز عمل میں)ہے جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا، اس پر بھروسہ کیا، اس کی طرف رجوع کیا اور اپنے عجز و تقصیر کا اعتراف کیا اور کہا :﴿ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّؔلۡنَا﴾ ایسے امور کے حصول میں جو ہمیں فائدہ دیتے ہیں ا ور ایسے امور کو دور کرنے میں، جو ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ اَنَبۡنَا﴾ یعنی ہم تیری اطاعت، تیری رضا، اور ان تمام امور کی طرف لوٹتے ہیں جو تیرا قرب عطا کرتے ہیں۔ نیک اعمال کے ذریعے سے اس قرب کے حصول میں کوشاں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے تیری طرف لوٹنا ہے، ہم تیری خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ اعمال سر انجام دے رہے ہیں جو تیرے قریب کرتے ہیں۔ [5]﴿ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کے سبب سے تو کفار کو ہم پر مسلط نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کر دیں اور ہمیں ان امورِ ایمان سے روک دیں جن پر عمل کرنے پر ہم قادر ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی فتنے میں مبتلا کریں گے کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ انھیں غلبہ حاصل ہے تو سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں اس طرح وہ کفر اور سرکشی میں اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ﴿ وَاغۡفِرۡ لَنَا﴾ ہم نے جن گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور مامورات کی تعمیل میں ہم سے جو تقصیر سرزد ہوئی ہے، وہ ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے۔‘‘ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ جو تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، پس اپنی عزت و غلبے اور اپنی حکمت کے وسیلے سےہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے عیوب کی اصلاح کر۔ [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوبارہ حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب کی پیروی کی ترغیب دی اور فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡهِمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ’’تحقیق تمھارے لیے انھی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔‘‘ اور ہر شخص کے لیے اس نمونہ کی پیروی کرنا آسان نہیں، یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے ﴿ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ﴾ ’’جو اللہ (سے ملنے) اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔‘‘ کیونکہ ایمان اور اجر و ثواب کی امید، بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بے انتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے، وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی بے پروا ہے۔‘‘ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ ﴿ الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے۔ [7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عداوت جس کے بارے میں اس نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے ساتھ رکھیں، اور اہل ایمان کو اس وصف سے موصوف کیا کہ جب تک مشرکین اپنے شرک اور کفر پر قائم ہیں، وہ ان کی دشمنی پر قائم ہیں اور اگر مشرکین دائرہ ایمان سے منتقل ہو جائیں گے تو حکم بھی اپنی علت کے مطابق ہو گا اور مودت ایمانی لوٹ آئے گی۔پس اے مومنو! تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہو جاؤ ﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّوَدَّةً﴾ ’’عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کرے۔‘‘ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے﴿ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اس کی قدرت کے تحت ہے ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ ﴿ قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’(اے نبی!) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض کفار کے اسلام لانے کی طرف اشارہ اور اس کی بشارت ہے جو اس وقت کافر اور اہل ایمان کے دشمن تھے۔ اور یہ بشارت پوری ہوئی۔وَلِلہِ الْحَمْدُ . [8] جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں، نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا، انھوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات و مودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ ﴿ لَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اپنے مشرک عزیز و اقارب وغیرہ سے حسن سلوک، صلہ رحمی، ان کو معروف طریقے سے انصاف کے ساتھ بدلہ دینے سے نہیں روکتا، مگر اس صورت میں کہ انھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی ہو نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہو۔ اس لیے تم پر کوئی گناہ نہیں، اگر تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو، کیونکہ ان حالات میں صلہ رحمی ممنوع نہیں اور نہ ایسا کرنے میں کوئی تاوان ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں، جبکہ ان کا بیٹا مسلمان ہو، فرمایا:﴿ وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا﴾(لقمان:31؍15) ’’اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ۔‘‘ [9]﴿ اِنَّمَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ قٰتَلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ﴾ ’’اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمھارے دین کی وجہ سے ﴿ وَاَخۡرَجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ وَظٰهَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا اور انھوں نے مدد کی۔‘‘ یعنی انھوں نے دوسروں کی مدد کی ﴿ عَلٰۤى اِخۡرَاجِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں تمھارے گھروں سے نکالنے میں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں روک دیا ہے ﴿ اَنۡ تَوَلَّوۡهُمۡ ﴾ اس بات سے کہ قول و فعل میں تم نصرت و مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو، رہا تمھارا (اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور احسان، جو مشرکین کے ساتھ موالات کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے نہیں روکا۔ بلکہ یہ حکم اقارب وغیرہ انسانوں اور دیگر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی کریں گے تو وہ ظالم ہیں۔‘‘ اور یہ ظلم موالات کے مطابق ہو گا۔ اگر کسی نے پوری پوری موالات اور دوستی رکھی ہے تو یہ کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے، اس سے نیچے بہت سے مراتب ہیں جن میں بعض بہت سخت اور بعض نرم ہیں۔

الممتحنة 60:10

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب آئیں تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے تو تم امتحان لو ان کا اللہ خوب جانتا ہےان کے ایمان کو، پس اگر جانو تم ان کو مومن تو نہ لوٹاؤ تم انھیں کفار کی طرف، نہیں وہ (عورتیں) حلال ان کے لیے اور نہ وہ (کافر) حلال ہیں ان کے لیے اور تم دو ان (کفار) کو جو کچھ (مہر) انھوں نے خرچ کیا اور نہیں کوئی گناہ تم پر یہ کہ تم نکاح کر لو ان سے جب تم دے دو انھیں حق مہر ان کے اور نہ روکے (قبضے میں) رکھو تم عصمتیں کافر عورتوں کی اور مانگ لو تم جو کچھ (مہر) خرچ کیا تم نے اور چاہیے کہ مانگیں وہ بھی جو کچھ (مہر) انھوں نے خرچ کیا یہ فیصلہ ہے اللہ کا، وہ فیصلہ کرتا ہے تمھارے درمیان اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (10) اور اگر چلی جائیں تم سے کچھ بیویاں تمھاری کفار کی طرف تو بدلہ دو تم ان (خاوندوں) کو پس دو تم ان لوگوں کو کہ چلی گئی ہیں ان کی بیویاں، مثل اس (مہر) کے جو انھوں نے خرچ کیا اور ڈرو تم اللہ سے وہ کہ تم اس کے ساتھ ایمان رکھتے ہو (11) [10] صلح حدیبیہ میں جب رسول اللہ ﷺ نے مشرکین مکہ کے ساتھ اس شرط پر معاہدہ کیا کہ کفار میں سے جو کوئی مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے تو وہ مشرکین کو واپس کر دیا جائے گا۔ یہ عام اور مطلق لفظ تھا، جس کے عموم میں مرد اور عورت سب شامل ہیں۔ مردوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ایفائے شرط اور معاہدۂ صلح کو پورا کرنے کے لیے کفار کی طرف واپس لوٹانے سے اپنے رسول کو منع نہیں کیا، جو سب سے بڑی مصلحت تھی۔رہی عورتیں تو چونکہ ان کے واپس لوٹانے میں بہت سے مفاسد تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے ان کے پاس آئیں، اور ان کو ان عورتوں کے ایمان کی صداقت میں شک ہو، تو ان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیا کریں، تاکہ سخت قسم وغیرہ کے ذریعے سے، ان کی صداقت ظاہر ہو جائے، کیونکہ اس بات کا احتمال ہو سکتا ہے کہ ان کے ایمان میں صداقت نہ ہو، بلکہ شوہر یا شہر وغیرہ دنیاوی مقاصد کے لیے ہجرت کی ہو، اگر ان میں یہ وصف پایا جائے، تو ایفائے شرط کے لیے کسی خرابی کے حصول کے بغیر ان کا واپس کیا جانا طے شدہ ہے۔ اگر اہل ایمان نے ان کو جانچ لیا اور ان کو سچا پایا ہو، یا جانچ پڑتال کے بغیر ہی اہل ایمان کو ان کے مومن ہونے کا علم ہو، تو وہ ان عورتوں کو کفار کی طرف واپس نہ بھیجیں ﴿ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّوۡنَ لَهُنَّ ﴾ ’’یہ (عورتیں) ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں نہ وہ (کافر) ان کے لیے۔‘‘ یہ بہت بڑی خرابی ہے جس کی شارع نے رعایت رکھی ہے، شارع نے ایفائے شرط کی بھی رعایت رکھی کہ ان عورتوں کے عوض میں ان کے کفار شوہروں کو وہ مہر اور اس کے توابع وغیرہ واپس لوٹا دیے جائیں جو انھوں نے ان عورتوں پر خرچ کیے ہیں۔ تب مسلمانوں کے لیے، ان عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں، خواہ دارالشرک میں ان کے (مشرک) شوہر موجود ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان عورتوں کو مہر اور نان و نفقہ ادا کریں۔جس طرح مسلمان عورت کافر کے لیے حلال نہیں، اسی طرح اہل کتاب کے سوا کافر عورت، جب تک وہ اپنے کفر پر قائم ہے، مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں، اس لیے فرمایا:﴿ وَلَا تُمۡسِكُوۡا بِعِصَمِ الۡكَوَافِرِ ﴾ ’’اور تم کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں رکھنے سے منع کیا ہے تب ان کے ساتھ نکاح کی ابتدا تو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہے ﴿ وَسۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ ﴾ اے مومنو! جب تمھاری مرتد بیویاں کفار کی طرف واپس لوٹیں تو ان سے اس مال کا مطالبہ کرو، جو تم نے ان پر خرچ کیا ہے۔ جب کفار اپنی ان عورتوں کو عطا کیا ہو امہر وصول کر سکتے ہیں، جو مسلمان ہو گئی ہوں، تب اس کے مقابلے مسلمان بھی اس مہر کو وصول کرنے کے مستحق ہیں جو ان کی (مرتد) بیویوں کے ساتھ کفار کے پاس گیا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا اپنے شوہر کی زوجیت سے نکلنا قیمت رکھتا ہے ، اگر کوئی فاسد کرنے والا عورت کے نکاح کو رضاعت یا کسی اور سبب کی بنا پر فاسد کر دے، تو اس کے مہر کی ضمان ہے، یعنی مہر کی ادائیگی ضروری ہے ﴿ ذٰلِكُمۡ حُكۡمُ اللّٰهِ ﴾ یعنی یہ فیصلہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، جو اس نے تمھارے سامنے بیان کر کے واضح کیا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ جاننے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون سے احکام تمھارے لیے درست ہیں ، پس وہ اپنی حکمت اور رحمت کے مطابق اپنے احکام مشروع کرتا ہے۔ [11]﴿ وَاِنۡ فَاتَكُمۡ شَيۡءٌ مِّنۡ اَزۡوَاجِكُمۡ اِلَى الۡكُفَّارِ ﴾ ’’اور اگر تمھاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمھارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے۔‘‘ اس سبب سے کہ وہ مرتد ہو کر واپس چلی گئی ہو۔ ﴿ فَعَاقَبۡتُمۡ فَاٰتُوا الَّذِيۡنَ ذَهَبَتۡ اَزۡوَاجُهُمۡ مِّثۡلَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’تو تم (مال غنیمت میں سے) ان کو اتنا مال دے دو جتنا انھوں نے خرچ کیا۔‘‘ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ جب کفار مسلمانوں سے اس مہر کا بدل وصول کرتے تھے جو ان کی بیویوں کے پاس مسلمانوں کی طرف چلا جاتا تھا، تب مسلمانوں میں سے کسی کی بیوی کفار کے پاس چلی جائے اور وہ اس سے محروم ہو جائے، تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ غنیمت میں سے اسے اس مال کا بدل عطا کریں جو مہر کی صورت میں اس نے اپنی بیوی پر خرچ کیا۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور تم اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔‘‘یعنی اللہ تعالیٰ پر تمھارا ایمان تم سے تقاضا کرتا ہے کہ تم دائمی طور پر تقویٰ کا التزام کرو۔

الممتحنة 60:11

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب آئیں تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے تو تم امتحان لو ان کا اللہ خوب جانتا ہےان کے ایمان کو، پس اگر جانو تم ان کو مومن تو نہ لوٹاؤ تم انھیں کفار کی طرف، نہیں وہ (عورتیں) حلال ان کے لیے اور نہ وہ (کافر) حلال ہیں ان کے لیے اور تم دو ان (کفار) کو جو کچھ (مہر) انھوں نے خرچ کیا اور نہیں کوئی گناہ تم پر یہ کہ تم نکاح کر لو ان سے جب تم دے دو انھیں حق مہر ان کے اور نہ روکے (قبضے میں) رکھو تم عصمتیں کافر عورتوں کی اور مانگ لو تم جو کچھ (مہر) خرچ کیا تم نے اور چاہیے کہ مانگیں وہ بھی جو کچھ (مہر) انھوں نے خرچ کیا یہ فیصلہ ہے اللہ کا، وہ فیصلہ کرتا ہے تمھارے درمیان اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (10) اور اگر چلی جائیں تم سے کچھ بیویاں تمھاری کفار کی طرف تو بدلہ دو تم ان (خاوندوں) کو پس دو تم ان لوگوں کو کہ چلی گئی ہیں ان کی بیویاں، مثل اس (مہر) کے جو انھوں نے خرچ کیا اور ڈرو تم اللہ سے وہ کہ تم اس کے ساتھ ایمان رکھتے ہو (11) [10] صلح حدیبیہ میں جب رسول اللہ ﷺ نے مشرکین مکہ کے ساتھ اس شرط پر معاہدہ کیا کہ کفار میں سے جو کوئی مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے تو وہ مشرکین کو واپس کر دیا جائے گا۔ یہ عام اور مطلق لفظ تھا، جس کے عموم میں مرد اور عورت سب شامل ہیں۔ مردوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ایفائے شرط اور معاہدۂ صلح کو پورا کرنے کے لیے کفار کی طرف واپس لوٹانے سے اپنے رسول کو منع نہیں کیا، جو سب سے بڑی مصلحت تھی۔رہی عورتیں تو چونکہ ان کے واپس لوٹانے میں بہت سے مفاسد تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے ان کے پاس آئیں، اور ان کو ان عورتوں کے ایمان کی صداقت میں شک ہو، تو ان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیا کریں، تاکہ سخت قسم وغیرہ کے ذریعے سے، ان کی صداقت ظاہر ہو جائے، کیونکہ اس بات کا احتمال ہو سکتا ہے کہ ان کے ایمان میں صداقت نہ ہو، بلکہ شوہر یا شہر وغیرہ دنیاوی مقاصد کے لیے ہجرت کی ہو، اگر ان میں یہ وصف پایا جائے، تو ایفائے شرط کے لیے کسی خرابی کے حصول کے بغیر ان کا واپس کیا جانا طے شدہ ہے۔ اگر اہل ایمان نے ان کو جانچ لیا اور ان کو سچا پایا ہو، یا جانچ پڑتال کے بغیر ہی اہل ایمان کو ان کے مومن ہونے کا علم ہو، تو وہ ان عورتوں کو کفار کی طرف واپس نہ بھیجیں ﴿ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّوۡنَ لَهُنَّ ﴾ ’’یہ (عورتیں) ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں نہ وہ (کافر) ان کے لیے۔‘‘ یہ بہت بڑی خرابی ہے جس کی شارع نے رعایت رکھی ہے، شارع نے ایفائے شرط کی بھی رعایت رکھی کہ ان عورتوں کے عوض میں ان کے کفار شوہروں کو وہ مہر اور اس کے توابع وغیرہ واپس لوٹا دیے جائیں جو انھوں نے ان عورتوں پر خرچ کیے ہیں۔ تب مسلمانوں کے لیے، ان عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں، خواہ دارالشرک میں ان کے (مشرک) شوہر موجود ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان عورتوں کو مہر اور نان و نفقہ ادا کریں۔جس طرح مسلمان عورت کافر کے لیے حلال نہیں، اسی طرح اہل کتاب کے سوا کافر عورت، جب تک وہ اپنے کفر پر قائم ہے، مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں، اس لیے فرمایا:﴿ وَلَا تُمۡسِكُوۡا بِعِصَمِ الۡكَوَافِرِ ﴾ ’’اور تم کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں رکھنے سے منع کیا ہے تب ان کے ساتھ نکاح کی ابتدا تو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہے ﴿ وَسۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ ﴾ اے مومنو! جب تمھاری مرتد بیویاں کفار کی طرف واپس لوٹیں تو ان سے اس مال کا مطالبہ کرو، جو تم نے ان پر خرچ کیا ہے۔ جب کفار اپنی ان عورتوں کو عطا کیا ہو امہر وصول کر سکتے ہیں، جو مسلمان ہو گئی ہوں، تب اس کے مقابلے مسلمان بھی اس مہر کو وصول کرنے کے مستحق ہیں جو ان کی (مرتد) بیویوں کے ساتھ کفار کے پاس گیا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا اپنے شوہر کی زوجیت سے نکلنا قیمت رکھتا ہے ، اگر کوئی فاسد کرنے والا عورت کے نکاح کو رضاعت یا کسی اور سبب کی بنا پر فاسد کر دے، تو اس کے مہر کی ضمان ہے، یعنی مہر کی ادائیگی ضروری ہے ﴿ ذٰلِكُمۡ حُكۡمُ اللّٰهِ ﴾ یعنی یہ فیصلہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، جو اس نے تمھارے سامنے بیان کر کے واضح کیا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ جاننے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون سے احکام تمھارے لیے درست ہیں ، پس وہ اپنی حکمت اور رحمت کے مطابق اپنے احکام مشروع کرتا ہے۔ [11]﴿ وَاِنۡ فَاتَكُمۡ شَيۡءٌ مِّنۡ اَزۡوَاجِكُمۡ اِلَى الۡكُفَّارِ ﴾ ’’اور اگر تمھاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمھارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے۔‘‘ اس سبب سے کہ وہ مرتد ہو کر واپس چلی گئی ہو۔ ﴿ فَعَاقَبۡتُمۡ فَاٰتُوا الَّذِيۡنَ ذَهَبَتۡ اَزۡوَاجُهُمۡ مِّثۡلَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’تو تم (مال غنیمت میں سے) ان کو اتنا مال دے دو جتنا انھوں نے خرچ کیا۔‘‘ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ جب کفار مسلمانوں سے اس مہر کا بدل وصول کرتے تھے جو ان کی بیویوں کے پاس مسلمانوں کی طرف چلا جاتا تھا، تب مسلمانوں میں سے کسی کی بیوی کفار کے پاس چلی جائے اور وہ اس سے محروم ہو جائے، تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ غنیمت میں سے اسے اس مال کا بدل عطا کریں جو مہر کی صورت میں اس نے اپنی بیوی پر خرچ کیا۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور تم اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔‘‘یعنی اللہ تعالیٰ پر تمھارا ایمان تم سے تقاضا کرتا ہے کہ تم دائمی طور پر تقویٰ کا التزام کرو۔

