Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — النازعات 79:1 – عبس 80:42

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. النازعات 79:1
  2. النازعات 79:2
  3. النازعات 79:3
  4. النازعات 79:4
  5. النازعات 79:5
  6. النازعات 79:6
  7. النازعات 79:7
  8. النازعات 79:8
  9. النازعات 79:9
  10. النازعات 79:10
  11. النازعات 79:11
  12. النازعات 79:12
  13. النازعات 79:13
  14. النازعات 79:14
  15. النازعات 79:15
  16. النازعات 79:16
  17. النازعات 79:17
  18. النازعات 79:18
  19. النازعات 79:19
  20. النازعات 79:20
  21. النازعات 79:21
  22. النازعات 79:22
  23. النازعات 79:23
  24. النازعات 79:24
  25. النازعات 79:25
  26. النازعات 79:26
  27. النازعات 79:27
  28. النازعات 79:28
  29. النازعات 79:29
  30. النازعات 79:30
  31. النازعات 79:31
  32. النازعات 79:32
  33. النازعات 79:33
  34. النازعات 79:34
  35. النازعات 79:35
  36. النازعات 79:36
  37. النازعات 79:37
  38. النازعات 79:38
  39. النازعات 79:39
  40. النازعات 79:40
  41. النازعات 79:41
  42. النازعات 79:42
  43. النازعات 79:43
  44. النازعات 79:44
  45. النازعات 79:45
  46. النازعات 79:46
  47. عبس 80:1
  48. عبس 80:2
  49. عبس 80:3
  50. عبس 80:4
  51. عبس 80:5
  52. عبس 80:6
  53. عبس 80:7
  54. عبس 80:8
  55. عبس 80:9
  56. عبس 80:10
  57. عبس 80:11
  58. عبس 80:12
  59. عبس 80:13
  60. عبس 80:14
  61. عبس 80:15
  62. عبس 80:16
  63. عبس 80:17
  64. عبس 80:18
  65. عبس 80:19
  66. عبس 80:20
  67. عبس 80:21
  68. عبس 80:22
  69. عبس 80:23
  70. عبس 80:24
  71. عبس 80:25
  72. عبس 80:26
  73. عبس 80:27
  74. عبس 80:28
  75. عبس 80:29
  76. عبس 80:30
  77. عبس 80:31
  78. عبس 80:32
  79. عبس 80:33
  80. عبس 80:34
  81. عبس 80:35
  82. عبس 80:36
  83. عبس 80:37
  84. عبس 80:38
  85. عبس 80:39
  86. عبس 80:40
  87. عبس 80:41
  88. عبس 80:42

النازعات 79:1

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:2

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:3

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:4

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:5

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:6

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:7

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:8

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:9

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:10

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:11

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:12

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:13

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:14

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔ [9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔ [14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔

النازعات 79:15

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26) [25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔ [26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

النازعات 79:16

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26) [25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔ [26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

النازعات 79:17

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26) [25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔ [26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

النازعات 79:18

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26) [25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔ [26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

النازعات 79:19

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26) [25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔ [26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

النازعات 79:20

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26) [25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔ [26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

النازعات 79:21

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26) [25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔ [26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

النازعات 79:22

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26) [25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔ [26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

النازعات 79:23

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26) [25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔ [26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

النازعات 79:24

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26) [25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔ [26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

النازعات 79:25

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26) [25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔ [26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

النازعات 79:26

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26) [25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔ [26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

النازعات 79:27

کیا تم سخت تر ہو (دوبارہ) تخلیق میں یا آسمان؟ اس (اللہ) نے اسے بنایا (27) بلند کی اس کی چھت ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اس کو (28) اور تاریک کیا اس کی رات کو اور ظاہر (روشن) کیا اس کے دن کو(29) اور زمین کو، بعد اس کے بچھایا اس کو (30) نکالا اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ (31) اور پہاڑوں کو، گاڑ دیا ان کو (32) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے (33) [33-27] اللہ تبارک و تعالیٰ آخرت کو اور اجساد کو دوبارہ زندہ کرنے کو بعید سمجھنے والوں کے لیے واضح دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ﴾ اے انسانو! کیا تمھارا ﴿ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ﴾ ’’بنانا زیادہ شدید ہے یا آسمان کا؟‘‘ جو بڑے بڑے اجرام، طاقت ور مخلوق اور انتہائی بلندیوں والا ہے ﴿ بَنٰىهَا﴾ اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ ﴿ رَفَعَ سَمۡؔكَهَا﴾ یعنی اس کی چھت اور صورت کو بلند کیا۔ ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ’’ پھر اسے برابر کردیا۔‘‘ یعنی اس کو محکم اور مضبوط بنا کر جو عقل کو حیران اور خرد کو گم کر دیتا ہے۔ ﴿ وَاَغۡطَشَ لَيۡلَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رات کو تاریک کرتا ہےتو یہ تاریکی آسمان کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہے اور روئے زمین کو تاریک کر دیتی ہے ﴿ وَاَخۡرَجَ ضُحٰؔىهَا﴾ یعنی جب اللہ تعالیٰ سورج کو لے کر آتا ہے تو روئے زمین پر عظیم روشنی ظاہر کرتا ہے تو لوگ اپنے دینی اور دنیاوی کاموں کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ ﴿ وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد زمین کو ﴿ دَحٰؔىهَا﴾ ’’اس نے بچھا دیا۔‘‘ یعنی اس کے اندر اس کی منفعتیں ودیعت کر دیں۔ پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی ﴿ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔‘‘ یعنی پہاڑ زمین پر مضبوطی سے جمائے، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلا کر ہموار کیا جیسا کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خود زمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قُلۡ اَىِٕنَّـكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَۚ۰۰وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ۰۰ثُمَّ اسۡتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ۰۰فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ﴾(حم السجدۃ:32؍9-12) ’’کہہ دیجیے، کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو، وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر پہاڑ رکھ دیے اور اس کے اندر برکت رکھ دی اور چار دن میں اس کے اندر اس کی غذاؤ ں کو مقدر کر دیا، تمام طلب گاروں کے لیے یکساں طور پر، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، پس اس نے آسمان سے اور زمین سے کہا، دونوں آؤ ، خوش دلی کے ساتھ یا بادل نخواستہ، انھوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں، پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیے ۔‘‘ پس جس نے بڑے بڑے آسمان، ان کی روشنیاں، اجرام فلکی، گرد بھری اور کثیف زمین، اس کے اندر مخلوق کی ضروریات اور ان کی منفعتیں ودیعت کر دیں، وہ ضرور مکلف مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ پس جس نے نیکی کی اس کے لیے بھلائی ہے اور جس نے برائی کی وہ صرف اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔ بنابریں اس کے بعد قیامت کے برپا ہونے کا ذکر کیا اور پھر جزا و سزا کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

