Tafsir As-Saadi - Urdu — المنافقون 63:1 – الملك 67:30
Contents
- المنافقون 63:1
- المنافقون 63:2
- المنافقون 63:3
- المنافقون 63:4
- المنافقون 63:5
- المنافقون 63:6
- المنافقون 63:7
- المنافقون 63:8
- المنافقون 63:9
- المنافقون 63:10
- المنافقون 63:11
- التغابن 64:1
- التغابن 64:2
- التغابن 64:3
- التغابن 64:4
- التغابن 64:5
- التغابن 64:6
- التغابن 64:7
- التغابن 64:8
- التغابن 64:9
- التغابن 64:10
- التغابن 64:11
- التغابن 64:12
- التغابن 64:13
- التغابن 64:14
- التغابن 64:15
- التغابن 64:16
- التغابن 64:17
- التغابن 64:18
- الطلاق 65:1
- الطلاق 65:2
- الطلاق 65:3
- الطلاق 65:4
- الطلاق 65:5
- الطلاق 65:6
- الطلاق 65:7
- الطلاق 65:8
- الطلاق 65:9
- الطلاق 65:10
- الطلاق 65:11
- الطلاق 65:12
- التحريم 66:1
- التحريم 66:2
- التحريم 66:3
- التحريم 66:4
- التحريم 66:5
- التحريم 66:6
- التحريم 66:7
- التحريم 66:8
- التحريم 66:9
- التحريم 66:10
- التحريم 66:11
- التحريم 66:12
- الملك 67:1
- الملك 67:2
- الملك 67:3
- الملك 67:4
- الملك 67:5
- الملك 67:6
- الملك 67:7
- الملك 67:8
- الملك 67:9
- الملك 67:10
- الملك 67:11
- الملك 67:12
- الملك 67:13
- الملك 67:14
- الملك 67:15
- الملك 67:16
- الملك 67:17
- الملك 67:18
- الملك 67:19
- الملك 67:20
- الملك 67:21
- الملك 67:22
- الملك 67:23
- الملك 67:24
- الملك 67:25
- الملك 67:26
- الملك 67:27
- الملك 67:28
- الملك 67:29
- الملك 67:30
المنافقون 63:1
جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔
[2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔
[3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟
[4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
[5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔
[6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘
المنافقون 63:2
جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔
[2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔
[3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟
[4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
[5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔
[6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘
المنافقون 63:3
جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔
[2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔
[3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟
[4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
[5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔
[6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘
المنافقون 63:4
جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔
[2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔
[3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟
[4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
[5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔
[6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘
المنافقون 63:5
جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔
[2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔
[3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟
[4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
[5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔
[6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘
المنافقون 63:6
جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔
[2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔
[3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟
[4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
[5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔
[6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘
المنافقون 63:7
وہ، وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ نہ خرچ کرو تم ان پر جو پاس ہیں رسول اللہ کے یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں اور اللہ ہی کے لیے ہیں خزانے آسمانوں اور زمین کے اور لیکن منافق نہیں سمجھتے(7) وہ کہتے ہیں، البتہ اگر لوٹ کر گئے ہم مدینہ کی طرف تو ضرور نکال ديں گے، معزز ترین لوگ اس (مدینہ) سے ذلیل ترین لوگوں کو، اور اللہ ہی کے لیے ہے عزت اور اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے اور لیکن منافق (اس حقیقت کو) نہیں جانتے(8)
[7] یہ ان کی نبی ٔاکرم ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ شدت عداوت ہے کہ جب انھوں نے صحابہ کرام y کا اتحاد، ان کی باہمی الفت اور رسول اللہ ﷺ کی رضا کی طلب میں ان کی مسارعت کو دیکھا تو اپنے زعم فاسد کے مطابق کہنے لگے:﴿ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰى مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنۡفَضُّوۡا﴾ ’’تم ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔‘‘ کیونکہ... ان کے زعم باطل کے مطابق... اگر منافقین کے اموال اور نفقات نہ ہوتے تو مسلمان اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے اکٹھے نہ ہوتے۔ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ یہ منافقین، جو دین کی مدد چھوڑنے اور مسلمانوں کو اذیت دینے کی لوگوں میں سب سے زیادہ خواہش رکھتے ہیں، اس قسم کا دعویٰ کریں جس کو صرف وہی شخص قبول کر سکتا ہے جس کو حقائق کا علم نہیں۔اس لیے الله تعالى نے ان کی بات کو رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے۔‘‘ پس وہ جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے رزق سے محروم کر دیتا ہے، جسے چاہتا ہے اس کے لیے رزق کے ذرائع آسان بنا دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے ذرائع بہت مشکل کر دیتا ہے ﴿ وَلٰكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’لیکن منافق نہیں سمجھتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے یہ بات کہی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ رزق کے خزانے ان کے قبضۂ قدرت اور ان کی مشیت کے تحت ہیں۔
[8]﴿ يَقُوۡلُوۡنَ لَىِٕنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾ ’’وہ کہتے تھے: ’’البتہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو معزز ترین لوگ وہاں سے ذلیل ترین لوگوں کو نکال دیں گے۔‘‘ یہ واقعہ غزوۂ مریسیع میں پیش آیا، جب کچھ مہاجرین اور انصار کے درمیان تلخ کلامی اور شکر رنجی پیدا ہوئی، اس وقت منافقین کا نفاق سامنے آ گیا اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا ظاہر ہوا۔ ان کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا: ’’ہماری اور ان کی ( یعنی مہاجرین کی) مثال تو بس وہ ہے جیسا کہ کسی کا قول ہے: اپنے کتے کو موٹا کرو تجھے ہی کھائے گا۔‘‘ اور کہنے لگا : ﴿ لَىِٕنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾ ’’اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والا ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ ‘‘ اس کے زعم باطل کے مطابق وہ اور اس کے بھائی دیگر منافقین باعزت لوگ ہیں، اور رسول مصطفیﷺ اور آپ کی اتباع کرنے والے ذلیل ہیں، حالانکہ معاملہ اس منافق کے قول کے برعکس تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ وَلِرَسُوۡلِهٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’حالانکہ عزت اللہ کے لیے ہے، اس کے رسول کے لیے ہے اور مومنوں کے لیے ہے۔‘‘ پس یہی عزت والے ہیں، منافقین اور ان کے بھائی ہی ذلیل ہیں۔ ﴿ وَلٰكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’مگر منافقین اس حقیقت کو نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ اپنے باطل موقف کے فریب میں مبتلا ہو کر سمجھتے ہیں کہ وہی عزت والے ہیں۔
المنافقون 63:8
وہ، وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ نہ خرچ کرو تم ان پر جو پاس ہیں رسول اللہ کے یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں اور اللہ ہی کے لیے ہیں خزانے آسمانوں اور زمین کے اور لیکن منافق نہیں سمجھتے(7) وہ کہتے ہیں، البتہ اگر لوٹ کر گئے ہم مدینہ کی طرف تو ضرور نکال ديں گے، معزز ترین لوگ اس (مدینہ) سے ذلیل ترین لوگوں کو، اور اللہ ہی کے لیے ہے عزت اور اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے اور لیکن منافق (اس حقیقت کو) نہیں جانتے(8)
[7] یہ ان کی نبی ٔاکرم ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ شدت عداوت ہے کہ جب انھوں نے صحابہ کرام y کا اتحاد، ان کی باہمی الفت اور رسول اللہ ﷺ کی رضا کی طلب میں ان کی مسارعت کو دیکھا تو اپنے زعم فاسد کے مطابق کہنے لگے:﴿ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰى مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنۡفَضُّوۡا﴾ ’’تم ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔‘‘ کیونکہ... ان کے زعم باطل کے مطابق... اگر منافقین کے اموال اور نفقات نہ ہوتے تو مسلمان اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے اکٹھے نہ ہوتے۔ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ یہ منافقین، جو دین کی مدد چھوڑنے اور مسلمانوں کو اذیت دینے کی لوگوں میں سب سے زیادہ خواہش رکھتے ہیں، اس قسم کا دعویٰ کریں جس کو صرف وہی شخص قبول کر سکتا ہے جس کو حقائق کا علم نہیں۔اس لیے الله تعالى نے ان کی بات کو رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے۔‘‘ پس وہ جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے رزق سے محروم کر دیتا ہے، جسے چاہتا ہے اس کے لیے رزق کے ذرائع آسان بنا دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے ذرائع بہت مشکل کر دیتا ہے ﴿ وَلٰكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’لیکن منافق نہیں سمجھتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے یہ بات کہی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ رزق کے خزانے ان کے قبضۂ قدرت اور ان کی مشیت کے تحت ہیں۔
[8]﴿ يَقُوۡلُوۡنَ لَىِٕنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾ ’’وہ کہتے تھے: ’’البتہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو معزز ترین لوگ وہاں سے ذلیل ترین لوگوں کو نکال دیں گے۔‘‘ یہ واقعہ غزوۂ مریسیع میں پیش آیا، جب کچھ مہاجرین اور انصار کے درمیان تلخ کلامی اور شکر رنجی پیدا ہوئی، اس وقت منافقین کا نفاق سامنے آ گیا اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا ظاہر ہوا۔ ان کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا: ’’ہماری اور ان کی ( یعنی مہاجرین کی) مثال تو بس وہ ہے جیسا کہ کسی کا قول ہے: اپنے کتے کو موٹا کرو تجھے ہی کھائے گا۔‘‘ اور کہنے لگا : ﴿ لَىِٕنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾ ’’اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والا ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ ‘‘ اس کے زعم باطل کے مطابق وہ اور اس کے بھائی دیگر منافقین باعزت لوگ ہیں، اور رسول مصطفیﷺ اور آپ کی اتباع کرنے والے ذلیل ہیں، حالانکہ معاملہ اس منافق کے قول کے برعکس تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ وَلِرَسُوۡلِهٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’حالانکہ عزت اللہ کے لیے ہے، اس کے رسول کے لیے ہے اور مومنوں کے لیے ہے۔‘‘ پس یہی عزت والے ہیں، منافقین اور ان کے بھائی ہی ذلیل ہیں۔ ﴿ وَلٰكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’مگر منافقین اس حقیقت کو نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ اپنے باطل موقف کے فریب میں مبتلا ہو کر سمجھتے ہیں کہ وہی عزت والے ہیں۔
المنافقون 63:9
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ غافل کر دے تمھیں تمھارا مال اور نہ تمھاری اولاد اللہ کے ذکر سے اور جو کوئی کرے یہ کام تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(9) اور خرچ کرو تم اس میں سے جو رزق دیا ہے ہم نے تمھیں، پہلے اس سے کہ آئے کسی ایک کو تم میں سے موت ، پھر وہ کہے، اے میرے رب! کیوں نہیں ڈھیل (مہلت) دی تو نے مجھے ایک تھوڑی مدت تک کہ صدقہ کرتا میں اور ہو جاتا میں صالح لوگوں میں سے؟ (10) اور ہرگز نہیں ڈھیل (مہلت) دے گا اللہ کسی نفس کو جب آ جائے گی اجل اس کی، اور اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (11)
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس میں نفع، فوز و فلاح اور بے شمار بھلائیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں مال اور اولاد کی محبت میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے سے روکا ہے کیونکہ مال اور اولاد کی محبت اکثر نفوس کی جبلت ہے، پس وہ مال اور اولاد کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس میں بہت بڑا خسارہ ہے اس لیے فرمایا :﴿ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ﴾ جسے اس کے مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیتے ہیں ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘ ابدی سعادت اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے بارے میں خسارے میں رہنے والے ہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ رہنے والی چیز پر فانی چیز کو ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَاَوۡلَادُؔكُمۡ فِتۡنَةٌ١ؕ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ﴾(التغابن:64؍15) ’’بے شک تمھارے مال ا ور تمھاری اولاد آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘
[10]﴿ وَاَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرو۔‘‘ اس حکم میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ، کفارات، اہل و عیال اور غلاموں وغیرہ کا نان و نفقہ اور تمام نفقات مستحبہ ، مثلاً: تمام مصالح میں مال خرچ کرنا شامل ہیں اور فرمایا: ﴿ مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ یہ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے نفاق کا مکلف نہیں بنایا جو ان کے لیے نہایت مشکل ہو اور ان پر شاق گزرے، بلکہ ان کو اس رزق میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے، جو اسی نے ان کو عطا اور میسر کیا اور اس کے اسباب مہیا کیے۔پس انھیں چاہیے کہ وہ اپنے نادار بھائیوں کی مالی مدد کر کے اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے ان کو رزق عطا کیا ہے اور موت سے پہلے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔ موت جب آ جائے گی تو بندے کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ ذرہ بھر بھی بھلائی کر سکے، اس لیے فرمایا :﴿ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ فَيَقُوۡلَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور پھر وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی اس کوتاہی پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے جو اس وقت واقع ہوئی جب اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ممکن تھا اور واپس لوٹائے جانے کی التجا کرتے ہوئے، حالانکہ یہ محال ہو گا، کہے گا:﴿ رَبِّ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنِيۡۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اے میرے رب! تو نے مجھے تھو ڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی؟‘‘ تاکہ جو میں نے کوتاہی کی ہے اس کا تدارک کر سکوں۔ ﴿ فَاَصَّدَّقَ﴾ پس اپنے مال میں سے صدقہ کروں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ ں اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہروں ﴿ وَ اَكُنۡ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ اور تمام مامورات کو ادا کر کے اور تمام منہیات سے اجتناب کر کے صالحین میں شامل ہو سکوں اور اس میں حج وغیرہ بھی شامل ہے۔
[11] اس التجا اور تمنا کا وقت چلا گیا، جس کا تدارک ممکن نہیں، بنابریں فرمایا :﴿ وَلَنۡ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفۡسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا﴾’’اور اللہ ہر گز مہلت نہیں دیتا کسی نفس کو جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔‘‘ جس کا آنا حتمی ہے ۔﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تم جو اچھے یا برے اعمال کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان کی خبر رکھتا ہے وہ تمھاری نیتوں اور اعمال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
المنافقون 63:10
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ غافل کر دے تمھیں تمھارا مال اور نہ تمھاری اولاد اللہ کے ذکر سے اور جو کوئی کرے یہ کام تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(9) اور خرچ کرو تم اس میں سے جو رزق دیا ہے ہم نے تمھیں، پہلے اس سے کہ آئے کسی ایک کو تم میں سے موت ، پھر وہ کہے، اے میرے رب! کیوں نہیں ڈھیل (مہلت) دی تو نے مجھے ایک تھوڑی مدت تک کہ صدقہ کرتا میں اور ہو جاتا میں صالح لوگوں میں سے؟ (10) اور ہرگز نہیں ڈھیل (مہلت) دے گا اللہ کسی نفس کو جب آ جائے گی اجل اس کی، اور اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (11)
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس میں نفع، فوز و فلاح اور بے شمار بھلائیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں مال اور اولاد کی محبت میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے سے روکا ہے کیونکہ مال اور اولاد کی محبت اکثر نفوس کی جبلت ہے، پس وہ مال اور اولاد کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس میں بہت بڑا خسارہ ہے اس لیے فرمایا :﴿ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ﴾ جسے اس کے مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیتے ہیں ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘ ابدی سعادت اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے بارے میں خسارے میں رہنے والے ہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ رہنے والی چیز پر فانی چیز کو ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَاَوۡلَادُؔكُمۡ فِتۡنَةٌ١ؕ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ﴾(التغابن:64؍15) ’’بے شک تمھارے مال ا ور تمھاری اولاد آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘
[10]﴿ وَاَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرو۔‘‘ اس حکم میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ، کفارات، اہل و عیال اور غلاموں وغیرہ کا نان و نفقہ اور تمام نفقات مستحبہ ، مثلاً: تمام مصالح میں مال خرچ کرنا شامل ہیں اور فرمایا: ﴿ مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ یہ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے نفاق کا مکلف نہیں بنایا جو ان کے لیے نہایت مشکل ہو اور ان پر شاق گزرے، بلکہ ان کو اس رزق میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے، جو اسی نے ان کو عطا اور میسر کیا اور اس کے اسباب مہیا کیے۔پس انھیں چاہیے کہ وہ اپنے نادار بھائیوں کی مالی مدد کر کے اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے ان کو رزق عطا کیا ہے اور موت سے پہلے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔ موت جب آ جائے گی تو بندے کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ ذرہ بھر بھی بھلائی کر سکے، اس لیے فرمایا :﴿ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ فَيَقُوۡلَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور پھر وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی اس کوتاہی پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے جو اس وقت واقع ہوئی جب اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ممکن تھا اور واپس لوٹائے جانے کی التجا کرتے ہوئے، حالانکہ یہ محال ہو گا، کہے گا:﴿ رَبِّ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنِيۡۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اے میرے رب! تو نے مجھے تھو ڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی؟‘‘ تاکہ جو میں نے کوتاہی کی ہے اس کا تدارک کر سکوں۔ ﴿ فَاَصَّدَّقَ﴾ پس اپنے مال میں سے صدقہ کروں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ ں اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہروں ﴿ وَ اَكُنۡ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ اور تمام مامورات کو ادا کر کے اور تمام منہیات سے اجتناب کر کے صالحین میں شامل ہو سکوں اور اس میں حج وغیرہ بھی شامل ہے۔
[11] اس التجا اور تمنا کا وقت چلا گیا، جس کا تدارک ممکن نہیں، بنابریں فرمایا :﴿ وَلَنۡ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفۡسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا﴾’’اور اللہ ہر گز مہلت نہیں دیتا کسی نفس کو جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔‘‘ جس کا آنا حتمی ہے ۔﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تم جو اچھے یا برے اعمال کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان کی خبر رکھتا ہے وہ تمھاری نیتوں اور اعمال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
المنافقون 63:11
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ غافل کر دے تمھیں تمھارا مال اور نہ تمھاری اولاد اللہ کے ذکر سے اور جو کوئی کرے یہ کام تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(9) اور خرچ کرو تم اس میں سے جو رزق دیا ہے ہم نے تمھیں، پہلے اس سے کہ آئے کسی ایک کو تم میں سے موت ، پھر وہ کہے، اے میرے رب! کیوں نہیں ڈھیل (مہلت) دی تو نے مجھے ایک تھوڑی مدت تک کہ صدقہ کرتا میں اور ہو جاتا میں صالح لوگوں میں سے؟ (10) اور ہرگز نہیں ڈھیل (مہلت) دے گا اللہ کسی نفس کو جب آ جائے گی اجل اس کی، اور اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (11)
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس میں نفع، فوز و فلاح اور بے شمار بھلائیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں مال اور اولاد کی محبت میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے سے روکا ہے کیونکہ مال اور اولاد کی محبت اکثر نفوس کی جبلت ہے، پس وہ مال اور اولاد کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس میں بہت بڑا خسارہ ہے اس لیے فرمایا :﴿ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ﴾ جسے اس کے مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیتے ہیں ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘ ابدی سعادت اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے بارے میں خسارے میں رہنے والے ہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ رہنے والی چیز پر فانی چیز کو ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَاَوۡلَادُؔكُمۡ فِتۡنَةٌ١ؕ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ﴾(التغابن:64؍15) ’’بے شک تمھارے مال ا ور تمھاری اولاد آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘
[10]﴿ وَاَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرو۔‘‘ اس حکم میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ، کفارات، اہل و عیال اور غلاموں وغیرہ کا نان و نفقہ اور تمام نفقات مستحبہ ، مثلاً: تمام مصالح میں مال خرچ کرنا شامل ہیں اور فرمایا: ﴿ مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ یہ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے نفاق کا مکلف نہیں بنایا جو ان کے لیے نہایت مشکل ہو اور ان پر شاق گزرے، بلکہ ان کو اس رزق میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے، جو اسی نے ان کو عطا اور میسر کیا اور اس کے اسباب مہیا کیے۔پس انھیں چاہیے کہ وہ اپنے نادار بھائیوں کی مالی مدد کر کے اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے ان کو رزق عطا کیا ہے اور موت سے پہلے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔ موت جب آ جائے گی تو بندے کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ ذرہ بھر بھی بھلائی کر سکے، اس لیے فرمایا :﴿ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ فَيَقُوۡلَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور پھر وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی اس کوتاہی پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے جو اس وقت واقع ہوئی جب اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ممکن تھا اور واپس لوٹائے جانے کی التجا کرتے ہوئے، حالانکہ یہ محال ہو گا، کہے گا:﴿ رَبِّ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنِيۡۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اے میرے رب! تو نے مجھے تھو ڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی؟‘‘ تاکہ جو میں نے کوتاہی کی ہے اس کا تدارک کر سکوں۔ ﴿ فَاَصَّدَّقَ﴾ پس اپنے مال میں سے صدقہ کروں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ ں اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہروں ﴿ وَ اَكُنۡ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ اور تمام مامورات کو ادا کر کے اور تمام منہیات سے اجتناب کر کے صالحین میں شامل ہو سکوں اور اس میں حج وغیرہ بھی شامل ہے۔
[11] اس التجا اور تمنا کا وقت چلا گیا، جس کا تدارک ممکن نہیں، بنابریں فرمایا :﴿ وَلَنۡ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفۡسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا﴾’’اور اللہ ہر گز مہلت نہیں دیتا کسی نفس کو جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔‘‘ جس کا آنا حتمی ہے ۔﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تم جو اچھے یا برے اعمال کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان کی خبر رکھتا ہے وہ تمھاری نیتوں اور اعمال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
التغابن 64:1
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں، اسی کے لیے بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے (ہر قسم کی) حمد اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں، پس کچھ تم میں سے کافر ہیں اور کچھ تم میں سے مومن ہیں، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(2) اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور اس نے صورت بنائی تمھاری پس اچھی بنائیں تمھاری صورتیں، اور اسی کی طرف واپسی ہے(3) وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور جانتا ہے جو چھپاتے ہو تم اور جو ظاہر کرتے ہو تم، اور اللہ خوب جانتا ہے راز سینو ں کے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اوصاف کے وسیع حصے پر مشتمل ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل الوہیت، بے پایاں غنا اور تمام مخلوق کے اس کے سامنے محتاج ہونے کا ذکر فرمایا ہے، نیز ذکر فرمایا کہ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اپنے رب کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے، اقتدار تمام تر اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کے اقتدار سے کوئی چیز باہر نہیں۔ حمد و ثنا کا صرف وہی مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے تمام اشیاء کو وجود بخشا، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے احکام شریعت مشروع کیے اور مخلوق کو نعمتیں عطا کیں۔ اس کی قدرت سب کو شامل ہے، موجودات میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
[2] اس نے ذکر فرمایا کہ اس نے تمام بندوں کو تخلیق کیا ان میں مومن اور کافر بنائے۔ پس ان کا ایمان اور کفر تمام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے، یہی اس کی مشیت ہے، اس نے ان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا جس کی بنا پر وہ امر و نہی میں سے جس چیز کا ارادہ کریں، اس کا اختیار رکھتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘
[3] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی، جو مامورات و منہیات کا مکلف ہے، تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد باقی مخلوقات کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا :﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو۔‘‘ یعنی تمام اجرام ارضی و فلکی اور ان چیزوں کو خوب اچھی طرح تخلیق فرمایا جو ان کے اندر ہیں ﴿بِالۡحَقِّ﴾ ’’حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی حکمت کے ساتھ اور اس غرض و غایت کے لیے، جو اللہ تعالیٰ کو مقصود و مطلوب ہے۔ ﴿ وَصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ﴾ ’’اور اس نے تمھاری صورت گری کی اور تمھاری بہترین صورتیں بنائیں۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ پس انسان صورت کے اعتبار سے تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے ۔پس وہ تمھیں تمھارے ایمان اور کفر کی جزا و سزا دے گا، تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس نے تمھیں عطا کیں کہ آیا تم نے ان نعمتوں پر شکر ادا کیا ہے یا نہیں۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عموم علم کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ ظاہر اور باطن، غیب اور حاضر سب کا علم رکھتا ہے ﴿وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ١ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور جو تمھارے سینوں کے اندر اچھے بھید چھپے ہوئے ہیں یا گندے، نیک نیتیں مستور ہیں یا برے مقاصد، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے تو ایک عقل مند دیدہ ور شخص پر یہ بات متعین ٹھہری کہ وہ اپنے باطن کی اخلاق رذیلہ سے حفاظت کرے اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونے کا حریص ہو اور اس کی کوشش کرے۔
التغابن 64:2
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں، اسی کے لیے بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے (ہر قسم کی) حمد اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں، پس کچھ تم میں سے کافر ہیں اور کچھ تم میں سے مومن ہیں، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(2) اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور اس نے صورت بنائی تمھاری پس اچھی بنائیں تمھاری صورتیں، اور اسی کی طرف واپسی ہے(3) وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور جانتا ہے جو چھپاتے ہو تم اور جو ظاہر کرتے ہو تم، اور اللہ خوب جانتا ہے راز سینو ں کے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اوصاف کے وسیع حصے پر مشتمل ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل الوہیت، بے پایاں غنا اور تمام مخلوق کے اس کے سامنے محتاج ہونے کا ذکر فرمایا ہے، نیز ذکر فرمایا کہ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اپنے رب کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے، اقتدار تمام تر اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کے اقتدار سے کوئی چیز باہر نہیں۔ حمد و ثنا کا صرف وہی مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے تمام اشیاء کو وجود بخشا، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے احکام شریعت مشروع کیے اور مخلوق کو نعمتیں عطا کیں۔ اس کی قدرت سب کو شامل ہے، موجودات میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
[2] اس نے ذکر فرمایا کہ اس نے تمام بندوں کو تخلیق کیا ان میں مومن اور کافر بنائے۔ پس ان کا ایمان اور کفر تمام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے، یہی اس کی مشیت ہے، اس نے ان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا جس کی بنا پر وہ امر و نہی میں سے جس چیز کا ارادہ کریں، اس کا اختیار رکھتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘
[3] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی، جو مامورات و منہیات کا مکلف ہے، تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد باقی مخلوقات کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا :﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو۔‘‘ یعنی تمام اجرام ارضی و فلکی اور ان چیزوں کو خوب اچھی طرح تخلیق فرمایا جو ان کے اندر ہیں ﴿بِالۡحَقِّ﴾ ’’حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی حکمت کے ساتھ اور اس غرض و غایت کے لیے، جو اللہ تعالیٰ کو مقصود و مطلوب ہے۔ ﴿ وَصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ﴾ ’’اور اس نے تمھاری صورت گری کی اور تمھاری بہترین صورتیں بنائیں۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ پس انسان صورت کے اعتبار سے تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے ۔پس وہ تمھیں تمھارے ایمان اور کفر کی جزا و سزا دے گا، تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس نے تمھیں عطا کیں کہ آیا تم نے ان نعمتوں پر شکر ادا کیا ہے یا نہیں۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عموم علم کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ ظاہر اور باطن، غیب اور حاضر سب کا علم رکھتا ہے ﴿وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ١ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور جو تمھارے سینوں کے اندر اچھے بھید چھپے ہوئے ہیں یا گندے، نیک نیتیں مستور ہیں یا برے مقاصد، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے تو ایک عقل مند دیدہ ور شخص پر یہ بات متعین ٹھہری کہ وہ اپنے باطن کی اخلاق رذیلہ سے حفاظت کرے اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونے کا حریص ہو اور اس کی کوشش کرے۔
التغابن 64:3
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں، اسی کے لیے بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے (ہر قسم کی) حمد اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں، پس کچھ تم میں سے کافر ہیں اور کچھ تم میں سے مومن ہیں، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(2) اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور اس نے صورت بنائی تمھاری پس اچھی بنائیں تمھاری صورتیں، اور اسی کی طرف واپسی ہے(3) وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور جانتا ہے جو چھپاتے ہو تم اور جو ظاہر کرتے ہو تم، اور اللہ خوب جانتا ہے راز سینو ں کے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اوصاف کے وسیع حصے پر مشتمل ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل الوہیت، بے پایاں غنا اور تمام مخلوق کے اس کے سامنے محتاج ہونے کا ذکر فرمایا ہے، نیز ذکر فرمایا کہ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اپنے رب کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے، اقتدار تمام تر اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کے اقتدار سے کوئی چیز باہر نہیں۔ حمد و ثنا کا صرف وہی مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے تمام اشیاء کو وجود بخشا، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے احکام شریعت مشروع کیے اور مخلوق کو نعمتیں عطا کیں۔ اس کی قدرت سب کو شامل ہے، موجودات میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
[2] اس نے ذکر فرمایا کہ اس نے تمام بندوں کو تخلیق کیا ان میں مومن اور کافر بنائے۔ پس ان کا ایمان اور کفر تمام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے، یہی اس کی مشیت ہے، اس نے ان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا جس کی بنا پر وہ امر و نہی میں سے جس چیز کا ارادہ کریں، اس کا اختیار رکھتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘
[3] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی، جو مامورات و منہیات کا مکلف ہے، تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد باقی مخلوقات کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا :﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو۔‘‘ یعنی تمام اجرام ارضی و فلکی اور ان چیزوں کو خوب اچھی طرح تخلیق فرمایا جو ان کے اندر ہیں ﴿بِالۡحَقِّ﴾ ’’حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی حکمت کے ساتھ اور اس غرض و غایت کے لیے، جو اللہ تعالیٰ کو مقصود و مطلوب ہے۔ ﴿ وَصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ﴾ ’’اور اس نے تمھاری صورت گری کی اور تمھاری بہترین صورتیں بنائیں۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ پس انسان صورت کے اعتبار سے تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے ۔پس وہ تمھیں تمھارے ایمان اور کفر کی جزا و سزا دے گا، تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس نے تمھیں عطا کیں کہ آیا تم نے ان نعمتوں پر شکر ادا کیا ہے یا نہیں۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عموم علم کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ ظاہر اور باطن، غیب اور حاضر سب کا علم رکھتا ہے ﴿وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ١ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور جو تمھارے سینوں کے اندر اچھے بھید چھپے ہوئے ہیں یا گندے، نیک نیتیں مستور ہیں یا برے مقاصد، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے تو ایک عقل مند دیدہ ور شخص پر یہ بات متعین ٹھہری کہ وہ اپنے باطن کی اخلاق رذیلہ سے حفاظت کرے اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونے کا حریص ہو اور اس کی کوشش کرے۔
التغابن 64:4