الممتحنة 60:12

اے نبی! جب آئیں آپ کے پاس مومن عورتیں، وہ بیعت کریں آپ سے اوپر اس بات کے کہ نہیں شریک ٹھہرائیں گی وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو اور نہیں چوری کریں گی وہ اور نہیں زنا کریں گی وہ اور نہیں قتل کریں گی وہ اپنی اولاد کو اور نہیں لگائیں گی وہ کوئی ایسا بہتان کہ گھڑا ہو انھوں نے اس کو درمیان اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے اور نہیں نافرمانی کریں گی وہ آپ کی کسی نیک کام میں، تو آپ بیعت لے لیں ان سے، اور مغفرت طلب کریں آپ ان کے لیے اللہ سے، بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (12) [12] اس آیت کریمہ میں مذکورہ شرائط ’’عورتوں کی بیعت‘‘ کے نام سے موسوم ہیں ، جو ان مشترکہ واجبات کی ادائیگی پر بیعت کرتی تھیں، جو تمام اوقات میں مردوں اور عورتوں پر واجب ہیں، رہے مرد تو ان پر ان کے احوال و مراتب کے مطابق جو واجبات ان پر لازم آتے اور متعین ہوتے ہیں، ان میں تفاوت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نبیٔ اکرمﷺ کو جو حکم دیتا تھا آپ اس کو بجا لاتے تھے، جب عورتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی درخواست کرتیں اور ان مذکورہ شرائط کا التزام کرتیں تو آپ ان سے بیعت لے لیا کرتے تھے، آپ ان کی دل جوئی کرتے اور ان امور میں اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بخشش طلب کرتے جن میں ان سے کوتاہی واقع ہوتی، اور انھیں جملہ مومنین میں ان شرائط کے ساتھ شامل کرتے کہ ﴿ لَّا يُشۡرِكۡنَ بِاللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔‘‘ بلکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق سمجھیں گی ﴿ وَلَا يَقۡتُلۡنَ اَوۡلَادَهُنَّ ﴾ ’’اور وہ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی۔‘‘ جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں جاہل عورتوں سے اپنی بیٹیوں کو ’’زندہ درگور‘‘ کرنا صادر ہوتا تھا۔ ﴿وَلَا يَزۡنِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کریں گی۔‘‘ جیسا کہ غیر مردوں سے یاری دوستی رکھنے والی عورتوں میں یہ فعل کثرت سے موجود تھا ﴿ وَلَا يَاۡتِيۡنَ بِبُهۡتَانٍ يَّفۡتَرِيۡنَهٗ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِنَّ وَاَرۡجُلِهِنَّ﴾ ’’اور کوئی ایسا بہتان نہ لگائیں گی جو خود اپنے ہاتھوں اور پیروں کے سامنے گھڑ لیں۔‘‘ بہتان سے مراد غیر پر افترا پردازی ہے، یعنی وہ کسی بھی حالت میں افترا پردازی نہیں کریں گی، خواہ اس کا تعلق خود اپنے اور اپنے شوہر کے ساتھ ہو یا شوہر کے علاوہ دوسرے کے ساتھ ہو۔ ﴿ وَلَا يَعۡصِيۡنَكَ فِيۡ مَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی کسی بھی معاملے میں جس کا آپ حکم دیں، وہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، کیونکہ آپ کا حکم معروف کے مطابق (نیک) ہی ہو گا، اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نوحہ کرنے، گریبان چاک کرنے، چہرہ نوچنے اور جاہلیت کی آواز نکالنے کی ممانعت میں آپ کی اطاعت کریں گی۔ ﴿ فَبَايِعۡهُنَّ﴾ جب وہ مذکورہ احکام کی تعمیل کا التزام کریں، تو ان سے بیعت لیجیے ﴿وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُنَّ اللّٰهَ﴾ اور ان کی دل جمعی کے لیے ان کی تقصیر کی اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ﴾ یعنی وہ نافرمانوں کو بہت کثرت سے بخشنے والا، اور گناہ گار تائبین پر احسان کرنے والا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں اور اس کا احسان تمام مخلوقات کو شامل ہے۔

الممتحنة 60:13

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ دوستی کرو تم اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، تحقیق وہ مایوس ہو گئے ہیں آخرت سے جیسے مایوس ہو گئے کفار اہل قبور سے (13) [13] یعنی اے مومنو! اگر تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو، اس کی رضا کی اتباع کرتے ہو اور اس کی ناراضی سے دور رہتے ہو تو ﴿ لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’ان لوگوں سے دوستی نہ کرو، جن پر اللہ ناراض ہوا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ محض ان کے کفر کی وجہ سے ان پر ناراض ہے اور یہ کفر کی تمام اصناف کو شامل ہے۔ ﴿ قَدۡ يَىِٕسُوۡا مِنَ الۡاٰخِرَةِ﴾’’وہ آخرت سے اس طرح مایوس ہوچکے ہیں۔‘‘ یعنی انھیں آخرت کی بھلائی سے محروم کر دیا گیا، اس لیے آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہ ہو گا۔ اس لیے تم ان کو دوست بنانے سے بچو ورنہ تم بھی ان کے شر اور شرک کی موافقت کرنے لگو گے اور اس طرح تم بھی آخرت کی بھلائی سے محروم ہو جاؤ گے، جیسے وہ محروم ہو گئے۔﴿ كَمَا يَىِٕسَ الۡكُفَّارُ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡقُبُوۡرِ﴾ ’’جس طرح کا فروں کو مردوں (کے جی اٹھنے) کی امید نہیں۔‘‘ یعنی جب وہ آخرت کے گھر کو جائیں گے، وہاں حقیقتِ امر کا مشاہدہ کریں گے اور انھیں علم الیقین حاصل ہو گا کہ آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔ اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے کہ وہ آخرت سے مایوس ہو گئے ہیں یعنی انھوں نے آخرت کا انکار اور اس کے ساتھ کفر کیا ہے۔ تب ان سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کاموں اور اس کے عذاب کی موجبات کا اقدام کریں اور ان کا آخرت سے مایوس ہونا ایسے ہی ہے جیسے قیامت کا انکار کرنے والے کفار دنیا میں اصحاب قبور کے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے سے مایوس ہیں۔

الصف 61:1

تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیوں کہتے ہو تم وہ جو نہیں کرتے تم؟(2) بڑی ہے باعتبار ناراضی کے نزدیک اللہ کے یہ (بات) کہ کہو تم وہ جو نہیں کرتے تم(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور غلبے کا بیان ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ تمام اشیاء اس کے سامنے سرافگندہ ہیں اور آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے اپنی حوائج طلب کرتے ہیں۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اپنے غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے تمام اشیاء پر قاہر ہے۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔ [2، 3]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ اے ایمان والو! تم نیکی کی باتیں کیوں کرتے ہو اور کیوں لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہو، بسا اوقات اس پر تمھاری تعریف بھی کی جاتی ہے اور حال تمھارا یہ ہے کہ تم خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ تم لوگوں کو بدی سے روکتے ہو اور بسا اوقات تم خود اپنے آپ کو اس سے پاک قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اس بدی میں ملوث اور اس سے متصف ہو۔ کیا یہ مذموم حالت مومنوں کے لائق ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی ناراضی کی بات ہے کہ بندہ ایسی بات کہے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو؟ اس لیے نیکی کا حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ لوگوں میں سب سے پہلے اس نیکی کی طرف سبقت کرنے والا ہو اور بدی سے روکنے والا، لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس بدی سے دور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَتَاۡمُرُوۡنَؔ النَّاسَ بِالۡـبِرِّ وَتَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَؔ الۡكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾(البقرۃ:2؍44) ’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہوباوجود یکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں؟‘‘ حضرت شعیب uنے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾(ھود:11؍88) ’’میں نہیں چاہتا کہ جس کام سے میں تمھیں منع کرتا ہوں، اسے خود کرنے لگوں۔‘‘

الصف 61:2

تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیوں کہتے ہو تم وہ جو نہیں کرتے تم؟(2) بڑی ہے باعتبار ناراضی کے نزدیک اللہ کے یہ (بات) کہ کہو تم وہ جو نہیں کرتے تم(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور غلبے کا بیان ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ تمام اشیاء اس کے سامنے سرافگندہ ہیں اور آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے اپنی حوائج طلب کرتے ہیں۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اپنے غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے تمام اشیاء پر قاہر ہے۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔ [2، 3]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ اے ایمان والو! تم نیکی کی باتیں کیوں کرتے ہو اور کیوں لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہو، بسا اوقات اس پر تمھاری تعریف بھی کی جاتی ہے اور حال تمھارا یہ ہے کہ تم خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ تم لوگوں کو بدی سے روکتے ہو اور بسا اوقات تم خود اپنے آپ کو اس سے پاک قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اس بدی میں ملوث اور اس سے متصف ہو۔ کیا یہ مذموم حالت مومنوں کے لائق ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی ناراضی کی بات ہے کہ بندہ ایسی بات کہے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو؟ اس لیے نیکی کا حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ لوگوں میں سب سے پہلے اس نیکی کی طرف سبقت کرنے والا ہو اور بدی سے روکنے والا، لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس بدی سے دور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَتَاۡمُرُوۡنَؔ النَّاسَ بِالۡـبِرِّ وَتَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَؔ الۡكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾(البقرۃ:2؍44) ’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہوباوجود یکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں؟‘‘ حضرت شعیب uنے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾(ھود:11؍88) ’’میں نہیں چاہتا کہ جس کام سے میں تمھیں منع کرتا ہوں، اسے خود کرنے لگوں۔‘‘

الصف 61:3

تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیوں کہتے ہو تم وہ جو نہیں کرتے تم؟(2) بڑی ہے باعتبار ناراضی کے نزدیک اللہ کے یہ (بات) کہ کہو تم وہ جو نہیں کرتے تم(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور غلبے کا بیان ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ تمام اشیاء اس کے سامنے سرافگندہ ہیں اور آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے اپنی حوائج طلب کرتے ہیں۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اپنے غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے تمام اشیاء پر قاہر ہے۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔ [2، 3]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ اے ایمان والو! تم نیکی کی باتیں کیوں کرتے ہو اور کیوں لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہو، بسا اوقات اس پر تمھاری تعریف بھی کی جاتی ہے اور حال تمھارا یہ ہے کہ تم خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ تم لوگوں کو بدی سے روکتے ہو اور بسا اوقات تم خود اپنے آپ کو اس سے پاک قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اس بدی میں ملوث اور اس سے متصف ہو۔ کیا یہ مذموم حالت مومنوں کے لائق ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی ناراضی کی بات ہے کہ بندہ ایسی بات کہے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو؟ اس لیے نیکی کا حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ لوگوں میں سب سے پہلے اس نیکی کی طرف سبقت کرنے والا ہو اور بدی سے روکنے والا، لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس بدی سے دور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَتَاۡمُرُوۡنَؔ النَّاسَ بِالۡـبِرِّ وَتَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَؔ الۡكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾(البقرۃ:2؍44) ’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہوباوجود یکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں؟‘‘ حضرت شعیب uنے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾(ھود:11؍88) ’’میں نہیں چاہتا کہ جس کام سے میں تمھیں منع کرتا ہوں، اسے خود کرنے لگوں۔‘‘

الصف 61:4

بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں صف بستہ، گویا کہ وہ ایک عمارت ہیں سیسہ پلائی ہوئی(4) [4] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور اس بات کی تعلیم ہے کہ انھیں جہاد میں کیا کرنا چاہیے۔ ان کے لیے مناسب ہے کہ وہ جہاد میں ایک دوسرے کے ساتھ برابر کھڑے ہو کر صف بندی کریں اور صفوں میں کوئی خلل واقع نہ ہو، صفیں ایک نظم اور ترتیب کے مطابق ہوں جس سے مجاہدین کے مابین مساوات اور ایک دوسرے کے لیے قوت اور دشمن پر رعب طاری ہوتا ہو اور اس سے مجاہدین میں ایک دوسرے کے لیے نشاط پیدا ہوتا ہو۔بنابریں جب لڑائی کا وقت آ جاتا، تو رسول اللہ ﷺ خود اپنے اصحاب کرام کی صف بندی کرتے اور ان کو ان کی اپنی اپنی جگہوں پر اس طرح ترتیب دیتے، جہاں وہ ایک دوسرے پر بھروسہ نہ کریں، بلکہ ہر دستہ اپنے مرکز کے ساتھ رابطے کا اہتمام رکھے اور اپنی ذمہ داری کو پورا کرے، اس طریق کار سے ہی کام پایۂ اتمام کو پہنچتا اور کمال حاصل ہوتا ہے۔