النازعات 79:28

کیا تم سخت تر ہو (دوبارہ) تخلیق میں یا آسمان؟ اس (اللہ) نے اسے بنایا (27) بلند کی اس کی چھت ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اس کو (28) اور تاریک کیا اس کی رات کو اور ظاہر (روشن) کیا اس کے دن کو(29) اور زمین کو، بعد اس کے بچھایا اس کو (30) نکالا اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ (31) اور پہاڑوں کو، گاڑ دیا ان کو (32) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے (33) [33-27] اللہ تبارک و تعالیٰ آخرت کو اور اجساد کو دوبارہ زندہ کرنے کو بعید سمجھنے والوں کے لیے واضح دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ﴾ اے انسانو! کیا تمھارا ﴿ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ﴾ ’’بنانا زیادہ شدید ہے یا آسمان کا؟‘‘ جو بڑے بڑے اجرام، طاقت ور مخلوق اور انتہائی بلندیوں والا ہے ﴿ بَنٰىهَا﴾ اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ ﴿ رَفَعَ سَمۡؔكَهَا﴾ یعنی اس کی چھت اور صورت کو بلند کیا۔ ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ’’ پھر اسے برابر کردیا۔‘‘ یعنی اس کو محکم اور مضبوط بنا کر جو عقل کو حیران اور خرد کو گم کر دیتا ہے۔ ﴿ وَاَغۡطَشَ لَيۡلَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رات کو تاریک کرتا ہےتو یہ تاریکی آسمان کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہے اور روئے زمین کو تاریک کر دیتی ہے ﴿ وَاَخۡرَجَ ضُحٰؔىهَا﴾ یعنی جب اللہ تعالیٰ سورج کو لے کر آتا ہے تو روئے زمین پر عظیم روشنی ظاہر کرتا ہے تو لوگ اپنے دینی اور دنیاوی کاموں کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ ﴿ وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد زمین کو ﴿ دَحٰؔىهَا﴾ ’’اس نے بچھا دیا۔‘‘ یعنی اس کے اندر اس کی منفعتیں ودیعت کر دیں۔ پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی ﴿ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔‘‘ یعنی پہاڑ زمین پر مضبوطی سے جمائے، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلا کر ہموار کیا جیسا کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خود زمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قُلۡ اَىِٕنَّـكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَۚ۰۰وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ۰۰ثُمَّ اسۡتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ۰۰فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ﴾(حم السجدۃ:32؍9-12) ’’کہہ دیجیے، کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو، وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر پہاڑ رکھ دیے اور اس کے اندر برکت رکھ دی اور چار دن میں اس کے اندر اس کی غذاؤ ں کو مقدر کر دیا، تمام طلب گاروں کے لیے یکساں طور پر، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، پس اس نے آسمان سے اور زمین سے کہا، دونوں آؤ ، خوش دلی کے ساتھ یا بادل نخواستہ، انھوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں، پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیے ۔‘‘ پس جس نے بڑے بڑے آسمان، ان کی روشنیاں، اجرام فلکی، گرد بھری اور کثیف زمین، اس کے اندر مخلوق کی ضروریات اور ان کی منفعتیں ودیعت کر دیں، وہ ضرور مکلف مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ پس جس نے نیکی کی اس کے لیے بھلائی ہے اور جس نے برائی کی وہ صرف اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔ بنابریں اس کے بعد قیامت کے برپا ہونے کا ذکر کیا اور پھر جزا و سزا کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

النازعات 79:29

کیا تم سخت تر ہو (دوبارہ) تخلیق میں یا آسمان؟ اس (اللہ) نے اسے بنایا (27) بلند کی اس کی چھت ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اس کو (28) اور تاریک کیا اس کی رات کو اور ظاہر (روشن) کیا اس کے دن کو(29) اور زمین کو، بعد اس کے بچھایا اس کو (30) نکالا اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ (31) اور پہاڑوں کو، گاڑ دیا ان کو (32) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے (33) [33-27] اللہ تبارک و تعالیٰ آخرت کو اور اجساد کو دوبارہ زندہ کرنے کو بعید سمجھنے والوں کے لیے واضح دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ﴾ اے انسانو! کیا تمھارا ﴿ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ﴾ ’’بنانا زیادہ شدید ہے یا آسمان کا؟‘‘ جو بڑے بڑے اجرام، طاقت ور مخلوق اور انتہائی بلندیوں والا ہے ﴿ بَنٰىهَا﴾ اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ ﴿ رَفَعَ سَمۡؔكَهَا﴾ یعنی اس کی چھت اور صورت کو بلند کیا۔ ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ’’ پھر اسے برابر کردیا۔‘‘ یعنی اس کو محکم اور مضبوط بنا کر جو عقل کو حیران اور خرد کو گم کر دیتا ہے۔ ﴿ وَاَغۡطَشَ لَيۡلَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رات کو تاریک کرتا ہےتو یہ تاریکی آسمان کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہے اور روئے زمین کو تاریک کر دیتی ہے ﴿ وَاَخۡرَجَ ضُحٰؔىهَا﴾ یعنی جب اللہ تعالیٰ سورج کو لے کر آتا ہے تو روئے زمین پر عظیم روشنی ظاہر کرتا ہے تو لوگ اپنے دینی اور دنیاوی کاموں کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ ﴿ وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد زمین کو ﴿ دَحٰؔىهَا﴾ ’’اس نے بچھا دیا۔‘‘ یعنی اس کے اندر اس کی منفعتیں ودیعت کر دیں۔ پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی ﴿ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔‘‘ یعنی پہاڑ زمین پر مضبوطی سے جمائے، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلا کر ہموار کیا جیسا کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خود زمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قُلۡ اَىِٕنَّـكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَۚ۰۰وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ۰۰ثُمَّ اسۡتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ۰۰فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ﴾(حم السجدۃ:32؍9-12) ’’کہہ دیجیے، کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو، وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر پہاڑ رکھ دیے اور اس کے اندر برکت رکھ دی اور چار دن میں اس کے اندر اس کی غذاؤ ں کو مقدر کر دیا، تمام طلب گاروں کے لیے یکساں طور پر، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، پس اس نے آسمان سے اور زمین سے کہا، دونوں آؤ ، خوش دلی کے ساتھ یا بادل نخواستہ، انھوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں، پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیے ۔‘‘ پس جس نے بڑے بڑے آسمان، ان کی روشنیاں، اجرام فلکی، گرد بھری اور کثیف زمین، اس کے اندر مخلوق کی ضروریات اور ان کی منفعتیں ودیعت کر دیں، وہ ضرور مکلف مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ پس جس نے نیکی کی اس کے لیے بھلائی ہے اور جس نے برائی کی وہ صرف اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔ بنابریں اس کے بعد قیامت کے برپا ہونے کا ذکر کیا اور پھر جزا و سزا کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