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں، اسی کے لیے بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے (ہر قسم کی) حمد اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں، پس کچھ تم میں سے کافر ہیں اور کچھ تم میں سے مومن ہیں، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(2) اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور اس نے صورت بنائی تمھاری پس اچھی بنائیں تمھاری صورتیں، اور اسی کی طرف واپسی ہے(3) وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور جانتا ہے جو چھپاتے ہو تم اور جو ظاہر کرتے ہو تم، اور اللہ خوب جانتا ہے راز سینو ں کے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اوصاف کے وسیع حصے پر مشتمل ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل الوہیت، بے پایاں غنا اور تمام مخلوق کے اس کے سامنے محتاج ہونے کا ذکر فرمایا ہے، نیز ذکر فرمایا کہ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اپنے رب کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے، اقتدار تمام تر اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کے اقتدار سے کوئی چیز باہر نہیں۔ حمد و ثنا کا صرف وہی مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے تمام اشیاء کو وجود بخشا، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے احکام شریعت مشروع کیے اور مخلوق کو نعمتیں عطا کیں۔ اس کی قدرت سب کو شامل ہے، موجودات میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
[2] اس نے ذکر فرمایا کہ اس نے تمام بندوں کو تخلیق کیا ان میں مومن اور کافر بنائے۔ پس ان کا ایمان اور کفر تمام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے، یہی اس کی مشیت ہے، اس نے ان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا جس کی بنا پر وہ امر و نہی میں سے جس چیز کا ارادہ کریں، اس کا اختیار رکھتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘
[3] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی، جو مامورات و منہیات کا مکلف ہے، تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد باقی مخلوقات کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا :﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو۔‘‘ یعنی تمام اجرام ارضی و فلکی اور ان چیزوں کو خوب اچھی طرح تخلیق فرمایا جو ان کے اندر ہیں ﴿بِالۡحَقِّ﴾ ’’حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی حکمت کے ساتھ اور اس غرض و غایت کے لیے، جو اللہ تعالیٰ کو مقصود و مطلوب ہے۔ ﴿ وَصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ﴾ ’’اور اس نے تمھاری صورت گری کی اور تمھاری بہترین صورتیں بنائیں۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ پس انسان صورت کے اعتبار سے تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے ۔پس وہ تمھیں تمھارے ایمان اور کفر کی جزا و سزا دے گا، تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس نے تمھیں عطا کیں کہ آیا تم نے ان نعمتوں پر شکر ادا کیا ہے یا نہیں۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عموم علم کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ ظاہر اور باطن، غیب اور حاضر سب کا علم رکھتا ہے ﴿وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ١ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور جو تمھارے سینوں کے اندر اچھے بھید چھپے ہوئے ہیں یا گندے، نیک نیتیں مستور ہیں یا برے مقاصد، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے تو ایک عقل مند دیدہ ور شخص پر یہ بات متعین ٹھہری کہ وہ اپنے باطن کی اخلاق رذیلہ سے حفاظت کرے اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونے کا حریص ہو اور اس کی کوشش کرے۔
التغابن 64:5
کیا نہیں آئی تمھارے پاس خبر ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا (اس سے) پہلے، پس چکھا انھوں نے وبال اپنے کام کا؟ اور ان کے لیے ہے عذاب بہت درد ناک(5) یہ بوجہ اس کے ہے کہ بلاشبہ لاتے تھے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں تو وہ کہتے، کیا بشر راہ دکھائیں گے ہمیں؟ پس انھوں نے کفر کیا اور رو گردانی کی اور بے پروائی کی اللہ نے، اور اللہ بے پروا خوب قابل تعریف ہے(6)
[5] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور عظیم اوصاف کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی عبادت کی جاتی ہے، اس کی رضا کے حصول میں کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ناراضی سے اجتناب کیا جاتا ہے ، تب اس نے آگاہ فرمایا کہ اس نے گزشتہ قوموں اور گزرے ہوئے زمانوں کے ساتھ کیا کیا جن کی خبریں متاخرین بیان کرتے چلے آئے ہیں اور سچے لوگ ان سے آگاہ کرتے رہے ہیں کہ جب ان کے رسول ان کے پاس حق لے کر آئے تو انھوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ عناد رکھا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا کے اندر ان کے کرتوتوں کے وبال کا مزا چکھا یا اور ان کو دنیا کے اندر رسوا کیا ﴿وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے نہایت الم ناک عذاب ہے۔
[6] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس عقوبت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ سزا اور وبال جو ہم نے ان پر نازل کیا ہے، اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهٗ كَانَتۡ تَّاۡتِيۡهِمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے جو حق اور باطل پر دلالت کرتے تھے، مگر انھوں نے ناگواری سے منہ پھیر لیا اور اپنے رسولوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ اور کہنے لگے:﴿ اَبَشَرٌ يَّهۡدُوۡنَنَا﴾ ’’کیا ایک بشر ہماری راہنمائی کرتا ہے؟‘‘ یعنی انھیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، تب کس بنا پر اللہ نے ہمیں چھوڑ کر انھیں (نبوت کے لیے) مختص کیا۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ہم بھی تمھاری مانند بشر ہی ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، نواز دیتا ہے۔‘‘ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو انبیائے کرام علیہ السلام سے روک دیا کہ وہ مخلوق کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول ہوں اور تکبر سے ان کی اطاعت نہ کی۔ اور اس طرح وہ شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو گئے۔ ﴿ فَكَـفَرُوۡا﴾ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا ﴿ وَتَوَلَّوۡا﴾ اور اس کی اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿ وَّاسۡتَغۡنَى اللّٰهُ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے اور وہ ان کی پروانہیں کرتا اور ان کی گمراہی اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيۡدٌ﴾ وہ ایسا غنی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل اور مطلق کا مالک ہے۔ وہ اپنے اقوال، افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔
التغابن 64:6
کیا نہیں آئی تمھارے پاس خبر ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا (اس سے) پہلے، پس چکھا انھوں نے وبال اپنے کام کا؟ اور ان کے لیے ہے عذاب بہت درد ناک(5) یہ بوجہ اس کے ہے کہ بلاشبہ لاتے تھے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں تو وہ کہتے، کیا بشر راہ دکھائیں گے ہمیں؟ پس انھوں نے کفر کیا اور رو گردانی کی اور بے پروائی کی اللہ نے، اور اللہ بے پروا خوب قابل تعریف ہے(6)
[5] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور عظیم اوصاف کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی عبادت کی جاتی ہے، اس کی رضا کے حصول میں کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ناراضی سے اجتناب کیا جاتا ہے ، تب اس نے آگاہ فرمایا کہ اس نے گزشتہ قوموں اور گزرے ہوئے زمانوں کے ساتھ کیا کیا جن کی خبریں متاخرین بیان کرتے چلے آئے ہیں اور سچے لوگ ان سے آگاہ کرتے رہے ہیں کہ جب ان کے رسول ان کے پاس حق لے کر آئے تو انھوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ عناد رکھا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا کے اندر ان کے کرتوتوں کے وبال کا مزا چکھا یا اور ان کو دنیا کے اندر رسوا کیا ﴿وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے نہایت الم ناک عذاب ہے۔
[6] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس عقوبت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ سزا اور وبال جو ہم نے ان پر نازل کیا ہے، اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهٗ كَانَتۡ تَّاۡتِيۡهِمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے جو حق اور باطل پر دلالت کرتے تھے، مگر انھوں نے ناگواری سے منہ پھیر لیا اور اپنے رسولوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ اور کہنے لگے:﴿ اَبَشَرٌ يَّهۡدُوۡنَنَا﴾ ’’کیا ایک بشر ہماری راہنمائی کرتا ہے؟‘‘ یعنی انھیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، تب کس بنا پر اللہ نے ہمیں چھوڑ کر انھیں (نبوت کے لیے) مختص کیا۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ہم بھی تمھاری مانند بشر ہی ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، نواز دیتا ہے۔‘‘ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو انبیائے کرام علیہ السلام سے روک دیا کہ وہ مخلوق کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول ہوں اور تکبر سے ان کی اطاعت نہ کی۔ اور اس طرح وہ شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو گئے۔ ﴿ فَكَـفَرُوۡا﴾ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا ﴿ وَتَوَلَّوۡا﴾ اور اس کی اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿ وَّاسۡتَغۡنَى اللّٰهُ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے اور وہ ان کی پروانہیں کرتا اور ان کی گمراہی اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيۡدٌ﴾ وہ ایسا غنی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل اور مطلق کا مالک ہے۔ وہ اپنے اقوال، افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔
التغابن 64:7
دعویٰ کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا یہ کہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے وہ، کہہ دیجیے! کیوں نہیں؟ قسم ہے میرے رب کی! ضرور اٹھائے جاؤ گے تم ، پھر ضرور خبر دیے جاؤ گے تم ساتھ اس چیز کے جو عمل کیا تم نے اور یہ اللہ پر بالکل آسان ہے(7)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے عناد، ان کے زعم باطل اور ان کے کسی علم، کسی ہدایت اور کسی روشن کتاب کے بغیر قیامت کو جھٹلانے کے متعلق آگاہ کرتا ہے۔ پس اس نے اپنی مخلوق میں سے بہترین ہستی کو حکم دیا کہ وہ اس بات پر اپنے رب کی قسم کھائیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، پھر ان کو ان کے اعمال بد اور ان کی تکذیب حق کی سزا دی جائے گی ﴿ وَذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ﴾ ’’اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔‘‘ خواہ یہ مخلوق کی نسبت سے بہت مشکل بلکہ ناممکن ہی ہو کیونکہ اگر تمام مخلوق کے قویٰ ایک مردہ چیز کو زندہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو وہ اس کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ۔ رہا اللہ تعالیٰ، تو وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو فرماتا ہے: ’’ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِيۡهِ اُخۡرٰى فَاِذَا هُمۡ قِيَامٌ يَّنۡظُرُوۡنَ﴾(الزمر: 39؍68) ’’جب صور پھونکا جائے گا، تو وہ تمام لوگ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، بے ہوش ہو جائیں گے، سوائے اس کے جسے اللہ (بے ہوش کرنا نہ) چاہے، پھر اسے دوسری مرتبہ پھونکا جائے گا تو اسی لمحہ سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘
التغابن 64:8
پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور (ساتھ) اس نور کے وہ جو نازل کیا ہم نے اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(8)
[8] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کے انکار کا ذکر کیا ہے جو قیامت کا انکار کرتے ہیں نیز یہ بھی ذکر کیا کہ ان کا یہ انکار اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کے ساتھ ان کے کفر کا موجب ہے، اس لیے اس نے اس چیز کا حکم دیا جو ہلاکت اور بدبختی سے بچاتی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ) اور اس کی کتاب پر ایمان، اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو نور سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس کی ضد تاریکی ہے۔ جو احکام، قوانین اور اخبار اس کتاب میں ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے، روشنی ہیں جس کے ذریعے سے جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں راہ نمائی حاصل ہوتی ہے اور جس کے ذریعے سے رات کی سیاہ تاریکی میں چلا جاتا ہے۔ کتاب اللہ کی راہ نمائی کے سوا تمام علوم ایسے ہیں جن کے نقصانات ان کے فوائد سے بڑھ کر اور جن کا شر ان کی خیر سے زیادہ ہے بلکہ اس میں کوئی خیر اور کوئی فائدہ ہی نہیں، سوائے اس کے جو انبیاء و مرسلین کی لائی ہوئی تعلیمات کے موافق ہو۔اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ) اور اس کی کتاب پر ایمان، عزم کامل ان (احکامات و قوانین) پر یقین صادق، اس تصدیق کے مقتضیٰ یعنی اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تمھارے عملوں سے باخبر ہے۔‘‘ پس وہ تمھارے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔
التغابن 64:9
جس دن وہ جمع کرے گا تمھیں جمع کرنے کے دن یہی دن ہے نقصان کا اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے صالح تو اللہ دور کر دے گا اس سے اس کی برائیاں اور داخل کرے گا اس کو ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(9) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور تکذیب کی ہماری آیتوں کی، یہ لوگ جہنمی ہیں، ہمیشہ رہیں گے اس میں، اور برا ہے وہ ٹھکانا (10)
[9] یعنی اکٹھا ہونے کے دن کو یاد کرو، جس دن اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کر کے ایک بہت ہولناک مقام پر کھڑا کرے گا، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا جو وہ کرتے رہے تھے، اس وقت خلائق کے درمیان امتیاز اور فرق ظاہر ہو گا، کچھ لوگ اعلیٰ علیین کے درجے پر فائز ہو کر عالی شان بالا خانوں اور بلند و بالا منازل میں ہوں گے، جو تمام اقسام کی لذات و شہوات پر مشتمل ہوں گی۔ کچھ لوگوں کو اسفل سافلین کے مقام پر گرا دیا جائے گا جو غم و ہموم اور سخت حزن و عذاب کا مقام ہو گا یہ ان اعمال کا نتیجہ ہے جو انھوں نے آگے بھیجے تھے اور انھوں نے اپنی زندگی کے دوران ان کو پیش کیا تھا۔ بنابریں فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يَوۡمُ التَّغَابُنِ﴾ ’’یہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔‘‘ یعنی اس دن خلائق کے درمیان نقصان اور تفاوت ظاہر ہو گا۔ اس دن اہل ایمان فاسقوں کو نقصان دیں گے، مجرم جان لیں گے کہ ان کے پلے تو کچھ بھی نہیں وہ تو محض خسارے میں ہیں۔گویا کہ پوچھا گیا ہے کہ فلاح اور بدبختی، نعمتیں اور عذاب کس چیز سے حاصل ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ﴾ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتا ہے، ایسا ایمان جو ان تمام امور کو شامل ہے جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور وہ نیک اعمال کرتا ہے۔ ‘‘ یعنی فرائض و نوافل، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرتا ہے۔ ﴿يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی جس کی نفس خواہش کریں گے، جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، جس کو ارواح چن لیں گی، جس کی دل آرزو کریں گے اور وہ ہر مرغوب کی انتہا ہو گی۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘
[10]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ یعنی جنھوں نے ان آیات کا کسی شرعی یا عقلی دلیل کے بغیر انکار کیا، بلکہ ان کے پاس دلائل اور واضح نشانیاں آئیں، انھوں نے ان دلائل کو جھٹلایا اور جس چیز پر یہ دلالت کرتے تھے اس سے عناد رکھا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’وہی اہل دوزخ ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ بری جگہ ہے۔‘‘ کیونکہ اس میں ہر قسم کی مصیبت، سختی، بدبختی اور عذاب ہو گا۔
التغابن 64:10
جس دن وہ جمع کرے گا تمھیں جمع کرنے کے دن یہی دن ہے نقصان کا اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے صالح تو اللہ دور کر دے گا اس سے اس کی برائیاں اور داخل کرے گا اس کو ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(9) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور تکذیب کی ہماری آیتوں کی، یہ لوگ جہنمی ہیں، ہمیشہ رہیں گے اس میں، اور برا ہے وہ ٹھکانا (10)
[9] یعنی اکٹھا ہونے کے دن کو یاد کرو، جس دن اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کر کے ایک بہت ہولناک مقام پر کھڑا کرے گا، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا جو وہ کرتے رہے تھے، اس وقت خلائق کے درمیان امتیاز اور فرق ظاہر ہو گا، کچھ لوگ اعلیٰ علیین کے درجے پر فائز ہو کر عالی شان بالا خانوں اور بلند و بالا منازل میں ہوں گے، جو تمام اقسام کی لذات و شہوات پر مشتمل ہوں گی۔ کچھ لوگوں کو اسفل سافلین کے مقام پر گرا دیا جائے گا جو غم و ہموم اور سخت حزن و عذاب کا مقام ہو گا یہ ان اعمال کا نتیجہ ہے جو انھوں نے آگے بھیجے تھے اور انھوں نے اپنی زندگی کے دوران ان کو پیش کیا تھا۔ بنابریں فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يَوۡمُ التَّغَابُنِ﴾ ’’یہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔‘‘ یعنی اس دن خلائق کے درمیان نقصان اور تفاوت ظاہر ہو گا۔ اس دن اہل ایمان فاسقوں کو نقصان دیں گے، مجرم جان لیں گے کہ ان کے پلے تو کچھ بھی نہیں وہ تو محض خسارے میں ہیں۔گویا کہ پوچھا گیا ہے کہ فلاح اور بدبختی، نعمتیں اور عذاب کس چیز سے حاصل ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ﴾ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتا ہے، ایسا ایمان جو ان تمام امور کو شامل ہے جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور وہ نیک اعمال کرتا ہے۔ ‘‘ یعنی فرائض و نوافل، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرتا ہے۔ ﴿يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی جس کی نفس خواہش کریں گے، جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، جس کو ارواح چن لیں گی، جس کی دل آرزو کریں گے اور وہ ہر مرغوب کی انتہا ہو گی۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘
[10]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ یعنی جنھوں نے ان آیات کا کسی شرعی یا عقلی دلیل کے بغیر انکار کیا، بلکہ ان کے پاس دلائل اور واضح نشانیاں آئیں، انھوں نے ان دلائل کو جھٹلایا اور جس چیز پر یہ دلالت کرتے تھے اس سے عناد رکھا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’وہی اہل دوزخ ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ بری جگہ ہے۔‘‘ کیونکہ اس میں ہر قسم کی مصیبت، سختی، بدبختی اور عذاب ہو گا۔
التغابن 64:11
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم ہی سے اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے وہ ہدایت دیتا ہے اس کے دل کو اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (11) اور اطاعت کرو تم اللہ کی او ر اطاعت کرو تم رسول کی، پس اگر رو گردانی کرو تم تو بلاشبہ ہمارے رسول پر ہے پہنچا دینا ظاہر (12) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے اور اللہ ہی پر پس چاہیے توکل کریں مومن (13)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ ہی کےحکم سے آتی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ جان، مال، اولاد اور احباب کے مصائب وغیرہ سب کو شامل ہے، چنانچہ بندوں پر نازل ہونے والے تمام مصائب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم ہے، اس پر اس کا قلم جاری ہو چکا، اس پر اس کی مشیت نافذ ہو چکی اور اس کی حکمت نے اس کا تقاضا کیا ۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ آیا بندے نے اس ذمہ داری کو پورا کیا جو اس مقام پر اس پر عائد تھی یا وہ اس کو پورا نہ کر سکا؟اگر اس نے اس ذمہ داری کو پورا کیا تو اس کے لیے دنیا و آخرت میں ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے۔ پس جب وہ اس حقیقت پر ایمان لے آیا کہ یہ مصیبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تب اس پر راضی ہوا، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، تو اللہ اس کے قلب کو ہدایت سے بہرہ مند کر دیتا ہے ، پس وہ مطمئن ہو جاتا ہے، تب وہ مصائب کے وقت گھبراتا نہیں، جیسا کہ اس شخص کا وتیرہ ہے جس کے قلب کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا نہیں کرتا، مگر مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی اور موجبات صبر کو قائم کرنے کی توفیق سے نوازتا ہے، اس سے اس کو دنیاوی ثواب حاصل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ، جزا و سزا کے دن کے لیے ثواب کو ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰؔبِرُوۡنَ اَجۡرَهُمۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ﴾(الزمر: 39؍10) ’’جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بے حد و حساب اجر عطا کیا جائے گا۔‘‘ اس سے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ جو کوئی مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا لحاظ نہیں کرتا بلکہ محض اسباب کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے، اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔جب بندہ نفس پر بھروسہ کرتا ہے تو نفس کے پاس چیخ و پکار اور بے صبری کے سوا کچھ نہیں۔ یہ وہ فوری سزا ہے جو آخرت کی سزا سے پہلے بندے کو اس دنیا میں اس پاداش میں ملتی ہے کہ اس نے صبر میں کوتاہی کی جو اس پر واجب تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق ہے ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ يَهۡدِ قَلۡبَهٗ﴾ اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے تو مصائب کے خاص مقام میں بھی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت عطا کرتا ہے۔ رہی وہ چیز جو عموم لفظی کی حیثیت سے اس سے تعلق رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ہر وہ شخص جو ایمان لایا ، یعنی ایسا ایمان جو مامور بہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا، پھر ایمان جن لوازم و واجبات کا تقاضا کرتا ہے، اس کے ایمان نے ان کی تصدیق کی۔ یہ سبب جس کو بندے نے اختیار کیا، اس کے اقوال و افعال، اس کے تمام احوال اور اس کے علم و عمل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے ہدایت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہ بہترین جزا ہے جو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی سے بہرہ مند کرتا ہے۔اصل ثابت قدمی، دل کی ثابت قدمی، اس کا صبر اور ہر قسم کے فتنہ کے وارد ہونے کے وقت اس کا یقین ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ﴾(ابراہیم:14؍27) ’’اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے مضبوط بات کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثبات عطا کرتا ہے۔‘‘ پس اہل ایمان کے دل لوگوں میں سب سے زیادہ راہ ہدایت پر اور وہ گھبراہٹ اور خوف کے موقعوں پر سب سے زیادہ ثابت قدم ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایمان ہے۔
[12] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ﴾ ’’اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور (اس کے) رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ یعنی ان دونوں کے اوامر کی تعمیل اور ان کے نواہی سے اجتناب میں ان کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت، سعادت کا مدار اور فلاح کا عنوان ہے ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ﴾ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول(ﷺ) کی اطاعت سے روگردانی کرو ﴿ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’تو ہمارے رسول تو صرف پر کھول کر پہنچادینا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے رسول پر تو وہی ہے جو اسے دے کر تمھاری طرف بھیجا گیا ہے اور وہ سب کچھ نہایت واضح طور پر تمھیں پہنچا دیتا ہے جس کے ذریعے سے تم پر حجت قائم ہوتی ہے، تمھاری ہدایت اس کے قبضۂ قدرت میں ہے نہ تمھارا حساب اس کے اختیار میں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت اور عدم اطاعت کے بارے میں تمھارا محاسبہ وہ ہستی کرے گی جو غیب اور عیاں کا علم رکھنے والی ہے۔
[13]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔‘‘ یعنی وہ عبادت اور الوہیت کا مستحق ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے ﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ پس اہل ایمان کو ہر معاملے میں جو بھی انھیں پیش آئے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ کوئی معاملہ آسان نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر بندے کا اعتماد اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن ظن نہ ہو اور اس معاملے میں اس کے کافی ہونے کا وثوق نہ ہو، جس پر وہ بھروسہ کر رہا ہے۔ اور بندے کے ایمان کے مطابق اس کے توکل میں قوت اور ضعف ہوتا ہے۔
التغابن 64:12
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم ہی سے اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے وہ ہدایت دیتا ہے اس کے دل کو اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (11) اور اطاعت کرو تم اللہ کی او ر اطاعت کرو تم رسول کی، پس اگر رو گردانی کرو تم تو بلاشبہ ہمارے رسول پر ہے پہنچا دینا ظاہر (12) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے اور اللہ ہی پر پس چاہیے توکل کریں مومن (13)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ ہی کےحکم سے آتی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ جان، مال، اولاد اور احباب کے مصائب وغیرہ سب کو شامل ہے، چنانچہ بندوں پر نازل ہونے والے تمام مصائب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم ہے، اس پر اس کا قلم جاری ہو چکا، اس پر اس کی مشیت نافذ ہو چکی اور اس کی حکمت نے اس کا تقاضا کیا ۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ آیا بندے نے اس ذمہ داری کو پورا کیا جو اس مقام پر اس پر عائد تھی یا وہ اس کو پورا نہ کر سکا؟اگر اس نے اس ذمہ داری کو پورا کیا تو اس کے لیے دنیا و آخرت میں ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے۔ پس جب وہ اس حقیقت پر ایمان لے آیا کہ یہ مصیبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تب اس پر راضی ہوا، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، تو اللہ اس کے قلب کو ہدایت سے بہرہ مند کر دیتا ہے ، پس وہ مطمئن ہو جاتا ہے، تب وہ مصائب کے وقت گھبراتا نہیں، جیسا کہ اس شخص کا وتیرہ ہے جس کے قلب کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا نہیں کرتا، مگر مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی اور موجبات صبر کو قائم کرنے کی توفیق سے نوازتا ہے، اس سے اس کو دنیاوی ثواب حاصل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ، جزا و سزا کے دن کے لیے ثواب کو ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰؔبِرُوۡنَ اَجۡرَهُمۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ﴾(الزمر: 39؍10) ’’جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بے حد و حساب اجر عطا کیا جائے گا۔‘‘ اس سے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ جو کوئی مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا لحاظ نہیں کرتا بلکہ محض اسباب کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے، اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔جب بندہ نفس پر بھروسہ کرتا ہے تو نفس کے پاس چیخ و پکار اور بے صبری کے سوا کچھ نہیں۔ یہ وہ فوری سزا ہے جو آخرت کی سزا سے پہلے بندے کو اس دنیا میں اس پاداش میں ملتی ہے کہ اس نے صبر میں کوتاہی کی جو اس پر واجب تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق ہے ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ يَهۡدِ قَلۡبَهٗ﴾ اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے تو مصائب کے خاص مقام میں بھی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت عطا کرتا ہے۔ رہی وہ چیز جو عموم لفظی کی حیثیت سے اس سے تعلق رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ہر وہ شخص جو ایمان لایا ، یعنی ایسا ایمان جو مامور بہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا، پھر ایمان جن لوازم و واجبات کا تقاضا کرتا ہے، اس کے ایمان نے ان کی تصدیق کی۔ یہ سبب جس کو بندے نے اختیار کیا، اس کے اقوال و افعال، اس کے تمام احوال اور اس کے علم و عمل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے ہدایت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہ بہترین جزا ہے جو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی سے بہرہ مند کرتا ہے۔اصل ثابت قدمی، دل کی ثابت قدمی، اس کا صبر اور ہر قسم کے فتنہ کے وارد ہونے کے وقت اس کا یقین ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ﴾(ابراہیم:14؍27) ’’اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے مضبوط بات کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثبات عطا کرتا ہے۔‘‘ پس اہل ایمان کے دل لوگوں میں سب سے زیادہ راہ ہدایت پر اور وہ گھبراہٹ اور خوف کے موقعوں پر سب سے زیادہ ثابت قدم ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایمان ہے۔
[12] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ﴾ ’’اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور (اس کے) رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ یعنی ان دونوں کے اوامر کی تعمیل اور ان کے نواہی سے اجتناب میں ان کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت، سعادت کا مدار اور فلاح کا عنوان ہے ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ﴾ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول(ﷺ) کی اطاعت سے روگردانی کرو ﴿ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’تو ہمارے رسول تو صرف پر کھول کر پہنچادینا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے رسول پر تو وہی ہے جو اسے دے کر تمھاری طرف بھیجا گیا ہے اور وہ سب کچھ نہایت واضح طور پر تمھیں پہنچا دیتا ہے جس کے ذریعے سے تم پر حجت قائم ہوتی ہے، تمھاری ہدایت اس کے قبضۂ قدرت میں ہے نہ تمھارا حساب اس کے اختیار میں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت اور عدم اطاعت کے بارے میں تمھارا محاسبہ وہ ہستی کرے گی جو غیب اور عیاں کا علم رکھنے والی ہے۔
[13]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔‘‘ یعنی وہ عبادت اور الوہیت کا مستحق ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے ﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ پس اہل ایمان کو ہر معاملے میں جو بھی انھیں پیش آئے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ کوئی معاملہ آسان نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر بندے کا اعتماد اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن ظن نہ ہو اور اس معاملے میں اس کے کافی ہونے کا وثوق نہ ہو، جس پر وہ بھروسہ کر رہا ہے۔ اور بندے کے ایمان کے مطابق اس کے توکل میں قوت اور ضعف ہوتا ہے۔
التغابن 64:13
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم ہی سے اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے وہ ہدایت دیتا ہے اس کے دل کو اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (11) اور اطاعت کرو تم اللہ کی او ر اطاعت کرو تم رسول کی، پس اگر رو گردانی کرو تم تو بلاشبہ ہمارے رسول پر ہے پہنچا دینا ظاہر (12) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے اور اللہ ہی پر پس چاہیے توکل کریں مومن (13)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ ہی کےحکم سے آتی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ جان، مال، اولاد اور احباب کے مصائب وغیرہ سب کو شامل ہے، چنانچہ بندوں پر نازل ہونے والے تمام مصائب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم ہے، اس پر اس کا قلم جاری ہو چکا، اس پر اس کی مشیت نافذ ہو چکی اور اس کی حکمت نے اس کا تقاضا کیا ۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ آیا بندے نے اس ذمہ داری کو پورا کیا جو اس مقام پر اس پر عائد تھی یا وہ اس کو پورا نہ کر سکا؟اگر اس نے اس ذمہ داری کو پورا کیا تو اس کے لیے دنیا و آخرت میں ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے۔ پس جب وہ اس حقیقت پر ایمان لے آیا کہ یہ مصیبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تب اس پر راضی ہوا، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، تو اللہ اس کے قلب کو ہدایت سے بہرہ مند کر دیتا ہے ، پس وہ مطمئن ہو جاتا ہے، تب وہ مصائب کے وقت گھبراتا نہیں، جیسا کہ اس شخص کا وتیرہ ہے جس کے قلب کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا نہیں کرتا، مگر مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی اور موجبات صبر کو قائم کرنے کی توفیق سے نوازتا ہے، اس سے اس کو دنیاوی ثواب حاصل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ، جزا و سزا کے دن کے لیے ثواب کو ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰؔبِرُوۡنَ اَجۡرَهُمۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ﴾(الزمر: 39؍10) ’’جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بے حد و حساب اجر عطا کیا جائے گا۔‘‘ اس سے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ جو کوئی مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا لحاظ نہیں کرتا بلکہ محض اسباب کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے، اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔جب بندہ نفس پر بھروسہ کرتا ہے تو نفس کے پاس چیخ و پکار اور بے صبری کے سوا کچھ نہیں۔ یہ وہ فوری سزا ہے جو آخرت کی سزا سے پہلے بندے کو اس دنیا میں اس پاداش میں ملتی ہے کہ اس نے صبر میں کوتاہی کی جو اس پر واجب تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق ہے ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ يَهۡدِ قَلۡبَهٗ﴾ اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے تو مصائب کے خاص مقام میں بھی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت عطا کرتا ہے۔ رہی وہ چیز جو عموم لفظی کی حیثیت سے اس سے تعلق رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ہر وہ شخص جو ایمان لایا ، یعنی ایسا ایمان جو مامور بہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا، پھر ایمان جن لوازم و واجبات کا تقاضا کرتا ہے، اس کے ایمان نے ان کی تصدیق کی۔ یہ سبب جس کو بندے نے اختیار کیا، اس کے اقوال و افعال، اس کے تمام احوال اور اس کے علم و عمل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے ہدایت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہ بہترین جزا ہے جو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی سے بہرہ مند کرتا ہے۔اصل ثابت قدمی، دل کی ثابت قدمی، اس کا صبر اور ہر قسم کے فتنہ کے وارد ہونے کے وقت اس کا یقین ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ﴾(ابراہیم:14؍27) ’’اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے مضبوط بات کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثبات عطا کرتا ہے۔‘‘ پس اہل ایمان کے دل لوگوں میں سب سے زیادہ راہ ہدایت پر اور وہ گھبراہٹ اور خوف کے موقعوں پر سب سے زیادہ ثابت قدم ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایمان ہے۔
[12] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ﴾ ’’اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور (اس کے) رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ یعنی ان دونوں کے اوامر کی تعمیل اور ان کے نواہی سے اجتناب میں ان کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت، سعادت کا مدار اور فلاح کا عنوان ہے ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ﴾ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول(ﷺ) کی اطاعت سے روگردانی کرو ﴿ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’تو ہمارے رسول تو صرف پر کھول کر پہنچادینا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے رسول پر تو وہی ہے جو اسے دے کر تمھاری طرف بھیجا گیا ہے اور وہ سب کچھ نہایت واضح طور پر تمھیں پہنچا دیتا ہے جس کے ذریعے سے تم پر حجت قائم ہوتی ہے، تمھاری ہدایت اس کے قبضۂ قدرت میں ہے نہ تمھارا حساب اس کے اختیار میں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت اور عدم اطاعت کے بارے میں تمھارا محاسبہ وہ ہستی کرے گی جو غیب اور عیاں کا علم رکھنے والی ہے۔