الصف 61:5

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے: اے میری قوم! کیوں ایذا دیتے ہو تم مجھے حالانکہ تم جانتے ہو کہ بلاشبہ میں رسول ہوں اللہ کا تمھاری طرف؟ پس جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو ٹیڑھے کر دیے اللہ نے ان کے دل اور اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(5) [5]﴿ وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهٖ﴾ ’’اور (یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ یعنی ان کے کرتوت پر زجر و توبیخ کرتے ہو ئے اور انھیں آپ کو اللہ کا رسول سمجھنے کے باوجود اذیت پہنچانے سے باز رکھتے ہوئے حضرت موسیٰu نے اپنی قوم سے فرمایا: ﴿ لِمَ تُؤۡذُوۡنَنِيۡ﴾ اپنے اقوال و افعال کے ذریعے سے مجھے کیوں اذیت دیتے ہو؟ ﴿ وَقَدۡ تَّعۡلَمُوۡنَ اَنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور تم جانتے ہو کہ میں تمھاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔‘‘ رسول کی اکرام و تعظیم، اس کے احکامات کی تعمیل اور اس کے فیصلے کو قبول کرنا رسول کا حق ہے۔رہا رسول کو اذیت پہنچانا جس کا مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد سب سے بڑا احسان ہےتو یہ سب سے بڑی بے شرمی، جسارت اور صراط مستقیم سے انحراف ہے، جسے جان بوجھ کر انھوں نے ترک کر دیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا﴾ ’’پس جب انھوں نے کج روی کی۔‘‘ یعنی اپنے ارادے سے حق سے پھر گئے ﴿ اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾ ’’تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے۔‘‘ یعنی ان کی کج روی کی سزا کے طور پر، جسے انھوں نے اپنے لیے خود چنا اور اس پر راضی ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت کی توفیق نہ دی، وہ شر کے سوا کسی چیز کے قابل نہ تھے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ فاسق و نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ فسق جن کا وصف ہےاور وہ ہدایت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ۔اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو گمراہ کرنا، اس کا ظلم نہیں اور نہ بندوں کی اس پر کوئی حجت ہےبلکہ اس گمراہی کا سبب وہ خود ہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کو پہچان لینے کے بعد اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے خود بند کر لیے ہیں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بدلے کے طور پر سزا دیتے ہوئے اور اپنے عدل کی بنا پر ان کو گمراہی اور کجروی میں مبتلا کر تے ہوئے ان کے دلوں کو بدل ڈالتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام:6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو بدل ڈالتے ہیں جیسا کہ یہ لوگ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘

الصف 61:6

اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے: اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں رسول ہوں اللہ کا تمھاری طرف، تصدیق کرنے والا اس کی جو مجھ سے پہلے ہے تورات، اور بشارت دینے والا ایک رسول کی، وہ آئے گا میرے بعد اس کا نام احمد ہے ، پھر جب وہ (رسول) آیا ان کے پاس واضح دلیلوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے ظاہر(6) اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جو گھڑے اللہ پر جھوٹ حالانکہ بلایا جاتا ہے وہ طرف اسلام کی؟ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(7) وہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے جبکہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا نور اگرچہ ناپسند کریں کافر(8) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ وہ غالب کرے اس کو اوپر تمام دینوں کے اگرچہ ناپسند کریں مشرک(9) [6] اللہ تبارک و تعالیٰ متقدمین بنی اسرائیل کے عناد کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن کو حضرت عیسیٰ u نے دعوت دی اور فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اے بنی اسرائیل! مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں بھلائی کی طرف بلاؤ ں اور برائی سے روکوں، اللہ تعالیٰ نے ظاہری دلائل و براہین کے ذریعے سے میری تائید فرمائی ہے، جو میری صداقت پر دلالت کرتی ہیں نیز اس بات پر دلالت کرتی ہیں ﴿ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ﴾ کہ میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ یعنی میں وہی کچھ لے کر آیا ہوں جو موسیٰ u تورات اور آسمانی شریعت میں سے لے کر آئے تھے۔ اگر میں نبوت کا ایسا مدعی ہوتا، جو اپنے دعوائے نبوت میں سچا نہیں ہوتا، تو میں ایسی چیز لاتا جسے انبیاء و مرسلین لے کر نہیں آئے۔ میرا اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ تورات نے میری بعثت کی خبر اور میرے آنے کی خوشخبری دی ہے اور مجھے تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ﴿ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ يَّاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِي اسۡمُهٗۤ اَحۡمَدُ﴾ ’’اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔‘‘ اور وہ ہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الہاشمی(ﷺ) پس حضرت عیسیٰ u تمام انبیائے کرام کی طرح سابق گزرے ہوئے نبی کی تصدیق کرتے اور بعد میں آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں، بخلاف نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے جو انبیاء و مرسلین سے سخت منافقت رکھتے ہیں اور اوصاف و اخلاق اور امر و نہی میں ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ﴾ پس جب ان کے پاس محمد ﷺ مبعوث ہو کر تشریف لے آئے جن کی عیسیٰu نے بشارت دی تھی ﴿ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ واضح دلائل کے ساتھ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کی بشارت دی گئی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں ﴿ قَالُوۡا﴾تو انھوں نے حق سے عناد رکھتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’یہ صریح جادو ہے۔‘‘ اور یہ عجیب ترین بات ہے کہ وہ رسول جس نے اپنی رسالت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے، اور وہ سورج سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے، اسے جادوگر قرار دیا جائے کہ جس کا جادو واضح ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور خذلان ہے؟ اور اس افترا پردازی سے زیادہ بلیغ کوئی اور افترا پردازی ہے؟ جس نے اس حقیقت کی نفی کر دی جو آپ کی رسالت میں سے معلوم ہے اور اس چیز کا اثبات کر دیا جس سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں۔ [7]﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔‘‘ جو یہ بہتان طرازی یا اس کے علاوہ بہتان طرازی کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں، اور اس کی حجت منقطع ہو گئی، کیونکہ ﴿ يُدۡعٰۤى اِلَى الۡاِسۡلَامِ﴾ ’’وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔‘‘ اور اس پر اسلام کے دلائل و براہین واضح ہو گئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ جو اپنے ظلم پر قائم ہیں، جنھیں کوئی نصیحت اپنے ظلم سے باز رکھ سکتی ہے نہ کوئی دلیل و برہان اس سے ہٹا سکتی ہے، خاص طور پر یہ ظالم لوگ جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تاکہ اسے ٹھکرا دیں اور باطل کی مدد کریں۔ [8] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی ان فاسد باتوں کے ذریعے سے جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، جن میں وہ سرگرداں ہیں ﴿ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے، اور تمام دنیا میں اپنے نور کو ظاہر کرنے کا ذمہ لیا ہے، خواہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور اس ناگواری کے سبب سے وہ اپنی پوری کوشش کر لیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہوں اور جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کا وسیلہ بنا سکتے ہوں مگر وہ مغلوب ہی ہوں گے۔ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سورج کی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنے منہ سے پھونکیں مارے، چنانچہ انھوں نے اپنی مراد پائی نہ ان کی عقل، نقص اور جرح و قدح سے سلامت ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین اسلام کے حسی اور معنوی غلبہ اور فتح و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا رسول علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ مبعوث کیا ۔علم سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے تکریم والے گھر کی طرف راہنمائی کرتا ہے، جو بہترین اعمال و اخلاق سکھاتا ہے اور جو دنیا و آخرت کے تمام مصالح کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دینِ حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ دین جسے اختیار کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے سے رب کائنات کی بندگی کی جاتی ہے جو سرا سر حق اور صدق ہے جس میں کوئی نقص ہے نہ اسے کوئی خلل لاحق ہے، جس کے اوامر قلب و روح کی غذا اور جسم کی راحت ہیں اور اس کے نواہی کو ترک کرنا شر اور فساد سے سلامتی ہے۔نبی ٔاکرم ﷺ کو جس ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے وہ آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل اور برہان ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ دلیل باقی رہے گی، خرد مند جتنا زیادہ اس میں غور و فکر کرے گا اتنی ہی اسے فرحت و بصیرت حاصل ہو گی۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ تاکہ وہ اس دین کو حجت اور دلیل کے ذریعے سے تمام ادیان پر اور اہل دین کو، جو اس پر قائم ہیں، شمشیر و سناں کے ذریعے سے (باطل قوتوں پر) غالب کر دے۔رہا دین تو یہ غلبہ ہر زمانے میں اس کا وصف لازم ہے، چنانچہ تو کوئی غالب آنے کی کوشش کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے نہ جھگڑنے والا اس کو زیر کر سکتا ہے۔ دین ہمیشہ فتح مند ہی رہے گا، اس کو فوقیت اور غلبہ حاصل رہے گا۔رہے وہ لوگ جو دین اسلام سے انتساب رکھتے ہیں، تو جب وہ اس دین کو قائم کریں، اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں اس کے لائحہ عمل کو راہ نما بنائیں، تو اس طرح کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان کا تمام اہل ادیان پر غالب آنا لازمی ہے ۔ اور اگر وہ اس دین کو ضائع کر دیں اور اس کے ساتھ مجرد انتساب ہی کو کافی سمجھیں، تو دین ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور ان کا دین کو چھوڑ دینا، ان پر دشمن کے تسلط کا سبب بنے گا۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں اور متاخرین کے احوال کے استقرا اور ان میں غور و فکر کے ذریعے سے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔

الصف 61:7

اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے: اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں رسول ہوں اللہ کا تمھاری طرف، تصدیق کرنے والا اس کی جو مجھ سے پہلے ہے تورات، اور بشارت دینے والا ایک رسول کی، وہ آئے گا میرے بعد اس کا نام احمد ہے ، پھر جب وہ (رسول) آیا ان کے پاس واضح دلیلوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے ظاہر(6) اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جو گھڑے اللہ پر جھوٹ حالانکہ بلایا جاتا ہے وہ طرف اسلام کی؟ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(7) وہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے جبکہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا نور اگرچہ ناپسند کریں کافر(8) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ وہ غالب کرے اس کو اوپر تمام دینوں کے اگرچہ ناپسند کریں مشرک(9) [6] اللہ تبارک و تعالیٰ متقدمین بنی اسرائیل کے عناد کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن کو حضرت عیسیٰ u نے دعوت دی اور فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اے بنی اسرائیل! مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں بھلائی کی طرف بلاؤ ں اور برائی سے روکوں، اللہ تعالیٰ نے ظاہری دلائل و براہین کے ذریعے سے میری تائید فرمائی ہے، جو میری صداقت پر دلالت کرتی ہیں نیز اس بات پر دلالت کرتی ہیں ﴿ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ﴾ کہ میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ یعنی میں وہی کچھ لے کر آیا ہوں جو موسیٰ u تورات اور آسمانی شریعت میں سے لے کر آئے تھے۔ اگر میں نبوت کا ایسا مدعی ہوتا، جو اپنے دعوائے نبوت میں سچا نہیں ہوتا، تو میں ایسی چیز لاتا جسے انبیاء و مرسلین لے کر نہیں آئے۔ میرا اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ تورات نے میری بعثت کی خبر اور میرے آنے کی خوشخبری دی ہے اور مجھے تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ﴿ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ يَّاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِي اسۡمُهٗۤ اَحۡمَدُ﴾ ’’اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔‘‘ اور وہ ہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الہاشمی(ﷺ) پس حضرت عیسیٰ u تمام انبیائے کرام کی طرح سابق گزرے ہوئے نبی کی تصدیق کرتے اور بعد میں آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں، بخلاف نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے جو انبیاء و مرسلین سے سخت منافقت رکھتے ہیں اور اوصاف و اخلاق اور امر و نہی میں ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ﴾ پس جب ان کے پاس محمد ﷺ مبعوث ہو کر تشریف لے آئے جن کی عیسیٰu نے بشارت دی تھی ﴿ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ واضح دلائل کے ساتھ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کی بشارت دی گئی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں ﴿ قَالُوۡا﴾تو انھوں نے حق سے عناد رکھتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’یہ صریح جادو ہے۔‘‘ اور یہ عجیب ترین بات ہے کہ وہ رسول جس نے اپنی رسالت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے، اور وہ سورج سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے، اسے جادوگر قرار دیا جائے کہ جس کا جادو واضح ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور خذلان ہے؟ اور اس افترا پردازی سے زیادہ بلیغ کوئی اور افترا پردازی ہے؟ جس نے اس حقیقت کی نفی کر دی جو آپ کی رسالت میں سے معلوم ہے اور اس چیز کا اثبات کر دیا جس سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں۔ [7]﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔‘‘ جو یہ بہتان طرازی یا اس کے علاوہ بہتان طرازی کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں، اور اس کی حجت منقطع ہو گئی، کیونکہ ﴿ يُدۡعٰۤى اِلَى الۡاِسۡلَامِ﴾ ’’وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔‘‘ اور اس پر اسلام کے دلائل و براہین واضح ہو گئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ جو اپنے ظلم پر قائم ہیں، جنھیں کوئی نصیحت اپنے ظلم سے باز رکھ سکتی ہے نہ کوئی دلیل و برہان اس سے ہٹا سکتی ہے، خاص طور پر یہ ظالم لوگ جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تاکہ اسے ٹھکرا دیں اور باطل کی مدد کریں۔ [8] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی ان فاسد باتوں کے ذریعے سے جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، جن میں وہ سرگرداں ہیں ﴿ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے، اور تمام دنیا میں اپنے نور کو ظاہر کرنے کا ذمہ لیا ہے، خواہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور اس ناگواری کے سبب سے وہ اپنی پوری کوشش کر لیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہوں اور جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کا وسیلہ بنا سکتے ہوں مگر وہ مغلوب ہی ہوں گے۔ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سورج کی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنے منہ سے پھونکیں مارے، چنانچہ انھوں نے اپنی مراد پائی نہ ان کی عقل، نقص اور جرح و قدح سے سلامت ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین اسلام کے حسی اور معنوی غلبہ اور فتح و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا رسول علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ مبعوث کیا ۔علم سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے تکریم والے گھر کی طرف راہنمائی کرتا ہے، جو بہترین اعمال و اخلاق سکھاتا ہے اور جو دنیا و آخرت کے تمام مصالح کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دینِ حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ دین جسے اختیار کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے سے رب کائنات کی بندگی کی جاتی ہے جو سرا سر حق اور صدق ہے جس میں کوئی نقص ہے نہ اسے کوئی خلل لاحق ہے، جس کے اوامر قلب و روح کی غذا اور جسم کی راحت ہیں اور اس کے نواہی کو ترک کرنا شر اور فساد سے سلامتی ہے۔نبی ٔاکرم ﷺ کو جس ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے وہ آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل اور برہان ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ دلیل باقی رہے گی، خرد مند جتنا زیادہ اس میں غور و فکر کرے گا اتنی ہی اسے فرحت و بصیرت حاصل ہو گی۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ تاکہ وہ اس دین کو حجت اور دلیل کے ذریعے سے تمام ادیان پر اور اہل دین کو، جو اس پر قائم ہیں، شمشیر و سناں کے ذریعے سے (باطل قوتوں پر) غالب کر دے۔رہا دین تو یہ غلبہ ہر زمانے میں اس کا وصف لازم ہے، چنانچہ تو کوئی غالب آنے کی کوشش کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے نہ جھگڑنے والا اس کو زیر کر سکتا ہے۔ دین ہمیشہ فتح مند ہی رہے گا، اس کو فوقیت اور غلبہ حاصل رہے گا۔رہے وہ لوگ جو دین اسلام سے انتساب رکھتے ہیں، تو جب وہ اس دین کو قائم کریں، اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں اس کے لائحہ عمل کو راہ نما بنائیں، تو اس طرح کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان کا تمام اہل ادیان پر غالب آنا لازمی ہے ۔ اور اگر وہ اس دین کو ضائع کر دیں اور اس کے ساتھ مجرد انتساب ہی کو کافی سمجھیں، تو دین ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور ان کا دین کو چھوڑ دینا، ان پر دشمن کے تسلط کا سبب بنے گا۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں اور متاخرین کے احوال کے استقرا اور ان میں غور و فکر کے ذریعے سے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔

الصف 61:8

اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے: اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں رسول ہوں اللہ کا تمھاری طرف، تصدیق کرنے والا اس کی جو مجھ سے پہلے ہے تورات، اور بشارت دینے والا ایک رسول کی، وہ آئے گا میرے بعد اس کا نام احمد ہے ، پھر جب وہ (رسول) آیا ان کے پاس واضح دلیلوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے ظاہر(6) اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جو گھڑے اللہ پر جھوٹ حالانکہ بلایا جاتا ہے وہ طرف اسلام کی؟ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(7) وہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے جبکہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا نور اگرچہ ناپسند کریں کافر(8) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ وہ غالب کرے اس کو اوپر تمام دینوں کے اگرچہ ناپسند کریں مشرک(9) [6] اللہ تبارک و تعالیٰ متقدمین بنی اسرائیل کے عناد کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن کو حضرت عیسیٰ u نے دعوت دی اور فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اے بنی اسرائیل! مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں بھلائی کی طرف بلاؤ ں اور برائی سے روکوں، اللہ تعالیٰ نے ظاہری دلائل و براہین کے ذریعے سے میری تائید فرمائی ہے، جو میری صداقت پر دلالت کرتی ہیں نیز اس بات پر دلالت کرتی ہیں ﴿ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ﴾ کہ میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ یعنی میں وہی کچھ لے کر آیا ہوں جو موسیٰ u تورات اور آسمانی شریعت میں سے لے کر آئے تھے۔ اگر میں نبوت کا ایسا مدعی ہوتا، جو اپنے دعوائے نبوت میں سچا نہیں ہوتا، تو میں ایسی چیز لاتا جسے انبیاء و مرسلین لے کر نہیں آئے۔ میرا اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ تورات نے میری بعثت کی خبر اور میرے آنے کی خوشخبری دی ہے اور مجھے تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ﴿ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ يَّاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِي اسۡمُهٗۤ اَحۡمَدُ﴾ ’’اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔‘‘ اور وہ ہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الہاشمی(ﷺ) پس حضرت عیسیٰ u تمام انبیائے کرام کی طرح سابق گزرے ہوئے نبی کی تصدیق کرتے اور بعد میں آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں، بخلاف نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے جو انبیاء و مرسلین سے سخت منافقت رکھتے ہیں اور اوصاف و اخلاق اور امر و نہی میں ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ﴾ پس جب ان کے پاس محمد ﷺ مبعوث ہو کر تشریف لے آئے جن کی عیسیٰu نے بشارت دی تھی ﴿ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ واضح دلائل کے ساتھ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کی بشارت دی گئی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں ﴿ قَالُوۡا﴾تو انھوں نے حق سے عناد رکھتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’یہ صریح جادو ہے۔‘‘ اور یہ عجیب ترین بات ہے کہ وہ رسول جس نے اپنی رسالت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے، اور وہ سورج سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے، اسے جادوگر قرار دیا جائے کہ جس کا جادو واضح ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور خذلان ہے؟ اور اس افترا پردازی سے زیادہ بلیغ کوئی اور افترا پردازی ہے؟ جس نے اس حقیقت کی نفی کر دی جو آپ کی رسالت میں سے معلوم ہے اور اس چیز کا اثبات کر دیا جس سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں۔ [7]﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔‘‘ جو یہ بہتان طرازی یا اس کے علاوہ بہتان طرازی کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں، اور اس کی حجت منقطع ہو گئی، کیونکہ ﴿ يُدۡعٰۤى اِلَى الۡاِسۡلَامِ﴾ ’’وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔‘‘ اور اس پر اسلام کے دلائل و براہین واضح ہو گئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ جو اپنے ظلم پر قائم ہیں، جنھیں کوئی نصیحت اپنے ظلم سے باز رکھ سکتی ہے نہ کوئی دلیل و برہان اس سے ہٹا سکتی ہے، خاص طور پر یہ ظالم لوگ جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تاکہ اسے ٹھکرا دیں اور باطل کی مدد کریں۔ [8] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی ان فاسد باتوں کے ذریعے سے جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، جن میں وہ سرگرداں ہیں ﴿ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے، اور تمام دنیا میں اپنے نور کو ظاہر کرنے کا ذمہ لیا ہے، خواہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور اس ناگواری کے سبب سے وہ اپنی پوری کوشش کر لیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہوں اور جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کا وسیلہ بنا سکتے ہوں مگر وہ مغلوب ہی ہوں گے۔ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سورج کی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنے منہ سے پھونکیں مارے، چنانچہ انھوں نے اپنی مراد پائی نہ ان کی عقل، نقص اور جرح و قدح سے سلامت ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین اسلام کے حسی اور معنوی غلبہ اور فتح و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا رسول علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ مبعوث کیا ۔علم سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے تکریم والے گھر کی طرف راہنمائی کرتا ہے، جو بہترین اعمال و اخلاق سکھاتا ہے اور جو دنیا و آخرت کے تمام مصالح کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دینِ حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ دین جسے اختیار کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے سے رب کائنات کی بندگی کی جاتی ہے جو سرا سر حق اور صدق ہے جس میں کوئی نقص ہے نہ اسے کوئی خلل لاحق ہے، جس کے اوامر قلب و روح کی غذا اور جسم کی راحت ہیں اور اس کے نواہی کو ترک کرنا شر اور فساد سے سلامتی ہے۔نبی ٔاکرم ﷺ کو جس ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے وہ آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل اور برہان ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ دلیل باقی رہے گی، خرد مند جتنا زیادہ اس میں غور و فکر کرے گا اتنی ہی اسے فرحت و بصیرت حاصل ہو گی۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ تاکہ وہ اس دین کو حجت اور دلیل کے ذریعے سے تمام ادیان پر اور اہل دین کو، جو اس پر قائم ہیں، شمشیر و سناں کے ذریعے سے (باطل قوتوں پر) غالب کر دے۔رہا دین تو یہ غلبہ ہر زمانے میں اس کا وصف لازم ہے، چنانچہ تو کوئی غالب آنے کی کوشش کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے نہ جھگڑنے والا اس کو زیر کر سکتا ہے۔ دین ہمیشہ فتح مند ہی رہے گا، اس کو فوقیت اور غلبہ حاصل رہے گا۔رہے وہ لوگ جو دین اسلام سے انتساب رکھتے ہیں، تو جب وہ اس دین کو قائم کریں، اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں اس کے لائحہ عمل کو راہ نما بنائیں، تو اس طرح کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان کا تمام اہل ادیان پر غالب آنا لازمی ہے ۔ اور اگر وہ اس دین کو ضائع کر دیں اور اس کے ساتھ مجرد انتساب ہی کو کافی سمجھیں، تو دین ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور ان کا دین کو چھوڑ دینا، ان پر دشمن کے تسلط کا سبب بنے گا۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں اور متاخرین کے احوال کے استقرا اور ان میں غور و فکر کے ذریعے سے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔

الصف 61:9

اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے: اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں رسول ہوں اللہ کا تمھاری طرف، تصدیق کرنے والا اس کی جو مجھ سے پہلے ہے تورات، اور بشارت دینے والا ایک رسول کی، وہ آئے گا میرے بعد اس کا نام احمد ہے ، پھر جب وہ (رسول) آیا ان کے پاس واضح دلیلوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے ظاہر(6) اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جو گھڑے اللہ پر جھوٹ حالانکہ بلایا جاتا ہے وہ طرف اسلام کی؟ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(7) وہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے جبکہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا نور اگرچہ ناپسند کریں کافر(8) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ وہ غالب کرے اس کو اوپر تمام دینوں کے اگرچہ ناپسند کریں مشرک(9) [6] اللہ تبارک و تعالیٰ متقدمین بنی اسرائیل کے عناد کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن کو حضرت عیسیٰ u نے دعوت دی اور فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اے بنی اسرائیل! مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں بھلائی کی طرف بلاؤ ں اور برائی سے روکوں، اللہ تعالیٰ نے ظاہری دلائل و براہین کے ذریعے سے میری تائید فرمائی ہے، جو میری صداقت پر دلالت کرتی ہیں نیز اس بات پر دلالت کرتی ہیں ﴿ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ﴾ کہ میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ یعنی میں وہی کچھ لے کر آیا ہوں جو موسیٰ u تورات اور آسمانی شریعت میں سے لے کر آئے تھے۔ اگر میں نبوت کا ایسا مدعی ہوتا، جو اپنے دعوائے نبوت میں سچا نہیں ہوتا، تو میں ایسی چیز لاتا جسے انبیاء و مرسلین لے کر نہیں آئے۔ میرا اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ تورات نے میری بعثت کی خبر اور میرے آنے کی خوشخبری دی ہے اور مجھے تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ﴿ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ يَّاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِي اسۡمُهٗۤ اَحۡمَدُ﴾ ’’اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔‘‘ اور وہ ہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الہاشمی(ﷺ) پس حضرت عیسیٰ u تمام انبیائے کرام کی طرح سابق گزرے ہوئے نبی کی تصدیق کرتے اور بعد میں آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں، بخلاف نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے جو انبیاء و مرسلین سے سخت منافقت رکھتے ہیں اور اوصاف و اخلاق اور امر و نہی میں ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ﴾ پس جب ان کے پاس محمد ﷺ مبعوث ہو کر تشریف لے آئے جن کی عیسیٰu نے بشارت دی تھی ﴿ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ واضح دلائل کے ساتھ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کی بشارت دی گئی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں ﴿ قَالُوۡا﴾تو انھوں نے حق سے عناد رکھتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’یہ صریح جادو ہے۔‘‘ اور یہ عجیب ترین بات ہے کہ وہ رسول جس نے اپنی رسالت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے، اور وہ سورج سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے، اسے جادوگر قرار دیا جائے کہ جس کا جادو واضح ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور خذلان ہے؟ اور اس افترا پردازی سے زیادہ بلیغ کوئی اور افترا پردازی ہے؟ جس نے اس حقیقت کی نفی کر دی جو آپ کی رسالت میں سے معلوم ہے اور اس چیز کا اثبات کر دیا جس سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں۔ [7]﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔‘‘ جو یہ بہتان طرازی یا اس کے علاوہ بہتان طرازی کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں، اور اس کی حجت منقطع ہو گئی، کیونکہ ﴿ يُدۡعٰۤى اِلَى الۡاِسۡلَامِ﴾ ’’وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔‘‘ اور اس پر اسلام کے دلائل و براہین واضح ہو گئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ جو اپنے ظلم پر قائم ہیں، جنھیں کوئی نصیحت اپنے ظلم سے باز رکھ سکتی ہے نہ کوئی دلیل و برہان اس سے ہٹا سکتی ہے، خاص طور پر یہ ظالم لوگ جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تاکہ اسے ٹھکرا دیں اور باطل کی مدد کریں۔ [8] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی ان فاسد باتوں کے ذریعے سے جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، جن میں وہ سرگرداں ہیں ﴿ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے، اور تمام دنیا میں اپنے نور کو ظاہر کرنے کا ذمہ لیا ہے، خواہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور اس ناگواری کے سبب سے وہ اپنی پوری کوشش کر لیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہوں اور جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کا وسیلہ بنا سکتے ہوں مگر وہ مغلوب ہی ہوں گے۔ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سورج کی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنے منہ سے پھونکیں مارے، چنانچہ انھوں نے اپنی مراد پائی نہ ان کی عقل، نقص اور جرح و قدح سے سلامت ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین اسلام کے حسی اور معنوی غلبہ اور فتح و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا رسول علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ مبعوث کیا ۔علم سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے تکریم والے گھر کی طرف راہنمائی کرتا ہے، جو بہترین اعمال و اخلاق سکھاتا ہے اور جو دنیا و آخرت کے تمام مصالح کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دینِ حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ دین جسے اختیار کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے سے رب کائنات کی بندگی کی جاتی ہے جو سرا سر حق اور صدق ہے جس میں کوئی نقص ہے نہ اسے کوئی خلل لاحق ہے، جس کے اوامر قلب و روح کی غذا اور جسم کی راحت ہیں اور اس کے نواہی کو ترک کرنا شر اور فساد سے سلامتی ہے۔نبی ٔاکرم ﷺ کو جس ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے وہ آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل اور برہان ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ دلیل باقی رہے گی، خرد مند جتنا زیادہ اس میں غور و فکر کرے گا اتنی ہی اسے فرحت و بصیرت حاصل ہو گی۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ تاکہ وہ اس دین کو حجت اور دلیل کے ذریعے سے تمام ادیان پر اور اہل دین کو، جو اس پر قائم ہیں، شمشیر و سناں کے ذریعے سے (باطل قوتوں پر) غالب کر دے۔رہا دین تو یہ غلبہ ہر زمانے میں اس کا وصف لازم ہے، چنانچہ تو کوئی غالب آنے کی کوشش کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے نہ جھگڑنے والا اس کو زیر کر سکتا ہے۔ دین ہمیشہ فتح مند ہی رہے گا، اس کو فوقیت اور غلبہ حاصل رہے گا۔رہے وہ لوگ جو دین اسلام سے انتساب رکھتے ہیں، تو جب وہ اس دین کو قائم کریں، اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں اس کے لائحہ عمل کو راہ نما بنائیں، تو اس طرح کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان کا تمام اہل ادیان پر غالب آنا لازمی ہے ۔ اور اگر وہ اس دین کو ضائع کر دیں اور اس کے ساتھ مجرد انتساب ہی کو کافی سمجھیں، تو دین ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور ان کا دین کو چھوڑ دینا، ان پر دشمن کے تسلط کا سبب بنے گا۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں اور متاخرین کے احوال کے استقرا اور ان میں غور و فکر کے ذریعے سے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔

الصف 61:10

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں رہنمائی کروں تمھاری اوپر ایسی تجارت کے جو نجات دے تمھیں عذاب درد ناک سے؟ (10) ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں، ساتھ اپنے مالوں اور اپنے نفسوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (11) وہ (اللہ) بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور داخل کرے گا تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اور محلات پاکیزہ میں (جو) ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہیں، یہ ہے کامیابی بہت بڑی (12) اور (تمھارے لیے نعمت ہے) ایک اور کہ پسند کرتے ہو تم اس کو، مدد اللہ کی طرف سے اور فتح قریب اور بشارت دے دیجیے مومنوں کو (13) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم مدد گار اللہ کے جیسے کہا تھا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے، کون ہے مدد گار میرا اللہ کے لیے؟ کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد گار اللہ کے پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے اور کفر کیا ایک گروہ نے، سو قوت دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان کے دشمنوں پر، تو ہو گئے وہ غالب (14) [10] یہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہستی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہ نمائی، دلالت اور وصیت ہے، جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔ [11] گویا کہاگیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے؟ پس فرمایا:﴿ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے، جن میں سے جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔‘‘ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمہ کی سر بلندی ہو، اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمھیں میسر ہے، اسے خرچ کرو۔ اگر چہ یہ نفوس کے لیے ناگوار اور ان پر شاق گزرتا ہے مگر یہ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ کیونکہ اس میں دنیاوی بھلائی ہے، یعنی دشمنان اسلام پر فتح و نصرت ہے اور عزت ہے جو ذلت کے منافی ہے، وسیع رزق اور انشراح صدر اور اس کی کشادگی ہے۔اس میں اخروی بھلائی بھی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی، [12] چنانچہ فرمایا :﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اور وہ تمھیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔‘‘ یعنی اس کے مساکن، اس کے محلات، اس کے بالا خانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہو گا، ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾ یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہو گی، بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ حتیٰ کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستارہ دیکھا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ جنت کی (عمارتوں کی) تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی اور کچھ چاندی کی، اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے، جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا۔ جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن ہو گا کہ وصف بیان کرنے والے اس کا وصف بیان کر سکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پا سکیں، جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں، وہ اس کے حسن سے متمتع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔اس حالت میں اگر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی سے مر جاتے۔ پس پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی، اس کی ثنا بیان نہیں کر سکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، وہ اس حمد و ثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے۔بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی، جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے۔بالا و برتر ہے وہ ذات، جو کامل حکمت کی مالک ہے، یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں، تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انھیں اس دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی، جس کی نعمتوں میں درد و الم اور جس کی فرحتوں میں رنج و غم کی ملاوٹ ہے۔اس کو ’’جنت عدن‘‘ اس لیے کہا گیا کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے۔ یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں۔ یہ ہے اخروی ثواب۔ [13] رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے :﴿ وَاُخۡرٰؔى تُحِبُّوۡنَهَا﴾ یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَتۡحٌ قَرِيۡبٌ﴾ ’’اور جلد فتح یابی‘‘ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا:﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790) [14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰهِ﴾ اے ایمان والو! تم اپنے (اقوال و افعال کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ ۔‘‘ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے، دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان و مال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو وہ اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے، حق کی دلیل کا ابطال کرکے، اس پر حجت قائم کر کے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، فرمایا:﴿ كَمَا قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيّٖنَ۠ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ﴾ عیسیٰu نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے، کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں؟‘‘ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے:﴿ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ uاور آپ کے ساتھ جو حواری تھے، سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ﴿ فَاٰمَنَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ پس حضرت عیسیٰu اور آپ کے حواریوں کی دعوت کے سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ﴿ وَكَفَرَتۡ طَّآىِٕفَةٌ﴾ اور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کر دیا اور ان کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ ﴿ فَاَيَّدۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰى عَدُوِّهِمۡ﴾ یعنی ہم نے اہلِ ايمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح و نصرت سے بہرہ مند کیا ﴿فَاَصۡبَحُوۡا ظٰهِرِيۡنَ﴾ تو وہ ان پر غالب آ گئے، پس اے امت محمد! تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمھیں تمھارے دشمن پر غالب کرے گا۔

الصف 61:11

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں رہنمائی کروں تمھاری اوپر ایسی تجارت کے جو نجات دے تمھیں عذاب درد ناک سے؟ (10) ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں، ساتھ اپنے مالوں اور اپنے نفسوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (11) وہ (اللہ) بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور داخل کرے گا تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اور محلات پاکیزہ میں (جو) ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہیں، یہ ہے کامیابی بہت بڑی (12) اور (تمھارے لیے نعمت ہے) ایک اور کہ پسند کرتے ہو تم اس کو، مدد اللہ کی طرف سے اور فتح قریب اور بشارت دے دیجیے مومنوں کو (13) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم مدد گار اللہ کے جیسے کہا تھا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے، کون ہے مدد گار میرا اللہ کے لیے؟ کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد گار اللہ کے پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے اور کفر کیا ایک گروہ نے، سو قوت دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان کے دشمنوں پر، تو ہو گئے وہ غالب (14) [10] یہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہستی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہ نمائی، دلالت اور وصیت ہے، جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔ [11] گویا کہاگیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے؟ پس فرمایا:﴿ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے، جن میں سے جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔‘‘ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمہ کی سر بلندی ہو، اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمھیں میسر ہے، اسے خرچ کرو۔ اگر چہ یہ نفوس کے لیے ناگوار اور ان پر شاق گزرتا ہے مگر یہ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ کیونکہ اس میں دنیاوی بھلائی ہے، یعنی دشمنان اسلام پر فتح و نصرت ہے اور عزت ہے جو ذلت کے منافی ہے، وسیع رزق اور انشراح صدر اور اس کی کشادگی ہے۔اس میں اخروی بھلائی بھی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی، [12] چنانچہ فرمایا :﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اور وہ تمھیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔‘‘ یعنی اس کے مساکن، اس کے محلات، اس کے بالا خانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہو گا، ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾ یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہو گی، بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ حتیٰ کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستارہ دیکھا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ جنت کی (عمارتوں کی) تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی اور کچھ چاندی کی، اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے، جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا۔ جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن ہو گا کہ وصف بیان کرنے والے اس کا وصف بیان کر سکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پا سکیں، جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں، وہ اس کے حسن سے متمتع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔اس حالت میں اگر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی سے مر جاتے۔ پس پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی، اس کی ثنا بیان نہیں کر سکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، وہ اس حمد و ثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے۔بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی، جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے۔بالا و برتر ہے وہ ذات، جو کامل حکمت کی مالک ہے، یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں، تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انھیں اس دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی، جس کی نعمتوں میں درد و الم اور جس کی فرحتوں میں رنج و غم کی ملاوٹ ہے۔اس کو ’’جنت عدن‘‘ اس لیے کہا گیا کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے۔ یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں۔ یہ ہے اخروی ثواب۔ [13] رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے :﴿ وَاُخۡرٰؔى تُحِبُّوۡنَهَا﴾ یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَتۡحٌ قَرِيۡبٌ﴾ ’’اور جلد فتح یابی‘‘ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا:﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790) [14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰهِ﴾ اے ایمان والو! تم اپنے (اقوال و افعال کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ ۔‘‘ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے، دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان و مال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو وہ اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے، حق کی دلیل کا ابطال کرکے، اس پر حجت قائم کر کے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، فرمایا:﴿ كَمَا قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيّٖنَ۠ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ﴾ عیسیٰu نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے، کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں؟‘‘ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے:﴿ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ uاور آپ کے ساتھ جو حواری تھے، سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ﴿ فَاٰمَنَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ پس حضرت عیسیٰu اور آپ کے حواریوں کی دعوت کے سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ﴿ وَكَفَرَتۡ طَّآىِٕفَةٌ﴾ اور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کر دیا اور ان کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ ﴿ فَاَيَّدۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰى عَدُوِّهِمۡ﴾ یعنی ہم نے اہلِ ايمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح و نصرت سے بہرہ مند کیا ﴿فَاَصۡبَحُوۡا ظٰهِرِيۡنَ﴾ تو وہ ان پر غالب آ گئے، پس اے امت محمد! تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمھیں تمھارے دشمن پر غالب کرے گا۔

الصف 61:12

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں رہنمائی کروں تمھاری اوپر ایسی تجارت کے جو نجات دے تمھیں عذاب درد ناک سے؟ (10) ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں، ساتھ اپنے مالوں اور اپنے نفسوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (11) وہ (اللہ) بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور داخل کرے گا تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اور محلات پاکیزہ میں (جو) ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہیں، یہ ہے کامیابی بہت بڑی (12) اور (تمھارے لیے نعمت ہے) ایک اور کہ پسند کرتے ہو تم اس کو، مدد اللہ کی طرف سے اور فتح قریب اور بشارت دے دیجیے مومنوں کو (13) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم مدد گار اللہ کے جیسے کہا تھا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے، کون ہے مدد گار میرا اللہ کے لیے؟ کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد گار اللہ کے پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے اور کفر کیا ایک گروہ نے، سو قوت دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان کے دشمنوں پر، تو ہو گئے وہ غالب (14) [10] یہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہستی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہ نمائی، دلالت اور وصیت ہے، جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔ [11] گویا کہاگیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے؟ پس فرمایا:﴿ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے، جن میں سے جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔‘‘ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمہ کی سر بلندی ہو، اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمھیں میسر ہے، اسے خرچ کرو۔ اگر چہ یہ نفوس کے لیے ناگوار اور ان پر شاق گزرتا ہے مگر یہ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ کیونکہ اس میں دنیاوی بھلائی ہے، یعنی دشمنان اسلام پر فتح و نصرت ہے اور عزت ہے جو ذلت کے منافی ہے، وسیع رزق اور انشراح صدر اور اس کی کشادگی ہے۔اس میں اخروی بھلائی بھی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی، [12] چنانچہ فرمایا :﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اور وہ تمھیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔‘‘ یعنی اس کے مساکن، اس کے محلات، اس کے بالا خانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہو گا، ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾ یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہو گی، بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ حتیٰ کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستارہ دیکھا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ جنت کی (عمارتوں کی) تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی اور کچھ چاندی کی، اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے، جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا۔ جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن ہو گا کہ وصف بیان کرنے والے اس کا وصف بیان کر سکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پا سکیں، جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں، وہ اس کے حسن سے متمتع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔اس حالت میں اگر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی سے مر جاتے۔ پس پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی، اس کی ثنا بیان نہیں کر سکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، وہ اس حمد و ثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے۔بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی، جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے۔بالا و برتر ہے وہ ذات، جو کامل حکمت کی مالک ہے، یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں، تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انھیں اس دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی، جس کی نعمتوں میں درد و الم اور جس کی فرحتوں میں رنج و غم کی ملاوٹ ہے۔اس کو ’’جنت عدن‘‘ اس لیے کہا گیا کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے۔ یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں۔ یہ ہے اخروی ثواب۔ [13] رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے :﴿ وَاُخۡرٰؔى تُحِبُّوۡنَهَا﴾ یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَتۡحٌ قَرِيۡبٌ﴾ ’’اور جلد فتح یابی‘‘ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا:﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790) [14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰهِ﴾ اے ایمان والو! تم اپنے (اقوال و افعال کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ ۔‘‘ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے، دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان و مال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو وہ اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے، حق کی دلیل کا ابطال کرکے، اس پر حجت قائم کر کے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، فرمایا:﴿ كَمَا قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيّٖنَ۠ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ﴾ عیسیٰu نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے، کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں؟‘‘ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے:﴿ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ uاور آپ کے ساتھ جو حواری تھے، سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ﴿ فَاٰمَنَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ پس حضرت عیسیٰu اور آپ کے حواریوں کی دعوت کے سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ﴿ وَكَفَرَتۡ طَّآىِٕفَةٌ﴾ اور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کر دیا اور ان کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ ﴿ فَاَيَّدۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰى عَدُوِّهِمۡ﴾ یعنی ہم نے اہلِ ايمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح و نصرت سے بہرہ مند کیا ﴿فَاَصۡبَحُوۡا ظٰهِرِيۡنَ﴾ تو وہ ان پر غالب آ گئے، پس اے امت محمد! تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمھیں تمھارے دشمن پر غالب کرے گا۔

الصف 61:13

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں رہنمائی کروں تمھاری اوپر ایسی تجارت کے جو نجات دے تمھیں عذاب درد ناک سے؟ (10) ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں، ساتھ اپنے مالوں اور اپنے نفسوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (11) وہ (اللہ) بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور داخل کرے گا تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اور محلات پاکیزہ میں (جو) ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہیں، یہ ہے کامیابی بہت بڑی (12) اور (تمھارے لیے نعمت ہے) ایک اور کہ پسند کرتے ہو تم اس کو، مدد اللہ کی طرف سے اور فتح قریب اور بشارت دے دیجیے مومنوں کو (13) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم مدد گار اللہ کے جیسے کہا تھا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے، کون ہے مدد گار میرا اللہ کے لیے؟ کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد گار اللہ کے پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے اور کفر کیا ایک گروہ نے، سو قوت دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان کے دشمنوں پر، تو ہو گئے وہ غالب (14) [10] یہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہستی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہ نمائی، دلالت اور وصیت ہے، جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔ [11] گویا کہاگیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے؟ پس فرمایا:﴿ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے، جن میں سے جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔‘‘ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمہ کی سر بلندی ہو، اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمھیں میسر ہے، اسے خرچ کرو۔ اگر چہ یہ نفوس کے لیے ناگوار اور ان پر شاق گزرتا ہے مگر یہ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ کیونکہ اس میں دنیاوی بھلائی ہے، یعنی دشمنان اسلام پر فتح و نصرت ہے اور عزت ہے جو ذلت کے منافی ہے، وسیع رزق اور انشراح صدر اور اس کی کشادگی ہے۔اس میں اخروی بھلائی بھی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی، [12] چنانچہ فرمایا :﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اور وہ تمھیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔‘‘ یعنی اس کے مساکن، اس کے محلات، اس کے بالا خانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہو گا، ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾ یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہو گی، بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ حتیٰ کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستارہ دیکھا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ جنت کی (عمارتوں کی) تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی اور کچھ چاندی کی، اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے، جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا۔ جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن ہو گا کہ وصف بیان کرنے والے اس کا وصف بیان کر سکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پا سکیں، جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں، وہ اس کے حسن سے متمتع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔اس حالت میں اگر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی سے مر جاتے۔ پس پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی، اس کی ثنا بیان نہیں کر سکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، وہ اس حمد و ثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے۔بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی، جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے۔بالا و برتر ہے وہ ذات، جو کامل حکمت کی مالک ہے، یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں، تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انھیں اس دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی، جس کی نعمتوں میں درد و الم اور جس کی فرحتوں میں رنج و غم کی ملاوٹ ہے۔اس کو ’’جنت عدن‘‘ اس لیے کہا گیا کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے۔ یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں۔ یہ ہے اخروی ثواب۔ [13] رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے :﴿ وَاُخۡرٰؔى تُحِبُّوۡنَهَا﴾ یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَتۡحٌ قَرِيۡبٌ﴾ ’’اور جلد فتح یابی‘‘ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا:﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790) [14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰهِ﴾ اے ایمان والو! تم اپنے (اقوال و افعال کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ ۔‘‘ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے، دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان و مال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو وہ اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے، حق کی دلیل کا ابطال کرکے، اس پر حجت قائم کر کے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، فرمایا:﴿ كَمَا قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيّٖنَ۠ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ﴾ عیسیٰu نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے، کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں؟‘‘ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے:﴿ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ uاور آپ کے ساتھ جو حواری تھے، سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ﴿ فَاٰمَنَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ پس حضرت عیسیٰu اور آپ کے حواریوں کی دعوت کے سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ﴿ وَكَفَرَتۡ طَّآىِٕفَةٌ﴾ اور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کر دیا اور ان کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ ﴿ فَاَيَّدۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰى عَدُوِّهِمۡ﴾ یعنی ہم نے اہلِ ايمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح و نصرت سے بہرہ مند کیا ﴿فَاَصۡبَحُوۡا ظٰهِرِيۡنَ﴾ تو وہ ان پر غالب آ گئے، پس اے امت محمد! تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمھیں تمھارے دشمن پر غالب کرے گا۔