النازعات 79:30

کیا تم سخت تر ہو (دوبارہ) تخلیق میں یا آسمان؟ اس (اللہ) نے اسے بنایا (27) بلند کی اس کی چھت ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اس کو (28) اور تاریک کیا اس کی رات کو اور ظاہر (روشن) کیا اس کے دن کو(29) اور زمین کو، بعد اس کے بچھایا اس کو (30) نکالا اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ (31) اور پہاڑوں کو، گاڑ دیا ان کو (32) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے (33) [33-27] اللہ تبارک و تعالیٰ آخرت کو اور اجساد کو دوبارہ زندہ کرنے کو بعید سمجھنے والوں کے لیے واضح دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ﴾ اے انسانو! کیا تمھارا ﴿ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ﴾ ’’بنانا زیادہ شدید ہے یا آسمان کا؟‘‘ جو بڑے بڑے اجرام، طاقت ور مخلوق اور انتہائی بلندیوں والا ہے ﴿ بَنٰىهَا﴾ اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ ﴿ رَفَعَ سَمۡؔكَهَا﴾ یعنی اس کی چھت اور صورت کو بلند کیا۔ ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ’’ پھر اسے برابر کردیا۔‘‘ یعنی اس کو محکم اور مضبوط بنا کر جو عقل کو حیران اور خرد کو گم کر دیتا ہے۔ ﴿ وَاَغۡطَشَ لَيۡلَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رات کو تاریک کرتا ہےتو یہ تاریکی آسمان کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہے اور روئے زمین کو تاریک کر دیتی ہے ﴿ وَاَخۡرَجَ ضُحٰؔىهَا﴾ یعنی جب اللہ تعالیٰ سورج کو لے کر آتا ہے تو روئے زمین پر عظیم روشنی ظاہر کرتا ہے تو لوگ اپنے دینی اور دنیاوی کاموں کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ ﴿ وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد زمین کو ﴿ دَحٰؔىهَا﴾ ’’اس نے بچھا دیا۔‘‘ یعنی اس کے اندر اس کی منفعتیں ودیعت کر دیں۔ پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی ﴿ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔‘‘ یعنی پہاڑ زمین پر مضبوطی سے جمائے، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلا کر ہموار کیا جیسا کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خود زمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قُلۡ اَىِٕنَّـكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَۚ۰۰وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ۰۰ثُمَّ اسۡتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ۰۰فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ﴾(حم السجدۃ:32؍9-12) ’’کہہ دیجیے، کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو، وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر پہاڑ رکھ دیے اور اس کے اندر برکت رکھ دی اور چار دن میں اس کے اندر اس کی غذاؤ ں کو مقدر کر دیا، تمام طلب گاروں کے لیے یکساں طور پر، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، پس اس نے آسمان سے اور زمین سے کہا، دونوں آؤ ، خوش دلی کے ساتھ یا بادل نخواستہ، انھوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں، پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیے ۔‘‘ پس جس نے بڑے بڑے آسمان، ان کی روشنیاں، اجرام فلکی، گرد بھری اور کثیف زمین، اس کے اندر مخلوق کی ضروریات اور ان کی منفعتیں ودیعت کر دیں، وہ ضرور مکلف مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ پس جس نے نیکی کی اس کے لیے بھلائی ہے اور جس نے برائی کی وہ صرف اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔ بنابریں اس کے بعد قیامت کے برپا ہونے کا ذکر کیا اور پھر جزا و سزا کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

النازعات 79:31

کیا تم سخت تر ہو (دوبارہ) تخلیق میں یا آسمان؟ اس (اللہ) نے اسے بنایا (27) بلند کی اس کی چھت ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اس کو (28) اور تاریک کیا اس کی رات کو اور ظاہر (روشن) کیا اس کے دن کو(29) اور زمین کو، بعد اس کے بچھایا اس کو (30) نکالا اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ (31) اور پہاڑوں کو، گاڑ دیا ان کو (32) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے (33) [33-27] اللہ تبارک و تعالیٰ آخرت کو اور اجساد کو دوبارہ زندہ کرنے کو بعید سمجھنے والوں کے لیے واضح دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ﴾ اے انسانو! کیا تمھارا ﴿ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ﴾ ’’بنانا زیادہ شدید ہے یا آسمان کا؟‘‘ جو بڑے بڑے اجرام، طاقت ور مخلوق اور انتہائی بلندیوں والا ہے ﴿ بَنٰىهَا﴾ اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ ﴿ رَفَعَ سَمۡؔكَهَا﴾ یعنی اس کی چھت اور صورت کو بلند کیا۔ ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ’’ پھر اسے برابر کردیا۔‘‘ یعنی اس کو محکم اور مضبوط بنا کر جو عقل کو حیران اور خرد کو گم کر دیتا ہے۔ ﴿ وَاَغۡطَشَ لَيۡلَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رات کو تاریک کرتا ہےتو یہ تاریکی آسمان کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہے اور روئے زمین کو تاریک کر دیتی ہے ﴿ وَاَخۡرَجَ ضُحٰؔىهَا﴾ یعنی جب اللہ تعالیٰ سورج کو لے کر آتا ہے تو روئے زمین پر عظیم روشنی ظاہر کرتا ہے تو لوگ اپنے دینی اور دنیاوی کاموں کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ ﴿ وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد زمین کو ﴿ دَحٰؔىهَا﴾ ’’اس نے بچھا دیا۔‘‘ یعنی اس کے اندر اس کی منفعتیں ودیعت کر دیں۔ پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی ﴿ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔‘‘ یعنی پہاڑ زمین پر مضبوطی سے جمائے، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلا کر ہموار کیا جیسا کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خود زمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قُلۡ اَىِٕنَّـكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَۚ۰۰وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ۰۰ثُمَّ اسۡتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ۰۰فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ﴾(حم السجدۃ:32؍9-12) ’’کہہ دیجیے، کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو، وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر پہاڑ رکھ دیے اور اس کے اندر برکت رکھ دی اور چار دن میں اس کے اندر اس کی غذاؤ ں کو مقدر کر دیا، تمام طلب گاروں کے لیے یکساں طور پر، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، پس اس نے آسمان سے اور زمین سے کہا، دونوں آؤ ، خوش دلی کے ساتھ یا بادل نخواستہ، انھوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں، پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیے ۔‘‘ پس جس نے بڑے بڑے آسمان، ان کی روشنیاں، اجرام فلکی، گرد بھری اور کثیف زمین، اس کے اندر مخلوق کی ضروریات اور ان کی منفعتیں ودیعت کر دیں، وہ ضرور مکلف مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ پس جس نے نیکی کی اس کے لیے بھلائی ہے اور جس نے برائی کی وہ صرف اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔ بنابریں اس کے بعد قیامت کے برپا ہونے کا ذکر کیا اور پھر جزا و سزا کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

النازعات 79:32

کیا تم سخت تر ہو (دوبارہ) تخلیق میں یا آسمان؟ اس (اللہ) نے اسے بنایا (27) بلند کی اس کی چھت ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اس کو (28) اور تاریک کیا اس کی رات کو اور ظاہر (روشن) کیا اس کے دن کو(29) اور زمین کو، بعد اس کے بچھایا اس کو (30) نکالا اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ (31) اور پہاڑوں کو، گاڑ دیا ان کو (32) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے (33) [33-27] اللہ تبارک و تعالیٰ آخرت کو اور اجساد کو دوبارہ زندہ کرنے کو بعید سمجھنے والوں کے لیے واضح دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ﴾ اے انسانو! کیا تمھارا ﴿ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ﴾ ’’بنانا زیادہ شدید ہے یا آسمان کا؟‘‘ جو بڑے بڑے اجرام، طاقت ور مخلوق اور انتہائی بلندیوں والا ہے ﴿ بَنٰىهَا﴾ اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ ﴿ رَفَعَ سَمۡؔكَهَا﴾ یعنی اس کی چھت اور صورت کو بلند کیا۔ ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ’’ پھر اسے برابر کردیا۔‘‘ یعنی اس کو محکم اور مضبوط بنا کر جو عقل کو حیران اور خرد کو گم کر دیتا ہے۔ ﴿ وَاَغۡطَشَ لَيۡلَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رات کو تاریک کرتا ہےتو یہ تاریکی آسمان کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہے اور روئے زمین کو تاریک کر دیتی ہے ﴿ وَاَخۡرَجَ ضُحٰؔىهَا﴾ یعنی جب اللہ تعالیٰ سورج کو لے کر آتا ہے تو روئے زمین پر عظیم روشنی ظاہر کرتا ہے تو لوگ اپنے دینی اور دنیاوی کاموں کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ ﴿ وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد زمین کو ﴿ دَحٰؔىهَا﴾ ’’اس نے بچھا دیا۔‘‘ یعنی اس کے اندر اس کی منفعتیں ودیعت کر دیں۔ پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی ﴿ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔‘‘ یعنی پہاڑ زمین پر مضبوطی سے جمائے، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلا کر ہموار کیا جیسا کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خود زمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قُلۡ اَىِٕنَّـكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَۚ۰۰وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ۰۰ثُمَّ اسۡتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ۰۰فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ﴾(حم السجدۃ:32؍9-12) ’’کہہ دیجیے، کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو، وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر پہاڑ رکھ دیے اور اس کے اندر برکت رکھ دی اور چار دن میں اس کے اندر اس کی غذاؤ ں کو مقدر کر دیا، تمام طلب گاروں کے لیے یکساں طور پر، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، پس اس نے آسمان سے اور زمین سے کہا، دونوں آؤ ، خوش دلی کے ساتھ یا بادل نخواستہ، انھوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں، پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیے ۔‘‘ پس جس نے بڑے بڑے آسمان، ان کی روشنیاں، اجرام فلکی، گرد بھری اور کثیف زمین، اس کے اندر مخلوق کی ضروریات اور ان کی منفعتیں ودیعت کر دیں، وہ ضرور مکلف مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ پس جس نے نیکی کی اس کے لیے بھلائی ہے اور جس نے برائی کی وہ صرف اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔ بنابریں اس کے بعد قیامت کے برپا ہونے کا ذکر کیا اور پھر جزا و سزا کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