[13]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔‘‘ یعنی وہ عبادت اور الوہیت کا مستحق ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے ﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ پس اہل ایمان کو ہر معاملے میں جو بھی انھیں پیش آئے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ کوئی معاملہ آسان نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر بندے کا اعتماد اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن ظن نہ ہو اور اس معاملے میں اس کے کافی ہونے کا وثوق نہ ہو، جس پر وہ بھروسہ کر رہا ہے۔ اور بندے کے ایمان کے مطابق اس کے توکل میں قوت اور ضعف ہوتا ہے۔
التغابن 64:14
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بلاشبہ بعض تمھاری بیویاں اور (بعض) تمھاری اولاد دشمن ہیں تمھارے ،سو بچو تم ان سے اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (14) یقیناً تمھارے مال اور تمھاری اولاد آزمائش ہیں اور اللہ، اس کے ہاں تو اجر عظیم ہے (15)
[14، 15] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ ان میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں۔ اور دشمن وہ ہوتا ہے جو تمھارے خلاف برائی کا ارادہ رکھتا ہو اور تمھارا وظیفہ (ذمہ داری) ایسے شخص سے بچنا ہے جس کی یہ صفت ہو۔ بیویوں اور اولاد کی محبت نفس کی جبلت ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ایسی محبت کے بارے میں نصیحت کی ہے جو ان کے لیے بیوی اور اولاد کے ایسے مطالبات کے سامنے جھکنے کا موجب بنتی ہے جس میں کوئی شرعی ممانعت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احکام کی تعمیل اور اس ثواب عظیم کے لیے اس کی رضا کو مقدم رکھنے کی ترغیب دی ہے جو بلند مطالب اور عالی قدر محبت پر مشتمل ہے اور اس امر کی ترغیب دی ہے کہ وہ آخرت کو ختم ہو جانے والی فانی دنیا پر ترجیح دیں۔چونکہ ایسے امور میں بیویوں اور اولاد کی اطاعت سے روکا گیا ہے اور ان سے بچنے کے لیے کہا گیا ہے جن میں بندے کے لیے ضرر ہے، اس سے بیوی اور اولاد کے بارے میں درشتی اور سختی متوہم ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے بچنے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے، اس میں بہت سے مصالح ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں، چنانچہ فرمایا :﴿ وَاِنۡ تَعۡفُوۡا وَتَصۡفَحُوۡا وَتَغۡفِرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے، لہٰذا جو کوئی معاف کر دے ، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرتا ہے، جو کوئی درگزر کرے، اللہ تعالیٰ اس سے درگزر کرتا ہے، جو کوئی ایسے امر میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے جو اسے پسند ہے اور اس کے بندوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جسے وہ پسند کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے فائدہ مند ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے بندوں کی محبت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس کے معاملے کی حفاظت کی جاتی ہے۔
التغابن 64:15
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بلاشبہ بعض تمھاری بیویاں اور (بعض) تمھاری اولاد دشمن ہیں تمھارے ،سو بچو تم ان سے اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (14) یقیناً تمھارے مال اور تمھاری اولاد آزمائش ہیں اور اللہ، اس کے ہاں تو اجر عظیم ہے (15)
[14، 15] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ ان میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں۔ اور دشمن وہ ہوتا ہے جو تمھارے خلاف برائی کا ارادہ رکھتا ہو اور تمھارا وظیفہ (ذمہ داری) ایسے شخص سے بچنا ہے جس کی یہ صفت ہو۔ بیویوں اور اولاد کی محبت نفس کی جبلت ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ایسی محبت کے بارے میں نصیحت کی ہے جو ان کے لیے بیوی اور اولاد کے ایسے مطالبات کے سامنے جھکنے کا موجب بنتی ہے جس میں کوئی شرعی ممانعت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احکام کی تعمیل اور اس ثواب عظیم کے لیے اس کی رضا کو مقدم رکھنے کی ترغیب دی ہے جو بلند مطالب اور عالی قدر محبت پر مشتمل ہے اور اس امر کی ترغیب دی ہے کہ وہ آخرت کو ختم ہو جانے والی فانی دنیا پر ترجیح دیں۔چونکہ ایسے امور میں بیویوں اور اولاد کی اطاعت سے روکا گیا ہے اور ان سے بچنے کے لیے کہا گیا ہے جن میں بندے کے لیے ضرر ہے، اس سے بیوی اور اولاد کے بارے میں درشتی اور سختی متوہم ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے بچنے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے، اس میں بہت سے مصالح ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں، چنانچہ فرمایا :﴿ وَاِنۡ تَعۡفُوۡا وَتَصۡفَحُوۡا وَتَغۡفِرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے، لہٰذا جو کوئی معاف کر دے ، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرتا ہے، جو کوئی درگزر کرے، اللہ تعالیٰ اس سے درگزر کرتا ہے، جو کوئی ایسے امر میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے جو اسے پسند ہے اور اس کے بندوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جسے وہ پسند کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے فائدہ مند ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے بندوں کی محبت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس کے معاملے کی حفاظت کی جاتی ہے۔
التغابن 64:16
پس ڈرو تم اللہ سے جتنی استطاعت رکھتے ہو اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو تم (ہوگا یہ) بہتر تمھارے نفسوں کے لیے اور جو کوئی بچا لیا گیا حرص سے اپنے نفس کی تو یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے (16) اگر تم قرض دو اللہ کو قرض حسنہ تو وہ بڑھائے گا اس کو تمھارے لیے اور بخش دے گا تمھیں اور اللہ بڑا قدر دان، خوب حوصلے والا ہے (17) جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، زبردست، خوب حکمت والا (18)
[16] اللہ تبارک و تعالیٰ تقویٰ کا حکم دیتا ہے جو اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے کا نام ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو استطاعت اور قدرت سے مقید رکھا ہے۔یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ واجب جس کو ادا کرنے سے بندہ عاجز ہو، اس سے ساقط ہو جاتا ہے اگر کچھ امور پر عمل کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور کچھ پر قدرت نہیں رکھتا تو وہ صرف انھی امور پر عمل کرے گا جن پر عمل کرنے کی وہ قدرت رکھتا ہے اور جن پر عمل کرنے سے عاجز ہے، وہ اس سے ساقط ہو جائیں گے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘ ’’جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے مطابق اس پر عمل کرو۔‘‘ (صحیح البخاري، الاعتصام، باب الاقتداء بسنن رسول اللہﷺ، ح: 2788 و صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، ح: 1337 و مسند أحمد: 428/2 واللفظ لہ)اس شرعی قاعدہ میں اتنی زیادہ فروع داخل ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡمَعُوۡا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ جو تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس نے جو احکام تمھارے لیے مشروع کیے، ان کو سنو، ان کو جان لو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کر دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡا﴾ اور اپنے تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ﴿ وَاَنۡفِقُوۡا﴾ اور شرعی نفقات واجبہ اور مستحبہ خرچ کرو، تمھارا یہ فعل ﴿ خَيۡرًا لِّاَنۡفُسِكُمۡ﴾ دنیا و آخرت میں تمھارے لیے بہتر ہو گا کیونکہ بھلائی تمام تر اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کرنے، اس کے نصائح کو قبول کرنے اور اس کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہے اور شر تمام تر اس کی مخالفت کرنے میں ہے۔ مگر وہاں ایک اور آفت بھی ہے جو بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مامور بہ نفقات سے روکتی ہے اور وہ ہے بخل جو اکثر نفوس کی جبلت ہے۔ نفس مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں، اس کی موجودگی کو پسند کرتے ہیں اور مال کے ہاتھ سے نکلنے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچالیا گیا۔‘‘ یعنی اللہ نے اس کو مال خرچ کرنے کی توفیق عطا کر دی جو اس کے لیے فائدہ مند ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے مطلوب کو پا لیا اور ڈرائے جانے والے امور سے نجات پائی۔ بلکہ شاید یہ ہر اس امر کو شامل ہے، جس کا بندے کو حکم دیا گیا اور اس سے اس کو روکا گیا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا نفس بخیل ہے تو اس حکم کی اطاعت نہیں کرے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور مامور بہ نفقات کو ہاتھ سے نہیں نکالے گا تو اس نے فلاح نہیں پائی بلکہ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہا۔ اگر اس کا نفس سخی ہے، اللہ تعالیٰ کی شریعت پر انشراح کے ساتھ مطمئن اور اس کی رضا کا طلب گار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس فعل کے درمیان جس کا وہ مکلف کیا گیا ہے، اس فعل کے علم ، اللہ تعالیٰ کی رضا کی معرفت اور اس چیز کی بصیرت کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر رہا ہے، اس طریقے سے فلاح پائے گا اور تمام تر کامیابی سے بہرہ مند ہو گا۔
[17] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق کی ترغیب دی، فرمایا:﴿ اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو۔‘‘ اپنی حلال کمائی میں سے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا، جبکہ اس خرچ کرنے سے بندے کا مطلوب و مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، اور اس کو صحیح مقام پر خرچ کرنا قرض حسنہ ہے ﴿ يُّضٰعِفۡهُ لَكُمۡ﴾ ’’تو وہ اسے تمھارے لیے کئی گنا کردے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھارے لیے اس کے ثواب کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ گناتک کر دے گا۔ ﴿ وَ﴾ اور ثواب کو کئی گنا کرنے کے ساتھ ساتھ ﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ﴾ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ کے سبب سے تمھارے گناہوں کو بخش دے گا کیونکہ گناہوں کو صدقات اور نیکیاں مٹاتی ہیں ﴿ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّؔيِّاٰتِ﴾(ھود:11؍114) ’’بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ حَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ نہایت قدردان، بردبار ہے۔‘‘ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اسے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ اسے مہلت دیتا ہے اسے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿ وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ وَّلٰكِنۡ يُّؤَخِّرُهُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾(فاطر:35؍45) ’’اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے سبب سے پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا مگر وہ انھیں ایک مقررہ مدت کے لیے مہلت دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تھوڑے سے عمل کو بھی قبول کرتا ہے اور اس پر انھیں بہت زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کا قدر دان ہے جو اس کی خاطر مشقتیں، بوجھ اور مختلف انواع کی بھاری تکالیف برداشت کرتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔
[18]﴿ عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ ﴾ ’’وہ پوشیدہ اور ظاہر کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ان لشکروں کا علم رکھتا ہے جو بندوں کی نظروں سے غائب ہیں اور وہ ان مخلوقات کا بھی علم رکھتا ہے جن کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جس کے مقابلے میں کوئی غالب آ سکتا ہے نہ رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ تمام اشیاء پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے، جو تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔
التغابن 64:17
پس ڈرو تم اللہ سے جتنی استطاعت رکھتے ہو اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو تم (ہوگا یہ) بہتر تمھارے نفسوں کے لیے اور جو کوئی بچا لیا گیا حرص سے اپنے نفس کی تو یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے (16) اگر تم قرض دو اللہ کو قرض حسنہ تو وہ بڑھائے گا اس کو تمھارے لیے اور بخش دے گا تمھیں اور اللہ بڑا قدر دان، خوب حوصلے والا ہے (17) جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، زبردست، خوب حکمت والا (18)
[16] اللہ تبارک و تعالیٰ تقویٰ کا حکم دیتا ہے جو اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے کا نام ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو استطاعت اور قدرت سے مقید رکھا ہے۔یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ واجب جس کو ادا کرنے سے بندہ عاجز ہو، اس سے ساقط ہو جاتا ہے اگر کچھ امور پر عمل کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور کچھ پر قدرت نہیں رکھتا تو وہ صرف انھی امور پر عمل کرے گا جن پر عمل کرنے کی وہ قدرت رکھتا ہے اور جن پر عمل کرنے سے عاجز ہے، وہ اس سے ساقط ہو جائیں گے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘ ’’جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے مطابق اس پر عمل کرو۔‘‘ (صحیح البخاري، الاعتصام، باب الاقتداء بسنن رسول اللہﷺ، ح: 2788 و صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، ح: 1337 و مسند أحمد: 428/2 واللفظ لہ)اس شرعی قاعدہ میں اتنی زیادہ فروع داخل ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡمَعُوۡا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ جو تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس نے جو احکام تمھارے لیے مشروع کیے، ان کو سنو، ان کو جان لو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کر دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡا﴾ اور اپنے تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ﴿ وَاَنۡفِقُوۡا﴾ اور شرعی نفقات واجبہ اور مستحبہ خرچ کرو، تمھارا یہ فعل ﴿ خَيۡرًا لِّاَنۡفُسِكُمۡ﴾ دنیا و آخرت میں تمھارے لیے بہتر ہو گا کیونکہ بھلائی تمام تر اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کرنے، اس کے نصائح کو قبول کرنے اور اس کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہے اور شر تمام تر اس کی مخالفت کرنے میں ہے۔ مگر وہاں ایک اور آفت بھی ہے جو بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مامور بہ نفقات سے روکتی ہے اور وہ ہے بخل جو اکثر نفوس کی جبلت ہے۔ نفس مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں، اس کی موجودگی کو پسند کرتے ہیں اور مال کے ہاتھ سے نکلنے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچالیا گیا۔‘‘ یعنی اللہ نے اس کو مال خرچ کرنے کی توفیق عطا کر دی جو اس کے لیے فائدہ مند ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے مطلوب کو پا لیا اور ڈرائے جانے والے امور سے نجات پائی۔ بلکہ شاید یہ ہر اس امر کو شامل ہے، جس کا بندے کو حکم دیا گیا اور اس سے اس کو روکا گیا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا نفس بخیل ہے تو اس حکم کی اطاعت نہیں کرے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور مامور بہ نفقات کو ہاتھ سے نہیں نکالے گا تو اس نے فلاح نہیں پائی بلکہ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہا۔ اگر اس کا نفس سخی ہے، اللہ تعالیٰ کی شریعت پر انشراح کے ساتھ مطمئن اور اس کی رضا کا طلب گار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس فعل کے درمیان جس کا وہ مکلف کیا گیا ہے، اس فعل کے علم ، اللہ تعالیٰ کی رضا کی معرفت اور اس چیز کی بصیرت کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر رہا ہے، اس طریقے سے فلاح پائے گا اور تمام تر کامیابی سے بہرہ مند ہو گا۔
[17] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق کی ترغیب دی، فرمایا:﴿ اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو۔‘‘ اپنی حلال کمائی میں سے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا، جبکہ اس خرچ کرنے سے بندے کا مطلوب و مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، اور اس کو صحیح مقام پر خرچ کرنا قرض حسنہ ہے ﴿ يُّضٰعِفۡهُ لَكُمۡ﴾ ’’تو وہ اسے تمھارے لیے کئی گنا کردے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھارے لیے اس کے ثواب کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ گناتک کر دے گا۔ ﴿ وَ﴾ اور ثواب کو کئی گنا کرنے کے ساتھ ساتھ ﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ﴾ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ کے سبب سے تمھارے گناہوں کو بخش دے گا کیونکہ گناہوں کو صدقات اور نیکیاں مٹاتی ہیں ﴿ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّؔيِّاٰتِ﴾(ھود:11؍114) ’’بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ حَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ نہایت قدردان، بردبار ہے۔‘‘ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اسے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ اسے مہلت دیتا ہے اسے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿ وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ وَّلٰكِنۡ يُّؤَخِّرُهُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾(فاطر:35؍45) ’’اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے سبب سے پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا مگر وہ انھیں ایک مقررہ مدت کے لیے مہلت دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تھوڑے سے عمل کو بھی قبول کرتا ہے اور اس پر انھیں بہت زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کا قدر دان ہے جو اس کی خاطر مشقتیں، بوجھ اور مختلف انواع کی بھاری تکالیف برداشت کرتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔
[18]﴿ عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ ﴾ ’’وہ پوشیدہ اور ظاہر کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ان لشکروں کا علم رکھتا ہے جو بندوں کی نظروں سے غائب ہیں اور وہ ان مخلوقات کا بھی علم رکھتا ہے جن کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جس کے مقابلے میں کوئی غالب آ سکتا ہے نہ رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ تمام اشیاء پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے، جو تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔
التغابن 64:18
پس ڈرو تم اللہ سے جتنی استطاعت رکھتے ہو اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو تم (ہوگا یہ) بہتر تمھارے نفسوں کے لیے اور جو کوئی بچا لیا گیا حرص سے اپنے نفس کی تو یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے (16) اگر تم قرض دو اللہ کو قرض حسنہ تو وہ بڑھائے گا اس کو تمھارے لیے اور بخش دے گا تمھیں اور اللہ بڑا قدر دان، خوب حوصلے والا ہے (17) جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، زبردست، خوب حکمت والا (18)
[16] اللہ تبارک و تعالیٰ تقویٰ کا حکم دیتا ہے جو اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے کا نام ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو استطاعت اور قدرت سے مقید رکھا ہے۔یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ واجب جس کو ادا کرنے سے بندہ عاجز ہو، اس سے ساقط ہو جاتا ہے اگر کچھ امور پر عمل کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور کچھ پر قدرت نہیں رکھتا تو وہ صرف انھی امور پر عمل کرے گا جن پر عمل کرنے کی وہ قدرت رکھتا ہے اور جن پر عمل کرنے سے عاجز ہے، وہ اس سے ساقط ہو جائیں گے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘ ’’جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے مطابق اس پر عمل کرو۔‘‘ (صحیح البخاري، الاعتصام، باب الاقتداء بسنن رسول اللہﷺ، ح: 2788 و صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، ح: 1337 و مسند أحمد: 428/2 واللفظ لہ)اس شرعی قاعدہ میں اتنی زیادہ فروع داخل ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡمَعُوۡا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ جو تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس نے جو احکام تمھارے لیے مشروع کیے، ان کو سنو، ان کو جان لو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کر دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡا﴾ اور اپنے تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ﴿ وَاَنۡفِقُوۡا﴾ اور شرعی نفقات واجبہ اور مستحبہ خرچ کرو، تمھارا یہ فعل ﴿ خَيۡرًا لِّاَنۡفُسِكُمۡ﴾ دنیا و آخرت میں تمھارے لیے بہتر ہو گا کیونکہ بھلائی تمام تر اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کرنے، اس کے نصائح کو قبول کرنے اور اس کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہے اور شر تمام تر اس کی مخالفت کرنے میں ہے۔ مگر وہاں ایک اور آفت بھی ہے جو بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مامور بہ نفقات سے روکتی ہے اور وہ ہے بخل جو اکثر نفوس کی جبلت ہے۔ نفس مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں، اس کی موجودگی کو پسند کرتے ہیں اور مال کے ہاتھ سے نکلنے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچالیا گیا۔‘‘ یعنی اللہ نے اس کو مال خرچ کرنے کی توفیق عطا کر دی جو اس کے لیے فائدہ مند ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے مطلوب کو پا لیا اور ڈرائے جانے والے امور سے نجات پائی۔ بلکہ شاید یہ ہر اس امر کو شامل ہے، جس کا بندے کو حکم دیا گیا اور اس سے اس کو روکا گیا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا نفس بخیل ہے تو اس حکم کی اطاعت نہیں کرے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور مامور بہ نفقات کو ہاتھ سے نہیں نکالے گا تو اس نے فلاح نہیں پائی بلکہ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہا۔ اگر اس کا نفس سخی ہے، اللہ تعالیٰ کی شریعت پر انشراح کے ساتھ مطمئن اور اس کی رضا کا طلب گار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس فعل کے درمیان جس کا وہ مکلف کیا گیا ہے، اس فعل کے علم ، اللہ تعالیٰ کی رضا کی معرفت اور اس چیز کی بصیرت کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر رہا ہے، اس طریقے سے فلاح پائے گا اور تمام تر کامیابی سے بہرہ مند ہو گا۔
[17] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق کی ترغیب دی، فرمایا:﴿ اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو۔‘‘ اپنی حلال کمائی میں سے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا، جبکہ اس خرچ کرنے سے بندے کا مطلوب و مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، اور اس کو صحیح مقام پر خرچ کرنا قرض حسنہ ہے ﴿ يُّضٰعِفۡهُ لَكُمۡ﴾ ’’تو وہ اسے تمھارے لیے کئی گنا کردے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھارے لیے اس کے ثواب کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ گناتک کر دے گا۔ ﴿ وَ﴾ اور ثواب کو کئی گنا کرنے کے ساتھ ساتھ ﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ﴾ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ کے سبب سے تمھارے گناہوں کو بخش دے گا کیونکہ گناہوں کو صدقات اور نیکیاں مٹاتی ہیں ﴿ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّؔيِّاٰتِ﴾(ھود:11؍114) ’’بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ حَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ نہایت قدردان، بردبار ہے۔‘‘ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اسے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ اسے مہلت دیتا ہے اسے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿ وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ وَّلٰكِنۡ يُّؤَخِّرُهُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾(فاطر:35؍45) ’’اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے سبب سے پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا مگر وہ انھیں ایک مقررہ مدت کے لیے مہلت دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تھوڑے سے عمل کو بھی قبول کرتا ہے اور اس پر انھیں بہت زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کا قدر دان ہے جو اس کی خاطر مشقتیں، بوجھ اور مختلف انواع کی بھاری تکالیف برداشت کرتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔
[18]﴿ عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ ﴾ ’’وہ پوشیدہ اور ظاہر کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ان لشکروں کا علم رکھتا ہے جو بندوں کی نظروں سے غائب ہیں اور وہ ان مخلوقات کا بھی علم رکھتا ہے جن کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جس کے مقابلے میں کوئی غالب آ سکتا ہے نہ رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ تمام اشیاء پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے، جو تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔
الطلاق 65:1
اے نبی! جب طلاق دو تم عورتوں (بیویوں) کو تو طلاق دو تم انھیں ان کی عدت کے (آغاز) میں اور شمار کرو تم عدت کو، اور ڈرو تم اللہ ( یعنی ) اپنے رب سے، نہ نکالو تم انھیں ان کے گھروں سے اور نہ وہ (خود) نکلیں مگر یہ کہ کریں وہ کوئی بے حیائی ظاہر اور یہ حدیں ہیں اللہ کی، اور جو کوئی تجاوز کرے حدود اللہ سے تو تحقیق اس نے ظلم کیا اپنے نفس پر، (طلاق دینے والے!) نہیں جانتا تو شاید کہ اللہ پیدا کر دے بعد اس (طلاق) کے کوئی (نئی) بات(1) پس جب پہنچیں وہ اپنی عدت (ختم ہونے) کو تو تم روک رکھو انھیں معروف طریقے سے یا جدا کر دو انھیں معروف طریقے سے اور گواہ بنا لو تم دو صاحب عدل آدمی اپنے میں سے، اور قائم کرو گواہی اللہ کے لیے یہ (حکم ہے وہ کہ) نصیحت کی جاتی ہے اس کی اس شخص کو جو ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اور دن قیامت کے، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ بنا دیتا ہے اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ(2) اور رزق دیتا ہے اسے جہاں سے نہیں گمان کرتا وہ، اور جو کوئی توکل کرے گا اللہ پر تو وہ کافی ہے اسے، بلاشبہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا کام تحقیق مقرر کیا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور اہل ایمان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ﴾ ’’اے نبی! جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو۔‘‘ یعنی طلاق دینے کا ارادہ کرو۔ ﴿فَـــ﴾’’پس‘‘تم ان کو طلاق دینے کے لیے مشروع وجۂ طلاق تلاش کرو، جب طلاق کا سبب مل جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی رعایت رکھے بغیر طلاق دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ ﴿ طَلِّقُوۡهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ ’’انھیں ان عدت کے (آغاز) وقت میں طلاق دو۔‘‘ یعنی ان کو ان کی عدت کے لیے طلاق دو، وہ اس طرح کہ شوہر اپنی بیوی کو اس کے طاہر ہونے کی حالت میں، نیز اس طہر میں اس سے مجامعت کیے بغیر طلاق دے۔ پس یہی وہ طلاق ہے جس میں عدت واضح ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر اس نے اپنی بیوی کے حیض کی حالت میں طلاق دی تو وہ اس حیض کو شمار نہیں کرے گی جس کے دوران طلاق واقع ہوئی ہے تو اس سبب سے اس پر عدت کا عرصہ طویل ہو جائے گا۔اس طرح اگر اس نے ایسے طہر میں طلاق دی ہو جس میں مجامعت کی گئی ہو تو اس طرح وہ حمل سے مامون نہ ہو گی، لہٰذا واضح نہ ہو گا کہ وہ کون سی عدت شمار کرےجبکہ اللہ تعالیٰ نے عدت شمار کرنے کا حکم دیا ہے ﴿وَ اَحۡصُوا الۡعِدَّۃَ﴾یعنی اسے حیض کے ذریعے سے شمار کیا جائے۔ اگر بیوی کو حیض آتا ہے تو عدت کو حیض سے ضبط کرنا ہے اور اگر اس کو حیض نہ آتا ہو اور وہ حاملہ بھی نہ ہو تو اس کی عدت مہینوں کے ساتھ شمار کی جائے گی۔ عدت کے شمار کرنے میں اللہ تعالیٰ، طلاق دینے والے شوہر اور بعد میں نکاح کرنے والے شوہر کے حقوق کی ادائیگی ہے، نیز اس میں مطلقہ کے نان و نفقہ وغیرہ کے حق کی ادائیگی ہے۔ پس جب عدت کو ضبط میں لایا جائے گا تو اس (کے حمل یا حیض وغیرہ) کا حال واضح طور پر معلوم ہو گا اور اس عدت پر مرتب ہونے والے حقوق معلوم ہوں گے۔عدت شمار کرنے کے اس حکم کا رخ شوہر اور بیوی کی طرف ہے، اگر بیوی مکلف ہے، ورنہ اس کے سر پرست کی طرف ہے۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمۡ﴾ یعنی اپنے تمام امور میں تقویٰ اختیار کرو اور مطلقہ بیویوں کے حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿ لَا تُخۡرِجُوۡهُنَّ مِنۢۡ بُيُوۡتِهِنَّ﴾ عدت کی مدت کے دوران ان کو اپنے گھروں سے نہ نکالو بلکہ مطلقہ اس گھر میں رہے جس گھر میں شوہر نے اس کو طلاق دی ہے ﴿ وَلَا يَخۡرُجۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ خود نکلیں۔‘‘ یعنی مطلقہ بیویوں کے لیے ان گھروں سے نکلنا جائز نہیں ہے۔مطلقہ کو گھر سے نکالنے کی ممانعت کا سبب یہ ہے کہ بیوی کو گھر فراہم کرنا شوہر پر واجب ہے تاکہ وہ اس گھر میں رہ کر عدت پوری کر سکے، جو شوہر کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ اور مطلقہ بیوی کے خود گھر سے نکلنے کی ممانعت اس لیے ہے کہ اس کا گھر سے نکلنا شوہر کے حق کو ضائع کرنا اور اس کی عدم حفاظت ہے۔ طلاق یافتہ عورتوں کا خود گھر سے نکلنے یا ان کو نکالے جانے کا حکم عدت کو پورا ہونے تک باقی رہے گا۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ﴾ ’’مگر یہ کہ وہ صریح بے حیائی کریں۔‘‘ یعنی ان سے کوئی واضح طور پر قبیح فعل سرزد ہو جو ان کو گھر سے نکالنے کا موجب ہو اور مطلقہ کو گھر سے نہ نکالنے سے گھر والوں کو ضرر پہنچتا ہو، مثلاً: فحش اقوال و افعال کے ذریعے سے اذیت وغیرہ۔ اس صورت حال میں مطلقہ کو گھر سے نکال دینا، گھر والوں کے لیے جائز ہے، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو گھر سے نکالنے کا سبب بنی ہے، حالانکہ گھر میں سکونت کی اجازت دینا مطلقہ کی دل جوئی اور اس کے ساتھ نرمی ہے اور اپنے آپ پر اس ضرر کا سبب وہ خود بنی ہے۔ یہ حکم اس مطلقہ کے لیے ہے جو رجعی طلاق کی عدت گزار رہی ہو۔ رہی وہ مطلقہ جس کی طلاق بائنہ ہو، اس کو سکونت فراہم کرنا واجب نہیں کیونکہ سکونت نان و نفقہ کے تابع ہے اور نان و نفقہ صرف اس مطلقہ کے لیے ہے جسے رجعی طلاق دی گئی ہو اور جس کو طلاق بائنہ دی گئی ہو، اس کے لیے نان و نفقہ نہیں ہے۔ ﴿ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’یہ اللہ کی حدیں ہیں۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر کے مشروع کیا ہے اور ان حدود کا التزام کرنے اور ان پر ٹھہرنے کا ان کو حکم دیا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے۔‘‘ وہ اس طرح کہ وہ ان مقرر کردہ حدود پر نہ ٹھہرے بلکہ ان حدود سے تجاوز یا کوتاہی کرے ﴿ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ﴾ ’’تو یقیناً اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا حق کم کیا اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی اتباع میں سے، جن میں دنیا و آخرت کی اصلاح ہے، اپنے حصے کو ضائع کیا۔ ﴿ لَا تَدۡرِيۡ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰلِكَ اَمۡرًا﴾ ’’تجھے کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی سبیل پیدا کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عظیم حکمتوں کی بنا پر طلاق کو مشروع کر کے، اس کو عدت کے ذریعے سے محدود کیا ہے۔ان حکمتوں میں سے چند درج ذیل ہیں:(۱) عدت کی حکمت میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ طلاق دینے والے کے دل میں رحمت اور مودت پیدا کر دے اور طلاق دینے والا اس سے رجوع کر لے اور نئے سرے سے اس کے ساتھ رہنا سہنا شروع کر دے۔ یہ چیز ( یعنی مطلقہ سے رجوع کرنا)عدت کی مدت کی معرفت ہی سے ممکن ہے۔(۲)ہو سکتا ہے شوہر نے بیوی کی طرف سے کسی سبب کی بنا پر اس کو طلاق دی ہو اور عدت کی مدت میں وہ سبب دور ہو جائے تو وہ اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کر لے کیونکہ طلاق کا سبب ختم ہو گیا ہے۔(۳) ان حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ عدت کی مدت کے دوران اس خاوند کے حمل سے مطلقہ کے رحم کی براء ت معلوم ہو جائے گی۔
[2]﴿ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ﴾ یعنی جب طلاق یافتہ عورتیں عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں کیونکہ اگر انھوں نے عدت پوری کر لی تو شوہر کے پاس مطلقہ کو روک رکھنے یا جدا کر دینے کا اختیار نہیں رہتا۔ ﴿ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی ضرر پہنچانے کے لیے یا برائی اور محض محبوس رکھنے کے ارادے سے نہیں بلکہ حسن معاشرت اور صحبت جمیلہ کے طور پر ان کو روک لو، کیونکہ برائی اور محبوس رکھنے کے ارادے سے مطلقہ کو روکے رکھنا جائز نہیں۔ ﴿ اَوۡ فَارِقُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی اس طرح سے جدا کرنا کہ اس میں کوئی محذور امر نہ ہو، باہم گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے بغیر اور نہ مطلقہ کے مال میں سے کچھ لینے ہی کے لیے اس پر کوئی سختی ہو۔ ﴿ وَّاَشۡهِدُوۡا﴾ اور اس کی طلاق اور رجوع پر گواہ بنا لو ﴿ ذَوَيۡ عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اپنے (مسلمانوں) میں سے دو عادل مردوں کو، کیونکہ مذکورہ گواہی میں مخاصمت کا اور ان دونوں کی طرف سے ایسے امور کے کتمان کا سدباب ہے جن کو بیان کرنا لازم ہے ﴿ وَاَقِيۡمُوا﴾ اے گواہو! ٹھیک ٹھیک ادا کرو۔ ﴿ الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ﴾’’گواہی اللہ کے لیے۔‘‘ یعنی کسی کمی بیشی کے بغیر گواہی کو اسی طرح ادا کرو جس طرح کہ وہ حقیقت میں ہے اور گواہی دینے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو اور گواہی میں کسی رشتہ دار کی، اس کی رشتہ داری اور کسی دوست کی، اس کی محبت کی وجہ سے رعایت نہ رکھو۔﴿ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’یہ‘‘ جو تمھارے سامنے احکام اور حدود بیان کی ہیں ﴿ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ﴾ ’’ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان، صاحب ایمان پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرے اور جتنے بھی نیک اعمال ممکن ہیں ،اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجے۔ اس شخص کے برعکس جس کے دل سے ایمان کوچ کر گیا، پس اسے کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اس نے کیا برائی آگے بھیجی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ کی تعظیم نہیں کرتا کیونکہ اس کا موجب معدوم ہے۔چونکہ طلاق کبھی کبھی تنگی، کرب اور غم میں مبتلا کر دیتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اور اس شخص کے ساتھ، جو طلاق وغیرہ میں تقویٰ پر مبنی رویہ اختیار کرتا ہے، وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کے لیے کشادگی اور (رنج و غم سے) نجات کی راہ نکالے گا۔پس جو کوئی طلاق کا ارادہ کرے تو وہ شرعی طریقے سے طلاق دے اور وہ یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دے اور وہ حیض میں ہونہ ایسے طہر میں جس میں اس نے مطلقہ کے ساتھ مجامعت کی ہو، تو اس کے لیے معاملہ تنگی کا حامل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فراخی اور وسعت پیدا کرتا ہے، جب اسے طلاق پر ندامت ہوتی ہے تو نکاح کے لیے مطلقہ کی طرف رجوع کرنا ممکن ہوتا ہے۔آیت کریمہ اگرچہ طلاق اور رجوع کے سیاق میں ہے مگر اعتبار عمومِ لفظ کا ہے ،پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنے احوال میں اس کی رضا کا التزام کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اسے ثواب سے بہرہ مند کرتا ہے۔ منجملہ اس کا ثواب یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی سختی اور مشقت میں سے اس کے لیے فراخی اور نجات کا راستہ پیدا کرتا ہے، جیسا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے فراخی اور نجات کی راہ نکالتا ہے اور جو کوئی اس سے نہیں ڈرتا وہ بوجھ تلے اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا پڑا رہتا ہے جن سے گلو خلاصی اور ان کے ضرر سے نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ طلاق کے معاملے میں اس پر غور کیجیے کیونکہ جب بندہ طلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، بلکہ حرام کردہ طریقے سے طلاق دیتا ہے، مثلاً: یک بارگی تینوں طلاقیں دے دیناوغیرہ تو اسے ایسی پشیمانی ہو گی کہ جس کا تدارک کرنا اور اس سے نجات حاصل کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو گا۔
[3] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ﴾ اللہ تعالیٰ متقی شخص کے لیے ایسی جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے رزق کا آنا اس کے وہم و گمان میں ہوتا ہے نہ اسے اس کا شعور ہوتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ﴾ اور جو کوئی اپنے دین اور دنیا کے معاملات میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، یعنی کسی چیز کے حصول میں جو اس کے لیے نفع مند ہو اور کسی چیز کو دور ہٹانے میں جو اس کے لیے ضرر رساں ہو، اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس میں آسانی پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے ﴿ فَهُوَ حَسۡبُهٗ﴾ تو وہ اس معاملے میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے ، جس میں اس نے اس پر بھروسہ کیا تھا۔ جب معاملہ غنی، قوی، غالب اور نہایت رحم والی ہستی کی کفالت میں ہے تو وہ ہستی بندے کے ہر چیز سے زیادہ قریب ہے۔ مگر بسا اوقات حکمت الٰہیہ مناسب وقت تک اس کی تاخیر کا تقاضا کرتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمۡرِهٖ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کردیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کی قضا و قدر کا نافذ ہونا لازمی امر ہے، مگر ﴿قَدۡ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيۡءٍ قَدۡرًؔا﴾ اس نے ایک وقت اور ایک مقدار مقررکر رکھی ہے جس سے یہ چیز تجاوز کرتی ہے نہ کوتاہی کرتی ہے۔
