Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — الإنسان 76:28 – النبأ 78:40

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. الإنسان 76:28
  2. الإنسان 76:29
  3. الإنسان 76:30
  4. الإنسان 76:31
  5. المرسلات 77:1
  6. المرسلات 77:2
  7. المرسلات 77:3
  8. المرسلات 77:4
  9. المرسلات 77:5
  10. المرسلات 77:6
  11. المرسلات 77:7
  12. المرسلات 77:8
  13. المرسلات 77:9
  14. المرسلات 77:10
  15. المرسلات 77:11
  16. المرسلات 77:12
  17. المرسلات 77:13
  18. المرسلات 77:14
  19. المرسلات 77:15
  20. المرسلات 77:16
  21. المرسلات 77:17
  22. المرسلات 77:18
  23. المرسلات 77:19
  24. المرسلات 77:20
  25. المرسلات 77:21
  26. المرسلات 77:22
  27. المرسلات 77:23
  28. المرسلات 77:24
  29. المرسلات 77:25
  30. المرسلات 77:26
  31. المرسلات 77:27
  32. المرسلات 77:28
  33. المرسلات 77:29
  34. المرسلات 77:30
  35. المرسلات 77:31
  36. المرسلات 77:32
  37. المرسلات 77:33
  38. المرسلات 77:34
  39. المرسلات 77:35
  40. المرسلات 77:36
  41. المرسلات 77:37
  42. المرسلات 77:38
  43. المرسلات 77:39
  44. المرسلات 77:40
  45. المرسلات 77:41
  46. المرسلات 77:42
  47. المرسلات 77:43
  48. المرسلات 77:44
  49. المرسلات 77:45
  50. المرسلات 77:46
  51. المرسلات 77:47
  52. المرسلات 77:48
  53. المرسلات 77:49
  54. المرسلات 77:50
  55. النبأ 78:1
  56. النبأ 78:2
  57. النبأ 78:3
  58. النبأ 78:4
  59. النبأ 78:5
  60. النبأ 78:6
  61. النبأ 78:7
  62. النبأ 78:8
  63. النبأ 78:9
  64. النبأ 78:10
  65. النبأ 78:11
  66. النبأ 78:12
  67. النبأ 78:13
  68. النبأ 78:14
  69. النبأ 78:15
  70. النبأ 78:16
  71. النبأ 78:17
  72. النبأ 78:18
  73. النبأ 78:19
  74. النبأ 78:20
  75. النبأ 78:21
  76. النبأ 78:22
  77. النبأ 78:23
  78. النبأ 78:24
  79. النبأ 78:25
  80. النبأ 78:26
  81. النبأ 78:27
  82. النبأ 78:28
  83. النبأ 78:29
  84. النبأ 78:30
  85. النبأ 78:31
  86. النبأ 78:32
  87. النبأ 78:33
  88. النبأ 78:34
  89. النبأ 78:35
  90. النبأ 78:36
  91. النبأ 78:37
  92. النبأ 78:38
  93. النبأ 78:39
  94. النبأ 78:40

الإنسان 76:28

بلاشبہ ہم نے تیار کر رکھی ہیں کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور سخت بھڑکتی آگ(4) یقیناً نیک لوگ پئیں گے ایسے جام سے کہ ہو گی اس میں ملاوٹ کافور کی(5) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے اللہ کے بندے، وہ بہا لے جائیں گے اسے (جدھر چاہیں گے) بہا لے جانا آسانی سے (6) وہ پوری کرتے ہیں نذر (اپنی) اور ڈرتے ہیں اس دن (کے عذاب) سے کہ ہو گا شر اس کا پھیل جانے والا(7) اور وہ کھلاتے ہیں کھانا باوجود اس کی محبت کے مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو(8)(کہتے ہیں:) بس ہم تو تمھیں کھاناکھلاتے ہیں اللہ ہی کی ذات کے لیے، اور نہیں چاہتے ہم تم سے کوئی جزا اور نہ شکریہ (9) بلاشبہ ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے اس دن سے جو ہو گا نہایت سخت بہت لمبا (10) سو بچائے گا انھیں اللہ، شر (عذاب) سے اس دن کے اور عطا کرے گا ان کو تازگی اور سرور (11) اور جزا دے گا انھیں بوجہ ان کے صبر کے جنت اور ریشمی لباس (12) وہ تکیہ لگائے ہوں گے اس میں تختوں پر، نہیں دیکھیں گے اس (جنت) میں سخت دھوپ اور نہ سخت سردی (13) اور جھکے ہوں گے ان پر اس (جنت) کے سائے اور آسان کر دیا جائے گا (حصول) ان کے پھلوں کا نہایت آسان (14) اور پھرائے جائیں گے ان پر برتن چاندی کے اور ایسے آبخورے کہ ہوں گے وہ شیشے کے (15) شیشے (بھی) چاندی کے(16)(ساقی)انھیں ٹھیک اندازے سے بھریں گے (17) اور پلائے جائیں گے وہ اس (جنت) میں ایسا جام شراب کہ ہو گی اس میں ملاوٹ زنجبیل (سونٹھ) کی (18)(یہ) چشمہ ہے۔ جنت میں کہ نام رکھا جاتا ہے (اس کا) سلسبیل (19) اور گھومیں گے ان پر ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے جب تو دیکھے گا انھیں تو سمجھے گا ان کو موتی بکھرے ہوئے(20) اور جب تو دیکھے گا وہاں، تو دیکھے گا تو نعمت اور سلطنت بڑی (21) ان پر کپڑے (لباس) ہوں گے باریک سبز اور دبیز ریشم کے اور زیور پہنائے جائیں گے ان کو کنگن چاندی کے اور پلائے گا انھیں ان کا رب شرابِ طَہور (22)(انھیں کہا جائے گا:)بلاشبہ یہ ہے تمھارے لیے جزا، اور ہے کوشش تمھاری قابل قدر (23) یقیناً ہم ہی نے اتارا ہے آپ پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا اتارنا (23) پس آپ صبر کیجیے اپنے رب کے حکم کے لیے اور نہ اطاعت کیجیے ان میں سے کسی گناہ گار یا کافر کی (24) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا صبح اور شام (25) اور کچھ (حصہ) رات میں بھی پس سجدہ کیجیے اس کے لیے اور اس کی تسبیح کیجیے رات میں دیر تک (26) بلاشبہ یہ لوگ پسند کرتے ہیں دنیا کو اور چھوڑتے ہیں اپنے پیچھے بھاری دن کو (27) ہم ہی نے پیدا کیا انھیں اور مضبوط کیے ہم نے ان کے جوڑ، اور جب ہم چاہیں بدل کر لے آئیں ان جیسے (اور لوگ) تبدیل کر کے (28) بلاشبہ یہ ایک نصیحت ہے، سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ(29) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ ہی، یقیناً ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا (30) وہ داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں، اور ظالم، اس نے تیار کیا ہے ان کے لیے عذاب درد ناک (31) [4] جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کے ارتکاب کی جسارت کی ہم نے اس کے لیے تیار کی ہیں ﴿ سَلٰسِلَاۡ ﴾ جہنم کی آگ میں زنجیریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُكُوۡهُ﴾(الحاقۃ:69؍32) ’’ پھر اسے اس زنجیر میں جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے۔‘‘﴿وَاَغۡلٰلًا﴾’’اورطوق‘‘ جس کے ذریعے سے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھ کر ان سے جکڑ دیا جائے گا۔﴿وَّسَعِيۡرًا﴾ یعنی ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے جو ان کے جسموں کے ساتھ بھڑکے گی اور ان کے بدنوں کو جلا ڈالے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾(النساء:4؍56) ’’جب ان کی کھالیں گل جائیں گی، تو ہم ان کو ان کے سوا اور کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔‘‘ یہ عذاب ان کے لیے دائمی ہوگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ [5] رہے ﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ ’’نیک لوگ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دل نیک ہیں کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اخلاق جمیلہ ہیں۔ پس اس سبب سے ان کے اعمال بھی نیک ہیں انھوں نے ان کو نیک اعمال میں استعمال کیا ہے۔ ﴿يَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ كَاۡسٍ﴾ ’’ایسے جام سے پئیں گے‘‘ یعنی شراب سے انتہائی لذیذمشروب جس میں کافور ملایا گیا ہوگا تاکہ اس مشروب کو ٹھنڈا کر کے اس کی حدت کو توڑ دے۔ یہ کافور انتہائی لذیذ ہو گا ہر قسم کے تکدر اور ملاوٹ سے پاک ہو گا جو دنیا کے کافور میں موجود ہوتی ہے۔ ہر وہ آفت ان اسماء میں ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے کہ وہ جنت میں ہوں گے جبکہ اس قسم کے اسماء دنیا میں بھی ہیں تو وہ (آفت) آخرت میں نہیں ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فِيۡ سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍۙ۰۰ وَّطَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(الواقعہ:56/28-29) ’’وہ بغیر کانٹوں کی بیریوں اور تہ بہ تہ کیلوں میں ہوں گے۔‘‘ فرمایا: ﴿وَ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ﴾(آل عمران:3؍15) ’’اور جنت میں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی۔‘‘اور فرمایا : ﴿لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ﴾(الانعام:6؍127) ’’ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔‘‘اور فرمایا: ﴿وَفِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ﴾(الزحزف:43؍71) ’’اور اس میں وہ سب کچھ ہو گا جو دل چاہیں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔‘‘ [6]﴿عَيۡنًا يَّشۡرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے‘‘ یعنی وہ لذیذ شراب، جو وہ پئیں گے، انھیں اس کے ختم ہونے کا خوف نہیں ہو گا بلکہ اس کا ایسا مادہ ہو گا جو کبھی منقطع نہ ہو گا۔ یہ ہمیشہ جاری رہنے اور بہنے والا چشمہ ہو گا۔ اللہ کے بندے جہاں چاہیں گے جیسے چاہیں گے وہاں سے نہریں نکال لے جائیں گے، اگر وہ چاہیں گے تو ان کو خوبصورت باغات کی طرف موڑ لیں گے۔ یا بارونق باغیچوں کی طرف لے جائیں گے اگر وہ چاہیں گے تو محلات کی جوانب اور آراستہ گھروں کی طرف بہا لے جائیں گے یا وہ خوبصورت جہات میں سے جس جہت میں بھی چاہیں گے ان نہروں کو لے جائیں گے۔ [7] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں ان کے جملہ اعمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ ﴾ یعنی وہ جن نذروں اور معاہدوں کو اپنے آپ پر لازم کر لیتے تھے، انھیں پورا کرتے تھے۔ جب وہ نذر کو پورا کرتے تھے، جو اصل میں ان پر واجب نہیں الّا یہ کہ وہ اسے خود اپنے آپ پر واجب کر لیں، تب فرائض اصلیہ کو تو بدرجہ اولیٰ قائم کرتے اور ان کو بجا لاتے ہوں گے ﴿ وَيَخَافُوۡنَ يَوۡمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسۡتَطِيۡرًا ﴾ یعنی اس دن خوف رکھتے تھے جس کی برائی نہایت سخت اور پھیل جانے والی ہے۔ پس انھیں خوف تھا کہ اس دن کی برائی کہیں انھیں نہ پہنچ جائے، اس لیے انھوں نے ہر وہ سبب چھوڑ دیا جو اس کا موجب تھا۔ [10-8]﴿وَيُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ ﴾ یعنی وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ جس میں وہ خود مال اور طعام کو پسند کرتے ہیں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے نفس کی محبت پر مقدم رکھا اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ مستحق اور سب سے زیادہ حاجت مند کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں ﴿ مِسۡكِيۡنًا وَّيَتِيۡمًا وَّاَسِيۡرًا ﴾ ’’مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔‘‘ ان کے کھانا کھلانے اور خرچ کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔ وہ اپنی زبان حال سے کہتے ہیں:﴿ اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءًؔ وَّلَا شُكُوۡرًا ﴾’’ہم تو تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے کسی بدلے کے خواست گار ہیں اور نہ شکر گزاری کے۔‘‘ یعنی نہ کوئی مالی جزا چاہتے ہیں اور نہ قولی ثنا۔﴿ اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوۡسًا ﴾ ’’ہم اپنے پرودگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی والا ہوگا۔‘‘ جو نہایت سخت اور شر والا دن ہوگا ﴿قَمۡطَرِيۡرًا ﴾ اور نہایت تنگ دن ہوگا۔ [11]﴿ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الۡيَوۡمِ ﴾ ’’پس اللہ ان کو اس دن کے شر سے بچالے گا۔‘‘ پس انھیں وہ عظیم گھبراہٹ غم زدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے ’’یہ وہ دن ہے جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔‘‘ ﴿ وَلَقّٰىهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز کرے گا ﴿نَضۡرَۃً﴾ یعنی ان کے چہروں کو تازگی عطا کرے گا ﴿ وَّسُرُوۡرًا﴾ اور ان کے دلوں کو سرور سے لبریز کرے گا، پس اللہ تعالیٰ ان کے لیے ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اکٹھا کر دے گا۔ [12]﴿ وَجَزٰىهُمۡ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ، یعنی ان کی جزا اس سبب سے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کیا اور استطاعت بھر نیک عمل کیے اور اس سبب سے کہ انھوں نے برائیوں سے اجتناب پر صبر کیا اور ان کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہیں کیا ﴿ جَنَّةً ﴾ ’’جنت ہے۔‘‘ جو ہر نعمت کی جامع اور ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہے ﴿ وَّحَرِيۡرًا﴾ ’’اور ریشم ہے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾(الحج:22؍23) ’’اور جنت میں ان کا لباس ریشمی ہو گا۔‘‘ شاید اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ریشم کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ ان کا ظاہری لباس ہو گا جو صاحب لباس کے حال پر دلالت کرے گا۔ [13]﴿ مُّتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ ﴾ ’’وہ تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ (الاتّکاء)سے مراد اطمینان، راحت اور آسودگی کی حالت میں ٹیک لگا کر بیٹھنا۔ اور (الارائک) وہ تخت ہیں جن پر سجاوٹ کے لیے کپڑے بچھائے گئے ہوں۔ ﴿ لَا يَرَوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اس جنت کے اندر نہیں دیکھیں گے ﴿شَمۡسًا﴾ دھوپ جس کی تپش ان کو نقصان پہنچائے۔ ﴿ وَّلَا زَمۡهَرِيۡرًا﴾ ’’اور نہ سخت سردی‘‘ یعنی ان کے تمام اوقات گہرے سائے میں گزریں گے، جہاں گرمی ہو گی نہ سردی، جہاں ان کے جسم لذت حاصل کریں گے وہاں ان کے جسموں کو گرمی سے تکلیف ہو گی نہ سردی سے۔ [14]﴿ وَدَانِيَةً عَلَيۡهِمۡ ظِلٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُهَا تَذۡلِيۡلًا ﴾ ’’اور ان سے ان کے سائے قریب ہوں گے اور میووں کے گھچے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کے پھل، اس کے چاہنے والے کے اتنے قریب کر دیے جائیں گے کہ وہ ان کو کھڑے بیٹھے یا لیٹے ہوئے بھی حاصل کر سکے گا۔ [16,15] خدمت گار لڑکے اور خدام، اہل جنت کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے ﴿ بِاٰنِيَةٍ مِّنۡ فِضَّةٍ وَّاَكۡوَابٍ كَانَتۡ قَؔوَارِيۡرَاۡۙ۰۰ قَؔوَارِيۡرَاۡ مِنۡ فِضَّةٍ ﴾ ’’چاندی کے برتن لیے، ہوئے اور شیشے کے (شفاف) گلاس لیے ہوئے، شیشے بھی چاندی کے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کا مادہ چاندی ہو گا ان کی صفائی شیشے کی سی ہو گی۔ یہ ایک عجیب ترین چیز ہو گی کہ چاندی جو کہ کثیف ہوتی ہے اپنے جوہر کی صفائی اور اچھے معدن کی بنا پر شیشے کے صاف و شفاف ہونے کی مانند صاف و شفاف ہو گی۔ ﴿ قَدَّرُوۡهَا تَقۡدِيۡرًا ﴾ ’’جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں۔‘‘ یعنی ان مذکور برتنوں (کے حجم) کو اپنی سیرابی کی مقدار کے مطابق بنائیں گے، اس سے کم ہوں گے نہ زیادہ کیونکہ اگر حجم میں زیادہ ہوں تو ان کی لذت کم ہوجائے گی اگر کم ہوں گے تو ان کی سیرابی کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ اہل جنت ان برتنوں کو ایسی مقدار پر بنائیں گے جو ان کی لذات کے موافق ہو گی، وہ برتن ان کے پاس ایسے حجم اور مقدار پر آئیں گے جس کا اندازہ انھوں نے اپنے دلوں میں کیا ہو گا۔ [18,17]﴿ وَيُسۡقَوۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہاں انھیں پلائی جائے گی۔‘‘ یعنی جنت میں خالص شراب کے جام بھرے ہوں گے ﴿ كَانَ مِزَاجُهَا ﴾ جس میں ملاوٹ ہوگی ﴿ زَنۡجَبِيۡلًا ﴾’’سونٹھ کی۔‘‘تاکہ اس کا ذائقہ اور خوشبو دونوں خو ش گوار بن جائیں۔﴿ عَيۡنًا فِيۡهَا﴾ ’’اس جنت میں ایک چشمہ ہے ﴿ تُسَمّٰى سَلۡسَبِيۡلًا﴾’’جس کا نام سلسبیل ہے۔‘‘ اس کو یہ نام، اس کے آسانی کے ساتھ حاصل ہونے، اس کی لذت اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ [19]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی اہل جنت کے پاس، ان کے کھانے، ان کے مشروب اور ان کی خدمت کے لیے گھومتے پھرتے ہوں گے ﴿ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ﴾ ’’لڑکے ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہنے والے۔‘‘ ان کو جنت میں بقا کے لیے پیدا کیا گیا ہے، ان کی ہیئت بدلے گی نہ وہ بڑے ہوں گے اور وہ انتہائی خوبصورت ہوں گے۔ ﴿ اِذَا رَاَيۡتَهُمۡ ﴾ جب تو ان کو اہل جنت کی خدمت میں منتشر ہوئے دیکھے ﴿حَسِبۡتَهُمۡ ﴾ تو ان کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے سمجھے گا ﴿ لُؤۡلُؤًا مَّنۡثُوۡرًا ﴾ کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ یہ اہل جنت کی لذت کی تکمیل ہے کہ ان کے خدام، ہمیشہ رہنے والے لڑکے ہوں گے جن کا نظارہ اہل جنت کو خوش کر دے گا، وہ اپنی تابع داری کی بنا پر امن کے ساتھ ان کی آرام گاہ میں وہ چیزیں لے کر آئیں گے جو وہ منگوائیں گے اور جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے۔ [20]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَ ثَمَّ ﴾ یعنی جب تو جنت میں دیکھے کہ اہل جنت کن کامل نعمتوں میں ہیں ﴿ رَاَيۡتَ نَعِيۡمًا وَّمُلۡكًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’تو نعمتیں ہی نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا‘‘تو ان میں سے ایک کو اس طرح پائے گا کہ اس کے پاس ایسی آرام گاہیں ہوں گی، سجائے اور مزین کیے ہوئے ایسے بالا خانے ہوں گے جن کا وصف بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس کے پاس خوبصورت باغات ہوں گے ایسے ہوں گے جو اس کی پہنچ میں ہوں گے، لذیذ میوہ جات ہوں گے، بہتی ہوئی ندیاں اور خوش کن باغیچے ہوں گے۔ سحر انگیز چہچہانے والے پرندے ہوں گے جو دلوں کو متاثر اور نفوس کو خوش کریں گے۔اس کے پاس بیویاں ہوں گی جو انتہائی خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی جو ظاہری اور باطنی جمال کی جامع ہوں گی جو نیک اور حسین ہوں گی، ان کا حسن قلب کو سرور، لذت اور خوشی سے لبریز کردے گا۔ اس کے ارد گرد ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے اور دائمی خدام (گھوم پھر رہے) ہوں گے جس سے راحت و اطمینان حاصل ہو گا، لذت عیش کا اتمام اور مسرت کی تکمیل ہو گی۔پھر اس کے علاوہ اور اس سے بڑھ کر رب رحیم کی رضا، اس کے خطاب کا سماع، اس کے قرب کی لذت، اس کی رضا کی خوشی اور دائمی زندگی حاصل ہو گی جن نعمتوں میں وہ رہ رہے ہوں گے وہ ہر وقت اور ہر آن بڑھتی ہی رہیں گی۔پس پاک ہے اللہ تعالیٰ، اقتدار اور واضح حق کا مالک جس کے خزانے کبھی ختم ہوتے ہیں نہ اس کی بھلائی کم پڑتی ہے ،جیسے اس کے اوصاف کی کوئی انتہا ہے نہ اس کی نیکی اور احسان کی کوئی حد ہے۔ [21]﴿ عٰؔلِيَهُمۡ ثِيَابُ سُنۡدُسٍ خُضۡرٌ وَّاِسۡتَبۡرَقٌ ﴾ ، یعنی ان کو سبز اور دبیز ریشم کے باریک اطلس کے لباس پہنائے جائیں گے۔ یہ دونوں حریر کی بہترین اقسام ہیں۔ ﴿ سُنۡدُسٍ ﴾ موٹے اور دبیز ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں، اور (استبرق) باریک ریشمی کپڑے کو کہا جاتا ہے۔ ﴿ وَّحُلُّوۡۤا اَسَاوِرَ مِنۡ فِضَّةٍ ﴾ مردوں اور عورتوں کو ان کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، یہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے کیونکہ اپنے قول اور اپنی بات میں اس سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں ﴿ وَسَقٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ شَرَابًا طَهُوۡرًا ﴾ ’’اور انھیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا۔‘‘ جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی کدورت نہ ہو گی اور ان کے پیٹ میں جو آلائشیں وغیرہ ہوں گی ان کو پاک صاف کر دے گی۔ [22]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بلاشبہ یہ اجر جزیل اور عطائے جمیل ﴿ كَانَ لَكُمۡ جَزَآءًؔ ﴾ ان اعمال کی جزا ہے جو تم آگے بھیج چکے ہو۔ ﴿ وَّكَانَ سَعۡيُكُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾ ’’اور تمھاری کوشش کی قدر کی گئی ہے۔‘‘ یعنی تمھاری تھوڑی سے کوشش کے بدلے اللہ تعالیٰ نے تمھیں اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔ [23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِيۡلًا﴾ ’’ہم نے آپ پر قرآن آہستہ آہستہ اتارا ہے۔‘‘اور اس کے اندر وعد و وعید اور ہر چیز کا بیان ہے جس کے بندے محتاج ہیں۔ قرآن کریم کے اندر اللہ تعالیٰ کے اوامر و شرائع کو پوری طرح قائم کرنے، ان کے نفاذ کی کوشش کرنے اور اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، بنابریں فرمایا: [24] یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم قدری پر صبر کیجیے اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کیجیے اور اس کے حکم دینی پر صبر کیجیے اور اس پر رواں دواں رہیے اور کوئی چیز آپ کی راہ کھوٹی نہ کر سکے۔ ﴿ وَلَا تُطِعۡ ﴾ معاندین حق کی اطاعت نہ کیجیے جو چاہتے ہیں کہ آپ کو راہ حق سے روک دیں ﴿ اٰثِمًا ﴾ یعنی جو گناہ اور معصیت کا ارتکاب کرنے والا ہے اور نہ (اطاعت کریں)﴿ كَفُوۡرًا﴾ ’’كفر كرنے والے كی‘‘ کیونکہ کفار، فجار اور فساق کی اطاعت حتمی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے کیونکہ یہ لوگ صرف اسی چیز کا حکم دیتے ہیں جسے ان کے نفس پسند کرتے ہیں۔ [25] چونکہ صبر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے قیام اور اس کے ذکر کی کثرت میں مدد کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ یعنی صبح و شام اپنے رب کا نام لیتے رہو۔ اس میں فرض نمازیں، اس کے توابع نوافل وغیرہ اور ان اوقات میں ذکر، تسبیح، تہلیل اور تکبیر وغیرہ داخل ہیں۔ [26]﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَاسۡجُدۡ لَهٗ ﴾ ’’اور رات کو سجدے کرو۔‘‘ یعنی اس کے حضور کثرت سے سجدے کیجیے اور یہ چیز کثرت نماز کو متضمن ہے۔ ﴿ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلًا طَوِيۡلًا﴾ ’’اور طویل رات تک اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔‘‘ اس مطلق کی تقیید اس ارشاد کے ذریعے سے گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمُزَّمِّلُۙ۰۰قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًاۙ۰۰نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ قَلِيۡلًاۙ۰۰اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾(المزمل:73؍1-4) ’’اے کپڑے میں لپٹنے والے، رات کو تھوڑا سا قیام کیا کیجیے، قیام نصف شب یا اس سے بھی کچھ کم، یا اس سے کچھ زیادہ۔‘‘ [27]﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ اے رسول! آپ کو جھٹلانے والے یہ لوگ، اس کے بعد کہ ان کے سامنے کھول کھول کر آیات بیان کی گئیں، ان کو ترغیب دی گئی، ان کو ڈرایا گیا، اس کے باوجود، اس نے ان کو کچھ فائدہ نہ دیا بلکہ وہ ہمیشہ ترجیح دیتے رہے﴿ يُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ ﴾ دنیا ہی کو اور اسی پر مطمئن رہے ﴿ وَيَذَرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ عمل چھوڑ دیتے ہیں اور مہمل بن جاتے ہیں ﴿ وَرَآءَؔهُمۡ ﴾ یعنی اپنے آگے ﴿ يَوۡمًا ثَقِيۡلًا ﴾ ’’بھاری دن‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس کی مقدار تمھارے حساب کے مطابق پچاس ہزار برس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ ﴾(القمر:54؍8) ’’کافر کہیں گے کہ یہ بہت ہی مشکل دن ہے۔‘‘ گویا کہ وہ صرف دنیا اور دنیا کے اندر قیام کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ [28] پھر اللہ تعالی ٰنے ان پر اور ان کی موت کے بعد دوبارہ زندگی پر، عقلی دلیل سے استدلال کیا ہے اور یہ ابتدائے تخلیق کی دلیل ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم ان کو عدم سے وجود میں لائے۔ ﴿ وَشَدَدۡنَاۤ اَسۡرَهُمۡ ﴾ یعنی ہم نے ان کی تخلیق کو اعصاب، رگوں، پٹھوں، ظاہری اور باطنی قویٰ کے ذریعے سے محکم کیا، یہاں تک کہ جسم تکمیل کی منزل پر پہنچ گیا اور ہر اس فعل پر قادر ہو گیا جو وہ چاہتا تھا۔ پس وہ ہستی جو انھیں اس حالت پر وجود میں لائی ہے، وہ ان کے مرنے کے بعد ان کو جزا و سزا دینے کے لیے انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے اور وہ ہستی جس نے اس دنیا میں ان کو ان مراحل میں سے گزارا ہے، اس کی شان کے لائق نہیں کہ وہ ان کو بے کار چھوڑ دے، ان کو حکم دیا جائے نہ ان کو روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ بَدَّلۡنَاۤ اَمۡثَالَهُمۡ تَبۡدِيۡلًا ﴾ ’’ان کے بدلے انھی کی طرح کے اور لوگ لے آئیں۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں روز قیامت دوبارہ اٹھنے کے لیے تخلیق کیا ہے، ہم نے ان کے اعیان، ان کے نفوس اور ان کی امثال کا اعادہ کیا۔ [29]﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖ تَذۡكِرَةٌ ﴾ ’’یہ ایک نصیحت ہے۔‘‘یعنی اس سے مومن نصیحت حاصل کرتا ہے، اس کے اندر جو تحویف و ترغیب ہے، اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔‘‘ یعنی وہ راستہ جو اس کے رب تک پہنچاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حق اور ہدایت کو پوری طرح واضح کر دیا اور حجت قائم کرنے کے لیے لوگوں کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو ہدایت کے راستے پر گامزن ہوں اور اگر چاہیں تو اس سے دور بھاگیں۔ [30]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو اللہ کو منظور ہو۔‘‘بے شک اللہ تعالیٰ کی مشیت نافذ ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ ہدایت یاب کی ہدایت اور گمراہ کی گمراہی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے۔ [31]﴿ يُّدۡخِلُ مَنۡ يَّشَآءُ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔‘‘ پس اسے اپنی عنایت سے مختص کرتا ہے، اسے سعادت کے اسباب کی توفیق سے نوازتا ہے اور سعادت کے راستوں کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ جنھوں نے ہدایت کی بجائے شقاوت کو منتخب کیا ﴿اَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ تو ان کے ظلم اور عدوان کی پاداش میں، ہم نے ان کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