النازعات 79:33

کیا تم سخت تر ہو (دوبارہ) تخلیق میں یا آسمان؟ اس (اللہ) نے اسے بنایا (27) بلند کی اس کی چھت ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اس کو (28) اور تاریک کیا اس کی رات کو اور ظاہر (روشن) کیا اس کے دن کو(29) اور زمین کو، بعد اس کے بچھایا اس کو (30) نکالا اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ (31) اور پہاڑوں کو، گاڑ دیا ان کو (32) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے (33) [33-27] اللہ تبارک و تعالیٰ آخرت کو اور اجساد کو دوبارہ زندہ کرنے کو بعید سمجھنے والوں کے لیے واضح دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ﴾ اے انسانو! کیا تمھارا ﴿ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ﴾ ’’بنانا زیادہ شدید ہے یا آسمان کا؟‘‘ جو بڑے بڑے اجرام، طاقت ور مخلوق اور انتہائی بلندیوں والا ہے ﴿ بَنٰىهَا﴾ اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ ﴿ رَفَعَ سَمۡؔكَهَا﴾ یعنی اس کی چھت اور صورت کو بلند کیا۔ ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ’’ پھر اسے برابر کردیا۔‘‘ یعنی اس کو محکم اور مضبوط بنا کر جو عقل کو حیران اور خرد کو گم کر دیتا ہے۔ ﴿ وَاَغۡطَشَ لَيۡلَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رات کو تاریک کرتا ہےتو یہ تاریکی آسمان کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہے اور روئے زمین کو تاریک کر دیتی ہے ﴿ وَاَخۡرَجَ ضُحٰؔىهَا﴾ یعنی جب اللہ تعالیٰ سورج کو لے کر آتا ہے تو روئے زمین پر عظیم روشنی ظاہر کرتا ہے تو لوگ اپنے دینی اور دنیاوی کاموں کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ ﴿ وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد زمین کو ﴿ دَحٰؔىهَا﴾ ’’اس نے بچھا دیا۔‘‘ یعنی اس کے اندر اس کی منفعتیں ودیعت کر دیں۔ پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی ﴿ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔‘‘ یعنی پہاڑ زمین پر مضبوطی سے جمائے، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلا کر ہموار کیا جیسا کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خود زمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قُلۡ اَىِٕنَّـكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَۚ۰۰وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ۰۰ثُمَّ اسۡتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ۰۰فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ﴾(حم السجدۃ:32؍9-12) ’’کہہ دیجیے، کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو، وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر پہاڑ رکھ دیے اور اس کے اندر برکت رکھ دی اور چار دن میں اس کے اندر اس کی غذاؤ ں کو مقدر کر دیا، تمام طلب گاروں کے لیے یکساں طور پر، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، پس اس نے آسمان سے اور زمین سے کہا، دونوں آؤ ، خوش دلی کے ساتھ یا بادل نخواستہ، انھوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں، پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیے ۔‘‘ پس جس نے بڑے بڑے آسمان، ان کی روشنیاں، اجرام فلکی، گرد بھری اور کثیف زمین، اس کے اندر مخلوق کی ضروریات اور ان کی منفعتیں ودیعت کر دیں، وہ ضرور مکلف مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ پس جس نے نیکی کی اس کے لیے بھلائی ہے اور جس نے برائی کی وہ صرف اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔ بنابریں اس کے بعد قیامت کے برپا ہونے کا ذکر کیا اور پھر جزا و سزا کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

النازعات 79:34

پس جب آ جائے گی آفت بڑی (قیامت)(34) اس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے کوشش کی (35) اور ظاہر کر دی جائے گی دوزخ (ہر) اس شخص کے لیے جو دیکھتا ہے (36) پس لیکن جس نے سرکشی کی (37) اور ترجیح دی اس نے حیات دنیا کو (38) تو بلاشبہ جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے(39) اور لیکن جو ڈر گیا سامنے کھڑے ہونے سے اپنے رب کے اور اس نے روکا (اپنے) نفس کو (بری) خواہش سے (40) تو بلاشبہ جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے (41) [36-34] یعنی جب قیامت کبریٰ اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے ، آئے گی، اس وقت باپ اپنے بیٹے سے، دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہو جائے گا اور ﴿ يَوۡمَ يَتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰى ﴾ ’’اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر اس نے اچھے اور برے جو کام کیے تھے۔ پس وہ اپنی نیکیوں میں ذرہ بھر نیکی کے اضافے کی بھی تمنا کرے گا اور اپنی برائیوں میں ذرہ بھر اضافے پر غم زدہ ہو جائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہو گی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡؔجَحِيۡمُ لِمَنۡ يَّرٰى﴾ یعنی جہنم کو میدان میں ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دیا جائے گا جس کو جہنمیوں کے لیے تیار کیا گیاہے۔ جہنم ان کو پکڑنے کے لیے تیار اور اپنے رب کے حکم کا منتظر ہو گا۔ [39-37]﴿ فَاَمَّا مَنۡ طَغٰى﴾ یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں ﴿ وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ اور آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اور دنیا ہی کے حظوظ و شہوات میں مستغرق رہا اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کی اور اس کا تمام تر وقت دنیا ہی کے لیے رہا اور اس نے آخرت اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿فَاِنَّ الۡؔجَحِيۡمَ هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ یعنی جس کا یہ حال ہے، جہنم اس کا ٹھکانا اور مسکن ہوگا۔ [40، 41]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈر نے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہو گئیں جو رسولﷺ لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّ الۡؔجَنَّةَ ﴾ ’’تو بے شک جنت۔‘‘ جو ہر بھلائی، سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ﴿هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کا ٹھکانا ہے۔