الطلاق 65:2
اے نبی! جب طلاق دو تم عورتوں (بیویوں) کو تو طلاق دو تم انھیں ان کی عدت کے (آغاز) میں اور شمار کرو تم عدت کو، اور ڈرو تم اللہ ( یعنی ) اپنے رب سے، نہ نکالو تم انھیں ان کے گھروں سے اور نہ وہ (خود) نکلیں مگر یہ کہ کریں وہ کوئی بے حیائی ظاہر اور یہ حدیں ہیں اللہ کی، اور جو کوئی تجاوز کرے حدود اللہ سے تو تحقیق اس نے ظلم کیا اپنے نفس پر، (طلاق دینے والے!) نہیں جانتا تو شاید کہ اللہ پیدا کر دے بعد اس (طلاق) کے کوئی (نئی) بات(1) پس جب پہنچیں وہ اپنی عدت (ختم ہونے) کو تو تم روک رکھو انھیں معروف طریقے سے یا جدا کر دو انھیں معروف طریقے سے اور گواہ بنا لو تم دو صاحب عدل آدمی اپنے میں سے، اور قائم کرو گواہی اللہ کے لیے یہ (حکم ہے وہ کہ) نصیحت کی جاتی ہے اس کی اس شخص کو جو ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اور دن قیامت کے، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ بنا دیتا ہے اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ(2) اور رزق دیتا ہے اسے جہاں سے نہیں گمان کرتا وہ، اور جو کوئی توکل کرے گا اللہ پر تو وہ کافی ہے اسے، بلاشبہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا کام تحقیق مقرر کیا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور اہل ایمان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ﴾ ’’اے نبی! جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو۔‘‘ یعنی طلاق دینے کا ارادہ کرو۔ ﴿فَـــ﴾’’پس‘‘تم ان کو طلاق دینے کے لیے مشروع وجۂ طلاق تلاش کرو، جب طلاق کا سبب مل جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی رعایت رکھے بغیر طلاق دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ ﴿ طَلِّقُوۡهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ ’’انھیں ان عدت کے (آغاز) وقت میں طلاق دو۔‘‘ یعنی ان کو ان کی عدت کے لیے طلاق دو، وہ اس طرح کہ شوہر اپنی بیوی کو اس کے طاہر ہونے کی حالت میں، نیز اس طہر میں اس سے مجامعت کیے بغیر طلاق دے۔ پس یہی وہ طلاق ہے جس میں عدت واضح ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر اس نے اپنی بیوی کے حیض کی حالت میں طلاق دی تو وہ اس حیض کو شمار نہیں کرے گی جس کے دوران طلاق واقع ہوئی ہے تو اس سبب سے اس پر عدت کا عرصہ طویل ہو جائے گا۔اس طرح اگر اس نے ایسے طہر میں طلاق دی ہو جس میں مجامعت کی گئی ہو تو اس طرح وہ حمل سے مامون نہ ہو گی، لہٰذا واضح نہ ہو گا کہ وہ کون سی عدت شمار کرےجبکہ اللہ تعالیٰ نے عدت شمار کرنے کا حکم دیا ہے ﴿وَ اَحۡصُوا الۡعِدَّۃَ﴾یعنی اسے حیض کے ذریعے سے شمار کیا جائے۔ اگر بیوی کو حیض آتا ہے تو عدت کو حیض سے ضبط کرنا ہے اور اگر اس کو حیض نہ آتا ہو اور وہ حاملہ بھی نہ ہو تو اس کی عدت مہینوں کے ساتھ شمار کی جائے گی۔ عدت کے شمار کرنے میں اللہ تعالیٰ، طلاق دینے والے شوہر اور بعد میں نکاح کرنے والے شوہر کے حقوق کی ادائیگی ہے، نیز اس میں مطلقہ کے نان و نفقہ وغیرہ کے حق کی ادائیگی ہے۔ پس جب عدت کو ضبط میں لایا جائے گا تو اس (کے حمل یا حیض وغیرہ) کا حال واضح طور پر معلوم ہو گا اور اس عدت پر مرتب ہونے والے حقوق معلوم ہوں گے۔عدت شمار کرنے کے اس حکم کا رخ شوہر اور بیوی کی طرف ہے، اگر بیوی مکلف ہے، ورنہ اس کے سر پرست کی طرف ہے۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمۡ﴾ یعنی اپنے تمام امور میں تقویٰ اختیار کرو اور مطلقہ بیویوں کے حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿ لَا تُخۡرِجُوۡهُنَّ مِنۢۡ بُيُوۡتِهِنَّ﴾ عدت کی مدت کے دوران ان کو اپنے گھروں سے نہ نکالو بلکہ مطلقہ اس گھر میں رہے جس گھر میں شوہر نے اس کو طلاق دی ہے ﴿ وَلَا يَخۡرُجۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ خود نکلیں۔‘‘ یعنی مطلقہ بیویوں کے لیے ان گھروں سے نکلنا جائز نہیں ہے۔مطلقہ کو گھر سے نکالنے کی ممانعت کا سبب یہ ہے کہ بیوی کو گھر فراہم کرنا شوہر پر واجب ہے تاکہ وہ اس گھر میں رہ کر عدت پوری کر سکے، جو شوہر کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ اور مطلقہ بیوی کے خود گھر سے نکلنے کی ممانعت اس لیے ہے کہ اس کا گھر سے نکلنا شوہر کے حق کو ضائع کرنا اور اس کی عدم حفاظت ہے۔ طلاق یافتہ عورتوں کا خود گھر سے نکلنے یا ان کو نکالے جانے کا حکم عدت کو پورا ہونے تک باقی رہے گا۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ﴾ ’’مگر یہ کہ وہ صریح بے حیائی کریں۔‘‘ یعنی ان سے کوئی واضح طور پر قبیح فعل سرزد ہو جو ان کو گھر سے نکالنے کا موجب ہو اور مطلقہ کو گھر سے نہ نکالنے سے گھر والوں کو ضرر پہنچتا ہو، مثلاً: فحش اقوال و افعال کے ذریعے سے اذیت وغیرہ۔ اس صورت حال میں مطلقہ کو گھر سے نکال دینا، گھر والوں کے لیے جائز ہے، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو گھر سے نکالنے کا سبب بنی ہے، حالانکہ گھر میں سکونت کی اجازت دینا مطلقہ کی دل جوئی اور اس کے ساتھ نرمی ہے اور اپنے آپ پر اس ضرر کا سبب وہ خود بنی ہے۔ یہ حکم اس مطلقہ کے لیے ہے جو رجعی طلاق کی عدت گزار رہی ہو۔ رہی وہ مطلقہ جس کی طلاق بائنہ ہو، اس کو سکونت فراہم کرنا واجب نہیں کیونکہ سکونت نان و نفقہ کے تابع ہے اور نان و نفقہ صرف اس مطلقہ کے لیے ہے جسے رجعی طلاق دی گئی ہو اور جس کو طلاق بائنہ دی گئی ہو، اس کے لیے نان و نفقہ نہیں ہے۔ ﴿ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’یہ اللہ کی حدیں ہیں۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر کے مشروع کیا ہے اور ان حدود کا التزام کرنے اور ان پر ٹھہرنے کا ان کو حکم دیا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے۔‘‘ وہ اس طرح کہ وہ ان مقرر کردہ حدود پر نہ ٹھہرے بلکہ ان حدود سے تجاوز یا کوتاہی کرے ﴿ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ﴾ ’’تو یقیناً اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا حق کم کیا اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی اتباع میں سے، جن میں دنیا و آخرت کی اصلاح ہے، اپنے حصے کو ضائع کیا۔ ﴿ لَا تَدۡرِيۡ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰلِكَ اَمۡرًا﴾ ’’تجھے کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی سبیل پیدا کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عظیم حکمتوں کی بنا پر طلاق کو مشروع کر کے، اس کو عدت کے ذریعے سے محدود کیا ہے۔ان حکمتوں میں سے چند درج ذیل ہیں:(۱) عدت کی حکمت میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ طلاق دینے والے کے دل میں رحمت اور مودت پیدا کر دے اور طلاق دینے والا اس سے رجوع کر لے اور نئے سرے سے اس کے ساتھ رہنا سہنا شروع کر دے۔ یہ چیز ( یعنی مطلقہ سے رجوع کرنا)عدت کی مدت کی معرفت ہی سے ممکن ہے۔(۲)ہو سکتا ہے شوہر نے بیوی کی طرف سے کسی سبب کی بنا پر اس کو طلاق دی ہو اور عدت کی مدت میں وہ سبب دور ہو جائے تو وہ اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کر لے کیونکہ طلاق کا سبب ختم ہو گیا ہے۔(۳) ان حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ عدت کی مدت کے دوران اس خاوند کے حمل سے مطلقہ کے رحم کی براء ت معلوم ہو جائے گی۔
[2]﴿ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ﴾ یعنی جب طلاق یافتہ عورتیں عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں کیونکہ اگر انھوں نے عدت پوری کر لی تو شوہر کے پاس مطلقہ کو روک رکھنے یا جدا کر دینے کا اختیار نہیں رہتا۔ ﴿ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی ضرر پہنچانے کے لیے یا برائی اور محض محبوس رکھنے کے ارادے سے نہیں بلکہ حسن معاشرت اور صحبت جمیلہ کے طور پر ان کو روک لو، کیونکہ برائی اور محبوس رکھنے کے ارادے سے مطلقہ کو روکے رکھنا جائز نہیں۔ ﴿ اَوۡ فَارِقُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی اس طرح سے جدا کرنا کہ اس میں کوئی محذور امر نہ ہو، باہم گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے بغیر اور نہ مطلقہ کے مال میں سے کچھ لینے ہی کے لیے اس پر کوئی سختی ہو۔ ﴿ وَّاَشۡهِدُوۡا﴾ اور اس کی طلاق اور رجوع پر گواہ بنا لو ﴿ ذَوَيۡ عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اپنے (مسلمانوں) میں سے دو عادل مردوں کو، کیونکہ مذکورہ گواہی میں مخاصمت کا اور ان دونوں کی طرف سے ایسے امور کے کتمان کا سدباب ہے جن کو بیان کرنا لازم ہے ﴿ وَاَقِيۡمُوا﴾ اے گواہو! ٹھیک ٹھیک ادا کرو۔ ﴿ الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ﴾’’گواہی اللہ کے لیے۔‘‘ یعنی کسی کمی بیشی کے بغیر گواہی کو اسی طرح ادا کرو جس طرح کہ وہ حقیقت میں ہے اور گواہی دینے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو اور گواہی میں کسی رشتہ دار کی، اس کی رشتہ داری اور کسی دوست کی، اس کی محبت کی وجہ سے رعایت نہ رکھو۔﴿ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’یہ‘‘ جو تمھارے سامنے احکام اور حدود بیان کی ہیں ﴿ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ﴾ ’’ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان، صاحب ایمان پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرے اور جتنے بھی نیک اعمال ممکن ہیں ،اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجے۔ اس شخص کے برعکس جس کے دل سے ایمان کوچ کر گیا، پس اسے کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اس نے کیا برائی آگے بھیجی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ کی تعظیم نہیں کرتا کیونکہ اس کا موجب معدوم ہے۔چونکہ طلاق کبھی کبھی تنگی، کرب اور غم میں مبتلا کر دیتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اور اس شخص کے ساتھ، جو طلاق وغیرہ میں تقویٰ پر مبنی رویہ اختیار کرتا ہے، وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کے لیے کشادگی اور (رنج و غم سے) نجات کی راہ نکالے گا۔پس جو کوئی طلاق کا ارادہ کرے تو وہ شرعی طریقے سے طلاق دے اور وہ یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دے اور وہ حیض میں ہونہ ایسے طہر میں جس میں اس نے مطلقہ کے ساتھ مجامعت کی ہو، تو اس کے لیے معاملہ تنگی کا حامل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فراخی اور وسعت پیدا کرتا ہے، جب اسے طلاق پر ندامت ہوتی ہے تو نکاح کے لیے مطلقہ کی طرف رجوع کرنا ممکن ہوتا ہے۔آیت کریمہ اگرچہ طلاق اور رجوع کے سیاق میں ہے مگر اعتبار عمومِ لفظ کا ہے ،پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنے احوال میں اس کی رضا کا التزام کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اسے ثواب سے بہرہ مند کرتا ہے۔ منجملہ اس کا ثواب یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی سختی اور مشقت میں سے اس کے لیے فراخی اور نجات کا راستہ پیدا کرتا ہے، جیسا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے فراخی اور نجات کی راہ نکالتا ہے اور جو کوئی اس سے نہیں ڈرتا وہ بوجھ تلے اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا پڑا رہتا ہے جن سے گلو خلاصی اور ان کے ضرر سے نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ طلاق کے معاملے میں اس پر غور کیجیے کیونکہ جب بندہ طلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، بلکہ حرام کردہ طریقے سے طلاق دیتا ہے، مثلاً: یک بارگی تینوں طلاقیں دے دیناوغیرہ تو اسے ایسی پشیمانی ہو گی کہ جس کا تدارک کرنا اور اس سے نجات حاصل کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو گا۔
[3] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ﴾ اللہ تعالیٰ متقی شخص کے لیے ایسی جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے رزق کا آنا اس کے وہم و گمان میں ہوتا ہے نہ اسے اس کا شعور ہوتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ﴾ اور جو کوئی اپنے دین اور دنیا کے معاملات میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، یعنی کسی چیز کے حصول میں جو اس کے لیے نفع مند ہو اور کسی چیز کو دور ہٹانے میں جو اس کے لیے ضرر رساں ہو، اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس میں آسانی پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے ﴿ فَهُوَ حَسۡبُهٗ﴾ تو وہ اس معاملے میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے ، جس میں اس نے اس پر بھروسہ کیا تھا۔ جب معاملہ غنی، قوی، غالب اور نہایت رحم والی ہستی کی کفالت میں ہے تو وہ ہستی بندے کے ہر چیز سے زیادہ قریب ہے۔ مگر بسا اوقات حکمت الٰہیہ مناسب وقت تک اس کی تاخیر کا تقاضا کرتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمۡرِهٖ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کردیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کی قضا و قدر کا نافذ ہونا لازمی امر ہے، مگر ﴿قَدۡ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيۡءٍ قَدۡرًؔا﴾ اس نے ایک وقت اور ایک مقدار مقررکر رکھی ہے جس سے یہ چیز تجاوز کرتی ہے نہ کوتاہی کرتی ہے۔
الطلاق 65:3
اے نبی! جب طلاق دو تم عورتوں (بیویوں) کو تو طلاق دو تم انھیں ان کی عدت کے (آغاز) میں اور شمار کرو تم عدت کو، اور ڈرو تم اللہ ( یعنی ) اپنے رب سے، نہ نکالو تم انھیں ان کے گھروں سے اور نہ وہ (خود) نکلیں مگر یہ کہ کریں وہ کوئی بے حیائی ظاہر اور یہ حدیں ہیں اللہ کی، اور جو کوئی تجاوز کرے حدود اللہ سے تو تحقیق اس نے ظلم کیا اپنے نفس پر، (طلاق دینے والے!) نہیں جانتا تو شاید کہ اللہ پیدا کر دے بعد اس (طلاق) کے کوئی (نئی) بات(1) پس جب پہنچیں وہ اپنی عدت (ختم ہونے) کو تو تم روک رکھو انھیں معروف طریقے سے یا جدا کر دو انھیں معروف طریقے سے اور گواہ بنا لو تم دو صاحب عدل آدمی اپنے میں سے، اور قائم کرو گواہی اللہ کے لیے یہ (حکم ہے وہ کہ) نصیحت کی جاتی ہے اس کی اس شخص کو جو ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اور دن قیامت کے، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ بنا دیتا ہے اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ(2) اور رزق دیتا ہے اسے جہاں سے نہیں گمان کرتا وہ، اور جو کوئی توکل کرے گا اللہ پر تو وہ کافی ہے اسے، بلاشبہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا کام تحقیق مقرر کیا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور اہل ایمان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ﴾ ’’اے نبی! جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو۔‘‘ یعنی طلاق دینے کا ارادہ کرو۔ ﴿فَـــ﴾’’پس‘‘تم ان کو طلاق دینے کے لیے مشروع وجۂ طلاق تلاش کرو، جب طلاق کا سبب مل جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی رعایت رکھے بغیر طلاق دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ ﴿ طَلِّقُوۡهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ ’’انھیں ان عدت کے (آغاز) وقت میں طلاق دو۔‘‘ یعنی ان کو ان کی عدت کے لیے طلاق دو، وہ اس طرح کہ شوہر اپنی بیوی کو اس کے طاہر ہونے کی حالت میں، نیز اس طہر میں اس سے مجامعت کیے بغیر طلاق دے۔ پس یہی وہ طلاق ہے جس میں عدت واضح ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر اس نے اپنی بیوی کے حیض کی حالت میں طلاق دی تو وہ اس حیض کو شمار نہیں کرے گی جس کے دوران طلاق واقع ہوئی ہے تو اس سبب سے اس پر عدت کا عرصہ طویل ہو جائے گا۔اس طرح اگر اس نے ایسے طہر میں طلاق دی ہو جس میں مجامعت کی گئی ہو تو اس طرح وہ حمل سے مامون نہ ہو گی، لہٰذا واضح نہ ہو گا کہ وہ کون سی عدت شمار کرےجبکہ اللہ تعالیٰ نے عدت شمار کرنے کا حکم دیا ہے ﴿وَ اَحۡصُوا الۡعِدَّۃَ﴾یعنی اسے حیض کے ذریعے سے شمار کیا جائے۔ اگر بیوی کو حیض آتا ہے تو عدت کو حیض سے ضبط کرنا ہے اور اگر اس کو حیض نہ آتا ہو اور وہ حاملہ بھی نہ ہو تو اس کی عدت مہینوں کے ساتھ شمار کی جائے گی۔ عدت کے شمار کرنے میں اللہ تعالیٰ، طلاق دینے والے شوہر اور بعد میں نکاح کرنے والے شوہر کے حقوق کی ادائیگی ہے، نیز اس میں مطلقہ کے نان و نفقہ وغیرہ کے حق کی ادائیگی ہے۔ پس جب عدت کو ضبط میں لایا جائے گا تو اس (کے حمل یا حیض وغیرہ) کا حال واضح طور پر معلوم ہو گا اور اس عدت پر مرتب ہونے والے حقوق معلوم ہوں گے۔عدت شمار کرنے کے اس حکم کا رخ شوہر اور بیوی کی طرف ہے، اگر بیوی مکلف ہے، ورنہ اس کے سر پرست کی طرف ہے۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمۡ﴾ یعنی اپنے تمام امور میں تقویٰ اختیار کرو اور مطلقہ بیویوں کے حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿ لَا تُخۡرِجُوۡهُنَّ مِنۢۡ بُيُوۡتِهِنَّ﴾ عدت کی مدت کے دوران ان کو اپنے گھروں سے نہ نکالو بلکہ مطلقہ اس گھر میں رہے جس گھر میں شوہر نے اس کو طلاق دی ہے ﴿ وَلَا يَخۡرُجۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ خود نکلیں۔‘‘ یعنی مطلقہ بیویوں کے لیے ان گھروں سے نکلنا جائز نہیں ہے۔مطلقہ کو گھر سے نکالنے کی ممانعت کا سبب یہ ہے کہ بیوی کو گھر فراہم کرنا شوہر پر واجب ہے تاکہ وہ اس گھر میں رہ کر عدت پوری کر سکے، جو شوہر کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ اور مطلقہ بیوی کے خود گھر سے نکلنے کی ممانعت اس لیے ہے کہ اس کا گھر سے نکلنا شوہر کے حق کو ضائع کرنا اور اس کی عدم حفاظت ہے۔ طلاق یافتہ عورتوں کا خود گھر سے نکلنے یا ان کو نکالے جانے کا حکم عدت کو پورا ہونے تک باقی رہے گا۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ﴾ ’’مگر یہ کہ وہ صریح بے حیائی کریں۔‘‘ یعنی ان سے کوئی واضح طور پر قبیح فعل سرزد ہو جو ان کو گھر سے نکالنے کا موجب ہو اور مطلقہ کو گھر سے نہ نکالنے سے گھر والوں کو ضرر پہنچتا ہو، مثلاً: فحش اقوال و افعال کے ذریعے سے اذیت وغیرہ۔ اس صورت حال میں مطلقہ کو گھر سے نکال دینا، گھر والوں کے لیے جائز ہے، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو گھر سے نکالنے کا سبب بنی ہے، حالانکہ گھر میں سکونت کی اجازت دینا مطلقہ کی دل جوئی اور اس کے ساتھ نرمی ہے اور اپنے آپ پر اس ضرر کا سبب وہ خود بنی ہے۔ یہ حکم اس مطلقہ کے لیے ہے جو رجعی طلاق کی عدت گزار رہی ہو۔ رہی وہ مطلقہ جس کی طلاق بائنہ ہو، اس کو سکونت فراہم کرنا واجب نہیں کیونکہ سکونت نان و نفقہ کے تابع ہے اور نان و نفقہ صرف اس مطلقہ کے لیے ہے جسے رجعی طلاق دی گئی ہو اور جس کو طلاق بائنہ دی گئی ہو، اس کے لیے نان و نفقہ نہیں ہے۔ ﴿ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’یہ اللہ کی حدیں ہیں۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر کے مشروع کیا ہے اور ان حدود کا التزام کرنے اور ان پر ٹھہرنے کا ان کو حکم دیا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے۔‘‘ وہ اس طرح کہ وہ ان مقرر کردہ حدود پر نہ ٹھہرے بلکہ ان حدود سے تجاوز یا کوتاہی کرے ﴿ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ﴾ ’’تو یقیناً اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا حق کم کیا اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی اتباع میں سے، جن میں دنیا و آخرت کی اصلاح ہے، اپنے حصے کو ضائع کیا۔ ﴿ لَا تَدۡرِيۡ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰلِكَ اَمۡرًا﴾ ’’تجھے کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی سبیل پیدا کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عظیم حکمتوں کی بنا پر طلاق کو مشروع کر کے، اس کو عدت کے ذریعے سے محدود کیا ہے۔ان حکمتوں میں سے چند درج ذیل ہیں:(۱) عدت کی حکمت میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ طلاق دینے والے کے دل میں رحمت اور مودت پیدا کر دے اور طلاق دینے والا اس سے رجوع کر لے اور نئے سرے سے اس کے ساتھ رہنا سہنا شروع کر دے۔ یہ چیز ( یعنی مطلقہ سے رجوع کرنا)عدت کی مدت کی معرفت ہی سے ممکن ہے۔(۲)ہو سکتا ہے شوہر نے بیوی کی طرف سے کسی سبب کی بنا پر اس کو طلاق دی ہو اور عدت کی مدت میں وہ سبب دور ہو جائے تو وہ اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کر لے کیونکہ طلاق کا سبب ختم ہو گیا ہے۔(۳) ان حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ عدت کی مدت کے دوران اس خاوند کے حمل سے مطلقہ کے رحم کی براء ت معلوم ہو جائے گی۔
[2]﴿ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ﴾ یعنی جب طلاق یافتہ عورتیں عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں کیونکہ اگر انھوں نے عدت پوری کر لی تو شوہر کے پاس مطلقہ کو روک رکھنے یا جدا کر دینے کا اختیار نہیں رہتا۔ ﴿ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی ضرر پہنچانے کے لیے یا برائی اور محض محبوس رکھنے کے ارادے سے نہیں بلکہ حسن معاشرت اور صحبت جمیلہ کے طور پر ان کو روک لو، کیونکہ برائی اور محبوس رکھنے کے ارادے سے مطلقہ کو روکے رکھنا جائز نہیں۔ ﴿ اَوۡ فَارِقُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی اس طرح سے جدا کرنا کہ اس میں کوئی محذور امر نہ ہو، باہم گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے بغیر اور نہ مطلقہ کے مال میں سے کچھ لینے ہی کے لیے اس پر کوئی سختی ہو۔ ﴿ وَّاَشۡهِدُوۡا﴾ اور اس کی طلاق اور رجوع پر گواہ بنا لو ﴿ ذَوَيۡ عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اپنے (مسلمانوں) میں سے دو عادل مردوں کو، کیونکہ مذکورہ گواہی میں مخاصمت کا اور ان دونوں کی طرف سے ایسے امور کے کتمان کا سدباب ہے جن کو بیان کرنا لازم ہے ﴿ وَاَقِيۡمُوا﴾ اے گواہو! ٹھیک ٹھیک ادا کرو۔ ﴿ الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ﴾’’گواہی اللہ کے لیے۔‘‘ یعنی کسی کمی بیشی کے بغیر گواہی کو اسی طرح ادا کرو جس طرح کہ وہ حقیقت میں ہے اور گواہی دینے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو اور گواہی میں کسی رشتہ دار کی، اس کی رشتہ داری اور کسی دوست کی، اس کی محبت کی وجہ سے رعایت نہ رکھو۔﴿ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’یہ‘‘ جو تمھارے سامنے احکام اور حدود بیان کی ہیں ﴿ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ﴾ ’’ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان، صاحب ایمان پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرے اور جتنے بھی نیک اعمال ممکن ہیں ،اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجے۔ اس شخص کے برعکس جس کے دل سے ایمان کوچ کر گیا، پس اسے کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اس نے کیا برائی آگے بھیجی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ کی تعظیم نہیں کرتا کیونکہ اس کا موجب معدوم ہے۔چونکہ طلاق کبھی کبھی تنگی، کرب اور غم میں مبتلا کر دیتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اور اس شخص کے ساتھ، جو طلاق وغیرہ میں تقویٰ پر مبنی رویہ اختیار کرتا ہے، وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کے لیے کشادگی اور (رنج و غم سے) نجات کی راہ نکالے گا۔پس جو کوئی طلاق کا ارادہ کرے تو وہ شرعی طریقے سے طلاق دے اور وہ یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دے اور وہ حیض میں ہونہ ایسے طہر میں جس میں اس نے مطلقہ کے ساتھ مجامعت کی ہو، تو اس کے لیے معاملہ تنگی کا حامل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فراخی اور وسعت پیدا کرتا ہے، جب اسے طلاق پر ندامت ہوتی ہے تو نکاح کے لیے مطلقہ کی طرف رجوع کرنا ممکن ہوتا ہے۔آیت کریمہ اگرچہ طلاق اور رجوع کے سیاق میں ہے مگر اعتبار عمومِ لفظ کا ہے ،پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنے احوال میں اس کی رضا کا التزام کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اسے ثواب سے بہرہ مند کرتا ہے۔ منجملہ اس کا ثواب یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی سختی اور مشقت میں سے اس کے لیے فراخی اور نجات کا راستہ پیدا کرتا ہے، جیسا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے فراخی اور نجات کی راہ نکالتا ہے اور جو کوئی اس سے نہیں ڈرتا وہ بوجھ تلے اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا پڑا رہتا ہے جن سے گلو خلاصی اور ان کے ضرر سے نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ طلاق کے معاملے میں اس پر غور کیجیے کیونکہ جب بندہ طلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، بلکہ حرام کردہ طریقے سے طلاق دیتا ہے، مثلاً: یک بارگی تینوں طلاقیں دے دیناوغیرہ تو اسے ایسی پشیمانی ہو گی کہ جس کا تدارک کرنا اور اس سے نجات حاصل کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو گا۔
[3] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ﴾ اللہ تعالیٰ متقی شخص کے لیے ایسی جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے رزق کا آنا اس کے وہم و گمان میں ہوتا ہے نہ اسے اس کا شعور ہوتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ﴾ اور جو کوئی اپنے دین اور دنیا کے معاملات میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، یعنی کسی چیز کے حصول میں جو اس کے لیے نفع مند ہو اور کسی چیز کو دور ہٹانے میں جو اس کے لیے ضرر رساں ہو، اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس میں آسانی پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے ﴿ فَهُوَ حَسۡبُهٗ﴾ تو وہ اس معاملے میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے ، جس میں اس نے اس پر بھروسہ کیا تھا۔ جب معاملہ غنی، قوی، غالب اور نہایت رحم والی ہستی کی کفالت میں ہے تو وہ ہستی بندے کے ہر چیز سے زیادہ قریب ہے۔ مگر بسا اوقات حکمت الٰہیہ مناسب وقت تک اس کی تاخیر کا تقاضا کرتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمۡرِهٖ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کردیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کی قضا و قدر کا نافذ ہونا لازمی امر ہے، مگر ﴿قَدۡ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيۡءٍ قَدۡرًؔا﴾ اس نے ایک وقت اور ایک مقدار مقررکر رکھی ہے جس سے یہ چیز تجاوز کرتی ہے نہ کوتاہی کرتی ہے۔
الطلاق 65:4
اور وہ عورتیں جو مایوس ہو گئیں حیض سے تمھاری (مطلقہ) عورتوں میں سے، اگر شک میں پڑو تم تو ان کی عدت ہے تین مہینے، اور (اسی طرح) ان کی بھی جنھیں حیض نہیں آیا (ابھی) اور (جو) حمل والیاں ہیں ان کی عدت وضع حمل (بچہ جننا) ہے اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ بنا دیتا ہے اس کے لیے اس کے کام میں آسانی(4) یہ حکم ہے اللہ کا، اس نے نازل کیا ہے اسے تمھاری طرف، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ دور کر دیتا ہے اس سے اس کی برائیاں اور زیادہ دیتا ہے اس کو اجر(5)
[4] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ مامور بہ طلاق، عورتوں کی عدت کے لیے ہے، اس لیے عدت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ الّٰٓـِٔيۡ يَىِٕسۡنَ مِنَ الۡمَحِيۡضِ مِنۡ نِّسَآىِٕكُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ﴾ وہ عورتیں جن کو حیض آتا تھا ، پھر بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے حیض آنا بند ہو گیا اور دوبارہ حیض آنے کی امید نہ رہی تو ان کی عدت ﴿ ثَلٰثَةُ اَشۡهُرٍ﴾ ’’تین مہینے ہے‘‘ ہر حیض کے مقابلے میں ایک مہینہ مقرر کیا ہے۔ ﴿ وَّ الّٰٓـِٔيۡ لَمۡ يَحِضۡنَ﴾ یعنی چھوٹی لڑکیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا یا وہ بالغ عورتیں جن کو بالکل حیض نہیں آیا، ان عورتوں کی مانند ہیں جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہیں، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ رہی وہ عورتیں جن کو حیض آتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عدت اپنے اس ارشا د میں بیان فرمائی ہے:﴿ وَالۡمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوۡٓءٍ﴾(البقرہ:2؍228)’’اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔‘‘﴿ وَاُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُهُنَّ﴾ ’’اور حمل والی عورتوں کی مقررہ مدت‘‘ یعنی ان کی عدت ﴿ اَنۡ يَّضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ﴾ ’’وضع حمل تک ہے۔‘‘ یعنی ان کے بطن میں جو ایک یا متعدد بچے ہیں، ان کو وہ جنم دے دیں، اس صورت میں مہینوں وغیرہ کا اعتبار نہ ہو گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مِنۡ اَمۡرِهٖ يُسۡرًا﴾ یعنی جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے تمام امور کو آسان اور ہر مشکل کو سہل کر دیتا ہے۔
[5]﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ حکم جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے ﴿ اَمۡرُ اللّٰهِ اَنۡزَلَهٗۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمھاری طرف نازل کیا ہے۔‘‘ تاکہ تم اس پر چلو، اسے اپنا راہ نما بناؤ اور اس کی تعظیم کرو ﴿وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَـفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّاٰتِهٖ وَيُعۡظِمۡ لَهٗۤ اَجۡرًا﴾ ’’اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اسے اجر عظیم عطا کرے گا۔‘‘ یعنی محذور اس سے دور اور مطلوب اس کو حاصل ہو گا۔
الطلاق 65:5
اور وہ عورتیں جو مایوس ہو گئیں حیض سے تمھاری (مطلقہ) عورتوں میں سے، اگر شک میں پڑو تم تو ان کی عدت ہے تین مہینے، اور (اسی طرح) ان کی بھی جنھیں حیض نہیں آیا (ابھی) اور (جو) حمل والیاں ہیں ان کی عدت وضع حمل (بچہ جننا) ہے اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ بنا دیتا ہے اس کے لیے اس کے کام میں آسانی(4) یہ حکم ہے اللہ کا، اس نے نازل کیا ہے اسے تمھاری طرف، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ دور کر دیتا ہے اس سے اس کی برائیاں اور زیادہ دیتا ہے اس کو اجر(5)
[4] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ مامور بہ طلاق، عورتوں کی عدت کے لیے ہے، اس لیے عدت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ الّٰٓـِٔيۡ يَىِٕسۡنَ مِنَ الۡمَحِيۡضِ مِنۡ نِّسَآىِٕكُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ﴾ وہ عورتیں جن کو حیض آتا تھا ، پھر بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے حیض آنا بند ہو گیا اور دوبارہ حیض آنے کی امید نہ رہی تو ان کی عدت ﴿ ثَلٰثَةُ اَشۡهُرٍ﴾ ’’تین مہینے ہے‘‘ ہر حیض کے مقابلے میں ایک مہینہ مقرر کیا ہے۔ ﴿ وَّ الّٰٓـِٔيۡ لَمۡ يَحِضۡنَ﴾ یعنی چھوٹی لڑکیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا یا وہ بالغ عورتیں جن کو بالکل حیض نہیں آیا، ان عورتوں کی مانند ہیں جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہیں، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ رہی وہ عورتیں جن کو حیض آتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عدت اپنے اس ارشا د میں بیان فرمائی ہے:﴿ وَالۡمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوۡٓءٍ﴾(البقرہ:2؍228)’’اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔‘‘﴿ وَاُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُهُنَّ﴾ ’’اور حمل والی عورتوں کی مقررہ مدت‘‘ یعنی ان کی عدت ﴿ اَنۡ يَّضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ﴾ ’’وضع حمل تک ہے۔‘‘ یعنی ان کے بطن میں جو ایک یا متعدد بچے ہیں، ان کو وہ جنم دے دیں، اس صورت میں مہینوں وغیرہ کا اعتبار نہ ہو گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مِنۡ اَمۡرِهٖ يُسۡرًا﴾ یعنی جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے تمام امور کو آسان اور ہر مشکل کو سہل کر دیتا ہے۔
[5]﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ حکم جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے ﴿ اَمۡرُ اللّٰهِ اَنۡزَلَهٗۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمھاری طرف نازل کیا ہے۔‘‘ تاکہ تم اس پر چلو، اسے اپنا راہ نما بناؤ اور اس کی تعظیم کرو ﴿وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَـفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّاٰتِهٖ وَيُعۡظِمۡ لَهٗۤ اَجۡرًا﴾ ’’اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اسے اجر عظیم عطا کرے گا۔‘‘ یعنی محذور اس سے دور اور مطلوب اس کو حاصل ہو گا۔
الطلاق 65:6
تم رکھو انھیں جہاں تم (خود) رہتے ہو اپنی طاقت کے مطابق اور نہ تکلیف دو تم انھیں تاکہ تنگی کرو تم ان پر اور اگر ہوں وہ (مطلقات) حمل والیاں تو تم خرچ کرو ان پر یہاں تک کہ جن لیں وہ اپنا حمل ، پھر اگر وہ (بچے کو) دودھ پلائیں تمھارے لیے تو دو تم انھیں ان کی اجرت اور مشورہ کرو تم آپس میں دستور کے مطابق اور اگر تم آپس میں تنگی کرو تو دودھ پلائے گی اسے کوئی دوسری عورت(6) چاہیے کہ خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق اور جو شخص کہ تنگ کیا گیا ہو اس پر رزق اس کا تو چاہیے کہ وہ خرچ کرے اس میں سے جو دیا ہے اس کو اللہ نے، نہیں تکلیف دیتا اللہ کسی نفس کو بھی مگر (اسی قدر) جو اس نے دیا ہے اس (نفس) کو عنقریب کر دے گا اللہ بعد تنگی کے آسانی(7)
[6] پیچھے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتیوں کو گھروں سے نکالنے سے روکا ہے اور اس نے طلاق یافتہ عورتوں کو سکونت مہیا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو معروف طریقے سے سکونت مہیا کرنا مقرر فرمایا اور اس سے مراد ایسا گھر ہے جس میں شوہر کی تونگری یا عسرت کے مطابق ان کے ہم مرتبہ لوگ رہتے ہیں۔ ﴿ وَلَا تُضَآرُّوۡهُنَّ۠ لِتُضَيِّقُوۡا عَلَيۡهِنَّ﴾ یعنی ان کی سکونت کے دوران ان کو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے، اس غرض سے تکلیف نہ پہنچاؤ کہ وہ عدت پوری ہونے سے پہلے تنگ آ کر گھروں سے نکل جائیں، اس صورت میں تم ان کو اپنے گھروں سے نکالنے والے شمار ہو گے۔آیت کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مطلقات کو گھروں سے نکالنے سے روکا ہے اور مطلقات کو بھی گھروں سے نکلنے سے منع کیا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح سکونت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے کہ مطلقات کو کوئی ضرر اور مشقت لاحق نہ ہو اور یہ عرف عام کی طرف راجع ہے۔ ﴿ وَاِنۡ كُنَّ﴾ ’’اور اگر ہوں وہ۔‘‘ یعنی مطلقات ﴿ اُولَاتِ حَمۡلٍ فَاَنۡفِقُوۡا عَلَيۡهِنَّ حَتّٰى يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ﴾ ’’حمل والیاں تو وضع حمل تک ان پر خرچ کرو۔‘‘ اگر طلاق بائنہ ہے تو یہ نان و نفقہ اس حمل کی وجہ سے ہے جو اس کے پیٹ میں ہے اور اگر طلاق رجعی ہے تو یہ نفقہ خود اس کے لیے اور اس کے حمل کے لیے ہے۔ نان و نفقہ کی انتہا وضع حمل تک ہے۔ جب وضع حمل ہو جائے تو وہ اپنے بچوں کو دودھ پلائیں گی یا نہیں پلائیں گی ؟ ﴿ فَاِنۡ اَرۡضَعۡنَ لَكُمۡ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ﴾ ’’پس اگر وہ بچے کو تمھارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔‘‘ یعنی طے شدہ اجرت اگر طے کی گئی ہو ورنہ وہ اجرت ادا کی جائے جو اس کے ہم مرتبہ لوگ ادا کرتے ہیں ﴿ وَاۡتَمِرُوۡا بَيۡنَكُمۡ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾یعنی میاں بیوی اور دیگر لوگ ایک دوسرے کو معروف کا حکم دیں اور معروف سے مراد ہر وہ کام ہے جس میں دنیا و آخرت کی کوئی منفعت اور مصلحت ہو کیونکہ باہم ایک دوسرے کو معروف کی تلقین کرنے میں غفلت برتنے سے ضرر اور شر کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ نیز باہم معروف کا حکم دینے میں نیکی اور تقویٰ پر تعاون ہے۔اس مقام پر اس بات کا تذکرہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہےکہ اتمام عدت پر، مفارقت کے وقت شوہر اور بیوی کے درمیان، خاص طور پر جب ان دونوں کا مشترکہ بچہ ہو، غالب حالات میں بیوی اور بچے کے نفقہ کے بارے میں جدائی کے ساتھ ساتھ تنازع اور جھگڑا واقع ہو جاتا ہے، جدائی عموماً بغض اور کینہ سے مقرون ہوتی ہے، جس سے بہت سی چیزیں متاثر ہوتی ہیں، لہٰذا دونوں میں سے ہر ایک کو نیکی، حسن معاشرت، عدم مشقت اور عدم منازعت کا حکم دیا جائے اور ان امور میں خیر خواہی کی جائے۔﴿ وَاِنۡ تَعَاسَرۡتُمۡ﴾ ’’اور اگر تم باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو۔‘‘ یعنی اگر دونوں میاں بیوی اس امر پر متفق نہ ہوں کہ (مطلقہ) بیوی اپنے بچے کو دودھ پلائے ﴿ فَسَتُرۡضِعُ لَهٗۤ اُخۡرٰى﴾ تو اس مطلقہ بیوی کے علاوہ کوئی دوسری عورت بچے کو دودھ پلائے ۔فرمایا: ﴿ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِذَا سَلَّمۡتُمۡ مَّاۤ اٰتَيۡتُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ﴾(البقرہ:2؍233) ’’اگر تمھارا ارادہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، جب تم وہ اجرت معروف طریقے سے ادا کر دو جو تم نے طے کی تھی۔‘‘ یہ اس صورت میں ہے جب بچہ اپنی ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت کا دودھ قبول کرتا ہو۔ اگر بچہ اپنی ماں کے سوا کسی عورت کا دودھ قبول نہ کرتا ہو، تو اس کی ماں رضاعت کے لیے متعین ہو گی اور ماں پر رضاعت واجب ہو گئی اور اگر وہ دودھ پلانے سے انکار کرے تو اس کو دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا، اور اگر دونوں میں اجرت پر اتفاق نہ ہو سکے تو اس کے لیے ہم مرتبہ دودھ پلانے والی کی اجرت ہے۔یہ حکم اس آیت کریمہ کے معنیٰ سے ماخوذ ہے کیونکہ بچہ جب حمل کی مدت کے دوران اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور وہ تو باہر نہیں آ سکتا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بچے کے ولی پر نفقہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ اور جب بچہ متولد ہوتا ہے اور وہ خوراک اپنی ماں سے یا ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت سے حاصل کر سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دونوں صورتیں مباح کر دی ہیں۔ چنانچہ بچہ اگرچہ ایسی حالت میں ہو کہ وہ اپنی ماں کے سوا کہیں سے خوراک نہ لیتا ہوں تو وہ بمنزلہ حمل کے ہے اور اس کی خوراک کے لیے اس کی ماں کو مقرر کیا جائے گا۔