الصف 61:14

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں رہنمائی کروں تمھاری اوپر ایسی تجارت کے جو نجات دے تمھیں عذاب درد ناک سے؟ (10) ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں، ساتھ اپنے مالوں اور اپنے نفسوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (11) وہ (اللہ) بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور داخل کرے گا تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اور محلات پاکیزہ میں (جو) ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہیں، یہ ہے کامیابی بہت بڑی (12) اور (تمھارے لیے نعمت ہے) ایک اور کہ پسند کرتے ہو تم اس کو، مدد اللہ کی طرف سے اور فتح قریب اور بشارت دے دیجیے مومنوں کو (13) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم مدد گار اللہ کے جیسے کہا تھا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے، کون ہے مدد گار میرا اللہ کے لیے؟ کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد گار اللہ کے پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے اور کفر کیا ایک گروہ نے، سو قوت دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان کے دشمنوں پر، تو ہو گئے وہ غالب (14) [10] یہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہستی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہ نمائی، دلالت اور وصیت ہے، جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔ [11] گویا کہاگیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے؟ پس فرمایا:﴿ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے، جن میں سے جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔‘‘ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمہ کی سر بلندی ہو، اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمھیں میسر ہے، اسے خرچ کرو۔ اگر چہ یہ نفوس کے لیے ناگوار اور ان پر شاق گزرتا ہے مگر یہ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ کیونکہ اس میں دنیاوی بھلائی ہے، یعنی دشمنان اسلام پر فتح و نصرت ہے اور عزت ہے جو ذلت کے منافی ہے، وسیع رزق اور انشراح صدر اور اس کی کشادگی ہے۔اس میں اخروی بھلائی بھی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی، [12] چنانچہ فرمایا :﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اور وہ تمھیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔‘‘ یعنی اس کے مساکن، اس کے محلات، اس کے بالا خانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہو گا، ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾ یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہو گی، بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ حتیٰ کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستارہ دیکھا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ جنت کی (عمارتوں کی) تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی اور کچھ چاندی کی، اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے، جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا۔ جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن ہو گا کہ وصف بیان کرنے والے اس کا وصف بیان کر سکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پا سکیں، جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں، وہ اس کے حسن سے متمتع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔اس حالت میں اگر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی سے مر جاتے۔ پس پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی، اس کی ثنا بیان نہیں کر سکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، وہ اس حمد و ثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے۔بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی، جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے۔بالا و برتر ہے وہ ذات، جو کامل حکمت کی مالک ہے، یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں، تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انھیں اس دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی، جس کی نعمتوں میں درد و الم اور جس کی فرحتوں میں رنج و غم کی ملاوٹ ہے۔اس کو ’’جنت عدن‘‘ اس لیے کہا گیا کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے۔ یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں۔ یہ ہے اخروی ثواب۔ [13] رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے :﴿ وَاُخۡرٰؔى تُحِبُّوۡنَهَا﴾ یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَتۡحٌ قَرِيۡبٌ﴾ ’’اور جلد فتح یابی‘‘ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا:﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790) [14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰهِ﴾ اے ایمان والو! تم اپنے (اقوال و افعال کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ ۔‘‘ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے، دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان و مال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو وہ اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے، حق کی دلیل کا ابطال کرکے، اس پر حجت قائم کر کے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، فرمایا:﴿ كَمَا قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيّٖنَ۠ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ﴾ عیسیٰu نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے، کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں؟‘‘ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے:﴿ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ uاور آپ کے ساتھ جو حواری تھے، سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ﴿ فَاٰمَنَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ پس حضرت عیسیٰu اور آپ کے حواریوں کی دعوت کے سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ﴿ وَكَفَرَتۡ طَّآىِٕفَةٌ﴾ اور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کر دیا اور ان کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ ﴿ فَاَيَّدۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰى عَدُوِّهِمۡ﴾ یعنی ہم نے اہلِ ايمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح و نصرت سے بہرہ مند کیا ﴿فَاَصۡبَحُوۡا ظٰهِرِيۡنَ﴾ تو وہ ان پر غالب آ گئے، پس اے امت محمد! تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمھیں تمھارے دشمن پر غالب کرے گا۔

الجمعة 62:1

تسبیح کرتی ہے (اس) اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں، (جو) بادشاہ ہے، نہایت پاکیزہ، بڑا زبردست، خوب حکمت والا(1) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یعنی جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں، اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں، اس کو معبود مانتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں، کیونکہ وہ بادشاہ کامل ہے، جس کی عالم علوی اور عالم سفلی پر بادشاہی ہے اور تمام مخلوق اس کی مملوک اور اس کی تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ الۡقُدُّوۡسِ﴾ عظمت والا، ہر نقص اور ہر آفت سے پاک ہے ﴿ الۡعَزِيۡزِ﴾ تمام اشیاء پر غالب ہے۔ ﴿ الۡحَكِيۡمِ﴾ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت والا ہے۔ یہ عظیم اوصاف اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔

الجمعة 62:2

وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر آیتیں اس کی، اور تزکیہ کرتا ہے ان کا،اور تعلیم دیتا ہے انھیں کتاب و حکمت کی، اور بلاشبہ تھے وہ پہلے (اس سے) البتہ گمراہی ظاہر میں(2) اور (آپ کو بھیجا) دوسرے لوگوں میں بھی انھی میں سے، کہ ابھی تک نہیں ملے وہ ساتھ ان کے اور وہ خوب غالب خوب حکمت والا ہے(3) وہ فضل ہے اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جسے چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(4) [2]﴿اَلۡاُمِّيّٖنَ﴾ سے مراد عرب وغیرہ کے وہ لوگ ہیں، جن کے پاس کوئی (آسمانی) کتا ب ہے نہ رسالت کے آثاراور وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسروں کی نسبت بہت بڑا احسان فرمایا، کیونکہ وہ علم اور بھلائی سے بے بہرہ تھے، اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے، شجر و حجر اور بتوں کی پوجا کرتے تھے، شکاری درندوں کے سے اخلاق رکھتے تھے، طاقت ور کمزور کو کھا جاتا تھا، اور وہ انبیاء کرام کے علوم سے بالکل جاہل تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا، جس کے نسب، اوصاف جمیلہ اور صداقت کو وہ خوب جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسول پر کتاب نازل کی ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات قاطعہ کی تلاوت کرتا تھا جو ایمان و یقین کی موجب ہیں ﴿ وَيُزَؔكِّيۡهِمۡ﴾ اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم اور ان کی ترغیب کے ذریعے سے ان کو پاک کرتا تھا اور اخلاق رذیلہ سے ان کو روکتا تھا۔ ﴿ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ اور ان کو کتاب و سنت کا علم سکھاتا تھا جو اولین و آخرین کے علم پر مشتمل تھا، چنانچہ اس تعلیم و تزکیہ کے بعد وہ مخلوق میں سب سے زیادہ عالم ، بلکہ اہل علم و دین کے امام ہوگئے وہ سب سے زیادہ کامل اخلاق کے مالک اور لائحہ عمل کے اعتبار سے سب سے اچھے بن گئے۔ انھوں نے خود بھی راہ راست اختیار کی اور دوسروں کو بھی اس پر گامزن کیا پس اس طرح وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے امام اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسولﷺ کو مبعوث فرما کر ان کو کامل ترین نعمت اور جلیل ترین عطیے سے نوازا۔ [3]﴿ وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ اہل کتاب میں سے دیگر لوگوں پر احسان فرمایا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے، یعنی ان لوگوں میں جن تک رسول اللہﷺ کی دعوت پہنچی تھی۔اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ وہ فضیلت میں ابھی ان تک نہیں پہنچ سکے اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ وہ ان کا زمانہ نہیں پا سکے، بہرحال دونوں احتمالات کے مطابق دونوں معنیٰ صحیح ہیں۔ بلاشبہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول مبعوث کیا، جنھوں نے اسے دیکھا اور اس کی دعوت کا ساتھ دیا، ان کو ایسے خصائص اور فضائل حاصل ہیں، کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان خصائص اور فضائل میں ان تک پہنچ سکے۔ [4] یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو مہمل اور بے کار نہیں چھوڑا، بلکہ ان میں رسول مبعوث فرمائے، ان کو امر و نہی کا مکلف بنایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑ افضل ہے، اور وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے اس فضل سے بہرہ مند کرتا ہے، ان پر یہ نعمت بدنی عافیت اور رزق کی کشادگی جیسی دنیاوی نعمتوں سے افضل ہے۔ پس دین کی نعمت سے بڑی کوئی نعمت نہیں، دین کی نعمت فوز و فلاح اور ابدی سعادت کی روح ہے۔

الجمعة 62:3

وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر آیتیں اس کی، اور تزکیہ کرتا ہے ان کا،اور تعلیم دیتا ہے انھیں کتاب و حکمت کی، اور بلاشبہ تھے وہ پہلے (اس سے) البتہ گمراہی ظاہر میں(2) اور (آپ کو بھیجا) دوسرے لوگوں میں بھی انھی میں سے، کہ ابھی تک نہیں ملے وہ ساتھ ان کے اور وہ خوب غالب خوب حکمت والا ہے(3) وہ فضل ہے اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جسے چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(4) [2]﴿اَلۡاُمِّيّٖنَ﴾ سے مراد عرب وغیرہ کے وہ لوگ ہیں، جن کے پاس کوئی (آسمانی) کتا ب ہے نہ رسالت کے آثاراور وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسروں کی نسبت بہت بڑا احسان فرمایا، کیونکہ وہ علم اور بھلائی سے بے بہرہ تھے، اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے، شجر و حجر اور بتوں کی پوجا کرتے تھے، شکاری درندوں کے سے اخلاق رکھتے تھے، طاقت ور کمزور کو کھا جاتا تھا، اور وہ انبیاء کرام کے علوم سے بالکل جاہل تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا، جس کے نسب، اوصاف جمیلہ اور صداقت کو وہ خوب جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسول پر کتاب نازل کی ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات قاطعہ کی تلاوت کرتا تھا جو ایمان و یقین کی موجب ہیں ﴿ وَيُزَؔكِّيۡهِمۡ﴾ اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم اور ان کی ترغیب کے ذریعے سے ان کو پاک کرتا تھا اور اخلاق رذیلہ سے ان کو روکتا تھا۔ ﴿ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ اور ان کو کتاب و سنت کا علم سکھاتا تھا جو اولین و آخرین کے علم پر مشتمل تھا، چنانچہ اس تعلیم و تزکیہ کے بعد وہ مخلوق میں سب سے زیادہ عالم ، بلکہ اہل علم و دین کے امام ہوگئے وہ سب سے زیادہ کامل اخلاق کے مالک اور لائحہ عمل کے اعتبار سے سب سے اچھے بن گئے۔ انھوں نے خود بھی راہ راست اختیار کی اور دوسروں کو بھی اس پر گامزن کیا پس اس طرح وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے امام اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسولﷺ کو مبعوث فرما کر ان کو کامل ترین نعمت اور جلیل ترین عطیے سے نوازا۔ [3]﴿ وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ اہل کتاب میں سے دیگر لوگوں پر احسان فرمایا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے، یعنی ان لوگوں میں جن تک رسول اللہﷺ کی دعوت پہنچی تھی۔اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ وہ فضیلت میں ابھی ان تک نہیں پہنچ سکے اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ وہ ان کا زمانہ نہیں پا سکے، بہرحال دونوں احتمالات کے مطابق دونوں معنیٰ صحیح ہیں۔ بلاشبہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول مبعوث کیا، جنھوں نے اسے دیکھا اور اس کی دعوت کا ساتھ دیا، ان کو ایسے خصائص اور فضائل حاصل ہیں، کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان خصائص اور فضائل میں ان تک پہنچ سکے۔ [4] یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو مہمل اور بے کار نہیں چھوڑا، بلکہ ان میں رسول مبعوث فرمائے، ان کو امر و نہی کا مکلف بنایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑ افضل ہے، اور وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے اس فضل سے بہرہ مند کرتا ہے، ان پر یہ نعمت بدنی عافیت اور رزق کی کشادگی جیسی دنیاوی نعمتوں سے افضل ہے۔ پس دین کی نعمت سے بڑی کوئی نعمت نہیں، دین کی نعمت فوز و فلاح اور ابدی سعادت کی روح ہے۔

الجمعة 62:4

وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر آیتیں اس کی، اور تزکیہ کرتا ہے ان کا،اور تعلیم دیتا ہے انھیں کتاب و حکمت کی، اور بلاشبہ تھے وہ پہلے (اس سے) البتہ گمراہی ظاہر میں(2) اور (آپ کو بھیجا) دوسرے لوگوں میں بھی انھی میں سے، کہ ابھی تک نہیں ملے وہ ساتھ ان کے اور وہ خوب غالب خوب حکمت والا ہے(3) وہ فضل ہے اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جسے چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(4) [2]﴿اَلۡاُمِّيّٖنَ﴾ سے مراد عرب وغیرہ کے وہ لوگ ہیں، جن کے پاس کوئی (آسمانی) کتا ب ہے نہ رسالت کے آثاراور وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسروں کی نسبت بہت بڑا احسان فرمایا، کیونکہ وہ علم اور بھلائی سے بے بہرہ تھے، اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے، شجر و حجر اور بتوں کی پوجا کرتے تھے، شکاری درندوں کے سے اخلاق رکھتے تھے، طاقت ور کمزور کو کھا جاتا تھا، اور وہ انبیاء کرام کے علوم سے بالکل جاہل تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا، جس کے نسب، اوصاف جمیلہ اور صداقت کو وہ خوب جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسول پر کتاب نازل کی ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات قاطعہ کی تلاوت کرتا تھا جو ایمان و یقین کی موجب ہیں ﴿ وَيُزَؔكِّيۡهِمۡ﴾ اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم اور ان کی ترغیب کے ذریعے سے ان کو پاک کرتا تھا اور اخلاق رذیلہ سے ان کو روکتا تھا۔ ﴿ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ اور ان کو کتاب و سنت کا علم سکھاتا تھا جو اولین و آخرین کے علم پر مشتمل تھا، چنانچہ اس تعلیم و تزکیہ کے بعد وہ مخلوق میں سب سے زیادہ عالم ، بلکہ اہل علم و دین کے امام ہوگئے وہ سب سے زیادہ کامل اخلاق کے مالک اور لائحہ عمل کے اعتبار سے سب سے اچھے بن گئے۔ انھوں نے خود بھی راہ راست اختیار کی اور دوسروں کو بھی اس پر گامزن کیا پس اس طرح وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے امام اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسولﷺ کو مبعوث فرما کر ان کو کامل ترین نعمت اور جلیل ترین عطیے سے نوازا۔ [3]﴿ وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ اہل کتاب میں سے دیگر لوگوں پر احسان فرمایا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے، یعنی ان لوگوں میں جن تک رسول اللہﷺ کی دعوت پہنچی تھی۔اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ وہ فضیلت میں ابھی ان تک نہیں پہنچ سکے اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ وہ ان کا زمانہ نہیں پا سکے، بہرحال دونوں احتمالات کے مطابق دونوں معنیٰ صحیح ہیں۔ بلاشبہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول مبعوث کیا، جنھوں نے اسے دیکھا اور اس کی دعوت کا ساتھ دیا، ان کو ایسے خصائص اور فضائل حاصل ہیں، کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان خصائص اور فضائل میں ان تک پہنچ سکے۔ [4] یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو مہمل اور بے کار نہیں چھوڑا، بلکہ ان میں رسول مبعوث فرمائے، ان کو امر و نہی کا مکلف بنایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑ افضل ہے، اور وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے اس فضل سے بہرہ مند کرتا ہے، ان پر یہ نعمت بدنی عافیت اور رزق کی کشادگی جیسی دنیاوی نعمتوں سے افضل ہے۔ پس دین کی نعمت سے بڑی کوئی نعمت نہیں، دین کی نعمت فوز و فلاح اور ابدی سعادت کی روح ہے۔