النازعات 79:35

پس جب آ جائے گی آفت بڑی (قیامت)(34) اس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے کوشش کی (35) اور ظاہر کر دی جائے گی دوزخ (ہر) اس شخص کے لیے جو دیکھتا ہے (36) پس لیکن جس نے سرکشی کی (37) اور ترجیح دی اس نے حیات دنیا کو (38) تو بلاشبہ جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے(39) اور لیکن جو ڈر گیا سامنے کھڑے ہونے سے اپنے رب کے اور اس نے روکا (اپنے) نفس کو (بری) خواہش سے (40) تو بلاشبہ جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے (41) [36-34] یعنی جب قیامت کبریٰ اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے ، آئے گی، اس وقت باپ اپنے بیٹے سے، دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہو جائے گا اور ﴿ يَوۡمَ يَتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰى ﴾ ’’اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر اس نے اچھے اور برے جو کام کیے تھے۔ پس وہ اپنی نیکیوں میں ذرہ بھر نیکی کے اضافے کی بھی تمنا کرے گا اور اپنی برائیوں میں ذرہ بھر اضافے پر غم زدہ ہو جائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہو گی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡؔجَحِيۡمُ لِمَنۡ يَّرٰى﴾ یعنی جہنم کو میدان میں ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دیا جائے گا جس کو جہنمیوں کے لیے تیار کیا گیاہے۔ جہنم ان کو پکڑنے کے لیے تیار اور اپنے رب کے حکم کا منتظر ہو گا۔ [39-37]﴿ فَاَمَّا مَنۡ طَغٰى﴾ یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں ﴿ وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ اور آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اور دنیا ہی کے حظوظ و شہوات میں مستغرق رہا اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کی اور اس کا تمام تر وقت دنیا ہی کے لیے رہا اور اس نے آخرت اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿فَاِنَّ الۡؔجَحِيۡمَ هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ یعنی جس کا یہ حال ہے، جہنم اس کا ٹھکانا اور مسکن ہوگا۔ [40، 41]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈر نے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہو گئیں جو رسولﷺ لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّ الۡؔجَنَّةَ ﴾ ’’تو بے شک جنت۔‘‘ جو ہر بھلائی، سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ﴿هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کا ٹھکانا ہے۔

النازعات 79:36

پس جب آ جائے گی آفت بڑی (قیامت)(34) اس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے کوشش کی (35) اور ظاہر کر دی جائے گی دوزخ (ہر) اس شخص کے لیے جو دیکھتا ہے (36) پس لیکن جس نے سرکشی کی (37) اور ترجیح دی اس نے حیات دنیا کو (38) تو بلاشبہ جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے(39) اور لیکن جو ڈر گیا سامنے کھڑے ہونے سے اپنے رب کے اور اس نے روکا (اپنے) نفس کو (بری) خواہش سے (40) تو بلاشبہ جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے (41) [36-34] یعنی جب قیامت کبریٰ اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے ، آئے گی، اس وقت باپ اپنے بیٹے سے، دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہو جائے گا اور ﴿ يَوۡمَ يَتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰى ﴾ ’’اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر اس نے اچھے اور برے جو کام کیے تھے۔ پس وہ اپنی نیکیوں میں ذرہ بھر نیکی کے اضافے کی بھی تمنا کرے گا اور اپنی برائیوں میں ذرہ بھر اضافے پر غم زدہ ہو جائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہو گی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡؔجَحِيۡمُ لِمَنۡ يَّرٰى﴾ یعنی جہنم کو میدان میں ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دیا جائے گا جس کو جہنمیوں کے لیے تیار کیا گیاہے۔ جہنم ان کو پکڑنے کے لیے تیار اور اپنے رب کے حکم کا منتظر ہو گا۔ [39-37]﴿ فَاَمَّا مَنۡ طَغٰى﴾ یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں ﴿ وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ اور آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اور دنیا ہی کے حظوظ و شہوات میں مستغرق رہا اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کی اور اس کا تمام تر وقت دنیا ہی کے لیے رہا اور اس نے آخرت اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿فَاِنَّ الۡؔجَحِيۡمَ هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ یعنی جس کا یہ حال ہے، جہنم اس کا ٹھکانا اور مسکن ہوگا۔ [40، 41]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈر نے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہو گئیں جو رسولﷺ لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّ الۡؔجَنَّةَ ﴾ ’’تو بے شک جنت۔‘‘ جو ہر بھلائی، سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ﴿هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کا ٹھکانا ہے۔

النازعات 79:37

پس جب آ جائے گی آفت بڑی (قیامت)(34) اس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے کوشش کی (35) اور ظاہر کر دی جائے گی دوزخ (ہر) اس شخص کے لیے جو دیکھتا ہے (36) پس لیکن جس نے سرکشی کی (37) اور ترجیح دی اس نے حیات دنیا کو (38) تو بلاشبہ جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے(39) اور لیکن جو ڈر گیا سامنے کھڑے ہونے سے اپنے رب کے اور اس نے روکا (اپنے) نفس کو (بری) خواہش سے (40) تو بلاشبہ جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے (41) [36-34] یعنی جب قیامت کبریٰ اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے ، آئے گی، اس وقت باپ اپنے بیٹے سے، دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہو جائے گا اور ﴿ يَوۡمَ يَتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰى ﴾ ’’اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر اس نے اچھے اور برے جو کام کیے تھے۔ پس وہ اپنی نیکیوں میں ذرہ بھر نیکی کے اضافے کی بھی تمنا کرے گا اور اپنی برائیوں میں ذرہ بھر اضافے پر غم زدہ ہو جائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہو گی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡؔجَحِيۡمُ لِمَنۡ يَّرٰى﴾ یعنی جہنم کو میدان میں ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دیا جائے گا جس کو جہنمیوں کے لیے تیار کیا گیاہے۔ جہنم ان کو پکڑنے کے لیے تیار اور اپنے رب کے حکم کا منتظر ہو گا۔ [39-37]﴿ فَاَمَّا مَنۡ طَغٰى﴾ یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں ﴿ وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ اور آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اور دنیا ہی کے حظوظ و شہوات میں مستغرق رہا اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کی اور اس کا تمام تر وقت دنیا ہی کے لیے رہا اور اس نے آخرت اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿فَاِنَّ الۡؔجَحِيۡمَ هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ یعنی جس کا یہ حال ہے، جہنم اس کا ٹھکانا اور مسکن ہوگا۔ [40، 41]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈر نے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہو گئیں جو رسولﷺ لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّ الۡؔجَنَّةَ ﴾ ’’تو بے شک جنت۔‘‘ جو ہر بھلائی، سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ﴿هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کا ٹھکانا ہے۔

النازعات 79:38

پس جب آ جائے گی آفت بڑی (قیامت)(34) اس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے کوشش کی (35) اور ظاہر کر دی جائے گی دوزخ (ہر) اس شخص کے لیے جو دیکھتا ہے (36) پس لیکن جس نے سرکشی کی (37) اور ترجیح دی اس نے حیات دنیا کو (38) تو بلاشبہ جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے(39) اور لیکن جو ڈر گیا سامنے کھڑے ہونے سے اپنے رب کے اور اس نے روکا (اپنے) نفس کو (بری) خواہش سے (40) تو بلاشبہ جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے (41) [36-34] یعنی جب قیامت کبریٰ اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے ، آئے گی، اس وقت باپ اپنے بیٹے سے، دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہو جائے گا اور ﴿ يَوۡمَ يَتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰى ﴾ ’’اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر اس نے اچھے اور برے جو کام کیے تھے۔ پس وہ اپنی نیکیوں میں ذرہ بھر نیکی کے اضافے کی بھی تمنا کرے گا اور اپنی برائیوں میں ذرہ بھر اضافے پر غم زدہ ہو جائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہو گی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡؔجَحِيۡمُ لِمَنۡ يَّرٰى﴾ یعنی جہنم کو میدان میں ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دیا جائے گا جس کو جہنمیوں کے لیے تیار کیا گیاہے۔ جہنم ان کو پکڑنے کے لیے تیار اور اپنے رب کے حکم کا منتظر ہو گا۔ [39-37]﴿ فَاَمَّا مَنۡ طَغٰى﴾ یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں ﴿ وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ اور آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اور دنیا ہی کے حظوظ و شہوات میں مستغرق رہا اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کی اور اس کا تمام تر وقت دنیا ہی کے لیے رہا اور اس نے آخرت اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿فَاِنَّ الۡؔجَحِيۡمَ هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ یعنی جس کا یہ حال ہے، جہنم اس کا ٹھکانا اور مسکن ہوگا۔ [40، 41]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈر نے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہو گئیں جو رسولﷺ لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّ الۡؔجَنَّةَ ﴾ ’’تو بے شک جنت۔‘‘ جو ہر بھلائی، سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ﴿هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کا ٹھکانا ہے۔