[7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شوہر کی حیثیت کے مطابق نفقہ مقرر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ لِيُنۡفِقۡ ذُوۡ سَعَةٍ مِّنۡ سَعَتِهٖ﴾ ’’وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔‘‘یعنی دولت مند اپنی دولت کے مطابق خرچ کرے اور اس طرح خرچ نہ کرے جس طرح فقراء خرچ کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ قُدِرَ عَلَيۡهِ رِزۡقُهٗ﴾ ’’اور جسے اس کا رزق نپا تلا ملے۔‘‘ یعنی جو تنگ دستی کا شکار ہو ﴿ فَلۡيُنۡفِقۡ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ﴾ ’’تو وہ اسی (رزق) میں خرچ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے۔‘‘ ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا﴾ ’’اللہ کسی پر اتنی ہی ذمے داری ڈالتا ہے جتنا اس نے اسے دیا۔‘‘ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت سے مناسبت رکھتی ہے کہ اس نے ہر ایک کو اس کے حسب حال مکلف کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو صرف اتنا ہی مکلف کرتا ہے جتنا اس کو رزق عطا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کسی جان کو نفقہ وغیرہ کے ضمن میں اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ ﴿ سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾ یہ تنگ دست لوگوں کے لیے بشارت ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان پر سختی کو دور کر دے گا اور مشقت کو اٹھالے گا۔ کیونکہ ﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا۰۰ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرً﴾’’ (الانشراح: 94/4، 5) ’’بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
الطلاق 65:7
تم رکھو انھیں جہاں تم (خود) رہتے ہو اپنی طاقت کے مطابق اور نہ تکلیف دو تم انھیں تاکہ تنگی کرو تم ان پر اور اگر ہوں وہ (مطلقات) حمل والیاں تو تم خرچ کرو ان پر یہاں تک کہ جن لیں وہ اپنا حمل ، پھر اگر وہ (بچے کو) دودھ پلائیں تمھارے لیے تو دو تم انھیں ان کی اجرت اور مشورہ کرو تم آپس میں دستور کے مطابق اور اگر تم آپس میں تنگی کرو تو دودھ پلائے گی اسے کوئی دوسری عورت(6) چاہیے کہ خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق اور جو شخص کہ تنگ کیا گیا ہو اس پر رزق اس کا تو چاہیے کہ وہ خرچ کرے اس میں سے جو دیا ہے اس کو اللہ نے، نہیں تکلیف دیتا اللہ کسی نفس کو بھی مگر (اسی قدر) جو اس نے دیا ہے اس (نفس) کو عنقریب کر دے گا اللہ بعد تنگی کے آسانی(7)
[6] پیچھے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتیوں کو گھروں سے نکالنے سے روکا ہے اور اس نے طلاق یافتہ عورتوں کو سکونت مہیا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو معروف طریقے سے سکونت مہیا کرنا مقرر فرمایا اور اس سے مراد ایسا گھر ہے جس میں شوہر کی تونگری یا عسرت کے مطابق ان کے ہم مرتبہ لوگ رہتے ہیں۔ ﴿ وَلَا تُضَآرُّوۡهُنَّ۠ لِتُضَيِّقُوۡا عَلَيۡهِنَّ﴾ یعنی ان کی سکونت کے دوران ان کو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے، اس غرض سے تکلیف نہ پہنچاؤ کہ وہ عدت پوری ہونے سے پہلے تنگ آ کر گھروں سے نکل جائیں، اس صورت میں تم ان کو اپنے گھروں سے نکالنے والے شمار ہو گے۔آیت کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مطلقات کو گھروں سے نکالنے سے روکا ہے اور مطلقات کو بھی گھروں سے نکلنے سے منع کیا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح سکونت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے کہ مطلقات کو کوئی ضرر اور مشقت لاحق نہ ہو اور یہ عرف عام کی طرف راجع ہے۔ ﴿ وَاِنۡ كُنَّ﴾ ’’اور اگر ہوں وہ۔‘‘ یعنی مطلقات ﴿ اُولَاتِ حَمۡلٍ فَاَنۡفِقُوۡا عَلَيۡهِنَّ حَتّٰى يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ﴾ ’’حمل والیاں تو وضع حمل تک ان پر خرچ کرو۔‘‘ اگر طلاق بائنہ ہے تو یہ نان و نفقہ اس حمل کی وجہ سے ہے جو اس کے پیٹ میں ہے اور اگر طلاق رجعی ہے تو یہ نفقہ خود اس کے لیے اور اس کے حمل کے لیے ہے۔ نان و نفقہ کی انتہا وضع حمل تک ہے۔ جب وضع حمل ہو جائے تو وہ اپنے بچوں کو دودھ پلائیں گی یا نہیں پلائیں گی ؟ ﴿ فَاِنۡ اَرۡضَعۡنَ لَكُمۡ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ﴾ ’’پس اگر وہ بچے کو تمھارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔‘‘ یعنی طے شدہ اجرت اگر طے کی گئی ہو ورنہ وہ اجرت ادا کی جائے جو اس کے ہم مرتبہ لوگ ادا کرتے ہیں ﴿ وَاۡتَمِرُوۡا بَيۡنَكُمۡ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾یعنی میاں بیوی اور دیگر لوگ ایک دوسرے کو معروف کا حکم دیں اور معروف سے مراد ہر وہ کام ہے جس میں دنیا و آخرت کی کوئی منفعت اور مصلحت ہو کیونکہ باہم ایک دوسرے کو معروف کی تلقین کرنے میں غفلت برتنے سے ضرر اور شر کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ نیز باہم معروف کا حکم دینے میں نیکی اور تقویٰ پر تعاون ہے۔اس مقام پر اس بات کا تذکرہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہےکہ اتمام عدت پر، مفارقت کے وقت شوہر اور بیوی کے درمیان، خاص طور پر جب ان دونوں کا مشترکہ بچہ ہو، غالب حالات میں بیوی اور بچے کے نفقہ کے بارے میں جدائی کے ساتھ ساتھ تنازع اور جھگڑا واقع ہو جاتا ہے، جدائی عموماً بغض اور کینہ سے مقرون ہوتی ہے، جس سے بہت سی چیزیں متاثر ہوتی ہیں، لہٰذا دونوں میں سے ہر ایک کو نیکی، حسن معاشرت، عدم مشقت اور عدم منازعت کا حکم دیا جائے اور ان امور میں خیر خواہی کی جائے۔﴿ وَاِنۡ تَعَاسَرۡتُمۡ﴾ ’’اور اگر تم باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو۔‘‘ یعنی اگر دونوں میاں بیوی اس امر پر متفق نہ ہوں کہ (مطلقہ) بیوی اپنے بچے کو دودھ پلائے ﴿ فَسَتُرۡضِعُ لَهٗۤ اُخۡرٰى﴾ تو اس مطلقہ بیوی کے علاوہ کوئی دوسری عورت بچے کو دودھ پلائے ۔فرمایا: ﴿ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِذَا سَلَّمۡتُمۡ مَّاۤ اٰتَيۡتُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ﴾(البقرہ:2؍233) ’’اگر تمھارا ارادہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، جب تم وہ اجرت معروف طریقے سے ادا کر دو جو تم نے طے کی تھی۔‘‘ یہ اس صورت میں ہے جب بچہ اپنی ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت کا دودھ قبول کرتا ہو۔ اگر بچہ اپنی ماں کے سوا کسی عورت کا دودھ قبول نہ کرتا ہو، تو اس کی ماں رضاعت کے لیے متعین ہو گی اور ماں پر رضاعت واجب ہو گئی اور اگر وہ دودھ پلانے سے انکار کرے تو اس کو دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا، اور اگر دونوں میں اجرت پر اتفاق نہ ہو سکے تو اس کے لیے ہم مرتبہ دودھ پلانے والی کی اجرت ہے۔یہ حکم اس آیت کریمہ کے معنیٰ سے ماخوذ ہے کیونکہ بچہ جب حمل کی مدت کے دوران اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور وہ تو باہر نہیں آ سکتا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بچے کے ولی پر نفقہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ اور جب بچہ متولد ہوتا ہے اور وہ خوراک اپنی ماں سے یا ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت سے حاصل کر سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دونوں صورتیں مباح کر دی ہیں۔ چنانچہ بچہ اگرچہ ایسی حالت میں ہو کہ وہ اپنی ماں کے سوا کہیں سے خوراک نہ لیتا ہوں تو وہ بمنزلہ حمل کے ہے اور اس کی خوراک کے لیے اس کی ماں کو مقرر کیا جائے گا۔
[7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شوہر کی حیثیت کے مطابق نفقہ مقرر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ لِيُنۡفِقۡ ذُوۡ سَعَةٍ مِّنۡ سَعَتِهٖ﴾ ’’وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔‘‘یعنی دولت مند اپنی دولت کے مطابق خرچ کرے اور اس طرح خرچ نہ کرے جس طرح فقراء خرچ کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ قُدِرَ عَلَيۡهِ رِزۡقُهٗ﴾ ’’اور جسے اس کا رزق نپا تلا ملے۔‘‘ یعنی جو تنگ دستی کا شکار ہو ﴿ فَلۡيُنۡفِقۡ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ﴾ ’’تو وہ اسی (رزق) میں خرچ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے۔‘‘ ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا﴾ ’’اللہ کسی پر اتنی ہی ذمے داری ڈالتا ہے جتنا اس نے اسے دیا۔‘‘ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت سے مناسبت رکھتی ہے کہ اس نے ہر ایک کو اس کے حسب حال مکلف کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو صرف اتنا ہی مکلف کرتا ہے جتنا اس کو رزق عطا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کسی جان کو نفقہ وغیرہ کے ضمن میں اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ ﴿ سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾ یہ تنگ دست لوگوں کے لیے بشارت ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان پر سختی کو دور کر دے گا اور مشقت کو اٹھالے گا۔ کیونکہ ﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا۰۰ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرً﴾’’ (الانشراح: 94/4، 5) ’’بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
الطلاق 65:8
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ سرکشی کی انھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے امر سے تو ہم نے حساب لیا ان سے حساب سخت اور عذاب دیا ہم نے انھیں عذاب ہولناک(8) پس چکھا (ان بستیوں نے) وبال اپنے کام کا اور تھا انجام ان کے کام کا خسارہ ہی(9) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل مندو ! وہ لوگ جو ایمان لائے، تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمھاری طرف ذکر (10)(یعنی ) رسول، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر آیتیں اللہ کی واضح تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اندھیروں سے نور کی طرف اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے نیک تو وہ داخل کرے گا اسے ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، تحقیق اچھا دیا اللہ نے اس کو رزق (11) اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمینیں بھی مثل ان (آسمانوں) کی،نازل ہوتا ہے (اس کا) حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے اور بلاشبہ اللہ نے تحقیق گھیر رکھا ہے ہر چیز کو باعتبار علم کے (12)
[10-8] اللہ تبارک و تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت اور درد ناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا۔ دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’پس ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو!‘‘ یعنی ایسی عقل جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اسی ہستی نے گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انھی کی مانند ہیں، دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
[11] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے، پس کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے ۔‘‘ یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کرے ﴿ يُّدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزۡقًا﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے انھیں خوب رزق دیا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
[12] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں، اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اسی طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے، جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بندے اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے تو وہ اس کی عبادت کریں گے، اس سے محبت کریں گے اور اس کے حقوق کو ادا کریں گے۔ خلق و امر کا یہی مقصد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس کی عبادت، پس اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے جن کو توفیق سے بہرہ مندہ کیا گیا ہے وہ اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں جبکہ ظالم اور روگردانی کرنے والے لوگ اس سے روگرداں ہیں۔
الطلاق 65:9
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ سرکشی کی انھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے امر سے تو ہم نے حساب لیا ان سے حساب سخت اور عذاب دیا ہم نے انھیں عذاب ہولناک(8) پس چکھا (ان بستیوں نے) وبال اپنے کام کا اور تھا انجام ان کے کام کا خسارہ ہی(9) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل مندو ! وہ لوگ جو ایمان لائے، تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمھاری طرف ذکر (10)(یعنی ) رسول، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر آیتیں اللہ کی واضح تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اندھیروں سے نور کی طرف اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے نیک تو وہ داخل کرے گا اسے ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، تحقیق اچھا دیا اللہ نے اس کو رزق (11) اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمینیں بھی مثل ان (آسمانوں) کی،نازل ہوتا ہے (اس کا) حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے اور بلاشبہ اللہ نے تحقیق گھیر رکھا ہے ہر چیز کو باعتبار علم کے (12)
[10-8] اللہ تبارک و تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت اور درد ناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا۔ دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’پس ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو!‘‘ یعنی ایسی عقل جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اسی ہستی نے گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انھی کی مانند ہیں، دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
[11] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے، پس کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے ۔‘‘ یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کرے ﴿ يُّدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزۡقًا﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے انھیں خوب رزق دیا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
[12] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں، اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اسی طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے، جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بندے اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے تو وہ اس کی عبادت کریں گے، اس سے محبت کریں گے اور اس کے حقوق کو ادا کریں گے۔ خلق و امر کا یہی مقصد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس کی عبادت، پس اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے جن کو توفیق سے بہرہ مندہ کیا گیا ہے وہ اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں جبکہ ظالم اور روگردانی کرنے والے لوگ اس سے روگرداں ہیں۔
الطلاق 65:10
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ سرکشی کی انھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے امر سے تو ہم نے حساب لیا ان سے حساب سخت اور عذاب دیا ہم نے انھیں عذاب ہولناک(8) پس چکھا (ان بستیوں نے) وبال اپنے کام کا اور تھا انجام ان کے کام کا خسارہ ہی(9) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل مندو ! وہ لوگ جو ایمان لائے، تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمھاری طرف ذکر (10)(یعنی ) رسول، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر آیتیں اللہ کی واضح تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اندھیروں سے نور کی طرف اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے نیک تو وہ داخل کرے گا اسے ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، تحقیق اچھا دیا اللہ نے اس کو رزق (11) اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمینیں بھی مثل ان (آسمانوں) کی،نازل ہوتا ہے (اس کا) حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے اور بلاشبہ اللہ نے تحقیق گھیر رکھا ہے ہر چیز کو باعتبار علم کے (12)
[10-8] اللہ تبارک و تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت اور درد ناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا۔ دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’پس ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو!‘‘ یعنی ایسی عقل جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اسی ہستی نے گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انھی کی مانند ہیں، دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
[11] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے، پس کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے ۔‘‘ یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کرے ﴿ يُّدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزۡقًا﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے انھیں خوب رزق دیا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
[12] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں، اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اسی طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے، جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بندے اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے تو وہ اس کی عبادت کریں گے، اس سے محبت کریں گے اور اس کے حقوق کو ادا کریں گے۔ خلق و امر کا یہی مقصد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس کی عبادت، پس اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے جن کو توفیق سے بہرہ مندہ کیا گیا ہے وہ اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں جبکہ ظالم اور روگردانی کرنے والے لوگ اس سے روگرداں ہیں۔
الطلاق 65:11
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ سرکشی کی انھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے امر سے تو ہم نے حساب لیا ان سے حساب سخت اور عذاب دیا ہم نے انھیں عذاب ہولناک(8) پس چکھا (ان بستیوں نے) وبال اپنے کام کا اور تھا انجام ان کے کام کا خسارہ ہی(9) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل مندو ! وہ لوگ جو ایمان لائے، تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمھاری طرف ذکر (10)(یعنی ) رسول، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر آیتیں اللہ کی واضح تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اندھیروں سے نور کی طرف اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے نیک تو وہ داخل کرے گا اسے ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، تحقیق اچھا دیا اللہ نے اس کو رزق (11) اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمینیں بھی مثل ان (آسمانوں) کی،نازل ہوتا ہے (اس کا) حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے اور بلاشبہ اللہ نے تحقیق گھیر رکھا ہے ہر چیز کو باعتبار علم کے (12)
[10-8] اللہ تبارک و تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت اور درد ناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا۔ دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’پس ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو!‘‘ یعنی ایسی عقل جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اسی ہستی نے گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انھی کی مانند ہیں، دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
[11] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے، پس کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے ۔‘‘ یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کرے ﴿ يُّدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزۡقًا﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے انھیں خوب رزق دیا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
[12] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں، اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اسی طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے، جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بندے اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے تو وہ اس کی عبادت کریں گے، اس سے محبت کریں گے اور اس کے حقوق کو ادا کریں گے۔ خلق و امر کا یہی مقصد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس کی عبادت، پس اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے جن کو توفیق سے بہرہ مندہ کیا گیا ہے وہ اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں جبکہ ظالم اور روگردانی کرنے والے لوگ اس سے روگرداں ہیں۔
الطلاق 65:12
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ سرکشی کی انھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے امر سے تو ہم نے حساب لیا ان سے حساب سخت اور عذاب دیا ہم نے انھیں عذاب ہولناک(8) پس چکھا (ان بستیوں نے) وبال اپنے کام کا اور تھا انجام ان کے کام کا خسارہ ہی(9) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل مندو ! وہ لوگ جو ایمان لائے، تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمھاری طرف ذکر (10)(یعنی ) رسول، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر آیتیں اللہ کی واضح تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اندھیروں سے نور کی طرف اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے نیک تو وہ داخل کرے گا اسے ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، تحقیق اچھا دیا اللہ نے اس کو رزق (11) اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمینیں بھی مثل ان (آسمانوں) کی،نازل ہوتا ہے (اس کا) حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے اور بلاشبہ اللہ نے تحقیق گھیر رکھا ہے ہر چیز کو باعتبار علم کے (12)
[10-8] اللہ تبارک و تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت اور درد ناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا۔ دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’پس ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو!‘‘ یعنی ایسی عقل جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اسی ہستی نے گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انھی کی مانند ہیں، دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
[11] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے، پس کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے ۔‘‘ یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کرے ﴿ يُّدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزۡقًا﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے انھیں خوب رزق دیا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
[12] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں، اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اسی طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے، جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بندے اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے تو وہ اس کی عبادت کریں گے، اس سے محبت کریں گے اور اس کے حقوق کو ادا کریں گے۔ خلق و امر کا یہی مقصد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس کی عبادت، پس اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے جن کو توفیق سے بہرہ مندہ کیا گیا ہے وہ اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں جبکہ ظالم اور روگردانی کرنے والے لوگ اس سے روگرداں ہیں۔
التحريم 66:1
اے نبی! کیوں حرام کرتے ہیں آپ اس چیز کو جو حلال کی ہے اللہ نے آپ کے لیے ؟ چاہتے ہیں آپ رضا مندی اپنی بیویوں کی، اور اللہ خوب بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(1) تحقیق فرض کر دیا ہے اللہ نے تمھارے لیے کھولنا (توڑنا) تمھاری قسموں کا اور اللہ کارساز ہے تمھارا، اور وہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(2) اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی بعض بیویوں سے ایک بات،پس جب خبر دی اس (بیوی) نے اس (بات) کی اور ظاہر کر دیا اس کو اللہ نے اس (نبی) پر تو اس (نبی) نے بتلا دی کچھ (بات) اس میں سے اور اعراض کیا کچھ سے ، پس جب خبر دی نبی نے اس (بیوی) کو اس کی تو اس نے کہا، کس نے خبر دی ہے آپ کو اس (بات ) کی؟نبی نے فرمایا، خبر دی ہے مجھے (اللہ) علیم خبیر نے(3) اگر توبہ کرو تم دونوں اللہ کی طرف (تو بہتر ہے) پس تحقیق ہٹ گئے ہیں تمھارے دل ،اور اگر تم دونوں ایک دوسری کی مدد کرو گی آپ کے مقابلے میں تو بلاشبہ اللہ وہی ہے مدد گار آپ کا اور جبریل اور صالح ایمان دار، اور (تمام) فرشتے (بھی) بعد اس کےمدد گار ہیں(4) امید ہے کہ آپ کا رب، اگر وہ (نبی) طلاق دے دے تمھیں، یہ کہ بدلے میں دے دے اس کو بیویاں افضل تم سے مسلمان، مومن، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد ﷺ پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ r یا شہد کو ایک معروف واقعے کے مطابق اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ﴾ اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ﴿ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ ﴿ تَبۡتَغِيۡ﴾ ’’آپ چاہتے ہیں ‘‘ اس تحریم کے ذریعے سے ﴿ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اپنی بیویوں کی رضامندی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺکو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کر دیا اور آپ پر رحم فرمایا۔
[2] اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی، چنانچہ فرمایا :﴿ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسمیں کھولنا (توڑنا)، فرض کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کر دیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلا جا سکے اور وہ کفارہ بتلادیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۰۰ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِيۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ١ۚ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ﴾(المائدہ:5؍87 ، 89) ’’اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حد سے نہ بڑھو اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اللہ تمھاری قسموں میں سے لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو، تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے، جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو) تو یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘ پس ہر وہ شخص جو کسی حلال طعام، مشروب یا لونڈی کو حرام ٹھہرائے یا کسی فعل یا ترک پر اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، پھر وہ قسم کو توڑ دے یا توڑنے کا ارادہ کرے تو اس پر یہ مذکورہ کفارے کی ادائیگی واجب ہے۔فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے امور کی سرپرستی کرنے والا ہے اور تمھارے دین و دنیا کے امور میں تمھاری بہترین طریقے سے تربیت کرنے والا ہے، جس کے سبب سے تم سے شر دور ہوتا ہے۔ بنابریں اس نے تمھاری قسمیں حلال کرنے کے لیے تمھارے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا، تاکہ تم پر جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہو جائے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ﴾ جس کے علم نے تمھارے ظواہر اور بواطن کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اور اس نے حکم دیا ہے، وہ اس میں حکمت کو ملحوظ رکھنے والا ہے اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ تمھارے مصالح کے موافق اور تمھارے احوال کے لیے مناسب ہیں۔
[3]﴿ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔‘‘ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہrہیں، ان کو نبی ٔاکرم ﷺ نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہr کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہr نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہr کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتۡ﴾ حضرت حفصہ r نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنۡ اَنۢۡبـَاَكَ هٰؔذَا﴾ یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِيَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ﴾ ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے ۔‘‘ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔
[4]﴿ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا﴾ خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ w کی طرف ہے، جو اس بات کا سبب بنیں، کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا، ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انھیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہو گئے جو ان کے لائق تھی ، یعنی ورع اور رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ﴿ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ﴾ اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی، جو آپ پر شاق گزرتا ہے اور تمھاری طرف سے یہ رویہ دائم رہا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰىهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۚ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ﴾ ’’تو اللہ اور جبریل نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘ یہ سب رسول ﷺ کے اعوان و مددگار ہیں، اور جس کے اعوان و انصار یہ لوگ ہوں وہ مدد یافتہ ہے اور دوسرے لوگ، جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہیں۔یہ سیدالمرسلین رسول مصطفیٰﷺ کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا شرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم ﷺ کے اعوان و انصار مقرر فرمایا۔ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے۔
[5] پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عورتوں پر بے حد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے، اس لیے فرمایا :﴿ عَسٰؔى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّؔنۡؔكُنَّ﴾ یعنی تم رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اگر وہ تمھیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہو گا اور نہ وہ تمھارے محتاج ہی ہوں گے کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ (تمھارے بدلے میں) آپ کو ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں گی۔ یہ ایسی تعلیق کے باب میں سے ہے جس کا وجود نہیں اور نہ اس کا وجود لازم ہے۔ کیونکہ آپ نے ان ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور اگر آپ طلاق دے دیتے تو وہی ہوتا جو ان ازواج مطہرات کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، وہ اسلام جو کہ ظاہری شریعت کو قائم کرنے کا نام ہے اور ایمان جو باطنی شریعت عقائد اور اعمال قلوب کو کرنے کا نام ہے، دونوں کی جامع ہوتیں۔ (قَنُوت)سے مراد دائمی اطاعت اور اطاعت پر استمرار ہے ۔﴿ تٰٓؔىِٕبٰؔتٍ﴾ وہ ان امور سے توبہ کرنے والی ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے امور کو قائم کرنے سے موصوف فرمایا جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو ایسے امور سے اجتناب کرنے سے موصوف فرمایا جو اسے ناپسند ہیں ﴿ثَيِّبٰؔتٍ وَّاَبۡكَارًا﴾ یعنی ان میں بعض ثیبہ (بیوہ) ہوں گی اور بعض کنواری تاکہ آپ کو اپنی پسند کے مطابق تنوع حاصل ہو۔پس جب ازواج مطہراتg نے یہ تخویف اور تادیب سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی کے لیے جلدی سے آگے بڑھیں، پس یہ مذکور اوصاف ان پر منطبق ہوئے اور وہ مومن عورتوں میں سب سے افضل قرار پائیں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے مکمل احوال اور اعلی امور کا انتخاب کرتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے مذکورہ خواتین کو اپنے رسول کے حرم کے لیے باقی رکھنا پسند کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر اور کامل ہیں۔
التحريم 66:2
اے نبی! کیوں حرام کرتے ہیں آپ اس چیز کو جو حلال کی ہے اللہ نے آپ کے لیے ؟ چاہتے ہیں آپ رضا مندی اپنی بیویوں کی، اور اللہ خوب بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(1) تحقیق فرض کر دیا ہے اللہ نے تمھارے لیے کھولنا (توڑنا) تمھاری قسموں کا اور اللہ کارساز ہے تمھارا، اور وہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(2) اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی بعض بیویوں سے ایک بات،پس جب خبر دی اس (بیوی) نے اس (بات) کی اور ظاہر کر دیا اس کو اللہ نے اس (نبی) پر تو اس (نبی) نے بتلا دی کچھ (بات) اس میں سے اور اعراض کیا کچھ سے ، پس جب خبر دی نبی نے اس (بیوی) کو اس کی تو اس نے کہا، کس نے خبر دی ہے آپ کو اس (بات ) کی؟نبی نے فرمایا، خبر دی ہے مجھے (اللہ) علیم خبیر نے(3) اگر توبہ کرو تم دونوں اللہ کی طرف (تو بہتر ہے) پس تحقیق ہٹ گئے ہیں تمھارے دل ،اور اگر تم دونوں ایک دوسری کی مدد کرو گی آپ کے مقابلے میں تو بلاشبہ اللہ وہی ہے مدد گار آپ کا اور جبریل اور صالح ایمان دار، اور (تمام) فرشتے (بھی) بعد اس کےمدد گار ہیں(4) امید ہے کہ آپ کا رب، اگر وہ (نبی) طلاق دے دے تمھیں، یہ کہ بدلے میں دے دے اس کو بیویاں افضل تم سے مسلمان، مومن، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد ﷺ پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ r یا شہد کو ایک معروف واقعے کے مطابق اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ﴾ اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ﴿ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ ﴿ تَبۡتَغِيۡ﴾ ’’آپ چاہتے ہیں ‘‘ اس تحریم کے ذریعے سے ﴿ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اپنی بیویوں کی رضامندی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺکو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کر دیا اور آپ پر رحم فرمایا۔
[2] اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی، چنانچہ فرمایا :﴿ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسمیں کھولنا (توڑنا)، فرض کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کر دیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلا جا سکے اور وہ کفارہ بتلادیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۰۰ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِيۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ١ۚ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ﴾(المائدہ:5؍87 ، 89) ’’اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حد سے نہ بڑھو اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اللہ تمھاری قسموں میں سے لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو، تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے، جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو) تو یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘ پس ہر وہ شخص جو کسی حلال طعام، مشروب یا لونڈی کو حرام ٹھہرائے یا کسی فعل یا ترک پر اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، پھر وہ قسم کو توڑ دے یا توڑنے کا ارادہ کرے تو اس پر یہ مذکورہ کفارے کی ادائیگی واجب ہے۔فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے امور کی سرپرستی کرنے والا ہے اور تمھارے دین و دنیا کے امور میں تمھاری بہترین طریقے سے تربیت کرنے والا ہے، جس کے سبب سے تم سے شر دور ہوتا ہے۔ بنابریں اس نے تمھاری قسمیں حلال کرنے کے لیے تمھارے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا، تاکہ تم پر جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہو جائے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ﴾ جس کے علم نے تمھارے ظواہر اور بواطن کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اور اس نے حکم دیا ہے، وہ اس میں حکمت کو ملحوظ رکھنے والا ہے اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ تمھارے مصالح کے موافق اور تمھارے احوال کے لیے مناسب ہیں۔
[3]﴿ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔‘‘ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہrہیں، ان کو نبی ٔاکرم ﷺ نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہr کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہr نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہr کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتۡ﴾ حضرت حفصہ r نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنۡ اَنۢۡبـَاَكَ هٰؔذَا﴾ یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِيَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ﴾ ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے ۔‘‘ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔
[4]﴿ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا﴾ خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ w کی طرف ہے، جو اس بات کا سبب بنیں، کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا، ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انھیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہو گئے جو ان کے لائق تھی ، یعنی ورع اور رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ﴿ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ﴾ اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی، جو آپ پر شاق گزرتا ہے اور تمھاری طرف سے یہ رویہ دائم رہا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰىهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۚ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ﴾ ’’تو اللہ اور جبریل نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘ یہ سب رسول ﷺ کے اعوان و مددگار ہیں، اور جس کے اعوان و انصار یہ لوگ ہوں وہ مدد یافتہ ہے اور دوسرے لوگ، جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہیں۔یہ سیدالمرسلین رسول مصطفیٰﷺ کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا شرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم ﷺ کے اعوان و انصار مقرر فرمایا۔ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے۔
[5] پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عورتوں پر بے حد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے، اس لیے فرمایا :﴿ عَسٰؔى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّؔنۡؔكُنَّ﴾ یعنی تم رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اگر وہ تمھیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہو گا اور نہ وہ تمھارے محتاج ہی ہوں گے کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ (تمھارے بدلے میں) آپ کو ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں گی۔ یہ ایسی تعلیق کے باب میں سے ہے جس کا وجود نہیں اور نہ اس کا وجود لازم ہے۔ کیونکہ آپ نے ان ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور اگر آپ طلاق دے دیتے تو وہی ہوتا جو ان ازواج مطہرات کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، وہ اسلام جو کہ ظاہری شریعت کو قائم کرنے کا نام ہے اور ایمان جو باطنی شریعت عقائد اور اعمال قلوب کو کرنے کا نام ہے، دونوں کی جامع ہوتیں۔ (قَنُوت)سے مراد دائمی اطاعت اور اطاعت پر استمرار ہے ۔﴿ تٰٓؔىِٕبٰؔتٍ﴾ وہ ان امور سے توبہ کرنے والی ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے امور کو قائم کرنے سے موصوف فرمایا جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو ایسے امور سے اجتناب کرنے سے موصوف فرمایا جو اسے ناپسند ہیں ﴿ثَيِّبٰؔتٍ وَّاَبۡكَارًا﴾ یعنی ان میں بعض ثیبہ (بیوہ) ہوں گی اور بعض کنواری تاکہ آپ کو اپنی پسند کے مطابق تنوع حاصل ہو۔پس جب ازواج مطہراتg نے یہ تخویف اور تادیب سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی کے لیے جلدی سے آگے بڑھیں، پس یہ مذکور اوصاف ان پر منطبق ہوئے اور وہ مومن عورتوں میں سب سے افضل قرار پائیں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے مکمل احوال اور اعلی امور کا انتخاب کرتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے مذکورہ خواتین کو اپنے رسول کے حرم کے لیے باقی رکھنا پسند کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر اور کامل ہیں۔
التحريم 66:3
اے نبی! کیوں حرام کرتے ہیں آپ اس چیز کو جو حلال کی ہے اللہ نے آپ کے لیے ؟ چاہتے ہیں آپ رضا مندی اپنی بیویوں کی، اور اللہ خوب بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(1) تحقیق فرض کر دیا ہے اللہ نے تمھارے لیے کھولنا (توڑنا) تمھاری قسموں کا اور اللہ کارساز ہے تمھارا، اور وہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(2) اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی بعض بیویوں سے ایک بات،پس جب خبر دی اس (بیوی) نے اس (بات) کی اور ظاہر کر دیا اس کو اللہ نے اس (نبی) پر تو اس (نبی) نے بتلا دی کچھ (بات) اس میں سے اور اعراض کیا کچھ سے ، پس جب خبر دی نبی نے اس (بیوی) کو اس کی تو اس نے کہا، کس نے خبر دی ہے آپ کو اس (بات ) کی؟نبی نے فرمایا، خبر دی ہے مجھے (اللہ) علیم خبیر نے(3) اگر توبہ کرو تم دونوں اللہ کی طرف (تو بہتر ہے) پس تحقیق ہٹ گئے ہیں تمھارے دل ،اور اگر تم دونوں ایک دوسری کی مدد کرو گی آپ کے مقابلے میں تو بلاشبہ اللہ وہی ہے مدد گار آپ کا اور جبریل اور صالح ایمان دار، اور (تمام) فرشتے (بھی) بعد اس کےمدد گار ہیں(4) امید ہے کہ آپ کا رب، اگر وہ (نبی) طلاق دے دے تمھیں، یہ کہ بدلے میں دے دے اس کو بیویاں افضل تم سے مسلمان، مومن، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد ﷺ پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ r یا شہد کو ایک معروف واقعے کے مطابق اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ﴾ اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ﴿ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ ﴿ تَبۡتَغِيۡ﴾ ’’آپ چاہتے ہیں ‘‘ اس تحریم کے ذریعے سے ﴿ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اپنی بیویوں کی رضامندی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺکو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کر دیا اور آپ پر رحم فرمایا۔
[2] اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی، چنانچہ فرمایا :﴿ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسمیں کھولنا (توڑنا)، فرض کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کر دیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلا جا سکے اور وہ کفارہ بتلادیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۰۰ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِيۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ١ۚ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ﴾(المائدہ:5؍87 ، 89) ’’اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حد سے نہ بڑھو اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اللہ تمھاری قسموں میں سے لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو، تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے، جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو) تو یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘ پس ہر وہ شخص جو کسی حلال طعام، مشروب یا لونڈی کو حرام ٹھہرائے یا کسی فعل یا ترک پر اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، پھر وہ قسم کو توڑ دے یا توڑنے کا ارادہ کرے تو اس پر یہ مذکورہ کفارے کی ادائیگی واجب ہے۔فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے امور کی سرپرستی کرنے والا ہے اور تمھارے دین و دنیا کے امور میں تمھاری بہترین طریقے سے تربیت کرنے والا ہے، جس کے سبب سے تم سے شر دور ہوتا ہے۔ بنابریں اس نے تمھاری قسمیں حلال کرنے کے لیے تمھارے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا، تاکہ تم پر جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہو جائے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ﴾ جس کے علم نے تمھارے ظواہر اور بواطن کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اور اس نے حکم دیا ہے، وہ اس میں حکمت کو ملحوظ رکھنے والا ہے اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ تمھارے مصالح کے موافق اور تمھارے احوال کے لیے مناسب ہیں۔
[3]﴿ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔‘‘ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہrہیں، ان کو نبی ٔاکرم ﷺ نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہr کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہr نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہr کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتۡ﴾ حضرت حفصہ r نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنۡ اَنۢۡبـَاَكَ هٰؔذَا﴾ یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِيَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ﴾ ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے ۔‘‘ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔
[4]﴿ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا﴾ خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ w کی طرف ہے، جو اس بات کا سبب بنیں، کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا، ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انھیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہو گئے جو ان کے لائق تھی ، یعنی ورع اور رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ﴿ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ﴾ اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی، جو آپ پر شاق گزرتا ہے اور تمھاری طرف سے یہ رویہ دائم رہا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰىهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۚ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ﴾ ’’تو اللہ اور جبریل نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘ یہ سب رسول ﷺ کے اعوان و مددگار ہیں، اور جس کے اعوان و انصار یہ لوگ ہوں وہ مدد یافتہ ہے اور دوسرے لوگ، جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہیں۔یہ سیدالمرسلین رسول مصطفیٰﷺ کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا شرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم ﷺ کے اعوان و انصار مقرر فرمایا۔ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے۔
[5] پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عورتوں پر بے حد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے، اس لیے فرمایا :﴿ عَسٰؔى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّؔنۡؔكُنَّ﴾ یعنی تم رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اگر وہ تمھیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہو گا اور نہ وہ تمھارے محتاج ہی ہوں گے کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ (تمھارے بدلے میں) آپ کو ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں گی۔ یہ ایسی تعلیق کے باب میں سے ہے جس کا وجود نہیں اور نہ اس کا وجود لازم ہے۔ کیونکہ آپ نے ان ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور اگر آپ طلاق دے دیتے تو وہی ہوتا جو ان ازواج مطہرات کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، وہ اسلام جو کہ ظاہری شریعت کو قائم کرنے کا نام ہے اور ایمان جو باطنی شریعت عقائد اور اعمال قلوب کو کرنے کا نام ہے، دونوں کی جامع ہوتیں۔ (قَنُوت)سے مراد دائمی اطاعت اور اطاعت پر استمرار ہے ۔﴿ تٰٓؔىِٕبٰؔتٍ﴾ وہ ان امور سے توبہ کرنے والی ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے امور کو قائم کرنے سے موصوف فرمایا جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو ایسے امور سے اجتناب کرنے سے موصوف فرمایا جو اسے ناپسند ہیں ﴿ثَيِّبٰؔتٍ وَّاَبۡكَارًا﴾ یعنی ان میں بعض ثیبہ (بیوہ) ہوں گی اور بعض کنواری تاکہ آپ کو اپنی پسند کے مطابق تنوع حاصل ہو۔پس جب ازواج مطہراتg نے یہ تخویف اور تادیب سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی کے لیے جلدی سے آگے بڑھیں، پس یہ مذکور اوصاف ان پر منطبق ہوئے اور وہ مومن عورتوں میں سب سے افضل قرار پائیں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے مکمل احوال اور اعلی امور کا انتخاب کرتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے مذکورہ خواتین کو اپنے رسول کے حرم کے لیے باقی رکھنا پسند کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر اور کامل ہیں۔
التحريم 66:4
اے نبی! کیوں حرام کرتے ہیں آپ اس چیز کو جو حلال کی ہے اللہ نے آپ کے لیے ؟ چاہتے ہیں آپ رضا مندی اپنی بیویوں کی، اور اللہ خوب بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(1) تحقیق فرض کر دیا ہے اللہ نے تمھارے لیے کھولنا (توڑنا) تمھاری قسموں کا اور اللہ کارساز ہے تمھارا، اور وہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(2) اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی بعض بیویوں سے ایک بات،پس جب خبر دی اس (بیوی) نے اس (بات) کی اور ظاہر کر دیا اس کو اللہ نے اس (نبی) پر تو اس (نبی) نے بتلا دی کچھ (بات) اس میں سے اور اعراض کیا کچھ سے ، پس جب خبر دی نبی نے اس (بیوی) کو اس کی تو اس نے کہا، کس نے خبر دی ہے آپ کو اس (بات ) کی؟نبی نے فرمایا، خبر دی ہے مجھے (اللہ) علیم خبیر نے(3) اگر توبہ کرو تم دونوں اللہ کی طرف (تو بہتر ہے) پس تحقیق ہٹ گئے ہیں تمھارے دل ،اور اگر تم دونوں ایک دوسری کی مدد کرو گی آپ کے مقابلے میں تو بلاشبہ اللہ وہی ہے مدد گار آپ کا اور جبریل اور صالح ایمان دار، اور (تمام) فرشتے (بھی) بعد اس کےمدد گار ہیں(4) امید ہے کہ آپ کا رب، اگر وہ (نبی) طلاق دے دے تمھیں، یہ کہ بدلے میں دے دے اس کو بیویاں افضل تم سے مسلمان، مومن، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد ﷺ پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ r یا شہد کو ایک معروف واقعے کے مطابق اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ﴾ اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ﴿ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ ﴿ تَبۡتَغِيۡ﴾ ’’آپ چاہتے ہیں ‘‘ اس تحریم کے ذریعے سے ﴿ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اپنی بیویوں کی رضامندی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺکو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کر دیا اور آپ پر رحم فرمایا۔
[2] اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی، چنانچہ فرمایا :﴿ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسمیں کھولنا (توڑنا)، فرض کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کر دیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلا جا سکے اور وہ کفارہ بتلادیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۰۰ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِيۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ١ۚ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ﴾(المائدہ:5؍87 ، 89) ’’اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حد سے نہ بڑھو اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اللہ تمھاری قسموں میں سے لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو، تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے، جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو) تو یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘ پس ہر وہ شخص جو کسی حلال طعام، مشروب یا لونڈی کو حرام ٹھہرائے یا کسی فعل یا ترک پر اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، پھر وہ قسم کو توڑ دے یا توڑنے کا ارادہ کرے تو اس پر یہ مذکورہ کفارے کی ادائیگی واجب ہے۔فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے امور کی سرپرستی کرنے والا ہے اور تمھارے دین و دنیا کے امور میں تمھاری بہترین طریقے سے تربیت کرنے والا ہے، جس کے سبب سے تم سے شر دور ہوتا ہے۔ بنابریں اس نے تمھاری قسمیں حلال کرنے کے لیے تمھارے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا، تاکہ تم پر جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہو جائے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ﴾ جس کے علم نے تمھارے ظواہر اور بواطن کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اور اس نے حکم دیا ہے، وہ اس میں حکمت کو ملحوظ رکھنے والا ہے اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ تمھارے مصالح کے موافق اور تمھارے احوال کے لیے مناسب ہیں۔
[3]﴿ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔‘‘ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہrہیں، ان کو نبی ٔاکرم ﷺ نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہr کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہr نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہr کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتۡ﴾ حضرت حفصہ r نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنۡ اَنۢۡبـَاَكَ هٰؔذَا﴾ یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِيَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ﴾ ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے ۔‘‘ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔
[4]﴿ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا﴾ خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ w کی طرف ہے، جو اس بات کا سبب بنیں، کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا، ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انھیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہو گئے جو ان کے لائق تھی ، یعنی ورع اور رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ﴿ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ﴾ اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی، جو آپ پر شاق گزرتا ہے اور تمھاری طرف سے یہ رویہ دائم رہا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰىهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۚ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ﴾ ’’تو اللہ اور جبریل نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘ یہ سب رسول ﷺ کے اعوان و مددگار ہیں، اور جس کے اعوان و انصار یہ لوگ ہوں وہ مدد یافتہ ہے اور دوسرے لوگ، جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہیں۔یہ سیدالمرسلین رسول مصطفیٰﷺ کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا شرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم ﷺ کے اعوان و انصار مقرر فرمایا۔ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے۔
[5] پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عورتوں پر بے حد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے، اس لیے فرمایا :﴿ عَسٰؔى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّؔنۡؔكُنَّ﴾ یعنی تم رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اگر وہ تمھیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہو گا اور نہ وہ تمھارے محتاج ہی ہوں گے کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ (تمھارے بدلے میں) آپ کو ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں گی۔ یہ ایسی تعلیق کے باب میں سے ہے جس کا وجود نہیں اور نہ اس کا وجود لازم ہے۔ کیونکہ آپ نے ان ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور اگر آپ طلاق دے دیتے تو وہی ہوتا جو ان ازواج مطہرات کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، وہ اسلام جو کہ ظاہری شریعت کو قائم کرنے کا نام ہے اور ایمان جو باطنی شریعت عقائد اور اعمال قلوب کو کرنے کا نام ہے، دونوں کی جامع ہوتیں۔ (قَنُوت)سے مراد دائمی اطاعت اور اطاعت پر استمرار ہے ۔﴿ تٰٓؔىِٕبٰؔتٍ﴾ وہ ان امور سے توبہ کرنے والی ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے امور کو قائم کرنے سے موصوف فرمایا جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو ایسے امور سے اجتناب کرنے سے موصوف فرمایا جو اسے ناپسند ہیں ﴿ثَيِّبٰؔتٍ وَّاَبۡكَارًا﴾ یعنی ان میں بعض ثیبہ (بیوہ) ہوں گی اور بعض کنواری تاکہ آپ کو اپنی پسند کے مطابق تنوع حاصل ہو۔پس جب ازواج مطہراتg نے یہ تخویف اور تادیب سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی کے لیے جلدی سے آگے بڑھیں، پس یہ مذکور اوصاف ان پر منطبق ہوئے اور وہ مومن عورتوں میں سب سے افضل قرار پائیں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے مکمل احوال اور اعلی امور کا انتخاب کرتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے مذکورہ خواتین کو اپنے رسول کے حرم کے لیے باقی رکھنا پسند کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر اور کامل ہیں۔
التحريم 66:5
اے نبی! کیوں حرام کرتے ہیں آپ اس چیز کو جو حلال کی ہے اللہ نے آپ کے لیے ؟ چاہتے ہیں آپ رضا مندی اپنی بیویوں کی، اور اللہ خوب بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(1) تحقیق فرض کر دیا ہے اللہ نے تمھارے لیے کھولنا (توڑنا) تمھاری قسموں کا اور اللہ کارساز ہے تمھارا، اور وہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(2) اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی بعض بیویوں سے ایک بات،پس جب خبر دی اس (بیوی) نے اس (بات) کی اور ظاہر کر دیا اس کو اللہ نے اس (نبی) پر تو اس (نبی) نے بتلا دی کچھ (بات) اس میں سے اور اعراض کیا کچھ سے ، پس جب خبر دی نبی نے اس (بیوی) کو اس کی تو اس نے کہا، کس نے خبر دی ہے آپ کو اس (بات ) کی؟نبی نے فرمایا، خبر دی ہے مجھے (اللہ) علیم خبیر نے(3) اگر توبہ کرو تم دونوں اللہ کی طرف (تو بہتر ہے) پس تحقیق ہٹ گئے ہیں تمھارے دل ،اور اگر تم دونوں ایک دوسری کی مدد کرو گی آپ کے مقابلے میں تو بلاشبہ اللہ وہی ہے مدد گار آپ کا اور جبریل اور صالح ایمان دار، اور (تمام) فرشتے (بھی) بعد اس کےمدد گار ہیں(4) امید ہے کہ آپ کا رب، اگر وہ (نبی) طلاق دے دے تمھیں، یہ کہ بدلے میں دے دے اس کو بیویاں افضل تم سے مسلمان، مومن، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد ﷺ پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ r یا شہد کو ایک معروف واقعے کے مطابق اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ﴾ اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ﴿ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ ﴿ تَبۡتَغِيۡ﴾ ’’آپ چاہتے ہیں ‘‘ اس تحریم کے ذریعے سے ﴿ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اپنی بیویوں کی رضامندی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺکو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کر دیا اور آپ پر رحم فرمایا۔
[2] اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی، چنانچہ فرمایا :﴿ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسمیں کھولنا (توڑنا)، فرض کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کر دیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلا جا سکے اور وہ کفارہ بتلادیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۰۰ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِيۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ١ۚ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ﴾(المائدہ:5؍87 ، 89) ’’اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حد سے نہ بڑھو اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اللہ تمھاری قسموں میں سے لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو، تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے، جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو) تو یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘ پس ہر وہ شخص جو کسی حلال طعام، مشروب یا لونڈی کو حرام ٹھہرائے یا کسی فعل یا ترک پر اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، پھر وہ قسم کو توڑ دے یا توڑنے کا ارادہ کرے تو اس پر یہ مذکورہ کفارے کی ادائیگی واجب ہے۔فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے امور کی سرپرستی کرنے والا ہے اور تمھارے دین و دنیا کے امور میں تمھاری بہترین طریقے سے تربیت کرنے والا ہے، جس کے سبب سے تم سے شر دور ہوتا ہے۔ بنابریں اس نے تمھاری قسمیں حلال کرنے کے لیے تمھارے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا، تاکہ تم پر جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہو جائے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ﴾ جس کے علم نے تمھارے ظواہر اور بواطن کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اور اس نے حکم دیا ہے، وہ اس میں حکمت کو ملحوظ رکھنے والا ہے اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ تمھارے مصالح کے موافق اور تمھارے احوال کے لیے مناسب ہیں۔
[3]﴿ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔‘‘ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہrہیں، ان کو نبی ٔاکرم ﷺ نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہr کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہr نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہr کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتۡ﴾ حضرت حفصہ r نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنۡ اَنۢۡبـَاَكَ هٰؔذَا﴾ یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِيَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ﴾ ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے ۔‘‘ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔
[4]﴿ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا﴾ خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ w کی طرف ہے، جو اس بات کا سبب بنیں، کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا، ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انھیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہو گئے جو ان کے لائق تھی ، یعنی ورع اور رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ﴿ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ﴾ اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی، جو آپ پر شاق گزرتا ہے اور تمھاری طرف سے یہ رویہ دائم رہا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰىهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۚ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ﴾ ’’تو اللہ اور جبریل نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘ یہ سب رسول ﷺ کے اعوان و مددگار ہیں، اور جس کے اعوان و انصار یہ لوگ ہوں وہ مدد یافتہ ہے اور دوسرے لوگ، جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہیں۔یہ سیدالمرسلین رسول مصطفیٰﷺ کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا شرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم ﷺ کے اعوان و انصار مقرر فرمایا۔ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے۔
[5] پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عورتوں پر بے حد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے، اس لیے فرمایا :﴿ عَسٰؔى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّؔنۡؔكُنَّ﴾ یعنی تم رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اگر وہ تمھیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہو گا اور نہ وہ تمھارے محتاج ہی ہوں گے کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ (تمھارے بدلے میں) آپ کو ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں گی۔ یہ ایسی تعلیق کے باب میں سے ہے جس کا وجود نہیں اور نہ اس کا وجود لازم ہے۔ کیونکہ آپ نے ان ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور اگر آپ طلاق دے دیتے تو وہی ہوتا جو ان ازواج مطہرات کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، وہ اسلام جو کہ ظاہری شریعت کو قائم کرنے کا نام ہے اور ایمان جو باطنی شریعت عقائد اور اعمال قلوب کو کرنے کا نام ہے، دونوں کی جامع ہوتیں۔ (قَنُوت)سے مراد دائمی اطاعت اور اطاعت پر استمرار ہے ۔﴿ تٰٓؔىِٕبٰؔتٍ﴾ وہ ان امور سے توبہ کرنے والی ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے امور کو قائم کرنے سے موصوف فرمایا جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو ایسے امور سے اجتناب کرنے سے موصوف فرمایا جو اسے ناپسند ہیں ﴿ثَيِّبٰؔتٍ وَّاَبۡكَارًا﴾ یعنی ان میں بعض ثیبہ (بیوہ) ہوں گی اور بعض کنواری تاکہ آپ کو اپنی پسند کے مطابق تنوع حاصل ہو۔پس جب ازواج مطہراتg نے یہ تخویف اور تادیب سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی کے لیے جلدی سے آگے بڑھیں، پس یہ مذکور اوصاف ان پر منطبق ہوئے اور وہ مومن عورتوں میں سب سے افضل قرار پائیں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے مکمل احوال اور اعلی امور کا انتخاب کرتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے مذکورہ خواتین کو اپنے رسول کے حرم کے لیے باقی رکھنا پسند کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر اور کامل ہیں۔
التحريم 66:6
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بچاؤ تم اپنے نفسوں کو اور اپنے اہل (و عیال) کو اس آگ سے کہ ایندھن اس کا ہیں انسان اور پتھر، اس پر (مقرر) ہیں فرشتے نہایت سخت دل بڑے مضبوط، نہیں نافرمانی کرتے وہ اللہ کی جس کا حکم دے وہ انھیں اوروہ (وہی ) کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں وہ(6)
[6] یعنی اے وہ لوگو جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے نوازا ہے! ایمان کے لوازمات اور اس کی شرائط کا التزام کرو، اس لیے ﴿ قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا﴾ ’’اپنے آپ کواور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ ‘‘ جو ان برے اوصاف سے متصف ہے۔ نفس کو بچانا یہ ہے کہ اس سے، اطاعت کا، اللہ تعالیٰ کے اوامر کا، اس کے نواہی سے اجتناب کا اور ایسے امور سے توبہ کا التزام کرایا جائے، جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور جو عذاب کے موجب ہیں۔اہل و عیال کو بچانا یہ ہے کہ ان کو ادب و علم سکھایا جائے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل پر مجبور کیا جائے۔پس بندہ صرف اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں، جو اس کی سرپرستی میں اور اس کے تصرف کے تحت ہوں، اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آگ کے یہ اوصاف اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھنے سے ڈریں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ﴾ ’’جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔‘‘ جیسا کہ فرمایا:﴿ اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍98) ’’تم اور تمھارے وہ خود ساختہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کرعبادت کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں،تمھیں جہنم میں وارد ہونا ہے۔‘‘ ﴿عَلَيۡهَا مَلٰٓىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ﴾ ’’جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں۔‘‘ ان فرشتوں کے اخلاق بہت درشت اور ان کا انتقام بہت برا ہو گا، جہنمی ان کی آوازیں سن کرگھبرائیں گے اور ان کو دیکھ کر خوف کھائیں گے، یہ فرشتے اپنی طاقت و قوت سے جہنمیوں کو رسوا کریں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ کریں گے جس نے ان کے بارے میں عذاب کا حتمی فیصلہ کیا ہے اور سخت سزا ان پر واجب کی ہے۔ ﴿ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ انھیں جو حکم دیتا ہے، وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انھیں ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔‘‘ اس میں بھی مکرم فرشتوں کی مدح، اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کے سر تسلیم خم کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر ان کی اطاعت کا ذکر ہے۔
التحريم 66:7
اے لوگو جنھوں نے کفر کیا! نہ عذر پیش کرو تم آج، یقیناً بدلہ دیے جاؤ گے تم جو کچھ تھے تم عمل کرتے(7)
[7] یعنی قیامت کے روز ان الفاظ میں جہنمیوں کو زجر و توبیخ کی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَعۡتَذِرُوا الۡيَوۡمَ﴾ ’’اے کافرو! آج عذر مت پیش کرو۔‘‘ یعنی عذر پیش کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا، اب تو اعمال کی جزا و سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور تم نے اللہ تعالیٰ کے انکار، اس کی آیات کی تکذیب اور اس کے رسولوں اور اولیاء کے ساتھ جنگ کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا۔
التحريم 66:8
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! توبہ کرو تم اللہ کی طرف توبہ خالص ،امید ہے تمھارا رب یہ کہ دور کر دے تم سے تمھاری برائیاں اور وہ داخل کرے تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اس دن کہ نہیں رسوا کرے گا اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے اس کے ساتھ، ان کا نور دوڑتا ہو گا ان کے آگے اور ان کے دائیں ، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! پورا فرما ہمارے لیے ہمارا نور اور مغفرت فرما ہماری، بلاشبہ تو ہر چیز پر خوب قادر ہے(8)
[8] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں خالص توبہ کا حکم دیا ہے، اس پر ان کے ساتھ برائیاں مٹا دینے، جنتوں میں داخل کرنے اور فوز و فلاح کا وعدہ کیا ہے، جب قیامت کے دن اہل ایمان اپنے نور ایمان کے ساتھ اور اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے، اس کی خوشبو اور راحت سے متمتع ہو رہے ہوں گے اور اس روشنی کے بجھ جانے پر ڈریں گے جو منافقین کو دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے کہ وہ ان کے نور کو پورا کرے۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرمائے گا، ان کے پاس جو نور اور یقین ہو گا، اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انھیں نعمتوں بھری جنتوں اور رب کریم کے جوار میں پہنچا دے گا۔ یہ سب خالص توبہ کے آثار ہیں ۔خالص توبہ سے مراد وہ توبہ ہے جو ان تمام گناہوں کو شامل ہو جو بندے نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کیے ہیں، اس توبہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کے سوا کچھ مقصود نہ ہو، پھر بندہ تمام احوال میں اس توبہ پر قائم رہے۔
التحريم 66:9
اے نبی! آپ جہاد کیجیے کفار و منافقین سے اور سختی کیجیے ان پر اور ٹھکانا ان کا جہنم ہے اور بری ہے وہ جگہ پھرنے کی(9)
[9] اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کرنے اور اس بارے میں ان پر سختی کرنے کا حکم دیتا ہے اس میں ان کے ساتھ دلیل کے ذریعے سے جہاد کرنا، ان کو اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دینا، گمراہی کی مختلف اقسام پر مبنی ان کے موقف کا ابطال کرنا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی دعوت کو قبول کرنے اور اس کے فیصلے کی اطاعت کرنے سے انکار کر دے، اس کے خلاف اسلحہ اور جنگ کے ذریعے سے جہاد کرنا، سب شامل ہے۔ پس ایسے لوگوں کے خلاف جہاد کیا جائے اور ان پر سختی کی جائے۔رہا جہاد کا پہلا مرتبہ، تو وہ اس ذریعے سے ہو جو بہترین ہے، پس کفار اور منافقین پر اور ان کے خلاف جہاد پر اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ اور آپ کی جماعت کو لگانا دنیا کے اندر ان کے لیے عذاب ہے اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہو گا جو بہت بری جگہ ہے جس کی طرف ہر بدبخت اور خائب و خاسر شخص لوٹے گا۔
یہ دو مثالیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کے لیے بیان کی ہیں تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ کافر کا مومن کے ساتھ اتصال اور مومن کا قرب کافر کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور مومن کا کافر کے ساتھ اتصال، مومن کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا اگر مومن فرائض کو پورا کرتا ہے۔ گویا اس میں ازواج مطہرات کے لیے معصیت سے بچنے کی تنبیہ ہے نیز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اتصال ان کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا اگر انھوں نے برائی کی ہے، چنانچہ فرمایا:
التحريم 66:10
بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، نوح کی بیوی کی اور لوط کی بیوی کی، تھیں وہ دونوں زیر نکاح دو بندوں کے ہمارے بندوں میں سے (جو) نیک تھے، پس خیانت کی ان دونوں (عورتوں) نے ان کی تو نہ فائدہ دیا ان دونوں نے ان کو اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور کہہ دیا گیا، داخل ہو جاؤ تم دونوں (عورتیں) آگ میں ساتھ داخل ہونے والوں کے (10) اور بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، فرعون کی بیوی کی، جب کہا اس نے، اے میرے رب! بنا میرے لیے اپنے ہاں ایک گھر جنت میں، اور نجات دے مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے اور نجات دے مجھے ظالم قوم سے (11) اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی وہ جس نے حفاظت کی اپنی عصمت کی تو پھونکی ہم نے اس (کے گریبان) میں اپنی روح، اور تصدیق کی اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی، اور تھی وہ فرماں برداروں میں سے (12)