الجمعة 62:5

مثال ان لوگوں کی کہ اٹھوائے گئے وہ تورات ‘‘ پھر نہ اٹھایا انھوں نے اس کو، مانند مثال اس گدھے کی ہے جو اٹھاتا ہے کتابیں ،بری مثال ہے اس قوم کی جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(5) کہہ دیجیے، اے لوگو جو یہودی ہوئے! اگر دعویٰ کرو تم اس بات کا کہ بلاشبہ تم دوست ہو اللہ کے سوائے (دوسرے) لوگوں کے تو تم تمنا کرو موت کی اگر ہو تم سچے(6) اور نہیں تمنا کریں گے وہ اس کی کبھی بھی بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ہے ان کے ہاتھوں نے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(7) کہہ دیجیے! بلاشبہ موت، وہ کہ بھاگتے ہو تم اس سے، تو یقیناً وہ ملنے والی ہے تمھیں، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی (جو) جانتا ہے غیب اور حاضر کو، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ جو تھے تم عمل کرتے(8) [5] جب اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا، جن کے اندر اپنا نبئ امی (ﷺ)مبعوث فرمایاتو ان کے ایسے خصوصی مناقب کا ذکر کیا جن میں کوئی شخص ان تک نہیں پہنچ سکا۔ اس سے مراد نبئ اُمی کی امت کے لوگ ہیں جو اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے، حتیٰ کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے جو اپنے آپ کو علمائے ربانی اور احبار متقدمین سمجھتے تھے ... تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہود و نصاریٰ میں سے وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور ان کو حکم تھا کہ وہ تورات کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں، انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھایا نہ پورا کیا، ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں اور ان کی مثال اس گدھے کی سے ہے جس کی پیٹھ پرعلمی کتابوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ کیا یہ گدھا ان کتابوں سے مستفید ہو سکتا ہے جو اس کی پیٹھ پر لاد دی گئی ہیں؟ کیا اس سبب سے اسے کوئی فضیلت ہو سکتی ہے یا اس کا نصیب تو بس ان کتابوں کو اٹھانا ہے؟ یہی مثال اہل کتاب کے ان علماء کی ہے جو تورات کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، جن میں سے جلیل ترین اور عظیم ترین حکم حضرت محمد مصطفیﷺ کی اتباع کا حکم، آپ کی بعثت کی بشارت اور آپ جو قرآن لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے کا حکم ہے، پس جس کا یہ وصف ہو وہ ناکامی اور خسارے اور اس کے خلاف حجت کے قائم ہونے کے سوا کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ یہ مثال ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔﴿ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔‘‘ یعنی وہ آیات جو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور جو کچھ آپ لے کر تشریف لائے ہیں اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔‘‘ یعنی جب تک ظلم ان کا وصف اور عنادان کی صفت ہے، تب تک اللہ تعالیٰ ان کی ان کے مصالح کی طرف راہ نمائی نہیں کرے گا۔ [6] یہود کا ظلم اور عناد یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں مگر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور تمام لوگوں میں سے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعالیٰ کے دوست ہو ﴿فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’تو تم موت کی آرزو کرو۔‘‘ اور یہ بڑا خفیف سا معاملہ ہے کیونکہ اگر انھیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس دعوت (موت کی تمنا) پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔ [7] اس اعلان کے باوجود جب (انھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور) ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقف کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں اس لیے فرمایا :﴿ وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهٗۤ۠ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔‘‘ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے۔ [8] وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں، مگر ان کا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا، بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی، جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔ پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو غیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ ان کو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔

الجمعة 62:6

مثال ان لوگوں کی کہ اٹھوائے گئے وہ تورات ‘‘ پھر نہ اٹھایا انھوں نے اس کو، مانند مثال اس گدھے کی ہے جو اٹھاتا ہے کتابیں ،بری مثال ہے اس قوم کی جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(5) کہہ دیجیے، اے لوگو جو یہودی ہوئے! اگر دعویٰ کرو تم اس بات کا کہ بلاشبہ تم دوست ہو اللہ کے سوائے (دوسرے) لوگوں کے تو تم تمنا کرو موت کی اگر ہو تم سچے(6) اور نہیں تمنا کریں گے وہ اس کی کبھی بھی بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ہے ان کے ہاتھوں نے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(7) کہہ دیجیے! بلاشبہ موت، وہ کہ بھاگتے ہو تم اس سے، تو یقیناً وہ ملنے والی ہے تمھیں، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی (جو) جانتا ہے غیب اور حاضر کو، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ جو تھے تم عمل کرتے(8) [5] جب اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا، جن کے اندر اپنا نبئ امی (ﷺ)مبعوث فرمایاتو ان کے ایسے خصوصی مناقب کا ذکر کیا جن میں کوئی شخص ان تک نہیں پہنچ سکا۔ اس سے مراد نبئ اُمی کی امت کے لوگ ہیں جو اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے، حتیٰ کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے جو اپنے آپ کو علمائے ربانی اور احبار متقدمین سمجھتے تھے ... تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہود و نصاریٰ میں سے وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور ان کو حکم تھا کہ وہ تورات کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں، انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھایا نہ پورا کیا، ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں اور ان کی مثال اس گدھے کی سے ہے جس کی پیٹھ پرعلمی کتابوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ کیا یہ گدھا ان کتابوں سے مستفید ہو سکتا ہے جو اس کی پیٹھ پر لاد دی گئی ہیں؟ کیا اس سبب سے اسے کوئی فضیلت ہو سکتی ہے یا اس کا نصیب تو بس ان کتابوں کو اٹھانا ہے؟ یہی مثال اہل کتاب کے ان علماء کی ہے جو تورات کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، جن میں سے جلیل ترین اور عظیم ترین حکم حضرت محمد مصطفیﷺ کی اتباع کا حکم، آپ کی بعثت کی بشارت اور آپ جو قرآن لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے کا حکم ہے، پس جس کا یہ وصف ہو وہ ناکامی اور خسارے اور اس کے خلاف حجت کے قائم ہونے کے سوا کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ یہ مثال ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔﴿ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔‘‘ یعنی وہ آیات جو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور جو کچھ آپ لے کر تشریف لائے ہیں اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔‘‘ یعنی جب تک ظلم ان کا وصف اور عنادان کی صفت ہے، تب تک اللہ تعالیٰ ان کی ان کے مصالح کی طرف راہ نمائی نہیں کرے گا۔ [6] یہود کا ظلم اور عناد یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں مگر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور تمام لوگوں میں سے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعالیٰ کے دوست ہو ﴿فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’تو تم موت کی آرزو کرو۔‘‘ اور یہ بڑا خفیف سا معاملہ ہے کیونکہ اگر انھیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس دعوت (موت کی تمنا) پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔ [7] اس اعلان کے باوجود جب (انھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور) ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقف کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں اس لیے فرمایا :﴿ وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهٗۤ۠ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔‘‘ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے۔ [8] وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں، مگر ان کا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا، بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی، جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔ پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو غیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ ان کو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔

الجمعة 62:7

مثال ان لوگوں کی کہ اٹھوائے گئے وہ تورات ‘‘ پھر نہ اٹھایا انھوں نے اس کو، مانند مثال اس گدھے کی ہے جو اٹھاتا ہے کتابیں ،بری مثال ہے اس قوم کی جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(5) کہہ دیجیے، اے لوگو جو یہودی ہوئے! اگر دعویٰ کرو تم اس بات کا کہ بلاشبہ تم دوست ہو اللہ کے سوائے (دوسرے) لوگوں کے تو تم تمنا کرو موت کی اگر ہو تم سچے(6) اور نہیں تمنا کریں گے وہ اس کی کبھی بھی بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ہے ان کے ہاتھوں نے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(7) کہہ دیجیے! بلاشبہ موت، وہ کہ بھاگتے ہو تم اس سے، تو یقیناً وہ ملنے والی ہے تمھیں، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی (جو) جانتا ہے غیب اور حاضر کو، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ جو تھے تم عمل کرتے(8) [5] جب اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا، جن کے اندر اپنا نبئ امی (ﷺ)مبعوث فرمایاتو ان کے ایسے خصوصی مناقب کا ذکر کیا جن میں کوئی شخص ان تک نہیں پہنچ سکا۔ اس سے مراد نبئ اُمی کی امت کے لوگ ہیں جو اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے، حتیٰ کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے جو اپنے آپ کو علمائے ربانی اور احبار متقدمین سمجھتے تھے ... تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہود و نصاریٰ میں سے وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور ان کو حکم تھا کہ وہ تورات کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں، انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھایا نہ پورا کیا، ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں اور ان کی مثال اس گدھے کی سے ہے جس کی پیٹھ پرعلمی کتابوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ کیا یہ گدھا ان کتابوں سے مستفید ہو سکتا ہے جو اس کی پیٹھ پر لاد دی گئی ہیں؟ کیا اس سبب سے اسے کوئی فضیلت ہو سکتی ہے یا اس کا نصیب تو بس ان کتابوں کو اٹھانا ہے؟ یہی مثال اہل کتاب کے ان علماء کی ہے جو تورات کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، جن میں سے جلیل ترین اور عظیم ترین حکم حضرت محمد مصطفیﷺ کی اتباع کا حکم، آپ کی بعثت کی بشارت اور آپ جو قرآن لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے کا حکم ہے، پس جس کا یہ وصف ہو وہ ناکامی اور خسارے اور اس کے خلاف حجت کے قائم ہونے کے سوا کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ یہ مثال ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔﴿ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔‘‘ یعنی وہ آیات جو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور جو کچھ آپ لے کر تشریف لائے ہیں اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔‘‘ یعنی جب تک ظلم ان کا وصف اور عنادان کی صفت ہے، تب تک اللہ تعالیٰ ان کی ان کے مصالح کی طرف راہ نمائی نہیں کرے گا۔ [6] یہود کا ظلم اور عناد یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں مگر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور تمام لوگوں میں سے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعالیٰ کے دوست ہو ﴿فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’تو تم موت کی آرزو کرو۔‘‘ اور یہ بڑا خفیف سا معاملہ ہے کیونکہ اگر انھیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس دعوت (موت کی تمنا) پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔ [7] اس اعلان کے باوجود جب (انھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور) ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقف کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں اس لیے فرمایا :﴿ وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهٗۤ۠ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔‘‘ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے۔ [8] وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں، مگر ان کا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا، بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی، جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔ پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو غیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ ان کو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔

الجمعة 62:8

مثال ان لوگوں کی کہ اٹھوائے گئے وہ تورات ‘‘ پھر نہ اٹھایا انھوں نے اس کو، مانند مثال اس گدھے کی ہے جو اٹھاتا ہے کتابیں ،بری مثال ہے اس قوم کی جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(5) کہہ دیجیے، اے لوگو جو یہودی ہوئے! اگر دعویٰ کرو تم اس بات کا کہ بلاشبہ تم دوست ہو اللہ کے سوائے (دوسرے) لوگوں کے تو تم تمنا کرو موت کی اگر ہو تم سچے(6) اور نہیں تمنا کریں گے وہ اس کی کبھی بھی بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ہے ان کے ہاتھوں نے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(7) کہہ دیجیے! بلاشبہ موت، وہ کہ بھاگتے ہو تم اس سے، تو یقیناً وہ ملنے والی ہے تمھیں، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی (جو) جانتا ہے غیب اور حاضر کو، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ جو تھے تم عمل کرتے(8) [5] جب اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا، جن کے اندر اپنا نبئ امی (ﷺ)مبعوث فرمایاتو ان کے ایسے خصوصی مناقب کا ذکر کیا جن میں کوئی شخص ان تک نہیں پہنچ سکا۔ اس سے مراد نبئ اُمی کی امت کے لوگ ہیں جو اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے، حتیٰ کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے جو اپنے آپ کو علمائے ربانی اور احبار متقدمین سمجھتے تھے ... تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہود و نصاریٰ میں سے وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور ان کو حکم تھا کہ وہ تورات کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں، انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھایا نہ پورا کیا، ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں اور ان کی مثال اس گدھے کی سے ہے جس کی پیٹھ پرعلمی کتابوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ کیا یہ گدھا ان کتابوں سے مستفید ہو سکتا ہے جو اس کی پیٹھ پر لاد دی گئی ہیں؟ کیا اس سبب سے اسے کوئی فضیلت ہو سکتی ہے یا اس کا نصیب تو بس ان کتابوں کو اٹھانا ہے؟ یہی مثال اہل کتاب کے ان علماء کی ہے جو تورات کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، جن میں سے جلیل ترین اور عظیم ترین حکم حضرت محمد مصطفیﷺ کی اتباع کا حکم، آپ کی بعثت کی بشارت اور آپ جو قرآن لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے کا حکم ہے، پس جس کا یہ وصف ہو وہ ناکامی اور خسارے اور اس کے خلاف حجت کے قائم ہونے کے سوا کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ یہ مثال ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔﴿ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔‘‘ یعنی وہ آیات جو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور جو کچھ آپ لے کر تشریف لائے ہیں اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔‘‘ یعنی جب تک ظلم ان کا وصف اور عنادان کی صفت ہے، تب تک اللہ تعالیٰ ان کی ان کے مصالح کی طرف راہ نمائی نہیں کرے گا۔ [6] یہود کا ظلم اور عناد یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں مگر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور تمام لوگوں میں سے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعالیٰ کے دوست ہو ﴿فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’تو تم موت کی آرزو کرو۔‘‘ اور یہ بڑا خفیف سا معاملہ ہے کیونکہ اگر انھیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس دعوت (موت کی تمنا) پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔ [7] اس اعلان کے باوجود جب (انھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور) ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقف کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں اس لیے فرمایا :﴿ وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهٗۤ۠ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔‘‘ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے۔ [8] وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں، مگر ان کا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا، بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی، جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔ پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو غیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ ان کو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔

الجمعة 62:9

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب اذان دی جائے نماز کے لیے دن جمعہ کے، تو دوڑو تم طرف ذکر اللہ کے اور چھوڑ دو خرید و فروخت کرنا، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے(9) پھر جب ادا کر لی جائے نماز تو پھیل جاؤ تم زمین میں اور تلاش کرو فضل اللہ کا، اور یاد کرو اللہ کو خوب، شاید کہ تم فلاح پاؤ (10) اور جب دیکھا انھوں نے (سامان) تجارت یا کوئی تماشہ تو وہ دوڑ پڑے اس کی طرف اور چھوڑ دیا انھوں نے آپ کو کھڑا ہوا ،کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے (وہ) بہت بہتر ہے تماشے سے اور (سامان) تجارت سے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے (11) [9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو جمعہ کی نماز میں شریک ہونے، اور اس کے لیے جب اذان دی جائے تو اس کی طرف جلدی کرنے اور کوشاں ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہاں ’’سعی‘‘ سے مراد جلدی کرنا ، اہتمام کرنا اور جمعہ کی نماز کو سب سے اہم کام قرار دینا ہے، اس سے مراد دوڑنا نہیں جس کو نماز کے لیے جاتے وقت ممنوع کیا گیا ہے۔ فرمایا:﴿ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ﴾ یعنی جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان دے دی جائے تو خرید و فروخت چھوڑ دو اور نماز کے لیے چل پڑو۔ ﴿ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ ﴾ کیونکہ جمعہ کی نماز تمھارے خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے اور تمھارے فرض نماز کو ضائع کرنے سے بہتر ہے، جوتمام فرائض سے زیادہ مؤکد ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور جو کوئی دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے وہ حقیقی خسارے میں پڑتا ہے جبکہ وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ نفع حاصل کر رہا ہے ۔ [10] خرید و فروخت کو چھوڑ دینے کا یہ حکم صرف جمعہ کی نماز کی مدت تک کے لیے ہے۔﴿ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانۡتَشِرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ۔‘‘ کام کاج اور تجارت کے لیے ، چونکہ تجارت میں مشغول ہونا، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے کا مقام ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کی کثرت کا حکم دیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے تلافی ہو جائے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا﴾ یعنی اپنے کھڑے ہونے، بیٹھنے اور اپنے لیٹنے کے احوال میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ کیونکہ ذکر الٰہی کی کثرت فلاح کا سب سے بڑا سبب ہے۔ [11]﴿ وَاِذَا رَاَوۡا تِجَارَةً اَوۡ لَهۡوَنِا انۡفَضُّوۡۤا اِلَيۡهَا﴾ ’’جب وہ کوئی سودا بکتا یا لہو ولعب دیکھتے ہیں تو اس لہو ولعب یا تجارت کی حرص میں مسجد سے باہر نکل جاتے ہیں اور بھلائی کو چھوڑ دیتے ہیں ﴿ وَتَرَؔكُوۡكَ قَآىِٕمًا﴾ اور آپ لوگوں کو کھڑے خطاب کرتے رہ جاتے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا، نبی اکرمﷺ لوگوں کو (جمعہ کا) خطبہ دے رہے تھے کہ مدینہ منورہ میں ایک تجارتی قافلہ آیا۔ جب لوگوں نے مسجد میں قافلے کی آمد کے بارے میں سنا تو وہ مسجد سے نکل گئے اور ایک ایسے معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسول اللہﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ دیا، جس کے لیے عجلت میں ادب کو ترک کر مناسب نہ تھا۔﴿قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اس شخص کے لیے جو بھلائی کا التزام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت پر اپنے نفس کو صبر کا خوگر بناتا ہے، جو اجر و ثواب ہے ﴿ خَيۡرٌ مِّنَ اللَّهۡوِ وَمِنَ التِّؔجَارَةِ﴾ وہ لہو و لعب اور اس تجارت سے بہتر ہے جس سے اگر چہ بعض مقاصد حاصل ہوتے ہیں تاہم وہ بہت قلیل، ختم ہونے والے رزق اور آخرت کی بھلائی کو فوت کر دینے والے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر رزق کو فوت نہیں کرتا کیونکہ اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے، جہاں سے اس کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں:(۱)اہل ایمان پر جمعہ کی نماز فرض ہے، اس میں شرکت کے لیے جلدی کرنا، اس کے لیے کوشش کرنا اور اس کا اہتمام کرنا واجب ہے۔(۲)ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن دو خطبے فرض ہیں اور ان میں حاضر ہونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر کی تفسیر دوخطبوں سے کی ہے، اور اس کی طرف کوشش کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے۔(۳)اس سورۂ مبارکہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت ممنوع اور حرام ہے، اور یہ صرف اس وجہ سے ہے تاکہ واجب سے غافل ہو کر خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے واجب فوت نہ ہوجائے ۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ کام جو اصل میں مباح ہو، مگر جب اس سے کسی واجب کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اس حال میں یہ کام جائز نہیں ہے۔(۴)ان آیات کریمہ میں، جمعہ کے دن دونوں خطبوں میں حاضر ہونے کا حکم ہے اور جو حاضر نہیں ہوتا اس کی مذمت مستفاد ہوتی ہے، دونوں خطبوں میں خاموش رہنا اس کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔(۵) وہ بندہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ نفس کے لہو و لعب، تجارت اور شہوات میں حاضر ہونے کے دواعی نفس کو وہ بھلائیاں یاد کرائے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو اس کی خواہشات پر ترجیح دیتی ہیں۔

الجمعة 62:10

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب اذان دی جائے نماز کے لیے دن جمعہ کے، تو دوڑو تم طرف ذکر اللہ کے اور چھوڑ دو خرید و فروخت کرنا، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے(9) پھر جب ادا کر لی جائے نماز تو پھیل جاؤ تم زمین میں اور تلاش کرو فضل اللہ کا، اور یاد کرو اللہ کو خوب، شاید کہ تم فلاح پاؤ (10) اور جب دیکھا انھوں نے (سامان) تجارت یا کوئی تماشہ تو وہ دوڑ پڑے اس کی طرف اور چھوڑ دیا انھوں نے آپ کو کھڑا ہوا ،کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے (وہ) بہت بہتر ہے تماشے سے اور (سامان) تجارت سے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے (11) [9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو جمعہ کی نماز میں شریک ہونے، اور اس کے لیے جب اذان دی جائے تو اس کی طرف جلدی کرنے اور کوشاں ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہاں ’’سعی‘‘ سے مراد جلدی کرنا ، اہتمام کرنا اور جمعہ کی نماز کو سب سے اہم کام قرار دینا ہے، اس سے مراد دوڑنا نہیں جس کو نماز کے لیے جاتے وقت ممنوع کیا گیا ہے۔ فرمایا:﴿ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ﴾ یعنی جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان دے دی جائے تو خرید و فروخت چھوڑ دو اور نماز کے لیے چل پڑو۔ ﴿ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ ﴾ کیونکہ جمعہ کی نماز تمھارے خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے اور تمھارے فرض نماز کو ضائع کرنے سے بہتر ہے، جوتمام فرائض سے زیادہ مؤکد ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور جو کوئی دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے وہ حقیقی خسارے میں پڑتا ہے جبکہ وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ نفع حاصل کر رہا ہے ۔ [10] خرید و فروخت کو چھوڑ دینے کا یہ حکم صرف جمعہ کی نماز کی مدت تک کے لیے ہے۔﴿ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانۡتَشِرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ۔‘‘ کام کاج اور تجارت کے لیے ، چونکہ تجارت میں مشغول ہونا، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے کا مقام ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کی کثرت کا حکم دیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے تلافی ہو جائے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا﴾ یعنی اپنے کھڑے ہونے، بیٹھنے اور اپنے لیٹنے کے احوال میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ کیونکہ ذکر الٰہی کی کثرت فلاح کا سب سے بڑا سبب ہے۔ [11]﴿ وَاِذَا رَاَوۡا تِجَارَةً اَوۡ لَهۡوَنِا انۡفَضُّوۡۤا اِلَيۡهَا﴾ ’’جب وہ کوئی سودا بکتا یا لہو ولعب دیکھتے ہیں تو اس لہو ولعب یا تجارت کی حرص میں مسجد سے باہر نکل جاتے ہیں اور بھلائی کو چھوڑ دیتے ہیں ﴿ وَتَرَؔكُوۡكَ قَآىِٕمًا﴾ اور آپ لوگوں کو کھڑے خطاب کرتے رہ جاتے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا، نبی اکرمﷺ لوگوں کو (جمعہ کا) خطبہ دے رہے تھے کہ مدینہ منورہ میں ایک تجارتی قافلہ آیا۔ جب لوگوں نے مسجد میں قافلے کی آمد کے بارے میں سنا تو وہ مسجد سے نکل گئے اور ایک ایسے معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسول اللہﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ دیا، جس کے لیے عجلت میں ادب کو ترک کر مناسب نہ تھا۔﴿قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اس شخص کے لیے جو بھلائی کا التزام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت پر اپنے نفس کو صبر کا خوگر بناتا ہے، جو اجر و ثواب ہے ﴿ خَيۡرٌ مِّنَ اللَّهۡوِ وَمِنَ التِّؔجَارَةِ﴾ وہ لہو و لعب اور اس تجارت سے بہتر ہے جس سے اگر چہ بعض مقاصد حاصل ہوتے ہیں تاہم وہ بہت قلیل، ختم ہونے والے رزق اور آخرت کی بھلائی کو فوت کر دینے والے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر رزق کو فوت نہیں کرتا کیونکہ اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے، جہاں سے اس کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں:(۱)اہل ایمان پر جمعہ کی نماز فرض ہے، اس میں شرکت کے لیے جلدی کرنا، اس کے لیے کوشش کرنا اور اس کا اہتمام کرنا واجب ہے۔(۲)ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن دو خطبے فرض ہیں اور ان میں حاضر ہونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر کی تفسیر دوخطبوں سے کی ہے، اور اس کی طرف کوشش کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے۔(۳)اس سورۂ مبارکہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت ممنوع اور حرام ہے، اور یہ صرف اس وجہ سے ہے تاکہ واجب سے غافل ہو کر خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے واجب فوت نہ ہوجائے ۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ کام جو اصل میں مباح ہو، مگر جب اس سے کسی واجب کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اس حال میں یہ کام جائز نہیں ہے۔(۴)ان آیات کریمہ میں، جمعہ کے دن دونوں خطبوں میں حاضر ہونے کا حکم ہے اور جو حاضر نہیں ہوتا اس کی مذمت مستفاد ہوتی ہے، دونوں خطبوں میں خاموش رہنا اس کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔(۵) وہ بندہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ نفس کے لہو و لعب، تجارت اور شہوات میں حاضر ہونے کے دواعی نفس کو وہ بھلائیاں یاد کرائے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو اس کی خواہشات پر ترجیح دیتی ہیں۔

الجمعة 62:11

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب اذان دی جائے نماز کے لیے دن جمعہ کے، تو دوڑو تم طرف ذکر اللہ کے اور چھوڑ دو خرید و فروخت کرنا، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے(9) پھر جب ادا کر لی جائے نماز تو پھیل جاؤ تم زمین میں اور تلاش کرو فضل اللہ کا، اور یاد کرو اللہ کو خوب، شاید کہ تم فلاح پاؤ (10) اور جب دیکھا انھوں نے (سامان) تجارت یا کوئی تماشہ تو وہ دوڑ پڑے اس کی طرف اور چھوڑ دیا انھوں نے آپ کو کھڑا ہوا ،کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے (وہ) بہت بہتر ہے تماشے سے اور (سامان) تجارت سے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے (11) [9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو جمعہ کی نماز میں شریک ہونے، اور اس کے لیے جب اذان دی جائے تو اس کی طرف جلدی کرنے اور کوشاں ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہاں ’’سعی‘‘ سے مراد جلدی کرنا ، اہتمام کرنا اور جمعہ کی نماز کو سب سے اہم کام قرار دینا ہے، اس سے مراد دوڑنا نہیں جس کو نماز کے لیے جاتے وقت ممنوع کیا گیا ہے۔ فرمایا:﴿ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ﴾ یعنی جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان دے دی جائے تو خرید و فروخت چھوڑ دو اور نماز کے لیے چل پڑو۔ ﴿ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ ﴾ کیونکہ جمعہ کی نماز تمھارے خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے اور تمھارے فرض نماز کو ضائع کرنے سے بہتر ہے، جوتمام فرائض سے زیادہ مؤکد ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور جو کوئی دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے وہ حقیقی خسارے میں پڑتا ہے جبکہ وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ نفع حاصل کر رہا ہے ۔ [10] خرید و فروخت کو چھوڑ دینے کا یہ حکم صرف جمعہ کی نماز کی مدت تک کے لیے ہے۔﴿ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانۡتَشِرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ۔‘‘ کام کاج اور تجارت کے لیے ، چونکہ تجارت میں مشغول ہونا، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے کا مقام ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کی کثرت کا حکم دیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے تلافی ہو جائے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا﴾ یعنی اپنے کھڑے ہونے، بیٹھنے اور اپنے لیٹنے کے احوال میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ کیونکہ ذکر الٰہی کی کثرت فلاح کا سب سے بڑا سبب ہے۔ [11]﴿ وَاِذَا رَاَوۡا تِجَارَةً اَوۡ لَهۡوَنِا انۡفَضُّوۡۤا اِلَيۡهَا﴾ ’’جب وہ کوئی سودا بکتا یا لہو ولعب دیکھتے ہیں تو اس لہو ولعب یا تجارت کی حرص میں مسجد سے باہر نکل جاتے ہیں اور بھلائی کو چھوڑ دیتے ہیں ﴿ وَتَرَؔكُوۡكَ قَآىِٕمًا﴾ اور آپ لوگوں کو کھڑے خطاب کرتے رہ جاتے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا، نبی اکرمﷺ لوگوں کو (جمعہ کا) خطبہ دے رہے تھے کہ مدینہ منورہ میں ایک تجارتی قافلہ آیا۔ جب لوگوں نے مسجد میں قافلے کی آمد کے بارے میں سنا تو وہ مسجد سے نکل گئے اور ایک ایسے معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسول اللہﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ دیا، جس کے لیے عجلت میں ادب کو ترک کر مناسب نہ تھا۔﴿قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اس شخص کے لیے جو بھلائی کا التزام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت پر اپنے نفس کو صبر کا خوگر بناتا ہے، جو اجر و ثواب ہے ﴿ خَيۡرٌ مِّنَ اللَّهۡوِ وَمِنَ التِّؔجَارَةِ﴾ وہ لہو و لعب اور اس تجارت سے بہتر ہے جس سے اگر چہ بعض مقاصد حاصل ہوتے ہیں تاہم وہ بہت قلیل، ختم ہونے والے رزق اور آخرت کی بھلائی کو فوت کر دینے والے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر رزق کو فوت نہیں کرتا کیونکہ اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے، جہاں سے اس کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں:(۱)اہل ایمان پر جمعہ کی نماز فرض ہے، اس میں شرکت کے لیے جلدی کرنا، اس کے لیے کوشش کرنا اور اس کا اہتمام کرنا واجب ہے۔(۲)ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن دو خطبے فرض ہیں اور ان میں حاضر ہونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر کی تفسیر دوخطبوں سے کی ہے، اور اس کی طرف کوشش کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے۔(۳)اس سورۂ مبارکہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت ممنوع اور حرام ہے، اور یہ صرف اس وجہ سے ہے تاکہ واجب سے غافل ہو کر خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے واجب فوت نہ ہوجائے ۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ کام جو اصل میں مباح ہو، مگر جب اس سے کسی واجب کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اس حال میں یہ کام جائز نہیں ہے۔(۴)ان آیات کریمہ میں، جمعہ کے دن دونوں خطبوں میں حاضر ہونے کا حکم ہے اور جو حاضر نہیں ہوتا اس کی مذمت مستفاد ہوتی ہے، دونوں خطبوں میں خاموش رہنا اس کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔(۵) وہ بندہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ نفس کے لہو و لعب، تجارت اور شہوات میں حاضر ہونے کے دواعی نفس کو وہ بھلائیاں یاد کرائے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو اس کی خواہشات پر ترجیح دیتی ہیں۔