النازعات 79:39

پس جب آ جائے گی آفت بڑی (قیامت)(34) اس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے کوشش کی (35) اور ظاہر کر دی جائے گی دوزخ (ہر) اس شخص کے لیے جو دیکھتا ہے (36) پس لیکن جس نے سرکشی کی (37) اور ترجیح دی اس نے حیات دنیا کو (38) تو بلاشبہ جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے(39) اور لیکن جو ڈر گیا سامنے کھڑے ہونے سے اپنے رب کے اور اس نے روکا (اپنے) نفس کو (بری) خواہش سے (40) تو بلاشبہ جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے (41) [36-34] یعنی جب قیامت کبریٰ اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے ، آئے گی، اس وقت باپ اپنے بیٹے سے، دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہو جائے گا اور ﴿ يَوۡمَ يَتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰى ﴾ ’’اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر اس نے اچھے اور برے جو کام کیے تھے۔ پس وہ اپنی نیکیوں میں ذرہ بھر نیکی کے اضافے کی بھی تمنا کرے گا اور اپنی برائیوں میں ذرہ بھر اضافے پر غم زدہ ہو جائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہو گی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡؔجَحِيۡمُ لِمَنۡ يَّرٰى﴾ یعنی جہنم کو میدان میں ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دیا جائے گا جس کو جہنمیوں کے لیے تیار کیا گیاہے۔ جہنم ان کو پکڑنے کے لیے تیار اور اپنے رب کے حکم کا منتظر ہو گا۔ [39-37]﴿ فَاَمَّا مَنۡ طَغٰى﴾ یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں ﴿ وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ اور آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اور دنیا ہی کے حظوظ و شہوات میں مستغرق رہا اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کی اور اس کا تمام تر وقت دنیا ہی کے لیے رہا اور اس نے آخرت اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿فَاِنَّ الۡؔجَحِيۡمَ هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ یعنی جس کا یہ حال ہے، جہنم اس کا ٹھکانا اور مسکن ہوگا۔ [40، 41]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈر نے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہو گئیں جو رسولﷺ لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّ الۡؔجَنَّةَ ﴾ ’’تو بے شک جنت۔‘‘ جو ہر بھلائی، سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ﴿هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کا ٹھکانا ہے۔

النازعات 79:40

پس جب آ جائے گی آفت بڑی (قیامت)(34) اس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے کوشش کی (35) اور ظاہر کر دی جائے گی دوزخ (ہر) اس شخص کے لیے جو دیکھتا ہے (36) پس لیکن جس نے سرکشی کی (37) اور ترجیح دی اس نے حیات دنیا کو (38) تو بلاشبہ جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے(39) اور لیکن جو ڈر گیا سامنے کھڑے ہونے سے اپنے رب کے اور اس نے روکا (اپنے) نفس کو (بری) خواہش سے (40) تو بلاشبہ جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے (41) [36-34] یعنی جب قیامت کبریٰ اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے ، آئے گی، اس وقت باپ اپنے بیٹے سے، دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہو جائے گا اور ﴿ يَوۡمَ يَتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰى ﴾ ’’اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر اس نے اچھے اور برے جو کام کیے تھے۔ پس وہ اپنی نیکیوں میں ذرہ بھر نیکی کے اضافے کی بھی تمنا کرے گا اور اپنی برائیوں میں ذرہ بھر اضافے پر غم زدہ ہو جائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہو گی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡؔجَحِيۡمُ لِمَنۡ يَّرٰى﴾ یعنی جہنم کو میدان میں ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دیا جائے گا جس کو جہنمیوں کے لیے تیار کیا گیاہے۔ جہنم ان کو پکڑنے کے لیے تیار اور اپنے رب کے حکم کا منتظر ہو گا۔ [39-37]﴿ فَاَمَّا مَنۡ طَغٰى﴾ یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں ﴿ وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ اور آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اور دنیا ہی کے حظوظ و شہوات میں مستغرق رہا اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کی اور اس کا تمام تر وقت دنیا ہی کے لیے رہا اور اس نے آخرت اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿فَاِنَّ الۡؔجَحِيۡمَ هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ یعنی جس کا یہ حال ہے، جہنم اس کا ٹھکانا اور مسکن ہوگا۔ [40، 41]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈر نے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہو گئیں جو رسولﷺ لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّ الۡؔجَنَّةَ ﴾ ’’تو بے شک جنت۔‘‘ جو ہر بھلائی، سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ﴿هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کا ٹھکانا ہے۔

النازعات 79:41

پس جب آ جائے گی آفت بڑی (قیامت)(34) اس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے کوشش کی (35) اور ظاہر کر دی جائے گی دوزخ (ہر) اس شخص کے لیے جو دیکھتا ہے (36) پس لیکن جس نے سرکشی کی (37) اور ترجیح دی اس نے حیات دنیا کو (38) تو بلاشبہ جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے(39) اور لیکن جو ڈر گیا سامنے کھڑے ہونے سے اپنے رب کے اور اس نے روکا (اپنے) نفس کو (بری) خواہش سے (40) تو بلاشبہ جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے (41) [36-34] یعنی جب قیامت کبریٰ اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے ، آئے گی، اس وقت باپ اپنے بیٹے سے، دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہو جائے گا اور ﴿ يَوۡمَ يَتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰى ﴾ ’’اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر اس نے اچھے اور برے جو کام کیے تھے۔ پس وہ اپنی نیکیوں میں ذرہ بھر نیکی کے اضافے کی بھی تمنا کرے گا اور اپنی برائیوں میں ذرہ بھر اضافے پر غم زدہ ہو جائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہو گی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡؔجَحِيۡمُ لِمَنۡ يَّرٰى﴾ یعنی جہنم کو میدان میں ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دیا جائے گا جس کو جہنمیوں کے لیے تیار کیا گیاہے۔ جہنم ان کو پکڑنے کے لیے تیار اور اپنے رب کے حکم کا منتظر ہو گا۔ [39-37]﴿ فَاَمَّا مَنۡ طَغٰى﴾ یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں ﴿ وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ اور آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اور دنیا ہی کے حظوظ و شہوات میں مستغرق رہا اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کی اور اس کا تمام تر وقت دنیا ہی کے لیے رہا اور اس نے آخرت اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿فَاِنَّ الۡؔجَحِيۡمَ هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ یعنی جس کا یہ حال ہے، جہنم اس کا ٹھکانا اور مسکن ہوگا۔ [40، 41]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈر نے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہو گئیں جو رسولﷺ لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّ الۡؔجَنَّةَ ﴾ ’’تو بے شک جنت۔‘‘ جو ہر بھلائی، سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ﴿هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کا ٹھکانا ہے۔