الإنسان 76:29

بلاشبہ ہم نے تیار کر رکھی ہیں کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور سخت بھڑکتی آگ(4) یقیناً نیک لوگ پئیں گے ایسے جام سے کہ ہو گی اس میں ملاوٹ کافور کی(5) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے اللہ کے بندے، وہ بہا لے جائیں گے اسے (جدھر چاہیں گے) بہا لے جانا آسانی سے (6) وہ پوری کرتے ہیں نذر (اپنی) اور ڈرتے ہیں اس دن (کے عذاب) سے کہ ہو گا شر اس کا پھیل جانے والا(7) اور وہ کھلاتے ہیں کھانا باوجود اس کی محبت کے مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو(8)(کہتے ہیں:) بس ہم تو تمھیں کھاناکھلاتے ہیں اللہ ہی کی ذات کے لیے، اور نہیں چاہتے ہم تم سے کوئی جزا اور نہ شکریہ (9) بلاشبہ ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے اس دن سے جو ہو گا نہایت سخت بہت لمبا (10) سو بچائے گا انھیں اللہ، شر (عذاب) سے اس دن کے اور عطا کرے گا ان کو تازگی اور سرور (11) اور جزا دے گا انھیں بوجہ ان کے صبر کے جنت اور ریشمی لباس (12) وہ تکیہ لگائے ہوں گے اس میں تختوں پر، نہیں دیکھیں گے اس (جنت) میں سخت دھوپ اور نہ سخت سردی (13) اور جھکے ہوں گے ان پر اس (جنت) کے سائے اور آسان کر دیا جائے گا (حصول) ان کے پھلوں کا نہایت آسان (14) اور پھرائے جائیں گے ان پر برتن چاندی کے اور ایسے آبخورے کہ ہوں گے وہ شیشے کے (15) شیشے (بھی) چاندی کے(16)(ساقی)انھیں ٹھیک اندازے سے بھریں گے (17) اور پلائے جائیں گے وہ اس (جنت) میں ایسا جام شراب کہ ہو گی اس میں ملاوٹ زنجبیل (سونٹھ) کی (18)(یہ) چشمہ ہے۔ جنت میں کہ نام رکھا جاتا ہے (اس کا) سلسبیل (19) اور گھومیں گے ان پر ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے جب تو دیکھے گا انھیں تو سمجھے گا ان کو موتی بکھرے ہوئے(20) اور جب تو دیکھے گا وہاں، تو دیکھے گا تو نعمت اور سلطنت بڑی (21) ان پر کپڑے (لباس) ہوں گے باریک سبز اور دبیز ریشم کے اور زیور پہنائے جائیں گے ان کو کنگن چاندی کے اور پلائے گا انھیں ان کا رب شرابِ طَہور (22)(انھیں کہا جائے گا:)بلاشبہ یہ ہے تمھارے لیے جزا، اور ہے کوشش تمھاری قابل قدر (23) یقیناً ہم ہی نے اتارا ہے آپ پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا اتارنا (23) پس آپ صبر کیجیے اپنے رب کے حکم کے لیے اور نہ اطاعت کیجیے ان میں سے کسی گناہ گار یا کافر کی (24) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا صبح اور شام (25) اور کچھ (حصہ) رات میں بھی پس سجدہ کیجیے اس کے لیے اور اس کی تسبیح کیجیے رات میں دیر تک (26) بلاشبہ یہ لوگ پسند کرتے ہیں دنیا کو اور چھوڑتے ہیں اپنے پیچھے بھاری دن کو (27) ہم ہی نے پیدا کیا انھیں اور مضبوط کیے ہم نے ان کے جوڑ، اور جب ہم چاہیں بدل کر لے آئیں ان جیسے (اور لوگ) تبدیل کر کے (28) بلاشبہ یہ ایک نصیحت ہے، سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ(29) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ ہی، یقیناً ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا (30) وہ داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں، اور ظالم، اس نے تیار کیا ہے ان کے لیے عذاب درد ناک (31) [4] جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کے ارتکاب کی جسارت کی ہم نے اس کے لیے تیار کی ہیں ﴿ سَلٰسِلَاۡ ﴾ جہنم کی آگ میں زنجیریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُكُوۡهُ﴾(الحاقۃ:69؍32) ’’ پھر اسے اس زنجیر میں جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے۔‘‘﴿وَاَغۡلٰلًا﴾’’اورطوق‘‘ جس کے ذریعے سے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھ کر ان سے جکڑ دیا جائے گا۔﴿وَّسَعِيۡرًا﴾ یعنی ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے جو ان کے جسموں کے ساتھ بھڑکے گی اور ان کے بدنوں کو جلا ڈالے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾(النساء:4؍56) ’’جب ان کی کھالیں گل جائیں گی، تو ہم ان کو ان کے سوا اور کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔‘‘ یہ عذاب ان کے لیے دائمی ہوگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ [5] رہے ﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ ’’نیک لوگ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دل نیک ہیں کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اخلاق جمیلہ ہیں۔ پس اس سبب سے ان کے اعمال بھی نیک ہیں انھوں نے ان کو نیک اعمال میں استعمال کیا ہے۔ ﴿يَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ كَاۡسٍ﴾ ’’ایسے جام سے پئیں گے‘‘ یعنی شراب سے انتہائی لذیذمشروب جس میں کافور ملایا گیا ہوگا تاکہ اس مشروب کو ٹھنڈا کر کے اس کی حدت کو توڑ دے۔ یہ کافور انتہائی لذیذ ہو گا ہر قسم کے تکدر اور ملاوٹ سے پاک ہو گا جو دنیا کے کافور میں موجود ہوتی ہے۔ ہر وہ آفت ان اسماء میں ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے کہ وہ جنت میں ہوں گے جبکہ اس قسم کے اسماء دنیا میں بھی ہیں تو وہ (آفت) آخرت میں نہیں ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فِيۡ سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍۙ۰۰ وَّطَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(الواقعہ:56/28-29) ’’وہ بغیر کانٹوں کی بیریوں اور تہ بہ تہ کیلوں میں ہوں گے۔‘‘ فرمایا: ﴿وَ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ﴾(آل عمران:3؍15) ’’اور جنت میں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی۔‘‘اور فرمایا : ﴿لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ﴾(الانعام:6؍127) ’’ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔‘‘اور فرمایا: ﴿وَفِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ﴾(الزحزف:43؍71) ’’اور اس میں وہ سب کچھ ہو گا جو دل چاہیں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔‘‘ [6]﴿عَيۡنًا يَّشۡرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے‘‘ یعنی وہ لذیذ شراب، جو وہ پئیں گے، انھیں اس کے ختم ہونے کا خوف نہیں ہو گا بلکہ اس کا ایسا مادہ ہو گا جو کبھی منقطع نہ ہو گا۔ یہ ہمیشہ جاری رہنے اور بہنے والا چشمہ ہو گا۔ اللہ کے بندے جہاں چاہیں گے جیسے چاہیں گے وہاں سے نہریں نکال لے جائیں گے، اگر وہ چاہیں گے تو ان کو خوبصورت باغات کی طرف موڑ لیں گے۔ یا بارونق باغیچوں کی طرف لے جائیں گے اگر وہ چاہیں گے تو محلات کی جوانب اور آراستہ گھروں کی طرف بہا لے جائیں گے یا وہ خوبصورت جہات میں سے جس جہت میں بھی چاہیں گے ان نہروں کو لے جائیں گے۔ [7] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں ان کے جملہ اعمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ ﴾ یعنی وہ جن نذروں اور معاہدوں کو اپنے آپ پر لازم کر لیتے تھے، انھیں پورا کرتے تھے۔ جب وہ نذر کو پورا کرتے تھے، جو اصل میں ان پر واجب نہیں الّا یہ کہ وہ اسے خود اپنے آپ پر واجب کر لیں، تب فرائض اصلیہ کو تو بدرجہ اولیٰ قائم کرتے اور ان کو بجا لاتے ہوں گے ﴿ وَيَخَافُوۡنَ يَوۡمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسۡتَطِيۡرًا ﴾ یعنی اس دن خوف رکھتے تھے جس کی برائی نہایت سخت اور پھیل جانے والی ہے۔ پس انھیں خوف تھا کہ اس دن کی برائی کہیں انھیں نہ پہنچ جائے، اس لیے انھوں نے ہر وہ سبب چھوڑ دیا جو اس کا موجب تھا۔ [10-8]﴿وَيُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ ﴾ یعنی وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ جس میں وہ خود مال اور طعام کو پسند کرتے ہیں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے نفس کی محبت پر مقدم رکھا اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ مستحق اور سب سے زیادہ حاجت مند کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں ﴿ مِسۡكِيۡنًا وَّيَتِيۡمًا وَّاَسِيۡرًا ﴾ ’’مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔‘‘ ان کے کھانا کھلانے اور خرچ کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔ وہ اپنی زبان حال سے کہتے ہیں:﴿ اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءًؔ وَّلَا شُكُوۡرًا ﴾’’ہم تو تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے کسی بدلے کے خواست گار ہیں اور نہ شکر گزاری کے۔‘‘ یعنی نہ کوئی مالی جزا چاہتے ہیں اور نہ قولی ثنا۔﴿ اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوۡسًا ﴾ ’’ہم اپنے پرودگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی والا ہوگا۔‘‘ جو نہایت سخت اور شر والا دن ہوگا ﴿قَمۡطَرِيۡرًا ﴾ اور نہایت تنگ دن ہوگا۔ [11]﴿ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الۡيَوۡمِ ﴾ ’’پس اللہ ان کو اس دن کے شر سے بچالے گا۔‘‘ پس انھیں وہ عظیم گھبراہٹ غم زدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے ’’یہ وہ دن ہے جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔‘‘ ﴿ وَلَقّٰىهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز کرے گا ﴿نَضۡرَۃً﴾ یعنی ان کے چہروں کو تازگی عطا کرے گا ﴿ وَّسُرُوۡرًا﴾ اور ان کے دلوں کو سرور سے لبریز کرے گا، پس اللہ تعالیٰ ان کے لیے ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اکٹھا کر دے گا۔ [12]﴿ وَجَزٰىهُمۡ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ، یعنی ان کی جزا اس سبب سے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کیا اور استطاعت بھر نیک عمل کیے اور اس سبب سے کہ انھوں نے برائیوں سے اجتناب پر صبر کیا اور ان کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہیں کیا ﴿ جَنَّةً ﴾ ’’جنت ہے۔‘‘ جو ہر نعمت کی جامع اور ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہے ﴿ وَّحَرِيۡرًا﴾ ’’اور ریشم ہے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾(الحج:22؍23) ’’اور جنت میں ان کا لباس ریشمی ہو گا۔‘‘ شاید اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ریشم کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ ان کا ظاہری لباس ہو گا جو صاحب لباس کے حال پر دلالت کرے گا۔ [13]﴿ مُّتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ ﴾ ’’وہ تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ (الاتّکاء)سے مراد اطمینان، راحت اور آسودگی کی حالت میں ٹیک لگا کر بیٹھنا۔ اور (الارائک) وہ تخت ہیں جن پر سجاوٹ کے لیے کپڑے بچھائے گئے ہوں۔ ﴿ لَا يَرَوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اس جنت کے اندر نہیں دیکھیں گے ﴿شَمۡسًا﴾ دھوپ جس کی تپش ان کو نقصان پہنچائے۔ ﴿ وَّلَا زَمۡهَرِيۡرًا﴾ ’’اور نہ سخت سردی‘‘ یعنی ان کے تمام اوقات گہرے سائے میں گزریں گے، جہاں گرمی ہو گی نہ سردی، جہاں ان کے جسم لذت حاصل کریں گے وہاں ان کے جسموں کو گرمی سے تکلیف ہو گی نہ سردی سے۔ [14]﴿ وَدَانِيَةً عَلَيۡهِمۡ ظِلٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُهَا تَذۡلِيۡلًا ﴾ ’’اور ان سے ان کے سائے قریب ہوں گے اور میووں کے گھچے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کے پھل، اس کے چاہنے والے کے اتنے قریب کر دیے جائیں گے کہ وہ ان کو کھڑے بیٹھے یا لیٹے ہوئے بھی حاصل کر سکے گا۔ [16,15] خدمت گار لڑکے اور خدام، اہل جنت کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے ﴿ بِاٰنِيَةٍ مِّنۡ فِضَّةٍ وَّاَكۡوَابٍ كَانَتۡ قَؔوَارِيۡرَاۡۙ۰۰ قَؔوَارِيۡرَاۡ مِنۡ فِضَّةٍ ﴾ ’’چاندی کے برتن لیے، ہوئے اور شیشے کے (شفاف) گلاس لیے ہوئے، شیشے بھی چاندی کے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کا مادہ چاندی ہو گا ان کی صفائی شیشے کی سی ہو گی۔ یہ ایک عجیب ترین چیز ہو گی کہ چاندی جو کہ کثیف ہوتی ہے اپنے جوہر کی صفائی اور اچھے معدن کی بنا پر شیشے کے صاف و شفاف ہونے کی مانند صاف و شفاف ہو گی۔ ﴿ قَدَّرُوۡهَا تَقۡدِيۡرًا ﴾ ’’جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں۔‘‘ یعنی ان مذکور برتنوں (کے حجم) کو اپنی سیرابی کی مقدار کے مطابق بنائیں گے، اس سے کم ہوں گے نہ زیادہ کیونکہ اگر حجم میں زیادہ ہوں تو ان کی لذت کم ہوجائے گی اگر کم ہوں گے تو ان کی سیرابی کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ اہل جنت ان برتنوں کو ایسی مقدار پر بنائیں گے جو ان کی لذات کے موافق ہو گی، وہ برتن ان کے پاس ایسے حجم اور مقدار پر آئیں گے جس کا اندازہ انھوں نے اپنے دلوں میں کیا ہو گا۔ [18,17]﴿ وَيُسۡقَوۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہاں انھیں پلائی جائے گی۔‘‘ یعنی جنت میں خالص شراب کے جام بھرے ہوں گے ﴿ كَانَ مِزَاجُهَا ﴾ جس میں ملاوٹ ہوگی ﴿ زَنۡجَبِيۡلًا ﴾’’سونٹھ کی۔‘‘تاکہ اس کا ذائقہ اور خوشبو دونوں خو ش گوار بن جائیں۔﴿ عَيۡنًا فِيۡهَا﴾ ’’اس جنت میں ایک چشمہ ہے ﴿ تُسَمّٰى سَلۡسَبِيۡلًا﴾’’جس کا نام سلسبیل ہے۔‘‘ اس کو یہ نام، اس کے آسانی کے ساتھ حاصل ہونے، اس کی لذت اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ [19]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی اہل جنت کے پاس، ان کے کھانے، ان کے مشروب اور ان کی خدمت کے لیے گھومتے پھرتے ہوں گے ﴿ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ﴾ ’’لڑکے ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہنے والے۔‘‘ ان کو جنت میں بقا کے لیے پیدا کیا گیا ہے، ان کی ہیئت بدلے گی نہ وہ بڑے ہوں گے اور وہ انتہائی خوبصورت ہوں گے۔ ﴿ اِذَا رَاَيۡتَهُمۡ ﴾ جب تو ان کو اہل جنت کی خدمت میں منتشر ہوئے دیکھے ﴿حَسِبۡتَهُمۡ ﴾ تو ان کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے سمجھے گا ﴿ لُؤۡلُؤًا مَّنۡثُوۡرًا ﴾ کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ یہ اہل جنت کی لذت کی تکمیل ہے کہ ان کے خدام، ہمیشہ رہنے والے لڑکے ہوں گے جن کا نظارہ اہل جنت کو خوش کر دے گا، وہ اپنی تابع داری کی بنا پر امن کے ساتھ ان کی آرام گاہ میں وہ چیزیں لے کر آئیں گے جو وہ منگوائیں گے اور جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے۔ [20]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَ ثَمَّ ﴾ یعنی جب تو جنت میں دیکھے کہ اہل جنت کن کامل نعمتوں میں ہیں ﴿ رَاَيۡتَ نَعِيۡمًا وَّمُلۡكًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’تو نعمتیں ہی نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا‘‘تو ان میں سے ایک کو اس طرح پائے گا کہ اس کے پاس ایسی آرام گاہیں ہوں گی، سجائے اور مزین کیے ہوئے ایسے بالا خانے ہوں گے جن کا وصف بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس کے پاس خوبصورت باغات ہوں گے ایسے ہوں گے جو اس کی پہنچ میں ہوں گے، لذیذ میوہ جات ہوں گے، بہتی ہوئی ندیاں اور خوش کن باغیچے ہوں گے۔ سحر انگیز چہچہانے والے پرندے ہوں گے جو دلوں کو متاثر اور نفوس کو خوش کریں گے۔اس کے پاس بیویاں ہوں گی جو انتہائی خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی جو ظاہری اور باطنی جمال کی جامع ہوں گی جو نیک اور حسین ہوں گی، ان کا حسن قلب کو سرور، لذت اور خوشی سے لبریز کردے گا۔ اس کے ارد گرد ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے اور دائمی خدام (گھوم پھر رہے) ہوں گے جس سے راحت و اطمینان حاصل ہو گا، لذت عیش کا اتمام اور مسرت کی تکمیل ہو گی۔پھر اس کے علاوہ اور اس سے بڑھ کر رب رحیم کی رضا، اس کے خطاب کا سماع، اس کے قرب کی لذت، اس کی رضا کی خوشی اور دائمی زندگی حاصل ہو گی جن نعمتوں میں وہ رہ رہے ہوں گے وہ ہر وقت اور ہر آن بڑھتی ہی رہیں گی۔پس پاک ہے اللہ تعالیٰ، اقتدار اور واضح حق کا مالک جس کے خزانے کبھی ختم ہوتے ہیں نہ اس کی بھلائی کم پڑتی ہے ،جیسے اس کے اوصاف کی کوئی انتہا ہے نہ اس کی نیکی اور احسان کی کوئی حد ہے۔ [21]﴿ عٰؔلِيَهُمۡ ثِيَابُ سُنۡدُسٍ خُضۡرٌ وَّاِسۡتَبۡرَقٌ ﴾ ، یعنی ان کو سبز اور دبیز ریشم کے باریک اطلس کے لباس پہنائے جائیں گے۔ یہ دونوں حریر کی بہترین اقسام ہیں۔ ﴿ سُنۡدُسٍ ﴾ موٹے اور دبیز ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں، اور (استبرق) باریک ریشمی کپڑے کو کہا جاتا ہے۔ ﴿ وَّحُلُّوۡۤا اَسَاوِرَ مِنۡ فِضَّةٍ ﴾ مردوں اور عورتوں کو ان کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، یہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے کیونکہ اپنے قول اور اپنی بات میں اس سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں ﴿ وَسَقٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ شَرَابًا طَهُوۡرًا ﴾ ’’اور انھیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا۔‘‘ جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی کدورت نہ ہو گی اور ان کے پیٹ میں جو آلائشیں وغیرہ ہوں گی ان کو پاک صاف کر دے گی۔ [22]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بلاشبہ یہ اجر جزیل اور عطائے جمیل ﴿ كَانَ لَكُمۡ جَزَآءًؔ ﴾ ان اعمال کی جزا ہے جو تم آگے بھیج چکے ہو۔ ﴿ وَّكَانَ سَعۡيُكُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾ ’’اور تمھاری کوشش کی قدر کی گئی ہے۔‘‘ یعنی تمھاری تھوڑی سے کوشش کے بدلے اللہ تعالیٰ نے تمھیں اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔ [23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِيۡلًا﴾ ’’ہم نے آپ پر قرآن آہستہ آہستہ اتارا ہے۔‘‘اور اس کے اندر وعد و وعید اور ہر چیز کا بیان ہے جس کے بندے محتاج ہیں۔ قرآن کریم کے اندر اللہ تعالیٰ کے اوامر و شرائع کو پوری طرح قائم کرنے، ان کے نفاذ کی کوشش کرنے اور اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، بنابریں فرمایا: [24] یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم قدری پر صبر کیجیے اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کیجیے اور اس کے حکم دینی پر صبر کیجیے اور اس پر رواں دواں رہیے اور کوئی چیز آپ کی راہ کھوٹی نہ کر سکے۔ ﴿ وَلَا تُطِعۡ ﴾ معاندین حق کی اطاعت نہ کیجیے جو چاہتے ہیں کہ آپ کو راہ حق سے روک دیں ﴿ اٰثِمًا ﴾ یعنی جو گناہ اور معصیت کا ارتکاب کرنے والا ہے اور نہ (اطاعت کریں)﴿ كَفُوۡرًا﴾ ’’كفر كرنے والے كی‘‘ کیونکہ کفار، فجار اور فساق کی اطاعت حتمی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے کیونکہ یہ لوگ صرف اسی چیز کا حکم دیتے ہیں جسے ان کے نفس پسند کرتے ہیں۔ [25] چونکہ صبر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے قیام اور اس کے ذکر کی کثرت میں مدد کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ یعنی صبح و شام اپنے رب کا نام لیتے رہو۔ اس میں فرض نمازیں، اس کے توابع نوافل وغیرہ اور ان اوقات میں ذکر، تسبیح، تہلیل اور تکبیر وغیرہ داخل ہیں۔ [26]﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَاسۡجُدۡ لَهٗ ﴾ ’’اور رات کو سجدے کرو۔‘‘ یعنی اس کے حضور کثرت سے سجدے کیجیے اور یہ چیز کثرت نماز کو متضمن ہے۔ ﴿ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلًا طَوِيۡلًا﴾ ’’اور طویل رات تک اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔‘‘ اس مطلق کی تقیید اس ارشاد کے ذریعے سے گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمُزَّمِّلُۙ۰۰قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًاۙ۰۰نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ قَلِيۡلًاۙ۰۰اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾(المزمل:73؍1-4) ’’اے کپڑے میں لپٹنے والے، رات کو تھوڑا سا قیام کیا کیجیے، قیام نصف شب یا اس سے بھی کچھ کم، یا اس سے کچھ زیادہ۔‘‘ [27]﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ اے رسول! آپ کو جھٹلانے والے یہ لوگ، اس کے بعد کہ ان کے سامنے کھول کھول کر آیات بیان کی گئیں، ان کو ترغیب دی گئی، ان کو ڈرایا گیا، اس کے باوجود، اس نے ان کو کچھ فائدہ نہ دیا بلکہ وہ ہمیشہ ترجیح دیتے رہے﴿ يُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ ﴾ دنیا ہی کو اور اسی پر مطمئن رہے ﴿ وَيَذَرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ عمل چھوڑ دیتے ہیں اور مہمل بن جاتے ہیں ﴿ وَرَآءَؔهُمۡ ﴾ یعنی اپنے آگے ﴿ يَوۡمًا ثَقِيۡلًا ﴾ ’’بھاری دن‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس کی مقدار تمھارے حساب کے مطابق پچاس ہزار برس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ ﴾(القمر:54؍8) ’’کافر کہیں گے کہ یہ بہت ہی مشکل دن ہے۔‘‘ گویا کہ وہ صرف دنیا اور دنیا کے اندر قیام کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ [28] پھر اللہ تعالی ٰنے ان پر اور ان کی موت کے بعد دوبارہ زندگی پر، عقلی دلیل سے استدلال کیا ہے اور یہ ابتدائے تخلیق کی دلیل ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم ان کو عدم سے وجود میں لائے۔ ﴿ وَشَدَدۡنَاۤ اَسۡرَهُمۡ ﴾ یعنی ہم نے ان کی تخلیق کو اعصاب، رگوں، پٹھوں، ظاہری اور باطنی قویٰ کے ذریعے سے محکم کیا، یہاں تک کہ جسم تکمیل کی منزل پر پہنچ گیا اور ہر اس فعل پر قادر ہو گیا جو وہ چاہتا تھا۔ پس وہ ہستی جو انھیں اس حالت پر وجود میں لائی ہے، وہ ان کے مرنے کے بعد ان کو جزا و سزا دینے کے لیے انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے اور وہ ہستی جس نے اس دنیا میں ان کو ان مراحل میں سے گزارا ہے، اس کی شان کے لائق نہیں کہ وہ ان کو بے کار چھوڑ دے، ان کو حکم دیا جائے نہ ان کو روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ بَدَّلۡنَاۤ اَمۡثَالَهُمۡ تَبۡدِيۡلًا ﴾ ’’ان کے بدلے انھی کی طرح کے اور لوگ لے آئیں۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں روز قیامت دوبارہ اٹھنے کے لیے تخلیق کیا ہے، ہم نے ان کے اعیان، ان کے نفوس اور ان کی امثال کا اعادہ کیا۔ [29]﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖ تَذۡكِرَةٌ ﴾ ’’یہ ایک نصیحت ہے۔‘‘یعنی اس سے مومن نصیحت حاصل کرتا ہے، اس کے اندر جو تحویف و ترغیب ہے، اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔‘‘ یعنی وہ راستہ جو اس کے رب تک پہنچاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حق اور ہدایت کو پوری طرح واضح کر دیا اور حجت قائم کرنے کے لیے لوگوں کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو ہدایت کے راستے پر گامزن ہوں اور اگر چاہیں تو اس سے دور بھاگیں۔ [30]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو اللہ کو منظور ہو۔‘‘بے شک اللہ تعالیٰ کی مشیت نافذ ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ ہدایت یاب کی ہدایت اور گمراہ کی گمراہی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے۔ [31]﴿ يُّدۡخِلُ مَنۡ يَّشَآءُ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔‘‘ پس اسے اپنی عنایت سے مختص کرتا ہے، اسے سعادت کے اسباب کی توفیق سے نوازتا ہے اور سعادت کے راستوں کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ جنھوں نے ہدایت کی بجائے شقاوت کو منتخب کیا ﴿اَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ تو ان کے ظلم اور عدوان کی پاداش میں، ہم نے ان کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