[10]﴿ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّامۡرَاَتَ لُوۡطٍ١ؕ كَانَتَا﴾ ’’اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے، یہ دونوں تھیں۔‘‘ یعنی دونوں عورتیں ﴿ تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَيۡنِ﴾ ’’ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے گھر میں۔‘‘ اور یہ تھے حضرت نوح اور حضرت لوطi ﴿فَخَانَتٰهُمَا﴾ ’’پس انھوں نے دونوں کی خیانت کی۔‘‘ یعنی دین میں (ان دونوں نے نبیوں کی خیانت کی) دونوں اپنے شوہروں کے دین کے سوا کسی اور دین پر تھیں۔ خیانت سے یہی معنیٰ مراد ہے اور اس سے نسب اور بستر کی خیانت مراد نہیں، کیونکہ کسی نبی کی بیوی بدکاری کی مرتکب نہیں ہوئی اور نہ اللہ تعالیٰ نے کسی بدکار عورت کو انبیائے کرام میں سے کسی کی بیوی ہی بنایا ہے۔ ﴿ فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا﴾ ’’پس نہ کام آئے وہ دونوں ان دونوں کے۔‘‘یعنی حضرت نوح اور لوطi اپنی بیویوں کے کچھ کام نہ آئے۔﴿ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ﴾ ’’اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور انھیں کہا گیا کہ وہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجائیں۔‘‘
[11]﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ﴾ ’’اور اللہ نے مومنوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی۔‘‘اور وہ تھیں آسیہ بنت مزاحمr ﴿ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِيۡ عِنۡدَكَ بَيۡتًا فِي الۡجَنَّةِ وَنَجِّنِيۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’جب اس نے کہا: اے میرے رب! میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے نجات دے، اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ کا وصف بیان کیا کہ وہ ایمان رکھتی تھیں، اپنے رب کے سامنے گڑ گڑاتی تھیں، اللہ تعالیٰ سے مطالب جلیلہ کا سوال کرتی تھیں اور وہ ہے جنت میں دخول اور رب کریم کی مجاورت کا سوال، نیز وہ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرتی تھیں کہ وہ اسے فرعون کے فتنے، اس کے اعمال بد اور ہر ظالم کے فتنہ سے نجات دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ r کی دعا قبول فرما لی، چنانچہ وہ ایمان کامل اور اس پر ثابت قدمی کے ساتھ زندہ رہیں اور تمام فتنوں سے بچی رہیں۔ بنابریں نبی مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: ’’مردوں میں سے مرتبۂ کمال کو پہنچنے والے لوگ تو بہت ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم اور خدیجہ بنت خویلد کے سوا کوئی عورت مرتبۂ کمال کو نہیں پہنچی، اور عائشہ rکی تمام عورتوں پر فضیلت ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔‘‘(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی:﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ....﴾(التحریم: 12,11/66، حديث: 3411، و صحيح مسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل خديجة أم المؤمنينr، حديث: 2431، والبداية والنهاية: 127/3)
[12]﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا﴾ ’’اور عمران کی بیٹی مریم ، جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی کامل دیانت، عفت اور پاکیزگی کی بنا پر ہر فحش کام سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔ ﴿ فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا﴾ ’’پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ جبریلu نے اس کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری اور ان کی یہ پھونک حضرت مریم تک پہنچی، چنانچہ اس طرح حضرت مریم [سے رسول کریم اور سید عظیم حضرت عیسیٰu متولد ہوئے ﴿ وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَؔكُتُبِهٖ﴾ ’’اور انھوں نے اپنے رب کے کلام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی۔‘‘ یہ حضرت مریم[ کو علم اور معرفت سے موصوف کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کی تصدیق اس کے کلمات دینی اور قدری کی تصدیق کو شامل ہے، اس کی کتابوں کی تصدیق ان امور کا تقاضا کرتی ہے جن کے ذریعے سے تصدیق حاصل ہوتی ہے اور یہ علم و عمل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ﴾ ’’اور وہ فرماں برداروں میں سے تھیں۔‘‘ یعنی وہ خشیت اور خشوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مداومت کرنے والوں میں سے تھیں، یہ ان کے کمال عمل کا وصف ہے کیونکہ وہ صدیقہ تھیں اور صدیقیت کمال علم و عمل کا نام ہے۔
التحريم 66:11
بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، نوح کی بیوی کی اور لوط کی بیوی کی، تھیں وہ دونوں زیر نکاح دو بندوں کے ہمارے بندوں میں سے (جو) نیک تھے، پس خیانت کی ان دونوں (عورتوں) نے ان کی تو نہ فائدہ دیا ان دونوں نے ان کو اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور کہہ دیا گیا، داخل ہو جاؤ تم دونوں (عورتیں) آگ میں ساتھ داخل ہونے والوں کے (10) اور بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، فرعون کی بیوی کی، جب کہا اس نے، اے میرے رب! بنا میرے لیے اپنے ہاں ایک گھر جنت میں، اور نجات دے مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے اور نجات دے مجھے ظالم قوم سے (11) اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی وہ جس نے حفاظت کی اپنی عصمت کی تو پھونکی ہم نے اس (کے گریبان) میں اپنی روح، اور تصدیق کی اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی، اور تھی وہ فرماں برداروں میں سے (12)
[10]﴿ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّامۡرَاَتَ لُوۡطٍ١ؕ كَانَتَا﴾ ’’اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے، یہ دونوں تھیں۔‘‘ یعنی دونوں عورتیں ﴿ تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَيۡنِ﴾ ’’ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے گھر میں۔‘‘ اور یہ تھے حضرت نوح اور حضرت لوطi ﴿فَخَانَتٰهُمَا﴾ ’’پس انھوں نے دونوں کی خیانت کی۔‘‘ یعنی دین میں (ان دونوں نے نبیوں کی خیانت کی) دونوں اپنے شوہروں کے دین کے سوا کسی اور دین پر تھیں۔ خیانت سے یہی معنیٰ مراد ہے اور اس سے نسب اور بستر کی خیانت مراد نہیں، کیونکہ کسی نبی کی بیوی بدکاری کی مرتکب نہیں ہوئی اور نہ اللہ تعالیٰ نے کسی بدکار عورت کو انبیائے کرام میں سے کسی کی بیوی ہی بنایا ہے۔ ﴿ فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا﴾ ’’پس نہ کام آئے وہ دونوں ان دونوں کے۔‘‘یعنی حضرت نوح اور لوطi اپنی بیویوں کے کچھ کام نہ آئے۔﴿ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ﴾ ’’اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور انھیں کہا گیا کہ وہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجائیں۔‘‘
[11]﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ﴾ ’’اور اللہ نے مومنوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی۔‘‘اور وہ تھیں آسیہ بنت مزاحمr ﴿ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِيۡ عِنۡدَكَ بَيۡتًا فِي الۡجَنَّةِ وَنَجِّنِيۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’جب اس نے کہا: اے میرے رب! میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے نجات دے، اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ کا وصف بیان کیا کہ وہ ایمان رکھتی تھیں، اپنے رب کے سامنے گڑ گڑاتی تھیں، اللہ تعالیٰ سے مطالب جلیلہ کا سوال کرتی تھیں اور وہ ہے جنت میں دخول اور رب کریم کی مجاورت کا سوال، نیز وہ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرتی تھیں کہ وہ اسے فرعون کے فتنے، اس کے اعمال بد اور ہر ظالم کے فتنہ سے نجات دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ r کی دعا قبول فرما لی، چنانچہ وہ ایمان کامل اور اس پر ثابت قدمی کے ساتھ زندہ رہیں اور تمام فتنوں سے بچی رہیں۔ بنابریں نبی مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: ’’مردوں میں سے مرتبۂ کمال کو پہنچنے والے لوگ تو بہت ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم اور خدیجہ بنت خویلد کے سوا کوئی عورت مرتبۂ کمال کو نہیں پہنچی، اور عائشہ rکی تمام عورتوں پر فضیلت ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔‘‘(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی:﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ....﴾(التحریم: 12,11/66، حديث: 3411، و صحيح مسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل خديجة أم المؤمنينr، حديث: 2431، والبداية والنهاية: 127/3)
[12]﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا﴾ ’’اور عمران کی بیٹی مریم ، جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی کامل دیانت، عفت اور پاکیزگی کی بنا پر ہر فحش کام سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔ ﴿ فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا﴾ ’’پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ جبریلu نے اس کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری اور ان کی یہ پھونک حضرت مریم تک پہنچی، چنانچہ اس طرح حضرت مریم [سے رسول کریم اور سید عظیم حضرت عیسیٰu متولد ہوئے ﴿ وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَؔكُتُبِهٖ﴾ ’’اور انھوں نے اپنے رب کے کلام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی۔‘‘ یہ حضرت مریم[ کو علم اور معرفت سے موصوف کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کی تصدیق اس کے کلمات دینی اور قدری کی تصدیق کو شامل ہے، اس کی کتابوں کی تصدیق ان امور کا تقاضا کرتی ہے جن کے ذریعے سے تصدیق حاصل ہوتی ہے اور یہ علم و عمل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ﴾ ’’اور وہ فرماں برداروں میں سے تھیں۔‘‘ یعنی وہ خشیت اور خشوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مداومت کرنے والوں میں سے تھیں، یہ ان کے کمال عمل کا وصف ہے کیونکہ وہ صدیقہ تھیں اور صدیقیت کمال علم و عمل کا نام ہے۔
التحريم 66:12
بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، نوح کی بیوی کی اور لوط کی بیوی کی، تھیں وہ دونوں زیر نکاح دو بندوں کے ہمارے بندوں میں سے (جو) نیک تھے، پس خیانت کی ان دونوں (عورتوں) نے ان کی تو نہ فائدہ دیا ان دونوں نے ان کو اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور کہہ دیا گیا، داخل ہو جاؤ تم دونوں (عورتیں) آگ میں ساتھ داخل ہونے والوں کے (10) اور بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، فرعون کی بیوی کی، جب کہا اس نے، اے میرے رب! بنا میرے لیے اپنے ہاں ایک گھر جنت میں، اور نجات دے مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے اور نجات دے مجھے ظالم قوم سے (11) اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی وہ جس نے حفاظت کی اپنی عصمت کی تو پھونکی ہم نے اس (کے گریبان) میں اپنی روح، اور تصدیق کی اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی، اور تھی وہ فرماں برداروں میں سے (12)
[10]﴿ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّامۡرَاَتَ لُوۡطٍ١ؕ كَانَتَا﴾ ’’اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے، یہ دونوں تھیں۔‘‘ یعنی دونوں عورتیں ﴿ تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَيۡنِ﴾ ’’ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے گھر میں۔‘‘ اور یہ تھے حضرت نوح اور حضرت لوطi ﴿فَخَانَتٰهُمَا﴾ ’’پس انھوں نے دونوں کی خیانت کی۔‘‘ یعنی دین میں (ان دونوں نے نبیوں کی خیانت کی) دونوں اپنے شوہروں کے دین کے سوا کسی اور دین پر تھیں۔ خیانت سے یہی معنیٰ مراد ہے اور اس سے نسب اور بستر کی خیانت مراد نہیں، کیونکہ کسی نبی کی بیوی بدکاری کی مرتکب نہیں ہوئی اور نہ اللہ تعالیٰ نے کسی بدکار عورت کو انبیائے کرام میں سے کسی کی بیوی ہی بنایا ہے۔ ﴿ فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا﴾ ’’پس نہ کام آئے وہ دونوں ان دونوں کے۔‘‘یعنی حضرت نوح اور لوطi اپنی بیویوں کے کچھ کام نہ آئے۔﴿ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ﴾ ’’اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور انھیں کہا گیا کہ وہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجائیں۔‘‘
[11]﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ﴾ ’’اور اللہ نے مومنوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی۔‘‘اور وہ تھیں آسیہ بنت مزاحمr ﴿ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِيۡ عِنۡدَكَ بَيۡتًا فِي الۡجَنَّةِ وَنَجِّنِيۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’جب اس نے کہا: اے میرے رب! میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے نجات دے، اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ کا وصف بیان کیا کہ وہ ایمان رکھتی تھیں، اپنے رب کے سامنے گڑ گڑاتی تھیں، اللہ تعالیٰ سے مطالب جلیلہ کا سوال کرتی تھیں اور وہ ہے جنت میں دخول اور رب کریم کی مجاورت کا سوال، نیز وہ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرتی تھیں کہ وہ اسے فرعون کے فتنے، اس کے اعمال بد اور ہر ظالم کے فتنہ سے نجات دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ r کی دعا قبول فرما لی، چنانچہ وہ ایمان کامل اور اس پر ثابت قدمی کے ساتھ زندہ رہیں اور تمام فتنوں سے بچی رہیں۔ بنابریں نبی مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: ’’مردوں میں سے مرتبۂ کمال کو پہنچنے والے لوگ تو بہت ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم اور خدیجہ بنت خویلد کے سوا کوئی عورت مرتبۂ کمال کو نہیں پہنچی، اور عائشہ rکی تمام عورتوں پر فضیلت ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔‘‘(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی:﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ....﴾(التحریم: 12,11/66، حديث: 3411، و صحيح مسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل خديجة أم المؤمنينr، حديث: 2431، والبداية والنهاية: 127/3)
[12]﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا﴾ ’’اور عمران کی بیٹی مریم ، جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی کامل دیانت، عفت اور پاکیزگی کی بنا پر ہر فحش کام سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔ ﴿ فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا﴾ ’’پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ جبریلu نے اس کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری اور ان کی یہ پھونک حضرت مریم تک پہنچی، چنانچہ اس طرح حضرت مریم [سے رسول کریم اور سید عظیم حضرت عیسیٰu متولد ہوئے ﴿ وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَؔكُتُبِهٖ﴾ ’’اور انھوں نے اپنے رب کے کلام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی۔‘‘ یہ حضرت مریم[ کو علم اور معرفت سے موصوف کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کی تصدیق اس کے کلمات دینی اور قدری کی تصدیق کو شامل ہے، اس کی کتابوں کی تصدیق ان امور کا تقاضا کرتی ہے جن کے ذریعے سے تصدیق حاصل ہوتی ہے اور یہ علم و عمل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ﴾ ’’اور وہ فرماں برداروں میں سے تھیں۔‘‘ یعنی وہ خشیت اور خشوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مداومت کرنے والوں میں سے تھیں، یہ ان کے کمال عمل کا وصف ہے کیونکہ وہ صدیقہ تھیں اور صدیقیت کمال علم و عمل کا نام ہے۔
الملك 67:1
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات کہ اس کےہاتھ میں ہے (تمام) بادشاہی، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا موت و حیات کو تاکہ وہ آزمائے تمھیں، کون تم میں سے اچھا ہے عمل میں؟ اور وہ بڑا زبردست، خوب بخشنے والا ہے(2) وہ جس نے پیدا کیے سات آسمان اوپر نیچے، نہیں دیکھے گا تو رحمن کے پیدا کرنے میں کوئی فرق پس لوٹا تو نگاہ کو، کیا تو دیکھتا ہے، کوئی شگاف؟(3) پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ (بار بار)، لوٹ آئے گی تیری طرف نگاہ ذلیل ہو کر اس حال میں کہ وہ تھکی ماندی ہو گی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ﴾ یعنی بہت عظمت والی اور بہت بلند ہے وہ ہستی، اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے، وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے، جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں۔اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے، اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات ، مثلاً: آسمان اور زمین کو وجود بخشا۔
[2] اور ﴿ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ ﴾ ’’اس نے موت و حیات کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے بندوں کے لیے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے ، پھر موت سے ہم کنار کرے ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے زیادہ صاحبِ اخلاص اور کون سب سے زیادہ راہ صواب پر ہے۔ یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پیدا کر کے ان کو اس دنیا میں بھیجا، انھیں یہ بھی بتا دیا کہ انھیں عنقریب یہاں سے منتقل کیا جائے گا، ان کو اوامر و نواہی دیے اور اپنے ان اوامر کی معارض شہوات کے ذریعے سے ان کو آزمایا۔ پس جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بہترین جزا دے گا اور جو کوئی شہوات نفس کی طرف مائل ہوا اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کو دور پھینک دیا تو اس کے لیے بدترین سزا ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ تمام غلبہ اسی کا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام چیزوں پر غالب ہے اور مخلوقات اس کی مطیع ہے۔ ﴿ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ بدکاروں، کوتاہی کرنے والوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، خواہ وہ آسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہوں، وہ ان کے عیوب کو چھپاتا ہے، خواہ وہ زمین بھر ہوں۔
[3]﴿ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴾ یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا ﴿ مَا تَرٰؔى فِيۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ﴾ ’’تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھوگے۔‘‘ یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاظ سے نفی ہو گئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیئت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں۔چونکہ اس کا کمال معلوم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بار بار دیکھنے اور اس کے کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿ فَارۡجِـعِ الۡبَصَرَ ﴾ عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے، اس پر دوبارہ نگاہ ڈال ﴿ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴾ کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے؟
[4]﴿ ثُمَّ ارۡجِـعِ الۡبَصَرَؔ كَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ بار بار۔‘‘ اس سے مراد کثرت تکرار ہے ﴿ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴾ ’’نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔‘‘ یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بے انتہا خواہش رکھتی ہو ،
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ آسمانوں کی خوبصورتی کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:
الملك 67:2
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات کہ اس کےہاتھ میں ہے (تمام) بادشاہی، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا موت و حیات کو تاکہ وہ آزمائے تمھیں، کون تم میں سے اچھا ہے عمل میں؟ اور وہ بڑا زبردست، خوب بخشنے والا ہے(2) وہ جس نے پیدا کیے سات آسمان اوپر نیچے، نہیں دیکھے گا تو رحمن کے پیدا کرنے میں کوئی فرق پس لوٹا تو نگاہ کو، کیا تو دیکھتا ہے، کوئی شگاف؟(3) پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ (بار بار)، لوٹ آئے گی تیری طرف نگاہ ذلیل ہو کر اس حال میں کہ وہ تھکی ماندی ہو گی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ﴾ یعنی بہت عظمت والی اور بہت بلند ہے وہ ہستی، اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے، وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے، جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں۔اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے، اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات ، مثلاً: آسمان اور زمین کو وجود بخشا۔
[2] اور ﴿ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ ﴾ ’’اس نے موت و حیات کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے بندوں کے لیے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے ، پھر موت سے ہم کنار کرے ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے زیادہ صاحبِ اخلاص اور کون سب سے زیادہ راہ صواب پر ہے۔ یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پیدا کر کے ان کو اس دنیا میں بھیجا، انھیں یہ بھی بتا دیا کہ انھیں عنقریب یہاں سے منتقل کیا جائے گا، ان کو اوامر و نواہی دیے اور اپنے ان اوامر کی معارض شہوات کے ذریعے سے ان کو آزمایا۔ پس جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بہترین جزا دے گا اور جو کوئی شہوات نفس کی طرف مائل ہوا اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کو دور پھینک دیا تو اس کے لیے بدترین سزا ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ تمام غلبہ اسی کا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام چیزوں پر غالب ہے اور مخلوقات اس کی مطیع ہے۔ ﴿ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ بدکاروں، کوتاہی کرنے والوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، خواہ وہ آسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہوں، وہ ان کے عیوب کو چھپاتا ہے، خواہ وہ زمین بھر ہوں۔
[3]﴿ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴾ یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا ﴿ مَا تَرٰؔى فِيۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ﴾ ’’تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھوگے۔‘‘ یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاظ سے نفی ہو گئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیئت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں۔چونکہ اس کا کمال معلوم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بار بار دیکھنے اور اس کے کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿ فَارۡجِـعِ الۡبَصَرَ ﴾ عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے، اس پر دوبارہ نگاہ ڈال ﴿ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴾ کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے؟
[4]﴿ ثُمَّ ارۡجِـعِ الۡبَصَرَؔ كَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ بار بار۔‘‘ اس سے مراد کثرت تکرار ہے ﴿ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴾ ’’نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔‘‘ یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بے انتہا خواہش رکھتی ہو ،
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ آسمانوں کی خوبصورتی کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:
الملك 67:3
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات کہ اس کےہاتھ میں ہے (تمام) بادشاہی، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا موت و حیات کو تاکہ وہ آزمائے تمھیں، کون تم میں سے اچھا ہے عمل میں؟ اور وہ بڑا زبردست، خوب بخشنے والا ہے(2) وہ جس نے پیدا کیے سات آسمان اوپر نیچے، نہیں دیکھے گا تو رحمن کے پیدا کرنے میں کوئی فرق پس لوٹا تو نگاہ کو، کیا تو دیکھتا ہے، کوئی شگاف؟(3) پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ (بار بار)، لوٹ آئے گی تیری طرف نگاہ ذلیل ہو کر اس حال میں کہ وہ تھکی ماندی ہو گی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ﴾ یعنی بہت عظمت والی اور بہت بلند ہے وہ ہستی، اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے، وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے، جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں۔اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے، اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات ، مثلاً: آسمان اور زمین کو وجود بخشا۔
[2] اور ﴿ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ ﴾ ’’اس نے موت و حیات کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے بندوں کے لیے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے ، پھر موت سے ہم کنار کرے ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے زیادہ صاحبِ اخلاص اور کون سب سے زیادہ راہ صواب پر ہے۔ یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پیدا کر کے ان کو اس دنیا میں بھیجا، انھیں یہ بھی بتا دیا کہ انھیں عنقریب یہاں سے منتقل کیا جائے گا، ان کو اوامر و نواہی دیے اور اپنے ان اوامر کی معارض شہوات کے ذریعے سے ان کو آزمایا۔ پس جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بہترین جزا دے گا اور جو کوئی شہوات نفس کی طرف مائل ہوا اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کو دور پھینک دیا تو اس کے لیے بدترین سزا ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ تمام غلبہ اسی کا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام چیزوں پر غالب ہے اور مخلوقات اس کی مطیع ہے۔ ﴿ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ بدکاروں، کوتاہی کرنے والوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، خواہ وہ آسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہوں، وہ ان کے عیوب کو چھپاتا ہے، خواہ وہ زمین بھر ہوں۔
[3]﴿ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴾ یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا ﴿ مَا تَرٰؔى فِيۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ﴾ ’’تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھوگے۔‘‘ یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاظ سے نفی ہو گئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیئت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں۔چونکہ اس کا کمال معلوم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بار بار دیکھنے اور اس کے کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿ فَارۡجِـعِ الۡبَصَرَ ﴾ عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے، اس پر دوبارہ نگاہ ڈال ﴿ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴾ کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے؟
[4]﴿ ثُمَّ ارۡجِـعِ الۡبَصَرَؔ كَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ بار بار۔‘‘ اس سے مراد کثرت تکرار ہے ﴿ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴾ ’’نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔‘‘ یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بے انتہا خواہش رکھتی ہو ،
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ آسمانوں کی خوبصورتی کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:
الملك 67:4
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات کہ اس کےہاتھ میں ہے (تمام) بادشاہی، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا موت و حیات کو تاکہ وہ آزمائے تمھیں، کون تم میں سے اچھا ہے عمل میں؟ اور وہ بڑا زبردست، خوب بخشنے والا ہے(2) وہ جس نے پیدا کیے سات آسمان اوپر نیچے، نہیں دیکھے گا تو رحمن کے پیدا کرنے میں کوئی فرق پس لوٹا تو نگاہ کو، کیا تو دیکھتا ہے، کوئی شگاف؟(3) پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ (بار بار)، لوٹ آئے گی تیری طرف نگاہ ذلیل ہو کر اس حال میں کہ وہ تھکی ماندی ہو گی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ﴾ یعنی بہت عظمت والی اور بہت بلند ہے وہ ہستی، اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے، وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے، جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں۔اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے، اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات ، مثلاً: آسمان اور زمین کو وجود بخشا۔
[2] اور ﴿ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ ﴾ ’’اس نے موت و حیات کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے بندوں کے لیے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے ، پھر موت سے ہم کنار کرے ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے زیادہ صاحبِ اخلاص اور کون سب سے زیادہ راہ صواب پر ہے۔ یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پیدا کر کے ان کو اس دنیا میں بھیجا، انھیں یہ بھی بتا دیا کہ انھیں عنقریب یہاں سے منتقل کیا جائے گا، ان کو اوامر و نواہی دیے اور اپنے ان اوامر کی معارض شہوات کے ذریعے سے ان کو آزمایا۔ پس جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بہترین جزا دے گا اور جو کوئی شہوات نفس کی طرف مائل ہوا اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کو دور پھینک دیا تو اس کے لیے بدترین سزا ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ تمام غلبہ اسی کا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام چیزوں پر غالب ہے اور مخلوقات اس کی مطیع ہے۔ ﴿ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ بدکاروں، کوتاہی کرنے والوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، خواہ وہ آسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہوں، وہ ان کے عیوب کو چھپاتا ہے، خواہ وہ زمین بھر ہوں۔
[3]﴿ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴾ یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا ﴿ مَا تَرٰؔى فِيۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ﴾ ’’تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھوگے۔‘‘ یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاظ سے نفی ہو گئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیئت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں۔چونکہ اس کا کمال معلوم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بار بار دیکھنے اور اس کے کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿ فَارۡجِـعِ الۡبَصَرَ ﴾ عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے، اس پر دوبارہ نگاہ ڈال ﴿ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴾ کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے؟
[4]﴿ ثُمَّ ارۡجِـعِ الۡبَصَرَؔ كَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ بار بار۔‘‘ اس سے مراد کثرت تکرار ہے ﴿ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴾ ’’نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔‘‘ یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بے انتہا خواہش رکھتی ہو ،
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ آسمانوں کی خوبصورتی کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:
الملك 67:5
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
الملك 67:6
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
الملك 67:7
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
الملك 67:8
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
الملك 67:9
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
الملك 67:10
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
الملك 67:11
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
الملك 67:12
بلاشبہ وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے، ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا (12)
[12] اللہ تعالیٰ نے بدبخت فاجروں کا ذکر کیا تو سعادت مند نیک لوگوں کا وصف بھی بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ ﴾ بے شك وه لوگ جو اپنے تمام احوال میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں حتیٰ کہ وہ اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پس وہ اس کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں نہ اس کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی کرتے ہیں جو ان کو دیا گیا ہے ﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ﴾ ان کے لیے ان کے گناہوں کی بخشش ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا تو اس نے ان کو ان گناہوں کے شر اور جہنم کے عذاب سے بچا لیا۔ ﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کے لیے ﴿ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ﴾ بڑا اجر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں تیار رکھا ہے، یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، بہت بڑی بادشاہی، پیہم لذتیں، محلات، بلند بالا خانے، گوری چٹی خوبصورت عورتیں، خدمت گار اور خدمت کرنے والے لڑکے۔ اس سے بھی عظیم تر اور بڑا اجر رحمان کی رضا ہے جو جنت کے رہنے والوں کو حاصل ہو گی۔
الملك 67:13
اور تم چھپا کر کرو اپنی بات یا پکار کر کرو اس کو، بلاشبہ وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے (13) کیا (بھلا) نہیں جانے گا وہ جس نے (سب کو) پیدا کیا؟ اور وہ نہایت باریک بین ، خبردار (بھی) ہے (14)
[13] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے وسیع علم، بے پایاں لطف و کرم کے بارے میں خبر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَسِرُّوۡا قَوۡلَكُمۡ اَوِ اجۡهَرُوۡا بِهٖ﴾ ’’اور تم پوشیدہ کہو یا ظاہر ۔‘‘ یعنی اس کے لیے دونوں برابر ہیں، دونوں میں سے کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی، پس ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ وہ سینے میں چھپی ہوئی نیتوں اور ارادوں کو بھی جانتا ہے، وہ ان اقوال کو کیوں کر نہیں جانتا جن کو سنا جا سکتا ہے اور جن کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے؟
[14] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم پر عقلی دلیل سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ﴾ یعنی وہ ہستی جس نے مخلوق کو نہایت مہارت سے اور بہترین طریقے سے پیدا کیا ہے وہ سینوں کے بھید کیوں کر نہ جانتی ہو گی؟ ﴿ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ﴾ اس کے علم و خبر بہت لطیف ہیں حتیٰ کہ وہ سینے کے بھیدوں، ضمیر کے رازوں، تمام چھپی ہوئی چیزوں، خفیہ امور اور غیوب کو جانتا ہے، وہی ہے جو ﴿ يَعۡلَمُ السِّرَّ وَاَخۡفٰى﴾(طٰہٰ:20؍7) ’’چھپی ہوئی اور پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے۔‘‘ (اَللَّطِیفُ) کے معانی میں سے ایک معنی یہ ہے کہ وہ اپنے بندے اور دوست کے ساتھ نہایت لطف و کرم سے پیش آتا ہے، اس کے ساتھ احسان اور نیکی اس طرح کرتا ہے کہ اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے شر سے بچاتا ہے جہاں اسے وہم و گمان نہیں ہوتا، وہ اسے ایسے اسباب کے ذریعے سے اعلیٰ مراتب پر فائز کرتا ہے، جو بندے کے تصور میں بھی نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اسے ناگوار حالات کا مزا چکھاتا ہے اور ان کے ذریعے سے اسے جلیل القدر محبوبات اور اعلیٰ مطالب و مقاصد تک پہنچاتا ہے۔
الملك 67:14
اور تم چھپا کر کرو اپنی بات یا پکار کر کرو اس کو، بلاشبہ وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے (13) کیا (بھلا) نہیں جانے گا وہ جس نے (سب کو) پیدا کیا؟ اور وہ نہایت باریک بین ، خبردار (بھی) ہے (14)
[13] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے وسیع علم، بے پایاں لطف و کرم کے بارے میں خبر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَسِرُّوۡا قَوۡلَكُمۡ اَوِ اجۡهَرُوۡا بِهٖ﴾ ’’اور تم پوشیدہ کہو یا ظاہر ۔‘‘ یعنی اس کے لیے دونوں برابر ہیں، دونوں میں سے کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی، پس ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ وہ سینے میں چھپی ہوئی نیتوں اور ارادوں کو بھی جانتا ہے، وہ ان اقوال کو کیوں کر نہیں جانتا جن کو سنا جا سکتا ہے اور جن کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے؟
[14] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم پر عقلی دلیل سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ﴾ یعنی وہ ہستی جس نے مخلوق کو نہایت مہارت سے اور بہترین طریقے سے پیدا کیا ہے وہ سینوں کے بھید کیوں کر نہ جانتی ہو گی؟ ﴿ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ﴾ اس کے علم و خبر بہت لطیف ہیں حتیٰ کہ وہ سینے کے بھیدوں، ضمیر کے رازوں، تمام چھپی ہوئی چیزوں، خفیہ امور اور غیوب کو جانتا ہے، وہی ہے جو ﴿ يَعۡلَمُ السِّرَّ وَاَخۡفٰى﴾(طٰہٰ:20؍7) ’’چھپی ہوئی اور پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے۔‘‘ (اَللَّطِیفُ) کے معانی میں سے ایک معنی یہ ہے کہ وہ اپنے بندے اور دوست کے ساتھ نہایت لطف و کرم سے پیش آتا ہے، اس کے ساتھ احسان اور نیکی اس طرح کرتا ہے کہ اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے شر سے بچاتا ہے جہاں اسے وہم و گمان نہیں ہوتا، وہ اسے ایسے اسباب کے ذریعے سے اعلیٰ مراتب پر فائز کرتا ہے، جو بندے کے تصور میں بھی نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اسے ناگوار حالات کا مزا چکھاتا ہے اور ان کے ذریعے سے اسے جلیل القدر محبوبات اور اعلیٰ مطالب و مقاصد تک پہنچاتا ہے۔
الملك 67:15
وہ، وہ ذات ہے جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو نرم (مسخر) سو چلو پھرو تم اس کے راستوں میں اور کھاؤ اس (اللہ) کے رزق میں سے اور اسی کی طرف ہے قبروں سے اٹھ کر جانا (15)