النازعات 79:42

وہ (کافر) سوال کرتے ہیں آپ سے قیامت کی بابت،کب ہے قائم (واقع) ہونا اس کا؟(42)کس چیز میں ہیں آپ اس کےذکر سے؟ (43) آپ کے رب ہی کی طرف ہے انتہا اس (کے علم) کی (44) پس صرف آپ تو ڈرانے والے ہیں اس کو جو ڈرتا ہے اس سے(45)گویا کہ وہ (کافر) جس دن دیکھیں گے اس کو (تو سمجھیں گے کہ) نہیں ٹھہرے وہ (دنیا میں) مگر ایک شام یا صبح اس کی (46) [44-42] قیامت کو جھٹلانے والے اور لغزش کے خواہاں لوگ آپ سے پوچھتے ہیں: ﴿ عَنِ السَّاعَةِ﴾ ’’قیامت کے متعلق‘‘ کہ اس کا وقوع اور ﴿اَيَّانَ مُرۡسٰهَا﴾’’اس کا قیام کب ہوگا؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿ فِيۡمَ اَنۡتَ مِنۡ ذِكۡرٰىهَا﴾ ’’پس تم اس کے ذکر کی فکر میں ہو؟‘‘ یعنی اس کے ذکر اور اس کی آمد کے وقت کی معرفت حاصل کرنے میں آپ کو اور ان کو کیا فائدہ؟ پس اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اس لیے، کہ قیامت کے وقت کے بارے میں بندوں کے علم میں کوئی دینی مصلحت ہے نہ دنیاوی مصلحت، بلکہ قیامت کے وقت کے اخفاء ہی میں مصلحت ہے، اس لیے اس کے علم کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا اور اس کے علم کو صرف اپنے لیے مخصوص رکھا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ اِلٰى رَبِّكَ مُنۡتَهٰىهَا﴾ یعنی اس کا علم اللہ تعالیٰ پر منتہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ١ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔ ۘ ؕ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً١ؕ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ۰۰﴾(الاعراف:7؍187) ’’یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا، آپ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے اس کو اس وقت پر صرف وہی ظاہر کرے گا ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا۔ وہ تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ فرمادیجیے کہ اُس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ [45، 46]﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ يَّخۡشٰىهَا﴾ یعنی آپ کی تنبیہ کا فائدہ صرف اسی شخص کوہوتا ہے جو اس گھڑی کی آمد سے ڈرتا اور اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے خائف ہے، پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے سب سے اہم چیز اس کے لیے تیاری اور اس کے لیے عمل ہے۔ جو کوئی قیامت پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا، اور نہ وہ اس تکلیف میں پڑتا ہے، کیونکہ یہ ایسا تعنت ہے جو تکذیب اور عناد پر مبنی ہے، اور جب سائل اس حال کو پہنچ جائے تو اس کے بارے میں جواب دینا عبث ہے، احکم الحاکمین اس عبث کام سے منزہ ہے۔

النازعات 79:43

وہ (کافر) سوال کرتے ہیں آپ سے قیامت کی بابت،کب ہے قائم (واقع) ہونا اس کا؟(42)کس چیز میں ہیں آپ اس کےذکر سے؟ (43) آپ کے رب ہی کی طرف ہے انتہا اس (کے علم) کی (44) پس صرف آپ تو ڈرانے والے ہیں اس کو جو ڈرتا ہے اس سے(45)گویا کہ وہ (کافر) جس دن دیکھیں گے اس کو (تو سمجھیں گے کہ) نہیں ٹھہرے وہ (دنیا میں) مگر ایک شام یا صبح اس کی (46) [44-42] قیامت کو جھٹلانے والے اور لغزش کے خواہاں لوگ آپ سے پوچھتے ہیں: ﴿ عَنِ السَّاعَةِ﴾ ’’قیامت کے متعلق‘‘ کہ اس کا وقوع اور ﴿اَيَّانَ مُرۡسٰهَا﴾’’اس کا قیام کب ہوگا؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿ فِيۡمَ اَنۡتَ مِنۡ ذِكۡرٰىهَا﴾ ’’پس تم اس کے ذکر کی فکر میں ہو؟‘‘ یعنی اس کے ذکر اور اس کی آمد کے وقت کی معرفت حاصل کرنے میں آپ کو اور ان کو کیا فائدہ؟ پس اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اس لیے، کہ قیامت کے وقت کے بارے میں بندوں کے علم میں کوئی دینی مصلحت ہے نہ دنیاوی مصلحت، بلکہ قیامت کے وقت کے اخفاء ہی میں مصلحت ہے، اس لیے اس کے علم کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا اور اس کے علم کو صرف اپنے لیے مخصوص رکھا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ اِلٰى رَبِّكَ مُنۡتَهٰىهَا﴾ یعنی اس کا علم اللہ تعالیٰ پر منتہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ١ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔ ۘ ؕ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً١ؕ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ۰۰﴾(الاعراف:7؍187) ’’یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا، آپ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے اس کو اس وقت پر صرف وہی ظاہر کرے گا ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا۔ وہ تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ فرمادیجیے کہ اُس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ [45، 46]﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ يَّخۡشٰىهَا﴾ یعنی آپ کی تنبیہ کا فائدہ صرف اسی شخص کوہوتا ہے جو اس گھڑی کی آمد سے ڈرتا اور اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے خائف ہے، پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے سب سے اہم چیز اس کے لیے تیاری اور اس کے لیے عمل ہے۔ جو کوئی قیامت پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا، اور نہ وہ اس تکلیف میں پڑتا ہے، کیونکہ یہ ایسا تعنت ہے جو تکذیب اور عناد پر مبنی ہے، اور جب سائل اس حال کو پہنچ جائے تو اس کے بارے میں جواب دینا عبث ہے، احکم الحاکمین اس عبث کام سے منزہ ہے۔

النازعات 79:44

وہ (کافر) سوال کرتے ہیں آپ سے قیامت کی بابت،کب ہے قائم (واقع) ہونا اس کا؟(42)کس چیز میں ہیں آپ اس کےذکر سے؟ (43) آپ کے رب ہی کی طرف ہے انتہا اس (کے علم) کی (44) پس صرف آپ تو ڈرانے والے ہیں اس کو جو ڈرتا ہے اس سے(45)گویا کہ وہ (کافر) جس دن دیکھیں گے اس کو (تو سمجھیں گے کہ) نہیں ٹھہرے وہ (دنیا میں) مگر ایک شام یا صبح اس کی (46) [44-42] قیامت کو جھٹلانے والے اور لغزش کے خواہاں لوگ آپ سے پوچھتے ہیں: ﴿ عَنِ السَّاعَةِ﴾ ’’قیامت کے متعلق‘‘ کہ اس کا وقوع اور ﴿اَيَّانَ مُرۡسٰهَا﴾’’اس کا قیام کب ہوگا؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿ فِيۡمَ اَنۡتَ مِنۡ ذِكۡرٰىهَا﴾ ’’پس تم اس کے ذکر کی فکر میں ہو؟‘‘ یعنی اس کے ذکر اور اس کی آمد کے وقت کی معرفت حاصل کرنے میں آپ کو اور ان کو کیا فائدہ؟ پس اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اس لیے، کہ قیامت کے وقت کے بارے میں بندوں کے علم میں کوئی دینی مصلحت ہے نہ دنیاوی مصلحت، بلکہ قیامت کے وقت کے اخفاء ہی میں مصلحت ہے، اس لیے اس کے علم کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا اور اس کے علم کو صرف اپنے لیے مخصوص رکھا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ اِلٰى رَبِّكَ مُنۡتَهٰىهَا﴾ یعنی اس کا علم اللہ تعالیٰ پر منتہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ١ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔ ۘ ؕ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً١ؕ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ۰۰﴾(الاعراف:7؍187) ’’یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا، آپ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے اس کو اس وقت پر صرف وہی ظاہر کرے گا ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا۔ وہ تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ فرمادیجیے کہ اُس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ [45، 46]﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ يَّخۡشٰىهَا﴾ یعنی آپ کی تنبیہ کا فائدہ صرف اسی شخص کوہوتا ہے جو اس گھڑی کی آمد سے ڈرتا اور اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے خائف ہے، پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے سب سے اہم چیز اس کے لیے تیاری اور اس کے لیے عمل ہے۔ جو کوئی قیامت پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا، اور نہ وہ اس تکلیف میں پڑتا ہے، کیونکہ یہ ایسا تعنت ہے جو تکذیب اور عناد پر مبنی ہے، اور جب سائل اس حال کو پہنچ جائے تو اس کے بارے میں جواب دینا عبث ہے، احکم الحاکمین اس عبث کام سے منزہ ہے۔