الإنسان 76:30

بلاشبہ ہم نے تیار کر رکھی ہیں کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور سخت بھڑکتی آگ(4) یقیناً نیک لوگ پئیں گے ایسے جام سے کہ ہو گی اس میں ملاوٹ کافور کی(5) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے اللہ کے بندے، وہ بہا لے جائیں گے اسے (جدھر چاہیں گے) بہا لے جانا آسانی سے (6) وہ پوری کرتے ہیں نذر (اپنی) اور ڈرتے ہیں اس دن (کے عذاب) سے کہ ہو گا شر اس کا پھیل جانے والا(7) اور وہ کھلاتے ہیں کھانا باوجود اس کی محبت کے مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو(8)(کہتے ہیں:) بس ہم تو تمھیں کھاناکھلاتے ہیں اللہ ہی کی ذات کے لیے، اور نہیں چاہتے ہم تم سے کوئی جزا اور نہ شکریہ (9) بلاشبہ ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے اس دن سے جو ہو گا نہایت سخت بہت لمبا (10) سو بچائے گا انھیں اللہ، شر (عذاب) سے اس دن کے اور عطا کرے گا ان کو تازگی اور سرور (11) اور جزا دے گا انھیں بوجہ ان کے صبر کے جنت اور ریشمی لباس (12) وہ تکیہ لگائے ہوں گے اس میں تختوں پر، نہیں دیکھیں گے اس (جنت) میں سخت دھوپ اور نہ سخت سردی (13) اور جھکے ہوں گے ان پر اس (جنت) کے سائے اور آسان کر دیا جائے گا (حصول) ان کے پھلوں کا نہایت آسان (14) اور پھرائے جائیں گے ان پر برتن چاندی کے اور ایسے آبخورے کہ ہوں گے وہ شیشے کے (15) شیشے (بھی) چاندی کے(16)(ساقی)انھیں ٹھیک اندازے سے بھریں گے (17) اور پلائے جائیں گے وہ اس (جنت) میں ایسا جام شراب کہ ہو گی اس میں ملاوٹ زنجبیل (سونٹھ) کی (18)(یہ) چشمہ ہے۔ جنت میں کہ نام رکھا جاتا ہے (اس کا) سلسبیل (19) اور گھومیں گے ان پر ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے جب تو دیکھے گا انھیں تو سمجھے گا ان کو موتی بکھرے ہوئے(20) اور جب تو دیکھے گا وہاں، تو دیکھے گا تو نعمت اور سلطنت بڑی (21) ان پر کپڑے (لباس) ہوں گے باریک سبز اور دبیز ریشم کے اور زیور پہنائے جائیں گے ان کو کنگن چاندی کے اور پلائے گا انھیں ان کا رب شرابِ طَہور (22)(انھیں کہا جائے گا:)بلاشبہ یہ ہے تمھارے لیے جزا، اور ہے کوشش تمھاری قابل قدر (23) یقیناً ہم ہی نے اتارا ہے آپ پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا اتارنا (23) پس آپ صبر کیجیے اپنے رب کے حکم کے لیے اور نہ اطاعت کیجیے ان میں سے کسی گناہ گار یا کافر کی (24) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا صبح اور شام (25) اور کچھ (حصہ) رات میں بھی پس سجدہ کیجیے اس کے لیے اور اس کی تسبیح کیجیے رات میں دیر تک (26) بلاشبہ یہ لوگ پسند کرتے ہیں دنیا کو اور چھوڑتے ہیں اپنے پیچھے بھاری دن کو (27) ہم ہی نے پیدا کیا انھیں اور مضبوط کیے ہم نے ان کے جوڑ، اور جب ہم چاہیں بدل کر لے آئیں ان جیسے (اور لوگ) تبدیل کر کے (28) بلاشبہ یہ ایک نصیحت ہے، سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ(29) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ ہی، یقیناً ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا (30) وہ داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں، اور ظالم، اس نے تیار کیا ہے ان کے لیے عذاب درد ناک (31) [4] جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کے ارتکاب کی جسارت کی ہم نے اس کے لیے تیار کی ہیں ﴿ سَلٰسِلَاۡ ﴾ جہنم کی آگ میں زنجیریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُكُوۡهُ﴾(الحاقۃ:69؍32) ’’ پھر اسے اس زنجیر میں جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے۔‘‘﴿وَاَغۡلٰلًا﴾’’اورطوق‘‘ جس کے ذریعے سے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھ کر ان سے جکڑ دیا جائے گا۔﴿وَّسَعِيۡرًا﴾ یعنی ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے جو ان کے جسموں کے ساتھ بھڑکے گی اور ان کے بدنوں کو جلا ڈالے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾(النساء:4؍56) ’’جب ان کی کھالیں گل جائیں گی، تو ہم ان کو ان کے سوا اور کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔‘‘ یہ عذاب ان کے لیے دائمی ہوگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ [5] رہے ﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ ’’نیک لوگ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دل نیک ہیں کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اخلاق جمیلہ ہیں۔ پس اس سبب سے ان کے اعمال بھی نیک ہیں انھوں نے ان کو نیک اعمال میں استعمال کیا ہے۔ ﴿يَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ كَاۡسٍ﴾ ’’ایسے جام سے پئیں گے‘‘ یعنی شراب سے انتہائی لذیذمشروب جس میں کافور ملایا گیا ہوگا تاکہ اس مشروب کو ٹھنڈا کر کے اس کی حدت کو توڑ دے۔ یہ کافور انتہائی لذیذ ہو گا ہر قسم کے تکدر اور ملاوٹ سے پاک ہو گا جو دنیا کے کافور میں موجود ہوتی ہے۔ ہر وہ آفت ان اسماء میں ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے کہ وہ جنت میں ہوں گے جبکہ اس قسم کے اسماء دنیا میں بھی ہیں تو وہ (آفت) آخرت میں نہیں ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فِيۡ سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍۙ۰۰ وَّطَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(الواقعہ:56/28-29) ’’وہ بغیر کانٹوں کی بیریوں اور تہ بہ تہ کیلوں میں ہوں گے۔‘‘ فرمایا: ﴿وَ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ﴾(آل عمران:3؍15) ’’اور جنت میں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی۔‘‘اور فرمایا : ﴿لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ﴾(الانعام:6؍127) ’’ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔‘‘اور فرمایا: ﴿وَفِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ﴾(الزحزف:43؍71) ’’اور اس میں وہ سب کچھ ہو گا جو دل چاہیں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔‘‘ [6]﴿عَيۡنًا يَّشۡرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے‘‘ یعنی وہ لذیذ شراب، جو وہ پئیں گے، انھیں اس کے ختم ہونے کا خوف نہیں ہو گا بلکہ اس کا ایسا مادہ ہو گا جو کبھی منقطع نہ ہو گا۔ یہ ہمیشہ جاری رہنے اور بہنے والا چشمہ ہو گا۔ اللہ کے بندے جہاں چاہیں گے جیسے چاہیں گے وہاں سے نہریں نکال لے جائیں گے، اگر وہ چاہیں گے تو ان کو خوبصورت باغات کی طرف موڑ لیں گے۔ یا بارونق باغیچوں کی طرف لے جائیں گے اگر وہ چاہیں گے تو محلات کی جوانب اور آراستہ گھروں کی طرف بہا لے جائیں گے یا وہ خوبصورت جہات میں سے جس جہت میں بھی چاہیں گے ان نہروں کو لے جائیں گے۔ [7] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں ان کے جملہ اعمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ ﴾ یعنی وہ جن نذروں اور معاہدوں کو اپنے آپ پر لازم کر لیتے تھے، انھیں پورا کرتے تھے۔ جب وہ نذر کو پورا کرتے تھے، جو اصل میں ان پر واجب نہیں الّا یہ کہ وہ اسے خود اپنے آپ پر واجب کر لیں، تب فرائض اصلیہ کو تو بدرجہ اولیٰ قائم کرتے اور ان کو بجا لاتے ہوں گے ﴿ وَيَخَافُوۡنَ يَوۡمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسۡتَطِيۡرًا ﴾ یعنی اس دن خوف رکھتے تھے جس کی برائی نہایت سخت اور پھیل جانے والی ہے۔ پس انھیں خوف تھا کہ اس دن کی برائی کہیں انھیں نہ پہنچ جائے، اس لیے انھوں نے ہر وہ سبب چھوڑ دیا جو اس کا موجب تھا۔ [10-8]﴿وَيُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ ﴾ یعنی وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ جس میں وہ خود مال اور طعام کو پسند کرتے ہیں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے نفس کی محبت پر مقدم رکھا اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ مستحق اور سب سے زیادہ حاجت مند کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں ﴿ مِسۡكِيۡنًا وَّيَتِيۡمًا وَّاَسِيۡرًا ﴾ ’’مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔‘‘ ان کے کھانا کھلانے اور خرچ کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔ وہ اپنی زبان حال سے کہتے ہیں:﴿ اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءًؔ وَّلَا شُكُوۡرًا ﴾’’ہم تو تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے کسی بدلے کے خواست گار ہیں اور نہ شکر گزاری کے۔‘‘ یعنی نہ کوئی مالی جزا چاہتے ہیں اور نہ قولی ثنا۔﴿ اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوۡسًا ﴾ ’’ہم اپنے پرودگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی والا ہوگا۔‘‘ جو نہایت سخت اور شر والا دن ہوگا ﴿قَمۡطَرِيۡرًا ﴾ اور نہایت تنگ دن ہوگا۔ [11]﴿ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الۡيَوۡمِ ﴾ ’’پس اللہ ان کو اس دن کے شر سے بچالے گا۔‘‘ پس انھیں وہ عظیم گھبراہٹ غم زدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے ’’یہ وہ دن ہے جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔‘‘ ﴿ وَلَقّٰىهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز کرے گا ﴿نَضۡرَۃً﴾ یعنی ان کے چہروں کو تازگی عطا کرے گا ﴿ وَّسُرُوۡرًا﴾ اور ان کے دلوں کو سرور سے لبریز کرے گا، پس اللہ تعالیٰ ان کے لیے ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اکٹھا کر دے گا۔ [12]﴿ وَجَزٰىهُمۡ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ، یعنی ان کی جزا اس سبب سے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کیا اور استطاعت بھر نیک عمل کیے اور اس سبب سے کہ انھوں نے برائیوں سے اجتناب پر صبر کیا اور ان کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہیں کیا ﴿ جَنَّةً ﴾ ’’جنت ہے۔‘‘ جو ہر نعمت کی جامع اور ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہے ﴿ وَّحَرِيۡرًا﴾ ’’اور ریشم ہے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾(الحج:22؍23) ’’اور جنت میں ان کا لباس ریشمی ہو گا۔‘‘ شاید اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ریشم کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ ان کا ظاہری لباس ہو گا جو صاحب لباس کے حال پر دلالت کرے گا۔ [13]﴿ مُّتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ ﴾ ’’وہ تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ (الاتّکاء)سے مراد اطمینان، راحت اور آسودگی کی حالت میں ٹیک لگا کر بیٹھنا۔ اور (الارائک) وہ تخت ہیں جن پر سجاوٹ کے لیے کپڑے بچھائے گئے ہوں۔ ﴿ لَا يَرَوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اس جنت کے اندر نہیں دیکھیں گے ﴿شَمۡسًا﴾ دھوپ جس کی تپش ان کو نقصان پہنچائے۔ ﴿ وَّلَا زَمۡهَرِيۡرًا﴾ ’’اور نہ سخت سردی‘‘ یعنی ان کے تمام اوقات گہرے سائے میں گزریں گے، جہاں گرمی ہو گی نہ سردی، جہاں ان کے جسم لذت حاصل کریں گے وہاں ان کے جسموں کو گرمی سے تکلیف ہو گی نہ سردی سے۔ [14]﴿ وَدَانِيَةً عَلَيۡهِمۡ ظِلٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُهَا تَذۡلِيۡلًا ﴾ ’’اور ان سے ان کے سائے قریب ہوں گے اور میووں کے گھچے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کے پھل، اس کے چاہنے والے کے اتنے قریب کر دیے جائیں گے کہ وہ ان کو کھڑے بیٹھے یا لیٹے ہوئے بھی حاصل کر سکے گا۔ [16,15] خدمت گار لڑکے اور خدام، اہل جنت کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے ﴿ بِاٰنِيَةٍ مِّنۡ فِضَّةٍ وَّاَكۡوَابٍ كَانَتۡ قَؔوَارِيۡرَاۡۙ۰۰ قَؔوَارِيۡرَاۡ مِنۡ فِضَّةٍ ﴾ ’’چاندی کے برتن لیے، ہوئے اور شیشے کے (شفاف) گلاس لیے ہوئے، شیشے بھی چاندی کے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کا مادہ چاندی ہو گا ان کی صفائی شیشے کی سی ہو گی۔ یہ ایک عجیب ترین چیز ہو گی کہ چاندی جو کہ کثیف ہوتی ہے اپنے جوہر کی صفائی اور اچھے معدن کی بنا پر شیشے کے صاف و شفاف ہونے کی مانند صاف و شفاف ہو گی۔ ﴿ قَدَّرُوۡهَا تَقۡدِيۡرًا ﴾ ’’جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں۔‘‘ یعنی ان مذکور برتنوں (کے حجم) کو اپنی سیرابی کی مقدار کے مطابق بنائیں گے، اس سے کم ہوں گے نہ زیادہ کیونکہ اگر حجم میں زیادہ ہوں تو ان کی لذت کم ہوجائے گی اگر کم ہوں گے تو ان کی سیرابی کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ اہل جنت ان برتنوں کو ایسی مقدار پر بنائیں گے جو ان کی لذات کے موافق ہو گی، وہ برتن ان کے پاس ایسے حجم اور مقدار پر آئیں گے جس کا اندازہ انھوں نے اپنے دلوں میں کیا ہو گا۔ [18,17]﴿ وَيُسۡقَوۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہاں انھیں پلائی جائے گی۔‘‘ یعنی جنت میں خالص شراب کے جام بھرے ہوں گے ﴿ كَانَ مِزَاجُهَا ﴾ جس میں ملاوٹ ہوگی ﴿ زَنۡجَبِيۡلًا ﴾’’سونٹھ کی۔‘‘تاکہ اس کا ذائقہ اور خوشبو دونوں خو ش گوار بن جائیں۔﴿ عَيۡنًا فِيۡهَا﴾ ’’اس جنت میں ایک چشمہ ہے ﴿ تُسَمّٰى سَلۡسَبِيۡلًا﴾’’جس کا نام سلسبیل ہے۔‘‘ اس کو یہ نام، اس کے آسانی کے ساتھ حاصل ہونے، اس کی لذت اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ [19]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی اہل جنت کے پاس، ان کے کھانے، ان کے مشروب اور ان کی خدمت کے لیے گھومتے پھرتے ہوں گے ﴿ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ﴾ ’’لڑکے ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہنے والے۔‘‘ ان کو جنت میں بقا کے لیے پیدا کیا گیا ہے، ان کی ہیئت بدلے گی نہ وہ بڑے ہوں گے اور وہ انتہائی خوبصورت ہوں گے۔ ﴿ اِذَا رَاَيۡتَهُمۡ ﴾ جب تو ان کو اہل جنت کی خدمت میں منتشر ہوئے دیکھے ﴿حَسِبۡتَهُمۡ ﴾ تو ان کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے سمجھے گا ﴿ لُؤۡلُؤًا مَّنۡثُوۡرًا ﴾ کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ یہ اہل جنت کی لذت کی تکمیل ہے کہ ان کے خدام، ہمیشہ رہنے والے لڑکے ہوں گے جن کا نظارہ اہل جنت کو خوش کر دے گا، وہ اپنی تابع داری کی بنا پر امن کے ساتھ ان کی آرام گاہ میں وہ چیزیں لے کر آئیں گے جو وہ منگوائیں گے اور جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے۔ [20]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَ ثَمَّ ﴾ یعنی جب تو جنت میں دیکھے کہ اہل جنت کن کامل نعمتوں میں ہیں ﴿ رَاَيۡتَ نَعِيۡمًا وَّمُلۡكًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’تو نعمتیں ہی نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا‘‘تو ان میں سے ایک کو اس طرح پائے گا کہ اس کے پاس ایسی آرام گاہیں ہوں گی، سجائے اور مزین کیے ہوئے ایسے بالا خانے ہوں گے جن کا وصف بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس کے پاس خوبصورت باغات ہوں گے ایسے ہوں گے جو اس کی پہنچ میں ہوں گے، لذیذ میوہ جات ہوں گے، بہتی ہوئی ندیاں اور خوش کن باغیچے ہوں گے۔ سحر انگیز چہچہانے والے پرندے ہوں گے جو دلوں کو متاثر اور نفوس کو خوش کریں گے۔اس کے پاس بیویاں ہوں گی جو انتہائی خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی جو ظاہری اور باطنی جمال کی جامع ہوں گی جو نیک اور حسین ہوں گی، ان کا حسن قلب کو سرور، لذت اور خوشی سے لبریز کردے گا۔ اس کے ارد گرد ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے اور دائمی خدام (گھوم پھر رہے) ہوں گے جس سے راحت و اطمینان حاصل ہو گا، لذت عیش کا اتمام اور مسرت کی تکمیل ہو گی۔پھر اس کے علاوہ اور اس سے بڑھ کر رب رحیم کی رضا، اس کے خطاب کا سماع، اس کے قرب کی لذت، اس کی رضا کی خوشی اور دائمی زندگی حاصل ہو گی جن نعمتوں میں وہ رہ رہے ہوں گے وہ ہر وقت اور ہر آن بڑھتی ہی رہیں گی۔پس پاک ہے اللہ تعالیٰ، اقتدار اور واضح حق کا مالک جس کے خزانے کبھی ختم ہوتے ہیں نہ اس کی بھلائی کم پڑتی ہے ،جیسے اس کے اوصاف کی کوئی انتہا ہے نہ اس کی نیکی اور احسان کی کوئی حد ہے۔ [21]﴿ عٰؔلِيَهُمۡ ثِيَابُ سُنۡدُسٍ خُضۡرٌ وَّاِسۡتَبۡرَقٌ ﴾ ، یعنی ان کو سبز اور دبیز ریشم کے باریک اطلس کے لباس پہنائے جائیں گے۔ یہ دونوں حریر کی بہترین اقسام ہیں۔ ﴿ سُنۡدُسٍ ﴾ موٹے اور دبیز ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں، اور (استبرق) باریک ریشمی کپڑے کو کہا جاتا ہے۔ ﴿ وَّحُلُّوۡۤا اَسَاوِرَ مِنۡ فِضَّةٍ ﴾ مردوں اور عورتوں کو ان کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، یہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے کیونکہ اپنے قول اور اپنی بات میں اس سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں ﴿ وَسَقٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ شَرَابًا طَهُوۡرًا ﴾ ’’اور انھیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا۔‘‘ جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی کدورت نہ ہو گی اور ان کے پیٹ میں جو آلائشیں وغیرہ ہوں گی ان کو پاک صاف کر دے گی۔ [22]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بلاشبہ یہ اجر جزیل اور عطائے جمیل ﴿ كَانَ لَكُمۡ جَزَآءًؔ ﴾ ان اعمال کی جزا ہے جو تم آگے بھیج چکے ہو۔ ﴿ وَّكَانَ سَعۡيُكُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾ ’’اور تمھاری کوشش کی قدر کی گئی ہے۔‘‘ یعنی تمھاری تھوڑی سے کوشش کے بدلے اللہ تعالیٰ نے تمھیں اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔ [23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِيۡلًا﴾ ’’ہم نے آپ پر قرآن آہستہ آہستہ اتارا ہے۔‘‘اور اس کے اندر وعد و وعید اور ہر چیز کا بیان ہے جس کے بندے محتاج ہیں۔ قرآن کریم کے اندر اللہ تعالیٰ کے اوامر و شرائع کو پوری طرح قائم کرنے، ان کے نفاذ کی کوشش کرنے اور اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، بنابریں فرمایا: [24] یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم قدری پر صبر کیجیے اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کیجیے اور اس کے حکم دینی پر صبر کیجیے اور اس پر رواں دواں رہیے اور کوئی چیز آپ کی راہ کھوٹی نہ کر سکے۔ ﴿ وَلَا تُطِعۡ ﴾ معاندین حق کی اطاعت نہ کیجیے جو چاہتے ہیں کہ آپ کو راہ حق سے روک دیں ﴿ اٰثِمًا ﴾ یعنی جو گناہ اور معصیت کا ارتکاب کرنے والا ہے اور نہ (اطاعت کریں)﴿ كَفُوۡرًا﴾ ’’كفر كرنے والے كی‘‘ کیونکہ کفار، فجار اور فساق کی اطاعت حتمی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے کیونکہ یہ لوگ صرف اسی چیز کا حکم دیتے ہیں جسے ان کے نفس پسند کرتے ہیں۔ [25] چونکہ صبر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے قیام اور اس کے ذکر کی کثرت میں مدد کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ یعنی صبح و شام اپنے رب کا نام لیتے رہو۔ اس میں فرض نمازیں، اس کے توابع نوافل وغیرہ اور ان اوقات میں ذکر، تسبیح، تہلیل اور تکبیر وغیرہ داخل ہیں۔ [26]﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَاسۡجُدۡ لَهٗ ﴾ ’’اور رات کو سجدے کرو۔‘‘ یعنی اس کے حضور کثرت سے سجدے کیجیے اور یہ چیز کثرت نماز کو متضمن ہے۔ ﴿ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلًا طَوِيۡلًا﴾ ’’اور طویل رات تک اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔‘‘ اس مطلق کی تقیید اس ارشاد کے ذریعے سے گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمُزَّمِّلُۙ۰۰قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًاۙ۰۰نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ قَلِيۡلًاۙ۰۰اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾(المزمل:73؍1-4) ’’اے کپڑے میں لپٹنے والے، رات کو تھوڑا سا قیام کیا کیجیے، قیام نصف شب یا اس سے بھی کچھ کم، یا اس سے کچھ زیادہ۔‘‘ [27]﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ اے رسول! آپ کو جھٹلانے والے یہ لوگ، اس کے بعد کہ ان کے سامنے کھول کھول کر آیات بیان کی گئیں، ان کو ترغیب دی گئی، ان کو ڈرایا گیا، اس کے باوجود، اس نے ان کو کچھ فائدہ نہ دیا بلکہ وہ ہمیشہ ترجیح دیتے رہے﴿ يُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ ﴾ دنیا ہی کو اور اسی پر مطمئن رہے ﴿ وَيَذَرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ عمل چھوڑ دیتے ہیں اور مہمل بن جاتے ہیں ﴿ وَرَآءَؔهُمۡ ﴾ یعنی اپنے آگے ﴿ يَوۡمًا ثَقِيۡلًا ﴾ ’’بھاری دن‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس کی مقدار تمھارے حساب کے مطابق پچاس ہزار برس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ ﴾(القمر:54؍8) ’’کافر کہیں گے کہ یہ بہت ہی مشکل دن ہے۔‘‘ گویا کہ وہ صرف دنیا اور دنیا کے اندر قیام کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ [28] پھر اللہ تعالی ٰنے ان پر اور ان کی موت کے بعد دوبارہ زندگی پر، عقلی دلیل سے استدلال کیا ہے اور یہ ابتدائے تخلیق کی دلیل ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم ان کو عدم سے وجود میں لائے۔ ﴿ وَشَدَدۡنَاۤ اَسۡرَهُمۡ ﴾ یعنی ہم نے ان کی تخلیق کو اعصاب، رگوں، پٹھوں، ظاہری اور باطنی قویٰ کے ذریعے سے محکم کیا، یہاں تک کہ جسم تکمیل کی منزل پر پہنچ گیا اور ہر اس فعل پر قادر ہو گیا جو وہ چاہتا تھا۔ پس وہ ہستی جو انھیں اس حالت پر وجود میں لائی ہے، وہ ان کے مرنے کے بعد ان کو جزا و سزا دینے کے لیے انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے اور وہ ہستی جس نے اس دنیا میں ان کو ان مراحل میں سے گزارا ہے، اس کی شان کے لائق نہیں کہ وہ ان کو بے کار چھوڑ دے، ان کو حکم دیا جائے نہ ان کو روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ بَدَّلۡنَاۤ اَمۡثَالَهُمۡ تَبۡدِيۡلًا ﴾ ’’ان کے بدلے انھی کی طرح کے اور لوگ لے آئیں۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں روز قیامت دوبارہ اٹھنے کے لیے تخلیق کیا ہے، ہم نے ان کے اعیان، ان کے نفوس اور ان کی امثال کا اعادہ کیا۔ [29]﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖ تَذۡكِرَةٌ ﴾ ’’یہ ایک نصیحت ہے۔‘‘یعنی اس سے مومن نصیحت حاصل کرتا ہے، اس کے اندر جو تحویف و ترغیب ہے، اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔‘‘ یعنی وہ راستہ جو اس کے رب تک پہنچاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حق اور ہدایت کو پوری طرح واضح کر دیا اور حجت قائم کرنے کے لیے لوگوں کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو ہدایت کے راستے پر گامزن ہوں اور اگر چاہیں تو اس سے دور بھاگیں۔ [30]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو اللہ کو منظور ہو۔‘‘بے شک اللہ تعالیٰ کی مشیت نافذ ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ ہدایت یاب کی ہدایت اور گمراہ کی گمراہی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے۔ [31]﴿ يُّدۡخِلُ مَنۡ يَّشَآءُ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔‘‘ پس اسے اپنی عنایت سے مختص کرتا ہے، اسے سعادت کے اسباب کی توفیق سے نوازتا ہے اور سعادت کے راستوں کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ جنھوں نے ہدایت کی بجائے شقاوت کو منتخب کیا ﴿اَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ تو ان کے ظلم اور عدوان کی پاداش میں، ہم نے ان کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