[15] یعنی وہی ہے جس نے زمین کو مسخر کر دیا اور اسے تمھارا مطیع کر دیا تاکہ تم اس میں ہر وہ چیز حاصل کر سکو جس سے تمھاری حاجات متعلق ہیں، مثلاً: باغات لگانا، عمارتیں تعمیر کرنا، کھیتیاں اگانا اور ایسی شاہراہیں بنانا جو تمھیں دور دراز ملکوں اور شہروں تک پہنچاتی ہیں ﴿ فَامۡشُوۡا فِيۡ مَنَاكِبِهَا﴾ ’’پس تم اس کی راہوں میں چلو پھرو۔‘‘ یعنی طلب رزق و مکاسب کے لیے ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡ رِّؔزۡقِهٖ١ؕ وَاِلَيۡهِ النُّشُوۡرُ﴾ ’’اور اللہ کے رزق سے کھاؤ اور اسی کی طرف جی اٹھنے کے بعد جانا ہے۔‘‘ یعنی اس گھر سے منتقل ہو کر جسے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے امتحان گاہ اور ایسا وسیلہ بنایا ہے جس کے ذریعے سے آخرت کے گھر تک پہنچا جاتا ہے، تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا تاکہ وہ تمھیں تمھارے اچھے اور برے اعمال کی جزا و سزا دے۔
الملك 67:16
کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ دھنسا دے تمھیں زمین میں تو ناگہاں وہ (تیز) تیز حرکت کرنے لگے؟ (16) کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ بھیجے تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی پس عنقریب جان لو گے تم کیسا ہے میرا ڈرانا؟ (17) اور تحقیق تکذیب کی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (18)
[16] یہ اس شخص کے لیے تہدید و وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جما ہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔‘‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے ﴿ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوۡرُ﴾ ’’کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے۔‘‘ تمھیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہو جاؤ ۔
[18,17]﴿ اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ اَنۡ يُّرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بے خوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسادے۔‘‘ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے ﴿ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ كَيۡفَ نَذِيۡرِ﴾ یعنی تمھیں عنقریب معلوم ہو گا کہ وہ عذاب تم پر کیسے آتا ہے جس کے بارے میں تمھیں رسولوں اور کتابوں نے ڈرایا تھا۔ پس تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین اور آسمان کے عذاب سے تمھارا محفوظ ومامون ہونا تمھیں کوئی فائدہ دے گا۔ تم عنقریب اپنے کرتوتوں کا انجام ضرور دیکھو گے، خواہ یہ مدت لمبی ہو یا چھوٹی کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی جھٹلایا جیسے تم نے جھٹلایا ہے تو دیکھ لوکیسے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس تکذیب سے روکا؟ اللہ تعالیٰ نے آخرت کے عذاب سے پہلے انھیں دنیا میں عذاب کا مزا چکھایا، اس لیے ڈرو کہ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
الملك 67:17
کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ دھنسا دے تمھیں زمین میں تو ناگہاں وہ (تیز) تیز حرکت کرنے لگے؟ (16) کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ بھیجے تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی پس عنقریب جان لو گے تم کیسا ہے میرا ڈرانا؟ (17) اور تحقیق تکذیب کی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (18)
[16] یہ اس شخص کے لیے تہدید و وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جما ہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔‘‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے ﴿ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوۡرُ﴾ ’’کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے۔‘‘ تمھیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہو جاؤ ۔
[18,17]﴿ اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ اَنۡ يُّرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بے خوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسادے۔‘‘ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے ﴿ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ كَيۡفَ نَذِيۡرِ﴾ یعنی تمھیں عنقریب معلوم ہو گا کہ وہ عذاب تم پر کیسے آتا ہے جس کے بارے میں تمھیں رسولوں اور کتابوں نے ڈرایا تھا۔ پس تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین اور آسمان کے عذاب سے تمھارا محفوظ ومامون ہونا تمھیں کوئی فائدہ دے گا۔ تم عنقریب اپنے کرتوتوں کا انجام ضرور دیکھو گے، خواہ یہ مدت لمبی ہو یا چھوٹی کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی جھٹلایا جیسے تم نے جھٹلایا ہے تو دیکھ لوکیسے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس تکذیب سے روکا؟ اللہ تعالیٰ نے آخرت کے عذاب سے پہلے انھیں دنیا میں عذاب کا مزا چکھایا، اس لیے ڈرو کہ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
الملك 67:18
کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ دھنسا دے تمھیں زمین میں تو ناگہاں وہ (تیز) تیز حرکت کرنے لگے؟ (16) کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ بھیجے تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی پس عنقریب جان لو گے تم کیسا ہے میرا ڈرانا؟ (17) اور تحقیق تکذیب کی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (18)
[16] یہ اس شخص کے لیے تہدید و وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جما ہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔‘‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے ﴿ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوۡرُ﴾ ’’کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے۔‘‘ تمھیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہو جاؤ ۔
[18,17]﴿ اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ اَنۡ يُّرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بے خوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسادے۔‘‘ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے ﴿ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ كَيۡفَ نَذِيۡرِ﴾ یعنی تمھیں عنقریب معلوم ہو گا کہ وہ عذاب تم پر کیسے آتا ہے جس کے بارے میں تمھیں رسولوں اور کتابوں نے ڈرایا تھا۔ پس تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین اور آسمان کے عذاب سے تمھارا محفوظ ومامون ہونا تمھیں کوئی فائدہ دے گا۔ تم عنقریب اپنے کرتوتوں کا انجام ضرور دیکھو گے، خواہ یہ مدت لمبی ہو یا چھوٹی کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی جھٹلایا جیسے تم نے جھٹلایا ہے تو دیکھ لوکیسے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس تکذیب سے روکا؟ اللہ تعالیٰ نے آخرت کے عذاب سے پہلے انھیں دنیا میں عذاب کا مزا چکھایا، اس لیے ڈرو کہ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
الملك 67:19
کیا نہیں دیکھا انھوں نے (اڑتے) پرندوں کی طرف اپنے اوپر، پر پھیلاتے اور سمیٹتے ہوئے؟ نہیں تھا متا ان کو مگر (اللہ) رحمن ہی بلاشبہ وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے(19)
[19] یہ عتاب ہے اور پرندوں کی حالت پر غور کرنے کی ترغیب ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مسخر کیا اور پھر ان کے لیے فضا اور ہوا کو مسخر کیا جس میں وہ پرواز کے لیے پر پھیلائے پھرتے ہیں، نیچے اترنے کے لیے اپنے پروں کو اکٹھا کرتے اور اس فضا میں اپنے ارادے اور ضرورت کے مطابق اِدھر اُدھر تیرتے پھرتے ہیں۔ ﴿ مَا يُمۡسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحۡمٰنُ﴾ ’’انھیں اللہ رحمٰن ہی تھامے ہوئے ہے۔‘‘ پس رحمان ہی ہے جس نے ان کے لیے فضائے بسیط کو مسخر کیا اور ان کو ایسی حالت میں پیدا کیا جو پرواز کے لیے مناسب ہے۔ پس جو کوئی پرندوں کی حالت میں غور کر کے عبرت حاصل کرتا ہے تو ان کی یہ حالت اس کے لیے قدرت الٰہی اور عنایت ربانی پر دلالت کرتی ہے، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایک ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيۡءٍۭؔ بَصِيۡرٌ﴾ ’’بے شک ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے۔‘‘ وہ اپنے بندوں کی ان کے لائقِ احوال اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق تدبیر کرتا ہے۔
الملك 67:20
بھلا کون ہے جو وہ لشکر ہو تمھارا، کہ وہ مدد کرے تمھاری سوائے رحمن کے؟ نہیں ہیں کافر مگر دھوکے ہی میں (20) بھلا کون ہے وہ جو وہ رزق دے تمھیں اگر روک لے رحمن اپنا رزق ؟بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں سرکشی اور(حق سے)گریز پر (21)
[20] اللہ تعالیٰ اپنے امر سے دور بھاگنے اور حق سے روگردانی کرنے والے سرکشوں سے فرماتا ہے: ﴿ اَمَّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ جُنۡدٌ لَّـكُمۡ يَنۡصُرُؔكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ﴾ یعنی جب رحمٰن تمھارے ساتھ کوئی برائی کرنے اارادہ کرے تو کون سا تمھارا لشکر اس برائی کو تم سے دور کرسکتا ہے؟ یعنی رحمان کے سوا تمھارے دشمنوں کے خلاف کون تمھاری مدد کر سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا، عزت عطا کرنے والا اور ذلت سے ہم کنار کرنے والا ہے اور اس کے سوا تمام مخلوق کسی بندے کی مدد کے لیے اکٹھی ہو جائے تو کسی بھی دشمن کے خلاف اسے ذرہ بھر فائدہ نہیں دے سکتی۔پس کفار کا یہ جان لینے کے بعد کہ رحمان کے سوا کوئی ان کی مدد نہیں کر سکتا، اپنے کفر پر جمے رہنا فریب اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
[21]﴿ اَمَّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ يَرۡزُقُكُمۡ اِنۡ اَمۡسَكَ رِزۡقَهٗ﴾ یعنی رزق تمام تر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اگر وہ تم سے رزق کو روک لے تو کون تمھارے لیے رزق بھیج سکتا ہے؟ کیونکہ مخلوق تو خود اپنے رزق پر قادر نہیں، دوسروں کو کیسے رزق دے سکتی ہے؟ بندوں کو جو نعمت عطا ہوتی ہے صرف اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ پس رزق عطا کرنے والی اور نعمتوں سے بہرہ ور کرنے والی ہی اس بات کی مستحق ہے کہ اسی اکیلے کی عبادت کی جائے۔مگر کفار ﴿لَّجُّوۡا﴾ جمے ہوئے ہیں ﴿ فِيۡ عُتُوٍّ﴾ حق کے معاملے میں سختی اور درشتی میں ﴿ وَّنُفُوۡرٍ﴾ ’’اور نفرت میں۔‘‘ یعنی حق سے دور بھاگتے ہیں۔
الملك 67:21
بھلا کون ہے جو وہ لشکر ہو تمھارا، کہ وہ مدد کرے تمھاری سوائے رحمن کے؟ نہیں ہیں کافر مگر دھوکے ہی میں (20) بھلا کون ہے وہ جو وہ رزق دے تمھیں اگر روک لے رحمن اپنا رزق ؟بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں سرکشی اور(حق سے)گریز پر (21)
[20] اللہ تعالیٰ اپنے امر سے دور بھاگنے اور حق سے روگردانی کرنے والے سرکشوں سے فرماتا ہے: ﴿ اَمَّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ جُنۡدٌ لَّـكُمۡ يَنۡصُرُؔكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ﴾ یعنی جب رحمٰن تمھارے ساتھ کوئی برائی کرنے اارادہ کرے تو کون سا تمھارا لشکر اس برائی کو تم سے دور کرسکتا ہے؟ یعنی رحمان کے سوا تمھارے دشمنوں کے خلاف کون تمھاری مدد کر سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا، عزت عطا کرنے والا اور ذلت سے ہم کنار کرنے والا ہے اور اس کے سوا تمام مخلوق کسی بندے کی مدد کے لیے اکٹھی ہو جائے تو کسی بھی دشمن کے خلاف اسے ذرہ بھر فائدہ نہیں دے سکتی۔پس کفار کا یہ جان لینے کے بعد کہ رحمان کے سوا کوئی ان کی مدد نہیں کر سکتا، اپنے کفر پر جمے رہنا فریب اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
[21]﴿ اَمَّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ يَرۡزُقُكُمۡ اِنۡ اَمۡسَكَ رِزۡقَهٗ﴾ یعنی رزق تمام تر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اگر وہ تم سے رزق کو روک لے تو کون تمھارے لیے رزق بھیج سکتا ہے؟ کیونکہ مخلوق تو خود اپنے رزق پر قادر نہیں، دوسروں کو کیسے رزق دے سکتی ہے؟ بندوں کو جو نعمت عطا ہوتی ہے صرف اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ پس رزق عطا کرنے والی اور نعمتوں سے بہرہ ور کرنے والی ہی اس بات کی مستحق ہے کہ اسی اکیلے کی عبادت کی جائے۔مگر کفار ﴿لَّجُّوۡا﴾ جمے ہوئے ہیں ﴿ فِيۡ عُتُوٍّ﴾ حق کے معاملے میں سختی اور درشتی میں ﴿ وَّنُفُوۡرٍ﴾ ’’اور نفرت میں۔‘‘ یعنی حق سے دور بھاگتے ہیں۔
الملك 67:22
کیا پس جو شخص چلتا ہے اوندھا اپنے چہرے کے بل، (وہ) زیادہ ہدایت والا ہے یا وہ شخص جو چلتا ہے سیدھا اوپر صراطِ مستقیم کے؟ (22)
[22] یعنی ان دو شخصوں میں سے کون زیادہ ہدایت کی راہ پر ہے؟ کیا وہ شخص جو گمراہی میں سرگشتہ پھرتا ہے، اپنے کفر میں غرق ہے، اور اس کی سمجھ الٹ گئی ہے اس کے نزدیک حق باطل اور باطل حق بن چکا ہے یا وہ شخص جو حق کا علم رکھنے والا، حق کو ترجیح دینے والا، حق پر عمل کرنے والا اور اپنے اقوال و افعال اور تمام احوال میں صراط مستقیم پر گامزن ہے؟ ان دونوں اشخاص کے احوال پر مجرد ایک نظر ڈالنے سے ہدایت یافتہ اور گمراہ کے درمیان فرق معلوم ہو جائے گا۔احوال، اقوال سے بڑے گواہ ہیں۔
الملك 67:23
کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا تمھیں اور اس نے بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل ،بہت ہی کم شکر کرتے ہو تم (23)کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں، اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم (24) اور کہتے ہیں وہ (کافر) ، کب ہو گا یہ وعدہ (قیامت) اگر ہو تم سچے؟ (25)کہہ دیجیے! بلاشبہ اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں صریح (26)
[23] اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے، اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ﴾ یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمھیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمھیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمھارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضاء ہیں۔ مگر ان نعمتوں کے باوجود ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’تم کم ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو‘‘ تم میں شکر گزار لوگ بہت کم اور شکر گزاری بہت کم ہے۔
[24]﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں زمین کے چاروں سمت پھیلا یااور اس کے کناروں تک تمھیں آباد کیا، تمھیں امر و نہی کا مکلف کیا، تمھیں نعمتوں سے سرفراز فرمایا جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، پھر اس کے بعد قیامت کے دن وہ تمھیں اکٹھا کرے گا۔ مگر یہ معاندین حق، جزا و سزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔
[25]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ﴾ اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔‘‘ انھوں نے ان کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انھیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔
[26] پس اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں اور نہ اس خبر اور اس کے وقوع کے وقت کی خبر میں کوئی تلازم ہی ہے کیونکہ صداقت اپنے دلائل سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں، اس شخص کے لیے ادنیٰ سا شک نہیں رہتا جو توجہ کے ساتھ سنتا ہے۔
الملك 67:24
کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا تمھیں اور اس نے بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل ،بہت ہی کم شکر کرتے ہو تم (23)کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں، اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم (24) اور کہتے ہیں وہ (کافر) ، کب ہو گا یہ وعدہ (قیامت) اگر ہو تم سچے؟ (25)کہہ دیجیے! بلاشبہ اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں صریح (26)
[23] اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے، اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ﴾ یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمھیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمھیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمھارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضاء ہیں۔ مگر ان نعمتوں کے باوجود ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’تم کم ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو‘‘ تم میں شکر گزار لوگ بہت کم اور شکر گزاری بہت کم ہے۔
[24]﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں زمین کے چاروں سمت پھیلا یااور اس کے کناروں تک تمھیں آباد کیا، تمھیں امر و نہی کا مکلف کیا، تمھیں نعمتوں سے سرفراز فرمایا جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، پھر اس کے بعد قیامت کے دن وہ تمھیں اکٹھا کرے گا۔ مگر یہ معاندین حق، جزا و سزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔
[25]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ﴾ اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔‘‘ انھوں نے ان کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انھیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔
[26] پس اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں اور نہ اس خبر اور اس کے وقوع کے وقت کی خبر میں کوئی تلازم ہی ہے کیونکہ صداقت اپنے دلائل سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں، اس شخص کے لیے ادنیٰ سا شک نہیں رہتا جو توجہ کے ساتھ سنتا ہے۔
الملك 67:25
کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا تمھیں اور اس نے بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل ،بہت ہی کم شکر کرتے ہو تم (23)کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں، اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم (24) اور کہتے ہیں وہ (کافر) ، کب ہو گا یہ وعدہ (قیامت) اگر ہو تم سچے؟ (25)کہہ دیجیے! بلاشبہ اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں صریح (26)
[23] اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے، اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ﴾ یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمھیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمھیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمھارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضاء ہیں۔ مگر ان نعمتوں کے باوجود ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’تم کم ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو‘‘ تم میں شکر گزار لوگ بہت کم اور شکر گزاری بہت کم ہے۔
[24]﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں زمین کے چاروں سمت پھیلا یااور اس کے کناروں تک تمھیں آباد کیا، تمھیں امر و نہی کا مکلف کیا، تمھیں نعمتوں سے سرفراز فرمایا جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، پھر اس کے بعد قیامت کے دن وہ تمھیں اکٹھا کرے گا۔ مگر یہ معاندین حق، جزا و سزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔
[25]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ﴾ اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔‘‘ انھوں نے ان کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انھیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔
[26] پس اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں اور نہ اس خبر اور اس کے وقوع کے وقت کی خبر میں کوئی تلازم ہی ہے کیونکہ صداقت اپنے دلائل سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں، اس شخص کے لیے ادنیٰ سا شک نہیں رہتا جو توجہ کے ساتھ سنتا ہے۔
الملك 67:26
کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا تمھیں اور اس نے بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل ،بہت ہی کم شکر کرتے ہو تم (23)کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں، اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم (24) اور کہتے ہیں وہ (کافر) ، کب ہو گا یہ وعدہ (قیامت) اگر ہو تم سچے؟ (25)کہہ دیجیے! بلاشبہ اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں صریح (26)
[23] اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے، اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ﴾ یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمھیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمھیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمھارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضاء ہیں۔ مگر ان نعمتوں کے باوجود ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’تم کم ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو‘‘ تم میں شکر گزار لوگ بہت کم اور شکر گزاری بہت کم ہے۔
[24]﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں زمین کے چاروں سمت پھیلا یااور اس کے کناروں تک تمھیں آباد کیا، تمھیں امر و نہی کا مکلف کیا، تمھیں نعمتوں سے سرفراز فرمایا جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، پھر اس کے بعد قیامت کے دن وہ تمھیں اکٹھا کرے گا۔ مگر یہ معاندین حق، جزا و سزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔
[25]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ﴾ اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔‘‘ انھوں نے ان کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انھیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔
[26] پس اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں اور نہ اس خبر اور اس کے وقوع کے وقت کی خبر میں کوئی تلازم ہی ہے کیونکہ صداقت اپنے دلائل سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں، اس شخص کے لیے ادنیٰ سا شک نہیں رہتا جو توجہ کے ساتھ سنتا ہے۔
الملك 67:27
پس جب وہ دیکھیں گے اس (عذاب قیامت) کو قریب ہی تو بگڑ جائیں گے چہرے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا اور کہا جائے گا، یہ ہے وہ جو تھے تم (دنیا میں) اس کو مانگتے (27) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہلاک کر دے مجھے اللہ اور ان کو بھی جو میرے ساتھ ہیں، یا وہ رحم کرے ہم پر تو کون ہے وہ جو پناہ دے کافروں کو عذاب درد ناک سے؟ (28) کہہ دیجیے! وہ (اللہ) نہایت مہربان ہے ہم ایمان لائے اس پر اور اسی پر توکل کیا ہم نے، پس عنقریب تم جان لوگے کون ہے وہ جو صریح گمراہی میں ہے؟(29) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہو جائے تمھارا پانی گہرا تو کون ہے وہ کہ لے آئے وہ تمھارے پاس پانی بہتا ہوا؟ (30)
[27] کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل و مقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں، جب جزا و سزا کا دن ہو گا اور وہ عذاب کو ﴿زُلۡفَةً﴾ اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انھیں بہت برا لگے گا اور انھیں خوف زدہ کر دے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انھیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا’’یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمھارے سامنے ظاہر ہو گیا ہے، تمھارے تمام اسباب منقطع ہو گئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔‘‘
[28] چونکہ رسول مصطفیﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت، اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تمھاری آرزو پوری ہو بھی جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے تو یہ چیز تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔ پس اب تمھیں درد ناک عذاب سے کون بچا سکتا ہے جس کا تم پر واقع ہونا حتمی ہے؟ تب میری ہلاکت کے بارے میں تمھاری مشقت اور حرص غیر مفید ہے اور وہ تمھارے کچھ کام نہیں آئے گی۔
[29] انھوں نے اپنے اس قول کا... کہ وہ ہدایت پر ہیں اور رسول ﷺ گمراہی پر ہیں... اعادہ کیا، اس کے اظہار میں جرأت دکھائی، اس پر جھگڑا اور لڑائی کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنے حال اور آپ کی پیروی کرنے والوں کے حال سے آگاہ کر دیں جس سے ہر شخص پر ان کی ہدایت اور تقویٰ واضح ہو جائے اور وہ یہ کہنے کا حکم تھا:﴿ هُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡنَا﴾ ’’ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس پر توکل کیا۔‘‘ اور ایمان باطنی تصدیق اور اعمال باطنہ و ظاہرہ کو شامل ہے۔چونکہ تمام اعمال کا وجود اور ان کا کمال توکل پر موقوف ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال میں سے توکل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ توکل، ایمان اور اس کے جملہ لوازم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾(المائدہ:5؍23) ’’اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ جب رسولﷺ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں، اور یہ ایسا حال ہے جو فلاح کے لیے متعین ہے اور جس پر سعادت موقوف ہے، اور آپ کے دشمنوں کا حال اس کے متضاد ہے، پس ان کے پاس ایمان ہے نہ توکل تب اس سے معلوم ہو گیا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ نعمتیں عطا کرنے میں اکیلا اور متفرد ہے ، خاص طور پر پانی کی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا﴾ ’’کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمھارا پانی خشک ہوجائے ۔‘‘ یعنی گہرا چلا جائے ﴿ فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾ ’’پس کون ہے جو تمھارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے۔‘‘ جس کو تم خود پیتے ہو، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہو اور اپنے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو ۔ یہ استفہام بمعنی نفی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں۔
الملك 67:28
پس جب وہ دیکھیں گے اس (عذاب قیامت) کو قریب ہی تو بگڑ جائیں گے چہرے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا اور کہا جائے گا، یہ ہے وہ جو تھے تم (دنیا میں) اس کو مانگتے (27) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہلاک کر دے مجھے اللہ اور ان کو بھی جو میرے ساتھ ہیں، یا وہ رحم کرے ہم پر تو کون ہے وہ جو پناہ دے کافروں کو عذاب درد ناک سے؟ (28) کہہ دیجیے! وہ (اللہ) نہایت مہربان ہے ہم ایمان لائے اس پر اور اسی پر توکل کیا ہم نے، پس عنقریب تم جان لوگے کون ہے وہ جو صریح گمراہی میں ہے؟(29) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہو جائے تمھارا پانی گہرا تو کون ہے وہ کہ لے آئے وہ تمھارے پاس پانی بہتا ہوا؟ (30)
[27] کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل و مقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں، جب جزا و سزا کا دن ہو گا اور وہ عذاب کو ﴿زُلۡفَةً﴾ اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انھیں بہت برا لگے گا اور انھیں خوف زدہ کر دے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انھیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا’’یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمھارے سامنے ظاہر ہو گیا ہے، تمھارے تمام اسباب منقطع ہو گئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔‘‘
[28] چونکہ رسول مصطفیﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت، اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تمھاری آرزو پوری ہو بھی جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے تو یہ چیز تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔ پس اب تمھیں درد ناک عذاب سے کون بچا سکتا ہے جس کا تم پر واقع ہونا حتمی ہے؟ تب میری ہلاکت کے بارے میں تمھاری مشقت اور حرص غیر مفید ہے اور وہ تمھارے کچھ کام نہیں آئے گی۔
[29] انھوں نے اپنے اس قول کا... کہ وہ ہدایت پر ہیں اور رسول ﷺ گمراہی پر ہیں... اعادہ کیا، اس کے اظہار میں جرأت دکھائی، اس پر جھگڑا اور لڑائی کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنے حال اور آپ کی پیروی کرنے والوں کے حال سے آگاہ کر دیں جس سے ہر شخص پر ان کی ہدایت اور تقویٰ واضح ہو جائے اور وہ یہ کہنے کا حکم تھا:﴿ هُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡنَا﴾ ’’ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس پر توکل کیا۔‘‘ اور ایمان باطنی تصدیق اور اعمال باطنہ و ظاہرہ کو شامل ہے۔چونکہ تمام اعمال کا وجود اور ان کا کمال توکل پر موقوف ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال میں سے توکل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ توکل، ایمان اور اس کے جملہ لوازم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾(المائدہ:5؍23) ’’اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ جب رسولﷺ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں، اور یہ ایسا حال ہے جو فلاح کے لیے متعین ہے اور جس پر سعادت موقوف ہے، اور آپ کے دشمنوں کا حال اس کے متضاد ہے، پس ان کے پاس ایمان ہے نہ توکل تب اس سے معلوم ہو گیا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ نعمتیں عطا کرنے میں اکیلا اور متفرد ہے ، خاص طور پر پانی کی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا﴾ ’’کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمھارا پانی خشک ہوجائے ۔‘‘ یعنی گہرا چلا جائے ﴿ فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾ ’’پس کون ہے جو تمھارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے۔‘‘ جس کو تم خود پیتے ہو، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہو اور اپنے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو ۔ یہ استفہام بمعنی نفی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں۔
الملك 67:29
پس جب وہ دیکھیں گے اس (عذاب قیامت) کو قریب ہی تو بگڑ جائیں گے چہرے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا اور کہا جائے گا، یہ ہے وہ جو تھے تم (دنیا میں) اس کو مانگتے (27) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہلاک کر دے مجھے اللہ اور ان کو بھی جو میرے ساتھ ہیں، یا وہ رحم کرے ہم پر تو کون ہے وہ جو پناہ دے کافروں کو عذاب درد ناک سے؟ (28) کہہ دیجیے! وہ (اللہ) نہایت مہربان ہے ہم ایمان لائے اس پر اور اسی پر توکل کیا ہم نے، پس عنقریب تم جان لوگے کون ہے وہ جو صریح گمراہی میں ہے؟(29) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہو جائے تمھارا پانی گہرا تو کون ہے وہ کہ لے آئے وہ تمھارے پاس پانی بہتا ہوا؟ (30)
[27] کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل و مقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں، جب جزا و سزا کا دن ہو گا اور وہ عذاب کو ﴿زُلۡفَةً﴾ اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انھیں بہت برا لگے گا اور انھیں خوف زدہ کر دے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انھیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا’’یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمھارے سامنے ظاہر ہو گیا ہے، تمھارے تمام اسباب منقطع ہو گئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔‘‘
[28] چونکہ رسول مصطفیﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت، اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تمھاری آرزو پوری ہو بھی جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے تو یہ چیز تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔ پس اب تمھیں درد ناک عذاب سے کون بچا سکتا ہے جس کا تم پر واقع ہونا حتمی ہے؟ تب میری ہلاکت کے بارے میں تمھاری مشقت اور حرص غیر مفید ہے اور وہ تمھارے کچھ کام نہیں آئے گی۔
[29] انھوں نے اپنے اس قول کا... کہ وہ ہدایت پر ہیں اور رسول ﷺ گمراہی پر ہیں... اعادہ کیا، اس کے اظہار میں جرأت دکھائی، اس پر جھگڑا اور لڑائی کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنے حال اور آپ کی پیروی کرنے والوں کے حال سے آگاہ کر دیں جس سے ہر شخص پر ان کی ہدایت اور تقویٰ واضح ہو جائے اور وہ یہ کہنے کا حکم تھا:﴿ هُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡنَا﴾ ’’ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس پر توکل کیا۔‘‘ اور ایمان باطنی تصدیق اور اعمال باطنہ و ظاہرہ کو شامل ہے۔چونکہ تمام اعمال کا وجود اور ان کا کمال توکل پر موقوف ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال میں سے توکل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ توکل، ایمان اور اس کے جملہ لوازم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾(المائدہ:5؍23) ’’اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ جب رسولﷺ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں، اور یہ ایسا حال ہے جو فلاح کے لیے متعین ہے اور جس پر سعادت موقوف ہے، اور آپ کے دشمنوں کا حال اس کے متضاد ہے، پس ان کے پاس ایمان ہے نہ توکل تب اس سے معلوم ہو گیا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ نعمتیں عطا کرنے میں اکیلا اور متفرد ہے ، خاص طور پر پانی کی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا﴾ ’’کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمھارا پانی خشک ہوجائے ۔‘‘ یعنی گہرا چلا جائے ﴿ فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾ ’’پس کون ہے جو تمھارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے۔‘‘ جس کو تم خود پیتے ہو، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہو اور اپنے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو ۔ یہ استفہام بمعنی نفی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں۔
الملك 67:30
پس جب وہ دیکھیں گے اس (عذاب قیامت) کو قریب ہی تو بگڑ جائیں گے چہرے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا اور کہا جائے گا، یہ ہے وہ جو تھے تم (دنیا میں) اس کو مانگتے (27) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہلاک کر دے مجھے اللہ اور ان کو بھی جو میرے ساتھ ہیں، یا وہ رحم کرے ہم پر تو کون ہے وہ جو پناہ دے کافروں کو عذاب درد ناک سے؟ (28) کہہ دیجیے! وہ (اللہ) نہایت مہربان ہے ہم ایمان لائے اس پر اور اسی پر توکل کیا ہم نے، پس عنقریب تم جان لوگے کون ہے وہ جو صریح گمراہی میں ہے؟(29) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہو جائے تمھارا پانی گہرا تو کون ہے وہ کہ لے آئے وہ تمھارے پاس پانی بہتا ہوا؟ (30)
[27] کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل و مقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں، جب جزا و سزا کا دن ہو گا اور وہ عذاب کو ﴿زُلۡفَةً﴾ اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انھیں بہت برا لگے گا اور انھیں خوف زدہ کر دے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انھیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا’’یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمھارے سامنے ظاہر ہو گیا ہے، تمھارے تمام اسباب منقطع ہو گئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔‘‘
[28] چونکہ رسول مصطفیﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت، اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تمھاری آرزو پوری ہو بھی جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے تو یہ چیز تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔ پس اب تمھیں درد ناک عذاب سے کون بچا سکتا ہے جس کا تم پر واقع ہونا حتمی ہے؟ تب میری ہلاکت کے بارے میں تمھاری مشقت اور حرص غیر مفید ہے اور وہ تمھارے کچھ کام نہیں آئے گی۔
[29] انھوں نے اپنے اس قول کا... کہ وہ ہدایت پر ہیں اور رسول ﷺ گمراہی پر ہیں... اعادہ کیا، اس کے اظہار میں جرأت دکھائی، اس پر جھگڑا اور لڑائی کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنے حال اور آپ کی پیروی کرنے والوں کے حال سے آگاہ کر دیں جس سے ہر شخص پر ان کی ہدایت اور تقویٰ واضح ہو جائے اور وہ یہ کہنے کا حکم تھا:﴿ هُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡنَا﴾ ’’ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس پر توکل کیا۔‘‘ اور ایمان باطنی تصدیق اور اعمال باطنہ و ظاہرہ کو شامل ہے۔چونکہ تمام اعمال کا وجود اور ان کا کمال توکل پر موقوف ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال میں سے توکل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ توکل، ایمان اور اس کے جملہ لوازم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾(المائدہ:5؍23) ’’اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ جب رسولﷺ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں، اور یہ ایسا حال ہے جو فلاح کے لیے متعین ہے اور جس پر سعادت موقوف ہے، اور آپ کے دشمنوں کا حال اس کے متضاد ہے، پس ان کے پاس ایمان ہے نہ توکل تب اس سے معلوم ہو گیا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ نعمتیں عطا کرنے میں اکیلا اور متفرد ہے ، خاص طور پر پانی کی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا﴾ ’’کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمھارا پانی خشک ہوجائے ۔‘‘ یعنی گہرا چلا جائے ﴿ فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾ ’’پس کون ہے جو تمھارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے۔‘‘ جس کو تم خود پیتے ہو، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہو اور اپنے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو ۔ یہ استفہام بمعنی نفی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں۔