النازعات 79:45

وہ (کافر) سوال کرتے ہیں آپ سے قیامت کی بابت،کب ہے قائم (واقع) ہونا اس کا؟(42)کس چیز میں ہیں آپ اس کےذکر سے؟ (43) آپ کے رب ہی کی طرف ہے انتہا اس (کے علم) کی (44) پس صرف آپ تو ڈرانے والے ہیں اس کو جو ڈرتا ہے اس سے(45)گویا کہ وہ (کافر) جس دن دیکھیں گے اس کو (تو سمجھیں گے کہ) نہیں ٹھہرے وہ (دنیا میں) مگر ایک شام یا صبح اس کی (46) [44-42] قیامت کو جھٹلانے والے اور لغزش کے خواہاں لوگ آپ سے پوچھتے ہیں: ﴿ عَنِ السَّاعَةِ﴾ ’’قیامت کے متعلق‘‘ کہ اس کا وقوع اور ﴿اَيَّانَ مُرۡسٰهَا﴾’’اس کا قیام کب ہوگا؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿ فِيۡمَ اَنۡتَ مِنۡ ذِكۡرٰىهَا﴾ ’’پس تم اس کے ذکر کی فکر میں ہو؟‘‘ یعنی اس کے ذکر اور اس کی آمد کے وقت کی معرفت حاصل کرنے میں آپ کو اور ان کو کیا فائدہ؟ پس اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اس لیے، کہ قیامت کے وقت کے بارے میں بندوں کے علم میں کوئی دینی مصلحت ہے نہ دنیاوی مصلحت، بلکہ قیامت کے وقت کے اخفاء ہی میں مصلحت ہے، اس لیے اس کے علم کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا اور اس کے علم کو صرف اپنے لیے مخصوص رکھا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ اِلٰى رَبِّكَ مُنۡتَهٰىهَا﴾ یعنی اس کا علم اللہ تعالیٰ پر منتہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ١ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔ ۘ ؕ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً١ؕ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ۰۰﴾(الاعراف:7؍187) ’’یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا، آپ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے اس کو اس وقت پر صرف وہی ظاہر کرے گا ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا۔ وہ تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ فرمادیجیے کہ اُس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ [45، 46]﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ يَّخۡشٰىهَا﴾ یعنی آپ کی تنبیہ کا فائدہ صرف اسی شخص کوہوتا ہے جو اس گھڑی کی آمد سے ڈرتا اور اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے خائف ہے، پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے سب سے اہم چیز اس کے لیے تیاری اور اس کے لیے عمل ہے۔ جو کوئی قیامت پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا، اور نہ وہ اس تکلیف میں پڑتا ہے، کیونکہ یہ ایسا تعنت ہے جو تکذیب اور عناد پر مبنی ہے، اور جب سائل اس حال کو پہنچ جائے تو اس کے بارے میں جواب دینا عبث ہے، احکم الحاکمین اس عبث کام سے منزہ ہے۔

النازعات 79:46

وہ (کافر) سوال کرتے ہیں آپ سے قیامت کی بابت،کب ہے قائم (واقع) ہونا اس کا؟(42)کس چیز میں ہیں آپ اس کےذکر سے؟ (43) آپ کے رب ہی کی طرف ہے انتہا اس (کے علم) کی (44) پس صرف آپ تو ڈرانے والے ہیں اس کو جو ڈرتا ہے اس سے(45)گویا کہ وہ (کافر) جس دن دیکھیں گے اس کو (تو سمجھیں گے کہ) نہیں ٹھہرے وہ (دنیا میں) مگر ایک شام یا صبح اس کی (46) [44-42] قیامت کو جھٹلانے والے اور لغزش کے خواہاں لوگ آپ سے پوچھتے ہیں: ﴿ عَنِ السَّاعَةِ﴾ ’’قیامت کے متعلق‘‘ کہ اس کا وقوع اور ﴿اَيَّانَ مُرۡسٰهَا﴾’’اس کا قیام کب ہوگا؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿ فِيۡمَ اَنۡتَ مِنۡ ذِكۡرٰىهَا﴾ ’’پس تم اس کے ذکر کی فکر میں ہو؟‘‘ یعنی اس کے ذکر اور اس کی آمد کے وقت کی معرفت حاصل کرنے میں آپ کو اور ان کو کیا فائدہ؟ پس اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اس لیے، کہ قیامت کے وقت کے بارے میں بندوں کے علم میں کوئی دینی مصلحت ہے نہ دنیاوی مصلحت، بلکہ قیامت کے وقت کے اخفاء ہی میں مصلحت ہے، اس لیے اس کے علم کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا اور اس کے علم کو صرف اپنے لیے مخصوص رکھا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ اِلٰى رَبِّكَ مُنۡتَهٰىهَا﴾ یعنی اس کا علم اللہ تعالیٰ پر منتہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ١ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔ ۘ ؕ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً١ؕ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ۰۰﴾(الاعراف:7؍187) ’’یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا، آپ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے اس کو اس وقت پر صرف وہی ظاہر کرے گا ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا۔ وہ تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ فرمادیجیے کہ اُس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ [45، 46]﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ يَّخۡشٰىهَا﴾ یعنی آپ کی تنبیہ کا فائدہ صرف اسی شخص کوہوتا ہے جو اس گھڑی کی آمد سے ڈرتا اور اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے خائف ہے، پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے سب سے اہم چیز اس کے لیے تیاری اور اس کے لیے عمل ہے۔ جو کوئی قیامت پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا، اور نہ وہ اس تکلیف میں پڑتا ہے، کیونکہ یہ ایسا تعنت ہے جو تکذیب اور عناد پر مبنی ہے، اور جب سائل اس حال کو پہنچ جائے تو اس کے بارے میں جواب دینا عبث ہے، احکم الحاکمین اس عبث کام سے منزہ ہے۔

عبس 80:1

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔

عبس 80:2

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔

عبس 80:3

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔

عبس 80:4

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔

عبس 80:5

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔

عبس 80:6

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔

عبس 80:7

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔

عبس 80:8

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔

عبس 80:9

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔

عبس 80:10

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔

عبس 80:11

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:12

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:13

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:14

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:15

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:16

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:17

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:18

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:19

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:20

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:21

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:22

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:23

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:24

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:25

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:26

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:27

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:28

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:29

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:30

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:31

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:32

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

عبس 80:33

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔

عبس 80:34

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔

عبس 80:35

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔

عبس 80:36

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔

عبس 80:37

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔

عبس 80:38

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔

عبس 80:39

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔

عبس 80:40

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔

عبس 80:41

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔

عبس 80:42

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