الإنسان 76:31

بلاشبہ ہم نے تیار کر رکھی ہیں کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور سخت بھڑکتی آگ(4) یقیناً نیک لوگ پئیں گے ایسے جام سے کہ ہو گی اس میں ملاوٹ کافور کی(5) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے اللہ کے بندے، وہ بہا لے جائیں گے اسے (جدھر چاہیں گے) بہا لے جانا آسانی سے (6) وہ پوری کرتے ہیں نذر (اپنی) اور ڈرتے ہیں اس دن (کے عذاب) سے کہ ہو گا شر اس کا پھیل جانے والا(7) اور وہ کھلاتے ہیں کھانا باوجود اس کی محبت کے مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو(8)(کہتے ہیں:) بس ہم تو تمھیں کھاناکھلاتے ہیں اللہ ہی کی ذات کے لیے، اور نہیں چاہتے ہم تم سے کوئی جزا اور نہ شکریہ (9) بلاشبہ ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے اس دن سے جو ہو گا نہایت سخت بہت لمبا (10) سو بچائے گا انھیں اللہ، شر (عذاب) سے اس دن کے اور عطا کرے گا ان کو تازگی اور سرور (11) اور جزا دے گا انھیں بوجہ ان کے صبر کے جنت اور ریشمی لباس (12) وہ تکیہ لگائے ہوں گے اس میں تختوں پر، نہیں دیکھیں گے اس (جنت) میں سخت دھوپ اور نہ سخت سردی (13) اور جھکے ہوں گے ان پر اس (جنت) کے سائے اور آسان کر دیا جائے گا (حصول) ان کے پھلوں کا نہایت آسان (14) اور پھرائے جائیں گے ان پر برتن چاندی کے اور ایسے آبخورے کہ ہوں گے وہ شیشے کے (15) شیشے (بھی) چاندی کے(16)(ساقی)انھیں ٹھیک اندازے سے بھریں گے (17) اور پلائے جائیں گے وہ اس (جنت) میں ایسا جام شراب کہ ہو گی اس میں ملاوٹ زنجبیل (سونٹھ) کی (18)(یہ) چشمہ ہے۔ جنت میں کہ نام رکھا جاتا ہے (اس کا) سلسبیل (19) اور گھومیں گے ان پر ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے جب تو دیکھے گا انھیں تو سمجھے گا ان کو موتی بکھرے ہوئے(20) اور جب تو دیکھے گا وہاں، تو دیکھے گا تو نعمت اور سلطنت بڑی (21) ان پر کپڑے (لباس) ہوں گے باریک سبز اور دبیز ریشم کے اور زیور پہنائے جائیں گے ان کو کنگن چاندی کے اور پلائے گا انھیں ان کا رب شرابِ طَہور (22)(انھیں کہا جائے گا:)بلاشبہ یہ ہے تمھارے لیے جزا، اور ہے کوشش تمھاری قابل قدر (23) یقیناً ہم ہی نے اتارا ہے آپ پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا اتارنا (23) پس آپ صبر کیجیے اپنے رب کے حکم کے لیے اور نہ اطاعت کیجیے ان میں سے کسی گناہ گار یا کافر کی (24) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا صبح اور شام (25) اور کچھ (حصہ) رات میں بھی پس سجدہ کیجیے اس کے لیے اور اس کی تسبیح کیجیے رات میں دیر تک (26) بلاشبہ یہ لوگ پسند کرتے ہیں دنیا کو اور چھوڑتے ہیں اپنے پیچھے بھاری دن کو (27) ہم ہی نے پیدا کیا انھیں اور مضبوط کیے ہم نے ان کے جوڑ، اور جب ہم چاہیں بدل کر لے آئیں ان جیسے (اور لوگ) تبدیل کر کے (28) بلاشبہ یہ ایک نصیحت ہے، سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ(29) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ ہی، یقیناً ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا (30) وہ داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں، اور ظالم، اس نے تیار کیا ہے ان کے لیے عذاب درد ناک (31) [4] جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کے ارتکاب کی جسارت کی ہم نے اس کے لیے تیار کی ہیں ﴿ سَلٰسِلَاۡ ﴾ جہنم کی آگ میں زنجیریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُكُوۡهُ﴾(الحاقۃ:69؍32) ’’ پھر اسے اس زنجیر میں جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے۔‘‘﴿وَاَغۡلٰلًا﴾’’اورطوق‘‘ جس کے ذریعے سے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھ کر ان سے جکڑ دیا جائے گا۔﴿وَّسَعِيۡرًا﴾ یعنی ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے جو ان کے جسموں کے ساتھ بھڑکے گی اور ان کے بدنوں کو جلا ڈالے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾(النساء:4؍56) ’’جب ان کی کھالیں گل جائیں گی، تو ہم ان کو ان کے سوا اور کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔‘‘ یہ عذاب ان کے لیے دائمی ہوگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ [5] رہے ﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ ’’نیک لوگ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دل نیک ہیں کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اخلاق جمیلہ ہیں۔ پس اس سبب سے ان کے اعمال بھی نیک ہیں انھوں نے ان کو نیک اعمال میں استعمال کیا ہے۔ ﴿يَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ كَاۡسٍ﴾ ’’ایسے جام سے پئیں گے‘‘ یعنی شراب سے انتہائی لذیذمشروب جس میں کافور ملایا گیا ہوگا تاکہ اس مشروب کو ٹھنڈا کر کے اس کی حدت کو توڑ دے۔ یہ کافور انتہائی لذیذ ہو گا ہر قسم کے تکدر اور ملاوٹ سے پاک ہو گا جو دنیا کے کافور میں موجود ہوتی ہے۔ ہر وہ آفت ان اسماء میں ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے کہ وہ جنت میں ہوں گے جبکہ اس قسم کے اسماء دنیا میں بھی ہیں تو وہ (آفت) آخرت میں نہیں ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فِيۡ سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍۙ۰۰ وَّطَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(الواقعہ:56/28-29) ’’وہ بغیر کانٹوں کی بیریوں اور تہ بہ تہ کیلوں میں ہوں گے۔‘‘ فرمایا: ﴿وَ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ﴾(آل عمران:3؍15) ’’اور جنت میں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی۔‘‘اور فرمایا : ﴿لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ﴾(الانعام:6؍127) ’’ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔‘‘اور فرمایا: ﴿وَفِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ﴾(الزحزف:43؍71) ’’اور اس میں وہ سب کچھ ہو گا جو دل چاہیں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔‘‘ [6]﴿عَيۡنًا يَّشۡرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے‘‘ یعنی وہ لذیذ شراب، جو وہ پئیں گے، انھیں اس کے ختم ہونے کا خوف نہیں ہو گا بلکہ اس کا ایسا مادہ ہو گا جو کبھی منقطع نہ ہو گا۔ یہ ہمیشہ جاری رہنے اور بہنے والا چشمہ ہو گا۔ اللہ کے بندے جہاں چاہیں گے جیسے چاہیں گے وہاں سے نہریں نکال لے جائیں گے، اگر وہ چاہیں گے تو ان کو خوبصورت باغات کی طرف موڑ لیں گے۔ یا بارونق باغیچوں کی طرف لے جائیں گے اگر وہ چاہیں گے تو محلات کی جوانب اور آراستہ گھروں کی طرف بہا لے جائیں گے یا وہ خوبصورت جہات میں سے جس جہت میں بھی چاہیں گے ان نہروں کو لے جائیں گے۔ [7] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں ان کے جملہ اعمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ ﴾ یعنی وہ جن نذروں اور معاہدوں کو اپنے آپ پر لازم کر لیتے تھے، انھیں پورا کرتے تھے۔ جب وہ نذر کو پورا کرتے تھے، جو اصل میں ان پر واجب نہیں الّا یہ کہ وہ اسے خود اپنے آپ پر واجب کر لیں، تب فرائض اصلیہ کو تو بدرجہ اولیٰ قائم کرتے اور ان کو بجا لاتے ہوں گے ﴿ وَيَخَافُوۡنَ يَوۡمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسۡتَطِيۡرًا ﴾ یعنی اس دن خوف رکھتے تھے جس کی برائی نہایت سخت اور پھیل جانے والی ہے۔ پس انھیں خوف تھا کہ اس دن کی برائی کہیں انھیں نہ پہنچ جائے، اس لیے انھوں نے ہر وہ سبب چھوڑ دیا جو اس کا موجب تھا۔ [10-8]﴿وَيُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ ﴾ یعنی وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ جس میں وہ خود مال اور طعام کو پسند کرتے ہیں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے نفس کی محبت پر مقدم رکھا اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ مستحق اور سب سے زیادہ حاجت مند کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں ﴿ مِسۡكِيۡنًا وَّيَتِيۡمًا وَّاَسِيۡرًا ﴾ ’’مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔‘‘ ان کے کھانا کھلانے اور خرچ کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔ وہ اپنی زبان حال سے کہتے ہیں:﴿ اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءًؔ وَّلَا شُكُوۡرًا ﴾’’ہم تو تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے کسی بدلے کے خواست گار ہیں اور نہ شکر گزاری کے۔‘‘ یعنی نہ کوئی مالی جزا چاہتے ہیں اور نہ قولی ثنا۔﴿ اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوۡسًا ﴾ ’’ہم اپنے پرودگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی والا ہوگا۔‘‘ جو نہایت سخت اور شر والا دن ہوگا ﴿قَمۡطَرِيۡرًا ﴾ اور نہایت تنگ دن ہوگا۔ [11]﴿ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الۡيَوۡمِ ﴾ ’’پس اللہ ان کو اس دن کے شر سے بچالے گا۔‘‘ پس انھیں وہ عظیم گھبراہٹ غم زدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے ’’یہ وہ دن ہے جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔‘‘ ﴿ وَلَقّٰىهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز کرے گا ﴿نَضۡرَۃً﴾ یعنی ان کے چہروں کو تازگی عطا کرے گا ﴿ وَّسُرُوۡرًا﴾ اور ان کے دلوں کو سرور سے لبریز کرے گا، پس اللہ تعالیٰ ان کے لیے ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اکٹھا کر دے گا۔ [12]﴿ وَجَزٰىهُمۡ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ، یعنی ان کی جزا اس سبب سے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کیا اور استطاعت بھر نیک عمل کیے اور اس سبب سے کہ انھوں نے برائیوں سے اجتناب پر صبر کیا اور ان کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہیں کیا ﴿ جَنَّةً ﴾ ’’جنت ہے۔‘‘ جو ہر نعمت کی جامع اور ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہے ﴿ وَّحَرِيۡرًا﴾ ’’اور ریشم ہے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾(الحج:22؍23) ’’اور جنت میں ان کا لباس ریشمی ہو گا۔‘‘ شاید اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ریشم کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ ان کا ظاہری لباس ہو گا جو صاحب لباس کے حال پر دلالت کرے گا۔ [13]﴿ مُّتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ ﴾ ’’وہ تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ (الاتّکاء)سے مراد اطمینان، راحت اور آسودگی کی حالت میں ٹیک لگا کر بیٹھنا۔ اور (الارائک) وہ تخت ہیں جن پر سجاوٹ کے لیے کپڑے بچھائے گئے ہوں۔ ﴿ لَا يَرَوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اس جنت کے اندر نہیں دیکھیں گے ﴿شَمۡسًا﴾ دھوپ جس کی تپش ان کو نقصان پہنچائے۔ ﴿ وَّلَا زَمۡهَرِيۡرًا﴾ ’’اور نہ سخت سردی‘‘ یعنی ان کے تمام اوقات گہرے سائے میں گزریں گے، جہاں گرمی ہو گی نہ سردی، جہاں ان کے جسم لذت حاصل کریں گے وہاں ان کے جسموں کو گرمی سے تکلیف ہو گی نہ سردی سے۔ [14]﴿ وَدَانِيَةً عَلَيۡهِمۡ ظِلٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُهَا تَذۡلِيۡلًا ﴾ ’’اور ان سے ان کے سائے قریب ہوں گے اور میووں کے گھچے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کے پھل، اس کے چاہنے والے کے اتنے قریب کر دیے جائیں گے کہ وہ ان کو کھڑے بیٹھے یا لیٹے ہوئے بھی حاصل کر سکے گا۔ [16,15] خدمت گار لڑکے اور خدام، اہل جنت کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے ﴿ بِاٰنِيَةٍ مِّنۡ فِضَّةٍ وَّاَكۡوَابٍ كَانَتۡ قَؔوَارِيۡرَاۡۙ۰۰ قَؔوَارِيۡرَاۡ مِنۡ فِضَّةٍ ﴾ ’’چاندی کے برتن لیے، ہوئے اور شیشے کے (شفاف) گلاس لیے ہوئے، شیشے بھی چاندی کے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کا مادہ چاندی ہو گا ان کی صفائی شیشے کی سی ہو گی۔ یہ ایک عجیب ترین چیز ہو گی کہ چاندی جو کہ کثیف ہوتی ہے اپنے جوہر کی صفائی اور اچھے معدن کی بنا پر شیشے کے صاف و شفاف ہونے کی مانند صاف و شفاف ہو گی۔ ﴿ قَدَّرُوۡهَا تَقۡدِيۡرًا ﴾ ’’جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں۔‘‘ یعنی ان مذکور برتنوں (کے حجم) کو اپنی سیرابی کی مقدار کے مطابق بنائیں گے، اس سے کم ہوں گے نہ زیادہ کیونکہ اگر حجم میں زیادہ ہوں تو ان کی لذت کم ہوجائے گی اگر کم ہوں گے تو ان کی سیرابی کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ اہل جنت ان برتنوں کو ایسی مقدار پر بنائیں گے جو ان کی لذات کے موافق ہو گی، وہ برتن ان کے پاس ایسے حجم اور مقدار پر آئیں گے جس کا اندازہ انھوں نے اپنے دلوں میں کیا ہو گا۔ [18,17]﴿ وَيُسۡقَوۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہاں انھیں پلائی جائے گی۔‘‘ یعنی جنت میں خالص شراب کے جام بھرے ہوں گے ﴿ كَانَ مِزَاجُهَا ﴾ جس میں ملاوٹ ہوگی ﴿ زَنۡجَبِيۡلًا ﴾’’سونٹھ کی۔‘‘تاکہ اس کا ذائقہ اور خوشبو دونوں خو ش گوار بن جائیں۔﴿ عَيۡنًا فِيۡهَا﴾ ’’اس جنت میں ایک چشمہ ہے ﴿ تُسَمّٰى سَلۡسَبِيۡلًا﴾’’جس کا نام سلسبیل ہے۔‘‘ اس کو یہ نام، اس کے آسانی کے ساتھ حاصل ہونے، اس کی لذت اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ [19]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی اہل جنت کے پاس، ان کے کھانے، ان کے مشروب اور ان کی خدمت کے لیے گھومتے پھرتے ہوں گے ﴿ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ﴾ ’’لڑکے ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہنے والے۔‘‘ ان کو جنت میں بقا کے لیے پیدا کیا گیا ہے، ان کی ہیئت بدلے گی نہ وہ بڑے ہوں گے اور وہ انتہائی خوبصورت ہوں گے۔ ﴿ اِذَا رَاَيۡتَهُمۡ ﴾ جب تو ان کو اہل جنت کی خدمت میں منتشر ہوئے دیکھے ﴿حَسِبۡتَهُمۡ ﴾ تو ان کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے سمجھے گا ﴿ لُؤۡلُؤًا مَّنۡثُوۡرًا ﴾ کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ یہ اہل جنت کی لذت کی تکمیل ہے کہ ان کے خدام، ہمیشہ رہنے والے لڑکے ہوں گے جن کا نظارہ اہل جنت کو خوش کر دے گا، وہ اپنی تابع داری کی بنا پر امن کے ساتھ ان کی آرام گاہ میں وہ چیزیں لے کر آئیں گے جو وہ منگوائیں گے اور جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے۔ [20]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَ ثَمَّ ﴾ یعنی جب تو جنت میں دیکھے کہ اہل جنت کن کامل نعمتوں میں ہیں ﴿ رَاَيۡتَ نَعِيۡمًا وَّمُلۡكًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’تو نعمتیں ہی نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا‘‘تو ان میں سے ایک کو اس طرح پائے گا کہ اس کے پاس ایسی آرام گاہیں ہوں گی، سجائے اور مزین کیے ہوئے ایسے بالا خانے ہوں گے جن کا وصف بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس کے پاس خوبصورت باغات ہوں گے ایسے ہوں گے جو اس کی پہنچ میں ہوں گے، لذیذ میوہ جات ہوں گے، بہتی ہوئی ندیاں اور خوش کن باغیچے ہوں گے۔ سحر انگیز چہچہانے والے پرندے ہوں گے جو دلوں کو متاثر اور نفوس کو خوش کریں گے۔اس کے پاس بیویاں ہوں گی جو انتہائی خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی جو ظاہری اور باطنی جمال کی جامع ہوں گی جو نیک اور حسین ہوں گی، ان کا حسن قلب کو سرور، لذت اور خوشی سے لبریز کردے گا۔ اس کے ارد گرد ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے اور دائمی خدام (گھوم پھر رہے) ہوں گے جس سے راحت و اطمینان حاصل ہو گا، لذت عیش کا اتمام اور مسرت کی تکمیل ہو گی۔پھر اس کے علاوہ اور اس سے بڑھ کر رب رحیم کی رضا، اس کے خطاب کا سماع، اس کے قرب کی لذت، اس کی رضا کی خوشی اور دائمی زندگی حاصل ہو گی جن نعمتوں میں وہ رہ رہے ہوں گے وہ ہر وقت اور ہر آن بڑھتی ہی رہیں گی۔پس پاک ہے اللہ تعالیٰ، اقتدار اور واضح حق کا مالک جس کے خزانے کبھی ختم ہوتے ہیں نہ اس کی بھلائی کم پڑتی ہے ،جیسے اس کے اوصاف کی کوئی انتہا ہے نہ اس کی نیکی اور احسان کی کوئی حد ہے۔ [21]﴿ عٰؔلِيَهُمۡ ثِيَابُ سُنۡدُسٍ خُضۡرٌ وَّاِسۡتَبۡرَقٌ ﴾ ، یعنی ان کو سبز اور دبیز ریشم کے باریک اطلس کے لباس پہنائے جائیں گے۔ یہ دونوں حریر کی بہترین اقسام ہیں۔ ﴿ سُنۡدُسٍ ﴾ موٹے اور دبیز ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں، اور (استبرق) باریک ریشمی کپڑے کو کہا جاتا ہے۔ ﴿ وَّحُلُّوۡۤا اَسَاوِرَ مِنۡ فِضَّةٍ ﴾ مردوں اور عورتوں کو ان کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، یہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے کیونکہ اپنے قول اور اپنی بات میں اس سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں ﴿ وَسَقٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ شَرَابًا طَهُوۡرًا ﴾ ’’اور انھیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا۔‘‘ جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی کدورت نہ ہو گی اور ان کے پیٹ میں جو آلائشیں وغیرہ ہوں گی ان کو پاک صاف کر دے گی۔ [22]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بلاشبہ یہ اجر جزیل اور عطائے جمیل ﴿ كَانَ لَكُمۡ جَزَآءًؔ ﴾ ان اعمال کی جزا ہے جو تم آگے بھیج چکے ہو۔ ﴿ وَّكَانَ سَعۡيُكُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾ ’’اور تمھاری کوشش کی قدر کی گئی ہے۔‘‘ یعنی تمھاری تھوڑی سے کوشش کے بدلے اللہ تعالیٰ نے تمھیں اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔ [23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِيۡلًا﴾ ’’ہم نے آپ پر قرآن آہستہ آہستہ اتارا ہے۔‘‘اور اس کے اندر وعد و وعید اور ہر چیز کا بیان ہے جس کے بندے محتاج ہیں۔ قرآن کریم کے اندر اللہ تعالیٰ کے اوامر و شرائع کو پوری طرح قائم کرنے، ان کے نفاذ کی کوشش کرنے اور اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، بنابریں فرمایا: [24] یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم قدری پر صبر کیجیے اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کیجیے اور اس کے حکم دینی پر صبر کیجیے اور اس پر رواں دواں رہیے اور کوئی چیز آپ کی راہ کھوٹی نہ کر سکے۔ ﴿ وَلَا تُطِعۡ ﴾ معاندین حق کی اطاعت نہ کیجیے جو چاہتے ہیں کہ آپ کو راہ حق سے روک دیں ﴿ اٰثِمًا ﴾ یعنی جو گناہ اور معصیت کا ارتکاب کرنے والا ہے اور نہ (اطاعت کریں)﴿ كَفُوۡرًا﴾ ’’كفر كرنے والے كی‘‘ کیونکہ کفار، فجار اور فساق کی اطاعت حتمی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے کیونکہ یہ لوگ صرف اسی چیز کا حکم دیتے ہیں جسے ان کے نفس پسند کرتے ہیں۔ [25] چونکہ صبر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے قیام اور اس کے ذکر کی کثرت میں مدد کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ یعنی صبح و شام اپنے رب کا نام لیتے رہو۔ اس میں فرض نمازیں، اس کے توابع نوافل وغیرہ اور ان اوقات میں ذکر، تسبیح، تہلیل اور تکبیر وغیرہ داخل ہیں۔ [26]﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَاسۡجُدۡ لَهٗ ﴾ ’’اور رات کو سجدے کرو۔‘‘ یعنی اس کے حضور کثرت سے سجدے کیجیے اور یہ چیز کثرت نماز کو متضمن ہے۔ ﴿ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلًا طَوِيۡلًا﴾ ’’اور طویل رات تک اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔‘‘ اس مطلق کی تقیید اس ارشاد کے ذریعے سے گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمُزَّمِّلُۙ۰۰قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًاۙ۰۰نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ قَلِيۡلًاۙ۰۰اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾(المزمل:73؍1-4) ’’اے کپڑے میں لپٹنے والے، رات کو تھوڑا سا قیام کیا کیجیے، قیام نصف شب یا اس سے بھی کچھ کم، یا اس سے کچھ زیادہ۔‘‘ [27]﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ اے رسول! آپ کو جھٹلانے والے یہ لوگ، اس کے بعد کہ ان کے سامنے کھول کھول کر آیات بیان کی گئیں، ان کو ترغیب دی گئی، ان کو ڈرایا گیا، اس کے باوجود، اس نے ان کو کچھ فائدہ نہ دیا بلکہ وہ ہمیشہ ترجیح دیتے رہے﴿ يُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ ﴾ دنیا ہی کو اور اسی پر مطمئن رہے ﴿ وَيَذَرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ عمل چھوڑ دیتے ہیں اور مہمل بن جاتے ہیں ﴿ وَرَآءَؔهُمۡ ﴾ یعنی اپنے آگے ﴿ يَوۡمًا ثَقِيۡلًا ﴾ ’’بھاری دن‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس کی مقدار تمھارے حساب کے مطابق پچاس ہزار برس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ ﴾(القمر:54؍8) ’’کافر کہیں گے کہ یہ بہت ہی مشکل دن ہے۔‘‘ گویا کہ وہ صرف دنیا اور دنیا کے اندر قیام کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ [28] پھر اللہ تعالی ٰنے ان پر اور ان کی موت کے بعد دوبارہ زندگی پر، عقلی دلیل سے استدلال کیا ہے اور یہ ابتدائے تخلیق کی دلیل ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم ان کو عدم سے وجود میں لائے۔ ﴿ وَشَدَدۡنَاۤ اَسۡرَهُمۡ ﴾ یعنی ہم نے ان کی تخلیق کو اعصاب، رگوں، پٹھوں، ظاہری اور باطنی قویٰ کے ذریعے سے محکم کیا، یہاں تک کہ جسم تکمیل کی منزل پر پہنچ گیا اور ہر اس فعل پر قادر ہو گیا جو وہ چاہتا تھا۔ پس وہ ہستی جو انھیں اس حالت پر وجود میں لائی ہے، وہ ان کے مرنے کے بعد ان کو جزا و سزا دینے کے لیے انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے اور وہ ہستی جس نے اس دنیا میں ان کو ان مراحل میں سے گزارا ہے، اس کی شان کے لائق نہیں کہ وہ ان کو بے کار چھوڑ دے، ان کو حکم دیا جائے نہ ان کو روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ بَدَّلۡنَاۤ اَمۡثَالَهُمۡ تَبۡدِيۡلًا ﴾ ’’ان کے بدلے انھی کی طرح کے اور لوگ لے آئیں۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں روز قیامت دوبارہ اٹھنے کے لیے تخلیق کیا ہے، ہم نے ان کے اعیان، ان کے نفوس اور ان کی امثال کا اعادہ کیا۔ [29]﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖ تَذۡكِرَةٌ ﴾ ’’یہ ایک نصیحت ہے۔‘‘یعنی اس سے مومن نصیحت حاصل کرتا ہے، اس کے اندر جو تحویف و ترغیب ہے، اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔‘‘ یعنی وہ راستہ جو اس کے رب تک پہنچاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حق اور ہدایت کو پوری طرح واضح کر دیا اور حجت قائم کرنے کے لیے لوگوں کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو ہدایت کے راستے پر گامزن ہوں اور اگر چاہیں تو اس سے دور بھاگیں۔ [30]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو اللہ کو منظور ہو۔‘‘بے شک اللہ تعالیٰ کی مشیت نافذ ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ ہدایت یاب کی ہدایت اور گمراہ کی گمراہی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے۔ [31]﴿ يُّدۡخِلُ مَنۡ يَّشَآءُ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔‘‘ پس اسے اپنی عنایت سے مختص کرتا ہے، اسے سعادت کے اسباب کی توفیق سے نوازتا ہے اور سعادت کے راستوں کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ جنھوں نے ہدایت کی بجائے شقاوت کو منتخب کیا ﴿اَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ تو ان کے ظلم اور عدوان کی پاداش میں، ہم نے ان کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

المرسلات 77:1

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:2

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:3

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:4

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:5

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:6

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:7

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:8

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:9

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:10

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:11

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:12

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:13

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:14

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:15

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

المرسلات 77:16

کیا نہیں ہلاک کیا ہم نے پہلوں کو؟ (16) پھر ہم پیچھے لگائیں گے ان کے پچھلوں کو (17) اسی طرح ہم کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ (18) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے(19) [19-16] کیا ہم نے جھٹلانے والے گزشتہ لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا ، پھر ہم آخر میں آنے والے لوگوں کو ان کے بعد ہلاک کریں گے جو جھٹلائیں گے۔ ہر مجرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سابقہ سنت بھی یہی ہے اور آئندہ سنت الٰہی بھی یہی ہو گی۔ ان کے لیے سزا حتمی ہے پس تم جو کچھ دیکھتے اور جو کچھ سنتے ہو اس سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے؟ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لے خرابی ہے۔‘‘ جو واضح اور کھلی نشانیوں، عذاب اور عبرتناک سزاؤں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی جھٹلاتے ہیں۔

المرسلات 77:17

کیا نہیں ہلاک کیا ہم نے پہلوں کو؟ (16) پھر ہم پیچھے لگائیں گے ان کے پچھلوں کو (17) اسی طرح ہم کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ (18) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے(19) [19-16] کیا ہم نے جھٹلانے والے گزشتہ لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا ، پھر ہم آخر میں آنے والے لوگوں کو ان کے بعد ہلاک کریں گے جو جھٹلائیں گے۔ ہر مجرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سابقہ سنت بھی یہی ہے اور آئندہ سنت الٰہی بھی یہی ہو گی۔ ان کے لیے سزا حتمی ہے پس تم جو کچھ دیکھتے اور جو کچھ سنتے ہو اس سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے؟ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لے خرابی ہے۔‘‘ جو واضح اور کھلی نشانیوں، عذاب اور عبرتناک سزاؤں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی جھٹلاتے ہیں۔

المرسلات 77:18

کیا نہیں ہلاک کیا ہم نے پہلوں کو؟ (16) پھر ہم پیچھے لگائیں گے ان کے پچھلوں کو (17) اسی طرح ہم کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ (18) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے(19) [19-16] کیا ہم نے جھٹلانے والے گزشتہ لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا ، پھر ہم آخر میں آنے والے لوگوں کو ان کے بعد ہلاک کریں گے جو جھٹلائیں گے۔ ہر مجرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سابقہ سنت بھی یہی ہے اور آئندہ سنت الٰہی بھی یہی ہو گی۔ ان کے لیے سزا حتمی ہے پس تم جو کچھ دیکھتے اور جو کچھ سنتے ہو اس سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے؟ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لے خرابی ہے۔‘‘ جو واضح اور کھلی نشانیوں، عذاب اور عبرتناک سزاؤں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی جھٹلاتے ہیں۔

المرسلات 77:19

کیا نہیں ہلاک کیا ہم نے پہلوں کو؟ (16) پھر ہم پیچھے لگائیں گے ان کے پچھلوں کو (17) اسی طرح ہم کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ (18) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے(19) [19-16] کیا ہم نے جھٹلانے والے گزشتہ لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا ، پھر ہم آخر میں آنے والے لوگوں کو ان کے بعد ہلاک کریں گے جو جھٹلائیں گے۔ ہر مجرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سابقہ سنت بھی یہی ہے اور آئندہ سنت الٰہی بھی یہی ہو گی۔ ان کے لیے سزا حتمی ہے پس تم جو کچھ دیکھتے اور جو کچھ سنتے ہو اس سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے؟ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لے خرابی ہے۔‘‘ جو واضح اور کھلی نشانیوں، عذاب اور عبرتناک سزاؤں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی جھٹلاتے ہیں۔

المرسلات 77:20

کیا نہیں پیدا کیا ہم نے تمھیں حقیر پانی (منی) سے؟ (20) پھر ہم نے رکھااس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں (21) ایک اندازے (وقت) مقررہ تک (22) پس ہم نے اندازہ لگایا، تو (کیا) اچھا اندازہ لگانے والے ہیں (ہم)(23) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (24) [24-20] اے انسانو! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا ﴿ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رکھ دیا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ﴾ ایک محفوظ جگہ میں، اس سے مراد رحم ہے، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے ﴿ اِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ یعنی ایک مقررہ وقت تک ﴿ فَقَدَرۡنَا﴾ یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا، ہم نے اسے نطفہ سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ ﴿فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع، اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے جنھوں نے آیات واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔

المرسلات 77:21

کیا نہیں پیدا کیا ہم نے تمھیں حقیر پانی (منی) سے؟ (20) پھر ہم نے رکھااس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں (21) ایک اندازے (وقت) مقررہ تک (22) پس ہم نے اندازہ لگایا، تو (کیا) اچھا اندازہ لگانے والے ہیں (ہم)(23) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (24) [24-20] اے انسانو! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا ﴿ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رکھ دیا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ﴾ ایک محفوظ جگہ میں، اس سے مراد رحم ہے، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے ﴿ اِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ یعنی ایک مقررہ وقت تک ﴿ فَقَدَرۡنَا﴾ یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا، ہم نے اسے نطفہ سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ ﴿فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع، اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے جنھوں نے آیات واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔

المرسلات 77:22

کیا نہیں پیدا کیا ہم نے تمھیں حقیر پانی (منی) سے؟ (20) پھر ہم نے رکھااس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں (21) ایک اندازے (وقت) مقررہ تک (22) پس ہم نے اندازہ لگایا، تو (کیا) اچھا اندازہ لگانے والے ہیں (ہم)(23) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (24) [24-20] اے انسانو! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا ﴿ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رکھ دیا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ﴾ ایک محفوظ جگہ میں، اس سے مراد رحم ہے، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے ﴿ اِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ یعنی ایک مقررہ وقت تک ﴿ فَقَدَرۡنَا﴾ یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا، ہم نے اسے نطفہ سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ ﴿فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع، اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے جنھوں نے آیات واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔

المرسلات 77:23

کیا نہیں پیدا کیا ہم نے تمھیں حقیر پانی (منی) سے؟ (20) پھر ہم نے رکھااس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں (21) ایک اندازے (وقت) مقررہ تک (22) پس ہم نے اندازہ لگایا، تو (کیا) اچھا اندازہ لگانے والے ہیں (ہم)(23) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (24) [24-20] اے انسانو! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا ﴿ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رکھ دیا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ﴾ ایک محفوظ جگہ میں، اس سے مراد رحم ہے، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے ﴿ اِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ یعنی ایک مقررہ وقت تک ﴿ فَقَدَرۡنَا﴾ یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا، ہم نے اسے نطفہ سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ ﴿فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع، اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے جنھوں نے آیات واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔

المرسلات 77:24

کیا نہیں پیدا کیا ہم نے تمھیں حقیر پانی (منی) سے؟ (20) پھر ہم نے رکھااس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں (21) ایک اندازے (وقت) مقررہ تک (22) پس ہم نے اندازہ لگایا، تو (کیا) اچھا اندازہ لگانے والے ہیں (ہم)(23) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (24) [24-20] اے انسانو! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا ﴿ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رکھ دیا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ﴾ ایک محفوظ جگہ میں، اس سے مراد رحم ہے، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے ﴿ اِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ یعنی ایک مقررہ وقت تک ﴿ فَقَدَرۡنَا﴾ یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا، ہم نے اسے نطفہ سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ ﴿فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع، اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے جنھوں نے آیات واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔

المرسلات 77:25

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے (جمع کرنے) والی؟ (25) زندوں اور مردوں کو؟ (26) اور ہم نے بنائے (رکھے) اس میں مضبوط (جمے ہوئے) پہاڑبلند و بالا اور ہم نے پلایا تمھیں پانی میٹھا (27) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (28) [28-25] یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تہارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کر کے تم پر انعام نہیں کیا؟ اور اس زمین کو ﴿ كِفَاتًا﴾ تمھارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا ﴿ اَحۡيَآءًؔ﴾ ’’زندوں کو‘‘ گھروں میں ﴿ وَّاَمۡوَاتًا﴾’’اور مردوں‘‘ کو قبروں میں؟ پس جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ﴾ یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے مضبوط اور بلند، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا ﴿ وَّاَسۡقَيۡنٰكُمۡ مَّآءًؔ فُرَاتًا﴾ یعنی ہم نے تمھیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِيۡ تَشۡرَبُوۡنَؕ۰۰ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡزَلۡتُمُوۡهُ۠ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ۰۰لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنٰهُ اُجَاجًا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾(الواقعۃ:56؍68۔69) ’’بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا تم اسے بادل سے برسایا یا ہم اسے برساتے ہیں؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔‘‘ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ ‘‘بایں ہمہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دکھلائیں، جن کو عطا کرنے میں وہ متفرد ہے اور ان نعمتوں سے ان کو مختص کیا، انھوں نے ان نعمتوں کے مقابلے میں تکذیب کا رویہ اختیار کیا۔

المرسلات 77:26

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے (جمع کرنے) والی؟ (25) زندوں اور مردوں کو؟ (26) اور ہم نے بنائے (رکھے) اس میں مضبوط (جمے ہوئے) پہاڑبلند و بالا اور ہم نے پلایا تمھیں پانی میٹھا (27) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (28) [28-25] یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تہارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کر کے تم پر انعام نہیں کیا؟ اور اس زمین کو ﴿ كِفَاتًا﴾ تمھارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا ﴿ اَحۡيَآءًؔ﴾ ’’زندوں کو‘‘ گھروں میں ﴿ وَّاَمۡوَاتًا﴾’’اور مردوں‘‘ کو قبروں میں؟ پس جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ﴾ یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے مضبوط اور بلند، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا ﴿ وَّاَسۡقَيۡنٰكُمۡ مَّآءًؔ فُرَاتًا﴾ یعنی ہم نے تمھیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِيۡ تَشۡرَبُوۡنَؕ۰۰ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡزَلۡتُمُوۡهُ۠ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ۰۰لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنٰهُ اُجَاجًا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾(الواقعۃ:56؍68۔69) ’’بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا تم اسے بادل سے برسایا یا ہم اسے برساتے ہیں؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔‘‘ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ ‘‘بایں ہمہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دکھلائیں، جن کو عطا کرنے میں وہ متفرد ہے اور ان نعمتوں سے ان کو مختص کیا، انھوں نے ان نعمتوں کے مقابلے میں تکذیب کا رویہ اختیار کیا۔

المرسلات 77:27

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے (جمع کرنے) والی؟ (25) زندوں اور مردوں کو؟ (26) اور ہم نے بنائے (رکھے) اس میں مضبوط (جمے ہوئے) پہاڑبلند و بالا اور ہم نے پلایا تمھیں پانی میٹھا (27) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (28) [28-25] یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تہارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کر کے تم پر انعام نہیں کیا؟ اور اس زمین کو ﴿ كِفَاتًا﴾ تمھارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا ﴿ اَحۡيَآءًؔ﴾ ’’زندوں کو‘‘ گھروں میں ﴿ وَّاَمۡوَاتًا﴾’’اور مردوں‘‘ کو قبروں میں؟ پس جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ﴾ یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے مضبوط اور بلند، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا ﴿ وَّاَسۡقَيۡنٰكُمۡ مَّآءًؔ فُرَاتًا﴾ یعنی ہم نے تمھیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِيۡ تَشۡرَبُوۡنَؕ۰۰ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡزَلۡتُمُوۡهُ۠ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ۰۰لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنٰهُ اُجَاجًا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾(الواقعۃ:56؍68۔69) ’’بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا تم اسے بادل سے برسایا یا ہم اسے برساتے ہیں؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔‘‘ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ ‘‘بایں ہمہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دکھلائیں، جن کو عطا کرنے میں وہ متفرد ہے اور ان نعمتوں سے ان کو مختص کیا، انھوں نے ان نعمتوں کے مقابلے میں تکذیب کا رویہ اختیار کیا۔

المرسلات 77:28

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے (جمع کرنے) والی؟ (25) زندوں اور مردوں کو؟ (26) اور ہم نے بنائے (رکھے) اس میں مضبوط (جمے ہوئے) پہاڑبلند و بالا اور ہم نے پلایا تمھیں پانی میٹھا (27) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (28) [28-25] یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تہارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کر کے تم پر انعام نہیں کیا؟ اور اس زمین کو ﴿ كِفَاتًا﴾ تمھارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا ﴿ اَحۡيَآءًؔ﴾ ’’زندوں کو‘‘ گھروں میں ﴿ وَّاَمۡوَاتًا﴾’’اور مردوں‘‘ کو قبروں میں؟ پس جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ﴾ یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے مضبوط اور بلند، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا ﴿ وَّاَسۡقَيۡنٰكُمۡ مَّآءًؔ فُرَاتًا﴾ یعنی ہم نے تمھیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِيۡ تَشۡرَبُوۡنَؕ۰۰ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡزَلۡتُمُوۡهُ۠ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ۰۰لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنٰهُ اُجَاجًا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾(الواقعۃ:56؍68۔69) ’’بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا تم اسے بادل سے برسایا یا ہم اسے برساتے ہیں؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔‘‘ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ ‘‘بایں ہمہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دکھلائیں، جن کو عطا کرنے میں وہ متفرد ہے اور ان نعمتوں سے ان کو مختص کیا، انھوں نے ان نعمتوں کے مقابلے میں تکذیب کا رویہ اختیار کیا۔

المرسلات 77:29

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34) [34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

المرسلات 77:30

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34) [34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

المرسلات 77:31

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34) [34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

المرسلات 77:32

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34) [34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

المرسلات 77:33

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34) [34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

المرسلات 77:34

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34) [34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

المرسلات 77:35

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) [37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘ [40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

المرسلات 77:36

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) [37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘ [40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

المرسلات 77:37

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) [37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘ [40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

المرسلات 77:38

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) [37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘ [40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

المرسلات 77:39

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) [37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘ [40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

المرسلات 77:40

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) [37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘ [40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘

المرسلات 77:41

بلاشبہ متقی لوگ سایوں اور بہتے چشموں میں ہوں گے (41) اور (لذیذ) میووں میں، ان میں سے جو وہ چاہیں گے (42)(کہا جائے گا) تم کھاؤ اور پیو مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے (43) بلاشبہ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (44) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (45) [45-41] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیز گار‘‘ یعنی اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں، تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف لوگ، اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے ﴿ فِيۡ ظِلٰلٍ﴾ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔﴿ وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات، جو وہ چاہیں گے، ان میں ہوں گے۔ان سے کہا جائے گا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾کھاؤ پیو، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو﴿ هَنِيۡٓــًٔۢـا﴾ یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی، حتیٰ کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہو گا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنھوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلا کت ہے۔‘‘ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔

المرسلات 77:42

بلاشبہ متقی لوگ سایوں اور بہتے چشموں میں ہوں گے (41) اور (لذیذ) میووں میں، ان میں سے جو وہ چاہیں گے (42)(کہا جائے گا) تم کھاؤ اور پیو مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے (43) بلاشبہ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (44) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (45) [45-41] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیز گار‘‘ یعنی اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں، تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف لوگ، اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے ﴿ فِيۡ ظِلٰلٍ﴾ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔﴿ وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات، جو وہ چاہیں گے، ان میں ہوں گے۔ان سے کہا جائے گا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾کھاؤ پیو، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو﴿ هَنِيۡٓــًٔۢـا﴾ یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی، حتیٰ کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہو گا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنھوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلا کت ہے۔‘‘ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔

المرسلات 77:43

بلاشبہ متقی لوگ سایوں اور بہتے چشموں میں ہوں گے (41) اور (لذیذ) میووں میں، ان میں سے جو وہ چاہیں گے (42)(کہا جائے گا) تم کھاؤ اور پیو مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے (43) بلاشبہ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (44) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (45) [45-41] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیز گار‘‘ یعنی اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں، تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف لوگ، اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے ﴿ فِيۡ ظِلٰلٍ﴾ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔﴿ وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات، جو وہ چاہیں گے، ان میں ہوں گے۔ان سے کہا جائے گا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾کھاؤ پیو، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو﴿ هَنِيۡٓــًٔۢـا﴾ یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی، حتیٰ کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہو گا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنھوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلا کت ہے۔‘‘ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔

المرسلات 77:44

بلاشبہ متقی لوگ سایوں اور بہتے چشموں میں ہوں گے (41) اور (لذیذ) میووں میں، ان میں سے جو وہ چاہیں گے (42)(کہا جائے گا) تم کھاؤ اور پیو مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے (43) بلاشبہ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (44) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (45) [45-41] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیز گار‘‘ یعنی اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں، تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف لوگ، اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے ﴿ فِيۡ ظِلٰلٍ﴾ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔﴿ وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات، جو وہ چاہیں گے، ان میں ہوں گے۔ان سے کہا جائے گا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾کھاؤ پیو، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو﴿ هَنِيۡٓــًٔۢـا﴾ یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی، حتیٰ کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہو گا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنھوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلا کت ہے۔‘‘ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔

المرسلات 77:45

بلاشبہ متقی لوگ سایوں اور بہتے چشموں میں ہوں گے (41) اور (لذیذ) میووں میں، ان میں سے جو وہ چاہیں گے (42)(کہا جائے گا) تم کھاؤ اور پیو مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے (43) بلاشبہ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (44) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (45) [45-41] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیز گار‘‘ یعنی اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں، تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف لوگ، اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے ﴿ فِيۡ ظِلٰلٍ﴾ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔﴿ وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات، جو وہ چاہیں گے، ان میں ہوں گے۔ان سے کہا جائے گا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾کھاؤ پیو، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو﴿ هَنِيۡٓــًٔۢـا﴾ یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی، حتیٰ کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہو گا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنھوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلا کت ہے۔‘‘ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔

المرسلات 77:46

(جھٹلانے والو!) تم کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ تھوڑا سا، یقیناً تم مجرم ہو (46) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (47) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، رکوع کرو تم تو نہیں رکوع کرتے وہ (48) تباہی ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے(49) پس کس بات پر اس (قرآن) کے بعد وہ ایمان لائیں گے؟ (50) [50-46] یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ اگرچہ انھوں نے دنیا میں کھایا پیا اور لذات دنیا سے فائدہ اٹھایا اور عبادات سے غافل رہے مگر وہ مجرم ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں جس کے مستحق مجرم ہوتے ہیں، لہٰذا عنقریب ان کی لذات منقطع ہو جائیں گی اور تاوان اور نقصان باقی رہ جائیں گے۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ جب انھیں نماز، جو کہ سب سے زیادہ شرف کی حامل عبادت ہے، کا حکم دیا جاتا اور ان سے کہا جاتا تھا﴿ارۡكَعُوۡا﴾’’رکوع کرو‘‘ تو حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے۔ پس کون سا جرم اس سے بڑھ کر اور کون سی تکذیب اس سے زیادہ بڑی ہے؟ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے‘‘ ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہو جائیں گے۔پس جب انھوں نے اس قرآن کو جھٹلا دیا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے ﴿فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند ہے جس پر کوئی دلیل تو کجا، کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟یا وہ کسی مشرک، کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایمان لائیں گے؟پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا، صدق کے بعد، جس پر قطعی دلائل و براہین قائم ہوں، صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے۔ ہلاکت ہے ان کے لیے، وہ کتنے اندھے ہو گئے ہیں! اور برا ہو ان کا، کس قدر خسارے اور بدبختی کا شکار ہو گئے ہیں !ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں وہ جوّاد اور صاحب کرم ہے۔

المرسلات 77:47

(جھٹلانے والو!) تم کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ تھوڑا سا، یقیناً تم مجرم ہو (46) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (47) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، رکوع کرو تم تو نہیں رکوع کرتے وہ (48) تباہی ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے(49) پس کس بات پر اس (قرآن) کے بعد وہ ایمان لائیں گے؟ (50) [50-46] یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ اگرچہ انھوں نے دنیا میں کھایا پیا اور لذات دنیا سے فائدہ اٹھایا اور عبادات سے غافل رہے مگر وہ مجرم ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں جس کے مستحق مجرم ہوتے ہیں، لہٰذا عنقریب ان کی لذات منقطع ہو جائیں گی اور تاوان اور نقصان باقی رہ جائیں گے۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ جب انھیں نماز، جو کہ سب سے زیادہ شرف کی حامل عبادت ہے، کا حکم دیا جاتا اور ان سے کہا جاتا تھا﴿ارۡكَعُوۡا﴾’’رکوع کرو‘‘ تو حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے۔ پس کون سا جرم اس سے بڑھ کر اور کون سی تکذیب اس سے زیادہ بڑی ہے؟ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے‘‘ ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہو جائیں گے۔پس جب انھوں نے اس قرآن کو جھٹلا دیا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے ﴿فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند ہے جس پر کوئی دلیل تو کجا، کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟یا وہ کسی مشرک، کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایمان لائیں گے؟پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا، صدق کے بعد، جس پر قطعی دلائل و براہین قائم ہوں، صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے۔ ہلاکت ہے ان کے لیے، وہ کتنے اندھے ہو گئے ہیں! اور برا ہو ان کا، کس قدر خسارے اور بدبختی کا شکار ہو گئے ہیں !ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں وہ جوّاد اور صاحب کرم ہے۔

المرسلات 77:48

(جھٹلانے والو!) تم کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ تھوڑا سا، یقیناً تم مجرم ہو (46) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (47) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، رکوع کرو تم تو نہیں رکوع کرتے وہ (48) تباہی ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے(49) پس کس بات پر اس (قرآن) کے بعد وہ ایمان لائیں گے؟ (50) [50-46] یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ اگرچہ انھوں نے دنیا میں کھایا پیا اور لذات دنیا سے فائدہ اٹھایا اور عبادات سے غافل رہے مگر وہ مجرم ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں جس کے مستحق مجرم ہوتے ہیں، لہٰذا عنقریب ان کی لذات منقطع ہو جائیں گی اور تاوان اور نقصان باقی رہ جائیں گے۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ جب انھیں نماز، جو کہ سب سے زیادہ شرف کی حامل عبادت ہے، کا حکم دیا جاتا اور ان سے کہا جاتا تھا﴿ارۡكَعُوۡا﴾’’رکوع کرو‘‘ تو حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے۔ پس کون سا جرم اس سے بڑھ کر اور کون سی تکذیب اس سے زیادہ بڑی ہے؟ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے‘‘ ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہو جائیں گے۔پس جب انھوں نے اس قرآن کو جھٹلا دیا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے ﴿فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند ہے جس پر کوئی دلیل تو کجا، کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟یا وہ کسی مشرک، کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایمان لائیں گے؟پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا، صدق کے بعد، جس پر قطعی دلائل و براہین قائم ہوں، صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے۔ ہلاکت ہے ان کے لیے، وہ کتنے اندھے ہو گئے ہیں! اور برا ہو ان کا، کس قدر خسارے اور بدبختی کا شکار ہو گئے ہیں !ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں وہ جوّاد اور صاحب کرم ہے۔

المرسلات 77:49

(جھٹلانے والو!) تم کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ تھوڑا سا، یقیناً تم مجرم ہو (46) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (47) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، رکوع کرو تم تو نہیں رکوع کرتے وہ (48) تباہی ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے(49) پس کس بات پر اس (قرآن) کے بعد وہ ایمان لائیں گے؟ (50) [50-46] یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ اگرچہ انھوں نے دنیا میں کھایا پیا اور لذات دنیا سے فائدہ اٹھایا اور عبادات سے غافل رہے مگر وہ مجرم ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں جس کے مستحق مجرم ہوتے ہیں، لہٰذا عنقریب ان کی لذات منقطع ہو جائیں گی اور تاوان اور نقصان باقی رہ جائیں گے۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ جب انھیں نماز، جو کہ سب سے زیادہ شرف کی حامل عبادت ہے، کا حکم دیا جاتا اور ان سے کہا جاتا تھا﴿ارۡكَعُوۡا﴾’’رکوع کرو‘‘ تو حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے۔ پس کون سا جرم اس سے بڑھ کر اور کون سی تکذیب اس سے زیادہ بڑی ہے؟ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے‘‘ ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہو جائیں گے۔پس جب انھوں نے اس قرآن کو جھٹلا دیا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے ﴿فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند ہے جس پر کوئی دلیل تو کجا، کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟یا وہ کسی مشرک، کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایمان لائیں گے؟پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا، صدق کے بعد، جس پر قطعی دلائل و براہین قائم ہوں، صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے۔ ہلاکت ہے ان کے لیے، وہ کتنے اندھے ہو گئے ہیں! اور برا ہو ان کا، کس قدر خسارے اور بدبختی کا شکار ہو گئے ہیں !ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں وہ جوّاد اور صاحب کرم ہے۔

المرسلات 77:50

(جھٹلانے والو!) تم کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ تھوڑا سا، یقیناً تم مجرم ہو (46) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (47) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، رکوع کرو تم تو نہیں رکوع کرتے وہ (48) تباہی ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے(49) پس کس بات پر اس (قرآن) کے بعد وہ ایمان لائیں گے؟ (50) [50-46] یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ اگرچہ انھوں نے دنیا میں کھایا پیا اور لذات دنیا سے فائدہ اٹھایا اور عبادات سے غافل رہے مگر وہ مجرم ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں جس کے مستحق مجرم ہوتے ہیں، لہٰذا عنقریب ان کی لذات منقطع ہو جائیں گی اور تاوان اور نقصان باقی رہ جائیں گے۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ جب انھیں نماز، جو کہ سب سے زیادہ شرف کی حامل عبادت ہے، کا حکم دیا جاتا اور ان سے کہا جاتا تھا﴿ارۡكَعُوۡا﴾’’رکوع کرو‘‘ تو حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے۔ پس کون سا جرم اس سے بڑھ کر اور کون سی تکذیب اس سے زیادہ بڑی ہے؟ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے‘‘ ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہو جائیں گے۔پس جب انھوں نے اس قرآن کو جھٹلا دیا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے ﴿فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند ہے جس پر کوئی دلیل تو کجا، کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟یا وہ کسی مشرک، کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایمان لائیں گے؟پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا، صدق کے بعد، جس پر قطعی دلائل و براہین قائم ہوں، صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے۔ ہلاکت ہے ان کے لیے، وہ کتنے اندھے ہو گئے ہیں! اور برا ہو ان کا، کس قدر خسارے اور بدبختی کا شکار ہو گئے ہیں !ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں وہ جوّاد اور صاحب کرم ہے۔

النبأ 78:1

کس چیز کی بابت وہ باہم سوال کرتے ہیں؟(1) اس عظیم خبر کی بابت(2) کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں(3) ہرگز نہیں!عنقریب وہ جان لیں گے(4) پھر ہرگز نہیں! عنقریب وہ جان لیں گے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ۰۰ الَّذِيۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا:

النبأ 78:2

کس چیز کی بابت وہ باہم سوال کرتے ہیں؟(1) اس عظیم خبر کی بابت(2) کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں(3) ہرگز نہیں!عنقریب وہ جان لیں گے(4) پھر ہرگز نہیں! عنقریب وہ جان لیں گے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ۰۰ الَّذِيۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا:

النبأ 78:3

کس چیز کی بابت وہ باہم سوال کرتے ہیں؟(1) اس عظیم خبر کی بابت(2) کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں(3) ہرگز نہیں!عنقریب وہ جان لیں گے(4) پھر ہرگز نہیں! عنقریب وہ جان لیں گے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ۰۰ الَّذِيۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا:

النبأ 78:4

کس چیز کی بابت وہ باہم سوال کرتے ہیں؟(1) اس عظیم خبر کی بابت(2) کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں(3) ہرگز نہیں!عنقریب وہ جان لیں گے(4) پھر ہرگز نہیں! عنقریب وہ جان لیں گے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ۰۰ الَّذِيۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا:

النبأ 78:5

کس چیز کی بابت وہ باہم سوال کرتے ہیں؟(1) اس عظیم خبر کی بابت(2) کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں(3) ہرگز نہیں!عنقریب وہ جان لیں گے(4) پھر ہرگز نہیں! عنقریب وہ جان لیں گے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ۰۰ الَّذِيۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا:

النبأ 78:6

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16) [16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟

النبأ 78:7

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16) [16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟

النبأ 78:8

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16) [16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟

النبأ 78:9

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16) [16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟

النبأ 78:10

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16) [16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟

النبأ 78:11

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16) [16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟

النبأ 78:12

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16) [16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟

النبأ 78:13

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16) [16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟

النبأ 78:14

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16) [16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟

النبأ 78:15

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16) [16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟

النبأ 78:16

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16) [16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟

النبأ 78:17

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:18

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:19

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:20

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:21

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:22

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:23

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:24

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:25

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:26

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:27

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:28

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:29

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:30

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30) [25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ [30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔

النبأ 78:31

بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36) [36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔

النبأ 78:32

بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36) [36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔

النبأ 78:33

بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36) [36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔

النبأ 78:34

بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36) [36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔

النبأ 78:35

بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36) [36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔

النبأ 78:36

بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36) [36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔

النبأ 78:37

جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، نہایت مہربان، نہیں اختیار رکھیں گے وہ اس سے بات کرنے کا (37) اس دن کھڑے ہوں گے جبریل اور (سب) فرشتے صف بستہ، نہیں کلام کر سکیں گے وہ مگر وہی کہ اجازت د ے گا اس کو رحمن، اور کہے گا وہ درست (بات)(38) یہ دن ہے برحق سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف ٹھکانا(39) بلاشبہ ہم نے ڈرا دیا ہے تمھیں قریب کے عذاب سے اس دن دیکھے گا انسان جو کچھ آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے اور کہے گا کافر، اے کاش! ہوتا میں مٹی (40) [39-37] یعنی جس نے انھیں یہ عطیات عطا کیے وہ ان کا رب ہے ﴿ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کارب ہے۔‘‘ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تدبیر کی ﴿ الرَّحۡمٰنِ﴾ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، پس اس نے ان کی نشوونما کی، ان پر رحم کیا اور ان کو لطف و کرم سے نوازا حتیٰ کہ انھوں نے بہت کچھ پا لیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی عظمت اور اپنی عظیم بادشاہی کا ذکر فرمایا۔ اس روز تمام مخلوق خاموش ہو گی، کوئی بات نہیں کر سکے گا ﴿ لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡهُ خِطَابًا﴾ ’’اس سے بات چیت کرنے کا انھیں اختیار نہیں ہوگا۔‘‘ ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا﴾یعنی کوئی شخص بات نہیں کر سکے گا مگر ان دو شرطوں کے ساتھ:اول: جسے اللہ تعالیٰ بات کی اجازت دے۔ثانی: اور وہ جو بات کرے وہ ٹھیک ہو۔اس لیے کہ﴿ ذٰلِكَ الۡيَوۡمُ ﴾ ’’یہ دن ۔‘‘ ﴿ الۡحَقُّ ﴾ ’’ہی سچا (دن) ہے‘‘ جس میں باطل رائج ہو سکتا ہے نہ جھوٹ فائدہ دے سکتا ہے۔ اور یہ وہ دن ہے ﴿ يَقُوۡمُ الرُّوۡحُ ﴾ ’’جس میں روح (الامین) کھڑا ہو گا۔‘‘ روح سے مراد جبریل uہیں جو تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ اور تمام فرشتے بھی کھڑے ہوں گے ﴿ صَفًّا﴾ صف باندھے، اللہ تعالیٰ کے حضور سرافگندہ ہو کر ﴿ لَّا يَتَكَلَّمُوۡنَ﴾ ’’وہ کلام نہیں کرسکیں گے‘‘ سوائے اس بات کے جس کی اللہ تعالیٰ اجازت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب اور تبشیر و انذار کے بعد فرمایا: ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا﴾ ’’ پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنالے۔‘‘ یعنی عمل اور اچھی بات کرے جو قیامت کے دن اس کی طرف لوٹے گی۔ [40]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡذَرۡنٰكُمۡ عَذَابًا قَرِيۡبًا﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے۔‘‘ کیونکہ وہ عذاب قریب آ گیا ہے اور جو چیز آ رہی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے ﴿ يَّوۡمَ يَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔهُ﴾ ’’اس دن آدمی ان (اعمال) کو د یکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے۔‘‘ یعنی یہی وہ چیز ہے جو اسے ہم وفکر میں ڈالے گی اور وہ اس سے گھبرائے گا۔ پس اسے اس دنیا میں دیکھنا چاہیے کہ اس نے دائمی گھر کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ١ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(الحشر:59/18) ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ ہر اس عمل کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘اگر وہ (اپنے اعمال میں) کوئی بھلائی پائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور اگر بھلائی کے سوا کچھ اور پائے تو وہ صرف اپنے ہی نفس کو ملامت کرے ، اسی لیے کفار شدت حسرت و ندامت کی وجہ سے موت کی تمنا کریں گے ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾ ’’اور کافر کہے گا، کاش! میں مٹی ہوتا۔‘‘ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کفر اور ہر قسم کے شر سے عافیت عطا کرے۔ وہ بہت جواد اور نہایت کرم والا ہے۔

النبأ 78:38

جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، نہایت مہربان، نہیں اختیار رکھیں گے وہ اس سے بات کرنے کا (37) اس دن کھڑے ہوں گے جبریل اور (سب) فرشتے صف بستہ، نہیں کلام کر سکیں گے وہ مگر وہی کہ اجازت د ے گا اس کو رحمن، اور کہے گا وہ درست (بات)(38) یہ دن ہے برحق سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف ٹھکانا(39) بلاشبہ ہم نے ڈرا دیا ہے تمھیں قریب کے عذاب سے اس دن دیکھے گا انسان جو کچھ آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے اور کہے گا کافر، اے کاش! ہوتا میں مٹی (40) [39-37] یعنی جس نے انھیں یہ عطیات عطا کیے وہ ان کا رب ہے ﴿ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کارب ہے۔‘‘ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تدبیر کی ﴿ الرَّحۡمٰنِ﴾ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، پس اس نے ان کی نشوونما کی، ان پر رحم کیا اور ان کو لطف و کرم سے نوازا حتیٰ کہ انھوں نے بہت کچھ پا لیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی عظمت اور اپنی عظیم بادشاہی کا ذکر فرمایا۔ اس روز تمام مخلوق خاموش ہو گی، کوئی بات نہیں کر سکے گا ﴿ لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡهُ خِطَابًا﴾ ’’اس سے بات چیت کرنے کا انھیں اختیار نہیں ہوگا۔‘‘ ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا﴾یعنی کوئی شخص بات نہیں کر سکے گا مگر ان دو شرطوں کے ساتھ:اول: جسے اللہ تعالیٰ بات کی اجازت دے۔ثانی: اور وہ جو بات کرے وہ ٹھیک ہو۔اس لیے کہ﴿ ذٰلِكَ الۡيَوۡمُ ﴾ ’’یہ دن ۔‘‘ ﴿ الۡحَقُّ ﴾ ’’ہی سچا (دن) ہے‘‘ جس میں باطل رائج ہو سکتا ہے نہ جھوٹ فائدہ دے سکتا ہے۔ اور یہ وہ دن ہے ﴿ يَقُوۡمُ الرُّوۡحُ ﴾ ’’جس میں روح (الامین) کھڑا ہو گا۔‘‘ روح سے مراد جبریل uہیں جو تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ اور تمام فرشتے بھی کھڑے ہوں گے ﴿ صَفًّا﴾ صف باندھے، اللہ تعالیٰ کے حضور سرافگندہ ہو کر ﴿ لَّا يَتَكَلَّمُوۡنَ﴾ ’’وہ کلام نہیں کرسکیں گے‘‘ سوائے اس بات کے جس کی اللہ تعالیٰ اجازت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب اور تبشیر و انذار کے بعد فرمایا: ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا﴾ ’’ پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنالے۔‘‘ یعنی عمل اور اچھی بات کرے جو قیامت کے دن اس کی طرف لوٹے گی۔ [40]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡذَرۡنٰكُمۡ عَذَابًا قَرِيۡبًا﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے۔‘‘ کیونکہ وہ عذاب قریب آ گیا ہے اور جو چیز آ رہی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے ﴿ يَّوۡمَ يَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔهُ﴾ ’’اس دن آدمی ان (اعمال) کو د یکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے۔‘‘ یعنی یہی وہ چیز ہے جو اسے ہم وفکر میں ڈالے گی اور وہ اس سے گھبرائے گا۔ پس اسے اس دنیا میں دیکھنا چاہیے کہ اس نے دائمی گھر کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ١ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(الحشر:59/18) ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ ہر اس عمل کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘اگر وہ (اپنے اعمال میں) کوئی بھلائی پائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور اگر بھلائی کے سوا کچھ اور پائے تو وہ صرف اپنے ہی نفس کو ملامت کرے ، اسی لیے کفار شدت حسرت و ندامت کی وجہ سے موت کی تمنا کریں گے ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾ ’’اور کافر کہے گا، کاش! میں مٹی ہوتا۔‘‘ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کفر اور ہر قسم کے شر سے عافیت عطا کرے۔ وہ بہت جواد اور نہایت کرم والا ہے۔

النبأ 78:39

جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، نہایت مہربان، نہیں اختیار رکھیں گے وہ اس سے بات کرنے کا (37) اس دن کھڑے ہوں گے جبریل اور (سب) فرشتے صف بستہ، نہیں کلام کر سکیں گے وہ مگر وہی کہ اجازت د ے گا اس کو رحمن، اور کہے گا وہ درست (بات)(38) یہ دن ہے برحق سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف ٹھکانا(39) بلاشبہ ہم نے ڈرا دیا ہے تمھیں قریب کے عذاب سے اس دن دیکھے گا انسان جو کچھ آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے اور کہے گا کافر، اے کاش! ہوتا میں مٹی (40) [39-37] یعنی جس نے انھیں یہ عطیات عطا کیے وہ ان کا رب ہے ﴿ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کارب ہے۔‘‘ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تدبیر کی ﴿ الرَّحۡمٰنِ﴾ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، پس اس نے ان کی نشوونما کی، ان پر رحم کیا اور ان کو لطف و کرم سے نوازا حتیٰ کہ انھوں نے بہت کچھ پا لیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی عظمت اور اپنی عظیم بادشاہی کا ذکر فرمایا۔ اس روز تمام مخلوق خاموش ہو گی، کوئی بات نہیں کر سکے گا ﴿ لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡهُ خِطَابًا﴾ ’’اس سے بات چیت کرنے کا انھیں اختیار نہیں ہوگا۔‘‘ ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا﴾یعنی کوئی شخص بات نہیں کر سکے گا مگر ان دو شرطوں کے ساتھ:اول: جسے اللہ تعالیٰ بات کی اجازت دے۔ثانی: اور وہ جو بات کرے وہ ٹھیک ہو۔اس لیے کہ﴿ ذٰلِكَ الۡيَوۡمُ ﴾ ’’یہ دن ۔‘‘ ﴿ الۡحَقُّ ﴾ ’’ہی سچا (دن) ہے‘‘ جس میں باطل رائج ہو سکتا ہے نہ جھوٹ فائدہ دے سکتا ہے۔ اور یہ وہ دن ہے ﴿ يَقُوۡمُ الرُّوۡحُ ﴾ ’’جس میں روح (الامین) کھڑا ہو گا۔‘‘ روح سے مراد جبریل uہیں جو تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ اور تمام فرشتے بھی کھڑے ہوں گے ﴿ صَفًّا﴾ صف باندھے، اللہ تعالیٰ کے حضور سرافگندہ ہو کر ﴿ لَّا يَتَكَلَّمُوۡنَ﴾ ’’وہ کلام نہیں کرسکیں گے‘‘ سوائے اس بات کے جس کی اللہ تعالیٰ اجازت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب اور تبشیر و انذار کے بعد فرمایا: ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا﴾ ’’ پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنالے۔‘‘ یعنی عمل اور اچھی بات کرے جو قیامت کے دن اس کی طرف لوٹے گی۔ [40]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡذَرۡنٰكُمۡ عَذَابًا قَرِيۡبًا﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے۔‘‘ کیونکہ وہ عذاب قریب آ گیا ہے اور جو چیز آ رہی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے ﴿ يَّوۡمَ يَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔهُ﴾ ’’اس دن آدمی ان (اعمال) کو د یکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے۔‘‘ یعنی یہی وہ چیز ہے جو اسے ہم وفکر میں ڈالے گی اور وہ اس سے گھبرائے گا۔ پس اسے اس دنیا میں دیکھنا چاہیے کہ اس نے دائمی گھر کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ١ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(الحشر:59/18) ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ ہر اس عمل کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘اگر وہ (اپنے اعمال میں) کوئی بھلائی پائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور اگر بھلائی کے سوا کچھ اور پائے تو وہ صرف اپنے ہی نفس کو ملامت کرے ، اسی لیے کفار شدت حسرت و ندامت کی وجہ سے موت کی تمنا کریں گے ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾ ’’اور کافر کہے گا، کاش! میں مٹی ہوتا۔‘‘ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کفر اور ہر قسم کے شر سے عافیت عطا کرے۔ وہ بہت جواد اور نہایت کرم والا ہے۔

النبأ 78:40

جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، نہایت مہربان، نہیں اختیار رکھیں گے وہ اس سے بات کرنے کا (37) اس دن کھڑے ہوں گے جبریل اور (سب) فرشتے صف بستہ، نہیں کلام کر سکیں گے وہ مگر وہی کہ اجازت د ے گا اس کو رحمن، اور کہے گا وہ درست (بات)(38) یہ دن ہے برحق سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف ٹھکانا(39) بلاشبہ ہم نے ڈرا دیا ہے تمھیں قریب کے عذاب سے اس دن دیکھے گا انسان جو کچھ آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے اور کہے گا کافر، اے کاش! ہوتا میں مٹی (40) [39-37] یعنی جس نے انھیں یہ عطیات عطا کیے وہ ان کا رب ہے ﴿ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کارب ہے۔‘‘ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تدبیر کی ﴿ الرَّحۡمٰنِ﴾ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، پس اس نے ان کی نشوونما کی، ان پر رحم کیا اور ان کو لطف و کرم سے نوازا حتیٰ کہ انھوں نے بہت کچھ پا لیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی عظمت اور اپنی عظیم بادشاہی کا ذکر فرمایا۔ اس روز تمام مخلوق خاموش ہو گی، کوئی بات نہیں کر سکے گا ﴿ لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡهُ خِطَابًا﴾ ’’اس سے بات چیت کرنے کا انھیں اختیار نہیں ہوگا۔‘‘ ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا﴾یعنی کوئی شخص بات نہیں کر سکے گا مگر ان دو شرطوں کے ساتھ:اول: جسے اللہ تعالیٰ بات کی اجازت دے۔ثانی: اور وہ جو بات کرے وہ ٹھیک ہو۔اس لیے کہ﴿ ذٰلِكَ الۡيَوۡمُ ﴾ ’’یہ دن ۔‘‘ ﴿ الۡحَقُّ ﴾ ’’ہی سچا (دن) ہے‘‘ جس میں باطل رائج ہو سکتا ہے نہ جھوٹ فائدہ دے سکتا ہے۔ اور یہ وہ دن ہے ﴿ يَقُوۡمُ الرُّوۡحُ ﴾ ’’جس میں روح (الامین) کھڑا ہو گا۔‘‘ روح سے مراد جبریل uہیں جو تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ اور تمام فرشتے بھی کھڑے ہوں گے ﴿ صَفًّا﴾ صف باندھے، اللہ تعالیٰ کے حضور سرافگندہ ہو کر ﴿ لَّا يَتَكَلَّمُوۡنَ﴾ ’’وہ کلام نہیں کرسکیں گے‘‘ سوائے اس بات کے جس کی اللہ تعالیٰ اجازت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب اور تبشیر و انذار کے بعد فرمایا: ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا﴾ ’’ پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنالے۔‘‘ یعنی عمل اور اچھی بات کرے جو قیامت کے دن اس کی طرف لوٹے گی۔ [40]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡذَرۡنٰكُمۡ عَذَابًا قَرِيۡبًا﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے۔‘‘ کیونکہ وہ عذاب قریب آ گیا ہے اور جو چیز آ رہی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے ﴿ يَّوۡمَ يَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔهُ﴾ ’’اس دن آدمی ان (اعمال) کو د یکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے۔‘‘ یعنی یہی وہ چیز ہے جو اسے ہم وفکر میں ڈالے گی اور وہ اس سے گھبرائے گا۔ پس اسے اس دنیا میں دیکھنا چاہیے کہ اس نے دائمی گھر کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ١ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(الحشر:59/18) ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ ہر اس عمل کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘اگر وہ (اپنے اعمال میں) کوئی بھلائی پائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور اگر بھلائی کے سوا کچھ اور پائے تو وہ صرف اپنے ہی نفس کو ملامت کرے ، اسی لیے کفار شدت حسرت و ندامت کی وجہ سے موت کی تمنا کریں گے ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾ ’’اور کافر کہے گا، کاش! میں مٹی ہوتا۔‘‘ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کفر اور ہر قسم کے شر سے عافیت عطا کرے۔ وہ بہت جواد اور نہایت کرم والا ہے۔